ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
Forwarded from ISLAM WITH EMAN
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🔷 جیسے کو تیسا 🔷

ایک بازار سے ایک مغرور بندہ گذر رہا تھا کہ اس کی نظر سر پر ایک ڈول اٹھائے عورت پر پڑی، اس نے اسے آواز دیکر روکا اور نخوت سے پوچھا:
اے مائی، کیا بیچ رہی ہو؟

عورت نے کہا: جی میں گھی بیچ رہی ہوں.
اس شخص نے کہا: اچھا دکھاؤ تو، کیسا ہے؟

گھی کا وزنی ڈول سر سے اتارتے ہوئے کچھ گھی اس آدمی کی قمیض پر گرا تو یہ بہت بگڑ گیا اور دھاڑتے ہوئے بولا:
نظر نہیں آتا کیا؟ میری قیمتی قمیض خراب کر دی ہے تو نے؟ میں جب تک تجھ سے اس قمیض کے پیسے نہ لے لوں، تجھے تو یہاں سے ہلنے بھی نہیں دونگا۔

عورت نے بیچارگی سے کہا؛
میں مسکین عورت ہوں، اور میں نے آپ کی قمیض پر گھی جان بوجھ کر نہیں گرایا، مجھ پر رحم کرو اور مجھے جانے دو۔

اس آدمی نے کہا؛ جب تک تجھ سے دام نہ لے لوں میں تو تجھے یہاں سے ہلنے بھی نہیں دونگا.

عورت نے پوچھا:
کتنی قیمت ہے آپ کی قمیض کی؟

اس شخص نے کہا: ایک ہزار درہم.

عورت نے روہانسا ہوتے ہوئے کہا: میں فقیر عورت ہوں، میرے پاس سے ایک ہزار درہم کہاں سے آئیں گے؟

اس شخص نے کہا: مجھے اس سے کوئی غرض نہیں.
عورت نے کہا: مجھ پر رحم کرو اور مجھے یوں رسوا نہ کرو.

ابھی یہ آدمی عورت پر اپنی دھونس اور دھمکیاں چلا ہی رہا تھا کہ وہاں سے ایک نوجوان کا گزر ہوا۔ نوجوان نے اس سہمی ہوئی عورت سے ماجرا پوچھا تو عورت نے سارا معاملہ کہہ سنایا۔

نوجوان نے اس آدمی سے کہا؛
جناب! میں دیتا ہوں آپ کو آپ کی قمیض کی قیمت۔ اور جیب سے ایک ہزار درہم نکال کر اس مغرور انسان کو دیدیئے.

یہ آدمی ہزار درہم جیب میں ڈال کر چلنے لگا تو نوجوان نے کہا: جاتا کدھر ہے؟
آدمی نے پوچھا: تو تجھے کیا چاہیے مجھ سے؟
نوجوان نے کہا: تو نے اپنی قمیض کے پیسے لے لئے ہیں ناں؟
آدمی نے کہا: بالکل، میں نے ایک ہزار درہم لے لئے ہیں.

نوجون نے کہا: تو پھر قمیض کدھر ہے؟
آدمی نے کہا: وہ کس لئے؟
نوجوان نے کہا: ہم نے تجھے تیری قمیض کے پیسے دیدیئے ہیں، اب اپنی قمیض ہمیں دے اور جا۔

آدمی نے گربڑاتے ہوئے کہا: تو کیا میں ننگا جاؤں؟
نوجوان نے کہا: ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔
آدمی نے کہا: اور اگر میں یہ قمیض نہ دوں تو؟
نوجوان نے کہا: تو پھر ہمیں اس کی قیمت دیدے۔
اس آدمی نے پوچھا: ایک ہزار درہم؟
نوجوان نے کہا: نہیں، قیمت وہ جو ہم مانگیں گے۔
اس آدمی نے پوچھا: تو کیا قیمت مانگتے ہو؟
نوجوان نے کہا: دو ہزار درہم۔
آدمی نے کہا؛ تو نے تو مجھے ایک ہزار درہم دیئے تھے۔
نوجوان نے کہا: تیرا اس سے کوئی مطلب نہیں۔
آدمی نے کہا: یہ بہت زیادہ قیمت ہے۔
نوجوان نے کہا؛ پھر ٹھیک ہے، ہماری قمیض اتار دے۔
اس آدمی نے کچھ روہانسا ہوتے ہوئے کہا: تُو مجھے رسوا کرنا چاہتا ہے؟
نوجوان نے کہا: اور جب تو اس مسکین عورت کو رسوا کر رہا تھا تو!!
آدمی نے کہا: یہ ظلم اور زیادتی ہے۔
نوجوان نے حیرت سے کہا: کمال ہے کہ یہ تجھے ظلم لگ رہا ہے۔
اس آدمی نے مزید شرمندگی سے بچنے کیلئے، جیب سے دو ہزار نکال کر نوجوان کو دیدیئے.

اور نوجوان نے مجمعے میں اعلان کیا کہ دو ہزار اس عورت کیلئے میری طرف سے ہدیہ ہیں۔

ہمارے ہاں بھی اکثریت کا حا ل ایسا ہی ہے۔ ہمیں دوسروں کی تکلیف اور توہین سے کوئی مطلب نہیں ہوتا لیکن جب بات خود پر آتی ہے تو ظلم محسوس ہوتا ہے۔ اگر معاشرتی طور پر ہم دوسروں کی تکلیف کو اپنا سمجھنا شروع کر دیں تو دنیا کی بہترین قوموں میں ہمارا شمار ہو۔ اگر وقت ملے تو سوچئے گا.

بشکریہ مرتّبہ: ریاض قادری

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💝 عبادت میں لذت 💝

ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﭘﮭﺮ ﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ... ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ، ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮑﻮﻥ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﮨﯽ ﭨﺎﺋﻢ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﺰﺍﺭﯾﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﻧﻤﺎﺯ ﺑﻮﺟﮫ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ..
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ..۔ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮑﮯ ﮨﻮﮰ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔

ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﻧﺲ ﭘﮭﻮﻝ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ.. ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﻃﻨﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﮭﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ..

"ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ؟؟ " ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﮰ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ.

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﺗﻮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺍﺳﮯ.

"ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ؟ ...
ﻣﯿﮟ .. ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﻘﺎﺏ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺧﻮﺩ، ﻣﯿﮟ... ﺳﻤﺠﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ... ﻧﻈﺮ ﮐﮯ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ..؟؟"

ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺑﮯﺗﺮﺗﯿﺐ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯼ۔ ﺗﻌﻠﻖ ﺗﻮ ﮨﮯ.. ﺑﮩﺖ ﮔﮩﺮﺍ ﮨﮯ..

👁 ﺑُﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﮯ ﺯﮨﺮﯾﻠﮯ ﺗﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺮ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ،
ﭘﺮﺩﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﭽﮫ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﻧﮕﺎﮦ ﭘﺎﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﻧﺎ ﺗﻮ ﻋﺒﺎﺩﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﺬّﺕ ﺟﺎﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ.. ﺟﺐ ﻧﮕﺎﮦ ﭘﺎﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﻮ ﺳﻮﭺ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ، ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺳﻮﭺ ﺧﺮﺍﺏ ﺗﻮ ﻧﯿﺖ ﺧﺮﺍﺏ.. ﺍﻭﺭ..۔ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺩﺍﺭﻭﻣﺪﺍﺭ ﺗﻮ ﮨﮯ ﮨﯽ ﻧﯿﺘﻮﮞ ﭘﺮ.

ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺟﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﺍﺛﺮ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﮨﻢ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﯿﺎ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﺒﮭﯽ ﺳﻮﭼﺎ ﮨﮯ؟؟

ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﺗﻮ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﺮ ﻭﮦ ﻧﺎﻣﺤﺮﻡ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻧﻈﺮ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﮯ، ﺍﺳﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻧﻈﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﺎﺭ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﮯ؟؟

ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺗﺼﻮﯾﺮ، ﮐﻮﺋﯽ ﻭﯾﮉﯾﻮ، ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ.. ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ.. ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ.. ﻣﮕﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠّﻪ!! ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﮏ ﺩفعہ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﮐﺘﯽ ﮨﻮ؟ .. ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﻠﻢ، ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺎﻧﺎ ... ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﻣﺤﺮﻡ ﺗﻮ ﺧﯿﺮ
ﭼﮭﻮﮌﻭ.. ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﻨﻒ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﭘﺮﺩﮦ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﺑﮯ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮ؟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻧﺎﻣﺤﺮﻡ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﮐﮯ ﻣﺮﺩ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﻧﺎ... ﯾﮧ ﺟﻮ ﭨﯿﻠﯽ ﻭﯾﮋﻥ ﭘﺮ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﮑﭩﺮﺯ، ﻣﺎﮈﻟﺰ،.. ﺟﻦ ﮐﯽ ﻏﺎﺋﺒﺎﻧﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﮈﯼ، ﮈﺭﯾﺴﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﻟُﮑﺲ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ... ﯾﮧ ﺳﺐ ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﮨﻮ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ.. ﺗﻮ ﺗﻢ ﺳﻮﭼﻮ.. ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻭ.. بلکہ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﺠﺰﯾﮧ ﮐﺮﻭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺩﻭ ...

ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﮰ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺅ ﯾﮧ ﻧﻈﺮ ﮐﯽ ﺧﯿﺎﻧﺖ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﻟﺬﺕ ﭼﮭﯿﻦ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ.. ﺩﻝ ﮐﻮ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ..

ﺯﻧﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ.. ﺍﮔﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻏﻠﻂ ﭼﮭﻮﺍ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎ ﺯﻧﺎ، ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻓﺤﺶ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﯽ ﺗﻮ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﺯﻧﺎ ﮨﮯ، ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺣﺮﺍﻡ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺯﻧﺎ ﮨﮯ..
ﻧﻈﺮ ﮐﯽ ﺑﮯﭘﺮﺩﮔﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﺑﮩﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ.. ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﺑﮭﯽ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮯﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ.. ﺑﻮﺟﮫ ﺳﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ...

ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ؟ ﺍﮔﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﺝ ﺳﮯ ﻋﮩﺪ ﮐﺮ ﻟﻮ ﮐﮧ ﮐﺮﻭ ﮔﯽ... ﺟﺐ ﮐﺒﮭﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻏﻠﻂ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﯽ ﻟﻮ، ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻧﻔﺲ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺣﺎﻭﯼ ہو ﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻭ.. ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻭ، ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﺎ ﻟﻄﻒ، ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﻟﺬﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﻥ... ﺳﺐ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ.

💝 ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ.. ﺳﮑﻮﻥ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﺧﻮﺩ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ "ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺫﮐﺮ ﺳﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﮑﻮﻥ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ۔" ﺍﺏ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺜﺎﻝ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﻮ..۔
ﺍﯾﮏ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺷﺨﺺ ﮨﮯ.. ﺍﺳﮑﻮ ﺁﭖ ﺍﺱ کا ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻻ ﮐﺮ ﺩﻭ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎئے ﮔﺎ.. ﺍﺏ ﻭﮦ ﮐﮩﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﺎ..

ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﮨﮯ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻌﺪﮦ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﮯ... ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮑﻮﻥ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺲ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﮯ... ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺻﺤﺘﯿﺎﺑﯽ ﮐﺎ، ﻧﻈﺮ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﮔﮩﺮﺍ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﺎﺭﯼ...

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺤﻤﻞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮ کے ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ..۔ ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺍﯾﮏ ﻋﺮﺻﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ، ﺑﯿﭽﯿﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺿﻄﺮﺍﺏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﻤﺠﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ...
ﻣﺠﮭﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ... ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﻤﮏ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﯽ.

👆 ایک مراسلہ 👆

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Forwarded from ISLAM WITH EMAN
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌺 اچھی باتیں 🌺

💞 ظاہر و باطن
ایک بزرگ سے ملاقات پر میں نے عرض کی کہ کچھ نصیحت کیجیئے.

انھوں نے عجیب سوال کیا کہ بیٹا کبھی برتن دھوئے ہیں؟

میں ان کے سوال پر حیران ہوا اور جواب دیا کہ جی دھوئے ہیں.

وہ پوچھنے لگے پھر کیا سیکھا؟

میں نے کہا اس میں سیکھنے والی کیا بات ہے؟ 

وہ مسکرائے اور کہنے لگے؛
برتن کو باہر سے کم اور اندر سے زیادہ دھونا پڑتا ہے.
____

💝 دل کی دھول
دل صاف
کر کے ملاقات کی عادت ڈالو،
دھول ہٹتی ہے تو آئینے بھی چمک اٹھتے ہیں.
____

🌷
اپنی غلطیوں کی وکالت
جب انسان اپنی غلطیوں ک
ا "وکیل" اور دوسروں کی غلطیوں کا "جج" بن جائے تو پھر..
*"فیصلے" نہیں ہوتے..
*"فاصلے" ہوتے ہیں.
____

🌹 عورت اور علم
ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻋﻠﻢ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﺟﮩﺎﻟﺖ ﻧﺴﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ..

ﺍﻭﺭ
ﻋﻠﻢ ﮐﮯﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﺑﮯﺣﯿﺎئی ﻧﺴﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 تقلید کی ضرورت 🔷

عقلًا اور شرعًا جو شخص آيات اور روايات سے حكم شرعى كا استنباط نہيں كر سكتا اسے ’’تقليدِ فقہى‘‘ كرنا ضرورى ہے.
جو شخص خود تقليد كے مرحلہ ميں ہو اور بعض ايسى روايات پيش كرے جو اس كے خيال ميں قابلِ بحث ہيں، اس كى مثال اس مريض كى سى ہے جسے ڈاكٹر نے علاج كا نسخہ ديا ہو اور وہ طب كے كورس كى كتابوں سے كوئى ايک پيراگراف نكال كر لے آيا ہو اور ڈاكٹر سے كہے كہ يہاں كچھ لكھا ہے اور آپ نے كچھ اور بتايا ہے!! يقينا ڈاكٹر كے ليے تفصيل كے ساتھ اس مريض كو كچھ سمجھانا ممكن نہيں ہے كيونكہ وہ طب كى علمى اصطلاحات سے بھى نابلد ہے اور تحقيقى دنيا سے بھى آشنا نہيں ہے. يہى صورتحال يہاں ہے.

🔹 ہم فتوى كے مقابلے ميں صرف اس وقت كچھ پيش كر سكتے ہيں جب خود صاحبِ اجتہاد ہوں اور ان تمام باريكيوں كو سمجھتے ہوں. مثلا اگر ايک شخص نے مطلوبہ علومِ دينى حاصل كيے ہوں اور تمام علوم پر كامل دسترس ركھتا ہو اس مرحلہ كے بعد ايک روايت سے ايک حكم لينے كے ليے عملى طور پر درج ذيل امور سے گزرنا ضرورى ہے:
1) اس موضوع كى تمام روايات كو جمع كرے.
2) روايات كى سندى تحقيق كرے.
3) روايات كے ظاہر كو ديكھے كہ ظاہرِ روايت كيا معنى دے رہى ہے.
4) يہ ديكھے كہ ان روايات ميں سے كس كى دلالت حجت ہے اور كس كى نہيں.
5) روايات ميں عام و خاص، مطلق و مقيّد، ناسخ و منسوخ، محكم و متشابہ، ظاہر نص ۔۔۔ ان سب قواعد كا خيال ركھے.
6) قواعد فقہيہ اور اصوليہ اپنے مبنى كے تحت جارى كرے.
7) فقہاءِ عظام كے اقوال كو مدنظر ركھے اور ان پر دقّت كرتے ہوئے استدلالى نوعيت كو جانے.

🔹 ان مراحل سے گزرنے كے بعد ہم ايک حكم شرعى بيان كر سكتے ہيں. اس ليے چند روايات ذكر كر كے فتوٰی كے مقابل انہيں پيش نہيں كيا جا سكتا كيونكہ يہ روايات واقعًا امام عليہ السلام سے صادر ہوئى ہيں يا نہيں؟ اس كا جاننا ضرورى ہے۔ جب ثابت ہو جائے كہ فلاں فلاں روايت صحيح ہے اور فلاں ضعيف تو صحيح كے معنى پر قواعد جارى كيے جائيں گے۔

🔻پس ہم كسى فتوٰی كے مقابل اس طرح سے روايت كو پيش نہيں كر سكتے۔ بلكہ ضرورى ہے كہ روايت كو بيان كر كے كاملًا تفصيلى بحث كريں۔ اس ليے آپ ان روايات كے ذيل ميں مندرجہ بالا نكات كى روشنى ميں تفصيلى بحث كريں تو سلسلہِ بحث آگے بڑھايا جا سكتا ہے۔ ورنہ ہمارے اوپر تقليد كرنا ضرورى ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 تقلید کیوں واجب؟ 🔷

ہم معصومین علیھم السلام کے زمانے میں اپنی شرعی ذمّہ داریاں ڈائریکٹ معصوم علیہ السلام سے لیتے ہیں ۔لیکن زمانہ غیبت میں کیا ہماری شرعی ذمّہ داریاں معاف ہیں؟

ہرگز نہیں کیونکہ قرآن کی آیات اور احادیث متواترہ اور عقل یہ سب شرعی ذمّہ داریوں کے جاری رہنے کا کہتے ہیں. اور ان سے پتہ چلتا ہے کہ تکالیف شرعیہ صرف اس کے لیے نہیں ہیں جو معصوم علیہ السلام کو درک کرتا ہو. اس لیے ہم آزاد نہیں ہیں کہ جس طرح ہمارا دل چاہے کرتے پھریں بلکہ ہم شرعی تکالیف کے پابند ہیں. جب ہم شرعی تکالیف کے پابند ہیں تو پھر ہمیں کس طرح پتہ چلے کہ کون سی تکلیف ہمارے اوپر واجب ہے اور کون سی حرام اور کون سی حلال ہے تاکہ اس پر عمل کرکے الله عزّوجلّ کے سامنے اپنی شرعی تکلیف کو ادا کریں.
تو اپنی شرعی تکالیف جاننے کے لیے ہمارے پاس چند اختیارات ہیں..

1⃣⬅ یا تو ہم میں سے ہر کوئی مجتھد بن جائے اور قرآن وسنت کی روشنی میں اپنی شرعی تکالیف کو معلوم کرے اور ان پر عمل کرے.

2⃣⬅ یا ہم کسی مجتھد کی طرف رجوع کریں جو قرآن وسنت کی روشنی میں ہمیں الله کے احکام بتاتا ہو اس شرط کے ساتھ کہ وہ مجتھد زیادہ علم والا ہو، متقی اور پرہیز گار شخص ہو.

3⃣⬅ یا ہم مجتھدین کی اخذ کردہ شرعی تکالیف کے درمیان احتیاط پر عمل کریں.

⏪ اس لیے اگر آپ کسی کی تقلید نہیں کرنا چاہتے تو یا آپ خود مجتھد بن جائیں۔ یا مجتھدین کے بتائے ہوئے احکامات میں احتیاط کریں. اور اگر یہ دونوں کام آپ نہیں کر سکتے تو جامع الشرائط مجتھد کی تقلید کریں. کیونکہ تقلید کا معنی یہ نہیں ہے کہ آپ مجتھد کی اطاعت کر رہے ہیں مجتھد تو آپ کو الله کا حکم بتاتا ہے اطاعت آپ الله کی کر رہے ہیں.
اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم امام زمانہ علیہ السلام کی تقلید کرتے ہیں تو ہمارا ان سے سوال ہے کہ ہمیں بھی بتائیں فرزند رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہاں ملتے ہیں. سالوں سے دنیا ان کے انتظار میں تڑپ رہی ہے.
اللھم عجل لولیک الفرج

بشکریہ کاوش: ابومصطفٰی نجفی

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/357
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 شرائطِ تقلید 🔷

■ جس مجتہد کی تقلید کی جائے اس میں درج ذیل شرائط پائی جاتی ہوں..
● مرد ہو،
● بالغ ہو،
● عاقل ہو،
● شیعہ اثنا عشری ہو،
● حلال زادہ ہو،
● زندہ ہو،
مرحوم مجتہد کی تقلید نہیں ہو سکتی البتہ اگر کسی نے کسی زندہ مجتہد کی تقلید کی تھی پهر وہ وفات پا جائے، اس کے الگ احکام ہیں لیکن شروع سے کسی مرحوم مجتہد کی تقلید نہیں ہوتی کیونکہ تقلید کی شرائط میں سے ایک شرط ہے کہ وہ زندہ ہو.
● عادل ہو،
عادل وہ شخص ہے جو تمام واجب کاموں کو بجالائے اور تمام حرام کاموں کو ترک کرے۔ عادل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک اچھا شخص ہو اور اس کے اہل محلہ یا ہمسایوں یا ہم نشینوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا جائے تو وہ اس کی اچھائی کی تصدیق کریں.
● اعلم ہو،
اگر یہ بات اجملاً معلوم ہو کہ درپیش مسائل میں مجتہد کے فتوے ایکدوسرے سے مختلف ہیں تو ضروری ہے کہ اس مجتہد کی تقلید کی جائے جو "اعلم" ہو یعنی اپنے زمانے کے دوسرے مجتہدوں کے مقابلے میں احکام الٰہی کو سمجھنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہو.
____

■ مجتہد اور اعلم ک
ی پہچان تین طریقوں سے ہوسکتی ہے..

1⃣ ایک شخص کو جو خود صاحبِ علم ہو ذاتی طور پر یقین ہو اور مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو.

2⃣ دو اشخاص جو عالم اور عادل ہوں نیز مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کا ملکہ رکھتے ہوں، کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں بشرطیکہ دو اور عالم اور عادل ان کی تردید نہ کریں اور بظاہر کسی کا مجتہد یا اعلم ہونا ایک قابل اعتماد شخص کے قول سے بھی ثابت ہوجاتا ہے.

3⃣ کچھ اہل علم (اہل خبرہ) جو مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہوں، کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں اور ان کی تصدیق سے انسان مطمئن ہوجائے.

نوٹ: یہ تحقیق کرنا ہر شخص کی اپنی اپنی ذمہ داری ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/358
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کلمہ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ہے 🔷

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﺗﮭﮯ، ﺫﮬﻦ ﺍﺳﻼﻣﯽ، ﭼﮩﺮﮦ ﻣﮩﺮﮦ ﻏﯿﺮﺍﺳﻼﻣﯽ، ﮨﻢ ﺫﮬﻦ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ، ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ انگلینڈ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺟﺐ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺑﻐﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯿﮟ!

ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﯿﻢ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﯿﺎ.
ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ دﻭﭘﭩﮧ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﭼﻮﺭﯼ ﻣﯿﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﻮ دیکھتیں ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻣﯿﻠﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ.
ﺩﻭﻟﮩﺎ ﮐﯽ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﻓﺨﺮﯾﮧ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﭘﮭﺮﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﯿﺎ ﺍﻧﮕﻠﯿﻨﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﻢ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﭽﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﺎً ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭦ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ، ﺑﻼﺋﯿﮟ ﻟﯿﺘﯽ ﻟﯿﺘﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ. ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ.
ﺻﺮﻑ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ، ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐِﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،

ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮨﻮﮔﺌﮯ!

ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺗﮭﺎ، ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮔﺰﺭﺍ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ، ﻣﯿﺎﮞ ﮐﮯ ﺁﻓﺲ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﺑﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻣﮩﺮ ﺛﺒﺖ ﮐﺮﺗﯿﮟ! ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭼﮧ میگوئیاں ﮨﻮﺋﯿﮟ، ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﻔﺴﺎﺭ ﭘﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"

ﮔﺮﻣﯿﺎﮞ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﭘﯿﻨﭧ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﻧﯿﮑﺮ ﭘﮩﻨﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ، ﺍﺑﺎﺟﯽ نے ﺗﻮ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ، ﺍﻣﺎﮞ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﯽ ﺭﮨﺘﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ! ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺷﮑﻮﮦ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"

ﺍﯾﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺑﺮﯾﮏ ﻭ ﮐﯿﻨﺒﺮﮮ ﮈﺍﻧﺲ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺩﻝ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ، ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"

ﮔﻮﺭﯼ ﻋﯿﺪ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﺮﺳﻤﺲ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮮ ﺗﺰﮎ ﻭ ﺍﺣﺘﺸﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺗﯽ ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮨﺮ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ " ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"

ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ، ﺑﭽﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺧﺘﻨﮯ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ، ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮐﮭﺴﯿﺎﻧﯽ ﺳﯽ ﮬﻨﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻮﻟﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ''

ﮈﺍﻧﺲ، ﻣﯿﻮﺯﮎ، ﻓﻠﻤﯿﮟ، ﮐﺎﮎﭨﯿﻞ ﭘﺎﺭﭨﯿﺰ، ﮐﺮﺳﻤﺲ، ﺳﺮﻋﺎﻡ ﺑﻮﺱﻭﮐﻨﺎﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﮐﻠﭽﺮ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﮯ، ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﻓﺮﯼ ﮨﻮﺗﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ، ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺳﮩﯿﻠﯿﺎﮞ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ۔ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﯽ ﭘﯿﻨﭩﯿﮟ ﭘﮩﻦ ﭘﮩﻦ کر ﺷﯿﺸﮯ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ، ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﯿﮟ، ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﺎﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻤﻌﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"

ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﺳﮯ ﭼﭙﮏ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ، ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺟﮕﮧ ﺗﻨﮓ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻠﺘﺎ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ" ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻡ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﺟﯿﻨﺰ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﺳﺎ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﺘﯽ۔ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ ﮐﮧ
"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"!!!!!!

🔷 "ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ" ﺑﮭﯽ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﻨﯽ ﻣﺰﺍﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﯿﺎﮦ ﻻﺋﮯ۔
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ، ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﻋﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﯾﺴﯽ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ، ﺍﺗﻨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﭼﭩﯽ..
"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ"!!

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ جرأت ﻧﮧ ﮐﯽ. ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ.

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﻭﺍﺝ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﻟﮯ ﺁﺋﯽ،
ﻟﯿﮑﻦ ﻗﻮﻡ ﺧﻮﺵ ﮨﯽ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!

ﻣﻌﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮨﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﺎﭼﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻏﯿﺮ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﮭﺎ. ﻟﻮﮒ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺷﺮﮎ ﻭ ﮐﻔﺮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﺍﺯ ﺩﯾﺎ،
ﮨﺮ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﯾﺎ، ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ،
ﮐﻠﻤﮯ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ،
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!

ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻣﺎﮞﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔

ھماری بے راہ روی ﮐﻠﻤﮯ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺲ ﻣﯿﮟ بہتﮐﭽﮫ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﯽ.

ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ... اپنی زندگی میں اسلام لانے کی کوشش کیجئے ورنہ ھم نے بھی بس کلمہ ہی پڑھا ھوا ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🍃 حوا کی بیٹی 🍃

مدینہ کی گلیوں میں منادی کرنے والے کی صدا گونجتی ہے، کہ پردے کا حکم نازل ہو گیا ہے۔ بازار میں موجود بیبیاں، دیواروں کی طرف رخ پھیر لیتی ہیں، کچھ بالوں سے خود کو چھپاتی ہیں۔ کہ اب تو چادر کے بغیر گھر نہیں جائیں گی۔ بچوں کو دوڑاتی ہیں کہ گھر سے چادر لے آؤ۔ مرد حضرات منادی سنتے ہیں۔ گھروں کو لپک کر گھر کی خواتین کو یہ حکم سناتے ہیں۔ ان کو تاکید سے خود کو ڈھانپنے کا کہتے ہیں۔ مگر کوئی بیبی سوال نہیں کرتی کہ پردہ کس چیز سے کرنا ہے، چادر موٹی ہو یا باریک، آنکھیں کھلی ہوں یا چھپی، اور بس، خود کو ایسے چھپا لیتی ہیں جیسا کہ حق تھا۔ اگلے دن میں کوئی بھی بغیر پردے کے نظر نہیں آتی.

🍃تاریخ کچھ اوراق الٹتی ہے اور منظر تبدیل ہوتا ہے۔ شناختی کارڈ ہاتھ میں پکڑے، سکیورٹی گارڈ سامنے پردے میں کھڑی لڑکی سے کہتا ہے؛ "یہ آپ کی تصویر تو نہیں ہے، مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ یہ آپ ہی ہیں؟" لڑکی منت کرتی ہے کہ کسی خاتون سے کہہ دیجیے کہ وہ میری شکل دیکھ لے، مگر ہوس کا مارا گارڈ اپنی اس ذرا سی اتھارٹی کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے. "آپ کو چیک کرنا میری ذمہ داری ہے" اور پھر، حوا کی اس باحیا بیٹی کے پاس، اپنا نقاب سرکا دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔۔!

🍀ذرا سوچیے تو سہی ہم یہاں تک کیسے پہنچے؟ آدمؑ کے بیٹے اور محمدِِؐعربیؐ کی امت کے مرد کی غیرت کیا ہوئی کہ آج وہ خود بنتِ حوا کے پردے کے اترنے کا منتظر ہے؟ امت کی بیٹیوں میں سے چند نے سوال کیے بغیر حیا کو شعار بنایا تو چاروں جانب کانٹے کھڑے کیوں دیکھے؟ اس زہر کو اپنے اندر انڈیلتے رہنے پر احتجاج کی سکت ہم میں کیوں باقی نہ رہی؟

🌿یہ زہر ایک دم ہمارے وجود کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ ہمیں وقتاً فوقتاً تھوڑی تھوڑی مقدار میں اس کی خوراک دی جاتی رہی۔ یہ عمل غیر محسوس انداز میں جاری رہا کہ کبھی اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی.

🌱سر پر دوپٹا اوڑھے خبریں سناتی نیوز کاسٹرز کا دوپٹہ سرکتے سرکتے کندھوں تک جا پہنچا، ڈراموں میں کام کرتی خواتین کی آستین گھٹتی گھٹتی کندھوں تک جا پہنچی، اور ہم نے یہ گولیاں نگل لیں۔
چلتے چلتے یہ زہر ہمارے گھر کی دہلیز پار کر گیا، اور ہماری باحیا بہنوں اور بیٹیوں سے حجاب اتار پھینکنے کا تقاضا کرنے لگا۔ بےحسی کے عالم میں آدمؑ کے بیٹے نے اردگرد نظر دوڑائی تو یہ زہر ہر گھر میں فیشن اور ماڈرنزم کا خوبصورت لبادہ اوڑھے نظر آیا۔ "اس دور میں جینے کا یہی تقاضا ہے" کے نسخے نے اسے اس گولی کو نگلنے پر بھی آمادہ کر لیا۔
اور نوبت یہاں تک پہنچی، کہ آج جب کوئی سوال نہ کرنے والی اپنے حجاب کی تقدیم کا سوال کر بیٹھے، تو ایک ساتھ کئی انجیکشن اس کے جسم میں بھی اتار دیے جاتے ہیں۔۔
"منع بھی کیا تھا تمھیں کہ اس ٹینٹ جیسے پردے میں نہ چھپاؤ خود کو!"
"یہ تو سب کے ساتھ ہو رہا ہے!"
"لوگوں کے ساتھ اس سے بڑے بڑے واقعات ہوتے ہیں!"
"تم کیا کر سکتی ہو اس حال میں۔ کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا!"
"آئندہ کے لیے اس پردے سے جان چھڑا لو، کہ اب تو یہی ذریعہ ہے بچاؤ کا!"

اور پھر وہ سوال نہ کرنے والی سوال کرنے کی جرأت کھو بیٹھتی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی یا تو حجاب کو اتار پھینکتی ہے یا ہمیشہ کے لیے اپنا اعتماد کھو دیتی ہے!
سارے کا سارا ملبہ نسخہ بنانے والے پر ڈالنا عدل نہ ہوگا۔ دوا کو اپنے اندر انڈیلنے والا کیا آنکھیں اور دل نہ رکھتا تھا؟ رکھتا ہے دل، مگر ضمیر کو سلا بیٹھا ہے۔ گھر سے باہر حوا کی کوئی بیٹی نظر آئے تو سورۃالنور کا سبق بھول جاتا ہے جس میں اس کو پہلے نظر جھکانے کا حکم دیا گیا ہے:
ترجمہ:
"مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں خدا ان سے خبردار ہے."

اس حکم کا ادراک اسے اس وقت ہوتا ہے جب ویسی ہی ایک نظر اس کے اپنے گھر تک کسی کے تعاقب میں آ پہنچتی ہے۔ مگر افسوس کہ تب بھی مصلحت آ کر اس کے پاؤں پکڑ لیتی ہے اور وہ سسکتی بلکتی باکرہ کو اس مصلحت کا انجیکشن لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ کسی سوال نہ کرنے والی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور وہ سوتی قوم کی غیرت کو جگانے کے لیے خود اٹھ کھڑی ہو تو انگلیاں اسی کے کردار پر اٹھانے کا رواج بھی اسی قوم کا طرّہ امتیاز ہے۔ احتجاج کرنے والے کو عبرت کا نشان بنانے والے بھی ہم خود ہی ہیں۔ آواز بلند ہونے پر دبا دیے جانے کے ڈر سے خاموشی میں ہی عافیت جاننے سے نہ انقلاب آیا کرتے ہیں نہ زندگی کے آثار باقی رہتے ہیں۔
■یاد رکھیے کہ غیرت کا جنازہ اٹھ جانا حیا کی موت کی ہی طرف ایک قدم ہے۔ اس سے اگلا سبق تو ہمیں اکثر یاد دلایا جاتا ہے:
"حیا اور ایمان ہمیشہ اکھٹے رہتے ہیں، جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اٹھا لیا جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے." (حدیثِ نبویؐ)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/361
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 عقلمند بادشاہ 🔷

ﺍﯾﮏ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﻪ ﺑﮩﺖ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﻩ ﻫﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ..
ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺩﻥ ﺟﻮ ﺑﮭﯽﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﻫﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻧﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺟﻮﺩﻩ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ "ﻋﻼﻗﻪ ﻏﯿﺮ" ﯾﻌﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ جگہ ﭼﮭﻮﮌ ﺍٓﺗﮯ جہاﮞ ﺻﺮﻑ ﺳﺎﻧﭗ، ﺑﭽﮭﻮ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﻪ ﺗﮭﺎ. ﺍﮔﺮ ﻭﻩ ﺳﺎﻧﭗ، ﺑﭽﮭﻮؤﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﻪ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﭽﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﻮ ﺑﮭﻮﮎ ﭘﯿﺎﺱ ﺳﮯ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﮐﺘﻨﮯ ﻫﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ "ﻋﻼﻗﻪ ﻏﯿﺮ" ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﺮ ﮐﮭﭗ ﮔﺌﮯ.

ﺍﺱ ﺩﻓﻌﻪ ﺷﻬﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﻫﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﻟﮓ ﺭﻫﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﻪ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ
ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﭼﻦ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ.
ﻭﻩ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﻫﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﺑﮭﯽ۔ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ہی ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﻪ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﮩﺎﮞ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻗﺎﻧﻮﻥ
ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﻪ ﻫﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﭼﻦ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯ ﯾﻪ ﺳﻨﺘﮯ ﻫﯽ ﻭﻩ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﻪ ﺗﻮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻫﻮﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻘﻞ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺟﮕﻪ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎﺅ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﻢ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺗﮯ ﻫﻮ۔ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﭙﺎﻫﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺳﻼﻣﺖ ﮐﻮ ﻭﻩ ﺟﮕﻪ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ. ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﺟﮕﻪ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﻩ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮔﯿﺎ.

ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﺣﮑﻢ ﯾﻪ ﺩﯾﺎ ﮐﻪ ﻣﺤﻞ ﺳﮯ "ﻋﻼﻗﻪﻏﯿﺮ" ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺳﺒﺰ ﻭ ﺷﺎﺩﺍﺏ ﺭﺍﺳﺘﻪ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺟﮕﻪ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ ﺑﯿﺞ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﻫﺎﺋﺶ ﺗﻌﻤﯿﺮ
ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻫﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ سہولت ﻫﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﺎﻍ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ..
ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﻫﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﻫﻮﮔﺌﯽ. ﮐﭽﮫ ﻫﯽ ﻋﺮﺻﻪ ﻣﯿﮟ ﺳﮍﮎ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻞ ﻭﻏﯿﺮﻩ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﻫﻮ ﮔﺌﮯ.

ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺳﻢ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﻫﺎﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺅ جہاں ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ.

ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺳﻼﻣﺖ ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﯾﻪ ﺭﺳﻢ ﺧﺘﻢ ﻫﻮ ﮔﺌﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﻪ ﻫﻤﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﻫﮯ. ﻭﻫﺎﮞ ﺗﻮ ﻫﻢ ﺍﻥ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﻮﮞ ﮐﻮ
ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﯽ ﮐﮯ ﻣﺰے ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻧﻪ ﮐﺮﺗﮯ. ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻋﻘﻠﻤﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﻫﺮﻩ ﮐﯿﺎ ﮐﻪ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺪﻩ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﻫﻤﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﯽ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﯽﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﺍﺏ ﺁﭖ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻫﻢ ﭘﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺮﯾﮟ.

■ ﺍﺱ ﺍﻧﻮﮐﮭﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ "ﺩﻧﯿﺎ" ﻫﮯ؛ ﻭﻩ ﻧﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻫﯿﮟ.
ﺍﻭﺭ "ﻋﻼﻗﻪ ﻏﯿﺮ" ﻫﻤﺎﺭﯼ ﻗﺒﺮ ﻫﮯ.

● ﺍﺏ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﻓﯿﺼﻠﻪ ﮐﺮ ﻟﯿﺠﯿﮯ ﮐﻪ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﻫﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﻪ ﺩﻧﯿﺎ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﻪ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻫﻢ ﻧﮯ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﻫﺮﻩ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﻭﻫﺎﮞ ﺍﭘﻨﺎ
ﻣﺤﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻏﺎﺕ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﮯ ﻫﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﺳﯽ ﭼﻨﺪ ﺭﻭﺯﻩ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻣﺰﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﻫﯿﮟ.
ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻣﺪﺕ ﺷﺎﻫﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺳﮯﮔﺰﺍﺭ ﮐﺮ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮ ﺭﻫﮯ ﻫﯿﮟ.

● ﺫﺭﺍ ﺳﻮﭼﺌﮯ ﮐﻪ ﺁﺝ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﺴﺎ ﺁئے ﮔﺎ کہ ﭘﮭﺮ ﭘﭽﮭﺘﺎﻧﮯ ﮐﯽ مہلت ﺑﮭﯽ نہیں ﻣﻠﮯ ﮔﯽ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﮬﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮨﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎئے. ﺁﻣﯿن

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Forwarded from ISLAM WITH EMAN
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🔷 غسل جمعہ کی فضیلت 🔷

پيامبر اکرم (ص) فرماتے ہیں: 
ہر جمعہ کے دن غسل کریں حتی غسل کے لیے پانی مہیا کرنے کیلئے آپ کو دن کی غذا بھی بیچنی کیوں نہ پڑے. اور حتی آپ کو بھوکا بھی رہنا پڑے. کیونکہ غسل جمعہ سے بڑھ کوئی اور مستحب نہیں ہے.

📚 حوالہ: بحارالأنوار، جلد 81، صفحه 129.

🔘 غسل جمعه کی اھمیت کے لئے یہی کافی ہے کہ بعض روایات میں نقل ہوا ہے کہ بعض افراد کا جسم قبر میں بھی سالم رہتا ہے.
●شهید اور حقیقی مؤمن وہ ہے جس نے چالیس دن تک غسل جمعہ کو ترک نہ کیا ہو.
اور ان روایات کا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ علماء کے جسم قبر میں بھی اسی وجہ سے سالم رہے ہیں کیونکہ انہوں نے اس کام کو انجام دیا ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 پہلی نمازِ جُمُعَہْ 🔷

🔶 بعض اسلامی روایات میں آیا ہے کہ مدینہ کے مسلمانوں نے پیغمبرِ اکرمؐ کی ہجرت سے پہلے باہم مل کر بات کی اور کہا کہ یہودی ہفتہ میں ایک دن (بروزہفتہ) اِجتماع کرتے ہیں اور عیسائی بھی اِجتماع کے لیے (اتوارکا) ایک دن رکھتے ہیں. لہٰذا ہم بھی ایک دن مُقرّر کر لیتے ہیں تاکہ اس میں جمع ہو کر ذکرِخُدا کریں اوراس کا شکر بجا لائیں، انہوں نے ہفتہ سے پہلے کا دن کہ جسے اُس زمانہ میں (یومُ العرربہ) کہتے تھے، اِس مقصد کے لیے منتخب کیا اور (بزرگانِ مدینہ میں سے ایک شخص) اسعد بن زرارہ کے پاس گئے، اس نے ان کے ساتھ مل کر جماعت کی صُورت میں نماز ادا کی اور انہیں وعظ ونصیحت کی، پس وہی دن
(روزِجمعہ) کے نام سے موسوم ہو گیا کیونکہ وہ مُسلمانوں کے اِجتماع کا دن تھا.
"اسعد" کے حکم پر ایک گوسفند ذبح کی گئی اور سب نے دوپہر اور شام کا کھانا ایک ساتھ تناول کیا، کیونکہ اس وقت مُسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی.
● یہ پہلا جُمعہ  تھا جو اسلام میں ایک اجتماع کے طور پر متعارف ہے.

لیکن.....
🔷 وہ پہلی نمازِجُمعہ جو حضرت رسُولِ اکرمؐ نے اپنے اصحاب کے ساتھ پڑھی وہ اس وقت تھی کہ جب آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی.
جب آپ مدینہ میں وارد ہوئے تو اس دن پیر کا دن بارہ ربیع الاوّل اور ظہر کا وقت تھا، حضرتؐ چار دن تک "قبا" میں رہے اور مسجدِقبا کی بُنیاد رکھی، پھر جُمعہ کے دن مدینہ کی طرف روانہ ہُوئے. قبا اور مدینہ کے درمیان فاصلہ بہت ہی کم ہے اور موجودہ وقت میں قبا مدینہ کا ایک داخلی محلّہ ہے، اور نمازِجُمعہ کے وقت آپ محلّہ "بنی سالم" میں پہنچے، وہاں نمازِجُمعہ ادا فرمائی اور یہ اسلام میں پہلا جُمعہ تھا جو حضرت رسُولخداؐ نے ادا کیا، جُمعہ کی اس نماز میں آپ نے خطبہ بھی دیا، جومدینہ میں آنحضرتؐ کا پہلا خُطبہ تھا۔(۱) 

🌷 ایک محدّث نے "عبدالرحمٰن بن کعب" سے نقل کیا ہے کہ میرا باپ جب جُمعہ کی اذان کی آواز سنتا، تو اسعد بن زرارہ کے لیے رحمت کی دُعا کیا کرتا تھا، جب میں نے اس کی وجہ پُوچھی تو اُس نے کہا:
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پہلا شخص تھا جس نے ہمارے ساتھ نمازِجُمعہ ادا کی،
میں نے کہا: اُس وقت کتنے افراد حاضر تھے؟
اس نے کہا: صرف چالیس افراد.(2)

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

📚 حوالہ جات:
۱۔مجمع البیان،جلد١٠،صفحہ ٢٨٦.
۲۔وسائل الشیعہ،جلد٥،صفحہ٧ ،باب وجوب صلوٰةالجمعة، حدیث: ٢٨.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹیں دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔

🔷 غسل جمعہ کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/367

🔷 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368

📄 جمعةالوداع کی دعا
http://t.me/islamwitheman/1056

🌺 روز جمعہ کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1112

🌹 فضائل جمعةالمبارک
https://t.me/islamwitheman/1974

🌹 فضیلت جمعہ اور نماز حاجت
https://t.me/islamwitheman/1987

🌹 فضیلت جمعہ اور سورہ ھود
https://t.me/islamwitheman/1998

🌹 فضلت جمعہ اور سورہ صافات
https://t.me/islamwitheman/2027

🌹 احادیث فضیلت نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/2036

🌹 جمعہ کے دن کی دعا
https://t.me/islamwitheman/2062

🌹 جمعہ کے دن کی زیارت
https://t.me/islamwitheman/2063

🌹 فضیلت جمعہ اور چار رکعت نماز
https://t.me/islamwitheman/2064

💐 جمعةالمبارک
https://t.me/islamwitheman/2083

🌹 فضیلت جمعہ اور سورةالقدر
https://t.me/islamwitheman/2084

🌹 فضیلت جمعہ اور عمل اولاد
https://t.me/islamwitheman/2107
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حضرت سلیمانؑ کی خوشی 🌹

امام علی رضاؑ نے امام محمد باقرؑ سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا:

ایک دن حضرت سلیمان بن داؤاد علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:
الله تعالیٰ نے مجھے ایسی حکومت عطا فرمائی ہے جو میرے بعد کسی کو عطا نہیں ہو گی- اور الله نے ہوا کو میرے لئے مسخّر کیا اور انسانوں، حیوانوں، اور جنات و طیّور کو میرا تابع فرمان بنایا. اور مجھے ہر طرح کی نعمت و آسائش عطا فرمائی. مگر اس کے باوجود میرا ایک دن بھی پورا کبھی خوشی میں نہیں گزرا. میں کل پورا دن اپنے محل میں بسر کرنا چاہتا ہوں. اور اپنے محل کی چھت پر چڑھ کر اپنی مملکت کا نظارہ کرنا چاہتا ہوں. اس لئے کل کسی کو بھی مجھ سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے تاکہ میرا دن آرام و خوشی سے گزر سکے.

آپ کے ساتھیوں نے کہا:
آپ کے فرمان کی تعمیل کی جائے گی.

جب دوسرا دن ہوا تو حضرت سلیمانؑ ہاتھ میں عصا لئے ہوئے اپنے محل کے بلند ترین حصے پر چلے گئے اور عصا کا سہارا لے کر اپنی مملکت کا نظارہ کر رہے تھے اور اپنی مملکت کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے کہ اتنے میں انہوں نے ایک خوش شکل اور خوش لباس نوجوان کو دیکھا کہ وہ محل کے ایک کنارے سے ان کی طرف آ رہا ہے.

حضرت سلیمانؑ نےاس نوجوان سےکہا:
تمہیں اس محل میں داخل ہونے کی کس نے اجازت دی، جبکہ آج میری خلوت کا دن ہے؟

نوجوان نے کہا: اس محل کے مالک کی اجازت سے میں اس محل میں داخل ہوا ہوں.

حضرت سلیمانؑ اس مفہوم کو سمجھ گئے اور فرمایا:
بیشک اس کا حقیقی مالک مجھ سے اس کا زیادہ حقدار ہے. لیکن تم کون ہو؟

اس نے کہا:
میں ملک الموت ہوں.

سلیمانؑ نے کہا:
کس لئے آۓ ہو..؟

ملک الموت نے کہا:
میں آپ کی روح قبض کرنے آیا ہوں.

سلیمان علیہ السلام نے کہا:
تم حکمِ خدا پر عمل کرو. یہ میری خوشی کا دن تھا مگر خدا نے میری خوشی کو اس بات میں قرار دیا کہ میں اس کی ملاقات کروں.
انہوں نے عصا کا سہارا لیا اور ملک الموت نے ان کی روح کھڑے کھڑے قبض کر لی.

چناچہ سلیمان علیہ السلام مرنے کے بعد بھی عصا کے سہارے کھڑے رہے. لوگ انہیں دور سے کھڑا دیکھتے تو سمجھتے کہ زندہ ہیں.
جب انھیں اس طرح کھڑے کھڑے کچھ عرصہ گزرا تو لوگوں میں اختلاف ہو گیا. کوئی کہتا سلیمان علیہ السلام مدت سے عصا پر کھڑے ہیں، اور نہ تو وہ کچھ کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں اور نہ ہی تھک کر سوتے ہیں. اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے رب ہیں. اسی لئے ہمیں ان کی عبادت کرنی چاہیے.
اور کچھ لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا دراصل سلیمان علیہ السلام اک جادوگر ہیں، وہ جادو کے زور سے ہمیں یہ دِکھا رہے ہیں کہ وہ عصا کے سہارے کھڑے ہوۓ ہیں. درحقیقت ایسا نہیں ہے. یہ سب کچھ فریبِ نظر کا کرشمہ ہے.

مؤمنين نے کہا؛ سلیمان علیہ السلام الله کے بندے اور اس کے نبی ہیں. الله اپنے امر کی جیسے چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے.

جب لوگوں میں اختلاف بڑھا تو الله نے دیمک کو ان کے عصا پر مسلط کر دیا. اس نے آپ کے عصا کو کھانا شروع کردیا. جب عصا کھوکھلا ہو گیا تو وہ ٹوٹ گیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام منہ کے بل گر پڑے.
قومِ جنّات جو کہ سلیمان علیہ السلام کے مسخّر تھے، انہوں نے دیمک کا شکریہ ادا کیا اس وجہ سے جہاں بھی دیمک موجود ہو گی وہاں پانی اور مٹی موجود ہو گی. یعنی دیمک کو پانی اور مٹی جنّات فراہم کرتے ہیں.
چناچہ الله تعالیٰ نے فرمایا:
"پھر جب ہم نے انکی موت کا فیصلہ کر دیا تو انکی موت کی خبر بھی جنّات کو کسی نے نہ بتائی سوائے دیمک کے، جو انکے عصا کو کھا رہی تھی اور جب وہ گرے تو جنّات کو معلوم ہوا کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلیل کرنے والے عذاب میں مبتلا نہ رہتے."

📚 حوالہ:
سورہ سبا، آیت14
عیون اخبارالرضا، صفحہ:465-462.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 شدّاد کی جنت 🔷

شدّاد کے دورِحکومت میں حضرت ہودؑ اللہ کے نبی تھے اور آپ ہمیشہ شدّاد کو ایمان کی دعوت دیتے تھے.
ایک دن شدّاد نے پوچھا:
اگر میں آپ کی باتوں پر ایمان لے آؤں تو اللہ مجھےکیا انعام دے گا؟

حضرت ہودؑ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ تجھے جنّت دے گا جس میں تو ہمیشہ چین سے رہے گا.

شدّاد نے حضرت ہودؑ سے جنّت کے اوصاف پوچھے تو انہوں نے جنّت کی
خصوصیات تفصیل سے بیان فرمائیں.

یہ سن کر شدّاد بولا:
مجھے اللہ کی جنّت کی کوئی ضرورت نہیں، ایسی جنّت میں خود ہی بنواؤں گا، اس دن سے شدّاد کی مسلسل یہ کوشش رہی کہ وہ ایک ایسا شہر تعمیر کرائے جو ہر لحاظ سے جنّت جیسا ہو، اس نے اپنے بھانجے ضحاک کو جو ایران کا حاکم تھا، کہلا بھیجا کہ جتنا سونا چاندی تمہارے پاس جمع ہے وہ فوراًمیرے پاس بھیج دو۔ ضحاک نے ایسا ہی کیا.
شدّاد نے پورے ملک میں اپنے کارندے روانہ کئے جو بہت بڑی مقدار میں سونا چاندی جمع کر کے لائے.

شدّاد نے جنّت بنانے کے لیے مُلکِ شام میں ایک صحت افزا مقام کا انتخاب کیا اور ماہر معماروں کے ذریعے وہاں ایک مضبوط اور مستحکم فصیل تعمیر کرائی، جس کے اندر سونے اور چاندی کا محل تعمیر کرایا اور اس کی دیواروں کو قیمتی جواہر سے سجایا، اس نے شہر کے وسط میں ایک ایسی نہر بنوائی جس کے پانی میں سنگریزوں کی بجائے ہیرے جواہرات بہتے تھے، سونے کےایسے درخت لگوائے جن کے خوشوں میں مشک و عنبر بھرا گیا تھا، جب ہوا چلتی تو مشک و عنبر کی خوشبو پورے شہر میں پھیل جاتی.

بیان کیا جاتا ہے کہ شدّاد نے محل کے چاروں طرف سونے کی اینٹوں سے بارہ ہزار کمرے تعمیر کرائے اور ہر کمرے کو یاقوت اور ہیرے جواہرات سے مزیّن کیا گیا اور اطراف و جوانب سے خوبصورت اور جوان عورتوں کو وہاں لایا گیا،
الغرض یہ عظیم الشّان جنّت نُما شہر پانچ سو سال میں مکمل ہوا اور شداد کو اس کی تکمیل کی اطلاع دی گئی، اطلاع ملتے ہی شدّاد بہت بڑا لشکر لے کر اپنی جنّت کی جانب روانہ ہوگیا، ابھی شہر سے ایک منزل کے فاصلے پر تھا کہ اس نے ایک ہرن دیکھا جس کے پاؤں چاندی اور سینگ سونے کے تھے، ہرن کو دیکھ کر وہ لالچ میں آگیا اور اسے پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے اپنا گھوڑا لگا دیا، بھاگتے بھاگتے وہ اپنے لشکر سے جدا ہو گیا، اس نے شدّاد کو پکار کر کہا:
شدّاد! تو نے عالیشان محل تعمیر کر کے یہ سمجھ لیا ہے کہ اب تو موت کے پنجے سے بھی آزاد ہوچکا ہے.
یہ سُن کر شدّاد کا رواں رواں کانپنے لگا اور اس نے پوچھا:
تو کون ہے؟
اس نے جواب دیا:
میں ملک الموت ہوں.

شدّاد نے کہا:
اس وقت تمہیں مجھ سے کیا کام ہے اور میری راہ میں کیوں روڑے اٹکا رہے ہو؟

ملک الموت نے کہا:
میں صحرا میں تیری روح قبض کرنے آیا ہوں.
شدّاد نے کہا:
مجھے کم از کم اتنی مہلت دے دو کہ میں اپنی بنائی ہوئی جنّت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں.

ملک الموت نے اجازت نہ دی، چنانچہ شدّاد گھوڑے سے گرا اور مرگیا اور اس کے لشکر نے ایک آسمانی چنگھاڑ سنی تو پورے کا پورا لشکر آن واحد میں ختم ہوگیا اور جنّت جانے کے بجائے ملکِ عدم پہنچ گیا.

کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت سے پوچھا:
روح قبض کرتے ہوئے تمہیں کبھی کسی پر ترس بھی آیا؟
ملک الموت نے عرض کیا:
جی ہاں! دو دفعہ مجھے بڑا ترس آیا، پہلی دفعہ اس وقت جب سمندر میں ایک ماں اپنے شیرخوار بچے کے ہمراہ سفر کر رہی تھی، سمندر میں طوفان آیا، کشتی ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی، وہ ماں ایک تختے پر اپنے نوزائیدہ بچے کو سینے سے لگائے سمندر میں ہچکولے کھا رہی تھی، اس وقت مجھے آپ کا حکم ملا کہ اس عورت کی روح قبض کر لی جائے چنانچہ میں نے اس عورت کی روح قبض کر لی اور وہ بچہ اس تختے پر اکیلا رہ گیا پھر وہ تختہ ایک جزیرے پر جالگا اور دوسری مرتبہ مجھے شدّاد کی روح قبض کرتے ہوئے بڑا ترس آیا، وہ تیرا دشمن تھا مگر اس نے بڑی محنت سے جنّت تعمیر کرائی تھی اور تونے اسے دیکھنے کا موقع تک نہ دیا.

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اے ملک الموت! تونے دونوں مرتبہ ایک ہی شخص پر ترس کھایا تھا، تختے پر جس بچے کو تونے دیکھا تھا ہم نے اس کی پرورش کی، اسے عزت دی، اسے اقتدار دیا اور وہ بدبخت ہمارا منکر بن بیٹھا اور ہماری جنّت کے مقابلے میں اپنی جنّت تیار کرنے لگا، در حقیقت شدّاد ہی وہ شیرخوار بچہ تھا جس کی ماں کی روح تو نے قبض کی تھی، خدا کے انکار کا یہ نتیجہ تو دنیا میں ہے اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ ہے.

📚روضۃ الصفا.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/251
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 چیونٹی اور شہد 🌹

کسی دانا کا قول ھے:
"دنیا شہد کے ایک بہت بڑے قطرے کے علاوہ کچھ نہیں!! پس جو بھی اس شھد میں سے تھوڑا اور بقدرکفایت کھانے پر اکتفاء کرے گا وہ نجات پا جائے گا اور جو بھی اس شیرینی میں غوطہ ور ہو گا ہلاکت اس کا مقدر بن جائے گی."

🌹کسی جگہ شہد کا ایک قطره زمین پر گر گیا. ایک چھوٹی سی چیونٹی آئی اور اُس نے اس شہد کے قطرے سے تھوڑا سا چکھا۔ اُسے بڑا مزا آیا
اسے کام سے جانا تھا تو جب وہ جانے لگی تو اس شہد کا مزہ اس کے منہ میں مزید پانی لانے کا سبب بنا، اُس کا منہ بھر آیا:
کیا زبردست اور مزے دار شہد ھے!
کتنا میٹھا!
آج تک ایسا شہد نہیں کھایا!!
وہ لوٹی اور شہد میں سے تھوڑا سا اور چکھ لیا...
اس نے دوبارہ جانے کا عزم کیا مگر اُس نے محسوس کیا کہ یہ تھوڑا سا شہد کھانا کافی نہیں ھے، اُسے اور کھانا چاھئے.
وہ رکی اور اس مرتبہ کھانے کے بجائے شھد پر گر پڑی تاکہ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ لذت حاصل کر لے!
وہ چیونٹی شہد میں غوطہ ور ہو گئی اور لطف اندوز ہونے لگی.
مگر افسوس کہ وہ شہد سے باھر نہ نکل سکی۔
شہد کی چکنائی کی وجہ سے اس کے پیر زمین سے چپک گئے تھے اور اس میں انہیں ہلانے کی طاقت نہ رہی...!
وہ شہد میں رہ گئی یہاں تک کہ وہ اسی میں ہی ہلاک ہو گئی!
اس کی لذت اندوزی نے شھد کو ہی اس کی قبر میں تبدیل کر دیا!

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔


https://t.me/islamwitheman/370
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Forwarded from ISLAM WITH EMAN
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌼 پنسل اور ربڑ 🌼

جس کسی کی کاوش ہے، ہے بہت خوب...
🌹 جب پرائمری میں تھا تو پنسل اور ایریزر جیومیٹری باکس کا لازمی جزو تھے... ایریزر نہ رکھنے کا تو تصور ہی نہ تھا... اگر کبھی ایریزر نہ ہوتی تو کام کے ساتھ ساتھ موڈ بھی خراب ہو جاتا!
اور پھر یہ کہ...!!
جان بوجھ کر غلطیاں کون احمق کرتا ہے... مگر جو غلط لکھا جاتا، اس کو ایریزر سے نہ مٹانے کی صورت میں خوب ڈانٹ پڑتی....

🌺 میٹرک میں یہی معاملہ پین اور ریمور کا تھا... ریمور تو کمال کی چیز ہے... صفحہ یوں صاف ہو جاتا ہے جیسے نیا ہو... غلطی کا کہیں نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا!!!

🌸 پھر ایف ایس سی سے اب تک بال پوائنٹ ہے تو وائٹنر کا سہارا ہے... غلطی غائب اور نیا لکھنا شروع... آہا... بہت خوب!

💝 یونہی پھر خیال آیا کہ...
دنیا کے امتحانی کمرے میں آخرت کا ٹیسٹ دیتے ہوئے اگر نیکیوں کی پنسل ادھر ادھر کھو کر اعمال کا پیپر خراب کر دیں تو...؟؟؟

یہاں بھی تو ایریزر ہے !!!

مُعَلِّمِ اقدسؐ نے "استغفار" کی ربڑ تھما دی ہے...

دیر کیسی؟؟؟

جلدی سے پھیر دیجیے کہ مُمْتَحِنْ کسی بھی وقت پرچہ لے سکتا ہے!!!

🌷 اور... اس غلط فہمی میں مت رہیے گا کہ یہ ایریزر کبھی ایکسپائر ہوگی... بنانے والے نے اس کی گارنٹی دی ہے کہ یہ وقتِ نزع تک کارگر ہے!!!

استغفراللہ ربی من کل ذنب واتوب علیہ

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 باپ کی وصیّت 🔷

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﻭﺻﯿّﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺑﯿﭩﺎ! ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﭘﮭﭩﮯ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﻣﻮﺯﮮ ﭘﮩﻨﺎ ﺩﯾﻨﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺗﺎﺭﺍ ﺟﺎﺋﮯ.

ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻣﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻏﺴﻞ ﻭ ﮐﻔﻦ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺣﺴﺐ ﻭﻋﺪﮦ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﻋﺎﻟﻢِ ﺩﯾﻦ ﺳﮯ ﻭﺻﯿّﺖ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﻋﺎﻟﻢِ ﺩﯾﻦ ﻧﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﯿّﺖ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﮐﻔﻦ ﭘﮩﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺴﮑﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﻋﻠﻤﺎﺀِﺷﮩﺮ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﻧﮑﻞ ﺳﮑﮯ...

ﻣﮕﺮ ﮨﻮﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ… ﻟﻔﻈﯽ ﺗﮑﺮﺍﺭ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﮔﺌﯽ..
ﺍﺳﯽ ﺍﺛﻨﺎﺀ میں ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻭﺍﺭﺩِﻣﺠﻠﺲ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﺧﻂ ﺗﮭﻤﺎ ﺩﯾﺎ.. جِسمیں ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﻭﺻﯿّﺖ ﯾﻮﮞ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺗﮭﯽ...
ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺑﯿﭩﮯ! ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ﮐﺜﯿﺮ ﻣﺎﻝ ﻭﺩﻭﻟﺖ، ﺟﺎﮦ ﻭ ﺣﺸﻢ، ﺑﺎﻏﺎﺕ، ﮔﺎﮌﯼ، ﮐﺎﺭﺧﺎﻧﮧ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻣﮑﺎﻧﺎﺕ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ نہیں ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﻣﻮﺯﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎ ﺳﮑﻮﮞ.
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺕ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ، ﺁﮔﺎﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﻔﻦ ﮨﯽ لے کر ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ..
ﻟﮩﺬﺍ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻣﺎﻝ ﻭ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﺭﺛﮧ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﯼ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻔﺎﺩﮦ ﮐﺮﻧﺎ..
ﻧﯿﮏ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮯ ﺳﮩﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺑﻨﻨﺎ..
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﻮ ﻭﺍﺣﺪ ﭼﯿﺰ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻭﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﻋﻤﺎﻝ ھیں اللہ ھم پر اپنی رحمتوں کا نزول فرما.

اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ الَّذِیْ لَااِلٰہَ اِلَّاھُوَالْحَيُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕