🔷 تاسوعا کے واقعات 🔷
محرم الحرام کے نویں دن کو "تاسوعا" کہا جاتا ہے۔ تاسوعا "تسع" بمعنی ٩ یا نویں سے ماخوذ ہے۔
٩ محرم تاسوعا کے دن ظہر سے پہلے شمر بن ذی الجوشن چار ہزار سپاہی لے کر سرزمین کربلا میں داخل ہوا۔[١]۔[٢] وہ عمر بن سعد کے لئے عبیداللہ بن زیاد کا خط لے کر آیا تھا چنانچہ کربلا پہنچتے ہی اس نے خط ابن سعد کے سپرد کیا۔ اس خط میں ابن زياد نے ابن سعد کو حکم دیا تھا کہ یا تو امام حسینؑ کو بیعت پر مجبور کرے یا پھر آپؑ کے خلاف لڑائی چھیڑ دے۔ عبید اللہ نے اس خط کے ضمن میں عمر بن سعد کو دھمکی آمیز انداز سے لکھا تھا۔ کہ اگر وہ اس کے احکامات کی مکمل تعمیل نہ کرے تو اس کو لشکر سے کنارہ کشی کرکے اس کی سربراہی کا عہدہ شمر کے سپرد کرنا پڑے گا۔[٣]۔[٤]۔[٥]۔[٦]۔[٧]۔[٨]۔[٩]
ابن سعد نے عبیداللہ کا خط پڑھ کر شمر سے کہا: "میں لشکر کی امارت تمہارے حوالے نہیں کروں گا اور میں تیرے وجود میں اس کام کی اہلیت نہیں دیکھ رہا ہوں چنانچہ میں اس کام کو خود ہی انجام تک پہنچا دوں گا۔ تم صرف پیدل دستوں کے سالار رہو۔ [١٠]۔[١١]۔[١٢]۔[١٣]۔[١٤]۔[١٥]
کوفہ میں شمر نے عمر سعد کے لئے عبیداللہ کا خط لینا چاہا تو اس نے حضرت ام البنینؑ کے قبیلے کے ایک فرد عبداللہ بن ابی المحل کے ساتھ مل کر اپنے بھانجوں کے لئے (شمر چونکہ حضرت ام البنین سلام اللہ کے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اس لئے عرب کے عام دستور کے مطابق ماموں کہلاتا تھا۔ جس طرح ہم اپنے گلی محلے کے خواتین و حضرات کو خالہ یا چچا یا ماموں کہتے ہیں۔ امان نامہ دینے کی درخواست کی۔ عبیداللہ نے اس تجویز کو پسند کیا۔[١٦]۔[١٧]۔[١٨]
عبداللہ بن ابی المحل نے مذکورہ امان نامہ اپنے غلام "کزمان یا عرفان" کے ہاتھوں کربلا ارسال کیا اور کربلا پہنچنے کے بعد امان نامے کا متن ام البنینؑ کے فرزندوں کے لئے پڑھا۔ لیکن انہوں نے امان نامہ مسترد کیا۔[١٩]۔[٢٠]۔[٢١]۔[٢٢]
دوسری روایت کے مطابق شمر خود ہی امان نامہ لے کر کربلا میں عباس بن علیؑ اور ان کے بھائیوں عبداللہ ، جعفر اور عثمان کو پہنچایا۔[٢٣]۔[٢٤]
حضرت عباسؑ اور ان کے بھائی ابا عبداللہ الحسینؑ کے پاس بیٹھے تھے اور شمر کا جواب دے رہے تھے۔ امامؑ نے بھائی عباسؑ سے فرمایا:
"گو کہ وہ فاسق ہے لیکن اس کا جواب دے دو۔ بے شک وہ تمہاری والدہ کے قبیلے سے ہے"۔ عباس ، عبداللہ ، جعفر اور عثمان علیہم السلام باہر آئے اور شمر سے کہا: "کیا چاہتے ہو؟ " شمر نے ان سے کہا: "اے میرے بھانجو! تم امان میں ہو؛ میں نے تمہارے لئے عبید اللہ بن زیاد سے امان نامہ حاصل کیا ہے". لیکن حضرت عباس اور ان کے بھائیوں نے مل کر کہا: "خدا تم پر اور تمہارے امان نامے پر لعنت کرے'' یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ ہم امان میں ہوں اور فرزند پیغمبرؐ امان میں نہ ہوں"۔[٢٥]۔[٢٦]۔[٢٧]۔[٢٨]۔[٢٩]
حضرت ام البنینؑ کے فرزندوں کی طرف سے ابن زیاد کا امان نامہ مسترد ہونے کے بعد عمر بن سعد نے لشکر کو حکم دیا گیا کہ جنگ کی تیاری کریں۔ چنانچہ سب سوار ہوئے اور جمعرات 9 محرم بوقت عصر امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب و خاندان کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوئے۔[٣٠]۔[٣١]۔[٣٢]۔[٣٣]۔[٣٤]
٩ محرم بوقت عصر صحرای کربلا میں عمر سعد کی سپاہ کی نقل و حرکت بڑھ گئی اور عمر سعد امام حسینؑ کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوا۔ اور اپنی سپاہ کو بھی جنگ کے لئے تیار ہونے کا حکم دیا۔ اس نے اپنی سپاہ میں منادی کرا دی کہ يا خيل الله ارکبی و بالجنة ابشري، اے خدا کے لشکریو! سوار ہو جاؤ کہ میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں۔ کوفی سب سوار ہوئے اور جنگ کے لئے تیار۔[٣٥]۔[٣٦]۔[٣٦]۔[٣٨]۔[٣٩]
لشکر میں شور اور ہنگامہ بپا ہوا۔ امامؑ اپنے خیمے کے سامنے اپنی تلوار پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ بہن حضرت زینب لشکر کوفہ میں شور و غل کی صدائیں سن کر بھائی کے قریب آئیں اور کہا: "بھائی جان! کیا آپ قریب تر آنے والی صدائیں سن رہے ہیں؟ امام حسینؑ نے سر اٹھا کر فرمایا: "میں نے نانا رسول اللہ کو خواب میں دیکھا اور آپ نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا: "بہت جلد ہمارے پاس آؤ گے"۔ امام حسینؑ نے عباس بن علیؑ کو فرمایا: "اے عباس! میری جان فدا ہو تم پر، اپنے گھوڑے پر سوار ہو جاؤ اور ان کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور کس لئے آگے بڑھ آئے ہیں؟
حضرت عباسؑ زہیر بن قین اور حبیب بن مظاہر سمیت ٢٠ سواروں کے ہمراہ دشمن کی سپاہ کی طرف چلے گئے اور ان سے پوچھا: کیا ہوا ہے؟ اور تم چاہتے کیا ہو؟ انہوں نے کہا: امیر کا حکم ہے کہ ہم آپ سے کہہ دیں کہ یا بیعت کرو یا جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ۔ حضرت عباسؑ نے کہا: "اپنی جگہ سے ہلو نہیں حتی کہ میں ابا عبداللہ کے پاس جاؤں اور تمہارا پیغام آپؑ کو پہنچا دوں۔ وہ مان گئے چنانچہ حضرت عباسؑ اکیلے امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے تا کہ انہیں پیش آمدہ صورت حال سے آگاہ کریں۔[٤٠]۔[٤١]۔[٤٢]۔[٤٣]۔[٤٤]۔[٤٥]
محرم الحرام کے نویں دن کو "تاسوعا" کہا جاتا ہے۔ تاسوعا "تسع" بمعنی ٩ یا نویں سے ماخوذ ہے۔
٩ محرم تاسوعا کے دن ظہر سے پہلے شمر بن ذی الجوشن چار ہزار سپاہی لے کر سرزمین کربلا میں داخل ہوا۔[١]۔[٢] وہ عمر بن سعد کے لئے عبیداللہ بن زیاد کا خط لے کر آیا تھا چنانچہ کربلا پہنچتے ہی اس نے خط ابن سعد کے سپرد کیا۔ اس خط میں ابن زياد نے ابن سعد کو حکم دیا تھا کہ یا تو امام حسینؑ کو بیعت پر مجبور کرے یا پھر آپؑ کے خلاف لڑائی چھیڑ دے۔ عبید اللہ نے اس خط کے ضمن میں عمر بن سعد کو دھمکی آمیز انداز سے لکھا تھا۔ کہ اگر وہ اس کے احکامات کی مکمل تعمیل نہ کرے تو اس کو لشکر سے کنارہ کشی کرکے اس کی سربراہی کا عہدہ شمر کے سپرد کرنا پڑے گا۔[٣]۔[٤]۔[٥]۔[٦]۔[٧]۔[٨]۔[٩]
ابن سعد نے عبیداللہ کا خط پڑھ کر شمر سے کہا: "میں لشکر کی امارت تمہارے حوالے نہیں کروں گا اور میں تیرے وجود میں اس کام کی اہلیت نہیں دیکھ رہا ہوں چنانچہ میں اس کام کو خود ہی انجام تک پہنچا دوں گا۔ تم صرف پیدل دستوں کے سالار رہو۔ [١٠]۔[١١]۔[١٢]۔[١٣]۔[١٤]۔[١٥]
کوفہ میں شمر نے عمر سعد کے لئے عبیداللہ کا خط لینا چاہا تو اس نے حضرت ام البنینؑ کے قبیلے کے ایک فرد عبداللہ بن ابی المحل کے ساتھ مل کر اپنے بھانجوں کے لئے (شمر چونکہ حضرت ام البنین سلام اللہ کے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اس لئے عرب کے عام دستور کے مطابق ماموں کہلاتا تھا۔ جس طرح ہم اپنے گلی محلے کے خواتین و حضرات کو خالہ یا چچا یا ماموں کہتے ہیں۔ امان نامہ دینے کی درخواست کی۔ عبیداللہ نے اس تجویز کو پسند کیا۔[١٦]۔[١٧]۔[١٨]
عبداللہ بن ابی المحل نے مذکورہ امان نامہ اپنے غلام "کزمان یا عرفان" کے ہاتھوں کربلا ارسال کیا اور کربلا پہنچنے کے بعد امان نامے کا متن ام البنینؑ کے فرزندوں کے لئے پڑھا۔ لیکن انہوں نے امان نامہ مسترد کیا۔[١٩]۔[٢٠]۔[٢١]۔[٢٢]
دوسری روایت کے مطابق شمر خود ہی امان نامہ لے کر کربلا میں عباس بن علیؑ اور ان کے بھائیوں عبداللہ ، جعفر اور عثمان کو پہنچایا۔[٢٣]۔[٢٤]
حضرت عباسؑ اور ان کے بھائی ابا عبداللہ الحسینؑ کے پاس بیٹھے تھے اور شمر کا جواب دے رہے تھے۔ امامؑ نے بھائی عباسؑ سے فرمایا:
"گو کہ وہ فاسق ہے لیکن اس کا جواب دے دو۔ بے شک وہ تمہاری والدہ کے قبیلے سے ہے"۔ عباس ، عبداللہ ، جعفر اور عثمان علیہم السلام باہر آئے اور شمر سے کہا: "کیا چاہتے ہو؟ " شمر نے ان سے کہا: "اے میرے بھانجو! تم امان میں ہو؛ میں نے تمہارے لئے عبید اللہ بن زیاد سے امان نامہ حاصل کیا ہے". لیکن حضرت عباس اور ان کے بھائیوں نے مل کر کہا: "خدا تم پر اور تمہارے امان نامے پر لعنت کرے'' یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ ہم امان میں ہوں اور فرزند پیغمبرؐ امان میں نہ ہوں"۔[٢٥]۔[٢٦]۔[٢٧]۔[٢٨]۔[٢٩]
حضرت ام البنینؑ کے فرزندوں کی طرف سے ابن زیاد کا امان نامہ مسترد ہونے کے بعد عمر بن سعد نے لشکر کو حکم دیا گیا کہ جنگ کی تیاری کریں۔ چنانچہ سب سوار ہوئے اور جمعرات 9 محرم بوقت عصر امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب و خاندان کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوئے۔[٣٠]۔[٣١]۔[٣٢]۔[٣٣]۔[٣٤]
٩ محرم بوقت عصر صحرای کربلا میں عمر سعد کی سپاہ کی نقل و حرکت بڑھ گئی اور عمر سعد امام حسینؑ کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوا۔ اور اپنی سپاہ کو بھی جنگ کے لئے تیار ہونے کا حکم دیا۔ اس نے اپنی سپاہ میں منادی کرا دی کہ يا خيل الله ارکبی و بالجنة ابشري، اے خدا کے لشکریو! سوار ہو جاؤ کہ میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں۔ کوفی سب سوار ہوئے اور جنگ کے لئے تیار۔[٣٥]۔[٣٦]۔[٣٦]۔[٣٨]۔[٣٩]
لشکر میں شور اور ہنگامہ بپا ہوا۔ امامؑ اپنے خیمے کے سامنے اپنی تلوار پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ بہن حضرت زینب لشکر کوفہ میں شور و غل کی صدائیں سن کر بھائی کے قریب آئیں اور کہا: "بھائی جان! کیا آپ قریب تر آنے والی صدائیں سن رہے ہیں؟ امام حسینؑ نے سر اٹھا کر فرمایا: "میں نے نانا رسول اللہ کو خواب میں دیکھا اور آپ نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا: "بہت جلد ہمارے پاس آؤ گے"۔ امام حسینؑ نے عباس بن علیؑ کو فرمایا: "اے عباس! میری جان فدا ہو تم پر، اپنے گھوڑے پر سوار ہو جاؤ اور ان کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور کس لئے آگے بڑھ آئے ہیں؟
حضرت عباسؑ زہیر بن قین اور حبیب بن مظاہر سمیت ٢٠ سواروں کے ہمراہ دشمن کی سپاہ کی طرف چلے گئے اور ان سے پوچھا: کیا ہوا ہے؟ اور تم چاہتے کیا ہو؟ انہوں نے کہا: امیر کا حکم ہے کہ ہم آپ سے کہہ دیں کہ یا بیعت کرو یا جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ۔ حضرت عباسؑ نے کہا: "اپنی جگہ سے ہلو نہیں حتی کہ میں ابا عبداللہ کے پاس جاؤں اور تمہارا پیغام آپؑ کو پہنچا دوں۔ وہ مان گئے چنانچہ حضرت عباسؑ اکیلے امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے تا کہ انہیں پیش آمدہ صورت حال سے آگاہ کریں۔[٤٠]۔[٤١]۔[٤٢]۔[٤٣]۔[٤٤]۔[٤٥]
امام حسینؑ نے حضرت عباسؑ سے فرمایا: "اگر تمہارے لئے ممکن ہو تو انہیں راضی کرو کہ جنگ کو کل تک ملتوی کریں تاکہ ہم اپنے پروردگار کے ساتھ راز و نیاز کریں اور اس کی درگاہ میں نماز بجا لائیں۔ خدا جانتا ہے کہ میں اس کی بارگاہ میں نماز اور اس کی کتاب کی تلاوت کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں۔[٤٦]۔[٤٧]۔[٤٨]
جب تک عباسؑ امام حسینؑ کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے، ان کے ساتھیوں حبیب بن مظاہر اور زہیر بن قین نے بھی موقع سے فائدہ اٹھا کر ابن سعد کی سپاہ کے ساتھ گفتگو کی اور انہیں امام حسینؑ کے ساتھ جنگ سے باز رکھنے کی کوشش کی جب کہ اسی حال میں وہ ابن سعد کے سپاہیوں کی پیش قدمی بھی روک رہے تھے۔[٤٩]۔[٥٠]۔[٥١]۔[٥٢]
ابوالفضل العباسؑ دشمن کے سپاہیوں کی طرف آئے اور امام حسینؑ کا فرمان ان تک پہنچا دیا۔ ابن سعد نے ایک دن کے لئے جنگ ملتوی کرنے سے اتفاق کیا۔[٥٣]۔[٥٤]۔[٥٥]
امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک حدیث کے ضمن میں اس روز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"تاسوعا یوم حوصر فیه الحسینؑ واصحابه بکربلاء واجتمع علیه خیل اهل الشام واناخوا علیه وفرح ابن مرجانة وعمر بن سعد بتواتر الخیل وکثرتها واستضعفوا فیه الحسینؑ واصحابه وایقنوا انه لا یأتی الحسینؑ ناصر ولا یمده اهل العراق"
ترجمہ:
تاسوعا وہ دن ہے جس دن حسینؑ اور اصحاب حسینؑ کربلا میں محصور ہوئے اور شامی سپاہ ان کے خلاف اکٹھی ہوئی، ابن مرجانہ، ابن زیاد اور عمر سعد اتنا بڑا لشکر فراہم ہونے پر خوش ہوئے اور اس دن حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب کو کمزور سمجھا اور انہوں نے یقین کر لیا کہ حسینؑ کے لئے کوئی کمک نہیں آئے گی اور عراقی آپؑ کی مدد نہیں کریں گے۔[٥٦]۔[٥٧]۔[٥٨]
📚 حوالہ جات
١- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ج5، ص94.
٢- ابن شهرآشوب، مناقب ج4، ص98.
٣- ابن سعد، الطبقات الکبری، خامسہ1، ص466.
٤- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ص94.
٥- ابن شہرآشوب، مناقب ج4، ص98.
٦- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، صص414-415.
٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص88.
٨- مسکویہ، ابوعلی، تجارب الامم، ج2، صص72-73.
٩- ابن اثیر، علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، ج4، ص55.
١٠- بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص183.
١١- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص415.
١٢- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89.
١٣- مسکویه، تجارب الامم، ص73.
١٤- ابن اثیر،الکامل...، ص56.
١٥- طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
١٦- طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص415
١٧- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ص246
١٨- ابن اثیر،الکامل...، ص56.
١٩- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...،ج5، ص415
٢٠- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ج5، صص93-94
٢١- خوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ص246
٢٢- ابن اثیر، الکامل...، ص56.
٢٣- حسنی، ابن عنبہ، عمدة الطالب فی ...، ص327
٢٤- خوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ص246.
٢٥- البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف ج3، ص184
٢٦- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص416
٢٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89
٢٨- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ج1، ص246
٢٩- ابن اثیر، الکامل...، ج4، ص56.
٣٠- بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص184
٣١- طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص416
٣٢- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89
٣٣- خوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ج1، ص249
٣٤- طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
٣٥- البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص184
٣٦- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص416
٣٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89
٣٨- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ج1، ص249
٣٩- طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
٤٠- البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، صص184-185
٤١- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، صص416-418
٤٢- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ج5، صص97- 98
٤٣- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص90
٤٤- الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج1، صص249-250
٤٥- مسکویه، تجارب الامم، صص73- 74.
٤٦- الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، ص417
٤٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص91
٤٨- ابن اثیر،الکامل...، ص57.
٤٩- الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، صص416-417
٥٠- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ص98
٥١- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ص249-250
٥٢- تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ "البلاذری، احمد بن یحیی"، انساب الاشراف، ص184.
٥٣- الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، ص417
٥٤- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ص98
٥٥- ابن اثیر،الکامل...، ص57.
٥٦- کلینی، الکافی، ج4، ص147
٥٧- مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج45، ص95
٥٨- عاملی، شیخ حر، وسائل الشیعه، ج10، ص460.
https://t.me/islamwitheman/3891
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
جب تک عباسؑ امام حسینؑ کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے، ان کے ساتھیوں حبیب بن مظاہر اور زہیر بن قین نے بھی موقع سے فائدہ اٹھا کر ابن سعد کی سپاہ کے ساتھ گفتگو کی اور انہیں امام حسینؑ کے ساتھ جنگ سے باز رکھنے کی کوشش کی جب کہ اسی حال میں وہ ابن سعد کے سپاہیوں کی پیش قدمی بھی روک رہے تھے۔[٤٩]۔[٥٠]۔[٥١]۔[٥٢]
ابوالفضل العباسؑ دشمن کے سپاہیوں کی طرف آئے اور امام حسینؑ کا فرمان ان تک پہنچا دیا۔ ابن سعد نے ایک دن کے لئے جنگ ملتوی کرنے سے اتفاق کیا۔[٥٣]۔[٥٤]۔[٥٥]
امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک حدیث کے ضمن میں اس روز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"تاسوعا یوم حوصر فیه الحسینؑ واصحابه بکربلاء واجتمع علیه خیل اهل الشام واناخوا علیه وفرح ابن مرجانة وعمر بن سعد بتواتر الخیل وکثرتها واستضعفوا فیه الحسینؑ واصحابه وایقنوا انه لا یأتی الحسینؑ ناصر ولا یمده اهل العراق"
ترجمہ:
تاسوعا وہ دن ہے جس دن حسینؑ اور اصحاب حسینؑ کربلا میں محصور ہوئے اور شامی سپاہ ان کے خلاف اکٹھی ہوئی، ابن مرجانہ، ابن زیاد اور عمر سعد اتنا بڑا لشکر فراہم ہونے پر خوش ہوئے اور اس دن حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب کو کمزور سمجھا اور انہوں نے یقین کر لیا کہ حسینؑ کے لئے کوئی کمک نہیں آئے گی اور عراقی آپؑ کی مدد نہیں کریں گے۔[٥٦]۔[٥٧]۔[٥٨]
📚 حوالہ جات
١- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ج5، ص94.
٢- ابن شهرآشوب، مناقب ج4، ص98.
٣- ابن سعد، الطبقات الکبری، خامسہ1، ص466.
٤- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ص94.
٥- ابن شہرآشوب، مناقب ج4، ص98.
٦- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، صص414-415.
٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص88.
٨- مسکویہ، ابوعلی، تجارب الامم، ج2، صص72-73.
٩- ابن اثیر، علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، ج4، ص55.
١٠- بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص183.
١١- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص415.
١٢- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89.
١٣- مسکویه، تجارب الامم، ص73.
١٤- ابن اثیر،الکامل...، ص56.
١٥- طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
١٦- طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص415
١٧- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ص246
١٨- ابن اثیر،الکامل...، ص56.
١٩- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...،ج5، ص415
٢٠- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ج5، صص93-94
٢١- خوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ص246
٢٢- ابن اثیر، الکامل...، ص56.
٢٣- حسنی، ابن عنبہ، عمدة الطالب فی ...، ص327
٢٤- خوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ص246.
٢٥- البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف ج3، ص184
٢٦- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص416
٢٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89
٢٨- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ج1، ص246
٢٩- ابن اثیر، الکامل...، ج4، ص56.
٣٠- بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص184
٣١- طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص416
٣٢- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89
٣٣- خوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ج1، ص249
٣٤- طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
٣٥- البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص184
٣٦- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص416
٣٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89
٣٨- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ج1، ص249
٣٩- طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
٤٠- البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، صص184-185
٤١- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، صص416-418
٤٢- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ج5، صص97- 98
٤٣- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص90
٤٤- الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج1، صص249-250
٤٥- مسکویه، تجارب الامم، صص73- 74.
٤٦- الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، ص417
٤٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص91
٤٨- ابن اثیر،الکامل...، ص57.
٤٩- الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، صص416-417
٥٠- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ص98
٥١- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ص249-250
٥٢- تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ "البلاذری، احمد بن یحیی"، انساب الاشراف، ص184.
٥٣- الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، ص417
٥٤- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ص98
٥٥- ابن اثیر،الکامل...، ص57.
٥٦- کلینی، الکافی، ج4، ص147
٥٧- مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج45، ص95
٥٨- عاملی، شیخ حر، وسائل الشیعه، ج10، ص460.
https://t.me/islamwitheman/3891
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 تاسوعا کے واقعات 🔷
محرم الحرام کے نویں دن کو "تاسوعا" کہا جاتا ہے۔ تاسوعا "تسع" بمعنی ٩ یا نویں سے ماخوذ ہے۔
٩ محرم تاسوعا کے دن ظہر سے پہلے شمر بن ذی الجوشن چار ہزار سپاہی لے کر سرزمین کربلا میں داخل ہوا۔[١]۔[٢] وہ عمر بن سعد کے لئے عبیداللہ بن زیاد…
محرم الحرام کے نویں دن کو "تاسوعا" کہا جاتا ہے۔ تاسوعا "تسع" بمعنی ٩ یا نویں سے ماخوذ ہے۔
٩ محرم تاسوعا کے دن ظہر سے پہلے شمر بن ذی الجوشن چار ہزار سپاہی لے کر سرزمین کربلا میں داخل ہوا۔[١]۔[٢] وہ عمر بن سعد کے لئے عبیداللہ بن زیاد…
🔵 اعمال شبِ عاشور اور روز عاشور 🔵
▪ گریہ وزاری کےساتھ شبِ بیداری کریں. ▪ زیارات امام حسین۴ پڑھیں.
▪ 4 رکعت نماز دو دو رکعت کر کے بجا لائیں ( نیت دو رکعت نماز شبِ عاشور پڑھتا ھوں/پڑھتی ھوں قربۃ اللہ) ہر رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد 50 بار سورۃ اخلاص باقی نماز فجر کیطرح ھے.
▪ چار رکعت نماز دو دو رکعت کر کے بجا لائیں ( نیت اوپر درج ھے لیکن طریقہ مختلف ھے جو نیچے درج ہے.)
↩ پہلی دو رکعت: نماز کی پہلی رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد دس (10) بار آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد دس (10) بار سورۃ اخلاص.
↩ اگلی دو رکعت: نماز کی پہلی رکعت میں الحمد کے بعد دس(10) بار سورۃ الفلق اور دوسری رکعت الحمد کےبعد دس (10) بار سورۃ الناس. باقی نماز فجر کیطرح پڑھیں.
↩ اوپر والی نماز پڑھنے کے بعد ایک ھی جگہ پر بیٹھ کر 100 بار سورۃ اخلاص پڑھیں.
▪ جتنا زیادہ ھوسکے قاتلانِ امام حسین۴ پہ زیادہ سے زیادہ لعنتیں بھیجیں:
اللھم العن قتلۃ الحسین ۴ و اصحا بہٍ.
📚 بحوالہ مفاتیح الجنان 523.
⛳ روز عاشورا ⛳
روز عاشورا محمد و آل محمد علیہم السلام پر مصیبت کا دن ہے. عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی بقا کی خاطر اپنا بھرا گھر اور اپنے انصار کو خدا کی راہ میں قربان کر دیا، ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام نے اس دن کو گریہ و زاری سے مخصوص کر دیا ہے. لہٰذا عاشور کے دن گریہ و زاری، مجلس و ماتم اور عزا کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے.
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
اگر کوئی آج کے دن زیارت امام حسین علیہ السلام بجا لائے، آپ کی مصیبت پر خوب روئے اور اپنے گھر والوں اور اعزہ واقارب کو بھی رونے کا حکم دے، اپنے گھر میں عزا برپا کرے اور آپس میں ایک دوسرے سے رو کر ملے، ایک دوسرے کو ان الفاظ میں تعزیت و تسلیت پیش کرے:
"عَظَّمَ اللّٰہُ اُجُورَنٰا بِمُصٰابِنٰا بِالحُسَینِ عَلَیہِ السَّلَام وَ جَعَلَنَا وَاِیَّاکُم مِنَ الطَّالِبِینَ بِشَارِہِ مَعَ وَلِیِّہِ الاِمَامِ المَھدِی مِن آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیہِمُ السَّلَام."
خدا وند عالم اس کو بہت زیادہ اجر عطا فرمائے گا.
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ اگر کوئی عاشور کے دن ہزار مرتبہ "سورہ قل اللہ احد" پڑھے تو خدا وند عالم اس کی طرف رحمت کی نظر فرمائے گا.
روز عاشور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں پر ہزار مرتبہ اس طرح لعنت بھیجنے کا بہت زیادہ ثواب ہے:
"اَللّٰھُمَّ العَن قَتَلَۃَ الحُسَینِ وَ اَصحٰابِہِ."
🔷 اعمال روز عاشورا 🔷
روز عاشورگریہ وزاری کرنا،
اور مصیبت زدوں کی طرح صورت بنانا،
ننگے سر و ننگے پیر رہنا،
آستینوں کو اوپر چڑھانا،
گریبان کو چاک کرنا،
سارے دن فاقہ سے رہنا،
عصر کے وقت فاقہ شکنی کرنا،
قاتلان امام حسین علیہ السلام پر لعنت بھیجنا،
صبح کے وقت جب کچھ دن چڑھ جائے تو صحرا یا کوٹھے پر جاکر اعمال عاشورا بجا لانے کی تاکید ہے.
🔷 سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی مختصر زیارت پڑھے:
"اَلسَّلاَم ُعَلَیکَ یٰا اَبٰا عَبدِ اللّٰہِ. اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَابنَ رَسُولِ اللّٰہِ. اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَ بَرَکٰاتُہ."
🔷اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت عاشورا مثل نماز صبح بجا لائے.
🔷پھر دورکعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام اس طرح کہ قبر امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرے اور نیت کرے کہ دو رکعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھتا ہوں قربۃ الی اللہ، نماز تمام کرنے کے بعد زیارت عاشورہ پڑھے.
🔷امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
اس دعا کو سات مرتبہ اس طرح پڑھے کہ گریہ و زاری کی حالت میں یہ دعا پڑھتا ہوا سات مرتبہ آگے بڑھے اور اسی طرح سات مرتبہ پیچھے ہٹے:
"اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّااِلَیہِ رَاجِعُونَ رِضاً بِقَضَائِہِ وَ تَسلِیماً لِاَمرِہ."
اور
🔷 امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو شخص عاشور کے دن دس مرتبہ اس دعا کو پڑھے تو خدا وند عالم تمام آفات وبلائے ناگہانی سے ایک سال تک محفوظ رکھتا ہے.
"اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ بِحَقِّ الحُسَینِ وَ اَخِیہِ وَ اُمِّہِ وَ اَبِیہِ وَ جَدِّہِ وَ بَنِیہِ وَ فَرِّج عَنِّی مِمَّا اَنٰا فِیہِ بِرَحمَتِکَ یٰا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ."
🔷 شیخ مفید نے روایت کی ہے کہ جب بھی عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہیں تو آنحضرت کی قبر مطہر کے قریب کھڑ ے ہوں اور یہ زیارت پڑھیں:
(زیارت ناحیہ مقدسہ)
🔷 دعائے علقمہ.
🔷 عاشور کے آخروقت کی زیارت.
نوٹ:۔ عاشور کو آخری وقت پانی سے فاقہ شکنی کرے اور ایسی غذا کھائے جو مصیبت زدوں کی غذا ہو. لذیذ کھانے سے پرہیز کریں، آج کے دن دعائے سلامتی نہیں پڑھنا چاہئے کیوں کہ یہ چیزیں دشمنوں کی ایجاد کردہ ہیں.
https://t.me/islamwitheman/3883
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
▪ گریہ وزاری کےساتھ شبِ بیداری کریں. ▪ زیارات امام حسین۴ پڑھیں.
▪ 4 رکعت نماز دو دو رکعت کر کے بجا لائیں ( نیت دو رکعت نماز شبِ عاشور پڑھتا ھوں/پڑھتی ھوں قربۃ اللہ) ہر رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد 50 بار سورۃ اخلاص باقی نماز فجر کیطرح ھے.
▪ چار رکعت نماز دو دو رکعت کر کے بجا لائیں ( نیت اوپر درج ھے لیکن طریقہ مختلف ھے جو نیچے درج ہے.)
↩ پہلی دو رکعت: نماز کی پہلی رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد دس (10) بار آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد دس (10) بار سورۃ اخلاص.
↩ اگلی دو رکعت: نماز کی پہلی رکعت میں الحمد کے بعد دس(10) بار سورۃ الفلق اور دوسری رکعت الحمد کےبعد دس (10) بار سورۃ الناس. باقی نماز فجر کیطرح پڑھیں.
↩ اوپر والی نماز پڑھنے کے بعد ایک ھی جگہ پر بیٹھ کر 100 بار سورۃ اخلاص پڑھیں.
▪ جتنا زیادہ ھوسکے قاتلانِ امام حسین۴ پہ زیادہ سے زیادہ لعنتیں بھیجیں:
اللھم العن قتلۃ الحسین ۴ و اصحا بہٍ.
📚 بحوالہ مفاتیح الجنان 523.
⛳ روز عاشورا ⛳
روز عاشورا محمد و آل محمد علیہم السلام پر مصیبت کا دن ہے. عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی بقا کی خاطر اپنا بھرا گھر اور اپنے انصار کو خدا کی راہ میں قربان کر دیا، ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام نے اس دن کو گریہ و زاری سے مخصوص کر دیا ہے. لہٰذا عاشور کے دن گریہ و زاری، مجلس و ماتم اور عزا کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے.
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
اگر کوئی آج کے دن زیارت امام حسین علیہ السلام بجا لائے، آپ کی مصیبت پر خوب روئے اور اپنے گھر والوں اور اعزہ واقارب کو بھی رونے کا حکم دے، اپنے گھر میں عزا برپا کرے اور آپس میں ایک دوسرے سے رو کر ملے، ایک دوسرے کو ان الفاظ میں تعزیت و تسلیت پیش کرے:
"عَظَّمَ اللّٰہُ اُجُورَنٰا بِمُصٰابِنٰا بِالحُسَینِ عَلَیہِ السَّلَام وَ جَعَلَنَا وَاِیَّاکُم مِنَ الطَّالِبِینَ بِشَارِہِ مَعَ وَلِیِّہِ الاِمَامِ المَھدِی مِن آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیہِمُ السَّلَام."
خدا وند عالم اس کو بہت زیادہ اجر عطا فرمائے گا.
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ اگر کوئی عاشور کے دن ہزار مرتبہ "سورہ قل اللہ احد" پڑھے تو خدا وند عالم اس کی طرف رحمت کی نظر فرمائے گا.
روز عاشور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں پر ہزار مرتبہ اس طرح لعنت بھیجنے کا بہت زیادہ ثواب ہے:
"اَللّٰھُمَّ العَن قَتَلَۃَ الحُسَینِ وَ اَصحٰابِہِ."
🔷 اعمال روز عاشورا 🔷
روز عاشورگریہ وزاری کرنا،
اور مصیبت زدوں کی طرح صورت بنانا،
ننگے سر و ننگے پیر رہنا،
آستینوں کو اوپر چڑھانا،
گریبان کو چاک کرنا،
سارے دن فاقہ سے رہنا،
عصر کے وقت فاقہ شکنی کرنا،
قاتلان امام حسین علیہ السلام پر لعنت بھیجنا،
صبح کے وقت جب کچھ دن چڑھ جائے تو صحرا یا کوٹھے پر جاکر اعمال عاشورا بجا لانے کی تاکید ہے.
🔷 سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی مختصر زیارت پڑھے:
"اَلسَّلاَم ُعَلَیکَ یٰا اَبٰا عَبدِ اللّٰہِ. اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَابنَ رَسُولِ اللّٰہِ. اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَ بَرَکٰاتُہ."
🔷اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت عاشورا مثل نماز صبح بجا لائے.
🔷پھر دورکعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام اس طرح کہ قبر امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرے اور نیت کرے کہ دو رکعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھتا ہوں قربۃ الی اللہ، نماز تمام کرنے کے بعد زیارت عاشورہ پڑھے.
🔷امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
اس دعا کو سات مرتبہ اس طرح پڑھے کہ گریہ و زاری کی حالت میں یہ دعا پڑھتا ہوا سات مرتبہ آگے بڑھے اور اسی طرح سات مرتبہ پیچھے ہٹے:
"اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّااِلَیہِ رَاجِعُونَ رِضاً بِقَضَائِہِ وَ تَسلِیماً لِاَمرِہ."
اور
🔷 امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو شخص عاشور کے دن دس مرتبہ اس دعا کو پڑھے تو خدا وند عالم تمام آفات وبلائے ناگہانی سے ایک سال تک محفوظ رکھتا ہے.
"اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ بِحَقِّ الحُسَینِ وَ اَخِیہِ وَ اُمِّہِ وَ اَبِیہِ وَ جَدِّہِ وَ بَنِیہِ وَ فَرِّج عَنِّی مِمَّا اَنٰا فِیہِ بِرَحمَتِکَ یٰا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ."
🔷 شیخ مفید نے روایت کی ہے کہ جب بھی عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہیں تو آنحضرت کی قبر مطہر کے قریب کھڑ ے ہوں اور یہ زیارت پڑھیں:
(زیارت ناحیہ مقدسہ)
🔷 دعائے علقمہ.
🔷 عاشور کے آخروقت کی زیارت.
نوٹ:۔ عاشور کو آخری وقت پانی سے فاقہ شکنی کرے اور ایسی غذا کھائے جو مصیبت زدوں کی غذا ہو. لذیذ کھانے سے پرہیز کریں، آج کے دن دعائے سلامتی نہیں پڑھنا چاہئے کیوں کہ یہ چیزیں دشمنوں کی ایجاد کردہ ہیں.
https://t.me/islamwitheman/3883
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 اعمال روزِ عاشورا 🔷
روزِ عاشورا محمدؐ و آل محمدؑ پر مصیبت کا دن ہے۔ عاشور کے دن امام حسینؑ نے اسلام کی بقا کی خاطر اپنا بھرا گھر اور اپنے انصار کو خدا کی راہ میں قربان کر دیا، ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام نے اس دن کو گریہ و زاری سے مخصوص کر دیا ہے۔ لہٰذا عاشور کے دن گریہ و زاری، مجلس و ماتم اور عزا کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔
■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اگر کوئی آج کے دن زیارتِ امام حسینؑ بجا لائے، آپ کی مصیبت پر خوب روئے اور اپنے گھر والوں اور اعزہ واقارب کو بھی رونے کا حکم دے۔ اپنے گھر میں عزا برپا کرے اور آپس میں ایک دوسرے سے رو کر ملے، ایک دوسرے کو ان الفاظ میں تعزیت و تسلیت پیش کرے۔
”عَظَّمَ اللّٰہُ اُجُورَنٰا بِمُصٰابِنٰا بِالحُسَینِ عَلَیہِ السَّلَام وَ جَعَلَنَا وَاِیَّاکُم مِنَ الطَّالِبِینَ بِشَارِہِ مَعَ وَلِیِّہِ الاِمَامِ المَھدِی مِن آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیہِمُ السَّلَام“
خداوندعالم اس کو بہت زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔
■ حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے:
اگر کوئی عاشور کے دن ہزار مرتبہ ”سورہ قل اللہ احد“ پڑھے تو خداوندعالم اس کی طرف رحمت کی نظر فرمائے گا، روز عاشور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں پر ہزار مرتبہ اس طرح لعنت بھیجنے کا بہت زیادہ ثواب ہے...
”اَللّٰھُمَّ العَن قَتَلَۃَ الحُسَینِ وَ اَصحٰابِہِ“
■ روز عاشور گریہ و زاری کرنا اور مصیبت زدوں کیطرح صورت بنانا، ننگے سر و ننگے پیر رہنا، آستینوں کو اوپر چڑھانا، گریبان کو چاک کرنا، سارے دن فاقہ سے رہنا عصر کے وقت فاقہ شکنی کرنا، قاتلانِ امام حسینؑ پر لعنت بھیجنا، صبح کے وقت جب کچھ دن چڑھ جائے تو صحرا یا کوٹھے پر جاکر اعمال عاشورا بجا لانے کی تاکید ہے۔
■ زیارتِ عاشورا پڑھیں:
سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی مختصر زیارت پڑھے۔۔۔
” اَلسَّلاَم ُعَلَیکَ یٰا اَبٰا عَبدِ اللّٰہِ ،اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَابنَ رَسُولِ اللّٰہِ ، اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَ بَرَکٰاتُہ “ اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت عاشورا مثل نماز صبح بجا لائے۔ پھر دور کعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام اس طرح کہ قبر امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرے اور نیت کرے کہ دو رکعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھتا ہوں قربۃً الی اللہ، نماز تمام کرنے کے بعد زیارت عاشورا پڑھے۔
■ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اس دعا کو سات مرتبہ اسطرح پڑھے کہ گریہ و زاری کی حالت میں یہ دعا پڑھتا ہوا سات مرتبہ آگے بڑھے اور اسیطرح سات مرتبہ پیچھے ہٹے،
” اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّااِلَیہِ رَاجِعُونَ رِضاً بِقَضَائِہِ وَ تَسلِیماً لِاَمرِہ“
■ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
جو شخص عاشور کے دن دس مرتبہ اس دعا کو پڑھے، تو خداوندعالم تمام آفات و بلائے ناگہانی سے ایک سال تک محفوظ رکھتا ہے۔۔۔
” اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ بِحَقِّ الحُسَینِ وَ اَخِیہِ وَ اُمِّہِ وَ اَبِیہِ وَ جَدِّہِ وَ بَنِیہِ وَ فَرِّج عَنِّی مِمَّا اَنٰا فِیہِ بِرَحمَتِکَ یٰا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ۔“
■ شیخ مفید نے روایت کی ہے کہ جب بھی عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہیں تو آنحضرت کی قبر مطہر کے قریب کھڑ ے ہوں اور "زیارت ناحیہ مقدسہ" پڑهیں...
■ دعائے علقمہ
زیارت عاشورا کے بعد دعائے علقمہ پڑھیں۔
■ زیارتِ آخر روزِ عاشورا پڑھیں۔
■ نوٹ: عاشور کو آخری وقت پانی سے فاقہ شکنی کرے اور ایسی غذا کھائے جو مصیبت زدوں کی غذا ہو ۔لذیذکھانے سے پرہیز کرےں ،آج کے دن دعائے سلامتی نہیں پڑھنا چاہئے کیوں کہ یہ چیزیں دشمنوں کی ایجاد کردہ ہیں...
https://t.me/islamwitheman/3884
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
روزِ عاشورا محمدؐ و آل محمدؑ پر مصیبت کا دن ہے۔ عاشور کے دن امام حسینؑ نے اسلام کی بقا کی خاطر اپنا بھرا گھر اور اپنے انصار کو خدا کی راہ میں قربان کر دیا، ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام نے اس دن کو گریہ و زاری سے مخصوص کر دیا ہے۔ لہٰذا عاشور کے دن گریہ و زاری، مجلس و ماتم اور عزا کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔
■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اگر کوئی آج کے دن زیارتِ امام حسینؑ بجا لائے، آپ کی مصیبت پر خوب روئے اور اپنے گھر والوں اور اعزہ واقارب کو بھی رونے کا حکم دے۔ اپنے گھر میں عزا برپا کرے اور آپس میں ایک دوسرے سے رو کر ملے، ایک دوسرے کو ان الفاظ میں تعزیت و تسلیت پیش کرے۔
”عَظَّمَ اللّٰہُ اُجُورَنٰا بِمُصٰابِنٰا بِالحُسَینِ عَلَیہِ السَّلَام وَ جَعَلَنَا وَاِیَّاکُم مِنَ الطَّالِبِینَ بِشَارِہِ مَعَ وَلِیِّہِ الاِمَامِ المَھدِی مِن آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیہِمُ السَّلَام“
خداوندعالم اس کو بہت زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔
■ حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے:
اگر کوئی عاشور کے دن ہزار مرتبہ ”سورہ قل اللہ احد“ پڑھے تو خداوندعالم اس کی طرف رحمت کی نظر فرمائے گا، روز عاشور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں پر ہزار مرتبہ اس طرح لعنت بھیجنے کا بہت زیادہ ثواب ہے...
”اَللّٰھُمَّ العَن قَتَلَۃَ الحُسَینِ وَ اَصحٰابِہِ“
■ روز عاشور گریہ و زاری کرنا اور مصیبت زدوں کیطرح صورت بنانا، ننگے سر و ننگے پیر رہنا، آستینوں کو اوپر چڑھانا، گریبان کو چاک کرنا، سارے دن فاقہ سے رہنا عصر کے وقت فاقہ شکنی کرنا، قاتلانِ امام حسینؑ پر لعنت بھیجنا، صبح کے وقت جب کچھ دن چڑھ جائے تو صحرا یا کوٹھے پر جاکر اعمال عاشورا بجا لانے کی تاکید ہے۔
■ زیارتِ عاشورا پڑھیں:
سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی مختصر زیارت پڑھے۔۔۔
” اَلسَّلاَم ُعَلَیکَ یٰا اَبٰا عَبدِ اللّٰہِ ،اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَابنَ رَسُولِ اللّٰہِ ، اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَ بَرَکٰاتُہ “ اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت عاشورا مثل نماز صبح بجا لائے۔ پھر دور کعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام اس طرح کہ قبر امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرے اور نیت کرے کہ دو رکعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھتا ہوں قربۃً الی اللہ، نماز تمام کرنے کے بعد زیارت عاشورا پڑھے۔
■ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اس دعا کو سات مرتبہ اسطرح پڑھے کہ گریہ و زاری کی حالت میں یہ دعا پڑھتا ہوا سات مرتبہ آگے بڑھے اور اسیطرح سات مرتبہ پیچھے ہٹے،
” اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّااِلَیہِ رَاجِعُونَ رِضاً بِقَضَائِہِ وَ تَسلِیماً لِاَمرِہ“
■ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
جو شخص عاشور کے دن دس مرتبہ اس دعا کو پڑھے، تو خداوندعالم تمام آفات و بلائے ناگہانی سے ایک سال تک محفوظ رکھتا ہے۔۔۔
” اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ بِحَقِّ الحُسَینِ وَ اَخِیہِ وَ اُمِّہِ وَ اَبِیہِ وَ جَدِّہِ وَ بَنِیہِ وَ فَرِّج عَنِّی مِمَّا اَنٰا فِیہِ بِرَحمَتِکَ یٰا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ۔“
■ شیخ مفید نے روایت کی ہے کہ جب بھی عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہیں تو آنحضرت کی قبر مطہر کے قریب کھڑ ے ہوں اور "زیارت ناحیہ مقدسہ" پڑهیں...
■ دعائے علقمہ
زیارت عاشورا کے بعد دعائے علقمہ پڑھیں۔
■ زیارتِ آخر روزِ عاشورا پڑھیں۔
■ نوٹ: عاشور کو آخری وقت پانی سے فاقہ شکنی کرے اور ایسی غذا کھائے جو مصیبت زدوں کی غذا ہو ۔لذیذکھانے سے پرہیز کرےں ،آج کے دن دعائے سلامتی نہیں پڑھنا چاہئے کیوں کہ یہ چیزیں دشمنوں کی ایجاد کردہ ہیں...
https://t.me/islamwitheman/3884
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔴 روز عاشورہ 🔴
امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی تعداد 145 یا 192 اور کم از کم 72 تهی.
42 پیادہ اور تیس سوار.
میمنہ کے سردار حبیب ابن مظاہر،
میسره کے زہیر ابن القین،
ایک علم حبیب کے ہاتھ میں،
اور
رائیت ( بڑا علم) غازی عباس علیہ السلام کے دست مبارک میں تها.
◀ دوسری طرف
عمر سعد لعین کے لشکر کی تعداد 125000، دوسرا قول ایک لاکھ، ایک اور قول 80 ہزار سوار 40 ہزار پیدل.
امام حسین علیہ السلام کی جنگ آخر کم از کم 30 ہزار دشمنوں سے تهی.
یزید کے لشکر کا کمانڈر انچیف عمر سعد لعین،
ڈپٹی اس کا بیٹا،
میمنہ کا سردار عمر بن حجاج،
میسرہ کا شمر،
تیر اندازوں کا محمد بن اشعث.
↩ جنگ کا انجام
یزید حسینی لشکر کو شہید کر کے لعنةاللہ علیہ قرار پایا.
اور
حسین علیہ السلام
شاہ است حسین بادشاہ است حسین
سلام بر حسین.
↩ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے مخالف لشکر کی تعداد کےبارے میں.
اہل سیر اور تواریخ میں اس پر شدید اختلاف ہے. جسکی مختصر کیفیت مندرجہ ذیل ہے.
(1) چھ ہزار (تذکرہ خواص علامہ سبط ابن جوزی)
(2) بیس ہزار (لہوف سید ابن طاؤس و تاریح اعظم کوفی)
(3) بائیس ہزار (مراتہ الجنان یافعی، مطالب السول، روضۂ الشہدا)
(4) تیس ہزار (عاشر بحار، ناسح التواریح وغیرہ)
(5) پینتیس ہزار (مناقب ابن شہرآشوب)
(6) پچاس ہزار (شرح شافیہ ابی فراس)
(7) اکیاون ہزار (ناسح التواریح)
(8) اسی ہزار (مقتل ابی محنف)
یہ اختلاف بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گئے کہ بعض نے ایک لاکھ، بعض نے دو لاکھ، بعض نے تین لاکھ، بعض نے آٹھ لاکھ اور بعض نے نو لاکھ تک لکھا ہے. آقاے دربندی سب سے آگے بڑھ گئے. انکا قول ہے کہ میدان کربلا میں چھ لاکھ سوار اور دو کروڑ پیادے قتل و جدال کے لئے موجود تھے.
ان تمام اقوال میں (جو اکثر افراط وتفریط پرمشتمل ہیں) جسکو اکثر علماء و محققین نے اختیار کیا اور جسکو ارشاد معصوم علیہ السلام کی تائید بھی حاصل ہے وہ یہ ہے کہ لشکر مخالف کی تعداد تیس ہزار تھی.
عام اہل علم یا اہل تاریخ کے قول کی اہمیت تب تک ہوتی ہے جب تک قول معصوم ع معلوم نہ ہو یا جب تک وہ اقوال قول معصوم ع سے متضاد نہ ہوں مگر جب ارشاد معصوم مل جائے تو پھر ظاہر ہے کہ وہ ہی حجت ہوگا اور اس بلمقابل دوسرے اقوال آرا کی ہرگز کوئی قیمت نہ ہوگی. یہی مذھب شیعہ کا طغراے امتیاز ہے کہ وہ قول معصوم کے بلمقابل کسی بڑے سے بڑے عالم کے بیان کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتا.
لشکر مخالف کے سلسلہ میں جب امام زین العابدین علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد موجود ہے (عاشر بحارص ١٩٣، ناسح جلد ٦ ص ٢٢٥، نفس المہموم ص ١١٥، منتحب التواریح ص ٢٣٤) کہ لشکر مخالف کی مجموعی تعداد تیس ہزار تھی تو پھر اس کے دوسرے اقوال کی حثیت نہیں رہتی.
📚 سعادت الدارین فی مقتل حسین علیہ السلام.
https://t.me/islamwitheman/3881
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی تعداد 145 یا 192 اور کم از کم 72 تهی.
42 پیادہ اور تیس سوار.
میمنہ کے سردار حبیب ابن مظاہر،
میسره کے زہیر ابن القین،
ایک علم حبیب کے ہاتھ میں،
اور
رائیت ( بڑا علم) غازی عباس علیہ السلام کے دست مبارک میں تها.
◀ دوسری طرف
عمر سعد لعین کے لشکر کی تعداد 125000، دوسرا قول ایک لاکھ، ایک اور قول 80 ہزار سوار 40 ہزار پیدل.
امام حسین علیہ السلام کی جنگ آخر کم از کم 30 ہزار دشمنوں سے تهی.
یزید کے لشکر کا کمانڈر انچیف عمر سعد لعین،
ڈپٹی اس کا بیٹا،
میمنہ کا سردار عمر بن حجاج،
میسرہ کا شمر،
تیر اندازوں کا محمد بن اشعث.
↩ جنگ کا انجام
یزید حسینی لشکر کو شہید کر کے لعنةاللہ علیہ قرار پایا.
اور
حسین علیہ السلام
شاہ است حسین بادشاہ است حسین
سلام بر حسین.
↩ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے مخالف لشکر کی تعداد کےبارے میں.
اہل سیر اور تواریخ میں اس پر شدید اختلاف ہے. جسکی مختصر کیفیت مندرجہ ذیل ہے.
(1) چھ ہزار (تذکرہ خواص علامہ سبط ابن جوزی)
(2) بیس ہزار (لہوف سید ابن طاؤس و تاریح اعظم کوفی)
(3) بائیس ہزار (مراتہ الجنان یافعی، مطالب السول، روضۂ الشہدا)
(4) تیس ہزار (عاشر بحار، ناسح التواریح وغیرہ)
(5) پینتیس ہزار (مناقب ابن شہرآشوب)
(6) پچاس ہزار (شرح شافیہ ابی فراس)
(7) اکیاون ہزار (ناسح التواریح)
(8) اسی ہزار (مقتل ابی محنف)
یہ اختلاف بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گئے کہ بعض نے ایک لاکھ، بعض نے دو لاکھ، بعض نے تین لاکھ، بعض نے آٹھ لاکھ اور بعض نے نو لاکھ تک لکھا ہے. آقاے دربندی سب سے آگے بڑھ گئے. انکا قول ہے کہ میدان کربلا میں چھ لاکھ سوار اور دو کروڑ پیادے قتل و جدال کے لئے موجود تھے.
ان تمام اقوال میں (جو اکثر افراط وتفریط پرمشتمل ہیں) جسکو اکثر علماء و محققین نے اختیار کیا اور جسکو ارشاد معصوم علیہ السلام کی تائید بھی حاصل ہے وہ یہ ہے کہ لشکر مخالف کی تعداد تیس ہزار تھی.
عام اہل علم یا اہل تاریخ کے قول کی اہمیت تب تک ہوتی ہے جب تک قول معصوم ع معلوم نہ ہو یا جب تک وہ اقوال قول معصوم ع سے متضاد نہ ہوں مگر جب ارشاد معصوم مل جائے تو پھر ظاہر ہے کہ وہ ہی حجت ہوگا اور اس بلمقابل دوسرے اقوال آرا کی ہرگز کوئی قیمت نہ ہوگی. یہی مذھب شیعہ کا طغراے امتیاز ہے کہ وہ قول معصوم کے بلمقابل کسی بڑے سے بڑے عالم کے بیان کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتا.
لشکر مخالف کے سلسلہ میں جب امام زین العابدین علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد موجود ہے (عاشر بحارص ١٩٣، ناسح جلد ٦ ص ٢٢٥، نفس المہموم ص ١١٥، منتحب التواریح ص ٢٣٤) کہ لشکر مخالف کی مجموعی تعداد تیس ہزار تھی تو پھر اس کے دوسرے اقوال کی حثیت نہیں رہتی.
📚 سعادت الدارین فی مقتل حسین علیہ السلام.
https://t.me/islamwitheman/3881
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⚫ غمِ حسینؑ اور ہم ⚫
ہماری ایک عزیز استانی تھیں جو تھیں تو هندوستانی ہی لیکن ایران میں متولد ہوئی اور وہیں پلی بڑھیں بعد میں انکی شادی لکھنؤ میں ہو گئی لیکن وہ یہاں رہ نہی سکیں اور اپنے شوہر کے ساتھ ایران چلی گئیں ۔۔۔ انہیں یہاں کی کچھ باتیں بہت اذیت دیتی تھی اور جب وہ ان باتوں کا تذکرہ کلاس میں کرتی تھیں تو وہ خود رو رہی ہوتی تھیں اور ہماری پوری کلاس روتی تھی ایک عجیب سی خاموشی اور سسکیوں کی آوازیں ہوتی تھیں کلاس میں۔۔۔
وہ کہتی تھیں یہاں میں نے دیکھا عاشورہ کے دن جو کہ اس قدر قیامت کا دن ہے مجلس و نوحہ پرسہ لینے اور دینے کا دن ہے اس دن آدھا دن یہاں کی عورتیں کھانا بنانے میں لگاتی ہیں ۔۔ عجب رسمیں ہیں چاول پر لال رنگ بھی ہو ۔۔ اور دال چاول کے ساتھ لذیز چٹنیاں بھی ہوں و سالاد بھی ہو ۔۔۔ جس وقت فاقہ شکنی ہوتی ہے وہ وقت ہے کہ جسمیں پسر زھراءؑ کو رُلا رُلا کر شھید کیا گیا اور یہاں ہم کھانے میں مزا ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ ذرا لیموں دینا ..ارے نمک کم ہے ۔۔ لاؤ مجھے ذرا چٹنی تو اٹھا دو ۔۔۔
اور یہ سنتے ہی ہم سب کی سسکیاں بن جاتیں کہ ہمارے آقا کے چھوٹے چھوٹے بچے جن خیموں میں تھے انہیں جلایا جا رہا تھا اور ہم اس وقت گریہ و نوحہ کی جگہ کھانے میں مزہ تلاش کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔
یہ بات بتانے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ ہم نذر نہ دیں یا اس دن کھانا ہی نہ کھائیں بلکہ مطلب صرف اتنا ہے کہ کم از کم اس دن کھانے میں مزہ نہ ڈھونڈیں کھانے میں مزہ ڈھونڈنے کی جگہ اگر آنکھیں مقتل میں بکھری ہوئی لاشوں کو اور روتی ہوئی معصوم سکینہؑ کو مقتل میں ڈھونڈیگی تو وہ روح کی غذا ہوگی اور ہم روتے ہوئے کہیں گے۔۔۔
میرے آقا! میری بھوک و پیاس آپ پر قربان ۔۔ ہمیں بھی حُر کی طرح معاف کر کے اپنا اسطرح بنا دیجئے کہ ہم آپکے آخری بیٹے (عجل) پر اسطرح قربان ہوں کہ ہمارے سروں پر بھی رومالِ زھراءؑ تاج بن کر قیامت تک چمکے ۔۔۔ آمین
■ وہ کہتی تھیں جب تک یہاں پورے مصائب نہ ہو جائیں، امام حسین علیہ السلام کے گلوئے مبارک پر خنجر نہ چل جائے، یہاں لوگوں کو رونا نہیں آتا کیونکہ ہمیں اتنی آسانی سے سنا دی گئی ہیں یہ باتیں کہ ہمیں عادت ہو گئی ہے، آنسو نہیں آتے جب تک خنجر نہ چلے، شھادت نہ پڑھی جائے ۔۔ صد افسوس ۔۔ رونے کے لئے تو فقط نامِ حسینؑ ہی کافی ہے ۔۔۔ جب معرفت ہوگی تو فضائلِ حسینؑ ہونگے تب بھی آنسو نکلیں گے ۔۔
خدا ہمیں آقا حسین علیہ السلام کی ایسی معرفت عطا فرمائے جیسا ہونے کا حق ہے.
(منقول)
https://t.me/islamwitheman/3880
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ہماری ایک عزیز استانی تھیں جو تھیں تو هندوستانی ہی لیکن ایران میں متولد ہوئی اور وہیں پلی بڑھیں بعد میں انکی شادی لکھنؤ میں ہو گئی لیکن وہ یہاں رہ نہی سکیں اور اپنے شوہر کے ساتھ ایران چلی گئیں ۔۔۔ انہیں یہاں کی کچھ باتیں بہت اذیت دیتی تھی اور جب وہ ان باتوں کا تذکرہ کلاس میں کرتی تھیں تو وہ خود رو رہی ہوتی تھیں اور ہماری پوری کلاس روتی تھی ایک عجیب سی خاموشی اور سسکیوں کی آوازیں ہوتی تھیں کلاس میں۔۔۔
وہ کہتی تھیں یہاں میں نے دیکھا عاشورہ کے دن جو کہ اس قدر قیامت کا دن ہے مجلس و نوحہ پرسہ لینے اور دینے کا دن ہے اس دن آدھا دن یہاں کی عورتیں کھانا بنانے میں لگاتی ہیں ۔۔ عجب رسمیں ہیں چاول پر لال رنگ بھی ہو ۔۔ اور دال چاول کے ساتھ لذیز چٹنیاں بھی ہوں و سالاد بھی ہو ۔۔۔ جس وقت فاقہ شکنی ہوتی ہے وہ وقت ہے کہ جسمیں پسر زھراءؑ کو رُلا رُلا کر شھید کیا گیا اور یہاں ہم کھانے میں مزا ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ ذرا لیموں دینا ..ارے نمک کم ہے ۔۔ لاؤ مجھے ذرا چٹنی تو اٹھا دو ۔۔۔
اور یہ سنتے ہی ہم سب کی سسکیاں بن جاتیں کہ ہمارے آقا کے چھوٹے چھوٹے بچے جن خیموں میں تھے انہیں جلایا جا رہا تھا اور ہم اس وقت گریہ و نوحہ کی جگہ کھانے میں مزہ تلاش کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔
یہ بات بتانے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ ہم نذر نہ دیں یا اس دن کھانا ہی نہ کھائیں بلکہ مطلب صرف اتنا ہے کہ کم از کم اس دن کھانے میں مزہ نہ ڈھونڈیں کھانے میں مزہ ڈھونڈنے کی جگہ اگر آنکھیں مقتل میں بکھری ہوئی لاشوں کو اور روتی ہوئی معصوم سکینہؑ کو مقتل میں ڈھونڈیگی تو وہ روح کی غذا ہوگی اور ہم روتے ہوئے کہیں گے۔۔۔
میرے آقا! میری بھوک و پیاس آپ پر قربان ۔۔ ہمیں بھی حُر کی طرح معاف کر کے اپنا اسطرح بنا دیجئے کہ ہم آپکے آخری بیٹے (عجل) پر اسطرح قربان ہوں کہ ہمارے سروں پر بھی رومالِ زھراءؑ تاج بن کر قیامت تک چمکے ۔۔۔ آمین
■ وہ کہتی تھیں جب تک یہاں پورے مصائب نہ ہو جائیں، امام حسین علیہ السلام کے گلوئے مبارک پر خنجر نہ چل جائے، یہاں لوگوں کو رونا نہیں آتا کیونکہ ہمیں اتنی آسانی سے سنا دی گئی ہیں یہ باتیں کہ ہمیں عادت ہو گئی ہے، آنسو نہیں آتے جب تک خنجر نہ چلے، شھادت نہ پڑھی جائے ۔۔ صد افسوس ۔۔ رونے کے لئے تو فقط نامِ حسینؑ ہی کافی ہے ۔۔۔ جب معرفت ہوگی تو فضائلِ حسینؑ ہونگے تب بھی آنسو نکلیں گے ۔۔
خدا ہمیں آقا حسین علیہ السلام کی ایسی معرفت عطا فرمائے جیسا ہونے کا حق ہے.
(منقول)
https://t.me/islamwitheman/3880
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 زیارت ناحیہ مقدسہ 🔷
"میرا سلام ہو اس شہید پر جس کی داہنی طرف کی پسلیاں ٹوٹ کر بائیں طرف آ گئی تھیں، اور بائیں طرف کی پسلیاں ٹوٹ کر داہنی طرف آ گئی تھیں،
ﺳﻼﻡ ﺍُﻥ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﻧﻔﻮﺱ ﭘﺮ ﺟﻨﮭﯿﮟ ﭨﮑﮍﮮ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ،
مسافروں میں سب سے زیادہ بے کس و مظلوم مسافر پہ سلام،
ان گریبانوں پہ سلام جو خون سے بھرے ہوے تھے،
سلام اس مظلوم امام پر جس کے سر کو پشت گردن سے کاٹا گیا،
اس ریش اقدس پر سلام جو خون سے سرخ تھی،
اس رخسار پر سلام جو خاک آلودہ تھا،
ﺳﻼﻡ ﺍﺭﺽِ ﮐﺮﺑﻼ ﭘﮧ ﺑﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﻥ ﭘﺮ،
ﺳﻼﻡ ﺟﺴﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮐﺮ ﺩیئے ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﭘﺮ،
ﺳﻼﻡ ﻧﯿﺰﻭﮞ ﭘﮧ ﺍُﭨﮭﺎﮰ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ،
"میرا سلام ہو اس مظلوم حسینؑ پر کہ جس پر آسمان کے فرشتے بھی رو دیئے۔"
میرا سلام ہو اس قیدی پر جس کا گوشت زنجیریں کھا گیں.......
میرا سلام ھو اس معصومہ پہ جس کے رخساروں کی رنگت کربلا سے شام تک مسلسل تبدیل ھوتی رہی،
"سلام" اُن ھونٹوں پر جو پیاس سے سوکھے ھوۓ تھے،
میرا سلام ہو اس بیبی (س) پر جس نے کربلا سے شام تک اپنے زخمی ہاتھوں سے اپنے بھائی کے یتیموں کو کھانا کھلایا،
سلام ہو اُس پر جس کی قبر کی مٹی خاکِ شفا ہے،
سلام ہو اس پر جس کے حرم کی فضا میں دعائیں قبول ہوتی ہیں،
حضرت صاحب العصر والزمان (عج) اپنے جدّ مظلوم امام حسینؑ کو مخاطب کرکے فرمــاتے ہیں:
"لا ندبنــک صباحا و مســاءا و لابکیــن علیــک بدل الدمــوع دمــا"
"ہر صبــح و شــام آپؑ پہ روتا ہوں اور آنســو کے بجائے آپؑ پہ خــون کے آنســو بہــاتا ہوں"
https://t.me/islamwitheman/3885
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
"میرا سلام ہو اس شہید پر جس کی داہنی طرف کی پسلیاں ٹوٹ کر بائیں طرف آ گئی تھیں، اور بائیں طرف کی پسلیاں ٹوٹ کر داہنی طرف آ گئی تھیں،
ﺳﻼﻡ ﺍُﻥ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﻧﻔﻮﺱ ﭘﺮ ﺟﻨﮭﯿﮟ ﭨﮑﮍﮮ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ،
مسافروں میں سب سے زیادہ بے کس و مظلوم مسافر پہ سلام،
ان گریبانوں پہ سلام جو خون سے بھرے ہوے تھے،
سلام اس مظلوم امام پر جس کے سر کو پشت گردن سے کاٹا گیا،
اس ریش اقدس پر سلام جو خون سے سرخ تھی،
اس رخسار پر سلام جو خاک آلودہ تھا،
ﺳﻼﻡ ﺍﺭﺽِ ﮐﺮﺑﻼ ﭘﮧ ﺑﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﻥ ﭘﺮ،
ﺳﻼﻡ ﺟﺴﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮐﺮ ﺩیئے ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﭘﺮ،
ﺳﻼﻡ ﻧﯿﺰﻭﮞ ﭘﮧ ﺍُﭨﮭﺎﮰ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ،
"میرا سلام ہو اس مظلوم حسینؑ پر کہ جس پر آسمان کے فرشتے بھی رو دیئے۔"
میرا سلام ہو اس قیدی پر جس کا گوشت زنجیریں کھا گیں.......
میرا سلام ھو اس معصومہ پہ جس کے رخساروں کی رنگت کربلا سے شام تک مسلسل تبدیل ھوتی رہی،
"سلام" اُن ھونٹوں پر جو پیاس سے سوکھے ھوۓ تھے،
میرا سلام ہو اس بیبی (س) پر جس نے کربلا سے شام تک اپنے زخمی ہاتھوں سے اپنے بھائی کے یتیموں کو کھانا کھلایا،
سلام ہو اُس پر جس کی قبر کی مٹی خاکِ شفا ہے،
سلام ہو اس پر جس کے حرم کی فضا میں دعائیں قبول ہوتی ہیں،
حضرت صاحب العصر والزمان (عج) اپنے جدّ مظلوم امام حسینؑ کو مخاطب کرکے فرمــاتے ہیں:
"لا ندبنــک صباحا و مســاءا و لابکیــن علیــک بدل الدمــوع دمــا"
"ہر صبــح و شــام آپؑ پہ روتا ہوں اور آنســو کے بجائے آپؑ پہ خــون کے آنســو بہــاتا ہوں"
https://t.me/islamwitheman/3885
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 زیارت عاشورا 🔷
سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی مختصر زیارت پڑھے۔۔۔
” اَلسَّلاَم ُعَلَیکَ یٰا اَبٰا عَبدِ اللّٰہِ ،اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَابنَ رَسُولِ اللّٰہِ ، اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَ بَرَکٰاتُہ “ اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت عاشورا مثل نماز صبح بجا لائے۔ پھر دور کعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام اس طرح کہ قبر امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرے اور نیت کرے کہ دو رکعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھتا ہوں قربۃ الی اللہ، نماز تمام کرنے کے بعد زیارت عاشورا پڑھے۔
زیارت عاشورا
اَلسَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ (السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا خِيَرَةَ اللَّهِ وَ ابْنَ خِيَرَتِهِ) السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ ابْنَ سَيِّدِ الْوَصِيِّينَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ فَاطِمَةَ سَيِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ثَارَ اللَّهِ وَ ابْنَ ثَارِهِ وَ الْوِتْرَ الْمَوْتُورَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَ عَلَى الْأَرْوَاحِ الَّتِي حَلَّتْ بِفِنَائِكَ عَلَيْكُمْ مِنِّي جَمِيعاً سَلاَمُ اللَّهِ أَبَداً مَا بَقِيتُ وَ بَقِيَ اللَّيْلُ وَ النَّهَارُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ • لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِيَّةُ وَ جَلَّتْ وَ عَظُمَتِ الْمُصِيبَةُ بِكَ (بِكُمْ) عَلَيْنَا وَ عَلَى جَمِيعِ أَهْلِ الْإِسْلاَمِ وَ جَلَّتْ وَ عَظُمَتْ مُصِيبَتُكَ فِي السَّمَاوَاتِ عَلَى جَمِيعِ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ فَلَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً أَسَّسَتْ أَسَاسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً دَفَعَتْكُمْ عَنْ مَقَامِكُمْ وَ أَزَالَتْكُمْ عَنْ مَرَاتِبِكُمُ الَّتِي رَتَّبَكُمُ اللَّهُ فِيهَا وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً قَتَلَتْكُمْ • وَ لَعَنَ اللَّهُ الْمُمَهِّدِينَ لَهُمْ بِالتَّمْكِينِ مِنْ قِتَالِكُمْ بَرِئْتُ إِلَى اللَّهِ وَ إِلَيْكُمْ مِنْهُمْ وَ (مِنْ) أَشْيَاعِهِمْ وَ أَتْبَاعِهِمْ وَ أَوْلِيَائِهِمْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَ لَعَنَ اللَّهُ آلَ زِيَادٍ وَ آلَ مَرْوَانَ وَ لَعَنَ اللَّهُ بَنِي أُمَيَّةَ قَاطِبَةً وَ لَعَنَ اللَّهُ ابْنَ مَرْجَانَةَ وَ لَعَنَ اللَّهُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَ لَعَنَ اللَّهُ شِمْراً (شَمِراً) • وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً أَسْرَجَتْ وَ أَلْجَمَتْ وَ تَنَقَّبَتْ لِقِتَالِكَ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي لَقَدْ عَظُمَ مُصَابِي بِكَ فَأَسْأَلُ اللَّهَ الَّذِي أَكْرَمَ مَقَامَكَ وَ أَكْرَمَنِي (بِكَ) أَنْ يَرْزُقَنِي طَلَبَ ثَارِكَ مَعَ إِمَامٍ مَنْصُورٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي عِنْدَكَ وَجِيهاً بِالْحُسَيْنِ عليه السلام فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي أَتَقَرَّبُ إِلَى اللَّهِ وَ إِلَى رَسُولِهِ وَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ إِلَى فَاطِمَةَ وَ إِلَى الْحَسَنِ وَ إِلَيْكَ بِمُوَالاَتِكَ وَ بِالْبَرَاءَةِ • مِمَّنْ أَسَّسَ أَسَاسَ ذَلِكَ وَ بَنَى عَلَيْهِ بُنْيَانَهُ وَ جَرَى فِي ظُلْمِهِ وَ جَوْرِهِ عَلَيْكُمْ وَ عَلَى أَشْيَاعِكُمْ بَرِئْتُ إِلَى اللَّهِ وَ إِلَيْكُمْ مِنْهُمْ وَ أَتَقَرَّبُ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ إِلَيْكُمْ بِمُوَالاَتِكُمْ وَ مُوَالاَةِ وَلِيِّكُمْ وَ بِالْبَرَاءَةِ مِنْ أَعْدَائِكُمْ وَ النَّاصِبِينَ لَكُمُ الْحَرْبَ وَ بِالْبَرَاءَةِ مِنْ أَشْيَاعِهِمْ وَ أَتْبَاعِهِمْ إِنِّي سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ • وَ وَلِيٌّ لِمَنْ وَالاَكُمْ وَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاكُمْ فَأَسْأَلُ اللَّهَ الَّذِي أَكْرَمَنِي بِمَعْرِفَتِكُمْ وَ مَعْرِفَةِ أَوْلِيَائِكُمْ وَ رَزَقَنِي الْبَرَاءَةَ مِنْ أَعْدَائِكُمْ أَنْ يَجْعَلَنِي مَعَكُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ أَنْ يُثَبِّتَ لِي عِنْدَكُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ أَسْأَلُهُ أَنْ يُبَلِّغَنِي الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ وَ أَنْ يَرْزُقَنِي طَلَبَ ثَارِي (ثَارَكُمْ) مَعَ إِمَامٍ هُدًى (مَهْدِيٍّ) ظَاهِرٍ نَاطِقٍ بِالْحَقِّ مِنْكُمْ وَ أَسْأَلُ اللَّهَ بِحَقِّكُمْ • بِالشَّأْنِ الَّذِي لَكُمْ عِنْدَهُ أَنْ يُعْطِيَنِي بِمُصَابِي بِكُمْ أَفْضَلَ مَا يُعْطِي مُصَاباً بِمُصِيبَتِهِ مُصِيبَةً مَا أَعْظَمَهَا وَ أَعْظَمَ رَزِيَّتَهَا فِي الْإِسْلاَمِ وَ فِي جَمِيعِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ (الْأَرَضِينَ) اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي فِي مَقَامِي هَذَا مِمَّنْ تَنَالُهُ مِنْكَ صَلَوَاتٌ وَ رَحْمَةٌ وَ مَغْفِرَةٌ اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَحْيَايَ مَحْيَا مُحَمَّدٍ وَ آلِ
سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی مختصر زیارت پڑھے۔۔۔
” اَلسَّلاَم ُعَلَیکَ یٰا اَبٰا عَبدِ اللّٰہِ ،اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَابنَ رَسُولِ اللّٰہِ ، اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَ بَرَکٰاتُہ “ اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت عاشورا مثل نماز صبح بجا لائے۔ پھر دور کعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام اس طرح کہ قبر امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرے اور نیت کرے کہ دو رکعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھتا ہوں قربۃ الی اللہ، نماز تمام کرنے کے بعد زیارت عاشورا پڑھے۔
زیارت عاشورا
اَلسَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ (السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا خِيَرَةَ اللَّهِ وَ ابْنَ خِيَرَتِهِ) السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ ابْنَ سَيِّدِ الْوَصِيِّينَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ فَاطِمَةَ سَيِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ثَارَ اللَّهِ وَ ابْنَ ثَارِهِ وَ الْوِتْرَ الْمَوْتُورَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَ عَلَى الْأَرْوَاحِ الَّتِي حَلَّتْ بِفِنَائِكَ عَلَيْكُمْ مِنِّي جَمِيعاً سَلاَمُ اللَّهِ أَبَداً مَا بَقِيتُ وَ بَقِيَ اللَّيْلُ وَ النَّهَارُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ • لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِيَّةُ وَ جَلَّتْ وَ عَظُمَتِ الْمُصِيبَةُ بِكَ (بِكُمْ) عَلَيْنَا وَ عَلَى جَمِيعِ أَهْلِ الْإِسْلاَمِ وَ جَلَّتْ وَ عَظُمَتْ مُصِيبَتُكَ فِي السَّمَاوَاتِ عَلَى جَمِيعِ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ فَلَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً أَسَّسَتْ أَسَاسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً دَفَعَتْكُمْ عَنْ مَقَامِكُمْ وَ أَزَالَتْكُمْ عَنْ مَرَاتِبِكُمُ الَّتِي رَتَّبَكُمُ اللَّهُ فِيهَا وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً قَتَلَتْكُمْ • وَ لَعَنَ اللَّهُ الْمُمَهِّدِينَ لَهُمْ بِالتَّمْكِينِ مِنْ قِتَالِكُمْ بَرِئْتُ إِلَى اللَّهِ وَ إِلَيْكُمْ مِنْهُمْ وَ (مِنْ) أَشْيَاعِهِمْ وَ أَتْبَاعِهِمْ وَ أَوْلِيَائِهِمْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَ لَعَنَ اللَّهُ آلَ زِيَادٍ وَ آلَ مَرْوَانَ وَ لَعَنَ اللَّهُ بَنِي أُمَيَّةَ قَاطِبَةً وَ لَعَنَ اللَّهُ ابْنَ مَرْجَانَةَ وَ لَعَنَ اللَّهُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَ لَعَنَ اللَّهُ شِمْراً (شَمِراً) • وَ لَعَنَ اللَّهُ أُمَّةً أَسْرَجَتْ وَ أَلْجَمَتْ وَ تَنَقَّبَتْ لِقِتَالِكَ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي لَقَدْ عَظُمَ مُصَابِي بِكَ فَأَسْأَلُ اللَّهَ الَّذِي أَكْرَمَ مَقَامَكَ وَ أَكْرَمَنِي (بِكَ) أَنْ يَرْزُقَنِي طَلَبَ ثَارِكَ مَعَ إِمَامٍ مَنْصُورٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي عِنْدَكَ وَجِيهاً بِالْحُسَيْنِ عليه السلام فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي أَتَقَرَّبُ إِلَى اللَّهِ وَ إِلَى رَسُولِهِ وَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ إِلَى فَاطِمَةَ وَ إِلَى الْحَسَنِ وَ إِلَيْكَ بِمُوَالاَتِكَ وَ بِالْبَرَاءَةِ • مِمَّنْ أَسَّسَ أَسَاسَ ذَلِكَ وَ بَنَى عَلَيْهِ بُنْيَانَهُ وَ جَرَى فِي ظُلْمِهِ وَ جَوْرِهِ عَلَيْكُمْ وَ عَلَى أَشْيَاعِكُمْ بَرِئْتُ إِلَى اللَّهِ وَ إِلَيْكُمْ مِنْهُمْ وَ أَتَقَرَّبُ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ إِلَيْكُمْ بِمُوَالاَتِكُمْ وَ مُوَالاَةِ وَلِيِّكُمْ وَ بِالْبَرَاءَةِ مِنْ أَعْدَائِكُمْ وَ النَّاصِبِينَ لَكُمُ الْحَرْبَ وَ بِالْبَرَاءَةِ مِنْ أَشْيَاعِهِمْ وَ أَتْبَاعِهِمْ إِنِّي سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ • وَ وَلِيٌّ لِمَنْ وَالاَكُمْ وَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاكُمْ فَأَسْأَلُ اللَّهَ الَّذِي أَكْرَمَنِي بِمَعْرِفَتِكُمْ وَ مَعْرِفَةِ أَوْلِيَائِكُمْ وَ رَزَقَنِي الْبَرَاءَةَ مِنْ أَعْدَائِكُمْ أَنْ يَجْعَلَنِي مَعَكُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ أَنْ يُثَبِّتَ لِي عِنْدَكُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ أَسْأَلُهُ أَنْ يُبَلِّغَنِي الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ وَ أَنْ يَرْزُقَنِي طَلَبَ ثَارِي (ثَارَكُمْ) مَعَ إِمَامٍ هُدًى (مَهْدِيٍّ) ظَاهِرٍ نَاطِقٍ بِالْحَقِّ مِنْكُمْ وَ أَسْأَلُ اللَّهَ بِحَقِّكُمْ • بِالشَّأْنِ الَّذِي لَكُمْ عِنْدَهُ أَنْ يُعْطِيَنِي بِمُصَابِي بِكُمْ أَفْضَلَ مَا يُعْطِي مُصَاباً بِمُصِيبَتِهِ مُصِيبَةً مَا أَعْظَمَهَا وَ أَعْظَمَ رَزِيَّتَهَا فِي الْإِسْلاَمِ وَ فِي جَمِيعِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ (الْأَرَضِينَ) اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي فِي مَقَامِي هَذَا مِمَّنْ تَنَالُهُ مِنْكَ صَلَوَاتٌ وَ رَحْمَةٌ وَ مَغْفِرَةٌ اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَحْيَايَ مَحْيَا مُحَمَّدٍ وَ آلِ
مُحَمَّدٍ وَ مَمَاتِي مَمَاتَ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ • اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ تَبَرَّكَتْ بِهِ (فِيهِ) بَنُو أُمَيَّةَ وَ ابْنُ آكِلَةِ الْأَكْبَادِ اللَّعِينُ ابْنُ اللَّعِينِ عَلَى (لِسَانِكَ) وَ لِسَانِ نَبِيِّكَ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ) فِي كُلِّ مَوْطِنٍ وَ مَوْقِفٍ وَقَفَ فِيهِ نَبِيُّكَ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ) اللَّهُمَّ الْعَنْ أَبَا سُفْيَانَ وَ مُعَاوِيَةَ وَ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ عَلَيْهِمْ مِنْكَ اللَّعْنَةُ أَبَدَ الْآبِدِينَ وَ هَذَا يَوْمٌ فَرِحَتْ بِهِ آلُ زِيَادٍ وَ آلُ مَرْوَانَ بِقَتْلِهِمُ الْحُسَيْنَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ (عَلَيْهِ السَّلاَمُ) • اللَّهُمَّ فَضَاعِفْ عَلَيْهِمُ اللَّعْنَ مِنْكَ وَ الْعَذَابَ (الْأَلِيمَ) اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَقَرَّبُ إِلَيْكَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَ فِي مَوْقِفِي هَذَا وَ أَيَّامِ حَيَاتِي بِالْبَرَاءَةِ مِنْهُمْ وَ اللَّعْنَةِ عَلَيْهِمْ وَ بِالْمُوَالاَةِ لِنَبِيِّكَ وَ آلِ نَبِيِّكَ (عَلَيْهِ وَ) عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ • سپس صد مرتبه میگويى:اللَّهُمَّ الْعَنْ أَوَّلَ ظَالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ آخِرَ تَابِعٍ لَهُ عَلَى ذَلِكَ اللَّهُمَّ الْعَنِ الْعِصَابَةَ الَّتِي (الَّذِينَ) جَاهَدَتِ الْحُسَيْنَ وَ شَايَعَتْ وَ بَايَعَتْ وَ تَابَعَتْ (تَايَعَتْ) عَلَى قَتْلِهِ اللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ جَمِيعاً
سو مرتبه پڑهے:
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَ عَلَى الْأَرْوَاحِ الَّتِي حَلَّتْ بِفِنَائِكَ عَلَيْكَ مِنِّي سَلاَمُ اللَّهِ أَبَداً مَا بَقِيتُ وَ بَقِيَ اللَّيْلُ وَ النَّهَارُ وَ لاَ جَعَلَهُ اللَّهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّي لِزِيَارَتِكُمْ (لِزِيَارَتِكَ) السَّلاَمُ عَلَى الْحُسَيْنِ وَ عَلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (وَ عَلَى أَوْلاَدِ الْحُسَيْنِ ) وَ عَلَى أَصْحَابِ الْحُسَيْنِ •
سو مرتبه پڑهے:
اللَّهُمَّ خُصَّ أَنْتَ أَوَّلَ ظَالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنِّي وَ ابْدَأْ بِهِ أَوَّلاً ثُمَّ (الْعَنِ) الثَّانِيَ وَ الثَّالِثَ وَ الرَّابِعَ اللَّهُمَّ الْعَنْ يَزِيدَ خَامِساً وَ الْعَنْ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ وَ ابْنَ مَرْجَانَةَ وَ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَ شِمْراً وَ آلَ أَبِي سُفْيَانَ وَ آلَ زِيَادٍ وَ آلَ مَرْوَانَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ •
اب سجدے میں جائیں اور پڑهیں:
اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشَّاكِرِينَ لَكَ عَلَى مُصَابِهِمْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى عَظِيمِ رَزِيَّتِي اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَفَاعَةَ الْحُسَيْنِ يَوْمَ الْوُرُودِ وَ ثَبِّتْ لِي قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَكَ مَعَ الْحُسَيْنِ وَ أَصْحَابِ الْحُسَيْنِ الَّذِينَ بَذَلُوا مُهَجَهُمْ دُونَ الْحُسَيْنِ عليه السلام.
اس کے بعد دعائے علقمہ پڑھے۔
■ شیخ مفید نے روایت کی ہے: جب بھی عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہیں تو آنحضرت کی قبر مطہر کے قریب کھڑ ے ہوں اور "زیارت ناحیہ مقدسہ" پڑهیں.
https://t.me/islamwitheman/3886
https://t.me/islamwitheman/3914
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
سو مرتبه پڑهے:
السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَ عَلَى الْأَرْوَاحِ الَّتِي حَلَّتْ بِفِنَائِكَ عَلَيْكَ مِنِّي سَلاَمُ اللَّهِ أَبَداً مَا بَقِيتُ وَ بَقِيَ اللَّيْلُ وَ النَّهَارُ وَ لاَ جَعَلَهُ اللَّهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّي لِزِيَارَتِكُمْ (لِزِيَارَتِكَ) السَّلاَمُ عَلَى الْحُسَيْنِ وَ عَلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ (وَ عَلَى أَوْلاَدِ الْحُسَيْنِ ) وَ عَلَى أَصْحَابِ الْحُسَيْنِ •
سو مرتبه پڑهے:
اللَّهُمَّ خُصَّ أَنْتَ أَوَّلَ ظَالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنِّي وَ ابْدَأْ بِهِ أَوَّلاً ثُمَّ (الْعَنِ) الثَّانِيَ وَ الثَّالِثَ وَ الرَّابِعَ اللَّهُمَّ الْعَنْ يَزِيدَ خَامِساً وَ الْعَنْ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ وَ ابْنَ مَرْجَانَةَ وَ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَ شِمْراً وَ آلَ أَبِي سُفْيَانَ وَ آلَ زِيَادٍ وَ آلَ مَرْوَانَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ •
اب سجدے میں جائیں اور پڑهیں:
اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشَّاكِرِينَ لَكَ عَلَى مُصَابِهِمْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى عَظِيمِ رَزِيَّتِي اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَفَاعَةَ الْحُسَيْنِ يَوْمَ الْوُرُودِ وَ ثَبِّتْ لِي قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَكَ مَعَ الْحُسَيْنِ وَ أَصْحَابِ الْحُسَيْنِ الَّذِينَ بَذَلُوا مُهَجَهُمْ دُونَ الْحُسَيْنِ عليه السلام.
اس کے بعد دعائے علقمہ پڑھے۔
■ شیخ مفید نے روایت کی ہے: جب بھی عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہیں تو آنحضرت کی قبر مطہر کے قریب کھڑ ے ہوں اور "زیارت ناحیہ مقدسہ" پڑهیں.
https://t.me/islamwitheman/3886
https://t.me/islamwitheman/3914
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌸 زیارت عاشورا میں 🌸
کیا آپ جانتے ہیں کہ زیارت عاشورا میں جب ہم اس جملہ میں
⬅" اللہم العن الاول والثانی والثالث
والرابع ویزید خامسا " پڑھتے ہیں تو مراد کون ؟
⬅ الاول سے مراد
قابیل ، جو حضرت آدم علیہ السلام کا بیٹا تھا جس نے قتل اور فساد کی بنیاد رکھی تھی
⬅ والثانی سے مراد
قیدار ابن سالف ، جس نے حضرت صالح علیہ السلام کے اونٹ کو قتل کیا تھا
⬅ والثالث سے مراد
رومان شھر کا بیلاطس بادشاہ ، جس نے حضرت یحیی علیہ السلام کو قتل کرکے ان کے سر کو صحراء میں چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے مدتوں اس سر سے خون بہتا رہا ، یہاں تک کہ پروردگار عالم کا عذاب اس شکل میں نازل ہوا کہ ایک ایسا بادشاہ جو بہت ہی ظالم اور سفاک تھا اس نے حملہ کرکے 7000ھزار یہودیوں کو قتل کیا اور باقی کو اپنا قیدی بنالیا جس کی وجہ سے حضرت یحیی علیہ السلام کا خون ابلنا ختم ہوگیا
⬅ والرابع سے مراد
ابن ملجم مرادی ، جو حضرت علی علیہ السلام کا قاتل ہے جس نے قطامہ کی تحریک پر اس فعل قبیح کو انجام دیکر ارکان ھدایت کو منھدم کردیا
⬅ والخامس سے مراد
یزید ابن معاویہ ملعون ہے
جس نے نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کو شھید کیا -
📚 مجالس المومینین (قاضی نوراللہ شوستری علیہ الرحمہ ص/291)
شفاءالصدور فی شرح زیارت عاشور (مرحوم علامہ ابوالفضل تھرانی علیہ الرحمہ)ص/598۔
https://t.me/islamwitheman/3914
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
کیا آپ جانتے ہیں کہ زیارت عاشورا میں جب ہم اس جملہ میں
⬅" اللہم العن الاول والثانی والثالث
والرابع ویزید خامسا " پڑھتے ہیں تو مراد کون ؟
⬅ الاول سے مراد
قابیل ، جو حضرت آدم علیہ السلام کا بیٹا تھا جس نے قتل اور فساد کی بنیاد رکھی تھی
⬅ والثانی سے مراد
قیدار ابن سالف ، جس نے حضرت صالح علیہ السلام کے اونٹ کو قتل کیا تھا
⬅ والثالث سے مراد
رومان شھر کا بیلاطس بادشاہ ، جس نے حضرت یحیی علیہ السلام کو قتل کرکے ان کے سر کو صحراء میں چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے مدتوں اس سر سے خون بہتا رہا ، یہاں تک کہ پروردگار عالم کا عذاب اس شکل میں نازل ہوا کہ ایک ایسا بادشاہ جو بہت ہی ظالم اور سفاک تھا اس نے حملہ کرکے 7000ھزار یہودیوں کو قتل کیا اور باقی کو اپنا قیدی بنالیا جس کی وجہ سے حضرت یحیی علیہ السلام کا خون ابلنا ختم ہوگیا
⬅ والرابع سے مراد
ابن ملجم مرادی ، جو حضرت علی علیہ السلام کا قاتل ہے جس نے قطامہ کی تحریک پر اس فعل قبیح کو انجام دیکر ارکان ھدایت کو منھدم کردیا
⬅ والخامس سے مراد
یزید ابن معاویہ ملعون ہے
جس نے نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کو شھید کیا -
📚 مجالس المومینین (قاضی نوراللہ شوستری علیہ الرحمہ ص/291)
شفاءالصدور فی شرح زیارت عاشور (مرحوم علامہ ابوالفضل تھرانی علیہ الرحمہ)ص/598۔
https://t.me/islamwitheman/3914
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 زیارت عاشورا 🔷
سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی مختصر زیارت پڑھے۔۔۔
” اَلسَّلاَم ُعَلَیکَ یٰا اَبٰا عَبدِ اللّٰہِ ،اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَابنَ رَسُولِ اللّٰہِ ، اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَ بَرَکٰاتُہ “ اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت عاشورا…
سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی مختصر زیارت پڑھے۔۔۔
” اَلسَّلاَم ُعَلَیکَ یٰا اَبٰا عَبدِ اللّٰہِ ،اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَابنَ رَسُولِ اللّٰہِ ، اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَ بَرَکٰاتُہ “ اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت عاشورا…
🔷 دعائے علقمہ 🔷
دعائے بعد از زیارت عاشورا
بسم اللہ الرحمن الرحيم
يَا اللَّہُ يَا اللَّہُ يَا اللَّہُ يَا مُجِيبَ دَعْوَۃِ الْمُضْطَرِّينَ يَا كَاشِفَ كُرَبِ الْمَكْرُوبِينَ يَا غِيَاثَ الْمُسْتَغِيثِينَ يَا صَرِيخَ الْمُسْتَصْرِخِينَ (وَ) يَا مَنْ ہُوَ أَقْرَبُ إِلَيَّ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ(وَ) يَا مَنْ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِہِ (وَ) يَا مَنْ ہُوَ بِالْمَنْظَرِ الْأَعْلَی وَ بِالْأُفِقِ الْمُبِينِ(وَ) يَا مَنْ ہُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی (وَ) يَا مَنْ يَعْلَمُ خَائِنَۃَ الْأَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِي الصُّدُورُ(وَ) يَا مَنْ لاَ يَخْفَی عَلَيْہِ خَافِيَۃٌ يَا مَنْ لاَ تَشْتَبِہُ عَلَيْہِ الْأَصْوَاتُ(وَ) يَا مَنْ لاَ تُغَلِّطُہُ (تُغَلِّظُہُ) الْحَاجَاتُ (وَ) يَا مَنْ لاَ يُبْرِمُہُ إِلْحَاحُ الْمُلِحِّينَ يَا مُدْرِكَ كُلِّ فَوْتٍ (وَ) يَا جَامِعَ كُلِّ شَمْلٍ (وَ) يَا بَارِئَ النُّفُوسِ بَعْدَ الْمَوْتِ يَا مَنْ ہُوَ كُلَّ يَوْمٍ فِي شَأْنٍ يَا قَاضِيَ الْحَاجَاتِ يَا مُنَفِّسَ الْكُرُبَاتِ يَا مُعْطِيَ السُّؤْلاَتِ يَا وَلِيَّ الرَّغَبَاتِ يَا كَافِيَ الْمُہِمَّاتِ يَا مَنْ يَكْفِي مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَ لاَ يَكْفِي مِنْہُ شَيْءٌ فِي السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ أَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَ عَلَيٍّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ بِحَقِّ فَاطِمَۃَ بِنْتِ نَبِيِّكَ وَ بِحَقِّ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ فَإِنِّي بِہِمْ أَتَوَجَّہُ إِلَيْكَ فِي مَقَامِي ہَذَا وَ بِہِمْ أَتَوَسَّلُ وَ بِہِمْ أَتَشَفَّعُ إِلَيْكَ وَ بِحَقِّہِمْ أَسْأَلُكَ وَ أُقْسِمُ وَ أَعْزِمُ عَلَيْكَ وَ بِالشَّأْنِ الَّذِي لَہُمْ عِنْدَكَ وَ بِالْقَدْرِ الَّذِي لَہُمْ عِنْدَكَ وَ بِالَّذِي فَضَّلْتَہُمْ عَلَی الْعَالَمِينَ وَ بِاسْمِكَ الَّذِي جَعَلْتَہُ عِنْدَہُمْ وَ بِہِ خَصَصْتَہُمْ دُونَ الْعَالَمِينَ وَ بِہِ أَبَنْتَہُمْ وَ أَبَنْتَ فَضْلَہُمْ مِنْ فَضْلِ الْعَالَمِينَ حَتَّی فَاقَ فَضْلُہُمْ فَضْلَ الْعَالَمِينَ جَمِيعاً أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ تَكْشِفَ عَنِّي غَمِّي وَ ہَمِّي وَ كَرْبِي وَ تَكْفِيَنِي الْمُہِمَّ مِنْ أُمُورِي وَ تَقْضِيَ عَنِّي دَيْنِي وَ تُجِيرَنِي مِنَ الْفَقْرِ وَ تُجِيرَنِي مِنَ الْفَاقَۃِ وَ تُغْنِيَنِي عَنِ الْمَسْأَلَۃِ إِلَی الْمَخْلُوقِينَ وَ تَكْفِيَنِي ہَمَّ مَنْ أَخَافُ ہَمَّہُ وَ عُسْرَ مَنْ أَخَافُ عُسْرَہُ وَ حُزُونَۃَ مَنْ أَخَافُ حُزُونَتَہُ وَ شَرَّ مَنْ (مَا) أَخَافُ شَرَّہُ وَ مَكْرَ مَنْ أَخَافُ مَكْرَہُ وَ بَغْيَ مَنْ أَخَافُ بَغْيَہُ وَ جَوْرَ مَنْ أَخَافُ جَوْرَہُ وَ سُلْطَانَ مَنْ أَخَافُ سُلْطَانَہُ وَ كَيْدَ مَنْ أَخَافُ كَيْدَہُ وَ مَقْدُرَۃَ مَنْ أَخَافُ (بَلاَءَ) مَقْدُرَتَہُ عَلَيَّ وَ تَرُدَّ عَنِّي كَيْدَ الْكَيَدَۃِ وَ مَكْرَ الْمَكَرَۃِ اللَّہُمَّ مَنْ أَرَادَنِي فَأَرِدْہُ وَ مَنْ كَادَنِي فَكِدْہُ وَ اصْرِفْ عَنِّي كَيْدَہُ وَ مَكْرَہُ وَ بَأْسَہُ وَ أَمَانِيَّہُ وَ امْنَعْہُ عَنِّي كَيْفَ شِئْتَ وَ أَنَّی شِئْتَ اللَّہُمَّ اشْغَلْہُ عَنِّي بِفَقْرٍ لاَ تَجْبُرُہُ وَ بِبَلاَءٍ لاَ تَسْتُرُہُ وَ بِفَاقَۃٍ لاَ تَسُدُّہَا وَ بِسُقْمٍ لاَ تُعَافِيہِ وَ ذُلٍّ لاَ تُعِزُّہُ وَ بِمَسْكَنَۃٍ لاَ تَجْبُرُہَا اللَّہُمَّ اضْرِبْ بِالذُّلِّ نَصْبَ عَيْنَيْہِ وَ أَدْخِلْ عَلَيْہِ الْفَقْرَ فِي مَنْزِلِہِ وَ الْعِلَّۃَ وَ السُّقْمَ فِي بَدَنِہِ حَتَّی تَشْغَلَہُ عَنِّي بِشُغْلٍ شَاغِلٍ لاَ فَرَاغَ لَہُ وَ أَنْسِہِ ذِكْرِي كَمَا أَنْسَيْتَہُ ذِكْرَكَ وَ خُذْ عَنِّي بِسَمْعِہِ وَ بَصَرِہِ وَ لِسَانِہِ وَ يَدِہِ وَ رِجْلِہِ وَ قَلْبِہِ وَ جَمِيعِ جَوَارِحِہِ وَ أَدْخِلْ عَلَيْہِ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ السُّقْمَ وَ لاَ تَشْفِہِ حَتَّی تَجْعَلَ ذَلِكَ لَہُ شُغْلاً شَاغِلاً بِہِ عَنِّي وَ عَنْ ذِكْرِي وَ اكْفِنِي يَا كَافِيَ مَا لاَ يَكْفِي سِوَاكَ فَإِنَّكَ الْكَافِي لاَ كَافِيَ سِوَاكَ وَ مُفَرِّجٌ لاَ مُفَرِّجَ سِوَاكَ وَ مُغِيثٌ لاَ مُغِيثَ سِوَاكَ وَ جَارٌ لاَ جَارَ سِوَاكَ خَابَ مَنْ كَانَ جَارُہُ سِوَاكَ وَ مُغِيثُہُ سِوَاكَ وَ مَفْزَعُہُ إِلَی سِوَاكَ وَ مَہْرَبُہُ (إِلَی سِوَاكَ) وَ مَلْجَؤُہُ إِلَی غَيْرِكَ (سِوَاكَ) وَ مَنْجَاہُ مِنْ مَخْلُوقٍ غَيْرِكَ فَأَنْتَ ثِقَتِي وَ رَجَائِي وَ مَفْزَعِي وَ مَہْرَبِي وَ مَلْجَئِي وَ مَنْجَايَ فَبِكَ أَسْتَفْتِحُ وَ بِكَ أَسْتَنْجِحُ وَ بِمُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ أَتَوَجَّہُ إِلَيْكَ وَ أَتَوَسَّلُ وَ أَتَشَفَّعُ فَأَسْأَلُكَ يَا اللَّہُ يَا اللَّہُ يَا اللَّہُ فَلَكَ الْحَمْدُ وَ لَكَ الشُّكْرُ وَ إِلَيْكَ الْمُشْتَكَی وَ أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ
دعائے بعد از زیارت عاشورا
بسم اللہ الرحمن الرحيم
يَا اللَّہُ يَا اللَّہُ يَا اللَّہُ يَا مُجِيبَ دَعْوَۃِ الْمُضْطَرِّينَ يَا كَاشِفَ كُرَبِ الْمَكْرُوبِينَ يَا غِيَاثَ الْمُسْتَغِيثِينَ يَا صَرِيخَ الْمُسْتَصْرِخِينَ (وَ) يَا مَنْ ہُوَ أَقْرَبُ إِلَيَّ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ(وَ) يَا مَنْ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِہِ (وَ) يَا مَنْ ہُوَ بِالْمَنْظَرِ الْأَعْلَی وَ بِالْأُفِقِ الْمُبِينِ(وَ) يَا مَنْ ہُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوَی (وَ) يَا مَنْ يَعْلَمُ خَائِنَۃَ الْأَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِي الصُّدُورُ(وَ) يَا مَنْ لاَ يَخْفَی عَلَيْہِ خَافِيَۃٌ يَا مَنْ لاَ تَشْتَبِہُ عَلَيْہِ الْأَصْوَاتُ(وَ) يَا مَنْ لاَ تُغَلِّطُہُ (تُغَلِّظُہُ) الْحَاجَاتُ (وَ) يَا مَنْ لاَ يُبْرِمُہُ إِلْحَاحُ الْمُلِحِّينَ يَا مُدْرِكَ كُلِّ فَوْتٍ (وَ) يَا جَامِعَ كُلِّ شَمْلٍ (وَ) يَا بَارِئَ النُّفُوسِ بَعْدَ الْمَوْتِ يَا مَنْ ہُوَ كُلَّ يَوْمٍ فِي شَأْنٍ يَا قَاضِيَ الْحَاجَاتِ يَا مُنَفِّسَ الْكُرُبَاتِ يَا مُعْطِيَ السُّؤْلاَتِ يَا وَلِيَّ الرَّغَبَاتِ يَا كَافِيَ الْمُہِمَّاتِ يَا مَنْ يَكْفِي مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَ لاَ يَكْفِي مِنْہُ شَيْءٌ فِي السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ أَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَ عَلَيٍّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ بِحَقِّ فَاطِمَۃَ بِنْتِ نَبِيِّكَ وَ بِحَقِّ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ فَإِنِّي بِہِمْ أَتَوَجَّہُ إِلَيْكَ فِي مَقَامِي ہَذَا وَ بِہِمْ أَتَوَسَّلُ وَ بِہِمْ أَتَشَفَّعُ إِلَيْكَ وَ بِحَقِّہِمْ أَسْأَلُكَ وَ أُقْسِمُ وَ أَعْزِمُ عَلَيْكَ وَ بِالشَّأْنِ الَّذِي لَہُمْ عِنْدَكَ وَ بِالْقَدْرِ الَّذِي لَہُمْ عِنْدَكَ وَ بِالَّذِي فَضَّلْتَہُمْ عَلَی الْعَالَمِينَ وَ بِاسْمِكَ الَّذِي جَعَلْتَہُ عِنْدَہُمْ وَ بِہِ خَصَصْتَہُمْ دُونَ الْعَالَمِينَ وَ بِہِ أَبَنْتَہُمْ وَ أَبَنْتَ فَضْلَہُمْ مِنْ فَضْلِ الْعَالَمِينَ حَتَّی فَاقَ فَضْلُہُمْ فَضْلَ الْعَالَمِينَ جَمِيعاً أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ تَكْشِفَ عَنِّي غَمِّي وَ ہَمِّي وَ كَرْبِي وَ تَكْفِيَنِي الْمُہِمَّ مِنْ أُمُورِي وَ تَقْضِيَ عَنِّي دَيْنِي وَ تُجِيرَنِي مِنَ الْفَقْرِ وَ تُجِيرَنِي مِنَ الْفَاقَۃِ وَ تُغْنِيَنِي عَنِ الْمَسْأَلَۃِ إِلَی الْمَخْلُوقِينَ وَ تَكْفِيَنِي ہَمَّ مَنْ أَخَافُ ہَمَّہُ وَ عُسْرَ مَنْ أَخَافُ عُسْرَہُ وَ حُزُونَۃَ مَنْ أَخَافُ حُزُونَتَہُ وَ شَرَّ مَنْ (مَا) أَخَافُ شَرَّہُ وَ مَكْرَ مَنْ أَخَافُ مَكْرَہُ وَ بَغْيَ مَنْ أَخَافُ بَغْيَہُ وَ جَوْرَ مَنْ أَخَافُ جَوْرَہُ وَ سُلْطَانَ مَنْ أَخَافُ سُلْطَانَہُ وَ كَيْدَ مَنْ أَخَافُ كَيْدَہُ وَ مَقْدُرَۃَ مَنْ أَخَافُ (بَلاَءَ) مَقْدُرَتَہُ عَلَيَّ وَ تَرُدَّ عَنِّي كَيْدَ الْكَيَدَۃِ وَ مَكْرَ الْمَكَرَۃِ اللَّہُمَّ مَنْ أَرَادَنِي فَأَرِدْہُ وَ مَنْ كَادَنِي فَكِدْہُ وَ اصْرِفْ عَنِّي كَيْدَہُ وَ مَكْرَہُ وَ بَأْسَہُ وَ أَمَانِيَّہُ وَ امْنَعْہُ عَنِّي كَيْفَ شِئْتَ وَ أَنَّی شِئْتَ اللَّہُمَّ اشْغَلْہُ عَنِّي بِفَقْرٍ لاَ تَجْبُرُہُ وَ بِبَلاَءٍ لاَ تَسْتُرُہُ وَ بِفَاقَۃٍ لاَ تَسُدُّہَا وَ بِسُقْمٍ لاَ تُعَافِيہِ وَ ذُلٍّ لاَ تُعِزُّہُ وَ بِمَسْكَنَۃٍ لاَ تَجْبُرُہَا اللَّہُمَّ اضْرِبْ بِالذُّلِّ نَصْبَ عَيْنَيْہِ وَ أَدْخِلْ عَلَيْہِ الْفَقْرَ فِي مَنْزِلِہِ وَ الْعِلَّۃَ وَ السُّقْمَ فِي بَدَنِہِ حَتَّی تَشْغَلَہُ عَنِّي بِشُغْلٍ شَاغِلٍ لاَ فَرَاغَ لَہُ وَ أَنْسِہِ ذِكْرِي كَمَا أَنْسَيْتَہُ ذِكْرَكَ وَ خُذْ عَنِّي بِسَمْعِہِ وَ بَصَرِہِ وَ لِسَانِہِ وَ يَدِہِ وَ رِجْلِہِ وَ قَلْبِہِ وَ جَمِيعِ جَوَارِحِہِ وَ أَدْخِلْ عَلَيْہِ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ السُّقْمَ وَ لاَ تَشْفِہِ حَتَّی تَجْعَلَ ذَلِكَ لَہُ شُغْلاً شَاغِلاً بِہِ عَنِّي وَ عَنْ ذِكْرِي وَ اكْفِنِي يَا كَافِيَ مَا لاَ يَكْفِي سِوَاكَ فَإِنَّكَ الْكَافِي لاَ كَافِيَ سِوَاكَ وَ مُفَرِّجٌ لاَ مُفَرِّجَ سِوَاكَ وَ مُغِيثٌ لاَ مُغِيثَ سِوَاكَ وَ جَارٌ لاَ جَارَ سِوَاكَ خَابَ مَنْ كَانَ جَارُہُ سِوَاكَ وَ مُغِيثُہُ سِوَاكَ وَ مَفْزَعُہُ إِلَی سِوَاكَ وَ مَہْرَبُہُ (إِلَی سِوَاكَ) وَ مَلْجَؤُہُ إِلَی غَيْرِكَ (سِوَاكَ) وَ مَنْجَاہُ مِنْ مَخْلُوقٍ غَيْرِكَ فَأَنْتَ ثِقَتِي وَ رَجَائِي وَ مَفْزَعِي وَ مَہْرَبِي وَ مَلْجَئِي وَ مَنْجَايَ فَبِكَ أَسْتَفْتِحُ وَ بِكَ أَسْتَنْجِحُ وَ بِمُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ أَتَوَجَّہُ إِلَيْكَ وَ أَتَوَسَّلُ وَ أَتَشَفَّعُ فَأَسْأَلُكَ يَا اللَّہُ يَا اللَّہُ يَا اللَّہُ فَلَكَ الْحَمْدُ وَ لَكَ الشُّكْرُ وَ إِلَيْكَ الْمُشْتَكَی وَ أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ
فَأَسْأَلُكَ يَا اللَّہُ يَا اللَّہُ يَا اللَّہُ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍوَ أَنْ تَكْشِفَ عَنِّي غَمِّي وَ ہَمِّي وَ كَرْبِي فِي مَقَامِي ہَذَاكَمَا كَشَفْتَ عَنْ نَبِيِّكَ ہَمَّہُ وَ غَمَّہُ وَ كَرْبَہُ وَ كَفَيْتَہُ ہَوْلَ عَدُوِّہِ فَاكْشِفْ عَنِّي كَمَا كَشَفْتَ عَنْہُ وَ فَرِّجْ عَنِّي كَمَا فَرَّجْتَ عَنْہُ وَ اكْفِنِي كَمَا كَفَيْتَہُ(وَ اصْرِفْ عَنِّي) ہَوْلَ مَا أَخَافُ ہَوْلَہُ وَ مَئُونَۃَ مَا أَخَافُ مَئُونَتَہُوَ ہَمَّ مَا أَخَافُ ہَمَّہُ بِلاَ مَئُونَۃٍ عَلَی نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ وَ اصْرِفْنِي بِقَضَاءِ حَوَائِجِي وَ كِفَايَۃِ مَا أَہَمَّنِي ہَمُّہُ مِنْ أَمْرِ آخِرَتِي وَ دُنْيَايَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ (وَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ ) عَلَيْكَ (عَلَيْكُمَا) مِنِّي سَلاَمُ اللَّہِ أَبَداً (مَا بَقِيتُ) وَ بَقِيَ اللَّيْلُ وَ النَّہَارُوَ لاَ جَعَلَہُ اللَّہُ آخِرَ الْعَہْدِ مِنْ زِيَارَتِكُمَا وَ لاَ فَرَّقَ اللَّہُ بَيْنِي وَ بَيْنَكُمَا اللَّہُمَّ أَحْيِنِي حَيَاۃَ مُحَمَّدٍ وَ ذُرِّيَّتِہِ وَ أَمِتْنِي مَمَاتَہُمْ وَ تَوَفَّنِي عَلَی مِلَّتِہِمْ وَ احْشُرْنِي فِي زُمْرَتِہِمْ وَ لاَ تُفَرِّقْ بَيْنِي وَ بَيْنَہُمْ طَرْفَۃَ عَيْنٍ أَبَداً فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَۃِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ أَتَيْتُكُمَا زَائِراً وَ مُتَوَسِّلاً إِلَی اللَّہِ رَبِّي وَ رَبِّكُمَا وَ مُتَوَجِّہاً إِلَيْہِ بِكُمَا وَ مُسْتَشْفِعاً (بِكُمَا) إِلَی اللَّہِ (تَعَالَی) فِي حَاجَتِي ہَذِہِ فَاشْفَعَا لِي فَإِنَّ لَكُمَا عِنْدَ اللَّہِ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ وَ الْجَاہَ الْوَجِيہَ وَ الْمَنْزِلَ الرَّفِيعَ وَ الْوَسِيلَۃَ إِنِّي أَنْقَلِبُ عَنْكُمَا مُنْتَظِراً لِتَنَجُّزِ الْحَاجَۃِ وَ قَضَائِہَا وَ نَجَاحِہَا مِنَ اللَّہِ بِشَفَاعَتِكُمَا لِي إِلَی اللَّہِ فِي ذَلِكَ فَلاَ أَخِيبُ وَ لاَ يَكُونُ مُنْقَلَبِي مُنْقَلَباً خَائِباً خَاسِراً بَلْ يَكُونُ مُنْقَلَبِي مُنْقَلَباً رَاجِحاً (رَاجِياً) مُفْلِحاً مُنْجِحاً مُسْتَجَاباً بِقَضَاءِ جَمِيعِ حَوَائِجِي (الْحَوَائِجِ) وَ تَشَفَّعَا لِي إِلَی اللَّہِ انْقَلَبْتُ عَلَی مَا شَاءَ اللَّہُ وَ لاَ حَوْلَ وَ لاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ مُفَوِّضاً أَمْرِي إِلَی اللَّہِ مُلْجِئاً ظَہْرِي إِلَی اللَّہِ مُتَوَكِّلاً عَلَی اللَّہِ وَ أَقُولُ حَسْبِيَ اللَّہُ وَ كَفَی سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ دَعَا لَيْسَ لِي وَرَاءَ اللَّہِ وَ وَرَاءَكُمْ يَا سَادَتِي مُنْتَہًیمَا شَاءَ رَبِّي كَانَ وَ مَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ وَ لاَ حَوْلَ وَ لاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ أَسْتَوْدِعُكُمَا اللَّہَ وَ لاَ جَعَلَہُ اللَّہُ آخِرَ الْعَہْدِ مِنِّي إِلَيْكُمَا انْصَرَفْتُ يَا سَيِّدِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَ مَوْلاَيَ وَ أَنْتَ (أُبْتُ) يَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ يَا سَيِّدِي(وَ) سَلاَمِي عَلَيْكُمَا مُتَّصِلٌ مَا اتَّصَلَ اللَّيْلُ وَ النَّہَارُ وَاصِلٌ ذَلِكَ إِلَيْكُمَا غَيْرُ (غَيْرَ) مَحْجُوبٍ عَنْكُمَا سَلاَمِي إِنْ شَاءَ اللَّہُ وَ أَسْأَلُہُ بِحَقِّكُمَا أَنْ يَشَاءَ ذَلِكَ وَ يَفْعَلَ فَإِنَّہُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ انْقَلَبْتُ يَا سَيِّدَيَّ عَنْكُمَا تَائِباً حَامِداً لِلَّہِ شَاكِراً رَاجِياً لِلْإِجَابَۃِ غَيْرَ آيِسٍ وَ لاَ قَانِطٍ آئِباً عَائِداً رَاجِعاً إِلَی زِيَارَتِكُمَا غَيْرَ رَاغِبٍ عَنْكُمَا وَ لاَ مِنْ (عَنْ) زِيَارَتِكُمَا بَلْ رَاجِعٌ عَائِدٌ إِنْ شَاءَ اللَّہُ وَ لاَ حَوْلَ وَ لاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ يَا سَادَتِي رَغِبْتُ إِلَيْكُمَا وَ إِلَی زِيَارَتِكُمَا بَعْدَ أَنْ زَہِدَ فِيكُمَا وَ فِي زِيَارَتِكُمَا أَہْلُ الدُّنْيَا فَلاَ خَيَّبَنِيَ اللَّہُ مَا (مِمَّا) رَجَوْتُ وَ مَا أَمَّلْتُ فِي زِيَارَتِكُمَا إِنَّہُ قَرِيبٌ مُجِيبٌ.
https://t.me/islamwitheman/3887
https://t.me/islamwitheman/3920
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
https://t.me/islamwitheman/3887
https://t.me/islamwitheman/3920
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 زیارت آخر روز عاشورا 🔷
آخر روز عاشورا یہ زیارت پڑھیں، جس میں شہداء کربلا کی زیارت اور جناب رسول خدا اور حضرات آئمہ ھدی علیھم السلام سے تعزیت ادا کی گئی ہے۔
اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِث آدَمَ صَفْوَۃِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِث نُوْحٍ نَّبِیِّ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِث اِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِث مُوْسٰی کَلِیْمِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِث عِیْسٰی رُوْحِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِث مُحَمَّدٍ(صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ) حَبِیْبِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِث عَلِیٍّ اَمِیْرِالْمُوْمِنِیْنَ وَلِیِّ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِث الْحَسَنِ الشَّھِیْدِ سِبْطِ رَسُوْلِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْبَشِیْرِ النَّذِیْرِ وَ ابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّیْنَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فَاطِمَۃَ سَیِّدَۃِ نِسَآءِ الْعَالَمِیْنَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَآ اَبَا عَبْدِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاخِیَرَۃَ اللّٰہِ وَ ابْنَ خِیَرَتِہٖ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاثَارَ اللّٰہِ وَ ابْنَ ثَارِہٖ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا الْوِتْرُ الْمَوْتُوْرُاَلسَّلامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا الْاِمَامُ الْھَادِی الزَّکِیُّ وَعَلٰیٓ اَرْوَاحٍ حَلَّتْ بِفِنَآئِکَ وَ اَقَامَتْ فِیْ جِوَارِکَ وَ وَفَدَتْ مَعَ زُوَّارِکَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ مِنِّیْ مَابَقِیْتُ وَ بَقِیَ اللَّیْلُ وَ النَّھَارُ فَلَقَدْ عَظُمَتْ بِکَ الرَّزِیَّۃُ وَ جَلَّ الْمُصَابُ فِی الْمُوْمِنِیْنَ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ فِیْ اَھْلِ السَّمٰوَاتِ اَجْمَعِیْنَ وَ فِیْ سُکَّانِ الْاَرَضِیْنَ فَاِنَّاْ لِلّٰہِ وَ اِنَّآاِلَیْہِ رَاْجِعُوْنَ وَ صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہ٘ وَ تَحِیَّاتُہ٘ عَلَیْکَ وَ عَلٰیٓ آبَائِکَ الطَّاھِرِیْنَ الطَّیِّبِیْنَ الْمُنْتَجَبِیْنَ وَ عَلٰی ذَرَارِیْھِمُ الْھُدَۃِ الْمَھْدِیِّیْنَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَامَوْلَاْیَ! وَ عَلَیْھِمْ وَ عَلٰی رُوْحِکَ وَعَلٰیٓ اَرْوَاْحِھِمْ وَ عَلٰی تُرْبَتِکَ وَ عَلٰی تُرْبَتِھِمْ اَللّٰھُمَّ لَقِّھمْ رَحْمَۃً وَّ رِضْوَانًا وَّ رَوْحًا وَّ رَیْحَانًا اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَامَوْلَاْیَ یَآاَبَا عَبْدِ اللّٰہِ! یَابْنَ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ وَ یَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّیْنَ وَ یَابْنَ سَیِّدَۃِ نِسَآءِ الْعَالَمِیْنَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاشَھِیْدُ یَابْنَ الشَّھِیْدِ یَآاَخَا الشَّھِیْدِ یَآاَبَا الشُّھَدَآءِ اَللّٰھُمَّ بَلِّغْہُ عَنِّیْ فِیْ ھٰذِہِ السَّاعَۃِ وَ فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ وَ فِیْ ھٰذَا الْوَقْتِ وَ فِیْ کُلِّ وَقْتٍ تَحِیَّۃً کَثِیْرَۃً وَّ سَلامًا سَلامُ اللّٰہِ عَلَیْکَ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہ٘ یَابْنَ سَیِّدِ الْعَالَمِیْنَ وَ عَلٰی الْمُسْتَشْھِدِیْنَ مَعَکَ سَلامًا مُّتَّصِلاً مَّااتَّصَلَ اللَّیْلُ وَ النَّھَارُ اَلسَّلامُ عَلَی الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّنِ الشَّھِیْدِ اَلسَّلامُ عَلٰی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ الشَّھِیْدِ اَلسَّلامُ عَلَی الْعَبَّاسِ بْنِ اَمِیْرِ الْمُوٴْمِنِیْنَ الشَّھِیْدِ اَلسَّلامُ عَلَی الشُّھَدَآءِ مِنْ وُّلْدِ اَمِیْرِ الْمُوْمِنِیْنَ اَلسَّلامُ عَلَی الشُّھَدَآءِ مِنْ وُّلْدِ الْحَسَنِ اَلسَّلامُ عَلَی الشُّھَدَآءِ مِنْ وُّلْدِ الْحُسَیْنِ اَلسَّلامُ عَلَی الشُّھَدَآءِ مِنْ وُّلْدِ جَعْفَرٍ وَّ عَقِیْلٍ اَلسَّلامُ عَلٰی کُلِّ مُسْتَشْھِدٍ مَّعَھُمْ مِّنَ الْمُوْمِنِیْنَ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَلِّغْھُمْ عَنِّیْ تَحِیَّۃً کَثِیْرَۃً وَّ سَلاماً اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَحْسَنَ اللّٰہُ لَکَ الْعَزَآءَ فِیْ وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَآاَمِیْرَ الْمُوْمِنِیْنَ ! اَحْسَنَ اللّٰہُ لَکَ الْعَزَآءَ فِیْ وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یَافَاطِمَۃُ! اَحْسَنَ اللّٰہُ لَکِ الْعَزَآءَ فِیْ وَلَدِکِ الْحُسَیْنِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَآ اَبَا مُحَمَّدِنِ الْحَسَنَ! اَحْسَنَ اللّٰہُ لَکَ الْعَزَآءَ فِیْ اَخِیْکَ الْحُسَیْنِ یَا مَوْلَاْیَ یَآ اَبَا عَبْدِ اللّٰہِ ! اَنَاْ ضَیْفُ اللّٰہِ وَضَیْفُکَ وَجَارُاللّٰہِ وَجَارُکَ وَ لِکُلِّ ضَیْفٍ وَّ جَارٍ قِرًی وَّ قِرَاْیَ فِیْ ھٰذَا الْوَقْتِ اَنْ تَسْئَلَ اللّٰہَ سُبْحَانَہ٘ وَتَعَالٰی اَنْ یَّرْزُقَنِیْ فَکَاکَ رَقَبَتِیْ مِنَ النَّارِ اِنَّہ٘ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ․
📚 حوالہ جات
الف: زاد المعاد، باب ۶فصل۳․
ب: تحفۃالعوام، ص ۷ ۳ ۳ تا ۳۴۰۔
https://t.me/islamwitheman/3888
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
آخر روز عاشورا یہ زیارت پڑھیں، جس میں شہداء کربلا کی زیارت اور جناب رسول خدا اور حضرات آئمہ ھدی علیھم السلام سے تعزیت ادا کی گئی ہے۔
اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِث آدَمَ صَفْوَۃِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِث نُوْحٍ نَّبِیِّ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِث اِبْرَاھِیْمَ خَلِیْلِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِث مُوْسٰی کَلِیْمِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِث عِیْسٰی رُوْحِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِث مُحَمَّدٍ(صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ) حَبِیْبِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِث عَلِیٍّ اَمِیْرِالْمُوْمِنِیْنَ وَلِیِّ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِث الْحَسَنِ الشَّھِیْدِ سِبْطِ رَسُوْلِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْبَشِیْرِ النَّذِیْرِ وَ ابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّیْنَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فَاطِمَۃَ سَیِّدَۃِ نِسَآءِ الْعَالَمِیْنَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَآ اَبَا عَبْدِ اللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاخِیَرَۃَ اللّٰہِ وَ ابْنَ خِیَرَتِہٖ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاثَارَ اللّٰہِ وَ ابْنَ ثَارِہٖ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا الْوِتْرُ الْمَوْتُوْرُاَلسَّلامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا الْاِمَامُ الْھَادِی الزَّکِیُّ وَعَلٰیٓ اَرْوَاحٍ حَلَّتْ بِفِنَآئِکَ وَ اَقَامَتْ فِیْ جِوَارِکَ وَ وَفَدَتْ مَعَ زُوَّارِکَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ مِنِّیْ مَابَقِیْتُ وَ بَقِیَ اللَّیْلُ وَ النَّھَارُ فَلَقَدْ عَظُمَتْ بِکَ الرَّزِیَّۃُ وَ جَلَّ الْمُصَابُ فِی الْمُوْمِنِیْنَ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ فِیْ اَھْلِ السَّمٰوَاتِ اَجْمَعِیْنَ وَ فِیْ سُکَّانِ الْاَرَضِیْنَ فَاِنَّاْ لِلّٰہِ وَ اِنَّآاِلَیْہِ رَاْجِعُوْنَ وَ صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہ٘ وَ تَحِیَّاتُہ٘ عَلَیْکَ وَ عَلٰیٓ آبَائِکَ الطَّاھِرِیْنَ الطَّیِّبِیْنَ الْمُنْتَجَبِیْنَ وَ عَلٰی ذَرَارِیْھِمُ الْھُدَۃِ الْمَھْدِیِّیْنَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَامَوْلَاْیَ! وَ عَلَیْھِمْ وَ عَلٰی رُوْحِکَ وَعَلٰیٓ اَرْوَاْحِھِمْ وَ عَلٰی تُرْبَتِکَ وَ عَلٰی تُرْبَتِھِمْ اَللّٰھُمَّ لَقِّھمْ رَحْمَۃً وَّ رِضْوَانًا وَّ رَوْحًا وَّ رَیْحَانًا اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَامَوْلَاْیَ یَآاَبَا عَبْدِ اللّٰہِ! یَابْنَ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ وَ یَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّیْنَ وَ یَابْنَ سَیِّدَۃِ نِسَآءِ الْعَالَمِیْنَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاشَھِیْدُ یَابْنَ الشَّھِیْدِ یَآاَخَا الشَّھِیْدِ یَآاَبَا الشُّھَدَآءِ اَللّٰھُمَّ بَلِّغْہُ عَنِّیْ فِیْ ھٰذِہِ السَّاعَۃِ وَ فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ وَ فِیْ ھٰذَا الْوَقْتِ وَ فِیْ کُلِّ وَقْتٍ تَحِیَّۃً کَثِیْرَۃً وَّ سَلامًا سَلامُ اللّٰہِ عَلَیْکَ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہ٘ یَابْنَ سَیِّدِ الْعَالَمِیْنَ وَ عَلٰی الْمُسْتَشْھِدِیْنَ مَعَکَ سَلامًا مُّتَّصِلاً مَّااتَّصَلَ اللَّیْلُ وَ النَّھَارُ اَلسَّلامُ عَلَی الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّنِ الشَّھِیْدِ اَلسَّلامُ عَلٰی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ الشَّھِیْدِ اَلسَّلامُ عَلَی الْعَبَّاسِ بْنِ اَمِیْرِ الْمُوٴْمِنِیْنَ الشَّھِیْدِ اَلسَّلامُ عَلَی الشُّھَدَآءِ مِنْ وُّلْدِ اَمِیْرِ الْمُوْمِنِیْنَ اَلسَّلامُ عَلَی الشُّھَدَآءِ مِنْ وُّلْدِ الْحَسَنِ اَلسَّلامُ عَلَی الشُّھَدَآءِ مِنْ وُّلْدِ الْحُسَیْنِ اَلسَّلامُ عَلَی الشُّھَدَآءِ مِنْ وُّلْدِ جَعْفَرٍ وَّ عَقِیْلٍ اَلسَّلامُ عَلٰی کُلِّ مُسْتَشْھِدٍ مَّعَھُمْ مِّنَ الْمُوْمِنِیْنَ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَلِّغْھُمْ عَنِّیْ تَحِیَّۃً کَثِیْرَۃً وَّ سَلاماً اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَحْسَنَ اللّٰہُ لَکَ الْعَزَآءَ فِیْ وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَآاَمِیْرَ الْمُوْمِنِیْنَ ! اَحْسَنَ اللّٰہُ لَکَ الْعَزَآءَ فِیْ وَلَدِکَ الْحُسَیْنِ اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یَافَاطِمَۃُ! اَحْسَنَ اللّٰہُ لَکِ الْعَزَآءَ فِیْ وَلَدِکِ الْحُسَیْنِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَآ اَبَا مُحَمَّدِنِ الْحَسَنَ! اَحْسَنَ اللّٰہُ لَکَ الْعَزَآءَ فِیْ اَخِیْکَ الْحُسَیْنِ یَا مَوْلَاْیَ یَآ اَبَا عَبْدِ اللّٰہِ ! اَنَاْ ضَیْفُ اللّٰہِ وَضَیْفُکَ وَجَارُاللّٰہِ وَجَارُکَ وَ لِکُلِّ ضَیْفٍ وَّ جَارٍ قِرًی وَّ قِرَاْیَ فِیْ ھٰذَا الْوَقْتِ اَنْ تَسْئَلَ اللّٰہَ سُبْحَانَہ٘ وَتَعَالٰی اَنْ یَّرْزُقَنِیْ فَکَاکَ رَقَبَتِیْ مِنَ النَّارِ اِنَّہ٘ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ․
📚 حوالہ جات
الف: زاد المعاد، باب ۶فصل۳․
ب: تحفۃالعوام، ص ۷ ۳ ۳ تا ۳۴۰۔
https://t.me/islamwitheman/3888
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 10 محرم کو قبروں پر مٹی ڈالنا 🔷
عمیر کہاں جارھے ھو آج یہ بیلچے بالٹیاں لیکر۔۔؟
بھائی قبرستان، اپنے بڑوں کی قبروں کو ٹھیک کرنے بھائی۔
اچھا عمیر بھائی پر آج تو امام مظلوم محسن انسانیت امام حسین علیہ السلام کی شھادت کا دن یے۔
ہاں بھائی وہ تو یے،
ٹھیک یے۔
پر حدیث میں یہ دس محرم کو اپنے مردوں کو قبروں پر جاتے ہیں انکے مردے بہت خوش ھوتے ہیں۔
بھائی پہلا سوال آپ سے کہ۔۔۔
یہ حدیث میں ہے قبروں پرجاؤ مردے خوش ھوتے ہیں؟
اسکا حوالہ مل سکتا یے؟
اس حدیث کا راوی کون ہے مل سکتا یے؟
اس کا تو پتہ نہیں بھائی،
پر ہمارے بڑے کہتے ییں،
پتہ بھی کیسے ھو گا جب حدیث ہے ہی نہیں۔
چلو حدیث میں نہیں تمھارے بڑے کہتے ہیں۔
تمھارا پہلا جھوٹ پکڑا گیا،
مطلب کے تمھارے بڑوں نے یہ ایجاد کیا۔
اور
رسول پاک (ص) نے جو دیا وہ ھی اصل دین ہے اس کے بعد جو بھی کوئی نئی چیز دین میں ایجاد کریں اس سے بدعت کہتے ہیں۔
اس کا مطلب تو صاف ہے بھائی،
یہ نو، دس محرم کو آپ بدعت مناتے ہیں۔
اور
کہتے ہم شیعوں کو ہیں بدعتی❓❓
دوسرا سوال مردے خوش ھوتے ہیں؟
آپ نے کہا 9 اور 10 محرم کو قبرستان جانے سے مردے خوش ھوتے ہیں۔
اب تم اپنے مردوں کو خوش کرنے کیلئے کائنات کے سید و سردار محمد مصصفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غمگین کرو گے، اس کو غمگین کرو گے جس کی محشر میں آپ شفاعت کے محتاج ھو گے،
نہ کہ اپنے مردوں کو۔
حسین علیہ السلام کا غم نہیں مناؤ گے،
کیونکہ اس دن رسول پاک (ص) خود غمگین ھوئے ییں۔
خود آپکی کتابوں میں روایات موجود ہیں۔
اوہو سلمان بھائی۔۔۔
آپ کی باتیں تو بلکل حقیقت ہیں۔
واقعی میں ہمیں اس دن تو امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت پر رونا چاہئیے نہ کہ اپنے مردوں کی قبروں پر جانا چاہیے۔
عمیر بھائی اگر سچ پوچھو تو اور کچھ نہیں، یہ آپکو ذکر حسین و شھادت سے دور رکھنے کیلئے سازشیں ہیں اور کچھ بھی نہیں۔
پر جس کے ذکر کو خود خدا بلند کرے خود ملائکہ جنکا ذکر کریں بھلا انسان اس ذکر کو کیسے روک سکتا ہے۔
سلمان بھائی! واقعی آپ ٹھیک کہتے ہیں، ہمیں امام حسین علیہ السلام سے بہت دور کر دیا گیا یے۔ بہت افسوس ہے ہم پر، جنکی وجہ سے دین ملا انہیں ہی بھلا دیا۔ ہم احسان فراموش ہیں کیا منہ دکھائیں گے حسین علیہ السلام کے نانا پاک رسول اکرم (ص) کو۔
بس بھائی امید ہے میری باتیں آپ پر گہرا اثر کریں گی اور اگلے سال اگر زندگی رہی تو دس محرم کو آپ قبرستان میں نہیں بلکہ مجلس حسین میں ھو گے۔
ھاں ھاں بھائی ایسا ہی ھو گا، پر زندگی کا بھروسہ نہیں۔
سلمان بھائی! مجھے آج سے ہی آپ مجلس حسین میں ساتھ لیکر جایا کریں۔
جی بھائی کیوں نہیں۔
امام حسین علیہ السلام صرف شیعوں کے نہیں پوری انسانیت کے امام ہیں۔
محشر میں رسول (ص) کو منانے کے واسطے ہر ایک کو ضرورت پڑے گی حسین علیہ السلام کی۔
✍ بندہ حقیر سلمان حیدر۔
https://t.me/islamwitheman/3869
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
عمیر کہاں جارھے ھو آج یہ بیلچے بالٹیاں لیکر۔۔؟
بھائی قبرستان، اپنے بڑوں کی قبروں کو ٹھیک کرنے بھائی۔
اچھا عمیر بھائی پر آج تو امام مظلوم محسن انسانیت امام حسین علیہ السلام کی شھادت کا دن یے۔
ہاں بھائی وہ تو یے،
ٹھیک یے۔
پر حدیث میں یہ دس محرم کو اپنے مردوں کو قبروں پر جاتے ہیں انکے مردے بہت خوش ھوتے ہیں۔
بھائی پہلا سوال آپ سے کہ۔۔۔
یہ حدیث میں ہے قبروں پرجاؤ مردے خوش ھوتے ہیں؟
اسکا حوالہ مل سکتا یے؟
اس حدیث کا راوی کون ہے مل سکتا یے؟
اس کا تو پتہ نہیں بھائی،
پر ہمارے بڑے کہتے ییں،
پتہ بھی کیسے ھو گا جب حدیث ہے ہی نہیں۔
چلو حدیث میں نہیں تمھارے بڑے کہتے ہیں۔
تمھارا پہلا جھوٹ پکڑا گیا،
مطلب کے تمھارے بڑوں نے یہ ایجاد کیا۔
اور
رسول پاک (ص) نے جو دیا وہ ھی اصل دین ہے اس کے بعد جو بھی کوئی نئی چیز دین میں ایجاد کریں اس سے بدعت کہتے ہیں۔
اس کا مطلب تو صاف ہے بھائی،
یہ نو، دس محرم کو آپ بدعت مناتے ہیں۔
اور
کہتے ہم شیعوں کو ہیں بدعتی❓❓
دوسرا سوال مردے خوش ھوتے ہیں؟
آپ نے کہا 9 اور 10 محرم کو قبرستان جانے سے مردے خوش ھوتے ہیں۔
اب تم اپنے مردوں کو خوش کرنے کیلئے کائنات کے سید و سردار محمد مصصفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غمگین کرو گے، اس کو غمگین کرو گے جس کی محشر میں آپ شفاعت کے محتاج ھو گے،
نہ کہ اپنے مردوں کو۔
حسین علیہ السلام کا غم نہیں مناؤ گے،
کیونکہ اس دن رسول پاک (ص) خود غمگین ھوئے ییں۔
خود آپکی کتابوں میں روایات موجود ہیں۔
اوہو سلمان بھائی۔۔۔
آپ کی باتیں تو بلکل حقیقت ہیں۔
واقعی میں ہمیں اس دن تو امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت پر رونا چاہئیے نہ کہ اپنے مردوں کی قبروں پر جانا چاہیے۔
عمیر بھائی اگر سچ پوچھو تو اور کچھ نہیں، یہ آپکو ذکر حسین و شھادت سے دور رکھنے کیلئے سازشیں ہیں اور کچھ بھی نہیں۔
پر جس کے ذکر کو خود خدا بلند کرے خود ملائکہ جنکا ذکر کریں بھلا انسان اس ذکر کو کیسے روک سکتا ہے۔
سلمان بھائی! واقعی آپ ٹھیک کہتے ہیں، ہمیں امام حسین علیہ السلام سے بہت دور کر دیا گیا یے۔ بہت افسوس ہے ہم پر، جنکی وجہ سے دین ملا انہیں ہی بھلا دیا۔ ہم احسان فراموش ہیں کیا منہ دکھائیں گے حسین علیہ السلام کے نانا پاک رسول اکرم (ص) کو۔
بس بھائی امید ہے میری باتیں آپ پر گہرا اثر کریں گی اور اگلے سال اگر زندگی رہی تو دس محرم کو آپ قبرستان میں نہیں بلکہ مجلس حسین میں ھو گے۔
ھاں ھاں بھائی ایسا ہی ھو گا، پر زندگی کا بھروسہ نہیں۔
سلمان بھائی! مجھے آج سے ہی آپ مجلس حسین میں ساتھ لیکر جایا کریں۔
جی بھائی کیوں نہیں۔
امام حسین علیہ السلام صرف شیعوں کے نہیں پوری انسانیت کے امام ہیں۔
محشر میں رسول (ص) کو منانے کے واسطے ہر ایک کو ضرورت پڑے گی حسین علیہ السلام کی۔
✍ بندہ حقیر سلمان حیدر۔
https://t.me/islamwitheman/3869
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 9 اور 10 محرم کا روزہ 🔷
♦کیا 9 اور 10 محرم الحرام کا روزہ رکھنا حرام ہے؟
♦جواب:
یومِ عاشورہ 10 محرم کا روزہ رکھنا رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کے نزدیک مکروہ ھے اور بعض مجتھدین مثلا آیت اللہ وحید خراسانی کے نزدیک احتیاط واجب کی بنا پر حرام ھے۔
♦آیت اللہ…
♦کیا 9 اور 10 محرم الحرام کا روزہ رکھنا حرام ہے؟
♦جواب:
یومِ عاشورہ 10 محرم کا روزہ رکھنا رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کے نزدیک مکروہ ھے اور بعض مجتھدین مثلا آیت اللہ وحید خراسانی کے نزدیک احتیاط واجب کی بنا پر حرام ھے۔
♦آیت اللہ…
🔷 10 محرم کا روزہ 🔷
بنى امیہ لعنت اللہ علیہم نہ فقط یہ کہ امام حسین علیہ السلام اور انکے اہلبیتؑ و اصحابؓ کی شہادت پر عزاداری کرنے کی مخالفت کرتے تھے بلکہ عملی طور پر بھی مقابلہ کرنے کی غرض سے انھوں نے روزِ عاشورا کو جشن و خوشی و عید کا دن قرار دیا ہوا تھا۔
بنی امیہ روزِ عاشورا کو مبارک دن جانتے تھے اور اس دن جشن کی محافل برپا کیا کرتے تھے اور اس دن پورے سال کا راشن گھروں میں ذخیرہ کیا کرتے تھے اور وہ یہ سارے کام ہر سال انجام دیا کرتے تھے۔
اسی وجہ سے آئمہ معصومینؑ اور انہی کی راہ پر چلنے والے فقہاء نے بھی اس دن روزہ رکھنے سے منع کرتے ہوئے، اس دن کے روزے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
🔷 امام صادق علیہ السلام سے عاشورا کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو امامؑ نے فرمایا:
یہ دن امام حسینؑ کی شہادت کا دن ہے، اگر تم اس دن امام حسینؑ پر ہونے والے مصائب سے راضی و خوش ہو تو اس دن روزہ رکھو۔
بنی امیہ لعنت اللہ علیہم اور اہل شام، کہ جہنوں نے امام حسینؑ کو شہید کیا تھا، نے نذر مانی ہوئی تھی کہ اگر حسینؑ قتل ہو جائے اور ہمارا شامی لشکر سلامتی کے ساتھ واپس آ جائے اور مقام خلافت آل ابوسفیان کو مل جائے تو عاشورا کے دن کو خوشی کے ساتھ اپنے لیے عید کا دن قرار دیں گے اور شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
📚 امالی شیخ طوسی، ص 667، رقم1397 / 4.
🔷 امام رضا علیہ السلام سے اسی بارے میں حدیث نقل ہوئی ہے کہ:
یہ دن وہ دن ہے کہ بنی امیہ اس دن روزہ رکھتے تھے، حالانکہ اس دن اسلام اور مسلمین عزادار ہوئے تھے، پس آج کے دن روزہ نہ رکھو، جو بھی اس دن روزہ رکھے گا تو آل امیہ کی طرح اسکے نصیب میں بھی جہنم کی آگ لکھی جائے گی۔
📚 حوالہ جات:
اصول کافی، ج 4، ص147، شماره حدیث6۔
تهذیب الاحکام، ج4، ص301، شماره حدیث912۔
الإستبصار، ج2، ص135، شماره حدیث443۔
بحارالأنوار، ج61، ص291۔
شفاءالصدور، طهرانی، ص259۔
https://t.me/islamwitheman/3923
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
بنى امیہ لعنت اللہ علیہم نہ فقط یہ کہ امام حسین علیہ السلام اور انکے اہلبیتؑ و اصحابؓ کی شہادت پر عزاداری کرنے کی مخالفت کرتے تھے بلکہ عملی طور پر بھی مقابلہ کرنے کی غرض سے انھوں نے روزِ عاشورا کو جشن و خوشی و عید کا دن قرار دیا ہوا تھا۔
بنی امیہ روزِ عاشورا کو مبارک دن جانتے تھے اور اس دن جشن کی محافل برپا کیا کرتے تھے اور اس دن پورے سال کا راشن گھروں میں ذخیرہ کیا کرتے تھے اور وہ یہ سارے کام ہر سال انجام دیا کرتے تھے۔
اسی وجہ سے آئمہ معصومینؑ اور انہی کی راہ پر چلنے والے فقہاء نے بھی اس دن روزہ رکھنے سے منع کرتے ہوئے، اس دن کے روزے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
🔷 امام صادق علیہ السلام سے عاشورا کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو امامؑ نے فرمایا:
یہ دن امام حسینؑ کی شہادت کا دن ہے، اگر تم اس دن امام حسینؑ پر ہونے والے مصائب سے راضی و خوش ہو تو اس دن روزہ رکھو۔
بنی امیہ لعنت اللہ علیہم اور اہل شام، کہ جہنوں نے امام حسینؑ کو شہید کیا تھا، نے نذر مانی ہوئی تھی کہ اگر حسینؑ قتل ہو جائے اور ہمارا شامی لشکر سلامتی کے ساتھ واپس آ جائے اور مقام خلافت آل ابوسفیان کو مل جائے تو عاشورا کے دن کو خوشی کے ساتھ اپنے لیے عید کا دن قرار دیں گے اور شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
📚 امالی شیخ طوسی، ص 667، رقم1397 / 4.
🔷 امام رضا علیہ السلام سے اسی بارے میں حدیث نقل ہوئی ہے کہ:
یہ دن وہ دن ہے کہ بنی امیہ اس دن روزہ رکھتے تھے، حالانکہ اس دن اسلام اور مسلمین عزادار ہوئے تھے، پس آج کے دن روزہ نہ رکھو، جو بھی اس دن روزہ رکھے گا تو آل امیہ کی طرح اسکے نصیب میں بھی جہنم کی آگ لکھی جائے گی۔
📚 حوالہ جات:
اصول کافی، ج 4، ص147، شماره حدیث6۔
تهذیب الاحکام، ج4، ص301، شماره حدیث912۔
الإستبصار، ج2، ص135، شماره حدیث443۔
بحارالأنوار، ج61، ص291۔
شفاءالصدور، طهرانی، ص259۔
https://t.me/islamwitheman/3923
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 10 محرم کو قبروں پر مٹی ڈالنا 🔷
عمیر کہاں جارھے ھو آج یہ بیلچے بالٹیاں لیکر۔۔؟
بھائی قبرستان، اپنے بڑوں کی قبروں کو ٹھیک کرنے بھائی۔
اچھا عمیر بھائی پر آج تو امام مظلوم محسن انسانیت امام حسین علیہ السلام کی شھادت کا دن یے۔
ہاں بھائی وہ تو یے،
ٹھیک یے۔…
عمیر کہاں جارھے ھو آج یہ بیلچے بالٹیاں لیکر۔۔؟
بھائی قبرستان، اپنے بڑوں کی قبروں کو ٹھیک کرنے بھائی۔
اچھا عمیر بھائی پر آج تو امام مظلوم محسن انسانیت امام حسین علیہ السلام کی شھادت کا دن یے۔
ہاں بھائی وہ تو یے،
ٹھیک یے۔…
🔴 کربلا میں لعین زادوں کا پہلا حملہ 🔴
جب ابن سعد ملعون کو جناب حر اور کچھ دوسرے افراد کے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ملنے کا علم ہوا تو وہ اس بات سے خوف زدہ ہوا کہ کہیں دوسرے افراد بھی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ نہ مل جائیں، لہذا ابن سعد لعین سامنے آیا اور چیخ کر کہا: اے درید اپنا علم آگے لے آؤ جب وہ علم اس کے نزدیک لایا تو عمر بن سعد لعین نے کمان میں تیر جوڑ کر امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی طرف پھینکا اور اپنے لشکر کو مخاطب کر کے کہنے لگا اے لوگوں گواہ رہنا کہ میں وہ پہلا شخص ہوں کہ جس نے جنگ کے لیے امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی طرف تیر پھینکا.
سید ابن طاؤس کی نقل کردہ روایت کے مطابق جب ابن سعد لعین نے امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی طرف تیر پھینکا تو اس کے بعد ان ملعونوں نے امام حسین علیہ السلام کے لشکر پر تیر برسانے شروع کر دیئے اور ہزاروں کی تعداد میں آنے والے تیروں نے امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کو زخمی کیا. اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب کی طرف رخ کیا اور فرمایا کھڑے ہو جاؤ اور موت کے لئے تیار ہو جاؤ بیشک یہ تیر تمہاری طرف اس قوم کے قاصد ہیں.
کتاب منتھی الامال (احسن المقال) کے مطابق ابن سعد لعین کے لشکر نے تیر چلانے کے بعد امام حسین علیہ السلام کے لشکر پر حملہ کر دیا کافی دیر تک دونوں لشکروں میں جنگ ہوتی رہی امام حسین علیہ السلام کے اصحاب نے اپنی بہت ہی کم تعداد کے باوجود شجاعت، بہادری اور ایثار و قربانی کی عظیم تاریخ رقم کی. اس جنگ میں عمر بن سعد لعنتی کی فوج کے بے شمار افراد واصل جہنم ہوئے. اس اجتماعی حملے میں امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تقریبا آدھے افراد نے جام شہادت نوش کیا. اس کے بعد دو یا تین یا چار افراد مل کر میدان جنگ میں آتے اور شجاعت کے ساتھ جنگ کرتے کرتے شہادت سے سرفراز ہوتے اور کبھی فقط ایک ہی فرد میدان جنگ میں آنے کے بعد دشمن کے ہزاروں فوجیوں پر حملہ کر دیتا.
پس ہر کوئی میدان جنگ میں جانے سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتا اور میدان جنگ میں جانے کی اجازت لے کر دشمن پر حملہ کر دیتا.
https://t.me/islamwitheman/3878
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
جب ابن سعد ملعون کو جناب حر اور کچھ دوسرے افراد کے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ملنے کا علم ہوا تو وہ اس بات سے خوف زدہ ہوا کہ کہیں دوسرے افراد بھی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ نہ مل جائیں، لہذا ابن سعد لعین سامنے آیا اور چیخ کر کہا: اے درید اپنا علم آگے لے آؤ جب وہ علم اس کے نزدیک لایا تو عمر بن سعد لعین نے کمان میں تیر جوڑ کر امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی طرف پھینکا اور اپنے لشکر کو مخاطب کر کے کہنے لگا اے لوگوں گواہ رہنا کہ میں وہ پہلا شخص ہوں کہ جس نے جنگ کے لیے امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی طرف تیر پھینکا.
سید ابن طاؤس کی نقل کردہ روایت کے مطابق جب ابن سعد لعین نے امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی طرف تیر پھینکا تو اس کے بعد ان ملعونوں نے امام حسین علیہ السلام کے لشکر پر تیر برسانے شروع کر دیئے اور ہزاروں کی تعداد میں آنے والے تیروں نے امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کو زخمی کیا. اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب کی طرف رخ کیا اور فرمایا کھڑے ہو جاؤ اور موت کے لئے تیار ہو جاؤ بیشک یہ تیر تمہاری طرف اس قوم کے قاصد ہیں.
کتاب منتھی الامال (احسن المقال) کے مطابق ابن سعد لعین کے لشکر نے تیر چلانے کے بعد امام حسین علیہ السلام کے لشکر پر حملہ کر دیا کافی دیر تک دونوں لشکروں میں جنگ ہوتی رہی امام حسین علیہ السلام کے اصحاب نے اپنی بہت ہی کم تعداد کے باوجود شجاعت، بہادری اور ایثار و قربانی کی عظیم تاریخ رقم کی. اس جنگ میں عمر بن سعد لعنتی کی فوج کے بے شمار افراد واصل جہنم ہوئے. اس اجتماعی حملے میں امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تقریبا آدھے افراد نے جام شہادت نوش کیا. اس کے بعد دو یا تین یا چار افراد مل کر میدان جنگ میں آتے اور شجاعت کے ساتھ جنگ کرتے کرتے شہادت سے سرفراز ہوتے اور کبھی فقط ایک ہی فرد میدان جنگ میں آنے کے بعد دشمن کے ہزاروں فوجیوں پر حملہ کر دیتا.
پس ہر کوئی میدان جنگ میں جانے سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتا اور میدان جنگ میں جانے کی اجازت لے کر دشمن پر حملہ کر دیتا.
https://t.me/islamwitheman/3878
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 لشکرِ حسینی کیطرف پہلا تیر 🔷
صبح عاشور ابن سعد کا تاحدِ نگاہ لشکر، امامؑ کی مختصر جماعت کے سامنے آ کھڑا ہوا اصحاب کی صفوں کی پشت پر خیام تھے اور خیام کے عقب میں امامؑ کے حکم سے خندق کھودی گئی تھی جس میں لکڑیاں اور جھاڑیاں وغیرہ بھر کر ان کو آگ لگا دی گئی تھی تاکہ دشمن خیام کی پشت سے حملہ آور نہ ہو سکے۔
(حدیث کربلا، طالب جوہری)
امامؑ نے جب دشمن کا اژدہام ملاحظہ فرمایا تو آپؑ نے قران منگوا کر اپنے سر پر رکھا اور اپنے پروردگار سے مخاطب ہوئے:
''بارالہا! تو ہر مصیبت میں میرا بھروسہ ہے اور ہر سختی میں میری امید ہے اور تو ہی ہر اس پریشانی میں جو مجھ پر نازل ہوئی میرا اطمینان اور سہارا ہے۔ کتنے ایسے ہم وغم ہیں کہ جن سے دل مضطرب ہو جاتا ہے اور چارہ تدبیر گھٹ جاتے ہیں اور دوست ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ اور دشمن سخت کلامی کرتا ہے۔ میں انہیں پریشانیوں کو تیری بارگاہ میں لایا اور تجھ سے ان کا شکوہ کیا اس لئے کہ میں ماسویٰ (یعنی ہر غیر) کو چھوڑ کر صرف تیرا ہی طالب رہا تو تو نے انہیں پریشانیوں کو زائل فرما دیا اور مشکل حل کر دی پس تو ہی ہر نعمت کا مالک اور ہر نیکی کا دارا (محور اور جزا دینے والا ) اور ہر امید کا منتہا ہے''۔
(ارشاد، شیخ مفید، اور طبری)
اس مناجات کے بعد امام حسین علیہ السلام نے رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی زرہ پہنی اور آپؑ کا خود جس کا نام ''سحاب'' تھا اپنے سر پر رکھا اور رسول اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی تلوار حمائل کی اور خیمے سے باہر تشریف لے آئے۔
لشکر یزید کا پرچم، ابن سعد کے غلام "درید" کے ہاتھ میں تھا۔ ابن سعد نے اسے آواز دے کر کہا کہ پرچم میرے پاس لاؤ جب وہ پرچم لے کر قریب آگیا تو ابن سعد نے کمان میں تیر جوڑ کر لشکر حسین علیہ السلام کی طرف تیر چلایا اور کہا کہ تم لوگ گواہی دینا کہ حسینؑ کی طرف پہلا تیر میں نے چلایا۔
کتاب ''روضتہ الصفا'' میں مرقوم ہے کہ امامؑ کے لشکر میں سے کسی نے کہا کہ تم ہی سب سے پہلے جہنم میں جاؤ گے۔ ابن سعد کے تیر چلاتے ہی یزیدیوں کے تیر اندازوں نے امامؑ کی جماعت پر تیروں کی بارش کر دی۔ ان تیروں نے امامؑ کی جماعت کے ہر فرد کو نقصان پہنچایا۔ محمد بن ابیطالب کی روایت کے مطابق تیر اندازوں کی تعداد آٹھ ہزار تھی اس صورت حال میں امامؑ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:
''الله تم لوگوں پر اپنی رحمت نازل کرے اب موت کے لیے تیار ہو جاؤ کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے اس لئے کہ یہ تیر تمہارے لئے فوج مخالف کا پیغام لائے ہیں''
اس کے ساتھ ہی یزید کی فوج نے امام علیہ السلام کی جماعت پر حملہ کر دیا تاریخ میں اس حملے کو ''حملہ اولیٰ'' کا نام دیا ہے۔
علامہ طالب جوہری نے اپنی کتاب ''حدیث کربلا'' میں ''بحارالانوار'' کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ اس پہلے حملے میں امامؑ کے پچاس اصحاب کی شہادت ہوئی جو کہ درست نہیں ہے اگر اس تعداد کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر حملہ اولیٰ میں ہی امامؑ کی جماعت تقریباً نصف سے زیادہ شہید ہو گئی تھی تو کیا پھر شہداء کی ایک بڑی تعداد کہ جس کا تذکرہ اور ان کی انفرادی جنگ کے احوال تاریخ نے رقم کیے ہیں درست نہیں؟ اگر کل نوے (٩٠) شہداء میں سے ٥٠ حملہ اولیٰ میں ہی شہید ہو جائیں تو باقی چالیس (٤٠) رہ جائیں گے اور اگر صبح عاشور لشکر یزید کے سامنے کھڑی ہونے والی امامؑ کی جماعت کی متفقہ تعداد بہتر (٧٢) پہ اکتفا کیا جائے تو باقی بچ جانے والوں کی تعداد بائیس (٢٢) رہ جاتی ہے۔
جب کہ تاریخی ماخذوں میں انفرادی جنگیں کرنے والے امامؑ کے اصحاب کی تعداد چالیس یا بائیس سے زیادہ ہے۔
https://t.me/islamwitheman/3925
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
صبح عاشور ابن سعد کا تاحدِ نگاہ لشکر، امامؑ کی مختصر جماعت کے سامنے آ کھڑا ہوا اصحاب کی صفوں کی پشت پر خیام تھے اور خیام کے عقب میں امامؑ کے حکم سے خندق کھودی گئی تھی جس میں لکڑیاں اور جھاڑیاں وغیرہ بھر کر ان کو آگ لگا دی گئی تھی تاکہ دشمن خیام کی پشت سے حملہ آور نہ ہو سکے۔
(حدیث کربلا، طالب جوہری)
امامؑ نے جب دشمن کا اژدہام ملاحظہ فرمایا تو آپؑ نے قران منگوا کر اپنے سر پر رکھا اور اپنے پروردگار سے مخاطب ہوئے:
''بارالہا! تو ہر مصیبت میں میرا بھروسہ ہے اور ہر سختی میں میری امید ہے اور تو ہی ہر اس پریشانی میں جو مجھ پر نازل ہوئی میرا اطمینان اور سہارا ہے۔ کتنے ایسے ہم وغم ہیں کہ جن سے دل مضطرب ہو جاتا ہے اور چارہ تدبیر گھٹ جاتے ہیں اور دوست ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ اور دشمن سخت کلامی کرتا ہے۔ میں انہیں پریشانیوں کو تیری بارگاہ میں لایا اور تجھ سے ان کا شکوہ کیا اس لئے کہ میں ماسویٰ (یعنی ہر غیر) کو چھوڑ کر صرف تیرا ہی طالب رہا تو تو نے انہیں پریشانیوں کو زائل فرما دیا اور مشکل حل کر دی پس تو ہی ہر نعمت کا مالک اور ہر نیکی کا دارا (محور اور جزا دینے والا ) اور ہر امید کا منتہا ہے''۔
(ارشاد، شیخ مفید، اور طبری)
اس مناجات کے بعد امام حسین علیہ السلام نے رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی زرہ پہنی اور آپؑ کا خود جس کا نام ''سحاب'' تھا اپنے سر پر رکھا اور رسول اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی تلوار حمائل کی اور خیمے سے باہر تشریف لے آئے۔
لشکر یزید کا پرچم، ابن سعد کے غلام "درید" کے ہاتھ میں تھا۔ ابن سعد نے اسے آواز دے کر کہا کہ پرچم میرے پاس لاؤ جب وہ پرچم لے کر قریب آگیا تو ابن سعد نے کمان میں تیر جوڑ کر لشکر حسین علیہ السلام کی طرف تیر چلایا اور کہا کہ تم لوگ گواہی دینا کہ حسینؑ کی طرف پہلا تیر میں نے چلایا۔
کتاب ''روضتہ الصفا'' میں مرقوم ہے کہ امامؑ کے لشکر میں سے کسی نے کہا کہ تم ہی سب سے پہلے جہنم میں جاؤ گے۔ ابن سعد کے تیر چلاتے ہی یزیدیوں کے تیر اندازوں نے امامؑ کی جماعت پر تیروں کی بارش کر دی۔ ان تیروں نے امامؑ کی جماعت کے ہر فرد کو نقصان پہنچایا۔ محمد بن ابیطالب کی روایت کے مطابق تیر اندازوں کی تعداد آٹھ ہزار تھی اس صورت حال میں امامؑ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:
''الله تم لوگوں پر اپنی رحمت نازل کرے اب موت کے لیے تیار ہو جاؤ کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے اس لئے کہ یہ تیر تمہارے لئے فوج مخالف کا پیغام لائے ہیں''
اس کے ساتھ ہی یزید کی فوج نے امام علیہ السلام کی جماعت پر حملہ کر دیا تاریخ میں اس حملے کو ''حملہ اولیٰ'' کا نام دیا ہے۔
علامہ طالب جوہری نے اپنی کتاب ''حدیث کربلا'' میں ''بحارالانوار'' کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ اس پہلے حملے میں امامؑ کے پچاس اصحاب کی شہادت ہوئی جو کہ درست نہیں ہے اگر اس تعداد کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر حملہ اولیٰ میں ہی امامؑ کی جماعت تقریباً نصف سے زیادہ شہید ہو گئی تھی تو کیا پھر شہداء کی ایک بڑی تعداد کہ جس کا تذکرہ اور ان کی انفرادی جنگ کے احوال تاریخ نے رقم کیے ہیں درست نہیں؟ اگر کل نوے (٩٠) شہداء میں سے ٥٠ حملہ اولیٰ میں ہی شہید ہو جائیں تو باقی چالیس (٤٠) رہ جائیں گے اور اگر صبح عاشور لشکر یزید کے سامنے کھڑی ہونے والی امامؑ کی جماعت کی متفقہ تعداد بہتر (٧٢) پہ اکتفا کیا جائے تو باقی بچ جانے والوں کی تعداد بائیس (٢٢) رہ جاتی ہے۔
جب کہ تاریخی ماخذوں میں انفرادی جنگیں کرنے والے امامؑ کے اصحاب کی تعداد چالیس یا بائیس سے زیادہ ہے۔
https://t.me/islamwitheman/3925
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔴 کربلا میں لعین زادوں کا پہلا حملہ 🔴
جب ابن سعد ملعون کو جناب حر اور کچھ دوسرے افراد کے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ملنے کا علم ہوا تو وہ اس بات سے خوف زدہ ہوا کہ کہیں دوسرے افراد بھی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ نہ مل جائیں، لہذا ابن سعد لعین سامنے…
جب ابن سعد ملعون کو جناب حر اور کچھ دوسرے افراد کے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ملنے کا علم ہوا تو وہ اس بات سے خوف زدہ ہوا کہ کہیں دوسرے افراد بھی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ نہ مل جائیں، لہذا ابن سعد لعین سامنے…
🔷جنگ مغلوبہ، حملہ اولیٰ 🔷
شیخ سماوی نے اپنی کتاب ''ابصارالعین'' میں حملہ اولیٰ کی تفصیلات کے ضمن میں لکھا ہے:
''امامؑ کی خدمت میں حر کے پہنچنے کے بعد عمر ابن سعد نے اپنی فوج کو امامؑ کی جماعت پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔
عمر سعد کی فوج میں سے لیسار اور سالم نے انفرادی جنگ کی خواہش ظاہر کی اس کے علاوہ کچھ اور بھی انفرادی لڑائیاں ہوئیں۔
اپنے فوجیوں کی انفرادی جنگ کا حال دیکھ کر عمر ابن سعد اور شمر ملعون نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ خبردار کوئی ان سے اکیلا اکیلا نہ لڑے کیوں کہ یہ لوگ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہیں۔ اس حکم پر یزیدیوں نے امامؑ کی جماعت کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور یکبارگی حملہ کر دیا۔ امامؑ کی فوج نے بڑی ہمت اور شجاعت سے ان کا مقابلہ کیا اور یزیدیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ اس پر یزیدی واپس پلٹ گئے اس حملے کے بعد اصحاب حسین (سلام اللہ علیہم) کی تعداد میں کمی نظر آنے لگی''۔
محمد حسیں قرشی نے اپنی کتاب ''الحیات الامام الحسین'' میں تحریر کیا ہے کہ ابن سعد کی فوج کو امامؑ کی جماعت نے کئی بار ہزیمت اٹھانے پر مجبور کیا۔
علامہ طالب جوہری نے فاضل خیابانی کی کتاب ''وقائع الایام'' سے اقتباس کی روشنی میں تحریر کیا ہے کہ جنگوں میں دستور یہ تھا کہ پہلے جنگ کے آغاز میں ایک کے ساتھ ایک کا مقابلہ ہوتا تھا۔ دونوں طرف سے ایک ایک آدمی میدان میں نکلتا اور رجز پڑھتا اور پھر لڑائی ہوتی۔ کئی لڑائیوں کے بعد کہیں جنگ مغلوبہ (تمام فوج کا حملہ) کی نوبت آتی۔ لیکن عمر ابن سعد نے یہاں یہ کیا کہ انفرادی مبارز طلبی کی بجائے جنگ مغلوبہ سے حملے کا آغاز کیا۔
(حدیث کربلا، طالب جوہری)
■ حملہ اولیٰ کے شہداء کے اسماء گرامی
١- حباب بن عامر تمیمی
٢- جبلہ بن علی شیبانی
٣- جنادہ بن کعب بن حرث انصاری
٤- امیہ بن سعد طائ
٥- بشر بن عمرو حضرمی
٦- جبر بن حجاج
٧- ادھم بن امیہ عبدی بصری
٨- جندب بن حجیر کندی
٩- حارث بن امراءالقیس کندی
١٠- جوین بن مالک
١١- حارث بن نبہان
١٢- حجاج بن بدر
١٣- حللاس بن عمرو الراسبی
١٤- زاہر بن عمرو کندی
١٥- زہیر بن سلیم ازدی
١٦- سالم مولیٰ عامر بن مسلم
١٧- سالم بن عمرو
١٨- سوار بن ابی عمیر
١٩- شبیب بن عبدالله مولیٰ حرث بن سریح ہمدانی
٢٠- شبیب بن عبدالله نہثلی بصری
٢١- عائذ بن مجمع
٢٢- عامر مسلم عبدی
٢٣- عبدالله بن بشر
٢٤- عبدالله بن یزید بن نبیط عبدی
٢٥- عبیداللہ بن یزید بن نبیط عبدی
٢٦- عبدالرحمان بن عبدرب انصاری خزرجی
٢٧- عبدالرحمان بن مسعود
٢٨- عمرو بن ضبعیہ تمیمی
٢٩- عمار بن حسان طائی
٣٠- عمار بن ابی سلامہ ہمدانی
٣١- قاسم بن حبیب بن ابی بشر ازدی
٣٢- قاسط بن زہیر تغلبی
٣٣- کردوس بن زہیر تغلبی
٣٤- کنانہ بن عتیق
٣٥- مسلم بن کثیر ازدی
٣٦- مسعود بن حجاج
٣٧- مسقط بن زہیر
٣٨- نذر بن ابی نیزر
٣٩- نعمان بن عمرو الراسبی
٤٠- نعیم بن عجلان
٤١- عبدالله بن عمیر کلبی
(سلام اللہ علیہم)
📚 یہ فہرست کتاب حدیث کربلا سے پیش کی گئی ہے۔
https://t.me/islamwitheman/3926
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
شیخ سماوی نے اپنی کتاب ''ابصارالعین'' میں حملہ اولیٰ کی تفصیلات کے ضمن میں لکھا ہے:
''امامؑ کی خدمت میں حر کے پہنچنے کے بعد عمر ابن سعد نے اپنی فوج کو امامؑ کی جماعت پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔
عمر سعد کی فوج میں سے لیسار اور سالم نے انفرادی جنگ کی خواہش ظاہر کی اس کے علاوہ کچھ اور بھی انفرادی لڑائیاں ہوئیں۔
اپنے فوجیوں کی انفرادی جنگ کا حال دیکھ کر عمر ابن سعد اور شمر ملعون نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ خبردار کوئی ان سے اکیلا اکیلا نہ لڑے کیوں کہ یہ لوگ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہیں۔ اس حکم پر یزیدیوں نے امامؑ کی جماعت کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور یکبارگی حملہ کر دیا۔ امامؑ کی فوج نے بڑی ہمت اور شجاعت سے ان کا مقابلہ کیا اور یزیدیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ اس پر یزیدی واپس پلٹ گئے اس حملے کے بعد اصحاب حسین (سلام اللہ علیہم) کی تعداد میں کمی نظر آنے لگی''۔
محمد حسیں قرشی نے اپنی کتاب ''الحیات الامام الحسین'' میں تحریر کیا ہے کہ ابن سعد کی فوج کو امامؑ کی جماعت نے کئی بار ہزیمت اٹھانے پر مجبور کیا۔
علامہ طالب جوہری نے فاضل خیابانی کی کتاب ''وقائع الایام'' سے اقتباس کی روشنی میں تحریر کیا ہے کہ جنگوں میں دستور یہ تھا کہ پہلے جنگ کے آغاز میں ایک کے ساتھ ایک کا مقابلہ ہوتا تھا۔ دونوں طرف سے ایک ایک آدمی میدان میں نکلتا اور رجز پڑھتا اور پھر لڑائی ہوتی۔ کئی لڑائیوں کے بعد کہیں جنگ مغلوبہ (تمام فوج کا حملہ) کی نوبت آتی۔ لیکن عمر ابن سعد نے یہاں یہ کیا کہ انفرادی مبارز طلبی کی بجائے جنگ مغلوبہ سے حملے کا آغاز کیا۔
(حدیث کربلا، طالب جوہری)
■ حملہ اولیٰ کے شہداء کے اسماء گرامی
١- حباب بن عامر تمیمی
٢- جبلہ بن علی شیبانی
٣- جنادہ بن کعب بن حرث انصاری
٤- امیہ بن سعد طائ
٥- بشر بن عمرو حضرمی
٦- جبر بن حجاج
٧- ادھم بن امیہ عبدی بصری
٨- جندب بن حجیر کندی
٩- حارث بن امراءالقیس کندی
١٠- جوین بن مالک
١١- حارث بن نبہان
١٢- حجاج بن بدر
١٣- حللاس بن عمرو الراسبی
١٤- زاہر بن عمرو کندی
١٥- زہیر بن سلیم ازدی
١٦- سالم مولیٰ عامر بن مسلم
١٧- سالم بن عمرو
١٨- سوار بن ابی عمیر
١٩- شبیب بن عبدالله مولیٰ حرث بن سریح ہمدانی
٢٠- شبیب بن عبدالله نہثلی بصری
٢١- عائذ بن مجمع
٢٢- عامر مسلم عبدی
٢٣- عبدالله بن بشر
٢٤- عبدالله بن یزید بن نبیط عبدی
٢٥- عبیداللہ بن یزید بن نبیط عبدی
٢٦- عبدالرحمان بن عبدرب انصاری خزرجی
٢٧- عبدالرحمان بن مسعود
٢٨- عمرو بن ضبعیہ تمیمی
٢٩- عمار بن حسان طائی
٣٠- عمار بن ابی سلامہ ہمدانی
٣١- قاسم بن حبیب بن ابی بشر ازدی
٣٢- قاسط بن زہیر تغلبی
٣٣- کردوس بن زہیر تغلبی
٣٤- کنانہ بن عتیق
٣٥- مسلم بن کثیر ازدی
٣٦- مسعود بن حجاج
٣٧- مسقط بن زہیر
٣٨- نذر بن ابی نیزر
٣٩- نعمان بن عمرو الراسبی
٤٠- نعیم بن عجلان
٤١- عبدالله بن عمیر کلبی
(سلام اللہ علیہم)
📚 یہ فہرست کتاب حدیث کربلا سے پیش کی گئی ہے۔
https://t.me/islamwitheman/3926
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 لشکرِ حسینی کیطرف پہلا تیر 🔷
صبح عاشور ابن سعد کا تاحدِ نگاہ لشکر، امامؑ کی مختصر جماعت کے سامنے آ کھڑا ہوا اصحاب کی صفوں کی پشت پر خیام تھے اور خیام کے عقب میں امامؑ کے حکم سے خندق کھودی گئی تھی جس میں لکڑیاں اور جھاڑیاں وغیرہ بھر کر ان کو آگ لگا دی گئی…
صبح عاشور ابن سعد کا تاحدِ نگاہ لشکر، امامؑ کی مختصر جماعت کے سامنے آ کھڑا ہوا اصحاب کی صفوں کی پشت پر خیام تھے اور خیام کے عقب میں امامؑ کے حکم سے خندق کھودی گئی تھی جس میں لکڑیاں اور جھاڑیاں وغیرہ بھر کر ان کو آگ لگا دی گئی…
🔷 شہادت عبدالله بن امام حسنؑ 🔷
وہ مصائب جو ہمارے منبروں سے پڑھے نہیں جاتے۔ ان میں سے ایک امام حسن علیہ السلام کے ایک فرزند عبداللہ ابن حسنؑ کی شہادت ہے۔
عبداللہ ابن حسنؑ کی شہادت عین اس وقت ہوئی جب امام حسین علیہ السلام کو اشقیاء نے نرغے میں گھیر کر شدت سے حملہ کیا تھا اور آپ زمین پر گر گئے تھے، ملاعین آپ کو قتل کرنے کے لئے آگے بڑھنا چاہتے تھے، اس وقت اس ننھے سے فرزند کی شہادت آپؑ کی گود میں ہوئی۔
جب دشمنانِ خدا نے امام حسین علیہ السلام کو آخری وقت میں گھیر لیا تو عبداللہ بن حسنؑ جو امام حسن علیہ السلام کے بیٹے تھے، جن کی عمر اس وقت بمشکل 10 سال بھی نہیں ہو گی، خیمے میں خواتین کے پاس سے فوج کی طرف نکلے۔
اس بچے کی پرورش امام حسین علیہ السلام نے کی تھی، چنانچہ عبداللہ علیہ السلام کو اپنے چچا حسینؑ سے بے پناہ محبّت تھی۔ عبداللہ علیہ السلام بھاگ کر امام حسین علیہ السلام کی طرف روانہ ہوئے تو جناب زینب سلام اللہ علیھا نے چاہا کہ عبداللہ کو روکیں، اور امام حسینؑ نے بھی آواز دے کر کہا کہ "اے بہن! اس کو روک لو"۔
لیکن عبداللہ علیہ السلام نے سختی سے انکار کیا اور کہا؛ "قسم بخدا میں اپنے چچا کو تنہا نہیں چھوڑوں گا"۔
اور جب ابجر بن کعب (لعین) امام حسینؑ کی طرف تلوار لے کر نکلا تو بچے نے اس کو پکار کر کہا؛ "اے خبیث عورت کے بیٹے! کیا تو میرے چچا کو قتل کرے گا؟"
یہ دیکھ کر ابجر(ملون) نے عبداللہ (علیہ السلام) پر حملہ کیا، عبداللہ (علیہ السلام) نے ہاتھ سے تلوار کو روکنے کی کوشش کی، لیکن تلوار نے آپ کا ہاتھ کاٹ دیا اور آپ کا ہاتھ کھال سے لٹکنے لگا۔ اس پر عبداللہ (علیہ السلام) نے پکار کر کہا: "ہائے میری ماں"
امام حسین علیہ السلام نے بچے کو پکڑ کر سینے سے لگایا اور فرمایا: "اے میرے بھائی کی یادگار، اس مصیبت پر صبر کرو جو تم پر وارد ہوئی ہے اور اس کے بدلے اللہ سے بہتری کی امید رکھو، بے شک وہ تمہیں تمہارے نیک اور صالح اجداد سے ملا دے گا۔"
الا لعنۃ اللہ علی القوم الظالمین
📚 بحارالأنوار، ج45، ص153۔
الارشاد، ص307۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
وہ مصائب جو ہمارے منبروں سے پڑھے نہیں جاتے۔ ان میں سے ایک امام حسن علیہ السلام کے ایک فرزند عبداللہ ابن حسنؑ کی شہادت ہے۔
عبداللہ ابن حسنؑ کی شہادت عین اس وقت ہوئی جب امام حسین علیہ السلام کو اشقیاء نے نرغے میں گھیر کر شدت سے حملہ کیا تھا اور آپ زمین پر گر گئے تھے، ملاعین آپ کو قتل کرنے کے لئے آگے بڑھنا چاہتے تھے، اس وقت اس ننھے سے فرزند کی شہادت آپؑ کی گود میں ہوئی۔
جب دشمنانِ خدا نے امام حسین علیہ السلام کو آخری وقت میں گھیر لیا تو عبداللہ بن حسنؑ جو امام حسن علیہ السلام کے بیٹے تھے، جن کی عمر اس وقت بمشکل 10 سال بھی نہیں ہو گی، خیمے میں خواتین کے پاس سے فوج کی طرف نکلے۔
اس بچے کی پرورش امام حسین علیہ السلام نے کی تھی، چنانچہ عبداللہ علیہ السلام کو اپنے چچا حسینؑ سے بے پناہ محبّت تھی۔ عبداللہ علیہ السلام بھاگ کر امام حسین علیہ السلام کی طرف روانہ ہوئے تو جناب زینب سلام اللہ علیھا نے چاہا کہ عبداللہ کو روکیں، اور امام حسینؑ نے بھی آواز دے کر کہا کہ "اے بہن! اس کو روک لو"۔
لیکن عبداللہ علیہ السلام نے سختی سے انکار کیا اور کہا؛ "قسم بخدا میں اپنے چچا کو تنہا نہیں چھوڑوں گا"۔
اور جب ابجر بن کعب (لعین) امام حسینؑ کی طرف تلوار لے کر نکلا تو بچے نے اس کو پکار کر کہا؛ "اے خبیث عورت کے بیٹے! کیا تو میرے چچا کو قتل کرے گا؟"
یہ دیکھ کر ابجر(ملون) نے عبداللہ (علیہ السلام) پر حملہ کیا، عبداللہ (علیہ السلام) نے ہاتھ سے تلوار کو روکنے کی کوشش کی، لیکن تلوار نے آپ کا ہاتھ کاٹ دیا اور آپ کا ہاتھ کھال سے لٹکنے لگا۔ اس پر عبداللہ (علیہ السلام) نے پکار کر کہا: "ہائے میری ماں"
امام حسین علیہ السلام نے بچے کو پکڑ کر سینے سے لگایا اور فرمایا: "اے میرے بھائی کی یادگار، اس مصیبت پر صبر کرو جو تم پر وارد ہوئی ہے اور اس کے بدلے اللہ سے بہتری کی امید رکھو، بے شک وہ تمہیں تمہارے نیک اور صالح اجداد سے ملا دے گا۔"
الا لعنۃ اللہ علی القوم الظالمین
📚 بحارالأنوار، ج45، ص153۔
الارشاد، ص307۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌸 حبیب بن مظاہر اسدی 🌸
حبیب بن مظاہر اسدی، قبیلۂ بنو اسد میں سے اور کوفہ کے باشندے ہیں اور حضرت علیؑ کے خاص صحابی ہیں۔ وہ ان کوفیوں میں سے ہیں جنہوں نے معاویہ کی موت کے بعد امام حسینؑ کو خط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی لیکن جب انھوں نے کوفیوں کی بیعت شکنی کو دیکھا تو چپکے سے کوفہ چھوڑ کر امام حسینؑ سے جا ملے اور 75 سال کی عمر میں امام حسینؑ کی رکاب میں جام شہادت نوش کر گئے۔
حبیب مرد عابد و پارسا تھے، تقوٰی اور حدود الٰہیہ کی رعایت کرتے تھے، حافظ قرآن تھے، اور ہر شب عبادت و مناجات میں مصروف ہوتے تھے اور امام حسینؑ کے بقول ہر شب ایک ختم قرآن کیا کرتے تھے۔ پاک و پاکیزہ اور سادہ زندگی گذارتے تھے، اس قدر دنیا سے بے رغبت تھے اور زہد کو اپنی زندگی کے لئے نمونۂ عمل بنائے ہوئے تھے کہ جس قدر بھی انھیں مال و دولت اور امان ناموں کی پیشکش ہوئی، انھوں نے قبول نہ کیا اور کہا: "اگر ہم زندہ رہیں اور امام حسینؑ کو مظلومیت کی حالت میں قتل کر دیا جائے تو رسول خداؐ کے حضور ہمارے پاس کوئی عذر نہ ہوگا (اور ہمیں معاف نہ کیا جائے گا)۔"
■ ابن کلبی اور ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ انہیں رسولخداؐ کی صحبت کی سعادت ملی ہے۔
■ امام علیؑ کا دور
حبیب مدینہ چھوڑ کر امیرالمؤمنینؑ کے ساتھ کوفہ چلے گئے اور آپؑ کے ساتھ جہاد و کوشش میں مصروف ہوئے اور آپؑ کے اصحاب خاص کے زمرے میں قرار پائے اور آپؑ کے علوم کے حاملین میں شمار ہوئے۔ حضرت علیؑ نے انہیں علم منایا و بلایا عطا کیا تھا۔ حبیب شرطۃ الخمیس کے رکن خاص تھے اور شرطۃ الخمیس خطرات کی صورت میں فوری رد عمل کے لئے تشکیل یافتہ مسلح دستے جوکھم دستے یا Task Force کا نام ہے، جس میں امام علیؑ کے مخلص اور مطیع ساتھی شامل تھے۔ واقعۂ عاشورا سے برسوں قبل میثم تمار کا بنو اسد کی مجلس سے گذر ہوا تو دونوں نے ایک دوسرے کو شہادت کی بشارت اور شہادت کی کیفیت کی خبر دی اور اسی علم منایا کا نتیجہ تھا جو انھوں نے امیرالمؤمنینؑ سے سیکھا تھا اور وہ دونوں مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کی خبر رکھتے تھے۔
■ امام حسینؑ کا ساتھ
معاویہ بن ابی سفیان کی موت (سنہ 60 ہجری) کے بعد حبیب اور کوفہ کہ بعض شیعہ اکابرین منجملہ سلیمان بن صُرَد، مسیب بن نَجَبَہ اور رفاعہ بن شداد بجلی نے بیعت یزید سے انکار کیا اور امام حسینؑ کو خط لکھا اور آپؑ کو امویوں کے خلاف قیام کی دعوت دی اور مسلم بن عقیل کوفہ آئے تو ان افراد نے ان کی نصرت کی۔
حبیب بن مظاہر اور مسلم بن عوسجہ خفیہ طور پر لوگوں سے مسلم کے لئے بیعت لیتے تھے اور اس راہ میں ان دو نے کوئی قصور روا نہيں رکھا۔
ابن زیاد کوفہ آیا اور لوگوں پر دباؤ ڈالا تو انھوں نے مسلم کا ساتھ چھوڑا اور بیعت توڑ دی چنانچہ قبیلۂ بنو اسد نے حبیب اور مسلم بن عوسجہ کو پناہ دی تاکہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے اور موقع پاکر دونوں خفیہ طور پر کوفہ سے نکل گئے۔ وہ دن کی روشنی میں ابن زياد کے جاسوسوں اور گماشتوں کی نظروں سے کہیں چھپ جاتے تھے اور راتوں کو سفر کرتے تھے۔ حتٰی کہ امام حسینؑ کی لشکرگاہ تک پہنچے۔ بالآخر وہ سات محرم الحرام کو کربلا میں امام حسینؑ کے قافلے سے جاملے۔
■ کربلا میں
حبیب نے کربلا پہنچتے ہی ایک بار امامؑ کی نسبت اپنی وفاداری میدان عمل میں ثابت کر دی۔ جب دیکھا کہ امامؑ کے ساتھیوں کی تعداد بہت کم اور آپؑ کے دشمنوں کی تعداد کثیر ہے تو امامؑ سے عرض کیا: "قریب ہی قبیلۂ بنو اسد کا مسکن ہے، آپ اجازت دیں تو میں جاکر آپ کی مدد کی دعوت دوں گا شاید خدا انہیں ہدایت دے"، امامؑ نے اجازت دی تو حبیب عجلت کے ساتھ اپنے قبیلے میں پہنچے اور ان کو موعظت و نصیحت کی لیکن عمر سعد نے ایک لشکر بھیج کر بنواسد کو امامؑ کی طرف آنے سے روک لیا۔
■ عصر تاسوعا
ایک شخص اس روز عمر سعد کا ایک خط امام حسینؑ کے لئے لایا تو حبیب بن مظاہر نے اس کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: ظلم و ستم والوں کے پاس مت جاؤ۔
عصر تاسوعا حبیب بن مظاہر نے خیام امام پر حملے کا ارادہ رکھنے والی دشمن کی سپاہ کو نصیحت کرتے ہوئے امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب کے اوصاف بیان کئے اور انہیں جنگ سے پرہیز کرنے کی تلقین کی۔
■ شب عاشورا
شب عاشورا نافع بن ہلال نے حبیب کو اصحاب کی وفاداری اور استواری کے سلسلے میں بیبی زینبؑ بنت علیؑ کی فکرمندی سے آگاہ کیا تو حبیب اور ہلال مل کر اصحاب کی طرف گئے اور انہیں اکٹھا کر کے سب امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اعلان کیا کہ اپنے خون کے آخری قطرے تک خاندان رسولؐ کی حمایت و حفاظت کریں گے۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حبیب بن مظاہر اسدی، قبیلۂ بنو اسد میں سے اور کوفہ کے باشندے ہیں اور حضرت علیؑ کے خاص صحابی ہیں۔ وہ ان کوفیوں میں سے ہیں جنہوں نے معاویہ کی موت کے بعد امام حسینؑ کو خط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی لیکن جب انھوں نے کوفیوں کی بیعت شکنی کو دیکھا تو چپکے سے کوفہ چھوڑ کر امام حسینؑ سے جا ملے اور 75 سال کی عمر میں امام حسینؑ کی رکاب میں جام شہادت نوش کر گئے۔
حبیب مرد عابد و پارسا تھے، تقوٰی اور حدود الٰہیہ کی رعایت کرتے تھے، حافظ قرآن تھے، اور ہر شب عبادت و مناجات میں مصروف ہوتے تھے اور امام حسینؑ کے بقول ہر شب ایک ختم قرآن کیا کرتے تھے۔ پاک و پاکیزہ اور سادہ زندگی گذارتے تھے، اس قدر دنیا سے بے رغبت تھے اور زہد کو اپنی زندگی کے لئے نمونۂ عمل بنائے ہوئے تھے کہ جس قدر بھی انھیں مال و دولت اور امان ناموں کی پیشکش ہوئی، انھوں نے قبول نہ کیا اور کہا: "اگر ہم زندہ رہیں اور امام حسینؑ کو مظلومیت کی حالت میں قتل کر دیا جائے تو رسول خداؐ کے حضور ہمارے پاس کوئی عذر نہ ہوگا (اور ہمیں معاف نہ کیا جائے گا)۔"
■ ابن کلبی اور ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ انہیں رسولخداؐ کی صحبت کی سعادت ملی ہے۔
■ امام علیؑ کا دور
حبیب مدینہ چھوڑ کر امیرالمؤمنینؑ کے ساتھ کوفہ چلے گئے اور آپؑ کے ساتھ جہاد و کوشش میں مصروف ہوئے اور آپؑ کے اصحاب خاص کے زمرے میں قرار پائے اور آپؑ کے علوم کے حاملین میں شمار ہوئے۔ حضرت علیؑ نے انہیں علم منایا و بلایا عطا کیا تھا۔ حبیب شرطۃ الخمیس کے رکن خاص تھے اور شرطۃ الخمیس خطرات کی صورت میں فوری رد عمل کے لئے تشکیل یافتہ مسلح دستے جوکھم دستے یا Task Force کا نام ہے، جس میں امام علیؑ کے مخلص اور مطیع ساتھی شامل تھے۔ واقعۂ عاشورا سے برسوں قبل میثم تمار کا بنو اسد کی مجلس سے گذر ہوا تو دونوں نے ایک دوسرے کو شہادت کی بشارت اور شہادت کی کیفیت کی خبر دی اور اسی علم منایا کا نتیجہ تھا جو انھوں نے امیرالمؤمنینؑ سے سیکھا تھا اور وہ دونوں مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کی خبر رکھتے تھے۔
■ امام حسینؑ کا ساتھ
معاویہ بن ابی سفیان کی موت (سنہ 60 ہجری) کے بعد حبیب اور کوفہ کہ بعض شیعہ اکابرین منجملہ سلیمان بن صُرَد، مسیب بن نَجَبَہ اور رفاعہ بن شداد بجلی نے بیعت یزید سے انکار کیا اور امام حسینؑ کو خط لکھا اور آپؑ کو امویوں کے خلاف قیام کی دعوت دی اور مسلم بن عقیل کوفہ آئے تو ان افراد نے ان کی نصرت کی۔
حبیب بن مظاہر اور مسلم بن عوسجہ خفیہ طور پر لوگوں سے مسلم کے لئے بیعت لیتے تھے اور اس راہ میں ان دو نے کوئی قصور روا نہيں رکھا۔
ابن زیاد کوفہ آیا اور لوگوں پر دباؤ ڈالا تو انھوں نے مسلم کا ساتھ چھوڑا اور بیعت توڑ دی چنانچہ قبیلۂ بنو اسد نے حبیب اور مسلم بن عوسجہ کو پناہ دی تاکہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے اور موقع پاکر دونوں خفیہ طور پر کوفہ سے نکل گئے۔ وہ دن کی روشنی میں ابن زياد کے جاسوسوں اور گماشتوں کی نظروں سے کہیں چھپ جاتے تھے اور راتوں کو سفر کرتے تھے۔ حتٰی کہ امام حسینؑ کی لشکرگاہ تک پہنچے۔ بالآخر وہ سات محرم الحرام کو کربلا میں امام حسینؑ کے قافلے سے جاملے۔
■ کربلا میں
حبیب نے کربلا پہنچتے ہی ایک بار امامؑ کی نسبت اپنی وفاداری میدان عمل میں ثابت کر دی۔ جب دیکھا کہ امامؑ کے ساتھیوں کی تعداد بہت کم اور آپؑ کے دشمنوں کی تعداد کثیر ہے تو امامؑ سے عرض کیا: "قریب ہی قبیلۂ بنو اسد کا مسکن ہے، آپ اجازت دیں تو میں جاکر آپ کی مدد کی دعوت دوں گا شاید خدا انہیں ہدایت دے"، امامؑ نے اجازت دی تو حبیب عجلت کے ساتھ اپنے قبیلے میں پہنچے اور ان کو موعظت و نصیحت کی لیکن عمر سعد نے ایک لشکر بھیج کر بنواسد کو امامؑ کی طرف آنے سے روک لیا۔
■ عصر تاسوعا
ایک شخص اس روز عمر سعد کا ایک خط امام حسینؑ کے لئے لایا تو حبیب بن مظاہر نے اس کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: ظلم و ستم والوں کے پاس مت جاؤ۔
عصر تاسوعا حبیب بن مظاہر نے خیام امام پر حملے کا ارادہ رکھنے والی دشمن کی سپاہ کو نصیحت کرتے ہوئے امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب کے اوصاف بیان کئے اور انہیں جنگ سے پرہیز کرنے کی تلقین کی۔
■ شب عاشورا
شب عاشورا نافع بن ہلال نے حبیب کو اصحاب کی وفاداری اور استواری کے سلسلے میں بیبی زینبؑ بنت علیؑ کی فکرمندی سے آگاہ کیا تو حبیب اور ہلال مل کر اصحاب کی طرف گئے اور انہیں اکٹھا کر کے سب امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اعلان کیا کہ اپنے خون کے آخری قطرے تک خاندان رسولؐ کی حمایت و حفاظت کریں گے۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 حبیب ابن مظاھر اور روزِ عاشورا 🔷
عاشورا کے دن امام حسین علیہ السلام نے اپنے قلیل لشکر کا میسرہ (بایاں بازو) حبیب بن مظاہر کے سپرد کیا اور میمنہ (دایاں بازو) زہیر بن قین کے حوالے کیا اور پرچم اور قلب (مرکز) کی قیادت حضرت عباس علیہ السلام کو سونپ دی۔
امام حسینؑ نے لشکر یزید سے مخاطب ہوکر اپنا حسب و نسب بیان کیا اور اپنے فضائل گنواتے ہوئے رسول خداؐ کی حدیث هذان سيدا شباب اهل الجنة (یہ دو (امام حسنؑ اور امام حسین)ؑ جوانان جنت کے سردار ہیں، کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا "تمہارے درمیان ایسے لوگ ہیں جنہوں نے یہ حدیث رسول اللہؐ سے سنی ہے؛ اس اثناء میں شمر بن ذی الجوشن نے کہا: "میں نے خدا کی عبادت شک و تردد کے ساتھ کی ہوگی اگر میں سمجھ لوں کہ کیا کہہ رہے ہو! حبیب بن مظاہر نے جواب دیا: اے شمر! تم ستر شکوک کے ساتھ خدا کی عبادت کرتے ہو اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تم سچ کہہ رہے ہو اور تم واقعی نہیں سمجھتے ہو کہ امامؑ کیا کہہ رہے ہیں کیونکہ تمہارا قلب سیاہ ہوچکا ہے اور اس پر مہر لگی ہوئی ہے۔
جنگ کے آغاز پر جب عمر بن سعد بن ابی وقاص کے لشکر سے ایک ایک فرد نکل کر مبارز طلب کرتا تھا، حبیب اور بریر ہمدانی میدان میں آئے لیکن امام حسینؑ نے انہیں روکا۔
ابو ثمامہ نے امام حسینؑ کو وقتِ نماز کی یادآوری کرائی تو امامؑ نے فرمایا: ان (سپاہ یزید) سے کہو کہ جنگ روک لیں تاکہ ہم نماز ادا کریں۔ حصین بن نمیر (یا حصین بن تمیم) نے کہا: تمہاری نماز قبول نہیں ہوتی۔ حبیب بن مظاہر نے جواب دیا: تم سمجھتے ہو کہ آل رسولؐ کی نماز قبول نہیں ہوتی اور تمہاری نماز قبول ہوگی اے شراب خوار (اے گدھے)! اور اس پر حملہ کیا اور اپنی شمشیر پیچھے ہٹتے ہوئے حصین کے گھوڑے کے منہ پر وار کیا، حصین گھوڑے سے گر گیا اور اشقیاء نے لپک کر اسے حبیب کے فیصلہ کن حملے سے نجات دلائی۔
مسلم بن عوسجہ لڑ کر زخمی، اپنے خون میں رنگے ہوئے تھے، زندگی کے آخری لمحات گذار رہے تھے اور زمین پر گرے ہوئے تھے۔ امام حسینؑ حبیب کے ساتھ مسلم کے پاس پہنچے۔ امام حسینؑ نے فرمایا: اے مسلم! خدا تمہاری مغفرت فرمائے اور آیت قرآنی "مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً" (ایمان والوں میں کچھ اشخاص ہیں جنہوں نے سچ کر دکھایا اسے جو انہوں نے اللہ سے عہد و پیمان کیا تھا تو ان میں کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنا وقت پورا کر لیا اور ان میں سے کچھ انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے بات میں ذرا بھی تبدیلی نہیں کی) کی تلاوت کی؛ حبیب قریب آئے اور کہا: "تمہارا قتل ہونا، مجھ پر بہت بھاری ہے لیکن میں تمہیں جنت کی خوشخبری دیتا ہوں؛ مسلم بن عوسجہ نے کمزور سی آواز میں کہا: "خداوند متعال تمہیں خیر کی بشارت دے"؛ حبیب نے کہا: "اگر میری شہادت قریب نہ ہوتی تو میرے لئے خوشی کی بات ہوتی کہ تم مجھے وصیت کرتے اور جو کچھ تمہارے لئے اہم ہے میں تمہارے لئے انجام دیتا اور دین اور قرابتداری کے حوالے سے تمہارا حق ادا کرتا؛ مسلم نے گوشۂ چشم سے سیدالشہداءؑ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میں تمہیں امام حسینؑ کے حق میں وصیت کرتا ہوں، خدا تم پر رحم کرے "جب تک تمہارے بدن میں جان ہے ان کا دفاع کرو اور ان کی نصرت سے ہاتھ میں کھینچو"، حبیب بن مظاہر نے کہا: میں تمہاری وصیت پر عمل کروں گا اور عمل کر کے تمہاری آنکھیں روشن کروں گا۔
https://t.me/islamwitheman/3929
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
عاشورا کے دن امام حسین علیہ السلام نے اپنے قلیل لشکر کا میسرہ (بایاں بازو) حبیب بن مظاہر کے سپرد کیا اور میمنہ (دایاں بازو) زہیر بن قین کے حوالے کیا اور پرچم اور قلب (مرکز) کی قیادت حضرت عباس علیہ السلام کو سونپ دی۔
امام حسینؑ نے لشکر یزید سے مخاطب ہوکر اپنا حسب و نسب بیان کیا اور اپنے فضائل گنواتے ہوئے رسول خداؐ کی حدیث هذان سيدا شباب اهل الجنة (یہ دو (امام حسنؑ اور امام حسین)ؑ جوانان جنت کے سردار ہیں، کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا "تمہارے درمیان ایسے لوگ ہیں جنہوں نے یہ حدیث رسول اللہؐ سے سنی ہے؛ اس اثناء میں شمر بن ذی الجوشن نے کہا: "میں نے خدا کی عبادت شک و تردد کے ساتھ کی ہوگی اگر میں سمجھ لوں کہ کیا کہہ رہے ہو! حبیب بن مظاہر نے جواب دیا: اے شمر! تم ستر شکوک کے ساتھ خدا کی عبادت کرتے ہو اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تم سچ کہہ رہے ہو اور تم واقعی نہیں سمجھتے ہو کہ امامؑ کیا کہہ رہے ہیں کیونکہ تمہارا قلب سیاہ ہوچکا ہے اور اس پر مہر لگی ہوئی ہے۔
جنگ کے آغاز پر جب عمر بن سعد بن ابی وقاص کے لشکر سے ایک ایک فرد نکل کر مبارز طلب کرتا تھا، حبیب اور بریر ہمدانی میدان میں آئے لیکن امام حسینؑ نے انہیں روکا۔
ابو ثمامہ نے امام حسینؑ کو وقتِ نماز کی یادآوری کرائی تو امامؑ نے فرمایا: ان (سپاہ یزید) سے کہو کہ جنگ روک لیں تاکہ ہم نماز ادا کریں۔ حصین بن نمیر (یا حصین بن تمیم) نے کہا: تمہاری نماز قبول نہیں ہوتی۔ حبیب بن مظاہر نے جواب دیا: تم سمجھتے ہو کہ آل رسولؐ کی نماز قبول نہیں ہوتی اور تمہاری نماز قبول ہوگی اے شراب خوار (اے گدھے)! اور اس پر حملہ کیا اور اپنی شمشیر پیچھے ہٹتے ہوئے حصین کے گھوڑے کے منہ پر وار کیا، حصین گھوڑے سے گر گیا اور اشقیاء نے لپک کر اسے حبیب کے فیصلہ کن حملے سے نجات دلائی۔
مسلم بن عوسجہ لڑ کر زخمی، اپنے خون میں رنگے ہوئے تھے، زندگی کے آخری لمحات گذار رہے تھے اور زمین پر گرے ہوئے تھے۔ امام حسینؑ حبیب کے ساتھ مسلم کے پاس پہنچے۔ امام حسینؑ نے فرمایا: اے مسلم! خدا تمہاری مغفرت فرمائے اور آیت قرآنی "مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً" (ایمان والوں میں کچھ اشخاص ہیں جنہوں نے سچ کر دکھایا اسے جو انہوں نے اللہ سے عہد و پیمان کیا تھا تو ان میں کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنا وقت پورا کر لیا اور ان میں سے کچھ انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے بات میں ذرا بھی تبدیلی نہیں کی) کی تلاوت کی؛ حبیب قریب آئے اور کہا: "تمہارا قتل ہونا، مجھ پر بہت بھاری ہے لیکن میں تمہیں جنت کی خوشخبری دیتا ہوں؛ مسلم بن عوسجہ نے کمزور سی آواز میں کہا: "خداوند متعال تمہیں خیر کی بشارت دے"؛ حبیب نے کہا: "اگر میری شہادت قریب نہ ہوتی تو میرے لئے خوشی کی بات ہوتی کہ تم مجھے وصیت کرتے اور جو کچھ تمہارے لئے اہم ہے میں تمہارے لئے انجام دیتا اور دین اور قرابتداری کے حوالے سے تمہارا حق ادا کرتا؛ مسلم نے گوشۂ چشم سے سیدالشہداءؑ کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میں تمہیں امام حسینؑ کے حق میں وصیت کرتا ہوں، خدا تم پر رحم کرے "جب تک تمہارے بدن میں جان ہے ان کا دفاع کرو اور ان کی نصرت سے ہاتھ میں کھینچو"، حبیب بن مظاہر نے کہا: میں تمہاری وصیت پر عمل کروں گا اور عمل کر کے تمہاری آنکھیں روشن کروں گا۔
https://t.me/islamwitheman/3929
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌸 حبیب بن مظاہر اسدی 🌸
حبیب بن مظاہر اسدی، قبیلۂ بنو اسد میں سے اور کوفہ کے باشندے ہیں اور حضرت علیؑ کے خاص صحابی ہیں۔ وہ ان کوفیوں میں سے ہیں جنہوں نے معاویہ کی موت کے بعد امام حسینؑ کو خط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی لیکن جب انھوں نے کوفیوں کی بیعت شکنی…
حبیب بن مظاہر اسدی، قبیلۂ بنو اسد میں سے اور کوفہ کے باشندے ہیں اور حضرت علیؑ کے خاص صحابی ہیں۔ وہ ان کوفیوں میں سے ہیں جنہوں نے معاویہ کی موت کے بعد امام حسینؑ کو خط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی لیکن جب انھوں نے کوفیوں کی بیعت شکنی…