ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔷 شہادت جون بن حویؑ 🔷

جون بن حویؑ کا تعلق حبشہ سے تھا آپ نے اسلام کی پہلی ہجرت کے بعد نجاشی کے دور میں اسلام قبول کیا اور بعد ازاں آپ رسول اللہؐ کی خدمت میں مدینہ آگئے ان کے بعد امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے پاس رہے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے جون کو ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا اور یہاں سے جون علیہ السلام اور ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی بہترین دوستی کا آغاز ہوا۔ علی علیہ السلام کے ساتھ گزرے وقت کی وجہ سے جون کی امام حسن علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام کے ساتھ قلبی وابستگی پہلے ہی قائم ہو چکی تھی، ابوذر غفاری کا ساتھ ملنے پر محمدؐ و آل محمد علیہم السلام سے وابستگی مزید پختہ ہوتی چلی گئی۔ جب امام حسین علیہ السلام بیعت طلبی کے بعد مدینہ چھوڑ رہے تھے اس وقت جون کی عمر 70 برس ہو چکی تھی اور کمر میں خم پڑ چکا تھا مگر پھر بھی امام حسین علیہ السلام کے حضور پیش ہوئے اور اُن کا ساتھ دینے کے لیے سفر پر نکل پڑے۔

یوم عاشور امام حسین علیہ السلام نے جون کی خدمات و عمر کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کو جنگ کرنے سے رعایت دے دی اور واپس مدینہ چلے جانے کو کہا تو جون نے کہا اے فرزند رسول میں آسودگی کے دور میں آپؑ کی خدمت کرتا رہا ہوں اب سختی و شدت کے دور میں آپ کو تنہا چھوڑ کر چلا جاؤں؛

"خدا کی قسم میری بو گندی اور بدبودار ہے، میرا حسب کمینہ ہے اور میرا رنگ سیاہ ہے تو آپؑ مجھ کو جنت سے دور رکھنا چاہتے ہیں، مجھے اس کا اہل نہیں سمجھتے تاکہ میری بدبو خوشبو میں بدل جائے اور میرا حسب شریف ہو جائے اور میرا چہرہ بھی سفید ہو جائے، نہیں خدا کی قسم آپؑ سے جدا نہ ہونگا جب تک یہ سیاہ خون آپؑ کے مطہر خون سے نہ مل جائے"

جون کو جنگ کرنے کی اجازت ملی تو اس ضعیف العمری میں، اِس صحابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 25 یزیدیوں کو جہنم واصل کیا۔ بالآخر جب آپ گھوڑے سے زمین پر آئے تو امام حسین علیہ السلام جون کے پاس پہنچے جون کا سر اپنے زانو پر رکھا اور جون کا چہرہ تھام کر یہ تاریخی دعا کی:

“اَللّهُمَّ بَیِّض وَجهَهُ وَ طَیِّب ریحَهُ وَ احشُرهُ مَعَ الأبرارِ وَ عَرِّف بَینَهُ و بَینَ مُحمدٍ و آلِ مُحمدٍ”
ترجمہ:
پروردگار اس کا چہرہ منور کر دے اور ان کی بو کو خوشبو میں بدل دے، انہیں نیکوکاروں کے ساتھ محشور فرما اور انہیں محمدؐ وآل محمدؐ کے درمیان باحیثیت بنا دے۔

امام محمد باقر علیہ السلام اپنے والد امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ معرکہ کربلاء کے دس دن بعد جناب جون بن حوی علیہ السلام کی لاش کو کچھ افراد نے اس طرح پایا کہ ان کے جسم سے مشک و کستوری کی مہک آتی تھی۔ اُن کا نام زیارت ناحیہ میں ابوذر غفاری کے ساتھ بالکل اُسی طرح آیا ہے جیسا کہ اُن کا اور ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا ساتھ رہا۔

■ شہادت جناب جون بن حوی
خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی مرحوم فرماتے تھے کہ پچانوے سال کا بڈھا حبشی جون جھکی ہوئی کمر کے ساتھ امام حسینؑ کے سامنے آیا اور کہا آقا حسین!
میں بھی چاہتا ہوں کہ آج آپ پر قربان ہو جاؤں۔
امام حسینؑ نے فرمایا: چچا جون! تم میرے بزرگوں کی یادگار ہو، تم بہت بوڑھے ہو چکے ہو، اس لیے تم کہیں محفوظ جگہ چلے جاؤ۔

یہ سننا تھا کہ جناب جون نے کہا کہ ہاں حسینؑ! میں نے اپنی حد سے بڑھ کر بات کر دی، میں کجا اور حسین پر قربان ہونا کجا؟
مولا حسینؑ! آپؑ پر قربان ہونے کیلئے عباس جیسا ہاشمی، اکبر جیسا نوجوان اور حبیب جیسا اسدی چاہیے۔ میں ٹھہرا ابوذر غفاری کا ایک حبشی غلام، میرا رنگ کالا، میرے خون میں بدبو اور میرا حسب نامعلوم مجھ سے گستاخی ہوگئی۔

یہ کہنا تھا کہ امام حسینؑ نے آگے بڑھ کر جون کو گلے لگا لیا اور فرمایا: چچا جون! تم برا مان گئے، تم مجھے عباس کی طرح پیارے ہو۔

یہ سن کر جناب جون کے چہرے پر رونق آئی اور میدان میں جا کر کہا:

اے بے حیا قوم! میں محمدؐ کے بیٹے حسینؑ کی حمایت میں جنگ کرنے آیا ہوں۔

تھوڑی دیر بعد آواز دی: حسین میں گر گیا۔
امام حسینؑ سرہانے پہنچے اور جون کے رخسار پر رخسار رکھا یہ دیکھ کر جناب جون نے جناب حبیب کو آواز دی اور کہا: حبیب دیکھو! محمدؐ کے بیٹے کا رخسار میرے رخسار پر ہے۔

امام حسینؑ نے دعا دی اور جناب جون کے بدن سے مشک و عنبر کی خوشبو سے کربلا مہک اٹھا" 20 محرم الحرام کو آپ کو دفن کیا گیا۔

https://t.me/islamwitheman/3932
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کربلا کی شہید خاتون 🔷

سانحہ کربلا میں شہید ہونے والی پہلی خاتون جناب وہب بن عبداللہ کی والدہ۔۔۔

تاریخِ کربلا میں بہت سارے ایسے موارد دکھائی دیتے ہیں جہاں ماؤں اور بیویوں نے مردوں کی حوصلہ افزائی کی اور انھیں فداکاری اور جانثاری پر آمادہ کیا۔ ان میں سے ایک جناب وہب بن عبداللہ بن حباب کلبی کی والدہ بھی ہیں۔ وہ اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ کربلا میں موجود تھیں۔ روز عاشور وہب کی ماں نے وہب سے کہا: "بیٹا دیکھو فرزند رسول کی مدد کرنا۔"
وہب میدان میں گئے بہت سارے یزیدیوں کو واصل جہنم کیا زخموں سے چور ہو کر ماں کے پاس واپس آئے اور کہا: اے مادر گرامی کیا اب مجھ سے راضی ہیں؟

وہب کی ماں نے جواب دیا: جب تک تم فرزند رسول کی حمایت میں شہید نہ ہو جاؤ اس وقت تک میں تم سے راضی نہیں ہوں۔

اسلام میں ابتدائی جہاد اور میدان کارزار میں جنگ کرنا عورتوں پر واجب نہیں ہے۔ حتی کربلا میں جو جنگ دفاعی تھی امام حسین علیہ نے عورتوں کو جنگ کرنے کی اور میدان میں جانے کی اجازت نہیں دی، روز عاشور صرف دو عورتیں ایسی تھیں جو اپنے جذبہ ایمانی پر قابو نہ کر سکیں اور میدان میں داخل ہو گئیں اور امام ان کو واپس لے کر آئے۔
نقل ہوا ہے کہ جب وہب دوبارہ میدان میں لڑنے کے لیے گئے تو ان کی بیوی نے خیمہ کا پردہ الٹا اور میدان کی طرف بھاگ گئی۔ اور اپنے شوہر کے ہمراہ جنگ کرنا شروع کردیا۔ اور اپنے شوہر کو یہ کہتی تھیں: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں حرم رسول اللہ کی حفاظت میں جنگ کرتے رہو۔

جب جناب وہب نے انہیں واپس لوٹانا چاہا تو ان کا لباس پکڑ لیا اور کہا: میں واپس نہیں جاؤں گی جب تک کہ تمہارے ساتھ شہید نہ ہو جاؤں۔ امام حسین علیہ السلام اس منظر کو دیکھ کر تشریف لائے اور جناب وہب کی زوجہ سے کہا: تم اجر عظیم کی سزاوار ہو خدا تم پر رحمتیں نازل کرے خیمہ میں واپس چلی جاؤ۔

امام کے حکم سے واپس چلی گئیں اور جناب وہب جنگ کرتے کرتے شہید ہو گئے۔

روضۃ الواعظین نیشا پوری ص224، عاشر بحارالانوار، ص196، امالی شیخ صدوق،ص 97، لواعج الشجان ،ص116، اور نفس المہموم، ص 153 کتب وغیرہ سے ظاہر ھے۔ صاحب فرسان الہیجاء نے صفحہ 137 پر لکھا ھے "وہب کی تازہ شادی ھوئی تھی، روز عاشورہ شادی کو ابھی 17 روز سے زیادہ کا عرصہ نہیں گزرا تھا جب انہوں نے نصرت فرزند رسول صلی اللہ علیہ و اٰلہ وسلم میں جام شہادت نوش کیا۔

وہب کی شہادت کے بعد ان کی والدہ ان کے سرہانے آئیں اور وہب کے چہرے سے خون کو صاف کرنا شروع کیا۔ شمر اس منظر کو دیکھ رہا تھا اس نے اپنے غلام کو وہب کی ماں کے سر پر ضربت لگانے کا حکم دیا۔ غلام نے آگے بڑھ کر ایک کڑی ضربت لگائی۔ وہب کی والدہ کے سر میں شگاف پڑ گیا اور اپنے بیٹے کی لاش کے پاس شہید ہو گئیں۔ یہ سب سے پہلی وہ خاتون تھیں جو واقعہ کربلا میں شہید ہوئی تھیں۔

🔘 واضح رہے جناب وہب، ان کی والدہ اور ان کی زوجہ پہلے عیسا‏ئی مذہب کی پیروکار تھیں۔ جب امام حسین علیہ السلام عراق کی جانب آ رہے تھے تو راستے میں جناب وہب، ان کی والدہ اور ان کی زوجہ کی ملاقات امام حسین علیہ السلام سے ہوئی۔ ان تینوں افراد نے امام علیہ السلام کی شخصیت سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا اور حسینی قافلہ میں شامل ہو گئے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 جنادہ بن حارث حمدانی 🔷

جناده بن حارث سلمانی ازدی حسین بن علی کے طرفداروں میں سے تھے جو 10 محرم 61ھ کو کربلا کی لڑائی میں امام حسین علیہ السلام کی طرف سے یزیدی فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔

■ اصحاب علیؑ
سلمان قبیلہ مراد کی ایک شاخ اور مراد قبیلہ مذحج کا ایک شعبہ ہے۔ جنادہ بن حارث کوفہ کے باشندے اور مشاھیر شیعہ میں سے تھے۔ عہدِ رسول اللہ (ص) کا ادراک کیا پھر حضرت علی بن ابیطالب علیھما السلام کے ساتھ رھے اور جنگِ صفین میں جہاد کیا۔ شیخ طوسی نے کتاب الرجال میں انکا نام اصحابِ حسین علیہ السلام میں درج کیا ہے۔

■ مسلم بن عقیل کا ساتھ اور کربلا میں شہادت
جب جناب مسلم بن عقیل علیہ السلام کوفہ میں امام حسین علیہ السلام کی بیعت لے رہے تھے تو جنادہ نے وفاداری کے ساتھ بیعت کی اور جناب مسلم کے ساتھ جہاد میں شریک بھی ہوئے مگر جب فضا جناب مسلم علیہ السلام کے خلاف ہوگئی تو وہ بھی مثل دیگر اشخاص کے مخفی ہوگئے اور آخر اسی جتھے میں جو منزل عذیب الھجانات میں خدمت امام علیہ السلام میں پہنچا تھا وہ بھی حاضر ہوئے اور اسی جتھے کے ساتھ رہ کر جنگ بھی کی اور درجہ شہادت حاصل کیا۔

📚 جناده بن حارث سلمانی (تارنمای رشد)

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 نافع بن ہلال 🔷

کربلا کی عدیم المثال شخصیات میں سے ایک شخصیت شہیدِ کربلا "نافع بن ہلال" ہیں۔ نافع بن ہلال کا تعلق "قبیلہ جمل" سے تھا، جو "قبیلہ مذحج" کی ایک شاخ تھی اور وہ یمنی الاصل تھے۔ نافع اپنے قبیلہ کے سردار بزرگ تھے، بہادر اور حافظ قرآن تھے، حاملِ حدیث، اصحابِ امیرالمومنین حضرت علیؑ میں سے تھے، جنگِ جمل، صفین، نہروان تینوں جنگوں میں حضرت علیؑ کے ہمرکاب تھے۔

کربلا میں جب حضرت عباس علمدار پانی کی جدوجہد کیلئے نہر پر تشریف لے گئے تھے تو نافع ابن ہلال آپ کیساتھ تھے۔

حضرت نافع بن ہلال کا نام زیارت رجبیہ امام حسینؑ اور زیارت ناحیہ میں آیا ہے۔ زیارت ناحیہ میں ہے۔۔۔
"السلام علی نافع بن ہلال البجلی المرادی"

نافع بن ہلال حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت سے پہلے کوفہ سے نکلے اور راستے میں امام حسینؑ کے قافلے میں شامل ہوگئے۔ وہ عذیب الہجانات نامی یا اس سے قبل ایک جگہ پر امام حسینؑ کے ساتھ ملحق ہونے والے چار افراد میں سے ایک ہیں۔

■ تجدید بیعت
محرم کی دوسری تاریخ کو امام حسینؑ کربلا پہنچے۔ اور آپ نے اپنی اہلبیتؑ اور اصحاب کو جمع کیا اور اہلبیتؑ سے خطاب کیبعد امامؑ نے اصحاب کیطرف رخ کرکے فرمایا:
"لوگ دنیا کے غلام بن گئے ہیں اور دین انکی زبان کی حد تک ہے، دین کی حمایت اور پیروی اسوقت تک کرتے ہیں، جب تک انکی زندگی آسائش میں گزرے اور جیسے ہی کوئی مصیبت آجائے اور کسی سختی کا شکار ہوں تو دیندار کم ہی نظر آتے ہیں۔"

امامؑ کی اس تقریر کیبعد آپکے اصحاب نے ایک ایک کرکے اپنی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے آپکے ساتھ تجدید بیعت کیا۔

نافع بن ہلال نے زہیر بن قِین کے بعد کھڑے ہو کر امامؑ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: "آج آپ ہمارے درمیان اسی طرح ہیں، بعض اپنا عہد و پیمان توڑ کر آپ کی بیعت سے خارج ہوگئے ہیں جبکہ اس بیعت شکنی میں ان کا اپنا نقصان ہے، کسی اور کا نہیں، خدا ان سے بے نیاز ہے۔ پس ہمیں جب تک آپ سالم ہیں، ہماری رہنمائی فرما کر ہمیں جہاں لے جانا چاہیں لے جائیں، خدا کی قسم ہمیں خدا کی تقدیر پر کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے اور اپنے پروردگار کے ساتھ ملاقات کرنے میں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ہم اپنی نیت اور سوچ کے بل بوتے پر عمل پیرا ہونگے، جو بھی آپ سے محبت کرے اور آپ کی حمایت کرے، ہم بھی اس سے محبت کریں گے اور جو بھی آپ سے دشمنی اختیار کرے، ہم بھی اس کے دشمن بنیں گے۔"

■ شادی
بعض منابع کے مطابق نافع بن ہلال نے انہی دنوں شادی کی تھی اور جب روز عاشورا میدان میں جانے کا ارادہ کیا تو ان کی نئی نویلی دلہن نے منع کیا، لیکن وہ امامؑ کی نصرت کیلئے اصرار کر رہے تھے۔

جب امامؑ کو اس بات کا پتہ چلا تو آپؑ نے نافع سے فرمایا:
"تمہاری دلہن پریشان ہے اور مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ تم دونوں جوانی میں ایک دوسرے کے فراق میں مبتلا ہو جاؤ، اگر یہ راضی نہیں ہے تو اپنی دلہن کا ہاتھ پکڑ کر یہاں سے چلے جاؤ۔"

نافع نے کہا: "یابن رسول اللہ اگر سختی اور مصیبت میں آپ کو تنہا چھوڑ کر اپنی آسائش کے پیچھے چلا جاؤں تو کل قیامت کے دن آپ کے نانا رسول خدا کو کیا جواب دوں۔"

■ جنگ اور شہادت
روز عاشورا تیروں پر اپنا نام لکھ کر انہیں زہر سے آلودہ کرکے دشمن کی طرف پھینکتے تھے اور تیر چلاتے وقت یہ اشعار پڑھتے تھے:
"ایسا تیر چلا رہا ہوں، جس کے نوک پر لکھا ہے کہ جان کا خوف اسے کوئی فائدہ نہیں دیگا، یہ تیر زہر سے آلودہ اور مست حالت میں آگے جا رہا ہے، یہاں تک کہ میدان جنگ کو لطیف تیروں سے پر کریگا،
جب نافع کے پاس تیر ختم ہوئے تو انہوں نے تلوار اٹھا لی اور دشمن کی صفوف پر حملہ آور ہوئے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے: "میں ایک یمنی اور جملی جوان ہوں، میں اس دین کا پیروکار ہوں، جس پر حسین ابن علی ہیں؛ آج میری آرزو یہ ہے کہ شہید ہو جاؤں۔ پس میری یہ آرزو ہے اور میں اپنے عمل سے خود ملاقات کروں گا۔"
کربلا میں روزِ عاشور بارہ آدمی فوج ِ عمر بن سعد میں سے قتل کئے اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے، اس کے بعد ان پر حملہ ہوا اور اتنی جنگ ہوئی کہ ان کے بازو ٹوٹ گئے اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ شمر انہیں عمر بن سعد کے پاس لے گیا، عمر بن سعد نے کہا نافع یہ تم نے کیا کیا اور اپنے آپکو کس مصیبت میں مبتلا کیا۔

نافع نے کہا یہ تو خدا جانتا ہے کہ میری نیت کیا تھی، بہرحال شکر ہے کہ میں نے بارہ آدمی تم میں سے قتل کئے اور جو زخمی کئے وہ اس کے علاوہ ہیں اور اگر میرے بازوؤں میں دم اور کلائیوں میں سکت رہتی تو تم مجھے اس طرح گرفتار نہ کرسکتے۔ نافع یہ کہہ رہے تھے کہ خون بہہ کر اُن کی داڑھی کو تر کر رہا تھا۔ عمر سعد نے شمر کو حکم دیا کہ انہیں قتل کرے، شمر نے تلوار کھینچی نافع نے خدا کا شکر ادا کیا اور کہا: "اگر تو مسلمان ہوتا تو کبھی یہ گوارا نہ کرتا کہ ہمارا خون اپنے سر پر لے۔ شکر ہے خدا کا کہ ہماری موت بدترین خلق لوگوں کے ہاتھ سے قرار دی۔" شمر نے تلوار ماری اور نافع شہید ہوگئے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ابوثمامہ صائدیؓ 🔷

■ آپ کا نام
اکثر منابع میں ابوعمرو سے ابوثمامہ مراد ہے لیکن بعض مصادر میں انکا اور نام ذکر ہوا ہے جبکہ بعض نے انکے دیگر مشخصات میں اختلاف کیا۔ اسطرح کے اختلاف کتابت کی وجہ پیدا ہوئے ہیں جیسا کہ ان اشتباہات میں سے ابوثمامہ کو ابوتمامہ لکھنا۔[1] ان کا نام زیاد[2] یا عمر[3] نیز انکی نسبت میں بھی اختلاف مذکور ہے جیسے صائدی[4]، انصاری[5]، صیداوی[6] و صاعدی[7] بنو صائد قبیلہ حَمْدان کی شاخ ہے۔ بعض کتب انساب میں ابوثمامہ کا نام اور مشخصات اسطرح مذکور ہیں: زیاد ابن عمرو بن عریب بن حنظلہ بن دارم بن عبدالله الصائدی[8]

■ ابوثمامہ اور قیام امام حسینؑ
ابوثمامہ تابعین اور حضرت علیؑ کے ان اصحاب میں سے ہیں جنہوں نے حضرت علیؑ کے ہمراہ تمام جنگوں میں شرکت کی۔ انہیں حضرت امام حسنؑ کے اصحاب میں سے بھی شمار کیاگیا ہے۔ آپ معاویہ کے مقابلے میں امام حسنؑ کے ساتھ رہے۔[9] تاریخی مصادر میں زیادہ تر تذکرہ حضرت مسلمؑ بن عقیل کے ساتھ اور کربلا کے شہداء کے طور پر ملتا ہے۔

معاویہ کے مرنے کیبعد ابوثمامہ امام حسینؑ کو دعوت دینے میں شامل تھے اور کوفہ میں سلیمان بن صرد خزاعی کے گھر موجود تھے۔ جب حضرت امام حسینؑ حج کے فریضے کی ادائیگی کیلئے مکہ پہنچے تو امام کو خط لکھا۔[10] کوفہ میں امام حسینؑ کی جانب سے جب مسلمؑ بن عقیل موجود تھے تو ابوثمامہ لوگوں سے مالی امداد وصول کرتے اور جنگ کے حالات میں اسلحہ کی جمع آوری کی ذمہ داری ان کے سپرد تھی۔[11] ابن زیاد کے خلاف کوفے کے لوگوں کے قیام میں مسلم بن عقیل کی طرف سے تمیم اور حمدان نامی قبیلوں کی سپہ سالاری ابوثمامہ کے سپرد تھی۔[12] لیکن ابن زیاد کے لالچ دینے اور رعب ڈالنے کی سیاست نے کوفے کے اہم قبیلوں کے سرداروں کو پراگندہ کردیا اور مسلمؑ بن عقیل شہید ہوگئے۔ اسکے بعد ابوثمامہ ابن زیاد کی تعقیب کے تحت قرار پائے تو ابوثمامہ چند روز کیلئے اپنے قبیلے میں روپوش ہوگئے۔[13][14] پھر نافع بن ہلال کیساتھ مخفیانہ کوفہ سے باہر نکلے۔ مکہ سے کربلا کے راستے میں امام حسینؑ کے کاروان میں شمولیت اختیار کرلی اور انکے ہمراہ کربلا میں وارد ہوئے۔[15]

واقعۂ کربلا میں ابوثمامہ سے مربوط واقعات میں سے ہے کہ آپ نے عمر بن سعد کے ایلچی کثیر بن عبداللہ شعبی کو حضرت امام حسینؑ کے پاس مسلح آنے سے روکا اور عاشورا کے دن ظہر کے وقت کی اطلاع لشکر کودی جس کے جواب میں امام حسینؑ نے انکے حق میں دعائیہ کلمات کہے۔[16]

■ شہادت
ابوثمامہ کی شہادت کی جزئی کیفیات تاریخ میں مذکور نہیں لیکن طبری کی گزارش کے مطابق حر بن یزید ریاحی کی شہادت کیبعد ابوثمامہ نے اپنے مبارزے کو جاری رکھا یہانتک کہ شہید ہو گئے۔[17] کربلا میں امام حسینؑ کیساتھ ابوثمامہ کی گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے مکمل آگاہی اور مشتاقانہ امام حسینؑ کی رکاب میں شہادت کو قبول کیا۔[18]

روزِ عاشور جب سپاہ حسینؑ نے یکے بعد دیگرے ایکدوسرے سے شہادت میں سبقت حاصل کرنا شروع کی تو ابوثمامہ نے عرض کیا آقا! میں دیکھتا ہوں کہ یہ لوگ آپؑ کے قتل سے باز آنے والے نہیں اور میں چاہتا ہوں کہ آپؑ کے سامنے جام شہادت نوش کروں لیکن نماز کا وقت آگیا ہے اور بہت دوست رکھتا ہوں کہ یہ ایک آخری نماز بھی آپؑکی اقتدا میں ادا کرلوں۔ امام عالی مقامؑ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو زوال ہوچکا تھا فرمایا اے ابو ثمامہ! تو نے نماز کو یاد کیا ہے خدا تجھے نماز گزاروں میں سے کرے۔ پس امامؑ نے نمازِ خوف پڑھائی اور ابوثمامہ نے نماز کیبعد عرض کیا اے فرزند رسول! میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملحق ہونے کیلئے بے چین ہوں اور آپؑکو غریب و بے یار دیکھ کر طبیعت میں تابِ برداشت نہیں رہی، امامؑ نے اجازت دی اور ابوثمامہ نے میدانِ کارزار میں قدم بڑھایا۔ پس آپ فوجِ اعدأ پر شیر بن کر حملہ آور ہوئے اور بہت سے ملاعین کو قتل کیا اور بالآخر زخمی ہو کر گِر گئے، پس قیس بن عبداللہ نے انکو شہید کیا جو انکا چچازاد تھا۔ زیارت ناحیہ مقدسہ میں حضرت قائم آل محمد نے ان پر اِن الفاظ میں سلام بھیجا: اَلسَّلامُ عَلٰی اَبِیْ ثمَامَۃ عَمْرو بْنِ عَبْداللّٰہِ الصَّائِدِیْ۔

📚 حوالہ جات
1۔ مقتل الحسین علیه‌السلام خوارزمی ج۱، ص۲۰۶۔
2۔ جمہرةأنساب العرب، ص:۳۹۵۔
3۔ اقبال الاعمال ج۳، ص۷۹۔
4۔ مناقب آل ابیطالب ج۳، ص۲۵۳۔
5۔ رجال طوسی، ص۷۷؛ مامقانی، تنقیح المقال فی علم الرجال،ج۲،ص۳۳۳۔
6۔ جمہرة انساب العرب، ص۳۹۵؛دینوری، اخبار الطوال، ص۲۳۸۔
7۔ الفتوح، ص۸۸۸۔
8۔ جمہرةأنساب العرب، ص:۳۹۵۔
9۔ ابصار العین، ص۱۱۔
10۔ مامقانی، تنقیح المقال فی علم الرجال،ج۲،ص۳۳۳۔
11۔ طبری، تاریخ،ج۵،ص۳۶۴۔
12۔ دینوری، ص۲۳۸۔
13۔ تاریخ طبری ج۵، ص۳۶۹۔
14۔ ترجمہ الکامل فی التاریخ، ج۱۱، ص۱۲۵۔
15۔ مامقانی، تنقیح المقال فی علم الرجال، ج۲، ص۳۳۳۔
16۔ طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۱۰و۴۳۹۔
17۔ طبری،تاریخ،ج۵،ص۴۴۱۔
18۔ طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۱۰و۴۳۹

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔴 خامس آل عباء کی اہل بیت سے وداع 🔴

روایت کے مطابق علی اصغر علیہ السلام کی شہادت کے بعد حسینؑ نے اہل بیت سے وداع کیا.
ہر ایک بیبی کا نام لیکر ان پر سلام کیا. انہیں تسلی دی. اور صبر و توکل اختیار کرنے کی وصیت کی. اور آمدہ مشکلات پر استقامت دکهانے کی تاکید فرمائی.
پهر آپ گهوڑے پر سوار ہوئے. تلوار نیام سے نکالی. اور دشمنوں کے سامنے کھڑے ہوگئے. اور ایک بلیغ افتخار سے بهرپور رجز پڑھا جسے ہم یہاں طوالت کے پیش نظر نقل نہیں کر رہے پھر وہ مشہور قول فرمایا:
( اگر جسم مرنے کیلئے ہی خلق ہوئے ہیں تو اللہ کی راہ میں مرنا سب سے بہترین ہے)
اس كے بعد آپ نے دشمنوں کو مبارزہ کی دعوت دی. راوی کہتا ہے کہ جو بهی حسینؑ کے نزدیک آیا ضرور واصل جہنم ہوا. پهر آپ نے میمنہ پر حملہ کیا اور یہ شعر پڑها:
(عار قبول کرنے سے مرنا افضل ہے اور جہنم کی آگ میں جانے سے دنیا کی عار بہتر ہے)

پس ایک کثیر تعداد میں دشمنوں کو واصل جہنم کیا. اس کےبعد میسرہ پر حملہ کیا. اور یہ اشعار ارشاد فرمائے:
(میں حسین بن علی ہوں اور میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ میں سر نہ جھکاؤں گا. میں اپنے بابا کی اولاد کا دفاع کرونگا. اور دین مصطفی پر چلوں گا)
راوی کہتا ہے.
(واللہ میں نے کسی شکستہ دل کی ایسی جنگ نہیں دیکهی جس کے سارے قریبی مارے جا چکے ہوں اور وہ یوں دشمن کے خلاف ثابت قدمی سے جنگ کرے)

ابن ابی الحدید کہتا ہے کہ
"اس دن حسین کی شجاعت علی کی شجاعت سے یک گونہ مختلف تهی کیونکہ علی نے جب بهی تلوار چلائی ان کے سامنے ان کے اہل حرم محصور نہ تهے اور نہ اصحاب و انصار اور اہل بیت کا یوں قتل عام آپ نے دیکها جسطرح حسین علیہ السلام نے دیکها اور نہ علی علیہ السلام نے کوئی جنگ تین دن کی بهوک پیاس کے ساتھ لڑی تهی اور نہ یوں کسی نے اسطرح لاشوں پر لاشے اٹھائے تهے."

راوی کہتا ہے کہ حسینؑ تیس ہزار کے دشمنوں کی صف میں تنہا گهس کر حملہ کرتے تهے اور انہیں تہس نہس کرتے تهے. پهر دوبارہ اپنی جگہ آ کر ٹھہر جاتے تهے اور فرماتے تهے:
ولا حول ولا قوہ الا باللہ العلی العظیم.

" اثبات الوصیہ" میں ہے
کہ اس دن حسین نے 1800 (اٹهارہ سو) ملاعین کو واصل جہنم کیا.
بحار میں ابن شہر آشوب سے روایت ہے کہ حسینؑ نے جنگ جاری رکهی یہاں تک آپ کے ہاتهوں دشمن کے مقتولین کی 1950 تعداد (انیس سو پچاس ) تک جاپہنچی.

جب شجاعت حسینیہ کا یہ منظر ابن سعد لعین نے دیکها تو اپنی فوجوں سے کہا:
"تم پر ہلاکت ہو یہ فرزند علی ابن ابیطالب ہیں. یہ شہسوار عرب کے بیٹے ہیں. ان پر ہر طرف سے حملہ کردو.
پس اس دوران چار ہزار تیر انداز آگے بڑهے جنہوں نے آپ کیطرف ایسی تیر اندازی کی جس سے آپ اور اہل حرم کے درمیاں ایک رکاوٹ پیدا ہو گئی.

حمید بن مسلم کہتا ہے.
حسین نے شہادت کے دن ریش مطہر پر وسمہ لگایا ہوا تها. اور جنگ شروع ہونے سے قبل اور دوران جنگ میں نے حسینؑ کو کہتے سنا:
"کیا تم مجھ پر جرأت کرتے ہو؟ واللہ! میں اللہ سے پر امید ہوں کہ وہ مجهے تمہارے ہاتهوں قتل کے بعد شہادت سے عزت عطا فرمائیگا. پهر میرا انتقام تم سے لے گا. اور تمہیں پتہ بهی نہ چلے گا کہ کتنی جلدی تم سے انتقام لیا جائیگا. اللہ تمہیں بہت کم مہلت دیگا.
واللہ! میرے قتل کے بعد تمہاری تلواریں آپس میں چلینگی. اور تم ایک دوسرے کو قتل کرتے پهرو گے اور اللہ اس کے بعد تب تک راضی نہ ہوگا جب تک تم پر تکلیفوں والا عذاب نازل نہ کرے."

روایت میں ہے کہ حسینؑ جنگ کرتے جاتے تهے اور اصحاب کو نام بنام پکارتے تهے.
"اے حبیب بن مظاہر! اے مسلم بن عوسجہ! اے زہیر بن قین! کاش تم حسینؑ کی شجاعت دیکهتے . اور اس پیاسے کی جنگ دیکهو،
اور اس مظلوم بیکس کی جنگ دیکهو اے میرے وفادار اصحاب!
آخر تمہیں کیا ہوگیا تم میری آواز کا جواب نہیں دیتے. ابهی چند لمحے قبل میں تمہیں آواز دیتا تها اور تم لبیک لبیک کہتے تهے. بیشک اب تم اپنے وعدہ گاہ پہنچ گئے. تمہارے بعد دنیا کی زندگی میں کوئی بهلائی نہیں. بس میں بهی تم سے ملحق ہونے آ رہا ہوں. "
یہ فرما کر شدید جنگ کی اور میمنہ کو میسرہ اور میسرہ کو میمنہ پر الٹ دیا اسقدر شجاعت حسینؑ نے دکهائی کہ دشمن کے قلب لشکر سے الامان، الحفیظ کی آوازیں بلند ہوئیں.

نفس المہموم کی روایت کیمطابق شدید جنگ کے دوران حسینؑ لڑتے لڑتے نہر فرات میں داخل ہوئے.
(دو ہی شجاع ترین فرات میں داخل ہوئے تهے ایک عباس اور ایک حسین.ؑ دونوں پر اللہ کا سلام)
جب پانی دیکها تو گهوڑے سے فرمایا کہ تو پیاسا ہے پی لے. لیکن اسپ وفادار نے حسینؑ کیطرف دیکها. گویا زبان حال سے کہہ رہا ہو کہ آپ بهی تو پیاسے ہیں جب تک آپ سیراب نہیں ہونگے میں بهی نہیں پئیوں گا.
پس ابهی حسینؑ جهکے ہی تهے کہ ایک ظالم نے آواز دی
"اے حسینؑ آپ یہاں پانی پینے کی تیاری کر رہے ہیں. ادهر دشمن آپکے حرم کے خیموں میں گهس گئے ہیں."
اللہ اکبر، تین دن کے پیاسے اور شدت جنگ سے نڈهال حسین کی ہاشمی غیرت نے یہ سنا تو برداشت نہ ہوا اور خیمہ گاہ کیطرف پلٹے.
لیکن
یہاں پہنچے تو خیمہ ہائے اہل بیت کو محفوظ پایا. یہ افواہ اس لعین نے آپ کو پانی نوش کرنے سے روکنے کی خاطر اڑائی تهی.
سوگوارو!
شیخ مجلسی علیہ الرحمہ لکهتے ہیں. جب آپ دوبارہ خیمہ گاہ پہنچے تو آپ نے اہل بیت کو سخت غم و کرب کی حالت میں دیکها. مسلسل جنگ کے سبب آپکے جسم مطہر پر بہت سے زخم تهے . ابهی آپ خیمے کے اندر تهے کہ ایک ملعون بولا.
"اے حسین! کب تک عورتوں میں چھپے رہیں گے؟
اللہ اکبر یہ سنکر حسینی غیرت سے مزید بیٹهنا گوارا نہ ہوا اور آپ نے اہل بیت سے وداع ثانی میں انکو دوبارہ صبر کی وصیت کی. اور انہیں ان مصائب کے عوض بہترین اجر و ثواب کا یقین دلایا. اور پردوں کی حفاظت کی ہدایت کی اور ان سے فرمایا:
" اب آزمایشوں کیلئے تیار ہو جاؤ اور جان لو کہ اللہ تمہارا محافظ و مددگار ہے وہ عنقریب تمہیں دشمنوں کے شر سے نجات دے گا. اور تمہاری عاقبت بخیر کرے گا. اور وہ بہت جلد تمہارے دشمنوں کو اقسام و انواع کے عذابوں میں مبتلاء کریگا اور تمہیں ان مصیبتوں کا بہترین صلہ دے گا. اور انواع و اقسام کی کرامتوں اور عزت وشرف سے مالا مال کرےگا.
پس کوئی شکوہ زبان پر نہ آنے پائے اور کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالنا جس سے تمہاری بے قدری ہو اور جو تمہاری شان کیمطابق نہ ہو."

روایت میں ہے کہ حسین دوبارہ میدان میں پہنچے. شدت پیاس سے آپ جان بلب تهے.
آپ نے اتمام حجت تمام کرنے کیلئے ان ملاعین سے پانی طلب کیا. یہ سنا تو ایک لعین نے کہا کہ
"اے حسین اب تم (نعوذ باللہ) حمیم (جہنمیوں کو پلایا جانیوالا گرم پانی) پیو گے."
تو حسین نے جواب دیا
"اے شخص! تم پر ہلاکت ہو. میں ان میں سے نہیں ہوں جو "حامیہ" (جہنمی گہاٹ جہاں سے اہل جہنم کو عذاب کے طور پر کهولتا ہوا پانی پلایا جائیگا ) پر پہنچینگے اور حمیم پئیں گے.
بلکہ میں تو اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس پہنچونگا اور ان کے ساتھ انکے گهر میں رہونگا. جو اللہ کی بارگاہ میں تقرب و قربت الہی کے اعتبار سے سب سے قریب ترین و بلند مقام ہے. اور بہترین و لذیذ جنتی مشروب سے سیراب ہونگا.
اور پیغمبر اکرم سے تمہارے ان مظالم کی شکایت کرونگا جو تم لوگوں نے مجھ پر کئے ہیں."

ایک روایت کیمطابق ایک ظالم نے کہا: "اے حسین آپ دیکھ رہے ہیں کہ فرات کا پانی کسطرح مچهلی کے شکم کیطرح چمک رہا ہے پس آپ کبهی بهی اس سے سیراب نہ ہو سکیں گے اور پیاسے ہی قتل ہونگے."
یہ سنکر حسین علیہ السلام نے کہا:
"اے اللہ! اسے پیاسا ہی ہلاک کردے."
راوی کہتا ہے کہ میں اس شخص کے مرتے وقت اس کے پاس تها اور وہ پیاس پیاس کہتا تها لوگ اسے پانی پلاتے تهے اور وہ العطش کہتے کہتے مرا.

ابن طاؤس لہوف میں راوی ہیں کہ پهر شمر کی قیادت میں ایک گروہ نے جو دس افراد پر مشتمل تها اہل حرم کے خیموں پر حملہ کی نیت سے رخ کیا. پس یہ دیکها تو حسین نے بآواز بلند صدا دی
"اے ابوسفیان کی اولاد کے پیروکارو!
اگر تمہارا کوئی دین نہیں اور آخرت سے نہیں ڈرتے تو کم ازکم اپنی دنیا میں آزاد بنو. اور اپنے عرب رسومات کا خیال کرو. اگر تم عرب ہو."
پس شمر پکارا
"اے فرزند فاطمہ! آپ کیا کہہ رہے ہیں ہمیں آپکی بات سمجھ نہیں آ رہی."
تو حسین نے جواب دیا:
"میں کہہ رہا ہوں کہ تمہاری دشمنی اور لڑائی مجھ سے ہے اور ان عورتوں اور بچوں کا کوئی قصور نہیں ہے. پس جب تک میں زندہ ہوں تم اپنے ان ذلیل و پست لوگوں کو عورتوں پر حملہ کرنے سے روکو."
یہ سنکر شمر نے چیخ کر اپنے لوگوں سے کہا
"واپس آؤ بیشک حسین شریف خاندان سے تعلق رکهتے ہیں ہماری انکی عورتوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے."
راوی کہتا ہے کہ اس کے بعد آپ نے پانی کے حصول کی خاطر فرات کیطرف دوبارہ پیش قدمی کی کیونکہ آپ پر پیاس کا شدید غلبہ ہوگیا تها.
لیکن آپ زخموں سے سخت نڈهال تهے پس ان سب نے ملکر فرات پر پہنچنے سے روکنے کیلئے آپ پر سخت حملے کئے یہاں تک کہ آپکو فرات سے دور ہٹا دیا گیا.

سلام ہو اس پیاسے پر جنکے لیے سلسبیل و کوثر خلق ہوا.
ولا حول ولا قوہ الا باللہ العلی العظیم.

حوالہ جات:
(1) نفس المہموم 322.323
(2) اللہوف 106
(3) البحار 45/50
(4) المناقب 4/ 58
(5) جلاء العیون للمجلسی -201.

https://t.me/islamwitheman/3938
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔴 آخری جنگ 🔴

جب امام حسین علیہ السلام بالکل تنہا رہ گئے، خیمے سے وداع کر کے نکلے تو ایسی بے پناہ شجاعت دکھائی، جو مقابل آیا اسے واصل جہنم کیا. آپ کی شجاعت کا اعتراف دشمن نے بھی کیا، فوج یزید کا وقائع نگار حمید بن مسلم کہتا ہے:

"اللہ کی قسم میں نے کبھی دشمنوں کے نرغے میں گھرے ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس کا سارا گھرانا اس کی آنکھوں کے سامنے قتل ہوا ہو، اور پھر حسین علیہ السلام جیسا شجاع، ثابت قدم، مطمئن اور جری ہو. حالت یہ تھی کہ چاروں طرف سے پیادے ان پر حملہ کرتے تھے مگر جب حسین علیہ السلام تلوار سونت کر ان پر جوابی حملہ کرتے تو وہ اس طرح بھاگ کھڑے ہوتے جس طرح بھیڑیے کے حملے کے وقت بکریاں بھاگ جاتی ہیں. حالانکہ ان کی تعداد تیس ہزار تھی، مگر جب امام ان پر حملہ کرتے تو ان کے سامنے سے یہ لوگ ٹڈیوں کی طرح بھاگ کهڑے ہوتے."
(لہوف، ص105)

یہ صورتحال دیکھ کر شمر ملعون نے ایک مذموم چال چلی، وہ فوج کا ایک دستہ لے کر اہل حرم کے خیموں کی طرف غارتگری کیلئے متوجہ ہوا. امام علیہ السلام نے فوج اشقیاء کو مخاطب کر کے کہا:

"اے آل ابو سفیان کے شیعوں! اگر تمہیں مذہب کا خیال اور آخرت کا خوف نہیں ہے تب بھی تم عرب ہونے کے دعویدار ہو، اپنی غیرت کا ثبوت دو. میں کہتا ہوں میں تم سے جنگ لڑ رہا ہوں اور تم مجھ سے. خواتین کا اس میں کیا قصور؟"

یہ سن کر شمر ملعون ارادے سے باز آگیا.
لڑتے لڑتے ایک موقع ایسا بھی آیا کہ آپ فرات تک پہنچ گئے، گھوڑے کو پانی میں داخل کیا، چاہا کہ پانی پیئں، ایک ملعون حصین بن تمیم نے آپ کے تیر مارا جو حلق میں پیوست ہوا، آپ نے ہاتھ آگے بڑھا کر چلو میں خون بھرا اور آسمان کی طرف پھینکا اور فرمایا کہ اے پروردگار میں اس جفاکار قوم کا شکوہ تیری بارگاہ میں کرتا ہوں جس نے میرا خون بہایا اور مجھے پانی پینے سے روکا. کسی نے کہا کہ آپ یہاں پانی پیتے ہیں ادھر آپ کے خیموں کو تاراج کیا جا رہا ہے، آپ فورا واپس آئے دیکھا کہ خیمے سالم ہیں.
آپ دوسری مرتبہ خیمے تشریف لے گئے اور مخدرات کو صبر کی تلقین کی. دوبارہ میدان کارزار تشریف لے گئے اور ایسی شجاعت دکھائی کے کشتوں کے پشتے لگا دیے. یہ صورتحال دیکھ کر شمر نے تیر اندازوں کو تیر چلانے کا حکم دیا. آپ پر اتنے تیر چلائے گئے کہ جسم کے گوشے گوشے میں تیر پیوست ہو گیا.
ایک شقی نے آپ کی پیشانی اقدس پر پتھر مارا جس کی وجہ سے چہرا لہولہان ہوا، آپ نے کرتہ کا دامن اٹھایا تاکہ خون پونچھیں، کہ اس اثناء میں ایک تین نوک والا تیر آیا اور آپ کے سینے میں پیوست ہوا. اسی اثنا میں ایک ملعون صالح بن وہب مزنی نے آپ کی پشت پر اس زور سے نیزہ مارا کہ آپ گھوڑے سے داہنے رخ پر گر گئے.
آپ گرنے کے بعد اٹھ کھڑے ہوئے، تھوڑا چلتے پھر گر جاتے. آپ کا یہ بار بار گرنا ضعف کی وجہ سے نہ تھا بلکہ وجہ یہ تھی کہ آپ چند قدم چلتے، کوئی شقی آپ کو نیزہ مارتا، کوئی تلوار اور آپ گر جاتے.
ایک ملعون نے آپ کے دہن اقدس میں تیر مارا، ایک نے حلق میں تیر مارا، ایک نے بائیں شانے پر تلوار ایک نے دائیں شانے پر. سنان بن انس نخعی نے نیزہ مارا آپ منہ کے بل گر پڑے پھر اٹھ کھڑے ہوئے اور حلق سے تیر کھینچا. اس وقت دشمنوں نے آپ کو گھیرے میں لے لیا.
آپ کو زمین پر گرے کافی دیر ہو گئی تھی لیکن کوئی ملعون آپ کو شہید کرنے کا گناہ اپنے سر نہیں لینا چاہ رہا تھا. خولی بن یزید آگے بڑھا لیکن لرزہ براندام ہو کر واپس چلا گیا. شمر لعین خود آگے بڑھا اور گستاخانہ انداز میں آپ کے سینہ پر سوار ہوا. شمر مبروص تھا یعنی برص کی بیماری تھی. امام حسین علیہ السلام نے اس ملعون کو دیکھ کر فرمایا کہ رسول اللہ (ص) نے سچ فرمایا تھا کہ میں ایک سفید داغ والے کتے کو دیکھ رہا ہوں جو میرے اہلبیت (ع) کے خون میں منہ ڈال رہا ہے.
اس لعین نے کند تلوار کی بارہ ضربات سے خامس آل عبا نواسہ رسول حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی گردن پیچھے سے کاٹ ڈالی.
آپ کے باوفا گھوڑے نے آپ کے خون سے اپنی پیشانی تر کر لی، اور واپس خیمے میں پہنچا. گھوڑے کی ہنہناہٹ سن کر بیبیاں باہر نکلیں، دیکھا کہ گھوڑا خالی ہے اور زخمی ہے. یقین ہو گیا کہ امام عالی مقام (ع) شہید ہو چکے ہیں، بیبیوں نے گریہ و بکاء کیا.
(امالی صدوق: ص98)

انا للہ وانا الیہ راجعون وسیعلم الذین ظلمو ایّ منقلب ینقلبون.

https://t.me/islamwitheman/3879
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 عاشورا کے دن ابلیس کا گریہ 🔷

آیت اللہ سید محمد تقی مدرسی نقل کرتےہیں:
61 ہجری عاشورا کی عصر کے وقت چھوٹے شیطانوں نے دیکھا کہ آج ابلیس ان کا سردار اپنے سر اور چہرے کو پیٹ کر گریہ کر رہا ہے،
ان کے شاگردوں نے جب پوچھا: اعلیٰ حضرت آج تو تمہیں خوش ہونا چاہئے، کیوں پریشان ہو اور گریہ کر رہے ہو؟

ابلیس نے کہا: میں نے بہت بڑی غلطی کی ہے کہ اس جماعت کو حسین کے قتل پر اُکسایا.

چھوٹے شیطانوں نے کہا: کیا تم یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ ظاھری مسلمان جھنم میں جائیں؟ اور ایسا ہی تو ہوا ہے؟

ابلیس نے کہا: کیوں نہیں ایسا ہی ہوا ہے لیکن میں اس نکتہ سے غافل رہا کہ اس کام سے لوگوں کے لئے رحمت کا دروازہ کھل جائے گا۔

کیونکہ جو بھی حضرت امام حسین علیہ السلام سے متوسل ہوگا شفاعت سے فائدہ مند ہوگا۔

السلام علیک یا اباعبدالله یاباب رحمه الله الواسعه۔

📙 مآخذ:
داستانهای روح افزا، صفحه ۱۲۷۔

http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
■ محرم الحرام کے بارے پوسٹس۔۔۔۔

■ بقیہ پوسٹس
https://t.me/islamwitheman/2644

🔷محرم مقاومت یا نمائش کا مہینہ
https://t.me/islamwitheman/3807

🔷محرم مقاومت یا فقط منتوں کا مہینہ
https://t.me/islamwitheman/3808

🔷منازل قافلہ حسینی
https://t.me/islamwitheman/3809

🔷ماہ محرم اور ہم
https://t.me/islamwitheman/3811

🔷اول ماہ محرم کے اعمال
https://t.me/islamwitheman/3817

🔷ایام عزا کا پیغام
https://t.me/islamwitheman/3818

🔷استاد و شاگرد کا مکالمہ
https://t.me/islamwitheman/3819

🔶تاریخ کربل
https://t.me/islamwitheman/3821

🔷محسن نقوی
https://t.me/islamwitheman/3822

🔷کربلا 61ھ سے قیامت تک
https://t.me/islamwitheman/3823

🔷عشق حسین علیہ السلام
https://t.me/islamwitheman/3824

🔷امام حسین علیہ السلام کی وصیت
https://t.me/islamwitheman/3825

🔷حر بن یزید ریاحی
https://t.me/islamwitheman/3826

🔷ایک قطرہ آنسو
https://t.me/islamwitheman/3827

🔷پانی پیو تو یاد کرو پیاس امام کی
https://t.me/islamwitheman/3828

🔴2 محرم لشکر حسینی کی کربلا آمد
https://t.me/islamwitheman/3833

🔶3 اور 4 محرم 61ھ
https://t.me/islamwitheman/3833

🌷حضرت حر کی توبہ اور شہادت
https://t.me/islamwitheman/3837

🔷قاضی شریح ملعون
https://t.me/islamwitheman/3838

🔴شہادت عون و محمد علیہم السلام
https://t.me/islamwitheman/3839

🔴یوم علی اصغر علیہ السلام
https://t.me/islamwitheman/3840

🔴شہادت علی اصغر علیہ السلام 1
https://t.me/islamwitheman/3842

🔷شہادت علی اصغر علیہ السلام 2
https://t.me/islamwitheman/3843

🔷6 محرم الحرام
https://t.me/islamwitheman/3845

🔴7 محرم الحرام پانی کی بندش
https://t.me/islamwitheman/3849

🔴شہادت حضرت قاسم علیہ السلام 1
https://t.me/islamwitheman/3850

🔷شہزادہ قاسم کی شہادت 2
https://t.me/islamwitheman/3851

⚫️غم حسین علیہ السلام
https://t.me/islamwitheman/3852

🔷قبیلہ بنی اسد
https://t.me/islamwitheman/3853

🌹ثار اللہ کے معنی
https://t.me/islamwitheman/3855

🔷کربلا میں نماز ظہر کا قیامت خیز منظر
https://t.me/islamwitheman/3856

🔷فقط رونا کافی نہیں ہے
https://t.me/islamwitheman/3857

🔷آل رسول سے نفرت
https://t.me/islamwitheman/3859

🔷تم نے دیکھ لیا
https://t.me/islamwitheman/3860

🔷قمہ زنی
https://t.me/islamwitheman/3861

🔴ذکر شہادت ابوالفضل العباس
https://t.me/islamwitheman/3863

🌹شجاعت حضرت عباس
https://t.me/islamwitheman/3864

🌹علمی فضیلت ابوالفضل العباس
https://t.me/islamwitheman/3865

🔴حضرت عباس علمدار کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/3867

🔷9 اور 10 محرم کا روزہ
https://t.me/islamwitheman/3869

🔴شہادت ہمشکل پیغمبر
https://t.me/islamwitheman/3871

🔷شہادت شہزادہ علی اکبر
https://t.me/islamwitheman/3876

🔴واقعات شب عاشور
https://t.me/islamwitheman/3889

🔷تاسوعا کے واقعات
https://t.me/islamwitheman/3891

🔷اعمال شب عاشور و روز عاشور
https://t.me/islamwitheman/3893

🔷اعمال روز عاشور
https://t.me/islamwitheman/3894

🔴روز عاشورا
https://t.me/islamwitheman/3895

⚫️غم حسین اور ہم
https://t.me/islamwitheman/3896

🔷زیارت ناحیہ مقدسہ
https://t.me/islamwitheman/3913

🔷زیارت عاشورا
https://t.me/islamwitheman/3914

🌸زیارت عاشورا میں
https://t.me/islamwitheman/3919

🔷دعائے علقمہ
https://t.me/islamwitheman/3920

🔷زیارت آخر روز عاشورا
https://t.me/islamwitheman/3922

🔷10 محرم کو قبروں پر مٹی ڈالنا
https://t.me/islamwitheman/3923

🔷10 محرم کا روزہ
https://t.me/islamwitheman/3924

🔴کربلا میں لعین زادوں کا پہلا حملہ
https://t.me/islamwitheman/3925

🔷️لشکر حسینی کی طرف پہلا تیر
https://t.me/islamwitheman/3926

🔷️جنگ مغلوبہ حملہ اولی
https://t.me/islamwitheman/3927

🔷️شہادت عبداللہ بن امام حسن
https://t.me/islamwitheman/3928

🌸حبیب ابن مظاہر اسدی
https://t.me/islamwitheman/3929

🔷️حبیب ابن مظاھر اور روز عاشورا
https://t.me/islamwitheman/3930

🔷️حبیب ابن مظاہر کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/3931

🔷️جون بن حوی
t.me/islamwitheman/3932

🔷️شہادت جون بن حوی
t.me/islamwitheman/3933

🔷️کربلا کی شہید خاتون
t.me/islamwitheman/3934

🔷️جنادہ بن حارث حمدانی
t.me/islamwitheman/3935

🔷️نافع بن ہلال
t.me/islamwitheman/3936

🔷️ابوثمامہ صائدی
t.me/islamwitheman/3937

🛑خامس آل عبا کی اہلبیت سے وداع
t.me/islamwitheman/3938

🛑آخری جنگ
t.me/islamwitheman/3940

🔷️عاشورا کے دن ابلیس کا گریہ
t.me/islamwitheman/3941

🔷شیعہ عجیب قوم
t.me/islamwitheman/4763

🔷18 جیٹھ یا 10 ہاڑ یوم عاشورہ؟
t.me/islamwitheman/4794
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷️ مصائب ذوالجناح 🔷️

امام حسین علیہ السلام کی سواری جو "ذوالجناح" کے نام سے موسوم تھی اس نے اپنے مالک کا ساتھ اس آخری وقت تک دیا جب کہ کوئی مددگار باقی نہ تھا.
کسے نہیں معلوم کہ کربلا میں فرزندِ رسول کے لئے پانی کا قحط ہوگیا تھا. بھلا کون کہہ کہہ سکتا ہے کہ چھوٹے بچوں کیلئے جس میں علی اصغر۴ کا سا شیر خوار بھی ہو لب تر کرنے کے لئے پانی نہ موجود ہو تو گھوڑے پانی سے سیراب کئے جاسکتے ہوں گے؟ ہرگز نہیں.

اگر بچوں کے لئے سب سے آخری قطرہ پینے کے پانی کا صرف ہوسکتا ہے تو گھوڑے اس کے قبل سے پیاسے ہوں گے. اس کے بعد صبح سے سہ پہر کے وقت تک برابر سیدالشہدا۴ کو عرب کی تیز دھوپ گرم ہوا میں خیمہ گاہ سے میدانِ جنگ تک لانا اور لے جانا.
ہر عزیز کی رخصت کے وقت خیمہ کے پاس ہونا اور عزیز کی جانکنی کے وقت میدانِ جنگ میں اس کے سرہانے. یہ تمام آمدورفت گھوڑے کی پشت ہی پر ہوتی تھی. پھر حملے لڑائی اور وہ قیامت خیز لڑائی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ہے.

سب سے پہلے آغازِ جنگ تیروں کی بارش ہی سے ہوا تھا. اس کے بعد ظہر سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ پہلے جب تمام یزیدی فوج نے مجموعی طور تیروں کی بارش کی ہے اور ہزاروں تیروں کی باڑھیں ایک ساتھ چلی ہیں تو تاریخ گواہ ہے کہ اس کی سب سے بڑی زد گھوڑوں ہی پر ہوئی تھی. چنانچہ فوجِ حسینی۴ کہ زیادہ گھوڑے اس میں ختم ہوگئے اور اکثر سوار پیادہ ہوگئے. کون کہہ سکتا ہے کہ اس وقت ذوالجناح کو کوئی زخم نہیں آیا.

وہ وقت جب ہزاروں کی فوج کے سیلاب میں ایک تنہا حسین۴ ڈوبتے تھے اور دشمنوں کو منتشر کر کے باہر آتے تھے. نیزوں کے حملے بھی تھے اور تلواریں بھی، تیر بھی تھے اور تبر بھی. اس وقت کیا حسین۴ کا گھوڑا محفوظ تھا؟

اس جنگ و جدال، اس ہنگامہ قتال میں گھوڑے کی پیاس، اس کے جگر کی سوزش اس کے احساس سے تعلق رکھتی ہے.
مگر وہ یادگار ہے کہ جب فوج سے میدان صاف ہوا، فرات کا دامن بالکل خالی ہوگیا حسین۴ نہر کے قریب آئے گھوڑا اپنا نہر میں ڈالدیا اور یہ کہا یا اپنے طرز عمل سے ثابت کیا کہ اے میرے باوفا تو بہت پیاسا ہوگا یہ پانی موجود ہے اپنی پیاس بجھالے. اس وقت کوئی نہیں. فرات کی موجیں گواہی دیں گی، ساحلِ فرات شہادت دے گا کہ گھوڑے نے اپنی گردن اٹھالی تھی، اپنا سر بلند کرلیا تھا، اپنا منھ بند کرلیا تھا، مطلب یہ تھا کہ میں ہرگز پانی نہیں پیوں گا، جب تک آپ اس پانی سے سیراب نہیں ہوں. حسین۴ نہر سے باہر نکل آئے اور گھوڑا بھی پیاسا نکلا.

پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ جب گھوڑے کی تمام کوششِ جنگ ختم ہوچکی، جب اس کی پشت اس کے راکب سے خالی ہوگئی، جب اس کے مالک کو چاروں طرف سے خوں آشام دشمنوں کی تلواروں نے گھیر لیا. اس وقت اس کے لئے حسین۴ کی سب سے بڑی خدمت کا وقت آیا. اس وقت اس نے وہ کام انجام دیا جو اس کے لئے مخصوص ہوگیا. اس نے خود اپنے اس فرض کا احساس کیا کہ وہ بے کس و بے بس عورتوں کو جو خیموں میں اپنے والی و وارث کی خبر کی منتظر تھیں جاکر اپنے مالک کی خبر پہنچا دے.

اس نے اپنی پیشانی خون میں تر کی، وہ سیدھا خیمہ حسین۴ کے دروازے پر پہنچا. اس نے ہنہنا کر اپنی آواز پہنچائی. منتظر سیدانیاں اس کی آواز کو سنتے ہی دروازہ پر آگئیں. وہ دیکھا جو پہلے کبھی نہ دیکھا تھا. اس کا خالی زین، اس کی رنگین پیشانی، اس کی کٹی باگیں، اس کا زخمی جسم، اس کے جسم میں پیوست تیر وہ سب کچھ کہہ رہے تھے جس کی خبر دینے کو وہ دروازہ پر آیا تھا.

یہ تھی آخری خدمت جو ذوالجناح نے انجام دی اور یہ ہے وہ یادگار واقعہ جو اس یادگار جانور کے ساتھ تعلق رکھتا ہے. یہی وہ یادگار ہے جو حسین ابنِ علی۴ کی عزاداری کے سلسلہ میں ذوالجناح کی شبیہہ نکال کر قائم کی جاتی ہے.

ذوالجناح زندہ ہے جب تک حسین۴ کا نام زندہ ہے. اپنے راکب کی بدولت وہ بھی ہمیشہ زندہ رہے گا اور اس کی یادگار ہمیشہ قائم رہیگی.

https://t.me/islamwitheman/3947

👈 مزید تفصیل جاننے کے لیے۔۔۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1724577821205078&id=100009586292189
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔴 شہدائے کربلا کے اسمائے گرامی 🔴

کربلا کے بہتر (72) شہداء علیہم السلام اور اٹھارہ (18) بنی ہاشم علیہم السلام کے اسمائے گرامی ۔۔۔

↕فہرست انصار امام حسین علیہ السلام
1. حضرت حر ابن یزید الریاحی
2. علی ابن حر الریاحی
3. نعیم بن العجلان الانصاری
4.عمران بن کعب الاشجعی
5. حنظلہ ابن عمر الشیبانی
6. قاسط بن زہیر التغلبی
7. کردوس بن زہیر التغلبی
8. کنانہ بن عتیق التغلبی
9. عمر بن صبیقی الضبعی
10. ضرغامہ ابن مالک التغلبی
11. غامر بن مسلم العبدی
12. سیف ابن مالک العبدی
13. عبد الرحمان الارجبی
14. مجمع بن عبداللہ العامذی
15. حیان بن حارث السلمانی
16. عمرو بن عبداللہ الجندعی
17. حلاس بن عما الراسبی
18. نعمان بن عمرالراسبی
19. سوار ابن ابی عمیر الہمدانی
20. عمار ابن سلامتہ الدالانی
21. زاہر بن عمر الکندی
22. جبلہ ابن علی الشیبانی
23. مسعود بن حجاج التیمی
24. حجاح ابن بدر التیمیمی السعدی
25. عبداللہ ابن بشر الخثعمی
26. عمار ابن حسان الطائی
27. عبداللہ ابن عمیر الکلبی
28. مسلم ابن کشیر الازدی
29. زہیر ابن سیلم الازدی
30. عبد اللہ بن یزید العبدی
31. بشر بن عمر الکندی
32. عبداللہ بن عروہ الغفاری
33. بریر ابن خضیر الہمدانی
34. وہب ابن عبداللہ الکلبی
35. ادہم بن امیتہ العبدی
36. امیہ بن سعد الطائی
37. سعد ابن حنظلہ التمیمی
38. عمیر ابن عبداللہ المد حجی
39. مسلم بن عوسجہ الاسدی
40. ہلال ابن نافع البجلی
41. سعید بن عبداللہ الحنفی
42. عبد الرحمن بن عبد المزنی
43. نافع بن ہلال الجملی
44. عمر ابن قرظتہ الانصاری
45. جون بن حوی غلام الغفاری
46. عمر ابن خالد الصیدادی
47. حنظلہ ابن اسعد الشبامی
48. سوید ابن عمار الاتماری
49. یحیی بن سلیم المازنی
50. قرہ ابن ابی قرتہ الغفاری
51. مالک ان انس المالکی
52. زیاد ابن غریب الصائدی
53. عمر بن مطاع الجعفی۔
54. حجاج ابن مسروق المدحجی
55. زہیر ابن قین ابجلی
56. حبیب ابن مظاہر الاسدی
57. ابو ثمامہ عمرو بن عبداللہ الصیدادی
58. انیس بن معقل الاصبحی
59. جابر ان عروۃ الغفاری
60. سالم مولی عامر العبدی
61. جنادہ ابن کعب الخزرجی
62. عمر بن جنادۃ الانصاری
63. جنادہ بن الحرث السلمانی
64. عابس ابن شبیب الشاکری
65. شوذب ابن عبداللہ الہمدانی
66. عبد الرحمان بن عروۃ الغفاری
67. حرث ابن امرو القیس الکندی
68. یزید ابن زیاد الہدلی
69. ابو عمرو النہثلی
70. جندب بن حجیر الخولانی الکندی
71. سلمان بن مضارب الانماری
72. مالک ابن عبداللہ الجابری

↕اٹھارہ (18) شہدائے بنی ہاشم علیہم السلام.
1. عبداللہ ابن مسلم
2. محمد ابن مسلم
3. جعفر ابن عقیل
4. عبد الرحمان بن عقیل
5. عبداللہ ابن عقیل
6. موسی ابن عقیل
7. عون بن عبداللہ بن جعفر طیار
8. محمد ابن عبداللہ بن جعفر طیار
9. عبداللہ الاکبر عرف عمرو بن الحسن ابن علی ابن ابی طالب
10. قاسم بن حسن ابن علی ابن ابی طالب
11. عبداللہ ابن حسن ابن علی ابن ابی طالب
12. عبداللہ بن علی ابن ابی طالب
13. عثمان بن علی ابن ابی طالب
14. جعفر بن علی ابن ابی طالب
15. علمدار کربلا عباس بن علی ابن ابی طالب
16. علی اکبر بن الحسین الشہید ابن علی ابن ابی طالب
17. محمد بن ابی سعید بن عقیل
18. علی اصغر ابن الحسین الشہید ابن علی ابن ابی طالب

https://t.me/islamwitheman/3949

👈 کربلا کے بہتر (72) شہداء علیہم السلام اور اٹھارہ (18) بنی ہاشم علیہم السلام کے مختصر حالات اور شہادت جاننے کے لیے فیسبک لنک پر کلک کریں👇👇👇
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1725243471138513&id=100009586292189
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔴 تمام ارض و سماء کا گریہ و ماتم 🔴

عام طور پر مظلوم کی عزاداری کا دائرہ خاندان اور اعزاء ہی کے درمیان محدود رہتا ہے اور ورثاء بھی سوگواری کو ایک رسم کے طور پر انجام دیکر دوبارہ اپنے کام و زندگی میں لگ جاتے ہیں.
مگر اس کے برخلاف سر زمین کربلا پر کچھ اس طرح سے مظالم ڈھائے گئے کہ نہ صرف پوری انسانیت نے ماتم کیا بلکہ تمام عالم امکان نے ان مصائب و آلام پر خون کے آنسو بہائے اور اپنے اپنے انداز میں ماتم کرکے بارگاہ اہلبیتؑ میں تعزیت پیش کی.

🔻 امام زمانہ علیہ السلام فرماتے ہیں:
" وعزاہ بک الملائکہ و الانبیاء و اختلفت جنود الملائکة المقربین تعزی اباک امیر المومنین."
ترجمہ:
آپ کی شہادت پر ملائکہؑ اور انبیاءؑ نے پیغمبر اسلامؐ کو تعزیت پیش کی اور مقرب فرشتوں کے لشکر نے آ کر امیرالمؤمنین علیؑ کی خدمت میں تسلیت عرض کی.

10 محرم الحرام سنہ 61 ھ آل محمد علیہم السلام کے لئے نہایت المناک تاریخ ہے کیونکہ اسی دن نازش کونین شاہ مشرقین امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب اور اعزاء کی قربانیاں پیش کرنے کے بعد جب خود کو بھی شہادت کے لئے پیش کردیا تو دشمن یہ سمجھا کہ آپ کے سروگردن کی جدائی ہی میں اس کی فتح و ظفر پوشیدہ ہے لہذا آنحضرت کے سوکھے گلے کو تہ تیغ کر کے آپ کے سراطہر کو نیزہ پر بلند کیا مگر جہاں ایک طرف فتح کے نقارے بج رہے تھے اور خوشی سے جشن منایا جارہا تھا وہیں کائنات اس ظلم پر گریہ کناں تھی اور ارباب ظلم پر لعنت بھیج رہی تھی.

🔻 تمام موجودات و‏مخلوقات کے اس گریہ کی طرف امام حسین علیہ السلام کی نیمہ شعبان کی زیارت میں یوں اشارہ ملتا ہے:
"بابی انت و امی و نفسی یااباعبدللہ لقد اقشعرت لدمائکم اظلة العرش مع اظلة الخلائق و بکتکم السماء و الارض و سکان الجنان و البحر و الجبر."(1)

🔻 اسی طرح امام رضاؑ نے فرمایا:
جب میرے جدبزرگوار امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا تو آسمان سے خون اور سرخ مٹی کی بارش ہوئی.(2)

🔻 امام صادقؑ نے فرمایا:
امام حسین علیہ السلام کے قتل کے بعد ایک سال تک آسمان پر سرخی چھائی رہی جو اس کا گریہ تھا.(3)

🔻 اسی طرح ینابیع المودة نے بھی محمد ابن سیریں سے نقل کیا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے قبل سرخی شفق کا وجود نہ تھا.
(یعنی آپ کی شہادت سے یہ سرخی پیدا ہوئی)(4)

🔻 صاحب دلائل النبوة نے لکھا ہے کہ جس دن امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہوئی اس دن اگر کوئی اونٹ پانی پینا چاہتا تھا تو دریا کا پانی خون بن جاتا تھا.

🔻 سبط ابن جوزی نے بھی لکھا ہے کہ امام علیہ السلام کی شہادت کے بعد دنیا میں تین دن تک اندھیرا چھایا رہا اور آسمان بالکل سرخ دکھائی دیتا تھا.

🔻 اسی طرح زہری کے مطابق آپ کی شہادت کے بعد اگر بیت المقدس میں کوئی پتھر اٹھایا جاتا تھا تو اس کے نیچے سے تازہ خون ابلنے لگتا تھا.(5)

🔻 امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ روز عاشورا چار ہزار فرشتوں نے آسمان سے نازل ہوکر امام حسین علیہ السلام کے رکاب میں جنگ کرنی چاہی مگر آپ نے اجازت نہیں دی پھر جب وہ سب دوبارہ خدا سے اجازت لینے کے لئے گئے اور واپس آئے تو امام علیہ السلام کی شہادت واقع ہوچکی تھی یہ فرشتے اس وقت سے کربلا میں گریہ کررہے ہیں.(6)

🔻 اسی طرح متعدد روایات سے معلوم ہوتاہے کہ جناب نے بھی آنحضرت کی شہادت پر گریہ و ماتم کیا ہے.
جناب ام سلمہ کا بیان ہے کہ جب امام حسینؑ کی شہادت واقع ہوئی تو جن و عورت نے آنحضرت پر ماتم کیا اور نوحہ پڑھا.(7)

🔻 اسی سلسلے میں امام زمان علیہ السلام اپنے جد مظلوم کی زیارت میں فرماتے ہیں:
" و اقیمت لک الماتم فی اعلی علیین و لطمت علیک الحورالعین و بکت السماء و سکانھا و الجنان و خزانھا و الھضاب و اقطارھا والبحار وحیتانھا و الجنان و ولدانھا و البیت و المقام و المشعر الحرام ولحل الاحرام."(8)
ترجمہ:
یعنی اعلی علیین میں آپ کے لئے عزاداری ہوئی اور حورعین نے اپنی صورت پر طمانچے مارے، آسمان اور اسکے ساکنین، جنت اور اس کے محافظین، پہاڑ اور اس کی ترائی، سمندر اور اس کی مچھلیوں، باغ بہشت اور اس کے غلمان، خانہ کعبہ، مقام ابراہیم، مشعر الحرام، حرم بیت اللہ اور اسکے اطراف سب نے آپ پر گریہ کیا.

🔻 اسی طرح تاریخ میں ملتا ہے کہ جہنم نے بھی آپ کی شہادت پر گریہ و ماتم کیا نیز آپ کے قاتلوں پر لعنت بھیجی.(9)

🔻 یہی نہیں بلکہ سانحہ کربلا کے بعد چرند و پرند نے بھی امامؑ کی شہادت پر نوحہ وبکا کیا ہے.

روایت میں ملتا ہے کہ کبوتر نے روز عاشورہ گریہ کیا اور اس وقت سے لیکر آج تک آنحضرت کے قاتلوں پر لعنت بھیجتا ہے.(10)

📚 حوالہ جات
1۔ مفاتیح الجنان، ص439۔
2۔ مابعد کربلا، ص310۔
3۔ کامل الزیارات، ص288۔
4، 5۔ مابعد کربلا، ص103۔
6، 7۔ کامل الزیارات، ص303۔
8۔ زیارت ناحیہ، ص44۔
9، 10۔ مابعد کربلا، ص105۔

https://t.me/islamwitheman/3951

👈 مزید تفصیل کے لیے👇👇👇
https://www.facebook.com/100009586292189/posts/1725256557803871/
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔥 شام غریباں و اسیران کربلا 🔥

لفظ غریب کا ایک معنی، وطن سے دور ہونا ہے اور بعض اوقات جو بے یارو مددگار اور اکیلا رہ گیا ہو اس کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔[1] شام غریباں بھی جو لوگ اپنے وطن سے دور اکیلے اور بے یارومددگار رہ گئے تھے ان کے لئے استعمال ہوا ہے۔[2]

اصطلاح اور فارسی زبان کے مرثیے میں، روز عاشور کے سورج غروب ہونے اور اس رات کی سوگواری کو کہا گیا ہے۔[3]

■ واقعات
دشمن کی فوج نے عاشورا کا سورج غروب ہوتے ہی عورتوں کو خیموں سے باہر نکال دیا اور خیموں کو آگ لگا دی۔[4] اور اس وقت مستورات فریاد کرتی رہیں اور اپنے پیاروں کی لاشوں کو دیکھ کر اپنے منہ پر پیٹتی رہیں۔[5] عمر بن سعد نے شام عاشورا کو امام حسینؑ اور کربلا کے دوسرے شہداء کے سروں کو (سروں کی تعداد 72 تھی) شمر، قیس بن اشعث اور عمرو بن حجاج اور عزرۃ بن قیس کے ہاتھوں ابن زیاد کے پاس بھیج دیا۔[6] عمر سعد اپنے لشکر کے ہمراہ اس رات کربلا میں ہی رکا اور دوسرے دن ظہر کے قریب اپنے سپاہیوں کے لاشوں کو دفن کرنے کے بعد اہلبیتؑ اور دوسرے بچے ہوئے افراد کو لے کر کوفہ کی جانب حرکت کی۔[7] قول کے مطابق محرم کی گیارہویں رات جسے شام غریباں کہتے ہیں حضرت زینبؑ نے نماز شب ترک نہ کی لیکن اس مصیبت اور صدمے کے باعث اس رات نماز شب بیٹھ کر ادا کی۔[8]

■ اسیران کربلا
"الکامل البہایی" میں روایت ہے كه ابن سعد لعین روز عاشور اور اسکے اگلے دن زوال تک کربلا میں مقیم رہا. پهر اس نے اپنے مقتولین کی لاشوں پر نماز پڑهی اور انہیں دفن کیا جبکہ حسینؑ اور انکے پاک اہل بیت واصحاب کی لاشیں کربلا کی گرم تپتی ریت پر بے گور و کفن چھوڑ دی گئیں.

اللہ اکبر! اس کےبعد وہ مرحلہ آیا جس نے سید سجاد کو پچیس سال تک خون کے انسو رونے پر مجبور کر دیا.
انا للہ وانا الیہ راجعون.

عزیزو! اہل بیت مصطفٰی کو رسیوں میں جکڑ کر بے کجادہ اونٹوں پر بٹھایا گیا. انکے چہرے دشمنوں کے سامنے کھلے تھے اور انہیں اسطرح اسیر کر کے لے جایا گیا جس طرح ترک و دیلم کے غلاموں اور کنیزوں کو لے جایا جاتا ہے.
اس وقت چوتھے امام علی زین العابدین علیہ السلام کی عمر مبارک 22 سال جبکہ امام باقر علیہ السلام چار سال کے تھے جو اس قتل عام میں محفوظ رہے.

اہل بیت كے کل اسیر مخدرات کی تعداد 20 تهی جن میں بنو ہاشم کے 12 بچے بهی شامل تھے.

مقتل کی کتابوں میں وارد ہوا ہے کہ ان ظالموں نے اہل حرم کو شہداء کی لاشوں کے قریب سے جان بوجھ کر گذارا تاکہ وہ اپنے مقتولین کو دیکھیں.
جب جناب زینب کبری سلام اللہ علیہا اپنے بھائی کی لاش سے گذریں اور انہیں بے گور و کفن پا کر بے انتہاء مغموم و محزون ہوگئیں تو اس حال میں اپنے آپکو اونٹ کی پشت سے بھائی کی لاش پر گرا دیا.
"صحیفہ کربلا" میں "آغاے منفرد" لکھتے ہیں کہ زینب کبری سلام اللہ علیہا نے اپنے بھائی کی لاش کو ہاتھوں پر بلند کیا اور فرمایا ( اللہم تقبل منا ہذا القربان).
"اے اللہ ہماری جانب سے حسینؑ کی اس قربانی کو قبول کر لے."

عزیزو! یہی وہ صبر زینبی ہے جس کی بناء پر بنت علی جبل الصبر (صبر کی کوہ بلند) کہلائیں.

بیشک کسی نے سچ ہی کہا ہے جس منزل پر لوگ صبر کر کے صابرین کے مقام پر فائز ہوتے ہیں اسی منزل پر یہ "قافلہ حسینیؑ وزینبی" شکر الہی بجا لا کر صف شاکرین میں سے شمار کئے جاتے ہیں.
سلام ہو آپ پر اے علی کی شیر دل بیٹی!
اے صبر و تحمل کی کوہ بلند!
کہ جنکی بلندی کے سامنے ہر مقام پست و کمتر ہے.

سوگوارو! "زایدہ" امام سجاد علیہ السلام سے روایت کرتا ہے آپ فرماتے ہیں:
"جب ہمیں بے کجادہ سورایوں پر بٹھا کر کوفہ لے جانےکی تیاری ہوئی اور میں نے اپنے شہدا کی لاشوں کو خاک وخوں میں غلطاں بے گورو کفن دیکھا پس یہ حال دیکھ کر میرا دل بھر آیا اور سانس سینے میں گھٹنے لگا. یوں لگتا تھا کہ شاید شدت غم سے میرا دم نکل جائے گا.
میری پھوپھی زینب کبری میری یہ حالت دیکھ رہی تھیں. پس مجھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگیں:
"اے میرے بابا و نانا اور بھائی کی آخری نشانی!
یہ میں کیا دیکھ رہی ہوں. لگتا ہے کہ شدت غم سے تیری روح تیرے جسم سے جدا ہونیوالی ہے."
میں نے جواب دیا پھوپھی اماں!
میرا یہ حال کیوں نہ ہو جس کا سید وسردار بابا، چچا، چچازاد اور اصحاب و رشتہ داروں کو ایک ہی دن میں اسطرح قتل کردیا جائے اور جو انکی لاشیں خاک وخون میں اپنے سامنے غلطاں پائے. اور نہ انہیں کوئی کفن دینے والا ہو، نہ دفن کرنیوالا.
گویا یہ دیلم و خزر کے لوگ ہوں."
(دیلم و خزر دو جگہوں کے نام ہیں، یہ ان شہداء کی مظلومیت اور انکے دفن و کفن کی عدم دستیابی کو بیان کرنے کیلیے بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے. کیونکہ یہ جگہیں بلاد عرب سے دور دراز تھیں ظاہر ہے ترک و دیلم کا کوئی فرد عربستان میں مرجاتا تو اسکی لاش پر رونے والے کون ہوتے؟؟ کیونکہ عربوں میں تو انکا کوئی رشتہ دار یا پرسان حال نہ ہوتا.
یہی حال ان شہداء کا تھا جو جنت کے وارث تهے لیکن کربلا میں انکی لاشوں کا کوئی پرسان حال نہ تها. ولا حول ولا قوہ الا باللہ)
پس میری پھوپھی بولیں:
"بیٹے! جو تم دیکھ رہے ہو اس پر غم وحزن نہ کر، اللہ کی قسم! یہ ایک عہد تھا جو تیرے جد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تیرے دادا، بابا اور چچا تک پہنچا ہے.
بیشک! اللہ نے ایک قوم سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ ان شہیدوں کے جسم کے ٹکروں کو جمع کرینگے اور انہیں باحترام دفن کرینگے یہ ایسی قوم ہو گی جسے اس امت کے فرعون نہیں پہچانتے ہونگے لیکن یہ لوگ آسمان پر زمیں سے زیادہ مشہور ہونگے. پهر یہ لوگ تیرے بابا کی قبر کے نشان کو اسطرح بلند کریں گے کہ گردش دوراں اسے زائل نہ کر سکے گا. کفر کے پیشوا اور اسکے پیروکار اس نشان بلند کو مٹانے کی کوشش کرینگے لیکن وہ اسے مٹانے اور دبانے کی جس قدر کوشش کرینگے یہ نشاں اتنی ہی قوت و بلندی کےساتھ ابهرے گا." [9][10][11][12][13]
السلام علیک یا شریکة الحسين.

📚 حوالہ جات
1۔ فرہنگ لغت عمید، ذیل لغت «غریب»؛ فرہنگ واژگان مترادف و متضاد تألیف فرج‌اللہخداپرستی
2۔ دہخدا، ذیل شام غریبان. نمونہ ۔در شعر حافظ: بیا بشام غریبان و آب دیدۂ من بین // بسان بادۂ صافی در آبگینۂ شامی
3۔ مراجعہ کریں: محدثی، فرہنگ عاشورا، ص۲۴۱؛ مراجعہ کریں: جمعی از نویسندگان، پژوہشی در مقتل‌ ہای فارسی، ص۱۲۳۔
4۔ مراجعہ کریں: الوان ساز خویی، وقایع الأیام، ج۲، ص۱۳۵و۱۵۱۔
5۔ مراجعہ کریں: رسولی، زینب عقیلہ بنی‌ہاشم، ج۱، ص۵۵۔
6۔ مراجعہ کریں: قمی، در کربلا چہ گذشت؟ (ترجمہ نفس المہموم)، ص۴۸۶۔
7۔ مراجعہ کریں: رسولی، زینب عقیلہ بنی‌ہاشم، ج۱، ص۶۱و۶۲۔
8۔ محسن زادہ، سر نینوا زینب کبریؑ، ص۱۵۸۔
9۔ کامل الزیارات .261-262
10۔ نفس المہموم 351-352
11۔ العقد الفرید 4/358
12۔ تاریخ طبری 7/369-370۔
13 اللہوف 126۔

https://t.me/islamwitheman/3953
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🛑 تدفین شہدائے کربلا 🛑

ﻧﻔﺲ ﺍﻟﻤﮩﻤﻮﻡ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﻤﻄﺎﺑﻖ ﺍﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﻟﻌﯿﻦ ﮐﮯ ﮐﺮﺑﻼ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻘﺘﻮﻟﯿﻦ ﮐﻮ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﻭ ﺍہلبیت ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺼﺎﺭ اﺑﺎ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﻄﮩﺮ ﻻﺷﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺑﮯ ﮔﻮﺭ ﻭ ﮐﻔﻦ ﭼھﻮﮌ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﺒﻌﺪ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ (ﻏﺎﺿﺮﯾﮧ) ﮐﮯ ﺭﮨﺎئشی ﻗﺒﯿﻠﮧ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺍئے ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﻭ ﺍہلبیت ﮐﮯ ﻻﺷﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھی ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺝ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﺮﯾﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔

"ﺍﻟﮑﺎﻣﻞ ﺍﻟﺒﮩﺎﺋﯽ" ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﻤﻄﺎﺑﻖ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﺮ ﮐﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺩﻓﻦ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺷﮩﯿﺪ کئے ﮔﺌﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻗﺒﺮ ﮔﻨﺞ ﺷﮩﯿﺪﺍﻥ ﺳﮯ کچھ ﺩﻭﺭ ﮨﮯ۔ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺍﺝ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ 19 کلو ﻣﯿﭩﺮ ﺑﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺑﻨﻮ ﺍﺳﺪ ﻗﺒﺎئل ﻋﺮﺏ ﭘﺮ ﻓﺨﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﮐﯽ ﻻﺷﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھی ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﻓﻨﺎﯾﺎ. ﺍﺳﯿﻄﺮﺡ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱ ﻛﻮ ﻋﻠﻘﻤﻪ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻭﮨﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ۔

ﺍﺑﻦ ﺷﮩﺮ ﺍﺷﻮﺏ ﻭ ﻣﺴﻌﻮﺩﯼ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﮐﯿﻤﻄﺎﺑﻖ ﺍہلیان ﻏﺎﺿﺮﯾﮧ (ﺑﻌﺾ ﻧﮯ ﻋﺎﻣﺮﯾﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ) ﻧﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ. ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺷﮩﺪﺍء ﮐﻮ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺩﺵ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔

"ﺗﺬﮐﺮﺓ ﺍﻟﺨﻮﺍﺹ" ﻣﯿﮟ ﻃﺒﺮﯼ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ. ﺯﮨﯿﺮ ﺑﻦ ﺍﻟﻘﯿﻦ ﺟﻮ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯿﺴﺎتھ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﻧﮑﯽ ﺯﻭﺟﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﮐﻮ ﮐﺮﺑﻼ بھیجا ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺟﺎﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ آﻗﺎ ﮐﻮ ﮐﻔﻦ ﭘﮩﻨﺎ ﺩﮮ۔ ﺟﺐ ﯾﮧ ﻏﻼﻡ ﮐﺮﺑﻼ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﮯ ﺟﺴﺪ ﺍﻃﮩﺮ ﮐﻮ ﺭﯾﮓ ﮔﺮﻡ ﭘﺮ ﺑﮯ ﮐﻔﻦ ﭘﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ "ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ آﻗﺎ ﮐﻮ ﮐﻔﻦ ﺩﻭﮞ؟ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﺑﮯ ﮐﻔﻦ ﭘﮍﮮ ﺭﮨﯿﮟ ﻭﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ. ﭘﺲ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﻔﻦ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﺎ ﺩیا ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻗﺎ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﻔﻦ ﭘﮩﻨﺎ ﺩﯾﺎ"

ﻋﺰﯾﺰﻭ! ﯾﮩﺎﮞ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺑﮑﺜﺮﺕ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺻﺮﺍﺣﺘﺎ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﯾﻦ ﺍﻟﻌﺎﺑﺪﯾﻦ ﺑﺎﻋﺠﺎﺯ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﮐﻮﻓﮧ ﺳﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻئے ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﺑﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﮐﯽ ﻻﺷﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھائی ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻭﮨﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺝ ﺍﻧﮑﯽ ﻗﺒﻮﺭ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔

ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺷﯿﻌﮧ ﻧﻈﺮﯾﮧ ﮐﯿﻤﻄﺎﺑﻖ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﮨﯽ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھاتا ﮨﮯ. ﮨﻢ ﻧﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﺍﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺩیئے ﮨﯿﮟ۔

ﺍﺱ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﯾﺖ "ﻧﻔﺲ ﺍﻟﻤﮩﻤﻮﻡ" ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﺟﻌﻔﺮ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﺍﭖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ہیں ﮐﮧ "ﺟﺐ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ (ﺹ) ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮨﻮئی ﺗﻮ ﺟﺒﺮئیل ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﻏﺴﻞ ﻭ ﺗﮑﻔﯿﻦ ﻭ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﺮ کھودنے ﻣﯿﮟ ﻣﻮﻻ ﻋﻠﯽ علیہ السلام ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ آپ کے ﺟﺴﺪ ﺍﻃﮩﺮ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھی۔ ﺍﺳﯿﻄﺮﺡ ﻣﻮﻻ ﻋﻠﯽ علیہ السلام ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮨﻮئی ﺗﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ (ص) ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ علیہ السلام ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺠﮩﯿﺰ ﻭ ﺗﮑﻔﯿﻦ ﻭ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﺎتھ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺳﯿﻄﺮﺡ ﺟﺐ ﺣﺴﻦ ﻣﺠﺘﺒﯽ علیہ السلام ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮئے ﺗﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ (ص) ﻭ ﻣﻮﻻ ﻋﻠﯽ علیہ السلام ﻧﮯ ﺗﺠﮩﯿﺰ ﻭ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﻭ ﺗﮑﻔﯿﻦ ﻣﯿﮟ امام ﺣﺴﯿﻦ علیہ السلام ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ۔
ﺍﺳﯿﻄﺮﺡ ﺟﺐ ﻣﻈﻠﻮﻡ ﮐﺮﺑﻼ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ آﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﯾﻦ ﺍﻟﻌﺎﺑﺪﯾﻦ علیہ السلام ﺑﺎﻋﺠﺎﺯ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﺗﺸﺮﯾﻒ لائے ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ (ص) و ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽ علیہ السلام اور ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ علیہ السلام ﻧﮯ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﻣﻈﻠﻮﻡ ﮐﺮﺑﻼ ﻣﯿﮟ ﺍﭖ کی ﻣﻌﺎﻭﻧﺖ ﮐﯽ۔"

ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺑﻨﻮ ﺍﺳﺪ بھی ﮨﻤﺮﺍﮦ ﺭﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺳﯿﺪ ﺍﻟﺼﺎﺑﺮﯾﻦ ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩ علیہ السلام ﮨﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﭘﺮ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﺝ ﺍﻧﮑﯽ ﻗﺒﻮﺭ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔ (ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ)

ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺑﻨﻮ ﺍﺳﺪ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ تھے ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﻓﮧ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﺭ آﺗﺎ ﺩکھائی ﺩﯾﺎ۔ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ چھپ ﮔﺌﮯ ﺷﺎﯾﺪ ﮐﮧ ﺍﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﻮﮞ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺻﺎﺑﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺳﯿﺪ ﺳﺠﺎﺩ علیہ السلام تھے۔ آﭖ ﻧﮯ ﺑﻨﻮ ﺍﺳﺪ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﭘﺲ آپ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﻮ ﺍﺳﺪ ﺍﺳﯽ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﮐﯿﻤﻄﺎﺑﻖ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﻣﯿﮟ آپ کی ﻣﺪﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ آپ کی آنکھوں ﺳﮯ ﺍﻧﺴﻮ ﻣﻮﺳﻢ ﺑﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﯿﻄﺮﺡ ﺟﺎﺭﯼ ﺗﮭﮯ۔ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﺟﺐ آﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﭽﺎ ﺍﺑﻮ ﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱ ﮐﯽ ﻧﻌﺶ ﺍﻃﮩﺮ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﭼﯿﺨﯿﮟ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﻭئے ﺑﯿﺸﮏ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﻧﮯ ﺣﺴﯿﻦ علیہ السلام ﮐﯽ ﮐﻤﺮ ﺗﻮﮌ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪ ﺳﺠﺎﺩ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺣﺎﻝ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔

ﺷﯿﺦ ﻃﻮﺳﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺳﻨﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﺪ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺩﻕ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﮨﮯ "ﺍﯾﮏ ﺻﺒﺢ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﻡ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻡ ﺳﻠﻤﮧ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﮑﻠﯿﮟ ﭘﺲ ﺟﺐ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﻮﻟﯿﮟ "ﻣﯿﺮﺍ ﺑﭽﮧ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﺮﺑﻼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺍﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭖ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺍﻗﺪﺱ ﺧﺎﮎ آﻟﻮﺩ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻏﻤﮕﯿﻦ ﻭ ﺣﺰﯾﻦ ﮨﯿﮟ" ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ "ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ! ﮐﺲ ﺷﮯ ﻧﮯ ﺍﭖ ﮐﻮ ﺍﺳﻘﺪﺭ ﻏﻤﮕﯿﻦ ﻭ ﺩﻝ ﮔﺮﻓﺘﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮨﮯ؟"
ﺗﻮ ﺍﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: "ﺍﻡ ﺳﻠﻤﮧ! ﻣﯿﮟ ﺍﺝ ﭘﻮﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ کیلئے ﻗﺒﺮﯾﮟ کھوﺩ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ابھی ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﺮﺑﻼ ﺳﮯ ﺍﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔"

ﺍﺳﯽ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯿﻤﻄﺎﺑﻖ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ (ص) ﮐﻮ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ آﭖ ﮐﯽ آنکھوں ﺳﮯ آﻧﺴﻮ ﺟﺎری ہیں، ﭼﮩﺮﮦ ﺍﻧﻮﺭ ﻏﺒﺎﺭ آﻟﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﭘﺎئے ﺍﻗﺪﺱ ﻣﯿﮟ ﻧﻌﻠﯿﻦ نہیں ﺗﮭﮯ۔ آﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺮﺗﮧ ﻣﺒﺎﺭﮎ تھاﻣﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﯾﺖ ﭘﮍھ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ (ﻇﺎﻟﻢ ﯾﮧ ﮔﻤﺎﻥ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﺮﺗﻮﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﮨﮯ- ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ 42) ﭘﮭﺮ ﺍﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺑﻼ ﺳﮯ آ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ