🔷 چِڑیا کی نصیحتیں 🔷
ایک شخص نے چِڑیا پکڑنے کے لئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چِڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا..
چِڑیا نے اس سے کہا:
اے انسان! تم نے کئی ہرن، بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ہیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ہے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ہے اس سے تُمہارا کیا بنے گا..؟ تُمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مُجھے آزاد کردو تو میں تمہیں تین نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ہوگا.. ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی کروں گی.. جبکہ دوسری اس وقت جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کروں گی جب دیوار سے اُڑ کر سامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.
اُس شخص کے دل میں تجسس پیدا ہوا کہ نہ جانے چِڑیا کیا فائدہ مند نصیحتیں کرے.. اس نے چِڑیا کی بات مانتے ہوئے اس سے کہا:
تم مجھے پہلی نصیحت کرو، پھر میں تمہیں چھوڑ دونگا..
چنانچہ چِڑیا نے کہا:
🌹 میری پہلی نصیحت یہ ہے کہ..
"جو بات کبھی نہیں ہو سکتی اسکا یقین مت کرنا."
یہ سن کر اس آدمی نے چِڑیا کو چھوڑ دیا اور وہ سامنے دیوار پر جا بیٹھی.. پھر بولی:
🌹 میری دوسری نصیحت یہ ہے کہ..
"جو بات ہو جاۓ اسکا غم نہ کرنا."
اور پھر کہنے لگی:
اے بھلے مانس! تم نے مجھے چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی، کیونکہ میرے پیٹ میں پاؤ بھر کا انتہائی نایاب پتھر ہے، اگر تم مجھے ذبح کرتے اور میرے پیٹ سے اس موتی کو نکال لیتے تو اس کے فروخت کرنے سے تمہیں اس قدر دولت حاصل ہوتی کہ تمہاری آنے والی کئی نسلوں کے لئے کافی ہوتی.. اور تم بہت بڑے رئیس ہو جاتے..
اس شخص نے جو یہ بات سُنی تو افسوس کرنے لگا.. اور پچھتایا کہ چِڑیا کوچھوڑ کر اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی.. اگر اسے نہ چھوڑتا تو میری نسلیں سنور جاتیں.. چِڑیا نے اسے اس طرح سوچ میں پڑے دیکھا تو اُڑ کر درخت کی شاخ پر جا بیٹھی اور بولی:
اے بھلے مانس! ابھی میں نے تمہیں پہلی نصیحت کی جسے تم بھول گئے کہ "جو بات نہ ہوسکنے والی ہو اسکا ہرگز یقین نہ کرنا" لیکن تم نے میری اس بات کا اعتبار کر لیا کہ میں چھٹاک بھر وزن رکھنے والی چِڑیا اپنے پیٹ میں ایک پاؤ وزن کا موتی رکھتی ہوں.. کیا یہ ممکن ہے..؟
میں نے تمہیں دوسری نصیحت یہ کی تھی کہ "جو بات ہو جاۓ اسکا غم نہ کرنا" مگر تم نے دوسری نصیحت کا بھی کوئی اثر نہ لیا اور غم و افسوس میں مبتلا ہو گئے کہ خواہ مخواہ مجھے جانے دیا.. تمہیں کوئی بھی نصیحت کرنا بالکل بیکار ہے.
تم نے میری پہلی دو نصیحتوں پر کب عمل کیا جو تیسری پر کرو گے.. تم نصیحت کے قابل نہیں.
یہ کہتے ہوۓ چِڑیا پُھر سے اُڑی اور ہوا میں پرواز کر گئی..
وہ شخص وہیں کھڑا چِڑیا کی باتوں پر غور و فکر کرتے ہوۓ سوچوں میں کھو گیا..!!
■ وہ لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں جنہیں کوئی نصیحت کرنے والا ہو.. ہم اکثر خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہوۓ اپنے مخلص ساتھیوں اور بزرگوں کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرتے.. اور اس میں نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے.. یہ نصیحتیں صرف کہنے کی باتیں نہیں ہوتیں کہ کسی نے کہہ لیا، ہم نے سن لیا.. بلکہ دانائی اور دوسروں کے تجربات سے حاصل ہونے والے انمول اثاثے ہیں.. جو یقینناً ہمارے لئے مشعلِ راہ ثابت ہو سکتے ہیں اگر ہم ان نصیحتوں پر عمل بھی کریں..!!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚حکایات رومی.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک شخص نے چِڑیا پکڑنے کے لئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چِڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا..
چِڑیا نے اس سے کہا:
اے انسان! تم نے کئی ہرن، بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ہیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ہے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ہے اس سے تُمہارا کیا بنے گا..؟ تُمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مُجھے آزاد کردو تو میں تمہیں تین نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ہوگا.. ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی کروں گی.. جبکہ دوسری اس وقت جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کروں گی جب دیوار سے اُڑ کر سامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.
اُس شخص کے دل میں تجسس پیدا ہوا کہ نہ جانے چِڑیا کیا فائدہ مند نصیحتیں کرے.. اس نے چِڑیا کی بات مانتے ہوئے اس سے کہا:
تم مجھے پہلی نصیحت کرو، پھر میں تمہیں چھوڑ دونگا..
چنانچہ چِڑیا نے کہا:
🌹 میری پہلی نصیحت یہ ہے کہ..
"جو بات کبھی نہیں ہو سکتی اسکا یقین مت کرنا."
یہ سن کر اس آدمی نے چِڑیا کو چھوڑ دیا اور وہ سامنے دیوار پر جا بیٹھی.. پھر بولی:
🌹 میری دوسری نصیحت یہ ہے کہ..
"جو بات ہو جاۓ اسکا غم نہ کرنا."
اور پھر کہنے لگی:
اے بھلے مانس! تم نے مجھے چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی، کیونکہ میرے پیٹ میں پاؤ بھر کا انتہائی نایاب پتھر ہے، اگر تم مجھے ذبح کرتے اور میرے پیٹ سے اس موتی کو نکال لیتے تو اس کے فروخت کرنے سے تمہیں اس قدر دولت حاصل ہوتی کہ تمہاری آنے والی کئی نسلوں کے لئے کافی ہوتی.. اور تم بہت بڑے رئیس ہو جاتے..
اس شخص نے جو یہ بات سُنی تو افسوس کرنے لگا.. اور پچھتایا کہ چِڑیا کوچھوڑ کر اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی.. اگر اسے نہ چھوڑتا تو میری نسلیں سنور جاتیں.. چِڑیا نے اسے اس طرح سوچ میں پڑے دیکھا تو اُڑ کر درخت کی شاخ پر جا بیٹھی اور بولی:
اے بھلے مانس! ابھی میں نے تمہیں پہلی نصیحت کی جسے تم بھول گئے کہ "جو بات نہ ہوسکنے والی ہو اسکا ہرگز یقین نہ کرنا" لیکن تم نے میری اس بات کا اعتبار کر لیا کہ میں چھٹاک بھر وزن رکھنے والی چِڑیا اپنے پیٹ میں ایک پاؤ وزن کا موتی رکھتی ہوں.. کیا یہ ممکن ہے..؟
میں نے تمہیں دوسری نصیحت یہ کی تھی کہ "جو بات ہو جاۓ اسکا غم نہ کرنا" مگر تم نے دوسری نصیحت کا بھی کوئی اثر نہ لیا اور غم و افسوس میں مبتلا ہو گئے کہ خواہ مخواہ مجھے جانے دیا.. تمہیں کوئی بھی نصیحت کرنا بالکل بیکار ہے.
تم نے میری پہلی دو نصیحتوں پر کب عمل کیا جو تیسری پر کرو گے.. تم نصیحت کے قابل نہیں.
یہ کہتے ہوۓ چِڑیا پُھر سے اُڑی اور ہوا میں پرواز کر گئی..
وہ شخص وہیں کھڑا چِڑیا کی باتوں پر غور و فکر کرتے ہوۓ سوچوں میں کھو گیا..!!
■ وہ لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں جنہیں کوئی نصیحت کرنے والا ہو.. ہم اکثر خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہوۓ اپنے مخلص ساتھیوں اور بزرگوں کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرتے.. اور اس میں نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے.. یہ نصیحتیں صرف کہنے کی باتیں نہیں ہوتیں کہ کسی نے کہہ لیا، ہم نے سن لیا.. بلکہ دانائی اور دوسروں کے تجربات سے حاصل ہونے والے انمول اثاثے ہیں.. جو یقینناً ہمارے لئے مشعلِ راہ ثابت ہو سکتے ہیں اگر ہم ان نصیحتوں پر عمل بھی کریں..!!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚حکایات رومی.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 نوکری اور کام (حصہ أول) 🔷
نوجوان کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس نے اچھی پوزیشن کے ساتھ ایم بی اے کیا ہوا تھا وہ جہاں بھی نوکری کے لئے درخواست دیتا، صاف جواب مل جاتا لہٰذا وہ بری طرح داخلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ میں نے اس سے کہا؛ میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں..
کیپ ٹاﺅن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘ اس یونیورسٹی نے تین سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو ”ماسٹر آف میڈیسن“ کی اعزازی ڈگری دی جس نے زندگی میں کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا اور نہ ہی لکھ سکتا تھا لیکن 2003ء کی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا، ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے، جو ایک غیر معمولی استاد اور ایک حیران کن سرجن ہے اور جس نے میڈیکل سائنس اور انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ہیملٹن کا نام لیا اور پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا۔ یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا.
نوجوان چپ چاپ سنتا رہا۔ میں نے عرض کیا ”ہیملٹن کیپ ٹاﺅن کے ایک دور دراز گاﺅں سنیٹانی میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین چرواہے تھے، بچپن میں اس کاوالد بیمار ہوگیا لہٰذا وہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر کیپ ٹاﺅن آگیا۔ ان دنوں کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی میں تعمیرات جاری تھیں۔ وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔ وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔ اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، و ہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا.
پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا اور وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاں آج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔ یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی..
نوجوان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ میں نے عرض کیا؛ پروفیسر رابرٹ جوئز زرافے پرتحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا، انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا، اسے بےہوش کیا لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا زرافے نے گردن ہلا دی چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑ کر رکھے۔ پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ہیملٹن گھاس کاٹ رہا تھا، پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انہوں نے اسے بلایا اور زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ہیملٹن نے گردن پکڑ لی، یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا. آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔ دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہرا کام کرتا رہا اور اس نے اس ڈیوٹی کا کسی قسم کااضافی معاوضہ طلب کیا اور نہ ہی شکایت کی۔ پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا اور اس نے اسے مالی سے ”لیب اسسٹنٹ“ بنا دیا۔
ہیملٹن کی پروموشن ہوگئی۔ وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔
1958ءمیں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ڈاکٹر برنارڈ یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کردیئے۔ ہیملٹن ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ ڈاکٹر برنارڈ کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔ اب ڈاکٹر آپریشن کرتے اور آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے، وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔ وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا چنانچہ بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔ وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا لیکن وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہتر سرجن تھا..
1970ء میں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔ اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کردیا.. میں خاموش ہو گیا۔
نوجوان سنتا رہا، میں نے عرض کیا؛....
(جاری یے بقیہ حصہ دوم میں...)
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
نوجوان کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس نے اچھی پوزیشن کے ساتھ ایم بی اے کیا ہوا تھا وہ جہاں بھی نوکری کے لئے درخواست دیتا، صاف جواب مل جاتا لہٰذا وہ بری طرح داخلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ میں نے اس سے کہا؛ میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں..
کیپ ٹاﺅن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘ اس یونیورسٹی نے تین سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو ”ماسٹر آف میڈیسن“ کی اعزازی ڈگری دی جس نے زندگی میں کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا اور نہ ہی لکھ سکتا تھا لیکن 2003ء کی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا، ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے، جو ایک غیر معمولی استاد اور ایک حیران کن سرجن ہے اور جس نے میڈیکل سائنس اور انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ہیملٹن کا نام لیا اور پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا۔ یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا.
نوجوان چپ چاپ سنتا رہا۔ میں نے عرض کیا ”ہیملٹن کیپ ٹاﺅن کے ایک دور دراز گاﺅں سنیٹانی میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین چرواہے تھے، بچپن میں اس کاوالد بیمار ہوگیا لہٰذا وہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر کیپ ٹاﺅن آگیا۔ ان دنوں کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی میں تعمیرات جاری تھیں۔ وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔ وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔ اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، و ہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا.
پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا اور وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاں آج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔ یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی..
نوجوان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ میں نے عرض کیا؛ پروفیسر رابرٹ جوئز زرافے پرتحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا، انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا، اسے بےہوش کیا لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا زرافے نے گردن ہلا دی چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑ کر رکھے۔ پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ہیملٹن گھاس کاٹ رہا تھا، پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انہوں نے اسے بلایا اور زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ہیملٹن نے گردن پکڑ لی، یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا. آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔ دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہرا کام کرتا رہا اور اس نے اس ڈیوٹی کا کسی قسم کااضافی معاوضہ طلب کیا اور نہ ہی شکایت کی۔ پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا اور اس نے اسے مالی سے ”لیب اسسٹنٹ“ بنا دیا۔
ہیملٹن کی پروموشن ہوگئی۔ وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔
1958ءمیں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ڈاکٹر برنارڈ یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کردیئے۔ ہیملٹن ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ ڈاکٹر برنارڈ کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔ اب ڈاکٹر آپریشن کرتے اور آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے، وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔ وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا چنانچہ بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔ وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا لیکن وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہتر سرجن تھا..
1970ء میں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔ اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کردیا.. میں خاموش ہو گیا۔
نوجوان سنتا رہا، میں نے عرض کیا؛....
(جاری یے بقیہ حصہ دوم میں...)
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 نوکری اور کام (حصہ دوم آخری) 🔷
نوجوان سنتا رہا، میں نے عرض کیا؛ ”ہیملٹن نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔ وہ 50 برس کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا، 14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔ لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاں ٹھیک کرتے تھے، ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت اور سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا..
لہٰذا پھر اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں اور اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔ وہ میڈیکل ہسٹری کا پہلا ان پڑھ استاد تھا۔ وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی..
وہ 2005ء میں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میں دفن کیا گیا اور اس کے بعد یونیورسٹی سے پاس آﺅٹ ہونے والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا کہ وہ ڈگری لینے کے بعد اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں اور اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں..
میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا؛ تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا؟ نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا؛
"صرف ایک ہاں سے" جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیا تھا اگر وہ اس دن انکار کردیتا تو وہ مرتے دم تک مالی رہتا یہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا.
نوجوان خاموش رہا، میں نے اس سے عرض کیا؛
"ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں جبکہ ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے"
نوجوان نے غور سے میری طرف دیکھا، میں نے عرض کیا؛ دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائیٹیریا ہوتا ہے اور یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس کرائیٹیریا پر پورا اترتا ہے جبکہ کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔ ہیملٹن اس راز کو پاگیا تھا لہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی. یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔ ذرا سوچو اگر وہ سرجن کی جاب کیلئے اپلائی کرتا تو کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں، لیکن اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی اور سرجنوں کا سرجن بن گیا. میں رکا اور ہنس کر بولا؛ "تم اس لیے بے روزگار اور ناکام ہو کہ تم جاب تلاش کر رہے ہو، کام نہیں، جس دن تم نے ہیملٹن کی طرح کام شروع کردیا تم نوبل پرائز حاصل کرلوگے، تم بڑے اور کامیاب انسان بن جاﺅ گے۔۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
نوجوان سنتا رہا، میں نے عرض کیا؛ ”ہیملٹن نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔ وہ 50 برس کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا، 14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔ لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاں ٹھیک کرتے تھے، ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت اور سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا..
لہٰذا پھر اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں اور اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔ وہ میڈیکل ہسٹری کا پہلا ان پڑھ استاد تھا۔ وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی..
وہ 2005ء میں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میں دفن کیا گیا اور اس کے بعد یونیورسٹی سے پاس آﺅٹ ہونے والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا کہ وہ ڈگری لینے کے بعد اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں اور اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں..
میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا؛ تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا؟ نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا؛
"صرف ایک ہاں سے" جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیا تھا اگر وہ اس دن انکار کردیتا تو وہ مرتے دم تک مالی رہتا یہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا.
نوجوان خاموش رہا، میں نے اس سے عرض کیا؛
"ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں جبکہ ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے"
نوجوان نے غور سے میری طرف دیکھا، میں نے عرض کیا؛ دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائیٹیریا ہوتا ہے اور یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس کرائیٹیریا پر پورا اترتا ہے جبکہ کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔ ہیملٹن اس راز کو پاگیا تھا لہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی. یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔ ذرا سوچو اگر وہ سرجن کی جاب کیلئے اپلائی کرتا تو کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں، لیکن اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی اور سرجنوں کا سرجن بن گیا. میں رکا اور ہنس کر بولا؛ "تم اس لیے بے روزگار اور ناکام ہو کہ تم جاب تلاش کر رہے ہو، کام نہیں، جس دن تم نے ہیملٹن کی طرح کام شروع کردیا تم نوبل پرائز حاصل کرلوگے، تم بڑے اور کامیاب انسان بن جاﺅ گے۔۔۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 قومِ عاد 🔷
قوم عاد ایک ایسی قوم تھی جو بڑے طاقتور تھے 40 ہاتھ جتنا قد،
800 سے 900 سال کی عمر،
نہ بوڑھے ھوتے،
نہ بیمار ھوتے،
نہ دانت ٹوٹتے،
نہ نظر کمزور ھوتی،
جوان تندرست و توانا رہتے،
بس انھیں صرف موت آتی تھی،
اور کچھ نہیں ھوتا تھا.
صرف موت آتی تھی..
ان کی طرف اللہ تعالی نے حضرت ھود علیہ السلام کو بھیجا. انھوں نے ایک اللہ کی دعوت دی، اللہ کی پکڑ سے ڈرایا.
مگر وہ بولے:
اے ھود! ہمارے خداؤں نے تیری عقل خراب کر دی ھے.
جا جا اپنے نفل پڑھ.
ہمیں نہ ڈرا.
ہمیں نہ ٹوک.
تیرے کہنے پر کیا ہم اپنے باپ دادا کا چال چلن چھوڑ دیں گے؟
عقل خراب ھوگئی تیری،
جا جا اپنا کام کر،
آیا بڑا نیک چلن کا حاجی نمازی.
تیرے کہنے پر چلیں تو ہم تو بھوکے مر جائیں.
انھوں نے شرک، ظلم اور گناھوں کے طوفان سے اللہ کو للکارا.....
تکبر اور غرور میں بد مست بولے:
"فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ ﴿١٥﴾"
اب قوم عاد نے تو بےوجہ زمین میں سرکشی شروع کردی اور کہنے لگے ہم سے زور آور کون ہے؟ (۱) کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے اسے پیدا کیا وہ ان سے (بہت ہی) زیادہ زور آور ہے، (۲) وہ (آخر تک) ہماری آیتوں کا (۳) انکار ہی کرتے رہے۔
کوئی ھے ہم سے زیادہ طاقتور تو لاؤ ناں؟
ہمیں کس سے ڈراتے ھو؟
اللہ نے قحط بھیجا،
بھوک لگی،
سارا غلہ کھا گئے،
مال مویشی کھا گئے،
حرام پر آ گئے،
چوھے بلی کتے کھا گئے،
سانپ کھا گئے،
درخت گرا کر اسکے پتے کھا گئے،
بھوک نہ مٹی.
نہ بارش ھوئی نہ قطرہ گرا نہ غلہ اُگا.
پھر تنگ آکر اپنا ایک وفد بیت اللہ بھیجا.....
ان کا دستور تھا جب مصیبت آتی تو اوپر والے کو پکار اٹھتے.
جب دور ھوجاتی تو اپنے بتوں کو پوجنے لگتے.
بیت اللہ وفد گیا اور کہا کہ ہمارے لئے اللہ سے دُعا کرو کہ بارش برسائے.....
اللہ نے تین بادل پیش کئے..
کالا
سفید
سرخ
اللہ نے فرمایا ان میں سے ایک کا انتخاب کرو
انھوں نے آپس میں مشورہ کیا..
کہ سرخ میں تو ھوا ھوتی ھے،
سفید خالی ھوتا ھے،
کالے میں پانی ھوتا ھے،
کالا مانگو
اللہ تعالی نے کہا واپس پہنچو بادل بھیجتا ھوں
وہ خوشی خوشی واپس آئے
سب لوگ ایک میدان میں جمع ھوئے
بادل آیا
وہ ناچنے لگے کہ اب بارش ھوگی
قحط مٹے گا
کھانے کو ملے گا
کیا پتا تھا
کہ وہ بارش نہیں اللہ کا عذاب ھے
جو تم ھود سے کہتے تھے کہ
لے آ..! جس سے ہم کو ڈراتا ھے
اس بادل میں ایسی تند و تیز ھوا تھی کہ..
جس نے ان کو اُٹھا مارا ان کے گھر اُڑا دئیے،
60 ہاتھ کے قد اور لوگ تنکوں کی طرح اڑ رہے تھے،
ھوا ان کے سروں کو ٹکراتی تھی، اتنی زور سے ٹکراتی کہ ان کے بھیجے نکل نکل کر منہ پر لٹک گئے،
بعض لوگ بھاگ کر غار میں گھس گئے کہ یہاں تو ھوا نہیں آ سکتی..
مگر میرے رب کا حکم ھو کر رہتا ھے.
ھوا غار میں بگولے کی طرح داخل ھوتی اور انکو باہر اٹھا کر پھینک دیتی.
اللہ نے فرمایا:
فھل تری من باقیہ
کیا کوئی باقی بچا ھے؟
اللہ تعالی نے ان کو ہلاک کر کے دکھایا کہ جب تم اللہ کی اس کے رسول کی نافرمانی کروگے،
اللہ تم پر ایسی جگہ سے عذاب بھیجے گا جہاں سے گمان بھی نہ ھو گا.
■ جو گناہ قوم عاد نے کیا..
کیا وہ ہم نہیں کر رہے؟
کیا ہم اللہ کی حدوں کو پار نہیں کر گئے؟
کیا ہم نے اللہ کو اپنی نافرمانی سے نہیں للکارا ھوا ھے؟
توبہ کرو..
اللہ سے ڈرو..
قرآن پڑھو..
جن گناھوں کو ہم معمولی سمجھتے ہیں، اللہ نے ان گناھوں پر پوری پوری قومیں زمین بوس کر دی ہیں.
استغفراللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
قوم عاد ایک ایسی قوم تھی جو بڑے طاقتور تھے 40 ہاتھ جتنا قد،
800 سے 900 سال کی عمر،
نہ بوڑھے ھوتے،
نہ بیمار ھوتے،
نہ دانت ٹوٹتے،
نہ نظر کمزور ھوتی،
جوان تندرست و توانا رہتے،
بس انھیں صرف موت آتی تھی،
اور کچھ نہیں ھوتا تھا.
صرف موت آتی تھی..
ان کی طرف اللہ تعالی نے حضرت ھود علیہ السلام کو بھیجا. انھوں نے ایک اللہ کی دعوت دی، اللہ کی پکڑ سے ڈرایا.
مگر وہ بولے:
اے ھود! ہمارے خداؤں نے تیری عقل خراب کر دی ھے.
جا جا اپنے نفل پڑھ.
ہمیں نہ ڈرا.
ہمیں نہ ٹوک.
تیرے کہنے پر کیا ہم اپنے باپ دادا کا چال چلن چھوڑ دیں گے؟
عقل خراب ھوگئی تیری،
جا جا اپنا کام کر،
آیا بڑا نیک چلن کا حاجی نمازی.
تیرے کہنے پر چلیں تو ہم تو بھوکے مر جائیں.
انھوں نے شرک، ظلم اور گناھوں کے طوفان سے اللہ کو للکارا.....
تکبر اور غرور میں بد مست بولے:
"فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ ﴿١٥﴾"
اب قوم عاد نے تو بےوجہ زمین میں سرکشی شروع کردی اور کہنے لگے ہم سے زور آور کون ہے؟ (۱) کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے اسے پیدا کیا وہ ان سے (بہت ہی) زیادہ زور آور ہے، (۲) وہ (آخر تک) ہماری آیتوں کا (۳) انکار ہی کرتے رہے۔
کوئی ھے ہم سے زیادہ طاقتور تو لاؤ ناں؟
ہمیں کس سے ڈراتے ھو؟
اللہ نے قحط بھیجا،
بھوک لگی،
سارا غلہ کھا گئے،
مال مویشی کھا گئے،
حرام پر آ گئے،
چوھے بلی کتے کھا گئے،
سانپ کھا گئے،
درخت گرا کر اسکے پتے کھا گئے،
بھوک نہ مٹی.
نہ بارش ھوئی نہ قطرہ گرا نہ غلہ اُگا.
پھر تنگ آکر اپنا ایک وفد بیت اللہ بھیجا.....
ان کا دستور تھا جب مصیبت آتی تو اوپر والے کو پکار اٹھتے.
جب دور ھوجاتی تو اپنے بتوں کو پوجنے لگتے.
بیت اللہ وفد گیا اور کہا کہ ہمارے لئے اللہ سے دُعا کرو کہ بارش برسائے.....
اللہ نے تین بادل پیش کئے..
کالا
سفید
سرخ
اللہ نے فرمایا ان میں سے ایک کا انتخاب کرو
انھوں نے آپس میں مشورہ کیا..
کہ سرخ میں تو ھوا ھوتی ھے،
سفید خالی ھوتا ھے،
کالے میں پانی ھوتا ھے،
کالا مانگو
اللہ تعالی نے کہا واپس پہنچو بادل بھیجتا ھوں
وہ خوشی خوشی واپس آئے
سب لوگ ایک میدان میں جمع ھوئے
بادل آیا
وہ ناچنے لگے کہ اب بارش ھوگی
قحط مٹے گا
کھانے کو ملے گا
کیا پتا تھا
کہ وہ بارش نہیں اللہ کا عذاب ھے
جو تم ھود سے کہتے تھے کہ
لے آ..! جس سے ہم کو ڈراتا ھے
اس بادل میں ایسی تند و تیز ھوا تھی کہ..
جس نے ان کو اُٹھا مارا ان کے گھر اُڑا دئیے،
60 ہاتھ کے قد اور لوگ تنکوں کی طرح اڑ رہے تھے،
ھوا ان کے سروں کو ٹکراتی تھی، اتنی زور سے ٹکراتی کہ ان کے بھیجے نکل نکل کر منہ پر لٹک گئے،
بعض لوگ بھاگ کر غار میں گھس گئے کہ یہاں تو ھوا نہیں آ سکتی..
مگر میرے رب کا حکم ھو کر رہتا ھے.
ھوا غار میں بگولے کی طرح داخل ھوتی اور انکو باہر اٹھا کر پھینک دیتی.
اللہ نے فرمایا:
فھل تری من باقیہ
کیا کوئی باقی بچا ھے؟
اللہ تعالی نے ان کو ہلاک کر کے دکھایا کہ جب تم اللہ کی اس کے رسول کی نافرمانی کروگے،
اللہ تم پر ایسی جگہ سے عذاب بھیجے گا جہاں سے گمان بھی نہ ھو گا.
■ جو گناہ قوم عاد نے کیا..
کیا وہ ہم نہیں کر رہے؟
کیا ہم اللہ کی حدوں کو پار نہیں کر گئے؟
کیا ہم نے اللہ کو اپنی نافرمانی سے نہیں للکارا ھوا ھے؟
توبہ کرو..
اللہ سے ڈرو..
قرآن پڑھو..
جن گناھوں کو ہم معمولی سمجھتے ہیں، اللہ نے ان گناھوں پر پوری پوری قومیں زمین بوس کر دی ہیں.
استغفراللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 شعور و بصیرت 🌹
قرآنی آیات اور روایات، زندگی میں بصیرت کی اہمیت کو بخوبی بیان کرتی ہیں۔ انہی عظیم آیتوں میں سے ایک یہ آیت ہے..
"وَلَقَدْ ذَرَأْنا لِجَهَنَّمَ كَثيراً مِنَ الْجِنِّ وَ الْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بِها وَ لَهُمْ أَعْيُنٌ لا يُبْصِرُونَ بِها وَ لَهُمْ آذانٌ لا يَسْمَعُونَ بِها أُولئِكَ كَالْأَنْعامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولئِكَ هُمُ الْغافِلُونَ." [اعراف/۱۷۹]
ترجمہ:
اور یقینا ہم نے انسان و جنات کی ایک کثیر تعداد کو گویا جہّنم کے لئے پیدا کیا ہے کہ ان کے پاس دل ہیں مگر سمجھتے نہیں ہیں اور آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں ہیں اور کان ہیں مگر سنتے نہیں ہیں، یہ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں اور یہی لوگ اصل میں غافل ہیں.
■اس آیت پر توجہ دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ خداوندعالم بہت سے انسانوں کے مبتلا ہونے کی وجہ کو عدم فہم و آگاہی بیان کر رہا ہے، عدم فہم و شعور، بصیرت کی فقدان کی واضح دلیل ہے.
اس سلسلہ میں روایات بھی بہت ہیں لیکن اختصار کے پیش نظر سب سے صرف نظر کرتے ہوئے مولائے کائنات (علیہ السلام) کی روایت کی جانب توجہ دیتے ہیں..
🌹امیرالمؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
"وَمَا كُلُّ ذِي قَلْبٍ بِلَبِيبٍ وَ لَا كُلُّ ذِي سَمْعٍ بِسَمِيعٍ وَ لَا كُلُّ ذِي نَاظِرِ عَيْنٍ بِبَصِير."
ترجمہ:
ہر وہ شخص جو قلب رکھتا ہے، خرد نہیں رکھتا اور ہر وہ شخص جو کان رکھتا ہے، سماعت کی قدرت نہیں رکھتا اور ہر آنکھ رکھنے والا، بینا نہیں ہوتا[۱]۔
●اس کا مطلب یہ ہوا کہ محض علم و آگاہی انسان کو بصیر نہیں بناتی بلکہ وہ علم و آگاہی جو انسان کے شعور کو بیدار کرکے حق کو باطل سے الگ کرنے کرنے اور سمجھنے کی صلاحیت عطا کرے، وہ شعور و ذکاوت، بصیرت کہلاتی ہے اور ایسی شناخت کی صلاحیت کے حامل انسان کو بصیر کہا جائے گا۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 [۱]الكافي، كلينى، محمد بن يعقوب بن اسحاق، ناشر: دار الكتب الإسلامية، چاپ: چهارم، ۱۴۰۷ ق،، ج۸، ص۶۴۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
قرآنی آیات اور روایات، زندگی میں بصیرت کی اہمیت کو بخوبی بیان کرتی ہیں۔ انہی عظیم آیتوں میں سے ایک یہ آیت ہے..
"وَلَقَدْ ذَرَأْنا لِجَهَنَّمَ كَثيراً مِنَ الْجِنِّ وَ الْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بِها وَ لَهُمْ أَعْيُنٌ لا يُبْصِرُونَ بِها وَ لَهُمْ آذانٌ لا يَسْمَعُونَ بِها أُولئِكَ كَالْأَنْعامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولئِكَ هُمُ الْغافِلُونَ." [اعراف/۱۷۹]
ترجمہ:
اور یقینا ہم نے انسان و جنات کی ایک کثیر تعداد کو گویا جہّنم کے لئے پیدا کیا ہے کہ ان کے پاس دل ہیں مگر سمجھتے نہیں ہیں اور آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں ہیں اور کان ہیں مگر سنتے نہیں ہیں، یہ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں اور یہی لوگ اصل میں غافل ہیں.
■اس آیت پر توجہ دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ خداوندعالم بہت سے انسانوں کے مبتلا ہونے کی وجہ کو عدم فہم و آگاہی بیان کر رہا ہے، عدم فہم و شعور، بصیرت کی فقدان کی واضح دلیل ہے.
اس سلسلہ میں روایات بھی بہت ہیں لیکن اختصار کے پیش نظر سب سے صرف نظر کرتے ہوئے مولائے کائنات (علیہ السلام) کی روایت کی جانب توجہ دیتے ہیں..
🌹امیرالمؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
"وَمَا كُلُّ ذِي قَلْبٍ بِلَبِيبٍ وَ لَا كُلُّ ذِي سَمْعٍ بِسَمِيعٍ وَ لَا كُلُّ ذِي نَاظِرِ عَيْنٍ بِبَصِير."
ترجمہ:
ہر وہ شخص جو قلب رکھتا ہے، خرد نہیں رکھتا اور ہر وہ شخص جو کان رکھتا ہے، سماعت کی قدرت نہیں رکھتا اور ہر آنکھ رکھنے والا، بینا نہیں ہوتا[۱]۔
●اس کا مطلب یہ ہوا کہ محض علم و آگاہی انسان کو بصیر نہیں بناتی بلکہ وہ علم و آگاہی جو انسان کے شعور کو بیدار کرکے حق کو باطل سے الگ کرنے کرنے اور سمجھنے کی صلاحیت عطا کرے، وہ شعور و ذکاوت، بصیرت کہلاتی ہے اور ایسی شناخت کی صلاحیت کے حامل انسان کو بصیر کہا جائے گا۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 [۱]الكافي، كلينى، محمد بن يعقوب بن اسحاق، ناشر: دار الكتب الإسلامية، چاپ: چهارم، ۱۴۰۷ ق،، ج۸، ص۶۴۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 لواطت اور عذابِ الٰہی 🔷
سَدُوم ملکِ شام میں صوبہ حِمْصْ کا ایک مشہور شہر ہے. اسکی بستیاں بہت آباد اور نہایت سرسبز و شاداب تھیں اور وہاں طرح طرح کے اناج اور قِسم قِسم کے پھل اور میوے بکثرت پیدا ہوتے تھے.
شہر کی خوشحالی کی وجہ سے اکثر جابجا کے لوگ مہمان بن کر ان آبادیوں میں آیا کرتے تھے اور شہر کے لوگوں کو ان مہمانوں کی مہمان نوازی کا بار اٹھانا پڑتا تھا۔ اسلئے اس شہر کے لوگ مہمانوں کی آمد سے بہت ہی کبیدہ خاطر اور تنگ ہوچکے تھے۔ اس ماحول میں ابلیس لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا۔ اور ان لوگوں سے کہا کہ اگر تم لوگ مہمانوں کی آمد سے نجات چاہتے ہو تو اس کی یہ تدبیر ہے کہ جب بھی کوئی مہمان تمہاری بستی میں آئے تو تم لوگ زبردستی اس کے ساتھ بدفعلی کرو۔ چنانچہ سب سے پہلے ابلیس خود ایک خوبصورت لڑکے کی شکل میں مہمان بن کر اس بستی میں داخل ہوا۔ اور ان لوگوں سے خوب بدفعلی کرائی اس طرح یہ فعلِ بد ان لوگوں نے شیطان سے سیکھا۔ پھر رفتہ رفتہ اس برے کام کے یہ لوگ اس قدر عادی بن گئے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرنے لگے.
(روح البیان، ج3، ص197، پ8، الاعراف:84)
چنانچہ حضرت لوطؑ نے ان لوگوں کو اس فعلِ بد سے منع کرتے ہوئے فرمایا:
"اپنی قوم سے کہا؛ کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے." (سورةالاعراف80،81)
حضرت لوطؑ کے اس اصلاحی وعظ کو سن کر ان کی قوم نے نہایت بے باکی اور انتہائی بے حیائی کے ساتھ کہا؛
"اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں." (سورةالاعراف: 82)
🔶 جب قومِ لوط کی سرکشی اور بدفعلی قابلِ ہدایت نہ رہی تو اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ چنانچہ حضرت جبرائیلؑ چند فرشتوں کے ہمراہ مہمان بن کر حضرت لوطؑ کے پاس پہنچے اور یہ سب فرشتے بہت ہی حسین اور خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے۔ ان مہمانوں کے حسن و جمال کو دیکھ کر اور قوم کی بدکاری کا خیال کرکے حضرت لوطؑ بہت فکرمند ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد قوم کے بدفعلوں نے حضرت لوطؑ کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور ان مہمانوں کے ساتھ بدفعلی کے ارادہ سے دیوار پر چڑھنے لگے۔ حضرت لوطؑ نے نہایت دِلسوزی کے ساتھ ان لوگوں کو سمجھانا اور اس برے کام سے منع کرنا شروع کردیا۔ مگر یہ بدفعل اور سرکش قوم اپنے بےہودہ جواب اور برے اقدام سے باز نہ آئی۔ تو آپ اپنی تنہائی اور مہمانوں کے سامنے رسوائی سے تنگدِل ہوکر غمگین و رنجیدہ ہو گئے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت جبریلؑ نے فرمایا: اے اللہ عزوجل کے نبی! آپ بالکل کوئی فکر نہ کریں۔ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو ان پر عذاب لے کر اترے ہیں۔ لہٰذا آپ مؤمنين اور اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر صبح ہونے سے قبل ہی اس بستی سے دور نکل جائیں اور خبردار کوئی شخص پیچھے مڑ کر اس بستی کی طرف نہ دیکھے ورنہ وہ بھی اس عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔
چنانچہ حضرت لوطؑ اپنے گھر والوں اور مؤمنين کو ہمراہ لے کر بستی سے باہر نکل گئے۔
پھر حضرت جبریلؑ اس شہر کی پانچوں بستیوں کو اپنے پروں پر اٹھا کر آسمان کی طرف بلند ہوئے اور کچھ اوپر جا کر ان بستیوں کو الٹ دیا اور یہ آبادیاں زمین پر گر کر چکنا چور ہو کر زمین پر بکھر گئیں۔ پھر کنکر کے پتھروں کا مینہ برسا اور اس زور سے سنگباری ہوئی کہ قومِ لوط کے تمام لوگ مر گئے اور ان کی لاشیں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئیں۔
عین اس وقت جب کہ یہ شہر الٹ پلٹ ہو رہا تھا۔ حضرت لوطؑ کی ایک بیوی جس کا نام ''واعلہ'' تھا جو درحقیقت منافقہ تھی اور قوم کے بدکاروں سے محبت رکھتی تھی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھ لیا اور یہ کہا کہ ''ہائے رے میری قوم'' یہ کہہ کر کھڑی ہو گئی پھر عذابِ الٰہی کا ایک پتھر اس کے اوپر بھی گر پڑا اور وہ بھی ہلاک ہو گئی. چنانچہ قرآن مجید میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
"تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہوئی اور ہم نے اُن پر ایک مینہ برسایا تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا." (الاعراف:83،84)
● جو پتھر اس قوم پر برسائے گئے وہ کنکروں کے ٹکڑے تھے۔ اور ہر پتھر پر اُس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جو اس پتھر سے ہلاک ہوا.
(تفسیرالصاوی، ج2، ص691، پ8، الاعراف:84)
■ منقول ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے ایک مرتبہ ابلیس لعین سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑھ کر کون سا گناہ ناپسند ہے؟ تو ابلیس نے کہا کہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو یہ گناہ ناپسند ہے کہ مرد، مرد سے بدفعلی کرے اور عورت، عورت سے اپنی خواہش پوری کرے۔
حدیث میں ہے کہ عورت کا اپنی فرج کو دوسری عورت کی فرج سے رگڑنا یہ ان دونوں کی زنا کاری ہے جو گناہ کبیرہ ہے.
(روح البیان، ج3، ص198، پ8، الاعراف:84)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
سَدُوم ملکِ شام میں صوبہ حِمْصْ کا ایک مشہور شہر ہے. اسکی بستیاں بہت آباد اور نہایت سرسبز و شاداب تھیں اور وہاں طرح طرح کے اناج اور قِسم قِسم کے پھل اور میوے بکثرت پیدا ہوتے تھے.
شہر کی خوشحالی کی وجہ سے اکثر جابجا کے لوگ مہمان بن کر ان آبادیوں میں آیا کرتے تھے اور شہر کے لوگوں کو ان مہمانوں کی مہمان نوازی کا بار اٹھانا پڑتا تھا۔ اسلئے اس شہر کے لوگ مہمانوں کی آمد سے بہت ہی کبیدہ خاطر اور تنگ ہوچکے تھے۔ اس ماحول میں ابلیس لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا۔ اور ان لوگوں سے کہا کہ اگر تم لوگ مہمانوں کی آمد سے نجات چاہتے ہو تو اس کی یہ تدبیر ہے کہ جب بھی کوئی مہمان تمہاری بستی میں آئے تو تم لوگ زبردستی اس کے ساتھ بدفعلی کرو۔ چنانچہ سب سے پہلے ابلیس خود ایک خوبصورت لڑکے کی شکل میں مہمان بن کر اس بستی میں داخل ہوا۔ اور ان لوگوں سے خوب بدفعلی کرائی اس طرح یہ فعلِ بد ان لوگوں نے شیطان سے سیکھا۔ پھر رفتہ رفتہ اس برے کام کے یہ لوگ اس قدر عادی بن گئے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرنے لگے.
(روح البیان، ج3، ص197، پ8، الاعراف:84)
چنانچہ حضرت لوطؑ نے ان لوگوں کو اس فعلِ بد سے منع کرتے ہوئے فرمایا:
"اپنی قوم سے کہا؛ کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے." (سورةالاعراف80،81)
حضرت لوطؑ کے اس اصلاحی وعظ کو سن کر ان کی قوم نے نہایت بے باکی اور انتہائی بے حیائی کے ساتھ کہا؛
"اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں." (سورةالاعراف: 82)
🔶 جب قومِ لوط کی سرکشی اور بدفعلی قابلِ ہدایت نہ رہی تو اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ چنانچہ حضرت جبرائیلؑ چند فرشتوں کے ہمراہ مہمان بن کر حضرت لوطؑ کے پاس پہنچے اور یہ سب فرشتے بہت ہی حسین اور خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے۔ ان مہمانوں کے حسن و جمال کو دیکھ کر اور قوم کی بدکاری کا خیال کرکے حضرت لوطؑ بہت فکرمند ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد قوم کے بدفعلوں نے حضرت لوطؑ کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور ان مہمانوں کے ساتھ بدفعلی کے ارادہ سے دیوار پر چڑھنے لگے۔ حضرت لوطؑ نے نہایت دِلسوزی کے ساتھ ان لوگوں کو سمجھانا اور اس برے کام سے منع کرنا شروع کردیا۔ مگر یہ بدفعل اور سرکش قوم اپنے بےہودہ جواب اور برے اقدام سے باز نہ آئی۔ تو آپ اپنی تنہائی اور مہمانوں کے سامنے رسوائی سے تنگدِل ہوکر غمگین و رنجیدہ ہو گئے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت جبریلؑ نے فرمایا: اے اللہ عزوجل کے نبی! آپ بالکل کوئی فکر نہ کریں۔ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو ان پر عذاب لے کر اترے ہیں۔ لہٰذا آپ مؤمنين اور اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر صبح ہونے سے قبل ہی اس بستی سے دور نکل جائیں اور خبردار کوئی شخص پیچھے مڑ کر اس بستی کی طرف نہ دیکھے ورنہ وہ بھی اس عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔
چنانچہ حضرت لوطؑ اپنے گھر والوں اور مؤمنين کو ہمراہ لے کر بستی سے باہر نکل گئے۔
پھر حضرت جبریلؑ اس شہر کی پانچوں بستیوں کو اپنے پروں پر اٹھا کر آسمان کی طرف بلند ہوئے اور کچھ اوپر جا کر ان بستیوں کو الٹ دیا اور یہ آبادیاں زمین پر گر کر چکنا چور ہو کر زمین پر بکھر گئیں۔ پھر کنکر کے پتھروں کا مینہ برسا اور اس زور سے سنگباری ہوئی کہ قومِ لوط کے تمام لوگ مر گئے اور ان کی لاشیں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئیں۔
عین اس وقت جب کہ یہ شہر الٹ پلٹ ہو رہا تھا۔ حضرت لوطؑ کی ایک بیوی جس کا نام ''واعلہ'' تھا جو درحقیقت منافقہ تھی اور قوم کے بدکاروں سے محبت رکھتی تھی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھ لیا اور یہ کہا کہ ''ہائے رے میری قوم'' یہ کہہ کر کھڑی ہو گئی پھر عذابِ الٰہی کا ایک پتھر اس کے اوپر بھی گر پڑا اور وہ بھی ہلاک ہو گئی. چنانچہ قرآن مجید میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
"تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہوئی اور ہم نے اُن پر ایک مینہ برسایا تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا." (الاعراف:83،84)
● جو پتھر اس قوم پر برسائے گئے وہ کنکروں کے ٹکڑے تھے۔ اور ہر پتھر پر اُس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جو اس پتھر سے ہلاک ہوا.
(تفسیرالصاوی، ج2، ص691، پ8، الاعراف:84)
■ منقول ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے ایک مرتبہ ابلیس لعین سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑھ کر کون سا گناہ ناپسند ہے؟ تو ابلیس نے کہا کہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو یہ گناہ ناپسند ہے کہ مرد، مرد سے بدفعلی کرے اور عورت، عورت سے اپنی خواہش پوری کرے۔
حدیث میں ہے کہ عورت کا اپنی فرج کو دوسری عورت کی فرج سے رگڑنا یہ ان دونوں کی زنا کاری ہے جو گناہ کبیرہ ہے.
(روح البیان، ج3، ص198، پ8، الاعراف:84)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
😭 کل کے مخبر، آج کے رہبر 😭
قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک پروفیسر ڈاکٹر تراب الحسن صاحب نے ایک تھیسس لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ھے۔ جس کا عنوان ھے...
Punjab and the War of Indpendence 1857.
اس تھیسس میں انہوں نے جنگ آزادی کے حالات پر روشنی ڈالی ھے. جس کے مطابق اس جنگ میں جن خاندانوں نے جنگ آزادی کے مجاھدین کے خلاف انگریز کی مدد کی، مجاھدین کو گرفتار کروایا اور قتل کیا اور کروایا ان کو انگریز نے بڑی بڑی جاگیریں مال و دولت اور خطابات سے نوازا ان کے لئے انگریز سرکار نے وظائف جاری کئے.
اس تھیسس کے مطابق تمام خاندان وہ ھیں جو انگریز کے وفادار تھے اور اس وفاداری کے بدلے انگریز کی نوازشات سے فیضیاب ھوئے. یہ خاندان آج بھی جاگیردار ھیں اور آج بھی اپنے انگریز آقا کے جانے کے بعد ھر حکومت میں شامل ھوتے ھیں.
Griffin punjab chifs Lahore 1909.
سے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق سید یوسف رضا گیلانی کے بزرگ سید نور شاہ گیلانی کو انگریز سرکار نے ان کی خدمات کے عوض 300 روپے خلعت اور سند عطا کی تھی.
Proceeding of the Punjab Political department no 47, june 1858.
کے مطابق دربار حضرت بہاؤالدین زکریا کے سجادہ نشین اور تحریک انصاف کے رھنما شاہ محمود قریشی کے اجداد نے مجاھدین آزادی کے خلاف انگریز کا ساتھ دیا۔ انہیں ایک رسالہ کے لئے 20 آدمی اور گھوڑے فراھم کئے۔ اس کے علاوہ 25 آدمی لیکر خود بھی جنگ میں شامل ھوئے۔ انگریزوں کے سامان کی حفاظت پر مامور رھے۔ ان کی خدمات کے عوض انہیں تین ھزار روپے کا تحفہ دیا گیا۔ دربار کیلیئے 1750 روپے کی ایک قیمتی جاگیر اور ایک باغ دیا گیا جس کی اس وقت سالانہ آمدن 150 روپے تھی.
جو حوالہ وزیر اعظم گیلانی کا ھے وھی اپوزیشن لیڈر چوھدری نثار علی خان کے اجداد چوھدری شیر خان کا ھے۔ ان کی مخبری پر کئی مجاھدین کو گرفتار کر کے قتل کیا گیا۔ انعام کے طور پر چوہدری شیر خان کو ریونیو اکٹھا کرنے کا اختیار دیا گیا اور جب سب لوگوں سے اسلحہ واپس لیا گیا تو انہیں پندرہ بندوقیں رکھنے کی اجازت اور 500 روپے خلعت دی گئی.
Gujranwala Guzts 1935-36 Govt of Punjab.
کے مطابق حامد ناصر چٹھہ کے بزرگوں میں سے خدا بخش چٹھہ نے جنگ آزادی میں انگریزوں کا ساتھ دیا وہ اس وقت جنرل نکلسن کی فوج میں تھے.
قصور کے خیرالدین خان جو خورشید قصوری کے خاندان سے تھے نے انگریزوں کے لئے 100 آدمیوں کا دستہ تیار کیا اور خود بھتیجوں کے ساتھ جنگ میں شامل ھوا۔ انگریزوں نے اسے 2500 روپے سالانہ کی جاگیر اور ھزار روپے سالانہ پنشن دی.
👆 ایک مراسلہ 👆
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک پروفیسر ڈاکٹر تراب الحسن صاحب نے ایک تھیسس لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ھے۔ جس کا عنوان ھے...
Punjab and the War of Indpendence 1857.
اس تھیسس میں انہوں نے جنگ آزادی کے حالات پر روشنی ڈالی ھے. جس کے مطابق اس جنگ میں جن خاندانوں نے جنگ آزادی کے مجاھدین کے خلاف انگریز کی مدد کی، مجاھدین کو گرفتار کروایا اور قتل کیا اور کروایا ان کو انگریز نے بڑی بڑی جاگیریں مال و دولت اور خطابات سے نوازا ان کے لئے انگریز سرکار نے وظائف جاری کئے.
اس تھیسس کے مطابق تمام خاندان وہ ھیں جو انگریز کے وفادار تھے اور اس وفاداری کے بدلے انگریز کی نوازشات سے فیضیاب ھوئے. یہ خاندان آج بھی جاگیردار ھیں اور آج بھی اپنے انگریز آقا کے جانے کے بعد ھر حکومت میں شامل ھوتے ھیں.
Griffin punjab chifs Lahore 1909.
سے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق سید یوسف رضا گیلانی کے بزرگ سید نور شاہ گیلانی کو انگریز سرکار نے ان کی خدمات کے عوض 300 روپے خلعت اور سند عطا کی تھی.
Proceeding of the Punjab Political department no 47, june 1858.
کے مطابق دربار حضرت بہاؤالدین زکریا کے سجادہ نشین اور تحریک انصاف کے رھنما شاہ محمود قریشی کے اجداد نے مجاھدین آزادی کے خلاف انگریز کا ساتھ دیا۔ انہیں ایک رسالہ کے لئے 20 آدمی اور گھوڑے فراھم کئے۔ اس کے علاوہ 25 آدمی لیکر خود بھی جنگ میں شامل ھوئے۔ انگریزوں کے سامان کی حفاظت پر مامور رھے۔ ان کی خدمات کے عوض انہیں تین ھزار روپے کا تحفہ دیا گیا۔ دربار کیلیئے 1750 روپے کی ایک قیمتی جاگیر اور ایک باغ دیا گیا جس کی اس وقت سالانہ آمدن 150 روپے تھی.
جو حوالہ وزیر اعظم گیلانی کا ھے وھی اپوزیشن لیڈر چوھدری نثار علی خان کے اجداد چوھدری شیر خان کا ھے۔ ان کی مخبری پر کئی مجاھدین کو گرفتار کر کے قتل کیا گیا۔ انعام کے طور پر چوہدری شیر خان کو ریونیو اکٹھا کرنے کا اختیار دیا گیا اور جب سب لوگوں سے اسلحہ واپس لیا گیا تو انہیں پندرہ بندوقیں رکھنے کی اجازت اور 500 روپے خلعت دی گئی.
Gujranwala Guzts 1935-36 Govt of Punjab.
کے مطابق حامد ناصر چٹھہ کے بزرگوں میں سے خدا بخش چٹھہ نے جنگ آزادی میں انگریزوں کا ساتھ دیا وہ اس وقت جنرل نکلسن کی فوج میں تھے.
قصور کے خیرالدین خان جو خورشید قصوری کے خاندان سے تھے نے انگریزوں کے لئے 100 آدمیوں کا دستہ تیار کیا اور خود بھتیجوں کے ساتھ جنگ میں شامل ھوا۔ انگریزوں نے اسے 2500 روپے سالانہ کی جاگیر اور ھزار روپے سالانہ پنشن دی.
👆 ایک مراسلہ 👆
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 کسی کا بُرا مت کرو 🔷
ایک بادشاہ بہت ظالم اور جابر تھا۔ اسکی ہیبت کے قصے سارے ملک میں مشہور تھے، لوگ اس سے نفرت کرتے تھے اور اس کا نام آتے ہی لوگ کانپتے تھے.
ایک دن جانے کیا ہوا بادشاہ نے سارے شہر کو مدعو کیا کہ ایک اہم اعلان کرنا ہے۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو بادشاہ نے اعلان کیا کہ میں ساری رعایا کی موجودگی میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد کبھی کسی کے ساتھ ناانصافی اور سختی نہیں کروں گا اور میرا وطیرہ صرف شفقت اور نرمی ہو گا اور تاریخ میں میرا نام سب سے نرم دل بادشاہوں میں شمار کیا جائے گا...
سب لوگ بہت حیران ہوئے کہ شاید بادشاہ سٹھیا گیا ہے، اس کو کیا ہو چلا ہے۔ خیر سب نے سوچا کہ بس ایسے ہی بول رہا ہے۔ وقت بتائے گا کہ یہ بدلا ہے کہ نہیں.
لیکن بادشاہ واقعی بالکل بدل گیا تھا اور ساری عوام اس سے نہایت خوش اور مطمئن تھی. کئی مہینے اسی طرح گزر گئے.
وزیر سے مزید صبر نہ ہوسکا تو ایک دن ہمت کرکے بادشاہ سے پوچھا؛ کہ بادشاہ سلامت آخر کس وجہ سے آپ کا دل بدل گیا؟
بادشاہ بولا:
بدلنے سے کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ میں جنگل میں جا رہا تھا کہ میری نظر ایک لومڑی پر پڑی، وہ بیچاری بھاگ رہی تھی اس کے پیچھے ایک بڑا سا کتا لگا ہوا تھا۔ لومڑی کو اپنا بل نظر آگیا اور وہ اس میں چھلانگ لگا رہی تھی کہ کتے نے اس کی ٹانگ پکڑ لی اور کاٹ لیا۔ لومڑی نے پوری جان لگائی اور اپنی معزور ٹانگ گھسیٹ کر بل میں گھس گئی۔ اس کتے نے بیچاری لومڑی کو معزور کردیا تھا..
کچھ دیر بعد میں گاؤں میں پہنچا تو دیکھا کہ وہی خونخوار کتا ایک آدمی پر بھونکے جا رہا تھا۔ اس آدمی کو غصہ آگیا اور اس نے ایک بھاری پتھر کُتے کو دے مارا. کتا خود بھی اسی طرح ٹانگ سے معزور ہو گیا..
میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اوپر والے کی لاٹھی بے آواز ہے کہ اسی آدمی کو ایک گھوڑے نے دولتی ماری اور اس کی بھی ایک ٹانگ فارغ ہو گئی..
گھوڑا بھاگ رہا تھا اور آگے جا کر ایک گڑھے میں گر گیا..
اتنا دیکھ کر ہی میری حالت غیر ہو گئی اور میں نے سوچا کہ میں اتنا ظالم ہوں، ہر ایک پر ظلم کرتا ہوں۔ کسی کی پرواہ نہیں کرتا تو میرا خالق میرے ساتھ بھی وہی کرے گا جو میں اس کی مخلوق کے ساتھ کرتا ہوں تو ایک ہی ترکیب سجھائی دی کہ کیوں نہ میں اپنی رعایا کے ساتھ اچھا ہو جاؤں تاکہ میرے ساتھ بھی اچھا ہو۔ بس اتنی سی بات تھی.
وزیر ایک عیار اور مکار آدمی تھا۔ بادشاہ کی کہانی سن کر بھی اس کا دل نہ پسیجا. بے حس آدمی ادھر سے اٹھا اور دل میں سوچا کہ بادشاہ فارغ ہو گیا ہے، یہی وقت ہے کہ میں اس کا تخت ہتھیا لوں۔ ایسی غلیظ سوچ ابھی اس کے دماغ کی دہلیز پر ہی تھی کہ وزیر دھڑام سے سیڑھیوں سے گرا اور اس کی گردن دو ٹکڑے ہو گئی.
■ یاد رکھو!
جیسی کرنی ویسی بھرنی. کسی کے ساتھ بُرا کرکے یہ مت سمجھو کہ کسی نے نہیں دیکھا میں بچ گیا، جو دیکھ رہا ہے، وہ جب پکڑ کرتا ہے تو بڑے سے بڑا سُلطان گھٹنے ٹیک دیتا ہے.
● اچھا کرو اور صِلے کی امید لوگوں سے مت رکھو اور برا کرو تو یاد رکھو کہ اگر پکڑ ہوگئی اور رسّی کھینچ لی گئی تو کہیں پناہ نہیں ملے گی.
🔘 بہترین حکمت عملی: برا مت کرو۔۔!!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک بادشاہ بہت ظالم اور جابر تھا۔ اسکی ہیبت کے قصے سارے ملک میں مشہور تھے، لوگ اس سے نفرت کرتے تھے اور اس کا نام آتے ہی لوگ کانپتے تھے.
ایک دن جانے کیا ہوا بادشاہ نے سارے شہر کو مدعو کیا کہ ایک اہم اعلان کرنا ہے۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو بادشاہ نے اعلان کیا کہ میں ساری رعایا کی موجودگی میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد کبھی کسی کے ساتھ ناانصافی اور سختی نہیں کروں گا اور میرا وطیرہ صرف شفقت اور نرمی ہو گا اور تاریخ میں میرا نام سب سے نرم دل بادشاہوں میں شمار کیا جائے گا...
سب لوگ بہت حیران ہوئے کہ شاید بادشاہ سٹھیا گیا ہے، اس کو کیا ہو چلا ہے۔ خیر سب نے سوچا کہ بس ایسے ہی بول رہا ہے۔ وقت بتائے گا کہ یہ بدلا ہے کہ نہیں.
لیکن بادشاہ واقعی بالکل بدل گیا تھا اور ساری عوام اس سے نہایت خوش اور مطمئن تھی. کئی مہینے اسی طرح گزر گئے.
وزیر سے مزید صبر نہ ہوسکا تو ایک دن ہمت کرکے بادشاہ سے پوچھا؛ کہ بادشاہ سلامت آخر کس وجہ سے آپ کا دل بدل گیا؟
بادشاہ بولا:
بدلنے سے کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ میں جنگل میں جا رہا تھا کہ میری نظر ایک لومڑی پر پڑی، وہ بیچاری بھاگ رہی تھی اس کے پیچھے ایک بڑا سا کتا لگا ہوا تھا۔ لومڑی کو اپنا بل نظر آگیا اور وہ اس میں چھلانگ لگا رہی تھی کہ کتے نے اس کی ٹانگ پکڑ لی اور کاٹ لیا۔ لومڑی نے پوری جان لگائی اور اپنی معزور ٹانگ گھسیٹ کر بل میں گھس گئی۔ اس کتے نے بیچاری لومڑی کو معزور کردیا تھا..
کچھ دیر بعد میں گاؤں میں پہنچا تو دیکھا کہ وہی خونخوار کتا ایک آدمی پر بھونکے جا رہا تھا۔ اس آدمی کو غصہ آگیا اور اس نے ایک بھاری پتھر کُتے کو دے مارا. کتا خود بھی اسی طرح ٹانگ سے معزور ہو گیا..
میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اوپر والے کی لاٹھی بے آواز ہے کہ اسی آدمی کو ایک گھوڑے نے دولتی ماری اور اس کی بھی ایک ٹانگ فارغ ہو گئی..
گھوڑا بھاگ رہا تھا اور آگے جا کر ایک گڑھے میں گر گیا..
اتنا دیکھ کر ہی میری حالت غیر ہو گئی اور میں نے سوچا کہ میں اتنا ظالم ہوں، ہر ایک پر ظلم کرتا ہوں۔ کسی کی پرواہ نہیں کرتا تو میرا خالق میرے ساتھ بھی وہی کرے گا جو میں اس کی مخلوق کے ساتھ کرتا ہوں تو ایک ہی ترکیب سجھائی دی کہ کیوں نہ میں اپنی رعایا کے ساتھ اچھا ہو جاؤں تاکہ میرے ساتھ بھی اچھا ہو۔ بس اتنی سی بات تھی.
وزیر ایک عیار اور مکار آدمی تھا۔ بادشاہ کی کہانی سن کر بھی اس کا دل نہ پسیجا. بے حس آدمی ادھر سے اٹھا اور دل میں سوچا کہ بادشاہ فارغ ہو گیا ہے، یہی وقت ہے کہ میں اس کا تخت ہتھیا لوں۔ ایسی غلیظ سوچ ابھی اس کے دماغ کی دہلیز پر ہی تھی کہ وزیر دھڑام سے سیڑھیوں سے گرا اور اس کی گردن دو ٹکڑے ہو گئی.
■ یاد رکھو!
جیسی کرنی ویسی بھرنی. کسی کے ساتھ بُرا کرکے یہ مت سمجھو کہ کسی نے نہیں دیکھا میں بچ گیا، جو دیکھ رہا ہے، وہ جب پکڑ کرتا ہے تو بڑے سے بڑا سُلطان گھٹنے ٹیک دیتا ہے.
● اچھا کرو اور صِلے کی امید لوگوں سے مت رکھو اور برا کرو تو یاد رکھو کہ اگر پکڑ ہوگئی اور رسّی کھینچ لی گئی تو کہیں پناہ نہیں ملے گی.
🔘 بہترین حکمت عملی: برا مت کرو۔۔!!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 جیسے کو تیسا 🔷
ایک بازار سے ایک مغرور بندہ گذر رہا تھا کہ اس کی نظر سر پر ایک ڈول اٹھائے عورت پر پڑی، اس نے اسے آواز دیکر روکا اور نخوت سے پوچھا:
اے مائی، کیا بیچ رہی ہو؟
عورت نے کہا: جی میں گھی بیچ رہی ہوں.
اس شخص نے کہا: اچھا دکھاؤ تو، کیسا ہے؟
گھی کا وزنی ڈول سر سے اتارتے ہوئے کچھ گھی اس آدمی کی قمیض پر گرا تو یہ بہت بگڑ گیا اور دھاڑتے ہوئے بولا:
نظر نہیں آتا کیا؟ میری قیمتی قمیض خراب کر دی ہے تو نے؟ میں جب تک تجھ سے اس قمیض کے پیسے نہ لے لوں، تجھے تو یہاں سے ہلنے بھی نہیں دونگا۔
عورت نے بیچارگی سے کہا؛
میں مسکین عورت ہوں، اور میں نے آپ کی قمیض پر گھی جان بوجھ کر نہیں گرایا، مجھ پر رحم کرو اور مجھے جانے دو۔
اس آدمی نے کہا؛ جب تک تجھ سے دام نہ لے لوں میں تو تجھے یہاں سے ہلنے بھی نہیں دونگا.
عورت نے پوچھا:
کتنی قیمت ہے آپ کی قمیض کی؟
اس شخص نے کہا: ایک ہزار درہم.
عورت نے روہانسا ہوتے ہوئے کہا: میں فقیر عورت ہوں، میرے پاس سے ایک ہزار درہم کہاں سے آئیں گے؟
اس شخص نے کہا: مجھے اس سے کوئی غرض نہیں.
عورت نے کہا: مجھ پر رحم کرو اور مجھے یوں رسوا نہ کرو.
ابھی یہ آدمی عورت پر اپنی دھونس اور دھمکیاں چلا ہی رہا تھا کہ وہاں سے ایک نوجوان کا گزر ہوا۔ نوجوان نے اس سہمی ہوئی عورت سے ماجرا پوچھا تو عورت نے سارا معاملہ کہہ سنایا۔
نوجوان نے اس آدمی سے کہا؛
جناب! میں دیتا ہوں آپ کو آپ کی قمیض کی قیمت۔ اور جیب سے ایک ہزار درہم نکال کر اس مغرور انسان کو دیدیئے.
یہ آدمی ہزار درہم جیب میں ڈال کر چلنے لگا تو نوجوان نے کہا: جاتا کدھر ہے؟
آدمی نے پوچھا: تو تجھے کیا چاہیے مجھ سے؟
نوجوان نے کہا: تو نے اپنی قمیض کے پیسے لے لئے ہیں ناں؟
آدمی نے کہا: بالکل، میں نے ایک ہزار درہم لے لئے ہیں.
نوجون نے کہا: تو پھر قمیض کدھر ہے؟
آدمی نے کہا: وہ کس لئے؟
نوجوان نے کہا: ہم نے تجھے تیری قمیض کے پیسے دیدیئے ہیں، اب اپنی قمیض ہمیں دے اور جا۔
آدمی نے گربڑاتے ہوئے کہا: تو کیا میں ننگا جاؤں؟
نوجوان نے کہا: ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔
آدمی نے کہا: اور اگر میں یہ قمیض نہ دوں تو؟
نوجوان نے کہا: تو پھر ہمیں اس کی قیمت دیدے۔
اس آدمی نے پوچھا: ایک ہزار درہم؟
نوجوان نے کہا: نہیں، قیمت وہ جو ہم مانگیں گے۔
اس آدمی نے پوچھا: تو کیا قیمت مانگتے ہو؟
نوجوان نے کہا: دو ہزار درہم۔
آدمی نے کہا؛ تو نے تو مجھے ایک ہزار درہم دیئے تھے۔
نوجوان نے کہا: تیرا اس سے کوئی مطلب نہیں۔
آدمی نے کہا: یہ بہت زیادہ قیمت ہے۔
نوجوان نے کہا؛ پھر ٹھیک ہے، ہماری قمیض اتار دے۔
اس آدمی نے کچھ روہانسا ہوتے ہوئے کہا: تُو مجھے رسوا کرنا چاہتا ہے؟
نوجوان نے کہا: اور جب تو اس مسکین عورت کو رسوا کر رہا تھا تو!!
آدمی نے کہا: یہ ظلم اور زیادتی ہے۔
نوجوان نے حیرت سے کہا: کمال ہے کہ یہ تجھے ظلم لگ رہا ہے۔
اس آدمی نے مزید شرمندگی سے بچنے کیلئے، جیب سے دو ہزار نکال کر نوجوان کو دیدیئے.
اور نوجوان نے مجمعے میں اعلان کیا کہ دو ہزار اس عورت کیلئے میری طرف سے ہدیہ ہیں۔
ہمارے ہاں بھی اکثریت کا حا ل ایسا ہی ہے۔ ہمیں دوسروں کی تکلیف اور توہین سے کوئی مطلب نہیں ہوتا لیکن جب بات خود پر آتی ہے تو ظلم محسوس ہوتا ہے۔ اگر معاشرتی طور پر ہم دوسروں کی تکلیف کو اپنا سمجھنا شروع کر دیں تو دنیا کی بہترین قوموں میں ہمارا شمار ہو۔ اگر وقت ملے تو سوچئے گا.
بشکریہ مرتّبہ: ریاض قادری
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک بازار سے ایک مغرور بندہ گذر رہا تھا کہ اس کی نظر سر پر ایک ڈول اٹھائے عورت پر پڑی، اس نے اسے آواز دیکر روکا اور نخوت سے پوچھا:
اے مائی، کیا بیچ رہی ہو؟
عورت نے کہا: جی میں گھی بیچ رہی ہوں.
اس شخص نے کہا: اچھا دکھاؤ تو، کیسا ہے؟
گھی کا وزنی ڈول سر سے اتارتے ہوئے کچھ گھی اس آدمی کی قمیض پر گرا تو یہ بہت بگڑ گیا اور دھاڑتے ہوئے بولا:
نظر نہیں آتا کیا؟ میری قیمتی قمیض خراب کر دی ہے تو نے؟ میں جب تک تجھ سے اس قمیض کے پیسے نہ لے لوں، تجھے تو یہاں سے ہلنے بھی نہیں دونگا۔
عورت نے بیچارگی سے کہا؛
میں مسکین عورت ہوں، اور میں نے آپ کی قمیض پر گھی جان بوجھ کر نہیں گرایا، مجھ پر رحم کرو اور مجھے جانے دو۔
اس آدمی نے کہا؛ جب تک تجھ سے دام نہ لے لوں میں تو تجھے یہاں سے ہلنے بھی نہیں دونگا.
عورت نے پوچھا:
کتنی قیمت ہے آپ کی قمیض کی؟
اس شخص نے کہا: ایک ہزار درہم.
عورت نے روہانسا ہوتے ہوئے کہا: میں فقیر عورت ہوں، میرے پاس سے ایک ہزار درہم کہاں سے آئیں گے؟
اس شخص نے کہا: مجھے اس سے کوئی غرض نہیں.
عورت نے کہا: مجھ پر رحم کرو اور مجھے یوں رسوا نہ کرو.
ابھی یہ آدمی عورت پر اپنی دھونس اور دھمکیاں چلا ہی رہا تھا کہ وہاں سے ایک نوجوان کا گزر ہوا۔ نوجوان نے اس سہمی ہوئی عورت سے ماجرا پوچھا تو عورت نے سارا معاملہ کہہ سنایا۔
نوجوان نے اس آدمی سے کہا؛
جناب! میں دیتا ہوں آپ کو آپ کی قمیض کی قیمت۔ اور جیب سے ایک ہزار درہم نکال کر اس مغرور انسان کو دیدیئے.
یہ آدمی ہزار درہم جیب میں ڈال کر چلنے لگا تو نوجوان نے کہا: جاتا کدھر ہے؟
آدمی نے پوچھا: تو تجھے کیا چاہیے مجھ سے؟
نوجوان نے کہا: تو نے اپنی قمیض کے پیسے لے لئے ہیں ناں؟
آدمی نے کہا: بالکل، میں نے ایک ہزار درہم لے لئے ہیں.
نوجون نے کہا: تو پھر قمیض کدھر ہے؟
آدمی نے کہا: وہ کس لئے؟
نوجوان نے کہا: ہم نے تجھے تیری قمیض کے پیسے دیدیئے ہیں، اب اپنی قمیض ہمیں دے اور جا۔
آدمی نے گربڑاتے ہوئے کہا: تو کیا میں ننگا جاؤں؟
نوجوان نے کہا: ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔
آدمی نے کہا: اور اگر میں یہ قمیض نہ دوں تو؟
نوجوان نے کہا: تو پھر ہمیں اس کی قیمت دیدے۔
اس آدمی نے پوچھا: ایک ہزار درہم؟
نوجوان نے کہا: نہیں، قیمت وہ جو ہم مانگیں گے۔
اس آدمی نے پوچھا: تو کیا قیمت مانگتے ہو؟
نوجوان نے کہا: دو ہزار درہم۔
آدمی نے کہا؛ تو نے تو مجھے ایک ہزار درہم دیئے تھے۔
نوجوان نے کہا: تیرا اس سے کوئی مطلب نہیں۔
آدمی نے کہا: یہ بہت زیادہ قیمت ہے۔
نوجوان نے کہا؛ پھر ٹھیک ہے، ہماری قمیض اتار دے۔
اس آدمی نے کچھ روہانسا ہوتے ہوئے کہا: تُو مجھے رسوا کرنا چاہتا ہے؟
نوجوان نے کہا: اور جب تو اس مسکین عورت کو رسوا کر رہا تھا تو!!
آدمی نے کہا: یہ ظلم اور زیادتی ہے۔
نوجوان نے حیرت سے کہا: کمال ہے کہ یہ تجھے ظلم لگ رہا ہے۔
اس آدمی نے مزید شرمندگی سے بچنے کیلئے، جیب سے دو ہزار نکال کر نوجوان کو دیدیئے.
اور نوجوان نے مجمعے میں اعلان کیا کہ دو ہزار اس عورت کیلئے میری طرف سے ہدیہ ہیں۔
ہمارے ہاں بھی اکثریت کا حا ل ایسا ہی ہے۔ ہمیں دوسروں کی تکلیف اور توہین سے کوئی مطلب نہیں ہوتا لیکن جب بات خود پر آتی ہے تو ظلم محسوس ہوتا ہے۔ اگر معاشرتی طور پر ہم دوسروں کی تکلیف کو اپنا سمجھنا شروع کر دیں تو دنیا کی بہترین قوموں میں ہمارا شمار ہو۔ اگر وقت ملے تو سوچئے گا.
بشکریہ مرتّبہ: ریاض قادری
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
💝 عبادت میں لذت 💝
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﭘﮭﺮ ﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ... ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ، ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮑﻮﻥ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﮨﯽ ﭨﺎﺋﻢ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﺰﺍﺭﯾﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﻧﻤﺎﺯ ﺑﻮﺟﮫ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ..
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ..۔ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮑﮯ ﮨﻮﮰ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﻧﺲ ﭘﮭﻮﻝ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ.. ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﻃﻨﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﮭﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ..
"ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ؟؟ " ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﮰ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ.
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﺗﻮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺍﺳﮯ.
"ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ؟ ...
ﻣﯿﮟ .. ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﻘﺎﺏ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺧﻮﺩ، ﻣﯿﮟ... ﺳﻤﺠﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ... ﻧﻈﺮ ﮐﮯ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ..؟؟"
ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺑﮯﺗﺮﺗﯿﺐ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯼ۔ ﺗﻌﻠﻖ ﺗﻮ ﮨﮯ.. ﺑﮩﺖ ﮔﮩﺮﺍ ﮨﮯ..
👁 ﺑُﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﮯ ﺯﮨﺮﯾﻠﮯ ﺗﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺮ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ،
ﭘﺮﺩﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﭽﮫ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﻧﮕﺎﮦ ﭘﺎﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﻧﺎ ﺗﻮ ﻋﺒﺎﺩﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﺬّﺕ ﺟﺎﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ.. ﺟﺐ ﻧﮕﺎﮦ ﭘﺎﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﻮ ﺳﻮﭺ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ، ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺳﻮﭺ ﺧﺮﺍﺏ ﺗﻮ ﻧﯿﺖ ﺧﺮﺍﺏ.. ﺍﻭﺭ..۔ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺩﺍﺭﻭﻣﺪﺍﺭ ﺗﻮ ﮨﮯ ﮨﯽ ﻧﯿﺘﻮﮞ ﭘﺮ.
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺟﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﺍﺛﺮ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﮨﻢ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﯿﺎ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﺒﮭﯽ ﺳﻮﭼﺎ ﮨﮯ؟؟
ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﺗﻮ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﺮ ﻭﮦ ﻧﺎﻣﺤﺮﻡ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻧﻈﺮ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﮯ، ﺍﺳﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻧﻈﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﺎﺭ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﮯ؟؟
ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺗﺼﻮﯾﺮ، ﮐﻮﺋﯽ ﻭﯾﮉﯾﻮ، ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ.. ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ.. ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ.. ﻣﮕﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠّﻪ!! ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﮏ ﺩفعہ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﮐﺘﯽ ﮨﻮ؟ .. ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﻠﻢ، ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺎﻧﺎ ... ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﻣﺤﺮﻡ ﺗﻮ ﺧﯿﺮ
ﭼﮭﻮﮌﻭ.. ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﻨﻒ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﭘﺮﺩﮦ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﺑﮯ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮ؟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻧﺎﻣﺤﺮﻡ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﮐﮯ ﻣﺮﺩ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﻧﺎ... ﯾﮧ ﺟﻮ ﭨﯿﻠﯽ ﻭﯾﮋﻥ ﭘﺮ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﮑﭩﺮﺯ، ﻣﺎﮈﻟﺰ،.. ﺟﻦ ﮐﯽ ﻏﺎﺋﺒﺎﻧﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﮈﯼ، ﮈﺭﯾﺴﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﻟُﮑﺲ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ... ﯾﮧ ﺳﺐ ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﮨﻮ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ.. ﺗﻮ ﺗﻢ ﺳﻮﭼﻮ.. ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻭ.. بلکہ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﺠﺰﯾﮧ ﮐﺮﻭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺩﻭ ...
ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﮰ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺅ ﯾﮧ ﻧﻈﺮ ﮐﯽ ﺧﯿﺎﻧﺖ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﻟﺬﺕ ﭼﮭﯿﻦ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ.. ﺩﻝ ﮐﻮ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ..
ﺯﻧﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ.. ﺍﮔﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻏﻠﻂ ﭼﮭﻮﺍ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎ ﺯﻧﺎ، ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻓﺤﺶ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﯽ ﺗﻮ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﺯﻧﺎ ﮨﮯ، ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺣﺮﺍﻡ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺯﻧﺎ ﮨﮯ..
ﻧﻈﺮ ﮐﯽ ﺑﮯﭘﺮﺩﮔﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﺑﮩﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ.. ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﺑﮭﯽ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮯﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ.. ﺑﻮﺟﮫ ﺳﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ...
ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ؟ ﺍﮔﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﺝ ﺳﮯ ﻋﮩﺪ ﮐﺮ ﻟﻮ ﮐﮧ ﮐﺮﻭ ﮔﯽ... ﺟﺐ ﮐﺒﮭﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻏﻠﻂ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﯽ ﻟﻮ، ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻧﻔﺲ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺣﺎﻭﯼ ہو ﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻭ.. ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻭ، ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﺎ ﻟﻄﻒ، ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﻟﺬﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﻥ... ﺳﺐ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ.
💝 ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ.. ﺳﮑﻮﻥ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﺧﻮﺩ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ "ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺫﮐﺮ ﺳﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﮑﻮﻥ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ۔" ﺍﺏ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺜﺎﻝ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﻮ..۔
ﺍﯾﮏ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺷﺨﺺ ﮨﮯ.. ﺍﺳﮑﻮ ﺁﭖ ﺍﺱ کا ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻻ ﮐﺮ ﺩﻭ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎئے ﮔﺎ.. ﺍﺏ ﻭﮦ ﮐﮩﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﺎ..
ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﮨﮯ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻌﺪﮦ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﮯ... ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮑﻮﻥ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺲ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﮯ... ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺻﺤﺘﯿﺎﺑﯽ ﮐﺎ، ﻧﻈﺮ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﮔﮩﺮﺍ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﺎﺭﯼ...
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺤﻤﻞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮ کے ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ..۔ ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺍﯾﮏ ﻋﺮﺻﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ، ﺑﯿﭽﯿﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺿﻄﺮﺍﺏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﻤﺠﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ...
ﻣﺠﮭﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ... ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﻤﮏ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﯽ.
👆 ایک مراسلہ 👆
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﭘﮭﺮ ﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ... ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ، ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮑﻮﻥ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﮨﯽ ﭨﺎﺋﻢ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﺰﺍﺭﯾﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﻧﻤﺎﺯ ﺑﻮﺟﮫ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ..
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ..۔ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮑﮯ ﮨﻮﮰ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﻧﺲ ﭘﮭﻮﻝ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ.. ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﻃﻨﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﮭﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ..
"ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ؟؟ " ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﮰ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ.
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﺗﻮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺍﺳﮯ.
"ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ؟ ...
ﻣﯿﮟ .. ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﻘﺎﺏ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺧﻮﺩ، ﻣﯿﮟ... ﺳﻤﺠﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ... ﻧﻈﺮ ﮐﮯ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ..؟؟"
ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺑﮯﺗﺮﺗﯿﺐ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯼ۔ ﺗﻌﻠﻖ ﺗﻮ ﮨﮯ.. ﺑﮩﺖ ﮔﮩﺮﺍ ﮨﮯ..
👁 ﺑُﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﮯ ﺯﮨﺮﯾﻠﮯ ﺗﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺮ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ،
ﭘﺮﺩﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﭽﮫ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﻧﮕﺎﮦ ﭘﺎﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﻧﺎ ﺗﻮ ﻋﺒﺎﺩﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﺬّﺕ ﺟﺎﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ.. ﺟﺐ ﻧﮕﺎﮦ ﭘﺎﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﻮ ﺳﻮﭺ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ، ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺳﻮﭺ ﺧﺮﺍﺏ ﺗﻮ ﻧﯿﺖ ﺧﺮﺍﺏ.. ﺍﻭﺭ..۔ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺩﺍﺭﻭﻣﺪﺍﺭ ﺗﻮ ﮨﮯ ﮨﯽ ﻧﯿﺘﻮﮞ ﭘﺮ.
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺟﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﺍﺛﺮ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﮨﻢ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﯿﺎ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﺒﮭﯽ ﺳﻮﭼﺎ ﮨﮯ؟؟
ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﺗﻮ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﺮ ﻭﮦ ﻧﺎﻣﺤﺮﻡ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻧﻈﺮ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﮯ، ﺍﺳﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻧﻈﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﺎﺭ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﮯ؟؟
ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺗﺼﻮﯾﺮ، ﮐﻮﺋﯽ ﻭﯾﮉﯾﻮ، ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ.. ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ.. ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ.. ﻣﮕﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠّﻪ!! ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﮏ ﺩفعہ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﮐﺘﯽ ﮨﻮ؟ .. ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﻠﻢ، ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺎﻧﺎ ... ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﻣﺤﺮﻡ ﺗﻮ ﺧﯿﺮ
ﭼﮭﻮﮌﻭ.. ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﻨﻒ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﭘﺮﺩﮦ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﺑﮯ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮ؟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻧﺎﻣﺤﺮﻡ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﮐﮯ ﻣﺮﺩ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﻧﺎ... ﯾﮧ ﺟﻮ ﭨﯿﻠﯽ ﻭﯾﮋﻥ ﭘﺮ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﮑﭩﺮﺯ، ﻣﺎﮈﻟﺰ،.. ﺟﻦ ﮐﯽ ﻏﺎﺋﺒﺎﻧﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﮈﯼ، ﮈﺭﯾﺴﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﻟُﮑﺲ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ... ﯾﮧ ﺳﺐ ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﮨﻮ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ.. ﺗﻮ ﺗﻢ ﺳﻮﭼﻮ.. ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻭ.. بلکہ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﺠﺰﯾﮧ ﮐﺮﻭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺩﻭ ...
ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﮰ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺅ ﯾﮧ ﻧﻈﺮ ﮐﯽ ﺧﯿﺎﻧﺖ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﻟﺬﺕ ﭼﮭﯿﻦ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ.. ﺩﻝ ﮐﻮ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ..
ﺯﻧﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ.. ﺍﮔﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻏﻠﻂ ﭼﮭﻮﺍ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﺎ ﺯﻧﺎ، ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻓﺤﺶ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﯽ ﺗﻮ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﺯﻧﺎ ﮨﮯ، ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺣﺮﺍﻡ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺯﻧﺎ ﮨﮯ..
ﻧﻈﺮ ﮐﯽ ﺑﮯﭘﺮﺩﮔﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﺑﮩﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ.. ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﺑﮭﯽ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮯﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ.. ﺑﻮﺟﮫ ﺳﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ...
ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﻈﺮ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ؟ ﺍﮔﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﺝ ﺳﮯ ﻋﮩﺪ ﮐﺮ ﻟﻮ ﮐﮧ ﮐﺮﻭ ﮔﯽ... ﺟﺐ ﮐﺒﮭﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻏﻠﻂ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﯽ ﻟﻮ، ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻧﻔﺲ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺣﺎﻭﯼ ہو ﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻭ.. ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻭ، ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﺎ ﻟﻄﻒ، ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﻟﺬﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﻥ... ﺳﺐ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ.
💝 ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ.. ﺳﮑﻮﻥ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﺧﻮﺩ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ "ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺫﮐﺮ ﺳﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﮑﻮﻥ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ۔" ﺍﺏ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺜﺎﻝ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﻮ..۔
ﺍﯾﮏ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺷﺨﺺ ﮨﮯ.. ﺍﺳﮑﻮ ﺁﭖ ﺍﺱ کا ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻻ ﮐﺮ ﺩﻭ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎئے ﮔﺎ.. ﺍﺏ ﻭﮦ ﮐﮩﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﺎ..
ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﮨﮯ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻌﺪﮦ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﮯ... ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮑﻮﻥ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺲ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﮯ... ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺻﺤﺘﯿﺎﺑﯽ ﮐﺎ، ﻧﻈﺮ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﮔﮩﺮﺍ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﺎﺭﯼ...
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺤﻤﻞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮ کے ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ..۔ ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺍﯾﮏ ﻋﺮﺻﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ، ﺑﯿﭽﯿﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺿﻄﺮﺍﺏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﻤﺠﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ...
ﻣﺠﮭﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ... ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﻤﮏ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﯽ.
👆 ایک مراسلہ 👆
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌺 اچھی باتیں 🌺
💞 ظاہر و باطن
ایک بزرگ سے ملاقات پر میں نے عرض کی کہ کچھ نصیحت کیجیئے.
انھوں نے عجیب سوال کیا کہ بیٹا کبھی برتن دھوئے ہیں؟
میں ان کے سوال پر حیران ہوا اور جواب دیا کہ جی دھوئے ہیں.
وہ پوچھنے لگے پھر کیا سیکھا؟
میں نے کہا اس میں سیکھنے والی کیا بات ہے؟
وہ مسکرائے اور کہنے لگے؛
برتن کو باہر سے کم اور اندر سے زیادہ دھونا پڑتا ہے.
____
💝 دل کی دھول
دل صاف کر کے ملاقات کی عادت ڈالو،
دھول ہٹتی ہے تو آئینے بھی چمک اٹھتے ہیں.
____
🌷 اپنی غلطیوں کی وکالت
جب انسان اپنی غلطیوں کا "وکیل" اور دوسروں کی غلطیوں کا "جج" بن جائے تو پھر..
*"فیصلے" نہیں ہوتے..
*"فاصلے" ہوتے ہیں.
____
🌹 عورت اور علم
ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻋﻠﻢ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﺟﮩﺎﻟﺖ ﻧﺴﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ..
ﺍﻭﺭ
ﻋﻠﻢ ﮐﮯﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﺑﮯﺣﯿﺎئی ﻧﺴﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💞 ظاہر و باطن
ایک بزرگ سے ملاقات پر میں نے عرض کی کہ کچھ نصیحت کیجیئے.
انھوں نے عجیب سوال کیا کہ بیٹا کبھی برتن دھوئے ہیں؟
میں ان کے سوال پر حیران ہوا اور جواب دیا کہ جی دھوئے ہیں.
وہ پوچھنے لگے پھر کیا سیکھا؟
میں نے کہا اس میں سیکھنے والی کیا بات ہے؟
وہ مسکرائے اور کہنے لگے؛
برتن کو باہر سے کم اور اندر سے زیادہ دھونا پڑتا ہے.
____
💝 دل کی دھول
دل صاف کر کے ملاقات کی عادت ڈالو،
دھول ہٹتی ہے تو آئینے بھی چمک اٹھتے ہیں.
____
🌷 اپنی غلطیوں کی وکالت
جب انسان اپنی غلطیوں کا "وکیل" اور دوسروں کی غلطیوں کا "جج" بن جائے تو پھر..
*"فیصلے" نہیں ہوتے..
*"فاصلے" ہوتے ہیں.
____
🌹 عورت اور علم
ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻋﻠﻢ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﺟﮩﺎﻟﺖ ﻧﺴﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ..
ﺍﻭﺭ
ﻋﻠﻢ ﮐﮯﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﺑﮯﺣﯿﺎئی ﻧﺴﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 تقلید کی ضرورت 🔷
عقلًا اور شرعًا جو شخص آيات اور روايات سے حكم شرعى كا استنباط نہيں كر سكتا اسے ’’تقليدِ فقہى‘‘ كرنا ضرورى ہے.
جو شخص خود تقليد كے مرحلہ ميں ہو اور بعض ايسى روايات پيش كرے جو اس كے خيال ميں قابلِ بحث ہيں، اس كى مثال اس مريض كى سى ہے جسے ڈاكٹر نے علاج كا نسخہ ديا ہو اور وہ طب كے كورس كى كتابوں سے كوئى ايک پيراگراف نكال كر لے آيا ہو اور ڈاكٹر سے كہے كہ يہاں كچھ لكھا ہے اور آپ نے كچھ اور بتايا ہے!! يقينا ڈاكٹر كے ليے تفصيل كے ساتھ اس مريض كو كچھ سمجھانا ممكن نہيں ہے كيونكہ وہ طب كى علمى اصطلاحات سے بھى نابلد ہے اور تحقيقى دنيا سے بھى آشنا نہيں ہے. يہى صورتحال يہاں ہے.
🔹 ہم فتوى كے مقابلے ميں صرف اس وقت كچھ پيش كر سكتے ہيں جب خود صاحبِ اجتہاد ہوں اور ان تمام باريكيوں كو سمجھتے ہوں. مثلا اگر ايک شخص نے مطلوبہ علومِ دينى حاصل كيے ہوں اور تمام علوم پر كامل دسترس ركھتا ہو اس مرحلہ كے بعد ايک روايت سے ايک حكم لينے كے ليے عملى طور پر درج ذيل امور سے گزرنا ضرورى ہے:
1) اس موضوع كى تمام روايات كو جمع كرے.
2) روايات كى سندى تحقيق كرے.
3) روايات كے ظاہر كو ديكھے كہ ظاہرِ روايت كيا معنى دے رہى ہے.
4) يہ ديكھے كہ ان روايات ميں سے كس كى دلالت حجت ہے اور كس كى نہيں.
5) روايات ميں عام و خاص، مطلق و مقيّد، ناسخ و منسوخ، محكم و متشابہ، ظاہر نص ۔۔۔ ان سب قواعد كا خيال ركھے.
6) قواعد فقہيہ اور اصوليہ اپنے مبنى كے تحت جارى كرے.
7) فقہاءِ عظام كے اقوال كو مدنظر ركھے اور ان پر دقّت كرتے ہوئے استدلالى نوعيت كو جانے.
🔹 ان مراحل سے گزرنے كے بعد ہم ايک حكم شرعى بيان كر سكتے ہيں. اس ليے چند روايات ذكر كر كے فتوٰی كے مقابل انہيں پيش نہيں كيا جا سكتا كيونكہ يہ روايات واقعًا امام عليہ السلام سے صادر ہوئى ہيں يا نہيں؟ اس كا جاننا ضرورى ہے۔ جب ثابت ہو جائے كہ فلاں فلاں روايت صحيح ہے اور فلاں ضعيف تو صحيح كے معنى پر قواعد جارى كيے جائيں گے۔
🔻پس ہم كسى فتوٰی كے مقابل اس طرح سے روايت كو پيش نہيں كر سكتے۔ بلكہ ضرورى ہے كہ روايت كو بيان كر كے كاملًا تفصيلى بحث كريں۔ اس ليے آپ ان روايات كے ذيل ميں مندرجہ بالا نكات كى روشنى ميں تفصيلى بحث كريں تو سلسلہِ بحث آگے بڑھايا جا سكتا ہے۔ ورنہ ہمارے اوپر تقليد كرنا ضرورى ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
عقلًا اور شرعًا جو شخص آيات اور روايات سے حكم شرعى كا استنباط نہيں كر سكتا اسے ’’تقليدِ فقہى‘‘ كرنا ضرورى ہے.
جو شخص خود تقليد كے مرحلہ ميں ہو اور بعض ايسى روايات پيش كرے جو اس كے خيال ميں قابلِ بحث ہيں، اس كى مثال اس مريض كى سى ہے جسے ڈاكٹر نے علاج كا نسخہ ديا ہو اور وہ طب كے كورس كى كتابوں سے كوئى ايک پيراگراف نكال كر لے آيا ہو اور ڈاكٹر سے كہے كہ يہاں كچھ لكھا ہے اور آپ نے كچھ اور بتايا ہے!! يقينا ڈاكٹر كے ليے تفصيل كے ساتھ اس مريض كو كچھ سمجھانا ممكن نہيں ہے كيونكہ وہ طب كى علمى اصطلاحات سے بھى نابلد ہے اور تحقيقى دنيا سے بھى آشنا نہيں ہے. يہى صورتحال يہاں ہے.
🔹 ہم فتوى كے مقابلے ميں صرف اس وقت كچھ پيش كر سكتے ہيں جب خود صاحبِ اجتہاد ہوں اور ان تمام باريكيوں كو سمجھتے ہوں. مثلا اگر ايک شخص نے مطلوبہ علومِ دينى حاصل كيے ہوں اور تمام علوم پر كامل دسترس ركھتا ہو اس مرحلہ كے بعد ايک روايت سے ايک حكم لينے كے ليے عملى طور پر درج ذيل امور سے گزرنا ضرورى ہے:
1) اس موضوع كى تمام روايات كو جمع كرے.
2) روايات كى سندى تحقيق كرے.
3) روايات كے ظاہر كو ديكھے كہ ظاہرِ روايت كيا معنى دے رہى ہے.
4) يہ ديكھے كہ ان روايات ميں سے كس كى دلالت حجت ہے اور كس كى نہيں.
5) روايات ميں عام و خاص، مطلق و مقيّد، ناسخ و منسوخ، محكم و متشابہ، ظاہر نص ۔۔۔ ان سب قواعد كا خيال ركھے.
6) قواعد فقہيہ اور اصوليہ اپنے مبنى كے تحت جارى كرے.
7) فقہاءِ عظام كے اقوال كو مدنظر ركھے اور ان پر دقّت كرتے ہوئے استدلالى نوعيت كو جانے.
🔹 ان مراحل سے گزرنے كے بعد ہم ايک حكم شرعى بيان كر سكتے ہيں. اس ليے چند روايات ذكر كر كے فتوٰی كے مقابل انہيں پيش نہيں كيا جا سكتا كيونكہ يہ روايات واقعًا امام عليہ السلام سے صادر ہوئى ہيں يا نہيں؟ اس كا جاننا ضرورى ہے۔ جب ثابت ہو جائے كہ فلاں فلاں روايت صحيح ہے اور فلاں ضعيف تو صحيح كے معنى پر قواعد جارى كيے جائيں گے۔
🔻پس ہم كسى فتوٰی كے مقابل اس طرح سے روايت كو پيش نہيں كر سكتے۔ بلكہ ضرورى ہے كہ روايت كو بيان كر كے كاملًا تفصيلى بحث كريں۔ اس ليے آپ ان روايات كے ذيل ميں مندرجہ بالا نكات كى روشنى ميں تفصيلى بحث كريں تو سلسلہِ بحث آگے بڑھايا جا سكتا ہے۔ ورنہ ہمارے اوپر تقليد كرنا ضرورى ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 تقلید کیوں واجب؟ 🔷
ہم معصومین علیھم السلام کے زمانے میں اپنی شرعی ذمّہ داریاں ڈائریکٹ معصوم علیہ السلام سے لیتے ہیں ۔لیکن زمانہ غیبت میں کیا ہماری شرعی ذمّہ داریاں معاف ہیں؟
ہرگز نہیں کیونکہ قرآن کی آیات اور احادیث متواترہ اور عقل یہ سب شرعی ذمّہ داریوں کے جاری رہنے کا کہتے ہیں. اور ان سے پتہ چلتا ہے کہ تکالیف شرعیہ صرف اس کے لیے نہیں ہیں جو معصوم علیہ السلام کو درک کرتا ہو. اس لیے ہم آزاد نہیں ہیں کہ جس طرح ہمارا دل چاہے کرتے پھریں بلکہ ہم شرعی تکالیف کے پابند ہیں. جب ہم شرعی تکالیف کے پابند ہیں تو پھر ہمیں کس طرح پتہ چلے کہ کون سی تکلیف ہمارے اوپر واجب ہے اور کون سی حرام اور کون سی حلال ہے تاکہ اس پر عمل کرکے الله عزّوجلّ کے سامنے اپنی شرعی تکلیف کو ادا کریں.
تو اپنی شرعی تکالیف جاننے کے لیے ہمارے پاس چند اختیارات ہیں..
1⃣⬅ یا تو ہم میں سے ہر کوئی مجتھد بن جائے اور قرآن وسنت کی روشنی میں اپنی شرعی تکالیف کو معلوم کرے اور ان پر عمل کرے.
2⃣⬅ یا ہم کسی مجتھد کی طرف رجوع کریں جو قرآن وسنت کی روشنی میں ہمیں الله کے احکام بتاتا ہو اس شرط کے ساتھ کہ وہ مجتھد زیادہ علم والا ہو، متقی اور پرہیز گار شخص ہو.
3⃣⬅ یا ہم مجتھدین کی اخذ کردہ شرعی تکالیف کے درمیان احتیاط پر عمل کریں.
⏪ اس لیے اگر آپ کسی کی تقلید نہیں کرنا چاہتے تو یا آپ خود مجتھد بن جائیں۔ یا مجتھدین کے بتائے ہوئے احکامات میں احتیاط کریں. اور اگر یہ دونوں کام آپ نہیں کر سکتے تو جامع الشرائط مجتھد کی تقلید کریں. کیونکہ تقلید کا معنی یہ نہیں ہے کہ آپ مجتھد کی اطاعت کر رہے ہیں مجتھد تو آپ کو الله کا حکم بتاتا ہے اطاعت آپ الله کی کر رہے ہیں.
اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم امام زمانہ علیہ السلام کی تقلید کرتے ہیں تو ہمارا ان سے سوال ہے کہ ہمیں بھی بتائیں فرزند رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہاں ملتے ہیں. سالوں سے دنیا ان کے انتظار میں تڑپ رہی ہے.
اللھم عجل لولیک الفرج
بشکریہ کاوش: ابومصطفٰی نجفی
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/357
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ہم معصومین علیھم السلام کے زمانے میں اپنی شرعی ذمّہ داریاں ڈائریکٹ معصوم علیہ السلام سے لیتے ہیں ۔لیکن زمانہ غیبت میں کیا ہماری شرعی ذمّہ داریاں معاف ہیں؟
ہرگز نہیں کیونکہ قرآن کی آیات اور احادیث متواترہ اور عقل یہ سب شرعی ذمّہ داریوں کے جاری رہنے کا کہتے ہیں. اور ان سے پتہ چلتا ہے کہ تکالیف شرعیہ صرف اس کے لیے نہیں ہیں جو معصوم علیہ السلام کو درک کرتا ہو. اس لیے ہم آزاد نہیں ہیں کہ جس طرح ہمارا دل چاہے کرتے پھریں بلکہ ہم شرعی تکالیف کے پابند ہیں. جب ہم شرعی تکالیف کے پابند ہیں تو پھر ہمیں کس طرح پتہ چلے کہ کون سی تکلیف ہمارے اوپر واجب ہے اور کون سی حرام اور کون سی حلال ہے تاکہ اس پر عمل کرکے الله عزّوجلّ کے سامنے اپنی شرعی تکلیف کو ادا کریں.
تو اپنی شرعی تکالیف جاننے کے لیے ہمارے پاس چند اختیارات ہیں..
1⃣⬅ یا تو ہم میں سے ہر کوئی مجتھد بن جائے اور قرآن وسنت کی روشنی میں اپنی شرعی تکالیف کو معلوم کرے اور ان پر عمل کرے.
2⃣⬅ یا ہم کسی مجتھد کی طرف رجوع کریں جو قرآن وسنت کی روشنی میں ہمیں الله کے احکام بتاتا ہو اس شرط کے ساتھ کہ وہ مجتھد زیادہ علم والا ہو، متقی اور پرہیز گار شخص ہو.
3⃣⬅ یا ہم مجتھدین کی اخذ کردہ شرعی تکالیف کے درمیان احتیاط پر عمل کریں.
⏪ اس لیے اگر آپ کسی کی تقلید نہیں کرنا چاہتے تو یا آپ خود مجتھد بن جائیں۔ یا مجتھدین کے بتائے ہوئے احکامات میں احتیاط کریں. اور اگر یہ دونوں کام آپ نہیں کر سکتے تو جامع الشرائط مجتھد کی تقلید کریں. کیونکہ تقلید کا معنی یہ نہیں ہے کہ آپ مجتھد کی اطاعت کر رہے ہیں مجتھد تو آپ کو الله کا حکم بتاتا ہے اطاعت آپ الله کی کر رہے ہیں.
اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم امام زمانہ علیہ السلام کی تقلید کرتے ہیں تو ہمارا ان سے سوال ہے کہ ہمیں بھی بتائیں فرزند رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہاں ملتے ہیں. سالوں سے دنیا ان کے انتظار میں تڑپ رہی ہے.
اللھم عجل لولیک الفرج
بشکریہ کاوش: ابومصطفٰی نجفی
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/357
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 تقلید کی ضرورت 🔷
عقلًا اور شرعًا جو شخص آيات اور روايات سے حكم شرعى كا استنباط نہيں كر سكتا اسے ’’تقليدِ فقہى‘‘ كرنا ضرورى ہے.
جو شخص خود تقليد كے مرحلہ ميں ہو اور بعض ايسى روايات پيش كرے جو اس كے خيال ميں قابلِ بحث ہيں، اس كى مثال اس مريض كى سى ہے جسے…
عقلًا اور شرعًا جو شخص آيات اور روايات سے حكم شرعى كا استنباط نہيں كر سكتا اسے ’’تقليدِ فقہى‘‘ كرنا ضرورى ہے.
جو شخص خود تقليد كے مرحلہ ميں ہو اور بعض ايسى روايات پيش كرے جو اس كے خيال ميں قابلِ بحث ہيں، اس كى مثال اس مريض كى سى ہے جسے…
🔷 شرائطِ تقلید 🔷
■ جس مجتہد کی تقلید کی جائے اس میں درج ذیل شرائط پائی جاتی ہوں..
● مرد ہو،
● بالغ ہو،
● عاقل ہو،
● شیعہ اثنا عشری ہو،
● حلال زادہ ہو،
● زندہ ہو،
مرحوم مجتہد کی تقلید نہیں ہو سکتی البتہ اگر کسی نے کسی زندہ مجتہد کی تقلید کی تھی پهر وہ وفات پا جائے، اس کے الگ احکام ہیں لیکن شروع سے کسی مرحوم مجتہد کی تقلید نہیں ہوتی کیونکہ تقلید کی شرائط میں سے ایک شرط ہے کہ وہ زندہ ہو.
● عادل ہو،
عادل وہ شخص ہے جو تمام واجب کاموں کو بجالائے اور تمام حرام کاموں کو ترک کرے۔ عادل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک اچھا شخص ہو اور اس کے اہل محلہ یا ہمسایوں یا ہم نشینوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا جائے تو وہ اس کی اچھائی کی تصدیق کریں.
● اعلم ہو،
اگر یہ بات اجملاً معلوم ہو کہ درپیش مسائل میں مجتہد کے فتوے ایکدوسرے سے مختلف ہیں تو ضروری ہے کہ اس مجتہد کی تقلید کی جائے جو "اعلم" ہو یعنی اپنے زمانے کے دوسرے مجتہدوں کے مقابلے میں احکام الٰہی کو سمجھنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہو.
____
■ مجتہد اور اعلم کی پہچان تین طریقوں سے ہوسکتی ہے..
1⃣ ایک شخص کو جو خود صاحبِ علم ہو ذاتی طور پر یقین ہو اور مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو.
2⃣ دو اشخاص جو عالم اور عادل ہوں نیز مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کا ملکہ رکھتے ہوں، کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں بشرطیکہ دو اور عالم اور عادل ان کی تردید نہ کریں اور بظاہر کسی کا مجتہد یا اعلم ہونا ایک قابل اعتماد شخص کے قول سے بھی ثابت ہوجاتا ہے.
3⃣ کچھ اہل علم (اہل خبرہ) جو مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہوں، کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں اور ان کی تصدیق سے انسان مطمئن ہوجائے.
نوٹ: یہ تحقیق کرنا ہر شخص کی اپنی اپنی ذمہ داری ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/358
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
■ جس مجتہد کی تقلید کی جائے اس میں درج ذیل شرائط پائی جاتی ہوں..
● مرد ہو،
● بالغ ہو،
● عاقل ہو،
● شیعہ اثنا عشری ہو،
● حلال زادہ ہو،
● زندہ ہو،
مرحوم مجتہد کی تقلید نہیں ہو سکتی البتہ اگر کسی نے کسی زندہ مجتہد کی تقلید کی تھی پهر وہ وفات پا جائے، اس کے الگ احکام ہیں لیکن شروع سے کسی مرحوم مجتہد کی تقلید نہیں ہوتی کیونکہ تقلید کی شرائط میں سے ایک شرط ہے کہ وہ زندہ ہو.
● عادل ہو،
عادل وہ شخص ہے جو تمام واجب کاموں کو بجالائے اور تمام حرام کاموں کو ترک کرے۔ عادل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک اچھا شخص ہو اور اس کے اہل محلہ یا ہمسایوں یا ہم نشینوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا جائے تو وہ اس کی اچھائی کی تصدیق کریں.
● اعلم ہو،
اگر یہ بات اجملاً معلوم ہو کہ درپیش مسائل میں مجتہد کے فتوے ایکدوسرے سے مختلف ہیں تو ضروری ہے کہ اس مجتہد کی تقلید کی جائے جو "اعلم" ہو یعنی اپنے زمانے کے دوسرے مجتہدوں کے مقابلے میں احکام الٰہی کو سمجھنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہو.
____
■ مجتہد اور اعلم کی پہچان تین طریقوں سے ہوسکتی ہے..
1⃣ ایک شخص کو جو خود صاحبِ علم ہو ذاتی طور پر یقین ہو اور مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو.
2⃣ دو اشخاص جو عالم اور عادل ہوں نیز مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کا ملکہ رکھتے ہوں، کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں بشرطیکہ دو اور عالم اور عادل ان کی تردید نہ کریں اور بظاہر کسی کا مجتہد یا اعلم ہونا ایک قابل اعتماد شخص کے قول سے بھی ثابت ہوجاتا ہے.
3⃣ کچھ اہل علم (اہل خبرہ) جو مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہوں، کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں اور ان کی تصدیق سے انسان مطمئن ہوجائے.
نوٹ: یہ تحقیق کرنا ہر شخص کی اپنی اپنی ذمہ داری ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/358
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 تقلید کیوں واجب؟ 🔷
ہم معصومین علیھم السلام کے زمانے میں اپنی شرعی ذمّہ داریاں ڈائریکٹ معصوم علیہ السلام سے لیتے ہیں ۔لیکن زمانہ غیبت میں کیا ہماری شرعی ذمّہ داریاں معاف ہیں؟
ہرگز نہیں کیونکہ قرآن کی آیات اور احادیث متواترہ اور عقل یہ سب شرعی ذمّہ داریوں…
ہم معصومین علیھم السلام کے زمانے میں اپنی شرعی ذمّہ داریاں ڈائریکٹ معصوم علیہ السلام سے لیتے ہیں ۔لیکن زمانہ غیبت میں کیا ہماری شرعی ذمّہ داریاں معاف ہیں؟
ہرگز نہیں کیونکہ قرآن کی آیات اور احادیث متواترہ اور عقل یہ سب شرعی ذمّہ داریوں…
🔷 کلمہ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ہے 🔷
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﺗﮭﮯ، ﺫﮬﻦ ﺍﺳﻼﻣﯽ، ﭼﮩﺮﮦ ﻣﮩﺮﮦ ﻏﯿﺮﺍﺳﻼﻣﯽ، ﮨﻢ ﺫﮬﻦ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ، ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ انگلینڈ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺟﺐ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺑﻐﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯿﮟ!
ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﯿﻢ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﯿﺎ.
ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ دﻭﭘﭩﮧ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﭼﻮﺭﯼ ﻣﯿﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﻮ دیکھتیں ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻣﯿﻠﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ.
ﺩﻭﻟﮩﺎ ﮐﯽ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﻓﺨﺮﯾﮧ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﭘﮭﺮﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﯿﺎ ﺍﻧﮕﻠﯿﻨﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﻢ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﭽﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﺎً ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭦ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ، ﺑﻼﺋﯿﮟ ﻟﯿﺘﯽ ﻟﯿﺘﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ. ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ.
ﺻﺮﻑ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ، ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐِﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮨﻮﮔﺌﮯ!
ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺗﮭﺎ، ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮔﺰﺭﺍ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ، ﻣﯿﺎﮞ ﮐﮯ ﺁﻓﺲ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﺑﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻣﮩﺮ ﺛﺒﺖ ﮐﺮﺗﯿﮟ! ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭼﮧ میگوئیاں ﮨﻮﺋﯿﮟ، ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﻔﺴﺎﺭ ﭘﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"
ﮔﺮﻣﯿﺎﮞ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﭘﯿﻨﭧ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﻧﯿﮑﺮ ﭘﮩﻨﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ، ﺍﺑﺎﺟﯽ نے ﺗﻮ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ، ﺍﻣﺎﮞ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﯽ ﺭﮨﺘﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ! ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺷﮑﻮﮦ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"
ﺍﯾﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺑﺮﯾﮏ ﻭ ﮐﯿﻨﺒﺮﮮ ﮈﺍﻧﺲ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺩﻝ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ، ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"
ﮔﻮﺭﯼ ﻋﯿﺪ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﺮﺳﻤﺲ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮮ ﺗﺰﮎ ﻭ ﺍﺣﺘﺸﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺗﯽ ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮨﺮ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ " ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"
ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ، ﺑﭽﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺧﺘﻨﮯ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ، ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮐﮭﺴﯿﺎﻧﯽ ﺳﯽ ﮬﻨﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻮﻟﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ''
ﮈﺍﻧﺲ، ﻣﯿﻮﺯﮎ، ﻓﻠﻤﯿﮟ، ﮐﺎﮎﭨﯿﻞ ﭘﺎﺭﭨﯿﺰ، ﮐﺮﺳﻤﺲ، ﺳﺮﻋﺎﻡ ﺑﻮﺱﻭﮐﻨﺎﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﮐﻠﭽﺮ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﮯ، ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﻓﺮﯼ ﮨﻮﺗﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ، ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺳﮩﯿﻠﯿﺎﮞ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ۔ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﯽ ﭘﯿﻨﭩﯿﮟ ﭘﮩﻦ ﭘﮩﻦ کر ﺷﯿﺸﮯ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ، ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﯿﮟ، ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﺎﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻤﻌﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"
ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﺳﮯ ﭼﭙﮏ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ، ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺟﮕﮧ ﺗﻨﮓ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻠﺘﺎ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ" ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻡ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﺟﯿﻨﺰ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﺳﺎ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﺘﯽ۔ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ ﮐﮧ
"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"!!!!!!
🔷 "ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ" ﺑﮭﯽ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﻨﯽ ﻣﺰﺍﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﯿﺎﮦ ﻻﺋﮯ۔
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ، ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﻋﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﯾﺴﯽ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ، ﺍﺗﻨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﭼﭩﯽ..
"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ"!!
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ جرأت ﻧﮧ ﮐﯽ. ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ.
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﻭﺍﺝ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﻟﮯ ﺁﺋﯽ،
ﻟﯿﮑﻦ ﻗﻮﻡ ﺧﻮﺵ ﮨﯽ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!
ﻣﻌﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮨﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﺎﭼﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻏﯿﺮ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﮭﺎ. ﻟﻮﮒ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺷﺮﮎ ﻭ ﮐﻔﺮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﺍﺯ ﺩﯾﺎ،
ﮨﺮ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﯾﺎ، ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ،
ﮐﻠﻤﮯ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ،
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!
ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻣﺎﮞﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔
ھماری بے راہ روی ﮐﻠﻤﮯ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺲ ﻣﯿﮟ بہتﮐﭽﮫ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﯽ.
ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ... اپنی زندگی میں اسلام لانے کی کوشش کیجئے ورنہ ھم نے بھی بس کلمہ ہی پڑھا ھوا ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﺗﮭﮯ، ﺫﮬﻦ ﺍﺳﻼﻣﯽ، ﭼﮩﺮﮦ ﻣﮩﺮﮦ ﻏﯿﺮﺍﺳﻼﻣﯽ، ﮨﻢ ﺫﮬﻦ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ، ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ انگلینڈ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺟﺐ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺑﻐﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯿﮟ!
ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﯿﻢ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﯿﺎ.
ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ دﻭﭘﭩﮧ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﭼﻮﺭﯼ ﻣﯿﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﻮ دیکھتیں ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻣﯿﻠﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ.
ﺩﻭﻟﮩﺎ ﮐﯽ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﻓﺨﺮﯾﮧ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﭘﮭﺮﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﯿﺎ ﺍﻧﮕﻠﯿﻨﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﻢ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﭽﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﺎً ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭦ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ، ﺑﻼﺋﯿﮟ ﻟﯿﺘﯽ ﻟﯿﺘﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ. ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ.
ﺻﺮﻑ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ، ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐِﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮨﻮﮔﺌﮯ!
ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺗﮭﺎ، ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮔﺰﺭﺍ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ، ﻣﯿﺎﮞ ﮐﮯ ﺁﻓﺲ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﺑﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻣﮩﺮ ﺛﺒﺖ ﮐﺮﺗﯿﮟ! ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭼﮧ میگوئیاں ﮨﻮﺋﯿﮟ، ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﻔﺴﺎﺭ ﭘﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"
ﮔﺮﻣﯿﺎﮞ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﭘﯿﻨﭧ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﻧﯿﮑﺮ ﭘﮩﻨﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ، ﺍﺑﺎﺟﯽ نے ﺗﻮ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ، ﺍﻣﺎﮞ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﯽ ﺭﮨﺘﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ! ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺷﮑﻮﮦ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"
ﺍﯾﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺑﺮﯾﮏ ﻭ ﮐﯿﻨﺒﺮﮮ ﮈﺍﻧﺲ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺩﻝ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ، ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"
ﮔﻮﺭﯼ ﻋﯿﺪ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﺮﺳﻤﺲ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮮ ﺗﺰﮎ ﻭ ﺍﺣﺘﺸﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺗﯽ ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮨﺮ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ " ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"
ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ، ﺑﭽﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺧﺘﻨﮯ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ، ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮐﮭﺴﯿﺎﻧﯽ ﺳﯽ ﮬﻨﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻮﻟﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ''
ﮈﺍﻧﺲ، ﻣﯿﻮﺯﮎ، ﻓﻠﻤﯿﮟ، ﮐﺎﮎﭨﯿﻞ ﭘﺎﺭﭨﯿﺰ، ﮐﺮﺳﻤﺲ، ﺳﺮﻋﺎﻡ ﺑﻮﺱﻭﮐﻨﺎﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﮐﻠﭽﺮ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﮯ، ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﻓﺮﯼ ﮨﻮﺗﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ، ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺳﮩﯿﻠﯿﺎﮞ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ۔ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﯽ ﭘﯿﻨﭩﯿﮟ ﭘﮩﻦ ﭘﮩﻦ کر ﺷﯿﺸﮯ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ، ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﯿﮟ، ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﺎﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻤﻌﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"
ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﺳﮯ ﭼﭙﮏ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ، ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺟﮕﮧ ﺗﻨﮓ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻠﺘﺎ "ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ" ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻡ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﺟﯿﻨﺰ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﺳﺎ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﺘﯽ۔ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ ﮐﮧ
"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ"!!!!!!
🔷 "ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ" ﺑﮭﯽ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﻨﯽ ﻣﺰﺍﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﯿﺎﮦ ﻻﺋﮯ۔
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ، ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﻋﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﯾﺴﯽ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ، ﺍﺗﻨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﭼﭩﯽ..
"ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ"!!
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ جرأت ﻧﮧ ﮐﯽ. ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ.
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﻭﺍﺝ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﻟﮯ ﺁﺋﯽ،
ﻟﯿﮑﻦ ﻗﻮﻡ ﺧﻮﺵ ﮨﯽ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!
ﻣﻌﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮨﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﺎﭼﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻏﯿﺮ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﮭﺎ. ﻟﻮﮒ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺷﺮﮎ ﻭ ﮐﻔﺮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﺍﺯ ﺩﯾﺎ،
ﮨﺮ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﯾﺎ، ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ،
ﮐﻠﻤﮯ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ،
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!
ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻣﺎﮞﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔
ھماری بے راہ روی ﮐﻠﻤﮯ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺲ ﻣﯿﮟ بہتﮐﭽﮫ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﯽ.
ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ... اپنی زندگی میں اسلام لانے کی کوشش کیجئے ورنہ ھم نے بھی بس کلمہ ہی پڑھا ھوا ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🍃 حوا کی بیٹی 🍃
مدینہ کی گلیوں میں منادی کرنے والے کی صدا گونجتی ہے، کہ پردے کا حکم نازل ہو گیا ہے۔ بازار میں موجود بیبیاں، دیواروں کی طرف رخ پھیر لیتی ہیں، کچھ بالوں سے خود کو چھپاتی ہیں۔ کہ اب تو چادر کے بغیر گھر نہیں جائیں گی۔ بچوں کو دوڑاتی ہیں کہ گھر سے چادر لے آؤ۔ مرد حضرات منادی سنتے ہیں۔ گھروں کو لپک کر گھر کی خواتین کو یہ حکم سناتے ہیں۔ ان کو تاکید سے خود کو ڈھانپنے کا کہتے ہیں۔ مگر کوئی بیبی سوال نہیں کرتی کہ پردہ کس چیز سے کرنا ہے، چادر موٹی ہو یا باریک، آنکھیں کھلی ہوں یا چھپی، اور بس، خود کو ایسے چھپا لیتی ہیں جیسا کہ حق تھا۔ اگلے دن میں کوئی بھی بغیر پردے کے نظر نہیں آتی.
🍃تاریخ کچھ اوراق الٹتی ہے اور منظر تبدیل ہوتا ہے۔ شناختی کارڈ ہاتھ میں پکڑے، سکیورٹی گارڈ سامنے پردے میں کھڑی لڑکی سے کہتا ہے؛ "یہ آپ کی تصویر تو نہیں ہے، مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ یہ آپ ہی ہیں؟" لڑکی منت کرتی ہے کہ کسی خاتون سے کہہ دیجیے کہ وہ میری شکل دیکھ لے، مگر ہوس کا مارا گارڈ اپنی اس ذرا سی اتھارٹی کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے. "آپ کو چیک کرنا میری ذمہ داری ہے" اور پھر، حوا کی اس باحیا بیٹی کے پاس، اپنا نقاب سرکا دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔۔!
🍀ذرا سوچیے تو سہی ہم یہاں تک کیسے پہنچے؟ آدمؑ کے بیٹے اور محمدِِؐعربیؐ کی امت کے مرد کی غیرت کیا ہوئی کہ آج وہ خود بنتِ حوا کے پردے کے اترنے کا منتظر ہے؟ امت کی بیٹیوں میں سے چند نے سوال کیے بغیر حیا کو شعار بنایا تو چاروں جانب کانٹے کھڑے کیوں دیکھے؟ اس زہر کو اپنے اندر انڈیلتے رہنے پر احتجاج کی سکت ہم میں کیوں باقی نہ رہی؟
🌿یہ زہر ایک دم ہمارے وجود کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ ہمیں وقتاً فوقتاً تھوڑی تھوڑی مقدار میں اس کی خوراک دی جاتی رہی۔ یہ عمل غیر محسوس انداز میں جاری رہا کہ کبھی اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی.
🌱سر پر دوپٹا اوڑھے خبریں سناتی نیوز کاسٹرز کا دوپٹہ سرکتے سرکتے کندھوں تک جا پہنچا، ڈراموں میں کام کرتی خواتین کی آستین گھٹتی گھٹتی کندھوں تک جا پہنچی، اور ہم نے یہ گولیاں نگل لیں۔
چلتے چلتے یہ زہر ہمارے گھر کی دہلیز پار کر گیا، اور ہماری باحیا بہنوں اور بیٹیوں سے حجاب اتار پھینکنے کا تقاضا کرنے لگا۔ بےحسی کے عالم میں آدمؑ کے بیٹے نے اردگرد نظر دوڑائی تو یہ زہر ہر گھر میں فیشن اور ماڈرنزم کا خوبصورت لبادہ اوڑھے نظر آیا۔ "اس دور میں جینے کا یہی تقاضا ہے" کے نسخے نے اسے اس گولی کو نگلنے پر بھی آمادہ کر لیا۔
اور نوبت یہاں تک پہنچی، کہ آج جب کوئی سوال نہ کرنے والی اپنے حجاب کی تقدیم کا سوال کر بیٹھے، تو ایک ساتھ کئی انجیکشن اس کے جسم میں بھی اتار دیے جاتے ہیں۔۔
"منع بھی کیا تھا تمھیں کہ اس ٹینٹ جیسے پردے میں نہ چھپاؤ خود کو!"
"یہ تو سب کے ساتھ ہو رہا ہے!"
"لوگوں کے ساتھ اس سے بڑے بڑے واقعات ہوتے ہیں!"
"تم کیا کر سکتی ہو اس حال میں۔ کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا!"
"آئندہ کے لیے اس پردے سے جان چھڑا لو، کہ اب تو یہی ذریعہ ہے بچاؤ کا!"
اور پھر وہ سوال نہ کرنے والی سوال کرنے کی جرأت کھو بیٹھتی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی یا تو حجاب کو اتار پھینکتی ہے یا ہمیشہ کے لیے اپنا اعتماد کھو دیتی ہے!
سارے کا سارا ملبہ نسخہ بنانے والے پر ڈالنا عدل نہ ہوگا۔ دوا کو اپنے اندر انڈیلنے والا کیا آنکھیں اور دل نہ رکھتا تھا؟ رکھتا ہے دل، مگر ضمیر کو سلا بیٹھا ہے۔ گھر سے باہر حوا کی کوئی بیٹی نظر آئے تو سورۃالنور کا سبق بھول جاتا ہے جس میں اس کو پہلے نظر جھکانے کا حکم دیا گیا ہے:
ترجمہ:
"مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں خدا ان سے خبردار ہے."
اس حکم کا ادراک اسے اس وقت ہوتا ہے جب ویسی ہی ایک نظر اس کے اپنے گھر تک کسی کے تعاقب میں آ پہنچتی ہے۔ مگر افسوس کہ تب بھی مصلحت آ کر اس کے پاؤں پکڑ لیتی ہے اور وہ سسکتی بلکتی باکرہ کو اس مصلحت کا انجیکشن لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ کسی سوال نہ کرنے والی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور وہ سوتی قوم کی غیرت کو جگانے کے لیے خود اٹھ کھڑی ہو تو انگلیاں اسی کے کردار پر اٹھانے کا رواج بھی اسی قوم کا طرّہ امتیاز ہے۔ احتجاج کرنے والے کو عبرت کا نشان بنانے والے بھی ہم خود ہی ہیں۔ آواز بلند ہونے پر دبا دیے جانے کے ڈر سے خاموشی میں ہی عافیت جاننے سے نہ انقلاب آیا کرتے ہیں نہ زندگی کے آثار باقی رہتے ہیں۔
■یاد رکھیے کہ غیرت کا جنازہ اٹھ جانا حیا کی موت کی ہی طرف ایک قدم ہے۔ اس سے اگلا سبق تو ہمیں اکثر یاد دلایا جاتا ہے:
"حیا اور ایمان ہمیشہ اکھٹے رہتے ہیں، جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اٹھا لیا جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے." (حدیثِ نبویؐ)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/361
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
مدینہ کی گلیوں میں منادی کرنے والے کی صدا گونجتی ہے، کہ پردے کا حکم نازل ہو گیا ہے۔ بازار میں موجود بیبیاں، دیواروں کی طرف رخ پھیر لیتی ہیں، کچھ بالوں سے خود کو چھپاتی ہیں۔ کہ اب تو چادر کے بغیر گھر نہیں جائیں گی۔ بچوں کو دوڑاتی ہیں کہ گھر سے چادر لے آؤ۔ مرد حضرات منادی سنتے ہیں۔ گھروں کو لپک کر گھر کی خواتین کو یہ حکم سناتے ہیں۔ ان کو تاکید سے خود کو ڈھانپنے کا کہتے ہیں۔ مگر کوئی بیبی سوال نہیں کرتی کہ پردہ کس چیز سے کرنا ہے، چادر موٹی ہو یا باریک، آنکھیں کھلی ہوں یا چھپی، اور بس، خود کو ایسے چھپا لیتی ہیں جیسا کہ حق تھا۔ اگلے دن میں کوئی بھی بغیر پردے کے نظر نہیں آتی.
🍃تاریخ کچھ اوراق الٹتی ہے اور منظر تبدیل ہوتا ہے۔ شناختی کارڈ ہاتھ میں پکڑے، سکیورٹی گارڈ سامنے پردے میں کھڑی لڑکی سے کہتا ہے؛ "یہ آپ کی تصویر تو نہیں ہے، مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ یہ آپ ہی ہیں؟" لڑکی منت کرتی ہے کہ کسی خاتون سے کہہ دیجیے کہ وہ میری شکل دیکھ لے، مگر ہوس کا مارا گارڈ اپنی اس ذرا سی اتھارٹی کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے. "آپ کو چیک کرنا میری ذمہ داری ہے" اور پھر، حوا کی اس باحیا بیٹی کے پاس، اپنا نقاب سرکا دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔۔!
🍀ذرا سوچیے تو سہی ہم یہاں تک کیسے پہنچے؟ آدمؑ کے بیٹے اور محمدِِؐعربیؐ کی امت کے مرد کی غیرت کیا ہوئی کہ آج وہ خود بنتِ حوا کے پردے کے اترنے کا منتظر ہے؟ امت کی بیٹیوں میں سے چند نے سوال کیے بغیر حیا کو شعار بنایا تو چاروں جانب کانٹے کھڑے کیوں دیکھے؟ اس زہر کو اپنے اندر انڈیلتے رہنے پر احتجاج کی سکت ہم میں کیوں باقی نہ رہی؟
🌿یہ زہر ایک دم ہمارے وجود کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ ہمیں وقتاً فوقتاً تھوڑی تھوڑی مقدار میں اس کی خوراک دی جاتی رہی۔ یہ عمل غیر محسوس انداز میں جاری رہا کہ کبھی اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی.
🌱سر پر دوپٹا اوڑھے خبریں سناتی نیوز کاسٹرز کا دوپٹہ سرکتے سرکتے کندھوں تک جا پہنچا، ڈراموں میں کام کرتی خواتین کی آستین گھٹتی گھٹتی کندھوں تک جا پہنچی، اور ہم نے یہ گولیاں نگل لیں۔
چلتے چلتے یہ زہر ہمارے گھر کی دہلیز پار کر گیا، اور ہماری باحیا بہنوں اور بیٹیوں سے حجاب اتار پھینکنے کا تقاضا کرنے لگا۔ بےحسی کے عالم میں آدمؑ کے بیٹے نے اردگرد نظر دوڑائی تو یہ زہر ہر گھر میں فیشن اور ماڈرنزم کا خوبصورت لبادہ اوڑھے نظر آیا۔ "اس دور میں جینے کا یہی تقاضا ہے" کے نسخے نے اسے اس گولی کو نگلنے پر بھی آمادہ کر لیا۔
اور نوبت یہاں تک پہنچی، کہ آج جب کوئی سوال نہ کرنے والی اپنے حجاب کی تقدیم کا سوال کر بیٹھے، تو ایک ساتھ کئی انجیکشن اس کے جسم میں بھی اتار دیے جاتے ہیں۔۔
"منع بھی کیا تھا تمھیں کہ اس ٹینٹ جیسے پردے میں نہ چھپاؤ خود کو!"
"یہ تو سب کے ساتھ ہو رہا ہے!"
"لوگوں کے ساتھ اس سے بڑے بڑے واقعات ہوتے ہیں!"
"تم کیا کر سکتی ہو اس حال میں۔ کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا!"
"آئندہ کے لیے اس پردے سے جان چھڑا لو، کہ اب تو یہی ذریعہ ہے بچاؤ کا!"
اور پھر وہ سوال نہ کرنے والی سوال کرنے کی جرأت کھو بیٹھتی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی یا تو حجاب کو اتار پھینکتی ہے یا ہمیشہ کے لیے اپنا اعتماد کھو دیتی ہے!
سارے کا سارا ملبہ نسخہ بنانے والے پر ڈالنا عدل نہ ہوگا۔ دوا کو اپنے اندر انڈیلنے والا کیا آنکھیں اور دل نہ رکھتا تھا؟ رکھتا ہے دل، مگر ضمیر کو سلا بیٹھا ہے۔ گھر سے باہر حوا کی کوئی بیٹی نظر آئے تو سورۃالنور کا سبق بھول جاتا ہے جس میں اس کو پہلے نظر جھکانے کا حکم دیا گیا ہے:
ترجمہ:
"مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں خدا ان سے خبردار ہے."
اس حکم کا ادراک اسے اس وقت ہوتا ہے جب ویسی ہی ایک نظر اس کے اپنے گھر تک کسی کے تعاقب میں آ پہنچتی ہے۔ مگر افسوس کہ تب بھی مصلحت آ کر اس کے پاؤں پکڑ لیتی ہے اور وہ سسکتی بلکتی باکرہ کو اس مصلحت کا انجیکشن لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ کسی سوال نہ کرنے والی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور وہ سوتی قوم کی غیرت کو جگانے کے لیے خود اٹھ کھڑی ہو تو انگلیاں اسی کے کردار پر اٹھانے کا رواج بھی اسی قوم کا طرّہ امتیاز ہے۔ احتجاج کرنے والے کو عبرت کا نشان بنانے والے بھی ہم خود ہی ہیں۔ آواز بلند ہونے پر دبا دیے جانے کے ڈر سے خاموشی میں ہی عافیت جاننے سے نہ انقلاب آیا کرتے ہیں نہ زندگی کے آثار باقی رہتے ہیں۔
■یاد رکھیے کہ غیرت کا جنازہ اٹھ جانا حیا کی موت کی ہی طرف ایک قدم ہے۔ اس سے اگلا سبق تو ہمیں اکثر یاد دلایا جاتا ہے:
"حیا اور ایمان ہمیشہ اکھٹے رہتے ہیں، جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اٹھا لیا جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے." (حدیثِ نبویؐ)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/361
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN