ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌙 20جمادی الثانی
ولادت باسعادت شہزادئِ کونین حضرت فاطمةالزہراءؑ کے موقع پر تمام مؤمنين و مؤمنات بالخصوص امامِ زمانہ قائم آلِ محمد (عج) کی بارگاہِ اقدس میں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں.....
🌹 فضیلتِ سیّدہ فاطمہؑ 🌹

رسول اکرمؐ نے فرمایا.....
●فاطمہؑ میرا ٹکڑا ہے، جس نے اسے غضب ناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا.(1)

●ایک دن پیامبرؐ نے فاطمہؑ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور یوں فرمایا:
جس نے اسے پہچان لیا تو حق ادا کردیا اور جو اسے نہیں جانتا وہ سن لے، یہ فاطمہؑ مجھ محمدؐ کی بیٹی ہے، یہ میرا ٹکڑا ہے، یہ میرا دل ہے، جس نے بھی اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی.(2)

●جابربن عبدالله کہتےہیں؛ پیغمبرؐ نے فرمایا:
فاطمہؑ میری رگِ حیات ہے، جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی، جس نے مجھے اذیت دی اس نے خدا کو اذیت دی، جس نے خدا کو اذیت دی آسمان و زمین اس پر لعنت کرتے ہیں.(3)

●ابن فتال نیشاپوری پیغمبرؐ کی حدیث کہ جو حضرت علیؑ سے فرمایا، بیان کرتا ہے:
اے علیؑ! فاطمہؑ میرا ٹکڑا، میری آنکھوں کا نور اور میرے دل کی ٹھنڈک ہے.(4)

●امام حسینؑ پیغمبرؐ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
فاطمهؑ باعثِ خوشحالی ہے، اسی طرح اس کے دو بیٹے میرے دل کی ٹھنڈک اور ان کے شوہر میری آنکھوں کا نور ہیں.(5)

●خطیب بغدادی پیغمبرؐ کی معراج کے بارے میں یوں روایت کرتے ہیں:
جس رات میں معراج پر گیا تو دیکھا بہشت کے دروازے پر یہ لکھا تھا:
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، علیؑ اللہ کے حبیب ہیں، حسنؑ و حسینؑ اللہ کے صفی ہیں، فاطمہؑ اللہ کی منتخب شدہ ہیں اور ان سے بغض رکھنے والے پہ اللہ کی لعنت ہے.(6)

●طبری، بشارةالمصطفیٰ میں امام زین العابدینؑ سے اور اسی طرح وہ اپنے بابا سے یہ سلسلہ رسولِ خدا تک پہنچتا ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
میں، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ اور ان کے نو فرزند خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں. ہمارے دشمن خدا کے دشمن اور ہمارے دوست خدا کے دوست ہیں.(7)

●انس بن مالک رسولِخداؐ سے روایت کرتے ہیں:
میری امت کی خواتین میں میری بیٹی فاطمہؑ کا مقام سب سے بلند ہے.(8)

●ایک اور روایت میں یوں فرمایا:
پورے عالم کے مردوں میں سے بہترین مرد علیؑ ہے اور خواتین میں سے فاطمہؑ ہیں.(9)

●اسی طرح حضرت فاطمہ کی شخصیت کے بارے فرمایا:
اگر سب اچھائیاں اور اخلاقی فضائل کو مجسم کیا جائے تو وہ فاطمہؑ ہیں بلکہ فاطمہؑ کا مقام اس سے بھی بالاتر ہے.(10)

●احتضار کی حالت میں رسولِخداؐ نے مولائے کائنات علی بن ابی طالبؑ سے فرمایا:
اے علی! فاطمہؑ تمہارے پاس خدا اور اس کے رسول کی امانت ہے، پس اس امانت کا خاص خیال رکھنا کیونکہ فاطمہؑ مریمِ کبریٰ ہے.(11)

●شیخ طوسی نے عبدالله بن حارث بن نوفل سے نقل کیا ہے کہ میں نے سعد بن مالک سے سنا کہ اس نے کہا کہ میں نے رسولِخداؐ سے سنا:
فاطمةُ بضعةٌ منّی مَن سَرَّها فَقَد سَرَّنی و مَن ساءها فَقَد ساءنی،فاطمة أَعزُّ البریّة عَلَیَّ.
فاطمہؑ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے خوش کیا اس نے مجھے خوش کیا جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی. فاطمہؑ لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے.(12)

●علّامه مجلسی اسامہ سےنقل کرتےہیں:
ایک دن مسجد نبوی کے قریب سے گذرا تو علی اور عباس کو بیٹھے دیکھا جیسے ہی مجھے دیکھا تو کہا کہ ہمارے لیے پیغمبرؐ سے ملاقات کا وقت لو.
کہتا ہے میں نے رسولِخداؐ سے عرض کیا کہ علی اور عباس ملاقات کی اجازت مانگ رہے ہیں تو پیغمبرؐ نے فرمایا:
کیا جانتے ہو کس چیز نے انہیں اس مقام تک پہنچایا؟
میں نے کہا خدا جانتا ہے کہ مجھے نہیں معلوم، پس انہیں اجازت ملی.
اور دونوں اندر آئے اور سلام کیا پھر احترام کے ساتھ سامنے بیٹھ گئے اور عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ آپ کے نزدیک محبوب ترین کون ہے؟
پیغمبرؐ نے جواب میں فرمایا: فاطمہؑ(13)

📚 حوالہ جات:
1)صحیح بخاری، ج 2، ص:302؛ حلیةالأولیاء، ج 2، ص:40؛ وتهذیب التّهذیب، ج 12، ص 469.
2)بحارالأنوار، ج43، ص:80.
3)بحارالأنوار، ص:54.
4)روضةالواعظین، ص:150.
5)مقتل الحسین خوارزمی، ج1، ص:59.
6)تاریخ بغداد، ج1، ص:259.
7)بشارةالمصطفی، ص:24.
8)احقاق الحق، ج10، ص:115.
9)احقاق الحق، ج25، ص:37.
10)مقتل الحسین خوارزمی، ج1، ص:60.
11)فاطمةالزّهراء، ص:58.
12)بحارالأنوار، ج43، ص:23.
13)گزشتہ، ص 68 و ذخایر العقبی، ص:35.

https://t.me/islamwitheman/435
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حضرت فاطمہؑ کا نامِ گرامی 🌹

پيغمبرِ اسلامؐ سے منقول ہے کہ حضرت فاطمہؑ سے پيغمبر اکرمؐ نے دريافت کيا کہ کيا تم جانتی ہو کہ تمہارا نام فاطمہ کيوں رکھا گيا؟

حضرت علىؑ نے عرض کيا:
يا رسول اللہ! آپ ہی اس کی وجہِ تسميّہ بيان فرمائيے.

🌹پيغمبرؐ نے ارشاد فرمايا:
اس کی وجہ يہ ہے کہ بروزِ قيامت خداوندِعالم فاطمہؑ اور اس کے شيعوں کو آتشِ جہنم سے محفوظ رکھے گا.(1)

🌹پيغمبرِ اسلامؐ نے فرمايا:
"قيامت کے دن ميری بيٹی فاطمہ ايسے بہشتی ناقہ پر سوار ہوکر ميدانِ محشر ميں وارد ہوگی جس کی مہار مرواريد کی، چارپائے زمرد سبز کے، آنکھيں ياقوت سرخ کی اور اس پر ايک قبہ نور ہوگا جس سے ہر شئے ديکھی جا سکے گی، اس ناقہ کے سر پر ايک تاج ہوگا جس کے گرد ياقوت کے ستر پائے ہوں گے وہ اسی طرح ضُوافشانی کريں گے جس طرح آسمان پر ستارے. اس سواری کے داہنی طرف ستر ہزار ملک، بائيں طرف ستر ہزار ملک اور اس ناقہ کی مہار جبرائيلؑ کے ہاتھ ميں ہوگی اور وہ بآواز بلند ندا ديں گے! اے اہلِ محشر تم اپنی آنکھيں بند کر لو ابھی فاطمہؑ بنتِ محمدؐ گزريں گیں. يہ سنتے ہی سب کے سب يہاں تک کہ پيغمبر و انبياء، شہداء و صديقين بھی اپنی آنکھيں بند کر ليں گے.
فاطمہؑ الٰہی کے سامنے کھڑی ہوجائيں گيں، اس وقت صدائے الٰہی گونجے گی..
اے ميرے حبيب کي بیٹی! تم جو بھی مجھ سے مانگو گی ميں دوں گا اور جس کی تم شفاعت کروگی، ميں اس گو قبول کروں گا.
فاطمہؑ کہيں گی:
اے ميرے خدا ميری ذريت اور ميرے شيعوں کی شفاعت قبول فرما، بارديگر صدائے الٰہی بلند ہوگی...
کہاں ہيں ذريتِ فاطمہؑ اور اس کی پيروی کرنیوالے؟ کہاں ہيں اس کے ذريت کے دوست؟
اس وقت ايک گروہ آئیگا جس کا فرشتہِ رحمت حصار کئے ہوگا اور فاطمہؑ ان سب کو لے کر داخلِ بہشت ہوں گِيں.(2)

🌹زيارة فاطمةالزهراء:
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ رَسُولِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ نَبِىِّ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ حَبيبِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ خَليلِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ صَفىِّ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ اَمينِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ خَيْرِ خَلْقِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ اَفْضَلِ اَنْبِياءِ اللهِ وَرُسُلِهِ وَمَلائِكَتِهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ خَيْرِ الْبَرِّيَةِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ ياسِيِّدَةَ نِساءِالْعالَمينَ مِنَ الاَْوَّلينَ وَالاْخِرينَ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يازَوْجَةَ وَلِيِّ اللهِ وَخَيْرِ الْخَلْقِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا اُمَّ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ سَيِّدَىْ شَبابِ اَهْلِ الْجَنَّةِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ اَيَّتُهَا الصِّدّيقَةُ الشَّهيدَةُ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ اَيَّتُهَا الرَّضِيَّةُ الْمَرْضِيَّةُ،
اَلسـَّلامُ عـَلَيْكِ اَيَّتـُهَا الْفاضِلـَةُ الزَّكِيـَّةُ،
اَلسـَّلامُ عـَلَيْكِ اَيَّتـُهَا الْحَوْراءُ الاِْنْسِيَّة.

📚 حوالہ جات:
1)ذخائرالعقبیٰ، صفحہ:26. ينابيع المودة صفحہ:194. الصواعق المحرقہ، صفحہ:245.
2)امالی صدوق، صفحہ:25، بحارالأنوار، جلد43، صفحہ:261، 220.

https://t.me/islamwitheman/432
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌟 ام ابیھا 🌟

سیدہ خاتون جنت سلام اللہ علیها کی سب سے زیادہ حیرت انگیز کنیت ام ابیھا ھے، یعنی (اپنے باپ کی ماں)،
یہ لقب اس بات کا ترجمان ھے کہ آپ اپنے والد بزرگوار کو بے حد چاھتی تھیں اور کمسنی کے باوجود اپنے بابا کی روحی اور معنوی پناہ گاہ تھیں.
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو ام ابیھا کا لقب اس لئے دیا کیونکہ عربی میں اس لفظ کے معنی، ماں کے علاوہ اصل اور مبداء کے بھی ھیں یعنی جڑ اور بنیاد۔ لھذا اس لقب (ام ابیھا) کا ایک مطلب نبوت اور ولایت کی بنیاد اور مبداء بھی ہے۔ کیونکہ یہ آپ ھی کا وجود تھا، جس کی برکت سے شجرہٴ امامت اور ولایت نے رشد پایا، جس نے نبوت کو نابودی اور نبی خدا کو ابتریت کے طعنہ سے بچایا.

ذیل میں ان علماء و محدثین اہلسنت کے نام دیئے جا رهے هیں. جنہوں نے اپنی کتب میں جناب سیدہ سلام اللہ علیها کے اس خصوصی لقب کا تذکرہ کیا هے....!!!

1-الإصابة (حافظ ابن حجر عسقلانى)
2-الاسیعاب ( حافظ ابن عبد البر اندلسی)
3-اسد الغابة (حافظ ابن اثیر الجزري)
4-سیر العلام النبلاء (حافظ زهبی دمشقی)
5-تهزیب التهزیب ( حافظ ابن حجر عسقلانى)
6-تاریخ الإسلام ( حافظ زهبی دمشقی)
7-امتاع لاسماع (المقریزی)
8-عمدة القارئ شرح صحيح البخاري (بدر الدین عینی)
9-البداية والنهاية فی التاريخ (حافظ ابن کثیر دمشقی)
10-مجمع الزوائد (حافظ نور الدين علی الهیثمی)
11-مناقب علی ابن ابی طالب (حافظ ابو الحسن بن محمد الواسطی)
12-منتخب من کتاب زیل المزیل ( محمد بن جرير الطبري)
13-تاريخ المدينة و دمشق (حافظ ابن عساکر)
14-عقیدہ فی اہلبیت (حافظ سلمان ن سالم)
15-المعجم الكبير (حافظ ابی القاسم احمد الطبراني)
16-کتاب الکاشف ( حافظ زهبی الدمشقي)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 دختر رسول فاطمةالزھراءؑ کے بارے میں پوسٹس۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/432

🔶 شہادت سیدہ زھراءؑ، تجہیز و تدفین
https://t.me/islamwitheman/301

🔶 شہادت بیبی زهراءؑ بزبان رسول اکرمؐ
https://t.me/islamwitheman/305

🔶 بوقت دفن بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/306

🔶 دختر رسول (ص)
https://t.me/islamwitheman/312

🔶 وصیت حضرت فاطمةالزھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/313

🌹 بیبی زھراءؑ کے ہار کی برکتیں
https://t.me/islamwitheman/314

🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318

🔶 حضرت فاطمةالزھراءؑ کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/319

🌺 ولادت باسعادت حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/431

🌹 فضیلت سیدہ فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/436

🌹 حضرت فاطمہؑ کا نام گرامی
https://t.me/islamwitheman/437

🌟 اُمُّ اَبِیھا
https://t.me/islamwitheman/446

🌷 فضائل حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/449

🌹 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ
http://t.me/islamwitheman/3676

🌷 نور کی نور سے شادی
http://t.me/islamwitheman/3677

🌹 خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ
http://t.me/islamwitheman/3678

💐 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز
http://t.me/islamwitheman/3679

⚪ سیدہ زھراءؑ کی رخصتی مبارک
http://t.me/islamwitheman/3760

💝 حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی
http://t.me/islamwitheman/3762

🌹 حضرت فاطمہ زھراءؑ 40 احادیث
https://t.me/islamwitheman/2252
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌷 فضائل حضرت فاطمہؑ 🌷

حضرت فاطمہ زہراءؑ کے فضائل کی یہ احادیث اہلسنت کی کتابوں سے لی گئی ہیں.....

■ قال رسول اللّه إذا كانَ يَوْمُ القيامَةِ نادي مُنادٍ يا أَهْلَ الجَمْعِ غُضُّوا أَبْصارَكُمْ حَتي تَمُرَّ فاطِمَة
ترجمہ:
رسولِخداؐ نے فرمایا: روزِ قیامت ایک منادی نداء دے گا کہ اے اہلِ قیامت اپنی آنکھوں کو بند کر لو، کیونکہ اب یہاں سے فاطمہ کا گزر ہونے والا ہے.
📚كنزالعمّال، ج13، ص:91 و 93.
منتخب كنزالعمّال بهامش المسند، ج5، ص:96.
الصواعق المحرقة، ص:190.
أسدالغابة، ج5، ص:523.
تذكرةالخواص، ص279.
ذخائرالعقبي، ص:48.
مناقب الإمام علي لابن المغازلي، ص:356.
نورالأبصار، ص:51 و 52.
ينابيع المودّة، ج2، باب56، ص:136.

■ قال رسول اللّه كُنْتُ إذا اشْتَقْتُ إِلي رائِحَةِ الجنَّةِ شَمَمْتُ رَقَبَةَ فاطِمَة.
ترجمہ:
رسولِخداؐ نے فرمایا: میں جب بھی جنت کی خوشبو کا مشتاق ہوتا ہوں تو فاطمہ سے اس خوشبو کو سونگھتا ہوں.
📚منتخب كنزالعمّال، ج5، ص:97.
نورالأبصار، ص:51.
مناقب الإمام علي لابن المغازلي، ص:360.

■ قال رسول اللّه حَسْبُك مِنْ نساءِ العالَميَن أَرْبَع: مَرْيمَ وَآسيَة وَخَديجَة وَفاطِمَة.
ترجمہ:
رسولِخداؐ نے فرمایا: تمام جہانوں میں فقط چار عورتیں بہترین ہیں، مریمؑ، آسیہؑ، خدیجہؑ اور فاطمہؑ.
📚مستدرك الصحيحين، ج3، باب مناقب فاطِمَة، ص:171.
سيرأعلام النبلاء، ج2، ص:126.
البدايةوالنهاية، ج2، ص:59.
مناقب الإمام علي لابن المغازلي، ص:363.

■ قال رسول اللّه يا عَلِي هذا جبريلُ يُخْبِرنِي أَنَّ اللّهَ زَوَّجَك فاطِمَة.
ترجمہ:
رسولِخداؐ نے فرمایا: اے علیؑ ابھی مجھے جبرائیلؑ نے خبر دی ہے کہ خداوند نے فاطمہؑ کی شادی تم سے کردی ہے.
📚مناقب الإمام علي من الرياض النضرة، ص:141.

■ قال رسول اللّه ما رَضِيْتُ حَتّي رَضِيَتْ فاطِمَة.
ترجمہ:
رسولِخداؐ نے فرمایا: میں کبھی بھی کسی سے راضی نہیں ہوا، مگر یہ کہ فاطمہ اس سے راضی ہو جائے.
📚مناقب الإمام علي لابن المغازلي، ص:342.

■ قال رسول اللّه يا عَلِيّ إِنَّ اللّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَكَ فاطِمَة.
ترجمہ:
رسولِخداؐ نے فرمایا: اے علیؑ خداوند نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں فاطمہ کی شادی تم سے کر دوں.
📚الصواعق المحرقة، باب11، ص:142.
ذخائرالعقبی، ص30 و 31.
تذكرةالخواص، ص:276.
مناقب الإمام علي من الرياض النضرة، ص:141.
نورالأبصار، ص:53.

■ قال رسول اللّه إِنّ اللّهَ زَوَّجَ عَليّاً مِنْ فاطِمَة.
ترجمہ:
رسولِخداؐ نے فرمایا: خداوند نے علیؑ کی شادی فاطمہؑ سے کی ہے.
📚الصواعق المحرقة، ص:173.

■ قال رسول اللّه أَحَبُّ أَهْلِي إِليَّ فاطِمَة.
ترجمہ:
رسولِخداؐ نے فرمایا: میرے اہلبیتؑ میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب فاطمہؑ ہے.
📚الجامع الصغير، ج1، ح203، ص:37.
الصواعق المحرقة، ص:191.
ينابيع المودّة، ج2، باب59، ص:479.
كنزالعمّال، ج13، ص:93.

■ قال رسول اللّه خَيْرُ نِساءِ العالَمين أَرْبَع: مَرْيَم وَآسية وَخَدِيجَة وَفاطِمَة.
ترجمہ:
رسولِخداؐ نے فرمایا: جہان کی تمام عورتوں کی سردار چار خواتین ہیں.. مریمؑ، آسیہؑ، خدیجہؑ اور فاطمہؑ،
📚الجامع الصغير، ج1، ح4112، ص:469.
الإصابةفي تمييزالصحابة، ج4، ص:378.
البدايةوالنهاية، ج2، ص:60.
ذخائرالعقبي، ص:44.

■ قال رسول اللّه سيّدَةُ نِساءِ أَهْلِ الجَنَّةِ فاطِمَة.
ترجمہ:
رسولِخداؐ نے فرمایا: جنت کی تمام عورتوں کی سرور و سردار فاطمہؑ ہیں.
📚كنزالعمّال، ج13، ص:94.
صحيح البخاري، كتاب الفضائل، باب مناقب فاطمةؑ.
البدايةوالنهاية، ج2، ص:61.

■ قال رسول اللّه أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الجَنَّةَ: عَليٌّ وَفاطِمَة.
ترجمہ:
رسولِخداؐ نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے علیؑ اور فاطمہؑ داخل ہوں گے.
📚نور الأبصار، ص:52/ شبيه به آن در كنزالعمّال، ج13، ص:95.

■ قال رسول اللّه أُنْزِلَتْ آيَةُ التطْهِيرِ فِيْ خَمْسَةٍ فِيَّ، وَفِيْ عَليٍّ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ وَفاطِمَة.
ترجمہ:
رسولِخداؐ نے فرمایا: آیت تطہیر پنجتن پاک میرے، علیؑ، حسنؑ، حسینؑ اور فاطمہؑ کی شان میں نازل ہوئی ہے.
📚إسعاف الراغبين، ص:116.
صحيح مسلم، كتاب فضائل الصحابة.

■ قال رسول اللّه أَفْضَلُ نِساءِ أَهْل الجَنَّةِ: مَرْيَمُ وَآسيةُ وَخَديجَةُ وَفاطِمَة.
ترجمہ:
رسولِخداؐ نے فرمایا: اہل جنت کی عورتوں میں سے سب سے افضل مریمؑ، آسیہؑ، خدیجہؑ اور فاطمہؑ ہیں.
📚سيرأعلام النبلاء، ج2، ص:126.
ذخائرالعقبي، ص:44.

■ قال رسول اللّه أَوَّلُ مَنْ دَخَلَ الجَنَّةَ فاطِمَة.
ترجمہ:
رسولِخداؐ نے فرمایا: سب سے پہلے جنت میں فاطمہؑ داخل ہوں گی.
📚ينابيع المودّة، ج2، ص:322 باب56.

■ قال رسول اللّه المَهْدِيِ مِنْ عِتْرَتي مِنْ وُلدِ فاطِمَة.
ترجمہ:
رسولِخداؐ نے فرمایا: امام مہدی میرے اہلبیتؑ میں سے ہے کہ جو فاطمہؑ کی اولاد میں سے ہیں.
📚الصواعق المحرقة، ص:237.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 بُغضِ اہلبيتؑ كے اثرات 🔷

 بُغضِ اہلبيتؑ پروردگار كى ناراضگی کا سبب بنتا ہے...

■ رسولِ اكرم:ؐ
شبِ معراج ميں آسمان پر گیا تو ميں نے ديكھا كہ درِ جنت پر لكھا ہے؛
لاالہ الااللہ محمدؐ رسول اللہ علىؑ حبيب اللہ الحسنؑ والحسينؑ صفوة اللہ فاطمةؑ خيرة اللہ اور ان كے دشمنوں پر لعنة اللہ.
📚(تاريخ بغداد 1 ص 259 ، تہذيب دمشق 4 ص 322 ، مناقب خوارزمى ص 302 / 297 ، فرائد السمطين 2 ص 74 / 396 ، امالى طوسى ص 355 / 737 ، كشف الغمہ 1 ص 94 ، كشف اليقين ص 445 / 551 ، فضائل ابن شاذان ص 71)

■ رسولِ اكرمؐ:
جب مجھے شبِ معراج آسمان پر لے جايا گيا تو ميں نے ديكھا كہ درِ جنت پر سونے كے پانى سے لكھا ہے؛
اللہ كے علاوہ خدا نہيں، محمدؐ اس كے رسول ہيں، علىؑ اس كے ولى ہيں، فاطمہؑ اس كى كنيز ہيں، حسنؑ و حسينؑ اس كے منتخب ہيں اور ان كے دشمنوں پہ خدا كى لعنت ہے.
📚(مقتل خوارزمى 1 ص 108 ، خصال ص 324 / 10، مائتہ منقبہ 109 / 54 روايت اسماعيل بن موسٰىؑ)

■ رسول اكرمؐ:
ہر خاندان اپنے باپ كى طرف منسوب ہوتا ہے سوائے نسلِ فاطمہؑ كے، كہ ميں ان كا ولى اور وارث ہوں اور يہ سب ميرى عترت ہيں، ميرى بچى ہوئي مٹى سے خلق كئے گئے ہيں، ان كے فضل كے منكروں كے لئے جہنم ہے، ان كا دوست خدا كا دوست ہے اور ان كا دشمن خدا كا دشمن ہے.
📚(كنز العمال 12 ص 98 / 34168 روايت ابن عساكر، بشارة المصطفى ص 20 روايت جابر)

■ رسول اكرمؐ:
آگاہ ہوجاؤ كہ جو آلِ محمدؑ سے نفرت كرے گا وہ روزِ قيامت اس طرح محشور ہوگا كہ اس كى پيشانى پر لكھا ہو گا.. ''رحمتِ خدا سے مايوس ہے''
📚(مناقب خوارزمى ص 73 ، مقتل خوارزمى 1 ص 40 ، مائتہ منقبہ 150 / 95 ، روايت ابن عمر ، كشاف 3 ص 403 ، فرائد السمطين 2 ص 256 / 524 ، بشارة المصطفى ص 197 ، العمدة 54 / 52 ، روايت جرير بن عبداللہ، احقاق الحق 9 ص 487)

■ امام علىؑ:
ہمارے دشمنوں كے لئے خدا كے غضب كے لشكر ہيں.
📚(تحف العقول ص 116 ، خصال ص 627 / 10 روايت ابوبصير و محمد بن مسلم ، غرر الحكم ص 7342)

بشکریہ: محمد حسن رضا سیفی

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👅دنیا کی زبانیں👅

علقمہؒ کہتا ہے، میں نے امامِ صادقؑ سے عرض کی: اے فرزندِرسولؐ! لوگ بڑی برائیوں کی نسبت ہماری طرف دیتے ہیں. اسلئے میرا دل تنگ آچکا ہے اور حد سے زیادہ ناراحت ہوں.

امام صادقؑ نے فرمایا:
اےعلقمہؒ تمام لوگوں کی رضاحاصل نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی لوگوں کی زبانوں کو بندکیا جاسکتا ہے. تم کسطرح لوگوں کے ہاتھوں اور زبانوں سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہو جبکہ انبیاءؑ، رسولؐ اور اوصیاءؑ اس دنیاکے لوگوں کی اذیت سےمحفوظ نہیں رہے.
●کیا یوسفؑ کو زناکی نسبت نہیں دی گئی؟
●کیا ایوبؑ کو نہیں کہاگیا کہ وہ اپنے گناہوں کیوجہ سے مصیبت کا شکار ہواہے؟
●کیا داؤدؑ کو یہ نسبت نہیں دی گئی کہ وہ پرندےکو پکڑنے کیلئے کوٹھے کی چھت پرچڑھے، ریبا کی زوجہ کونہاتے ہوئےدیکھا، اس پر عاشق ہوگئے اور ریباکو لڑائی کے خطِ مقدم پربھیجا تاکہ قتل ہوجائے اور اسکی بیوی سے شادی کرلے. ایسےغلط اور بےبنیاد الزاموں سے داؤدؑ کواذیت نہیں کی گئی؟ پھرخُدا نے اُنھیں اس تہمت سےنجات دی.
●کیا رسولِخُداؐ کوجھوٹا، جادوگر اور دیوانہ نہیں کہاگیا؟ اوریہ بھی کہاگیا کہ دُنیا کیلئے نبوت کادعویٰ کردیا ہے؟
●کیا مریمؑ کو یوسف نجارسے زنا کی نسبت نہیں دی گئی؟ کہ اس سے عیسیٰؑ پیداہوئے؟ نعوذباللہ من ذلک
●کیا رسولِخُداؐ کو شاعرنہیں کہاگیا اور زیدبن حارثہ کی بیوی سےتہمت نہیں لگائی گئی؟ اور یہ بھی تہمت نہیں لگائی گئی کہ رسولِخُداؐ نے ایسے کام کئے جن سے زیدبن حارثہ نے اپنی بیوی کوطلاق دی اور اس کیبعد رسولِخُداؐ نے اُس سے شادی کی؟ کیاجنگ بدر میں رسولِخُداؐ پر یہ الزام نہیں لگایاگیا کہ انہوں نے مال غنیمت سےسونےکاایک قطیفہ حمرا (سرخ سونےکاٹکڑا) اٹھالیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی.
"یہ نبیؐ کی شان نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے، جو خیانت کرے گا وہ خیانت شدہ چیز کے ساتھ قیامت کے دن حاضر ہوگا." (سورةآلِعمران:161)
●کیاپیغمبرؐ کویہ نسبت نہیں دی گئی تھی کہ وہ اپنےچچا کےبیٹے علیؑ کی خلافت کے بارےمیں ہوائے نفس کا شکار ہوگئے ہیں اور علیؑ کی خلافت کی بات کرتے ہیں جس پر یہ آیت نازل ہوئی.
"رسولؐ ہوائے نفس کے طور پر بات نہیں کرتا بلکہ جو کچھ بولتا ہے وہ وحی (جو نازل ہوئی) ہوتی ہے." (سورةوالنجم:4)
●کیایہ تہمت بھی رسولِؐخُدا پرنہیں لگائی گئی کہ صبح تک بستر سے جدا نہیں ہوا اور پھرمعراج اور سات آسمانوں کی سیرکی بات کرتاہے؟
●کیاعلیؑ پریہ تہمت نہیں لگائی گئی کہ وہ دُنیا اور حکومت کےطالب ہیں، وہ فتنہ کوصلح پر ترجیح دیتےہیں، مسلمانوں کاخون بہاتےہیں، اگر اسکا وجود خیر پر ہوتا تو خالدبن ولید کو اسکی گردن اڑانےکا حکم نہ دیاجاتا؟ نعوذ باللہ من ذالک
●کیاعلیؑ پریہ تہمت نہیں لگائی گئی کہ فاطمہؑ کےہوتےہوئے ابوجہل کی بیٹی کو چاہتےہیں. جس پر رسولِؐخُداؐ نےممبر پر لوگوں سےشکایت کی کہ علیؑ چاہتےہیں کہ دشمنِ خُدا کی بیٹی سےعقد کرے، تاکہ سب جانیں کہ فاطمہؑ میرےجسم کاحصہ ہے جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی جس نے اسے مسرور کیا اس نے مجھے مسرور کیا؟

■اس کیبعد امامؑ فرمایا:
اے علقمہ! دیکھو یہ باتیں کس قدر تعجب آور ہیں کہ کچھ لوگ کہتے ہیں علیؑ خُدا ہے. اس کی عبادت کرنی چاہئے اور بعض لوگ کہتے ہیں(نعوذباللہ) علیؑ گنہگار ہے اور خُدا کا نافرمان ہے. اس آدمی کا کہنا ہے کہ علیؑ نافرمانِ خُدا ہے برداشت کرنا آسان تر ہے اس کے مقابل جوکہتا ہے کہ علیؑ خُدا و پروردگارِکائنات ہے درحالانکہ دونوں عقیدے باطل ہیں؟

●اے علقمہؒ! کیاخُداتعالیٰ کوتین خُداؤں کیطرف نسبت نہیں دی گئی؟
●کیا خُداتعالیٰ کومخلوق سےتشبیہ نہیں دی گئی؟
●کیا لوگوں نے یوں نہیں کہا کہ خُدا وہی دہر ہے؟ کیا یہ نہیں کہا کہ خُدا وہی فلک ہے؟ کیا یہ نہیں کہا گیا کہ خُدا مجسم ہے؟ آیا یہ نہیں کہا گیا کہ خُدا کی صورت نوجوان لڑکے جیسی ہے؟ درحالانکہ خُداتعالیٰ کی ذات اس سے بہت ہی بلندہے.

■اےعلقمہؒ! لوگوں کی زبانیں حق تعالیٰ کی طرف وہ نسبتیں دیتی ہیں جو نہیں دینی چاہئیں. تو پھر کس طرح اے علقمہ جس چیز کو تو ناپسند کرتا ہے اس کی تیری طرف نسبت نہ دی جائے؟
بس خُدا سے مددلو اور صبرکرو کیونکہ زمین خُدا کی ہے جسے وہ چاہتا ہے اسے اپنے بندوں میں سے حکومت دے دیتا ہے لیکن انجام و عاقبت متّقین کیلئے ہے

■پهر امامؑ نے فرمایا:
بنی اسرائیل موسیٰؑ کوکہنےلگے کہ جسطرح ہمیں تیرے تشریف لانے سے پہلے اذیت کرتے تھے اسیطرح ابھی اذیت ہوتی ہے تو پروردگار نے موسیٰؑ کو فرمایا: ان کو کہو کہ خُدا تمہارے دشمن کو ہلاک کرے گا اور تمہیں زمین پر ان کا جانشین بنائیگا اوروہ دیکھے گا کہ تم کسطرح عمل کرتےہو.

📚بحارالأنوار، باب عشرت

🔘 یہ نسخہ ہے جسے حضرت امام صادقؑ نے ہمیں عطاء کیا ہے کہ جب انبیاءؑ و اولیاءؑ لوگوں کی زبانوں اور انکے ہاتھوں سے محفوظ نہیں رہ سکے یہانتک کہ پروردگارِ کائنات پر تہمتیں اور غلط باتیں منسوب کی گئیں تو ہم کس حیثیت کے مالک ہیں کہ لوگ ہم پر باتیں نہ کریں.

https://t.me/islamwitheman/371
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 شیخ مفید اور ﻣﻨﺎﻇﺮﮦ 🔷

ﺷﯿﺦ ﻣﻔﯿﺪ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺍہلسنت ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﻋﺎﻟﻢﺩﯾﻦ ﺟﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﻗﺎﺿﯽ ”ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺠﺒﺎﺭ“ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ
ﺑﻐﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺱ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ.
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﻗﺎﺿﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﺠﺒﺎﺭ ﺩﺭﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﺑﮭﯽ ﺍن ﮐﮯ ﺍﺱ ﺩﺭﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ. ﺍﺱ ﺩﻥ ﺷﯿﺦ ﻣﻔﯿﺪ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﺱ ﻣﯿﮟ
ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﮐﺮ ﭼﻮﮐﮭﭧ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ.
ﻗﺎﺿﯽ ﻧﮯ ﺷﯿﺦﻣﻔﯿﺪ ﮐﻮ ﺍﺏ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻭﺻﺎﻑ ﺳﻦ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﮭﮯ. ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﯿﺦﻣﻔﯿﺪ ﻧﮯ ﻗﺎﺿﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ:
”ﺁﯾﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﻭﮞ؟“

ﺷﯿﺦﻣﻔﯿﺪ:
ﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺷﯿﻌﮧ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮؐ ﻧﮯ ﺻﺤﺮﺍﺋﮯ ﻋﺮﺏ ﻏﺪﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﯽ ﻋﻠﯿﮧ
ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
”ﻣﻦ ﮐﻨﺖ ﻣﻮﻻﮦ ﻓﮭﺬﺍ ﻋﻠﯽ ﻣﻮﻻﮦ“
ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﻻ ﮨﻮﮞ ﭘﺲ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻠﯽ ﻣﻮﻻ ﮨﯿﮟ“
ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺷﯿﻌﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﮍﮪ ﻟﯽ ﮨﮯ؟
ﻗﺎﺿﯽ:
”ﯾﮧ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ.“

ﺷﯿﺦ ﻣﻔﯿﺪ:
ﺍﺱ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﻣﻮﻻ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﮯ؟

ﻗﺎﺿﯽ:
”ﻣﻮﻻ ﺳﮯ ﻣﻄﻠﺐ ﺳﺮ ﭘﺮﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻟﻮﯾﺖ ﮨﮯ.“

ﺷﯿﺦ ﻣﻔﯿﺪ:
ﺍﮔﺮ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮؐ ﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻋﻠﯽؑ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺮﭘﺮﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﭘﺮ ﺍﻭﻟﻮﯾﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ.“
ﺍﺏ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﯿﻌﮧ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﯽ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎ ﻥ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﺍﻭﺭ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ؟

ﻗﺎﺿﯽ:
”ﺍﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ! ﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚ ” ﻏﺪﯾﺮ “ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺧﻼﻓﺖ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ”ﺩﺭﺍﯾﺖ“ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻗﻞ ﺷﺨﺺ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺩﺭﺍﯾﺖ ﮐﻮ ﺗﺮﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ.“

ﺷﯿﺦﻣﻔﯿﺪ:
ﺗﻤﺎﻡ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻋﻠﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
”ﯾﺎ ﻋﻠﯽ ﺣﺮﺑﮏ ﺣﺮﺑﯽ ﻭﺳﻠﻤﮏ ﺳﻠﻤﯽ“
ترجمہ:
”ﺍﮮ ﻋﻠﯽؑ! ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺻﻠﺢ ﻣﯿﺮﯼ ﺻﻠﺢ ﮨﮯ.“

ﻗﺎﺿﯽ:
”ﯾﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ.“

ﺷﯿﺦﻣﻔﯿﺪ:
ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﺟﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻨﮓ ﺟﻤﻞ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﻃﻠﺤﮧ، ﺯﺑﯿﺮ، ﻋﺎﺋﺸﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻋﻠﯽؑ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﺭﻭ ﺳﮯ ‏(ﺟﺐ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ) ﺗﻮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ
ﻭ ﺁﻟﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﮐﺎﻓﺮ ﮨﻮﺋﮯ.“

ﻗﺎﺿﯽ:
”ﺍﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ! ﻃﻠﺤﮧ ﻭ ﺯﺑﯿﺮ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﻟﯽ ﺗﮭﯽ.“

ﺷﯿﺦﻣﻔﯿﺪ:
ﺟﻨﮓ ﺟﻤﻞ ﺩﺭﺍﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﻗﻄﻌﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﯽ، ﯾﮧ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺳﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﺭﺍﯾﺖ ﮐﻮ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﭘﺮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻗﻞ ﺷﺨﺺ ﺩﺭﺍﯾﺖ ﮐﻮ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﺮﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ
ﮨﮯ.“

ﻗﺎﺿﯽ:
”ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮯﺑﺲ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮧ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭼﻮﻧﮏ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ؛ ”ﺗﻢ ﮐﻮﻥ ﮨﻮ؟“

ﺷﯿﺦﻣﻔﯿﺪ:
”ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺧﺎﺩﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﻧﻌﻤﺎﻥ ﮨﻮﮞ.“

ﻗﺎﺿﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﺦﻣﻔﯿﺪ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺑﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
”ﺍﻧﺖ ﺍﻟﻤﻔﯿﺪ ﺣﻘﺎً.“ ﺗﻢ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﻮ.

ﺑﺰﻡ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻗﺎﺿﯽ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺭﻧﺠﯿﺪﮦ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﺷﻮﺭﻭﻏﻞ ﻣﭽﺎﯾﺎ، ﻗﺎﺿﯽ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ”ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﯿﺦ ﻣﻔﯿﺪ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮯﺑﺲ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﺳﮑﮯ ﻭﮦ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﮮ.“
ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺷﯿﺦﻣﻔﯿﺪ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺑﺰﻡ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺟﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ.

📚 ﻣﺠﺎﻟﺲ ﺍﻟﻤؤﻣﻨﯿﻦ، ﺝ۱، ﺹ۰۰۲ﻭ ۱۰۲، ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﻣﺠﻠﺲ.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌸کشتئ نوحؑ اور وسیلہ پنجتن پاکؑ🌸

آثارِ قدیمہ کے ماہرین کھدائی کر رہے تھے روس کا معروف علاقہ وادی قاف تھا.
کھدائی جاری تھی اسی دوران زمین کی گہرائی میں سے لکڑی کے بوسیدہ ٹکڑے دیکھے گئے.
غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ کشتئ نوح کے جدا شدہ ٹکڑے ہیں جو دریائی موجوں کے اثرات کی وجہ سے زمین میں پانچ ہزار سال گزرنے کے باوجود محفوظ تھے.

آثار قدیمہ کے محققین نے ان تختوں کو اپنے پاس محفوظ کر لیا اور مزید دو سال کھدائی اور غور و فکر میں صرف کئے حتی کہ اسی جگہ سے ایک تختی ملی جو ایک لوح کی مثل تھی جس پر چند چھوٹی سطریں انتہائی پرانی اور انجان تحریر میں ثبت تھیں.
تختی 14 انچ لمبی 10 انچ چوڑی تھی.

حیرت کی بات یہ کہ باقی تختیاں بوسیدہ ہوچکی تھیں اور یہ صحیح و سالم تھی اور بہت حیران کن بھی_ اب بھی یہ تختی ماسکو کے عجائب گھر میں موجود ہے جسے دیکھنے ملکی و غیرملکی سیاہ آتے ہیں.

اس انکشاف کے بعد روسی محکمہ آثار قدیمہ نے اس لوح کی تحقیق کے لئے سات افراد کی کمیٹی تشکیل دی... ان میں ماہر تاریخ، خط شناسی کے استاد اور روس و چین کے ماھر زبان دان شامل ہیں.

ان افراد کا تعارف درج ذیل ہے...
1. پروفیسر سولی نوف.
ماسکو یونیورسٹی کے ماھر تاریخ اور پرانی زبانوں کے استاد.

2. پروفیسر ایفاہان خینو.
چائنہ کی لولوہان یونیورسٹی کے زبان شناسی کے استاد.

3. میشانن لوفارنگ.
روس کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے ماہر.

4. پروفیسر دی راکن.
نالج لنین اکادمی میں ماہرِ تاریخ.

5. قاغول گورف.
کیفزو یونیورسٹی میں ماہرِ لغات.

6. ایم احمد کولا.
روسی ادارہ عمومی تحقیقات کے مہتمم.

7. میچر کولتوف.
وائس چانسلر اسٹالین یونیورسٹی.

■ ان حضرات نے 8 مہینے تحقیق کی اور درج ذیل رپورٹ پیش کی...
1۔ لکڑی کی بنی یہ تختی انہیں تختیوں میں سے ہے کہ جو پہلے دریافت ہوئیں اور انکا تعلق جناب نوحؑ سے ہے. یہ تختی باقیوں کی نسبت بوسیدہ نہیں ہوئی اور اسقدر سالم تھی کہ نقش شدہ تحریر کو پڑھنا بآسانی ممکن تھا.
2۔ اس عبارت کا تعلق سامی زبان سے تھا کہ جو ام اللغات تھی.
3۔ ان حروف اور ان کے معانی کچھ یوں تھے...
اصل عبارت:
"اب فنا ایلاھم. ای قل بیدج فوریک بن. ذئ شاؤ .....محمدا ایلیاہ شبرا شبیرا فاطمہ غقیوما بیون افیقون ابھکاری
مازونہ تلال جی یور-نہتروجی ہاش کوقائید یثوم"
ترجمہ:
"اے میرے پروردگار! اے میرے یاور و مددگار! ان نفوس مقدسہ یعنی محمدؐ، ایلیا(علیؑ)، شبرؑ(حسنؑ)، شبیرؑ(حسینؑ) اور فاطمہؑ کے وسیلے سے اپنی رحمت و کرامت سے ہماری مدد فرما جو کہ فضیلت و عظمت کے مالک ہیں اور جن کی برکت سے یہ دنیا قائم ہے. ان بابرکت ناموں کے صدقے ھماری مدد فرما. صرف تیری ہی ذات ہے کہ جو میری مدد فرما سکتی ہے."

💥 اس سب کے بعد انگریز دانشور این ایف میکس جو کہ مانچسٹر یونیورسٹی میں پرانی زبانوں کا استاد تھا اس تحقیق کو انگریزی میں منتقل کیا اور یہ درج ذیل رسائل و اخبارات میں شائع ہوئی.

1. ہفت روزہ ویکلی مرر، لندن شمارہ 28دسمبر 1952.
2. اخبار اسٹار انگریزی، لندن شمارہ جنوری 1952.
3. روزنامہ سن لائٹ جو مانچسٹر سے شائع ہوا کرتا تھا، شمارہ جنوری 1954.
4. ویکلی مرر، یکم فروری 1954.
5. روزنامہ الہدی، قاہرہ مصر 30جنوری 1953.

💥 محدث حکیم سید محمود گیلانی مدیر اہدالحدیث و سربراہ اھلسنت نے ان مطالب کی تشریح کی اور شائع کروایا.

💥 دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب تحقیق غیر اسلامی ملک میں غیر مسلموں کے ہاتھوں ہوئی کہ جو مذھب کے خلاف اور مادہ پسند تھے اور ایک صدی سے وہاں یہی سب جاری ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/407
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 حریص عالم اور زنا کی نحوست 🔷

بلعم بن باعوراء حضرت موسٰیؑ کےدور کا بہت بڑا عالم اور عابدوزاہد تھا، اسکو اسم اعظم کابھی علم تھا. یہ اپنی جگہ بیٹھا ہوا اپنی روحانیت سے عرش اعظم کو دیکھ لیا کرتاتھا. اور اسکی دعائیں بہت زیادہ مقبول ہوا کرتی تھیں. اسکے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، اسکی درسگاہ میں طالب علموں کی دواتیں بارہ ہزار تھیں.

جب حضرت موسٰیؑ ''قوم جبارین'' سے جہاد کرنے کیلئے بنی اسرائیل کے لشکروں کو لیکر روانہ ہوئے تو بلعم بن باعوراء کی قوم اسکے پاس گھبرائی ہوئی آئی اور کہا:
حضرت موسٰیؑ بہت ہی بڑا اور نہایت ہی طاقتور لشکر لیکر حملہ آور ہونے والے ہیں. اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو ہماری زمینوں سے نکال کر یہ زمین اپنی قوم بنی اسرائیل کو دےدیں. اسلئے آپ موسٰیؑ کیلئے ایسی بددعا کر دیجئے کہ وہ شکست کھاکر واپس چلےجائیں. آپ چونکہ مستجاب الدعوات ہیں اسلئے آپکی دعا ضرور مقبول ہوجائے گی.

یہ سنکر بلعم بن باعوراء کانپ اٹھا اور کہنےلگا:
تمہاری ہلاکت ہو. خدا کی پناہ! موسٰیؑ اللہ کے رسول ہیں. اور انکے لشکر میں مومنوں اور فرشتوں کی جماعت ہے ان پر بھلا میں کیسے اور کسطرح بددعا کرسکتا ہوں؟
لیکن اسکی قوم نےرو رو کراصرارکیاتو اس نے کہہ دیا:
استخارہ کرلینے کیبعد اگرمجھے اجازت مل گئی تو بددعا کردونگا. مگر استخارے کیبعد جب اسکو بددعا کی اجازت نہیں ملی تو اس نے صاف صاف جواب دےدیا کہ اگر میں بددعا کرونگا تومیری دنیا وآخرت برباد ہوجائیں گی.

اس کیبعد اسکی قوم نے بہت سے گرانقدر تحائف اسکی خدمت میں پیش کرکے بےپناہ اصرارکیا اور اسکی تعریفوں کے پل باندھ دئیے اور اسکو حضرت موسٰیؑ سےزیادہ عالی مقام ومرتبے والا بنادیا۔۔ یہانتکہ بلعم بن باعوراء تکبر میں آگیا اور اس پر حرص اور لالچ کا بھوت بهی سوار ہوگیا، اور وہ تکبر اور مال کے جال میں پھنس گیا.
لالچ اور تکبر کیوجہ سے وہ اپنی گدھی پرسوار ہوکر بددعا کیلئے چل پڑا. راستے میں باربار اسکی گدھی ٹھہر جاتی اور منہ موڑکر بھاگ جاناچاہتی مگر یہ اسکو مارمار کر آگے بڑھاتارہا یہانتکہ گدھی کو اللہ تعالیٰ نے قوتِ گویائی عطاکی اور اس نےکہا:
افسوس! اے بلعم باعوراء تو کہاں اور کدھرجا رہاہے؟ دیکھ! میرے آگے فرشتے ہیں جو میرا راستہ روکتے اورمیرا منہ موڑکر مجھے پیچھے دھکیل رہے ہیں. اے بلعم! تیرا برا ہو، کیا تو اللہ کے نبی اور مومنین کی جماعت پر بددعا کریگا؟
گدھی کی تقریرسن کربھی بلعم بن باعوراء واپس نہیں ہوا. یہانتکہ ''حسبان'' نامی پہاڑ پرچڑھ گیا اوربلندی سے حضرت موسٰیؑ کے لشکروں کو بغور دیکھا اور اس نے بددعا شروع کردی.
لیکن خدا تعالٰی کی شان کہ وہ حضرت موسٰیؑ کیلئے بددعا کرتا تھا. مگر اسکی زبان پر اسکی قوم کیلئے بددعا جاری ہوجاتی تھی. یہ دیکھکر کئی مرتبہ اسکی قوم نے ٹوکا کہ اے بلعم! تم تو الٹی بددعا کررہے ہو. تو اس نے کہا:
اےمیری قوم! میں کیاکروں میں بولتا کچھ اور ہوں اورمیری زبان سےکچھ اور ہی نکلتاہے.
پھر اچانک اس پر غضبِ الٰہی نازل ہوگیا کہ ناگہاں اسکی زبان لٹک کر اسکے سینے پر آگئی. اسوقت بلعم بن باعوراء نے اپنی قوم سےرو کرکہا:
⏪ افسوس میری دنیاوآخرت دونوں بربادوغارت ہوگئیں. میرا ایمان جاتارہا اورمیں قہرِقہّار و غضبِ جبّار میں گرفتار ہوگیا. اب میری کوئی دعا قبول نہیں ہوسکتی. مگر میں تم لوگوں کو مکر کی ایک چال بتاتاہوں تم لوگ ایساکرو تو شاید حضرت موسٰیؑ کے لشکروں کو شکست ہوجائے. تم لوگ ہزاروں خوبصورت لڑکیوں کو بہترین پوشاک اور زیورات پہناکر بنی اسرائیل کے لشکروں میں بھیج دو، اگر ان کا ایک آدمی بھی زنا کریگا تو پورے لشکر کو شکست ہوجائے گی.

چنانچہ بلعم بن باعوراء کی قوم نےاسکے بتائے ہوئے مکر کاجال بچھایا اور بہت سی خوبصورت دوشیزاؤں کو بناؤسنگھار کرا کر بنی اسرائیل کے لشکروں میں بھیجا یہانتکہ بنی اسرائیل کا ایک رئیس ایک لڑکی کے حسن وجمال پر فریفتہ ہوگیا اور اسکو اپنی گود میں اٹھاکر حضرت موسٰیؑ کے سامنے گیا اور فتویٰ پوچھا:
اے نبی اللہ! یہ عورت میرےلئےحلال ہے یانہیں؟
آپؑ نے فرمایا:
خبردار! یہ تیرےلئےحرام ہے. فوراً اس کو اپنے سے الگ کردے اور اللہ کےعذاب سے ڈر.
مگر اس رئیس پر شہوت کا ایسا زبردست بھوت سوار ہوگیا تھا کہ وہ اپنے نبیؑ کے فرمان کوٹھکرا کر اُس عورت کو اپنے خیمہ میں لےگیا اور برائی کا مرتکب ہوا.

اس گناہ کی نحوست کایہ اثرہوا کہ بنی اسرائیل کے لشکر میں اچانک طاعون (پلیگ) کی وبا پھیل گئی اورگھنٹے بھر میں سترہزار آدمی مرگئے اورسارا لشکر تتربتر ہوکر ناکام و نامراد واپس چلاآیا. جسکا حضرت موسٰیؑ کو بہت ہی صدمہ ہوا.

📚 تفسیرالصاوی،ج2،ص728،پ9، الاعراف:175

بلعم بن باعوراء پہاڑ سے اترکر مردود بارگاہِ الٰہی ہوگیا. آخری دم تک اسکی زبان اسکے سینے پر لٹکتی رہی اور وہ بےایمان ہوکر مرا.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/416
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 طبیعت کی موافقت 🔷

ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﻨﮕﯽ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻼ ﺗﻮ ﻋﺠﯿﺐ ﺑﺎﺕ ﺭﻭﻧﻤﺎ ﮨﻮﺋﯽ. ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻭﮦ ﺩﮬﮍﺍﻡ ﺳﮯ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ ﮔﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﮯﮨﻮﺵ ﮨﻮﮔﯿﺎ. ﺍﺳﮯ ﮨﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﻻﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﺮ ﺗﻮﮌ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﻣﮕﺮ ﺑﮯﺳﻮﺩ...
ﺁﺧﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﻧﺎ ﺩﺭﺑﺎﺭﯼ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺁﻟﻮﺩﮦ ﺟﻮﺗﺎ ﻻﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ، ﺟﻮﺗﺎ ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﺍﻧﺎ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ؛
ﺍﺱ ﺑﮭﻨﮕﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺟﻮﺗﺎ ﺳﻮﻧﮕﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ.

ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺍﺱ ﺑﮯ ﺳﺮﻭﭘﺎ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﺑﺎﺩﻝ ﻧﺨﻮﺍﺳﺘﮧ ﻋﻤﻞ ﺩﺭﺁﻣﺪ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ دیکھ ﮐﺮ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﺑﮭﻨﮕﯽ ﺑﮯﮨﻮﺷﯽ ﮐﻮ ﺧﯿﺮ ﺑﺎﺩ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﮨﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﯿﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﺟﻮ ﮐﺎﻡ ﺷﺎﮨﯽ ﺣﮑﯿﻢ ﮐﯽ ﺍﻋﻠﯽ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﺩﮦ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺩﻭﺍﺋﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ، ﻏﻼﻇﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﺟﻮﺗﺎ ﻭﮦ ﮐﻤﺎﻝ ﺩﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ.

ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﺩﺍﻧﺎ ﺩﺭﺑﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﮨﻮﭼﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﮨﮯ؟ ﺗﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﮑﻤﺖ ﺑﺘﺎﺋﯽ؛
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﮭﻨﮕﯽ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﻼﻇﺖ ﮐﯽ ﺭﻓﺎﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺮ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﯾﮑﺎﯾﮏ ﺍﺳﮯ ﺷﺎﮨﯽ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﯽ ﻧﻔﯿﺲ ﺧﻮﺷﺒﻮؤﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﮑﯿﻞ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻋﺎﺩﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﻔﺎﺳﺖ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮧ ﮐﺮﺳﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻮﺍﺱ ﮐﮭﻮ ﺑﯿﭩﮭﺎ. ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﻓﻖ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﯿﺎ.

اب میرے چند سوال خود سے بھی اور آپ سے بھی......
ﮨﻢ ﭨﯽ ﻭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ بیٹھ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﻼﻣﺒﺎﻟﻐﮧ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻨﭧ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﻣﺤﺎﻝ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ. آخر کیوں؟

ﻧﺎﻭﻝ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﻟﮕﺎﺗﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﺎ ﭨﺎﺋﻢ ﺍﺳﮯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﻧﺎ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺳﮩﻞ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺗﻼﻭﺕ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻣﻞ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﺮ ﺳﮯ ﺍﺗﺎﺭﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ. آخر کیوں؟

ﻣﺤﺎﻓﻞ ﺩﯾﻨﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﻮﻟﯿﺖ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﺎﺯﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ. آخر کیوں؟؟؟؟ کہیں ایسا تو نہیں جیسا اوپر کہانی میں بیان ہوا ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 دنیا کی زندگی 🌹

انسانی زندگی خوشی وغم، مشکلات وآسائشیں، فقرودولتمندی، بیماری وصحت، سکون واضطراب کا مجموعہ ہے.
●زندگی کے بعض مراحل میں انسان آرام و آسائش میں ہوتا ہے تو دوسرے بعض مراحل میں تنگدستی و کسمپرسی کے عالم میں لمحات گزار رہا ہوتا ہے.
●کبھی صحت و تندرستی اس کے قدم چومتی ہے تو بسااوقات بیماریاں اس کی راہ میں آڑے آتی ہیں.
●کبھی خوشیوں سے پھولا نہیں سماتا تو کبھی غم سے نڈھال دکھائی دیتاہے.
●آج اگر اس کے ہاں مال ودولت کی بھرمار ہے تو کل وہی شخص روٹی کے ایک ٹکڑے کے لئے ترس رہا ہوتاہے.
●آج اگر اقتدار کے نشے میں مست دکھائی دیتا ہے تو کل کروٹیں بدلنے کیلئے بھی وہ کسی کامحتاج دکھائی دیتاہے.
●بسااوقات تو حالات کی نزاکت اور امن وامان کے ناپید ہونےکےسبب مضطرب لمحات گزارنے پر مجبور ہو جاتاہے، تو بسااوقات امن وسکون کی فضا میں لطف اندوز ہونےکا اسےموقع  نصیب ہوتاہے.

🌹پس یہ زندگی کےلوازمات ہیں، نہ ان نعمتوں کے ملنے سےانسان کو مغروروسرکش ہوناچاہیے اور نہ ہی ان سے محرومی پر ناامیدی کے بھنور میں پھنسنا چاہیے.
●نہ ایوان اقتدار پرقابض ہونےکی صورت میں کسی پر ظلم روا رکھنا چاہیے اور نہ ہی اقتدار کےنہ ملنے اور نعمتوں کے سلب ہونےپر گردن جھکاکر مظلوم بن کر ہر کسی کےظلم کوسہنے اور سہمےسہمے زندگی گزارنے کا عادی بننا چاہیے.
●نہ مال وثروت کی بھرمار ہونے پر قارون ثانی بننا چاہیے اور نہ ہی تنگدستی میں مبتلا ہونے پر گداگری کو اپنا شیوہ بناناچاہیے.
●نہ صحت و تندرستی کے ایام میں عیش و نوش اور لہو ولعب کو اپنا وتیرہ بنانا چاہیے اور نہ ہی بیمار پڑنے پر کفریہ جملوں کا ورد کرنے والا.
🌹غرض اس دنیا کی ہر نعمت سے ہمکنار ہونا یا ان سے محروم رہنا، دونوں امتحان کے دو متفاوت طریقے ہیں.

●بعض افراد کو اللہ تعالٰی نعمتوں کی کثرت سے آزماتا ہے تو دوسرے بعض کو ان سے محروم رکھ کر آزمائش میں ڈالتا ہے.

🌹نہ یہاں کی نعمتیں ابدی ہیں اور نہ ہی بلائیں دائمی، بلکہ دونوں گزرا اور وقتی ہیں.
●ہمیں چاہیے کہ دونوں صورتوں میں  اللہ کی رضامندی کو ہاتھ سے جانے نہ دیں. اسلامی تعلیمات کی رو سے عبادات میں ہمیشہ اپنے سے برتر لوگوں کی طرف دیکھنا چاہیے، جبکہ مال و دولت وغیرہ کی نسبت سے ہمیشہ اپنے سے کمتر لوگوں پر نظر رکھنا چاہیے۔ یوں ہر حالت میں اسے زندگی میں لطف محسوس ہوگا.

🌹حضرت علیؑ نے فرمایا:
اے لوگو! بیشک یہ دنیاجلد گزرنے والی ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے والی. پس اس گزرنے والی جگہ سے تم ہمیشہ رہنے والی جگہ کیلئے زادراہ لے کے جانا۔ پس تم اپنے دل سے دنیا کی محبت کو نکال پھینکو، اس سے پہلے کہ تم خود اس سے نکل جاؤ. پس درحقیقت تم آخرت کیلئے خلق کئے گئے ہو، جبکہ دنیا میں تم قیدحیات میں ہو. جو بھی اس دنیا سے جاتا ہے، تب ملائکہ کہتے ہیں کہ اس نے اپنے لئے آگے کیا بھیجاہے، جبکہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے کیا چھوڑا ہے۔ پس تم نے خدا کے پاس حاضر ہونا ہے۔ تم اپنے وہاں پہنچنے سے پہلے زادراہ بھیجو، تاکہ وہاں پہنچنے کیبعد تمہارے لئے فائدہ مند ثابت ہو، ایسا نہ ہو کہ کچھ بھیجے بغیر تم خود وہاں پہنچ جاؤ تو تم دھوکہ کھاؤ گے. جان لو کہ دنیا اس زہر کی مانندہے، جسے انجانے میں بھی کوئی پی لیتا ہے تو بھی یہ اس کی جان لے لیتا ہے، ورنہ عاقل تو اس کی طرف ہاتھ ہی نہیں بڑھاتا ہے.(1)

🌹ایک عارف باللہ کے بقول تمام برائیوں کی جڑ ہمارا خدا کو حاضروناظر نہ  ماننا ہے۔ اگر کہیں خفیہ کیمرا لگا ہوا ہونے کا احتمال ہو تو ہم ہر وقت محتاط رویہ اپناتے ہیں، جبکہ خدا کے حاضروناظر ہونے کا اعتقاد تو ہم رکھتے ہیں، لیکن مقام عمل میں ہم ہروقت اس سےغافل رہتےہیں.

■چونکہ انسان کی اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے، لہٰذا اس چندروزہ دنیاوی زندگی کو ابدی زندگی کیلئے زادراہ فراہم کرنے کا وسیلہ بنانا چاہیے۔ آخرت کی نعمتیں بھی ابدی ہیں اور وہاں کا عذاب بھی ہمیشگی. ہوسکتا ہے یہاں کا ایک چھوٹا سا کام اس ابدی زندگی کے سنورنے کا پیش خیمہ بن جائے یا ہلاکت ابدی کا موجب ثابت ہو۔ بےوقوف اور کم عقل ہیں وہ افراد جو آخرت کی ابدی زندگی کو دنیا کی چندروزہ زندگی پر قربان کر دیتےہیں۔ یہ سودا ایسوں کیلئے بہت ہی مہنگا پڑےگا.
🌹احادیث کی رو سے اس زندگی کے لمحات بادل کی مانند گزر جاتے ہیں جبکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ باقی رہنے والی ہے.(2)

🌹رسول اکرمؐ کے فرمان کی رو سے دنیا آخرت کی کھیتی ہے.(3)

■مرنے کے بعد صرف اور صرف انسان کا نیک عمل ہی اسکے کام آئیگا۔ آیئے عہد کیجئے کہ ہم اپنی دنیاوی زندگی کو اخروی زندگی کیلئے پیش خیمہ قرار دیں گے تاکہ دنیاوآخرت میں کامیابی ہمارے قدم چومے.

بشکریہ تحریر: ایس ایم شاہ

📚 مآخذ:
1۔ إرشاد القلوب إلى الصواب (للديلمي) / ج‏1 / 19 / الباب الثاني في الزهد في الدنيا، ص:16.
2۔ نهج البلاغة (للصبحي صالح) / 471 / 21، ص:471. 
3۔ مجموعة ورام/ج‏1/183/ بيان ما يحمد من الجاه، ص:183.

https://t.me/islamwitheman/451
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 مخدوم بنے رہنا كمال نہيں! 🌹

رسول اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انكے اصحاب اپنى سواريوں سے نيچے اترے اور سب نے سامان سفر كھول ديا۔

سب لوگوں نے مل كر يہ فيصلہ كيا كہ ايک گوسفند كو ذبح كر كے اس كا گوشت تيار كيا جاۓ۔

ايک صحابى نے كہا: گوسفند كا سر كاٹنا ميرے ذمہ!

دوسرے نے كہا: اس كى كھال اتارنا ميرے ذمہ!

تيسرے نے كہا: اس گوشت كا پكانا ميرے ذمہ!

رسول اكرم (ص) نے فرمايا: گوشت پكانے كے لئے جنگل سے لكڑياں جمع كرنا ميرے ذمہ!

سبھى اصحاب ايک ساتھ كہہ اٹھے: يارسول اللہ ہم لوگوں كى موجودگى ميں آپ كو زحمت اٹھانے كى كوئى ضرورت نہيں۔ آپ آرام فرمائيں۔ ہم لوگ بڑى آسانى سے اور فخر كے ساتھ يہ تمام كام بخير و خوبى انجام دے ليں گے۔

رسول اللہ (ص) نے فرمايا:
مجھے معلوم ہے كہ تم لوگ يہ سب كام بڑى آسانى سے كر لو گے ليكن خداوند عالم اپنے اس بندے كو قطعى دوست نہيں ركھتا جو دوستوں كے درمیان اپنے آپ كو افضل اور دوسروں سےبہتر سمجھتا ہے اور دوسروں كے مقابلے ميں خود كو صاحب امتياز تصور كرتا ہے۔ يہ كہہ كر رسول اللہ (ص) جنگل كى طرف چلے گئے اور تھوڑى دير بعد لكڑياں اور گھاس پھوس لے كر واپس آگئے.

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

📚 سچى كہانياں، شہيد مرتضى مطہرىؒ، ص:۲۹.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ﺧﻮﺩ ﺍﺣﺘﺴﺎﺑﯽ 🔷

ﺍﻳﮏ نوعمر ﻟﮍﻛﺎ "ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ" ﻣﻴﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﻛﺮ ﭨﻴﻠﻴﻔﻮﻥ ﻛﻴﺒﻦ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ۔ ﺍُﺱ ﻧﮯﺭﯾﺴﯿﻮﺭ ﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ, ﻧﻤﺒﺮ ﮈﺍﺋﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﺷﺎﺋﺴﺘﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﺍ۔ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺍﺗﻨﺎ ﻧﺮﺍﻟﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍُﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺑﮍﮮ ﺍﻧﮩﻤﺎﮎ ﺳﮯ ﺳﻨﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔
ﻟﮍﻛﺎ ﮐﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ...
ﻣﻴﮉﻡ! ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﻏﻴﭽﮯ ﻛﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺳﺘﮭﺮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻳﻜﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﻛﻴﻠﺌﮯ ﻣﻼﺯﻡ ﺭﻛﮫ ﻟﯿﺠﺌﮯ, ﭘﻠﯿﺰ...
ﺟﺒﮑﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﻛﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﻛﮧ "ﻓﯽ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺍِﺱ ﻛﺎﻡ ﻛﻴﻠﺌﮯ ﺍﻳﮏ ﻣﻼﺯﻡ ﮨﮯ"
ﻟﮍﻛﮯ ﻧﮯ ﺍِﺻﺮﺍﺭ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ..
"ﻣﻴﮉﻡ! ﻣﻴﮟ ﺁﭘﻜﺎ ﻛﺎﻡ, ﺁﭘﻜﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩﻩ ﻣﻼﺯﻡ ﺳﮯ ﺁﺩﮬﯽ ﺍُﺟﺮﺕ ﭘﺮ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﻴﻠﺌﮯ ﺗﻴﺎﺭ ﮨﻮﮞ"۔

ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻛﮧ "ﻭﻩ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻼﺯﻡ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﻜﻞ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻛﺴﯽ ﻗﻴﻤﺖ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍُﺳﮯ ﺗﺒﺪﻳﻞ ﻧﮩﻴﮟ ﻛﺮﻧﺎﭼﺎﮨﺘﯽ"۔
ﺍﺏ ﻟﮍﻛﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﻩ ﺍﻟﺘﺠﺎﺀ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺍُﺗﺮ ﺁﻳﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﻛﮧ...
ﻣﻴﮉﻡ! ﻣﻴﮟ ﺑﺎﻏﻴﭽﮯ ﻛﮯ ﻛﺎﻡ ﻛﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺁﭘﮑﺎ ﮔﮭﺮ, ﮔﮭﺮ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮔﺰﺭﮔﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﻓﭧ ﭘﺎﺗﮫ ﻛﯽ ﺑﮭﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭘﻜﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭﻧﮕﺎ, ﺑﺲ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ۔"!
ﺍﻭﺭ ﺍِﺱ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﻛﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﻔﯽ ﻣﻴﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﮍﻛﮯ ﻛﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﻳﮏ ﻣﺴﻜﺮﺍﮨﭧ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﻓﻮﻥ ﺑﻨﺪ ﻛﺮﺩﻳﺎ۔

ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺟﻮ ﻳﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﻦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻟﮍﻛﮯ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﻛﮩﺎ:
"ﺑﯿﭩﺎ! ﻣﻴﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﻯ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻤﺖ ﮐﯽ ﺩﺍﺩ ﺩﻳﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻟﮕﻦ, ﻣﺜﺒﺖ ﺳﻮﭺ ﺍﻭﺭ ﺍُﻣﻨﮕﻮﮞ ﻛﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ, ﻣﻴﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻛﮧ ﺗﻢ ﻣﻴﺮﯼ ﺍﺱ ﺩﻛﺎﻥ ﭘﺮ ﻛﺎﻡ ﻛﺮﻭ۔۔"!

ﻟﮍﻛﮯ ﻧﮯ ﺍُﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ..
"ﺍﻧﮑﻞ! ﺁﭖ ﻛﯽ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﻛﺎ ﺑﮩﺖ ﺷﻜﺮﻳﮧ, ﻣﮕﺮ ﻣﺠﮭﮯﻛﺎﻡ ﻧﮩﻴﮟ ﭼﺎﮨﻴﺌﮯ۔ ﻣﻴﮟ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺍِﺱ ﺑﺎﺕ ﻛﯽ ﺗﺼﺪﻳﻖ ﻛﺮﻧﺎ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻛﮧ ﻣﻴﮟ ﺁﺟﻜﻞ ﺟﻮ ﻛﺎﻡ ﻛﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻛﻴﺎ ﺍُﺱ ﻛﺎ ﻣﻌﻴﺎﺭ ﻗﺎﺑﻞِ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ ﺑﮭﯽ ﻳﺎ ﻧﮩﻴﮟ؟"
"ﺍﻭﺭ ﻣﻴﮟ ﺍِﺳﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﻼﺯﻡ ﮨﻮﮞ ﺟِﺲ ﻛﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻴﮟ ﭨﻴﻠﻴﻔﻮﻥ ﭘﺮ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻛﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔۔"!

■ ﺍﮔﺮ ﺁﭘﻜﻮ ﺑﮭﯽﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ, ﺍﺧﻼﻕ, ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﮏِ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﻣﻼﺋﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔کیونکہ جلد ہی ہم سب یہ دھوکے کا گھر چھوڑ جائیں گے !! ﻓﻮﻥ ﻧﻤﺒﺮ یہ ہے 2۔۔4۔۔4۔۔3۔۔4 ) 2..فجر..4...ظهر...4...عصر...3...مغرب...4...عشاء....
(جنہیں ﺳﻤﺠﮫ ﺁ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮐﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﻭﮦ ﻣﺰﯾﺪ ﻏﻮﺭ ﻭ ﺧﻮﺽ ﮐﺮﯾﮟ...

● اپنا محاسبہ کیجئے، اس سے پہلے کے دیر ہوجائے....!

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 اذان میں علی ولی اللہ 🔷

🕋اذان میں علی ولی اللہ اور الصلوۃ خیر من النوم کا مقایسہ؛ این کجا و آن کجا۔۔۔؟؟؟ ⁉️

⏪اگر بقول شیعہ کے اذان میں {تثویب} "الصلوۃ خیر من النوم" بدعت ہے چونکہ رسول اللہ کے دور میں اذان میں شامل نہیں تھا بلکہ بعد میں اذان میں شامل کیا گیا تو یہی اشکال خود شیعہ پہ بھی وارد ہوتا ہے کیونکہ علی ولی اللہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے دور میں اذان میں نہیں تھا اور بعد میں اذان میں شامل ہوا؟
⬅️جواب:
ان دو کا آپس میں زمین و آسمان کا فرق ہے:⬇️
اہل سنت تثویب در اذان کو جزء کی حیثیت سے پڑھتے ہیں جبکہ اسکی اصل قرآن و سنت میں ثابت شدہ نہیں ہے۔ اسلئے یہ قطعا "ادخال من الدین ما لیس فی الدین" یعنی بدعت کا مصداق اتم ہے۔
✅مگر شیعہ علی ولی اللہ ہر گز قصد جزئیت سے نہیں پڑھتے بلکہ مطلقا ثواب و مطلوبیت کی نیت سے پڑھتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل وجوھات کی بنا پر نہ صرف اذان کو باطل نہیں کرتا بلکہ اذان کے ثواب کو دوبالا کرتا ہے:
گو اسکے استحباب پر خاص دلیل اذان میں پڑھنے کی موجود نہیں مگر ہمارے پاس مطلق ادلہ موجود ہیں جنکے مطابق شھادتین کے بعد تیسری گواھی دینی چاھئے۔
تو چونکہ اس سے ایک تو اذان کی ترکیب و موالات کو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ جیسا کہ نام رسول کے بعد اذان کے اندر ہی صلوۃ پڑھی جا سکتی ہے تو اسی عنوان کے تحت ولایت کی گواھی بھی دی جاسکتی ہے۔
☝🏻اور یاد رہے کہ اذان میں موالات و تسلسل کو برقرار رکھنے کی شرط پر ضروری حد تک کلام بھی کیا جا سکتا ہے۔
اذان میں شامل کئے جانے کی ایک اہم علت معاویہ و اسکے عمال کی طرف سے علانیہ سب و شتم تھا جسکی وجہ سے نام علی کو مٹانے کی سازش کو ناکام بناتے ہوئے شیعہ علماء نے اسے اذان میں شامل کیا مگر اسکی شرط لگائی کہ قصد جزئیت سے ہرگز نہ پڑھا جائے۔
وہ کتب جنمیں مطلقا اقرار شھادت ولایت در اذان کے اثبات پہ روایات موجود ہیں۔ مثلا واقعہ معراج کے ذیل میں ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے لا الہ اللہ و محمد رسول اللہ کے ساتھ علی ولی اللہ کو بھی لکھا ہوا دیکھا ہے۔

📚📚الاحتجاج طبرسی صفحہ ۱۵۸۔
اہل سنت کتب: درمنثور سیوطی۔خصائص کبری سیوطی،جلد ۱،ص ۷،الشفا قاضی عیاض،ص ۱۳۸۔المناقب ابن مغازلی،ص۳۹،المناقب النصرۃ فی مناقب عشرہ مبشرہ،جلد ۲ ص ۲۲۷۔درر السمطین۱۲۰.

بشکریہ: سفينة النجاة ٹیلیگرام چینل

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⏪ مردم شماری کےبارے ہماری رائے ⏩

■اپنی مسلکی شناخت چھپانے کا مطلب خود کو پاکستان میں پانچویں درجے کی اقلیت قرار دلوانے کے مترادف ہے، لہذا مردم شماری کے عملے کے سوال پر ببانگِ دہل اپنی شیعہ شناخت ظاہر کرنی چاہئے تاکہ ریاست کے پاس شیعہ آبادی کا درست تناسب موجود ہو اور ریاست میں قانون سازی کے وقت اہلِ تشیع کے حقوق کا تحفظ بھی ممکن ہو۔
تمام دوستوں تک پہنچائیں....

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🏰 مسجد گوہر شاد 🏰

ﻣﻠﮑﮧ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺣﺠﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺗﮭﯿﮟ ﻧﻘﺎﺏ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺁﻭﯾﺰﺍﮞ ﺭﮨﺘﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺮﻡِ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎؑ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺠﺪ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻗﺼﺪ ﮐﯿﺎ.
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻤﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﻠﺴلے ﻣﯿﮟ ﺩﻭ برابر ﺍﺟﺮﺕ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺷﺮﻁ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ...
●ﻭﮦ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ کے ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﺎﻭﺿﻮ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ،
●ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﻤﯿﯿﺰﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﮐﻼﻣﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ،
●ﺍﺧﻼﻕِ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩِ ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﻣﻠﺤﻮﻅ ﺧﺎﻃﺮ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﮯ.
ﺍﻭﺭ...
●ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺟﻮ ﺳﺎﺯ ﻭ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺣﻤﻞ ﻭ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺑﮯ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺁﺏ ﻭ ﺩﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﯿﮟ گے اور ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﻭﺯﻥ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﻮ ﺯﺩﻭ ﮐﻮﺏ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ.

ﻣﻠﮑﮧ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯿﮟ، ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﮔﺌﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻮﺍ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺣﺠﺎﺏ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﮨﭧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ. ﻟﮭٰﺬﺍ ﺟﻮﺍﻥ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻝ ﮐﮭﻮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﮨﺮ ﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮯ ﺻﺒﺮ ﻭ ﻻﭼﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﺗﮏ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔ ﺑﮩﺖ ﺩﻥ ﮔزﺭ ﮔﺌﮯ ﻭﮦ ﮐﺎﻡ ﭘﮧ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ.
ﮔﻮﮨﺮ ﺷﺎﺩ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﮐﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﮯ، ﻟﮭٰﺬﺍ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﯿﺎﺩﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﯿﮟ.
ﺩﻥ ﮔﺬﺭﺗﮯ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺑﺪ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ہرﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﮑﮧ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺳﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺼﮧ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﺎتھ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﭘﮍﺟﺎﺋﯿﮟ.

ﻟﮭٰﺬﺍ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﻣﻠﮑﮧ ﺳﮯ ﻗﺼﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮑﮧ ﮐﮯ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﻮﺋﯽ. ﻣﻠﮑﮧ ﻧﮯ ﻣﺴﺮﺕ ﺑﮭﺮﮮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻀﺎﺋﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺑﻨﺪﮦ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺁﺟﺎﺗﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
”ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﮐﮩﮧ ﺩﻭ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻭ ﺍﻣﻮﺭ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﭘﺎﻧﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﻮﮔﺎ..

●ﺍﯾﮏ ﯾﮧ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﮩﺮﯾﮧ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﻮﺗﻌﻤﯿﺮ ﺷﺪﮦ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﮑﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﺍﮔﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﺘﮑﺎﻑ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﮮ۔
●ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺮﻁ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ رﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﻟﻮﮞ ﮔﯽ. ﺍﮔﺮ ﺷﺮﺍﺋﻂ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻡ ﭘﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔

ﺟﻮﺍﻥ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﻮ ﺟﺐ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﺎ ﯾﮧ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮﯼ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ کچھ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮞ... ﻭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺍﻣﯿﺪ ﺳﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺧﺪﺍ ﺍﺳﮯ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺟﯿﺴﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﮮ ﮔﺎ۔

ﭼﺎﻟﯿﺴﻮﯾﮟ ﺩﻥ ﮔﻮﮨﺮ ﺷﺎﺩ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﭘﻨﺎ ﻗﺎﺻﺪ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﮮ۔
ﻗﺎﺻﺪ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
”ﮐﻞ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﻣﻠﮑﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﻁ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﯾﮟ۔
ﺟﻮﺍﻥ ﻋﺎﺷﻖ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ، ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺣﻼﻭﺕ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻧﺮﻡ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﺻﺪ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
”ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺑﯿﮕﻢ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﺍﻭﻻً ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﮔزﺍﺭ ﮨﻮﮞ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﻮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ۔
ﻗﺎﺻﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ؟ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺎﺷﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ؟"
ﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺻﻠﯽ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﺳﮯ ﻧﺎﺁﺷﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺻﺮﻑ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺗﮍﭘﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﻮﺱ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﺎ ﻣﺸﮑﻮﺭ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ کے ﺑﺎﻋﺚ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﻣﻼ."

ﺍﻭﺭ...
ﻭﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﻣﺴﺠﺪ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﭘﯿﺶ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﻘﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺷﯿﺦ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﺎﺩﻕ ﻫﻤﺪﺍﻧﯽ ﺗﮭﮯ.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 دنیا ایک ضعیفہ کی صورت 🔷

حضرت عیسٰیؑ کے حالات میں مذکور ہے کہ دنیا انکے سامنے ایک بوڑھی عورت کی شکل میں آئی، جس کے بال سفید ہو چکے تھے لیکن ہر قسم کی زینت سے آراستہ تھی....

حضرت عیسٰیؑ نے اس سے پوچھا:
تو نے کتنی شادیاں کیں؟

دنیا کہنے لگی:
اتنی زیادہ کہ شمار نہیں کر سکتی.

آپؑ نے پوچھا:
تیرے سارے شوہر مر گئے یا انہوں نے تجھے طلاق دے دی؟

دنیا نے جواب دیا:
میں نے (خود ہی) سب کو قتل کر دیا.

تو حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا:
بڑے بدنصیب ہیں تیرے وہ شوہر جنہوں نے اب بھی تجھ سے رشتہ قائم رکھا ہے. وہ تیرے گزشتہ شوہروں سے عبرت حاصل کیوں نہیں کرتے؟

■ مجاہد نے ابن عباسؓ کے حوالہ سے حضرت رسولخداؐ سے روایت کی ہے کہ..
حضرت عیسٰیؑ ایک ایسی بستی سے گذرے جہاں کی عمارتیں منہدم ہو چکی تھیں اور آبادی ویران ہو چکی تھی، یہ دیکھکر آپؑ نے اپنے حواریوں میں سے کسی سے فرمایا:
جانتے ہو یہ بستی کیا کہہ رہی ہے؟

حواری نے کہا: نہیں

آپؑ نے فرمایا:
یہ بستی کہہ رہی ہے کہ میرے پروردگار کا سچا وعدہ پورا ہو کر رہا، میری نہریں جن میں بہت پانی تھا خشک ہو گئیں، میرے درخت جو بہت شاداب تھے سوکھ گئے، میرے محل تباہ ہو گئے، میرے باشندے موت سے ہمکنار ہو گئے. اب ان کی ہڈیاں میرے اندر پڑی ہوئی ہیں اور وہ مال جسے انہوں نے حلال و حرام طریقہ سے جمع کیا تھا وہ سب میرے شکم میں پہنچ چکا ہے. زمین و آسمان کی میراث تو (درحقیقت) خدا ہی کے لئے ہے.

■ حضرت عیسٰیؑ فرمایا کرتے تھے کہ...
کب تک ایسا ہو گا کہ تمہیں نصیحت کی جائے اور تم نصیحت حاصل نہ کرو؟ ..... تم نے تو وعظ و نصیحت کرنے والوں کو تھکا دیا ہے. (کہ وہ کہتے رہتے ہیں اور تم پر اثر نہیں ہوتا.)

📚 گفتار انبیاء، ص:174،175.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/461
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 حضرت عیسٰیؑ اور استاد 🔷

حضرت امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ جناب عیسٰیؑ پیدائش کے بعد ایک دن میں اتنے بڑے (نظر آ رہے تھے) جیسے دو ماہ کا بچہ ہوتا ہے پھر جب سات ماہ کے ہوئے تو ان کی مادرگرامی ان کا ہاتھ پکڑ کر کاتبوں کے پاس لے گئیں اور ایک استاد کے سامنے انکو بٹھا دیا (اس عمر میں وہ اچھی طرح گفتگو کرنے لگے تھے)

اس استاد نے جناب عیسٰیؑ سے کہا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھو، آپؑ نے بسم اللہ پڑھی.

اس استاد نے کہا؛
"ابجد" پڑھو.

تو جناب عیسٰیؑ نے سر اٹھایا اور فرمایا:
تم جانتے بھی ہو کہ "ابجد" کے کیا معنی ہیں؟

یہ سن کر اس نے ان کو مارنے کے لیے کوڑا اٹھا لیا.

یہ دیکھ کر...
حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا:
اے بزرگوار! مارو نہیں. اگر تم جانتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ مجھ سے پوچھو، میں اس کی تشریح تمہیں بتاؤں گا.

اس نے کہا:
اچھا، تم ہی اسکی تشریح بتاؤ.

تو فرمایا کہ....
الف یعنی آلاء الله (الله کی نعمتیں)
ب یعنی بهجة الله (الله کی شوکت)
ج یعنی جمال اللہ (اللہ کا حسن و جمال)
د یعنی دین اللہ (اللہ کا دین)

اس کیبعد آپ نے هوز کی تشریح فرمائی اور کہا کہ..
ھ یعنی هول جہنم (جہنم کی ہولناکی)
و یعنی ویل لاهل النار (بڑا افسوس ہے جہنم میں جانے والوں کے لئے)
ز یعنی زفیو جہنم (جہنم کی پرشور آواز)

پھر "حطی" کی تشریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ...
حطت الخطايا عن المستغفرین (استغفار کرنے والوں کی کوتاہیوں سے درگزر کیا جائے گا)

(پھر) "کلمن" کے بارے فرمایا کہ...
کلام اللہ (اللہ کا کلام اور اس کے کلمات کو کوئی بھی تبدیل نہیں کر سکتا)

(پھر فرمایا کہ) "سَعفص" یعنی ساع بصاع (ایک وزن کا بدلہ اسی کے ہم وزن، جیسا عمل ویسی جزاء)

(اس کیبعد فرمایا کہ) "قرشت" یعنی قرشهم جس کے معنی ہیں، ان کو عالم حشر میں لایا جائے گا.

جب حضرت عیسٰیؑ کی گفتگو اس منزل تک پہنچی تو استاد نے جناب مریمؑ سے کہا کہ...
اے خاتون! بچے کو لے کر گھر تشریف لے جائیے، یہ تعلیم یافتہ ہے، اسے کسی سے پڑھنے کی ضرورت نہیں.

📚 گفتار انبیاء، ص:148.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 الفاظ و انداز اور لہجہ 🌺

الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے. ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے،
کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں،
کچھ غلامی،
کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں،
اور کچھ وار،
ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے.

جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا تو سمجھا لفظ صرف معنی نہیں رکھتے یہ تو دانت رکھتے ہیں جو کاٹ لیتے ہیں.

یہ ہاتھ رکھتے ہیں جو گریبان کو پھاڑ دیتے ہیں.

یہ پاؤں رکھتے ہیں جو ٹھوکر لگا دیتے ہیں.

اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں لہجے کا اسلحہ تھما دیا جائے تو یہ وجود کو چھلنی کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں.

اپنے لفظوں کے بارے میں محتاط ہو جاؤ، انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لو کہ یہ کسی کے وجود کو سمیٹیں گے یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے. کیونکہ یہ تمہاری ادائیگی کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ...
اور بادشاہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے سے بڑے بادشاہ کو جواب دہ بھی...

■ایک ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ نے ﺍﯾﮏ معبّر (خواب کی تعبیر بتانے والے) ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳُﻨﺎﯾﺎ.
معبّر ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ! ﺍﺳﮑﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺮﯾﮟ ﮔﮯ. ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ کو بہت غصہ آیا. اس نے معبّر ﮐﻮ قتل کردیا.

ایک اور معبّر ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍُس کو ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ سنایا.

معبّر ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ! ﺁﭘﮑﻮ ﻣُﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮ، ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺎﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ.

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ معبّر ﮐﻮ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻭ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ...

ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍُﺳﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟

ﺟﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﮨﯽ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ اور الفاظ میں ﻓﺮﻕ ﮨﮯ،،

آپ کا بولا گیا ایک ایک لفظ کسی دوسرے کے لئے مرہم بھی بن سکتا ہے،، اور زخم بھی دے سکتا ہے.
اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے...!!!

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💝اسلام کی بنیاد محبتِ اہلبیتؑ 💝

رسولِ اکرمؐ نے فرمایا: جنت میں صرف مسلمان ہی جا سکتا ہے.

جناب ابوذرؓ نے سوال کیا؛
اے خدا کے رسولؐ! اسلام کیا ہے؟

رسول اکرمؐ نے فرمایا:
"اسلام کا لباس تقوٰی ہے،
اس کا شعار ہدائت ہے،
حیا اس کا باطنی جامہ ہے،
ورع (زہد) اس کی اساس ہے،
دینداری اس کا کمال ہے،
اور
عملِ صالح اس کا پھل ہے.

(اے ابوذر یاد رکھو) ہر چیز کی ایک بنیاد ہوتی ہے (جس پر اسکی عمارت قائم ہوتی ہے) اور اسلام کی بنیاد اہلبیتؑ کی محبت ہے."

📚تحف العقول، ص:51.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕