ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔴 حضرت عباس علمدارؑ کی شہادت 🔴

واقعہ کربلا کے وقت حضرت عباس علیہ السلام کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔

امام حسین علیہ السلام نے آپ کو لشکر حق کا علمبردار قرار دیا۔

امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کی تعداد 72 یازیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزارسے ذیادہ تھی مگر حضرت عباس علیہ السلام کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی۔

کربلامیں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس علیہ السلام جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امام وقت نے انھیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت ابوالفضل العباس کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے:
”چچا عباس کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پر فائز ہوگئے آپ نےبڑا ہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے۔"

10 محرم کو امام حسین علیہ السلام نےان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی سکینہؑ بنت الحسینؑ کے لئے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انھوں نے اپنے دونوں ھاتھ کٹوا دیئے اور شہادت پائی۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندانِ رسالت پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ھوا ویسے ہی حضرت ابوالفضل العباسؑ کے ساتھ ہوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔(1) ان کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔ دریائے فرات جو ان کے روضے سے کچھ فاصلے پر تھا اب ان کی قبر مبارک کے اردگرد چکر لگاتا ہے۔

ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے
سارے عالم کی وفا حضرت عباسؑ ميں ہے.

📚 بسطامی، تحفۂ حسینیہ، ص78۔ عربی
---------------------------------------------------
https://t.me/islamwitheman/3862
---------------------------------------------------

■ مزید پوسٹس۔۔۔

🔴 ذکر شہادت ابوالفضل العباسؑ
https://t.me/islamwitheman/3863

🌹 شجاعتِ حضرتِ عبّاسؑ
https://t.me/islamwitheman/3864

🌹 علمی فضیلت ابوالفضل عباسؑ
https://t.me/islamwitheman/3865

🔴 حضرت عباس علمدارؑ کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/3867
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 9 اور 10 محرم کا روزہ 🔷

♦کیا 9 اور 10 محرم الحرام کا روزہ رکھنا حرام ہے؟

♦جواب:
یومِ عاشورہ 10 محرم کا روزہ رکھنا رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کے نزدیک مکروہ ھے اور بعض مجتھدین مثلا آیت اللہ وحید خراسانی کے نزدیک احتیاط واجب کی بنا پر حرام ھے۔

♦آیت اللہ سیستانی کے نزدیک بھی 10 محرم کا روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ اور محرم کی پہلی، تیسری اور ساتویں تاریخ کا روزہ رکھنا تاکیدی مستحب ہے۔
(حوالہ: توضیح آیت اللہ سیستانی)

♦ شیخ طوسیؒ نے فرمایا کہ محرم کے پہلے نو دنوں کے روزے رکھنا مستحب ہیں مگر یوم عاشورہ کو عصر تک کچھ نہ کھائے پیئے، عصر کے بعد، تھوڑی سی خاک شفا سے فاقہ شکنی کرے، سید نے پورے ماہ محرم کے روزے رکھنے کی فضیلت لکھی اور فرمایا ہے کہ اس مہینے کے روزے انسان کو ہر گناہ سے محفوظ رکھتے ہیں۔ (سوائے یوم عاشور کے کیونکہ اس دن کا روزہ مکروہ ہے اور بعض مجتہدین کے نزدیک حرام ہے)
(حوالہ: مفاتیح الجنان)


♦ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
عاشور (10 محرم) کے روزہ کا ذکر نہ کتابِ خدا میں ہے نہ سنتِ رسول میں....
یہ امام حسین علیہ السلام کے قتل کے بعد سُنتِ آِل زیاد قرار پائی ہے۔
(حوالہ: فروعِ کافی، جلد3، ص322)

♦علامہ مجلسی نے زادالمعاد میں فرمایا ہے کہ بہتر ہے کہ نویں اور دسویں محرم کا روزہ نہ رکھے کیونکہ بنی امیہ اور ان کے پیروکار ان دو دنوں کو امام حسینؑ کو قتل کرنے کے باعث بڑے بابرکت وحشمت تصور کرتے ہیں اور ان دنوں میں روزہ رکھتے تھے، انہوں نے بہت سی وضعی حدیثیں حضرت رسول اکرمؐ کی طرف منسوب کر کے یہ ظاہر کیا کہ ان دو دنوں کا روزہ رکھنے کا بڑا اجر و ثواب ہے حالانکہ اہلبیت سے مروی کثیر حدیثوں میں ان دو دنوں اور خاص کر یوم عاشور کا روزہ رکھنے کی مذمت آئی ہے۔

♦ 10 محرم کے دن روزے کی نیت کے بغیر کھانا پینا ترک کئے رہیں اور عصر کے بعد تھوڑے سے پانی وغیرہ سے فاقہ شکنی کریں..
(حوالہ: مفاتیح الجنان)

♦لہذا 10 محرم کو روزہ نہ رکھا جائے بلکہ بہتر ھے کہ فاقہ کیا جائے (یعنی اذان فجر سے لے کر اذانِ عصر تک کچھ کھایا پیا نہ جائے اور عصر کے وقت فاقہ کھول لیا جائے.... اگر کوئی فاقہ رکھے تو وہ چاہے تو دن میں کسی بھی وقت عصر سے پہلے بھی کچھ کھا پی کر اسے ختم کر سکتا ہے ....فاقہ توڑنا گناہ نہیں ہے البتہ زیادہ ثواب ہے کہ عصر تک کچھ نہ کھائے پیئے)

https://t.me/islamwitheman/3868
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔴 شہادت ھمشکل پیغمبر 🔴

اصحاب و انصار کی شہادتوں کے بعد حسینؑ کے پاس انکے قریبی رشتہ داروں کے علاوہ کوئی باقی نہ رہا. اس دوران حسینؑ کے جوان بیٹے علی بن الحسینؑ الاکبر نے جنگ کی اجازت طلب کی. انکی والدہ ام لیلی بنت ابی مرہ بن مسعود تهیں.

على اكبرؑ كے نانا جناب عروہ بن مسعود عرب کے نامور ترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا تو قریش نے کہا تها کہ اگر اللہ نے نبوت دینی ہی تهی تو دو عظیم شہروں کے کسی بڑے آدمی کو دیتا اس بڑے آدمی سے مراد جناب عروہ تهے جو ام لیلی کے دادا تهے.

اسلام کے بعد یہ اسلام میں بھی نامور ترین فرد رہے اور ایک موقع پر انہیں رسول اللہ نے "شبیہ عیسی" قرار دیا. اور فرمایا:
"اسلام کے چار سردار ہیں ان میں سے ایک جناب عروہ بن مسعود ہیں."

پس حسینؑ نے علی اکبرؑ کو اجازت دی اور آسمان کی طرف رخ کر کے فرمایا:
"اے اللہ! گواہ رہنا. ایسا جوان ان کی طرف جنگ کیلیے نکلا ہے جو سیرت و گفتار و اخلاق میں سب سے زیادہ تیرے نبی کے مشابہ تها. اور جب ہم تیرے نبی کی زیارت کے مشتاق ہوتے تو اس جوان کی زیارت کرتے تهے.
اے اللہ! اس قوم پر آسمان سے برکت روک دے. اور انکے بیچ تفرقہ ڈالدے. ان کے حاکموں کو ان پر راضی نہ رکھ. انہوں نے ہمیں بلا کر ہماری مدد نہ کی."

پهر عمر بن سعد کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
"اے ابن سعد! تجھے کیا ہوگیا ہے. اللہ تجھ سے تیرے صلہ ارحام کو قطع کرے جسطرح تو نے ہماری رسول اللہ سے قرابت کا خیال نہ کیا. اور تمہیں برکت نہ دے. اور جلد تم پر ایک ایسے شخص کو مسلط کرے جو تمہیں تمہارے بستر پر ہی قتل کرے."

پهر یہ آیت پڑھی:
"بیشک اللہ نے آدم و نوح و آل عمران کو دو جہانوں پر منتخب کیا ہے. اور ذریتوں میں سے بعض کو بعض پر چنا ہے بیشک اللہ سننے اور جاننے والا ہے."

🔻 اذن ملنے کے بعد علی اکبر میدان جنگ میں آئے. اور یہ رجز پڑها:
"میں علیؑ ابن الحسینؑ ہوں. ہم اللہ کے گہر اور نبی ص کے سب سے زیادہ حقدار ہیں. میں تم پر ایسا وار کرونگا جیسا کہ ایک ہاشمی علوی جوان کو کرنا چاہیے. واللہ ہم پر زنا زادہ حکومت نہیں کرسکتا ہے."
جناب علی اکبرؑ نے شدید حملہ کیا اور 120 ملاعین کو واصل جہنم کیا. پهر پیاس کی شدت غالب آئی تو خیمہ گاہ واپس آئے اور بابا کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا:

"بابا! لوہے کی گرمی نے مجھے جهلسا دیا ہے اور پیاس کی شدت مجھے مارے ڈال رہی ہے کیا پانی کا بندوبست ممکن ہے.؟"

روایت میں ہے کہ حسینؑ یہ سنکر روئے. اور فرمایا:
"واغوثاہ! بیٹے علی اکبرؑ! میدان جہاد میں جاؤ دشمن سے مقابلہ کرو عنقریب تمہارے جد رسول اللہ تمہیں کوثر سے سیراب کرینگے. پهر کبھی تمہیں پیاس نہیں لگے گی."

بعض روایتوں میں ہے کہ حسینؑ نے علی اکبر سے فرمایا:
"اپنی زبان میری زبان میں دیدو."
پس علی اکبر نے ایسا کیا اور جلدی سے زبان باہر نکالی اور کہنے لگے:
"بابا! آپ کی زبان میری زبان سے زیادہ خشک ہے."

پس دوبارہ میدان میں آئے. مزید 60 کوفیوں کو واصل جہنم کیا. بعض روایات کیمطابق آپ نے کل 200 ملاعین کو قتل کیا.

بالاخر "مرہ بن منقذ ملعون" آگے بڑھا اور کہا:
"مجھ پر سب عربوں کا بار گناہ ہو اگر میں اس جوان کو قتل نہ کروں."

اس دوران جب علی اکبرؑ جنگ میں مصروف تھے کہ اس لعین نے موقع پا کر ان پر ایک کاری وار کیا. جس سے آپ زخمی ہوکر زمین پر گرے اور دشمنوں نے نبی اکرم کی شبیہ کو تلواروں سے ٹکرے ٹکرے کردیا.
انا للہ وانا الیہ راجعون.

ابو الفرج کی روایت کیمطابق ایک تیر جناب علی اکبر کے حلق پر لگی تهی جس سے آپ اپنے خون میں نہا گئے تھے پهر آپ نے اپنے مظلوم بابا کو آواز دی:

"بابا جان! آپ پر میرا سلام ہو یہ میرے نانا رسول اللہ ہیں جو آپ کو سلام کہہ رہے ہیں. اور فرماتے ہیں کہ آپ بهی ان کیطرف آنے میں جلدی کریں."

حمید بن مسلم کہتا ہے. جب جوان بیٹے کی آواز حسینؑ کے کانوں میں آئی تو آپ نے فرمایا:
"اے میرے بیٹے! جنہوں نے تجھے قتل کیا اللہ انکو ہلاک کرے. یہ لوگ حرمت رسول ص کو پایمال کرنے پر کسقدر جری ہوگئے ہیں."
پس روتے جاتے تهے اور فرماتے تھے:
"علی اکبر! تمہارے بعد دنیا کی زندگی پر خاک ہو."

"روضہ الصفا" میں ہے کہ حسین اس مصیبت پر بآواز بلند ایسا روئے کہ اسطرح آپکو اس سے قبل روتے نہیں دیکھا گیا.

شیخ مفید کی روایت کیمطابق جناب زینب کبری سلام اللہ علیہا علی اکبرؑ کی نعش پر بهائی سے پہلے پہنچیں. حسینؑ نے بہن کو واپس کیا اور جوانان بنی ہاشم سے فرمایا کہ:
"آگے بڑھو اور اپنے بهائی کی لاش کو خیمہ گاہ لے جاو."

مورخین میں یہ اختلاف ہے کہ اہل بیت کے پہلے شہید جناب علی اکبر ہیں یا جناب عبد اللہ بن مسلم بن عقیل؟

محمد بن شہر آشوب نے انکی عمر 18 سال بیان کی ہے. جبکہ شیخ مفید نے 19 سال کچھ مہینے لکھا ہے اسطرح یہ امام زین العابدین علیہ السلام سے کم عمر تهے. بعضوں نے آپکی عمر مبارک 25 سال لکھی ہے.
بعضوں نے آپکو
صاحب اولاد بھی لکھا ہے. لیکن آپکے کسی بچے یا زوجہ کی ثقہ روایات سے ہمیں کچہ معتبر مواد نہ مل سکا. البتہ آپکی والدہ کا کربلا میں موجود ہونا قوی روایات سے ثابت نہیں ہے. وہ اس واقعے سے قبل فوت ہوچکی تهیں، بعضوں نے انکی کربلا میں موجودگی کو بهی بیان کیا ہے. واللہ العالم.
الا لعنةالله على القوم الظالمين.

بحوالہ
(1) البحار 98/186
(2) البحار 45/32
(3) الکافی 5/361
(4) الارشاد 236
(5) السرایر 153
(6) مقاتل الطالبیین 80
( 7)المناقب 109
(8) روضہ الصفا
(9) البحار 45/65
(10) تاریخ طبری 7/357
(11) اللہوف -1
(12) مثیر الاحزان 35
(13) اسد الغابہ 1/ 191
(14) نفس المہموم 277-278-279.

https://t.me/islamwitheman/3871
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 شہادت شہزادہ علی اکبرؑ 🔷

امام حسینؑ کے یہ فرزندؑ پروردگارِ عالم نے ایک نعمت دی تھی۔ امام حسینؑ کے یہ وہ فرزندؑ تھے کہ تمام کتب تاریخ میں یہ ہے کہ سر سے پاؤں تک یہ معلوم ہوتا تھا کہ رسول اللہ ہیں۔ کیسی خوشی ہوتی ہوگی امام حسینؑ کو، جب علی اکبرؑ کو دیکھتے ہوں گے۔ نانا کی تصویر ہونے کے ساتھ، باپ کے اتنے مطیع کہ دنیا میں شاید ہی اتنی اطاعت باپ کی کسی بیٹے کے دل میں ہو جتنی علی اکبرؑ کے دل میں اطاعت کے جذبات تھے۔
میں نے بعض مقامات پر یہ بات پڑھی ہے کہ باہر کے لوگ مدینہ میں آتے تھے اور امام حسین علیہ السلام کے دروازے پر پہنچتے تھے، آواز دیتے تھے، امام حسینؑ باہر تشریف لاتے تھے، وہ لوگ کہتے تھے: مولا ! ذرا اپنے فرزند علی اکبرؑ کو بلوا دیجئے، تو امام حسینؑ فرماتے تھے کہ علی اکبرؑ سے کیا کام ہے؟ تو وہ کہتے تھے کہ ہم نے رسولؐ کی زیارت نہیں کی۔ ہم نے سنا ہے کہ آپؑ کا فرزند سر سے پاؤں تک رسولؐ کی تصویر ہے۔ ہم اس لئے آئے ہیں کہ آپؑ کے فرزند کو دیکھ لیں تاکہ رسولؐ کی زیارت کا ہم کو ثواب مل جائے۔
اِن حالات میں امام حسین علیہ السلام کے دل میں کیا کیا کیفیات پیدا ہوتی ہوں گی۔ راستے میں ایک مرتبہ امام حسینؑ ایک منزل پر مقیم تھے، بیٹھے بیٹھے کچھ غنودگی سی آگئی، اب جو آنکھ کھلی تو آپؑ نے اُٹھتے ہی ارشاد فرمایا:
" اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ "

تمام کے تمام ساتھی جو بیٹھے ہوئے تھے، گھبرا گئے کہ کیا واقعہ آپؑ کے ذہن میں آگیا کہ جس کی وجہ سے یہ کلمہ آپؑ کی زبان پر جاری ہوا۔ کسی کی ہمت نہ تھی جو آپؑ سے یہ پوچھے۔ جنابِ علی اکبرؑ نے دیکھا کہ بابا کچھ خاموش ہیں۔ آگے بڑھے اور عرض کرتے ہیں: بابا! آپ نے یہ کلمہ کیوں اپنی زبان پر جاری فرمایا۔ امامؑ فرماتے ہیں: بیٹا! ذرا میری آنکھ لگ گئی تھی تو میں نے ایک ہاتف کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا کہ یہ قافلہ اپنی قبروں کی طرف جا رہا ہے اور موت اُن کا استقبال کرنے کیلئے بڑھ رہی ہے۔ اس لئے میں نے یہ فقرہ اپنی زبان پر جاری کیا۔

اس پر جنابِ علی اکبرؑ نے عرض کیا: بابا! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ امام حسینؑ نے فرمایا: بیٹا! ہم حق پر ہیں تو جنابِ علی اکبرؑ نے فرمایا: بابا! جب ہم حق پر ہیں تو ہمیں موت کی کیا پروا ہے؟ آنے دیجئے موت کو ہمارا استقبال کرنے کیلئے۔ امام حسینؑ کا دل خوش ہوگیا۔

حاکمِ شام نے ایک دن بیٹھے بیٹھے ذکر کیا کہ بھئی بتلاؤ، اس زمانے میں حقیقی حیثیت سے قابلِ خلافت کون ہے؟ کسی نے کہا، تم ہو۔ کسی نے کہا، تمہارا بیٹا یزید ہے، کسی نے کچھ کہا۔ اُس نے کہا: تم لوگ سب خوشامد کر رہے ہو، مجھ سے پوچھو تو میری نظر میں امام حسینؑ کا بیٹا علی اکبرؑ ہے کہ سر سے پاؤں تک رسولؐ کی شبیہ ہے۔ دشمنوں کی نظر میں علی اکبرؑ ایسے تھے۔
ہائے! کربلا میں حسینؑ کا گھر ایسا برباد ہوا کہ پھر کبھی آباد نہ ہوا۔ عاشورہ کا دن آگیا۔ بس یہاں کے چند فقرے عرض کرنے ہیں۔
اولاد والو! اٹھارہ برس کی عمر، ساتویں محرم سے پانی بند ہے۔ پیاس کا غلبہ، ہونٹ سوکھے ہوئے مگر باپ سے یہ عرض نہیں کرتے کہ میں پیاسا ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ باپ کو تکلیف ہو۔
بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی ہاشم میں سب سے پہلے شہید جنابِ علی اکبرؑ ہیں اور بعض روایات یہ بتلاتی ہیں کہ سب سے آخر میں جنابِ علی اکبرؑ شہید ہوئے۔
بہرحال اگر بنی ہاشم کے آخری شہید ہیں تو جب عزیزوں کی لاشیں آگئیں، سیدہ زینبۜ کے بچوں کی بھی لاشیں آگئیں، ہائے جنابِ قاسمؑ کی بھی لاش آگئی۔ مسلمؑ کے دو فرزند جو یہاں کربلا میں تھے، اُن کی لاشیں بھی آگئیں اور اسی روایت کے اعتبار سے جنابِ عباس کے بازو بھی کٹ چکے تو جنابِ علی اکبرؑ آئے اور عرض کرتے ہیں: بابا! مجھے بھی اجازت دیجئے کہ میں بھی جان نذر کر دوں۔ امام حسینؑ نے سر سے پاؤں تک علی اکبرؑ کو دیکھا اور اتنا کہا کہ بیٹا! ذرا اس کوکھ جلی کے پاس بھی چلے جاؤ جس نے اٹھارہ برس بڑی محنت سے پالا ہے۔ جنابِ علی اکبرؑ خیمے میں آئے، جنابِ زینبۜ سمجھ گئیں کہ رخصت کیلئے آئے ہیں۔ بیبیاں چاروں طرف حلقہ بنا کر رونے لگیں۔ جنابِ علی اکبر علیہ السلام نے اپنی پھوپھیؐ اور حضرت اُمِ لیلیٰ جو ماں ہیں، اُنہیں سمجھایا کہ آخر آپ یہ چاہتی ہیں کہ میرا باپ شہید ہو جائے اور میں رہ جاؤں۔ دنیا آخر کیا کہے گی؟ جنابِ اُمّ لیلیٰ سے کہا کہ اماں! آپ تو مجھے اجازت دیجئے۔
جنابِ اُمّ لیلیٰ نے کہا کہ بیٹا! میں کون ہوں؟ جو کچھ ہیں یہ ہیں تمہاری پھوپھیؐ انہوں نے تمہیں پالا ہے۔ یہ اگر اجازت دے دیں تو میں کس طرح سے منع کرسکتی ہوں۔ آخر جنابِ زینبۜ نے اجازت دی۔ ایک شخص بیان کرتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ خیمے کا پردہ اُٹھتا ہے اور پھر گر جاتا ہے۔ پھر اُٹھا اور پھر گر گیا۔ میں نے جب دریافت کیا تو مجھے یہ معلوم ہوا کہ علی اکبرؑ بیبیوں کو تسلی دے کر نکلنا چاہتے تھے کہ بہنیں لپٹ جاتی ہیں۔ بہنوں کو تسلی دیتے ہیں اور نکلنا چاہتے ہیں تو پھوپھیؐ لپٹ جاتی ہیں: بیٹا! تھوڑی دیر ہم شکلِ پیغمبرؐ
کی زیارت کر لیں۔ اس طرح یہ عمل پردہ گرنے کا کئی مرتبہ ہوا۔ آخر علی اکبرؑ نکلے تو اس طرح سے نکلے جیسے بھرے گھر سے جنازہ نکلتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں آئے، عرض کیا: پھوپھیؐ سے اجازت لے لی، اماں بھی راضی ہوگئیں۔ اب آپ مجھے اجازت دیجئے۔ یہ سننا تھا کہ امام حسین علیہ السلام اپنی کمر پکڑ کر کھڑے ہوگئے۔ اپنا عمامہ اُتار کر علی اکبرؑ کے سر پر رکھا۔ بیٹا! یہ عمامہ تمہارے نانا محمد مصطفٰیؐ کا ہے۔ اس کو سر پر رکھ کر جاؤ، خود اپنے ہاتھ سے گھوڑے پر سوار کیا۔ علی اکبرؑ روانہ ہوئے۔ چند قدم چلے تھے، منہ پھیر کر دیکھا تو کیا دیکھا کہ حسینؑ دوڑتے ہوئے چلے آ رہے ہیں، فرمایا: بیٹا! جب تک سامنے رہو، مجھے منہ موڑ کو شکل دکھلاتے جاؤ، مجھے نانا یاد آ رہے ہیں۔
جنابِ علی اکبرؑ آئے میدان میں۔ اب میرے دل میں بھی طاقت نہیں ہے کچھ، جنگ کی۔ کچھ یزیدیوں کو قتل کیا۔ جو بھی مقابلے میں آیا، مارا گیا، علی کے پوتے تھے لیکن ایک وقت آیا کہ سب نے مل کر حملہ کیا۔ چاروں طرف سے ہجوم ہوگیا اور چاروں طرف سے جب گھر گئے، علی اکبرؑ کو ایک شخص نے آ کر سینے پر جو نیزہ مارا اور وہ نیزہ جو نکلا تو خون کا فوارہ جاری ہوگیا۔ ارے علی اکبرؑ کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ گھوڑے سے گر جائیں۔ ایک مرتبہ دونوں ہاتھ بڑھا کر گھوڑے کی گردن میں ڈال دئیے، گھوڑا فوج میں گھس گیا۔ جس کے قریب سے گزرے، اُس نے تلوار کا وار کر دیا۔ اس وقت ایسی حالت میں جنابِ علی اکبرؑ نے آواز دی:
" یَااَبَتَاہُ عَلَیْکُمْ مِنِّیْ اَلسَّلَامُ "

📚 روایاتِ عزا، علامہ حافظ کفایت حسین صاحب۔

https://t.me/islamwitheman/3876
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔴 واقعات شب عاشور 🔴

اب وه شب آئی ہے جسے شب عاشور کہتے ہیں. یہی شب تهی جس کے لیے کیا خوب شاعر نے کہا (یارب نہ سحر ہو).

"نفس المهموم" ميں شیخ عباس قمی علیہ الرحمہ امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
"جب شب عاشور آئی تو میرے بابا نے اصحاب و اہل بیت کو ایک خیمہ میں جمع کیا پهر خطبہ دیا سب سے پہلے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا:
" اے اللہ میں تیری حمد بیان کرتا ہوں کہ تو نے ہمیں نبوت و امامت سے کرامت بخشی. ہمیں قران کی تعلیم دی اور دین کی سمجھ بوجھ عطا کی. اور ہمیں کان، آنکھ اور دل دیئے پس تو ہمیں شکر گذاروں میں شمار فرما لے.
امابعد! مجھے نہیں معلوم کہ کسی کے اصحاب وفاداری میں میرے اصحاب سے بڑھ کر ہوں. اور نہ میرے اصحاب سے افضل کسی اور کے اصحاب ہیں.
نہ میرے رشتہ داروں سے بڑھ کر کسی کے رشتہ دار صلہ رحمی کرنے والے اور نہ ان سے افضل کسی کے اہل بیت ہیں.
پس اللہ میری طرف سے تم سب کو جزائے خیر دے.
بیشک! مجھے یقین تها کہ ہماری ایک نہ ایک دن ان دشمنوں سے ضرور جنگ ہو گی.
ہاں اور البتہ! تم میں سے جو جانا چاہتا ہے وہ جاسکتا ہے. اسے میری طرف سے اجازت ہے. یہ رات کا اندھیرا بہترین پردہ ہے پس تم میں سے جو جانا چاہے وہ چلا جائے.
یا پهر تم میں سے ہر کوئی میرے اہل بیت میں سے کسی کا ہاتھ تهام لے اور یہاں سے چلا جائے.
کیونکہ ان دشمنوں کو صرف مجھ سے غرض ہے. اور اگر میں انکے ہاتهوں قتل ہوگیا تو یہ پھر کسی سے تعرض نہ کرینگے."
یہ سنکر حسین کے بهائیوں، بیٹوں اور رشتہ داروں میں سے عباس بن علی، محمد بن مسلم اور عبد اللہ بن جعفر کے بیٹے کهڑے ہوئے اور عباس نے سب کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا:
"ہم ایسا کیوں کریں؟ کیا ہم آپ کے بعد زندہ رییں؟ اللہ ایسا دن کبهی ہمیں نہ دکھائے."
پهر دوسروں نے بهی ابوالفضل کی تائید میں گفتگو کی.
پس حسین علیہ السلام اولاد عقیل کیطرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
" اے آل عقیل! تمہاری طرف سے مسلم کی شہادت کافی ہے .تم لوگ چلے جاؤ. تمہیں اجازت دیتا ہوں."

یہ سن کر آل عقیل نے جواب دیا:
"سبحان اللہ! پهر کیا لوگ یہ نہ کہیں گے کہ ہم نے اپنے قبیلے کے سیدو سردار کو تنہا چهوڑ دیا؟ اور اپنے چچازادوں اور چچاؤں کی مدد کے وقت یاوری نہیں کی، جو چچاؤں اور چچازادوں میں بہترین چچا اور چچازاد ہیں. اور انکی ہمرکابی میں تیر و تلوار نہ چلاسکے؟ واللہ ہم ہرگز آپکو تنہا نہ چهوڑینگے بلکہ اپنی جان و مال و اولادوں کو آپ پر قربان کردینگے. اور جہاں آپ جائینگے وہیں جائینگے. آپ کیبعد زندگی ہمارے نصیب میں نہ ہو."

پهر اصحاب کیطرف سے سب سے پہلے مسلم بن عوسجہ اٹهے اور فرمایا:
"کیا ہم آپکو تنہا چهوڑ دیں؟ پهر کل ہم اللہ کے سامنے آپکے حق کے متعلق کیا جواب دینگے. اللہ کی قسم میں اپنے نیزے سے ان دشمنوں کے سینوں کو چهلنی کردونگا. اور ان پر تلوار سے وار کرونگا جب تک میرے ہاتهوں میں یہ تلوار موجود ہے. اور اگر میرے پاس اسلحہ ختم ہو جائے تو پتهر سے ان پر حملہ کرونگا.
اللہ کی قسم! ہم آپکا ساتھ اسوقت تک نہیں چهوڑینگے جب تک ہمیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ ہم نے رسول اللہ کی عدم موجودگی میں آپکی مدد کرکے انکا حق ادا کرنیکی کوشش کی ہے.
واللہ! اگر مجهے معلوم ہو کہ ستر دفعہ مجهے مار کر جلا کر یہ عمل دہرایا جائیگا تب بهی آپکی نصرت سے باز نہ آؤنگا."
(ستر دفعہ اور ہزار دفعہ جیسے عدد عربوں میں بلکہ غیروں میں بهی کثرت اور تاکید کیلئے بطور محاورہ استعمال ہوتا ہے یہ عزم مصمم کے اظہار کیلئے کہا جاتا ہے).

ان کے بعد زہیر بن القین کهڑے ہوئے اور کہا:
"اللہ کی قسم اگر مجهے ہزار دفعہ مارا جائے اور میری خاک ہوا میں اڑا دی جائے تب بهی آپ اور آپکے اہل بیت کے ان نوجوانوں کی مدد سے باز نہ آؤنگا."

پهر باقی اصحاب نے بهی اسیطرح کی فدایانہ باتیں کیں. اور کہنے لگے:
"ہم آپکو تنہا نہیں چهوڑ کر جاسکتے. ہم اپنی گردنوں، پیشانیوں، اور ہاتهوں پر زخم کها کر بهی آپکی مدد کرینگے."

یہ جذبہ دیکھ کر حسین علیہ السلام نے ان سب کو دعائے خیر دی.

اللہوف میں ہے کہ حسین علیہ السلام کے ایک صحابی "محمد بن بشیر الحضرمی" رضوان اللہ علیہ کا ایک بیٹا بلاد فارس میں دشمنوں کے ہاتهوں میں قید تها. امام علیہ السلام انکے پاس آئے اور فرمایا:
"اے محمد بن بشیر الحضرمی! تم اگر جانا چاہو تو بیشک میں تمہیں جانیکی اجازت دیتا ہوں. جاؤ اور اپنے بیٹے کو چهڑانے کا سہارا تلاش کرو."
تو اس وفاداری کی علامت نے یوں جواب دیا:
"یا ابا عبد اللہ! میں اپنے بیٹے کے متعلق اللہ سے اجر وصبر کا طالب ہوں. لیکن اسوقت میں اگر آپکو تنہا چهوڑ کر چلا جاؤں تو پهر اللہ مجهے زندگی نہ دے اور جنگل کے درندے مجهے چیر پهاڑ کر کها لیں."

پس امام نے اسے دس قیمتی کپڑے عطا کئے تاکہ انکا دوسرا بیٹا جاکر اپنے بهائی کو تاوان دیکر دشمنوں سے آزاد کرائے. امام علیہ السلام نے اس صحابی کے حق میں بهی رحمت کی دعا فرمائی.