ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔷 پہلی نمازِ جُمُعَہْ 🔷

🔶 بعض اسلامی روایات میں آیا ہے کہ مدینہ کے مسلمانوں نے پیغمبرِ اکرمؐ کی ہجرت سے پہلے باہم مل کر بات کی اور کہا کہ یہودی ہفتہ میں ایک دن (بروزہفتہ) اِجتماع کرتے ہیں اور عیسائی بھی اِجتماع کے لیے (اتوارکا) ایک دن رکھتے ہیں. لہٰذا ہم بھی ایک دن مُقرّر کر لیتے ہیں تاکہ اس میں جمع ہو کر ذکرِخُدا کریں اوراس کا شکر بجا لائیں، انہوں نے ہفتہ سے پہلے کا دن کہ جسے اُس زمانہ میں (یومُ العرربہ) کہتے تھے، اِس مقصد کے لیے منتخب کیا اور (بزرگانِ مدینہ میں سے ایک شخص) اسعد بن زرارہ کے پاس گئے، اس نے ان کے ساتھ مل کر جماعت کی صُورت میں نماز ادا کی اور انہیں وعظ ونصیحت کی، پس وہی دن
(روزِجمعہ) کے نام سے موسوم ہو گیا کیونکہ وہ مُسلمانوں کے اِجتماع کا دن تھا.
"اسعد" کے حکم پر ایک گوسفند ذبح کی گئی اور سب نے دوپہر اور شام کا کھانا ایک ساتھ تناول کیا، کیونکہ اس وقت مُسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی.
● یہ پہلا جُمعہ  تھا جو اسلام میں ایک اجتماع کے طور پر متعارف ہے.

لیکن.....
🔷 وہ پہلی نمازِجُمعہ جو حضرت رسُولِ اکرمؐ نے اپنے اصحاب کے ساتھ پڑھی وہ اس وقت تھی کہ جب آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی.
جب آپ مدینہ میں وارد ہوئے تو اس دن پیر کا دن بارہ ربیع الاوّل اور ظہر کا وقت تھا، حضرتؐ چار دن تک "قبا" میں رہے اور مسجدِقبا کی بُنیاد رکھی، پھر جُمعہ کے دن مدینہ کی طرف روانہ ہُوئے. قبا اور مدینہ کے درمیان فاصلہ بہت ہی کم ہے اور موجودہ وقت میں قبا مدینہ کا ایک داخلی محلّہ ہے، اور نمازِجُمعہ کے وقت آپ محلّہ "بنی سالم" میں پہنچے، وہاں نمازِجُمعہ ادا فرمائی اور یہ اسلام میں پہلا جُمعہ تھا جو حضرت رسُولخداؐ نے ادا کیا، جُمعہ کی اس نماز میں آپ نے خطبہ بھی دیا، جومدینہ میں آنحضرتؐ کا پہلا خُطبہ تھا۔(۱) 

🌷 ایک محدّث نے "عبدالرحمٰن بن کعب" سے نقل کیا ہے کہ میرا باپ جب جُمعہ کی اذان کی آواز سنتا، تو اسعد بن زرارہ کے لیے رحمت کی دُعا کیا کرتا تھا، جب میں نے اس کی وجہ پُوچھی تو اُس نے کہا:
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پہلا شخص تھا جس نے ہمارے ساتھ نمازِجُمعہ ادا کی،
میں نے کہا: اُس وقت کتنے افراد حاضر تھے؟
اس نے کہا: صرف چالیس افراد.(2)

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

📚 حوالہ جات:
۱۔مجمع البیان،جلد١٠،صفحہ ٢٨٦.
۲۔وسائل الشیعہ،جلد٥،صفحہ٧ ،باب وجوب صلوٰةالجمعة، حدیث: ٢٨.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹیں دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔

🔷 غسل جمعہ کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/367

🔷 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368

📄 جمعةالوداع کی دعا
http://t.me/islamwitheman/1056

🌺 روز جمعہ کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1112

🌹 فضائل جمعةالمبارک
https://t.me/islamwitheman/1974

🌹 فضیلت جمعہ اور نماز حاجت
https://t.me/islamwitheman/1987

🌹 فضیلت جمعہ اور سورہ ھود
https://t.me/islamwitheman/1998

🌹 فضلت جمعہ اور سورہ صافات
https://t.me/islamwitheman/2027

🌹 احادیث فضیلت نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/2036

🌹 جمعہ کے دن کی دعا
https://t.me/islamwitheman/2062

🌹 جمعہ کے دن کی زیارت
https://t.me/islamwitheman/2063

🌹 فضیلت جمعہ اور چار رکعت نماز
https://t.me/islamwitheman/2064

💐 جمعةالمبارک
https://t.me/islamwitheman/2083

🌹 فضیلت جمعہ اور سورةالقدر
https://t.me/islamwitheman/2084

🌹 فضیلت جمعہ اور عمل اولاد
https://t.me/islamwitheman/2107
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حضرت سلیمانؑ کی خوشی 🌹

امام علی رضاؑ نے امام محمد باقرؑ سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا:

ایک دن حضرت سلیمان بن داؤاد علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:
الله تعالیٰ نے مجھے ایسی حکومت عطا فرمائی ہے جو میرے بعد کسی کو عطا نہیں ہو گی- اور الله نے ہوا کو میرے لئے مسخّر کیا اور انسانوں، حیوانوں، اور جنات و طیّور کو میرا تابع فرمان بنایا. اور مجھے ہر طرح کی نعمت و آسائش عطا فرمائی. مگر اس کے باوجود میرا ایک دن بھی پورا کبھی خوشی میں نہیں گزرا. میں کل پورا دن اپنے محل میں بسر کرنا چاہتا ہوں. اور اپنے محل کی چھت پر چڑھ کر اپنی مملکت کا نظارہ کرنا چاہتا ہوں. اس لئے کل کسی کو بھی مجھ سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے تاکہ میرا دن آرام و خوشی سے گزر سکے.

آپ کے ساتھیوں نے کہا:
آپ کے فرمان کی تعمیل کی جائے گی.

جب دوسرا دن ہوا تو حضرت سلیمانؑ ہاتھ میں عصا لئے ہوئے اپنے محل کے بلند ترین حصے پر چلے گئے اور عصا کا سہارا لے کر اپنی مملکت کا نظارہ کر رہے تھے اور اپنی مملکت کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے کہ اتنے میں انہوں نے ایک خوش شکل اور خوش لباس نوجوان کو دیکھا کہ وہ محل کے ایک کنارے سے ان کی طرف آ رہا ہے.

حضرت سلیمانؑ نےاس نوجوان سےکہا:
تمہیں اس محل میں داخل ہونے کی کس نے اجازت دی، جبکہ آج میری خلوت کا دن ہے؟

نوجوان نے کہا: اس محل کے مالک کی اجازت سے میں اس محل میں داخل ہوا ہوں.

حضرت سلیمانؑ اس مفہوم کو سمجھ گئے اور فرمایا:
بیشک اس کا حقیقی مالک مجھ سے اس کا زیادہ حقدار ہے. لیکن تم کون ہو؟

اس نے کہا:
میں ملک الموت ہوں.

سلیمانؑ نے کہا:
کس لئے آۓ ہو..؟

ملک الموت نے کہا:
میں آپ کی روح قبض کرنے آیا ہوں.

سلیمان علیہ السلام نے کہا:
تم حکمِ خدا پر عمل کرو. یہ میری خوشی کا دن تھا مگر خدا نے میری خوشی کو اس بات میں قرار دیا کہ میں اس کی ملاقات کروں.
انہوں نے عصا کا سہارا لیا اور ملک الموت نے ان کی روح کھڑے کھڑے قبض کر لی.

چناچہ سلیمان علیہ السلام مرنے کے بعد بھی عصا کے سہارے کھڑے رہے. لوگ انہیں دور سے کھڑا دیکھتے تو سمجھتے کہ زندہ ہیں.
جب انھیں اس طرح کھڑے کھڑے کچھ عرصہ گزرا تو لوگوں میں اختلاف ہو گیا. کوئی کہتا سلیمان علیہ السلام مدت سے عصا پر کھڑے ہیں، اور نہ تو وہ کچھ کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں اور نہ ہی تھک کر سوتے ہیں. اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے رب ہیں. اسی لئے ہمیں ان کی عبادت کرنی چاہیے.
اور کچھ لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا دراصل سلیمان علیہ السلام اک جادوگر ہیں، وہ جادو کے زور سے ہمیں یہ دِکھا رہے ہیں کہ وہ عصا کے سہارے کھڑے ہوۓ ہیں. درحقیقت ایسا نہیں ہے. یہ سب کچھ فریبِ نظر کا کرشمہ ہے.

مؤمنين نے کہا؛ سلیمان علیہ السلام الله کے بندے اور اس کے نبی ہیں. الله اپنے امر کی جیسے چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے.

جب لوگوں میں اختلاف بڑھا تو الله نے دیمک کو ان کے عصا پر مسلط کر دیا. اس نے آپ کے عصا کو کھانا شروع کردیا. جب عصا کھوکھلا ہو گیا تو وہ ٹوٹ گیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام منہ کے بل گر پڑے.
قومِ جنّات جو کہ سلیمان علیہ السلام کے مسخّر تھے، انہوں نے دیمک کا شکریہ ادا کیا اس وجہ سے جہاں بھی دیمک موجود ہو گی وہاں پانی اور مٹی موجود ہو گی. یعنی دیمک کو پانی اور مٹی جنّات فراہم کرتے ہیں.
چناچہ الله تعالیٰ نے فرمایا:
"پھر جب ہم نے انکی موت کا فیصلہ کر دیا تو انکی موت کی خبر بھی جنّات کو کسی نے نہ بتائی سوائے دیمک کے، جو انکے عصا کو کھا رہی تھی اور جب وہ گرے تو جنّات کو معلوم ہوا کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلیل کرنے والے عذاب میں مبتلا نہ رہتے."

📚 حوالہ:
سورہ سبا، آیت14
عیون اخبارالرضا، صفحہ:465-462.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 شدّاد کی جنت 🔷

شدّاد کے دورِحکومت میں حضرت ہودؑ اللہ کے نبی تھے اور آپ ہمیشہ شدّاد کو ایمان کی دعوت دیتے تھے.
ایک دن شدّاد نے پوچھا:
اگر میں آپ کی باتوں پر ایمان لے آؤں تو اللہ مجھےکیا انعام دے گا؟

حضرت ہودؑ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ تجھے جنّت دے گا جس میں تو ہمیشہ چین سے رہے گا.

شدّاد نے حضرت ہودؑ سے جنّت کے اوصاف پوچھے تو انہوں نے جنّت کی
خصوصیات تفصیل سے بیان فرمائیں.

یہ سن کر شدّاد بولا:
مجھے اللہ کی جنّت کی کوئی ضرورت نہیں، ایسی جنّت میں خود ہی بنواؤں گا، اس دن سے شدّاد کی مسلسل یہ کوشش رہی کہ وہ ایک ایسا شہر تعمیر کرائے جو ہر لحاظ سے جنّت جیسا ہو، اس نے اپنے بھانجے ضحاک کو جو ایران کا حاکم تھا، کہلا بھیجا کہ جتنا سونا چاندی تمہارے پاس جمع ہے وہ فوراًمیرے پاس بھیج دو۔ ضحاک نے ایسا ہی کیا.
شدّاد نے پورے ملک میں اپنے کارندے روانہ کئے جو بہت بڑی مقدار میں سونا چاندی جمع کر کے لائے.

شدّاد نے جنّت بنانے کے لیے مُلکِ شام میں ایک صحت افزا مقام کا انتخاب کیا اور ماہر معماروں کے ذریعے وہاں ایک مضبوط اور مستحکم فصیل تعمیر کرائی، جس کے اندر سونے اور چاندی کا محل تعمیر کرایا اور اس کی دیواروں کو قیمتی جواہر سے سجایا، اس نے شہر کے وسط میں ایک ایسی نہر بنوائی جس کے پانی میں سنگریزوں کی بجائے ہیرے جواہرات بہتے تھے، سونے کےایسے درخت لگوائے جن کے خوشوں میں مشک و عنبر بھرا گیا تھا، جب ہوا چلتی تو مشک و عنبر کی خوشبو پورے شہر میں پھیل جاتی.

بیان کیا جاتا ہے کہ شدّاد نے محل کے چاروں طرف سونے کی اینٹوں سے بارہ ہزار کمرے تعمیر کرائے اور ہر کمرے کو یاقوت اور ہیرے جواہرات سے مزیّن کیا گیا اور اطراف و جوانب سے خوبصورت اور جوان عورتوں کو وہاں لایا گیا،
الغرض یہ عظیم الشّان جنّت نُما شہر پانچ سو سال میں مکمل ہوا اور شداد کو اس کی تکمیل کی اطلاع دی گئی، اطلاع ملتے ہی شدّاد بہت بڑا لشکر لے کر اپنی جنّت کی جانب روانہ ہوگیا، ابھی شہر سے ایک منزل کے فاصلے پر تھا کہ اس نے ایک ہرن دیکھا جس کے پاؤں چاندی اور سینگ سونے کے تھے، ہرن کو دیکھ کر وہ لالچ میں آگیا اور اسے پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے اپنا گھوڑا لگا دیا، بھاگتے بھاگتے وہ اپنے لشکر سے جدا ہو گیا، اس نے شدّاد کو پکار کر کہا:
شدّاد! تو نے عالیشان محل تعمیر کر کے یہ سمجھ لیا ہے کہ اب تو موت کے پنجے سے بھی آزاد ہوچکا ہے.
یہ سُن کر شدّاد کا رواں رواں کانپنے لگا اور اس نے پوچھا:
تو کون ہے؟
اس نے جواب دیا:
میں ملک الموت ہوں.

شدّاد نے کہا:
اس وقت تمہیں مجھ سے کیا کام ہے اور میری راہ میں کیوں روڑے اٹکا رہے ہو؟

ملک الموت نے کہا:
میں صحرا میں تیری روح قبض کرنے آیا ہوں.
شدّاد نے کہا:
مجھے کم از کم اتنی مہلت دے دو کہ میں اپنی بنائی ہوئی جنّت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں.

ملک الموت نے اجازت نہ دی، چنانچہ شدّاد گھوڑے سے گرا اور مرگیا اور اس کے لشکر نے ایک آسمانی چنگھاڑ سنی تو پورے کا پورا لشکر آن واحد میں ختم ہوگیا اور جنّت جانے کے بجائے ملکِ عدم پہنچ گیا.

کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت سے پوچھا:
روح قبض کرتے ہوئے تمہیں کبھی کسی پر ترس بھی آیا؟
ملک الموت نے عرض کیا:
جی ہاں! دو دفعہ مجھے بڑا ترس آیا، پہلی دفعہ اس وقت جب سمندر میں ایک ماں اپنے شیرخوار بچے کے ہمراہ سفر کر رہی تھی، سمندر میں طوفان آیا، کشتی ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی، وہ ماں ایک تختے پر اپنے نوزائیدہ بچے کو سینے سے لگائے سمندر میں ہچکولے کھا رہی تھی، اس وقت مجھے آپ کا حکم ملا کہ اس عورت کی روح قبض کر لی جائے چنانچہ میں نے اس عورت کی روح قبض کر لی اور وہ بچہ اس تختے پر اکیلا رہ گیا پھر وہ تختہ ایک جزیرے پر جالگا اور دوسری مرتبہ مجھے شدّاد کی روح قبض کرتے ہوئے بڑا ترس آیا، وہ تیرا دشمن تھا مگر اس نے بڑی محنت سے جنّت تعمیر کرائی تھی اور تونے اسے دیکھنے کا موقع تک نہ دیا.

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اے ملک الموت! تونے دونوں مرتبہ ایک ہی شخص پر ترس کھایا تھا، تختے پر جس بچے کو تونے دیکھا تھا ہم نے اس کی پرورش کی، اسے عزت دی، اسے اقتدار دیا اور وہ بدبخت ہمارا منکر بن بیٹھا اور ہماری جنّت کے مقابلے میں اپنی جنّت تیار کرنے لگا، در حقیقت شدّاد ہی وہ شیرخوار بچہ تھا جس کی ماں کی روح تو نے قبض کی تھی، خدا کے انکار کا یہ نتیجہ تو دنیا میں ہے اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ ہے.

📚روضۃ الصفا.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/251
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 چیونٹی اور شہد 🌹

کسی دانا کا قول ھے:
"دنیا شہد کے ایک بہت بڑے قطرے کے علاوہ کچھ نہیں!! پس جو بھی اس شھد میں سے تھوڑا اور بقدرکفایت کھانے پر اکتفاء کرے گا وہ نجات پا جائے گا اور جو بھی اس شیرینی میں غوطہ ور ہو گا ہلاکت اس کا مقدر بن جائے گی."

🌹کسی جگہ شہد کا ایک قطره زمین پر گر گیا. ایک چھوٹی سی چیونٹی آئی اور اُس نے اس شہد کے قطرے سے تھوڑا سا چکھا۔ اُسے بڑا مزا آیا
اسے کام سے جانا تھا تو جب وہ جانے لگی تو اس شہد کا مزہ اس کے منہ میں مزید پانی لانے کا سبب بنا، اُس کا منہ بھر آیا:
کیا زبردست اور مزے دار شہد ھے!
کتنا میٹھا!
آج تک ایسا شہد نہیں کھایا!!
وہ لوٹی اور شہد میں سے تھوڑا سا اور چکھ لیا...
اس نے دوبارہ جانے کا عزم کیا مگر اُس نے محسوس کیا کہ یہ تھوڑا سا شہد کھانا کافی نہیں ھے، اُسے اور کھانا چاھئے.
وہ رکی اور اس مرتبہ کھانے کے بجائے شھد پر گر پڑی تاکہ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ لذت حاصل کر لے!
وہ چیونٹی شہد میں غوطہ ور ہو گئی اور لطف اندوز ہونے لگی.
مگر افسوس کہ وہ شہد سے باھر نہ نکل سکی۔
شہد کی چکنائی کی وجہ سے اس کے پیر زمین سے چپک گئے تھے اور اس میں انہیں ہلانے کی طاقت نہ رہی...!
وہ شہد میں رہ گئی یہاں تک کہ وہ اسی میں ہی ہلاک ہو گئی!
اس کی لذت اندوزی نے شھد کو ہی اس کی قبر میں تبدیل کر دیا!

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔


https://t.me/islamwitheman/370
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Forwarded from ISLAM WITH EMAN
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌼 پنسل اور ربڑ 🌼

جس کسی کی کاوش ہے، ہے بہت خوب...
🌹 جب پرائمری میں تھا تو پنسل اور ایریزر جیومیٹری باکس کا لازمی جزو تھے... ایریزر نہ رکھنے کا تو تصور ہی نہ تھا... اگر کبھی ایریزر نہ ہوتی تو کام کے ساتھ ساتھ موڈ بھی خراب ہو جاتا!
اور پھر یہ کہ...!!
جان بوجھ کر غلطیاں کون احمق کرتا ہے... مگر جو غلط لکھا جاتا، اس کو ایریزر سے نہ مٹانے کی صورت میں خوب ڈانٹ پڑتی....

🌺 میٹرک میں یہی معاملہ پین اور ریمور کا تھا... ریمور تو کمال کی چیز ہے... صفحہ یوں صاف ہو جاتا ہے جیسے نیا ہو... غلطی کا کہیں نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا!!!

🌸 پھر ایف ایس سی سے اب تک بال پوائنٹ ہے تو وائٹنر کا سہارا ہے... غلطی غائب اور نیا لکھنا شروع... آہا... بہت خوب!

💝 یونہی پھر خیال آیا کہ...
دنیا کے امتحانی کمرے میں آخرت کا ٹیسٹ دیتے ہوئے اگر نیکیوں کی پنسل ادھر ادھر کھو کر اعمال کا پیپر خراب کر دیں تو...؟؟؟

یہاں بھی تو ایریزر ہے !!!

مُعَلِّمِ اقدسؐ نے "استغفار" کی ربڑ تھما دی ہے...

دیر کیسی؟؟؟

جلدی سے پھیر دیجیے کہ مُمْتَحِنْ کسی بھی وقت پرچہ لے سکتا ہے!!!

🌷 اور... اس غلط فہمی میں مت رہیے گا کہ یہ ایریزر کبھی ایکسپائر ہوگی... بنانے والے نے اس کی گارنٹی دی ہے کہ یہ وقتِ نزع تک کارگر ہے!!!

استغفراللہ ربی من کل ذنب واتوب علیہ

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 باپ کی وصیّت 🔷

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﻭﺻﯿّﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺑﯿﭩﺎ! ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﭘﮭﭩﮯ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﻣﻮﺯﮮ ﭘﮩﻨﺎ ﺩﯾﻨﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺗﺎﺭﺍ ﺟﺎﺋﮯ.

ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻣﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻏﺴﻞ ﻭ ﮐﻔﻦ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺣﺴﺐ ﻭﻋﺪﮦ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﻋﺎﻟﻢِ ﺩﯾﻦ ﺳﮯ ﻭﺻﯿّﺖ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﻋﺎﻟﻢِ ﺩﯾﻦ ﻧﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﯿّﺖ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﮐﻔﻦ ﭘﮩﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺴﮑﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﻋﻠﻤﺎﺀِﺷﮩﺮ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﻧﮑﻞ ﺳﮑﮯ...

ﻣﮕﺮ ﮨﻮﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ… ﻟﻔﻈﯽ ﺗﮑﺮﺍﺭ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﮔﺌﯽ..
ﺍﺳﯽ ﺍﺛﻨﺎﺀ میں ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻭﺍﺭﺩِﻣﺠﻠﺲ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﺧﻂ ﺗﮭﻤﺎ ﺩﯾﺎ.. جِسمیں ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﻭﺻﯿّﺖ ﯾﻮﮞ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺗﮭﯽ...
ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺑﯿﭩﮯ! ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ﮐﺜﯿﺮ ﻣﺎﻝ ﻭﺩﻭﻟﺖ، ﺟﺎﮦ ﻭ ﺣﺸﻢ، ﺑﺎﻏﺎﺕ، ﮔﺎﮌﯼ، ﮐﺎﺭﺧﺎﻧﮧ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻣﮑﺎﻧﺎﺕ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ نہیں ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﻣﻮﺯﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎ ﺳﮑﻮﮞ.
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺕ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ، ﺁﮔﺎﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﻔﻦ ﮨﯽ لے کر ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ..
ﻟﮩﺬﺍ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻣﺎﻝ ﻭ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﺭﺛﮧ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﯼ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻔﺎﺩﮦ ﮐﺮﻧﺎ..
ﻧﯿﮏ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮯ ﺳﮩﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺑﻨﻨﺎ..
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﻮ ﻭﺍﺣﺪ ﭼﯿﺰ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻭﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﻋﻤﺎﻝ ھیں اللہ ھم پر اپنی رحمتوں کا نزول فرما.

اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ الَّذِیْ لَااِلٰہَ اِلَّاھُوَالْحَيُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 حقیقی شیعوں کے آثار 🔷

"أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِؑ قَالَ كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِؑ قَاعِداً فِي بَيْتِهِ إِذْ قَرَعَ قَوْمٌ عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَقَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُرِي مَنْ بِالْبَابِ فَقَالُوا قَوْمٌ مِنْ شِيعَتِكَ فَوَثَبَ عَجْلَانَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَقَعَ فَلَمَّا فَتَحَ الْبَابَ وَ نَظَرَ إِلَيْهِمْ رَجَعَوَ قَالَ كَذَبُوا فَأَيْنَ السَّمْتُ فِي الْوُجُوهِ أَيْنَ أَثَرُ الْعِبَادَةِ أَيْنَ سِيمَاءُ السُّجُودِ إِنَّمَا شِيعَتُنَا يُعْرَفُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ شَعَثِهِمْ قَدْ قَرَحَتِ الْعِبَادَةُ مِنْهُمُ الْآنَافَ وَ دَثَّرَتِ الْجِبَاهَ وَ الْمَسَاجِدَ خُمْصُ الْبُطُونِ ذُبُلُ الشِّفَاهِ قَدْ هَيَّجَتِ الْعِبَادَةُ وُجُوهَهُمْ وَ أَخْلَقَ سَهَرُ اللَّيَالِي وَ قَطْعُ الْهَوَاجِرِ جُثَثَهُمْ الْمُسَبِّحُونَ إِذَا سَكَتَ النَّاسُ وَ الْمُصَلُّونَ إِذَا نَامَ النَّاسُ وَ الْمَحْزُونُونَ إِذَا فَرِحَ النَّاسُ يُعْرَفُونَ بِالزُّهْدِ كَلَامُهُمُ الرَّحْمَةُ وَ تَشَاغُلُهُمْ بِالْجَنَّة."
ترجمہ:
حمران بن اعین امام صادقؑ سے نقل کرتے ہیں کہ آپؑ نے فرمایا:
ایک دفعہ امام زین العابدینؑ اپنے گھر میں بیٹھے تھے کہ ایک گروہ نے ان کے دروازے پر دستک دی۔ آپؑ نے کنیز سے فرمایا کہ باہر جا کر دیکھو کہ کون ہے؟

دستک دینے والوں نے کہا کہ اپنے مولا سے کہیں کہ دروازے پر آپ کے شیعوں کا ایک گروہ آیا ہے۔ لفظ "شیعہ" سن کر امامؑ تیزی سے دروازے پر آئے اور تیزی کی وجہ سے آپ کے گرنے کا بھی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ آپؑ نے فوراً دروازہ کھول کر انہیں دیکھا اور آپؑ فوراً واپس آگئے اور فرمایا:
"انہوں نے جھوٹ کہا، ان کے چہروں پر شیعہ ہونے کی علامات ہی کہاں ہیں؟ عبادت کے آثار کہاں ہیں؟ سجدہ کی علامات کہاں ہیں؟ ہمارے شیعوں کی تو پہچان عبادت الہی اور بالوں کی پراکندگی ہے۔ عبادت یعنی طویل سجدوں کی وجہ سے ان کے ناک زخمی ہوتے ہیں اور عبادت کی کثرت سے ان کی پیشانیوں اور سجدے کے مقامات پر گٹے پڑے ہوتے ہیں۔ روزوں کی وجہ سے ان کے شکم پشت سے گے ہوتے ہیں اور ان کے ہونٹ خشک ہوتے ہیں۔ عبادت کی وجہ سے ان کے چہرے سوجے ہوتے ہیں اور شب بیداری اور روزوں کی وجہ سے کمزور ہوتے ہیں۔ جب لوگ خاموش ہوتے ہیں تو وہ تسبیح میں مصروف ہوتے ہیں اور جب لوگ سوئے ہوتے ہیں تو نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں اور جب لوگ خوشیوں میں مصروف ہوتے ہیں تو وہ غمگین ہوتے ہیں اور دنیا سے بے رغبتی میں مصروف ہوتے ہیں۔ ان کی گفتگو رحمت و شفقت پر مشتمل ہوتی ہے اور وہ حصول جنّت میں مشغول رہتے ہیں.

📚 صفات الشیعہ ازشیخ صدوق، حدیث40.

● رجال الحدیث:
اس کی سند بہترین ہے، اس روایت کے تمام راوی ثقہ اور ممدوح ہیں.

● درایۃ الحدیث:
بعض کے نزدیک یہ حدیث صحیح ٹھہرے گی اور بعض کے نزدیک حسن۔ بہرصورت یہ روایت سند و متن کے لحاظ سے بہترین ہے.

● فوائد الحدیث:
اس حدیث سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہمارے آئمہؑ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ اللہ، اس کے انبیاء اور تمام آئمہؑ کی معرفت حاصل کرنے کے بعد عبادت الٰہی کی رغبت ہے، اور یہی شیعوں کی علامت ہے. چونکہ شیعہ صحیح انداز میں اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہے، عبودیت کے مقام کو سمجھتا ہے اور عقیدہ توحید کو درک کرتا ہے اور معصومینؑ کی عبادت کی طرف رغبت کو دیکھتا ہے تو وہ خود بھی ویسا ہی ہو جاتا ہے.

وہ نام لیوا جو خود کو شیعہ تو کہتا ہے لیکن عبادت میں رغبت نہیں رکھتا اس سے ہمارے آئمہؑ بھی بیزار ہیں۔ رات بھر قمیض اتار کر ماتم کرنا اور پھر صبح نماز پڑھے بغیر سونے والا شیعہ نہیں ہے بلکہ ان سے آئمہؑ سخت بیزار ہیں۔ شیعہ وہ نہیں ہے جو مسجد میں تو نظر نہیں آتا لیکن باقی ہر جگہ پایا جاتا ہے.

حقیقی شیعہ وہی ہے جو عبادت کی طرف شوق رکھتا ہے، جو نماز ویسی ہی پڑھتا ہے جیسی آئمہؑ نے پڑھی، اپنی طرف سے اضافے سے گریز کرتا ہے اور سرتاپا اطاعتِ خداوندی میں ڈھلا ہوتا ہے۔ شیعہ کبھی اپنی زبان یا عمل سے کسی کو تکلیف نہیں دیتا، شیعہ اللہ کی مخلوق سے محبّت کرتا ہے کیونکہ یہ بھی عبادتِ خداوندی ہے۔

اللہ تعالی ہم سب کو سچا اور حقیقی شیعہ بننے کی توفیق عنایت فرمائے.

بشکریہ کاوش:جواد حسین رضوی

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌷 احسان فراموشی 🌷

ایک بادشاہ اپنے مُنہ زور گھوڑے پر سوار تھا. گھوڑا کسی وجہ سے بدکا تو بادشاہ سر کے بل زمین پر گر گیا اور اس کی گردن کی ھڈی کے مُہرے ہل گئے اب وہ گردن کو حرکت دینے پر بھی قادر نہ رہا. شاہی طبیبوں نے اپنی طرف سے سرتوڑ کوششں کی مگر وہ بادشاہ کا علاج نہ کر سکے.
ایک دن یونان کا ایک حکیم بادشاہ کے پاس آیا اور اس قدر جانفشانی سے علاج کیا کہ بادشاہ ٹھیک ھو گیا۔۔!!
علاج کے بعد وہ حکیم اپنے وطن لوٹ گیا۔۔!!

کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ بادشاہ کے وطن میں آیا تو سلام کے ارادے سے شاھی دربار میں حاضر ھوا اب لازم تھا کہ بادشاہ از روئے قدر دانی اس حکیم سے مروت اور مہربانی کا برتاؤ کرتا لیکن بادشاہ ایسے بن گیا جیسے اس حکیم کو جانتا ہی نہ ہو بادشاہ کے اس رویے سے حکیم بہت سخت رنجیدہ ہوا۔۔!!
یونانی حکیم بادشاہ کے دربار سے باہر آیا تو اس نے ایک غلام کو پاس بلا کر کہا:
میں تمہیں کچھ بیچ دیتا ہوں انہیں بادشاہ کی خدمت میں پیش کرنا اور کہنا کہ یونانی حکیم نے دئیے ہیں، انہیں دہکتے انگاروں پر ڈال کر ان کی دھونی لی جائے تو بہت فائدہ ہوتا ہے.

غلام نے وہ بیچ بادشاہ کو پیش کر دئیے اور ساتھ میں ان کے فوائد سے بھی آگاہ کیا بادشاہ کے حکم سے فوراً دہکتے انگارے پیش کیے گئے مگر جب بیچ انگاروں پر ڈال کر بادشاہ نے دھونی لی تو اسے ایک زور دار چھینک آئی جس سے اس کی گردن کے مہرے پھر سے پرانی حالت میں چلے گئے۔۔!! بادشاہ بہت چیخا چلایا سپاہی دوڑائے کہ حکیم کو گرفتار کر کے لاؤ باوجود بہت تلاش و بسیار کے اس حکیم کا کچھ پتا نہ چلا ساری عمر بادشاہ نے ایسے ہی گزاری۔۔!!

■شیخ سعدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ہمیشہ محسن کو بھلائی کے ساتھ یاد رکھنا چاہیے، احسان فراموش شخص کمینہ ہوتا ہے اور فرمان خداوندی ہے کہ کمینہ شخص بھلائی نہیں پا سکتا۔۔۔!!

🌹امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
جب تم سے کوئی نیکی کرےتو اس کو یاد رکھو اور جب تم کسی کے ساتھ نیکی کرو تو بھول جاؤ.
(میزان الحکمہ،ج7،ص312)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💝 خود کو تلاش کیجئے 💝

اگر آپ لوگوں کے حالات پر نظر ڈالیں تو آپ کو چار قسم کے لوگ ملیں گے..

1- اللہ تعالى کے فرمانبردار بندے، جن کی زندگی خوشحال ہے.
2- اللہ تعالى کے فرمانبردار بندے، جن کی زندگی تنگ اور پریشان کن ہے.
3- اللہ تعالى کے نافرمان بندے، جن کی زندگی خوشحال ہے.
4- اللہ تعالى کے نافرمان بندے، جن کی زندگی تنگ اور پریشان کن ہے.

🔷 اب آئیے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ان چاروں قسم کے لوگوں کا جائزہ لیتے ہیں..

■ نمبر1:
اللہ تعالى کے فرمانبردار بندے، جن کی زندگی خوشحال ہے..

فرمانبردار بندوں کی زندگی کا خوشحال ہونا ایک فطری چیز ہے کیونکہ اللہ تعالٰی کا وعدہ ہے..
"مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ" (سورةالنحل97)

ترجمہ:
جو شخص بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر، ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے.

■ نمبر2:
اللہ تعالى کے فرمانبردار بندے، جن کی زندگی تنگ اور پریشان کن ہے..

فرمانبردار بندے کی ایسی زندگی دو حالتوں سے خالی نہیں..

● پہلی حالت:
یا تو اللہ تعالٰی اس بندے سے محبت کرتا ہے اور آزمائش میں مبتلا کر کے اس کے صبر کا امتحان لینا چاہتا ہے اور اس کے ذریعے اس کے مقام و مرتبے کو بلند کرنا چاہتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے:
"وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَ بَشِّرِ الصَّابِرِينَ." (سورةالبقرة:155)

ترجمہ:
اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے.

● دوسری حالت:
یا تو آپ کی اطاعت و فرمانبرداری میں کمی اور کوتاہی پائی جاتی ہے جس سے آپ غافل ہیں اور توبہ کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے اس لئے اللہ تعالٰی آپ کو آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ آپ اس کی طرف رجوع کریں جیسا کہ فرمان باری تعالٰی ہے..
"وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ." (سورةالسجدة:21)

ترجمہ:
اورہم اُنہیں بڑے عذاب سے پہلے ہی چھوٹے عذاب کامزہ ضرور چکھائیں گے تاکہ وہ پلٹ آئیں.

■ نمبر3:
اللہ تعالٰی کے نافرمان بندے جن کی زندگی خوشحال ہے..

اگر آپ کا شمار ایسے لوگوں ميں ہے یعنی معصیت و نافرمانی کے باوجود زندگی خوشحال ہے تو ہوشیار خبردار کیونکہ اللہ کی طرف سے یہ ڈھیل ہو سکتی ہے اور یہ حالت انسان کے لئے انتہائی خطرناک ہے اور اس کا انجام بہت برا اور بھیانک ہوتا ہے، ایسے میں اللہ کا عذاب ضرور آئے گا اگر انسان نے وقت پر توبہ و استغفار نہيں کیا.
چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے..
"فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ." (سورةالأنعام:44)

ترجمہ:
پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی، بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہو گئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے.

■ نمبر4:
اللہ تعالٰی کے نافرمان بندے، جن کی زندگی تنگ اور پریشان کن ہے..

ایسے لوگوں کی زندگی کا تنگ ہونا بھی ایک فطری بات ہے کیونکہ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالٰی کی کھلی وعید آئی ہوئی ہے..
"وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ." (سورةطه:124)

ترجمہ:
اور جو میرے "ذکر" (درس نصیحت) سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے.
=====================

وذَکِّرۡ فَاِنَّ الذِّکۡرٰی تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ.
اور نصیحت کرتے رہیں یقیناً یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی. (سورةالذاريات:55)

👆 ایک مراسلہ 👆

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹کامیابی کیلئے 8 سبق(حصہ اول)🌹

کلاس روم طلبہ سے بھرا ہوا تھا۔ ہر کوئی خوش گپیوں میں مصروف تھا، کان پڑی آواز سُنائی نہ دیتی تھی، اتنے میں پرنسپل کلاس روم میں داخل ہوئے، کلاس روم میں سناٹا چھا گیا.

پرنسپل صاحب نے اپنے ساتھ آئے ہوئے ایک صاحب کا تعارف کراتے ہوئے کہا یہ ہمارے کالج کے وزیٹنگ پروفیسر، پروفیسر انصاری ہیں، آپ مفکر دانشور اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں. یہ آپ کو کامیاب زندگی گزارنے کے کچھ گر بتائیں گے۔ ان کے کئی لیکچر ہوں گے۔ جو اسٹوڈنٹس انٹرسٹڈ ہوں وہ ان کے لیکچر میں باقاعدگی سے شریک ہوں۔

🌹سبق 01:
⬅کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی پروفیسر کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ پروفیسر کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔

وزیٹنگ پروفیسر انصاری نے ہال میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلباء کی طرف کرتے ہوئے پوچھا….

"تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کردے؟"

"یہ ناممکن ہے" کلاس کے ایک ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑتے ہوئے جواب دیا۔ "لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کر رہے ہیں." باقی طلباء نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کردی.

پروفیسر نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر مسکراتے ہوئے بلیک بورڈ پر اس لکیر کے نیچے ہی اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی. اب اوپر والی لکیر کے سامنے یہ لکیر چھوٹی نظر آرہی تھی.

■پروفیسر نے چاک ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا:
"آپ نے آج اپنی زندگی کا ایک بڑا سبق سیکھا ہے، وہ یہ ہے دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، ان کو بدنام کیے بغیر، ان سے حسد کیے بغیر، ان سے الجھے بغیر ان سے آگے کس طرح نکلا جاسکتا ہے…."

●آگے بڑھنےکی خواہش انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اس خواہش کی تکمیل کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کو چھوٹا بنانے کی کوشش کی جائے۔ مگر ایسی صورت میں انسان خود بڑا نہیں ہوتا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں سے الجھے بغیر خود کو طاقتور اور بڑا بنانے پر توجہ دی جائے. دوسروں سے الجھے بغیر آگے بڑھنا، ترقی کا صحیح طریقہ ہے۔ یہ طریقہ فرد کے لیے بھی بہتر ہے اور قوموں کے لیے بھی۔ اس طریقے پر اجتماعی طور پر ہمارے پڑوسی ملک چین نے سب سے زیادہ عمل کیا ہے اور بہترین نتائج حاصل کئے ہیں.

🌹سبق 02:
✉دوسرے دن کلاس میں داخل ہوتے ہی پروفیسر انصاری نے بلیک بورٖڈ پر ایک بڑا سا سفید کاغذ چسپاں کردیا، اس کے بعد انہوں نے اس سفید کاغذ کے درمیان میں مارکر سے ایک سیاہ نقطہ ڈالا، پھر اپنا رخ کلاس کی طرف کرتے ہوئے پوچھا:

"آپ کو کیا نظر آ رہا ہے…؟"

سب نے ہی یک زبان ہو کر کہا "ایک سیاہ نقطہ"

طالب علم تعجب کا اظہار کر رہے تھے سر بھی کمال کرتے ہیں. کل لکیر کھینچی تھی آج نقطہ بنا دیا ہے...

■پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:
"حیرت ہے! اتنا بڑا سفید کاغذ اپنی چمک اور پوری آب و تاب کے ساتھ تو تمہاری نظروں سے اوجھل ہے، مگر ایک چھوٹا سا سیاہ نقطہ تمہیں صاف دکھائی دے رہا ہے؟"

زندگی میں کئے گئے لاتعداد اچھے کام سفید کاغذ کی طرح ہوتے ہیں جبکہ کوئی غلطی یا خرابی محض ایک چھوٹے سے نقطے کی مانند ہوتی ہے۔ لوگوں کی اکثریت دوسروں کی غلطیوں پر توجہ زیادہ دیتی ہے لیکن اچھائیوں کو نظر انداز کردیتی ہے۔

●آپ کی ساری زندگی کی اچھائیوں پر آپ کی کوئی ایک کوتاہی یا کسی غلطی کا ایک سیاہ نقطہ ان کو زیادہ صاف دکھائی دیتا ہے۔

●آپ آدھا گلاس پانی کا بھر کر اگر 100 لوگوں سے پوچھیں گے تو کم از کم 80 فیصد کہیں گے آدھا گلاس خالی ہے اور 20 فیصد کہیں گے کہ آدھا گلاس پانی ہے… دونوں صورتوں میں بظاہر فرق کچھ نہیں پڑتا لیکن درحقیقت یہ دو قسم کے انداز فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک منفی اور دوسرا مثبت۔ جن لوگوں کا انداز فکر منفی ہوتا ہے وہ صرف منفی رخ سے چیزوں کو دیکھتے جبکہ مثبت ذہن کے لوگ ہر چیز میں خیر تلاش کر لیتے ہیں.

●ہماری زندگی کے معاملات میں لوگوں کے ردعمل گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں. "لوگ کیا کہیں گے" جیسے روائتی جملے ہمیں ہمیشہ دو راہوں پر گامزن کر دیتے ہیں۔ یہ دوراہی فیصلہ لینے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اس صورتحال میں صرف نفسیاتی الجھن کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں.

اس لیے آپ مستقل میں کوئی بھی کام کریں، کوئی بھی راہ چنیں تو یہ یاد رکھیں کہ آپ ہر شخص کو مطمئن نہیں کرسکتے.

(سبق نمبر 3، 4 حصہ دوم میں، سبق نمبر 5، 6 حصہ سوم میں، اور سبق نمبر 7، 8 حصہ چہارم میں ملاحظہ فرمائیے.)

https://t.me/islamwitheman/385
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹کامیابی کے لئے 8 سبق(حصہ دوم)🌹

🌹سبق 03:
🍷تیسرے دن پروفیسر نے اپنی کلاس کا آغاز کرتے ہوئے ایک گلاس اٹھایا، جس کے اندر کچھ پانی موجود تھا۔ انہوں نے وہ گلاس بلند کردیا، تاکہ تمام طلباء اسےدیکھ لیں.

پھر مسکراتے ہوئے طلباء کی جانب دیکھا اور کہا "آج میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کے خیال میں اس گلاس کا وزن کیا ہوگا؟"
"پچاس گرام، سو گرام، ایک سو پچیس گرام" سب اپنے اپنے انداز سے جواب دینے لگے.

"میں خود صحیح وزن بتا نہیں سکتا، جب تک کہ میں اس کا وزن نہ کرلوں!" پروفیسر نے کہا. لیکن میرا سوال یہ ہے کہ "کیا ہوگا اگر میں اس گلاس کو چند منٹوں کے لئے اسی طرح اٹھائے رہوں؟"

"کچھ نہیں ہوگا!" طلباء نے جواب دیا.

"ٹھیک ہے، اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو ایک گھنٹے تک یوں ہی اٹھائے رہوں تو پھر کیا ہوگا؟" پروفیسر نے پوچھا.

"آپ کے بازو میں درد شروع ہوجائے گا." طلباء میں سے ایک نے جواب دیا.

"تم نے بالکل ٹھیک کہا."پروفیسر نے تائید کی" اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو دن بھر اسی طرح تھامے رہوں تو پھر کیا ہوگا؟"

"آپ کا بازو شل ہوسکتا ہے." ایک طالب علم نے کہا. "آپ کا پٹھا اکڑ سکتا ہے." ایک اور طالب علم بولا، "آپ پر فالج کا حملہ ہوسکتا ہے۔ آپ کو اسپتال لازمی جانا پڑےگا." ایک طالب علم نے جملہ کسا اور پوری گلاس قہقہے لگانےلگی.

بہت اچھا! پروفیسر نے بھی ہنستے ہوئے کہا پھر پوچھا "لیکن اس دوران کیا گلاس کا وزن تبدیل ہوا؟"

"نہیں" طلباء نے جواب دیا.

"تو پھر بازو میں درد اور پٹھا اکڑنے کا سبب کیا تھا؟ پروفیسر نے پوچھا. طالب علم چکرا گئے.
"گلاس کا بہت دیر تک اُٹھائے رکھنا، بہتر ہوگا کہ اب گلاس نیچے رکھ دیں!" ایک طالب علم نے کہا.
"بالکل صحیح" استاد نے کہا.
■"ہماری زندگی کے مسائل بھی کچھ اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ آپ انہیں اپنے ذہن پر چند منٹ سوار رکھیں تو وہ ٹھیک لگتے ہیں۔ انہیں زیادہ دیر تک سوچتے رہیں تو وہ آپ کے لیے سر کا درد بن جائیں گے۔ انہیں اور زیادہ دیر تک تھامے رہیں تو وہ آپ کو فالج زدہ کردیں گے۔ آپ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے."
●دیکھیے! اپنی زندگی کے چیلنجز (مسائل) کے بارے میں سوچنا یقیناً اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن… اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہردن کے اختتام پر سونے سے پہلے ان مسائل کو ذہن سے اُتار دیا جائے. اس طریقے سے آپ کسی قسم کے ذہنی تناؤ میں مبتلا نہیں رہیں گے. اگلی صبح آپ تروتازہ اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ بیدار ہوں گے اور اپنی راہ میں آنے والے کسی بھی ایشو، کسی بھی چیلنج کو آسانی سے ہینڈل کرسکیں گے۔ لہٰذا گلاس کو یعنی مسائل پر غیر ضروری سوچ بچار کو نیچے کرنا، رکھنا یاد رکھیں."

🌹سبق 04:
🍅پروفیسر نے کہا کہ کل ہر ایک طالب علم پلاسٹک کا ایک شفاف تھیلا اور ٹماٹر ساتھ لائے.

جب طلباء تھیلا اور ٹماٹر لے آئے تو پروفیسر نے کہا:
"آپ میں سے ہر طالب علم اس فرد کے نام پر جسے آپ نے اپنی زندگی میں معاف نہیں کیا، ایک ایک ٹماٹر چن لیں اور اس پر اس فرد کا نام اور تاریخ لکھ کر اسے اپنے پلاسٹک کے تھیلے میں ڈالتے جائیں."

سب نے ایک ایک کرکے یہی عمل کیا، پروفیسر نے کلاس پر نظر ڈالی تو دیکھا بعض طالب علموں کے تھیلے خاصے بھاری ہوگئے.
پھر پروفیسر نے سب طالب علموں سے کہا کہ:
"یہ آپ کا ہوم ورک ہے، آپ سب ان تھیلوں کو اپنے ساتھ رکھیں، اسے ہر جگہ اپنے ساتھ لئے پھریں. رات کو سوتے وقت اسے اپنے بیڈ کے سرہانے رکھیں، جب کام کر رہے ہوں تو اسے اپنی میز کے برابر میں رکھیں۔ کل ہفتہ، پرسوں اتوار ہے آپ کی چھٹی ہے، پیر کے روز آپ ان تھیلوں کو لے کر آئیں اور بتائیں آپ نے کیا سیکھا."

پیر کے دن سب طالب علم آئے تو چہرے پر پریشانی کے آثار تھے، سب نے بتایا کہ اس تھیلے کو ساتھ ساتھ گھسیٹے پھرنا ایک آزار ہوگیا۔ قدرتی طور پر ٹماٹروں کی حالت خراب ہونے لگی۔ وہ پلپلے اور بدبودار ہوگئے تھے.

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا "اس ایکسرسائز سے کیا سبق سیکھا…؟"

سب طلبہ خاموش رہے.

■"اس ایکسر سائز سے یہ واضح ہوا کہ روحانی طور پر ہم اپنے آپ پر کتنا غیر ضروری وزن لادے پھر رہے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ ہم اپنی تکلیف اور اپنی منفی سوچ کی کیا قیمت چکا رہے ہیں.
ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ کسی کو معاف کردینا، کسی پر احسان کرنا اس شخص کے لئے اچھا ہے لیکن دوسرے کو معاف کرکے ہم خود اپنے لئے لاتعداد فوائد حاصل کرتے ہیں. جب تک ہم کسی سے ناراض رہتے ہیں، اس کے خلاف بدلہ لینے کے لئے سوچتے ہیں، اس وقت تک ہم کسی اور کا نہیں بلکہ خود اپنا خون جلاتے ہیں۔ اپنے آپ کو اذیت اور مشقت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ بدلے اور انتقام کی سوچ، گلے سڑے ٹماٹروں کی طرح ہمارے باطن میں بدبو پھیلانے لگتی ہے۔ معاف نہ کرنا ایک بوجھ بن کر ہمارے اعصاب کو تھکا دیتا ہے."

(سبق نمبر 5، 6 حصہ سوم میں، اور سبق نمب 7، 8 حصہ چہارم میں ملاحظہ فرمائیے.)

https://t.me/islamwitheman/385
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹کامیابی کیلئے 8 سبق(حصہ سوم)🌹

🌹سبق 05:
🍻☕🍺"آج ہم نہیں پڑھیں گے…"
پروفیسر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا. سارے طالب علم حیران و پریشان ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے.

"آپ دو دن ٹماٹروں کا تھیلا اٹھائے تھک گئے ہوں گے. اسلئے آج آپ کے لئے چائے کافی میری طرف سے..."

اسی دوران لیکچر ہال میں کالج کا پیُون داخل ہوا اس کے ہاتھ میں کافی کے دو بڑے سے جگ تھے. ساتھ ہی بہت سے کپ تھے، پورسلین کے کپ، پلاسٹک کے کپ، شیشے کے کپ، ان میں سے بعض سادہ سے کپ تھے اور بعض نہایت قیمتی، خوبصورت اور نفیس….

پروفیسر نے تمام طالب علموں سے کہا کہ "سب اپنی مدد آپ کے تحت وہ گرما گرم چائے کافی آپ خود لے لیں."

جب تمام طالب علموں نے اپنے چائے اور کافی کے کپ ہاتھوں میں لے لئے تو پروفیسر صاحب گویا ہوئے.

"آپ لوگ غور کریں… تمام نفیس، قیمتی اور دیکھنے میں حسین کافی کپ اٹھا لئے گئے ہیں، جبکہ سادہ اور سستے کپوں کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا، وہ یونہی رکھے ہوئے ہیں."

"اس کا کیا مطلب سر" ایک طالب علم نے پوچھا.

■"گو یہ عام سی بات ہے کہ آپ اپنے لئے سب سے بہترین کا انتخاب کرتے ہیں لیکن یہی سوچ آپ کے کئی مسائل اور ذہنی دباؤ کی جڑ بھی ہے."

سارے طالب علم چونک اٹھے، "یہ کیا کہہ رہے ہیں سر! اچھی چیز کا انتخاب تو اعلیٰ ذوق کی علامت ہے۔ یہ مسائل کی جڑ کیسے...؟"

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:
"آپ سب کو حقیقت میں جس چیز کی طلب تھی، وہ چائے یا کافی تھی… نہ کہ کپ… لیکن آپ سب نے دانستہ طور پر بہتر کپوں کے لئے ہاتھ بڑھایا اور سب ایک دوسرے کے کپوں کو چور نگاہوں سے دیکھتے رہے."

●میرے بچو... نوجوانو… یاد رکھو! زندگی کا اصل حسن باطن سے پھوٹنے والی خوشیوں کی وجہ سے ہے۔ عالی شان بنگلہ، قیمتی گاڑی، دائیں بائیں ملازمین، دولت کی چمک دمک کی وجہ سے بننے والے دوست یہ سب قیمتی کپ کی طرح ہیں۔ اگر اس قیمتی کپ میں کافی یا چائے بدمزہ ہو تو کیا آپ اسے پئیں گے؟

اصل اہمیت زندگی، صحت اور آپ کے اعلیٰ کردار کی ہے۔ باقی سب کانچ کے بنے ہوئے نازک برتن ہیں، ذرا سی ٹھیس لگنے سے یہ برتن ٹوٹ جائیں گے یا ان میں کریک آجائے گا۔
یاد رکھیے! دنیا کی ظاہری چمک دمک کی خاطر اپنے آپ کو مت گرائیے۔ بلکہ زندگی کے اصلی جوہر کو اُبھاریے۔

تمام تر توجہ صرف کپ پر مرکوز کرنے سے ہم اس میں موجود کافی یعنی زندگی سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا کپوں کو اپنے ذہن کا بوجھ نہ بنائیں… اس کی بجائے کافی سے لطف اندوز ہوں."

🌹سبق 06:
✏پروفیسر صاحب نے کلاس کا آغاز کرتے ہوئے اپنی جیب سے ایک پینسل نکالی اور تمام طلبا کو دکھاتے ہوئے کہا:

"آج کا سبق آپ اس پینسل سے سیکھیں گے… پینسل میں پانچ باتیں ایسی ہیں جو ہم سب کے لئے جاننی ضروری ہیں!"

"وہ کیا سر…" سب نے تجسس سے پوچھا.

"پہلی بات: یہ پینسل عمدہ اور عظیم کام کرنے کے قابل اس صورت میں ہوسکتی ہے، جب وہ خود کو کسی کے ہاتھ میں تھامے رکھنے کی اجازت دے۔

دوسری بات: ایک بہترین پینسل بننے کے لئے وہ بار بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گزرتی ہے۔

تیسری بات: وہ ان غلطیوں کو درست کرنے کی اہل رکھتی ہے، جو اس سے سرزد ہو سکتی ہیں۔

چوتھی بات: پینسل کا سب سے اہم حصہ ہمیشہ وہ ہوگا جو اس کے اندر یعنی اس کے باطن میں ہوتا ہے.
اور
پانچویں بات: پینسل کو جس سطح پر بھی استعمال کیا جائے، وہ لازمی اس پر اپنا نشان چھوڑ جاتی ہے چاہے حالات کیسے ہی ہوں."

■"اب اس پینسل کی جگہ آپ اپنے کو لے لیں۔
آپ بھی عمدہ اور عظیم کام کرنے کے قابل اسی صورت میں ہوسکتے ہیں، جب آپ خود کو اپنے استاد یا راہنما کے ہاتھوں میں تھامے رکھنے کی اجازت دیں۔

دوسری بات: آپ کو بار بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑے گا۔ یہ مراحل دنیا میں زندگی کے مختلف مسائل کی صورت میں آپ کے سامنے آئیں گے، ایک مضبوط فرد بننے کے لئے آپ کو ان مسائل کا اچھے طریقے سے سامنا کرنا ہوگا۔

تیسری بات: یہ کہ اپنے آپ کو ان غلطیوں کو درست کرنے کے قابل بنائیں جو آپ سے سرزد ہوسکتی ہیں۔

چوتھی بات: ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہمارے اندر ہے، ہمارا باطن ہے، ہمیں اسے کثافتوں اور آلائشوں سے بچانا ہے۔

پانچویں بات: آپ جس سطح پر سے بھی گزر کر جائیں، آپ اپنے نشان ضرور چھوڑ جائیں۔ چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں.

اس یقین کے ساتھ زندگی بسر کریں کہ اس دنیا کو آپ کی ضرورت ہے، کیونکہ کوئی شے بھی فضول اور بے مقصد نہیں ہوتی."

(سبق نمبر 7، 8 کا حصہ چہارم میں مطالعہ کیجئے)

https://t.me/islamwitheman/385
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹کامیابی کیلئے8سبق(حصہ چہارم)🌹

🌹سبق 07:
🍯پروفیسر صاحب نے کلاس میں داخل ہوتے ہوئے طلباء پر نظر ڈالی اور کہا:
"آج میں تمہیں زندگی کا نہایت اہم سبق سکھانے جا رہا ہوں…"

وہ اپنے ہمراہ کانچ کی ایک بڑی برنی یعنی جار (JAR) لائے تھے، انہوں نے اس جار کو ٹیبل پر رکھا اور اپنے بیگ سے ٹیبل ٹینس کی گیندیں نکال کر اس برنی میں ڈالنے لگے… اور تب تک ڈالتے رہے جب تک اس برنی میں ایک بھی گیند کی جگہ باقی نہ رہی.
پروفیسر صاحب نے طلباء سے پوچھا:
"کیا برنی پوری بھرگئی ہے؟" "جی ہاں" طالب علموں نے ایک ساتھ جواب دیا.

پھر پروفیسر صاحب نے بیگ سے چھوٹے چھوٹے کنکر نکال کر اس برنی میں بھرنے شروع کر دیے، وہ دھیرے دھیرے برنی کو ہلاتے بھی جارہے تھے۔ کافی سارے کنکر برنی میں جہاں جگہ خالی تھی سما گئے.

پروفیسر صاحب نے پھر سوال کیا:
"کیا اب برنی بھرگئی ہے؟"

طالب علموں نے ایک بار پھر "ہاں" کہا.

اب پروفیسر صاحب نے بیگ سے ایک تھیلی نکالی اور اس میں سے ریت نکال کر دھیرے دھیرے اس برنی میں ڈالنی شروع کر دی، وہ ریت بھی اس برنی میں جہاں تک ممکن تھا بیٹھ گئی.

یہ دیکھ کر طلباء اپنی نادانی پر ہنسنے لگے…

پروفیسر صاحب نے ایکبار پھر سوال کیا:
"کیا اب یہ برنی پوری بھرگئی ہے؟"
"جی! اب تو پوری بھرگئی ہے سر" سب ہی نے ایک آواز میں کہا.

پروفیسر نے بیگ کے اندر سے جوس کے دو ڈبّے نکال کر جوس اس برنی میں ڈالا، جوس بھی ریت کے بیچ تھوڑی سی جگہ میں جذب ہوگیا… اب پروفیسر صاحب نے نہایت ہی گھبمیر آواز میں سمجھانا شروع کیا…

■"اس کانچ کی برنی کو تم لوگ اپنی زندگی سمجھو، ٹیبلٹینس کی گیندیں تمہاری زندگی کے سب سے اہم کام ہیں مثلاً طرزِ معاشرت، حصولِ معاش، تعلیم وتربیت، خاندان، بیوی بچے، نوکری، صحت وتحفظ وغیرہ… چھوٹے کنکر تمہاری عام ضروریات اور خواہشات ہیں.. گاڑی، بنگلہ، نوکرچاکر، موبائل، کمپیوٹر اور دیگر اصرافِ زندگی وغیرہ… اور ریت کا مطلب ہے چھوٹی چھوٹی بیکار اور فضول باتیں، جھگڑے، آوارہ گردی، ہوائی قلعہ بنانا، ٹائم پاس کرنا، وقت کاضیاع وغیرہ…

●اگر تم نے کانچ کی برنی میں سب سے پہلے ریت بھری ہوتی تو ٹیبل ٹینس کی گیند اور کنکر کے لیے جگہ ہی نہیں بچتی یا صرف کنکر بھر دیے ہوتے تو گیند نہیں بھر پاتے، ریت ضرور آسکتی تھی….

ٹھیک یہی طریقہ کار زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر تم فضول اور لایعنی چیزوں کے پیچھے پڑے رہو گے اور اپنی زندگی اسی کے چکر میں ختم کردو گے تو تمہارے پاس اہم باتوں کے لئے وقت نہیں رہے گا…

ایک کامیاب اور پرسکون زندگی گزارنے کے لئے یہ اہم سبق ہے. اب یہ تم خود طے کرلو کہ تمہیں اپنی کانچ کی برنی کس طرح بھرنی ہے."

طالب علم بڑے غور سے پروفیسرصاحب کی باتیں سن رہے تھے، اچانک ایک طالبعلم نے پوچھا:
"سر! لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ جوس کے دو ڈبّے کیا ہیں؟"
●پروفیسر مسکرائے اور بولے: "میں سوچ ہی رہا تھا کہ ابھی تک کسی نے یہ سوال کیوں نہیں کیا… اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں ہم کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں اور کس قدر ہی کامیابیاں کیوں نہ سمیٹ رہے ہوں لیکن اپنے گھروالوں، دوستوں کے ساتھ تعلق کی مٹھاس کی گنجائش ہمیشہ رکھنی چاہیے...."

🌹سبق 08:
🎈آج لیکچر کا آخری دن تھا، پروفیسر صاحب کلاس روم میں داخل ہوئے، کلاس روم کی بھنبھناہٹ گہری خاموشی میں بدلنے لگی۔ دیکھا کہ پروفیسر کے پیچھے ایک غبارے والا ڈھیر سارے ایک ہی رنگ کے غبارے لئے کلاس روم میں داخل ہو رہا ہے.

پروفیسر کے اشارے پر غبارے والے نے ایک ایک کرکے سارے غبارے طلباء میں تقسیم کردئیے.

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:
"آپ میں سے ہر ایک کو مارکر کا استعمال کرتے ہوئے ان غباروں پر اپنا نام لکھنا ہے." سب نے پروفیسر کے کہنے پر نام لکھ دیئے. اس کے بعد تمام غبارے جمع کرکے دوسرے کمرے میں ڈال دیئے گئے۔
اب پروفیسر نے تمام طالب علموں سے کہا کہ "اب سب غباروں والے کمرے میں جائیں اور اپنے اپنے نام والا غبارہ تلاش کریں، دھیان رہے کہ کوئی غبارہ نہ پھٹے اور آپ سب کے پاس پانچ منٹ ہیں."

ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے ہوئے، دوسروں کو دھکیلتے ہوئے اپنے نام کا غبارہ تلاش کرنے لگا. ایک افراتفری کا سماں تھا. سارے غبارے ایک ہی رنگ کے تھے، پانچ منٹ تک کوئی بھی اپنے نام والا غبارہ تلاش نہ کرسکا… یہ دیکھ کر پروفیسر انصاری نے کہا کہ:
اب آپ کے پاس پانچ منٹ ہیں کوئی بھی غبارہ پکڑ لیں اور اس کے نام والے شخص کو دے دیں، دو تین منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ تمام افراد کے پاس اپنے اپنے نام والے غبارے تھے.

■پروفیسر انصاری کلاس سے مخاطب ہوتے ہوئے بولے: "بالکل اسی طرح ہماری زندگی ہے، ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں اپنے اردگرد خوشیاں تلاش کررہا ہے یہ نہ جانتے ہوئے کہ وہ کہاں ہیں.
نوجوانو! یاد رکھو… ہماری خوشی دوسروں کی خوشی میں پنہاں ہے، ان کو ان کی خوشی دے دیں تو آپ کو آپ کی خوشی مل جائے گی."

https://t.me/islamwitheman/385
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حضرت اُمُّ البَنینؑ 🌹

🔷 تاريخِ وفات:
حضرت اُمُّ البنینؑ کی تارخ وفات کے بارے میں کوئی دقیق معلومات تاریخی منابع میں ثبت نہیں ہیں لیکن جو چیز معروف ہے اس کے مطابق آپ 13جمادی الثانی کو اس دنیا سے رخصت ہوئیں. آپ شیعوں کے یہاں قابل احترام شخصیات میں سے ہیں.

🔷 حسب و نسب:
حضرت اُمُّ البنینؑ کا اصل نام فاطمہ بنتِ حِزام ہے آپ کے والد گرامی ابوالمجْل حزّام بن خالد کا قبیلہ بنی کلاب سے تعلق تھا، آپ کی مادر گرامی لیلیٰ یا ثمامہ بنت سہیل بن عامر بن مالک تھیں.

🔷 وجہ لقب:
فاطمہ بنت حِزام اُمّ البَنین کے نام سے مشہور ہوئیں. آپ امیرالمؤمنین علیؑ کی زوجات میں سے تھیں. آپ چونکہ چار بیٹوں کی ماں تھیں اسلئے آپ اُمّ البَنین یعنی بیٹوں کی ماں کے لقب سے ملقب ہوئیں.
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی حضرت امام علیؑ کو یہ تجویز دی تھی کہ ان کو بجائے فاطمہ کے اُمُّ البَنینؑ کہہ کر پکارا جائے تاکہ حضرت فاطمہ زہراءؑ کے بچوں کو فاطمہ کہنے سے اپنی ماں حضرت فاطمہ زہراءؑ کی یاد تازہ نہ ہو اور اپنی ماں پر گزرے ہوئے تلخ حوادث انہیں آزار نہ پہنچائیں.

🔷 حضرت علیؑ سے شادی:
حضرت فاطمہ زہراؑ کی رحلت کے کئی سال بعد حضرت علیؑ نے اپنے بھائی عقیل جو نسب شناسی میں مشہور تھے، سے ایک نجیب خاندان سے بہادر، شجاع اور جنگجو اولاد جنم دینے والی زوجہ کے انتخاب کے بارے میں مشورہ کیا تو عقیل نے فاطمہ بنت حزام کا نام تجویز کیا اور کہا عربوں میں بنی کلاب کے مردوں جیسا کوئی دلیر مرد نہیں دیکھا جا سکتا ہے، یوں حضرت علیؑ نے آپ سے شادی کی.

🌟 شادی کا ثمرہ:
اس شادی کا ثمرہ خدا نے چار بیٹوں کی صورت میں عطا کیا جن کے نام عباسؑ، عبداللہ، جعفر اور عثمان ہیں.
آپ کے یہ چار بیٹے شجاعت اور دلیری میں اپنی مثال آپ تھے اس وجہ سے آپ کو اُمُّ البَنینؑ (یعنی بیٹوں کی ماں) کہا جاتا تھا،
آپ کے یہ چار بیٹے کربلا میں اپنے بھائی اور امام، امام حسینؑ کے رکاب میں شہادت کے عظیم درجے پر فائز ہوئے.

🔶 واقعہ کربلا:
اُمُّ البَنینؑ واقعہ کربلا پیش آتے وقت وہاں موجود نہیں تھیں، جب اسیران کربلا کا قافلہ مدینہ پہنجا تو کسی نے آپ کو اپنے بیٹوں کی شہادت کی خبر سنائی لیکن آپ نے کہا: امام حسینؑ کے بارے میں کہو جب آپ کو بتایا گیا کہ امام حسینؑ آپ کے چار بیٹوں کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے ہیں تو اس وقت آپ نے کہا؛ اے کاش میرے بیٹے اور جو کچھ زمین اور آسمان کے درمیان ہے میرے حسینؑ پر فدا ہوتے اور وہ زندہ رہتے، آپ کے یہ جملے، امام حسینؑ اور اہلبیتؑ کے ساتھ آپ کی سچی اور بااخلاص مجبت کی عکاسی کرتے ہیں.

حضرت اُمُّ البَنینؑ اپنے بیٹوں کی شہادت سے باخبر ہونے کے بعد ہر روز اپنے پوتے عبیداللہ (فرزندِ عباسؑ) کے ساتھ قبرستان بقیع جایا کرتی تھی اور وہاں پر خود اپنے انشاء کئے ہوئے اشعار پڑھا کرتی تھیں اور نہایت دلسوز انداز میں گریہ کرتی تھیں، اہل مدینہ ان کے ارد گرد جمع ہوتے اور ان کے ساتھ گریہ کرنا شروع کرتے تھے.

🔶مدفن:
آپ کا مدفن قبرستان بقیع میں ہے.
آپ کو جنت البقیع میں رسولِخداؐ کی دو پھوپھیوں (صفیہ، عاتکہ) کے پاس امام حسن علیہ السلام اور فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کی قبروں کے قریب سپرد خاک کیا گیا.

https://t.me/islamwitheman/390

🔘 تفصیل کے ساتھ حضرت ام البنین علیہ السلام کی سوانح حیات دیکھنے کے لئے فیسبک کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://www.facebook.com/1304327322922888/posts/3792714790750783/
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👅 احتیاط کے ساتھ بولا کریں👅

ایک طالب علم جو فوت ہو گیا تھا کچھ مدت کے بعد اس کو خواب میں دیکھا اس سے پوچھا گیا: وہاں آپ کیسے ہیں؟

♻️ اس نے کہا: اپنے اعمال اور اپنی گفتار کی احتیاط کیا کرو.

کیونکہ؛ اللہ تعالی کا حساب و کتاب بہت ہی دقیق ہے.
ایک دن بارش برس رہی تھی.

اور میں نے کہا واہ واہ کیا عجیب ہے کہ بے موقع بارش برس رہی ہے؟

💢 میں ابھی تک اسی ایک جملے میں گرفتار ہوں.
مجھے کہا گیا ہے: کیا ہمارے پاس بے موقع بارش بھی ہے؟

⚖ { فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ}(۷) { وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ}(۸)

پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔
اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔ (سورہ زلزال ، آیات ۷، ۸)

📚 حوالہ: آداب الطلاب، آیت الله مجتهدی تهرانی، صفحه ۱۲۹۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ پانچ سوال اور انکے جواب ⭕

ایک مرید نے مولانا رومی سے چند سوالات پوچھے جن کے انہوں نے بہت خوبصورت مختصر اور جامع جوابات عطا فرمائے جو بالترتیب پیشِ خدمت ہیں:

سوال نمبر1= زہر کسے کہتے ہیں؟
ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زائد ہو، وہ ہمارے لئے زہر ہے خواہ وہ قوت و اقتدار ہو، دولت ہو، بھوک ہو،انانیت ہو، لالچ ہو، سستی و کاہلی ہو، محبت ہو، عزم و ہمت ہو، نفرت ہو یا کچھ بھی ہو.

سوال نمبر2= خوف کس شئے کا نام ہے؟
غیرمتوقع صورتِ حال کو قبول نہ کرنے کا نام خوف ہے۔ اگر ہم غیر متوقع کو قبول کرلیں تو وہ ایک ایڈونچر ایک مہم جوئی میں تبدیل ہوجاتی ہے.

سوال نمبر3= حسد کسے کہتے ہیں؟
دوسروں میں خیر اور خوبی کو تسلیم نہ کرنے کا نام حسد ہے۔ اگر ہم اس خوبی کو تسلیم کرلیں تو یہ رشک اور انسپریشن بن کر ہمارے لئے ایک مہمیز کا کام انجام دیتی ہے.

سوال نمبر4= غصہ کس بلا کا نام ہے؟
جو امور ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں، ان کو تسلیم نہ کرنے کا نام غصہ ہے۔ اگر ہم تسلیم کرلیں تو عفو درگزر اور تحمل اس کی جگہ لے لیتے ہیں.

سوال نمبر5= نفرت کسے کہتے ہیں ؟
کسی شخص کو جیسا کہ وہ ہے، تسلیم نہ کرنے کا نام نفرت ہے۔ اگر ہم غیر مشروط طور پر اسے تسلیم کرلیں قبول کرلیں، تو اسے محبت کہیں گے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 قرابتداری اورصلہ رحمی 🔷

🌹 حضرت رسولِخداؐ:
❶ جو تم سے قطع رحمی کرے تم اس سے صلہ رحمی کرو،جوتم سے برا سلوک کرے تم اس سے اچھاسلوک کرو اور حق بات کہوخواہ تمہارے اپنے خلاف ہی ہو. (کنزالعمال، حدیث٦٩٢٩)

❷ سنت پرعمل کرواوررشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو. (بحارالانوار، جلد٧٤، ص١٠٣)  

❸ جس نیکی کاثواب بہت جلدملتاہے وہ صلہ رحمی ہے. (بحارالانوار، جلد٧٤، ص١٢١)

❹ صلہ رحمی (بروزمحشر) حساب کو آسان بناتی اور بری موت سے بچاتی ہے۔ (بحارالانوار، جلد٧٤، ص٩٤)

❺ صلہ رحمی شہروں کو آبادکرتی ہے اورعمر کو زیادہ کرتی ہے اگرچہ صلہ رحمی کرنے والے یا جن کے ساتھ صلہ رحمی کی جا رہی ہے نیک لوگ نہ بھی ہوں. (بحارالانوار، جلد٧٤، ص٩٤)

❻ دنیا میں صلہ رحمی برقرار رکھو خواہ سلام کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو. (بحارالانوار، ج۷۴، ص۱۱۰)

❼ ایک شخص صلہ رحمی کرتاہے جبکہ اس کی زندگی کے صرف تین سال باقی ہوتے ہیں تواللہ تعالیٰ وہی تین سال تیس سالوں میں بدل دیتاہے۔ اورایک شخص قطع رحمی کرتاہے جب کہ اس کی عمرمیں ابھی تیس سال ہوتے ہیں تواللہ تعالیٰ تین سال کردیتاہے۔پھرآپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ''یَمحُو اﷲ ُمَایَشَاءُ وَ یُثبِتُ وَ عِندَہ وام الکتاب'' یعنی خداجس کوچاہتاہے مٹادیتاہے اورجس کوچاہتاہے باقی رکھتاہے اوراس کے پاس اصل کتاب (لوح محفوظ) موجود ہے.(رعد/٣٩) (بحارالانوار، جلد٧٤، ص٩۳)

🌹 حضرت علی علیہ السلام:
اپنے قوم وقبیلہ کی عزت کرو کیونکہ یہ لوگ تمہارے بال وپر ہوتے ہیں جن کے ذریعہ تم پرواز کرتے ہو اورتمہاری جڑ ہوتے ہیں جس کی طرف تم اپنے آپ کو منسوب کرتے ہو اور تمہارے ہاتھ ہوتے ہیں جن کے ذریعہ تم کسی پرحملہ کرتے ہو. (بحارالانوار، جلد٧٤، ص١٠٥)

🌹 حضرت امام محمد باقرؑ:
صلہ رحمی اعمال کو پاکیزہ بنا کر بڑھاتی اور مال کو نشوو نما عطا کرتی ہے، بلاؤں کو ٹالتی اورمدت عمرکو زیادہ کرتی ہے. (بحارالانوار، ج٧٤، ص١١١)

🌹 حضرت امام جعفرصادقؑ:
صلہ رحمی اور نیکی حساب کوآسان بناتی ہیں اور گناہوں سے بچاتی ہیں، لہٰذا صلہ رحمی کیا کرو اور اپنے بھائیوں کے ساتھ نیک سلوک کیا کرو خواہ اچھے انداز میں سلام کرنے اورجواب دینے کی صورت میں کیوں نہ ہو. (بحارالانوار، ج٧٤، ص١٣١)

🌹 حضرت امام علی نقیؑ:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداوندعالم سے مناجات کرتے ہوئے عرض کیا: ''خداوندا!جوشخص صلہ رحمی کرتاہے اس کی کیاجزاہے؟'' ارشادہوا:
''اے موسیٰ! میں اس کی مدت عمر کو بڑھا دیتا ہوں اور موت کی سکرات کو اس پرآسان کر دیتا ہوں!۔'' (بحارالانوار، ج٦٩، ص٣٨٣)

📚 نقل از تفسیر المعین  و الترجمه القرآن الکریم.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕