ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔷 جھوٹ سے مکمّل اجتناب 🔷

🌹 رسولِ اکرمؐ نے حضرت ابوذرؓ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا...
(عَنْ اَبِیْ ذَرٍفَیْ وَصِیَةِ النَّبِیِّ لَہ قَالَ) "یَا اَبَاذَرِّمَنْ مَلَّکَ مَا بَیْنَ فُخْذَیْہِ وَمَابَیْنَ لَحْیَیْہِ دَخَلَ الْجَنَّةَ، اِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمَ بِالْکَلْمَةِ فِیْ الْمَجْلِسِ لِیَضْحَکَھُمْ بِھَا فَیَھِوِیْ فِیْ جَھَنَّمَ مَا بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ۔
یَااَبَا ذَرٍ وَیْلُ لِّلَّذِیْ یُحَدِّثُ وَ یَکْذِبُ لِیَضْحِکَ بِہ الْقَوْم وَیْلُ لَّہ یَا اَبَا ذَرٍ مَنْ صَمَتَ نَجٰی فَعَلَیْکَ بِا لصُّمْتِ وَلَا تَخْرَجْنَ مِنْ فِیْکَ کِذْبَةُ اَبَدًا۔
(قُلْتُ) یَارَسُوْلَ اللهِ فَمَا تَوْبَةُ الرَّجُلِ الّذِیْ یَکْذِبُ مُتَعَمِّدًا؟
قَالَ اَلَا ستِغْفَارُ وَ صَلٰواتِ الْخَمْسِ تُغْسَلُ ذٰلِک."َ(1)

ترجمہ:
"اے ابو ذر!
جو شخص اپنی شرم گاہ کو اور اپنی زبان کو حرام سے محفوظ رکھے گا وہ بہشت میں داخل ہوگا۔ جو شخص کسی جگہ لوگوں کو ہنسانے کے لئے ایک جھوٹی بات کہے گا تو وہی جھوٹی بات اس کو جہنّم کی طرف لے جائے گی.
اے ابوذر!
وائے اُس پر جو بات کرتا ہو تو جھوٹ بولتا ہو تاکہ لوگوں کہ ہنساسکے۔ وائے ہو اس پر، وائے ہو اس پر.
اے ابوذر!
جو خاموش رہا نجات پا گیا۔ پس جھوٹ بولنے کی نسبت خاموشی تمھارا فرض ہے اور تمھارے منہ سے کبھی بھی ایک چھوٹا سا جھوٹ بھی نہیں نکلنا چاہیئے.

حضرت ابوذرؓ کہتے ہیں یا رسول الله! جان بوجھ کر جھوٹ بولنے والے شخص کی توبہ کس طرح ہوگی؟
آنحضرتؐ نے جواب دیا:
استغفار اور پانچوں وقت باقاعدہ نماز سے یہ گناہ دُھل جائے گا."

🌹 آنحضرتؐ یہ بھی فرماتے ہیں:
"عَنِ الَّنبِی فِیْ بَیَنِ اِشْراطِ السَّا عَةِ وَیَکُوْنُ الْکِذْبُ عِنْدَھُمْ فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَی الْکَاذِبِ وَلَوْ کَانَ مَازِحًا."(2)

ترجمہ:
"جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو اگرچہ اُس نے مذاق میں جھوٹ کہا ہو۔"

🌹 پیغمبر اکرمؐ یہ بھی فرماتے ہیں:
"عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ)اَنَازَعِیْمُ بَیْتٍ فِیْ اعْلیَ الْجَنَّةِ وَبَیْتُ فِیْ وَسَطِ الْجَنَّہِ وَبَیْتُ فَیْ رِیَاضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَاءَ وَاِنَ کَا نَ مُحِقًا وَلِمنْ تَرَکَ الْکِذْبُ وَاِنْ کَانَ ھَازِلًا وَ لِمْنْ حَسُنَ خَلْقُہ."ُ(3)

ترجمہ:
"میں ضمانت دیتا ہوں کہ جنت کے اعلیٰ ترین درجے پر ایک گھر ہر ایسے شخص کو دلواوٴں گا، جو لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرے اگرچہ وہ حق پر ہو ۔ اور جنت کے درمیانی ددرجے میں ایک گھر ہر ایسے شخص کو دلاوٴں گا جو جھوٹ سے پرہیزکرے، اگرچہ وہ مذاق میں ہوا ور جنّت کے باغ میں ایک گھر ہر ایسے شخص کو دلواوٴں گا جو اچّھے اخلاق والا ہو۔"

🌹 حضرت علیؑ فرماتے ہیں:
"لَا یَحَجِدُ عَبْدُ طَعْمَ الْاِیْمَانِ حَتَّی یَتْرُکَ الْکِذْبُ جِدَّہ وَھَزْلَہ."(4)

ترجمہ:
"کوئی بندہ اُس وقت تک ایمان کا ذائقہ چکھ نہیں سکتا جب تک وہ جھوٹ سے پرہیز نہ کرے، خواہ وہ سنجیدگی سے ہو یا مذاق میں ہو ۔"

🌹 حضرت علیؑ ہی سے مروی ہے:
"لَا یَسْلَحُ الْکِذْبُ جِدُّ وَ لَا ھَزْلُ وَلَآاَنْ یَّعِدَاَحَدُکُمْ صَبِیَّہ ثُمَّ لَا یَفِیْ لَہ اِنَّ الْکِذبَ یْھِدیْ اِلیٰ الْفُجُوْرُیَھْدِیْ اِلیٰ النَّارِ."(5)

ترجمہ:
"جھوٹ میں بہتری نہیں ہے خواہ وہ سنجیدگی سے ہو یا مذاق میں۔ اپنے چھوٹے بچّے سے بھی ایساوعدہ نہیں کرنا چاہیے جسے پورا کرنے کا ارادہ نہ ہو۔ بے شک جھوٹ آدمی کو بے باکی سے بڑے بڑے گناہ کرنے پر اُکسادیتاہے اور وہ بڑے بڑے گناہ آدمی کو جہنّم میں پہنچادیتے ہیں۔"

🌹 حضرت امام زین العابدینؑ فرماتے ہیں:
"اِتَقُوا لْکِذْبَ، اَلصَّغِیْرَمِنْہُ وَالْکَبِیْرَ فِیْ کُلِّ جِدٍّوَّھَزْلٍ."(6)

ترجمہ:
"جھوٹ سے پرہیز کرو، خواہ وہ چھوٹاہو یا بڑا، خواہ وہ سنجیدگی سے ہو یا مذاق میں۔"

■ مذاق میں جھوٹ بولنا عام حالات میں گناہ تو ہے لیکن گناہِ کبیرہ نہیں ہے ۔ البتہ اگر مذاق میں جھوٹ بولنے سے کسی موٴمن کا دل ٹوٹ جاتا ہو، اس کو اذّیت پہنچتی ہو، جسمانی زحمت کا سامناکرنا پڑتا ہو یا اس کی بے عزتی ہوتی ہو تواِن صورتوں میں مذاق میں بھی جھوٹ بولنا گناہِ کبیرہ بن جاتا ہے.

📚 حوالہ جات
1)وسائل الشیعہ.
2) کتاب جہاد.
3) کتاب "خصال"
4) کافی.
5) وسائل الشیعہ.
6) کافی.

https://t.me/islamwitheman/3284
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👹 کرونا وائرس کی تیسری لہر 👹

سعودی عرب اندرون اور باھر پروازیں بند۔
تنزانیہ مکمل لاک ڈاؤن۔
برازیل اپنے سب سے خطرناک باب میں ڈوب گیا۔
اسپین نے مارچ 2021 تک ہنگامی حالات میں توسیع کا اعلان کیا ھے۔
برطانیہ نے ایک ماہ کی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔
فرانس 2 ہفتے
جرمنی 4 ہفتوں کے لئے مکمل کرفیو
اٹلی مکمل لاک ڈاؤن
شنجن = پورا یورپ بند
آسٹریلیا = مکمل لاک ڈاؤن
کینیڈا = ٹوٹل لاک ڈاؤن

ان ممالک نے اس بات کی تصدیق کی ھے کہ
۔۔۔ " تیسری لہر " ۔۔۔ پہلے سے کہیں زیادہ مہلک ھے لہذا ہمیں بہت محتاط رہنا چاہئے اور تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

اگر ھم ۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا ھے ۔۔۔ کی پالیسی پر چلتے رھیں گے تو حالات قابو سے باھر هو سکتے ھیں۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تیسری لہر پہلی کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ھے ، جیسا کہ 1917 سے 1919 تک سپانش فلو کے ساتھ تھا اور لاکھوں افراد ہلاک ھوگئے تھے۔

اپنی اور اپنی فیملی کی حفاظت کریں۔
ماسک پہنیں ، مناسب فاصلہ رکھیں۔

تیز بخار، کھانسی، شدید جسم درد، منہ کا کڑوا پن اور سونگھنے، ذائقے کی حس ختم ہونے جیسی علامات تقریباً پورے پاکستان میں پھیل چکی ہیں۔ اپنی حفاظت کریں۔

1- ٹھنڈے پانی سے پرہیز کریں۔
2- برف کا استعمال مکمل طور پر بند کردیں۔
3- جوشاندہ پئیں۔
4- سادہ گرم پانی کا بھاپ لیں۔
5- انڈے کھائیں۔
6- انجیر کھائیں۔
7- بادام کھائیں۔
8- لونگ، الاچی، دارچینی کا قہوہ پئیں۔
9- مٹن سوپ پئیں، کالی مرچ ادرک، ہلدی ڈال کر۔
10- دیسی مرغی کا سوپ پئیں، کالی مرچ، ادرک، ہلدی ڈال کر۔
11- کیلشیم کسی بھی صورت میں لازمی لیں۔
12- پانی کا استعمال زیادہ کریں۔

ﷲ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹیں دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔

👹 وائرس کا حملہ آور موت کے امکان
https://t.me/islamwitheman/2277

🔷 کرونا وائرس اور ماہر نفسیات
https://t.me/islamwitheman/2282

🔷 قاسم علی شاہ کی باتیں
https://t.me/islamwitheman/2283

🔷 خوف کا زہر
https://t.me/islamwitheman/2286

🔷 دہشت کا اثر
https://t.me/islamwitheman/2287

🔷 سات آیات مبارکہ دفع وبا کے لیے
https://t.me/islamwitheman/2292

🔷 کرونا وائرس کا پی ایچ
https://t.me/islamwitheman/2293

🌹 قوت مدافعت بڑھانے والی سبزیاں
https://t.me/islamwitheman/2295

🌹 لمبا سجدہ اور مختلف بیماریاں
https://t.me/islamwitheman/2297

🌹 ہاتھوں کا دھونا
https://t.me/islamwitheman/2337

🔶 موت سے خوف
http://t.me/islamwitheman/2340

🌺 ہمیشہ باوضو رہنے کے فائدے
http://t.me/islamwitheman/2342

👹 کرونا وائرس کی تیسری لہر
https://t.me/islamwitheman/3291
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 امام العصرؑ(عج) اور روزِ جمعہ 🌹

جمعہ حضرت صاحب الزمانؑ (عج) کا دن ہے اور انہیں سے منسوب ہے اور یہ وہی دن ہے جس دن آپ ظہور فرمائیں گے آپ کی زیارت یہ ہے۔۔

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا حُجَّۃَ اللّهِ فِی ٲَرْضِہِ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ اللّهِ فِی خَلْقِہِ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا نُورَ اللّهِ الَّذِی یَھْتَدِی بِہِ الْمُھْتَدُونَ وَیُفَرَّجُ بِہِ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الْمُھَذَّبُ الْخائِفُ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الْوَلِیُّ النَّاصِحُ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا سَفِینَۃَ النَّجاۃِ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ الْحَیَاۃِ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ، صَلَّی اللّهُ عَلَیْکَ وَعَلَی آلِ
بَیْتِکَ الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ عَجَّلَ اللّهُ لَکَ مَا وَعَدَکَ مِنَ النَّصْرِ وَظُھُورِ الْاَمْرِ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ ٲَنَا مَوْلاکَ عَارِفٌ بِٲُولاَکَ وَٲُخْرَاکَ ٲَتَقَرَّبُ إلَی اللّهِ
تَعَالَی بِکَ وَبِآلِ بَیْتِکَ وَٲَنْتَظِرُ ظُھُورَکَ وَظُھُورَ الْحَقِّ عَلَی یَدَیْکَ،
وَٲَسْٲَلُ اللّهَ ٲَنْ یُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَٲَنْ یَجْعَلَنِی مِنَ الْمُنْتَظِرِینَ لَکَ وَالتَّابِعِینَ وَالنَّاصِرِینَ لَکَ عَلَی ٲَعْدائِکَ وَالْمُسْتَشْھَدِینَ بَیْنَ یَدَیْکَ فِی جُمْلَۃِ ٲَوْلِیَائِکَ یَا مَوْلایَ یَا صَاحِبَ الزَّمَانِ،
صَلَواتُ اللّهِ عَلَیْکَ وَعَلَی آلِ بَیْتِکَ، ہذَا یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَھُوَ یَوْمُکَ الْمُتَوَقَّعُ فِیہِ ظُھُورُکَ، وَالْفَرَجُ فِیہِ لِلْمُؤْمِنِینَ عَلَی یَدَیْکَ، وَقَتْلُ الْکافِرِینَ بِسَیْفِکَ،
وَٲَ نَا یَا مَوْلایَ فِیہِ ضَیْفُکَ وَجَارُکَ، وَٲَنْتَ یَا مَوْلایَ کَرِیمٌ مِنْ ٲَوْلادِ الْکِرَامِ، وَمَٲْمُورٌ
بِالضِّیافَۃِ وَالْاِجَارَۃِ فَٲَضِفْنِی وَٲَجِرْنِی،
صَلَوَاتُ اللّهِ عَلَیْکَ وَعَلَی ٲَھْلِ بَیْتِکَ الطَّاھِرِینَ۔

ترجمہ:
آپ پر سلام ہو جو خدا کی زمین میں اس کی حجت ہیں، آپ پر سلام ہو جو خدا کی مخلوق میں اس کی آنکھ ہیں، آپ پر سلام ہو جو خدا کے وہ نور ہیں جس سے ہدایت چاہنے والے ہدایت پاتے ہیں اور جس سے مومنوں کو کشادگی ملتی ہے، آپ پر سلام ہو جو نیک طینت ڈرنے والے ہیں، آپ پر سلام ہو اے خیرخواہ و سرپرست، آپ پر سلام ہو اے کشتئ نجات، آپ پر سلام ہو اے چشمہ حیات،
آپ پر سلام ہو، خدا کی رحمت ہو آپؑ پر اورآپکے پاک و پاکیزہ خاندان پر، آپ پر سلام ہو خدا اس امر کے ظہور و نصرت میں جس کا وعدہ اس نے آپ سے کیا ہے، آپؑ پر سلام ہو اے میرے سردار، میں آپ کا غلام ہوں آپ کے آغاز و انجام سے واقف ہوں، میں خدا کا قرب چاہتا
ہوں، آپ کا اور آپکے خاندان کے وسیلے کا انتظا کرتا ہوں، آپکے ظہور اور آپکے ہاتھوں حق کے ظہو ر کا،
اور خدا سے سوال کرتا ہوں کہ وہ محمدؐ و آل محمدؑ پر رحمت فرمائے اور مجھے آپکے انتظار کرنے والوں اور پیروی کرنے والوں اور آپ کے دشمنوں کے مقابل آپکے مددگاروں اور آپکے سامنے شہید ہونے والے آپکے دوستوں میں سے قرار دے۔
اے میرے آقا اے صاحب زماںؑ آپ پر اور آپ کے اہل خاندان پر خدا کی رحمتیں ہوں۔ یہ جمعہ کا دن ہے جوآپ کا دن ہے جس میں آپ کے ظہور اور آپ کے ذریعے مومنوں کی آسودگی کی توقع ہے اور آپ کی تلوار سے کافروں کے قتل کی امید ہے،
اور اے میرے آقا میں آج کے دن آپ کی پناہ میں ہوں اور اے میرے آقا آپ کریم اور کریموں کی اولاد سے ہیں اور مہمان رکھنے اور پناہ دینے پر مامور ہیں بس مجھے مہمان کیجیے اور پناہ دیجئے۔
آپ پر اور آپ کے پاک و پاکیزہ اہل خاندان پر خدا تعالیٰ کی رحمتیں ہوں۔

https://t.me/islamwitheman/3282
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 ﻏَﻴﺒﺖِ ﺻُﻐﺮیٰ اور غَیبتِ کُبریٰ 🌹

ﻏَﻴﺒﺖِ ﺻُﻐﺮیٰ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ: ﺍﻣﺎﻡ ﻣﮩﺪی ﻋﻠﻴﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ کی ﻋﻤﺮ ﺍﺑﮭﯽ ﺻﺮﻑ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺧﻠﻴﻔﮧ ﻣﻌﺘﻤﺪ ﻋﺒﺎسی ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ ﻋﺴﮑﺮی ﻋﻠﻴﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺯﮨﺮ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺷﮩﻴﺪ ﮐﺮﺩﻳﺎ، ﺟﺐ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﻴﮟ ﮐﮩﺮﺍﻡ ﻣﭻ گیا- ﻓﺮﻳﺎﺩ ﻭ ﻓﻐﺎﮞ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯﻳﮟ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮﮔﺌﻴﮟ- ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻳﺎ، ﺑﻨﯽ ﮨﺎﺷﻢ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﮌ ﭘﮍﮮ۔ ﺳﺎﻣﺮﮦ ﻗﻴﺎﻣﺖ ﮐﺎ ﻣﻨﻈﺮ ﭘﻴﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ- ﺍﻣﺎﻡ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﻴﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺧﻠﻴﻔﮧ ﻣﻌﺘﻤﺪ ﻋﺒﺎسی ﮐﻮ ﺧﺒﺮ ﻣﻠﯽ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﺸﻴﻦ کی ﻭﻻﺩﺕ ﮨﻮ چکی ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻴﮟ، ﺧﻠﻴﻔﮧ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﻟﻴﮑﻦ ﺍﻣﺎﻡؑ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﭘﻮﺷﻴﺪﮦ ﮨﻮﮐﺮ ﭘﺮﺩﮦ ﻏَﻴﺒﺖ ﻣﻴﮟ ﺗﺸﺮﻳﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ-

ﻏَﻴﺒﺖِ ﺻُﻐﺮیٰ ﻣﻴﮟ ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﮯ ﻧﺎﺋﺐ:
ﻏَﻴﺒﺖِ ﺻُﻐﺮیٰ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﮩﺪﯼؑ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﺹ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﻴﻌﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻄﻮﻁ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﺍﺭﺳﺎﻝ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﺎﺋﺐِ ﺧﺎﺹ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﻋﻤﺮی ﺗﮭﮯ- ﺁﭖ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﻰ نقی ﻋﻠﻴﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ ﻋﺴﮑﺮی ﻋﻠﻴﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻣﻌﺘﻤﺪِ ﺧﺎﺹ ﺍﻭﺭ ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺧﺎﺹ ﻣﻴﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ- ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﺍﺱ ﻋﻈﻴﻢ ﻣﻨﺰﻟﺖ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮨﻮﺋﮯ- ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﮯ ﺗﻴﺴﺮﮮ ﻧﺎﺋﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻴﻦ ﺑﻦ ﺭﻭﺡ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﮐﯽ ﮐﻨﻴﺖ ﺍﺑﻮﻗﺎﺳﻢ تھی۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﺷﻌﺒﺎﻥ 326 ﮬﺠﺮی ﻣﻴﮟ ﮨﻮئی- ﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻣﺎﻡؑ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﻰ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﺴﻤﺮی ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻣﻨﺼﻮﺏ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﻗﺮﻳﺐ ﺁﻳﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻧﺎﻣﺰﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮎ ﺩﻳﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻴﺎﺑﺖ ﮐﮯ ﺧﺎﺗﻤﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﺍﻥ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﻴﮟ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ:
"ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﺍﮮ ﻋﻠﻰ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ! ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﻋﺎﻟﻢ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﻴﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺑﮭﺎﺋﻴﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺟﺮ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﮮ، ﺗﻤﮩﻴﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﻴﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﭼﮫ ﺭﻭﺯ ﻣﻴﮟ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮ- ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﺎﺕ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺎﺋﻢ ﻣﻘﺎﻡ ﺗﺠﻮﻳﺰ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ- ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻏَﻴﺒﺖِ ﮐُﺒﺮیٰ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺫﻥِ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺑﻐﻴﺮ ﻇﮩﻮﺭ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﻳﮧ ﻇﮩﻮﺭ ﺑﮩﺖ ﻃﻮﻳﻞ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻮ ﮔﺎ-"

ﻏَﻴﺒﺖِ ﮐُﺒﺮیٰ ﻣﻴﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ:
ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﮯ ﭼﻮﺗﮭﮯ ﻧﺎﺋﺐ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻏَﻴﺒﺖِ ﮐُﺒﺮیٰ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺟﻮ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ہی ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺐ ﺗﮏ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﮯ گی۔
ﻏَﻴﺒﺖِ ﮐُﺒﺮیٰ ﻣﻴﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺮﻳﻦ ﻋﻤﻞ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧؑ ﮐﮯ ﻇﮩﻮﺭ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺣﺪﻳﺚ ﻣﻴﮟ ﺁﻳﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ۔۔
"ﺍﻓﻀﻞ ﺍﻻﻋﻤﺎﻝ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺍﻟﻔﺮﺝ"
ﺑﮩﺘﺮﻳﻦ ﻋﻤﻞ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧؑ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔

✍ ﺳﻴﺪ ﺍﻇﮩﺮ ﺣﺴﻴﻦ ﺯﻳﺪی

https://t.me/islamwitheman/3292
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 انتظارِ امامؑ ایک ذمہ داری 🌹

حضرت عیسی علیہ السلام اپنی تبلیغی ذمہ داری ادا کرنے اور جناب رسول خدا (محمد مصطفٰی صلعم) کی آمد کی نوید دے کر پردہ غیبت میں چلے گئے۔....

صدیوں پہ صدیاں گزرتی رہیں.....
انسانی نسلیں, معاشرے, حکومتیں, سرحدیں, رسمیں, لوگوں کا طرزِ زندگی, کھانوں کے ذائقے, گفتگو کےلہجے الغرض سب کچھ تبدیل ہوتا رہا لیکن ایک چیز مسلَّم رہی....
اور وہ تھا آمنہ سلام اللہ علیہا کے لال کی تشریف آوری کا انتظار.....!

اس شخصیت کی آمد کی خبر ہر معاشرے اور ہر قبیلے میں کسی نہ کسی صورت موجود تھی اور انسانیت اپنے اپنے انداز میں اس رہبرِ جہاں کی منتظر تھی....

ایک عیسائی بادشاہ کا حضور صلعم کیلئے ایک بستی (یثرب) کا تعمیر کرانا, حضرت سلمانِ فارسی کا فارس سے روشنی کی تلاش میں عازمِ سفر ہونا اور اسی طرح کی کئی ایک داستانیں یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ انسانیت محوِ انتظار تھی.....

جو لوگ نبئ آخر الزمان صلعم کا انتظار کر رہے تھے اور اسی حالت میں ان کی موت واقع ہوئی وہ یقینا بارگاہ ایزدی سے اجر پائیں گے,
لیکن اس سارے عمل میں قابل فکر یہ بات ہے کہ کتنے منتظر تھے جو کہ انتظار کے دعوے دار تھے لیکن سرکار کی آمد پہ ان کے دشمنوں کی صف میں کھڑے تھے..... جن میں سے ابو عامر (ایک بڑا عیسائی عالم) ایک مثال ہے جو حضور کے عشق میں ہجرت کر کے مدینہ گیا اور منتظر رہا لیکن سرکار کی آمد پر ان کے دشمنوں کی صف میں تھا....

جس طرح عیسی علیہ السلام اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے اور سرکار دو عالم صلعم کی آمد کا اعلان کر کے پردہ نشیں ہوئے اسی طرح سرکار خمتی المرتبت صلعم بھی اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہونے کے بعد ایک عظیم انقلاب اور ایک ھادی کی آمد کی خبر دے کر عازمِ سفر ہوئے اور یوں زمانہ (غیبت کبری کے بعد) ایک دفعہ پھر حالت انتظار میں چلا گیا.....!

جس طرح دنیا کی ہر امت سے سرکارِ خمتی المرتبت صلعم کی نصرت کا وعدہ لیا تھا اسی طرح پردہء غیبت کے بعد اس دنیا کا ہر انسان حضرت مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کی تائید و نصرت کا پابند ہے اور روزِ حشر صرف اور صرف وہی نجات یافتہ ہو گا جو اپنے اس عہد کا پابند رہا. چاہے زمانہء غیبت میں ہوا یا پھر ساعتِ ظہور میں.....!

جیسے کہ نبئ محترم صلعم کی تحریک بہت سے کٹھن اور عملی مراحل سے گزر کر (جس میں زحمتیں, ہجرت, جنگیں شامل ہیں) کامیاب ہوئی.....
اسی طرح سرکارِ حجت عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کی تحریک بھی بہت سے کٹھن اور جنگی مراحل سے گزرے گی تو ہی ایک عالمی انقلاب برپا ہو گا....

لہذا منتظرین پہ یہ واجب ہے کہ تیاری کی حالت میں رہیں....، بلاشبہ اسلامی انقلاب کی سب سے پہلی شرط تزکیہء نفس ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ عملی جہاد اور جسمانی تربیت کے عمل سے گزرنا بھی اشد ضروی ہے تا کہ ہمارا شمار حقیقی ناصران میں ہو سکے.....!

جس طرح پاسداران, حرب اللہ اور دیگر ممالک کے مومنین نے اپنے آپ کو مضبوط کیا ہے تمام ملتِ تشیع کو آخر کار اس روش پہ چلنا ہو گا تو ہی سر بلند و سرخرو ہو سکیں گے وگرنہ.....!

https://t.me/islamwitheman/3293
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 امامؑ كے ظھور میں وجۂ تاخیر 🌹

امام زمانہ عج فرماتے ہیں: "ولَوْ اٴَنَّ اٴشْیٰاعَنٰا (وَ فَّقَہُمُ اللهُ لِطٰاعَتِہِ) عَلَی اجْتِمٰاعٍ مِنَ الْقُلُوبِ فِي الْوَفٰاءِ بِالْعَہْدِ عَلَیْہِمْ لَمٰا تَاٴَخَّرَ عَنْہُمُ الْیُمْنَ بِلِقٰائِنٰا، وَ لَتَعَجَّلَتْ لَہُمُ السَّعٰادَةُ بِمُشٰاہَدَتِنٰا عَلیٰ حَقِّ الْمَعْرِفَةِ وَ صِدْقِہٰا مِنْہُمْ بِنٰا، فَمٰا یَحْبِسُنٰا عَنْہُمْ إِلاّٰ مٰا یَتَّصِلُ بِنٰا مِمّٰا نَكْرَہُہُ وَلاٰ نُوٴْثِرُہُ مِنْہُمْ"۔

✍️ ”اگر ھمارے شیعہ (خدا ان كو اطاعت كی توفیق دے) اپنے عھد و پیمان كو پورا كرنے كی كوشش میں ھمدل ھوں تو پھر ھماری ملاقات كی بركت میں تاخیر نھیں ھوتی، اور ھمارے دیدار كی سعادت جلد ھی نصیب ھوجاتی، ایسا دیدار جو حقیقی معرفت اور ھماری نسبت صداقت پر مبنی ھو، ھمارے مخفی رھنے كی وجہ ھم تك پھنچنے والے اعمال كے علاوہ كوئی اور چیز نھیں ھے جبكہ ھمیں ان سے ایسے اعمال كی امید نھیں ھے“۔

📚احتجاج، ج2، ص315، بحار الانوار، ج53، ص177، ح8۔
۔.....................................

🌴 شرح
🍃 یہ اس خط كے جملے ھیں جس كو امام زمانہ علیہ السلام نے شیخ مفید علیہ الرحمہ كے لئے بھیجا تھا۔ امام علیہ السلام نے اس خط میں شیخ مفید علیہ الرحمہ كو چند سفارشیں كرنے اور اپنے شیعوں كے لئے كچھ احكام بیان كرنے كے بعد اس اھم چیز كی طرف اشارہ كیا جو غیبت كا سبب ھوئی ھے۔ امام علیہ السلام شیعوں كے درمیان خلوص اور ھمدلی نہ ھونے كو اپنی غیبت كا سبب شمار كرتے ھیں۔

🍃 تاریخ كے پیش نظر یہ بات واضح ھے كہ جب تك لوگ نہ چاھیں اور سعی و كوشش نہ كریں تو حق اپنی جگہ قائم نھیں ھوپاتا، اور حكومت اس كے اھل كے ھاتھوں میں نھیں آتی۔ حضرت علی ، امام حسن اور امام حسین علیھم السلام كی تاریخ اس بات پر بہترین دلیل ھے۔ اگر لوگ حضرت علی علیہ السلام كی خلافت پر اصرار كرتے تو پھر آج تاریخ كا ایك دوسرا رخ ھوتا، لیكن اس وقت كے لوگوں میں دنیا طلبی اور خوف و وحشت وغیرہ اس بات كا سبب بنی كہ ھمیشہ تك دنیا والوں مخصوصاً شیعوں كو ظلم و ستم كے علاوہ كچھ دیكھنے كو نہ ملا۔ افسوس كہ ھماری كوتاھی اور ھمارے بُرے كام اس بات كا سبب ھوئے كہ وہ محرومیت اب تك چلی آرھی ھے۔
اس حدیث كے مطابق امام زمانہ علیہ السلام كے ظھور كی تعجیل كے سلسلہ میں ھماری ذمہ داری ھے كہ ھم اپنے اور اپنے رشتہ داروں پر امام علیہ السلام كو مقدم كریں، اور اسلامی احكام كو جاری كریں اور اسلام كی تبلیغ كے ذریعہ دنیا والوں كے سامنے امام زمانہ علیہ السلام كا تعارف كرائیں، اور دلوں كو امام كی طرف متوجہ كریں، تاكہ خدا كی مشیت سے بہت جلد ھی لوگوں میں امام زمانہ علیہ السلام كو قبول كرنے كا زمینہ ھموار ھوجائے۔

🍃 اس حدیث مبارك سے چند چیزیں معلوم ھوتی ھیں:

➊۔ خداوندعالم نے شیعوں سے عھد و پیمان لیا ھے كہ ائمہ معصومین علیھم السلام كی پیروی كریں اور یھی پیروی امام زمانہ علیہ السلام كی ملاقات كے شرف كا سبب ھے۔

➋۔ شیعوں كے بُرے اعمال اپنے امام سے دوری كا سبب بنے ھیں؛ لہٰذا ھمارے نیك اعمال امام زمانہ علیہ السلام سے رابطہ میں موٴثر واقع ھوسكتے ھیں۔

https://t.me/islamwitheman/3294
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 امام مہدیؑ کے لشکر کی تفصیلات 🌹

🔹 سربراۂِ لشکر: لشکرِ مولا امام مہدی عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کے سربراہ اور نظامِ انتقام کے کلی مالک و مختار مولا ابوالفضل العباسؑ ہیں.

🔹 لشکر کا نعرہ:
مولا امام مہدی عج کے ظہور کے بعد آپ ایک نعرہ ارشاد فرمائیں گے "یا لثارت الحسینؑ"
اور پھر یہی نعرہ لشکر کا ہو گا.

🔹 پرچم:
ایک سرخ رنگ کے پرچم سے خروج شروع ہو گا جس پر "یا لثارۃ الحسینؑ" لکھا ہو گا.
ایک جس پر العزتُ لله لکھا ہو گا.
ایک پرچم پر العظمتُ لله لکھا ہو گا.
ایک پرچم پر البیعة لله (اس پرچم کی دہشت ایک ماہ کے فاصلے سے ظاہر ہو گی) لکھا ہو گا.
اور ایک پرچم پر الرفعة لله لکھا ہو گا.

🔹 جیش الامام المہدی عج:
تین سو تیرہ (313) مرد جرنیل۔
پچاس (50) خواتین جرنیل۔

دس ہزار (10,000) مرد سپاہ سالار۔
اور پندرہ سو ستانوے (1597) خواتین سپاہ سالار۔

تقریباً ایک لاکھ (100,000) مرد ناصرین۔
اور تقریباً سولہ ہزار (16,000) خواتین ناصرہ ہوں گی.

یہ سب کائنات کے سب سے بڑے خوش نصیب ہیں
کیونکہ اولین و آخرین یعنی اسی ہزار آدم کی امتوں میں سے کل یہی منتخب لوگ ہوں گے.

🔹 تین سو تیرہ:
تین سو تیرہ جرنیلوں میں سے عیسٰیؑ خضرؑ، الیاسؑ، اور اویسؑ بھی ہیں.
ایک فرد آلِ فرعون میں سے ہے (مومنِ آل فرعون ع)،
اصحاب کہف،
یوشع بن نون وصی موسٰیؑ
اور اصحابِ علی علیہ السلام و رسول صلعم میں سے چار
سلمان، مقداد، مالکِ اشتر، ابو دجانہ انصاری علیھم السلام.

🔹 تین سو تیرہ جرنیلوں میں سے سب سے زیادہ جرنیل جس ملک کے ہیں وہ سوویت یونین (پرانا روس یعنی بشمول آزاد ہونے والی ریاستوں کے) ہے وہاں سے بتیس (32) جرنیل ہوں گے.
اس کے علاوہ
چار (4) افراد ساداتِ حسني،
بارہ (12) افراد ساداتِ حسيني،
چار (4) افراد اولاد عقیلؑ،
چار (4) افراد حجازِ مکہ سے،
چار (4) افراد بیت المقدس (فلسطین/اسرائیل) سے،
بارہ (12) افراد شام سے،
بارہ (12) افراد یمن سے،
تین (3) افراد آذربائیجان سے،
سات (7) افراد مصر سے،
پانچ (5) افراد ہندوستان (پرانا مہا بھارت) سے،
پانچ (5) افراد ہمدان (کوہ) ایران سے،
سات (7) افراد شیراز، ایران سے،
بارہ (12) افراد کوفہ سے،
سات (7) افراد بصرہ سے،
سات (7) افراد کوہستان سے.

ماخذ:
اثبات الھداۃ ج٣، الملاحم/سید علی بن طاؤس، روضة الواعظین، الغيبه/شيخ طوسي، حدیقةُ الشيعه، غیبتِ نعماني، بحار الأنوار و دیگر کتب.

↩ نوٹ: یہ تمام تعداد غیر حتمی ہے اور وقت پر تبدیل اسی طرح کی جا سکتی ہے، جس طرح کربلا میں غیرِ بنی ہاشم انصار کی جو لسٹ بیتِ ازل میں مرتب ہوئی تھی تو اکہتر (71) کی تھی جس میں یومِ عاشورہ کو ایک فرد (جناب جون علیہ السلام) کا اضافہ کر دیا گیا تھا.

اپنے اپنے مقدر اور عشق کی بات ہے.
آرزوئے ناصرانِ کبریا ہے انتقام
ہر سپاہی ہے جلالِ کبریا کا معجزہ

https://t.me/islamwitheman/3295
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 الله کی رضا اور امامؑ کی رضا 🌹

شیعہ کتب میں روایات میں نقل ہوا ہے کہ امام کی نشانیوں میں ایک یہ ہے کہ اس کی دعا مستجاب ہوتی ہے.
حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
"امام کی دس نشانیاں ہیں اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی دعائیں مستجاب ہوتی ہیں اگر امام دعا کرے تو پہاڑ دو حصوں میں تقسیم ہو جائے."

📚 معانی الاخبار ص35۔
📚 الخصال ج2 ص105۔
📚 عیون الاخبار ص118۔

کیوں امام زمان (عج) اپنے ظھور کی دعا نہیں کرتے تاکہ ان کی دعا مستجاب ہو جائے؟

آئمہ معصومین علیھم السلام فقط اللہ تعالٰی کی ذات کے مطیع اور تابع ہیں، جو اللہ تعالٰی نہیں چاہتا، آئمہ معصومینؑ بھی نہیں چاہتے، اسی وجہ اگر اللہ تعالٰی کا ارادہ ایک خاص زمانہ کے لئے معین ہے تاکہ لوگوں کی آمادگی معلوم ہو جائے، امام علیہ السلام بھی پرردگار کی رضا میں تسلیم ہوں گے اور امام کوئی بھی درخواست اللہ تعالٰی کی مرضی کے خلاف انجام نہیں دیتا.

جیسا کہ حضرت موسٰی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:
"اللہ تعالٰی نے آئمہ معصومینؑ کے ارادوں کو اپنا ارادہ قرار دیا ہے اگر اللہ تعالٰی کی ذات کسی ایک چیز کا ارادہ کرتی ہے تو آئمہ علیھم السلام بھی اسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں. اور آئمہ معصومین علیھم السلام اللہ تعالٰی کے اذن اور رضا کے علاوہ کوئی کام انجام نہیں دیتے۔"

📚 بحار الانوار ج5 ص114.
📚 بصائر الدرجات ج1 ص517.

https://t.me/islamwitheman/3296
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 دورانِ غَیبتِ امامؑ ہماری ذمہ داری 🔷

دورانِ غَیبت میں مؤمنین کی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ اپنے نفس کی اصلاح کے ساتھ ساتھ سماج اور معاشرے کی اصلاح بھی کریں۔ اگر ہر انسان اس ذمہ داری کو سمجھ کر اپنے گھر سے شروع کرے تو یقینا سماج خود بخود سدھر جائے گا، معاشرے سے برائیاں ختم ہو جائیں گی اور نتیجۃ پورا معاشرہ امام زمانہؑ کی حکومت کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو جائے گا۔


✍️ امام باقر علیہ السلام نے دورانِ غَیبت شیعوں کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
"ليعن قويكم ضعيفكم و ليعطف غنيكم على فقيركم ولينصح الرجل اخاه النصيحة لنفسه"(1)
🌿 تم میں سے صاحبان قدرت ضعیفوں کی مدد کریں، غنی اور مالدار فقیروں کی دستگیری کریں اور ہر انسان اپنے بھائی کو مفید نصیحت کرے۔


✍️ خداوند عالم کا اشاد ہے:
«كنتم خير امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنهون عن المنكر...(2)
🌿 تم بہترین امت ہو جسے انسانوں کے لیے خلق کیا گیا ہے (چونکہ) تم نیکی کی ہدایت کرتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو۔۔۔


✍️ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
"ان الامر بالمعروف و النهى عن المنكر سبيل الانبياء و منهاج الصلحاء، فريضة عظيمة بها تقام الفرائض و تامن المذاهب و تحل المكاسب و ترد المظالم و تعمر الارض و ينتصف من الاعداء و يستقيم الامر"(3)
🌿 امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انبیاء کا راستہ اور صلحا کا طریقہ ہے۔ یہ ایک ایسا عظیم فریضہ ہے جس سے فرائض اور واجبات قائم رہتے ہیں، راستے پر امن رہتے ہیں، معیشت حلال ہوتی ہے، مظالم اور فساد کم ہو جاتے ہیں، زمین آباد ہوتی ہے دشمنوں سے انتقام لیا جاتا ہے اور دیگر امور آسانی سے انجام پاتے ہیں۔

یقینا اگر تمام مسلمان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کو فریضہ سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوں تو معاشرہ ہدایت کے راستوں پر گامزن ہو جائے اور حکومت قائم آل محمد (ص) کے لیے زمینہ فراہم ہو جائے گا۔

📚 حوالہ جات
1) بشارة المصطفى لشيعة المرتضى، عماد الدين طبرى الآملى الكنجى، چاپ نجف اشرف، ص 113.
2) آل عمران/110.
3) الكافى، ج 5، ص 56؛ التهذيب طوسى، ج 6، ص 180 و تحف العقول، ص 227.

https://t.me/islamwitheman/3297
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 اطاعتِ امامؑ 🌹

امامؑ کی معرفت، محبت، عہد اور اطاعت، امام کے ساتھ عشق و محبت کی جیتی جاگتی تصویر ہوتی ہے، جوامامؑ کا جتنا زیادہ عاشق اور محب ہوگا وہ ان کا اتنا ہی زیادہ مطیع اور فرمانبردار ہوگا۔

سورہ آلِ عمران آیت۳۱ میں ہے کہ۔۔
’’قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ ‘‘
اے رسولؐ! آپ کہہ دیں کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو…

یعنی محبت، اطاعت کا تقاضا کرتی ہے، جیسا کہ امالی شیخ طوسیؒ صفحہ۹۷ میں ہے کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں؛
’’وَاللّٰہِ لَاتَنَالُ وِلَایَتَنَا اِلَّابِالْعَمَلِ‘‘
خدا کی قسم صرف عمل ہی کے ساتھ ہماری ولایت حاصل ہوتی ہے۔

اسی طرح کافی جلد اول ص۴۰۵ میں آپؑ ہی سے سوال کیا گیا کہ:
’’مَا حَقُّ الْاِمَامِ عَلیَ النَّاسِ؟‘‘
امامؑ کا لوگوں پر کیا حق بنتا ہے؟
تو فرمایا:
’’حَقُّہٗ عَلَیْہِمْ اَنِ اسْمَعُوا لَہُ وَاَطِیْعُوہ‘‘
امام کا حق لوگوں پر یہ ہے کہ وہ امام کی باتوں کو سنیں اور اُن پر عمل کریں۔

بحار جلد۲ ص۸۰ میں ہے کہ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
’’قَوْمٌ یَزْعَمُونَ اَنِّیْ اِمَامُہُمْ وَاللّٰہِ مَااَنَا لَہُمْ بِاِمَامِہِمْ لَعْنَھُمُ اللّٰہُ کُلَّمَا سَتَرْتُ سِتْرا ھَتَکُوہُ اَقُوْلُ کَذَاوَکَذَا، فَیَقُوْلُوْنَ ’’ یَعْنِی کَذَا وَکَذَا‘‘ اِنَّمَا اَنَا اِمَامُ مَنْ اَطَاعَنِی‘‘
کچھ لوگ گمان کرتے ہیں کہ میں ان کا امام ہوں حالانکہ میں خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں میں ہر گز ان کا امام نہیں ہوں۔ خدا ان پر لعنت کرے میں نے جس بات کو خفیہ رکھنا چاہا انہوں نے فاش کردیا___میرے اعمال کے برعکس عمل انجام دیتے ہیں _میں کچھ اور بات کہتا ہوں اور وہ کہتے ہیں امامؑ نے اس طرح کہا ہے_میری باتوں کی اپنی خواہشات کے مطابق تفسیر کرتے ہیں ___میں تو صرف ان لوگوں کا امام اور پیشوا ہوں جو میرے تابع فرمان اور اطاعت گزار ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ روایات میں ’’حَیَّ عَلٰی خَیْرِ الْعَمَل‘‘ میں ’’خَیْرالْعَمَل‘‘ سے مراد اہلِبیتؑ کی ولایت ہے اور بحارالأنوار جلد۴۳ ص۴۴ میں اسکی اسی طرح تفسیر کی گئی ہے، کیونکہ ایسی ولایت ہی موجب قبول عمل ہوتی ہے اور وہ بھی عام عمل نہیں بلکہ خیرالعمل ہوتا ہے اور اسی اطاعت اور خیرالعمل کے زیرِسایہ ظہور کی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں، ہرقسم کے حسن اور زیبائی کا ظہور، نصرت الٰہی اور الطاف وعنایاتِ پروردِگار سے بہرہ مندی کا موجب ظہور۔

خداوندِعالم کے نزدیک اسکی محبوبیت کا ظہور، غیبی امدادوں کے حصول کا ظہور، بہشت تک رسائی کا موجب ظہور، غرض خداوندِعالم کی بارگاہ سرخرو اور سرفراز ہوکر پہنچنے کا ذریعہ ظہور۔

اطاعتِ امامؑ یعنی امام سے کئے ہوئے عہدو پیمان پر عمل کرنے کا مکمل عزم۔ اور اپنے عہدوپیمان کئے جانے والے اعمال کی مکمل اوردائمی نگرانی۔

اطاعتِ امامؑ یعنی خود کو امامؑ اور اس کی خواہشات کے مطابق عمل کرنے کیلئے وقف کردینا، بقول حضرت امام جعفر صادقؑ؛
’’رَحِمَ اللّٰہُ عَبْداً حَبَسَ نَفْسَہٗ عَلَیْنَا‘‘
خدا اس بندے پر رحم کرے جو خود کو ہمارے لئے وقف کردیتا ہے اور ہرمرحلہ پر اپنے امامؑ کی رضا اور خوشنودی کو پیشِ نظر رکھکر قدم اٹھاتا ہے جو درحقیقت خداوندِعالم کی رضا اور خوشنودی ہوتی ہے۔

اطاعتِ امامؑ یعنی معاشرے میں عدل وانصاف کا اجراء اور لوگوں میں اسے قبول کرنیکا شعور اجاگرکرنا۔

اطاعتِ امامؑ یعنی معاشرے کی اصلاح کیلئے تگ و دو کرنا۔ اور امامؑ کی رضا اور خواہشات کو زندگی کے ہر شعبے میں جلوہ گر کرنا خواہ گھر ہو یا تعلیمی ادارہ کوچہ وبازار ہو یاعوامی ماحول!

اطاعتِ امامؑ یعنی معصومؑ کی حکومت و ولایت کو فکر واحساس اور اقدام وعمل میں عملی طور پر نافذ کرنا۔

اطاعتِ امامؑ یعنی ایک ایسے عادلانہ اورمنصفانہ نظامِ حکومت کیلئے ایک معصوم امامؑ کے زیرِسایہ قیام کیلئے سعی وکوشش کہ جس کی رہنمائی امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف نے کی ہے اور ہم ماہِ رمضان مبارک کی ہرشب دعائے افتتاح کے نام سے جس کی تلاوت کرتے ہیں اورمصباح المؤمنین اورمفاتیح الجنان میں بھی درجہے:
اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَرْغَبُ۔۔۔الخ
ترجمہ:
باارِالٰہا! ہم تجھ سے ایسی کرم پرور اور پر برکت حکومت کی رغبت رکھتے ہیں جسکے ذریعہ تو اسلام اور اہلِ اسلام کو عزت عطا فرمائے اور نفاق اور منافقین کو ذلیل ورسوا کرے اور اس حکومت میں تو ہمیں اپنی اطاعت کیلئے دعوت دینے والا اور اپنے راستے کی طرف ہدایت کیلئے قائد اور رہنما قرار دے اور اسکے ذریعہ ہمیں دنیا اور آخرت کی عزت اور کرامت عطافرما۔
اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے نبیؐ کی عدم موجودگی کی اپنے ولی کے غائب ہونے کی، اپنے دشمنوں کی کثرت کی، اپنی تعداد کی قلت کی، فتنوں کی سختی کی اور اپنے اوپر حوادثاتِ زمانہ کی یلغار کی شکایت کرتے ہیں۔

📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف محمد علی فاضل.

https://t.me/islamwitheman/3298
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 قرآن اور حضرت امام مہدیؑ 🌹

حضرت مہدی علیہ السلام، آخری زمانہ میں منجی عالم کے ظہور، صالحین کی حکومت اور ان پر کامیابی و کامرانی کے سلسلہ میں قرآن مجید میں بہت سی آیات کا تذکرہ ہوا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ھے:
”ہم نے توریت کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب زبور میں لکھا ہے کہ آخرکار صالح افراد اس زمین کے مالک ہوں گے۔“
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ”شائستہ افراد“ کے سلسلہ میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد آخری زمانے میں حضرت مہدی علیہ السلام کے اصحاب ہیں۔“
ہم قر آن میں یہ بھی پڑھتے ہیں:
ہم چاہتے ہیں کہ مستضعفین کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں، یعنی ان کو لوگوں کا پیشوا اور اس زمین کا مالک بنا دیں۔“

بسم الله الرحمٰن الرحیم انا انزلناہ فی لیلة القدر
ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا، اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس رات فرشتے اور روح القدس (جبرائیل) خدا کی اجازت سے تمام احکام اور تقدیروں کو لے کر نازل ہوتے ہیں یہاں تک سفیدی سحر نمودار ہو جائے۔
چنانچہ سورۂ قدر کی آیات سے واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ ہر سال ایک شب ایسی آتی ہے کہ جو ہزار مہینوں سے افضل اور بہتر ہوتی ہے۔

وہ احادیث جو اس سورہ اور سورۂ دخان کی ابتدائی آیات کی تفسیر کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں، سے یہی سمجھ آتا ہے کہ شب قدر میں فرشتے پورے ایک سال کے مقدرات کو ”زمانہ کے ولی مطلق“ کی خدمت میں لے کر آتے اور ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ پیغمبر اسلامؐ کے زمانہ میں فرشتوں کے نازل ہونے کی جگہ آپؐ کا گھر تھا۔ جب ہم معرفت قرآن کے سلسلہ میں اس نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ ”شب قدر“ ہر سال آتی ہے تو ہمیں اس بات کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ ”صاحب شب قدر“ کو بھی ہمیشہ موجود ہونا چاہئے ورنہ پھر فرشتے کس پر نازل ہوتے ہیں؟ چونکہ ”قرآن کریم“ قیامت تک ہے اور ”حجت“ ہے اسی طرح صاحب شب قدر کا وجود بھی حتمی ہے اور وہ بھی”حجت“ ہے۔ اس زمانہ میں حجت خدا، حضرت ولی عصر علیہ السلام کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔
چنانچہ حضرت امام رضاؑ فرماتے ہیں: ”امام زمین پر خدا کا امین ہوتا ہے اور لوگوں کے درمیان حجت خدا ہوتا ہے، آبادیوں اور زمینوں پر خدا کا خلیفہ ہوتا ہے۔“

مشہور اسلامی ریاضی دان اور معروف فلسفی و متکلم خواجہ نصیر الدین طوسی فرماتے ہیں:
”خردمند افراد کے لئے یہ بات واضح ہے کہ لطفِ الٰہی کا انحصار امامؑ کی تعیین میں ہے۔ امام کا وجود بجائے خود ایک لطفِ الٰہی ہے، امور کی انجام دہی اس کا دوسرا لطف ہے اور اس کی غَیبت خود ہم سے مربوط ہے۔“

https://t.me/islamwitheman/3299
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 امام مهدیؑ اور دیگر ادیان 🌹

آسمانی کتابوں کی تحقیق کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ دنیا کے اچھے مستقبل اور باطل پر حق کی فتح کا عقیدہ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں پایا جاتا، بلکہ دنیا کے دوسرے ادیان بھی اس عقیدے میں مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔

۱۔ زرتشت:
زرتشتیوں کی مذہبی کتاب زند میں فسادات کے اختتام اور نیک لوگوں کی حکومت کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ اہریمنان کا لشکر ایزدان کے لشکر سے ہمیشہ جنگ کرتا رہتا ہے اور اکثر اہرمنوں کی جیت ہوتی ہے لیکن اس طرح نہیں کہ وہ ایزدان کا بالکل صفایا ہی کردیں کچھ دنوں کے بعد آسمان کے خدا اور مزد کی طرف سے اس کے بیٹے ایزدان کے پاس مدد آئے گی اور ان کی جنگ نو ہزار سال تک چلتی رہے گی اس کے بعد ایزدان کی جیت ہوگی اور اہریمن کا صفایا ہو جائے گا اہریمن کا اقتدار تو صرف زمین پر ہی ہے آسمان پر ان کا وجود نہیں ہے۔

جاماسپ نامہ میں لکھا گیا ہے کہ ہاشم کی اولاد سے ایک انسان زمین سے باہر نکلے گا جس کا سر پنڈلیاں اور جسم بڑا ہوگا اور وہ اپنے جد کے دین پر ہوگا…۔
اسی کتاب میں ایک دوسری جگہ پر لکھا ہوا ہے کہ سب سے بڑا نجات دینے والا دین کو دنیا میں پھیلائے گا، بھوک مری کو ختم کرے گا ایزدان کو اہریمن کے ہاتھ سے بچائے گا اور دنیا کے تمام لوگوں کی تہذیب، فکر اور کردار کو ایک بنا دے گا۔

۲۔ ہندو:
شاک منی جو کہ ہندوؤں کا سردار ہے اور اس کے ماننے والے اس کو آسمانی کتاب کے ساتھ پیغمبر مانتے ہیں، اس نے اپنی کتاب میں آخری زمانے میں ایک روحانی کے جھنڈے کے نیچے سبھی مذہبوں کے ایک ہو جانے کے بارے میں اشارہ کیا ہے۔
اس نے لکھا ہے کہ دنیا کے خراب ہو جانے کے بعد آخری زمانے میں ایک بادشاہ پیدا ہوگا جو پوری دنیا کے لوگوں کا رہبر ہوگا، اس کا نام منصور ہوگا، وہ پوری دنیا پر حکومت کرے گا اور سب کو اپنے دین میں شامل کرلے گا۔

۳۔ زبور:
تمام اجسام کا خاتمہ ہو جائے گا اور اللہ کا انتظار کرنے والے زمین کے وارث بنیں گے ہاں کچھ وقت کے بعد کوئی جسم باقی نہیں رہے گا۔
اس کی جگہ کے بارے میں تم تامل کرو گے اور نہیں کر پاؤ گے۔ لیکن حلیم لوگ زمین کے وارث بنیں گے ……اور زمین پر ان کی وراثت ہمیشہ رہے گی۔

۴۔ توریت:
باغ میں ایک نیا درخت اگا ہے اس کی شاخیں اس کی جڑ سے پہلے پھولیں گی اور اللہ کی روح اس پر ٹھہرے گی وہ مسکینوں کے لیے عدالت کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور مظلوموں کے لئے زمین پر سچی حکومت کرے گا۔

۵۔ انجیل:
اپنی کمر کو باندھ لو اور اپنے چراغوں کو روشن رکھو اور رات میں اس طرح رہو جیسے کوئی اپنے مالک کا انتظار کرتا ہے……… کتنے خوش نصیب ہیں وہ غلام، جن کا مالک آنے کے بعد ان کو جاگتا ہوا پائے،…… پس تم بھی تیار رہو، کیونکہ انسان کا بیٹا اس وقت آئے گا جس کے بارے میں تمہیں گمان بھی نہ ہوگا۔

● امام مہدیؑ کا ذکر کتب آسمانی میں:
حضرت داؤد کی زبور کی آیت ۴# مرموز ۹۷ میں ہے کہ آخری زمانہ میں جو انصاف کا مجسمہ انسان آئے گا، اس کے سر پر ابر سایہ فگن ہوگا۔ کتاب صفیائے پیغمبر کے فصل ۳ آیت ۹ میں ہے آخری زمانے میں تمام دنیا موحد ہو جائے گی۔ کتاب زبور مرموز۱۲۰ میں ہے جو آخرالزماں آئے گا، اس پر آفتاب اثرانداز نہ ہو گا۔ صحیفہ شعیب پیغمبر کے فصل ۱۱ میں ہے کہ جب نور خدا ظہور کرے گا تو عدل و انصاف کا ڈنکا بجے گا۔ شیر اور بکری ایک جگہ رہیں گے چیتا اور بزغالہ ایک ساتھ چریں گے شیر اور گوسالہ ایک ساتھ رہیں گے، گوسالہ اور مرغ ایک ساتھ ہوں گے شیر اور گائے میں دوستی ہوگی۔ طفل شیرخوار سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالے گا اور وہ کاٹے گا نہیں پھر اسی صفحہ کے فصل ۲۷ میں ہے کہ یہ نور خدا جب ظاہر ہوگا، تو تلوارکے ذریعہ سے تمام دشمنوں سے بدلہ لے گا صحیفہ تنجاس حرف الف میں ہے کہ ظہور کے بعد ساری دنیا کے بت مٹا دیے جائیں گے، ظالم اور منافق ختم کردیے جائیں گے یہ ظہور کرنے والا کنیز خدا (نرجس) کا بیٹا ہو گا۔ توریت کے سفر انبیاٴ میں ہے کہ مہدی ظہور کریں گے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے، دجال کو قتل کریں گے انجیل میں ہے کہ مہدی اور عیسیٰ دجال اور شیطان کو قتل کریں گے۔ اسی طرح مکمل واقعہ جس میں شہادت امام حسین اور ظہور مہدی علیہ السلام کا اشارہ ہے۔ انجیل کتاب دانیال باب ۱۲ فصل ۹ آیت ۲۴ رویائے ۲#میں موجود ہے (کتاب الوسائل س۱۲۹ طبع بمبئی ۱۳۳۹ہجری)۔

● دیگر مذاہب عالم اور وجود امام مہدیؑ:
مختلف کتابوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ تقریبا دنیا کے جملہ مذاہب اور عقلاء اس بات پر متفق ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک ایسی ہستی آئے گی جو دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کرکے عدل و انصاف سے اس کرۂ ارض کے بگڑے ہوئے معاشرے اور اخلاق کو درست کرے گی البتہ ایسی ہستی کا نام ہر مذہب و ملت نے الگ الگ بتایا ہے.

https://t.me/islamwitheman/3300
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 شرفِ زیارت امام مھدیؑ 🌹

کتاب "کیمیائے سعادت" ص41 منقول از کتاب "سرمایہ سخن" جلد1 ص611 میں یہ سچی داستان نقل ہوئی ہے۔۔

ایک نہایت زیرک عابد وزاہد انسان کے دل میں امام زمانہ عج کی زیارت کی خواہش پیدا ہوئی، جتنے جتن کئے سب ناکام، ریاضت کی، چلے کاٹے مگر بے سود جیسا کہ مشہورہے کہ بدھ کی راتوں کو کوفہ کی "مسجدِ سہلہ" میں امام زمانہؑ کی زیارت کا شرف حاصل ہوتاہے، وہاں جاتارہا، عبادت کرتارہا، پھربھی اسے شرفِ دیدار حاصل نہ ہوسکا۔
مدتوں اسیطرح سرگردان رہا سرتوڑ کوششیں کیں مگر بےسود، آخر علومِ غریبہ واسرارخفیہ نیز حروف واعداد کے گورکھ دھندوں میں الجھا، ہزاروں جتن کئے مگر سب ناکام، البتہ مسلسل شب بیداریوں اور سحرگاہی مناجاتوں کی وجہ سے اسکے دل میں صفائے باطن پیدا ہوچکی تھی، بعض اوقات اسکے دل میں نورانی چمک پیدا ہوجاتی تھی جس پر وہ حقائق کا ادراک اور دقائق کا انکشاف کرلیا کرتاتھا۔
ایک دن اسے اسی معنوی حالت وروحانی کیفیت میں بتایاگیا کہ "امام زمانہؑ کی زیارت تمہارے لئے ناممکن ہے ہاں اگر تم فلاں شہر چلے جاؤ تو ممکن ہے شرفِ زیارت حاصل ہوجائے‘‘
اس نے وہاں کیلئے رختِ سفرباندھا اور روانہ ہوگیا، چند روز بعد اس شہر میں پہنچ گیا، وہاں پر بھی وہ ریاضتوں اور چِلوں میں مصروف ہوگیا۔ ۲۸ یا ۲۹ دنوں کیبعد اسے کسی نے بتایا کہ ’’حضرت بقیۃ اللہ الاعظم اسوقت لوہاروں کے بازار میں فلاں بوڑھے لوہار کی دوکان پر تشریف فرما ہیں، ابھی جاؤ اور امامؑ کی خدمت میں پہنچنے کا شرف حاصل کرو‘‘
یہ سنتے ہی وہ بڑے شوق سے اٹھا اور سیدھا بوڑھے قفل ساز کی دوکان پر پہنچا، دیکھا تو امام عالی مقامؑ بوڑھے لوہار کیساتھ بڑی دلچسپی کیساتھ محبت بھری باتیں کررہے ہیں، اس نے جاتے ہی سلام کیا، امامؑ نے جواب دیا اور اشارے سے چپ چاپ بیٹھنے کاکہا۔
اتنے میں اس نے دیکھا کہ ایک نہایت ہی کمزور وناتواں بڑھیا کمرخمیدہ عصابدست نے کانپتے ہاتھوں کیساتھ ایک تالا دکھایا اور کہا:
’’اگر ممکن ہوتو برائے مہربانی مجھ سے یہ تالا مبلغ تین روپے میں خریدلو، کیونکہ مجھے اسی رقم کی سخت ضرورت ہے۔"
بوڑھے قفل ساز نے وہ تالا اس بڑھیا سے لےلیا اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھا کہ تالا تو بالکل ٹھیک ہے، صرف اس کیلئے چابی کی ضرورت ہوگی جو بیس پیسے کی مل سکتی ہے، اس نے بڑھیا سے کہا:
"بہن! تالے کی قیمت آٹھ روپے ہے کیونکہ تالا بالکل ٹھیک ہے، البتہ صرف بیس پیسے کی چابی خریدلو، کیوں خوامخواہ آٹھ روپے کی چیز تین آنے میں بیچتی ہو"
بڑھیا نے کہا:
"نہ! مجھے اسکی ضرورت نہیں مجھے صرف تین روپے چاہئیں، خدا کیلئے اسے لےلو اور مجھے تین روپے دیدو، تمہیں دعائیں دونگی"
بوڑھے قفلساز نے نہایت سادگی سےکہا:
"میری بہن تم بھی مسلمان ہو اور میں بھی مسلمان ہوں تو میں کیوں کسی مسلمان کی چیز سستی خریدکر اسکا حق ضائع کروں۔ چونکہ اسکی قیمت آٹھ روپے ہے، اگر میں اس سے منافع بھی کماؤں تو صرف ایک روپے بنتا ہے، اور ساڑھے سات روپے میں خرید لوں، کیونکہ آٹھ روپے میں صرف پچاس پیسے ہی میرے لئے صحیح منافع بنتاہے اس سے زیادہ لینا بے انصافی ہوگی، اگر تالا بیچنا چاہتی ہوتو ساڑھے سات روپے میں خرید لونگا، ایک بار پھر بتادوں کہ اس کی صحیح قیمت آٹھ روپے ہے چونکہ میں بھی ایک مزدور آدمی ہوں، پچاس پیسے میرا بھی حق بنتاہے لہٰذا ساڑھے سات روپے دینے کیلئے تیار ہوں"
بڑھیا کو شاید قفل ساز کی باتوں کا یقین نہیں آرہا تھا، پریشان سی ہوگئی اس نے خود سے کہنا شروع کردیا:
"جب میں خود کہہ رہی ہوں کہ کوئی شخص اسے تین روپے میں خریدنے پر تیار نہیں اور یہ مجھ سے ساڑھے سات روپے میں خریدرہا ہے، تعجب ہے"
بوڑھے لوہار نے اسے ساڑھے سات روپے دئیے اور وہ چلی گئی۔

جب وہ چلی گئی تو حضرت ولی عصرؑ نے اس شخص سے فرمایا:
"عزیزِ من! تم نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کیا؟ تم لوگ بھی اسیطرح بنو تاکہ میں خود تمہارے ساتھ ملاقات کیلئے آؤں۔ چلے کاٹنے اور ریاضتیں کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، تمہارا ہرکام صحیح سمت میں اور اسلامی اصولوں کیمطابق ہوکہ اسطرح سے میں تمہارے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہوں، ذرا دیکھو! اس پورے شہر سے میں نے صرف اسی بوڑھے کا انتخاب کیاہے، کیونکہ یہی شخص ہی دیندار اور خدا ترس ہے اور خدا کی معرفت رکھتاہے، یہ شخص آزمائش شدہ ہے، یہ بڑھیا جب لوہاروں کے بازار میں داخل ہوئی بازار کے اس سرے سے اس نے یہ تالا بیچنا شروع کیا، مگر
کسی نے اس سے صرف تین روپے میں نہ خریدا، حالانکہ وہ پریشان حال اور ضرورتمند تھی، اسکی اسی مجبوری کو دیکھکر سب نے سستے داموں خریدنا چاہا اور تین روپے میں خریدنے پر تیار نہیں ہوئے اور اس بوڑھے نے ساڑ ھے سات روپے میں خریدلیا، اسکی اسی ادا کیوجہ سے ہم ہفتے میں ایک مرتبہ اسے ملنے کیلئے اس کی دلجوئی اورحال احوال دریافت کرنے آجاتے ہیں۔"

📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل۔

https://t.me/islamwitheman/3301
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 انتظار امام عصر عج کا ثواب 🌹

👈 جو لوگ امام زمانہ عليہ السلام کا انتظار کرتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کو پیغمبر اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے صدیوں پہلے اپنا بھائی اور دوست قرار دیا ہے اور ان سے اپنی قلبی محبت اور دوستی کا اعلان کیا ہے۔

🌼 حضرت امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمایا:
''ایک روز پیغمبر اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ایک گروہ کی محفل میں فرمایا:
🌹 پالنے والے! مجھے میرے بھائی کو دکھلا دے!
اوریہ جملہ دو بارکہا. آنحضرت صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے کہا:
یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟!
آنحضرت صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
*تم لوگ میرے صحابہ ہو لیکن میرے بھائی وہ ہیں جو آخری زمانے میں مجھ پر ایمان لائیں گے جبکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہوگا!
خداوندعالم نے ان کا نام مع ولدیت مجھے بتایا ہے... ان میں سے ہر ایک کا اپنے دین پر ثابت قدم رہنا اندھیری رات میں ''گون'' نامی درخت سے کانٹا توڑنے اور دہکتی ہوئی آگ کو ہاتھ میں لینے سے کہیں زیادہ سخت ہے۔
وہ لوگ ہدایت کی مشعل ہیں جن کو خداوندعالم خطرناک فتنہ و فساد سے نجات عطاکرے گا''* بحارالانوار،ج٥٢،ص١٢٣

🌷 نیز پیغمبر اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
''خوش نصیب ہے وہ شخص جو ہم اہل بیت کے قائم کے زمانے کو پائے اس حال میں کہ وہ ان کے قیام سے پہلے ان کی اقتداء اور پیروی کرتا ہو۔
وہ شخص جناب قائم عليہ السلام کے دوستوں کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہو۔ نیز ان سے پہلے کے آئمہ سے بھی محبت رکھتا ہو .
ایسے لوگ میرے ساتھی اور میری محبت و مودت کے مالک ہیں اور میرے نزدیک میری امت کے سب سے محبوب و معزز افراد ہیں''۔
کمال الدین،ج١،باب٢٥،ح٢،ص٥٣٥

🔵 لہٰذا جو افراد پیغمبر اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کے نزدیک اتنا عظیم مرتبہ رکھتے ہیں ان لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کے دوست کے عنوان سے خطاب کیا جائے گا! اور وہ بھی ایسی آوازمیں جو عشق و محبت سے بھری ہوگی اور خداوندعالم سے نہایت قربت کی عکاسی کرتی ہوگی

🌸 حضرت امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمایا:
''ایک زمانہ وہ آئے گا کہ مومنین کا امام غائب ہوگا، پس خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رہے بے شک ان کی کم سے کم جزا یہ ہوگی کہ خداوندعالم ان سے خطاب فرمائے گا:
💐اے میرے بندو! تم میرے راز (اور امام غائب) پر ایمان لائے ہو اور تم نے اس کی تصدیق کی ، پس تمہیں میری طرف سے بہترین جزا کی بشارت ہو، تم واقعاً میرے بندے ہو۔
میں تمھارے اعمال کو قبول کرتا ہوں اور تمھاری خطاؤں سے درگزر کرتا ہوں اور تمھاری (برکت کی) وجہ سے اپنے بندوں پر بارش نازل کرتا ہوں اور بلاؤں کو دور کرتا ہوں اوراگر تم (لوگوں کے درمیان ) نہ ہوتے تو پھر میں(گناہگار لوگوں پر) ضرور اپناعذاب نازل کرتا''
کمال الدین،ج١،باب٢٣،ح١٥،ص٦٠٢

🔷 لیکن انتظار کرنے والوں کو کس چیز کے ذریعہ آرام اور سکون ملتا ہے اور کیا چیز ان کے انتظار کو ختم کرتی ہے؟ کس چیز سے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے اور ان کے بے قرار دلوں کو چین و سکون کب ملتا ہے؟

🔶 کیا جن لوگوں نے عمر بھر انتظار کے راستہ پرنظریں جمائے رکھیں اور تمام تر مشکلات کے باوجود اسی راستہ پر گامزن رہے تاکہ مہدی منتظر عليہ السلام کے سر سبز چمن میں قدم رکھیں کیا وہ لوگ اپنے محبوب امام کی ہم نشینی سے کم کسی اور چیزپر راضی ہوں گے؟
آیا اس ہم نشینی سے بہترین اورکوئی انعام ہوسکتا ہے اور اس سے بہتر کوئی اور موقع ہوسکتا ہے!

🌹 حضرت امام موسیٰ کاظم عليہ السلام نے فرمایا:
''خوش نصیب ہیں ہمار ے وہ شیعہ جو ہمارے قائم کی غیبت کے زمانہ میں ہماری دوستی کی رسّی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور ہماری دوستی اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری پر ڈٹے رہیں۔
وہ ہم سے ہیں اور ہم ان سے ہیں ،وہ ہماری امامت و رہبری پر راضی ہوئے (اور ہماری امامت کو قبول کیا) اور ہم بھی ان کے شیعہ ہونے سے راضی اور خوشنود ہوئے ہیں
خوش نصیب ہیں وہ!! خدا کی قسم یہ افراد روز قیامت ہمارے ساتھ اور ہمارے مرتبہ میں ہوں گے''۔

طالب دعا: علی اصغر سیفی

📚 کمال الدین،ج٢،باب٣٤،ح٥،ص٤٣

https://t.me/islamwitheman/3302
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 امامؑ کی اطاعت 🌹

"کاش میرا ہر شیعہ اس مومنہ کی طرح اپنی زندگی کا اصول بنا لے".

ابوبصیر اسدی کوفی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے چھٹے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ میں نے دیکھا کہ ایک خاتون پورے اسلامی حجاب میں (جس کا نام ام خالد تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے). خدمت امامؑ میں آتی ہیں اور اسی حجاب اسلامی کے اندر رہ کر ایک سوال کرتی ہیں کہ:

اے فرزند رسولؐ! مجھے ایسا مسئلہ پیش آگیا ہے کہ جس کے لیے میں آپ تک آئی ہوں اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ میں بیمار ہوں اور کافی طویل عرصے سے میں بیمار ہوں اور یہ بیماری بڑھتی چلی جارہی ہے.

میں نے ہر طرح سے علاج کراکے دیکھ لیا مگر کسی طبیب اور ڈاکٹر کی دوا نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا. بہرحال کوشش کرنا تو مومن کا کام ہے اور جب مجھے مایوسی ہوگئی تو میں صبر کرکے بیٹھی رہی کہ شاہد اللہ اس طرح سے میرا امتحان لے رہا ہے. تکلیف بھی بڑھتی جارہی ہے اذیت میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن انسان کرے تو کیا کرے؟مگر فرزند رسول ایک عجیب بات جسے میں نے مشاہدہ کیا وہ یہ ہے کہ جیسی بیماری مجھے ہے ایسی ہی بیماری شہر مدینہ میں اور بہت سے لوگوں کوہوئی اور وہی ڈاکٹر اور طبیب جن کے پاس میں اپنے علاج کے لیے گئی انھوں نے ہی اُن بیماروں کا علاج کیا. بیماری ایک, طبیب بھی وہی, اس طبیب کی دواؤں سے باقی سب کو صحت ملی.

باقی سب ٹھیک ہوگئے لیکن وہی طبیب, میں ان سے رجوع کررہی ہوں تو نہ صرف یہ کہ بیماری ختم نہیں ہورہی بلکہ روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے اور تکلیف میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے.
مولا میں گھبرا گئی اور میں نے اپنے طبیبوں سے ایک بات کی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہی بیماری دوسروں کو ہے, دوسرے لوگوں کے لیے تو تم صحیح دوا دے رہے ہو اور اس کا علاج ہوتا جارہا ہے اور وہی بیماری مجھے ہے تو تمہاری دوا فائدہ نہیں کررہی ہے طبیبوں نے ایک مرتبہ جواب دیا اور کہا کہ ہمارے پاس اس بیماری کافقط ایک علاج ہے اور ہمارے پاس اس کا کوئی اور علاج نہیں ہے.

لیکن کیونکہ ہمیں آپ کے بارے میں معلوم ہے کہ آپ کتنی نیک, مقدس اور پرہیزگار خاتون ہیں, اس لیے وہ آپ کو ہم نہیں بتا پارہے. طبیبوں نے کہا کہ اس کا علاج فی الحال ہمارے پاس صرف ایک ہے اور وہ شراب. لیکن ہم آپ کوکیسے بتائیں کہ آپ شراب پیجئے؟ اس لیے ہم خاموش رہے. ہم چپ رہے,دیکھتے رہے لیکن کیا کریں. آج آپ نے خود آکے پوچھ لیا تو آپ کی بیماری کا علاج فقط شراب ہے.

ابوبصیر کہتے ہیں کہ یہ خاتون امامؑ سے یہ سوال کرتی ہے کہ فرزند رسولؐ! اب اتنا بتا دیجیئے کہ جب سارے طبیبوں نے یہی کہا. سب نے مل کر ایک ہی بات کہی تو مولا میں آپ کے پاس آگئی.

آپ یہ فرمائیے کہ میرے لیے کیا حکم ہے؟

ابو بصیر کہتے ہیں امامؑ نے اس خاتون سے ایک سوال کیا کہ اے ام خالد! سارے مدینے کے ڈاکٹر(طبیب) کہہ رہے ہیں کہ تمہاری بیماری کا علاج سوائے شراب کے اور کوئی نہیں ہے تو آخر تو میرے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کیوں آئی؟

ایک مرتبہ انتہائی حیرت کے عالم میں وہ مومنہ کہتی ہیں کہ مولا! میں نے اپنا امام آپ کو مانا, ان ڈاکٹروں کو نہیں مانا. جب میں نے آپ کو اپنا امام مانا تو اب میرا فریضہ ہے کہ زندگی کا جو کام ہے سب سے پہلے آپ سے آکر پوچھوں کہ آپ کیا ہدایت کرتے ہیں؟ مولا میں تو فقط یہ چاہتی ہوں کہ میدان قیامت میں جب میرا نامہ اعمال کھولا جائے گا اور میرے ایک ایک عمل کے بارے میں مجھ سے سوال ہوگا. یہ کام کیوں کیا؟ یہ کام کیوں کیا؟ تو فقط ایک جواب ہو کہ میرے امام نے حکم دیا تھا. میرے آقا اور مولا نے اجازت دی تھی.

ابو بصیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے چھٹے امامؑ اپنی جگہ سے بلند ہوئے اور مجھے دیکھ کر کہا؛
اے ابوبصیر! کاش میرا ہر شیعہ اس مومنہ کی طرح اپنی زندگی کا اصول بنالے.

📚 کربلا امام زمانہ اور ہماری ذمہ داریاں,ص,١٢٦,١٣١۔

https://t.me/islamwitheman/3303
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 منتظرین امام عج 🌹

ﻋﺎﻟﻢ ﺭﺑﺎﻧﯽ ﺣﺎﺝ ﺍٓﻗﺎﺋﮯ ﺩﻭﻻﺑﯽ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺧﺮﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ؟
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻣﺜﺎﻝ ﺩﯼ ﺟﻮ ﺧﺎﻟﯽ ﺍﺯ ﻟﻄﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ!

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
■ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺍُﺱ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ 4 ﺑﯿﭩﮯ ﮨﻮﮞ۔
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﯼ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﺗﮏ ﺍِﺳﯽ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺭﮨﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﺎ ﮨﻮﮞ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﭼﮭﭗ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ!!

🍂 ﺑﮍﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﻏﻠﻂ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ
ﭼﯿﺰﻭں کو ﺍِﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﭘﮭﯿﻨﮑﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﺍوﺩﮬﻢ ﻣﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ!

🍁 ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﮍﺍ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﭧ ﭘﻠﭧ
ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ:
ﺑﺎﺑﺎ، ﺑﺎﺑﺎ...!!
ﺟﻠﺪﯼ ﺍٓﺟﺎﺅ..!!

🍁 ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﭖ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺮﺍﻣﻮﺵ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ!

🍁 ﭼﻮﺗﮭﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﭖ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﮭﭙﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،
ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺻﺤﯿﺢ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺟﻤﺎنا ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺑﺎﭖ
ﮐﮯ ﺍٓﻧﮯ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﭖ ﭘﺲ ﭘﺮﺩﮦ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ!
ﻭﮦ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﭖ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺍٓﺋﮯ ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ
ﮐﺎﻡ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺳﮑﻮﮞ ﮔﺎ۔ ﻭﮦ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﯽ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺍٓﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ!

ﯾﮧ ﻣﺜﺎﻝ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﮬﻤﺎﺭﯼ ﮨﯽ ﮨﮯ! ﯾﻌﻨﯽ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ!

🍀 ﮬﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﮨﯿﮟ!
🍀 ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧ‏ عج ﮐﻮ ﯾﮑﺴﺮ ﻓﺮﺍﻣﻮﺵ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ،
ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﻭ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﯿﮟ.
🍀 ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺻﺮﻑ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﯾﮩﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﺎ
ﺍﻣﺎﻡ ﺟﻠﺪ ﺍٓﺅ۔ ﺍﻟﻌﺠﻞ، ﺍﻟﺴﺎﻋﺔ ۔ ۔ ۔ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺮﯼ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ!!

🍀 ﺍﻥ ﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﮬﻢ ﺍُﻥ ﭼﻮﺗﮭﮯ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﻮ علماء و فقھاء اور اولیاء عاملین ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧ عج ﮐﮯ ﻇﮩﻮﺭ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻨﺘﻈﺮﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﻇﮩﻮﺭ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﺳﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﯿﮟ.

https://t.me/islamwitheman/3304
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
❄ امام العصرؑ سے رجوع ❄

شیطان غیب رہ کر بھی ہمیں گمراہ کرتا ہے اور ہدایت سے دور کرتا ہے تو کیا امام العصرؑ غیب رہ کر ہماری ہدایت نہیں کر سکتے ہم کیوں علماء کی طرف رجوع کریں؟

جواب: شيطان اور ابليس ميں فرق ہے۔ شيطانيت ايک صفت ہے جو انسان و جنوں ميں پائى جاتى ہے۔ اسى شيطنت كا خاتمہ كرنے سے انسان ’’انسان‘‘ بنتا ہے۔
جہاں تک ابليس كى بات ہے تو ابليس انسان كو گمراہ نہيں كرتا بلكہ انسان خود ارادہ اور اختيار سے گمراہ ہوتا ہے۔ ابليس انسانى وجود ميں وسوسے ڈالتا ہے۔ ان وسوسوں كا شكار ہونا يا بچ جانا انسان كے اپنے اختيار ميں ہے۔

اللہ تعالٰی نے ہدايت اپنے ہادى رہنماؤں كے ذريعے دى ہے۔ امام حجت عج اس دنيا ميں موجود ہيں اور اللہ تعالٰی كى طرف سے ہادى و رہنما ہيں۔ الٰہى حجتوں كى ذمہ دارى بھى ’’بلاغ‘‘ يعنى پيغام و ہدايت پہنچانا ہے جبكہ اسے قبول كرنا يا انكار كرنا ہر دو انسان كے ارادہ اور اختيار پر ہے۔ آئمہ طاہرين عليہم السلام جبرى طريقہ اختيار نہيں فرماتے۔
يہ بات كہ امام مہدى عج كى طرف براہِ راست رجوع كريں اور امام عج براہِ راست ہمارى ہدايت فرمائيں گے تو يہ بات ۱۱ آئمہ عليہم السلام كے دور ميں رہنے والے تمام لوگوں كے ليے ممكن نہيں تھى كجا ہمارے ليے زمانہِ غيبت ميں ہو جائے!! آئمہ طاہرين عليہم السلام نے ہدايت پہنچانے كيلئے اپنى قريبى اور قابل اصحاب كو مختلف دور دراز علاقوں ميں بھيجا اور انہيں حكم ديا كہ ان كے درميان بيٹھ كر احكام بيان كريں۔ اويس قرنىؓ كى مثال لے ليں كہ آپ نبى اكرم صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم كے زمانے ميں زندگى بسر كرتے رہے ليكن آپ صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم سے ملاقات نہيں ہو سكى۔ لہذا اہل بيت عليہم السلام كے دور كے تمام افراد كے ليے بھى براہِ راست رجوع كرنا ممكن نہيں تھا۔ اس ليے تلقيدِ فقہى كى بنياد آئمہ طاہرين عليہم السلام نے ركھى اور وہ آج بھى جارى ہے۔ حتٰى امام مہدى عج نے خود اس نظام كى توقيع مبارک كے ذريعے بنياد ركھى كہ امامؑ فرماتے ہيں۔۔
ٌ"وَ أَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِيثِنَا فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَ أَنَا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ۔"
ترجمہ:
اور بڑے بڑے پيش آنے والے مسائل ميں ہمارى احاديث بيان كرنے والے كى طرف رجوع كرو، وہ ميرى طرف سے تم پر حجت ہيں اور ميں ان پر اللہ كى حجت ہوں۔

📔كمال الدين وتمام النعمة، ج ۲، ص۴۸۴

امام مہدى عليہ السلام كا يہ فرمان واضح طور پر بيان كر رہا ہے كہ رجوع فقہاءِ باشرائط كى طرف كيا جائے۔ ان كى طرف رجوع كرنا گويا امام معصومؑ كى طرف رجوع كرنا ہے۔

https://t.me/islamwitheman/3305
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🕌 نماز حاجت و استغاثه امام زمانہ عج 🕌

ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺘﺤﻔﺔ ﺍﻟﺮﺿﻮﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﺳﯿﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﮬﻤﺪﺍﻧﯽ ﻧﺠﻔﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺲ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﻮ، شب ﺟﻤﻌﺮﺍﺕ ﺍﻭﺭ شب ﺟﻤﻌﮧ کو ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ، ﺳﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺅﮞ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﮨﻮﮞ ، ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ کسی بھی سوره کے ساتھ ﭘﮍﮬﮯ۔

* ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﺮﮮ 595 ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﮩﮯ۔

"ﯾﺎ ﺣﺠﺔ ﺍﻟﻘﺎﺋﻢ"

* اس ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺮ ﮐﻮ ﺳﺠﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ 70 ﻣﺮﺗﺒﮧ کہے۔
"ﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ﺍﻏﺜﻨﯽ"
* ﺍﻭﺭ پھر ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﺮﮮ۔

* ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﮨﺮ ﻣﮩﻢ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺠّﺮﺏ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﺩﻭ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺟﺖ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮨﻔﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺍﮔﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﮨﻔﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﮔﯽ۔

* ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺘﺤﻔﺔ ﺍﻟﺮﺿﻮﯾﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﯿﺪ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺟﻮﺍﮨﺮﯼ ﺣﺎﺋﺮﯼ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﺭﺍﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﮭﺪﯼ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﻮ ﺣﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔

📚 حواله: ﺻﺤﯿﻔﻪ ﻣﻬﺪﯾﻪ، ص132۔

🔸 نوٹ : اس نماز میں خواتین کو سر برھنه نھیں ھونا چاھیے۔

* شب جمعرات، بدھ کا دن گزرنے کے بعد اور شب جمعه، جمعرات کا دن گزرنے کے بعد شروع ھوتی ھے۔

🔷 حاجات کیلیے امام زمانہ عج سے توسل
جو کوئی بھی کسی بھی مشکل میں ھو درج ذیل وسیله کو 70 مرتبہ پڑھے۔

* ﯾﺎﺍﻟﻠﻪُ ﯾﺎﻣﺤﻤﺪُ ﯾﺎﻋﻠﯽُ ﯾﺎﻓﺎﻃﻤﺔ ﯾﺎﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ِ، ﺍﺩﺭﮐﻨﯽ ﻭ ﻻ ﺗﻬﻠﮑﻨﯽ۔

📚 حواله: ﺻﺤﯿﻔﻪٔ ﻣﻬﺪﯾﻪ، ص635۔

🔷 دوسرا طریقہ توسل امام زمانہ
مغرب کے نوافل پڑھنے کے بعد 100 سو مرتبہ صلوات پڑھیں۔

ﺍﻟّﻠﻬﻢَّ ﺻﻞِّ ﻋﻠﻰ ﻣﺤﻤَّﺪ ﻭﺁﻝ ﻣﺤﻤَّﺪ۔

پھر 70 ستر مرتبہ یه پڑھیں۔
ﯾﺎﺍﻟﻠﻪُ ﯾﺎﻣﺤﻤﺪُ ﯾﺎﻋﻠﯽُ ﯾﺎﻓﺎﻃﻤﺔ ﯾﺎﺣﺴﻦُ ﯾﺎﺣﺴﯿﻦُ ﯾﺎﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ﺍﺩﺭﮐﻨﯽ ﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻟﺰﻣﺎﻥ ِ

پھر 100 سو مرتبہ صلوات پڑھیں۔
ﺍﻟّﻠﻬﻢَّ ﺻﻞِّ ﻋﻠﻰ ﻣﺤﻤَّﺪ ﻭﺁﻝ ﻣﺤﻤَّﺪ۔

* یه دعا مشکلات و پریشانی کے خاتمه کیلیے تجربہ شده دعا ھے۔

📚 حواله: ﺻﺤﯿﻔﻪٔ ﻣﻬﺪﯾﻪ، ص635۔

🔷 نماز حاجت
شب جمعه کو رات کے آخری حصے میں غسل کرو ، اور دو رکعت نماز ادا کرو۔

* پہلی رکعت میں الحمد کے بعد 10 مرتبہ ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﺎﻓﺮﻭﻥ۔
* اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد 11 مرتبہ ﺳﻮﺭﺓ قل ھو والله احد پڑھیں-
* نماز کے بعد 10 مرتبہ صلوات پڑھیں۔

ﺍﻟّﻠﻬﻢَّ ﺻﻞِّ ﻋﻠﻰ ﻣﺤﻤَّﺪ ﻭﺁﻝ ﻣﺤﻤَّﺪ ﻭﻋَﺠِّﻞْ ﻓَﺮَﺟَﻬُﻢ۔

اور پھر 10 مرتبہ یه پڑھیں۔
ﺳُﺒْﺤﺎﻥَ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺍﻟﺤَﻤْﺪُ ﻟﻠﻪِ ﻭَﻻ ﺇِﻟﻪَ ﺇِﻻّ ﺍﻟﻠﻪُ ﻭَﺍﻟﻠﻪُ ﺃَﻛْﺒَﺮُ ﻭَﻻ ﺣَﻮْﻝَ ﻭَﻻ ﻗُﻮَّﺓَ ﺇِﻻّ ﺑِﺎﻟﻠﻪِ ﺍﻟﻌَﻠِﻲِّ ﺍﻟﻌَﻈِﻴﻢِ۔

* 10 مرتبہ ﺳُﺒْﺤﺎﻥَ ﺭَﺑِّﻚَ ﺭَﺏِّ ﺍﻟﻌِﺰَّﺓِ ﻋَﻤّﺎ ﻳَﺼِﻔُﻮﻥَ ﻭَﺳَﻼﻡٌ ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟﻤُﺮْﺳَﻠِﻴﻦَ ﻭَﺍﻟﺤَﻤْﺪُ ﻟﻠﻪِ ﺭَﺏِّ ﺍﻟﻌﺎﻟَﻤِﻴﻦَ.

* پھر تین مرتبہ اپنی حاجات طلب کریں.

https://t.me/islamwitheman/3306
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🕌 نماز امام زمانؑ عج 🕌

نماز امام زمان دو رکعت پر مشتمل ہے۔ جس میں سورہ حمد کی آیت إیاكَ نَعْبُدُ وَ إیاكَ نَسْتَعین کو سو (100) مرتبہ پڑھا جاتا ہے۔ مسجد جمکران کے اعمال میں بھی اسے ذکر کیا گیا ہے۔

🔷 کیفیت نماز
نماز امام زمان (عج) دیگر مستحب نمازوں کی مانند دو رکعتی ہے۔ اسکی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے دوران إیاكَ نَعْبُدُ وَ إیاكَ نَسْتَعین کو سو مرتبہ تکرار کرتے ہیں پھر سورہ مکمل پڑھنے کے بعد سورہ توحید پڑھی جاتی ہے۔ بعض مصادر میں رکوع[1] و سجده[2] کے ذکر کو سات بار تکرار کرنا مذکور ہے[3] جبکہ بعض منابع میں کوئی مخصوص تعداد ذکر نہیں ہوئی۔[4]

نماز کے اختتام پر ایک مرتبہ لا إلهَ اِلّا الله کہے اور تسبیحات حضرت زہرا (س) پڑھی جائے پھر سجدے میں سو مرتبہ صلوات پڑھے۔

مسجد جمکران کے متعلق حسن بن مثلہ کی حکایت میں اسی نماز کا ثواب بیت اللہ میں نماز پڑھنے کے برابر ذکر ہوا ہے۔ [5]

🔷 سند نماز
سید بن طاووس نے اس نماز کو اپنی دو کتابوں میں نقل کیا ہے:

کتاب جمال الاسبوع میں کسی سند کے بغیر [6] کتاب مہج الدعوات میں امام زمانہ کی توقیع سے استناد کیا ہے کہ جسے امین الاسلام طبرسی کی کتاب کنوز النجاح میں ذکر کیا ہے۔ کنوز النجاح میں اسکی سند اسطرح مذکور ہے: احمد بن الدَّربِی نے خَزامَہ سے اور وہ ابی عبدالله حسین بن محمد بزوفری سے اور وہ ناحیہ مقدسہ سے۔[7]

کفعمی(م.۹۰۵ق) نے اپنی کتاب البلد الامین میں بھی کنوز النجاح سے نقل کی ہے۔[8]

علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں حکایت حسن بن مثلہ کی حکایت اور مسجد جمکران کی تعمیر کے ضمن میں ذکر کتاب تاریخ قم سے نقل کرتے ہیں۔[9]

بعض منابع میں یہ نماز روایت کے عنوان سے منقول نہیں ہے:
الدعوات قطب راوندی(م.۵۷۳ق)،[10] ہدایۃ الامۃ شیخ حر عاملی(م.۱۱۰۴ق)[11]

🔷 نماز حاجت
مہج الدعوات اور البلدالامین میں ناحیہ مقدسہ کی جانب سے توقیعی کا یہ مضمون آیا ہے:

جو بھی خدا سے کوئی حاجت رکھتا ہے وہ شب جمعہ آدھی رات گزرنے کے بعد غسل کرے اور اور مذکورہ بالا نماز ادا کرے پھر اسکے بعد اس نماز کی مخصوص دعا پڑھے اور خدا سے اپنی حاجت طلب کرے۔ یہ نماز مفاتیح الجنان میں ذکر ہوئی ہے۔[12]

سید بن طاووس نے جمال الاسبوع میں کہا ہے: اس نماز کے بعد الهی عَظُمَ البَلاء... کی دعا کو پڑھا جائے۔ دانشنامہ امام مہدی کے مؤلفین معتقد ہیں کہ یہ نماز اور دعا جو بھی سند رکھتی ہو اور اس نماز کی کیفیت سید ابن طاؤس کی طرف سے ہے۔[13]

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔

🌸 التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی

📚 حوالہ جات
↑ سُبْحانَ رَبِّی العَظیمِ وَ بِحَمْدِهِ
↑ سُبْحانَ رَبِّی الاَعْلیٰ وَ بِحَمْدِهِ
↑ مہج الدعوات و منہج العبادات‌، تصحیح کرمانی، دارالذخائر، قم، ص۲۹۴
↑ قطب الدین راوندی، سعید بن ہبۃ اللہ، الدعوات(سلوة الحزین)، ص۸۹، قم، انتشارات مدرسہ امام مہدی (عج)، چاپ اول، ۱۴۰۷ق
↑ بحار الأنوار، ج۵۳، ص۲۳۱۔
↑ سید ابن طاؤس، رضی الدین علی، جمال الأسبوع بکمال العمل المشروع، ص۲۸۰، قم،‌ دارالرضی، چاپ اول، بی‌تا.
↑ مہج الدعوات و منہج العبادات‌، تصحیح کرمانی، دارالذخائر، قم، ص۲۹۴۔
↑ کفعمی، ابراہیم بن علی، البلدالأمین والدرع الحصین، ص۱۶۴، بیروت، مؤسسہ الأعلمی للمطبوعات، چاپ اول، ۱۴۱۸ق.
↑ في تاريخ قم تأليف الشيخ الفاضل الحسن بن محمد بن الحسن القمي من كتاب مونس الحزين في معرفة الحق و اليقين من مصنفات أبي جعفر محمد بن بابويه القمي ما لفظه بالعربية... بحارالأنوار، چاپ بیروت، ج53، ص231۔
↑ قطب الدین راوندی، سعید بن ہبۃ الله، الدعوات(سلوة الحزین)، ص۸۹، قم، انتشارات مدرسہ امام مہدی (عج)، چاپ اول، ۱۴۰۷ق۔
↑ شیخ حرّ عاملی، ہدایۃ الامۃ إلی أحکام الأئمۃ، ج۳، ص۳۱۹، مشہد، مجمع البحوث الإسلامیہ، چاپ اول، ۱۴۱۲ق.
↑ مفاتیح الجنان
↑ دانشنامہ امام مہدی، ج۶، حاشیہ ص ۲۴۹۔

https://t.me/islamwitheman/3307
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹جناب نرجس خاتونؑ(حصہ اول)🌹

شہزادئ روم جناب سیده نرجس خاتونؑ کے خواب میں جناب فاطمہ الزھراءؑ کا تشریف لانا، سیده نرجس خاتون کی اسیری و رھائی، امام حسن عسکریؑ کی خدمت میں پیش ہونا اور جناب حکیمه خاتونؑ کا احکام دین سیکھانے کا مکمل واقعہ۔۔۔

ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺳﺎﻣﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﮬﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ علی نقی ﮬﺎﺩﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺎ ﺧﺎﺩﻡ ﮐﺎﻓﻮﺭ ﺍٓﯾﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻓﻮﺭﺍً ﭼﻠﻮ!
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺑﻼﯾﺎ ﮬﮯ۔ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ پہنچے۔ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﮬﺎﺩﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺍﺭﺟﻤﻨﺪ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ ﻋﺴﮑﺮﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮬﯿﮟ۔

ﺍﻣﺎﻡ ﮬﺎﺩﯼؑ ﻧﮯ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
” ﺍﮮ ﺑﺸﺮ ﺗﻢ حضرت ایوب ﺍﻧﺼﺎﺭﯼؓ ﮐﯽ ﻧﺴﻞ ﺳﮯ ﮬﻮ۔ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﮬﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﺍٓﺭﮬﯽ ﮬﮯ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﮬﺮ ﻧﺴﻞ ﻧﮯ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﺍﺭﺙ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺯ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺍٓﺷﮑﺎﺭ ﮐﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﮬﻢ ﮐﺎﻡ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺳﻮﻧﭙﻮﮞ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺑﺎ ﻋﺚ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﮬﻮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺳﺎﺭﮮ ﺷﯿﻌﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻣﯿﮟ پہل ﮐﺮﻭﮔﮯ۔ “

ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻣﺎﻡ ﮬﺎﺩﯼ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺭﻭﻣﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺧﻂ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﮭﺮ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺑﺸﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ تھیلی ﺑﮭﯽ ﺩی۔ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺳﻮ ﺑﯿﺲ ‏(۲۲۰ ) ﺩﯾﻨﺎﺭ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭼﯿﺰیں ﺗﮭﻤﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ؛
” ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻟﯿﮑﺮ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮬﻮ ﺟﺎﺅ ﻓﻼﮞ ﺩﻥ ﻇﮭﺮ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻓﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺅ۔ ﺟﺐ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ وﮬﺎﮞ پہنچیں، ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺍٓﺋﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ، ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﻋﮭﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮬﻮﻧﮕﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺑﮩﺖ ﺟﻮﺍﻧﺎﻥ ﻋﺮﺏ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﻨﮕﮯ، ﺗﻢ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭہنا ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﯿﺰ ﻭ ﻏﻼﻡ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﻨﺎﻡ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﯿﺰ ﮬﻮﮔﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺭﻧﮕﯿﻦ ﺭﯾﺸﻤﯽ ﮐﭙﮍﮮ پہنے ﮬﻮﺋﮯ ﮬﻮﻧﮕﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﻮﻟﯽ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﻘﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔
ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﺠﻮﻡ ﻣﯿﮞ اﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ‏(۳۰۰‏) ﺩﯾﻨﺎﺭ ﻣﯿﮞ اﺱ ﮐﻨﯿﺰ ﮐﻮ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﭼﺎﮬﮯ ﮔﺎ۔ ﺟﺲ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮐﻨﯿﺰ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﻏﻼﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ کہے ﮔﯽ ﮐﮧ۔۔
” ﺍﮔﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺋﯿﺲ ﺯﺍﺩﮦ ﺑﮭﯽ ﺍٓ ﮐﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﻪ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﮮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ نہیں ﮬﻮ ﮔﯽ
ﻟﮩٰﺬﺍ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﯿﺴﮧ ﺿﺎﺋﻊ ﻣﺖ ﮐﺮﻭ “

ﺍﺱ ﻣﻮﻗﻊ پر ﺗﻢ اٹھ کر ﻋﻤﺮﻭﺑﻦ ﯾﺰﯾﺪ ﺳﮯ کہنا! ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﺷﺮﺍﻑ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﺧﻂ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺭﻭﻣﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮬﻮﺍ ﮬﮯ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﻨﯿﺰ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﮐّﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻨﯿﺰ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﻮﮞ۔
ﮐﻨﯿﺰ ﻧﮯ وه ﺧﻂ ﻟﯿﮑﺮ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﯾﺰﯾﺪ ﺳﮯ ﮐﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺧﻂ ﮐﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﯿﭽﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﮬﻼﮎ ﮐﺮ ﻟﻮﮞ ﮔﯽ- ﺍﺱ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﯾﺰﯾﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﺍﮐﺮﮦ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﻮﺩﺍ ﺩﻭﺳﻮﺑﯿﺲ ‏(۲۲۰) ﺩﯾﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﺍٓﮐﺮ ﺧﺘﻢ ﮬﻮﺍ۔
ﭘﮭﺮ ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﮐﻨﯿﺰ ﮐﻮ ﻟﮯﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﺍٓﯾﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﻂ ﮐﻮ ہاتھ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮑﺮ ﭼﻮﻣﺘﯽ ﺟﺎﺭﮬﯽ ﮬﮯ۔ ﺑﺸﺮﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﺧﻂ ﮐﻮ ﭼﻮﻡ ﺭﮬﯽ ﮬﻮ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮏ ﻧﮭﯿﮟ ﮬﻮ۔
ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺳﻨﻮ! ﻣﯿﮞ ﺑﻨﺖ ﯾﺸﻮﻋﺎ ﺑﻦ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﮬﻮﮞ ، ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﻧﺴﺐ ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﺎ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻭﺻﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﺟﺎ ﺭہی ﮬﻮﮞ - - - - -

ﺟﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﺗﯿﺮﮦ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﮬﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺘﯿﺠﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﻨﻌﻘﺪ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺭﺍﮬﺐ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺕ ﺳﻮ ﭘﺎﺩﺭﯼ ﻭﮬﺎﮞ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ ﻧﯿﺰ ﭼﺎﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﻓﻮﺟﯽ ﺳﺮﺩﺍﺭ، ﺷﺮﻓﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺰﺯﯾﻦ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮞ شرﯾﮏ ﺗﮭﮯ۔ ﺗﺨﺖ ﻭ ﺗﺎﺝ شہنشاہی ﮐﻮ ﺟﻮﺍﮬﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﯾﺎ ﮬﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮬﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﺑﮭﺘﯿﺠﺎ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﻠﯿﺐ ﮐﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﮔﺮﺩ ﮔﮭﻤﺎﯾﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺳﺐ ﺗﻌﻈﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺠﯿﻞ ﮐﮯ ﺻﻔﺤﺎﺕ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻻ ﮔﯿﺎ۔
ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺭﺳﻢ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺻﻠﯿﺒﯿﮟ ﺍﻟﭧ ﮐﺮ ﮔﺮﮔﺌﯿﮟ۔ ﺗﺨﺖ ﻭ ﺗﺎﺝ ﻟﺮﺯﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﻭﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﺟﻮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺍٓﯾﺎ ﺗﮭﺎ بیہوﺵ ﮬﻮ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ ﺳﺐ ﮐﮯ چہرﻭﮞ ﺳﮯ ﺭﻧﮓ ﺍﮌ ﮔﯿﺎ، ﺭﺍﮬﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﺳﮯ کہا! ﺍﺱ ﻧﺤﻮﺳﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺴﯿﺤﯿﺖ ﻧﺎﺑﻮﺩ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﻮﺋﯽ ﻧﻈﺮ ﺍٓﺭﮬﯽ ﮬﮯ۔
ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮞ کہا ﮐﮧ ﺻﻠﯿﺒﻮﮞ کو ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﺼﺐ ﮐﺮﻭ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﭼﯿﺰﻭﮞ کو ﺍﺳﮑﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻧﻤﺒﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﺘﯿﺠﮯ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﻮ ﺳﺠﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻔﻞ ﺟﻤﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﮬﯽ ﺭﺳﻢ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻭﮬﯽ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﭘﯿﺶ ﺍٓﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺩﺭﮬﻢ ﺑﺮﮬﻢ ﮬﻮﮔﯿﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺮﻡ ﺳﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ۔۔۔(جاری ہے)

بقیہ حصہ دوم میں پڑھیے مکمل تین حصے ہیں۔

https://t.me/islamwitheman/3282
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹جناب نرجس خاتونؑ(حصہ دوم)🌹

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ.

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻣﺴﯿﺢ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ، ﺷﻤﻌﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺣﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﻣﯿﺮ ﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺭ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ ﮬﻮﺍ ﻣﻨﺒﺮ ﻋﯿﻦ ﺍﺳﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻧﺼﺐ ﮬﮯ ﮐﮧ جہاں ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﺗﺨﺖ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ۔
ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ‏ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺻﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻣﺎﺩ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﺍﺑﯿﻄﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﮬﻤﺮﺍﮦ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽؑ ﻧﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪؐ ﮐﻮ ﺍپنے ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪؐ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽؑ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ! ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﻭﺻﯽ ﺷﻤﻌﻮﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﻣﻠﯿﮑﮧ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪ (ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ) ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﺍٓﯾﺎ ﮬﻮﮞ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽؑ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ! ﺍﮮ ﺷﻤﻌﻮﻥؑ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﻗﺴﻤﺖ ﺟﺎﮒ ﺍﭨﮭﯽ ﮬﮯ، ﺷﺮﺍﻓﺖ ﺍﻭﺭ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﻧﺼﯿﺐ ﮬﻮ ﺭﮬﯽ ﮬﮯ، ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﺍٓﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮭﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺟﻮﮌ ﻟﻮ۔

ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ! ﺍﻃﺎﻋﺖ ﮬﻮﮔﯽ۔
ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ‏ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﻨﺒﺮ ﭘﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﺒﮧ ﻧﮑﺎﺡ
ﭘﮍﮬﮑﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪ ﺳﮯ ﻋﻘﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽؑ، ﺍﻧﮑﮯ ﺣﻮﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺍٓﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮭﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﮯ ﮔﻮﺍﮦ ﮬﯿﮟ۔

ﺟﺐ ﺍﺱ سنہرے ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮈﺭ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﺩﺍ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮬﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺗﻮﺟﮧ ﮨﭧ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ یہانتک ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﯾﺾ ﮬﻮﮔﺌﯽ۔

ﭘﻮﺭﯼ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻃﺒﯿﺐ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻋﻼﺝ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮬﻮ ﻣﮕﺮ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺑﮯﻓﺎﺋﺪﮦ ﺭﮬﺎ، ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻧﮯ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮬﻮ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ؛
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ! ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ۔

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ! ﺩﺍﺩﺍﺟﺎﻥ ﺍﮔﺮ ﺍٓﭖ ﺣﮑﻢ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍٓﭘﮑﯽ ﻗﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮬﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ﺯﻧﺠﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﻮ ﺍﺫﯾﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢ سلام الله عليها ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﮟ۔ ﮐﯿﻮنکہ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﯽ ﺭﮬﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﺻﺤﺘﻤﻨﺪ ﺩﮐﮭﺎﺅﮞ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺑﮩﺖ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮬﻮ ﮐﺮ ﺍﺳﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﺭﻋﺎﯾﺖ ﺩﯾﺪﯼ۔

پہلے ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﭼﻮﺩﮦ ﺭﻭﺯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺟﻨﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﯽ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﮬﻤﺮﺍﮦ ﮬﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﮐﻨﯿﺰﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﮬﻤﺮﺍﮦ ﮬﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮬﻮ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ!
ﯾﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺟﻨﺖ ﺟﻨﺎﺏ ﻓﺎﻃﻤﻪؑ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺷﻮﮬﺮ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮬﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺳﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮭﺎ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﺍٓﻧﮯ ﮐﺎ ﺷﮑﻮﮦ ﮐﯿﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧؑ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ! ﺟﺐ ﺗﮏ ﺗﻢ ﻣﺸﺮﮎ ﺭﮬﻮ ﮔﯽ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪؑ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﻧﮯ نہیں ﺍٓﺋﯿﮟ ﮔﮯ، ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ بہن ﻣﺮﯾﻢ ﺑﻨﺖ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﮬﯿﮞ ﮐﻪ ﺟﻮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺍﻟٰﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﯾﻦ ﺳﮯ ﺍﻇﮭﺎﺭ ﺑﺮﺍﺋﺖ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺭﯼ ﮐﺮﺗﯽ ﮬﯿﮞ اﺏ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺧﺪﺍ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰؑ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺮﯾﻢؑ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﻨﻮﺩﯼ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮬﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪؑ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺑﮭﯽ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮬﻮ ﺗﻮ ﺑﻮﻟﻮ۔۔

ﺍﺷﮭﺪ ﺍﻥ ﻻ ﺍﻟﮧ ﺍ ﻟّﺎ الله ﻭﺍﺷﮭﺪ ﺍﻥّ ﻣﺤﻤﺪ ًﺭﺳﻮﻝ الله۔
ﺟﯿﺴﮯ ﮬﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﺷﮭﺎﺩﺗﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯿﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧؑ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﺏ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮞ رہنا تمہاری ﺟﻠﺪﯼ ﮬﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔

ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﮑﺮ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻟﻤﺤﮧ ﺷﻤﺎﺭﯼ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮬﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻮﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﮯ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﮬﺮ ﺭﺍﺕ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺧﻮﺍ ﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺍٓ ﺭﮬﯽ ﮬﻮﮞ۔

ﺣﻀﺮﺕ ﻧﺮﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺍﺳﯿﺮﯼ:
ﺑﺸﺮ ﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﯿﺮ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮬﻮﺋﯿﮟ؟

ﺟﻨﺎﺏ ﻧﺮﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥؑ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ:
ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺍﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪؑ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ؛ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﺍﺩﺍ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﺸﮑﺮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﻧﻮﮐﺮﺍﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭗ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﻧﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ یہی ﮬﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯿﺮ ﮬﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ نہیں ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻡ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﭘﻮﺗﯽ ﮬﻮﮞ.

ﺑﺸﺮﺑﻦ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻓﺼﯿﺢ ﻭ ﺑﻠﯿﻎ۔۔۔(جاری ہے)

بقیہ حصہ سوم میں پڑھیے۔ مکمل تین حصے ہیں۔

https://t.me/islamwitheman/3309
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕