🔷 شہادت شہزادہ علی اکبرؑ 🔷
امام حسینؑ کے یہ فرزندؑ پروردگارِ عالم نے ایک نعمت دی تھی۔ امام حسینؑ کے یہ وہ فرزندؑ تھے کہ تمام کتب تاریخ میں یہ ہے کہ سر سے پاؤں تک یہ معلوم ہوتا تھا کہ رسول اللہ ہیں۔ کیسی خوشی ہوتی ہوگی امام حسینؑ کو، جب علی اکبرؑ کو دیکھتے ہوں گے۔ نانا کی تصویر ہونے کے ساتھ، باپ کے اتنے مطیع کہ دنیا میں شاید ہی اتنی اطاعت باپ کی کسی بیٹے کے دل میں ہو جتنی علی اکبرؑ کے دل میں اطاعت کے جذبات تھے۔
میں نے بعض مقامات پر یہ بات پڑھی ہے کہ باہر کے لوگ مدینہ میں آتے تھے اور امام حسین علیہ السلام کے دروازے پر پہنچتے تھے، آواز دیتے تھے، امام حسینؑ باہر تشریف لاتے تھے، وہ لوگ کہتے تھے: مولا ! ذرا اپنے فرزند علی اکبرؑ کو بلوا دیجئے، تو امام حسینؑ فرماتے تھے کہ علی اکبرؑ سے کیا کام ہے؟ تو وہ کہتے تھے کہ ہم نے رسولؐ کی زیارت نہیں کی۔ ہم نے سنا ہے کہ آپؑ کا فرزند سر سے پاؤں تک رسولؐ کی تصویر ہے۔ ہم اس لئے آئے ہیں کہ آپؑ کے فرزند کو دیکھ لیں تاکہ رسولؐ کی زیارت کا ہم کو ثواب مل جائے۔
اِن حالات میں امام حسین علیہ السلام کے دل میں کیا کیا کیفیات پیدا ہوتی ہوں گی۔ راستے میں ایک مرتبہ امام حسینؑ ایک منزل پر مقیم تھے، بیٹھے بیٹھے کچھ غنودگی سی آگئی، اب جو آنکھ کھلی تو آپؑ نے اُٹھتے ہی ارشاد فرمایا:
" اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ "
تمام کے تمام ساتھی جو بیٹھے ہوئے تھے، گھبرا گئے کہ کیا واقعہ آپؑ کے ذہن میں آگیا کہ جس کی وجہ سے یہ کلمہ آپؑ کی زبان پر جاری ہوا۔ کسی کی ہمت نہ تھی جو آپؑ سے یہ پوچھے۔ جنابِ علی اکبرؑ نے دیکھا کہ بابا کچھ خاموش ہیں۔ آگے بڑھے اور عرض کرتے ہیں: بابا! آپ نے یہ کلمہ کیوں اپنی زبان پر جاری فرمایا۔ امامؑ فرماتے ہیں: بیٹا! ذرا میری آنکھ لگ گئی تھی تو میں نے ایک ہاتف کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا کہ یہ قافلہ اپنی قبروں کی طرف جا رہا ہے اور موت اُن کا استقبال کرنے کیلئے بڑھ رہی ہے۔ اس لئے میں نے یہ فقرہ اپنی زبان پر جاری کیا۔
اس پر جنابِ علی اکبرؑ نے عرض کیا: بابا! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ امام حسینؑ نے فرمایا: بیٹا! ہم حق پر ہیں تو جنابِ علی اکبرؑ نے فرمایا: بابا! جب ہم حق پر ہیں تو ہمیں موت کی کیا پروا ہے؟ آنے دیجئے موت کو ہمارا استقبال کرنے کیلئے۔ امام حسینؑ کا دل خوش ہوگیا۔
حاکمِ شام نے ایک دن بیٹھے بیٹھے ذکر کیا کہ بھئی بتلاؤ، اس زمانے میں حقیقی حیثیت سے قابلِ خلافت کون ہے؟ کسی نے کہا، تم ہو۔ کسی نے کہا، تمہارا بیٹا یزید ہے، کسی نے کچھ کہا۔ اُس نے کہا: تم لوگ سب خوشامد کر رہے ہو، مجھ سے پوچھو تو میری نظر میں امام حسینؑ کا بیٹا علی اکبرؑ ہے کہ سر سے پاؤں تک رسولؐ کی شبیہ ہے۔ دشمنوں کی نظر میں علی اکبرؑ ایسے تھے۔
ہائے! کربلا میں حسینؑ کا گھر ایسا برباد ہوا کہ پھر کبھی آباد نہ ہوا۔ عاشورہ کا دن آگیا۔ بس یہاں کے چند فقرے عرض کرنے ہیں۔
اولاد والو! اٹھارہ برس کی عمر، ساتویں محرم سے پانی بند ہے۔ پیاس کا غلبہ، ہونٹ سوکھے ہوئے مگر باپ سے یہ عرض نہیں کرتے کہ میں پیاسا ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ باپ کو تکلیف ہو۔
بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی ہاشم میں سب سے پہلے شہید جنابِ علی اکبرؑ ہیں اور بعض روایات یہ بتلاتی ہیں کہ سب سے آخر میں جنابِ علی اکبرؑ شہید ہوئے۔
بہرحال اگر بنی ہاشم کے آخری شہید ہیں تو جب عزیزوں کی لاشیں آگئیں، سیدہ زینبۜ کے بچوں کی بھی لاشیں آگئیں، ہائے جنابِ قاسمؑ کی بھی لاش آگئی۔ مسلمؑ کے دو فرزند جو یہاں کربلا میں تھے، اُن کی لاشیں بھی آگئیں اور اسی روایت کے اعتبار سے جنابِ عباس کے بازو بھی کٹ چکے تو جنابِ علی اکبرؑ آئے اور عرض کرتے ہیں: بابا! مجھے بھی اجازت دیجئے کہ میں بھی جان نذر کر دوں۔ امام حسینؑ نے سر سے پاؤں تک علی اکبرؑ کو دیکھا اور اتنا کہا کہ بیٹا! ذرا اس کوکھ جلی کے پاس بھی چلے جاؤ جس نے اٹھارہ برس بڑی محنت سے پالا ہے۔ جنابِ علی اکبرؑ خیمے میں آئے، جنابِ زینبۜ سمجھ گئیں کہ رخصت کیلئے آئے ہیں۔ بیبیاں چاروں طرف حلقہ بنا کر رونے لگیں۔ جنابِ علی اکبر علیہ السلام نے اپنی پھوپھیؐ اور حضرت اُمِ لیلیٰ جو ماں ہیں، اُنہیں سمجھایا کہ آخر آپ یہ چاہتی ہیں کہ میرا باپ شہید ہو جائے اور میں رہ جاؤں۔ دنیا آخر کیا کہے گی؟ جنابِ اُمّ لیلیٰ سے کہا کہ اماں! آپ تو مجھے اجازت دیجئے۔
جنابِ اُمّ لیلیٰ نے کہا کہ بیٹا! میں کون ہوں؟ جو کچھ ہیں یہ ہیں تمہاری پھوپھیؐ انہوں نے تمہیں پالا ہے۔ یہ اگر اجازت دے دیں تو میں کس طرح سے منع کرسکتی ہوں۔ آخر جنابِ زینبۜ نے اجازت دی۔ ایک شخص بیان کرتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ خیمے کا پردہ اُٹھتا ہے اور پھر گر جاتا ہے۔ پھر اُٹھا اور پھر گر گیا۔ میں نے جب دریافت کیا تو مجھے یہ معلوم ہوا کہ علی اکبرؑ بیبیوں کو تسلی دے کر نکلنا چاہتے تھے کہ بہنیں لپٹ جاتی ہیں۔ بہنوں کو تسلی دیتے ہیں اور نکلنا چاہتے ہیں تو پھوپھیؐ لپٹ جاتی ہیں: بیٹا! تھوڑی دیر ہم شکلِ پیغمبرؐ
امام حسینؑ کے یہ فرزندؑ پروردگارِ عالم نے ایک نعمت دی تھی۔ امام حسینؑ کے یہ وہ فرزندؑ تھے کہ تمام کتب تاریخ میں یہ ہے کہ سر سے پاؤں تک یہ معلوم ہوتا تھا کہ رسول اللہ ہیں۔ کیسی خوشی ہوتی ہوگی امام حسینؑ کو، جب علی اکبرؑ کو دیکھتے ہوں گے۔ نانا کی تصویر ہونے کے ساتھ، باپ کے اتنے مطیع کہ دنیا میں شاید ہی اتنی اطاعت باپ کی کسی بیٹے کے دل میں ہو جتنی علی اکبرؑ کے دل میں اطاعت کے جذبات تھے۔
میں نے بعض مقامات پر یہ بات پڑھی ہے کہ باہر کے لوگ مدینہ میں آتے تھے اور امام حسین علیہ السلام کے دروازے پر پہنچتے تھے، آواز دیتے تھے، امام حسینؑ باہر تشریف لاتے تھے، وہ لوگ کہتے تھے: مولا ! ذرا اپنے فرزند علی اکبرؑ کو بلوا دیجئے، تو امام حسینؑ فرماتے تھے کہ علی اکبرؑ سے کیا کام ہے؟ تو وہ کہتے تھے کہ ہم نے رسولؐ کی زیارت نہیں کی۔ ہم نے سنا ہے کہ آپؑ کا فرزند سر سے پاؤں تک رسولؐ کی تصویر ہے۔ ہم اس لئے آئے ہیں کہ آپؑ کے فرزند کو دیکھ لیں تاکہ رسولؐ کی زیارت کا ہم کو ثواب مل جائے۔
اِن حالات میں امام حسین علیہ السلام کے دل میں کیا کیا کیفیات پیدا ہوتی ہوں گی۔ راستے میں ایک مرتبہ امام حسینؑ ایک منزل پر مقیم تھے، بیٹھے بیٹھے کچھ غنودگی سی آگئی، اب جو آنکھ کھلی تو آپؑ نے اُٹھتے ہی ارشاد فرمایا:
" اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ "
تمام کے تمام ساتھی جو بیٹھے ہوئے تھے، گھبرا گئے کہ کیا واقعہ آپؑ کے ذہن میں آگیا کہ جس کی وجہ سے یہ کلمہ آپؑ کی زبان پر جاری ہوا۔ کسی کی ہمت نہ تھی جو آپؑ سے یہ پوچھے۔ جنابِ علی اکبرؑ نے دیکھا کہ بابا کچھ خاموش ہیں۔ آگے بڑھے اور عرض کرتے ہیں: بابا! آپ نے یہ کلمہ کیوں اپنی زبان پر جاری فرمایا۔ امامؑ فرماتے ہیں: بیٹا! ذرا میری آنکھ لگ گئی تھی تو میں نے ایک ہاتف کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا کہ یہ قافلہ اپنی قبروں کی طرف جا رہا ہے اور موت اُن کا استقبال کرنے کیلئے بڑھ رہی ہے۔ اس لئے میں نے یہ فقرہ اپنی زبان پر جاری کیا۔
اس پر جنابِ علی اکبرؑ نے عرض کیا: بابا! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ امام حسینؑ نے فرمایا: بیٹا! ہم حق پر ہیں تو جنابِ علی اکبرؑ نے فرمایا: بابا! جب ہم حق پر ہیں تو ہمیں موت کی کیا پروا ہے؟ آنے دیجئے موت کو ہمارا استقبال کرنے کیلئے۔ امام حسینؑ کا دل خوش ہوگیا۔
حاکمِ شام نے ایک دن بیٹھے بیٹھے ذکر کیا کہ بھئی بتلاؤ، اس زمانے میں حقیقی حیثیت سے قابلِ خلافت کون ہے؟ کسی نے کہا، تم ہو۔ کسی نے کہا، تمہارا بیٹا یزید ہے، کسی نے کچھ کہا۔ اُس نے کہا: تم لوگ سب خوشامد کر رہے ہو، مجھ سے پوچھو تو میری نظر میں امام حسینؑ کا بیٹا علی اکبرؑ ہے کہ سر سے پاؤں تک رسولؐ کی شبیہ ہے۔ دشمنوں کی نظر میں علی اکبرؑ ایسے تھے۔
ہائے! کربلا میں حسینؑ کا گھر ایسا برباد ہوا کہ پھر کبھی آباد نہ ہوا۔ عاشورہ کا دن آگیا۔ بس یہاں کے چند فقرے عرض کرنے ہیں۔
اولاد والو! اٹھارہ برس کی عمر، ساتویں محرم سے پانی بند ہے۔ پیاس کا غلبہ، ہونٹ سوکھے ہوئے مگر باپ سے یہ عرض نہیں کرتے کہ میں پیاسا ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ باپ کو تکلیف ہو۔
بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی ہاشم میں سب سے پہلے شہید جنابِ علی اکبرؑ ہیں اور بعض روایات یہ بتلاتی ہیں کہ سب سے آخر میں جنابِ علی اکبرؑ شہید ہوئے۔
بہرحال اگر بنی ہاشم کے آخری شہید ہیں تو جب عزیزوں کی لاشیں آگئیں، سیدہ زینبۜ کے بچوں کی بھی لاشیں آگئیں، ہائے جنابِ قاسمؑ کی بھی لاش آگئی۔ مسلمؑ کے دو فرزند جو یہاں کربلا میں تھے، اُن کی لاشیں بھی آگئیں اور اسی روایت کے اعتبار سے جنابِ عباس کے بازو بھی کٹ چکے تو جنابِ علی اکبرؑ آئے اور عرض کرتے ہیں: بابا! مجھے بھی اجازت دیجئے کہ میں بھی جان نذر کر دوں۔ امام حسینؑ نے سر سے پاؤں تک علی اکبرؑ کو دیکھا اور اتنا کہا کہ بیٹا! ذرا اس کوکھ جلی کے پاس بھی چلے جاؤ جس نے اٹھارہ برس بڑی محنت سے پالا ہے۔ جنابِ علی اکبرؑ خیمے میں آئے، جنابِ زینبۜ سمجھ گئیں کہ رخصت کیلئے آئے ہیں۔ بیبیاں چاروں طرف حلقہ بنا کر رونے لگیں۔ جنابِ علی اکبر علیہ السلام نے اپنی پھوپھیؐ اور حضرت اُمِ لیلیٰ جو ماں ہیں، اُنہیں سمجھایا کہ آخر آپ یہ چاہتی ہیں کہ میرا باپ شہید ہو جائے اور میں رہ جاؤں۔ دنیا آخر کیا کہے گی؟ جنابِ اُمّ لیلیٰ سے کہا کہ اماں! آپ تو مجھے اجازت دیجئے۔
جنابِ اُمّ لیلیٰ نے کہا کہ بیٹا! میں کون ہوں؟ جو کچھ ہیں یہ ہیں تمہاری پھوپھیؐ انہوں نے تمہیں پالا ہے۔ یہ اگر اجازت دے دیں تو میں کس طرح سے منع کرسکتی ہوں۔ آخر جنابِ زینبۜ نے اجازت دی۔ ایک شخص بیان کرتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ خیمے کا پردہ اُٹھتا ہے اور پھر گر جاتا ہے۔ پھر اُٹھا اور پھر گر گیا۔ میں نے جب دریافت کیا تو مجھے یہ معلوم ہوا کہ علی اکبرؑ بیبیوں کو تسلی دے کر نکلنا چاہتے تھے کہ بہنیں لپٹ جاتی ہیں۔ بہنوں کو تسلی دیتے ہیں اور نکلنا چاہتے ہیں تو پھوپھیؐ لپٹ جاتی ہیں: بیٹا! تھوڑی دیر ہم شکلِ پیغمبرؐ
کی زیارت کر لیں۔ اس طرح یہ عمل پردہ گرنے کا کئی مرتبہ ہوا۔ آخر علی اکبرؑ نکلے تو اس طرح سے نکلے جیسے بھرے گھر سے جنازہ نکلتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں آئے، عرض کیا: پھوپھیؐ سے اجازت لے لی، اماں بھی راضی ہوگئیں۔ اب آپ مجھے اجازت دیجئے۔ یہ سننا تھا کہ امام حسین علیہ السلام اپنی کمر پکڑ کر کھڑے ہوگئے۔ اپنا عمامہ اُتار کر علی اکبرؑ کے سر پر رکھا۔ بیٹا! یہ عمامہ تمہارے نانا محمد مصطفٰیؐ کا ہے۔ اس کو سر پر رکھ کر جاؤ، خود اپنے ہاتھ سے گھوڑے پر سوار کیا۔ علی اکبرؑ روانہ ہوئے۔ چند قدم چلے تھے، منہ پھیر کر دیکھا تو کیا دیکھا کہ حسینؑ دوڑتے ہوئے چلے آ رہے ہیں، فرمایا: بیٹا! جب تک سامنے رہو، مجھے منہ موڑ کو شکل دکھلاتے جاؤ، مجھے نانا یاد آ رہے ہیں۔
جنابِ علی اکبرؑ آئے میدان میں۔ اب میرے دل میں بھی طاقت نہیں ہے کچھ، جنگ کی۔ کچھ یزیدیوں کو قتل کیا۔ جو بھی مقابلے میں آیا، مارا گیا، علی کے پوتے تھے لیکن ایک وقت آیا کہ سب نے مل کر حملہ کیا۔ چاروں طرف سے ہجوم ہوگیا اور چاروں طرف سے جب گھر گئے، علی اکبرؑ کو ایک شخص نے آ کر سینے پر جو نیزہ مارا اور وہ نیزہ جو نکلا تو خون کا فوارہ جاری ہوگیا۔ ارے علی اکبرؑ کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ گھوڑے سے گر جائیں۔ ایک مرتبہ دونوں ہاتھ بڑھا کر گھوڑے کی گردن میں ڈال دئیے، گھوڑا فوج میں گھس گیا۔ جس کے قریب سے گزرے، اُس نے تلوار کا وار کر دیا۔ اس وقت ایسی حالت میں جنابِ علی اکبرؑ نے آواز دی:
" یَااَبَتَاہُ عَلَیْکُمْ مِنِّیْ اَلسَّلَامُ "
📚 روایاتِ عزا، علامہ حافظ کفایت حسین صاحب۔
https://t.me/islamwitheman/3876
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں آئے، عرض کیا: پھوپھیؐ سے اجازت لے لی، اماں بھی راضی ہوگئیں۔ اب آپ مجھے اجازت دیجئے۔ یہ سننا تھا کہ امام حسین علیہ السلام اپنی کمر پکڑ کر کھڑے ہوگئے۔ اپنا عمامہ اُتار کر علی اکبرؑ کے سر پر رکھا۔ بیٹا! یہ عمامہ تمہارے نانا محمد مصطفٰیؐ کا ہے۔ اس کو سر پر رکھ کر جاؤ، خود اپنے ہاتھ سے گھوڑے پر سوار کیا۔ علی اکبرؑ روانہ ہوئے۔ چند قدم چلے تھے، منہ پھیر کر دیکھا تو کیا دیکھا کہ حسینؑ دوڑتے ہوئے چلے آ رہے ہیں، فرمایا: بیٹا! جب تک سامنے رہو، مجھے منہ موڑ کو شکل دکھلاتے جاؤ، مجھے نانا یاد آ رہے ہیں۔
جنابِ علی اکبرؑ آئے میدان میں۔ اب میرے دل میں بھی طاقت نہیں ہے کچھ، جنگ کی۔ کچھ یزیدیوں کو قتل کیا۔ جو بھی مقابلے میں آیا، مارا گیا، علی کے پوتے تھے لیکن ایک وقت آیا کہ سب نے مل کر حملہ کیا۔ چاروں طرف سے ہجوم ہوگیا اور چاروں طرف سے جب گھر گئے، علی اکبرؑ کو ایک شخص نے آ کر سینے پر جو نیزہ مارا اور وہ نیزہ جو نکلا تو خون کا فوارہ جاری ہوگیا۔ ارے علی اکبرؑ کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ گھوڑے سے گر جائیں۔ ایک مرتبہ دونوں ہاتھ بڑھا کر گھوڑے کی گردن میں ڈال دئیے، گھوڑا فوج میں گھس گیا۔ جس کے قریب سے گزرے، اُس نے تلوار کا وار کر دیا۔ اس وقت ایسی حالت میں جنابِ علی اکبرؑ نے آواز دی:
" یَااَبَتَاہُ عَلَیْکُمْ مِنِّیْ اَلسَّلَامُ "
📚 روایاتِ عزا، علامہ حافظ کفایت حسین صاحب۔
https://t.me/islamwitheman/3876
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 شہادت شہزادہ علی اکبرؑ 🔷
امام حسینؑ کے یہ فرزندؑ پروردگارِ عالم نے ایک نعمت دی تھی۔ امام حسینؑ کے یہ وہ فرزندؑ تھے کہ تمام کتب تاریخ میں یہ ہے کہ سر سے پاؤں تک یہ معلوم ہوتا تھا کہ رسول اللہ ہیں۔ کیسی خوشی ہوتی ہوگی امام حسینؑ کو، جب علی اکبرؑ کو دیکھتے…
امام حسینؑ کے یہ فرزندؑ پروردگارِ عالم نے ایک نعمت دی تھی۔ امام حسینؑ کے یہ وہ فرزندؑ تھے کہ تمام کتب تاریخ میں یہ ہے کہ سر سے پاؤں تک یہ معلوم ہوتا تھا کہ رسول اللہ ہیں۔ کیسی خوشی ہوتی ہوگی امام حسینؑ کو، جب علی اکبرؑ کو دیکھتے…
🔴 واقعات شب عاشور 🔴
اب وه شب آئی ہے جسے شب عاشور کہتے ہیں. یہی شب تهی جس کے لیے کیا خوب شاعر نے کہا (یارب نہ سحر ہو).
"نفس المهموم" ميں شیخ عباس قمی علیہ الرحمہ امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
"جب شب عاشور آئی تو میرے بابا نے اصحاب و اہل بیت کو ایک خیمہ میں جمع کیا پهر خطبہ دیا سب سے پہلے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا:
" اے اللہ میں تیری حمد بیان کرتا ہوں کہ تو نے ہمیں نبوت و امامت سے کرامت بخشی. ہمیں قران کی تعلیم دی اور دین کی سمجھ بوجھ عطا کی. اور ہمیں کان، آنکھ اور دل دیئے پس تو ہمیں شکر گذاروں میں شمار فرما لے.
امابعد! مجھے نہیں معلوم کہ کسی کے اصحاب وفاداری میں میرے اصحاب سے بڑھ کر ہوں. اور نہ میرے اصحاب سے افضل کسی اور کے اصحاب ہیں.
نہ میرے رشتہ داروں سے بڑھ کر کسی کے رشتہ دار صلہ رحمی کرنے والے اور نہ ان سے افضل کسی کے اہل بیت ہیں.
پس اللہ میری طرف سے تم سب کو جزائے خیر دے.
بیشک! مجھے یقین تها کہ ہماری ایک نہ ایک دن ان دشمنوں سے ضرور جنگ ہو گی.
ہاں اور البتہ! تم میں سے جو جانا چاہتا ہے وہ جاسکتا ہے. اسے میری طرف سے اجازت ہے. یہ رات کا اندھیرا بہترین پردہ ہے پس تم میں سے جو جانا چاہے وہ چلا جائے.
یا پهر تم میں سے ہر کوئی میرے اہل بیت میں سے کسی کا ہاتھ تهام لے اور یہاں سے چلا جائے.
کیونکہ ان دشمنوں کو صرف مجھ سے غرض ہے. اور اگر میں انکے ہاتهوں قتل ہوگیا تو یہ پھر کسی سے تعرض نہ کرینگے."
یہ سنکر حسین کے بهائیوں، بیٹوں اور رشتہ داروں میں سے عباس بن علی، محمد بن مسلم اور عبد اللہ بن جعفر کے بیٹے کهڑے ہوئے اور عباس نے سب کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا:
"ہم ایسا کیوں کریں؟ کیا ہم آپ کے بعد زندہ رییں؟ اللہ ایسا دن کبهی ہمیں نہ دکھائے."
پهر دوسروں نے بهی ابوالفضل کی تائید میں گفتگو کی.
پس حسین علیہ السلام اولاد عقیل کیطرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
" اے آل عقیل! تمہاری طرف سے مسلم کی شہادت کافی ہے .تم لوگ چلے جاؤ. تمہیں اجازت دیتا ہوں."
یہ سن کر آل عقیل نے جواب دیا:
"سبحان اللہ! پهر کیا لوگ یہ نہ کہیں گے کہ ہم نے اپنے قبیلے کے سیدو سردار کو تنہا چهوڑ دیا؟ اور اپنے چچازادوں اور چچاؤں کی مدد کے وقت یاوری نہیں کی، جو چچاؤں اور چچازادوں میں بہترین چچا اور چچازاد ہیں. اور انکی ہمرکابی میں تیر و تلوار نہ چلاسکے؟ واللہ ہم ہرگز آپکو تنہا نہ چهوڑینگے بلکہ اپنی جان و مال و اولادوں کو آپ پر قربان کردینگے. اور جہاں آپ جائینگے وہیں جائینگے. آپ کیبعد زندگی ہمارے نصیب میں نہ ہو."
پهر اصحاب کیطرف سے سب سے پہلے مسلم بن عوسجہ اٹهے اور فرمایا:
"کیا ہم آپکو تنہا چهوڑ دیں؟ پهر کل ہم اللہ کے سامنے آپکے حق کے متعلق کیا جواب دینگے. اللہ کی قسم میں اپنے نیزے سے ان دشمنوں کے سینوں کو چهلنی کردونگا. اور ان پر تلوار سے وار کرونگا جب تک میرے ہاتهوں میں یہ تلوار موجود ہے. اور اگر میرے پاس اسلحہ ختم ہو جائے تو پتهر سے ان پر حملہ کرونگا.
اللہ کی قسم! ہم آپکا ساتھ اسوقت تک نہیں چهوڑینگے جب تک ہمیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ ہم نے رسول اللہ کی عدم موجودگی میں آپکی مدد کرکے انکا حق ادا کرنیکی کوشش کی ہے.
واللہ! اگر مجهے معلوم ہو کہ ستر دفعہ مجهے مار کر جلا کر یہ عمل دہرایا جائیگا تب بهی آپکی نصرت سے باز نہ آؤنگا."
(ستر دفعہ اور ہزار دفعہ جیسے عدد عربوں میں بلکہ غیروں میں بهی کثرت اور تاکید کیلئے بطور محاورہ استعمال ہوتا ہے یہ عزم مصمم کے اظہار کیلئے کہا جاتا ہے).
ان کے بعد زہیر بن القین کهڑے ہوئے اور کہا:
"اللہ کی قسم اگر مجهے ہزار دفعہ مارا جائے اور میری خاک ہوا میں اڑا دی جائے تب بهی آپ اور آپکے اہل بیت کے ان نوجوانوں کی مدد سے باز نہ آؤنگا."
پهر باقی اصحاب نے بهی اسیطرح کی فدایانہ باتیں کیں. اور کہنے لگے:
"ہم آپکو تنہا نہیں چهوڑ کر جاسکتے. ہم اپنی گردنوں، پیشانیوں، اور ہاتهوں پر زخم کها کر بهی آپکی مدد کرینگے."
یہ جذبہ دیکھ کر حسین علیہ السلام نے ان سب کو دعائے خیر دی.
اللہوف میں ہے کہ حسین علیہ السلام کے ایک صحابی "محمد بن بشیر الحضرمی" رضوان اللہ علیہ کا ایک بیٹا بلاد فارس میں دشمنوں کے ہاتهوں میں قید تها. امام علیہ السلام انکے پاس آئے اور فرمایا:
"اے محمد بن بشیر الحضرمی! تم اگر جانا چاہو تو بیشک میں تمہیں جانیکی اجازت دیتا ہوں. جاؤ اور اپنے بیٹے کو چهڑانے کا سہارا تلاش کرو."
تو اس وفاداری کی علامت نے یوں جواب دیا:
"یا ابا عبد اللہ! میں اپنے بیٹے کے متعلق اللہ سے اجر وصبر کا طالب ہوں. لیکن اسوقت میں اگر آپکو تنہا چهوڑ کر چلا جاؤں تو پهر اللہ مجهے زندگی نہ دے اور جنگل کے درندے مجهے چیر پهاڑ کر کها لیں."
پس امام نے اسے دس قیمتی کپڑے عطا کئے تاکہ انکا دوسرا بیٹا جاکر اپنے بهائی کو تاوان دیکر دشمنوں سے آزاد کرائے. امام علیہ السلام نے اس صحابی کے حق میں بهی رحمت کی دعا فرمائی.
اب وه شب آئی ہے جسے شب عاشور کہتے ہیں. یہی شب تهی جس کے لیے کیا خوب شاعر نے کہا (یارب نہ سحر ہو).
"نفس المهموم" ميں شیخ عباس قمی علیہ الرحمہ امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
"جب شب عاشور آئی تو میرے بابا نے اصحاب و اہل بیت کو ایک خیمہ میں جمع کیا پهر خطبہ دیا سب سے پہلے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا:
" اے اللہ میں تیری حمد بیان کرتا ہوں کہ تو نے ہمیں نبوت و امامت سے کرامت بخشی. ہمیں قران کی تعلیم دی اور دین کی سمجھ بوجھ عطا کی. اور ہمیں کان، آنکھ اور دل دیئے پس تو ہمیں شکر گذاروں میں شمار فرما لے.
امابعد! مجھے نہیں معلوم کہ کسی کے اصحاب وفاداری میں میرے اصحاب سے بڑھ کر ہوں. اور نہ میرے اصحاب سے افضل کسی اور کے اصحاب ہیں.
نہ میرے رشتہ داروں سے بڑھ کر کسی کے رشتہ دار صلہ رحمی کرنے والے اور نہ ان سے افضل کسی کے اہل بیت ہیں.
پس اللہ میری طرف سے تم سب کو جزائے خیر دے.
بیشک! مجھے یقین تها کہ ہماری ایک نہ ایک دن ان دشمنوں سے ضرور جنگ ہو گی.
ہاں اور البتہ! تم میں سے جو جانا چاہتا ہے وہ جاسکتا ہے. اسے میری طرف سے اجازت ہے. یہ رات کا اندھیرا بہترین پردہ ہے پس تم میں سے جو جانا چاہے وہ چلا جائے.
یا پهر تم میں سے ہر کوئی میرے اہل بیت میں سے کسی کا ہاتھ تهام لے اور یہاں سے چلا جائے.
کیونکہ ان دشمنوں کو صرف مجھ سے غرض ہے. اور اگر میں انکے ہاتهوں قتل ہوگیا تو یہ پھر کسی سے تعرض نہ کرینگے."
یہ سنکر حسین کے بهائیوں، بیٹوں اور رشتہ داروں میں سے عباس بن علی، محمد بن مسلم اور عبد اللہ بن جعفر کے بیٹے کهڑے ہوئے اور عباس نے سب کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا:
"ہم ایسا کیوں کریں؟ کیا ہم آپ کے بعد زندہ رییں؟ اللہ ایسا دن کبهی ہمیں نہ دکھائے."
پهر دوسروں نے بهی ابوالفضل کی تائید میں گفتگو کی.
پس حسین علیہ السلام اولاد عقیل کیطرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
" اے آل عقیل! تمہاری طرف سے مسلم کی شہادت کافی ہے .تم لوگ چلے جاؤ. تمہیں اجازت دیتا ہوں."
یہ سن کر آل عقیل نے جواب دیا:
"سبحان اللہ! پهر کیا لوگ یہ نہ کہیں گے کہ ہم نے اپنے قبیلے کے سیدو سردار کو تنہا چهوڑ دیا؟ اور اپنے چچازادوں اور چچاؤں کی مدد کے وقت یاوری نہیں کی، جو چچاؤں اور چچازادوں میں بہترین چچا اور چچازاد ہیں. اور انکی ہمرکابی میں تیر و تلوار نہ چلاسکے؟ واللہ ہم ہرگز آپکو تنہا نہ چهوڑینگے بلکہ اپنی جان و مال و اولادوں کو آپ پر قربان کردینگے. اور جہاں آپ جائینگے وہیں جائینگے. آپ کیبعد زندگی ہمارے نصیب میں نہ ہو."
پهر اصحاب کیطرف سے سب سے پہلے مسلم بن عوسجہ اٹهے اور فرمایا:
"کیا ہم آپکو تنہا چهوڑ دیں؟ پهر کل ہم اللہ کے سامنے آپکے حق کے متعلق کیا جواب دینگے. اللہ کی قسم میں اپنے نیزے سے ان دشمنوں کے سینوں کو چهلنی کردونگا. اور ان پر تلوار سے وار کرونگا جب تک میرے ہاتهوں میں یہ تلوار موجود ہے. اور اگر میرے پاس اسلحہ ختم ہو جائے تو پتهر سے ان پر حملہ کرونگا.
اللہ کی قسم! ہم آپکا ساتھ اسوقت تک نہیں چهوڑینگے جب تک ہمیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ ہم نے رسول اللہ کی عدم موجودگی میں آپکی مدد کرکے انکا حق ادا کرنیکی کوشش کی ہے.
واللہ! اگر مجهے معلوم ہو کہ ستر دفعہ مجهے مار کر جلا کر یہ عمل دہرایا جائیگا تب بهی آپکی نصرت سے باز نہ آؤنگا."
(ستر دفعہ اور ہزار دفعہ جیسے عدد عربوں میں بلکہ غیروں میں بهی کثرت اور تاکید کیلئے بطور محاورہ استعمال ہوتا ہے یہ عزم مصمم کے اظہار کیلئے کہا جاتا ہے).
ان کے بعد زہیر بن القین کهڑے ہوئے اور کہا:
"اللہ کی قسم اگر مجهے ہزار دفعہ مارا جائے اور میری خاک ہوا میں اڑا دی جائے تب بهی آپ اور آپکے اہل بیت کے ان نوجوانوں کی مدد سے باز نہ آؤنگا."
پهر باقی اصحاب نے بهی اسیطرح کی فدایانہ باتیں کیں. اور کہنے لگے:
"ہم آپکو تنہا نہیں چهوڑ کر جاسکتے. ہم اپنی گردنوں، پیشانیوں، اور ہاتهوں پر زخم کها کر بهی آپکی مدد کرینگے."
یہ جذبہ دیکھ کر حسین علیہ السلام نے ان سب کو دعائے خیر دی.
اللہوف میں ہے کہ حسین علیہ السلام کے ایک صحابی "محمد بن بشیر الحضرمی" رضوان اللہ علیہ کا ایک بیٹا بلاد فارس میں دشمنوں کے ہاتهوں میں قید تها. امام علیہ السلام انکے پاس آئے اور فرمایا:
"اے محمد بن بشیر الحضرمی! تم اگر جانا چاہو تو بیشک میں تمہیں جانیکی اجازت دیتا ہوں. جاؤ اور اپنے بیٹے کو چهڑانے کا سہارا تلاش کرو."
تو اس وفاداری کی علامت نے یوں جواب دیا:
"یا ابا عبد اللہ! میں اپنے بیٹے کے متعلق اللہ سے اجر وصبر کا طالب ہوں. لیکن اسوقت میں اگر آپکو تنہا چهوڑ کر چلا جاؤں تو پهر اللہ مجهے زندگی نہ دے اور جنگل کے درندے مجهے چیر پهاڑ کر کها لیں."
پس امام نے اسے دس قیمتی کپڑے عطا کئے تاکہ انکا دوسرا بیٹا جاکر اپنے بهائی کو تاوان دیکر دشمنوں سے آزاد کرائے. امام علیہ السلام نے اس صحابی کے حق میں بهی رحمت کی دعا فرمائی.
پهر قاسم بن الحسن علیہما السلام نے امام سے دریافت کیا
"چچاجان! کیا میں بهی شہیدوں میں شامل ہوں؟"
کیونکہ شہزادہ کم عمر تها لہذا اس خوف سے یہ سوال پوچها کہ شاید اسے اذن جہاد نہ دیا جائے.
پس حسین علیہ السلام بولے:
"بیٹے قاسم! موت کو کیا گمان کرتے ہو؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"چچا جان! موت میرے نزدیک شہد سے میٹهی ہے."
یہ سنا توحسین علیہ السلام نے فرمایا:
"ہاں تجھ پر تیرا چچا قربان ہو جائے. تیرا نام بهی شہداء کی فہرست میں درج ہے. بلکہ میرا بیٹا عبد اللہ (علی اصغر) بهی شہیدوں میں شامل ہے."
یہ سنکر قاسم نے کہا:
"چچا جان تو کیا دشمن خیمہ گاہ اہل حرم میں خواتین تک پہنچین گے؟ کیونکہ اصغر تو شیر خوار ہے. اور وہ تو اپنی ماں کے پاس ہوگا."
مظلوم کربلا نے جواب دیا:
"نہیں بلکہ میں اس بچے کو پانی پلانے لے جاؤنگا پهر یہ میدان میں دشمن کے تیر سے شہید ہوگا. اور اس بچے کا خون میرے ہاتهوں پر جاری ہوگا اور میں اس خون کو آسمان کیطرف پھینک کر کہوں گا. اے اللہ میں اس مصیبت پر تیری رضا کی خاطر صبر و تحمل کرتا ہوں.
السلام علیک یا غریب نینوا.
سلام ہو اے فرزند رسول آپ اور آپکے پاک اصحاب و اہل بیت پر.
اور لعنت ہو دشمنوں پر.
حواله جات:
(1) اللهوف. 82-83
(2) نفس المهموم 208-؛209 (3) تاريخ طبري 7/ 323
(4) مقتل الحسين الخوارزمي.
(5) مقتل الحسين لابي مخنف.
(6) مقتل الحسين للمقرم.
(7) الملحمة الحسينية.
https://t.me/islamwitheman/3889
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
"چچاجان! کیا میں بهی شہیدوں میں شامل ہوں؟"
کیونکہ شہزادہ کم عمر تها لہذا اس خوف سے یہ سوال پوچها کہ شاید اسے اذن جہاد نہ دیا جائے.
پس حسین علیہ السلام بولے:
"بیٹے قاسم! موت کو کیا گمان کرتے ہو؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"چچا جان! موت میرے نزدیک شہد سے میٹهی ہے."
یہ سنا توحسین علیہ السلام نے فرمایا:
"ہاں تجھ پر تیرا چچا قربان ہو جائے. تیرا نام بهی شہداء کی فہرست میں درج ہے. بلکہ میرا بیٹا عبد اللہ (علی اصغر) بهی شہیدوں میں شامل ہے."
یہ سنکر قاسم نے کہا:
"چچا جان تو کیا دشمن خیمہ گاہ اہل حرم میں خواتین تک پہنچین گے؟ کیونکہ اصغر تو شیر خوار ہے. اور وہ تو اپنی ماں کے پاس ہوگا."
مظلوم کربلا نے جواب دیا:
"نہیں بلکہ میں اس بچے کو پانی پلانے لے جاؤنگا پهر یہ میدان میں دشمن کے تیر سے شہید ہوگا. اور اس بچے کا خون میرے ہاتهوں پر جاری ہوگا اور میں اس خون کو آسمان کیطرف پھینک کر کہوں گا. اے اللہ میں اس مصیبت پر تیری رضا کی خاطر صبر و تحمل کرتا ہوں.
السلام علیک یا غریب نینوا.
سلام ہو اے فرزند رسول آپ اور آپکے پاک اصحاب و اہل بیت پر.
اور لعنت ہو دشمنوں پر.
حواله جات:
(1) اللهوف. 82-83
(2) نفس المهموم 208-؛209 (3) تاريخ طبري 7/ 323
(4) مقتل الحسين الخوارزمي.
(5) مقتل الحسين لابي مخنف.
(6) مقتل الحسين للمقرم.
(7) الملحمة الحسينية.
https://t.me/islamwitheman/3889
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔴 واقعات شب عاشور 🔴
اب وه شب آئی ہے جسے شب عاشور کہتے ہیں. یہی شب تهی جس کے لیے کیا خوب شاعر نے کہا (یارب نہ سحر ہو).
"نفس المهموم" ميں شیخ عباس قمی علیہ الرحمہ امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
"جب شب عاشور آئی تو میرے بابا…
اب وه شب آئی ہے جسے شب عاشور کہتے ہیں. یہی شب تهی جس کے لیے کیا خوب شاعر نے کہا (یارب نہ سحر ہو).
"نفس المهموم" ميں شیخ عباس قمی علیہ الرحمہ امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
"جب شب عاشور آئی تو میرے بابا…
🔷 تاسوعا کے واقعات 🔷
محرم الحرام کے نویں دن کو "تاسوعا" کہا جاتا ہے۔ تاسوعا "تسع" بمعنی ٩ یا نویں سے ماخوذ ہے۔
٩ محرم تاسوعا کے دن ظہر سے پہلے شمر بن ذی الجوشن چار ہزار سپاہی لے کر سرزمین کربلا میں داخل ہوا۔[١]۔[٢] وہ عمر بن سعد کے لئے عبیداللہ بن زیاد کا خط لے کر آیا تھا چنانچہ کربلا پہنچتے ہی اس نے خط ابن سعد کے سپرد کیا۔ اس خط میں ابن زياد نے ابن سعد کو حکم دیا تھا کہ یا تو امام حسینؑ کو بیعت پر مجبور کرے یا پھر آپؑ کے خلاف لڑائی چھیڑ دے۔ عبید اللہ نے اس خط کے ضمن میں عمر بن سعد کو دھمکی آمیز انداز سے لکھا تھا۔ کہ اگر وہ اس کے احکامات کی مکمل تعمیل نہ کرے تو اس کو لشکر سے کنارہ کشی کرکے اس کی سربراہی کا عہدہ شمر کے سپرد کرنا پڑے گا۔[٣]۔[٤]۔[٥]۔[٦]۔[٧]۔[٨]۔[٩]
ابن سعد نے عبیداللہ کا خط پڑھ کر شمر سے کہا: "میں لشکر کی امارت تمہارے حوالے نہیں کروں گا اور میں تیرے وجود میں اس کام کی اہلیت نہیں دیکھ رہا ہوں چنانچہ میں اس کام کو خود ہی انجام تک پہنچا دوں گا۔ تم صرف پیدل دستوں کے سالار رہو۔ [١٠]۔[١١]۔[١٢]۔[١٣]۔[١٤]۔[١٥]
کوفہ میں شمر نے عمر سعد کے لئے عبیداللہ کا خط لینا چاہا تو اس نے حضرت ام البنینؑ کے قبیلے کے ایک فرد عبداللہ بن ابی المحل کے ساتھ مل کر اپنے بھانجوں کے لئے (شمر چونکہ حضرت ام البنین سلام اللہ کے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اس لئے عرب کے عام دستور کے مطابق ماموں کہلاتا تھا۔ جس طرح ہم اپنے گلی محلے کے خواتین و حضرات کو خالہ یا چچا یا ماموں کہتے ہیں۔ امان نامہ دینے کی درخواست کی۔ عبیداللہ نے اس تجویز کو پسند کیا۔[١٦]۔[١٧]۔[١٨]
عبداللہ بن ابی المحل نے مذکورہ امان نامہ اپنے غلام "کزمان یا عرفان" کے ہاتھوں کربلا ارسال کیا اور کربلا پہنچنے کے بعد امان نامے کا متن ام البنینؑ کے فرزندوں کے لئے پڑھا۔ لیکن انہوں نے امان نامہ مسترد کیا۔[١٩]۔[٢٠]۔[٢١]۔[٢٢]
دوسری روایت کے مطابق شمر خود ہی امان نامہ لے کر کربلا میں عباس بن علیؑ اور ان کے بھائیوں عبداللہ ، جعفر اور عثمان کو پہنچایا۔[٢٣]۔[٢٤]
حضرت عباسؑ اور ان کے بھائی ابا عبداللہ الحسینؑ کے پاس بیٹھے تھے اور شمر کا جواب دے رہے تھے۔ امامؑ نے بھائی عباسؑ سے فرمایا:
"گو کہ وہ فاسق ہے لیکن اس کا جواب دے دو۔ بے شک وہ تمہاری والدہ کے قبیلے سے ہے"۔ عباس ، عبداللہ ، جعفر اور عثمان علیہم السلام باہر آئے اور شمر سے کہا: "کیا چاہتے ہو؟ " شمر نے ان سے کہا: "اے میرے بھانجو! تم امان میں ہو؛ میں نے تمہارے لئے عبید اللہ بن زیاد سے امان نامہ حاصل کیا ہے". لیکن حضرت عباس اور ان کے بھائیوں نے مل کر کہا: "خدا تم پر اور تمہارے امان نامے پر لعنت کرے'' یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ ہم امان میں ہوں اور فرزند پیغمبرؐ امان میں نہ ہوں"۔[٢٥]۔[٢٦]۔[٢٧]۔[٢٨]۔[٢٩]
حضرت ام البنینؑ کے فرزندوں کی طرف سے ابن زیاد کا امان نامہ مسترد ہونے کے بعد عمر بن سعد نے لشکر کو حکم دیا گیا کہ جنگ کی تیاری کریں۔ چنانچہ سب سوار ہوئے اور جمعرات 9 محرم بوقت عصر امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب و خاندان کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوئے۔[٣٠]۔[٣١]۔[٣٢]۔[٣٣]۔[٣٤]
٩ محرم بوقت عصر صحرای کربلا میں عمر سعد کی سپاہ کی نقل و حرکت بڑھ گئی اور عمر سعد امام حسینؑ کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوا۔ اور اپنی سپاہ کو بھی جنگ کے لئے تیار ہونے کا حکم دیا۔ اس نے اپنی سپاہ میں منادی کرا دی کہ يا خيل الله ارکبی و بالجنة ابشري، اے خدا کے لشکریو! سوار ہو جاؤ کہ میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں۔ کوفی سب سوار ہوئے اور جنگ کے لئے تیار۔[٣٥]۔[٣٦]۔[٣٦]۔[٣٨]۔[٣٩]
لشکر میں شور اور ہنگامہ بپا ہوا۔ امامؑ اپنے خیمے کے سامنے اپنی تلوار پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ بہن حضرت زینب لشکر کوفہ میں شور و غل کی صدائیں سن کر بھائی کے قریب آئیں اور کہا: "بھائی جان! کیا آپ قریب تر آنے والی صدائیں سن رہے ہیں؟ امام حسینؑ نے سر اٹھا کر فرمایا: "میں نے نانا رسول اللہ کو خواب میں دیکھا اور آپ نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا: "بہت جلد ہمارے پاس آؤ گے"۔ امام حسینؑ نے عباس بن علیؑ کو فرمایا: "اے عباس! میری جان فدا ہو تم پر، اپنے گھوڑے پر سوار ہو جاؤ اور ان کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور کس لئے آگے بڑھ آئے ہیں؟
حضرت عباسؑ زہیر بن قین اور حبیب بن مظاہر سمیت ٢٠ سواروں کے ہمراہ دشمن کی سپاہ کی طرف چلے گئے اور ان سے پوچھا: کیا ہوا ہے؟ اور تم چاہتے کیا ہو؟ انہوں نے کہا: امیر کا حکم ہے کہ ہم آپ سے کہہ دیں کہ یا بیعت کرو یا جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ۔ حضرت عباسؑ نے کہا: "اپنی جگہ سے ہلو نہیں حتی کہ میں ابا عبداللہ کے پاس جاؤں اور تمہارا پیغام آپؑ کو پہنچا دوں۔ وہ مان گئے چنانچہ حضرت عباسؑ اکیلے امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے تا کہ انہیں پیش آمدہ صورت حال سے آگاہ کریں۔[٤٠]۔[٤١]۔[٤٢]۔[٤٣]۔[٤٤]۔[٤٥]
محرم الحرام کے نویں دن کو "تاسوعا" کہا جاتا ہے۔ تاسوعا "تسع" بمعنی ٩ یا نویں سے ماخوذ ہے۔
٩ محرم تاسوعا کے دن ظہر سے پہلے شمر بن ذی الجوشن چار ہزار سپاہی لے کر سرزمین کربلا میں داخل ہوا۔[١]۔[٢] وہ عمر بن سعد کے لئے عبیداللہ بن زیاد کا خط لے کر آیا تھا چنانچہ کربلا پہنچتے ہی اس نے خط ابن سعد کے سپرد کیا۔ اس خط میں ابن زياد نے ابن سعد کو حکم دیا تھا کہ یا تو امام حسینؑ کو بیعت پر مجبور کرے یا پھر آپؑ کے خلاف لڑائی چھیڑ دے۔ عبید اللہ نے اس خط کے ضمن میں عمر بن سعد کو دھمکی آمیز انداز سے لکھا تھا۔ کہ اگر وہ اس کے احکامات کی مکمل تعمیل نہ کرے تو اس کو لشکر سے کنارہ کشی کرکے اس کی سربراہی کا عہدہ شمر کے سپرد کرنا پڑے گا۔[٣]۔[٤]۔[٥]۔[٦]۔[٧]۔[٨]۔[٩]
ابن سعد نے عبیداللہ کا خط پڑھ کر شمر سے کہا: "میں لشکر کی امارت تمہارے حوالے نہیں کروں گا اور میں تیرے وجود میں اس کام کی اہلیت نہیں دیکھ رہا ہوں چنانچہ میں اس کام کو خود ہی انجام تک پہنچا دوں گا۔ تم صرف پیدل دستوں کے سالار رہو۔ [١٠]۔[١١]۔[١٢]۔[١٣]۔[١٤]۔[١٥]
کوفہ میں شمر نے عمر سعد کے لئے عبیداللہ کا خط لینا چاہا تو اس نے حضرت ام البنینؑ کے قبیلے کے ایک فرد عبداللہ بن ابی المحل کے ساتھ مل کر اپنے بھانجوں کے لئے (شمر چونکہ حضرت ام البنین سلام اللہ کے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اس لئے عرب کے عام دستور کے مطابق ماموں کہلاتا تھا۔ جس طرح ہم اپنے گلی محلے کے خواتین و حضرات کو خالہ یا چچا یا ماموں کہتے ہیں۔ امان نامہ دینے کی درخواست کی۔ عبیداللہ نے اس تجویز کو پسند کیا۔[١٦]۔[١٧]۔[١٨]
عبداللہ بن ابی المحل نے مذکورہ امان نامہ اپنے غلام "کزمان یا عرفان" کے ہاتھوں کربلا ارسال کیا اور کربلا پہنچنے کے بعد امان نامے کا متن ام البنینؑ کے فرزندوں کے لئے پڑھا۔ لیکن انہوں نے امان نامہ مسترد کیا۔[١٩]۔[٢٠]۔[٢١]۔[٢٢]
دوسری روایت کے مطابق شمر خود ہی امان نامہ لے کر کربلا میں عباس بن علیؑ اور ان کے بھائیوں عبداللہ ، جعفر اور عثمان کو پہنچایا۔[٢٣]۔[٢٤]
حضرت عباسؑ اور ان کے بھائی ابا عبداللہ الحسینؑ کے پاس بیٹھے تھے اور شمر کا جواب دے رہے تھے۔ امامؑ نے بھائی عباسؑ سے فرمایا:
"گو کہ وہ فاسق ہے لیکن اس کا جواب دے دو۔ بے شک وہ تمہاری والدہ کے قبیلے سے ہے"۔ عباس ، عبداللہ ، جعفر اور عثمان علیہم السلام باہر آئے اور شمر سے کہا: "کیا چاہتے ہو؟ " شمر نے ان سے کہا: "اے میرے بھانجو! تم امان میں ہو؛ میں نے تمہارے لئے عبید اللہ بن زیاد سے امان نامہ حاصل کیا ہے". لیکن حضرت عباس اور ان کے بھائیوں نے مل کر کہا: "خدا تم پر اور تمہارے امان نامے پر لعنت کرے'' یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ ہم امان میں ہوں اور فرزند پیغمبرؐ امان میں نہ ہوں"۔[٢٥]۔[٢٦]۔[٢٧]۔[٢٨]۔[٢٩]
حضرت ام البنینؑ کے فرزندوں کی طرف سے ابن زیاد کا امان نامہ مسترد ہونے کے بعد عمر بن سعد نے لشکر کو حکم دیا گیا کہ جنگ کی تیاری کریں۔ چنانچہ سب سوار ہوئے اور جمعرات 9 محرم بوقت عصر امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب و خاندان کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوئے۔[٣٠]۔[٣١]۔[٣٢]۔[٣٣]۔[٣٤]
٩ محرم بوقت عصر صحرای کربلا میں عمر سعد کی سپاہ کی نقل و حرکت بڑھ گئی اور عمر سعد امام حسینؑ کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوا۔ اور اپنی سپاہ کو بھی جنگ کے لئے تیار ہونے کا حکم دیا۔ اس نے اپنی سپاہ میں منادی کرا دی کہ يا خيل الله ارکبی و بالجنة ابشري، اے خدا کے لشکریو! سوار ہو جاؤ کہ میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں۔ کوفی سب سوار ہوئے اور جنگ کے لئے تیار۔[٣٥]۔[٣٦]۔[٣٦]۔[٣٨]۔[٣٩]
لشکر میں شور اور ہنگامہ بپا ہوا۔ امامؑ اپنے خیمے کے سامنے اپنی تلوار پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ بہن حضرت زینب لشکر کوفہ میں شور و غل کی صدائیں سن کر بھائی کے قریب آئیں اور کہا: "بھائی جان! کیا آپ قریب تر آنے والی صدائیں سن رہے ہیں؟ امام حسینؑ نے سر اٹھا کر فرمایا: "میں نے نانا رسول اللہ کو خواب میں دیکھا اور آپ نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا: "بہت جلد ہمارے پاس آؤ گے"۔ امام حسینؑ نے عباس بن علیؑ کو فرمایا: "اے عباس! میری جان فدا ہو تم پر، اپنے گھوڑے پر سوار ہو جاؤ اور ان کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور کس لئے آگے بڑھ آئے ہیں؟
حضرت عباسؑ زہیر بن قین اور حبیب بن مظاہر سمیت ٢٠ سواروں کے ہمراہ دشمن کی سپاہ کی طرف چلے گئے اور ان سے پوچھا: کیا ہوا ہے؟ اور تم چاہتے کیا ہو؟ انہوں نے کہا: امیر کا حکم ہے کہ ہم آپ سے کہہ دیں کہ یا بیعت کرو یا جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ۔ حضرت عباسؑ نے کہا: "اپنی جگہ سے ہلو نہیں حتی کہ میں ابا عبداللہ کے پاس جاؤں اور تمہارا پیغام آپؑ کو پہنچا دوں۔ وہ مان گئے چنانچہ حضرت عباسؑ اکیلے امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے تا کہ انہیں پیش آمدہ صورت حال سے آگاہ کریں۔[٤٠]۔[٤١]۔[٤٢]۔[٤٣]۔[٤٤]۔[٤٥]
امام حسینؑ نے حضرت عباسؑ سے فرمایا: "اگر تمہارے لئے ممکن ہو تو انہیں راضی کرو کہ جنگ کو کل تک ملتوی کریں تاکہ ہم اپنے پروردگار کے ساتھ راز و نیاز کریں اور اس کی درگاہ میں نماز بجا لائیں۔ خدا جانتا ہے کہ میں اس کی بارگاہ میں نماز اور اس کی کتاب کی تلاوت کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں۔[٤٦]۔[٤٧]۔[٤٨]
جب تک عباسؑ امام حسینؑ کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے، ان کے ساتھیوں حبیب بن مظاہر اور زہیر بن قین نے بھی موقع سے فائدہ اٹھا کر ابن سعد کی سپاہ کے ساتھ گفتگو کی اور انہیں امام حسینؑ کے ساتھ جنگ سے باز رکھنے کی کوشش کی جب کہ اسی حال میں وہ ابن سعد کے سپاہیوں کی پیش قدمی بھی روک رہے تھے۔[٤٩]۔[٥٠]۔[٥١]۔[٥٢]
ابوالفضل العباسؑ دشمن کے سپاہیوں کی طرف آئے اور امام حسینؑ کا فرمان ان تک پہنچا دیا۔ ابن سعد نے ایک دن کے لئے جنگ ملتوی کرنے سے اتفاق کیا۔[٥٣]۔[٥٤]۔[٥٥]
امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک حدیث کے ضمن میں اس روز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"تاسوعا یوم حوصر فیه الحسینؑ واصحابه بکربلاء واجتمع علیه خیل اهل الشام واناخوا علیه وفرح ابن مرجانة وعمر بن سعد بتواتر الخیل وکثرتها واستضعفوا فیه الحسینؑ واصحابه وایقنوا انه لا یأتی الحسینؑ ناصر ولا یمده اهل العراق"
ترجمہ:
تاسوعا وہ دن ہے جس دن حسینؑ اور اصحاب حسینؑ کربلا میں محصور ہوئے اور شامی سپاہ ان کے خلاف اکٹھی ہوئی، ابن مرجانہ، ابن زیاد اور عمر سعد اتنا بڑا لشکر فراہم ہونے پر خوش ہوئے اور اس دن حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب کو کمزور سمجھا اور انہوں نے یقین کر لیا کہ حسینؑ کے لئے کوئی کمک نہیں آئے گی اور عراقی آپؑ کی مدد نہیں کریں گے۔[٥٦]۔[٥٧]۔[٥٨]
📚 حوالہ جات
١- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ج5، ص94.
٢- ابن شهرآشوب، مناقب ج4، ص98.
٣- ابن سعد، الطبقات الکبری، خامسہ1، ص466.
٤- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ص94.
٥- ابن شہرآشوب، مناقب ج4، ص98.
٦- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، صص414-415.
٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص88.
٨- مسکویہ، ابوعلی، تجارب الامم، ج2، صص72-73.
٩- ابن اثیر، علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، ج4، ص55.
١٠- بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص183.
١١- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص415.
١٢- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89.
١٣- مسکویه، تجارب الامم، ص73.
١٤- ابن اثیر،الکامل...، ص56.
١٥- طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
١٦- طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص415
١٧- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ص246
١٨- ابن اثیر،الکامل...، ص56.
١٩- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...،ج5، ص415
٢٠- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ج5، صص93-94
٢١- خوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ص246
٢٢- ابن اثیر، الکامل...، ص56.
٢٣- حسنی، ابن عنبہ، عمدة الطالب فی ...، ص327
٢٤- خوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ص246.
٢٥- البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف ج3، ص184
٢٦- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص416
٢٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89
٢٨- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ج1، ص246
٢٩- ابن اثیر، الکامل...، ج4، ص56.
٣٠- بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص184
٣١- طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص416
٣٢- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89
٣٣- خوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ج1، ص249
٣٤- طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
٣٥- البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص184
٣٦- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص416
٣٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89
٣٨- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ج1، ص249
٣٩- طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
٤٠- البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، صص184-185
٤١- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، صص416-418
٤٢- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ج5، صص97- 98
٤٣- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص90
٤٤- الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج1، صص249-250
٤٥- مسکویه، تجارب الامم، صص73- 74.
٤٦- الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، ص417
٤٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص91
٤٨- ابن اثیر،الکامل...، ص57.
٤٩- الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، صص416-417
٥٠- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ص98
٥١- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ص249-250
٥٢- تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ "البلاذری، احمد بن یحیی"، انساب الاشراف، ص184.
٥٣- الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، ص417
٥٤- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ص98
٥٥- ابن اثیر،الکامل...، ص57.
٥٦- کلینی، الکافی، ج4، ص147
٥٧- مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج45، ص95
٥٨- عاملی، شیخ حر، وسائل الشیعه، ج10، ص460.
https://t.me/islamwitheman/3891
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
جب تک عباسؑ امام حسینؑ کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے، ان کے ساتھیوں حبیب بن مظاہر اور زہیر بن قین نے بھی موقع سے فائدہ اٹھا کر ابن سعد کی سپاہ کے ساتھ گفتگو کی اور انہیں امام حسینؑ کے ساتھ جنگ سے باز رکھنے کی کوشش کی جب کہ اسی حال میں وہ ابن سعد کے سپاہیوں کی پیش قدمی بھی روک رہے تھے۔[٤٩]۔[٥٠]۔[٥١]۔[٥٢]
ابوالفضل العباسؑ دشمن کے سپاہیوں کی طرف آئے اور امام حسینؑ کا فرمان ان تک پہنچا دیا۔ ابن سعد نے ایک دن کے لئے جنگ ملتوی کرنے سے اتفاق کیا۔[٥٣]۔[٥٤]۔[٥٥]
امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک حدیث کے ضمن میں اس روز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"تاسوعا یوم حوصر فیه الحسینؑ واصحابه بکربلاء واجتمع علیه خیل اهل الشام واناخوا علیه وفرح ابن مرجانة وعمر بن سعد بتواتر الخیل وکثرتها واستضعفوا فیه الحسینؑ واصحابه وایقنوا انه لا یأتی الحسینؑ ناصر ولا یمده اهل العراق"
ترجمہ:
تاسوعا وہ دن ہے جس دن حسینؑ اور اصحاب حسینؑ کربلا میں محصور ہوئے اور شامی سپاہ ان کے خلاف اکٹھی ہوئی، ابن مرجانہ، ابن زیاد اور عمر سعد اتنا بڑا لشکر فراہم ہونے پر خوش ہوئے اور اس دن حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب کو کمزور سمجھا اور انہوں نے یقین کر لیا کہ حسینؑ کے لئے کوئی کمک نہیں آئے گی اور عراقی آپؑ کی مدد نہیں کریں گے۔[٥٦]۔[٥٧]۔[٥٨]
📚 حوالہ جات
١- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ج5، ص94.
٢- ابن شهرآشوب، مناقب ج4، ص98.
٣- ابن سعد، الطبقات الکبری، خامسہ1، ص466.
٤- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ص94.
٥- ابن شہرآشوب، مناقب ج4، ص98.
٦- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، صص414-415.
٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص88.
٨- مسکویہ، ابوعلی، تجارب الامم، ج2، صص72-73.
٩- ابن اثیر، علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، ج4، ص55.
١٠- بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص183.
١١- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص415.
١٢- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89.
١٣- مسکویه، تجارب الامم، ص73.
١٤- ابن اثیر،الکامل...، ص56.
١٥- طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
١٦- طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص415
١٧- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ص246
١٨- ابن اثیر،الکامل...، ص56.
١٩- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...،ج5، ص415
٢٠- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ج5، صص93-94
٢١- خوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ص246
٢٢- ابن اثیر، الکامل...، ص56.
٢٣- حسنی، ابن عنبہ، عمدة الطالب فی ...، ص327
٢٤- خوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ص246.
٢٥- البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف ج3، ص184
٢٦- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص416
٢٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89
٢٨- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ج1، ص246
٢٩- ابن اثیر، الکامل...، ج4، ص56.
٣٠- بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص184
٣١- طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص416
٣٢- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89
٣٣- خوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ج1، ص249
٣٤- طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
٣٥- البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ص184
٣٦- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، ص416
٣٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص89
٣٨- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ج1، ص249
٣٩- طبرسی، اعلام الوری ...، ج1، ص454.
٤٠- البلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، صص184-185
٤١- الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و...، ج5، صص416-418
٤٢- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ج5، صص97- 98
٤٣- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص90
٤٤- الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج1، صص249-250
٤٥- مسکویه، تجارب الامم، صص73- 74.
٤٦- الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، ص417
٤٧- شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص91
٤٨- ابن اثیر،الکامل...، ص57.
٤٩- الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، صص416-417
٥٠- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ص98
٥١- الخوارزمی،مقتل الحسین(ع)، ص249-250
٥٢- تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ "البلاذری، احمد بن یحیی"، انساب الاشراف، ص184.
٥٣- الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، ص417
٥٤- الکوفی، ابن اعثم، الفتوح، ص98
٥٥- ابن اثیر،الکامل...، ص57.
٥٦- کلینی، الکافی، ج4، ص147
٥٧- مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج45، ص95
٥٨- عاملی، شیخ حر، وسائل الشیعه، ج10، ص460.
https://t.me/islamwitheman/3891
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 تاسوعا کے واقعات 🔷
محرم الحرام کے نویں دن کو "تاسوعا" کہا جاتا ہے۔ تاسوعا "تسع" بمعنی ٩ یا نویں سے ماخوذ ہے۔
٩ محرم تاسوعا کے دن ظہر سے پہلے شمر بن ذی الجوشن چار ہزار سپاہی لے کر سرزمین کربلا میں داخل ہوا۔[١]۔[٢] وہ عمر بن سعد کے لئے عبیداللہ بن زیاد…
محرم الحرام کے نویں دن کو "تاسوعا" کہا جاتا ہے۔ تاسوعا "تسع" بمعنی ٩ یا نویں سے ماخوذ ہے۔
٩ محرم تاسوعا کے دن ظہر سے پہلے شمر بن ذی الجوشن چار ہزار سپاہی لے کر سرزمین کربلا میں داخل ہوا۔[١]۔[٢] وہ عمر بن سعد کے لئے عبیداللہ بن زیاد…
🔵 اعمال شبِ عاشور اور روز عاشور 🔵
▪ گریہ وزاری کےساتھ شبِ بیداری کریں. ▪ زیارات امام حسین۴ پڑھیں.
▪ 4 رکعت نماز دو دو رکعت کر کے بجا لائیں ( نیت دو رکعت نماز شبِ عاشور پڑھتا ھوں/پڑھتی ھوں قربۃ اللہ) ہر رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد 50 بار سورۃ اخلاص باقی نماز فجر کیطرح ھے.
▪ چار رکعت نماز دو دو رکعت کر کے بجا لائیں ( نیت اوپر درج ھے لیکن طریقہ مختلف ھے جو نیچے درج ہے.)
↩ پہلی دو رکعت: نماز کی پہلی رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد دس (10) بار آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد دس (10) بار سورۃ اخلاص.
↩ اگلی دو رکعت: نماز کی پہلی رکعت میں الحمد کے بعد دس(10) بار سورۃ الفلق اور دوسری رکعت الحمد کےبعد دس (10) بار سورۃ الناس. باقی نماز فجر کیطرح پڑھیں.
↩ اوپر والی نماز پڑھنے کے بعد ایک ھی جگہ پر بیٹھ کر 100 بار سورۃ اخلاص پڑھیں.
▪ جتنا زیادہ ھوسکے قاتلانِ امام حسین۴ پہ زیادہ سے زیادہ لعنتیں بھیجیں:
اللھم العن قتلۃ الحسین ۴ و اصحا بہٍ.
📚 بحوالہ مفاتیح الجنان 523.
⛳ روز عاشورا ⛳
روز عاشورا محمد و آل محمد علیہم السلام پر مصیبت کا دن ہے. عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی بقا کی خاطر اپنا بھرا گھر اور اپنے انصار کو خدا کی راہ میں قربان کر دیا، ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام نے اس دن کو گریہ و زاری سے مخصوص کر دیا ہے. لہٰذا عاشور کے دن گریہ و زاری، مجلس و ماتم اور عزا کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے.
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
اگر کوئی آج کے دن زیارت امام حسین علیہ السلام بجا لائے، آپ کی مصیبت پر خوب روئے اور اپنے گھر والوں اور اعزہ واقارب کو بھی رونے کا حکم دے، اپنے گھر میں عزا برپا کرے اور آپس میں ایک دوسرے سے رو کر ملے، ایک دوسرے کو ان الفاظ میں تعزیت و تسلیت پیش کرے:
"عَظَّمَ اللّٰہُ اُجُورَنٰا بِمُصٰابِنٰا بِالحُسَینِ عَلَیہِ السَّلَام وَ جَعَلَنَا وَاِیَّاکُم مِنَ الطَّالِبِینَ بِشَارِہِ مَعَ وَلِیِّہِ الاِمَامِ المَھدِی مِن آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیہِمُ السَّلَام."
خدا وند عالم اس کو بہت زیادہ اجر عطا فرمائے گا.
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ اگر کوئی عاشور کے دن ہزار مرتبہ "سورہ قل اللہ احد" پڑھے تو خدا وند عالم اس کی طرف رحمت کی نظر فرمائے گا.
روز عاشور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں پر ہزار مرتبہ اس طرح لعنت بھیجنے کا بہت زیادہ ثواب ہے:
"اَللّٰھُمَّ العَن قَتَلَۃَ الحُسَینِ وَ اَصحٰابِہِ."
🔷 اعمال روز عاشورا 🔷
روز عاشورگریہ وزاری کرنا،
اور مصیبت زدوں کی طرح صورت بنانا،
ننگے سر و ننگے پیر رہنا،
آستینوں کو اوپر چڑھانا،
گریبان کو چاک کرنا،
سارے دن فاقہ سے رہنا،
عصر کے وقت فاقہ شکنی کرنا،
قاتلان امام حسین علیہ السلام پر لعنت بھیجنا،
صبح کے وقت جب کچھ دن چڑھ جائے تو صحرا یا کوٹھے پر جاکر اعمال عاشورا بجا لانے کی تاکید ہے.
🔷 سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی مختصر زیارت پڑھے:
"اَلسَّلاَم ُعَلَیکَ یٰا اَبٰا عَبدِ اللّٰہِ. اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَابنَ رَسُولِ اللّٰہِ. اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَ بَرَکٰاتُہ."
🔷اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت عاشورا مثل نماز صبح بجا لائے.
🔷پھر دورکعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام اس طرح کہ قبر امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرے اور نیت کرے کہ دو رکعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھتا ہوں قربۃ الی اللہ، نماز تمام کرنے کے بعد زیارت عاشورہ پڑھے.
🔷امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
اس دعا کو سات مرتبہ اس طرح پڑھے کہ گریہ و زاری کی حالت میں یہ دعا پڑھتا ہوا سات مرتبہ آگے بڑھے اور اسی طرح سات مرتبہ پیچھے ہٹے:
"اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّااِلَیہِ رَاجِعُونَ رِضاً بِقَضَائِہِ وَ تَسلِیماً لِاَمرِہ."
اور
🔷 امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو شخص عاشور کے دن دس مرتبہ اس دعا کو پڑھے تو خدا وند عالم تمام آفات وبلائے ناگہانی سے ایک سال تک محفوظ رکھتا ہے.
"اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ بِحَقِّ الحُسَینِ وَ اَخِیہِ وَ اُمِّہِ وَ اَبِیہِ وَ جَدِّہِ وَ بَنِیہِ وَ فَرِّج عَنِّی مِمَّا اَنٰا فِیہِ بِرَحمَتِکَ یٰا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ."
🔷 شیخ مفید نے روایت کی ہے کہ جب بھی عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہیں تو آنحضرت کی قبر مطہر کے قریب کھڑ ے ہوں اور یہ زیارت پڑھیں:
(زیارت ناحیہ مقدسہ)
🔷 دعائے علقمہ.
🔷 عاشور کے آخروقت کی زیارت.
نوٹ:۔ عاشور کو آخری وقت پانی سے فاقہ شکنی کرے اور ایسی غذا کھائے جو مصیبت زدوں کی غذا ہو. لذیذ کھانے سے پرہیز کریں، آج کے دن دعائے سلامتی نہیں پڑھنا چاہئے کیوں کہ یہ چیزیں دشمنوں کی ایجاد کردہ ہیں.
https://t.me/islamwitheman/3883
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
▪ گریہ وزاری کےساتھ شبِ بیداری کریں. ▪ زیارات امام حسین۴ پڑھیں.
▪ 4 رکعت نماز دو دو رکعت کر کے بجا لائیں ( نیت دو رکعت نماز شبِ عاشور پڑھتا ھوں/پڑھتی ھوں قربۃ اللہ) ہر رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد 50 بار سورۃ اخلاص باقی نماز فجر کیطرح ھے.
▪ چار رکعت نماز دو دو رکعت کر کے بجا لائیں ( نیت اوپر درج ھے لیکن طریقہ مختلف ھے جو نیچے درج ہے.)
↩ پہلی دو رکعت: نماز کی پہلی رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد دس (10) بار آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد دس (10) بار سورۃ اخلاص.
↩ اگلی دو رکعت: نماز کی پہلی رکعت میں الحمد کے بعد دس(10) بار سورۃ الفلق اور دوسری رکعت الحمد کےبعد دس (10) بار سورۃ الناس. باقی نماز فجر کیطرح پڑھیں.
↩ اوپر والی نماز پڑھنے کے بعد ایک ھی جگہ پر بیٹھ کر 100 بار سورۃ اخلاص پڑھیں.
▪ جتنا زیادہ ھوسکے قاتلانِ امام حسین۴ پہ زیادہ سے زیادہ لعنتیں بھیجیں:
اللھم العن قتلۃ الحسین ۴ و اصحا بہٍ.
📚 بحوالہ مفاتیح الجنان 523.
⛳ روز عاشورا ⛳
روز عاشورا محمد و آل محمد علیہم السلام پر مصیبت کا دن ہے. عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی بقا کی خاطر اپنا بھرا گھر اور اپنے انصار کو خدا کی راہ میں قربان کر دیا، ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام نے اس دن کو گریہ و زاری سے مخصوص کر دیا ہے. لہٰذا عاشور کے دن گریہ و زاری، مجلس و ماتم اور عزا کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے.
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
اگر کوئی آج کے دن زیارت امام حسین علیہ السلام بجا لائے، آپ کی مصیبت پر خوب روئے اور اپنے گھر والوں اور اعزہ واقارب کو بھی رونے کا حکم دے، اپنے گھر میں عزا برپا کرے اور آپس میں ایک دوسرے سے رو کر ملے، ایک دوسرے کو ان الفاظ میں تعزیت و تسلیت پیش کرے:
"عَظَّمَ اللّٰہُ اُجُورَنٰا بِمُصٰابِنٰا بِالحُسَینِ عَلَیہِ السَّلَام وَ جَعَلَنَا وَاِیَّاکُم مِنَ الطَّالِبِینَ بِشَارِہِ مَعَ وَلِیِّہِ الاِمَامِ المَھدِی مِن آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیہِمُ السَّلَام."
خدا وند عالم اس کو بہت زیادہ اجر عطا فرمائے گا.
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ اگر کوئی عاشور کے دن ہزار مرتبہ "سورہ قل اللہ احد" پڑھے تو خدا وند عالم اس کی طرف رحمت کی نظر فرمائے گا.
روز عاشور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں پر ہزار مرتبہ اس طرح لعنت بھیجنے کا بہت زیادہ ثواب ہے:
"اَللّٰھُمَّ العَن قَتَلَۃَ الحُسَینِ وَ اَصحٰابِہِ."
🔷 اعمال روز عاشورا 🔷
روز عاشورگریہ وزاری کرنا،
اور مصیبت زدوں کی طرح صورت بنانا،
ننگے سر و ننگے پیر رہنا،
آستینوں کو اوپر چڑھانا،
گریبان کو چاک کرنا،
سارے دن فاقہ سے رہنا،
عصر کے وقت فاقہ شکنی کرنا،
قاتلان امام حسین علیہ السلام پر لعنت بھیجنا،
صبح کے وقت جب کچھ دن چڑھ جائے تو صحرا یا کوٹھے پر جاکر اعمال عاشورا بجا لانے کی تاکید ہے.
🔷 سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی مختصر زیارت پڑھے:
"اَلسَّلاَم ُعَلَیکَ یٰا اَبٰا عَبدِ اللّٰہِ. اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَابنَ رَسُولِ اللّٰہِ. اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَ بَرَکٰاتُہ."
🔷اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت عاشورا مثل نماز صبح بجا لائے.
🔷پھر دورکعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام اس طرح کہ قبر امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرے اور نیت کرے کہ دو رکعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھتا ہوں قربۃ الی اللہ، نماز تمام کرنے کے بعد زیارت عاشورہ پڑھے.
🔷امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
اس دعا کو سات مرتبہ اس طرح پڑھے کہ گریہ و زاری کی حالت میں یہ دعا پڑھتا ہوا سات مرتبہ آگے بڑھے اور اسی طرح سات مرتبہ پیچھے ہٹے:
"اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّااِلَیہِ رَاجِعُونَ رِضاً بِقَضَائِہِ وَ تَسلِیماً لِاَمرِہ."
اور
🔷 امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو شخص عاشور کے دن دس مرتبہ اس دعا کو پڑھے تو خدا وند عالم تمام آفات وبلائے ناگہانی سے ایک سال تک محفوظ رکھتا ہے.
"اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ بِحَقِّ الحُسَینِ وَ اَخِیہِ وَ اُمِّہِ وَ اَبِیہِ وَ جَدِّہِ وَ بَنِیہِ وَ فَرِّج عَنِّی مِمَّا اَنٰا فِیہِ بِرَحمَتِکَ یٰا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ."
🔷 شیخ مفید نے روایت کی ہے کہ جب بھی عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہیں تو آنحضرت کی قبر مطہر کے قریب کھڑ ے ہوں اور یہ زیارت پڑھیں:
(زیارت ناحیہ مقدسہ)
🔷 دعائے علقمہ.
🔷 عاشور کے آخروقت کی زیارت.
نوٹ:۔ عاشور کو آخری وقت پانی سے فاقہ شکنی کرے اور ایسی غذا کھائے جو مصیبت زدوں کی غذا ہو. لذیذ کھانے سے پرہیز کریں، آج کے دن دعائے سلامتی نہیں پڑھنا چاہئے کیوں کہ یہ چیزیں دشمنوں کی ایجاد کردہ ہیں.
https://t.me/islamwitheman/3883
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 اعمال روزِ عاشورا 🔷
روزِ عاشورا محمدؐ و آل محمدؑ پر مصیبت کا دن ہے۔ عاشور کے دن امام حسینؑ نے اسلام کی بقا کی خاطر اپنا بھرا گھر اور اپنے انصار کو خدا کی راہ میں قربان کر دیا، ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام نے اس دن کو گریہ و زاری سے مخصوص کر دیا ہے۔ لہٰذا عاشور کے دن گریہ و زاری، مجلس و ماتم اور عزا کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔
■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اگر کوئی آج کے دن زیارتِ امام حسینؑ بجا لائے، آپ کی مصیبت پر خوب روئے اور اپنے گھر والوں اور اعزہ واقارب کو بھی رونے کا حکم دے۔ اپنے گھر میں عزا برپا کرے اور آپس میں ایک دوسرے سے رو کر ملے، ایک دوسرے کو ان الفاظ میں تعزیت و تسلیت پیش کرے۔
”عَظَّمَ اللّٰہُ اُجُورَنٰا بِمُصٰابِنٰا بِالحُسَینِ عَلَیہِ السَّلَام وَ جَعَلَنَا وَاِیَّاکُم مِنَ الطَّالِبِینَ بِشَارِہِ مَعَ وَلِیِّہِ الاِمَامِ المَھدِی مِن آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیہِمُ السَّلَام“
خداوندعالم اس کو بہت زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔
■ حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے:
اگر کوئی عاشور کے دن ہزار مرتبہ ”سورہ قل اللہ احد“ پڑھے تو خداوندعالم اس کی طرف رحمت کی نظر فرمائے گا، روز عاشور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں پر ہزار مرتبہ اس طرح لعنت بھیجنے کا بہت زیادہ ثواب ہے...
”اَللّٰھُمَّ العَن قَتَلَۃَ الحُسَینِ وَ اَصحٰابِہِ“
■ روز عاشور گریہ و زاری کرنا اور مصیبت زدوں کیطرح صورت بنانا، ننگے سر و ننگے پیر رہنا، آستینوں کو اوپر چڑھانا، گریبان کو چاک کرنا، سارے دن فاقہ سے رہنا عصر کے وقت فاقہ شکنی کرنا، قاتلانِ امام حسینؑ پر لعنت بھیجنا، صبح کے وقت جب کچھ دن چڑھ جائے تو صحرا یا کوٹھے پر جاکر اعمال عاشورا بجا لانے کی تاکید ہے۔
■ زیارتِ عاشورا پڑھیں:
سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی مختصر زیارت پڑھے۔۔۔
” اَلسَّلاَم ُعَلَیکَ یٰا اَبٰا عَبدِ اللّٰہِ ،اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَابنَ رَسُولِ اللّٰہِ ، اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَ بَرَکٰاتُہ “ اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت عاشورا مثل نماز صبح بجا لائے۔ پھر دور کعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام اس طرح کہ قبر امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرے اور نیت کرے کہ دو رکعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھتا ہوں قربۃً الی اللہ، نماز تمام کرنے کے بعد زیارت عاشورا پڑھے۔
■ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اس دعا کو سات مرتبہ اسطرح پڑھے کہ گریہ و زاری کی حالت میں یہ دعا پڑھتا ہوا سات مرتبہ آگے بڑھے اور اسیطرح سات مرتبہ پیچھے ہٹے،
” اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّااِلَیہِ رَاجِعُونَ رِضاً بِقَضَائِہِ وَ تَسلِیماً لِاَمرِہ“
■ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
جو شخص عاشور کے دن دس مرتبہ اس دعا کو پڑھے، تو خداوندعالم تمام آفات و بلائے ناگہانی سے ایک سال تک محفوظ رکھتا ہے۔۔۔
” اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ بِحَقِّ الحُسَینِ وَ اَخِیہِ وَ اُمِّہِ وَ اَبِیہِ وَ جَدِّہِ وَ بَنِیہِ وَ فَرِّج عَنِّی مِمَّا اَنٰا فِیہِ بِرَحمَتِکَ یٰا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ۔“
■ شیخ مفید نے روایت کی ہے کہ جب بھی عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہیں تو آنحضرت کی قبر مطہر کے قریب کھڑ ے ہوں اور "زیارت ناحیہ مقدسہ" پڑهیں...
■ دعائے علقمہ
زیارت عاشورا کے بعد دعائے علقمہ پڑھیں۔
■ زیارتِ آخر روزِ عاشورا پڑھیں۔
■ نوٹ: عاشور کو آخری وقت پانی سے فاقہ شکنی کرے اور ایسی غذا کھائے جو مصیبت زدوں کی غذا ہو ۔لذیذکھانے سے پرہیز کرےں ،آج کے دن دعائے سلامتی نہیں پڑھنا چاہئے کیوں کہ یہ چیزیں دشمنوں کی ایجاد کردہ ہیں...
https://t.me/islamwitheman/3884
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
روزِ عاشورا محمدؐ و آل محمدؑ پر مصیبت کا دن ہے۔ عاشور کے دن امام حسینؑ نے اسلام کی بقا کی خاطر اپنا بھرا گھر اور اپنے انصار کو خدا کی راہ میں قربان کر دیا، ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام نے اس دن کو گریہ و زاری سے مخصوص کر دیا ہے۔ لہٰذا عاشور کے دن گریہ و زاری، مجلس و ماتم اور عزا کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔
■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اگر کوئی آج کے دن زیارتِ امام حسینؑ بجا لائے، آپ کی مصیبت پر خوب روئے اور اپنے گھر والوں اور اعزہ واقارب کو بھی رونے کا حکم دے۔ اپنے گھر میں عزا برپا کرے اور آپس میں ایک دوسرے سے رو کر ملے، ایک دوسرے کو ان الفاظ میں تعزیت و تسلیت پیش کرے۔
”عَظَّمَ اللّٰہُ اُجُورَنٰا بِمُصٰابِنٰا بِالحُسَینِ عَلَیہِ السَّلَام وَ جَعَلَنَا وَاِیَّاکُم مِنَ الطَّالِبِینَ بِشَارِہِ مَعَ وَلِیِّہِ الاِمَامِ المَھدِی مِن آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیہِمُ السَّلَام“
خداوندعالم اس کو بہت زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔
■ حضرت امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے:
اگر کوئی عاشور کے دن ہزار مرتبہ ”سورہ قل اللہ احد“ پڑھے تو خداوندعالم اس کی طرف رحمت کی نظر فرمائے گا، روز عاشور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں پر ہزار مرتبہ اس طرح لعنت بھیجنے کا بہت زیادہ ثواب ہے...
”اَللّٰھُمَّ العَن قَتَلَۃَ الحُسَینِ وَ اَصحٰابِہِ“
■ روز عاشور گریہ و زاری کرنا اور مصیبت زدوں کیطرح صورت بنانا، ننگے سر و ننگے پیر رہنا، آستینوں کو اوپر چڑھانا، گریبان کو چاک کرنا، سارے دن فاقہ سے رہنا عصر کے وقت فاقہ شکنی کرنا، قاتلانِ امام حسینؑ پر لعنت بھیجنا، صبح کے وقت جب کچھ دن چڑھ جائے تو صحرا یا کوٹھے پر جاکر اعمال عاشورا بجا لانے کی تاکید ہے۔
■ زیارتِ عاشورا پڑھیں:
سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی مختصر زیارت پڑھے۔۔۔
” اَلسَّلاَم ُعَلَیکَ یٰا اَبٰا عَبدِ اللّٰہِ ،اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ یَابنَ رَسُولِ اللّٰہِ ، اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ وَ بَرَکٰاتُہ “ اس کے بعد دو رکعت نماز زیارت عاشورا مثل نماز صبح بجا لائے۔ پھر دور کعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام اس طرح کہ قبر امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرے اور نیت کرے کہ دو رکعت نماز زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھتا ہوں قربۃً الی اللہ، نماز تمام کرنے کے بعد زیارت عاشورا پڑھے۔
■ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اس دعا کو سات مرتبہ اسطرح پڑھے کہ گریہ و زاری کی حالت میں یہ دعا پڑھتا ہوا سات مرتبہ آگے بڑھے اور اسیطرح سات مرتبہ پیچھے ہٹے،
” اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّااِلَیہِ رَاجِعُونَ رِضاً بِقَضَائِہِ وَ تَسلِیماً لِاَمرِہ“
■ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
جو شخص عاشور کے دن دس مرتبہ اس دعا کو پڑھے، تو خداوندعالم تمام آفات و بلائے ناگہانی سے ایک سال تک محفوظ رکھتا ہے۔۔۔
” اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ بِحَقِّ الحُسَینِ وَ اَخِیہِ وَ اُمِّہِ وَ اَبِیہِ وَ جَدِّہِ وَ بَنِیہِ وَ فَرِّج عَنِّی مِمَّا اَنٰا فِیہِ بِرَحمَتِکَ یٰا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ۔“
■ شیخ مفید نے روایت کی ہے کہ جب بھی عاشور کے دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہیں تو آنحضرت کی قبر مطہر کے قریب کھڑ ے ہوں اور "زیارت ناحیہ مقدسہ" پڑهیں...
■ دعائے علقمہ
زیارت عاشورا کے بعد دعائے علقمہ پڑھیں۔
■ زیارتِ آخر روزِ عاشورا پڑھیں۔
■ نوٹ: عاشور کو آخری وقت پانی سے فاقہ شکنی کرے اور ایسی غذا کھائے جو مصیبت زدوں کی غذا ہو ۔لذیذکھانے سے پرہیز کرےں ،آج کے دن دعائے سلامتی نہیں پڑھنا چاہئے کیوں کہ یہ چیزیں دشمنوں کی ایجاد کردہ ہیں...
https://t.me/islamwitheman/3884
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔴 روز عاشورہ 🔴
امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی تعداد 145 یا 192 اور کم از کم 72 تهی.
42 پیادہ اور تیس سوار.
میمنہ کے سردار حبیب ابن مظاہر،
میسره کے زہیر ابن القین،
ایک علم حبیب کے ہاتھ میں،
اور
رائیت ( بڑا علم) غازی عباس علیہ السلام کے دست مبارک میں تها.
◀ دوسری طرف
عمر سعد لعین کے لشکر کی تعداد 125000، دوسرا قول ایک لاکھ، ایک اور قول 80 ہزار سوار 40 ہزار پیدل.
امام حسین علیہ السلام کی جنگ آخر کم از کم 30 ہزار دشمنوں سے تهی.
یزید کے لشکر کا کمانڈر انچیف عمر سعد لعین،
ڈپٹی اس کا بیٹا،
میمنہ کا سردار عمر بن حجاج،
میسرہ کا شمر،
تیر اندازوں کا محمد بن اشعث.
↩ جنگ کا انجام
یزید حسینی لشکر کو شہید کر کے لعنةاللہ علیہ قرار پایا.
اور
حسین علیہ السلام
شاہ است حسین بادشاہ است حسین
سلام بر حسین.
↩ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے مخالف لشکر کی تعداد کےبارے میں.
اہل سیر اور تواریخ میں اس پر شدید اختلاف ہے. جسکی مختصر کیفیت مندرجہ ذیل ہے.
(1) چھ ہزار (تذکرہ خواص علامہ سبط ابن جوزی)
(2) بیس ہزار (لہوف سید ابن طاؤس و تاریح اعظم کوفی)
(3) بائیس ہزار (مراتہ الجنان یافعی، مطالب السول، روضۂ الشہدا)
(4) تیس ہزار (عاشر بحار، ناسح التواریح وغیرہ)
(5) پینتیس ہزار (مناقب ابن شہرآشوب)
(6) پچاس ہزار (شرح شافیہ ابی فراس)
(7) اکیاون ہزار (ناسح التواریح)
(8) اسی ہزار (مقتل ابی محنف)
یہ اختلاف بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گئے کہ بعض نے ایک لاکھ، بعض نے دو لاکھ، بعض نے تین لاکھ، بعض نے آٹھ لاکھ اور بعض نے نو لاکھ تک لکھا ہے. آقاے دربندی سب سے آگے بڑھ گئے. انکا قول ہے کہ میدان کربلا میں چھ لاکھ سوار اور دو کروڑ پیادے قتل و جدال کے لئے موجود تھے.
ان تمام اقوال میں (جو اکثر افراط وتفریط پرمشتمل ہیں) جسکو اکثر علماء و محققین نے اختیار کیا اور جسکو ارشاد معصوم علیہ السلام کی تائید بھی حاصل ہے وہ یہ ہے کہ لشکر مخالف کی تعداد تیس ہزار تھی.
عام اہل علم یا اہل تاریخ کے قول کی اہمیت تب تک ہوتی ہے جب تک قول معصوم ع معلوم نہ ہو یا جب تک وہ اقوال قول معصوم ع سے متضاد نہ ہوں مگر جب ارشاد معصوم مل جائے تو پھر ظاہر ہے کہ وہ ہی حجت ہوگا اور اس بلمقابل دوسرے اقوال آرا کی ہرگز کوئی قیمت نہ ہوگی. یہی مذھب شیعہ کا طغراے امتیاز ہے کہ وہ قول معصوم کے بلمقابل کسی بڑے سے بڑے عالم کے بیان کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتا.
لشکر مخالف کے سلسلہ میں جب امام زین العابدین علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد موجود ہے (عاشر بحارص ١٩٣، ناسح جلد ٦ ص ٢٢٥، نفس المہموم ص ١١٥، منتحب التواریح ص ٢٣٤) کہ لشکر مخالف کی مجموعی تعداد تیس ہزار تھی تو پھر اس کے دوسرے اقوال کی حثیت نہیں رہتی.
📚 سعادت الدارین فی مقتل حسین علیہ السلام.
https://t.me/islamwitheman/3881
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
امام حسین علیہ السلام کے لشکر کی تعداد 145 یا 192 اور کم از کم 72 تهی.
42 پیادہ اور تیس سوار.
میمنہ کے سردار حبیب ابن مظاہر،
میسره کے زہیر ابن القین،
ایک علم حبیب کے ہاتھ میں،
اور
رائیت ( بڑا علم) غازی عباس علیہ السلام کے دست مبارک میں تها.
◀ دوسری طرف
عمر سعد لعین کے لشکر کی تعداد 125000، دوسرا قول ایک لاکھ، ایک اور قول 80 ہزار سوار 40 ہزار پیدل.
امام حسین علیہ السلام کی جنگ آخر کم از کم 30 ہزار دشمنوں سے تهی.
یزید کے لشکر کا کمانڈر انچیف عمر سعد لعین،
ڈپٹی اس کا بیٹا،
میمنہ کا سردار عمر بن حجاج،
میسرہ کا شمر،
تیر اندازوں کا محمد بن اشعث.
↩ جنگ کا انجام
یزید حسینی لشکر کو شہید کر کے لعنةاللہ علیہ قرار پایا.
اور
حسین علیہ السلام
شاہ است حسین بادشاہ است حسین
سلام بر حسین.
↩ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے مخالف لشکر کی تعداد کےبارے میں.
اہل سیر اور تواریخ میں اس پر شدید اختلاف ہے. جسکی مختصر کیفیت مندرجہ ذیل ہے.
(1) چھ ہزار (تذکرہ خواص علامہ سبط ابن جوزی)
(2) بیس ہزار (لہوف سید ابن طاؤس و تاریح اعظم کوفی)
(3) بائیس ہزار (مراتہ الجنان یافعی، مطالب السول، روضۂ الشہدا)
(4) تیس ہزار (عاشر بحار، ناسح التواریح وغیرہ)
(5) پینتیس ہزار (مناقب ابن شہرآشوب)
(6) پچاس ہزار (شرح شافیہ ابی فراس)
(7) اکیاون ہزار (ناسح التواریح)
(8) اسی ہزار (مقتل ابی محنف)
یہ اختلاف بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گئے کہ بعض نے ایک لاکھ، بعض نے دو لاکھ، بعض نے تین لاکھ، بعض نے آٹھ لاکھ اور بعض نے نو لاکھ تک لکھا ہے. آقاے دربندی سب سے آگے بڑھ گئے. انکا قول ہے کہ میدان کربلا میں چھ لاکھ سوار اور دو کروڑ پیادے قتل و جدال کے لئے موجود تھے.
ان تمام اقوال میں (جو اکثر افراط وتفریط پرمشتمل ہیں) جسکو اکثر علماء و محققین نے اختیار کیا اور جسکو ارشاد معصوم علیہ السلام کی تائید بھی حاصل ہے وہ یہ ہے کہ لشکر مخالف کی تعداد تیس ہزار تھی.
عام اہل علم یا اہل تاریخ کے قول کی اہمیت تب تک ہوتی ہے جب تک قول معصوم ع معلوم نہ ہو یا جب تک وہ اقوال قول معصوم ع سے متضاد نہ ہوں مگر جب ارشاد معصوم مل جائے تو پھر ظاہر ہے کہ وہ ہی حجت ہوگا اور اس بلمقابل دوسرے اقوال آرا کی ہرگز کوئی قیمت نہ ہوگی. یہی مذھب شیعہ کا طغراے امتیاز ہے کہ وہ قول معصوم کے بلمقابل کسی بڑے سے بڑے عالم کے بیان کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتا.
لشکر مخالف کے سلسلہ میں جب امام زین العابدین علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد موجود ہے (عاشر بحارص ١٩٣، ناسح جلد ٦ ص ٢٢٥، نفس المہموم ص ١١٥، منتحب التواریح ص ٢٣٤) کہ لشکر مخالف کی مجموعی تعداد تیس ہزار تھی تو پھر اس کے دوسرے اقوال کی حثیت نہیں رہتی.
📚 سعادت الدارین فی مقتل حسین علیہ السلام.
https://t.me/islamwitheman/3881
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN