ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔷 قبیلہ بنی اسد 🔷

امام حسینؑ کے اصحاب میں سے دو جانثاران حضرت مسلم بن عوسجہ اور حبیب بن مظاہر قبیلہ بنی اسد سے تعلق رکھتے تھے۔

چھ محرم کو حضرت امام حسینؑ کی خدمت میں حبیب بن مظاہر نے عرض کی کہ اے فرزندِ رسول یہیں قریب ہی میرے قبیلہ بنی اسد کے لوگ سکونت پذیر ہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں انکے پاس جاکر آپکی دعوت دوں۔ شاید کہ خداوند عالم آپکو بنی اسد کے ذریعے اس قومِ اشقیاء کے شر سے محفوظ رکھے۔

امامؑ نے انہیں اجازت دی اور وہ رات کے وقت انکے پاس گئے اور ان سے کہا میں تمہارے پاس بہترین تحفہ لایا ہوں اور وہ یہ کہ میں تمہیں نواسۂ رسولؐ کی نصرت کیلئے دعوت دینے آیا ہوں۔ انکے ہمراہ ایسے لوگ ہیں جن میں سے ہر ایک فرد ایک جنگجُو پر بھاری ہے، جو انہیں ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے نہ دشمن کو ان پر غالب آنے دیں گے۔
عمر سعد نے ایک بڑی فوج کیساتھ ان کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور چونکہ تم میرے قوم و قبیلہ کے افراد ہو لہذا میں تمہیں اس راہِ خیر کی ہدایت کرتا ہوں۔ آج تم لوگ میری بات مان لو اور اس کی مدد کے لیے کمر بستہ ہوجاؤ تاکہ اسطرح تم دنیا اور آخرت کے شرف کو حاصل کرلو۔
میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر تم میں سے ایک شخص بھی اپنے نبی کے نواسے کیساتھ اس جگہ پر راہِ خدا میں مارا جائے اور صبر و ثواب کے راستے پر چلے تو بہشتِ بریں میں حضرت رسولِخداؐ اس کے رفیق و ہمدم ہوں گے۔

یہ سن کر اس قبیلہ کا ایک شخص بنام عبداللہ بن بشیر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا "میں سب سے پہلے آپکی دعوت پر لبیک کہتا ہوں۔"
اس کے بعد قبیلہ کے دوسرے افراد کھڑے ہوگئے جن کی تعداد نوے بتائی جاتی ہے۔ وہ امامؑ کی مدد کیلئے روانہ ہوگئے۔
مگر اسی اثناء میں ایک شخص نے عمر سعد کو اس ماجرا کی اطلاع دی۔ اس نے ارزق نامی ایک شخص کی سرگردگی میں چار سو سواروں کا دستہ انکی طرف روانہ کردیا اور راستے میں ہی قبیلہ بنی اسد کے لوگوں کو روک لیا اور واپس جانے پہ مجبور کردیا۔

بعض روایات کے مطابق امام حسینؑ 2 محرم الحرام کو جب کربلا پہنچے تو قبیلہ بنی اسد کے سرداروں کو بلایا، ان سے کہا کہ میں یہ زمین خریدنا چاہتا ہوں۔ امام مظلوم نے 60 ہزار درہم دیکر 6 میل زمین خریدی اور فرمایا جس جگہ ہماری قبریں بنائی جائیں، وہاں کھیتی باڑی نہ کیجائے۔ ہمارے زائرین کو ہماری قبروں کے نشان بتانا اور انہیں تین دن تک اپنا مہمان رکھنا، یزیدی فوج اپنے نجس لاشے دفن کرکے چلے جائیں تو تم لوگ اپنے آدمیوں کیساتھ آکر ہماری لاشوں کو دفن کر دینا۔

مردوں کو یہ تاکید کرنے کیبعد نواسۂ رسولؐ نے قبیلہ بنی اسد کی عورتوں کو بلا کر ایک قطار میں کھڑا کیا اور اپنا تعارف کرایا۔
میں زینبؑ کا بھائی ہوں، فاطمہ زہراءؑ کا بیٹا ہوں، میں تمھارے رسولؐ کا نواسہ ہوں، میں علی مرتضٰیؑ کا بیٹا ہوں۔
"بیبیو اگر تمھارے مرد حکومت کے خوف سے ہمیں دفن نہ کرسکیں تو تم فرات سے پانی بھرنے کے بہانے سے ادھر سے گزرنا اور ہر بار ہماری لاشوں پر مٹی ڈالتی رہنا۔"

اس کیبعد امام مظلوم نے قبیلہ بنی اسد کے بچوں کو بلایا اور ایک قطار میں کھڑا کر کے ان سے اپنا تعارف کرایا۔
"بچو! میں تمھارے عمر کے بچے رکھتا ہوں، جو روزِ عاشورا سب شہید ہو جائیں گے۔ میں ساقئ کوثر کا فرزند ہوں، اگر تمھارے ماں باپ ہمیں دفن نہ کرسکیں تو تم کھیل کے بہانے ادھر آجانا اور کھیلتے کھیلتے ہماری لاشوں پہ مٹی ڈالتے رہنا۔"

علامہ مجلسیؒ بحارالأنوار میں لکھتے ہیں:
تیرہ محرم 61 ہجری کو بنی اسد کی خواتین دریائے فرات سے پانی لینے آئیں تو انھوں نے زمین پر بہت سے لاشے بکھرے ہوئے دیکھے کہ جن کے جسموں سے تازہ خون ایسے بہہ رہا تھا کہ گویا انھیں آج ہی شہید کیا گیا ہے، خواتین یہ منظر دیکھ کر روتی ہوئیں واپس اپنے قبیلے والوں کے پاس گئیں اور ان سے کہا کہ تم یہاں اپنے گھروں میں بیٹھے ہو اور رسولِخداؐ کے بیٹے امام حسینؑ اور انکے اہل و عیال اور ساتھیوں کو ریت پہ قربانی کے جانوروں کیطرح ذبح کردیا گیا ہے، جب تم رسولِخداؐ، امیرالمومنینؑ اور حضرت فاطمہؑ کی بارگاہ میں حاضر ہو گے تو انکے سامنے کیا عذر پیش کرو گے؟
اگرچہ تم نے امام حسینؑ کی مدد و نصرت کا موقع کھو دیا ہے، لیکن ابھی اٹھو اور جاکر ان پاک و پاکیزہ لاشوں کو دفن کرو، اگر تم نے انکو دفن نہ کیا تو ہم خواتین خود جاکر انکے دفن کا کام سرانجام دیں گی، اسکے بعد بنی اسد کے مرد ان طاہر لاشوں کو دفن کرنے کے لئے آئے۔

اب بھی 13 محرم کو قبیلہ بنی اسد کے ہزاروں مرد، خواتین اور بچے بیلچے لئے ہوئے کربلا میں وارد ہوتے ہیں اور ضریح اقدس کے قریب آکر آواز بلند کرتے ہیں "مولا ہم دفن کرنے آئے ہیں۔"

1975ء میں حزب بعث کی حکومت نے اس جلوسِ پر پابندی لگا دی تھی لیکن 2003ء میں ظالمانہ حکومت کے خاتمہ کیبعد آنیوالے پہلے ہی محرم کی تیرہ تاریخ کو یہ ماتمی جلوس دوبارہ مکمل عقیدت کیساتھ 2004ء کو برآمد ہوا اور ہر سال برآمد ہوتا ہے۔

تحریر: توقیر کھرل

https://t.me/islamwitheman/3833
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 ثار الله کے معنی 🌹

❶ثار عربی میں انتقام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور خون کا معنی بھی دیتا ہے۔(۱)
’’ثاراللہ‘‘ کے مختلف معانی ذکر ہوئے ہیں جن میں سے ہرایک کی خاص تفسیر کی ضرورت ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ خداوند امام حسینؑ کا ولّئ دم ہے یعنی امام حسینؑ کا دشمنوں سے انتقام خود خدا لیگا، کیونکہ سیدالشہداء کا کربلا میں قتل کرنا حریم الٰہی پر تجاوز تھا اور خدا کے مقابل قرار پانا تھا، خلاصہ یہ کہ اہلبیتؑ آل اللہ ہیں۔ لہٰذا انکی شہادت بھی اس خون کا گرانا ہوگا جو خداوند سے منسوب ہے۔(۲)
اگرچہ یہ اصطلاح قرآن میں وارد نہیں ہوئی لیکن آیات قرآن کیساتھ اسکی توجیہ کی جاسکتی ہے۔ خداوند فرماتا ہے:
ومن قتل مظلوماً فقد جعلنا لولیہ سلطانا۔(۳)
’’جو شخص مظلوم مارا جائے ہم نے اس ولی کیلئے سلطنت (حق قصاص) قرار دی ہے‘‘
پس جو بھی ظلم کیساتھ قتل ہوجائے اس کے ورثہ کو حق قصاص ہے اور چونکہ اہلبیتؑ خصوصاً امام حسینؑ ظلم کیساتھ راہ خدا و حق و حقیقت کی خاطر مارے گئے ہیں لہٰذا ان کا ولّئ دم اورخونخواہ خود خدا ہے، پس ثاراللہ کے معنی یہ ہوں گے کہ امام حسینؑ کے خون کا بدلہ خداوند سے متعلق ہے، خداوند ہی اما م حسینؑ کے خون کا بدلہ لیگا۔ یہ اصطلاح امام حسینؑ اور خداوند کے درمیان شدید تعلق و ہم بستگی سے حکایت کرتی ہے جو خون خدا سے متعلق ہے اس کا خداوند خود انتقام لے گا۔(۴)

❷ اگر ثار خون کے معنی میں ہو تو قطعی طور پر اسکے حقیقی معنی مراد نہیں ہونگے بلکہ ایک طرح کی تشبیہ، کنایہ اور مجاز ہوگا کیونکہ خداوند جسم تو رکھتا نہیں کہ اس کا خون ہو، لہٰذا یہ معقول کو محسوس سے تشبیہ دینے کے باب سے ہوگا یعنی جیسے خون بدن میں حیاتی فعالیت انجام دیتا ہے اسیطرح امام حسینؑ نے بھی دین خدا کیلئے یہی کام کیا اور نہضت عاشورہ سے اسلام کو زندگی ملی۔

❸ اس بارے میں روایات سے استفادہ شدہ عرفانی نظر سے بھی بڑا نورانی نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے، حضرت علیؑ کو ’’اسد اللہ‘‘ اور ’’یداللہ‘‘جیسے القاب دئیے گئے ہیں اور حدیث قرب نوافل میں رسولؐ خدا نے فرمایا کہ خداوند فرماتا ہے:
ماتجب الی عبدی بشئی احب الی مما افترضت علیہ وانہ لیتجب الی بالنافلہ حتی احبہ فاذا اجبتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی یبصر بہ ولسانہ الذی ینطق بہ و یدہ التی یبطش بھا ورجلہ التی بھا اذا دعائی احببتہ واذا سألتی اعطیتہ۔(۵)
’’میرا بندہ واجبات سے پسندیدہ ترین چیز کے ساتھ میرے نزدیک اظہار محبت نہیں کرتا ،وہ نوافل کے ذریعے میرے نزدیک اظہار محبت کرتا ہے یہانتک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے ہنسنے، بولنے وغیرہ کا ذریعہ بن جاتا ہوں، وہ جب مجھے پکارے تو میں اسے جواب دیتا ہوں جب کچھ مانگے تو اسے عطا کرتا ہوں‘‘
اس روایت سے یہ بات واضح ہے کہ اولیائے الٰہی زمین میں خلیفہ خدا اور مظہر افعال الٰہی ہیں، خداوند کا جسم نہیں ہے جو وہ انجا م دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اپنے اولیاء کے ذریعے اس کا اظہار کرتا ہے، جب اپنے بندے تک مدد پہنچانا چاہتا ہے تو اپنے اولیاء کو پہنچاتا ہے اور جب وہ چاہتا ہے کہ اسکی طرف سے دین کے احیاء کیلئے قربانی دی جائے خون بہایا جائے تو اسے بھی اپنے اولیاء کی شہادت کے ذریعے اظہار کرتا ہے، اسی وجہ سے جیسے حضرت علیؑ بدست قدرت خدا (یداللہ) ہیں۔ اسیطرح امام حسینؑ بھی ثاراللہ اور خون خدا ہیں، لہٰذا زیارت عاشورہ میں ہے:
السلام علیک یا ثاراللّٰہ وابن ثارہ والوتر الموتور۔
’’سلام ہو آپ پر اے خون خدا اور خون خدا کے بیٹے اور سلام ہو آپ پر آپ یگانہ دہر‘‘
مرحوم ابن قولویہ نے بھی زیارت صفحہ ۱۷و ۲۰ میں یہ جملہ نقل کیا ہے:
وانک ثاراللّٰہ فی الارض والدم الذی لا یدرک ترتہ احد من اھل الارض وال یدرکہ الا اللّٰہ وحدہ(۶)
جیسے بدن میں خون کا کردار حیاتی کردار ہے اس کے ہونے سے زندگی ہے اور نہ ہونے سے زندگی نہیں ہے۔ حضرت علیؑ اور امام حسینؑ کا وجود مقدس بھی خدا کے نزدیک اور دین میں اسی کردار کا حامل ہے اگر آپ نہ ہوتے تو نہ اسلام ہوتا نہ دین ہوتا۔
ہاں جب تک امام حسینؑ کا نام اور یاد زبانوں پر ہے، جب تک عشق حسینؑ دلوں میں جوش مار رہا ہے، جب تک آپکی ولایت کی حرارت دلوں کو گرما رہی ہے اور جب تک یاحسینؑ کی آوازیں زمین و آسمان میں گونج رہی ہیں تب تک نام خدا اور یاد خدا زندہ ہے کیونکہ آپ نے اپنی پور ی ہستی و کائنات راہ خدا میں قربان کردی، اس دور کے ریاکاروں اور تحریف گروں کے چہروں سے نقاب اتار دی اور نبوی و علوی خالص اسلام لوگوں پر آشکار کردیا، لہٰذا آپ کا خون بھی اتنا عظیم ہو گا کہ ثاراللہ کہلایا۔

📚 مأخذ
۱۔ اطریحی، مجمع البحرین ج۱ ص۲۳۷، محمد فرہنگ فارسی ج۱ ص ۱۱۸۵، مفردات راغب، ص۸۱۔
۲۔ محدثی جواد، زیارت عاشورہ ص۱۴، عزیزی تہرانی، اصغر شرح زیارت عاشورہ ص۳۵۔
۳۔ اسراء/۳۳۔
۴۔ فرہنگ عاشورہ
۵۔ محاسن برقی ج۱، ص۲۹۱۔
۶۔ کامل الزیارات ص۳۶۸،۴۰۶۔

https://t.me/islamwitheman/3854
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کربلا میں نماز ظہر کا قیامت خیز منظر 🔷

جب قوم جفاکار نےفرزندرسول ص کو نماز پڑھنے کی مہلت نہ دی اور نابکار جنگ موقوف کرنے پر راضی نہ ہوئے تو امام علیہ السلام نے بطور نماز خوف نماز ادا کرنے کا تہیہ کر لیا ۔
جناب سعید بن عبداللہ جو کہ ایمان و ایقان کے پیکر تھے امام علیہ السلام کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہو گئے
جدھر سے تیر یا تلوار یا نیزہ کا کوئی وار ہوتا تھا یہ آگے بڑھ کر اپنے سینہ پر لے لیتے تھے
چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ادھر امام علیہ السلام نے نماز کا سلام پھیرا اور ادھر جناب سعید بن عبداللہ جو زخموں سے چھلنی ہو چکے تھے زخموں کی تاب نہ لا کر زمین پر گر گئے
جناب سعید کے بدن پر تلواروں اور نیزوں کے زخموں کے علاوہ تیرہ تیر جسم مبارک میں پیوست تھے
گرتے ہوئے کہا اے اللہ ان لوگوں پر اس طرح لعنت کر جس طرح قوم عاد و ثمود پر کی تھی
اور جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرا سلام پہنچا
میرے رنج و الم کی ان کو اطلاع دے کیونکہ میں نے تیرے ثواب کی خاطر ذریت رسول کی نصرت کی ہے
جناب سعید بن عبد اللہ نے آخری وقت سید الشہداء کو مخاطب کر کے عرض کیا یابن رسول اللہ ص اے فرزند رسول ص کیا میں نے عہد پورا کر دیا؟
امام علیہ السلام نے فرمایا نعم ہاں۔ وانت امامی فی الجنۃ تم مجھ سے پہلے جنت میں جاؤ گے
اس کے بعد ان کی روح قفس عنصری سے جنت الفردوس کی طرف پرواز کر گئی۔
انا للہ وانا الیہ راجعون

📚 سعادت الدارین فی مقتل الحسینؑ، ص368، پی ڈی ایف (علامہ الشیخ محمد حسین نجفی مدظلہ العالی)

https://t.me/islamwitheman/3829
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 فقط رونا کافی نہیں ہے 🔷

خطرناک ترین چیز جو روز عاشورا مشاہدے سے گزری وہ یہ ہے کہ ، لوگ امام حسین علیہ السلام کو قتل بھی کر رہے تھے اور رو بھی رہے تھے ۔ جس وقت حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے امام علیہ السلام کے جسم اطہر پر دل خراش بین کئے تو عمر سعد اور اس کا سارا لشکر بھی وہ بین سن کر رویا۔

سوال یہ ہے کہ ، اس رونے کا کوئی فائدہ ہے؟؟ عمر سعد کے رونے کی کتنی اہمیت ہے؟ شمر ذی الجوشن کے رونے کی کیا حیثیت ہے؟؟ یہ ایک عبرت کا مقام ہے۔!

یاد رکھیں ۔۔۔ امام حسین علیہ السلام کے اہداف و نظریات کی مخالفت یا ان کا قتل امام حسین علیہ السلام کی ہی مخالفت اور قتل ہے، یزید بھی حسین علیہ السلام کے جسم کا نہیں ان کے ہدف ونظریے کا دشمن تھا، وہ حسین علیہ السلام کے نظریے کو ختم کرنا چاہتا تھا اور ان کے ہدف سے خائف تھا۔

لہذا ہمیں خدا سے دعا کرنی چاہیے کہ ہمیں ان افراد میں سے قرار نہ دے جو حسین علیہ السلام اور حسینی ہدف و مقصد کو قتل بھی کرتے ہوں اور روتے بھی ہوں۔

شھید ایت الله باقر الصدر

https://t.me/islamwitheman/3852
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 آل رسولؐ سے نفرت 🔷

کیا آپ نے کبھی سنا کہ کسی نے فتوٰی ٰ مانگا ہو کہ شیعہ کی عام محفل میں بیٹھنا حرام ہے یا نہیں، کیا کسی مولوی نے فتوٰی ٰ دیا؟

کیا کبھی کسی نے کہا کہ شیعہ کے گھر میں جانے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟ کیا کبھی کسی مولوی نے فتوٰی دیا؟

کیا کبھی کسی نے کہا کہ شیعہ عام حالات میں بھی شربت میں تھوک ڈالتے ہیں؟ کیا کسی مولوی نے شربت پینے کو حرام قرار دیا؟

کیا کسی نے کہا کہ شیعہ عام حالات میں کھانے میں خون ملاتے ہیں؟ کیا کسی مولوی نے کھانے کو حرام قرار دیا؟

کیا کسی نے کہا کہ کسی شیعہ کے سیاسی جلوس میں جانا حرام ہے؟ کیا کسی مولوی نے فتوٰی دیا؟

کیا کبھی کسی نے پوچھا کہ شیعہ عام حالات میں بھی خواتین کے ساتھ غلط فعل کرتے ہیں؟ کیا کبھی کسی مولوی نے ایسا فتوٰی ٰ دیا؟

میں نے آج تک نا ہی ایسا سوال سنا اور نا ہی ایسا فتوٰی ٰ پڑھا۔ پاکستان بھر میں شیعہ حضرات کاروبار کرتے نظر آتے ہیں۔ دوکان کے نام سے علم ہو جاتا ہے کہ یہ شیعہ ہے۔ دوکاندار کے نام سے علم ہو جاتا ہے کہ یہ شیعہ ہے۔ دوکان میں لگی تصویروں سے ظاہر ہو جاتا ہے مگر وہاں سب پانی پیتے ہیں، چائے بھی پیتے ہیں، کھانا بھی کھاتے ہیں اور محفلیں بھی سجتی ہیں مگر کبھی کسی کو شک نہیں ہوتا کہ اس میں تھوک ملائی ہو گی یا خون ملایا ہو گا۔ آپ نے کبھی سوچا کہ ایک حالت میں شیعہ کے ساتھ کھانا پینا اور اٹھنا بیٹھنا حلال ہوتا ہے لیکن دوسرے ہی لمحے وہی سب کچھ حرام ہو جاتا ہے؟ یہ سب سوال اور اعتراضات صرف ایک معاملہ سے منسلک ہیں۔ اور وہ عزاداری اہلبیت علیہم السلام ہے۔

مجلس میں جانے سے نکاح ٹوٹتا ہے؟
ہاں نکاح فاسق ہو جاتا ہے۔

کیا شیعہ سبیل میں تھوک ملاتے ہیں؟
ہاں شیعہ ایسا کرتے ہیں۔

کیا شیعہ نیاز میں خون ڈالتے ہیں؟
بالکل ڈالتے ہیں۔

کیا شیعہ شام غریباں میں بدفعلی کرتے ہیں؟
جی بالکل کرتے ہیں۔

کیا شیعہ جلوس میں جانا حرام ہے؟
بالکل حرام ہے۔

کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ شیعوں سے نفرت ہے؟ نہیں یہ نفرت آل رسول سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل تشیع سے بھی تب نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے اور پروپیگینڈا کیا جاتا ہے جب وہ محمد و آل محمد علیھم السلام کا غم منا رہے ہوتے ہیں۔

یہ شیعہ دشمنی دراصل اہلبیت علیہم السلام سے دشمنی ہے ورنہ عام حالات میں شیعہ بہت اچھے لگتے ہیں لیکن جوں ہی عزاداری کرتے ہیں تو دشمن نظر آتے ہیں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 تم نے دیکھ لیا 🔷

تم نے 1949ء میں شیعہ کافر کے نعروں اور اشتہاروں کو چھپوا کے دیکھ لیا۔

تم نے 1950ء میں ہم پر دوران جلوس پتھراؤ اور لاٹھی چارج کروا کے دیکھ لیا۔

تم نے 1954ء میں لاہور احمدی تحریک کی آڑ میں ہماری املاک کو لوٹ کر دیکھ لیا۔

تم نے 1955ء میں لاہور مرکزی جلوس شبیہ ذولجناح پر کھولتا ہوا تیل پھینک کر دیکھ لیا۔

تم نے 1958ء ٹھہری میں مجلس کا گھیراؤ کر کے دو سو سے زیادہ عزاداروں کو ذبح کر کے دیکھ لیا۔

تم نے 1962ء کے محرم میں پورے پاکستان میں شیعہ مخالف فساد کروا کے دیکھ لیا۔

تم نے 1970ء میں کوئٹہ میں چاقو، تلواروں کے وار سے عزاداروں کو قتل کر کے دیکھ لیا۔

تم نے 1974ء کے فساد کے بعد بھی دیکھ لیا۔

تم نے 1977ء سے 1988ء تک بدترین ریاستی جبر ظلم استبداد کے بعد بھی دیکھ لیا۔

تم نے 1981 میں کالعدم سپاہ صحابہ کے وجود میں آنے کے بعد بھی دیکھ لیا۔

تم نے 1986ء اور 1988ء میں سرکاری سرپرستی میں کروائے گئے فسادات کے بعد بھی دیکھ لیا۔

تم نے 1990ء سے 1999ء میں بدترین ٹارگٹ کلنگ اور سانحہ مومن پورہ لاہور کے بعد بھی دیکھ لیا۔

تم نے 2000ء سے 2010ء تک مساجد، امام بارگاہوں، مجالس اور جلوس ہائے عزاء میں خود کش دھماکوں کے بعد بھی دیکھ لیا۔

تم نے 2005ء سے 2012ء تک پاراچنار میں جنگ کا نتیجہ بھی دیکھ لیا۔

تم نے 2010ء سے 2021ء تک ہزارہ نسل کشی کے بعد بھی دیکھ لیا۔

تم نے ہمارا بسوں سے اتر کر شناخت کر کے قتل کیا جانا دیکھ لیا۔

تم نے ہمارا درہ آدم خیل کوہاٹ بنوں میں بس سے اتار کر سڑک پر ذبح کیا جانا دیکھ لیا۔

تم نے قافلہ زیارت کا واپسی پر خود کش حملوں کا شکار ہونا دیکھ لیا۔

تم نے ہمارے قتل عام پر سنچری سانگ دیکھ لیا۔

تم نے ہمارے خلاف کفر کے فتوے دیکھ لیے۔

تم نے ہمارے خلاف پراپگنڈہ کر کے دیکھ لیا۔

تم نے دوران جلوس ہمارا کٹ جانا مگر علم عباس کو جھکنے نہ دینا دیکھ لیا۔

تم نے ہم میں اپنے کارندے پلانٹ کروا کے دیکھ لیا۔

تم نے ہم پر جھوٹی ایف آئی آڑ کٹوا کے دیکھ لیا۔

تم نے ہمارے گھروں پر پتھراؤ کر کے دیکھ لیا۔

تم نے ہمیں بےگناہ اسیر کر کے دیکھ لیا۔

تم نے اخبارات اور میڈیا کو استعمال کر کے دشمنان اہل بیت کی حمایت و مدح کر کے دیکھ لیا۔

تم نے ایام عزا کے دوران شمالی علاقوں کی سیر کی ترویج کر کے دیکھ لیا۔

تم نے پچھلے بیس برس میں میڈیا میں عزاداری کی ترویج کو محدود کر کے دیکھ لیا۔

تم نے ہمارے جوانوں کو بچوں کو لاپتہ کر کے دیکھ لیا۔

تم نے پچھلے برس یزید زندہ باد کا نعرہ لگا کے دیکھ لیا۔

تم نے بائیکاٹ غدیر کا ٹرینڈ چلا کے دیکھ لیا۔

تم نے لبرلز اور ملحدوں سے عزاداری پر جملہ بازی کروا کے دیکھ لیا۔

الغرض بنی امیہ، بنی عباس، بنی سلجوق، خلافت عثمانیہ اور مغلوں کے دور کے بعد جو حربہ ظلم اور طریقہ جبر تم کر سکتے تھے تم نے کر لیا۔ نام حسین بلند تھا ہے اور رہے گا کیونکہ۔۔۔
بدلہ ہے کربلا میں _ تقاضہ انقلاب
نیزے پہ اب جو سر ہے وہی سر بلند ہے

جب یہ سب کچھ کر کے دیکھ لیا ہے۔ ہم لاپتا ہو کر بھی اپنا پتہ رکھتے ہیں۔ تو پھر اب فرش عزا پر بھی آکر دیکھ لو۔ غم حسین کو اپنا کر سبیل حسین اور لنگر حسین کر کے دیکھ لو اور نیاز میں مولا حسین سے حریت لے جاؤ کیونکہ در حسین آج بھی حر بناتا ہے اطاعت کے گر سکھاتا ہے... بندگی وہی ہے جو کربلا میں عطا ہوتی ہے پھر خانہ کعبہ میں جھکائی جاتی ہے...

اے محسن اعظم تیرا دم بھرتے رہیں گے
ماتم تیرا ہر دور میں ہم کرتے رہیں گے
تو لکھ چھپے پردہ میں اے روح یزیدی!
لعنت تیری تصویر پہ ہم کرتے رہیں گے

https://t.me/islamwitheman/3859
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔪🗡⚔ قمه زنی ⚔🗡🔪

●■حجت الاسلام قرائتی فرماتے ہیں:
قمه‎زنی سے پرهیز کی مبلغین بزرگوار کی تاکید کے باوجود ایک شهر میں لوگ اپنے اعتقادات کی خاطر اسے چھوڑ نہیں رہے تھے. ہم سے کہا گیا کہ آپ وہاں جائیں اور انہیں اس سے روکیں. ماه محرم کے ایام تھے، کیونکہ ہمارے آنے کا اعلان کیا ہوا تھا اور لوگوں نے ٹیلیویزن پر دیکھا ہوا تھا، مسجد میں جمع ہوگئے.

جب داخل ہوا تو لوگوں نے کہا: آقا قرائتی قمه‎زنی کے بارے میں کہنے آئے ہیں.
میں نے کہا: میرا کام کیا ہے؟
انہوں نے کہا: آپ معلم قرآن ہیں.
میں نے کہا: معلم قرآن کے عنوان سے مجھے قبول کرتے ہو؟
انہوں نے کہا: جی قبول کرتے ہیں لیکن حرف قمه نہ کہیں، فقط قرآن سے بات کریں.
میں نے بورڈ پر لکھا:
​«بسم الله الرحمن الرحیم - یا ایها الذین آمنوا لا تقولوا راعنا و قولوا انظرنا»​ (سورہ بقرہ ۱۰۴)؛
«اے ایمان والوں! "راعنا" مت کہو، بلکه کہو: "انظرنا".» اسکے بعد توضیح دی که:
«یا ایها الذین آمنوا» یعنی: اے مؤمنین .
«لا تقولوا راعنا و قولوا انظرنا»
راعنا مت کہو بلکه انظرنا کہو یعنی کیا؟ اسکا قصه‏ ‏کچھ اس طرح ہے که: پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم خطبہ کے حال میں تھے، نیچے بیٹھے ایک شخص نے کہا: راعنا، یعنی میری مراعات بھی کریں.
یعنی آہستہ سے بات کریں اور کمزور فہم افراد کا بھی خیال رکھیں.
یہ کلمه راعنا مثل گوشت ہے که اسے آلو کے ساتھ بھی پکایا جاسکتا ہے اور سبزی کے ساتھ بھی.
«راعنا» کو اگر «رعی‏» سے لیا جائے اسکے معنی «ہماری مراعات کریں» ہوتے ہیں اور اگر «رعن‏» سے ہو تو اسکے معنی بےوقفوف بنانے کے ہیں.
جب مسلمان «راعنا» کہتے تھے تو انکا هدف مقدس تھا و معنی «ہماری مراعات کریں» کا اراده کرتے تھے، لیکن یهودی‎ اس کلمے سے سو‌‍ء استفاده کرتے، کہتے تھے:
مسلمان‎ اپنے پیغمبر کو کہتے ہیں ہمیں بےوقوف بناؤ. یہاں آیت نازل ہوئی:
«یا ایها الذین آمنوا لا تقولوا راعنا و قولوا انظرنا»؛
«اے ایمان والوں! "راعنا" مت کہو، بلکه کہو: "انظرنا".»
یعنی جس کلمے سے دشمن سوء استفاده کرتے ہیں، اسے استعمال نہ کرو.!!
اس آیه کی تفسیر کے بعد کہا: جب آپ قمه لگاتے ہیں تو آپکا هدف مقدس ہوتا ہے اور عشق امام حسین علیه السلام میں یہ کام کرتے ہیں، لیکن یورپی نیوز چینلز نے آپکے اس کام کو ۱۲ مرتبہ دکھا کر کہا ہے که شیعه خودآزاری کے مرض میں مبتلا ہیں. دشمن آپکے اس کام سے یوں سوء استفاده کرتا ہے.

■ آج آپکا یہ کام صدر اسلام میں مسلمانوں کے «راعنا» کہنے کی طرح ہے که دشمن اس سے سوء استفاده کرتا تھا اور قرآن کریم نے اس آیه کے ذریعہ اس دور اور آج کے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے که:
•●■ ہر اس کام سے پرهیز کریں که جس سے دشمن سوء استفاده کرتا ہے. پس آج کیونکہ دشمن آپکی قمه‏ زنی سے سوء استفاده کرتا ہے، لہذا آپ قمه نہ لگائیں.
انہوں نے کہا: اب سمجھ گئے، آج کے بعد قمه نہیں لگائیں گے.!

📚 (مجله مبلغان، شماره 39 فروردین 1382)

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔴 ذكرِ شہادت ابوالفضل العباسؑ 🔴

ابوالفضلؑ صحیفۂ کربلا میں "لوح محفوظ" کی حیثیت رکھتے ہیں. شجاعت، کرامت، بلندی کردار، اطاعت وفا اور تسلیم جب یہ ساری صفات ذات والا صفات عباسؑ میں جمع ہوئیں تو وہ ابوالفضل کہلانے میں حق بجانب ہوئے.

دنیا میں پانی پلا کر ساقی بنتے دیکھے ہیں لیکن عباسؑ کائنات کا پہلا اور آخری سقا ہے جن کا مشکیزہ چهدا، پانی گرا، لیکن عباسؑ پھر بھی ساقی عطاشی کرب و بلا ہے.

احسن الخالقین خالق نے جب عباسؑ کی تخلیق کی تو ان میں ظاہری و باطنی ایسے کمالات رکھ دیئے کہ عباسؑ "احسن تقویم" کی زندہ مثال بن گئے.
بلاشبہ جس بہن کا عباسؑ جیسا بھائی ہو وہ بهلا کیسے سوچے گی کہ انکے ہاتھوں میں رسن بندهیں گے. بیشک عباسؑ یہ حق رکھتے ہیں کہ ان کے متعلق امام سجادؑ یہ فرمائیں کہ
"ہمارے چچا عباس کی اللہ کے پاس قیامت کے دن ایسی منزلت ہوگی کہ سارے شہداء مقام و مرتبہ و بلندی حضرت ابوالفضل پر رشک کریں گے."
پهر فرمایا؛
"اللہ نے میرے چچا عباس کو ان کے قطع شدہ بازوؤں کے عوض دو پر عنایت کئے جن کے ذریعے وہ جنت میں اپنے چچا جعفر طیار کیطرح پرواز کرتے ہیں."

نفس المہموم کی روایت ہے کہ جب عباسؑ اجازت لینے آئے تو حسینؑ نے اجازت دینے سے قبل ہی شدید گریہ کرنا شروع کردیا. پھر فرمایا:
"بھیا! تم میرے لشکر کے علمدار ہو. جب تم چلے جاؤ گے تو میرا لشکر بکھر جائیگا."
تو عباسؑ نے جواب دیا؛
"مولا! میرا سینہ غم سے بوجھل ہے. اور اب شہیدان راہ وفا کےبعد عباس کے اندر جینے کی خواہش باقی نہیں رہی. میں ان منافقوں سے اپنا انتقام لینا چاہتا ہوں."
لیکن حسینؑ نے فرمایا:
"بھیا! پهر ان بچوں کیلیے پانی کی کوئی سبیل تلاش کرو."
پس عزیزو! ابوالفضل بحکمِ امامؑ گهوڑے پر سوار ہوئے. مشک کو ہاتھوں میں لیا. اور فرات کی طرف چلے. چار ہزار ملاعین نے شیرِ خدا کے شیر کو گھیرا. تب عباسؑ نے یہ رجز پڑها:
"میں موت سے نہیں ڈرتا جب موت مجھ سے نزدیک ہو. میری جان، پاک مصطفٰیؐ کی جان، حسینؑ پر قربان ہو. میں عباس ہوں اور میں ضرور ان بچوں کو سیراب کرونگا اور اس بارے میں کسی بهی خطرے کی پرواہ نہ کرونگا."

عباسؑ نے 80 ملعونوں کو واصل جہنم کیا اور باقی دشمنان ابوالفضل کی ہیبت سے ایسے پراگندہ ہوئے کہ دور دور تک بھاگ کھڑے ہوئے.

عباسؑ نہر علقمہ میں داخل ہوئے. پانی سے مشک کو بهرا. عباسؑ چاہتے تو پانی پی سکتے تھے. لیکن اللہ رے وفا و مروت و احساس تشنگئ اطفال کہ عباس نے چلو سے پانی پھینک دیا.
فرات سے باہر آئے. مشک کو بائیں کندھے پر رکھا. اب عباسؑ کی ساری توجہ خیمہ گاۂ حسینی کیطرف ہے. ادھر ظالموں نے چاروں طرف سے ابوالفضل کو گھیرے میں لیا.
عباسؑ زبردست مزاحمت کے ساتھ آگے بڑھے. عباسؑ کی ساری توجہ مشک پر ہے کہ یہ کسی نہ کسی طریقہ سے حسینؑ کے بچوں تک پہنچ جائے.

پس عزیزو! ایک ایسا لمحہ آیا جب "نوفل الازرق" لعین نے وار کرکے عباس کا دایاں بازو جدا کیا تو عباسؑ نے یہ رجز پڑها:
"واللہ! اگرچہ تم نے میرا داہنا ہاتھ کاٹ ڈالا ہے لیکن میں اپنے دین اور امامِ برحق فرزندِ نبی کا دفاع کرتا رہونگا."

پهر ابوالفضلؑ نے مشک کو بائیں ہاتھ پر منتقل کیا. نوفل ملعون نے دوسرا وار آپکی بائیں کلائی پر کیا اور بایاں بازو بهی شہید ہوا.تو ابوالفضلؑ نے یہ رجز پڑها:

"اے عباس کی جان! کفار سے خوفزدہ نہ ہو. تجهے نبی کی ہمراہی میں جنت کی بشارت ہو. واللہ انہوں نے سرکشی کرکے میرا بائیں ہاتھ کاٹ دیا ہے. پس اے اللہ انہیں جہنم کی حرارت کا مزہ چکھا دے."

اب سقا ہو تو ایسا کہ مشک کو دانتوں میں دبایا. چشمِ فلک نے آج تک ایسا ساقی نہ دیکھا ہوگا. اسی لیے تو عباسؑ باب المراد و باب الحوائج بنے.
پس عزیزو!
اتنے میں ایک تیر جب مشک پر آ لگا اور پانی بہہ گیا. اسی دوران دوسرا تیر عباسؑ کے سینہ اقدس میں پیوست ہوا. اس لمحہ عباسؑ گهوڑے سے زمین کربلا پر گرے. اور حسینؑ کو آواز دی. "ادرکنی یا اخاہ"
الطریجی کہتے ہیں کہ عباسؑ نے حسینؑ کو ندا تب دی جب ایک ملعون نے گرز آہنی سے سر مبارک قمر بنی ہاشم پر وار کیا. پس عباسؑ نے ندا دی.
السلام علیک یا اباعبداللہ.

ابن نما لکھتے ہیں کہ حکیم بن طفیل لعین نے عباسؑ کو تیر مارا تھا. پس جب عباسؑ شہید ہوئے تو حسینؑ نے فرمایا:
"اب میری کمر ٹوٹ گئی. اور میری تدبیریں کارگر نہ رہیں."

بعض روایتوں میں حکیم بن طفیل اور زید بن ورقاء الجہنی کو عباسؑ کا قاتل کہا گیا ہے. ان دونوں نے کمین گاہ سے چھپ کر ایک کھجور کے درخت کے پیچھے سے آپکے بازوؤں پر وار کیا تها.
حسینؑ نے عباسؑ کی لاش کو علقمہ پر رہنے دیا. شاید خم شدہ کمر کے بعد جوان بهائی کی لاش اٹھانا حسینؑ کیلئے آسان نہ تھا. اللہ اکبر

سلام ہو آپ پر اے فرزندِ امیرالمؤمنینؑ.
اللہ کی لعنت ہو آپکے قاتلین پر.

بحوالہ:
1) نفس المہموم 305- 306-307
2) مقاتل الطالبیین 84-85
3) الخصال للصدوق 68
4) مثیر الاحزان 37
5) عمدہ الطالب 323.

https://t.me/islamwitheman/3862
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 شجاعتِ حضرتِ عبّاسؑ 🌹

تاریخ نے شجاعتِ حضرتِ عبّاسؑ کو اس طرح نقل کیا ہے: کالجبل العظیم و قلبہ کا الّطود الجسیم لانّہ کان فارسا ہماما و بطلا ضرغاما و کان جسوراعلیٰ الطّعن والضرب فی میدان الکفّار۔
ترجمہ:
وہ بلندی میں کوہِ عظیم کی مانند، قوّت میں ان کا قلب بلند و وسیع پہاڑ کی طرح شجاعِ بے مثال، شیرِ ضرغام تھے۔ جنگ میں کفار ہمّت اور مردانگی کی داد دیتے تھے(1)

روایت میں ہے کہ جنگِ صفین میں ایک جوانِ نقابدار لشکرِ امیرالمؤمنینؑ سے نکلا، جس سے ہیبت اور شجاعت ظاہر ہوتی تھی جسکی عمر تقریبا سولہ سال ہوگی اور جنگ کرنے کے لیے مبارز طلب کرنے لگا معاویہ نے ابوشعثاء کو حکم دیا کہ
جنگ کرے ابوشعثاء نے کہا؛ شام کے لوگ مجھے ہزار سوار کے برابر سمجھتے ہیں میرے سات بیٹے ہیں، میں ان میں سے ایک کو بھیجتا ہوں وہ اس کا کام تمام کر دیگا، اور اس نے اپنے ایک بیٹے کو بھیجا لیکن وہ قتل ہوگیا۔ اسیطرح اس نے اپنے ساتوں بیٹوں کو بھیجا اور سب قتل ہوتے رہے۔
ابوشعثاء نے جب یہ دیکھا، دنیا اسکی نظر میں تاریک ہوگئی وہ خود بھی میدان میں آیا اور وہ بھی جہنم واصل ہوا۔

جب لوگوں نے شجاعت کے اس ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کو میدان میں دیکھا تو کسی کی ہمّت نہ ہوئی کہ کوئی اس شجاع بے مثال کے مقابلہ میں جاتا وہ جوان اپنے لشکر کی طرف پلٹ گیا۔ اصحابِ امیرالمؤمنین حیرت زدہ تھے کہ یہ جوان کون ہے لیکن جب نقاب رخ سے ہٹی تو پتا چلا کہ قمرِ بنی ہاشم حضرتِ ابوالفضل العباسؑ ہیں۔(2)

شجاعتِ حضرتِ عبّاسؑ کا اس روایت سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وہ چیزیں جو اہلبیت کے لشکر سے لوٹی گئیں تھیں ان میں پرچمِ حضرت عبّاسؑ بھی تھا۔ جب یہ تمام اشیاء یزید کے سامنے پیش کی گئیں تو یزید کی نگاہ اس پرچم پر گئی وہ غور سے اس پرچم کو دیکھتا رہا اور تعجّب سے کبھی اٹھتا تھا، کبھی بیٹھتا تھا۔
کسی نے سوال کیا؛ امیر کیا ہوا کہ اس طرح مبہوت اورحیرت زدہ ہو؟
یزید نے پوچھا؛ یہ پرچم کربلا میں کس کے ہاتھ میں تھا؟

کہا؛ عبّاسؑ برادرِ حسینؑ کے ہاتھ میں۔
یزید کہتا ہے کہ؛ مجھے تعجّب اس علمبردار کی شجاعت پر ہے۔

پوچھا کیوں؟
کہا؛ دیکھو پورا پرچم حتیّٰ اس کی لکڑی پر تیروں اور دوسرے اسلحوں کے نشانات ہیں صرف اس ایک جگہ کے جہاں سے اس کو پکڑ ا گیا ہے یہ جگہ کاملا محفوظ ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ تیر اور دوسرے اسلحے اس جگہ بھی لگے لیکن اس بہادر نے عَلَم کو اپنے ہاتھ سے رہا نہیں کیا، آخری وقت تک اس پرچم کی حفاظت کرتا رہا، جب اسکا ہاتھ گرا تب پرچم گرا۔

📚حوالہ جات؛
1۔ خصایص العباسیہ ص 118 و 119۔
2۔ فرسان الھیجاء، ج1، ص10193۔ چہرۂ درخشان قمر بنی ہاشم ابوالفضل العبّاس ص190۔

https://t.me/islamwitheman/3863
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 علمی فضیلت ابوالفضل عباسؑ 🌹

ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﯿﺮﺟﻨﺪﯼ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ: ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱؑ ﺍہلبیتؑ ﮐﮯ ﺍﮐﺎﺑﺮ، ﺍﻓﺎﺿﻞ، ﻓﻘﮩﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ جنہوﮞ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺯﺍﻧﻮﺋﮯ ﺍﺩﺏ ﺗﮩﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻣﻘﺮﻡ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ: ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦؑ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻭﺗﺮﺑﯿﺖ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﮯ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﻭﺭﻣﻮﺯ ﻣﻨﺠﻤﻠﮧ ﻋﻠﻢ ﻣﻨﺎﯾﺎ ﻭﺑﻼﯾﺎ (ﯾﻌﻨﯽ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ) ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ (ﺟﯿﺴﮯ ﺣﺒﯿﺐ ﺑﻦ ﻣﻈﺎﮨﺮ، ﻣﯿﺜﻢ ﺗﻤﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺭُﺷَﯿﺪ ﺣﺠﺮﯼ ﻭﻏﯿﺮﮦ)

ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻣﻌﻘﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦؑ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﻋﻠﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﻓﺮﺍﺯ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻮﺭ ﭼﺸﻢ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺭﮦٔ ﺟﮕﺮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻮﻡ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺭﮐﮭﯿﮟ؟ ﺟﺒﮑﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻭﺍﺳﺘﻌﺪﺍﺩ ﺍﻥ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﯽ! ﮐﯿﺎ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻮﻻ ﻭﺁﻗﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱؑ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﻥ ﻋﻠﻮﻡ ﮐﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻭﺍﺳﺘﻌﺪﺍﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ؟
ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ! ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦؑ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﯿﻌﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻮ ﻋﻠﻮﻡ ﻭﻣﻌﺎﺭﻑ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻭﺍﺳﺘﻌﺪﺍﺩ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻮﻡ ﺳﮯ ﺳﺮﻓﺮﺍﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﭼﮧ ﺟﺎﺋﯿﮑﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻧﻮﺭ ﭼﺸﻢ ﻭﭘﺎﺭﮦٔ ﺟﮕﺮ، ﻧﮧ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﺴﺐ ﻋﻠﻮﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻭﺍﺳﺘﻌﺪﺍﺩ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻓﺮﺯﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﯽ۔
ﻣﺨﺘﺼﺮ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺎﺱؑ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﻦ ﺯﯾﻨﺐ ﮐﺒﺮﯼٰؑ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﮐﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﭘﮭﻮﭘﮭﯽ ﺯﯾﻨﺐ ﻋﺎﻟﻤﮧ ﻏﯿﺮ ﻣﺘﻌﻠﻤﮧ ﮨﯿﮟ (ﯾﻌﻨﯽ ﮐﺴﯽ کے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺯﺍﻧﻮﺋﮯ ﺍﺩﺏ ﺗﮩﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ) ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻋﺎﻟﻢ ﻏﯿﺮﻣﺘﻌﻠﻢ ﮨﯿﮟ۔

ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﮐﺮﺑﻼ، ﻗﻤﺮ ﺑﻨﯽ ﮨﺎﺷﻢ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱؑ ﻃﯿﺐ ﻭ ﻃﺎﮨﺮﻧﻔﺲ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮎ ﻭﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﻃﯿﻨﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﺧﻼﺹ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﺣﺪﯾﺚ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻣﮑﻤﻞ ﻣﺼﺪﺍﻕ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ:
''ﻣٰﺎ ﺍَﺧﻠَﺺَ ﻋَﺒﺪ ﻟِﻠّٰﮧِ ﻋَﺰَّﻭَﺟَﻞَّ ﺍَﺭﺑَﻌِﯿﻦَ ﺻَﺒﺎﺣﺎً ﺍِﻻّٰ ﺟَﺮَﺕ ﯾَﻨﺎﺑﯿﻊُ ﺍﻟﺤِﮑﻤَﺔِ ﻣِﻦ ﻗَﻠﺒِﮧِ ﻋَﻠﯽٰ ﻟِﺴٰﺎﻧِﮧِ"
"ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﻠﺐ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﮯ ﭼﺸﻤﮯ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔"

ﭘﺲ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻭﻣﺮﺍﺣﻞ ﮐﻮ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﻭﺧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯾﺌﮯ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﺭﺫﺍﺋﻞ ﺳﮯ ﻣﻨﺰﮦ ﻭﻣﺒﺮﮦ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﻮ، ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﺍﻗﺪﺱ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻋﻠﻮﻡ ﻭﻣﻌﺎﺭﻑ ﮐﮯ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﻣﺘﺠﻠﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ، ﻋﻠﻢ ﻟﺪﻧﯽ ﮨﻮ؟
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺩﻟﯿﻞ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﮐﮧ ﻗﻤﺮ ﺑﻨﯽ ﮨﺎشم ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﻭﺟﺪﺍﻧﯽ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺑﺮﮨﺎﻧﯽ ﻋﻠﻮﻡ ﻭﻣﻌﺎﺭﻑ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﮨﺮ ﺗﮭﮯ، ﻣﻌﺼﻮﻡؑ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ:
"ﺍِﻥَّ ﺍﻟﻌَﺒّﺎﺱَ ﺑﻦَ ﻋﻠﯽٍّ ﺯُﻕَّ ﺍﻟﻌِﻠﻢَ ﺯُﻗّﺎً۔"
"ﺑﮯ ﺷﮏ ﻋﺒﺎﺱ ﺑﻦ ﻋﻠﯽ ﮐﻮ ﺑﭽﭙﻦ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻋﻠﻢ ﺳﮯ ﺳﯿﺮ ﻭﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺩﺍﻧﮧ ﺑﮭﺮﺍﺗﺎ ﮨﮯ۔"
ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻣﻘﺮﻡ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ:
ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﯽ ﺗﺸﺒﯿﮧ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺑﺪﯾﻊ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮦ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ''ﺯﻕ'' ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺩﺍﻧﮧ ﺑﮭﺮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺗﻨﮩﺎ ﺩﺍﻧﮧ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺩﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽؑ ﮐﮯ ﮐﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮦ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﻘﺎﺋﮯ ﺳﮑﯿﻨﮧ ﺑﭽﭙﻦ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺣﺘٰﯽ ﺁﻏﻮﺵِ ﻣﺎﺩﺭ ﺳﮯ ﻋﻠﻮﻡ ﻭﻣﻌﺎﺭﻑ ﮐﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻭﺍﺳﺘﻌﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﺗﮭﮯ۔

ﺍﯾﮏ ﺗﻌﺠﺐ ﺧﯿﺰ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻮﺛﻘﯿﻦ ﻧﮯ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺮﺑﻼ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻢ ﭘﺮ ﻏﺮﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﺗﮑﺒﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﮭﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱؑ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻋﻠﻮﻡ ﻭﻣﻌﺎﺭﻑ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﭘﺮ ﺍﻣﺘﯿﺎﺯ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﺎ ﺑﺤﺚ ﻭﮔﻔﺘﮕﻮ ﮨﻮﺋﯽ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﻣﻐﺮﻭﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺮﺍﻧﻘﺪﺭ ﺧﺼﻮﺻﯿﺎﺕ ﻣﻨﺠﻤﻠﮧ ﻋﻠﻮﻡ، ﻧﻤﺎﺯ ﺷﺐ، ﻣﺴﺘﺤﺒﯽ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺯﮨﺪ ﻭﺗﻘﻮﯼٰ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺀ ﭘﺮ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﮐﮯ ﺑﺮﺗﺮ ﮨﮯ! ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺮﺗﺮﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯ ﻋﺎﺷﻮﺭﮦ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺑﺮﺍﺑﺮﯼ ﻋﻠﻢ ﻭ ﻓﻘﮧ (ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻭﮦ ﻣﺪﻋﯽ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱؑ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ) ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﺑﺰﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﺴﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺗﻌﺠﺐ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﺮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﺗﮑﺒﺮ ﻭﻏﺮﻭﺭ ﭘﺮ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﻑ ﻻﺣﻖ ﺗﮭﺎ۔

ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩن ﻣﺠﻤﻊ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺍﺱ ﻣﺮﺩ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺎﺧﺒﺮ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻤﺮﺍﮨﯽ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﺎﻣﻞ ﺣﺎﻝ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ ﭘﺲ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ، ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺩﻕ ﺍﻟﺒﺎﺏ ﮐﯿﺎ، ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﮐﮯ ﺣﺮﻡ ﻣﻄﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﻟﻮﮒ ﺣﺮﻡ ﻣﻄﮩﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻠﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﺮﺩ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﺳّﯽ ﺑﺎﻧﺪﮬﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﺳّﯽ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺳﺮﺍ ﺿﺮﯾﺢ ﻣﻄﮩﺮ ﺳﮯ ﻣﺘﺼﻞ ﮐﺌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﯾﮧ ﻭ ﺯﺍﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻤﻞ ﭘﺮ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﻭ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ کہا کہ؛
جب میں کل کی شب سویا تو میں نے
ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﮯ ﻣﺠﻤﻊ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﮞ، ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺩ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﻟﻌﺒﺎﺱؑ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﭖؑ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﻠﻮﺏ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﻧﻮﺭ ﮐﮯ ﮨﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮦٔ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﮯ ﺳﺎﻃﻊ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺑﺰﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮒ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻋﻈﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻥ ﻭ ﺷﻮﮐﺖ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﺿﻊ ﻭ ﺧﺎﺷﻊ ﺗﮭﮯ، ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﺁﮐﺮ ﺻﺪﺭ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺟﺴﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺷﺪﺕ کے ﺳﺎﺗﮫ ﺧﻮﻑ ﻭ ﺍﺿﻄﺮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﺗﮭﺎ۔
ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﻧﮯ ﺍﮨﻞ ﺑﺰﻡ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﺩ ﺳﮯ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯽ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﺵ ﻭ ﺣﻮﺍﺱ ﺍﮌﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮨﻼﮐﺖ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺣﻖ ﮐﻮ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻭﮞ، ﺟﻮ ﺩﻟﯿﻠﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ کیں۔
ﺟﻨﺎﺏ ﻋﺒﺎﺱؑ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻣﯿﮞ نے ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺪﺭ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦؑ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦؑ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﯿﻦؑ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻋﻠﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﺟﻠﯿﻞ ﺍﻟﻘﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﻟٰﮩﯽ ﺍﺳﺎﺗﯿﺪ ﺳﮯ ﻋﻠﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﺗﮏ پہنچا ﮨﻮﮞ ﺟﺐ کہ ﺗﻢ ﺍپنے ﺩﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺷﮏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ، ﮐﯿﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﻼﻡ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﺪﺑﺨﺖ ﮨﮯ! ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﻭﻗﻮﺍﻋﺪ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺟﺎﮨﻞ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﺋﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺣﻘﺎﺋﻖ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﻣﯿﮞ اﻥ ﺍﺻﻮﻝ ﻭ ﻗﻮﺍﻋﺪ ﮐﺎ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻭ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﮐﻮ ﻭﺣﯽٔ ﺍﻟٰﮩﯽ ﮐﮯ ﺳﺮﭼﺸﻤﮧ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ: ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺍﻧﻘﺪﺭ ﺻﻔﺎﺕ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ: ﮐﺮﻡ، ﺻﺒﺮ، ﺍﯾﺜﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﺩ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺻﻔﺎﺕ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﻭ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﯽ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺪ، ﺧﻮﺩﭘﺴﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﺎ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺟﯿﺴﯽ ﺭﺫﯾﻠﮧ ﺻﻔﺎﺕ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺳﺖ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ منہ ﭘﺮ ﻣﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺧﻄﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺧﻮﻑ ﻭ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﮯ ﺗﻮﺳﻞ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﺮﺗﺴﻠﯿﻢ ﺧﻢ ﮐﯿﺎ۔

📚حوالہ جات:
ﻋﯿﻮﻥ ﺍﻻﺧﺒﺎﺭ، ٦٨٢ ﺏ ،٣١ ﺡ ۔ ٣٢١۔
ﺍﺳﺮﺍﺭ ﺍﻟﺸﮩﺎﺩﺓ، ﺹ۔ ٣٢٤۔
ﺍﻟﻌﺒﺎﺱ، ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻣﻘﺮﻡ ، ١٦٩ ﺧﻼﺻﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﺧﺼﺎﻝ ﺻﺪﻭﻕ، ﺝ ١، ﺹ ٦٧، ﺑﺎﺏ '' ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﺟﺰ ﺩﺭ ﺳﮧ ﻣﻮﺭﺩ ﺭﻭﺍ ﻧﯿﺴﺖ۔

https://t.me/islamwitheman/3865
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔴 حضرت عباس علمدارؑ کی شہادت 🔴

واقعہ کربلا کے وقت حضرت عباس علیہ السلام کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔

امام حسین علیہ السلام نے آپ کو لشکر حق کا علمبردار قرار دیا۔

امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کی تعداد 72 یازیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزارسے ذیادہ تھی مگر حضرت عباس علیہ السلام کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی۔

کربلامیں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس علیہ السلام جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امام وقت نے انھیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت ابوالفضل العباس کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے:
”چچا عباس کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پر فائز ہوگئے آپ نےبڑا ہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے۔"

10 محرم کو امام حسین علیہ السلام نےان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی سکینہؑ بنت الحسینؑ کے لئے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انھوں نے اپنے دونوں ھاتھ کٹوا دیئے اور شہادت پائی۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندانِ رسالت پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ھوا ویسے ہی حضرت ابوالفضل العباسؑ کے ساتھ ہوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔(1) ان کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔ دریائے فرات جو ان کے روضے سے کچھ فاصلے پر تھا اب ان کی قبر مبارک کے اردگرد چکر لگاتا ہے۔

ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے
سارے عالم کی وفا حضرت عباسؑ ميں ہے.

📚 بسطامی، تحفۂ حسینیہ، ص78۔ عربی
---------------------------------------------------
https://t.me/islamwitheman/3862
---------------------------------------------------

■ مزید پوسٹس۔۔۔

🔴 ذکر شہادت ابوالفضل العباسؑ
https://t.me/islamwitheman/3863

🌹 شجاعتِ حضرتِ عبّاسؑ
https://t.me/islamwitheman/3864

🌹 علمی فضیلت ابوالفضل عباسؑ
https://t.me/islamwitheman/3865

🔴 حضرت عباس علمدارؑ کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/3867
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 9 اور 10 محرم کا روزہ 🔷

♦کیا 9 اور 10 محرم الحرام کا روزہ رکھنا حرام ہے؟

♦جواب:
یومِ عاشورہ 10 محرم کا روزہ رکھنا رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کے نزدیک مکروہ ھے اور بعض مجتھدین مثلا آیت اللہ وحید خراسانی کے نزدیک احتیاط واجب کی بنا پر حرام ھے۔

♦آیت اللہ سیستانی کے نزدیک بھی 10 محرم کا روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ اور محرم کی پہلی، تیسری اور ساتویں تاریخ کا روزہ رکھنا تاکیدی مستحب ہے۔
(حوالہ: توضیح آیت اللہ سیستانی)

♦ شیخ طوسیؒ نے فرمایا کہ محرم کے پہلے نو دنوں کے روزے رکھنا مستحب ہیں مگر یوم عاشورہ کو عصر تک کچھ نہ کھائے پیئے، عصر کے بعد، تھوڑی سی خاک شفا سے فاقہ شکنی کرے، سید نے پورے ماہ محرم کے روزے رکھنے کی فضیلت لکھی اور فرمایا ہے کہ اس مہینے کے روزے انسان کو ہر گناہ سے محفوظ رکھتے ہیں۔ (سوائے یوم عاشور کے کیونکہ اس دن کا روزہ مکروہ ہے اور بعض مجتہدین کے نزدیک حرام ہے)
(حوالہ: مفاتیح الجنان)


♦ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
عاشور (10 محرم) کے روزہ کا ذکر نہ کتابِ خدا میں ہے نہ سنتِ رسول میں....
یہ امام حسین علیہ السلام کے قتل کے بعد سُنتِ آِل زیاد قرار پائی ہے۔
(حوالہ: فروعِ کافی، جلد3، ص322)

♦علامہ مجلسی نے زادالمعاد میں فرمایا ہے کہ بہتر ہے کہ نویں اور دسویں محرم کا روزہ نہ رکھے کیونکہ بنی امیہ اور ان کے پیروکار ان دو دنوں کو امام حسینؑ کو قتل کرنے کے باعث بڑے بابرکت وحشمت تصور کرتے ہیں اور ان دنوں میں روزہ رکھتے تھے، انہوں نے بہت سی وضعی حدیثیں حضرت رسول اکرمؐ کی طرف منسوب کر کے یہ ظاہر کیا کہ ان دو دنوں کا روزہ رکھنے کا بڑا اجر و ثواب ہے حالانکہ اہلبیت سے مروی کثیر حدیثوں میں ان دو دنوں اور خاص کر یوم عاشور کا روزہ رکھنے کی مذمت آئی ہے۔

♦ 10 محرم کے دن روزے کی نیت کے بغیر کھانا پینا ترک کئے رہیں اور عصر کے بعد تھوڑے سے پانی وغیرہ سے فاقہ شکنی کریں..
(حوالہ: مفاتیح الجنان)

♦لہذا 10 محرم کو روزہ نہ رکھا جائے بلکہ بہتر ھے کہ فاقہ کیا جائے (یعنی اذان فجر سے لے کر اذانِ عصر تک کچھ کھایا پیا نہ جائے اور عصر کے وقت فاقہ کھول لیا جائے.... اگر کوئی فاقہ رکھے تو وہ چاہے تو دن میں کسی بھی وقت عصر سے پہلے بھی کچھ کھا پی کر اسے ختم کر سکتا ہے ....فاقہ توڑنا گناہ نہیں ہے البتہ زیادہ ثواب ہے کہ عصر تک کچھ نہ کھائے پیئے)

https://t.me/islamwitheman/3868
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔴 شہادت ھمشکل پیغمبر 🔴

اصحاب و انصار کی شہادتوں کے بعد حسینؑ کے پاس انکے قریبی رشتہ داروں کے علاوہ کوئی باقی نہ رہا. اس دوران حسینؑ کے جوان بیٹے علی بن الحسینؑ الاکبر نے جنگ کی اجازت طلب کی. انکی والدہ ام لیلی بنت ابی مرہ بن مسعود تهیں.

على اكبرؑ كے نانا جناب عروہ بن مسعود عرب کے نامور ترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا تو قریش نے کہا تها کہ اگر اللہ نے نبوت دینی ہی تهی تو دو عظیم شہروں کے کسی بڑے آدمی کو دیتا اس بڑے آدمی سے مراد جناب عروہ تهے جو ام لیلی کے دادا تهے.

اسلام کے بعد یہ اسلام میں بھی نامور ترین فرد رہے اور ایک موقع پر انہیں رسول اللہ نے "شبیہ عیسی" قرار دیا. اور فرمایا:
"اسلام کے چار سردار ہیں ان میں سے ایک جناب عروہ بن مسعود ہیں."

پس حسینؑ نے علی اکبرؑ کو اجازت دی اور آسمان کی طرف رخ کر کے فرمایا:
"اے اللہ! گواہ رہنا. ایسا جوان ان کی طرف جنگ کیلیے نکلا ہے جو سیرت و گفتار و اخلاق میں سب سے زیادہ تیرے نبی کے مشابہ تها. اور جب ہم تیرے نبی کی زیارت کے مشتاق ہوتے تو اس جوان کی زیارت کرتے تهے.
اے اللہ! اس قوم پر آسمان سے برکت روک دے. اور انکے بیچ تفرقہ ڈالدے. ان کے حاکموں کو ان پر راضی نہ رکھ. انہوں نے ہمیں بلا کر ہماری مدد نہ کی."

پهر عمر بن سعد کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
"اے ابن سعد! تجھے کیا ہوگیا ہے. اللہ تجھ سے تیرے صلہ ارحام کو قطع کرے جسطرح تو نے ہماری رسول اللہ سے قرابت کا خیال نہ کیا. اور تمہیں برکت نہ دے. اور جلد تم پر ایک ایسے شخص کو مسلط کرے جو تمہیں تمہارے بستر پر ہی قتل کرے."

پهر یہ آیت پڑھی:
"بیشک اللہ نے آدم و نوح و آل عمران کو دو جہانوں پر منتخب کیا ہے. اور ذریتوں میں سے بعض کو بعض پر چنا ہے بیشک اللہ سننے اور جاننے والا ہے."

🔻 اذن ملنے کے بعد علی اکبر میدان جنگ میں آئے. اور یہ رجز پڑها:
"میں علیؑ ابن الحسینؑ ہوں. ہم اللہ کے گہر اور نبی ص کے سب سے زیادہ حقدار ہیں. میں تم پر ایسا وار کرونگا جیسا کہ ایک ہاشمی علوی جوان کو کرنا چاہیے. واللہ ہم پر زنا زادہ حکومت نہیں کرسکتا ہے."
جناب علی اکبرؑ نے شدید حملہ کیا اور 120 ملاعین کو واصل جہنم کیا. پهر پیاس کی شدت غالب آئی تو خیمہ گاہ واپس آئے اور بابا کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا:

"بابا! لوہے کی گرمی نے مجھے جهلسا دیا ہے اور پیاس کی شدت مجھے مارے ڈال رہی ہے کیا پانی کا بندوبست ممکن ہے.؟"

روایت میں ہے کہ حسینؑ یہ سنکر روئے. اور فرمایا:
"واغوثاہ! بیٹے علی اکبرؑ! میدان جہاد میں جاؤ دشمن سے مقابلہ کرو عنقریب تمہارے جد رسول اللہ تمہیں کوثر سے سیراب کرینگے. پهر کبھی تمہیں پیاس نہیں لگے گی."

بعض روایتوں میں ہے کہ حسینؑ نے علی اکبر سے فرمایا:
"اپنی زبان میری زبان میں دیدو."
پس علی اکبر نے ایسا کیا اور جلدی سے زبان باہر نکالی اور کہنے لگے:
"بابا! آپ کی زبان میری زبان سے زیادہ خشک ہے."

پس دوبارہ میدان میں آئے. مزید 60 کوفیوں کو واصل جہنم کیا. بعض روایات کیمطابق آپ نے کل 200 ملاعین کو قتل کیا.

بالاخر "مرہ بن منقذ ملعون" آگے بڑھا اور کہا:
"مجھ پر سب عربوں کا بار گناہ ہو اگر میں اس جوان کو قتل نہ کروں."

اس دوران جب علی اکبرؑ جنگ میں مصروف تھے کہ اس لعین نے موقع پا کر ان پر ایک کاری وار کیا. جس سے آپ زخمی ہوکر زمین پر گرے اور دشمنوں نے نبی اکرم کی شبیہ کو تلواروں سے ٹکرے ٹکرے کردیا.
انا للہ وانا الیہ راجعون.

ابو الفرج کی روایت کیمطابق ایک تیر جناب علی اکبر کے حلق پر لگی تهی جس سے آپ اپنے خون میں نہا گئے تھے پهر آپ نے اپنے مظلوم بابا کو آواز دی:

"بابا جان! آپ پر میرا سلام ہو یہ میرے نانا رسول اللہ ہیں جو آپ کو سلام کہہ رہے ہیں. اور فرماتے ہیں کہ آپ بهی ان کیطرف آنے میں جلدی کریں."

حمید بن مسلم کہتا ہے. جب جوان بیٹے کی آواز حسینؑ کے کانوں میں آئی تو آپ نے فرمایا:
"اے میرے بیٹے! جنہوں نے تجھے قتل کیا اللہ انکو ہلاک کرے. یہ لوگ حرمت رسول ص کو پایمال کرنے پر کسقدر جری ہوگئے ہیں."
پس روتے جاتے تهے اور فرماتے تھے:
"علی اکبر! تمہارے بعد دنیا کی زندگی پر خاک ہو."

"روضہ الصفا" میں ہے کہ حسین اس مصیبت پر بآواز بلند ایسا روئے کہ اسطرح آپکو اس سے قبل روتے نہیں دیکھا گیا.

شیخ مفید کی روایت کیمطابق جناب زینب کبری سلام اللہ علیہا علی اکبرؑ کی نعش پر بهائی سے پہلے پہنچیں. حسینؑ نے بہن کو واپس کیا اور جوانان بنی ہاشم سے فرمایا کہ:
"آگے بڑھو اور اپنے بهائی کی لاش کو خیمہ گاہ لے جاو."

مورخین میں یہ اختلاف ہے کہ اہل بیت کے پہلے شہید جناب علی اکبر ہیں یا جناب عبد اللہ بن مسلم بن عقیل؟

محمد بن شہر آشوب نے انکی عمر 18 سال بیان کی ہے. جبکہ شیخ مفید نے 19 سال کچھ مہینے لکھا ہے اسطرح یہ امام زین العابدین علیہ السلام سے کم عمر تهے. بعضوں نے آپکی عمر مبارک 25 سال لکھی ہے.
بعضوں نے آپکو
صاحب اولاد بھی لکھا ہے. لیکن آپکے کسی بچے یا زوجہ کی ثقہ روایات سے ہمیں کچہ معتبر مواد نہ مل سکا. البتہ آپکی والدہ کا کربلا میں موجود ہونا قوی روایات سے ثابت نہیں ہے. وہ اس واقعے سے قبل فوت ہوچکی تهیں، بعضوں نے انکی کربلا میں موجودگی کو بهی بیان کیا ہے. واللہ العالم.
الا لعنةالله على القوم الظالمين.

بحوالہ
(1) البحار 98/186
(2) البحار 45/32
(3) الکافی 5/361
(4) الارشاد 236
(5) السرایر 153
(6) مقاتل الطالبیین 80
( 7)المناقب 109
(8) روضہ الصفا
(9) البحار 45/65
(10) تاریخ طبری 7/357
(11) اللہوف -1
(12) مثیر الاحزان 35
(13) اسد الغابہ 1/ 191
(14) نفس المہموم 277-278-279.

https://t.me/islamwitheman/3871
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 شہادت شہزادہ علی اکبرؑ 🔷

امام حسینؑ کے یہ فرزندؑ پروردگارِ عالم نے ایک نعمت دی تھی۔ امام حسینؑ کے یہ وہ فرزندؑ تھے کہ تمام کتب تاریخ میں یہ ہے کہ سر سے پاؤں تک یہ معلوم ہوتا تھا کہ رسول اللہ ہیں۔ کیسی خوشی ہوتی ہوگی امام حسینؑ کو، جب علی اکبرؑ کو دیکھتے ہوں گے۔ نانا کی تصویر ہونے کے ساتھ، باپ کے اتنے مطیع کہ دنیا میں شاید ہی اتنی اطاعت باپ کی کسی بیٹے کے دل میں ہو جتنی علی اکبرؑ کے دل میں اطاعت کے جذبات تھے۔
میں نے بعض مقامات پر یہ بات پڑھی ہے کہ باہر کے لوگ مدینہ میں آتے تھے اور امام حسین علیہ السلام کے دروازے پر پہنچتے تھے، آواز دیتے تھے، امام حسینؑ باہر تشریف لاتے تھے، وہ لوگ کہتے تھے: مولا ! ذرا اپنے فرزند علی اکبرؑ کو بلوا دیجئے، تو امام حسینؑ فرماتے تھے کہ علی اکبرؑ سے کیا کام ہے؟ تو وہ کہتے تھے کہ ہم نے رسولؐ کی زیارت نہیں کی۔ ہم نے سنا ہے کہ آپؑ کا فرزند سر سے پاؤں تک رسولؐ کی تصویر ہے۔ ہم اس لئے آئے ہیں کہ آپؑ کے فرزند کو دیکھ لیں تاکہ رسولؐ کی زیارت کا ہم کو ثواب مل جائے۔
اِن حالات میں امام حسین علیہ السلام کے دل میں کیا کیا کیفیات پیدا ہوتی ہوں گی۔ راستے میں ایک مرتبہ امام حسینؑ ایک منزل پر مقیم تھے، بیٹھے بیٹھے کچھ غنودگی سی آگئی، اب جو آنکھ کھلی تو آپؑ نے اُٹھتے ہی ارشاد فرمایا:
" اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ "

تمام کے تمام ساتھی جو بیٹھے ہوئے تھے، گھبرا گئے کہ کیا واقعہ آپؑ کے ذہن میں آگیا کہ جس کی وجہ سے یہ کلمہ آپؑ کی زبان پر جاری ہوا۔ کسی کی ہمت نہ تھی جو آپؑ سے یہ پوچھے۔ جنابِ علی اکبرؑ نے دیکھا کہ بابا کچھ خاموش ہیں۔ آگے بڑھے اور عرض کرتے ہیں: بابا! آپ نے یہ کلمہ کیوں اپنی زبان پر جاری فرمایا۔ امامؑ فرماتے ہیں: بیٹا! ذرا میری آنکھ لگ گئی تھی تو میں نے ایک ہاتف کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا کہ یہ قافلہ اپنی قبروں کی طرف جا رہا ہے اور موت اُن کا استقبال کرنے کیلئے بڑھ رہی ہے۔ اس لئے میں نے یہ فقرہ اپنی زبان پر جاری کیا۔

اس پر جنابِ علی اکبرؑ نے عرض کیا: بابا! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ امام حسینؑ نے فرمایا: بیٹا! ہم حق پر ہیں تو جنابِ علی اکبرؑ نے فرمایا: بابا! جب ہم حق پر ہیں تو ہمیں موت کی کیا پروا ہے؟ آنے دیجئے موت کو ہمارا استقبال کرنے کیلئے۔ امام حسینؑ کا دل خوش ہوگیا۔

حاکمِ شام نے ایک دن بیٹھے بیٹھے ذکر کیا کہ بھئی بتلاؤ، اس زمانے میں حقیقی حیثیت سے قابلِ خلافت کون ہے؟ کسی نے کہا، تم ہو۔ کسی نے کہا، تمہارا بیٹا یزید ہے، کسی نے کچھ کہا۔ اُس نے کہا: تم لوگ سب خوشامد کر رہے ہو، مجھ سے پوچھو تو میری نظر میں امام حسینؑ کا بیٹا علی اکبرؑ ہے کہ سر سے پاؤں تک رسولؐ کی شبیہ ہے۔ دشمنوں کی نظر میں علی اکبرؑ ایسے تھے۔
ہائے! کربلا میں حسینؑ کا گھر ایسا برباد ہوا کہ پھر کبھی آباد نہ ہوا۔ عاشورہ کا دن آگیا۔ بس یہاں کے چند فقرے عرض کرنے ہیں۔
اولاد والو! اٹھارہ برس کی عمر، ساتویں محرم سے پانی بند ہے۔ پیاس کا غلبہ، ہونٹ سوکھے ہوئے مگر باپ سے یہ عرض نہیں کرتے کہ میں پیاسا ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ باپ کو تکلیف ہو۔
بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی ہاشم میں سب سے پہلے شہید جنابِ علی اکبرؑ ہیں اور بعض روایات یہ بتلاتی ہیں کہ سب سے آخر میں جنابِ علی اکبرؑ شہید ہوئے۔
بہرحال اگر بنی ہاشم کے آخری شہید ہیں تو جب عزیزوں کی لاشیں آگئیں، سیدہ زینبۜ کے بچوں کی بھی لاشیں آگئیں، ہائے جنابِ قاسمؑ کی بھی لاش آگئی۔ مسلمؑ کے دو فرزند جو یہاں کربلا میں تھے، اُن کی لاشیں بھی آگئیں اور اسی روایت کے اعتبار سے جنابِ عباس کے بازو بھی کٹ چکے تو جنابِ علی اکبرؑ آئے اور عرض کرتے ہیں: بابا! مجھے بھی اجازت دیجئے کہ میں بھی جان نذر کر دوں۔ امام حسینؑ نے سر سے پاؤں تک علی اکبرؑ کو دیکھا اور اتنا کہا کہ بیٹا! ذرا اس کوکھ جلی کے پاس بھی چلے جاؤ جس نے اٹھارہ برس بڑی محنت سے پالا ہے۔ جنابِ علی اکبرؑ خیمے میں آئے، جنابِ زینبۜ سمجھ گئیں کہ رخصت کیلئے آئے ہیں۔ بیبیاں چاروں طرف حلقہ بنا کر رونے لگیں۔ جنابِ علی اکبر علیہ السلام نے اپنی پھوپھیؐ اور حضرت اُمِ لیلیٰ جو ماں ہیں، اُنہیں سمجھایا کہ آخر آپ یہ چاہتی ہیں کہ میرا باپ شہید ہو جائے اور میں رہ جاؤں۔ دنیا آخر کیا کہے گی؟ جنابِ اُمّ لیلیٰ سے کہا کہ اماں! آپ تو مجھے اجازت دیجئے۔
جنابِ اُمّ لیلیٰ نے کہا کہ بیٹا! میں کون ہوں؟ جو کچھ ہیں یہ ہیں تمہاری پھوپھیؐ انہوں نے تمہیں پالا ہے۔ یہ اگر اجازت دے دیں تو میں کس طرح سے منع کرسکتی ہوں۔ آخر جنابِ زینبۜ نے اجازت دی۔ ایک شخص بیان کرتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ خیمے کا پردہ اُٹھتا ہے اور پھر گر جاتا ہے۔ پھر اُٹھا اور پھر گر گیا۔ میں نے جب دریافت کیا تو مجھے یہ معلوم ہوا کہ علی اکبرؑ بیبیوں کو تسلی دے کر نکلنا چاہتے تھے کہ بہنیں لپٹ جاتی ہیں۔ بہنوں کو تسلی دیتے ہیں اور نکلنا چاہتے ہیں تو پھوپھیؐ لپٹ جاتی ہیں: بیٹا! تھوڑی دیر ہم شکلِ پیغمبرؐ