ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔷 نماز میں غفلت 🔷

میں جلدی جلدی آفس سے گھر آیا۔۔ اور اماں کو کھانے کا کہہ کر وضو کرنے چلا گیا۔۔۔ مغرب کا وقت ختم ہونے والا تھا۔۔

جیسے تیسے وضو کیا اور نیت کر لی۔۔۔ دوران نماز بار بار اپنے گیلے چہرے کو اپنی کھلی آستینوں سے صاف کرتا رہتا۔۔۔

رکوع میں جاتے خیال آیا:
"اماں کی دوائی تو لانا بھول ہی گیا۔۔۔ اوہ واپسی پر بچوں کی فیس کیلئے پیسے بھی اے ٹی ایم سے نکالنے تھے.۔۔

پھر سجدہ کیا تو وہاں بھی گھریلو ذمہ داریاں ایک ایک کر کے یاد آنے لگیں۔۔۔۔ تھکاوٹ کی وجہ سے نماز میں نیند کی جھٹکے آنے لگے.۔۔ بس پھر کیا تھا سجدے میں جاتے ہی نیند (غنودگی) کا جھونکا آ گیا۔۔۔۔

نیند میں عجیب منظر دیکھا۔۔۔
لوگوں کا ہجوم۔۔۔ ہر کوئی یہاں وہاں بھاگ رہا تھا۔۔۔ کچھ لوگ کاغذ تقسیم کر رہے تھے۔۔ میرے پاس آکر بھی کاغذ تھما دیا۔۔ جس پر میرا نام لکھا تھا۔۔

پوچھنے پر بتایا گیا یہ تمہارا اعمال نامہ ہے۔۔ اب جا کر وہاں سامنے جمع کروا دو جہاں باقی سب جمع کروا رہے ہیں۔۔ پھر نام پکارا جائیگا فیصلے کیلئے...
میں نے بھی جا کر کاغذ جمع کروا دئیے اور لائن میں واپس آگیا اور اپنے نام پکارے جانے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔
نام پکارا جانے لگا.۔۔
" فلاں بن فلاں : جنت "
" فلاں بن فلاں : جنت "
اب تیسرے نمبر پر میرا نام پکارا گیا۔۔ میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔۔ یا اللہ اب کیا بنے گا۔۔۔
ساتھ ہی فیصلہ بھی سنا دیا گیا "جہنم"

مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔ دو قد آور لوگ آئے اور مجھے گھسیٹنے لگے۔۔ میں پکارنے لگا رکو رکو.....
۔۔۔ شاید یہ کسی اور کا نام ہوگا۔۔ میرا تو "جنت" والوں میں آنا تھا۔۔۔
مگر مجھے غصے سے خاموش کروا دیا گیا.
"ہمارے ہاں فیصلے میں غلطی کا امکان ہی نہیں"

مجھے جہنم کیطرف گھسیٹا جا رہا تھا اور میں مدد کی بھیک مانگتا جاتا۔۔۔
نہ میں جھوٹ بولتا تھا۔۔۔ نہ دھوکہ فریب دیتا۔۔۔ نہ شراب اور زنا جیسے کام میں ملوث تھا۔۔ پھر جہنم کیوں.!!! مگر کوئی سننے کو تیار نہیں تھا۔۔۔

جہنم کی گرمی مجھے محسوس ہونے لگی۔۔ اندھیرے گڑھے میں مجھے پھینکنے کو تیار کھڑے تھے۔۔۔ مجھے اچانک اپنی نماز کا خیال آیا۔۔۔ نماز ۔۔۔۔ نماز ۔۔۔۔ کہاں ہو تم....؟؟؟
نماز بھی خاموش۔۔۔

جہنم کی آگ کے شعلے مجھ سے لپٹنے کو بے چین ہو رہے تھے۔۔۔ اور مجھے جہنم میں دھکّا دے دیا گیا. مجھے جیسے ہی دھکا دیا ایک سفید بزرگ نے فورا میرا ہاتھ تھام لیا اور مجھے جہنم سے باہر کھینچتے ہوئے باہر نکالا۔۔۔
میں ڈر سے کانپ رہا تھا۔۔۔ پوچھنے لگا۔۔ آپ کون ہیں اور مجھے کیوں بچایا.!!!
کہنے لگے میں تمہاری نماز ہوں۔۔ میں غصے سے چلایا ۔۔ اب آرہے ہو جب میں جہنم میں ڈالنے جا رہا تھا؟؟؟ اگر عین وقت پر تم نہ آتے تو میں تو چلا گیا تھا جہنم میں۔۔۔۔ پہلے نہیں آسکتے تھے تم؟؟؟
بزرگ کہنے لگے۔۔۔ جیسے تم مجھے تاخیر سے پڑھتے تھے کبھی وقت پر نہیں پڑھا ویسے ہی میں بھی تاخیر سے آیا ہوں۔۔۔۔ کبھی تم نے مجھے وقت پر پڑھا ہی نہیں تو میں وقت پر کیسے آتا۔۔۔۔
میری اکھڑی اکھڑی سانس اب قدرے بحال ہونے لگی۔۔۔

میری ماں نے آکر مجھے سجدے میں ہلایا تو میری آنکھ کھلی۔۔۔
بیٹا خیر ہے؟؟ تم " نماز، نماز پکار رہے تھے سجدے میں۔۔۔ میں حیرت سے خود کو ٹٹولنے لگا کہ میں زندہ ہوں۔۔!!
پسینے سے شرابور۔۔
ماں کے ہاتھوں کو چومنے لگا۔۔۔۔۔ اللہ کا شکر ادا کرنے لگا جیسے دوبارہ نئی زندگی ملی ہو مجھے۔۔.
اور
میں نے پختہ اور کیا کہ آئندہ نماز میں کبھی سستی نہیں کروں گا.

اب میں جہاں کہیں بهی جاتا ہوں تو وہاں بھی نماز کی فکر رہتی ہے۔۔۔ کان ہر وقت آذان سننے کو تیار رہتے ہیں ۔۔ اب میں لیٹ نہیں ہونا چاہتا نماز میں۔۔

■ دوستو ! چاہے دنیا کے کسی کونے میں کیوں نہ ہوں۔۔۔ کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں۔۔۔۔۔ زمین یہاں سے وہاں ہی کیوں نہ کر دی جائے۔۔۔ بس یہ یاد رکھنا. "نماز اپنے وقت پر ادا کرنا نہ بھولنا"

🌹 امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جو نماز کو ہلکا سمجھے اس تک ہماری شفاعت نہیں پہنچ سکتی۔ (📚 مستدرک الوسائل، ج3، ص25، ح2923۔)

🌹 امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو شخص نماز سے غافل رہتا ہو اگر وہ سات بار سورةالمؤمنون کی تلاوت کرے تو وہ باقاعدگی سے نمازیں پڑھنے لگے گا.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 نماز نہ پڑھنے کی تأویلات 🔷

ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ہم ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھنے ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ؟
■ وہ کہتے ہیں یہ ﺗﻮ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﻧﺎ ﮨﮯ. ﯾﮧ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﺗﻮہین ﮨﮯ. ﯾﮧ ﺗﻮ ﮐﮭﻠﯽ ﻣﻨﺎﻓﻘﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮔﻨﺎﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺗﻮﺑﮧ ﺑﮭﯽ...
ﯾﺎ ﻟﻮﮒ ﮬﻤﯿﮟ ﻧﯿﮏ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ہم ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ...

ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﻓﮑﺎﺭ ﺟﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﯾﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ملتے ﮨﯿﮟ٬ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺀ ﭘﺮ ﮐﺌﯽ ﺟﻮﺍﻥ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ.

■ اس کا جواب یہ ہے کہ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﯾﮧ ﺗﻮ ﻋﺠﯿﺐ ﻋﻘﻠﻤﻨﺪﯼ ﮨﮯ٬ ﮐﮧ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭ ہوئے ﺗﻮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﯽ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎ؟
ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭ ہونے ﻭﺍﻻ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﻧﮧ ﯾﮧ ﮐﮧ ﮐﻠﯿﻨﮏ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﯽ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ ﺩﮮ.

● ﻭﺍﺿﺢ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ بیماری کی حالت میں ﻋﻼﺝ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺍ ﺳﮯ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ بیماری کے بڑھنے کے چانسز زیادہ یاپھر ﻣﻮﺕ ﻧﺰﺩیک ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺩﻧﺎک ہو ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ.

● ﻧﻤﺎﺯ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺻﺎﺩﻕ ﮨﮯ. ﯾﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍھے ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺛﺮ ﻧﮧ ﮨﻮ.

● ﺍﻟﺒﺘﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﺷﺮﺍﺋﻂ ﻭ ﺁﺩﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ٬ ﺍﺳﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﮯ ﮔﯽ، ﮐﺒﮭﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﺰوی ﻃﻮﺭ ﭘﺮ.

ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ہمیشہ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻨﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ..
● ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﺍﺛﺮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻻﺷﻌﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﻘﺎﺩﺍﺕ ﻭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﺠﺪﯾﺪِ ﻓﮑﺮ ہوتی ﮨﮯ٬ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﻨﺎﮦ ﯾﺎ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﺎ.

● ﺍﮔﻼ ﮐﻤﺘﺮﯾﻦ ﺍﺛﺮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ٬ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﺸﮑﻞ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﺎﺭﺍ٬ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﻣﮑﻤﻞ ﻓﺎﺳﺪ ہونے ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﻣﻠﺤﺪ ﻭ کمیوﻧﺴﭧ نہیں ہونے ﺩﯾﺘﺎ.

● ﻧﻤﺎﺯ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ ہو ﺑﮩﺮﺣﺎﻝ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﮐﺎ ﺍﺩﺭﺍﮎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ. ﺗﺒﮩﯽ ﺗﻮ ﮔﻨﮩﮑﺎﺭﺗﺮﯾﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍیسے ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺟﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﺑﺎﻃﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍلے ﮨﯿﮟ.
ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺿﻌﯿﻒ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ٬ ﮔﻨﮩﮑﺎﺭ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻏﺮﻕ ہونے ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ.

● ﻓﺤﺸﺎ ﻭ ﻣﻨﮑﺮ ﺳﮯ ﻧﮩﯽ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺩﺭﺟﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﯽ ﺷﺮﺍﺋﻂ ﮐﯽ ﺭﻋﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﺳﯽ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺩﺭﺟﺎﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ.

🌹 ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ مصطفٰی (ﺹ) ﮐﯽ ﯾﮧ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ:
ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡ ‏(ﺹ) ﺳﮯ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺭﺩ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺒﯿﻠﮧ ﺍﻧﺼﺎﺭ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﺍﻥ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ‏(ﺹ) ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻟﻮﺩﮦ ﺗﮭﺎ، ﺍﺻﺤﺎﺏ ﻧﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡ (ص) ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺌﮯ ﺗﻮ ﺁﻧﺤﻀﺮﺕ‏(ﺹ‏) ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
”ﺍٕﻥَّ ﺻَﻼﺗَﮧُ ﺗَﻨﮩَﺎﮦُ ﯾَﻮﻣﺎً“
ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮩﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺑﺮﮮ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﯽ.
‏(ﺗﻔﺴﯿﺮﻣﺠﻤﻊ ﺍﻟﺒﻴﺎﻥ، 8/285)

🌹 رسول اکرم (ص) سے کسی شخص کی شکایت کی گئی کہ وہ دن میں نماز پڑھتا ہے اور رات کو چوری کرتا ہے.
رسول اکرم (ص) نے جواب دیا:
ایک دن نماز اس کو چوری کرنے سے باز رکھے گی اور پھر وہ کبھی چوری نہ کرے گا.
(میزان الحکمة، ج5، ص:371)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 شہادت سیدہ زھراءؑ، تجہیز و تدفین 🔶

شیعہ اور سنی راویوں نے ابو ارفع کی زوجہ سلمیٰ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا میں حضرت زہراءؑ کی زندگی کے آخری ایام میں انکی تیمارداری میں مصروف رہی، ایک دن انکی طبیعت وقتی طور پر سنبھل گئی اور انکی بیماری میں افاقہ سا محسوس ہوا۔ حضرت علیؑ اپنے کسی کام کے لئے گھر سے باہر چلے گئے۔
حضرت فاطمہؑ نے مجھ سے فرمایا: کچھ پانی لاؤ میں غسل کرنا چاہتی ہوں اور اپنے بدن کو صاف کرنا چاہتی ہوں میں بی بی کے لئے پانی لائی آپ نے اٹھ کر اچھی طرح سے غسل کیا اور لباس تبدیل کیا۔

پھر آپ نے مجھ سے فرمایا گھر کے درمیان میرا بستر بچھاؤ۔ (میں نے بستر بچھایا) آپ قبلہ رو ہوکر بستر پر لیٹ گئیں۔

پھر مجھ سے فرمایا: میں آج دنیا سے جا رہی ہوں۔ میں نے غسل کر لیا ہے اب میرا منہ کوئی نہ کھولے۔ پھر آپ نے اپنے سر کے نیچے ہاتھ رکھا اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔

روایات میں مذکور ہے کہ حضرت فاطمہ (س) کی وفات مغرب اور عشا کے در میان ہوئی اور جب آپ کی زندگی کا آخری لمحہ آیا تو آپ نے (ایک جانب) غور سے دیکھا اور فرمایا: السلام علی جبرائیل، السلام علی رسول اللہ، اللھم مع رسولک، اللھم فی رضوانک و جوارک و دارک الدار السلام۔
یعنی جبرائیل پر سلام، رسول خدا پر سلام، اے پروردگار! اپنے رسول کے ساتھ محشور کرنا، اے پروردگار! اپنی رضا اور اپنے جوار اور اپنے سلامتی کے گھر میں منتقل کرنا۔

پھر آپ نے فرمایا: جو کچھ میں دیکھ رہی ہوں کیا تم بھی اسے دیکھ رہے ہو؟

گھر میں موجود افراد میں سے کسی نے پوچھا کہ آپ کیا دیکھ رہی ہو؟

آپؑ نے فرمایا: مجھے اہل آسمان گروہ در گروہ اترتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ میں انہیں انکی اصلی شکل میں دیکھ رہی ہوں۔ میں جبرئیلؑ کو دیکھ رہی ہوں اور میں رسول خداؑ کو دیکھ رہی ہوں۔ آپ مجھ سے فرما رہے ہیں بیٹی! ہمارے پاس آجائیں آپ کے لئے آخرت کی نعمات بہتر ہیں۔

حضرت زید بن علی زین العابدینؑ کا بیان ہے: حضرت فاطمہؑ نے جبرئیلؑ اور پیغمبرؑ اور عزرائیلؑ کو سلام کیا تو ان شخصیات نے آپ کے سلام کا جواب دیا جسے گھر میں موجود تمام افراد نے اپنے اپنے کانوں سے سنا تھا اور اس وقت عمدہ خوشبو پھیل گئی جسے حاضرین نے محسوس کیا تھا۔

🔹 اسماء بنت عمیس کی روایت
اسماء بنت عمیسؒ کا بیان ہے: حضرت سیدہؑ نے آخری لمحات میں مجھ سے فرمایا: وفات پیغمبر اکرم ؐ کے وقت جبرئیل امین جنت سے کافور لے کر آئے تھے، رسول خداؑ نے اس کے تین حصے کئے تھے۔ ایک حصہ انہوں نے اپنے لئے رکھا تھا اور ایک حصہ علیؑ کے حوالے کیا تھا اور ایک حصہ میرے حوالےکیا تھا۔ اس کا وزن چالیس درہم ہے۔ میرے حصے کا وہ کافور فلاں جگہ رکھا ہوا ہے۔ تم وہ کافور لے آؤ اور میرے سرہانے رکھ دو۔
یہ کہہ کر آپ نے منہ پر چادر ڈال دی اور مجھ سے فرمایا: تم کچھ دیر صبر کرنا اور میرا انتطار کرنا۔ پھر مجھے آواز دینا اگر میں جواب نہ دوں تو تم سمجھ لینا کہ میں اپنے والدہ کی خدمت میں پہنچی ہوں۔

اسماء نے کچھ دیر صبر کیا۔ پھر بی بی کو صدا دی لیکن کوئی جواب نہ آیا تو انہوں نے کہا:
"یا بنت محمد المصطفی یا بنت اکرم من حملتہ النساء یا بنت خیر من وطا الحصی و یا بنت من کان من ربہ قاب قوسین او ادنی۔"

یعنی اے دختر محمد مصطفیؐ اے بہترین انسان کی دختر، اے روئے زمین پر چلنے والوں سے افضل ترین شخص کی دختر اور اے اس کی دختر جو شب معراج مقام قاب قوسین پر پہنچا۔

مگر اس آواز کے بعد بھی بی بی کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔

اسماء نے منہ سے چادر ہٹائی تو دیکھا کہ سیدہؑ دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو سیدہؑ کے اوپر گرا دیا۔ بی بی کا بوسہ لیا اور عرض کی۔ اے فاطمہ! جب آپ اپنے والد پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں پہنچیں تو انہیں میرا سلام عرض کرنا۔

🔹 بچے ماں کے جنازے پر
اسماء مضطرب ہو کر گھر سے نکلیں۔ گھر کے باہر حسنؑ و حسینؑ سے ملاقت ہوئی۔ بچوں نے ان سے اپنی والدہ کی خیریت دریافت کی۔اسماء نے انہیں کوئی جواب نہ دیا بچے گھر کو روانہ ہوئے اور انہوں نے دیکھا کہ ان کی والدہ قبلہ رخ لیٹی ہوئی ہیں۔ امام حسینؑ نے اپنی والدہ کے جسد اطہر کو حرکت دی تو معلوم ہوا کہ ان کی والدہ اس جہان فانی سے کوچ کر چکی ہیں۔ انہو ں نے اپنے بھائی امام حسنؑ کی طرف رخ کر کے کہا: اجرک اللہ فی الوالدۃ یعنی اللہ تمہیں تمہاری والدہ کے صدمے پر اجر عطا فرمائے۔

امام حسنؑ نے اپنے آپ کو ماں پر گرا دیا۔ کبھی والدہ کو چومتے اور کبھی کہتے امی جان! آپ مجھ سے بات کریں ورنہ میری روح نکل جائے گی۔ پھر امام حسینؑ نے اپنی والدہ طاہرہ کے قدم چومے اور کہا: امی جان! میں آپ کا بیٹا حسین ہوں۔ اس سے پہلے کہ میرا دل پھٹ جائے اور میں مر جاؤں، آپ مجھ سے گفتگو کریں۔
🔹 حضرت علی علیہ السلام کو اطلاع
اسماء نے حسنین کریمینؑ سے کہا کہ تم دونوں اپنے والد کے پاس جاؤ اور انہیں اپنی والدہ کی موت کی خبر دو۔
حسنین کریمینؑ گھر سے نکلے تو ان کی زبان سے یہ کلمات جاری تھے یا محمد اہ! یا احمد اہ! الیوم جدد لنا موتک اذ ماتت امنا۔ یعنی اے محمد مصطفیٰؐ! آہ اے احمد مجتبیؑ! آج آپ کی موت کا صدمہ ہمارے لئے پھر تازہ ہو گیا ہے، آج ہماری والدہ دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں۔
حسنین کریمینؑ مسجد میں آئے جہاں حضرت علیؑ پہلے سے موجود تھے۔ بچوں نے اپنے والد کو اپنی امی کی موت کی خبر دی۔ اس خبر کو سن کر حضرت علیؑ بےتاب ہو کر زمین پر گر پڑے۔ آپ کے چہرہ اطہر پر پانی ڈالا گیا۔جب آپ کی طبیعت کچھ سنبھلی تو آپ نے درد مندانہ لہجے میں کہا: لمن العزآء یا بنت محمد کنت بک اتعزی ففیم العزء من بعدک یعنی اے بنت محمد! اب میں کس سے تسلی حاصل کروں گا۔ جب تک تم زندہ تھیں تو تمہیں دیکھ کر مجھے تسلی ہوتی تھی، اب تمھارے بعد مجھے کس سے تسلی ملے گی۔

🔹 حضرت علیؑ جنازہ سیدہ پر
مشہور مورخ مسعودی نقل کرتے ہیں۔ جب حضرت سیدہؑ کی وفات ہوئی تو حضرت علیؑ سخت بے تاب ہوئے اور بہت روئےاور آپؑ نے یہ مرثیہ پڑھا:
لکل اجتماع من خلیلین فرقۃ و کل الذی دون الممات قلیل
وان افتقادی فاطمۃ بعد احمؐد دلیل علی ان لا یدوم خلیل

دو دوستوں کے اجتماع کا انجام جدائی ہے اور موت کے علاوہ ہر مصیبت قابل برداشت ہے۔ پیغمبر اکرمؐ کے بعد فاطمہؑ کا دنیا سے رخصت ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی بھی دوست ہمیشہ نہیں رہتا۔

راوی کہتا ہے کہ حضرت علیؑ نے اپنے صاحبزادوں کو اٹھایا اور انہیں لے کر اس کمرے میں آئے جہاں حضرت سیدہؑ کا جنازہ رکھا ہوا تھا۔ جنازے کی پائتی کی طرف اسماء بنت عمیس رو رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں اے یتیمان محمد! ہم پیغمبر اکرم کے بعد فاطمہؑ کے ذریعے سے اپنے آپ کو تسلی دیتے تھے اب ہم کس سے اپنے آپ کو تسلی دیں گے۔

🔹 سیدہؑ کا تحریری وصیت نامہ
امیرالمومنینؑ نے سیدہؑ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو آپ نے سیدہؑ کے سر کے قریب ایک خط رکھا ہوا دیکھا۔ آپ نے اسے اٹھا کر پڑھا تو اس میں لکھا ہوا تھا:
یہ ہے فاطمہؑ کی وصیت
1۔فاطمہؑ گوہی دیتی ہے کہ خدا واحد لاشریک ہے۔ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
جنت و دوزخ حق ہے اور قیامت قائم ہونے میں کوئی شریک نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے اٹھائے گا۔
یاعلیؑ! میں فاطمہؑ بنت محمؐد ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے نکاح میں دیا تاکہ میں دنیا و آخرت میں آپ کی زوجہ رہوں آپ میرے لئے دوسروں سے زیادہ اس بات کے حقدار ہیں کہ: حنطنی وکفنی بالیل وصل علی ادفنی بالیل ولا تعلم احدا۔۔۔۔الی آخر
مجھے رات کے وقت غسل و کفن اور حنوط دینا اور میری نماز جنازہ پڑھنا۔ رات کے وقت مجھے دفن کرنا اور کسی کو اطلاع نہ دینا۔ میں تمہیں خدا کے سپرد کرتی ہوں اور میری اولاد کو روز قیامت تک میرا سلام پہنچے۔

🔹 مسلمانوں پر سیدہ ؑکی موت کا اثر
روایت ہے کہ اہل مدینہ کو جیسے ہی حضرت سیدہؑ کی وفات کا علم ہوا تو ان کے نالہ و بکا کی صدائیں بلند ہوئیں۔ بنی ہاشم کی خواتین حضرت سیدہؑ کے گھر آئیں اور انہوں نے اتنا گریہ و بکا کیا کہ شہر مدینہ لرز تا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ خواتین بنی ہاشم باربار کہتی تھیں: یا سیدتاہ یا بنت رسول اللہ یعنی ہائے سیدہؑ! ہائے دختر پیغمبر۔

مدینہ کے مرد بہت بڑی تعداد میں جمع ہو کر حضرت علیؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
جہاں حضرت علیؑ فرش عزا پر بیٹھے تھے اور ان کے آگے حسنؑ و حسینؑ بیٹھے رو رہے تھے۔لوگ بھی شہزادوں کو روتا ہوا دیکھ کر رونے لگے۔ حضرت ام کلثومؑ اس حالت میں گھر سے باہر نکلیں کہ ان کے چہرے پر نقاب تھا اور ان کے سر پر چادر تھی اور چادر کا پلو زمین پر گھسٹتا جاتا تھا ان کا گریہ انہیں بیتاب کر رہا تھا بی بی سیدھی نانا کے مزار پر گئیں اور قبر مطہر پر رو روکر کہا:
یا ابتاہ! یا رسول اللہ! الان حقا فقدناک فقدا لا لقآء بعدہ ابدا۔
اے نانا جان! آج ہم نے آپ کو پوری طرح کھو دیا ہے جس کے بعد ملاقات کا کوئی امکان نہیں۔
شہزادوں کے یہ جملے سن کر لوگوں کی چیخیں نکل گیئں اور ہر طرف سے گریہ و بکا کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔

تمام حاضرین بے تابی سے بی بی کے جنازے کے باہر آنے کے منتظر تھے تاکہ وہ نماز جنازہ پڑھ سکیں۔ اتنے میں حضرت ابوذرؑ گھر سے باہر آئے اور لوگوں سے کہا: آپ حضرات چلے جائیں ابھی جنازے کے باہر آنے میں دیر ہے۔
یہ اعلان سن کر لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔

🔹 غسل و کفن اور نماز جنازہ
جیسے ہی رات ہوئی تو حضرت علیؑ نے دختر پیغمبر کو غسل دیا اور غسل کے وقت امام حسنؑ و حسینؑ اور شہزادی زینؑب و ام کلثومؑ کے علاوہ فضہؑ اور اسماء بنت ِ عمیس کے علاوہ اور کوئی موجود نہ تھا۔

اسماء بنتِ عمیس کا بیان ہے کہ حضرت سیدہؑ ؑ کو غسل حضرت علیؑ نے دیا اور میں ان کی مدد کرتی رہی۔
روایت میں مذکور ہے کہ غسل دیتے وقت حضرت علیؑ یہ الفاظ دہراتے رہے:
اے پروردگار! فاطمہؑ تیری کنیز اور تیرے منتخب رسول کی بیٹی ہے۔ خدایا! اسے اپنی حجت تلقین فرما اور اس کی برہان کو عظیم بنا اور اس کے درجہ کو بلند و بالا فرما اور اسے اس کے والد محمد مصظفیٰ کا ہم نشین بنا۔

روایت میں مذکور ہے کہ حضرت سیدہؑ کے جسد اطہر کو اسی کپڑے سے خشک کیا گیا جس سے رسول خدا کے جسم اطہر کو خشک کیا گیا تھا۔ جب غسل مکمل ہوا تو حضرت علیؑ نے (اپنی زوجہ طاہرہ کو کفن پہنایا پھر) بی بی کے جنازے کو تابوت نما چارپائی پر رکھ دیا گیا اور آپ نے امام حسنؑ سے فرمایا کہ تم ابوذر کو اطلاع دو۔ ابوذر آئے بی بی کا جنازہ اٹھایا گیا اور وہاں لایا گیا جہاں نماز جنازہ پڑھی جاتی تھی۔ حسنؑ وحسینؑ ماں کے جنازے میں شریک تھے۔ حضرت علیؑ نے بیبی کی نماز جنازہ پڑھائی۔

🔹 بچے ماں کا آخری دیدار کرتے ہیں:
ورقہ کی روایت میں ہے کہ امیر المومنینؑ کا بیان ہے: میں نے فاطمہ زہراءؑ کو غسل دیا اور میں نے غسل کے لئے ان کے پیراہن کو جدا نہیں کیا تھا۔ خدا کی قسم! فاطمہؑ پاک و پاکیزہ تھیں۔ غسل کے بعد رسول خدا کے بچے ہوئے کافور سے میں نے انہیں حنوط کیا، انہیں کفن پہنایا اور کفن کے بند باندھنے سے قبل میں نے اپنے بچوں اور فضہ کو آواز دے کر کہا۔
یاحسن یاحسین یازینب یا ام کلثوم یافضہ ھلموا و تزودوا من امکم فھذا الفراق و اللقاء فی الجنۃ۔
یعنی اے حسن، اے حسین، اے زینب، اے ام کلثوم اور فضہ! آؤ ماں کا دیدار کرلو۔ ماں تم سے جدا ہوتی ہے، پھر جنت میں اس سے ملاقات ہوگی۔
حسنؑ و حسینؑ آگے بڑھے اور رو رو کر کہا:
وا حسرتاہ لا تنطفی ابدا من فقد جدنا محمد المصطفیٰ و ا منا فاطمۃ الزہرآء
یعنی ہائے ہمارے نانا محمد مصطفیٰ اور ہماری ماں فاطمہ زہراء کی جدائی ایک ایسی حسرت ہے جس کے شعلے نہیں بجھیں گے۔

پھر بچوں نے ماں کو مخاطب کرکے کہا: امی جان! جب ہمارے نانا سے آپ کی ملاقات ہو تو ان سے کہنا کہ ہم دنیا میں یتیم ہو چکے ہیں۔

امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں۔ انی اشھد اللہ انھا جنت و انت و مدت یدیھا و ضمتھما الی صدرھا ملیّا
یعنی میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اس وقت بنت پیغمبر کے کفن سے آہ و نالہ کی آواز آئی اور زہراءؑ نے دونوں ہاتھ کفن سے باہر نکالے اور حسنؑ و حسینؑ کو سینے سے لگایا۔ اس وقت ہاتف نے آسمان سے یہ صدا دی:
یا ابالحسنؑ! ارفعھما عنھا فلقد ابکیا واللہ مالئکۃ السمآء و قد اشتاق الحبیب الی حبیبہ۔
یعنی اے علیؑ! ان دونوں بچوں کو ماں کی میت سے جدا کرو۔ انہوں نے آسمان کے فرشتوں کو رولا دیا ہے جبکہ حبیب اپنی حبیبہ کا مشتاق ہے۔ حضرت علیؑ یہ آواز سن کر آگے بڑھے، ماں کے سینے سے لپٹے ہوئے بچوں کو تسلی دی اور انہیں ماں سے جدا کیا۔

🔹 سیدہ طاہرہ ؑکا کفن
روایت ہے کہ کثیر بن عباس نے حضرت زہراءؑ کے کفن کے ایک کونے پر یہ عبارت لکھی تھی:
ان فاطمۃ تشھد ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ۔ یعنی فاطمہ گواہی دیتی ہیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد مصطفیٰ اللہ کے رسول ہیں۔

کتاب ”مصباح الانوار“ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زہراءؑ کا کفن موٹے اور کھردرے کپڑے کے ٹکڑوں پر مشتمل تھا کیونکہ اس کتاب میں مروی ہے کہ حالت احتضار میں حضرت سیدہؑ نے پانی کا ایک برتن طلب کیا اور اس پانی سے غسل کیا پھر انہوں نے خوشبو طلب کی اور اس سے حنوط کیا۔ (یعنی اسلام کے حکم کے مطابق آپ نے سات اعضائے سجدہ پر خوشبو لگائی) آپ نے لباس طلب کیا تو آپ کی خدمت میں موٹا اور کھردرا لباس پیش کیا گیا۔ آپ نے وہ لباس زیب تن فرمایا ۔۔۔تا آخر روایت

🔹 نماز جنازہ اور تدفین
کتاب روضۃ الواعظین میں منقول ہے:
رات ہوئی اور لوگ سوگئے۔ رات کا ایک حصہ گزرا تو حضرت علیؑ، حسنؑ، حسینؑ، عمارؒ، مقدادؒ، عقیلؒ، زبیرؒ، ابوذرؒ، سلمانؑ اور بریدہؒ کے علاوہ بنی ہاشم کے چند خاص افراد بی بی کے جنازے کو گھر سے باہر لائے، بیبی کی نمازجنازہ پڑھی، رات کے وقت بیبی کو سپرد خاک کیا گیا۔ حضرت علیؑ نے بیبی کی قبر کے ارد گرد دوسری سات قبریں بنائیں تاکہ حضرت سیدہؑ کی قبر پہچانی نہ جا سکے۔

مصباح الانوار میں مذکور ہے کہ ایک شخص نے امام جعفر صادقؑ سے پوچھا: امیرالمومنینؑ نے حضرت سیدہؑ کے جنازے میں کتنی تکبیریں کہی تھیں؟
آپ نے فرمایا: امیرالمومنینؑ جب ایک تکبیر کہتے تھے تو آپ کے بعد جبرئیلؑ ایک تکبیر کہتے تھے، پھر ملائکہ مقربین تکبیر کہتے تھے۔ یہانتک کہ آپ نے پانچ تکبیریں مکمل کیں۔
ایک اور شخص نے پوچھا: حضرت سیدہؑ کی نماز جنازہ کس جگہ پڑھی گئی؟
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: سیدہؑ کی جنازہ ان کے گھر میں ادا کی گئی، اس کے بعد جنازہ کو باہر لایا گیا اور تدفین کی گئی۔

📚 کتاب ”بیت الاحزان” سے اقتباس (مصنف: محدث اکبر شیخ محمد عباس قمی)

https://t.me/islamwitheman/301
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 شہادت بیبی زهراءؑ بزبان رسول اکرمؐ 🔶

شہادت فاطمة الزهرا (سلام الله علیھا) پر رسول اکرم (ص) کی پیشنگوئی اور قاتلوں پر لعنت کرنا۔۔از کتبِ  اہلسنت....

✍ حضرت علامہ شیخ محمد بن ابراہیم الجوینی شافعی، علماء اہل سنت میں سے ایک بزرگ عالم کہ جن کا شمار انکی چوٹی کے علماء میں ہوتا ہے اور وہ علامہ ذہبی کے استاد بھی ہیں وہ اپنی کتاب "فرائد السمطین" میں ذکر کرتے ہیں:
ایک دن پیامبر صلي الله عليه وآله وسلم تشریف فرما تھے کہ آپ (ص) پر حسن ابن علی (علیھما السلام) وارد ہوئے جب آپ (ص) کی نگاہ حسن پر پڑی تو آپ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں پھر حسین ابن علی (علیھما السلام) آپ پر وارد ہوئے دوبارہ آپ نے گریہ فرمایا،
ان کے بعد جناب فاطمہ اور علی (علیھما السلام) آپ پر وارد ہوئے انکو دیکھنے کے بعد آپ کی آنکھوں میں اشک جاری ہوئے جب پیامبر سے جناب فاطمہ پر رونے کی علت پوچھی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا:
"وأَنِّي لَمَّا رَأَيْتُهَا ذَكَرْتُ مَا يُصْنَعُ بِهَا بَعْدِي كَأَنِّي بِهَا وَ قَدْ دَخَلَ الذُّلُّ في بَيْتَهَا وَ انْتُهِكَتْ حُرْمَتُهَا وَ غُصِبَتْ حَقَّهَا وَ مُنِعَتْ‏ إِرْثَهَا وَ كُسِرَ جَنْبُهَا [وَ كُسِرَتْ جَنْبَتُهَا] وَ أَسْقَطَتْ جَنِينَهَا وَ هِيَ تُنَادِي يَا مُحَمَّدَاهْ فَلَا تُجَابُ وَ تَسْتَغِيثُ فَلَا تُغَاثُ ... فَتَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَلْحَقُنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَتَقْدَمُ عَلَيَّ مَحْزُونَةً مَكْرُوبَةً مَغْمُومَةً مَغْصُوبَةً مَقْتُولَة .
فَأَقُولُ عِنْدَ ذَلِكَ اللَّهُمَّ الْعَنْ مَنْ ظَلَمَهَا وَ عَاقِبْ مَنْ غَصَبَهَا وَ ذَلِّلْ مَنْ أَذَلَّهَا وَ خَلِّدْ فِي نَارِكَ مَنْ ضَرَبَ جَنْبَهَا حَتَّى أَلْقَتْ وَلَدَهَا فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ ذَلِكَ آمِين‏."
ترجمہ:
جب میری نظر فاطمہ پر پڑی تو مجھے وہ منظر یاد آگیا جو میرے بعد پیش آنے والا ہے!!!
گویا میں دیکھ رہا ہوں! حقارت اسکے گھر میں داخل ہو چکی ہے! اسکی حرمت کو پامال کیا گیا ہے! اسکے حق کو غصب کیا گیا ہے! اور وہ اپنے ارث سے محروم ہو چکی ہے. اسکا پہلو ٹوٹ چکا ہے! وہ رحم میں موجود اپنے فرزند کو سقط کر چکی ہے! درحانکہ وہ بار بار فریاد کر رہی ہے واہ محمداہ! لیکن کوئی اسکو جواب نہیں دیتا! وہ امت سے مدد چاہ رہی ہے لیکن کوئی اسکی فریاد رسی نہیں کر رہا
وہ میرے اہل بیت میں پہلی فرد ہوگی جو مجھ سے ملحق ہوگی وہ مجھ پر اس حال میں وارد ہوگی کہ غمگین محزون اور شھیدہ ہے.
میں (محمد) اس مقام پر کہوں گا...
خدایا لعنت کر اس پر جس نے فاطمہ پر ظلم کیا! کیفر کردار تک پہنچا اسکو جس نے اسکے حق کو غصب کیا! رسوا کر اسکو جس نےفاطمہ کو رسوا کیا! اور تاابد اسے جہنم میں رکھ جس نے فاطمہ کے پہلو کو زخمی کیا جس کی وجہ سے اسکا فرزند سقط ہو گیا اور ملائکہ کہیں گے.. آمین.
(فرائد السمطين - ج2 ، ص 34 و 35)

ذہبی اپنے استاد امام الحرمین جوینی کے شرح حال میں لکھتا ہے:
"وسمعت من الامام المحدث الاوحد الاكمل فخر الاسلام صدر الدين ابراهيم بن محمد بن المؤيد بن حمويه الخراساني الجوينى ... وكان شديد الاعتناء بالرواية وتحصيل الاجزاء حسن القراءة مليح الشكل مهيبا دينا صالحا...رحمه الله تعالى."
نقل روایت میں امام محدث کامل اور یگانہ فخر اسلام صدر دين ابراهيم بن محمد بن المويد بن حمويه الخراساني الجويني سے میں نے سنا (درس لیا).... وہ روایات اور کتب حدیثی کو اخذ کرنے کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے! خوش صدا اور اچھی صورت کے مالک ہونے کے ساتھ ایک صالح انسان بھی تھے خدا ان پر رحمت کرے.
(تذکرة الحفاظ - ج 4)

صدیقہ طاہرہ حضرت زہرا (سلام اللہ علیھا) کی شھادت کے اثبات میں ایک یہی روایت اہل سنت و وہابیت کے جواب میں کافی ہے جو بیبی دو جہاں کی شھادت کو افسانہ سمجھتے ہیں.

بشکریہ تحریر: علامہ ڈاکٹر ابو معصوم علی مخدوم

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔

🔶 شہادت سیدہ زھراءؑ، تجہیز و تدفین
https://t.me/islamwitheman/301

🔶 شہادت بیبی زهراءؑ بزبان رسول اکرمؐ
https://t.me/islamwitheman/305

🔶 بوقت دفن بیبی زھراء
https://t.me/islamwitheman/306

🔶 دختر رسول (ص)
https://t.me/islamwitheman/312

🔶 وصیت حضرت فاطمةالزھراء
https://t.me/islamwitheman/313

🌹 بیبی زھراء کے ہار کی برکتیں
https://t.me/islamwitheman/314

🌹 زیارت جناب سیدہ زھراء
https://t.me/islamwitheman/318

🔶 حضرت فاطمةالزھراء کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/319
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 بوقت دفن بیبی زهراؑء 🔶

کہا جاتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے یہ کلمات سیدةالنساء فاطمہ زہراؑ کے دفن کے موقع پر پیغمبراسلامؐ سے راز دارانہ گفتگو کے اندازسے کہے گئے ہیں.

"سلام ہو آپ پر اے خدا کے رسولؑ! میری طرف سے اور آپ کی اس دختر کی طرف سے جوآپ کے جوار میں نازل ہو رہی ہے اوربہت جلدی آپ سے ملحق ہو رہی ہے.

یا رسول اللہ(ص)!
میری قوت صبر آپ کی منتخب روز گار دختر کے بارے میں ختم ہوئی جا رہی ہے اور میری ہمت ساتھ چھوڑے دے رہی ہے صرف سہارا یہ ہے کہ میں نے آپ کے فراق کے عظیم صدمہ اور جانکاہ حادثہ پر صبر کر لیا ہے تو اب بھی صبر کروں گا کہ میں نے ہی آپ کو قبر میں اتارا تھا اور میرے ہی سینہ پر سر رکھ کر آپ نے انتقال فرمایا تھا بہرحال میں اللہ ہی کے لئے ہوں اور مجھے بھی اس کی بارگاہ میں واپس جانا ہے.

آج امانت واپس چلی گئی اور جو چیز میری تحویل میں تھی وہ مجھ سے چھڑا لی گئی. اب میرا رنج و غم دائمی ہے اورمیری راتیں نذر بیداری ہیں، جب تک مجھے بھی پروردگار اس گھر تک نہ پہنچا دے جہاں آپ کا قیام ہے.
عنقریب آپ کی دختر نیک اختر ان حالات کی اطلاع دے گی کہ کس طرح آپ کی امت نے اس پر ظلم ڈھانے کے لئے اتفاق کرلیا تھا. آپ اس سے مفصل سوال فرمائیں اور جملہ حالات دریافت کریں.
افسوس کہ یہ سب اس وقت ہوا ہے جب آپ کا زمانہ گزرے دیر نہیں ہوئی ہے اور ابھی آپ کا تذکرہ باقی ہے.

میرا سلام ہو آپ دونوں پر. اس شخص کا سلام جو رخصت کرنے والا ہے اور دل تنگ و ملول نہیں ہے. میں اگر اس قبر سے واپس چلا جاؤں تو یہ کسی دل تنگی کا نتیجہ نہیں ہے اور اگر یہیں ٹھہر جاؤں تو یہ اس وعدہ کی ہے اعتبار ہی نہیں ہے جو پروردگار نے صبر کرنے والوں سے کیا ہے."

📚 حوالہ: نہج البلاغہ خطبہ نمبر202.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔

👈 دختر رسول فاطمةالزھراءؑ کے بارے میں پوسٹس۔۔۔

🔶 شہادت سیدہ زھراءؑ، تجہیز و تدفین
https://t.me/islamwitheman/301

🔶 شہادت بیبی زهراءؑ بزبان رسول اکرمؐ
https://t.me/islamwitheman/305

🔶 بوقت دفن بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/306

🔶 دختر رسول (ص)
https://t.me/islamwitheman/312

🔶 وصیت حضرت فاطمةالزھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/313

🌹 بیبی زھراءؑ کے ہار کی برکتیں
https://t.me/islamwitheman/314

🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318

🔶 حضرت فاطمةالزھراءؑ کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/319

🌺 ولادت باسعادت حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/431

🌹 فضیلت سیدہ فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/436

🌹 حضرت فاطمہؑ کا نام گرامی
https://t.me/islamwitheman/437

🌟 اُمُّ اَبِیھا
https://t.me/islamwitheman/446

🌷 فضائل حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/449

🌹 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ
http://t.me/islamwitheman/3676

🌷 نور کی نور سے شادی
http://t.me/islamwitheman/3677

🌹 خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ
http://t.me/islamwitheman/3678

💐 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز
http://t.me/islamwitheman/3679

⚪ سیدہ زھراءؑ کی رخصتی مبارک
http://t.me/islamwitheman/3760

💝 حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی
http://t.me/islamwitheman/3762

🌹 حضرت فاطمہ زھراءؑ 40 احادیث
https://t.me/islamwitheman/2252
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 دختر رسول (ص) 🔶

🔷 تاریخ شہادت:
سیدہ عالم نے اپنے والد بزرگوار، رسولِ خدا (ص) کی شہادت کے کم و بیش 75 یا 95 دن بعد تیسری جمادی الثانی، 11 ہجری قمری میں شہادت پائی.
ایک روایت کہ مطابق 13 جمادی‌الاول کو شہادت پائی.
شہادت کے وقت سیدہ سلام اللہ علیها کی حیات طیبہ 18 سال تھی اور آپ بہت سارے دکھ اور غم اپنے دل میں لے کر زخمی جسم کے ساتھ اس فانی دنیا سے رخصت ہوئیں.

🔷 تجہیز وتکفین:
حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا.

فاطمہ سلام اللہ علیہا معصوم تھیں اور معصوم کو معصوم کے علاوہ کوئی اور غسل نہیں دے سکتا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ فاطمہ (س) کو کس نے غسل دیا؟

صادق آل محمد (ع) نے سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی عصمت کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا:

"غسلها اميرالمؤمنين، لانها كانت صديقة، و لم يكن ليغسلها الا صديق"

جی! امیرالمومنین علی (ع) نے بنت رسول اعظم فاطمۃ الزہراء (س) کو غسل دیا، کیونکہ فاطمہ (س) معصوم تھیں اور معصوم کو معصوم کے علاوہ کوئی اور غسل نہیں دے سکتا۔

جیسے ہی سائل نے تعجب کیا تو امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے بارے میں بھی اسی طرح ہے کہ اس کو حضرت عیسی علیہ السلام کے علاوہ کسی اور نے غسل نہیں دیا ہے۔ [بحارالانوار، ج43، ص184؛ عوالم، ج11، ص260]

فاطمہ زهراء سلام الله عليها کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا.

🔷 نماز جنازہ و تدفین:
حضرت علی علیہ السلام نے صرف بنی ہاشم اور سلیمان فارسی(رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ  پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا.

🌼 آپ کے دفن کی اطلاع بھی عام طور پر سب لوگوں کو نہیں ہوئی، جس کی بنا پر یہ اختلاف رہ گیا کہ آپ جنت البقیع میں دفن ہیں یا اپنے ہی مکان میں جو بعد میں مسجد رسول کا جزو بن گیا.

🌼 جنت البقیع میں جو آپ کا روضہ تھا وہ بھی باقی نہیں رہا. اس مبارک روضہ کو 8 شوال سن 1344ھجری قمری میں ابن سعود  نے دوسرے مقابر اہلیبیت علیہم السّلام کے ساتھ منہدم کرا دیا.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 دختر رسول فاطمةالزھراءؑ کے بارے میں پوسٹس۔۔۔

🔶 شہادت سیدہ زھراءؑ، تجہیز و تدفین
https://t.me/islamwitheman/301

🔶 شہادت بیبی زهراءؑ بزبان رسول اکرمؐ
https://t.me/islamwitheman/305

🔶 بوقت دفن بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/306

🔶 دختر رسول (ص)
https://t.me/islamwitheman/312

🔶 وصیت حضرت فاطمةالزھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/313

🌹 بیبی زھراءؑ کے ہار کی برکتیں
https://t.me/islamwitheman/314

🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318

🔶 حضرت فاطمةالزھراءؑ کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/319

🌺 ولادت باسعادت حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/431

🌹 فضیلت سیدہ فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/436

🌹 حضرت فاطمہؑ کا نام گرامی
https://t.me/islamwitheman/437

🌟 اُمُّ اَبِیھا
https://t.me/islamwitheman/446

🌷 فضائل حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/449

🌹 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ
http://t.me/islamwitheman/3676

🌷 نور کی نور سے شادی
http://t.me/islamwitheman/3677

🌹 خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ
http://t.me/islamwitheman/3678

💐 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز
http://t.me/islamwitheman/3679

⚪ سیدہ زھراءؑ کی رخصتی مبارک
http://t.me/islamwitheman/3760

💝 حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی
http://t.me/islamwitheman/3762

🌹 حضرت فاطمہ زھراءؑ 40 احادیث
https://t.me/islamwitheman/2252
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 وصیت حضرت فاطمةالزهراءؑ 🔶

وقت آخر میری بیبی نے جب محسوس کیا کہ اب وقت آخر آن پہنچا ہے تو آپ نے اپنے شوہر علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے فرمایا:
یاعلیؑ! مجھے لگتا ہے میرا وقت آخر آن پہنچا ہے لہذا میں چند وصیتیں کرنا چاہتی ہوں...
آپ نے فرمایا یا زہراؑ: سر مبارک کو میرے دامن میں رکھیں جناب سیدہ نے سرمبارک کو حضرت علی علیہ السلام کے دامن میں رکھا... حضرت علی علیہ السلام بیبی کے زرد چہرے کو دیکھ کر شدت غم نہ چھپا سکے اور رونے لگے، مولا کو روتے دیکھ کر بیبی بھی رونے لگیں....
جب دونوں میں رونے کی شدت کچھ کم ہوئی تو مولا علی علیہ السلام نے فرمایا، آپ وصیت کیجئے... بیبی زہراؑ نے وصیتیں شروع کیں:

1) یا ابن عم مرد عورت کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا، لہٰذا آپ میرے مرنے کے بعد امامہ سے ازدواج کیجئے چونکہ امامہ باقی عورتوں کی بہ نسبت میرے بچوں پر زیادہ مہربان ہے...

2) میرے بچوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیے گا، کبھی ان کو سخت لہجہ سے نہ پکاریئے گا...

3) میرے جنازہ کو رکھنے کے لئے ایک تابوت مہیا کیجئے گا...

4) مجھے رات کو غسل اور تجہیز وتکفین کرکے دفن کیجئے گا اور ان افراد (جنہوں نے اذیتیں دیں) کو میری تجہیز وتدفین میں آنے کی اجازت نہ دیجئے گا....

5) رسول اکرم (ص) کی بیویوں میں سے ہر ایک کو میری طرف سے مدد کیجئے گا...

🔶 جناب آیت اللہ امینی کے مطابق آپ کی وصیت جنکو مولائے کائنات علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں سے تحریر کیا کچھ اس طرح ہے:

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
''یہ وصیت نامہ فاطمہ پیغمبر اکرم (ص) کی دختر کا ہے،
میں خدا کی وحدانیت کی گواہی دیتی ہوں اور گواہی دیتی ہوں کہ محمد (ص) خدا کے رسول ہیں،
بہشت اور دوزخ برحق ہے،
قیامت کے واقع ہونے میں شک نہیں ہے، خدا مردوں کو زندہ فرمائے گا.
یاعلیؑ خدا نے مجھے آپ کا ہمسر قرار دیا ہے تاکہ دنیا اور آخرت میں اکٹھے رہیں، میرا اختیار آپ کے ہاتوں میں ہے،
اے علیؑ مجھے رات کو غسل وکفن دیجئے گا اور حنوط کرکے کسی کو خبر دیئے بغیر دفن کر دیجئے گا.
اب میں آپ سے وداع کرتی ہوں میرا سلام میری تمام اولاد کو پہنچا دیجئے گا."

📚 حوالہ:
بحارالانوار جلد 43 نقل از کتاب فاطمہ زہرا مثالی خاتون.

الا لعنت الله علی القوم الظالمین ...

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔

🔶 شہادت سیدہ زھراءؑ، تجہیز و تدفین
https://t.me/islamwitheman/301

🔶 شہادت بیبی زهراءؑ بزبان رسول اکرمؐ
https://t.me/islamwitheman/305

🔶 بوقت دفن بیبی زهراءؑ
https://t.me/islamwitheman/306

🔶 دختر رسول (ص)
https://t.me/islamwitheman/312

🔶 وصیت حضرت فاطمةالزهراءؑ
https://t.me/islamwitheman/313

🌹 بیبی زهراءؑ کے ہار کی برکتیں
https://t.me/islamwitheman/314

🌹 زیارت جناب سیدہ زهراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318

🔶 حضرت فاطمةالزهراءؑ کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/319
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 بیبی زهراءؑ کے ہار کی برکتیں 🌹

جابر بن عبد اللہ انصاری کا بیان ہے کہ ایک دن نماز عصر کے بعد رسولِخداؐ اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک بوڑھا، بوسیدہ کپڑا پہنے ہوئے کمزوری کی حالت میں وارد ہوا، اس کے آثار سے لگ رہا تھا کہ وہ بھوک کی حالت میں کافی طولانی راستہ طے کرکے آیا ہے.
اس نے عرض کیا: میں ایک پریشان حال انسان ہوں آپ مجھے بھوک، عریانی اور مشکلات سے نجات دلائیے.

رسولِخداؐ نے فرمایا: فی الحال میرے پاس کچھ نہیں ہے لیکن میں تجھے ایک ایسے شخص کی رہنمائی کرتا ہوں جو تیری حاجتوں کو پورا کردے گا اور نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا اس شخص
کے مانند ہے کہ جس نے خود اس کام کو انجام دیا ہو.
اس کے بعد آنحضرت نے جناب بلال کو حکم دیا کہ اس بوڑھے کو درِ فاطمہ پر لے جائیں. جب وہ بوڑھا حضرت علی (ع) کے بیت الشرف پر پہنچا تو اس نے اس طرح سلام کیا:
"السلام علیکم یا اھل بیت النبوة"
اے خاندان نبوت آپ پر سلام ہو.
علی (ع) نے سلام کا جواب دیا اور دریافت فرمایا:
تم کون ہو؟
اس نے کہا: میں ایک مرد عرب ہوں، رسولِخداؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور ان سے مدد کا تقاضا کیا تھا. انہوں نے مجھے آپ کے دروازہ پر بھیج دیا.

وہ تیسرا دن تھا جسے آل علی علیہم السلام بھوک کی حالت میں گذار رہے تھے اور رسول خدا بھی اس سے آگاہ تھے، بنت رسول نے جب کوئی چیز نہ پائی تو آپ نے گوسفند کی کھال جس پر حسن وحسین علیھما السلام سوتے تھے اس مرد عرب کو دے دیا اور فرمایا:
خداوندعالم تمہیں آسودگی عنایت فرمائے.

بوڑھے نے کہا: اے بنت رسول! میں بھوک سے بےحال ہوں اور آپ مجھے گوسفند کی کھال عطا کر رہی ہیں.
جیسے ہی جناب فاطمہ نے یہ سنا اپنا ہار جسے عبد المطلب (ع) کی صاحبزادی نے آپ کو ہدیہ کیا تھا، اس مرد عرب کو دے دیا. وہ بوڑھا ہار لے کر مسجد میں آتا ہے. اس نے دیکھا کہ رسولِخداؐ، اصحاب کے درمیان تشریف فرما ہیں اس نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! آپ کی بیٹی نے مجھے یہ ہار عطا کیا ہے اور فرمایا ہے کہ میں اسے بیچ دوں ممکن ہے خداوندعالم میرے کاموں میں وسعت عطا فرمائے.

آنحضرت رونے لگے اور فرمایا:
کیونکر خدا وسعت اور راحت نہ دے جبکہ اولین وآخرین کی عورتوں میں سب سے بہتر خاتون نے تجھے اپنا ہار عطا کیا ہے!

عما ر یاسر (رض) نے عرض کیا:
کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں اس ہار کو خرید لوں؟

آنحضرت نے فرمایا: اس ہار کو خریدنے والے کو خداوندعالم جہنم سے دور رکھے گا.
جناب عمار یاسر(رض) نے مرد عرب سے کہا کہ اس ہار کو کتنے میں بیچو گے.
اس نے کہا:
اتنی قیمت میں بیچوں گا کہ کھانا کھا کر سیر ہوسکوں، پہننے کے لئے ایک یمانی رداء خرید سکوں اور کچھ دینار جسے میں واپسی پر خرچ کر سکوں.

جناب عمار(رض) نے کہا: میں اس ہار کو دوسو درہم میں خریدوں گا اور تجھے روٹی اور گوشت سے سیر کروں گا، اوڑھنے کے لئے یمانی رداء بھی دوں گا اور اپنے اونٹ سے تجھے تیرے گھر تک پہنچاؤں گا.
جناب عمار(رض) کے پاس جنگ خیبر کے مال غنیمت میں سے جو کچھ بچا تھا، بوڑھے کو اپنے گھر لے گئے اور جو وعدہ کیا تھا وفا کردیا.

مرد عرب دوبارہ آنحضرت(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا کہ کیا تو نے لباس لے لیا اور سیر ہوگیا؟
اس نے عرض کیا:
ہاں رسول اللہ اور میں بے نیاز بھی ہوگیا.
اس وقت آنحضرت نے جناب فاطمہ زہرا کے فضائل کا ایک مختصر ساحصہ بیان فرمایا.
آپ نے ارشاد فرمایا: میری بیٹی فاطمہ کو جب قبر میں رکھا جائے گا تو ان سے سوال کیا جائے گا:
تمہارا خداکون؟
وہ جواب دیں گی: "اللّٰہُ رَبِّیْ"
سوال ہوگا: تمہارے رسول کون؟
جواب دیں گی: "میرے والد"
دوبارہ سوال کریں گے: تمہارے امام اور ولی کون ہیں؟
تو آپ جواب دیں گی: "ھذا القائم علی شفیر قبری" میرا امام وہ ہے جو میری قبر کے کنارے کھڑا ہوا ہے. (یعنی حضرت علی علیہ السلام)

جناب عمار(رض) نے ہار کو سونگھا اور ایک چادر یمانی میں رکھ کر "سہم" نامی غلام کو دیا اور کہا کہ اسے رسولِخداؐ کی خدمت میں لے جاؤ اور میں نے تم کو بھی رسولِخداؐ کو بخشا.

آنحضرت(ص) نے اسے جناب فاطمہ زہراء (س) کے پاس بھیج دیا. بنت رسول نے ہار کو لیا اور غلام کو آزاد کردیا.

🌹 یہ ماجرا دیکھ کر غلام ہنسا. جناب فاطمہ (س) نے اس کی ہنسی کا سبب دریافت فرمایا تو اس غلام نے کہا:
میں اس ہار کی برکتوں پر ہنس رہا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے کو سیر کردیا، ایک فقیر کو بے نیاز بنادیا، ایک برہنہ کو لباس عطا کیا، ایک غلام کو آزاد کرایا اور دوبارہ اپنے اصل مالک کے پاس واپس آگیا.

📚حوالہ: کتاب: بشارةالمصطفیٰ، عماد الدین طبری.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 زیارت جنابِ سیدہ زهراءؑ 🌹

🌱السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ نَبِيِّ اللَّه، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ حَبِيبِ اللَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ خَلِيلِ اللَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ صَفِيِّ اللَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ أَمِينِ اللَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ خَيْرِ خَلْقِ اللَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ أَفْضَلِ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَمَلائِكَتِهِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَابِنْتَ خَيْرِالْبَرِيَّةِ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَاسَيِّدَةَ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَازَوْجَةَ وَلِيِّ اللَّهِ وَخَيْرِ الْخَلْقِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ.

🌱السَّلامُ عَلَيْكِ يَا أُمَّ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ سَيِّدَيْ شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَاالصِّدِّيقَةُ الشَّهِيدَةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الرَّضِيَّةُ الْمَرْضِيَّةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْفَاضِلَةُ الزَّكِيَّةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْحَوْرَاءُ الْإِنْسِيَّةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا التَّقِيَّةُ النَّقِيَّةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْمُحَدَّثَةُ الْعَلِيمَةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْمَظْلُومَةُ الْمَغْصُوبَةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْمُضْطَهَدَةُ الْمَقْهُورَةُ، السَّلامُ عَلَيْكِ يَافَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى رُوحِكِ وَ بَدَنِكِ، أَشْهَدُ أَنَّكِ مَضَيْتِ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكِ.

🌱وَأَنَّ مَنْ سَرَّكِ فَقَدْ سَرَّ رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ جَفَاكِ فَقَدْ جَفَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ آذَاكِ فَقَدْ آذَى رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ وَصَلَكِ فَقَدْ وَصَلَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ قَطَعَكِ فَقَدْ قَطَعَ رَسُولَ اللَّهِ لِأَنَّكِ بَضْعَةٌ مِنْهُ وَ رُوحُهُ الَّذِي بَيْنَ جَنْبَيْهِ كَمَا قَالَ أُشْهِدُ اللَّهَ وَرُسُلَهُ وَ مَلائِكَتَهُ أَنِّي رَاضٍ عَمَّنْ رَضِيتِ عَنْهُ سَاخِطٌ عَلَى مَنْ سَخِطْتِ عَلَيْهِ مُتَبَرِّئٌ مِمَّنْ تَبَرَّأْتِ مِنْهُ مُوَالٍ لِمَنْ وَالَيْتِ مُعَادٍ لِمَنْ عَادَيْتِ مُبْغِضٌ لِمَنْ أَبْغَضْتِ مُحِبٌّ لِمَنْ أَحْبَبْتِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيداً وَحَسِيباً وَ جَازِياً وَ مُثِيباً.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 دختر رسول فاطمةالزھراءؑ کے بارے میں پوسٹس۔۔۔

🔶 شہادت سیدہ زھراءؑ، تجہیز و تدفین
https://t.me/islamwitheman/301

🔶 شہادت بیبی زهراءؑ بزبان رسول اکرمؐ
https://t.me/islamwitheman/305

🔶 بوقت دفن بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/306

🔶 دختر رسول (ص)
https://t.me/islamwitheman/312

🔶 وصیت حضرت فاطمةالزھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/313

🌹 بیبی زھراءؑ کے ہار کی برکتیں
https://t.me/islamwitheman/314

🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318

🔶 حضرت فاطمةالزھراءؑ کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/319

🌺 ولادت باسعادت حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/431

🌹 فضیلت سیدہ فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/436

🌹 حضرت فاطمہؑ کا نام گرامی
https://t.me/islamwitheman/437

🌟 اُمُّ اَبِیھا
https://t.me/islamwitheman/446

🌷 فضائل حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/449

🌹 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ
http://t.me/islamwitheman/3676

🌷 نور کی نور سے شادی
http://t.me/islamwitheman/3677

🌹 خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ
http://t.me/islamwitheman/3678

💐 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز
http://t.me/islamwitheman/3679

⚪ سیدہ زھراءؑ کی رخصتی مبارک
http://t.me/islamwitheman/3760

💝 حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی
http://t.me/islamwitheman/3762

🌹 حضرت فاطمہ زھراءؑ 40 احادیث
https://t.me/islamwitheman/2252
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 ﺣﻀﺮﺕ فاطمةالزهراءؑ کی شہادت 🔶

اہلسنت کے علماء نے اپنی کُتب میں لکھا ہے کہ حضور اکرمؐ کی وفات کے بعد کچھ لوگوں نے بشمول حضرت علیؑ کے بیعت نہیں کی. حضرت علیؑ گوشہ نشین ہو گئے اس پر حضرت عمر آگ اور لکڑیاں لے آئے اور کہا کہ گھر سے نکلو ورنہ ہم آگ لگا دیں گے. حضرت فاطمہؑ نے کہا کہ اس گھر میں حضور اکرمؐ کے نواسے حسنینؑ موجود ہیں. انہوں نے کہا کہ ہونے دیں.(1)

حضرت علیؑ کے باہر نہ آنے پر گھر کو آگ لگا دی گئی. حضرت فاطمہؑ دوڑ کر دروازہ کے قریب آئیں اور کہا کہ ابھی تو میرے باپ کا کفن میلا نہ ہوا. یہ تم کیا کر رہے ہو. اس پر ان پر دروازہ گرا دیا اسی ضرب سے حضرت فاطمہؑ شہید ہوئیں.(2)

کچھ روایات کے مطابق ان کے بطن میں محسن شہید ہوئے. ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ محسن کا ذکر کسی معتبر تاریخ میں نہیں اس لیے اس بات کو نہ ماننا چائیے. لیکن کچھ کتابوں میں یہ ذکر موجود ہے.(3)

لوگ جب گھر میں گھسے تو حضرت فاطمہؑ نے کہا کہ خدا کی قسم گھر سے نکل جاؤ ورنہ سر کے بال کھول دوں گی اور خدا کی بارگاہ میں سخت فریاد کروں گی.(4)

اس مکمل واقعہ کی روایت بشمول آگ لگانا اور دروازہ گرانے کے ابن قیتبہ ابوالفداء ابن عبدربہ وغیرہ نے بھی کی ہے.(5)

ویسے تو اہلسنت کے علماء نے اس حقیقت کا انکار کیا ہے اور جنہوں نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے اُنہوں نے اس کا دفاع کرنے کی بھی کوشش کی ہےجیسے علامہ شبلی نعمانی نے ان واقعات کی صحت کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ روایت کے مطابق اس واقعہ سے انکار کی کوئی وجہ نہیں اور حضرت عمر کی تندی اور تیز مزاجی سے یہ حرکت کچھ بعید نہیں. حقیقت یہ ہے کہ اس نازک وقت میں حضرت عمر نے تیزی اور سرگرمی کے ساتھ جو کاروائیاں کیں ان میں گو بعض بے اعتدالیاں پائی جاتی ہیں لیکن یاد رکھنا چائیے کہ انہی بے اعتدالیوں نے اٹھتے ہوئے فتنوں کو دبا دیا. بعض بنوہاشم کی سازشیں اگر قائم رہتیں تو اسی وقت جماعت اسلامی کا شیرازہ بکھر جاتا اور وہی خانہ جنگیاں برپا ہو جاتیں تو آگے جا کر حضرت علیؑ اور معاویہ بن ابی سفیان کے دور میں پیدا ہوئیں.(6)

بنواُمیہ کے ٹکڑوں پر پلنے والے شاہ عبدالعزیز نے لکھا ہے کہ یہ قصہ افترا ہے اور اس کی کچھ اصل نہیں اگر جلانے کی دھمکی دی گئی تھی تو اس کا مقصد صرف ڈرانا تھا کیونکہ ایسے لوگ اس گھر میں پناہ لیے ہوئے تھے جو حضرت ابوبکر کی خلافت لوٹ پوٹ کرنے کے واسطے صلاح و مشورہ کرتے تھے. یہ فعل حضرت عمر سے مطابق فعل معصوم وقوع میں آیا (کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی ترک نماز کرنے والوں کے گھر کو آگ سے پھونکنے کی دھمکی دی تھی) اس لیے طعن کیوں ہو.(7)

حضرت فاطمہؑ کے جنازے میں حضرت علیؑ، حضرت حسنؑ و حسینؑ، حضرت عقیل ابن ابیطالب،ؑ حضرت سلمان فارسی، حضرت ابوذر غفاری، حضرت مقداد ابن اسود، حضرت عمار ابن یاسر اور حضرت بریدہ شریک تھے.(8)

دیگر روایات میں حضرت حذیفہ یمانی، حضرت عباس، حضرت فضل، حضرت عبد اللہ ابن مسعود کا ذکر ہے. حضرت عبد اللہ ابن زبیر کا ذکر بھی آتا ہے.(9)

صحیح بخاری میں درج ہے کہ حضرت فاطمہؑ نے وصیت کی تھی کہ ابوبکر و عمر ان کے جنازے میں شریک نہ ہوں.(10)

کچھ اور جگہ آتا ہے کہ حضرت فاطمہؑ نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی جنازے میں نہ آئے جن سے میں ناراض ہوں.(11)

اکثر اور مشہور روایات کے مطابق جنةالبقیع میں دفن کیا گیا. چالیس دیگر قبریں بھی بنائی گئیں تاکہ اصل قبر کا پتہ نہ چل سکے.(12)

اللهم العن قاتلي فاطمةالزهراء.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات:
(1)منتخب کنزالعمال از حاشیہ مسند احمد بن حنبل، جلد2، ص:174، مطبوعہ مصر.
الاستیعاب از ابن عبدالبر، ص:345 در ذکر ابوبکر بن ابی قحافہ.
(2)مدارج النبوۃ، رکن4، باب:3، ص:42 از عبدالحق دہلوی.
(3)روائح المصطفیٰ از مولوی صدرالدین حنفی، ص:28.
(4)تاریخ یعقوبی، جلد2، ص:116.
(5)الامامة والسياسة از ابومحمدعبداللہ بن مسلم قیتبہ، متوفی276ھ، جلد1، ص:12.
تاریخ بلاذری در تذکرۂ بیعت حضرت ابوبکر.
عقدالفرید از امام شہاب الدین احمد معروف بہ ابن عبدربہ اندلسی، جلد2، ص:176، مطبوعہ مصر.
تاریخ ابوالفداء از امام اہل سنت عماد الدین اسماعیل بن علی ابوالفداء، اردو ترجمہ از مولوی کریم الدین حنفی، ص:177۔179.
(6)الفاروق از شبلی نعمانی، حصہ اول ص:113.
(7)تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز مطبوعہ نولکشور.
(8)مناقب شہر آشوب از حافظ محمد ابن علی شہر آشوب.
(9)تاریخ طبری از جریر الطبری.
(10)صحیح البخاری، جلد2، کتاب المغازی.
(11)طبقات ابن سعد الجز الثامن.
(12)دلائل الامامۃ از جریر الطبری.

https://t.me/islamwitheman/318
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 پردہ پوشی 🌺

بنی اسرائیل کے زمانے میں ایک مرتبہ قحط پڑ گیا، مدتوں سے بارش نہیں ہو رہی تھی۔ لوگ حضرت موسیٰؑ کے پاس گئے اور عرض کیا:
یاکلیم اللہ! رب تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ بارش نازل فرمائے۔۔۔
چنانچہ حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو ہمراہ لیا اور بستی سے باہر دعا کے لیے آ گئے۔ یہ لوگ ستر ہزار یا اس سے کچھ زائد تھے۔ موسیٰؑ نے بڑی عاجزی سے دعا کرنا شروع کی....
"میرے پروردگار! ہمیں بارش سے نواز، ہمارے اوپر رحمتوں کی نوازش کر۔۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے، بے زبان جانور اور بیمار سبھی تیری رحمت کے امیدوار ہیں، تو ان پر ترس کھاتے ہوئے ہمیں اپنے دامنِ رحمت میں جگہ دے."

دعائیں ہوتی رہیں مگر بادلوں کا دور دور تک پتہ نہ تھا، سورج کی تپش اور تیز ہو گئی۔

حضرت موسیٰؑ کو بڑا تعجب ہوا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کے قبول نہ ہونے کی وجہ پوچھی تو وحی نازل ہوئی:
"تمہارے درمیان ایک ایسا شخص ہے جو گزشتہ چالیس سالوں سے مسلسل میری نافرمانی کر رہا ہے اور گناہوں پر مصر ہے۔ اے موسیٰ! آپ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ وہ نکل جائے، کیونکہ اس آدمی کی وجہ سے بارش رُکی ہوئی ہے اور جب تک وہ باہر نہیں نکلتا بارش نہیں ہوگی."

حضرت موسیٰؑ نے عرض کیا:
باری تعالیٰ! میں کمزور سا بندہ، میری آواز بھی ضعیف ہے، یہ لوگ ستر ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہیں، میں ان تک اپنی آواز کیسے پہنچاؤں گا؟

جواب ملا:
"تیرا کام آواز دینا ہے، پہنچانا ہمارا کام ہے."
حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو آواز دی، اور کہا:
"اے رب کے گناہگار اور نافرمان بندے! جو گزشتہ چالیس سال سے اپنے رب کو ناراض کر رہا ہے اور اس کو دعوتِ مبارزت دے رہا ہے ۔۔۔ لوگوں میں سے باہر آجا، تیرے ہی کالے کرتوتوں کی پاداش میں ہم بارانِ رحمت سے محروم ہیں."

اس گناہگار بندے نے اپنے دائیں بائیں دیکھا، کوئی بھی اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ وہ سمجھ گیا کہ وہی مطلوب ہے۔ سوچا کہ اگر میں تمام لوگوں کے سامنے باہر نکلا تو بےحد شرمندگی ہوگی اور میری جگ ہنسائی ہوگی۔ اور اگر میں باہر نہ نکلا تو محض میری وجہ سے تمام لوگ بارش سے محروم رہیں گے۔
اب اس نے اپنا چہرہ اپنی چادر میں چھپالیا، اپنے گزشتہ افعال و اعمال پر شرمندہ ہوا اور یہ دعا کی:
"اے میرے رب! تو کتنا کریم ہے اور بردبار ہے کہ میں چالیس سال تک تیری نافرمانی کرتا رہا اور تو مجھے مہلت دیتا رہا۔ اور اب تو میں یہاں تیرا فرمانبردار بن کر آیا ہوں، میری توبہ قبول فرما اور مجھے معاف فرما کر آج ذلت و رسوائی سے بچالے."

ابھی اس کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ آسمان بادلوں سے بھر گیا اور موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔

اب حضرت موسیٰؑ نے دوبارہ عرض کیا:
یا الہٰی! آپ نے بارش کیسے برسانا شروع کردی، وہ نافرمان بندہ تو مجمع سے باہر نہیں آیا؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اے موسیٰ! جس کی بدولت میں نے بارش روک رکھی تھی اسی کی بدولت اب بارش برسا رہا ہوں، اس لیے کہ اس نے توبہ کر لی ہے.

موسیٰؑ نے عرض کیا:
یا اللہ! اس آدمی سے مجھے بھی ملا دے تاکہ میں اس کو دیکھ لوں؟
فرمایا:
"اے موسیٰ! میں نے اس کو اس وقت رسوا اور خوار نہیں کیا جب وہ میری نافرمانی کرتا رہا، اور اب جب کہ وہ میرا مطیع اور فرمانبردار بن چکا ہے تو اسے کیسے شرمندہ اور رسوا کروں؟"

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ: نام کتاب: سنہرے اوراق

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﻓَﺤَﺴِّﻦْ ﺧُﻠُﻘِﻲ 🔷

اچھا ﻭﮦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﻗﺪ والی لڑکی؟ اچھا وہ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻭﺍﻟﯽ؟ ﺟﻮ ﯾﻮﮞ ﭼﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ؟ (ﻧﻘﻞ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ)

ﮐﻮﻧﺴﺎ لڑکا؟
ﻭﮦ ﮔﻨﺠﺎ؟
وہ ﻣﻮﭨﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﻭﺍﻻ؟
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﺍﺗﻨﺎ "بدصورت" ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ؟

🌹 ﮨﻢ "ﺳﻮﺭﮦ ﺗﯿﻦ" ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﺎﺭ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ تعالیٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ..

ﻗﺴﻢ ﮨﮯ ﺍﻧﺠﯿﺮ
ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺘﻮﻥ ﮐﯽ
ﺍﻭﺭ ﻃﻮﺭِ ﺳﯿﻨﺎ ﮐﯽ
ﺍﻭﺭ ﺍﻣﻦ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ
ﺑﯿﺸﮏ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺳﺎﺧﺖ ﭘﺮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ.

● ﮐﺘﻨﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ.
ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻟﻤﺒﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﻨﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ، ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﮐﺎﻻ، ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻧﺎﮎ ﻣﻮﭨﯽ، ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺩﺍﻧﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﻮﭼﮫ ﭘﻮﭼﮫ ﮐﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﺎﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﺒﺼﺮﮮ، ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ...
ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺣﺴﯿﻦ ﭼﮩﺮہ ﺳﺒﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺣﺴﻦ ﺑﮭﯽ ﺭﺏ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ، ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﻣﮩﺮﮮ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺁﭖ ﺍﮌﺍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺲ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﮑﺐ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺭﺏ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭﺳﺮﯼ، ﺗﺴﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﺣﺴﻦ ﺗﻘﻮﯾﻢ (ﺑﮩﺘﺮﯾﻦﺳﺎﺧﺖ) ﭘﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺬﻕ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﯾﮧ ﯾﺎﺩ ﮨﯽ ﮐﺐ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ.!!

● ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺑﻞِ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﮐﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺟﻐﺮﺍﻓﯿﺎﺋﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻢ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﻮﭼﮯ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭼﺎﺋﻨﯿﺰ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﮯ ﻗﺪ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮎ ﮐﺎ، ﺍﻧﮑﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﭘﮭﯿﻨﯽ/ ﭼﭙﭩﯽ ﻧﺎﮎ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ریفر ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻓﺮﯾﻘﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﻨﮕﺮﯾﺎﻟﮯ ﺑﺎﻝ، ﭼﻮﮌﯼ ﺟﺴﺎﻣﺖ، ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﻧﮑﻮ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﻣﺼﻮﺭ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔

ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺃَﻧْﺖَ ﺣَﺴَّﻨْﺖَ ﺧَﻠْﻘِﻲ ﻓَﺤَﺴِّﻦْ ﺧُﻠُﻘِﻲ.
ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ! ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﻮ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ (ﺑﺎﮨﺮسے) ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ، ﮨﻤﺎﺭﺍ (ﺍﻧﺪﺭ) ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ۔

● ﺭﻭﺯﻭﯾﻠﭧ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻗﻮﻝ ﯾﺎﺩ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ:
"Great minds discuss ideas; average minds discuss events; small minds discuss people."

ﺍﺳﮑﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﯼ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﺲ ﮐﯿﭩﯿﮕﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ..

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ بُڑھیا اور ٹوٹا ہوا مٹکا ⭕

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻨﯽ بُڑھیا ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻭ ﻣﭩﮑﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﻟﮑﮍﯼ ﭘﺮ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﺮ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﻻﺗﯽ۔
ﺍﻥ ﺩﻭ ﻣﭩﮑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ، ﻣﮕﺮ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﭽﮫ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ تھا۔

ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﯾﮧ بُڑھیا ﻧﮩﺮ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺘﯽ ﺗﻮ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ مٹکے ﮐﺎ ﺁﺩﮬﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺑﮩﮧ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻣﭩﮑﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺘﺎ۔
ﺛﺎﺑﺖ ﻣﭩﮑﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺎﺭﮐﺮﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮨﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ، ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺧﺮ ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﺎ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﻮﻗﻊ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ھﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺩﻭ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺗﮏ ﻧﺎﮐﺎﻣﯽ ﮐﯽ ﺗﻠﺨﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮍﻭﺍﮨﭧ ﻟﺌﮯ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ مٹکے ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﻣﻌﺬﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﺗﻢ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺸﻘﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﻻﺗﯽ ﮨﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺳﺎﺭﺍ پانی ﺻﺮﻑ ﻣﯿﺮﮮ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﭘﮩﻨﭽﺘﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮔﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔۔!"

مٹکے ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ بُڑھیا ﮨﻨﺲ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ:
"ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ گزشتہ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﺴﻄﺮﻑ ﺳﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻻﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺍُﺩﮬﺮ ﺗﻮ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﻮﺩﮮ ﮨﯽ ﭘﻮﺩﮮ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﺒﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍُﮔﺎ ﮨﻮﺍ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮔﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﮩﺮ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﯿﺞ ﺑﻮ ﺩﯾﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺁﻧﮯ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺭﻭﺯآنہ ﺍﺱ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮨﻮﺗﮯ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻥ ﺩﻭ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﻥ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮔﻠﺪﺳﺘﮯ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺳﺠﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﮑﺎﯾﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﮩﺎﺭ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮨﯽ ﻧﮧ ﭘﺎﺗﯽ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻡ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ۔۔۔!"

لہٰذا دوستو! اگر کسی انسان کے اندر کسی قسم کی بھی کوئی معذوری یا کمی ہے تو بجائے اِس کے کہ وہ اُس کے غم میں نڈھال ہو جائے، اُسے چاہیے کہ وہ اُس کمی کے خلاء کو اپنی محنت اور کارکردگی سے پُر کرنے کی کوشش کرے، اور اپنا دل بالکل بھی چھوٹا نہ کرے۔ کیونکہ یہ دنیا دارالعمل ہے، چنانچہ جو یہاں بیجو گے، اگلے جہان میں وہی کاٹو گے، لیکن اُس کے لیے عمل کرنا بہت ضروری ہے۔۔!!

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Forwarded from ISLAM WITH EMAN
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🔷 ماں اور باپ 🔷

ابابیل اپنا گھونسلہ کنوئیں میں بناتی ھے.. اس کے پاس اپنے بچوں کو اڑنے کی عملی تربیت دینے کے لئے نہ تو کوئی اسپیس یا سہولت دستیاب ھوتی ھے اور نہ ھی وہ کچی تربیت کے ساتھ بچوں کو اڑنے کا کہہ سکتی ھے کیونکہ پہلی اڑان میں ناکامی کا مطلب پانی کی دردناک موت ھے.. مزید کسی ٹرائی کے امکانات زیرو ھیں...

آج تک اگر کسی نے ابابیل کے کسی مرے ھوئے بچے کو کنوئیں میں دیکھا ھے تو بتا دے... ابابیل بچوں کے حصے کی تربیت بھی اپنی ذات پر کرتی ھے... بچوں سے پہلے اگر وہ اپنے گھونسلے سے دن بھر میں 25 اڑانیں لیتی تھی تو بچے انڈوں سے نکلنے کے بعد 75 اڑانیں لیتی ھے... یوں ماں اور باپ 150 اڑانیں لیتے ھیں تا آنکہ اپنے بچوں کا دل و دماغ اس یقین سے بھر دیتے ھیں کہ یہاں سے اڑ کر سیدھا باھر جانا ھے اور بس.!! اور کوئی آپشن نہیں ھے..
ایک دن آتا ھے کہ بچہ ھاتھ سےنکلے ھوئے پتھر کی طرح گھونسلے سے نکلتا ھے اور سیدھا جا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ جاتا ھے.!!!

ھماری اولاد ھمارے یقین میں سے اپنا حصہ پاتی ھے.. اگر ھم خود یقین اور عمل سے تہی دست ھونگے تو اولاد کو کیا دیں گے..؟

بچوں کو کہانیاں نہ سنایئے بلکہ عمل کر کے دکھایئے...

یقین کریں وہ جتنا آپ پر اعتماد کرتے ھیں دنیا کے کسی کتابی ھیرو پہ نہیں کرتے...

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ ماں کی ناراضگی کا اثر ⭕

سعید بن یسار سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادقؑ سے سُنا کہ آپ نے فرمایا:
ایک جوان حالتِ احتضار میں تھا کہ پیغمبرِ اکرمؐ اس کے پاس حاضر ہوئے اور آپؐ نے اس سے فرمایا:
کہو ''لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ''

لیکن اس کی زبان میں رکاوٹ پیدا ہوگئی اور وہ یہ کلمات ادا نہ کرسکا۔ آپؐ نے ایک عورت سے جو اُس کے سرہانے کھڑی تھی فرمایا:
کیا تو اس جوان کی ماں ہے؟

عورت نے جواب دیا:
ہاں، میں اس کی ماں ہوں۔

آپؐ نے پوچھا:
کیا تو اپنے بیٹے سے ناراض ہے؟
اس نے عرض کیا:
ہاں یا رسول اﷲ! میں نے چھ سال اس سے کوئی بات نہیں کی ہے۔

آپؐ نے فرمایا:
اسے معاف کردو۔
عورت نے کہا:
خدا اس سے راضی ہوجائے، میں اور آپ بھی راضی ہو جائیں.

پیغمبرِ اکرمؐ نے جوان سے دوبارہ وہی (شہادتین کے) کلمات کہلوائے تو اس مرتبہ اس کی زبان پر جاری ہوگئے۔

پیغمبرِ اکرمؐ نے جوان سے سوال کیا:
تم کیا دیکھ رہے ہو؟
جواب دیا:
ایک سیاہ رنگ کا ڈراؤنی چہرہ دیکھ رہا ہوں جو میرے قریب ہے میری گردن کو پکڑ رکھا ہے اور اس سے سخت بدبو آرہی ہے۔
پیغمبر اکرم صلعم نے فرمایا:
کہو: «يا من يقبل اليسير و يعفو عن الکثير اقبل منّى اليسير واعف عنّى الکثير إنّک أنت الغفور الرّحيم»
اس نے یہ کلمات زبان پر جاری کیے.

پیغمبرِ اکرمؐ نے سوال کیا:
اب کیا دیکھ رہے ہو؟
جواب دیا:
ایک خوبصورت جوان اچھا لباس زیب تن کیے ہوئے میری طرف آرہا ہے اور اس سے اچھی خوشبو آرہی ہے اور وہ سیاہ چہرے والا مجھ سے دور ہو رہا ہے۔

پیغمبرِ اکرمؐ نے فرمایا:
وہی کلمات دوبارہ زبان پر جاری کرو۔
اس نے دوبارہ وہ کہے اور آپ نے اس سے پھر سوال کیا:
اب کیا دیکھ رہے ہو؟
وہ سیاہ چہرے والا غائب ہوگیا اور اب مجھے صرف نورانی چہرہ نظر آرہا ہے، اسی حالت میں اس کی روح پرواز ہوگئی۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات
1. من لایحضرہ الفقیہہ، ج1، ص132
2. امالی شیخ مفید، مجلس34، حدیث6، ص288.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌳 ﺑﺎﭖ کی پشت پناہی 🌳

ﺑﺎﭖ ﻋﺎﻟﯿﺸﺎﻥ ﻣﻨﺼﺐ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﯿﺸﺎﻥ ﺩﻓﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ، ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﺮﯼ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺩﻝ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﭽﻼ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﻓﺨﺮ ﺳﮯ ﻣﻐﻠﻮﺏ ﮨﻮ ﮐﺮ، ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺑﯿﭩﮯ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ، ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺟﮭﭧ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: ﻣﯿﮟ۔

ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﻟﮕﺎ، ﺗﺎئید ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺑﯿﭩﮯ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﯿﺴﯽ ﻣﺘﺎﻧﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ ﺩﮬﯿﻤﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: "ﻣﯿﮟ"

ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﻣﺘﻐﯿﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﺻﺪﻣﮯ ﺳﮯ ﺩﻝ ﺑُﺠﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﻟﮩﺮﺍ ﮔﺌﮯ۔ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺍُﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻗﺪﻡ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺌﮯ۔
ﺩﻓﺘﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﺭُﮐﺎ، ﻣُﮍ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺑﯿﭩﮯ، ﺍﺱ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺗﻮﻗﻒ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﺁﭖ"

ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎﺀ نہ ﺭﮨﯽ، ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﺳﻮﭺ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ، ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺳﮯ ﻗﺪﻡ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﮍ ﮐﺮ ﺍﻧﺪﺭ ﺁ ﮐﺮ ﺁﮨﺴﺘﮕﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ، ﯾﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﯿﺴﯽ؟
ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺟﺐ آﭖ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺩنیا ﮐﺎ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﺎ، ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺟﺐ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺍُﭨﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ آﭖ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔

■ ﺩﯾﮑﮭﯿﺌﮯ! ﺍﮔﺮ ﺑﺎﭖ ﺑﻘﯿﺪ ﺣﯿﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ، ﺻﺤﺖ ﻭ ﺗﻨﺪﺭﺳﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ، ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﻟﺘﻤﻨﺪﯼ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﻘﯿﺮﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ، ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻃﺎﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﺠﺎﺀ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﻦ ﻭ ﺍﻣﺎﻥ ﮐﺎ ﺿﺎﻣﻦ ﮨﮯ۔

● ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮ ﺍﻥ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺘﻮﮞ ﮐﻮ، ﺟﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ۔

🔘 ﻭﺍﻟﺪ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ، ﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﮨﮯ۔

Father is the great blessing of ALLAH.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ عمل کا ردِّعمل ⭕

بیگم نے آئینے میں لپ اسٹک ٹھیک کرتے ہوئے اپنی ساس سے کہا:

ماں جی:
آپ اپنا کھانا بنا لینا.. مجھے اور انہیں آج ایک پارٹی میں جانا ہے۔

بوڑھی ماں نے کہا:
بیٹی مجھے گیس والا چولہا جلانا نہیں آتا۔

تب بیٹے نے کہا:
ماں! پاس والے دربار میں آج لنگر ہے۔ تم وہاں چلی جاؤ نا کھانا بنانے کی کوئی نوبت ہی نہیں آئے گی۔

ماں چپ چاپ اپنی چپل پہن کر دربار کی طرف ہو چلی۔

یہ سارا واقعہ ان کا 10 سالہ بیٹا سن رہا تھا۔ پارٹی میں جاتے وقت راستے میں اس نے اپنے پاپا سے کہا:
پاپا! میں جب بہت بڑا آدمی بن جاؤں گا نا تب میں بھی اپنا گھر کسی دربار کے پاس ہی بناؤں گا۔
ماں نے اس کی وجہ پوچھی: کیوں بیٹا؟

تو اس نے جو جواب دیا اسے سن کر (اس کے ماں باپ) کا سر شرم سے نیچے جھک گیا جو اپنی ماں کو دربار میں چھوڑ آئے تھے.

اس بچے نے کہا: کیونکہ ماں جب مجھے بھی کسی دن ایسی ہی پارٹی میں جانا ہوا تو تم بھی تو کسی دربار میں لنگر کھانے جاؤ گی نا۔ اور میں نہیں چاہتا کہ تمہیں کہیں دور کسی دربار میں جانا پڑے۔

■ پتھر تب تک سلامت ہے جب تک وہ پہاڑ سے منسلک رہے۔ پتّا تب تک سلامت ہے جب تک وہ درخت سے منسلک ہے۔ اور انسان تب تک سلامت ہے جب تک وہ خاندان سے منسلک ہے۔ کیونکہ خاندان سے الگ ہو کر آزادی تو مل جاتی ہے لیکن آزادی کی خوشیاں نصیب نہیں ہوتیں۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 چِڑیا کی نصیحتیں 🔷

ایک شخص نے چِڑیا پکڑنے کے لئے جال بچھایا.. اتفاق سےایک چِڑیا اس میں پھنس گئی اور شکاری نے اسے پکڑ لیا..

چِڑیا نے اس سے کہا:
اے انسان! تم نے کئی ہرن، بکرے اور مرغ وغیرہ کھاۓ ہیں ان چیزوں کے مقابلے میں میری کیا حقیقت ہے.. ذرا سا گوشت میرے جسم میں ہے اس سے تُمہارا کیا بنے گا..؟ تُمہارا تو پیٹ بھی نہیں بھرے گا.. لیکن اگر تم مُجھے آزاد کردو تو میں تمہیں تین نصیحتیں کرونگی جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہت مفید ہوگا.. ان میں سے ایک نصیحت تو میں ابھی کروں گی.. جبکہ دوسری اس وقت جب تم مجھے چھوڑ دو گے اور میں دیوار پر جا بیٹھوں گی.. اس کے بعد تیسری اور آخری نصیحت اس وقت کروں گی جب دیوار سے اُڑ کر سامنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھونگی.

اُس شخص کے دل میں تجسس پیدا ہوا کہ نہ جانے چِڑیا کیا فائدہ مند نصیحتیں کرے.. اس نے چِڑیا کی بات مانتے ہوئے اس سے کہا:
تم مجھے پہلی نصیحت کرو، پھر میں تمہیں چھوڑ دونگا..
چنانچہ چِڑیا نے کہا:
🌹 میری پہلی نصیحت یہ ہے کہ..
"جو بات کبھی نہیں ہو سکتی اسکا یقین مت کرنا."
یہ سن کر اس آدمی نے چِڑیا کو چھوڑ دیا اور وہ سامنے دیوار پر جا بیٹھی.. پھر بولی:
🌹 میری دوسری نصیحت یہ ہے کہ..
"جو بات ہو جاۓ اسکا غم نہ کرنا."

اور پھر کہنے لگی:
اے بھلے مانس! تم نے مجھے چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی، کیونکہ میرے پیٹ میں پاؤ بھر کا انتہائی نایاب پتھر ہے، اگر تم مجھے ذبح کرتے اور میرے پیٹ سے اس موتی کو نکال لیتے تو اس کے فروخت کرنے سے تمہیں اس قدر دولت حاصل ہوتی کہ تمہاری آنے والی کئی نسلوں کے لئے کافی ہوتی.. اور تم بہت بڑے رئیس ہو جاتے..
اس شخص نے جو یہ بات سُنی تو افسوس کرنے لگا.. اور پچھتایا کہ چِڑیا کوچھوڑ کر اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی.. اگر اسے نہ چھوڑتا تو میری نسلیں سنور جاتیں.. چِڑیا نے اسے اس طرح سوچ میں پڑے دیکھا تو اُڑ کر درخت کی شاخ پر جا بیٹھی اور بولی:

اے بھلے مانس! ابھی میں نے تمہیں پہلی نصیحت کی جسے تم بھول گئے کہ "جو بات نہ ہوسکنے والی ہو اسکا ہرگز یقین نہ کرنا" لیکن تم نے میری اس بات کا اعتبار کر لیا کہ میں چھٹاک بھر وزن رکھنے والی چِڑیا اپنے پیٹ میں ایک پاؤ وزن کا موتی رکھتی ہوں.. کیا یہ ممکن ہے..؟
میں نے تمہیں دوسری نصیحت یہ کی تھی کہ "جو بات ہو جاۓ اسکا غم نہ کرنا" مگر تم نے دوسری نصیحت کا بھی کوئی اثر نہ لیا اور غم و افسوس میں مبتلا ہو گئے کہ خواہ مخواہ مجھے جانے دیا.. تمہیں کوئی بھی نصیحت کرنا بالکل بیکار ہے.
تم نے میری پہلی دو نصیحتوں پر کب عمل کیا جو تیسری پر کرو گے.. تم نصیحت کے قابل نہیں.
یہ کہتے ہوۓ چِڑیا پُھر سے اُڑی اور ہوا میں پرواز کر گئی..

وہ شخص وہیں کھڑا چِڑیا کی باتوں پر غور و فکر کرتے ہوۓ سوچوں میں کھو گیا..!!

■ وہ لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں جنہیں کوئی نصیحت کرنے والا ہو.. ہم اکثر خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہوۓ اپنے مخلص ساتھیوں اور بزرگوں کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرتے.. اور اس میں نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے.. یہ نصیحتیں صرف کہنے کی باتیں نہیں ہوتیں کہ کسی نے کہہ لیا، ہم نے سن لیا.. بلکہ دانائی اور دوسروں کے تجربات سے حاصل ہونے والے انمول اثاثے ہیں.. جو یقینناً ہمارے لئے مشعلِ راہ ثابت ہو سکتے ہیں اگر ہم ان نصیحتوں پر عمل بھی کریں..!!

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚حکایات رومی.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕