🌹 ولادت باسعادت حضرت عباس عملدارؑ 🌹
اسم مبارک: عباس، القاب: افضل الشہداء، باب الحوائج، قمرِ بنی ھاشم، شہنشاہِ وفا، علمدار، غازی، سقائے سکینہ۔
کنیت: ابوالفضل
حضرت عباس علیہ السلام امام علی علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ام البنین تھا جن کا تعلق عرب کے ایک بہادر قبیلے سے تھا۔ حضرت عباس اپنی بہادری اور شیر دلی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں
🔷 ولادت با سعادت
حضرت عباس علیہ السلام چار شعبان المعظم 26ھ کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے اس وقت تک آنکھ نہیں کھولی جب تک ان کے بھائی امام حسین علیہ السلام نے انھیں اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا۔ بچپن ہی سے انھیں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بہت محبت تھی۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس عظیم الشان بچے کا نام عباس رکھا۔ روایت ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام کی پیدائش کا مقصد ہی امام حسین علیہ السلام کی مدد اور نصرت تھا اور اھلِ بیت علیہم السلام کو شروع سے واقعہ کربلا اور اس میں حضرت عباس علیہ السلام کے کردار کا علم تھا۔ حضرت علیؑ ابن ابی طالبؑ نے اپنے بھائی عقیل ابن ابی طالبؑ کے مشورے سے جو انساب کے ماہر تھے ایک متقی اور بہادر قبیلے کی خاتون فاطمۂ کلابیہ سے عقد کیا اور اپنے پروردگار سے دعا کی کہ پروردگار! مجھے ایک ایسا بیٹا عطا کرے جو اسلام کی بقاء کے لئے کربلا کے خونیں معرکہ میں امام حسینؑ کی نصرت و مدد کرے چنانچہ اللہ نے فاطمۂ کلابیہ کے بطن سے کہ جنہیں حضرت علی علیہ السلام نے ام البنین کا خطاب عطا کیا تھا ، چار بیٹے امام علی کو عطا کردئے اور ان سب کی شجاعت و دلیری زباں زد خاص و عام تھی اور سبھی نے میدان کربلا میں نصرت اسلام کا حق ادا کیااور شہید ہوئے لیکن عباسؑ ان سب میں ممتاز اور نمایاں تھے کیونکہ خود حضرت علی علیہ السلام نے ان کی ایک خاص نہج پر پرورش کی تھی۔
🔷 ابتدائی زندگی
حضرت علی علیہ السلام نے ان کی تربیت و پرورش کی تھی۔ حضرت علی علیہ السلام سے انھوں نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصاً علم فقہ حاصل کئے۔ 14سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدر کہلانے لگے۔ حضرت عباس علیہ السلام بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور و مناجات و عبادت سے خاص شغف رکھتے تھے۔ ان کی تعلیم و تربیت خصوصاً کربلا کے لئے ہوئی تھی۔ لوگوں کی خبرگیری اور فلاح و بہبود کے لئے خاص طور پر مشہور تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل ہوا۔ حضرت عباس کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثارووفاداری“ ہے جو ان کے روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے۔ وہ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے عاشق و گرویدہ تھے اورسخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہوگیا ہے اور اسی لئے ان کا ایک لقب شہنشاہِ وفا ہے۔
🔷 جنگ صفین
جنگ صفین حضرت علی علیہ السلام اور شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان مئی۔جولائی 657 ء میں ہوئی۔ اس جنگ میں حضرت عباس علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام کا لباس پہنا اور بالکل اپنے والد علی علیہ السلام کے طرح زبردست جنگ کی حتیٰ کہ لوگوں نے ان کو علی ہی سمجھا۔ جب علی علیہ السلام بھی میدان میں داخل ہوئے تو لوگ ششدر رہ گئے۔ اس موقع پر علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے عباس کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ عباس ھیں اور یہ بنو ھاشم کے چاند ھیں۔ اسی وجہ سے حضرت عباس علیہ السلام کو قمرِ بنی ھاشم کہا جاتا ھے۔
🔷 واقعہ کربلا اور حضرت عباسؑ
واقعہ کربلا کے وقت حضرت عباس علیہ السلام کی عمر تقریباً 33سال کی تھی۔ امام حسین علیہ السلام نے آپ کو لشکر حق کا علمبردار قرار دیا۔ امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کی تعداد 72 یا زیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ تھی مگر حضرت عباس علیہ السلام کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی۔ کربلامیں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس علیہ السلام جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امام وقت نے انھیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت ابوالفضل العباس کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے:
”چچا عباس کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پرفائز ہو گئے آپ نے بڑا ہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے“۔
https://t.me/islamwitheman/3180
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
اسم مبارک: عباس، القاب: افضل الشہداء، باب الحوائج، قمرِ بنی ھاشم، شہنشاہِ وفا، علمدار، غازی، سقائے سکینہ۔
کنیت: ابوالفضل
حضرت عباس علیہ السلام امام علی علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ام البنین تھا جن کا تعلق عرب کے ایک بہادر قبیلے سے تھا۔ حضرت عباس اپنی بہادری اور شیر دلی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں
🔷 ولادت با سعادت
حضرت عباس علیہ السلام چار شعبان المعظم 26ھ کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے اس وقت تک آنکھ نہیں کھولی جب تک ان کے بھائی امام حسین علیہ السلام نے انھیں اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا۔ بچپن ہی سے انھیں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بہت محبت تھی۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس عظیم الشان بچے کا نام عباس رکھا۔ روایت ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام کی پیدائش کا مقصد ہی امام حسین علیہ السلام کی مدد اور نصرت تھا اور اھلِ بیت علیہم السلام کو شروع سے واقعہ کربلا اور اس میں حضرت عباس علیہ السلام کے کردار کا علم تھا۔ حضرت علیؑ ابن ابی طالبؑ نے اپنے بھائی عقیل ابن ابی طالبؑ کے مشورے سے جو انساب کے ماہر تھے ایک متقی اور بہادر قبیلے کی خاتون فاطمۂ کلابیہ سے عقد کیا اور اپنے پروردگار سے دعا کی کہ پروردگار! مجھے ایک ایسا بیٹا عطا کرے جو اسلام کی بقاء کے لئے کربلا کے خونیں معرکہ میں امام حسینؑ کی نصرت و مدد کرے چنانچہ اللہ نے فاطمۂ کلابیہ کے بطن سے کہ جنہیں حضرت علی علیہ السلام نے ام البنین کا خطاب عطا کیا تھا ، چار بیٹے امام علی کو عطا کردئے اور ان سب کی شجاعت و دلیری زباں زد خاص و عام تھی اور سبھی نے میدان کربلا میں نصرت اسلام کا حق ادا کیااور شہید ہوئے لیکن عباسؑ ان سب میں ممتاز اور نمایاں تھے کیونکہ خود حضرت علی علیہ السلام نے ان کی ایک خاص نہج پر پرورش کی تھی۔
🔷 ابتدائی زندگی
حضرت علی علیہ السلام نے ان کی تربیت و پرورش کی تھی۔ حضرت علی علیہ السلام سے انھوں نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصاً علم فقہ حاصل کئے۔ 14سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدر کہلانے لگے۔ حضرت عباس علیہ السلام بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور و مناجات و عبادت سے خاص شغف رکھتے تھے۔ ان کی تعلیم و تربیت خصوصاً کربلا کے لئے ہوئی تھی۔ لوگوں کی خبرگیری اور فلاح و بہبود کے لئے خاص طور پر مشہور تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل ہوا۔ حضرت عباس کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثارووفاداری“ ہے جو ان کے روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے۔ وہ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے عاشق و گرویدہ تھے اورسخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہوگیا ہے اور اسی لئے ان کا ایک لقب شہنشاہِ وفا ہے۔
🔷 جنگ صفین
جنگ صفین حضرت علی علیہ السلام اور شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان مئی۔جولائی 657 ء میں ہوئی۔ اس جنگ میں حضرت عباس علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام کا لباس پہنا اور بالکل اپنے والد علی علیہ السلام کے طرح زبردست جنگ کی حتیٰ کہ لوگوں نے ان کو علی ہی سمجھا۔ جب علی علیہ السلام بھی میدان میں داخل ہوئے تو لوگ ششدر رہ گئے۔ اس موقع پر علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے عباس کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ عباس ھیں اور یہ بنو ھاشم کے چاند ھیں۔ اسی وجہ سے حضرت عباس علیہ السلام کو قمرِ بنی ھاشم کہا جاتا ھے۔
🔷 واقعہ کربلا اور حضرت عباسؑ
واقعہ کربلا کے وقت حضرت عباس علیہ السلام کی عمر تقریباً 33سال کی تھی۔ امام حسین علیہ السلام نے آپ کو لشکر حق کا علمبردار قرار دیا۔ امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کی تعداد 72 یا زیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ تھی مگر حضرت عباس علیہ السلام کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی۔ کربلامیں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس علیہ السلام جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امام وقت نے انھیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت ابوالفضل العباس کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے:
”چچا عباس کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پرفائز ہو گئے آپ نے بڑا ہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے“۔
https://t.me/islamwitheman/3180
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 حضرت عباس علمدارؑ کی شہادت 🌹
■ امان نامے کو ٹھکرانا
تاریخی گزارشات کے مطابق کربلا میں حضرت عباسؑ اور ان کے بھائیوں کے لیے دو آدمیوں نے امان نامہ بھیجا لیکن جناب عباس اور ان کے بھائیوں نے انھیں ٹھکرا دیا:
پہلا امان نامہ عبداللہ بن ابی المحل بن حزام عامری لے کر آیا۔ وہ حضرت عباسؑ کی والدہ ام البنین کا بھتیجا تھا۔ وہ عبیداللہ بن زیاد سے اپنی پھوپھی زاد بھائیوں کے لیے امان نامہ لینے میں کامیاب ہوا اور اسے اپنے غلام کے ہاتھوں ان کے پاس بھیجا۔ جب عباس اور ان کے بھائیوں نے اس امان نامے کو پڑھا تو کہا کہ ہم اللہ کی امان میں ہیں اور ایسے کسی ذلت آمیز امان نامے کے محتاج نہیں۔[1]
دوسرا امان نامہ شمر بن ذی الجوشن نے ظہر عاشورا عباس اور ان کے بھائیوں کے لیے پیش کیا اور پھوپھی کے بیٹے کہتے ہوئے آواز دی لیکن جواب نہیں ملا۔ امام حسینؑ نے عباس سے فرمایا اگرچہ شمر فاسق ہے لیکن اس کا جواب دو۔ شمر نے امان نامہ پیش کیا لیکن اسے یزید کی اطاعت اور تسلیم ہونے کے ساتھ مشروط کیا۔ حضرت عباس نے وہ اور اس کے امان نامے پر لعنت بھیجتے ہوئے کہا: «اے دشمن خدا! موت ہو تم پر! ہمیں کفر کی اور مجھے بھائی حسینؑ کو چھوڑنے کی دعوت دے رہے ہو۔»[2]
■ شہادت
10 محرم کو امام حسین علیہ السلام نےان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی سکینہؑ بنت الحسینؑ کے لئے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انھوں نے اپنے دونوں ھاتھ کٹوا دیئے اور شہادت پائی۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندانِ رسالت پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ھوا ویسے ہی حضرت ابوالفضل العباسؑ کے ساتھ ہوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔[3]
■ مدفن
حضرت ابوالفضل العباسؑ کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔ دریائے فرات جو ان کے روضے سے کچھ فاصلے پر تھا اب ان کی قبر مبارک کے اردگرد چکر لگاتا ہے۔
ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے
سارے عالم کی وفا حضرت عباسؑ ميں ہے.
📚 حوالہ جات
1۔ الخوارزمی، مقتل الحسین، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۳۴۸-۳۴۹؛ ابن اعثم الکوفی، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۵، ص۹۳.
2۔ ابن اثیر، الکامل، ۱۳۷۱ش، ج۱۱، ۱۶۲؛ خوارزمی، مقتل الحسین، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۳۴۹؛ ابن اعثم الکوفی، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۵، ص۹۴.
3۔ بسطامی، تحفۂ حسینیہ، ص78۔ عربی
https://t.me/islamwitheman/3187
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
■ امان نامے کو ٹھکرانا
تاریخی گزارشات کے مطابق کربلا میں حضرت عباسؑ اور ان کے بھائیوں کے لیے دو آدمیوں نے امان نامہ بھیجا لیکن جناب عباس اور ان کے بھائیوں نے انھیں ٹھکرا دیا:
پہلا امان نامہ عبداللہ بن ابی المحل بن حزام عامری لے کر آیا۔ وہ حضرت عباسؑ کی والدہ ام البنین کا بھتیجا تھا۔ وہ عبیداللہ بن زیاد سے اپنی پھوپھی زاد بھائیوں کے لیے امان نامہ لینے میں کامیاب ہوا اور اسے اپنے غلام کے ہاتھوں ان کے پاس بھیجا۔ جب عباس اور ان کے بھائیوں نے اس امان نامے کو پڑھا تو کہا کہ ہم اللہ کی امان میں ہیں اور ایسے کسی ذلت آمیز امان نامے کے محتاج نہیں۔[1]
دوسرا امان نامہ شمر بن ذی الجوشن نے ظہر عاشورا عباس اور ان کے بھائیوں کے لیے پیش کیا اور پھوپھی کے بیٹے کہتے ہوئے آواز دی لیکن جواب نہیں ملا۔ امام حسینؑ نے عباس سے فرمایا اگرچہ شمر فاسق ہے لیکن اس کا جواب دو۔ شمر نے امان نامہ پیش کیا لیکن اسے یزید کی اطاعت اور تسلیم ہونے کے ساتھ مشروط کیا۔ حضرت عباس نے وہ اور اس کے امان نامے پر لعنت بھیجتے ہوئے کہا: «اے دشمن خدا! موت ہو تم پر! ہمیں کفر کی اور مجھے بھائی حسینؑ کو چھوڑنے کی دعوت دے رہے ہو۔»[2]
■ شہادت
10 محرم کو امام حسین علیہ السلام نےان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی سکینہؑ بنت الحسینؑ کے لئے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انھوں نے اپنے دونوں ھاتھ کٹوا دیئے اور شہادت پائی۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندانِ رسالت پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ھوا ویسے ہی حضرت ابوالفضل العباسؑ کے ساتھ ہوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔[3]
■ مدفن
حضرت ابوالفضل العباسؑ کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔ دریائے فرات جو ان کے روضے سے کچھ فاصلے پر تھا اب ان کی قبر مبارک کے اردگرد چکر لگاتا ہے۔
ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے
سارے عالم کی وفا حضرت عباسؑ ميں ہے.
📚 حوالہ جات
1۔ الخوارزمی، مقتل الحسین، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۳۴۸-۳۴۹؛ ابن اعثم الکوفی، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۵، ص۹۳.
2۔ ابن اثیر، الکامل، ۱۳۷۱ش، ج۱۱، ۱۶۲؛ خوارزمی، مقتل الحسین، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۳۴۹؛ ابن اعثم الکوفی، الفتوح، ۱۴۱۱ق، ج۵، ص۹۴.
3۔ بسطامی، تحفۂ حسینیہ، ص78۔ عربی
https://t.me/islamwitheman/3187
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 ولادت باسعادت حضرت عباس عملدارؑ 🌹
اسم مبارک: عباس، القاب: افضل الشہداء، باب الحوائج، قمرِ بنی ھاشم، شہنشاہِ وفا، علمدار، غازی، سقائے سکینہ۔
کنیت: ابوالفضل
حضرت عباس علیہ السلام امام علی علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ام البنین تھا جن کا…
اسم مبارک: عباس، القاب: افضل الشہداء، باب الحوائج، قمرِ بنی ھاشم، شہنشاہِ وفا، علمدار، غازی، سقائے سکینہ۔
کنیت: ابوالفضل
حضرت عباس علیہ السلام امام علی علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ام البنین تھا جن کا…
🌹 حضرت عباسؑ باب الحوائج 🌹
علامہ جلیل شیخ عبدُالرحیم تستریؒ کہتے ھیں۔۔
”میں نے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی، زیارت کے بعد حرم حضرت عباس علیہ السلام میں پہنچا وھاں میں نے دیکھا کہ ایک بدّو اپنے بیمار لڑکے کو لیکر آیا جس کے پیروں کوفالج کااثرتھا،ضریح حضرت سے اس کو باندھ دیا اور رو رو کر دعائیں کرنے لگا تھوڑی دیر گزری تھی کہ بچہ صحیح وسالم ھو کر حرم میں باآواز بلند کہنے لگا: ”عباس علمدار نے مجھکو شفا بخشی “لوگوں نے اس کو گھیر لیا اور تبرک کے طور پر اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے،
میں نے جس وقت یہ منظر دیکھا ضریح کے قریب گیا اور حضرت علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ ناآشنائے ادب کی دعاؤں کو سن لیتے ھیں اور ھماری دعاؤں کو جبکہ ھمیں آپ کی معرفت بھی ھے مستجاب نھیں فرماتے، ٹھیک ھے اب میں آئندہ آپ کی زیارت کے لئے نھیں آؤنگا، بعد میں مجھے یہ خیال ھوا کہ میں نے گستاخی کی ھے۔ خدا سے اپنی غلطی کی معافی مانگتا رھا۔
جب میں نجف پہنچا تو استاد بزرگوار شیخ مرتضیٰ انصاری رحمۃ اللہ علیہ میرے پاس تشریف لائے اور پیسوں کی دو تھیلیاں دیتے ھوئے فرمایا: ”لو یہ تمھارے پیسے ھیں جو تم نے حضرت عباس علیہ السلام سے طلب کئے تھے، ایک سے اپنا مکان بنوا لو اور ایک سے حج کرلو“ میں نے بھی حضرت سے یھی دو سوال کئے تھے۔
📚 ”صحیفۂ وفا” ابوالفضل آئمہ طاہرینؑ کی نظر میں۔
https://t.me/islamwitheman/3188
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
علامہ جلیل شیخ عبدُالرحیم تستریؒ کہتے ھیں۔۔
”میں نے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی، زیارت کے بعد حرم حضرت عباس علیہ السلام میں پہنچا وھاں میں نے دیکھا کہ ایک بدّو اپنے بیمار لڑکے کو لیکر آیا جس کے پیروں کوفالج کااثرتھا،ضریح حضرت سے اس کو باندھ دیا اور رو رو کر دعائیں کرنے لگا تھوڑی دیر گزری تھی کہ بچہ صحیح وسالم ھو کر حرم میں باآواز بلند کہنے لگا: ”عباس علمدار نے مجھکو شفا بخشی “لوگوں نے اس کو گھیر لیا اور تبرک کے طور پر اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے،
میں نے جس وقت یہ منظر دیکھا ضریح کے قریب گیا اور حضرت علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ ناآشنائے ادب کی دعاؤں کو سن لیتے ھیں اور ھماری دعاؤں کو جبکہ ھمیں آپ کی معرفت بھی ھے مستجاب نھیں فرماتے، ٹھیک ھے اب میں آئندہ آپ کی زیارت کے لئے نھیں آؤنگا، بعد میں مجھے یہ خیال ھوا کہ میں نے گستاخی کی ھے۔ خدا سے اپنی غلطی کی معافی مانگتا رھا۔
جب میں نجف پہنچا تو استاد بزرگوار شیخ مرتضیٰ انصاری رحمۃ اللہ علیہ میرے پاس تشریف لائے اور پیسوں کی دو تھیلیاں دیتے ھوئے فرمایا: ”لو یہ تمھارے پیسے ھیں جو تم نے حضرت عباس علیہ السلام سے طلب کئے تھے، ایک سے اپنا مکان بنوا لو اور ایک سے حج کرلو“ میں نے بھی حضرت سے یھی دو سوال کئے تھے۔
📚 ”صحیفۂ وفا” ابوالفضل آئمہ طاہرینؑ کی نظر میں۔
https://t.me/islamwitheman/3188
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 حضرت عباس علمدارؑ کی شہادت 🌹
■ امان نامے کو ٹھکرانا
تاریخی گزارشات کے مطابق کربلا میں حضرت عباسؑ اور ان کے بھائیوں کے لیے دو آدمیوں نے امان نامہ بھیجا لیکن جناب عباس اور ان کے بھائیوں نے انھیں ٹھکرا دیا:
پہلا امان نامہ عبداللہ بن ابی المحل بن حزام عامری…
■ امان نامے کو ٹھکرانا
تاریخی گزارشات کے مطابق کربلا میں حضرت عباسؑ اور ان کے بھائیوں کے لیے دو آدمیوں نے امان نامہ بھیجا لیکن جناب عباس اور ان کے بھائیوں نے انھیں ٹھکرا دیا:
پہلا امان نامہ عبداللہ بن ابی المحل بن حزام عامری…
🌹 پانی اور قبرِ وفائے کربلا 🌹
آیةالله حاج سید عباس كاشانى حائرى نقل کرتے ہیں کہ ایک دن میں آیةالله العظمٰى حكیم کے گھر تھا تو ایک حرم کا خادم جس کے پاس آستان مقدس حضرت ابوالفضل علیه السلام کی چابیاں تھیں، ٹیلی فون کیا اور کہا؛ سرداب مقدس ابوالفضل علیه السلام کو پانی نے گھیرا ہوا ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں پورا حرم مطهر و گنبد و مناروں کو نقصان نہ پہنچائے آپ جلدی کریں کچھ کریں.
آیةالله حكیم فرماتے ہیں۔۔
میں جمعہ کو آؤں گا اور جتنی میری توان ہے انجام دوں گا ان شاءاللہ۔
پھر نجف اشرف سے علماء کا ایک گروہ کربلا معلیٰ حرم مطهر حضرت ابوالفضل العباس علیه السلام میں گیا پھر تمام علماء اور حضرت آیۃ اللہ حکیم بھی سرداب مقدس میں تشریف لے گئے. ابھی چند سیڑھیاں ہی نیچے اترے تھے بلند آواز جو ہم نے کبھی نہیں سنی تھی، گریہ اور رونے کی آواز سنی اور سب موجود افراد متعجب ہوئے کہ کیا ہو گیا ہے؟ میں نے اپنے آپ کو اونچا کیا تاکہ دیکھ سکوں کیا ہوا ہے؟ جب میں نے دیکھا تو عجیب سا منظر تھا جس نے مجھے بھی رونے پر مجبور کر دیا.
حضرت ابوالفضل علیه السلام کی قبر شریف جو پانی کے درمیان تھی قبر کے چاروں طرف پانی طواف کی طرح گھوم رہا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ پانی اور قبر کے درمیان ایک مضبوط دیوار ہے جو پانی کو قبر تک جانے سے روکے ہوئے ہے جبکہ کوئی دیوار نہیں تھی. بالکل اسطرح جسطرح حضرت امام حسین علیه السلام کی قبر پر متوكل عباسى لعنةالله علیہ نے پانی چھوڑا تھا لیکن پانی امامؑ کی قبر کی طرف نہیں گیا تھا۔
📚 كرامات الصالحین، ص286، به نقل از: كرامات العباسیه (معجزات حضرت اباالفضلؑ)، على میرخلفزاده، ص92.
https://t.me/islamwitheman/3189
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
آیةالله حاج سید عباس كاشانى حائرى نقل کرتے ہیں کہ ایک دن میں آیةالله العظمٰى حكیم کے گھر تھا تو ایک حرم کا خادم جس کے پاس آستان مقدس حضرت ابوالفضل علیه السلام کی چابیاں تھیں، ٹیلی فون کیا اور کہا؛ سرداب مقدس ابوالفضل علیه السلام کو پانی نے گھیرا ہوا ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں پورا حرم مطهر و گنبد و مناروں کو نقصان نہ پہنچائے آپ جلدی کریں کچھ کریں.
آیةالله حكیم فرماتے ہیں۔۔
میں جمعہ کو آؤں گا اور جتنی میری توان ہے انجام دوں گا ان شاءاللہ۔
پھر نجف اشرف سے علماء کا ایک گروہ کربلا معلیٰ حرم مطهر حضرت ابوالفضل العباس علیه السلام میں گیا پھر تمام علماء اور حضرت آیۃ اللہ حکیم بھی سرداب مقدس میں تشریف لے گئے. ابھی چند سیڑھیاں ہی نیچے اترے تھے بلند آواز جو ہم نے کبھی نہیں سنی تھی، گریہ اور رونے کی آواز سنی اور سب موجود افراد متعجب ہوئے کہ کیا ہو گیا ہے؟ میں نے اپنے آپ کو اونچا کیا تاکہ دیکھ سکوں کیا ہوا ہے؟ جب میں نے دیکھا تو عجیب سا منظر تھا جس نے مجھے بھی رونے پر مجبور کر دیا.
حضرت ابوالفضل علیه السلام کی قبر شریف جو پانی کے درمیان تھی قبر کے چاروں طرف پانی طواف کی طرح گھوم رہا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ پانی اور قبر کے درمیان ایک مضبوط دیوار ہے جو پانی کو قبر تک جانے سے روکے ہوئے ہے جبکہ کوئی دیوار نہیں تھی. بالکل اسطرح جسطرح حضرت امام حسین علیه السلام کی قبر پر متوكل عباسى لعنةالله علیہ نے پانی چھوڑا تھا لیکن پانی امامؑ کی قبر کی طرف نہیں گیا تھا۔
📚 كرامات الصالحین، ص286، به نقل از: كرامات العباسیه (معجزات حضرت اباالفضلؑ)، على میرخلفزاده، ص92.
https://t.me/islamwitheman/3189
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 حضرت عباسؑ باب الحوائج 🌹
علامہ جلیل شیخ عبدُالرحیم تستریؒ کہتے ھیں۔۔
”میں نے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی، زیارت کے بعد حرم حضرت عباس علیہ السلام میں پہنچا وھاں میں نے دیکھا کہ ایک بدّو اپنے بیمار لڑکے کو لیکر آیا جس کے پیروں کوفالج کااثرتھا،ضریح…
علامہ جلیل شیخ عبدُالرحیم تستریؒ کہتے ھیں۔۔
”میں نے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی، زیارت کے بعد حرم حضرت عباس علیہ السلام میں پہنچا وھاں میں نے دیکھا کہ ایک بدّو اپنے بیمار لڑکے کو لیکر آیا جس کے پیروں کوفالج کااثرتھا،ضریح…
🌹 عورت اور عباس علیہ السلام 🌹
عورت کو اسلام میں کوئی اھمیت نہیں، کہنے والوں سے عرض ہے کہ آج ولادت حضرت عباس علیہ السلام ہے.
آپ کو معلوم ہے کہ ان کی ولادت اسلام میں عظمت زن کی عظیم مثال ہے؟
جی! جا کر تاریخ پڑھیں حضرت علی علیہ السلام نے اپنے نسب شناس بھائی سے فرمایا اے عقیل! میرے لئے عرب کی "شجاع عورت" ڈھونڈو جس سے میں نکاح کروں اور مجھے ایک دلیر بیٹا پیدا ہو۔
حضرت علی علیہ السلام سے جناب عقیل کہہ سکتے تھے کہ یا علی! آپ خود شجاع ہیں، کسی بھی عورت سے نکاح کریں بیٹا شجاع پیدا ہو سکتا ہے.
لیکن نہیں جناب عقیل جانتے تھے کہ اولاد کی شخصیت پر ماں کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے. لہٰذا حضرت علی علیہ السلام نے ثابت کیا کہ مرد جتنا بھی عظیم ہو کچھ چیزوں میں عورت کی مدد کا محتاج ہے. لہٰذا آپ علیہ السلام نے جناب ام البنین سلام اللہ علیھا سے شادی کی اور چار بیٹوں کی یہ ماں اتنی شجاع ہے کہ چار بیٹے امام حسین علیہ السلام پر قربان کر دیئے. جن میں سے حضرت عباس علیہ السلام کی آج ولادت ہے.
میرا ایک عراقی دوست امتحان سے قبل مسلسل ورد کر رہا تھا میں نے ورد کا پوچھا تو اس نے کہا ہم عراقی جب بھی ڈرتے یا پریشان ہوتے ہیں تو جناب ام البنین سلام اللہ علیھا پر فاتحہ پڑھتے ہیں ہمارا اعتماد بحال ہو جاتا ہے.
https://t.me/islamwitheman/3187
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
عورت کو اسلام میں کوئی اھمیت نہیں، کہنے والوں سے عرض ہے کہ آج ولادت حضرت عباس علیہ السلام ہے.
آپ کو معلوم ہے کہ ان کی ولادت اسلام میں عظمت زن کی عظیم مثال ہے؟
جی! جا کر تاریخ پڑھیں حضرت علی علیہ السلام نے اپنے نسب شناس بھائی سے فرمایا اے عقیل! میرے لئے عرب کی "شجاع عورت" ڈھونڈو جس سے میں نکاح کروں اور مجھے ایک دلیر بیٹا پیدا ہو۔
حضرت علی علیہ السلام سے جناب عقیل کہہ سکتے تھے کہ یا علی! آپ خود شجاع ہیں، کسی بھی عورت سے نکاح کریں بیٹا شجاع پیدا ہو سکتا ہے.
لیکن نہیں جناب عقیل جانتے تھے کہ اولاد کی شخصیت پر ماں کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے. لہٰذا حضرت علی علیہ السلام نے ثابت کیا کہ مرد جتنا بھی عظیم ہو کچھ چیزوں میں عورت کی مدد کا محتاج ہے. لہٰذا آپ علیہ السلام نے جناب ام البنین سلام اللہ علیھا سے شادی کی اور چار بیٹوں کی یہ ماں اتنی شجاع ہے کہ چار بیٹے امام حسین علیہ السلام پر قربان کر دیئے. جن میں سے حضرت عباس علیہ السلام کی آج ولادت ہے.
میرا ایک عراقی دوست امتحان سے قبل مسلسل ورد کر رہا تھا میں نے ورد کا پوچھا تو اس نے کہا ہم عراقی جب بھی ڈرتے یا پریشان ہوتے ہیں تو جناب ام البنین سلام اللہ علیھا پر فاتحہ پڑھتے ہیں ہمارا اعتماد بحال ہو جاتا ہے.
https://t.me/islamwitheman/3187
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 ولادت باسعادت حضرت عباس عملدارؑ 🌹
اسم مبارک: عباس، القاب: افضل الشہداء، باب الحوائج، قمرِ بنی ھاشم، شہنشاہِ وفا، علمدار، غازی، سقائے سکینہ۔
کنیت: ابوالفضل
حضرت عباس علیہ السلام امام علی علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ام البنین تھا جن کا…
اسم مبارک: عباس، القاب: افضل الشہداء، باب الحوائج، قمرِ بنی ھاشم، شہنشاہِ وفا، علمدار، غازی، سقائے سکینہ۔
کنیت: ابوالفضل
حضرت عباس علیہ السلام امام علی علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ام البنین تھا جن کا…
🌹 فطرس، دردائیل اور صلصائیل 🌹
ایک فطرس پہ ہی موقوف نہیں بلکہ یہاں تو تین بیمار نوری مخلوقات کو فرزندِ رسولؐ کی نسبت سے شفاء مل رہی ہے۔ یہ وہ تین ہستیاں جن کے نامِ نامی کا ہمیں علم ہو سکا ہے ورنہ 10 محرم الحرام 61 ہجری کو اللہ کی توحید، ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءؑ و رسل علیھم السلام کی محنت حتیٰ کہ نظریہ وحدت کو بھی انہی امام حسین علیہ السلام نے شفا اور حیاتِ دائمی کے لئے ایک شاندار ترین نسخہ بنا کر دیا ہے کہ اب قیامت تک اسلام کو نابود نہیں کیا جا سکتا۔ اس حکیمِ ازل (ع) نے اس حیات بخش نسخہ میں 32 سالہ عباسؑ، 18 سالہ اکبرؑ، 13 سالہ قاسمؑ، شش ماہا علی اصغرؑ، کہن سالہ زہیرؑ و حبیبؑ حتیٰ کہ 4 سالہ سکینہؑ کے گوشوارے اور بہنوں بیٹیوں کی چادریں بھی شامل کر دی ہیں۔ بے ردا، بے نوا اسلام کی بنیادوں میں اتنا پاکیزہ خون دے دیا ہے کہ اب اسلام کی حیات کو اموی و عباسی امراض جیسے کینسروں سے بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔
آمدم بر سرِ مطلب ان واقعات کو علمائے اسلام نے ''معتبر'' قرار دے کر مندرجہ ذیل کتب میں تحریر فرمایا ہے۔ علماء کے ہاں ان واقعات کا تواتر اور اعتبار ملاحظہ ہو۔
قصة تمسح فطرس بالإمام الحسين (عليه السلام) حال ولادته قصة مشهورة، تلقاها علمائنا بالقبول، فذكرها الشيخ الطوسي في دعاء من الأدعية التي ذكرها في (مصباح المتهجد)، وذكرها الصفار في (بصائر الدرجات) وابن قولويه في (كامل الزيارات) والشيخ الصدوق في (الأمالي) والنيسابوري في (روضة الواعظين) والطبري في (دلائل الإمامة) وابن حمزة في (المناقب) والراوندي في (الخرائج والجرائح) وابن شهر آشوب في (المناقب) وابن ادريس في (مستطرفات السرائر) والمشهدي في دعاء من أدعية المزار وابن طاووس كذلك والكفعمي في (المصباح) والمجلسي في (البحار) وغيرهم وذكر الوحيد في (تعليقة على منهج المقال) أن حكاية فطرس مشهورة مقبولة۔
اب ان کتب کے بعد معترضین کو اپنے ہی عرق میں غرق ہو جانا چاہئیے۔
فطرس والا واقعہ بصائر الدرجات صفحہ 88 پر یوں درج ہے۔
((حدّثنا أحمد بن موسى، عن محمّد بن المعروف بغزال مولى حرب بن زياد البجلي، عن محمّد أبى جعفر الحمامي الكوفي، عن الأزهر البطيخي، عن أبي عبد الله(عليه السلام)، قال: (إنّ الله عرض ولاية أمير المؤمنين فقبلها الملائكة وأباها ملك يقال له فطرس فكسر الله جناحه، فلمّا ولد الحسين بن عليّ(عليه السلام) بعث الله جبرئيل في سبعين ألف ملك إلى محمّد(صلّى الله عليه وآله) يهنئهم بولادته، فمرّ بفطرس، فقال له فطرس: يا جبرئيل! إلى أين تذهب؟ قال: بعثني الله إلى محمّداً يهنئهم بمولود ولد في هذه الليلة. فقال له فطرس: احملني معك وسل محمّداً يدعو لي. فقال له جبرئيل: اركب جناحي، فركب جناحه فأتى محمّداً(صلّى الله عليه وآله) فدخل عليه وهنئاه،
فقال له: يا رسول الله(صلّى الله عليه وآله) إن فطرس بيني وبينه أخوّة وسألني أن أسئلك أن تدعو الله له أن يرد عليه جناحه؟
فقال رسول الله(صلّى الله عليه وآله) لفطرس: أتفعل؟ قال: نعم.
فعرض عليه رسول الله(صلّى الله عليه وآله) ولاية أمير المؤمنين(عليه السلام) فقبلها، فقال رسول الله(صلّى الله عليه وآله): شأنك بالمهد فتمسح به وتمرّغ فيه.
قال: فمضى فطرس فمشى إلى مهد الحسين بن عليّ ورسول الله يدعو له، قال: قال رسول الله: فنظرت إلى ريشه وإنّه ليطلع ويجرى منه الدم ويطول حتّى لحق بجناحه الآخر، وعرج مع جبرئيل إلى السماء وصار إلى موضعہ۔
یہ واقعات صرف کتب شیعہ ہی نہیں بلکہ اہلسنت کے ہاں فرائد السمطين، ج2\151 میں بھی درج ہیں۔
ان کے علاوہ صلصائیل کا واقعہ اور حوالہ بھی لکھ رہا ہوں۔
شفاعت صلصائیل در روز ولادت امام حسین علیہ السلام
هنگامی که جبرئیل همراه ملائکه و فطرس به آسمان بازمی گشتند، درآسمان چهارم ملکی معذب به نام«صلصائیل» را دیدند. آن ملک گفت: «ای حبیبم جبرئیل! آیا قیامت براهل زمین برپاشده است»؟پاسخ داد: برای عرض تبریک خدمت محمد صلی الله علیه وآله وسلم برای میلاد فرزندش حسین علیه السلام به منزل نازل شده بودیم. صلصائیل عرض کرد: ای حبیبم جبرئیل، به زمین بازگرد وبه پیامبر صلی الله علیه وآله وسلم عرض کن: یا محمد! نزد خداوند برای بخشودگی من شفاعت نما، چرا که تو صاحب شفاعت هستی. هنگامی که جبرئیل خبررا رساند، حضرت برخاست و حسین علیه السلام را طلبید وبرروی دست به سوی آسمان بلند کرد و فرمود: «پروردگارا، حقی که این مولود برتو دارد ازصلصائیل راضی شو».ناگهان ازسوی عرش ندا آمد:یا محمد! او را بخشیدم و بدان مقام عظیمی نزد من داری.
📚 حوالہ جات
مدینة المعاجز، ج3، ص 426۔
حلیة الابرار، ج3، ص108۔
ناسخ التواریخ، ج4، ص628۔
لوامع الانوار، ص80۔
کتاب الاربعین، ص968۔
مجمع النورین، ص159۔
✍ ریاض قادری
https://t.me/islamwitheman/3193
https://t.me/islamwitheman/3172
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک فطرس پہ ہی موقوف نہیں بلکہ یہاں تو تین بیمار نوری مخلوقات کو فرزندِ رسولؐ کی نسبت سے شفاء مل رہی ہے۔ یہ وہ تین ہستیاں جن کے نامِ نامی کا ہمیں علم ہو سکا ہے ورنہ 10 محرم الحرام 61 ہجری کو اللہ کی توحید، ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءؑ و رسل علیھم السلام کی محنت حتیٰ کہ نظریہ وحدت کو بھی انہی امام حسین علیہ السلام نے شفا اور حیاتِ دائمی کے لئے ایک شاندار ترین نسخہ بنا کر دیا ہے کہ اب قیامت تک اسلام کو نابود نہیں کیا جا سکتا۔ اس حکیمِ ازل (ع) نے اس حیات بخش نسخہ میں 32 سالہ عباسؑ، 18 سالہ اکبرؑ، 13 سالہ قاسمؑ، شش ماہا علی اصغرؑ، کہن سالہ زہیرؑ و حبیبؑ حتیٰ کہ 4 سالہ سکینہؑ کے گوشوارے اور بہنوں بیٹیوں کی چادریں بھی شامل کر دی ہیں۔ بے ردا، بے نوا اسلام کی بنیادوں میں اتنا پاکیزہ خون دے دیا ہے کہ اب اسلام کی حیات کو اموی و عباسی امراض جیسے کینسروں سے بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔
آمدم بر سرِ مطلب ان واقعات کو علمائے اسلام نے ''معتبر'' قرار دے کر مندرجہ ذیل کتب میں تحریر فرمایا ہے۔ علماء کے ہاں ان واقعات کا تواتر اور اعتبار ملاحظہ ہو۔
قصة تمسح فطرس بالإمام الحسين (عليه السلام) حال ولادته قصة مشهورة، تلقاها علمائنا بالقبول، فذكرها الشيخ الطوسي في دعاء من الأدعية التي ذكرها في (مصباح المتهجد)، وذكرها الصفار في (بصائر الدرجات) وابن قولويه في (كامل الزيارات) والشيخ الصدوق في (الأمالي) والنيسابوري في (روضة الواعظين) والطبري في (دلائل الإمامة) وابن حمزة في (المناقب) والراوندي في (الخرائج والجرائح) وابن شهر آشوب في (المناقب) وابن ادريس في (مستطرفات السرائر) والمشهدي في دعاء من أدعية المزار وابن طاووس كذلك والكفعمي في (المصباح) والمجلسي في (البحار) وغيرهم وذكر الوحيد في (تعليقة على منهج المقال) أن حكاية فطرس مشهورة مقبولة۔
اب ان کتب کے بعد معترضین کو اپنے ہی عرق میں غرق ہو جانا چاہئیے۔
فطرس والا واقعہ بصائر الدرجات صفحہ 88 پر یوں درج ہے۔
((حدّثنا أحمد بن موسى، عن محمّد بن المعروف بغزال مولى حرب بن زياد البجلي، عن محمّد أبى جعفر الحمامي الكوفي، عن الأزهر البطيخي، عن أبي عبد الله(عليه السلام)، قال: (إنّ الله عرض ولاية أمير المؤمنين فقبلها الملائكة وأباها ملك يقال له فطرس فكسر الله جناحه، فلمّا ولد الحسين بن عليّ(عليه السلام) بعث الله جبرئيل في سبعين ألف ملك إلى محمّد(صلّى الله عليه وآله) يهنئهم بولادته، فمرّ بفطرس، فقال له فطرس: يا جبرئيل! إلى أين تذهب؟ قال: بعثني الله إلى محمّداً يهنئهم بمولود ولد في هذه الليلة. فقال له فطرس: احملني معك وسل محمّداً يدعو لي. فقال له جبرئيل: اركب جناحي، فركب جناحه فأتى محمّداً(صلّى الله عليه وآله) فدخل عليه وهنئاه،
فقال له: يا رسول الله(صلّى الله عليه وآله) إن فطرس بيني وبينه أخوّة وسألني أن أسئلك أن تدعو الله له أن يرد عليه جناحه؟
فقال رسول الله(صلّى الله عليه وآله) لفطرس: أتفعل؟ قال: نعم.
فعرض عليه رسول الله(صلّى الله عليه وآله) ولاية أمير المؤمنين(عليه السلام) فقبلها، فقال رسول الله(صلّى الله عليه وآله): شأنك بالمهد فتمسح به وتمرّغ فيه.
قال: فمضى فطرس فمشى إلى مهد الحسين بن عليّ ورسول الله يدعو له، قال: قال رسول الله: فنظرت إلى ريشه وإنّه ليطلع ويجرى منه الدم ويطول حتّى لحق بجناحه الآخر، وعرج مع جبرئيل إلى السماء وصار إلى موضعہ۔
یہ واقعات صرف کتب شیعہ ہی نہیں بلکہ اہلسنت کے ہاں فرائد السمطين، ج2\151 میں بھی درج ہیں۔
ان کے علاوہ صلصائیل کا واقعہ اور حوالہ بھی لکھ رہا ہوں۔
شفاعت صلصائیل در روز ولادت امام حسین علیہ السلام
هنگامی که جبرئیل همراه ملائکه و فطرس به آسمان بازمی گشتند، درآسمان چهارم ملکی معذب به نام«صلصائیل» را دیدند. آن ملک گفت: «ای حبیبم جبرئیل! آیا قیامت براهل زمین برپاشده است»؟پاسخ داد: برای عرض تبریک خدمت محمد صلی الله علیه وآله وسلم برای میلاد فرزندش حسین علیه السلام به منزل نازل شده بودیم. صلصائیل عرض کرد: ای حبیبم جبرئیل، به زمین بازگرد وبه پیامبر صلی الله علیه وآله وسلم عرض کن: یا محمد! نزد خداوند برای بخشودگی من شفاعت نما، چرا که تو صاحب شفاعت هستی. هنگامی که جبرئیل خبررا رساند، حضرت برخاست و حسین علیه السلام را طلبید وبرروی دست به سوی آسمان بلند کرد و فرمود: «پروردگارا، حقی که این مولود برتو دارد ازصلصائیل راضی شو».ناگهان ازسوی عرش ندا آمد:یا محمد! او را بخشیدم و بدان مقام عظیمی نزد من داری.
📚 حوالہ جات
مدینة المعاجز، ج3، ص 426۔
حلیة الابرار، ج3، ص108۔
ناسخ التواریخ، ج4، ص628۔
لوامع الانوار، ص80۔
کتاب الاربعین، ص968۔
مجمع النورین، ص159۔
✍ ریاض قادری
https://t.me/islamwitheman/3193
https://t.me/islamwitheman/3172
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 ولادت باسعادت امام زین العابدینؑ 🌹
آپؑ بتاریخ 15 جمادی الثانی 38 ھجری یوم جمعہ بمقام مدینہ منورہ پیدا ہوئے.
(اعلام الوری، ص۱۵۱۔ ومناقب، جلد۴ ص۱۳۱)
ایک روایت میں آپ کی تاریخ ولادت باسعادت 5 شعبان بھی ملتی ہے۔
علامہ مجلسی تحریر فرماتے ہیں کہ جب جناب شہربانو ایران سے مدینہ کیلیے روانہ ہورہی تھیں توجناب رسالت مآبؐ نے عالم خواب میں انکا عقدحضرت امام حسینؑ کیساتھ پڑھ دیا تھا (جلاءالعیون، ص۲۵۶)۔ اورجب آپ وارد مدینہ ہوئیں توحضرت علیؑ نے امام حسینؑ کے سپرد کرکے فرمایا کہ یہ وہ عصمت پرور بیبی ہے کہ جسکے بطن سے تمہارے بعد افضل اوصیاء اور افضل کائنات ہونے والا بچہ پیدا ہوگا چنانچہ حضرت امام زین العابدینؑ متولد ہوئے لیکن افسوس یہ ہے کہ آپ اپنی ماں کی آغوش میں پرورش پانے کا لطف نہ اٹھا سکے "ماتت فی نفاسہابہ" آپکے پیدا ہوتے ہی "مدت نفاس" میں جناب شہربانو کی وفات ہو گئی.
(قمقام جلاءالعیون).(عیون اخبار رضا، دمعة ساکبة، جلد۱، ص۴۲۶)
کامل مبرد میں ہے کہ جناب شہربانو، بادشاہ ایران یزدجرد بن شہریار بن شیرویہ ابن پرویز بن ہرمز بن نوشیرواں عادل "کسری" کی بیٹی تھیں.
(ارشاد مفید، ص۳۹۱۔ فصل الخطاب)
علامہ طریحی تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت علیؑ نے شہربانو سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے توانہوں نے کہا "شاہ جہاں" حضرت نے فرمایا نہیں اب "شہربانو" ہے.
(مجمع البحرین، ص۵۷۰)
🔷 نام، کنیت، القاب
آپ کا اسم گرامی "علی"، کنیت ابومحمد، ابوالحسن اور ابوالقاسم تھی.
آپ کے القاب بیشمار تھے جن میں زین العابدین، سیدالساجدین، ذوالثفنات، اور سجاد و عابد زیادہ مشہور ہیں.
(مطالب السؤل، ص۲۶۱۔ شواہدالنبوة، ص۱۷۶۔ نورالابصار، ص۱۲۶۔ الفرع النامی نواب صدیق حسن، ص۱۵۸)
🔷 لقب زین العابدینؑ
علامہ شبلنجی کا بیان ہے کہ امام مالک کا کہنا ہے کہ آپ کو زین العابدین کثرت عبادت کی وجہ سے کہا جاتا ہے. (نورالابصار، ص۱۲۶)
علماء فریقین کا ارشاد ہے کہ حضرت امام زین العابدینؑ ایک شب نماز تہجد میں مشغول تھے کہ شیطان اژدھے کی شکل میں آپ کے قریب آ گیا اور اس نے آپ کے پائے مبارک کے انگوٹھے کو منہ میں لیکر کاٹنا شروع کیا، امامؑ جو ہمہ تن مشغول عبادت تھے اورآپ کا رجحان کامل بارگاہ ایزدی کی طرف تھا، ذرا بھی اسکے اس عمل سے متاثر نہ ہوئے اور بدستور نماز میں منہمک و مصروف و مشغول رہے بالآخر وہ عاجز آگیا اور امامؑ نے اپنی نماز بھی تمام کرلی اس کیبعد آپ نے اس شیطان ملعون کو طمانچہ مار کر دور ہٹا دیا۔ اس وقت ہاتف غیبی نے "انت زین العابدین" کی تین بارصدا دی اورکہا بیشک تم عبادت گزاروں کی زینت ہو، اسی وقت آپ کا یہ لقب ہو گیا.
(مطالب السؤل، ص۲۶۲۔ شواہدالنبوة، ص۱۷۷)
علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ اژدھے کے دس سر تھے اور اسکے دانت بہت تیز اور اسکی آنکھیں سرخ تھیں اور وہ مصلے کے قریب سے زمین پھاڑ کر نکلا تھا.
(مناقب، جلد۴، ص۱۰۸)
ایک روایت میں اس کیوجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ قیامت میں آپکو اسی نام سے پکاراجائے گا.
(دمعة ساکبة، ص۴۲۶)
🔷 لقب سجاد
ذہبی نے طبقات الحفاظ میں بحوالہ امام محمد باقرؑ لکھا ہے کہ حضرت امام زین العابدینؑ کو "سجاد" اسلیے کہا جاتا ہے کہ آپ تقریبا ہر کارخیر پر سجدہ فرمایا کرتے تھے. جب آپ خدا کی کسی نعمت کا ذکر کرتے توسجدہ کرتے، جب کلام خدا کی آیت "سجدہ" پڑھتے تو سجدہ کرتے، جب دو شخصوں میں صلح کراتے توسجدہ کرتے اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ کے مواضع سجود پر اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے پڑ جاتے تھے پھر انہیں کٹوانا پڑتا تھا.
🔷 آپؑ کا حلیہ مبارک:
امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ آپ کا رنگ گندم گوں (سانولا) اور قد میانہ تھا آپ نحیف اور لاغر قسم کے انسان تھے.
(نورالابصار، ص۱۲۶۔ اخبارالاول، ص۱۰۹)
ملا مبین تحریر فرماتے ہیں کہ آپ حسن وجمال، صورت وکمال میں نہایت ہی ممتاز تھے. آپ کے چہرہ مبارک پرجب کسی کی نظر پڑتی تھی تو وہ آپکا احترام کرنے اور آپکی تعظیم کرنے پر مجبور ہوجاتا تھا.
(وسیلة النجاة، ص۲۱۹)
محمد بن طلحہ شافعی رقمطراز ہیں کہ آپ صاف کپڑے پہنتے تھے اورجب راستہ چلتے تھے تو نہایت خشوع کیساتھ راہ روی میں آپکے ہاتھ زانو سے باہر نہیں جاتے تھے.
(مطالب السؤل، ص۲۲۶،۲۶۴)
🔷 شہادت اور بادشاہان وقت
آپ کی ولادت بادشاہ دین و ایمان حضرت علیؑ کے عہد عصمت مہد میں ہوئی پھر امام حسنؑ کا زمانہ رہا، پھر بنی امیہ کی خالص دنیاوی حکومت ہوگئی. صلح امام حسن کیبعد سے 60 ھ تک معاویہ بن ابی سفیان بادشاہ رہا. اس کیبعد اسکا فاسق و فاجر بیٹا یزید 64 ھ تک حکمران رہا. 64 ھ میں معاویہ بن یزید ابن معاویہ اور مروان بن حکم حاکم رہے. 65 ھ سے 86 ھ تک عبدالملک بن مروان حاکم اور بادشاہ رہا پھر 86 ھ سے 96 ھ تک ولید بن عبدالملک نے حکمرانی کی اور اسی نے 95 ھ میں حضرت امام زین العابدینؑ کو زہر دغا سے شہید کر دیا.
(تاریخ آئمہ، ۳۹۲۔ وصواعق محرقہ، ص۱۲۔ نورالابصار، ص ۱۲۸)
https://t.me/islamwitheman/3195
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
آپؑ بتاریخ 15 جمادی الثانی 38 ھجری یوم جمعہ بمقام مدینہ منورہ پیدا ہوئے.
(اعلام الوری، ص۱۵۱۔ ومناقب، جلد۴ ص۱۳۱)
ایک روایت میں آپ کی تاریخ ولادت باسعادت 5 شعبان بھی ملتی ہے۔
علامہ مجلسی تحریر فرماتے ہیں کہ جب جناب شہربانو ایران سے مدینہ کیلیے روانہ ہورہی تھیں توجناب رسالت مآبؐ نے عالم خواب میں انکا عقدحضرت امام حسینؑ کیساتھ پڑھ دیا تھا (جلاءالعیون، ص۲۵۶)۔ اورجب آپ وارد مدینہ ہوئیں توحضرت علیؑ نے امام حسینؑ کے سپرد کرکے فرمایا کہ یہ وہ عصمت پرور بیبی ہے کہ جسکے بطن سے تمہارے بعد افضل اوصیاء اور افضل کائنات ہونے والا بچہ پیدا ہوگا چنانچہ حضرت امام زین العابدینؑ متولد ہوئے لیکن افسوس یہ ہے کہ آپ اپنی ماں کی آغوش میں پرورش پانے کا لطف نہ اٹھا سکے "ماتت فی نفاسہابہ" آپکے پیدا ہوتے ہی "مدت نفاس" میں جناب شہربانو کی وفات ہو گئی.
(قمقام جلاءالعیون).(عیون اخبار رضا، دمعة ساکبة، جلد۱، ص۴۲۶)
کامل مبرد میں ہے کہ جناب شہربانو، بادشاہ ایران یزدجرد بن شہریار بن شیرویہ ابن پرویز بن ہرمز بن نوشیرواں عادل "کسری" کی بیٹی تھیں.
(ارشاد مفید، ص۳۹۱۔ فصل الخطاب)
علامہ طریحی تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت علیؑ نے شہربانو سے پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے توانہوں نے کہا "شاہ جہاں" حضرت نے فرمایا نہیں اب "شہربانو" ہے.
(مجمع البحرین، ص۵۷۰)
🔷 نام، کنیت، القاب
آپ کا اسم گرامی "علی"، کنیت ابومحمد، ابوالحسن اور ابوالقاسم تھی.
آپ کے القاب بیشمار تھے جن میں زین العابدین، سیدالساجدین، ذوالثفنات، اور سجاد و عابد زیادہ مشہور ہیں.
(مطالب السؤل، ص۲۶۱۔ شواہدالنبوة، ص۱۷۶۔ نورالابصار، ص۱۲۶۔ الفرع النامی نواب صدیق حسن، ص۱۵۸)
🔷 لقب زین العابدینؑ
علامہ شبلنجی کا بیان ہے کہ امام مالک کا کہنا ہے کہ آپ کو زین العابدین کثرت عبادت کی وجہ سے کہا جاتا ہے. (نورالابصار، ص۱۲۶)
علماء فریقین کا ارشاد ہے کہ حضرت امام زین العابدینؑ ایک شب نماز تہجد میں مشغول تھے کہ شیطان اژدھے کی شکل میں آپ کے قریب آ گیا اور اس نے آپ کے پائے مبارک کے انگوٹھے کو منہ میں لیکر کاٹنا شروع کیا، امامؑ جو ہمہ تن مشغول عبادت تھے اورآپ کا رجحان کامل بارگاہ ایزدی کی طرف تھا، ذرا بھی اسکے اس عمل سے متاثر نہ ہوئے اور بدستور نماز میں منہمک و مصروف و مشغول رہے بالآخر وہ عاجز آگیا اور امامؑ نے اپنی نماز بھی تمام کرلی اس کیبعد آپ نے اس شیطان ملعون کو طمانچہ مار کر دور ہٹا دیا۔ اس وقت ہاتف غیبی نے "انت زین العابدین" کی تین بارصدا دی اورکہا بیشک تم عبادت گزاروں کی زینت ہو، اسی وقت آپ کا یہ لقب ہو گیا.
(مطالب السؤل، ص۲۶۲۔ شواہدالنبوة، ص۱۷۷)
علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ اژدھے کے دس سر تھے اور اسکے دانت بہت تیز اور اسکی آنکھیں سرخ تھیں اور وہ مصلے کے قریب سے زمین پھاڑ کر نکلا تھا.
(مناقب، جلد۴، ص۱۰۸)
ایک روایت میں اس کیوجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ قیامت میں آپکو اسی نام سے پکاراجائے گا.
(دمعة ساکبة، ص۴۲۶)
🔷 لقب سجاد
ذہبی نے طبقات الحفاظ میں بحوالہ امام محمد باقرؑ لکھا ہے کہ حضرت امام زین العابدینؑ کو "سجاد" اسلیے کہا جاتا ہے کہ آپ تقریبا ہر کارخیر پر سجدہ فرمایا کرتے تھے. جب آپ خدا کی کسی نعمت کا ذکر کرتے توسجدہ کرتے، جب کلام خدا کی آیت "سجدہ" پڑھتے تو سجدہ کرتے، جب دو شخصوں میں صلح کراتے توسجدہ کرتے اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ کے مواضع سجود پر اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے پڑ جاتے تھے پھر انہیں کٹوانا پڑتا تھا.
🔷 آپؑ کا حلیہ مبارک:
امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ آپ کا رنگ گندم گوں (سانولا) اور قد میانہ تھا آپ نحیف اور لاغر قسم کے انسان تھے.
(نورالابصار، ص۱۲۶۔ اخبارالاول، ص۱۰۹)
ملا مبین تحریر فرماتے ہیں کہ آپ حسن وجمال، صورت وکمال میں نہایت ہی ممتاز تھے. آپ کے چہرہ مبارک پرجب کسی کی نظر پڑتی تھی تو وہ آپکا احترام کرنے اور آپکی تعظیم کرنے پر مجبور ہوجاتا تھا.
(وسیلة النجاة، ص۲۱۹)
محمد بن طلحہ شافعی رقمطراز ہیں کہ آپ صاف کپڑے پہنتے تھے اورجب راستہ چلتے تھے تو نہایت خشوع کیساتھ راہ روی میں آپکے ہاتھ زانو سے باہر نہیں جاتے تھے.
(مطالب السؤل، ص۲۲۶،۲۶۴)
🔷 شہادت اور بادشاہان وقت
آپ کی ولادت بادشاہ دین و ایمان حضرت علیؑ کے عہد عصمت مہد میں ہوئی پھر امام حسنؑ کا زمانہ رہا، پھر بنی امیہ کی خالص دنیاوی حکومت ہوگئی. صلح امام حسن کیبعد سے 60 ھ تک معاویہ بن ابی سفیان بادشاہ رہا. اس کیبعد اسکا فاسق و فاجر بیٹا یزید 64 ھ تک حکمران رہا. 64 ھ میں معاویہ بن یزید ابن معاویہ اور مروان بن حکم حاکم رہے. 65 ھ سے 86 ھ تک عبدالملک بن مروان حاکم اور بادشاہ رہا پھر 86 ھ سے 96 ھ تک ولید بن عبدالملک نے حکمرانی کی اور اسی نے 95 ھ میں حضرت امام زین العابدینؑ کو زہر دغا سے شہید کر دیا.
(تاریخ آئمہ، ۳۹۲۔ وصواعق محرقہ، ص۱۲۔ نورالابصار، ص ۱۲۸)
https://t.me/islamwitheman/3195
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 شانِ عبادت امام سجادؑ 🌹
جسطرح آپکی عبادت گزاری میں پیروی ناممکن ہے اسی طرح آپ کی شان عبادت کی رقم طرازی بھی دشوار ہے۔ علماء کی بے انتہا کاہش وکاوش کے باوجود آپکی شانِ عبادت کا مظاہرہ نہیں ہوسکا.
"قد بلغ من العبادة مالم یبلغہ احد."
آپ عبادت کی اس منزل پر فائز تھے جس پرکوئی بھی فائز نہیں ہوا.
(دمعہ ساکبہ ص ۴۳۹)
اس سلسلہ میں ارباب علم اورصاحبان قلم جو کچھ کہہ اورلکھ سکے ہیں ان میں سے بعض واقعات وحالات یہ ہیں:
🔷آپکی حالت وضو کے وقت:
وضو نماز کیلئے مقدمہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی پر نماز کا دارومدار ہوتا ہے. امام زین العابدینؑ جس وقت مقدمہ نماز یعنی وضو کا ارادہ فرماتے تھے آپکے رگ و پے میں خوفِ خدا کے اثرات نمایاں ہوجاتے تھے۔
علامہ محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جب آپ وضو کا قصد فرماتے تھے اور وضو کیلیے بیٹھتے تھے تو آپکے چہرہ مبارک کا رنگ زرد ہو جایا کرتا تھا یہ حالت بار بار دیکھنے کیبعد انکے گھر والوں نے پوچھا کہ بوقت وضو آپکے چہرہ کا رنگ زرد کیوں پڑجایا کرتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس وقت میرا تصور کامل اپنے خالق ومعبود کیطرف ہوتا ہے اسلیے اسکی جلالت کے رعب سے میرا یہ حال ہوجایا کرتا ہے.
(مطالب السؤل ص ۲۶۲)
🔷عالمِ نمازمیں آپکی حالت:
علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ آپکو عبادت گزاری میں امتیاز کامل حاصل تھا. رات بھر جاگنے کیوجہ سے آپ کا سارا بدن زرد رہا کرتا تھا اورخوف خدا میں روتے روتے آپکی آنکھیں پھول جایا کرتی تھیں اور نماز میں کھڑے کھڑے آپکے پاؤں سوج جایا کرتے تھے.
(اعلام الوری ص ۱۵۳)
اور پیشانی پرگھٹے رہا کرتے تھے اور آپکی ناک کا سرا زخمی رہا کرتا تھا.
(دمعہ ساکبہ، ص۴۳۹)
علامہ محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جب آپ نماز کیلئے مصلٰی پر کھڑے ہوا کرتے تھے تو لرزہ براندام ہوجایا کرتے تھے لوگوں نے بدن میں کپکپی اور جسم میں تھرتھری کا سبب پوچھا تو ارشاد فرمایا کہ میں اسوقت خدا کی بارگاہ میں ہوتا ہوں اور اسکی جلالت مجھے ازخود رفتہ کر دیتی ہے اور مجھ پر ایسی حالت طاری کر دیتی ہے.
(مطالب السؤل، ص۲۲۶)
🔷 ایک مرتبہ آپکے گھر میں آگ لگ گئی اور آپ نماز میں مشغول تھے اہل محلہ اورگھر والوں نے بیحد شورمچایا اور حضرت کو پکارا حضور آگ لگی ہوئی ہے مگر آپ نے سر نیاز، سجدہ بے نیاز سے نہ اٹھایا. آگ بجھا دی گئی. اختتام نماز پر لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ حضور آگ کا معاملہ تھا ہم نے اتنا شور مچایا لیکن آپ نے کوئی توجہ نہ فرمائی.
آپ نے ارشاد فرمایا "ہاں" مگرجہنم کی آگ کے ڈر سے نماز توڑ کر اس آگ کی طرف متوجہ نہ ہوسکا.
(شواہدالنبوت، ص۱۷۷)
ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ حضرت زین العابدینؑ نمازشب سفر وحضر دونوں میں پڑھا کرتے تھے. اورکبھی اسے قضا نہیں ہونے دیتے تھے.
(مطالب السؤل، ص۲۶۳)
🔷 علامہ محمد باقر بحوالہ بحارالأنوار تحریر فرماتے ہیں کہ امامؑ ایک دن نماز میں مصروف ومشغول تھے کہ امام محمد باقرؑ کنوئیں میں گر پڑے. بچہ کے گہرے کنویں میں گرنے سے انکی ماں بے چین ہوکر رونے لگیں اور کنویں کے گرد پیٹ پیٹ کر چکر لگانے لگیں اورکہنے لگیں. ابن رسول اللہ محمد باقر غرق ہو گئے.
امام زین العابدینؑ نے بچے کے کنویں میں گرنے کی کوئی پرواہ نہ کی اور اطمینان سے نماز تمام فرمائی اس کیبعد آپ کنویں کے قریب آئے اور پانی کیطرف دیکھا پھر ہاتھ بڑھا کر بلا رسی کے گہرے کنوئیں سے بچے کو نکال لیا بچہ ہنستا ہوا برآمد ہوا، قدرت خداوندی دیکھیے اسوقت نہ بچے کے کپڑے بھیگے تھے اورنہ بدن تر تھا.
(دمعہ ساکبہ، ص۴۳۰۔ مناقب، جلد۴، ص۱۰۹)
🔷 امام شبلنجی تحریرفرماتے ہیں کہ طاؤس راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک شب حجر اسود کے قریب جاکر دیکھا کہ امام زین العابدینؑ بارگاہ خالق میں سجدہ ریزی کر رہے ہیں. میں اسی جگہ کھڑا ہو گیا. میں نے دیکھا کہ آپ نے ایک سجدہ کو بےحد طول دے دیا ہے. یہ دیکھ کر میں نے کان لگایا تو سنا کہ آپ سجدہ میں فرماتے ہیں:
"عبدک بفنائک مسکینک بفنائک سائلک بفنائک فقیرک بفنائک."
یہ سن کر میں نے بھی انہیں کلمات کے ذریعہ سے دعا مانگی فورا قبول ہوئی۔
(نورالابصار، ص۱۲۶، طبع مصر۔ ارشادمفید، ص۲۹۶)
🔷 شبانہ روز ایک ہزار رکعت:
علماء کا بیان ہے کہ آپ شب وروز میں ایک ہزار رکعتیں ادا فرمایا کرتے تھے.
(صواعق محرقہ، ص۱۱۹، مطالب السؤل ۲۶۷)
چونکہ آپکے سجدوں کا کوئی شمار نہ تھا اسی لیے آپکے اعضائے سجود"ثغنہ بعیر" کے گھٹے کیطرح ہوجایا کرتے تھے اورسال میں کئی مرتبہ کاٹے جاتے تھے.
(الفرع النامی، ص۱۵۸۔ دمعہ ساکبہ، کشف الغمہ، ص۹۰)
علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ آپکے مقامات سجود کے گھٹے سال میں دو بار کاٹے جاتے تھے اور ہرمرتبہ پانچ تہ نکلتی تھی.
(بحارالأنوار، جلد۲، ص۳)
علامہ دمیری مؤرخ ابن عساکر کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ دمشق میں حضرت امام زین العابدینؑ کے نام سے موسوم ایک مسجد ہے جسے"جامع دمشق" کہتے ہیں.
(حیواة الحیوان، جلد ۱؟ ص ۱۲۱)
https://t.me/islamwitheman/3202
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
جسطرح آپکی عبادت گزاری میں پیروی ناممکن ہے اسی طرح آپ کی شان عبادت کی رقم طرازی بھی دشوار ہے۔ علماء کی بے انتہا کاہش وکاوش کے باوجود آپکی شانِ عبادت کا مظاہرہ نہیں ہوسکا.
"قد بلغ من العبادة مالم یبلغہ احد."
آپ عبادت کی اس منزل پر فائز تھے جس پرکوئی بھی فائز نہیں ہوا.
(دمعہ ساکبہ ص ۴۳۹)
اس سلسلہ میں ارباب علم اورصاحبان قلم جو کچھ کہہ اورلکھ سکے ہیں ان میں سے بعض واقعات وحالات یہ ہیں:
🔷آپکی حالت وضو کے وقت:
وضو نماز کیلئے مقدمہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی پر نماز کا دارومدار ہوتا ہے. امام زین العابدینؑ جس وقت مقدمہ نماز یعنی وضو کا ارادہ فرماتے تھے آپکے رگ و پے میں خوفِ خدا کے اثرات نمایاں ہوجاتے تھے۔
علامہ محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جب آپ وضو کا قصد فرماتے تھے اور وضو کیلیے بیٹھتے تھے تو آپکے چہرہ مبارک کا رنگ زرد ہو جایا کرتا تھا یہ حالت بار بار دیکھنے کیبعد انکے گھر والوں نے پوچھا کہ بوقت وضو آپکے چہرہ کا رنگ زرد کیوں پڑجایا کرتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس وقت میرا تصور کامل اپنے خالق ومعبود کیطرف ہوتا ہے اسلیے اسکی جلالت کے رعب سے میرا یہ حال ہوجایا کرتا ہے.
(مطالب السؤل ص ۲۶۲)
🔷عالمِ نمازمیں آپکی حالت:
علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ آپکو عبادت گزاری میں امتیاز کامل حاصل تھا. رات بھر جاگنے کیوجہ سے آپ کا سارا بدن زرد رہا کرتا تھا اورخوف خدا میں روتے روتے آپکی آنکھیں پھول جایا کرتی تھیں اور نماز میں کھڑے کھڑے آپکے پاؤں سوج جایا کرتے تھے.
(اعلام الوری ص ۱۵۳)
اور پیشانی پرگھٹے رہا کرتے تھے اور آپکی ناک کا سرا زخمی رہا کرتا تھا.
(دمعہ ساکبہ، ص۴۳۹)
علامہ محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جب آپ نماز کیلئے مصلٰی پر کھڑے ہوا کرتے تھے تو لرزہ براندام ہوجایا کرتے تھے لوگوں نے بدن میں کپکپی اور جسم میں تھرتھری کا سبب پوچھا تو ارشاد فرمایا کہ میں اسوقت خدا کی بارگاہ میں ہوتا ہوں اور اسکی جلالت مجھے ازخود رفتہ کر دیتی ہے اور مجھ پر ایسی حالت طاری کر دیتی ہے.
(مطالب السؤل، ص۲۲۶)
🔷 ایک مرتبہ آپکے گھر میں آگ لگ گئی اور آپ نماز میں مشغول تھے اہل محلہ اورگھر والوں نے بیحد شورمچایا اور حضرت کو پکارا حضور آگ لگی ہوئی ہے مگر آپ نے سر نیاز، سجدہ بے نیاز سے نہ اٹھایا. آگ بجھا دی گئی. اختتام نماز پر لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ حضور آگ کا معاملہ تھا ہم نے اتنا شور مچایا لیکن آپ نے کوئی توجہ نہ فرمائی.
آپ نے ارشاد فرمایا "ہاں" مگرجہنم کی آگ کے ڈر سے نماز توڑ کر اس آگ کی طرف متوجہ نہ ہوسکا.
(شواہدالنبوت، ص۱۷۷)
ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ حضرت زین العابدینؑ نمازشب سفر وحضر دونوں میں پڑھا کرتے تھے. اورکبھی اسے قضا نہیں ہونے دیتے تھے.
(مطالب السؤل، ص۲۶۳)
🔷 علامہ محمد باقر بحوالہ بحارالأنوار تحریر فرماتے ہیں کہ امامؑ ایک دن نماز میں مصروف ومشغول تھے کہ امام محمد باقرؑ کنوئیں میں گر پڑے. بچہ کے گہرے کنویں میں گرنے سے انکی ماں بے چین ہوکر رونے لگیں اور کنویں کے گرد پیٹ پیٹ کر چکر لگانے لگیں اورکہنے لگیں. ابن رسول اللہ محمد باقر غرق ہو گئے.
امام زین العابدینؑ نے بچے کے کنویں میں گرنے کی کوئی پرواہ نہ کی اور اطمینان سے نماز تمام فرمائی اس کیبعد آپ کنویں کے قریب آئے اور پانی کیطرف دیکھا پھر ہاتھ بڑھا کر بلا رسی کے گہرے کنوئیں سے بچے کو نکال لیا بچہ ہنستا ہوا برآمد ہوا، قدرت خداوندی دیکھیے اسوقت نہ بچے کے کپڑے بھیگے تھے اورنہ بدن تر تھا.
(دمعہ ساکبہ، ص۴۳۰۔ مناقب، جلد۴، ص۱۰۹)
🔷 امام شبلنجی تحریرفرماتے ہیں کہ طاؤس راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک شب حجر اسود کے قریب جاکر دیکھا کہ امام زین العابدینؑ بارگاہ خالق میں سجدہ ریزی کر رہے ہیں. میں اسی جگہ کھڑا ہو گیا. میں نے دیکھا کہ آپ نے ایک سجدہ کو بےحد طول دے دیا ہے. یہ دیکھ کر میں نے کان لگایا تو سنا کہ آپ سجدہ میں فرماتے ہیں:
"عبدک بفنائک مسکینک بفنائک سائلک بفنائک فقیرک بفنائک."
یہ سن کر میں نے بھی انہیں کلمات کے ذریعہ سے دعا مانگی فورا قبول ہوئی۔
(نورالابصار، ص۱۲۶، طبع مصر۔ ارشادمفید، ص۲۹۶)
🔷 شبانہ روز ایک ہزار رکعت:
علماء کا بیان ہے کہ آپ شب وروز میں ایک ہزار رکعتیں ادا فرمایا کرتے تھے.
(صواعق محرقہ، ص۱۱۹، مطالب السؤل ۲۶۷)
چونکہ آپکے سجدوں کا کوئی شمار نہ تھا اسی لیے آپکے اعضائے سجود"ثغنہ بعیر" کے گھٹے کیطرح ہوجایا کرتے تھے اورسال میں کئی مرتبہ کاٹے جاتے تھے.
(الفرع النامی، ص۱۵۸۔ دمعہ ساکبہ، کشف الغمہ، ص۹۰)
علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ آپکے مقامات سجود کے گھٹے سال میں دو بار کاٹے جاتے تھے اور ہرمرتبہ پانچ تہ نکلتی تھی.
(بحارالأنوار، جلد۲، ص۳)
علامہ دمیری مؤرخ ابن عساکر کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ دمشق میں حضرت امام زین العابدینؑ کے نام سے موسوم ایک مسجد ہے جسے"جامع دمشق" کہتے ہیں.
(حیواة الحیوان، جلد ۱؟ ص ۱۲۱)
https://t.me/islamwitheman/3202
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 امام سجادؑ کی غرباء پروری 🌹
■ چند واقعات۔
🔷 ﺍﺑﻮﺣﻤﺰﮦ ﺛﻤﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦؑ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺧﻔﯿﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻏﺮﺑﺎء ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﮐﯿﻦ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ: ﺟﻮ ﺻﺪﻗﮧ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﻏﻀﺐِ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﻮ ﺑﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ہے۔(1)
🔷 ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﺳﺤﺎﻕ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ: ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﺡ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺌﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻋﻠﯽؑ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦؑ ﮐﯽ شہادت ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻏﺬﺍﺋﯽ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﮨﻮﺍ۔(2)
🔷 ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﺗﮭﯿﻠﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺸﺖ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ دﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺘﺎﺟﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ: ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﻗﮧ ﻏﻀﺐِ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﻮ ﺑﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﺗﮭﯿﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﻻﺩﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﭖؑ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻧﺸﺎﻥ ﭘﮍ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺁﭖؑ ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺁﭖؑ ﮐﻮ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﮦ ﻧﺸﺎﻧﺎﺕ ﺁﭖؑ ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ دیکھے ﮔﺌﮯ۔(3)
🔷 ﺍﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ: ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﺁﭖؑ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺁﭖؑ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ: ﺻﺪﻗﮧ ﺳﺎﺋﻞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔(4)
🔷 ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺁﭖؑ ﻧﮯ ﺣﺞ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺧﺮﭺ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺁﭖؑ ﺣﺮﮦ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﻔﺮ ﺧﺮﭺ ﺁﭖؑ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡؑ ﻧﮯ ﻭﮦ ﻣﺤﺘﺎﺟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺎﻧﭧ ﺩﯾﺎ۔(5)
🔷 ﺁﭖؑ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﭽﺎ ﺯﺍﺩ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﻤﻨﺪ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖؑ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﮐﺮﺍﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ اس ﮐﻮ ﭼﻨﺪ ﺩﯾﻨﺎﺭ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ: "ﻋﻠﯽؑ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦؑ ﻗﺮﺍﺑﺖ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺍﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺧﺪﺍ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﺩﮮ۔"
ﺍﻣﺎﻡؑ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺻﺒﺮ ﻭ ﺑﺮﺩﺑﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺍﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺟﺐ ﺍﻣﺎﻡؑ کی شہادت ﮨﻮئی ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﺍﺱ ﻣﺮﺩ ﺳﮯ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻧﯿﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦؑ ﮨﯽ ﺗﮭﮯ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺁﭖؑ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺯﺍﺭﻭ ﻗﻄﺎﺭ ﺭﻭﯾﺎ۔(6)
🔷 ﺍﺑﻮﻧﻌﯿﻢ ﺭﻗﻤﻄﺮﺍﺯ ﮨﮯ: ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﻣﺤﺘﺎﺟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺎﻧﭧ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﻣﺘﻌﺎﻝ ﻣﺆﻣﻦ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﮮ۔(7)
🔷 ﺍﺑﻮﻧﻌﯿﻢ ﮨﯽ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ: ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺁﭖؑ ﮐﻮ ﺑﺨﯿﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺭﺣﻠﺖ ﮐﺮﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻔﺎﻟﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔(8)
🔷 ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺎﺋﻞ ﺁﭖؑ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺗﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ: ﺁﻓﺮﯾﻦ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻔﺮ ﺧﺮﭺ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔(9)
■ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻃﺮﺯ ﺳﻠﻮﮎ:
ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﺍﻗﺪﺍﻣﺎﺕ ﺩﯾﻨﯽ ﭘﮩﻠﻮﺅﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﭘﮩﻠﺆﻭﮞ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮨﯽ ﺍﮨﻢ ﺍﻗﺪﺍﻣﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺧﺎﺹ ﺗﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﺗﮭﺎ۔ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﻃﺒﻘﮧ ﻭﮦ ﻃﺒﻘﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺩﻭﻡ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﻄﻮﺭ ﺧﺎﺹ ﺑﻨﯽ ﺍﻣﯿﮧ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﺮﯾﻦ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺩﺑﺎﺅ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﺎ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺗﺮﯾﻦ ﻃﺒﻘﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﻧﮯ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﻋﻠﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻟﺺ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻃﺮﺯ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﻋﺮﺍﻕ ﮐﮯ ﺑﻌﺾ ﻣﻮﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﺮﻭﯾﺪﮦ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻃﺒﻘﮯ ﮐﯽ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ۔
🔷 ﺳﯿﺪﺍﻻﮨﻞ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ:
اﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ، ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺩﻻﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﻃﺒﻘﮧ ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺭﻭﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ، ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﯿﮟ۔
ﺍﻣﺎﻡ ﮨﺮ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻨﺎﺳﺒﺖ ﭘﺮ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ دیتے ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﺎﻝ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﺯﺍﺩ ﺷﺪﮦ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﯿﺰﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻟﺸﮑﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﻟﯽ ﺗﮭﮯ۔(10)
📚 حوالہ جات
1۔ ذهبی، سیر اعلام النبلاء، ج4، ص393۔
2۔ ذهبی، سیر اعلام النبلاء، ج4، ص393۔
3۔ ابونعیم اصفہانی، حلیة الاولیاء، ج3، ص136۔ کشف الغمه، ج2، ص77۔ مناقب، ج4، ص154۔ صفة الصفوة، ج2، ص154۔ خصال، ص616۔ علل الشرایع، ص231۔ بحار، ص90۔ بحوالہ شہیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص 147-148۔
4۔ طبقات، ج5، ص160، به نقل شهیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
5۔ کشف الغمه، ج2، ص78۔ صفة الصفوة، ج2، ص54، به نقل شهیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
6۔ کشف الغمه، ج2، ص107، ابونعیم اصفہانی۔ حلیة الاولیاء، ج3، ص140؛ بحوالہ شہیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
7۔ حلیة الاولیاء، ج3، ص136۔ طبری حصہ3، ص2482۔ طبقات ابن سعد، ج5، ص162؛ بحوالہ شہیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
8۔ صفة الصفوة، ج2، ص54؛ حلیة الاولیاء، ج3، ص136؛ طبقات، ج5، ص164؛ بحوالہ شهیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
9۔ کشف الغمه، ج2، ص77؛ مناقب، ج4، ص154؛ حلیة الاولیاء، ج3، ص136؛ بحوالہ شهیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
10۔ سیدالاهل، زین العابدین، ص7، 47۔
https://t.me/islamwitheman/3204
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
■ چند واقعات۔
🔷 ﺍﺑﻮﺣﻤﺰﮦ ﺛﻤﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦؑ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺧﻔﯿﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻏﺮﺑﺎء ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﮐﯿﻦ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ: ﺟﻮ ﺻﺪﻗﮧ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﻏﻀﺐِ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﻮ ﺑﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ہے۔(1)
🔷 ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﺳﺤﺎﻕ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ: ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﺡ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺌﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻋﻠﯽؑ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦؑ ﮐﯽ شہادت ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻏﺬﺍﺋﯽ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﮨﻮﺍ۔(2)
🔷 ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﺗﮭﯿﻠﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺸﺖ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ دﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺘﺎﺟﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ: ﺭﺍﺯﺩﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﻗﮧ ﻏﻀﺐِ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﻮ ﺑﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﺗﮭﯿﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﻻﺩﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﭖؑ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻧﺸﺎﻥ ﭘﮍ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺁﭖؑ ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺁﭖؑ ﮐﻮ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﮦ ﻧﺸﺎﻧﺎﺕ ﺁﭖؑ ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ دیکھے ﮔﺌﮯ۔(3)
🔷 ﺍﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ: ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﺁﭖؑ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺁﭖؑ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ: ﺻﺪﻗﮧ ﺳﺎﺋﻞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔(4)
🔷 ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﺁﭖؑ ﻧﮯ ﺣﺞ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺧﺮﭺ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺁﭖؑ ﺣﺮﮦ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﻔﺮ ﺧﺮﭺ ﺁﭖؑ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡؑ ﻧﮯ ﻭﮦ ﻣﺤﺘﺎﺟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺎﻧﭧ ﺩﯾﺎ۔(5)
🔷 ﺁﭖؑ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﭽﺎ ﺯﺍﺩ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﻤﻨﺪ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖؑ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﮐﺮﺍﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ اس ﮐﻮ ﭼﻨﺪ ﺩﯾﻨﺎﺭ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ: "ﻋﻠﯽؑ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦؑ ﻗﺮﺍﺑﺖ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺍﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺧﺪﺍ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﺩﮮ۔"
ﺍﻣﺎﻡؑ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺻﺒﺮ ﻭ ﺑﺮﺩﺑﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺍﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺟﺐ ﺍﻣﺎﻡؑ کی شہادت ﮨﻮئی ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﺍﺱ ﻣﺮﺩ ﺳﮯ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻧﯿﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺴﯿﻦؑ ﮨﯽ ﺗﮭﮯ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺁﭖؑ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺯﺍﺭﻭ ﻗﻄﺎﺭ ﺭﻭﯾﺎ۔(6)
🔷 ﺍﺑﻮﻧﻌﯿﻢ ﺭﻗﻤﻄﺮﺍﺯ ﮨﮯ: ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﻣﺤﺘﺎﺟﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺎﻧﭧ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﻣﺘﻌﺎﻝ ﻣﺆﻣﻦ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﮮ۔(7)
🔷 ﺍﺑﻮﻧﻌﯿﻢ ﮨﯽ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ: ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺁﭖؑ ﮐﻮ ﺑﺨﯿﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺭﺣﻠﺖ ﮐﺮﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻔﺎﻟﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔(8)
🔷 ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺎﺋﻞ ﺁﭖؑ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺗﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ: ﺁﻓﺮﯾﻦ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﻔﺮ ﺧﺮﭺ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔(9)
■ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻃﺮﺯ ﺳﻠﻮﮎ:
ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﺍﻗﺪﺍﻣﺎﺕ ﺩﯾﻨﯽ ﭘﮩﻠﻮﺅﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﭘﮩﻠﺆﻭﮞ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮨﯽ ﺍﮨﻢ ﺍﻗﺪﺍﻣﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺧﺎﺹ ﺗﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﺗﮭﺎ۔ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﻃﺒﻘﮧ ﻭﮦ ﻃﺒﻘﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺩﻭﻡ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﻄﻮﺭ ﺧﺎﺹ ﺑﻨﯽ ﺍﻣﯿﮧ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﺮﯾﻦ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺩﺑﺎﺅ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﺎ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺗﺮﯾﻦ ﻃﺒﻘﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﻧﮯ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦ ﻋﻠﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻟﺺ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻃﺮﺯ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﻋﺮﺍﻕ ﮐﮯ ﺑﻌﺾ ﻣﻮﺍﻟﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﺮﻭﯾﺪﮦ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻃﺒﻘﮯ ﮐﯽ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ۔
🔷 ﺳﯿﺪﺍﻻﮨﻞ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ:
اﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ، ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﻧﮩﻴﮟ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺩﻻﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﻃﺒﻘﮧ ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺭﻭﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ، ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﻡؑ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﯿﮟ۔
ﺍﻣﺎﻡ ﮨﺮ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻨﺎﺳﺒﺖ ﭘﺮ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ دیتے ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﺎﻝ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﺯﺍﺩ ﺷﺪﮦ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﯿﺰﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻟﺸﮑﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺍﻣﺎﻡ ﺳﺠﺎﺩؑ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﻟﯽ ﺗﮭﮯ۔(10)
📚 حوالہ جات
1۔ ذهبی، سیر اعلام النبلاء، ج4، ص393۔
2۔ ذهبی، سیر اعلام النبلاء، ج4، ص393۔
3۔ ابونعیم اصفہانی، حلیة الاولیاء، ج3، ص136۔ کشف الغمه، ج2، ص77۔ مناقب، ج4، ص154۔ صفة الصفوة، ج2، ص154۔ خصال، ص616۔ علل الشرایع، ص231۔ بحار، ص90۔ بحوالہ شہیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص 147-148۔
4۔ طبقات، ج5، ص160، به نقل شهیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
5۔ کشف الغمه، ج2، ص78۔ صفة الصفوة، ج2، ص54، به نقل شهیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
6۔ کشف الغمه، ج2، ص107، ابونعیم اصفہانی۔ حلیة الاولیاء، ج3، ص140؛ بحوالہ شہیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
7۔ حلیة الاولیاء، ج3، ص136۔ طبری حصہ3، ص2482۔ طبقات ابن سعد، ج5، ص162؛ بحوالہ شہیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
8۔ صفة الصفوة، ج2، ص54؛ حلیة الاولیاء، ج3، ص136؛ طبقات، ج5، ص164؛ بحوالہ شهیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
9۔ کشف الغمه، ج2، ص77؛ مناقب، ج4، ص154؛ حلیة الاولیاء، ج3، ص136؛ بحوالہ شهیدی، زندگانی علیؑ بن الحسینؑ، ص148۔
10۔ سیدالاهل، زین العابدین، ص7، 47۔
https://t.me/islamwitheman/3204
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 شانِ عبادت امام سجادؑ 🌹
جسطرح آپکی عبادت گزاری میں پیروی ناممکن ہے اسی طرح آپ کی شان عبادت کی رقم طرازی بھی دشوار ہے۔ علماء کی بے انتہا کاہش وکاوش کے باوجود آپکی شانِ عبادت کا مظاہرہ نہیں ہوسکا.
"قد بلغ من العبادة مالم یبلغہ احد."
آپ عبادت کی اس منزل پر…
جسطرح آپکی عبادت گزاری میں پیروی ناممکن ہے اسی طرح آپ کی شان عبادت کی رقم طرازی بھی دشوار ہے۔ علماء کی بے انتہا کاہش وکاوش کے باوجود آپکی شانِ عبادت کا مظاہرہ نہیں ہوسکا.
"قد بلغ من العبادة مالم یبلغہ احد."
آپ عبادت کی اس منزل پر…