ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌹کامیابی کے لئے 8 سبق(حصہ دوم)🌹

🌹سبق 03:
🍷تیسرے دن پروفیسر نے اپنی کلاس کا آغاز کرتے ہوئے ایک گلاس اٹھایا، جس کے اندر کچھ پانی موجود تھا۔ انہوں نے وہ گلاس بلند کردیا، تاکہ تمام طلباء اسےدیکھ لیں.

پھر مسکراتے ہوئے طلباء کی جانب دیکھا اور کہا "آج میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کے خیال میں اس گلاس کا وزن کیا ہوگا؟"
"پچاس گرام، سو گرام، ایک سو پچیس گرام" سب اپنے اپنے انداز سے جواب دینے لگے.

"میں خود صحیح وزن بتا نہیں سکتا، جب تک کہ میں اس کا وزن نہ کرلوں!" پروفیسر نے کہا. لیکن میرا سوال یہ ہے کہ "کیا ہوگا اگر میں اس گلاس کو چند منٹوں کے لئے اسی طرح اٹھائے رہوں؟"

"کچھ نہیں ہوگا!" طلباء نے جواب دیا.

"ٹھیک ہے، اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو ایک گھنٹے تک یوں ہی اٹھائے رہوں تو پھر کیا ہوگا؟" پروفیسر نے پوچھا.

"آپ کے بازو میں درد شروع ہوجائے گا." طلباء میں سے ایک نے جواب دیا.

"تم نے بالکل ٹھیک کہا."پروفیسر نے تائید کی" اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو دن بھر اسی طرح تھامے رہوں تو پھر کیا ہوگا؟"

"آپ کا بازو شل ہوسکتا ہے." ایک طالب علم نے کہا. "آپ کا پٹھا اکڑ سکتا ہے." ایک اور طالب علم بولا، "آپ پر فالج کا حملہ ہوسکتا ہے۔ آپ کو اسپتال لازمی جانا پڑےگا." ایک طالب علم نے جملہ کسا اور پوری گلاس قہقہے لگانےلگی.

بہت اچھا! پروفیسر نے بھی ہنستے ہوئے کہا پھر پوچھا "لیکن اس دوران کیا گلاس کا وزن تبدیل ہوا؟"

"نہیں" طلباء نے جواب دیا.

"تو پھر بازو میں درد اور پٹھا اکڑنے کا سبب کیا تھا؟ پروفیسر نے پوچھا. طالب علم چکرا گئے.
"گلاس کا بہت دیر تک اُٹھائے رکھنا، بہتر ہوگا کہ اب گلاس نیچے رکھ دیں!" ایک طالب علم نے کہا.
"بالکل صحیح" استاد نے کہا.
■"ہماری زندگی کے مسائل بھی کچھ اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ آپ انہیں اپنے ذہن پر چند منٹ سوار رکھیں تو وہ ٹھیک لگتے ہیں۔ انہیں زیادہ دیر تک سوچتے رہیں تو وہ آپ کے لیے سر کا درد بن جائیں گے۔ انہیں اور زیادہ دیر تک تھامے رہیں تو وہ آپ کو فالج زدہ کردیں گے۔ آپ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے."
●دیکھیے! اپنی زندگی کے چیلنجز (مسائل) کے بارے میں سوچنا یقیناً اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن… اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہردن کے اختتام پر سونے سے پہلے ان مسائل کو ذہن سے اُتار دیا جائے. اس طریقے سے آپ کسی قسم کے ذہنی تناؤ میں مبتلا نہیں رہیں گے. اگلی صبح آپ تروتازہ اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ بیدار ہوں گے اور اپنی راہ میں آنے والے کسی بھی ایشو، کسی بھی چیلنج کو آسانی سے ہینڈل کرسکیں گے۔ لہٰذا گلاس کو یعنی مسائل پر غیر ضروری سوچ بچار کو نیچے کرنا، رکھنا یاد رکھیں."

🌹سبق 04:
🍅پروفیسر نے کہا کہ کل ہر ایک طالب علم پلاسٹک کا ایک شفاف تھیلا اور ٹماٹر ساتھ لائے.

جب طلباء تھیلا اور ٹماٹر لے آئے تو پروفیسر نے کہا:
"آپ میں سے ہر طالب علم اس فرد کے نام پر جسے آپ نے اپنی زندگی میں معاف نہیں کیا، ایک ایک ٹماٹر چن لیں اور اس پر اس فرد کا نام اور تاریخ لکھ کر اسے اپنے پلاسٹک کے تھیلے میں ڈالتے جائیں."

سب نے ایک ایک کرکے یہی عمل کیا، پروفیسر نے کلاس پر نظر ڈالی تو دیکھا بعض طالب علموں کے تھیلے خاصے بھاری ہوگئے.
پھر پروفیسر نے سب طالب علموں سے کہا کہ:
"یہ آپ کا ہوم ورک ہے، آپ سب ان تھیلوں کو اپنے ساتھ رکھیں، اسے ہر جگہ اپنے ساتھ لئے پھریں. رات کو سوتے وقت اسے اپنے بیڈ کے سرہانے رکھیں، جب کام کر رہے ہوں تو اسے اپنی میز کے برابر میں رکھیں۔ کل ہفتہ، پرسوں اتوار ہے آپ کی چھٹی ہے، پیر کے روز آپ ان تھیلوں کو لے کر آئیں اور بتائیں آپ نے کیا سیکھا."

پیر کے دن سب طالب علم آئے تو چہرے پر پریشانی کے آثار تھے، سب نے بتایا کہ اس تھیلے کو ساتھ ساتھ گھسیٹے پھرنا ایک آزار ہوگیا۔ قدرتی طور پر ٹماٹروں کی حالت خراب ہونے لگی۔ وہ پلپلے اور بدبودار ہوگئے تھے.

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا "اس ایکسرسائز سے کیا سبق سیکھا…؟"

سب طلبہ خاموش رہے.

■"اس ایکسر سائز سے یہ واضح ہوا کہ روحانی طور پر ہم اپنے آپ پر کتنا غیر ضروری وزن لادے پھر رہے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ ہم اپنی تکلیف اور اپنی منفی سوچ کی کیا قیمت چکا رہے ہیں.
ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ کسی کو معاف کردینا، کسی پر احسان کرنا اس شخص کے لئے اچھا ہے لیکن دوسرے کو معاف کرکے ہم خود اپنے لئے لاتعداد فوائد حاصل کرتے ہیں. جب تک ہم کسی سے ناراض رہتے ہیں، اس کے خلاف بدلہ لینے کے لئے سوچتے ہیں، اس وقت تک ہم کسی اور کا نہیں بلکہ خود اپنا خون جلاتے ہیں۔ اپنے آپ کو اذیت اور مشقت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ بدلے اور انتقام کی سوچ، گلے سڑے ٹماٹروں کی طرح ہمارے باطن میں بدبو پھیلانے لگتی ہے۔ معاف نہ کرنا ایک بوجھ بن کر ہمارے اعصاب کو تھکا دیتا ہے."

(سبق نمبر 5، 6 حصہ سوم میں، اور سبق نمب 7، 8 حصہ چہارم میں ملاحظہ فرمائیے.)

https://t.me/islamwitheman/385
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹کامیابی کیلئے 8 سبق(حصہ سوم)🌹

🌹سبق 05:
🍻☕🍺"آج ہم نہیں پڑھیں گے…"
پروفیسر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا. سارے طالب علم حیران و پریشان ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے.

"آپ دو دن ٹماٹروں کا تھیلا اٹھائے تھک گئے ہوں گے. اسلئے آج آپ کے لئے چائے کافی میری طرف سے..."

اسی دوران لیکچر ہال میں کالج کا پیُون داخل ہوا اس کے ہاتھ میں کافی کے دو بڑے سے جگ تھے. ساتھ ہی بہت سے کپ تھے، پورسلین کے کپ، پلاسٹک کے کپ، شیشے کے کپ، ان میں سے بعض سادہ سے کپ تھے اور بعض نہایت قیمتی، خوبصورت اور نفیس….

پروفیسر نے تمام طالب علموں سے کہا کہ "سب اپنی مدد آپ کے تحت وہ گرما گرم چائے کافی آپ خود لے لیں."

جب تمام طالب علموں نے اپنے چائے اور کافی کے کپ ہاتھوں میں لے لئے تو پروفیسر صاحب گویا ہوئے.

"آپ لوگ غور کریں… تمام نفیس، قیمتی اور دیکھنے میں حسین کافی کپ اٹھا لئے گئے ہیں، جبکہ سادہ اور سستے کپوں کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا، وہ یونہی رکھے ہوئے ہیں."

"اس کا کیا مطلب سر" ایک طالب علم نے پوچھا.

■"گو یہ عام سی بات ہے کہ آپ اپنے لئے سب سے بہترین کا انتخاب کرتے ہیں لیکن یہی سوچ آپ کے کئی مسائل اور ذہنی دباؤ کی جڑ بھی ہے."

سارے طالب علم چونک اٹھے، "یہ کیا کہہ رہے ہیں سر! اچھی چیز کا انتخاب تو اعلیٰ ذوق کی علامت ہے۔ یہ مسائل کی جڑ کیسے...؟"

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:
"آپ سب کو حقیقت میں جس چیز کی طلب تھی، وہ چائے یا کافی تھی… نہ کہ کپ… لیکن آپ سب نے دانستہ طور پر بہتر کپوں کے لئے ہاتھ بڑھایا اور سب ایک دوسرے کے کپوں کو چور نگاہوں سے دیکھتے رہے."

●میرے بچو... نوجوانو… یاد رکھو! زندگی کا اصل حسن باطن سے پھوٹنے والی خوشیوں کی وجہ سے ہے۔ عالی شان بنگلہ، قیمتی گاڑی، دائیں بائیں ملازمین، دولت کی چمک دمک کی وجہ سے بننے والے دوست یہ سب قیمتی کپ کی طرح ہیں۔ اگر اس قیمتی کپ میں کافی یا چائے بدمزہ ہو تو کیا آپ اسے پئیں گے؟

اصل اہمیت زندگی، صحت اور آپ کے اعلیٰ کردار کی ہے۔ باقی سب کانچ کے بنے ہوئے نازک برتن ہیں، ذرا سی ٹھیس لگنے سے یہ برتن ٹوٹ جائیں گے یا ان میں کریک آجائے گا۔
یاد رکھیے! دنیا کی ظاہری چمک دمک کی خاطر اپنے آپ کو مت گرائیے۔ بلکہ زندگی کے اصلی جوہر کو اُبھاریے۔

تمام تر توجہ صرف کپ پر مرکوز کرنے سے ہم اس میں موجود کافی یعنی زندگی سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا کپوں کو اپنے ذہن کا بوجھ نہ بنائیں… اس کی بجائے کافی سے لطف اندوز ہوں."

🌹سبق 06:
✏پروفیسر صاحب نے کلاس کا آغاز کرتے ہوئے اپنی جیب سے ایک پینسل نکالی اور تمام طلبا کو دکھاتے ہوئے کہا:

"آج کا سبق آپ اس پینسل سے سیکھیں گے… پینسل میں پانچ باتیں ایسی ہیں جو ہم سب کے لئے جاننی ضروری ہیں!"

"وہ کیا سر…" سب نے تجسس سے پوچھا.

"پہلی بات: یہ پینسل عمدہ اور عظیم کام کرنے کے قابل اس صورت میں ہوسکتی ہے، جب وہ خود کو کسی کے ہاتھ میں تھامے رکھنے کی اجازت دے۔

دوسری بات: ایک بہترین پینسل بننے کے لئے وہ بار بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گزرتی ہے۔

تیسری بات: وہ ان غلطیوں کو درست کرنے کی اہل رکھتی ہے، جو اس سے سرزد ہو سکتی ہیں۔

چوتھی بات: پینسل کا سب سے اہم حصہ ہمیشہ وہ ہوگا جو اس کے اندر یعنی اس کے باطن میں ہوتا ہے.
اور
پانچویں بات: پینسل کو جس سطح پر بھی استعمال کیا جائے، وہ لازمی اس پر اپنا نشان چھوڑ جاتی ہے چاہے حالات کیسے ہی ہوں."

■"اب اس پینسل کی جگہ آپ اپنے کو لے لیں۔
آپ بھی عمدہ اور عظیم کام کرنے کے قابل اسی صورت میں ہوسکتے ہیں، جب آپ خود کو اپنے استاد یا راہنما کے ہاتھوں میں تھامے رکھنے کی اجازت دیں۔

دوسری بات: آپ کو بار بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑے گا۔ یہ مراحل دنیا میں زندگی کے مختلف مسائل کی صورت میں آپ کے سامنے آئیں گے، ایک مضبوط فرد بننے کے لئے آپ کو ان مسائل کا اچھے طریقے سے سامنا کرنا ہوگا۔

تیسری بات: یہ کہ اپنے آپ کو ان غلطیوں کو درست کرنے کے قابل بنائیں جو آپ سے سرزد ہوسکتی ہیں۔

چوتھی بات: ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہمارے اندر ہے، ہمارا باطن ہے، ہمیں اسے کثافتوں اور آلائشوں سے بچانا ہے۔

پانچویں بات: آپ جس سطح پر سے بھی گزر کر جائیں، آپ اپنے نشان ضرور چھوڑ جائیں۔ چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں.

اس یقین کے ساتھ زندگی بسر کریں کہ اس دنیا کو آپ کی ضرورت ہے، کیونکہ کوئی شے بھی فضول اور بے مقصد نہیں ہوتی."

(سبق نمبر 7، 8 کا حصہ چہارم میں مطالعہ کیجئے)

https://t.me/islamwitheman/385
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹کامیابی کیلئے8سبق(حصہ چہارم)🌹

🌹سبق 07:
🍯پروفیسر صاحب نے کلاس میں داخل ہوتے ہوئے طلباء پر نظر ڈالی اور کہا:
"آج میں تمہیں زندگی کا نہایت اہم سبق سکھانے جا رہا ہوں…"

وہ اپنے ہمراہ کانچ کی ایک بڑی برنی یعنی جار (JAR) لائے تھے، انہوں نے اس جار کو ٹیبل پر رکھا اور اپنے بیگ سے ٹیبل ٹینس کی گیندیں نکال کر اس برنی میں ڈالنے لگے… اور تب تک ڈالتے رہے جب تک اس برنی میں ایک بھی گیند کی جگہ باقی نہ رہی.
پروفیسر صاحب نے طلباء سے پوچھا:
"کیا برنی پوری بھرگئی ہے؟" "جی ہاں" طالب علموں نے ایک ساتھ جواب دیا.

پھر پروفیسر صاحب نے بیگ سے چھوٹے چھوٹے کنکر نکال کر اس برنی میں بھرنے شروع کر دیے، وہ دھیرے دھیرے برنی کو ہلاتے بھی جارہے تھے۔ کافی سارے کنکر برنی میں جہاں جگہ خالی تھی سما گئے.

پروفیسر صاحب نے پھر سوال کیا:
"کیا اب برنی بھرگئی ہے؟"

طالب علموں نے ایک بار پھر "ہاں" کہا.

اب پروفیسر صاحب نے بیگ سے ایک تھیلی نکالی اور اس میں سے ریت نکال کر دھیرے دھیرے اس برنی میں ڈالنی شروع کر دی، وہ ریت بھی اس برنی میں جہاں تک ممکن تھا بیٹھ گئی.

یہ دیکھ کر طلباء اپنی نادانی پر ہنسنے لگے…

پروفیسر صاحب نے ایکبار پھر سوال کیا:
"کیا اب یہ برنی پوری بھرگئی ہے؟"
"جی! اب تو پوری بھرگئی ہے سر" سب ہی نے ایک آواز میں کہا.

پروفیسر نے بیگ کے اندر سے جوس کے دو ڈبّے نکال کر جوس اس برنی میں ڈالا، جوس بھی ریت کے بیچ تھوڑی سی جگہ میں جذب ہوگیا… اب پروفیسر صاحب نے نہایت ہی گھبمیر آواز میں سمجھانا شروع کیا…

■"اس کانچ کی برنی کو تم لوگ اپنی زندگی سمجھو، ٹیبلٹینس کی گیندیں تمہاری زندگی کے سب سے اہم کام ہیں مثلاً طرزِ معاشرت، حصولِ معاش، تعلیم وتربیت، خاندان، بیوی بچے، نوکری، صحت وتحفظ وغیرہ… چھوٹے کنکر تمہاری عام ضروریات اور خواہشات ہیں.. گاڑی، بنگلہ، نوکرچاکر، موبائل، کمپیوٹر اور دیگر اصرافِ زندگی وغیرہ… اور ریت کا مطلب ہے چھوٹی چھوٹی بیکار اور فضول باتیں، جھگڑے، آوارہ گردی، ہوائی قلعہ بنانا، ٹائم پاس کرنا، وقت کاضیاع وغیرہ…

●اگر تم نے کانچ کی برنی میں سب سے پہلے ریت بھری ہوتی تو ٹیبل ٹینس کی گیند اور کنکر کے لیے جگہ ہی نہیں بچتی یا صرف کنکر بھر دیے ہوتے تو گیند نہیں بھر پاتے، ریت ضرور آسکتی تھی….

ٹھیک یہی طریقہ کار زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر تم فضول اور لایعنی چیزوں کے پیچھے پڑے رہو گے اور اپنی زندگی اسی کے چکر میں ختم کردو گے تو تمہارے پاس اہم باتوں کے لئے وقت نہیں رہے گا…

ایک کامیاب اور پرسکون زندگی گزارنے کے لئے یہ اہم سبق ہے. اب یہ تم خود طے کرلو کہ تمہیں اپنی کانچ کی برنی کس طرح بھرنی ہے."

طالب علم بڑے غور سے پروفیسرصاحب کی باتیں سن رہے تھے، اچانک ایک طالبعلم نے پوچھا:
"سر! لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ جوس کے دو ڈبّے کیا ہیں؟"
●پروفیسر مسکرائے اور بولے: "میں سوچ ہی رہا تھا کہ ابھی تک کسی نے یہ سوال کیوں نہیں کیا… اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں ہم کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں اور کس قدر ہی کامیابیاں کیوں نہ سمیٹ رہے ہوں لیکن اپنے گھروالوں، دوستوں کے ساتھ تعلق کی مٹھاس کی گنجائش ہمیشہ رکھنی چاہیے...."

🌹سبق 08:
🎈آج لیکچر کا آخری دن تھا، پروفیسر صاحب کلاس روم میں داخل ہوئے، کلاس روم کی بھنبھناہٹ گہری خاموشی میں بدلنے لگی۔ دیکھا کہ پروفیسر کے پیچھے ایک غبارے والا ڈھیر سارے ایک ہی رنگ کے غبارے لئے کلاس روم میں داخل ہو رہا ہے.

پروفیسر کے اشارے پر غبارے والے نے ایک ایک کرکے سارے غبارے طلباء میں تقسیم کردئیے.

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:
"آپ میں سے ہر ایک کو مارکر کا استعمال کرتے ہوئے ان غباروں پر اپنا نام لکھنا ہے." سب نے پروفیسر کے کہنے پر نام لکھ دیئے. اس کے بعد تمام غبارے جمع کرکے دوسرے کمرے میں ڈال دیئے گئے۔
اب پروفیسر نے تمام طالب علموں سے کہا کہ "اب سب غباروں والے کمرے میں جائیں اور اپنے اپنے نام والا غبارہ تلاش کریں، دھیان رہے کہ کوئی غبارہ نہ پھٹے اور آپ سب کے پاس پانچ منٹ ہیں."

ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے ہوئے، دوسروں کو دھکیلتے ہوئے اپنے نام کا غبارہ تلاش کرنے لگا. ایک افراتفری کا سماں تھا. سارے غبارے ایک ہی رنگ کے تھے، پانچ منٹ تک کوئی بھی اپنے نام والا غبارہ تلاش نہ کرسکا… یہ دیکھ کر پروفیسر انصاری نے کہا کہ:
اب آپ کے پاس پانچ منٹ ہیں کوئی بھی غبارہ پکڑ لیں اور اس کے نام والے شخص کو دے دیں، دو تین منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ تمام افراد کے پاس اپنے اپنے نام والے غبارے تھے.

■پروفیسر انصاری کلاس سے مخاطب ہوتے ہوئے بولے: "بالکل اسی طرح ہماری زندگی ہے، ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں اپنے اردگرد خوشیاں تلاش کررہا ہے یہ نہ جانتے ہوئے کہ وہ کہاں ہیں.
نوجوانو! یاد رکھو… ہماری خوشی دوسروں کی خوشی میں پنہاں ہے، ان کو ان کی خوشی دے دیں تو آپ کو آپ کی خوشی مل جائے گی."

https://t.me/islamwitheman/385
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حضرت اُمُّ البَنینؑ 🌹

🔷 تاريخِ وفات:
حضرت اُمُّ البنینؑ کی تارخ وفات کے بارے میں کوئی دقیق معلومات تاریخی منابع میں ثبت نہیں ہیں لیکن جو چیز معروف ہے اس کے مطابق آپ 13جمادی الثانی کو اس دنیا سے رخصت ہوئیں. آپ شیعوں کے یہاں قابل احترام شخصیات میں سے ہیں.

🔷 حسب و نسب:
حضرت اُمُّ البنینؑ کا اصل نام فاطمہ بنتِ حِزام ہے آپ کے والد گرامی ابوالمجْل حزّام بن خالد کا قبیلہ بنی کلاب سے تعلق تھا، آپ کی مادر گرامی لیلیٰ یا ثمامہ بنت سہیل بن عامر بن مالک تھیں.

🔷 وجہ لقب:
فاطمہ بنت حِزام اُمّ البَنین کے نام سے مشہور ہوئیں. آپ امیرالمؤمنین علیؑ کی زوجات میں سے تھیں. آپ چونکہ چار بیٹوں کی ماں تھیں اسلئے آپ اُمّ البَنین یعنی بیٹوں کی ماں کے لقب سے ملقب ہوئیں.
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی حضرت امام علیؑ کو یہ تجویز دی تھی کہ ان کو بجائے فاطمہ کے اُمُّ البَنینؑ کہہ کر پکارا جائے تاکہ حضرت فاطمہ زہراءؑ کے بچوں کو فاطمہ کہنے سے اپنی ماں حضرت فاطمہ زہراءؑ کی یاد تازہ نہ ہو اور اپنی ماں پر گزرے ہوئے تلخ حوادث انہیں آزار نہ پہنچائیں.

🔷 حضرت علیؑ سے شادی:
حضرت فاطمہ زہراؑ کی رحلت کے کئی سال بعد حضرت علیؑ نے اپنے بھائی عقیل جو نسب شناسی میں مشہور تھے، سے ایک نجیب خاندان سے بہادر، شجاع اور جنگجو اولاد جنم دینے والی زوجہ کے انتخاب کے بارے میں مشورہ کیا تو عقیل نے فاطمہ بنت حزام کا نام تجویز کیا اور کہا عربوں میں بنی کلاب کے مردوں جیسا کوئی دلیر مرد نہیں دیکھا جا سکتا ہے، یوں حضرت علیؑ نے آپ سے شادی کی.

🌟 شادی کا ثمرہ:
اس شادی کا ثمرہ خدا نے چار بیٹوں کی صورت میں عطا کیا جن کے نام عباسؑ، عبداللہ، جعفر اور عثمان ہیں.
آپ کے یہ چار بیٹے شجاعت اور دلیری میں اپنی مثال آپ تھے اس وجہ سے آپ کو اُمُّ البَنینؑ (یعنی بیٹوں کی ماں) کہا جاتا تھا،
آپ کے یہ چار بیٹے کربلا میں اپنے بھائی اور امام، امام حسینؑ کے رکاب میں شہادت کے عظیم درجے پر فائز ہوئے.

🔶 واقعہ کربلا:
اُمُّ البَنینؑ واقعہ کربلا پیش آتے وقت وہاں موجود نہیں تھیں، جب اسیران کربلا کا قافلہ مدینہ پہنجا تو کسی نے آپ کو اپنے بیٹوں کی شہادت کی خبر سنائی لیکن آپ نے کہا: امام حسینؑ کے بارے میں کہو جب آپ کو بتایا گیا کہ امام حسینؑ آپ کے چار بیٹوں کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے ہیں تو اس وقت آپ نے کہا؛ اے کاش میرے بیٹے اور جو کچھ زمین اور آسمان کے درمیان ہے میرے حسینؑ پر فدا ہوتے اور وہ زندہ رہتے، آپ کے یہ جملے، امام حسینؑ اور اہلبیتؑ کے ساتھ آپ کی سچی اور بااخلاص مجبت کی عکاسی کرتے ہیں.

حضرت اُمُّ البَنینؑ اپنے بیٹوں کی شہادت سے باخبر ہونے کے بعد ہر روز اپنے پوتے عبیداللہ (فرزندِ عباسؑ) کے ساتھ قبرستان بقیع جایا کرتی تھی اور وہاں پر خود اپنے انشاء کئے ہوئے اشعار پڑھا کرتی تھیں اور نہایت دلسوز انداز میں گریہ کرتی تھیں، اہل مدینہ ان کے ارد گرد جمع ہوتے اور ان کے ساتھ گریہ کرنا شروع کرتے تھے.

🔶مدفن:
آپ کا مدفن قبرستان بقیع میں ہے.
آپ کو جنت البقیع میں رسولِخداؐ کی دو پھوپھیوں (صفیہ، عاتکہ) کے پاس امام حسن علیہ السلام اور فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کی قبروں کے قریب سپرد خاک کیا گیا.

https://t.me/islamwitheman/390

🔘 تفصیل کے ساتھ حضرت ام البنین علیہ السلام کی سوانح حیات دیکھنے کے لئے فیسبک کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://www.facebook.com/1304327322922888/posts/3792714790750783/
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👅 احتیاط کے ساتھ بولا کریں👅

ایک طالب علم جو فوت ہو گیا تھا کچھ مدت کے بعد اس کو خواب میں دیکھا اس سے پوچھا گیا: وہاں آپ کیسے ہیں؟

♻️ اس نے کہا: اپنے اعمال اور اپنی گفتار کی احتیاط کیا کرو.

کیونکہ؛ اللہ تعالی کا حساب و کتاب بہت ہی دقیق ہے.
ایک دن بارش برس رہی تھی.

اور میں نے کہا واہ واہ کیا عجیب ہے کہ بے موقع بارش برس رہی ہے؟

💢 میں ابھی تک اسی ایک جملے میں گرفتار ہوں.
مجھے کہا گیا ہے: کیا ہمارے پاس بے موقع بارش بھی ہے؟

⚖ { فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ}(۷) { وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ}(۸)

پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔
اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔ (سورہ زلزال ، آیات ۷، ۸)

📚 حوالہ: آداب الطلاب، آیت الله مجتهدی تهرانی، صفحه ۱۲۹۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ پانچ سوال اور انکے جواب ⭕

ایک مرید نے مولانا رومی سے چند سوالات پوچھے جن کے انہوں نے بہت خوبصورت مختصر اور جامع جوابات عطا فرمائے جو بالترتیب پیشِ خدمت ہیں:

سوال نمبر1= زہر کسے کہتے ہیں؟
ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زائد ہو، وہ ہمارے لئے زہر ہے خواہ وہ قوت و اقتدار ہو، دولت ہو، بھوک ہو،انانیت ہو، لالچ ہو، سستی و کاہلی ہو، محبت ہو، عزم و ہمت ہو، نفرت ہو یا کچھ بھی ہو.

سوال نمبر2= خوف کس شئے کا نام ہے؟
غیرمتوقع صورتِ حال کو قبول نہ کرنے کا نام خوف ہے۔ اگر ہم غیر متوقع کو قبول کرلیں تو وہ ایک ایڈونچر ایک مہم جوئی میں تبدیل ہوجاتی ہے.

سوال نمبر3= حسد کسے کہتے ہیں؟
دوسروں میں خیر اور خوبی کو تسلیم نہ کرنے کا نام حسد ہے۔ اگر ہم اس خوبی کو تسلیم کرلیں تو یہ رشک اور انسپریشن بن کر ہمارے لئے ایک مہمیز کا کام انجام دیتی ہے.

سوال نمبر4= غصہ کس بلا کا نام ہے؟
جو امور ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں، ان کو تسلیم نہ کرنے کا نام غصہ ہے۔ اگر ہم تسلیم کرلیں تو عفو درگزر اور تحمل اس کی جگہ لے لیتے ہیں.

سوال نمبر5= نفرت کسے کہتے ہیں ؟
کسی شخص کو جیسا کہ وہ ہے، تسلیم نہ کرنے کا نام نفرت ہے۔ اگر ہم غیر مشروط طور پر اسے تسلیم کرلیں قبول کرلیں، تو اسے محبت کہیں گے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 قرابتداری اورصلہ رحمی 🔷

🌹 حضرت رسولِخداؐ:
❶ جو تم سے قطع رحمی کرے تم اس سے صلہ رحمی کرو،جوتم سے برا سلوک کرے تم اس سے اچھاسلوک کرو اور حق بات کہوخواہ تمہارے اپنے خلاف ہی ہو. (کنزالعمال، حدیث٦٩٢٩)

❷ سنت پرعمل کرواوررشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو. (بحارالانوار، جلد٧٤، ص١٠٣)  

❸ جس نیکی کاثواب بہت جلدملتاہے وہ صلہ رحمی ہے. (بحارالانوار، جلد٧٤، ص١٢١)

❹ صلہ رحمی (بروزمحشر) حساب کو آسان بناتی اور بری موت سے بچاتی ہے۔ (بحارالانوار، جلد٧٤، ص٩٤)

❺ صلہ رحمی شہروں کو آبادکرتی ہے اورعمر کو زیادہ کرتی ہے اگرچہ صلہ رحمی کرنے والے یا جن کے ساتھ صلہ رحمی کی جا رہی ہے نیک لوگ نہ بھی ہوں. (بحارالانوار، جلد٧٤، ص٩٤)

❻ دنیا میں صلہ رحمی برقرار رکھو خواہ سلام کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو. (بحارالانوار، ج۷۴، ص۱۱۰)

❼ ایک شخص صلہ رحمی کرتاہے جبکہ اس کی زندگی کے صرف تین سال باقی ہوتے ہیں تواللہ تعالیٰ وہی تین سال تیس سالوں میں بدل دیتاہے۔ اورایک شخص قطع رحمی کرتاہے جب کہ اس کی عمرمیں ابھی تیس سال ہوتے ہیں تواللہ تعالیٰ تین سال کردیتاہے۔پھرآپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ''یَمحُو اﷲ ُمَایَشَاءُ وَ یُثبِتُ وَ عِندَہ وام الکتاب'' یعنی خداجس کوچاہتاہے مٹادیتاہے اورجس کوچاہتاہے باقی رکھتاہے اوراس کے پاس اصل کتاب (لوح محفوظ) موجود ہے.(رعد/٣٩) (بحارالانوار، جلد٧٤، ص٩۳)

🌹 حضرت علی علیہ السلام:
اپنے قوم وقبیلہ کی عزت کرو کیونکہ یہ لوگ تمہارے بال وپر ہوتے ہیں جن کے ذریعہ تم پرواز کرتے ہو اورتمہاری جڑ ہوتے ہیں جس کی طرف تم اپنے آپ کو منسوب کرتے ہو اور تمہارے ہاتھ ہوتے ہیں جن کے ذریعہ تم کسی پرحملہ کرتے ہو. (بحارالانوار، جلد٧٤، ص١٠٥)

🌹 حضرت امام محمد باقرؑ:
صلہ رحمی اعمال کو پاکیزہ بنا کر بڑھاتی اور مال کو نشوو نما عطا کرتی ہے، بلاؤں کو ٹالتی اورمدت عمرکو زیادہ کرتی ہے. (بحارالانوار، ج٧٤، ص١١١)

🌹 حضرت امام جعفرصادقؑ:
صلہ رحمی اور نیکی حساب کوآسان بناتی ہیں اور گناہوں سے بچاتی ہیں، لہٰذا صلہ رحمی کیا کرو اور اپنے بھائیوں کے ساتھ نیک سلوک کیا کرو خواہ اچھے انداز میں سلام کرنے اورجواب دینے کی صورت میں کیوں نہ ہو. (بحارالانوار، ج٧٤، ص١٣١)

🌹 حضرت امام علی نقیؑ:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداوندعالم سے مناجات کرتے ہوئے عرض کیا: ''خداوندا!جوشخص صلہ رحمی کرتاہے اس کی کیاجزاہے؟'' ارشادہوا:
''اے موسیٰ! میں اس کی مدت عمر کو بڑھا دیتا ہوں اور موت کی سکرات کو اس پرآسان کر دیتا ہوں!۔'' (بحارالانوار، ج٦٩، ص٣٨٣)

📚 نقل از تفسیر المعین  و الترجمه القرآن الکریم.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 آٹھ سوال اور انکے جواب 🔷

سوال1: جنّت کہاں ہے؟
جواب: جنت ساتوں آسمانوں کے اوپر ساتوں آسمانوں سے جدا ہے، کیونکہ ساتوں آسمان قیامت کے وقت فنا اور ختم ہونے والے ہیں، جبکہ جنت کو فنا نہیں ہے، وہ ہمیشہ رہے گی، جنت کی چهت عرش رحمٰن ہے.

سوال2: جہنم کہاں ہے؟
جواب: جہنم جنت کے بازو میں نہیں ہے. بلکہ جہنم ساتوں زمین کے نیچے ایسی جگہ ہے جسکا نام "سجین" ہے. جس زمین پر ہم رہتے ہیں یہ پہلی زمین ہے، اس کے علاوہ چھ زمینیں اور ہیں جو ہماری زمین کے نیچے ہماری زمین سے علیحدہ اور جدا ہیں.

سوال3: سدرةالمنتهیٰ کیا ہے؟
جواب: سدرة عربی میں بیری/ بیری کے درخت کو کہتے ہیں، المنتہیٰ یعنی آخری حد، یہ بیری کا درخت وہ آخری مقام ہے جو مخلوقات کی حد ہے. اس سے آگے حضرت جبرائیلؑ بهی نہیں جا پاتے.
سدرةالمنتهی ایک عظیم الشان درخت ہے،
اس کی جڑیں چهٹے آسمان میں اور اونچائیاں ساتویں آسمان سے بھی بلند ہیں، اس کے پتے ہاتهی کے کان جتنے اور پهل بڑے گهڑے جیسے ہیں، اس پر سنہری تتلیاں منڈلاتی ہیں.
یہ درخت جنت سے باہر ہے. رسول اکرمؐ نے جبرائیلؑ کو اسی درخت کے پاس ان کی اصل صورت میں دوسری مرتبہ دیکھا تها، جبکہ آپؐ نے انہیں پہلی مرتبہ اپنی اصل صورت میں مکہ مکرمہ میں مقام اجیاد پر دیکها تها.

سوالنمبر4: حورعین کون ہیں؟
جواب: حورعین جنت میں مؤمنین کی بیویاں ہوں گی، یہ نہ انسان ہیں نہ جن ہیں اور نہ ہی فرشتہ ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں مستقل پیدا کیا ہے، یہ اتنی خوبصورت ہیں کہ اگر دنیا میں ان میں سے کسی ایک کی محض جھلک دکھائی دے جائے تو مشرق اور مغرب کے درمیان روشنی ہو جائے.
حور عربی زبان کا لفظ ہے اور حوراء کی جمع ہے، اس کے معنی ایسی آنکھ جس کی پتلیاں نہایت سیاه ہوں اور اس کے اطراف نہایت سفید ہوں. اور عین عربی میں عیناء کی جمع ہے اس کے معنی ہیں بڑی بڑی آنکھوں والی.

سوال5: ولدان مخلدون کون ہیں؟
جواب: یہ اہل جنت کے خادم ہیں، یہ بهی انسان یا جن یا فرشتے نہیں ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کی خدمت کے لئے مستقل پیدا کیا ہے، یہ ہمیشہ ایک ہی عمر کے یعنی بچے ہی رہیں گے، اس لیے انہیں "الولدان المخلدون" کہا جاتا ہے. سب سے کم درجہ کے جنتی کو دس ہزار ولدان مخلدون عطا ہوں گے.

سوال6: اعراف کیا ہے؟
جواب: جنت کی چوڑی فصیل کو اعراف کہتے ہیں. اس پر وہ لوگ ہوں گے جن کے نیک اعمال اور برائیاں دونوں برابر ہوں گی، ایک لمبے عرصہ تک وہ اس پر رہیں گے اور اللہ سے جنت میں داخلے کی امید رکهیں گے. انہیں وہاں بهی کهانے پینے کے لیے دیا جائے گا، پهر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جنت میں داخل کردے گا.

سوال7: روزِقیامت کی مقدار کتنی ہے؟
جواب: پچاس ہزار سال كے برابر.
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"تعرج الملئكة و الروح اليه في يوم كان مقداره خمسين الف سنة."

ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ "قیامت کے پچاس موقف ہیں، اور ہر موقف ایک ہزار سال کا ہو گا."

■ جب آیت "یوم تبدل الأرض غیر الأرض و السماوات" نازل ہوئی تو
رسول اکرمؐ سے پوچھا گیا کہ جب یہ زمین و آسمان بدل دئیے جائیں گے تب ہم کہاں ہوں گے؟
آپؐ نے فرمایا:
"تب ہم پل صراط پر ہوں گے. پل صراط پر سے جب گزر ہوگا اس وقت صرف تین جگہیں ہوں گی..
1. جہنم
2. جنت
3. پل صراط"

سوال8= پل صراط کی تفصیل کیا ہے؟
قیامت میں جب موجودہ آسمان اور زمین بدل دیئے جائیں گے اور پل صراط پر سے گزرنا ہوگا وہاں صرف دو مقامات ہوں گے.. جنت اور جہنم.
جنت تک پہنچنے کے لیے لازماً جہنم کے اوپر سے گزرنا ہوگا. جہنم کے اوپر ایک پل نصب کیا جائیگا، اسی کا نام "الصراط" ہے، اس سے گزر کر جب پار پہنچیں گے وہاں جنت کا دروازہ ہوگا.

● پل صراط کی صفات؛
1- بال سے زیادہ باریک ہوگا.
2- تلوار سے زیادہ تیز ہو گا.
3- سخت اندھیرے میں ہوگا،
اس کے نیچے گہرائیوں میں جہنم بهی نہایت تاریکی میں، سخت بپهری ہوئی اور غضبناک ہوگی.
4- گناہگار کے گناہ اس پر سے گزرتے وقت مجسم اس کی پیٹھ پر ہوں گے، اگر اس کے گناہ زیادہ ہوں گے تو اس کے بوجھ سے اس کی رفتار ہلکی ہو گی، اور جو شخص گناہوں سے ہلکا ہوگا تو اس کی رفتار تیز ہوگی.
5- اس پل کے اوپر آنکڑے لگے ہونگے اور نیچے کانٹے لگے ہونگے جو قدموں کو زخمی کرکے اسے متاثر کریں گے. لوگ اپنی بداعمالیوں کے لحاظ سے اس سے متاثر ہوں گے.
6- جہنم کے گڑهے میں گرنے والے لوگوں کی بلند چیخ پکار سے پل صراط پر دہشت طاری ہو گی.

لوگ اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے بہت سوں کو پل صراط سے گرتا ہوا دیکھیں گے اور بہت سوں کو دیکھیں گے کہ وہ اس سے نجات پاگئے ہیں.

اے اللہ تعالٰی بحق محمد وآل محمد ہمیں کامیابی عطا فرمانا اور محمد وآل محمد کی شفاعت سے ہمکنار کرنا.

اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ الَّذِیْ لَااِلٰہَ اِلَّاھُوَالْحَيُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
📗 قرآن میں اصولِ دین، فروعِ دین 📗

🔷 اصول دین.....

❶ توحید:
قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدْ. کہہ دو! وہ اللہ ایک ہے.
(سورہ الإخلاص)

❷ عدل:
اَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیْدِ.
بےشک اللّٰہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں.
(سورہ آل عمران:182)

❸ نبّوت:
وَمَآ اَرسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہ.
اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ خدا کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے.
(سورہ النسآء:64)

❹ امامت:
قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا.
اس(اللّٰہ) نے کہا میں تم [ابراھیم] کو لوگوں کا امام بنانے والا ہوں. (سورہ بقرہ:124)

❺ قیامت:
اِنَّ اللّٰہَ یَفْصِلُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ.
بےشک اللّٰہ ان لوگوں کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا. (سورہ الحج:17)

🔶 فروع دین..........

❶ نماز:
وَاَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ... اور نماز قائم کرو.
(سورہ بقرہ43)

❷ روزہ:
کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ... تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں.
(سورہ بقرہ:183)

❸ حج:
وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً.
اور ان لوگوں پر جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں محض اللّٰہ کے لئے خانہ کعبہ کا حج واجب ھے. (سورہ آل عمران:97)

❹ زکواۃ؛
وَاٰتُواالزَّکٰوۃَ... اور زکواۃ ادا کرو.
(سورہ بقرہ:43)

❺خمس؛
وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَئ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہ وَلِلرَّسُوْلِ ولِذِی الْقُرْبیٰ۔۔۔۔۔
اور جان لو جو غنیمت(نفع) تم کسی چیز سے حاصل کرو تو اس کا پانچواں حصہ خدا اس کے رسول اور {رسول کے} قرابتداروں کا ہے.
(سورہ الانفال:41)

❻ جھاد؛
وَجَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہ.
اور اللّٰہ کی راہ میں ایسے جھاد کرو جیسا جھاد کا حق ھے. (سورہ الحج:78)

❼ امربالمعروف،
❽ نہی عن المنکر:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ.
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی ھدایت کے لئے پیدا کئے گئے ہو، تم لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو.
(سورہ آل عمران:110)

❾ توّلا:
قُل لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبیٰ.
کہہ دیجیے کہ میں تم سے اپنے قرابتداروں (اھلبیتؑ) کی محبت کے سوا کوئی اجرِ رسالت نہیں مانگتا. (سورہ الشورٰی:23)

❿ تبّرا:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ.
بےشک جو لوگ خدا اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر خدا نے دنیا اور آخرت میں لعنت کی ھے. (سورہ الاحزاب:57)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌟 وقتِ نزع دیدارِ پنجتن پاکؑ 🌟

🌹رسول اكرمؐ نے فرمایا:
جو ہم اہلبيت سے نفرت كرے گا وہ منافق ہوگا.(1)

🌹رسول اكرمؐ نے فرمایا:
ہم اہلبيت كا دوست مؤمن متقى ہوگا اور ہمارا دشمن منافق شقى ہوگا.(2)

🌹رسول اكرمؐ نے فرمایا:
قسم ہے اس ذات كى جس كے قبضہ ميں ميرى جان ہے!
انسان كى روح اس وقت تک جسم سے جدا نہيں ہوتى جب تک جنّت كے درخت يا جہنم كے زقوم كا مزہ نہ چكھ لے اور ملک الموت كے ساتھ مجھے، علىؑ، فاطمہؑ، حسنؑ اور حسينؑ كو نہ ديكھ لے. اس كے بعد اگر ہمارا مُحب ہے تو ہم ملک الموت سے كہتے ہيں ذرا نرمى سے كام لو كہ يہ مجھ سے اور ہمارے اہلبيتؑ سے محبّت كرتا تھا اور اگر ہمارا اور ہمارے اہلبيتؑ كا دشمن ہے تو ہم كہتے ہيں ملک الموت ذرا سختى كرو كہ يہ ہمارا اور ہمارے اہلبيتؑ كا دشمن تھا.
اور ياد ركھو! ہمارا دوست مؤمن كے علاوہ اور ہمارا دشمن منافق بدبخت كے علاوہ كوئی نہيں ہو سكتا ہے.(3)

📚 حوالہ جات:
(1)فضائل الصحابہ ابن حنبل 2 ص661، 1166، درمنثور7، ص349. نقل از ابن عدى، مناقب ابن شہرآشوب3، ص205، كشف الغمہ1، ص47. روايت ابوسعيد.
(2)ذخائرالعقب، ص18، روايت جابر بن عبداللہ. كفايةالاثر، ص110. واثلہ بن الاسقع.
(3)مقتل الحسين، خوارزمى 1، ص109، روايت زيد بن علی.

بشکریہ تحقیق: ریاض قادری

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 صدقے کا کرشمہ 🔷

ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دَور رہتا تھا، ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی. اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے.

وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری کی مجلس پر گزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطے لوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ..
"جو شخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو چار دعائیں دوں گا"

اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر کو دے دیے.

منصور بصری نے کہا؛ بتا کیا دعائیں چاہتا ہے...؟

غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں.

منصور بصری نے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے...؟

غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے.

منصور بصری نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا؛ تیسری دعا کیا ہے...؟

غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میرے سردار کو توبہ کی توفیق دے اور اس کی دعا قبول کرے.

منصور بصری نے اس کی بھی دعا کی، پھر پوچھا چوتھی دعا کیا ہے...؟

غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری، میرے سردار کی، تمہاری اور یہاں مجمعے میں موجود ہر شخص کی مغفرت کرے.

منصور بصری نے اس کی یہ بھی دعا کی.

اس کے بعد وہ غلام خالی ہاتھ اپنے سردار کے پاس واپس چلا گیا. سردار اسی کے انتظار میں تھا. دیکھ کر کہنے لگا:
اتنی دیر لگا دی...؟
غلام نے قصہ سنایا.
سردار نے ان دعاؤں کی برکت سے بجائے غصہ ہونے اور مارنے کے یہ پوچھا کہ کیا کیا دعائیں کرائیں...؟

غلام نے کہا پہلی تو یہ کہ میں غلامی سے آزاد ہو جاؤں.....
سردار نے کہا میں نے تجھے آزاد کر دیا.
دوسری کیا تھی...؟

غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدلہ مل جائے.....
سردار نے کہا میری طرف سے تمہیں چار ہزار درہم نذر ہیں.
تیسری کیا تھی....؟

غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ تمہیں شراب وغیرہ فسق و فجور سے توبہ کی توفیق دے....
سردار نے کہا میں نے اپنے سب گناہوں سے توبہ کر لی.
چوتھی کیا تھی....؟

غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری، آپ کی، ان بزرگ کی اور سارے مجمع کی مغفرت فرما دے.
سردار نے کہا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے.

رات کو سردار کو خواب میں ایک آواز سنائی دی.....
جب تو نے وہ تینوں کام کر دیے جو تیرے اختیار میں تھے تو کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ وہ کام نہیں کرے گا جس پر وہ قادر ہے....؟
اللہ نے تیری، اس غلام کی، منصور کی، اور اس سارے مجمعے کی مغفرت کر دی ہے.

اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ صدقہ باعث نجات بھی ہے اللہ پاک ہم سب کو صدقہ کرنے اور اپنی زندگی کو عین اسلام کے مطابق بسر کرنے کی اور جو ہم سے گناہ ہو گئے ہیں ان کی معافی مانگنے کی توفیق دے.

📚 ریاض الصالحین صفحہ ۱۲۰.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹حضرت آدمؑ کی دعا کا وسیلہ🌹

"وَأخرج ابْن النجار عَن ابْن عَبَّاس قَالَ سَأَلت رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَن الْكَلِمَات الَّتِي تلقاها آدم من ربه فَتَابَ عَلَيْهِ قَالَ: سَأَلَ بِحَق مُحَمَّد وَعلي وَفَاطِمَة وَالْحسن وَالْحُسَيْن إِلَّا تبت عَليّ فَتَابَ عَلَيْهِ."

ترجمہ:
ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ..
جب حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ کے متعلق سوال کیا گیا تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
حضرت آدم علیہ السلام نے کہا؛ خداوندا تجھے واسطہ محمدؐ، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ اور حسینؑ کا کہ تو میری لغزش کو درگزر فرما۔ تب توبہ قبول ہوئی.
سبحان اللہ کیا شان ھے پنجتن پاکؑ کی.

حوالہ جات:
الدرالمنثور، ج1، ص127.
المؤلف: عبد الرحمٰن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي (المتوفى: 911هـ)، الناشر: دار الفكر بيروت، عدد الأجزاء:8.

تذكرةالموضوعات، ج1، ص98.
المؤلف: محمد طاهر بن علي الصديقي الهندي الفَتَّنِي (المتوفى: 986هـ)، الناشر: إدارة الطباعة المنيرية، الطبعة: الأولى، 1343 هـ، عدد الأجزاء:1.

تنزيه الشريعة، ج1، ص195.
المؤلف: نور الدين، علي بن محمد بن علي بن عبد الرحمن ابن عراق الكناني (المتوفى: 963هـ)، المحقق: عبدالوهاب عبداللطيف، عبدالله محمد الصديق الغماري، الناشر: دارالكتب العلمية بيروت، الطبعة: الأولى، 1399 هـ، عددالأجزاء: 2.

اللآلىء المصنوعة، ج1، ص369.
المؤلف: عبدالرحمٰن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي (المتوفى: 911هـ)، المحقق: أبوعبدالرحمان صلاح بن محمد بن عويضة، الناشر: دارالكتب العلمية بيروت، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996م، عددالأجزاء: 2.

الموضوعات، ج2، ص3.
المؤلف: جمال الدين عبدالرحمٰن بن علي بن محمد الجوزي (المتوفى: 597هـ)، ضبط وتقديم وتحقيق: عبدالرحمٰن محمد عثمان، الناشر: محمد عبدالمحسن صاحب المكتبة السلفية بالمدينة المنورة، الطبعة: الأولى، جـ 1، 2: 1386 هـ - 1966 م، جـ 3: 1388 هـ - 1968 م.

الفوائدالمجموعة، ج1، ص394.
المؤلف: محمد بن علي بن محمد الشوكاني (المتوفى: 1250هـ)، المحقق: عبدالرحمٰن بن يحي المعلمي اليماني، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان.

الفتح الرباني من فتاوى الإمام الشوكاني، ج1، ص288.
المؤلف: محمد بن علي بن محمد بن عبدالله الشوكاني اليمني (المتوفى: 1250هـ)، حققه ورتبه: أبو مصعب «محمد صبحي» بن حسن حلاق، الناشر: مكتبة الجيل الجديد، صنعاء- اليمن، عددالأجزاء: 12.

اتحاف السائل بما لفاطمة من المناقب والفضائل، ج1، ص76.
المؤلف: زين الدين محمد المدعو بعبد الرؤوف بن تاج العارفين بن علي بن زين العابدين الحدادي ثم المناوي القاهري (المتوفى: 1031هـ)، دراسة وتحقيق وتعليق: عبداللطيف عاشور، الناشر: مكتبة القرآن للطبع والنشر والتوزيع، القاهرة، عدد الأجزاء: 1.

بشکریہ مرتبہ: ریاض قادری

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 عورت کی آزادی 🔷

بھیڑیوں نے بکریوں کے حق میں جلوس نکالا کہ بکریوں کو آزادی دو بکریوں کے حقوق مارے جا رہے ہیں انہیں گھروں میں قید کر رکھا گیا ہے...

ایک بکری نے جب یہ آواز سنی تو دوسری بکریوں سے کہا کہ سنو سنو! ہمارے حق میں جلوس نکالے جا رہے ہیں چلو ہم بھی نکلتے ہیں اور اپنے حقوق کی آواز اٹھاتے ہیں...

ایک بوڑھی بکری بولی بیٹی ہوش کے ناخن لو یہ بھیڑیے ہمارے دشمن ہیں ان کی باتوں میں مت آؤ...

مگر نوجوان بکریوں نے اس کی بات نہ مانی کہ جی آپ کا زمانہ اور تھا یہ جدید دور ہے۔ اب کوئی کسی کے حقوق نہیں چھین سکتا۔ یہ بھیڑیے ہمارے دشمن کیسے.... یہ تو ہمارے حقوق کی بات کر رہے ہیں...

بوڑھی بکری سن کر بولی؛ بیٹا یہ تمہیں برباد کرنا چاہتے ہیں ابھی تم محفوظ ہو۔ اگر ان کی باتوں میں آگئی تو یہ تمہیں چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے...

بوڑھی بکری کی یہ بات سن کر جوان بکری غصے میں آگئی اور کہنے لگی کہ اماں تم تو بوڑھی ہوچکی ہو، اب ہمیں ہماری زندگی جینے دو، تمہیں کیا پتہ آزادی کیا ہوتی ہے. باہر خوبصورت کھیت ہونگے ہرے بھرے باغ ہونگے، ہر طرف ہریالی ہوگی، خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی، تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اب ہم مزید یہ قید برداشت نہیں کرسکتیں. یہ کہہ کر سب آزادی آزادی کے نعرے لگانے لگیں اور بھوک ہڑتال کر دی.

ریوڑ کے مالک نے جب یہ صورتحال دیکھی تو مجبورا انہیں کھول کر آزاد کر دیا.

بکریاں بہت خوش ہوئیں اور نعرے لگاتی چھلانگیں مارتی نکل بھاگیں... مگر یہ کیا...؟ بھیڑیوں نے تو ان پر حملہ کر دیا اور معصوم بکریوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا....

🔘 آج عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والے درحقیقت عورتوں تک پہنچنے کی آزادی چاہ رہے ہیں. انہیں عورتوں کے حقوق کی نہیں.... اپنی غلیظ پیاس کی فکر ہے۔ کاش کہ کوئی سمجھے!!!

درحقیقت آج کا لبرل مرد عورت کی آزادی نہیں بلکہ... عورت تک پہچنے کی آزادی چاہتا ہے...

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/3064
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔

🔷 اسکارف
http://t.me/islamwitheman/151

🔷 حوا کی بیٹی
https://t.me/islamwitheman/362

🔷 مردوں کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/413

🔷 عورت کی آزادی
https://t.me/islamwitheman/412

🔷 دو قسم کی عورتیں
https://t.me/islamwitheman/2207

🌹 عفت و پاکدامنی
http://t.me/islamwitheman/2550

🌹 حضرت فاطمہؑ اور حجاب
http://t.me/islamwitheman/2578

🌸 حجاب کے متعلق روایات
http://t.me/islamwitheman/2714

🔷 پردہ اور آزادی
https://t.me/islamwitheman/2909

🔷 عورت کا پردہ کرنا ناگزیر ہے
https://t.me/islamwitheman/2931

🌹 عورت
https://t.me/islamwitheman/3065

🌹 اسلام عورت کا محافظ
https://t.me/islamwitheman/3066

🔷 میرا جسم میری مرضی
https://t.me/islamwitheman/3067

🔷 تیرا جسم تیری مرضی؟
https://t.me/islamwitheman/3068

🔷 عورت مارچ والیوں کو جواب
https://t.me/islamwitheman/3069

🔷 کھانا خود گرم کر لو
https://t.me/islamwitheman/3070

🔷 نوجوان لڑکیوں کے نام پیغام
https://t.me/islamwitheman/3071

🔷 میرا ہمسفر ہی میری ڈھال
https://t.me/islamwitheman/4154

🌹 لڑکیوں پر پابندیاں لگانے کی وجہ
https://t.me/islamwitheman/4157
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 مردوں کے حقوق 🔷

"یہ مضمون ہر عورت کےمتعلق نہیں ہے. صرف مغرب زدہ بیمار ذہنیت رکھنے والی عورتوں اور ان کے ہم خیال مردوں کے لئے ہے اور مشرق کی باحیاء اور بااخلاق عورتوں کو بےحیا‌‎ئی اور بےاخلاقی کی ترغیب دینے کی حوصلہ شکنی کیلئے ہے۔ ایسی وہ تمام عورتیں جو باحیاء اور بااخلاق ہیں، اپنی اسلامی اقدار سے روشناس ہیں، اپنی زندگی احسن طریقے سے اسلامی اصولوں کے مطابق گزارتے ہو‎ئے اپنے فرائض ادا کر رہی ہیں اور حقوق حاصل کر رہی ہیں اورجن عورتوں کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں، انکو حقوق دلوانے کیلئے اسلامی اقدار کا پاس رکھتے ہو‌‏ئے جدوجہد کر رہی ہیں، وہ سب میرے لئے قابل احترام ہیں۔"

🔷عورتوں کےمعاشرےمیں مردوں کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ آپ یقین نہیں کریں گے مگر بات حقیقت پر مبنی ہے، آجکل کے معاشرے کی عورتوں نے مردوں کی ناک میں دم کرکے رکھ دیا ہے۔ آپ کو‎ئی بھی اخبار دیکھ لیں، ان میں جلی حروف میں عورتوں کی طرف سے یہ واویلا کیا گیا ہوتا ہے.. "مردوں نے عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے"، "آخر حوا کی بیٹی کب تک پٹتی رہے گئی؟" وغیرہ وغیرہ...

🔸ہمارےمعاشرےمیں مغرب کی نسبت اکثر علاقوں میں عورتیں پہلے ہی کافی مراعات حاصل کر رہی ہیں۔ ظلم کے واویلے کی آڑ لیتے ہوئے یہ عورتیں مردوں کے حقوق پر بھی ڈاکہ ڈال رہی ہیں. آپ کو میری بات پر یقین نہیں تو ملازمت کے شائع ہونیوالے اشتہارات ملاحظہ کرلیں، ان پر عورتوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ ان کو ملازمت کیلئے درخواست دینے پر حوصلہ افزائی کی جا‎ئے گی.

🔸ہرجگہ پر ہمیشہ مردکو ہی قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے، اگر مرد عورت کو تھپڑ مارے، مرد قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ "کتنا ظالم مرد ہے، عورت (کمزور) پر ہاتھ اٹھاتا ہے"، "اگر عورت مرد کو تھپڑ مارے تب بھی مرد کو ہی قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے.. کیوں؟

🔸کسی بھی ٹی۔وی چینل کا کو‏ئی بھی تمثیل یا مباحثہ ملاحظہ کر لیں، ہر ایک میں بس ایک ہی راگ آلاپا جاتا ہے کہ "عورت پر ظلم ہو رہا ہے"، "ماں کو معاشرے میں یہ مسئلہ ہے، بیٹی کو یہ، بہو کو وہ" بس عورتوں کے مسائل کی ہی بات کی جاتی ہے. کبھی کسی تمثیل میں مردوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی ہے، کیا مرد انسان نہیں؟

🔸جابجا آپ ملاحظہ کریں گے کہ سیکولر (لادین) معاشروں میں (کلی/جزوی) عورتیں مردوں کو گناہ کی طرف مائل کرتی ہوئی نظر آئیں گی، جب کہيں پر کوئی مرد ان کی دعوت قبول کرلیتا ہے تو مرد کی ذہنیت کو ہی گندہ کہا جاتا ہے. کیوں؟

🔸اخبارات ہوں یا رسائل، اشیاء کی تشہیر کیلئے عورت ہی کی تصویر کیوں شائع کی جاتی ہے(جن میں عورتوں نے اپنی نمائش کی ہوتی ہے)؟

🔸اگر کوئی لڑکی/عورت کوتوال کو شکایت لگائے کہ مرد مجھے گھور/چھیڑ رہا ہے. تو اس کو سزا/جرمانہ ہو جاتا ہے. مگر مرد ایسی شکایت لگا‌‏ئے تو بات مذاق میں لی جاتی ہے، کیوں؟

🔸ستم پر ستم، لڑکی کی ماں، لڑکی کو اس کی شادی پر رخصت کرتے ہوے کہتی ہے کہ تیرا شوہر تجھے خوش رکھے گا. وہ اس کو ساتھ میں یہ کیوں نہیں کہتی کہ تو بھی اس کو خوش رکھنا؟

🔸پرانےوقتوں میں لڑکےزیادہ پڑھے، لکھے ہوتے تھے اور لڑکیاں کم پڑھی لکھی. ان پڑھ لڑکا ایسی لڑکی کو اپنی شریک حیات بخوشی بنا لیتا تھا اور اب بھی.. مگر اب زیادہ پڑھی لکھی لڑکیاں کم پڑھے لکھے لڑکے سے شادی کرنے کو اپنے لئے گالی/ بدنامی کا باعث سمجھتی ہیں اور کسی امیر آدمی کی دوسری، تیسری بیوی بننا پسند کرتی ہیں.. کیوں؟

🔸بیوی اپنے خاوند پر شک کرے تو اس کا حق ہو گیا اگر خاوند اپنی بیوی پر شک کرے تو گری ہوئی ذہنیت کا مرد کہلایا. کہاں کا انصاف ہے؟

🔸مرد قتل کرے تو سزائےموت اور اگر عورت قتل کر دے تو صرف عمر قید.. کہاں کا انصاف ہے؟

🔷میرے دل میں عورتوں کے لئے عزت کا مقام ہے. مغرب نے عورتوں کو اس کا حق نہیں دیا. عورت مغرب میں اپنے تمام تر معاملات میں آزاد ہے مگر وہ اکیلی ہے، اسکا کوئی پرسان حال نہیں ہے. مرد ان کے ساتھ رہتے ہیں، شادی نہیں کرتے، شاذونادر کسی جوڑے کی شادی ہوتی ہے۔(یہ انسانی معاشرے کی نشانی نہیں ہے)

🔷عورت اور مرد بالکل بھی برابر نہیں ہیں۔ عورت، عورت ہے اور مرد، مرد ہے. دونوں کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں. میاں بیوی کا رشتہ ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا یا قابو کرکے رکھنا نہیں ہوتا بلکہ دونوں کی ہم آہنگی سے انسانیت کی بقاء کیلئے ایک صحت مند، سمجھدار معاشرے کی پرورش میں اپنی ذمہ داری احسن طریقہ سے ادا کرنا ہوتی ہے.

🔷پاکستانی معاشرے میں اگر کہیں پر عورت ظلم سہہ رہی ہے تو وہ صرف اس لئے کہ وہاں لوگ اسلامی تعلیمات پر کلی طور پر عمل پیرا نہیں ہیں. جزوی طور پر ہم سب مسلمان بنتے ہیں. مگر حقیقی کامیابی تو مکمل اسلام میں داخل ہونے پر ہے. ہر معاشرتی مسئلے کا حل اسلام میں موجود ہے. اللہ ہم سب کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے.

🌹منقول از: استاد حوزہ علمیہ قم: آقای انصاریان

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🚫 زنا کیا ہے؟ 🚫

زنا کیا ہے؟
اگر مرد ایک ایسی عورت سے صحب/ همبستری کرے جو اس کی بیوی نہیں ہے تو، یہ زنا کہلاتا ہے، ضروری نہیں کہ ساتھ سونے کو ہی زنا کہتے ہیں، بلكہ چھونا بھی زنا کا ایک حصہ ہے. اور کسی پرائی عورت کو دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے. زنا کو اسلام میں ایک بہت بڑا گناہ (شرک کے بعد دوسرا بڑا گناہ) کہا گیا ہے.

اور اسلام نے ایسا کرنے والوں کی سزا دنیا میں بھی رکھی ہے. اور مرنے کے بعد اللہ اس کی سخت سزا دے گا۔

اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے:
"اور (دیکھو) زنا کے قریب بھی نہ جانا، وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے." (سورة بنی اسرائیل، آیت:32)

سورہ فرقان میں ارشاد ہوتا ہے:
"(خدا کے نیک بندوں کی صفات یہ ہیں کہ) وہ لوگ خدا کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی پرستش نہیں کرتے، اور اس نفس(جان) جسکے مارنے کو خدا نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے، اور زنا نہیں کرتے. اور جو شخص ایسا کرے گا وہ اپنے گناہ کی سزا بھگتے گا. قیامت کے دن اس کے لئے عذاب دوگنا کر دیا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ ذلیل و خوار رہے گا." (سورةفرقان، آیت:68)

حضرت محمدؐ نے فرمایا:
"مؤمن تو کوئی زنا کر ہی نہیں سکتا." (بخاری، ج3، ص614، حدیث1714)

امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
جو شخص بھی مسلمان، یہودی، نصرانی یا مجوسی عورت سے زنا کریگا خواہ وہ عورت آزاد ہو یا کنیز. اس پر اصرار کرتے ہوئے، توبہ کئے بغیر اس دنیا سے اٹھ جائے گا تو پروردگار عالم تین سو عذاب کے دروازے اس کی قبر میں کھول دیتا ہے. اور ہر دروازے سے کئی سانپ، بچھو اور اژدهے آگ سے نکل آئیں گے اور قیامت تک جلاتے اور تکلیفیں پہنچاتے رہیں گے. (گناہان کبیرہ، ص:121)

زنا کی سزا اور عذاب:
اگر زنا کرنے والے شادی شدہ ہوں تو کھلے میدان میں پتھر مارمار کر مار ڈالا جائے یعنی سنگسار کیا جائے اور اگر كنوارے ہوں تو 100 کوڑے مارے جائیں. (بخاری، ج3، ص615، حدیث1715)

■ دوستو! اس كبيرہ گناہ کی اور بھی سزائیں ہیں، اس لئے خود بھی بچو اور دوسروں کو بھی بچاؤ.

■ آج کل دیکھنے میں آیا ہے کی اس گناہ میں بہت سے لوگ شامل ہیں، خاص کر بازاروں میں جہاں عورتیں اور مرد جاتے ہیں کسی کا ہاتھ کسی کو لگ رہا ہے کہاں لگتا ہے کچھ معلوم نہیں ہوتا، چاہے لڑکا ہو یا لڑكی اور پھر اس گناہ کو کرنے کے بعد اپنے دوستوں کو بڑی شان سے سناتے ہیں، بلكہ ان کو بھی ایسا کرنے کی رائے دیتے ہیں.

● اگر کوئی کنوارہ لڑکا یا لڑکی کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا گناہ اس کے ماں باپ کو بھی ملتا ہے كيونکہ انہوں نے ان کی جلد شادی نہیں کی اور درست تربیت نہیں کی، جس کی وجہ سے وہ غلط کام کرنے لگے.

● اگر آپ نے اپنے سیکس کا قصہ اپنے دوست/ سہیلی کو سنایا اور اس کے دل میں بھی ایسا کرنے کی بات آگئی اور اس نے وہ کام کر لیا تو اس کا گناہ آپ کو بھی ملے گا، کیوکہ آپ نے اس کو غلط راستہ دکھایا هے.
● سب كے گھر میں ماں، بہن، بیٹی ہے، اگر آپ دوسرے کی طرف تاک جھانک کرو گے تو ہو سکتا ہے آپ کا گھر بھی محفوظ نہ رہے.

🔘 اللہ ہم سب کو اس بڑے گناہ سے بچائے۔

🌹 آج آپ یہ میسیج اگر کسی 1 کو بھی شیئر کر دیں تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے کتنے لوگ "اللہ" سے توبہ کر لیں گے انشاء اللہ.

https://t.me/islamwitheman/414
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🚫 زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو 🚫
‎
"وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا." (سورةالإسراء، آیت:32)

ترجمہ:
خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے.

■ زناکےراستے اور انکےقریب جانیکی ممانعت:
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ زنا نہ کرو بلکہ یوں فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ یعنی وہ تمام راستے اور طور طریقے جو زنا کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان سب سے اجتناب کرو۔ ایسے راستوں کا مفصل بیان تو سورہ نور اور سورہ احزاب میں آیا ہے۔ مختصراً یہ کہ ہر وہ چیز جو انسان کی شہوت کی انگیخت کا سبب بن سکتی ہے۔ وہ زنا کا راستہ ہے مثلاً عورتوں سے آزادانہ اختلاط، عورتوں کا بے پردہ ہو کر بازاروں میں نکلنا، اجنبی مرد و عورت کی گفتگو بالخصوص اس صورت میں کہ وہ اکیلے ہوں۔ نظر بازی، عریاں تصویر، فلمیں، فحش لٹریچر، گندی گالیاں، ٹی وی اور ریڈیو پر فحش افسانے اور ڈرامے اور مردوں اور عورتوں کی بے حجابانہ گفتگو وغیرہ سب شہوت کو ابھارنے والی باتیں ہیں اور یہی زنا کے راستے ہیں.

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ اور زنا کی طرف لے جانے والے تمام راستوں پر پابندیاں لگا دیں.

زنا کاری اور اس کے اردگرد کی تمام سیاہ کاریوں سے قرآن روک رہا ہے. زنا کو شریعت نے کبیرہ اور بہت سخت گناہ بتایا ہے وہ بدترین طریقہ اور نہایت بری راہ ہے.

مسند احمد میں ہے کہ ایک نوجوان نے زنا کاری کی اجازت آپ سے چاہی لوگ اس پر جھک پڑے کہ "چپ رہ، کیا کر رہا ہے، کیا کہہ رہا ہے؟"
آپؐ نے اسے اپنے قریب بلا کر فرمایا، بیٹھ جا جب وہ بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا:
کیا تو اس کام کو اپنی ماں کے لئے پسند کرتا ہے؟
اس نے کہا؛
نہیں، اللہ کی قسم نہیں یا رسولؐ اللہ مجھے آپ پر اللہ فدا کرے ہرگز نہیں.

آپ نے فرمایا:
پھر سوچ لے کہ کوئی اور کیسے پسند کرے گا؟ آپؐ نے فرمایا؛ اچھا تو اسے اپنی بیٹی کے لئے پسند کرتا ہے؟
اس نے اسی طرح تاکید سے انکار کیا.

آپؐ نے فرمایا:
ٹھیک اسی طرح کوئی بھی اسے اپنی بیٹیوں کے لئے پسند نہیں کرتا، اچھا اپنی بہن کے لئے اسے تو پسند کرے گا؟
اس نے اسی طرح سے انکار کیا.

آپؐ نے فرمایا:
اسی طرح دوسرے بھی اپنی بہنوں کے لئے اسے مکروہ سمجھتے ہیں. بتا کیا تو چاہے گا کہ کوئی تیری پھوپھی سے ایسا کرے؟
اس نے اسی سختی سے انکار کیا.

آپؐ نے فرمایا:
اسی طرح اور سب لوگ بھی.

پھر آپؐ نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ کر دعا کی کہ الہٰی اس کے گناہ بخش، اس کے دل کو پاک کر، اسے عصمت والا بنا. پھر تو یہ حالت تھی کہ یہ نوجوان کسی کی طرف نظر بھی نہ اٹھاتا.

ابن ابی الدنیا میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے:
شرک کے بعد کوئی گناہ زنا کاری سے بڑھ کر نہیں کہ آدمی اپنا نطفہ کسی ایسے رحم میں ڈالے جو اس کے لئے حلال نہیں.

رسول اکرمؐ نے فرمایا:
"اِذَا کَثُرَ الزِّنَا مِنْ بَعْدیْ کَثُرَ مَوْتُ الْفُجَاةِ."
ترجمہ:
جب میرے بعد کثرت سے زنا ہونے لگے گا تو ناگہانی اموات بھی کثرت سے ہوں گی. (گناہان کبیرہ، ص:123، بحوالہ وسائل الشیعہ)

Do not even go close to fornication. It is indeed a shameful act, and an evil way to follow.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/415
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🚫 زنا شرک کیبعد سب سے بڑا گناہ 🚫

احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص زنا کا مرتکب ہو اور بغیر توبہ کئے مر جائے. اس پر مصیبتوں کا دروازہ کھل جاتا ہے. اللّہ تعالیٰ اس پر سختی فرمائے گا. اور اس کو زنا کے ہر، ہر عمل کے بدلے آخرت کا ملتا جلتا عذاب ہوگا. اسکی تفصیل درج ذیل ہے.

1) نامحرم کے لئے چہرہ سنوارتا تھا:
قیامت کے دن چہرہ سیاہ ہوگا.

2) نامحرم کے چہرے کو محبّت کی نظر سے دیکھتا تھا:
قیامت کے دن چہرے کا گوشت گر جائےگا.

3) نامحرم کو دیکھ کر اس کا چہرہ کھل جاتا تھا:
قیامت کے دن اس کے چہرے کو آگ سے مشتعل کیا جائےگا.

4) نامحرم سے دل لگی کی باتیں کرتا تھا:
قیامت کے دن روتا ہوا اٹھے گا.

5) نامحرم سے ہنسی مذاق کرکے قہقہے لگاتا تھا:
قیامت کے دن پِیٹتا چِلّاتا اُٹھےگا.

6) نامحرم سے ملاقات کرکے خوش ہوتا تھا:
قیامت کے دن غمگین اور اداس حالت میں اُٹھےگا.

7) نامحرم کو شہوت کی نظر سے دیکھتا تھا:
قیامت کے دن پگھلا ہوا سیسہ آنکھوں میں ڈالا جائےگا.

8) نامحرم کی ملاقات کے لئے چل کر گیا: قیامت کے دن پاؤں میں آگ کی بیڑیاں پہنائیں گے.

9) نامحرم کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے:
قیامت کے دن ہاتھوں میں آگ کی ہتھکڑیاں پہنائیں گے.

10) نامحرم سے زنا کی ابتداء منہ ملانے (بوسے) سے کی:
قیامت کے دن گھسیٹ کر منہ کے بَل جہنّم میں ڈالا جائےگا.

11) نامحرم کی گردن سے گردن ملائی:
قیامت کے دن گردن میں آگ کی زنجیر ڈالیں گے.

12) نامحرم کے سامنے شرمگاہ سے لباس ہٹایا:
قیامت کے دن تارکول کا لباس پہنائیں گے.

13) نامحرم سے ملکر جنسی پیاس بجھائی:
قیامت کے دن پیاسا اُٹھایا جائےگا.

14) نامحرم سے ملاپ کے وقت جنسی طوفان اٹھا:
قیامت کے دن شرمگاہ کو آگ سے دہکایا جائےگا.

15) نامحرم سے ملاپ کے وقت شرمگاہ سے منی خارج ہوئی:
قیامت کے دن شرمگاہ سے بدبو خارج ہوگی.

16) نامحرم کے بالوں میں محبّت سے انگلیاں پھیریں:
قیامت کے دن بالوں سے پکڑ کر جہنّم میں لٹکائیں گے.

17) نامحرم کے پستان پکڑے اور چوسے:
قیامت کے دن پستانوں کے بَل جہنّم میں لٹکائیں گے.

18) نامحرم کے جسم کی مہک سونگھی:
قیامت کے دن جسم سے حیران کن اذیتناک بدبو آئے گی.

19) نامحرم کے ساتھ ایک بستر پر اکٹھے ہوئے:
قیامت کے دن آگ کے تنور میں یکجا کیا جائےگا.

20) نامحرم کے ساتھ اپنے جسم کو کھولا:
قیامت کے دن اللّہ تعالیٰ کے سامنے ننگا پیش کیا جائےگا.

21) نامحرم سے زنا کے لئے لوگوں سے چھپ گیا:
قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے بےعزت کیا جائےگا.

22) نامحرم سے تعلّق چھپانے کے لئے لوگوں سے جھوٹ بولا:
قیامت کے دن منہ پر مہر لگاکر اعضاء سے گواہی لیں گے.

23) نامحرم سے اپنے حسن و جمال کی تعریفیں سنیں:
قیامت کے دن سب لوگ لعنتیں بھیجیں گے.

24) نامحرم سے ملتے وقت سلام کرتے تھے:
قیامت کے دن اللّہ تعالیٰ لعنتیں بھیجے گا.

25) نامحرم کے جسم کے بوسے لئے:
قیامت کے دن سانپ پورے جسم کو ڈسیں گے.

26) نامحرم سے زنا کے وقت انگ انگ نے مزہ پایا:
قیامت کے دن انگ انگ میں بِچّھو ڈنگ لگاۓ گا.

27) نامحرم کے جسم پر اختیار پایا:
قیامت کے دن نامحرم کے شوہر کو نیکیوں پر اختیار ملےگا.

28) نامحرم کے جسم پر سواری کی:
قیامت کے دن نامحرم کے شوہر کے گناہ اس کے سر پر سوار ہوں گے.

29) نامحرم سے ہمیشہ کی دوستی کے وعدے کئے:
قیامت کے دن جہنّم میں ہمیشہ کا عذاب ہوگا.

30) نامحرم سے ہمکلامی کے لطف و مزے لئے:
قیامت کے دن اللّہ تعالیٰ سے ہمکلامی کی لذّت سے محروم ہوگا.

🔶 مندرجہ بالا عبارت سے ثابت ہوا کہ جتنی تفصیلی سزا، زنا کے عمل کی ملے گی اتنی کسی اور گناہ کی نہیں ملے گی. سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللّہ تعالیٰ ہمکلام ہونا پسند نہیں کرے گا بلکہ لعنتیں برسائے گا. رسوا کرے گا.

اللّہ تعالیٰ ہمیں، ہمارے اہل خانہ کو، بچّوں کو، قیامت تک آنے والی نسلوں کو اور جملہ متعلقین کو زنا سے محفوظ فرماۓ.

📚یہ مضمون مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی کی کتاب "حیا اور پاکدامنی" سے لیا گیا ہے. جن حضرات کو مزید تفصیلات دیکھنی ہوں اس کتاب میں دیکھ سکتے ہیں.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/415
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕