🌹 قرآن اور حضرت امام مہدیؑ 🌹
حضرت مہدی علیہ السلام، آخری زمانہ میں منجی عالم کے ظہور، صالحین کی حکومت اور ان پر کامیابی و کامرانی کے سلسلہ میں قرآن مجید میں بہت سی آیات کا تذکرہ ہوا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ھے:
”ہم نے توریت کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب زبور میں لکھا ہے کہ آخرکار صالح افراد اس زمین کے مالک ہوں گے۔“
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ”شائستہ افراد“ کے سلسلہ میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد آخری زمانے میں حضرت مہدی علیہ السلام کے اصحاب ہیں۔“
ہم قر آن میں یہ بھی پڑھتے ہیں:
ہم چاہتے ہیں کہ مستضعفین کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں، یعنی ان کو لوگوں کا پیشوا اور اس زمین کا مالک بنا دیں۔“
بسم الله الرحمٰن الرحیم انا انزلناہ فی لیلة القدر
ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا، اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس رات فرشتے اور روح القدس (جبرائیل) خدا کی اجازت سے تمام احکام اور تقدیروں کو لے کر نازل ہوتے ہیں یہاں تک سفیدی سحر نمودار ہو جائے۔
چنانچہ سورۂ قدر کی آیات سے واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ ہر سال ایک شب ایسی آتی ہے کہ جو ہزار مہینوں سے افضل اور بہتر ہوتی ہے۔
وہ احادیث جو اس سورہ اور سورۂ دخان کی ابتدائی آیات کی تفسیر کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں، سے یہی سمجھ آتا ہے کہ شب قدر میں فرشتے پورے ایک سال کے مقدرات کو ”زمانہ کے ولی مطلق“ کی خدمت میں لے کر آتے اور ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ پیغمبر اسلامؐ کے زمانہ میں فرشتوں کے نازل ہونے کی جگہ آپؐ کا گھر تھا۔ جب ہم معرفت قرآن کے سلسلہ میں اس نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ ”شب قدر“ ہر سال آتی ہے تو ہمیں اس بات کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ ”صاحب شب قدر“ کو بھی ہمیشہ موجود ہونا چاہئے ورنہ پھر فرشتے کس پر نازل ہوتے ہیں؟ چونکہ ”قرآن کریم“ قیامت تک ہے اور ”حجت“ ہے اسی طرح صاحب شب قدر کا وجود بھی حتمی ہے اور وہ بھی”حجت“ ہے۔ اس زمانہ میں حجت خدا، حضرت ولی عصر علیہ السلام کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔
چنانچہ حضرت امام رضاؑ فرماتے ہیں: ”امام زمین پر خدا کا امین ہوتا ہے اور لوگوں کے درمیان حجت خدا ہوتا ہے، آبادیوں اور زمینوں پر خدا کا خلیفہ ہوتا ہے۔“
مشہور اسلامی ریاضی دان اور معروف فلسفی و متکلم خواجہ نصیر الدین طوسی فرماتے ہیں:
”خردمند افراد کے لئے یہ بات واضح ہے کہ لطفِ الٰہی کا انحصار امامؑ کی تعیین میں ہے۔ امام کا وجود بجائے خود ایک لطفِ الٰہی ہے، امور کی انجام دہی اس کا دوسرا لطف ہے اور اس کی غَیبت خود ہم سے مربوط ہے۔“
https://t.me/islamwitheman/3299
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت مہدی علیہ السلام، آخری زمانہ میں منجی عالم کے ظہور، صالحین کی حکومت اور ان پر کامیابی و کامرانی کے سلسلہ میں قرآن مجید میں بہت سی آیات کا تذکرہ ہوا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ھے:
”ہم نے توریت کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب زبور میں لکھا ہے کہ آخرکار صالح افراد اس زمین کے مالک ہوں گے۔“
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ”شائستہ افراد“ کے سلسلہ میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد آخری زمانے میں حضرت مہدی علیہ السلام کے اصحاب ہیں۔“
ہم قر آن میں یہ بھی پڑھتے ہیں:
ہم چاہتے ہیں کہ مستضعفین کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں، یعنی ان کو لوگوں کا پیشوا اور اس زمین کا مالک بنا دیں۔“
بسم الله الرحمٰن الرحیم انا انزلناہ فی لیلة القدر
ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا، اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس رات فرشتے اور روح القدس (جبرائیل) خدا کی اجازت سے تمام احکام اور تقدیروں کو لے کر نازل ہوتے ہیں یہاں تک سفیدی سحر نمودار ہو جائے۔
چنانچہ سورۂ قدر کی آیات سے واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ ہر سال ایک شب ایسی آتی ہے کہ جو ہزار مہینوں سے افضل اور بہتر ہوتی ہے۔
وہ احادیث جو اس سورہ اور سورۂ دخان کی ابتدائی آیات کی تفسیر کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں، سے یہی سمجھ آتا ہے کہ شب قدر میں فرشتے پورے ایک سال کے مقدرات کو ”زمانہ کے ولی مطلق“ کی خدمت میں لے کر آتے اور ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ پیغمبر اسلامؐ کے زمانہ میں فرشتوں کے نازل ہونے کی جگہ آپؐ کا گھر تھا۔ جب ہم معرفت قرآن کے سلسلہ میں اس نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ ”شب قدر“ ہر سال آتی ہے تو ہمیں اس بات کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ ”صاحب شب قدر“ کو بھی ہمیشہ موجود ہونا چاہئے ورنہ پھر فرشتے کس پر نازل ہوتے ہیں؟ چونکہ ”قرآن کریم“ قیامت تک ہے اور ”حجت“ ہے اسی طرح صاحب شب قدر کا وجود بھی حتمی ہے اور وہ بھی”حجت“ ہے۔ اس زمانہ میں حجت خدا، حضرت ولی عصر علیہ السلام کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔
چنانچہ حضرت امام رضاؑ فرماتے ہیں: ”امام زمین پر خدا کا امین ہوتا ہے اور لوگوں کے درمیان حجت خدا ہوتا ہے، آبادیوں اور زمینوں پر خدا کا خلیفہ ہوتا ہے۔“
مشہور اسلامی ریاضی دان اور معروف فلسفی و متکلم خواجہ نصیر الدین طوسی فرماتے ہیں:
”خردمند افراد کے لئے یہ بات واضح ہے کہ لطفِ الٰہی کا انحصار امامؑ کی تعیین میں ہے۔ امام کا وجود بجائے خود ایک لطفِ الٰہی ہے، امور کی انجام دہی اس کا دوسرا لطف ہے اور اس کی غَیبت خود ہم سے مربوط ہے۔“
https://t.me/islamwitheman/3299
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 اطاعتِ امامؑ 🌹
امامؑ کی معرفت، محبت، عہد اور اطاعت، امام کے ساتھ عشق و محبت کی جیتی جاگتی تصویر ہوتی ہے، جوامامؑ کا جتنا زیادہ عاشق اور محب ہوگا وہ ان کا اتنا ہی زیادہ مطیع اور فرمانبردار ہوگا۔
سورہ آلِ عمران آیت۳۱ میں ہے کہ۔۔
’’قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ…
امامؑ کی معرفت، محبت، عہد اور اطاعت، امام کے ساتھ عشق و محبت کی جیتی جاگتی تصویر ہوتی ہے، جوامامؑ کا جتنا زیادہ عاشق اور محب ہوگا وہ ان کا اتنا ہی زیادہ مطیع اور فرمانبردار ہوگا۔
سورہ آلِ عمران آیت۳۱ میں ہے کہ۔۔
’’قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ…
🌹 امام مهدیؑ اور دیگر ادیان 🌹
آسمانی کتابوں کی تحقیق کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ دنیا کے اچھے مستقبل اور باطل پر حق کی فتح کا عقیدہ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں پایا جاتا، بلکہ دنیا کے دوسرے ادیان بھی اس عقیدے میں مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔
۱۔ زرتشت:
زرتشتیوں کی مذہبی کتاب زند میں فسادات کے اختتام اور نیک لوگوں کی حکومت کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ اہریمنان کا لشکر ایزدان کے لشکر سے ہمیشہ جنگ کرتا رہتا ہے اور اکثر اہرمنوں کی جیت ہوتی ہے لیکن اس طرح نہیں کہ وہ ایزدان کا بالکل صفایا ہی کردیں کچھ دنوں کے بعد آسمان کے خدا اور مزد کی طرف سے اس کے بیٹے ایزدان کے پاس مدد آئے گی اور ان کی جنگ نو ہزار سال تک چلتی رہے گی اس کے بعد ایزدان کی جیت ہوگی اور اہریمن کا صفایا ہو جائے گا اہریمن کا اقتدار تو صرف زمین پر ہی ہے آسمان پر ان کا وجود نہیں ہے۔
جاماسپ نامہ میں لکھا گیا ہے کہ ہاشم کی اولاد سے ایک انسان زمین سے باہر نکلے گا جس کا سر پنڈلیاں اور جسم بڑا ہوگا اور وہ اپنے جد کے دین پر ہوگا…۔
اسی کتاب میں ایک دوسری جگہ پر لکھا ہوا ہے کہ سب سے بڑا نجات دینے والا دین کو دنیا میں پھیلائے گا، بھوک مری کو ختم کرے گا ایزدان کو اہریمن کے ہاتھ سے بچائے گا اور دنیا کے تمام لوگوں کی تہذیب، فکر اور کردار کو ایک بنا دے گا۔
۲۔ ہندو:
شاک منی جو کہ ہندوؤں کا سردار ہے اور اس کے ماننے والے اس کو آسمانی کتاب کے ساتھ پیغمبر مانتے ہیں، اس نے اپنی کتاب میں آخری زمانے میں ایک روحانی کے جھنڈے کے نیچے سبھی مذہبوں کے ایک ہو جانے کے بارے میں اشارہ کیا ہے۔
اس نے لکھا ہے کہ دنیا کے خراب ہو جانے کے بعد آخری زمانے میں ایک بادشاہ پیدا ہوگا جو پوری دنیا کے لوگوں کا رہبر ہوگا، اس کا نام منصور ہوگا، وہ پوری دنیا پر حکومت کرے گا اور سب کو اپنے دین میں شامل کرلے گا۔
۳۔ زبور:
تمام اجسام کا خاتمہ ہو جائے گا اور اللہ کا انتظار کرنے والے زمین کے وارث بنیں گے ہاں کچھ وقت کے بعد کوئی جسم باقی نہیں رہے گا۔
اس کی جگہ کے بارے میں تم تامل کرو گے اور نہیں کر پاؤ گے۔ لیکن حلیم لوگ زمین کے وارث بنیں گے ……اور زمین پر ان کی وراثت ہمیشہ رہے گی۔
۴۔ توریت:
باغ میں ایک نیا درخت اگا ہے اس کی شاخیں اس کی جڑ سے پہلے پھولیں گی اور اللہ کی روح اس پر ٹھہرے گی وہ مسکینوں کے لیے عدالت کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور مظلوموں کے لئے زمین پر سچی حکومت کرے گا۔
۵۔ انجیل:
اپنی کمر کو باندھ لو اور اپنے چراغوں کو روشن رکھو اور رات میں اس طرح رہو جیسے کوئی اپنے مالک کا انتظار کرتا ہے……… کتنے خوش نصیب ہیں وہ غلام، جن کا مالک آنے کے بعد ان کو جاگتا ہوا پائے،…… پس تم بھی تیار رہو، کیونکہ انسان کا بیٹا اس وقت آئے گا جس کے بارے میں تمہیں گمان بھی نہ ہوگا۔
● امام مہدیؑ کا ذکر کتب آسمانی میں:
حضرت داؤد کی زبور کی آیت ۴# مرموز ۹۷ میں ہے کہ آخری زمانہ میں جو انصاف کا مجسمہ انسان آئے گا، اس کے سر پر ابر سایہ فگن ہوگا۔ کتاب صفیائے پیغمبر کے فصل ۳ آیت ۹ میں ہے آخری زمانے میں تمام دنیا موحد ہو جائے گی۔ کتاب زبور مرموز۱۲۰ میں ہے جو آخرالزماں آئے گا، اس پر آفتاب اثرانداز نہ ہو گا۔ صحیفہ شعیب پیغمبر کے فصل ۱۱ میں ہے کہ جب نور خدا ظہور کرے گا تو عدل و انصاف کا ڈنکا بجے گا۔ شیر اور بکری ایک جگہ رہیں گے چیتا اور بزغالہ ایک ساتھ چریں گے شیر اور گوسالہ ایک ساتھ رہیں گے، گوسالہ اور مرغ ایک ساتھ ہوں گے شیر اور گائے میں دوستی ہوگی۔ طفل شیرخوار سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالے گا اور وہ کاٹے گا نہیں پھر اسی صفحہ کے فصل ۲۷ میں ہے کہ یہ نور خدا جب ظاہر ہوگا، تو تلوارکے ذریعہ سے تمام دشمنوں سے بدلہ لے گا صحیفہ تنجاس حرف الف میں ہے کہ ظہور کے بعد ساری دنیا کے بت مٹا دیے جائیں گے، ظالم اور منافق ختم کردیے جائیں گے یہ ظہور کرنے والا کنیز خدا (نرجس) کا بیٹا ہو گا۔ توریت کے سفر انبیاٴ میں ہے کہ مہدی ظہور کریں گے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے، دجال کو قتل کریں گے انجیل میں ہے کہ مہدی اور عیسیٰ دجال اور شیطان کو قتل کریں گے۔ اسی طرح مکمل واقعہ جس میں شہادت امام حسین اور ظہور مہدی علیہ السلام کا اشارہ ہے۔ انجیل کتاب دانیال باب ۱۲ فصل ۹ آیت ۲۴ رویائے ۲#میں موجود ہے (کتاب الوسائل س۱۲۹ طبع بمبئی ۱۳۳۹ہجری)۔
● دیگر مذاہب عالم اور وجود امام مہدیؑ:
مختلف کتابوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ تقریبا دنیا کے جملہ مذاہب اور عقلاء اس بات پر متفق ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک ایسی ہستی آئے گی جو دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کرکے عدل و انصاف سے اس کرۂ ارض کے بگڑے ہوئے معاشرے اور اخلاق کو درست کرے گی البتہ ایسی ہستی کا نام ہر مذہب و ملت نے الگ الگ بتایا ہے.
https://t.me/islamwitheman/3300
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
آسمانی کتابوں کی تحقیق کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ دنیا کے اچھے مستقبل اور باطل پر حق کی فتح کا عقیدہ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں پایا جاتا، بلکہ دنیا کے دوسرے ادیان بھی اس عقیدے میں مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔
۱۔ زرتشت:
زرتشتیوں کی مذہبی کتاب زند میں فسادات کے اختتام اور نیک لوگوں کی حکومت کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ اہریمنان کا لشکر ایزدان کے لشکر سے ہمیشہ جنگ کرتا رہتا ہے اور اکثر اہرمنوں کی جیت ہوتی ہے لیکن اس طرح نہیں کہ وہ ایزدان کا بالکل صفایا ہی کردیں کچھ دنوں کے بعد آسمان کے خدا اور مزد کی طرف سے اس کے بیٹے ایزدان کے پاس مدد آئے گی اور ان کی جنگ نو ہزار سال تک چلتی رہے گی اس کے بعد ایزدان کی جیت ہوگی اور اہریمن کا صفایا ہو جائے گا اہریمن کا اقتدار تو صرف زمین پر ہی ہے آسمان پر ان کا وجود نہیں ہے۔
جاماسپ نامہ میں لکھا گیا ہے کہ ہاشم کی اولاد سے ایک انسان زمین سے باہر نکلے گا جس کا سر پنڈلیاں اور جسم بڑا ہوگا اور وہ اپنے جد کے دین پر ہوگا…۔
اسی کتاب میں ایک دوسری جگہ پر لکھا ہوا ہے کہ سب سے بڑا نجات دینے والا دین کو دنیا میں پھیلائے گا، بھوک مری کو ختم کرے گا ایزدان کو اہریمن کے ہاتھ سے بچائے گا اور دنیا کے تمام لوگوں کی تہذیب، فکر اور کردار کو ایک بنا دے گا۔
۲۔ ہندو:
شاک منی جو کہ ہندوؤں کا سردار ہے اور اس کے ماننے والے اس کو آسمانی کتاب کے ساتھ پیغمبر مانتے ہیں، اس نے اپنی کتاب میں آخری زمانے میں ایک روحانی کے جھنڈے کے نیچے سبھی مذہبوں کے ایک ہو جانے کے بارے میں اشارہ کیا ہے۔
اس نے لکھا ہے کہ دنیا کے خراب ہو جانے کے بعد آخری زمانے میں ایک بادشاہ پیدا ہوگا جو پوری دنیا کے لوگوں کا رہبر ہوگا، اس کا نام منصور ہوگا، وہ پوری دنیا پر حکومت کرے گا اور سب کو اپنے دین میں شامل کرلے گا۔
۳۔ زبور:
تمام اجسام کا خاتمہ ہو جائے گا اور اللہ کا انتظار کرنے والے زمین کے وارث بنیں گے ہاں کچھ وقت کے بعد کوئی جسم باقی نہیں رہے گا۔
اس کی جگہ کے بارے میں تم تامل کرو گے اور نہیں کر پاؤ گے۔ لیکن حلیم لوگ زمین کے وارث بنیں گے ……اور زمین پر ان کی وراثت ہمیشہ رہے گی۔
۴۔ توریت:
باغ میں ایک نیا درخت اگا ہے اس کی شاخیں اس کی جڑ سے پہلے پھولیں گی اور اللہ کی روح اس پر ٹھہرے گی وہ مسکینوں کے لیے عدالت کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور مظلوموں کے لئے زمین پر سچی حکومت کرے گا۔
۵۔ انجیل:
اپنی کمر کو باندھ لو اور اپنے چراغوں کو روشن رکھو اور رات میں اس طرح رہو جیسے کوئی اپنے مالک کا انتظار کرتا ہے……… کتنے خوش نصیب ہیں وہ غلام، جن کا مالک آنے کے بعد ان کو جاگتا ہوا پائے،…… پس تم بھی تیار رہو، کیونکہ انسان کا بیٹا اس وقت آئے گا جس کے بارے میں تمہیں گمان بھی نہ ہوگا۔
● امام مہدیؑ کا ذکر کتب آسمانی میں:
حضرت داؤد کی زبور کی آیت ۴# مرموز ۹۷ میں ہے کہ آخری زمانہ میں جو انصاف کا مجسمہ انسان آئے گا، اس کے سر پر ابر سایہ فگن ہوگا۔ کتاب صفیائے پیغمبر کے فصل ۳ آیت ۹ میں ہے آخری زمانے میں تمام دنیا موحد ہو جائے گی۔ کتاب زبور مرموز۱۲۰ میں ہے جو آخرالزماں آئے گا، اس پر آفتاب اثرانداز نہ ہو گا۔ صحیفہ شعیب پیغمبر کے فصل ۱۱ میں ہے کہ جب نور خدا ظہور کرے گا تو عدل و انصاف کا ڈنکا بجے گا۔ شیر اور بکری ایک جگہ رہیں گے چیتا اور بزغالہ ایک ساتھ چریں گے شیر اور گوسالہ ایک ساتھ رہیں گے، گوسالہ اور مرغ ایک ساتھ ہوں گے شیر اور گائے میں دوستی ہوگی۔ طفل شیرخوار سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالے گا اور وہ کاٹے گا نہیں پھر اسی صفحہ کے فصل ۲۷ میں ہے کہ یہ نور خدا جب ظاہر ہوگا، تو تلوارکے ذریعہ سے تمام دشمنوں سے بدلہ لے گا صحیفہ تنجاس حرف الف میں ہے کہ ظہور کے بعد ساری دنیا کے بت مٹا دیے جائیں گے، ظالم اور منافق ختم کردیے جائیں گے یہ ظہور کرنے والا کنیز خدا (نرجس) کا بیٹا ہو گا۔ توریت کے سفر انبیاٴ میں ہے کہ مہدی ظہور کریں گے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے، دجال کو قتل کریں گے انجیل میں ہے کہ مہدی اور عیسیٰ دجال اور شیطان کو قتل کریں گے۔ اسی طرح مکمل واقعہ جس میں شہادت امام حسین اور ظہور مہدی علیہ السلام کا اشارہ ہے۔ انجیل کتاب دانیال باب ۱۲ فصل ۹ آیت ۲۴ رویائے ۲#میں موجود ہے (کتاب الوسائل س۱۲۹ طبع بمبئی ۱۳۳۹ہجری)۔
● دیگر مذاہب عالم اور وجود امام مہدیؑ:
مختلف کتابوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ تقریبا دنیا کے جملہ مذاہب اور عقلاء اس بات پر متفق ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک ایسی ہستی آئے گی جو دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کرکے عدل و انصاف سے اس کرۂ ارض کے بگڑے ہوئے معاشرے اور اخلاق کو درست کرے گی البتہ ایسی ہستی کا نام ہر مذہب و ملت نے الگ الگ بتایا ہے.
https://t.me/islamwitheman/3300
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 قرآن اور حضرت امام مہدیؑ 🌹
حضرت مہدی علیہ السلام، آخری زمانہ میں منجی عالم کے ظہور، صالحین کی حکومت اور ان پر کامیابی و کامرانی کے سلسلہ میں قرآن مجید میں بہت سی آیات کا تذکرہ ہوا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ھے:
”ہم نے توریت کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کی…
حضرت مہدی علیہ السلام، آخری زمانہ میں منجی عالم کے ظہور، صالحین کی حکومت اور ان پر کامیابی و کامرانی کے سلسلہ میں قرآن مجید میں بہت سی آیات کا تذکرہ ہوا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ھے:
”ہم نے توریت کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کی…
🌹 شرفِ زیارت امام مھدیؑ 🌹
کتاب "کیمیائے سعادت" ص41 منقول از کتاب "سرمایہ سخن" جلد1 ص611 میں یہ سچی داستان نقل ہوئی ہے۔۔
ایک نہایت زیرک عابد وزاہد انسان کے دل میں امام زمانہ عج کی زیارت کی خواہش پیدا ہوئی، جتنے جتن کئے سب ناکام، ریاضت کی، چلے کاٹے مگر بے سود جیسا کہ مشہورہے کہ بدھ کی راتوں کو کوفہ کی "مسجدِ سہلہ" میں امام زمانہؑ کی زیارت کا شرف حاصل ہوتاہے، وہاں جاتارہا، عبادت کرتارہا، پھربھی اسے شرفِ دیدار حاصل نہ ہوسکا۔
مدتوں اسیطرح سرگردان رہا سرتوڑ کوششیں کیں مگر بےسود، آخر علومِ غریبہ واسرارخفیہ نیز حروف واعداد کے گورکھ دھندوں میں الجھا، ہزاروں جتن کئے مگر سب ناکام، البتہ مسلسل شب بیداریوں اور سحرگاہی مناجاتوں کی وجہ سے اسکے دل میں صفائے باطن پیدا ہوچکی تھی، بعض اوقات اسکے دل میں نورانی چمک پیدا ہوجاتی تھی جس پر وہ حقائق کا ادراک اور دقائق کا انکشاف کرلیا کرتاتھا۔
ایک دن اسے اسی معنوی حالت وروحانی کیفیت میں بتایاگیا کہ "امام زمانہؑ کی زیارت تمہارے لئے ناممکن ہے ہاں اگر تم فلاں شہر چلے جاؤ تو ممکن ہے شرفِ زیارت حاصل ہوجائے‘‘
اس نے وہاں کیلئے رختِ سفرباندھا اور روانہ ہوگیا، چند روز بعد اس شہر میں پہنچ گیا، وہاں پر بھی وہ ریاضتوں اور چِلوں میں مصروف ہوگیا۔ ۲۸ یا ۲۹ دنوں کیبعد اسے کسی نے بتایا کہ ’’حضرت بقیۃ اللہ الاعظم اسوقت لوہاروں کے بازار میں فلاں بوڑھے لوہار کی دوکان پر تشریف فرما ہیں، ابھی جاؤ اور امامؑ کی خدمت میں پہنچنے کا شرف حاصل کرو‘‘
یہ سنتے ہی وہ بڑے شوق سے اٹھا اور سیدھا بوڑھے قفل ساز کی دوکان پر پہنچا، دیکھا تو امام عالی مقامؑ بوڑھے لوہار کیساتھ بڑی دلچسپی کیساتھ محبت بھری باتیں کررہے ہیں، اس نے جاتے ہی سلام کیا، امامؑ نے جواب دیا اور اشارے سے چپ چاپ بیٹھنے کاکہا۔
اتنے میں اس نے دیکھا کہ ایک نہایت ہی کمزور وناتواں بڑھیا کمرخمیدہ عصابدست نے کانپتے ہاتھوں کیساتھ ایک تالا دکھایا اور کہا:
’’اگر ممکن ہوتو برائے مہربانی مجھ سے یہ تالا مبلغ تین روپے میں خریدلو، کیونکہ مجھے اسی رقم کی سخت ضرورت ہے۔"
بوڑھے قفل ساز نے وہ تالا اس بڑھیا سے لےلیا اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھا کہ تالا تو بالکل ٹھیک ہے، صرف اس کیلئے چابی کی ضرورت ہوگی جو بیس پیسے کی مل سکتی ہے، اس نے بڑھیا سے کہا:
"بہن! تالے کی قیمت آٹھ روپے ہے کیونکہ تالا بالکل ٹھیک ہے، البتہ صرف بیس پیسے کی چابی خریدلو، کیوں خوامخواہ آٹھ روپے کی چیز تین آنے میں بیچتی ہو"
بڑھیا نے کہا:
"نہ! مجھے اسکی ضرورت نہیں مجھے صرف تین روپے چاہئیں، خدا کیلئے اسے لےلو اور مجھے تین روپے دیدو، تمہیں دعائیں دونگی"
بوڑھے قفلساز نے نہایت سادگی سےکہا:
"میری بہن تم بھی مسلمان ہو اور میں بھی مسلمان ہوں تو میں کیوں کسی مسلمان کی چیز سستی خریدکر اسکا حق ضائع کروں۔ چونکہ اسکی قیمت آٹھ روپے ہے، اگر میں اس سے منافع بھی کماؤں تو صرف ایک روپے بنتا ہے، اور ساڑھے سات روپے میں خرید لوں، کیونکہ آٹھ روپے میں صرف پچاس پیسے ہی میرے لئے صحیح منافع بنتاہے اس سے زیادہ لینا بے انصافی ہوگی، اگر تالا بیچنا چاہتی ہوتو ساڑھے سات روپے میں خرید لونگا، ایک بار پھر بتادوں کہ اس کی صحیح قیمت آٹھ روپے ہے چونکہ میں بھی ایک مزدور آدمی ہوں، پچاس پیسے میرا بھی حق بنتاہے لہٰذا ساڑھے سات روپے دینے کیلئے تیار ہوں"
بڑھیا کو شاید قفل ساز کی باتوں کا یقین نہیں آرہا تھا، پریشان سی ہوگئی اس نے خود سے کہنا شروع کردیا:
"جب میں خود کہہ رہی ہوں کہ کوئی شخص اسے تین روپے میں خریدنے پر تیار نہیں اور یہ مجھ سے ساڑھے سات روپے میں خریدرہا ہے، تعجب ہے"
بوڑھے لوہار نے اسے ساڑھے سات روپے دئیے اور وہ چلی گئی۔
جب وہ چلی گئی تو حضرت ولی عصرؑ نے اس شخص سے فرمایا:
"عزیزِ من! تم نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کیا؟ تم لوگ بھی اسیطرح بنو تاکہ میں خود تمہارے ساتھ ملاقات کیلئے آؤں۔ چلے کاٹنے اور ریاضتیں کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، تمہارا ہرکام صحیح سمت میں اور اسلامی اصولوں کیمطابق ہوکہ اسطرح سے میں تمہارے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہوں، ذرا دیکھو! اس پورے شہر سے میں نے صرف اسی بوڑھے کا انتخاب کیاہے، کیونکہ یہی شخص ہی دیندار اور خدا ترس ہے اور خدا کی معرفت رکھتاہے، یہ شخص آزمائش شدہ ہے، یہ بڑھیا جب لوہاروں کے بازار میں داخل ہوئی بازار کے اس سرے سے اس نے یہ تالا بیچنا شروع کیا، مگر
کسی نے اس سے صرف تین روپے میں نہ خریدا، حالانکہ وہ پریشان حال اور ضرورتمند تھی، اسکی اسی مجبوری کو دیکھکر سب نے سستے داموں خریدنا چاہا اور تین روپے میں خریدنے پر تیار نہیں ہوئے اور اس بوڑھے نے ساڑ ھے سات روپے میں خریدلیا، اسکی اسی ادا کیوجہ سے ہم ہفتے میں ایک مرتبہ اسے ملنے کیلئے اس کی دلجوئی اورحال احوال دریافت کرنے آجاتے ہیں۔"
📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل۔
https://t.me/islamwitheman/3301
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
کتاب "کیمیائے سعادت" ص41 منقول از کتاب "سرمایہ سخن" جلد1 ص611 میں یہ سچی داستان نقل ہوئی ہے۔۔
ایک نہایت زیرک عابد وزاہد انسان کے دل میں امام زمانہ عج کی زیارت کی خواہش پیدا ہوئی، جتنے جتن کئے سب ناکام، ریاضت کی، چلے کاٹے مگر بے سود جیسا کہ مشہورہے کہ بدھ کی راتوں کو کوفہ کی "مسجدِ سہلہ" میں امام زمانہؑ کی زیارت کا شرف حاصل ہوتاہے، وہاں جاتارہا، عبادت کرتارہا، پھربھی اسے شرفِ دیدار حاصل نہ ہوسکا۔
مدتوں اسیطرح سرگردان رہا سرتوڑ کوششیں کیں مگر بےسود، آخر علومِ غریبہ واسرارخفیہ نیز حروف واعداد کے گورکھ دھندوں میں الجھا، ہزاروں جتن کئے مگر سب ناکام، البتہ مسلسل شب بیداریوں اور سحرگاہی مناجاتوں کی وجہ سے اسکے دل میں صفائے باطن پیدا ہوچکی تھی، بعض اوقات اسکے دل میں نورانی چمک پیدا ہوجاتی تھی جس پر وہ حقائق کا ادراک اور دقائق کا انکشاف کرلیا کرتاتھا۔
ایک دن اسے اسی معنوی حالت وروحانی کیفیت میں بتایاگیا کہ "امام زمانہؑ کی زیارت تمہارے لئے ناممکن ہے ہاں اگر تم فلاں شہر چلے جاؤ تو ممکن ہے شرفِ زیارت حاصل ہوجائے‘‘
اس نے وہاں کیلئے رختِ سفرباندھا اور روانہ ہوگیا، چند روز بعد اس شہر میں پہنچ گیا، وہاں پر بھی وہ ریاضتوں اور چِلوں میں مصروف ہوگیا۔ ۲۸ یا ۲۹ دنوں کیبعد اسے کسی نے بتایا کہ ’’حضرت بقیۃ اللہ الاعظم اسوقت لوہاروں کے بازار میں فلاں بوڑھے لوہار کی دوکان پر تشریف فرما ہیں، ابھی جاؤ اور امامؑ کی خدمت میں پہنچنے کا شرف حاصل کرو‘‘
یہ سنتے ہی وہ بڑے شوق سے اٹھا اور سیدھا بوڑھے قفل ساز کی دوکان پر پہنچا، دیکھا تو امام عالی مقامؑ بوڑھے لوہار کیساتھ بڑی دلچسپی کیساتھ محبت بھری باتیں کررہے ہیں، اس نے جاتے ہی سلام کیا، امامؑ نے جواب دیا اور اشارے سے چپ چاپ بیٹھنے کاکہا۔
اتنے میں اس نے دیکھا کہ ایک نہایت ہی کمزور وناتواں بڑھیا کمرخمیدہ عصابدست نے کانپتے ہاتھوں کیساتھ ایک تالا دکھایا اور کہا:
’’اگر ممکن ہوتو برائے مہربانی مجھ سے یہ تالا مبلغ تین روپے میں خریدلو، کیونکہ مجھے اسی رقم کی سخت ضرورت ہے۔"
بوڑھے قفل ساز نے وہ تالا اس بڑھیا سے لےلیا اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھا کہ تالا تو بالکل ٹھیک ہے، صرف اس کیلئے چابی کی ضرورت ہوگی جو بیس پیسے کی مل سکتی ہے، اس نے بڑھیا سے کہا:
"بہن! تالے کی قیمت آٹھ روپے ہے کیونکہ تالا بالکل ٹھیک ہے، البتہ صرف بیس پیسے کی چابی خریدلو، کیوں خوامخواہ آٹھ روپے کی چیز تین آنے میں بیچتی ہو"
بڑھیا نے کہا:
"نہ! مجھے اسکی ضرورت نہیں مجھے صرف تین روپے چاہئیں، خدا کیلئے اسے لےلو اور مجھے تین روپے دیدو، تمہیں دعائیں دونگی"
بوڑھے قفلساز نے نہایت سادگی سےکہا:
"میری بہن تم بھی مسلمان ہو اور میں بھی مسلمان ہوں تو میں کیوں کسی مسلمان کی چیز سستی خریدکر اسکا حق ضائع کروں۔ چونکہ اسکی قیمت آٹھ روپے ہے، اگر میں اس سے منافع بھی کماؤں تو صرف ایک روپے بنتا ہے، اور ساڑھے سات روپے میں خرید لوں، کیونکہ آٹھ روپے میں صرف پچاس پیسے ہی میرے لئے صحیح منافع بنتاہے اس سے زیادہ لینا بے انصافی ہوگی، اگر تالا بیچنا چاہتی ہوتو ساڑھے سات روپے میں خرید لونگا، ایک بار پھر بتادوں کہ اس کی صحیح قیمت آٹھ روپے ہے چونکہ میں بھی ایک مزدور آدمی ہوں، پچاس پیسے میرا بھی حق بنتاہے لہٰذا ساڑھے سات روپے دینے کیلئے تیار ہوں"
بڑھیا کو شاید قفل ساز کی باتوں کا یقین نہیں آرہا تھا، پریشان سی ہوگئی اس نے خود سے کہنا شروع کردیا:
"جب میں خود کہہ رہی ہوں کہ کوئی شخص اسے تین روپے میں خریدنے پر تیار نہیں اور یہ مجھ سے ساڑھے سات روپے میں خریدرہا ہے، تعجب ہے"
بوڑھے لوہار نے اسے ساڑھے سات روپے دئیے اور وہ چلی گئی۔
جب وہ چلی گئی تو حضرت ولی عصرؑ نے اس شخص سے فرمایا:
"عزیزِ من! تم نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کیا؟ تم لوگ بھی اسیطرح بنو تاکہ میں خود تمہارے ساتھ ملاقات کیلئے آؤں۔ چلے کاٹنے اور ریاضتیں کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، تمہارا ہرکام صحیح سمت میں اور اسلامی اصولوں کیمطابق ہوکہ اسطرح سے میں تمہارے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہوں، ذرا دیکھو! اس پورے شہر سے میں نے صرف اسی بوڑھے کا انتخاب کیاہے، کیونکہ یہی شخص ہی دیندار اور خدا ترس ہے اور خدا کی معرفت رکھتاہے، یہ شخص آزمائش شدہ ہے، یہ بڑھیا جب لوہاروں کے بازار میں داخل ہوئی بازار کے اس سرے سے اس نے یہ تالا بیچنا شروع کیا، مگر
کسی نے اس سے صرف تین روپے میں نہ خریدا، حالانکہ وہ پریشان حال اور ضرورتمند تھی، اسکی اسی مجبوری کو دیکھکر سب نے سستے داموں خریدنا چاہا اور تین روپے میں خریدنے پر تیار نہیں ہوئے اور اس بوڑھے نے ساڑ ھے سات روپے میں خریدلیا، اسکی اسی ادا کیوجہ سے ہم ہفتے میں ایک مرتبہ اسے ملنے کیلئے اس کی دلجوئی اورحال احوال دریافت کرنے آجاتے ہیں۔"
📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل۔
https://t.me/islamwitheman/3301
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 امام مهدیؑ اور دیگر ادیان 🌹
آسمانی کتابوں کی تحقیق کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ دنیا کے اچھے مستقبل اور باطل پر حق کی فتح کا عقیدہ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں پایا جاتا، بلکہ دنیا کے دوسرے ادیان بھی اس عقیدے میں مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔
۱۔ زرتشت:
زرتشتیوں…
آسمانی کتابوں کی تحقیق کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ دنیا کے اچھے مستقبل اور باطل پر حق کی فتح کا عقیدہ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں پایا جاتا، بلکہ دنیا کے دوسرے ادیان بھی اس عقیدے میں مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔
۱۔ زرتشت:
زرتشتیوں…
🌹 انتظار امام عصر عج کا ثواب 🌹
👈 جو لوگ امام زمانہ عليہ السلام کا انتظار کرتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کو پیغمبر اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے صدیوں پہلے اپنا بھائی اور دوست قرار دیا ہے اور ان سے اپنی قلبی محبت اور دوستی کا اعلان کیا ہے۔
🌼 حضرت امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمایا:
''ایک روز پیغمبر اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ایک گروہ کی محفل میں فرمایا:
🌹 پالنے والے! مجھے میرے بھائی کو دکھلا دے!
اوریہ جملہ دو بارکہا. آنحضرت صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے کہا:
یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟!
آنحضرت صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
*تم لوگ میرے صحابہ ہو لیکن میرے بھائی وہ ہیں جو آخری زمانے میں مجھ پر ایمان لائیں گے جبکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہوگا!
خداوندعالم نے ان کا نام مع ولدیت مجھے بتایا ہے... ان میں سے ہر ایک کا اپنے دین پر ثابت قدم رہنا اندھیری رات میں ''گون'' نامی درخت سے کانٹا توڑنے اور دہکتی ہوئی آگ کو ہاتھ میں لینے سے کہیں زیادہ سخت ہے۔
وہ لوگ ہدایت کی مشعل ہیں جن کو خداوندعالم خطرناک فتنہ و فساد سے نجات عطاکرے گا''* بحارالانوار،ج٥٢،ص١٢٣
🌷 نیز پیغمبر اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
''خوش نصیب ہے وہ شخص جو ہم اہل بیت کے قائم کے زمانے کو پائے اس حال میں کہ وہ ان کے قیام سے پہلے ان کی اقتداء اور پیروی کرتا ہو۔
وہ شخص جناب قائم عليہ السلام کے دوستوں کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہو۔ نیز ان سے پہلے کے آئمہ سے بھی محبت رکھتا ہو .
ایسے لوگ میرے ساتھی اور میری محبت و مودت کے مالک ہیں اور میرے نزدیک میری امت کے سب سے محبوب و معزز افراد ہیں''۔
کمال الدین،ج١،باب٢٥،ح٢،ص٥٣٥
🔵 لہٰذا جو افراد پیغمبر اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کے نزدیک اتنا عظیم مرتبہ رکھتے ہیں ان لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کے دوست کے عنوان سے خطاب کیا جائے گا! اور وہ بھی ایسی آوازمیں جو عشق و محبت سے بھری ہوگی اور خداوندعالم سے نہایت قربت کی عکاسی کرتی ہوگی
🌸 حضرت امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمایا:
''ایک زمانہ وہ آئے گا کہ مومنین کا امام غائب ہوگا، پس خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رہے بے شک ان کی کم سے کم جزا یہ ہوگی کہ خداوندعالم ان سے خطاب فرمائے گا:
💐اے میرے بندو! تم میرے راز (اور امام غائب) پر ایمان لائے ہو اور تم نے اس کی تصدیق کی ، پس تمہیں میری طرف سے بہترین جزا کی بشارت ہو، تم واقعاً میرے بندے ہو۔
میں تمھارے اعمال کو قبول کرتا ہوں اور تمھاری خطاؤں سے درگزر کرتا ہوں اور تمھاری (برکت کی) وجہ سے اپنے بندوں پر بارش نازل کرتا ہوں اور بلاؤں کو دور کرتا ہوں اوراگر تم (لوگوں کے درمیان ) نہ ہوتے تو پھر میں(گناہگار لوگوں پر) ضرور اپناعذاب نازل کرتا''
کمال الدین،ج١،باب٢٣،ح١٥،ص٦٠٢
🔷 لیکن انتظار کرنے والوں کو کس چیز کے ذریعہ آرام اور سکون ملتا ہے اور کیا چیز ان کے انتظار کو ختم کرتی ہے؟ کس چیز سے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے اور ان کے بے قرار دلوں کو چین و سکون کب ملتا ہے؟
🔶 کیا جن لوگوں نے عمر بھر انتظار کے راستہ پرنظریں جمائے رکھیں اور تمام تر مشکلات کے باوجود اسی راستہ پر گامزن رہے تاکہ مہدی منتظر عليہ السلام کے سر سبز چمن میں قدم رکھیں کیا وہ لوگ اپنے محبوب امام کی ہم نشینی سے کم کسی اور چیزپر راضی ہوں گے؟
آیا اس ہم نشینی سے بہترین اورکوئی انعام ہوسکتا ہے اور اس سے بہتر کوئی اور موقع ہوسکتا ہے!
🌹 حضرت امام موسیٰ کاظم عليہ السلام نے فرمایا:
''خوش نصیب ہیں ہمار ے وہ شیعہ جو ہمارے قائم کی غیبت کے زمانہ میں ہماری دوستی کی رسّی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور ہماری دوستی اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری پر ڈٹے رہیں۔
وہ ہم سے ہیں اور ہم ان سے ہیں ،وہ ہماری امامت و رہبری پر راضی ہوئے (اور ہماری امامت کو قبول کیا) اور ہم بھی ان کے شیعہ ہونے سے راضی اور خوشنود ہوئے ہیں
خوش نصیب ہیں وہ!! خدا کی قسم یہ افراد روز قیامت ہمارے ساتھ اور ہمارے مرتبہ میں ہوں گے''۔
طالب دعا: علی اصغر سیفی
📚 کمال الدین،ج٢،باب٣٤،ح٥،ص٤٣
https://t.me/islamwitheman/3302
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👈 جو لوگ امام زمانہ عليہ السلام کا انتظار کرتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کو پیغمبر اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے صدیوں پہلے اپنا بھائی اور دوست قرار دیا ہے اور ان سے اپنی قلبی محبت اور دوستی کا اعلان کیا ہے۔
🌼 حضرت امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمایا:
''ایک روز پیغمبر اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ایک گروہ کی محفل میں فرمایا:
🌹 پالنے والے! مجھے میرے بھائی کو دکھلا دے!
اوریہ جملہ دو بارکہا. آنحضرت صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے کہا:
یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟!
آنحضرت صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
*تم لوگ میرے صحابہ ہو لیکن میرے بھائی وہ ہیں جو آخری زمانے میں مجھ پر ایمان لائیں گے جبکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہوگا!
خداوندعالم نے ان کا نام مع ولدیت مجھے بتایا ہے... ان میں سے ہر ایک کا اپنے دین پر ثابت قدم رہنا اندھیری رات میں ''گون'' نامی درخت سے کانٹا توڑنے اور دہکتی ہوئی آگ کو ہاتھ میں لینے سے کہیں زیادہ سخت ہے۔
وہ لوگ ہدایت کی مشعل ہیں جن کو خداوندعالم خطرناک فتنہ و فساد سے نجات عطاکرے گا''* بحارالانوار،ج٥٢،ص١٢٣
🌷 نیز پیغمبر اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
''خوش نصیب ہے وہ شخص جو ہم اہل بیت کے قائم کے زمانے کو پائے اس حال میں کہ وہ ان کے قیام سے پہلے ان کی اقتداء اور پیروی کرتا ہو۔
وہ شخص جناب قائم عليہ السلام کے دوستوں کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہو۔ نیز ان سے پہلے کے آئمہ سے بھی محبت رکھتا ہو .
ایسے لوگ میرے ساتھی اور میری محبت و مودت کے مالک ہیں اور میرے نزدیک میری امت کے سب سے محبوب و معزز افراد ہیں''۔
کمال الدین،ج١،باب٢٥،ح٢،ص٥٣٥
🔵 لہٰذا جو افراد پیغمبر اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کے نزدیک اتنا عظیم مرتبہ رکھتے ہیں ان لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کے دوست کے عنوان سے خطاب کیا جائے گا! اور وہ بھی ایسی آوازمیں جو عشق و محبت سے بھری ہوگی اور خداوندعالم سے نہایت قربت کی عکاسی کرتی ہوگی
🌸 حضرت امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمایا:
''ایک زمانہ وہ آئے گا کہ مومنین کا امام غائب ہوگا، پس خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رہے بے شک ان کی کم سے کم جزا یہ ہوگی کہ خداوندعالم ان سے خطاب فرمائے گا:
💐اے میرے بندو! تم میرے راز (اور امام غائب) پر ایمان لائے ہو اور تم نے اس کی تصدیق کی ، پس تمہیں میری طرف سے بہترین جزا کی بشارت ہو، تم واقعاً میرے بندے ہو۔
میں تمھارے اعمال کو قبول کرتا ہوں اور تمھاری خطاؤں سے درگزر کرتا ہوں اور تمھاری (برکت کی) وجہ سے اپنے بندوں پر بارش نازل کرتا ہوں اور بلاؤں کو دور کرتا ہوں اوراگر تم (لوگوں کے درمیان ) نہ ہوتے تو پھر میں(گناہگار لوگوں پر) ضرور اپناعذاب نازل کرتا''
کمال الدین،ج١،باب٢٣،ح١٥،ص٦٠٢
🔷 لیکن انتظار کرنے والوں کو کس چیز کے ذریعہ آرام اور سکون ملتا ہے اور کیا چیز ان کے انتظار کو ختم کرتی ہے؟ کس چیز سے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے اور ان کے بے قرار دلوں کو چین و سکون کب ملتا ہے؟
🔶 کیا جن لوگوں نے عمر بھر انتظار کے راستہ پرنظریں جمائے رکھیں اور تمام تر مشکلات کے باوجود اسی راستہ پر گامزن رہے تاکہ مہدی منتظر عليہ السلام کے سر سبز چمن میں قدم رکھیں کیا وہ لوگ اپنے محبوب امام کی ہم نشینی سے کم کسی اور چیزپر راضی ہوں گے؟
آیا اس ہم نشینی سے بہترین اورکوئی انعام ہوسکتا ہے اور اس سے بہتر کوئی اور موقع ہوسکتا ہے!
🌹 حضرت امام موسیٰ کاظم عليہ السلام نے فرمایا:
''خوش نصیب ہیں ہمار ے وہ شیعہ جو ہمارے قائم کی غیبت کے زمانہ میں ہماری دوستی کی رسّی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور ہماری دوستی اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری پر ڈٹے رہیں۔
وہ ہم سے ہیں اور ہم ان سے ہیں ،وہ ہماری امامت و رہبری پر راضی ہوئے (اور ہماری امامت کو قبول کیا) اور ہم بھی ان کے شیعہ ہونے سے راضی اور خوشنود ہوئے ہیں
خوش نصیب ہیں وہ!! خدا کی قسم یہ افراد روز قیامت ہمارے ساتھ اور ہمارے مرتبہ میں ہوں گے''۔
طالب دعا: علی اصغر سیفی
📚 کمال الدین،ج٢،باب٣٤،ح٥،ص٤٣
https://t.me/islamwitheman/3302
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 شرفِ زیارت امام مھدیؑ 🌹
کتاب "کیمیائے سعادت" ص41 منقول از کتاب "سرمایہ سخن" جلد1 ص611 میں یہ سچی داستان نقل ہوئی ہے۔۔
ایک نہایت زیرک عابد وزاہد انسان کے دل میں امام زمانہ عج کی زیارت کی خواہش پیدا ہوئی، جتنے جتن کئے سب ناکام، ریاضت کی، چلے کاٹے مگر بے…
کتاب "کیمیائے سعادت" ص41 منقول از کتاب "سرمایہ سخن" جلد1 ص611 میں یہ سچی داستان نقل ہوئی ہے۔۔
ایک نہایت زیرک عابد وزاہد انسان کے دل میں امام زمانہ عج کی زیارت کی خواہش پیدا ہوئی، جتنے جتن کئے سب ناکام، ریاضت کی، چلے کاٹے مگر بے…
🌹 امامؑ کی اطاعت 🌹
"کاش میرا ہر شیعہ اس مومنہ کی طرح اپنی زندگی کا اصول بنا لے".
ابوبصیر اسدی کوفی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے چھٹے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ میں نے دیکھا کہ ایک خاتون پورے اسلامی حجاب میں (جس کا نام ام خالد تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے). خدمت امامؑ میں آتی ہیں اور اسی حجاب اسلامی کے اندر رہ کر ایک سوال کرتی ہیں کہ:
اے فرزند رسولؐ! مجھے ایسا مسئلہ پیش آگیا ہے کہ جس کے لیے میں آپ تک آئی ہوں اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ میں بیمار ہوں اور کافی طویل عرصے سے میں بیمار ہوں اور یہ بیماری بڑھتی چلی جارہی ہے.
میں نے ہر طرح سے علاج کراکے دیکھ لیا مگر کسی طبیب اور ڈاکٹر کی دوا نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا. بہرحال کوشش کرنا تو مومن کا کام ہے اور جب مجھے مایوسی ہوگئی تو میں صبر کرکے بیٹھی رہی کہ شاہد اللہ اس طرح سے میرا امتحان لے رہا ہے. تکلیف بھی بڑھتی جارہی ہے اذیت میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن انسان کرے تو کیا کرے؟مگر فرزند رسول ایک عجیب بات جسے میں نے مشاہدہ کیا وہ یہ ہے کہ جیسی بیماری مجھے ہے ایسی ہی بیماری شہر مدینہ میں اور بہت سے لوگوں کوہوئی اور وہی ڈاکٹر اور طبیب جن کے پاس میں اپنے علاج کے لیے گئی انھوں نے ہی اُن بیماروں کا علاج کیا. بیماری ایک, طبیب بھی وہی, اس طبیب کی دواؤں سے باقی سب کو صحت ملی.
باقی سب ٹھیک ہوگئے لیکن وہی طبیب, میں ان سے رجوع کررہی ہوں تو نہ صرف یہ کہ بیماری ختم نہیں ہورہی بلکہ روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے اور تکلیف میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے.
مولا میں گھبرا گئی اور میں نے اپنے طبیبوں سے ایک بات کی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہی بیماری دوسروں کو ہے, دوسرے لوگوں کے لیے تو تم صحیح دوا دے رہے ہو اور اس کا علاج ہوتا جارہا ہے اور وہی بیماری مجھے ہے تو تمہاری دوا فائدہ نہیں کررہی ہے طبیبوں نے ایک مرتبہ جواب دیا اور کہا کہ ہمارے پاس اس بیماری کافقط ایک علاج ہے اور ہمارے پاس اس کا کوئی اور علاج نہیں ہے.
لیکن کیونکہ ہمیں آپ کے بارے میں معلوم ہے کہ آپ کتنی نیک, مقدس اور پرہیزگار خاتون ہیں, اس لیے وہ آپ کو ہم نہیں بتا پارہے. طبیبوں نے کہا کہ اس کا علاج فی الحال ہمارے پاس صرف ایک ہے اور وہ شراب. لیکن ہم آپ کوکیسے بتائیں کہ آپ شراب پیجئے؟ اس لیے ہم خاموش رہے. ہم چپ رہے,دیکھتے رہے لیکن کیا کریں. آج آپ نے خود آکے پوچھ لیا تو آپ کی بیماری کا علاج فقط شراب ہے.
ابوبصیر کہتے ہیں کہ یہ خاتون امامؑ سے یہ سوال کرتی ہے کہ فرزند رسولؐ! اب اتنا بتا دیجیئے کہ جب سارے طبیبوں نے یہی کہا. سب نے مل کر ایک ہی بات کہی تو مولا میں آپ کے پاس آگئی.
آپ یہ فرمائیے کہ میرے لیے کیا حکم ہے؟
ابو بصیر کہتے ہیں امامؑ نے اس خاتون سے ایک سوال کیا کہ اے ام خالد! سارے مدینے کے ڈاکٹر(طبیب) کہہ رہے ہیں کہ تمہاری بیماری کا علاج سوائے شراب کے اور کوئی نہیں ہے تو آخر تو میرے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کیوں آئی؟
ایک مرتبہ انتہائی حیرت کے عالم میں وہ مومنہ کہتی ہیں کہ مولا! میں نے اپنا امام آپ کو مانا, ان ڈاکٹروں کو نہیں مانا. جب میں نے آپ کو اپنا امام مانا تو اب میرا فریضہ ہے کہ زندگی کا جو کام ہے سب سے پہلے آپ سے آکر پوچھوں کہ آپ کیا ہدایت کرتے ہیں؟ مولا میں تو فقط یہ چاہتی ہوں کہ میدان قیامت میں جب میرا نامہ اعمال کھولا جائے گا اور میرے ایک ایک عمل کے بارے میں مجھ سے سوال ہوگا. یہ کام کیوں کیا؟ یہ کام کیوں کیا؟ تو فقط ایک جواب ہو کہ میرے امام نے حکم دیا تھا. میرے آقا اور مولا نے اجازت دی تھی.
ابو بصیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے چھٹے امامؑ اپنی جگہ سے بلند ہوئے اور مجھے دیکھ کر کہا؛
اے ابوبصیر! کاش میرا ہر شیعہ اس مومنہ کی طرح اپنی زندگی کا اصول بنالے.
📚 کربلا امام زمانہ اور ہماری ذمہ داریاں,ص,١٢٦,١٣١۔
https://t.me/islamwitheman/3303
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
"کاش میرا ہر شیعہ اس مومنہ کی طرح اپنی زندگی کا اصول بنا لے".
ابوبصیر اسدی کوفی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے چھٹے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ میں نے دیکھا کہ ایک خاتون پورے اسلامی حجاب میں (جس کا نام ام خالد تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے). خدمت امامؑ میں آتی ہیں اور اسی حجاب اسلامی کے اندر رہ کر ایک سوال کرتی ہیں کہ:
اے فرزند رسولؐ! مجھے ایسا مسئلہ پیش آگیا ہے کہ جس کے لیے میں آپ تک آئی ہوں اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ میں بیمار ہوں اور کافی طویل عرصے سے میں بیمار ہوں اور یہ بیماری بڑھتی چلی جارہی ہے.
میں نے ہر طرح سے علاج کراکے دیکھ لیا مگر کسی طبیب اور ڈاکٹر کی دوا نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا. بہرحال کوشش کرنا تو مومن کا کام ہے اور جب مجھے مایوسی ہوگئی تو میں صبر کرکے بیٹھی رہی کہ شاہد اللہ اس طرح سے میرا امتحان لے رہا ہے. تکلیف بھی بڑھتی جارہی ہے اذیت میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن انسان کرے تو کیا کرے؟مگر فرزند رسول ایک عجیب بات جسے میں نے مشاہدہ کیا وہ یہ ہے کہ جیسی بیماری مجھے ہے ایسی ہی بیماری شہر مدینہ میں اور بہت سے لوگوں کوہوئی اور وہی ڈاکٹر اور طبیب جن کے پاس میں اپنے علاج کے لیے گئی انھوں نے ہی اُن بیماروں کا علاج کیا. بیماری ایک, طبیب بھی وہی, اس طبیب کی دواؤں سے باقی سب کو صحت ملی.
باقی سب ٹھیک ہوگئے لیکن وہی طبیب, میں ان سے رجوع کررہی ہوں تو نہ صرف یہ کہ بیماری ختم نہیں ہورہی بلکہ روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے اور تکلیف میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے.
مولا میں گھبرا گئی اور میں نے اپنے طبیبوں سے ایک بات کی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہی بیماری دوسروں کو ہے, دوسرے لوگوں کے لیے تو تم صحیح دوا دے رہے ہو اور اس کا علاج ہوتا جارہا ہے اور وہی بیماری مجھے ہے تو تمہاری دوا فائدہ نہیں کررہی ہے طبیبوں نے ایک مرتبہ جواب دیا اور کہا کہ ہمارے پاس اس بیماری کافقط ایک علاج ہے اور ہمارے پاس اس کا کوئی اور علاج نہیں ہے.
لیکن کیونکہ ہمیں آپ کے بارے میں معلوم ہے کہ آپ کتنی نیک, مقدس اور پرہیزگار خاتون ہیں, اس لیے وہ آپ کو ہم نہیں بتا پارہے. طبیبوں نے کہا کہ اس کا علاج فی الحال ہمارے پاس صرف ایک ہے اور وہ شراب. لیکن ہم آپ کوکیسے بتائیں کہ آپ شراب پیجئے؟ اس لیے ہم خاموش رہے. ہم چپ رہے,دیکھتے رہے لیکن کیا کریں. آج آپ نے خود آکے پوچھ لیا تو آپ کی بیماری کا علاج فقط شراب ہے.
ابوبصیر کہتے ہیں کہ یہ خاتون امامؑ سے یہ سوال کرتی ہے کہ فرزند رسولؐ! اب اتنا بتا دیجیئے کہ جب سارے طبیبوں نے یہی کہا. سب نے مل کر ایک ہی بات کہی تو مولا میں آپ کے پاس آگئی.
آپ یہ فرمائیے کہ میرے لیے کیا حکم ہے؟
ابو بصیر کہتے ہیں امامؑ نے اس خاتون سے ایک سوال کیا کہ اے ام خالد! سارے مدینے کے ڈاکٹر(طبیب) کہہ رہے ہیں کہ تمہاری بیماری کا علاج سوائے شراب کے اور کوئی نہیں ہے تو آخر تو میرے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کیوں آئی؟
ایک مرتبہ انتہائی حیرت کے عالم میں وہ مومنہ کہتی ہیں کہ مولا! میں نے اپنا امام آپ کو مانا, ان ڈاکٹروں کو نہیں مانا. جب میں نے آپ کو اپنا امام مانا تو اب میرا فریضہ ہے کہ زندگی کا جو کام ہے سب سے پہلے آپ سے آکر پوچھوں کہ آپ کیا ہدایت کرتے ہیں؟ مولا میں تو فقط یہ چاہتی ہوں کہ میدان قیامت میں جب میرا نامہ اعمال کھولا جائے گا اور میرے ایک ایک عمل کے بارے میں مجھ سے سوال ہوگا. یہ کام کیوں کیا؟ یہ کام کیوں کیا؟ تو فقط ایک جواب ہو کہ میرے امام نے حکم دیا تھا. میرے آقا اور مولا نے اجازت دی تھی.
ابو بصیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے چھٹے امامؑ اپنی جگہ سے بلند ہوئے اور مجھے دیکھ کر کہا؛
اے ابوبصیر! کاش میرا ہر شیعہ اس مومنہ کی طرح اپنی زندگی کا اصول بنالے.
📚 کربلا امام زمانہ اور ہماری ذمہ داریاں,ص,١٢٦,١٣١۔
https://t.me/islamwitheman/3303
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 انتظار امام عصر عج کا ثواب 🌹
👈 جو لوگ امام زمانہ عليہ السلام کا انتظار کرتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کو پیغمبر اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے صدیوں پہلے اپنا بھائی اور دوست قرار دیا ہے اور ان سے اپنی قلبی محبت اور دوستی کا اعلان کیا ہے۔
🌼 حضرت امام محمد…
👈 جو لوگ امام زمانہ عليہ السلام کا انتظار کرتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کو پیغمبر اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے صدیوں پہلے اپنا بھائی اور دوست قرار دیا ہے اور ان سے اپنی قلبی محبت اور دوستی کا اعلان کیا ہے۔
🌼 حضرت امام محمد…
🌹 منتظرین امام عج 🌹
ﻋﺎﻟﻢ ﺭﺑﺎﻧﯽ ﺣﺎﺝ ﺍٓﻗﺎﺋﮯ ﺩﻭﻻﺑﯽ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺧﺮﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ؟
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻣﺜﺎﻝ ﺩﯼ ﺟﻮ ﺧﺎﻟﯽ ﺍﺯ ﻟﻄﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ!
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
■ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺍُﺱ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ 4 ﺑﯿﭩﮯ ﮨﻮﮞ۔
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﯼ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﺗﮏ ﺍِﺳﯽ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺭﮨﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﺎ ﮨﻮﮞ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﭼﮭﭗ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ!!
🍂 ﺑﮍﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﻏﻠﻂ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ
ﭼﯿﺰﻭں کو ﺍِﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﭘﮭﯿﻨﮑﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﺍوﺩﮬﻢ ﻣﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ!
🍁 ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﮍﺍ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﭧ ﭘﻠﭧ
ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ:
ﺑﺎﺑﺎ، ﺑﺎﺑﺎ...!!
ﺟﻠﺪﯼ ﺍٓﺟﺎﺅ..!!
🍁 ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﭖ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺮﺍﻣﻮﺵ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ!
🍁 ﭼﻮﺗﮭﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﭖ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﮭﭙﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،
ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺻﺤﯿﺢ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺟﻤﺎنا ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺑﺎﭖ
ﮐﮯ ﺍٓﻧﮯ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﭖ ﭘﺲ ﭘﺮﺩﮦ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ!
ﻭﮦ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﭖ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺍٓﺋﮯ ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ
ﮐﺎﻡ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺳﮑﻮﮞ ﮔﺎ۔ ﻭﮦ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﯽ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺍٓﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ!
ﯾﮧ ﻣﺜﺎﻝ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﮬﻤﺎﺭﯼ ﮨﯽ ﮨﮯ! ﯾﻌﻨﯽ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ!
🍀 ﮬﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﮨﯿﮟ!
🍀 ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧ عج ﮐﻮ ﯾﮑﺴﺮ ﻓﺮﺍﻣﻮﺵ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ،
ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﻭ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﯿﮟ.
🍀 ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺻﺮﻑ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﯾﮩﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﺎ
ﺍﻣﺎﻡ ﺟﻠﺪ ﺍٓﺅ۔ ﺍﻟﻌﺠﻞ، ﺍﻟﺴﺎﻋﺔ ۔ ۔ ۔ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺮﯼ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ!!
🍀 ﺍﻥ ﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﮬﻢ ﺍُﻥ ﭼﻮﺗﮭﮯ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﻮ علماء و فقھاء اور اولیاء عاملین ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧ عج ﮐﮯ ﻇﮩﻮﺭ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻨﺘﻈﺮﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﻇﮩﻮﺭ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﺳﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﯿﮟ.
https://t.me/islamwitheman/3304
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﻋﺎﻟﻢ ﺭﺑﺎﻧﯽ ﺣﺎﺝ ﺍٓﻗﺎﺋﮯ ﺩﻭﻻﺑﯽ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺧﺮﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ؟
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻣﺜﺎﻝ ﺩﯼ ﺟﻮ ﺧﺎﻟﯽ ﺍﺯ ﻟﻄﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ!
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
■ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺍُﺱ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ 4 ﺑﯿﭩﮯ ﮨﻮﮞ۔
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﯼ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﺗﮏ ﺍِﺳﯽ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺭﮨﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﺎ ﮨﻮﮞ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﭼﮭﭗ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ!!
🍂 ﺑﮍﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﻏﻠﻂ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ
ﭼﯿﺰﻭں کو ﺍِﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﭘﮭﯿﻨﮑﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﺍوﺩﮬﻢ ﻣﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ!
🍁 ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﮍﺍ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﭧ ﭘﻠﭧ
ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ:
ﺑﺎﺑﺎ، ﺑﺎﺑﺎ...!!
ﺟﻠﺪﯼ ﺍٓﺟﺎﺅ..!!
🍁 ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﭖ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺮﺍﻣﻮﺵ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ!
🍁 ﭼﻮﺗﮭﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﭖ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﮭﭙﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،
ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺻﺤﯿﺢ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺟﻤﺎنا ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺑﺎﭖ
ﮐﮯ ﺍٓﻧﮯ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﭖ ﭘﺲ ﭘﺮﺩﮦ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ!
ﻭﮦ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﭖ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺍٓﺋﮯ ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ
ﮐﺎﻡ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺳﮑﻮﮞ ﮔﺎ۔ ﻭﮦ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﯽ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺍٓﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ!
ﯾﮧ ﻣﺜﺎﻝ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﮬﻤﺎﺭﯼ ﮨﯽ ﮨﮯ! ﯾﻌﻨﯽ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ!
🍀 ﮬﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﮨﯿﮟ!
🍀 ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧ عج ﮐﻮ ﯾﮑﺴﺮ ﻓﺮﺍﻣﻮﺵ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ،
ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﻭ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﯿﮟ.
🍀 ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺻﺮﻑ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﯾﮩﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﺎ
ﺍﻣﺎﻡ ﺟﻠﺪ ﺍٓﺅ۔ ﺍﻟﻌﺠﻞ، ﺍﻟﺴﺎﻋﺔ ۔ ۔ ۔ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺮﯼ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ!!
🍀 ﺍﻥ ﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﮬﻢ ﺍُﻥ ﭼﻮﺗﮭﮯ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﻮ علماء و فقھاء اور اولیاء عاملین ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧ عج ﮐﮯ ﻇﮩﻮﺭ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻨﺘﻈﺮﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﻇﮩﻮﺭ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﺳﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﯿﮟ.
https://t.me/islamwitheman/3304
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 امامؑ کی اطاعت 🌹
"کاش میرا ہر شیعہ اس مومنہ کی طرح اپنی زندگی کا اصول بنا لے".
ابوبصیر اسدی کوفی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے چھٹے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ میں نے دیکھا کہ ایک خاتون پورے اسلامی حجاب میں (جس کا نام ام خالد…
"کاش میرا ہر شیعہ اس مومنہ کی طرح اپنی زندگی کا اصول بنا لے".
ابوبصیر اسدی کوفی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے چھٹے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ میں نے دیکھا کہ ایک خاتون پورے اسلامی حجاب میں (جس کا نام ام خالد…
❄ امام العصرؑ سے رجوع ❄
شیطان غیب رہ کر بھی ہمیں گمراہ کرتا ہے اور ہدایت سے دور کرتا ہے تو کیا امام العصرؑ غیب رہ کر ہماری ہدایت نہیں کر سکتے ہم کیوں علماء کی طرف رجوع کریں؟
جواب: شيطان اور ابليس ميں فرق ہے۔ شيطانيت ايک صفت ہے جو انسان و جنوں ميں پائى جاتى ہے۔ اسى شيطنت كا خاتمہ كرنے سے انسان ’’انسان‘‘ بنتا ہے۔
جہاں تک ابليس كى بات ہے تو ابليس انسان كو گمراہ نہيں كرتا بلكہ انسان خود ارادہ اور اختيار سے گمراہ ہوتا ہے۔ ابليس انسانى وجود ميں وسوسے ڈالتا ہے۔ ان وسوسوں كا شكار ہونا يا بچ جانا انسان كے اپنے اختيار ميں ہے۔
اللہ تعالٰی نے ہدايت اپنے ہادى رہنماؤں كے ذريعے دى ہے۔ امام حجت عج اس دنيا ميں موجود ہيں اور اللہ تعالٰی كى طرف سے ہادى و رہنما ہيں۔ الٰہى حجتوں كى ذمہ دارى بھى ’’بلاغ‘‘ يعنى پيغام و ہدايت پہنچانا ہے جبكہ اسے قبول كرنا يا انكار كرنا ہر دو انسان كے ارادہ اور اختيار پر ہے۔ آئمہ طاہرين عليہم السلام جبرى طريقہ اختيار نہيں فرماتے۔
يہ بات كہ امام مہدى عج كى طرف براہِ راست رجوع كريں اور امام عج براہِ راست ہمارى ہدايت فرمائيں گے تو يہ بات ۱۱ آئمہ عليہم السلام كے دور ميں رہنے والے تمام لوگوں كے ليے ممكن نہيں تھى كجا ہمارے ليے زمانہِ غيبت ميں ہو جائے!! آئمہ طاہرين عليہم السلام نے ہدايت پہنچانے كيلئے اپنى قريبى اور قابل اصحاب كو مختلف دور دراز علاقوں ميں بھيجا اور انہيں حكم ديا كہ ان كے درميان بيٹھ كر احكام بيان كريں۔ اويس قرنىؓ كى مثال لے ليں كہ آپ نبى اكرم صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم كے زمانے ميں زندگى بسر كرتے رہے ليكن آپ صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم سے ملاقات نہيں ہو سكى۔ لہذا اہل بيت عليہم السلام كے دور كے تمام افراد كے ليے بھى براہِ راست رجوع كرنا ممكن نہيں تھا۔ اس ليے تلقيدِ فقہى كى بنياد آئمہ طاہرين عليہم السلام نے ركھى اور وہ آج بھى جارى ہے۔ حتٰى امام مہدى عج نے خود اس نظام كى توقيع مبارک كے ذريعے بنياد ركھى كہ امامؑ فرماتے ہيں۔۔
ٌ"وَ أَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِيثِنَا فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَ أَنَا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ۔"
ترجمہ:
اور بڑے بڑے پيش آنے والے مسائل ميں ہمارى احاديث بيان كرنے والے كى طرف رجوع كرو، وہ ميرى طرف سے تم پر حجت ہيں اور ميں ان پر اللہ كى حجت ہوں۔
📔كمال الدين وتمام النعمة، ج ۲، ص۴۸۴
امام مہدى عليہ السلام كا يہ فرمان واضح طور پر بيان كر رہا ہے كہ رجوع فقہاءِ باشرائط كى طرف كيا جائے۔ ان كى طرف رجوع كرنا گويا امام معصومؑ كى طرف رجوع كرنا ہے۔
https://t.me/islamwitheman/3305
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
شیطان غیب رہ کر بھی ہمیں گمراہ کرتا ہے اور ہدایت سے دور کرتا ہے تو کیا امام العصرؑ غیب رہ کر ہماری ہدایت نہیں کر سکتے ہم کیوں علماء کی طرف رجوع کریں؟
جواب: شيطان اور ابليس ميں فرق ہے۔ شيطانيت ايک صفت ہے جو انسان و جنوں ميں پائى جاتى ہے۔ اسى شيطنت كا خاتمہ كرنے سے انسان ’’انسان‘‘ بنتا ہے۔
جہاں تک ابليس كى بات ہے تو ابليس انسان كو گمراہ نہيں كرتا بلكہ انسان خود ارادہ اور اختيار سے گمراہ ہوتا ہے۔ ابليس انسانى وجود ميں وسوسے ڈالتا ہے۔ ان وسوسوں كا شكار ہونا يا بچ جانا انسان كے اپنے اختيار ميں ہے۔
اللہ تعالٰی نے ہدايت اپنے ہادى رہنماؤں كے ذريعے دى ہے۔ امام حجت عج اس دنيا ميں موجود ہيں اور اللہ تعالٰی كى طرف سے ہادى و رہنما ہيں۔ الٰہى حجتوں كى ذمہ دارى بھى ’’بلاغ‘‘ يعنى پيغام و ہدايت پہنچانا ہے جبكہ اسے قبول كرنا يا انكار كرنا ہر دو انسان كے ارادہ اور اختيار پر ہے۔ آئمہ طاہرين عليہم السلام جبرى طريقہ اختيار نہيں فرماتے۔
يہ بات كہ امام مہدى عج كى طرف براہِ راست رجوع كريں اور امام عج براہِ راست ہمارى ہدايت فرمائيں گے تو يہ بات ۱۱ آئمہ عليہم السلام كے دور ميں رہنے والے تمام لوگوں كے ليے ممكن نہيں تھى كجا ہمارے ليے زمانہِ غيبت ميں ہو جائے!! آئمہ طاہرين عليہم السلام نے ہدايت پہنچانے كيلئے اپنى قريبى اور قابل اصحاب كو مختلف دور دراز علاقوں ميں بھيجا اور انہيں حكم ديا كہ ان كے درميان بيٹھ كر احكام بيان كريں۔ اويس قرنىؓ كى مثال لے ليں كہ آپ نبى اكرم صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم كے زمانے ميں زندگى بسر كرتے رہے ليكن آپ صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم سے ملاقات نہيں ہو سكى۔ لہذا اہل بيت عليہم السلام كے دور كے تمام افراد كے ليے بھى براہِ راست رجوع كرنا ممكن نہيں تھا۔ اس ليے تلقيدِ فقہى كى بنياد آئمہ طاہرين عليہم السلام نے ركھى اور وہ آج بھى جارى ہے۔ حتٰى امام مہدى عج نے خود اس نظام كى توقيع مبارک كے ذريعے بنياد ركھى كہ امامؑ فرماتے ہيں۔۔
ٌ"وَ أَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِيثِنَا فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَ أَنَا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ۔"
ترجمہ:
اور بڑے بڑے پيش آنے والے مسائل ميں ہمارى احاديث بيان كرنے والے كى طرف رجوع كرو، وہ ميرى طرف سے تم پر حجت ہيں اور ميں ان پر اللہ كى حجت ہوں۔
📔كمال الدين وتمام النعمة، ج ۲، ص۴۸۴
امام مہدى عليہ السلام كا يہ فرمان واضح طور پر بيان كر رہا ہے كہ رجوع فقہاءِ باشرائط كى طرف كيا جائے۔ ان كى طرف رجوع كرنا گويا امام معصومؑ كى طرف رجوع كرنا ہے۔
https://t.me/islamwitheman/3305
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 منتظرین امام عج 🌹
ﻋﺎﻟﻢ ﺭﺑﺎﻧﯽ ﺣﺎﺝ ﺍٓﻗﺎﺋﮯ ﺩﻭﻻﺑﯽ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺧﺮﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ؟
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻣﺜﺎﻝ ﺩﯼ ﺟﻮ ﺧﺎﻟﯽ ﺍﺯ ﻟﻄﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ!
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
■ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺍُﺱ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ 4 ﺑﯿﭩﮯ ﮨﻮﮞ۔
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ…
ﻋﺎﻟﻢ ﺭﺑﺎﻧﯽ ﺣﺎﺝ ﺍٓﻗﺎﺋﮯ ﺩﻭﻻﺑﯽ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺧﺮﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ؟
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻣﺜﺎﻝ ﺩﯼ ﺟﻮ ﺧﺎﻟﯽ ﺍﺯ ﻟﻄﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ!
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
■ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺍُﺱ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ 4 ﺑﯿﭩﮯ ﮨﻮﮞ۔
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ…
🕌 نماز حاجت و استغاثه امام زمانہ عج 🕌
ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺘﺤﻔﺔ ﺍﻟﺮﺿﻮﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﺳﯿﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﮬﻤﺪﺍﻧﯽ ﻧﺠﻔﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺲ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﻮ، شب ﺟﻤﻌﺮﺍﺕ ﺍﻭﺭ شب ﺟﻤﻌﮧ کو ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ، ﺳﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺅﮞ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﮨﻮﮞ ، ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ کسی بھی سوره کے ساتھ ﭘﮍﮬﮯ۔
* ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﺮﮮ 595 ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﮩﮯ۔
"ﯾﺎ ﺣﺠﺔ ﺍﻟﻘﺎﺋﻢ"
* اس ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺮ ﮐﻮ ﺳﺠﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ 70 ﻣﺮﺗﺒﮧ کہے۔
"ﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ﺍﻏﺜﻨﯽ"
* ﺍﻭﺭ پھر ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﺮﮮ۔
* ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﮨﺮ ﻣﮩﻢ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺠّﺮﺏ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﺩﻭ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺟﺖ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮨﻔﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺍﮔﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﮨﻔﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﮔﯽ۔
* ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺘﺤﻔﺔ ﺍﻟﺮﺿﻮﯾﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﯿﺪ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻮﺍﮨﺮﯼ ﺣﺎﺋﺮﯼ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﺭﺍﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﮭﺪﯼ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﻮ ﺣﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
📚 حواله: ﺻﺤﯿﻔﻪ ﻣﻬﺪﯾﻪ، ص132۔
🔸 نوٹ : اس نماز میں خواتین کو سر برھنه نھیں ھونا چاھیے۔
* شب جمعرات، بدھ کا دن گزرنے کے بعد اور شب جمعه، جمعرات کا دن گزرنے کے بعد شروع ھوتی ھے۔
🔷 حاجات کیلیے امام زمانہ عج سے توسل
جو کوئی بھی کسی بھی مشکل میں ھو درج ذیل وسیله کو 70 مرتبہ پڑھے۔
* ﯾﺎﺍﻟﻠﻪُ ﯾﺎﻣﺤﻤﺪُ ﯾﺎﻋﻠﯽُ ﯾﺎﻓﺎﻃﻤﺔ ﯾﺎﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ِ، ﺍﺩﺭﮐﻨﯽ ﻭ ﻻ ﺗﻬﻠﮑﻨﯽ۔
📚 حواله: ﺻﺤﯿﻔﻪٔ ﻣﻬﺪﯾﻪ، ص635۔
🔷 دوسرا طریقہ توسل امام زمانہ
مغرب کے نوافل پڑھنے کے بعد 100 سو مرتبہ صلوات پڑھیں۔
ﺍﻟّﻠﻬﻢَّ ﺻﻞِّ ﻋﻠﻰ ﻣﺤﻤَّﺪ ﻭﺁﻝ ﻣﺤﻤَّﺪ۔
پھر 70 ستر مرتبہ یه پڑھیں۔
ﯾﺎﺍﻟﻠﻪُ ﯾﺎﻣﺤﻤﺪُ ﯾﺎﻋﻠﯽُ ﯾﺎﻓﺎﻃﻤﺔ ﯾﺎﺣﺴﻦُ ﯾﺎﺣﺴﯿﻦُ ﯾﺎﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ﺍﺩﺭﮐﻨﯽ ﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ِ
پھر 100 سو مرتبہ صلوات پڑھیں۔
ﺍﻟّﻠﻬﻢَّ ﺻﻞِّ ﻋﻠﻰ ﻣﺤﻤَّﺪ ﻭﺁﻝ ﻣﺤﻤَّﺪ۔
* یه دعا مشکلات و پریشانی کے خاتمه کیلیے تجربہ شده دعا ھے۔
📚 حواله: ﺻﺤﯿﻔﻪٔ ﻣﻬﺪﯾﻪ، ص635۔
🔷 نماز حاجت
شب جمعه کو رات کے آخری حصے میں غسل کرو ، اور دو رکعت نماز ادا کرو۔
* پہلی رکعت میں الحمد کے بعد 10 مرتبہ ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﺎﻓﺮﻭﻥ۔
* اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد 11 مرتبہ ﺳﻮﺭﺓ قل ھو والله احد پڑھیں-
* نماز کے بعد 10 مرتبہ صلوات پڑھیں۔
ﺍﻟّﻠﻬﻢَّ ﺻﻞِّ ﻋﻠﻰ ﻣﺤﻤَّﺪ ﻭﺁﻝ ﻣﺤﻤَّﺪ ﻭﻋَﺠِّﻞْ ﻓَﺮَﺟَﻬُﻢ۔
اور پھر 10 مرتبہ یه پڑھیں۔
ﺳُﺒْﺤﺎﻥَ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺍﻟﺤَﻤْﺪُ ﻟﻠﻪِ ﻭَﻻ ﺇِﻟﻪَ ﺇِﻻّ ﺍﻟﻠﻪُ ﻭَﺍﻟﻠﻪُ ﺃَﻛْﺒَﺮُ ﻭَﻻ ﺣَﻮْﻝَ ﻭَﻻ ﻗُﻮَّﺓَ ﺇِﻻّ ﺑِﺎﻟﻠﻪِ ﺍﻟﻌَﻠِﻲِّ ﺍﻟﻌَﻈِﻴﻢِ۔
* 10 مرتبہ ﺳُﺒْﺤﺎﻥَ ﺭَﺑِّﻚَ ﺭَﺏِّ ﺍﻟﻌِﺰَّﺓِ ﻋَﻤّﺎ ﻳَﺼِﻔُﻮﻥَ ﻭَﺳَﻼﻡٌ ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟﻤُﺮْﺳَﻠِﻴﻦَ ﻭَﺍﻟﺤَﻤْﺪُ ﻟﻠﻪِ ﺭَﺏِّ ﺍﻟﻌﺎﻟَﻤِﻴﻦَ.
* پھر تین مرتبہ اپنی حاجات طلب کریں.
https://t.me/islamwitheman/3306
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺘﺤﻔﺔ ﺍﻟﺮﺿﻮﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﺳﯿﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﮬﻤﺪﺍﻧﯽ ﻧﺠﻔﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺲ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﻮ، شب ﺟﻤﻌﺮﺍﺕ ﺍﻭﺭ شب ﺟﻤﻌﮧ کو ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ، ﺳﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺅﮞ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﮨﻮﮞ ، ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ کسی بھی سوره کے ساتھ ﭘﮍﮬﮯ۔
* ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﺮﮮ 595 ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﮩﮯ۔
"ﯾﺎ ﺣﺠﺔ ﺍﻟﻘﺎﺋﻢ"
* اس ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺮ ﮐﻮ ﺳﺠﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ 70 ﻣﺮﺗﺒﮧ کہے۔
"ﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ﺍﻏﺜﻨﯽ"
* ﺍﻭﺭ پھر ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﺮﮮ۔
* ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﮨﺮ ﻣﮩﻢ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺠّﺮﺏ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﺩﻭ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺟﺖ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮨﻔﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺍﮔﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﮨﻔﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﮔﯽ۔
* ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺘﺤﻔﺔ ﺍﻟﺮﺿﻮﯾﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﯿﺪ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻮﺍﮨﺮﯼ ﺣﺎﺋﺮﯼ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﺭﺍﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﮭﺪﯼ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﻮ ﺣﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
📚 حواله: ﺻﺤﯿﻔﻪ ﻣﻬﺪﯾﻪ، ص132۔
🔸 نوٹ : اس نماز میں خواتین کو سر برھنه نھیں ھونا چاھیے۔
* شب جمعرات، بدھ کا دن گزرنے کے بعد اور شب جمعه، جمعرات کا دن گزرنے کے بعد شروع ھوتی ھے۔
🔷 حاجات کیلیے امام زمانہ عج سے توسل
جو کوئی بھی کسی بھی مشکل میں ھو درج ذیل وسیله کو 70 مرتبہ پڑھے۔
* ﯾﺎﺍﻟﻠﻪُ ﯾﺎﻣﺤﻤﺪُ ﯾﺎﻋﻠﯽُ ﯾﺎﻓﺎﻃﻤﺔ ﯾﺎﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ِ، ﺍﺩﺭﮐﻨﯽ ﻭ ﻻ ﺗﻬﻠﮑﻨﯽ۔
📚 حواله: ﺻﺤﯿﻔﻪٔ ﻣﻬﺪﯾﻪ، ص635۔
🔷 دوسرا طریقہ توسل امام زمانہ
مغرب کے نوافل پڑھنے کے بعد 100 سو مرتبہ صلوات پڑھیں۔
ﺍﻟّﻠﻬﻢَّ ﺻﻞِّ ﻋﻠﻰ ﻣﺤﻤَّﺪ ﻭﺁﻝ ﻣﺤﻤَّﺪ۔
پھر 70 ستر مرتبہ یه پڑھیں۔
ﯾﺎﺍﻟﻠﻪُ ﯾﺎﻣﺤﻤﺪُ ﯾﺎﻋﻠﯽُ ﯾﺎﻓﺎﻃﻤﺔ ﯾﺎﺣﺴﻦُ ﯾﺎﺣﺴﯿﻦُ ﯾﺎﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ﺍﺩﺭﮐﻨﯽ ﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ِ
پھر 100 سو مرتبہ صلوات پڑھیں۔
ﺍﻟّﻠﻬﻢَّ ﺻﻞِّ ﻋﻠﻰ ﻣﺤﻤَّﺪ ﻭﺁﻝ ﻣﺤﻤَّﺪ۔
* یه دعا مشکلات و پریشانی کے خاتمه کیلیے تجربہ شده دعا ھے۔
📚 حواله: ﺻﺤﯿﻔﻪٔ ﻣﻬﺪﯾﻪ، ص635۔
🔷 نماز حاجت
شب جمعه کو رات کے آخری حصے میں غسل کرو ، اور دو رکعت نماز ادا کرو۔
* پہلی رکعت میں الحمد کے بعد 10 مرتبہ ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﺎﻓﺮﻭﻥ۔
* اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد 11 مرتبہ ﺳﻮﺭﺓ قل ھو والله احد پڑھیں-
* نماز کے بعد 10 مرتبہ صلوات پڑھیں۔
ﺍﻟّﻠﻬﻢَّ ﺻﻞِّ ﻋﻠﻰ ﻣﺤﻤَّﺪ ﻭﺁﻝ ﻣﺤﻤَّﺪ ﻭﻋَﺠِّﻞْ ﻓَﺮَﺟَﻬُﻢ۔
اور پھر 10 مرتبہ یه پڑھیں۔
ﺳُﺒْﺤﺎﻥَ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺍﻟﺤَﻤْﺪُ ﻟﻠﻪِ ﻭَﻻ ﺇِﻟﻪَ ﺇِﻻّ ﺍﻟﻠﻪُ ﻭَﺍﻟﻠﻪُ ﺃَﻛْﺒَﺮُ ﻭَﻻ ﺣَﻮْﻝَ ﻭَﻻ ﻗُﻮَّﺓَ ﺇِﻻّ ﺑِﺎﻟﻠﻪِ ﺍﻟﻌَﻠِﻲِّ ﺍﻟﻌَﻈِﻴﻢِ۔
* 10 مرتبہ ﺳُﺒْﺤﺎﻥَ ﺭَﺑِّﻚَ ﺭَﺏِّ ﺍﻟﻌِﺰَّﺓِ ﻋَﻤّﺎ ﻳَﺼِﻔُﻮﻥَ ﻭَﺳَﻼﻡٌ ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟﻤُﺮْﺳَﻠِﻴﻦَ ﻭَﺍﻟﺤَﻤْﺪُ ﻟﻠﻪِ ﺭَﺏِّ ﺍﻟﻌﺎﻟَﻤِﻴﻦَ.
* پھر تین مرتبہ اپنی حاجات طلب کریں.
https://t.me/islamwitheman/3306
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
❄ امام العصرؑ سے رجوع ❄
شیطان غیب رہ کر بھی ہمیں گمراہ کرتا ہے اور ہدایت سے دور کرتا ہے تو کیا امام العصرؑ غیب رہ کر ہماری ہدایت نہیں کر سکتے ہم کیوں علماء کی طرف رجوع کریں؟
جواب: شيطان اور ابليس ميں فرق ہے۔ شيطانيت ايک صفت ہے جو انسان و جنوں ميں پائى جاتى…
شیطان غیب رہ کر بھی ہمیں گمراہ کرتا ہے اور ہدایت سے دور کرتا ہے تو کیا امام العصرؑ غیب رہ کر ہماری ہدایت نہیں کر سکتے ہم کیوں علماء کی طرف رجوع کریں؟
جواب: شيطان اور ابليس ميں فرق ہے۔ شيطانيت ايک صفت ہے جو انسان و جنوں ميں پائى جاتى…
🕌 نماز امام زمانؑ عج 🕌
نماز امام زمان دو رکعت پر مشتمل ہے۔ جس میں سورہ حمد کی آیت إیاكَ نَعْبُدُ وَ إیاكَ نَسْتَعین کو سو (100) مرتبہ پڑھا جاتا ہے۔ مسجد جمکران کے اعمال میں بھی اسے ذکر کیا گیا ہے۔
🔷 کیفیت نماز
نماز امام زمان (عج) دیگر مستحب نمازوں کی مانند دو رکعتی ہے۔ اسکی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے دوران إیاكَ نَعْبُدُ وَ إیاكَ نَسْتَعین کو سو مرتبہ تکرار کرتے ہیں پھر سورہ مکمل پڑھنے کے بعد سورہ توحید پڑھی جاتی ہے۔ بعض مصادر میں رکوع[1] و سجده[2] کے ذکر کو سات بار تکرار کرنا مذکور ہے[3] جبکہ بعض منابع میں کوئی مخصوص تعداد ذکر نہیں ہوئی۔[4]
نماز کے اختتام پر ایک مرتبہ لا إلهَ اِلّا الله کہے اور تسبیحات حضرت زہرا (س) پڑھی جائے پھر سجدے میں سو مرتبہ صلوات پڑھے۔
مسجد جمکران کے متعلق حسن بن مثلہ کی حکایت میں اسی نماز کا ثواب بیت اللہ میں نماز پڑھنے کے برابر ذکر ہوا ہے۔ [5]
🔷 سند نماز
سید بن طاووس نے اس نماز کو اپنی دو کتابوں میں نقل کیا ہے:
کتاب جمال الاسبوع میں کسی سند کے بغیر [6] کتاب مہج الدعوات میں امام زمانہ کی توقیع سے استناد کیا ہے کہ جسے امین الاسلام طبرسی کی کتاب کنوز النجاح میں ذکر کیا ہے۔ کنوز النجاح میں اسکی سند اسطرح مذکور ہے: احمد بن الدَّربِی نے خَزامَہ سے اور وہ ابی عبدالله حسین بن محمد بزوفری سے اور وہ ناحیہ مقدسہ سے۔[7]
کفعمی(م.۹۰۵ق) نے اپنی کتاب البلد الامین میں بھی کنوز النجاح سے نقل کی ہے۔[8]
علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں حکایت حسن بن مثلہ کی حکایت اور مسجد جمکران کی تعمیر کے ضمن میں ذکر کتاب تاریخ قم سے نقل کرتے ہیں۔[9]
بعض منابع میں یہ نماز روایت کے عنوان سے منقول نہیں ہے:
الدعوات قطب راوندی(م.۵۷۳ق)،[10] ہدایۃ الامۃ شیخ حر عاملی(م.۱۱۰۴ق)[11]
🔷 نماز حاجت
مہج الدعوات اور البلدالامین میں ناحیہ مقدسہ کی جانب سے توقیعی کا یہ مضمون آیا ہے:
جو بھی خدا سے کوئی حاجت رکھتا ہے وہ شب جمعہ آدھی رات گزرنے کے بعد غسل کرے اور اور مذکورہ بالا نماز ادا کرے پھر اسکے بعد اس نماز کی مخصوص دعا پڑھے اور خدا سے اپنی حاجت طلب کرے۔ یہ نماز مفاتیح الجنان میں ذکر ہوئی ہے۔[12]
سید بن طاووس نے جمال الاسبوع میں کہا ہے: اس نماز کے بعد الهی عَظُمَ البَلاء... کی دعا کو پڑھا جائے۔ دانشنامہ امام مہدی کے مؤلفین معتقد ہیں کہ یہ نماز اور دعا جو بھی سند رکھتی ہو اور اس نماز کی کیفیت سید ابن طاؤس کی طرف سے ہے۔[13]
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
🌸 التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
📚 حوالہ جات
↑ سُبْحانَ رَبِّی العَظیمِ وَ بِحَمْدِهِ
↑ سُبْحانَ رَبِّی الاَعْلیٰ وَ بِحَمْدِهِ
↑ مہج الدعوات و منہج العبادات، تصحیح کرمانی، دارالذخائر، قم، ص۲۹۴
↑ قطب الدین راوندی، سعید بن ہبۃ اللہ، الدعوات(سلوة الحزین)، ص۸۹، قم، انتشارات مدرسہ امام مہدی (عج)، چاپ اول، ۱۴۰۷ق
↑ بحار الأنوار، ج۵۳، ص۲۳۱۔
↑ سید ابن طاؤس، رضی الدین علی، جمال الأسبوع بکمال العمل المشروع، ص۲۸۰، قم، دارالرضی، چاپ اول، بیتا.
↑ مہج الدعوات و منہج العبادات، تصحیح کرمانی، دارالذخائر، قم، ص۲۹۴۔
↑ کفعمی، ابراہیم بن علی، البلدالأمین والدرع الحصین، ص۱۶۴، بیروت، مؤسسہ الأعلمی للمطبوعات، چاپ اول، ۱۴۱۸ق.
↑ في تاريخ قم تأليف الشيخ الفاضل الحسن بن محمد بن الحسن القمي من كتاب مونس الحزين في معرفة الحق و اليقين من مصنفات أبي جعفر محمد بن بابويه القمي ما لفظه بالعربية... بحارالأنوار، چاپ بیروت، ج53، ص231۔
↑ قطب الدین راوندی، سعید بن ہبۃ الله، الدعوات(سلوة الحزین)، ص۸۹، قم، انتشارات مدرسہ امام مہدی (عج)، چاپ اول، ۱۴۰۷ق۔
↑ شیخ حرّ عاملی، ہدایۃ الامۃ إلی أحکام الأئمۃ، ج۳، ص۳۱۹، مشہد، مجمع البحوث الإسلامیہ، چاپ اول، ۱۴۱۲ق.
↑ مفاتیح الجنان
↑ دانشنامہ امام مہدی، ج۶، حاشیہ ص ۲۴۹۔
https://t.me/islamwitheman/3307
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
نماز امام زمان دو رکعت پر مشتمل ہے۔ جس میں سورہ حمد کی آیت إیاكَ نَعْبُدُ وَ إیاكَ نَسْتَعین کو سو (100) مرتبہ پڑھا جاتا ہے۔ مسجد جمکران کے اعمال میں بھی اسے ذکر کیا گیا ہے۔
🔷 کیفیت نماز
نماز امام زمان (عج) دیگر مستحب نمازوں کی مانند دو رکعتی ہے۔ اسکی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے دوران إیاكَ نَعْبُدُ وَ إیاكَ نَسْتَعین کو سو مرتبہ تکرار کرتے ہیں پھر سورہ مکمل پڑھنے کے بعد سورہ توحید پڑھی جاتی ہے۔ بعض مصادر میں رکوع[1] و سجده[2] کے ذکر کو سات بار تکرار کرنا مذکور ہے[3] جبکہ بعض منابع میں کوئی مخصوص تعداد ذکر نہیں ہوئی۔[4]
نماز کے اختتام پر ایک مرتبہ لا إلهَ اِلّا الله کہے اور تسبیحات حضرت زہرا (س) پڑھی جائے پھر سجدے میں سو مرتبہ صلوات پڑھے۔
مسجد جمکران کے متعلق حسن بن مثلہ کی حکایت میں اسی نماز کا ثواب بیت اللہ میں نماز پڑھنے کے برابر ذکر ہوا ہے۔ [5]
🔷 سند نماز
سید بن طاووس نے اس نماز کو اپنی دو کتابوں میں نقل کیا ہے:
کتاب جمال الاسبوع میں کسی سند کے بغیر [6] کتاب مہج الدعوات میں امام زمانہ کی توقیع سے استناد کیا ہے کہ جسے امین الاسلام طبرسی کی کتاب کنوز النجاح میں ذکر کیا ہے۔ کنوز النجاح میں اسکی سند اسطرح مذکور ہے: احمد بن الدَّربِی نے خَزامَہ سے اور وہ ابی عبدالله حسین بن محمد بزوفری سے اور وہ ناحیہ مقدسہ سے۔[7]
کفعمی(م.۹۰۵ق) نے اپنی کتاب البلد الامین میں بھی کنوز النجاح سے نقل کی ہے۔[8]
علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں حکایت حسن بن مثلہ کی حکایت اور مسجد جمکران کی تعمیر کے ضمن میں ذکر کتاب تاریخ قم سے نقل کرتے ہیں۔[9]
بعض منابع میں یہ نماز روایت کے عنوان سے منقول نہیں ہے:
الدعوات قطب راوندی(م.۵۷۳ق)،[10] ہدایۃ الامۃ شیخ حر عاملی(م.۱۱۰۴ق)[11]
🔷 نماز حاجت
مہج الدعوات اور البلدالامین میں ناحیہ مقدسہ کی جانب سے توقیعی کا یہ مضمون آیا ہے:
جو بھی خدا سے کوئی حاجت رکھتا ہے وہ شب جمعہ آدھی رات گزرنے کے بعد غسل کرے اور اور مذکورہ بالا نماز ادا کرے پھر اسکے بعد اس نماز کی مخصوص دعا پڑھے اور خدا سے اپنی حاجت طلب کرے۔ یہ نماز مفاتیح الجنان میں ذکر ہوئی ہے۔[12]
سید بن طاووس نے جمال الاسبوع میں کہا ہے: اس نماز کے بعد الهی عَظُمَ البَلاء... کی دعا کو پڑھا جائے۔ دانشنامہ امام مہدی کے مؤلفین معتقد ہیں کہ یہ نماز اور دعا جو بھی سند رکھتی ہو اور اس نماز کی کیفیت سید ابن طاؤس کی طرف سے ہے۔[13]
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
🌸 التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
📚 حوالہ جات
↑ سُبْحانَ رَبِّی العَظیمِ وَ بِحَمْدِهِ
↑ سُبْحانَ رَبِّی الاَعْلیٰ وَ بِحَمْدِهِ
↑ مہج الدعوات و منہج العبادات، تصحیح کرمانی، دارالذخائر، قم، ص۲۹۴
↑ قطب الدین راوندی، سعید بن ہبۃ اللہ، الدعوات(سلوة الحزین)، ص۸۹، قم، انتشارات مدرسہ امام مہدی (عج)، چاپ اول، ۱۴۰۷ق
↑ بحار الأنوار، ج۵۳، ص۲۳۱۔
↑ سید ابن طاؤس، رضی الدین علی، جمال الأسبوع بکمال العمل المشروع، ص۲۸۰، قم، دارالرضی، چاپ اول، بیتا.
↑ مہج الدعوات و منہج العبادات، تصحیح کرمانی، دارالذخائر، قم، ص۲۹۴۔
↑ کفعمی، ابراہیم بن علی، البلدالأمین والدرع الحصین، ص۱۶۴، بیروت، مؤسسہ الأعلمی للمطبوعات، چاپ اول، ۱۴۱۸ق.
↑ في تاريخ قم تأليف الشيخ الفاضل الحسن بن محمد بن الحسن القمي من كتاب مونس الحزين في معرفة الحق و اليقين من مصنفات أبي جعفر محمد بن بابويه القمي ما لفظه بالعربية... بحارالأنوار، چاپ بیروت، ج53، ص231۔
↑ قطب الدین راوندی، سعید بن ہبۃ الله، الدعوات(سلوة الحزین)، ص۸۹، قم، انتشارات مدرسہ امام مہدی (عج)، چاپ اول، ۱۴۰۷ق۔
↑ شیخ حرّ عاملی، ہدایۃ الامۃ إلی أحکام الأئمۃ، ج۳، ص۳۱۹، مشہد، مجمع البحوث الإسلامیہ، چاپ اول، ۱۴۱۲ق.
↑ مفاتیح الجنان
↑ دانشنامہ امام مہدی، ج۶، حاشیہ ص ۲۴۹۔
https://t.me/islamwitheman/3307
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🕌 نماز حاجت و استغاثه امام زمانہ عج 🕌
ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺘﺤﻔﺔ ﺍﻟﺮﺿﻮﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﺳﯿﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﮬﻤﺪﺍﻧﯽ ﻧﺠﻔﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺲ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﻮ، شب ﺟﻤﻌﺮﺍﺕ ﺍﻭﺭ شب ﺟﻤﻌﮧ کو ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ، ﺳﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺅﮞ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﮨﻮﮞ ، ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ کسی بھی سوره کے ساتھ ﭘﮍﮬﮯ۔
* ﻧﻤﺎﺯ…
ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺘﺤﻔﺔ ﺍﻟﺮﺿﻮﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﺳﯿﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﮬﻤﺪﺍﻧﯽ ﻧﺠﻔﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺲ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﻮ، شب ﺟﻤﻌﺮﺍﺕ ﺍﻭﺭ شب ﺟﻤﻌﮧ کو ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ، ﺳﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺅﮞ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﮨﻮﮞ ، ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ کسی بھی سوره کے ساتھ ﭘﮍﮬﮯ۔
* ﻧﻤﺎﺯ…
🌹جناب نرجس خاتونؑ(حصہ اول)🌹
شہزادئ روم جناب سیده نرجس خاتونؑ کے خواب میں جناب فاطمہ الزھراءؑ کا تشریف لانا، سیده نرجس خاتون کی اسیری و رھائی، امام حسن عسکریؑ کی خدمت میں پیش ہونا اور جناب حکیمه خاتونؑ کا احکام دین سیکھانے کا مکمل واقعہ۔۔۔
ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺳﺎﻣﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﮬﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ علی نقی ﮬﺎﺩﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺎ ﺧﺎﺩﻡ ﮐﺎﻓﻮﺭ ﺍٓﯾﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻓﻮﺭﺍً ﭼﻠﻮ!
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺑﻼﯾﺎ ﮬﮯ۔ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ پہنچے۔ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﮬﺎﺩﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺍﺭﺟﻤﻨﺪ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ ﻋﺴﮑﺮﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮬﯿﮟ۔
ﺍﻣﺎﻡ ﮬﺎﺩﯼؑ ﻧﮯ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
” ﺍﮮ ﺑﺸﺮ ﺗﻢ حضرت ایوب ﺍﻧﺼﺎﺭﯼؓ ﮐﯽ ﻧﺴﻞ ﺳﮯ ﮬﻮ۔ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﺍٓﺭﮬﯽ ﮬﮯ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﮬﺮ ﻧﺴﻞ ﻧﮯ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﺍﺭﺙ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺯ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺍٓﺷﮑﺎﺭ ﮐﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﮬﻢ ﮐﺎﻡ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺳﻮﻧﭙﻮﮞ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺑﺎ ﻋﺚ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﮬﻮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺳﺎﺭﮮ ﺷﯿﻌﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻣﯿﮟ پہل ﮐﺮﻭﮔﮯ۔ “
ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻣﺎﻡ ﮬﺎﺩﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺭﻭﻣﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺧﻂ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﮭﺮ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺑﺸﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ تھیلی ﺑﮭﯽ ﺩی۔ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺳﻮ ﺑﯿﺲ (۲۲۰ ) ﺩﯾﻨﺎﺭ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭼﯿﺰیں ﺗﮭﻤﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ؛
” ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻟﯿﮑﺮ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮬﻮ ﺟﺎﺅ ﻓﻼﮞ ﺩﻥ ﻇﮭﺮ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻓﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺅ۔ ﺟﺐ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ وﮬﺎﮞ پہنچیں، ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺍٓﺋﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ، ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﻋﮭﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮬﻮﻧﮕﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺑﮩﺖ ﺟﻮﺍﻧﺎﻥ ﻋﺮﺏ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﻨﮕﮯ، ﺗﻢ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭہنا ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﯿﺰ ﻭ ﻏﻼﻡ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺎﻡ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﯿﺰ ﮬﻮﮔﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺭﻧﮕﯿﻦ ﺭﯾﺸﻤﯽ ﮐﭙﮍﮮ پہنے ﮬﻮﺋﮯ ﮬﻮﻧﮕﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﻮﻟﯽ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﻘﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔
ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﺠﻮﻡ ﻣﯿﮞ اﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ (۳۰۰) ﺩﯾﻨﺎﺭ ﻣﯿﮞ اﺱ ﮐﻨﯿﺰ ﮐﻮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﭼﺎﮬﮯ ﮔﺎ۔ ﺟﺲ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮐﻨﯿﺰ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﻏﻼﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ کہے ﮔﯽ ﮐﮧ۔۔
” ﺍﮔﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺋﯿﺲ ﺯﺍﺩﮦ ﺑﮭﯽ ﺍٓ ﮐﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﻪ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﮮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ نہیں ﮬﻮ ﮔﯽ
ﻟﮩٰﺬﺍ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﯿﺴﮧ ﺿﺎﺋﻊ ﻣﺖ ﮐﺮﻭ “
ﺍﺱ ﻣﻮﻗﻊ پر ﺗﻢ اٹھ کر ﻋﻤﺮﻭﺑﻦ ﯾﺰﯾﺪ ﺳﮯ کہنا! ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﺷﺮﺍﻑ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﺧﻂ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺭﻭﻣﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮬﻮﺍ ﮬﮯ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﻨﯿﺰ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﮐّﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻨﯿﺰ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﻮﮞ۔
ﮐﻨﯿﺰ ﻧﮯ وه ﺧﻂ ﻟﯿﮑﺮ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﯾﺰﯾﺪ ﺳﮯ ﮐﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺧﻂ ﮐﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﯿﭽﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﮬﻼﮎ ﮐﺮ ﻟﻮﮞ ﮔﯽ- ﺍﺱ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﯾﺰﯾﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﺍﮐﺮﮦ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﻮﺩﺍ ﺩﻭﺳﻮﺑﯿﺲ (۲۲۰) ﺩﯾﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﺍٓﮐﺮ ﺧﺘﻢ ﮬﻮﺍ۔
ﭘﮭﺮ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﮐﻨﯿﺰ ﮐﻮ ﻟﮯﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﺍٓﯾﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﻂ ﮐﻮ ہاتھ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮑﺮ ﭼﻮﻣﺘﯽ ﺟﺎﺭﮬﯽ ﮬﮯ۔ ﺑﺸﺮﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﺧﻂ ﮐﻮ ﭼﻮﻡ ﺭﮬﯽ ﮬﻮ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮏ ﻧﮭﯿﮟ ﮬﻮ۔
ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺳﻨﻮ! ﻣﯿﮞ ﺑﻨﺖ ﯾﺸﻮﻋﺎ ﺑﻦ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﮬﻮﮞ ، ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﻧﺴﺐ ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﺎ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻭﺻﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﺟﺎ ﺭہی ﮬﻮﮞ - - - - -
ﺟﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﺗﯿﺮﮦ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﮬﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺘﯿﺠﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﻨﻌﻘﺪ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺭﺍﮬﺐ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺕ ﺳﻮ ﭘﺎﺩﺭﯼ ﻭﮬﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ ﻧﯿﺰ ﭼﺎﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﻓﻮﺟﯽ ﺳﺮﺩﺍﺭ، ﺷﺮﻓﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺰﺯﯾﻦ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮞ شرﯾﮏ ﺗﮭﮯ۔ ﺗﺨﺖ ﻭ ﺗﺎﺝ شہنشاہی ﮐﻮ ﺟﻮﺍﮬﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﯾﺎ ﮬﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮬﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﺑﮭﺘﯿﺠﺎ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﻠﯿﺐ ﮐﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﮔﺮﺩ ﮔﮭﻤﺎﯾﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺳﺐ ﺗﻌﻈﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﮐﮯ ﺻﻔﺤﺎﺕ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻻ ﮔﯿﺎ۔
ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺭﺳﻢ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺻﻠﯿﺒﯿﮟ ﺍﻟﭧ ﮐﺮ ﮔﺮﮔﺌﯿﮟ۔ ﺗﺨﺖ ﻭ ﺗﺎﺝ ﻟﺮﺯﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﻭﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﺟﻮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺍٓﯾﺎ ﺗﮭﺎ بیہوﺵ ﮬﻮ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ ﺳﺐ ﮐﮯ چہرﻭﮞ ﺳﮯ ﺭﻧﮓ ﺍﮌ ﮔﯿﺎ، ﺭﺍﮬﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﺳﮯ کہا! ﺍﺱ ﻧﺤﻮﺳﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺴﯿﺤﯿﺖ ﻧﺎﺑﻮﺩ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﻮﺋﯽ ﻧﻈﺮ ﺍٓﺭﮬﯽ ﮬﮯ۔
ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮞ کہا ﮐﮧ ﺻﻠﯿﺒﻮﮞ کو ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﺼﺐ ﮐﺮﻭ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﭼﯿﺰﻭﮞ کو ﺍﺳﮑﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻧﻤﺒﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﺘﯿﺠﮯ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﻮ ﺳﺠﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻔﻞ ﺟﻤﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﮬﯽ ﺭﺳﻢ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻭﮬﯽ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﭘﯿﺶ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺩﺭﮬﻢ ﺑﺮﮬﻢ ﮬﻮﮔﯿﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺮﻡ ﺳﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ۔۔۔(جاری ہے)
بقیہ حصہ دوم میں پڑھیے مکمل تین حصے ہیں۔
https://t.me/islamwitheman/3282
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
شہزادئ روم جناب سیده نرجس خاتونؑ کے خواب میں جناب فاطمہ الزھراءؑ کا تشریف لانا، سیده نرجس خاتون کی اسیری و رھائی، امام حسن عسکریؑ کی خدمت میں پیش ہونا اور جناب حکیمه خاتونؑ کا احکام دین سیکھانے کا مکمل واقعہ۔۔۔
ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺳﺎﻣﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﮬﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ علی نقی ﮬﺎﺩﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺎ ﺧﺎﺩﻡ ﮐﺎﻓﻮﺭ ﺍٓﯾﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻓﻮﺭﺍً ﭼﻠﻮ!
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺑﻼﯾﺎ ﮬﮯ۔ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ پہنچے۔ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﮬﺎﺩﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺍﺭﺟﻤﻨﺪ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ ﻋﺴﮑﺮﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮬﯿﮟ۔
ﺍﻣﺎﻡ ﮬﺎﺩﯼؑ ﻧﮯ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
” ﺍﮮ ﺑﺸﺮ ﺗﻢ حضرت ایوب ﺍﻧﺼﺎﺭﯼؓ ﮐﯽ ﻧﺴﻞ ﺳﮯ ﮬﻮ۔ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﺍٓﺭﮬﯽ ﮬﮯ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﮬﺮ ﻧﺴﻞ ﻧﮯ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﺍﺭﺙ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺯ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺍٓﺷﮑﺎﺭ ﮐﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﮬﻢ ﮐﺎﻡ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺳﻮﻧﭙﻮﮞ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺑﺎ ﻋﺚ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﮬﻮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺳﺎﺭﮮ ﺷﯿﻌﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻣﯿﮟ پہل ﮐﺮﻭﮔﮯ۔ “
ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻣﺎﻡ ﮬﺎﺩﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺭﻭﻣﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺧﻂ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﮭﺮ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺑﺸﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ تھیلی ﺑﮭﯽ ﺩی۔ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺳﻮ ﺑﯿﺲ (۲۲۰ ) ﺩﯾﻨﺎﺭ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭼﯿﺰیں ﺗﮭﻤﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ؛
” ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻟﯿﮑﺮ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮬﻮ ﺟﺎﺅ ﻓﻼﮞ ﺩﻥ ﻇﮭﺮ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻓﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺅ۔ ﺟﺐ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ وﮬﺎﮞ پہنچیں، ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺍٓﺋﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ، ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﻋﮭﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮬﻮﻧﮕﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺑﮩﺖ ﺟﻮﺍﻧﺎﻥ ﻋﺮﺏ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﻨﮕﮯ، ﺗﻢ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭہنا ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﯿﺰ ﻭ ﻏﻼﻡ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺎﻡ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﯿﺰ ﮬﻮﮔﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺭﻧﮕﯿﻦ ﺭﯾﺸﻤﯽ ﮐﭙﮍﮮ پہنے ﮬﻮﺋﮯ ﮬﻮﻧﮕﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﻮﻟﯽ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﻘﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔
ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﺠﻮﻡ ﻣﯿﮞ اﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ (۳۰۰) ﺩﯾﻨﺎﺭ ﻣﯿﮞ اﺱ ﮐﻨﯿﺰ ﮐﻮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﭼﺎﮬﮯ ﮔﺎ۔ ﺟﺲ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮐﻨﯿﺰ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﻏﻼﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ کہے ﮔﯽ ﮐﮧ۔۔
” ﺍﮔﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺋﯿﺲ ﺯﺍﺩﮦ ﺑﮭﯽ ﺍٓ ﮐﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﻪ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﮮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ نہیں ﮬﻮ ﮔﯽ
ﻟﮩٰﺬﺍ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﯿﺴﮧ ﺿﺎﺋﻊ ﻣﺖ ﮐﺮﻭ “
ﺍﺱ ﻣﻮﻗﻊ پر ﺗﻢ اٹھ کر ﻋﻤﺮﻭﺑﻦ ﯾﺰﯾﺪ ﺳﮯ کہنا! ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﺷﺮﺍﻑ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﺧﻂ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺭﻭﻣﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮬﻮﺍ ﮬﮯ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﻨﯿﺰ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﮐّﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻨﯿﺰ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﻮﮞ۔
ﮐﻨﯿﺰ ﻧﮯ وه ﺧﻂ ﻟﯿﮑﺮ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﯾﺰﯾﺪ ﺳﮯ ﮐﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺧﻂ ﮐﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﯿﭽﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﮬﻼﮎ ﮐﺮ ﻟﻮﮞ ﮔﯽ- ﺍﺱ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﯾﺰﯾﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﺍﮐﺮﮦ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﻮﺩﺍ ﺩﻭﺳﻮﺑﯿﺲ (۲۲۰) ﺩﯾﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﺍٓﮐﺮ ﺧﺘﻢ ﮬﻮﺍ۔
ﭘﮭﺮ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﮐﻨﯿﺰ ﮐﻮ ﻟﮯﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﺍٓﯾﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﻂ ﮐﻮ ہاتھ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮑﺮ ﭼﻮﻣﺘﯽ ﺟﺎﺭﮬﯽ ﮬﮯ۔ ﺑﺸﺮﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﺧﻂ ﮐﻮ ﭼﻮﻡ ﺭﮬﯽ ﮬﻮ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮏ ﻧﮭﯿﮟ ﮬﻮ۔
ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺳﻨﻮ! ﻣﯿﮞ ﺑﻨﺖ ﯾﺸﻮﻋﺎ ﺑﻦ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﮬﻮﮞ ، ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﻧﺴﺐ ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﺎ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻭﺻﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﺟﺎ ﺭہی ﮬﻮﮞ - - - - -
ﺟﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﺗﯿﺮﮦ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﮬﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺘﯿﺠﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﻨﻌﻘﺪ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺭﺍﮬﺐ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺕ ﺳﻮ ﭘﺎﺩﺭﯼ ﻭﮬﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ ﻧﯿﺰ ﭼﺎﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﻓﻮﺟﯽ ﺳﺮﺩﺍﺭ، ﺷﺮﻓﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺰﺯﯾﻦ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮞ شرﯾﮏ ﺗﮭﮯ۔ ﺗﺨﺖ ﻭ ﺗﺎﺝ شہنشاہی ﮐﻮ ﺟﻮﺍﮬﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﯾﺎ ﮬﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮬﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﺑﮭﺘﯿﺠﺎ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﻠﯿﺐ ﮐﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﮔﺮﺩ ﮔﮭﻤﺎﯾﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺳﺐ ﺗﻌﻈﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﮐﮯ ﺻﻔﺤﺎﺕ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻻ ﮔﯿﺎ۔
ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺭﺳﻢ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺻﻠﯿﺒﯿﮟ ﺍﻟﭧ ﮐﺮ ﮔﺮﮔﺌﯿﮟ۔ ﺗﺨﺖ ﻭ ﺗﺎﺝ ﻟﺮﺯﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﻭﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﺟﻮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺍٓﯾﺎ ﺗﮭﺎ بیہوﺵ ﮬﻮ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ ﺳﺐ ﮐﮯ چہرﻭﮞ ﺳﮯ ﺭﻧﮓ ﺍﮌ ﮔﯿﺎ، ﺭﺍﮬﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﺳﮯ کہا! ﺍﺱ ﻧﺤﻮﺳﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺴﯿﺤﯿﺖ ﻧﺎﺑﻮﺩ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﻮﺋﯽ ﻧﻈﺮ ﺍٓﺭﮬﯽ ﮬﮯ۔
ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮞ کہا ﮐﮧ ﺻﻠﯿﺒﻮﮞ کو ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﺼﺐ ﮐﺮﻭ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﭼﯿﺰﻭﮞ کو ﺍﺳﮑﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻧﻤﺒﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﺘﯿﺠﮯ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﻮ ﺳﺠﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻔﻞ ﺟﻤﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﮬﯽ ﺭﺳﻢ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻭﮬﯽ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﭘﯿﺶ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺩﺭﮬﻢ ﺑﺮﮬﻢ ﮬﻮﮔﯿﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺮﻡ ﺳﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ۔۔۔(جاری ہے)
بقیہ حصہ دوم میں پڑھیے مکمل تین حصے ہیں۔
https://t.me/islamwitheman/3282
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 ولادت باسعادت امام زمانہ عج 🌹
امام العصروالزمان عج کی ولادت باسعادت آپ سب کو بہت بہت مبارک ھو۔ خداوندمتعال امام العصر علیہ السلام کا ظہور جلد فرمائے۔
امام زمانہ عج کاحلیہ مبارک کتاب اکمال الدین میں شیخ صدوق فرماتے ہیں کہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ…
امام العصروالزمان عج کی ولادت باسعادت آپ سب کو بہت بہت مبارک ھو۔ خداوندمتعال امام العصر علیہ السلام کا ظہور جلد فرمائے۔
امام زمانہ عج کاحلیہ مبارک کتاب اکمال الدین میں شیخ صدوق فرماتے ہیں کہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ…
🌹جناب نرجس خاتونؑ(حصہ دوم)🌹
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻣﺴﯿﺢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ، ﺷﻤﻌﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺣﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﻣﯿﺮ ﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺭ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ ﮬﻮﺍ ﻣﻨﺒﺮ ﻋﯿﻦ ﺍﺳﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻧﺼﺐ ﮬﮯ ﮐﮧ جہاں ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﺗﺨﺖ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ۔
ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺻﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻣﺎﺩ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺍﺑﯿﻄﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﮬﻤﺮﺍﮦ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽؑ ﻧﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪؐ ﮐﻮ ﺍپنے ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪؐ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽؑ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ! ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﻭﺻﯽ ﺷﻤﻌﻮﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﻣﻠﯿﮑﮧ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪ (ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ) ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﺍٓﯾﺎ ﮬﻮﮞ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽؑ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ! ﺍﮮ ﺷﻤﻌﻮﻥؑ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﻗﺴﻤﺖ ﺟﺎﮒ ﺍﭨﮭﯽ ﮬﮯ، ﺷﺮﺍﻓﺖ ﺍﻭﺭ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﻧﺼﯿﺐ ﮬﻮ ﺭﮬﯽ ﮬﮯ، ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﺍٓﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮭﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺟﻮﮌ ﻟﻮ۔
ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ! ﺍﻃﺎﻋﺖ ﮬﻮﮔﯽ۔
ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﻨﺒﺮ ﭘﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﺒﮧ ﻧﮑﺎﺡ
ﭘﮍﮬﮑﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪ ﺳﮯ ﻋﻘﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽؑ، ﺍﻧﮑﮯ ﺣﻮﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺍٓﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮭﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﮯ ﮔﻮﺍﮦ ﮬﯿﮟ۔
ﺟﺐ ﺍﺱ سنہرے ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮈﺭ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮬﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺗﻮﺟﮧ ﮨﭧ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ یہانتک ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﯾﺾ ﮬﻮﮔﺌﯽ۔
ﭘﻮﺭﯼ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻃﺒﯿﺐ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻋﻼﺝ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮬﻮ ﻣﮕﺮ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺑﮯﻓﺎﺋﺪﮦ ﺭﮬﺎ، ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻧﮯ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮬﻮ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ؛
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ! ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ! ﺩﺍﺩﺍﺟﺎﻥ ﺍﮔﺮ ﺍٓﭖ ﺣﮑﻢ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍٓﭘﮑﯽ ﻗﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮬﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ﺯﻧﺠﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﻮ ﺍﺫﯾﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢ سلام الله عليها ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﮟ۔ ﮐﯿﻮنکہ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﯽ ﺭﮬﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﺻﺤﺘﻤﻨﺪ ﺩﮐﮭﺎﺅﮞ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺑﮩﺖ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺍﺳﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﺭﻋﺎﯾﺖ ﺩﯾﺪﯼ۔
پہلے ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﭼﻮﺩﮦ ﺭﻭﺯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺟﻨﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﯽ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﮬﻤﺮﺍﮦ ﮬﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﮐﻨﯿﺰﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﮬﻤﺮﺍﮦ ﮬﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮬﻮ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ!
ﯾﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺟﻨﺖ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﺎﻃﻤﻪؑ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺷﻮﮬﺮ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮬﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﺍٓﻧﮯ ﮐﺎ ﺷﮑﻮﮦ ﮐﯿﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧؑ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ! ﺟﺐ ﺗﮏ ﺗﻢ ﻣﺸﺮﮎ ﺭﮬﻮ ﮔﯽ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪؑ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﻧﮯ نہیں ﺍٓﺋﯿﮟ ﮔﮯ، ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ بہن ﻣﺮﯾﻢ ﺑﻨﺖ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﮬﯿﮞ ﮐﻪ ﺟﻮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺍﻟٰﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﯾﻦ ﺳﮯ ﺍﻇﮭﺎﺭ ﺑﺮﺍﺋﺖ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺭﯼ ﮐﺮﺗﯽ ﮬﯿﮞ اﺏ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺧﺪﺍ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰؑ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢؑ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﻨﻮﺩﯼ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮬﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪؑ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺑﮭﯽ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮬﻮ ﺗﻮ ﺑﻮﻟﻮ۔۔
ﺍﺷﮭﺪ ﺍﻥ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍ ﻟّﺎ الله ﻭﺍﺷﮭﺪ ﺍﻥّ ﻣﺤﻤﺪ ًﺭﺳﻮﻝ الله۔
ﺟﯿﺴﮯ ﮬﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﺷﮭﺎﺩﺗﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯿﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧؑ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﺏ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮞ رہنا تمہاری ﺟﻠﺪﯼ ﮬﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔
ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﮑﺮ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻟﻤﺤﮧ ﺷﻤﺎﺭﯼ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮬﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﮯ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﮬﺮ ﺭﺍﺕ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺧﻮﺍ ﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺍٓ ﺭﮬﯽ ﮬﻮﮞ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻧﺮﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺍﺳﯿﺮﯼ:
ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﯿﺮ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮬﻮﺋﯿﮟ؟
ﺟﻨﺎﺏ ﻧﺮﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥؑ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ:
ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ؛ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﺸﮑﺮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﻧﻮﮐﺮﺍﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭗ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﻧﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ یہی ﮬﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯿﺮ ﮬﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ نہیں ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻡ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﭘﻮﺗﯽ ﮬﻮﮞ.
ﺑﺸﺮﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻓﺼﯿﺢ ﻭ ﺑﻠﯿﻎ۔۔۔(جاری ہے)
بقیہ حصہ سوم میں پڑھیے۔ مکمل تین حصے ہیں۔
https://t.me/islamwitheman/3309
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻣﺴﯿﺢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ، ﺷﻤﻌﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺣﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﻣﯿﺮ ﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺭ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ ﮬﻮﺍ ﻣﻨﺒﺮ ﻋﯿﻦ ﺍﺳﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻧﺼﺐ ﮬﮯ ﮐﮧ جہاں ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﺗﺨﺖ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ۔
ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺻﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻣﺎﺩ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺍﺑﯿﻄﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﮬﻤﺮﺍﮦ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽؑ ﻧﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪؐ ﮐﻮ ﺍپنے ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪؐ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽؑ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ! ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﻭﺻﯽ ﺷﻤﻌﻮﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﻣﻠﯿﮑﮧ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪ (ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ) ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﺍٓﯾﺎ ﮬﻮﮞ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽؑ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ! ﺍﮮ ﺷﻤﻌﻮﻥؑ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﻗﺴﻤﺖ ﺟﺎﮒ ﺍﭨﮭﯽ ﮬﮯ، ﺷﺮﺍﻓﺖ ﺍﻭﺭ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﻧﺼﯿﺐ ﮬﻮ ﺭﮬﯽ ﮬﮯ، ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﺍٓﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮭﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺟﻮﮌ ﻟﻮ۔
ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ! ﺍﻃﺎﻋﺖ ﮬﻮﮔﯽ۔
ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﻨﺒﺮ ﭘﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﺒﮧ ﻧﮑﺎﺡ
ﭘﮍﮬﮑﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪ ﺳﮯ ﻋﻘﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽؑ، ﺍﻧﮑﮯ ﺣﻮﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺍٓﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮭﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﮯ ﮔﻮﺍﮦ ﮬﯿﮟ۔
ﺟﺐ ﺍﺱ سنہرے ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮈﺭ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮬﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺗﻮﺟﮧ ﮨﭧ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ یہانتک ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﯾﺾ ﮬﻮﮔﺌﯽ۔
ﭘﻮﺭﯼ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻃﺒﯿﺐ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻋﻼﺝ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮬﻮ ﻣﮕﺮ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺑﮯﻓﺎﺋﺪﮦ ﺭﮬﺎ، ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻧﮯ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮬﻮ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ؛
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ! ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ! ﺩﺍﺩﺍﺟﺎﻥ ﺍﮔﺮ ﺍٓﭖ ﺣﮑﻢ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍٓﭘﮑﯽ ﻗﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮬﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ﺯﻧﺠﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﻮ ﺍﺫﯾﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢ سلام الله عليها ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﮟ۔ ﮐﯿﻮنکہ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﯽ ﺭﮬﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﺻﺤﺘﻤﻨﺪ ﺩﮐﮭﺎﺅﮞ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺑﮩﺖ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺍﺳﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﺭﻋﺎﯾﺖ ﺩﯾﺪﯼ۔
پہلے ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﭼﻮﺩﮦ ﺭﻭﺯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺟﻨﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﯽ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﮬﻤﺮﺍﮦ ﮬﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﮐﻨﯿﺰﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﮬﻤﺮﺍﮦ ﮬﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮬﻮ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ!
ﯾﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺟﻨﺖ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﺎﻃﻤﻪؑ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺷﻮﮬﺮ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮬﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﺍٓﻧﮯ ﮐﺎ ﺷﮑﻮﮦ ﮐﯿﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧؑ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ! ﺟﺐ ﺗﮏ ﺗﻢ ﻣﺸﺮﮎ ﺭﮬﻮ ﮔﯽ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪؑ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﻧﮯ نہیں ﺍٓﺋﯿﮟ ﮔﮯ، ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ بہن ﻣﺮﯾﻢ ﺑﻨﺖ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﮬﯿﮞ ﮐﻪ ﺟﻮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺍﻟٰﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﯾﻦ ﺳﮯ ﺍﻇﮭﺎﺭ ﺑﺮﺍﺋﺖ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺭﯼ ﮐﺮﺗﯽ ﮬﯿﮞ اﺏ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺧﺪﺍ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰؑ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢؑ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﻨﻮﺩﯼ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮬﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪؑ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺑﮭﯽ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮬﻮ ﺗﻮ ﺑﻮﻟﻮ۔۔
ﺍﺷﮭﺪ ﺍﻥ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍ ﻟّﺎ الله ﻭﺍﺷﮭﺪ ﺍﻥّ ﻣﺤﻤﺪ ًﺭﺳﻮﻝ الله۔
ﺟﯿﺴﮯ ﮬﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﺷﮭﺎﺩﺗﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯿﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧؑ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﺏ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮞ رہنا تمہاری ﺟﻠﺪﯼ ﮬﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔
ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﮑﺮ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻟﻤﺤﮧ ﺷﻤﺎﺭﯼ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮬﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﮯ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﮬﺮ ﺭﺍﺕ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺧﻮﺍ ﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺍٓ ﺭﮬﯽ ﮬﻮﮞ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻧﺮﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺍﺳﯿﺮﯼ:
ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﯿﺮ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮬﻮﺋﯿﮟ؟
ﺟﻨﺎﺏ ﻧﺮﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥؑ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ:
ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ؛ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﺸﮑﺮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﻧﻮﮐﺮﺍﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭗ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﻧﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ یہی ﮬﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯿﺮ ﮬﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ نہیں ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻡ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﭘﻮﺗﯽ ﮬﻮﮞ.
ﺑﺸﺮﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻓﺼﯿﺢ ﻭ ﺑﻠﯿﻎ۔۔۔(جاری ہے)
بقیہ حصہ سوم میں پڑھیے۔ مکمل تین حصے ہیں۔
https://t.me/islamwitheman/3309
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹جناب نرجس خاتونؑ(حصہ اول)🌹
شہزادئ روم جناب سیده نرجس خاتونؑ کے خواب میں جناب فاطمہ الزھراءؑ کا تشریف لانا، سیده نرجس خاتون کی اسیری و رھائی، امام حسن عسکریؑ کی خدمت میں پیش ہونا اور جناب حکیمه خاتونؑ کا احکام دین سیکھانے کا مکمل واقعہ۔۔۔
ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺳﺎﻣﺮﮦ…
شہزادئ روم جناب سیده نرجس خاتونؑ کے خواب میں جناب فاطمہ الزھراءؑ کا تشریف لانا، سیده نرجس خاتون کی اسیری و رھائی، امام حسن عسکریؑ کی خدمت میں پیش ہونا اور جناب حکیمه خاتونؑ کا احکام دین سیکھانے کا مکمل واقعہ۔۔۔
ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺳﺎﻣﺮﮦ…
🌹جناب نرجس خاتونؑ(حصہ سوم)🌹
بشر بن سلیمان نے سوال کیا کہ یہ فصیح و بلیغ ﻋﺮﺑﯽ کہاﮞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﯽ؟
ﺗﻮ ﺧﺎﺗﻮﻥؑ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﭘﮍﮬﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺷﻮﻕ ﮬﮯ ﺍﻭﺭﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮞ ﻤﺨﺘﻠﻒ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺩﺏ ﻭﺍٓﺩﺍﺏ ﺳﯿﮑﮭﻮﮞ ﺍﺳﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺻﺒﺢ ﻭ ﺷﺎﻡ ﻋﺮﺑﯽ ﺳﮑﮭﺎﺋﮯ.
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﭘﻮﺭﺍ ﻗﺼّﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﺮﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥ سلام الله عليها ﺭﻭﻡ ﺳﮯ ﺳﺎﻣﺮﺍﺀ ﭘﮭﻨﭽﯿﮟ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﮬﺎﺩﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ بہن ﺣﮑﯿﻤﮧؑ ﮐﻮ ﺑﻼ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﯾﮧ ﻭﮬﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﺩﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺍٓﺩﺍﺏ ﺳﯿﮑﮭﺎﺋﯿﮟ۔
ﺍﺱ واقعہ ﮐﻮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮬﮯ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺷﯿﺦ ﺻﺪﻭﻕؒ ﻧﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻣﯿﮟ، ﺷﯿﺦ ﻃﻮﺳﯽؒ ﻧﮯ ﻏﯿﺒﺖ ﻣﯿﮟ، ﻃﺒﺮﯼؒ ﻧﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﺍﻻﻣﺎﻣﺔ ﻣﯿﮟ، ﺍﺑﻦ ﺷﮭﺮ ﺍٓﺷﻮﺏؒ ﻧﮯ ﻣﻨﺎﻗﺐ ﻣﯿﮟ، ﻟﯿﻠﯽٰؒ ﻧﮯ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﻣﯿﮟ، ﺍﺑﻦ ﻓﺘّﺎﻝ ﻧﯿﺸﺎﭘﻮﺭﯼؒ ﻧﮯ ﺭﻭﺿﮧ ﻣﯿﮟ، ﺷﯿﺦ ﺣﺮّﻋﺎﻣﻠﯽؒ ﻧﮯ ﺍﺛﺒﺎﺕ ﺍﻟﮭﺪﺍﺓ ﻣﯿﮟ، ﺳﯿﺪ ﮬﺎﺷﻢ ﺑﺤﺮﺍﻧﯽؒ ﻧﮯ ﺣﻠﯿّﺔﺍﻻﺑﺮﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺠﻠﺴﯽؒ ﻧﮯ ﺑﺤﺎﺭﺍﻻﻧﻮﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ۔
📚ﺣﻮﺍﻟﻪ:
ﻏﯿﺒﺖ ﻃﻮﺳﯽ ﺹ ۱۲۴،۱۲۸۔
ﮐﻤﺎﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺻﺪﻭﻕ، ﺝ۲،ﺹ۴۱۷،۴۲۳۔
ﺩﻻﺋﻞ ﺍﻻﻣﺎﻣﺔ، ﺹ۲۶۳،۲۶۷۔
ﻣﻨﺎﻗﺐ ﺍﺑﻦ ﺷﮭﺮﺍٓﺷﻮﺏ، ﺝ۴،ﺹ۴۴۰،۴۴۱۔
ﺭﻭﺿﺔﺍﻟﻮﺍعظین، ﺝ۱،ﺹ۲۵۲،۲۵۵۔
ﺍﺛﺒﺎﺕ ﺍﻟﮭﺪﺍﺓ، ﺝ۳، ﺹ۳۶۔ ۳۶۵ ﺍﻭﺭ ﺹ۰۸ ۴ ۔ ۴۰۹۔
ﺑﺤﺎﺭﺍﻻﻧﻮﺍﺭ، ﺝ۵۱، ﺹ۶۔۱۰۔
حلیةﺍﻻﺑﺮﺍﺭ، ﺝ۶، ﺹ۵۱۵۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 امام العصر والزمانؑ عج کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🌹 ولادت باسعادت امام زمانہ عج
https://t.me/islamwitheman/3282
🌹 امام العصرؑ(عج) اور روزِ جمعہ
https://t.me/islamwitheman/3292
🌹 غَیبتِ صُغریٰ اور غَیبتِ کُبریٰ
https://t.me/islamwitheman/3293
🌹 انتظار امام ایک ذمہ داری
https://t.me/islamwitheman/3294
🌹 امامؑ کے ظھور میں وجۂ تاخیر
https://t.me/islamwitheman/3295
🌹 امام مھدیؑ کے لشکر کی تفصیلات
https://t.me/islamwitheman/3296
🌹 الله کی رضا اور امامؑ کی رضا
https://t.me/islamwitheman/3297
🔷 دورانِ غَیبتِ امامؑ ہماری ذمہ داری
https://t.me/islamwitheman/3298
🌹 اطاعتِ امامؑ
https://t.me/islamwitheman/3299
🌹 قرآن اور حضرت امام مہدیؑ
https://t.me/islamwitheman/3300
🌹 امام مھدیؑ اور دیگر ادیان
https://t.me/islamwitheman/3301
🌹 شرفِ زیارت امام مھدیؑ
https://t.me/islamwitheman/3302
🌹 انتظار امام عصر عج کا ثواب
https://t.me/islamwitheman/3303
🌹 امامؑ کی اطاعت
https://t.me/islamwitheman/3304
🌹 منتظرینِ إمامؑ
https://t.me/islamwitheman/3305
🌹 امام العصر عج سے رجوع
https://t.me/islamwitheman/3306
🕌 نماز حاجت و استغاثہ امام زمانہ عج
https://t.me/islamwitheman/3307
🕌 نماز امام زمان عج
https://t.me/islamwitheman/3308
🌹 جناب نرجس خاتونؑ
https://t.me/islamwitheman/3309
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
بشر بن سلیمان نے سوال کیا کہ یہ فصیح و بلیغ ﻋﺮﺑﯽ کہاﮞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﯽ؟
ﺗﻮ ﺧﺎﺗﻮﻥؑ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﭘﮍﮬﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺷﻮﻕ ﮬﮯ ﺍﻭﺭﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮞ ﻤﺨﺘﻠﻒ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺩﺏ ﻭﺍٓﺩﺍﺏ ﺳﯿﮑﮭﻮﮞ ﺍﺳﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺻﺒﺢ ﻭ ﺷﺎﻡ ﻋﺮﺑﯽ ﺳﮑﮭﺎﺋﮯ.
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﭘﻮﺭﺍ ﻗﺼّﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﺮﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥ سلام الله عليها ﺭﻭﻡ ﺳﮯ ﺳﺎﻣﺮﺍﺀ ﭘﮭﻨﭽﯿﮟ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﮬﺎﺩﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ بہن ﺣﮑﯿﻤﮧؑ ﮐﻮ ﺑﻼ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﯾﮧ ﻭﮬﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﺩﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺍٓﺩﺍﺏ ﺳﯿﮑﮭﺎﺋﯿﮟ۔
ﺍﺱ واقعہ ﮐﻮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮬﮯ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺷﯿﺦ ﺻﺪﻭﻕؒ ﻧﮯ ﮐﻤﺎﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻣﯿﮟ، ﺷﯿﺦ ﻃﻮﺳﯽؒ ﻧﮯ ﻏﯿﺒﺖ ﻣﯿﮟ، ﻃﺒﺮﯼؒ ﻧﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﺍﻻﻣﺎﻣﺔ ﻣﯿﮟ، ﺍﺑﻦ ﺷﮭﺮ ﺍٓﺷﻮﺏؒ ﻧﮯ ﻣﻨﺎﻗﺐ ﻣﯿﮟ، ﻟﯿﻠﯽٰؒ ﻧﮯ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﻣﯿﮟ، ﺍﺑﻦ ﻓﺘّﺎﻝ ﻧﯿﺸﺎﭘﻮﺭﯼؒ ﻧﮯ ﺭﻭﺿﮧ ﻣﯿﮟ، ﺷﯿﺦ ﺣﺮّﻋﺎﻣﻠﯽؒ ﻧﮯ ﺍﺛﺒﺎﺕ ﺍﻟﮭﺪﺍﺓ ﻣﯿﮟ، ﺳﯿﺪ ﮬﺎﺷﻢ ﺑﺤﺮﺍﻧﯽؒ ﻧﮯ ﺣﻠﯿّﺔﺍﻻﺑﺮﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻣﮧ ﻣﺠﻠﺴﯽؒ ﻧﮯ ﺑﺤﺎﺭﺍﻻﻧﻮﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ۔
📚ﺣﻮﺍﻟﻪ:
ﻏﯿﺒﺖ ﻃﻮﺳﯽ ﺹ ۱۲۴،۱۲۸۔
ﮐﻤﺎﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺻﺪﻭﻕ، ﺝ۲،ﺹ۴۱۷،۴۲۳۔
ﺩﻻﺋﻞ ﺍﻻﻣﺎﻣﺔ، ﺹ۲۶۳،۲۶۷۔
ﻣﻨﺎﻗﺐ ﺍﺑﻦ ﺷﮭﺮﺍٓﺷﻮﺏ، ﺝ۴،ﺹ۴۴۰،۴۴۱۔
ﺭﻭﺿﺔﺍﻟﻮﺍعظین، ﺝ۱،ﺹ۲۵۲،۲۵۵۔
ﺍﺛﺒﺎﺕ ﺍﻟﮭﺪﺍﺓ، ﺝ۳، ﺹ۳۶۔ ۳۶۵ ﺍﻭﺭ ﺹ۰۸ ۴ ۔ ۴۰۹۔
ﺑﺤﺎﺭﺍﻻﻧﻮﺍﺭ، ﺝ۵۱، ﺹ۶۔۱۰۔
حلیةﺍﻻﺑﺮﺍﺭ، ﺝ۶، ﺹ۵۱۵۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 امام العصر والزمانؑ عج کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🌹 ولادت باسعادت امام زمانہ عج
https://t.me/islamwitheman/3282
🌹 امام العصرؑ(عج) اور روزِ جمعہ
https://t.me/islamwitheman/3292
🌹 غَیبتِ صُغریٰ اور غَیبتِ کُبریٰ
https://t.me/islamwitheman/3293
🌹 انتظار امام ایک ذمہ داری
https://t.me/islamwitheman/3294
🌹 امامؑ کے ظھور میں وجۂ تاخیر
https://t.me/islamwitheman/3295
🌹 امام مھدیؑ کے لشکر کی تفصیلات
https://t.me/islamwitheman/3296
🌹 الله کی رضا اور امامؑ کی رضا
https://t.me/islamwitheman/3297
🔷 دورانِ غَیبتِ امامؑ ہماری ذمہ داری
https://t.me/islamwitheman/3298
🌹 اطاعتِ امامؑ
https://t.me/islamwitheman/3299
🌹 قرآن اور حضرت امام مہدیؑ
https://t.me/islamwitheman/3300
🌹 امام مھدیؑ اور دیگر ادیان
https://t.me/islamwitheman/3301
🌹 شرفِ زیارت امام مھدیؑ
https://t.me/islamwitheman/3302
🌹 انتظار امام عصر عج کا ثواب
https://t.me/islamwitheman/3303
🌹 امامؑ کی اطاعت
https://t.me/islamwitheman/3304
🌹 منتظرینِ إمامؑ
https://t.me/islamwitheman/3305
🌹 امام العصر عج سے رجوع
https://t.me/islamwitheman/3306
🕌 نماز حاجت و استغاثہ امام زمانہ عج
https://t.me/islamwitheman/3307
🕌 نماز امام زمان عج
https://t.me/islamwitheman/3308
🌹 جناب نرجس خاتونؑ
https://t.me/islamwitheman/3309
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 ولادت باسعادت امام زمانہ عج 🌹
امام العصروالزمان عج کی ولادت باسعادت آپ سب کو بہت بہت مبارک ھو۔ خداوندمتعال امام العصر علیہ السلام کا ظہور جلد فرمائے۔
امام زمانہ عج کاحلیہ مبارک کتاب اکمال الدین میں شیخ صدوق فرماتے ہیں کہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ…
امام العصروالزمان عج کی ولادت باسعادت آپ سب کو بہت بہت مبارک ھو۔ خداوندمتعال امام العصر علیہ السلام کا ظہور جلد فرمائے۔
امام زمانہ عج کاحلیہ مبارک کتاب اکمال الدین میں شیخ صدوق فرماتے ہیں کہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ…
🌐 نُوّاب اربعہ کون ہیں؟ 🌐
اس بات کی وضاحت کرتے چلیں کہ اس زمانے میں نیابت اور نواب کے بجائے سفارت اور سفراء کے کلمات استعمال ہوتے تھے۔
غَیبتِ امام مہدیؑ کے خاص نائبین چار تھے اور انہیں آپ سے پہلے کے آئمہ علیہم السلام کی خدمت کا بھی شرف حاصل تھا، یہ نیک، پارسا اور بزرگ شیعہ عالم تھے۔ انہیں ’’نواب اربعہ‘‘ کہتے ہیں۔
ترتیب زمانی کے لحاظ سے انکے اسماء گرامی۔۔
۱۔ ابوعمرو عثمان بن سعید عمری،
۲۔ ابوجعفر محمد بن عثمان بن سعید عمری،
۳۔ ابوالقاسم حسین بن روح نو بختی،
۴۔ ابوالحسن علی بن محمد سمری۔
یہ حضرات امام زمانہؑ کے نائب کہلاتے ہیں لیکن مختلف علاقوں میں امام زماںؑ کے بہت سے وکلاء بھی تھے۔ مثلاً بغداد، کوفہ، اہواز، ہمدان، قم، رے، آذربائیجان، نیشاپور وغیرہ میں آپؑکے وکلاء موجود تھے جو مذکورہ چار حضرات کے ذریعہ لوگوں کے مسائل ومشکلات اور حالات امامؑ کی خدمت میں پہنچاتے اور انہی کے ذریعہ امامؑ کیطرف سے جواب بھی حاصل کرتے۔
چنانچہ شیخ طوسیؒ نقل فرماتے ہیں کہ صرف بغداد میں تقریبًا دس افراد جناب محمد بن عثمان عمری کی نمائندگی میں مصروف عمل تھے۔ اور انکا رابطہ نائبینِ امام سے ہوتا اور انکے بارے میں امامؑ کیطرف سے توقیعات برآمد ہوتیں۔ اور یہ حضرات ان پر عمل کرتے۔
ان نمائندوں کے نام یہ ہیں۔۔
محمد بن جعفر اسدی،
احمد بن اسحاق اشعری قمی،
ابراہیم بن محمد ھمدانی،
احمد بن حمزہ (غیبت شیخ طوسی)،
محمد بن ابراہیم بن مھزیار (کافی کلینی)،
حاجز بن یزید،
محمد بن صالح (کا فی کلینی)،
ابوہاشم داؤد بن قاسم جعفری،
محمد بن علی بن بلال،
عمرو اہواذی،
ابو محمد وجناتی (کافی کلینی)۔
👈پہلے نائب
ابو عمرو عثمان بن سعید عمری
ان کا تعلق قبیلہ بنی اسد سے ہے اور سامراء شہر میں قیام کیوجہ سے ’’عسکری‘‘ بھی کہلاتے تھے، شیعی محفلوں میں انہیں ’’سمان‘‘ بھی کہا جاتا تھا جس کے معنی ’’روغن فروش‘‘ ہیں کیونکہ آپ اپنی سیاسی سرگرمیوں کو مخفی رکھنے کیلیے گھی کا کاروبار کیا کرتے تھے اور شیعوں کے اموال شرعیہ کو امامؑ تک پہنچانے کیلیے گھی کے برتنوں کا استعمال کرتے تھے۔
تمام شیعہ انکا احترام کرتے تھے۔ عثمان بن سعید کو امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ کی خدمت کا شرف بھی حاصل رہا ہے اور ان کے نزدیک بااعتماد شخصیت تھے۔
احمد بن اسحاق جنکا شمار بزرگ شیعہ افراد میں ہوتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ’’میں ایک دن امام علی نقیؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا؛ میں کبھی یہاں ہوتا ہوں اور کبھی نہیں ہوتا۔ اور جب یہاں ہوتا ہوں پھر بھی ہر روز آپ کی خدمت میں نہیں پہنچ سکتا تو اس بارے میں میں کس شخص کی باتوں کو مانوں اور اس کے فرمان پر عمل کروں؟
تو امامؑ نے فرمایا:
ابو عمرو (عثمان بن سعید عمری) ہیں جو ایک امین اور ہمارے قابل اعتماد شخص ہیں، وہ جوکچھ بھی تم سے کہیں سمجھو کہ میری طرف سے کہہ رہے ہیں، وہ تمہیں جوکچھ دیں وہ میری ہی طرف سے دیں گے۔
احمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ امام علی نقیؑ کی شہادت کیبعد ایکدن میں امام حسن عسکریؑ کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور اپنے اسی سوال کو دہرایا تو آپ نے بھی اپنے پدربزرگوار کی مانند جواب دیا۔ ’’یہی عمرو ہمارے پیشرو امام کیطرح ہمارے بھی قابل اعتماد اور باوثوق انسان ہیں، میری زندگی میں بھی اور میری وفات کیبعد بھی وہ جو کچھ تمہیں کہیں وہ میری جانب سے کہہ رہے ہوں گے اور جو تمہیں دیں وہ میری طرف سے دے رہے ہوں گے (غیبت شیخ طوسی ص ۲۱۵)
حضرت امام حسن عسکریؑ کی تجہیز و تکفین کا سارا کام بھی بظاہر عثمان بن سعید نے انجام دیا (ایضاً) اور یہ وہی عثمان بن سعید ہیں کہ جنہوں نے ایک دن یمن کیطرف سے آنے والے شیعوں کے مالِ امام کو امام حسن عسکریؑ کے حکم کیمطابق وصول کیا اور جب یمن کے شیعوں نے یہ کیفیت دیکھی تو کہا: امامؑ کے اس اقدام سے عثمان بن سعید کے متعلق ہمارا اعتماد بھی بڑھ گیا ہے اور ہماری نگاہوں میں انکے احترام میں بھی اضافہ ہوا ہے‘‘ یہ سن کر امام عسکریؑ نے فرمایا: گواہ رہنا، عثمان بن سعید میرا وکیل ہے اور ان کا بیٹا ’’محمد‘‘ میرے فرزند امام مہدی کا وکیل ہوگا‘‘ (ایضاً)
اسیطرح اس بحث کے آغاز میں چالیس شیعوں کی حضرت امام مہدیؑ کی زیارت کی تفصیل بیان ہو چکی ہے اور بتایاگیا ہے کہ ملاقات کے آخر میں حاضرین سے امامؑ نے فرمایا کہ: ’’جو عثمان (بن سعید) تم سے کہیں اسے قبول کرلینا اس کا کہنا ماننا، ان کی باتوں پر عمل کرنا، وہ تمہارے امام بااختیار نمائندہ ہیں(ایضاً)
عثمان بن سعید کی تاریخ وفات صحیح معنوں میں معلوم نہیں ہے، بعض حضرات کہتے ہیں کہ انکی وفات ۲۶۰ ہجری سے ۲۶۷ ہجری کے درمیان ہوئی ہے جبکہ کچھ دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ ان کی وفات ۲۸۰ ہجری میں ہوئی ہے۔
(تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم ص ۱۵۵ ۔ ۱۵۶ ترجمہ ڈاکٹر سید محمد تقی آیت اللہی)
📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
اس بات کی وضاحت کرتے چلیں کہ اس زمانے میں نیابت اور نواب کے بجائے سفارت اور سفراء کے کلمات استعمال ہوتے تھے۔
غَیبتِ امام مہدیؑ کے خاص نائبین چار تھے اور انہیں آپ سے پہلے کے آئمہ علیہم السلام کی خدمت کا بھی شرف حاصل تھا، یہ نیک، پارسا اور بزرگ شیعہ عالم تھے۔ انہیں ’’نواب اربعہ‘‘ کہتے ہیں۔
ترتیب زمانی کے لحاظ سے انکے اسماء گرامی۔۔
۱۔ ابوعمرو عثمان بن سعید عمری،
۲۔ ابوجعفر محمد بن عثمان بن سعید عمری،
۳۔ ابوالقاسم حسین بن روح نو بختی،
۴۔ ابوالحسن علی بن محمد سمری۔
یہ حضرات امام زمانہؑ کے نائب کہلاتے ہیں لیکن مختلف علاقوں میں امام زماںؑ کے بہت سے وکلاء بھی تھے۔ مثلاً بغداد، کوفہ، اہواز، ہمدان، قم، رے، آذربائیجان، نیشاپور وغیرہ میں آپؑکے وکلاء موجود تھے جو مذکورہ چار حضرات کے ذریعہ لوگوں کے مسائل ومشکلات اور حالات امامؑ کی خدمت میں پہنچاتے اور انہی کے ذریعہ امامؑ کیطرف سے جواب بھی حاصل کرتے۔
چنانچہ شیخ طوسیؒ نقل فرماتے ہیں کہ صرف بغداد میں تقریبًا دس افراد جناب محمد بن عثمان عمری کی نمائندگی میں مصروف عمل تھے۔ اور انکا رابطہ نائبینِ امام سے ہوتا اور انکے بارے میں امامؑ کیطرف سے توقیعات برآمد ہوتیں۔ اور یہ حضرات ان پر عمل کرتے۔
ان نمائندوں کے نام یہ ہیں۔۔
محمد بن جعفر اسدی،
احمد بن اسحاق اشعری قمی،
ابراہیم بن محمد ھمدانی،
احمد بن حمزہ (غیبت شیخ طوسی)،
محمد بن ابراہیم بن مھزیار (کافی کلینی)،
حاجز بن یزید،
محمد بن صالح (کا فی کلینی)،
ابوہاشم داؤد بن قاسم جعفری،
محمد بن علی بن بلال،
عمرو اہواذی،
ابو محمد وجناتی (کافی کلینی)۔
👈پہلے نائب
ابو عمرو عثمان بن سعید عمری
ان کا تعلق قبیلہ بنی اسد سے ہے اور سامراء شہر میں قیام کیوجہ سے ’’عسکری‘‘ بھی کہلاتے تھے، شیعی محفلوں میں انہیں ’’سمان‘‘ بھی کہا جاتا تھا جس کے معنی ’’روغن فروش‘‘ ہیں کیونکہ آپ اپنی سیاسی سرگرمیوں کو مخفی رکھنے کیلیے گھی کا کاروبار کیا کرتے تھے اور شیعوں کے اموال شرعیہ کو امامؑ تک پہنچانے کیلیے گھی کے برتنوں کا استعمال کرتے تھے۔
تمام شیعہ انکا احترام کرتے تھے۔ عثمان بن سعید کو امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ کی خدمت کا شرف بھی حاصل رہا ہے اور ان کے نزدیک بااعتماد شخصیت تھے۔
احمد بن اسحاق جنکا شمار بزرگ شیعہ افراد میں ہوتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ’’میں ایک دن امام علی نقیؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا؛ میں کبھی یہاں ہوتا ہوں اور کبھی نہیں ہوتا۔ اور جب یہاں ہوتا ہوں پھر بھی ہر روز آپ کی خدمت میں نہیں پہنچ سکتا تو اس بارے میں میں کس شخص کی باتوں کو مانوں اور اس کے فرمان پر عمل کروں؟
تو امامؑ نے فرمایا:
ابو عمرو (عثمان بن سعید عمری) ہیں جو ایک امین اور ہمارے قابل اعتماد شخص ہیں، وہ جوکچھ بھی تم سے کہیں سمجھو کہ میری طرف سے کہہ رہے ہیں، وہ تمہیں جوکچھ دیں وہ میری ہی طرف سے دیں گے۔
احمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ امام علی نقیؑ کی شہادت کیبعد ایکدن میں امام حسن عسکریؑ کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور اپنے اسی سوال کو دہرایا تو آپ نے بھی اپنے پدربزرگوار کی مانند جواب دیا۔ ’’یہی عمرو ہمارے پیشرو امام کیطرح ہمارے بھی قابل اعتماد اور باوثوق انسان ہیں، میری زندگی میں بھی اور میری وفات کیبعد بھی وہ جو کچھ تمہیں کہیں وہ میری جانب سے کہہ رہے ہوں گے اور جو تمہیں دیں وہ میری طرف سے دے رہے ہوں گے (غیبت شیخ طوسی ص ۲۱۵)
حضرت امام حسن عسکریؑ کی تجہیز و تکفین کا سارا کام بھی بظاہر عثمان بن سعید نے انجام دیا (ایضاً) اور یہ وہی عثمان بن سعید ہیں کہ جنہوں نے ایک دن یمن کیطرف سے آنے والے شیعوں کے مالِ امام کو امام حسن عسکریؑ کے حکم کیمطابق وصول کیا اور جب یمن کے شیعوں نے یہ کیفیت دیکھی تو کہا: امامؑ کے اس اقدام سے عثمان بن سعید کے متعلق ہمارا اعتماد بھی بڑھ گیا ہے اور ہماری نگاہوں میں انکے احترام میں بھی اضافہ ہوا ہے‘‘ یہ سن کر امام عسکریؑ نے فرمایا: گواہ رہنا، عثمان بن سعید میرا وکیل ہے اور ان کا بیٹا ’’محمد‘‘ میرے فرزند امام مہدی کا وکیل ہوگا‘‘ (ایضاً)
اسیطرح اس بحث کے آغاز میں چالیس شیعوں کی حضرت امام مہدیؑ کی زیارت کی تفصیل بیان ہو چکی ہے اور بتایاگیا ہے کہ ملاقات کے آخر میں حاضرین سے امامؑ نے فرمایا کہ: ’’جو عثمان (بن سعید) تم سے کہیں اسے قبول کرلینا اس کا کہنا ماننا، ان کی باتوں پر عمل کرنا، وہ تمہارے امام بااختیار نمائندہ ہیں(ایضاً)
عثمان بن سعید کی تاریخ وفات صحیح معنوں میں معلوم نہیں ہے، بعض حضرات کہتے ہیں کہ انکی وفات ۲۶۰ ہجری سے ۲۶۷ ہجری کے درمیان ہوئی ہے جبکہ کچھ دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ ان کی وفات ۲۸۰ ہجری میں ہوئی ہے۔
(تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم ص ۱۵۵ ۔ ۱۵۶ ترجمہ ڈاکٹر سید محمد تقی آیت اللہی)
📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌐 نوّابِ اربعہ میں سے دوسرے نائب 🌐
👈 دوسرے نائب
۲۔ محمد بن عثمان بن سعید عمری
یہ بھی اپنے والد بزرگوار کیطرح بزرگ شیعوں میں شمار ہوتے ہیں اور تقویٰ، عدالت، پرہیزگاری اور بزرگواری کے لحاظ سے شیعہ معاشرہ میں عزت و احترام کا مقام رکھتے ہیں اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے قابل اعتماد دوستوں میں شامل ہیں۔ چنانچہ جب احمد بن اسحاق نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ وہ کس کی طرف رجوع کرے؟ تو امامؑ نے فرمایا ’’عمری (عثمان) اور ان کے فرزند (محمد) دونوں ہی میرے قابل اعتماد لوگ ہیں وہ تمہیں جو کچھ دیں وہ میری طرف سے دیں گے اور جو کچھ کہیں وہ میری طرف سے کہیں گے۔ ان کی باتوں کو سننا اور ان پر عمل کرنا کیونکہ یہی دونوں میرے قابل اعتماد لوگ اور امین ہیں۔(ایضاً)
عثمان بن سعید کی وفات کے بعد امام غائب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے توقیع مبارک ظاہر ہوئی جس میں ان کی تعزیت کی گئی تھی اور ان کے فرزند ’’محمد‘‘ کی نیابت کا اعلان کیا گیا تھا۔(ایضاً)
’’عبد اللہ بن جعفر حمیری‘‘ کہتے ہیں کہ جب جناب عثمان بن سعید کی وفات ہو گئی تو امام زماں علیہ السلام کی طرف سے ایک خط ہمیں ملا۔ اسی رسم الخط کے ساتھ کہ جس سے امام علیہ السلام ہمارے ساتھ خط و کتابت کیا کرتے تھے خط میں ہمیں حکم دیا گیا کہ ’’ابو جعفر (محمد بن عثمان بن سعید) کو اس کے باپ کی جگہ نیابت کے لیے منصوب کیا جاتا ہے۔ (ایضاً ص ۲۲۰۔ بحار الانوار جلد ۵۱ ص ۳۴۹)
اسیطرح جب ’’اسحاق بن یعقوب نے کچھ سوالات امام زمانہؑ کی خدمت میں لکھ بھیجے تو امام علیہ السلام نے اپنی توقیع مبارک میں لکھا:
خداوندعالم محمد بن عثمان بن سعید اور اس کے والد سے جو اس سے پہلے زندہ تھے راضی اور خوشنود ہو یہ (محمد) میرے لیے قابل اعتماد اور باوثوق ہیں ان کی تحریر میری ہی تحریر ہوگی۔
(غیبت طوسی ص ۲۲۰ بحار الانوار جلد ۵۱ ص ۳۵۰، اعلام الوری طبرسی ص ۲۵۲ کشف الغمہ اربلی جلد ۳ ص ۳۲۲)
ابو جعفر محمد بن عثمان بن سعید کی فقہ میں کئی تالیفات ہیں کہ جو ان کی وفات کے بعد حضرت امام العصر عج کے تیسرے نائب حسین بن روح یا چوتھے نائب ابو الحسن سمری)کے ہاتھوں میں پہنچیں (غیبت طوسی ص ۲۲۱) تقریبا چالیس برس تک محمد بن عثمان نے امام کی سفارت اور نیابت کا عہدہ سنبھالے رکھا اور اس عرصے میں انہوں نے امام علیہ السلام کے مقامی اور علاقائی وکلاء کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کی ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے رہے اور شیعوں کے مذہبی، سماجی اور سیاسی امور کو سنبھالے رہے حضرت امام زمانہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے متعدد توقیعات صادر ہوئیں کہ انہی کے ذریعہ متعلقہ لوگوں تک پہنچتی رہیں ۔ آخر کار انہوں نے ۳۰۴ یا ۳۰۵ ہجری میں داعی اجل کو لبیک کہا اور عالم جاودانی کو سدھارے (غیبت طوسی ص ۲۲۳)
محمد بن عثمان نے اپنی وفات سے قبل ہی اپنی تاریخ وفات بتادی تھی، اور ٹھیک اسی تاریخ اور اسی وقت اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کی۔(غیبت طوسی۔ بحار الانوار)
📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل.
https://t.me/islamwitheman/3312
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👈 دوسرے نائب
۲۔ محمد بن عثمان بن سعید عمری
یہ بھی اپنے والد بزرگوار کیطرح بزرگ شیعوں میں شمار ہوتے ہیں اور تقویٰ، عدالت، پرہیزگاری اور بزرگواری کے لحاظ سے شیعہ معاشرہ میں عزت و احترام کا مقام رکھتے ہیں اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے قابل اعتماد دوستوں میں شامل ہیں۔ چنانچہ جب احمد بن اسحاق نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ وہ کس کی طرف رجوع کرے؟ تو امامؑ نے فرمایا ’’عمری (عثمان) اور ان کے فرزند (محمد) دونوں ہی میرے قابل اعتماد لوگ ہیں وہ تمہیں جو کچھ دیں وہ میری طرف سے دیں گے اور جو کچھ کہیں وہ میری طرف سے کہیں گے۔ ان کی باتوں کو سننا اور ان پر عمل کرنا کیونکہ یہی دونوں میرے قابل اعتماد لوگ اور امین ہیں۔(ایضاً)
عثمان بن سعید کی وفات کے بعد امام غائب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے توقیع مبارک ظاہر ہوئی جس میں ان کی تعزیت کی گئی تھی اور ان کے فرزند ’’محمد‘‘ کی نیابت کا اعلان کیا گیا تھا۔(ایضاً)
’’عبد اللہ بن جعفر حمیری‘‘ کہتے ہیں کہ جب جناب عثمان بن سعید کی وفات ہو گئی تو امام زماں علیہ السلام کی طرف سے ایک خط ہمیں ملا۔ اسی رسم الخط کے ساتھ کہ جس سے امام علیہ السلام ہمارے ساتھ خط و کتابت کیا کرتے تھے خط میں ہمیں حکم دیا گیا کہ ’’ابو جعفر (محمد بن عثمان بن سعید) کو اس کے باپ کی جگہ نیابت کے لیے منصوب کیا جاتا ہے۔ (ایضاً ص ۲۲۰۔ بحار الانوار جلد ۵۱ ص ۳۴۹)
اسیطرح جب ’’اسحاق بن یعقوب نے کچھ سوالات امام زمانہؑ کی خدمت میں لکھ بھیجے تو امام علیہ السلام نے اپنی توقیع مبارک میں لکھا:
خداوندعالم محمد بن عثمان بن سعید اور اس کے والد سے جو اس سے پہلے زندہ تھے راضی اور خوشنود ہو یہ (محمد) میرے لیے قابل اعتماد اور باوثوق ہیں ان کی تحریر میری ہی تحریر ہوگی۔
(غیبت طوسی ص ۲۲۰ بحار الانوار جلد ۵۱ ص ۳۵۰، اعلام الوری طبرسی ص ۲۵۲ کشف الغمہ اربلی جلد ۳ ص ۳۲۲)
ابو جعفر محمد بن عثمان بن سعید کی فقہ میں کئی تالیفات ہیں کہ جو ان کی وفات کے بعد حضرت امام العصر عج کے تیسرے نائب حسین بن روح یا چوتھے نائب ابو الحسن سمری)کے ہاتھوں میں پہنچیں (غیبت طوسی ص ۲۲۱) تقریبا چالیس برس تک محمد بن عثمان نے امام کی سفارت اور نیابت کا عہدہ سنبھالے رکھا اور اس عرصے میں انہوں نے امام علیہ السلام کے مقامی اور علاقائی وکلاء کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کی ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے رہے اور شیعوں کے مذہبی، سماجی اور سیاسی امور کو سنبھالے رہے حضرت امام زمانہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے متعدد توقیعات صادر ہوئیں کہ انہی کے ذریعہ متعلقہ لوگوں تک پہنچتی رہیں ۔ آخر کار انہوں نے ۳۰۴ یا ۳۰۵ ہجری میں داعی اجل کو لبیک کہا اور عالم جاودانی کو سدھارے (غیبت طوسی ص ۲۲۳)
محمد بن عثمان نے اپنی وفات سے قبل ہی اپنی تاریخ وفات بتادی تھی، اور ٹھیک اسی تاریخ اور اسی وقت اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کی۔(غیبت طوسی۔ بحار الانوار)
📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل.
https://t.me/islamwitheman/3312
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌐 نُوّاب اربعہ کون ہیں؟ 🌐
اس بات کی وضاحت کرتے چلیں کہ اس زمانے میں نیابت اور نواب کے بجائے سفارت اور سفراء کے کلمات استعمال ہوتے تھے۔
غَیبتِ امام مہدیؑ کے خاص نائبین چار تھے اور انہیں آپ سے پہلے کے آئمہ علیہم السلام کی خدمت کا بھی شرف حاصل تھا، یہ نیک،…
اس بات کی وضاحت کرتے چلیں کہ اس زمانے میں نیابت اور نواب کے بجائے سفارت اور سفراء کے کلمات استعمال ہوتے تھے۔
غَیبتِ امام مہدیؑ کے خاص نائبین چار تھے اور انہیں آپ سے پہلے کے آئمہ علیہم السلام کی خدمت کا بھی شرف حاصل تھا، یہ نیک،…
🌐 نواب اربعہ میں سے تیسرے نائب 🌐
👈 تیسرے نائب
۳۔ ابو القاسم حسین بن روح نوبختی
ابو جعفر محمد بن عثمان کی زندگی کے آخری ایام میں کچھ بزرگوار شیعہ ان کے پاس گئے ابو جعفر نے کہا: اگر میں دنیا سے چلا جاؤں تو میرے امام کے حکم کے مطابق میرے جانشین اور امام کے نائب ابوالقاسم حسین بن روح نو بختی ہوں گے۔ لہٰذا آپ لوگوں نے انہی کی طرف رجوع کرنا اور اپنے کاموں میں انہی پر اعتماد کرنا ہے۔ (غیبت طبرسی ص ۲۲۶۔ ۲۲۷ بحار الانوارجلد۵۱ ص ۳۵۵)
جناب حسین بن روح امام علیہ السلام کے دوسرے نائب کے قریبی معاون تھے۔ اور ابو جعفر محمد بن عثمان عمری بھی کافی عرصہ پہلے سے انہی کی نیابت کے لیے راہیں ہموار کرتے رہے اور شیعوں کو مال کی ادائیگی کے لیے انہی کیطرف رجوع کرنے کا کہتے رہے۔ اور وہ بھی محمد بن عثمان اور شیعوں کے درمیان ایک رابطے کا کام دیتے رہے۔ (ایضاً)
جناب حسین بن روح نے فقہ شیعہ میں ’’التادیب‘‘ نامی کتاب تالیف فرمائی اور اس پر اظہار رائے کیلیے قم کے فقہاء کی طرف بھیجی۔ فقہاء قم نے کتاب کی تحقیق کے بعد لکھا کہ صرف ایک مسئلہ کے علاوہ باقی کتاب فقہائے شیعہ کے فتاویٰ کے مطابق ہے۔‘‘ (ایضاً)
حسین بن روح کے بعض ہم عصر نے ان کی عقل و ہوش مندی اور ذکاوت کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ تمام مخالف و موافق لوگوں کی تصدیق کے مطابق حسین بن روح اپنے دور کے عقل مند ترین لوگوں میں سے ہیں۔ (بحار الانوار جلد ۵۱ ص ۲۵۶ غیبت طوسی ص ۲۳۶)
حسین بن روح عباسی خلیفہ ’’مقتدر‘‘ کے دور حکومت میں پانچ سال تک جیل میں بھی رہے ہیں اور ۳۱۷ ہجری میں قید سے رہا ہوئے اور اکیس سال تک امام علیہ السلام کی نیابت کے فرائض انجام دیتے رہے آخر کار ۳۲۶ ہجری میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ (غیبت طوسی ص ۲۳۸)
📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل۔
https://t.me/islamwitheman/3313
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👈 تیسرے نائب
۳۔ ابو القاسم حسین بن روح نوبختی
ابو جعفر محمد بن عثمان کی زندگی کے آخری ایام میں کچھ بزرگوار شیعہ ان کے پاس گئے ابو جعفر نے کہا: اگر میں دنیا سے چلا جاؤں تو میرے امام کے حکم کے مطابق میرے جانشین اور امام کے نائب ابوالقاسم حسین بن روح نو بختی ہوں گے۔ لہٰذا آپ لوگوں نے انہی کی طرف رجوع کرنا اور اپنے کاموں میں انہی پر اعتماد کرنا ہے۔ (غیبت طبرسی ص ۲۲۶۔ ۲۲۷ بحار الانوارجلد۵۱ ص ۳۵۵)
جناب حسین بن روح امام علیہ السلام کے دوسرے نائب کے قریبی معاون تھے۔ اور ابو جعفر محمد بن عثمان عمری بھی کافی عرصہ پہلے سے انہی کی نیابت کے لیے راہیں ہموار کرتے رہے اور شیعوں کو مال کی ادائیگی کے لیے انہی کیطرف رجوع کرنے کا کہتے رہے۔ اور وہ بھی محمد بن عثمان اور شیعوں کے درمیان ایک رابطے کا کام دیتے رہے۔ (ایضاً)
جناب حسین بن روح نے فقہ شیعہ میں ’’التادیب‘‘ نامی کتاب تالیف فرمائی اور اس پر اظہار رائے کیلیے قم کے فقہاء کی طرف بھیجی۔ فقہاء قم نے کتاب کی تحقیق کے بعد لکھا کہ صرف ایک مسئلہ کے علاوہ باقی کتاب فقہائے شیعہ کے فتاویٰ کے مطابق ہے۔‘‘ (ایضاً)
حسین بن روح کے بعض ہم عصر نے ان کی عقل و ہوش مندی اور ذکاوت کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ تمام مخالف و موافق لوگوں کی تصدیق کے مطابق حسین بن روح اپنے دور کے عقل مند ترین لوگوں میں سے ہیں۔ (بحار الانوار جلد ۵۱ ص ۲۵۶ غیبت طوسی ص ۲۳۶)
حسین بن روح عباسی خلیفہ ’’مقتدر‘‘ کے دور حکومت میں پانچ سال تک جیل میں بھی رہے ہیں اور ۳۱۷ ہجری میں قید سے رہا ہوئے اور اکیس سال تک امام علیہ السلام کی نیابت کے فرائض انجام دیتے رہے آخر کار ۳۲۶ ہجری میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ (غیبت طوسی ص ۲۳۸)
📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل۔
https://t.me/islamwitheman/3313
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌐 نوّابِ اربعہ میں سے دوسرے نائب 🌐
👈 دوسرے نائب
۲۔ محمد بن عثمان بن سعید عمری
یہ بھی اپنے والد بزرگوار کیطرح بزرگ شیعوں میں شمار ہوتے ہیں اور تقویٰ، عدالت، پرہیزگاری اور بزرگواری کے لحاظ سے شیعہ معاشرہ میں عزت و احترام کا مقام رکھتے ہیں اور امام حسن عسکری…
👈 دوسرے نائب
۲۔ محمد بن عثمان بن سعید عمری
یہ بھی اپنے والد بزرگوار کیطرح بزرگ شیعوں میں شمار ہوتے ہیں اور تقویٰ، عدالت، پرہیزگاری اور بزرگواری کے لحاظ سے شیعہ معاشرہ میں عزت و احترام کا مقام رکھتے ہیں اور امام حسن عسکری…
🌐 نوّاب اربعہ میں سے چوتھے نائب 🌐
👈 چوتھے نائب
۴۔ ابوالحسن علی بن محمد سمری
حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے حکم اور حسین بن روح نوبختی کے تعارف اور وصیت کے مطابق نوبختی کی وفات کے بعد علی بن محمد سمری ہی نے امام علیہ السلام کی نیابتِ خاصّہ اور شیعوں کے امور کی نگرانی کا منصب سنبھالا، ابوالحسن سمری حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے اصحاب اور دوستوں میں سے تھے اور ۳۲۹ ہجری تک اسی منصب پر فائز رہے اور اسی سال راہئِ مُلکِ بقا ہوئے اور ان کی وفات سے چند روز پہلے حضرت امام زمانہ عج کی طرف سے ایک توقیع صادر ہوئی جن میں ان سے اس طرح خطاب ہوا۔۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اے علی بن محمد سمری! خداوندعالم تمہاری جدائی کے صدمہ کا تمہارے بھائیوں کو اجرِعظیم عطا فرمائے تم چھ دن کے بعد دنیا سے رخصت ہو جاؤ گے ابھی سے اپنے کاموں کو سنبھال لو اور انہیں ٹھیک کرلو کسی کو اپنا جانشین نہ بناؤ کیونکہ اب غیبت کامل (یعنی غیبت کبریٰ کا دور شروع ہونے والا ہے اور میں خداوندعالم کی اجازت کے بغیر ظہور نہیں کروں گا۔ اور میرا یہ ظہور اس وقت ہوگا جب ایک طویل عرصہ گزر جائے گا، جب دل پتھر ہو جائیں گے اور زمین ظلم وجور سے بھر جائیگی، کچھ لوگ میرے شیعوں کیلیے نیابتِ خاصّہ کے دعویدار بن کر میرے ساتھ رابطہ اور میری ملاقات کا دعویٰ کریں گے لہٰذا یاد رکھو جو شخص ’’سفیانی‘‘ کے خروج اور ’’آسمانی چنگھاڑ‘‘ سے پہلے اس قسم کا دعویٰ کریگا وہ جھوٹا ہوگا۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم (غیبت طوسی، بحارالأنوار، مجلسی اور اعلام الوریٰ طبرسی)
توقیع مبارکہ کے صادر ہونے کے چھٹے دن ابوالحسن سمری کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال سے پہلے ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے بعد امام زماں علیہ السلام کا نائب کون ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ میں اس بارے میں کسی کا تعارف کراؤں۔‘‘
ابوالحسن سمری کی وفات کے بعد تاریخ تشیع کے ایک جدید دور کا آغاز ہوگیا جسے غَیبتِ کُبریٰ کا دور کہا جاتا ہے.
📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل۔
https://t.me/islamwitheman/3314
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👈 چوتھے نائب
۴۔ ابوالحسن علی بن محمد سمری
حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے حکم اور حسین بن روح نوبختی کے تعارف اور وصیت کے مطابق نوبختی کی وفات کے بعد علی بن محمد سمری ہی نے امام علیہ السلام کی نیابتِ خاصّہ اور شیعوں کے امور کی نگرانی کا منصب سنبھالا، ابوالحسن سمری حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے اصحاب اور دوستوں میں سے تھے اور ۳۲۹ ہجری تک اسی منصب پر فائز رہے اور اسی سال راہئِ مُلکِ بقا ہوئے اور ان کی وفات سے چند روز پہلے حضرت امام زمانہ عج کی طرف سے ایک توقیع صادر ہوئی جن میں ان سے اس طرح خطاب ہوا۔۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اے علی بن محمد سمری! خداوندعالم تمہاری جدائی کے صدمہ کا تمہارے بھائیوں کو اجرِعظیم عطا فرمائے تم چھ دن کے بعد دنیا سے رخصت ہو جاؤ گے ابھی سے اپنے کاموں کو سنبھال لو اور انہیں ٹھیک کرلو کسی کو اپنا جانشین نہ بناؤ کیونکہ اب غیبت کامل (یعنی غیبت کبریٰ کا دور شروع ہونے والا ہے اور میں خداوندعالم کی اجازت کے بغیر ظہور نہیں کروں گا۔ اور میرا یہ ظہور اس وقت ہوگا جب ایک طویل عرصہ گزر جائے گا، جب دل پتھر ہو جائیں گے اور زمین ظلم وجور سے بھر جائیگی، کچھ لوگ میرے شیعوں کیلیے نیابتِ خاصّہ کے دعویدار بن کر میرے ساتھ رابطہ اور میری ملاقات کا دعویٰ کریں گے لہٰذا یاد رکھو جو شخص ’’سفیانی‘‘ کے خروج اور ’’آسمانی چنگھاڑ‘‘ سے پہلے اس قسم کا دعویٰ کریگا وہ جھوٹا ہوگا۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم (غیبت طوسی، بحارالأنوار، مجلسی اور اعلام الوریٰ طبرسی)
توقیع مبارکہ کے صادر ہونے کے چھٹے دن ابوالحسن سمری کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال سے پہلے ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے بعد امام زماں علیہ السلام کا نائب کون ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ میں اس بارے میں کسی کا تعارف کراؤں۔‘‘
ابوالحسن سمری کی وفات کے بعد تاریخ تشیع کے ایک جدید دور کا آغاز ہوگیا جسے غَیبتِ کُبریٰ کا دور کہا جاتا ہے.
📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل۔
https://t.me/islamwitheman/3314
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌐 نواب اربعہ میں سے تیسرے نائب 🌐
👈 تیسرے نائب
۳۔ ابو القاسم حسین بن روح نوبختی
ابو جعفر محمد بن عثمان کی زندگی کے آخری ایام میں کچھ بزرگوار شیعہ ان کے پاس گئے ابو جعفر نے کہا: اگر میں دنیا سے چلا جاؤں تو میرے امام کے حکم کے مطابق میرے جانشین اور امام…
👈 تیسرے نائب
۳۔ ابو القاسم حسین بن روح نوبختی
ابو جعفر محمد بن عثمان کی زندگی کے آخری ایام میں کچھ بزرگوار شیعہ ان کے پاس گئے ابو جعفر نے کہا: اگر میں دنیا سے چلا جاؤں تو میرے امام کے حکم کے مطابق میرے جانشین اور امام…
🌐 نواب اربعہ کے فرائض(حصہ اول) 🌐
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی طرف سے اپنے خاص نائبین کا انتخاب درحقیقت ’’وکالت‘‘ کے تسلسل کو باقی رکھنا تھا جس کی بنیاد حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنے دورامامت میں رکھی تھی اور حضرت امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیہما السلام نے اسے وسعت عطا کی اور اب حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانے میں اسے عروج ملا۔
ان خاص نائبین یا نواب اربعہ کے بنیادی فرائض اور اساسی سرگرمیاں کیا تھیں؟ تو ان کا خلاصہ اس طرح کیا جاسکتا ہے۔
الف: امام کے نام و مقام کو مخفی رکھنا:
اگرچہ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت صغریٰ کے دوران نواب خاص اور کچھ مخصوص شیعوں کیلیے آپ کے دیدار و زیارت کا امکان موجود تھا لیکن کچھ سیاسی مشکلات کی وجہ سے نواب اربعہ میں سے ہر ایک شخص اپنے اپنے زمانے میں اس بات کا پابند تھا کہ امام علیہ السلام کے نام اور ان کے مقام کو عمومی سطح پر اور کھل کر کسی کو نہ بتایا جائے۔ اس لیے کہ اس دور میں حکومت وقت کیطرف سے امام علیہ السلام کی جان کو خطرہ تھا۔ اس قسم کا حکم خود امام علیہ السلام نے دیا تھا۔
چنانچہ ایک دن کسی کے سوال کیے بغیر ازخود امام علیہ السلام کی طرف سے دوسرے نائب جناب محمد بن عثمان کے نام یہ توقیع صادر ہوئی۔
’’جو لوگ میرے نام کے بارے میں سوال کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اس بارے میں خاموشی اختیار کریں کہ اس صورت میں انہیں بہشت نصیب ہوگی اور اگر لب کشائی کریں گے تو جہنم (ان کے انتظار میں ) ہے۔ کیونکہ اگر یہ نام سے واقف ہوجائیں تو اسے فاش کردیں گے اور اگرمقام سے واقف ہوجائیں تو دوسروں کو بتادیں گے۔ (غیبت طوسی)
اسیطرح عبداللہ بن جعفر حِمْیَرِی اور احمد بن اسحاق اشعری یہ دونوں حضرات آئمہ علیہم السلام کے بزرگ اصحاب اور برجستہ اور صمیمی شیعوں میں سے تھے ایک دن ان کی ملاقات حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے پہلے نائب عثمان بن سعید عمری سے ہوئی انہوں نے ان سے پوچھا:
آیا آپ نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے جانشین کو دیکھا ہے؟
تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔
پھر انہوں نے پوچھا کہ؛
اس کا کیا نام ہے؟ تو ابو عمرو عثمان بن سعید نے نام بتانے سے انکار کر دیا اور کہا:
آپ لوگوں پر حرام ہے کہ اس بارے میں کوئی سوال کریں اور یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا کیونکہ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ میں کسی حلال کو حرام کردوں یا کسی حرام کو حلال کردوں بلکہ یہ خود انہی کا حکم ہے، کیونکہ عباسی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام رحلت فرما چکے ہیں اور اپنا کوئی فرزند اپنے پسماندگان میں نہیں چھوڑا ہے، اسلیے تو ان کی وراثت کوکچھ لوگوں میں تقیسم کردیا ہے یعنی امام کے بھائی جعفر کذاب اور والدہ ماجدہ کے درمیان اور امام علیہ السلام نے بھی اسی چیز کا صبر اور سکوت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے اور اب کسی کی جرأت نہیں ہے کہ آپ کے خانوادے کے ساتھ کوئی رابطہ قائم کرے یا ان سے کسی قسم کا کوئی سوال پوچھے۔ اور اگر امام علیہ السلام کا نام ظاہر ہوجائے تو وہ لوگ آپ کے پیچھے پڑجائیں گے، خدا کیلیے آپ ہرگز ہرگز اسطرح کی بحث سے اجتناب کریں۔ (غیبت طوسی ص ۴۱۶۔ ص۲۱۹)
ابوالقاسم حسین بن روح نوبختی کے زمانہ نیابت میں ان کے رشتہ دار ابو سہل نوبختی کا شمار بزرگ شیعہ علما میں ہوتا تھا کچھ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ؛
آپ کا اس عہدہ کے لیے انتخاب نہیں کیاگیا بلکہ ابوالقاسم حسین بن روح کو منتخب کیا گیا ہے؟
تو انہوں نے نہایت ہی کھلے دل سے جواب دیا؛
جن لوگوں نے انہیں اس مقام کیلیے منتخب کیا ہے وہی بہتر سمجھتے ہیں میرا کام مخالفین اور دشمنان اہلبیت کے ساتھ مناظرہ کرنا ہے۔ اگر میں حسین بن روح کیطرح امام کے مقام کو جانتا ہوتا تو شائد مجھ پر اس قدر دباؤ ڈالا جاتا یا تشدد کیا جاتا کہ میں ان کے محل و مقام کو ظاہر کر دیتا۔ لیکن اگر امام علیہ السلام ابوالقاسم کی عبا میں بھی غائب ہو جائیں تو اگر انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے تو بھی وہ قطعاً اس راز سے پردہ نہیں اٹھائیں گے۔ (غیبت طبرسی، بحارالانوار مجلسی)
ب۔ وکلاء کے درمیان ہم آہنگی
ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ امام عصر علیہ السلام کے زمانہ غیبت میں آپ کے وکلاء اور نمائندے شیعوں کے مختلف مرکزی مقامات پر موجود تھے ان میں سے ہر ایک کے پاس مختلف اختیارات بھی تھے اور علاقے بھی تقسیم شدہ تھے اور دسویں اور گیارھویں امام کے زمانے میں اس قبیل کے وکلاء عام طور پر امام علیہ السلام کے مرکزی وکیل کے ذریعے امام علیہ السلام کیساتھ رابطہ قائم کرتے، اگرچہ براہ راست رابطے کے امکانات بھی موجود تھے لیکن بارہویں امام علیہ السلام کے زمانہ غیبت صغریٰ میں۔۔۔(جاری ہے)
بقیہ حصہ دوم اور سوم میں پڑھیے۔۔۔ مکمل تین حصے ہیں۔
https://t.me/islamwitheman/3312
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی طرف سے اپنے خاص نائبین کا انتخاب درحقیقت ’’وکالت‘‘ کے تسلسل کو باقی رکھنا تھا جس کی بنیاد حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنے دورامامت میں رکھی تھی اور حضرت امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیہما السلام نے اسے وسعت عطا کی اور اب حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانے میں اسے عروج ملا۔
ان خاص نائبین یا نواب اربعہ کے بنیادی فرائض اور اساسی سرگرمیاں کیا تھیں؟ تو ان کا خلاصہ اس طرح کیا جاسکتا ہے۔
الف: امام کے نام و مقام کو مخفی رکھنا:
اگرچہ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت صغریٰ کے دوران نواب خاص اور کچھ مخصوص شیعوں کیلیے آپ کے دیدار و زیارت کا امکان موجود تھا لیکن کچھ سیاسی مشکلات کی وجہ سے نواب اربعہ میں سے ہر ایک شخص اپنے اپنے زمانے میں اس بات کا پابند تھا کہ امام علیہ السلام کے نام اور ان کے مقام کو عمومی سطح پر اور کھل کر کسی کو نہ بتایا جائے۔ اس لیے کہ اس دور میں حکومت وقت کیطرف سے امام علیہ السلام کی جان کو خطرہ تھا۔ اس قسم کا حکم خود امام علیہ السلام نے دیا تھا۔
چنانچہ ایک دن کسی کے سوال کیے بغیر ازخود امام علیہ السلام کی طرف سے دوسرے نائب جناب محمد بن عثمان کے نام یہ توقیع صادر ہوئی۔
’’جو لوگ میرے نام کے بارے میں سوال کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اس بارے میں خاموشی اختیار کریں کہ اس صورت میں انہیں بہشت نصیب ہوگی اور اگر لب کشائی کریں گے تو جہنم (ان کے انتظار میں ) ہے۔ کیونکہ اگر یہ نام سے واقف ہوجائیں تو اسے فاش کردیں گے اور اگرمقام سے واقف ہوجائیں تو دوسروں کو بتادیں گے۔ (غیبت طوسی)
اسیطرح عبداللہ بن جعفر حِمْیَرِی اور احمد بن اسحاق اشعری یہ دونوں حضرات آئمہ علیہم السلام کے بزرگ اصحاب اور برجستہ اور صمیمی شیعوں میں سے تھے ایک دن ان کی ملاقات حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے پہلے نائب عثمان بن سعید عمری سے ہوئی انہوں نے ان سے پوچھا:
آیا آپ نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے جانشین کو دیکھا ہے؟
تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔
پھر انہوں نے پوچھا کہ؛
اس کا کیا نام ہے؟ تو ابو عمرو عثمان بن سعید نے نام بتانے سے انکار کر دیا اور کہا:
آپ لوگوں پر حرام ہے کہ اس بارے میں کوئی سوال کریں اور یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا کیونکہ میرے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ میں کسی حلال کو حرام کردوں یا کسی حرام کو حلال کردوں بلکہ یہ خود انہی کا حکم ہے، کیونکہ عباسی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام رحلت فرما چکے ہیں اور اپنا کوئی فرزند اپنے پسماندگان میں نہیں چھوڑا ہے، اسلیے تو ان کی وراثت کوکچھ لوگوں میں تقیسم کردیا ہے یعنی امام کے بھائی جعفر کذاب اور والدہ ماجدہ کے درمیان اور امام علیہ السلام نے بھی اسی چیز کا صبر اور سکوت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے اور اب کسی کی جرأت نہیں ہے کہ آپ کے خانوادے کے ساتھ کوئی رابطہ قائم کرے یا ان سے کسی قسم کا کوئی سوال پوچھے۔ اور اگر امام علیہ السلام کا نام ظاہر ہوجائے تو وہ لوگ آپ کے پیچھے پڑجائیں گے، خدا کیلیے آپ ہرگز ہرگز اسطرح کی بحث سے اجتناب کریں۔ (غیبت طوسی ص ۴۱۶۔ ص۲۱۹)
ابوالقاسم حسین بن روح نوبختی کے زمانہ نیابت میں ان کے رشتہ دار ابو سہل نوبختی کا شمار بزرگ شیعہ علما میں ہوتا تھا کچھ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ؛
آپ کا اس عہدہ کے لیے انتخاب نہیں کیاگیا بلکہ ابوالقاسم حسین بن روح کو منتخب کیا گیا ہے؟
تو انہوں نے نہایت ہی کھلے دل سے جواب دیا؛
جن لوگوں نے انہیں اس مقام کیلیے منتخب کیا ہے وہی بہتر سمجھتے ہیں میرا کام مخالفین اور دشمنان اہلبیت کے ساتھ مناظرہ کرنا ہے۔ اگر میں حسین بن روح کیطرح امام کے مقام کو جانتا ہوتا تو شائد مجھ پر اس قدر دباؤ ڈالا جاتا یا تشدد کیا جاتا کہ میں ان کے محل و مقام کو ظاہر کر دیتا۔ لیکن اگر امام علیہ السلام ابوالقاسم کی عبا میں بھی غائب ہو جائیں تو اگر انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے تو بھی وہ قطعاً اس راز سے پردہ نہیں اٹھائیں گے۔ (غیبت طبرسی، بحارالانوار مجلسی)
ب۔ وکلاء کے درمیان ہم آہنگی
ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ امام عصر علیہ السلام کے زمانہ غیبت میں آپ کے وکلاء اور نمائندے شیعوں کے مختلف مرکزی مقامات پر موجود تھے ان میں سے ہر ایک کے پاس مختلف اختیارات بھی تھے اور علاقے بھی تقسیم شدہ تھے اور دسویں اور گیارھویں امام کے زمانے میں اس قبیل کے وکلاء عام طور پر امام علیہ السلام کے مرکزی وکیل کے ذریعے امام علیہ السلام کیساتھ رابطہ قائم کرتے، اگرچہ براہ راست رابطے کے امکانات بھی موجود تھے لیکن بارہویں امام علیہ السلام کے زمانہ غیبت صغریٰ میں۔۔۔(جاری ہے)
بقیہ حصہ دوم اور سوم میں پڑھیے۔۔۔ مکمل تین حصے ہیں۔
https://t.me/islamwitheman/3312
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌐 نُوّاب اربعہ کون ہیں؟ 🌐
اس بات کی وضاحت کرتے چلیں کہ اس زمانے میں نیابت اور نواب کے بجائے سفارت اور سفراء کے کلمات استعمال ہوتے تھے۔
غَیبتِ امام مہدیؑ کے خاص نائبین چار تھے اور انہیں آپ سے پہلے کے آئمہ علیہم السلام کی خدمت کا بھی شرف حاصل تھا، یہ نیک،…
اس بات کی وضاحت کرتے چلیں کہ اس زمانے میں نیابت اور نواب کے بجائے سفارت اور سفراء کے کلمات استعمال ہوتے تھے۔
غَیبتِ امام مہدیؑ کے خاص نائبین چار تھے اور انہیں آپ سے پہلے کے آئمہ علیہم السلام کی خدمت کا بھی شرف حاصل تھا، یہ نیک،…
🌐 نوّاب اربعہ کے فرائض(حصہ دوم) 🌐
اگرچہ براۂ راست رابطے کے امکانات بھی موجود تھے لیکن بارہویں امام علیہ السلام کے زمانۂ غَیبتِ صُغری میںٰ رابطے کے یہ امکانات منقطع ہوگئے۔ لہٰذا آپ کے فروعی اور علاقائی نمائندے کہ جن کے مقامات اور اسماء گرامی ہم پہلے بتا چکے ہیں ان کیلیے ضروری ہوگیا کہ وہ اپنی سرگرمیاں اپنے امام کے خاص نائب کی زیرنگرانی جاری رکھیں اور اپنے خطوط، سوالات اور شیعوں کے دریافت شدہ شرعی اموال امام غائب عجل اللہ فرجہ الشریف کے اسی خاص نائب کے ذریعہ امام تک پہنچائیں۔ اورجیسا کہ ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ ابوجعفر محمد بن عثمان کے دورنیابت میں صرف بغداد میں تقریباً دس افراد انہی کے زیرنگرانی اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ (غیبت طوسی ص ۲۲۵)
نائبین خاص مال امام کی وصولی پر کسی کو اس کی رسید نہیں دیا کرتے تھے لیکن شیعہ حضرات، دوسرے وکیلوں کو یہ مال دیتے وقت ان سے وصولی کی رسید طلب کیا کرتے تھے۔ اسی کتاب میں ہے کہ حضرت امام زمان علیہ السلام کے دوسرے نائب محمد بن عثمان عمری کی عمر کے آخری دنوں میں انہی کے حکم کے مطابق ایک شخص امام علیہ السلام کا مال حسین بن روح کو دیا کرتا تھا اور ان سے رسید کا مطالبہ بھی کیا کرتا تھا، اس بارے میں حسین بن روح نے اس کا شکوہ محمد بن عثمان سے کیا تو انہوں نے اس شخص کو کہا کہ ان سے رسید کا مطالبہ نہ کیا جائے، جو مال بھی ابوالقاسم یعنی حسین بن روح کو دیا جاتا ہے وہ مجھے مل جاتا ہے۔
ج۔ مال امام کی وصولی اور خرچ
حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے نائبین خاص میں سے ہر ایک اپنی سفارت اور نیابت کے دوران جو بھی مال امام لوگوں سے وصول کرتے وہ ہرممکن ذریعے سے حضرت امام علیہ السلام کی خدمت بابرکت میں پہنچا دیا کرتے تھے یا جن مقامات پر امام علیہ السلام نے خرچ کرنیکا حکم دیا تھا وہیں پر خرچ کرتے تھے۔ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے دنوں میں قم اور ایران کے دوسرے علاقوں کے شیعوں کا ایک وفد سامرا آیا اور سامرا ہی میں انہیں امام علیہ السلام کی شہادت کی خبر ملی، ان کے پاس اپنے علاقوں کے شیعوں کا مال امام تھا جو وہ امام کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے تھے۔ امام کی شہادت کے بعد انہوں نے امام کے جانشین کے بارے میں پوچھا تو بعض لوگوں نے جعفرکذاب کی طرف اشارہ کیا تو انہوں نے اپنے معمول کیمطابق جعفر سے اس مال کی نشانیوں اور خصوصیات کے بارے میں سوال کیا تاکہ معلوم ہو کہ اس کے پاس علم امامت ہے یا نہیں؟ جب وہ جواب نہ دے سکا تو انہوں نے مال دینے سے انکار کردیا۔ اور وہ بھی مجبور ہو کر وطن واپس جانے پر آمادہ ہو کر سامرا سے باہر آگئے۔ سامراء کے باہر امام زمانہ کا قاصد مخفی صورت میں آیا اور انہیں امام زمانہ علیہ السلام کی طرف راہنمائی کی۔ جب وہ امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو امام نے مال اور رقم کی تفصیل بیان فرمائی۔ تو وہ مال و رقم انہوں نے آپ کے حوالے کردی۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: آئندہ آپ نے کوئی چیز سامراء لے کر نہیں آنا۔ میں نے بغداد میں ایک شخص کو مقرر کردیا ہے، اس کودیدیا کرنا، اس کے ذریعے سے توقیع صادر ہوجایا کریگی۔ (کمال الدین صدوق ص ۴۷۴ تا ص۴۷۹)
اسی عرصے میں امام علیہ السلام نے ’’عثمان بن سعید‘‘ کو اپنا نائب خاص بنالیا اور انہوں نے بغداد میں اپنے فرائض انجام دینا شروع کر دیئے۔
د۔ فقہی مسائل کے جوابات اور مشکل عقائد کا حل:
نواب اربعہ کی فعالیت کا دائرہ فقط انہی امور تک محدود نہیں تھا جو ہم ابھی بیان کرچکے ہیں بلکہ ہر قسم کے فقہی و شرعی مسائل کے جوابات مشکل عقائد کا حل، علمی مقابلے اور مناظرے نیز مخالفین کی طر ف سے جو شکوک و شبہات پیدا کئے جاتے تھے کہ جن کے ذریعے شیعوں کے عقائد کو کمزور کرنے اور ان کے افکار کو متزلزل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ ان کو دور کرنا بھی ان کے فرائض میں شامل تھا۔ امام علیہ السلام کے یہ نواب خاص اپنے ان مقدس فرائض کو اپنے امام کی تعلیمات اور اپنے بلند علمی سرمائے کی روشنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہترین صورت میں انجام دیا کرتے تھے اور جہاں ایک طرف وجود امام علیہ السلام سے متعلق انکار کے وسوسوں کو مختلف انداز میں دور کرنے کی کوشش کرتے وہاں پر اپنے امام علیہ السلام کے ساتھ مخفی ملاقات میں ان سے اس بارے میں راہنمائی بھی حاصل کرتے، یا پھر امام عالی مقام علیہ السلام کی جانب سے توقیع مبارک صادر ہوتی اور اس میں امام علیہ السلام ایسے شبہات کو دور کرنے میں ان کی مدد فرمایا کرتے۔ (ملاحظہ ہو شیخ صدوق کی کتاب کمال الدین ص ۴۷۶، ۴۷۹۔ ۴۴۰۔ ۴۴۱ غیبت طوسی ص ۱۷۶ ۔ ۱۷۷)
نیز یہ بھی ہوتا تھا کہ وہ شیعوں کے شرعی اور فقہی سوالات۔۔۔۔(جاری ہے)
بقیہ حصہ سوم میں پڑھیے۔
https://t.me/islamwitheman/3316
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
اگرچہ براۂ راست رابطے کے امکانات بھی موجود تھے لیکن بارہویں امام علیہ السلام کے زمانۂ غَیبتِ صُغری میںٰ رابطے کے یہ امکانات منقطع ہوگئے۔ لہٰذا آپ کے فروعی اور علاقائی نمائندے کہ جن کے مقامات اور اسماء گرامی ہم پہلے بتا چکے ہیں ان کیلیے ضروری ہوگیا کہ وہ اپنی سرگرمیاں اپنے امام کے خاص نائب کی زیرنگرانی جاری رکھیں اور اپنے خطوط، سوالات اور شیعوں کے دریافت شدہ شرعی اموال امام غائب عجل اللہ فرجہ الشریف کے اسی خاص نائب کے ذریعہ امام تک پہنچائیں۔ اورجیسا کہ ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ ابوجعفر محمد بن عثمان کے دورنیابت میں صرف بغداد میں تقریباً دس افراد انہی کے زیرنگرانی اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ (غیبت طوسی ص ۲۲۵)
نائبین خاص مال امام کی وصولی پر کسی کو اس کی رسید نہیں دیا کرتے تھے لیکن شیعہ حضرات، دوسرے وکیلوں کو یہ مال دیتے وقت ان سے وصولی کی رسید طلب کیا کرتے تھے۔ اسی کتاب میں ہے کہ حضرت امام زمان علیہ السلام کے دوسرے نائب محمد بن عثمان عمری کی عمر کے آخری دنوں میں انہی کے حکم کے مطابق ایک شخص امام علیہ السلام کا مال حسین بن روح کو دیا کرتا تھا اور ان سے رسید کا مطالبہ بھی کیا کرتا تھا، اس بارے میں حسین بن روح نے اس کا شکوہ محمد بن عثمان سے کیا تو انہوں نے اس شخص کو کہا کہ ان سے رسید کا مطالبہ نہ کیا جائے، جو مال بھی ابوالقاسم یعنی حسین بن روح کو دیا جاتا ہے وہ مجھے مل جاتا ہے۔
ج۔ مال امام کی وصولی اور خرچ
حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے نائبین خاص میں سے ہر ایک اپنی سفارت اور نیابت کے دوران جو بھی مال امام لوگوں سے وصول کرتے وہ ہرممکن ذریعے سے حضرت امام علیہ السلام کی خدمت بابرکت میں پہنچا دیا کرتے تھے یا جن مقامات پر امام علیہ السلام نے خرچ کرنیکا حکم دیا تھا وہیں پر خرچ کرتے تھے۔ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے دنوں میں قم اور ایران کے دوسرے علاقوں کے شیعوں کا ایک وفد سامرا آیا اور سامرا ہی میں انہیں امام علیہ السلام کی شہادت کی خبر ملی، ان کے پاس اپنے علاقوں کے شیعوں کا مال امام تھا جو وہ امام کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے تھے۔ امام کی شہادت کے بعد انہوں نے امام کے جانشین کے بارے میں پوچھا تو بعض لوگوں نے جعفرکذاب کی طرف اشارہ کیا تو انہوں نے اپنے معمول کیمطابق جعفر سے اس مال کی نشانیوں اور خصوصیات کے بارے میں سوال کیا تاکہ معلوم ہو کہ اس کے پاس علم امامت ہے یا نہیں؟ جب وہ جواب نہ دے سکا تو انہوں نے مال دینے سے انکار کردیا۔ اور وہ بھی مجبور ہو کر وطن واپس جانے پر آمادہ ہو کر سامرا سے باہر آگئے۔ سامراء کے باہر امام زمانہ کا قاصد مخفی صورت میں آیا اور انہیں امام زمانہ علیہ السلام کی طرف راہنمائی کی۔ جب وہ امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو امام نے مال اور رقم کی تفصیل بیان فرمائی۔ تو وہ مال و رقم انہوں نے آپ کے حوالے کردی۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: آئندہ آپ نے کوئی چیز سامراء لے کر نہیں آنا۔ میں نے بغداد میں ایک شخص کو مقرر کردیا ہے، اس کودیدیا کرنا، اس کے ذریعے سے توقیع صادر ہوجایا کریگی۔ (کمال الدین صدوق ص ۴۷۴ تا ص۴۷۹)
اسی عرصے میں امام علیہ السلام نے ’’عثمان بن سعید‘‘ کو اپنا نائب خاص بنالیا اور انہوں نے بغداد میں اپنے فرائض انجام دینا شروع کر دیئے۔
د۔ فقہی مسائل کے جوابات اور مشکل عقائد کا حل:
نواب اربعہ کی فعالیت کا دائرہ فقط انہی امور تک محدود نہیں تھا جو ہم ابھی بیان کرچکے ہیں بلکہ ہر قسم کے فقہی و شرعی مسائل کے جوابات مشکل عقائد کا حل، علمی مقابلے اور مناظرے نیز مخالفین کی طر ف سے جو شکوک و شبہات پیدا کئے جاتے تھے کہ جن کے ذریعے شیعوں کے عقائد کو کمزور کرنے اور ان کے افکار کو متزلزل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ ان کو دور کرنا بھی ان کے فرائض میں شامل تھا۔ امام علیہ السلام کے یہ نواب خاص اپنے ان مقدس فرائض کو اپنے امام کی تعلیمات اور اپنے بلند علمی سرمائے کی روشنی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہترین صورت میں انجام دیا کرتے تھے اور جہاں ایک طرف وجود امام علیہ السلام سے متعلق انکار کے وسوسوں کو مختلف انداز میں دور کرنے کی کوشش کرتے وہاں پر اپنے امام علیہ السلام کے ساتھ مخفی ملاقات میں ان سے اس بارے میں راہنمائی بھی حاصل کرتے، یا پھر امام عالی مقام علیہ السلام کی جانب سے توقیع مبارک صادر ہوتی اور اس میں امام علیہ السلام ایسے شبہات کو دور کرنے میں ان کی مدد فرمایا کرتے۔ (ملاحظہ ہو شیخ صدوق کی کتاب کمال الدین ص ۴۷۶، ۴۷۹۔ ۴۴۰۔ ۴۴۱ غیبت طوسی ص ۱۷۶ ۔ ۱۷۷)
نیز یہ بھی ہوتا تھا کہ وہ شیعوں کے شرعی اور فقہی سوالات۔۔۔۔(جاری ہے)
بقیہ حصہ سوم میں پڑھیے۔
https://t.me/islamwitheman/3316
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌐 نواب اربعہ کے فرائض(حصہ اول) 🌐
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی طرف سے اپنے خاص نائبین کا انتخاب درحقیقت ’’وکالت‘‘ کے تسلسل کو باقی رکھنا تھا جس کی بنیاد حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنے دورامامت میں رکھی تھی اور حضرت امام علی نقی اور امام حسن عسکری…
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی طرف سے اپنے خاص نائبین کا انتخاب درحقیقت ’’وکالت‘‘ کے تسلسل کو باقی رکھنا تھا جس کی بنیاد حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنے دورامامت میں رکھی تھی اور حضرت امام علی نقی اور امام حسن عسکری…
🌐 نوّاب اربعہ کے فرائض(حصہ سوم) 🌐
نیز یہ بھی ہوتا تھا کہ وہ شیعوں کے شرعی اور فقہی سوالات امام عالی مقامؑ کی خدمت میں پیش کر کے انہی سے ان کے جوابات حاصل کرتے اور متعلقہ لوگوں تک پہنچاتے اس بارے میں بطور نمونہ اس توقیع کا نام لیا جاسکتا ہے جو نائبِ امام محمد بن عثمان عمری کے ذریعے صادر ہوئی جو اسحاق بن یعقوب کے مختلف سوالوں کے جوابات پر مشتمل تھی۔ (اعلام الوریٰ طبرسی ص ۲۵۲۔ ۲۵۳ )
اسیطرح ایک اور توقیع مفصل کا نام بھی لیا جاسکتا ہے جو اہل قم کے نمائندے محمد بن عبد اللہ بن جعفر حمیری کے سوالوں کے جوابات پر مشتمل تھی۔ (اعلام الوریٰ ص ۲۲۹۔ ۲۳۶)
ھ۔ جھوٹے مدعیانِ نیابت کا مقابلہ:
اس زمانے میں کچھ لوگوں نے ’’غلو‘‘ کا پرچار کرناشروع کردیا اور کچھ لوگ حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی نیابت اور وکالت کے جھوٹے دعوے کرنے لگ گئے لیکن آپ کے چاروں نائبین یعنی ’‘ نواب اربعہ‘‘ نے ان کا خوب ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کے مقاصد میں انہیں ناکام بنادیا۔ جیسا کہ ہم حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی سیرت کے ضمن میں بیان کر چکے ہیں کہ کچھ جاہ طلب اور گمراہ کن افراد نے آئمہ اطہار علیہم السلام کے بارے میں بےاساس پروپیگنڈہ کرنا شروع کردیا کہ نعوذ باللہ وہ ’’رب‘‘ ہیں یا اللہ ہیں۔ اسطرح سے وہ معاشرے میں اپنا نام اور مقام بناکر لوگوں سے خمس وغیرہ بٹورتے تھے۔ لیکن جہاں اس سے شیعیت بدنام ہو رہی تھی وہاں حضرات آئمہ اطہار علیہم السلام کیلیے بھی مشکلات پیدا ہو رہی تھیں۔ لیکن غَیبتِ صُغریٰ کے زمانے میں جہاں پر یہ مسائل تھے وہاں ایک اور نئی مشکل یہ پیدا ہو گئی کہ کچھ ایسے لوگ ظاہر ہو گئے، جو خود کو غلط طریقے سے امام علیہ السلام کا خصوصی نائب یا سفیر کہلانے لگ گئے یعنی حضرت کی خصوصی نیابت یا سفارت کا جھوٹا دعویٰ کرنے لگ گئے۔ اسطرح سے وہ مالِ امام میں غلط تصرف کرنے کے علاوہ اور فقہ و عقائد کے بارے میں بھی گمراہ کن باتیں کرنے لگ گئے۔
اب امام علیہ السلام کے خاص نائبین خود حضرت امام عالی مقام کی ہدایت اور رہنمائی کے مطابق خوب ڈٹ کر اس کا مقابلہ کرتے۔ اور بعض اوقات حضرت امام علیہ السلام کیطرف سے ان کے لعنت پر مبنی توقیع بھی صادر ہوجاتی اور ابومحمد شریعی، محمد بن نصیر نمیری، احمد بن ہلال کرخی، ابوطاہر محمد بن علی بن بلال، حسین بن منصور حلاج اور محمد بن علی شلمغانی اسی ٹولے سے تعلق رکھتے تھے۔ (غیبت طوسی ص ۲۴۴)
📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل۔
_________________
https://t.me/islamwitheman/3317
_________________
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
🌐 نوّاب اربعہ کون ہیں؟ پہلے نائب
https://t.me/islamwitheman/3312
🌐 نوّاب اربعہ میں سے دوسرے نائب
https://t.me/islamwitheman/3313
🌐 نوّاب اربعہ میں سے تیسرے نائب
https://t.me/islamwitheman/3314
🌐 نوّاب اربعہ میں سے چوتھے نائب
https://t.me/islamwitheman/3315
🌐 نوّاب اربعہ کے فرائض
https://t.me/islamwitheman/3316
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
نیز یہ بھی ہوتا تھا کہ وہ شیعوں کے شرعی اور فقہی سوالات امام عالی مقامؑ کی خدمت میں پیش کر کے انہی سے ان کے جوابات حاصل کرتے اور متعلقہ لوگوں تک پہنچاتے اس بارے میں بطور نمونہ اس توقیع کا نام لیا جاسکتا ہے جو نائبِ امام محمد بن عثمان عمری کے ذریعے صادر ہوئی جو اسحاق بن یعقوب کے مختلف سوالوں کے جوابات پر مشتمل تھی۔ (اعلام الوریٰ طبرسی ص ۲۵۲۔ ۲۵۳ )
اسیطرح ایک اور توقیع مفصل کا نام بھی لیا جاسکتا ہے جو اہل قم کے نمائندے محمد بن عبد اللہ بن جعفر حمیری کے سوالوں کے جوابات پر مشتمل تھی۔ (اعلام الوریٰ ص ۲۲۹۔ ۲۳۶)
ھ۔ جھوٹے مدعیانِ نیابت کا مقابلہ:
اس زمانے میں کچھ لوگوں نے ’’غلو‘‘ کا پرچار کرناشروع کردیا اور کچھ لوگ حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی نیابت اور وکالت کے جھوٹے دعوے کرنے لگ گئے لیکن آپ کے چاروں نائبین یعنی ’‘ نواب اربعہ‘‘ نے ان کا خوب ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کے مقاصد میں انہیں ناکام بنادیا۔ جیسا کہ ہم حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی سیرت کے ضمن میں بیان کر چکے ہیں کہ کچھ جاہ طلب اور گمراہ کن افراد نے آئمہ اطہار علیہم السلام کے بارے میں بےاساس پروپیگنڈہ کرنا شروع کردیا کہ نعوذ باللہ وہ ’’رب‘‘ ہیں یا اللہ ہیں۔ اسطرح سے وہ معاشرے میں اپنا نام اور مقام بناکر لوگوں سے خمس وغیرہ بٹورتے تھے۔ لیکن جہاں اس سے شیعیت بدنام ہو رہی تھی وہاں حضرات آئمہ اطہار علیہم السلام کیلیے بھی مشکلات پیدا ہو رہی تھیں۔ لیکن غَیبتِ صُغریٰ کے زمانے میں جہاں پر یہ مسائل تھے وہاں ایک اور نئی مشکل یہ پیدا ہو گئی کہ کچھ ایسے لوگ ظاہر ہو گئے، جو خود کو غلط طریقے سے امام علیہ السلام کا خصوصی نائب یا سفیر کہلانے لگ گئے یعنی حضرت کی خصوصی نیابت یا سفارت کا جھوٹا دعویٰ کرنے لگ گئے۔ اسطرح سے وہ مالِ امام میں غلط تصرف کرنے کے علاوہ اور فقہ و عقائد کے بارے میں بھی گمراہ کن باتیں کرنے لگ گئے۔
اب امام علیہ السلام کے خاص نائبین خود حضرت امام عالی مقام کی ہدایت اور رہنمائی کے مطابق خوب ڈٹ کر اس کا مقابلہ کرتے۔ اور بعض اوقات حضرت امام علیہ السلام کیطرف سے ان کے لعنت پر مبنی توقیع بھی صادر ہوجاتی اور ابومحمد شریعی، محمد بن نصیر نمیری، احمد بن ہلال کرخی، ابوطاہر محمد بن علی بن بلال، حسین بن منصور حلاج اور محمد بن علی شلمغانی اسی ٹولے سے تعلق رکھتے تھے۔ (غیبت طوسی ص ۲۴۴)
📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل۔
_________________
https://t.me/islamwitheman/3317
_________________
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
🌐 نوّاب اربعہ کون ہیں؟ پہلے نائب
https://t.me/islamwitheman/3312
🌐 نوّاب اربعہ میں سے دوسرے نائب
https://t.me/islamwitheman/3313
🌐 نوّاب اربعہ میں سے تیسرے نائب
https://t.me/islamwitheman/3314
🌐 نوّاب اربعہ میں سے چوتھے نائب
https://t.me/islamwitheman/3315
🌐 نوّاب اربعہ کے فرائض
https://t.me/islamwitheman/3316
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌐 نوّاب اربعہ کے فرائض(حصہ دوم) 🌐
اگرچہ براۂ راست رابطے کے امکانات بھی موجود تھے لیکن بارہویں امام علیہ السلام کے زمانۂ غَیبتِ صُغری میںٰ رابطے کے یہ امکانات منقطع ہوگئے۔ لہٰذا آپ کے فروعی اور علاقائی نمائندے کہ جن کے مقامات اور اسماء گرامی ہم پہلے بتا…
اگرچہ براۂ راست رابطے کے امکانات بھی موجود تھے لیکن بارہویں امام علیہ السلام کے زمانۂ غَیبتِ صُغری میںٰ رابطے کے یہ امکانات منقطع ہوگئے۔ لہٰذا آپ کے فروعی اور علاقائی نمائندے کہ جن کے مقامات اور اسماء گرامی ہم پہلے بتا…
👈 شلمغانی کون ہے؟ 👉
ابوجعفر محمدبن علی المعروف ابن ابی عزاقر، ابتدائی طور پر تو شیعہ علماء میں سے اور برحق مذہب پر تھا اور روایات اہلبیت پر مشتمل کتابیں بھی لکھیں، لیکن جب حضرت امام زمانہ حجت بن الحسن علیہ السلام نے جناب ابوالقاسم حسین بن روح کو اپنا نائب خاص منتخب فرمایا تو اس نے ان سے حسد کا مظاہرہ کیا اور مذہب حقہ سے منحرف ہوگیا۔ اور اپنی زبان سے غلو، حلول اور تناسخ جیسے کفریہ کلمات بیان کرنا شروع کردیئے۔ جس کیوجہ سے حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی جانب سے اس کی مذمت اور لعنت پر توقیعات صادر ہوئیں اور یہ صورت حال عباسی خلیفہ ’’مقتدر‘‘ اور اس کے وزیر ابن مقلہ کے دورحکومت میں پیش آئی ’’ابن مقلہ‘‘ نے اس کی اور اس کے پیروکاروں کی گرفتاری کے احکام جاری کر دیئے اور شوال ۳۲۳ ہجری میں اسے گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا۔ اور اس کیساتھ ہی اسکے دو پیروکاروں ’’ابن ابی عون‘‘ اور ابن عبدوس‘‘ کو بھی گرفتار کرلیا۔ ان دونوں صاحبان نے بھرے مجمع میں شلمغانی کے متعلق کہنا شروع کر دیا۔ کہ ’’یہ خدا ہیں‘‘ اور خلیفہ سے بھی ذرہ خوف نہ کیا۔ اسی لیے ان سب کو اسی سال ماہ ذیقعدہ میں پھانسی دیدی گئی اور پھر ان کے لاشوں کو نذر آتش کردیا۔
شلغمانی نے گمراہ ہونے سے پہلے جو کتاب لکھی اس کا نام ’’التکلیف‘‘ ہے اور مرحوم شیخ مفید نے باب الشہادت میں ایک حدیث کے علاوہ اس کتاب کو نقل کیا ہے۔
ابوالقاسم حسین بن روح نے حضرت امام عصر علیہ السلام سے اس کی کتابوں کی حجیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
اس کی روایات کو لے لو لیکن عقائد سے اجتناب کرو۔
(جامع الرواۃ لغت نامہ دہخدا۔ بحار الانوار ج ۲ ص ۲۵۲)
اسی بنا پر ’’حسین بن روح‘‘ نے اس کے اس قسم کے عقائد کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انہیں کفر اور الحاد سے تعبیر کیا۔ اور بتایا کہ اس کے غالیانہ عقائد ہوں یا حلول اور تناسخ کا نظریہ سب اسی زمرے میں آتے ہیں اور عیسائیوں کی طرح کے عقائد ہیں جو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں رکھتے ہیں۔ اس طرح سے اسے تشیع خالص سے دھتکار دیا اور اس کے باطل افکار کو الم نشرح کر کے قوم میں رسوا کر دیا جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ شلمغانی کی انہی تخریبی کارروائیوں کی وجہ سے ذوالحجہ ۳۱۲ ھ میں حضرت امام زمانہ کی طرف سے حسین بن روح کے ذریعہ سے اس کے لئے لعنت اور کفر و ارتداد پر مبنی توقیع صادر ہوگئی، بالآخر خلیفہ مقتدر عباسی کے دور میں شوال۳۳۲ھ میں ابن مقلہ کے ذریعے اسے اور اس کے پیروکاروں کو تختہ دار پر لٹکا نے کے بعد ان کی لاشوں کو نذر آتش کر دیا۔
📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ،
تالیف علامہ محمد علی فاضل.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 امام العصر والزمانؑ عج کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🌹 ولادت باسعادت امام زمانہ عج
https://t.me/islamwitheman/3282
🌹 امام العصرؑ(عج) اور روزِ جمعہ
https://t.me/islamwitheman/3292
🌹 غَیبتِ صُغریٰ اور غَیبتِ کُبریٰ
https://t.me/islamwitheman/3293
🌹 انتظار امام ایک ذمہ داری
https://t.me/islamwitheman/3294
🌹 امامؑ کے ظھور میں وجۂ تاخیر
https://t.me/islamwitheman/3295
🌹 امام مھدیؑ کے لشکر کی تفصیلات
https://t.me/islamwitheman/3296
🌹 الله کی رضا اور امامؑ کی رضا
https://t.me/islamwitheman/3297
🔷 دورانِ غَیبتِ امامؑ ہماری ذمہ داری
https://t.me/islamwitheman/3298
🌹 اطاعتِ امامؑ
https://t.me/islamwitheman/3299
🌹 قرآن اور حضرت امام مہدیؑ
https://t.me/islamwitheman/3300
🌹 امام مھدیؑ اور دیگر ادیان
https://t.me/islamwitheman/3301
🌹 شرفِ زیارت امام مھدیؑ
https://t.me/islamwitheman/3302
🌹 انتظار امام عصر عج کا ثواب
https://t.me/islamwitheman/3303
🌹 امامؑ کی اطاعت
https://t.me/islamwitheman/3304
🌹 منتظرینِ إمامؑ
https://t.me/islamwitheman/3305
🌹 امام العصر عج سے رجوع
https://t.me/islamwitheman/3306
🕌 نماز حاجت و استغاثہ امام زمانہ عج
https://t.me/islamwitheman/3307
🕌 نماز امام زمان عج
https://t.me/islamwitheman/3308
🌹 جناب نرجس خاتونؑ
https://t.me/islamwitheman/3309
🌐 نوّاب اربعہ کون ہیں؟ پہلے نائب
https://t.me/islamwitheman/3312
🌐 نوّاب اربعہ میں سے دوسرے نائب
https://t.me/islamwitheman/3313
🌐 نوّاب اربعہ میں سے تیسرے نائب
https://t.me/islamwitheman/3314
🌐 نوّاب اربعہ میں سے چوتھے نائب
https://t.me/islamwitheman/3315
🌐 نوّاب اربعہ کے فرائض
https://t.me/islamwitheman/3316
👈 شلمغانی کون ہے؟
https://t.me/islamwitheman/3319
🌺 اصحابِ امام زمانہؑ کے کتنے گروہ
https://t.me/islamwitheman/4706
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ابوجعفر محمدبن علی المعروف ابن ابی عزاقر، ابتدائی طور پر تو شیعہ علماء میں سے اور برحق مذہب پر تھا اور روایات اہلبیت پر مشتمل کتابیں بھی لکھیں، لیکن جب حضرت امام زمانہ حجت بن الحسن علیہ السلام نے جناب ابوالقاسم حسین بن روح کو اپنا نائب خاص منتخب فرمایا تو اس نے ان سے حسد کا مظاہرہ کیا اور مذہب حقہ سے منحرف ہوگیا۔ اور اپنی زبان سے غلو، حلول اور تناسخ جیسے کفریہ کلمات بیان کرنا شروع کردیئے۔ جس کیوجہ سے حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی جانب سے اس کی مذمت اور لعنت پر توقیعات صادر ہوئیں اور یہ صورت حال عباسی خلیفہ ’’مقتدر‘‘ اور اس کے وزیر ابن مقلہ کے دورحکومت میں پیش آئی ’’ابن مقلہ‘‘ نے اس کی اور اس کے پیروکاروں کی گرفتاری کے احکام جاری کر دیئے اور شوال ۳۲۳ ہجری میں اسے گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا۔ اور اس کیساتھ ہی اسکے دو پیروکاروں ’’ابن ابی عون‘‘ اور ابن عبدوس‘‘ کو بھی گرفتار کرلیا۔ ان دونوں صاحبان نے بھرے مجمع میں شلمغانی کے متعلق کہنا شروع کر دیا۔ کہ ’’یہ خدا ہیں‘‘ اور خلیفہ سے بھی ذرہ خوف نہ کیا۔ اسی لیے ان سب کو اسی سال ماہ ذیقعدہ میں پھانسی دیدی گئی اور پھر ان کے لاشوں کو نذر آتش کردیا۔
شلغمانی نے گمراہ ہونے سے پہلے جو کتاب لکھی اس کا نام ’’التکلیف‘‘ ہے اور مرحوم شیخ مفید نے باب الشہادت میں ایک حدیث کے علاوہ اس کتاب کو نقل کیا ہے۔
ابوالقاسم حسین بن روح نے حضرت امام عصر علیہ السلام سے اس کی کتابوں کی حجیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
اس کی روایات کو لے لو لیکن عقائد سے اجتناب کرو۔
(جامع الرواۃ لغت نامہ دہخدا۔ بحار الانوار ج ۲ ص ۲۵۲)
اسی بنا پر ’’حسین بن روح‘‘ نے اس کے اس قسم کے عقائد کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انہیں کفر اور الحاد سے تعبیر کیا۔ اور بتایا کہ اس کے غالیانہ عقائد ہوں یا حلول اور تناسخ کا نظریہ سب اسی زمرے میں آتے ہیں اور عیسائیوں کی طرح کے عقائد ہیں جو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں رکھتے ہیں۔ اس طرح سے اسے تشیع خالص سے دھتکار دیا اور اس کے باطل افکار کو الم نشرح کر کے قوم میں رسوا کر دیا جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ شلمغانی کی انہی تخریبی کارروائیوں کی وجہ سے ذوالحجہ ۳۱۲ ھ میں حضرت امام زمانہ کی طرف سے حسین بن روح کے ذریعہ سے اس کے لئے لعنت اور کفر و ارتداد پر مبنی توقیع صادر ہوگئی، بالآخر خلیفہ مقتدر عباسی کے دور میں شوال۳۳۲ھ میں ابن مقلہ کے ذریعے اسے اور اس کے پیروکاروں کو تختہ دار پر لٹکا نے کے بعد ان کی لاشوں کو نذر آتش کر دیا۔
📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ،
تالیف علامہ محمد علی فاضل.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 امام العصر والزمانؑ عج کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🌹 ولادت باسعادت امام زمانہ عج
https://t.me/islamwitheman/3282
🌹 امام العصرؑ(عج) اور روزِ جمعہ
https://t.me/islamwitheman/3292
🌹 غَیبتِ صُغریٰ اور غَیبتِ کُبریٰ
https://t.me/islamwitheman/3293
🌹 انتظار امام ایک ذمہ داری
https://t.me/islamwitheman/3294
🌹 امامؑ کے ظھور میں وجۂ تاخیر
https://t.me/islamwitheman/3295
🌹 امام مھدیؑ کے لشکر کی تفصیلات
https://t.me/islamwitheman/3296
🌹 الله کی رضا اور امامؑ کی رضا
https://t.me/islamwitheman/3297
🔷 دورانِ غَیبتِ امامؑ ہماری ذمہ داری
https://t.me/islamwitheman/3298
🌹 اطاعتِ امامؑ
https://t.me/islamwitheman/3299
🌹 قرآن اور حضرت امام مہدیؑ
https://t.me/islamwitheman/3300
🌹 امام مھدیؑ اور دیگر ادیان
https://t.me/islamwitheman/3301
🌹 شرفِ زیارت امام مھدیؑ
https://t.me/islamwitheman/3302
🌹 انتظار امام عصر عج کا ثواب
https://t.me/islamwitheman/3303
🌹 امامؑ کی اطاعت
https://t.me/islamwitheman/3304
🌹 منتظرینِ إمامؑ
https://t.me/islamwitheman/3305
🌹 امام العصر عج سے رجوع
https://t.me/islamwitheman/3306
🕌 نماز حاجت و استغاثہ امام زمانہ عج
https://t.me/islamwitheman/3307
🕌 نماز امام زمان عج
https://t.me/islamwitheman/3308
🌹 جناب نرجس خاتونؑ
https://t.me/islamwitheman/3309
🌐 نوّاب اربعہ کون ہیں؟ پہلے نائب
https://t.me/islamwitheman/3312
🌐 نوّاب اربعہ میں سے دوسرے نائب
https://t.me/islamwitheman/3313
🌐 نوّاب اربعہ میں سے تیسرے نائب
https://t.me/islamwitheman/3314
🌐 نوّاب اربعہ میں سے چوتھے نائب
https://t.me/islamwitheman/3315
🌐 نوّاب اربعہ کے فرائض
https://t.me/islamwitheman/3316
👈 شلمغانی کون ہے؟
https://t.me/islamwitheman/3319
🌺 اصحابِ امام زمانہؑ کے کتنے گروہ
https://t.me/islamwitheman/4706
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 ولادت باسعادت امام زمانہ عج 🌹
امام العصروالزمان عج کی ولادت باسعادت آپ سب کو بہت بہت مبارک ھو۔ خداوندمتعال امام العصر علیہ السلام کا ظہور جلد فرمائے۔
امام زمانہ عج کاحلیہ مبارک کتاب اکمال الدین میں شیخ صدوق فرماتے ہیں کہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ…
امام العصروالزمان عج کی ولادت باسعادت آپ سب کو بہت بہت مبارک ھو۔ خداوندمتعال امام العصر علیہ السلام کا ظہور جلد فرمائے۔
امام زمانہ عج کاحلیہ مبارک کتاب اکمال الدین میں شیخ صدوق فرماتے ہیں کہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ…