ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌹 یاعلی مدد از دیدگاہ علماء امامیہ 1 🌹

✍ تحریر ابوحمزہ نقوی

یہ تحریری سلسلہ مذہب حقہ شیعہ خیر البریہ کی عوام الناس کو ایسے لوگوں سے خبردار کرنے کے لئے لکھا جا رہا ہے جو شیعیت کے لباس میں ملبوس ہو کر وہابیت اور مقصریت کی ترویج کر رہے ہیں۔ یہ لوگ عقیدہ توسل و استمداد معصومین علیہم السلام کو شرک اور بدعت کہتے ہیں اور مذکورہ عقیدہ کے قائلین کو مشرک تصور کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے کچھ علماء حقہ کو بدنام کرنے کے لئے اپنی فیس بک آئی ڈی پر ان کی تصویریں ڈالیں ہوئی ہیں تاکہ عوام الناس کو یہ تاثر دے سکیں کہ یہ لوگ ان علماء کرام کے عقائد کی ترویج کر رہے ہیں جبکہ تمام شیعہ مراجع عظام اور علماء کرام عقیدہ توسل و استمداد ائمہ معصومین علیہم السلام کے قائل ہیں۔

■ آیت اللہ محمد حسین ڈھکو
ان کی کتابوں سے یاعلی مدد کے جواز میں بطور نمونہ چند عبارتیں۔۔۔
پہلی عبارت: "ہم کئی بار اس امر کا اظہار کر چکے ہیں کہ مولائے کائنات کے نام کا نعرہ "یاعلی٫ لگانا جائز ہے۔ اسی طرح بطور توسل "یاعلی ادرکنی" (یاعلی مدد) کہنے میں کوئی حرج نہیں۔" (اصول الشریعہ، صفحہ 369)

دوسری عبارت: "اور یہ بات کئی بار ثابت کی جا چکی ہے کہ یہ بزرگوار (معصومین علیہم السلام) مخلوق خدا کے وسیلہ و شفیع ہیں۔ سفارش کر کے خداوند عالم کی بارگاہ سے کام انجام دلواتے ہیں۔ اس معنی کے اعتبار سے وہ یقیناً "مشکل کشاء اور حلال المشکلات ہیں". جو ان کو بایں معنی حلال المشکلات نہیں مانتا وہ ناقص الایمان ہے". (اصول الشریعہ، صفحہ 373)

تیسری عبارت: "ہاں سرکار محمد و آل محمد علیہم السلام کا توسل ضرور حاصل کرنا چاہیے۔ خلاصہ کلام یہ کہ ان امور تکونینہ میں مدد خدا بھی کرتا ہے اور سرکار محمد و آل محمد علیہم السلام بھی مگر ان کی مدد یہ ہے کہ وہ یہ کام بارگاہ خدا سے کرا دیتے ہیں". (اصول الشریعہ، صفحہ 368)

چوتھی عبارت: " اسی طرح یہ بات بھی عقلا ناممکن نہیں ہے کہ خدائے قادر و قیوم نے کبھی عالم ارواح میں سید اولیاء (حضرت علی علیہ السلام) کو اپنی قدرت کاملہ سے بھیج کر اپنے کسی برگزیدہ نبی کی امداد فرما دی ہو". (اصول الشریعہ، صفحہ 325)

ڈھکو صاحب اپنی کتاب "تجلیات صداقت بجواب آفتاب ہدایت صفحہ 595 " میں یاعلی مدد کہنے کے جواز میں لکھتے ہیں:
" مؤلف نے یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ شیعہ اٹھتے بیٹھتے یاعلی مدد کا ورد کرتے ہیں تو ان کے اضافہ معلومات کی خاطر عرض ہے کہ شیعہ حضرت علی علیہ السلام کو خدا یا شریک خدا یا نبی اور رسول سمجھ کر ان کے نام کا ورد نہیں کرتے بلکہ بموجب ارشاد پیغمبر ذکر علی عبادۃ (علی کا ذکر عبادت ہے) عبادت خدا سمجھ کر کرتے ہیں اور اللہ کا ولی اور نبی کا وصی سمجھ کر کرتے ہیں مرزا غالب نے کیا خوب کہا ہے:
غالب ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست
مشغول حق ہوں بندگئ بوتراب میں

نیز شیعیان علی پر یہ سراسر اتہام اور غلط الزام ہے کہ انہوں نے اسلامی سلام (السلام علیکم) کی بجائے کوئی نیا اسلام ایجاد کر لیا ہے یعنی یاعلی مدد۔ کوئی بھی باخبر شیعہ اسے اسلامی سلام کی جگہ سلام نہیں سمجھتا بلکہ بعض حضرات اسلامی سلام کے بعد بطور وسیلہ (اپنے اور خدا کے درمیان حضرت امیر علیہ السلام کو وسیلہ سمجھ کر) یاعلی مدد کہہ لیتے ہیں تاکہ مومن اور منافق کی پہنچان ہو جائے۔ فرمائیے اس میں غلو یا شرک کی کون سی بات ہے؟ وسیلہ اختیار کرنے کا خود خدا نے حکم دیا ہے یاایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلہ سفارش کرنا وسیلہ کا کام ہے اور کام کرنا خدا کا کام۔ فرمائیے یہ شرک ہے یا عین توحید؟"

جاری ہے۔۔۔ بقیہ حصہ دوم میں

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 یاعلی مدد از دیدگاہ علماء امامیہ 2 🌹

■ شیخ الجامعہ آیت اللہ اختر عباس نجفی
شیخ الجامعہ آیت اللہ اختر عباس نجفی صاحب فرماتے ہیں:
"لوگوں نے کہا اختر عباس کہتا ہے کہ امیرالمومنینؑ سے مانگنا بدعت ہے۔ امیرالمومنین کو امام مان کے جو شیعہ نہیں مانگتا میں (اختر عباس) اسے حلال زادہ ہی نہیں سمجھتے اب اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اور اپنے بندے کے درمیان وسیلہ کی ہدایت یوں فرما رہا ہے۔۔
یاایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلہ وجاھدوا فی سبیله لعلکم تفلحون۔
ترجمہ: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کے حضور میں مقررہ وسیلہ بہم پہنچاؤ اور اس کی راہ میں مجاہدہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ جاؤ".
(خطبات شیخ الجامعہ، ص97)

شیخ الجامعہ آیت اللہ اختر عباس نجفی صاحب فرماتے ہیں:
"کون شیعہ ہے جو یہ سمجھ کر امام سے مانگتا ہو یا امام کے ذریعے خدا سے مانگتا ہو کہ امام دے سکتا ہے اور دینے میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ کوئی شیعہ ہے ایسا؟ کوئی ملتا ہے؟ وہ کہے گا جناب جس علی سے میں (مدد) مانگ رہا ہوں کیا تمہیں اندازہ ہے کہ اس کو پروردگار نے کتنی قوت دی ہے۔ ادنی جز تھا علم کتاب کا جس کے پاس وہ آنکھ جھپکنے سے پہلے لے آیا تھا تخت۔ اب اس کے متعلق قرآن کیا کہہ رہا ہے:
" اور جو لوگ کافر ہو گئے وہ یہ کہتے ہیں کہ تم کسی کے بھیجے ہوئے نہیں ہو۔ تم یہ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کو ایک تو اللہ کافی ہے (دوسرے) وہ جن کے پاس اس پوری کتاب کا علم ہے"
دیکھا آپ نے میرے امام کے پاس تو پوری کتاب کا علم ہے صرف ایک ہی نہیں بلکہ بارہ کے بارہ پوری کتاب کا علم رکھتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے طاقت دی ہے یہ دینے پر قادر ہیں یہ خود نہیں دیتے (اللہ تعالیٰ سے) دلواتے ہیں".
(خطبات شیخ الجامعہ، ص94)

■ علامہ علی نقی النقوی المعروف قبلہ نقن
ان کا فتوی ان کی قرآنی تفسیر فصل الخطاب سے نقل کریں گے۔۔۔
قبلہ نقن صاحب نے اپنی متعدد کتب میں عقیدہ توسل و استمداد معصومین علیہم السلام کو ثابت کیا ہے مگر ہم صرف بطورِ نمونہ ان کا ایک فتوی نقل کرتے ہیں۔۔
قبلہ نقن صاحب سورہ النحل آیت 75 (جس کو وہابی اور مقصرین عقیدہ توسل و استمداد انبیاء کے رد میں پیش کرتے ہیں) کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"ہم اس آیت کو مشرکین کی رد اس لحاظ سے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے انتخاب "وسیلہ" میں غلطی کی ہے یعنی اپنے دل میں ایسوں کو وسیلہ بنا لیا جنھیں خالق نے کسی قسم کا اختیار عطا نہیں کیا ہے۔ لازم تھا کہ وہ توسل کے لیے خود منشاء قدرت کو دیکھتے کہ اس نے کنھیں خلق کے لئے وسیلہ قرار دیا ہے؟ جسے اس کی طرف سے یہ اختیار عطا ہو، اس کے ساتھ توسل صحیح ہے یہ کہ"وہ جو بالکل بے بس ہیں" ان کی مثل نہیں ہیں جنھیں اللہ نے قدرت و اختیار عطا کیا ہے، خود اس کی دلیل ہے کہ کچھ ایسے ہیں جنھیں اللہ نے اپنی عطا سے ایسے اختیارات عنایت کیے ہیں کہ وہ اس کی دی ہوئی قدرت سے خلق خدا کی مدد کرتے ہیں". (فصل الخطاب، جلد4، ص414)

شیعیانِ حیدر کرار ع قبلہ نقن صاحب کی بیان کردہ تفسیر کا آخری فقرہ قابل غور ہے کہ "کہ وہ (معصومین علیہم السلام) اس (اللہ تعالیٰ) کی دی ہوئی قدرت سے خلق خدا کی مدد کرتے ہیں" یعنی اللہ تعالیٰ نے محمد و آل محمد علیہم السلام کو شفاعت و سفارش کرنے کے اختیارات دیئے ہوئے ہیں اور وہ جب بھی سفارش کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی سفارش کو رد نہیں فرماتا۔

عقیدہ توسل صرف اجماع مرجعیت سے ثابت نہیں بلکہ قرآن مجید اور احادیث معصومین علیہم السلام سے بھی مذکورہ عقیدہ ثابت ہے جن میں وارد ہوا ہے کہ معصومین علیہم السلام کو وسیلہ اور شفیع بنانا جائز ہے۔

■ مفسر قرآن حسین بخش جاڑا صاحب
حسین بخش جاڑا صاحب اپنی کتاب "لمعۃ الانوار فی عقائد الابرار صفحہ 164" پر لکھتے ہیں:
"اب بھی ببانگ دہل میں اعلان کرتا ہوں کہ علی ع کی نصرت و امداد کا انکار دینی قدروں کا انکار ہے علی دین کا ناصر، قرآن کا ناصر، شریعت کا ناصر، ناموس رسالت کا ناصر، ... انہی کے وسیلہ سے ہمیں رزق اور اولاد ملتی ہے انہیں ہی کے صدقے سے غرض جو کچھ ملتا ہے ملے گا یا مل چکا ہے وہ سب ان ہی کے صدقے سے ہے فقط فرق یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ دینے والا اللہ ہے اور مدد کرنے والے یہ ہیں۔ ہم اللہ کو معطل نہیں مانتے۔ پس اس نظریہ کے ماتحت "یاعلی مدد، یاعباس ادرکنی، یاحسین ادرکنی یا رسول اللہ کہنا سب جائز اور درست ہے۔"

شیعہ حقہ خیر البریہ کا یہ عقیدہ ہے کہ حقیقی مشکل کشاء اور حاجت روا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ مبارکہ ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے علاؤہ کسی کو حقیقی مشکل کشاء اور حاجت روا سمجھتا ہے وہ یقیناً مشرک ہے لیکن قرآن مجید میں جس طرح من باب المجاز حضرت جبرائیلؑ کے لئے "لاھب" اور حضرت عیسٰی کے لیے "اخلق" اور حضرت آصف بن برخیاہ کے لئے "اتیک" کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو واحد متکلم کے صیغے ہیں۔

جاری ہے۔۔۔ بقیہ حصہ سوم میں

https://t.me/islamwitheman/4064
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 یاعلی مدد از دیدگاہ علماء امامیہ 3 🌹

آیت اللہ محمد حسین ڈھکو صاحب نے تفسیر فیضان الرحمان فی تفسیر القرآن میں اور علامہ پیر گلاب علی شاہ صاحب نے خزینہ ایمانیہ میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے"اخلق" حضرت جبرائیل علیہ السلام کے لئے "لاھب" اور حضرت آصف بن برخیاہ کے لئے "اتیک" کے الفاظ من باب المجاز استعمال ہوئے ہیں
اسی طرح احسن الفوائد فی شرح عقائد میں قبلہ ڈھکو صاحب حدیث معصوم ع کی وضاحت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ چار ہستیوں کو من باب المجاز خالق کہا گیا ہے۔
(احسن الفوائد فی شرح عقائد صفحہ 591 )
اسی طرح من باب المجاز کسی نبی یا امام کے لئے مشکل کشاء اور حلال المشکلات جیسے الفاظ بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں مثلاً یا رسول اللہ مدد، یا علی مدد، وغیرہ وغیرہ کہنا۔

■ اب ہم مفسر قرآن ادیب اعظم حضرت مولانا سید ظفر حسن قبلہ امروہوی صاحب کا "یاعلی مدد" کے متعلق فتوی نقل کریں گے۔ قبلہ امروہوی صاحب تفسیر القرآن میں لکھتے ہیں:
"ہم ان (ذوات مقدسہ علیہم السلام) سے اسی طرح مدد مانگ سکتے ہیں جس طرح بحالت زندگی ان سے طالب امداد ہوتے تھے۔ احمق ہیں وہ لوگ جو "یاعلی مدد" کہنے کو کفر کہتے ہیں۔ جب خدا کہتا ہے وہ زندہ ہیں تو پھر مدد مانگنا کیوں کفر ہے؟ اگر یہ کہا جائے کہ خدا کے علاؤہ کسی سے مدد مانگنا کفر ہے تو اس کفر سے دنیا کا کوئی آدمی محفوظ نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔ ہمارا ان حضرات معصومین علیہم السلام سے مدد مانگنا درحقیقت اس قادر قیوم سے مدد مانگنا ہے جس نے ان کو مرنے کے بعد زندہ رکھا جب صبر و صلوٰۃ جیسی بے جان چیزوں سے مدد مانگنے کا حکم موجود ہے تو پھر خدا کے ان مخصوص بندوں سے کیوں نا مدد مانگی جائے جو صبر و صلوٰۃ کی تعلیم دینے کے لیے یہاں بھیجے گئے تھے". (تفسیر القرآن، جلد اول صفحہ 133)

■ منکرین توسل و استمداد معصومین علیہم السلام کا کہنا ہے کہ مراجع عظام نے مصلحت کی بناء پر "یاعلی مدد" کے فتوے دیئے ہیں۔
جواب:
جواباً عرض ہے کہ اگر بالفرض مراجع عظام نے "یاعلی مدد" کے فتوے مصلحت کی بناء پر دیئے ہیں تو اتنا ہی کہنا کافی ہوتا کہ "یاعلی مدد کہنا مباح ہے" لیکن جب ہم مراجع عظام کے فتوے دیکھتے ہیں تو ہمیں مندرجہ ذیل جملے ملتے ہیں
1_ "جو شخص بطور وسیلہ و شفاعت ان ذوات مقدسہ علیہم السلام کو مشکل کشاء اور حلال المشکلات نہیں مانتا وہ ناقص الایمان ہے۔"
2_ " جو امیر المومنین علیہ السلام کو امام سمجھ کر ان سے مدد نہیں مانگتا وہ حلال زادہ نہیں ہے۔"
3_ "احمق ہیں وہ لوگ جو "یاعلی مدد" کو کفر کہتے ہیں۔"
4_ "یاعلی مدد کہنا مستحب اور موجب ثواب ہے۔"
5_ "یاعلی مدد شیعہ کا مذہبی نشان ہے۔"
6_ "یاعلی مدد کو شرک کہنے والے ناصبی ہیں۔"

کیا ان تمام جملوں کو پڑھنے کے بعد کوئی عقل مند شخص یہ دعوی کر سکتا ہے کہ "یہ کوئی مصلحت ہے یا کسی مصلحت کی بناء پر ایسا کہا گیا ہو۔ ہرگز نہیں۔۔!

■ شہید علامہ غلام حسین نجفی صاحب
علامہ غلام حسین نجفی صاحب "ناصبیوں" کو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
"نواصب یہ رونا بھی روتے ہیں کہ شیعہ لوگ "یاعلی مدد" کہتے ہیں اور یہ صریحاً شرک ہے۔
جواب: یاعلی مدد کہنا حقیقۃ عرضیہ کے لحاظ سے شیعوں کا مذہبی نشان ہے اور اس کے ذریعے اپنوں اور غیروں میں امتیاز پیدا ہوتا ہے اور حضرت علی علیہ السلام سے مدد مانگنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ شیعوں نے خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں حضرت علی علیہ السلام کو حاجت روا بنا لیا ہے بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح امت مسلمہ کے حق میں نبی کریم کی شفاعت برحق ہے اسی طرح حضرت علی علیہ السلام کی شفاعت بھی برحق ہے۔ جس انداز و کیفیت سے اپنے وصال کے بعد نبی کریم ص اپنی امت کی نگرانی اور مدد فرماتے ہیں اسی طرح حضرت علی علیہ السلام بھی نگرانی اور مدد فرماتے ہیں۔ پس حضرت علی علیہ السلام کو اللہ کا ولی اور خاص بندہ سمجھ کر اللہ پاک اور اس کی مخلوق کے درمیان وسیلہ جان کر آنجناب سے مدد مانگنا نہ ہی کفر ہے اور نہ ہی شرک ہے اور اس طرح مدد مانگنا شرعاً جائز ہے۔" (قول سدیر، صفحہ 117)

https://t.me/islamwitheman/4065
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 وٹامن ای۔ (Vitamin E) 🔷

ﺟﯿﺴﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ہیں۔ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﭨﯿﻨﺸﻦ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺷﻮﮔﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﭨﺎﭘﮯ ﺟﯿﺴﯽ ﺧﺒﯿﺚ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﯿﺮ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ اور ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﻣﯿﻨﻮﭘﺎﺯ (سن یاس) ﺟﻠﺪﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ، ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﭘﺮﺍﺑﻠﻢ، PCOS ﮐﺎ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ ﻣﺴﺌﻠﮧ۔ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﺟﻮ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﺝ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﺎﺅ، ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺩﻭﮌ ﺑﮭﺎﮒ ﺍﻭﺭ ﺳﭩﺮﯾﺲ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﻢ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﮯ۔

ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﮭﺮﯾﺎﮞ، ﺍﯾﮑﻨﯽ ﭘﻤﭙﻠﺰ، ﺩﺍﻍ ﺩﮬﺒﮯ، ﻓﺮﯾﮑﻠﺰ، ﺳﺎﻧﻮﻻ ﭘﻦ، ﮔﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﮨﻮﺗﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﯿﺎﭘﺎ، ﺍﻧﺮﺟﯽ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ، ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﮑﻦ ﺭﮨﻨﺎ، ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ، ﭼﮍﭼﮍﺍﭘﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﺎﺭﭦ ﺍﭨﯿﮏ ﮐﺎ ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ ﻣﺴﺌﻠﮧ۔ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﺣﻞ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﺱ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭨﻮﭨﮑﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔

ﺻﺒﺢ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﺱ ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ای ویان چار سو ایم جی (EVION 400 MG) ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﻧﯿﻠﮯ ﺭﻧﮓ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮔﺮﯾﻦ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ استعمال ﮐﺮﻧﺎ ﺻﺮﻑ 400 ملی گرام ﻭﺍﻻ ﮨﯽ ﮨﮯ۔ 600 ﺍﻭﺭ 200 ایم جی ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ لینا کیونکہ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﺍﺗﻨﺎ ﺍﺛﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻨﮕﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ۔

ہفتہ دو ہفتہ بھر استعمال کریں پھر دو دن وقفہ کریں۔ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺳﮯ ﮐﻨﻔﺮﻡ ﮐﺮﯾﮟ، ﻻﻧﮓ ﭨﺮﻡ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﺍﯾﻔﯿﮑﭧ سے اجتناب کریں۔

ﺣﺎﻣﻠﮧ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺳﺐ ﺑﻼ ﺧﻮﻑ ﻭ ﺧﻄﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﮨﯿﮟ ﺟﺘﻨﮯ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﯿﻦ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﺭﯾﮕﻮﻟﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﺣﻞ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﻦ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔

ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﺍﺛﺮ ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﺳﮑﻦ ﭘﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﻮﺭﯼ ﺑﺎﮈﯼ ﮐﯽ ﺍﻟﺮﺟﯽ، ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺩﺍﻍ ﺩﮬﺒﮯ، ﺩﺍﻧﮯ، ﺍﯾﮑﻨﯽ، ﭘﻤﭙﻠﺰ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺳﮑﻦ ﺗﯿﻦ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻟﮧ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮧ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﮭﺮﯾﺎﮞ ﭘﮍﯾﮟ۔ ﺳﮑﻦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﭨﺎﺋﭧ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ ﯾﮧ ﮔﺎﺭﻧﭩﯽ ﮨﮯ۔

ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﮐﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﻭﺗﮫ ﮨﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﻓﯽ ﻣﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﻞ ﻣﺎﮈﻟﺰ ﺍﯾﮑﭩﺮﺯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﯿﺲ ﺑﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻔﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﺎ۔ ﻧﻮﺧﺸﮑﯽ، ﻧﻮ ﮨﺌﯿﺮ ﻓﺎﻝ، ﻧﻮ ﺑﺎﻟﭽﺮ، ﻧﻮ ﮔﻨﺞ ﭘﻦ۔ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﺗﯿﺮﺑﮩﺪﻑ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ۔

ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮐﺎﻡ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﻧﺮﺟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮑﭩﻮﻧﺲ ﮨﮯ۔ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺑﺠﻠﯽ ﺑﮭﺮﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺑﻨﺪﮦ ﮈﭘﺮﯾﺲ ﮨﻮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻟﻮ، ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺰ ﻻﺋﻒ ﮨﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﯿﻨﺸﻦ ﻧﮩﯿﮟ.

ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺭﭦ ﺍﭨﯿﮏ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎتا ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺮﯾﮉﺯ ﺭﯾﮕﻮﻟﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺩﺑﺎﺅ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺍﻧﯽ ﮐﺎ ﺑﯿﺴﭧ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ. ﺟﻦ ﮐﻮ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ، ﺍﯾﻨﯿﻤﯿﺎ ﻭﺍﻻ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﮯ ﺍُﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﯾﮧ ﻋﻈﯿﻢ ﻧﻌﻤﺖ ﮨﮯ. ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﮐﻮ ﺑﯿﻠﻨﺲ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﺳﮯ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔

میاں بیوی کے درمیان جنسی عمل ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف انسانی بڑھوتری کا سبب ہے بلکہ انسان کی جذباتی تسکین کا ذریعہ بھی ہے۔ اس فعل کو بڑھانے اور زیادہ دیر تک لطف اندوز ہونے کے لئے بہترین ہے۔
وٹامن ای کی کمی سے جنسی ہارمون اور غدود نخامیہ کے ہارمون دونوں کم ہو جاتے ہیں۔ یہ وٹامن بانجھ پن کو دور کرنے اور اسقاط حمل کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﺻﺒﺢ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﮯ۔ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﻨﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﻮﭨﺎﭘﺎ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ 15 ﻣﻨﭧ ﻭﺍﮎ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﯾﮟ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺭﺯﻟﭧ ﻣﻠﯿﮟ گے۔

🔷 وٹامن ای کی کمی کی علامات
عصبی پٹھوں کی کمزوری: وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے ہمیں پٹھوں کی کمزوری ہوتی ہے ہمارے اعصابی نظام کے لئے وٹامن ای بہت ضروری ہے یہ اہم آکسیڈنٹ میں شامل ہے۔ اس کی کمی کی وجہ سے پٹھوں میں تناؤ پیدا ہوتا ہے جو پٹھوں کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔

چلنے میں دشواری: وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے پیدل چلنے میں دشواری ہوتی ہے اور جسم میں کمزوری پیدا ہوتی ہے جس وجہ سے انسان پیدل چلنے سے تھک جاتا ہے اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔

نظامِ انہظام کے مسائل: وٹامن ای کی کمی کی وجہ سے ہمارا نظامِ انہظام ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتا۔ وٹامن ای کی کمی ہمارے مدافعتی خلیوں کو روکتی ہے اس لئے بڑی عمر کے لوگوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔

📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 پھوڑے پھنسیاں 🔷

گرمیوں کے موسم میں پھوڑے پھنسیاں زیادہ نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ زیادہ تر چھوٹے بچے اس کا شکار ہوتے ہیں۔ گرمی دانوں سے لے کر بڑے بڑے پھوڑے نکلتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے علاج کے لیے مختلف قسم کی اینٹی بائیوٹک اور دوسری دوائیں استعمال کی جاتی ہیں۔ ان میں کھانے اور لگانے کی دونوں دوائیں شامل ہوتی ہیں، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں: سپٹران (Septran)، ایمپی سیلین (Ampicillin)، ٹیٹرا سائیکلین (Tetracycline)، پولی فیکس (Polyfax)، صافی (Safi)۔

مضر اثرات:
متلی، قے، سردرد، پیٹ میں خرابی حساسیت، جسم میں دانوں کا بننا، لگانے والی جگہ پر خارش۔

احتیاط:
پھوڑے پھنسیوں والی لگانے والی دوا لگانے سے پہلے جگہ اچھی طرح صاف کرلیں۔ کسی بھی دوا سے الرجی ہونے کی صورت میں استعمال نہ کریں۔

دوا کی نوعیت اور ضرورت کی اہمیت:
گرمی کے موسم میں پسینہ بہت زیادہ آتا ہے۔ اس کے علاوہ بچے مٹی میں کھیلتے رہتے ہیں۔ اس وجہ سے جسم پر گرمی دانوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے بڑے پھوڑے پھنسیاں بھی نکل آتے ہیں، جن کے ساتھ بخار بھی ہو جاتا ہے۔ کچھ دنوں میں یہ پھوڑے پھنسیاں بڑے ہو جاتے ہیں اور پیپ سے بھر جاتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کا علاج ضروری ہوتا ہے۔ ان کے علاج میں سب سے ضروری امر یہ ہے کہ گرمیوں میں بچوں کو روزانہ دو دفعہ نہلایا جائے تاکہ پسینہ وغیرہ کی وجہ سے جو میل جسم پر جم جاتی ہے، وہ صاف ہو جائے۔ اگر جسم کی مناسب صفائی رکھی جائے، تو کسی قسم کے پھوڑے پھنسی ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ کوئی بھی دوا شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ گرمی کے دنوں میں بچوں کو ’’صافی‘‘ پلائی جا سکتی ہے۔

آسان اور متبادل علاج:
پھوڑے پھنسیوں کے آسان اور متبادل علاج کے لیے مندرجہ ذیل گھریلو نسخوں پر عمل کریں۔
* پھوڑے پھنسیوں سے بچاؤ کے لیے نیم کے پتوں کو پانی میں گرم کر کے بچوں کو اس سے نہلائیں۔ اس سے جلد صاف ہونے کے ساتھ، جراثیم کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔
* نیم کے پتے پھوڑے پھنسیوں کو دور کرتے ہیں۔ درد کو تسکین دیتے ہیں اور ان کو پکا کر پھوڑے پر لگایا جائے، تو ایک دو دن میں وہ نرم ہو جاتے ہیں اور مواد نکل آتا ہے۔
* نیم کے پتوں کو کچل کر گولا سا بنائیں اس کے اوپر کپڑا لپیٹ کر گیلی مٹی لگائیں اور آگ میں دبائیں۔ جب اوپر کی مٹی پک جائے تو اندر سے پتوں کا بھرتہ نکال کر پھوڑے پھنسیوں اور زخموں پر باندھیں تو وہ جلد ٹھیک اور مندمل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
* نیم کے پتوں کو جلا کر سرسوں کے تیل میں ملا کر گھوٹ لیں۔ جب وہ مرہم سا ہو جائے تو زخموں پر لگائیں چند دنوں میں زخم ٹھیک ہو جائیں گے۔
* نیم کا تیل جو نمولیوں سے نکلتا ہے۔ اس کو خراب اور ٹھیک نہ ہونے والے زخموں پر لگانے سے افاقہ ہو جاتا ہے۔
* لیموں کا رس پینے اور لگانے سے جلدی امراض ٹھیک ہوتے ہیں۔
* کھیرا بھی جلدی امراض میں موثر ثابت ہوتا ہے۔

📚 ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی کتاب ’’دوا، غذا اور شفاء" نیو ایڈیشن سے مقتبس

■ پھنسی دانوں سے زندگی بھر کیلئے نجات:
ھوالشافی: نرکچور حکیموں سے مل جاتا ہے، اس کو پیس کر باریک رکھ لیں، اکثر بچوں اور بڑوں کو پیپ والے دانے نکلتے ہیں، پیپ والے دانوں کی بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اگر نر کچور صبح و شام چوتھائی چائے والا چمچ پانی سے ایک ماہ تک کھا لیں تو انشاءاللہ آئندہ زندگی بھر کیلئے ان سے نجات مل جائے گی۔

حکیم سیف اللہ طالب قاسمی میرٹھی

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کھانسی کا علاج 🔷

کھانسی موسم گرما اور سرما کا ایک عام مرض ہے جو بچوں بڑوں اور بوڑھوں سبھی کو متاثر کرتا ہے۔ کھانسی کی صورت میں سانس کا تنگ ہونا یا کھچ کھچ کے آنا خاص طور پر رات کو سوتے وقت اور صبح سویرے۔ اور کھانسی کے ساتھ بلغم آنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔

اگر کھانسی کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ پھیپھڑوں کو کمزور کر دیتی ہے اور زخم کر دیتی ہے جس سے کوئی بڑی بیماری لاحق ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ کھانسی کے علاج کے چند مجرب نسخے درج ذیل ہیں۔۔۔

❶ اپنا آزمودہ نسخہ پیش کرنے جا رہا ہوں۔ ان شاءاللہ یہ نسخہ پرانی سے پرانی کھانسی کو بھی بھگا دے گا۔ چھوٹوں بڑوں کے لیے یکساں مفید ہے۔

ملٹھی پاؤڈر 4 چمچ
پسی ہوئی کالی مرچ 1 چٹکی
شہد 2 چمچ

تینوں چیزوں کو اچھی طرح مکس کر کے رکھ لیں۔ رات کو سونے سے پہلے آدھا چائے والا چمچ منہ میں ڈال کر چوس چوس کر کھا لیں۔ اس کے بعد جب بھی کھانسی ہو تھوڑا تھوڑا چاٹتے رہیں۔ ان شاءاللہ ایک ہی دن میں کھانسی سے آرام آ جائے گا۔

❷ کاکڑہ سنگھی شکر تبغال زنجبیل اور پیپلا مول تمام ایک ایک ماشہ لے کر باریک پیس کر سفوف بنا لیں پھر اس سفوف کو شہد میں ملا کر رکھ لیں اور دن میں تھوڑا تھوڑا چاٹتے رہیں یہ کھانسی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکے گا۔ یہ نسخہ بچوں بڑوں سب کے لیے مفید ہے۔

❸ شربت توت سیاہ ایک چائے کا چمچ، شربت صدوری ایک چائے کا چمچ اور لعوق سبستاں آدھی چائے کی چمچ کو عرق گاؤزبان میں جوش دے کر قہوہ بنا لیں اور صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل استعمال کریں۔ انشاءاللہ ایک ہی دفعہ کے استعمال کے بعد مرض غائب ہو جائے گا یہ نسخہ بزرگوں کی عطا ہے۔ جس کا استعمال کھانسی ریشہ پر فوری قابو پاتا ہے اور تکلیف سے نجات عطا کرتا ہے۔ اس کا استعمال بچوں بڑوں سب کے لیےانتہائی مفید ہے۔

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 دودھ ملے گوشت کا سالن 🔷

ائمہ معصومین علیہم السلام کی سب سے زیادہ تاکید کی جانے والی غذاؤں میں سے ایک "گوشت اور دودھ" ہے۔

🔷 زِیَادِ بْنِ أَبِی الْحَلَّالِ قَالَ: تَعَشَّیْتُ مَعَ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ بِلَحْمٍ مُلَبَّنٍ فَقَالَ هَذَا مَرَقُ الْأَنْبِیَاءِ۔(1)
ترجمہ:
زیاد بن ابی حلال نے کہا: میں نے امام صادق علیہ السلام کے ساتھ رات کا کھانا دودھ کے ساتھ ملا ہوا گوشت کھایا، پھر فرمایا: یہ انبیاء کا سالن ہے۔

🔷 أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: مَنْ أَصَابَهُ ضَعْفٌ فِی قَلْبِهِ أَوْ بَدَنِهِ فَلْیَأْکُلْ لَحْمَ الضَّأْنِ بِاللَّبَنِ۔
ترجمہ:
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس شخص کے دل یا جسم میں کمزوری پیدا ہو جائے تو اسے چاہیے کہ دودھ کے ساتھ دنبے کا گوشت کھائے۔

🔷 کَتَبَ إِلَیْهِ رَجُلٌ یَشْکُو ضَعْفَهُ فَکَتَبَ کُلِ اللَّحْمَ بِاللَّبَنِ۔
ترجمہ:
ایک شخص نے امیر المومنین (علیہ السلام) کو خط لکھا اور اپنی کمزوری کی شکایت کی: پھر امام نے اسے لکھا: گوشت دودھ کے ساتھ کھا لو۔

🔷 عَلِیٍّ ع قَالَ: إِنَّ نَبِیّاً مِنَ الْأَنْبِیَاءِ شَکَا إِلَی اللَّهِ الضَّعْفَ فِی أُمَّتِهِ فَأَمَرَهُمْ أَنْ یَأْکُلُوا اللَّحْمَ بِاللَّبَنِ فَفَعَلُوا فَاسْتَبَانَتِ الْقُوَّهُ فِی أَنْفُسِهِمْ۔
ترجمہ:
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: بے شک انبیاء میں سے ایک نبی نے خدا سے اپنی امت کی کمزوری کی شکایت کی تو خدا نے انہیں دودھ اور گوشت کھانے کا حکم دیا، پھر انہوں نے ایسا کیا اور ان کے جسموں میں قوت پیدا ہوئی۔

■ بنانے کا طریقہ
1.5 لیٹر ابلا ہوا گائے کا دودھ۔
دنبے کا سرخ گوشت آدھا کلو چھوٹا چھوٹا کاٹ کر۔

دودھ کو گوشت میں ملانے کے لیے ضروری ہے کہ گائے کا کچھ تازہ ابلا ہوا دودھ لیں اور اسے ہلکی آنچ پر رکھیں اور اس میں مطلوبہ مقدار میں گوشت شامل کریں۔ اس مرکب کو گوشت کے مکمل پک جانے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے۔

■ فوائد
🔹جسمانی طاقت
🔹دل کی تقویت
🔹جوڑوں، پٹھوں کی تقویت
🔹مغز و اعصاب کی تقویت
🔹فالج کے مریضوں کیلئے بھترین غذا ھے۔
🔹سرد مزاج افراد کیلئے بہت مفید ھے۔

📚 (1) بحارالانوار، جلد63،ص69۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 رابطہ اور تعلق 🔷

(CONTACT & CONNECTION)

ایک دفعہ ایک صحافی اپنے پرانے ریٹائرڈ استاد کا انٹرویو کر رہا تھا اور اپنی تعلیم کے پرانے دور کی مختلف باتیں پوچھ رہا تھا اس انٹرویو کے دوران نوجوان صحافی نے اپنے استاد سے پوچھا سر ایک دفعہ آپ نے اپنے لیکچر کے دوران contact اور connection کے الفاظ پر بحث کرتے ہوئے ان دو الفاظ کا فرق سمجھایا تھا اس وقت بھی میں کنفیوز تھا اور اب چونکہ بہت عرصہ ہو گیا ہے مجھے وہ فرق یاد نہیں رہا۔ آپ آج مجھے ان دو الفاظ کا مطلب سمجھا دیں تاکہ مجھے اور میرے چینل کے ناظرین کو آگاہی ہو سکے۔۔۔

استاد مسکرایا اور اس سوال کے جواب دینے سے کتراتے ہوئے صحافی سے پوچھا:

کیا آپ اسی شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔؟
شاگرد نے جواب دیا: جی ہاں سر میں اسی شہر کا ہوں۔

استاد نے پوچھا آپ کے گھر میں کون کون رہتا ہے۔۔۔؟
شاگرد نے سوچا کہ استاد صاحب میرے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے اس لیے ادھر ادھر کی مار رہے ہیں بہر حال اس نے بتایا میری ماں وفات پا چکی ہے والد صاحب گھر میں رہتے ہیں، تین بھائی اور ایک بہن ہے اور سارے شادی شدہ ہیں۔

ٹیچر نے مسکراتے ہوئے نوجوان صحافی سے پوچھا تم اپنے باپ سے بات چیت کرتے رہتے ہو۔۔۔؟
نوجوان کہا: جی میں باپ سے گپ شپ کرتا رہتا ہوں۔

استاد نے پوچھا: یاد کرو پچھلی دفعہ تم باپ سے کب ملے تھے؟
نوجوان نے کہا: شاید ایک ماہ ہو گیا ہے جب میں ابو کو ملا تھا۔

استاد نے کہا؛ تم اپنے بہن بھائیوں سے تو اکثر ملتے رہتے ہوگے۔ بتاؤ پچھلی دفعہ تم سب کب اکٹھے ہوئے تھے اور گپ شپ حال احوال پوچھا تھا۔۔۔؟
اب تو صحافی صاحب کے ماتھے پر پسینہ آ گیا اور لینے کے دینے پڑ گئے وہ سوچنے لگا میں تو استاد کا انٹرویو لینے چلا تھا مگر الٹا استاد میرا انٹرویو لینے لگے ہیں ۔۔۔ اس نے ایک آہ بھر کر لمبا سانس لیتے ہوۓ بتایا کہ شاید دو سال ہو گئے جب ہم بہن بھائی اکٹھے ہوئے تھے۔

استاد نے ایک اور سوال داغتے ہوئے پوچھا: تم لوگ کتنے دن اکٹھے رہے تھے۔۔۔؟
نوجوان نے جواب دیا: ہم لوگ تین دن اکٹھے رہے تھے۔

استاد نے پوچھا: تم اپنے والد کے پاس بیٹھ کر کتنا وقت گزارتے ہو۔۔۔؟
اب تو نوجوان صحافی بہت پریشان ہو گیا اور نیچے میز پر رکھے کاغذ پر کچھ لکھنے لگا۔

استاد نے پوچھا کبھی تم نے باپ کے ساتھ ناشتہ لنچ یا ڈنر بھی کیا ہے۔۔۔؟ کبھی آپ نے ابو سے پوچھا وہ کیسے ہیں۔۔۔؟ کبھی تم نے باپ سے دریافت کیا کہ تمھاری ماں کے مرنے کے بعد ان کے دن کیسے گزر رہے ہیں۔۔۔؟

اب تو انٹرویو کرنے والے صحافی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو برسنے لگے۔

استاد نے صحافی کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ بھائی پریشان، شرمندہ، مایوس یا اداس ہونے کی ضرورت نہیں مجھے افسوس ہے کہ میں نے بے خبری میں تمھیں ہرٹ کیا اور دکھ پہنچایا لیکن میں کیا کرتا مجھے آپ کے سوال Contact اور connection کا جواب دینا تھا۔

اب سنو!!!
ان دو لفظوں کا فرق یہ ہے کہ تمھارا contact یا رابطہ تو تمھارے ابو سے ہے مگر connection یا تعلق ابو سے نہیں رہا یا کمزور ہے کیونکہ تعلق یا رابطہ دلوں کے درمیان ہوتا ہے جب کنکشن یا تعلق ہوتا ہے تو آپ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں ۔۔۔ ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹتے ہیں۔ ہاتھ ملاتے، گلے سے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام خوشی خوشی سرانجام دیتے ہیں۔
جیسے ایک معصوم بچے کی ماں اس کو سینے سے لگاتی ہے، چومتی ہے، بغیر مانگے دودھ پلاتی ہے، اس کی گرمی سردی کا خیال رکھتی ہے۔ جب وہ چلنا شروع کرتا ہے تو سائے کی طرح اس کے پاس رہتی ہے تاکہ وہ گر نہ جائے، کوئی غلط چیز نہ کھا لے۔ گر پڑے تو اس بچے کو گلے سے لگا کر چپ کراتی ہے۔

تو میرے پیارے شاگرد! آپکے باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ صرف contact یا رابطہ ہے مگر آپ کے درمیان connection یا تعلق نہیں ہے۔

نوجوان صحافی نے اپنے آنسو رومال سے صاف کئے اور استاد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: سر آپ نے مجھے آج ایک بہت بڑا سبق پڑھا دیا جو زندگی بھر نہیں بھولے گا۔

🔘 آج ہمارے معاشرے کا یہی حال ہے کہ ہمارے آپس میں بڑے رابطے ہیں مگر کنکشن بالکل نہیں۔

آج سوشل میڈیا پر ہمارے ہزاروں فرینڈز ہیں مگر حقیقی زندگی میں ایک بھی نہیں۔ آج ہم صبح سویرے سیکڑوں دوستوں کو گڈ مارننگ کہہ کر بغیر خوشبو کے پھول بھیجتے ہیں، حقیقی زندگی میں ایک پھول کی پتی بھی نہیں ملتی۔ آج ہم تمام لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہیں اور کاغذ کے بے خوشبو پھولوں کی تصویروں سے دل بہلاتے ہیں۔

کسی عزیز کے بچھڑنے پہ چند تعزیتی الفاظ اور رشتوں کے سارے تقاضے پورے کر کے ہم سرخرو ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 پندرھویں رجب کی رات کے اعمال 🔷

یہ بڑی ہی بابرکت رات ہے اور اس میں چند ایک اعمال ہیں۔۔۔

1️⃣ غسل کرے۔
2️⃣ عبادت کیلئے شب بیداری کرے جیسا کہ علامہ مجلسی(رح) نے فرمایا ہے۔
3️⃣ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے۔
4️⃣ شیخ نے مصباح میں داؤد بن سرحان کے ذریعے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس نماز کو بیان کیا ہے کہ پندرہ رجب کی شب میں بارہ رکعت نماز ادا کرے جسکی ہر رکعت میں سورہ الحمد (فاتحہ) کے بعد کوئی سا بھی ایک سورہ پڑھے اور 12 رکعت مکمل کر لینے کے بعد سورہ الحمد، سورہ فلق، سورہ ناس، سورہ توحید اور آیۃ الکرسی میں سے ہر ایک سورہ کو چار چار مرتبہ پڑھے۔ اور پھر چار مرتبہ یہ کہے:

سُبْحَانَ ﷲِ وَ الْحَمْدُ ﷲِ وَ لَا اِلَہَ اِلَّا ﷲُ وَ ﷲ اَکْبَرُ۔
ﷲُ ﷲُ رَبِّیْ۔
خدا پاک ہے اور حمد خدا ہی کیلئے ہے اور ﷲ کے سوائے کوئی معبود نہیں اور اﷲ بزرگ تر ہے۔ اﷲ ہی پروردگار ہے۔

لاَاُ شْرِکُ بِہٰ شَیْئاً وَمَا شَائَ ﷲُ، لاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمَ۔
میں کسی کو اسکا شریک نہیں بناتا وہی ہوگا جو ﷲ چاہے۔ کوئی طاقت نہیں ہے مگر وہ بلند قوت و بزرگ خدا سے ہے۔

نیز ستائیس رجب کی شب میں بھی یہی نماز بجالائے۔

📗 بحوالہ مفاتیح الجنان

https://t.me/islamwitheman/2943
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حیائے زینبی 🌹

يحيی مازندرانی کہ جن کا شمار بزرگ علماء و راويان حديث میں ہے کہتے ہیں کہ: 
میں مدتوں مدینہ میں حضرت علي علیہ السّلام کا پڑوسی رہا. میرا گهر اس مکان کے برابر میں تھا کہ جہاں حضرت علی علیہ السّلام کی بیٹی زینب علیہا السلام زندگی بسر کرتی تهیں.

اور اس طویل مدت میں حتی ایک مرتبہ بهی، كسی نے حضرت زینبؑ کو نہیں دیکھا اور نہ ان کی آواز سنی. 

وہ جب بھی اپنے جدّ بزرگوار حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے لئے جانا چاہتی تهیں، تو رات کے وقت جایا کرتی تهیں؛ در حاليكہ ان کے والد علی علیہ السّلام ان کے آگے اور ان کے دونوں بھائی حسن و حسین عليہما السلام ان کے دائیں بائیں ہوا کرتے تهے-

اور جب حضرت رسول اکرم صلّی الله علیہ و آلہ وسلّم کی قبر مبارک کے قریب پہنچتی تھیں تو اميرالمؤمنين علیہ السّلام قبر کے اطراف کی شمعیں بجھا دیا کرتے تهے.

ایک روز امام حسن علیہ السلام نے اس کی وجہ دریافت کی، تو حضرت نے فرمایا:
اخشي ان ينظر أحد الي اختك زينب؛
"میں ڈرتا ہوں کہ کوئی روشنی میں تمہاری بہن کو نہ دیکھ لے." 

📚 فاطمة الزهراء بهجة قلب المصطفي(ص)، الرحماني الهمداني صفحه 642۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/3030
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔۔

🌹 شہادت جناب زینب عالیہؑ
https://t.me/islamwitheman/3034

🌹 عید میلاد حضرت زینبؑ
http://t.me/islamwitheman/148

🌹 فضیلت زینب عالیہؑ
https://t.me/islamwitheman/1783

🌹 عالمہ غیر معلمہؑ
https://t.me/islamwitheman/1906

🌹 حضرت سیدہ بیبی زینبؑ
https://t.me/islamwitheman/2852

🌹 عقیلہ بنی ھاشمؑ
https://t.me/islamwitheman/3035

🌹 جناب زینبؑ اور نماز شب
https://t.me/islamwitheman/3036

🌹 میلاد جناب زینب عالیہؑ
https://t.me/islamwitheman/3155

🌹 حیائے زینبی
https://t.me/islamwitheman/4077
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👈 پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔۔

🌹 شہادت جناب زینب عالیہؑ
https://t.me/islamwitheman/3034

🌹 عید میلاد حضرت زینبؑ
http://t.me/islamwitheman/148

🌹 فضیلت زینب عالیہؑ
https://t.me/islamwitheman/1783

🌹 عالمہ غیر معلمہؑ
https://t.me/islamwitheman/1906

🌹 حضرت سیدہ بیبی زینبؑ
https://t.me/islamwitheman/2852

🌹 عقیلہ بنی ھاشمؑ
https://t.me/islamwitheman/3035

🌹 جناب زینبؑ اور نماز شب
https://t.me/islamwitheman/3036

🌹 میلاد جناب زینب عالیہؑ
https://t.me/islamwitheman/3155

🌹 حیائے زینبی
https://t.me/islamwitheman/4077
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 فنِ تحریر 🔷

■ درج ذیل الفاظ کا آغاز زیر ( ِ ) سے ہوتا ہے۔
کِرایہ ۔۔۔۔۔ نِچوڑ ۔۔۔۔۔ نِڈر ۔۔۔۔۔ صِحاح ۔۔۔۔۔ عِطر ۔۔۔۔۔ وِزارت ۔۔۔۔۔ ذِھانت ۔۔۔۔۔ رِفعت ۔۔۔۔۔ زِراعت ۔۔۔۔۔ اِمارت ۔۔۔۔۔ دِلاسا ۔۔۔۔۔ فرِار۔۔۔۔۔ نِقاب ۔۔۔۔۔ مِٹی (مَٹی) ۔۔۔۔۔ سِفارش ۔۔۔۔۔ اِکسیر۔۔۔۔۔ عِرق النساء ۔۔۔۔۔ نِوالہ ۔۔۔۔۔ عِظام (جمع ،عظیم و عظم ) ۔۔۔۔۔ نِنانوے ۔۔۔۔۔ رِٹ ۔۔۔۔۔ عِجلت ۔۔۔۔۔ اِذن (اجازت و حکم ) ۔۔۔۔۔ ذِمہ داری ۔۔۔۔۔ شِفاء ۔۔۔۔۔ جِھاد ۔۔۔۔۔ تِجارت ۔۔۔۔۔ قِیام ۔۔۔۔۔ خِزانہ ۔۔۔۔۔ سردمِھری ۔۔۔۔۔ مِثل ۔۔۔۔۔ نِکات

■ درج ذیل الفاظ کا پہلا حرف مفتوح یعنی زبر ( َ ) والا ہے۔
غَلَط ۔۔۔۔۔ وَراثت ۔۔۔۔۔ ھَذیان ۔۔۔۔۔ مَذمت ۔۔۔۔۔ مَحبت ۔۔۔۔۔ بَھت ۔۔۔۔۔ سَحری ۔۔۔۔۔۔ غَلط فھمی ۔۔۔۔۔ سَمت ۔۔۔۔۔ مَحلہ ۔۔۔۔۔ مَرمت ۔۔۔۔۔ حَجتہ الوداع ۔۔۔۔۔ مَبلغ ۔۔۔۔۔ نَشاط ۔۔۔۔۔ نَشاتہ ثانیہ ۔۔۔۔۔۔ نَشَاستہ ۔۔۔۔۔ شَکل ۔۔۔۔۔ نَظارہ ۔۔۔۔۔ سَرقہ ۔۔۔۔۔ حَجم ۔۔۔۔۔ مَشھور ۔۔۔۔۔ اَذان۔۔۔۔۔ سَفید ۔۔۔۔۔ سَپید ۔۔۔۔۔ سَمندر ۔۔۔۔۔ تَجربہ ۔۔۔۔۔ تَرجمہ ۔۔۔۔۔ شَکویٰ ۔۔۔۔۔ ھَونھار ۔۔۔۔۔ باَھَر ۔۔۔۔۔ لَذَت ۔۔۔۔۔ نَجات ۔۔۔۔۔ اَمانت ۔۔۔۔۔ نَفل ۔۔۔۔۔

■ درج ذیل الفاظ کے پہلے حرف پر پیش ( ُ ) ہے۔
وُصول ۔۔۔۔۔ فُصول ۔۔۔۔۔ اُصول ۔۔۔۔۔ ھُویدا ۔۔۔۔۔ مُطلع ۔۔۔۔۔ نُمائش ۔۔۔۔۔ نُمونہ ۔۔۔۔۔ نُمونیا ۔۔۔۔۔ عُشر عشیر ۔۔۔۔۔ دُرخشان ۔۔۔۔۔ عُنصر۔۔۔۔۔ عُجوبہ ۔۔۔۔۔ عُمرانیات ۔۔۔۔۔ مُحال ۔۔۔۔۔ عُظام (واحد ۔۔۔ بزرک ۔ بڑا) ۔۔۔۔۔ فُضول ۔۔۔۔۔ وُجوہ ۔۔۔۔۔ سُقم ۔۔۔۔۔ نُقاط ۔۔۔۔۔ حُدود ۔۔۔۔۔ قُیود ۔۔۔۔۔

■ یاد رکھیں!
(()) تمام دنوں کے نام مذکر ہیں (صرف جمعرات مؤنث ہے)
(()) تمام مہینوں کے نام مذکر ہیں۔
(()) تمام دریاؤں کے نام مذکر ہیں (صرف گنگا اور جمنا مؤنث ہیں)
(()) تمام دھاتوں کے نام مذکر ہیں (قلعی اور چاندی مؤنث ہے)
(()) تمام شہروں کے نام مذکر ہیں (دہلی کو دلی لکھیں تو مؤنث ہے)

■ درج ذیل الفاظ مذکر ہیں۔
اوقات ، کرتوت ، قالین ، جزم ، پستول ، ٹکٹ ، حلیم ، زہر ، عطر ، سگریٹ ، کمپوزنگ ، پیش ، لالچ ، بریک ، رنگ ، نب ، تار ، دہی ، جھاگ ، ٹی وی ، ٹیب ، فوٹو ، پت ، میل ، چرس ، تھوک ، فرج ، عوام(عامی کی جمع ہے ، سارے عوام بولا جائے گا ) مزاج ، ہوش ، عیش ، جہنم ، دوزخ ، مرض ، قبض ، کلام ، انتظار ، گوند ، ماضی ، انجیر ، لغت ، اخبار ، درد ، پٹ سن ، مرہم ، روڈ ۔

■ درج ذیل الفاظ مؤنث ہیں
شانِ نزول ، درگزر، ترازو ، جدول ، جمپر ، چپل ، محراب ، منبر ، گھاس ، ناک ، بارود ، ڈکار ، پتنگ ، جامن ، شطرنج ، مانند ، زیر ، سڑک ، قوم (واحد اور مؤنث ہے جبکہ عوام جمع اور مذکر ہے)

■ درج ذیل الفاظ مذکر اور مؤنث دونوں طرح بولے جاسکتے ہیں۔
گیند (لکھنو میں مذکر ، دہلی میں مؤنث)
شرائط (لکھنؤ ، مذکر اور دہلی میں مؤنث)
سانس (مؤنث ، اہل دہلی مذکر بھی بولتے ہیں)
فِکر (مؤنث، لکھنو میں مذکر بھی مستعمل ہے، بعض کے نزدیک خیال کے معنیٰ میں مذکر، پریشانی کے معنیٰ میں مونث)
بؑلبؑل (مذکر و مؤنث دونو طرح)
موتیا (دہلی ، مؤنث ۔۔۔ لکھنو، مذکر)
وجوہ (لکھنو، مذکر ۔۔۔ دہلی ، مؤنث)
ہراس (لکھنو ، مذکر ۔۔ دہلی ، مؤنث)
تراکیب (مؤنث ، لکھنو میں مذکر)
قمیص (مؤنث ، بعض نے مذکر باندھا ہے)
جلق (مؤنث ، دہلی میں مذکر)
نشوونما (دونوں طرح )
کلمات (دہلی میں مؤنث ، لکھنو میں مذکر)
بٹیر (دہلی ، مذکر ۔ لکھنؤ ، مؤنث)
گزند (دونوں طرح)
نِقاب (دونوں طرح)
طرز (دونوں طرح ، ترجیح مذکر کو)
مالا (دہلی میں مؤنث ، لکھنو میں مذکر)
متاع (دونوں طرح)
اِملا (مذکر ، بعض نے مؤنث باندھا)
کِلک (دونوں طرح)
جِہات (لکھنو میں مذکر ، دہلی میں مؤنث)
نفل (مؤنث ، دہلی میں مذکر ، لکھنو میں جمع نفلیں)
پریٹ (دہلی ، مذکر ۔۔۔ لکھنو میں مؤنث)
حکایات ( دہلی ، مؤنث ۔۔۔ لکھنو ، مذکر)
مَخمل (ترجیح مذکر کو ، بعض نے مؤنث بھی باندھا ہے)
مَحک (دونوں طرح ، ترجیح مؤنث کو)
قؑلقؑل (دونوں طرح)
قلم (لکھنے کا آلہ ، مذکر ، پہلے مؤنث بھی کہتے تھے)
قیود (مذکر ، دہلی میں مؤنث)
حدود (لکھنو ، مذکر ۔۔۔۔۔ دہلی ، مؤنث)

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 صحیح اور غلط الفاظ 🔷

■ یاد رکھیں کہ۔۔۔
خط کتابت (خط و کتابت غلط ہے)
معرکہ آراء (معرکتہ الآراء صحیح نہیں)
وتیرہ (وطیرہ ، غلط ہے)
روداد (روئیداد غلط ہے)
خاصا مشکل (کافی مشکل ، غلط ہے)
چاق چوبند (چاق و چوبند غلط ہے)
بلند بانگ (بلند وبانگ ، صحیح نہیں)
خوردنوش ( خوردونوش غلط ہے)
بے نیل مرام (بے نیل و مرام ، غلط ہے)
استفادہ کرنا (استفادہ حاصل کرنا غلط ہے)
دوران کے ساتھ '' میں '' بھی لکھنا چاہیے۔ درمیان کے ساتھ '' میں '' نہیں۔
تابعدار نہیں صرف تابع۔
بمعہ غلط ہے صرف '' مع '' (مع اہل و عیال) ''ذریعے'' فصیح ہے۔
قسم کھانا ، حلف اٹھانا ، صحیح ہے ۔ (قسم اٹھانا غلط ہے)
درستی (درستگی غلط ہے)
ناراضی (ناراضگی ، غلطی ہے)
علانیہ (اعلانیہ ، صحیح نہیں)
قرآت (قرات لکھنا ٹھیک نہیں)
دھوکا ( دھوکہ نہیں)
ٹھکانا (ٹھکانہ نہیں)
دکان (دوکان نہیں ، دوکان تو انسانی اعضاء میں سے ہیں) اور دکان دار (دکاندار نہیں)
اذان (آذان ، نہیں)
ائمہ (آئمہ نہیں)
عجز و انکسارِ (عجز و انکساری نہیں ، ہاں عاجزی اور انکسار ٹھیک ہے)
غیظ وغضب (غیض و غضب نہیں)

■ اسی طرح لکھتے وقت دو الگ الگ لفظوں کو اکٹھے نہیں لکھنا چاہیے۔
مثلا ::
ایسے ہی '' کے لیے '' الگ الگ لکھیں (کیلئے غلط ہے)
اھلِ لاہور (اھلیانِ لاہور صحیح نہیں)
بد (برا) ، بدتر (بہت برا) ، بدترین ( بہت ہی برا)
بہہ (اچھا ) ، بہتر (بہت اچھا ) ، بہترین (بہت ہی اچھا) جب ''ترین '' لگ جائے تو ساتھ ''سب سے'' لگانا عبث ہے۔
دیہہ(واحد) ، دیہات (جمع) (دیہاتوں صحیح نہیں)
نہیں کے بعد ''ہیں'' لکھنا بولنا زائد ہے۔
خوب کا معنی اچھا ہے ، خوب تر (بہت اچھا) ، خوب ترین (بہت ہی اچھا) ، خوب صورت ، خوب سیرت وغیرہ (خوب صورت مصرعہ ، خوب صورت تقریر وغیرہ صحیح نہیں)

■ "ھ" اور "ہ" میں فرق

"ھ" اور "ہ" میں کیا فرق ہے؟

"ھاں" اور "ہاں" کیا دونوں ٹھیک ہیں؟ اسی طرح "ہم" اور "ھم" اگر فرق ہے تو کیا ہے؟

اردو میں دو چشمی (ھ) کا استعمال مرکب حروف تہجی بنانے کے لئے ہوتا ہے۔ مثلاً:
بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، گھ، اور لھ وغیرہ۔

بعض جگہوں پر خوب صورتی یا کسی اور وجہ سے لوگ ابتداء میں "ھ" کا استعمال کرتے ہیں مثلاً "ھم"، "ھماری" اور "ھاں" وغیرہ۔

لیکن یہ استعمال درست نہیں ہے۔ اول تو یہ کہ اردو میں "ھ" ابتداء لفظ میں کبھی آ ہی نہیں سکتا۔

کیوں کہ دوچشمی ‘‘ھ’’ کی اکیلی مستقل آواز نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے حرف کے ساتھ ملا کر لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ دو چشمی "ھ" اردو میں ہندی زبان سے اخذ کی گئی ہے اور یہ صرف چند حروف کے ساتھ ہی آسکتی ہے، اردو کے تمام حروف تہجی کے ساتھ نہیں آسکتی مثلاً:
بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، گھ، اور لھ وغیرہ۔
اس کے علاوہ باقی حروف کے ساتھ دوچشمی "ھ" نہیں آتی، جبکہ ‘‘ہ’’ کی الگ مستقل آواز ہوتی ہے۔

ذیل میں دوچشمی "ھ" اور "ہ" کے چند جملے لکھے جا رہے ہیں، انہیں پڑھ کر آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ ان دونوں کے پڑھنے میں کیا فرق ہے اور اُردو زبان میں یہ دو مختلف ھ/ہ الگ الگ کیوں رائج ہیں:

"ھ"👈 *بھ*: ننھے منے بچے سب کے من کو بھاتے۔ ہیں۔
"ہ"👈 *بہ*: لاپرواہ لوگ پانی زیادہ بہاتے ہیں۔

"ھ"👈 *پھ*: بچے نے کاپی کا صفحہ پھاڑ دیا۔
"ہ"👈 *پہ* : پہاڑ پر چڑھنا ایک دشوار کام ہے۔

"ھ"👈 *تھ* : میرا ایک دوست تھائی لینڈ میں رہتا ہے۔
"ہ"👈 *تہ*: ابھی تک صرف ایک تِہائی کام ہوا ہے۔
"ھ"👈 *ٹھ* : ان دونوں کی آپس میں ٹھنی ہوئی ہے۔
"ہ"👈 *ٹہ*: درخت کی ٹہنی پر چڑیا چہچہا رہی ہے۔

"ھ"👈 *جھ*: آج فضا بوجھل سی ہے۔
"ہ"👈 *جہ* : ابوجہل مردود جہالت۔

https://t.me/islamwitheman/4079
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 قتلِ امام حسین علیہ السلام 🔷

قتلِ امام حسین علیہ السلام کا زیادہ فائدہ کس کو۔۔۔؟؟؟ کرنے والے کو یا پڑھنے والے کو۔۔۔؟؟؟
.
یزید لعین جب تخت نشین ہوا اسکی ناجائز باطل حکومت کو مولا امام حسین علیہ السلام سے خوف تھا اس لئے اس نے امام حسین علیہ السلام کو بیعت کا بہانہ بنا کر قتل کا ارادہ کیا جس کے لئے فوج تیار کی۔ لوگوں کو حکومت، وزارت، گورنری، مال و دولت کا لالچ دیا۔
.
ابن زیاد کو کوفہ کی گورنری دی۔ عمر سعد لعین کو رے کی گورنری کا لاچ دیا شمر لعین اور دوسرے سپاہیوں کو مال دولت کا لاچ دیا۔

الغرض یزیدی فوج کا ہر سپاہی مال و دولت کے لالچ میں امام حسین علیہ السلام کے قتل میں شامل ہوا۔

واقعہ کربلا کے بعد یزید نے فوجیوں کو انعام تو دیئے مگر اتنے نہیں دیئے جتنا ان کا جرم تھا جتنی انہیں امید تھی۔
.
فوج کے جرنیل عمر سعد ملعون کو رے کی گورنری نہیں دی گئی۔

یزید ملعون سمیت پورا لشکرِ یزید، امام حسین علیہ السلام کو قتل کرنے کا کوئی خاص فائدہ حاصل نہ کر سکا۔
.
64، 65 ھجری میں سارا لشکر جناب مختیار کے ہاتھوں واصل جہنم ہوا۔
.
شام میں مولا سجاد علیہ السلام و بیبی زینب سلام اللہ علیہا نے عزاداری کی بنیاد رکھی جو دن بدن پھیلتی گئی۔ حکومتیں پابندیاں لگاتی رہیں۔ مؤمنین نے مال و متاع تو کیا اپنی اولاد قتل کروا کر عزاداری کروائی۔

برصغیر پاک و ہند میں عزاداری کا سلسلہ شروع ہوا۔ کچھ ہمدرد مظلوم و سمجھدار لوگ لوگوں کو اکٹھا کرتے خود کرسی پر بیٹھ کر لوگوں کو کربلا کا واقعہ سناتے حسب توفیق مجمع کو نیاز اپنی جیب سے کھلاتے۔
.
پڑھنے والے صالحین، باادب، تہجد گزار ہوتے۔ اپنی جیب سے خرچ کر کے دور دراز تک عزاداری کی ترویج کرتے۔
.
پاکستان میں پڑھنے والوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ پڑھنے والے نیاز لینے لگ گئے۔ پھر کچھ لالچ کے پجاریوں نے اس مقدس ذکر کو پڑھنا اور ساتھ نیاز میں بھی مک مکا کرنا شروع کر دیا۔ آہستہ آہسته پڑھنے والے مک مکا کے بغیر نہیں پڑھتے۔
.
سلسلہ آگے بڑھا خطیب و ذاکر اپنے سوزیوں، ڈرائیوروں کی نیاز علیحدہ لینے لگے۔

پھر درمیان میں ڈیلر آ گئے وہ مشہور ذاکر کو بلوا دیتے اپنی نیاز لیتے۔
پھر نیاز کو ”فیس” کہنے لگے۔
.
پڑھنے والوں نے بانیان کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ کوئی دعوت دیتا کہتے میری اس روز 4 مجالس ہیں، اگر سب کی فیس دے دو ساتھ قسم قسم کے کھانوں کی فرمائش پھر پڑھوں گا۔ اکثر بانی اپنی ناموری کیلئے دے دیتے۔

ذاکر کو گاڑی میں بیٹھتے وقت فیس دی جاتی اگر سو پچاس کم ہوتے بانی کے منہ پر یا زمین پر پھینک دینے کا رواج نکل پڑا۔

پھر جس ذاکر، خطیب کی گاڑی اچھی اس کی فیس اچھی، دعوتیں زیادہ۔

پھر مجلس کی کامیابی کیلئے ٹیمیں بن گئیں جو مجلس میں رونے کا فن کر کے ذاکر کو کامیاب کرتیں اور انکی فیس بھی بانی دیتا۔

کلاس کا ٹرینڈ چل پڑا ان کی فیس کھانا اے سی روم باقی نخرے بانی اٹھاتا۔

اب اےA بیB کی فیس
(1,50,000) عشرہ محرم چالیس لاکھ (40,00,000) تک پہنچ چکی جبکہ ساتھ ٹریںنڈ چل نکلا جب تک مقرر پڑھنے کے انتظار میں سٹیج کے نیچے بیٹھے گا 1000 روپے منٹ لے گا۔

نامور اب سال میں 5 کروڑ سے زیادہ کما لیتے ہیں۔ سب نہیں تو اکثریت۔ اور اولادیں نامِ مظلوم پر لیا ہوا پیسہ فحاشی، عریانی، عیاشی، عورتوں، لڑکوں، کتوں پر خرچ کر رہی ہے۔ بانی کہتا ہے میں نے امام کے نام پر دیا آگے ان کی مرضی جہاں خرچ کریں۔

جبکہ اکثریت بانی کے رشتہ دار پڑوسی دوست تنگدست، بیروزگار، بیمار اور مستحق ہوتے ہیں۔ ان کو امام مظلوم کے نام پہ دس روپے دے کر راضی نہیں کیونکہ وہاں نام نہیں نکلتا۔

الغرض ایک A کلاس خطیب ذاکر مقرر اپنی زندگی ذکرِ مظلوم کے نام سے تقریباً اگر اربوں نہیں تو ایک ارب کے قریب کما لیتا ہے اور قوم کو دیتا کیا ہے۔۔۔؟ مذہب آل محمد کیلئے کیا خرچ کرتا ہے۔۔۔؟

پڑھنے والوں نے کروڑوں کما لئے۔ کیا اتنا امام کو قتل کرنے والوں نے کمایا ہوگا.

ان دونوں یعنی قتل کرنے والوں میں اور قتل پڑھنے والوں میں فرق کیا رہ گیا۔

کیا یہ پڑھنے والے کربلا میں امام کا ساتھ دیتے یا یزید سے انعام لیتے........؟

تمام مؤمنین جواب سے آگاہ فرمائیں۔

قتلِ امام حسین علیہ السلام کا زیادہ فائدہ کس کو ہوا۔۔۔؟؟

قتل کرنے والوں کو یا قتل پڑھنے والوں کو....... ؟؟؟

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 مجلس اور نماز 🔷

مجلس تبلیغ اسلام، وعظ و نصیحت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور مقصد شہادت امام حسین علیہ السلام کو دنیا والوں پر واضح کرنے کا بہترین اور اہم ذریعہ ہے۔
اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنی رائے کو دین قرار دے کر یہ کہیں کہ مجلس کیلئے قضاء نہیں اور نماز کیلئے قضاء ہے۔ یہ ایک گمراہ کن بات ہے جس کی دین میں کوئی گنجائش نہیں۔

مولا امام علی علیہ السلام نے جنگِ صفین میں اور مولا امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں تیروں کی بارش میں نماز قائم کر کے یہ ثابت کیا کہ جہاد جیسی افضل ترین عبادت سے بھی نماز افضل ہے اور یہ بات واضع کی کہ جہاد چھوڑا جا سکتا ہے لیکن نماز نہیں چھوڑی جا سکتی۔

یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ مجلس کا وقت ہم مقرر کرتے ہیں۔ یہ ہماری مرضی ہے کہ جب چاہیں شروع کر لیں اورجب چاہیں ختم کر لیں۔جبکہ نماز کے اوقات خدا کے مقرر کردہ ہیں اور اس میں ہماری مرضی، دین میں مداخلت ہے۔

دوسری بات نماز تمام واجبات میں پہلا اور سب سے اہم واجب ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ باقی واجبات کسی عذر و مجبوری کی بنا پر ترک کئے جا سکتے ہیں لیکن نماز میں کسی بھی صورت میں جھوٹ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ فقہی مسئلہ موجود ہے کہ انسان غرق ہو رہا ہو، نماز کا آخری وقت ہو تو اس حالت میں جیسے بھی ممکن ہو نماز پڑھنا واجب ہے۔

سب سے افضل ترین مجلس وہ ہے کہ جو ترغیبِ نماز کا باعث بنے نہ کہ ترکِ نماز کا باعث بنے۔

احادیث معصومین علیہم السلام کے مطابق مستحبات واجبات کے لئے ایک سیڑھی ہیں۔ سیڑھی چھت پر چڑھنے کا ایک وسیلہ ہے۔ اگر وسیلہ کو ہم سب کچھ سمجھ لیں تو چھت پر نہیں پہنچ سکتے۔ چھت منزل ہے۔ سیڑھی راستہ ہے جو منزل کو چھوڑ کر صرف اس کو اپنا لے وہ کبھی منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔
اسی طرح مستحبات راستہ ہیں۔ واجبات منزل ہے۔ لٰہذا ہم نے مستحبات کے راستے واجبات پہنچنا ہے اور یہی سیرت اہل بیت علیہم السلام ہے اور جو سیرت اہل بیت علیہم السلام پر نہیں چلتا وہ گمراہ ہو جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ ہم مستحبات کی خاطر واجبات کو چھوڑ دیتے ہیں۔مثلاً عزاداری کی خاطر نماز کو ترک کر دیتے ہیں۔اس سے اہلبیت علیہم السّلام راضی نہیں کیونکہ یہ آلِ محمد کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ جب تک ترکِ واجبات کی غیر اسلامی رسم کو ہم ترک نہیں کریں گے ہم حقیقی عزادار نہیں بن سکیں گے۔

🔘 امید کرتا یوں آج کا درس آپ ممبرز کو بہت پسند آیا ہوگا اور اِس کو آگے شیئر بھی کریں گے کیونکہ عزاداری مقصدِ امام حسینؑ نہیں یہ تو عشقِ حسینؑ ابنِ علیؑ ہے جبکہ نماز مقصدِ امام حسینؑ ابنِ علیؑ ہے۔

https://t.me/islamwitheman/4081
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 برے کیلیے اسکی برائی ہی کافی ہے 🔷

پرانے زمانے میں ایک بادشاہ تھا، اس کے پاس ایک شخص کا آنا جانا تھا، جب کبھی وہ بادشاہ کے پاس آتا، تو بادشاہ کے بازو ہی میں بیٹھتا اور کہتا کہ اے بادشاہ! اچھے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ برے لوگوں کے لیے ان کی برائی ہی کافی ہے۔

بادشاہ کے دربار میں ایک دوسرا درباری تھا، جب اس نے دیکھا کہ یہ تو بادشاہ کو نصیحت کرتا ہے اور بادشاہ بھی اس کی نصیحت غور سے سنتے ہیں اور اس کی خوب عزت کرتے ہیں، اس طرح تو بادشاہ کی نگاہ میں اس کا مرتبہ مجھ سے بڑھ جائےگا۔
اس لیے اس کو حسد ہونے لگا اور اس نے ایک چال چلی، بادشاہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ جو شخص آپ کے پاس آتا جاتا ہے اور آپ کو نصیحت کرتا رہتا ہے، آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے بارے میں اس کا کیا خیال ہے۔۔۔؟
بادشاہ نے کہا: نہیں۔

اس شخص نے کہا: بادشاہ سلامت! وہ تو یہ سمجھتا ہے کہ آپ کے منہ سے بدبو آتی ہے۔
بادشاہ نے کہا: ایسا کیسے ہو سکتا ہے...؟

اس نے کہا: آپ اس کو بلائیے پھر دیکھیے، جب وہ آپ کے قریب ہوگا، تو وہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لے گا تاکہ بدبو نہ آئے۔
بادشاہ نے کہا: ٹھیک ہے، ذرا اسے بلاؤ۔

وہ پہلے بھاگتا ہوا اس آدمی کے پاس پہنچا اور اس سے کہا: آج میری طرف سے تجھے کھانے کی دعوت ہے پھر اس کو ساتھ لے کر اپنے گھر آیا اور اس کو ایسا کھانا کھلایا جس میں پیاز اور لہسن ملی ہوئی تھی، اس کے بعد وہ شخص بادشاہ کے پاس گیا اور اپنی عادت کے مطابق بادشاہ کے پاس بیٹھ گیا اور نصیحت کرنے لگا۔ بادشاہ نے کہا: ذرا قریب آیئے۔ تو اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تاکہ بادشاہ کو اس کے منہ کی پیاز اور لہسن کی بدبو کا احساس نہ ہو۔ یہ دیکھ کر بادشاہ کو یقین ہو گیا کہ وہ شخص ٹھیک کہہ رہا تھا۔ واقعی یہ شخص یہی سمجھتا ہے کہ میرے منہ سے بدبو آتی ہے۔ بادشاہ کو بڑا غصہ آیا اور اس نے سزا دینے کا ارادہ کر لیا۔ بادشاہ کی عادت تھی کہ انعام کے لیے شاہی حکم لکھ کر دیتا اور سزا کے لیے زبانی حکم کرتا تھا لیکن معاملہ کو راز میں رکھنے کے لیے اس نے سزا کے لیے اپنے نمائندہ کو خط لکھا۔ جس میں لکھا تھا ”جو شخص تمہارے پاس یہ خط لے کر آئے، اس کو قتل کر کے اس کی کھال میں بھوسا بھر کر میرے پاس بھیج دو“ اور پھر وہ خط اس شخص کو دے دیا اور کہا: فلاں کو جاکر دے دو۔ راستے میں اس کی ملاقات اس حاسد سے ہو گئی جس نے بادشاہ کے سامنے چال چلی تھی تو اس نے پوچھا: یہ کیسا خط ہے؟ بادشاہ نے تو یہ انعام میرے لیے لکھ کر دیا ہے؛ اس لیے یہ مجھے دے دو۔ چنانچہ اس نے وہ خط اس کو دے دیا۔ پھر کیا تھا اس نے خوشی خوشی اسے لیا اور بادشاہ کے نمائندے کے پاس پہنچا۔

نمائندے نے کہا کہ اب تمہیں قتل کروں گا کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ میں تجھے قتل کر دوں اور تیری کھال میں بھوسا بھر کر بادشاہ کے پاس بھیج دوں۔ پھر تو وہ چیخنے چلانے اور رونے دھونے لگا اور کہنے لگا: یہ خط بادشاہ نے میرے لیے نہیں لکھا، اگر آپ چاہیں تو معلوم کرلیں۔ اس نے کہا: بادشاہ کے خط آجانے کے بعد تحقیق کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آخرکار اس نمائندہ نے اس کو قتل کر دیا۔

اگلے دن جب وہ نصیحت کرنے والا شخص بادشاہ کے پاس آیا تو بادشاہ کو بہت حیرت ہوئی، اس نے پوچھا: تم یہاں، وہ خط کہاں ہے ....؟ تب اس نے بادشاہ کو ساری کہانی بتائی کہ ایک شخص سے میری ملاقات ہوئی، اس نے مجھ سے وہ خط مانگ لیا کہ دے دو، میں پہنچا دوں گا۔ چنانچہ میں نے وہ خط اسی کو دے دیا۔ پھر بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ وہ تیرے بارے میں کہتا تھا کہ تو یہ کہتا ہے کہ بادشاہ کے منہ سے بدبو آتی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، کس نے کہہ دیا ہے؟ بادشاہ نے کہا: جب میں نے اس دن تجھے قریب آنے کے لیے کہا تھا تو تم نے منہ پر ہاتھ کیوں رکھ لیا تھا؟ تو اس نے دعوت اور لہسن و پیاز کھانے والی بات بتا دی۔ بادشاہ سمجھ گیا کہ یہ سچا آدمی ہے، وہی اس کا حاسد تھا اور اپنے انجام کو پہنچ گیا، اس لیے یہ صحیح کہا کرتا تھا کہ ”برے کے لیے اس کی برائی ہی کافی ہے۔“

🔘 دوستو! یہ ہے حسد کا انجام۔ اس لئے کسی سے حسد مت کریں، حسد کا مطلب ہے ”کسی کے عیش و آرام اور بلند مرتبے کو دیکھ کر جلنا“ یہ بہت بڑا گناہ ہے اس لیے اس سے ہمیشہ بچیں۔

📚 [احیاء علوم الدین لمحمد الغزالی: ٣ / ١٨٨]

https://t.me/islamwitheman/4039
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🐟 مچھلی سردیوں کا تحفہ 🐟

یوں تو سارا سال ہی مچھلی کھائی جاتی ہے لیکن موسم سرما کے آتے ہی مچھلی کی مانگ میں اضافہ ہوجاتا ہے، صحت پر بے شمار فوائد کے حصول کے سبب طبی ماہرین کی جانب سے بھی مچھلی کاا ستعمال تجویز کیا جاتا ہے۔

ماہرین غذائیت کے مطابق سفید گوشت میں شمار کی جانے والی مچھلی میں پروٹین آیوڈین، سلینیم، زنک، وٹامن D اور وٹامن B12 جیسے مفید اجزا پائے جاتے ہیں اور اسے دماغ کی غذا بھی قرار دیا جاتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق مچھلی اومیگا 3 جیسے بنیادی اہم غذائی اجزا سے بھرپور ہوتی ہے، ایک ہفتے میں دو بار مچھلی ضرور کھانی چاہیے جبکہ ایک بار کھال سمیت اور دو سے تین بار کھال کے بغیر کھانا مفید ہے۔
مچھلی کی کھال میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے، مچھلی کی کھال دل کی بیماریوں، کینسر اور فالج اٹیک سے بھی بچاتی ہے، وٹامن ڈی کے حصول کے لیے بھی مچھلی کو اپنی خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق جہاں مچھلی کھانا مفید ہے وہیں مچھلی کے زیادہ استعمال کے سبب صحت پر نقصانات بھی آ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں سمندر اور دریاؤں میں دن بہ دن گندگی بڑھتی جا رہی ہے، اسی لیے اب مچھلی کھانے یا اس کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں افادیت پر اثر پڑا ہے۔

نیوٹریشنسٹس کے مطابق ہر غذا کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پہلے برسوں کے مقابلے میں اب مچھلی پہلے جیسی مفید نہیں رہی ہے، اسی لیے اگر مچھلی ہفتے میں دو سے تین بار 3 سے 4 مہینوں کے لیے استعمال کر لی جائے تو اس کے نقصانات کم اور فوائد زیادہ ہیں جبکہ اگر یہی مچھلی سالہا سال کھائی جائے تو اس کے صحت پر نقصانات آ سکتے ہیں۔

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس دیکھنے کے لیے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں ۔۔۔

🐟 مچھلی کھانے کے اثرات
https://t.me/islamwitheman/2865

🐟 مچھلیوں کی اقسام
https://t.me/islamwitheman/2866

🐟 مچھلی کھانے کے فوائد
https://t.me/islamwitheman/2867

🐟 روہو مچھلی
https://t.me/islamwitheman/2868

🐟 گلے میں پھنسے مچھلی کے کانٹے کا حل
https://t.me/islamwitheman/2869

🐟 مچھلی ذبح کیوں نہیں کی جاتی؟
https://t.me/islamwitheman/2870

🐟 مچھلی کے ساتھ دودھ پینا یا انڈا کھانا
https://t.me/islamwitheman/2871

🐟 ملی مچھلی مشخ شدہ
https://t.me/islamwitheman/2893

🐟 مچھلی سردیوں کا تحفہ
https://t.me/islamwitheman/4084
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💝 لفظ "اسلام” کے کیا معنی ہیں؟ 💝

اس سوال کا جواب تین اعتبارات سے دیا جاسکتا ہے یا پھر یوں کہہ لیجئے کہ لفظ اسلام کے تین معنی ہیں۔ پہلا لغوی معنی، دوسرا اصطلاحی معنی اور تیسرا قانونی معنی۔

■ لغوی معنی:
لغوی معنی کے اعتبار سے اسلام لفظ ‘سلام’ یعنی سلامتی سے نکلا ہے اور سلام کا مادہ لفظ ‘س ل م’ یعنی خود کو مکمل حوالے کر دینا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام کے لغوی معنی یہ ہوئے کہ خود کو احکام الہی کے سامنے مکمل سپرد کر دینا اور یوں معاشرے میں سلامتی کا مظہر بن جانا۔ گویا سلم سے سلام کا سفر اسلام ہے۔

■ اصطلاحی معنی
اصطلاحی معنی درحقیقت وہ معروف معنی ہے جو معاشرے میں رائج ہیں اور اس کے اعتبار سے ‘اسلام’ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبول کرنے کا نام ہے۔ حالانکہ قران حکیم نے مختلف شریعت کے حامل دیگر انبیاء اور ان کے پیروکاروں کو بھی مسلم ہی کہا ہے۔ مگر جیسے عرض کیا کہ اصطلاحی یا معروف معنی آج یہ ہیں کہ وہ شخص جو رسالت و شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کرتا ہو۔ اسی لئے جب کوئی شخص یہ تصدیق کرتا ہے تو ہم سب کہتے ہیں کہ وہ ‘اسلام’ لے آیا ہے۔

■ قانونی معنی
قانونی معنی وہ معنی ہیں جو شرعی نصوص سے ثابت ہوں۔ اس اعتبار سے اسلام ظاہر سے متعلق ہے اور ایمان باطن سے۔ گو اخروی نجات ایمان کے بناء ممکن نہیں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💞 اللہ تعالٰی کی محبت 💞

وہ سات الفاظ جو اللہ تعالیٰ نے آپ سے محبت کے اظہار کے لئے استعمال کیے ہیں۔ اور یہ الفاظ اس طرح استعمال کیے ہیں، کہ جیسے آپ کو اللہ تعالیٰ کی محبت میں شک و شبہے کی گنجائش ہی نہیں دی۔ وہ کہتا ہے میں لازمی تم سے محبت کرتا ہوں۔

❶ البقرہ
إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ (۱۹۵)
اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے ہی محبت کرتا ہے۔

❸❷ البقرہ
إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ التَّوَّٰبِینَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِینَ (۲۲۲)
اللہ تعالیٰ توبہ پر توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں سے ہی محبت کرتا ہے۔

❹ آل عمران
واللَّہُ یُحِبُّ الصَّٰبِرِینَ (۱۴۶)
اور اللہ تو صبر کرنے والوں سے ہی محبت کرتا ہے۔

❺ آل عمران
إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ (۱۵۹)
اللہ تو توکل کرنے والوں سے ہی محبت کرتا ہے۔

❻ المائدہ
إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ (۴۲)
اللہ تو انصاف کرنے والوں سے ہی محبت کرتا ہے۔

❼ توبہ
إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ (۴)
اللہ تو پرہیزگاروں سے ہی محبت کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو اپنی محبت پانے والے خوش نصیبوں میں شامل فرمائے، آمین۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 جاہل مرکب و جاہل مطلق 🔷

ہمارے معاشرے میں دو لفظ عام بولے جاتے ہیں کہ فلان جاھل مطلق ہے یا فلاں جاہل مرکب ہے
جبکہ اکثریت اس کے مفہوم سے ناواقف ہوتی ہے اسلئے اس کی وضاحت ضروری ہے۔۔۔

دراصل بنیادی طور پر جاننے اور نہ جاننے کی چند صورتیں ہیں۔۔۔
1. میں جانتا ہوں کہ میں جانتا۔
2. میں نہیں جانتا کہ میں جانتا ہوں۔
3. میں نہیں جانتا کہ میں نہیں جانتا۔
3. میں جانتا ہوں کہ میں نہیں جانتا۔

1۔ پہلی قسم علم مرکب کی ہے، یعنی دوہرا علم۔

2۔ دوسری قسم علم مطلق کی ہے یعنی سنگل علم۔

3. تیسری قسم جہل مرکب کی یعنی دہرا جہل۔

4۔ چوتھی قسم جہل مطلق کی ہے یعنی سنگل جہل۔

اب جاہل مطلق کون ہے جو جاھل ہے لیکن وہ اپنی جہالت کی طرف متوجہ ہے اور جانتا ہے کہ میں نہیں جانتا۔

لیکن جاہل مرکب اس جاہل کو کہتے ہیں جو جاہل تو ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ وہ جاہل ہے۔

جاہل مطلق افراد کی اصلاح آسان ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جاہل ہیں لیکن جاہل مرکب افراد کی اصلاح مشکل ہے کیونکہ وہ ہیں تو جایل لیکن وہ نہیں جانتے کہ وہ جاہل ہیں اور خود کو عالم سمجھتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کی اصل بیماری جاہل مرکب افراد کی ہے جو جاہل ہو کے بھی خود کو عالم فاضل سمجھتے ہیں۔
جب تک وہ خود کو جاہل نہیں سمجھیں گے وہ کبھی اپنی اصلاح نہیں کر سکتے اس لیے جاہل ہونا عیب نہیں جاہل ہو کے عالم سمجھنا عیب اور لا علاج مرض ہے۔

خدا ہمارے معاشرے کو جاہل مرکب افراد کے شر سے محفوظ رکھے. آمین

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌷 حیثیت 🌷

کہتے ہیں محمود غزنوی کا دور تھا ايک شخص کی طبیعت ناساز ہوئی تو وہ طبیب کے پاس گیا
اور کہا کہ مجھے دوائی بنا کے دو۔

طبیب نے کہا کہ دوائی کے لیے جو چیزیں درکار ہیں سب ہیں سوائے شہد کے۔ تم اگر شہد کہیں سے لا دو تو میں دوائی تیار کیے دیتا ہوں۔

اتفاق سے موسم شہد کا نہیں تھا ۔۔

اس شخص نے حکیم سے ایک ڈبا لیا اور چلا گیا لوگوں کے دروازے کھٹکھٹانے لگا مگر ہر جگہ مایوسی ہوئی۔ جب مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ محمود غزنوی کے دربار میں حاضر ہوا۔

کہتے ہیں وہاں ایاز نے دروازہ کھولا اور دستک دینے والے کی رواداد سنی اس نے وہ چھوٹی سی ڈبیا دی اور کہا کہ مجھے اس میں شہد چاہیے۔ ایاز نے کہا آپ تشریف رکھیے میں بادشاہ سے پوچھ کے بتاتا ہوں ۔۔

ایاز وہ ڈبیا لے کر بادشاه کے سامنے حاضر ہوا اور عرض کی کہ بادشاه سلامت ایک سائل کو شہد کی ضرورت ہے ۔۔

بادشاہ نے وہ ڈبیا لی اور سائیڈ میں رکھ دی۔ ایاز کو کہا کہ تین بڑے ڈبے شہد کے اٹھا کے اس کو دے دیے جائیں۔

ایاز نے کہا حضور اس کو تو تھوڑی سی چاہیے
آپ تین ڈبے کیوں دے رہے ہیں ۔۔

بادشاه نے ایاز سے کہا ایاز وہ مزدور آدمی ہے اس نے اپنی حیثیت کے مطابق مانگا ہے۔ ہم بادشاہ ہیں ہم اپنی حیثیت کے مطابق دینگے۔

مولانا رومی فرماتے ہیں ۔۔
آپ اللہ پاک سے اپنی حیثیت کے مطابق مانگیں وہ اپنی شان کے مطابق عطا کریگا شرط یہ ہے کہ
مانگیں تو سہی۔ وہ بڑا غفور و رحیم ہے۔

لاکھوں درود و سلام محمّد اور اس کے آل پر۔

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕