🌷 حیثیت 🌷
کہتے ہیں محمود غزنوی کا دور تھا ايک شخص کی طبیعت ناساز ہوئی تو وہ طبیب کے پاس گیا
اور کہا کہ مجھے دوائی بنا کے دو۔
طبیب نے کہا کہ دوائی کے لیے جو چیزیں درکار ہیں سب ہیں سوائے شہد کے۔ تم اگر شہد کہیں سے لا دو تو میں دوائی تیار کیے دیتا ہوں۔
اتفاق سے موسم شہد کا نہیں تھا ۔۔
اس شخص نے حکیم سے ایک ڈبا لیا اور چلا گیا لوگوں کے دروازے کھٹکھٹانے لگا مگر ہر جگہ مایوسی ہوئی۔ جب مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ محمود غزنوی کے دربار میں حاضر ہوا۔
کہتے ہیں وہاں ایاز نے دروازہ کھولا اور دستک دینے والے کی رواداد سنی اس نے وہ چھوٹی سی ڈبیا دی اور کہا کہ مجھے اس میں شہد چاہیے۔ ایاز نے کہا آپ تشریف رکھیے میں بادشاہ سے پوچھ کے بتاتا ہوں ۔۔
ایاز وہ ڈبیا لے کر بادشاه کے سامنے حاضر ہوا اور عرض کی کہ بادشاه سلامت ایک سائل کو شہد کی ضرورت ہے ۔۔
بادشاہ نے وہ ڈبیا لی اور سائیڈ میں رکھ دی۔ ایاز کو کہا کہ تین بڑے ڈبے شہد کے اٹھا کے اس کو دے دیے جائیں۔
ایاز نے کہا حضور اس کو تو تھوڑی سی چاہیے
آپ تین ڈبے کیوں دے رہے ہیں ۔۔
بادشاه نے ایاز سے کہا ایاز وہ مزدور آدمی ہے اس نے اپنی حیثیت کے مطابق مانگا ہے۔ ہم بادشاہ ہیں ہم اپنی حیثیت کے مطابق دینگے۔
مولانا رومی فرماتے ہیں ۔۔
آپ اللہ پاک سے اپنی حیثیت کے مطابق مانگیں وہ اپنی شان کے مطابق عطا کریگا شرط یہ ہے کہ
مانگیں تو سہی۔ وہ بڑا غفور و رحیم ہے۔
لاکھوں درود و سلام محمّد اور اس کے آل پر۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
کہتے ہیں محمود غزنوی کا دور تھا ايک شخص کی طبیعت ناساز ہوئی تو وہ طبیب کے پاس گیا
اور کہا کہ مجھے دوائی بنا کے دو۔
طبیب نے کہا کہ دوائی کے لیے جو چیزیں درکار ہیں سب ہیں سوائے شہد کے۔ تم اگر شہد کہیں سے لا دو تو میں دوائی تیار کیے دیتا ہوں۔
اتفاق سے موسم شہد کا نہیں تھا ۔۔
اس شخص نے حکیم سے ایک ڈبا لیا اور چلا گیا لوگوں کے دروازے کھٹکھٹانے لگا مگر ہر جگہ مایوسی ہوئی۔ جب مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ محمود غزنوی کے دربار میں حاضر ہوا۔
کہتے ہیں وہاں ایاز نے دروازہ کھولا اور دستک دینے والے کی رواداد سنی اس نے وہ چھوٹی سی ڈبیا دی اور کہا کہ مجھے اس میں شہد چاہیے۔ ایاز نے کہا آپ تشریف رکھیے میں بادشاہ سے پوچھ کے بتاتا ہوں ۔۔
ایاز وہ ڈبیا لے کر بادشاه کے سامنے حاضر ہوا اور عرض کی کہ بادشاه سلامت ایک سائل کو شہد کی ضرورت ہے ۔۔
بادشاہ نے وہ ڈبیا لی اور سائیڈ میں رکھ دی۔ ایاز کو کہا کہ تین بڑے ڈبے شہد کے اٹھا کے اس کو دے دیے جائیں۔
ایاز نے کہا حضور اس کو تو تھوڑی سی چاہیے
آپ تین ڈبے کیوں دے رہے ہیں ۔۔
بادشاه نے ایاز سے کہا ایاز وہ مزدور آدمی ہے اس نے اپنی حیثیت کے مطابق مانگا ہے۔ ہم بادشاہ ہیں ہم اپنی حیثیت کے مطابق دینگے۔
مولانا رومی فرماتے ہیں ۔۔
آپ اللہ پاک سے اپنی حیثیت کے مطابق مانگیں وہ اپنی شان کے مطابق عطا کریگا شرط یہ ہے کہ
مانگیں تو سہی۔ وہ بڑا غفور و رحیم ہے۔
لاکھوں درود و سلام محمّد اور اس کے آل پر۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 شادی میں تدلیس 🔷
جو لڑکیاں اپنی عمر چھپاتی ہیں یا میک اپ کے ذریعے مردوں کو دھوکہ دیتی ہیں۔ اسی طرح وہ مرد جو لڑکی کو نوکری یا بزنس غلط بتا کر دھوکے سے شادی کرتے ہیں وہ متوجہ ہو جائیں۔
فقہ میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے "تدلیس" جسے اردو میں دھوکہ کہا جاتا ہے۔ اسکی مختصر تشریح یہ ہے کہ اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی کو شادی پے راضی کرنے کے لئے یا لڑکی کسی لڑکے کو شادی پے راضی کرنے کے لئے جھوٹ بولے یا ایسا کام کرے جسکی وجہ سے دوسرے کو دھوکہ ہو جائے تو اسے تدلیس کہا جاتا ہے۔
اور جب تدلیس ہو جائے تو مدمقابل کو نکاح فسخ کرنے کا حق ہوتا ہے۔ اس میں طلاق کی بھی ضرورت نہیں رہتی اور نہ ہی حق مہر دینا ضروری ہے۔
مثال کے طور پر اگر لڑکی اپنی عمر چھپائے اور کم کر کے بتائے مثلا 21 سال کی لڑکی کہے کہ اسکی عمر 20 سال ہے۔ یا لڑکا تازہ تصویر مانگے اور لڑکی پرانی تصویر بھیج دے یا لڑکا نارمل تصویر مانگے اور لڑکی میک اپ شدہ یا موبائل میں موجود میک اپ والے اپلیکیشن کے ذریعے تصویر بنا کر بھیجے جسکی وجہ سے لڑکے کو دھوکہ ہو جائے تو یہ تدلیس ہے۔
اسی طرح اگر لڑکا اپنی کمائی، یا نوکری میں جھوٹ بول کر لڑکی کو دھوکہ دے تو یہ تدلیس ہے۔
نوٹ: ان تمام مثالوں میں ایک نکتہ ضروری ہے وہ یہ کہ جو عمر لڑکے کو بتائی گئی ہے یا جو تصویر دکھائی ہے یا کمائی اور نوکری کا بتایا گیا ہے وہ نکاح میں شرط کے طور پر رکھے مثلا کہے کہ میں اس شرط پر نکاح پے راضی ہوں کہ لڑکی کی عمر 20 سال ہو وغیرہ
یا صفت کے طور پر رکھے مثلا کہے کہ میں ایسی لڑکی سے نکاح پے راضی ہوں جسکی عمر 20 سال ہے۔
یا یہ دونوں نہ ہوں لیکن منگنی کے وقت یا پہلے بات کرتے وقت اسکی عمر 20 سال بتائی گئی تھی اور لڑکے نے اسی پر اعتماد کرتے ہوئے عقد کی بنا اسی پر رکھی ہو لیکن بعد میں عمر زیادہ نکل آئے تو اس صورت میں تدلیس متحقق ہوگی اور نکاح فسخ کر سکتے ہیں۔
لیکن اگر صورت حال یوں ہو کہ مثلا لڑکے کو دھوکہ تو دیا گیا ہے لیکن عمر کی مقدار نہ عقد میں شرط کے طور پر رکھی ہو نہ وصف کے طور پر اور نہ ہی عقد کی بنا اس پر ہو تو فسخ کا حق نہیں ہوگا.
مثال کے طور پر لڑکے سے کہا گیا کہ اسکی عمر 20 سال ہے اور لڑکے نے مان لیا لیکن اسے کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے عمر 20 ہو یا 21 یا زیادہ اس صورت میں کہا جائے گا کہ عقد کی بنا اس عمر کی مقدار پر نہیں رکھی گئی تھی لہذا فسخ کا حق حاصل نہیں.
نوٹ: عمر کی مثال وضاحت کے لئے دی ہے باقی تصویر، نوکری، کمائی وغیرہ کو اسی مثال پر خود ہی تطبیق (فٹ) کرلیں۔
■ سید سیستانی دام ظلہ کے ویب سائٹ سے کچھ سوال و جواب (اردو ترجمہ میں) ملاحظہ کیجئے:
ترجمہ سوال: اگر میاں یا بیوی اپنی عمر میں سے کچھ کم کرے تو کیا یہ تدلیس ہے اور تدلیس کے احکام جاری ہوں گے؟
جواب: جی ہاں اگر عمر کی وہ مقدرا عقد میں شرط یا وصف کے طور پر بیان کرے یا منگنی وغیرہ کے وقت عمر بیان کی گئی ہو اور عقد کی بنا اسی پر رکھے تو تدلیس ہوگی.
.
ترجمہ سوال: کیا کسی کنواری کے لیے شادی کی نیت سے خصوصی خواتین کی محفلوں میں توجہ دلانے اور خوبصورتی بڑھانے کی نیت سے ہلکے کاسمیٹکس پہننا جائز ہے؟ کیا یہ جسمانی خرابیوں کو چھپانا ہے؟
جواب: اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے اور اسے نقائص کو چھپانا نہیں سمجھا جاتا، حالانکہ اگر اسے ایسا ہی سمجھا جائے تو یہ منع نہیں ہوگا جب تک کہ وہ اس سے اس شخص کو تدلیس (دھوکہ) نہ دے جو اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔
ترجمہ سوال: کیا بالوں کو رنگنے کی اجازت ہے۔ مکمل یا جزوی طور پر خواتین کی خصوصی محفلوں میں شادی کے لیے توجہ مبذول کرانے کی نیت سے؟
جواب: اگر یہ فقط زینت کے لیے ہو بغیر تدلیس (دھوکے) کے جیسے کسی عیب یا بڑی عمر کو چھپانے کے لئے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
■ نکاح میں خیار تدلیس
ان عیبوں کے علاوہ جن کا ذکر گزر چکا ہے کہ وہ خیار عیب کے ذریعے ثابت ہوتے ہیں- اس وقت ثابت ہوتا ہے، جب میاں بیوی میں سے کوئی ایک عیب چھپاتا ہے، چاہے اس کی اصلی خلقت میں نقص ہو جیسے کانا ہونا یا اصلی خلقت میں زیادتی ہو جیسے عورت کے لیے داڑھی، یا جب صفت کمال کے وجود کا وہم ہو جبکہ اس میں اس کا وجود نہ ہو، جیسے عزت، نسب، خوبصورتی، کنوارہ پن وغیرہ۔ (منہاج الصالحین ، حصہ 3 ، مسئلہ281۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹیں دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔
💕 شریک حیات کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/529
🌹 نکاح کی فضیلت
http://t.me/islamwitheman/1312
🌹 ارادہ نکاح کے آداب
http://t.me/islamwitheman/1316
🌸 شب زفاف کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1321
🌹 زوجین کے بارے احادیث
https://t.me/islamwitheman/2232
🔷 خطبہ نکاح
https://t.me/islamwitheman/2239
🌺 شریک حیات کے انتخاب کا معیار
https://t.me/islamwitheman/2498
🌷 جلد نکاح کی ترغیب
http://t.me/islamwitheman/2502
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
جو لڑکیاں اپنی عمر چھپاتی ہیں یا میک اپ کے ذریعے مردوں کو دھوکہ دیتی ہیں۔ اسی طرح وہ مرد جو لڑکی کو نوکری یا بزنس غلط بتا کر دھوکے سے شادی کرتے ہیں وہ متوجہ ہو جائیں۔
فقہ میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے "تدلیس" جسے اردو میں دھوکہ کہا جاتا ہے۔ اسکی مختصر تشریح یہ ہے کہ اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی کو شادی پے راضی کرنے کے لئے یا لڑکی کسی لڑکے کو شادی پے راضی کرنے کے لئے جھوٹ بولے یا ایسا کام کرے جسکی وجہ سے دوسرے کو دھوکہ ہو جائے تو اسے تدلیس کہا جاتا ہے۔
اور جب تدلیس ہو جائے تو مدمقابل کو نکاح فسخ کرنے کا حق ہوتا ہے۔ اس میں طلاق کی بھی ضرورت نہیں رہتی اور نہ ہی حق مہر دینا ضروری ہے۔
مثال کے طور پر اگر لڑکی اپنی عمر چھپائے اور کم کر کے بتائے مثلا 21 سال کی لڑکی کہے کہ اسکی عمر 20 سال ہے۔ یا لڑکا تازہ تصویر مانگے اور لڑکی پرانی تصویر بھیج دے یا لڑکا نارمل تصویر مانگے اور لڑکی میک اپ شدہ یا موبائل میں موجود میک اپ والے اپلیکیشن کے ذریعے تصویر بنا کر بھیجے جسکی وجہ سے لڑکے کو دھوکہ ہو جائے تو یہ تدلیس ہے۔
اسی طرح اگر لڑکا اپنی کمائی، یا نوکری میں جھوٹ بول کر لڑکی کو دھوکہ دے تو یہ تدلیس ہے۔
نوٹ: ان تمام مثالوں میں ایک نکتہ ضروری ہے وہ یہ کہ جو عمر لڑکے کو بتائی گئی ہے یا جو تصویر دکھائی ہے یا کمائی اور نوکری کا بتایا گیا ہے وہ نکاح میں شرط کے طور پر رکھے مثلا کہے کہ میں اس شرط پر نکاح پے راضی ہوں کہ لڑکی کی عمر 20 سال ہو وغیرہ
یا صفت کے طور پر رکھے مثلا کہے کہ میں ایسی لڑکی سے نکاح پے راضی ہوں جسکی عمر 20 سال ہے۔
یا یہ دونوں نہ ہوں لیکن منگنی کے وقت یا پہلے بات کرتے وقت اسکی عمر 20 سال بتائی گئی تھی اور لڑکے نے اسی پر اعتماد کرتے ہوئے عقد کی بنا اسی پر رکھی ہو لیکن بعد میں عمر زیادہ نکل آئے تو اس صورت میں تدلیس متحقق ہوگی اور نکاح فسخ کر سکتے ہیں۔
لیکن اگر صورت حال یوں ہو کہ مثلا لڑکے کو دھوکہ تو دیا گیا ہے لیکن عمر کی مقدار نہ عقد میں شرط کے طور پر رکھی ہو نہ وصف کے طور پر اور نہ ہی عقد کی بنا اس پر ہو تو فسخ کا حق نہیں ہوگا.
مثال کے طور پر لڑکے سے کہا گیا کہ اسکی عمر 20 سال ہے اور لڑکے نے مان لیا لیکن اسے کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے عمر 20 ہو یا 21 یا زیادہ اس صورت میں کہا جائے گا کہ عقد کی بنا اس عمر کی مقدار پر نہیں رکھی گئی تھی لہذا فسخ کا حق حاصل نہیں.
نوٹ: عمر کی مثال وضاحت کے لئے دی ہے باقی تصویر، نوکری، کمائی وغیرہ کو اسی مثال پر خود ہی تطبیق (فٹ) کرلیں۔
■ سید سیستانی دام ظلہ کے ویب سائٹ سے کچھ سوال و جواب (اردو ترجمہ میں) ملاحظہ کیجئے:
ترجمہ سوال: اگر میاں یا بیوی اپنی عمر میں سے کچھ کم کرے تو کیا یہ تدلیس ہے اور تدلیس کے احکام جاری ہوں گے؟
جواب: جی ہاں اگر عمر کی وہ مقدرا عقد میں شرط یا وصف کے طور پر بیان کرے یا منگنی وغیرہ کے وقت عمر بیان کی گئی ہو اور عقد کی بنا اسی پر رکھے تو تدلیس ہوگی.
.
ترجمہ سوال: کیا کسی کنواری کے لیے شادی کی نیت سے خصوصی خواتین کی محفلوں میں توجہ دلانے اور خوبصورتی بڑھانے کی نیت سے ہلکے کاسمیٹکس پہننا جائز ہے؟ کیا یہ جسمانی خرابیوں کو چھپانا ہے؟
جواب: اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے اور اسے نقائص کو چھپانا نہیں سمجھا جاتا، حالانکہ اگر اسے ایسا ہی سمجھا جائے تو یہ منع نہیں ہوگا جب تک کہ وہ اس سے اس شخص کو تدلیس (دھوکہ) نہ دے جو اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔
ترجمہ سوال: کیا بالوں کو رنگنے کی اجازت ہے۔ مکمل یا جزوی طور پر خواتین کی خصوصی محفلوں میں شادی کے لیے توجہ مبذول کرانے کی نیت سے؟
جواب: اگر یہ فقط زینت کے لیے ہو بغیر تدلیس (دھوکے) کے جیسے کسی عیب یا بڑی عمر کو چھپانے کے لئے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
■ نکاح میں خیار تدلیس
ان عیبوں کے علاوہ جن کا ذکر گزر چکا ہے کہ وہ خیار عیب کے ذریعے ثابت ہوتے ہیں- اس وقت ثابت ہوتا ہے، جب میاں بیوی میں سے کوئی ایک عیب چھپاتا ہے، چاہے اس کی اصلی خلقت میں نقص ہو جیسے کانا ہونا یا اصلی خلقت میں زیادتی ہو جیسے عورت کے لیے داڑھی، یا جب صفت کمال کے وجود کا وہم ہو جبکہ اس میں اس کا وجود نہ ہو، جیسے عزت، نسب، خوبصورتی، کنوارہ پن وغیرہ۔ (منہاج الصالحین ، حصہ 3 ، مسئلہ281۔)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹیں دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔
💕 شریک حیات کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/529
🌹 نکاح کی فضیلت
http://t.me/islamwitheman/1312
🌹 ارادہ نکاح کے آداب
http://t.me/islamwitheman/1316
🌸 شب زفاف کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1321
🌹 زوجین کے بارے احادیث
https://t.me/islamwitheman/2232
🔷 خطبہ نکاح
https://t.me/islamwitheman/2239
🌺 شریک حیات کے انتخاب کا معیار
https://t.me/islamwitheman/2498
🌷 جلد نکاح کی ترغیب
http://t.me/islamwitheman/2502
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💕 شریک حیات کے حقوق 💕
بلا شک ”خاوند جی” کو اللہ تعالیٰ نے بیوی پر برتری اور افضلیت عطاء فرمائی ہے اپنے کلام پاک میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زُبان مبارک سے خاوند کو بیوی کا مالک و آقا قرار دِیا ہے لیکن اُسے یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اپنی اِس…
بلا شک ”خاوند جی” کو اللہ تعالیٰ نے بیوی پر برتری اور افضلیت عطاء فرمائی ہے اپنے کلام پاک میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زُبان مبارک سے خاوند کو بیوی کا مالک و آقا قرار دِیا ہے لیکن اُسے یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اپنی اِس…
🔷 قرآن مجید میں آیات کی تعداد 🔷
سوال: قرآنی آیات کی تعداد کتنی ہے؟
جواب: عام طور سے مشہور یہ ہے کہ قرآن مجید کی کل چھ ہزار چھ سو چھاسٹھ (6666) آیات ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔۔۔
ہمارے بعض دوستوں اور جاننے والوں نے باقاعدہ طور سے وقت صرف کر کے قرآن مجید کی آیات کو خود بھی گنا لیکن مذکورہ بالا تعداد پوری نہ ہو سکی۔ حتی بعض نے تین تین چار چار مختلف قرآن سامنے رکھ کر بھی آیات کو شمار کیا لیکن مذکورہ بالا تعداد کو پورا کرنے سے قاصر رہے۔
اس سلسلہ میں مسلمہ قول یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات چھ ہزار سے زیادہ ہیں لیکن زیادہ کی تعداد کے بارے میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ قرآنی آیات کی تعداد میں اس اختلاف کا سبب آیات کی کمی یا زیادتی سے مربوط نہیں ہے بلکہ اس اختلاف کا بنیادی سبب آیات کی گنتی اور آیت کی ابتداء اور انتہا سے مربوط ہے۔ جس کے چند نمونے مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ بعض نے حروف مقطعه کو ایک مستقل آیت شمار کیا ہے جبکہ بعض نے ان حروف کو مستقل آیت شمار نہیں کیا۔
2۔ بعض نے سورہ رحمان میں "مدهامتان" { الرحمن: 64} کے علاوہ پورے قرآن مجید میں کسی دوسرے تنہا لفظ کو مکمل آیت شمار نہیں کیا جبکہ بعض نے متعدد تنہا کلمات کو مستقل آیت شمار کیا ہے جیسے "والنجم"، "والضحی"، "و العصر"۔
3۔ علوم قرآن کے بعض محققین صرف "وقف" کو آیت کے خاتمہ کی علامت سمجھتے اور "وصل" کو ایک ہی آیت ہونے کی نشانی قرار دیتے ہیں جبکہ بعض صرف "وصل" کو ایک ہی آیت ہونے کی علامت نہیں سمجھتے کیونکہ اُن کے نزدیک کبھی پیغمبر اکرم (ص) آیات کے باہمی ربط کی بنا پر وقف کے بغیر تلاوت کرتے تھے جبکہ وہ آیات الگ الگ اور مستقل ہوتی تھیں۔
4۔ صحابہ کے زمانے ہی سے قرآن مجید کی متعدد قراءت پائی جاتی تھیں اور عربوں کے درمیان قبائل کے مختلف لہجوں کی بنا پر تمام مسلمانوں کا ایک قراءت پر متفق ہونا بھی بہت مشکل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی سات قراءت مشہور ہیں جو سات قاریوں کے نام سے ہیں جن سب کے درمیان قرآنی آیات کی تعداد، آیات کے خاتمہ کی جگہ اور سورتوں کے شروع میں بسم اللہ کو مستقل آیت شمار کرنے کے حوالے سے اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔
مثلا ایک قاری «صراط الذين انعمت عليهم» کو ایک آیت اور «غير المغضوب عليهم و لا الضالين» کو دوسری آیت شمار کرتا ہے جبکہ دوسرے قاری کی نظر میں یہ دونوں ایک ہی آیت کے دو حصے ہیں۔
اسی وجہ سے قرآنی آیات کی تعداد کے سلسلہ میں مختلف روایات اور نظریات سامنے آئے اور ہر گروہ نے اپنی نظر میں قابلِ اعتبار روایات کو سامنے رکھتے ہوئے مخصوص تعداد بیان کی، یہاں تک کہ یہی اختلاف سبب بنا کہ مکی، مدنی، کوفی، بصری اور شامی قراءتوں کے مطابق آیات کی مختلف تعداد بیان ہوئی۔
البتہ ظاہری طور سے محسوس ہوتا ہے کہ ان اقوال میں سے صحیح ترین قول کوفی عدد ہے یعنی قرآن مجید کی کل آیات چھ ہزار دو سو چھتیس (6236) ہیں، اور یہی تعداد صحیح سند کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام سے بھی نقل ہوئی ہے۔
📜 ثم قال النبي ص جميع سور القرآن مائة و أربع عشرة سورة و جميع آيات القرآن ستة آلاف آية و مائتا آية و ست و ثلاثون آية و جميع حروف القرآن ثلاثمائة ألف حرف واحد و عشرون ألف حرف و مائتان و خمسون حرفا؛ (مجمع البیان، ج۱۰ ص۱۱۴)
ترجمہ:
"پھر نبی اکرم (ص) نے فرمایا کہ قرآن کی کل سورتیں ایک سو چودہ ( 114) اور کل آیات چھ ہزار دو سو چھتیس ( 6236 ) اور کل حروف تین لاکھ اکیس ہزار دو سو پچاس (321250) ہیں"۔
یہی قول اہلسنت کے مشہور مفسر سیوطی نے الاتقان میں بھی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
پس قرآنی آیات کی تعداد میں اختلاف، قرآن مجید میں کمی یا زیادتی کی وجہ سے نہیں ہے کیونکہ یہ اختلاف دوسرے پہلوؤں سے ہے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزيد پوسٹیں دیکھنے کے لیے مطلوبہ لنک پر کلک کریں ۔۔۔
🔵 قرآن کی بہترین دعائیں
https://t.me/islamwitheman/37
🌹 قرآن مجید کا پڑھنا
http://t.me/islamwitheman/284
📖 تلاوت قرآن
http://t.me/islamwitheman/285
🔵 قرآن کے متعلق غور طلب باتیں
http://t.me/islamwitheman/286
🔵 قرآن کس لئے نازل کیا گیا
http://t.me/islamwitheman/287
🌼 قرآنی معلومات
http://t.me/islamwitheman/288
📗 قرآن میں اصول دین و فروع دین
https://t.me/islamwitheman/402
🌍 قرآن اور حضرت امام مھدی ع
https://t.me/islamwitheman/834
🌸 میں قرآن میں کہاں ہوں
https://t.me/islamwitheman/847
🌼 قرآن کریم کے واجب سجدے
https://t.me/islamwitheman/849
💠 قرآن سے انسیت کے مراتب
http://t.me/islamwitheman/1011
🔷 نماز کے اوقات در قرآن
https://t.me/islamwitheman/2247
🌹 دلچسپ قرآنی معلومات
https://t.me/islamwitheman/2315
🌸 خدا کا خط
https://t.me/islamwitheman/2353
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
سوال: قرآنی آیات کی تعداد کتنی ہے؟
جواب: عام طور سے مشہور یہ ہے کہ قرآن مجید کی کل چھ ہزار چھ سو چھاسٹھ (6666) آیات ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔۔۔
ہمارے بعض دوستوں اور جاننے والوں نے باقاعدہ طور سے وقت صرف کر کے قرآن مجید کی آیات کو خود بھی گنا لیکن مذکورہ بالا تعداد پوری نہ ہو سکی۔ حتی بعض نے تین تین چار چار مختلف قرآن سامنے رکھ کر بھی آیات کو شمار کیا لیکن مذکورہ بالا تعداد کو پورا کرنے سے قاصر رہے۔
اس سلسلہ میں مسلمہ قول یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات چھ ہزار سے زیادہ ہیں لیکن زیادہ کی تعداد کے بارے میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ قرآنی آیات کی تعداد میں اس اختلاف کا سبب آیات کی کمی یا زیادتی سے مربوط نہیں ہے بلکہ اس اختلاف کا بنیادی سبب آیات کی گنتی اور آیت کی ابتداء اور انتہا سے مربوط ہے۔ جس کے چند نمونے مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ بعض نے حروف مقطعه کو ایک مستقل آیت شمار کیا ہے جبکہ بعض نے ان حروف کو مستقل آیت شمار نہیں کیا۔
2۔ بعض نے سورہ رحمان میں "مدهامتان" { الرحمن: 64} کے علاوہ پورے قرآن مجید میں کسی دوسرے تنہا لفظ کو مکمل آیت شمار نہیں کیا جبکہ بعض نے متعدد تنہا کلمات کو مستقل آیت شمار کیا ہے جیسے "والنجم"، "والضحی"، "و العصر"۔
3۔ علوم قرآن کے بعض محققین صرف "وقف" کو آیت کے خاتمہ کی علامت سمجھتے اور "وصل" کو ایک ہی آیت ہونے کی نشانی قرار دیتے ہیں جبکہ بعض صرف "وصل" کو ایک ہی آیت ہونے کی علامت نہیں سمجھتے کیونکہ اُن کے نزدیک کبھی پیغمبر اکرم (ص) آیات کے باہمی ربط کی بنا پر وقف کے بغیر تلاوت کرتے تھے جبکہ وہ آیات الگ الگ اور مستقل ہوتی تھیں۔
4۔ صحابہ کے زمانے ہی سے قرآن مجید کی متعدد قراءت پائی جاتی تھیں اور عربوں کے درمیان قبائل کے مختلف لہجوں کی بنا پر تمام مسلمانوں کا ایک قراءت پر متفق ہونا بھی بہت مشکل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی سات قراءت مشہور ہیں جو سات قاریوں کے نام سے ہیں جن سب کے درمیان قرآنی آیات کی تعداد، آیات کے خاتمہ کی جگہ اور سورتوں کے شروع میں بسم اللہ کو مستقل آیت شمار کرنے کے حوالے سے اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔
مثلا ایک قاری «صراط الذين انعمت عليهم» کو ایک آیت اور «غير المغضوب عليهم و لا الضالين» کو دوسری آیت شمار کرتا ہے جبکہ دوسرے قاری کی نظر میں یہ دونوں ایک ہی آیت کے دو حصے ہیں۔
اسی وجہ سے قرآنی آیات کی تعداد کے سلسلہ میں مختلف روایات اور نظریات سامنے آئے اور ہر گروہ نے اپنی نظر میں قابلِ اعتبار روایات کو سامنے رکھتے ہوئے مخصوص تعداد بیان کی، یہاں تک کہ یہی اختلاف سبب بنا کہ مکی، مدنی، کوفی، بصری اور شامی قراءتوں کے مطابق آیات کی مختلف تعداد بیان ہوئی۔
البتہ ظاہری طور سے محسوس ہوتا ہے کہ ان اقوال میں سے صحیح ترین قول کوفی عدد ہے یعنی قرآن مجید کی کل آیات چھ ہزار دو سو چھتیس (6236) ہیں، اور یہی تعداد صحیح سند کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام سے بھی نقل ہوئی ہے۔
📜 ثم قال النبي ص جميع سور القرآن مائة و أربع عشرة سورة و جميع آيات القرآن ستة آلاف آية و مائتا آية و ست و ثلاثون آية و جميع حروف القرآن ثلاثمائة ألف حرف واحد و عشرون ألف حرف و مائتان و خمسون حرفا؛ (مجمع البیان، ج۱۰ ص۱۱۴)
ترجمہ:
"پھر نبی اکرم (ص) نے فرمایا کہ قرآن کی کل سورتیں ایک سو چودہ ( 114) اور کل آیات چھ ہزار دو سو چھتیس ( 6236 ) اور کل حروف تین لاکھ اکیس ہزار دو سو پچاس (321250) ہیں"۔
یہی قول اہلسنت کے مشہور مفسر سیوطی نے الاتقان میں بھی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
پس قرآنی آیات کی تعداد میں اختلاف، قرآن مجید میں کمی یا زیادتی کی وجہ سے نہیں ہے کیونکہ یہ اختلاف دوسرے پہلوؤں سے ہے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزيد پوسٹیں دیکھنے کے لیے مطلوبہ لنک پر کلک کریں ۔۔۔
🔵 قرآن کی بہترین دعائیں
https://t.me/islamwitheman/37
🌹 قرآن مجید کا پڑھنا
http://t.me/islamwitheman/284
📖 تلاوت قرآن
http://t.me/islamwitheman/285
🔵 قرآن کے متعلق غور طلب باتیں
http://t.me/islamwitheman/286
🔵 قرآن کس لئے نازل کیا گیا
http://t.me/islamwitheman/287
🌼 قرآنی معلومات
http://t.me/islamwitheman/288
📗 قرآن میں اصول دین و فروع دین
https://t.me/islamwitheman/402
🌍 قرآن اور حضرت امام مھدی ع
https://t.me/islamwitheman/834
🌸 میں قرآن میں کہاں ہوں
https://t.me/islamwitheman/847
🌼 قرآن کریم کے واجب سجدے
https://t.me/islamwitheman/849
💠 قرآن سے انسیت کے مراتب
http://t.me/islamwitheman/1011
🔷 نماز کے اوقات در قرآن
https://t.me/islamwitheman/2247
🌹 دلچسپ قرآنی معلومات
https://t.me/islamwitheman/2315
🌸 خدا کا خط
https://t.me/islamwitheman/2353
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 قرآن کی بہترین دعائیں 🔷
📌والدين كيلئے:
{رَّبِّ ٱرْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرًا}
سورة الإسراء 24.
ترجمہ:
اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے.
📌صالح اولاد كيلئے:
{رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً…
📌والدين كيلئے:
{رَّبِّ ٱرْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرًا}
سورة الإسراء 24.
ترجمہ:
اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے.
📌صالح اولاد كيلئے:
{رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً…
🌷 زیارت عاشورا کی اہمیت 🌷
آیت اللہ شهید دستغیب (ره) اپنی کتاب “داستانهای شگفت” میں اهمیت زیارت عاشورا کے بارے میں ایک حکایت ذکر کرتے ہیں کہ جس کا خلاصہ یہ ھے:
شہر نجف کے ایک عالم دین نے تقریباً ایک سو سال پہلے خواب میں حضرت عزرائیل کو دیکھا. سلام علیک کے بعد ان سے پوچھا: آپ کہاں سے آرہے ہیں؟ ملک الموت نے جواب دیا:
شیراز سے! روح مرحوم میرزا ابراهیم محلاتی کو قبض کر کے آرہا ہوں۔
عالم دین نے سوال کیا:
ان کی روح کس حالت و عالَم میں ہے؟
جناب عرزائیل نے فرمایا:
عالم برزخ کی بہترین حالت و بہترین باغوں میں. خداوند عالم نے ایک هزار فرشتوں کو ان کی خدمت کیلئے مقرر فرمایا ہے.
شہر نجف کے عالم نے سوال کیا:
آیا انہیں یہ مقام ان کی علمی کوششوں، تدریس اور شاگردوں کی تربیت کے نتیجے میں ملا ہے؟
جناب عزرائیل نے کہا: نہیں!
عالم نے دوبارہ پوچھا:
کیا نماز جماعت ادا کرنے اور شرعی احکام بیان کرنے کی وجہ سے!
فرمایا: نہیں!
عالم دین: پس یہ بلند مقام انہیں کس وجہ سے ملا ہے؟
جناب عزرائیل نے کہا:
زیارت عاشورا پڑھنے کی وجہ سے.
نقل کیا گیا ہے که مرحوم میرزا محلاتی نے اپنی زندگی کے آخری تیس سال کبھی زیارت عاشورا کو ترک نہیں کیا اور جس دن بھی بیماری یا کسی دوسرے کام کے سبب وہ خود نہ پڑھ سکے تو کسی کو اپنا نائب بناتے کہ وہ ان کی طرف سے پڑھے.
📚 داستان های شگفت، حکایت 110۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔
🔷 زیارت عاشورا عربی
https://t.me/islamwitheman/3914
🌸 زیارت عاشورا میں
https://t.me/islamwitheman/3919
🌷 زیارت عاشورا کی اہمیت
https://t.me/islamwitheman/4092
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
آیت اللہ شهید دستغیب (ره) اپنی کتاب “داستانهای شگفت” میں اهمیت زیارت عاشورا کے بارے میں ایک حکایت ذکر کرتے ہیں کہ جس کا خلاصہ یہ ھے:
شہر نجف کے ایک عالم دین نے تقریباً ایک سو سال پہلے خواب میں حضرت عزرائیل کو دیکھا. سلام علیک کے بعد ان سے پوچھا: آپ کہاں سے آرہے ہیں؟ ملک الموت نے جواب دیا:
شیراز سے! روح مرحوم میرزا ابراهیم محلاتی کو قبض کر کے آرہا ہوں۔
عالم دین نے سوال کیا:
ان کی روح کس حالت و عالَم میں ہے؟
جناب عرزائیل نے فرمایا:
عالم برزخ کی بہترین حالت و بہترین باغوں میں. خداوند عالم نے ایک هزار فرشتوں کو ان کی خدمت کیلئے مقرر فرمایا ہے.
شہر نجف کے عالم نے سوال کیا:
آیا انہیں یہ مقام ان کی علمی کوششوں، تدریس اور شاگردوں کی تربیت کے نتیجے میں ملا ہے؟
جناب عزرائیل نے کہا: نہیں!
عالم نے دوبارہ پوچھا:
کیا نماز جماعت ادا کرنے اور شرعی احکام بیان کرنے کی وجہ سے!
فرمایا: نہیں!
عالم دین: پس یہ بلند مقام انہیں کس وجہ سے ملا ہے؟
جناب عزرائیل نے کہا:
زیارت عاشورا پڑھنے کی وجہ سے.
نقل کیا گیا ہے که مرحوم میرزا محلاتی نے اپنی زندگی کے آخری تیس سال کبھی زیارت عاشورا کو ترک نہیں کیا اور جس دن بھی بیماری یا کسی دوسرے کام کے سبب وہ خود نہ پڑھ سکے تو کسی کو اپنا نائب بناتے کہ وہ ان کی طرف سے پڑھے.
📚 داستان های شگفت، حکایت 110۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔
🔷 زیارت عاشورا عربی
https://t.me/islamwitheman/3914
🌸 زیارت عاشورا میں
https://t.me/islamwitheman/3919
🌷 زیارت عاشورا کی اہمیت
https://t.me/islamwitheman/4092
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 زیارت عاشورا 🔷
سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی مختصر زیارت پڑھے۔۔۔
” اَلسَّلاَم ُعَلَیکَ یٰا اَبٰا عَبدِ اللّٰہِ ،اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَابنَ رَسُولِ اللّٰہِ ، اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَ بَرَکٰاتُہ “ اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت عاشورا…
سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی مختصر زیارت پڑھے۔۔۔
” اَلسَّلاَم ُعَلَیکَ یٰا اَبٰا عَبدِ اللّٰہِ ،اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَابنَ رَسُولِ اللّٰہِ ، اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَ بَرَکٰاتُہ “ اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت عاشورا…
🔷 محل کی کرپشن کے شراکت دار 🔷
ایک دن ایک حکمران محل میں بیٹھا تھا جب اس نے محل کے باہر ایک سیب فروش کو آواز لگاتے ہوئے سنا: "سیب خریدیں! سیب !!"
حاکم نے باہر دیکھا کہ ایک دیہاتی آدمی اپنے گدھے پر سیب لادے بازار جا رہا ہے۔ حکمران نے سیب کی خواہش کی اور اپنے وزیر سے کہا: خزانے سے 5 سونے کے سکے لے لو اور میرے لیے ایک سیب لاؤ۔
وزیر نے خزانے سے 5 سکے نکالے اور اپنے معاون سے کہا: یہ 4 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں!
معاون وزیر نے محل کے منتظم کو بلایا اور کہا: سونے کے یہ 3 سکے لیں اور ایک سیب لائیں!
محل کے منتظم نے محل کے چوکیداری منتظم کو بلایا اور کہا: یہ 2 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں!
چوکیداری کے منتظم نے گیٹ سپاہی کو بلایا اور کہا: یہ 1 سونے کا سکہ لے لو اور ایک سیب لاؤ!
سپاہی سیب والے کے پیچھے گیا اور اسے گریبان سے پکڑ کر کہا: دیہاتی انسان! تم اتنا شور کیوں کر رہے ہو؟ تمہیں نہیں پتا کہ یہ مملکت کے بادشاہ کا محل ہے اور تم نے دل دہلا دینے والی آوازوں سے بادشاہ کی نیند میں خلل ڈالا ہے اب مجھے حکم ہے کہ تجھ کو قید کر دوں۔
باغبان سیب فروش محل کے سپاہیوں کے قدموں میں گر گیا اور کہا:
میں نے غلطی کی جناب!
اس گدھے کا بوجھ میری محنت کے ایک سال کا نتیجہ ہے، یہ لے لو، لیکن مجھے قید کرنے سے معاف رکھو!
سپاہی نے سیب لیے اور آدھے اپنے پاس رکھے اور باقی اپنے منتظم افسر کو دے دیئے۔
اور اس نے اس میں سے آدھے رکھے اور آدھے اوپر کے افسر کو دے دیئے اور کہا:
یہ 1 سونے کے سکے والے سیب ہیں۔
افسر نے ان سیبوں کا آدھا حصہ محل کے منتظم کو دیا، اس نے کہا:
ان سیبوں کی قیمت 2 سونے کے سکے ہیں!
محل کے منتظم نے آدھے سیب اپنے لیے رکھے اور آدھے اسسٹنٹ وزیر کو دیے اور کہا:
ان سیبوں کی قیمت 3 سونے کے سکے ہیں!
اسسٹنٹ وزیر نے آدھے سیب اٹھائے اور وزیر کے پاس گیا اور کہا:
ان سیبوں کی قیمت 4 سونے کے سکے ہیں!
وزیر نے آدھے سیب اپنے لیے رکھے اور اس طرح صرف پانچ سیب چھوڑ کر حکمران کے پاس گیا اور کہا:
یہ 5 سیب ہیں جن کی مالیت 5 سونے کے سکے ہیں!
حاکم نے اپنے آپ سوچا کہ اس کے دور حکومت میں لوگ واقعی امیر اور خوشحال ہیں، کسان نے پانچ سیب پانچ سونے کے سکوں کے عوض فروخت کئے۔ ہر سونے کے سکے کے لیے ایک سیب۔
اور لوگ ایک سونے کے سکے کے عوض ایک سیب خریدتے ہیں۔ یعنی وہ امیر ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ ٹیکس میں اضافہ کیا جائے اور محل کے خزانے کو بھر دیا جائے۔
اور پھر عوام میں غربت بڑھتی گئی۔
فارسی سے ترجمہ
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک دن ایک حکمران محل میں بیٹھا تھا جب اس نے محل کے باہر ایک سیب فروش کو آواز لگاتے ہوئے سنا: "سیب خریدیں! سیب !!"
حاکم نے باہر دیکھا کہ ایک دیہاتی آدمی اپنے گدھے پر سیب لادے بازار جا رہا ہے۔ حکمران نے سیب کی خواہش کی اور اپنے وزیر سے کہا: خزانے سے 5 سونے کے سکے لے لو اور میرے لیے ایک سیب لاؤ۔
وزیر نے خزانے سے 5 سکے نکالے اور اپنے معاون سے کہا: یہ 4 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں!
معاون وزیر نے محل کے منتظم کو بلایا اور کہا: سونے کے یہ 3 سکے لیں اور ایک سیب لائیں!
محل کے منتظم نے محل کے چوکیداری منتظم کو بلایا اور کہا: یہ 2 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں!
چوکیداری کے منتظم نے گیٹ سپاہی کو بلایا اور کہا: یہ 1 سونے کا سکہ لے لو اور ایک سیب لاؤ!
سپاہی سیب والے کے پیچھے گیا اور اسے گریبان سے پکڑ کر کہا: دیہاتی انسان! تم اتنا شور کیوں کر رہے ہو؟ تمہیں نہیں پتا کہ یہ مملکت کے بادشاہ کا محل ہے اور تم نے دل دہلا دینے والی آوازوں سے بادشاہ کی نیند میں خلل ڈالا ہے اب مجھے حکم ہے کہ تجھ کو قید کر دوں۔
باغبان سیب فروش محل کے سپاہیوں کے قدموں میں گر گیا اور کہا:
میں نے غلطی کی جناب!
اس گدھے کا بوجھ میری محنت کے ایک سال کا نتیجہ ہے، یہ لے لو، لیکن مجھے قید کرنے سے معاف رکھو!
سپاہی نے سیب لیے اور آدھے اپنے پاس رکھے اور باقی اپنے منتظم افسر کو دے دیئے۔
اور اس نے اس میں سے آدھے رکھے اور آدھے اوپر کے افسر کو دے دیئے اور کہا:
یہ 1 سونے کے سکے والے سیب ہیں۔
افسر نے ان سیبوں کا آدھا حصہ محل کے منتظم کو دیا، اس نے کہا:
ان سیبوں کی قیمت 2 سونے کے سکے ہیں!
محل کے منتظم نے آدھے سیب اپنے لیے رکھے اور آدھے اسسٹنٹ وزیر کو دیے اور کہا:
ان سیبوں کی قیمت 3 سونے کے سکے ہیں!
اسسٹنٹ وزیر نے آدھے سیب اٹھائے اور وزیر کے پاس گیا اور کہا:
ان سیبوں کی قیمت 4 سونے کے سکے ہیں!
وزیر نے آدھے سیب اپنے لیے رکھے اور اس طرح صرف پانچ سیب چھوڑ کر حکمران کے پاس گیا اور کہا:
یہ 5 سیب ہیں جن کی مالیت 5 سونے کے سکے ہیں!
حاکم نے اپنے آپ سوچا کہ اس کے دور حکومت میں لوگ واقعی امیر اور خوشحال ہیں، کسان نے پانچ سیب پانچ سونے کے سکوں کے عوض فروخت کئے۔ ہر سونے کے سکے کے لیے ایک سیب۔
اور لوگ ایک سونے کے سکے کے عوض ایک سیب خریدتے ہیں۔ یعنی وہ امیر ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ ٹیکس میں اضافہ کیا جائے اور محل کے خزانے کو بھر دیا جائے۔
اور پھر عوام میں غربت بڑھتی گئی۔
فارسی سے ترجمہ
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
👈 پوسٹ دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🌹 حضرت ام البنينؑ
https://t.me/islamwitheman/3041
🌹 زيارة ام البنين عليها السلام
https://t.me/islamwitheman/3042
🌸 عقد حضرت علیؑ و ام البنینؑ
https://t.me/islamwitheman/4095
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حضرت ام البنينؑ
https://t.me/islamwitheman/3041
🌹 زيارة ام البنين عليها السلام
https://t.me/islamwitheman/3042
🌸 عقد حضرت علیؑ و ام البنینؑ
https://t.me/islamwitheman/4095
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌸 عقد حضرت علیؑ و ام البنینؑ 🌸
حضرت فاطمہ زہراءؑ کی رحلت کے کئی سال بعد حضرت علیؑ نے اپنے بھائی عقیل جو نسب شناسی میں مشہور تھے، سے ایک نجیب خاندان سے بہادر، شجاع اور جنگجو اولاد جنم دینے والی زوجہ کے انتخاب کے بارے میں مشورہ کیا تو عقیل نے فاطمہ بنت حزام کا نام تجویز کیا اور کہا عربوں میں بنی کلاب کے مردوں جیسا کوئی دلیر مرد نہیں دیکھا جا سکتا۔ یوں حضرت علیؑ نے آپ سے شادی کی۔[1]
اس شادی کا ثمرہ خدا نے چار بیٹوں کی صورت میں عطا کیا جن کے نام عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان ہیں۔
آپ کے یہ چار بیٹے شجاعت اور دلیری میں اپنی مثال آپ تھے اس وجہ سے آپ کو ام البنین [بیٹوں کی ماں] کہا جاتا تھا۔ آپ کے یہ چار کے چار بیٹے کربلا میں اپنے بھائی اور امام، امام حسینؑ کی رکاب میں شہادت کے عظیم درجے پر فائز ہوئے۔[2]
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی حضرت امام علیؑ کو یہ تجویز دی تھی کہ ان کو بجائے فاطمہ ام البنین کہہ کر پکارا جائے تاکہ حضرت فاطمہ زہراء(س) کے بچوں کو فاطمہ کہنے سے اپنی ماں حضرت فاطمہ زہراء(س) کی یاد تازہ نہ ہوجائے اور انہیں ماں پر گزرے تلخ حوادث آزار نہ پہنچائیں۔[حوالہ درکار]
یہ عقد 18 رجب المرجب کو ہوا۔
📚 حوالہ جات
1۔ ابن عنبہ، عمدۃ الطالب، ص۳۵۷.
2۔ اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۸۲ -۸۴؛ ابن عنبہ، عمدۃ الطالب، ص۳۵۶؛ حسّون، اعلام النساء المؤمنات، ص۴۹۶۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/4094
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
🌹 حضرت ام البنينؑ
https://t.me/islamwitheman/3041
🌹 زيارة ام البنين عليها السلام
https://t.me/islamwitheman/3042
🌸 عقد حضرت علیؑ و ام البنینؑ
https://t.me/islamwitheman/4095
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت فاطمہ زہراءؑ کی رحلت کے کئی سال بعد حضرت علیؑ نے اپنے بھائی عقیل جو نسب شناسی میں مشہور تھے، سے ایک نجیب خاندان سے بہادر، شجاع اور جنگجو اولاد جنم دینے والی زوجہ کے انتخاب کے بارے میں مشورہ کیا تو عقیل نے فاطمہ بنت حزام کا نام تجویز کیا اور کہا عربوں میں بنی کلاب کے مردوں جیسا کوئی دلیر مرد نہیں دیکھا جا سکتا۔ یوں حضرت علیؑ نے آپ سے شادی کی۔[1]
اس شادی کا ثمرہ خدا نے چار بیٹوں کی صورت میں عطا کیا جن کے نام عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان ہیں۔
آپ کے یہ چار بیٹے شجاعت اور دلیری میں اپنی مثال آپ تھے اس وجہ سے آپ کو ام البنین [بیٹوں کی ماں] کہا جاتا تھا۔ آپ کے یہ چار کے چار بیٹے کربلا میں اپنے بھائی اور امام، امام حسینؑ کی رکاب میں شہادت کے عظیم درجے پر فائز ہوئے۔[2]
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی حضرت امام علیؑ کو یہ تجویز دی تھی کہ ان کو بجائے فاطمہ ام البنین کہہ کر پکارا جائے تاکہ حضرت فاطمہ زہراء(س) کے بچوں کو فاطمہ کہنے سے اپنی ماں حضرت فاطمہ زہراء(س) کی یاد تازہ نہ ہوجائے اور انہیں ماں پر گزرے تلخ حوادث آزار نہ پہنچائیں۔[حوالہ درکار]
یہ عقد 18 رجب المرجب کو ہوا۔
📚 حوالہ جات
1۔ ابن عنبہ، عمدۃ الطالب، ص۳۵۷.
2۔ اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۸۲ -۸۴؛ ابن عنبہ، عمدۃ الطالب، ص۳۵۶؛ حسّون، اعلام النساء المؤمنات، ص۴۹۶۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/4094
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
🌹 حضرت ام البنينؑ
https://t.me/islamwitheman/3041
🌹 زيارة ام البنين عليها السلام
https://t.me/islamwitheman/3042
🌸 عقد حضرت علیؑ و ام البنینؑ
https://t.me/islamwitheman/4095
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
👈 پوسٹ دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🌹 حضرت ام البنينؑ
https://t.me/islamwitheman/3041
🌹 زيارة ام البنين عليها السلام
https://t.me/islamwitheman/3042
🌸 عقد حضرت علیؑ و ام البنینؑ
https://t.me/islamwitheman/4095
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حضرت ام البنينؑ
https://t.me/islamwitheman/3041
🌹 زيارة ام البنين عليها السلام
https://t.me/islamwitheman/3042
🌸 عقد حضرت علیؑ و ام البنینؑ
https://t.me/islamwitheman/4095
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کتھارسس (catharsis) 🔷
کتھارسس catharsis ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان اپنے دبے ہوئے شدید جذبات و احساسات کا کسی صورت میں اظہار کر کے ذہنی سکون، تطہیر اور تجدید حاصل کرتا ہے۔
اگر انسان کتھارسس نہ کرے تو اس کے اندر دبے جذبات و احساسات غصہ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اگر یہ غصہ کسی بھی صورت نہ نکلے تو یہ غصہ انسان کا خود پر نکلتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان کسی نہ کسی نفسیاتی عارضہ کا شکار ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجہ میں انسانی معاشرے میں غصہ، پریشانی، دکھ اور ذہنی دباؤ بڑھنے لگتا ہے۔
اس کا معنی cleansing اور purification ہے۔ میرے مطابق اس کا مطلب اپنے ہر طرح کے جذبات اور محسوسات کا اظہار ہے۔ جب ہم مختلف موقعوں پر اپنے محسوسات کا ٹھیک طرح سے اظہار نہیں کر پاتے تو ہم ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ نامکمل اور ادھورے محسوسات subconcious میں اپنا مسکن بنا لیتے ہیں۔
ہر انسان اپنے ہی انداز میں کتھارسس کرتا ہے۔ کوئی شعر کہہ کر تو کوئی نثر لکھ کر، کوئی تصویر بنا کر تو کوئی مجسمہ تراش کر، کوئی غصہ میں چیختا چلاتا ہے تو کوئی آنکھوں سے نمکین پانی بہاتا ہے تو کوئی خود کلامی کرتا ہے۔
یہ انسان کے مزاج میں کتھارسس کا انداز ہوتا ہے۔ یہ انسان پر ہے کہ وہ تلاش کرے کہ وہ کونسا کام یا طریقہ ہے جس کے ذریعہ وہ کتھارسس کر کے سکون حاصل کر سکتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو جانتے ہی نہیں کہ ان کے کتھارسس کا طریقہ کیا ہے؟
انسان کتھارسس کے ذریعہ اندر کے غبار کو نکال دیتا ہے تو اس کے اندر زندگی خوشی سے گزارنے کی امنگ پیدا ہوتی ہے۔ اپنے اردگرد کے ماحول سے پیار کرنے لگتا ہے۔ کائنات کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے لگتا ہے۔
ہمیں اپنی ذہنی صحت کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ براہ راست جسمانی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ذہنی صحت کے لئے Catharsis کی بہت ضرورت ہے۔
زندگی کو بھرپور جینا سیکھیں۔ خوشی کے موقعوں کو کھل کر celebrate کریں۔ جب دکھ اور تکلیف محسوس کرتے ہیں تو اس کا اظہار کریں۔ کسی کی بات بری لگے تو اس کو بتائیں۔ کسی نے مدد کی تو کھل کر شکریہ ادا کریں۔ کسی کی مدد کی ضرورت ہے تو کھل کر درخواست کریں۔ اگر کسی میں کوئی اچھائی نظر آتی ہے تو کھل کر تعریف کریں۔
ذہنی تناؤ اور بےسکونی تب پیدا ہوتی ہے جب ہم مثبت اور منفی محسوسات کو دباتے ہیں اور اپنے subconscious میں ان کا baggage لے کر چلتے ہیں۔ اس baggage میں برسوں پرانی عداوتیں، پچھتاوے، محرومیاں، نفرتیں اور شکوے جمع کیے رکھتے ہیں۔ یہ اذیت اور دبے ہوئے احساسات زندگی کی خوشی اور اطمینان چھین لیتے ہیں۔ اپنے baggage کو صاف کرنے کے لئے اپنے اپ کو وقت دیں، اپنے ایسے جذبات اور سوچ کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔
■ کتھارسس کے کچھ طریقے
1۔ جذبات کا ہمیشہ کھل کر اظہار کریں، کچھ دل میں نہ رکھیں۔ اچھے انداز اور الفاظ کے ساتھ ہر قسم کے جذبات کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔
2۔ کسی ہمدرد کے سامنے دوسروں سے متعلق اپنے سب جذبات کا اظہار بھی کیا جا سکتا ہے، جیسے والدین، دوست وغیرہ
3۔ شاعری کریں، نثر لکھیں، افسانے لکھیں یا تعمیری پیغامات لکھیں۔ فیس بک پر یہ کام بخوبی کیا جا سکتا ہے۔
4۔ پینٹنگ کریں، مصوری کریں۔
5۔ سپورٹس میں حصہ لیں، اپنی پسند کی کھیل سے دل ہلکا ہوتا ہے۔
6۔ کتابیں پڑھیں، ڈاکومنٹریز دیکھیں، دلچسپ علم سے مستفید ہوں۔
7۔ کسی فلاحی کام میں حصہ لیں، معاشرے کو کچھ دیں، اپنے ملک کے لیے کچھ کریں، اپنے اللہ کے لیے کچھ کریں، مخلوق کو فائدہ پہنچائیں۔
8۔ مراقبہ کریں، اس سے دل کو راحت اور وجدان ملتا ہے، جذبات کلیئر ہوتے ہیں۔
9۔ روزانہ سب لوگوں کو معاف کر کے سویا کریں اس سے لا شعور کی گرہیں کھلتی ہیں۔
10۔ اپنے اللہ کے سامنے اظہار کریں، شکایات کریں، گفتگو کریں۔ اور اس کے بعد دل صاف کر لیں، جب اللہ کو معاملہ دے دیا تو خود بیچ سے نکل جائیں۔
اگر آپ کو یہ سب کچھ کرنے میں دقت محسوس ہو رہی ہے تو counselling حاصل کریں، کسی ماہر نفسیات کے سامنے کتھارسس کریں اور اپنے دل اور لا شعور میں سالوں پرانے دبے جذبات، کا اظہار کر کے اپنی ذہنی صحت اچھی کریں اور اپنی صلاحیتیں بحال کر کے کھل کر جینا سیکھیں کیونکہ آپ کے لا شعور کا تناؤ نہ صرف آپ کی بلکہ آپ سے منسلک لوگوں کی زندگی کو بھی متاثر کر رہا ہوتا ہے۔
✍ سائیکالوجسٹ فاطمہ علی
📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔
https://t.me/islamwitheman/4014
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
کتھارسس catharsis ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان اپنے دبے ہوئے شدید جذبات و احساسات کا کسی صورت میں اظہار کر کے ذہنی سکون، تطہیر اور تجدید حاصل کرتا ہے۔
اگر انسان کتھارسس نہ کرے تو اس کے اندر دبے جذبات و احساسات غصہ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اگر یہ غصہ کسی بھی صورت نہ نکلے تو یہ غصہ انسان کا خود پر نکلتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان کسی نہ کسی نفسیاتی عارضہ کا شکار ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجہ میں انسانی معاشرے میں غصہ، پریشانی، دکھ اور ذہنی دباؤ بڑھنے لگتا ہے۔
اس کا معنی cleansing اور purification ہے۔ میرے مطابق اس کا مطلب اپنے ہر طرح کے جذبات اور محسوسات کا اظہار ہے۔ جب ہم مختلف موقعوں پر اپنے محسوسات کا ٹھیک طرح سے اظہار نہیں کر پاتے تو ہم ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ نامکمل اور ادھورے محسوسات subconcious میں اپنا مسکن بنا لیتے ہیں۔
ہر انسان اپنے ہی انداز میں کتھارسس کرتا ہے۔ کوئی شعر کہہ کر تو کوئی نثر لکھ کر، کوئی تصویر بنا کر تو کوئی مجسمہ تراش کر، کوئی غصہ میں چیختا چلاتا ہے تو کوئی آنکھوں سے نمکین پانی بہاتا ہے تو کوئی خود کلامی کرتا ہے۔
یہ انسان کے مزاج میں کتھارسس کا انداز ہوتا ہے۔ یہ انسان پر ہے کہ وہ تلاش کرے کہ وہ کونسا کام یا طریقہ ہے جس کے ذریعہ وہ کتھارسس کر کے سکون حاصل کر سکتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو جانتے ہی نہیں کہ ان کے کتھارسس کا طریقہ کیا ہے؟
انسان کتھارسس کے ذریعہ اندر کے غبار کو نکال دیتا ہے تو اس کے اندر زندگی خوشی سے گزارنے کی امنگ پیدا ہوتی ہے۔ اپنے اردگرد کے ماحول سے پیار کرنے لگتا ہے۔ کائنات کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے لگتا ہے۔
ہمیں اپنی ذہنی صحت کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ براہ راست جسمانی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ذہنی صحت کے لئے Catharsis کی بہت ضرورت ہے۔
زندگی کو بھرپور جینا سیکھیں۔ خوشی کے موقعوں کو کھل کر celebrate کریں۔ جب دکھ اور تکلیف محسوس کرتے ہیں تو اس کا اظہار کریں۔ کسی کی بات بری لگے تو اس کو بتائیں۔ کسی نے مدد کی تو کھل کر شکریہ ادا کریں۔ کسی کی مدد کی ضرورت ہے تو کھل کر درخواست کریں۔ اگر کسی میں کوئی اچھائی نظر آتی ہے تو کھل کر تعریف کریں۔
ذہنی تناؤ اور بےسکونی تب پیدا ہوتی ہے جب ہم مثبت اور منفی محسوسات کو دباتے ہیں اور اپنے subconscious میں ان کا baggage لے کر چلتے ہیں۔ اس baggage میں برسوں پرانی عداوتیں، پچھتاوے، محرومیاں، نفرتیں اور شکوے جمع کیے رکھتے ہیں۔ یہ اذیت اور دبے ہوئے احساسات زندگی کی خوشی اور اطمینان چھین لیتے ہیں۔ اپنے baggage کو صاف کرنے کے لئے اپنے اپ کو وقت دیں، اپنے ایسے جذبات اور سوچ کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔
■ کتھارسس کے کچھ طریقے
1۔ جذبات کا ہمیشہ کھل کر اظہار کریں، کچھ دل میں نہ رکھیں۔ اچھے انداز اور الفاظ کے ساتھ ہر قسم کے جذبات کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔
2۔ کسی ہمدرد کے سامنے دوسروں سے متعلق اپنے سب جذبات کا اظہار بھی کیا جا سکتا ہے، جیسے والدین، دوست وغیرہ
3۔ شاعری کریں، نثر لکھیں، افسانے لکھیں یا تعمیری پیغامات لکھیں۔ فیس بک پر یہ کام بخوبی کیا جا سکتا ہے۔
4۔ پینٹنگ کریں، مصوری کریں۔
5۔ سپورٹس میں حصہ لیں، اپنی پسند کی کھیل سے دل ہلکا ہوتا ہے۔
6۔ کتابیں پڑھیں، ڈاکومنٹریز دیکھیں، دلچسپ علم سے مستفید ہوں۔
7۔ کسی فلاحی کام میں حصہ لیں، معاشرے کو کچھ دیں، اپنے ملک کے لیے کچھ کریں، اپنے اللہ کے لیے کچھ کریں، مخلوق کو فائدہ پہنچائیں۔
8۔ مراقبہ کریں، اس سے دل کو راحت اور وجدان ملتا ہے، جذبات کلیئر ہوتے ہیں۔
9۔ روزانہ سب لوگوں کو معاف کر کے سویا کریں اس سے لا شعور کی گرہیں کھلتی ہیں۔
10۔ اپنے اللہ کے سامنے اظہار کریں، شکایات کریں، گفتگو کریں۔ اور اس کے بعد دل صاف کر لیں، جب اللہ کو معاملہ دے دیا تو خود بیچ سے نکل جائیں۔
اگر آپ کو یہ سب کچھ کرنے میں دقت محسوس ہو رہی ہے تو counselling حاصل کریں، کسی ماہر نفسیات کے سامنے کتھارسس کریں اور اپنے دل اور لا شعور میں سالوں پرانے دبے جذبات، کا اظہار کر کے اپنی ذہنی صحت اچھی کریں اور اپنی صلاحیتیں بحال کر کے کھل کر جینا سیکھیں کیونکہ آپ کے لا شعور کا تناؤ نہ صرف آپ کی بلکہ آپ سے منسلک لوگوں کی زندگی کو بھی متاثر کر رہا ہوتا ہے۔
✍ سائیکالوجسٹ فاطمہ علی
📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔
https://t.me/islamwitheman/4014
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 خوشحالی لانے کا طریقہ 🌹
کون چاہتا ہے کہ اس کی زندگی میں خوشحالی نہ آئے، لیکن سب سے پہلے اس بات کا تعین کریں آپ خوشحالی سمجھتے کسے ہیں، کیا عالیشان گھر، گاڑی، دولت یہ خوشحالی ہے۔ اگر یہ سب آپ کو مل بھی جائے اور آپ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوں یعنی…
کون چاہتا ہے کہ اس کی زندگی میں خوشحالی نہ آئے، لیکن سب سے پہلے اس بات کا تعین کریں آپ خوشحالی سمجھتے کسے ہیں، کیا عالیشان گھر، گاڑی، دولت یہ خوشحالی ہے۔ اگر یہ سب آپ کو مل بھی جائے اور آپ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوں یعنی…
🌷 بچے کا آئیڈیل کسے ہونا چاہیے؟ 🌷
⭕ ذرا توجہ کیجیے!
1️⃣ والد کتاب پڑھنے میں مشغول ہیں، والدہ کچن میں برتن دھو رہی ہے اور بچہ ہال میں کھلونوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ ٹیلیفون بجتا ہے ماں کام چھوڑ کر ٹیلیفون کی طرف جانا چاہتی ہے لیکن والد ان سے پہلے ہی اٹھ کر فون اٹھا لیتے ہیں۔ فون پر بات کر کے دوبارہ مطالعہ شروع کر دیتے ہیں۔
2️⃣ والد گھر میں نہیں، بچہ مسلسل ماں کا دامن کھینچ رہا ہے کہ میرے ساتھ کھیلیں لیکن ماں کھانا بنانے میں مصروف ہے اس لیے کہتی ہے: تھوڑا صبر کرو بیٹا چند منٹ بعد آؤں گی اچانک فون بجتا ہے، ماں کام چھوڑ کر فون اٹھاتی ہے۔
بچہ چند دنوں سے اس بات کو نوٹ کر رہا ہے (فون کی آواز سن کر کام چھوڑ کر جواب دینا)
آج بھی فون بجا بچہ جو کاپی میں رنگ کر رہا تھا، فوراً فون کا جواب دینے اٹھا سب سے پہلے اس نے فون اٹھایا لیکن ماں نے مسکرا کر اس کے ہاتھوں سے فون لے لیا۔
⭕ اب آگے دیکھئے
بچہ اپنی گاڑی سے کھیل رہا ہے، ماں کپڑے استری کر رہی ہے، والد صوفے پہ لیٹے اخبار پڑھ رہے ہیں۔
1️⃣ مسجد سے اذان کی آواز آتی ہے بچہ سر اٹھا کر ایک نظر باہر ڈالتا ہے اور آواز کو ڈونڈھتا ہے پھر ایک نظر اپنے والدین پر کوئی خاص حرکت نہیں دیکھی دوبارہ کھیلنے میں مصروف ہوگیا۔
2️⃣ ماں پھلوں کی پلیٹ لے کر والد کے نزدیک بیٹھتی ہے۔ بچے کو اپنی گود میں بٹھاتی ہے۔ سب میوے کھانے میں مصروف ہیں۔ اذان کی آواز آتی ہے، بچہ پھر آواز کی طرف توجہ کرتا ہے والدین کی طرف سے کوئی اقدام دیکھنا چاہتا ہے لیکن چند روز تک ایسے ہی ہوتا ہے۔
آج پھر گھر میں سب اپنے کاموں میں لگے ہوئے ہیں اور بچہ کھیلنے میں۔ اذان کی آواز آتی ہے لیکن بچہ سر اٹھا کہ بھی نہیں دیکھتا۔
یہ وہی فرمانِ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے۔۔۔
"بچے پاک فطرت پہ پیدا ہوتے ہیں، یہ ماں باپ ہیں جو اسے بے دین کرتے ہیں۔"
🔘 اگر والدین اذان کی آواز سن کر کام کاج چھوڑ کر نماز کی طرف جائیں تو بچے کو ذہن نشین ہو جائے گا کہ اذان کی آواز آئے تو کیا کرنا ہوتا ہے؟ جیسے فون کی آواز کے بعد کا رد عمل اس کے ذہن میں رہ گیا۔ اسی طرح بچہ نماز سے آشنا ہوتا ہے اور بغیر بولے ہمارے عمل سے سیکھتا ہے۔
🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مذید پوسٹس۔۔۔
🌷 بچوں کا احترام و تکریم
t.me/islamwitheman/33
🌷 بچوں کی تربیت
t.me/islamwitheman/34
🌷 خلوص و شفقت
t.me/islamwitheman/90
🌷 ننھا داعی
t.me/islamwitheman/302
🌷 شعور و بصیرت
t.me/islamwitheman/344
🌷 ایک بچہ اور کچھوا
t.me/islamwitheman/539
🌷 بچے کی نفسیات سمجھنے کے 12 گن
t.me/islamwitheman/1224
🌷 سچ کا انعام
t.me/islamwitheman/1277
🌷 بچہ (بچپن)
t.me/islamwitheman/1626
🌷 بچوں میں اعتماد
t.me/islamwitheman/1627
🌷 بچوں کے جھوٹ بولنے کے اسباب
t.me/islamwitheman/1847
🌷 گھر کا ماحول
t.me/islamwitheman/2059
🌷 بچوں کو مشکلات کا عادی بنائیں
t.me/islamwitheman/2137
🌷 مس انمول
t.me/islamwitheman/2163
🌷 تربیت اور ماحول
t.me/islamwitheman/2228
🌷 تھپکی کی طاقت
t.me/islamwitheman/2338
🌷 اے خدا مجھے موبائل بنا دے
t.me/islamwitheman/2393
🌷 بچے کہنا کیوں نہیں مانتے؟
t.me/islamwitheman/2455
🌷 تربیت کا اثر
t.me/islamwitheman/2486
🌷 سمجھاؤ مگر نرمی سے
t.me/islamwitheman/2512
🌷 سمجھانے کا انداز
t.me/islamwitheman/2517
🌷 بیٹی کی تربیت
t.me/islamwitheman/2726
🌷 پینسل گم ہونے کے دو واقعات
t.me/islamwitheman/2916
🌷 کامیابی کی بہترین عادت؟
t.me/islamwitheman/2917
🌷 بچے کا آئیڈیل کسے ہونا چاہیے؟
https://t.me/islamwitheman/4098
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ ذرا توجہ کیجیے!
1️⃣ والد کتاب پڑھنے میں مشغول ہیں، والدہ کچن میں برتن دھو رہی ہے اور بچہ ہال میں کھلونوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ ٹیلیفون بجتا ہے ماں کام چھوڑ کر ٹیلیفون کی طرف جانا چاہتی ہے لیکن والد ان سے پہلے ہی اٹھ کر فون اٹھا لیتے ہیں۔ فون پر بات کر کے دوبارہ مطالعہ شروع کر دیتے ہیں۔
2️⃣ والد گھر میں نہیں، بچہ مسلسل ماں کا دامن کھینچ رہا ہے کہ میرے ساتھ کھیلیں لیکن ماں کھانا بنانے میں مصروف ہے اس لیے کہتی ہے: تھوڑا صبر کرو بیٹا چند منٹ بعد آؤں گی اچانک فون بجتا ہے، ماں کام چھوڑ کر فون اٹھاتی ہے۔
بچہ چند دنوں سے اس بات کو نوٹ کر رہا ہے (فون کی آواز سن کر کام چھوڑ کر جواب دینا)
آج بھی فون بجا بچہ جو کاپی میں رنگ کر رہا تھا، فوراً فون کا جواب دینے اٹھا سب سے پہلے اس نے فون اٹھایا لیکن ماں نے مسکرا کر اس کے ہاتھوں سے فون لے لیا۔
⭕ اب آگے دیکھئے
بچہ اپنی گاڑی سے کھیل رہا ہے، ماں کپڑے استری کر رہی ہے، والد صوفے پہ لیٹے اخبار پڑھ رہے ہیں۔
1️⃣ مسجد سے اذان کی آواز آتی ہے بچہ سر اٹھا کر ایک نظر باہر ڈالتا ہے اور آواز کو ڈونڈھتا ہے پھر ایک نظر اپنے والدین پر کوئی خاص حرکت نہیں دیکھی دوبارہ کھیلنے میں مصروف ہوگیا۔
2️⃣ ماں پھلوں کی پلیٹ لے کر والد کے نزدیک بیٹھتی ہے۔ بچے کو اپنی گود میں بٹھاتی ہے۔ سب میوے کھانے میں مصروف ہیں۔ اذان کی آواز آتی ہے، بچہ پھر آواز کی طرف توجہ کرتا ہے والدین کی طرف سے کوئی اقدام دیکھنا چاہتا ہے لیکن چند روز تک ایسے ہی ہوتا ہے۔
آج پھر گھر میں سب اپنے کاموں میں لگے ہوئے ہیں اور بچہ کھیلنے میں۔ اذان کی آواز آتی ہے لیکن بچہ سر اٹھا کہ بھی نہیں دیکھتا۔
یہ وہی فرمانِ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے۔۔۔
"بچے پاک فطرت پہ پیدا ہوتے ہیں، یہ ماں باپ ہیں جو اسے بے دین کرتے ہیں۔"
🔘 اگر والدین اذان کی آواز سن کر کام کاج چھوڑ کر نماز کی طرف جائیں تو بچے کو ذہن نشین ہو جائے گا کہ اذان کی آواز آئے تو کیا کرنا ہوتا ہے؟ جیسے فون کی آواز کے بعد کا رد عمل اس کے ذہن میں رہ گیا۔ اسی طرح بچہ نماز سے آشنا ہوتا ہے اور بغیر بولے ہمارے عمل سے سیکھتا ہے۔
🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مذید پوسٹس۔۔۔
🌷 بچوں کا احترام و تکریم
t.me/islamwitheman/33
🌷 بچوں کی تربیت
t.me/islamwitheman/34
🌷 خلوص و شفقت
t.me/islamwitheman/90
🌷 ننھا داعی
t.me/islamwitheman/302
🌷 شعور و بصیرت
t.me/islamwitheman/344
🌷 ایک بچہ اور کچھوا
t.me/islamwitheman/539
🌷 بچے کی نفسیات سمجھنے کے 12 گن
t.me/islamwitheman/1224
🌷 سچ کا انعام
t.me/islamwitheman/1277
🌷 بچہ (بچپن)
t.me/islamwitheman/1626
🌷 بچوں میں اعتماد
t.me/islamwitheman/1627
🌷 بچوں کے جھوٹ بولنے کے اسباب
t.me/islamwitheman/1847
🌷 گھر کا ماحول
t.me/islamwitheman/2059
🌷 بچوں کو مشکلات کا عادی بنائیں
t.me/islamwitheman/2137
🌷 مس انمول
t.me/islamwitheman/2163
🌷 تربیت اور ماحول
t.me/islamwitheman/2228
🌷 تھپکی کی طاقت
t.me/islamwitheman/2338
🌷 اے خدا مجھے موبائل بنا دے
t.me/islamwitheman/2393
🌷 بچے کہنا کیوں نہیں مانتے؟
t.me/islamwitheman/2455
🌷 تربیت کا اثر
t.me/islamwitheman/2486
🌷 سمجھاؤ مگر نرمی سے
t.me/islamwitheman/2512
🌷 سمجھانے کا انداز
t.me/islamwitheman/2517
🌷 بیٹی کی تربیت
t.me/islamwitheman/2726
🌷 پینسل گم ہونے کے دو واقعات
t.me/islamwitheman/2916
🌷 کامیابی کی بہترین عادت؟
t.me/islamwitheman/2917
🌷 بچے کا آئیڈیل کسے ہونا چاہیے؟
https://t.me/islamwitheman/4098
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌷 بچّوں کا احترام و تکریم 🌷
اسلام کی تعلیمات میں سے ایک بچّوں کی تکریم اور احترام ہے، تاکہ ایسے لوگ مستقبل کے لئے پروان چڑھیں جن کی عزّت نفس موجود ہو، اور سالم و صالح بدن اور روح کے ساتھ معاشرے کی تشکیل نو کریں۔
■ رسول اکرم(ص) کا ارشاد ہے:
"اکرمو اولادکم…
اسلام کی تعلیمات میں سے ایک بچّوں کی تکریم اور احترام ہے، تاکہ ایسے لوگ مستقبل کے لئے پروان چڑھیں جن کی عزّت نفس موجود ہو، اور سالم و صالح بدن اور روح کے ساتھ معاشرے کی تشکیل نو کریں۔
■ رسول اکرم(ص) کا ارشاد ہے:
"اکرمو اولادکم…
👹 شیطان کا طریقہ کار 👹
گدھا درخت سے بندھا ہوا تھا شیطان آیا اور اسے کھول دیا۔ گدھا کھیتوں کی طرف بھاگا اور کھڑی فصل کو تباہ کرنے لگا۔
جب کسان کی بیوی نے یہ دیکھا تو اس نے غصے میں گدھے کو مار ڈالا۔
گدھے کی لاش دیکھ کر گدھے کا مالک بہت غصے میں آگیا اور کسان کی بیوی کو گولی مار دی۔
کسان اپنی بیوی کی موت سے اتنا مشتعل ہوا کہ اس نے گدھے کے مالک کو گولی مار دی۔
جب گدھے کے مالک کی بیوی نے اپنے شوہر کی موت کی خبر سنی تو غصے میں اس نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ کسان کا گھر جلا دیں۔
بیٹے شام کو گئے اور ماں کے حکم کو پورا کرتے ہوئے کسان کے گھر کو آگ لگا دی یہ سوچ کر کہ کسان بھی گھر میں جل کر مر جائے گا۔
لیکن ایسا نہیں ہوا۔۔۔
کسان واپس آیا اور گدھے کے مالک کے تینوں بیٹوں اور بیوی کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو غلطیوں کا احساس ہوا تب کسان شیطان کو کوسنے لگا۔
شیطان نے ناراض ہوتے ہوئے کہا کہ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا صرف گدھے کی رسی کھولی تھی لیکن سب نے رد عمل ظاہر کیا، رد عمل کے جواب میں اور زیادہ اور شدید رد عمل ظاہر کیا اور اپنے اندر کی خباثت کو باہر آنے دیا۔
🔘 لہذا جواب دینے، رد عمل ظاہر کرنے اور کسی سے بدلہ لینے سے پہلے رک جائیں اور ایک لمحے کے لیے سوچیں۔۔۔
کبھی کبھی شیطان ہمارے درمیان صرف گدھا چھوڑ دیتا ہے اور باقی کام ہم خود کرتے ہیں!!
روزانہ ٹی وی چینلز گدھے چھوڑتے ہیں،
کوئی گروپ میں ایک گدھا چھوڑ دیتا ہے،
کوئی فیس بک پر گدھا چھوڑتا دیتا ہے،
آپ اور میں دوستوں کے گروپ میں خاندان اور پارٹی سیاست یا نظریے کے دائرے میں لڑتے رہتے ہیں۔
یاد رکھیں!
ٹوٹنا آسان ہے، جڑے رہنا بہت مشکل ہے ...
لڑنا آسان ہے، درگزر کرنا بہت مشکل ہے ...
🌹 پوسٹ اگر اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس کے لیے لنک پر کلک کریں ۔۔۔
👹 عزرائیل سے ابلیس تک
https://t.me/islamwitheman/75
👹 غلبہ ابلیس
https://t.me/islamwitheman/228
👀 شیطان اور آنکھیں
http://t.me/islamwitheman/246
🌷 شیطان کا وار اور خوف خدا
https://t.me/islamwitheman/424
👹 ماہ رمضان میں شیطان کی قید
http://t.me/islamwitheman/934
👹 شیطان کے پھندے
http://t.me/islamwitheman/1141
👹 شیطان کے اہم پانچ ساتھی
https://t.me/islamwitheman/1787
🌹 شیطان کو شکست
https://t.me/islamwitheman/1805
👹 شیطان کا فرعون کو جواب
https://t.me/islamwitheman/1913
👹 الله نے شیطان کو کیوں پیدا کیا؟
https://t.me/islamwitheman/2333
👹 شیطان کا ورکنگ سٹائل
https://t.me/islamwitheman/2719
👹 گناہوں کا ذمہ دار کون؟
https://t.me/islamwitheman/2792
👹 شیطان کا طریقہ کار
https://t.me/islamwitheman/4100
🔷 شیطان کی تین نصیحتیں
https://t.me/islamwitheman/4806
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
گدھا درخت سے بندھا ہوا تھا شیطان آیا اور اسے کھول دیا۔ گدھا کھیتوں کی طرف بھاگا اور کھڑی فصل کو تباہ کرنے لگا۔
جب کسان کی بیوی نے یہ دیکھا تو اس نے غصے میں گدھے کو مار ڈالا۔
گدھے کی لاش دیکھ کر گدھے کا مالک بہت غصے میں آگیا اور کسان کی بیوی کو گولی مار دی۔
کسان اپنی بیوی کی موت سے اتنا مشتعل ہوا کہ اس نے گدھے کے مالک کو گولی مار دی۔
جب گدھے کے مالک کی بیوی نے اپنے شوہر کی موت کی خبر سنی تو غصے میں اس نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ کسان کا گھر جلا دیں۔
بیٹے شام کو گئے اور ماں کے حکم کو پورا کرتے ہوئے کسان کے گھر کو آگ لگا دی یہ سوچ کر کہ کسان بھی گھر میں جل کر مر جائے گا۔
لیکن ایسا نہیں ہوا۔۔۔
کسان واپس آیا اور گدھے کے مالک کے تینوں بیٹوں اور بیوی کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو غلطیوں کا احساس ہوا تب کسان شیطان کو کوسنے لگا۔
شیطان نے ناراض ہوتے ہوئے کہا کہ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا صرف گدھے کی رسی کھولی تھی لیکن سب نے رد عمل ظاہر کیا، رد عمل کے جواب میں اور زیادہ اور شدید رد عمل ظاہر کیا اور اپنے اندر کی خباثت کو باہر آنے دیا۔
🔘 لہذا جواب دینے، رد عمل ظاہر کرنے اور کسی سے بدلہ لینے سے پہلے رک جائیں اور ایک لمحے کے لیے سوچیں۔۔۔
کبھی کبھی شیطان ہمارے درمیان صرف گدھا چھوڑ دیتا ہے اور باقی کام ہم خود کرتے ہیں!!
روزانہ ٹی وی چینلز گدھے چھوڑتے ہیں،
کوئی گروپ میں ایک گدھا چھوڑ دیتا ہے،
کوئی فیس بک پر گدھا چھوڑتا دیتا ہے،
آپ اور میں دوستوں کے گروپ میں خاندان اور پارٹی سیاست یا نظریے کے دائرے میں لڑتے رہتے ہیں۔
یاد رکھیں!
ٹوٹنا آسان ہے، جڑے رہنا بہت مشکل ہے ...
لڑنا آسان ہے، درگزر کرنا بہت مشکل ہے ...
🌹 پوسٹ اگر اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس کے لیے لنک پر کلک کریں ۔۔۔
👹 عزرائیل سے ابلیس تک
https://t.me/islamwitheman/75
👹 غلبہ ابلیس
https://t.me/islamwitheman/228
👀 شیطان اور آنکھیں
http://t.me/islamwitheman/246
🌷 شیطان کا وار اور خوف خدا
https://t.me/islamwitheman/424
👹 ماہ رمضان میں شیطان کی قید
http://t.me/islamwitheman/934
👹 شیطان کے پھندے
http://t.me/islamwitheman/1141
👹 شیطان کے اہم پانچ ساتھی
https://t.me/islamwitheman/1787
🌹 شیطان کو شکست
https://t.me/islamwitheman/1805
👹 شیطان کا فرعون کو جواب
https://t.me/islamwitheman/1913
👹 الله نے شیطان کو کیوں پیدا کیا؟
https://t.me/islamwitheman/2333
👹 شیطان کا ورکنگ سٹائل
https://t.me/islamwitheman/2719
👹 گناہوں کا ذمہ دار کون؟
https://t.me/islamwitheman/2792
👹 شیطان کا طریقہ کار
https://t.me/islamwitheman/4100
🔷 شیطان کی تین نصیحتیں
https://t.me/islamwitheman/4806
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
👹 عزازیل سے ابلیس تک 👹
ابلیس جس کو شیطان کہا جاتا ہے۔ یہ فرشتہ نہیں تھا بلکہ جن تھا جو آگ سے پیدا ہوا تھا۔ لیکن یہ فرشتوں کے ساتھ ملا جلا رہتا تھا اور دربارِ خداوندی میں بہت مقرب اور بڑے بڑے بلند درجات ومراتب سے سرفراز تھا۔
تفاسیر میں ہے کہ ابلیس سب سے پہلے…
ابلیس جس کو شیطان کہا جاتا ہے۔ یہ فرشتہ نہیں تھا بلکہ جن تھا جو آگ سے پیدا ہوا تھا۔ لیکن یہ فرشتوں کے ساتھ ملا جلا رہتا تھا اور دربارِ خداوندی میں بہت مقرب اور بڑے بڑے بلند درجات ومراتب سے سرفراز تھا۔
تفاسیر میں ہے کہ ابلیس سب سے پہلے…
🌺 حقیقی سہیلی 🌺
اس کے گھر میں کچھ چیزیں حیران و پریشاں کر دینے والی تھیں۔ سب سے زیادہ پریشان کر دینے والی بات یہ تھی کہ قرآن کا ایک نسخہ کچن میں رکھا تھا جس پر تیل کے نشانات نمایاں تھے۔ اسے بار بار جیسے گیلے ہاتھوں سے پکڑا گیا ہو۔ دوسرا نسخہ باہر باغیچہ کے ایک کونے میں لگی تختی پر رکھا تھا۔ اس کے اوراق بھی پس مردہ سے تھے۔ ایک نسخہ اس کے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر تھا۔ تو ایک لاوئچ میں۔ یقینا کئی دفعہ پیٹھ ہو جاتی ہو گی۔بے ادبی ہوتی ہوگی۔ اسے ذرہ احساس نہیں۔ دل میں غبار سا اٹھا چہرہ متغیر ہو گیا۔
اس نے شاید بھانپ لیا تھا تبھی بولی: دراصل بچے چھوٹے ہیں اور بڑا خاندان ہے۔ بے تحاشا مصروفیات میں ایک جگہ بیٹھ کر قرآن سے استفادہ کا موقع نہیں ملتا۔ اس لئے جگہ جگہ قرآن رکھ دیئے ہیں جہاں ذرا گنجائش ملتی ہے، اٹھا کر پڑھ لیتی ہوں۔
دراصل باجی مسئلے بھی تو دن میں ہزاروں طرح کے پیش آتے ہیں اور حل اسی میں ملتا ہے۔
میں کچھ سمجھ نہیں پائی ۔۔۔
وہ گویا ہوئی: باجی اللہ نے قرآن کریم میں ہر مسئلے کا حل بتایا ہے۔ یہ بات میرے ابا نے مجھے بتائی تھی۔ انھوں نے کہا اس سے دوستی کر لو۔ ہر معاملے میں اس سے پوچھا کرو۔ یہ کتاب تمھیں جواب دے گی۔ تمھارا ہر مسئلہ حل کرے گی۔ بس یہی سہیلی ہے میری اسی سے پوچھتی ہوں سب کچھ اور یہ کتاب ہر مسئلہ کا حل بتا دیتی ہے۔
کئی مسئلے چند آیات ہی سے سلجھ جاتے ہیں۔ ان آیات پر میں نے ریڈ مارکنک کی ہوئی ہے۔ جب مسئلہ پیش آئے تو ان ساری آیات کو جلدی سے کنگال لیتی ہوں۔ کبھی زیادہ وقت بھی لگتا ہے۔اور کبھی کھولتے ہی میرے مسئلے کا حل سامنے مل جاتا ہے۔ تب میرے آنسو بہنے لگتے ہیں رب کی محبت میں۔
بس اسی لئے ان نسخوں کی یہ حالت ہے۔ مثلا کل ہی میری نند آئی ہوئی تھی۔ کھانا کھلا کر کچن کی طرف جا رہی تھی کہ اس کی کچھ باتیں کانوں میں پڑیں۔ غصے سے بری حالت ہوئی۔ اتنی مشقت اور پھر یہ جزا۔ ایسے میں کیا کروں۔ قرآن کھولا۔ ایک آیت سامنے تھی۔ برائی کو اس نیکی سے رفع کرو جو بہترین ہو۔ کل ہی اپنے لئے بندے لائی تھی۔ جا کر نند کو پہنا دیئے۔ اس کی حالت دیکھنے والی تھی۔ وہ کچھ دیر دیکھتی رہی۔ پھر رو پڑی۔ میں نے اسے گلے لگا لیا۔ بولی بھابھی سسرال میں منفی ماحول نے منفی بنا دیا ہے۔ معاف کر دینا مجھے۔ آپ واقعی بہت اچھی بھابھی ہیں بہنوں سے بھی بڑھ کر۔ اللہ تمھیں خوش رکھے۔ آباد رکھے۔ عجیب سرشاری عطا ہوئی۔۔۔
آج جب آپ آئے میں کھانا بنا چکی تھی۔ دل میں خیال آیا کیسے پورا ہو گا اتنے میں۔ قران کھولا لکھا تھا۔ اگر شکر کرو گے تو میں بڑھا دوں گا۔میں نے پریشانی ہٹا کر شکر ادا کیا۔ فریج میں دیکھا مٹر رکھے ہیں۔ چاول نکالنے لگی کہ پڑوس سے بریانی کی ڈش آگئی۔ میاں آفس سے آتے حلیم ساتھ لیتے آۓ یعنی اللہ نے فوراً ہی مسئلہ حل کیا اور بندوبست کر دیا۔
بس باجی ہر مشکل لمحے میں میرا رجوع اسی کی طرف ہوتا ہے۔ کووڈ میں میاں کا کام چھوٹ گیا۔ بڑی پریشانی ہوئی۔ قران کھولا تو لکھا تھا استغفار کرو بدلے میں تمھیں بارش بھی دونگا۔مال اور اولاد کو بڑھاؤں گا اور باغات اور نہریں عطا کروں گا۔ میں تو حیران رہ گئی۔ استغفار کے اتنے بڑے فائدے۔ سب گھر والوں کو جمع کیا ایک دوسرے سے معافی تلافی کی۔ پھر سوچ سوچ کر ہر اس شخص سے معافی مانگی۔ جس سے گمان تھا کہ ہم نے کوئی زیادتی کی ہوگی۔ ساتھ ہی زبان سے بھی استغفرُاللہ کہتے رہے۔ سید الاستغفار کا بھی ورد رہا۔ آپ یقین جانو تین دن کے اندر ہی اس کے اثرات ظاہر ہوۓ۔ ایک خاندان سے عرصے سے ناراضگی تھی۔ معافی تلافی کے بعد وہ سب گھر آئے، باتوں باتوں میں اس نے لیدر کمپنی کی پوسٹ خالی ہونے کا ذکر کیا، ان کے تجربے کی بنیاد پر تین گنا تنخواہ اور کئی سہولیات کے ساتھ ان کی جاب پکی ہو گئی۔ اور ناراض لوگوں کے راضی ہونے سے جو سکون اترا اسکا تو اندازہ ہی نہیں کئی برکتوں کی بارش اور خوشیوں کے باغ گویا ہاتھ آگئے۔
وہ بہت سادگی سے قرآن کو سینے سے محبت سے لگائے بتاتی جا رہی تھی اور میں شرمندہ تھی۔ آج تک قرآن سے ایسا سہیلی والا تعلق نہ تو بنا تھا۔اور نہ ہی ایسی رہنمائی میسر تھی۔ اب دل کا غبار ندامت میں ڈھلا تو آنسؤوں کی صورت بہنے لگا۔۔ کاش قرآن کے ظاہری رکھ رکھاؤ جتنی ہی توجہ اسکی روح اور اصل پیغام پر دی ہوتی تو قرب میرے نصیب میں بھی ہوتا۔ اور دکھوں کی گٹھڑیاں آج اٹھائے نہ پھر رہی ہوتی۔ میں مقدس جان کر اس کے اصل پیغام سے ہی محروم ہو گئی۔
✍ آسیہ عمران
https://t.me/islamwitheman/4091
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
اس کے گھر میں کچھ چیزیں حیران و پریشاں کر دینے والی تھیں۔ سب سے زیادہ پریشان کر دینے والی بات یہ تھی کہ قرآن کا ایک نسخہ کچن میں رکھا تھا جس پر تیل کے نشانات نمایاں تھے۔ اسے بار بار جیسے گیلے ہاتھوں سے پکڑا گیا ہو۔ دوسرا نسخہ باہر باغیچہ کے ایک کونے میں لگی تختی پر رکھا تھا۔ اس کے اوراق بھی پس مردہ سے تھے۔ ایک نسخہ اس کے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر تھا۔ تو ایک لاوئچ میں۔ یقینا کئی دفعہ پیٹھ ہو جاتی ہو گی۔بے ادبی ہوتی ہوگی۔ اسے ذرہ احساس نہیں۔ دل میں غبار سا اٹھا چہرہ متغیر ہو گیا۔
اس نے شاید بھانپ لیا تھا تبھی بولی: دراصل بچے چھوٹے ہیں اور بڑا خاندان ہے۔ بے تحاشا مصروفیات میں ایک جگہ بیٹھ کر قرآن سے استفادہ کا موقع نہیں ملتا۔ اس لئے جگہ جگہ قرآن رکھ دیئے ہیں جہاں ذرا گنجائش ملتی ہے، اٹھا کر پڑھ لیتی ہوں۔
دراصل باجی مسئلے بھی تو دن میں ہزاروں طرح کے پیش آتے ہیں اور حل اسی میں ملتا ہے۔
میں کچھ سمجھ نہیں پائی ۔۔۔
وہ گویا ہوئی: باجی اللہ نے قرآن کریم میں ہر مسئلے کا حل بتایا ہے۔ یہ بات میرے ابا نے مجھے بتائی تھی۔ انھوں نے کہا اس سے دوستی کر لو۔ ہر معاملے میں اس سے پوچھا کرو۔ یہ کتاب تمھیں جواب دے گی۔ تمھارا ہر مسئلہ حل کرے گی۔ بس یہی سہیلی ہے میری اسی سے پوچھتی ہوں سب کچھ اور یہ کتاب ہر مسئلہ کا حل بتا دیتی ہے۔
کئی مسئلے چند آیات ہی سے سلجھ جاتے ہیں۔ ان آیات پر میں نے ریڈ مارکنک کی ہوئی ہے۔ جب مسئلہ پیش آئے تو ان ساری آیات کو جلدی سے کنگال لیتی ہوں۔ کبھی زیادہ وقت بھی لگتا ہے۔اور کبھی کھولتے ہی میرے مسئلے کا حل سامنے مل جاتا ہے۔ تب میرے آنسو بہنے لگتے ہیں رب کی محبت میں۔
بس اسی لئے ان نسخوں کی یہ حالت ہے۔ مثلا کل ہی میری نند آئی ہوئی تھی۔ کھانا کھلا کر کچن کی طرف جا رہی تھی کہ اس کی کچھ باتیں کانوں میں پڑیں۔ غصے سے بری حالت ہوئی۔ اتنی مشقت اور پھر یہ جزا۔ ایسے میں کیا کروں۔ قرآن کھولا۔ ایک آیت سامنے تھی۔ برائی کو اس نیکی سے رفع کرو جو بہترین ہو۔ کل ہی اپنے لئے بندے لائی تھی۔ جا کر نند کو پہنا دیئے۔ اس کی حالت دیکھنے والی تھی۔ وہ کچھ دیر دیکھتی رہی۔ پھر رو پڑی۔ میں نے اسے گلے لگا لیا۔ بولی بھابھی سسرال میں منفی ماحول نے منفی بنا دیا ہے۔ معاف کر دینا مجھے۔ آپ واقعی بہت اچھی بھابھی ہیں بہنوں سے بھی بڑھ کر۔ اللہ تمھیں خوش رکھے۔ آباد رکھے۔ عجیب سرشاری عطا ہوئی۔۔۔
آج جب آپ آئے میں کھانا بنا چکی تھی۔ دل میں خیال آیا کیسے پورا ہو گا اتنے میں۔ قران کھولا لکھا تھا۔ اگر شکر کرو گے تو میں بڑھا دوں گا۔میں نے پریشانی ہٹا کر شکر ادا کیا۔ فریج میں دیکھا مٹر رکھے ہیں۔ چاول نکالنے لگی کہ پڑوس سے بریانی کی ڈش آگئی۔ میاں آفس سے آتے حلیم ساتھ لیتے آۓ یعنی اللہ نے فوراً ہی مسئلہ حل کیا اور بندوبست کر دیا۔
بس باجی ہر مشکل لمحے میں میرا رجوع اسی کی طرف ہوتا ہے۔ کووڈ میں میاں کا کام چھوٹ گیا۔ بڑی پریشانی ہوئی۔ قران کھولا تو لکھا تھا استغفار کرو بدلے میں تمھیں بارش بھی دونگا۔مال اور اولاد کو بڑھاؤں گا اور باغات اور نہریں عطا کروں گا۔ میں تو حیران رہ گئی۔ استغفار کے اتنے بڑے فائدے۔ سب گھر والوں کو جمع کیا ایک دوسرے سے معافی تلافی کی۔ پھر سوچ سوچ کر ہر اس شخص سے معافی مانگی۔ جس سے گمان تھا کہ ہم نے کوئی زیادتی کی ہوگی۔ ساتھ ہی زبان سے بھی استغفرُاللہ کہتے رہے۔ سید الاستغفار کا بھی ورد رہا۔ آپ یقین جانو تین دن کے اندر ہی اس کے اثرات ظاہر ہوۓ۔ ایک خاندان سے عرصے سے ناراضگی تھی۔ معافی تلافی کے بعد وہ سب گھر آئے، باتوں باتوں میں اس نے لیدر کمپنی کی پوسٹ خالی ہونے کا ذکر کیا، ان کے تجربے کی بنیاد پر تین گنا تنخواہ اور کئی سہولیات کے ساتھ ان کی جاب پکی ہو گئی۔ اور ناراض لوگوں کے راضی ہونے سے جو سکون اترا اسکا تو اندازہ ہی نہیں کئی برکتوں کی بارش اور خوشیوں کے باغ گویا ہاتھ آگئے۔
وہ بہت سادگی سے قرآن کو سینے سے محبت سے لگائے بتاتی جا رہی تھی اور میں شرمندہ تھی۔ آج تک قرآن سے ایسا سہیلی والا تعلق نہ تو بنا تھا۔اور نہ ہی ایسی رہنمائی میسر تھی۔ اب دل کا غبار ندامت میں ڈھلا تو آنسؤوں کی صورت بہنے لگا۔۔ کاش قرآن کے ظاہری رکھ رکھاؤ جتنی ہی توجہ اسکی روح اور اصل پیغام پر دی ہوتی تو قرب میرے نصیب میں بھی ہوتا۔ اور دکھوں کی گٹھڑیاں آج اٹھائے نہ پھر رہی ہوتی۔ میں مقدس جان کر اس کے اصل پیغام سے ہی محروم ہو گئی۔
✍ آسیہ عمران
https://t.me/islamwitheman/4091
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 قرآن مجید میں آیات کی تعداد 🔷
سوال: قرآنی آیات کی تعداد کتنی ہے؟
جواب: عام طور سے مشہور یہ ہے کہ قرآن مجید کی کل چھ ہزار چھ سو چھاسٹھ (6666) آیات ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔۔۔
ہمارے بعض دوستوں اور جاننے والوں نے باقاعدہ طور سے وقت صرف کر کے قرآن…
سوال: قرآنی آیات کی تعداد کتنی ہے؟
جواب: عام طور سے مشہور یہ ہے کہ قرآن مجید کی کل چھ ہزار چھ سو چھاسٹھ (6666) آیات ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔۔۔
ہمارے بعض دوستوں اور جاننے والوں نے باقاعدہ طور سے وقت صرف کر کے قرآن…
🌹 سورہ لقمان کے فوائد اور برکات 🌹
تمام اندرونی بیماریوں کے علاج کے لیے۔۔۔
پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے آپ نے فرمایا:
اگر کوئی سورہ لقمان کو لکھے اور لکھنے کے بعد اس کو دھو لے اور اس پانی کو پی لے تو ہر قسم کی اندرونی بیماری ختم ہوجائے گی اور ہر مرد اور عورت کہ جس کے جسم کے اندرونی اندام سے کہیں سے خون باہر آ رھا ہو اگر سورہ لقمان کو لکھ کر اس جگہ پر باندھے تو خون ریزی ختم ہو جائے گی۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے آپ نے فرمایا:
اگر کوئی سورہ لقمان کو لکھے اور پھر اس کو پانی سے دھو لے اور اس پانی کو اس مرد اور خاتون کو پلائے جو اندرونی درد میں مبتلا ہوں تو ان کا بخار وغیرہ اور ہر قسم کی آزار و تکلیف پہنچانے والی بیماری بھی برطرف ہو جائے گی۔
📚 درمان با قرآن صفحہ 72۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
تمام اندرونی بیماریوں کے علاج کے لیے۔۔۔
پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے آپ نے فرمایا:
اگر کوئی سورہ لقمان کو لکھے اور لکھنے کے بعد اس کو دھو لے اور اس پانی کو پی لے تو ہر قسم کی اندرونی بیماری ختم ہوجائے گی اور ہر مرد اور عورت کہ جس کے جسم کے اندرونی اندام سے کہیں سے خون باہر آ رھا ہو اگر سورہ لقمان کو لکھ کر اس جگہ پر باندھے تو خون ریزی ختم ہو جائے گی۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے آپ نے فرمایا:
اگر کوئی سورہ لقمان کو لکھے اور پھر اس کو پانی سے دھو لے اور اس پانی کو اس مرد اور خاتون کو پلائے جو اندرونی درد میں مبتلا ہوں تو ان کا بخار وغیرہ اور ہر قسم کی آزار و تکلیف پہنچانے والی بیماری بھی برطرف ہو جائے گی۔
📚 درمان با قرآن صفحہ 72۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌷 دوست یا مددگار؟ 🌷
ایک شخص نے بچھڑا ذبح کیا اور اسے پکا کر اپنے بھائی سے کہا کہ ہمارے دوستوں اور پڑوسیوں کو دعوت دو تاکہ وہ ہمارے ساتھ اس کھانے میں شامل ہو سکیں۔
اس کے بھائی نے باہر جا کر محلہ داروں اور راہگیروں کو پکار کر کہا: اے لوگو! ہماری مدد کرو میرے بھائی کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے۔
دیکھتے ہی دیکھتے کچھ لوگوں کا ایک چھوٹا سا مجمع نکلا باقی لوگ کام میں لگے رہے جیسے انہوں نے کچھ سنا ہی نہ ہو...
وہ لوگ جو کہ آگ بجھانے میں مدد کو آئے تھے انہوں نے سیر ہو کر کھایا پیا.
تو وہ شخص اپنے بھائی کی طرف تعجب سے دیکھ کر کہنے لگا: یہ جو لوگ آئے تھے میں ان میں سے سب کو تو نہیں پہچانتا اور نہ میں نے پہلے ان کو دیکھا ہے پھر ہمارے دوست احباب کہاں ہیں؟
بھائی نے جواب دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے کام وغیرہ کو چھوڑ کر ہمارے گھر میں لگی آگ بجھانے میں ہماری مدد کو آئے تھے نہ کہ دعوت میں۔
اس لیے یہی لوگ مہمانی اور مہربانی کے مستحق ہیں۔
🔘 قصے سے سبق یہ ملا کہ جس کو تکلیف کے وقت اپنے اردگرد نہ پائیں اس کو دوست، بھائی یا پڑوسی نام مت دیں۔ اور جو تنگی کے وقت آپ پر ہنسے وہ آپ کی جانب سے محبت اور اہتمام کا مستحق نہیں ہے۔
https://t.me/islamwitheman/2260
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک شخص نے بچھڑا ذبح کیا اور اسے پکا کر اپنے بھائی سے کہا کہ ہمارے دوستوں اور پڑوسیوں کو دعوت دو تاکہ وہ ہمارے ساتھ اس کھانے میں شامل ہو سکیں۔
اس کے بھائی نے باہر جا کر محلہ داروں اور راہگیروں کو پکار کر کہا: اے لوگو! ہماری مدد کرو میرے بھائی کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے۔
دیکھتے ہی دیکھتے کچھ لوگوں کا ایک چھوٹا سا مجمع نکلا باقی لوگ کام میں لگے رہے جیسے انہوں نے کچھ سنا ہی نہ ہو...
وہ لوگ جو کہ آگ بجھانے میں مدد کو آئے تھے انہوں نے سیر ہو کر کھایا پیا.
تو وہ شخص اپنے بھائی کی طرف تعجب سے دیکھ کر کہنے لگا: یہ جو لوگ آئے تھے میں ان میں سے سب کو تو نہیں پہچانتا اور نہ میں نے پہلے ان کو دیکھا ہے پھر ہمارے دوست احباب کہاں ہیں؟
بھائی نے جواب دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے کام وغیرہ کو چھوڑ کر ہمارے گھر میں لگی آگ بجھانے میں ہماری مدد کو آئے تھے نہ کہ دعوت میں۔
اس لیے یہی لوگ مہمانی اور مہربانی کے مستحق ہیں۔
🔘 قصے سے سبق یہ ملا کہ جس کو تکلیف کے وقت اپنے اردگرد نہ پائیں اس کو دوست، بھائی یا پڑوسی نام مت دیں۔ اور جو تنگی کے وقت آپ پر ہنسے وہ آپ کی جانب سے محبت اور اہتمام کا مستحق نہیں ہے۔
https://t.me/islamwitheman/2260
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔶 اردگرد کے سانپ 🔶
ایک خاتون نے سانپ پال رکھا تھا جس سے وہ بے حد پیار کر تی تھی، سانپ تقریباً سات فٹ لمبا تھا جس نے اچانک ایک دن کھانا پینا بند کردیا۔ خاتون نے کئی ہفتوں سانپ کو کھانا کھلانے کی کوشش جاری رکھی لیکن وہ ناکام رہی جس پر خاتون اپنے پالتو سانپ…
ایک خاتون نے سانپ پال رکھا تھا جس سے وہ بے حد پیار کر تی تھی، سانپ تقریباً سات فٹ لمبا تھا جس نے اچانک ایک دن کھانا پینا بند کردیا۔ خاتون نے کئی ہفتوں سانپ کو کھانا کھلانے کی کوشش جاری رکھی لیکن وہ ناکام رہی جس پر خاتون اپنے پالتو سانپ…
👈 پوسٹ دیکھنے کے لیے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🌹 ولادت باسعادت سکینہؑ
https://t.me/islamwitheman/3046
🌹 ولادت باسعادت بیبی سکینہؑ
https://t.me/islamwitheman/3047
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 ولادت باسعادت سکینہؑ
https://t.me/islamwitheman/3046
🌹 ولادت باسعادت بیبی سکینہؑ
https://t.me/islamwitheman/3047
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 سہارے کھوکھلا کرتے ہیں 🔷
ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو ایک بوڑھے دربان کو دیکھا
جو محل کے صدر دروازے پے پُرانی اور باریک وردی میں پہرا دے رہا تھا،
بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رُکوایا اور اس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا: "سردی تو نہیں لگ رہی؟"
دربان نے جواب دیا: بہت لگتی ہے حضور۔ مگر کیا کروں، گرم وردی ہے ہی نہیں میرے پاس، اس لئے برداشت کرنا پڑتا ہے۔"
میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا کوئی گرم جوڑا بھیجتا ہوں تمہیں۔"
بادشاہ نے اس کو کہا
دربان نے خوش ہو کر بادشاہ کو فرشی سلام کیا اور بہت زیادہ تشکّر کا اظہار کیا۔
لیکن بادشاہ جیسے ہی گرم محل میں داخل ہوا، دربان کے ساتھ کیا ہوا وعدہ بھول گیا۔
صبح دروازے پر اس بوڑھے دربان کی اکڑی ہوئی لاش ملی اور قریب ہی مٹی پر اس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی گئی یہ تحریر بھی...
🔹 بادشاہ سلامت:
میں کئی سالوں سے سردیوں میں اسی نازک وردی میں دربانی کر رہا تھا۔
مگر رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال لی۔"
✨ سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
✨ اسی طرح امیدیں کمزور کر دیتی ہیں اپنی طاقت کے بل بوتے جینا شروع کیجیے۔
💝 سہاروں کی بیساکھیاں پھینک کر اپنی طاقت آزمائیں۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو ایک بوڑھے دربان کو دیکھا
جو محل کے صدر دروازے پے پُرانی اور باریک وردی میں پہرا دے رہا تھا،
بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رُکوایا اور اس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا: "سردی تو نہیں لگ رہی؟"
دربان نے جواب دیا: بہت لگتی ہے حضور۔ مگر کیا کروں، گرم وردی ہے ہی نہیں میرے پاس، اس لئے برداشت کرنا پڑتا ہے۔"
میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا کوئی گرم جوڑا بھیجتا ہوں تمہیں۔"
بادشاہ نے اس کو کہا
دربان نے خوش ہو کر بادشاہ کو فرشی سلام کیا اور بہت زیادہ تشکّر کا اظہار کیا۔
لیکن بادشاہ جیسے ہی گرم محل میں داخل ہوا، دربان کے ساتھ کیا ہوا وعدہ بھول گیا۔
صبح دروازے پر اس بوڑھے دربان کی اکڑی ہوئی لاش ملی اور قریب ہی مٹی پر اس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی گئی یہ تحریر بھی...
🔹 بادشاہ سلامت:
میں کئی سالوں سے سردیوں میں اسی نازک وردی میں دربانی کر رہا تھا۔
مگر رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال لی۔"
✨ سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
✨ اسی طرح امیدیں کمزور کر دیتی ہیں اپنی طاقت کے بل بوتے جینا شروع کیجیے۔
💝 سہاروں کی بیساکھیاں پھینک کر اپنی طاقت آزمائیں۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 اللہ کی طرف سے ڈھیل 🔷
ابو جان ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ کسی قبرستان میں ایک شخص نے رات کے وقت نعش کیساتھ زنا کیا۔
بادشاہ وقت ایک نیک صفت شخص تھا اسکے خواب میں ایک سفید پوش آدمی آیا اور اسے کہا کہ فلاں مقام پر فلاں شخص اس گناہ کا مرتکب ہوا ہے، اور اسے حکم دیا کہ اس زانی کو فوراً بادشاہی دربار میں لا کر اسے مشیر خاص کے عہدے پر مقرر کیا جائے۔
بادشاہ نے وجہ جاننی چاہی تو فوراً خواب ٹوٹ گیا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا۔
بہر حال
سپاہی روانہ ہوئے اور جائے وقوعہ ہر پہنچے، وہ سخص وہیں موجود تھا۔۔
سپاہیوں کو دیکھ کر وہ بوکھلا گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ اسکی موت کا وقت آن پہنچا ہے۔۔
اسے بادشاہ کے سامنے حاضر کیا گیا۔ بادشاہ نے اسے اسکا گناہ سنایا اور کہا:
آج سے تم میرے مشیر خاص ہو۔
دوسری رات بادشاہ کو پھر خواب آیا۔
تو بادشاہ نے فوراً اس سفید پوش سے اس کی وجہ پوچھی کہ ایک زانی کیساتھ ایسا کیوں کرنے کا کہا آپ نے؟؟
سفید پوش نے کہا:
اللّٰہ کو اسکا گناہ سخت نا پسند آیا، چونکہ اسکی موت کا وقت نہیں آیا تھا اسی لیے تم سے کہا گیا کہ اسے مشیر بنا لو، تاکہ وہ عیش میں پڑ جائے اور کبھی اپنے گناہ پر نادم ہو کر معافی نا مانگ سکے۔ کیوں کہ اسکی سزا آخرت میں طے کر دی گئی ہے۔ مرتے دم تک وہ عیش میں غرق رہے گا، اور بلکہ خوش بھی ہوگا کہ جس گناہ پر اسے سزا دی جانے چاہیے تھی اس گناہ پر اسے اعلیٰ عہدہ مل گیا۔۔
سو اسے گمراہی میں رکھنا مقصد تھا۔۔
ابو اٹھے میرے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہا بیٹا۔۔
جب گناہوں پر آسانی ملنے لگے تو سمجھ لینا آخرت خراب ہو گئی۔ اور توبہ کے دروازے بند کر دیے گئے تم پر۔۔
میں سن کر حیران رہ گیا۔۔ اپنے گریباں میں اور آس پاس نگاہ دوڑائی۔
کیا آج ایسا نہیں ہے؟؟
بار بار گناہوں کا موقع ملتا ہے ہمیں اور کتنی آسانی سے ملتا ہے اور کوئی پکڑ نہیں ہوتی ہماری۔ ہم خوش ہیں۔ عیش میں ہیں۔۔
سچ کا راستہ دشوار ہوتا ہے اس میں بے شمار تکلیفیں ہونگی، آزمائشیں، مصیبتیں سب ہونگی مگر گناہ کا راستہ ہمیشہ ہموار ہوگا۔۔
خدا ہم سب کو ہدایت دے۔
آمین یارب العالمین۔۔۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ابو جان ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ کسی قبرستان میں ایک شخص نے رات کے وقت نعش کیساتھ زنا کیا۔
بادشاہ وقت ایک نیک صفت شخص تھا اسکے خواب میں ایک سفید پوش آدمی آیا اور اسے کہا کہ فلاں مقام پر فلاں شخص اس گناہ کا مرتکب ہوا ہے، اور اسے حکم دیا کہ اس زانی کو فوراً بادشاہی دربار میں لا کر اسے مشیر خاص کے عہدے پر مقرر کیا جائے۔
بادشاہ نے وجہ جاننی چاہی تو فوراً خواب ٹوٹ گیا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا۔
بہر حال
سپاہی روانہ ہوئے اور جائے وقوعہ ہر پہنچے، وہ سخص وہیں موجود تھا۔۔
سپاہیوں کو دیکھ کر وہ بوکھلا گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ اسکی موت کا وقت آن پہنچا ہے۔۔
اسے بادشاہ کے سامنے حاضر کیا گیا۔ بادشاہ نے اسے اسکا گناہ سنایا اور کہا:
آج سے تم میرے مشیر خاص ہو۔
دوسری رات بادشاہ کو پھر خواب آیا۔
تو بادشاہ نے فوراً اس سفید پوش سے اس کی وجہ پوچھی کہ ایک زانی کیساتھ ایسا کیوں کرنے کا کہا آپ نے؟؟
سفید پوش نے کہا:
اللّٰہ کو اسکا گناہ سخت نا پسند آیا، چونکہ اسکی موت کا وقت نہیں آیا تھا اسی لیے تم سے کہا گیا کہ اسے مشیر بنا لو، تاکہ وہ عیش میں پڑ جائے اور کبھی اپنے گناہ پر نادم ہو کر معافی نا مانگ سکے۔ کیوں کہ اسکی سزا آخرت میں طے کر دی گئی ہے۔ مرتے دم تک وہ عیش میں غرق رہے گا، اور بلکہ خوش بھی ہوگا کہ جس گناہ پر اسے سزا دی جانے چاہیے تھی اس گناہ پر اسے اعلیٰ عہدہ مل گیا۔۔
سو اسے گمراہی میں رکھنا مقصد تھا۔۔
ابو اٹھے میرے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہا بیٹا۔۔
جب گناہوں پر آسانی ملنے لگے تو سمجھ لینا آخرت خراب ہو گئی۔ اور توبہ کے دروازے بند کر دیے گئے تم پر۔۔
میں سن کر حیران رہ گیا۔۔ اپنے گریباں میں اور آس پاس نگاہ دوڑائی۔
کیا آج ایسا نہیں ہے؟؟
بار بار گناہوں کا موقع ملتا ہے ہمیں اور کتنی آسانی سے ملتا ہے اور کوئی پکڑ نہیں ہوتی ہماری۔ ہم خوش ہیں۔ عیش میں ہیں۔۔
سچ کا راستہ دشوار ہوتا ہے اس میں بے شمار تکلیفیں ہونگی، آزمائشیں، مصیبتیں سب ہونگی مگر گناہ کا راستہ ہمیشہ ہموار ہوگا۔۔
خدا ہم سب کو ہدایت دے۔
آمین یارب العالمین۔۔۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 بادشاہوں کی قدرت و طاقت 🔷
ایک غلام بادشاہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور یہ دیکھ رہا تھا کہ بادشاہ کو نیند آ رہی ہے اور وہ بار بار اونگھ رہا ہےاپنی آنکھیں بند کرتا ہی ہے کہ ایک مکھی اس کے ناک پر آ کر اسکو نیند سے جگا دیتی ہے، جس سے بادشاہ سخت پریشان ہو رہا ہے اسکو بار بار خود سے دور کرتا ہے لیکن وہ ہر بار گھوم پھر کر اسکے ناک پر بیٹھ جاتی ہے۔
تھوڑی دیر بعد بادشاہ غلام سے پوچھتا ہے کہ کیا تم بتا سکتے ہو کہ اس مکھی کو خدا نے کیوں خلق کیا۔؟ اسکو خلق کرنے کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔؟
غلام نے کہا:
خداوند نے مکھی کو اس لئے خلق کیا تاکہ قدرتمند لوگ یہ بات اپنے ذہن میں ڈالیں کہ جس قدرت و طاقت پر وہ ناز کرتے پھرتے ہیں اسکا زور بعض اوقات ایک مکھی تک بھی نہیں چلتا۔۔۔!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک غلام بادشاہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور یہ دیکھ رہا تھا کہ بادشاہ کو نیند آ رہی ہے اور وہ بار بار اونگھ رہا ہےاپنی آنکھیں بند کرتا ہی ہے کہ ایک مکھی اس کے ناک پر آ کر اسکو نیند سے جگا دیتی ہے، جس سے بادشاہ سخت پریشان ہو رہا ہے اسکو بار بار خود سے دور کرتا ہے لیکن وہ ہر بار گھوم پھر کر اسکے ناک پر بیٹھ جاتی ہے۔
تھوڑی دیر بعد بادشاہ غلام سے پوچھتا ہے کہ کیا تم بتا سکتے ہو کہ اس مکھی کو خدا نے کیوں خلق کیا۔؟ اسکو خلق کرنے کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔؟
غلام نے کہا:
خداوند نے مکھی کو اس لئے خلق کیا تاکہ قدرتمند لوگ یہ بات اپنے ذہن میں ڈالیں کہ جس قدرت و طاقت پر وہ ناز کرتے پھرتے ہیں اسکا زور بعض اوقات ایک مکھی تک بھی نہیں چلتا۔۔۔!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 خالق کائنات کی احسن تقویم 🔷
آپ گوگل سے کوئی سوال کرتے ہیں...
وہ سوال کے جواب سے پہلے آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے سوال کے دو کروڑ پانچ لاکھ بیس ہزار جواب صفر اعشاریہ چھ پانچ سیکنڈز میں حاضر ہیں.
اس وقت کو جو گوگل جواب کی تلاش میں استعمال کرتا ہے سرور رسپانس ٹائم کہتے ہیں.
گوگل دنیا کے جدید ترین زی اون سرور اور جدید ترین لینکس ویب سرور آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتا ہے.
اس سسٹم نے صرف موجود معلومات کو جواب کی مناسبت سے میچ کر کے آپ کے لیے لائن اپ کرنا ہوتا ہے.
اور وہ اس کام کے لیے آدھے سیکنڈ سے ایک سیکنڈ کا وقت استعمال کرتا ہے اور بڑے فخر سے جواب سے پہلے آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے لیے میں نے یہ جواب چھ سو پچاس ملی سیکنڈز میں تلاش کیا ہے.
اب ہم کمپیوٹر کی سکرین سے کرکٹ کے میدان میں چلتے ہیں.
شعیب اختر یا بریٹ لی باؤلنگ کرا رہے ہیں.
گیند ایک سو پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھینکی گئی ہے.
وکٹ کی لمبائی بیس اعشاریہ ایک دو میٹر ہے.
ایک اینڈ سے دوسرے اینڈ تک پہنچنے میں بال کو چار سو اسی ملی سیکنڈز لگیں گے.
جبکہ جہاں بیٹسمین کھڑا ہے انیس میٹر کے فاصلے پر ، چار سو پچاس ملی سیکنڈز لگتے ہیں.
اب فرض کریں کہ گیند شارٹ آف لینتھ ہے تو وکٹ کے نصف کے قریب ٹپہ دیا گیا ہے.
جب بیٹسمین کو احساس ہوتا ہے کہ یہ باؤنسر ہے اور وہ بیٹھ جاتا ہے
تا کہ باؤنسر سر کے اوپر سے گزر جائے.
اس وقت اس کے پاس صرف دو سو پچیس ملی سیکنڈز یعنی ایک سیکنڈ کا قریب ایک چوتھائی وقت بچتا ہے.
اس ایک چوتھائی سیکنڈ سے بھی کم وقت میں انسانی جسم کیا کیا افعال سر انجام دیتا ہے،
آئیے اس کا ہلکا سا اندازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں.
سب سے پہلے آنکھ نے ابھرتے ہوئے گیند کی پردہ بصارت پر شبیہ بنائی جو کہ الٹی ہے یعنی اپ سائیڈ ڈاون.
دماغ نے سب سے پہلے اس شبیہ کو سیدھا کر کے سمجھا کہ باؤنسر آ رہا ہے.
پھر اس نے فیصلہ کیا کہ اس باؤنسر کی سمت شاٹ لگانے کے لیے درست نہیں لہذا مجھے بیٹھ جانا چاہیے.
اس فیصلے کے بعد دماغ کے چھیاسی ارب نیورونز میں سے ایک حصے میں موجود لاکھوں نیورونز نے اپر موٹر نیورونز کو پروپریوسیپشن کا حکم دیا.
پروپریوسیپشن وہ عمل ہے جس میں انسانی ذہن جسم کے عضلات کو حرکت دینے سے پہلے ان کی درست جگہ کا تعین کرتا ہے کہ کون سا مسل کس پوزیشن پر اور کتنے کھچاؤ میں ہے.
جسم کے سارے چھ سو مسلز کے کروڑوں مسل فائبرز کی درست جگہ اور کھچاؤ کی معلومات دماغ کو پہنچا دی گئیں.
تب اس نے ساڑھے چار سو کے قریب عضلات کی لاکھوں مسل فائبر کو اپنی جگہ سے سکڑنے یا پھیلنے کیلئے کروڑوں سگنلز اپر موٹر نیورونز کو فراہم کیے.
اپر موٹر نیورونز نے یہ سارے سگنلز حرام مغز کو پہنچا دیے.
حرام مغز نے لوئر موٹر نیورونز کے ذریعے ساڑھے چار سو مسلز کے لاکھوں مسل فائبرز کو علیحدہ علیحدہ ھدایت جاری کیں
جو سارے سسٹم سے ہوتے ہوئے آخری سرے ایکسون پر پہنچی جس نے ایک کیمکل acetylcholine. ایسی ٹائیلکولین پیدا کیا.
جس نے مسل نیورونز جنکشن پر عمل کر کے مسلز کو مطلوب کھچاؤ فراہم کر دیا.
یاد رہے کہ لاکھوں میں سے ہر مسل فائبر کے مسل نیورونز جنکشن پر ایسی ٹائیلکولین کی مقدار طلب کے حساب سے مختلف پیدا کی گئی.
ایک بار کے سگنلز کے بعد دوبارہ
"سینسری فیڈ بیک" لی گئی کہ جسم غیر متوازن ہو کر گر نہ جائے.
پھر اس فیڈ بیک کی روشنی میں نئے سرے سے "پاسچورل ایڈجسٹمنٹ" کی گئی۔۔۔
اس سارے عمل کو جانے کتنی بار دہرایا گیا
جب بیٹسمین بیٹنگ پوزیشن سے بیٹھی ہوئی حالت میں پہنچا.
اور یہ سارے کروڑوں نہیں اربوں عوامل ایک سیکنڈ کے ایک چوتھائی سے بھی کم عرصے میں بخیر انجام پائے.
خدائے بزرگ و برتر کی قسم آپ خود کو ٹھیک سے نہیں جانتے.
آپ ہیومین نہیں سپر ہیومین ہیں.
اس کائنات کے خالقِ کل کی احسن تقویم….
اپنی صلاحیتوں کا درست ادراک کیجیے…
اٹھیے اپنی توانائیوں کو درست سمت میں استعمال کریں.
سبحان اللہ العظیم وبحمدہ
فبا ی الائ ربکما تکذبان
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
آپ گوگل سے کوئی سوال کرتے ہیں...
وہ سوال کے جواب سے پہلے آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے سوال کے دو کروڑ پانچ لاکھ بیس ہزار جواب صفر اعشاریہ چھ پانچ سیکنڈز میں حاضر ہیں.
اس وقت کو جو گوگل جواب کی تلاش میں استعمال کرتا ہے سرور رسپانس ٹائم کہتے ہیں.
گوگل دنیا کے جدید ترین زی اون سرور اور جدید ترین لینکس ویب سرور آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتا ہے.
اس سسٹم نے صرف موجود معلومات کو جواب کی مناسبت سے میچ کر کے آپ کے لیے لائن اپ کرنا ہوتا ہے.
اور وہ اس کام کے لیے آدھے سیکنڈ سے ایک سیکنڈ کا وقت استعمال کرتا ہے اور بڑے فخر سے جواب سے پہلے آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے لیے میں نے یہ جواب چھ سو پچاس ملی سیکنڈز میں تلاش کیا ہے.
اب ہم کمپیوٹر کی سکرین سے کرکٹ کے میدان میں چلتے ہیں.
شعیب اختر یا بریٹ لی باؤلنگ کرا رہے ہیں.
گیند ایک سو پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھینکی گئی ہے.
وکٹ کی لمبائی بیس اعشاریہ ایک دو میٹر ہے.
ایک اینڈ سے دوسرے اینڈ تک پہنچنے میں بال کو چار سو اسی ملی سیکنڈز لگیں گے.
جبکہ جہاں بیٹسمین کھڑا ہے انیس میٹر کے فاصلے پر ، چار سو پچاس ملی سیکنڈز لگتے ہیں.
اب فرض کریں کہ گیند شارٹ آف لینتھ ہے تو وکٹ کے نصف کے قریب ٹپہ دیا گیا ہے.
جب بیٹسمین کو احساس ہوتا ہے کہ یہ باؤنسر ہے اور وہ بیٹھ جاتا ہے
تا کہ باؤنسر سر کے اوپر سے گزر جائے.
اس وقت اس کے پاس صرف دو سو پچیس ملی سیکنڈز یعنی ایک سیکنڈ کا قریب ایک چوتھائی وقت بچتا ہے.
اس ایک چوتھائی سیکنڈ سے بھی کم وقت میں انسانی جسم کیا کیا افعال سر انجام دیتا ہے،
آئیے اس کا ہلکا سا اندازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں.
سب سے پہلے آنکھ نے ابھرتے ہوئے گیند کی پردہ بصارت پر شبیہ بنائی جو کہ الٹی ہے یعنی اپ سائیڈ ڈاون.
دماغ نے سب سے پہلے اس شبیہ کو سیدھا کر کے سمجھا کہ باؤنسر آ رہا ہے.
پھر اس نے فیصلہ کیا کہ اس باؤنسر کی سمت شاٹ لگانے کے لیے درست نہیں لہذا مجھے بیٹھ جانا چاہیے.
اس فیصلے کے بعد دماغ کے چھیاسی ارب نیورونز میں سے ایک حصے میں موجود لاکھوں نیورونز نے اپر موٹر نیورونز کو پروپریوسیپشن کا حکم دیا.
پروپریوسیپشن وہ عمل ہے جس میں انسانی ذہن جسم کے عضلات کو حرکت دینے سے پہلے ان کی درست جگہ کا تعین کرتا ہے کہ کون سا مسل کس پوزیشن پر اور کتنے کھچاؤ میں ہے.
جسم کے سارے چھ سو مسلز کے کروڑوں مسل فائبرز کی درست جگہ اور کھچاؤ کی معلومات دماغ کو پہنچا دی گئیں.
تب اس نے ساڑھے چار سو کے قریب عضلات کی لاکھوں مسل فائبر کو اپنی جگہ سے سکڑنے یا پھیلنے کیلئے کروڑوں سگنلز اپر موٹر نیورونز کو فراہم کیے.
اپر موٹر نیورونز نے یہ سارے سگنلز حرام مغز کو پہنچا دیے.
حرام مغز نے لوئر موٹر نیورونز کے ذریعے ساڑھے چار سو مسلز کے لاکھوں مسل فائبرز کو علیحدہ علیحدہ ھدایت جاری کیں
جو سارے سسٹم سے ہوتے ہوئے آخری سرے ایکسون پر پہنچی جس نے ایک کیمکل acetylcholine. ایسی ٹائیلکولین پیدا کیا.
جس نے مسل نیورونز جنکشن پر عمل کر کے مسلز کو مطلوب کھچاؤ فراہم کر دیا.
یاد رہے کہ لاکھوں میں سے ہر مسل فائبر کے مسل نیورونز جنکشن پر ایسی ٹائیلکولین کی مقدار طلب کے حساب سے مختلف پیدا کی گئی.
ایک بار کے سگنلز کے بعد دوبارہ
"سینسری فیڈ بیک" لی گئی کہ جسم غیر متوازن ہو کر گر نہ جائے.
پھر اس فیڈ بیک کی روشنی میں نئے سرے سے "پاسچورل ایڈجسٹمنٹ" کی گئی۔۔۔
اس سارے عمل کو جانے کتنی بار دہرایا گیا
جب بیٹسمین بیٹنگ پوزیشن سے بیٹھی ہوئی حالت میں پہنچا.
اور یہ سارے کروڑوں نہیں اربوں عوامل ایک سیکنڈ کے ایک چوتھائی سے بھی کم عرصے میں بخیر انجام پائے.
خدائے بزرگ و برتر کی قسم آپ خود کو ٹھیک سے نہیں جانتے.
آپ ہیومین نہیں سپر ہیومین ہیں.
اس کائنات کے خالقِ کل کی احسن تقویم….
اپنی صلاحیتوں کا درست ادراک کیجیے…
اٹھیے اپنی توانائیوں کو درست سمت میں استعمال کریں.
سبحان اللہ العظیم وبحمدہ
فبا ی الائ ربکما تکذبان
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 جاد اللہ القرآنی 🔷
یہ تقریباً 1957ء کی بات ہے، فرانس میں ایک رہائشی عمارت کی نکڑ میں ترکی کے ایک آدمی نے چھوٹی سی دکان بنا رکھی تھی۔ لوگ اس کو "انکل ابراہیم" کے نام سے جانتے تھے۔ انکل ابراہیم کی دکان میں گھریلو ضروریات کے علاوہ بچوں کی چاکلیٹ وغیرہ بھی دستیاب تھیں۔
اسی عمارت کی ایک منزل پر ایک یہودی خاندان آباد تھا جن کا ایک سات سالہ بچہ (جاد) تھا۔ جاد تقریباً روز ہی انکل ابراہیم کی دکان پر آتا تھا اور دکان سے جاتے ہوئے کبھی بھی ایک چاکلیٹ چوری کرنا نہ بھولی تھی۔
ایک بار جاد دکان سے جاتے ہوئے چاکلیٹ چوری کرنا بھول گیا۔ انکل ابراہیم نے جاد کو آواز دیتے ہوئے کہا: "جاد! آج چاکلیٹ نہیں اُٹھاؤ گے کیا؟"
انکل ابراہیم کی یہ بات جاد کیلئے ایک صدمے سے بڑھ کر تھی۔ جاد آج تک یہی سمجھتا تھا کہ اس کی چوری ایک راز تھی۔ جاد نے گڑگڑاتے ہوئے انکل ابراہیم سے کہا کہ "آپ مجھے معاف کر دیں، تو آئندہ میں کبھی بھی چوری نہیں کرونگا۔"
مگر انکل ابراہیم نے جاد سے کہا:
"اگر تم وعدہ کرو کہ اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی کی چوری نہیں کرو گے تو روزانہ کا ایک چاکلیٹ میری طرف سے تمہارا ہوا، ہر بار دکان سے جاتے ہوئے لے جایا کرنا۔"
اور بالآخر اسی بات پر جاد اور انکل کا اتفاق ہو گیا۔
وقت گزرتا گیا اور اس یہودی بچے جاد اور انکل ابراہیم کی محبت گہری ہوتی چلی گئی۔ بلکہ ایسا ہو گیا کہ انکل ابراہیم ہی جاد کیلئے باپ، ماں اور دوست کا درجہ اختیار کر چکا تھا۔ جاد کو جب کبھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا یا پریشانی ہوتی تو انکل ابراہیم سے ہی کہتا، ایسے میں انکل میز کی دراز سے ایک کتاب نکالتے اور جاد سے کہتے کہ کتاب کو کہیں سے بھی کھول کر دو۔ جاد کتاب کھولتا اور انکل وہیں سے دو صفحے پڑھتے، جاد کو مسئلے کا حل بتاتے، جاد کا دل اطمینان پاتا اور وہ گھر کو چلا جاتا۔
اور اسی طرح سترہ سال بعد جب جاد چوبیس سال کا ہو گیا تو انکل ابرہیم سڑسٹھ سال کی عمر میں وفات پا گئے۔
اُنہوں نے اپنے بیٹوں کے پاس جاد کیلئے ایک صندوقچی چھوڑی تھی، اُن کی وصیت تھی کہ مرنے کے بعد یہ یہودی نوجوان جاد کو دیدی جائے۔
جاد کو جب انکل کے بیٹوں نے صندوقچی دی اور اپنے والد کے مرنے کا بتایا تو جاد بہت غمگین ہوا، کیونکہ انکل ہی تو اسکے غمگسار اور مونس تھے۔ جاد نے صندوقچی کھول کر دیکھی تو اندر وہی کتاب تھی جسے کھول کر وہ انکل کو دیا کرتا تھا۔
ایک دن جاد کو کسی پریشانی نے آ گھیرا، "آج انکل ہوتے تو وہ اُسے کتاب کھول کر دو صفحے پڑھتے اور مسئلے کا حل سامنے آجاتا" جاد کے ذہن میں انکل کا خیال آیا اور اُس کے آنسوؤں نکل آئے۔
"کیوں ناں آج میں خود کوشش کروں۔" لیکن کتاب کی زبان اور لکھائی اُس کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ کتاب اُٹھا کر اپنے تیونسی عرب دوست کے پاس گیا اور اُسے کہا کہ "مجھے اس میں سے دو صفحے پڑھ کر سناؤ"
مطلب پوچھا اور اپنے مسئلے کا اپنے تئیں حل نکالا۔ واپس جانے سے پہلے اُس نے اپنے دوست سے پوچھا: "یہ کیسی کتاب ہے؟"
تیونسی نے کہا: "یہ ہم مسلمانوں کی کتاب قرآن ہے۔"
جاد نے پوچھا: "مسلمان کیسے بنتے ہیں؟"
تیونسی نے کہا:
"کلمہ شہادت پڑھتے ہیں اور پھر شریعت پر عمل کرتے ہیں۔"
جاد نے کہا:
"تو پھر سن لو میں کہہ رہا ہوں أَشْهَدُ أَنّ لَّا إِلَٰهَ إِلَّإ الله و أَشْهَدُ ان محمد رسول الله"
جاد مسلمان ہو گیا اور اپنے لئے "جاد اللہ القرآنی" کا نام پسند کیا۔ جاد اللہ نے قرآن کی تعلیم حاصل کی، دین کو سمجھا اور اور اس کی تبلیغ شروع کر دی۔
یورپ میں اس کے ہاتھ پر چھ ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ ایک دن پرانے کاغذات دیکھتے ہوئے جاد اللہ کو انکل ابراہیم کے دیئے ہوئے قرآن میں دنیا کا ایک نقشہ نظر آیا جس میں براعظم افریقہ کے اردگرد لکیر کھینچی ہوئی تھی اور انکل کے دستخط کیے ہوئے تھے۔ ساتھ میں انکل کے ہاتھ سے ہی یہ آیت کریمہ لکھی ہوئی تھی:
"ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة"
"اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ"
جاد اللہ کو ایسا لگا جیسے یہ انکل کی اس کیلئے وصیت ہو۔ اور اسی وقت جاد اللہ نے یورپ کو خیرباد کہہ کر کینیا، سوڈان، یوگنڈہ اور اس کے آس پاس کے ممالک کو اپنا مسکن بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ انسانوں کو دین اسلام کی روشنی سے نوازا۔
جاد اللہ نے افریقہ کے کٹھن ماحول میں اپنی زندگی کے تیس سال گزار دیئے۔ 2003ء میں افریقہ میں پائی جانے والی بیماریوں میں گھر کر محض چون (54) سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی کو جا ملے۔
جاد اللہ کی محنت کے ثمرات ان کی وفات کے بعد بھی جاری رہے۔ وفات کے ٹھیک دو سال بعد ان کی ماں نے ستر سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔
🔘 کیا ہم میں سے کسی مسلمان کا اخلاق و عادات و اطوار و کردار "انکل ابراہیم"جیسا ہے کہ کوئی غیر مسلم جاد ہم سے متاثر ہو کر "جاد اللہ القرآنی" بن سکے۔
http://t.me/islamwitheman/302
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
یہ تقریباً 1957ء کی بات ہے، فرانس میں ایک رہائشی عمارت کی نکڑ میں ترکی کے ایک آدمی نے چھوٹی سی دکان بنا رکھی تھی۔ لوگ اس کو "انکل ابراہیم" کے نام سے جانتے تھے۔ انکل ابراہیم کی دکان میں گھریلو ضروریات کے علاوہ بچوں کی چاکلیٹ وغیرہ بھی دستیاب تھیں۔
اسی عمارت کی ایک منزل پر ایک یہودی خاندان آباد تھا جن کا ایک سات سالہ بچہ (جاد) تھا۔ جاد تقریباً روز ہی انکل ابراہیم کی دکان پر آتا تھا اور دکان سے جاتے ہوئے کبھی بھی ایک چاکلیٹ چوری کرنا نہ بھولی تھی۔
ایک بار جاد دکان سے جاتے ہوئے چاکلیٹ چوری کرنا بھول گیا۔ انکل ابراہیم نے جاد کو آواز دیتے ہوئے کہا: "جاد! آج چاکلیٹ نہیں اُٹھاؤ گے کیا؟"
انکل ابراہیم کی یہ بات جاد کیلئے ایک صدمے سے بڑھ کر تھی۔ جاد آج تک یہی سمجھتا تھا کہ اس کی چوری ایک راز تھی۔ جاد نے گڑگڑاتے ہوئے انکل ابراہیم سے کہا کہ "آپ مجھے معاف کر دیں، تو آئندہ میں کبھی بھی چوری نہیں کرونگا۔"
مگر انکل ابراہیم نے جاد سے کہا:
"اگر تم وعدہ کرو کہ اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی کی چوری نہیں کرو گے تو روزانہ کا ایک چاکلیٹ میری طرف سے تمہارا ہوا، ہر بار دکان سے جاتے ہوئے لے جایا کرنا۔"
اور بالآخر اسی بات پر جاد اور انکل کا اتفاق ہو گیا۔
وقت گزرتا گیا اور اس یہودی بچے جاد اور انکل ابراہیم کی محبت گہری ہوتی چلی گئی۔ بلکہ ایسا ہو گیا کہ انکل ابراہیم ہی جاد کیلئے باپ، ماں اور دوست کا درجہ اختیار کر چکا تھا۔ جاد کو جب کبھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا یا پریشانی ہوتی تو انکل ابراہیم سے ہی کہتا، ایسے میں انکل میز کی دراز سے ایک کتاب نکالتے اور جاد سے کہتے کہ کتاب کو کہیں سے بھی کھول کر دو۔ جاد کتاب کھولتا اور انکل وہیں سے دو صفحے پڑھتے، جاد کو مسئلے کا حل بتاتے، جاد کا دل اطمینان پاتا اور وہ گھر کو چلا جاتا۔
اور اسی طرح سترہ سال بعد جب جاد چوبیس سال کا ہو گیا تو انکل ابرہیم سڑسٹھ سال کی عمر میں وفات پا گئے۔
اُنہوں نے اپنے بیٹوں کے پاس جاد کیلئے ایک صندوقچی چھوڑی تھی، اُن کی وصیت تھی کہ مرنے کے بعد یہ یہودی نوجوان جاد کو دیدی جائے۔
جاد کو جب انکل کے بیٹوں نے صندوقچی دی اور اپنے والد کے مرنے کا بتایا تو جاد بہت غمگین ہوا، کیونکہ انکل ہی تو اسکے غمگسار اور مونس تھے۔ جاد نے صندوقچی کھول کر دیکھی تو اندر وہی کتاب تھی جسے کھول کر وہ انکل کو دیا کرتا تھا۔
ایک دن جاد کو کسی پریشانی نے آ گھیرا، "آج انکل ہوتے تو وہ اُسے کتاب کھول کر دو صفحے پڑھتے اور مسئلے کا حل سامنے آجاتا" جاد کے ذہن میں انکل کا خیال آیا اور اُس کے آنسوؤں نکل آئے۔
"کیوں ناں آج میں خود کوشش کروں۔" لیکن کتاب کی زبان اور لکھائی اُس کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ کتاب اُٹھا کر اپنے تیونسی عرب دوست کے پاس گیا اور اُسے کہا کہ "مجھے اس میں سے دو صفحے پڑھ کر سناؤ"
مطلب پوچھا اور اپنے مسئلے کا اپنے تئیں حل نکالا۔ واپس جانے سے پہلے اُس نے اپنے دوست سے پوچھا: "یہ کیسی کتاب ہے؟"
تیونسی نے کہا: "یہ ہم مسلمانوں کی کتاب قرآن ہے۔"
جاد نے پوچھا: "مسلمان کیسے بنتے ہیں؟"
تیونسی نے کہا:
"کلمہ شہادت پڑھتے ہیں اور پھر شریعت پر عمل کرتے ہیں۔"
جاد نے کہا:
"تو پھر سن لو میں کہہ رہا ہوں أَشْهَدُ أَنّ لَّا إِلَٰهَ إِلَّإ الله و أَشْهَدُ ان محمد رسول الله"
جاد مسلمان ہو گیا اور اپنے لئے "جاد اللہ القرآنی" کا نام پسند کیا۔ جاد اللہ نے قرآن کی تعلیم حاصل کی، دین کو سمجھا اور اور اس کی تبلیغ شروع کر دی۔
یورپ میں اس کے ہاتھ پر چھ ہزار سے زیادہ لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ ایک دن پرانے کاغذات دیکھتے ہوئے جاد اللہ کو انکل ابراہیم کے دیئے ہوئے قرآن میں دنیا کا ایک نقشہ نظر آیا جس میں براعظم افریقہ کے اردگرد لکیر کھینچی ہوئی تھی اور انکل کے دستخط کیے ہوئے تھے۔ ساتھ میں انکل کے ہاتھ سے ہی یہ آیت کریمہ لکھی ہوئی تھی:
"ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة"
"اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ"
جاد اللہ کو ایسا لگا جیسے یہ انکل کی اس کیلئے وصیت ہو۔ اور اسی وقت جاد اللہ نے یورپ کو خیرباد کہہ کر کینیا، سوڈان، یوگنڈہ اور اس کے آس پاس کے ممالک کو اپنا مسکن بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ انسانوں کو دین اسلام کی روشنی سے نوازا۔
جاد اللہ نے افریقہ کے کٹھن ماحول میں اپنی زندگی کے تیس سال گزار دیئے۔ 2003ء میں افریقہ میں پائی جانے والی بیماریوں میں گھر کر محض چون (54) سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی کو جا ملے۔
جاد اللہ کی محنت کے ثمرات ان کی وفات کے بعد بھی جاری رہے۔ وفات کے ٹھیک دو سال بعد ان کی ماں نے ستر سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔
🔘 کیا ہم میں سے کسی مسلمان کا اخلاق و عادات و اطوار و کردار "انکل ابراہیم"جیسا ہے کہ کوئی غیر مسلم جاد ہم سے متاثر ہو کر "جاد اللہ القرآنی" بن سکے۔
http://t.me/islamwitheman/302
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔹 حضرت علی علیہ السلام کو اطلاع
اسماء نے حسنین کریمینؑ سے کہا کہ تم دونوں اپنے والد کے پاس جاؤ اور انہیں اپنی والدہ کی موت کی خبر دو۔
حسنین کریمینؑ گھر سے نکلے تو ان کی زبان سے یہ کلمات جاری تھے یا محمد اہ! یا احمد اہ! الیوم جدد لنا موتک اذ ماتت امنا۔ یعنی…
اسماء نے حسنین کریمینؑ سے کہا کہ تم دونوں اپنے والد کے پاس جاؤ اور انہیں اپنی والدہ کی موت کی خبر دو۔
حسنین کریمینؑ گھر سے نکلے تو ان کی زبان سے یہ کلمات جاری تھے یا محمد اہ! یا احمد اہ! الیوم جدد لنا موتک اذ ماتت امنا۔ یعنی…
🍛 کونڈے اور عوامی غلط فہمیاں 🍛
نیاز امام جعفر صادق علیہ السلام (کونڈے کی رسم) کے بارے چند عوامی غلط فہمیاں اور انکی اصلاح۔۔۔
❶ کونڈے کی نیاز کو گھر سے باہر لے جانا بالکل جائز ہے اور اس کام کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔
❷ کوئی خاتون اگر حالت حیض میں ہے تب بھی وہ یہ نیاز بنا بھی سکتی ہے اور کھا بھی سکتی ہے۔
❸ نیاز امام صادق علیہ السلام ماہ رجب میں اور اس کے علاوہ پورے سال میں کبھی بھی بنائی اور کھلائی جا سکتی ہے، یہ 22 رجب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔
❹ گو کہ پہلے زمانے کے مؤمنین نیاز امام صادق علیہ السلام کونڈے میں رکھ کر پیش کرتے تھے لیکن ایسا کرنا کوئی شرعی حکم نہیں ہے بالکل بھی ضروری نہیں ہے۔
❺ نیاز میں کچھ بھی پکایا جا سکتا ہے صرف میٹھی پوڑیاں پکانا ضروری نہیں، مچھلی پر بھی نیاز دی جا سکتی ہے۔
نوٹ: معصومین علیہم السلام نے کبھی بھی نیاز وغیرہ میں کسی مخصوص کھانے کو پکانے یا کسی کھانے کو نہ پکانے سے منع نہیں کیا۔
❻ ضروری نہیں کہ نیاز کو ساری رات میں ہی پکائیں اور پھر دن میں کھلائیں بلکہ دن میں بھی بنا کہ کھلائی جا سکتی ہے۔
❼ نیاز امام صادق علیہ السلام پر لکڑ ہارے کی من گھڑت کہانی کو پڑھنا بالکل بھی درست نہیں بلکہ یہ کہانی چونکہ من گھڑت ہے اور کسی بھی مستند شیعہ کتاب میں موجود نہیں ہے لہذا اسکو ہر گز نہ پڑھا جائے اور اسکے برعکس مستند کتابوں میں موجود معصومین علیہم السلام کے مستند واقعات کو ہی پڑھا جائے۔
❽ نیاز پر جو ختم دلایا جاتا ہے اس میں مستند واقعات کے ساتھ ساتھ تلاوت قرآن، حدیث کساء اور دعا توسل وغیرہ کو پڑھا جائے اور مؤمنین کی صحت و سلامتی کی دعائیں کی جائیں...
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/3057
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس ۔۔۔۔
🍛 کونڈوں کی نیاز
https://t.me/islamwitheman/3058
🌸 نذر و نیاز امام جعفر صادقؑ
https://t.me/islamwitheman/3059
🔵 کونڈے اور لکڑہارے کا واقعہ
https://t.me/islamwitheman/3060
🌸 نذر و منت
https://t.me/islamwitheman/3061
🍛 کونڈے
https://t.me/islamwitheman/3062
🍛 کونڈے اور عوامی غلط فہمیاں
https://t.me/islamwitheman/4110
🔷 کونڈے اہلسنت کی نظر میں
https://t.me/islamwitheman/4671
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
نیاز امام جعفر صادق علیہ السلام (کونڈے کی رسم) کے بارے چند عوامی غلط فہمیاں اور انکی اصلاح۔۔۔
❶ کونڈے کی نیاز کو گھر سے باہر لے جانا بالکل جائز ہے اور اس کام کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔
❷ کوئی خاتون اگر حالت حیض میں ہے تب بھی وہ یہ نیاز بنا بھی سکتی ہے اور کھا بھی سکتی ہے۔
❸ نیاز امام صادق علیہ السلام ماہ رجب میں اور اس کے علاوہ پورے سال میں کبھی بھی بنائی اور کھلائی جا سکتی ہے، یہ 22 رجب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔
❹ گو کہ پہلے زمانے کے مؤمنین نیاز امام صادق علیہ السلام کونڈے میں رکھ کر پیش کرتے تھے لیکن ایسا کرنا کوئی شرعی حکم نہیں ہے بالکل بھی ضروری نہیں ہے۔
❺ نیاز میں کچھ بھی پکایا جا سکتا ہے صرف میٹھی پوڑیاں پکانا ضروری نہیں، مچھلی پر بھی نیاز دی جا سکتی ہے۔
نوٹ: معصومین علیہم السلام نے کبھی بھی نیاز وغیرہ میں کسی مخصوص کھانے کو پکانے یا کسی کھانے کو نہ پکانے سے منع نہیں کیا۔
❻ ضروری نہیں کہ نیاز کو ساری رات میں ہی پکائیں اور پھر دن میں کھلائیں بلکہ دن میں بھی بنا کہ کھلائی جا سکتی ہے۔
❼ نیاز امام صادق علیہ السلام پر لکڑ ہارے کی من گھڑت کہانی کو پڑھنا بالکل بھی درست نہیں بلکہ یہ کہانی چونکہ من گھڑت ہے اور کسی بھی مستند شیعہ کتاب میں موجود نہیں ہے لہذا اسکو ہر گز نہ پڑھا جائے اور اسکے برعکس مستند کتابوں میں موجود معصومین علیہم السلام کے مستند واقعات کو ہی پڑھا جائے۔
❽ نیاز پر جو ختم دلایا جاتا ہے اس میں مستند واقعات کے ساتھ ساتھ تلاوت قرآن، حدیث کساء اور دعا توسل وغیرہ کو پڑھا جائے اور مؤمنین کی صحت و سلامتی کی دعائیں کی جائیں...
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/3057
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس ۔۔۔۔
🍛 کونڈوں کی نیاز
https://t.me/islamwitheman/3058
🌸 نذر و نیاز امام جعفر صادقؑ
https://t.me/islamwitheman/3059
🔵 کونڈے اور لکڑہارے کا واقعہ
https://t.me/islamwitheman/3060
🌸 نذر و منت
https://t.me/islamwitheman/3061
🍛 کونڈے
https://t.me/islamwitheman/3062
🍛 کونڈے اور عوامی غلط فہمیاں
https://t.me/islamwitheman/4110
🔷 کونڈے اہلسنت کی نظر میں
https://t.me/islamwitheman/4671
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 اسلام میں سیر و تفریح 🔷
زمین کے مختلف خطوں میں گذشتہ لوگوں کے جو نشانات قدیم ادوار سے باقی ہیں، وہ زندہ اسناد اور بولنے والی تاریخ ہیں۔ یہاں تک کہ ہم ان کے متعلق لکھی ہوئی تاریخ کی نسبت ان سے زیادہ بہرہ ور ہو سکتے ہیں کیونکہ ان نشانات سے ہم ان اقوام کی جسمانی ساخت، ان کا زاویہ فکر اور ان کی قدرت و عظمت کو بآسانی جان سکتے ہیں جبکہ صفحات تاریخ صرف وقوع پذیر واقعات کی تصویر کشی کرتے ہیں۔
ستمگروں کے محلات کی ویرانی، اہرام مصر کی تعجب خیز عمارتیں، بابل کے برج، کسریٰ کے محل، قوم سبا کے آثار تمدن اور اس طرح کی بیسیوں نشانیاں جو اس عالم کے گذشتہ و کنار میں بکھری پڑی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نشانی زبان حال سے ان لوگوں کی تاریخ بیان کرتی ہے اور بے زبانی کی زبان میں باتیں کرتی ہے۔
یہ حقیقت اس وقت آشکار ہو جاتی ہے جب کوئی نکتہ سنج شاعران محلات کے خرابوں میں جا کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنی روح میں ایک اضطراب محسوس کرتا ہے اور ہیجان انگیز اشعار کہتا ہے، جیسا کہ خاقانی اور دوسرے عالمی شہرت یافتہ شعراء نے کسریٰ وغیرہ کے ٹوٹے پھوٹے محلات کے اندر سے یہ آوازیں دل کے کانوں سے سنی ہیں اور انہیں ادبی شاہکاروں کی زینت بنایا ہے۔
ان زندہ تاریخی آثار میں سے ایک کا مطالعہ کرنا ضخیم تاریخی کتاب پڑھنے کے برابر ہے۔ یہ مطالعہ انسان کی روحانی بیداری کے لئے ایک مؤثر چیز ہے کیونکہ جب ہم ان آثار کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اچانک ایسا لگتا ہے کہ ان ویرانوں میں زیر خاک بوسیدہ ہڈیاں زندہ ہو گئی ہیں اور پہلے جوش ولولہ کا مشاہدہ کر رہی ہیں لیکن جب ہم دوبارہ ان کی طرف نگاہ کرتے ہیں تو انہیں خاموش فراموش شدہ دیکھتے ہیں۔ ان دو حالتوں کا موازنہ اس راز کو طشت از بام کرتا ہے کہ خودسر افراد کتنے کوتاہ نظر ہیں کہ جو بہت جلدی گذر جانے والی ہوسرانیوں کے لئے ہزارہا بدکاریوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔
اس لئے قرآن مجید حکم دیتا ہے کہ مسلمان روئے زمین پر سیر و سیاحت کریں اور گزشتہ لوگوں کے آثار کا مشاہدہ کر کے ان سے عبرت حاصل کریں۔
اسلام میں بھی جہاں گردی اور سیر و تفریح کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے لیکن آج کے ہوس پرست سیاحوں کی طرح نہیں بلکہ گذشتہ لوگوں کے آثار و انجام کے مطالعہ اور گوشہ ہائے عالم میں عظمت خدا کے مشاہدہ کے لئے اور اسی کا نام قرآن نے ”سیردانی الارض“ رکھا ہے اور کئی ایک آیات میں اس کا حکم دیا ہے۔ مثلاً
❶۔ قُلْ سیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الْمُجْرِمینَ۔ (نمل۔69)
ترجمہ:
یعنی ان سے کہیں کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ مجرموں کا کیا انجام ہوا۔
❷۔ قُلْ سیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ بدءَ الْخلقَ۔ (عنکبوت:30)
ترجمہ:
یعنی کہو کہ زمین میں گھوم پھر کر دیکھو کہ خدا نے کیسے تخلیق کی۔
❸۔ افَلَمْ یَسیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَتَکُونَ لَہُمْ قُلُوبٌ یَعْقِلُونَ بِہا ۔۔۔۔ (حج:46)
ترجمہ:
کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں تاکہ ان کے دل اس سے کچھ عقل حاصل کرتے۔
یہ آیت کہتی ہے کہ یہ معنوی اور روحانی سیاحی اور زمین کی سیر انسان کے دل کو دانائی، آنکھوں کو بینائی اور کان کو سماعت عطا کرتی ہے اور اسے سکوت و جمود سے خلاصی دلاتی ہے۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ اسلامی حکم و قانون بہت سے دیگر قوانین کی طرح طاق نسیاں کی نذر کر دیا گیا ہے۔ اب مسلمان اسے بھی نظر التفات سے نہیں دیکھتے یہاں تک کہ بعض علماء نے اپنی فکر کا دائرہ صرف گرد و پیش تک محدود رکھا ہے۔ وہ گویا اس عالم کے علاوہ کسی اور عالم میں زندگی بسر کرتے ہیں اور دنیا کے اجتماعی انقلابات و وسائل سے بے خبر ہیں اور ان جزوی اور کم اثر کاموں میں اپنے آپ کو مشغول رکھا ہے جو اصولی اور بنیادی کاموں کے مقابلہ میں خاص قدرت و قیمت نہیں رکھتے۔ اس دنیا میں پوپ اور عیسائیوں کے بڑے بڑے پادری صدیوں کی گوشہ نشینی اور علیحدگی کے بعد زمین کی سیر و سیاحت کے لئے نکلتے ہیں تاکہ وہ ضروریات زمانہ کو سمجھیں۔ تو اس صورت میں کیا مسلمانوں کو قرآن کے اس حکم پر عمل پیرا نہیں ہونا چاہیے اور اپنے محدود فکری تنگ دائرہ سے نہیں نکلنا چاہیے تاکہ علم اسلام اور مسلمانوں میں ایک انقلاب و حرکت کارفرما ہو۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
زمین کے مختلف خطوں میں گذشتہ لوگوں کے جو نشانات قدیم ادوار سے باقی ہیں، وہ زندہ اسناد اور بولنے والی تاریخ ہیں۔ یہاں تک کہ ہم ان کے متعلق لکھی ہوئی تاریخ کی نسبت ان سے زیادہ بہرہ ور ہو سکتے ہیں کیونکہ ان نشانات سے ہم ان اقوام کی جسمانی ساخت، ان کا زاویہ فکر اور ان کی قدرت و عظمت کو بآسانی جان سکتے ہیں جبکہ صفحات تاریخ صرف وقوع پذیر واقعات کی تصویر کشی کرتے ہیں۔
ستمگروں کے محلات کی ویرانی، اہرام مصر کی تعجب خیز عمارتیں، بابل کے برج، کسریٰ کے محل، قوم سبا کے آثار تمدن اور اس طرح کی بیسیوں نشانیاں جو اس عالم کے گذشتہ و کنار میں بکھری پڑی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نشانی زبان حال سے ان لوگوں کی تاریخ بیان کرتی ہے اور بے زبانی کی زبان میں باتیں کرتی ہے۔
یہ حقیقت اس وقت آشکار ہو جاتی ہے جب کوئی نکتہ سنج شاعران محلات کے خرابوں میں جا کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنی روح میں ایک اضطراب محسوس کرتا ہے اور ہیجان انگیز اشعار کہتا ہے، جیسا کہ خاقانی اور دوسرے عالمی شہرت یافتہ شعراء نے کسریٰ وغیرہ کے ٹوٹے پھوٹے محلات کے اندر سے یہ آوازیں دل کے کانوں سے سنی ہیں اور انہیں ادبی شاہکاروں کی زینت بنایا ہے۔
ان زندہ تاریخی آثار میں سے ایک کا مطالعہ کرنا ضخیم تاریخی کتاب پڑھنے کے برابر ہے۔ یہ مطالعہ انسان کی روحانی بیداری کے لئے ایک مؤثر چیز ہے کیونکہ جب ہم ان آثار کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اچانک ایسا لگتا ہے کہ ان ویرانوں میں زیر خاک بوسیدہ ہڈیاں زندہ ہو گئی ہیں اور پہلے جوش ولولہ کا مشاہدہ کر رہی ہیں لیکن جب ہم دوبارہ ان کی طرف نگاہ کرتے ہیں تو انہیں خاموش فراموش شدہ دیکھتے ہیں۔ ان دو حالتوں کا موازنہ اس راز کو طشت از بام کرتا ہے کہ خودسر افراد کتنے کوتاہ نظر ہیں کہ جو بہت جلدی گذر جانے والی ہوسرانیوں کے لئے ہزارہا بدکاریوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔
اس لئے قرآن مجید حکم دیتا ہے کہ مسلمان روئے زمین پر سیر و سیاحت کریں اور گزشتہ لوگوں کے آثار کا مشاہدہ کر کے ان سے عبرت حاصل کریں۔
اسلام میں بھی جہاں گردی اور سیر و تفریح کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے لیکن آج کے ہوس پرست سیاحوں کی طرح نہیں بلکہ گذشتہ لوگوں کے آثار و انجام کے مطالعہ اور گوشہ ہائے عالم میں عظمت خدا کے مشاہدہ کے لئے اور اسی کا نام قرآن نے ”سیردانی الارض“ رکھا ہے اور کئی ایک آیات میں اس کا حکم دیا ہے۔ مثلاً
❶۔ قُلْ سیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الْمُجْرِمینَ۔ (نمل۔69)
ترجمہ:
یعنی ان سے کہیں کہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ مجرموں کا کیا انجام ہوا۔
❷۔ قُلْ سیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ بدءَ الْخلقَ۔ (عنکبوت:30)
ترجمہ:
یعنی کہو کہ زمین میں گھوم پھر کر دیکھو کہ خدا نے کیسے تخلیق کی۔
❸۔ افَلَمْ یَسیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَتَکُونَ لَہُمْ قُلُوبٌ یَعْقِلُونَ بِہا ۔۔۔۔ (حج:46)
ترجمہ:
کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں تاکہ ان کے دل اس سے کچھ عقل حاصل کرتے۔
یہ آیت کہتی ہے کہ یہ معنوی اور روحانی سیاحی اور زمین کی سیر انسان کے دل کو دانائی، آنکھوں کو بینائی اور کان کو سماعت عطا کرتی ہے اور اسے سکوت و جمود سے خلاصی دلاتی ہے۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ اسلامی حکم و قانون بہت سے دیگر قوانین کی طرح طاق نسیاں کی نذر کر دیا گیا ہے۔ اب مسلمان اسے بھی نظر التفات سے نہیں دیکھتے یہاں تک کہ بعض علماء نے اپنی فکر کا دائرہ صرف گرد و پیش تک محدود رکھا ہے۔ وہ گویا اس عالم کے علاوہ کسی اور عالم میں زندگی بسر کرتے ہیں اور دنیا کے اجتماعی انقلابات و وسائل سے بے خبر ہیں اور ان جزوی اور کم اثر کاموں میں اپنے آپ کو مشغول رکھا ہے جو اصولی اور بنیادی کاموں کے مقابلہ میں خاص قدرت و قیمت نہیں رکھتے۔ اس دنیا میں پوپ اور عیسائیوں کے بڑے بڑے پادری صدیوں کی گوشہ نشینی اور علیحدگی کے بعد زمین کی سیر و سیاحت کے لئے نکلتے ہیں تاکہ وہ ضروریات زمانہ کو سمجھیں۔ تو اس صورت میں کیا مسلمانوں کو قرآن کے اس حکم پر عمل پیرا نہیں ہونا چاہیے اور اپنے محدود فکری تنگ دائرہ سے نہیں نکلنا چاہیے تاکہ علم اسلام اور مسلمانوں میں ایک انقلاب و حرکت کارفرما ہو۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani