ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
💝 خود کو تلاش کیجئے 💝

اگر آپ لوگوں کے حالات پر نظر ڈالیں تو آپ کو چار قسم کے لوگ ملیں گے..

1- اللہ تعالى کے فرمانبردار بندے، جن کی زندگی خوشحال ہے.
2- اللہ تعالى کے فرمانبردار بندے، جن کی زندگی تنگ اور پریشان کن ہے.
3- اللہ تعالى کے نافرمان بندے، جن کی زندگی خوشحال ہے.
4- اللہ تعالى کے نافرمان بندے، جن کی زندگی تنگ اور پریشان کن ہے.

🔷 اب آئیے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ان چاروں قسم کے لوگوں کا جائزہ لیتے ہیں..

■ نمبر1:
اللہ تعالى کے فرمانبردار بندے، جن کی زندگی خوشحال ہے..

فرمانبردار بندوں کی زندگی کا خوشحال ہونا ایک فطری چیز ہے کیونکہ اللہ تعالٰی کا وعدہ ہے..
"مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ" (سورةالنحل97)

ترجمہ:
جو شخص بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر، ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے.

■ نمبر2:
اللہ تعالى کے فرمانبردار بندے، جن کی زندگی تنگ اور پریشان کن ہے..

فرمانبردار بندے کی ایسی زندگی دو حالتوں سے خالی نہیں..

● پہلی حالت:
یا تو اللہ تعالٰی اس بندے سے محبت کرتا ہے اور آزمائش میں مبتلا کر کے اس کے صبر کا امتحان لینا چاہتا ہے اور اس کے ذریعے اس کے مقام و مرتبے کو بلند کرنا چاہتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے:
"وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَ بَشِّرِ الصَّابِرِينَ." (سورةالبقرة:155)

ترجمہ:
اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے.

● دوسری حالت:
یا تو آپ کی اطاعت و فرمانبرداری میں کمی اور کوتاہی پائی جاتی ہے جس سے آپ غافل ہیں اور توبہ کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے اس لئے اللہ تعالٰی آپ کو آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ آپ اس کی طرف رجوع کریں جیسا کہ فرمان باری تعالٰی ہے..
"وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ." (سورةالسجدة:21)

ترجمہ:
اورہم اُنہیں بڑے عذاب سے پہلے ہی چھوٹے عذاب کامزہ ضرور چکھائیں گے تاکہ وہ پلٹ آئیں.

■ نمبر3:
اللہ تعالٰی کے نافرمان بندے جن کی زندگی خوشحال ہے..

اگر آپ کا شمار ایسے لوگوں ميں ہے یعنی معصیت و نافرمانی کے باوجود زندگی خوشحال ہے تو ہوشیار خبردار کیونکہ اللہ کی طرف سے یہ ڈھیل ہو سکتی ہے اور یہ حالت انسان کے لئے انتہائی خطرناک ہے اور اس کا انجام بہت برا اور بھیانک ہوتا ہے، ایسے میں اللہ کا عذاب ضرور آئے گا اگر انسان نے وقت پر توبہ و استغفار نہيں کیا.
چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے..
"فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ." (سورةالأنعام:44)

ترجمہ:
پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی، بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہو گئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے.

■ نمبر4:
اللہ تعالٰی کے نافرمان بندے، جن کی زندگی تنگ اور پریشان کن ہے..

ایسے لوگوں کی زندگی کا تنگ ہونا بھی ایک فطری بات ہے کیونکہ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالٰی کی کھلی وعید آئی ہوئی ہے..
"وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ." (سورةطه:124)

ترجمہ:
اور جو میرے "ذکر" (درس نصیحت) سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے.
=====================

وذَکِّرۡ فَاِنَّ الذِّکۡرٰی تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ.
اور نصیحت کرتے رہیں یقیناً یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی. (سورةالذاريات:55)

👆 ایک مراسلہ 👆

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹کامیابی کیلئے 8 سبق(حصہ اول)🌹

کلاس روم طلبہ سے بھرا ہوا تھا۔ ہر کوئی خوش گپیوں میں مصروف تھا، کان پڑی آواز سُنائی نہ دیتی تھی، اتنے میں پرنسپل کلاس روم میں داخل ہوئے، کلاس روم میں سناٹا چھا گیا.

پرنسپل صاحب نے اپنے ساتھ آئے ہوئے ایک صاحب کا تعارف کراتے ہوئے کہا یہ ہمارے کالج کے وزیٹنگ پروفیسر، پروفیسر انصاری ہیں، آپ مفکر دانشور اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں. یہ آپ کو کامیاب زندگی گزارنے کے کچھ گر بتائیں گے۔ ان کے کئی لیکچر ہوں گے۔ جو اسٹوڈنٹس انٹرسٹڈ ہوں وہ ان کے لیکچر میں باقاعدگی سے شریک ہوں۔

🌹سبق 01:
⬅کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی پروفیسر کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ پروفیسر کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔

وزیٹنگ پروفیسر انصاری نے ہال میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلباء کی طرف کرتے ہوئے پوچھا….

"تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کردے؟"

"یہ ناممکن ہے" کلاس کے ایک ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑتے ہوئے جواب دیا۔ "لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کر رہے ہیں." باقی طلباء نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کردی.

پروفیسر نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر مسکراتے ہوئے بلیک بورڈ پر اس لکیر کے نیچے ہی اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی. اب اوپر والی لکیر کے سامنے یہ لکیر چھوٹی نظر آرہی تھی.

■پروفیسر نے چاک ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا:
"آپ نے آج اپنی زندگی کا ایک بڑا سبق سیکھا ہے، وہ یہ ہے دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، ان کو بدنام کیے بغیر، ان سے حسد کیے بغیر، ان سے الجھے بغیر ان سے آگے کس طرح نکلا جاسکتا ہے…."

●آگے بڑھنےکی خواہش انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اس خواہش کی تکمیل کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کو چھوٹا بنانے کی کوشش کی جائے۔ مگر ایسی صورت میں انسان خود بڑا نہیں ہوتا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں سے الجھے بغیر خود کو طاقتور اور بڑا بنانے پر توجہ دی جائے. دوسروں سے الجھے بغیر آگے بڑھنا، ترقی کا صحیح طریقہ ہے۔ یہ طریقہ فرد کے لیے بھی بہتر ہے اور قوموں کے لیے بھی۔ اس طریقے پر اجتماعی طور پر ہمارے پڑوسی ملک چین نے سب سے زیادہ عمل کیا ہے اور بہترین نتائج حاصل کئے ہیں.

🌹سبق 02:
✉دوسرے دن کلاس میں داخل ہوتے ہی پروفیسر انصاری نے بلیک بورٖڈ پر ایک بڑا سا سفید کاغذ چسپاں کردیا، اس کے بعد انہوں نے اس سفید کاغذ کے درمیان میں مارکر سے ایک سیاہ نقطہ ڈالا، پھر اپنا رخ کلاس کی طرف کرتے ہوئے پوچھا:

"آپ کو کیا نظر آ رہا ہے…؟"

سب نے ہی یک زبان ہو کر کہا "ایک سیاہ نقطہ"

طالب علم تعجب کا اظہار کر رہے تھے سر بھی کمال کرتے ہیں. کل لکیر کھینچی تھی آج نقطہ بنا دیا ہے...

■پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:
"حیرت ہے! اتنا بڑا سفید کاغذ اپنی چمک اور پوری آب و تاب کے ساتھ تو تمہاری نظروں سے اوجھل ہے، مگر ایک چھوٹا سا سیاہ نقطہ تمہیں صاف دکھائی دے رہا ہے؟"

زندگی میں کئے گئے لاتعداد اچھے کام سفید کاغذ کی طرح ہوتے ہیں جبکہ کوئی غلطی یا خرابی محض ایک چھوٹے سے نقطے کی مانند ہوتی ہے۔ لوگوں کی اکثریت دوسروں کی غلطیوں پر توجہ زیادہ دیتی ہے لیکن اچھائیوں کو نظر انداز کردیتی ہے۔

●آپ کی ساری زندگی کی اچھائیوں پر آپ کی کوئی ایک کوتاہی یا کسی غلطی کا ایک سیاہ نقطہ ان کو زیادہ صاف دکھائی دیتا ہے۔

●آپ آدھا گلاس پانی کا بھر کر اگر 100 لوگوں سے پوچھیں گے تو کم از کم 80 فیصد کہیں گے آدھا گلاس خالی ہے اور 20 فیصد کہیں گے کہ آدھا گلاس پانی ہے… دونوں صورتوں میں بظاہر فرق کچھ نہیں پڑتا لیکن درحقیقت یہ دو قسم کے انداز فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک منفی اور دوسرا مثبت۔ جن لوگوں کا انداز فکر منفی ہوتا ہے وہ صرف منفی رخ سے چیزوں کو دیکھتے جبکہ مثبت ذہن کے لوگ ہر چیز میں خیر تلاش کر لیتے ہیں.

●ہماری زندگی کے معاملات میں لوگوں کے ردعمل گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں. "لوگ کیا کہیں گے" جیسے روائتی جملے ہمیں ہمیشہ دو راہوں پر گامزن کر دیتے ہیں۔ یہ دوراہی فیصلہ لینے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اس صورتحال میں صرف نفسیاتی الجھن کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں.

اس لیے آپ مستقل میں کوئی بھی کام کریں، کوئی بھی راہ چنیں تو یہ یاد رکھیں کہ آپ ہر شخص کو مطمئن نہیں کرسکتے.

(سبق نمبر 3، 4 حصہ دوم میں، سبق نمبر 5، 6 حصہ سوم میں، اور سبق نمبر 7، 8 حصہ چہارم میں ملاحظہ فرمائیے.)

https://t.me/islamwitheman/385
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹کامیابی کے لئے 8 سبق(حصہ دوم)🌹

🌹سبق 03:
🍷تیسرے دن پروفیسر نے اپنی کلاس کا آغاز کرتے ہوئے ایک گلاس اٹھایا، جس کے اندر کچھ پانی موجود تھا۔ انہوں نے وہ گلاس بلند کردیا، تاکہ تمام طلباء اسےدیکھ لیں.

پھر مسکراتے ہوئے طلباء کی جانب دیکھا اور کہا "آج میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کے خیال میں اس گلاس کا وزن کیا ہوگا؟"
"پچاس گرام، سو گرام، ایک سو پچیس گرام" سب اپنے اپنے انداز سے جواب دینے لگے.

"میں خود صحیح وزن بتا نہیں سکتا، جب تک کہ میں اس کا وزن نہ کرلوں!" پروفیسر نے کہا. لیکن میرا سوال یہ ہے کہ "کیا ہوگا اگر میں اس گلاس کو چند منٹوں کے لئے اسی طرح اٹھائے رہوں؟"

"کچھ نہیں ہوگا!" طلباء نے جواب دیا.

"ٹھیک ہے، اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو ایک گھنٹے تک یوں ہی اٹھائے رہوں تو پھر کیا ہوگا؟" پروفیسر نے پوچھا.

"آپ کے بازو میں درد شروع ہوجائے گا." طلباء میں سے ایک نے جواب دیا.

"تم نے بالکل ٹھیک کہا."پروفیسر نے تائید کی" اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو دن بھر اسی طرح تھامے رہوں تو پھر کیا ہوگا؟"

"آپ کا بازو شل ہوسکتا ہے." ایک طالب علم نے کہا. "آپ کا پٹھا اکڑ سکتا ہے." ایک اور طالب علم بولا، "آپ پر فالج کا حملہ ہوسکتا ہے۔ آپ کو اسپتال لازمی جانا پڑےگا." ایک طالب علم نے جملہ کسا اور پوری گلاس قہقہے لگانےلگی.

بہت اچھا! پروفیسر نے بھی ہنستے ہوئے کہا پھر پوچھا "لیکن اس دوران کیا گلاس کا وزن تبدیل ہوا؟"

"نہیں" طلباء نے جواب دیا.

"تو پھر بازو میں درد اور پٹھا اکڑنے کا سبب کیا تھا؟ پروفیسر نے پوچھا. طالب علم چکرا گئے.
"گلاس کا بہت دیر تک اُٹھائے رکھنا، بہتر ہوگا کہ اب گلاس نیچے رکھ دیں!" ایک طالب علم نے کہا.
"بالکل صحیح" استاد نے کہا.
■"ہماری زندگی کے مسائل بھی کچھ اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ آپ انہیں اپنے ذہن پر چند منٹ سوار رکھیں تو وہ ٹھیک لگتے ہیں۔ انہیں زیادہ دیر تک سوچتے رہیں تو وہ آپ کے لیے سر کا درد بن جائیں گے۔ انہیں اور زیادہ دیر تک تھامے رہیں تو وہ آپ کو فالج زدہ کردیں گے۔ آپ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے."
●دیکھیے! اپنی زندگی کے چیلنجز (مسائل) کے بارے میں سوچنا یقیناً اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن… اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہردن کے اختتام پر سونے سے پہلے ان مسائل کو ذہن سے اُتار دیا جائے. اس طریقے سے آپ کسی قسم کے ذہنی تناؤ میں مبتلا نہیں رہیں گے. اگلی صبح آپ تروتازہ اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ بیدار ہوں گے اور اپنی راہ میں آنے والے کسی بھی ایشو، کسی بھی چیلنج کو آسانی سے ہینڈل کرسکیں گے۔ لہٰذا گلاس کو یعنی مسائل پر غیر ضروری سوچ بچار کو نیچے کرنا، رکھنا یاد رکھیں."

🌹سبق 04:
🍅پروفیسر نے کہا کہ کل ہر ایک طالب علم پلاسٹک کا ایک شفاف تھیلا اور ٹماٹر ساتھ لائے.

جب طلباء تھیلا اور ٹماٹر لے آئے تو پروفیسر نے کہا:
"آپ میں سے ہر طالب علم اس فرد کے نام پر جسے آپ نے اپنی زندگی میں معاف نہیں کیا، ایک ایک ٹماٹر چن لیں اور اس پر اس فرد کا نام اور تاریخ لکھ کر اسے اپنے پلاسٹک کے تھیلے میں ڈالتے جائیں."

سب نے ایک ایک کرکے یہی عمل کیا، پروفیسر نے کلاس پر نظر ڈالی تو دیکھا بعض طالب علموں کے تھیلے خاصے بھاری ہوگئے.
پھر پروفیسر نے سب طالب علموں سے کہا کہ:
"یہ آپ کا ہوم ورک ہے، آپ سب ان تھیلوں کو اپنے ساتھ رکھیں، اسے ہر جگہ اپنے ساتھ لئے پھریں. رات کو سوتے وقت اسے اپنے بیڈ کے سرہانے رکھیں، جب کام کر رہے ہوں تو اسے اپنی میز کے برابر میں رکھیں۔ کل ہفتہ، پرسوں اتوار ہے آپ کی چھٹی ہے، پیر کے روز آپ ان تھیلوں کو لے کر آئیں اور بتائیں آپ نے کیا سیکھا."

پیر کے دن سب طالب علم آئے تو چہرے پر پریشانی کے آثار تھے، سب نے بتایا کہ اس تھیلے کو ساتھ ساتھ گھسیٹے پھرنا ایک آزار ہوگیا۔ قدرتی طور پر ٹماٹروں کی حالت خراب ہونے لگی۔ وہ پلپلے اور بدبودار ہوگئے تھے.

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا "اس ایکسرسائز سے کیا سبق سیکھا…؟"

سب طلبہ خاموش رہے.

■"اس ایکسر سائز سے یہ واضح ہوا کہ روحانی طور پر ہم اپنے آپ پر کتنا غیر ضروری وزن لادے پھر رہے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ ہم اپنی تکلیف اور اپنی منفی سوچ کی کیا قیمت چکا رہے ہیں.
ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ کسی کو معاف کردینا، کسی پر احسان کرنا اس شخص کے لئے اچھا ہے لیکن دوسرے کو معاف کرکے ہم خود اپنے لئے لاتعداد فوائد حاصل کرتے ہیں. جب تک ہم کسی سے ناراض رہتے ہیں، اس کے خلاف بدلہ لینے کے لئے سوچتے ہیں، اس وقت تک ہم کسی اور کا نہیں بلکہ خود اپنا خون جلاتے ہیں۔ اپنے آپ کو اذیت اور مشقت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ بدلے اور انتقام کی سوچ، گلے سڑے ٹماٹروں کی طرح ہمارے باطن میں بدبو پھیلانے لگتی ہے۔ معاف نہ کرنا ایک بوجھ بن کر ہمارے اعصاب کو تھکا دیتا ہے."

(سبق نمبر 5، 6 حصہ سوم میں، اور سبق نمب 7، 8 حصہ چہارم میں ملاحظہ فرمائیے.)

https://t.me/islamwitheman/385
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹کامیابی کیلئے 8 سبق(حصہ سوم)🌹

🌹سبق 05:
🍻☕🍺"آج ہم نہیں پڑھیں گے…"
پروفیسر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا. سارے طالب علم حیران و پریشان ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے.

"آپ دو دن ٹماٹروں کا تھیلا اٹھائے تھک گئے ہوں گے. اسلئے آج آپ کے لئے چائے کافی میری طرف سے..."

اسی دوران لیکچر ہال میں کالج کا پیُون داخل ہوا اس کے ہاتھ میں کافی کے دو بڑے سے جگ تھے. ساتھ ہی بہت سے کپ تھے، پورسلین کے کپ، پلاسٹک کے کپ، شیشے کے کپ، ان میں سے بعض سادہ سے کپ تھے اور بعض نہایت قیمتی، خوبصورت اور نفیس….

پروفیسر نے تمام طالب علموں سے کہا کہ "سب اپنی مدد آپ کے تحت وہ گرما گرم چائے کافی آپ خود لے لیں."

جب تمام طالب علموں نے اپنے چائے اور کافی کے کپ ہاتھوں میں لے لئے تو پروفیسر صاحب گویا ہوئے.

"آپ لوگ غور کریں… تمام نفیس، قیمتی اور دیکھنے میں حسین کافی کپ اٹھا لئے گئے ہیں، جبکہ سادہ اور سستے کپوں کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا، وہ یونہی رکھے ہوئے ہیں."

"اس کا کیا مطلب سر" ایک طالب علم نے پوچھا.

■"گو یہ عام سی بات ہے کہ آپ اپنے لئے سب سے بہترین کا انتخاب کرتے ہیں لیکن یہی سوچ آپ کے کئی مسائل اور ذہنی دباؤ کی جڑ بھی ہے."

سارے طالب علم چونک اٹھے، "یہ کیا کہہ رہے ہیں سر! اچھی چیز کا انتخاب تو اعلیٰ ذوق کی علامت ہے۔ یہ مسائل کی جڑ کیسے...؟"

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:
"آپ سب کو حقیقت میں جس چیز کی طلب تھی، وہ چائے یا کافی تھی… نہ کہ کپ… لیکن آپ سب نے دانستہ طور پر بہتر کپوں کے لئے ہاتھ بڑھایا اور سب ایک دوسرے کے کپوں کو چور نگاہوں سے دیکھتے رہے."

●میرے بچو... نوجوانو… یاد رکھو! زندگی کا اصل حسن باطن سے پھوٹنے والی خوشیوں کی وجہ سے ہے۔ عالی شان بنگلہ، قیمتی گاڑی، دائیں بائیں ملازمین، دولت کی چمک دمک کی وجہ سے بننے والے دوست یہ سب قیمتی کپ کی طرح ہیں۔ اگر اس قیمتی کپ میں کافی یا چائے بدمزہ ہو تو کیا آپ اسے پئیں گے؟

اصل اہمیت زندگی، صحت اور آپ کے اعلیٰ کردار کی ہے۔ باقی سب کانچ کے بنے ہوئے نازک برتن ہیں، ذرا سی ٹھیس لگنے سے یہ برتن ٹوٹ جائیں گے یا ان میں کریک آجائے گا۔
یاد رکھیے! دنیا کی ظاہری چمک دمک کی خاطر اپنے آپ کو مت گرائیے۔ بلکہ زندگی کے اصلی جوہر کو اُبھاریے۔

تمام تر توجہ صرف کپ پر مرکوز کرنے سے ہم اس میں موجود کافی یعنی زندگی سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا کپوں کو اپنے ذہن کا بوجھ نہ بنائیں… اس کی بجائے کافی سے لطف اندوز ہوں."

🌹سبق 06:
✏پروفیسر صاحب نے کلاس کا آغاز کرتے ہوئے اپنی جیب سے ایک پینسل نکالی اور تمام طلبا کو دکھاتے ہوئے کہا:

"آج کا سبق آپ اس پینسل سے سیکھیں گے… پینسل میں پانچ باتیں ایسی ہیں جو ہم سب کے لئے جاننی ضروری ہیں!"

"وہ کیا سر…" سب نے تجسس سے پوچھا.

"پہلی بات: یہ پینسل عمدہ اور عظیم کام کرنے کے قابل اس صورت میں ہوسکتی ہے، جب وہ خود کو کسی کے ہاتھ میں تھامے رکھنے کی اجازت دے۔

دوسری بات: ایک بہترین پینسل بننے کے لئے وہ بار بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گزرتی ہے۔

تیسری بات: وہ ان غلطیوں کو درست کرنے کی اہل رکھتی ہے، جو اس سے سرزد ہو سکتی ہیں۔

چوتھی بات: پینسل کا سب سے اہم حصہ ہمیشہ وہ ہوگا جو اس کے اندر یعنی اس کے باطن میں ہوتا ہے.
اور
پانچویں بات: پینسل کو جس سطح پر بھی استعمال کیا جائے، وہ لازمی اس پر اپنا نشان چھوڑ جاتی ہے چاہے حالات کیسے ہی ہوں."

■"اب اس پینسل کی جگہ آپ اپنے کو لے لیں۔
آپ بھی عمدہ اور عظیم کام کرنے کے قابل اسی صورت میں ہوسکتے ہیں، جب آپ خود کو اپنے استاد یا راہنما کے ہاتھوں میں تھامے رکھنے کی اجازت دیں۔

دوسری بات: آپ کو بار بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑے گا۔ یہ مراحل دنیا میں زندگی کے مختلف مسائل کی صورت میں آپ کے سامنے آئیں گے، ایک مضبوط فرد بننے کے لئے آپ کو ان مسائل کا اچھے طریقے سے سامنا کرنا ہوگا۔

تیسری بات: یہ کہ اپنے آپ کو ان غلطیوں کو درست کرنے کے قابل بنائیں جو آپ سے سرزد ہوسکتی ہیں۔

چوتھی بات: ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہمارے اندر ہے، ہمارا باطن ہے، ہمیں اسے کثافتوں اور آلائشوں سے بچانا ہے۔

پانچویں بات: آپ جس سطح پر سے بھی گزر کر جائیں، آپ اپنے نشان ضرور چھوڑ جائیں۔ چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں.

اس یقین کے ساتھ زندگی بسر کریں کہ اس دنیا کو آپ کی ضرورت ہے، کیونکہ کوئی شے بھی فضول اور بے مقصد نہیں ہوتی."

(سبق نمبر 7، 8 کا حصہ چہارم میں مطالعہ کیجئے)

https://t.me/islamwitheman/385
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹کامیابی کیلئے8سبق(حصہ چہارم)🌹

🌹سبق 07:
🍯پروفیسر صاحب نے کلاس میں داخل ہوتے ہوئے طلباء پر نظر ڈالی اور کہا:
"آج میں تمہیں زندگی کا نہایت اہم سبق سکھانے جا رہا ہوں…"

وہ اپنے ہمراہ کانچ کی ایک بڑی برنی یعنی جار (JAR) لائے تھے، انہوں نے اس جار کو ٹیبل پر رکھا اور اپنے بیگ سے ٹیبل ٹینس کی گیندیں نکال کر اس برنی میں ڈالنے لگے… اور تب تک ڈالتے رہے جب تک اس برنی میں ایک بھی گیند کی جگہ باقی نہ رہی.
پروفیسر صاحب نے طلباء سے پوچھا:
"کیا برنی پوری بھرگئی ہے؟" "جی ہاں" طالب علموں نے ایک ساتھ جواب دیا.

پھر پروفیسر صاحب نے بیگ سے چھوٹے چھوٹے کنکر نکال کر اس برنی میں بھرنے شروع کر دیے، وہ دھیرے دھیرے برنی کو ہلاتے بھی جارہے تھے۔ کافی سارے کنکر برنی میں جہاں جگہ خالی تھی سما گئے.

پروفیسر صاحب نے پھر سوال کیا:
"کیا اب برنی بھرگئی ہے؟"

طالب علموں نے ایک بار پھر "ہاں" کہا.

اب پروفیسر صاحب نے بیگ سے ایک تھیلی نکالی اور اس میں سے ریت نکال کر دھیرے دھیرے اس برنی میں ڈالنی شروع کر دی، وہ ریت بھی اس برنی میں جہاں تک ممکن تھا بیٹھ گئی.

یہ دیکھ کر طلباء اپنی نادانی پر ہنسنے لگے…

پروفیسر صاحب نے ایکبار پھر سوال کیا:
"کیا اب یہ برنی پوری بھرگئی ہے؟"
"جی! اب تو پوری بھرگئی ہے سر" سب ہی نے ایک آواز میں کہا.

پروفیسر نے بیگ کے اندر سے جوس کے دو ڈبّے نکال کر جوس اس برنی میں ڈالا، جوس بھی ریت کے بیچ تھوڑی سی جگہ میں جذب ہوگیا… اب پروفیسر صاحب نے نہایت ہی گھبمیر آواز میں سمجھانا شروع کیا…

■"اس کانچ کی برنی کو تم لوگ اپنی زندگی سمجھو، ٹیبلٹینس کی گیندیں تمہاری زندگی کے سب سے اہم کام ہیں مثلاً طرزِ معاشرت، حصولِ معاش، تعلیم وتربیت، خاندان، بیوی بچے، نوکری، صحت وتحفظ وغیرہ… چھوٹے کنکر تمہاری عام ضروریات اور خواہشات ہیں.. گاڑی، بنگلہ، نوکرچاکر، موبائل، کمپیوٹر اور دیگر اصرافِ زندگی وغیرہ… اور ریت کا مطلب ہے چھوٹی چھوٹی بیکار اور فضول باتیں، جھگڑے، آوارہ گردی، ہوائی قلعہ بنانا، ٹائم پاس کرنا، وقت کاضیاع وغیرہ…

●اگر تم نے کانچ کی برنی میں سب سے پہلے ریت بھری ہوتی تو ٹیبل ٹینس کی گیند اور کنکر کے لیے جگہ ہی نہیں بچتی یا صرف کنکر بھر دیے ہوتے تو گیند نہیں بھر پاتے، ریت ضرور آسکتی تھی….

ٹھیک یہی طریقہ کار زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر تم فضول اور لایعنی چیزوں کے پیچھے پڑے رہو گے اور اپنی زندگی اسی کے چکر میں ختم کردو گے تو تمہارے پاس اہم باتوں کے لئے وقت نہیں رہے گا…

ایک کامیاب اور پرسکون زندگی گزارنے کے لئے یہ اہم سبق ہے. اب یہ تم خود طے کرلو کہ تمہیں اپنی کانچ کی برنی کس طرح بھرنی ہے."

طالب علم بڑے غور سے پروفیسرصاحب کی باتیں سن رہے تھے، اچانک ایک طالبعلم نے پوچھا:
"سر! لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ جوس کے دو ڈبّے کیا ہیں؟"
●پروفیسر مسکرائے اور بولے: "میں سوچ ہی رہا تھا کہ ابھی تک کسی نے یہ سوال کیوں نہیں کیا… اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں ہم کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں اور کس قدر ہی کامیابیاں کیوں نہ سمیٹ رہے ہوں لیکن اپنے گھروالوں، دوستوں کے ساتھ تعلق کی مٹھاس کی گنجائش ہمیشہ رکھنی چاہیے...."

🌹سبق 08:
🎈آج لیکچر کا آخری دن تھا، پروفیسر صاحب کلاس روم میں داخل ہوئے، کلاس روم کی بھنبھناہٹ گہری خاموشی میں بدلنے لگی۔ دیکھا کہ پروفیسر کے پیچھے ایک غبارے والا ڈھیر سارے ایک ہی رنگ کے غبارے لئے کلاس روم میں داخل ہو رہا ہے.

پروفیسر کے اشارے پر غبارے والے نے ایک ایک کرکے سارے غبارے طلباء میں تقسیم کردئیے.

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:
"آپ میں سے ہر ایک کو مارکر کا استعمال کرتے ہوئے ان غباروں پر اپنا نام لکھنا ہے." سب نے پروفیسر کے کہنے پر نام لکھ دیئے. اس کے بعد تمام غبارے جمع کرکے دوسرے کمرے میں ڈال دیئے گئے۔
اب پروفیسر نے تمام طالب علموں سے کہا کہ "اب سب غباروں والے کمرے میں جائیں اور اپنے اپنے نام والا غبارہ تلاش کریں، دھیان رہے کہ کوئی غبارہ نہ پھٹے اور آپ سب کے پاس پانچ منٹ ہیں."

ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے ہوئے، دوسروں کو دھکیلتے ہوئے اپنے نام کا غبارہ تلاش کرنے لگا. ایک افراتفری کا سماں تھا. سارے غبارے ایک ہی رنگ کے تھے، پانچ منٹ تک کوئی بھی اپنے نام والا غبارہ تلاش نہ کرسکا… یہ دیکھ کر پروفیسر انصاری نے کہا کہ:
اب آپ کے پاس پانچ منٹ ہیں کوئی بھی غبارہ پکڑ لیں اور اس کے نام والے شخص کو دے دیں، دو تین منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ تمام افراد کے پاس اپنے اپنے نام والے غبارے تھے.

■پروفیسر انصاری کلاس سے مخاطب ہوتے ہوئے بولے: "بالکل اسی طرح ہماری زندگی ہے، ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں اپنے اردگرد خوشیاں تلاش کررہا ہے یہ نہ جانتے ہوئے کہ وہ کہاں ہیں.
نوجوانو! یاد رکھو… ہماری خوشی دوسروں کی خوشی میں پنہاں ہے، ان کو ان کی خوشی دے دیں تو آپ کو آپ کی خوشی مل جائے گی."

https://t.me/islamwitheman/385
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حضرت اُمُّ البَنینؑ 🌹

🔷 تاريخِ وفات:
حضرت اُمُّ البنینؑ کی تارخ وفات کے بارے میں کوئی دقیق معلومات تاریخی منابع میں ثبت نہیں ہیں لیکن جو چیز معروف ہے اس کے مطابق آپ 13جمادی الثانی کو اس دنیا سے رخصت ہوئیں. آپ شیعوں کے یہاں قابل احترام شخصیات میں سے ہیں.

🔷 حسب و نسب:
حضرت اُمُّ البنینؑ کا اصل نام فاطمہ بنتِ حِزام ہے آپ کے والد گرامی ابوالمجْل حزّام بن خالد کا قبیلہ بنی کلاب سے تعلق تھا، آپ کی مادر گرامی لیلیٰ یا ثمامہ بنت سہیل بن عامر بن مالک تھیں.

🔷 وجہ لقب:
فاطمہ بنت حِزام اُمّ البَنین کے نام سے مشہور ہوئیں. آپ امیرالمؤمنین علیؑ کی زوجات میں سے تھیں. آپ چونکہ چار بیٹوں کی ماں تھیں اسلئے آپ اُمّ البَنین یعنی بیٹوں کی ماں کے لقب سے ملقب ہوئیں.
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی حضرت امام علیؑ کو یہ تجویز دی تھی کہ ان کو بجائے فاطمہ کے اُمُّ البَنینؑ کہہ کر پکارا جائے تاکہ حضرت فاطمہ زہراءؑ کے بچوں کو فاطمہ کہنے سے اپنی ماں حضرت فاطمہ زہراءؑ کی یاد تازہ نہ ہو اور اپنی ماں پر گزرے ہوئے تلخ حوادث انہیں آزار نہ پہنچائیں.

🔷 حضرت علیؑ سے شادی:
حضرت فاطمہ زہراؑ کی رحلت کے کئی سال بعد حضرت علیؑ نے اپنے بھائی عقیل جو نسب شناسی میں مشہور تھے، سے ایک نجیب خاندان سے بہادر، شجاع اور جنگجو اولاد جنم دینے والی زوجہ کے انتخاب کے بارے میں مشورہ کیا تو عقیل نے فاطمہ بنت حزام کا نام تجویز کیا اور کہا عربوں میں بنی کلاب کے مردوں جیسا کوئی دلیر مرد نہیں دیکھا جا سکتا ہے، یوں حضرت علیؑ نے آپ سے شادی کی.

🌟 شادی کا ثمرہ:
اس شادی کا ثمرہ خدا نے چار بیٹوں کی صورت میں عطا کیا جن کے نام عباسؑ، عبداللہ، جعفر اور عثمان ہیں.
آپ کے یہ چار بیٹے شجاعت اور دلیری میں اپنی مثال آپ تھے اس وجہ سے آپ کو اُمُّ البَنینؑ (یعنی بیٹوں کی ماں) کہا جاتا تھا،
آپ کے یہ چار بیٹے کربلا میں اپنے بھائی اور امام، امام حسینؑ کے رکاب میں شہادت کے عظیم درجے پر فائز ہوئے.

🔶 واقعہ کربلا:
اُمُّ البَنینؑ واقعہ کربلا پیش آتے وقت وہاں موجود نہیں تھیں، جب اسیران کربلا کا قافلہ مدینہ پہنجا تو کسی نے آپ کو اپنے بیٹوں کی شہادت کی خبر سنائی لیکن آپ نے کہا: امام حسینؑ کے بارے میں کہو جب آپ کو بتایا گیا کہ امام حسینؑ آپ کے چار بیٹوں کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے ہیں تو اس وقت آپ نے کہا؛ اے کاش میرے بیٹے اور جو کچھ زمین اور آسمان کے درمیان ہے میرے حسینؑ پر فدا ہوتے اور وہ زندہ رہتے، آپ کے یہ جملے، امام حسینؑ اور اہلبیتؑ کے ساتھ آپ کی سچی اور بااخلاص مجبت کی عکاسی کرتے ہیں.

حضرت اُمُّ البَنینؑ اپنے بیٹوں کی شہادت سے باخبر ہونے کے بعد ہر روز اپنے پوتے عبیداللہ (فرزندِ عباسؑ) کے ساتھ قبرستان بقیع جایا کرتی تھی اور وہاں پر خود اپنے انشاء کئے ہوئے اشعار پڑھا کرتی تھیں اور نہایت دلسوز انداز میں گریہ کرتی تھیں، اہل مدینہ ان کے ارد گرد جمع ہوتے اور ان کے ساتھ گریہ کرنا شروع کرتے تھے.

🔶مدفن:
آپ کا مدفن قبرستان بقیع میں ہے.
آپ کو جنت البقیع میں رسولِخداؐ کی دو پھوپھیوں (صفیہ، عاتکہ) کے پاس امام حسن علیہ السلام اور فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کی قبروں کے قریب سپرد خاک کیا گیا.

https://t.me/islamwitheman/390

🔘 تفصیل کے ساتھ حضرت ام البنین علیہ السلام کی سوانح حیات دیکھنے کے لئے فیسبک کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://www.facebook.com/1304327322922888/posts/3792714790750783/
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👅 احتیاط کے ساتھ بولا کریں👅

ایک طالب علم جو فوت ہو گیا تھا کچھ مدت کے بعد اس کو خواب میں دیکھا اس سے پوچھا گیا: وہاں آپ کیسے ہیں؟

♻️ اس نے کہا: اپنے اعمال اور اپنی گفتار کی احتیاط کیا کرو.

کیونکہ؛ اللہ تعالی کا حساب و کتاب بہت ہی دقیق ہے.
ایک دن بارش برس رہی تھی.

اور میں نے کہا واہ واہ کیا عجیب ہے کہ بے موقع بارش برس رہی ہے؟

💢 میں ابھی تک اسی ایک جملے میں گرفتار ہوں.
مجھے کہا گیا ہے: کیا ہمارے پاس بے موقع بارش بھی ہے؟

⚖ { فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ}(۷) { وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ}(۸)

پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔
اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔ (سورہ زلزال ، آیات ۷، ۸)

📚 حوالہ: آداب الطلاب، آیت الله مجتهدی تهرانی، صفحه ۱۲۹۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ پانچ سوال اور انکے جواب ⭕

ایک مرید نے مولانا رومی سے چند سوالات پوچھے جن کے انہوں نے بہت خوبصورت مختصر اور جامع جوابات عطا فرمائے جو بالترتیب پیشِ خدمت ہیں:

سوال نمبر1= زہر کسے کہتے ہیں؟
ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زائد ہو، وہ ہمارے لئے زہر ہے خواہ وہ قوت و اقتدار ہو، دولت ہو، بھوک ہو،انانیت ہو، لالچ ہو، سستی و کاہلی ہو، محبت ہو، عزم و ہمت ہو، نفرت ہو یا کچھ بھی ہو.

سوال نمبر2= خوف کس شئے کا نام ہے؟
غیرمتوقع صورتِ حال کو قبول نہ کرنے کا نام خوف ہے۔ اگر ہم غیر متوقع کو قبول کرلیں تو وہ ایک ایڈونچر ایک مہم جوئی میں تبدیل ہوجاتی ہے.

سوال نمبر3= حسد کسے کہتے ہیں؟
دوسروں میں خیر اور خوبی کو تسلیم نہ کرنے کا نام حسد ہے۔ اگر ہم اس خوبی کو تسلیم کرلیں تو یہ رشک اور انسپریشن بن کر ہمارے لئے ایک مہمیز کا کام انجام دیتی ہے.

سوال نمبر4= غصہ کس بلا کا نام ہے؟
جو امور ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں، ان کو تسلیم نہ کرنے کا نام غصہ ہے۔ اگر ہم تسلیم کرلیں تو عفو درگزر اور تحمل اس کی جگہ لے لیتے ہیں.

سوال نمبر5= نفرت کسے کہتے ہیں ؟
کسی شخص کو جیسا کہ وہ ہے، تسلیم نہ کرنے کا نام نفرت ہے۔ اگر ہم غیر مشروط طور پر اسے تسلیم کرلیں قبول کرلیں، تو اسے محبت کہیں گے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 قرابتداری اورصلہ رحمی 🔷

🌹 حضرت رسولِخداؐ:
❶ جو تم سے قطع رحمی کرے تم اس سے صلہ رحمی کرو،جوتم سے برا سلوک کرے تم اس سے اچھاسلوک کرو اور حق بات کہوخواہ تمہارے اپنے خلاف ہی ہو. (کنزالعمال، حدیث٦٩٢٩)

❷ سنت پرعمل کرواوررشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو. (بحارالانوار، جلد٧٤، ص١٠٣)  

❸ جس نیکی کاثواب بہت جلدملتاہے وہ صلہ رحمی ہے. (بحارالانوار، جلد٧٤، ص١٢١)

❹ صلہ رحمی (بروزمحشر) حساب کو آسان بناتی اور بری موت سے بچاتی ہے۔ (بحارالانوار، جلد٧٤، ص٩٤)

❺ صلہ رحمی شہروں کو آبادکرتی ہے اورعمر کو زیادہ کرتی ہے اگرچہ صلہ رحمی کرنے والے یا جن کے ساتھ صلہ رحمی کی جا رہی ہے نیک لوگ نہ بھی ہوں. (بحارالانوار، جلد٧٤، ص٩٤)

❻ دنیا میں صلہ رحمی برقرار رکھو خواہ سلام کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو. (بحارالانوار، ج۷۴، ص۱۱۰)

❼ ایک شخص صلہ رحمی کرتاہے جبکہ اس کی زندگی کے صرف تین سال باقی ہوتے ہیں تواللہ تعالیٰ وہی تین سال تیس سالوں میں بدل دیتاہے۔ اورایک شخص قطع رحمی کرتاہے جب کہ اس کی عمرمیں ابھی تیس سال ہوتے ہیں تواللہ تعالیٰ تین سال کردیتاہے۔پھرآپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ''یَمحُو اﷲ ُمَایَشَاءُ وَ یُثبِتُ وَ عِندَہ وام الکتاب'' یعنی خداجس کوچاہتاہے مٹادیتاہے اورجس کوچاہتاہے باقی رکھتاہے اوراس کے پاس اصل کتاب (لوح محفوظ) موجود ہے.(رعد/٣٩) (بحارالانوار، جلد٧٤، ص٩۳)

🌹 حضرت علی علیہ السلام:
اپنے قوم وقبیلہ کی عزت کرو کیونکہ یہ لوگ تمہارے بال وپر ہوتے ہیں جن کے ذریعہ تم پرواز کرتے ہو اورتمہاری جڑ ہوتے ہیں جس کی طرف تم اپنے آپ کو منسوب کرتے ہو اور تمہارے ہاتھ ہوتے ہیں جن کے ذریعہ تم کسی پرحملہ کرتے ہو. (بحارالانوار، جلد٧٤، ص١٠٥)

🌹 حضرت امام محمد باقرؑ:
صلہ رحمی اعمال کو پاکیزہ بنا کر بڑھاتی اور مال کو نشوو نما عطا کرتی ہے، بلاؤں کو ٹالتی اورمدت عمرکو زیادہ کرتی ہے. (بحارالانوار، ج٧٤، ص١١١)

🌹 حضرت امام جعفرصادقؑ:
صلہ رحمی اور نیکی حساب کوآسان بناتی ہیں اور گناہوں سے بچاتی ہیں، لہٰذا صلہ رحمی کیا کرو اور اپنے بھائیوں کے ساتھ نیک سلوک کیا کرو خواہ اچھے انداز میں سلام کرنے اورجواب دینے کی صورت میں کیوں نہ ہو. (بحارالانوار، ج٧٤، ص١٣١)

🌹 حضرت امام علی نقیؑ:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداوندعالم سے مناجات کرتے ہوئے عرض کیا: ''خداوندا!جوشخص صلہ رحمی کرتاہے اس کی کیاجزاہے؟'' ارشادہوا:
''اے موسیٰ! میں اس کی مدت عمر کو بڑھا دیتا ہوں اور موت کی سکرات کو اس پرآسان کر دیتا ہوں!۔'' (بحارالانوار، ج٦٩، ص٣٨٣)

📚 نقل از تفسیر المعین  و الترجمه القرآن الکریم.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 آٹھ سوال اور انکے جواب 🔷

سوال1: جنّت کہاں ہے؟
جواب: جنت ساتوں آسمانوں کے اوپر ساتوں آسمانوں سے جدا ہے، کیونکہ ساتوں آسمان قیامت کے وقت فنا اور ختم ہونے والے ہیں، جبکہ جنت کو فنا نہیں ہے، وہ ہمیشہ رہے گی، جنت کی چهت عرش رحمٰن ہے.

سوال2: جہنم کہاں ہے؟
جواب: جہنم جنت کے بازو میں نہیں ہے. بلکہ جہنم ساتوں زمین کے نیچے ایسی جگہ ہے جسکا نام "سجین" ہے. جس زمین پر ہم رہتے ہیں یہ پہلی زمین ہے، اس کے علاوہ چھ زمینیں اور ہیں جو ہماری زمین کے نیچے ہماری زمین سے علیحدہ اور جدا ہیں.

سوال3: سدرةالمنتهیٰ کیا ہے؟
جواب: سدرة عربی میں بیری/ بیری کے درخت کو کہتے ہیں، المنتہیٰ یعنی آخری حد، یہ بیری کا درخت وہ آخری مقام ہے جو مخلوقات کی حد ہے. اس سے آگے حضرت جبرائیلؑ بهی نہیں جا پاتے.
سدرةالمنتهی ایک عظیم الشان درخت ہے،
اس کی جڑیں چهٹے آسمان میں اور اونچائیاں ساتویں آسمان سے بھی بلند ہیں، اس کے پتے ہاتهی کے کان جتنے اور پهل بڑے گهڑے جیسے ہیں، اس پر سنہری تتلیاں منڈلاتی ہیں.
یہ درخت جنت سے باہر ہے. رسول اکرمؐ نے جبرائیلؑ کو اسی درخت کے پاس ان کی اصل صورت میں دوسری مرتبہ دیکھا تها، جبکہ آپؐ نے انہیں پہلی مرتبہ اپنی اصل صورت میں مکہ مکرمہ میں مقام اجیاد پر دیکها تها.

سوالنمبر4: حورعین کون ہیں؟
جواب: حورعین جنت میں مؤمنین کی بیویاں ہوں گی، یہ نہ انسان ہیں نہ جن ہیں اور نہ ہی فرشتہ ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں مستقل پیدا کیا ہے، یہ اتنی خوبصورت ہیں کہ اگر دنیا میں ان میں سے کسی ایک کی محض جھلک دکھائی دے جائے تو مشرق اور مغرب کے درمیان روشنی ہو جائے.
حور عربی زبان کا لفظ ہے اور حوراء کی جمع ہے، اس کے معنی ایسی آنکھ جس کی پتلیاں نہایت سیاه ہوں اور اس کے اطراف نہایت سفید ہوں. اور عین عربی میں عیناء کی جمع ہے اس کے معنی ہیں بڑی بڑی آنکھوں والی.

سوال5: ولدان مخلدون کون ہیں؟
جواب: یہ اہل جنت کے خادم ہیں، یہ بهی انسان یا جن یا فرشتے نہیں ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کی خدمت کے لئے مستقل پیدا کیا ہے، یہ ہمیشہ ایک ہی عمر کے یعنی بچے ہی رہیں گے، اس لیے انہیں "الولدان المخلدون" کہا جاتا ہے. سب سے کم درجہ کے جنتی کو دس ہزار ولدان مخلدون عطا ہوں گے.

سوال6: اعراف کیا ہے؟
جواب: جنت کی چوڑی فصیل کو اعراف کہتے ہیں. اس پر وہ لوگ ہوں گے جن کے نیک اعمال اور برائیاں دونوں برابر ہوں گی، ایک لمبے عرصہ تک وہ اس پر رہیں گے اور اللہ سے جنت میں داخلے کی امید رکهیں گے. انہیں وہاں بهی کهانے پینے کے لیے دیا جائے گا، پهر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جنت میں داخل کردے گا.

سوال7: روزِقیامت کی مقدار کتنی ہے؟
جواب: پچاس ہزار سال كے برابر.
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"تعرج الملئكة و الروح اليه في يوم كان مقداره خمسين الف سنة."

ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ "قیامت کے پچاس موقف ہیں، اور ہر موقف ایک ہزار سال کا ہو گا."

■ جب آیت "یوم تبدل الأرض غیر الأرض و السماوات" نازل ہوئی تو
رسول اکرمؐ سے پوچھا گیا کہ جب یہ زمین و آسمان بدل دئیے جائیں گے تب ہم کہاں ہوں گے؟
آپؐ نے فرمایا:
"تب ہم پل صراط پر ہوں گے. پل صراط پر سے جب گزر ہوگا اس وقت صرف تین جگہیں ہوں گی..
1. جہنم
2. جنت
3. پل صراط"

سوال8= پل صراط کی تفصیل کیا ہے؟
قیامت میں جب موجودہ آسمان اور زمین بدل دیئے جائیں گے اور پل صراط پر سے گزرنا ہوگا وہاں صرف دو مقامات ہوں گے.. جنت اور جہنم.
جنت تک پہنچنے کے لیے لازماً جہنم کے اوپر سے گزرنا ہوگا. جہنم کے اوپر ایک پل نصب کیا جائیگا، اسی کا نام "الصراط" ہے، اس سے گزر کر جب پار پہنچیں گے وہاں جنت کا دروازہ ہوگا.

● پل صراط کی صفات؛
1- بال سے زیادہ باریک ہوگا.
2- تلوار سے زیادہ تیز ہو گا.
3- سخت اندھیرے میں ہوگا،
اس کے نیچے گہرائیوں میں جہنم بهی نہایت تاریکی میں، سخت بپهری ہوئی اور غضبناک ہوگی.
4- گناہگار کے گناہ اس پر سے گزرتے وقت مجسم اس کی پیٹھ پر ہوں گے، اگر اس کے گناہ زیادہ ہوں گے تو اس کے بوجھ سے اس کی رفتار ہلکی ہو گی، اور جو شخص گناہوں سے ہلکا ہوگا تو اس کی رفتار تیز ہوگی.
5- اس پل کے اوپر آنکڑے لگے ہونگے اور نیچے کانٹے لگے ہونگے جو قدموں کو زخمی کرکے اسے متاثر کریں گے. لوگ اپنی بداعمالیوں کے لحاظ سے اس سے متاثر ہوں گے.
6- جہنم کے گڑهے میں گرنے والے لوگوں کی بلند چیخ پکار سے پل صراط پر دہشت طاری ہو گی.

لوگ اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے بہت سوں کو پل صراط سے گرتا ہوا دیکھیں گے اور بہت سوں کو دیکھیں گے کہ وہ اس سے نجات پاگئے ہیں.

اے اللہ تعالٰی بحق محمد وآل محمد ہمیں کامیابی عطا فرمانا اور محمد وآل محمد کی شفاعت سے ہمکنار کرنا.

اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ الَّذِیْ لَااِلٰہَ اِلَّاھُوَالْحَيُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
📗 قرآن میں اصولِ دین، فروعِ دین 📗

🔷 اصول دین.....

❶ توحید:
قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدْ. کہہ دو! وہ اللہ ایک ہے.
(سورہ الإخلاص)

❷ عدل:
اَنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیْدِ.
بےشک اللّٰہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں.
(سورہ آل عمران:182)

❸ نبّوت:
وَمَآ اَرسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہ.
اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ خدا کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے.
(سورہ النسآء:64)

❹ امامت:
قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا.
اس(اللّٰہ) نے کہا میں تم [ابراھیم] کو لوگوں کا امام بنانے والا ہوں. (سورہ بقرہ:124)

❺ قیامت:
اِنَّ اللّٰہَ یَفْصِلُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ.
بےشک اللّٰہ ان لوگوں کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا. (سورہ الحج:17)

🔶 فروع دین..........

❶ نماز:
وَاَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ... اور نماز قائم کرو.
(سورہ بقرہ43)

❷ روزہ:
کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ... تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں.
(سورہ بقرہ:183)

❸ حج:
وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً.
اور ان لوگوں پر جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں محض اللّٰہ کے لئے خانہ کعبہ کا حج واجب ھے. (سورہ آل عمران:97)

❹ زکواۃ؛
وَاٰتُواالزَّکٰوۃَ... اور زکواۃ ادا کرو.
(سورہ بقرہ:43)

❺خمس؛
وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَئ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہ وَلِلرَّسُوْلِ ولِذِی الْقُرْبیٰ۔۔۔۔۔
اور جان لو جو غنیمت(نفع) تم کسی چیز سے حاصل کرو تو اس کا پانچواں حصہ خدا اس کے رسول اور {رسول کے} قرابتداروں کا ہے.
(سورہ الانفال:41)

❻ جھاد؛
وَجَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہ.
اور اللّٰہ کی راہ میں ایسے جھاد کرو جیسا جھاد کا حق ھے. (سورہ الحج:78)

❼ امربالمعروف،
❽ نہی عن المنکر:
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ.
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی ھدایت کے لئے پیدا کئے گئے ہو، تم لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو.
(سورہ آل عمران:110)

❾ توّلا:
قُل لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبیٰ.
کہہ دیجیے کہ میں تم سے اپنے قرابتداروں (اھلبیتؑ) کی محبت کے سوا کوئی اجرِ رسالت نہیں مانگتا. (سورہ الشورٰی:23)

❿ تبّرا:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ.
بےشک جو لوگ خدا اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر خدا نے دنیا اور آخرت میں لعنت کی ھے. (سورہ الاحزاب:57)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌟 وقتِ نزع دیدارِ پنجتن پاکؑ 🌟

🌹رسول اكرمؐ نے فرمایا:
جو ہم اہلبيت سے نفرت كرے گا وہ منافق ہوگا.(1)

🌹رسول اكرمؐ نے فرمایا:
ہم اہلبيت كا دوست مؤمن متقى ہوگا اور ہمارا دشمن منافق شقى ہوگا.(2)

🌹رسول اكرمؐ نے فرمایا:
قسم ہے اس ذات كى جس كے قبضہ ميں ميرى جان ہے!
انسان كى روح اس وقت تک جسم سے جدا نہيں ہوتى جب تک جنّت كے درخت يا جہنم كے زقوم كا مزہ نہ چكھ لے اور ملک الموت كے ساتھ مجھے، علىؑ، فاطمہؑ، حسنؑ اور حسينؑ كو نہ ديكھ لے. اس كے بعد اگر ہمارا مُحب ہے تو ہم ملک الموت سے كہتے ہيں ذرا نرمى سے كام لو كہ يہ مجھ سے اور ہمارے اہلبيتؑ سے محبّت كرتا تھا اور اگر ہمارا اور ہمارے اہلبيتؑ كا دشمن ہے تو ہم كہتے ہيں ملک الموت ذرا سختى كرو كہ يہ ہمارا اور ہمارے اہلبيتؑ كا دشمن تھا.
اور ياد ركھو! ہمارا دوست مؤمن كے علاوہ اور ہمارا دشمن منافق بدبخت كے علاوہ كوئی نہيں ہو سكتا ہے.(3)

📚 حوالہ جات:
(1)فضائل الصحابہ ابن حنبل 2 ص661، 1166، درمنثور7، ص349. نقل از ابن عدى، مناقب ابن شہرآشوب3، ص205، كشف الغمہ1، ص47. روايت ابوسعيد.
(2)ذخائرالعقب، ص18، روايت جابر بن عبداللہ. كفايةالاثر، ص110. واثلہ بن الاسقع.
(3)مقتل الحسين، خوارزمى 1، ص109، روايت زيد بن علی.

بشکریہ تحقیق: ریاض قادری

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 صدقے کا کرشمہ 🔷

ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دَور رہتا تھا، ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی. اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے.

وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری کی مجلس پر گزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطے لوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ..
"جو شخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو چار دعائیں دوں گا"

اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر کو دے دیے.

منصور بصری نے کہا؛ بتا کیا دعائیں چاہتا ہے...؟

غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں.

منصور بصری نے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے...؟

غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے.

منصور بصری نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا؛ تیسری دعا کیا ہے...؟

غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میرے سردار کو توبہ کی توفیق دے اور اس کی دعا قبول کرے.

منصور بصری نے اس کی بھی دعا کی، پھر پوچھا چوتھی دعا کیا ہے...؟

غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری، میرے سردار کی، تمہاری اور یہاں مجمعے میں موجود ہر شخص کی مغفرت کرے.

منصور بصری نے اس کی یہ بھی دعا کی.

اس کے بعد وہ غلام خالی ہاتھ اپنے سردار کے پاس واپس چلا گیا. سردار اسی کے انتظار میں تھا. دیکھ کر کہنے لگا:
اتنی دیر لگا دی...؟
غلام نے قصہ سنایا.
سردار نے ان دعاؤں کی برکت سے بجائے غصہ ہونے اور مارنے کے یہ پوچھا کہ کیا کیا دعائیں کرائیں...؟

غلام نے کہا پہلی تو یہ کہ میں غلامی سے آزاد ہو جاؤں.....
سردار نے کہا میں نے تجھے آزاد کر دیا.
دوسری کیا تھی...؟

غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدلہ مل جائے.....
سردار نے کہا میری طرف سے تمہیں چار ہزار درہم نذر ہیں.
تیسری کیا تھی....؟

غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ تمہیں شراب وغیرہ فسق و فجور سے توبہ کی توفیق دے....
سردار نے کہا میں نے اپنے سب گناہوں سے توبہ کر لی.
چوتھی کیا تھی....؟

غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری، آپ کی، ان بزرگ کی اور سارے مجمع کی مغفرت فرما دے.
سردار نے کہا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے.

رات کو سردار کو خواب میں ایک آواز سنائی دی.....
جب تو نے وہ تینوں کام کر دیے جو تیرے اختیار میں تھے تو کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ وہ کام نہیں کرے گا جس پر وہ قادر ہے....؟
اللہ نے تیری، اس غلام کی، منصور کی، اور اس سارے مجمعے کی مغفرت کر دی ہے.

اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ صدقہ باعث نجات بھی ہے اللہ پاک ہم سب کو صدقہ کرنے اور اپنی زندگی کو عین اسلام کے مطابق بسر کرنے کی اور جو ہم سے گناہ ہو گئے ہیں ان کی معافی مانگنے کی توفیق دے.

📚 ریاض الصالحین صفحہ ۱۲۰.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹حضرت آدمؑ کی دعا کا وسیلہ🌹

"وَأخرج ابْن النجار عَن ابْن عَبَّاس قَالَ سَأَلت رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَن الْكَلِمَات الَّتِي تلقاها آدم من ربه فَتَابَ عَلَيْهِ قَالَ: سَأَلَ بِحَق مُحَمَّد وَعلي وَفَاطِمَة وَالْحسن وَالْحُسَيْن إِلَّا تبت عَليّ فَتَابَ عَلَيْهِ."

ترجمہ:
ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ..
جب حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ کے متعلق سوال کیا گیا تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
حضرت آدم علیہ السلام نے کہا؛ خداوندا تجھے واسطہ محمدؐ، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ اور حسینؑ کا کہ تو میری لغزش کو درگزر فرما۔ تب توبہ قبول ہوئی.
سبحان اللہ کیا شان ھے پنجتن پاکؑ کی.

حوالہ جات:
الدرالمنثور، ج1، ص127.
المؤلف: عبد الرحمٰن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي (المتوفى: 911هـ)، الناشر: دار الفكر بيروت، عدد الأجزاء:8.

تذكرةالموضوعات، ج1، ص98.
المؤلف: محمد طاهر بن علي الصديقي الهندي الفَتَّنِي (المتوفى: 986هـ)، الناشر: إدارة الطباعة المنيرية، الطبعة: الأولى، 1343 هـ، عدد الأجزاء:1.

تنزيه الشريعة، ج1، ص195.
المؤلف: نور الدين، علي بن محمد بن علي بن عبد الرحمن ابن عراق الكناني (المتوفى: 963هـ)، المحقق: عبدالوهاب عبداللطيف، عبدالله محمد الصديق الغماري، الناشر: دارالكتب العلمية بيروت، الطبعة: الأولى، 1399 هـ، عددالأجزاء: 2.

اللآلىء المصنوعة، ج1، ص369.
المؤلف: عبدالرحمٰن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي (المتوفى: 911هـ)، المحقق: أبوعبدالرحمان صلاح بن محمد بن عويضة، الناشر: دارالكتب العلمية بيروت، الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1996م، عددالأجزاء: 2.

الموضوعات، ج2، ص3.
المؤلف: جمال الدين عبدالرحمٰن بن علي بن محمد الجوزي (المتوفى: 597هـ)، ضبط وتقديم وتحقيق: عبدالرحمٰن محمد عثمان، الناشر: محمد عبدالمحسن صاحب المكتبة السلفية بالمدينة المنورة، الطبعة: الأولى، جـ 1، 2: 1386 هـ - 1966 م، جـ 3: 1388 هـ - 1968 م.

الفوائدالمجموعة، ج1، ص394.
المؤلف: محمد بن علي بن محمد الشوكاني (المتوفى: 1250هـ)، المحقق: عبدالرحمٰن بن يحي المعلمي اليماني، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان.

الفتح الرباني من فتاوى الإمام الشوكاني، ج1، ص288.
المؤلف: محمد بن علي بن محمد بن عبدالله الشوكاني اليمني (المتوفى: 1250هـ)، حققه ورتبه: أبو مصعب «محمد صبحي» بن حسن حلاق، الناشر: مكتبة الجيل الجديد، صنعاء- اليمن، عددالأجزاء: 12.

اتحاف السائل بما لفاطمة من المناقب والفضائل، ج1، ص76.
المؤلف: زين الدين محمد المدعو بعبد الرؤوف بن تاج العارفين بن علي بن زين العابدين الحدادي ثم المناوي القاهري (المتوفى: 1031هـ)، دراسة وتحقيق وتعليق: عبداللطيف عاشور، الناشر: مكتبة القرآن للطبع والنشر والتوزيع، القاهرة، عدد الأجزاء: 1.

بشکریہ مرتبہ: ریاض قادری

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 عورت کی آزادی 🔷

بھیڑیوں نے بکریوں کے حق میں جلوس نکالا کہ بکریوں کو آزادی دو بکریوں کے حقوق مارے جا رہے ہیں انہیں گھروں میں قید کر رکھا گیا ہے...

ایک بکری نے جب یہ آواز سنی تو دوسری بکریوں سے کہا کہ سنو سنو! ہمارے حق میں جلوس نکالے جا رہے ہیں چلو ہم بھی نکلتے ہیں اور اپنے حقوق کی آواز اٹھاتے ہیں...

ایک بوڑھی بکری بولی بیٹی ہوش کے ناخن لو یہ بھیڑیے ہمارے دشمن ہیں ان کی باتوں میں مت آؤ...

مگر نوجوان بکریوں نے اس کی بات نہ مانی کہ جی آپ کا زمانہ اور تھا یہ جدید دور ہے۔ اب کوئی کسی کے حقوق نہیں چھین سکتا۔ یہ بھیڑیے ہمارے دشمن کیسے.... یہ تو ہمارے حقوق کی بات کر رہے ہیں...

بوڑھی بکری سن کر بولی؛ بیٹا یہ تمہیں برباد کرنا چاہتے ہیں ابھی تم محفوظ ہو۔ اگر ان کی باتوں میں آگئی تو یہ تمہیں چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے...

بوڑھی بکری کی یہ بات سن کر جوان بکری غصے میں آگئی اور کہنے لگی کہ اماں تم تو بوڑھی ہوچکی ہو، اب ہمیں ہماری زندگی جینے دو، تمہیں کیا پتہ آزادی کیا ہوتی ہے. باہر خوبصورت کھیت ہونگے ہرے بھرے باغ ہونگے، ہر طرف ہریالی ہوگی، خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی، تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اب ہم مزید یہ قید برداشت نہیں کرسکتیں. یہ کہہ کر سب آزادی آزادی کے نعرے لگانے لگیں اور بھوک ہڑتال کر دی.

ریوڑ کے مالک نے جب یہ صورتحال دیکھی تو مجبورا انہیں کھول کر آزاد کر دیا.

بکریاں بہت خوش ہوئیں اور نعرے لگاتی چھلانگیں مارتی نکل بھاگیں... مگر یہ کیا...؟ بھیڑیوں نے تو ان پر حملہ کر دیا اور معصوم بکریوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا....

🔘 آج عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والے درحقیقت عورتوں تک پہنچنے کی آزادی چاہ رہے ہیں. انہیں عورتوں کے حقوق کی نہیں.... اپنی غلیظ پیاس کی فکر ہے۔ کاش کہ کوئی سمجھے!!!

درحقیقت آج کا لبرل مرد عورت کی آزادی نہیں بلکہ... عورت تک پہچنے کی آزادی چاہتا ہے...

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/3064
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔

🔷 اسکارف
http://t.me/islamwitheman/151

🔷 حوا کی بیٹی
https://t.me/islamwitheman/362

🔷 مردوں کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/413

🔷 عورت کی آزادی
https://t.me/islamwitheman/412

🔷 دو قسم کی عورتیں
https://t.me/islamwitheman/2207

🌹 عفت و پاکدامنی
http://t.me/islamwitheman/2550

🌹 حضرت فاطمہؑ اور حجاب
http://t.me/islamwitheman/2578

🌸 حجاب کے متعلق روایات
http://t.me/islamwitheman/2714

🔷 پردہ اور آزادی
https://t.me/islamwitheman/2909

🔷 عورت کا پردہ کرنا ناگزیر ہے
https://t.me/islamwitheman/2931

🌹 عورت
https://t.me/islamwitheman/3065

🌹 اسلام عورت کا محافظ
https://t.me/islamwitheman/3066

🔷 میرا جسم میری مرضی
https://t.me/islamwitheman/3067

🔷 تیرا جسم تیری مرضی؟
https://t.me/islamwitheman/3068

🔷 عورت مارچ والیوں کو جواب
https://t.me/islamwitheman/3069

🔷 کھانا خود گرم کر لو
https://t.me/islamwitheman/3070

🔷 نوجوان لڑکیوں کے نام پیغام
https://t.me/islamwitheman/3071

🔷 میرا ہمسفر ہی میری ڈھال
https://t.me/islamwitheman/4154

🌹 لڑکیوں پر پابندیاں لگانے کی وجہ
https://t.me/islamwitheman/4157
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 مردوں کے حقوق 🔷

"یہ مضمون ہر عورت کےمتعلق نہیں ہے. صرف مغرب زدہ بیمار ذہنیت رکھنے والی عورتوں اور ان کے ہم خیال مردوں کے لئے ہے اور مشرق کی باحیاء اور بااخلاق عورتوں کو بےحیا‌‎ئی اور بےاخلاقی کی ترغیب دینے کی حوصلہ شکنی کیلئے ہے۔ ایسی وہ تمام عورتیں جو باحیاء اور بااخلاق ہیں، اپنی اسلامی اقدار سے روشناس ہیں، اپنی زندگی احسن طریقے سے اسلامی اصولوں کے مطابق گزارتے ہو‎ئے اپنے فرائض ادا کر رہی ہیں اور حقوق حاصل کر رہی ہیں اورجن عورتوں کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں، انکو حقوق دلوانے کیلئے اسلامی اقدار کا پاس رکھتے ہو‌‏ئے جدوجہد کر رہی ہیں، وہ سب میرے لئے قابل احترام ہیں۔"

🔷عورتوں کےمعاشرےمیں مردوں کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ آپ یقین نہیں کریں گے مگر بات حقیقت پر مبنی ہے، آجکل کے معاشرے کی عورتوں نے مردوں کی ناک میں دم کرکے رکھ دیا ہے۔ آپ کو‎ئی بھی اخبار دیکھ لیں، ان میں جلی حروف میں عورتوں کی طرف سے یہ واویلا کیا گیا ہوتا ہے.. "مردوں نے عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے"، "آخر حوا کی بیٹی کب تک پٹتی رہے گئی؟" وغیرہ وغیرہ...

🔸ہمارےمعاشرےمیں مغرب کی نسبت اکثر علاقوں میں عورتیں پہلے ہی کافی مراعات حاصل کر رہی ہیں۔ ظلم کے واویلے کی آڑ لیتے ہوئے یہ عورتیں مردوں کے حقوق پر بھی ڈاکہ ڈال رہی ہیں. آپ کو میری بات پر یقین نہیں تو ملازمت کے شائع ہونیوالے اشتہارات ملاحظہ کرلیں، ان پر عورتوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ ان کو ملازمت کیلئے درخواست دینے پر حوصلہ افزائی کی جا‎ئے گی.

🔸ہرجگہ پر ہمیشہ مردکو ہی قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے، اگر مرد عورت کو تھپڑ مارے، مرد قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ "کتنا ظالم مرد ہے، عورت (کمزور) پر ہاتھ اٹھاتا ہے"، "اگر عورت مرد کو تھپڑ مارے تب بھی مرد کو ہی قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے.. کیوں؟

🔸کسی بھی ٹی۔وی چینل کا کو‏ئی بھی تمثیل یا مباحثہ ملاحظہ کر لیں، ہر ایک میں بس ایک ہی راگ آلاپا جاتا ہے کہ "عورت پر ظلم ہو رہا ہے"، "ماں کو معاشرے میں یہ مسئلہ ہے، بیٹی کو یہ، بہو کو وہ" بس عورتوں کے مسائل کی ہی بات کی جاتی ہے. کبھی کسی تمثیل میں مردوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی ہے، کیا مرد انسان نہیں؟

🔸جابجا آپ ملاحظہ کریں گے کہ سیکولر (لادین) معاشروں میں (کلی/جزوی) عورتیں مردوں کو گناہ کی طرف مائل کرتی ہوئی نظر آئیں گی، جب کہيں پر کوئی مرد ان کی دعوت قبول کرلیتا ہے تو مرد کی ذہنیت کو ہی گندہ کہا جاتا ہے. کیوں؟

🔸اخبارات ہوں یا رسائل، اشیاء کی تشہیر کیلئے عورت ہی کی تصویر کیوں شائع کی جاتی ہے(جن میں عورتوں نے اپنی نمائش کی ہوتی ہے)؟

🔸اگر کوئی لڑکی/عورت کوتوال کو شکایت لگائے کہ مرد مجھے گھور/چھیڑ رہا ہے. تو اس کو سزا/جرمانہ ہو جاتا ہے. مگر مرد ایسی شکایت لگا‌‏ئے تو بات مذاق میں لی جاتی ہے، کیوں؟

🔸ستم پر ستم، لڑکی کی ماں، لڑکی کو اس کی شادی پر رخصت کرتے ہوے کہتی ہے کہ تیرا شوہر تجھے خوش رکھے گا. وہ اس کو ساتھ میں یہ کیوں نہیں کہتی کہ تو بھی اس کو خوش رکھنا؟

🔸پرانےوقتوں میں لڑکےزیادہ پڑھے، لکھے ہوتے تھے اور لڑکیاں کم پڑھی لکھی. ان پڑھ لڑکا ایسی لڑکی کو اپنی شریک حیات بخوشی بنا لیتا تھا اور اب بھی.. مگر اب زیادہ پڑھی لکھی لڑکیاں کم پڑھے لکھے لڑکے سے شادی کرنے کو اپنے لئے گالی/ بدنامی کا باعث سمجھتی ہیں اور کسی امیر آدمی کی دوسری، تیسری بیوی بننا پسند کرتی ہیں.. کیوں؟

🔸بیوی اپنے خاوند پر شک کرے تو اس کا حق ہو گیا اگر خاوند اپنی بیوی پر شک کرے تو گری ہوئی ذہنیت کا مرد کہلایا. کہاں کا انصاف ہے؟

🔸مرد قتل کرے تو سزائےموت اور اگر عورت قتل کر دے تو صرف عمر قید.. کہاں کا انصاف ہے؟

🔷میرے دل میں عورتوں کے لئے عزت کا مقام ہے. مغرب نے عورتوں کو اس کا حق نہیں دیا. عورت مغرب میں اپنے تمام تر معاملات میں آزاد ہے مگر وہ اکیلی ہے، اسکا کوئی پرسان حال نہیں ہے. مرد ان کے ساتھ رہتے ہیں، شادی نہیں کرتے، شاذونادر کسی جوڑے کی شادی ہوتی ہے۔(یہ انسانی معاشرے کی نشانی نہیں ہے)

🔷عورت اور مرد بالکل بھی برابر نہیں ہیں۔ عورت، عورت ہے اور مرد، مرد ہے. دونوں کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں. میاں بیوی کا رشتہ ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا یا قابو کرکے رکھنا نہیں ہوتا بلکہ دونوں کی ہم آہنگی سے انسانیت کی بقاء کیلئے ایک صحت مند، سمجھدار معاشرے کی پرورش میں اپنی ذمہ داری احسن طریقہ سے ادا کرنا ہوتی ہے.

🔷پاکستانی معاشرے میں اگر کہیں پر عورت ظلم سہہ رہی ہے تو وہ صرف اس لئے کہ وہاں لوگ اسلامی تعلیمات پر کلی طور پر عمل پیرا نہیں ہیں. جزوی طور پر ہم سب مسلمان بنتے ہیں. مگر حقیقی کامیابی تو مکمل اسلام میں داخل ہونے پر ہے. ہر معاشرتی مسئلے کا حل اسلام میں موجود ہے. اللہ ہم سب کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے.

🌹منقول از: استاد حوزہ علمیہ قم: آقای انصاریان

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕