ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌹 شانِ عبادت امام سجادؑ 🌹

جسطرح آپکی عبادت گزاری میں پیروی ناممکن ہے اسی طرح آپ کی شان عبادت کی رقم طرازی بھی دشوار ہے۔ علماء کی بے انتہا کاہش وکاوش کے باوجود آپکی شانِ عبادت کا مظاہرہ نہیں ہوسکا.
"قد بلغ من العبادة مالم یبلغہ احد."
آپ عبادت کی اس منزل پر فائز تھے جس پرکوئی بھی فائز نہیں ہوا.
(دمعہ ساکبہ ص ۴۳۹)

اس سلسلہ میں ارباب علم اورصاحبان قلم جو کچھ کہہ اورلکھ سکے ہیں ان میں سے بعض واقعات وحالات یہ ہیں:

🔷آپکی حالت وضو کے وقت:
وضو نماز کیلئے مقدمہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی پر نماز کا دارومدار ہوتا ہے. امام زین العابدینؑ جس وقت مقدمہ نماز یعنی وضو کا ارادہ فرماتے تھے آپکے رگ و پے میں خوفِ خدا کے اثرات نمایاں ہوجاتے تھے۔
علامہ محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جب آپ وضو کا قصد فرماتے تھے اور وضو کیلیے بیٹھتے تھے تو آپکے چہرہ مبارک کا رنگ زرد ہو جایا کرتا تھا یہ حالت بار بار دیکھنے کیبعد انکے گھر والوں نے پوچھا کہ بوقت وضو آپکے چہرہ کا رنگ زرد کیوں پڑجایا کرتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس وقت میرا تصور کامل اپنے خالق ومعبود کیطرف ہوتا ہے اسلیے اسکی جلالت کے رعب سے میرا یہ حال ہوجایا کرتا ہے.
(مطالب السؤل ص ۲۶۲)

🔷عالمِ نمازمیں آپکی حالت:
علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ آپکو عبادت گزاری میں امتیاز کامل حاصل تھا. رات بھر جاگنے کیوجہ سے آپ کا سارا بدن زرد رہا کرتا تھا اورخوف خدا میں روتے روتے آپکی آنکھیں پھول جایا کرتی تھیں اور نماز میں کھڑے کھڑے آپکے پاؤں سوج جایا کرتے تھے.
(اعلام الوری ص ۱۵۳)
اور پیشانی پرگھٹے رہا کرتے تھے اور آپکی ناک کا سرا زخمی رہا کرتا تھا.
(دمعہ ساکبہ، ص۴۳۹)
علامہ محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جب آپ نماز کیلئے مصلٰی پر کھڑے ہوا کرتے تھے تو لرزہ براندام ہوجایا کرتے تھے لوگوں نے بدن میں کپکپی اور جسم میں تھرتھری کا سبب پوچھا تو ارشاد فرمایا کہ میں اسوقت خدا کی بارگاہ میں ہوتا ہوں اور اسکی جلالت مجھے ازخود رفتہ کر دیتی ہے اور مجھ پر ایسی حالت طاری کر دیتی ہے.
(مطالب السؤل، ص۲۲۶)

🔷 ایک مرتبہ آپکے گھر میں آگ لگ گئی اور آپ نماز میں مشغول تھے اہل محلہ اورگھر والوں نے بیحد شورمچایا اور حضرت کو پکارا حضور آگ لگی ہوئی ہے مگر آپ نے سر نیاز، سجدہ بے نیاز سے نہ اٹھایا. آگ بجھا دی گئی. اختتام نماز پر لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ حضور آگ کا معاملہ تھا ہم نے اتنا شور مچایا لیکن آپ نے کوئی توجہ نہ فرمائی.
آپ نے ارشاد فرمایا "ہاں" مگرجہنم کی آگ کے ڈر سے نماز توڑ کر اس آگ کی طرف متوجہ نہ ہوسکا.
(شواہدالنبوت، ص۱۷۷)

ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ حضرت زین العابدینؑ نمازشب سفر وحضر دونوں میں پڑھا کرتے تھے. اورکبھی اسے قضا نہیں ہونے دیتے تھے.
(مطالب السؤل، ص۲۶۳)

🔷 علامہ محمد باقر بحوالہ بحارالأنوار تحریر فرماتے ہیں کہ امامؑ ایک دن نماز میں مصروف ومشغول تھے کہ امام محمد باقرؑ کنوئیں میں گر پڑے. بچہ کے گہرے کنویں میں گرنے سے انکی ماں بے چین ہوکر رونے لگیں اور کنویں کے گرد پیٹ پیٹ کر چکر لگانے لگیں اورکہنے لگیں. ابن رسول اللہ محمد باقر غرق ہو گئے.
امام زین العابدینؑ نے بچے کے کنویں میں گرنے کی کوئی پرواہ نہ کی اور اطمینان سے نماز تمام فرمائی اس کیبعد آپ کنویں کے قریب آئے اور پانی کیطرف دیکھا پھر ہاتھ بڑھا کر بلا رسی کے گہرے کنوئیں سے بچے کو نکال لیا بچہ ہنستا ہوا برآمد ہوا، قدرت خداوندی دیکھیے اسوقت نہ بچے کے کپڑے بھیگے تھے اورنہ بدن تر تھا.
(دمعہ ساکبہ، ص۴۳۰۔ مناقب، جلد۴، ص۱۰۹)

🔷 امام شبلنجی تحریرفرماتے ہیں کہ طاؤس راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک شب حجر اسود کے قریب جاکر دیکھا کہ امام زین العابدینؑ بارگاہ خالق میں سجدہ ریزی کر رہے ہیں. میں اسی جگہ کھڑا ہو گیا. میں نے دیکھا کہ آپ نے ایک سجدہ کو بےحد طول دے دیا ہے. یہ دیکھ کر میں نے کان لگایا تو سنا کہ آپ سجدہ میں فرماتے ہیں:
"عبدک بفنائک مسکینک بفنائک سائلک بفنائک فقیرک بفنائک."
یہ سن کر میں نے بھی انہیں کلمات کے ذریعہ سے دعا مانگی فورا قبول ہوئی۔
(نورالابصار، ص۱۲۶، طبع مصر۔ ارشادمفید، ص۲۹۶)

🔷 شبانہ روز ایک ہزار رکعت:
علماء کا بیان ہے کہ آپ شب وروز میں ایک ہزار رکعتیں ادا فرمایا کرتے تھے.
(صواعق محرقہ، ص۱۱۹، مطالب السؤل ۲۶۷)

چونکہ آپکے سجدوں کا کوئی شمار نہ تھا اسی لیے آپکے اعضائے سجود"ثغنہ بعیر" کے گھٹے کیطرح ہوجایا کرتے تھے اورسال میں کئی مرتبہ کاٹے جاتے تھے.
(الفرع النامی، ص۱۵۸۔ دمعہ ساکبہ، کشف الغمہ، ص۹۰)

علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ آپکے مقامات سجود کے گھٹے سال میں دو بار کاٹے جاتے تھے اور ہرمرتبہ پانچ تہ نکلتی تھی.
(بحارالأنوار، جلد۲، ص۳)
علامہ دمیری مؤرخ ابن عساکر کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ دمشق میں حضرت امام زین العابدینؑ کے نام سے موسوم ایک مسجد ہے جسے"جامع دمشق" کہتے ہیں.
(حیواة الحیوان، جلد ۱؟ ص ۱۲۱)

https://t.me/islamwitheman/3202
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 امام سجادؑ کی غرباء پروری 🌹

■ چند واقعات۔
🔷 ﺍﺑﻮﺣﻤﺰﮦ ﺛﻤﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦؑ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺧﻔﯿﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻏﺮﺑﺎء ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﮐﯿﻦ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ: ﺟﻮ ﺻﺪﻗﮧ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﻏﻀﺐِ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﻮ ﺑﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ہے۔(1)

🔷 ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﺳﺤﺎﻕ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ: ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﺡ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺌﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻋﻠﯽؑ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦؑ ﮐﯽ شہادت ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻏﺬﺍﺋﯽ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﮨﻮﺍ۔(2)

🔷 ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﺗﮭﯿﻠﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺸﺖ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ دﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺘﺎﺟﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ: ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﻗﮧ ﻏﻀﺐِ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﻮ ﺑﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﺗﮭﯿﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﻻﺩﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﭖؑ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻧﺸﺎﻥ ﭘﮍ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺁﭖؑ ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺁﭖؑ ﮐﻮ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﮦ ﻧﺸﺎﻧﺎﺕ ﺁﭖؑ ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ دیکھے ﮔﺌﮯ۔(3)

🔷 ﺍﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ: ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﺁﭖؑ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺁﭖؑ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ: ﺻﺪﻗﮧ ﺳﺎﺋﻞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔(4)

🔷 ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺁﭖؑ ﻧﮯ ﺣﺞ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺧﺮﭺ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺁﭖؑ ﺣﺮﮦ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﻔﺮ ﺧﺮﭺ ﺁﭖؑ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡؑ ﻧﮯ ﻭﮦ ﻣﺤﺘﺎﺟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺎﻧﭧ ﺩﯾﺎ۔(5)

🔷 ﺁﭖؑ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﭽﺎ ﺯﺍﺩ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﻤﻨﺪ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖؑ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﮐﺮﺍﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ اس ﮐﻮ ﭼﻨﺪ ﺩﯾﻨﺎﺭ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ: "ﻋﻠﯽؑ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦؑ ﻗﺮﺍﺑﺖ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺍﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺧﺪﺍ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﺩﮮ۔"
ﺍﻣﺎﻡؑ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺻﺒﺮ ﻭ ﺑﺮﺩﺑﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺍﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺟﺐ ﺍﻣﺎﻡؑ کی شہادت ﮨﻮئی ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﺍﺱ ﻣﺮﺩ ﺳﮯ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻧﯿﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦؑ ﮨﯽ ﺗﮭﮯ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺁﭖؑ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺯﺍﺭﻭ ﻗﻄﺎﺭ ﺭﻭﯾﺎ۔(6)

🔷 ﺍﺑﻮﻧﻌﯿﻢ ﺭﻗﻤﻄﺮﺍﺯ ﮨﮯ: ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﻣﺤﺘﺎﺟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺎﻧﭧ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﻣﺘﻌﺎﻝ ﻣﺆﻣﻦ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﮮ۔(7)

🔷 ﺍﺑﻮﻧﻌﯿﻢ ﮨﯽ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ: ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺁﭖؑ ﮐﻮ ﺑﺨﯿﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺭﺣﻠﺖ ﮐﺮﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻔﺎﻟﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔(8)

🔷 ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺎﺋﻞ ﺁﭖؑ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺗﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ: ﺁﻓﺮﯾﻦ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻔﺮ ﺧﺮﭺ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔(9)

■ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻃﺮﺯ ﺳﻠﻮﮎ:
ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﺍﻗﺪﺍﻣﺎﺕ ﺩﯾﻨﯽ ﭘﮩﻠﻮﺅﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﭘﮩﻠﺆﻭﮞ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮨﯽ ﺍﮨﻢ ﺍﻗﺪﺍﻣﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺧﺎﺹ ﺗﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﺗﮭﺎ۔ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﻃﺒﻘﮧ ﻭﮦ ﻃﺒﻘﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺩﻭﻡ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﻄﻮﺭ ﺧﺎﺹ ﺑﻨﯽ ﺍﻣﯿﮧ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﺮﯾﻦ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺩﺑﺎﺅ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﺎ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺗﺮﯾﻦ ﻃﺒﻘﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﻧﮯ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﻋﻠﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ‏ﺧﺎﻟﺺ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻃﺮﺯ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﻋﺮﺍﻕ ﮐﮯ ﺑﻌﺾ ﻣﻮﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﺮﻭﯾﺪﮦ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻃﺒﻘﮯ ﮐﯽ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ۔

🔷 ﺳﯿﺪﺍﻻﮨﻞ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ:
اﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ، ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺩﻻﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﻃﺒﻘﮧ ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺭﻭﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ، ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﯿﮟ۔
ﺍﻣﺎﻡ ﮨﺮ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻨﺎﺳﺒﺖ ﭘﺮ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ دیتے ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﺎﻝ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﺯﺍﺩ ﺷﺪﮦ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﯿﺰﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻟﺸﮑﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﻟﯽ ﺗﮭﮯ۔(10)

📚 حوالہ جات
1۔ ذهبی، سیر اعلام النبلاء، ج4، ص393۔
2۔ ذهبی، سیر اعلام النبلاء، ج4، ص393۔
3۔ ابونعیم اصفہانی، حلیة الاولیاء، ج3، ص136۔ کشف الغمه، ج2، ص77۔ مناقب، ج4، ص154۔ صفة الصفوة، ج2، ص154۔ خصال، ص616۔ علل الشرایع، ص231۔ بحار، ص90۔ بحوالہ شہیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص 147-148۔
4۔ طبقات، ج5، ص160، به نقل شهیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
5۔ کشف الغمه، ج2، ص78۔ صفة الصفوة، ج2، ص54، به نقل شهیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
6۔ کشف الغمه، ج2، ص107، ابونعیم اصفہانی۔ حلیة الاولیاء، ج3، ص140؛ بحوالہ شہیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
7۔ حلیة الاولیاء، ج3، ص136۔ طبری حصہ3، ص2482۔ طبقات ابن سعد، ج5، ص162؛ بحوالہ شہیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
8۔ صفة الصفوة، ج2، ص54؛ حلیة الاولیاء، ج3، ص136؛ طبقات، ج5، ص164؛ بحوالہ شهیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
9۔ کشف الغمه، ج2، ص77؛ مناقب، ج4، ص154؛ حلیة الاولیاء، ج3، ص136؛ بحوالہ شهیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
10۔ سیدالاهل، زین العابدین، ص7، 47۔

https://t.me/islamwitheman/3204
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 فضہ نوبیہ کنیز زھراءؑ 🌹

فضہ نوبیہ، حضرت فاطمہ زہراءؑ کی کنیز تھیں اور پیغمبر اکرمؐ نے انہیں یہ نام دیا ہے۔ ان کا نام حسنین علیہما السلام کی ولادت، آیت اطعام کے نزول کے واقعہ اور حضرت زہراءؑ کی شہادت کے سلسلہ میں وارد ہونے والی روایات کے ضمن میں آتا ہے۔ فضہ نے جناب سیدہؑ کے بعد دو شادیاں کی ہیں۔ ان کی خصوصیات میں آیات قرآنی کے ذریعہ گفتگو کرنا اور علم کیمیا کا جاننا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ واقعہ کربلا میں بھی موجود تھیں۔

حسب و نسب
فضہ اصالتا نوبیہ کی رہنے والی تھیں،[1] نوبیہ ایک شہر ہے جو جنوب سوڈان[2] یا جنوب مصر و شرق نیل[3] میں واقع تھا۔ بعض نے انہیں ہندی[4] کہا ہے اور بعض دیگر نے حتی کہا ہے کہ وہ ہند کے بادشاہ کی بیٹی تھیں۔[5]

حضرت زہراءؑ کے گھر میں
فضہ، حضرت زہراءؑ کی کنیز تھیں۔[6] آیہ کریمہ "قل لھما قول میسورا" کے نازل ہونے کے بعد آنحضرتؐ نے انہیں جناب سیدہ کے گھر بھیج دیا اور انہیں فضہ کا نام دیا۔[7]

حضرت زہراءؑ کی شہادت کے بعد فضہ حضرت علیؑ کی کنیزی میں آ گئیں[8] اور اس کے بعد بیس سال زندہ رہیں۔ فضہ کو ایک نیک اور پرہیزگار خاتون کہا جاتا ہے۔[9]

شوہر اور اولاد
حضرت علیؑ نے ابو ثعلبہ حبشی سے ان کی شادی کرائی۔ ان دونوں سے ایک بیٹا ہوا۔ ابو ثعلبہ کے مرنے کے بعد فضہ نے ابو ملیک غطفانی سے شادی کی اور اس شادی کے بعد ان کے بیٹے کا (سابق شوہر سے) انتقال ہو گیا۔[10] ابو ملیک سے شادی کے بعد فضہ کے کئی بچے ہوئے۔[11] شہرۃ بنت مسکۃ بنت فضہ، جن سے ایک کرامت بھی نقل ہوئی ہے، ان کی پوتی ہیں۔[12]

مالک بن دینار کہتے ہیں: جس وقت میں خانہ خدا کی زیارت اور حج کے سفر پر تھا، راستے میں ایک لاغر اندام خاتون کو دیکھا جو ایک کمزور حیوان پر سوار تھی، اور جانور راستہ میں رک گیا۔ میں نے اس کی سرزنش کی کہ کیوں ایسے کمزور جانور کے ساتھ سفر کا ارادہ کیا ہے اور وہ بھی اتنے طولانی سفر کا۔ اس خاتون نے سر کو آسمان کی طرف بلند کیا اور کہا: نہ مجھے اپنے گھر میں رہنے دیا اور نہ ہی اپنے گھر تک پہچایا۔ تیری عزت و جلال کی قسم اگر یہ تیرے علاوہ کسی نے کیا ہوتا تو میں اس کی شکایت تیری بارگاہ میں کرتی، اچانک ہم نے کیا دیکھا کہ بیابان میں سے ایک شخص ظاہر ہوا اور اس کے ہاتھوں میں ایک ناقہ کی نکیل تھی اور وہ اس خاتون کو منزل تک پہچانے کا عزم رکھتا تھا۔ میں نے اس ماجرا سے سمجھ لیا کہ یہ کوئی صاحب کرامت پرہیز گار خاتون ہیں جو اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ رکھتی ہیں۔ میں نے پوچھا آپ کون ہیں: انہوں نے کہا میں کنیز فاطمہ فضہ کی بیٹی مسکۃ کی بیٹی شہرۃ ہوں۔[13]

خصوصیات
فضہ نے تقریبا بیس سال تک قرآن کے ذریعہ گفتگو کی اور بات کرنے والوں کو قرآن کی آیات سے جواب دیتی تھیں۔[14] انہوں نے ایک طولانی روایت میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے حالات زندگی کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات سے لیکر حضرت زہراء کی شہادت تک بیان کیا ہے۔[15] حضرت علی علیہ السلام ان کے سلسلہ میں فرماتے ہیں: اللهم بارک لنا فی فضّتنا۔[16]

بعض کا کہنا ہے کہ وہ علم کیمیا جانتی تھیں[17]  اور اس علم کو انہوں نے حضرت زہراءؑ سے سیکھا تھا۔[18] پیغمبر اکرمؐ نے بھی انہیں مشکلات کے حل کی دعا اور اسی طرح سے دوسرے  ذکار تعلیم فرمائے تھے۔[19]

وفات
شام میں دمشق کے قریب باب الصغیر نامی قبرستان میں ایک قبر فضہ کے نام سے منسوب موجود ہے۔ جو عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب سے منسوب قبر سے تھوڑا آگے کی طرف اور قبرستان کے مغربی حصہ کے آخر میں واقع ہے۔ قبر پر ایک حجرہ اور چھوٹا سا سبز گنبد موجود ہے اور اس کی دیواریں سنگ سیاہ سے تعمیر ہوئی ہیں۔[20]

شہر کربلا (عراق) میں ایک مقام شیر اور فضہ کے نام سے موجود ہے۔

📚 حوالہ جات
1۔ اعلام النساء المؤمنات، ص ۶۹۶؛ ابن حجر، الإصابۃ، ج ۸ ص ۲۸۱
2۔ الفیروزآبادی، القاموس المحیط: ج ۱ ص ۱۳۵؛ مجمع البحرین، ج ‏۲، ص ۱۷۸
3۔ ابن الوردی، ریاض السالكین: ج ۴ ص ۲۲۴
4۔ الحسین و بطلۃ كربلاء، مغنیۃ ،ص ۲۸۷
5۔ بحار الانوار، دار احیاء التراث، ج ۹، ص ۵۷۵؛البرسی، مشارق أنوار الیقین، ص ۱۲۱
6۔ اعلام النساء المؤمنات، ص ۶۹۶؛ ابن حجر، الإصابۃ، ج ۸، ص ۲۸۱
7۔ تفسیر نور الثقلین، ج ‏۳، ص ۱۵۷
8۔ اعلام النساء المؤمنات، ص ۶۹۶
9۔ الحسین و بطلۃ كربلاء، مغنیۃ، ص ۲۸۷
10۔ اعلام النساء المؤمنات، ص ۶۹۷
11۔ الحسین و بطلۃ كربلاء، مغنیۃ، ص ۲۸۷
12۔ تسلیۃ المجالس، الكركی الحائری ،ج ‏۱،ص ۵۲۹
13۔ بحار الأنوار، ۱۳۶۳، ج ‏۴۳، ص ۴۷
14۔ ریاحین الشریعہ، ج ۲، ص ۳۱۳ تا ۳۲۶
15۔ بحارالانوار، ج ۴۳، ص۱۷۴-۱۸۰
16۔ الثاقب فی المناقب، ص ۲۸۱
17۔ الموسوعۃ الكبری عن فاطمۃ الزہراء، الأنصاری، ج‏ ۱۷، ص ۴۲۸
18۔ الموسوعۃالكبری عن فاطمۃ الزہراء، الأنصاری، ج ‏۱۷، ص ۴۳۰
19۔ الموسوعۃ الكبری عن فاطمۃ الزہراء، الأنصاری ،ج‏ ۱۷، ص ۴۲۹
20۔ اصغر قائدان، اماکن سیاحتی و زیارتی دمشق، ص ۴۷

https://t.me/islamwitheman/3208
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹جناب فضہ سلام الله عليها🌹

جناب فضہؑ کی تاریخ میں 5 شعبان یا پھر 25 محرم تاریخِ وفات ذکر ہوئی ہے۔

کربلا میں جناب فضہؑ کا عظیم کردار، حق غلامی ادا کردیا۔

واقعہ کربلا میں حضرت فضہؑ کا کردار پورے آب و تاب کیساتھ جلوہ گر دکھائی دیتاہے۔ حضرت فضہ نے جو تربیت خانہ فاطمہؑ میں حاصل کی تھی وہ تربیت کربلا میں کام آگئی۔ یقینا خانہ نبوت حسنینؑ اور زینبؑ و کلثومؑ کیساتھ ساتھ حضرت فضہؑ کیلئے ایک ایسی تربیت گاہ تھی کہ جہاں ان ذواتِ مقدسہ کو مصائب و شدائد کی آندھیوں کے سامنے ڈٹے رہنے کی تربیت ملی۔ یہی وجہ ہے کہ جب امام حسینؑ عازم کربلا ہوئے تو حضرت فضہؑ بھی محذرات عصمت و طہارت کی معیت میں عشقِ اہلبیتِ رسول کا امتحان دینے نکل پڑیں۔ جناب فضہ نے وادیٔ عشق میں جگہ جگہ اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ وہ اس عظیم سانحہ میں بھی اہلبیتؑ کے شانہ بہ شانہ ظلم و تعدی کیخلاف لڑتی رہیں۔ مقاتل نگاروں نے حضرت فضہ کو واقعہ کربلا کے ہر پڑاؤ پر ایک فعال کردار کے طور پیش کیاہے۔
حضرت فضہ ان تمام مظالم کا چشم دید گواہ ہے جو طول تاریخ میں اہلبیتؑ پر ڈھائے گئے۔ غورطلب بات ہے کہ رشتہ ٔازدواج میں منسلک ہونے اور صاحب اولاد ہونے کیبعد بھی جناب فضہ نے درِاہلبیتؑ سے اپنا ناطہ استواررکھا۔ کوئی نہ کوئی خاص بات ضرورتھی کہ جس نے اس عظیم خاتون کو مودتِ اہلبیتؑ کا مجسم نمونہ بنایا۔ نیزجتنے بھی مصائب اہلبیتؑ نے جھیلے یہ عظیم خاتون بھی بہ رضا ورغبت ان مصائب کا مقابلہ کرنے میں اہلبیتؑ کی شریک ٹھہری۔ اسکا ہر مصیبت کی گھڑی میں پیش پیش رہنا ہی اپنے آپ میں ناقابل تردید دلیل ہے کہ اسے اہلبیتؑ کے کردار واخلاق نے نہایت ہی متاثر کیاتھا۔ اور اہلبیتؑ کے حسن سلوک نے اسکے دل میں مودت کی جوت جگائی تھی۔ اورہر اس گزرگاہ کو روشن کیا جس پر حضرت فضہ نے اپنے دورحیات میں قدم رکھا۔ اور اب بھی ان کامرقد مقدس مودتِ اہلبیتؑ کی زندہ علامت ہے یہی وجہ ہے دشمنانِ اہلبیت کو ان کا مرقدِمقدس اب بھی کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔
حضرتِ فضہ نے بھی کربلا میں تین دن کی بھوک و پیاس برداشت کی۔ کشت وخون اور ماردھاڑ بچشمِ سردیکھا۔ تاراجی خیام میں اپنی ضعیفی کے باوجود طفلانِ کربلا کو جلتے ہوئے خیموں سے نکالنے میں حضرت زینبؑ کی ممدومعاون بنیں۔ الغرض بڑی مستعدی کے ساتھ روز عاشورہ کئی ایک محاذوں پر مختلف ذمہ داریوں کونبھایا۔ سانحہ کربلا کے بعد خانوادۂ رسالت کے ساتھ ساتھ حضرت فضہ عزم و استقلال کا مجسم نظرآئیں۔ انہوں نے تحریکِ کربلا کا اصل ہدف اچھی طرح سمجھ لیاتھا۔ لہذا کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ اس نے قیدخانے کی سخت ترین صعوبتیں جھیلیں۔ بھرے بازارمیں اپنی شہزادیوں اور اپنے تئیں بے حرمتی کے مناظر دیکھے۔ دیار بہ دیار سفر کی اعصاب شکن مشکلات کو عظیم تر مقصد کی خاطر گلے لگایا۔ دربار ابن زیاد اور دربارِ یزید میں درسگاہِ نبوت سے حاصل کردہ تکلم کے جوہر دکھائے۔ خاص طور سے دربار یزید میں حضرت فضہ کی جراتمندی سنہرے حروف میں اوراقِ تاریخ میں موجود ہے۔ یزید نے جب رسول زادیوں کی جانب اپنی پلید نگاہ اٹھائی تو سن رسید حضرت فضہ یزید اور خاندانِ نبوت کی ان شہزادیوں کے درمیان حائل ہوگئیں۔ یزید نے برہمی کے عالم میں حضرت فضہ کو سامنے سے ہٹ جانے کو کہا لیکن وہ اس کی دھمکی آمیز لہجے سے مرعوب نہ ہوئیں۔ یزید نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ فضہ کو درمیان سے جبراً ہٹائیں۔ یہ دیکھ کر حضرت فضہ دربار یزید میں مسلح حبشی غلاموں سے مخاطب ہوئیں۔ انہیں یہ غیرت دلائی کہ کیا تمہارے ہوتے ہوئے بھی تمہاری ملک و قوم کی بیٹی کے ساتھ بھی کوئی ایسے کرسکتا ہے؟ یہ سننا تھا کہ ان حبشی غلاموں نے تیوریاں چڑھائیں۔ انکی غیرتِ قومی جوش مارنے لگی۔ یہانتک کہ یزید کو حالات کی نزاکت کے پیش نظر اپنا ارادہ ترک کرنا پڑا۔
یہ تھا حضرتِ فضہ کا کمالِ تدبر جس سے یزید جیسا ظالم و جابر بھی مات کھاگیا۔ نیزحضرت فضہ کا وہ جذبہ عقیدت بھی آشکارہوا جو اسکے دل میں خاندانِ عصمت و طہارت کیلئے تھا۔ اصل میں یہی جذبہ عقیدت ہے کہ جس نے اس گمنام کنیز کو ایک مشہور ومعروف شہزادی بنادیا۔ صدیاں گزر گئیں لیکن آج بھی ہزاروں زبان و قلم اس کنیزنما شہزادی کی توصیف تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ اور ان کا ذکرِخیر تاابد ہوتا رہے گا۔

تاریخ کا نورانی کردار اور عصری ظلمت:
اسلام پر لگائے گئے مذکورہ بے بنیاد الزام کو رد کرنے کے لئے تاریخ میں حضرت فضہ کی بولتی چالتی تصویر کافی ہے۔ لیکن ان زندہ جاوید حقیقتوں سے صرفِ نظر کر کے اسلام دشمن قوتیں اسلام پر لگائے گئے طرح طرح کے الزامات کو ثابت کرنے میں ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ اور بدقسمتی سے چند ایک نام نہاد کلمہ گو طاغوت کے سازشی خاکوں میں اپنے اور دیگر مسلمانوں کے خون سے رنگ آمیزی کر رہے ہیں۔ عالمی منظر نامے پر اس وقت بہت سے ایسے دہشت گرد گروہ اس کار کو سرانجام دینے میں برسرِگرم عمل ہیں۔

✍: مرتبہ ریاض قادری

https://t.me/islamwitheman/3209
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 عید نوروز کی اہمیت 🌹

عید نوروز کی فضیلت بیان کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ اس کی حقیقت و واقعیت بیان کر دوں...
نوروز شمسی کیلنڈر کے حساب سے منایا جاتا ہے. نوروز 20 یا 21 مارچ کے بارے جو لکھا جاتا ہے وہ علمِ نجوم اور حرکتِ سیارگان ہے. نیا دن اس لئے کہ شمس، برجِ حمل میں داخل ہو رہا ہے. یہ سب روایات گردشِ ایام کے متعلق ہیں. جن کا دین اور شریعت سے کوئی تعلق نہیں.

18 ذوالحجہ 10 ہجری(عیدِغدیر) چونکہ 21 مارچ کو آیا تھا اس لئے اس جشن کو دوہرا منانے کے لئے دونوں تاریخوں کو عیدنوروز سے معنون کر دیا گیا. ہم جو اعمال بجا لاتے ہیں وہ 20 یا 21 مارچ کو شمس کے برجِ حمل میں داخل ہونے کے نہیں ہیں بلکہ عیدِغدیر کے ہیں.

اعمال کی کتب مفاتیح الجنان، تحفةالعوام وغیرہ میں اس تاریخ کے جو اعمال آپ پڑہیں گے وہ نوروز کے متعلق نہیں بلکہ عیدنوروز سے تعلق رکھتے ہیں مثلا یہ واقعات ایک نئے دن سے متعلق ہیں اس لئے یاد خدا میں تشکر کے طور پر بجا لائے جاتے ہیں.

عیدنوروز کی دین مبین اسلام میں کیا حقیقت ہے؟ اس بارے میں مزید بیان کرنے سے پہلے ایک مسئلہ فقہی و اصولی کو بیان کرنا ضروری ہے، وہ مسئلہ (تسامُحٌ فی اَدِلَّۃِ السُّنَن) کے نام سے تقریبا تمام اصولی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے، مختصر یہ کہ واجبات (اور محرّمات) کی نسبت ضروری ہے کہ دلائل سند اور متن دونوں کے لحاظ سے قابل اعتبار اور قابل اعتماد ہونے چاہئیں اور اگر کوئی روایات سند یا معنیٰ کے لحاظ سے ضعیف ہو تو ہرگز قابل اعتبار نہیں ہے اور اس پر عمل نہیں کیا جاسکتا، لیکن مستحبات کی نسبت ادلہ میں چشم پوشی اور سہل انگاری سے کام لیا جاتا ہے، زیادہ تحقیق و جستجو ضروری نہیں ہے بلکہ ان مستحب اعمال کو جو احادیث میں وارد ہوئے ہیں رجاء مطلوبیت کے ارادے سے بجا لایا جا سکتا ہے کیونکہ روایت میں ہے جس کسی نے ثواب کے ارادے سے کوئی عمل انجام دیا، اللہ تعالیٰ اسکو وہ ثواب عطا کردے گا.

عید نوروز کے سلسلے میں سب سے اہم اور تفصیلی حدیث معلی ابن خنیس کی ہے جس کے مختلف حصوں سے فقہاء اور مجتہدین نے مختلف فقہی احکام کے لئے استنباط کیا ہے اور تمام قدماء و متاخرین نے اس حدیث کو قابل اعتبار جانا ہے.

🌹معلی ابن خنیس نقل کرتا ہے کہ میں نوروز کے دن حضرت امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں پہنچا، حضرت نے فرمایا: کیا تم اس دن کو جانتے ہو؟ (کہ آج کیا دن ہے؟)
معلی کہتا ہے:
میں نے عرض کیا! قربان جاؤں آج وہ دن ہے جس کی اہل عجم تعظیم کرتے ہیں اور اس دن ایک دوسرے کو تحفہ و تحائف دیتے ہیں.

حضرتؑ نے فرمایا:
میں خانہ کعبہ کی (جو مکہ معظمہ میں ہے) کے حق کی قسم کھاتا ہوں کہ عجم کا اس دن کی یہ تعظیم کرنا نہیں ہے مگر اس قدیمی امر کی خاطر جس کو میں تمھارے لئے تفصیل سے بیان کرتا ہوں تاکہ اس کوسمجھ جاؤ.

معلی کہتا ہے:
میں نے عرض کی! اے میرے سیّدوسردار! اے میرے مولیٰ! میرے لئے آپ کے وجود کی برکت سے اس بات کا جاننا زیادہ پسندیدہ ہے کہ میرے مردے زندہ ہو جائیں اور میرے دشمن مر جائیں.

حضرتؑ نے فرمایا:
اے معلی! حقیقت یہ ہے کہ نوروز کا دن وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے روزِالست تمام ارواح سے اپنی وحدانیت کا عہدوپیمان لیا اور یہ کہ کسی کو اسکا شریک قرار نہ دیں گے، اور عبودیت و عبادت میں کسی کو اسکا شریک نہیں بنائیں گے،
اور
اسکے بھیجے ہوئے پیغمبروں اور مخلوق پر اللہ کی حجتوں اور آئمہ معصومینؑ پر ایمان لائیں گے.
اور
یہ (نوروز) وہ پہلا دن ہے جب سورج طلوع ہوا اور درختوں کو ثمرآور کرنے والی ہوائیں چلائی گئیں، اور زمین پر پھول اور کلیاں چٹکنے(کھلنے) لگیں.

آج ہی کے دن حضرت نوحؑ کی کشتی (طوفانِ نوح کیبعد) کوہِ جودی پر ٹهہری،

اور
یہی وہ دن تھا جب جبرائیلؑ پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئے اور انکو تبلیغِ دین پر مامور کیا یعنی آنحضرتؐ کی بعثت اسی دن ہوئی تھی.

آج ہی کے دن حضرت ابراھیمؑ نے بتوں کو توڑا،

اور
یہی دن تھا جب پیغمبرؐ نے اپنے اصحاب کو امیرالمؤمنین علیؑ کی بیعت کا حکم دیا، اور فرمایا؛ علیؑ کو امیرالمؤمنین کہہ کر پکاریں یعنی روز عیدغدیر بھی اسی دن ہوا تھا،
اور اسی دن خلافتِ ظاہری حضرت علیؑ کی طرف پلٹ آئی، اور عثمان کے قتل کئے جانے کے بعد لوگوں نے دوبارہ مولاعلیؑ کی بیعت کی،
اسی دن حضرت علیؑ نے خوارج کے ساتھ جنگ کی اور ان پر غلبہ حاصل کر کے کامیاب ہوئے.

اور
اسی دن قائم آلِ محمد امامِ زمانہؑ ظہور فرمائیں گے اور دشمنوں پر غلبہ حاصل کریں گے.
اور کوئی نوروز کا دن ایسا نہیں جب ہم انتظارِ فرج نہ کرتے ہوں. اس دن کو عجم والوں نے حفظ کیا ہے اور اسکی حرمت کی رعایت کی ہے اور تم نے اس کو ضائع کردیا ہے.
(زادالمعاد، علامہ محمدباقرمجلسی، ص:523. نیز جواہرالکلام، ج1.

https://t.me/islamwitheman/3214
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 فضیلت و مختصر أعمال نوروز 🌹

ہم اپنے تہوار قمری تاریخوں کے حساب سے مناتے ہیں. 18 ذوالحجہ 10 ہجری کو اتفاق سے نوروز تھا. اس لئے ہم اس کو دگنا مناتے ہیں اور اعمال بجا لاتے ہیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ تہواروں کا تعلق چاند کی تاریخوں سے ہے. اس بارے میں پوسٹ "نوروز کی شرعی حیثیت (حصہ1،2)" ضرور دیکھیں.

🌹 اس روز امیرالمؤمنین علیؑ فلکِ سیادت و ولایت پر جلوہ گر ھوئے اس دن کو آپ کی خلافت ظاھری سے نسبت ھوئی. مولا نے اس دن کا نام نوروز خود رکھا چنانچہ مؤمنين کیلئے یہ عید کا دن ھے، بنو امیہ تک اسکی برکت کے قائل تھے.
ایران کے بادشاہ تاجپوشی یا دشمن پر حملہ کرنے کیلئے نوروز ھی کی تاریخ کو منتخب کرتے تھے اور کامیاب و کامران رھتے.
امام جعفر صادقؑ نوروز کے بارے میں فرماتے ھیں کہ یہ وھی دن ھے جس دن امیرالمؤمنین علیؑ کی دوسری بیعت کی گئی.
احمد بن فہد نے امام جعفر صادقؑ سے روایت کی ھے کہ نوروز کا دن وہ دن بھی ھے جب رسولؐ نے مولا علیؑ کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور آپ نے خانہ کعبہ کی چھت سے بتوں کو گرایا.
اور
ابو سعید خدری کی روایت کے مطابق
آنحضرتؐ نے مولا علیؑ کو سرکش جنات کے ساتھ جنگ کرنے بھیجا، آپ نے اسّی ھزار جن قتل کئے وہ دن بھی نورور کا دن تھا.(1)

عیدنوروز کی دین مبین اسلام میں کیا حقیقت ہے؟ اس بارے میں اعمال بیان کرنے سے پہلے ایک مسئلہ فقہی و اصولی کو بیان کرنا ضروری ہے، وہ مسئلہ (تسامُحٌ فی اَدِلَّۃِ السُّنَن) کے نام سے تقریبا تمام اصولی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے، مختصر یہ کہ واجبات (اور محرّمات) کی نسبت ضروری ہے کہ دلائل سند اور متن دونوں کے لحاظ سے قابل اعتبار اور قابل اعتماد ہونے چاہئیں اور اگر کوئی روایات سند یا معنیٰ کے لحاظ سے ضعیف ہو تو ہرگز قابل اعتبار نہیں ہے اور اس پر عمل نہیں کیا جاسکتا، لیکن مستحبات کی نسبت ادلہ میں چشم پوشی اور سہل انگاری سے کام لیا جاتا ہے، زیادہ تحقیق و جستجو ضروری نہیں ہے بلکہ ان مستحب اعمال کو جو احادیث میں وارد ہوئے ہیں رجاء مطلوبیت کے ارادے سے بجا لایا جا سکتا ہے کیونکہ روایت میں ہے جس کسی نے ثواب کے ارادے سے کوئی عمل انجام دیا، اللہ تعالیٰ اسکو وہ ثواب عطا کردے گا.

🌹 امام جعفر صادقؑ نے معلیٰ سے فرمایا؛ یہ روز ہمارا اور ہمارے شیعوں کا ہے اس روز....
غسل کرو،
پاک و پاکیزہ کپڑے پہنو،
خوشبو لگاؤ،
روزہ رکھو.
اور
نماز ظہرین ونوافل سے فارغ ہو کر چار رکعت دو دو کر کے اس طرح بجا لاؤ کہ پہلی رکعت میں الحمد کے بعد دس مرتبہ سورةاناانزلناە اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد دس مرتبہ قل یاایھاالکافرون اور تیسری رکعت میں الحمد کے بعد دس مرتبہ قل ھواللە احد اور چوتھی رکعت میں الحمد کے بعد قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھو. اور نماز کے بعد سجدہ شکر میں جا کر یہ دعا پڑھو...
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ الْاَوْصِیَاءِ الْمَرْضِیِّیْنَ وَجَمِيْعِ اَنْبِیَائِکَ وَرُسُلِکَ بِأفْضَلِ صَلَوَاتِکَ وبَارِكْ عَلَیْهِم بِأفْضَلِ بَرَکَاتِکَ وَصَلِّ عَلیٰ أروَاحِهِم وَاَجْسَادِھِم اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ لَنَا فِیْ یَوْمِنَا هَذَا الَّذِی فَضَّلتَہُ وَکَرَّمتَہُ وَشَرَّفتَہُ وَعَظَّمْتَ خَطَرَہُ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَنْعَمْتَ بِہ عَلَیَّ حَتّٰی لَا اَشْکُرَ اَحَدًا غَیْرَکَ وَ وَسِّعْ عَلَیَّ فِیْ رِزْقِی یَاذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ اَللّھُمَّ مَاغَابَ عَنِّی فَلَایَغِیْبَنَّ عَنِّی عَوْنُکَ وَحِفْظُکَ وَمَا فَقَدْتُ مِنْ شَیْءٍ فَلَا تُفْقِدْنِیْ عَوْنَکَ عَلَیْہِ حَتّٰی لَا اَتَکَلّفَ مَا لَا اَحْتَاجُ اِلَیْہِ یَاذَالْجَلَالِ وَالْاَِکْرَامِ.
حضرت فرماتے ہیں کہ جب تم ایسا کرو گے تو تمہارے پچاس سال کے گناہ بخش دیئے جائینگے.
اور یَاذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ بہت کہتے رہو.(2)

📚 حوالہ جات
1) بحارالانوار، ج۳۸، ص۸۶ / القطرہ، ج۱، ص۱۳۳ / رسوم الشیعہ، ص۳۰۳ تا ۳۱۵)
2) مفاتیح الجنان.

https://t.me/islamwitheman/3217
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 نوروز کی شرعی حیثیت(حصہ1) 🔷

یہ بات ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ اسلام جیسے دین فطرت میں بعض عظیم الشان عیدیں موجود ہیں جیسے عیدالفطر، عیدالاضحٰی، عیدغدیر اور عیدمباہلہ وغیرہ مگر بعض ایسی عیدیں جوآج اسلام میں داخل کی جارہی ہیں جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے اُن میں سے ایک عیدنوروز ہے.
بنیادی طور پر چونکہ ایرانی قوم اسلام قبول کرنے سے پہلے مجوسی تھی اور آگ اور سورج کی پوجا کرتے تھے لہٰذا ان کا کیلنڈر بھی شمسی تھا نہ کہ قمری لہٰذا وہ نوروز والے دن کو بطور عید منایا کرتے تھے. اسلام لانے کے بعد بھی ایرانی قوم اس روز کو ایک تہوار کے طور پر مناتے ہیں اور اُس میں بہت سی غیرشرعی حرکات بھی کی جاتی ہیں.
اور یہ اُسی طرح کا ایک تہوار ہے جیسا کہ پاکستان میں بسنت کو بطور تہوار عوام مناتے ہیں. مگر نہ نوروز کا اسلام سے تعلق ہے اور نہ ہی بسنت کا.
بعض علماء و مجتہدین نوروز کی شرعی حثیت کو واضح کرتے ہوئے نظر آتے ہیں. مگر عوام ہے کہ ماننے پر تیار نہیں اور تیار ہوں بھی کیسے جبکہ بعض ایسے مولوی صاحبان کہ جو فقط اور فقط عمامہ و عبا پہنے ہوئے ہوتے ہیں اور علم سے کوسوں دور ہیں وہ نوروز کی تائید کرتے ہیں اور دلائل نہیں دیتے.

نوروز شرعی عید نہیں ہے آئیے چند دلائل ملاحظہ فرمائیں...
1۔ نوروز اس لئے اسلامی تہوار و عید نہیں ہے کیونکہ اسلام کے تمام احکامات کا تعلق قمری تاریخوں سے ہے جبکہ اس نوروز کا انحصار شمسی کیلنڈر پر کیا گیا ہے.
ارشاد ہوتا ہے..
یسئلونک عن الاھلۃ قل ھی مواقیت للناس والحج (سورۃالبقرہ:189)
لوگ آپ سے مہینے میں چاند کی مختلف صورتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں. کہیئے کہ یہ تقسیم اوقات (اورطبیعی تقویم) کا مظہر ہیں نیز یہ لوگوں (کے نظام زندگی) کے لیے اور حج کے وقت (کےتعین) کے لئے ہیں.

علامہ ذیشان حیدر جوادی اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ اس آیت میں چاند کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے جس میں ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ اسلامی کیلنڈر اور اس کے اوقات چاند کی بنیاد پر ہیں اور اس کا کسی دوسرے کیلنڈر سے کوئی تعلق نہیں. (مطالعہ قرآن ذیشان حیدر جوادی، ص:305)

مفسر قرآن ظفر حسن امروہوی صاحب اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں..
اسلام نے عیسائیوں کی طرح اپنی جنتری سورج سے نہیں بنائی بلکہ چاند سے بنائی ہے. اس میں ایک فائدہ تو یہ ہے کہ شمسی نظام کی رو سے کئی مہینے 31 دن کے ہوتے ہیں. قمری نظام میں کوئی مہینہ 31 دن کا نہیں ہوتا، اس طرح مزدوروں کو ایک دن کی تنخواہ کا گھاٹا نہیں ہوتا. دوسرے رویت ہلال کے وقت ہر ماہ دعائیں پڑھنے کا موقع ملتا ہے.
(تفسیرالقرآن ظفر حسن امروہوی، ص:152 جلد1)

اس آیت کا ترجمہ مولانا مقبول کرتے ہوئے لکھتے ہیں..
لوگ تم سے چاندوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ وہ آدمیوں کے لئے اور حج کے لئے وقت بتانے کا آلہ ہے.
ملا فیض کاشانی صاحب لکھتے ہیں..
اے نبی! یہ لوگ آپ سے چاند کے بڑھنے اور گھٹنے کی حکمت دریافت کرتے ہیں تو آپ یہ فرما دیجئے کہ یہ نشانیاں ہیں جن کے ذریعے لوگ اپنی عبادتوں، زراعتوں اور تجارتوں کے اوقات و قرضہ جات اور عورتوں کی عدت معلوم کرتے ہیں.
(تفسیرصافی، جلد1، صفحہ:36)

ابی الجار و زیاد بن منذر امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کرتا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا؛ اللہ نے ہلال کو وقت معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا ہے.
(نورالثقلین، صفحہ:350)

محدث جلیل العلامہ الخبیر عبد علی بن جمعہ فرید اس آیت کے ذیل میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں..
چاند روزہ، عیدالفطر اور حج کے لیے وقت معلوم کرنے کا ذریعہ ہے.
(تفسیرنورالثقلین، جلد1، صفحہ:350)

آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی صاحب تفسیر نمونہ میں فرماتے ہیں..
جیسا کہ اس آیت کی شان نزول میں آیا ہے کہ کچھ لوگ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چاند کے متعلق سوالات کرتے تھے اس سوال کے جواب میں خداوندعالم نے پیغمبر (ص) کو حکم دیا ہے کہ وہ چاند کے آثاروفوائد بیان کریں، انہیں بتائیں کہ مہینوں کی ابتداء طلوع ہلال کی صورت میں اور پھر تدریجاََ اس کی تبدیلی عبادت اور دینی فرائض کے انجام دہی نیز مادی نظام زندگی کے لیے بہت کارآمد ہے.
(تفسیرنمونہ، جلد1، صفحہ:462)

جاری ہے بقیہ حصہ2 میں ملاحظہ کیجئے.

https://t.me/islamwitheman/3215
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 نوروز کی شرعی حیثیت(حصہ2) 🔷

مزید آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی صاحب چاند کی تقویم کے بارے لکھتے ہیں..
خدائے بزرگ و برتر نے نظام زندگی کی بقاء کیلیے یہ عالمی تقویم عنایت فرمائی ہے.
(تفسیرنمونہ، جلد1، صفحہ:463)

اس سے پتہ چلا کہ قرآن اور اہلیبیتؑ کے فرامین جیسا کہ امام محمد باقرؑ اور امام جعفرصادقؑ سے روایات نقل کی گئی ہیں کہ اسلامی کیلنڈر چاند سے ہی متعلق ہے، نیز علماء بھی یہی فرما رہے ہیں تو پھر نوروز کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے جبکہ اس کا تعلق اسلامی کیلنڈر سے ہے ہی نہیں اور نہ صرف یہ کہ قرآن و اہلیبیتؑ قمری کلینڈر کو سپورٹ کرتے ہیں بلکہ معصومینؑ سے وارد شدہ معتبر روایات میں بھی نوروز کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے.

علماء اعلام اور مؤرخینِ اسلام نے امام موسیٰ کاظمؑ کے حالات و واقعات میں یہ مستند و معتبر واقعہ تحریر فرمایا ہے کہ ایک بار منصور دوانقی عباسی نے کسی مصلحت کے تحت امام موسیٰ کاظمؑ سے خواہش ظاہر کی کہ آپؑ عیدِنوروز کی تقریبات میں شرکت فرمائیں. جس کے جواب میں امامؑ نے حق و حقیقت کو یوں ظاہر کیا اور اپنے عذر کو پیش کیا..
ارشاد فرمایا:
"من دراخباری کہ ازجدم رسول خدا ص وارد شدہ تفشیش کردم از برائے ایں عید چیزے نیافتم و ایں عید سنتے بودہ از برائے فرس؎ و اسلام او را محو نمودہ و پناہ می برم بخدا فرانکہ احیا کنم چیزے راکہ اسلام محو کردہ باشد آں را" الخ
ترجمہ: (امامؑ نے ارشاد فرمایا) میں نے اخبار و آثار میں کہ جو میرے جدِنامدار حضرت رسولِخداؐ سے مجھ تک پہنچے ہیں جستجو کی ہے مگر مجھے ان میں اس عید کے بارے میں کوئی چیز نہیں ملی البتہ (اسلام سے پہلے) اہل فارس اس عید کو مناتے تھے اور اسلام نے اس کو مٹا دیا اور میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اس چیز کو زندہ کروں جسے اسلام نے محو کر دیا ہے.
(منتہی الآمال شیخ عباس قمی، جلد2، ص:129)

یہاں پر امام نے نوروز کی اصل حقیقت کو واضح کیا ہے اور ایسی تمام باتوں کا توڑ پیش کر دیا ہے کہ جو کی جاتی ہیں کہ ہمارے والا نوروز صحیح ہے جیسا کہ جنتری میں تحریر کیا گیا ہے اور اگر ایسا ہی ہوتا تو امام ارشاد فرماتے کہ ایرانیوں کا نوروز غلط ہے اور ہمارے والا صحیح ہے جبکہ امام نے ارشاد فرمایا ہے کہ اسلام نے نوروز کو محو کردیا ہے.

یہی وجہ ہے کہ علماء و مجتہدین اس عید کے شرعی ہونے کا ہمیشہ انکار کرتے رہے ہیں جیسا کہ رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے جب ان لفظوں میں سوال ہوا..
سوال: عید نوروز کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ آیا عیدِنوروز کا دوسری عیدوں جیسے عیدالفطر اور عیدالاضحی کی طرح عید ہونا شرعی ثابت ہے، جن عیدوں میں لوگ جشن مناتے ہیں؟ یا یہ کہ نوروز اور دوسرے مبارک ایام وغیرہ کی طرح ایک مبارک دن ہے؟
جواباََ ارشاد فرماتے ہیں..
جواب: نوروز کے دینی عید ہونے کے بارے میں معتبر روایات وارد نہیں ہوئی ہیں اور نہ ہی بالخصوص شرعاََ مبارک ایام میں سے قرار دیئے جانے پر کوئی معتبر نص ہے.
(رسالہ عملیہ توضیح المسائل، استفتاءات)

اس سے پتہ چلا کہ رہبر معظم کے نزدیک نوروز نہ تو کوئی عید کا دن ہے اور نہ ہی مبارک ایام میں سے ہے اور اس پر کوئی معتبر نص وارد نہیں ہوئی کیونکہ بعض لوگ معلی بن خنیس جیسے راویوں کی روایت نوروز کے حق میں نقل کرتے ہیں.. حالانکہ اس کی جو حیثیت ہے وہ علم رجال کے ماہرین پر مخفی نہیں. اسی لئے رہبر معظم نے فرمایا ہے کہ نوروز کے دینی عید ہونے کے بارے میں معتبر روایات وارد نہیں ہوئیں ہیں.

2۔ اس کے علاوہ صاحب تفسیرالمیزان علامہ محمد حسین طباطبائی نے بھی نوروز کی شرعی حثیت کو اپنی تفسیر میں واضح فرمایا ہے ارشاد فرماتے ہیں..
نوروز اور مہرجان کی عید قومی و علاقائی حوالے سے عید ہے کہ جسے اہل فارس مناتے ہیں.
(تفسیرالمیزان، صفحہ:35)

جو یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اس دن بہت سے واقعات ہوئے ہیں جیسا کہ عیدِغدیر اور بہت سے دیگر واقعات تو جواباََ عرض ہے کہ عید غدیر 18ذوالحجہ اسلامی کیلنڈر کے مطابق ہوتی ہے اور کسی دوسرے کیلنڈر کا اعتبار نہیں وگرنہ دنیا میں بہت سے کیلنڈر رائج ہیں مثلاََ شمسی کیلنڈر، بکرمی کیلنڈر و دیسی کیلنڈر، ایرانی کیلنڈر....
اسلام کے ہر واقعہ کی یاد ان تمام کیلنڈروں سے وابستہ نہیں ہے وگرنہ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ پہ دنبہ ذبح ہونے کے لئے آیا تھا تو ہر کیلنڈر کے مطابق کوئی نہ کوئی تاریخ تھی، جب حضورؐ کی ولادت ہوئی تب بھی ہر کیلنڈر کے مطابق کوئی نہ کوئی تاریخ تھی اور مولودِکعبہ جب تیرہ رجب کو خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے اور اسی طرح امام حسین علیہ السلام کی ولادت اور باقی آئمہ معصومینؑ کی ولادت اور منسوب ایام میں ہر کیلنڈر میں کوئی نہ کوئی تاریخ تھی مگر اسلام نے قمری کیلنڈر کو سپورٹ کیا ہے نہ کہ کسی اور کیلنڈر کو.

خدا ہمیں صحیح معنوں میں مؤمن بننے کی توفیق عطا فرمائے.

https://t.me/islamwitheman/3219
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 شہزادہ قاسمؑ بن حسن علیہ السلام 🌹

قاسم بن حسنؑ (شہادت: سنہ 61 ھ)، امام حسن مجتبٰیؑ کے فرزند ہیں جو کربلا میں شہید ہوئے۔ آپؑ نے شب عاشور امام حسینؑ کے موت سے متعلق سوال کے جواب میں موت کو شہد سے میٹھا قرار دیا۔ مجالس عزا میں میدان کربلا میں امام حسینؑ کی بیٹی سے آپ کی شادی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ محققین اس موضوع کے متعلق شک کا اظہار کرتے ہیں اور بعض اسے صحیح نہیں مانتے ہیں۔ پاکستان و ھندوستان میں عام طور پر سات محرم اور ایران میں عام طور پر چھ محرم قاسمؑ بن حسنؑ کی شہادت کا ذکر ہوتا ہے۔

تعارف
آپؑ کی تاریخ ولادت کتب میں مذکور نہیں ہے۔ مقتل خوارزمی میں نقل ہوا ہے کہ آپ سن بلوغ تک نہیں پہچے تھے۔[1] لباب الانساب میں بیہقی نے شہادت کے وقت آپ کی عمر 16 سال ذکر کی ہے۔[2]

شیخ مفید نے مادر قاسمؑ بن حسنؑ، عبداللہ بن حسن و عمرو بن حسن کو کنیز ذکر کیا ہے۔[3] مقاتل الطالبین کے مطابق قاسمؑ بن حسنؑ اور ابوبکر بن حسنؑ کی والدہ ایک ہی ہیں۔[4]

واقعہ کربلا میں
شب عاشور سنہ 61 ھ، جس وقت امام حسینؑ نے اپنے اصحاب کو یہ خبر دی کہ کل سب شہید ہو جائیں گے تو قاسمؑ بن حسنؑ نے امامؑ سے سوال کیا کہ کیا مجھے بھی شہادت نصیب ہوگی؟ امام حسینؑ نے قاسم سے پوچھا: موت تمہارے نزدیک کیسی ہے؟ قاسمؑ نے جواب دیا: موت میرے لئے شہد سے زیادہ شیریں ہیں۔[5]

روز عاشورا قاسمؑ امام حسینؑ کی خدمت میں آئے اور دشمنوں سے جنگ کی اجازت طلب کی۔ امامؑ نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا اور کچھ دیر گریہ کیا۔ قاسمؑ اصرار کرتے رہے اور امام کے ہاتھوں کا بوسہ لیتے رہے یہاں تک کہ امام نے انہیں اجازت دے دی۔ قاسمؑ اس حالت میں کہ ان کی آنکھوں سے اشک جاری تھے، میدان کا رخ کرتے ہیں اور اس طرح رجز پڑھتے ہیں:

اگر مجھے نہیں پہچانتے تو میں حسن مجتبٰیؑ کا فرزند ہوں، جو نواسہ رسول مصطفٰی و امینؑ ہیں۔

یہ حسینؑ اغوا شدہ کی طرح اسیر ہیں، ایسے لوگوں کے درمیان کہ خدا انہیں آب باران سے سیراب نہ کرے۔[6]

شہادت
ابو الفرج اصفہانی نے قاسم بن حسنؑ کے قاتل کا نام عمرو بن سعید نفیل ازدی نقل کیا ہے۔[7] ابومخنف کی روایت کے مطابق جو انہوں نے حمید بن مسلم سے نقل کی ہے: حمید ابن مسلم ازدی (مؤرخ کربلا) کا بیان ہے کہ میں نے ایک ایسے نوجوان کو میدان کارزار کی طرف آتے دیکھا جس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی مانند چمک رہا تھا، اس کے ہاتھ میں تلوار تھی، اس نے ایک بلند پیراہن پہنا ہوا تھا، وہ میدان میں داخل ہوا اور اپنے نعلین کا تسمہ باندھنے کے لئے رک گیا۔ اسے بہت سے لوگوں نے گھیرا ہوا تھا مگر اسے پرواہ نہیں تھی۔ اسی وقت عمر بن سعید بن نفیل ازدی نے حمید سے کہا: میں اس پر سخت حملہ کروں گا۔ حمید کہتا ہے: میں اس سے کہا جو لوگ اسے گھیرے ہوئے ہیں وہ اس کے لئے کافی ہیں۔ حمید کہتا ہے کہ خدا کی قسم اگر وہ میرے اوپر حملہ کرے تو میں اس کی طرف ہاتھ نہیں اٹھاوں گا۔ ابن نفیل ازدی کہتا ہے: لیکن میں اس نوجوان پر سخت حملہ کروں گا۔ قاسم جنگ میں مشغول ہوگئے اور ابن نفیل ازدی نے کمین سے ان کے سر پر حملہ کیا اور قاسم کا سر شگافتہ ہوگیا۔[8] قاسم منہ کے بل زمین پر گر گئے اور آواز دی: یا عمّاه! (اے میرے چچا) حسینؑ ایک باز کی مانند جو بڑی تیزی سے شکار کو دیکھ کر آسمان کی بلندیوں کو چھوڑ کر نیچے جھپٹتا ہے، اس کی طرف لپکے اور آپ نے ایک بپھرے ہوئے غضبناک شیر کی مانند حملہ کیا ۔۔۔۔ آپ نے قاسم بن حسن کا لاشہ سینے سے لگا کر اٹھایا۔ امامؑ نے اس کے لاشے کو بنی ہاشم[9] کے دیگر شہدا کے اور اپنے بیٹے علی اکبر کے پاس لٹا دیا۔[10]

شادی
عشرۂ محرم الحرام میں پڑھے جانے والے واقعات میں سے ایک قاسمؑ بن حسنؑ کی امام حسینؑ کی بیٹی سے شادی ہے۔ بعض محققین اس واقعہ کے صحیح ہونے میں تردید کرتے ہیں اور بعض اسے صحیح نہیں مانتے ہیں۔ شہید مرتضٰی مطہری کے مطابق، ان امور میں سے جو قدیم الایام سے ہماری عزاداری اور مجالس کا حصہ ہیں، ان میں سے ایک جناب قاسمؑ کی شادی ہے۔ جبکہ یہ واقعہ ہماری کسی بھی معتبر تاریخی کتاب میں موجود نہیں ہے۔ وہ محدث نوری سے نقل کرتے ہیں کہ سب سے پہلے اس واقعہ کو اپنی کتاب میں نقل کرتے والے ملا حسین کاشفی ہیں۔ جنہوں نے اسے اپنی کتاب روضۃ الشہداء میں نقل کیا ہے۔ جبکہ اصل واقعہ سو فیصدی چھوٹ ہے۔[11]

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

📚 حوالہ جات
1۔ خوارمی، مقتل الخوارزمی، ۱۴۱۸ق، ج۲، ص۳۱.
2۔ بیہقی، لباب الانساب، ج1 ص 401
3۔ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۶ق، ج۲، ص۲۰.
4۔ ابو الفرج اصفهانی، مقاتل الطالبیین، ۱۴۱۶ق، ص۹۲.
5۔ مطهری، مجموعہ آثار، ۱۳۷۷ش، ج۱۷، ص۸۱-۸۲.
6۔ مجلسی، بحار الأنوار، بیروت، ج۴۵، ص۳۴.
7۔ ابو الفرج اصفهانی، مقاتل الطالبیین، ۱۴۱۶ق، ص۹۳.
8۔ وقعة الطف، ص۲۴۴.
9۔ سید بن طاووس، اللهوف، ۱۴۱۴ق، ص۶۸–۶۹.
10۔ ابو الفرج اصفهانی، مقاتل الطالبیین، ۱۴۱۶ق، ص۹۳.
11۔ مطهری، مجموعہ آثار، ۱۳۷۷ش، ج۱۷، ص۷۷.

https://t.me/islamwitheman/3227
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 ولادت باسعادت شہزادہ قاسمؑ 🌹

جشنِ ولادت پُرنُور شہزادہ قاسمؑ اِبن الحسن علیہ السلام کے موقع پر ھم تمام اہل ولایت اور اِمام مہدی آخرالزّماں عج کی بارگاہ میں مُبارکباد پیش کرتے ھیں۔

قاسمؑ کربلا کا عجب انتخاب ہے
طفلی میں بھی حسنؑ کا مکمل شباب ہے
قاسمؑ کربلا میں وہ جوہر دکھا گئے
بھگوڑوں کی اولادوں کو علیؑ یاد آگئے

شہزادہ قاسمؑ نے آنکھ کھولی ولی خدا حسن مجتبیٰؑ کی گود میں، امام نے نام رکھا "قاسمؑ" پرورش پائی ہادی برحق امام معصوم امام حسینؑ کی آغوش مبارک میں، فنون جنگ کی تعلیم ملی اشجع عرب قمر بنی ہاشم حضرت عباسؑ ابن علیؑ سے۔

حضرت قاسمؑ ابن امام حسن علیہ السلام نے جس ماحول میں پرورش پائی وہ خدا پرستی کا ماحول تھا- جہاں شب و روز خدا پرستی کا درس ہوتا تھا۔ وحی قرآن کا مفہوم بیان ہوتا تھا۔ اخلاق حسنہ اور اعمال صالح کی تعلیم دی جاتی تھی۔ بچپن میں پھوپهی زینبؑ اور دادی زہرا سلام الله علیھا کا خطبہ فدک سناسنا تھا جو شہزادہ قاسم علیہ السلام کو پورا یاد تھا۔ حسینؑ ابن علیؑ سے حضرت ابو طالب علیہ السلام کے اشعار سنتے تو حافظے میں محفوظ رہ جاتے۔ کمسنی سے قران حفظ تھا۔ مسجد نبوی میں جب قرآن کی تلاوت فرماتے تو لوگ آپ کی پرسوز تلاوت، لحن داؤدی سے مشتاق ہو کر مسجد میں جمع ہو جاتے۔
محمد و آل محمد علیھم السلام کی شجاعت کی جیتی جاگتی تصویر شہزادہ قاسمؑ وہ عظیم کمسن مجاہد ہیں جو میدانِ کربلا میں اہلبیتؑ کے جوانوں کی چند شہادتوں کے بعد جہاد کے قصد سے میدان میں اس عالم میں وارد ہوئے کہ آپؑ کا چہرہ چاند کی مانند چمک رہا تھا، زرّہ کی بجائے عربی لباس زیب تن کر رکھا تھا، پائے مبارک میں نعلین اور ہاتھ میں تلوار تھی۔ آپؑ کا زرّہ نہ پہننا اپنے جدِ بزرگوار حضرت علیؑ ابن ابی طالبؑ کی تاسی میں تھا جو ایک جنگ میں معمولی قمیض پہن کر دشمن پر حملہ آور ہوئے تو ایک سوال کے جواب میں اپنے بڑے فرزند حسن مجتبیٰؑ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ بیٹا حسنؑ تیرے بابا علیؑ کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ موت مجھ پر آپڑے یا میں موت پر جا پڑوں، مجھے موت سے اسی طرح محبت ہے جس طرح بچے کو ماں کے دودھ سے ہوتی ہے۔
پس شہزادہ قاسمؐ کی ولادت کے وقت جتنا بدن مولا امام حسنؐ کے ہاتھوں پہ تھا۔ اتنا ہی مولا امام حسینؑ عاشور کے روز خیام میں گٹھڑی میں لے کر آئے۔
لاکھوں درود و صلوات مولا امام حسنؑ کے اس 13 سالہ شہزادے پر۔

✍ سید زین رضا رضوی.

https://t.me/islamwitheman/3234
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕