ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌹 ولادت باسعادت شہزادہ علی اکبرؑ 🌹

علی بن حسین بن علی بن ابیطالب (33ھ-61ھ)، علی اکبر کے نام سے مشہور امام حسین علیہ السلام کے فرزند اور واقعہ عاشورا کے ہاشمی  شہداء میں سے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آپ ظاہری شکل و شمائل اور باطنی سیرت کے لحاظ سے رسول اللہ سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے تھے اسی لئے آپ کو شبیہ پیغمبرؐ بھی کہا جاتا تھا۔ اور امام حسین جب بھی پیغمبر اکرمؐ کے دیدار کے مشتاق ہوتے تو علی اکبر کے چہرے کی طرف نظر کرتے تھے۔ علی اکبر روز عاشورا شجاعت کے جوہر دکھاتے ہوئے یزیدی لشکر کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ تاریخی روایات کے مطابق آپ بنی ہاشم کے پہلے شہید ہیں۔ آپ کی قبر حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہے۔

تعارف
حضرت علی اکبر 11 شعبان 33 ہجری کو مدینے میں پیدا پوئے۔ آپ امام حسینؑ کے بڑے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام لیلی بنت ابی مرۃ مشہور ہے۔[1] تاریخی مصادر میں امام حسینؑ کے اس فرزند کا لقب اکبر اور کنیت ابو الحسن مذکور ہے۔ [2]

حضرت علی اکبرؑ کی زندگی کے بعض پہلووں کے بارے میں مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثلا بعض مورخین آپ کو امام حسینؑ کے سب سے بڑے بیٹے کے طور پر متعارف کراتے ہیں۔[3] جبکہ بعض آپ کو امام سجادؑ سے عمر میں چھوٹا تصور کرتے ہیں۔[4] اسی طرح آپ کی شادی اور اولاد کے بارے میں بھی تاریخ میں اختلاف پایا جاتا ہے بعض حضرات آپ کے زیارت نامے میں موجود ایک جملے کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کے صاحب ہمسر و فرزند ہونے کے قائل ہیں۔[5] شیخ کلینی اپنی کتاب فروع کافی میں امام رضاؑ سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں جو آپ کی ایک کنیز کے ساتھ شادی ہونے اور حسن نامی ایک بیٹے کی پیدائش سے حکایت کرتی ہے۔ جبکہ بعض دوسرے محققین تصریح کرتے ہیں کہ آپ کی کوئی اولاد نہیں ہے اور امام حسینؑ کی نسل حضرت امام زین العابدینؑ سے چلی ہے۔[6]

علی اکبر 10 محرم سنہ 61 ہجری قمری کو واقعہ عاشورا میں اپنے والد گرامی اور بنی ہاشم کے دوسرے شہداء کے ساتھ شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے۔[7] اور امام حسینؑ کے قبر مطہر کے نزدیک کربلا میں مدفون ہیں۔

■ فضائل اور مناقب
● نقل حدیث
اصفہانی کے بقول آپ اپنے جد بزرگوار حضرت علی علیہ السلام سے بہت زیادہ احادیث نقل کرنے کی وجہ سے محدث کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔[8]

● آئینۂ رسول اللهؐ
امام حسین علیہ السلام کی گواہی اور تائید کے مطابق آپ تمام ظاہری اور باطنی صفات میں رسول اللہ کی شبیہ تھے۔[9] اسی بنا پر آپ شبیہ پیغمبر کے نام سے بھی مشہور تھے۔[10]

● کربلا میں بنی ہاشم کے پہلے شہید
اصفہانی اور ابی مخنف نے حضرت علی اکبرؑ کو کربلا میں بنی ہاشم کا پہلا شہید لکھا ہے۔[11] نیز شہداء کے معروف زیارت نامے میں بھی یہی آیا ہے: السَّلامُ علیکَ یا اوّل قتیل مِن نَسل خَیْر سلیل.[12]

● راہِ حق میں استقامت
بنی مقاتل کے مقام پر حضرت امام حسینؑ کی آنکھ لگ گئی۔ کچھ دیر بعد آنکھ کھلی تو آپ انّا لله و انّا الیه راجعون و الحمد لله ربّ العالمین کی تکرار کرتے ہوئے بیدار ہوئے تو حضرت علی اکبرؑ نے اس کا سبب دریافت کیا تو امامؑ نے جواب میں ارشاد فرمایا:

اے بیٹے! مجھے اونگھ آ گئی تو میں نے ایک سوار کی صدا سنی وہ کہہ رہا تھا: یہ قوم سفر کر رہی ہے اور موت ان کے پیچھے پیچھے ہے۔ اس کی اس بات سے میں سمجھ گیا کہ موت ہمیں پا لے گی۔ علی اکبر نے سوال کیا: اللہ آپ کو ہر بدی سے بچائے! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ امام نے جواب دیا: حق اسی کے ساتھ ہے جس کی طرف سب بندگان خدا کو جانا ہے۔ علی اکبر نے کہا: جب حق پر قائم ہیں تو ہمیں موت سے کوئی باک نہیں ہے۔ امام نے یہ جواب سن کر علی اکبرؑ کے حق میں دعا کرتے ہوئے فرمایا: خداوند کریم باپ کی طرف سے اپنے بیٹے کو بہترین اجر عطا فرمائے۔[13]

📚 حوالہ جات
1۔ اصفہانی، مقاتل الطالبین، ص86؛ ابی‌مخنف، وقعۃ الطف، ص۲۷۶؛ یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۴.
2۔ اصفہانی،مقاتل الطالبین ص 86۔
3۔ تسمیۃ من قتل مع الحسین علیه‌السلام،ش ۸؛ ابن سعد، طبقات، ج۵، ص۲۱۱؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۴۶؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۳۶۱؛ قاموس الرجال، ج۷، ص۴۱۹ـ۴۲۰.
4۔ شیخ مفید،الارشاد، ج۲، ص۱۱۴؛ شیخ طوسی، رجال، ص۷۶.
5۔ کامل الزیارات/۲۳۹ب ۷۹ زیارت ۱۸.
6۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۵، ص۲۱۱؛ یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۴.
7۔ السماوی، سلحشوران طف، ص۶۱.
8۔ ابوالفرج اصفہانی،مقاتل الطالبین، ص 86.
9۔ ابن اعثم، الفتوح،ج5،ص114/ مثیر الاحزان، ص 68۔
10۔ سید بن طاوس،لہوف،ص139/خوارزمی، مقتل الحسین،ج2ص34.
11۔ اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص 86،ابی مخنف، وقعۃ الطف،ص276۔
12۔ شیخ عباس قمی، منتہیٰ الآمال، ج2ص867.
13۔ ابی مخنف، وقعۃ الطف،ص276/ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج 3، ص 309.

https://t.me/islamwitheman/3256
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حضرت علی اکبرؑ کی عمر مبارک 🌹

✍️ حضرت علی اکبرؑ کی ولادت اور عمر کے بارے میں مختصر تحقیق، بقلم افتخار علی جعفری

حضرت علی اکبر ؑ امام حسین ؑ کے فرزند ارجمند ہیں آپ کی تاریخ ولادت کے بارے میں مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اسی وجہ سے آپ کی عمر شریف بھی معلوم نہیں ہے۔ اکثر مورخین نے صرف کربلا کے مصائب بیان کرتے ہوئے آپ کے حالات کا تذکرہ کیا ہے اور فقط آپ کی شہادت کے واقعہ کو بیان کیا ہے(۱)۔ آپ کی تاریخ ولادت میں اختلاف کی وجہ سے آپ کی عمر کے بارے میں معتدد اقوال و نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ کربلا میں آپ کی عمر ۱۹ سال تھی بعض نے ۲۰ سال اور بعض نے ۳۳ سال بیان کی ہے حتی بعض مورخین نے بیان کیا ہے کہ آپ کربلا میں سن بلوغ کو نہیں پہنچے تھے جبکہ ایک گروہ نے آپ کی عمر ۳۸ سال بھی ذکر کی ہے۔

مورخین کے درمیان اس سلسلے میں پائے جانے والے کثرت اختلاف اور تعدد آراء کی بنا پر جناب علی اکبر ؑ کی عمر کا دقیق طور پر اندازہ لگانا مشکل ہے۔ آپ کی عمر کے سلسلے میں پائے جانے والے اختلاف کے ساتھ ساتھ آپ کے لقب''اکبر‘‘ کے سلسلے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے بعض علماء اور بزرگان نے لقب'' اکبر‘‘ کو امام سجاد ؑ کے لیے بیان کیا ہے جبکہ بعض نے اس سلسلے میں سکوت اختیار کیا ہے کہ آیا لقب ''اکبر‘‘ امام سجاد ؑ کا لقب تھا یا آپ کے بھائی علی کا جو کربلا میں شہید ہوئے؟ (۲)
جن علماء نے لقب'' اکبر‘‘ کو امام سجاد ؑ کی طرف نسبت دی ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ امام سجادؑ امام حسین ؑ کے سب سے بڑے بیٹے تھے لہذا اکبر ان کا لقب تھا۔(۳)

بہرحال جناب علی اکبر ؑ کی تاریخ ولادت اور آپ کی عمر کے بارے میں جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ہم اس سلسلے میں مورخین کے نظریات کو تحلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

مورخین کے نظریات اور آراء کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ ایسے قوی دلائل اور شواہد پیش کئے جا سکتے ہیں جن کے ذریعے ہم آپ کی تاریخ ولادت اور عمر کا تقریبا دقیق طریقے سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔

🌷 پہلی دلیل: بعض محققین نے تمام مورخین کے نظریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جناب علی اکبر ؑ کی تاریخ ولادت کو ۱۱ شعبان سن ۳۳ ہجری قمری قرار دیا ہے۔ مثال کے طور پر آیت الله عبدالرزاق الموسوی المقرم نے کتاب انیس الشیعه تألیف محمد عبدالحسین کربلائی اور کتاب حدائق الوردیه فی مناقب ائمه الزیدیه تألیف حسام الدین محلی سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے: علی اکبر ؑ ۱۱ شعبان سن ۳۳ ہجری قمری کو خلیفہ سوم کے قتل سے دو سال پہلے پیدا ہوئے (۴)
خلیفہ سوم سن ۳۵ ہجری قمری کو قتل کئے گئے۔(۵)
اس کے بعد لکھتے ہیں: مرحوم ابن ادریس حلّی کتاب سرائر کے حصے زیارات میں لکھتے ہیں:'' علی اکبر ؑ خلیفہ سوم کے دور خلافت میں پیدا ہوئے‘‘ اس اعتبار سے جو تاریخ ہم نے بیان کی ہے زیادہ واقعیت کے قریب ہے۔
اس قول کی بنا پر کربلا میں آپ کی عمر ۲۷ سال رہی ہو گی(۶)

🌷 دوسری دلیل: بہت سارے مورخین جناب علی اکبر ؑ کو حضرت امام سجاد ؑ سے بڑا قرار دیتے ہیں اس اعتبار سے ثابت ہو جاتا ہے کہ لقب ''اکبر‘‘ آپ ہی کا لقب تھا۔

🌷 تیسری دلیل: جب امام مظلوم ؑ کے اہلبیتؑ کو اسیر کر کےشام دربار یزید میں لے جایا گیا تو یزید ملعون نے امام سجاد ؑ سے کہا: تمہارا نام کیا ہے؟ امام نے فرمایا: علی بن حسین۔ یزید نے کہا: مگر خدا نے علی بن حسین کو قتل نہیں کیا؟ امام نے فرمایا: کان لی اخ اکبر منی یسمی علیا فقتلتموه(۷)
وہ علی نام کے میرے بڑے بھائی تھے جنہیں تو نے قتل کیا ہے۔
ممکن ہے ابن کثیر کا کتاب البدایہ و النہایہ میں کلام امام ؑ کے اسی کلام سے ماخوذ ہو جووہ لکھتے ہیں: و کان له اخ اکبر منه یقال له علیاً ایضاً(۸)
امام سجاد ؑ کے ایک بڑے بھائی تھے جن کا نام بھی علی تھا۔

🌷 چوتھی دلیل: امام سجاد ؑ کی تاریخ ولادت ۳۶ یا ۳۸ ہجری قمری بیان ہوئی ہے(۹) اور آپ کے فرزند امام باقر ؑ ۴ سال کی عمر میں کربلا میں موجود تھے (۱۰)

نیز آپ کے مذکورہ بیان کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جناب علی اکبر ؑ جو آپ سے بڑے تھے کی تاریخ ولادت ۳۳ ہجری قمری ہے اور شہادت کے وقت آپ کی عمر۲۷ یا ۲۸ سال تھی۔

📚 حوالہ جات
[1] محمد بن جریر طبرى، تاریخ الملوک و الامم، ج 5، ص 446. شیخ مفید ارشاد، ج 2، ص 135.
[2] میرزا ابوالفضل تهرانى، شفاء الصدور فى زیارت العاشورا، ج 2، ص 446.
[3] حضرت آیة الله خوئى، مجمع الرجال الحدیث، مدینة العلم قم، ج1، 358.
[4] شیخ مفید، ارشاد، حر المؤتمر العالمى، ج 2، ص 135.
[5] حسام الدین المحلّى، حدائق الوردیه فى مناقب ائمه الزیدیه ص 116.
[6] وہی حوالہ، ص 16.
[7] ابوالفرج اصفهانى، مقاتل الطالبین، ص 120، مؤسسه اسماعیلیان.
[8] ابن کثیر، البدایه، ج 9، ص 103.
[9] شیخ عباس قمى، منتهى الامال، ص 557، مطبوعاتى حسینى، 1372 هـ ش.
[10] وہی حوالہ، ج 2، ص 671.

https://t.me/islamwitheman/3262
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حضرت علی اکبرؑ کی شادی 🌹

حضرت علی اکبر علیہ السلام کے سلسلے میں ایک اختلافی مسئلہ آپکی شادی کا مسئلہ بھی ھے کہ کیا جناب علی اکبرؑ نے شادی کی تھی یا نہیں۔ اگر شادی کی تھی تو یقینا آپکی اولاد بھی رھی ھو گی۔ اس سلسلے میں بھی مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ھے۔ جہاں تک ھم نے تحقیق کی ھے۔ تو قرآئن و شواہد یہی بتا رھے ھیں کہ آپ شادی شدہ تھے۔

ان قرآن و شواہد میں سے ایک قرینہ جو آپؑ کے شادی شدہ ھونے پر دلالت کرتا ھے یہ ھے کہ مرحوم قولویہ قمی نے اپنی کتاب ’’کامل الزایارات‘‘ میں جناب علی اکبر علیہ السلام کے لئے جو زیارت نامہ ذکر کیا ھے اس میں آپکے فرزند کا تذکرہ کرتے ھوئے ان پر بھی سلام بھیجا ھے۔ یہ زیارت نامہ ابو حمزہ ثمالی کی روایت سے امام صادق علیہ السلام سے نقل ھوا ھے۔ اس زیارت نامہ میں آیا ھے:

"صلي اللّه عليك و علي عترتك و اهل بيتك و آبائك و ابنائك و امهاتك الاخيار الذين اذهب الله عنهم الرجس و طهّرهم تطهيراً"
اللہ کا درود ھو آپؑ پر، اور آپؑ کی عترت اور آپ کے اہلبیت، آپ کے آباو و اجدا اور آپ کی اولاد اور آپ کی مادران گرامی پر جن سے اللہ نے پلیدگی کو دور رکھا۔ اور انہیں ایسا پاک کیا جیسا پاک کرنے کا حق تھا۔

جسیا کہ محقق ربانی آیت اللہ موسوی مقرّم نے کہا:
اس زیارت سے بخوبی معلوم ھوتا ھے کہ جناب علی اکبر علیہ السلام کے یہاں اولاد تھی۔ چونکہ لفظ ابنا واضح طور پر اولاد پر دلالت کرتا ھے۔ جیسا کہ لفظ عترت سے بھی یہی معنی سمجھ میں آتے ھیں۔ اسلئے کہ کسی شخص کی عترت اسکی اولاد ھی ھوتی ھے۔(1) اسی زیارت نامہ میں دوسری جگہ بیان ھوا ھے:
"ضع خدك علي القبر و قل صلي اللّه عليك يا اباالحسن ثلاثاً (2)
(یعنی زیارت پڑھنے والے سے کہا گیا ھے کہ) اپنے چہرے کو قبر پر رکھ کر تین مرتبہ کہو: اے اباالحسن آپ پر اللہ کا درود و سلام ھو۔

واضح ھو کہ اباالحسن کنیت ھے یعنی حسنؑ کے بابا کی، زیارت میں جناب علی اکبر علیہ السلام کو اس کنیت سے یاد کرنے کا مطلب یہ ھے کہ آپکے یہاں حسن نام کا بیٹا تھا۔ جسکی وجہ سے آپکی یہ کنیت تھی۔ ممکن ھے یہاں پر کوئی یہ اشکال کرے کہ عربوں کے یہاں یہ مرسوم تھا کہ وہ بیٹوں کے پیدا ھوتے ھی انکے لئے ایک کنیت کا انتخاب کر لیتے تھے۔ چاھے انہوں نے شادی نہ بھی کر رکھی ھو۔ جواب میں یہ کہیں گے کہ یہ چیز عمومیت نہیں رکھتی۔ عام طور پر عرب اسی وقت کنیت سے معروف ھوتے تھے جب انکے یہاں اولاد ھوتی تھی۔ دوسری بات یہ ھے کہ مرحوم کلینی نے فروع کافی میں ایک روایت نقل کی ھے۔ جس میں حضرت علی اکبرؑ کی کنیز کا تذکرہ کیا ھے اور اس کنیز سے اولاد ھونے کا ذکر بھی کیا ھے۔(3) اس روایت سے معلوم ھوتا ھے کہ زیارت میں جو آپ کی اولاد پر سلام کیا گیا ھے وہ حقیقت ھے چونکہ آپ شادی شدہ تھے اور آپ کے یہاں اولاد تھی۔

📚 حوالہ جات
[1] على اكبر عبدالرزاق الموسوى صفحہ 15 المقرّم كتبة الحيدريه فى النجف۔
[2] ابن قولويه كامل الزيارات صفحہ 253 ،
كتبته الصدوق چاب اوّل۔
[3] كلينى فروع كافى جلد 5 صفحہ 3۔

https://t.me/islamwitheman/3263
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 اعمال نیمۂ شعبان 🌹

پندرھویں شعبان کی یہ رات بڑی بابرکت رات ہے، امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ امام محمدباقرؑ سے نیمۂ شعبان کی رات کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یہ رات شب قدر کے علاوہ تمام راتوں سے افضل ہے۔ پس اس رات تقرب الہٰی حاصل کرنے کی کوشش کرناچاہیے۔ اس رات خدائے تعالٰی اپنے بندوں پر فضل وکرم فرماتا ہے اور انکے گناہ معاف کرتا ہے۔ حق تعالٰی نے اپنی ذات مقدس کی قسم کھائی ہے کہ اس رات وہ کسی سائل کو خالی نہیں لوٹائے گا سوائے اس کے جو معصیت ونافرمانی سے متعلق سوال کرے۔ خدا نے یہ رات ہمارے لیے خاص کی ہے، جیسے شب قدر کو حضرت رسول اکرمؐ کے لیے مخصوص فرمایا۔ پس اس شب میں زیادہ سے زیادہ حمدوثناءِ الہٰی کرنا اس سے دعاومناجات میں مصروف رہنا چاہیے۔

■اس رات کی عظیم بشارت سلطان العصرحضرت امام مہدیؑ کی ولادت باسعادت ہے جو 255ھ میں بوقت صبح صادق سامرہ میں ہوئی تھی۔

■اس رات کے چند ایک اعمال:
🌷1۔ غسل کرنا جس سے گناہوں میں تخفیف ہوتی ہے۔
🌷2۔ نماز اور دعا واستغفار کے لیے شب بیداری کرے کہ امام زین العابدینؑ کا فرمان ہے کہ جو شخص اس رات بیدار رہے تو اس کے دل کو اس دن موت نہیں آئے گی جس دن لوگوں کے قلوب مردہ ہو جائیں گے۔
اس رات سو رکعت نماز بجالانے کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔
امام جعفر صادقؑ سے ہے کہ نماز عشاء کے بعد دو رکعت نماز پڑھے، پہلی رکعت میں سورہ الحمد اور سورہ کافروں اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد اور سورہ توحید پڑھے۔ نماز کا سلام دینے کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر کہے۔
اس نماز کے بعد ایک دعا ذکر ہوئی ہے۔ یہاں طوالت کے باعث نہیں لکھی جارہی لہذا مفاتیح الجنان یااعمال کی کتب سے دیکھ کر پڑھ لیں۔
🌷3۔ اس رات کا سب سے بہترین عمل امام حسینؑ کی زیارت ہے کہ جس سے گناہ معاف ہوتے ہیں جو شخص یہ چاہتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس سے مصافحہ کریں تو وہ کبھی اس رات یہ زیارت ترک نہ کرے۔ حضرت کی چھوٹی سی زیارت بھی ہے کہ اپنے گھر کی چھت پر جائے اپنے دائیں بائیں نظر کرے پھر اپنا سرآسمان کی طرف بلند کر کے یہ کلمات کہے:
السلام علیک یآاباعبداللہ السلام علیک رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سلام ہو آپ پر اے ابوعبداللہ سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔
کوئی شخص جہاں بھی اور جب بھی امام حسینؑ کی یہ مختصر زیارت پڑھے تو امید ہے کہ اس کو حج وعمرہ کا ثواب ملے گا۔
🌷4۔ شیخ وسید نے اس رات ایک دعا پڑھنے کا ذکر فرمایا ہے جو حضرت امام العصرؑ کی زیارت کے مثل ہے۔ وہ پڑھے۔
🌷5۔ یہ دعا پڑھے کہ حضرت رسول اکرمؑ اس رات یہ دعا پڑھتے تھے:
اللھم اقسم لنا من خشیتک مایحول بیننا وبین معصیتک ومن طاعتک ماتبلغنابہ رضوانک ومن باسماعنا وابصارنا وقوتنا مآاحییتنا واجعلہ الوارث منا واجعل ثارنا علی من ظلمنا وانصرنا علی من عادانا ولاتجعل مصیبتنا فی دیننا ولاتجعل الدنیا اکبرھمنا ولامبلغ علمنا ولاتسلط علینا من لایرحمنا برحمتک یآارحم الرحمین۔
اے معبود ہمیں اپنے خوف کا اتنا حصہ دے جو ہمارے ہماری طرف سے تیری نافرمانی کے درمیان رکاوٹ بن جائے اور فرمانبرداری سے اتنا حصہ دے کہ اس سے ہم تیری خوشنودی حاصل کرسکیں اوراتنایقین عطا کر کہ جس کی بدولت دنیا کی تکلیفیں ہمیں سبک معلوم ہو اے معبود! جب تو ہمیں زندہ رکھےہمیں ہمارے کانوں آنکھوں اور قوت سے مستفید فرما اور اس قائم کو ہماراوارث بنااور ان سے بدلہ لینے والا قرار دے جنہوں نے ہم پر ظلم کیا ہمارے دشمنوں کے خلاف ہماری مدد فرمااور ہمارے دین میں ہمارے لیے کوئی مصیبت نہ لا اور ہماری ہمت اور ہمارے علم کے لیے دنیا کو بڑا مقصد قرار نہ دے اور ہم پراس شخص کو غالب نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے واسطہ تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم والے۔
یہ دعا جامع وکامل ہے پس اسے دیگر اوقات میں بھی پڑھے۔ جیساکہ عوالی اللئالی میں مذکور ہے کہ رسول اکرمؐ یہ دعا ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔
🌷6۔ وہ صلوٰة پڑھے جو ہر روز بوقت زوال پڑھی جاتی ہے
🌷7۔ اس رات دعاء کمیل پڑھنے کی بھی روایت ہوئی ہے۔
🌷8۔ یہ تسبیحات سومرتبہ پڑھے تاکہ حق تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کردے اور دنیاوآخرت کی حاجات پوری فرمائے:
"سبحان اللہ والحمدللہ واللہ اکبر ولآالہ الاللہ"
اللہ پاک تر ہے اور حمد اللہ ہی کی ہے، اللہ بزرگتر ہے اور نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے۔
🌷9۔ اس رات نمازتہجد کی ہر دورکعت کیبعد اور نمازشفع اور وتر کیبعد وہ دعا پڑھے جو شیخ وسید نے نقل فرمائی ہے۔
🌷10۔ اس رات نماز جعفرطیار بجالائے جیسا کہ شیخ نے امام علی رضاؑ سے روایت کی ہے۔

📚 مفاتیح الجنان

https://t.me/islamwitheman/3265
https://t.me/islamwitheman/4211
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹امام العصرؑ کی زیارت کے مثل دعا🌹

■ شیخ و سید نے اس رات یہ دعا پڑھنے کا ذکر فرمایا ہے، جو امام العصرؑ کی زیارت کے مثل ہے اور وہ یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ بِحَقِّ لَیْلَتِنا ھذِہِ وَمَوْلُودِھا وَحُجَّتِکَ وَمَوْعُودِھَا الَّتِی قَرَنْتَ إلی فَضْلِھا فَضْلاً

اے معبود! واسطہ ہماری اس رات کا اور اس کے مولود کا اور تیری حجتؑ اور اس کے موعودؑ کا جس کو تو نے فضیلت پر فضیلت عطا کی

فَتَمَّتْ کَلِمَتُکَ صِدْقاً وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِماتِکَ وَلاَ مُعَقِّبَ لآَِیاتِکَ نُورُکَ الْمُتَٲَلِّقُ

اور تیرا کلمہ صدق و عدل کے لحاظ سے پورا ہوگیا تیرے کلموں کو بدلنے والا کوئی نہیں اورنہ کوئی تیری آیتوں کا مقابلہ کرنیوالا ہے وہ

وَضِیاؤُکَ الْمُشْرِقُ، وَالْعَلَمُ النُّورُ فِی طَخْیائِ الدَّیْجُورِ، الْغائِبُ الْمَسْتُورُ جَلَّ

{مہدی موعودؑ} تیرا نور تاباں اور جھلملاتی روشنی ہے وہ نور کا ستون، شان والی سیاہ رات کی تاریکی میں پنہاں و پوشیدہ ہے اس کی

مَوْلِدُھُ، وَکَرُمَ مَحْتِدُھُ، وَالْمَلائِکَۃُ شُہَّدُھُ، وَاﷲُ ناصِرُھُ وَمُؤَیِّدُھُ، إذا آنَ مِیعادُھُ

ولادت بلند مرتبہ ہے اس کی اصل، فرشتے اس کے گواہ ہیں اور اللہ اس کا مدد گار و حامی ہے جب اس کے وعدے کا وقت آئے گا

وَالْمَلائِکَۃُ ٲَمْدادُھُ، سَیْفُ اﷲِ الَّذِی لاَ یَنْبُو، وَنُورُھُ الَّذِی لاَ یَخْبُو، وَذُو الْحِلْمِ

اور فرشتے اس کے معاون ہیں وہ خدا کی تلوار ہے جو کند نہیں ہوتی اور اس کا ایسا نور ہے جو ماند نہیں پڑتا وہ ایسا بردبار ہے

الَّذِی لاَ یَصْبُو، مَدارُ الدَّھْرِ، وَنَوامِیسُ الْعَصْرِ، وَوُلاۃُ الْاَمْرِ، وَالْمُنَزَّلُ عَلَیْھِمْ

جو حد سے نہیں نکلتا وہ ہر زمانے کا سہارا ہے یہ معصومینؑ ہر عہد کی عزت اور والیان امر ہیں جو کچھ شبِ قدر میں نازل کیا جاتا ہے

مَا یَتَنَزَّلُ فِی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ، وَٲَصْحابُ الْحَشْرِ وَالنَّشْرِ، تَراجِمَۃُ وَحْیِہِ، وَوُلاۃُ ٲَمْرِھِ

انہی پر نازل ہوتا ہے وہی حشر و نشر میں ساتھ دینے والے اس کی وحی کے ترجمان اور اس کے امر و نہی

وَنَھْیِہِ ۔ اَللّٰھُمَّ فَصَلِّ عَلَی خاتِمِھِمْ وَقائِمِھِمُ الْمَسْتُورِ عَنْ عَوالِمِھِمْ ۔ اَللّٰھُمَّ وَٲَدْرِکْ

کے نگران ہیں اے معبود! پس ان کے خاتم اور ان کے قائم پر رحمت فرما جو اس کائنات سے پوشیدہ ہیں اے معبود! ہمیں اس کا زمانہ

بِنا ٲَیَّامَہُ وَظُھُورَھُ وَقِیامَہُ، وَاجْعَلْنا مِنْ ٲَ نْصارِھِ، وَاقْرِنْ ثٲْرَنا بِثَٲْرِھِ، وَاکْتُبْنا

اس کا ظہور اور قیام دیکھنا نصیب فرما اور ہمیں اس کے مددگاروں میں قرار دے ہمارا اور اس کا انتقام ایک کردے اور ہمیں اس کے

فِی ٲَعْوانِہِ وَخُلَصائِہِ، وَٲَحْیِنا فِی دَوْلَتِہِ ناعِمِینَ، وَبِصُحْبَتِہِ غانِمِینَ ، وَبِحَقِّہِ

مددگاروں اور مخلصوں میں لکھ دے ہمیں اسکی حکومت میں زندگی کی نعمت عطا کر اور اس کی صحبت سے بہرہ یاب فرما اس کے حق میں قیام کرنے

قائِمِینَ، وَمِنَ السُّوئِ سالِمِینَ، یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِِ رَبِّ الْعالَمِینَ،

والے اور برائی سے محفوظ رہنے کی توفیق دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور حمد اللہ ہی کیلئے ہے جو جہانوں کا پروردگار ہے

وَصَلَواتُہُ عَلَی سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیِّینَ وَالْمُرْسَلِینَ وَعَلَی ٲَھْلِ بَیْتِہِ الصَّادِقِینَ

اور اس کی رحمتیں ہوں ہمارے سردار محمدؐ پر جو نبیوں اور رسولوں کے خاتم ہیں اور انکے اہل پر جو ہر حال میں سچ بولنے والے ہیں اور ان کے

وَعِتْرَتِہِ النَّاطِقِینَ، وَالْعَنْ جَمِیعَ الظَّالِمِینَ، وَاحْکُمْ بَیْنَنا وَبَیْنَھُمْ یَا ٲَحْکَمَ الْحاکِمِینَ۔

اہل خاندان پر جو حق کے ترجمان ہیں اور لعنت کرتمام ظلم کرنے والوں پر اور فیصلہ کر ہمارے اور ان کے درمیان اے سب سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والے۔

📚 مفاتیح الجنان

https://t.me/islamwitheman/3279
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌷امام صادقؐ کی تعلیم کردہ دعا🌷

■ شیخ نے اسماعیل بن فضل ہاشمی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ امام جعفر صادقؐ نے پندرہ شعبان کی رات کو پڑھنے کیلئے مجھے یہ دعا تعلیم فرمائی:

اَللّٰھُمَّ ٲَنْتَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ الْخالِقُ الرَّازِقُ الْمُحْیِی الْمُمِیتُ الْبَدِیئُ

اے معبود! تو زندہ وپائندہ، بلندتر، بزرگتر خلق کرنے والا، رزق دینے والا، زندہ کرنے والا، موت دینے والا، آغاز کرنے

الْبَدِیعُ لَکَ الْجَلالُ وَلَکَ الْفَضْلُ وَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الْمَنُّ وَلَکَ الْجُودُ وَلَکَ الْکَرَمُ

اور ایجاد کرنے والا ہے تیرے لیے جلالت اور تیرے ہی لیے بزرگی ہے تیری ہی حمد ہے اور تو ہی احسان کرتا ہے اور تو ہی سخاوت والا ہے

وَلَکَ الْاَمْرُ، وَلَکَ الْمَجْدُ، وَلَکَ الشُّکْرُ، وَحْدَکَ لا شَرِیکَ لَکَ، یَا واحِدُ یَا

تو ہی صاحب کرم اور تو ہی امر کا مالک ہے تو ہی شان والا اور تو ہی لائق شکر ہے تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے اے یکتا، اے

ٲَحَدُ یَا صَمَدُ یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُواً ٲَحَدٌ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ

یگانہ، اے بے نیاز، اے وہ جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہوسکتا ہے حضرت محمدؐ اور آل محمدؑ

آلِ مُحَمَّدٍ وَاغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاکْفِنِی مَا ٲَھَمَّنِی وَاقْضِ دَیْنِی، وَوَسِّعْ عَلَیَّ فِی

پر رحمت فرما اور مجھے بخش دے مجھ پر رحمت فرما کٹھن کاموں میں میری کفایت فرما میرا قرض ادا کردے میرے رزق میں

رِزْقِی، فَ إنَّکَ فِی ہذِھِ اللَّیْلَۃِ کُلَّ ٲَمْرٍ حَکِیمٍ تَفْرُقُ، وَمَنْ تَشائُ مِنْ خَلْقِکَ تَرْزُقُ،

کشائش فرما کہ تو اسی رات میں ہر حکمت والے کام کی تدبیر کرتا ہے اور اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے رزق و روزی دیتا ہے،

فَارْزُقْنِی وَٲَنْتَ خَیْرُ الرَّازِقِینَ، فَ إنَّکَ قُلْتَ وَٲَ نْتَ خَیْرُ الْقائِلِینَ النَّاطِقِینَ

پس مجھے بھی رزق دے کیونکہ تو ہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے یقینا یہ تیرا ہی فرمان ہے اور تو بہتر ہے سب کہنے والوں بولنے

وَاسْٲَلُوا اﷲَ مِنْ فَضْلِہِ فَمِنْ فَضْلِکَ ٲَسْٲَلُ وَ إیَّاکَ قَصَدْتُ، وَابْنَ نَبِیِّکَ اعْتَمَدْتُ،

والوں میں کہ مانگو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل میں سے پس میں تیرے فضل کا سوال کرتاہوں اور بس تیرا ہی ارادہ رکھتا ہوں تیرے

وَلَکَ رَجَوْتُ، فَارْحَمْنِی یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔

نبیؐ کے فرزند کو اپنا سہارابناتا ہوں اور تجھی سے امید رکھتا ہوں پس مجھ پر رحم فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

📚 مفاتیح الجنان

https://t.me/islamwitheman/3280
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕