ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌹 اعمال نیمۂ شعبان 🌹

پندرھویں شعبان کی یہ رات بڑی بابرکت رات ہے، امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ امام محمدباقرؑ سے نیمۂ شعبان کی رات کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یہ رات شب قدر کے علاوہ تمام راتوں سے افضل ہے۔ پس اس رات تقرب الہٰی حاصل کرنے کی کوشش کرناچاہیے۔ اس رات خدائے تعالٰی اپنے بندوں پر فضل وکرم فرماتا ہے اور انکے گناہ معاف کرتا ہے۔ حق تعالٰی نے اپنی ذات مقدس کی قسم کھائی ہے کہ اس رات وہ کسی سائل کو خالی نہیں لوٹائے گا سوائے اس کے جو معصیت ونافرمانی سے متعلق سوال کرے۔ خدا نے یہ رات ہمارے لیے خاص کی ہے، جیسے شب قدر کو حضرت رسول اکرمؐ کے لیے مخصوص فرمایا۔ پس اس شب میں زیادہ سے زیادہ حمدوثناءِ الہٰی کرنا اس سے دعاومناجات میں مصروف رہنا چاہیے۔

■اس رات کی عظیم بشارت سلطان العصرحضرت امام مہدیؑ کی ولادت باسعادت ہے جو 255ھ میں بوقت صبح صادق سامرہ میں ہوئی تھی۔

■اس رات کے چند ایک اعمال:
🌷1۔ غسل کرنا جس سے گناہوں میں تخفیف ہوتی ہے۔
🌷2۔ نماز اور دعا واستغفار کے لیے شب بیداری کرے کہ امام زین العابدینؑ کا فرمان ہے کہ جو شخص اس رات بیدار رہے تو اس کے دل کو اس دن موت نہیں آئے گی جس دن لوگوں کے قلوب مردہ ہو جائیں گے۔
اس رات سو رکعت نماز بجالانے کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔
امام جعفر صادقؑ سے ہے کہ نماز عشاء کے بعد دو رکعت نماز پڑھے، پہلی رکعت میں سورہ الحمد اور سورہ کافروں اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد اور سورہ توحید پڑھے۔ نماز کا سلام دینے کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر کہے۔
اس نماز کے بعد ایک دعا ذکر ہوئی ہے۔ یہاں طوالت کے باعث نہیں لکھی جارہی لہذا مفاتیح الجنان یااعمال کی کتب سے دیکھ کر پڑھ لیں۔
🌷3۔ اس رات کا سب سے بہترین عمل امام حسینؑ کی زیارت ہے کہ جس سے گناہ معاف ہوتے ہیں جو شخص یہ چاہتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس سے مصافحہ کریں تو وہ کبھی اس رات یہ زیارت ترک نہ کرے۔ حضرت کی چھوٹی سی زیارت بھی ہے کہ اپنے گھر کی چھت پر جائے اپنے دائیں بائیں نظر کرے پھر اپنا سرآسمان کی طرف بلند کر کے یہ کلمات کہے:
السلام علیک یآاباعبداللہ السلام علیک رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سلام ہو آپ پر اے ابوعبداللہ سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔
کوئی شخص جہاں بھی اور جب بھی امام حسینؑ کی یہ مختصر زیارت پڑھے تو امید ہے کہ اس کو حج وعمرہ کا ثواب ملے گا۔
🌷4۔ شیخ وسید نے اس رات ایک دعا پڑھنے کا ذکر فرمایا ہے جو حضرت امام العصرؑ کی زیارت کے مثل ہے۔ وہ پڑھے۔
🌷5۔ یہ دعا پڑھے کہ حضرت رسول اکرمؑ اس رات یہ دعا پڑھتے تھے:
اللھم اقسم لنا من خشیتک مایحول بیننا وبین معصیتک ومن طاعتک ماتبلغنابہ رضوانک ومن باسماعنا وابصارنا وقوتنا مآاحییتنا واجعلہ الوارث منا واجعل ثارنا علی من ظلمنا وانصرنا علی من عادانا ولاتجعل مصیبتنا فی دیننا ولاتجعل الدنیا اکبرھمنا ولامبلغ علمنا ولاتسلط علینا من لایرحمنا برحمتک یآارحم الرحمین۔
اے معبود ہمیں اپنے خوف کا اتنا حصہ دے جو ہمارے ہماری طرف سے تیری نافرمانی کے درمیان رکاوٹ بن جائے اور فرمانبرداری سے اتنا حصہ دے کہ اس سے ہم تیری خوشنودی حاصل کرسکیں اوراتنایقین عطا کر کہ جس کی بدولت دنیا کی تکلیفیں ہمیں سبک معلوم ہو اے معبود! جب تو ہمیں زندہ رکھےہمیں ہمارے کانوں آنکھوں اور قوت سے مستفید فرما اور اس قائم کو ہماراوارث بنااور ان سے بدلہ لینے والا قرار دے جنہوں نے ہم پر ظلم کیا ہمارے دشمنوں کے خلاف ہماری مدد فرمااور ہمارے دین میں ہمارے لیے کوئی مصیبت نہ لا اور ہماری ہمت اور ہمارے علم کے لیے دنیا کو بڑا مقصد قرار نہ دے اور ہم پراس شخص کو غالب نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے واسطہ تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم والے۔
یہ دعا جامع وکامل ہے پس اسے دیگر اوقات میں بھی پڑھے۔ جیساکہ عوالی اللئالی میں مذکور ہے کہ رسول اکرمؐ یہ دعا ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔
🌷6۔ وہ صلوٰة پڑھے جو ہر روز بوقت زوال پڑھی جاتی ہے
🌷7۔ اس رات دعاء کمیل پڑھنے کی بھی روایت ہوئی ہے۔
🌷8۔ یہ تسبیحات سومرتبہ پڑھے تاکہ حق تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کردے اور دنیاوآخرت کی حاجات پوری فرمائے:
"سبحان اللہ والحمدللہ واللہ اکبر ولآالہ الاللہ"
اللہ پاک تر ہے اور حمد اللہ ہی کی ہے، اللہ بزرگتر ہے اور نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے۔
🌷9۔ اس رات نمازتہجد کی ہر دورکعت کیبعد اور نمازشفع اور وتر کیبعد وہ دعا پڑھے جو شیخ وسید نے نقل فرمائی ہے۔
🌷10۔ اس رات نماز جعفرطیار بجالائے جیسا کہ شیخ نے امام علی رضاؑ سے روایت کی ہے۔

📚 مفاتیح الجنان

https://t.me/islamwitheman/3265
https://t.me/islamwitheman/4211
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹امام العصرؑ کی زیارت کے مثل دعا🌹

■ شیخ و سید نے اس رات یہ دعا پڑھنے کا ذکر فرمایا ہے، جو امام العصرؑ کی زیارت کے مثل ہے اور وہ یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ بِحَقِّ لَیْلَتِنا ھذِہِ وَمَوْلُودِھا وَحُجَّتِکَ وَمَوْعُودِھَا الَّتِی قَرَنْتَ إلی فَضْلِھا فَضْلاً

اے معبود! واسطہ ہماری اس رات کا اور اس کے مولود کا اور تیری حجتؑ اور اس کے موعودؑ کا جس کو تو نے فضیلت پر فضیلت عطا کی

فَتَمَّتْ کَلِمَتُکَ صِدْقاً وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِماتِکَ وَلاَ مُعَقِّبَ لآَِیاتِکَ نُورُکَ الْمُتَٲَلِّقُ

اور تیرا کلمہ صدق و عدل کے لحاظ سے پورا ہوگیا تیرے کلموں کو بدلنے والا کوئی نہیں اورنہ کوئی تیری آیتوں کا مقابلہ کرنیوالا ہے وہ

وَضِیاؤُکَ الْمُشْرِقُ، وَالْعَلَمُ النُّورُ فِی طَخْیائِ الدَّیْجُورِ، الْغائِبُ الْمَسْتُورُ جَلَّ

{مہدی موعودؑ} تیرا نور تاباں اور جھلملاتی روشنی ہے وہ نور کا ستون، شان والی سیاہ رات کی تاریکی میں پنہاں و پوشیدہ ہے اس کی

مَوْلِدُھُ، وَکَرُمَ مَحْتِدُھُ، وَالْمَلائِکَۃُ شُہَّدُھُ، وَاﷲُ ناصِرُھُ وَمُؤَیِّدُھُ، إذا آنَ مِیعادُھُ

ولادت بلند مرتبہ ہے اس کی اصل، فرشتے اس کے گواہ ہیں اور اللہ اس کا مدد گار و حامی ہے جب اس کے وعدے کا وقت آئے گا

وَالْمَلائِکَۃُ ٲَمْدادُھُ، سَیْفُ اﷲِ الَّذِی لاَ یَنْبُو، وَنُورُھُ الَّذِی لاَ یَخْبُو، وَذُو الْحِلْمِ

اور فرشتے اس کے معاون ہیں وہ خدا کی تلوار ہے جو کند نہیں ہوتی اور اس کا ایسا نور ہے جو ماند نہیں پڑتا وہ ایسا بردبار ہے

الَّذِی لاَ یَصْبُو، مَدارُ الدَّھْرِ، وَنَوامِیسُ الْعَصْرِ، وَوُلاۃُ الْاَمْرِ، وَالْمُنَزَّلُ عَلَیْھِمْ

جو حد سے نہیں نکلتا وہ ہر زمانے کا سہارا ہے یہ معصومینؑ ہر عہد کی عزت اور والیان امر ہیں جو کچھ شبِ قدر میں نازل کیا جاتا ہے

مَا یَتَنَزَّلُ فِی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ، وَٲَصْحابُ الْحَشْرِ وَالنَّشْرِ، تَراجِمَۃُ وَحْیِہِ، وَوُلاۃُ ٲَمْرِھِ

انہی پر نازل ہوتا ہے وہی حشر و نشر میں ساتھ دینے والے اس کی وحی کے ترجمان اور اس کے امر و نہی

وَنَھْیِہِ ۔ اَللّٰھُمَّ فَصَلِّ عَلَی خاتِمِھِمْ وَقائِمِھِمُ الْمَسْتُورِ عَنْ عَوالِمِھِمْ ۔ اَللّٰھُمَّ وَٲَدْرِکْ

کے نگران ہیں اے معبود! پس ان کے خاتم اور ان کے قائم پر رحمت فرما جو اس کائنات سے پوشیدہ ہیں اے معبود! ہمیں اس کا زمانہ

بِنا ٲَیَّامَہُ وَظُھُورَھُ وَقِیامَہُ، وَاجْعَلْنا مِنْ ٲَ نْصارِھِ، وَاقْرِنْ ثٲْرَنا بِثَٲْرِھِ، وَاکْتُبْنا

اس کا ظہور اور قیام دیکھنا نصیب فرما اور ہمیں اس کے مددگاروں میں قرار دے ہمارا اور اس کا انتقام ایک کردے اور ہمیں اس کے

فِی ٲَعْوانِہِ وَخُلَصائِہِ، وَٲَحْیِنا فِی دَوْلَتِہِ ناعِمِینَ، وَبِصُحْبَتِہِ غانِمِینَ ، وَبِحَقِّہِ

مددگاروں اور مخلصوں میں لکھ دے ہمیں اسکی حکومت میں زندگی کی نعمت عطا کر اور اس کی صحبت سے بہرہ یاب فرما اس کے حق میں قیام کرنے

قائِمِینَ، وَمِنَ السُّوئِ سالِمِینَ، یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ الْعالَمِینَ،

والے اور برائی سے محفوظ رہنے کی توفیق دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور حمد اللہ ہی کیلئے ہے جو جہانوں کا پروردگار ہے

وَصَلَواتُہُ عَلَی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَالْمُرْسَلِینَ وَعَلَی ٲَھْلِ بَیْتِہِ الصَّادِقِینَ

اور اس کی رحمتیں ہوں ہمارے سردار محمدؐ پر جو نبیوں اور رسولوں کے خاتم ہیں اور انکے اہل پر جو ہر حال میں سچ بولنے والے ہیں اور ان کے

وَعِتْرَتِہِ النَّاطِقِینَ، وَالْعَنْ جَمِیعَ الظَّالِمِینَ، وَاحْکُمْ بَیْنَنا وَبَیْنَھُمْ یَا ٲَحْکَمَ الْحاکِمِینَ۔

اہل خاندان پر جو حق کے ترجمان ہیں اور لعنت کرتمام ظلم کرنے والوں پر اور فیصلہ کر ہمارے اور ان کے درمیان اے سب سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والے۔

📚 مفاتیح الجنان

https://t.me/islamwitheman/3279
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌷امام صادقؐ کی تعلیم کردہ دعا🌷

■ شیخ نے اسماعیل بن فضل ہاشمی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ امام جعفر صادقؐ نے پندرہ شعبان کی رات کو پڑھنے کیلئے مجھے یہ دعا تعلیم فرمائی:

اَللّٰھُمَّ ٲَنْتَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ الْخالِقُ الرَّازِقُ الْمُحْیِی الْمُمِیتُ الْبَدِیئُ

اے معبود! تو زندہ وپائندہ، بلندتر، بزرگتر خلق کرنے والا، رزق دینے والا، زندہ کرنے والا، موت دینے والا، آغاز کرنے

الْبَدِیعُ لَکَ الْجَلالُ وَلَکَ الْفَضْلُ وَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الْمَنُّ وَلَکَ الْجُودُ وَلَکَ الْکَرَمُ

اور ایجاد کرنے والا ہے تیرے لیے جلالت اور تیرے ہی لیے بزرگی ہے تیری ہی حمد ہے اور تو ہی احسان کرتا ہے اور تو ہی سخاوت والا ہے

وَلَکَ الْاَمْرُ، وَلَکَ الْمَجْدُ، وَلَکَ الشُّکْرُ، وَحْدَکَ لا شَرِیکَ لَکَ، یَا واحِدُ یَا

تو ہی صاحب کرم اور تو ہی امر کا مالک ہے تو ہی شان والا اور تو ہی لائق شکر ہے تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے اے یکتا، اے

ٲَحَدُ یَا صَمَدُ یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُواً ٲَحَدٌ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ

یگانہ، اے بے نیاز، اے وہ جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہوسکتا ہے حضرت محمدؐ اور آل محمدؑ

آلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاکْفِنِی مَا ٲَھَمَّنِی وَاقْضِ دَیْنِی، وَوَسِّعْ عَلَیَّ فِی

پر رحمت فرما اور مجھے بخش دے مجھ پر رحمت فرما کٹھن کاموں میں میری کفایت فرما میرا قرض ادا کردے میرے رزق میں

رِزْقِی، فَ إنَّکَ فِی ہذِھِ اللَّیْلَۃِ کُلَّ ٲَمْرٍ حَکِیمٍ تَفْرُقُ، وَمَنْ تَشائُ مِنْ خَلْقِکَ تَرْزُقُ،

کشائش فرما کہ تو اسی رات میں ہر حکمت والے کام کی تدبیر کرتا ہے اور اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے رزق و روزی دیتا ہے،

فَارْزُقْنِی وَٲَنْتَ خَیْرُ الرَّازِقِینَ، فَ إنَّکَ قُلْتَ وَٲَ نْتَ خَیْرُ الْقائِلِینَ النَّاطِقِینَ

پس مجھے بھی رزق دے کیونکہ تو ہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے یقینا یہ تیرا ہی فرمان ہے اور تو بہتر ہے سب کہنے والوں بولنے

وَاسْٲَلُوا اﷲَ مِنْ فَضْلِہِ فَمِنْ فَضْلِکَ ٲَسْٲَلُ وَ إیَّاکَ قَصَدْتُ، وَابْنَ نَبِیِّکَ اعْتَمَدْتُ،

والوں میں کہ مانگو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل میں سے پس میں تیرے فضل کا سوال کرتاہوں اور بس تیرا ہی ارادہ رکھتا ہوں تیرے

وَلَکَ رَجَوْتُ، فَارْحَمْنِی یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔

نبیؐ کے فرزند کو اپنا سہارابناتا ہوں اور تجھی سے امید رکھتا ہوں پس مجھ پر رحم فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

📚 مفاتیح الجنان

https://t.me/islamwitheman/3280
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 ولادت باسعادت امام زمانہ عج 🌹

امام العصروالزمان عج کی ولادت باسعادت آپ سب کو بہت بہت مبارک ھو۔ خداوندمتعال امام العصر علیہ السلام کا ظہور جلد فرمائے۔

امام زمانہ عج کاحلیہ مبارک کتاب اکمال الدین میں شیخ صدوق فرماتے ہیں کہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاارشاد ہے کہ امام مہدی شکل وشباہت، خلق وخلق، شمائل وخصایل، اقوال وافعال میں میرے مشابہہ ہوں گے۔

آپ کے حلیہ کے متعلق علماٴ نے لکھا ہے کہ آپ کارنگ گندم گون، قد میانہ ہے۔ آپ کی پیشانی کھلی ہوئی ہے اور آپ کے ابرو گھنے اور باہم پیوستہ ہیں۔ آپ کی ناک باریک اور بلند ہے آپ کی آنکھیں بڑی اور آپ کا چہر ہ نہآیت نورانی ہے۔ آپ کے داہنے رخسار پر ایک تل ہے ”کانہ کوکب دری“ جوستارہ کی مانند چمکتا ہے، آپ کے دانت چمکدار اور کھلے ہوئے ہیں۔ آپ کی زلفیں کندھوں پر پڑی رہتی ہیں۔ آپ کا سینہ چوڑا اور آپ کے کندھے کھلے ہوئے ہیں آپ کی پشت پر اسی طرح مہر امامت ثبت ہے جس طرح پشت رسالت مآب پرمہرنبوت ثبت تھی۔

📚 حوالہ جات
اعلام الوری، ص۲۶۵۔ وغایۃ المقصود، جلد۱، ص ۶۴۔ ونورالابصار، ص۱۵۲۔

https://t.me/islamwitheman/3271
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 یکم اپریل فول ڈے 🔷

بہت سے رسم و رواج ایسے ہیں جن کا ہماری تہذیب و ثقافت سے کوئی تعلق نہیں نہ ترقی کا دارومدار اس پر ہے اور نہ اخلاقی لحاظ سے ان کی کوئی تک بنتی ہے جیسے ویلنٹائن ڈے بسنت اور اپریل فول ان میں سے آپ کسی کے بهی پس منظر میں چلے جائیں تو حیران اور ششدر رہ جائیں گے.

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اپریل فول کس واقعے کی یاد میں منایا جاتا ہے اس کی تاریخ اور پس منظر سے آپ حواس باختہ ہو جائیں گے.

مختصر یہ کہ اسپین پر عیسائیوں نے قبضہ کے بعد مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہا دیں قتل وغارت سے تھک کر مسلمانوں کا جلد از جلد خاتمہ کرنے کے لیے بادشاہ فرڈی نینڈ نے شاطرانہ چال چلتے ہوئے اعلان کروایا..
کہ یہاں مسلمانوں کی جان محفوظ ہے اور نہ مال اس لیے ہم نے انہیں ایک اور اسلامی ملک میں بسانے کا فیصلہ کیا ہے جو مسلمان وہاں جانا چاہتے ہیں حکومت انہیں بذریعہ بحری جہاز بهجوا دے گی.

یہ سن کر لاتعداد مسلمان جہاز پر سوار ہو گئے سمندر کے بیج جاکر فرڈی نینڈ کے گماشتوں نے جہاز میں سوراخ کر دیا اور خود حفاظتی کشتیوں کے ذریعے بچ نکلے چشم زدن میں پورا جہاز مسافروں سمیت غرق ہو گیا.
اس پر عیسائی دنیا بڑی خوش ہوئی اور مسلمانوں کو بےوقوف بنانے پر بادشاہ کو زبردست داد دی اس دن یکم اپریل تها فرڈی نینڈ کی شرارت اور مسلمانوں کو ڈبو دینے کی یاد میں مغربی دنیا میں یکم اپریل فول منایا جاتا ہے.

 اپریل فول والی رسم کی وجہ سے ہر سال ہزاروں افراد تکلیف اور پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں..
گزشتہ سال کے دو چار واقعات ملاخطہ فرمائیں جو کہ صرف اپریل فول کی وجہ سے پیش آئے ہیں   یہ یکم اپریل کی ایک نیم گرم سہ پہر کا ذکر ہے کہ خالد کو اس کے کسی دوست نے فون کر کے بےوقوف بنایا کہ آپ جلدی گھر آئیں کیونکہ گھر میں ڈکیتی کی واردات ہو رہی ہے خالد نے فون رسیو کرنے کے بعد آؤ دیکھا نہ تاؤ پولیس کو اطلاع دی کہ فلاں جگہ میرے گھر میں ڈاکو سامان لوٹ رہے ہیں آپ سے مدد کی فوری درخواست ہے جب چند ہی منٹ بعد خالد پولیس کے ہمراہ اپنے گھر پہنچا تو ان کے گھر والے بڑے آرام سے شام کی چائے نوش فرما رہے تھے اس نے فوراً اپنے دوست کو فون کیا تو دوسری طرف سے اس کے دوست نے فون رسیو کرتے ہوئے کہا  (اپریل فول)
یہ ایک واقعہ بطور نمونہ پیش کیا گیا اور نجانے اس جیسے کتنے واقعات هیں جس کا سبب صرف جھوٹ اور جھوٹا مذاق ہے جس کے ذریعے سادہ لوح افراد کے  جدید تعلیم اور مغربی کلچر کے دلدادہ نوجوان تکلیف کا باعث بنتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ شریعت کے اعتبار سے بھی ایسا مذاق ممنوع ہے کیونکہ جھوٹ دهوکہ دہی کسی کا مزاق اڑانا حرام ہے..

قرآن مجید کی سورت حجرات میں آیا ہے کہ.. "اے ایمان والو کسی کا مزاق نہ اڑاؤ ممکن ہے وہ تم سے اچھا ہو."

ہمیں تہذیبی اور اخلاقی لحاظ سے پوری طرح آزادانہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ یکم اپریل کے دن کسی مسلمان کو بےوقوف بنا کر اس کو تکلیف میں مبتلا کرنا درست ہو سکتا ہے ایک مسلمان کا دوسرے کے ساتھ جھوٹ بول کر ایسا سنگین مذاق کرنا جس میں قیمتی جان جانے کا بھی اندیشہ ہو اگر نہیں تو پھر ہمیں ان تمام رسم و رواج کو چھوڑنے پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور ابھی سے ان کے آگے آہنی رکاوٹوں سے مضبوط بند باندھنا ہوگا ورنہ ہماری آنے والی نسلیں ان پر اسی طرح عمل پیرا ہوں گی جیسے ہمارے اسلاف اپنے مذہبی اور شرعی احکامات پر عمل پیرا تھے ابھی سے ہمیں اپنے معاشرے سے ان تمام رسموں کو ختم کرنا ہوگا جو آگے چل کر ایک ناسور کی شکل میں تبدیل ہو جائیں   اس دن کسی کو ایسا فون کرنے سے پہلے حادثہ کی اطلاع دینے سے پہلے کسی پر گندگی پهنیکنے سے پہلے اپریل فول کی ابتدا اور انجام کے بارے میں ہزار بار سوچنا ہوگا کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی مزاحیہ اطلاع سے کوئی زندگی ہار جائے اور آپ اس جان لیوا مذاق پر ہمیشہ پچھتاتے رہیں.

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو نیک ہدایت دے.  آمین

https://t.me/islamwitheman/3283
⭕ ISLAM WITH ENAN ⭕
🔷 اپریل فول یا یوم سچ 🔷

اپریل فول مسلم قوم کو بیوقوف بنانے کا دن ہے اپریل فول یعنی یکم اپریل، یہی وہ دن ہے جب یہودی سازش پوری طرح کامیاب ہوئی اور اسپین کی آخری سلطنت اور اس کا قلعہ (Girnada) گرنات فتح کر لیا گیا، اس دن کو اپریل فول کے طور پر منایا جاتا ہے.
اور اس دن سے شروعات ہوئی اپریل فول منانے کی یہ دن صرف اسپین کی تاریخ کا کالا دن نہیں تھا بلکہ مسلم قوم کے لئے سبق آموز دن تھا مگر ہم آج بھی اس بھول کو دہرا رہے ہیں خود کو اپریل فول بنا رہے ہیں کاش ہم سمجھ پاتے اور اپریل فول منانے کے بجائے اپنے ایمان کو مضبوط کر کے اس طرح کے دنوں کو ایک سبق اور عبرتناک دن کے طور پر لیتے اور یہودی اور عیسائی سازشوں کے جال میں نہ پھنستے.
لہٰذا آج کے اس دن کی حقیقت سے ہم خود بھی واقف ہوں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں تاکہ وہ بھی اس فعل قبیح سے بچ سکیں اور جھوٹ بول کر بے وقوف بنانے سے پرہیز کر سکیں ویسے بھی ہمارے مذہب نے جھوٹ کی بے حد مذمت کی ہے.

اللہ نے قرآن مجید میں جھوٹوں پر لعنت کی ہے لہٰذا جھوٹ بول کر اللہ کی لعنت کا مستحق نہ بنیں.

🌹 کوشش کریں کہ یہ دن یوم سچ میں بدل جائے..

اپریل فول یا یومِ سچ دو نظریے ہیں۔
دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔

اپریل فول یعنی جھوٹ کو رواج دینا.
اپریل فول یعنی دوسروں کو بیوقوف بنانا.
کیا آپ بیوقوف بننا چاہتے ہیں؟
آپ کبھی نہیں چاہتے ہوں گے.
سمجھ لو دوسرا بھی نہیں چاہتا.
کوئی بھی بیوقوف بننا نہیں چاہتا.
تو آئیں اور یہ عزم کریں.
نہ خود بیوقوف بنیں گے.
نہ کسی کو بیوقوف بنائیں گے.
غلط رسموں کی حوصلہ شکنی کریں گے.
رائج جھوٹ کی بجائے سچ بولیں گے. اور یکم اپریل کو یوم سچ کے طور پر منائیں گے.
یومِ سچ ہم آپ کو بتاتے ہیں۔
پورے سال کے جھوٹوں پر معذرت کیجئے، جھوٹی گواہی، تہمت، الزام پر معافی مانگیے۔
آئندہ جھوٹ نہ بولنے کا عزم کیجئے۔
یومِ جھوٹ کو یومِ سچ میں بدلئے ،آخری فتح سچ کی ہی ہو گی۔

https://t.me/islamwitheman/3286
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 جھوٹ سے مکمّل اجتناب 🔷

🌹 رسولِ اکرمؐ نے حضرت ابوذرؓ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا...
(عَنْ اَبِیْ ذَرٍفَیْ وَصِیَةِ النَّبِیِّ لَہ قَالَ) "یَا اَبَاذَرِّمَنْ مَلَّکَ مَا بَیْنَ فُخْذَیْہِ وَمَابَیْنَ لَحْیَیْہِ دَخَلَ الْجَنَّةَ، اِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمَ بِالْکَلْمَةِ فِیْ الْمَجْلِسِ لِیَضْحَکَھُمْ بِھَا فَیَھِوِیْ فِیْ جَھَنَّمَ مَا بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ۔
یَااَبَا ذَرٍ وَیْلُ لِّلَّذِیْ یُحَدِّثُ وَ یَکْذِبُ لِیَضْحِکَ بِہ الْقَوْم وَیْلُ لَّہ یَا اَبَا ذَرٍ مَنْ صَمَتَ نَجٰی فَعَلَیْکَ بِا لصُّمْتِ وَلَا تَخْرَجْنَ مِنْ فِیْکَ کِذْبَةُ اَبَدًا۔
(قُلْتُ) یَارَسُوْلَ اللهِ فَمَا تَوْبَةُ الرَّجُلِ الّذِیْ یَکْذِبُ مُتَعَمِّدًا؟
قَالَ اَلَا ستِغْفَارُ وَ صَلٰواتِ الْخَمْسِ تُغْسَلُ ذٰلِک."َ(1)

ترجمہ:
"اے ابو ذر!
جو شخص اپنی شرم گاہ کو اور اپنی زبان کو حرام سے محفوظ رکھے گا وہ بہشت میں داخل ہوگا۔ جو شخص کسی جگہ لوگوں کو ہنسانے کے لئے ایک جھوٹی بات کہے گا تو وہی جھوٹی بات اس کو جہنّم کی طرف لے جائے گی.
اے ابوذر!
وائے اُس پر جو بات کرتا ہو تو جھوٹ بولتا ہو تاکہ لوگوں کہ ہنساسکے۔ وائے ہو اس پر، وائے ہو اس پر.
اے ابوذر!
جو خاموش رہا نجات پا گیا۔ پس جھوٹ بولنے کی نسبت خاموشی تمھارا فرض ہے اور تمھارے منہ سے کبھی بھی ایک چھوٹا سا جھوٹ بھی نہیں نکلنا چاہیئے.

حضرت ابوذرؓ کہتے ہیں یا رسول الله! جان بوجھ کر جھوٹ بولنے والے شخص کی توبہ کس طرح ہوگی؟
آنحضرتؐ نے جواب دیا:
استغفار اور پانچوں وقت باقاعدہ نماز سے یہ گناہ دُھل جائے گا."

🌹 آنحضرتؐ یہ بھی فرماتے ہیں:
"عَنِ الَّنبِی فِیْ بَیَنِ اِشْراطِ السَّا عَةِ وَیَکُوْنُ الْکِذْبُ عِنْدَھُمْ فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَی الْکَاذِبِ وَلَوْ کَانَ مَازِحًا."(2)

ترجمہ:
"جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو اگرچہ اُس نے مذاق میں جھوٹ کہا ہو۔"

🌹 پیغمبر اکرمؐ یہ بھی فرماتے ہیں:
"عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ)اَنَازَعِیْمُ بَیْتٍ فِیْ اعْلیَ الْجَنَّةِ وَبَیْتُ فِیْ وَسَطِ الْجَنَّہِ وَبَیْتُ فَیْ رِیَاضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَاءَ وَاِنَ کَا نَ مُحِقًا وَلِمنْ تَرَکَ الْکِذْبُ وَاِنْ کَانَ ھَازِلًا وَ لِمْنْ حَسُنَ خَلْقُہ."ُ(3)

ترجمہ:
"میں ضمانت دیتا ہوں کہ جنت کے اعلیٰ ترین درجے پر ایک گھر ہر ایسے شخص کو دلواوٴں گا، جو لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرے اگرچہ وہ حق پر ہو ۔ اور جنت کے درمیانی ددرجے میں ایک گھر ہر ایسے شخص کو دلاوٴں گا جو جھوٹ سے پرہیزکرے، اگرچہ وہ مذاق میں ہوا ور جنّت کے باغ میں ایک گھر ہر ایسے شخص کو دلواوٴں گا جو اچّھے اخلاق والا ہو۔"

🌹 حضرت علیؑ فرماتے ہیں:
"لَا یَحَجِدُ عَبْدُ طَعْمَ الْاِیْمَانِ حَتَّی یَتْرُکَ الْکِذْبُ جِدَّہ وَھَزْلَہ."(4)

ترجمہ:
"کوئی بندہ اُس وقت تک ایمان کا ذائقہ چکھ نہیں سکتا جب تک وہ جھوٹ سے پرہیز نہ کرے، خواہ وہ سنجیدگی سے ہو یا مذاق میں ہو ۔"

🌹 حضرت علیؑ ہی سے مروی ہے:
"لَا یَسْلَحُ الْکِذْبُ جِدُّ وَ لَا ھَزْلُ وَلَآاَنْ یَّعِدَاَحَدُکُمْ صَبِیَّہ ثُمَّ لَا یَفِیْ لَہ اِنَّ الْکِذبَ یْھِدیْ اِلیٰ الْفُجُوْرُیَھْدِیْ اِلیٰ النَّارِ."(5)

ترجمہ:
"جھوٹ میں بہتری نہیں ہے خواہ وہ سنجیدگی سے ہو یا مذاق میں۔ اپنے چھوٹے بچّے سے بھی ایساوعدہ نہیں کرنا چاہیے جسے پورا کرنے کا ارادہ نہ ہو۔ بے شک جھوٹ آدمی کو بے باکی سے بڑے بڑے گناہ کرنے پر اُکسادیتاہے اور وہ بڑے بڑے گناہ آدمی کو جہنّم میں پہنچادیتے ہیں۔"

🌹 حضرت امام زین العابدینؑ فرماتے ہیں:
"اِتَقُوا لْکِذْبَ، اَلصَّغِیْرَمِنْہُ وَالْکَبِیْرَ فِیْ کُلِّ جِدٍّوَّھَزْلٍ."(6)

ترجمہ:
"جھوٹ سے پرہیز کرو، خواہ وہ چھوٹاہو یا بڑا، خواہ وہ سنجیدگی سے ہو یا مذاق میں۔"

■ مذاق میں جھوٹ بولنا عام حالات میں گناہ تو ہے لیکن گناہِ کبیرہ نہیں ہے ۔ البتہ اگر مذاق میں جھوٹ بولنے سے کسی موٴمن کا دل ٹوٹ جاتا ہو، اس کو اذّیت پہنچتی ہو، جسمانی زحمت کا سامناکرنا پڑتا ہو یا اس کی بے عزتی ہوتی ہو تواِن صورتوں میں مذاق میں بھی جھوٹ بولنا گناہِ کبیرہ بن جاتا ہے.

📚 حوالہ جات
1)وسائل الشیعہ.
2) کتاب جہاد.
3) کتاب "خصال"
4) کافی.
5) وسائل الشیعہ.
6) کافی.

https://t.me/islamwitheman/3284
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👹 کرونا وائرس کی تیسری لہر 👹

سعودی عرب اندرون اور باھر پروازیں بند۔
تنزانیہ مکمل لاک ڈاؤن۔
برازیل اپنے سب سے خطرناک باب میں ڈوب گیا۔
اسپین نے مارچ 2021 تک ہنگامی حالات میں توسیع کا اعلان کیا ھے۔
برطانیہ نے ایک ماہ کی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔
فرانس 2 ہفتے
جرمنی 4 ہفتوں کے لئے مکمل کرفیو
اٹلی مکمل لاک ڈاؤن
شنجن = پورا یورپ بند
آسٹریلیا = مکمل لاک ڈاؤن
کینیڈا = ٹوٹل لاک ڈاؤن

ان ممالک نے اس بات کی تصدیق کی ھے کہ
۔۔۔ " تیسری لہر " ۔۔۔ پہلے سے کہیں زیادہ مہلک ھے لہذا ہمیں بہت محتاط رہنا چاہئے اور تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

اگر ھم ۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا ھے ۔۔۔ کی پالیسی پر چلتے رھیں گے تو حالات قابو سے باھر هو سکتے ھیں۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تیسری لہر پہلی کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ھے ، جیسا کہ 1917 سے 1919 تک سپانش فلو کے ساتھ تھا اور لاکھوں افراد ہلاک ھوگئے تھے۔

اپنی اور اپنی فیملی کی حفاظت کریں۔
ماسک پہنیں ، مناسب فاصلہ رکھیں۔

تیز بخار، کھانسی، شدید جسم درد، منہ کا کڑوا پن اور سونگھنے، ذائقے کی حس ختم ہونے جیسی علامات تقریباً پورے پاکستان میں پھیل چکی ہیں۔ اپنی حفاظت کریں۔

1- ٹھنڈے پانی سے پرہیز کریں۔
2- برف کا استعمال مکمل طور پر بند کردیں۔
3- جوشاندہ پئیں۔
4- سادہ گرم پانی کا بھاپ لیں۔
5- انڈے کھائیں۔
6- انجیر کھائیں۔
7- بادام کھائیں۔
8- لونگ، الاچی، دارچینی کا قہوہ پئیں۔
9- مٹن سوپ پئیں، کالی مرچ ادرک، ہلدی ڈال کر۔
10- دیسی مرغی کا سوپ پئیں، کالی مرچ، ادرک، ہلدی ڈال کر۔
11- کیلشیم کسی بھی صورت میں لازمی لیں۔
12- پانی کا استعمال زیادہ کریں۔

ﷲ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹیں دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔

👹 وائرس کا حملہ آور موت کے امکان
https://t.me/islamwitheman/2277

🔷 کرونا وائرس اور ماہر نفسیات
https://t.me/islamwitheman/2282

🔷 قاسم علی شاہ کی باتیں
https://t.me/islamwitheman/2283

🔷 خوف کا زہر
https://t.me/islamwitheman/2286

🔷 دہشت کا اثر
https://t.me/islamwitheman/2287

🔷 سات آیات مبارکہ دفع وبا کے لیے
https://t.me/islamwitheman/2292

🔷 کرونا وائرس کا پی ایچ
https://t.me/islamwitheman/2293

🌹 قوت مدافعت بڑھانے والی سبزیاں
https://t.me/islamwitheman/2295

🌹 لمبا سجدہ اور مختلف بیماریاں
https://t.me/islamwitheman/2297

🌹 ہاتھوں کا دھونا
https://t.me/islamwitheman/2337

🔶 موت سے خوف
http://t.me/islamwitheman/2340

🌺 ہمیشہ باوضو رہنے کے فائدے
http://t.me/islamwitheman/2342

👹 کرونا وائرس کی تیسری لہر
https://t.me/islamwitheman/3291
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 امام العصرؑ(عج) اور روزِ جمعہ 🌹

جمعہ حضرت صاحب الزمانؑ (عج) کا دن ہے اور انہیں سے منسوب ہے اور یہ وہی دن ہے جس دن آپ ظہور فرمائیں گے آپ کی زیارت یہ ہے۔۔

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا حُجَّۃَ اللّهِ فِی ٲَرْضِہِ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ اللّهِ فِی خَلْقِہِ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا نُورَ اللّهِ الَّذِی یَھْتَدِی بِہِ الْمُھْتَدُونَ وَیُفَرَّجُ بِہِ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الْمُھَذَّبُ الْخائِفُ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الْوَلِیُّ النَّاصِحُ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا سَفِینَۃَ النَّجاۃِ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ الْحَیَاۃِ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ، صَلَّی اللّهُ عَلَیْکَ وَعَلَی آلِ
بَیْتِکَ الطَّیِّبِینَ الطَّاھِرِینَ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ عَجَّلَ اللّهُ لَکَ مَا وَعَدَکَ مِنَ النَّصْرِ وَظُھُورِ الْاَمْرِ،
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ ٲَنَا مَوْلاکَ عَارِفٌ بِٲُولاَکَ وَٲُخْرَاکَ ٲَتَقَرَّبُ إلَی اللّهِ
تَعَالَی بِکَ وَبِآلِ بَیْتِکَ وَٲَنْتَظِرُ ظُھُورَکَ وَظُھُورَ الْحَقِّ عَلَی یَدَیْکَ،
وَٲَسْٲَلُ اللّهَ ٲَنْ یُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَٲَنْ یَجْعَلَنِی مِنَ الْمُنْتَظِرِینَ لَکَ وَالتَّابِعِینَ وَالنَّاصِرِینَ لَکَ عَلَی ٲَعْدائِکَ وَالْمُسْتَشْھَدِینَ بَیْنَ یَدَیْکَ فِی جُمْلَۃِ ٲَوْلِیَائِکَ یَا مَوْلایَ یَا صَاحِبَ الزَّمَانِ،
صَلَواتُ اللّهِ عَلَیْکَ وَعَلَی آلِ بَیْتِکَ، ہذَا یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَھُوَ یَوْمُکَ الْمُتَوَقَّعُ فِیہِ ظُھُورُکَ، وَالْفَرَجُ فِیہِ لِلْمُؤْمِنِینَ عَلَی یَدَیْکَ، وَقَتْلُ الْکافِرِینَ بِسَیْفِکَ،
وَٲَ نَا یَا مَوْلایَ فِیہِ ضَیْفُکَ وَجَارُکَ، وَٲَنْتَ یَا مَوْلایَ کَرِیمٌ مِنْ ٲَوْلادِ الْکِرَامِ، وَمَٲْمُورٌ
بِالضِّیافَۃِ وَالْاِجَارَۃِ فَٲَضِفْنِی وَٲَجِرْنِی،
صَلَوَاتُ اللّهِ عَلَیْکَ وَعَلَی ٲَھْلِ بَیْتِکَ الطَّاھِرِینَ۔

ترجمہ:
آپ پر سلام ہو جو خدا کی زمین میں اس کی حجت ہیں، آپ پر سلام ہو جو خدا کی مخلوق میں اس کی آنکھ ہیں، آپ پر سلام ہو جو خدا کے وہ نور ہیں جس سے ہدایت چاہنے والے ہدایت پاتے ہیں اور جس سے مومنوں کو کشادگی ملتی ہے، آپ پر سلام ہو جو نیک طینت ڈرنے والے ہیں، آپ پر سلام ہو اے خیرخواہ و سرپرست، آپ پر سلام ہو اے کشتئ نجات، آپ پر سلام ہو اے چشمہ حیات،
آپ پر سلام ہو، خدا کی رحمت ہو آپؑ پر اورآپکے پاک و پاکیزہ خاندان پر، آپ پر سلام ہو خدا اس امر کے ظہور و نصرت میں جس کا وعدہ اس نے آپ سے کیا ہے، آپؑ پر سلام ہو اے میرے سردار، میں آپ کا غلام ہوں آپ کے آغاز و انجام سے واقف ہوں، میں خدا کا قرب چاہتا
ہوں، آپ کا اور آپکے خاندان کے وسیلے کا انتظا کرتا ہوں، آپکے ظہور اور آپکے ہاتھوں حق کے ظہو ر کا،
اور خدا سے سوال کرتا ہوں کہ وہ محمدؐ و آل محمدؑ پر رحمت فرمائے اور مجھے آپکے انتظار کرنے والوں اور پیروی کرنے والوں اور آپ کے دشمنوں کے مقابل آپکے مددگاروں اور آپکے سامنے شہید ہونے والے آپکے دوستوں میں سے قرار دے۔
اے میرے آقا اے صاحب زماںؑ آپ پر اور آپ کے اہل خاندان پر خدا کی رحمتیں ہوں۔ یہ جمعہ کا دن ہے جوآپ کا دن ہے جس میں آپ کے ظہور اور آپ کے ذریعے مومنوں کی آسودگی کی توقع ہے اور آپ کی تلوار سے کافروں کے قتل کی امید ہے،
اور اے میرے آقا میں آج کے دن آپ کی پناہ میں ہوں اور اے میرے آقا آپ کریم اور کریموں کی اولاد سے ہیں اور مہمان رکھنے اور پناہ دینے پر مامور ہیں بس مجھے مہمان کیجیے اور پناہ دیجئے۔
آپ پر اور آپ کے پاک و پاکیزہ اہل خاندان پر خدا تعالیٰ کی رحمتیں ہوں۔

https://t.me/islamwitheman/3282
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 ﻏَﻴﺒﺖِ ﺻُﻐﺮیٰ اور غَیبتِ کُبریٰ 🌹

ﻏَﻴﺒﺖِ ﺻُﻐﺮیٰ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ: ﺍﻣﺎﻡ ﻣﮩﺪی ﻋﻠﻴﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ کی ﻋﻤﺮ ﺍﺑﮭﯽ ﺻﺮﻑ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺧﻠﻴﻔﮧ ﻣﻌﺘﻤﺪ ﻋﺒﺎسی ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ ﻋﺴﮑﺮی ﻋﻠﻴﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺯﮨﺮ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺷﮩﻴﺪ ﮐﺮﺩﻳﺎ، ﺟﺐ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﻴﮟ ﮐﮩﺮﺍﻡ ﻣﭻ گیا- ﻓﺮﻳﺎﺩ ﻭ ﻓﻐﺎﮞ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯﻳﮟ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮﮔﺌﻴﮟ- ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻳﺎ، ﺑﻨﯽ ﮨﺎﺷﻢ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﮌ ﭘﮍﮮ۔ ﺳﺎﻣﺮﮦ ﻗﻴﺎﻣﺖ ﮐﺎ ﻣﻨﻈﺮ ﭘﻴﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ- ﺍﻣﺎﻡ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﻴﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺧﻠﻴﻔﮧ ﻣﻌﺘﻤﺪ ﻋﺒﺎسی ﮐﻮ ﺧﺒﺮ ﻣﻠﯽ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﺸﻴﻦ کی ﻭﻻﺩﺕ ﮨﻮ چکی ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻴﮟ، ﺧﻠﻴﻔﮧ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﻟﻴﮑﻦ ﺍﻣﺎﻡؑ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﭘﻮﺷﻴﺪﮦ ﮨﻮﮐﺮ ﭘﺮﺩﮦ ﻏَﻴﺒﺖ ﻣﻴﮟ ﺗﺸﺮﻳﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ-

ﻏَﻴﺒﺖِ ﺻُﻐﺮیٰ ﻣﻴﮟ ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﮯ ﻧﺎﺋﺐ:
ﻏَﻴﺒﺖِ ﺻُﻐﺮیٰ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﮩﺪﯼؑ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﺹ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﻴﻌﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻄﻮﻁ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﺍﺭﺳﺎﻝ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﺎﺋﺐِ ﺧﺎﺹ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﻋﻤﺮی ﺗﮭﮯ- ﺁﭖ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﻰ نقی ﻋﻠﻴﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ ﻋﺴﮑﺮی ﻋﻠﻴﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﻣﻌﺘﻤﺪِ ﺧﺎﺹ ﺍﻭﺭ ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺧﺎﺹ ﻣﻴﮟ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ- ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ ﺍﺱ ﻋﻈﻴﻢ ﻣﻨﺰﻟﺖ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮨﻮﺋﮯ- ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﮯ ﺗﻴﺴﺮﮮ ﻧﺎﺋﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻴﻦ ﺑﻦ ﺭﻭﺡ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﮐﯽ ﮐﻨﻴﺖ ﺍﺑﻮﻗﺎﺳﻢ تھی۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﺷﻌﺒﺎﻥ 326 ﮬﺠﺮی ﻣﻴﮟ ﮨﻮئی- ﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻣﺎﻡؑ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﻰ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﺴﻤﺮی ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻣﻨﺼﻮﺏ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﻗﺮﻳﺐ ﺁﻳﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻧﺎﻣﺰﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮎ ﺩﻳﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻴﺎﺑﺖ ﮐﮯ ﺧﺎﺗﻤﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﺍﻥ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﻴﮟ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ:
"ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﺍﮮ ﻋﻠﻰ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ! ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﻋﺎﻟﻢ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﻴﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺑﮭﺎﺋﻴﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺟﺮ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﮮ، ﺗﻤﮩﻴﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﻴﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﭼﮫ ﺭﻭﺯ ﻣﻴﮟ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮ- ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﺎﺕ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺎﺋﻢ ﻣﻘﺎﻡ ﺗﺠﻮﻳﺰ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ- ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻏَﻴﺒﺖِ ﮐُﺒﺮیٰ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺫﻥِ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺑﻐﻴﺮ ﻇﮩﻮﺭ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﻳﮧ ﻇﮩﻮﺭ ﺑﮩﺖ ﻃﻮﻳﻞ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻮ ﮔﺎ-"

ﻏَﻴﺒﺖِ ﮐُﺒﺮیٰ ﻣﻴﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ:
ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﮯ ﭼﻮﺗﮭﮯ ﻧﺎﺋﺐ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻏَﻴﺒﺖِ ﮐُﺒﺮیٰ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺟﻮ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ہی ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺐ ﺗﮏ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﮯ گی۔
ﻏَﻴﺒﺖِ ﮐُﺒﺮیٰ ﻣﻴﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺮﻳﻦ ﻋﻤﻞ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧؑ ﮐﮯ ﻇﮩﻮﺭ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺣﺪﻳﺚ ﻣﻴﮟ ﺁﻳﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ۔۔
"ﺍﻓﻀﻞ ﺍﻻﻋﻤﺎﻝ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺍﻟﻔﺮﺝ"
ﺑﮩﺘﺮﻳﻦ ﻋﻤﻞ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧؑ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔

✍ ﺳﻴﺪ ﺍﻇﮩﺮ ﺣﺴﻴﻦ ﺯﻳﺪی

https://t.me/islamwitheman/3292
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 انتظارِ امامؑ ایک ذمہ داری 🌹

حضرت عیسی علیہ السلام اپنی تبلیغی ذمہ داری ادا کرنے اور جناب رسول خدا (محمد مصطفٰی صلعم) کی آمد کی نوید دے کر پردہ غیبت میں چلے گئے۔....

صدیوں پہ صدیاں گزرتی رہیں.....
انسانی نسلیں, معاشرے, حکومتیں, سرحدیں, رسمیں, لوگوں کا طرزِ زندگی, کھانوں کے ذائقے, گفتگو کےلہجے الغرض سب کچھ تبدیل ہوتا رہا لیکن ایک چیز مسلَّم رہی....
اور وہ تھا آمنہ سلام اللہ علیہا کے لال کی تشریف آوری کا انتظار.....!

اس شخصیت کی آمد کی خبر ہر معاشرے اور ہر قبیلے میں کسی نہ کسی صورت موجود تھی اور انسانیت اپنے اپنے انداز میں اس رہبرِ جہاں کی منتظر تھی....

ایک عیسائی بادشاہ کا حضور صلعم کیلئے ایک بستی (یثرب) کا تعمیر کرانا, حضرت سلمانِ فارسی کا فارس سے روشنی کی تلاش میں عازمِ سفر ہونا اور اسی طرح کی کئی ایک داستانیں یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ انسانیت محوِ انتظار تھی.....

جو لوگ نبئ آخر الزمان صلعم کا انتظار کر رہے تھے اور اسی حالت میں ان کی موت واقع ہوئی وہ یقینا بارگاہ ایزدی سے اجر پائیں گے,
لیکن اس سارے عمل میں قابل فکر یہ بات ہے کہ کتنے منتظر تھے جو کہ انتظار کے دعوے دار تھے لیکن سرکار کی آمد پہ ان کے دشمنوں کی صف میں کھڑے تھے..... جن میں سے ابو عامر (ایک بڑا عیسائی عالم) ایک مثال ہے جو حضور کے عشق میں ہجرت کر کے مدینہ گیا اور منتظر رہا لیکن سرکار کی آمد پر ان کے دشمنوں کی صف میں تھا....

جس طرح عیسی علیہ السلام اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے اور سرکار دو عالم صلعم کی آمد کا اعلان کر کے پردہ نشیں ہوئے اسی طرح سرکار خمتی المرتبت صلعم بھی اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہونے کے بعد ایک عظیم انقلاب اور ایک ھادی کی آمد کی خبر دے کر عازمِ سفر ہوئے اور یوں زمانہ (غیبت کبری کے بعد) ایک دفعہ پھر حالت انتظار میں چلا گیا.....!

جس طرح دنیا کی ہر امت سے سرکارِ خمتی المرتبت صلعم کی نصرت کا وعدہ لیا تھا اسی طرح پردہء غیبت کے بعد اس دنیا کا ہر انسان حضرت مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کی تائید و نصرت کا پابند ہے اور روزِ حشر صرف اور صرف وہی نجات یافتہ ہو گا جو اپنے اس عہد کا پابند رہا. چاہے زمانہء غیبت میں ہوا یا پھر ساعتِ ظہور میں.....!

جیسے کہ نبئ محترم صلعم کی تحریک بہت سے کٹھن اور عملی مراحل سے گزر کر (جس میں زحمتیں, ہجرت, جنگیں شامل ہیں) کامیاب ہوئی.....
اسی طرح سرکارِ حجت عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کی تحریک بھی بہت سے کٹھن اور جنگی مراحل سے گزرے گی تو ہی ایک عالمی انقلاب برپا ہو گا....

لہذا منتظرین پہ یہ واجب ہے کہ تیاری کی حالت میں رہیں....، بلاشبہ اسلامی انقلاب کی سب سے پہلی شرط تزکیہء نفس ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ عملی جہاد اور جسمانی تربیت کے عمل سے گزرنا بھی اشد ضروی ہے تا کہ ہمارا شمار حقیقی ناصران میں ہو سکے.....!

جس طرح پاسداران, حرب اللہ اور دیگر ممالک کے مومنین نے اپنے آپ کو مضبوط کیا ہے تمام ملتِ تشیع کو آخر کار اس روش پہ چلنا ہو گا تو ہی سر بلند و سرخرو ہو سکیں گے وگرنہ.....!

https://t.me/islamwitheman/3293
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 امامؑ كے ظھور میں وجۂ تاخیر 🌹

امام زمانہ عج فرماتے ہیں: "ولَوْ اٴَنَّ اٴشْیٰاعَنٰا (وَ فَّقَہُمُ اللهُ لِطٰاعَتِہِ) عَلَی اجْتِمٰاعٍ مِنَ الْقُلُوبِ فِي الْوَفٰاءِ بِالْعَہْدِ عَلَیْہِمْ لَمٰا تَاٴَخَّرَ عَنْہُمُ الْیُمْنَ بِلِقٰائِنٰا، وَ لَتَعَجَّلَتْ لَہُمُ السَّعٰادَةُ بِمُشٰاہَدَتِنٰا عَلیٰ حَقِّ الْمَعْرِفَةِ وَ صِدْقِہٰا مِنْہُمْ بِنٰا، فَمٰا یَحْبِسُنٰا عَنْہُمْ إِلاّٰ مٰا یَتَّصِلُ بِنٰا مِمّٰا نَكْرَہُہُ وَلاٰ نُوٴْثِرُہُ مِنْہُمْ"۔

✍️ ”اگر ھمارے شیعہ (خدا ان كو اطاعت كی توفیق دے) اپنے عھد و پیمان كو پورا كرنے كی كوشش میں ھمدل ھوں تو پھر ھماری ملاقات كی بركت میں تاخیر نھیں ھوتی، اور ھمارے دیدار كی سعادت جلد ھی نصیب ھوجاتی، ایسا دیدار جو حقیقی معرفت اور ھماری نسبت صداقت پر مبنی ھو، ھمارے مخفی رھنے كی وجہ ھم تك پھنچنے والے اعمال كے علاوہ كوئی اور چیز نھیں ھے جبكہ ھمیں ان سے ایسے اعمال كی امید نھیں ھے“۔

📚احتجاج، ج2، ص315، بحار الانوار، ج53، ص177، ح8۔
۔.....................................

🌴 شرح
🍃 یہ اس خط كے جملے ھیں جس كو امام زمانہ علیہ السلام نے شیخ مفید علیہ الرحمہ كے لئے بھیجا تھا۔ امام علیہ السلام نے اس خط میں شیخ مفید علیہ الرحمہ كو چند سفارشیں كرنے اور اپنے شیعوں كے لئے كچھ احكام بیان كرنے كے بعد اس اھم چیز كی طرف اشارہ كیا جو غیبت كا سبب ھوئی ھے۔ امام علیہ السلام شیعوں كے درمیان خلوص اور ھمدلی نہ ھونے كو اپنی غیبت كا سبب شمار كرتے ھیں۔

🍃 تاریخ كے پیش نظر یہ بات واضح ھے كہ جب تك لوگ نہ چاھیں اور سعی و كوشش نہ كریں تو حق اپنی جگہ قائم نھیں ھوپاتا، اور حكومت اس كے اھل كے ھاتھوں میں نھیں آتی۔ حضرت علی ، امام حسن اور امام حسین علیھم السلام كی تاریخ اس بات پر بہترین دلیل ھے۔ اگر لوگ حضرت علی علیہ السلام كی خلافت پر اصرار كرتے تو پھر آج تاریخ كا ایك دوسرا رخ ھوتا، لیكن اس وقت كے لوگوں میں دنیا طلبی اور خوف و وحشت وغیرہ اس بات كا سبب بنی كہ ھمیشہ تك دنیا والوں مخصوصاً شیعوں كو ظلم و ستم كے علاوہ كچھ دیكھنے كو نہ ملا۔ افسوس كہ ھماری كوتاھی اور ھمارے بُرے كام اس بات كا سبب ھوئے كہ وہ محرومیت اب تك چلی آرھی ھے۔
اس حدیث كے مطابق امام زمانہ علیہ السلام كے ظھور كی تعجیل كے سلسلہ میں ھماری ذمہ داری ھے كہ ھم اپنے اور اپنے رشتہ داروں پر امام علیہ السلام كو مقدم كریں، اور اسلامی احكام كو جاری كریں اور اسلام كی تبلیغ كے ذریعہ دنیا والوں كے سامنے امام زمانہ علیہ السلام كا تعارف كرائیں، اور دلوں كو امام كی طرف متوجہ كریں، تاكہ خدا كی مشیت سے بہت جلد ھی لوگوں میں امام زمانہ علیہ السلام كو قبول كرنے كا زمینہ ھموار ھوجائے۔

🍃 اس حدیث مبارك سے چند چیزیں معلوم ھوتی ھیں:

➊۔ خداوندعالم نے شیعوں سے عھد و پیمان لیا ھے كہ ائمہ معصومین علیھم السلام كی پیروی كریں اور یھی پیروی امام زمانہ علیہ السلام كی ملاقات كے شرف كا سبب ھے۔

➋۔ شیعوں كے بُرے اعمال اپنے امام سے دوری كا سبب بنے ھیں؛ لہٰذا ھمارے نیك اعمال امام زمانہ علیہ السلام سے رابطہ میں موٴثر واقع ھوسكتے ھیں۔

https://t.me/islamwitheman/3294
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 امام مہدیؑ کے لشکر کی تفصیلات 🌹

🔹 سربراۂِ لشکر: لشکرِ مولا امام مہدی عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف کے سربراہ اور نظامِ انتقام کے کلی مالک و مختار مولا ابوالفضل العباسؑ ہیں.

🔹 لشکر کا نعرہ:
مولا امام مہدی عج کے ظہور کے بعد آپ ایک نعرہ ارشاد فرمائیں گے "یا لثارت الحسینؑ"
اور پھر یہی نعرہ لشکر کا ہو گا.

🔹 پرچم:
ایک سرخ رنگ کے پرچم سے خروج شروع ہو گا جس پر "یا لثارۃ الحسینؑ" لکھا ہو گا.
ایک جس پر العزتُ لله لکھا ہو گا.
ایک پرچم پر العظمتُ لله لکھا ہو گا.
ایک پرچم پر البیعة لله (اس پرچم کی دہشت ایک ماہ کے فاصلے سے ظاہر ہو گی) لکھا ہو گا.
اور ایک پرچم پر الرفعة لله لکھا ہو گا.

🔹 جیش الامام المہدی عج:
تین سو تیرہ (313) مرد جرنیل۔
پچاس (50) خواتین جرنیل۔

دس ہزار (10,000) مرد سپاہ سالار۔
اور پندرہ سو ستانوے (1597) خواتین سپاہ سالار۔

تقریباً ایک لاکھ (100,000) مرد ناصرین۔
اور تقریباً سولہ ہزار (16,000) خواتین ناصرہ ہوں گی.

یہ سب کائنات کے سب سے بڑے خوش نصیب ہیں
کیونکہ اولین و آخرین یعنی اسی ہزار آدم کی امتوں میں سے کل یہی منتخب لوگ ہوں گے.

🔹 تین سو تیرہ:
تین سو تیرہ جرنیلوں میں سے عیسٰیؑ خضرؑ، الیاسؑ، اور اویسؑ بھی ہیں.
ایک فرد آلِ فرعون میں سے ہے (مومنِ آل فرعون ع)،
اصحاب کہف،
یوشع بن نون وصی موسٰیؑ
اور اصحابِ علی علیہ السلام و رسول صلعم میں سے چار
سلمان، مقداد، مالکِ اشتر، ابو دجانہ انصاری علیھم السلام.

🔹 تین سو تیرہ جرنیلوں میں سے سب سے زیادہ جرنیل جس ملک کے ہیں وہ سوویت یونین (پرانا روس یعنی بشمول آزاد ہونے والی ریاستوں کے) ہے وہاں سے بتیس (32) جرنیل ہوں گے.
اس کے علاوہ
چار (4) افراد ساداتِ حسني،
بارہ (12) افراد ساداتِ حسيني،
چار (4) افراد اولاد عقیلؑ،
چار (4) افراد حجازِ مکہ سے،
چار (4) افراد بیت المقدس (فلسطین/اسرائیل) سے،
بارہ (12) افراد شام سے،
بارہ (12) افراد یمن سے،
تین (3) افراد آذربائیجان سے،
سات (7) افراد مصر سے،
پانچ (5) افراد ہندوستان (پرانا مہا بھارت) سے،
پانچ (5) افراد ہمدان (کوہ) ایران سے،
سات (7) افراد شیراز، ایران سے،
بارہ (12) افراد کوفہ سے،
سات (7) افراد بصرہ سے،
سات (7) افراد کوہستان سے.

ماخذ:
اثبات الھداۃ ج٣، الملاحم/سید علی بن طاؤس، روضة الواعظین، الغيبه/شيخ طوسي، حدیقةُ الشيعه، غیبتِ نعماني، بحار الأنوار و دیگر کتب.

↩ نوٹ: یہ تمام تعداد غیر حتمی ہے اور وقت پر تبدیل اسی طرح کی جا سکتی ہے، جس طرح کربلا میں غیرِ بنی ہاشم انصار کی جو لسٹ بیتِ ازل میں مرتب ہوئی تھی تو اکہتر (71) کی تھی جس میں یومِ عاشورہ کو ایک فرد (جناب جون علیہ السلام) کا اضافہ کر دیا گیا تھا.

اپنے اپنے مقدر اور عشق کی بات ہے.
آرزوئے ناصرانِ کبریا ہے انتقام
ہر سپاہی ہے جلالِ کبریا کا معجزہ

https://t.me/islamwitheman/3295
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 الله کی رضا اور امامؑ کی رضا 🌹

شیعہ کتب میں روایات میں نقل ہوا ہے کہ امام کی نشانیوں میں ایک یہ ہے کہ اس کی دعا مستجاب ہوتی ہے.
حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
"امام کی دس نشانیاں ہیں اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی دعائیں مستجاب ہوتی ہیں اگر امام دعا کرے تو پہاڑ دو حصوں میں تقسیم ہو جائے."

📚 معانی الاخبار ص35۔
📚 الخصال ج2 ص105۔
📚 عیون الاخبار ص118۔

کیوں امام زمان (عج) اپنے ظھور کی دعا نہیں کرتے تاکہ ان کی دعا مستجاب ہو جائے؟

آئمہ معصومین علیھم السلام فقط اللہ تعالٰی کی ذات کے مطیع اور تابع ہیں، جو اللہ تعالٰی نہیں چاہتا، آئمہ معصومینؑ بھی نہیں چاہتے، اسی وجہ اگر اللہ تعالٰی کا ارادہ ایک خاص زمانہ کے لئے معین ہے تاکہ لوگوں کی آمادگی معلوم ہو جائے، امام علیہ السلام بھی پرردگار کی رضا میں تسلیم ہوں گے اور امام کوئی بھی درخواست اللہ تعالٰی کی مرضی کے خلاف انجام نہیں دیتا.

جیسا کہ حضرت موسٰی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:
"اللہ تعالٰی نے آئمہ معصومینؑ کے ارادوں کو اپنا ارادہ قرار دیا ہے اگر اللہ تعالٰی کی ذات کسی ایک چیز کا ارادہ کرتی ہے تو آئمہ علیھم السلام بھی اسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں. اور آئمہ معصومین علیھم السلام اللہ تعالٰی کے اذن اور رضا کے علاوہ کوئی کام انجام نہیں دیتے۔"

📚 بحار الانوار ج5 ص114.
📚 بصائر الدرجات ج1 ص517.

https://t.me/islamwitheman/3296
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 دورانِ غَیبتِ امامؑ ہماری ذمہ داری 🔷

دورانِ غَیبت میں مؤمنین کی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ اپنے نفس کی اصلاح کے ساتھ ساتھ سماج اور معاشرے کی اصلاح بھی کریں۔ اگر ہر انسان اس ذمہ داری کو سمجھ کر اپنے گھر سے شروع کرے تو یقینا سماج خود بخود سدھر جائے گا، معاشرے سے برائیاں ختم ہو جائیں گی اور نتیجۃ پورا معاشرہ امام زمانہؑ کی حکومت کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو جائے گا۔


✍️ امام باقر علیہ السلام نے دورانِ غَیبت شیعوں کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
"ليعن قويكم ضعيفكم و ليعطف غنيكم على فقيركم ولينصح الرجل اخاه النصيحة لنفسه"(1)
🌿 تم میں سے صاحبان قدرت ضعیفوں کی مدد کریں، غنی اور مالدار فقیروں کی دستگیری کریں اور ہر انسان اپنے بھائی کو مفید نصیحت کرے۔


✍️ خداوند عالم کا اشاد ہے:
«كنتم خير امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنهون عن المنكر...(2)
🌿 تم بہترین امت ہو جسے انسانوں کے لیے خلق کیا گیا ہے (چونکہ) تم نیکی کی ہدایت کرتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو۔۔۔


✍️ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
"ان الامر بالمعروف و النهى عن المنكر سبيل الانبياء و منهاج الصلحاء، فريضة عظيمة بها تقام الفرائض و تامن المذاهب و تحل المكاسب و ترد المظالم و تعمر الارض و ينتصف من الاعداء و يستقيم الامر"(3)
🌿 امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انبیاء کا راستہ اور صلحا کا طریقہ ہے۔ یہ ایک ایسا عظیم فریضہ ہے جس سے فرائض اور واجبات قائم رہتے ہیں، راستے پر امن رہتے ہیں، معیشت حلال ہوتی ہے، مظالم اور فساد کم ہو جاتے ہیں، زمین آباد ہوتی ہے دشمنوں سے انتقام لیا جاتا ہے اور دیگر امور آسانی سے انجام پاتے ہیں۔

یقینا اگر تمام مسلمان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کو فریضہ سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوں تو معاشرہ ہدایت کے راستوں پر گامزن ہو جائے اور حکومت قائم آل محمد (ص) کے لیے زمینہ فراہم ہو جائے گا۔

📚 حوالہ جات
1) بشارة المصطفى لشيعة المرتضى، عماد الدين طبرى الآملى الكنجى، چاپ نجف اشرف، ص 113.
2) آل عمران/110.
3) الكافى، ج 5، ص 56؛ التهذيب طوسى، ج 6، ص 180 و تحف العقول، ص 227.

https://t.me/islamwitheman/3297
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 اطاعتِ امامؑ 🌹

امامؑ کی معرفت، محبت، عہد اور اطاعت، امام کے ساتھ عشق و محبت کی جیتی جاگتی تصویر ہوتی ہے، جوامامؑ کا جتنا زیادہ عاشق اور محب ہوگا وہ ان کا اتنا ہی زیادہ مطیع اور فرمانبردار ہوگا۔

سورہ آلِ عمران آیت۳۱ میں ہے کہ۔۔
’’قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ ‘‘
اے رسولؐ! آپ کہہ دیں کہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو…

یعنی محبت، اطاعت کا تقاضا کرتی ہے، جیسا کہ امالی شیخ طوسیؒ صفحہ۹۷ میں ہے کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں؛
’’وَاللّٰہِ لَاتَنَالُ وِلَایَتَنَا اِلَّابِالْعَمَلِ‘‘
خدا کی قسم صرف عمل ہی کے ساتھ ہماری ولایت حاصل ہوتی ہے۔

اسی طرح کافی جلد اول ص۴۰۵ میں آپؑ ہی سے سوال کیا گیا کہ:
’’مَا حَقُّ الْاِمَامِ عَلیَ النَّاسِ؟‘‘
امامؑ کا لوگوں پر کیا حق بنتا ہے؟
تو فرمایا:
’’حَقُّہٗ عَلَیْہِمْ اَنِ اسْمَعُوا لَہُ وَاَطِیْعُوہ‘‘
امام کا حق لوگوں پر یہ ہے کہ وہ امام کی باتوں کو سنیں اور اُن پر عمل کریں۔

بحار جلد۲ ص۸۰ میں ہے کہ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
’’قَوْمٌ یَزْعَمُونَ اَنِّیْ اِمَامُہُمْ وَاللّٰہِ مَااَنَا لَہُمْ بِاِمَامِہِمْ لَعْنَھُمُ اللّٰہُ کُلَّمَا سَتَرْتُ سِتْرا ھَتَکُوہُ اَقُوْلُ کَذَاوَکَذَا، فَیَقُوْلُوْنَ ’’ یَعْنِی کَذَا وَکَذَا‘‘ اِنَّمَا اَنَا اِمَامُ مَنْ اَطَاعَنِی‘‘
کچھ لوگ گمان کرتے ہیں کہ میں ان کا امام ہوں حالانکہ میں خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں میں ہر گز ان کا امام نہیں ہوں۔ خدا ان پر لعنت کرے میں نے جس بات کو خفیہ رکھنا چاہا انہوں نے فاش کردیا___میرے اعمال کے برعکس عمل انجام دیتے ہیں _میں کچھ اور بات کہتا ہوں اور وہ کہتے ہیں امامؑ نے اس طرح کہا ہے_میری باتوں کی اپنی خواہشات کے مطابق تفسیر کرتے ہیں ___میں تو صرف ان لوگوں کا امام اور پیشوا ہوں جو میرے تابع فرمان اور اطاعت گزار ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ روایات میں ’’حَیَّ عَلٰی خَیْرِ الْعَمَل‘‘ میں ’’خَیْرالْعَمَل‘‘ سے مراد اہلِبیتؑ کی ولایت ہے اور بحارالأنوار جلد۴۳ ص۴۴ میں اسکی اسی طرح تفسیر کی گئی ہے، کیونکہ ایسی ولایت ہی موجب قبول عمل ہوتی ہے اور وہ بھی عام عمل نہیں بلکہ خیرالعمل ہوتا ہے اور اسی اطاعت اور خیرالعمل کے زیرِسایہ ظہور کی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں، ہرقسم کے حسن اور زیبائی کا ظہور، نصرت الٰہی اور الطاف وعنایاتِ پروردِگار سے بہرہ مندی کا موجب ظہور۔

خداوندِعالم کے نزدیک اسکی محبوبیت کا ظہور، غیبی امدادوں کے حصول کا ظہور، بہشت تک رسائی کا موجب ظہور، غرض خداوندِعالم کی بارگاہ سرخرو اور سرفراز ہوکر پہنچنے کا ذریعہ ظہور۔

اطاعتِ امامؑ یعنی امام سے کئے ہوئے عہدو پیمان پر عمل کرنے کا مکمل عزم۔ اور اپنے عہدوپیمان کئے جانے والے اعمال کی مکمل اوردائمی نگرانی۔

اطاعتِ امامؑ یعنی خود کو امامؑ اور اس کی خواہشات کے مطابق عمل کرنے کیلئے وقف کردینا، بقول حضرت امام جعفر صادقؑ؛
’’رَحِمَ اللّٰہُ عَبْداً حَبَسَ نَفْسَہٗ عَلَیْنَا‘‘
خدا اس بندے پر رحم کرے جو خود کو ہمارے لئے وقف کردیتا ہے اور ہرمرحلہ پر اپنے امامؑ کی رضا اور خوشنودی کو پیشِ نظر رکھکر قدم اٹھاتا ہے جو درحقیقت خداوندِعالم کی رضا اور خوشنودی ہوتی ہے۔

اطاعتِ امامؑ یعنی معاشرے میں عدل وانصاف کا اجراء اور لوگوں میں اسے قبول کرنیکا شعور اجاگرکرنا۔

اطاعتِ امامؑ یعنی معاشرے کی اصلاح کیلئے تگ و دو کرنا۔ اور امامؑ کی رضا اور خواہشات کو زندگی کے ہر شعبے میں جلوہ گر کرنا خواہ گھر ہو یا تعلیمی ادارہ کوچہ وبازار ہو یاعوامی ماحول!

اطاعتِ امامؑ یعنی معصومؑ کی حکومت و ولایت کو فکر واحساس اور اقدام وعمل میں عملی طور پر نافذ کرنا۔

اطاعتِ امامؑ یعنی ایک ایسے عادلانہ اورمنصفانہ نظامِ حکومت کیلئے ایک معصوم امامؑ کے زیرِسایہ قیام کیلئے سعی وکوشش کہ جس کی رہنمائی امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف نے کی ہے اور ہم ماہِ رمضان مبارک کی ہرشب دعائے افتتاح کے نام سے جس کی تلاوت کرتے ہیں اورمصباح المؤمنین اورمفاتیح الجنان میں بھی درجہے:
اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَرْغَبُ۔۔۔الخ
ترجمہ:
باارِالٰہا! ہم تجھ سے ایسی کرم پرور اور پر برکت حکومت کی رغبت رکھتے ہیں جسکے ذریعہ تو اسلام اور اہلِ اسلام کو عزت عطا فرمائے اور نفاق اور منافقین کو ذلیل ورسوا کرے اور اس حکومت میں تو ہمیں اپنی اطاعت کیلئے دعوت دینے والا اور اپنے راستے کی طرف ہدایت کیلئے قائد اور رہنما قرار دے اور اسکے ذریعہ ہمیں دنیا اور آخرت کی عزت اور کرامت عطافرما۔
اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے نبیؐ کی عدم موجودگی کی اپنے ولی کے غائب ہونے کی، اپنے دشمنوں کی کثرت کی، اپنی تعداد کی قلت کی، فتنوں کی سختی کی اور اپنے اوپر حوادثاتِ زمانہ کی یلغار کی شکایت کرتے ہیں۔

📚 نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف محمد علی فاضل.

https://t.me/islamwitheman/3298
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 قرآن اور حضرت امام مہدیؑ 🌹

حضرت مہدی علیہ السلام، آخری زمانہ میں منجی عالم کے ظہور، صالحین کی حکومت اور ان پر کامیابی و کامرانی کے سلسلہ میں قرآن مجید میں بہت سی آیات کا تذکرہ ہوا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ھے:
”ہم نے توریت کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب زبور میں لکھا ہے کہ آخرکار صالح افراد اس زمین کے مالک ہوں گے۔“
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ”شائستہ افراد“ کے سلسلہ میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد آخری زمانے میں حضرت مہدی علیہ السلام کے اصحاب ہیں۔“
ہم قر آن میں یہ بھی پڑھتے ہیں:
ہم چاہتے ہیں کہ مستضعفین کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں، یعنی ان کو لوگوں کا پیشوا اور اس زمین کا مالک بنا دیں۔“

بسم الله الرحمٰن الرحیم انا انزلناہ فی لیلة القدر
ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا، اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس رات فرشتے اور روح القدس (جبرائیل) خدا کی اجازت سے تمام احکام اور تقدیروں کو لے کر نازل ہوتے ہیں یہاں تک سفیدی سحر نمودار ہو جائے۔
چنانچہ سورۂ قدر کی آیات سے واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ ہر سال ایک شب ایسی آتی ہے کہ جو ہزار مہینوں سے افضل اور بہتر ہوتی ہے۔

وہ احادیث جو اس سورہ اور سورۂ دخان کی ابتدائی آیات کی تفسیر کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں، سے یہی سمجھ آتا ہے کہ شب قدر میں فرشتے پورے ایک سال کے مقدرات کو ”زمانہ کے ولی مطلق“ کی خدمت میں لے کر آتے اور ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ پیغمبر اسلامؐ کے زمانہ میں فرشتوں کے نازل ہونے کی جگہ آپؐ کا گھر تھا۔ جب ہم معرفت قرآن کے سلسلہ میں اس نتیجہ تک پہنچتے ہیں کہ ”شب قدر“ ہر سال آتی ہے تو ہمیں اس بات کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ ”صاحب شب قدر“ کو بھی ہمیشہ موجود ہونا چاہئے ورنہ پھر فرشتے کس پر نازل ہوتے ہیں؟ چونکہ ”قرآن کریم“ قیامت تک ہے اور ”حجت“ ہے اسی طرح صاحب شب قدر کا وجود بھی حتمی ہے اور وہ بھی”حجت“ ہے۔ اس زمانہ میں حجت خدا، حضرت ولی عصر علیہ السلام کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔
چنانچہ حضرت امام رضاؑ فرماتے ہیں: ”امام زمین پر خدا کا امین ہوتا ہے اور لوگوں کے درمیان حجت خدا ہوتا ہے، آبادیوں اور زمینوں پر خدا کا خلیفہ ہوتا ہے۔“

مشہور اسلامی ریاضی دان اور معروف فلسفی و متکلم خواجہ نصیر الدین طوسی فرماتے ہیں:
”خردمند افراد کے لئے یہ بات واضح ہے کہ لطفِ الٰہی کا انحصار امامؑ کی تعیین میں ہے۔ امام کا وجود بجائے خود ایک لطفِ الٰہی ہے، امور کی انجام دہی اس کا دوسرا لطف ہے اور اس کی غَیبت خود ہم سے مربوط ہے۔“

https://t.me/islamwitheman/3299
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕