🌹حضرت آدمؑ کی دعا کا وسیلہ🌹
"وَأخرج ابْن النجار عَن ابْن عَبَّاس قَالَ سَأَلت رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَن الْكَلِمَات الَّتِي تلقاها آدم من ربه فَتَابَ عَلَيْهِ قَالَ: سَأَلَ بِحَق مُحَمَّد وَعلي وَفَاطِمَة وَالْحسن وَالْحُسَيْن إِلَّا تبت عَليّ فَتَابَ عَلَيْهِ."
ترجمہ:
ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ..
جب حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ کے متعلق سوال کیا گیا تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
حضرت آدم علیہ السلام نے کہا؛ خداوندا تجھے واسطہ محمدؐ، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ اور حسینؑ کا کہ تو میری لغزش کو درگزر فرما۔ تب توبہ قبول ہوئی.
سبحان اللہ کیا شان ھے پنجتن پاکؑ کی.
حوالہ جات:
الدرالمنثور، ج1، ص127.
المؤلف: عبد الرحمٰن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي (المتوفى: 911هـ)، الناشر: دار الفكر بيروت، عدد الأجزاء:8.
تذكرةالموضوعات، ج1، ص98.
المؤلف: محمد طاهر بن علي الصديقي الهندي الفَتَّنِي (المتوفى: 986هـ)، الناشر: إدارة الطباعة المنيرية، الطبعة: الأولى، 1343 هـ، عدد الأجزاء:1.
تنزيه الشريعة، ج1، ص195.
المؤلف: نور الدين، علي بن محمد بن علي بن عبد الرحمن ابن عراق الكناني (المتوفى: 963هـ)، المحقق: عبدالوهاب عبداللطيف، عبدالله محمد الصديق الغماري، الناشر: دارالكتب العلمية بيروت، الطبعة: الأولى، 1399 هـ، عددالأجزاء: 2.
اللآلىء المصنوعة، ج1، ص369.
المؤلف: عبدالرحمٰن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي (المتوفى: 911هـ)، المحقق: أبوعبدالرحمان صلاح بن محمد بن عويضة، الناشر: دارالكتب العلمية بيروت، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996م، عددالأجزاء: 2.
الموضوعات، ج2، ص3.
المؤلف: جمال الدين عبدالرحمٰن بن علي بن محمد الجوزي (المتوفى: 597هـ)، ضبط وتقديم وتحقيق: عبدالرحمٰن محمد عثمان، الناشر: محمد عبدالمحسن صاحب المكتبة السلفية بالمدينة المنورة، الطبعة: الأولى، جـ 1، 2: 1386 هـ - 1966 م، جـ 3: 1388 هـ - 1968 م.
الفوائدالمجموعة، ج1، ص394.
المؤلف: محمد بن علي بن محمد الشوكاني (المتوفى: 1250هـ)، المحقق: عبدالرحمٰن بن يحي المعلمي اليماني، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان.
الفتح الرباني من فتاوى الإمام الشوكاني، ج1، ص288.
المؤلف: محمد بن علي بن محمد بن عبدالله الشوكاني اليمني (المتوفى: 1250هـ)، حققه ورتبه: أبو مصعب «محمد صبحي» بن حسن حلاق، الناشر: مكتبة الجيل الجديد، صنعاء- اليمن، عددالأجزاء: 12.
اتحاف السائل بما لفاطمة من المناقب والفضائل، ج1، ص76.
المؤلف: زين الدين محمد المدعو بعبد الرؤوف بن تاج العارفين بن علي بن زين العابدين الحدادي ثم المناوي القاهري (المتوفى: 1031هـ)، دراسة وتحقيق وتعليق: عبداللطيف عاشور، الناشر: مكتبة القرآن للطبع والنشر والتوزيع، القاهرة، عدد الأجزاء: 1.
بشکریہ مرتبہ: ریاض قادری
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
"وَأخرج ابْن النجار عَن ابْن عَبَّاس قَالَ سَأَلت رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَن الْكَلِمَات الَّتِي تلقاها آدم من ربه فَتَابَ عَلَيْهِ قَالَ: سَأَلَ بِحَق مُحَمَّد وَعلي وَفَاطِمَة وَالْحسن وَالْحُسَيْن إِلَّا تبت عَليّ فَتَابَ عَلَيْهِ."
ترجمہ:
ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ..
جب حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ کے متعلق سوال کیا گیا تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
حضرت آدم علیہ السلام نے کہا؛ خداوندا تجھے واسطہ محمدؐ، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ اور حسینؑ کا کہ تو میری لغزش کو درگزر فرما۔ تب توبہ قبول ہوئی.
سبحان اللہ کیا شان ھے پنجتن پاکؑ کی.
حوالہ جات:
الدرالمنثور، ج1، ص127.
المؤلف: عبد الرحمٰن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي (المتوفى: 911هـ)، الناشر: دار الفكر بيروت، عدد الأجزاء:8.
تذكرةالموضوعات، ج1، ص98.
المؤلف: محمد طاهر بن علي الصديقي الهندي الفَتَّنِي (المتوفى: 986هـ)، الناشر: إدارة الطباعة المنيرية، الطبعة: الأولى، 1343 هـ، عدد الأجزاء:1.
تنزيه الشريعة، ج1، ص195.
المؤلف: نور الدين، علي بن محمد بن علي بن عبد الرحمن ابن عراق الكناني (المتوفى: 963هـ)، المحقق: عبدالوهاب عبداللطيف، عبدالله محمد الصديق الغماري، الناشر: دارالكتب العلمية بيروت، الطبعة: الأولى، 1399 هـ، عددالأجزاء: 2.
اللآلىء المصنوعة، ج1، ص369.
المؤلف: عبدالرحمٰن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي (المتوفى: 911هـ)، المحقق: أبوعبدالرحمان صلاح بن محمد بن عويضة، الناشر: دارالكتب العلمية بيروت، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996م، عددالأجزاء: 2.
الموضوعات، ج2، ص3.
المؤلف: جمال الدين عبدالرحمٰن بن علي بن محمد الجوزي (المتوفى: 597هـ)، ضبط وتقديم وتحقيق: عبدالرحمٰن محمد عثمان، الناشر: محمد عبدالمحسن صاحب المكتبة السلفية بالمدينة المنورة، الطبعة: الأولى، جـ 1، 2: 1386 هـ - 1966 م، جـ 3: 1388 هـ - 1968 م.
الفوائدالمجموعة، ج1، ص394.
المؤلف: محمد بن علي بن محمد الشوكاني (المتوفى: 1250هـ)، المحقق: عبدالرحمٰن بن يحي المعلمي اليماني، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان.
الفتح الرباني من فتاوى الإمام الشوكاني، ج1، ص288.
المؤلف: محمد بن علي بن محمد بن عبدالله الشوكاني اليمني (المتوفى: 1250هـ)، حققه ورتبه: أبو مصعب «محمد صبحي» بن حسن حلاق، الناشر: مكتبة الجيل الجديد، صنعاء- اليمن، عددالأجزاء: 12.
اتحاف السائل بما لفاطمة من المناقب والفضائل، ج1، ص76.
المؤلف: زين الدين محمد المدعو بعبد الرؤوف بن تاج العارفين بن علي بن زين العابدين الحدادي ثم المناوي القاهري (المتوفى: 1031هـ)، دراسة وتحقيق وتعليق: عبداللطيف عاشور، الناشر: مكتبة القرآن للطبع والنشر والتوزيع، القاهرة، عدد الأجزاء: 1.
بشکریہ مرتبہ: ریاض قادری
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 عورت کی آزادی 🔷
بھیڑیوں نے بکریوں کے حق میں جلوس نکالا کہ بکریوں کو آزادی دو بکریوں کے حقوق مارے جا رہے ہیں انہیں گھروں میں قید کر رکھا گیا ہے...
ایک بکری نے جب یہ آواز سنی تو دوسری بکریوں سے کہا کہ سنو سنو! ہمارے حق میں جلوس نکالے جا رہے ہیں چلو ہم بھی نکلتے ہیں اور اپنے حقوق کی آواز اٹھاتے ہیں...
ایک بوڑھی بکری بولی بیٹی ہوش کے ناخن لو یہ بھیڑیے ہمارے دشمن ہیں ان کی باتوں میں مت آؤ...
مگر نوجوان بکریوں نے اس کی بات نہ مانی کہ جی آپ کا زمانہ اور تھا یہ جدید دور ہے۔ اب کوئی کسی کے حقوق نہیں چھین سکتا۔ یہ بھیڑیے ہمارے دشمن کیسے.... یہ تو ہمارے حقوق کی بات کر رہے ہیں...
بوڑھی بکری سن کر بولی؛ بیٹا یہ تمہیں برباد کرنا چاہتے ہیں ابھی تم محفوظ ہو۔ اگر ان کی باتوں میں آگئی تو یہ تمہیں چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے...
بوڑھی بکری کی یہ بات سن کر جوان بکری غصے میں آگئی اور کہنے لگی کہ اماں تم تو بوڑھی ہوچکی ہو، اب ہمیں ہماری زندگی جینے دو، تمہیں کیا پتہ آزادی کیا ہوتی ہے. باہر خوبصورت کھیت ہونگے ہرے بھرے باغ ہونگے، ہر طرف ہریالی ہوگی، خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی، تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اب ہم مزید یہ قید برداشت نہیں کرسکتیں. یہ کہہ کر سب آزادی آزادی کے نعرے لگانے لگیں اور بھوک ہڑتال کر دی.
ریوڑ کے مالک نے جب یہ صورتحال دیکھی تو مجبورا انہیں کھول کر آزاد کر دیا.
بکریاں بہت خوش ہوئیں اور نعرے لگاتی چھلانگیں مارتی نکل بھاگیں... مگر یہ کیا...؟ بھیڑیوں نے تو ان پر حملہ کر دیا اور معصوم بکریوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا....
🔘 آج عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والے درحقیقت عورتوں تک پہنچنے کی آزادی چاہ رہے ہیں. انہیں عورتوں کے حقوق کی نہیں.... اپنی غلیظ پیاس کی فکر ہے۔ کاش کہ کوئی سمجھے!!!
درحقیقت آج کا لبرل مرد عورت کی آزادی نہیں بلکہ... عورت تک پہچنے کی آزادی چاہتا ہے...
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/3064
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔷 اسکارف
http://t.me/islamwitheman/151
🔷 حوا کی بیٹی
https://t.me/islamwitheman/362
🔷 مردوں کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/413
🔷 عورت کی آزادی
https://t.me/islamwitheman/412
🔷 دو قسم کی عورتیں
https://t.me/islamwitheman/2207
🌹 عفت و پاکدامنی
http://t.me/islamwitheman/2550
🌹 حضرت فاطمہؑ اور حجاب
http://t.me/islamwitheman/2578
🌸 حجاب کے متعلق روایات
http://t.me/islamwitheman/2714
🔷 پردہ اور آزادی
https://t.me/islamwitheman/2909
🔷 عورت کا پردہ کرنا ناگزیر ہے
https://t.me/islamwitheman/2931
🌹 عورت
https://t.me/islamwitheman/3065
🌹 اسلام عورت کا محافظ
https://t.me/islamwitheman/3066
🔷 میرا جسم میری مرضی
https://t.me/islamwitheman/3067
🔷 تیرا جسم تیری مرضی؟
https://t.me/islamwitheman/3068
🔷 عورت مارچ والیوں کو جواب
https://t.me/islamwitheman/3069
🔷 کھانا خود گرم کر لو
https://t.me/islamwitheman/3070
🔷 نوجوان لڑکیوں کے نام پیغام
https://t.me/islamwitheman/3071
🔷 میرا ہمسفر ہی میری ڈھال
https://t.me/islamwitheman/4154
🌹 لڑکیوں پر پابندیاں لگانے کی وجہ
https://t.me/islamwitheman/4157
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
بھیڑیوں نے بکریوں کے حق میں جلوس نکالا کہ بکریوں کو آزادی دو بکریوں کے حقوق مارے جا رہے ہیں انہیں گھروں میں قید کر رکھا گیا ہے...
ایک بکری نے جب یہ آواز سنی تو دوسری بکریوں سے کہا کہ سنو سنو! ہمارے حق میں جلوس نکالے جا رہے ہیں چلو ہم بھی نکلتے ہیں اور اپنے حقوق کی آواز اٹھاتے ہیں...
ایک بوڑھی بکری بولی بیٹی ہوش کے ناخن لو یہ بھیڑیے ہمارے دشمن ہیں ان کی باتوں میں مت آؤ...
مگر نوجوان بکریوں نے اس کی بات نہ مانی کہ جی آپ کا زمانہ اور تھا یہ جدید دور ہے۔ اب کوئی کسی کے حقوق نہیں چھین سکتا۔ یہ بھیڑیے ہمارے دشمن کیسے.... یہ تو ہمارے حقوق کی بات کر رہے ہیں...
بوڑھی بکری سن کر بولی؛ بیٹا یہ تمہیں برباد کرنا چاہتے ہیں ابھی تم محفوظ ہو۔ اگر ان کی باتوں میں آگئی تو یہ تمہیں چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے...
بوڑھی بکری کی یہ بات سن کر جوان بکری غصے میں آگئی اور کہنے لگی کہ اماں تم تو بوڑھی ہوچکی ہو، اب ہمیں ہماری زندگی جینے دو، تمہیں کیا پتہ آزادی کیا ہوتی ہے. باہر خوبصورت کھیت ہونگے ہرے بھرے باغ ہونگے، ہر طرف ہریالی ہوگی، خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی، تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اب ہم مزید یہ قید برداشت نہیں کرسکتیں. یہ کہہ کر سب آزادی آزادی کے نعرے لگانے لگیں اور بھوک ہڑتال کر دی.
ریوڑ کے مالک نے جب یہ صورتحال دیکھی تو مجبورا انہیں کھول کر آزاد کر دیا.
بکریاں بہت خوش ہوئیں اور نعرے لگاتی چھلانگیں مارتی نکل بھاگیں... مگر یہ کیا...؟ بھیڑیوں نے تو ان پر حملہ کر دیا اور معصوم بکریوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا....
🔘 آج عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والے درحقیقت عورتوں تک پہنچنے کی آزادی چاہ رہے ہیں. انہیں عورتوں کے حقوق کی نہیں.... اپنی غلیظ پیاس کی فکر ہے۔ کاش کہ کوئی سمجھے!!!
درحقیقت آج کا لبرل مرد عورت کی آزادی نہیں بلکہ... عورت تک پہچنے کی آزادی چاہتا ہے...
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/3064
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔷 اسکارف
http://t.me/islamwitheman/151
🔷 حوا کی بیٹی
https://t.me/islamwitheman/362
🔷 مردوں کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/413
🔷 عورت کی آزادی
https://t.me/islamwitheman/412
🔷 دو قسم کی عورتیں
https://t.me/islamwitheman/2207
🌹 عفت و پاکدامنی
http://t.me/islamwitheman/2550
🌹 حضرت فاطمہؑ اور حجاب
http://t.me/islamwitheman/2578
🌸 حجاب کے متعلق روایات
http://t.me/islamwitheman/2714
🔷 پردہ اور آزادی
https://t.me/islamwitheman/2909
🔷 عورت کا پردہ کرنا ناگزیر ہے
https://t.me/islamwitheman/2931
🌹 عورت
https://t.me/islamwitheman/3065
🌹 اسلام عورت کا محافظ
https://t.me/islamwitheman/3066
🔷 میرا جسم میری مرضی
https://t.me/islamwitheman/3067
🔷 تیرا جسم تیری مرضی؟
https://t.me/islamwitheman/3068
🔷 عورت مارچ والیوں کو جواب
https://t.me/islamwitheman/3069
🔷 کھانا خود گرم کر لو
https://t.me/islamwitheman/3070
🔷 نوجوان لڑکیوں کے نام پیغام
https://t.me/islamwitheman/3071
🔷 میرا ہمسفر ہی میری ڈھال
https://t.me/islamwitheman/4154
🌹 لڑکیوں پر پابندیاں لگانے کی وجہ
https://t.me/islamwitheman/4157
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 مردوں کے حقوق 🔷
"یہ مضمون ہر عورت کےمتعلق نہیں ہے. صرف مغرب زدہ بیمار ذہنیت رکھنے والی عورتوں اور ان کے ہم خیال مردوں کے لئے ہے اور مشرق کی باحیاء اور بااخلاق عورتوں کو بےحیائی اور بےاخلاقی کی ترغیب دینے کی حوصلہ شکنی کیلئے ہے۔ ایسی وہ تمام عورتیں جو باحیاء اور بااخلاق ہیں، اپنی اسلامی اقدار سے روشناس ہیں، اپنی زندگی احسن طریقے سے اسلامی اصولوں کے مطابق گزارتے ہوئے اپنے فرائض ادا کر رہی ہیں اور حقوق حاصل کر رہی ہیں اورجن عورتوں کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں، انکو حقوق دلوانے کیلئے اسلامی اقدار کا پاس رکھتے ہوئے جدوجہد کر رہی ہیں، وہ سب میرے لئے قابل احترام ہیں۔"
🔷عورتوں کےمعاشرےمیں مردوں کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ آپ یقین نہیں کریں گے مگر بات حقیقت پر مبنی ہے، آجکل کے معاشرے کی عورتوں نے مردوں کی ناک میں دم کرکے رکھ دیا ہے۔ آپ کوئی بھی اخبار دیکھ لیں، ان میں جلی حروف میں عورتوں کی طرف سے یہ واویلا کیا گیا ہوتا ہے.. "مردوں نے عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے"، "آخر حوا کی بیٹی کب تک پٹتی رہے گئی؟" وغیرہ وغیرہ...
🔸ہمارےمعاشرےمیں مغرب کی نسبت اکثر علاقوں میں عورتیں پہلے ہی کافی مراعات حاصل کر رہی ہیں۔ ظلم کے واویلے کی آڑ لیتے ہوئے یہ عورتیں مردوں کے حقوق پر بھی ڈاکہ ڈال رہی ہیں. آپ کو میری بات پر یقین نہیں تو ملازمت کے شائع ہونیوالے اشتہارات ملاحظہ کرلیں، ان پر عورتوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ ان کو ملازمت کیلئے درخواست دینے پر حوصلہ افزائی کی جائے گی.
🔸ہرجگہ پر ہمیشہ مردکو ہی قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے، اگر مرد عورت کو تھپڑ مارے، مرد قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ "کتنا ظالم مرد ہے، عورت (کمزور) پر ہاتھ اٹھاتا ہے"، "اگر عورت مرد کو تھپڑ مارے تب بھی مرد کو ہی قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے.. کیوں؟
🔸کسی بھی ٹی۔وی چینل کا کوئی بھی تمثیل یا مباحثہ ملاحظہ کر لیں، ہر ایک میں بس ایک ہی راگ آلاپا جاتا ہے کہ "عورت پر ظلم ہو رہا ہے"، "ماں کو معاشرے میں یہ مسئلہ ہے، بیٹی کو یہ، بہو کو وہ" بس عورتوں کے مسائل کی ہی بات کی جاتی ہے. کبھی کسی تمثیل میں مردوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی ہے، کیا مرد انسان نہیں؟
🔸جابجا آپ ملاحظہ کریں گے کہ سیکولر (لادین) معاشروں میں (کلی/جزوی) عورتیں مردوں کو گناہ کی طرف مائل کرتی ہوئی نظر آئیں گی، جب کہيں پر کوئی مرد ان کی دعوت قبول کرلیتا ہے تو مرد کی ذہنیت کو ہی گندہ کہا جاتا ہے. کیوں؟
🔸اخبارات ہوں یا رسائل، اشیاء کی تشہیر کیلئے عورت ہی کی تصویر کیوں شائع کی جاتی ہے(جن میں عورتوں نے اپنی نمائش کی ہوتی ہے)؟
🔸اگر کوئی لڑکی/عورت کوتوال کو شکایت لگائے کہ مرد مجھے گھور/چھیڑ رہا ہے. تو اس کو سزا/جرمانہ ہو جاتا ہے. مگر مرد ایسی شکایت لگائے تو بات مذاق میں لی جاتی ہے، کیوں؟
🔸ستم پر ستم، لڑکی کی ماں، لڑکی کو اس کی شادی پر رخصت کرتے ہوے کہتی ہے کہ تیرا شوہر تجھے خوش رکھے گا. وہ اس کو ساتھ میں یہ کیوں نہیں کہتی کہ تو بھی اس کو خوش رکھنا؟
🔸پرانےوقتوں میں لڑکےزیادہ پڑھے، لکھے ہوتے تھے اور لڑکیاں کم پڑھی لکھی. ان پڑھ لڑکا ایسی لڑکی کو اپنی شریک حیات بخوشی بنا لیتا تھا اور اب بھی.. مگر اب زیادہ پڑھی لکھی لڑکیاں کم پڑھے لکھے لڑکے سے شادی کرنے کو اپنے لئے گالی/ بدنامی کا باعث سمجھتی ہیں اور کسی امیر آدمی کی دوسری، تیسری بیوی بننا پسند کرتی ہیں.. کیوں؟
🔸بیوی اپنے خاوند پر شک کرے تو اس کا حق ہو گیا اگر خاوند اپنی بیوی پر شک کرے تو گری ہوئی ذہنیت کا مرد کہلایا. کہاں کا انصاف ہے؟
🔸مرد قتل کرے تو سزائےموت اور اگر عورت قتل کر دے تو صرف عمر قید.. کہاں کا انصاف ہے؟
🔷میرے دل میں عورتوں کے لئے عزت کا مقام ہے. مغرب نے عورتوں کو اس کا حق نہیں دیا. عورت مغرب میں اپنے تمام تر معاملات میں آزاد ہے مگر وہ اکیلی ہے، اسکا کوئی پرسان حال نہیں ہے. مرد ان کے ساتھ رہتے ہیں، شادی نہیں کرتے، شاذونادر کسی جوڑے کی شادی ہوتی ہے۔(یہ انسانی معاشرے کی نشانی نہیں ہے)
🔷عورت اور مرد بالکل بھی برابر نہیں ہیں۔ عورت، عورت ہے اور مرد، مرد ہے. دونوں کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں. میاں بیوی کا رشتہ ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا یا قابو کرکے رکھنا نہیں ہوتا بلکہ دونوں کی ہم آہنگی سے انسانیت کی بقاء کیلئے ایک صحت مند، سمجھدار معاشرے کی پرورش میں اپنی ذمہ داری احسن طریقہ سے ادا کرنا ہوتی ہے.
🔷پاکستانی معاشرے میں اگر کہیں پر عورت ظلم سہہ رہی ہے تو وہ صرف اس لئے کہ وہاں لوگ اسلامی تعلیمات پر کلی طور پر عمل پیرا نہیں ہیں. جزوی طور پر ہم سب مسلمان بنتے ہیں. مگر حقیقی کامیابی تو مکمل اسلام میں داخل ہونے پر ہے. ہر معاشرتی مسئلے کا حل اسلام میں موجود ہے. اللہ ہم سب کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے.
🌹منقول از: استاد حوزہ علمیہ قم: آقای انصاریان
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
"یہ مضمون ہر عورت کےمتعلق نہیں ہے. صرف مغرب زدہ بیمار ذہنیت رکھنے والی عورتوں اور ان کے ہم خیال مردوں کے لئے ہے اور مشرق کی باحیاء اور بااخلاق عورتوں کو بےحیائی اور بےاخلاقی کی ترغیب دینے کی حوصلہ شکنی کیلئے ہے۔ ایسی وہ تمام عورتیں جو باحیاء اور بااخلاق ہیں، اپنی اسلامی اقدار سے روشناس ہیں، اپنی زندگی احسن طریقے سے اسلامی اصولوں کے مطابق گزارتے ہوئے اپنے فرائض ادا کر رہی ہیں اور حقوق حاصل کر رہی ہیں اورجن عورتوں کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں، انکو حقوق دلوانے کیلئے اسلامی اقدار کا پاس رکھتے ہوئے جدوجہد کر رہی ہیں، وہ سب میرے لئے قابل احترام ہیں۔"
🔷عورتوں کےمعاشرےمیں مردوں کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ آپ یقین نہیں کریں گے مگر بات حقیقت پر مبنی ہے، آجکل کے معاشرے کی عورتوں نے مردوں کی ناک میں دم کرکے رکھ دیا ہے۔ آپ کوئی بھی اخبار دیکھ لیں، ان میں جلی حروف میں عورتوں کی طرف سے یہ واویلا کیا گیا ہوتا ہے.. "مردوں نے عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے"، "آخر حوا کی بیٹی کب تک پٹتی رہے گئی؟" وغیرہ وغیرہ...
🔸ہمارےمعاشرےمیں مغرب کی نسبت اکثر علاقوں میں عورتیں پہلے ہی کافی مراعات حاصل کر رہی ہیں۔ ظلم کے واویلے کی آڑ لیتے ہوئے یہ عورتیں مردوں کے حقوق پر بھی ڈاکہ ڈال رہی ہیں. آپ کو میری بات پر یقین نہیں تو ملازمت کے شائع ہونیوالے اشتہارات ملاحظہ کرلیں، ان پر عورتوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ ان کو ملازمت کیلئے درخواست دینے پر حوصلہ افزائی کی جائے گی.
🔸ہرجگہ پر ہمیشہ مردکو ہی قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے، اگر مرد عورت کو تھپڑ مارے، مرد قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ "کتنا ظالم مرد ہے، عورت (کمزور) پر ہاتھ اٹھاتا ہے"، "اگر عورت مرد کو تھپڑ مارے تب بھی مرد کو ہی قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے.. کیوں؟
🔸کسی بھی ٹی۔وی چینل کا کوئی بھی تمثیل یا مباحثہ ملاحظہ کر لیں، ہر ایک میں بس ایک ہی راگ آلاپا جاتا ہے کہ "عورت پر ظلم ہو رہا ہے"، "ماں کو معاشرے میں یہ مسئلہ ہے، بیٹی کو یہ، بہو کو وہ" بس عورتوں کے مسائل کی ہی بات کی جاتی ہے. کبھی کسی تمثیل میں مردوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی ہے، کیا مرد انسان نہیں؟
🔸جابجا آپ ملاحظہ کریں گے کہ سیکولر (لادین) معاشروں میں (کلی/جزوی) عورتیں مردوں کو گناہ کی طرف مائل کرتی ہوئی نظر آئیں گی، جب کہيں پر کوئی مرد ان کی دعوت قبول کرلیتا ہے تو مرد کی ذہنیت کو ہی گندہ کہا جاتا ہے. کیوں؟
🔸اخبارات ہوں یا رسائل، اشیاء کی تشہیر کیلئے عورت ہی کی تصویر کیوں شائع کی جاتی ہے(جن میں عورتوں نے اپنی نمائش کی ہوتی ہے)؟
🔸اگر کوئی لڑکی/عورت کوتوال کو شکایت لگائے کہ مرد مجھے گھور/چھیڑ رہا ہے. تو اس کو سزا/جرمانہ ہو جاتا ہے. مگر مرد ایسی شکایت لگائے تو بات مذاق میں لی جاتی ہے، کیوں؟
🔸ستم پر ستم، لڑکی کی ماں، لڑکی کو اس کی شادی پر رخصت کرتے ہوے کہتی ہے کہ تیرا شوہر تجھے خوش رکھے گا. وہ اس کو ساتھ میں یہ کیوں نہیں کہتی کہ تو بھی اس کو خوش رکھنا؟
🔸پرانےوقتوں میں لڑکےزیادہ پڑھے، لکھے ہوتے تھے اور لڑکیاں کم پڑھی لکھی. ان پڑھ لڑکا ایسی لڑکی کو اپنی شریک حیات بخوشی بنا لیتا تھا اور اب بھی.. مگر اب زیادہ پڑھی لکھی لڑکیاں کم پڑھے لکھے لڑکے سے شادی کرنے کو اپنے لئے گالی/ بدنامی کا باعث سمجھتی ہیں اور کسی امیر آدمی کی دوسری، تیسری بیوی بننا پسند کرتی ہیں.. کیوں؟
🔸بیوی اپنے خاوند پر شک کرے تو اس کا حق ہو گیا اگر خاوند اپنی بیوی پر شک کرے تو گری ہوئی ذہنیت کا مرد کہلایا. کہاں کا انصاف ہے؟
🔸مرد قتل کرے تو سزائےموت اور اگر عورت قتل کر دے تو صرف عمر قید.. کہاں کا انصاف ہے؟
🔷میرے دل میں عورتوں کے لئے عزت کا مقام ہے. مغرب نے عورتوں کو اس کا حق نہیں دیا. عورت مغرب میں اپنے تمام تر معاملات میں آزاد ہے مگر وہ اکیلی ہے، اسکا کوئی پرسان حال نہیں ہے. مرد ان کے ساتھ رہتے ہیں، شادی نہیں کرتے، شاذونادر کسی جوڑے کی شادی ہوتی ہے۔(یہ انسانی معاشرے کی نشانی نہیں ہے)
🔷عورت اور مرد بالکل بھی برابر نہیں ہیں۔ عورت، عورت ہے اور مرد، مرد ہے. دونوں کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں. میاں بیوی کا رشتہ ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا یا قابو کرکے رکھنا نہیں ہوتا بلکہ دونوں کی ہم آہنگی سے انسانیت کی بقاء کیلئے ایک صحت مند، سمجھدار معاشرے کی پرورش میں اپنی ذمہ داری احسن طریقہ سے ادا کرنا ہوتی ہے.
🔷پاکستانی معاشرے میں اگر کہیں پر عورت ظلم سہہ رہی ہے تو وہ صرف اس لئے کہ وہاں لوگ اسلامی تعلیمات پر کلی طور پر عمل پیرا نہیں ہیں. جزوی طور پر ہم سب مسلمان بنتے ہیں. مگر حقیقی کامیابی تو مکمل اسلام میں داخل ہونے پر ہے. ہر معاشرتی مسئلے کا حل اسلام میں موجود ہے. اللہ ہم سب کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے.
🌹منقول از: استاد حوزہ علمیہ قم: آقای انصاریان
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🚫 زنا کیا ہے؟ 🚫
زنا کیا ہے؟
اگر مرد ایک ایسی عورت سے صحب/ همبستری کرے جو اس کی بیوی نہیں ہے تو، یہ زنا کہلاتا ہے، ضروری نہیں کہ ساتھ سونے کو ہی زنا کہتے ہیں، بلكہ چھونا بھی زنا کا ایک حصہ ہے. اور کسی پرائی عورت کو دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے. زنا کو اسلام میں ایک بہت بڑا گناہ (شرک کے بعد دوسرا بڑا گناہ) کہا گیا ہے.
اور اسلام نے ایسا کرنے والوں کی سزا دنیا میں بھی رکھی ہے. اور مرنے کے بعد اللہ اس کی سخت سزا دے گا۔
اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے:
"اور (دیکھو) زنا کے قریب بھی نہ جانا، وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے." (سورة بنی اسرائیل، آیت:32)
سورہ فرقان میں ارشاد ہوتا ہے:
"(خدا کے نیک بندوں کی صفات یہ ہیں کہ) وہ لوگ خدا کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی پرستش نہیں کرتے، اور اس نفس(جان) جسکے مارنے کو خدا نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے، اور زنا نہیں کرتے. اور جو شخص ایسا کرے گا وہ اپنے گناہ کی سزا بھگتے گا. قیامت کے دن اس کے لئے عذاب دوگنا کر دیا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ ذلیل و خوار رہے گا." (سورةفرقان، آیت:68)
حضرت محمدؐ نے فرمایا:
"مؤمن تو کوئی زنا کر ہی نہیں سکتا." (بخاری، ج3، ص614، حدیث1714)
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
جو شخص بھی مسلمان، یہودی، نصرانی یا مجوسی عورت سے زنا کریگا خواہ وہ عورت آزاد ہو یا کنیز. اس پر اصرار کرتے ہوئے، توبہ کئے بغیر اس دنیا سے اٹھ جائے گا تو پروردگار عالم تین سو عذاب کے دروازے اس کی قبر میں کھول دیتا ہے. اور ہر دروازے سے کئی سانپ، بچھو اور اژدهے آگ سے نکل آئیں گے اور قیامت تک جلاتے اور تکلیفیں پہنچاتے رہیں گے. (گناہان کبیرہ، ص:121)
زنا کی سزا اور عذاب:
اگر زنا کرنے والے شادی شدہ ہوں تو کھلے میدان میں پتھر مارمار کر مار ڈالا جائے یعنی سنگسار کیا جائے اور اگر كنوارے ہوں تو 100 کوڑے مارے جائیں. (بخاری، ج3، ص615، حدیث1715)
■ دوستو! اس كبيرہ گناہ کی اور بھی سزائیں ہیں، اس لئے خود بھی بچو اور دوسروں کو بھی بچاؤ.
■ آج کل دیکھنے میں آیا ہے کی اس گناہ میں بہت سے لوگ شامل ہیں، خاص کر بازاروں میں جہاں عورتیں اور مرد جاتے ہیں کسی کا ہاتھ کسی کو لگ رہا ہے کہاں لگتا ہے کچھ معلوم نہیں ہوتا، چاہے لڑکا ہو یا لڑكی اور پھر اس گناہ کو کرنے کے بعد اپنے دوستوں کو بڑی شان سے سناتے ہیں، بلكہ ان کو بھی ایسا کرنے کی رائے دیتے ہیں.
● اگر کوئی کنوارہ لڑکا یا لڑکی کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا گناہ اس کے ماں باپ کو بھی ملتا ہے كيونکہ انہوں نے ان کی جلد شادی نہیں کی اور درست تربیت نہیں کی، جس کی وجہ سے وہ غلط کام کرنے لگے.
● اگر آپ نے اپنے سیکس کا قصہ اپنے دوست/ سہیلی کو سنایا اور اس کے دل میں بھی ایسا کرنے کی بات آگئی اور اس نے وہ کام کر لیا تو اس کا گناہ آپ کو بھی ملے گا، کیوکہ آپ نے اس کو غلط راستہ دکھایا هے.
● سب كے گھر میں ماں، بہن، بیٹی ہے، اگر آپ دوسرے کی طرف تاک جھانک کرو گے تو ہو سکتا ہے آپ کا گھر بھی محفوظ نہ رہے.
🔘 اللہ ہم سب کو اس بڑے گناہ سے بچائے۔
🌹 آج آپ یہ میسیج اگر کسی 1 کو بھی شیئر کر دیں تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے کتنے لوگ "اللہ" سے توبہ کر لیں گے انشاء اللہ.
https://t.me/islamwitheman/414
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
زنا کیا ہے؟
اگر مرد ایک ایسی عورت سے صحب/ همبستری کرے جو اس کی بیوی نہیں ہے تو، یہ زنا کہلاتا ہے، ضروری نہیں کہ ساتھ سونے کو ہی زنا کہتے ہیں، بلكہ چھونا بھی زنا کا ایک حصہ ہے. اور کسی پرائی عورت کو دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے. زنا کو اسلام میں ایک بہت بڑا گناہ (شرک کے بعد دوسرا بڑا گناہ) کہا گیا ہے.
اور اسلام نے ایسا کرنے والوں کی سزا دنیا میں بھی رکھی ہے. اور مرنے کے بعد اللہ اس کی سخت سزا دے گا۔
اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے:
"اور (دیکھو) زنا کے قریب بھی نہ جانا، وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے." (سورة بنی اسرائیل، آیت:32)
سورہ فرقان میں ارشاد ہوتا ہے:
"(خدا کے نیک بندوں کی صفات یہ ہیں کہ) وہ لوگ خدا کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی پرستش نہیں کرتے، اور اس نفس(جان) جسکے مارنے کو خدا نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے، اور زنا نہیں کرتے. اور جو شخص ایسا کرے گا وہ اپنے گناہ کی سزا بھگتے گا. قیامت کے دن اس کے لئے عذاب دوگنا کر دیا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ ذلیل و خوار رہے گا." (سورةفرقان، آیت:68)
حضرت محمدؐ نے فرمایا:
"مؤمن تو کوئی زنا کر ہی نہیں سکتا." (بخاری، ج3، ص614، حدیث1714)
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
جو شخص بھی مسلمان، یہودی، نصرانی یا مجوسی عورت سے زنا کریگا خواہ وہ عورت آزاد ہو یا کنیز. اس پر اصرار کرتے ہوئے، توبہ کئے بغیر اس دنیا سے اٹھ جائے گا تو پروردگار عالم تین سو عذاب کے دروازے اس کی قبر میں کھول دیتا ہے. اور ہر دروازے سے کئی سانپ، بچھو اور اژدهے آگ سے نکل آئیں گے اور قیامت تک جلاتے اور تکلیفیں پہنچاتے رہیں گے. (گناہان کبیرہ، ص:121)
زنا کی سزا اور عذاب:
اگر زنا کرنے والے شادی شدہ ہوں تو کھلے میدان میں پتھر مارمار کر مار ڈالا جائے یعنی سنگسار کیا جائے اور اگر كنوارے ہوں تو 100 کوڑے مارے جائیں. (بخاری، ج3، ص615، حدیث1715)
■ دوستو! اس كبيرہ گناہ کی اور بھی سزائیں ہیں، اس لئے خود بھی بچو اور دوسروں کو بھی بچاؤ.
■ آج کل دیکھنے میں آیا ہے کی اس گناہ میں بہت سے لوگ شامل ہیں، خاص کر بازاروں میں جہاں عورتیں اور مرد جاتے ہیں کسی کا ہاتھ کسی کو لگ رہا ہے کہاں لگتا ہے کچھ معلوم نہیں ہوتا، چاہے لڑکا ہو یا لڑكی اور پھر اس گناہ کو کرنے کے بعد اپنے دوستوں کو بڑی شان سے سناتے ہیں، بلكہ ان کو بھی ایسا کرنے کی رائے دیتے ہیں.
● اگر کوئی کنوارہ لڑکا یا لڑکی کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا گناہ اس کے ماں باپ کو بھی ملتا ہے كيونکہ انہوں نے ان کی جلد شادی نہیں کی اور درست تربیت نہیں کی، جس کی وجہ سے وہ غلط کام کرنے لگے.
● اگر آپ نے اپنے سیکس کا قصہ اپنے دوست/ سہیلی کو سنایا اور اس کے دل میں بھی ایسا کرنے کی بات آگئی اور اس نے وہ کام کر لیا تو اس کا گناہ آپ کو بھی ملے گا، کیوکہ آپ نے اس کو غلط راستہ دکھایا هے.
● سب كے گھر میں ماں، بہن، بیٹی ہے، اگر آپ دوسرے کی طرف تاک جھانک کرو گے تو ہو سکتا ہے آپ کا گھر بھی محفوظ نہ رہے.
🔘 اللہ ہم سب کو اس بڑے گناہ سے بچائے۔
🌹 آج آپ یہ میسیج اگر کسی 1 کو بھی شیئر کر دیں تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے کتنے لوگ "اللہ" سے توبہ کر لیں گے انشاء اللہ.
https://t.me/islamwitheman/414
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🚫 زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو 🚫
"وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا." (سورةالإسراء، آیت:32)
ترجمہ:
خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے.
■ زناکےراستے اور انکےقریب جانیکی ممانعت:
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ زنا نہ کرو بلکہ یوں فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ یعنی وہ تمام راستے اور طور طریقے جو زنا کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان سب سے اجتناب کرو۔ ایسے راستوں کا مفصل بیان تو سورہ نور اور سورہ احزاب میں آیا ہے۔ مختصراً یہ کہ ہر وہ چیز جو انسان کی شہوت کی انگیخت کا سبب بن سکتی ہے۔ وہ زنا کا راستہ ہے مثلاً عورتوں سے آزادانہ اختلاط، عورتوں کا بے پردہ ہو کر بازاروں میں نکلنا، اجنبی مرد و عورت کی گفتگو بالخصوص اس صورت میں کہ وہ اکیلے ہوں۔ نظر بازی، عریاں تصویر، فلمیں، فحش لٹریچر، گندی گالیاں، ٹی وی اور ریڈیو پر فحش افسانے اور ڈرامے اور مردوں اور عورتوں کی بے حجابانہ گفتگو وغیرہ سب شہوت کو ابھارنے والی باتیں ہیں اور یہی زنا کے راستے ہیں.
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ اور زنا کی طرف لے جانے والے تمام راستوں پر پابندیاں لگا دیں.
زنا کاری اور اس کے اردگرد کی تمام سیاہ کاریوں سے قرآن روک رہا ہے. زنا کو شریعت نے کبیرہ اور بہت سخت گناہ بتایا ہے وہ بدترین طریقہ اور نہایت بری راہ ہے.
مسند احمد میں ہے کہ ایک نوجوان نے زنا کاری کی اجازت آپ سے چاہی لوگ اس پر جھک پڑے کہ "چپ رہ، کیا کر رہا ہے، کیا کہہ رہا ہے؟"
آپؐ نے اسے اپنے قریب بلا کر فرمایا، بیٹھ جا جب وہ بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا:
کیا تو اس کام کو اپنی ماں کے لئے پسند کرتا ہے؟
اس نے کہا؛
نہیں، اللہ کی قسم نہیں یا رسولؐ اللہ مجھے آپ پر اللہ فدا کرے ہرگز نہیں.
آپ نے فرمایا:
پھر سوچ لے کہ کوئی اور کیسے پسند کرے گا؟ آپؐ نے فرمایا؛ اچھا تو اسے اپنی بیٹی کے لئے پسند کرتا ہے؟
اس نے اسی طرح تاکید سے انکار کیا.
آپؐ نے فرمایا:
ٹھیک اسی طرح کوئی بھی اسے اپنی بیٹیوں کے لئے پسند نہیں کرتا، اچھا اپنی بہن کے لئے اسے تو پسند کرے گا؟
اس نے اسی طرح سے انکار کیا.
آپؐ نے فرمایا:
اسی طرح دوسرے بھی اپنی بہنوں کے لئے اسے مکروہ سمجھتے ہیں. بتا کیا تو چاہے گا کہ کوئی تیری پھوپھی سے ایسا کرے؟
اس نے اسی سختی سے انکار کیا.
آپؐ نے فرمایا:
اسی طرح اور سب لوگ بھی.
پھر آپؐ نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ کر دعا کی کہ الہٰی اس کے گناہ بخش، اس کے دل کو پاک کر، اسے عصمت والا بنا. پھر تو یہ حالت تھی کہ یہ نوجوان کسی کی طرف نظر بھی نہ اٹھاتا.
ابن ابی الدنیا میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے:
شرک کے بعد کوئی گناہ زنا کاری سے بڑھ کر نہیں کہ آدمی اپنا نطفہ کسی ایسے رحم میں ڈالے جو اس کے لئے حلال نہیں.
رسول اکرمؐ نے فرمایا:
"اِذَا کَثُرَ الزِّنَا مِنْ بَعْدیْ کَثُرَ مَوْتُ الْفُجَاةِ."
ترجمہ:
جب میرے بعد کثرت سے زنا ہونے لگے گا تو ناگہانی اموات بھی کثرت سے ہوں گی. (گناہان کبیرہ، ص:123، بحوالہ وسائل الشیعہ)
Do not even go close to fornication. It is indeed a shameful act, and an evil way to follow.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/415
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
"وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا." (سورةالإسراء، آیت:32)
ترجمہ:
خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے.
■ زناکےراستے اور انکےقریب جانیکی ممانعت:
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ زنا نہ کرو بلکہ یوں فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ یعنی وہ تمام راستے اور طور طریقے جو زنا کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان سب سے اجتناب کرو۔ ایسے راستوں کا مفصل بیان تو سورہ نور اور سورہ احزاب میں آیا ہے۔ مختصراً یہ کہ ہر وہ چیز جو انسان کی شہوت کی انگیخت کا سبب بن سکتی ہے۔ وہ زنا کا راستہ ہے مثلاً عورتوں سے آزادانہ اختلاط، عورتوں کا بے پردہ ہو کر بازاروں میں نکلنا، اجنبی مرد و عورت کی گفتگو بالخصوص اس صورت میں کہ وہ اکیلے ہوں۔ نظر بازی، عریاں تصویر، فلمیں، فحش لٹریچر، گندی گالیاں، ٹی وی اور ریڈیو پر فحش افسانے اور ڈرامے اور مردوں اور عورتوں کی بے حجابانہ گفتگو وغیرہ سب شہوت کو ابھارنے والی باتیں ہیں اور یہی زنا کے راستے ہیں.
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ اور زنا کی طرف لے جانے والے تمام راستوں پر پابندیاں لگا دیں.
زنا کاری اور اس کے اردگرد کی تمام سیاہ کاریوں سے قرآن روک رہا ہے. زنا کو شریعت نے کبیرہ اور بہت سخت گناہ بتایا ہے وہ بدترین طریقہ اور نہایت بری راہ ہے.
مسند احمد میں ہے کہ ایک نوجوان نے زنا کاری کی اجازت آپ سے چاہی لوگ اس پر جھک پڑے کہ "چپ رہ، کیا کر رہا ہے، کیا کہہ رہا ہے؟"
آپؐ نے اسے اپنے قریب بلا کر فرمایا، بیٹھ جا جب وہ بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا:
کیا تو اس کام کو اپنی ماں کے لئے پسند کرتا ہے؟
اس نے کہا؛
نہیں، اللہ کی قسم نہیں یا رسولؐ اللہ مجھے آپ پر اللہ فدا کرے ہرگز نہیں.
آپ نے فرمایا:
پھر سوچ لے کہ کوئی اور کیسے پسند کرے گا؟ آپؐ نے فرمایا؛ اچھا تو اسے اپنی بیٹی کے لئے پسند کرتا ہے؟
اس نے اسی طرح تاکید سے انکار کیا.
آپؐ نے فرمایا:
ٹھیک اسی طرح کوئی بھی اسے اپنی بیٹیوں کے لئے پسند نہیں کرتا، اچھا اپنی بہن کے لئے اسے تو پسند کرے گا؟
اس نے اسی طرح سے انکار کیا.
آپؐ نے فرمایا:
اسی طرح دوسرے بھی اپنی بہنوں کے لئے اسے مکروہ سمجھتے ہیں. بتا کیا تو چاہے گا کہ کوئی تیری پھوپھی سے ایسا کرے؟
اس نے اسی سختی سے انکار کیا.
آپؐ نے فرمایا:
اسی طرح اور سب لوگ بھی.
پھر آپؐ نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ کر دعا کی کہ الہٰی اس کے گناہ بخش، اس کے دل کو پاک کر، اسے عصمت والا بنا. پھر تو یہ حالت تھی کہ یہ نوجوان کسی کی طرف نظر بھی نہ اٹھاتا.
ابن ابی الدنیا میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے:
شرک کے بعد کوئی گناہ زنا کاری سے بڑھ کر نہیں کہ آدمی اپنا نطفہ کسی ایسے رحم میں ڈالے جو اس کے لئے حلال نہیں.
رسول اکرمؐ نے فرمایا:
"اِذَا کَثُرَ الزِّنَا مِنْ بَعْدیْ کَثُرَ مَوْتُ الْفُجَاةِ."
ترجمہ:
جب میرے بعد کثرت سے زنا ہونے لگے گا تو ناگہانی اموات بھی کثرت سے ہوں گی. (گناہان کبیرہ، ص:123، بحوالہ وسائل الشیعہ)
Do not even go close to fornication. It is indeed a shameful act, and an evil way to follow.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/415
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🚫 زنا شرک کیبعد سب سے بڑا گناہ 🚫
احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص زنا کا مرتکب ہو اور بغیر توبہ کئے مر جائے. اس پر مصیبتوں کا دروازہ کھل جاتا ہے. اللّہ تعالیٰ اس پر سختی فرمائے گا. اور اس کو زنا کے ہر، ہر عمل کے بدلے آخرت کا ملتا جلتا عذاب ہوگا. اسکی تفصیل درج ذیل ہے.
1) نامحرم کے لئے چہرہ سنوارتا تھا:
قیامت کے دن چہرہ سیاہ ہوگا.
2) نامحرم کے چہرے کو محبّت کی نظر سے دیکھتا تھا:
قیامت کے دن چہرے کا گوشت گر جائےگا.
3) نامحرم کو دیکھ کر اس کا چہرہ کھل جاتا تھا:
قیامت کے دن اس کے چہرے کو آگ سے مشتعل کیا جائےگا.
4) نامحرم سے دل لگی کی باتیں کرتا تھا:
قیامت کے دن روتا ہوا اٹھے گا.
5) نامحرم سے ہنسی مذاق کرکے قہقہے لگاتا تھا:
قیامت کے دن پِیٹتا چِلّاتا اُٹھےگا.
6) نامحرم سے ملاقات کرکے خوش ہوتا تھا:
قیامت کے دن غمگین اور اداس حالت میں اُٹھےگا.
7) نامحرم کو شہوت کی نظر سے دیکھتا تھا:
قیامت کے دن پگھلا ہوا سیسہ آنکھوں میں ڈالا جائےگا.
8) نامحرم کی ملاقات کے لئے چل کر گیا: قیامت کے دن پاؤں میں آگ کی بیڑیاں پہنائیں گے.
9) نامحرم کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے:
قیامت کے دن ہاتھوں میں آگ کی ہتھکڑیاں پہنائیں گے.
10) نامحرم سے زنا کی ابتداء منہ ملانے (بوسے) سے کی:
قیامت کے دن گھسیٹ کر منہ کے بَل جہنّم میں ڈالا جائےگا.
11) نامحرم کی گردن سے گردن ملائی:
قیامت کے دن گردن میں آگ کی زنجیر ڈالیں گے.
12) نامحرم کے سامنے شرمگاہ سے لباس ہٹایا:
قیامت کے دن تارکول کا لباس پہنائیں گے.
13) نامحرم سے ملکر جنسی پیاس بجھائی:
قیامت کے دن پیاسا اُٹھایا جائےگا.
14) نامحرم سے ملاپ کے وقت جنسی طوفان اٹھا:
قیامت کے دن شرمگاہ کو آگ سے دہکایا جائےگا.
15) نامحرم سے ملاپ کے وقت شرمگاہ سے منی خارج ہوئی:
قیامت کے دن شرمگاہ سے بدبو خارج ہوگی.
16) نامحرم کے بالوں میں محبّت سے انگلیاں پھیریں:
قیامت کے دن بالوں سے پکڑ کر جہنّم میں لٹکائیں گے.
17) نامحرم کے پستان پکڑے اور چوسے:
قیامت کے دن پستانوں کے بَل جہنّم میں لٹکائیں گے.
18) نامحرم کے جسم کی مہک سونگھی:
قیامت کے دن جسم سے حیران کن اذیتناک بدبو آئے گی.
19) نامحرم کے ساتھ ایک بستر پر اکٹھے ہوئے:
قیامت کے دن آگ کے تنور میں یکجا کیا جائےگا.
20) نامحرم کے ساتھ اپنے جسم کو کھولا:
قیامت کے دن اللّہ تعالیٰ کے سامنے ننگا پیش کیا جائےگا.
21) نامحرم سے زنا کے لئے لوگوں سے چھپ گیا:
قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے بےعزت کیا جائےگا.
22) نامحرم سے تعلّق چھپانے کے لئے لوگوں سے جھوٹ بولا:
قیامت کے دن منہ پر مہر لگاکر اعضاء سے گواہی لیں گے.
23) نامحرم سے اپنے حسن و جمال کی تعریفیں سنیں:
قیامت کے دن سب لوگ لعنتیں بھیجیں گے.
24) نامحرم سے ملتے وقت سلام کرتے تھے:
قیامت کے دن اللّہ تعالیٰ لعنتیں بھیجے گا.
25) نامحرم کے جسم کے بوسے لئے:
قیامت کے دن سانپ پورے جسم کو ڈسیں گے.
26) نامحرم سے زنا کے وقت انگ انگ نے مزہ پایا:
قیامت کے دن انگ انگ میں بِچّھو ڈنگ لگاۓ گا.
27) نامحرم کے جسم پر اختیار پایا:
قیامت کے دن نامحرم کے شوہر کو نیکیوں پر اختیار ملےگا.
28) نامحرم کے جسم پر سواری کی:
قیامت کے دن نامحرم کے شوہر کے گناہ اس کے سر پر سوار ہوں گے.
29) نامحرم سے ہمیشہ کی دوستی کے وعدے کئے:
قیامت کے دن جہنّم میں ہمیشہ کا عذاب ہوگا.
30) نامحرم سے ہمکلامی کے لطف و مزے لئے:
قیامت کے دن اللّہ تعالیٰ سے ہمکلامی کی لذّت سے محروم ہوگا.
🔶 مندرجہ بالا عبارت سے ثابت ہوا کہ جتنی تفصیلی سزا، زنا کے عمل کی ملے گی اتنی کسی اور گناہ کی نہیں ملے گی. سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللّہ تعالیٰ ہمکلام ہونا پسند نہیں کرے گا بلکہ لعنتیں برسائے گا. رسوا کرے گا.
اللّہ تعالیٰ ہمیں، ہمارے اہل خانہ کو، بچّوں کو، قیامت تک آنے والی نسلوں کو اور جملہ متعلقین کو زنا سے محفوظ فرماۓ.
📚یہ مضمون مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی کی کتاب "حیا اور پاکدامنی" سے لیا گیا ہے. جن حضرات کو مزید تفصیلات دیکھنی ہوں اس کتاب میں دیکھ سکتے ہیں.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/415
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص زنا کا مرتکب ہو اور بغیر توبہ کئے مر جائے. اس پر مصیبتوں کا دروازہ کھل جاتا ہے. اللّہ تعالیٰ اس پر سختی فرمائے گا. اور اس کو زنا کے ہر، ہر عمل کے بدلے آخرت کا ملتا جلتا عذاب ہوگا. اسکی تفصیل درج ذیل ہے.
1) نامحرم کے لئے چہرہ سنوارتا تھا:
قیامت کے دن چہرہ سیاہ ہوگا.
2) نامحرم کے چہرے کو محبّت کی نظر سے دیکھتا تھا:
قیامت کے دن چہرے کا گوشت گر جائےگا.
3) نامحرم کو دیکھ کر اس کا چہرہ کھل جاتا تھا:
قیامت کے دن اس کے چہرے کو آگ سے مشتعل کیا جائےگا.
4) نامحرم سے دل لگی کی باتیں کرتا تھا:
قیامت کے دن روتا ہوا اٹھے گا.
5) نامحرم سے ہنسی مذاق کرکے قہقہے لگاتا تھا:
قیامت کے دن پِیٹتا چِلّاتا اُٹھےگا.
6) نامحرم سے ملاقات کرکے خوش ہوتا تھا:
قیامت کے دن غمگین اور اداس حالت میں اُٹھےگا.
7) نامحرم کو شہوت کی نظر سے دیکھتا تھا:
قیامت کے دن پگھلا ہوا سیسہ آنکھوں میں ڈالا جائےگا.
8) نامحرم کی ملاقات کے لئے چل کر گیا: قیامت کے دن پاؤں میں آگ کی بیڑیاں پہنائیں گے.
9) نامحرم کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے:
قیامت کے دن ہاتھوں میں آگ کی ہتھکڑیاں پہنائیں گے.
10) نامحرم سے زنا کی ابتداء منہ ملانے (بوسے) سے کی:
قیامت کے دن گھسیٹ کر منہ کے بَل جہنّم میں ڈالا جائےگا.
11) نامحرم کی گردن سے گردن ملائی:
قیامت کے دن گردن میں آگ کی زنجیر ڈالیں گے.
12) نامحرم کے سامنے شرمگاہ سے لباس ہٹایا:
قیامت کے دن تارکول کا لباس پہنائیں گے.
13) نامحرم سے ملکر جنسی پیاس بجھائی:
قیامت کے دن پیاسا اُٹھایا جائےگا.
14) نامحرم سے ملاپ کے وقت جنسی طوفان اٹھا:
قیامت کے دن شرمگاہ کو آگ سے دہکایا جائےگا.
15) نامحرم سے ملاپ کے وقت شرمگاہ سے منی خارج ہوئی:
قیامت کے دن شرمگاہ سے بدبو خارج ہوگی.
16) نامحرم کے بالوں میں محبّت سے انگلیاں پھیریں:
قیامت کے دن بالوں سے پکڑ کر جہنّم میں لٹکائیں گے.
17) نامحرم کے پستان پکڑے اور چوسے:
قیامت کے دن پستانوں کے بَل جہنّم میں لٹکائیں گے.
18) نامحرم کے جسم کی مہک سونگھی:
قیامت کے دن جسم سے حیران کن اذیتناک بدبو آئے گی.
19) نامحرم کے ساتھ ایک بستر پر اکٹھے ہوئے:
قیامت کے دن آگ کے تنور میں یکجا کیا جائےگا.
20) نامحرم کے ساتھ اپنے جسم کو کھولا:
قیامت کے دن اللّہ تعالیٰ کے سامنے ننگا پیش کیا جائےگا.
21) نامحرم سے زنا کے لئے لوگوں سے چھپ گیا:
قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے بےعزت کیا جائےگا.
22) نامحرم سے تعلّق چھپانے کے لئے لوگوں سے جھوٹ بولا:
قیامت کے دن منہ پر مہر لگاکر اعضاء سے گواہی لیں گے.
23) نامحرم سے اپنے حسن و جمال کی تعریفیں سنیں:
قیامت کے دن سب لوگ لعنتیں بھیجیں گے.
24) نامحرم سے ملتے وقت سلام کرتے تھے:
قیامت کے دن اللّہ تعالیٰ لعنتیں بھیجے گا.
25) نامحرم کے جسم کے بوسے لئے:
قیامت کے دن سانپ پورے جسم کو ڈسیں گے.
26) نامحرم سے زنا کے وقت انگ انگ نے مزہ پایا:
قیامت کے دن انگ انگ میں بِچّھو ڈنگ لگاۓ گا.
27) نامحرم کے جسم پر اختیار پایا:
قیامت کے دن نامحرم کے شوہر کو نیکیوں پر اختیار ملےگا.
28) نامحرم کے جسم پر سواری کی:
قیامت کے دن نامحرم کے شوہر کے گناہ اس کے سر پر سوار ہوں گے.
29) نامحرم سے ہمیشہ کی دوستی کے وعدے کئے:
قیامت کے دن جہنّم میں ہمیشہ کا عذاب ہوگا.
30) نامحرم سے ہمکلامی کے لطف و مزے لئے:
قیامت کے دن اللّہ تعالیٰ سے ہمکلامی کی لذّت سے محروم ہوگا.
🔶 مندرجہ بالا عبارت سے ثابت ہوا کہ جتنی تفصیلی سزا، زنا کے عمل کی ملے گی اتنی کسی اور گناہ کی نہیں ملے گی. سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللّہ تعالیٰ ہمکلام ہونا پسند نہیں کرے گا بلکہ لعنتیں برسائے گا. رسوا کرے گا.
اللّہ تعالیٰ ہمیں، ہمارے اہل خانہ کو، بچّوں کو، قیامت تک آنے والی نسلوں کو اور جملہ متعلقین کو زنا سے محفوظ فرماۓ.
📚یہ مضمون مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی کی کتاب "حیا اور پاکدامنی" سے لیا گیا ہے. جن حضرات کو مزید تفصیلات دیکھنی ہوں اس کتاب میں دیکھ سکتے ہیں.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/415
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🚫 زنا کا فلسفہ حُرمت 🚫
"وَلَاتَقْرَبُوا الزِّنٰی إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِیلًا."
سوره إسرا:32
ترجمہ:
خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے.
(الف) اس سے خاندانی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے. ماں باپ اور اولاد کے درمیان رابطہ ختم ہوجاتا ہے جبکہ یہ وہ رابطہ ہے جو نہ صرف معاشرے کی شناخت کا سبب ہے بلکہ خود اولاد کی نشود و نما کا موجب بھی ہے. یہی رابطہ ساری عمر محبت کے ستونوں کو قائم رکھتا ہے اور انہیں دوام دیتا ہے.
مختصر یہ کہ جس معاشرے میں غیرشرعی اور بے باپ کی اولاد زیاد ہ ہو اس کے اجتماعی روا بط سخت تزلزل کا شکا ر ہو جاتے ہیں کیونکہ ان روابط کی بنیاد خاندانی روابط ہیں.
اس مسئلے کی اہمیت سمجھنے کے لیے لحظہ بھر اس امر پر غور کرنا کافی ہے کہ اگر سارے انسانی معاشرے میں زنا جائز اور مباح ہوجائے اور شادی بیاہ کا قانون ختم کردیا جائے تو ان حالات میں غیر مشخص اور بے ٹھکانہ اولاد پیدا ہوگی۔ اس اولاد کو کسی کی مدد اور سرپرستی حاصل نہ ہوگی. اسے نہ پیدائش کے وقت کوئی پوچھے گا نہ بڑا ہوکر.
اس سے قطع نظر برائیوں، سختیوں اور مشکلوں میں محبت کا اثر تسلیم شدہ ہے جبکہ ایسی اولاد اس محبت سے محروم ہوجائے گی اور انسانی معاشرہ پوری طرح تمام پہلوؤں سے حیوانی درندگی کی شکل اختیار کرلے گا.
(ب) یہ شرمناک اور قبیح عمل ہوس باز لوگوں کے درمیان طرح طرح کے جھگڑوں اور کشمکشوں کا باعث بنے گا. وہ واقعات کہ جو بعض افراد نے بد نام محلوں اور غلط مراکز کی داخلی کیفیت کے بارے میں لکھے ہیں ان سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ جنسی بے راہ رویاں بدترین جرائم کو جنم دیتی ہیں.
(ج) یہ بات علم اور تجربے نے ثابت کردی ہے کہ زنا طرح طرح کی بیماریاں پھیلنے کا سبب بناہے ۔ اس کے آثارِ بد اور برے نتائج کی روک تھام کے لیے آج کے دور میں بہت سے ادارے قائم ہیں اور بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں مگر اعداد و شمار نشاندہی کرتے ہیں کہ کس قدر افراد اس راستے میں اپنی صحت و سلامتی گنوا بیٹھے ہیں.
(د) اکثر اوقات یہ عمل اسقاطِ حمل، قتل اولاد اور انقطاع نسل کا سبب بنتا ہے کیونکہ ایسی عورتوں ایسی اولاد کی نگہداری کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوتیں اور اصولاً اولاد ان کے لیے ایسا منحوس عمل جاری رکھنے میں بہت بڑی رکاوٹ ہوتی ہے لہٰذا وہ ہمیشہ اسے پہلے سے ختم کردینے کی کوشش کرتی ہیں.
یہ مفروضہ بالکل موہومی ہے ایسی اولاد حکومت کے زیر کنٹرول اداروں میں رکھی جاسکتی ہے. اس مفروضے کی ناکامی عملی طور پر واضح ہوچکی ہے اور ثابت ہوچکا ہے کہ اس صورت میں بِن باپ کی اولاد کی پرورش کس قدر مشکلات کا باعث ہے اور نتیجتاً بہت ہی نامرغوب اور غیر پسندیدہ ہے ۔ ایسی اولاد سنگدل، مجرم، بے حیثیت اور ہر چیز سے عاری ہوتی ہے.
(ہ) یہ بات فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ شادی بیاہ کا مقصد صرف جنسی تقاضے پورے کرنا نہیں بلکہ تشکیل حیات میں اشتراک، روحانی محبت، فکری سکون، اولاد کی تربیت اور تمام حالاتِ زندگی میں ہمکاری شادی کے نتائج میں سے ہیں اور ایسا بغیر اس کے نہیں ہوسکتا کہ عورت اور مرد باہم مخصوص ہوں اور عورتیں دوسروں پر حرام ہوں.
🌹امام علی بن ابی طالب علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں:
میں نے پیغمبر اکرمؐ سے سنا آپ نے فرمایا:
"فی الزنا ست خصال ثلث فی الدنیا و ثلث فی الاٰخرة، فأما اللّواتی فی الدنیا فیذھب بنورالوجہ، ویقطع الرزق، ویسرع الفناء۔ وأما اللّواتی فی الاٰخرة فغضب الرب وسوءِ الحساب و الدخول فی النار، أوالخلود فی النار."
ترجمہ:
زنا کے چھ بُرے اثرات ہیں: ان میں سے تین کا تعلق دنیا سے ہے اور تین کا تعلق آخرت سے ہے۔ دُنیاوی بُرے اثرات یہ ہیں کہ یہ عمل انسان کی نورانیت گنوادیتا ہے، روزی منقطع کردیتا ہے اور جلد فنا سے ہمکنار کردیتا ہے۔ اُخروی آثار یہ ہیں کہ یہ عمل پروردگار کے غضب، حساب کتاب میں سختی اور آتشِ جہنم میں دخول یا دوام کا سبب بنتا ہے.(۱)
۱۔ تفسیر مجمع البیان ج ۶ ص ۴۱۴.
📚 تفسیر نمونہ سے ماخوذ ذیل آیه ۳۲ سوره اسرا.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/414
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
"وَلَاتَقْرَبُوا الزِّنٰی إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِیلًا."
سوره إسرا:32
ترجمہ:
خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے.
(الف) اس سے خاندانی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے. ماں باپ اور اولاد کے درمیان رابطہ ختم ہوجاتا ہے جبکہ یہ وہ رابطہ ہے جو نہ صرف معاشرے کی شناخت کا سبب ہے بلکہ خود اولاد کی نشود و نما کا موجب بھی ہے. یہی رابطہ ساری عمر محبت کے ستونوں کو قائم رکھتا ہے اور انہیں دوام دیتا ہے.
مختصر یہ کہ جس معاشرے میں غیرشرعی اور بے باپ کی اولاد زیاد ہ ہو اس کے اجتماعی روا بط سخت تزلزل کا شکا ر ہو جاتے ہیں کیونکہ ان روابط کی بنیاد خاندانی روابط ہیں.
اس مسئلے کی اہمیت سمجھنے کے لیے لحظہ بھر اس امر پر غور کرنا کافی ہے کہ اگر سارے انسانی معاشرے میں زنا جائز اور مباح ہوجائے اور شادی بیاہ کا قانون ختم کردیا جائے تو ان حالات میں غیر مشخص اور بے ٹھکانہ اولاد پیدا ہوگی۔ اس اولاد کو کسی کی مدد اور سرپرستی حاصل نہ ہوگی. اسے نہ پیدائش کے وقت کوئی پوچھے گا نہ بڑا ہوکر.
اس سے قطع نظر برائیوں، سختیوں اور مشکلوں میں محبت کا اثر تسلیم شدہ ہے جبکہ ایسی اولاد اس محبت سے محروم ہوجائے گی اور انسانی معاشرہ پوری طرح تمام پہلوؤں سے حیوانی درندگی کی شکل اختیار کرلے گا.
(ب) یہ شرمناک اور قبیح عمل ہوس باز لوگوں کے درمیان طرح طرح کے جھگڑوں اور کشمکشوں کا باعث بنے گا. وہ واقعات کہ جو بعض افراد نے بد نام محلوں اور غلط مراکز کی داخلی کیفیت کے بارے میں لکھے ہیں ان سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ جنسی بے راہ رویاں بدترین جرائم کو جنم دیتی ہیں.
(ج) یہ بات علم اور تجربے نے ثابت کردی ہے کہ زنا طرح طرح کی بیماریاں پھیلنے کا سبب بناہے ۔ اس کے آثارِ بد اور برے نتائج کی روک تھام کے لیے آج کے دور میں بہت سے ادارے قائم ہیں اور بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں مگر اعداد و شمار نشاندہی کرتے ہیں کہ کس قدر افراد اس راستے میں اپنی صحت و سلامتی گنوا بیٹھے ہیں.
(د) اکثر اوقات یہ عمل اسقاطِ حمل، قتل اولاد اور انقطاع نسل کا سبب بنتا ہے کیونکہ ایسی عورتوں ایسی اولاد کی نگہداری کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوتیں اور اصولاً اولاد ان کے لیے ایسا منحوس عمل جاری رکھنے میں بہت بڑی رکاوٹ ہوتی ہے لہٰذا وہ ہمیشہ اسے پہلے سے ختم کردینے کی کوشش کرتی ہیں.
یہ مفروضہ بالکل موہومی ہے ایسی اولاد حکومت کے زیر کنٹرول اداروں میں رکھی جاسکتی ہے. اس مفروضے کی ناکامی عملی طور پر واضح ہوچکی ہے اور ثابت ہوچکا ہے کہ اس صورت میں بِن باپ کی اولاد کی پرورش کس قدر مشکلات کا باعث ہے اور نتیجتاً بہت ہی نامرغوب اور غیر پسندیدہ ہے ۔ ایسی اولاد سنگدل، مجرم، بے حیثیت اور ہر چیز سے عاری ہوتی ہے.
(ہ) یہ بات فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ شادی بیاہ کا مقصد صرف جنسی تقاضے پورے کرنا نہیں بلکہ تشکیل حیات میں اشتراک، روحانی محبت، فکری سکون، اولاد کی تربیت اور تمام حالاتِ زندگی میں ہمکاری شادی کے نتائج میں سے ہیں اور ایسا بغیر اس کے نہیں ہوسکتا کہ عورت اور مرد باہم مخصوص ہوں اور عورتیں دوسروں پر حرام ہوں.
🌹امام علی بن ابی طالب علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں:
میں نے پیغمبر اکرمؐ سے سنا آپ نے فرمایا:
"فی الزنا ست خصال ثلث فی الدنیا و ثلث فی الاٰخرة، فأما اللّواتی فی الدنیا فیذھب بنورالوجہ، ویقطع الرزق، ویسرع الفناء۔ وأما اللّواتی فی الاٰخرة فغضب الرب وسوءِ الحساب و الدخول فی النار، أوالخلود فی النار."
ترجمہ:
زنا کے چھ بُرے اثرات ہیں: ان میں سے تین کا تعلق دنیا سے ہے اور تین کا تعلق آخرت سے ہے۔ دُنیاوی بُرے اثرات یہ ہیں کہ یہ عمل انسان کی نورانیت گنوادیتا ہے، روزی منقطع کردیتا ہے اور جلد فنا سے ہمکنار کردیتا ہے۔ اُخروی آثار یہ ہیں کہ یہ عمل پروردگار کے غضب، حساب کتاب میں سختی اور آتشِ جہنم میں دخول یا دوام کا سبب بنتا ہے.(۱)
۱۔ تفسیر مجمع البیان ج ۶ ص ۴۱۴.
📚 تفسیر نمونہ سے ماخوذ ذیل آیه ۳۲ سوره اسرا.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/414
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🚫 زنا کا سدباب 🚫
کئی بار ذہنوں میں سوال اٹھتا ہے کہ شریعت میں صرف زنا کی سزا ہی اتنی سخت کیوں رکھی گئی.؟
دو افراد کے زنا کے متاثرین دو فرد، دو خاندان، دو قومیں، دو گروہ یا دو قبیلے نہیں بلکہ پوری امت ہے.
قتل کے گناہ کی سزا بھی قتل ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے
"جس نے ایک انسان کو قتل کیا، اسے نے پوری انسانیت کو قتل کیا"
مگر یہاں آپس میں صلح صفائی کی بنیاد پر دیت کی رعایت بھی دے دی. چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا، ڈاکے کی سزا قتل ہے مگر زنا کی سزا یوں بھی اپنی شدت میں بڑھ کر ہے کہ یہ چھپ کر نہیں بلکہ سرِعام مجمع میں دینی ہے. اور ہر پتھر جسم پر ایک زخم بنائے گا جب تک جان نہ نکل جائے یعنی زانی جب تک اپنے خون میں غسل نہ کرے، اس کی توبہ قبول نہ ہوگی.
مگر کیا اللہ تعالٰی اتنا بے انصاف ہے کہ ایک گناہ کی اتنی بڑی سزا رکھ دی مگر اس سے بچنے کی کوئی ترکیب یا طریقہ نہ سکھایا؟ ایسا نہیں ہے. اللہ تعالٰی نے اس امت کو اپنے نبیؐ کے واسطے سے قرآن و حدیث کے ذریعے اس گناہ سے بچنے کے لیے پورا پلان پیش کیا ہے. احکامات کی پوری لسٹ ہے. "یہ کرو اور یہ نہ کرو" کی مکمل فہرست ہے. آئیں ان سب کا جائزہ لیں.
🔷 پہلا حکم: سورۃ نور آیت:58
استیذان یعنی اجازت طلب کرنا
🔹 کسی کے گھر یا کمرے میں بلااجازت مت جاؤ. بھائی بہن کے، باپ بیٹی کے، ماں بیٹے کے کمرے میں جانے سے پہلے اجازت طلب کریں. شریعت اس طرح ہمیں مزاج سکھا رہی ہے. اور آج اس حکم پر عمل نہ کرنے سے محرم رشتوں میں بھی خرابی آ رہی ہے.
● گھر میں دو حصے رکھیں
1)پرائیویٹ رومز یعنی ذاتی.
2)کامن رومز یعنی عام.
پرائیویٹ کمروں میں محرم اجازت سے اور اجنبی بالکل مت جائیں. ڈرائنگ رومز وغیرہ میں مرد ہی مردوں کو اٹینڈ کریں. عورتیں بالکل مت کریں چاہے رشتہ دار ہی ہوں.
🔷 دوسرا حکم سورۃ نور، آیت: 30/31
نظر کی حفاظت
🔹 نظروں کو نیچا رکھیں اور اپنی حیا کی حفاظت کریں. یہ حکم مرد، عورت دونوں کے لئے ہے. باپ، بھائیوں کے دوستوں سے ہنس ہنس کر ملنا جبکہ شریعت تو دیکھنے سے بھی منع کر رہی ہے. شریعت ایک بینا اور اندھے کو بھی آمنے سامنے بیٹھنےسے منع کرتی ہے.
عورتوں اور مردوں کو کئی بار مجبوری میں بات بھی کرنی پڑتی ہے جیسے بازار وغیرہ. تب شریعت چہرے پر نظر ڈالنے سے منع کرتی ہے. صرف پردہ کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ نظر بھی جھکانی ہے. امام غزالی فرماتے ہیں،
"نظر سوچ کے اندر تصویر لے جاتی ہے، یہ تصویر خواہش میں بدل جاتی ہے اور پھر یہی خواہش بے حیائی کا راستہ دکھاتی ہے."
🔷 تیسرا حکم: سورۃ نور آیت: 31
زینت کو چھپانا
🔹 پردہ اور چیز ہے اور زینت اور چیز. عورت کے اعضائے زینت نماز میں چھپانے والے اعضاء ہیں. کوشش کریں کہ اس فتنہ کے دور میں محارم سے بھی زینت والے اعضاء چھپائے جائیں. اپنے سینے اور گریبان کو خصوصاً ڈھانپیے. مرنے کے بعد اللہ تعالٰی چار کپڑوں میں عورت کو ڈھانک کر قبر میں بھیجنے کا کہتا ہے. عورتوں نے زندگی میں دو کپڑوں کا لباس معمول بنا لیا ہے. تین کپڑے بھی پہننے پر راضی نہیں.
مسلمان عورت کا غیر مسلم عورت سے بھی نماز والا پردہ ہے. یعنی سوائے چہرے، دونوں ہاتھ اور پاؤں کے باقی جسم چھپانا ہے. مگر یہاں تو ویکس بھی کروائی جاتی ہے اور فیشلز بھی.
سب سے پہلے بگاڑ گھروں کے ماحول سے شروع ہوتا ہے. ماؤں اور بہنوں کے نامناسب لباس گھر کے لڑکوں میں حیا کی کمی کی وجہ بنتے ہیں. یاد رکھیں
"جب عورت نے اپنے ستر کا خیال نہ رکھا تو محرم، محرم کا دشمن بن گیا."
خدارا اپنے گھروں سے فسق کا ماحول ختم کریں.
🔷 چوتها حکم: بیوہ اور مطلقہ کا نکاح
🔹 ان کے نکاح کا مقصد معاشرے کو پاک رکھنا ہے. کیونکہ بیوہ یا مطلقہ ازدواجی زندگی کے دور سے گزر چکی ہوتی ہے اور ان کے نکاح میں تاخیر یا انکار معاشرے کے بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے. یہ حکم اس مرد کے لیے بھی ہے جس کی بیوی مر جائے یا وہ طلاق دے دے. یاد رکھیں شادی پر اصرار وہی مرد کرتا ہے جو پاک رہ کر صرف بیوی سے سکون حاصل کرنا چاہے.
🔷 نکاح میں بہت تاخیر نہ کی جائے
🔹 ہم گھروں میں کیبل لگوا کر، کھلی آزادی دے کر، کو ایجوکیشن میں پڑھا کر پھر اپنے بچوں سے نیک اور دیندار بننے کی توقع کریں تو ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں. دو جوان لڑکا لڑکی جب یونیورسٹی کے آزاد اور "روشن خیال" ماحول میں پڑھیں گے تو انکو تعلق بنانے سے کون روکے گا؟ جب گھروں میں دینی تربیت نہ ہو، مائیں ڈراموں اور کپڑوں کی ڈیزائننگ میں مگن رہتی ہوں، وقت پر لڑکوں، لڑکیوں کا نکاح نہ ہو تو جیسی خبریں آئے دن اخبارات کی زینت بنتی ہیں وہ بعید نہیں.
توبہ کے دروازے بند نہیں اور نہ ہی رب کی رحمت مدھم ہو گئی ہے. خدا کی محبت اور ایمان کی روشنی دل میں پیدا کیجئے کہ آپ اللہ رب العزت کے غلام بنو نہ کہ اپنے نفس کے.
واللہ اعلم بالصواب.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/415
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
کئی بار ذہنوں میں سوال اٹھتا ہے کہ شریعت میں صرف زنا کی سزا ہی اتنی سخت کیوں رکھی گئی.؟
دو افراد کے زنا کے متاثرین دو فرد، دو خاندان، دو قومیں، دو گروہ یا دو قبیلے نہیں بلکہ پوری امت ہے.
قتل کے گناہ کی سزا بھی قتل ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے
"جس نے ایک انسان کو قتل کیا، اسے نے پوری انسانیت کو قتل کیا"
مگر یہاں آپس میں صلح صفائی کی بنیاد پر دیت کی رعایت بھی دے دی. چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا، ڈاکے کی سزا قتل ہے مگر زنا کی سزا یوں بھی اپنی شدت میں بڑھ کر ہے کہ یہ چھپ کر نہیں بلکہ سرِعام مجمع میں دینی ہے. اور ہر پتھر جسم پر ایک زخم بنائے گا جب تک جان نہ نکل جائے یعنی زانی جب تک اپنے خون میں غسل نہ کرے، اس کی توبہ قبول نہ ہوگی.
مگر کیا اللہ تعالٰی اتنا بے انصاف ہے کہ ایک گناہ کی اتنی بڑی سزا رکھ دی مگر اس سے بچنے کی کوئی ترکیب یا طریقہ نہ سکھایا؟ ایسا نہیں ہے. اللہ تعالٰی نے اس امت کو اپنے نبیؐ کے واسطے سے قرآن و حدیث کے ذریعے اس گناہ سے بچنے کے لیے پورا پلان پیش کیا ہے. احکامات کی پوری لسٹ ہے. "یہ کرو اور یہ نہ کرو" کی مکمل فہرست ہے. آئیں ان سب کا جائزہ لیں.
🔷 پہلا حکم: سورۃ نور آیت:58
استیذان یعنی اجازت طلب کرنا
🔹 کسی کے گھر یا کمرے میں بلااجازت مت جاؤ. بھائی بہن کے، باپ بیٹی کے، ماں بیٹے کے کمرے میں جانے سے پہلے اجازت طلب کریں. شریعت اس طرح ہمیں مزاج سکھا رہی ہے. اور آج اس حکم پر عمل نہ کرنے سے محرم رشتوں میں بھی خرابی آ رہی ہے.
● گھر میں دو حصے رکھیں
1)پرائیویٹ رومز یعنی ذاتی.
2)کامن رومز یعنی عام.
پرائیویٹ کمروں میں محرم اجازت سے اور اجنبی بالکل مت جائیں. ڈرائنگ رومز وغیرہ میں مرد ہی مردوں کو اٹینڈ کریں. عورتیں بالکل مت کریں چاہے رشتہ دار ہی ہوں.
🔷 دوسرا حکم سورۃ نور، آیت: 30/31
نظر کی حفاظت
🔹 نظروں کو نیچا رکھیں اور اپنی حیا کی حفاظت کریں. یہ حکم مرد، عورت دونوں کے لئے ہے. باپ، بھائیوں کے دوستوں سے ہنس ہنس کر ملنا جبکہ شریعت تو دیکھنے سے بھی منع کر رہی ہے. شریعت ایک بینا اور اندھے کو بھی آمنے سامنے بیٹھنےسے منع کرتی ہے.
عورتوں اور مردوں کو کئی بار مجبوری میں بات بھی کرنی پڑتی ہے جیسے بازار وغیرہ. تب شریعت چہرے پر نظر ڈالنے سے منع کرتی ہے. صرف پردہ کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ نظر بھی جھکانی ہے. امام غزالی فرماتے ہیں،
"نظر سوچ کے اندر تصویر لے جاتی ہے، یہ تصویر خواہش میں بدل جاتی ہے اور پھر یہی خواہش بے حیائی کا راستہ دکھاتی ہے."
🔷 تیسرا حکم: سورۃ نور آیت: 31
زینت کو چھپانا
🔹 پردہ اور چیز ہے اور زینت اور چیز. عورت کے اعضائے زینت نماز میں چھپانے والے اعضاء ہیں. کوشش کریں کہ اس فتنہ کے دور میں محارم سے بھی زینت والے اعضاء چھپائے جائیں. اپنے سینے اور گریبان کو خصوصاً ڈھانپیے. مرنے کے بعد اللہ تعالٰی چار کپڑوں میں عورت کو ڈھانک کر قبر میں بھیجنے کا کہتا ہے. عورتوں نے زندگی میں دو کپڑوں کا لباس معمول بنا لیا ہے. تین کپڑے بھی پہننے پر راضی نہیں.
مسلمان عورت کا غیر مسلم عورت سے بھی نماز والا پردہ ہے. یعنی سوائے چہرے، دونوں ہاتھ اور پاؤں کے باقی جسم چھپانا ہے. مگر یہاں تو ویکس بھی کروائی جاتی ہے اور فیشلز بھی.
سب سے پہلے بگاڑ گھروں کے ماحول سے شروع ہوتا ہے. ماؤں اور بہنوں کے نامناسب لباس گھر کے لڑکوں میں حیا کی کمی کی وجہ بنتے ہیں. یاد رکھیں
"جب عورت نے اپنے ستر کا خیال نہ رکھا تو محرم، محرم کا دشمن بن گیا."
خدارا اپنے گھروں سے فسق کا ماحول ختم کریں.
🔷 چوتها حکم: بیوہ اور مطلقہ کا نکاح
🔹 ان کے نکاح کا مقصد معاشرے کو پاک رکھنا ہے. کیونکہ بیوہ یا مطلقہ ازدواجی زندگی کے دور سے گزر چکی ہوتی ہے اور ان کے نکاح میں تاخیر یا انکار معاشرے کے بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے. یہ حکم اس مرد کے لیے بھی ہے جس کی بیوی مر جائے یا وہ طلاق دے دے. یاد رکھیں شادی پر اصرار وہی مرد کرتا ہے جو پاک رہ کر صرف بیوی سے سکون حاصل کرنا چاہے.
🔷 نکاح میں بہت تاخیر نہ کی جائے
🔹 ہم گھروں میں کیبل لگوا کر، کھلی آزادی دے کر، کو ایجوکیشن میں پڑھا کر پھر اپنے بچوں سے نیک اور دیندار بننے کی توقع کریں تو ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں. دو جوان لڑکا لڑکی جب یونیورسٹی کے آزاد اور "روشن خیال" ماحول میں پڑھیں گے تو انکو تعلق بنانے سے کون روکے گا؟ جب گھروں میں دینی تربیت نہ ہو، مائیں ڈراموں اور کپڑوں کی ڈیزائننگ میں مگن رہتی ہوں، وقت پر لڑکوں، لڑکیوں کا نکاح نہ ہو تو جیسی خبریں آئے دن اخبارات کی زینت بنتی ہیں وہ بعید نہیں.
توبہ کے دروازے بند نہیں اور نہ ہی رب کی رحمت مدھم ہو گئی ہے. خدا کی محبت اور ایمان کی روشنی دل میں پیدا کیجئے کہ آپ اللہ رب العزت کے غلام بنو نہ کہ اپنے نفس کے.
واللہ اعلم بالصواب.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/415
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌷شیطان کا وار اور خوفِ خُدا🌷
ابن الجوزی نے ایک صالح نوجوان کی کہانی روایت کی ہے. مفہوم ملاحظہ کیجئے. وہ کہتے ہیں کہ ایک نیک نوجوان جو دن کو روزے رکھتا اور رات قیام میں گزارتا، ہمیشہ حرام سے بچتا. وہ بداطوار لوگوں کے ہجوم میں بیٹھنے سے ہمیشہ گریز کرتا. اشیاء خوردنی خرید کر جمع کرلیتا اور اللہ کی عبادت کیلئے ہروقت گھر میں ہی موجود رہتا.
اسی بناپر علاقے کےلوگ اس سےحسد کرنے لگے. چنانچہ لوگوں نے اپنے علاقے کی خوبصورت اور انتہائی غریب عورت تلاش کی. جو انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزار رہی تھی. اسے اس کے وزن کے برابر سونا دینے اور بہت زیادہ مال و دولت دینے کا لالچ دے کر اس نیک نوجوان کیساتھ زنا کا ارتکاب کرنے کیلئے تیار کر لیا. چنانچہ وہ عورت ان سے کہتی ہے کہ میں جاؤں گی اور اس شخص کو زنا کی دعوت دونگی.
پھرایک سرد رات اس عورت نےاس نیک نوجوان کے دروازے پر دستک دی. نوجوان نے دروازہ کھول کر جب عورت کو دیکھا تو دروازہ بند کردیا. عورت نے بلندآواز میں کہا؛ برائے مہربانی مجھے اپنے گھر آنے دو. میں مسافرہ ہوں اور یہاں کسی کو نہیں جانتی. اگر تم مجھے پناہ نہیں دیتے تو مجھے ڈر ہے کہ میرے ساتھ کوئی حادثہ نہ پیش آ جائے.
نوجوان نےکہا؛ میرےگھر کےآس پاس بہت سے گهر ہیں. ان کا دروازہ کھٹکھٹاؤ. ان شاءاللہ وہ لوگ تمہاری مدد کریں گے.
وہ عورت کچھ دیر بعد دوبارہ نوجوان کے گھر کا دروازہ بجاکر کہنے لگی؛ میں نے بہت سے گھروں کا دروازہ بجایا لیکن کسی نے نہیں کھولا. باہر بہت سردی ہے. اگر تم نے مجھے پناہ نہ دی تو ڈر ہے کہ مجهے موت نہ آ لے.
نوجوان نے کہا؛ پھرکسی پہاڑی کےدامن میں چلی جاؤ. وھاں اور بہت سے گھر ہیں. ان شاءاللہ وہ لوگ تمہیں ضرور اپنے ساتھ جگہ دیں گے. میرے گھر میں اور کوئی نہیں ہے اور تمہیں اپنے ساتھ رکھنا جائز نہیں ہے.
وہ عورت چلی گئی. کچھ دیر بعد عورت نے پھر نوجوان کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا. نوجوان نے دروازہ کھولا تو عورت کو موجود پایا. عورت کہنے لگی؛ اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے پناہ نہ دی اور کسی مرد نے میری عزت پر حملہ کیا اور میری عصمت دری کی تو یوم قیامت میں اللہ کے سامنے کہوں گی کہ اس آدمی کی وجہ سے میری عزت پامال ہوئی. جب اس نوجوان نے اللہ کا نام سنا تو بہت خائف ہوا... چنانچہ وہ نوجوان اللہ کا نام سن کر ڈر گیا اور اس نے کہا کہ اسکے گھر میں دو کمرے ہیں. تم آؤ اور دوسرے کمرے میں ٹھہر جاؤ لیکن مجھ سے کوئی کلام نہ کرنا اور جیسے ہی فجر کا وقت ہونے لگے میرے گھر سے نکل جانا اور اپنے سفر پر روانہ ہو جانا.
نوجوان نے عورت کو دوسرے کمرے میں ٹھہرایا اور اپنے کمرے میں جاکر دروازہ مقفل کرکے قرآن مجید کی تلاوت کا دوبارہ آغاز کردیا.
نوجوان تلاوتِ کلام الہی میں مگن تھا جبکہ عورت نوجوان سے زنا کرنے لیے بالکل تیار تھی. اور علاقے کے لوگ گھر سے باہر دونوں کو حالتِ زنا میں پکڑنے کے منتظر تھے.
اچانک عورت نے چیخنا چلانا شروع کردیا. اور مسلسل چیختی رھی. وہ نوجوان اپنے کمرے سے نکل کر ہاتھ میں لالٹین پکڑے دوسرے کمرے میں داخل ہوا جہاں عورت موجود تھی. نوجوان نے عورت کو فرش پر برہنہ حالت میں اپنی طرف بلاتے ہوئے دیکھا.
نوجوان اب وہ چیز دیکھ رھا تھا جو اس نے کبھی اپنی زندگی میں نہ دیکھی تھی. نوجوان نے اپنے دل کی ایسی کیفیت محسوس کی جو اسے پہلے کبھی محسوس نہ ہوئی تھی. اسکے سامنے ایک حسین عورت زنا کی طرف بلاتے ہوئے موجود تھی. وہ کیا کرتا؟
گھر سے باہر موجود لوگوں نے جب عورت کی پہلی چیخ سنی تو جان گئے کہ اب بہت جلد ہم ان دونوں کو زنا کرتے پکڑلیں گے. وہ دروازہ کے قریب ہوتے گئے.
اچانک ہی عورت نے بلاتوقف چلانا شروع کردیا. عورت کی چیخیں سن کر لوگ گھر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ عورت کمرے کے ایک کونے میں فرش پر اور نوجوان کمرے کے دوسرے کونے میں فرش پر موجود ہے. اور عورت مسلسل چیختی جارھی تھی جبکہ نوجوان کونے میں بیٹھا رو رھا تھا اور اس کا ہاتھ لالٹین میں جلتی ہوئی آگ پر تھا. کیونکہ جب، جب اس کا قدم عورت کی جانب اٹھتا، وہ آگ پر اپنا ہاتھ رکھ دیتا. اور پھر کہتا کہ یاد رکھ کہ جہنم کی آگ، دنیا کی آگ سے زیادہ تیز اور گرم ہے. پھر وہ فرش پر گر پڑتا، پھر اٹھتا پھر جب اسکے قدم عورت کی جانب اٹھتے، وہ اپنا ہاتھ آگ پر رکھ دیتا اور کہتا کہ جہنم کی آگ، دنیا کی آگ سے زیادہ بے رحم ہے. وہ ایسے ہی کرتا رھا یہاں تک کہ اسکا ہاتھ جل گیا.
عورت نےکہا اللہ کے واسطے مجھے لے چلو، واللہ اس نوجوان کا ایمان مجھے مار رھا ہے. اس نے میرے قلب و ذھن پر وہ کیفیت طاری کر دی ہے جو بیان سے باہر ہے. اسکا ایمان مجھے مار ڈالے گا، خدارا مجھے باہر لے چلو. چنانچہ لوگ عورت کو گھر سے باہر لے گئے.
پھر اس نوجوان نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے میرے گناہ پر معاف فرما دے جس کا میں نے ارتکاب کیا.
https://t.me/islamwitheman/414
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ابن الجوزی نے ایک صالح نوجوان کی کہانی روایت کی ہے. مفہوم ملاحظہ کیجئے. وہ کہتے ہیں کہ ایک نیک نوجوان جو دن کو روزے رکھتا اور رات قیام میں گزارتا، ہمیشہ حرام سے بچتا. وہ بداطوار لوگوں کے ہجوم میں بیٹھنے سے ہمیشہ گریز کرتا. اشیاء خوردنی خرید کر جمع کرلیتا اور اللہ کی عبادت کیلئے ہروقت گھر میں ہی موجود رہتا.
اسی بناپر علاقے کےلوگ اس سےحسد کرنے لگے. چنانچہ لوگوں نے اپنے علاقے کی خوبصورت اور انتہائی غریب عورت تلاش کی. جو انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزار رہی تھی. اسے اس کے وزن کے برابر سونا دینے اور بہت زیادہ مال و دولت دینے کا لالچ دے کر اس نیک نوجوان کیساتھ زنا کا ارتکاب کرنے کیلئے تیار کر لیا. چنانچہ وہ عورت ان سے کہتی ہے کہ میں جاؤں گی اور اس شخص کو زنا کی دعوت دونگی.
پھرایک سرد رات اس عورت نےاس نیک نوجوان کے دروازے پر دستک دی. نوجوان نے دروازہ کھول کر جب عورت کو دیکھا تو دروازہ بند کردیا. عورت نے بلندآواز میں کہا؛ برائے مہربانی مجھے اپنے گھر آنے دو. میں مسافرہ ہوں اور یہاں کسی کو نہیں جانتی. اگر تم مجھے پناہ نہیں دیتے تو مجھے ڈر ہے کہ میرے ساتھ کوئی حادثہ نہ پیش آ جائے.
نوجوان نےکہا؛ میرےگھر کےآس پاس بہت سے گهر ہیں. ان کا دروازہ کھٹکھٹاؤ. ان شاءاللہ وہ لوگ تمہاری مدد کریں گے.
وہ عورت کچھ دیر بعد دوبارہ نوجوان کے گھر کا دروازہ بجاکر کہنے لگی؛ میں نے بہت سے گھروں کا دروازہ بجایا لیکن کسی نے نہیں کھولا. باہر بہت سردی ہے. اگر تم نے مجھے پناہ نہ دی تو ڈر ہے کہ مجهے موت نہ آ لے.
نوجوان نے کہا؛ پھرکسی پہاڑی کےدامن میں چلی جاؤ. وھاں اور بہت سے گھر ہیں. ان شاءاللہ وہ لوگ تمہیں ضرور اپنے ساتھ جگہ دیں گے. میرے گھر میں اور کوئی نہیں ہے اور تمہیں اپنے ساتھ رکھنا جائز نہیں ہے.
وہ عورت چلی گئی. کچھ دیر بعد عورت نے پھر نوجوان کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا. نوجوان نے دروازہ کھولا تو عورت کو موجود پایا. عورت کہنے لگی؛ اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے پناہ نہ دی اور کسی مرد نے میری عزت پر حملہ کیا اور میری عصمت دری کی تو یوم قیامت میں اللہ کے سامنے کہوں گی کہ اس آدمی کی وجہ سے میری عزت پامال ہوئی. جب اس نوجوان نے اللہ کا نام سنا تو بہت خائف ہوا... چنانچہ وہ نوجوان اللہ کا نام سن کر ڈر گیا اور اس نے کہا کہ اسکے گھر میں دو کمرے ہیں. تم آؤ اور دوسرے کمرے میں ٹھہر جاؤ لیکن مجھ سے کوئی کلام نہ کرنا اور جیسے ہی فجر کا وقت ہونے لگے میرے گھر سے نکل جانا اور اپنے سفر پر روانہ ہو جانا.
نوجوان نے عورت کو دوسرے کمرے میں ٹھہرایا اور اپنے کمرے میں جاکر دروازہ مقفل کرکے قرآن مجید کی تلاوت کا دوبارہ آغاز کردیا.
نوجوان تلاوتِ کلام الہی میں مگن تھا جبکہ عورت نوجوان سے زنا کرنے لیے بالکل تیار تھی. اور علاقے کے لوگ گھر سے باہر دونوں کو حالتِ زنا میں پکڑنے کے منتظر تھے.
اچانک عورت نے چیخنا چلانا شروع کردیا. اور مسلسل چیختی رھی. وہ نوجوان اپنے کمرے سے نکل کر ہاتھ میں لالٹین پکڑے دوسرے کمرے میں داخل ہوا جہاں عورت موجود تھی. نوجوان نے عورت کو فرش پر برہنہ حالت میں اپنی طرف بلاتے ہوئے دیکھا.
نوجوان اب وہ چیز دیکھ رھا تھا جو اس نے کبھی اپنی زندگی میں نہ دیکھی تھی. نوجوان نے اپنے دل کی ایسی کیفیت محسوس کی جو اسے پہلے کبھی محسوس نہ ہوئی تھی. اسکے سامنے ایک حسین عورت زنا کی طرف بلاتے ہوئے موجود تھی. وہ کیا کرتا؟
گھر سے باہر موجود لوگوں نے جب عورت کی پہلی چیخ سنی تو جان گئے کہ اب بہت جلد ہم ان دونوں کو زنا کرتے پکڑلیں گے. وہ دروازہ کے قریب ہوتے گئے.
اچانک ہی عورت نے بلاتوقف چلانا شروع کردیا. عورت کی چیخیں سن کر لوگ گھر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ عورت کمرے کے ایک کونے میں فرش پر اور نوجوان کمرے کے دوسرے کونے میں فرش پر موجود ہے. اور عورت مسلسل چیختی جارھی تھی جبکہ نوجوان کونے میں بیٹھا رو رھا تھا اور اس کا ہاتھ لالٹین میں جلتی ہوئی آگ پر تھا. کیونکہ جب، جب اس کا قدم عورت کی جانب اٹھتا، وہ آگ پر اپنا ہاتھ رکھ دیتا. اور پھر کہتا کہ یاد رکھ کہ جہنم کی آگ، دنیا کی آگ سے زیادہ تیز اور گرم ہے. پھر وہ فرش پر گر پڑتا، پھر اٹھتا پھر جب اسکے قدم عورت کی جانب اٹھتے، وہ اپنا ہاتھ آگ پر رکھ دیتا اور کہتا کہ جہنم کی آگ، دنیا کی آگ سے زیادہ بے رحم ہے. وہ ایسے ہی کرتا رھا یہاں تک کہ اسکا ہاتھ جل گیا.
عورت نےکہا اللہ کے واسطے مجھے لے چلو، واللہ اس نوجوان کا ایمان مجھے مار رھا ہے. اس نے میرے قلب و ذھن پر وہ کیفیت طاری کر دی ہے جو بیان سے باہر ہے. اسکا ایمان مجھے مار ڈالے گا، خدارا مجھے باہر لے چلو. چنانچہ لوگ عورت کو گھر سے باہر لے گئے.
پھر اس نوجوان نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور دعا کی کہ یا اللہ مجھے میرے گناہ پر معاف فرما دے جس کا میں نے ارتکاب کیا.
https://t.me/islamwitheman/414
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔥 نوجوانوں کی طاقت 🔥
ايک فرد معاشرے کی اکائی ہے. اگر تمام اکائياں درست ہو جائيں تو کل معاشرہ درست ہو جائے گا. يہي وجہ ہے نوجوان کو بيدار ہو کر پوری محنت، سنجیدگی، دلجمعی اور دلجوئی سے محنت کرنی چاہيے اور پورے معاشرے کی اصلاح کے لئے راہ ہموار کرنی چاہيے.
🌹 يہی وقت ہے جوانی ميں ہی اپنے اندر تبديلی لائيں اگر آپ نے معاشرے کو سدھارنے کا ارادہ کر ليا ہے تو خدارا اپنے آپ کو بدل ڈالیں. اپنے دلوں ميں عشقِ اہلبیتؑ کی شمع روشن کریں...
🌹 ہم سب کو کردار اور علم ميں پختگی کی ضرورت ہے. آؤ ہم اسميں سب سے آگے بڑھ جائيں...
🌷 نوجوان وہ طاقت ہيں جو کسی بھی قوم کے عروج کا باعث بنتی ہے. آج نوجوان اگر اپنی زندگيوں کے اندر انقلاب پيدا کر ليں تو ان شاءاللہ پوری دنيا ميں انقلاب پيدا ہو سکتا ہے.
🔥 مسلم نوجوانوں، بھائيوں اور بہنوں، ماۆں اور بيٹيوں سے التجا ہے کہ خدارا کفار کی پيروی کرکے اپنے آپ کو تباہی کے گڑہوں ميں مت دھکیلو. کفار کو خوش کرکے اللہ کے غضب کو آواز مت دو... کفار اللہ کے دشمن ہیں اور جو اللہ کے دشمنوں کو خوش کرتا ہے وہ اللہ کو ناراض کرتا ہے اور اللہ کی ناراضگی درحقيقت اخروی بربادی ہے.
وقتی خوشی کی خاطر دائمی رنج والم سميٹنا يقينا شديد خسارے کا سودا ہوگا.
💝 اگر محبت ہی کرنی ہے تو خود کو اللہ، رسولؐ اور اہلبیتؑ کی محبت ميں فنا کرلو. محبت کا حقيقى مفہوم پا لوگے، محبت کی معراج حاصل ہوجائے گی اور شيطان کے ناپاک چنگل سے نکل جاۆ گے. اسطرح اللہ تمہيں دنيا اور آخرت کی حقيقى اور دائمی خوشيوں سے سرفراز فرمائے گا.
🔥 اے نوجوانو! جان لو کہ جوانی اللہ رب العزت کی ايک بےبہا نعمت ہے اسے ضائع نہ کرو. اس کی صبح، اسکی شام اور اس کی شب اللہ کی ياد، اسکے ذکر اور محمدؐ وآلِ محمدؑ کی اتباع ميں بسر کرو.
اس جوانی اور وقت کی قدر کرو کہ يہ دونوں چيزيں ايک بار رخصت ہو کر دوبارہ لوٹ کر نہيں آتيں.
● اپنے دن کو اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری ميں بسر کرو اور دعائے نيم شبی کا خود کو عادی بنا ڈالو.
● اپنی آنکھوں کی اس طرح حفاظت کرو کہ وہ کسی نامحرم کے شوقِ ديد سے آلودہ نہ ہوں نہ ہی عريانی اور فحاشی کو اپنے اندر سمو سکيں.
● اپنے کانوں کواس طرح آلودگی سے بچاۆ کہ وہ کسی کی غيبت نہ سنيں اور نہ کوئی فحش بات اور کلام ان تک پہنچے.
● اپنی زبان کی اسطرح حفاظت کرو کہ نہ کسی کی غيبت کی مرتکب ہو، نہ اس سے کسی کی دل آزاری ہو اور نہ ہی دشنام طرازی کاذريعہ بنے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/4
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ايک فرد معاشرے کی اکائی ہے. اگر تمام اکائياں درست ہو جائيں تو کل معاشرہ درست ہو جائے گا. يہي وجہ ہے نوجوان کو بيدار ہو کر پوری محنت، سنجیدگی، دلجمعی اور دلجوئی سے محنت کرنی چاہيے اور پورے معاشرے کی اصلاح کے لئے راہ ہموار کرنی چاہيے.
🌹 يہی وقت ہے جوانی ميں ہی اپنے اندر تبديلی لائيں اگر آپ نے معاشرے کو سدھارنے کا ارادہ کر ليا ہے تو خدارا اپنے آپ کو بدل ڈالیں. اپنے دلوں ميں عشقِ اہلبیتؑ کی شمع روشن کریں...
🌹 ہم سب کو کردار اور علم ميں پختگی کی ضرورت ہے. آؤ ہم اسميں سب سے آگے بڑھ جائيں...
🌷 نوجوان وہ طاقت ہيں جو کسی بھی قوم کے عروج کا باعث بنتی ہے. آج نوجوان اگر اپنی زندگيوں کے اندر انقلاب پيدا کر ليں تو ان شاءاللہ پوری دنيا ميں انقلاب پيدا ہو سکتا ہے.
🔥 مسلم نوجوانوں، بھائيوں اور بہنوں، ماۆں اور بيٹيوں سے التجا ہے کہ خدارا کفار کی پيروی کرکے اپنے آپ کو تباہی کے گڑہوں ميں مت دھکیلو. کفار کو خوش کرکے اللہ کے غضب کو آواز مت دو... کفار اللہ کے دشمن ہیں اور جو اللہ کے دشمنوں کو خوش کرتا ہے وہ اللہ کو ناراض کرتا ہے اور اللہ کی ناراضگی درحقيقت اخروی بربادی ہے.
وقتی خوشی کی خاطر دائمی رنج والم سميٹنا يقينا شديد خسارے کا سودا ہوگا.
💝 اگر محبت ہی کرنی ہے تو خود کو اللہ، رسولؐ اور اہلبیتؑ کی محبت ميں فنا کرلو. محبت کا حقيقى مفہوم پا لوگے، محبت کی معراج حاصل ہوجائے گی اور شيطان کے ناپاک چنگل سے نکل جاۆ گے. اسطرح اللہ تمہيں دنيا اور آخرت کی حقيقى اور دائمی خوشيوں سے سرفراز فرمائے گا.
🔥 اے نوجوانو! جان لو کہ جوانی اللہ رب العزت کی ايک بےبہا نعمت ہے اسے ضائع نہ کرو. اس کی صبح، اسکی شام اور اس کی شب اللہ کی ياد، اسکے ذکر اور محمدؐ وآلِ محمدؑ کی اتباع ميں بسر کرو.
اس جوانی اور وقت کی قدر کرو کہ يہ دونوں چيزيں ايک بار رخصت ہو کر دوبارہ لوٹ کر نہيں آتيں.
● اپنے دن کو اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری ميں بسر کرو اور دعائے نيم شبی کا خود کو عادی بنا ڈالو.
● اپنی آنکھوں کی اس طرح حفاظت کرو کہ وہ کسی نامحرم کے شوقِ ديد سے آلودہ نہ ہوں نہ ہی عريانی اور فحاشی کو اپنے اندر سمو سکيں.
● اپنے کانوں کواس طرح آلودگی سے بچاۆ کہ وہ کسی کی غيبت نہ سنيں اور نہ کوئی فحش بات اور کلام ان تک پہنچے.
● اپنی زبان کی اسطرح حفاظت کرو کہ نہ کسی کی غيبت کی مرتکب ہو، نہ اس سے کسی کی دل آزاری ہو اور نہ ہی دشنام طرازی کاذريعہ بنے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/4
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 توریت کے 12 کلمات 🔷
امیر کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے توریت سے بارہ کلمات اخذ کیے ہیں جن پر روزانہ تین بار غور کرتا ہوں.
وہ کلمات درج ذیل ہیں...
1) حق تعالٰی فرماتا ہے کہ اے ابن آدم.!
تجھ کو کسی حاکم اور دشمن حتیٰ کہ جن اور شیطان بھی جب تک میری حکومت باقی ہے ہرگز نہیں ڈرنا چاہئے.
2) اے آدم کے بیٹے.!
تُو کسی قوت اور طاقت اور کسی کے باعث روزی ہونے کے سبب اُس سے مرعوب نہ ہو جب تک میرے خزانے میں تیرا رزق باقی ہے اور میں تیرا حافظ ہوں اور یاد رکھ میرا خزانہ لافانی اور میری طاقت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے.
3) اے ابن آدم.!
جب تُو ہر طرف سے عاجز ہو جائے اور کسی سے کچھ بھی تجھ کو نہ ملے اور کوئی تیری فریاد سننے والا نہ ہو ایسی حالت میں اگر تُو مجھے یاد کرے اور مجھ سے مانگے تو میں یقیناً فریاد کو پہنچوں گا اور جو تُو طلب کرے گا دوں گا کیونکہ میں سب کا حاجت روا اور دعاؤں کا قبول کرنے والا ہوں.
4) اے اولاد آدم.!
تحقیق کہ میں تجھ کو دوست رکھتا ہوں پس تجھے بھی چاہیئے کہ میرا ہو جا اور مجھے یاد رکھ.
5) اے آدم کے بیٹے.!
جب تک تُو پُلِ صراط سے پار نہ ہو جائے تب تک تُو میری طرف سے بے فکر مت ہو جانا.
6) اے آدم کے بیٹے.!
میں نے تجھے مٹی سے پیدا کیا اور نطفہ کو رحم مادر میں ڈال کر اُس کو جما ہوا خون کر کے گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا پھر رنگ و صورت اور شکل تجویز کر کے ہڈیوں کا ایک خول تیار کیا پھر اُس کو انسانی لباس پہنا کر اُس میں اپنی روح پھونکی، پھر مدتِ معینہ کے بعد تجھ کو عالم اسباب میں موجود کر دیا، تیری اس ساخت اور ایجاد میں مجھے کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آئی پس اب تُو سمجھ لے کہ جب میری قدرت نے ایسے عجیب امور کو پایہ تکمیل تک پہنچایا تو کیا وہ تجھ کو دو وقت کی روٹی نہ دے سکے گی۔؟ پھر تُو کس وجہ سے مجھ کو چھوڑ کر غیر سے طلب کرتا ہے.
7) اے آدم کے بیٹے.!
میں نے دنیا کی تمام چیزیں تیرے ہی واسطے پیدا کی ہیں اور تجھے خاص اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر افسوس تُو نے اُن اشیاء پر جو تیرے لیے پیدا کی گئی تھیں اپنے آپ کو قربان کر دیا اور مجھ کو بھول گیا.
8) اے آدم کے بیٹے.!
دنیا کے تمام انسان اور تمام چیزیں مجھے اپنے لیے چاہتی ہیں اور میں تجھ کو صرف تیرے لیے چاہتا ہوں اور تُو مجھ سے بھاگتا ہے.
9) اے آدم کے بیٹے.!
تُو اپنی اغراضِ نفسانی کی وجہ سے مجھ پر غصہ کرتا ہے مگر اپنے نفس پر میرے لیے کبھی غصہ نہیں ہوتا.
10) اے آدم کے بیٹے.!
تیرے اوپر میرے حقوق ہیں اور میرے اوپر تیری روزی ساری مگر تُو میرے حقوق کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ اس کی خلاف ورزی کرتا ہے لیکن میں پھر بھی تیرے کردار پر خیال نہ کرتے ہوئے برابر تجھے رزق پہنچاتا رہتا ہوں اور اس کی خلاف ورزی نہیں کرتا.
11) اے آدم کے بیٹے.!
تُو کل کی روزی بھی مجھ سے آج ہی طلب کرتا ہے اور میں تجھ سے اُس روز کے فرائض کی بجا آوری آج نہیں چاہتا.
12) اے آدم کے بیٹے.!
اگر تُو اپنی اُس چیز پر جو میں نے تیرے مقسوم میں مقدر کر دی ہے راضی ہوا تو بہت ہی راحت اور آسائش میں رہے گا اور اگر تُو اس کے خلاف میری تقدیر سے جھگڑے اور اپنے مقسوم پہ راضی نہ ہوا تو یاد رکھ میں تجھ پر دنیا مسلط کر دوں گا اور وہ تجھے خراب و خستہ کرے گی اور تُو کتوں کی طرح دروازوں پر مارا مارا پھرے گا۔ مگر پھر بھی تجھ کو اسی قدر ملے گا جو میں نے تیرے لیے مقرر کر دیا ہے.
📚 معالی الھمم، صفحہ نمبر 22.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
امیر کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے توریت سے بارہ کلمات اخذ کیے ہیں جن پر روزانہ تین بار غور کرتا ہوں.
وہ کلمات درج ذیل ہیں...
1) حق تعالٰی فرماتا ہے کہ اے ابن آدم.!
تجھ کو کسی حاکم اور دشمن حتیٰ کہ جن اور شیطان بھی جب تک میری حکومت باقی ہے ہرگز نہیں ڈرنا چاہئے.
2) اے آدم کے بیٹے.!
تُو کسی قوت اور طاقت اور کسی کے باعث روزی ہونے کے سبب اُس سے مرعوب نہ ہو جب تک میرے خزانے میں تیرا رزق باقی ہے اور میں تیرا حافظ ہوں اور یاد رکھ میرا خزانہ لافانی اور میری طاقت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے.
3) اے ابن آدم.!
جب تُو ہر طرف سے عاجز ہو جائے اور کسی سے کچھ بھی تجھ کو نہ ملے اور کوئی تیری فریاد سننے والا نہ ہو ایسی حالت میں اگر تُو مجھے یاد کرے اور مجھ سے مانگے تو میں یقیناً فریاد کو پہنچوں گا اور جو تُو طلب کرے گا دوں گا کیونکہ میں سب کا حاجت روا اور دعاؤں کا قبول کرنے والا ہوں.
4) اے اولاد آدم.!
تحقیق کہ میں تجھ کو دوست رکھتا ہوں پس تجھے بھی چاہیئے کہ میرا ہو جا اور مجھے یاد رکھ.
5) اے آدم کے بیٹے.!
جب تک تُو پُلِ صراط سے پار نہ ہو جائے تب تک تُو میری طرف سے بے فکر مت ہو جانا.
6) اے آدم کے بیٹے.!
میں نے تجھے مٹی سے پیدا کیا اور نطفہ کو رحم مادر میں ڈال کر اُس کو جما ہوا خون کر کے گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا پھر رنگ و صورت اور شکل تجویز کر کے ہڈیوں کا ایک خول تیار کیا پھر اُس کو انسانی لباس پہنا کر اُس میں اپنی روح پھونکی، پھر مدتِ معینہ کے بعد تجھ کو عالم اسباب میں موجود کر دیا، تیری اس ساخت اور ایجاد میں مجھے کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آئی پس اب تُو سمجھ لے کہ جب میری قدرت نے ایسے عجیب امور کو پایہ تکمیل تک پہنچایا تو کیا وہ تجھ کو دو وقت کی روٹی نہ دے سکے گی۔؟ پھر تُو کس وجہ سے مجھ کو چھوڑ کر غیر سے طلب کرتا ہے.
7) اے آدم کے بیٹے.!
میں نے دنیا کی تمام چیزیں تیرے ہی واسطے پیدا کی ہیں اور تجھے خاص اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر افسوس تُو نے اُن اشیاء پر جو تیرے لیے پیدا کی گئی تھیں اپنے آپ کو قربان کر دیا اور مجھ کو بھول گیا.
8) اے آدم کے بیٹے.!
دنیا کے تمام انسان اور تمام چیزیں مجھے اپنے لیے چاہتی ہیں اور میں تجھ کو صرف تیرے لیے چاہتا ہوں اور تُو مجھ سے بھاگتا ہے.
9) اے آدم کے بیٹے.!
تُو اپنی اغراضِ نفسانی کی وجہ سے مجھ پر غصہ کرتا ہے مگر اپنے نفس پر میرے لیے کبھی غصہ نہیں ہوتا.
10) اے آدم کے بیٹے.!
تیرے اوپر میرے حقوق ہیں اور میرے اوپر تیری روزی ساری مگر تُو میرے حقوق کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ اس کی خلاف ورزی کرتا ہے لیکن میں پھر بھی تیرے کردار پر خیال نہ کرتے ہوئے برابر تجھے رزق پہنچاتا رہتا ہوں اور اس کی خلاف ورزی نہیں کرتا.
11) اے آدم کے بیٹے.!
تُو کل کی روزی بھی مجھ سے آج ہی طلب کرتا ہے اور میں تجھ سے اُس روز کے فرائض کی بجا آوری آج نہیں چاہتا.
12) اے آدم کے بیٹے.!
اگر تُو اپنی اُس چیز پر جو میں نے تیرے مقسوم میں مقدر کر دی ہے راضی ہوا تو بہت ہی راحت اور آسائش میں رہے گا اور اگر تُو اس کے خلاف میری تقدیر سے جھگڑے اور اپنے مقسوم پہ راضی نہ ہوا تو یاد رکھ میں تجھ پر دنیا مسلط کر دوں گا اور وہ تجھے خراب و خستہ کرے گی اور تُو کتوں کی طرح دروازوں پر مارا مارا پھرے گا۔ مگر پھر بھی تجھ کو اسی قدر ملے گا جو میں نے تیرے لیے مقرر کر دیا ہے.
📚 معالی الھمم، صفحہ نمبر 22.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌛سوتے وقت کے اعمال 🌜
🔷 رسول خدا محمد مصطفٰیؐ نے فرمایا که جو شخص سونے سے پہلے 100 مرتبہ سوره قل ھوالله احد پڑھے،
اللہ تعالی اسکے پچاس سال کے گناه معاف فرما دیتا ھے. (جواھرالبحار، ﺹ:192)
🔷 امام جعفر صادقؑ نے فرمایا که سوتے وقت اس کو تین مرتبہ تلاوت کرو تو گناھوں سے ایسے پاک ھو جاؤ گے جیسے اپنی ماں کے بطن سے پیدا ھوۓ تھے.
"ﺍَﻟْﺤَﻤْﺪُ ﻟِﻠّٰﻪِ ﺍﻟَّﺬِﻱ عَلَا ﻓَﻘَﻬَﺮَ، ﻭَﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ ﻟِﻠّٰﻪِ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﺑَﻄَﻦَ ﻓَﺨَﺒَﺮَ، ﻭَﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ ﻟِﻠّٰﻪِ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﻣَﻠَﻚَ ﻓَﻘَﺪَﺭَ، ﻭَﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ ﻟِﻠّٰﻪِ ﺍﻟَّﺬِﻱ یُحْیِ ﺍﻟْﻤَﻮْﺗٰﻰ ﻭَﻳُﻤِﻴْﺖُ ﺍﻻَﺣْﻴَﺎﺀَ ﻭَﻫُﻮَ ﻋَﻠَٰﻰ ﻛُﻞِّ ﺷَﻲْﺀٍ ﻗَﺪِﻳﺮٌ." (جواھر البحار، ﺹ:192)
🔷 امام جعفر صادقؑ نے فرمایا که جس کو سوتے ھوۓ جنب ھونے کا خوف ھو وه یه پڑھ کر سو جاۓ..
" ﺍَﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺇﻧِّﻲ ﺃَﻋُﻮﺫُ ﺑِﻚَ ﻣِﻦَ الْاِﺣْﺘِﻼﻡِ ، ﻭَﻣِﻦْ ﺳُﻮْﺀِ ﺍلْاَحْلَاﻡِ، ﻭَﻣِﻦْ ﺍَﻥْ ﻳَﺘَﻼﻋَﺐَ ﺑِﻲَ ﺍﻟﺸَّﻴْﻄَﺎﻥُ ﻓِﻲ ﺍﻟـْﻴَﻘـْﻈَﺔِ ﻭَﺍﻟـْﻤَﻨَﺎﻡِ " (جواھر البحار، ﺹ:197)
🔷 امام جعفر صادقؑ نے فرمایا که جو کوئی سوتے ھوۓ سوره یٰس کی تلاوت کر کے سوۓ گا، اللہ تعالٰی اسکے لیے ایک ھزار فرشتے بھیجے گا جو اسکی ھر شیطان اور آفت سے حفاظت کریں گے. (جواھر البحار، ﺹ:200)
🔷 امام جعفر صادقؑ نے فرمایا که جو کوئی سوتے ھوۓ سو مرتبہ استغفار کر کے سوۓ گا، اسکے گناہ ایسے جھڑ جائیں گے جیسے سوکھے درخت سے پتے جھڑتے ہیں، اور صبح اس پر کوئی گناه باقی نه ھوگا. (جواھرالبحار، ﺹ:201. ﺛﻮﺍﺏﺍﻷﻋﻤﺎﻝ، ﺹ:149)
🌹 خواب میں امیرالمؤمنین علیؑ کی زیارت:
جو شخص چاھتا ھے که خواب میں امیرالمؤمنین علیؑ کی زیارت کرے تو وه پاک صاف کپڑے پہن کر وضو کرے اور سوتے ھوئے یه پڑھے..
"اَللهُم۔۔۔!َّ إنّي أَسْئَلُكَ يا مَنْ لُطْفُهُ خَفِيٌّ، وَ أَياديهِ باسِطَةٌ لا تَنْقِضي، أَسْئَلُكَ بِلُطْفِكَ اَلْخَفّي اَلّذي ما لَطُفْتَ بِهِ لِعَبدٍ إلاّ كُفى، أنْ تُرِيَني مَولاي عَلِيَّ بنِ أَبي طالِبٍ عَلَیهِ السّلامُ فِي مَنامی۔" (جواھرالبحار، ﺹ215)
🌹 سونے سے پہلے کی دعائے حفاظت:
امام علی رضاؑ نے فرمایا جو کوئی رات کو سونے سے پہلے اس آیت کو تلاوت کرلے تو وه اور اسکے گھر والے حفاظت میں اور بخشش میں ھوں گے...
"ﺇِﻥَّ ﺍﻟﻠّٰﻪَ ﻳُﻤْﺴِﻚُ ﺍﻟﺴَّﻤَﺎﻭَﺍﺕِ ﻭَﺍﻟْﺄَﺭْﺽَ ﺃَﻥ ﺗَﺰُﻭﻟَﺎ ﻭَﻟَﺌِﻦ ﺯَﺍﻟَﺘَﺎ ﺇِﻥْ ﺃَﻣْﺴَﻜَﻬُﻤَﺎ ﻣِﻦْ ﺃَﺣَﺪٍ ﻣِّﻦ ﺑَﻌْﺪِﻩِ ﺇِﻧَّﻪُ ﻛَﺎﻥَ ﺣَﻠِﻴﻤًﺎ ﻏَﻔُﻮﺭًﺍ." (ﻣﻦﻻﯾﺤﻀﺮﻩﺍﻟﻔﻘﯿﻪ، ﺗﺮﺟﻤﻪﻏﻔﺎﺭﯼ، ﺝ2، ﺹ:157)
🌹 جو کوئی سونے سے پہلے "ﻳﺎﺑﺎﻋﺚ" کو 100 مرتبہ پڑھ کر اپنے سینے پر پھونک دے اور ھاتھ مارے تو اللہ تعالی اسکے سینے کو معرفت سے منور کر دے گا.
🌹 اس صلوات کو اگر رات کے پہلے اور آخری حصے میں 3 تین مرتبہ پڑھا جاۓ تو دس ہزار مرتبہ صلوات پڑھنے کا ثواب ملتا ھے..
"ﺍﻟﻠﻬُﻢَّ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠﯽ ﺳَﯿِّﺪِﻧﺎ ﻭَ ﻧَﺒﯿِّﻨﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَ ﺁﻟِﻪ، ﻣَﺎﺍﺧْﺘَﻠَﻒَ ﺍﻟْﻤَﻠَﻮﺍﻥِ ﻭَﺗَﻌﺎﻗَﺐَ ﺍﻟْﻌَﺼْﺮﺍﻥِ ﻭَﮐَﺮَّ ﺍﻟْﺠَﺪﯾﺪﺍﻥِ ﻭَﺍﺳْﺘَﻘْﺒَﻞَ ﺍﻟْﻔَﺮْﻗَﺪﺍﻥ ﻭَﺑَﻠَّﻎْ ﺭُﻭﺣَﻪُ ﻭَ ﺍَﺭْﻭﺍﺡَ ﺍَﻫْﻞِ ﺑَﯿْﺘِﻪِ ﻣِﻨّﺎ ﺍﻟﺘَّﺤِﯿَّﻪَ ﻭَﺍﻟﺴَّﻼﻡُ."
🌹 رسولِخُدا محمد مصطفٰیؐ نے فرمایا سونے سے پہلے 3 مرتبہ یه پڑھیں تو اللہ تعالی تمام گناھوں کو معاف کر دیتا ھے..
"ﺍَﺳﺘَﻐﻔِﺮُﺍﻟﻠﻪَ ﺍﻟَّﺬِﯼ ﻻ ﺍِﻟﻪَ ﺍِﻟَّﺎ ﻫُﻮَ ﺍﻟﺤَﯽُّ ﺍﻟﻘَﯿُّﻮﻡ ﻭَﺃﺗُﻮﺏُ ﺇﻟَﻴﻪ." (بحارالانوار، ج87، ص:179)
🌹 رزق میں اضافہ کی دعا:
اس دعا کو روزانہ صبح و شام کو تین تین مرتبہ تلاوت کرے، انشاالله اسکا اثر نه صرف اس پڑھنے والے کے رزق میں ھوگا بلکه اسکی سات نسلیں مستفید ھونگی اور مخلوقِ خُدا میں سے کسی کا محتاج نه ھوگا..
ﯾﺎﺍﻟﻠﻪُ ﯾﺎﺍﻟﻠﻪُ ﯾﺎﺍﻟﻠﻪُ ﯾﺎﺭَﺏ ﯾﺎﺭَﺏ ﯾﺎﺭَﺏ ﯾﺎﺫَﺍﻟﺠَﻼﻝِ ﻭَﺍﻻﮐﺮﺍﻡ ﺍَﺳﺌَﻠُﮏَ ﺑِﺎﺳﻤِﮏَ ﺍَﻟﻌَﻈﯿﻢ ﺍﻻَﻋﻈَﻢ ﺍَﻥﺗَﺮﺯُﻗَﻨﯽ ﺭﺯﻗﺎً ﻭَﺍﺳِﻌًﺎ ﺣَﻼﻻً ﻃَﯿِّﺒﺎً ﺑِﺮَﺣﻤَﺘِﮏَ ﯾﺎ ﺍَﺭﺣَﻢَ ﺍﻟﺮّﺍﺣِﻤِﯿﻦ." (ﺧﺰﺍﻧﺔﺍﻻﺳﺮﺍﺭﻓﯽﺍﻟﺨﺘﻮﻡﻭﺍﻻﺫﮐﺎﺭ، ﺹ:129)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/157
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 رسول خدا محمد مصطفٰیؐ نے فرمایا که جو شخص سونے سے پہلے 100 مرتبہ سوره قل ھوالله احد پڑھے،
اللہ تعالی اسکے پچاس سال کے گناه معاف فرما دیتا ھے. (جواھرالبحار، ﺹ:192)
🔷 امام جعفر صادقؑ نے فرمایا که سوتے وقت اس کو تین مرتبہ تلاوت کرو تو گناھوں سے ایسے پاک ھو جاؤ گے جیسے اپنی ماں کے بطن سے پیدا ھوۓ تھے.
"ﺍَﻟْﺤَﻤْﺪُ ﻟِﻠّٰﻪِ ﺍﻟَّﺬِﻱ عَلَا ﻓَﻘَﻬَﺮَ، ﻭَﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ ﻟِﻠّٰﻪِ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﺑَﻄَﻦَ ﻓَﺨَﺒَﺮَ، ﻭَﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ ﻟِﻠّٰﻪِ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﻣَﻠَﻚَ ﻓَﻘَﺪَﺭَ، ﻭَﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ ﻟِﻠّٰﻪِ ﺍﻟَّﺬِﻱ یُحْیِ ﺍﻟْﻤَﻮْﺗٰﻰ ﻭَﻳُﻤِﻴْﺖُ ﺍﻻَﺣْﻴَﺎﺀَ ﻭَﻫُﻮَ ﻋَﻠَٰﻰ ﻛُﻞِّ ﺷَﻲْﺀٍ ﻗَﺪِﻳﺮٌ." (جواھر البحار، ﺹ:192)
🔷 امام جعفر صادقؑ نے فرمایا که جس کو سوتے ھوۓ جنب ھونے کا خوف ھو وه یه پڑھ کر سو جاۓ..
" ﺍَﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺇﻧِّﻲ ﺃَﻋُﻮﺫُ ﺑِﻚَ ﻣِﻦَ الْاِﺣْﺘِﻼﻡِ ، ﻭَﻣِﻦْ ﺳُﻮْﺀِ ﺍلْاَحْلَاﻡِ، ﻭَﻣِﻦْ ﺍَﻥْ ﻳَﺘَﻼﻋَﺐَ ﺑِﻲَ ﺍﻟﺸَّﻴْﻄَﺎﻥُ ﻓِﻲ ﺍﻟـْﻴَﻘـْﻈَﺔِ ﻭَﺍﻟـْﻤَﻨَﺎﻡِ " (جواھر البحار، ﺹ:197)
🔷 امام جعفر صادقؑ نے فرمایا که جو کوئی سوتے ھوۓ سوره یٰس کی تلاوت کر کے سوۓ گا، اللہ تعالٰی اسکے لیے ایک ھزار فرشتے بھیجے گا جو اسکی ھر شیطان اور آفت سے حفاظت کریں گے. (جواھر البحار، ﺹ:200)
🔷 امام جعفر صادقؑ نے فرمایا که جو کوئی سوتے ھوۓ سو مرتبہ استغفار کر کے سوۓ گا، اسکے گناہ ایسے جھڑ جائیں گے جیسے سوکھے درخت سے پتے جھڑتے ہیں، اور صبح اس پر کوئی گناه باقی نه ھوگا. (جواھرالبحار، ﺹ:201. ﺛﻮﺍﺏﺍﻷﻋﻤﺎﻝ، ﺹ:149)
🌹 خواب میں امیرالمؤمنین علیؑ کی زیارت:
جو شخص چاھتا ھے که خواب میں امیرالمؤمنین علیؑ کی زیارت کرے تو وه پاک صاف کپڑے پہن کر وضو کرے اور سوتے ھوئے یه پڑھے..
"اَللهُم۔۔۔!َّ إنّي أَسْئَلُكَ يا مَنْ لُطْفُهُ خَفِيٌّ، وَ أَياديهِ باسِطَةٌ لا تَنْقِضي، أَسْئَلُكَ بِلُطْفِكَ اَلْخَفّي اَلّذي ما لَطُفْتَ بِهِ لِعَبدٍ إلاّ كُفى، أنْ تُرِيَني مَولاي عَلِيَّ بنِ أَبي طالِبٍ عَلَیهِ السّلامُ فِي مَنامی۔" (جواھرالبحار، ﺹ215)
🌹 سونے سے پہلے کی دعائے حفاظت:
امام علی رضاؑ نے فرمایا جو کوئی رات کو سونے سے پہلے اس آیت کو تلاوت کرلے تو وه اور اسکے گھر والے حفاظت میں اور بخشش میں ھوں گے...
"ﺇِﻥَّ ﺍﻟﻠّٰﻪَ ﻳُﻤْﺴِﻚُ ﺍﻟﺴَّﻤَﺎﻭَﺍﺕِ ﻭَﺍﻟْﺄَﺭْﺽَ ﺃَﻥ ﺗَﺰُﻭﻟَﺎ ﻭَﻟَﺌِﻦ ﺯَﺍﻟَﺘَﺎ ﺇِﻥْ ﺃَﻣْﺴَﻜَﻬُﻤَﺎ ﻣِﻦْ ﺃَﺣَﺪٍ ﻣِّﻦ ﺑَﻌْﺪِﻩِ ﺇِﻧَّﻪُ ﻛَﺎﻥَ ﺣَﻠِﻴﻤًﺎ ﻏَﻔُﻮﺭًﺍ." (ﻣﻦﻻﯾﺤﻀﺮﻩﺍﻟﻔﻘﯿﻪ، ﺗﺮﺟﻤﻪﻏﻔﺎﺭﯼ، ﺝ2، ﺹ:157)
🌹 جو کوئی سونے سے پہلے "ﻳﺎﺑﺎﻋﺚ" کو 100 مرتبہ پڑھ کر اپنے سینے پر پھونک دے اور ھاتھ مارے تو اللہ تعالی اسکے سینے کو معرفت سے منور کر دے گا.
🌹 اس صلوات کو اگر رات کے پہلے اور آخری حصے میں 3 تین مرتبہ پڑھا جاۓ تو دس ہزار مرتبہ صلوات پڑھنے کا ثواب ملتا ھے..
"ﺍﻟﻠﻬُﻢَّ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠﯽ ﺳَﯿِّﺪِﻧﺎ ﻭَ ﻧَﺒﯿِّﻨﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَ ﺁﻟِﻪ، ﻣَﺎﺍﺧْﺘَﻠَﻒَ ﺍﻟْﻤَﻠَﻮﺍﻥِ ﻭَﺗَﻌﺎﻗَﺐَ ﺍﻟْﻌَﺼْﺮﺍﻥِ ﻭَﮐَﺮَّ ﺍﻟْﺠَﺪﯾﺪﺍﻥِ ﻭَﺍﺳْﺘَﻘْﺒَﻞَ ﺍﻟْﻔَﺮْﻗَﺪﺍﻥ ﻭَﺑَﻠَّﻎْ ﺭُﻭﺣَﻪُ ﻭَ ﺍَﺭْﻭﺍﺡَ ﺍَﻫْﻞِ ﺑَﯿْﺘِﻪِ ﻣِﻨّﺎ ﺍﻟﺘَّﺤِﯿَّﻪَ ﻭَﺍﻟﺴَّﻼﻡُ."
🌹 رسولِخُدا محمد مصطفٰیؐ نے فرمایا سونے سے پہلے 3 مرتبہ یه پڑھیں تو اللہ تعالی تمام گناھوں کو معاف کر دیتا ھے..
"ﺍَﺳﺘَﻐﻔِﺮُﺍﻟﻠﻪَ ﺍﻟَّﺬِﯼ ﻻ ﺍِﻟﻪَ ﺍِﻟَّﺎ ﻫُﻮَ ﺍﻟﺤَﯽُّ ﺍﻟﻘَﯿُّﻮﻡ ﻭَﺃﺗُﻮﺏُ ﺇﻟَﻴﻪ." (بحارالانوار، ج87، ص:179)
🌹 رزق میں اضافہ کی دعا:
اس دعا کو روزانہ صبح و شام کو تین تین مرتبہ تلاوت کرے، انشاالله اسکا اثر نه صرف اس پڑھنے والے کے رزق میں ھوگا بلکه اسکی سات نسلیں مستفید ھونگی اور مخلوقِ خُدا میں سے کسی کا محتاج نه ھوگا..
ﯾﺎﺍﻟﻠﻪُ ﯾﺎﺍﻟﻠﻪُ ﯾﺎﺍﻟﻠﻪُ ﯾﺎﺭَﺏ ﯾﺎﺭَﺏ ﯾﺎﺭَﺏ ﯾﺎﺫَﺍﻟﺠَﻼﻝِ ﻭَﺍﻻﮐﺮﺍﻡ ﺍَﺳﺌَﻠُﮏَ ﺑِﺎﺳﻤِﮏَ ﺍَﻟﻌَﻈﯿﻢ ﺍﻻَﻋﻈَﻢ ﺍَﻥﺗَﺮﺯُﻗَﻨﯽ ﺭﺯﻗﺎً ﻭَﺍﺳِﻌًﺎ ﺣَﻼﻻً ﻃَﯿِّﺒﺎً ﺑِﺮَﺣﻤَﺘِﮏَ ﯾﺎ ﺍَﺭﺣَﻢَ ﺍﻟﺮّﺍﺣِﻤِﯿﻦ." (ﺧﺰﺍﻧﺔﺍﻻﺳﺮﺍﺭﻓﯽﺍﻟﺨﺘﻮﻡﻭﺍﻻﺫﮐﺎﺭ، ﺹ:129)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/157
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌛 سونے سے پہلے کے آداب 🌜
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیها سے روایت ہے کہ میں سونے کیلئے بستر بچھا چکی تھی کہ پیغمبر اسلام(ص) ہمارے گھر تشریف لائے، میرے قریب تشریف لائے اور فرمایا؛
اے جان سے پیاری فاطمہ!
سونے سے پہلے چار کام ضرور انجام دیا کرو.
1۔ ختم قرآن…
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیها سے روایت ہے کہ میں سونے کیلئے بستر بچھا چکی تھی کہ پیغمبر اسلام(ص) ہمارے گھر تشریف لائے، میرے قریب تشریف لائے اور فرمایا؛
اے جان سے پیاری فاطمہ!
سونے سے پہلے چار کام ضرور انجام دیا کرو.
1۔ ختم قرآن…
📚 علم اور عمل 📚
ایک شہزادہ اپنے استاد سے سبق پڑھ رہا تھا.. استاد نے اسے دو جملے پڑھائے..
1 ــ جھوٹ مت بولو..
2 ــ غصہ نہ کرو..
کچھ دیر کے وقفے کے بعد شہزادے کو سبق سنانے کو کہا گیا تو شہزادے نے جواب دیا کہ ابھی سبق یاد نہیں ھوسکا..
دوسرے دن پھر استاد نے سبق سنانے کو کہا.. شہزادے نے پھر عرض کیا کہ ابھی سبق یاد نہیں ھوسکا..
تیسرے دن چھٹی تھی.. استاد نے کہا کہ کل چھٹی ھے لہذا کل لازمی سبق یاد کر لینا.. بعد میں میں کوئی بہانہ نہیں سنوں گا..
چھٹی کے بعد اگلے دن بھی شاگرد خاص سبق سنانے میں ناکام رہا.. استاد یہ خیال کیے بغیر کہ شاگرد ایک شہزادہ ھے , طیش میں آکر ایک تھپڑ رسید کردیا کہ یہ بھی کوئی بات ھے کہ اتنے دنوں سے دو جملے یاد نہیں ھوکر دے رہے..
تھپڑ کھا کر ایک دفعہ تو شہزادہ گم سم ھوگیا.. پھر بولا کہ استاد محترم! سبق یاد ھوگیا..
استاد کو بہت تعجب ھوا کہ پہلے تو سبق یاد نہیں ھورہا تھا اور تھپڑ کھاتے ہی فوری سبق یاد ھوگیا..
شہزادہ عرض کرنے لگا کہ استاد مُحترم! آپ نے مجھے دو باتیں پڑھائی تھیں..
1 ـ جھوٹ نہ بولو..
2 ـ غصہ نہ کرو..
جھوٹ بولنے سے تو میں نے اسی دن توبہ کرلی تھی لیکن غصہ نہ کرو___ یہ مشکل کام تھا.. بہت کوشش کرتا تھا کہ غصہ نہ آئے لیکن غصہ آجاتا تھا.. اب جب تک میں غصے پر قابو پانا نہیں سیکھ جاتا تو کیسے کہہ دیتا کہ سبق یاد ھوگیا؟
آج جب آپ نے تھپڑ مارا اور یہ تھپڑ بھی میری زندگی کا پہلا تھپڑ ھے، اسی وقت میں نے اپنے دل و دماغ میں غور کیا کہ غصہ آیا کہ نہیں.. غور کرنے پر مجھے محسوس ھوا کہ غصہ نہیں آیا..
آج میں آپ کا بتایا ھوا دوسرا سبق کہ "غصہ نہ کرو" بلکل سیکھ لیا ھے.. آج اللہ کے فضل سے مجھے مکمل سبق یاد ھوگیا ھـے!!
🔘 درس حیات !!!
اے عزیز! ہمیں بھی چاہیے کہ جو قول زریں ہم لکھتے، پڑھتے اور سنتے رہتے ھیں ان پر عمل کریں.. عمل ہی سے انسان کی اصلاح ھوتی ھے اور عمل ہی سے زندگی بنتی ھے!!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/120
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک شہزادہ اپنے استاد سے سبق پڑھ رہا تھا.. استاد نے اسے دو جملے پڑھائے..
1 ــ جھوٹ مت بولو..
2 ــ غصہ نہ کرو..
کچھ دیر کے وقفے کے بعد شہزادے کو سبق سنانے کو کہا گیا تو شہزادے نے جواب دیا کہ ابھی سبق یاد نہیں ھوسکا..
دوسرے دن پھر استاد نے سبق سنانے کو کہا.. شہزادے نے پھر عرض کیا کہ ابھی سبق یاد نہیں ھوسکا..
تیسرے دن چھٹی تھی.. استاد نے کہا کہ کل چھٹی ھے لہذا کل لازمی سبق یاد کر لینا.. بعد میں میں کوئی بہانہ نہیں سنوں گا..
چھٹی کے بعد اگلے دن بھی شاگرد خاص سبق سنانے میں ناکام رہا.. استاد یہ خیال کیے بغیر کہ شاگرد ایک شہزادہ ھے , طیش میں آکر ایک تھپڑ رسید کردیا کہ یہ بھی کوئی بات ھے کہ اتنے دنوں سے دو جملے یاد نہیں ھوکر دے رہے..
تھپڑ کھا کر ایک دفعہ تو شہزادہ گم سم ھوگیا.. پھر بولا کہ استاد محترم! سبق یاد ھوگیا..
استاد کو بہت تعجب ھوا کہ پہلے تو سبق یاد نہیں ھورہا تھا اور تھپڑ کھاتے ہی فوری سبق یاد ھوگیا..
شہزادہ عرض کرنے لگا کہ استاد مُحترم! آپ نے مجھے دو باتیں پڑھائی تھیں..
1 ـ جھوٹ نہ بولو..
2 ـ غصہ نہ کرو..
جھوٹ بولنے سے تو میں نے اسی دن توبہ کرلی تھی لیکن غصہ نہ کرو___ یہ مشکل کام تھا.. بہت کوشش کرتا تھا کہ غصہ نہ آئے لیکن غصہ آجاتا تھا.. اب جب تک میں غصے پر قابو پانا نہیں سیکھ جاتا تو کیسے کہہ دیتا کہ سبق یاد ھوگیا؟
آج جب آپ نے تھپڑ مارا اور یہ تھپڑ بھی میری زندگی کا پہلا تھپڑ ھے، اسی وقت میں نے اپنے دل و دماغ میں غور کیا کہ غصہ آیا کہ نہیں.. غور کرنے پر مجھے محسوس ھوا کہ غصہ نہیں آیا..
آج میں آپ کا بتایا ھوا دوسرا سبق کہ "غصہ نہ کرو" بلکل سیکھ لیا ھے.. آج اللہ کے فضل سے مجھے مکمل سبق یاد ھوگیا ھـے!!
🔘 درس حیات !!!
اے عزیز! ہمیں بھی چاہیے کہ جو قول زریں ہم لکھتے، پڑھتے اور سنتے رہتے ھیں ان پر عمل کریں.. عمل ہی سے انسان کی اصلاح ھوتی ھے اور عمل ہی سے زندگی بنتی ھے!!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/120
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
📚 علم 📚
رشتے کبھی نہیں مرتے، انہیں ہمیشہ انسان قتل کرتا ہے. نفرت سے، نظر اندازی سے، اور کبھی غلط فہمی سے.
ایک سنار کے انتقال کے بعد اس کا خاندان مصیبت میں پڑ گیا.
کھانے کے بھی لالے پڑ گئے.
ایک دن اس کی بیوی نے اپنے بیٹے کو نیلم کا ایک ہار دے کر کہا 'بیٹا،…
رشتے کبھی نہیں مرتے، انہیں ہمیشہ انسان قتل کرتا ہے. نفرت سے، نظر اندازی سے، اور کبھی غلط فہمی سے.
ایک سنار کے انتقال کے بعد اس کا خاندان مصیبت میں پڑ گیا.
کھانے کے بھی لالے پڑ گئے.
ایک دن اس کی بیوی نے اپنے بیٹے کو نیلم کا ایک ہار دے کر کہا 'بیٹا،…
🌺 ولادت باسعادت حضرت فاطمہؑ 🌺
🌹ولادت باسعادت دُخترِ رحمةاللعالمین، زوجہ امیرالمؤمنین حضرت فاطمہ زہراءؑ آپ سب مؤمنين و مؤمنات کو بہت بہت مبارک ہو.
●لوگوں نے ر سول اکرمؐ سے پوچھا:
آپ فرما رہے ہیں حضرت فاطمہ زہراءؑ ایک فرشتہ ہیں اور انسان بھی ہیں؟ آخر یہ کس طرح ہوسکتا ہے؟
پیغمبرِ اسلامؐ نے فرمایا:
جبرائیلؑ نے جنت سے ایک سیب لا کر مجھے ہدیہ دیا اور کہا؛ اے محمدؐ! اس سیب کو تناول فرما لیجئے.
میں نے پوچها:
اے میرے دوست! یہ سیب کس کی طرف سے ہدیہ ہے؟
اس نے کہا:
حکم دیا گیا ہے کہ اسے کھا لیجئے.
پس میں نے اسے کاٹا تو اس سے ایک نور چمکا، میں اس نور کو دیکھ کر حیران ہوگیا.
جبرائیلؑ نے کہا: کھا لیجئے "فان ذالک نور المنصورۃ فاطمۃ" یہ فاطمہؑ منصورہؑ کا نور ہے.
میں نے پوچھا:
منصورہ کون ہے؟
جبرائیلؑ نے کہا:
آپ کی بیٹی ہے کہ جن کا نام آسمانوں میں منصورہؑ اور زمین پر فاطمہؑ ہے.
انہیں آسمان میں منصورہؑ اور زمین پر فاطمہؑ کیوں کہتے ہیں؟
کہا:
زمین پر فاطمہؑ ہیں. کیونکہ ان کے شیعہ آتش جہنم سے نجات یافتہ ہیں اور ان کے دشمن ان کی محبت سے دور ہوگئے. اسی طرح اس آیہ کریمہ کی روشنی میں.. "ویومئذ یفرح المومنون بنصر اللہ" (سورةروم،آیت:۴و۵) آسمان میں انہیں منصورہ کہتے ہیں.
📚 بحارالانوار، ج:۴۳، ص ۱۸، از تفسیر فرات بن ابراہیم.
https://t.me/islamwitheman/432
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹ولادت باسعادت دُخترِ رحمةاللعالمین، زوجہ امیرالمؤمنین حضرت فاطمہ زہراءؑ آپ سب مؤمنين و مؤمنات کو بہت بہت مبارک ہو.
●لوگوں نے ر سول اکرمؐ سے پوچھا:
آپ فرما رہے ہیں حضرت فاطمہ زہراءؑ ایک فرشتہ ہیں اور انسان بھی ہیں؟ آخر یہ کس طرح ہوسکتا ہے؟
پیغمبرِ اسلامؐ نے فرمایا:
جبرائیلؑ نے جنت سے ایک سیب لا کر مجھے ہدیہ دیا اور کہا؛ اے محمدؐ! اس سیب کو تناول فرما لیجئے.
میں نے پوچها:
اے میرے دوست! یہ سیب کس کی طرف سے ہدیہ ہے؟
اس نے کہا:
حکم دیا گیا ہے کہ اسے کھا لیجئے.
پس میں نے اسے کاٹا تو اس سے ایک نور چمکا، میں اس نور کو دیکھ کر حیران ہوگیا.
جبرائیلؑ نے کہا: کھا لیجئے "فان ذالک نور المنصورۃ فاطمۃ" یہ فاطمہؑ منصورہؑ کا نور ہے.
میں نے پوچھا:
منصورہ کون ہے؟
جبرائیلؑ نے کہا:
آپ کی بیٹی ہے کہ جن کا نام آسمانوں میں منصورہؑ اور زمین پر فاطمہؑ ہے.
انہیں آسمان میں منصورہؑ اور زمین پر فاطمہؑ کیوں کہتے ہیں؟
کہا:
زمین پر فاطمہؑ ہیں. کیونکہ ان کے شیعہ آتش جہنم سے نجات یافتہ ہیں اور ان کے دشمن ان کی محبت سے دور ہوگئے. اسی طرح اس آیہ کریمہ کی روشنی میں.. "ویومئذ یفرح المومنون بنصر اللہ" (سورةروم،آیت:۴و۵) آسمان میں انہیں منصورہ کہتے ہیں.
📚 بحارالانوار، ج:۴۳، ص ۱۸، از تفسیر فرات بن ابراہیم.
https://t.me/islamwitheman/432
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
رسولِخداؐ نے فرمایا:
میں، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ اور ان کے نو فرزند خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں. ہمارے دشمن خدا کے دشمن اور ہمارے دوست خدا کے دوست ہیں. (بشارةالمصطفیٰ،ص:24)
میں، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ اور ان کے نو فرزند خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں. ہمارے دشمن خدا کے دشمن اور ہمارے دوست خدا کے دوست ہیں. (بشارةالمصطفیٰ،ص:24)
🌹 فضیلتِ سیّدہ فاطمہؑ 🌹
رسول اکرمؐ نے فرمایا.....
●فاطمہؑ میرا ٹکڑا ہے، جس نے اسے غضب ناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا.(1)
●ایک دن پیامبرؐ نے فاطمہؑ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور یوں فرمایا:
جس نے اسے پہچان لیا تو حق ادا کردیا اور جو اسے نہیں جانتا وہ سن لے، یہ فاطمہؑ مجھ محمدؐ کی بیٹی ہے، یہ میرا ٹکڑا ہے، یہ میرا دل ہے، جس نے بھی اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی.(2)
●جابربن عبدالله کہتےہیں؛ پیغمبرؐ نے فرمایا:
فاطمہؑ میری رگِ حیات ہے، جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی، جس نے مجھے اذیت دی اس نے خدا کو اذیت دی، جس نے خدا کو اذیت دی آسمان و زمین اس پر لعنت کرتے ہیں.(3)
●ابن فتال نیشاپوری پیغمبرؐ کی حدیث کہ جو حضرت علیؑ سے فرمایا، بیان کرتا ہے:
اے علیؑ! فاطمہؑ میرا ٹکڑا، میری آنکھوں کا نور اور میرے دل کی ٹھنڈک ہے.(4)
●امام حسینؑ پیغمبرؐ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
فاطمهؑ باعثِ خوشحالی ہے، اسی طرح اس کے دو بیٹے میرے دل کی ٹھنڈک اور ان کے شوہر میری آنکھوں کا نور ہیں.(5)
●خطیب بغدادی پیغمبرؐ کی معراج کے بارے میں یوں روایت کرتے ہیں:
جس رات میں معراج پر گیا تو دیکھا بہشت کے دروازے پر یہ لکھا تھا:
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، علیؑ اللہ کے حبیب ہیں، حسنؑ و حسینؑ اللہ کے صفی ہیں، فاطمہؑ اللہ کی منتخب شدہ ہیں اور ان سے بغض رکھنے والے پہ اللہ کی لعنت ہے.(6)
●طبری، بشارةالمصطفیٰ میں امام زین العابدینؑ سے اور اسی طرح وہ اپنے بابا سے یہ سلسلہ رسولِ خدا تک پہنچتا ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
میں، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ اور ان کے نو فرزند خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں. ہمارے دشمن خدا کے دشمن اور ہمارے دوست خدا کے دوست ہیں.(7)
●انس بن مالک رسولِخداؐ سے روایت کرتے ہیں:
میری امت کی خواتین میں میری بیٹی فاطمہؑ کا مقام سب سے بلند ہے.(8)
●ایک اور روایت میں یوں فرمایا:
پورے عالم کے مردوں میں سے بہترین مرد علیؑ ہے اور خواتین میں سے فاطمہؑ ہیں.(9)
●اسی طرح حضرت فاطمہ کی شخصیت کے بارے فرمایا:
اگر سب اچھائیاں اور اخلاقی فضائل کو مجسم کیا جائے تو وہ فاطمہؑ ہیں بلکہ فاطمہؑ کا مقام اس سے بھی بالاتر ہے.(10)
●احتضار کی حالت میں رسولِخداؐ نے مولائے کائنات علی بن ابی طالبؑ سے فرمایا:
اے علی! فاطمہؑ تمہارے پاس خدا اور اس کے رسول کی امانت ہے، پس اس امانت کا خاص خیال رکھنا کیونکہ فاطمہؑ مریمِ کبریٰ ہے.(11)
●شیخ طوسی نے عبدالله بن حارث بن نوفل سے نقل کیا ہے کہ میں نے سعد بن مالک سے سنا کہ اس نے کہا کہ میں نے رسولِخداؐ سے سنا:
فاطمةُ بضعةٌ منّی مَن سَرَّها فَقَد سَرَّنی و مَن ساءها فَقَد ساءنی،فاطمة أَعزُّ البریّة عَلَیَّ.
فاطمہؑ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے خوش کیا اس نے مجھے خوش کیا جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی. فاطمہؑ لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے.(12)
●علّامه مجلسی اسامہ سےنقل کرتےہیں:
ایک دن مسجد نبوی کے قریب سے گذرا تو علی اور عباس کو بیٹھے دیکھا جیسے ہی مجھے دیکھا تو کہا کہ ہمارے لیے پیغمبرؐ سے ملاقات کا وقت لو.
کہتا ہے میں نے رسولِخداؐ سے عرض کیا کہ علی اور عباس ملاقات کی اجازت مانگ رہے ہیں تو پیغمبرؐ نے فرمایا:
کیا جانتے ہو کس چیز نے انہیں اس مقام تک پہنچایا؟
میں نے کہا خدا جانتا ہے کہ مجھے نہیں معلوم، پس انہیں اجازت ملی.
اور دونوں اندر آئے اور سلام کیا پھر احترام کے ساتھ سامنے بیٹھ گئے اور عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ آپ کے نزدیک محبوب ترین کون ہے؟
پیغمبرؐ نے جواب میں فرمایا: فاطمہؑ(13)
📚 حوالہ جات:
1)صحیح بخاری، ج 2، ص:302؛ حلیةالأولیاء، ج 2، ص:40؛ وتهذیب التّهذیب، ج 12، ص 469.
2)بحارالأنوار، ج43، ص:80.
3)بحارالأنوار، ص:54.
4)روضةالواعظین، ص:150.
5)مقتل الحسین خوارزمی، ج1، ص:59.
6)تاریخ بغداد، ج1، ص:259.
7)بشارةالمصطفی، ص:24.
8)احقاق الحق، ج10، ص:115.
9)احقاق الحق، ج25، ص:37.
10)مقتل الحسین خوارزمی، ج1، ص:60.
11)فاطمةالزّهراء، ص:58.
12)بحارالأنوار، ج43، ص:23.
13)گزشتہ، ص 68 و ذخایر العقبی، ص:35.
https://t.me/islamwitheman/435
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
رسول اکرمؐ نے فرمایا.....
●فاطمہؑ میرا ٹکڑا ہے، جس نے اسے غضب ناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا.(1)
●ایک دن پیامبرؐ نے فاطمہؑ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور یوں فرمایا:
جس نے اسے پہچان لیا تو حق ادا کردیا اور جو اسے نہیں جانتا وہ سن لے، یہ فاطمہؑ مجھ محمدؐ کی بیٹی ہے، یہ میرا ٹکڑا ہے، یہ میرا دل ہے، جس نے بھی اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی.(2)
●جابربن عبدالله کہتےہیں؛ پیغمبرؐ نے فرمایا:
فاطمہؑ میری رگِ حیات ہے، جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی، جس نے مجھے اذیت دی اس نے خدا کو اذیت دی، جس نے خدا کو اذیت دی آسمان و زمین اس پر لعنت کرتے ہیں.(3)
●ابن فتال نیشاپوری پیغمبرؐ کی حدیث کہ جو حضرت علیؑ سے فرمایا، بیان کرتا ہے:
اے علیؑ! فاطمہؑ میرا ٹکڑا، میری آنکھوں کا نور اور میرے دل کی ٹھنڈک ہے.(4)
●امام حسینؑ پیغمبرؐ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
فاطمهؑ باعثِ خوشحالی ہے، اسی طرح اس کے دو بیٹے میرے دل کی ٹھنڈک اور ان کے شوہر میری آنکھوں کا نور ہیں.(5)
●خطیب بغدادی پیغمبرؐ کی معراج کے بارے میں یوں روایت کرتے ہیں:
جس رات میں معراج پر گیا تو دیکھا بہشت کے دروازے پر یہ لکھا تھا:
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، علیؑ اللہ کے حبیب ہیں، حسنؑ و حسینؑ اللہ کے صفی ہیں، فاطمہؑ اللہ کی منتخب شدہ ہیں اور ان سے بغض رکھنے والے پہ اللہ کی لعنت ہے.(6)
●طبری، بشارةالمصطفیٰ میں امام زین العابدینؑ سے اور اسی طرح وہ اپنے بابا سے یہ سلسلہ رسولِ خدا تک پہنچتا ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
میں، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ اور ان کے نو فرزند خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں. ہمارے دشمن خدا کے دشمن اور ہمارے دوست خدا کے دوست ہیں.(7)
●انس بن مالک رسولِخداؐ سے روایت کرتے ہیں:
میری امت کی خواتین میں میری بیٹی فاطمہؑ کا مقام سب سے بلند ہے.(8)
●ایک اور روایت میں یوں فرمایا:
پورے عالم کے مردوں میں سے بہترین مرد علیؑ ہے اور خواتین میں سے فاطمہؑ ہیں.(9)
●اسی طرح حضرت فاطمہ کی شخصیت کے بارے فرمایا:
اگر سب اچھائیاں اور اخلاقی فضائل کو مجسم کیا جائے تو وہ فاطمہؑ ہیں بلکہ فاطمہؑ کا مقام اس سے بھی بالاتر ہے.(10)
●احتضار کی حالت میں رسولِخداؐ نے مولائے کائنات علی بن ابی طالبؑ سے فرمایا:
اے علی! فاطمہؑ تمہارے پاس خدا اور اس کے رسول کی امانت ہے، پس اس امانت کا خاص خیال رکھنا کیونکہ فاطمہؑ مریمِ کبریٰ ہے.(11)
●شیخ طوسی نے عبدالله بن حارث بن نوفل سے نقل کیا ہے کہ میں نے سعد بن مالک سے سنا کہ اس نے کہا کہ میں نے رسولِخداؐ سے سنا:
فاطمةُ بضعةٌ منّی مَن سَرَّها فَقَد سَرَّنی و مَن ساءها فَقَد ساءنی،فاطمة أَعزُّ البریّة عَلَیَّ.
فاطمہؑ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے خوش کیا اس نے مجھے خوش کیا جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی. فاطمہؑ لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے.(12)
●علّامه مجلسی اسامہ سےنقل کرتےہیں:
ایک دن مسجد نبوی کے قریب سے گذرا تو علی اور عباس کو بیٹھے دیکھا جیسے ہی مجھے دیکھا تو کہا کہ ہمارے لیے پیغمبرؐ سے ملاقات کا وقت لو.
کہتا ہے میں نے رسولِخداؐ سے عرض کیا کہ علی اور عباس ملاقات کی اجازت مانگ رہے ہیں تو پیغمبرؐ نے فرمایا:
کیا جانتے ہو کس چیز نے انہیں اس مقام تک پہنچایا؟
میں نے کہا خدا جانتا ہے کہ مجھے نہیں معلوم، پس انہیں اجازت ملی.
اور دونوں اندر آئے اور سلام کیا پھر احترام کے ساتھ سامنے بیٹھ گئے اور عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ آپ کے نزدیک محبوب ترین کون ہے؟
پیغمبرؐ نے جواب میں فرمایا: فاطمہؑ(13)
📚 حوالہ جات:
1)صحیح بخاری، ج 2، ص:302؛ حلیةالأولیاء، ج 2، ص:40؛ وتهذیب التّهذیب، ج 12، ص 469.
2)بحارالأنوار، ج43، ص:80.
3)بحارالأنوار، ص:54.
4)روضةالواعظین، ص:150.
5)مقتل الحسین خوارزمی، ج1، ص:59.
6)تاریخ بغداد، ج1، ص:259.
7)بشارةالمصطفی، ص:24.
8)احقاق الحق، ج10، ص:115.
9)احقاق الحق، ج25، ص:37.
10)مقتل الحسین خوارزمی، ج1، ص:60.
11)فاطمةالزّهراء، ص:58.
12)بحارالأنوار، ج43، ص:23.
13)گزشتہ، ص 68 و ذخایر العقبی، ص:35.
https://t.me/islamwitheman/435
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌙 20جمادی الثانی
ولادت باسعادت شہزادئِ کونین حضرت فاطمةالزہراءؑ کے موقع پر تمام مؤمنين و مؤمنات بالخصوص امامِ زمانہ قائم آلِ محمد (عج) کی بارگاہِ اقدس میں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں.....
ولادت باسعادت شہزادئِ کونین حضرت فاطمةالزہراءؑ کے موقع پر تمام مؤمنين و مؤمنات بالخصوص امامِ زمانہ قائم آلِ محمد (عج) کی بارگاہِ اقدس میں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں.....
🌹 حضرت فاطمہؑ کا نامِ گرامی 🌹
پيغمبرِ اسلامؐ سے منقول ہے کہ حضرت فاطمہؑ سے پيغمبر اکرمؐ نے دريافت کيا کہ کيا تم جانتی ہو کہ تمہارا نام فاطمہ کيوں رکھا گيا؟
حضرت علىؑ نے عرض کيا:
يا رسول اللہ! آپ ہی اس کی وجہِ تسميّہ بيان فرمائيے.
🌹پيغمبرؐ نے ارشاد فرمايا:
اس کی وجہ يہ ہے کہ بروزِ قيامت خداوندِعالم فاطمہؑ اور اس کے شيعوں کو آتشِ جہنم سے محفوظ رکھے گا.(1)
🌹پيغمبرِ اسلامؐ نے فرمايا:
"قيامت کے دن ميری بيٹی فاطمہ ايسے بہشتی ناقہ پر سوار ہوکر ميدانِ محشر ميں وارد ہوگی جس کی مہار مرواريد کی، چارپائے زمرد سبز کے، آنکھيں ياقوت سرخ کی اور اس پر ايک قبہ نور ہوگا جس سے ہر شئے ديکھی جا سکے گی، اس ناقہ کے سر پر ايک تاج ہوگا جس کے گرد ياقوت کے ستر پائے ہوں گے وہ اسی طرح ضُوافشانی کريں گے جس طرح آسمان پر ستارے. اس سواری کے داہنی طرف ستر ہزار ملک، بائيں طرف ستر ہزار ملک اور اس ناقہ کی مہار جبرائيلؑ کے ہاتھ ميں ہوگی اور وہ بآواز بلند ندا ديں گے! اے اہلِ محشر تم اپنی آنکھيں بند کر لو ابھی فاطمہؑ بنتِ محمدؐ گزريں گیں. يہ سنتے ہی سب کے سب يہاں تک کہ پيغمبر و انبياء، شہداء و صديقين بھی اپنی آنکھيں بند کر ليں گے.
فاطمہؑ الٰہی کے سامنے کھڑی ہوجائيں گيں، اس وقت صدائے الٰہی گونجے گی..
اے ميرے حبيب کي بیٹی! تم جو بھی مجھ سے مانگو گی ميں دوں گا اور جس کی تم شفاعت کروگی، ميں اس گو قبول کروں گا.
فاطمہؑ کہيں گی:
اے ميرے خدا ميری ذريت اور ميرے شيعوں کی شفاعت قبول فرما، بارديگر صدائے الٰہی بلند ہوگی...
کہاں ہيں ذريتِ فاطمہؑ اور اس کی پيروی کرنیوالے؟ کہاں ہيں اس کے ذريت کے دوست؟
اس وقت ايک گروہ آئیگا جس کا فرشتہِ رحمت حصار کئے ہوگا اور فاطمہؑ ان سب کو لے کر داخلِ بہشت ہوں گِيں.(2)
🌹زيارة فاطمةالزهراء:
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ رَسُولِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ نَبِىِّ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ حَبيبِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ خَليلِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ صَفىِّ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ اَمينِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ خَيْرِ خَلْقِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ اَفْضَلِ اَنْبِياءِ اللهِ وَرُسُلِهِ وَمَلائِكَتِهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ خَيْرِ الْبَرِّيَةِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ ياسِيِّدَةَ نِساءِالْعالَمينَ مِنَ الاَْوَّلينَ وَالاْخِرينَ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يازَوْجَةَ وَلِيِّ اللهِ وَخَيْرِ الْخَلْقِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا اُمَّ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ سَيِّدَىْ شَبابِ اَهْلِ الْجَنَّةِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ اَيَّتُهَا الصِّدّيقَةُ الشَّهيدَةُ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ اَيَّتُهَا الرَّضِيَّةُ الْمَرْضِيَّةُ،
اَلسـَّلامُ عـَلَيْكِ اَيَّتـُهَا الْفاضِلـَةُ الزَّكِيـَّةُ،
اَلسـَّلامُ عـَلَيْكِ اَيَّتـُهَا الْحَوْراءُ الاِْنْسِيَّة.
📚 حوالہ جات:
1)ذخائرالعقبیٰ، صفحہ:26. ينابيع المودة صفحہ:194. الصواعق المحرقہ، صفحہ:245.
2)امالی صدوق، صفحہ:25، بحارالأنوار، جلد43، صفحہ:261، 220.
https://t.me/islamwitheman/432
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
پيغمبرِ اسلامؐ سے منقول ہے کہ حضرت فاطمہؑ سے پيغمبر اکرمؐ نے دريافت کيا کہ کيا تم جانتی ہو کہ تمہارا نام فاطمہ کيوں رکھا گيا؟
حضرت علىؑ نے عرض کيا:
يا رسول اللہ! آپ ہی اس کی وجہِ تسميّہ بيان فرمائيے.
🌹پيغمبرؐ نے ارشاد فرمايا:
اس کی وجہ يہ ہے کہ بروزِ قيامت خداوندِعالم فاطمہؑ اور اس کے شيعوں کو آتشِ جہنم سے محفوظ رکھے گا.(1)
🌹پيغمبرِ اسلامؐ نے فرمايا:
"قيامت کے دن ميری بيٹی فاطمہ ايسے بہشتی ناقہ پر سوار ہوکر ميدانِ محشر ميں وارد ہوگی جس کی مہار مرواريد کی، چارپائے زمرد سبز کے، آنکھيں ياقوت سرخ کی اور اس پر ايک قبہ نور ہوگا جس سے ہر شئے ديکھی جا سکے گی، اس ناقہ کے سر پر ايک تاج ہوگا جس کے گرد ياقوت کے ستر پائے ہوں گے وہ اسی طرح ضُوافشانی کريں گے جس طرح آسمان پر ستارے. اس سواری کے داہنی طرف ستر ہزار ملک، بائيں طرف ستر ہزار ملک اور اس ناقہ کی مہار جبرائيلؑ کے ہاتھ ميں ہوگی اور وہ بآواز بلند ندا ديں گے! اے اہلِ محشر تم اپنی آنکھيں بند کر لو ابھی فاطمہؑ بنتِ محمدؐ گزريں گیں. يہ سنتے ہی سب کے سب يہاں تک کہ پيغمبر و انبياء، شہداء و صديقين بھی اپنی آنکھيں بند کر ليں گے.
فاطمہؑ الٰہی کے سامنے کھڑی ہوجائيں گيں، اس وقت صدائے الٰہی گونجے گی..
اے ميرے حبيب کي بیٹی! تم جو بھی مجھ سے مانگو گی ميں دوں گا اور جس کی تم شفاعت کروگی، ميں اس گو قبول کروں گا.
فاطمہؑ کہيں گی:
اے ميرے خدا ميری ذريت اور ميرے شيعوں کی شفاعت قبول فرما، بارديگر صدائے الٰہی بلند ہوگی...
کہاں ہيں ذريتِ فاطمہؑ اور اس کی پيروی کرنیوالے؟ کہاں ہيں اس کے ذريت کے دوست؟
اس وقت ايک گروہ آئیگا جس کا فرشتہِ رحمت حصار کئے ہوگا اور فاطمہؑ ان سب کو لے کر داخلِ بہشت ہوں گِيں.(2)
🌹زيارة فاطمةالزهراء:
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ رَسُولِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ نَبِىِّ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ حَبيبِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ خَليلِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ صَفىِّ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ اَمينِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ خَيْرِ خَلْقِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ اَفْضَلِ اَنْبِياءِ اللهِ وَرُسُلِهِ وَمَلائِكَتِهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ خَيْرِ الْبَرِّيَةِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ ياسِيِّدَةَ نِساءِالْعالَمينَ مِنَ الاَْوَّلينَ وَالاْخِرينَ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يازَوْجَةَ وَلِيِّ اللهِ وَخَيْرِ الْخَلْقِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا اُمَّ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ سَيِّدَىْ شَبابِ اَهْلِ الْجَنَّةِ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ اَيَّتُهَا الصِّدّيقَةُ الشَّهيدَةُ،
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ اَيَّتُهَا الرَّضِيَّةُ الْمَرْضِيَّةُ،
اَلسـَّلامُ عـَلَيْكِ اَيَّتـُهَا الْفاضِلـَةُ الزَّكِيـَّةُ،
اَلسـَّلامُ عـَلَيْكِ اَيَّتـُهَا الْحَوْراءُ الاِْنْسِيَّة.
📚 حوالہ جات:
1)ذخائرالعقبیٰ، صفحہ:26. ينابيع المودة صفحہ:194. الصواعق المحرقہ، صفحہ:245.
2)امالی صدوق، صفحہ:25، بحارالأنوار، جلد43، صفحہ:261، 220.
https://t.me/islamwitheman/432
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
رسولِخداؐ نے فرمایا:
میں، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ اور ان کے نو فرزند خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں. ہمارے دشمن خدا کے دشمن اور ہمارے دوست خدا کے دوست ہیں. (بشارةالمصطفیٰ،ص:24)
میں، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ اور ان کے نو فرزند خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں. ہمارے دشمن خدا کے دشمن اور ہمارے دوست خدا کے دوست ہیں. (بشارةالمصطفیٰ،ص:24)
🌟 ام ابیھا 🌟
سیدہ خاتون جنت سلام اللہ علیها کی سب سے زیادہ حیرت انگیز کنیت ام ابیھا ھے، یعنی (اپنے باپ کی ماں)،
یہ لقب اس بات کا ترجمان ھے کہ آپ اپنے والد بزرگوار کو بے حد چاھتی تھیں اور کمسنی کے باوجود اپنے بابا کی روحی اور معنوی پناہ گاہ تھیں.
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو ام ابیھا کا لقب اس لئے دیا کیونکہ عربی میں اس لفظ کے معنی، ماں کے علاوہ اصل اور مبداء کے بھی ھیں یعنی جڑ اور بنیاد۔ لھذا اس لقب (ام ابیھا) کا ایک مطلب نبوت اور ولایت کی بنیاد اور مبداء بھی ہے۔ کیونکہ یہ آپ ھی کا وجود تھا، جس کی برکت سے شجرہٴ امامت اور ولایت نے رشد پایا، جس نے نبوت کو نابودی اور نبی خدا کو ابتریت کے طعنہ سے بچایا.
ذیل میں ان علماء و محدثین اہلسنت کے نام دیئے جا رهے هیں. جنہوں نے اپنی کتب میں جناب سیدہ سلام اللہ علیها کے اس خصوصی لقب کا تذکرہ کیا هے....!!!
1-الإصابة (حافظ ابن حجر عسقلانى)
2-الاسیعاب ( حافظ ابن عبد البر اندلسی)
3-اسد الغابة (حافظ ابن اثیر الجزري)
4-سیر العلام النبلاء (حافظ زهبی دمشقی)
5-تهزیب التهزیب ( حافظ ابن حجر عسقلانى)
6-تاریخ الإسلام ( حافظ زهبی دمشقی)
7-امتاع لاسماع (المقریزی)
8-عمدة القارئ شرح صحيح البخاري (بدر الدین عینی)
9-البداية والنهاية فی التاريخ (حافظ ابن کثیر دمشقی)
10-مجمع الزوائد (حافظ نور الدين علی الهیثمی)
11-مناقب علی ابن ابی طالب (حافظ ابو الحسن بن محمد الواسطی)
12-منتخب من کتاب زیل المزیل ( محمد بن جرير الطبري)
13-تاريخ المدينة و دمشق (حافظ ابن عساکر)
14-عقیدہ فی اہلبیت (حافظ سلمان ن سالم)
15-المعجم الكبير (حافظ ابی القاسم احمد الطبراني)
16-کتاب الکاشف ( حافظ زهبی الدمشقي)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 دختر رسول فاطمةالزھراءؑ کے بارے میں پوسٹس۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/432
🔶 شہادت سیدہ زھراءؑ، تجہیز و تدفین
https://t.me/islamwitheman/301
🔶 شہادت بیبی زهراءؑ بزبان رسول اکرمؐ
https://t.me/islamwitheman/305
🔶 بوقت دفن بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/306
🔶 دختر رسول (ص)
https://t.me/islamwitheman/312
🔶 وصیت حضرت فاطمةالزھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/313
🌹 بیبی زھراءؑ کے ہار کی برکتیں
https://t.me/islamwitheman/314
🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318
🔶 حضرت فاطمةالزھراءؑ کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/319
🌺 ولادت باسعادت حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/431
🌹 فضیلت سیدہ فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/436
🌹 حضرت فاطمہؑ کا نام گرامی
https://t.me/islamwitheman/437
🌟 اُمُّ اَبِیھا
https://t.me/islamwitheman/446
🌷 فضائل حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/449
🌹 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ
http://t.me/islamwitheman/3676
🌷 نور کی نور سے شادی
http://t.me/islamwitheman/3677
🌹 خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ
http://t.me/islamwitheman/3678
💐 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز
http://t.me/islamwitheman/3679
⚪ سیدہ زھراءؑ کی رخصتی مبارک
http://t.me/islamwitheman/3760
💝 حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی
http://t.me/islamwitheman/3762
🌹 حضرت فاطمہ زھراءؑ 40 احادیث
https://t.me/islamwitheman/2252
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
سیدہ خاتون جنت سلام اللہ علیها کی سب سے زیادہ حیرت انگیز کنیت ام ابیھا ھے، یعنی (اپنے باپ کی ماں)،
یہ لقب اس بات کا ترجمان ھے کہ آپ اپنے والد بزرگوار کو بے حد چاھتی تھیں اور کمسنی کے باوجود اپنے بابا کی روحی اور معنوی پناہ گاہ تھیں.
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو ام ابیھا کا لقب اس لئے دیا کیونکہ عربی میں اس لفظ کے معنی، ماں کے علاوہ اصل اور مبداء کے بھی ھیں یعنی جڑ اور بنیاد۔ لھذا اس لقب (ام ابیھا) کا ایک مطلب نبوت اور ولایت کی بنیاد اور مبداء بھی ہے۔ کیونکہ یہ آپ ھی کا وجود تھا، جس کی برکت سے شجرہٴ امامت اور ولایت نے رشد پایا، جس نے نبوت کو نابودی اور نبی خدا کو ابتریت کے طعنہ سے بچایا.
ذیل میں ان علماء و محدثین اہلسنت کے نام دیئے جا رهے هیں. جنہوں نے اپنی کتب میں جناب سیدہ سلام اللہ علیها کے اس خصوصی لقب کا تذکرہ کیا هے....!!!
1-الإصابة (حافظ ابن حجر عسقلانى)
2-الاسیعاب ( حافظ ابن عبد البر اندلسی)
3-اسد الغابة (حافظ ابن اثیر الجزري)
4-سیر العلام النبلاء (حافظ زهبی دمشقی)
5-تهزیب التهزیب ( حافظ ابن حجر عسقلانى)
6-تاریخ الإسلام ( حافظ زهبی دمشقی)
7-امتاع لاسماع (المقریزی)
8-عمدة القارئ شرح صحيح البخاري (بدر الدین عینی)
9-البداية والنهاية فی التاريخ (حافظ ابن کثیر دمشقی)
10-مجمع الزوائد (حافظ نور الدين علی الهیثمی)
11-مناقب علی ابن ابی طالب (حافظ ابو الحسن بن محمد الواسطی)
12-منتخب من کتاب زیل المزیل ( محمد بن جرير الطبري)
13-تاريخ المدينة و دمشق (حافظ ابن عساکر)
14-عقیدہ فی اہلبیت (حافظ سلمان ن سالم)
15-المعجم الكبير (حافظ ابی القاسم احمد الطبراني)
16-کتاب الکاشف ( حافظ زهبی الدمشقي)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 دختر رسول فاطمةالزھراءؑ کے بارے میں پوسٹس۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/432
🔶 شہادت سیدہ زھراءؑ، تجہیز و تدفین
https://t.me/islamwitheman/301
🔶 شہادت بیبی زهراءؑ بزبان رسول اکرمؐ
https://t.me/islamwitheman/305
🔶 بوقت دفن بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/306
🔶 دختر رسول (ص)
https://t.me/islamwitheman/312
🔶 وصیت حضرت فاطمةالزھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/313
🌹 بیبی زھراءؑ کے ہار کی برکتیں
https://t.me/islamwitheman/314
🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318
🔶 حضرت فاطمةالزھراءؑ کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/319
🌺 ولادت باسعادت حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/431
🌹 فضیلت سیدہ فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/436
🌹 حضرت فاطمہؑ کا نام گرامی
https://t.me/islamwitheman/437
🌟 اُمُّ اَبِیھا
https://t.me/islamwitheman/446
🌷 فضائل حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/449
🌹 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ
http://t.me/islamwitheman/3676
🌷 نور کی نور سے شادی
http://t.me/islamwitheman/3677
🌹 خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ
http://t.me/islamwitheman/3678
💐 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز
http://t.me/islamwitheman/3679
⚪ سیدہ زھراءؑ کی رخصتی مبارک
http://t.me/islamwitheman/3760
💝 حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی
http://t.me/islamwitheman/3762
🌹 حضرت فاطمہ زھراءؑ 40 احادیث
https://t.me/islamwitheman/2252
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
رسولِخداؐ نے فرمایا:
میں، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ اور ان کے نو فرزند خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں. ہمارے دشمن خدا کے دشمن اور ہمارے دوست خدا کے دوست ہیں. (بشارةالمصطفیٰ،ص:24)
میں، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ اور ان کے نو فرزند خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں. ہمارے دشمن خدا کے دشمن اور ہمارے دوست خدا کے دوست ہیں. (بشارةالمصطفیٰ،ص:24)