ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌺 حقیقی سہیلی 🌺

اس کے گھر میں کچھ چیزیں حیران و پریشاں کر دینے والی تھیں۔ سب سے زیادہ پریشان کر دینے والی بات یہ تھی کہ قرآن کا ایک نسخہ کچن میں رکھا تھا جس پر تیل کے نشانات نمایاں تھے۔ اسے بار بار جیسے گیلے ہاتھوں سے پکڑا گیا ہو۔ دوسرا نسخہ باہر باغیچہ کے ایک کونے میں لگی تختی پر رکھا تھا۔ اس کے اوراق بھی پس مردہ سے تھے۔ ایک نسخہ اس کے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر تھا۔ تو ایک لاوئچ میں۔ یقینا کئی دفعہ پیٹھ ہو جاتی ہو گی۔بے ادبی ہوتی ہوگی۔ اسے ذرہ احساس نہیں۔ دل میں غبار سا اٹھا چہرہ متغیر ہو گیا۔

اس نے شاید بھانپ لیا تھا تبھی بولی: دراصل بچے چھوٹے ہیں اور بڑا خاندان ہے۔ بے تحاشا مصروفیات میں ایک جگہ بیٹھ کر قرآن سے استفادہ کا موقع نہیں ملتا۔ اس لئے جگہ جگہ قرآن رکھ دیئے ہیں جہاں ذرا گنجائش ملتی ہے، اٹھا کر پڑھ لیتی ہوں۔
دراصل باجی مسئلے بھی تو دن میں ہزاروں طرح کے پیش آتے ہیں اور حل اسی میں ملتا ہے۔

میں کچھ سمجھ نہیں پائی ۔۔۔

وہ گویا ہوئی: باجی اللہ نے قرآن کریم میں ہر مسئلے کا حل بتایا ہے۔ یہ بات میرے ابا نے مجھے بتائی تھی۔ انھوں نے کہا اس سے دوستی کر لو۔ ہر معاملے میں اس سے پوچھا کرو۔ یہ کتاب تمھیں جواب دے گی۔ تمھارا ہر مسئلہ حل کرے گی۔ بس یہی سہیلی ہے میری اسی سے پوچھتی ہوں سب کچھ اور یہ کتاب ہر مسئلہ کا حل بتا دیتی ہے۔

کئی مسئلے چند آیات ہی سے سلجھ جاتے ہیں۔ ان آیات پر میں نے ریڈ مارکنک کی ہوئی ہے۔ جب مسئلہ پیش آئے تو ان ساری آیات کو جلدی سے کنگال لیتی ہوں۔ کبھی زیادہ وقت بھی لگتا ہے۔اور کبھی کھولتے ہی میرے مسئلے کا حل سامنے مل جاتا ہے۔ تب میرے آنسو بہنے لگتے ہیں رب کی محبت میں۔

بس اسی لئے ان نسخوں کی یہ حالت ہے۔ مثلا کل ہی میری نند آئی ہوئی تھی۔ کھانا کھلا کر کچن کی طرف جا رہی تھی کہ اس کی کچھ باتیں کانوں میں پڑیں۔ غصے سے بری حالت ہوئی۔ اتنی مشقت اور پھر یہ جزا۔ ایسے میں کیا کروں۔ قرآن کھولا۔ ایک آیت سامنے تھی۔ برائی کو اس نیکی سے رفع کرو جو بہترین ہو۔ کل ہی اپنے لئے بندے لائی تھی۔ جا کر نند کو پہنا دیئے۔ اس کی حالت دیکھنے والی تھی۔ وہ کچھ دیر دیکھتی رہی۔ پھر رو پڑی۔ میں نے اسے گلے لگا لیا۔ بولی بھابھی سسرال میں منفی ماحول نے منفی بنا دیا ہے۔ معاف کر دینا مجھے۔ آپ واقعی بہت اچھی بھابھی ہیں بہنوں سے بھی بڑھ کر۔ اللہ تمھیں خوش رکھے۔ آباد رکھے۔ عجیب سرشاری عطا ہوئی۔۔۔

آج جب آپ آئے میں کھانا بنا چکی تھی۔ دل میں خیال آیا کیسے پورا ہو گا اتنے میں۔ قران کھولا لکھا تھا۔ اگر شکر کرو گے تو میں بڑھا دوں گا۔میں نے پریشانی ہٹا کر شکر ادا کیا۔ فریج میں دیکھا مٹر رکھے ہیں۔ چاول نکالنے لگی کہ پڑوس سے بریانی کی ڈش آگئی۔ میاں آفس سے آتے حلیم ساتھ لیتے آۓ یعنی اللہ نے فوراً ہی مسئلہ حل کیا اور بندوبست کر دیا۔

بس باجی ہر مشکل لمحے میں میرا رجوع اسی کی طرف ہوتا ہے۔ کووڈ میں میاں کا کام چھوٹ گیا۔ بڑی پریشانی ہوئی۔ قران کھولا تو لکھا تھا استغفار کرو بدلے میں تمھیں بارش بھی دونگا۔مال اور اولاد کو بڑھاؤں گا اور باغات اور نہریں عطا کروں گا۔ میں تو حیران رہ گئی۔ استغفار کے اتنے بڑے فائدے۔ سب گھر والوں کو جمع کیا ایک دوسرے سے معافی تلافی کی۔ پھر سوچ سوچ کر ہر اس شخص سے معافی مانگی۔ جس سے گمان تھا کہ ہم نے کوئی زیادتی کی ہوگی۔ ساتھ ہی زبان سے بھی استغفرُاللہ کہتے رہے۔ سید الاستغفار کا بھی ورد رہا۔ آپ یقین جانو تین دن کے اندر ہی اس کے اثرات ظاہر ہوۓ۔ ایک خاندان سے عرصے سے ناراضگی تھی۔ معافی تلافی کے بعد وہ سب گھر آئے، باتوں باتوں میں اس نے لیدر کمپنی کی پوسٹ خالی ہونے کا ذکر کیا، ان کے تجربے کی بنیاد پر تین گنا تنخواہ اور کئی سہولیات کے ساتھ ان کی جاب پکی ہو گئی۔ اور ناراض لوگوں کے راضی ہونے سے جو سکون اترا اسکا تو اندازہ ہی نہیں کئی برکتوں کی بارش اور خوشیوں کے باغ گویا ہاتھ آگئے۔

وہ بہت سادگی سے قرآن کو سینے سے محبت سے لگائے بتاتی جا رہی تھی اور میں شرمندہ تھی۔ آج تک قرآن سے ایسا سہیلی والا تعلق نہ تو بنا تھا۔اور نہ ہی ایسی رہنمائی میسر تھی۔ اب دل کا غبار ندامت میں ڈھلا تو آنسؤوں کی صورت بہنے لگا۔۔ کاش قرآن کے ظاہری رکھ رکھاؤ جتنی ہی توجہ اسکی روح اور اصل پیغام پر دی ہوتی تو قرب میرے نصیب میں بھی ہوتا۔ اور دکھوں کی گٹھڑیاں آج اٹھائے نہ پھر رہی ہوتی۔ میں مقدس جان کر اس کے اصل پیغام سے ہی محروم ہو گئی۔

✍ آسیہ عمران

https://t.me/islamwitheman/4091
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 سورہ لقمان کے فوائد اور برکات 🌹

تمام اندرونی بیماریوں کے علاج کے لیے۔۔۔

پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے آپ نے فرمایا:
اگر کوئی سورہ لقمان کو لکھے اور لکھنے کے بعد اس کو دھو لے اور اس پانی کو پی لے تو ہر قسم کی اندرونی بیماری ختم ہوجائے گی اور ہر مرد اور عورت کہ جس کے جسم کے اندرونی اندام سے کہیں سے خون باہر آ رھا ہو اگر سورہ لقمان کو لکھ کر اس جگہ پر باندھے تو خون ریزی ختم ہو جائے گی۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے آپ نے فرمایا:
اگر کوئی سورہ لقمان کو لکھے اور پھر اس کو پانی سے دھو لے اور اس پانی کو اس مرد اور خاتون کو پلائے جو اندرونی درد میں مبتلا ہوں تو ان کا بخار وغیرہ اور ہر قسم کی آزار و تکلیف پہنچانے والی بیماری بھی برطرف ہو جائے گی۔

📚 درمان با قرآن صفحہ 72۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌷 دوست یا مددگار؟ 🌷

ایک شخص نے بچھڑا ذبح کیا اور اسے پکا کر اپنے بھائی سے کہا کہ ہمارے دوستوں اور پڑوسیوں کو دعوت دو تاکہ وہ ہمارے ساتھ اس کھانے میں شامل ہو سکیں۔

اس کے بھائی نے باہر جا کر محلہ داروں اور راہگیروں کو پکار کر کہا: اے لوگو! ہماری مدد کرو میرے بھائی کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے کچھ لوگوں کا ایک چھوٹا سا مجمع نکلا باقی لوگ کام میں لگے رہے جیسے انہوں نے کچھ سنا ہی نہ ہو...

وہ لوگ جو کہ آگ بجھانے میں مدد کو آئے تھے انہوں نے سیر ہو کر کھایا پیا.

تو وہ شخص اپنے بھائی کی طرف تعجب سے دیکھ کر کہنے لگا: یہ جو لوگ آئے تھے میں ان میں سے سب کو تو نہیں پہچانتا اور نہ میں نے پہلے ان کو دیکھا ہے پھر ہمارے دوست احباب کہاں ہیں؟

بھائی نے جواب دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے کام وغیرہ کو چھوڑ کر ہمارے گھر میں لگی آگ بجھانے میں ہماری مدد کو آئے تھے نہ کہ دعوت میں۔
اس لیے یہی لوگ مہمانی اور مہربانی کے مستحق ہیں۔

🔘 قصے سے سبق یہ ملا کہ جس کو تکلیف کے وقت اپنے اردگرد نہ پائیں اس کو دوست، بھائی یا پڑوسی نام مت دیں۔ اور جو تنگی کے وقت آپ پر ہنسے وہ آپ کی جانب سے محبت اور اہتمام کا مستحق نہیں ہے۔

https://t.me/islamwitheman/2260
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👈 پوسٹ دیکھنے کے لیے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔

🌹 ولادت باسعادت سکینہؑ
https://t.me/islamwitheman/3046

🌹 ولادت باسعادت بیبی سکینہؑ
https://t.me/islamwitheman/3047
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 سہارے کھوکھلا کرتے ہیں 🔷

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو ایک بوڑھے دربان کو دیکھا
جو محل کے صدر دروازے پے پُرانی اور باریک وردی میں پہرا دے رہا تھا،
بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رُکوایا اور اس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا: "سردی تو نہیں لگ رہی؟"

دربان نے جواب دیا: بہت لگتی ہے حضور۔ مگر کیا کروں، گرم وردی ہے ہی نہیں میرے پاس، اس لئے برداشت کرنا پڑتا ہے۔"

میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا کوئی گرم جوڑا بھیجتا ہوں تمہیں۔"
بادشاہ نے اس کو کہا

دربان نے خوش ہو کر بادشاہ کو فرشی سلام کیا اور بہت زیادہ تشکّر کا اظہار کیا۔

لیکن بادشاہ جیسے ہی گرم محل میں داخل ہوا، دربان کے ساتھ کیا ہوا وعدہ بھول گیا۔

صبح دروازے پر اس بوڑھے دربان کی اکڑی ہوئی لاش ملی اور قریب ہی مٹی پر اس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی گئی یہ تحریر بھی...

🔹 بادشاہ سلامت:
میں کئی سالوں سے سردیوں میں اسی نازک وردی میں دربانی کر رہا تھا۔
مگر رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال لی۔"

✨ سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔

✨ اسی طرح امیدیں کمزور کر دیتی ہیں اپنی طاقت کے بل بوتے جینا شروع کیجیے۔

💝 سہاروں کی بیساکھیاں پھینک کر اپنی طاقت آزمائیں۔

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 اللہ کی طرف سے ڈھیل 🔷

ابو جان ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ کسی قبرستان میں ایک شخص نے رات کے وقت نعش کیساتھ زنا کیا۔

بادشاہ وقت ایک نیک صفت شخص تھا اسکے خواب میں ایک سفید پوش آدمی آیا اور اسے کہا کہ فلاں مقام پر فلاں شخص اس گناہ کا مرتکب ہوا ہے، اور اسے حکم دیا کہ اس زانی کو فوراً بادشاہی دربار میں لا کر اسے مشیر خاص کے عہدے پر مقرر کیا جائے۔

بادشاہ نے وجہ جاننی چاہی تو فوراً خواب ٹوٹ گیا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا۔

بہر حال
سپاہی روانہ ہوئے اور جائے وقوعہ ہر پہنچے، وہ سخص وہیں موجود تھا۔۔
سپاہیوں کو دیکھ کر وہ بوکھلا گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ اسکی موت کا وقت آن پہنچا ہے۔۔

اسے بادشاہ کے سامنے حاضر کیا گیا۔ بادشاہ نے اسے اسکا گناہ سنایا اور کہا:
آج سے تم میرے مشیر خاص ہو۔

دوسری رات بادشاہ کو پھر خواب آیا۔
تو بادشاہ نے فوراً اس سفید پوش سے اس کی وجہ پوچھی کہ ایک زانی کیساتھ ایسا کیوں کرنے کا کہا آپ نے؟؟

سفید پوش نے کہا:
اللّٰہ کو اسکا گناہ سخت نا پسند آیا، چونکہ اسکی موت کا وقت نہیں آیا تھا اسی لیے تم سے کہا گیا کہ اسے مشیر بنا لو، تاکہ وہ عیش میں پڑ جائے اور کبھی اپنے گناہ پر نادم ہو کر معافی نا مانگ سکے۔ کیوں کہ اسکی سزا آخرت میں طے کر دی گئی ہے۔ مرتے دم تک وہ عیش میں غرق رہے گا، اور بلکہ خوش بھی ہوگا کہ جس گناہ پر اسے سزا دی جانے چاہیے تھی اس گناہ پر اسے اعلیٰ عہدہ مل گیا۔۔
سو اسے گمراہی میں رکھنا مقصد تھا۔۔

ابو اٹھے میرے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہا بیٹا۔۔
جب گناہوں پر آسانی ملنے لگے تو سمجھ لینا آخرت خراب ہو گئی۔ اور توبہ کے دروازے بند کر دیے گئے تم پر۔۔

میں سن کر حیران رہ گیا۔۔ اپنے گریباں میں اور آس پاس نگاہ دوڑائی۔
کیا آج ایسا نہیں ہے؟؟
بار بار گناہوں کا موقع ملتا ہے ہمیں اور کتنی آسانی سے ملتا ہے اور کوئی پکڑ نہیں ہوتی ہماری۔ ہم خوش ہیں۔ عیش میں ہیں۔۔

سچ کا راستہ دشوار ہوتا ہے اس میں بے شمار تکلیفیں ہونگی، آزمائشیں، مصیبتیں سب ہونگی مگر گناہ کا راستہ ہمیشہ ہموار ہوگا۔۔
خدا ہم سب کو ہدایت دے۔
آمین یارب العالمین۔۔۔

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 بادشاہوں کی قدرت و طاقت 🔷

ایک غلام بادشاہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور یہ دیکھ رہا تھا کہ بادشاہ کو نیند آ رہی ہے اور وہ بار بار اونگھ رہا ہےاپنی آنکھیں بند کرتا ہی ہے کہ ایک مکھی اس کے ناک پر آ کر اسکو نیند سے جگا دیتی ہے، جس سے بادشاہ سخت پریشان ہو رہا ہے اسکو بار بار خود سے دور کرتا ہے لیکن وہ ہر بار گھوم پھر کر اسکے ناک پر بیٹھ جاتی ہے۔

تھوڑی دیر بعد بادشاہ غلام سے پوچھتا ہے کہ کیا تم بتا سکتے ہو کہ اس مکھی کو خدا نے کیوں خلق کیا۔؟ اسکو خلق کرنے کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔؟

غلام نے کہا:
خداوند نے مکھی کو اس لئے خلق کیا تاکہ قدرتمند لوگ یہ بات اپنے ذہن میں ڈالیں کہ جس قدرت و طاقت پر وہ ناز کرتے پھرتے ہیں اسکا زور بعض اوقات ایک مکھی تک بھی نہیں چلتا۔۔۔!

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 خالق کائنات کی احسن تقویم 🔷

آپ گوگل سے کوئی سوال کرتے ہیں...
وہ سوال کے جواب سے پہلے آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے سوال کے دو کروڑ پانچ لاکھ بیس ہزار جواب صفر اعشاریہ چھ پانچ سیکنڈز میں حاضر ہیں.
اس وقت کو جو گوگل جواب کی تلاش میں استعمال کرتا ہے سرور رسپانس ٹائم کہتے ہیں.

گوگل دنیا کے جدید ترین زی اون سرور اور جدید ترین لینکس ویب سرور آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتا ہے.
اس سسٹم نے صرف موجود معلومات کو جواب کی مناسبت سے میچ کر کے آپ کے لیے لائن اپ کرنا ہوتا ہے.
اور وہ اس کام کے لیے آدھے سیکنڈ سے ایک سیکنڈ کا وقت استعمال کرتا ہے اور بڑے فخر سے جواب سے پہلے آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے لیے میں نے یہ جواب چھ سو پچاس ملی سیکنڈز میں تلاش کیا ہے.

اب ہم کمپیوٹر کی سکرین سے کرکٹ کے میدان میں چلتے ہیں.

شعیب اختر یا بریٹ لی باؤلنگ کرا رہے ہیں.
گیند ایک سو پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھینکی گئی ہے.
وکٹ کی لمبائی بیس اعشاریہ ایک دو میٹر ہے.
ایک اینڈ سے دوسرے اینڈ تک پہنچنے میں بال کو چار سو اسی ملی سیکنڈز لگیں گے.
جبکہ جہاں بیٹسمین کھڑا ہے انیس میٹر کے فاصلے پر ، چار سو پچاس ملی سیکنڈز لگتے ہیں.

اب فرض کریں کہ گیند شارٹ آف لینتھ ہے تو وکٹ کے نصف کے قریب ٹپہ دیا گیا ہے.
جب بیٹسمین کو احساس ہوتا ہے کہ یہ باؤنسر ہے اور وہ بیٹھ جاتا ہے
تا کہ باؤنسر سر کے اوپر سے گزر جائے.
اس وقت اس کے پاس صرف دو سو پچیس ملی سیکنڈز یعنی ایک سیکنڈ کا قریب ایک چوتھائی وقت بچتا ہے.

اس ایک چوتھائی سیکنڈ سے بھی کم وقت میں انسانی جسم کیا کیا افعال سر انجام دیتا ہے،
آئیے اس کا ہلکا سا اندازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

سب سے پہلے آنکھ نے ابھرتے ہوئے گیند کی پردہ بصارت پر شبیہ بنائی جو کہ الٹی ہے یعنی اپ سائیڈ ڈاون.
دماغ نے سب سے پہلے اس شبیہ کو سیدھا کر کے سمجھا کہ باؤنسر آ رہا ہے.
پھر اس نے فیصلہ کیا کہ اس باؤنسر کی سمت شاٹ لگانے کے لیے درست نہیں لہذا مجھے بیٹھ جانا چاہیے.
اس فیصلے کے بعد دماغ کے چھیاسی ارب نیورونز میں سے ایک حصے میں موجود لاکھوں نیورونز نے اپر موٹر نیورونز کو پروپریوسیپشن کا حکم دیا.
پروپریوسیپشن وہ عمل ہے جس میں انسانی ذہن جسم کے عضلات کو حرکت دینے سے پہلے ان کی درست جگہ کا تعین کرتا ہے کہ کون سا مسل کس پوزیشن پر اور کتنے کھچاؤ میں ہے.

جسم کے سارے چھ سو مسلز کے کروڑوں مسل فائبرز کی درست جگہ اور کھچاؤ کی معلومات دماغ کو پہنچا دی گئیں.
تب اس نے ساڑھے چار سو کے قریب عضلات کی لاکھوں مسل فائبر کو اپنی جگہ سے سکڑنے یا پھیلنے کیلئے کروڑوں سگنلز اپر موٹر نیورونز کو فراہم کیے.
اپر موٹر نیورونز نے یہ سارے سگنلز حرام مغز کو پہنچا دیے.
حرام مغز نے لوئر موٹر نیورونز کے ذریعے ساڑھے چار سو مسلز کے لاکھوں مسل فائبرز کو علیحدہ علیحدہ ھدایت جاری کیں
جو سارے سسٹم سے ہوتے ہوئے آخری سرے ایکسون پر پہنچی جس نے ایک کیمکل acetylcholine. ایسی ٹائیلکولین پیدا کیا.
جس نے مسل نیورونز جنکشن پر عمل کر کے مسلز کو مطلوب کھچاؤ فراہم کر دیا.

یاد رہے کہ لاکھوں میں سے ہر مسل فائبر کے مسل نیورونز جنکشن پر ایسی ٹائیلکولین کی مقدار طلب کے حساب سے مختلف پیدا کی گئی.

ایک بار کے سگنلز کے بعد دوبارہ
"سینسری فیڈ بیک" لی گئی کہ جسم غیر متوازن ہو کر گر نہ جائے.
پھر اس فیڈ بیک کی روشنی میں نئے سرے سے "پاسچورل ایڈجسٹمنٹ" کی گئی۔۔۔
اس سارے عمل کو جانے کتنی بار دہرایا گیا
جب بیٹسمین بیٹنگ پوزیشن سے بیٹھی ہوئی حالت میں پہنچا.
اور یہ سارے کروڑوں نہیں اربوں عوامل ایک سیکنڈ کے ایک چوتھائی سے بھی کم عرصے میں بخیر انجام پائے.

خدائے بزرگ و برتر کی قسم آپ خود کو ٹھیک سے نہیں جانتے.
آپ ہیومین نہیں سپر ہیومین ہیں.

اس کائنات کے خالقِ کل کی احسن تقویم….

اپنی صلاحیتوں کا درست ادراک کیجیے…
اٹھیے اپنی توانائیوں کو درست سمت میں استعمال کریں.

سبحان اللہ العظیم وبحمدہ
فبا ی الائ ربکما تکذبان

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 جاد اللہ القرآنی 🔷

یہ تقریباً 1957ء کی بات ہے، فرانس میں ایک رہائشی عمارت کی نکڑ میں ترکی کے ایک آدمی نے چھوٹی سی دکان بنا رکھی تھی۔ لوگ اس کو "انکل ابراہیم" کے نام سے جانتے تھے۔ انکل ابراہیم کی دکان میں گھریلو ضروریات کے علاوہ بچوں کی چاکلیٹ وغیرہ بھی دستیاب تھیں۔

اسی عمارت کی ایک منزل پر ایک یہودی خاندان آباد تھا جن کا ایک سات سالہ بچہ (جاد) تھا۔ جاد تقریباً روز ہی انکل ابراہیم کی دکان پر آتا تھا اور دکان سے جاتے ہوئے کبھی بھی ایک چاکلیٹ چوری کرنا نہ بھولی تھی۔

ایک بار جاد دکان سے جاتے ہوئے چاکلیٹ چوری کرنا بھول گیا۔ انکل ابراہیم نے جاد کو آواز دیتے ہوئے کہا: "جاد! آج چاکلیٹ نہیں اُٹھاؤ گے کیا؟"

انکل ابراہیم کی یہ بات جاد کیلئے ایک صدمے سے بڑھ کر تھی۔ جاد آج تک یہی سمجھتا تھا کہ اس کی چوری ایک راز تھی۔ جاد نے گڑگڑاتے ہوئے انکل ابراہیم سے کہا کہ "آپ مجھے معاف کر دیں، تو آئندہ میں کبھی بھی چوری نہیں کرونگا۔"

مگر انکل ابراہیم نے جاد سے کہا:
"اگر تم وعدہ کرو کہ اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی کی چوری نہیں کرو گے تو روزانہ کا ایک چاکلیٹ میری طرف سے تمہارا ہوا، ہر بار دکان سے جاتے ہوئے لے جایا کرنا۔"

اور بالآخر اسی بات پر جاد اور انکل کا اتفاق ہو گیا۔

وقت گزرتا گیا اور اس یہودی بچے جاد اور انکل ابراہیم کی محبت گہری ہوتی چلی گئی۔ بلکہ ایسا ہو گیا کہ انکل ابراہیم ہی جاد کیلئے باپ، ماں اور دوست کا درجہ اختیار کر چکا تھا۔ جاد کو جب کبھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا یا پریشانی ہوتی تو انکل ابراہیم سے ہی کہتا، ایسے میں انکل میز کی دراز سے ایک کتاب نکالتے اور جاد سے کہتے کہ کتاب کو کہیں سے بھی کھول کر دو۔ جاد کتاب کھولتا اور انکل وہیں سے دو صفحے پڑھتے، جاد کو مسئلے کا حل بتاتے، جاد کا دل اطمینان پاتا اور وہ گھر کو چلا جاتا۔

اور اسی طرح سترہ سال بعد جب جاد چوبیس سال کا ہو گیا تو انکل ابرہیم سڑسٹھ سال کی عمر میں وفات پا گئے۔

اُنہوں نے اپنے بیٹوں کے پاس جاد کیلئے ایک صندوقچی چھوڑی تھی، اُن کی وصیت تھی کہ مرنے کے بعد یہ یہودی نوجوان جاد کو دیدی جائے۔

جاد کو جب انکل کے بیٹوں نے صندوقچی دی اور اپنے والد کے مرنے کا بتایا تو جاد بہت غمگین ہوا، کیونکہ انکل ہی تو اسکے غمگسار اور مونس تھے۔ جاد نے صندوقچی کھول کر دیکھی تو اندر وہی کتاب تھی جسے کھول کر وہ انکل کو دیا کرتا تھا۔

ایک دن جاد کو کسی پریشانی نے آ گھیرا، "آج انکل ہوتے تو وہ اُسے کتاب کھول کر دو صفحے پڑھتے اور مسئلے کا حل سامنے آجاتا" جاد کے ذہن میں انکل کا خیال آیا اور اُس کے آنسوؤں نکل آئے۔

"کیوں ناں آج میں خود کوشش کروں۔" لیکن کتاب کی زبان اور لکھائی اُس کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ کتاب اُٹھا کر اپنے تیونسی عرب دوست کے پاس گیا اور اُسے کہا کہ "مجھے اس میں سے دو صفحے پڑھ کر سناؤ"

مطلب پوچھا اور اپنے مسئلے کا اپنے تئیں حل نکالا۔ واپس جانے سے پہلے اُس نے اپنے دوست سے پوچھا: "یہ کیسی کتاب ہے؟"

تیونسی نے کہا: "یہ ہم مسلمانوں کی کتاب قرآن ہے۔"

جاد نے پوچھا: "مسلمان کیسے بنتے ہیں؟"

تیونسی نے کہا:
"کلمہ شہادت پڑھتے ہیں اور پھر شریعت پر عمل کرتے ہیں۔"

جاد نے کہا:
"تو پھر سن لو میں کہہ رہا ہوں أَشْهَدُ أَنّ لَّا إِلَٰهَ إِلَّإ الله و أَشْهَدُ ان محمد رسول الله"

جاد مسلمان ہو گیا اور اپنے لئے "جاد اللہ القرآنی" کا نام پسند کیا۔ جاد اللہ نے قرآن کی تعلیم حاصل کی، دین کو سمجھا اور اور اس کی تبلیغ شروع کر دی۔

یورپ میں اس کے ہاتھ پر چھ ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ ایک دن پرانے کاغذات دیکھتے ہوئے جاد اللہ کو انکل ابراہیم کے دیئے ہوئے قرآن میں دنیا کا ایک نقشہ نظر آیا جس میں براعظم افریقہ کے اردگرد لکیر کھینچی ہوئی تھی اور انکل کے دستخط کیے ہوئے تھے۔ ساتھ میں انکل کے ہاتھ سے ہی یہ آیت کریمہ لکھی ہوئی تھی:
"ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة"
"اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ"

جاد اللہ کو ایسا لگا جیسے یہ انکل کی اس کیلئے وصیت ہو۔ اور اسی وقت جاد اللہ نے یورپ کو خیرباد کہہ کر کینیا، سوڈان، یوگنڈہ اور اس کے آس پاس کے ممالک کو اپنا مسکن بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ انسانوں کو دین اسلام کی روشنی سے نوازا۔

جاد اللہ نے افریقہ کے کٹھن ماحول میں اپنی زندگی کے تیس سال گزار دیئے۔ 2003ء میں افریقہ میں پائی جانے والی بیماریوں میں گھر کر محض چون (54) سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی کو جا ملے۔

جاد اللہ کی محنت کے ثمرات ان کی وفات کے بعد بھی جاری رہے۔ وفات کے ٹھیک دو سال بعد ان کی ماں نے ستر سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔

🔘 کیا ہم میں سے کسی مسلمان کا اخلاق و عادات و اطوار و کردار "انکل ابراہیم"جیسا ہے کہ کوئی غیر مسلم جاد ہم سے متاثر ہو کر "جاد اللہ القرآنی" بن سکے۔

http://t.me/islamwitheman/302
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🍛 کونڈے اور عوامی غلط فہمیاں 🍛

نیاز امام جعفر صادق علیہ السلام (کونڈے کی رسم) کے بارے چند عوامی غلط فہمیاں اور انکی اصلاح۔۔۔

❶ کونڈے کی نیاز کو گھر سے باہر لے جانا بالکل جائز ہے اور اس کام کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔

❷ کوئی خاتون اگر حالت حیض میں ہے تب بھی وہ یہ نیاز بنا بھی سکتی ہے اور کھا بھی سکتی ہے۔

❸ نیاز امام صادق علیہ السلام ماہ رجب میں اور اس کے علاوہ پورے سال میں کبھی بھی بنائی اور کھلائی جا سکتی ہے، یہ 22 رجب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔

❹ گو کہ پہلے زمانے کے مؤمنین نیاز امام صادق علیہ السلام کونڈے میں رکھ کر پیش کرتے تھے لیکن ایسا کرنا کوئی شرعی حکم نہیں ہے بالکل بھی ضروری نہیں ہے۔

❺ نیاز میں کچھ بھی پکایا جا سکتا ہے صرف میٹھی پوڑیاں پکانا ضروری نہیں، مچھلی پر بھی نیاز دی جا سکتی ہے۔
نوٹ: معصومین علیہم السلام نے کبھی بھی نیاز وغیرہ میں کسی مخصوص کھانے کو پکانے یا کسی کھانے کو نہ پکانے سے منع نہیں کیا۔

❻ ضروری نہیں کہ نیاز کو ساری رات میں ہی پکائیں اور پھر دن میں کھلائیں بلکہ دن میں بھی بنا کہ کھلائی جا سکتی ہے۔

❼ نیاز امام صادق علیہ السلام پر لکڑ ہارے کی من گھڑت کہانی کو پڑھنا بالکل بھی درست نہیں بلکہ یہ کہانی چونکہ من گھڑت ہے اور کسی بھی مستند شیعہ کتاب میں موجود نہیں ہے لہذا اسکو ہر گز نہ پڑھا جائے اور اسکے برعکس مستند کتابوں میں موجود معصومین علیہم السلام کے مستند واقعات کو ہی پڑھا جائے۔

❽ نیاز پر جو ختم دلایا جاتا ہے اس میں مستند واقعات کے ساتھ ساتھ تلاوت قرآن، حدیث کساء اور دعا توسل وغیرہ کو پڑھا جائے اور مؤمنین کی صحت و سلامتی کی دعائیں کی جائیں...

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/3057
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس ۔۔۔۔

🍛 کونڈوں کی نیاز
https://t.me/islamwitheman/3058

🌸 نذر و نیاز امام جعفر صادقؑ
https://t.me/islamwitheman/3059

🔵 کونڈے اور لکڑہارے کا واقعہ
https://t.me/islamwitheman/3060

🌸 نذر و منت
https://t.me/islamwitheman/3061

🍛 کونڈے
https://t.me/islamwitheman/3062

🍛 کونڈے اور عوامی غلط فہمیاں
https://t.me/islamwitheman/4110

🔷 کونڈے اہلسنت کی نظر میں
https://t.me/islamwitheman/4671
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 اسلام میں سیر و تفریح 🔷

زمین کے مختلف خطوں میں گذشتہ لوگوں کے جو نشانات قدیم ادوار سے باقی ہیں، وہ زندہ اسناد اور بولنے والی تاریخ ہیں۔ یہاں تک کہ ہم ان کے متعلق لکھی ہوئی تاریخ کی نسبت ان سے زیادہ بہرہ ور ہو سکتے ہیں کیونکہ ان نشانات سے ہم ان اقوام کی جسمانی ساخت، ان کا زاویہ فکر اور ان کی قدرت و عظمت کو بآسانی جان سکتے ہیں جبکہ صفحات تاریخ صرف وقوع پذیر واقعات کی تصویر کشی کرتے ہیں۔

ستمگروں کے محلات کی ویرانی، اہرام مصر کی تعجب خیز عمارتیں، بابل کے برج، کسریٰ کے محل، قوم سبا کے آثار تمدن اور اس طرح کی بیسیوں نشانیاں جو اس عالم کے گذشتہ و کنار میں بکھری پڑی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نشانی زبان حال سے ان لوگوں کی تاریخ بیان کرتی ہے اور بے زبانی کی زبان میں باتیں کرتی ہے۔

یہ حقیقت اس وقت آشکار ہو جاتی ہے جب کوئی نکتہ سنج شاعران محلات کے خرابوں میں جا کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنی روح میں ایک اضطراب محسوس کرتا ہے اور ہیجان انگیز اشعار کہتا ہے، جیسا کہ خاقانی اور دوسرے عالمی شہرت یافتہ شعراء نے کسریٰ وغیرہ کے ٹوٹے پھوٹے محلات کے اندر سے یہ آوازیں دل کے کانوں سے سنی ہیں اور انہیں ادبی شاہکاروں کی زینت بنایا ہے۔

ان زندہ تاریخی آثار میں سے ایک کا مطالعہ کرنا ضخیم تاریخی کتاب پڑھنے کے برابر ہے۔ یہ مطالعہ انسان کی روحانی بیداری کے لئے ایک مؤثر چیز ہے کیونکہ جب ہم ان آثار کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اچانک ایسا لگتا ہے کہ ان ویرانوں میں زیر خاک بوسیدہ ہڈیاں زندہ ہو گئی ہیں اور پہلے جوش ولولہ کا مشاہدہ کر رہی ہیں لیکن جب ہم دوبارہ ان کی طرف نگاہ کرتے ہیں تو انہیں خاموش فراموش شدہ دیکھتے ہیں۔ ان دو حالتوں کا موازنہ اس راز کو طشت از بام کرتا ہے کہ خودسر افراد کتنے کوتاہ نظر ہیں کہ جو بہت جلدی گذر جانے والی ہوسرانیوں کے لئے ہزارہا بدکاریوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔

اس لئے قرآن مجید حکم دیتا ہے کہ مسلمان روئے زمین پر سیر و سیاحت کریں اور گزشتہ لوگوں کے آثار کا مشاہدہ کر کے ان سے عبرت حاصل کریں۔

اسلام میں بھی جہاں گردی اور سیر و تفریح کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے لیکن آج کے ہوس پرست سیاحوں کی طرح نہیں بلکہ گذشتہ لوگوں کے آثار و انجام کے مطالعہ اور گوشہ ہائے عالم میں عظمت خدا کے مشاہدہ کے لئے اور اسی کا نام قرآن نے ”سیردانی الارض“ رکھا ہے اور کئی ایک آیات میں اس کا حکم دیا ہے۔ مثلاً

❶۔ قُلْ سیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الْمُجْرِمینَ۔ (نمل۔69)
ترجمہ:
یعنی ان سے کہیں کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ مجرموں کا کیا انجام ہوا۔

❷۔ قُلْ سیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ بدءَ الْخلقَ۔ (عنکبوت:30)
ترجمہ:
یعنی کہو کہ زمین میں گھوم پھر کر دیکھو کہ خدا نے کیسے تخلیق کی۔

❸۔ افَلَمْ یَسیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَتَکُونَ لَہُمْ قُلُوبٌ یَعْقِلُونَ بِہا ۔۔۔۔ (حج:46)
ترجمہ:
کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں تاکہ ان کے دل اس سے کچھ عقل حاصل کرتے۔

یہ آیت کہتی ہے کہ یہ معنوی اور روحانی سیاحی اور زمین کی سیر انسان کے دل کو دانائی، آنکھوں کو بینائی اور کان کو سماعت عطا کرتی ہے اور اسے سکوت و جمود سے خلاصی دلاتی ہے۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ اسلامی حکم و قانون بہت سے دیگر قوانین کی طرح طاق نسیاں کی نذر کر دیا گیا ہے۔ اب مسلمان اسے بھی نظر التفات سے نہیں دیکھتے یہاں تک کہ بعض علماء نے اپنی فکر کا دائرہ صرف گرد و پیش تک محدود رکھا ہے۔ وہ گویا اس عالم کے علاوہ کسی اور عالم میں زندگی بسر کرتے ہیں اور دنیا کے اجتماعی انقلابات و وسائل سے بے خبر ہیں اور ان جزوی اور کم اثر کاموں میں اپنے آپ کو مشغول رکھا ہے جو اصولی اور بنیادی کاموں کے مقابلہ میں خاص قدرت و قیمت نہیں رکھتے۔ اس دنیا میں پوپ اور عیسائیوں کے بڑے بڑے پادری صدیوں کی گوشہ نشینی اور علیحدگی کے بعد زمین کی سیر و سیاحت کے لئے نکلتے ہیں تاکہ وہ ضروریات زمانہ کو سمجھیں۔ تو اس صورت میں کیا مسلمانوں کو قرآن کے اس حکم پر عمل پیرا نہیں ہونا چاہیے اور اپنے محدود فکری تنگ دائرہ سے نہیں نکلنا چاہیے تاکہ علم اسلام اور مسلمانوں میں ایک انقلاب و حرکت کارفرما ہو۔

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 احادیث میں اہمیت سفر 🔷

سفر کے لغوی معنی ہیں کھلنا، ظاہر ہونا اسی لیے اجالےکو اسفار (جب خوب اُجالا ہو یعنی زمین روشن ہو جائے) کہتے ہیں اور کتابوں کے ڈھیرکو اسفار۔ چونکہ سفر میں دوسرے مقامات کے حالات معلوم ہوتے ہیں اس لیے اسے سفر کہتے ہیں۔

ایک جگہ سے دوسری جگہ اور ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرنا ہمیشہ سے بنی نوع انسانی کے درمیان رائج رہا ہے اور انسان ہی کیا بہت سے پرندے ایسے ہوتے ہیں جو تبدیلی موسم کے پیش نظر نقل مکانی کرتے ہیں۔ بس انسان اور دیگر موجودات کے سفر میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ جانور یا چرند و پرند اپنا پیٹ بھرنے کے لئے اور اپنی مادی ضرورتوں کے حصول کی خاطر رنج سفر اٹھاتے ہیں لیکن انسان مادی ضرورتوں کے علاوہ بھی سفر کے دوسرے اغراض و مقاصد سے آشنا ہوکر سفر کرتا ہے جیسا کہ سیر و سیاحت، گذر اوقات کسب معاش، پڑھائی اور حج و زیارت سے مشرف ہونے کے لئے انسان کبھی رخت سفر باندھتا ہے۔

نفسیات کے کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ انسان کے دل و دماغ پر سفر کرنے کے بہت سے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور انسان کو سفر کرنے کے بہت سے فوائد ہیں۔ جن میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان کو ذہنی الجھنوں سے نجات ملتی ہے اور جب وہ دوسروں کے ساتھ فرصت کے لمحات میں ملاقات کرتا ہے تو اس کا یہ جدید تجربہ ممکن ہے اسے ساری زندگی یاد رہے۔

جس طرح مادی اغراض و مقاصد کے لئے بسا اوقات سفر کیا جاتا ہے وہیں اسلامی تعلیمات کی رو سے سفر میں معنوی پہلو بھی پائے جاتے ہیں یہانتک کہ خود معصومین علیہم السلام نے بہت سی روایات میں سفر کرنے کے فوائد اور آداب بیان فرمائے ہیں مثال کے طور پر پیغمبر اکرم (ص) کا ارشاد ہے:
’’سافِروا فَاِنَّکُم اِنْ لَم تَغنَموا مالاً أَفَدتُم عَقلاً‘‘۔(مکارم‌الاخلاق، ص 24)
ترجمہ:
سفر کرو! اگر تمہیں سفر کرنے کے مادی فائدے حاصل نہ ہوں تو کم سے کم تمہیں اس کے عقلی فائدے حاصل ہونگے۔

یعنی اگر آپ کو سفر کرنے سے مال، دولت اور ثروت ہاتھ نہ لگے تو کم سے کم آپ کے تجربے ہی میں اضافہ ہوگا جس سے بصیرت بڑھے گی۔

دین اسلام کی نظر میں سفر کرنا ایک معنوی امر ہے لہذا اس میں دیگر معنوی امور کی طرح کچھ شرعی مسائل و آداب کی رعایت و لحاظ کرنا بہت ضروری ہے اور اسی وجہ سے اگر سفر کے دوران دینی آداب کی رعایت مشکل ہو یا ان کے چھوٹ جانے کا خوف ہو تو سفر نہیں کرنا چاہیئے چنانچہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے:
’’لا یَخرُجُ الرَّجُلُ فی سَفرٍ یَخافُ مِنهُ علی دِینِهِ و صَلاتِهِ‘‘۔(وسائل، ج 8، ص 249)
ترجمہ:
انسان کو ایسے سفر پر نہیں نکلنا چاہیئے جہاں اسے اپنے دین پر خطرہ محسوس ہو یا نماز کے چھوٹ جانے کا خوف ہو۔

سفر کرنے کا معنوی پہلو اتنا قوی ہے کہ آئمہ طاہرین (ع) نے سفر پر نکلنے سے پہلے اپنے شیعوں کو کچھ خاص دعائیں پڑھنے کی تعلیم اور صدقہ دینے کی تأکید فرمائی ہے چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ روایت نقل ہوئی ہے:
’’إفتَتِحْ سَفَرکَ بِالصَّدقَةِ وَ اخرُجْ اِذا بَدالَک فَاِنَّکَ تَشترَیِ سَلامَةَ سَفَرِکَ‘‘۔(بحار، ج97، ص 31)
ترجمہ:
تم اپنے سفر کا آغاز صدقہ سے کرو اور جب تم صدقہ دیکر سفر کرو گے تو گویا تم نے اپنے سفر کی سلامتی کی ضمانت کو خرید لیا ہے۔

دوسرا اہم ادب جو ہر سفر پر جانے والے سے تأکیداً بیان ہوتا ہے وہ یہ ہے جہاں تک ممکن ہو اکیلے سفر نہ کریں بلکہ جب کہیں جانے کا ارادہ کریں تو کسی مناسب شخص کو اپنا رفیق سفر بنا لیں نیز یہ بھی خیال رہے کہ شریک سفر اور رفیق سفر کا انتخاب اسلامی اصولوں کے مطابق ہونا چاہیئے اسی وجہ سے اسلامی تعلیمات میں یہ تأکید ملتی ہے کہ ایسے افراد کے ساتھ سفر کرنے کی کوشش کریں جن کے افکار و طور طریقے آپ سے میل کھاتے ہوں اور انفرادی و اجتماعی اخلاق و آداب کے پابند ہوں۔ اور رفیق سفر کا ہونا کتنا ضروری ہے خود رسول اللہ (ص) کی اس حدیث سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے:
’’الرَّفیقُ ثُمّ الطّریقُ‘‘۔
ترجمہ:
پہلے رفیق (ہمسفر) کا انتخاب کرو پھر سفر پر جانے کی سوچو۔

نیز امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے بھی ایک اچھے ہمسفر کی خصوصیت کو اس طرح بیان فرمایا ہے:
’’لا تَصحبَنَّ فی سَفَرِکَ مَن لایَری لَکَ مِنَ الفَضلِ عَلَیهِ کَما تَری لَهُ عَلیکَ‘‘۔(مکارم‌الاخلاق، ص 251)
ترجمہ؛
وہ شخص جو تمہارے فضل اور مرتبہ کا قائل نہ ہو جس طرح تم اس کے فضل و مرتبہ کا لحاظ کرتے ہو تو کبھی اس کے ساتھ سفر نہ کرو۔

ہمسفر کے ساتھ نیکی کرنے کی فضیلت کے لئے رسول اللہ (ص) کا ارشاد ہے:
’’مَا اصْطَحَبَ اِثنان اِلاّ کانَ اَعظمُهُما أجراً و اَجَهُّمُا اِلَی اللهِ اَرفَقُهُما بِصاحِبِه‘‘۔(وسائل، ج 8، ص 23)
ترجمہ؛
جب دو لوگ ایک دوسرے کے شریک و رفیق سفر بنتے ہیں تو ان میں سے وہ شخص اللہ کی نظر میں زیادہ عظیم و محبوب ہوتا ہے جو اپنے ساتھی کے ساتھ زیادہ مہربانی کے ساتھ پیش آتا ہے۔

https://t.me/islamwitheman/4111
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ماہرین کی نظر میں سیر و تفریح 🔷

سیر و سیاحت نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ یہ جسمانی اور ذہنی صحت کیلئے بھی بے حد مفید ہے۔ سفر کرنے سے ہمیں نئے کھانے، نئے ماحول کو دیکھنے اور مختلف زبانیں سننے اور بولنے جیسی دماغ کی نشوونما کرنے والی سرگرمیاں سرانجام دینے کا موقع ملتا ہے۔ سیر و سیاحت سے ہمارا دل بھی صحت مند رہتا ہے۔

1948 میں فریمنگھم (Framingham) ریسرچ نے اس موضوع پر سروے کیا اور 20 سال بعد دوبارہ ان خواتین سے رابطہ کیا۔ سروے کے مطابق چھ سال میں ایک بار سیر و تفریح کرنے والی خواتین میں سال میں دو بار سیر و تفریح کرنے والی خواتین کے مقابلے میں قلبی امراض کے امکانات آٹھ گنا زیادہ تھے۔

ایک دوسری تحقیق میں نیو یارک سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے ایسے 12000 مردوں کا نو سال تک مطالعہ کیا جن میں دل کو خون پہنچانے والی شریان کے مرض میں مبتلا ہونے کا شدید خطرہ لاحق تھا۔ تحقیق کے مطابق سیر و سیاحت نہ کرنے والے مردوں میں دل کا دورہ پڑنے سے موت کے خدشات 32 فیصد زیادہ نکلے۔

انسانی صحت کیلئے سیر و سیاحت کی اہمیت کے حوالے سے ماہرِ نفسیات سائرہ خان کہتی ہیں کہ جب انسان سیر و سیاحت کرتا ہے تو اس کے دماغ میں مختلف کیمیکلز خارج ہوتے ہیں جو انسان کے مزاج پر اثر انداز ہوتے ہیں، ا سی لیے بہت سے ماہرِ نفیسات سیر و سیاحت کا مشورہ دیتے ہیں۔

2002ء میں برطانیہ کی سرے یونیورسٹی کے محققین نے تجویز دی کہ صرف تفریحی سفر کی تیاری کر کے اور اس کے بارے میں سوچ کر بھی سفر کرنے والوں میں مثبت احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔

خوبصورت مقامات کو دیکھنے اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں، تو آپ عمر کے جس حصے میں بھی ہیں، اپنا سفری بیگ اُٹھائیے اور سیر کیلئے نکل جائیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔

🔷 اسلام میں سیر و تفریح
https://t.me/islamwitheman/4111

🔷 احادیث میں اہمیت سفر
https://t.me/islamwitheman/4112

🔷 ماہرین کی نظر میں سیر و تفریح
https://t.me/islamwitheman/4113
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 زندگی کے سامنے کبھی ہتھیار مت ڈالیں 🔷

کابل کے ایک پروفیسر کی کہانی ان کی زبانی پشتو سے ترجمہ۔۔۔

پڑھائی کیلئے زمین فروخت کرنی پڑی۔ فارن سے پی ایچ ڈی کر کے واپس کابل آیا تو کافی عرصہ نوکری کیلئے دفتروں کی خاک چھانی، نوکری نہیں ملی۔

کچھ تو کرنا تھا اسلئے ایک کار سروس سٹیشن کھول لیا۔ سروس سٹیشن بہت خستہ حال تھا۔ شیشوں کے بجائے پلاسٹک کا سہارا لیا۔

چچا زاد بھائیوں کو میرے نئے کام سے کافی راحت محسوس ہوتی تھی۔ آئے روز کاریں لاتے اور مجھ سے دھلاتے تھے اگرچہ میرے ساتھ اور بھی لوگ کام کرتے تھے مگر ان کی کاریں ہمیشہ میں خود صاف کرتا تھا۔

ایک دن چچا زاد آئے گاڑی کھڑی کی اور صفائی کا کہا۔

گاڑی اندر سے پوری طرح گوبر، گھاس سے بھری پڑی تھی۔ خدا جانے مگر میرا گمان تھا کہ یہ انھوں نے جان بوجھ کے گندی کی ہے تاکہ میں صاف کروں اور وہ دیکھ کر سکون پائیں!
میرے ساتھ کام کرنے والے گاڑی کی طرف لپکے، میں نے انہیں منع کیا، مطلب یہ تھا کہ اب چچا زاد بھائی تو صرف اس لئے آئے ہیں کہ مجھے صفائی کرتے ہوئے دیکھیں۔ میں نے بھائی کو بٹھایا اور ان کیلئے چائے کا آرڈر دیا۔
اور خود گاڑی کو واش کرنے لگا۔
میری آنکھیں بھر آئیں۔ مگر کام کرتا رہا اور ان کی گندی گاڑی صاف کی۔

کچھ دنوں بعد ۔۔۔۔۔ میں نے

کار اچھی طرح دھوئی، کار کا مالک کافی مضطرب تھا، میں نے سوچا شاید گاڑی اچھی طرح صاف نہیں ہوئی ہے، میں نے پوچھا بھائی کیا بات ہے اپ اتنے پریشان کیوں؟ انھوں نے کہا میں طالب علم ہوں اور میرا امتحان ہے۔
عجیب بات یہ تھی کہ وہ معاشیات کا طالب علم تھا اور دوسری طرف میں نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی۔
میں نے پوچھا کس مضمون کا پرچہ ہے؟
انھوں نے کہا “اکاونٹنگ”
میں نے کہا تم سامنے اس روم میں جاؤ میں آتا ہوں۔
میں نے انھیں چھ ماہ کا سبق پندرہ منٹ میں سمجھا دیا!
کہا وہ گاڑی اپ نے دھوئی؟
میں نے کہا ہاں جی! زندگی ہے کام تو کرنا ہے نا!
میں نے انھیں اپنی پڑھائی کے بارے میں بتایا
وہ حیران تھا!
اب وہ ضد کرنے لگا کہ اپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا، ہماری یونیورسٹی کے وی سی میرے دوست ہیں میں ان سے بات کرتا ہوں وہ اپ کو ضرور نوکری دیں گے۔
میں ان کے ساتھ چلنے لگا تو انھوں نے میرے میلے کچیلے کپڑے دیکھ کر استفسار کیا کوئی اور کپڑے نہیں اپ کے پاس؟
میں نے کہا نہیں، مجھے پتہ ہے نوکری کسی نے دینی نہیں یہ تو بس اپ ضد کر رہے ہیں اس لئے تمہارے ساتھ جانے لگا ہوں۔
گیلے کپڑے زیب تن کئے ہوئے میں وی سی آفس کے ایک کونے میں کھڑا ہوگیا۔ آفس میں قیمتی فرنیچر رکھا ہوا تھا مگر میرا دل نہیں کر رہا تھا کہ اس پر بیٹھوں۔
وی سی مجھے مستری سمجھا۔ میں نے ایک کپڑا لیا صوفے پر رکھا اور بیٹھ گیا۔
طالب علم نے میری کہانی انھیں سنائی۔ انھوں نے تمسخرانہ نظروں سے مجھے گھورا۔
جان چھڑانے کی خاطر انھوں نے کہا تم ڈیمو کیلئے تیاری کرو ہم تمہیں کال کریں گے۔
میں نے کہا میں ابھی بھی ڈیمو کیلئے تیار ہوں!
انھیں میرا یہ انداز اچھا نہیں لگا مگر پھر بھی انھوں نے فون اُٹھایا، سب ٹیچرز کو اس کلاس روم میں بلاؤ۔ کہو ڈیمو ہے!
انھوں نے مجھے ایک مارکر پکڑایا میں نے دو مارکر اور مانگے۔
کلاس پوری طرح بھری تھی۔ میں نے سلام کیا۔ میرے کپڑے دیکھ کر تمام طلبہ مسکرا رہے تھے۔ حکم ہوا اپ ڈیمو شروع کریں۔
میں نے کہا کس موضوع پر لیکچر دوں؟
کہا اپ کی مرضی!
میں نے معاشیات کے دس موضوعات بورڈ پر لکھے۔
میں نے کہا اس میں کونسے موضوع پر بات کروں۔
انھوں نے دوسرے نمبر والا ٹاپک چنا۔
میں نے اس موضوع کو مزید کلاسفیائی کیا۔ پھر ان کی طرف دیکھ کر کہا اب ان میں کونسا موضوع ٹھیک رہے گا۔
پورا بورڈ بھر دیا۔ دو ساتھ جوڑے ہوئے بورڈ بھر گئے۔

اچانک تالیاں بجنے لگیں۔ میں نے مڑ کے پیچھے دیکھا پوری کلاس کھڑی تھی اور تالیاں بجا رہی تھی اور ان کے سامنے میں، میلے کپڑوں میں کھڑا تھا۔

وی سی نے کہا! ہاں بھائی بتاؤ کتنی تنخوا لو گے؟
اور مجھے نوکری مل گئی۔

میں نے مشین کی طرح کام کیا۔ ماہ کے آخر میں مجھے یونیورسٹی بیسٹ ٹیچر کے ایوارڈ کے ساتھ اچھی خاصی تنخواہ ملی۔ سب سے زیادہ تنخواہ اس یونیورسٹی میں پچاس ہزار افغانی تھی پر مجھے ایک لاکھ بیس ہزار پر رکھ لیا گیا۔اس کے بعد امریکہ یونیورسٹی، فنانس منسٹری، بین الاقوامی کانفرنسوں اور دنیا کی کئی یونیورسٹیوں میں کام کرنے کے مواقع ملے۔

سروس سٹیشن کا ایک سال کنٹریکٹ ابھی ختم نہیں ہوا تھا اور میں نے تیس ممالک دیکھ لیے۔

میں آج بھی اپنے چچا زادوں کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا ہوں۔ وہ بھی میرا بہت احترام کرتے ہیں اور نام کے ساتھ “صاحب” ضرور کہتے ہیں۔ میں خدا سے خوش ہوں۔

زندگی کے سامنے کبھی ہتھیار مت ڈالیں۔ زندگی کے بہت سارے جہت ہیں ہمیشہ آنے والے کل کیلئے پرامید رہیں۔ کبھی کوئی کام کرتے ہوئے شرماتے نہیں۔

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 24 رجب المرجب فتح خیبر بہت بہت مبارک ہو۔

👈 پوسٹ دیکھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔۔۔

⚔ غزوۂ خیبر
https://t.me/islamwitheman/3082
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 میری وفات تلخ نوائی 🔷

کالم نگار جناب محمد اظہار الحق کا جھنجھوڑ دینے والا آرٹیکل ۔۔۔

سرما کی ایک یخ زدہ ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات ہوئی۔

اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔ ڈاکٹر نے دوائیں تبدیل کیں مگر خلافِ معمول خاموش رہا۔ مجھ سے کوئی بات کی نہ میری بیوی سے۔ بس خالی خالی آنکھوں سے ہم دونوں کو دیکھتا رہا۔

دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔ جو بیٹا پاکستان میں تھا' وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔ چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں دونوں یونیسیف کے سروے کے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔ لاہور والی بیٹی کو بھی میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں بے حد مصروف ہے اور بچوں کی وجہ سے خود اس کا آنا بھی مشکل ہے۔رہے دو لڑکے جو بیرون ملک ہیں 'انہیں پریشان کرنے کی کوئی تُک نہ تھی! یوں صرف میں اور بیوی ہی گھر پر تھے اور ایک ملازم جو شام ڈھلے اپنے گھر چلا جاتا تھا۔

عصر ڈھلنے لگی تو مجھے محسوس ہوا کہ نقاہت کے مارے بات کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ میں نے اپنی پرانی ڈائری نکالی 'بیوی کو پاس بٹھا کر رقوم کی تفصیل بتانے لگا جو میں نے وصول کرنا تھیں اور دوسروں کو ادا کرنا تھیں۔ بیوی نے ہلکا سا احتجاج کیا۔ "یہ تو آپ کی پرانی عادت ہے۔ ذرا بھی کچھ ہو تو ڈائری نکال کر بیٹھ جاتے ہیں "مگر اس کے احتجاج میں پہلے والا یقین نہیں تھا۔

پھر سورج غروب ہوگیا۔ تاریکی اور سردی دونوں بڑھنے لگیں۔ بیوی میرے لیے سُوپ بنانے کچن میں گئی۔ اس کی غیر حاضری میں مَیں نے چند اکھڑی اکھڑی سانسیں لیں اور غروب ہوگیا۔

مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں آہستہ آہستہ اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں۔ پھر جیسے میں ہوا میں تیرنے لگا اور چھت کے قریب جا پہنچا۔بیوی سُوپ لے کر آئی تو میں دیکھ رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس پر سکتہ طاری ہوا اور پھر دھاڑیں مار کر رونے لگی۔ میں نے بولنے کی کوشش کی یہ عجیب بات تھی کہ میں سب کچھ دیکھ رہا تھا مگر بول نہیں سکتا تھا۔

لاہور والی بیٹی رات کے پچھلے پہر پہنچ گئی۔کراچی سے بھی چھوٹی بیٹی اور میاں صبح کی پہلی فلائیٹ سے پہنچ گئے۔ بیٹے تینوں بیرون ملک تھے وہ جلد سے جلد بھی آتے تو دو دن لگ جانے تھے۔ دوسرے دن عصر کے بعد میری تدفین کر دی گئی۔ گاؤں سے بھی تقریباً سبھی آگئے تھے۔ ننھیال والے گاؤں سے ماموں زاد بھائی بھی تینوں موجود تھے۔

لحد میں میرے اوپر جو سلیں رکھی گئی تھیں مٹی ان سے گزر کر اندر آگئی تھی۔ بائیں پاؤں کا انگوٹھا جو آرتھرائٹس کا شکار تھا 'مٹی کے بوجھ سے درد کر رہا تھا۔ پھر ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ شاید فرشتے آن پہنچے تھے۔ اسی کیفیت میں سوال جواب کا سیشن ہوا۔ یہ کیفیت ختم ہوئی۔ محسوس ہو رہا تھا کہ چند لمحے ہی گزرے ہیں مگر فرشتوں نے بتایا کہ پانچ برس ہوچکے ہیں۔ پھر فرشتوں نے ایک عجیب پیشکش کی۔ "ہم تمھیں کچھ عرصہ کے لیے واپس بھیج رہے ہیں۔ تم وہاں' دنیا میں 'کسی کو نظر نہیں آؤ گے' گھوم پھر کر 'اپنے پیاروں کو دیکھ لو 'پھر اگر تم نے کہا تو تمھیں دوبارہ نارمل زندگی دے دیں گے۔ ورنہ واپس آجانا۔"

میں نے یہ پیشکش غنیمت سمجھی اور فوراً ہاں کر دی۔ یہ الگ بات کہ فیصلہ پہلے ہی ہوچکا تھا۔ پھر ایک مدہوشی کی حالت چھا گئی۔ آنکھ کھلی تو میں اپنی گلی میں تھا۔

آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اپنے گھر کی جانب چلا۔راستے میں کرنل صاحب کودیکھا۔ گھر سے باہر کھڑے تھے۔ اتنے زیادہ بوڑھے لگ رہے تھے۔ خواجہ صاحب بیگم کے ساتھ واک کرنے نکل رہے تھے۔ اپنے مکان کے گیٹ پر پہنچ کر میں ٹھٹھک گیا۔ میرے نام کی تختی غائب تھی۔ پورچ میں گاڑی بھی نہیں کھڑی تھی۔ وفات سے چند ہفتے پہلے تازہ ترین ماڈل کی خریدی تھی۔ اس کا سن روف بھی تھا اور چمڑے کی اوریجنل سیٹیں تھیں دھچکا سا لگا۔ گاڑی کہاں ہوسکتی ہے؟ بچوں کے پاس تو اپنی اپنی گاڑیاں موجود تھیں تو پھر میری بیوی جو اب بیوہ تھی' کیا گاڑی کے بغیر تھی؟

دروازہ کھلا تھا۔ میں سب سے پہلے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اپنی لائبریری میں گیا۔ یہ کیا؟کتابیں تھیں نہ الماریاں! رائٹنگ ٹیبل اس کے ساتھ والی مہنگی کرسی 'صوفہ' اعلیٰ مرکزی ملازمت کے دوران جو شیلڈیں اور یادگاریں مجھے ملی تھیں اور الماریوں کے اوپر سجا کر رکھی ہوئی تھیں۔ بے شمار فوٹو البم' کچھ بھی تو وہاں نہ تھا۔ مجھے فارسی کی قیمتی 'ایران سے چھپی ہوئی کتابیں یاد آئیں 'دادا جان کے چھوڑے ہوئے قیمتی قلمی نسخے 'گلستان سعدی کا نادر نسخہ جو سونے کے پانی سے لکھا ہوا تھا اور دھوپ میں اور چھاؤں میں الگ الگ رنگ کی لکھائی دکھاتا تھا' داداجان اور والد صاحب کی ذاتی ڈائریاں سب غائب تھیں۔ کمرہ یوں لگتا تھا 'گودام کے طور پر استعمال ہو رہا تھا سامنے والی پوری دیوار پر جو تصویر پندرہ ہزار روپے سے لگوائی تھی 'جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی۔فاؤنٹین پینوں کا بڑا ذخیرہ تھا میرے پاس 'پارکر 'شیفر 'کراس وہ بھی دراز میں نہیں تھا۔
میں پژمردہ ہو کر لائبریری سے باہر نکل آیا۔ بالائی منزل کا یہ وسیع و عریض لاؤنج بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ یہ کیا؟ اچانک مجھے یاد آیا' میں نے چکوال سے رنگین پایوں والے سُوت سے بُنے ہوئے چار پلنگ منگوا کر اس لاؤنج میں رکھے تھے شاعر برادری کو یہ بہت پسند آئے تھے۔ وہ غائب تھے۔

نیچے گراؤنڈ فلور پر آیا 'بیوی اکیلی کچن میں کچھ کر رہی تھی۔ میں نے اسے دیکھا۔ پانچ برسوں میں اتنی تبدیل ہوگئی تھی! میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کیسے پوچھوں کہ گھٹنوں کے درد کا کیا حال ہے؟ ایڑیوں میں بھی درد محسوس ہوتا تھا۔ دوائیں باقائدگی سے میسر آرہی تھیں یا نہیں؟ میں اس کے لیے باقائدگی سے پھل لاتا تھا۔ نہ جانے بچے کیا سلوک کر رہے ہیں۔مگر میں تو بول نہ سکتا تھا۔ نہ ہی وہ مجھے دیکھ سکتی تھی۔

اتنے میں فون کی گھنٹی بجی بیوی بہت دیر باتیں کرتی رہی۔ جو کچھ اس طویل گفتگو سے میں سمجھا' یہ تھا کہ بچے اس مکان کو فروخت کرنا چاہتے تھے۔ ماں نے مخالفت کی کہ وہ کہاں رہے گی۔ بچے مصر تھے کہ ہمارے پاس رہیں گی! بیوی کو میری نصحیت یاد تھی کہ ڈیرہ اپنا ہی اچھا ہوتا ہے مگر وہ بچوں کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈال رہی تھی۔ گاڑی کا معلوم ہوا کہ بیچی جا چکی تھی۔ بیوی نے خود ہی بیچنے کے لیے کہا تھا کہ اسے ایک چھوٹی آلٹو ہی کافی ہوگی۔

اتنے میں ملازم لاؤنج میں داخل ہوا ۔یہ نوجوان اب ادھیڑ عمر لگ رہا تھا۔ میں اس کا لباس دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ اس نے میری قیمتی برانڈڈ قمیض جو ہانگ کانگ سے خریدی تھی پہنی ہوئی تھی۔نیچے وہ پتلون تھی جس کا فیبرک میں نے اٹلی سے لیا تھا! اچھا 'تو میرے بیش بہا ملبوسات ملازموں میں تقسیم ہو چکے تھے!

میں ایک سال' لوگوں کی نگاہوں سے غائب رہ کر' سب کو دیکھتا رہا۔ ایک ایک بیٹے' بیٹی کے گھر جا کر ان کی باتیں سنیں۔ کبھی کبھار ہی ابا مرحوم کا یعنی میرا ذکر آتا۔ وہ بھی سرسری سا۔ہاں! زینب' میری نواسی' اکثر نانا ابو کا تذکرہ کرتی۔ ایک دن ماں سے کہہ رہی تھی۔ "اماں یہ بانس کی میز کرسی نانا ابو لائے تھے جب میں چھوٹی سی تھی۔ اسے پھینکنا نہیں "ماں نے جواب میں کہا' "جلدی سے کپڑے بدل کر کھانا کھاؤ 'پھر مجھے میری سہیلی کے گھر ڈراپ کرو"۔

میں شاعروں ادیبوں کے اجتماعات اور نشستوں میں گیا۔ کہیں اپنا ذکر نہ سنا۔ وہ جو بات بات پر مجھے جدید غزل کا ٹرینڈ سیٹر کہا کرتے تھے' جیسے بھول ہی تو چکے تھے۔ اب ان کے ملازموں نے میری کتابیں ڈسپلے سے ہٹا دی تھیں۔ ایک چکر میں نے قبرستان کا لگایا۔ میری قبر کا برا حال تھا گھاس اگی تھی۔ کتبہ پرندوں کی بیٹ سے اٹا تھا۔ساتھ والی قبروں کی حالت بھی زیادہ بہتر نہ تھی۔

ایک سال کے جائزے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میری موت سے دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ رمق بھر بھی نہیں! بیوی یاد کر لیتی تھی تاہم بچے' پوتے نواسے پوتیاں سب بھول چکی تھیں۔ ادبی حلقوں کے لیے میں اب تاریخ کا حصہ بن چکا تھا۔ جن بڑے بڑے محکموں اور اداروں کا میں سربراہ رہا تھا وہاں ناموں والے پرانے بورڈ تک ہٹ چکے تھے اور نئے بورڈ بھی مسلسل بھرتے جا رہے تھے۔ دنیا رواں دواں تھی۔کہیں بھی میری ضرورت نہ تھی۔ گھر میں نہ باہر!

پھر تہذیبی' معاشرتی اور اقتصادی تبدیلیاں تیزی سے آرہی تھیں اور آئے جارہی تھیں' ہوائی جہازوں کی رفتار چار گنا بڑھ چکی تھی۔ دنیا کا سارا نظام سمٹ کر موبائل فون کے اندر آچکا تھا۔میں ان جدید ترین موبائلوں کا استعمال ہی نہ جانتا تھا۔

فرض کیجئے 'میں فرشتوں سے التماس کر کے دوبارہ دنیا میں نارمل زندگی گزارنے آ بھی جاتا تو کہیں خوش آمدید نہ کہا جاتا! بچے پریشان ہوجاتے' ان کی زندگیوں کے اپنے منصوبے اور پروگرام تھے جن میں اب میری گنجائش کہیں نہ تھی! ہوسکتا ہے بیوی بھی کہہ دے کہ تم نے واپس آکر میرے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔مکان بک چکا' میں ایک تو کسی بچے کے پاس رہ لیتی' دو کو اب وہ کہاں سنبھالتے پھریں گے! دوست تھوڑے یہ اب باقی بچے تھے۔ وہ بھی اب بیمار اور چل چلاؤ کے مراحل کا سامنا کر رہے تھے! میں واپس آتا تو دنیا میں مکمل طور پر اَن فِٹ ہوتا۔ نئے لباس میں پیوند کی طرح۔ جدید بستی میں پرانے مقبرے کی مانند!

میں نے فرشتے سے رابطہ کیا اور اپنی آخری چوائس بتا دی۔ میں واپس قبر میں جانا چاہتا ہوں! فرشتہ مسکرایا۔ اس کا کمنٹ بہت مختصر تھا۔

"ہر انسان یہی سمجھتا ہے کہ اس کے بعد جو خلا پیدا ہوگا' کبھی بھرا نہیں جاسکے گا' مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ خلا تو پیدا ہی نہیں ہوتا!

✍ ٹرینڈ سیٹر شاعر، کالم نگار جناب محمد اظہار الحق صاحب کا جھنجھوڑ دینے والا آرٹیکل

تلخ نوائی
میری وفات

https://t.me/islamwitheman/4117
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ماڈرن شیر ۔۔۔ 🔷

ایک بار شیر اور لومڑی میں کسی بات پہ ٹھن گئی۔ لومڑی نے کہا کہ کچھ بھی ہو وہ شیر سے بدلا ضرور لے گی۔

لومڑی نے جنگل میں ایک بیوٹی پارلر کھولا اور جنگل کے بادشاہ شیر سے عاجزی سے استدعا کی کہ حضور عالی مقام آپ اپنے مبارک قدم ہمارے بیوٹی پارلر میں رکھیں اور اسکا افتتاح کیجیے۔

شیر ہنسا اور کہا کہ اے نادان لومڑی!
میں تو شیر ہوں مجھے بناؤ سنگھار سے کیا لینا دینا ہے۔ یہ کام تم کسی اور سے کراؤ۔

لومڑی نے کہا اے خوبصورتی کے پیکر میرے رحمدل عالیجاہ میں آپکی ریپوٹیشن بہتر بنانا چاہتی ہوں آپکو علم ہی نہیں ہے بادشاہ عالی مرتبت کہ آپکے مخالفوں نے آپکے بارے میں کئی جھوٹے دعوے مشہور کیے ہیں. نت نئی افواہوں کا بازار گرم ہے۔ آپ کو جنگل میں قدامت پسند اور تنگ نظر بادشاہ کہا جارہا ہے اور آپکو روشن خیالی کا دشمن سمجھا جا رہا ہے۔ آپ بیوٹی پارلر کا افتتاح کریں گے تو آپکے متعلق یہ افواہیں دم توڑ دیں گی۔

شیر نے ایک لمحہ لومڑی کی باتوں پہ سوچا اور پھر افتتاح میں آنے کی حامی بھر لی۔

شیر نے بیوٹی پارلر کا فیتہ کاٹا۔ ریچھ، لگڑ بگڑ، بھینسے، گائے، زیبرا، ہرن وغیرہ نے خوب تالیاں بجائیں۔

اسٹیج سیکرٹری بندر تھا پہلے اس نے خوب اچھل اچھل کر داد دی پھر مائک پہ آ کر اعلان کیا:
"شہنشاہ دوراں آج آپ نے اس محفل میں آکر ثابت کر دیا ھے کہ آپ ایک روشن خیال بادشاہ ہیں۔ بناؤ سنگھار کی اس محفل کی سرپرستی سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ احساس جمال سے بہرہ ور ہیں۔ یوں آپکے خلاف کیا جانے والا پروپیگنڈہ جو یک طرفہ تھا زائل ہو گیا ہے۔

شیر کو یہ سب باتیں بڑی عجیب لگ رہی تھیں لیکن جب سب نے تالیاں بجانی شروع کیں تو شیر کو بھی اچھا لگنے لگا۔

تقریب کے بعد لومڑی لہنگا پہن کر سٹیج پہ آئی اور پورے سات بار جھک کر بادشاہ کو سلامی دی اور کہا:
"یہ باندی آپکی آمد کا شکریہ ادا کرتی ہے۔ اب آپکی آمد کی خوشی میں یہ باندی ایک مجرہ پیش کرتی ہے۔ پھر لومڑی نے جی بھر کر مجرا پیش کیا. مجرا ایسا تھا کہ لومڑی نے میدان سے دھوئیں اٹھا دئیے۔

شیر پہلے تو حیرانگی سے یہ سب کچھ دیکھتا رہا پھر اسکو بھی لطف آنے لگا۔ یہ تقریب صبح تک جاری رہی۔

دوسرے دن لومڑی ایک ایک جانور کے پاس گئی اور کہا کہ اب تو شیر کی چیرہ دستیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ شیر سے کوئی شریف جانور نہیں محفوظ۔ وہ شریف جانورں سے بھی مجرہ کراتا ہے۔ پہلے تو اس کمبخت کے ہاتھوں کسی کی جان محفوظ نہ تھی، اب عزتیں بھی نہیں محفوظ۔

اسی طرح کئی جانوروں کے ساتھ میٹنگز طے کرتے کرتے لومڑی نے ایک مشترکہ اتحاد تشکیل دے دیا اس اتحاد میں چیتا، بھیڑیا، سانپ، بندر، ریچھ سب شامل تھے۔

ایک دن شیر کے غار میں لومڑی حاضر ہوئی اور عرض کی ظلِ الہی اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں۔

ظللِ الہی اس وقت ایک ہرن نوش جاں فرمانے کے بعد اونگھ رہا تھا بادشاہ دوراں نے غنودگی کے عالم میں کہا بولو۔

لومڑی نے دست بستہ کہا کہ شہنشاہ ہر دلعزیز کی روشن خیالی کی دھوم تو ہر طرف ہی ہے لیکن چیتے، ریچھ، ہاتھی وغیرہ نے آپکے خلاف ایک کولیشن تشکیل دی یے۔ خود اس میں آپکے قریبی دوست شامل ہیں.. آپ جانتے ہیں یہ کافی ظالم جانور ہیں۔ آپکا ان سے بیک وقت ٹکرانا مصلحت نہیں ہے. میرے پاس ایک ترکیب ہے. جس پہ عمل کرنے سے انکے غبارے سے ہوا نکالی جا سکتی ہے۔

شیر نے غصے سے دھاڑتے ہویے کہا تجویز پیش کیجائے۔

لومڑی خوشامدی انداز سے بولی..
بادشاہ سلامت آپکے خلاف سارہ پروپیگنڈہ آپکے دانتوں اور ناخن کی وجہ سے ہے۔ اس پہ شیر غصے سے داڑھا اور کہا تو کیا میں یہ نکلوا دوں۔

لومڑی بولی..
خدا نہ کرے بادشاہ سلامت. لیکن اگر آپ صرف پنجوں کے ناخن کٹوا دیں اور سامنے والے تھوڑے سے دانت نکلوا دیں.. تو آپکی طاقت بھی بحال رہے گی اور دشمن کا پروپیگنڈہ بھی مکمل خاک میں مل جائے گا۔

شیر نے سوچا کہ کہیں سارے جنگل کے اتحادی ملکر مجھ پہ حملہ نہ کر دیں. اس نے نہ چاہتے ہویے بھی لومڑی کی یہ تجویز مان لی. وہ بھول گیا کہ وہ ایک شیر ہے وہ بس ڈانس اور دوسری محفلوں تک رہنے کا عادی ہو چکا تھا۔

ایک روز شیر شکار کرنے اپنی غار سے نکلا اور ایک ہرن کے پیچھے کئی کلومیٹر بھاگنے کے بعد اسکو قابو کیا لیکن جب اسکے جسم میں اپنے ناخن گاڑھنا چاہے تو پنجے میں ناخن نہ ہونے کی وجہ سے پنجہ پھسل گیا.. اس نے جلدی سے دانت ہرن کے گلے میں گاڑھنے کی کوشش کی لیکن یہ حربہ بھی ناکام ہؤا۔ اس جدوجہد کے دوران ہرنی کو بھی علم ہو گیا کہ شیر فارغ ہے یہ بس نام کا شیر ہے تو ہرنی نے شیر کو چار پانچ لاتیں اچھی رسید کیں اور وہاں سے بھاگ نکلی۔

شیر نے کئی جانوروں پہ قسمت آزمائی کی لیکن ایک بھی جانور پہ داؤ نہ چلا، شام تک بھوک سے برا حال ہو گیا تھا۔
نڈھال شیر گرتے پڑتے اپنے کچھار پہنچا اور اس وقت امید کی کرن دکھائی دی. جب اسکو دور سے لومڑی غار میں داخل ہوتی ہوئی نظر آئی.

لومڑی نے بادشاہ سلامت کے آگے نہ سلام پیش کیا، نہ عزت دی، نہ اسکو ظل الہی یا عالی جاہ کہا، نہ ہی شیر کو شہنشاہ دوراں کہا. لومڑی نے طنزیہ انداز سے کہا بھوک تو بہت لگی ہو گی۔

شیر نے نقاہت سے کہا:
ہاں بہت زیادہ تم میرے لیے خوراک کا انتظام کر دو، میں نے تمہارے ہی مشورے پہ ناخن نکلوائے ہیں اور تمہارے ہی کہنے پہ سامنے کے دانت نکلوائے. اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ میرے لیے خوراک کا انتظام کرو۔

لومڑی نے یہ سنا تو ایک لمبا قہقہ لگایا اور شیر کو ایک لات رسید کر کے کہا:
او بیوقوف چوپائے! کوئی کسی کے لیے کچھ نہیں کرتا، ہاں تمہارے ساتھ چونکہ ایک تعلق ہے لہذا میں تیرے لیے گوشت تو نہیں لیکن گھاس کا انتظام کر سکتی ہوں۔

یہ سن کر شیر کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا، اس نے لومڑی پہ اچانک حملہ کیا، لیکن لومڑی پہلے سے تیار تھی، وہ وہاں سے ہٹی اور شیر جو نڈھال تھا اسی جگہ گر پڑا۔

کچھ دن بعد لومڑی شیر کے پاس پھر آئی. شیر بے ہوشی کے عالم سے دو چار تھا. اس نے لومڑی کو دور سے دیکھا تو چلا کر کہا: مجھے گھاس کھانا بھی منظور ہے. اللہ کے لیے کہیں سے میرے لیے گھاس کا انتظام ہی کر دو. اب تو میں گھاس کے لیے گھومنے کے بھی قابل نہیں رہا۔

لومڑی نے شیر کی یہ بے بسی دیکھی تو لومڑی کی آنکھوں میں جیت کی چمک واضح دکھائی دی، لومڑی نے شیر کو طنزیہ کہا: "گھاس بھی تب ہی مل سکتی ھے۔ جب تم منہ سے میاؤں کی آواز نکالو"

یہ سن کر شیر کا جی چاہا کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں دھنس جائے. لیکن جس کو اپنے وقار سے زیادہ اپنی جان عزیز ہو اسکی زمین میں دھنس جانے کی خواہش پوری نہیں ہوا کرتی. چنانچہ شیر نے اپنا جی کڑا کر کے اپنے منہ سے میاؤں کی آواز نکالی اور پھر رحم طلب نظروں سے لومڑی کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔

لومڑی نے حقارت سے اسے دیکھا اور کہا یہ میاؤں کی آواز تم نے ٹھیک نہیں نکالی تم کچھ دن ریاضیت کرو، پریکٹس کرو، جس دن سے تم میاؤں کی صحیح آواز نکالنے میں کامیاب ہو جاؤ تو اس دن سے تم کو گھاس باقاعدگی سے ملنا شروع ہو جائے گی۔

آخری اطلاعات آنے تک شیر ابھی تک میاؤں میاؤں کی آواز نکالنے میں مصروف ہے... شیر اب تک میاؤں میاؤں کی اواز نکالنے میں کافی دسترس حاصل کر چکا ہے۔۔۔

🔘 یہ شیر کوئی اور نہیں ہے بلکہ امتِ مسلمہ ہے.
جس کو کفار نے فحاشی، روشن خیالی، شراب و شباب، مجروں، کرکٹ میچوں کے پیچھے لگا کر بھگا بھگا کر دوڑایا ہوا ہے۔۔۔ اتنے دلکش ہتھکنڈوں میں پھنس کر امتِ مسلمہ بھول بیٹھی ہے کہ وہ ایک شیر ہے۔ کفار نے امتِ مسلمہ کو ایک ناکارہ شیر میں تبدیل کر دیا ہے۔

آج جب شام میں بمباریاں ہو رہی ہیں، بھارت کے مسلمانوں پر اور کشمیر پہ ظلم ہو رہا ہے، فلسطین کے مسلمانوں کو قبلہ اول میں حالت نماز میں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے، مسجد اقصیٰ میں گھس کر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے۔ مسلمانوں کی یہ حالت زار دیکھ کر بھی یہ شیر بس میاؤں میاؤں کر رہا ہے۔

https://t.me/islamwitheman/4119
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
■ 25 رجب المرجب حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر ہدیہ تعزیت و تسلیت عرض ہے۔۔۔

👈 پوسٹ دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔

🌹 حضرت امام موسٰی کاظمؑ
https://t.me/islamwitheman/3093

🌹 شھادت امام کاظم علیہ السلام
https://t.me/islamwitheman/3094

🌹 باب الحوائج امام موسٰی کاظمؑ
https://t.me/islamwitheman/3095

🌹 امام موسٰی کاظمؑ
https://t.me/islamwitheman/3096

🌹 امام موسٰی ابن جعفر الکاظمؑ
https://t.me/islamwitheman/3097

🌹 امام موسٰی کاظمؑ کی اولادیں
https://t.me/islamwitheman/3098
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
■ 26 رجب رحلت حضرت ابوطالب علیہ السلام کے موقع پر ہدیہ تعزیت و تسلیت عرض ہے۔

👈 پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔

🔶 رحلت حضرت ابوطالب علیہ السلام
https://t.me/islamwitheman/2060

🌹 حیاتنامہ حضرت ابوطالب علیہ السلام
https://t.me/islamwitheman/3104

🌹 تاریخ حضرت ابوطالب علیہ السلام
https://t.me/islamwitheman/3105
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕