ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌹 حضرت امام علی علیہ السلام 🌹

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام علی علیہ السلام کو چھ سال کی عمر میں حضرت ابو طالب کے یہاں سے اپنے گھر لے آئے اور ان کی پرورش اپنے ذمہ لے لی۔ علی علیہ السلام اسی دن سے ایک سایہ کے مانند پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے اور آنحضرت سے آخری بار اس وقت جدا ہوئے جب آپ نے آنحضرت کے جسد مطہر کو سپرد خاک کیا۔

علی علیہ السلام پہلے کامل نمونہ ہیں جو پیغمبر اسلام صلعم کی تعلیم و تربیت کے مکتب میں پروان چڑھے۔
آپ پہلے شخص ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ ہی سب سے آخر میں حضرت سے جدا ہوئے۔

بعثت کے پورے زمانہ میں جو خدمات علی علیہ السلام نے خدا کے دین کے لئے انجام دیں دوست و دشمن گواہ ہیں کہ وہ خدمات کوئی اور انجام نہیں دے سکا ہے.

علی علیہ السلام نے اسلام کی سب سے اہم جنگوں میں شرکت فرمائی اور جنگ کے تمام خونین میدانوں میں مسلمانوں کے اندر بے مثال بہادری اور کامیابی کا راز آپ ہی تھے۔
چنانچہ بڑے بڑے صحابی جنگوں میں بارہا بھاگ جاتے تھے لیکن آپ نے کبھی دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائی اور کوئی حریف آپ کی تلوار کی وار سے بچ نہ سکا اس بے نظیر شجاعت جو ضرب المثل بن چکی تھی کے باوجود آپ ہمدرد اور مہربان تھے کبھی اپنے زخمی دشمن کو قتل نہیں کرتے تھے اور جنگ سے بھاگنے والوں کا پیچھا نہیں کرتے تھے.

امام علی علیہ السلام اپنی تقریروں، کلمات قصار اور اپنے گوہربار بیانات، جو یادگار کے طور پر مسلمانوں کے پاس موجود ہیں۔ کے اعتبار سے مسلمانوں میں قرآن مجید کے بلند مقاصد کے بارے میں معروف ترین شخص ہیں۔ آپ نے اسلام کے اعتقادی و علمی معارف کو کما حّقہ حاصل کر کے حدیث شریف:
''انا مدینة العلم وعلی بابہا''
کو ثابت کر دیا اور اس علم کو عملی جامہ پہنایا.

علی علیہ السلام کا دینداری، عفت نفس اور زھد و تقوی میں کوئی نظیر نہیں تھا۔ آپ اپنے معاش کے لئے روزانہ محنت و مشقت کرتے تھے، بالخصوص زراعت کو بہت پسند کرتے تھے۔ بنجر زمینوں کو آباد کرتے تھے، نہریں کھودتے تھے، درخت لگاتے تھے، جس جگہ کو آباد کرتے اسے مسلمانوں کے لئے وقف کر دیتے تھے یا اس کو بیچ کر پیسے فقراء میں تقسیم کر دیتے تھے اور خود نہایت زھد وقناعت کے ساتھ فقیرانہ زندگی گزارتے تھے۔

جس دن شہید ہوئے باوجود اس کے کہ تمام اسلامی ممالک کے فرمانروا تھے آپ کی پونجی صرف سات سو درہم تھی جنھیں آپ اپنے گھر کے لئے ایک خدمت گار پر صرف کرنا چاہتے تھے۔

امام علی علیہ السلام کی عدالت ایسی تھی کہ خدا کے احکام کے نفاذ اور لوگوں کے حقوق کو زندہ کرنے میں ہرگز کسی طرح کے استثناء کے قائل نہیں تھے۔
آپ ذاتی طور پرگلی کوچوں میں گشت لگاتے تھے اور لوگوں کو اسلامی قوانین کی رعایت کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔

📚 ماخوذ از کتاب "دینی تعلیم" علامہ طباطبائی

https://t.me/islamwitheman/3009
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹لفظ مولا پر زبردست تحقیق 🌹

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2301334780196043&id=100009586292189
🌹 شہادت جناب زینب عالیہؑ 🌹

وفات جناب زینب عالیہؑ کی وفات کے موقع پر ان کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت میں چھوٹی سی کاوش..

🌹 ولادت
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت 5جمادی الاول کو مدینہ منورہ میں ہوئی، آپ امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے 2سال بعد پیدا ہوئیں.

🌹 ثانی زہراؑ کا اسم گرامی
جب آپؑ اس دنیا میں تشریف لائیں تو جناب فاطمہؑ نے اپنے شوہر نامدار سے آپ کا نام تجویز کرنے کو کہا تو انھوں نے فرمایا کہ وہ اس کام میں رسول خدا پر سبقت نہیں لے سکتے. رسول خدا سے درخواست کی گئی تو انھوں نے فرمایا اس کام میں میں الله سے سبقت نہیں لے سکتا. پس جبرائیلؑ نازل ہوئے اور عرض کی کہ پروردگار آپ پر سلام بھیجنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں کہ شہزادی کا نام زینب رکھا جائے.

🌹 القابات جناب زینبؑ
جناب زینب عالیہؑ کی حیات اقدس کا کچھ زمانہ نہ گزرا تھا کہ آپ کی عظیم صفات ظاہر ہونے کے بعد متعدد القابات کی تعیین کرنے کی نوبت آئی. آپ کی مخصوص صفات کے اعتبار سے لوگ آپ کو موسوم کرنے لگے. ہم ان تمام القابات کو جمع کرنے کی قوت نہیں رکھتے لیکن بعض کتب تاریخ میں جن کا ذکر آیا ہے ان میں سے چند یہ ہیں۔۔
آپ کو عظیم و خردمند خاتون کے طور پر "عقیلہ" کا نام دیا گیا. لغت کی کتب میں لکھا ہے
*العقيله الكريمة المخدرة
*لبية جزلة عاقلة یعنی تیز فہم، تیز ادراک و خردمند خاتون۔
*عقيلة جليلة یعنی پر شوکت و جلال بیبی۔
*أهراة عاقلة یعنی خردمند مخدومہ
*عقيلة طالبين یعنی عقیلہ خاندان ابوطالب۔
*محدثة؛ کیونکہ آپ احادیثِ پیغمبرؐ کی راوی ہیں. اس لیے آپ کو یہ اسم گرامی الله کی طرف سے عطا ہوا اور یہ وہ بخشش ہے جو الله اپنے پاک و نیک بندوں پر رحمت فرماتا ہے.
*بطلة كربلا یعنی کربلا کی شجاع خاتون
*أهل ألتقي یعنی اہل تقویٰ اور شب وروز مصروف عبادت۔

🌹 پرورش جناب زینبؑ عالیہ
آپ اپنی والدہ کے سایہ عاطفت میں پرورش پاکر سنِ رشیدہ کو پہنچیں۔ زینب عالیہؑ کا گوشت و خون سیدہ طاہرہ کے گوشت و خون سے بنا ایسی بیٹی کی آمد سے گھر میں رونق اور خوشیوں کو زندہ کردیا جس کو دیکھ کر ماں کا دل مسرت و شادمانی حاصل کرتا ہے، جس نے سیدہ طاہرہؑ کا دودھ پیا جو سینہ عظمت و عصمت و تقویٰ کی مالک تھیں. تقریباً 6 برس آپ اپنی والدہ کے ہمراہ رہیں. سیدہ طاہرہؑ کی تنہائی اس بیٹی کے دم سے باقی نہ رہی اور وجود زینب سے خانہ سیدہ کی خلوت کو منور کیا۔

علامہ اقبال فرماتے ہیں:
سیرت فرزند ہا از امہات
جوہرصدق وصفا از امہات
مزرع تسلیم ر حاصل بتولؑ
مادران را اسوہ کامل بتولؑ

🌹 جناب زینبؑ کی شادی مبارک
سنِ بالغہ کو پہنچیں تو بہت سے اشراف و روسائے قبائلِ عرب نے آپ کے رشتہ کی خواستگاری کی. حضرت عبدللہ ابن جعفر جو حضرت جعفر طیار کے فرزند تھے (وہ شہید جن کے بارے میں رسول اکرمؐ نے فرمایا: بہشت میں وہ دو بہشتی پروں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں) بھی دل میں آپؑ کے ساتھ شادی کی خواہش رکھتے تھے. انھوں نے قاصد کے ذریعے پیغام بھجوایا جسے حضرت علیؑ ابن ابیطالبؑ نے قبول فرمایا.

🔶 کربلا میں کردار زینبیہ؛
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کربلا میں خاندانِ ابوطالب نے اپنی جانوں کا نذرانہ ایسے پیش کیا کہ جیسے وہ اس دنیا میں آئے ہی اسی مقصد کی خاطر تھے اور سچ میں ایسا ہی تھا. دینِ اسلام پر جس طرح حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کا احسانِ عظیم ہے اسی طرح کربلا کا واقعہ شجاعتِ زینبؑ کی وجہ سے آج قائم و دائم ہے. یہ وہ بہن ہیں جنہوں نے ایسے عالم میں بھائی کی مدد کی کہ جب ان کے پاس عباسؑ جیسا بھائی نہ رہا. اور شام کا بازار و یزید کا دربار گواہ ہے کہ اپنے بھائی کے بعد کس طرح ایک عورت ہو کر یزید کی حکومت کو پاش پاش کر آئیں بیبی۔
یہ گلشنِ عصمت کی وہ معصوم کلی ہے
تطہیر میں زہراؑء ہے تو تیور میں علیؑ ہے

🔶 وفات حضرت زینبؑ
تاریخ گواہ ہے کہ آپؑ شہادتِ امام حسین علیہ السلام کے بعد زیادہ عرصہ زندہ نہ رہیں۔ شائد اس کی وجہ یہ ہو کہ زندگی بھر آپ کو بہت زیادہ اور کئی نوعیت کے مصائب کا سامنا کرنا پڑا. یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ نے جو کارِ تبلیغ اپنے ذمہ لیاتھا وہ انجام پاچکا تھا.
بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ کربلا کے بعد آپ کا عرصۂ حیات ایک سال پانچ ماہ، بعض دو سال پانچ ماہ، بعض کم و بیش چار سال بیان کرتے ہیں۔
قول کے مطابق سیدہ زینبؑ نے بروز یکشنبہ بوقت شام 15 رجب 62ھ کو انتقال فرمایا اور ان آنکھوں کو جنہوں نے کربلا کی قتل گاہ دیکھی تھی ہمیشہ کے لیے بند کرلیا. آپ کو اسی جگہ دفن کیا گیا جہاں آپ وفات پائیں. آپ کا مزار شام میں واقع ہے جو آج محبانِ اہلبیت کے دل کا سکون ہے.

زینبؑ تھی کربلا میں بھرے گھر کی سوگوار
زینبؑ ہے قبر میں بھی بہتر کی سوگوار

الا لعنةالله علی القوم الظالمین.

https://t.me/islamwitheman/3030
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 عقیلہ بنی هاشم 🌹

حضرت زینب سلام اللہ علیھا کو عقیلہ بنی ھاشم کیوں کہتے ہیں؟ یہ لقب آپ کو کس نے دیا اور کب دیا؟

عالمہ غیر معلمہ حضرت سیدہ زینب کبری سلام اللہ علیھا کے بارے میں یہ کہنا ضروری ہے عقیلہ اس خاتون کو کہتے ہیں کہ جو اپنے قوم اور قبیلہ کے درمیان بڑی کرامت، محترم شخصیت ہو. اور کرامت اور عظمت حضرت زینب سلام اللہ تمام انسانوں کے لئے ثابت شدہ اور واضح ہے.

آنحضرت سلام اللہ علیھا کو عقیلہ بنی ھاشم، عقیلۃالطالبیین، عقیلۃالقریش اور عقیلۃالنساء جیسے القاب ان کو اپنی عزت و احترام کے لئے دیئے گئے ہیں. اور یہ القاب قدیمی اور موجودہ دور کی کتابوں میں فقط اور فقط حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہ السلام کے ساتھ خاص ہیں.

اسی بنا پر حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کو کربلا کے حادثہ سے پہلے یہ القاب دئیے گئے تھے. اور معتبر منابع سے مشخص نہیں ہے کہ سب سے پہلے کس شخصیت نے حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کو القاب سے نوازا تھا، لیکن یقینی طور کہا جا سکتا ہے یہ القاب آنحضرت سلام اللہ علیھا کو بزرگان سے ملے ہیں.

ابن عباس، خطبہ فدک (حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کا) حضرت زنیب سلام اللہ علیھا سے روایت کرتے ہیں کہ اس خطبہ کو ہماری عقیلہ حضرت علی (ع) کی بیٹی حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے ہمارے لیے روایت کیا ہے.

📚 منابع
۱). المنجد الطلاب و كتاب العين نے اس طرح معنی کیا ہے: «العقيلة المراة مخدره و عقيلة كل شيء اكرمه»، ص 254، ج 2، اسوه.
۲) زینب قهرمان دختر علی(ع)، ص 7.
________
https://t.me/islamwitheman/3031
________

👈 مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔۔

🌹 شہادت جناب زینب عالیہؑ
https://t.me/islamwitheman/3034

🌹 عید میلاد حضرت زینبؑ
http://t.me/islamwitheman/148

🌹 فضیلت زینب عالیہؑ
https://t.me/islamwitheman/1783

🌹 عالمہ غیر معلمہؑ
https://t.me/islamwitheman/1906

🌹 حضرت سیدہ بیبی زینبؑ
https://t.me/islamwitheman/2852

🌹 عقیلہ بنی ھاشمؑ
https://t.me/islamwitheman/3035

🌹 جناب زینبؑ اور نماز شب
https://t.me/islamwitheman/3036

🌹 میلاد جناب زینب عالیہؑ
https://t.me/islamwitheman/3155
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 جناب زینبؑ اور نماز شب 🌹

جناب زینب سلام اللہ علیہا کا نماز شب کی پابند ہونے کا اندازہ، امام حسینؑ کے اس فقرہ سے لگایا جا سکتا ہے جو امامؑ نے رخصت ہوتے وقت فرمایا تھا:
’’يا أختاه لا تنسيني في نافلة الليل‘‘
اے بہن مجھے نماز شب میں فراموش نہ کرنا۔(1)

امامؑ یہ اپنی بہن سے التماس نہیں کر رہے ہیں بلکہ دنیا والوں کو جناب زینب سلام اللہ علیہا کے عابدۂ شب زندہ دار ہونے کی اطلاع دے رہے ہیں۔

✍️ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے سلسلہ میں، دختر امام حسینؑ (فاطمہؐ) سے نقل ہوا کہ انہوں نے فرمایا:

اس رات میری پھوپھی استغاثہ میں مشغول تھیں اور اس رات ہم میں سے کوئی بھی نہیں سویا اور نہ ہی کسی کے نالہ و شیون کی صدا قطع ہوئی۔
’’وروي عن ابنة أخيها فاطمة بنت الحسين قولها : « وأما عمتي زينب فإنها لم تزل قائمة في تلك الليلة في محرابها تستغيث الى ربها فما هدأت لنا عين ولا سكنت لنا رنة ‘‘(2)

یہ اس وقت کی بات ہے جب امام حسینؑ زندہ تھے اور آپ سر زمین کربلا پر تھیں لیکن بعد حسینؑ جب ظالمین آپ کو اسیر کر کے کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام لے جا رہے تھے تو کیا آپ نے نماز شب اور دیگر عبادتوں کو جاری رکھا؟ جی ہاں! ایسے سخت ماحول میں بھی آپ نے اپنے مالک سے راز و نیاز کے سلسلہ کو منقطع نہیں کیا،

✍️ جس کی توضیح امام سجادؑ اس طرح دیتے ہیں۔۔۔
ان عمتی زینب کانت تؤدی صلواتھا من قیام الفرائض و النوافل الخ۔۔۔‘‘
میری پھوپھی زینب سلام اللہ علیہا کوفہ و شام کے اس پر مشقت راستہ اور سفر میں اپنی واجب اور مستحب نمازوں کو بھی کھڑی ہو کر اور کبھی بیٹھ کر پڑھتی تھیں اور یہ کیفیت ان میں بھوک کی بنا پر پید ہوئی تھی کیونکہ تین راتیں ہو چکی تھیں کہ جو کھانا ان کو دیا جاتا تھا، آپ اس کو بچوں کو کھلا دیتی تھیں کیونکہ وہ سنگ دل لوگ ہم کو ہر شب و روز میں ایک روٹی سے زیادہ نہیں دیتے تھے۔(3)

یہ روایات جہاں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی بندگی و اطاعت کی بلند مثال ہمارے سامنے پیش کرتی ہیں وہیں ان کے اس عظیم مرتبہ کا بھی پتہ دیتی ہیں، آپ ائمہ ہدی ؑ حضرات کے نزدیک رہتی تھیں جس نے آپ کی نورانی شخصیت میں اور درخشندگی پیدا کر دی ہے۔

📚 حوالہ جات
1) (أدب الطف) جواد شبر ج 1 ص 242۔
2) (زينب الكبرى) النقدي ص 62۔
3) كتاب «زينب الكبرى» للشيخ جعفر النقدي ، ص 59۔
________
https://t.me/islamwitheman/3033
________

👈 مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔۔

🌹 شہادت جناب زینب عالیہؑ
https://t.me/islamwitheman/3034

🌹 عید میلاد حضرت زینبؑ
http://t.me/islamwitheman/148

🌹 فضیلت زینب عالیہؑ
https://t.me/islamwitheman/1783

🌹 عالمہ غیر معلمہؑ
https://t.me/islamwitheman/1906

🌹 حضرت سیدہ بیبی زینبؑ
https://t.me/islamwitheman/2852

🌹 عقیلہ بنی ھاشمؑ
https://t.me/islamwitheman/3035

🌹 جناب زینبؑ اور نماز شب
https://t.me/islamwitheman/3036

🌹 میلاد جناب زینب عالیہؑ
https://t.me/islamwitheman/3155
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حضرت ام البنينؑ 🌹

🌹 نسب
حضرت ام البنین کے والد گرامی ابوالمجْل حزام بن خالد یا حرام بن خالد[1] قبیلہ بنی کلاب سے ان کا تعلق تھا۔[2] آپ کی مادر گرامی لیلیٰ یا ثمامہ بنت سہیل بن عامر بن مالک تھیں۔[3]

🌹 تاریخ وفات
حضرت ام البنین کی تاریخ وفات کے بارے میں کوئی دقیق معلومات تاریخی منابع میں ثبت نہیں ہیں لیکن جو چیز معروف ہے اس کے مطابق آپ 13جمادی الثانی کو اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔[حوالہ درکار] آپ کو جنت البقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔

🌹 حضرت علیؑ کے ساتھ ازدواج
حضرت فاطمہ زہراؑ کی رحلت کے کئی سال بعد حضرت علیؑ نے اپنے بھائی عقیل جو نسب شناسی میں مشہور تھے، سے ایک نجیب خاندان سے بہادر، شجاع اور جنگجو اولاد جنم دینے والی زوجہ کے انتخاب کے بارے میں مشورہ کیا تو عقیل نے فاطمہ بنت حزام کا نام تجویز کیا اور کہا عربوں میں بنی کلاب کے مردوں جیسا کوئی دلیر مرد نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ یوں حضرت علیؑ نے آپ سے شادی کی۔[4]

اس شادی کا ثمرہ خدا نے چار بیٹوں کی صورت میں عطا کیا جن کے نام عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان ہیں۔

آپ کے یہ چار بیٹے شجاعت اور دلیری میں اپنی مثال آپ تھے اس وجہ سے آپ کو ام البنین [بیٹوں کی ماں] کہا جاتا تھا۔ آپ کے یہ چار کے چار بیٹے کربلا میں اپنے بھائی اور امام، امام حسینؑ کے رکاب میں شہادت کے عظیم درجے پر فائز ہوئے۔[5]

کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی حضرت امام علیؑ کو یہ تجویز دی تھی کہ ان کو بجائے فاطمہ ام البنین کہہ کر پکارا جائے تاکہ حضرت فاطمہ زہراءؑ کے بچوں کو فاطمہ کہنے سے اپنی ماں حضرت فاطمہ زہراءؑ کی یاد تازہ نہ ہوجائے اور انہیں ماں پر گزرے تلخ حوادث آزار نہ پہنچائیں۔[حوالہ درکار]

🌹 ام البنینؑ واقعہ کربلا کے بعد
ام البنین واقعہ کربلا پیش آتے وقت وہاں موجود نہیں تھیں۔ جب اسیران کربلا کا قافلہ مدینہ پہنچا تو آپ کو کسی نے آپ کے بیٹوں کی شہادت کی خبر سنائی لیکن آپ نے کہا: امام حسینؑ کے بارے میں کہو جب آپ کو بتایا گیا کہ امام حسینؑ آپ کے چار بیٹوں کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے ہیں تو اس وقت آپ نے کہا:‌ اے کاش میرے بیٹے اور جو کچھ زمین اور آسمان کے درمیان ہے میرے حسینؑ پر فدا ہوتے اور وہ زندہ ہوتے۔ آپ کے یہ جملات، امام حسینؑ اور اہلبیتؑ کے ساتھ آپ کی سچی اور با اخلاص محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔[6]

تاریخی منابع میں ہے کہ حضرت زینبؑ مدینہ پہنچنے کے بعد "ام البنینؑ" سے ملنے گئیں اور انہیں ان کے بیٹوں کی شہادت کے حوالے سے تعزیت و تسلیت پیش کی۔[7]

🌹 ام البنین کا اپنے بیٹوں کیلئے عزاداری
حضرت ام البنین اپنے بیٹوں کی شہادت سے باخبر ہونے کے بعد ہر روز اپنے پوتے عبیداللہ (فرزند عباس) کے ساتھ قبرستان بقیع جایا کرتی تھیں اور وہاں پر اپنے اشعار پڑھا کرتی تھیں اور نہایت دلسوز انداز میں گریہ کرتی تھیں۔ اہل مدینہ ان کے ارد گرد جمع ہوتے اور ان کے ساتھ گریہ کرنا شروع کرتے تھے۔ یہانتک کہ کہا جاتا ہے کہ مروان بن حکم جو اہلبیتؑ کا سخت دشمن سمجھا جاتا تھا بھی آپ کے ساتھ گریہ و بکا کرنے پر مجبور ہوتا تھا۔[8] آپ حضرت عباسؑ کیلئے مرثیے کے یہ اشعار پڑھا کرتی تھیں جن کا ترجمہ یہ ہے:

"اے وہ جس نے عباس کو دشمن پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا ہے جو دشمن کے پیچھے تھا۔ کہتے ہیں میرے بیٹے کے ہاتھ جدا ہوگئے تھے اور اس کے سر پر گرز مارا گیا تھا۔ اگر تیرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو کوئی تیرے نزدیک نہیں آسکتا"۔[9]

آپ کو ایک فصیح و بلیغ ادیب و شاعر اور اہل فضل و دانش سمجھا جاتا تھا۔[10]

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

📚 حوالہ جات
1۔ بطل العلقمی کے مصنف کے بقول ام البنین فاطمہ کے باپ کا نام اگرچہ اکثر حزام لکھا گیا ہے لیکن یہ یقینی طور پر غلط ہے۔ ان کے باپ کا نام حرام ہے۔مظفر،الموسوعہ بطل العلقمی،ج1 ص
2۔ طبری، تاریخ، ج۴، ص۱۱۸.
3۔ ابن عنبہ، عمدۃ الطالب،‌ ص۳۵۶؛ غفاری، تعلیقات بر مقتل الحسین، ص۱۷۴.
4۔ ابن عنبہ، عمدۃ الطالب، ص۳۵۷.
5۔ اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۸۲ -۸۴؛ ابن عنبہ، عمدۃ الطالب، ص۳۵۶؛ حسّون، اعلام النساء المؤمنات، ص۴۹۶.
6۔ حسون، اعلام النساء المؤمنات، ص۴۹۶-۴۹۷؛ محلاتی، ریاحین الشریعہ، ج۳، ص۲۹۳.
7۔ موسوی، قمر بنی‌هاشم، ص۱۶.
8۔ اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۸۵.
9۔ محلاتی، ریاحین الشریعہ، ج۳، ص۲۹۴ و تنقیح المقال، ج۳، ص۷۰
10۔ حسون، اعلام النساء المؤمنات، ص۴۹۶-۴۹۷.

https://t.me/islamwitheman/3037
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 زيارة ام البنين عليها السلام 🌹

أَشهَدُ أَن لا إلهَ إلا الله وَحدَهُ لاشَرِيكَ لَهُ، وَأَشهَدُ أنَّ مُحَمَّدَاً عَبدُهُ وَرَسُولُهُ، السَّلامُ عَلَيكَ يَا رَسُولَ الله، السَّلامُ عَلَيكَ يَا أَمِيرَ الُمؤمِنين، السَّلامُ عَلَيكِ يَا فَاطِمَةَ الزَّهرَاءِ سَيِّدَةِ نِسَاءِ العَالَمِين، السَّلامُ عَلَى الحَسَنِ وَالحُسَينِ سَيِّدي شَبَابِ أَهلِ الجَنَّة، السَّلامُ عَلَيكِ يَازَوجَةَ وَصِيِّ رَسَولِ الله، السَّلامُ عَلَيكِ يَا عَزِيزَةَ الزَّهرَاءِ عَلَيهَا السَّلام، السَّلامُ عَلَيكِ يَا أُمَّ البُدُورِ السَّوَاطِع فَاطِمَةَ بِنت حزَام الكلابيّة، المُلَقَّبةُ بِأُمّ البَنِين وَبَاب الحَوَائِج، أُشهِدُ اللهَ وَرَسُولهُ أَنَّكِ جَاهَدتِ في سَبِيلِ اللهِ، إِذ ضَحّيتِ بِأَولَادَكِ دُونَ الحُسَين بنَ بِنتِ رَسُولِ الله، وَعَبَدتِ اللهَ مُخلِصَةً لَهُ الدِّين بِولائكِ لِلأَئِمَّةِ المَعصُومِين عَلَيهمُ السَّلام، وَصَبَرتِ عَلَى تِلكَ الرَزيَّةِ العَظِيمَةِ، وَاحتَسَبتِ ذَلِكَ عِندَ الله رَبّ العَالَمين، وَآزَرتِ الإمَامَ عَليَّاً في المِحَنِ وَالشَّدَائِدِ وَالمَصَائِب، وَكُنتِ في قِمَّةِ الطَّاعَةِ وَالوَفَاء، وَأنَّكِ أَحسَنتِ الكَفَالَة وَأَدَّيتِ الأَمَانَة الكُبرى في حِفظِ وَديعَتَي الزَّهرَاء البَتُول الحَسَنِ وَالحُسَينِ وَبَالَغتِ وَآثَرتِ وَرَعَيتِ حُجَجَ اللهِ المَيَامِين، وَرَغبتِ في صِلَةِ أَبنَاء رَسُولِ رَبِّ العَالَمين، عَارِفَةً بِحَقِّهِم، مُؤمِنَةً بِصِدقِهِم، مُشفِقَةً عَلَيهِم، مُؤثِرَةً هَوَاهُم وَحُبَّهُم عَلَى أَولَادكِ السُّعَدَاء، فَسَلامُ اللهِ عَلَيكِ يَا سَيِّدَتي يَا أُمَّ البَنِين مَا دَجَى الَّليلُ وَغَسَق، وَأَضَاءَ النَّهَارُ وَأَشرَق، وَسَقَاكِ الله مِن رَحِيقٍ مَختُومٍ، يَومَ لايَنفَعُ مَالٌ وَلابَنُون، فَصِرتِ قدوَةً لِلمُؤمِنَاتِ الصَّالِحَاتِ، لأَنَّكِ كَرِيمَة الخَلائِق، عَالِمَةً مُعَلَّمَةً، نَقيَّةً زَكِيَّةً، فَرَضِيَ اللهُ عَنكِ وَأَرضَاكِ، وَلَقَد أَعطَاكِ اللهُ مِن الكَرَامَات البَاهِرَات، حَتَّى أَصبَحتِ بِطَاعَتكِ لله وَلِوَصيِّ الأَوصِيَاء وَحُبّك لِسَيِّدَة النِّسَاء الزَّهرَاءِ، وَفِدَائكِ أَولادكِ الأَربَعَة لِسَيِّدِ الشُّهَدَاء بَابَاً لِلحَوَائِج، فاشفَعِي لِي عِندَ الله بِغُفرَانِ ذُنُوبِي وَكَشفِ ضُرِّي وَقَضَاءِ حَوَائِجِي، فَإنَّ لَكِ عِندَ اللهِ شَأنَاً وَجَاهَاً مَحمُودَاً، وَالسَّلامُ عَلَى أَولَادكِ الشُّهَدَاء، العَبَّاس قَمَرُ بَنِي هَاشِم وبَاب الحَوَائِج، وَعَبد الله وَعُثمَان وَجَعفَر، الَّذِينَ استُشهِدُوا في نُصرَةِ الحُسَينِ بِكَربَلاء، وَالسَّلامُ عَلَى ابنَتكِ الدُّرَّة الزَّاهِرَة الطَّاهِرَة الرَّضيَّة خَدِيجَة، فَجَزَاكِ اللهُ وَجزَاهُم الله جَنَّاتٍ تَجرِي مِن تَحتِهَا الأَنهَارُ خَالِدِينَ فيهَا، اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ۔

https://t.me/islamwitheman/3038
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 ولادت باسعادت سکینہؑ بنت حسینؑ 🌹

■ اسم گرامی
سکینہ سلام اللہ علیہا بنت حضرت امام حسین علیہ السلام (پیدائش 7 نومبر 676ء - وفات 12 نومبر 680ء) یا رقیہ بنت حسینؑ، امام حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام کی بیٹی تھیں۔[1][2][3]

■ والدین
جناب سکینہؑ کے والد گرامی سردار کربلا حضرت امام حسین علیہ السلام ہیں۔ جناب سکینہؑ کی والدہ گرامی امراءالقیس کی بیٹی ربابؑ تھیں۔ 56ھ میں جناب سکینہ متولد ہوئیں جو امام حسین علیہ السلام کی بڑی عزیز اور چہیتی بیٹی تھیں۔[4]

■ تاریخ پیدائش
ابن اسحاق ہمدانی اپنی کتاب مقتل الاسلام میں رقم طراز ہیں کہ:
جناب سکینہ بنت الحسین علیہ السلام بروز عید مباہلہ بتاریخ 24 ذوالحجہ 56ھ (بروز جمعہ بمطابق 7 نومبر 676ء) کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں اور جس وقت آپؑ اپنی مادرگرامی رباب سلام اللہ علیہا کے ہمراہ کربلا کے سفر پر روانہ ہوئیں اس وقت آپؑ کی عمر 3 سال 7 ماہ 4 یوم تھی اور آپؑ کے بھائی شہزادہ علی اصغر علیہ السلام 18 دن کے تھے۔[5]

بعض کی روایت کے مطابق جناب سکینہ سلام اللہ علیہا 20 رجب 57ھ میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں۔ لیکن معتبر روایت یہی ہے کہ آپؑ 24 ذوالحجہ کو متولد ہوئیں۔[6]

■ مناجات امام حسینؑ در نماز شب
اے پروردگار! مجھے ایک ایسی بیٹی عطا کر جس سے میں بہت زیادہ محبت کروں اور وہ بھی مجھ سے بہت زہادہ محبت کرے، وہ میرے سینے پر سوئے اور اس کی قرابت سے مجھے سکون ملے۔[7]

■ تاریخ شہادت
جناب سکینہؑ کی تاریخ شہادت 13 صفر 61ھ بروز پیر بمطابق 12 نومبر 680ء ہے۔[8] اور آپؑ باپ صغیر میں مدفون ہیں۔[9]

📚 حوالہ جات
1۔ الاصفہانی، ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، تحقیق احمد صقر، بیروت، دارالمعرفہ، بی‌تا، ج4۔
3۔ الاصفہانی، ابوالفرج، الاغانی، بیروت، داراحیاء التراث العربی، چاپ اول، 1415۔
3۔ ابن اثیر، علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر-داربیروت، 1965، ج4۔
4۔ تاریخ نسواں، ص236۔
5۔ تاریخ نسواں، ص239۔
6۔ ستارۂ دمشق سیدہ سکینہؑ بنت الحسینؑ۔
7۔ ستارۂ دمشق سیدہ سکینہؑ بنت الحسینؑ، ص2۔
8۔ ستارۂ دمشق سیدہ سکینہؑ بنت الحسینؑ، ص189۔
9۔ سکینہؑ بنت الحسینؑ - ویکی شیعہ

https://t.me/islamwitheman/3043
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 ولادت باسعادت بیبی سکینہؑ 🌹

بیبی سکینہ سلام الله عليها کی ولادت باسعادت کے موقع پر تمام عالم اسلام کی خدمت میں ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں۔

■اسم مبارک:
تاريخ میں آپ کے تین نام امینہ، امنیہ اور آمنہ اور لقب سکینہ یعنی وقار و سکون درج ہے.
آپ ایمان کے اعلی مرتبے پر فائز تھیں. امام حسین علیہ السلام آپ کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
" اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ سکینہ اپنے پورے وجود کے ساتھ جمال ازلی میں محو رہتی ہیں اور دن بھر عبادت پروردگار میں غرق ہو کر خدا سے راز و نیاز کرتی ہیں."

حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا اپنے کمال اخلاق اور حمیدہ صفات کی وجہ سے اپنے بابا کی نظر میں بہت زیادہ عزيز تھیں اور جب یہ درخشاں ستارہ آسمان خاندان پیغمبر پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا تو امام نے، جو انسان کے ضمیروں اور اعمال سے آگاہ ہیں سکینہ کو عظیم و خوبصورت لقب "خیرۃ النساء" سے ملقب کیا اور ان کے مقام و منزلت کو لوگوں پر واضح و آشکار کر دیا.

■والدین کا تعارف؛
●والد کا اسم گرامی امام حسینؑ بن علیؑ بن ابوطالبؑ بن عبد المطلبؑ.

●والدہ کا اسم گرامی جناب رباب بنت امراءالقیس بن عدی بن اوس بن جابر بن کعب بن علیم بن جناب بن کلب تھا۔ آپ کی والدہ گرامی ہندالھنود دختر ربیع بن مسعود بن مضاد بن حصن بن کعب بن علیم بن جناب بن کلب تھیں۔
امراءالقیس جناب ربابؑ کے والد گرامی دوستداران اہلبیتؑ میں سے تھے اور جانتے تھے کہ بقاء انسان اس میں مضمر ہے کہ وقت کےامام کی معرفت اور پہچان حاصل کی جائے اور بخاطر امام ہرقسم کی قربانی سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔

امام حسینؑ کی شہادت کیبعد ایک سال تک زندہ رہیں (ہر وقت نالہ وگریہ کرتی رہتیں تھیں) اور مکان کی چھت کے نیچے نہ جاتی تھیں (دھوپ میں رہتی تھیں) اسیوجہ سے بہت کمزور ہو گئیں اور رنج و غم کی حالت میں اس دنیا سے رحلت فرمائی۔
امام حسینؑ کی جناب ربابؑ سے دو اولادیں تھیں شہزادی سکینہؑ اور شہزادہ علی اصغرؑ۔

امامؑ جناب ربابؑ سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ امامؑ کایہ شعر اس پر دلالت کرتا ہے..
لعمرک اننی لاحب داراً 
تکون بھا سکینۃوالرباب

’’مجھے تیری عمر کی قسم !میں اس گھر سے محبت کرتا ہوں جس میں سکینہ اور رباب ہوں‘‘

■بیبی سکینہؑ اور کربلا:
حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا نے کربلا کے دلخراش مناظر کو نہایت ہی صبروحوصلے سے برداشت کیا آپ واقعہ کربلا کی چشم دید گواہ تھیں آپ نے اپنے بابا کی آواز استغاثہ کو سنا اور پورے وجود کے ساتھ ماں، بہن، پھوپھیوں اور دیگر اسیر خواتین کے درد و الم کو بخوبی درک کیا یہی نہیں بلکہ اپنے سے چھوٹے بچوں کی سرپرستی اور دلجوئی کی.
حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا جانتی تھیں کہ ان کے بابا امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے نفاذ، بدعت اور دینی انحرافات کے خاتمہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے یہی وجہ ہے کہ کربلا کے خونین مناظر اور نیزہ پر اپنے بابا امام حسین علیہ السلام کا سر بریدہ دیکھنے کے باوجود آپ کے ثبات و عزم میں ذرہ برابر بھی تزلزل پیدا نہ ہوا.
لیکن جب گیارہ محرم کو اہل بیت حرم کو قیدی بنا کر لے جایا جانے لگا اور نامحرموں کی نظریں خاندان عصمت و طہارت پر پڑیں تو آپ نےبہت سعی و کوشش کی کہ ان کی ناپاک نظروں سے اپنے کو بچا لیں لہذا فرمایا: میرے بابا کے سر کو قافلے کے آگے لے جاؤ تاکہ لوگ اس کو دیکھیں اور خواتین عصمت و طہارت پر ان کی نظریں نہ پڑیں.
امام حسین علیہ السلام کی چہیتی بیٹی سکینہ نہایت ہی شجاع و بہادر تھیں انہوں نے ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی حقانیت کو ثابت کیا حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا کی عظمت و منزلت اور کلام کی فصاحت و بلاغت نے کسی میں اتنی جرات پیدا نہ کی جو گستاخی و توہین کرتا بلکہ ہر ایک اپنی اپنی جگہ مبہوت بیٹھا رہا بالکل اسی طرح جس طرح سے آپ کی پھوپھی حضرت زينب سلام اللہ علیہا نے جب دربار یزيد میں خطبہ دیا تو تمام اہل شام مبہوت وحیران رہ گئے تھے. چنانچہ حضرت سکینہ نے یزيد بن معاویہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
اے یزید، میرے بابا کو قتل کرکے خوش نہ ہو کیونکہ وہ خدا و رسول کے مطیع و فرماں بردار تھے، دعوت الہی کو قبول کرتے ہوئے اور شہادت کے درجے پر فائز ہوکر "سیدالشہداء" بن گئے لیکن اے یزيد جان لے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ تجھے عدالت الہی کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اس لئے اس دن کے جواب کی تیاری کر، لیکن تو کس طرح جواب دے سکے گا؟

حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا جب تک زندہ رہیں امام حسین علیہ السلام کے مشن کو عام کرتی رہیں اور ایک دن قیدخانہ شام میں اپنے بابا کو یاد کرتے کرتے خالق حقیقی سے جا ملیں اور غربت کے عالم میں بے کس و مظلوم بھائی امام سجاد علیہ السلام نے اسی زندان میں آپ کو دفن کردیا اور آج آپ کا روضہ مرجع خلائق بنا ہوا ہے تاہم وفات کی روایات میں اختلاف بھی ملتا ھے.

https://t.me/islamwitheman/3044
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕