ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌸کشتئ نوحؑ اور وسیلہ پنجتن پاکؑ🌸

آثارِ قدیمہ کے ماہرین کھدائی کر رہے تھے روس کا معروف علاقہ وادی قاف تھا.
کھدائی جاری تھی اسی دوران زمین کی گہرائی میں سے لکڑی کے بوسیدہ ٹکڑے دیکھے گئے.
غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ کشتئ نوح کے جدا شدہ ٹکڑے ہیں جو دریائی موجوں کے اثرات کی وجہ سے زمین میں پانچ ہزار سال گزرنے کے باوجود محفوظ تھے.

آثار قدیمہ کے محققین نے ان تختوں کو اپنے پاس محفوظ کر لیا اور مزید دو سال کھدائی اور غور و فکر میں صرف کئے حتی کہ اسی جگہ سے ایک تختی ملی جو ایک لوح کی مثل تھی جس پر چند چھوٹی سطریں انتہائی پرانی اور انجان تحریر میں ثبت تھیں.
تختی 14 انچ لمبی 10 انچ چوڑی تھی.

حیرت کی بات یہ کہ باقی تختیاں بوسیدہ ہوچکی تھیں اور یہ صحیح و سالم تھی اور بہت حیران کن بھی_ اب بھی یہ تختی ماسکو کے عجائب گھر میں موجود ہے جسے دیکھنے ملکی و غیرملکی سیاہ آتے ہیں.

اس انکشاف کے بعد روسی محکمہ آثار قدیمہ نے اس لوح کی تحقیق کے لئے سات افراد کی کمیٹی تشکیل دی... ان میں ماہر تاریخ، خط شناسی کے استاد اور روس و چین کے ماھر زبان دان شامل ہیں.

ان افراد کا تعارف درج ذیل ہے...
1. پروفیسر سولی نوف.
ماسکو یونیورسٹی کے ماھر تاریخ اور پرانی زبانوں کے استاد.

2. پروفیسر ایفاہان خینو.
چائنہ کی لولوہان یونیورسٹی کے زبان شناسی کے استاد.

3. میشانن لوفارنگ.
روس کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے ماہر.

4. پروفیسر دی راکن.
نالج لنین اکادمی میں ماہرِ تاریخ.

5. قاغول گورف.
کیفزو یونیورسٹی میں ماہرِ لغات.

6. ایم احمد کولا.
روسی ادارہ عمومی تحقیقات کے مہتمم.

7. میچر کولتوف.
وائس چانسلر اسٹالین یونیورسٹی.

■ ان حضرات نے 8 مہینے تحقیق کی اور درج ذیل رپورٹ پیش کی...
1۔ لکڑی کی بنی یہ تختی انہیں تختیوں میں سے ہے کہ جو پہلے دریافت ہوئیں اور انکا تعلق جناب نوحؑ سے ہے. یہ تختی باقیوں کی نسبت بوسیدہ نہیں ہوئی اور اسقدر سالم تھی کہ نقش شدہ تحریر کو پڑھنا بآسانی ممکن تھا.
2۔ اس عبارت کا تعلق سامی زبان سے تھا کہ جو ام اللغات تھی.
3۔ ان حروف اور ان کے معانی کچھ یوں تھے...
اصل عبارت:
"اب فنا ایلاھم. ای قل بیدج فوریک بن. ذئ شاؤ .....محمدا ایلیاہ شبرا شبیرا فاطمہ غقیوما بیون افیقون ابھکاری
مازونہ تلال جی یور-نہتروجی ہاش کوقائید یثوم"
ترجمہ:
"اے میرے پروردگار! اے میرے یاور و مددگار! ان نفوس مقدسہ یعنی محمدؐ، ایلیا(علیؑ)، شبرؑ(حسنؑ)، شبیرؑ(حسینؑ) اور فاطمہؑ کے وسیلے سے اپنی رحمت و کرامت سے ہماری مدد فرما جو کہ فضیلت و عظمت کے مالک ہیں اور جن کی برکت سے یہ دنیا قائم ہے. ان بابرکت ناموں کے صدقے ھماری مدد فرما. صرف تیری ہی ذات ہے کہ جو میری مدد فرما سکتی ہے."

💥 اس سب کے بعد انگریز دانشور این ایف میکس جو کہ مانچسٹر یونیورسٹی میں پرانی زبانوں کا استاد تھا اس تحقیق کو انگریزی میں منتقل کیا اور یہ درج ذیل رسائل و اخبارات میں شائع ہوئی.

1. ہفت روزہ ویکلی مرر، لندن شمارہ 28دسمبر 1952.
2. اخبار اسٹار انگریزی، لندن شمارہ جنوری 1952.
3. روزنامہ سن لائٹ جو مانچسٹر سے شائع ہوا کرتا تھا، شمارہ جنوری 1954.
4. ویکلی مرر، یکم فروری 1954.
5. روزنامہ الہدی، قاہرہ مصر 30جنوری 1953.

💥 محدث حکیم سید محمود گیلانی مدیر اہدالحدیث و سربراہ اھلسنت نے ان مطالب کی تشریح کی اور شائع کروایا.

💥 دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب تحقیق غیر اسلامی ملک میں غیر مسلموں کے ہاتھوں ہوئی کہ جو مذھب کے خلاف اور مادہ پسند تھے اور ایک صدی سے وہاں یہی سب جاری ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/407
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 حریص عالم اور زنا کی نحوست 🔷

بلعم بن باعوراء حضرت موسٰیؑ کےدور کا بہت بڑا عالم اور عابدوزاہد تھا، اسکو اسم اعظم کابھی علم تھا. یہ اپنی جگہ بیٹھا ہوا اپنی روحانیت سے عرش اعظم کو دیکھ لیا کرتاتھا. اور اسکی دعائیں بہت زیادہ مقبول ہوا کرتی تھیں. اسکے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، اسکی درسگاہ میں طالب علموں کی دواتیں بارہ ہزار تھیں.

جب حضرت موسٰیؑ ''قوم جبارین'' سے جہاد کرنے کیلئے بنی اسرائیل کے لشکروں کو لیکر روانہ ہوئے تو بلعم بن باعوراء کی قوم اسکے پاس گھبرائی ہوئی آئی اور کہا:
حضرت موسٰیؑ بہت ہی بڑا اور نہایت ہی طاقتور لشکر لیکر حملہ آور ہونے والے ہیں. اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو ہماری زمینوں سے نکال کر یہ زمین اپنی قوم بنی اسرائیل کو دےدیں. اسلئے آپ موسٰیؑ کیلئے ایسی بددعا کر دیجئے کہ وہ شکست کھاکر واپس چلےجائیں. آپ چونکہ مستجاب الدعوات ہیں اسلئے آپکی دعا ضرور مقبول ہوجائے گی.

یہ سنکر بلعم بن باعوراء کانپ اٹھا اور کہنےلگا:
تمہاری ہلاکت ہو. خدا کی پناہ! موسٰیؑ اللہ کے رسول ہیں. اور انکے لشکر میں مومنوں اور فرشتوں کی جماعت ہے ان پر بھلا میں کیسے اور کسطرح بددعا کرسکتا ہوں؟
لیکن اسکی قوم نےرو رو کراصرارکیاتو اس نے کہہ دیا:
استخارہ کرلینے کیبعد اگرمجھے اجازت مل گئی تو بددعا کردونگا. مگر استخارے کیبعد جب اسکو بددعا کی اجازت نہیں ملی تو اس نے صاف صاف جواب دےدیا کہ اگر میں بددعا کرونگا تومیری دنیا وآخرت برباد ہوجائیں گی.

اس کیبعد اسکی قوم نے بہت سے گرانقدر تحائف اسکی خدمت میں پیش کرکے بےپناہ اصرارکیا اور اسکی تعریفوں کے پل باندھ دئیے اور اسکو حضرت موسٰیؑ سےزیادہ عالی مقام ومرتبے والا بنادیا۔۔ یہانتکہ بلعم بن باعوراء تکبر میں آگیا اور اس پر حرص اور لالچ کا بھوت بهی سوار ہوگیا، اور وہ تکبر اور مال کے جال میں پھنس گیا.
لالچ اور تکبر کیوجہ سے وہ اپنی گدھی پرسوار ہوکر بددعا کیلئے چل پڑا. راستے میں باربار اسکی گدھی ٹھہر جاتی اور منہ موڑکر بھاگ جاناچاہتی مگر یہ اسکو مارمار کر آگے بڑھاتارہا یہانتکہ گدھی کو اللہ تعالیٰ نے قوتِ گویائی عطاکی اور اس نےکہا:
افسوس! اے بلعم باعوراء تو کہاں اور کدھرجا رہاہے؟ دیکھ! میرے آگے فرشتے ہیں جو میرا راستہ روکتے اورمیرا منہ موڑکر مجھے پیچھے دھکیل رہے ہیں. اے بلعم! تیرا برا ہو، کیا تو اللہ کے نبی اور مومنین کی جماعت پر بددعا کریگا؟
گدھی کی تقریرسن کربھی بلعم بن باعوراء واپس نہیں ہوا. یہانتکہ ''حسبان'' نامی پہاڑ پرچڑھ گیا اوربلندی سے حضرت موسٰیؑ کے لشکروں کو بغور دیکھا اور اس نے بددعا شروع کردی.
لیکن خدا تعالٰی کی شان کہ وہ حضرت موسٰیؑ کیلئے بددعا کرتا تھا. مگر اسکی زبان پر اسکی قوم کیلئے بددعا جاری ہوجاتی تھی. یہ دیکھکر کئی مرتبہ اسکی قوم نے ٹوکا کہ اے بلعم! تم تو الٹی بددعا کررہے ہو. تو اس نے کہا:
اےمیری قوم! میں کیاکروں میں بولتا کچھ اور ہوں اورمیری زبان سےکچھ اور ہی نکلتاہے.
پھر اچانک اس پر غضبِ الٰہی نازل ہوگیا کہ ناگہاں اسکی زبان لٹک کر اسکے سینے پر آگئی. اسوقت بلعم بن باعوراء نے اپنی قوم سےرو کرکہا:
⏪ افسوس میری دنیاوآخرت دونوں بربادوغارت ہوگئیں. میرا ایمان جاتارہا اورمیں قہرِقہّار و غضبِ جبّار میں گرفتار ہوگیا. اب میری کوئی دعا قبول نہیں ہوسکتی. مگر میں تم لوگوں کو مکر کی ایک چال بتاتاہوں تم لوگ ایساکرو تو شاید حضرت موسٰیؑ کے لشکروں کو شکست ہوجائے. تم لوگ ہزاروں خوبصورت لڑکیوں کو بہترین پوشاک اور زیورات پہناکر بنی اسرائیل کے لشکروں میں بھیج دو، اگر ان کا ایک آدمی بھی زنا کریگا تو پورے لشکر کو شکست ہوجائے گی.

چنانچہ بلعم بن باعوراء کی قوم نےاسکے بتائے ہوئے مکر کاجال بچھایا اور بہت سی خوبصورت دوشیزاؤں کو بناؤسنگھار کرا کر بنی اسرائیل کے لشکروں میں بھیجا یہانتکہ بنی اسرائیل کا ایک رئیس ایک لڑکی کے حسن وجمال پر فریفتہ ہوگیا اور اسکو اپنی گود میں اٹھاکر حضرت موسٰیؑ کے سامنے گیا اور فتویٰ پوچھا:
اے نبی اللہ! یہ عورت میرےلئےحلال ہے یانہیں؟
آپؑ نے فرمایا:
خبردار! یہ تیرےلئےحرام ہے. فوراً اس کو اپنے سے الگ کردے اور اللہ کےعذاب سے ڈر.
مگر اس رئیس پر شہوت کا ایسا زبردست بھوت سوار ہوگیا تھا کہ وہ اپنے نبیؑ کے فرمان کوٹھکرا کر اُس عورت کو اپنے خیمہ میں لےگیا اور برائی کا مرتکب ہوا.

اس گناہ کی نحوست کایہ اثرہوا کہ بنی اسرائیل کے لشکر میں اچانک طاعون (پلیگ) کی وبا پھیل گئی اورگھنٹے بھر میں سترہزار آدمی مرگئے اورسارا لشکر تتربتر ہوکر ناکام و نامراد واپس چلاآیا. جسکا حضرت موسٰیؑ کو بہت ہی صدمہ ہوا.

📚 تفسیرالصاوی،ج2،ص728،پ9، الاعراف:175

بلعم بن باعوراء پہاڑ سے اترکر مردود بارگاہِ الٰہی ہوگیا. آخری دم تک اسکی زبان اسکے سینے پر لٹکتی رہی اور وہ بےایمان ہوکر مرا.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/416
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 طبیعت کی موافقت 🔷

ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﻨﮕﯽ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻼ ﺗﻮ ﻋﺠﯿﺐ ﺑﺎﺕ ﺭﻭﻧﻤﺎ ﮨﻮﺋﯽ. ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻭﮦ ﺩﮬﮍﺍﻡ ﺳﮯ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ ﮔﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﮯﮨﻮﺵ ﮨﻮﮔﯿﺎ. ﺍﺳﮯ ﮨﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﻻﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﺮ ﺗﻮﮌ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﻣﮕﺮ ﺑﮯﺳﻮﺩ...
ﺁﺧﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﻧﺎ ﺩﺭﺑﺎﺭﯼ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺁﻟﻮﺩﮦ ﺟﻮﺗﺎ ﻻﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ، ﺟﻮﺗﺎ ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﺍﻧﺎ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ؛
ﺍﺱ ﺑﮭﻨﮕﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺟﻮﺗﺎ ﺳﻮﻧﮕﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ.

ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺍﺱ ﺑﮯ ﺳﺮﻭﭘﺎ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﺑﺎﺩﻝ ﻧﺨﻮﺍﺳﺘﮧ ﻋﻤﻞ ﺩﺭﺁﻣﺪ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ دیکھ ﮐﺮ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﺑﮭﻨﮕﯽ ﺑﮯﮨﻮﺷﯽ ﮐﻮ ﺧﯿﺮ ﺑﺎﺩ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﮨﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﯿﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﺟﻮ ﮐﺎﻡ ﺷﺎﮨﯽ ﺣﮑﯿﻢ ﮐﯽ ﺍﻋﻠﯽ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﺩﮦ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺩﻭﺍﺋﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ، ﻏﻼﻇﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﺟﻮﺗﺎ ﻭﮦ ﮐﻤﺎﻝ ﺩﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ.

ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﺩﺍﻧﺎ ﺩﺭﺑﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﮨﻮﭼﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﮨﮯ؟ ﺗﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﮑﻤﺖ ﺑﺘﺎﺋﯽ؛
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﮭﻨﮕﯽ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﻼﻇﺖ ﮐﯽ ﺭﻓﺎﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﯾﮑﺎﯾﮏ ﺍﺳﮯ ﺷﺎﮨﯽ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﯽ ﻧﻔﯿﺲ ﺧﻮﺷﺒﻮؤﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﮑﯿﻞ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻋﺎﺩﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﻔﺎﺳﺖ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮧ ﮐﺮﺳﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻮﺍﺱ ﮐﮭﻮ ﺑﯿﭩﮭﺎ. ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﻓﻖ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﯿﺎ.

اب میرے چند سوال خود سے بھی اور آپ سے بھی......
ﮨﻢ ﭨﯽ ﻭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ بیٹھ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﻼﻣﺒﺎﻟﻐﮧ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻨﭧ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﻣﺤﺎﻝ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ. آخر کیوں؟

ﻧﺎﻭﻝ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﻟﮕﺎﺗﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﺎ ﭨﺎﺋﻢ ﺍﺳﮯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﻧﺎ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺳﮩﻞ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻼﻭﺕ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻣﻞ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﺮ ﺳﮯ ﺍﺗﺎﺭﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ. آخر کیوں؟

ﻣﺤﺎﻓﻞ ﺩﯾﻨﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﻮﻟﯿﺖ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﺎﺯﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ. آخر کیوں؟؟؟؟ کہیں ایسا تو نہیں جیسا اوپر کہانی میں بیان ہوا ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 دنیا کی زندگی 🌹

انسانی زندگی خوشی وغم، مشکلات وآسائشیں، فقرودولتمندی، بیماری وصحت، سکون واضطراب کا مجموعہ ہے.
●زندگی کے بعض مراحل میں انسان آرام و آسائش میں ہوتا ہے تو دوسرے بعض مراحل میں تنگدستی و کسمپرسی کے عالم میں لمحات گزار رہا ہوتا ہے.
●کبھی صحت و تندرستی اس کے قدم چومتی ہے تو بسااوقات بیماریاں اس کی راہ میں آڑے آتی ہیں.
●کبھی خوشیوں سے پھولا نہیں سماتا تو کبھی غم سے نڈھال دکھائی دیتاہے.
●آج اگر اس کے ہاں مال ودولت کی بھرمار ہے تو کل وہی شخص روٹی کے ایک ٹکڑے کے لئے ترس رہا ہوتاہے.
●آج اگر اقتدار کے نشے میں مست دکھائی دیتا ہے تو کل کروٹیں بدلنے کیلئے بھی وہ کسی کامحتاج دکھائی دیتاہے.
●بسااوقات تو حالات کی نزاکت اور امن وامان کے ناپید ہونےکےسبب مضطرب لمحات گزارنے پر مجبور ہو جاتاہے، تو بسااوقات امن وسکون کی فضا میں لطف اندوز ہونےکا اسےموقع  نصیب ہوتاہے.

🌹پس یہ زندگی کےلوازمات ہیں، نہ ان نعمتوں کے ملنے سےانسان کو مغروروسرکش ہوناچاہیے اور نہ ہی ان سے محرومی پر ناامیدی کے بھنور میں پھنسنا چاہیے.
●نہ ایوان اقتدار پرقابض ہونےکی صورت میں کسی پر ظلم روا رکھنا چاہیے اور نہ ہی اقتدار کےنہ ملنے اور نعمتوں کے سلب ہونےپر گردن جھکاکر مظلوم بن کر ہر کسی کےظلم کوسہنے اور سہمےسہمے زندگی گزارنے کا عادی بننا چاہیے.
●نہ مال وثروت کی بھرمار ہونے پر قارون ثانی بننا چاہیے اور نہ ہی تنگدستی میں مبتلا ہونے پر گداگری کو اپنا شیوہ بناناچاہیے.
●نہ صحت و تندرستی کے ایام میں عیش و نوش اور لہو ولعب کو اپنا وتیرہ بنانا چاہیے اور نہ ہی بیمار پڑنے پر کفریہ جملوں کا ورد کرنے والا.
🌹غرض اس دنیا کی ہر نعمت سے ہمکنار ہونا یا ان سے محروم رہنا، دونوں امتحان کے دو متفاوت طریقے ہیں.

●بعض افراد کو اللہ تعالٰی نعمتوں کی کثرت سے آزماتا ہے تو دوسرے بعض کو ان سے محروم رکھ کر آزمائش میں ڈالتا ہے.

🌹نہ یہاں کی نعمتیں ابدی ہیں اور نہ ہی بلائیں دائمی، بلکہ دونوں گزرا اور وقتی ہیں.
●ہمیں چاہیے کہ دونوں صورتوں میں  اللہ کی رضامندی کو ہاتھ سے جانے نہ دیں. اسلامی تعلیمات کی رو سے عبادات میں ہمیشہ اپنے سے برتر لوگوں کی طرف دیکھنا چاہیے، جبکہ مال و دولت وغیرہ کی نسبت سے ہمیشہ اپنے سے کمتر لوگوں پر نظر رکھنا چاہیے۔ یوں ہر حالت میں اسے زندگی میں لطف محسوس ہوگا.

🌹حضرت علیؑ نے فرمایا:
اے لوگو! بیشک یہ دنیاجلد گزرنے والی ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے والی. پس اس گزرنے والی جگہ سے تم ہمیشہ رہنے والی جگہ کیلئے زادراہ لے کے جانا۔ پس تم اپنے دل سے دنیا کی محبت کو نکال پھینکو، اس سے پہلے کہ تم خود اس سے نکل جاؤ. پس درحقیقت تم آخرت کیلئے خلق کئے گئے ہو، جبکہ دنیا میں تم قیدحیات میں ہو. جو بھی اس دنیا سے جاتا ہے، تب ملائکہ کہتے ہیں کہ اس نے اپنے لئے آگے کیا بھیجاہے، جبکہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے کیا چھوڑا ہے۔ پس تم نے خدا کے پاس حاضر ہونا ہے۔ تم اپنے وہاں پہنچنے سے پہلے زادراہ بھیجو، تاکہ وہاں پہنچنے کیبعد تمہارے لئے فائدہ مند ثابت ہو، ایسا نہ ہو کہ کچھ بھیجے بغیر تم خود وہاں پہنچ جاؤ تو تم دھوکہ کھاؤ گے. جان لو کہ دنیا اس زہر کی مانندہے، جسے انجانے میں بھی کوئی پی لیتا ہے تو بھی یہ اس کی جان لے لیتا ہے، ورنہ عاقل تو اس کی طرف ہاتھ ہی نہیں بڑھاتا ہے.(1)

🌹ایک عارف باللہ کے بقول تمام برائیوں کی جڑ ہمارا خدا کو حاضروناظر نہ  ماننا ہے۔ اگر کہیں خفیہ کیمرا لگا ہوا ہونے کا احتمال ہو تو ہم ہر وقت محتاط رویہ اپناتے ہیں، جبکہ خدا کے حاضروناظر ہونے کا اعتقاد تو ہم رکھتے ہیں، لیکن مقام عمل میں ہم ہروقت اس سےغافل رہتےہیں.

■چونکہ انسان کی اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے، لہٰذا اس چندروزہ دنیاوی زندگی کو ابدی زندگی کیلئے زادراہ فراہم کرنے کا وسیلہ بنانا چاہیے۔ آخرت کی نعمتیں بھی ابدی ہیں اور وہاں کا عذاب بھی ہمیشگی. ہوسکتا ہے یہاں کا ایک چھوٹا سا کام اس ابدی زندگی کے سنورنے کا پیش خیمہ بن جائے یا ہلاکت ابدی کا موجب ثابت ہو۔ بےوقوف اور کم عقل ہیں وہ افراد جو آخرت کی ابدی زندگی کو دنیا کی چندروزہ زندگی پر قربان کر دیتےہیں۔ یہ سودا ایسوں کیلئے بہت ہی مہنگا پڑےگا.
🌹احادیث کی رو سے اس زندگی کے لمحات بادل کی مانند گزر جاتے ہیں جبکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ باقی رہنے والی ہے.(2)

🌹رسول اکرمؐ کے فرمان کی رو سے دنیا آخرت کی کھیتی ہے.(3)

■مرنے کے بعد صرف اور صرف انسان کا نیک عمل ہی اسکے کام آئیگا۔ آیئے عہد کیجئے کہ ہم اپنی دنیاوی زندگی کو اخروی زندگی کیلئے پیش خیمہ قرار دیں گے تاکہ دنیاوآخرت میں کامیابی ہمارے قدم چومے.

بشکریہ تحریر: ایس ایم شاہ

📚 مآخذ:
1۔ إرشاد القلوب إلى الصواب (للديلمي) / ج‏1 / 19 / الباب الثاني في الزهد في الدنيا، ص:16.
2۔ نهج البلاغة (للصبحي صالح) / 471 / 21، ص:471. 
3۔ مجموعة ورام/ج‏1/183/ بيان ما يحمد من الجاه، ص:183.

https://t.me/islamwitheman/451
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 مخدوم بنے رہنا كمال نہيں! 🌹

رسول اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انكے اصحاب اپنى سواريوں سے نيچے اترے اور سب نے سامان سفر كھول ديا۔

سب لوگوں نے مل كر يہ فيصلہ كيا كہ ايک گوسفند كو ذبح كر كے اس كا گوشت تيار كيا جاۓ۔

ايک صحابى نے كہا: گوسفند كا سر كاٹنا ميرے ذمہ!

دوسرے نے كہا: اس كى كھال اتارنا ميرے ذمہ!

تيسرے نے كہا: اس گوشت كا پكانا ميرے ذمہ!

رسول اكرم (ص) نے فرمايا: گوشت پكانے كے لئے جنگل سے لكڑياں جمع كرنا ميرے ذمہ!

سبھى اصحاب ايک ساتھ كہہ اٹھے: يارسول اللہ ہم لوگوں كى موجودگى ميں آپ كو زحمت اٹھانے كى كوئى ضرورت نہيں۔ آپ آرام فرمائيں۔ ہم لوگ بڑى آسانى سے اور فخر كے ساتھ يہ تمام كام بخير و خوبى انجام دے ليں گے۔

رسول اللہ (ص) نے فرمايا:
مجھے معلوم ہے كہ تم لوگ يہ سب كام بڑى آسانى سے كر لو گے ليكن خداوند عالم اپنے اس بندے كو قطعى دوست نہيں ركھتا جو دوستوں كے درمیان اپنے آپ كو افضل اور دوسروں سےبہتر سمجھتا ہے اور دوسروں كے مقابلے ميں خود كو صاحب امتياز تصور كرتا ہے۔ يہ كہہ كر رسول اللہ (ص) جنگل كى طرف چلے گئے اور تھوڑى دير بعد لكڑياں اور گھاس پھوس لے كر واپس آگئے.

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

📚 سچى كہانياں، شہيد مرتضى مطہرىؒ، ص:۲۹.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ﺧﻮﺩ ﺍﺣﺘﺴﺎﺑﯽ 🔷

ﺍﻳﮏ نوعمر ﻟﮍﻛﺎ "ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ" ﻣﻴﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﻛﺮ ﭨﻴﻠﻴﻔﻮﻥ ﻛﻴﺒﻦ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ۔ ﺍُﺱ ﻧﮯﺭﯾﺴﯿﻮﺭ ﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ, ﻧﻤﺒﺮ ﮈﺍﺋﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﺷﺎﺋﺴﺘﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﺍ۔ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺍﺗﻨﺎ ﻧﺮﺍﻟﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍُﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺑﮍﮮ ﺍﻧﮩﻤﺎﮎ ﺳﮯ ﺳﻨﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔
ﻟﮍﻛﺎ ﮐﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ...
ﻣﻴﮉﻡ! ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﻏﻴﭽﮯ ﻛﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺳﺘﮭﺮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻳﻜﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﻛﻴﻠﺌﮯ ﻣﻼﺯﻡ ﺭﻛﮫ ﻟﯿﺠﺌﮯ, ﭘﻠﯿﺰ...
ﺟﺒﮑﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﻛﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﻛﮧ "ﻓﯽ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺍِﺱ ﻛﺎﻡ ﻛﻴﻠﺌﮯ ﺍﻳﮏ ﻣﻼﺯﻡ ﮨﮯ"
ﻟﮍﻛﮯ ﻧﮯ ﺍِﺻﺮﺍﺭ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ..
"ﻣﻴﮉﻡ! ﻣﻴﮟ ﺁﭘﻜﺎ ﻛﺎﻡ, ﺁﭘﻜﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩﻩ ﻣﻼﺯﻡ ﺳﮯ ﺁﺩﮬﯽ ﺍُﺟﺮﺕ ﭘﺮ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﻴﻠﺌﮯ ﺗﻴﺎﺭ ﮨﻮﮞ"۔

ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻛﮧ "ﻭﻩ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻼﺯﻡ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﻜﻞ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻛﺴﯽ ﻗﻴﻤﺖ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍُﺳﮯ ﺗﺒﺪﻳﻞ ﻧﮩﻴﮟ ﻛﺮﻧﺎﭼﺎﮨﺘﯽ"۔
ﺍﺏ ﻟﮍﻛﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﻩ ﺍﻟﺘﺠﺎﺀ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺍُﺗﺮ ﺁﻳﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﻛﮧ...
ﻣﻴﮉﻡ! ﻣﻴﮟ ﺑﺎﻏﻴﭽﮯ ﻛﮯ ﻛﺎﻡ ﻛﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺁﭘﮑﺎ ﮔﮭﺮ, ﮔﮭﺮ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮔﺰﺭﮔﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﻓﭧ ﭘﺎﺗﮫ ﻛﯽ ﺑﮭﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭘﻜﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭﻧﮕﺎ, ﺑﺲ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ۔"!
ﺍﻭﺭ ﺍِﺱ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﻛﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﻔﯽ ﻣﻴﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﮍﻛﮯ ﻛﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﻳﮏ ﻣﺴﻜﺮﺍﮨﭧ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﻓﻮﻥ ﺑﻨﺪ ﻛﺮﺩﻳﺎ۔

ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺟﻮ ﻳﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﻦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻟﮍﻛﮯ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﻛﮩﺎ:
"ﺑﯿﭩﺎ! ﻣﻴﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﻯ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻤﺖ ﮐﯽ ﺩﺍﺩ ﺩﻳﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻟﮕﻦ, ﻣﺜﺒﺖ ﺳﻮﭺ ﺍﻭﺭ ﺍُﻣﻨﮕﻮﮞ ﻛﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ, ﻣﻴﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻛﮧ ﺗﻢ ﻣﻴﺮﯼ ﺍﺱ ﺩﻛﺎﻥ ﭘﺮ ﻛﺎﻡ ﻛﺮﻭ۔۔"!

ﻟﮍﻛﮯ ﻧﮯ ﺍُﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ..
"ﺍﻧﮑﻞ! ﺁﭖ ﻛﯽ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﻛﺎ ﺑﮩﺖ ﺷﻜﺮﻳﮧ, ﻣﮕﺮ ﻣﺠﮭﮯﻛﺎﻡ ﻧﮩﻴﮟ ﭼﺎﮨﻴﺌﮯ۔ ﻣﻴﮟ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺍِﺱ ﺑﺎﺕ ﻛﯽ ﺗﺼﺪﻳﻖ ﻛﺮﻧﺎ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻛﮧ ﻣﻴﮟ ﺁﺟﻜﻞ ﺟﻮ ﻛﺎﻡ ﻛﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻛﻴﺎ ﺍُﺱ ﻛﺎ ﻣﻌﻴﺎﺭ ﻗﺎﺑﻞِ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ ﺑﮭﯽ ﻳﺎ ﻧﮩﻴﮟ؟"
"ﺍﻭﺭ ﻣﻴﮟ ﺍِﺳﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﻼﺯﻡ ﮨﻮﮞ ﺟِﺲ ﻛﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻴﮟ ﭨﻴﻠﻴﻔﻮﻥ ﭘﺮ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻛﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔۔"!

■ ﺍﮔﺮ ﺁﭘﻜﻮ ﺑﮭﯽﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ, ﺍﺧﻼﻕ, ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﮏِ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﻣﻼﺋﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔کیونکہ جلد ہی ہم سب یہ دھوکے کا گھر چھوڑ جائیں گے !! ﻓﻮﻥ ﻧﻤﺒﺮ یہ ہے 2۔۔4۔۔4۔۔3۔۔4 ) 2..فجر..4...ظهر...4...عصر...3...مغرب...4...عشاء....
(جنہیں ﺳﻤﺠﮫ ﺁ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮐﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﻭﮦ ﻣﺰﯾﺪ ﻏﻮﺭ ﻭ ﺧﻮﺽ ﮐﺮﯾﮟ...

● اپنا محاسبہ کیجئے، اس سے پہلے کے دیر ہوجائے....!

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 اذان میں علی ولی اللہ 🔷

🕋اذان میں علی ولی اللہ اور الصلوۃ خیر من النوم کا مقایسہ؛ این کجا و آن کجا۔۔۔؟؟؟ ⁉️

⏪اگر بقول شیعہ کے اذان میں {تثویب} "الصلوۃ خیر من النوم" بدعت ہے چونکہ رسول اللہ کے دور میں اذان میں شامل نہیں تھا بلکہ بعد میں اذان میں شامل کیا گیا تو یہی اشکال خود شیعہ پہ بھی وارد ہوتا ہے کیونکہ علی ولی اللہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے دور میں اذان میں نہیں تھا اور بعد میں اذان میں شامل ہوا؟
⬅️جواب:
ان دو کا آپس میں زمین و آسمان کا فرق ہے:⬇️
اہل سنت تثویب در اذان کو جزء کی حیثیت سے پڑھتے ہیں جبکہ اسکی اصل قرآن و سنت میں ثابت شدہ نہیں ہے۔ اسلئے یہ قطعا "ادخال من الدین ما لیس فی الدین" یعنی بدعت کا مصداق اتم ہے۔
✅مگر شیعہ علی ولی اللہ ہر گز قصد جزئیت سے نہیں پڑھتے بلکہ مطلقا ثواب و مطلوبیت کی نیت سے پڑھتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل وجوھات کی بنا پر نہ صرف اذان کو باطل نہیں کرتا بلکہ اذان کے ثواب کو دوبالا کرتا ہے:
گو اسکے استحباب پر خاص دلیل اذان میں پڑھنے کی موجود نہیں مگر ہمارے پاس مطلق ادلہ موجود ہیں جنکے مطابق شھادتین کے بعد تیسری گواھی دینی چاھئے۔
تو چونکہ اس سے ایک تو اذان کی ترکیب و موالات کو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ جیسا کہ نام رسول کے بعد اذان کے اندر ہی صلوۃ پڑھی جا سکتی ہے تو اسی عنوان کے تحت ولایت کی گواھی بھی دی جاسکتی ہے۔
☝🏻اور یاد رہے کہ اذان میں موالات و تسلسل کو برقرار رکھنے کی شرط پر ضروری حد تک کلام بھی کیا جا سکتا ہے۔
اذان میں شامل کئے جانے کی ایک اہم علت معاویہ و اسکے عمال کی طرف سے علانیہ سب و شتم تھا جسکی وجہ سے نام علی کو مٹانے کی سازش کو ناکام بناتے ہوئے شیعہ علماء نے اسے اذان میں شامل کیا مگر اسکی شرط لگائی کہ قصد جزئیت سے ہرگز نہ پڑھا جائے۔
وہ کتب جنمیں مطلقا اقرار شھادت ولایت در اذان کے اثبات پہ روایات موجود ہیں۔ مثلا واقعہ معراج کے ذیل میں ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے لا الہ اللہ و محمد رسول اللہ کے ساتھ علی ولی اللہ کو بھی لکھا ہوا دیکھا ہے۔

📚📚الاحتجاج طبرسی صفحہ ۱۵۸۔
اہل سنت کتب: درمنثور سیوطی۔خصائص کبری سیوطی،جلد ۱،ص ۷،الشفا قاضی عیاض،ص ۱۳۸۔المناقب ابن مغازلی،ص۳۹،المناقب النصرۃ فی مناقب عشرہ مبشرہ،جلد ۲ ص ۲۲۷۔درر السمطین۱۲۰.

بشکریہ: سفينة النجاة ٹیلیگرام چینل

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⏪ مردم شماری کےبارے ہماری رائے ⏩

■اپنی مسلکی شناخت چھپانے کا مطلب خود کو پاکستان میں پانچویں درجے کی اقلیت قرار دلوانے کے مترادف ہے، لہذا مردم شماری کے عملے کے سوال پر ببانگِ دہل اپنی شیعہ شناخت ظاہر کرنی چاہئے تاکہ ریاست کے پاس شیعہ آبادی کا درست تناسب موجود ہو اور ریاست میں قانون سازی کے وقت اہلِ تشیع کے حقوق کا تحفظ بھی ممکن ہو۔
تمام دوستوں تک پہنچائیں....

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🏰 مسجد گوہر شاد 🏰

ﻣﻠﮑﮧ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺣﺠﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺗﮭﯿﮟ ﻧﻘﺎﺏ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺁﻭﯾﺰﺍﮞ ﺭﮨﺘﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺮﻡِ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎؑ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺠﺪ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻗﺼﺪ ﮐﯿﺎ.
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻤﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﻠﺴلے ﻣﯿﮟ ﺩﻭ برابر ﺍﺟﺮﺕ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺷﺮﻁ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ...
●ﻭﮦ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ کے ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﺎﻭﺿﻮ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ،
●ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﻤﯿﯿﺰﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﮐﻼﻣﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ،
●ﺍﺧﻼﻕِ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩِ ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﻣﻠﺤﻮﻅ ﺧﺎﻃﺮ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﮯ.
ﺍﻭﺭ...
●ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺟﻮ ﺳﺎﺯ ﻭ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺣﻤﻞ ﻭ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺑﮯ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺁﺏ ﻭ ﺩﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﯿﮟ گے اور ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﻭﺯﻥ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﻮ ﺯﺩﻭ ﮐﻮﺏ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ.

ﻣﻠﮑﮧ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯿﮟ، ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﮔﺌﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻮﺍ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺣﺠﺎﺏ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﮨﭧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ. ﻟﮭٰﺬﺍ ﺟﻮﺍﻥ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻝ ﮐﮭﻮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﮨﺮ ﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮯ ﺻﺒﺮ ﻭ ﻻﭼﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﺗﮏ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔ ﺑﮩﺖ ﺩﻥ ﮔزﺭ ﮔﺌﮯ ﻭﮦ ﮐﺎﻡ ﭘﮧ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ.
ﮔﻮﮨﺮ ﺷﺎﺩ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﮐﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﮯ، ﻟﮭٰﺬﺍ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﯿﺎﺩﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﯿﮟ.
ﺩﻥ ﮔﺬﺭﺗﮯ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺑﺪ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ہرﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﮑﮧ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺳﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺼﮧ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﺎتھ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﭘﮍﺟﺎﺋﯿﮟ.

ﻟﮭٰﺬﺍ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﻣﻠﮑﮧ ﺳﮯ ﻗﺼﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮑﮧ ﮐﮯ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﻮﺋﯽ. ﻣﻠﮑﮧ ﻧﮯ ﻣﺴﺮﺕ ﺑﮭﺮﮮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻀﺎﺋﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺑﻨﺪﮦ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺁﺟﺎﺗﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
”ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﮐﮩﮧ ﺩﻭ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻭ ﺍﻣﻮﺭ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﭘﺎﻧﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﻮﮔﺎ..

●ﺍﯾﮏ ﯾﮧ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﮩﺮﯾﮧ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﻮﺗﻌﻤﯿﺮ ﺷﺪﮦ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﮑﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﺍﮔﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﺘﮑﺎﻑ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﮮ۔
●ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺮﻁ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ رﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﻟﻮﮞ ﮔﯽ. ﺍﮔﺮ ﺷﺮﺍﺋﻂ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻡ ﭘﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔

ﺟﻮﺍﻥ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﻮ ﺟﺐ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﺎ ﯾﮧ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮﯼ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ کچھ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮞ... ﻭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺍﻣﯿﺪ ﺳﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺧﺪﺍ ﺍﺳﮯ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺟﯿﺴﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﮮ ﮔﺎ۔

ﭼﺎﻟﯿﺴﻮﯾﮟ ﺩﻥ ﮔﻮﮨﺮ ﺷﺎﺩ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﭘﻨﺎ ﻗﺎﺻﺪ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﮮ۔
ﻗﺎﺻﺪ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
”ﮐﻞ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﻣﻠﮑﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﻁ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﯾﮟ۔
ﺟﻮﺍﻥ ﻋﺎﺷﻖ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ، ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺣﻼﻭﺕ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻧﺮﻡ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﺻﺪ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
”ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺑﯿﮕﻢ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﺍﻭﻻً ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﮔزﺍﺭ ﮨﻮﮞ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﻮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ۔
ﻗﺎﺻﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ؟ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺎﺷﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ؟"
ﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺻﻠﯽ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﺳﮯ ﻧﺎﺁﺷﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺻﺮﻑ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺗﮍﭘﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﻮﺱ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﺎ ﻣﺸﮑﻮﺭ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ کے ﺑﺎﻋﺚ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﻣﻼ."

ﺍﻭﺭ...
ﻭﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﻣﺴﺠﺪ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﭘﯿﺶ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﻘﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺷﯿﺦ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﺎﺩﻕ ﻫﻤﺪﺍﻧﯽ ﺗﮭﮯ.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 دنیا ایک ضعیفہ کی صورت 🔷

حضرت عیسٰیؑ کے حالات میں مذکور ہے کہ دنیا انکے سامنے ایک بوڑھی عورت کی شکل میں آئی، جس کے بال سفید ہو چکے تھے لیکن ہر قسم کی زینت سے آراستہ تھی....

حضرت عیسٰیؑ نے اس سے پوچھا:
تو نے کتنی شادیاں کیں؟

دنیا کہنے لگی:
اتنی زیادہ کہ شمار نہیں کر سکتی.

آپؑ نے پوچھا:
تیرے سارے شوہر مر گئے یا انہوں نے تجھے طلاق دے دی؟

دنیا نے جواب دیا:
میں نے (خود ہی) سب کو قتل کر دیا.

تو حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا:
بڑے بدنصیب ہیں تیرے وہ شوہر جنہوں نے اب بھی تجھ سے رشتہ قائم رکھا ہے. وہ تیرے گزشتہ شوہروں سے عبرت حاصل کیوں نہیں کرتے؟

■ مجاہد نے ابن عباسؓ کے حوالہ سے حضرت رسولخداؐ سے روایت کی ہے کہ..
حضرت عیسٰیؑ ایک ایسی بستی سے گذرے جہاں کی عمارتیں منہدم ہو چکی تھیں اور آبادی ویران ہو چکی تھی، یہ دیکھکر آپؑ نے اپنے حواریوں میں سے کسی سے فرمایا:
جانتے ہو یہ بستی کیا کہہ رہی ہے؟

حواری نے کہا: نہیں

آپؑ نے فرمایا:
یہ بستی کہہ رہی ہے کہ میرے پروردگار کا سچا وعدہ پورا ہو کر رہا، میری نہریں جن میں بہت پانی تھا خشک ہو گئیں، میرے درخت جو بہت شاداب تھے سوکھ گئے، میرے محل تباہ ہو گئے، میرے باشندے موت سے ہمکنار ہو گئے. اب ان کی ہڈیاں میرے اندر پڑی ہوئی ہیں اور وہ مال جسے انہوں نے حلال و حرام طریقہ سے جمع کیا تھا وہ سب میرے شکم میں پہنچ چکا ہے. زمین و آسمان کی میراث تو (درحقیقت) خدا ہی کے لئے ہے.

■ حضرت عیسٰیؑ فرمایا کرتے تھے کہ...
کب تک ایسا ہو گا کہ تمہیں نصیحت کی جائے اور تم نصیحت حاصل نہ کرو؟ ..... تم نے تو وعظ و نصیحت کرنے والوں کو تھکا دیا ہے. (کہ وہ کہتے رہتے ہیں اور تم پر اثر نہیں ہوتا.)

📚 گفتار انبیاء، ص:174،175.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/461
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 حضرت عیسٰیؑ اور استاد 🔷

حضرت امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ جناب عیسٰیؑ پیدائش کے بعد ایک دن میں اتنے بڑے (نظر آ رہے تھے) جیسے دو ماہ کا بچہ ہوتا ہے پھر جب سات ماہ کے ہوئے تو ان کی مادرگرامی ان کا ہاتھ پکڑ کر کاتبوں کے پاس لے گئیں اور ایک استاد کے سامنے انکو بٹھا دیا (اس عمر میں وہ اچھی طرح گفتگو کرنے لگے تھے)

اس استاد نے جناب عیسٰیؑ سے کہا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھو، آپؑ نے بسم اللہ پڑھی.

اس استاد نے کہا؛
"ابجد" پڑھو.

تو جناب عیسٰیؑ نے سر اٹھایا اور فرمایا:
تم جانتے بھی ہو کہ "ابجد" کے کیا معنی ہیں؟

یہ سن کر اس نے ان کو مارنے کے لیے کوڑا اٹھا لیا.

یہ دیکھ کر...
حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا:
اے بزرگوار! مارو نہیں. اگر تم جانتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ مجھ سے پوچھو، میں اس کی تشریح تمہیں بتاؤں گا.

اس نے کہا:
اچھا، تم ہی اسکی تشریح بتاؤ.

تو فرمایا کہ....
الف یعنی آلاء الله (الله کی نعمتیں)
ب یعنی بهجة الله (الله کی شوکت)
ج یعنی جمال اللہ (اللہ کا حسن و جمال)
د یعنی دین اللہ (اللہ کا دین)

اس کیبعد آپ نے هوز کی تشریح فرمائی اور کہا کہ..
ھ یعنی هول جہنم (جہنم کی ہولناکی)
و یعنی ویل لاهل النار (بڑا افسوس ہے جہنم میں جانے والوں کے لئے)
ز یعنی زفیو جہنم (جہنم کی پرشور آواز)

پھر "حطی" کی تشریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ...
حطت الخطايا عن المستغفرین (استغفار کرنے والوں کی کوتاہیوں سے درگزر کیا جائے گا)

(پھر) "کلمن" کے بارے فرمایا کہ...
کلام اللہ (اللہ کا کلام اور اس کے کلمات کو کوئی بھی تبدیل نہیں کر سکتا)

(پھر فرمایا کہ) "سَعفص" یعنی ساع بصاع (ایک وزن کا بدلہ اسی کے ہم وزن، جیسا عمل ویسی جزاء)

(اس کیبعد فرمایا کہ) "قرشت" یعنی قرشهم جس کے معنی ہیں، ان کو عالم حشر میں لایا جائے گا.

جب حضرت عیسٰیؑ کی گفتگو اس منزل تک پہنچی تو استاد نے جناب مریمؑ سے کہا کہ...
اے خاتون! بچے کو لے کر گھر تشریف لے جائیے، یہ تعلیم یافتہ ہے، اسے کسی سے پڑھنے کی ضرورت نہیں.

📚 گفتار انبیاء، ص:148.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 الفاظ و انداز اور لہجہ 🌺

الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے. ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے،
کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں،
کچھ غلامی،
کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں،
اور کچھ وار،
ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے.

جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا تو سمجھا لفظ صرف معنی نہیں رکھتے یہ تو دانت رکھتے ہیں جو کاٹ لیتے ہیں.

یہ ہاتھ رکھتے ہیں جو گریبان کو پھاڑ دیتے ہیں.

یہ پاؤں رکھتے ہیں جو ٹھوکر لگا دیتے ہیں.

اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں لہجے کا اسلحہ تھما دیا جائے تو یہ وجود کو چھلنی کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں.

اپنے لفظوں کے بارے میں محتاط ہو جاؤ، انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لو کہ یہ کسی کے وجود کو سمیٹیں گے یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے. کیونکہ یہ تمہاری ادائیگی کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ...
اور بادشاہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے سے بڑے بادشاہ کو جواب دہ بھی...

■ایک ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ نے ﺍﯾﮏ معبّر (خواب کی تعبیر بتانے والے) ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳُﻨﺎﯾﺎ.
معبّر ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ! ﺍﺳﮑﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺮﯾﮟ ﮔﮯ. ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ کو بہت غصہ آیا. اس نے معبّر ﮐﻮ قتل کردیا.

ایک اور معبّر ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍُس کو ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ سنایا.

معبّر ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ! ﺁﭘﮑﻮ ﻣُﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮ، ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺎﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ.

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ معبّر ﮐﻮ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻭ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ...

ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍُﺳﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟

ﺟﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﮨﯽ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ اور الفاظ میں ﻓﺮﻕ ﮨﮯ،،

آپ کا بولا گیا ایک ایک لفظ کسی دوسرے کے لئے مرہم بھی بن سکتا ہے،، اور زخم بھی دے سکتا ہے.
اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے...!!!

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💝اسلام کی بنیاد محبتِ اہلبیتؑ 💝

رسولِ اکرمؐ نے فرمایا: جنت میں صرف مسلمان ہی جا سکتا ہے.

جناب ابوذرؓ نے سوال کیا؛
اے خدا کے رسولؐ! اسلام کیا ہے؟

رسول اکرمؐ نے فرمایا:
"اسلام کا لباس تقوٰی ہے،
اس کا شعار ہدائت ہے،
حیا اس کا باطنی جامہ ہے،
ورع (زہد) اس کی اساس ہے،
دینداری اس کا کمال ہے،
اور
عملِ صالح اس کا پھل ہے.

(اے ابوذر یاد رکھو) ہر چیز کی ایک بنیاد ہوتی ہے (جس پر اسکی عمارت قائم ہوتی ہے) اور اسلام کی بنیاد اہلبیتؑ کی محبت ہے."

📚تحف العقول، ص:51.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 حضرت سلیمانؑ اور چڑیا 🔷

منقول ہے کہ جناب سلیمانؑ نے ایک نرچڑیا کو دیکھا، جو اپنی مادہ سے کہہ رہا تھا...
تم مجھ سے کیوں بھاگتی ہو؟ (مجھے موقع کیوں نہیں دیتی؟) اگر میں چاہوں تو حضرت سلیمانؑ کے گنبد کو اپنی چونچ میں پکڑ کر دریا میں پھینک دوں.

جناب سلیمانؑ اس کی گفتگو سن کر مسکرانے لگے اور دونوں کو بلا کر نر سے پوچھا کہ...
جو کچھ تم کہہ رہے تھے کیا اسے کرنے کے لئے تمہارے اندر طاقت ہے؟

تو اس نرچڑیا نے عرض کیا...
اے اللہ کے نبیؑ! میرے اندر اتنی طاقت تو نہیں ہے لیکن (پھر بھی میں نے اپنی بیوی سے وہ جملہ اس لئے کہا کہ) بعض اوقات اپنی بیوی کے سامنے اپنی بڑائی کرنی پڑتی ہے. اور خود کو (کمالات) سے آراستہ کر کے پیش کرنا پڑتا ہے. اور چاہنے والا عاشق (اپنی محبت کے اظہار میں) جو کچھ کہتا ہے، اس پر اسے ملامت نہیں کی جاتی.

یہ سن کر...
جناب سلیمانؑ نے اسکی مادہ سے کہا کہ جب یہ تجھ سے محبت کرتا ہے تو تم اسکی بات کیوں نہیں مانتی؟

مادہ چڑیا کہنے لگی...
اے خدا کے نبیؑ! یہ مجھ سے محبت نہیں کرتا، صرف باتیں بناتا ہے، اسے میرے ساتھ ساتھ ایک اور چڑیا سے بھی محبت ہے.

■مادہ چڑیا کی یہ بات سن کر جناب سلیمانؑ کے دل پر بہت اثر ہوا، وہ بہت شدت سے روئے، پھر چالیس دن تک لوگوں سے ملاقات نہیں کی. (مسلسل عبادت کرتے رہے) اور خدا سے دعا کرتے رہے کہ ان کے دل کو اپنی محبت سے اسی طرح بھر دے کہ اس کی محبت کے ساتھ کسی اور کی محبت کی آمیزش نہ ہو.

■روایت کا انداز بتا رہا ہے کہ خداوندعالم نے ان دونوں (نرومادہ چڑیوں) کو خصوصی ہدایت کی تھی کہ وہ اخلاص کی اہمیت کو واضح کریں، اور پھر اولاً اپنے نبی کے پاس اور ان کے وسیلہ سے عام لوگوں تک یہ پیغام پہنچایا جائے کہ خدا کی محبت میں اخلاص شرط ہے.
والله اعلم بالصواب (مترجم)

📚گفتار انبیاء، ص:133.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 غصّہ نہ کرو 🔶

حضرت محمد مصطفٰیؐ کا ارشاد ہے: "جس طرح سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے اسی طرح غصّہ ایمان کو تباہ کر دیتا ہے."

ایک شخص نے آپؐ سے عرض کیا:
اے خدا کے رسولؐ مجھے کچھ تعلیم دیجئے.

آپؐ نے فرمایا:
جاؤ غصّہ نہ کرو.

اس نے کہا:
بس اتنا کافی ہے...
یہ کہہ کر وہ اپنے گھر چلا گیا، وہاں اس کے قبیلے کے لوگوں میں جنگ چِھڑی ہوئی تھی، سب اسلحے سے لیس ہو کر ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہو چکے تھے.
جب اس شخص نے یہ کیفیت دیکھی تو اس نے بھی خود کو اسلحے سے لیس کیا اور صف میں آ کر کھڑا ہو گیا، اسی وقت اسے پیغمبر اسلامؐ کا ارشاد یاد آیا کہ "غصہ نہ کرو"
چنانچہ اس نے اسلحہ اتار کر پھینک دیا اور دشمن کی قوم کے پاس جا کر بولا:
اے لوگو جو کچھ بھی تم کو زخم لگا ہو، یا تمہارا کوئی آدمی قتل ہوا ہو یا تمہیں کوئی صدمہ پہنچا ہو، اس کا معاوضہ میں اپنے مال سے پورا پورا ادا کرنے پر تیار ہوں...

یہ سن کر وہ لوگ بولے:
جو کچھ ہو چکا وہ تمہارے لیے (معاف) ہے اور ہمیں بھی یہی باتیں زیادہ مناسب ہیں جو تم کہہ رہے ہو.
اس کے بعد سب لوگوں نے آپس میں صلح کر لی اور غیض و غضب ختم ہو گیا.

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

📚 کافی، باب الغضب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 غصّہ کے موضوع پر مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں...

🔶 غصّہ اور قوت برداشت
https://t.me/islamwitheman/72

🔶 غصّہ کرنے کے نقصانات
https://t.me/islamwitheman/86

🔶 غصہ نہ کرو
https://t.me/islamwitheman/478
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 خُدا رزق دینے والا ہے 🔷

حضرت امیرالمؤمنین علیؑ فرماتے ہیں کہ جن باتوں کی جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی ان میں یہ بھی تھا...

اے نورِ نظر! رزق کے سلسلہ میں جس کی نیت کوتاہ اور یقین و ایمان کمزور ہو اسے اس بات سے درسِ نصیحت حاصل کرنا چاہیے کہ خُداوندعالم نے اپنے امر سے اسے تخلیق کے تین مراحل سے گزارا اور اسے رزق عطا کیا جبکہ ان تین مرحلوں میں سے کسی ایک میں بھی نہ اس کی کسی کوشش کا کوئی دخل تھا، نہ اس نے کوئی تدبیر کی تھی (تو اسے یقین رکھنا چاہیے کہ) چوتھے مرحلہ میں بھی اسے خدا ضرور رزق عطا کرے گا.

■ ان تین مراحل میں سے پہلا مرحلہ تو وہ تھا جب وہ ماں کے پیٹ میں تھا، وہ خود تو ایک محفوظ جگہ پر تھا اور اس کا رزق اسے ملتا رہتا تھا، نہ گرمی اسے تکلیف پہنچاتی تھی نہ سردی.

■ پھر وہاں سے جب قدرت نے اسے باہر کی دنیا میں بھیجا تو اس کی ماں کے دودھ کو اس کا رزق قرار دیا جو اس کی غذائی ضروریات کے لئے کافی بھی تھا. اسی سے وہ پروان چڑھا اور اسے تازگی ملی، جس میں کسی شخص کی قوت و طاقت کا کوئی حصہ نہیں تھا.

■ پھر جب ماں کا دودھ چھوٹا تو خداوندعالم نے اس کے رزق کی ذمہ داری اس کے ماں باپ پر رکھی، جنہوں نے نہایت پیارومحبت کے ساتھ اسے رزق فراہم کیا اور ان کے دل میں ایسی محبت پیدا کر دی کہ وہ اولاد کے مسئلہ میں بیتاب و بے اختیار ہو جاتے ہیں اور اکثر حالات میں وہ اولاد کو خود اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں.

● (تو ان تینوں مراحل میں خداوندعالم بندے کو رزق عطا کرتا رہا اور وہ کھاتا رہا)

■ لیکن جب بڑا ہوا، سمجھ پیدا ہوئی اور اپنے رزق کے لیے خود کوشش کرنے لگا تو اب دل تنگ ہونے لگا اور اپنے پروردگار کی طرف سے طرح طرح کی بدگمانیوں میں مبتلا ہونے لگا یہانتک کہ اس کے مال میں خدا کا جو حق ہے اس سے انکار کرنے لگا اور تنگدستی کے خوف سے اور اس عقیدہ و یقین کی کمزوری کی وجہ سے کہ خدا دنیا و آخرت میں اسے بہترین عوض دینے والا ہے اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال کے اخراجات میں کمی کرنے لگا.
اے بیٹے ایسا بندہ کتنا برا بندہ ہے.

📚 گفتار انبیاء، آقای محمدتاج لنگرودی، ص:83.
____

👈 رزق کے
موضوع پر مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں...

🔷 محنت میں عظمت
https://t.me/islamwitheman/126

🌎 حضرت سلیمانؑ اور چیونٹی
https://t.me/islamwitheman/145

🔴 حضرت سلیمانؑ کی ضیافت
https://t.me/islamwitheman/146

🌷 پتھر میں کیڑے کو غذا
https://t.me/islamwitheman/233

🔰 چیونٹی کا اطمینان
https://t.me/islamwitheman/257

🔷 بے نیازی
https://t.me/islamwitheman/258

🔷 خدا رزق دینے والا ہے.
https://t.me/islamwitheman/481
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕  آئینہ ⭕

ایک کمپنی کا ایک ملازم اپنے دفتر پہنچا تو اسکی نگاہ دفتر کے گیٹ پر لگے ہوئے ایک نوٹس پر پڑی جس پر لکھا تھا:
"جو شخص کمپنی میں آپ کی ترقی اور بہتری میں رکاوٹ تھا کل رات اسکا انتقال ہوگیا آپ سے گزارش ہے کہ اس کی آخری رسومات اور جنازے کے لیے کانفرنس ہال میں تشریف لے آئیں جہاں پر اسکی میت رکھی ہوئی ہے."

یہ پڑھتے ہی وہ اداس ہو گیا کہ اسکا کوئی ساتھی ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہو گیا لیکن چند لمحوں بعد اس پر تجسس غالب آ گیا کہ آخر وہ شخص کون تھا جو اسکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا اس تجسس کو ساتھ لیے وہ جلدی سے کانفرس ہال میں پہنچا تو وہاں اس کے دفتر کے باقی سارے ساتھی بھی اسی نوٹس کو پڑھ کر آئے ہوئے تھے اور سب حیران تھے کہ آخر یہ شخص کون تھا...

کانفرس ہال کے باہر میت کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا اس قدر ہجوم ہو گیا کہ سکیورٹی گارڈ کو یہ حکم جاری کرنا پڑا کہ سب لوگ ایک ایک کر کے اندر جائیں اور میت کا چہرہ دیکھ لیں..

سب ملازمین ایک ایک کر کے اندر جانے لگے جو بھی اندر جاتا اور میت کے چہرے سے کفن ہٹا کر اس کا چہرہ دیکھتا تو ایک لمحے کی لیے حیرت زدہ اور گنگ ہو کر رہ جاتا اور اسکی زبان گویا تالو سے چپک جاتی یوں لگتا کہ گویا کسی نے اسکے دل پر گہری ضرب لگائی ہو..

باری آنے پر وہ شخص بھی اندر گیا اور میت کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو اس کا حال بھی دوسروں جیسا ہی ہوا... کفن کے اندر ایک بڑا سا آئینہ رکھا ہوا ہے اور اسکے ایک کونے پر لکھا تھا:
"دنیا میں ایک ہی شخص ہے جو آپ کی صلاحتیوں کو محدود کر کے آپ کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ آپ خود ہیں..
یاد رکھیے! آپ کی زندگی میں تبدیلی آپ کی کمپنی تبدیل ہونے سے، آپ کا باس تبدیل ہونے سے، آپ کے دوست احباب تبدیل ہونے سے نہیں آتی.
آپ کی زندگی میں تبدیلی تب آتی ہے جب آپ اپنی صلاحیتوں پر اعتبار کرنا شروع کر دیتے ہیں، ناممکن کو ممکن اور مشکلات کو چیلنج سمجھتے ہیں.
اپنا تجزیہ کریں. اپنے آپ کو آزمائیں. مشکلات، نقصانات اور نا ممکنات سے گھبرانا چھوڑ دیں اور ایک فاتح کی طرح جیئں....

■ اسی طرح خود کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے ہم خود محنت کریں گے تو اللہ تعالی بھی ہماری مدد کرے گا۔ اور ہم اسلام میں ترقی کرتے چلے جائیں گے۔

■ یعنی ہم اپنے آپ کو خود سنوارنے کی کوشش کریں گے تو جلدی سنور جائیں گے۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ تنقید و مشاہدہ ⭕

ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﻮﺑﯿﺎﮨﺘﺎ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﺌﮯ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺁﺋﮯ۔ ﺍُﺱ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﺮ ﺗﻨﻘﯿﺪﯼ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮈﺍﺋﻨﻨﮓ ﮨﺎﻝ ﺳﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺻﺎﻑ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ...

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﻟﮑﻮﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻼﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔

’’ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﮐﺘﻨﮯ ﺧﺮﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﯿﻮﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ، ﺫﺭﺍ ﺻﺎﻑ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩُﮬﻠﮯ۔ ﺍِﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺻﺎﺑﻦ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﯾﺎ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮫ ﮨﯽ ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺩﮬﻮﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ.‘‘

ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺎ۔ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻼﺗﮯ، ﺍُﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺩُﮬﻼﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﮨﻮﺗﮯ۔ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮐﮧ ﺁﺝ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﭼﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﺋﮯ، ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺧﻮﺩ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﻭﮞ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻼﺋﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ۔

ﺍﻟﻐﺮﺽ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻼﺋﯽ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﺍُﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﻨﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ۔

ﺗﻘﺮﯾﺒﺎََ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮍﻭﺳﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺻﺎﻑ ﺳُﺘﮭﺮﮮ ﺩُﮬﻠﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ:
ﺩﯾﮑﮭﺎ! ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﯿﮑﮫ ﮨﯽ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﯿﺴﮯ ﺩﮬﻮﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ. ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺻﺎﻑ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺧﺮ ﯾﮧ ﻋﻘﻞ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ؟ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺎﻡ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺻﺎﺑﻦ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﭗ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔

ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ:
ﺁﺝ ﺻﺒﺢ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺪﯼ ﺍُﭨﮫ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮈﺍﺋﻨﻨﮓ ﮨﺎﻝ ﮐﯽ ﻭﮦ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺻﺎﻑ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ..

■ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺻﺎﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﺭﻭﺩِ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﭨﮭﮩﺮﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺻﻞ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺧﻮﺩ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﻧﮧ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﻗﻒ ﺳﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ، ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺻﺎﻑ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺐ ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺤﺼﺎﺭ ﺍُﺱ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﯾﺎ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﮐﯽ ﺷﻔﺎﻓﯿﺖ ﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

●ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﻧﮑﺘﮧ ﭼﯿﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻟﮯ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺴﺎﺳﺎﺕ ﮐﻮﺻﺎﻑ ﺍﻭﺭ ﺷﻔﺎﻑ ﺭﮐﮭﯿﮟ۔ ﺟﺐ ﺍﭼﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑُﺮﯼ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ؟

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 الله پر یقین 🔷

ﺍﯾﮏ ﻣﻔﻠﺲ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺘﺎ؛
"ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﭽﺎﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﺩﯾﺪﮮ"
ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮔﯿﺲ ﻭﺍﻟﮯ ﻏﺒﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺘﺎ.

ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻭﺍﻗﻊ ﺗﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘُﻠﺴﯿﺌﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻏﺒﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻨﺪﯾﺴﮯ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﻣﺤﻈﻮﻅ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ،
ﭼﻠﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﻤﺸﮑﻞ ﭘﭽﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﮨﯽ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﭘﺎﺋﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ؛
ﯾﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﯿﺮﺍ ﺭﺯﻕ ﭘﭽﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﮩﭽﺎﻧﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺍﺱ ﻏﺮﯾﺐ ﻧﮯ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ نہ ﮐﮩﺎ،
ﺷﮑﺮﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺌﮯ۔

ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﯿﺲ ﻭﺍﻟﮯ ﻏﺒﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺎ۔
ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ، ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﮐﺎﻏﺬ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ:
ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮩﺖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺟﻮ ﺗﻮﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻦ ﻟﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺗﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮯ ﻏﯿﺮﺕ ﮨﯿﮟ، ﺁﺩﮬﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﺑﺎ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮے..

■ اس کو یہ یقین تھا کہ اللہ نے پورے بھیجے ہیں لیکن پولیس نے رکھ لئے ہیں.

ہمارا یقین کیسا ہے؟

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/138
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
📝 كيا ہرقسم كےسادات باعظمت ہيں؟

ايک دن امام رضا عليہ السلام كے بھائى اور امام كاظم عليہ السلام كے بيٹے زيد لوگوں ميں خطاب كرتے ہوۓ كہہ رہے تھے كہ سادات كى بہت عظمت ہے، يہ خاندان بہت اعلىٰ مراتب پہ فائز ہے اور اس خاندان پر جہنم كى آگ اللہ تعالىٰ نے حرام قرار دى ہے، ابھى يہى باتيں كر رہے تھے كہ امام رضا عليہ السلام وہاں تشريف لاۓ اور فرمايا كہ...
’’يہ كيا باتيں ہيں جو تم لوگوں سے كہہ رہے ہو؟ وہ جو تم نے سن ركھا ہے كہ اولاد زہراؑ پر آتش جہنم حرام ہے اس سے مراد حضرت فاطمہؑ كى بلافصل اولاد حضرت حسنينؑ اور ان كى دو بہنيں ہيں‘‘
اگر اس كا مطلب يہ ہوتا جوتم بيان كر رہے ہو كہ اولاد فاطمہؑ امتيازى خصوصيات کی حامل ہيں اور ہر لحاظ سے اہل نجات ہيں تو پھر تم اپنے والد حضرت امام موسىٰ كاظم عليہ السلام سے زيادہ قابل احترام ہو اسلئے كہ انہوں نے دنيا ميں خدا كى اطاعت ميں زندگى بسر كى اور عابد شب زندہ دار تھے اور تم خدا كى نافرمانى كرتے ہو تمہارے قول كے مطابق دونوں برابر اور اہل نجات ہيں، پھر تو فائدے ميں رہے۔ كہ تم نے كوئى كام بھى نہ كيا اور کوئی پريشانى بھى نہيں اٹھائى اور ركھا ركھايا خزانہ تمہيں مل گيا۔

📚 سچى كہانياں، شہيدمرتضى مطہرىؒ، ج2، ص:60.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔

🌹 سادات کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/140

⏩ کیا ہر قسم کے سادات باعظمت ہیں؟
https://t.me/islamwitheman/488

🗒 فضیلت سید اور نسب کا بدلنا
https://t.me/islamwitheman/489

🌹سادات
http://t.me/islamwitheman/1614

🌷فقیر سید
http://t.me/islamwitheman/1618

💝 سادات کی خصوصیات
https://t.me/islamwitheman/5113

🔷 احترام سادات کا صلہ
https://t.me/islamwitheman/5204
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⏩ فضیلتِ سید اور نسب کا بدلنا ⏪

علامہ جمال الدینؒ اولادِ حسنین کریمین علیھم السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں...
"فتخصصٔ السیادۃ لھم و قد بینہ الشرافۃ لاجل الاباء والام ۰۰۰۰۰۰ فمن ولد منھا ذکراً او انثی فھو سید الی القیامۃ و یجب علی جمیع الخلق تعظیم ابداً."
ترجمہ:
حسنین کریمین علیھم السلام کی اولاد کے لیے سیادت مخصوص ھے مرد ہو یا عورت جو بھی ان کی نسل سے ہو وہ قیامت تک سید ہی رھے گا اور ساری کائنات پر واجب ھے ان کی تعظیم کرتی رھے.(1)

"خصص بیوت النبوۃ بالسیادۃ فکل من یثبت لہ بنبوۃ النبوۃ سید."
ترجمہ:
خداوندعالم نے نبیؐ کے گھرانے کو سیادت کے لیے مخصوص کر دیا ھے لہذا جس فرد بشر کے لیے ثابت ہو جائے کہ یہ نبی کی اولاد ھے وہ یقیناً و لازماً سید مانا جائے گا.(2)

■ لفظ سید بیتِ نبوت کے لئے مخصوص ھے، یہ لفظ نبی اور ان کی اولاد کے سوا کسی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر کوئی اس لفظ کو خلاف منشاء و رسالت استعمال کرے تو یقیناً حدیث کی روشنی میں ملعون ہو گا. کہ داخل نسب اور خارج نسب پر لعنت ھے.

عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال کفر باللہ من تبراء من نسب وان دق.
ترجمہ:
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: اس شخص نے اللہ کے ساتھ کفر کیا جس نے اپنے نسب سے برآت ظاہر کی اگرچہ وہ نسب خسیس ہی کیوں نہ ہو.(3)

📚 حوالہ جات:
(1)موامع التنزیل، ج3، ص:323.
(2)صحاح الاخبار فی نسب السادۃ الفاطمیۃ الاخیار، طبع بمبئی، ص:125.
(3)الکافی، مطبوعہ نولکشور، ص:543، الکتاب الایمان والکفر، باب الانتقاء.
مراۃالعقؤل، جلد2، ص:335، مطبوعہ ایران. باب الانتقاء.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔

🌹 سادات کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/140

⏩ کیا ہر قسم کے سادات باعظمت ہیں؟
https://t.me/islamwitheman/488

🗒 فضیلت سید اور نسب کا بدلنا
https://t.me/islamwitheman/489

🌹سادات
http://t.me/islamwitheman/1614

🌷فقیر سید
http://t.me/islamwitheman/1618

💝 سادات کی خصوصیات
https://t.me/islamwitheman/5113

🔷 احترام سادات کا صلہ
https://t.me/islamwitheman/5204
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕