ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌹 زیارت جنابِ سیدہ زهراءؑ 🌹

🌱السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ نَبِيِّ اللَّه، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ حَبِيبِ اللَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ خَلِيلِ اللَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ صَفِيِّ اللَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ أَمِينِ اللَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ خَيْرِ خَلْقِ اللَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ أَفْضَلِ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَمَلائِكَتِهِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ خَيْرِالْبَرِيَّةِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَاسَيِّدَةَ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَازَوْجَةَ وَلِيِّ اللَّهِ وَخَيْرِ الْخَلْقِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ.

🌱السَّلامُ عَلَيْكِ يَا أُمَّ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ سَيِّدَيْ شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَاالصِّدِّيقَةُ الشَّهِيدَةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الرَّضِيَّةُ الْمَرْضِيَّةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْفَاضِلَةُ الزَّكِيَّةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْحَوْرَاءُ الْإِنْسِيَّةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا التَّقِيَّةُ النَّقِيَّةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْمُحَدَّثَةُ الْعَلِيمَةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْمَظْلُومَةُ الْمَغْصُوبَةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْمُضْطَهَدَةُ الْمَقْهُورَةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَافَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى رُوحِكِ وَ بَدَنِكِ، أَشْهَدُ أَنَّكِ مَضَيْتِ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكِ.

🌱وَأَنَّ مَنْ سَرَّكِ فَقَدْ سَرَّ رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ جَفَاكِ فَقَدْ جَفَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ آذَاكِ فَقَدْ آذَى رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ وَصَلَكِ فَقَدْ وَصَلَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ قَطَعَكِ فَقَدْ قَطَعَ رَسُولَ اللَّهِ لِأَنَّكِ بَضْعَةٌ مِنْهُ وَ رُوحُهُ الَّذِي بَيْنَ جَنْبَيْهِ كَمَا قَالَ أُشْهِدُ اللَّهَ وَرُسُلَهُ وَ مَلائِكَتَهُ أَنِّي رَاضٍ عَمَّنْ رَضِيتِ عَنْهُ سَاخِطٌ عَلَى مَنْ سَخِطْتِ عَلَيْهِ مُتَبَرِّئٌ مِمَّنْ تَبَرَّأْتِ مِنْهُ مُوَالٍ لِمَنْ وَالَيْتِ مُعَادٍ لِمَنْ عَادَيْتِ مُبْغِضٌ لِمَنْ أَبْغَضْتِ مُحِبٌّ لِمَنْ أَحْبَبْتِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيداً وَحَسِيباً وَ جَازِياً وَ مُثِيباً.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 دختر رسول فاطمةالزھراءؑ کے بارے میں پوسٹس۔۔۔

🔶 شہادت سیدہ زھراءؑ، تجہیز و تدفین
https://t.me/islamwitheman/301

🔶 شہادت بیبی زهراءؑ بزبان رسول اکرمؐ
https://t.me/islamwitheman/305

🔶 بوقت دفن بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/306

🔶 دختر رسول (ص)
https://t.me/islamwitheman/312

🔶 وصیت حضرت فاطمةالزھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/313

🌹 بیبی زھراءؑ کے ہار کی برکتیں
https://t.me/islamwitheman/314

🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318

🔶 حضرت فاطمةالزھراءؑ کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/319

🌺 ولادت باسعادت حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/431

🌹 فضیلت سیدہ فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/436

🌹 حضرت فاطمہؑ کا نام گرامی
https://t.me/islamwitheman/437

🌟 اُمُّ اَبِیھا
https://t.me/islamwitheman/446

🌷 فضائل حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/449

🌹 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ
http://t.me/islamwitheman/3676

🌷 نور کی نور سے شادی
http://t.me/islamwitheman/3677

🌹 خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ
http://t.me/islamwitheman/3678

💐 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز
http://t.me/islamwitheman/3679

⚪ سیدہ زھراءؑ کی رخصتی مبارک
http://t.me/islamwitheman/3760

💝 حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی
http://t.me/islamwitheman/3762

🌹 حضرت فاطمہ زھراءؑ 40 احادیث
https://t.me/islamwitheman/2252
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 ﺣﻀﺮﺕ فاطمةالزهراءؑ کی شہادت 🔶

اہلسنت کے علماء نے اپنی کُتب میں لکھا ہے کہ حضور اکرمؐ کی وفات کے بعد کچھ لوگوں نے بشمول حضرت علیؑ کے بیعت نہیں کی. حضرت علیؑ گوشہ نشین ہو گئے اس پر حضرت عمر آگ اور لکڑیاں لے آئے اور کہا کہ گھر سے نکلو ورنہ ہم آگ لگا دیں گے. حضرت فاطمہؑ نے کہا کہ اس گھر میں حضور اکرمؐ کے نواسے حسنینؑ موجود ہیں. انہوں نے کہا کہ ہونے دیں.(1)

حضرت علیؑ کے باہر نہ آنے پر گھر کو آگ لگا دی گئی. حضرت فاطمہؑ دوڑ کر دروازہ کے قریب آئیں اور کہا کہ ابھی تو میرے باپ کا کفن میلا نہ ہوا. یہ تم کیا کر رہے ہو. اس پر ان پر دروازہ گرا دیا اسی ضرب سے حضرت فاطمہؑ شہید ہوئیں.(2)

کچھ روایات کے مطابق ان کے بطن میں محسن شہید ہوئے. ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ محسن کا ذکر کسی معتبر تاریخ میں نہیں اس لیے اس بات کو نہ ماننا چائیے. لیکن کچھ کتابوں میں یہ ذکر موجود ہے.(3)

لوگ جب گھر میں گھسے تو حضرت فاطمہؑ نے کہا کہ خدا کی قسم گھر سے نکل جاؤ ورنہ سر کے بال کھول دوں گی اور خدا کی بارگاہ میں سخت فریاد کروں گی.(4)

اس مکمل واقعہ کی روایت بشمول آگ لگانا اور دروازہ گرانے کے ابن قیتبہ ابوالفداء ابن عبدربہ وغیرہ نے بھی کی ہے.(5)

ویسے تو اہلسنت کے علماء نے اس حقیقت کا انکار کیا ہے اور جنہوں نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے اُنہوں نے اس کا دفاع کرنے کی بھی کوشش کی ہےجیسے علامہ شبلی نعمانی نے ان واقعات کی صحت کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ روایت کے مطابق اس واقعہ سے انکار کی کوئی وجہ نہیں اور حضرت عمر کی تندی اور تیز مزاجی سے یہ حرکت کچھ بعید نہیں. حقیقت یہ ہے کہ اس نازک وقت میں حضرت عمر نے تیزی اور سرگرمی کے ساتھ جو کاروائیاں کیں ان میں گو بعض بے اعتدالیاں پائی جاتی ہیں لیکن یاد رکھنا چائیے کہ انہی بے اعتدالیوں نے اٹھتے ہوئے فتنوں کو دبا دیا. بعض بنوہاشم کی سازشیں اگر قائم رہتیں تو اسی وقت جماعت اسلامی کا شیرازہ بکھر جاتا اور وہی خانہ جنگیاں برپا ہو جاتیں تو آگے جا کر حضرت علیؑ اور معاویہ بن ابی سفیان کے دور میں پیدا ہوئیں.(6)

بنواُمیہ کے ٹکڑوں پر پلنے والے شاہ عبدالعزیز نے لکھا ہے کہ یہ قصہ افترا ہے اور اس کی کچھ اصل نہیں اگر جلانے کی دھمکی دی گئی تھی تو اس کا مقصد صرف ڈرانا تھا کیونکہ ایسے لوگ اس گھر میں پناہ لیے ہوئے تھے جو حضرت ابوبکر کی خلافت لوٹ پوٹ کرنے کے واسطے صلاح و مشورہ کرتے تھے. یہ فعل حضرت عمر سے مطابق فعل معصوم وقوع میں آیا (کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی ترک نماز کرنے والوں کے گھر کو آگ سے پھونکنے کی دھمکی دی تھی) اس لیے طعن کیوں ہو.(7)

حضرت فاطمہؑ کے جنازے میں حضرت علیؑ، حضرت حسنؑ و حسینؑ، حضرت عقیل ابن ابیطالب،ؑ حضرت سلمان فارسی، حضرت ابوذر غفاری، حضرت مقداد ابن اسود، حضرت عمار ابن یاسر اور حضرت بریدہ شریک تھے.(8)

دیگر روایات میں حضرت حذیفہ یمانی، حضرت عباس، حضرت فضل، حضرت عبد اللہ ابن مسعود کا ذکر ہے. حضرت عبد اللہ ابن زبیر کا ذکر بھی آتا ہے.(9)

صحیح بخاری میں درج ہے کہ حضرت فاطمہؑ نے وصیت کی تھی کہ ابوبکر و عمر ان کے جنازے میں شریک نہ ہوں.(10)

کچھ اور جگہ آتا ہے کہ حضرت فاطمہؑ نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی جنازے میں نہ آئے جن سے میں ناراض ہوں.(11)

اکثر اور مشہور روایات کے مطابق جنةالبقیع میں دفن کیا گیا. چالیس دیگر قبریں بھی بنائی گئیں تاکہ اصل قبر کا پتہ نہ چل سکے.(12)

اللهم العن قاتلي فاطمةالزهراء.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات:
(1)منتخب کنزالعمال از حاشیہ مسند احمد بن حنبل، جلد2، ص:174، مطبوعہ مصر.
الاستیعاب از ابن عبدالبر، ص:345 در ذکر ابوبکر بن ابی قحافہ.
(2)مدارج النبوۃ، رکن4، باب:3، ص:42 از عبدالحق دہلوی.
(3)روائح المصطفیٰ از مولوی صدرالدین حنفی، ص:28.
(4)تاریخ یعقوبی، جلد2، ص:116.
(5)الامامة والسياسة از ابومحمدعبداللہ بن مسلم قیتبہ، متوفی276ھ، جلد1، ص:12.
تاریخ بلاذری در تذکرۂ بیعت حضرت ابوبکر.
عقدالفرید از امام شہاب الدین احمد معروف بہ ابن عبدربہ اندلسی، جلد2، ص:176، مطبوعہ مصر.
تاریخ ابوالفداء از امام اہل سنت عماد الدین اسماعیل بن علی ابوالفداء، اردو ترجمہ از مولوی کریم الدین حنفی، ص:177۔179.
(6)الفاروق از شبلی نعمانی، حصہ اول ص:113.
(7)تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز مطبوعہ نولکشور.
(8)مناقب شہر آشوب از حافظ محمد ابن علی شہر آشوب.
(9)تاریخ طبری از جریر الطبری.
(10)صحیح البخاری، جلد2، کتاب المغازی.
(11)طبقات ابن سعد الجز الثامن.
(12)دلائل الامامۃ از جریر الطبری.

https://t.me/islamwitheman/318
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 پردہ پوشی 🌺

بنی اسرائیل کے زمانے میں ایک مرتبہ قحط پڑ گیا، مدتوں سے بارش نہیں ہو رہی تھی۔ لوگ حضرت موسیٰؑ کے پاس گئے اور عرض کیا:
یاکلیم اللہ! رب تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ بارش نازل فرمائے۔۔۔
چنانچہ حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو ہمراہ لیا اور بستی سے باہر دعا کے لیے آ گئے۔ یہ لوگ ستر ہزار یا اس سے کچھ زائد تھے۔ موسیٰؑ نے بڑی عاجزی سے دعا کرنا شروع کی....
"میرے پروردگار! ہمیں بارش سے نواز، ہمارے اوپر رحمتوں کی نوازش کر۔۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے، بے زبان جانور اور بیمار سبھی تیری رحمت کے امیدوار ہیں، تو ان پر ترس کھاتے ہوئے ہمیں اپنے دامنِ رحمت میں جگہ دے."

دعائیں ہوتی رہیں مگر بادلوں کا دور دور تک پتہ نہ تھا، سورج کی تپش اور تیز ہو گئی۔

حضرت موسیٰؑ کو بڑا تعجب ہوا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کے قبول نہ ہونے کی وجہ پوچھی تو وحی نازل ہوئی:
"تمہارے درمیان ایک ایسا شخص ہے جو گزشتہ چالیس سالوں سے مسلسل میری نافرمانی کر رہا ہے اور گناہوں پر مصر ہے۔ اے موسیٰ! آپ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ وہ نکل جائے، کیونکہ اس آدمی کی وجہ سے بارش رُکی ہوئی ہے اور جب تک وہ باہر نہیں نکلتا بارش نہیں ہوگی."

حضرت موسیٰؑ نے عرض کیا:
باری تعالیٰ! میں کمزور سا بندہ، میری آواز بھی ضعیف ہے، یہ لوگ ستر ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہیں، میں ان تک اپنی آواز کیسے پہنچاؤں گا؟

جواب ملا:
"تیرا کام آواز دینا ہے، پہنچانا ہمارا کام ہے."
حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو آواز دی، اور کہا:
"اے رب کے گناہگار اور نافرمان بندے! جو گزشتہ چالیس سال سے اپنے رب کو ناراض کر رہا ہے اور اس کو دعوتِ مبارزت دے رہا ہے ۔۔۔ لوگوں میں سے باہر آجا، تیرے ہی کالے کرتوتوں کی پاداش میں ہم بارانِ رحمت سے محروم ہیں."

اس گناہگار بندے نے اپنے دائیں بائیں دیکھا، کوئی بھی اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ وہ سمجھ گیا کہ وہی مطلوب ہے۔ سوچا کہ اگر میں تمام لوگوں کے سامنے باہر نکلا تو بےحد شرمندگی ہوگی اور میری جگ ہنسائی ہوگی۔ اور اگر میں باہر نہ نکلا تو محض میری وجہ سے تمام لوگ بارش سے محروم رہیں گے۔
اب اس نے اپنا چہرہ اپنی چادر میں چھپالیا، اپنے گزشتہ افعال و اعمال پر شرمندہ ہوا اور یہ دعا کی:
"اے میرے رب! تو کتنا کریم ہے اور بردبار ہے کہ میں چالیس سال تک تیری نافرمانی کرتا رہا اور تو مجھے مہلت دیتا رہا۔ اور اب تو میں یہاں تیرا فرمانبردار بن کر آیا ہوں، میری توبہ قبول فرما اور مجھے معاف فرما کر آج ذلت و رسوائی سے بچالے."

ابھی اس کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ آسمان بادلوں سے بھر گیا اور موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔

اب حضرت موسیٰؑ نے دوبارہ عرض کیا:
یا الہٰی! آپ نے بارش کیسے برسانا شروع کردی، وہ نافرمان بندہ تو مجمع سے باہر نہیں آیا؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اے موسیٰ! جس کی بدولت میں نے بارش روک رکھی تھی اسی کی بدولت اب بارش برسا رہا ہوں، اس لیے کہ اس نے توبہ کر لی ہے.

موسیٰؑ نے عرض کیا:
یا اللہ! اس آدمی سے مجھے بھی ملا دے تاکہ میں اس کو دیکھ لوں؟
فرمایا:
"اے موسیٰ! میں نے اس کو اس وقت رسوا اور خوار نہیں کیا جب وہ میری نافرمانی کرتا رہا، اور اب جب کہ وہ میرا مطیع اور فرمانبردار بن چکا ہے تو اسے کیسے شرمندہ اور رسوا کروں؟"

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ: نام کتاب: سنہرے اوراق

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﻓَﺤَﺴِّﻦْ ﺧُﻠُﻘِﻲ 🔷

اچھا ﻭﮦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﻗﺪ والی لڑکی؟ اچھا وہ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻭﺍﻟﯽ؟ ﺟﻮ ﯾﻮﮞ ﭼﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ؟ (ﻧﻘﻞ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ)

ﮐﻮﻧﺴﺎ لڑکا؟
ﻭﮦ ﮔﻨﺠﺎ؟
وہ ﻣﻮﭨﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﻭﺍﻻ؟
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﺍﺗﻨﺎ "بدصورت" ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ؟

🌹 ﮨﻢ "ﺳﻮﺭﮦ ﺗﯿﻦ" ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﺎﺭ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ تعالیٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ..

ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﺍﻧﺠﯿﺮ
ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺘﻮﻥ ﮐﯽ
ﺍﻭﺭ ﻃﻮﺭِ ﺳﯿﻨﺎ ﮐﯽ
ﺍﻭﺭ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ
ﺑﯿﺸﮏ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺳﺎﺧﺖ ﭘﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ.

● ﮐﺘﻨﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ.
ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻟﻤﺒﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﻨﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ، ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﮐﺎﻻ، ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻧﺎﮎ ﻣﻮﭨﯽ، ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺩﺍﻧﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﻮﭼﮫ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﺎﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﺒﺼﺮﮮ، ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ...
ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺣﺴﯿﻦ ﭼﮩﺮہ ﺳﺒﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺣﺴﻦ ﺑﮭﯽ ﺭﺏ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ، ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﻣﮩﺮﮮ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺁﭖ ﺍﮌﺍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺲ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﮑﺐ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺭﺏ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺳﺮﯼ، ﺗﺴﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﺣﺴﻦ ﺗﻘﻮﯾﻢ (ﺑﮩﺘﺮﯾﻦﺳﺎﺧﺖ) ﭘﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺬﻕ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﯾﮧ ﯾﺎﺩ ﮨﯽ ﮐﺐ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ.!!

● ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺑﻞِ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺟﻐﺮﺍﻓﯿﺎﺋﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻢ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﻮﭼﮯ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭼﺎﺋﻨﯿﺰ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﮯ ﻗﺪ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮎ ﮐﺎ، ﺍﻧﮑﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﭘﮭﯿﻨﯽ/ ﭼﭙﭩﯽ ﻧﺎﮎ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ریفر ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻓﺮﯾﻘﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﻨﮕﺮﯾﺎﻟﮯ ﺑﺎﻝ، ﭼﻮﮌﯼ ﺟﺴﺎﻣﺖ، ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﻧﮑﻮ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﻣﺼﻮﺭ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔

ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺃَﻧْﺖَ ﺣَﺴَّﻨْﺖَ ﺧَﻠْﻘِﻲ ﻓَﺤَﺴِّﻦْ ﺧُﻠُﻘِﻲ.
ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ! ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﻮ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ (ﺑﺎﮨﺮسے) ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ، ﮨﻤﺎﺭﺍ (ﺍﻧﺪﺭ) ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ۔

● ﺭﻭﺯﻭﯾﻠﭧ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻗﻮﻝ ﯾﺎﺩ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ:
"Great minds discuss ideas; average minds discuss events; small minds discuss people."

ﺍﺳﮑﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﯼ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﺲ ﮐﯿﭩﯿﮕﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ..

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ بُڑھیا اور ٹوٹا ہوا مٹکا ⭕

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻨﯽ بُڑھیا ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻭ ﻣﭩﮑﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﻟﮑﮍﯼ ﭘﺮ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﺮ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﻻﺗﯽ۔
ﺍﻥ ﺩﻭ ﻣﭩﮑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ، ﻣﮕﺮ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﭽﮫ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ تھا۔

ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﯾﮧ بُڑھیا ﻧﮩﺮ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺘﯽ ﺗﻮ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ مٹکے ﮐﺎ ﺁﺩﮬﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺑﮩﮧ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻣﭩﮑﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺘﺎ۔
ﺛﺎﺑﺖ ﻣﭩﮑﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺎﺭﮐﺮﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮨﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ، ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺧﺮ ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﺎ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﻮﻗﻊ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ھﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺩﻭ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺗﮏ ﻧﺎﮐﺎﻣﯽ ﮐﯽ ﺗﻠﺨﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮍﻭﺍﮨﭧ ﻟﺌﮯ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ مٹکے ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﻣﻌﺬﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﺗﻢ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺸﻘﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﻻﺗﯽ ﮨﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺳﺎﺭﺍ پانی ﺻﺮﻑ ﻣﯿﺮﮮ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮔﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔۔!"

مٹکے ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ بُڑھیا ﮨﻨﺲ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ:
"ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ گزشتہ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﺴﻄﺮﻑ ﺳﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻻﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺍُﺩﮬﺮ ﺗﻮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﻮﺩﮮ ﮨﯽ ﭘﻮﺩﮮ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﺒﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍُﮔﺎ ﮨﻮﺍ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮔﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﮩﺮ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﯿﺞ ﺑﻮ ﺩﯾﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺁﻧﮯ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺭﻭﺯآنہ ﺍﺱ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮨﻮﺗﮯ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻥ ﺩﻭ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﻥ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮔﻠﺪﺳﺘﮯ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺳﺠﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﮑﺎﯾﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﮩﺎﺭ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮨﯽ ﻧﮧ ﭘﺎﺗﯽ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻡ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ۔۔۔!"

لہٰذا دوستو! اگر کسی انسان کے اندر کسی قسم کی بھی کوئی معذوری یا کمی ہے تو بجائے اِس کے کہ وہ اُس کے غم میں نڈھال ہو جائے، اُسے چاہیے کہ وہ اُس کمی کے خلاء کو اپنی محنت اور کارکردگی سے پُر کرنے کی کوشش کرے، اور اپنا دل بالکل بھی چھوٹا نہ کرے۔ کیونکہ یہ دنیا دارالعمل ہے، چنانچہ جو یہاں بیجو گے، اگلے جہان میں وہی کاٹو گے، لیکن اُس کے لیے عمل کرنا بہت ضروری ہے۔۔!!

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Forwarded from ISLAM WITH EMAN
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🔷 ماں اور باپ 🔷

ابابیل اپنا گھونسلہ کنوئیں میں بناتی ھے.. اس کے پاس اپنے بچوں کو اڑنے کی عملی تربیت دینے کے لئے نہ تو کوئی اسپیس یا سہولت دستیاب ھوتی ھے اور نہ ھی وہ کچی تربیت کے ساتھ بچوں کو اڑنے کا کہہ سکتی ھے کیونکہ پہلی اڑان میں ناکامی کا مطلب پانی کی دردناک موت ھے.. مزید کسی ٹرائی کے امکانات زیرو ھیں...

آج تک اگر کسی نے ابابیل کے کسی مرے ھوئے بچے کو کنوئیں میں دیکھا ھے تو بتا دے... ابابیل بچوں کے حصے کی تربیت بھی اپنی ذات پر کرتی ھے... بچوں سے پہلے اگر وہ اپنے گھونسلے سے دن بھر میں 25 اڑانیں لیتی تھی تو بچے انڈوں سے نکلنے کے بعد 75 اڑانیں لیتی ھے... یوں ماں اور باپ 150 اڑانیں لیتے ھیں تا آنکہ اپنے بچوں کا دل و دماغ اس یقین سے بھر دیتے ھیں کہ یہاں سے اڑ کر سیدھا باھر جانا ھے اور بس.!! اور کوئی آپشن نہیں ھے..
ایک دن آتا ھے کہ بچہ ھاتھ سےنکلے ھوئے پتھر کی طرح گھونسلے سے نکلتا ھے اور سیدھا جا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ جاتا ھے.!!!

ھماری اولاد ھمارے یقین میں سے اپنا حصہ پاتی ھے.. اگر ھم خود یقین اور عمل سے تہی دست ھونگے تو اولاد کو کیا دیں گے..؟

بچوں کو کہانیاں نہ سنایئے بلکہ عمل کر کے دکھایئے...

یقین کریں وہ جتنا آپ پر اعتماد کرتے ھیں دنیا کے کسی کتابی ھیرو پہ نہیں کرتے...

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ ماں کی ناراضگی کا اثر ⭕

سعید بن یسار سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادقؑ سے سُنا کہ آپ نے فرمایا:
ایک جوان حالتِ احتضار میں تھا کہ پیغمبرِ اکرمؐ اس کے پاس حاضر ہوئے اور آپؐ نے اس سے فرمایا:
کہو ''لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ''

لیکن اس کی زبان میں رکاوٹ پیدا ہوگئی اور وہ یہ کلمات ادا نہ کرسکا۔ آپؐ نے ایک عورت سے جو اُس کے سرہانے کھڑی تھی فرمایا:
کیا تو اس جوان کی ماں ہے؟

عورت نے جواب دیا:
ہاں، میں اس کی ماں ہوں۔

آپؐ نے پوچھا:
کیا تو اپنے بیٹے سے ناراض ہے؟
اس نے عرض کیا:
ہاں یا رسول اﷲ! میں نے چھ سال اس سے کوئی بات نہیں کی ہے۔

آپؐ نے فرمایا:
اسے معاف کردو۔
عورت نے کہا:
خدا اس سے راضی ہوجائے، میں اور آپ بھی راضی ہو جائیں.

پیغمبرِ اکرمؐ نے جوان سے دوبارہ وہی (شہادتین کے) کلمات کہلوائے تو اس مرتبہ اس کی زبان پر جاری ہوگئے۔

پیغمبرِ اکرمؐ نے جوان سے سوال کیا:
تم کیا دیکھ رہے ہو؟
جواب دیا:
ایک سیاہ رنگ کا ڈراؤنی چہرہ دیکھ رہا ہوں جو میرے قریب ہے میری گردن کو پکڑ رکھا ہے اور اس سے سخت بدبو آرہی ہے۔
پیغمبر اکرم صلعم نے فرمایا:
کہو: «يا من يقبل اليسير و يعفو عن الکثير اقبل منّى اليسير واعف عنّى الکثير إنّک أنت الغفور الرّحيم»
اس نے یہ کلمات زبان پر جاری کیے.

پیغمبرِ اکرمؐ نے سوال کیا:
اب کیا دیکھ رہے ہو؟
جواب دیا:
ایک خوبصورت جوان اچھا لباس زیب تن کیے ہوئے میری طرف آرہا ہے اور اس سے اچھی خوشبو آرہی ہے اور وہ سیاہ چہرے والا مجھ سے دور ہو رہا ہے۔

پیغمبرِ اکرمؐ نے فرمایا:
وہی کلمات دوبارہ زبان پر جاری کرو۔
اس نے دوبارہ وہ کہے اور آپ نے اس سے پھر سوال کیا:
اب کیا دیکھ رہے ہو؟
وہ سیاہ چہرے والا غائب ہوگیا اور اب مجھے صرف نورانی چہرہ نظر آرہا ہے، اسی حالت میں اس کی روح پرواز ہوگئی۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات
1. من لایحضرہ الفقیہہ، ج1، ص132
2. امالی شیخ مفید، مجلس34، حدیث6، ص288.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌳 ﺑﺎﭖ کی پشت پناہی 🌳

ﺑﺎﭖ ﻋﺎﻟﯿﺸﺎﻥ ﻣﻨﺼﺐ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﯿﺸﺎﻥ ﺩﻓﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ، ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﺮﯼ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺩﻝ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﭽﻼ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﻓﺨﺮ ﺳﮯ ﻣﻐﻠﻮﺏ ﮨﻮ ﮐﺮ، ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺑﯿﭩﮯ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ، ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺟﮭﭧ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: ﻣﯿﮟ۔

ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﻟﮕﺎ، ﺗﺎئید ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺑﯿﭩﮯ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﯿﺴﯽ ﻣﺘﺎﻧﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ ﺩﮬﯿﻤﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: "ﻣﯿﮟ"

ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﻣﺘﻐﯿﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﺻﺪﻣﮯ ﺳﮯ ﺩﻝ ﺑُﺠﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﻟﮩﺮﺍ ﮔﺌﮯ۔ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺍُﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻗﺪﻡ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺌﮯ۔
ﺩﻓﺘﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﺭُﮐﺎ، ﻣُﮍ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺑﯿﭩﮯ، ﺍﺱ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺗﻮﻗﻒ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﺁﭖ"

ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎﺀ نہ ﺭﮨﯽ، ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﺳﻮﭺ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ، ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﻗﺪﻡ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﮍ ﮐﺮ ﺍﻧﺪﺭ ﺁ ﮐﺮ ﺁﮨﺴﺘﮕﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ، ﯾﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﯿﺴﯽ؟
ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺟﺐ آﭖ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺩنیا ﮐﺎ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺟﺐ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺍُﭨﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ آﭖ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔

■ ﺩﯾﮑﮭﯿﺌﮯ! ﺍﮔﺮ ﺑﺎﭖ ﺑﻘﯿﺪ ﺣﯿﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ، ﺻﺤﺖ ﻭ ﺗﻨﺪﺭﺳﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ، ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﻟﺘﻤﻨﺪﯼ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﻘﯿﺮﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ، ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻃﺎﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﺠﺎﺀ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﻦ ﻭ ﺍﻣﺎﻥ ﮐﺎ ﺿﺎﻣﻦ ﮨﮯ۔

● ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮ ﺍﻥ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺘﻮﮞ ﮐﻮ، ﺟﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ۔

🔘 ﻭﺍﻟﺪ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ، ﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﮨﮯ۔

Father is the great blessing of ALLAH.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ عمل کا ردِّعمل ⭕

بیگم نے آئینے میں لپ اسٹک ٹھیک کرتے ہوئے اپنی ساس سے کہا:

ماں جی:
آپ اپنا کھانا بنا لینا.. مجھے اور انہیں آج ایک پارٹی میں جانا ہے۔

بوڑھی ماں نے کہا:
بیٹی مجھے گیس والا چولہا جلانا نہیں آتا۔

تب بیٹے نے کہا:
ماں! پاس والے دربار میں آج لنگر ہے۔ تم وہاں چلی جاؤ نا کھانا بنانے کی کوئی نوبت ہی نہیں آئے گی۔

ماں چپ چاپ اپنی چپل پہن کر دربار کی طرف ہو چلی۔

یہ سارا واقعہ ان کا 10 سالہ بیٹا سن رہا تھا۔ پارٹی میں جاتے وقت راستے میں اس نے اپنے پاپا سے کہا:
پاپا! میں جب بہت بڑا آدمی بن جاؤں گا نا تب میں بھی اپنا گھر کسی دربار کے پاس ہی بناؤں گا۔
ماں نے اس کی وجہ پوچھی: کیوں بیٹا؟

تو اس نے جو جواب دیا اسے سن کر (اس کے ماں باپ) کا سر شرم سے نیچے جھک گیا جو اپنی ماں کو دربار میں چھوڑ آئے تھے.

اس بچے نے کہا: کیونکہ ماں جب مجھے بھی کسی دن ایسی ہی پارٹی میں جانا ہوا تو تم بھی تو کسی دربار میں لنگر کھانے جاؤ گی نا۔ اور میں نہیں چاہتا کہ تمہیں کہیں دور کسی دربار میں جانا پڑے۔

■ پتھر تب تک سلامت ہے جب تک وہ پہاڑ سے منسلک رہے۔ پتّا تب تک سلامت ہے جب تک وہ درخت سے منسلک ہے۔ اور انسان تب تک سلامت ہے جب تک وہ خاندان سے منسلک ہے۔ کیونکہ خاندان سے الگ ہو کر آزادی تو مل جاتی ہے لیکن آزادی کی خوشیاں نصیب نہیں ہوتیں۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 چِڑیا کی نصیحتیں 🔷

ایک شخص نے چِڑیا پکڑنے کے لئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چِڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا..

چِڑیا نے اس سے کہا:
اے انسان! تم نے کئی ہرن، بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ہیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ہے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ہے اس سے تُمہارا کیا بنے گا..؟ تُمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مُجھے آزاد کردو تو میں تمہیں تین نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ہوگا.. ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی کروں گی.. جبکہ دوسری اس وقت جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کروں گی جب دیوار سے اُڑ کر سامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.

اُس شخص کے دل میں تجسس پیدا ہوا کہ نہ جانے چِڑیا کیا فائدہ مند نصیحتیں کرے.. اس نے چِڑیا کی بات مانتے ہوئے اس سے کہا:
تم مجھے پہلی نصیحت کرو، پھر میں تمہیں چھوڑ دونگا..
چنانچہ چِڑیا نے کہا:
🌹 میری پہلی نصیحت یہ ہے کہ..
"جو بات کبھی نہیں ہو سکتی اسکا یقین مت کرنا."
یہ سن کر اس آدمی نے چِڑیا کو چھوڑ دیا اور وہ سامنے دیوار پر جا بیٹھی.. پھر بولی:
🌹 میری دوسری نصیحت یہ ہے کہ..
"جو بات ہو جاۓ اسکا غم نہ کرنا."

اور پھر کہنے لگی:
اے بھلے مانس! تم نے مجھے چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی، کیونکہ میرے پیٹ میں پاؤ بھر کا انتہائی نایاب پتھر ہے، اگر تم مجھے ذبح کرتے اور میرے پیٹ سے اس موتی کو نکال لیتے تو اس کے فروخت کرنے سے تمہیں اس قدر دولت حاصل ہوتی کہ تمہاری آنے والی کئی نسلوں کے لئے کافی ہوتی.. اور تم بہت بڑے رئیس ہو جاتے..
اس شخص نے جو یہ بات سُنی تو افسوس کرنے لگا.. اور پچھتایا کہ چِڑیا کوچھوڑ کر اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی.. اگر اسے نہ چھوڑتا تو میری نسلیں سنور جاتیں.. چِڑیا نے اسے اس طرح سوچ میں پڑے دیکھا تو اُڑ کر درخت کی شاخ پر جا بیٹھی اور بولی:

اے بھلے مانس! ابھی میں نے تمہیں پہلی نصیحت کی جسے تم بھول گئے کہ "جو بات نہ ہوسکنے والی ہو اسکا ہرگز یقین نہ کرنا" لیکن تم نے میری اس بات کا اعتبار کر لیا کہ میں چھٹاک بھر وزن رکھنے والی چِڑیا اپنے پیٹ میں ایک پاؤ وزن کا موتی رکھتی ہوں.. کیا یہ ممکن ہے..؟
میں نے تمہیں دوسری نصیحت یہ کی تھی کہ "جو بات ہو جاۓ اسکا غم نہ کرنا" مگر تم نے دوسری نصیحت کا بھی کوئی اثر نہ لیا اور غم و افسوس میں مبتلا ہو گئے کہ خواہ مخواہ مجھے جانے دیا.. تمہیں کوئی بھی نصیحت کرنا بالکل بیکار ہے.
تم نے میری پہلی دو نصیحتوں پر کب عمل کیا جو تیسری پر کرو گے.. تم نصیحت کے قابل نہیں.
یہ کہتے ہوۓ چِڑیا پُھر سے اُڑی اور ہوا میں پرواز کر گئی..

وہ شخص وہیں کھڑا چِڑیا کی باتوں پر غور و فکر کرتے ہوۓ سوچوں میں کھو گیا..!!

■ وہ لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں جنہیں کوئی نصیحت کرنے والا ہو.. ہم اکثر خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہوۓ اپنے مخلص ساتھیوں اور بزرگوں کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرتے.. اور اس میں نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے.. یہ نصیحتیں صرف کہنے کی باتیں نہیں ہوتیں کہ کسی نے کہہ لیا، ہم نے سن لیا.. بلکہ دانائی اور دوسروں کے تجربات سے حاصل ہونے والے انمول اثاثے ہیں.. جو یقینناً ہمارے لئے مشعلِ راہ ثابت ہو سکتے ہیں اگر ہم ان نصیحتوں پر عمل بھی کریں..!!

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚حکایات رومی.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🔷 نوکری اور کام (حصہ أول) 🔷

نوجوان کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس نے اچھی پوزیشن کے ساتھ ایم بی اے کیا ہوا تھا وہ جہاں بھی نوکری کے لئے درخواست دیتا، صاف جواب مل جاتا لہٰذا وہ بری طرح داخلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ میں نے اس سے کہا؛ میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں..
کیپ ٹاﺅن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘ اس یونیورسٹی نے تین سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو ”ماسٹر آف میڈیسن“ کی اعزازی ڈگری دی جس نے زندگی میں کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا اور نہ ہی لکھ سکتا تھا لیکن 2003ء کی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا، ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے، جو ایک غیر معمولی استاد اور ایک حیران کن سرجن ہے اور جس نے میڈیکل سائنس اور انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ہیملٹن کا نام لیا اور پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا۔ یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا.
نوجوان چپ چاپ سنتا رہا۔ میں نے عرض کیا ”ہیملٹن کیپ ٹاﺅن کے ایک دور دراز گاﺅں سنیٹانی میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین چرواہے تھے، بچپن میں اس کاوالد بیمار ہوگیا لہٰذا وہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر کیپ ٹاﺅن آگیا۔ ان دنوں کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی میں تعمیرات جاری تھیں۔ وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔ وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔ اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، و ہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا.
پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا اور وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاں آج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔ یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی..
نوجوان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ میں نے عرض کیا؛ پروفیسر رابرٹ جوئز زرافے پرتحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا، انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا، اسے بےہوش کیا لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا زرافے نے گردن ہلا دی چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑ کر رکھے۔ پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ہیملٹن گھاس کاٹ رہا تھا، پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انہوں نے اسے بلایا اور زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ہیملٹن نے گردن پکڑ لی، یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا. آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔ دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہرا کام کرتا رہا اور اس نے اس ڈیوٹی کا کسی قسم کااضافی معاوضہ طلب کیا اور نہ ہی شکایت کی۔ پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا اور اس نے اسے مالی سے ”لیب اسسٹنٹ“ بنا دیا۔
ہیملٹن کی پروموشن ہوگئی۔ وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔
1958ءمیں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ڈاکٹر برنارڈ یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کردیئے۔ ہیملٹن ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ ڈاکٹر برنارڈ کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔ اب ڈاکٹر آپریشن کرتے اور آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے، وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔ وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا چنانچہ بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔ وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا لیکن وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہتر سرجن تھا..
1970ء میں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔ اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کردیا.. میں خاموش ہو گیا۔
نوجوان سنتا رہا، میں نے عرض کیا؛....

(جاری یے بقیہ حصہ دوم میں...)

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 نوکری اور کام (حصہ دوم آخری) 🔷

نوجوان سنتا رہا، میں نے عرض کیا؛ ”ہیملٹن نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔ وہ 50 برس کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا، 14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔ لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاں ٹھیک کرتے تھے، ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت اور سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا..
لہٰذا پھر اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں اور اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔ وہ میڈیکل ہسٹری کا پہلا ان پڑھ استاد تھا۔ وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی..
وہ 2005ء میں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میں دفن کیا گیا اور اس کے بعد یونیورسٹی سے پاس آﺅٹ ہونے والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا کہ وہ ڈگری لینے کے بعد اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں اور اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں..
میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا؛ تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا؟ نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا؛
"صرف ایک ہاں سے" جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیا تھا اگر وہ اس دن انکار کردیتا تو وہ مرتے دم تک مالی رہتا یہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا.
نوجوان خاموش رہا، میں نے اس سے عرض کیا؛
"ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں جبکہ ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے"
نوجوان نے غور سے میری طرف دیکھا، میں نے عرض کیا؛ دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائیٹیریا ہوتا ہے اور یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس کرائیٹیریا پر پورا اترتا ہے جبکہ کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔ ہیملٹن اس راز کو پاگیا تھا لہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی. یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔ ذرا سوچو اگر وہ سرجن کی جاب کیلئے اپلائی کرتا تو کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں، لیکن اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی اور سرجنوں کا سرجن بن گیا. میں رکا اور ہنس کر بولا؛ "تم اس لیے بے روزگار اور ناکام ہو کہ تم جاب تلاش کر رہے ہو، کام نہیں، جس دن تم نے ہیملٹن کی طرح کام شروع کردیا تم نوبل پرائز حاصل کرلوگے، تم بڑے اور کامیاب انسان بن جاﺅ گے۔۔۔۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 قومِ عاد 🔷

قوم عاد ایک ایسی قوم تھی جو بڑے طاقتور تھے 40 ہاتھ جتنا قد،
800 سے 900 سال کی عمر،
نہ بوڑھے ھوتے،
نہ بیمار ھوتے،
نہ دانت ٹوٹتے،
نہ نظر کمزور ھوتی،
جوان تندرست و توانا رہتے،
بس انھیں صرف موت آتی تھی،
اور کچھ نہیں ھوتا تھا.

صرف موت آتی تھی..
ان کی طرف اللہ تعالی نے حضرت ھود علیہ السلام کو بھیجا. انھوں نے ایک اللہ کی دعوت دی، اللہ کی پکڑ سے ڈرایا.

مگر وہ بولے:
اے ھود! ہمارے خداؤں نے تیری عقل خراب کر دی ھے.
جا جا اپنے نفل پڑھ.
ہمیں نہ ڈرا.
ہمیں نہ ٹوک.
تیرے کہنے پر کیا ہم اپنے باپ دادا کا چال چلن چھوڑ دیں گے؟
عقل خراب ھوگئی تیری،
جا جا اپنا کام کر،
آیا بڑا نیک چلن کا حاجی نمازی.
تیرے کہنے پر چلیں تو ہم تو بھوکے مر جائیں.
انھوں نے شرک، ظلم اور گناھوں کے طوفان سے اللہ کو للکارا.....
تکبر اور غرور میں بد مست بولے:

"فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ بِغَيْرِ‌ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَ‌وْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ ﴿١٥﴾"

اب قوم عاد نے تو بےوجہ زمین میں سرکشی شروع کردی اور کہنے لگے ہم سے زور آور کون ہے؟ (۱) کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے اسے پیدا کیا وہ ان سے (بہت ہی) زیادہ زور آور ہے، (۲) وہ (آخر تک) ہماری آیتوں کا (۳) انکار ہی کرتے رہے۔

کوئی ھے ہم سے زیادہ طاقتور تو لاؤ ناں؟
ہمیں کس سے ڈراتے ھو؟
اللہ نے قحط بھیجا،
بھوک لگی،
سارا غلہ کھا گئے،
مال مویشی کھا گئے،
حرام پر آ گئے،
چوھے بلی کتے کھا گئے،
سانپ کھا گئے،
درخت گرا کر اسکے پتے کھا گئے،
بھوک نہ مٹی.
نہ بارش ھوئی نہ قطرہ گرا نہ غلہ اُگا.
پھر تنگ آکر اپنا ایک وفد بیت اللہ بھیجا.....
ان کا دستور تھا جب مصیبت آتی تو اوپر والے کو پکار اٹھتے.
جب دور ھوجاتی تو اپنے بتوں کو پوجنے لگتے.

بیت اللہ وفد گیا اور کہا کہ ہمارے لئے اللہ سے دُعا کرو کہ بارش برسائے.....
اللہ نے تین بادل پیش کئے..
کالا
سفید
سرخ

اللہ نے فرمایا ان میں سے ایک کا انتخاب کرو
انھوں نے آپس میں مشورہ کیا..
کہ سرخ میں تو ھوا ھوتی ھے،
سفید خالی ھوتا ھے،
کالے میں پانی ھوتا ھے،
کالا مانگو
اللہ تعالی نے کہا واپس پہنچو بادل بھیجتا ھوں
وہ خوشی خوشی واپس آئے
سب لوگ ایک میدان میں جمع ھوئے
بادل آیا
وہ ناچنے لگے کہ اب بارش ھوگی
قحط مٹے گا
کھانے کو ملے گا
کیا پتا تھا
کہ وہ بارش نہیں اللہ کا عذاب ھے
جو تم ھود سے کہتے تھے کہ
لے آ..! جس سے ہم کو ڈراتا ھے
اس بادل میں ایسی تند و تیز ھوا تھی کہ..
جس نے ان کو اُٹھا مارا ان کے گھر اُڑا دئیے،
60 ہاتھ کے قد اور لوگ تنکوں کی طرح اڑ رہے تھے،
ھوا ان کے سروں کو ٹکراتی تھی، اتنی زور سے ٹکراتی کہ ان کے بھیجے نکل نکل کر منہ پر لٹک گئے،
بعض لوگ بھاگ کر غار میں گھس گئے کہ یہاں تو ھوا نہیں آ سکتی..
مگر میرے رب کا حکم ھو کر رہتا ھے.
ھوا غار میں بگولے کی طرح داخل ھوتی اور انکو باہر اٹھا کر پھینک دیتی.

اللہ نے فرمایا:
فھل تری من باقیہ
کیا کوئی باقی بچا ھے؟

اللہ تعالی نے ان کو ہلاک کر کے دکھایا کہ جب تم اللہ کی اس کے رسول کی نافرمانی کروگے،
اللہ تم پر ایسی جگہ سے عذاب بھیجے گا جہاں سے گمان بھی نہ ھو گا.

■ جو گناہ قوم عاد نے کیا..
کیا وہ ہم نہیں کر رہے؟
کیا ہم اللہ کی حدوں کو پار نہیں کر گئے؟
کیا ہم نے اللہ کو اپنی نافرمانی سے نہیں للکارا ھوا ھے؟
توبہ کرو..
اللہ سے ڈرو..
قرآن پڑھو..

جن گناھوں کو ہم معمولی سمجھتے ہیں، اللہ نے ان گناھوں پر پوری پوری قومیں زمین بوس کر دی ہیں.

استغفراللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Forwarded from ISLAM WITH EMAN
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 شعور و بصیرت 🌹

قرآنی آیات اور روایات، زندگی میں بصیرت کی اہمیت کو بخوبی بیان کرتی ہیں۔ انہی عظیم آیتوں میں سے ایک یہ آیت ہے..

"وَلَقَدْ ذَرَأْنا لِجَهَنَّمَ كَثيراً مِنَ الْجِنِّ وَ الْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بِها وَ لَهُمْ أَعْيُنٌ لا يُبْصِرُونَ بِها وَ لَهُمْ آذانٌ لا يَسْمَعُونَ بِها أُولئِكَ كَالْأَنْعامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولئِكَ هُمُ الْغافِلُونَ." [اعراف/۱۷۹]

ترجمہ:
اور یقینا ہم نے انسان و جنات کی ایک کثیر تعداد کو گویا جہّنم کے لئے پیدا کیا ہے کہ ان کے پاس دل ہیں مگر سمجھتے نہیں ہیں اور آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں ہیں اور کان ہیں مگر سنتے نہیں ہیں، یہ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں اور یہی لوگ اصل میں غافل ہیں.

■اس آیت پر توجہ دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ خداوندعالم بہت سے انسانوں کے مبتلا ہونے کی وجہ کو عدم فہم و آگاہی بیان کر رہا ہے، عدم فہم و شعور، بصیرت کی فقدان کی واضح دلیل ہے.

اس سلسلہ میں روایات بھی بہت ہیں لیکن اختصار کے پیش نظر سب سے صرف نظر کرتے ہوئے مولائے کائنات (علیہ السلام) کی روایت کی جانب توجہ دیتے ہیں..

🌹امیرالمؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں:

"وَمَا كُلُّ ذِي قَلْبٍ بِلَبِيبٍ وَ لَا كُلُّ ذِي سَمْعٍ بِسَمِيعٍ وَ لَا كُلُّ ذِي نَاظِرِ عَيْنٍ بِبَصِير."

ترجمہ:
ہر وہ شخص جو قلب رکھتا ہے، خرد نہیں رکھتا اور ہر وہ شخص جو کان رکھتا ہے، سماعت کی قدرت نہیں رکھتا اور ہر آنکھ رکھنے والا، بینا نہیں ہوتا[۱]۔

●اس کا مطلب یہ ہوا کہ محض علم و آگاہی انسان کو بصیر نہیں بناتی بلکہ وہ علم و آگاہی جو انسان کے شعور کو بیدار کرکے حق کو باطل سے الگ کرنے کرنے اور سمجھنے کی صلاحیت عطا کرے، وہ شعور و ذکاوت، بصیرت کہلاتی ہے اور ایسی شناخت کی صلاحیت کے حامل انسان کو بصیر کہا جائے گا۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 [۱]الكافي، كلينى، محمد بن يعقوب بن اسحاق، ناشر: دار الكتب الإسلامية، چاپ: چهارم، ۱۴۰۷ ق،، ج‏۸، ص۶۴۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 لواطت اور عذابِ الٰہی 🔷

سَدُوم ملکِ شام میں صوبہ حِمْصْ کا ایک مشہور شہر ہے. اسکی بستیاں بہت آباد اور نہایت سرسبز و شاداب تھیں اور وہاں طرح طرح کے اناج اور قِسم قِسم کے پھل اور میوے بکثرت پیدا ہوتے تھے.

شہر کی خوشحالی کی وجہ سے اکثر جابجا کے لوگ مہمان بن کر ان آبادیوں میں آیا کرتے تھے اور شہر کے لوگوں کو ان مہمانوں کی مہمان نوازی کا بار اٹھانا پڑتا تھا۔ اسلئے اس شہر کے لوگ مہمانوں کی آمد سے بہت ہی کبیدہ خاطر اور تنگ ہوچکے تھے۔ اس ماحول میں ابلیس لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا۔ اور ان لوگوں سے کہا کہ اگر تم لوگ مہمانوں کی آمد سے نجات چاہتے ہو تو اس کی یہ تدبیر ہے کہ جب بھی کوئی مہمان تمہاری بستی میں آئے تو تم لوگ زبردستی اس کے ساتھ بدفعلی کرو۔ چنانچہ سب سے پہلے ابلیس خود ایک خوبصورت لڑکے کی شکل میں مہمان بن کر اس بستی میں داخل ہوا۔ اور ان لوگوں سے خوب بدفعلی کرائی اس طرح یہ فعلِ بد ان لوگوں نے شیطان سے سیکھا۔ پھر رفتہ رفتہ اس برے کام کے یہ لوگ اس قدر عادی بن گئے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرنے لگے.
(روح البیان، ج3، ص197، پ8، الاعراف:84)

چنانچہ حضرت لوطؑ نے ان لوگوں کو اس فعلِ بد سے منع کرتے ہوئے فرمایا:
"اپنی قوم سے کہا؛ کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے." (سورةالاعراف80،81)

حضرت لوطؑ کے اس اصلاحی وعظ کو سن کر ان کی قوم نے نہایت بے باکی اور انتہائی بے حیائی کے ساتھ کہا؛
"اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں." (سورةالاعراف: 82)

🔶 جب قومِ لوط کی سرکشی اور بدفعلی قابلِ ہدایت نہ رہی تو اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ چنانچہ حضرت جبرائیلؑ چند فرشتوں کے ہمراہ مہمان بن کر حضرت لوطؑ کے پاس پہنچے اور یہ سب فرشتے بہت ہی حسین اور خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے۔ ان مہمانوں کے حسن و جمال کو دیکھ کر اور قوم کی بدکاری کا خیال کرکے حضرت لوطؑ بہت فکرمند ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد قوم کے بدفعلوں نے حضرت لوطؑ کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور ان مہمانوں کے ساتھ بدفعلی کے ارادہ سے دیوار پر چڑھنے لگے۔ حضرت لوطؑ نے نہایت دِلسوزی کے ساتھ ان لوگوں کو سمجھانا اور اس برے کام سے منع کرنا شروع کردیا۔ مگر یہ بدفعل اور سرکش قوم اپنے بےہودہ جواب اور برے اقدام سے باز نہ آئی۔ تو آپ اپنی تنہائی اور مہمانوں کے سامنے رسوائی سے تنگدِل ہوکر غمگین و رنجیدہ ہو گئے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت جبریلؑ نے فرمایا: اے اللہ عزوجل کے نبی! آپ بالکل کوئی فکر نہ کریں۔ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو ان پر عذاب لے کر اترے ہیں۔ لہٰذا آپ مؤمنين اور اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر صبح ہونے سے قبل ہی اس بستی سے دور نکل جائیں اور خبردار کوئی شخص پیچھے مڑ کر اس بستی کی طرف نہ دیکھے ورنہ وہ بھی اس عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔
چنانچہ حضرت لوطؑ اپنے گھر والوں اور مؤمنين کو ہمراہ لے کر بستی سے باہر نکل گئے۔
پھر حضرت جبریلؑ اس شہر کی پانچوں بستیوں کو اپنے پروں پر اٹھا کر آسمان کی طرف بلند ہوئے اور کچھ اوپر جا کر ان بستیوں کو الٹ دیا اور یہ آبادیاں زمین پر گر کر چکنا چور ہو کر زمین پر بکھر گئیں۔ پھر کنکر کے پتھروں کا مینہ برسا اور اس زور سے سنگباری ہوئی کہ قومِ لوط کے تمام لوگ مر گئے اور ان کی لاشیں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئیں۔
عین اس وقت جب کہ یہ شہر الٹ پلٹ ہو رہا تھا۔ حضرت لوطؑ کی ایک بیوی جس کا نام ''واعلہ'' تھا جو درحقیقت منافقہ تھی اور قوم کے بدکاروں سے محبت رکھتی تھی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھ لیا اور یہ کہا کہ ''ہائے رے میری قوم'' یہ کہہ کر کھڑی ہو گئی پھر عذابِ الٰہی کا ایک پتھر اس کے اوپر بھی گر پڑا اور وہ بھی ہلاک ہو گئی. چنانچہ قرآن مجید میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
"تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہوئی اور ہم نے اُن پر ایک مینہ برسایا تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا." (الاعراف:83،84)

● جو پتھر اس قوم پر برسائے گئے وہ کنکروں کے ٹکڑے تھے۔ اور ہر پتھر پر اُس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جو اس پتھر سے ہلاک ہوا.
(تفسیرالصاوی، ج2، ص691، پ8، الاعراف:84)

■ منقول ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے ایک مرتبہ ابلیس لعین سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑھ کر کون سا گناہ ناپسند ہے؟ تو ابلیس نے کہا کہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو یہ گناہ ناپسند ہے کہ مرد، مرد سے بدفعلی کرے اور عورت، عورت سے اپنی خواہش پوری کرے۔
حدیث میں ہے کہ عورت کا اپنی فرج کو دوسری عورت کی فرج سے رگڑنا یہ ان دونوں کی زنا کاری ہے جو گناہ کبیرہ ہے.
(روح البیان، ج3، ص198، پ8، الاعراف:84)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
😭 کل کے مخبر، آج کے رہبر 😭

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک پروفیسر ڈاکٹر تراب الحسن صاحب نے ایک تھیسس لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ھے۔ جس کا عنوان ھے...
Punjab and the War of Indpendence 1857.

اس تھیسس میں انہوں نے جنگ آزادی کے حالات پر روشنی ڈالی ھے. جس کے مطابق اس جنگ میں جن خاندانوں نے جنگ آزادی کے مجاھدین کے خلاف انگریز کی مدد کی، مجاھدین کو گرفتار کروایا اور قتل کیا اور کروایا ان کو انگریز نے بڑی بڑی جاگیریں مال و دولت اور خطابات سے نوازا ان کے لئے انگریز سرکار نے وظائف جاری کئے.
اس تھیسس کے مطابق تمام خاندان وہ ھیں جو انگریز کے وفادار تھے اور اس وفاداری کے بدلے انگریز کی نوازشات سے فیضیاب ھوئے. یہ خاندان آج بھی جاگیردار ھیں اور آج بھی اپنے انگریز آقا کے جانے کے بعد ھر حکومت میں شامل ھوتے ھیں.

Griffin punjab chifs Lahore 1909.
سے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق سید یوسف رضا گیلانی کے بزرگ سید نور شاہ گیلانی کو انگریز سرکار نے ان کی خدمات کے عوض 300 روپے خلعت اور سند عطا کی تھی.

Proceeding of the Punjab Political department no 47, june 1858.
کے مطابق دربار حضرت بہاؤالدین زکریا کے سجادہ نشین اور تحریک انصاف کے رھنما شاہ محمود قریشی کے اجداد نے مجاھدین آزادی کے خلاف انگریز کا ساتھ دیا۔ انہیں ایک رسالہ کے لئے 20 آدمی اور گھوڑے فراھم کئے۔ اس کے علاوہ 25 آدمی لیکر خود بھی جنگ میں شامل ھوئے۔ انگریزوں کے سامان کی حفاظت پر مامور رھے۔ ان کی خدمات کے عوض انہیں تین ھزار روپے کا تحفہ دیا گیا۔ دربار کیلیئے 1750 روپے کی ایک قیمتی جاگیر اور ایک باغ دیا گیا جس کی اس وقت سالانہ آمدن 150 روپے تھی.

جو حوالہ وزیر اعظم گیلانی کا ھے وھی اپوزیشن لیڈر چوھدری نثار علی خان کے اجداد چوھدری شیر خان کا ھے۔ ان کی مخبری پر کئی مجاھدین کو گرفتار کر کے قتل کیا گیا۔ انعام کے طور پر چوہدری شیر خان کو ریونیو اکٹھا کرنے کا اختیار دیا گیا اور جب سب لوگوں سے اسلحہ واپس لیا گیا تو انہیں پندرہ بندوقیں رکھنے کی اجازت اور 500 روپے خلعت دی گئی.

Gujranwala Guzts 1935-36 Govt of Punjab.
کے مطابق حامد ناصر چٹھہ کے بزرگوں میں سے خدا بخش چٹھہ نے جنگ آزادی میں انگریزوں کا ساتھ دیا وہ اس وقت جنرل نکلسن کی فوج میں تھے.

قصور کے خیرالدین خان جو خورشید قصوری کے خاندان سے تھے نے انگریزوں کے لئے 100 آدمیوں کا دستہ تیار کیا اور خود بھتیجوں کے ساتھ جنگ میں شامل ھوا۔ انگریزوں نے اسے 2500 روپے سالانہ کی جاگیر اور ھزار روپے سالانہ پنشن دی.

👆 ایک مراسلہ 👆

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 کسی کا بُرا مت کرو 🔷

ایک بادشاہ بہت ظالم اور جابر تھا۔ اسکی ہیبت کے قصے سارے ملک میں مشہور تھے، لوگ اس سے نفرت کرتے تھے اور اس کا نام آتے ہی لوگ کانپتے تھے.

ایک دن جانے کیا ہوا بادشاہ نے سارے شہر کو مدعو کیا کہ ایک اہم اعلان کرنا ہے۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو بادشاہ نے اعلان کیا کہ میں ساری رعایا کی موجودگی میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد کبھی کسی کے ساتھ ناانصافی اور سختی نہیں کروں گا اور میرا وطیرہ صرف شفقت اور نرمی ہو گا اور تاریخ میں میرا نام سب سے نرم دل بادشاہوں میں شمار کیا جائے گا...

سب لوگ بہت حیران ہوئے کہ شاید بادشاہ سٹھیا گیا ہے، اس کو کیا ہو چلا ہے۔ خیر سب نے سوچا کہ بس ایسے ہی بول رہا ہے۔ وقت بتائے گا کہ یہ بدلا ہے کہ نہیں.

لیکن بادشاہ واقعی بالکل بدل گیا تھا اور ساری عوام اس سے نہایت خوش اور مطمئن تھی. کئی مہینے اسی طرح گزر گئے.

وزیر سے مزید صبر نہ ہوسکا تو ایک دن ہمت کرکے بادشاہ سے پوچھا؛ کہ بادشاہ سلامت آخر کس وجہ سے آپ کا دل بدل گیا؟

بادشاہ بولا:
بدلنے سے کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ میں جنگل میں جا رہا تھا کہ میری نظر ایک لومڑی پر پڑی، وہ بیچاری بھاگ رہی تھی اس کے پیچھے ایک بڑا سا کتا لگا ہوا تھا۔ لومڑی کو اپنا بل نظر آگیا اور وہ اس میں چھلانگ لگا رہی تھی کہ کتے نے اس کی ٹانگ پکڑ لی اور کاٹ لیا۔ لومڑی نے پوری جان لگائی اور اپنی معزور ٹانگ گھسیٹ کر بل میں گھس گئی۔ اس کتے نے بیچاری لومڑی کو معزور کردیا تھا..
کچھ دیر بعد میں گاؤں میں پہنچا تو دیکھا کہ وہی خونخوار کتا ایک آدمی پر بھونکے جا رہا تھا۔ اس آدمی کو غصہ آگیا اور اس نے ایک بھاری پتھر کُتے کو دے مارا. کتا خود بھی اسی طرح ٹانگ سے معزور ہو گیا..
میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اوپر والے کی لاٹھی بے آواز ہے کہ اسی آدمی کو ایک گھوڑے نے دولتی ماری اور اس کی بھی ایک ٹانگ فارغ ہو گئی..
گھوڑا بھاگ رہا تھا اور آگے جا کر ایک گڑھے میں گر گیا..
اتنا دیکھ کر ہی میری حالت غیر ہو گئی اور میں نے سوچا کہ میں اتنا ظالم ہوں، ہر ایک پر ظلم کرتا ہوں۔ کسی کی پرواہ نہیں کرتا تو میرا خالق میرے ساتھ بھی وہی کرے گا جو میں اس کی مخلوق کے ساتھ کرتا ہوں تو ایک ہی ترکیب سجھائی دی کہ کیوں نہ میں اپنی رعایا کے ساتھ اچھا ہو جاؤں تاکہ میرے ساتھ بھی اچھا ہو۔ بس اتنی سی بات تھی.

وزیر ایک عیار اور مکار آدمی تھا۔ بادشاہ کی کہانی سن کر بھی اس کا دل نہ پسیجا. بے حس آدمی ادھر سے اٹھا اور دل میں سوچا کہ بادشاہ فارغ ہو گیا ہے، یہی وقت ہے کہ میں اس کا تخت ہتھیا لوں۔ ایسی غلیظ سوچ ابھی اس کے دماغ کی دہلیز پر ہی تھی کہ وزیر دھڑام سے سیڑھیوں سے گرا اور اس کی گردن دو ٹکڑے ہو گئی.

■ یاد رکھو!
جیسی کرنی ویسی بھرنی. کسی کے ساتھ بُرا کرکے یہ مت سمجھو کہ کسی نے نہیں دیکھا میں بچ گیا، جو دیکھ رہا ہے، وہ جب پکڑ کرتا ہے تو بڑے سے بڑا سُلطان گھٹنے ٹیک دیتا ہے.
● اچھا کرو اور صِلے کی امید لوگوں سے مت رکھو اور برا کرو تو یاد رکھو کہ اگر پکڑ ہوگئی اور رسّی کھینچ لی گئی تو کہیں پناہ نہیں ملے گی.

🔘 بہترین حکمت عملی: برا مت کرو۔۔!!

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Forwarded from ISLAM WITH EMAN
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM