ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔷 اللہ کی طرف سے ڈھیل 🔷

کہتے ہیں ایک شخص نے اپنی نوجوان اور خوبصورت بیوی کے کہنے پر اپنی ماں کو گھر سے نکال کر گداگری پر مجبور کر دیا، بوڑھی ماں بیچاری ایسے قسمپرسی کے حالات میں دو دن میں ہی مر گئی۔

وقت کے بادشاہ نے خواب دیکھا اور خواب میں ایک بزرگ نے بادشاہ سے اُسی آدمی کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہا کہ فلاں بستی میں اس شخص کو اپنے پاس بُلاؤ اور اُسے 100 اونٹ سونے کی اشرفیوں سے لاد کر دو۔ بادشاہ غور کرنے والوں میں سے تھا اُسے پتہ چل گیا تھا کہ اُسکا خواب عام خواب نہیں ہے اور کسی بات کی طرف اشارہ ہے چنانچہ اُس نے اپنے دانا وزیر کو اپنا خواب بیان کیا۔

وزیر نے بادشاہ سے کہا بادشاہ سلامت اگر اُس بستی میں وہ آدمی رہتا ہے جو آپ کو خواب میں بتایا گیا ہے تو آپکے خواب میں ضرور کوئی حکمت چُھپی ہے۔

بادشاہ نے وزیر کی بات سُن کر اپنے ساتھ سپاہیوں کا دستہ لیا اور بزرگ کی بتائی ہوئی بستی میں خود جا پہنچا اور بستی کے باہر درخت کے نیچے بیٹھے ایک بوڑھے باریش سے اُس شخص کے بارے میں دریافت کیا۔

اس بوڑھے نے بادشاہ سے کہا وہ کوئی اچھا انسان نہیں ہے وہ اپنی ماں پر ظلم کرتا تھا اور اس کے ظلموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اُس کی بوڑھی ماں دُنیا سے رخصت ہو گئی، جائیں بستی میں پہلا مکان اُسی کا ہے۔

بادشاہ جب اُس شخض کے دروازے پر پہنچا تو وہ شخص بادشاہ کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا۔ اُسے لگا کہ بادشاہ اب اُسے اُس کے اعمالوں کی سزا دے گا۔

مگر بادشاہ اُسے اپنے ساتھ محل لیکر آیا اور اُسے 100 اونٹ سونے کی اشرفیوں سے لاد کر انعام کے طور پر دیئے جنہیں پاکر ظالم کی تو لاٹری لگ گئی، وہ بادشاہ کا شُکر ادا کرتے ہُوئے دولت کے نشے میں چُور اپنی بستی واپس آگیا اور عیش عشرت کی زندگی گُزارنی شروع کر دی۔

اُدھر بادشاہ اور اُسکے دانا وزیر نے اُس شخص پر مکمل نظر رکھی ہُوئی تھی اور وہ خواب کی حقیقت جاننا چاہتے تھے مگر کئی سال گُزر گئے اُس شخص کے حالات میں کوئی تبدیلی نہ آئی وہ عیش و عشرت اور شباب و شراب میں ڈوبا اپنی خَرمستیوں میں مصروف زندگی گُزار رہا تھا اور پھر ایک دن نشے میں اپنے ہی گھر کی چھت سے نیچے گرا اور مر گیا۔

بادشاہ کو جب اُسکے مرنے کی خبر ملی تو وہ واپس اُس شخص کی بستی میں گیا اور اور پھر بستی کے باہر درخت کے نیچے اُسی بوڑھے باریش سے ملا جس نے اُسے اس شخص کا پتہ بتایا تھا۔

بُوڑھے نے جو اہل علم تھا بادشاہ کو دیکھا اور بولا جس دن میں نے آپکو اس شخص کی شکایت لگائی تھی میں چاہتا تھا کہ آپ اسے سزا دیں تاکہ شائد اس کے گُناہوں کی کُچھ تلافی ہو جائے مگر مالک کو کُچھ اور منظور تھا۔

بادشاہ نے بُوڑھے سے پُوچھا مالک کو کیا منظور تھا محترم؟

بوڑھا بولا اُس دن آپ نے اسے سونے سے لدے ہُوئے اونٹ عنایت کیے تو مُجھے پتہ چل گیا کہ رب کائنات اسے ڈھیل دے رہا ہے۔ اس کی رسی کو دراز کر رہا ہے اور خدا نہیں چاہتا کہ یہ شخص توبہ کے قریب بھی جائے اور پھر ایسا ہی ہُوا دولت کے نشے میں چُور ہو کر وہ ہر چیز بھول گیا۔ آسائشوں نے اُسے نہ تو اُسکے خالق کو یاد کرنے دیا اور نہ ہی کبھی اُسے اپنے کیے ہُوئے کاموں پر ندامت ہُوئی اور اسی عیش و عشرت میں اُس نے کبھی توبہ نہیں کی اور ہلاک ہو گیا۔

🔘 یہ واقعہ نصیحت ہے کہ اپنے والدین کی خوب خدمت کریں اور اللہ کریم سے توبہ کرتے رہیں۔ کہیں ہم اللہ تعالی کی دی ہوئی ڈھیل سے ناجائز فائدہ تو نہیں اٹھا رہے۔ اگر ایسا ہے تو فورا ٹوبہ کیجئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت ہمیں توبہ کی مہلت ہی نہ دے۔

انسان انسانیت سے ہے۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔
ورنہ اطاعت کےلئے کم نہ تھے کروبیاں.

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

https://t.me/islamwitheman/2728
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 طلاق تک نوبت 🔷

میں یہ تحریر صرف اس لیے لکھ رہی ہوں تاکہ کوئی میرے جیسی سچویشن سے گزر رہا ہے تو اس کو رہنمائی مل سکے۔ میری عمر چھتیس سال ہے۔ میری لو میرج ہوئی تھی۔ ہم کلاس فیلوز تھے اور ایک دوسرے کو چھ سال سے جانتے تھے۔ دورانِ تعلیم ہی ہم نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میرے شوہر کے جاب میں سیٹل ہونے کے بعد گھر والوں کی رضامندی سے ہم شادی کرلیں گے. میرے شوہر کی جاب کے بعد ہمارے گھر والے ملے اور ہماری شادی ہوگئی. اللہ نے ہمیں ایک بیٹے سے نوازا۔

مجھے کالج کے زمانے سے ہی اندازہ تھا کہ میرے شوہر مزاج کے تیز ہیں. انہیں غصہ جلدی آتا ہے. لیکن ساتھ رہنے پر اندازہ ہوا کہ جب بھی انہیں غصہ آتا ہے ہمارا ہمیشہ جھگڑا ہوتا ہے. مجھے ہمیشہ یہ فیل ہوتا تھا کہ وہ مجھے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں. جب بھی جھگڑا زیادہ ہوتا میں اپنے بچے کو لے کر میکے چلی جاتی. میرے میکے والے مجھے سہارا دیتے، تسلیاں دیتے کہ اس نے تمہیں کیا لاوارث سمجھ رکھا ہے. میری بہنیں فون پہ میرے شوہر کو بے نقط سناتیں. بہرحال صلح صفائی ہو جاتی اور میں گھر آجاتی. لیکن یہ بات ہم دونوں جانتے تھے کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں اور میں اپنے شوہر کو کبھی بھی نہیں چھوڑنا چاہتی. لیکن ہر جھگڑے کے دوران انہیں یہ ضرور کہتی کہ اگر مجھے چھوڑنا ہے تو چھوڑ دیں. مجھے علم ہے کہ یہ سب میں صرف اپنی انا کو بلند رکھنے کے لیے کہتی تھی.

ایک بار ہمارا جھگڑا اتنا بڑھا کہ انہوں نے پہلی بار مجھ پہ ہاتھ اٹھایا اور گھر سے باہر نکال دیا. میں سیدھا اپنے میکے گئی. میرے گھر والے مجھے لے کر سیدھا پولیس اسٹیشن گئے. میرے شوہر اریسٹ ہو گئے. سسرال والوں نے مجھے کیس واپس لینے کے لیے کہا. میرے شوہر نے مجھ سے معافی مانگی اور کہا کہ آئندہ یہ سب نہیں ہوگا. میں نے کیس واپس لے لیا اور واپس اپنے گھر چلی گئی۔

تین ماہ بعد ہمارا پھر سے جھگڑا ہوا اور میں ہمیشہ کی طرح بچہ اٹھا کر اپنے میکے چلی آئی. دو دن بعد مجھے خبر ملی کہ میرے شوہر اسپتال میں ہیں. میرے گھر والوں نے مشورہ دیا کہ مجھے انہیں دیکھنے جانے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ میری بہنوں کا کہنا تھا کہ یہ سب ڈرامہ ہے تمہیں ایموشنلی بلیک میل کرنے کے لیے. وہ ایک ہفتہ اسپتال میں رہے. نہ میں ملنے گئی اور نہ ہی کال کی.

کچھ دنوں بعد مجھے طلاق کا سمن ملا. مجھے طلاق نہیں چاہیے تھی. مجھے اپنے شوہر سے محبت تھی. میں اپنا گھر خراب نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن میری انا آڑے آ رہی تھی. مجھے لگا کہ طلاق کا منع کر کے میں نیچی ہو جاؤں گی. میں نے انہیں کال کی کہ میں بھی اس جہنم میں نہیں رہنا چاہتی.

کورٹ میں ہمارا کیس آسانی سے نمٹ گیا. میرے شوہر نے میری ساری ڈیمانڈز، بچے کی کسٹڈی اور خرچہ دینا قبول کرلیا. ان کا کہنا تھا کہ وہ میری سب باتیں ماننے کے لیے تیار ہیں۔ اس طرح جولائی دو ہزار نو میں میری طلاق ہوگئی.

میرے شوہر نے کچھ عرصے بعد دوسری شادی کرلی. ان کے بچے بھی ہوگئے لیکن میرے بچے سے ملنے اکثر آتے ہیں. اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں. بچے کا خرچہ مجھے پابندی سے ملتا ہے بلکہ میرا گزارا بھی انہی پیسوں سے ہوتا ہے.

میں اپنے بچے کے ساتھ میکے میں رہتی ہوں. میرے تمام بہن بھائی اپنی اپنی زندگی میں خوش ہیں. میری وہ بہنیں جو خود فون کر کے میرے شوہر کو باتیں سنایا کرتی تھیں وہ اب مجھے موردِ الزام ٹہراتی ہیں. مجھے اب احساس ہوتا ہے کہ میں اپنی شادی بچا سکتی تھی اگر میں نے ہر بات میں دوسروں کو نہ انوالو کیا ہوتا. کبھی کبھی ہمارے خیرخواہ ہی ہمیں ڈبوتے ہیں. میں ابھی بھی یہ نہیں کہہ رہی کہ میرے شوہر یا میری غلطی نہیں تھی لیکن ہمارے جھگڑے اتنے بڑے نہیں تھے جن کی وجہ سے طلاق لی جاتی.

🔘 یہ میری درخواست ہے سارے کپلز سے کہ جہاں تک ہوسکے اپنے معاملے خود نمٹائیں. آپ کا خود سے بڑھ کر کوئی خیرخواہ نہیں۔ اور اپنے گھر کو ہر ممکن بچانے کی کوشش کریں۔ اگر آپ خود اپنا گھر بچانا چاہیں گے تو کوئی اسے توڑ نہیں سکتا۔

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

https://t.me/islamwitheman/2727
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
📱 موبائل بیٹری سیو کریں 📱

اپنی بیٹری کو زیادہ دیر استعمال کریں، مگر کیسے؟

کیا آپ اپنے فون کی بیٹری کے جلد ختم ہونے سے پریشان ہیں؟؟ تو اب فکر کی ضرورت نہیں، ہم آپ کو چند ایسی ضروری ٹپس بتائیں گے جس پر عمل کرتے ہوئے آپ اپنے فون کی بیٹری کو زیادہ سے زیادہ استعمال کر سکیں گے۔

موبئل فونز ہر وقت ہاتھ میں رکھنا اور اس کا استعمال اکثر لوگوں کیلئے اتنا ضروری ہو گیا ہے کہ اگر اچانک کسی کام کے دوران موبائل فون کی بیٹری ختم ہو جائے تو موڈ بھی اس کے ساتھ ساتھ خراب ہو جاتا ہے، مگر ہم آپ کو بتا رہے ہیں کچھ ایسے ٹوٹکے جس پر عمل کرکے آپ اپنے فون کی بیٹری کو زیادہ دیر تک استعمال میں رکھ سکیں گے۔

📱ایپلی کیشنز کی فوری بندش:
صارفین کو چاہئے کہ سب سے پہلے موبائل فون کی سیٹنگ میں جا کر یہ دیکھ لیں کہ کون سی ایپلی کیشن زیادہ بیٹری صرف کرتی ہیں۔ جو ایپلی کیشن زیادہ بیٹری استعمال کرتی ہو اسے کام کے بعد فوراً بند کردیا جائے جس سے بیٹری ضائع ہونے سے بچ سکتی ہے۔

📱لو پاور موڈ آپشن:
صارفین کو سیٹنگ میں موجود "لو پاور موڈ" آپشن آن رکھنا چاہئے، یہ 20 فیصد چارجنگ بچنے کی صورت میں فوراً آگاہی فراہم کرتا ہے۔ یہ ان تمام ایپلی کیشنز کو روک دیتا ہے جو بیگ گراؤنڈ میں چلتی رہتی ہیں یا آٹو ڈاؤن لوڈ ہوتی ہیں۔

📱موبائل آٹو لاک:
جتنی دیر تک فون کی اسکرین لائٹ جلتی رہتی ہے فون کی بیٹری کم ہوتی رہتی ہے تاہم ہمیشہ "آٹو لاک" کو آن رکھنا چاہئے تاکہ فون استعمال کرنے کے بعد خود ہی لاک ہو جائے جس سے بیٹری محفوظ رہ سکے۔

📱لوکیشن سروس:
"لوکیشن سروس" صارفین کے لئے مددگار ہے لیکن اس سے فون کی بیٹری بھی تیزی سے خرچ ہوتی ہے اور لوکیشن سروس ان ایبل رہنے سے اگر صارف اسے استعمال نہ بھی کر رہا ہو تو بیٹری خرچ ہوتی رہتی ہے۔

📱آٹو برائٹنیس آن رکھیں:
اگر صارف نے موبائل اسکرین کی برائٹنیس بڑھا رکھی ہے تو یقیناً بیڑی تیزی سے ختم ہوگی اس لئے تاکید کی جاتی ہے کہ صارف اپنا موبائل "آٹو برائٹنیس" آپشن پر کر دیں، اس کی مدد سے موبائل اسکرین کی روشنی موجودہ جگہ کے لحاظ سے فراہم ہوگی۔

📱 وائی فائی اور ڈیٹا کنکشن:
وائی فائی استعمال کرتے ہوئے یہ ضرور خیال کیا جائے کہ ڈیٹا انٹرنیٹ استعمال نہ کیا جائے کیوں کہ دونوں کا ایک ساتھ استعمال بیڑی کو متاثر کرتا ہے۔

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

✍ سید سجاد حسین ہمدانی

📚 یہ معلومات سمارٹ فونز کے مختلف آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔

http://t.me/islamwitheman/2547
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌻 عورت کی خاطر 🌻

خواتین سے معزرت لیکن یہ حقیقت ہے۔ دماغ کی کھڑکیاں کھول کر پڑھنا خاص کر لڑکیاں۔

میرے پاس فیکٹری میں ایک 24 سالہ لڑکا کام کرتا ہے اج بارش کی وجہ سے میں نے اس سے پوچھ لیا کہ میں بازار ناشتہ کرنے جا رہا ہوں اپ بھی آ جاؤ.

اس لڑکے نے کہا انکل اپ جائیں میں نے ناشتہ نہیں کرنا۔

میں نے وجہ پوچھی تو ٹال گیا لیکن میرے اصرار پر بتایا کہ اس کے گھر بچہ ہونے والا ہے اور اس کی بیوی کمزور ہے اس لیے میں نے ناشتہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ دس گیارہ بجے بازار سے کھانا کھا لیتا ہوں اور دو روٹیاں بازار سے لے اتا ہوں اور رات کو باہر سموسے والے سے تھوڑی سی چتنی لے کر روٹی کھا لیتا ہوں۔ اس طرح کرنے سے میرا روز کا سو روپیہ بچ جاتا ہے۔ میں ان پیسوں سے اپنی بیوی کے لیے طاقت کا شربت اور پھل لے جاتا ہوں۔

میں سوچنے لگا کہ جس بچے کے پیدا ہونے سے پہلے باپ بھوک کاٹ رہا ہے کل جب بڑھاپے میں پہنچے گا تو میڈیا سے اور لبرل ازم سے متاثر یہی تعلیم یافتہ بچہ باپ سے کہے گا اپ کوئی اچھا کام کر لیتے اج ہمارے پاس بھی دولت ہوتی۔ اور پاس بیٹھی بیوی بھی کہہ دے گی ہاں بیٹا میں نے ساری زندگی تنگی میں ہی گزاری۔ تو اس باپ کے دل کے کتنے ٹکرے ہوں گے وہ اپنا درد دکھ کس سے شیئر کرے گا۔

لیکن فیس بکی سکالر تو مرد کو ہی برا کہیں گے۔ عورتیں مرد کے ظلم کے قصے سنائیں گی۔ اس وقت معاشرتی حالات یہ ہیں کہ مرد پس پس کر عورتوں کی خواہشات پوری کرنے میں اپنی جوانیاں تباہ کر رہے ہیں اور عورتیں مظلوم بننے کا ڈنڈورا پیٹ رہی ہیں۔

اللہ کریم ھمیں نیکی کرنے اور نیکی کو پھیلانے کی توفیق بخشے اور سلوک، اتفاق، محبت، شفقت اور خلوص و احساس کا رشتہ نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بحق چہاردہ معصومین علیھم السلام۔

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

http://t.me/islamwitheman/2504
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌻 مردوں کے نام 🌻

دل یہ چاھتا ھے اکثر میرا۔۔۔
کہ میں۔۔۔
مرد ذات پر اک کتاب لکھوں۔

حد سے بڑھ کر۔۔۔
بے حد و بےحساب لکھوں۔

خدا نے جس بھی روپ میں ڈھالا۔۔۔
ہر اس روپ پہ لاجواب لکھوں۔

وہ باپ بن کر خوشی میں رقصاں۔۔۔
وہ انگلی تھامے، گلے لگائے۔۔۔
قدم قدم پہ وہ ساتھ چلنا۔۔۔
بچپن، لڑکپن، جوانی، سبھی دن۔۔۔
وہ جس محافظ کے سنگ گزارے۔۔۔
قدر ہے مجھ کو ان سب لمحوں کی۔۔۔
وہ بھوک میں پیٹ کا بھرجانا۔۔۔
بخار میں بھی کمانے جانا۔۔۔
ہماری کتابیں اور فیس لانا۔۔۔
ہمارے کپڑے، ہمارے سب کھلونے۔۔۔
وہ ہماری سب فرمائشوں میں اسکا۔۔۔
مسکرا کر بس سر جھکانا۔۔۔
ٹھٹھرتی سردی ہو یا تیز دھوپ۔۔۔
وہ کام بس کام کرتے جانا۔۔۔
مزاج سے ہٹ کے بھی چلنا۔۔۔
مزاجوں میں بھی بٹ کے چلنا۔۔۔
خدا نے یہ ہنر خاص بھی بس۔۔۔
عطا کیا مرد ذات کو ہی۔۔۔

خوشی میں خوشیوں کو بانٹ دینا۔۔۔
غموں کو اکیلے پی کر گھلتے جانا۔۔۔
کمال سارے میرے خدا نے۔۔۔
چھپا کے سارے میرے خدا نے۔۔۔۔
بنا دیا مرد ذات کو بس۔۔

یہ چار روپوں کے شہزادے۔۔۔
جو پاس نا ہوتے اب ہمارے۔۔۔
ہماری اوقات ہی کیا تھی۔۔۔

یہ باپ بن کر گھنی ہیں چھاؤں۔۔۔
یہ بھائی بن کر بنیں محافظ۔۔۔
بنے جو شوہر تو مان وعزت۔۔۔
بنے جو بیٹا تو یہ فخر بھی ہیں۔۔۔

یہ مان اور سرور بھی ہیں۔۔۔
یہی ہماری زندگی ہیں۔۔۔
بنا جو ان کے کہاں ہے ممکن۔۔۔
وہ زندگی بھی کوئی زندگی۔۔۔

قدر کرو، محبت و عزت دو۔۔۔
جس گھر یہ نہیں ہیں۔۔۔
اس گھر میں زندگی نہیں ہے۔۔۔
آنکھوں میں مکینوں کے۔۔۔
روشنی بھی نہیں ہے۔۔۔

خدا کی سب نعمتوں سے اعلی۔۔۔
کمال نعمت بس یہی ہیں۔۔۔
میرے دل کے ورق ورق پر۔۔۔
میرے بابا، میرے بھائیو ں کی۔۔۔
تصویریں سجی ہیں۔۔۔

یہ لکھا تھا اپنے بابا، بھائیوں کے لیے۔۔۔
آج لکھنے کا مقصد۔۔۔
یہ لفظ، لفظ آپ سب مردوں کے نام۔۔۔
اور آپ کی زندگی، محنت، صبر، محبت۔۔۔
اور ہر ہر اس پل کو سلام۔۔۔
جو آپ اپنی فیملی کے لیے کرتے ہو۔۔۔
سلام آپ سب کو۔۔۔
سلیوٹ آپ سب کی عظمتوں کو۔۔۔
لکھنے کے لیے بہت۔۔۔
مگر فی الحال یہی لکھا ہے۔۔۔

https://t.me/islamwitheman/2924
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⚖ کھڑک سنگھ کا انصاف ⚖

کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں۔ آپ نے یہ مقولہ تو بچپن سے سنا ہوگا مگر اس کے پیچھے کی داستان کا پتہ نہیں ہوگا۔

کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے، پٹیالہ کے سب سے بااثر بڑے جاگیردار اور گاؤں کے پنچایتی سرپنچ بھی تھے۔

ایک دن کھڑک سنگھ معمولات سے تنگ آکر بھانجے کے پاس پہنچے اور کہا کہ شہر کے سیشن جج کی کرسی خالی ہے مجھے جج لگوا دے،
(ان دنوں کسی بھی سیشن جج کے آڈر انگریز وائسراۓ کرتا تھا)

بھانجے سے چھٹی لکھوا کر کھڑک سنگھ وائسرائے کے پاس جا پہنچے، وائسرائے نے خط پڑھا۔

وائسرائے: نام؟
کھڑک سنگھ

وائسرائے: تعلیم؟
کھڑک سنگھ: "تسی مینوں جج لانا ہے یا سکول ماسٹر؟"

وائسرائے ہنستے ہوئے "سردار جی میرا مطلب قانون کی کوئی تعلیم بھی حاصل کی ہے یا نہیں اچھے برے کی پہچان کیسے کرو گے؟"

کھڑک سنگھ نے موچھوں کو تاؤ دیا اور بولے "بس اتنی سی بات بھلا اتنے سے کام کے لیے گدھوں کی طرح کتابوں کا بوجھ کیوں اٹھاؤ، میں سالوں سے پنچائت کے فیصلے کرتا آرہا ہوں، ایک نظر میں بھلے چنگے کی تمیز کرلیتا ہوں۔"

وائسرائے نے سوچا کہ بھلا کون مہاراجہ سے الجھے جس نے سفارش کی ہے وہ جانے اور اس کا ماموں، عرضی پر دستخط کر دیے اور کھڑک سنگھ جسٹس کا فرمان جاری کردیا۔

اب کھڑک سنگھ پٹیالہ لوٹے اور اگلے دن بطور جسٹس کمرہ عدالت میں پہنچے اتفاق سے پہلا کیس قتل کا تھا۔

کٹہرے میں ایک طرف چار ملزم اور دوسری جانب ایک روتی ہوئی خاتون تھی۔

جسٹس صاحب نے کرسی پر براجمان ہونے سے پہلے فریقین کو غور سے دیکھ لیا اور معاملہ سمجھ گئے۔

ایک پولیس افسر کچھ کاغذ لے کر آیا اور بولا "مائی لارڈ یہ عورت کرانتی کور ہے۔ اس کا الزام ہے کہ ان چار لوگوں نے اس کے شوہر کو قتل کیا ہے۔"

جسٹس کھڑک سنگھ نے عورت سے تفصیل پوچھی۔
عورت بولی: "سرکار دائیں جانب والے کے ہاتھ میں برچھا تھا اور برابر والے کے ہاتھ میں درانتی اور باقی دونوں کے ہاتھوں میں سوٹے تھے، یہ چاروں کماد کے اولے سے نکلے اور کھسم کو مار مار کر جان سے مار دیا۔"

جسٹس کھڑک سنگھ نے چاروں کو غصے سے دیکھا اور پوچھا "کیوں بدمعاشو تم نے بندہ مار دیا؟"

دائیں طرف کھڑے بندے نے کہا "نہ جی سرکار میرے ہاتھ میں تو کئی تھی۔ دوسرے نے کہا میرے ہاتھ میں بھی درانتی نہیں تھی۔ ہم تو صرف بات کرنے گئے تھے اور ہمارا مقصد صرف سمجھانا تھا۔"

کھڑک سنگھ نے غصے سے کہا جو بھی ہو بندہ تو مر گیا نا؟ پھر قلم پکڑ کر کچھ لکھنے لگے تو اچانک ایک کالا کوٹ پہنے شخص کھڑا ہوا اور بولا مائی لارڈ رکیے "یہ کیس بڑا پیچیدہ ہے یہ ایک زمین کا پھڈا تھا اور جس زمین پر ہوا وہ زمین بھی ملزمان کی ہے بھلا مقتول وہاں کیوں گیا؟"

جسٹس کھڑک سنگھ نے پولیس افسر سے پوچھا یہ کالے کوٹ والا کون ہے؟

"جناب یہ ان چاروں کا وکیل ہے" پولیس والے نے جواب دیا۔

تو انہیں کا بندہ ہوا نا جو ان کی طرف سے بات کر رہا ہے، پھر کھڑک سنگھ نے وکیل صفائی کو بھی ان چاروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا کہا پھر ایک سطری فیصلہ لکھ کر دستخط کر دیئے۔

فیصلے میں لکھا تھا (ان چاروں قاتلوں اور ان کے وکیل کو کل صبح صادق پھانسی پر لٹکا دیا جائے)

پٹیالہ میں ہلچل مچ گئی۔ لوگ کھڑک سنگھ کے نام سے تھر تھر کانپنے لگے کہ کھڑک سنگھ مجرموں کے ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی پھانسی دیتا ہے، اچانک جرائم کی شرح صفر ہوگئی، کوئی وکیل کسی مجرم کا کیس نہ پکڑتا، جب تک کھڑک سنگھ پٹیالہ جج رہے ریاست میں خوب امن رہا آس پڑوس کی ریاست سے لوگ اپنے کیس کھڑک سنگھ کی عدالت میں لاتے اور فوری انصاف پاتے۔

🔘 اس واقعہ میں دور حاضر کے پڑھے لکھے ججوں کے لیے ایک گہرا سبق ہے کہ اگر انصاف فوری ہو اور مجرموں کے ساتھ ان کے وکیلوں کو بھی سزا ملنے لگے تو ملک میں جرائم کی شرح صفر ہوجاۓ گی۔

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

https://t.me/islamwitheman/4
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🕸 بھاگی ہوئی لڑکی کے عزیز و اقارب 🕸

گڑیا گھر سے اس وقت چلی گئی تھی جب وہ تقریباً اٹھارہ انیس سال کی تھی۔ گھنٹوں بعد معلوم ہوا تو ماں باپ سر تھامے بیٹھے تھے اور بھائی ہاتھوں میں ہتھیار تھامے تلاش میں نکل گئے۔ ماں اور بہن گڑیا کی سہیلیوں کے گھروں کو جا جا کر معلوم کرتیں کہ شاید اس چور دروازے کا علم ہوجائے اور لاڈلی گھر لوٹ آئے۔

گڑیا کے گھر سے بھاگنے کا سن کر قریبی سہیلیوں کا ان کے گھر والوں نے جینا حرام کردیا کہ رہتی ہی کیوں تھی ایسی لڑکی کے ساتھ، اور قریبی رشتے داروں اور محلے والوں نے گڑیا کے گھر والوں کا۔

گڑیا جو دن کے اجالے میں سہیلی کے گھر جانے کا کہہ کر گئی تھی اندھیری رات میں بھی لوٹ کر نہیں آئی۔

باپ کی ہمت رات کا اندھیرا ہوتے دیکھ کر ختم ہوتی چلی گئی اور بھائیوں کا غصہ آسمان کو چھوتے چھوتے سورج بن گیا۔ چار دن میں جس قدر بدنامی ہوسکتی تھی ہوئی۔ لوگوں کو جواب دیتے دیتے باپ بھائی منہ چھپا گئے۔ گھر میں چولہا ٹھنڈا پڑگیا اور ماں کی ممتا کبھی اس ذلت کے سمندر میں دھکیلنے والی بیٹی کے لیے تڑپ اٹھتی اور کبھی ذلیل ہوتے بیٹوں کے لیے۔

ساتھ ہی اس سب قصے میں ایک کردار اور تھا گڑیا کی اس سے ایک سال چھوٹی بہن۔ جس کا نکاح رشتے داروں کے یہاں ہی ہوا تھا اور کسی تہوار پر رخصتی و شادی کا ارادہ تھا مگر افسوس شادی نہ ہوسکی اور طلاق ہو گئی۔ ماں تسلی دینے کی بجائے دو تھپڑ اسی کے چہرے پر رکھ کر بدنصیب کہکر رونے لگی۔

باپ کی جھکی ہوئی کمر ٹوٹ گئی اور پانچ بھائیوں کا عتاب اس کردار پر ٹوٹ کر گرا، بڑے بھائی نے تو حد ہی کردی، بیوی کو کہا اگر میرے یہاں بیٹی ہوئی تو اس گھر میں جگہ نہ رہے گی اور حاملہ بھابھی اپنے مستقبل کی پریشانی میں بھاگی ہوئی ظالم نند اور گھر میں طلاق ہاتھ میں لے کر بیٹھی مظلوم نند دونوں کو ہی کوسنوں سے نوازے جاتی اور بیٹے کی ولادت کی دعا کرتی جاتی۔

سالوں پہلے کا یہ واقعہ ہے جب شاید میں چھٹی ساتویں کلاس میں تھا لوگوں کی زبان پر آج بھی آجاتا ہے اتنے ہی افسوس کے ساتھ جتنا آپ کو یہ سب پڑھ کر محسوس ہو رہا ہے۔

گڑیا کہاں ہے آج کوئی نہیں جانتا، بیٹی نہ ہونے کا اعلان کرنے والے اس بھائی کے ہاں رب کے فضل سے یا اس کی بیوی کی حالت حمل میں گریہ و زاری کی وجہ سے صرف بیٹے ہیں۔ ماں باپ خاموش رہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس بولنے کو شاید اب کچھ نہیں اور وہ طلاق یافتہ بہن آج بھی وہیں ہے جہاں تھی. خالی ہاتھ و پیشانی پر لفظ طلاق یافتہ سجائے شاید کوئی ایسا نہ تھا جو اسے اپنانے کا ظرف رکھتا۔

ایک عمل نادانی، جذبات یا کسی بھی سبب سے اٹھایا گیا ہو، سب کی زندگی کیسے مشکل بنا جاتا ہے اس کا شاید گڑیا کو خود بھی اندازہ نہیں تھا، یا شاید اندازہ ہوگیا ہوگا تب ہی تو نہ کوئی خبر ملی نہ خیریت....!!

🔘 ایسا کیا ہوتا ہے کہ ایک لڑکی پالنے پوسنے والے ماں باپ کو چھوڑ کر کسی چند دن کے رابطے والے کے ساتھ کیسے چلی جاتی ہے، کیسے وہ ایک دنیا چھوڑ کر نئی دنیا کی تلاش میں نکل پڑتی ہے؟ تمام تر سمجھداری کے باوجود وہ اتنی نادان کیسے ہو جاتی ہے۔

جواب ڈھونڈا جائے تو سینکڑوں جواب ارد گرد کھڑے نظر آئیں گے، مذہب سے دوری، شادیوں میں تاخیر، میڈیا، معاشرہ، والدین کی بیجا پابندی، توجہ نہ ملنا، آزادی کا غلط استعمال، منفی سوچ، صرف ایک پر اعتبار، عدم اعتماد فلاں.. فلاں.. فلاں لیکن جب آپ اپنے ساتھ رہنے والے گھر والوں پر بھروسہ نہیں کر سکتیں تو ایک باہر والے پر کیسے کرلیتی ہیں؟

وجہ صرف اتنی ہے کہ جس طرح پلاؤ بناتے ہوئے آنچ کا مکمل خیال رکھنا ہوتا ہے اور ان میں اینٹھ جانے والے چاولوں کو کبھی دودھ یا پانی کے ٹھنڈے چھینٹوں کی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح اولاد کو محبت کی تپش بھی ایک جیسی تو چاہیے ہوتی ہے مگر لڑکے و لڑکی دونوں کو الگ الگ وقت میں دودھ یا پانی کے ٹھنڈے چھینٹوں کی ضرورت بھی پڑجاتی ہے تاکہ وہ دیگر سے الگ ہوں نہ الگ سوچیں نہ ہی بھٹکیں۔

آپ سب کو ایک جیسی آنچ ضرور دیں مگر انفرادی طور پر دودھ، پانی جیسی فرحت دے کر خیالات بھی جانتے رہیں کیونکہ ہر لڑکی، لڑکا سمجھدار نہیں ہوتا۔

ساتھ ہی لڑکیوں کے لیے یہ نصیحت کہ آپ کا وہ چاہنے والا آپ کو حقیقی طور پر چاہتا ہے، آپ کے گھر والوں سے بھی زیادہ، تب بھی خود غرض نہ بنیں کہ دوسروں کی زندگی آپ کی وجہ سے مثل آگ بن جائے اور وہ تمام زندگی اس آگ میں سلگتے رہیں.

بھاگنا، گھر چھوڑنا مسئلے کا حل نہیں ہوتا. جو حل ہے اسے تلاش کرکے اس پر عمل کیجئے، بڑوں سے مشورہ کیجئے گھر میں خود بات نہیں کر سکتے تو گھر کے بڑے جنھیں بڑا مانتے ہیں ان سے بات کیجئے مگر خدارا گھروں سے والدین کے سر میں خاک ڈال کر جانے کا ہرگز نہ سوچیے.

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/2495
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🍀 عورت کا پردہ کرنا ناگزیر 🍀

اگر مجھ سے بچنا ہے تو اپنا حسن سنبھالو، میں مرد ہوں۔ وہی مرد جسے تم حیوان کہتی ہو، جسے تم کبھی درندہ کہہ کر پکارتی ہو تو کبھی جانوروں سے بھی بدتر القاب دیتی ہو، جسے تم جسم کا پجاری کہتی ہو، جسے تم ہوس کا مارا کہتی ہو۔

میں مرد تیری ان سب باتوں کا اعتراف کرتا ہوں،

مرد آگ ہے اور عورت یہ بات جانتی ہے۔۔! چنگاری لگنے کی دیر ہے آگ بھڑک اٹھتی ہے اور آگ کبھی چنگاری کے بغیر نہیں لگتی۔

قصور کس کا، آگ کا یا چنگاری کا۔۔؟ فیصلہ آپ کریں۔

میں نے روزہ رکھا کام کیلئے بازار آیا کہ اچانک خوشبو آنے لگی، سوچا چھوڑ میاں روزے سے ہو نظریں نیچے ٹکاۓ رکھو لیکن جونہی خوشببو کا احساس زیادہ ہوا میں ماٸل ہونے لگا کہ حواس باختہ ہوکر نظریں اٹھانے پر مجبور ہوگیا۔ نظریں اٹھنے کی دیر تھی، حسین و جمیل پری میری آنکھوں کے سامنے دوپٹا لیے، ایک ساٸیڈ سے دوپٹا اپنے کاندھے پر رکھا ہوا ۔۔۔ کیا حسن تھا جیسے سارا حسن اسی پر ختم ہوگیا ہو، خوب بناٶ سنگھار کیا ہوا، آنکھوں میں کاجل، ہونٹوں پر سرخی ۔۔۔ میں گھورنے لگا کہ اچانک محترمہ میرے پاس رکیں اور مخاطب ہوئیں ہیلو اوۓ کیا گھور رہے ہو۔؟

میرے پاس جواب نہیں تھا۔ کیا کہتا۔۔۔!

ارے اس میں میرا کیا قصور، فطرت ہے مرد کی۔ حسن کو دیکھے گا تو دل للچاۓ گا۔ میرا ایسا ارادہ نہیں تھا لیکن مجھے خوشبوؤں نے چنگاری لگاٸی۔ پھر حسن اور نماٸش نے مجبور کر دیا کہ اسے دیکھوں۔

دکان پر گیا، ٹی وی آن کیا ویسی ہی بیشمار حسیناٶں کو احتجاج کرتے دیکھا ۔۔۔ اچانک میری نظر ان کے ہاتھوں میں پکڑے مختلف بینرز پر پڑی۔۔۔
عورت کو کھلونا نہ بناٶ
عورت کو آزاد کرو
ریپ بند کرو
مجھے گھورنا چھوڑو
مجھے آزاد کرو
میں عورت ہوں کھلونا نہیں ۔۔۔!

میں عجیب کشمکش میں گم تھا۔ پھر میں نے نتیجہ نکالنے کی ٹھانی کہ غلطی کس کی ہے؟ میں نے محلے اور بازار کے گھٹیا اور آوارہ ترین مردوں سے ایک سوال پوچھا کہ کیا تم نے کبھی اسلامی برقعے میں ملبوس کسی عورت کو گھورا یا گندی نظر سے دیکھا۔؟

سب کا ایک ہی جواب تھا ۔۔۔ بھاٸی بھلا ٹوپی والا برقعہ پہنے لڑکی جا رہی ہو تو کون دیکھتا ہے۔ ہم تو بس آٸٹم دیکھتے ہیں۔

ایک لڑکی نے لاٸن دی، بات، بات چیت پر پہنچی، بنا کہے اپنی تصویر بھیج دی۔ مرد نے تعریف کی پھر کچھ ہی دنوں میں تصویر مانگی تو تصاویر کی لاٸن لگ گٸی۔

ملاقات کا پوچھا تھوڑے سے اصرار پر لڑکی مان گئی۔ دو تین ملاقاتوں میں بات آگے پہنچی۔ باہمی رضامندی سے جسمانی تعلق قاٸم ہوا اور لڑکی پریگنینٹ ہوگئی۔

لڑکی نے لڑکے کو فون کیا۔ غصے ہوٸی، گالیاں دیں۔ مرد کو ایک لمحے میں ظالم بنا دیا۔ بولنے لگی تمہاری وجہ سے مجھے یہ دن دیکھنا پڑا، تم نے میری عزت خراب کر دی، تم صرف ٹاٸم پاس کر رہے تھے، تم تو صرف جسم چاہتے تھے، تم ہوس کے مارے تھے، تم نے میرا استعمال کیا۔

اب کیا ہوا ۔۔۔
وہی لڑکی ایک کونے میں کھڑی مظلوم بن گئی۔ بات سماج کے کٹہرے میں آگئی۔ عدالت نے ثبوت دیکھے اور مرد کو ریپسٹ قرار دیدیا یا پھر مرد کو ظالم اور عورت کو مظلومیت کی پہلی صف میں کھڑا کر دیا۔ قانون نے آگ تو دیکھی، چنگاری کو نظرانداز کر دیا۔ عورت کو بَری کردیا اور مرد کو قید کی سزا سنا دی۔ عورت کے انٹرویو شروع ہوۓ اور عورت اسٹار بن گئی۔

میں نے ارادہ کیا میں اب عورت کو نہیں گھوروں گا لیکن بازار موبائل لینے گیا عورت حسن کی نمائش کے ساتھ موبائل بیچ رہی تھی۔ میں سم لینے آفس گیا وہاں لڑکی، الیکٹرونکس مارکیٹ گیا وہاں لڑکی، سفر کے لیے بس میں سوار ہوا وہاں لڑکی۔

ارے میں تو مرد ہوں حسن دکھاٶ گی تو میں تم پر مرمٹوں گا اور جب میں حسن کے نشے میں آگیا تو میرا نشہ تو وہی بنے گی ناں جو مجھے دستیاب ہوگی۔ سگریٹ اگر مارکیٹ میں دستیاب ہی نہیں ہوگا تو اسموکر اسموکنگ کیسے کرے گا۔ حسن جب سات پردوں میں چھپا ہوگا تو مرد تمہیں کیسے گھورے گا۔

اگر مجھ سے بچنا ہے تو اپنا حسن سنبھالو، حسن چھپاٶ۔ برقعہ پہنو مگر اسلامی پہنو، فیشن کی آڑ میں برقعے اور پردے کو بدنام مت کرو ۔۔۔ تم برقعے سے سجی سنوری آنکھیں نکالو گی تو میں تمہاری آنکھوں میں ڈوب کر مر جاٶں گا ۔۔۔ تمھارے حسن کا نصف حصہ تو تمھاری آنکھوں میں پوشیدہ ہے ۔۔۔ آنکھیں یا چہرہ ننگا کرنے کے لیے کیوں فتوؤں کا سہارا لیتی ہو۔ تمہارا تنگ برقعہ میرے جذبات کو ابھارتا ہے۔ تمہارا باریک لباس میری مردانگی کو للکارتا ہے۔

تم لاکھ احتجاج کرلو، تم سڑکوں پر آٶ، تم لاکھ قانون پاس کرواٶ ۔۔۔ میں مرد ہوں میں باز نہیں آٶں گا۔ تم چنگاری لگاٶ گی میں آگ بھڑکاٶں گا ۔۔۔ اور ہاں مجھ سے قسم لے لو تم اگر گھر سے باہر ایسے نکلو گی جیسے حق ہے، چادر اتنی لمبی کہ زمین پر گھسٹ رہی ہے اور دیوار کے اتنا ساتھ چلو کہ تمہاری چادر دیوار سے گھسٹ رہی ہو ۔۔۔ خدا کی قسم تمہیں کوئی نہیں گھورے گا۔۔۔!!

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/2909
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷️ فائیو جی انٹرنیٹ 🔷️

پاکستانی موبائل کمپنیوں جاز اور زونگ نے حال ہی میں فائیو جی موبائل نیٹ ورکس ٹیسٹ کیے ہیں جبکہ دنیا بھر میں اس کی آزمائشی بنیادوں پر لانچ جاری ہے، لیکن پاکستانی صارفین کے لیے یہ کتنا فائدہ مند ہوسکتا ہے؟

❶ یہ ’جی‘ کیا ہے؟
ٹیکنالوجی میں آنے والی بڑی اور بنیادی تبدیلیوں کو سائنسدان جنریشن یا جی سے بیان کرتے ہیں۔

1980 کی دہائی میں جب موبائل فون اولین طور پر متعارف کروائے گئے تو وہ ریڈیائی لہروں کا استعمال کرتے تھے نہ کہ ڈیجیٹل۔ اس کی وجہ سے آواز میں شور آنا اور غیر متعلقہ افراد کے لیے فون پر ہونے والی گفتگو سُن پانا آسان ہوتا تھا۔ اس سسٹم کو فرسٹ جنریشن یا ون جی نیٹ ورکس کہا جاتا تھا۔

1990 کے اوائل میں سیکنڈ جنریشن یا ٹو جی موبائل سسٹمز نے ان کی جگہ لینی شروع کی اور ان کی بنیاد گلوبل سسٹم فار موبائلز (جی ایس ایم) کے تکنیکی معیارات پر رکھی گئی اور ٹو جی نیٹ ورکس ڈیجیٹل تھے۔

ان کے بعد 2.5 جی میں جی پی آر ایس ٹیکنالوجی کے ذریعے موبائل فون سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہونی شروع ہوئی، 2.75 جی نیٹ ورکس میں انٹرنیٹ کی سپیڈ بڑھائی گئی اور اسے ایج کا نام دیا گیا۔

تھری جی ٹیکنالوجی کے آنے سے موبائل انٹرنیٹ کی رفتار بھی بہتر ہوئی اور سکیورٹی بھی بہتر بنائی گئی۔ پاکستان میں اس کے لائسنس 2014 میں نیلام کیے گئے اور پاکستانی موبائل صارفین کے لیے انٹرنیٹ تک دور دراز علاقوں میں بھی رسائی ممکن ہوئی۔

اس کے ساتھ ہی ایک فور جی لائسنس بھی نیلام کیا گیا جسے پاکستان میں زونگ نے خریدا۔ فور جی تکنیکی طور پر بھی تھری جی سے کافی مختلف ہے اور اس کا نتیجہ صارفین کے لیے زیادہ تر صرف انٹرنیٹ کی تیز تر سپیڈ کی صورت میں ہی نظر آتا ہے۔

❷ فائیو جی کے آنے سے
فائیو جی نیٹ ورکس کے آنے سے اور بھی تیز رفتار انٹرنیٹ تک رسائی ممکن ہونے والی ہے اور ایسا ہونے سے مندرجہ ذیل چیزوں میں بہتری آئے گی،

* ہائی ڈیفینیشن یعنی بہترین کوالٹی کی وائس اور ویڈیو کالز کر پانا اور آن لائن ویڈیوز کو بفرنگ کے وقفوں کے بغیر اعلیٰ کوالٹی میں دیکھ پانا
* اس سے انٹرنیٹ کی سپیڈ بہت تیز ہوجائے گی جس سے آن لائن ویڈیو ایڈیٹنگ اور مشترکہ طور پر کام کرنا آسان ہوجائے گا۔
* اس کی وجہ سے سرجنز دور دراز علاقوں میں بیٹھ کر ایسے ہی سرجری کر سکیں گے جیسے وہ وہاں خود موجود ہوں۔ اسی طرح دیگر کئی کام کیے جا سکیں گے۔
* مشینوں کے مشینوں سے کنیکشن میں بہتری آئے گی جس سے انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) کے میدان میں بہت زیادہ ترقی متوقع ہے۔
* یہ ٹیکنالوجی انٹرنیٹ آف تھنگز یعنی ہمارے آس پاس کی چیزوں کے ایک دوسرے سے رابطے بہتر کر سکے گی جس سے ہماری گاڑیاں اپنے اندر موجود مسائل خود رپورٹ کر سکیں گی، ڈاکٹر اپنے پاس موجود سینسرز سے مریضوں کی زیادہ بہتر تشخیص کر سکیں گے۔
* ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی نیٹ ورکس سے روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں ترقی ہوگی اور ان کا روز مرہ کی زندگی میں استعمال زیادہ ہونا شروع ہوگا۔

❸ فائیو جی اور پاکستان
ڈاکٹر فیضان کہتے ہیں کہ فائیو جی کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ صارفین کے استعمال کے لیے بالکل تیار ہے، درست نہیں ہے کیونکہ پوری دنیا میں اس حوالے سے ابھی بھی آزمائشیں جاری ہیں۔

کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کے آنے سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس سے دنیا، معاشرے اور اقتصادیات پر کیا فرق پڑ رہا ہے۔ ’اگر مجموعی اثر کو دیکھیں تو بالآخر معاشرے پر اس کا اچھا اثر پڑے گا، اس نسل کو ابھی نہیں تو 10 سال بعد یا 20 سال بعد ضرور فائدہ ہوگا۔‘

❹ فائیو جی کا نفاذ
کامران شاہد کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک مرتبہ حکومت لائسنس نیلام کرے، تو نیٹ ورک کی حد تک تو اسے نافذ کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ ’تکنیکی بنیادوں پر تو اسے آسانی سے نافذ کیا جا سکتا ہے اور اگر پی ٹی اے اجازت دے تو یہ عملی طور پر ممکن ہے کہ پاکستان میں ایک سال کے اندر اندر لانچ کیا جا سکے۔

❺ 5 جی کے لیے نیا ہینڈ سیٹ
چونکہ فائیو جی نیٹ ورکس میں سگنلز کی فریکویئنسی موجودہ نیٹ ورکس سے مختلف ہوگی اس لیے انھیں استعمال کرنے کے لیے ہینڈ سیٹس بھی مختلف چاہیے ہوں گے جس طرح پرانے ہینڈ سیٹس کو فور جی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا۔

ڈاکٹر فیضان کہتے ہیں کہ اس حوالے سے موبائل فون کمپنیاں اپنے فائیو جی سے ہم آہنگ سیٹس تیار کر رہی ہیں لیکن چونکہ فور جی کے موجودہ سیٹ فائیو جی پر کام نہیں کریں گے، اور پاکستان میں ابھی بھی زیادہ تر آبادی سمارٹ فون استعمال نہیں کرتی اس لیے عام صارفین کی فائیو جی پر منتقلی میں کئی سال لگیں گے۔

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسرں کی معلومات کے لیے شیئر ضرور کریں۔

✍ سید سجاد حسین ہمدانی

📚 یہ معلومات مختلف انٹرنیٹ ورکس آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔

https://t.me/islamwitheman/2923
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌲 ناامیدی شیطان کا اہم ہتھیار 🌲

علماء اخلاق ایک تمثیلی واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دن شیطان نے اپنے تمام وسائل اور ہتھیار بیچنے کا اعلان کیا، بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ شیطان نے اپنے تمام وسائل مثلا غرور، انا پرستی، حسد، غضب، شھرت طلبی، منافقت وغیرہ آگے رکھے ہوئے تھے اور انکی قیمتیں بھی سامنے لکھ دیں.

لوگ اپنی پسند کے ہتھیار دیکھ رہے تھے، ایک شخص نے ایک بہت ہی پرانی اور بہت زیادہ استعمال شدہ چیز دیکھی تو شیطان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ شیطان نے جواب دیا: یہ ناامیدی ہے. اس شخص نے پوچھا کہ یہ تو ہے بھی بہت گھسی پٹی اور پرانی اور تم نے اسکی قیمت بھی زیادہ رکھی ہوئی ہے؟

شیطان نے پراسرار لہجے میں جواب دیا کہ یہی تو سب سے موثر اور کام والا ہتھیار ہے!

اس شخص نے کہا کہ وہ کیسے؟

شیطان نے جواب دیا کہ جب میرے سب ہتھیار کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو میں اسی ناامیدی سے انسانوں کے دل میں رخنہ ڈالتا ہوں اور پھر جو کرنا چاہوں کر لیتا ہوں، اور یہ ہتھیار پرانا اس لیے ہے کہ اس کو میں نے ہر انسان پر آزمایا ہے شروع سے لے کر آج تک جو بھی اس کا شکار ہوا شکست کھا گیا.

امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
"اَعْظَمُ الْبَلاءِ انْقِطاعُ الرَّجاءِ."
ترجمہ:
سب سے بڑی مصیبت امیدوں کا ٹوٹ جانا ہے.

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

📚 غررالحكم، ج٢، ص٣٧٣۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔

🌲 الله تعالٰی کی مدد
https://t.me/islamwitheman/25

🌲 بیمثال مالک
https://t.me/islamwitheman/110

🌲 الله تعالٰی کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134

🌲 الله تعالٰی کی رحمت پر بھروسہ
https://t.me/islamwitheman/137

🌲 بہترین حسن ظن
https://t.me/islamwitheman/263

🌲 حسن نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/301

🌲 خدا سے امید
https://t.me/islamwitheman/646

🌲 توکل علی اللہ
https://t.me/islamwitheman/687

🌲 توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894

🌲 نا اُمیدی
http://t.me/islamwitheman/1731

🌲 قبولیت سے نا اُمیدی
https://t.me/islamwitheman/1734

🌲 کیوں نا اُمیدی
https://t.me/islamwitheman/1736

🌲 ناامیدی شیطان کا اہم ہتھیار
https://t.me/islamwitheman/2933
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 منفی سوچ کس قدر نقصاندہ؟ 🔷

ایک بات یاد رکھیں کہ انسان کو اِتنا نقصان اُس کا کوئی بڑے سے بڑا دشمن نہیں پہنچاتا جتنا نقصان اُس کو اُس کی منفی سوچ کی وجہ سے ہوتا ہے۔

آپ زندگی میں
▫️کم تعلیم کے ساتھ
▫️کم تجربے کے ساتھ
▫️کم وسائل کے ساتھ
▫️تھوڑے پیسے کے ساتھ
تو ترقی کر سکتے ہیں لیکن اگر آپ کی سوچ منفی ہے تو آپ کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔

دنیا میں جس شخص نے بھی غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے یا جس شخص نے بھی کوئی بڑا کام کیا ہے اس شخص کی سوچ مثبت تھی۔

منفی سوچ والے شخص کی زندگی ہمیشہ دوسرے لوگوں کو راستے سے ہٹانے یا پھر دوسرے لوگوں کو گالیاں دیتے اور بُرا بھلا کہتے ہوئے گزر جاتی ہے۔

ایک منفی سوچ والے ذہن کے حامل شخص کو مثبت کی علامت میں بھی دو منفی نظر آتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ ایک منفی کھڑا ہے اور ایک منفی بیٹھا ہے۔

ایک ہزار خوبیاں اس منفی سوچ کے حامل شخص کے سامنے کسی چیز ادارے یا کام کی بیان کی جائیں یہ شخص ہزار خوبیوں کو سننے کے بعد بھی کوئی نہ کوئی وجہ یا خامی تلاش کر لیتا ہے۔

جبکہ ایک مثبت ذہن کے حامل شخص کے لئے صرف اتنی دلیل ہی کافی ہوتی ہے کہ ایک شعبہ یا ادارے میں ہزاروں لوگ کام کر رہے ہیں وہ سوچتا ہے کہ یہ تمام کے تمام لوگ غلط نہیں ہو سکتے کیونکہ اس مثبت سوچ والے شخص کو ایک بات اچھے سے پتہ ہوتی ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا ادارہ یا شعبہ نہیں کہ جس میں سارے لوگ اچھے ہوں اور نہ ہی کوئی ایسا ادارہ یا شعبہ ہے جس میں سارے لوگ بُرے ہوں۔

ہر ادارے اور شعبے میں اچھے بُرے لوگ موجود ہوتے ہیں اچھے لوگوں کی وجہ سے وہ ادارہ یا شعبہ کامیابی سے کام کر رہا ہوتا ہے۔ اور بُرے لوگوں کی وجہ سے بعض اوقات وہ ادارہ یا شعبہ بدنام تو ہو جاتا ہے لیکن کام کرنا نہیں چھوڑتا۔

جبکہ ایک منفی سوچ والے شخص کو اسی ادارے میں صرف بُرے لوگ ہی نظر آتے ہیں اس کے نزدیک کوئی ایک بھی شخص اس ادارے یا شعبے میں اچھا ہو ایسا ممکن نہیں ہوتا اسی لیے وہ اس ادارے کا نام سن کر ہی بھاگ جاتا ہے۔

مثبت ذہن کے حامل شخص کے لیے کوئی ایک شخص دنیا کے کسی بھی ادارے یا شعبے میں کامیابی کی دلیل ہوتا ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر یہ شخص اس ادارے یا شعبے میں اِسی طریقے سے کام کر کے کامیاب ہو سکتا ہے تو میں بھی ہو سکتا ہوں۔ یہ بھی میری طرح انسان ہے اس کے پاس بھی دو آنکھیں ایک دماغ دو ہاتھ ہیں میرے پاس بھی ہیں اگر یہ محنت کرکے کامیاب ہو سکتا ہے تو میں بھی ایک دن ہو جاؤں گا۔

جبکہ منفی ذہن والا شخص ہزاروں لوگوں کو اپنی آنکھوں سے اس ادارے یا شعبے میں کامیاب ہوتے دیکھ رہا ہوتا ہے لیکن پھر بھی وہ اس ادارے یا شعبے کے قریب جا کر غور کرنے کی ہمت نہیں کر پاتا کیونکہ اس کو خوف ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی سوچ غلط ثابت ہو جائے۔

لہذا آپ کے لیے ایک اہم پیغام یہ ہے کہ مثبت رہیں گے تو زندگی آسان ہوگی اگر منفی رہیں گے تو زندگی مشکل ہو جائے گی۔

دنیا میں ہر کامیاب ہونے والا ہر شخص ہر امیر شخص ہر لاکھوں کروڑوں روپے کمانے والا شخص ضروری نہیں کہ حرام یا دو نمبر طریقے سے ہی کامیاب ہوا ہو بہت سے لوگ حلال طریقے سے اور دوسرے لوگوں کی مدد کر کے اور سخت محنت کر کے بھی کامیاب ہوتے ہیں۔

ہمیں صرف اپنی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے انسان کی زندگی اس کی سوچ پر منحصر ہے انسان کی زندگی میں تبدیلی خوشحالی یا کامیابی بعد میں آتی ہے پہلے انسان کی سوچ مثبت ہوتی ہے اس کی سوچ تبدیل ہوتی ہے اور پھر اس کے حالات تبدیل ہوتے ہیں۔

🔘 اگر آپ مثبت سوچ کے ساتھ اس پیغام پر غور کریں گے تو آپ کو ان باتوں میں سچائی ضرور نظر آئے گی۔

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/2896
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حضرت فاطمہؑ آسمان میں منصورہ 🌹

🌹 ولادت باسعادت دُخترِ رحمةاللعالمین، زوجہ امیرالمؤمنین حضرت فاطمہ زہراءؑ آپ سب مؤمنين و مؤمنات کو بہت بہت مبارک ہو.

● لوگوں نے ر سول اکرمؐ سے پوچھا:
آپ فرما رہے ہیں حضرت فاطمہ زہراءؑ ایک فرشتہ ہیں اور انسان بھی ہیں؟ آخر یہ کس طرح ہوسکتا ہے؟

پیغمبرِ اسلامؐ نے فرمایا:
جبرائیلؑ نے جنت سے ایک سیب لا کر مجھے ہدیہ دیا اور کہا؛ اے محمدؐ! اس سیب کو تناول فرما لیجئے.

میں نے پوچها:
اے میرے دوست! یہ سیب کس کی طرف سے ہدیہ ہے؟
اس نے کہا:
حکم دیا گیا ہے کہ اسے کھا لیجئے.

پس میں نے اسے کاٹا تو اس سے ایک نور چمکا، میں اس نور کو دیکھ کر حیران ہوگیا.

جبرائیلؑ نے کہا: کھا لیجئے "فان ذالک نور المنصورۃ فاطمۃ" یہ فاطمہؑ منصورہؑ کا نور ہے.

میں نے پوچھا:
منصورہ کون ہے؟

جبرائیلؑ نے کہا:
آپ کی بیٹی ہے کہ جن کا نام آسمانوں میں منصورہؑ اور زمین پر فاطمہؑ ہے.

انہیں آسمان میں منصورہؑ اور زمین پر فاطمہؑ کیوں کہتے ہیں؟
کہا:
زمین پر فاطمہؑ ہیں. کیونکہ ان کے شیعہ آتش جہنم سے نجات یافتہ ہیں اور ان کے دشمن ان کی محبت سے دور ہوگئے. اسی طرح اس آیہ کریمہ کی روشنی میں.. "ویومئذ یفرح المومنون بنصر اللہ" (سورةروم،آیت:۴و۵) آسمان میں انہیں منصورہ کہتے ہیں.

📚 بحارالانوار، ج:۴۳، ص ۱۸، از تفسیر فرات بن ابراہیم.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 دختر رسول فاطمةالزھراءؑ کے بارے میں پوسٹس۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/432

🌹 شہادت بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/305

🌹 بوقتِ دفن بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/306

🌹 دخترِ رسول (ص)
https://t.me/islamwitheman/312

🌹 وصیت حضرت فاطمةالزھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/313

🌹 بیبی زھراءؑ کے ہار کی برکتیں
https://t.me/islamwitheman/314

🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318

🌹 حضرت فاطمةالزھراءؑ کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/319

🌹 ولادت باسعادت حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/431

🌹 فضیلت سیدہ فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/436

🌹 حضرت فاطمہؑ کا نام گرامی
https://t.me/islamwitheman/437

🌹 اُمُّ اَبِیھا
https://t.me/islamwitheman/446

🌹 فضائل حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/449

💝 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ
http://t.me/islamwitheman/1343

💝 نور کی نور سے شادی
http://t.me/islamwitheman/1344

💝 خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ
http://t.me/islamwitheman/1345

💐 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز
http://t.me/islamwitheman/1346

💝 سیدہ زھراءؑ کی رخصتی مبارک
http://t.me/islamwitheman/1437

💝 حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی
http://t.me/islamwitheman/1439

🌹 حضرت فاطمہ زھراءؑ 40 احادیث
https://t.me/islamwitheman/2252

https://www.facebook.com/1304327322922888/posts/3812250732130522/

🌹 حضرت زہراءؑ کے بارے گریۂ پیغمبرؐ
https://t.me/islamwitheman/2910

🌹 حضرت فاطمہؑ آسمان میں منصورہ
https://t.me/islamwitheman/2935
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🚊 بہت زیادہ ٹی وی دیکھنا 🚊

لگاتار کئی گھنٹوں تک ٹیلیویژن دیکھنا جسمانی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ انتباہ ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

امریکا کی مشی گن یونیورسٹی اور بیلجیئم کے لیووین اسکول آف ماس کمیونیکشن ریسرچ کی مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ کئی کئی گھنٹے لگاتار ٹی وی دیکھنا نیند کے معیار کو ناقص، زیادہ تھکاوٹ اور بے خوابی کا باعث بنتا ہے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ منفی اثر اسی وقت مرتب ہوتا ہے جب لگاتار کئی گھنٹوں تک ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھے رہیں اور تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے اسے دیکھنا اثرانداز نہیں ہوتا۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ یہ عادت نوجوانوں کے لیے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہے اور ان کی نیند بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ نیند کی کمی امراض قلب، موٹاپے، ذیابیطس اور کئی دیگر امراض کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران اٹھارہ سے پچیس سال کی عمر کے لگ بھگ ساڑھے چار سو افراد کا جائزہ لیا اور جانا گیا کہ لگاتار کئی گھنٹوں تک ٹی وی دیکھنے سے ان کے نیند کے معیار، بے خوابی اور تھکاوٹ پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔

81 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ ٹی وی بہت زیادہ دیکھنے کے عادی ہیں جن میں سے سات فیصد روز ایسا کرتے تھے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ بہت زیادہ ٹی وی دیکھنا نیند کے معیار کو ناقص بنانے کا باعث بنتا ہے اور جسمانی تھکاوٹ کا احساس بھی بڑھ جاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ٹی وی شوز کی کہانی صارفین کو اسکرین کے سامنے باندھے رکھتی ہے اور لوگ زیادہ سے زیادہ جاننے کے لیے ٹیلیویژن دیکھتے رہتے ہیں۔

یہ عادت دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے اور دماغ کو نیند سے قبل دوبارہ معمول پر لانے کے لیے لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے جس سے مجموعی طور پر نیند متاثر ہوتی ہے۔

اس سے قبل کوئنز لینڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو لوگ بہت زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں، ان کے مسلز دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ مضبوط نہیں ہوتے۔

اسی طرح ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک سے دو گھنٹے ٹی وی دیکھنا بھی ڈپریشن، ذہنی بے چینی اور تناﺅ کا خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔

کچھ عرصے پہلے نیشنل کینسر انسٹیٹوٹ کی ایک تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ روزانہ ساڑھے تین گھنٹے ٹی وی دیکھنا نہ صرف کینسر اور امراض قلب کا خطرہ بڑھاتا ہے بلکہ ذیابیطس، نمونیا اور جگر کے امراض کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

✍️ سید سجاد حسین ھمدانی

📚 یہ معلومات مختلف آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🌹 مسئلہ یاعلی مدد 🌹

یاعلی مدد کہنا بالکل جائز ہے۔ بلکہ یہ ہمارا شعار (پہچان) ہے۔ نہ صرف یہ کہ شرک نہیں ہے، بلکہ عین توحید ہے۔ ہم کس معنی میں امام علی علیہ السلام سے مدد مانگتے ہیں..؟؟ اس کی کئی وضاحتیں ہوسکتی ہیں۔

■ ایک یہ کہ امام علی علیہ السلام سے جب ہم مدد مانگ رہے ہوتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ بارگاہ خدا میں وہ ہماری شفاعت کریں، یعنی مقام وسیلہ میں ہماری مدد کریں۔ اور وسیلہ اختیار کرنا ناصرف جائز بلکہ احسن ہے کیونکہ خدا فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ۔ (المائدہ:35)

■ دوسرا یہ کہ ہمارا ماننا ہے کہ خدا نے امام علی کو ولایت تکوینی عطا کی ہے، یعنی امور کائنات پر تصرف کا اختیار اور یہ قوت و طاقت خود خدا نے ہی عطا کی ہے۔ پس اس معنی میں باذن خدا مولا علی علیہ السلام کی مدد برحق ہے۔ پس اس تفسیر میں آپ براہ راست امام علی سے مدد طلب کر سکتے ہیں، اور یہ مدد طلب کرنا شرک نہیں، کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ امام علی خدا کے اذن سے مدد کرتے ہیں۔ اور ان کو یہ اختیار اللہ نے ہی دیا ہے، پس اس معنی میں امام علی کو بلانا، گویا خدا کو ہی بلانا ہے۔ پس یاعلی مدد کہنا نظام توحید کا ہی ایک جز ہے۔ لہذا یہ شرک نہیں بلکہ عین توحید ہے۔
(اگرچہ بعض علما نے اس تفسیر سے اختلاف کیا ہے، لیکن اکثر علما، فقہا اور عرفا اس پر کامل یقین رکھتے ہیں)۔

■ ہاں اگر کوئی ذات خدا کو منہا کر دے، اور یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ امام علی علیہ السلام اذن خدا کے بغیر خود سب قوت و طاقت رکھتے اور اس طاقت سے ہماری مدد کریں گے، تو یہ عقیدہ یقینا" شرک ہوگا۔ کیونکہ یہاں ذات خدا کو اس کے مقام سے ہٹا دیا گیا ہے، اور امام کو اس مقام ہے بٹھایا گیا ہے۔ یہ عقیدہ غالیوں کا تو ہو سکتا ہے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شیعہ اثنا عشری اس معنی میں امام سے مدد طلب کرتا ہو۔
بہر حال بطور کلی یہ شعار شرک سے پاک ہے، بلکہ عین توحید ہے۔ اس حوالہ سے کوئی شکوک و شبہات نہیں ہونے چاہیئں، پورے ایمان کے ساتھ یہ شعار لگائیں۔

🤝البتہ روایات و احادیث کی روشنی میں سلام کرنا آداب اسلامی میں سے مستحب عمل ہے جواب دینا واجب عمل ہے تو جو شرعی اور اسلامی طریقہ ہے۔

السلام علیکم
سلام علیکم

اس کے ساتھ یاعلیؑ مدد کا اضافہ کرسکتے ہیں۔

السلام علیکم یاعلیؑ مدد 🤝
سلام علیکم یاعلیؑ مدد 🤝

اسی طرح مصافحہ (ہاتھ ملانا) باعث اجر و ثواب ہے۔

ہمارا اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے اپنی محافل میں یہی ورد و ذکر ہونا چاہیے یاعلی یاعلی یاعلی یاعلی۔

✍ ڈاکٹر مہدی

https://t.me/islamwitheman/2937
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 مختلف فرشتے اور آسمانی کتابیں 🔷

1. حضرت جبرائیلؑ کے علاوہ بھی ایک فرشتہ کچھ عرصہ حضورِ اکرمﷺ کے پاس وحی لایا تھا، اس کا نام ہے؟
ا). حضرت میکائیلؑ
ب). حضرت دانی ایلؑ
ج). حضرت اسرافیلؑ
د). حضرت عزرائیلؑ

صحیح: ج

2. ہر وقت انسانوں کے ساتھ رہ کر انسانوں کی اعمال لکھنے والے فرشتوں کو کیا کہا جاتا ہے؟
ا). مالک
ب). کراماً کاتبین
ج). منکر نکیر
د). رضوان

صحیح: ب

3. قبر میں انسانوں سے حساب و کتاب لینے والے فرشتے کون سے ہیں؟
ا). مالک
ب). کراماً کاتبین
ج). منکر نکیر
د). رضوان

صحیح: ج

4. جنت کے داروغہ فرشتے کا نام ــــــــــــ ہے؟
ا). مالک
ب). کراماً کاتبین
ج). منکر نکیر
د). رضوان

صحیح: د

5. جہنم کے داروغہ فرشتے کا نام ــــــــــــ ہے؟
ا). مالک
ب). کراماً کاتبین
ج). منکر نکیر
د). رضوان

صحیح: ا

6. قرآنِ کریم سے جن الہامی کتب کا علم ہوتا ہے، ان کی تعداد ـــــــــ ہے؟
ا). تین
ب). چار
ج). پانچ
د). چھ

صحیح: ب

7. الہامی کتابوں میں سے ترتیبِ نزولی کے اعتبار سے سب سے پہلی کتاب ــــــــ ہے؟
ا). انجیل
ب). زبور
ج). تورات
د). قرآن کریم

صحیح: ج

8. الہامی میں سے ترتیبِ نزولی کے اعتبار سے دوسری کتاب ــــــــ ہے؟
ا). انجیل
ب). زبور
ج). تورات
د). قرآن کریم

صحیح: ب

9. الہامی کتابوں میں سے ترتیبِ نزولی کے اعتبار سے تیسری کتاب ــــــــ ہے؟
ا). انجیل
ب). زبور
ج). تورات
د). قرآن کریم

صحیح: ا

10. الہامی کتابوں میں سے ترتیبِ نزولی کے اعتبار سے چوتھی کتاب ــــــــ ہے؟
ا). انجیل
ب). زبور
ج). تورات
د). قرآن کریم

صحیح: د

11. تورات ـــــــــ پر نازل ہوئی؟
ا). حضورِاکرمﷺ
ب).حضرت موسٰیؑ
ج). حضرت عیسٰیؑ
د). حضرت داؤدؑ

صحیح: ب

12. زبور ـــــــــ پر نازل ہوئی؟
ا). حضورِاکرمﷺ
ب).حضرت موسٰیؑ
ج). حضرت عیسٰیؑ
د). حضرت داؤدؑ

صحیح: د

13. انجیل ـــــــــ پر نازل ہوئی؟
ا). حضورِاکرمﷺ
ب).حضرت موسٰیؑ
ج). حضرت عیسٰیؑ
د). حضرت داؤدؑ

صحیح: ج

14. قرآنِ کریم ـــــــــ پر نازل ہوا؟
ا). حضورِاکرمﷺ
ب).حضرت موسٰیؑ
ج). حضرت عیسٰیؑ
د). حضرت داؤدؑ

صحیح: ا

15. تورات کا زمانہ نزول ہے؟
ا). تقریباً 1250 ق م
ب). تقریباً 1000 ق م
ج). ابتداءِ سنِ عیسوی
د). ساتوین صدی عیسوی

صحیح: ا

16. زبور کا زمانہ نزول ہے؟
ا). تقریباً 1250 ق م
ب). تقریباً 1000 ق م
ج). ابتداءِ سنِ عیسوی
د). ساتوین صدی عیسوی

صحیح: ب

17. انجیل کا زمانہ نزول ہے؟
ا). تقریباً 1250 ق م
ب). تقریباً 1000 ق م
ج). ابتداءِ سنِ عیسوی
د). ساتوین صدی عیسوی

صحیح: ج

18. قرآنِ کریم کا زمانہ نزول ہے؟
ا). تقریباً 1250 ق م
ب). تقریباً 1000 ق م
ج). ابتداءِ سنِ عیسوی
د). ساتوین صدی عیسوی

صحیح: د

19. موجودہ دور میں ہمیں تورات، زبور اور انجیل اکٹھی کس مجموعہ میں ملتی ہیں؟
ا). بائبل
ب). تالمود
ج). عہد نامہ قدیم
د). عہد نامہ جدید

صحیح: ا

20. قرآن حکیم کتنے عرصے میں نازل ہوا؟
ا). تقریباً 14 سال میں
ب). تقریباً 16 سال میں
ج). تقریباً 19 سال میں
د). تقریباً 23 سال میں

صحیح: د

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 فرشتے کون ہیں؟ 🔷

انس وجن کی طرح فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’یہ لوگ کہتے ہیں کہ(خدائے) رحمن (فرشتوں کی شکل میں) اولاد رکھتا ہے، سبحان اللہ! بلکہ (فرشتے تو اللہ کے) بندے ہیں، جنہیں عزت بخشی گئی ہے، وہ اُس سے آگے بڑھ کر کوئی بات نہیں کرتے، اور وہ اُسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔‘‘ (الانبیاء 27,26)

قرآن وحدیث میں یہ بات بار بار ذکر کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مٹی سے، جنات کو آگ سے اور فرشتوں کو نور سے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی تخلیق اس طرح کی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے۔ جو کام اُن کے ذمہ کیا گیا ہے وہ اُسی میں لگے رہتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے:
’’اُس (جہنم) پر سخت کڑے مزاج کے فرشتے مقرر ہیں، جو اللہ کے کسی حکم میں اُس کی نافرمانی نہیں کرتے، اور وہ وہی کرتے ہیں جس کا اُنہیں حکم دیا جاتا ہے۔‘‘ (التحریم 6)

فرشتوں کو خالق کائنات نے ایسا بنایا ہے کہ وہ نہ کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الذاریات (آیت24 سے 27) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے مہمانوں کا تذکرہ کیا ہے جو کھانا نہیں کھا رہے تھے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اُن پر شک و شبہ ہوا۔ بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہ تو فرشتے ہیں اور فرشتوں کی فطرت میں کھانا پینا نہیں۔ اسی طرح فرشتے نہ مرد ہوتے ہیں نہ عورت۔ سورۃ الصافات (آیت149 سے 151) میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے عقیدہ کی تردید کی ہے کہ وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔

جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانا ضروری ہے، اسی طرح نور سے پیدا ہوئی مخلوق یعنی فرشتوں پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تقریباً 88 مرتبہ فرشتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ احادیث نبویہ میں بھی فرشتوں کا بارہا ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ آیت 285 میں فرمایا:
’’یہ سب (رسول اور تمام مسلمان) اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔‘‘

مسلمانوں کی طرح یہود و نصاریٰ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے نور سے پیدا کیا ہے، یعنی دیگر آسمانی کتابوں اور صحیفوں میں بھی فرشتوں کا ذکر ملتا ہے۔ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ، جن کو ہم نے بِنا دیکھے خالق کائنات تسلیم کیا ہے، اور انس و جن جنہیں اچھے کام کرنے اور برے کام سے رکنے کا مکلف بنایا گیا ہے، کے درمیان اللہ تعالیٰ کی ایک معصوم مخلوق موجود ہو جو اللہ کے پیغام کو بندوں تک اور بندوں کے اعمال کو اللہ تعالیٰ تک پہنچانے اور جزا کے دن کے لیے پوری زندگی کے ایک ایک لمحہ کے اعمال کو ریکارڈ کرنے اور دنیا کے نظام کو چلانے میں اللہ کے حکم کے مطابق اپنی ذمہ داریاں بحسن خوبی انجام دے حالانکہ ہمارا یہ ایمان و عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ہر چیز سے پوری طرح واقف ہے، اُسے فرشتوں کی ضرورت نہیں ہے۔

چنانچہ دنیا کے ہر مذہب میں کسی نہ کسی شکل میں فرشتوں کا تصور موجود ہے۔ صرف لامذہب لوگ ہی فرشتوں کے وجود کے منکر ہیں۔ جن کے پاس سوائے اس کے کوئی دلیل نہیں ہے کہ ہم ان کو نہیں دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ ان کا کہنا غلط ہے، جس کے رد کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دنیا میں بے شمار چیزیں نہ دیکھنے کے باوجود دنیا اُن کو تسلیم کرتی ہے۔ مثلاً عقل دنیا میں کسی بھی شکل میں موجود نہیں ہے لیکن ساری دنیا تسلیم کرتی ہے۔

فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی اصل شکل کے علاوہ کسی دوسری شکل میں بھی ظاہر ہو سکتے ہیں چنانچہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کبھی کبھی کسی انسانی شکل میں آپ کے پاس تشریف لاتے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام آپ کو پہنچا دیتے تھے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام 3 مرتبہ اپنی اصل صورت میں تشریف لائے تھے۔ ایک نبوت کے بالکل ابتدائی دور میں، دوسری بار خود حضور اکرم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ان کی اصل صورت میں دیکھنے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی اور تیسری مرتبہ معراج کے موقع پر۔

حضرت ابراہیم، حضرت مریم اور حضرت لوط علیہم السلام کے قصوں میں بھی قرآن کریم میں مذکور ہے کہ فرشتے انسانی شکل میں اُن کے پاس آئے تھے۔

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/2939
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 فرشتوں کی تعداد اور ذمہ داریاں 🔷

فرشتوں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’تمہارے پروردگار کے لشکر کو اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔‘‘ (المدثر 31)

چند فرشتوں کے نام کا تذکرہ قرآن وحدیث میں موجود ہے۔ قرآن کریم میں 3 جگہ پر حضرت جبرئیلؑ کا تذکرہ صراحت کے ساتھ آیا ہے۔ بعض آیات (مثلاً سورۃ التکویر 20 اور سورۃ النجم 5 و 6) میں حضرت جبرئیلؑ کا تذکرہ اُن کے نا م کے بغیر وارد ہوا ہے۔ سورۃ البقرہ، آیت نمبر 98 میں حضرت جبرئیلؑ اور حضرت میکائیلؑ دونوں کا تذکرہ موجود ہے۔

حضرت اسرافیلؑ اور حضرت عزرائیلؑ کے نام کا تذکرہ تو قرآن کریم میں موجود نہیں لیکن اُن کی ذمہ داری کو قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے۔

جہنم کے داروغہ حضرت مالک کا ذکر سورۃ الزخرف، آیت77 میں ہے:
’’اور وہ (دوزخ کے فرشتہ سے) پکار کر کہیں گے کہ اے مالک! تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کر دے، وہ کہے گا کہ تمہیں اسی حال میں رہنا ہے۔‘‘

جنت کے خازن کا تذکرہ متعدد احادیث میں مذکور ہے۔ بعض احادیث میں ان کا نام رضوان بھی مذکور ہے۔

قبر میں سوال کرنے والے فرشتوں کو منکر نکیر کہا جاتا ہے۔

حضرت ہاروتؑ اور حضرت ماروتؑ کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے:
’’(یہ بنی اسرائیل) اُس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت نامی دو فرشتوں پر نازل کی گئی تھی۔‘‘ (البقرہ 102)

فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے مختلف ذمہ داریاں دے رکھی ہیں۔ حضرت جبرئیلؑ اللہ تعالیٰ کے احکام انبیائے کرام ؑ کے پاس لے کر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے بھی اپنا پیغام پہنچانے والا منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔‘‘ ( الحج75)

حضرت جبرئیلؑ کو تمام فرشتوں کا سردار بھی کہا جاتا ہے۔

حضرت میکائیلؑ بارش برسانے اور لوگوں کی روزی و روٹی کے انتظام پر مامور ہیں۔ (شعب الایمان)
حضرت میکائیلؑ کی ماتحتی میں بیشمار فرشتے اس ذمہ داری کو انجام دیتے ہیں۔

حضرت اسرافیلؑ قیامت کے دن صور پھونکیں گے۔

حضرت عزرائیلؑ روح قبض کرنے پر مامور ہیں۔ حضرت عزرائیلؑ کی ماتحتی میں بیشمار فرشتے لوگوں کی جان نکالنے پر مامور ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’کہہ دو کہ تمہیں موت کا وہ فرشتہ (ملک الموت) پورا پورا وصول کر لے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، پھر تمہیں واپس تمہارے پروردگار کے پاس لے جایا جائے گا۔ (السجدہ 11)

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کی دربانی پر بیشمار فرشتے متعین فرمائے ہیں چنانچہ قرآن کریم میں ہے کہ جنتی لوگ جب جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو جنت کے محافظ اُن کا استقبال کرتے ہوئے فرمائیں گے:
’’سلام ہو آپ پر، آپ لوگ بہت اچھے رہے، اب اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کے لیے آ جائیے۔‘‘ ( الزمر 73)

اسی طرح فرمانِ الٰہی ہے:
’’یہ دوزخ کے کارندے کوئی اور نہیں، فرشتے مقرر کیے ہیں۔‘‘ (المدثر 31)

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی حفاظت پر بھی فرشتوں کو متعین کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ہر شخص کے آگے اور پیچھے وہ نگراں (فرشتے) مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے باری باری اس کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘ (الرعد 11)

بعض فرشتے انسان کے اچھے اور برے اعمال لکھتے رہتے ہیں جن کو کراماً کاتبین کہتے ہیں۔ اِن فرشتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’حالانکہ تم پر کچھ نگراں مقرر ہیں، وہ معزز لکھنے والے جو تمہارے سارے کاموں کو جانتے ہیں۔‘‘ (الانفطار12-10)
نیز فرمانِ الٰہی ہے:
’’اُس وقت بھی جب (اعمال کو) لکھنے والے 2 فرشتے لکھ رہے ہوتے ہیں، ایک دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھا ہوتا ہے، انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اُس پر ایک نگران متعین ہوتا ہے، ہر وقت لکھنے کے لیے تیار۔‘‘ (قٓ 17و 18)

کچھ فرشتے عرش الٰہی کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وہ (فرشتے) جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں، اور جو اُس کے گرد موجود ہیں، وہ سب اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔‘‘ (المؤمن 7)

فرشتوں کی ایک جماعت درود و سلام کو نبی اکرمؐ تک پہنچانے پر مقرر ہے۔

کچھ فرشتے دنیا میں گھومتے رہتے ہیں اور جہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہو، وعظ و نصیحت ہوتی ہو، قرآن کریم یا دینی علوم پڑھے یا پڑھائے جاتے ہوں ایسی مجلسوں میں وہ حاضر ہوتے ہیں تاکہ جتنے لوگ اس مجلس میں اور اس نیک کام میں شریک ہیں اُن کی شرکت کی اللہ تعالیٰ کے سامنے گواہی دیں۔ دنیا میں جو فرشتے کام کرتے ہیں اُن کی صبح و شام میں تبدیلی بھی ہوتی ہے۔

فرشتوں کی ایک جماعت ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں بھی مشغول رہتی ہے۔ جس طرح دنیا میں بیت اللہ کا طواف کیا جاتا ہے، اسی طرح آسمانوں پر اللہ کا گھر ہے جس کو’’ بیت المعمور‘‘ کہا جاتا ہے، اُس کا فرشتوں کی ایک جماعت ہر وقت طواف کرتی رہتی ہے۔ کتب احادیث میں وضاحت موجود ہے۔

https://t.me/islamwitheman/2940
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕