ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌹 خوش رہیئے 🌹

امریکہ میں جب ایک قیدی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تو وہاں کے کچھ سائنس دانوں نے سوچا کہ کیوں نا اس قیدی پر کچھ تجربہ کیا جاے....

تب قیدی کو بتایا گیا کہ ہم تمہیں پھانسی دے کر نہیں ماریں گے بلکہ زہریلا کوبرا سانپ ڈسا کر ماریں گے...

اور اس کے سامنے بڑا سا زہریلا کوبرا سانپ لے آنے کے بعد اس کی آنکھیں بند کر کے اس کو کرسی سے باندھ دیا گیا.
اور اس کو سانپ نہیں بلکہ دو سیفٹی پِن چبھائی گئیں.....
تو قیدی کی کچھ سیکنڈ میں ہی موت واقع ہوگئی..

پوسٹ مارٹم کے بعد پایا گیا کہ قیدی کے جسم میں سانپ کے زہر جیسا ہی زہر ہے...
اب یہ زہر کہاں سے آیا.؟ جس نے اس قیدی کی جان لے لی...
وہ زہر اس کے جسم نے ہی صدمے میں جاری کیا تھا...

ہمارے ہر عمل سے مثبت یا منفی توانائی بنتی ہے اور وہ ہمارے جسم میں اسی کے مطابق ہارمونس تیار کرتی ہے...
بہت سی بیماریوں کی وجہ منفی سوچ ہی ہوا کرتی ہے.... آج انسان خود ہی اپنی منفی سوچ سے خود کو ختم کر رہا ہے..
اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھیں اور سدا خوش رہیں..

25 سال کی عمر تک ہمیں یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ کیا سوچیں گے..
50 سال کی عمر تک اسی ڈر میں جیتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے..
50 سال کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بارے میں کوئی سوچ ہی نہیں رہا تھا...
زندگی خوبصورت ہے... اس لیے ہمیشہ خوش رہیں...

یاد رکھیں!
صبر، شکر اور قناعت ایک عینک ہے. اگر آپ یہ عینک لگا لیں تو دنیا بڑی خوبصورت نظر آئے گی اور آپ ہمیشہ خوش و خرم رہیں گے.

🌷کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ....
زندگی میں ہمیشہ ریاضی کی طرح رہو.
دوستوں کو جمع کرو،
دشمنوں کو تفریق کرو،
خوشی کو ضرب دو،
پیار کو تقسیم کرو.
اور ہمیشہ مسکراتے رہو.‏❤️❤️❤

لوگ کہتے ہیں کہ زندگی میں یہ ضروری ہے اور وہ ضروری ہے___ میں تمہیں بتاؤں، زندگی میں کچھ بھی ضروری نہیں ہوتا نہ مال، نہ اولاد، نہ رتبہ، نہ لوگوں کی محبت… بس آپ ہونے چاہئیں اورآپ کا الله سے ہرایک پل بڑھتا تعلق ہونا چاہیے. باقی یہ مسئلے تو کسی بادل کی طرح ہوتے ہیں...
جہاز کی کھڑکی سے کبھی نیچے تیرتا کوئی بادل دیکھا ہے__؟ اوپر سے دیکھو تو وہ کتنا بے ضرر لگتا ہے مگر جو اس بادل تلے کھڑا ہوتا ہے نا‘ اس کا پورا آسمان بادل ڈھانپ لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ روشنی ختم ہوگئی، اور دنیا تاریک ہوگئی...غم بھی ایسے ہوتے ہیں- جب زندگی پہ چھا جاتے ہیں تو سب تاریک لگتا ہے‘  لیکن اگر آپ اس زمین سے اوپر اٹھ کر آسمانوں سے پورا منظر دیکھو تو جانو کہ یہ تو ایک ننھا سا ٹکڑا ہے جو ابھی ہٹ جائے گا… اگر یہ سیاہ بادل زندگی پہ نہ چھائیں نا__! تو ہماری زندگی میں کبھی رحمت کی بارش نہ ہو…!!

🌹مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
اپنے دل کو ماضی کے غموں میں مشغول نہ کرو کہ آئندہ کی تیاری سے محروم رہ جاؤ گے.
(غررالحکم، ص:289)

ہم نے ٹیلی گرام پر ریلیکس ہونے کے لئے فنی گروپ کا آغاز کیا ہے. جس کا نام مسکراہٹیں رکھا ہے. t.me/muskuraahten
اس گروپ میں مزاحیہ کلپس، اور لطیفے بھیجے جائیں گے. حس مزاح کی تسکین کے لئے اس گروپ کو ضرور جوائن کیجئے.

آخر میں ایک دعا....
🔷 دل دے، تو اس مزاج کا پروردگار دے.
جو رنج کی گهڑی بھی خوشی سےگزار دے.

https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
🌷 ذھین چرواہا 🌷

بیابان میں ایک چرواہا اپنی بھیڑ بکریاں چرا رہاتھا، وہاں سے ایک دانشمند کا گزر ھوا، تھوڑی دیر ان کی آپس میں گفتگو ھوئی جس سے دانشمند کو اندازہ ھو گیا کہ یہ چرواہا پڑھا لکھا نہیں ھے، تو اسے کہنے لگا:
یار تم پڑھائی لکھائی کی طرف کیوں نہیں جاتے ھو..؟

تو چرواہا بولا:
تمام علوم کا خلاصہ اور نچوڑ میرے علم میں ھے، باقی دوبارہ سیکھنے کی مجھے کیا ضرورت ھے.

تو دانشمند اسے کہتا ھے:
جو کچھ تو نے سیکھا ھے ذرا مجھے سناؤ تو سہی...

تو چرواہا بولا:
تمام علوم کا خلاصہ اور نچوڑ یہ پانچ چیزیں ہیں.
1- جب تک سچائی ختم نہیں ھوتی، جھوٹ نہیں بولتا.

2- جب تک غذائے حلال ختم نہیں ھوتی، غذائے حرام نہیں کھاتا.

3- جب تک خود مجھ میں عیب ہیں، تو دوسروں کے عیب نہیں نکالتا.

4- جب تک خدائے مھربان کے ہاں روزی ختم نہیں ھوتی، کسی اور کے دروازے پہ نہیں جاتا.

5- جب تک بھشت میں قدم نہیں رکھتا، اس وقت تک شیطان مردود کے دھوکوں میں نہیں آتا.

دانشمند نے اس کی ان باتوں کی تائید و تصدیق کی اور کہا:
واقعا تمام علوم کا خلاصہ اور نچوڑ تیرے پاس موجود ھے، اور حقیقتا جس کسی میں یہ پانچ خصلتیں پائی جاتی ہیں اور ان پر عمل بھی کرتا ھے (تو بیشک وہ اسلامی علوم کے اھداف کو پہنچ گیا ھے) اسے مزید علم وحکمت سیکھنے اور کتابوں کی ضرورت نہیں.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📕 داستان دوستان،ج4- ص63-64.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔰 چیونٹی کا اطمینان 🔰

🐜ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﻋﻠﻴﻪ ﺳﻼﻡ نے چیونٹی سے پوچھا؟

❓ایک سال کی مدت میں کتنا کھاتی ہو؟

چیونٹی نے کہا: تین دانے.

📦 پس اسی چیونٹی کو پکڑا اور ایک ڈبے میں رکھا...

اور تین دانے اس کے ساتھ رکھ دیئے.

❗️ ایک سال گزرنے کے بعد...

حضرت سلیمان علیہ السلام نے ڈبے کو کھول کر دیکھا تو چیونٹی نے تین دانوں میں سے آدھے کو کھایا اور آدھا باقی رکھا.

❔حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعجب کیا اور چیونٹی سے پوچھا ایسا کیوں کیا؟
🐜چیونٹی نے کہا:
کیونکہ جب میں آزاد تھی تو مجھے اطمینان تھا اللہ تعالٰی مجھے روزی عطا فرمائے گا اور ہم کو فراموش نہیں کرتا.

💢 لیکن جب سے آپ نے مجھے اس ڈبے میں رکھا، مجھے یہ خوف تھا کہ کہیں آپ مجھے فراموش نہ کر جائیں. پس اسی احتیاط کی وجہ سے میں نے کھانے میں احتیاط کی تاکہ پورا ایک سال اپنی غذا کھا پاؤں.

✨ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ متعال ﻓﺮﻣﺎتا ہے:
وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ الَّا عَلَی اللّٰہِ رِزْقُھَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّھَا وَمَسْتَوْدَعَھَا ۔ کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ. (11:6)
ترجمہ:
اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور وہ جانتا ہے کہ اس کی جائے قرار کہاں ہے اور عارضی جگہ کہاں ہے، سب کچھ روشن کتاب میں موجود ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 یک جرعہ ای معرفت سے مآخوذ.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 بے نیازی 🔷

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہيں:
نبى اكرم (ص) كے اصحاب ميں سے ايک صحابى كے حالات بڑے سخت (خراب) ہو گئے، اس كى بيوى نے اس سے كہا:
تم رسول اللہ (ص) كے پاس جاؤ اور ان سے كچھ مانگو، وہ صحابى نبى اكرم (ص) كے پاس آيا،

🔻 جب آپ (ص) نے اسے ديكھا تو فرمايا:
"جو ہم سے مانگتا ہے ہم اسے عطا كرتے ہيں اور جو بے نياز رہتا ہے اسے اللہ غنى كر ديتا ہے."

🔸 اس صحابى نے (خود سے كہا):
نبى اكرم (ص) كے اس كلام كا مخاطب ميرے علاوہ كوئى اور نہيں، وہ اپنى بيوى كے پاس آيا اور اسے سارا ماجرا سنايا،

🔹 اس كى بيوى كہنے لگى: رسول اللہ (ص) بشر ہيں، تو دوبارہ جاؤ اور انہيں واضح طور پر اپنا مسئلہ بيان كرو (اور كچھ مانگ كر لاؤ تاكہ كچھ كھا پى سكيں)

🔸 وہ شخص خدمتِ رسول ميں حاضر ہوا،
🔻 جب رسول اللہ (ص) نے اسے ديكھا تو فرمايا:
"جو ہم سے مانگتا ہے ہم اسے عطا كرتے ہيں اور جو بے نياز ہوتا ہے اللہ اسے غنى كر ديتا ہے."

🔸 وہ صحابى اسى طرح تين مرتبہ آتا جاتا رہا (اور نبى اكرم سے كچھ مانگنے كى جرأت نہيں كر سكا). پھر وہ صحابى گيا اور ايک كلہاڑا كرائے پر ليا، اور پہاڑ پر گيا، اُس پر چڑھا اور كچھ لكڑياں كاٹیں، پھر ان كو لے كر آيا اور انہيں ڈيڑھ كلو آٹا كے بدلے ميں بيچا اور آٹا لے كر گھر آيا اور آرام سے كھايا۔ اگلے دن پھر وہ گيا اور كل كى نسبت زيادہ لكڑياں كاٹيں اور انہيں بيچا، اسى طرح وہ اس كام كو انجام ديتا رہا اور كچھ پيسے جمع كيے حتى كہ اس نے اپنا كلہاڑا خريد ليا۔ پھر اس نے پيسے جمع كيے اور دو بكرياں اور ايک غلام خريد ليا، پھر وہ مالدار ہو گيا يہانتک كہ وہ (مشكل حالات سے نكل كر) آسائش و آسانى ميں آ گيا.

🔹 ايک دن نبى (ص) كى خدمت ميں آيا اور انہيں سارى داستان سنائى كہ وہ كيسے آيا تاكہ آپّ سے كچھ مانگے اور كيسے اس نے نبى كے فرمانِ مبارک كو (توجہ سے) سُنا،

🔻نبى اکرم (ص) نے فرمايا: ميں نے تجھے كہا تھا كہ جو ہم سے مانگتا ہے ہم اسے عطا كر ديتے ہيں اور جو بے نياز رہتا ہے اللہ اسے غنى كر ديتا ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ: الكافی، ج2، ص139، كتاب الإيمان والكفر، باب القناعة، حديث:7.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ہاتھ کی کمائی 🔷

ﻣُﻼ ﺍﺣﻤﺪ ﺟﯿﻮﻥ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﻐﻞﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﭘﺮ ﻓﺨﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﺟﺐ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺩﮨﻠﯽ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﯾﮟ۔ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﺭﺳﮧ ﮐﮯ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﭩﯿﺎﮞ تهیں۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﺎ ﺭُﺥ ﮐﯿﺎ۔

ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﮐﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﻋﺼﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﻣﻊ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﺷﺎﮨﯽ ﻗﻠﻌﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﭘﮍﮮ۔ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺍﮐﮭﭩﮯ ﮔﺰﺍﺭﺍ۔۔

ﻋﯿﺪ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﮐﮭﭩﮯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣُﻼ ﺟﯿﻮﻥ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﯿﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺟﯿﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﻧّﯽ (چار آنے) ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻧﺬﺭﺍﻧﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﭘﮍﮮ۔

ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﺩﮐﻦ ﮐﯽ ﻟﮍﺍﺋﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﭼﻮﺩﮦ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺩﮨﻠﯽ ﺁﻧﺎ ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ۔ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ۔ ﻣُﻼﺍﺣﻤﺪ ﺟﯿﻮﻥ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﺯﻣﯿﻨﺪﺍﺭ ﺑﻦ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﻥ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺯﻣﯿﻨﺪﺍﺭ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺧﻂ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﯽ۔ ﻣُﻼ ﺍﺣﻤﺪ ﺟﯿﻮﻥ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ۔ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﻋﺰﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ٹهہرﺍﯾﺎ۔ ﻣُﻼ ﺍﺣﻤﺪ ﮐﺎ ﻟﺒﺎﺱ، ﺑﺎﺕ ﭼﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﻃﻮﺭ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺎﺩﮦ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ کچھ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ کا ﺣﻮﺻﻠﮧ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﻮﺩ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ:
ﺁﭖ ﻧﮯ ﺟﻮ ﭼﻮﻧّﯽ ﺩی ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺑﺮﮐﺖ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﻨﻮﻟﮧ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﮐﭙﺎﺱ ﮐﺎﺷﺖ ﮐﯽ، ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺩﯼ ﮐﮧ ﭼﻨﺪ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔

ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣُﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ کہا:
ﺍﮔﺮ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭼﻮﻧّﯽ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻨﺎﺅﮞ؟

ﻣﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ۔

ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﺩﻡ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﭼﻮﮎ ﮐﮯ ﺳﯿﭩﮫ "ﺍﺗﻢ ﭼﻨﺪ" ﮐﻮ ﻓﻼﮞ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﻭ۔ ﺳﯿﭩﮫ ﺍﺗﻢ ﭼﻨﺪ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺑﻨﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺳﮯ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮈﺭ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﮐﺎﻧﭗ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻧﮯ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ﺁﮔﮯ ﺁﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺒﺮﺍﮨﺖ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﺗﮧ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﻭ۔

ﺳﯿﭩﮫ ﺍﺗﻢ ﭼﻨﺪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﮭﺎﺗﮧ ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﻭﺭ ﺧﺮﭺ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔

ﻣُﻼ ﺍﺣﻤﺪ ﺟﯿﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺳﻨﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺁ ﮐﮯ ﺳﯿﭩﮫ ﺭُﮎ ﮔﯿﺎ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺧﺮﭺ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﻧّﯽ ﺩﺭﺝ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔

ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻧﮯ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﮨﺎﮞ ﺑﺘﺎﺅ ﯾﮧ ﭼﻮﻧﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﮔﺌﯽ؟

ﺍﺗﻢ ﭼﻨﺪ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﺗﮧ ﺑﻨﺪ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ: ﺍﮔﺮ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﺭﺩ ﺑﮭﺮﯼ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﻭﮞ؟

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﮯ۔

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺍﮮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦِ ﻭﻗﺖ! ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﻣﻮﺳﻼﺩﮬﺎﺭ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﮑﺎﻥ ﭨﭙﮑﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻣﮑﺎﻥ ﻧﯿﺎ ﻧﯿﺎ ﺑﻨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﭼﮭﺖ ﭨﭙﮑﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﮭﺎﻧﮑﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻻﻟﭩﯿﻦ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﻧﻈﺮ ﺁﯾﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﺍﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺗﯿﻦ ﭼﺎﺭ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ، ﺟﺐ ﻣﮑﺎﻥ ﭨﭙﮑﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺁﮐﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺩﺭﺳﺖ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺢ ﮐﯽ ﺁﺫﺍﻥ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ:
ﺳﯿﭩﮫ ﺻﺎﺣﺐ! ﺁﭖ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯾﺠﯿﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻻ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﻧّﯽ ﻧﮑﻠﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺍﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ! ﺍﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﯾﮩﯽ ﭼﻮﻧّﯽ ﮨﮯ ﯾﮧ لو ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺁﻧﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﯾﮩﯽ ﭼﻮﻧّﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺣﺎﺿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﻣﻨﺘﯿﮟ ﮐﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭼﻮﻧّﯽ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻭﺭﻧﮧ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭼﻮﻧّﯽ ﺍﺱ کو ﺩﮮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻟﮯﮐﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮧ ﻣﻞ ﺳﮑﺎ۔ ﺁﺝ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺑﺮﺱ بیت ﮔﺌﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﻼﻣﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻧﮧ ﺳﮩﯽ ﺍﭨﮭﻨﯽ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﺎ۔

ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺗﻢ ﭼﻨﺪ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ لیکر ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﭼﻮﻧّﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﯿﺲ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺭﻋﺎﯾﺎ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﺳﮑﻮﮞ۔ ﺳﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﺎﻡﮐﯿﺎ۔

ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭼﻮﻧّﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﮩﺎﺭ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔

ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﮨﺎﮞ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﺻﻞ ﺑﺎﺕ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﺎﮨﯽ ﺧﺰﺍﻧﮧ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﭘﺎﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯽ۔ ﮨﻔﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺩﻥ ﭨﻮﭘﯿﺎﮞ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺩﻭ ﺩﻥ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﻨﺪ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮨﮯ.

📚 ﺗﺎﺭﯾﺦِ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌲 بہترین حسن ظن 🌲

یہ چند سطریں نہ جانے کس کی کاوش ہیں لیکن ہیں بہت خوب، تعریف کے لائق.

↔ ﺍﯾﮏ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ:
ﺗﻢ ﻣﺮ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ.
اعرابی ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ.؟
ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ:
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ...
ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ:
ﺁﺝ ﺗﮏ ﺟﻮ ﺧﯿﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺋﯽ ﮬﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ہاﮞ ﺳﮯ ﭘﺎﺋﯽ ﮬﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮈﺭﻧﺎ.

ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺣﺴﻦِ ﻇﻦ ﮬﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍللە سے.

↔ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ:
ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ؟
ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ:
ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﺟﻮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ.

ﮐﯿﺎ ﮬﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺣﺴﻦِ ﻇﻦ ﮬﮯ.

↔ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱؓ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺪﻭ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺣﺴﺎﺏ ﮐﻮﻥ ﻟﮯ ﮔﺎ.؟
ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱؓ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ:
" ﺍﻟﻠﮧ تعالی "
تو بدو نے خوشی سے کہا:
ﺭﺏ ﮐﻌﺒﮧ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﮬﻢ ﻧﺠﺎﺕ ﭘﺎﮔﺌﮯ.

ﮐﯿﺎ ﮬﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺣﺴﻦِ ﻇﻦ ﮬﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ.

↔ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﺎ ﺁﺧﺮﯼ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﭘﮭﻮﭦ ﭘﮭﻮﭦ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ...

ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ:
ﺍﻣﯽ ﺟﺎﻥ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺴﺎﺏ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ.؟

ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ:
ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﻭﻧﮕﯽ.

نوجوان بولا:
ﺍﻣﺎﮞ ﺟﺎﻥ، ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺭﺣﯿﻢ ﮬﮯ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﯾﮧ ﺭﻭﻧﺎ ﮐﯿﺴﺎ.؟

ﮐﯿﺎ ﮬﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﮔﻤﺎﻥ ﮬﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ.

🔘 ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﺣﺸﺮ ﮐﯽ ﻣﻨﻈﺮ ﮐﺸﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮬﮯ:
"ﻭﺧﺸﻌﺖ ﺍﻷﺻﻮﺍﺕ ﻟﻠﺮّﺣﻤٰﻦ"
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﺩﺏ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ ﺭﺣﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ.

ﺍﺱ ﺣﺸﺮ ﮐﯽ ﮔﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ "ﺟﺒﺎﺭ" ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﻔﺖِ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﺎ ﮬﯽ ﺁﺳﺮﺍ ﺩﯾﺎ ﮬﮯ.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 چند سنہرے اصول 🌹

حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:

🌹"جواپنے عیب پر نگاہ رکھتا ہے وہ دوسروں کے عیب سے غافل ہو جاتا ہے.

اور
🌺جو خدا کے رزق پر راضی رہتا ہے وہ کسی چیز کے ہاتھ سے نکل جانے پر رنجیدہ نہیں ہوتا ہے۔

🌸جو بغاوت کی تلوار کھینچتا ہے خوداسی سے ماراجاتا ہے.

اور
🌼جو امورکو زبردستی انجام دیناچاہتا ہے وہ تباہ ہو جاتا ہے،

🌻لہروں میں پھاند پڑنے والا ڈوب جاتا ہے.

اور
🌷غلط جگہوں پر داخل ہونے والا بدنام ہو جاتا ہے،

🍀جس کی باتیں زیادہ ہوتیں ہیں اس کی غلطیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں اور جس کی غلطیاں زیادہ ہوتی ہیں اس کی حیا کم ہو جاتی ہے اورجس کی حیا کم ہو جاتی ہے اس کا تقویٰ بھی کم ہوجاتا ہے اورجس کا تقویٰ کم ہوجاتا ہے اس کادل مردہ ہوجاتا ہے اور جس کادل مردہ ہو جاتا ہے وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے.

🌾جولوگوں کے عیب کو دیکھ کر ناگواری کا اظہار کرے اور پھر اسی عیب کو اپنے لئے پسند کر لے تو اسی کو احمق کہا جاتا ہے.

🍒قناعت ایک ایسا سرمایہ ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے.

🍄جوموت کو برابر یاد کرتا رہتا ہے وہ دنیا کے مختصر حصہ پر بھی راضی ہو جاتا ہے.

اور
🌿جسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کلام بھی عمل کا ایک حصہ ہے وہ ضرورت سے زیادہ کلام نہیں کرتا ہے."

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 کلمات قصار نھج البلاغہ حکمت349.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 نو باتیں 🌹

آپس کے معاملات سدھارنے کے لیے کتنی زبردست ہیں یہ نو باتیں، کاش ہم انہیں اپنے عمل میں لائیں!!!

1- فتبينوا...
کوئی بھی بات سن کر پھیلانے سے پہلے تحقیق کر لیا کرو . کہیں ایسا نہ ہو کہ بات سچ نہ ہو اور کسی کوانجانے میں نقصان پہنچ جائے۔

2 - فأصلحوا...
دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا دیا کرو. تمام ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

3- وأقسطوا...
ہر جھگڑے کو حل کرنے کی کوشش کرو اور دو گروہوں کے درمیان انصاف کرو. الله کریم انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

4 - لا يسخر...
کسی کا مذاق مت اڑاؤ. ہو سکتا ہے کہ وہ الله کے نزدیک تم سے بہتر ہو۔

5 - ولا تلمزوا...
کسی کو بے عزّت مت کرو۔

6- ولا تنابزوا...
لوگوں کو برے القابات (الٹے ناموں) سے مت پکارو.

7- اجتنبوا كثيرا من الظن...
برا گمان کرنے سے بچو کہ کُچھ گمان گناہ کے زمرے میں آتے ہیں۔

8 - ولا تجسَّسُوا...
ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو۔

9- ولا يغتب بعضكم بعضا...
تُم میں سےکوئی ایک کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے کہ یہ گناہ کبیرہ ہے اور اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔
(سورہ الحجرات)

الله کریم اخلاص کیساتھ عمل کرنیکی تو فیق دے۔
آمین یارب العامین.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 انسان سے بندہ 🌺

ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻝ ﮐﺮ رﻭﮈ ﭘﺮ ﭼﻼ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ کہﺍﯾﮏ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﭨﮩﻨﯽ اٹھائی ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ ﺭﮔﮍ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ:
"ﻟﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ....."

🌹ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺩﻭ.

🌺ﺟﻮ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﮐﺮﻭ، ﺟﻮ ﭼﮭﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ.

🌸ﺟﻮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭ، ﺟﻮ
ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎؤ.

🌼ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ، ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎؤ ﮔﮯ، ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺟﻤﻊ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ.

🌷ھﺠﻮﻡ ﺳﮯ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮐﺮﻭ، ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﻨﺎؤ.

🌻ﺟﺴﮯ ﺧﺪﺍ ﮈﮬﯿﻞ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ.

🍀ﺑﻼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﭻ ﻓﺴﺎﺩ ﮨﻮﺗﺎ ھﮯ.
ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﺳﭻ ﺑﻮﻟﻮ، ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﭼﭗ ﺭﮨﻮ.

🌿ﻟﻮﮒ ﻟﺬﺕ چاھتے ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﺬﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ اچھا ھو، ضروری نہیں.

🌾ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﯿﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻞ ﺟﺎؤ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ.

🌱ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ھے، ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻏﻢ.

🍁ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺭﮎ ﺟﺎؤ ﮔﮯ.

🍃ﭼﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﭼﻮﺭ ﮨﻮ ﺟﺎؤ ﮔﮯ.

☔ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ سب ﺭﺍﺿﯽ ﺭھیں گے. ﻭﮦ اگر ﻧﺎﺭﺍﺽ ھوا ﺗﻮ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﮌ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ.

❄نیک لوگوں ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎ نیک انسان ﺟﺎﮒ ﺟﺎﺋﮯ گا.

🍂ﺗﻢ ﺟﺐ ﻋﺰﯾﺰﻭﮞ، ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ، ﺍﻭﻻﺩ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﮍﻧﮯ ﻟﮕﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﻮ کہ ﺍللہ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ھﮯ.
اور ﺟﺐ تم ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﺣﻢ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﻮ ﺗﻮ ﺳﻤﺠھ ﻟﻮ کہ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺧﺎﻟﻖ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ھے.

🌴ھﺠﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺒﮭﯽ نقصان ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ."

☔ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯽ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﮐﮭﻮﻟﯽ،
ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﺟﺎؤ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺭﺣﻤﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﯾﮧ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺭﮨﮯ.
ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﺎ:
ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﻧﺎ.
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﯾﻨﺎ.
ﯾﮧ ﺍللہ ﮐﯽ ﺳﻨﺖ ھﮯ،
اللہ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺗﺎ. ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺗﯽ ھﮯ.

🌹ﺍﻭﺭ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﺎ:
"ﺟﻮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺭھﺎ ﮨﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ."
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍللہ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ھے...
ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺭﮐﮭﺘﺎ ھﮯ.

ﺗﻢ ﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭھﻨﺎ....
"ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ میلہ ﻟﮕﺎ ﺭھﮯ ﮔﺎ."

ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ.

👆 ایک مراسلہ 👆

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 علامہ اقبال 🌹

منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مل جائے تجھکو دریا تو سمندر تلاش کر
🌹🌹🌹

ہرشیشہ ٹوٹ جاتا ہےپتھر کی چوٹ سے
پتھر ہی ٹوٹ جائے.. وہ شیشہ تلاش کر
🌹🌹🌹

سجدوں سےتیرےکیاہواصدیاں گزرگئیں
دنیا تیری بدل دے.. وہ سجدہ تلاش کر
🌹🌹🌹

ایمان تیرا لُٹ گیا رہزن کے ہاتھوں سے
ایماں تیرا بچا لے .... وہ رہبر تلاش کر
🌹🌹🌹

ہرشخص جل رہاہےعداوت کی آگ میں
اس آگ کو بجھادے وہ پانی تلاش کر
🌹🌹🌹

کرے سوار اونٹ پہ.. اپنے غلام کو......!!
پیدل ہی خود چلے جو وہ آقا تلاش کر.
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹


🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ہاتهی کی رسی 🔷

ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ بہت ﺑﮍﮮ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻨﺪﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ ﺍُﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺟﻨﺎﺏ! ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺑﮍﯼ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺳﯽ ﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺭﺳﯽ ﺗﮍﻭﺍ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮒ ﻧﮑﻼ ﺗﻮ.....؟؟

ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﻧﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ:
ﺟﺐ ﮨﻢ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﭘﺎﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍِﺳﯽ ﺭﺳﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺳﮯ ﺑﺎﻧﺪﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ. ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺗﻮﮌ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ. ﺑﺲ ﺍﺱ ﺩﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺟﺘﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮯﺑﺲ ﮨﮯ. ﻟﮩٰﺬﺍ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍُﺳﯽ ﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ.


■ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ لوگوں کی مثال اس ہاتھی کی جیسی ہے کیونکہ لوگ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ.

آپ میں خود کو بدلنے کی استعداد و طاقت موجود ہے صرف قدم اٹھانے کی ضرورت ہے. خود کو اس طرح بدل ڈالئے جس طرح ہمارا اللہ چاہتا ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 گدھے کی فروخت 🔷

ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا۔ گدھا لے لو۔ پانچ سو روپے میں گدھا لے لو۔
گدھا انتہائی کمزور اور لاغر قسم کا تھا۔
وہاں سے بادشاہ کا اپنے وزیر کے ساتھ گزر ہوا،
بادشاہ وزیر کے ساتھ گدھے کے پاس آیا اور پوچھا کتنے کا بیچ رہے ہو؟
اس نے کہا عالی جاہ! پچاس ہزار کا.

بادشاہ حیران ہوتے ہوئے، اتنا مہنگا گدھا؟ ایسی کیا خاصیت ہے اس میں؟

وہ کہنے لگا حضور جو اس پر بیٹھتا ہے اسے مکہ مدینہ دکھائی دینے لگتا ہے۔

بادشاہ کو یقین نہ آیا اور کہنے لگا اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو ہم ایک لاکھ کا خرید لیں گے.
لیکن اگر جھوٹ ہوئی تو تمہارا سر قلم کر دیا جائے گا.
ساتھ ہی وزیر کو کہا کہ اس پر بیٹھو اور بتاؤ کیا دکھتا ہے؟

وزیر بیٹھنے لگا تو گدھے والے نے کہا جناب مکہ مدینہ کسی گنہگار انسان کو دکھائی نہیں دیتا۔

وزیر: ہم گنہگار نہیں، ہٹو سامنے سے۔ اور بیٹھ گیا لیکن کچھ دکھائی نہ دیا۔
اب سوچنے لگا کے اگر سچ کہہ دیا تو بہت بدنامی ہوگی،
اچانک چلایا سبحان اللہ، ما شاءاللہ، الحمدللہ کیا نظارہ ہے مکہ، مدینہ کا۔

بادشاہ نے تجسس میں کہا ہٹو جلدی ہمیں بھی دیکھنے دو اور خود گدھے پر بیٹھ گیا...
دکھائی تو اسے بھی کچھ نہ دیا لیکن سلطانی جمہور کی شان کو مدنظر رکھتے ہوئے آنکھوں میں آنسو لے آیا
اور کہنے لگا واہ میرے مولا واہ، واہ سبحان تیری قدرت، کیا کراماتی گدھا ہے،
کیا مقدس جانور ہے...
میرا وزیر مجھ جتنا نیک نہیں تھا اسے صرف مکہ مدینہ دکھائی دیا مجھے تو ساتھ ساتھ جنت بھی دکھائی دے رہی ہے.

اس کے اترتے ہی عوام ٹوٹ پڑی کوئی گدھے کو چھونے کی کوشش کرنے لگا، کوئی چومنے کی، کوئی اس کے بال کاٹ کر تبرک کے طور پر رکھنے لگا وغیرہ وغیرہ....
یہی حال کچھ ہمارے سماج میں بس رہے کچھ جعل سازوں اور مکاروں کا ہے جنہوں نے جمہوریت اور دین کے نام پر فریب دینے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے اور سادہ لوح عوام بھی اندھے کانے بن کر پیچھے چلے پڑتے ہیں.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 مصلحت پسندی یا جہالت 🔷

پرانے وقتوں میں لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے، انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ ہے کہ....!
"ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور ٹھگنے کا پروگرام بنایا۔ چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ وہ دیہاتی کچھ آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ اس سے آکر ملا اور بولا:
بھائی یہ کتا کہاں لے کر جارہے ہو؟

دیہاتی نے اسے گھور کر دیکھا اور بولا:
بیوقوف تجھے نظر نہیں آ رہا کہ یہ بکرا ہے کتا نہیں.

دیہاتی کچھ اور آگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ٹکرایا۔ اس نے کہا:
یار یہ کتا تو بڑا شاندار ہے کتنے کاخریدا؟
دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا.

اب دیہاتی تیز قدموں سے اپنے گھر کی جانب بڑھنے لگا مگر آگے تیسرا ٹھگ تاک میں بیٹھا تھا جس نے پروگرام کے مطابق کہا:
جناب یہ کتا کہاں سے لیا؟

اب دیہاتی تشویش میں مبتلا ہو گیا کہ کہیں واقعی کتا تو نہیں۔ اسی شش و پنج میں مبتلا وہ باقی ماندہ راستہ کاٹنے لگا۔ بالآخر چوتھے ٹھگ سے ٹکراؤ ہوگیا جس نے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی اور بولا:
جناب کیا اس کتے کو گھاس کھلاؤ گے؟
اب تو دیہاتی کے اوسان خطا ہو گئے اوراس کا شک یقین میں بدل گیا کہ "یہ واقعی کتا ہے." وہ اس بکرے کوچھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا.
یوں ان چاروں ٹھگوں نے بکرا ٹھگ لیا...

■ آج ہمارا معاشرہ بھی دوسری نوعیت کے ٹھگوں کی یلغار میں ہے۔ یہ ٹھگ دراصل ہمارے ایمان کے ٹھگ ہیں، یہ نہیں چاہتے کہ لوگ سچائی کی راہ پر چلیں، یہ ایمانداری کے خلاف اتنی دلیلیں دیتے ہیں کہ ایک ایماندار شخص مصلحت پسندی کا شکار ہو جاتا ہے...
یہ ناجائز منافع خوری کو حق ثابت کر کے دوسرے لوگوں کو بھی اس قبیح فعل پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ عبادات کو رسومات بنا کر لوگوں کو خدا سے دور کرتے ہیں۔ یہ نکاح کو زنا کے مترادف قرار دے کر خاندانی نظام کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ یہ ہوس کو محبت کا نام دے کر نوجوان نسل کو گمراہ کرتے ہیں۔ یہ مذہب کو کلچر سے تعبیر دے کر لوگوں کو اس سے متنفر کرتے ہیں۔
● غرض یہ ٹھگ اس جدید دنیا کے ماڈرن شیطان ہیں۔ یہ ہمارے پاس اپنی قبیح شکل میں نہیں آتے بلکہ یہ سوٹ بوٹ میں ملبوس ہو کر ہمار ے ہمدرد بن کر یہ ساری کارروائی کرتے ہیں....

■ اس پوری صورتحال سے بچنے کے لیے ایک صالح مومن کو دو تدابیر اختیار کرنی ہیں..
"ایک تو یہ کہ وہ حق وباطل کے میعار کو عوام الناس کی رائے سے اخذ کرنے کی بجائے وحی اور مسلمہ اخلاقی اصولوں سے اخذ کرے۔"
"دوسرا یہ کہ وہ ان شیطانوں کو پہچانے اور ان کی باتوں کو اہمیت نہ دے ورنہ اس کاحشر اس دیہاتی کی طرح ہوگا جو بکرے کو کتا سمجھ بیٹھا تھا۔"

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 خود اعتمادی 🌹

زندگى جدوجہد، كوشش اور جستجو كا نام ہے. ہر انسان كو زندگى بھر ميں سينكڑوں بلكہ ہزاروں مشكلات كا سامنا كرنا پڑتا ہے. زندہ رہنے اور زندگى گزارنے كے ليے اسے عالم طبيعت كى قوتوں سے ناچار جنگ كرنا پڑتى ہے اور انہيں تسخير كرنا پڑتا ہے. بيماريوں اور ان كے اسباب كے خلاف لڑنا پڑتا ہے. زيادتیوں اور آرام و آزادى كے خلاف مزاحمت كرنے والے عوامل كے خلاف جدوجہد كرنا پڑتى ہے.
كارزار زندگى ميں وہى كامياب ہے جس كا دل بڑا ہو، ہمت بلند ہو. اور ارادہ قوى ہو. ہر كسى كى خوش بختى يا بدبختى كى بنياد خود اس كے اندر موجود ہے.

دنيا كے بڑے انسان كى درخشان كاميابيوں كا سبب ان كى خود اعتمادى، قوت ارادى اور مسلسل كوشش رہى ہے.

عظيم اور قوى لوگ زندگى كى مشكلات سے نہيں دڑتے. وہ ذاتى استقلال اور خدا پر بھروسہ كرتے ہوئے ان كے خلاف برسرپيكار ہوتے ہيں اور ہمت باندھ كے جدوجہد كرتے ہيں اور انہيں مغلوب كر ليتے ہيں. ہمت اور عالمى حوصلگى ہر مشكل كو آسان بناديتى ہے بلكہ جو چيز دوسروں كے ليے محال ہوتى ہے اسے ممكن بناديتى ہے وہ زندگى كے گہرے سمندر ميں كسى تنكے كى مانند نہيں ہوتے كہ جو فقط لہروں كے سہارے ادھر ادھر بھٹكتے رہيں بلكہ ايک ماہر پيراک كى طرح اپنے قوى بازوؤں، آہنى ارادوں اور توكل الى اللہ سے جس طرف كو چاہتے ہيں تيرتے ہيں بلكہ دنيا كے واقعات كا رخ بدل ديتے ہيں.

ہر انسان اپنے ذاتى استقلال، خوداعتمادى، ارادے اور جدوجہد سے اپنى زندگى ميں كامياب ہوتا ہے. دين مقدس اسلام ميں بھى دنياوى اور اخروی كاميابى و ناكامى كو انسان كے اعمال اور كوشش كا نتيجہ قرار ديا گيا ہے.
■ چنانچہ قرآن مجيد ميں فرمايا گيا ہے:
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى‏ / وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى‏.
ترجمہ:
انسان كے ليے جو كچھ بھى ہے وہ اس كى كوشش كا ماحصل ہے اور وہ جلد اپنى سعد كو (مجسّم) ديكھ لے گا. (نجم: 39، 40)

● اميرالمؤمنين حضرت علیؑ فرماتے ہيں:
"الصوء بہمّتہ"
ہر كسى كى قيمت اس كى ہمت كے مطابق ہے. (نہج البلاغہ، ج3، ص:163)

جو شخص خود استقلال اور خوداعتمادى كا حامل ہو وہ مشكلات كے حل کے ليے دوسروں كا منتظر نہيں رہتا بلكہ اپنى بلند ہمتى اور پختہ ارادے كے ذريعے ميدان عمل ميں كود پڑتا ہے اور جب تک اپنے مقصد كو پا نہيں ليتا كوشش اور جدّوجہد سے دستبردار نہيں ہوتا.

● امام سجّاد عليہ السلام فرماتے ہيں:
تمام اچھائياں اس امر ميں جمع ہيں كہ انسان دوسروں كے بھروسے پر نہ بيٹھا رہے. (اصول كافى، ج2، ص:148)

● امام جعفر صادقؑ فرماتے ہيں:
مومن كى عزت اور بزرگى كا راز يہ ہے كہ وہ لوگوں كے ہاتھوں ميں موجود چيز سے اميد وابستہ نہ ركھے. (اصول كافى، ج2، ص:148)

■ البتہ خوداعتمادى سے محروم افراد اپنى ذات پر بھروسہ نہيں كرتے وہ اپنے تئيں حقير اور ناتوان سمجھتے ہيں، زندگى كے مسائل كا سامنا كرنے سے گھبراتے ہيں اور ان كے ساتھ مقابلے كى جرأت سے عارى ہوتے ہيں. وہ مشكل كاموں اور ذمہ داريوں سے بھاگتے ہيں. منفى سوچوں اور یاس و نااميدى كى وجہ سے ممكن كاموں كو بھى محال بنا كر پيش كرتے ہيں. اپنى زندگى كو محرومى اور كنارہ كشى كے عالم ميں گزار ديتے ہيں.

■ اب جب كہ استقلال اور خود اعتمادى كى اہميّت واضح ہوگئی ہے، اس امر كى ياددہانى بھى ضرورى ہے كہ اس انسانى كمال كى بنياد ہر انسان كے اپنے وجود ميں مخفى ہے ليكن تربيت اور تكامل كى محتاج ہے.

● تربيت كا بہترين اور حسّاس ترين زمانہ بچپن كا دور ہے. روح انسانى ميں استقلال اور خوداعتمادى كى بنياد بچپن ہى ميں پڑجاتى ہے. چنانچہ بے اعتمادى اور قوت ارادى سے محرومى كا سرچشمہ بھى بچپن كى غلط تربيت ہى ہے.
وہ ماں باپ جو اپنے بچوں سے محبت ركھتے ہيں اور انہيں اپنى ذمہ دارى كا احساس بھى ہے، انہيں چاہيے كہ اپنى اولاد كى تربيت كريں اور آئندہ كى زندگى كے ليے انہيں تيار كريں. اس صورت ميں وہ اپنے فريضے پر بھى عمل كريں گے اور اپنى كاميابى كے اسباب بھى فراہم كريں گے.

● امام زین العابدینؑ فرماتے ہيں:
اپنى اولاد كى اس طرح سے تربيت كر كہ وہ تيرى عزت و سربلندى كا باعث بنے. (تحف العقول، ص:269)

چار سال كى عمر سے لے كر آٹھ سال كى عمر تک شخصيّت كى پرورش، استقلال، اور خوداعتمادى پيدا كرنے كا بہترين دور ہے. اس زمانے ميں بچہ استقلال كى طرف ميلان ركھتا ہے اور اپنے آپ كو مشكلات سے مقابلے كے ليے تيار كرتا ہے. كم سن بچہ اگر چہ اپنى كمزورى كا احساس بھى ركھتا ہے اور وہ كسى بڑى طاقت كے زير سايہ رہنا چاہتا ہے تاہم استقلال اور خوداعتمادى كى طرف ميلان بھى اس كى ذات ميں چھپا ہوتا ہے. وہ چاہتا ہے كہ اپنى ضروريات كو پورا كرے اور ذاتى استقلال حاصل كر لے. وہ نئے نئے كاموں اور اپنى ايجادات سے بہت خوش ہوتا ہے اور فخر سے انہيں دوسروں كو دكھاتا ہے. آپ کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے ذریعے بچے کی شخصیت اور استقلال کی تدریجا تکمیل ہوتی جائے گی.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ مایوسی گناہ ہے ⭕

ایک آدمی نے ایک بڑی کمپنی میں آفس بوائے کی نوکری کے لیے اپلائی کیا... مالک نے اس سے انٹرویو کیا... اسے کہا کہ تمہیں میں ملازمت دے رہا ہوں۔ مجھے اپنا ای میل ایڈریس دو تاکہ باقی کی فارمیلٹی کب کام پر آنا ہے وغیرہ وغیرہ اس میں بھیج دوں.
"آدمی نے کہا سر میرے پاس نہ کمپيوٹر ہے اور نہ ہی میرا کوئی ای میل ایڈریس ہے." میں معذرت خواہ ہوں یہ نوکری پھر آپکو نہیں مل سکتی ہے۔ مالک نے جواب دیا...
وہ آدمی خاموشی سے اٹھا اور وہاں سے نکل آیا...
مگر اب وہ سوچ رہا تھا کہ کیا کرے کیونکہ اب اسکے پاس بس 10 ڈالر تھے اسکے پاس کوئی چارہ نہ بچا تو مارکیٹ گیا اور دس ڈالر سے ٹماٹر خریدے اور گھر، گھر جا کر بیچنے لگا تین گھنٹوں میں اسنے 60 ڈالر کمالیے. تو اسکو لگا کہ میں اس طرح گذارا کرسکتا ہوں، وہ ٹماٹر بیچتا رہا اور اسکو منافع ہوتا رہا. دوکان بنائی، پھر مارکیٹ بنا ڈالی کوئی پانچ سال کے بعد اسکی مارکیٹ اس علاقے میں سب سے بڑی مارکیٹ بن گی۔۔
ایک دن اس نے اپنی فیملی کے لیے لائف انشورنس خریدنے کا سوچا۔ انشورنس ایجنٹ سے سب طے ہوا آخر میں اس نے کہا، جناب مجھے اپنا ای میل دیں باقی کی تفصیل میں میل کــر دوں گا آدمی نے کہا میرا ای میل نہیں ہے ایجنٹ نے حیران ہوکر کہا۔۔ سر آپ اتنے کامیاب آدمی ہیں سوچیں اگر ای میل ایڈریس بھی ہوتا تو کتنے کامیاب ہوتے اور کہاں کے کہاں پہنچے ہوتے؟
آدمی نے رک کر ذرا پیچھے مڑ کر سوچا اور کہا ہاں معلوم ہے...
"ایک آفس بوائے ہوتا."

ياد رکھيے۔ کبھی بھی مایوس نہ ہوں اگر كبهى ایک دروازہ کسی کے لیے نہیں کھلتا تو اسكى جگہ اللّٰہ تعالٰی کئی اور دوسرے دروازے کھول ديتا ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ بد گمانی ⭕

🌹 ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﻗﺒﻞ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺯﻣﺖ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﻢ ﻭ ﺑﯿﺶ ﺳﺐ ﮨﯽ ﺧﻮﺵ ﻣﺰﺍﺝ ﻟﻮﮒ ﺗﮭﮯ. ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ. ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﻮ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﮔﻮﺍﺭﺍ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺬﺍﻕ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﺎ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ. ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺁﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﮐﯿﺴﺎ ﺑﺪﻣﺰﺍﺝ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﮯ. ﺷﺎﺋﺪ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﭼﻤﮍﯼ ﭘﺮ ﻧﺎﺯﺍﮞ ﮨﮯ..... ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ.
ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﻤﺎﻋﺖ ﺳﮯ ﺟﺰﻭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﮯ. ﺍﺳﻠﺌﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ. ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮔﮭﮍﻭﮞ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﺪﮔﻤﺎﻥ ﺭﮨﺎ..!

🌹 ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ.. ﻭﮦ ﮈﺑﻞ ﺭﻭﭨﯽ ﯾﺎ ﭼﭙﺲ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﮐﺎﻓﯽ ﺳﺎﺭﺍ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﺎ.
ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺴﺎ ﻧﺎﺷﮑﺮﺍ ﮨﮯ. ﺭﺯﻕ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺣﺮﻣﺘﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ. ﺍﺳﮯ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ. ﺍﮔﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﮮ. ﯾﮩﯽ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﭼﻤﮑﺘﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ "ﺑﮭﺎﺋﯽ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ.. ﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮈﺍﻟﺘﺎ ﮨﻮﮞ. ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺭﺯﻕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ.. ﻣﯿﮟ ﭨﮭﭩﮭﮏ ﮐﺮ ﺭﮎ ﮔﯿﺎ.. ﻣﯿﮟ ﺟﺴﮯ ﻧﺎﺷﮑﺮﺍ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﻧﺎﺗﻮﺍﮞ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﻮ ﺭﺯﻕ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺑﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ. ﻧﺪﺍﻣﺖ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮ ﺟﮭﮏ ﮔﯿﺎ.

🌹 ﯾﮩﺎﮞ ﺍﻧﮕﻠﯿﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺍﺝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﯾﺴﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭں ﺟﯿﺴﺎ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ. ﺟﯿﺴﮯ ﺟﻤﺸﯿﺪ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ 'ﺟﻢ' ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺗﯿﻤﻮﺭ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ 'ﭨﻢ' ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﻏﯿﺮﮦ...
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻋﻼﻗﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﮔﻮﺭﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﻣﺤﻤﺪ ﮐﻮ 'ﻣﻮ' ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺑﻼ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ. ﻣﺠﮭﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﺮﯾﻦ ﻧﺎﻡ ﮐﻮ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﮐﯿﺴﺎ ﮐﺮﮈﺍﻻ؟ ﺻﺮﻑ ﺍﺳﻠﺌﮯ ﮐﮧ ﮔﻮﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺳﺒﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ؟
ﺍﺳﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ. ﻭﺍﭘﺲ ﮔﮭﺮ ﺁﮔﯿﺎ.
ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﻌﺪ ﭘﮭﺮ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﮯ. ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﮔﯿﺎ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ 'ﻣﻮ' ﮐﺮ ﺩﯾﺎ، ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ...!
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻋﻈﯿﻢ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﻏﺼﮧ ﯾﺎ ﻣﺬﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ. ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺒﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎﺯﯾﺒﺎ ﮐﻠﻤﮧ ﯾﮧ ﮐﮩﯿﮟ.. ﻟﮩٰﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ 'ﻣﻮ' ﻟﮑﮭﻮﺍ ﺩﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﯾﮧ 'ﻣﻮ' ﮐﻮ ﮔﺎﻟﯽ ﺩﯾﮟ، 'ﻣﺤﻤﺪ' ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ..!
ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﺎﭨﻮ ﺗﻮ ﻟﮩﻮ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺩﮨﻞ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺁﺝ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﯾﮧ ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﮔﻤﺎﻧﯽ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﺘﺎ. ﻭﮦ ﺣﺮﮐﺖ ﺟﺴﮑﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﺴﺘﺎﺧﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ. ﻭﮦ ﺗﻮ ﺣﺐ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺎ ﺍﻋﻠﯽ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﺗﮭﯽ.

■ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺟﺎﻥ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ. ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﮧ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﮯ. ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﮔﻤﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﻮﮞ ﮔﺎ..!

■ میرے ﺭﺏ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺳﭻ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ...
''ﺍﮮ ﻭﮦ ﻟﻮﮔﻮ ﺟﻮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﮯ ﮨﻮ، ﮔﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺑﻌﺾ ﮔﻤﺎﻥ ﺻﺮﯾﺢ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؛ ﺍﻭﺭ ﭨﻮﮦ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﻟﮕﻮ.
(ﺳﻮﺭةﺍﻟﺤﺠﺮﺍﺕ:١٢)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ پردہ پوشی ⭕

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﭘﺴﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﺩﮐﮫ ﺩﺭﺩ ﺑﺎﻧﭩﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭨﺎﻧﮓ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺍٓﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﮐﮯ ﻣﺎﮨﺮ ﻣﺼﻮﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺑﻨﻮﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﻠﻮﺍ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺷﺮﻁ ﭘﺮ، ﮐﮧ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮑﮯ ﯾﮧ ﻋﯿﻮﺏ ﻧﮧ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﮟ۔
ﺳﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺼﻮﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
وہ ﺑﮭﻼ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺟﺐ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ۔ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﺍُﺳﮯ ﺩﻭ ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﺩﮐﮭﺎﺗﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﭨﺎﻧﮓ ﺳﮯﺑﮭﯽ ﻣﻌﺰﻭﺭ ﺗﮭﺎ۔

ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺍﺟﺘﻤﺎﻋﯽ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﮨﻮﺷﯿﺎﺭ ﻣﺼﻮﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﺁﭘﮑﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮨﮑﺎﺭ ﺗﮭﯽ.

ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ؟؟
ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮ ﮐﻤﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍٓﻧﮑﮫ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﺍٓﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﭨﺎﻧﮓ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﻌﺰﻭﺭ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﭨﺎﻧﮓ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎﺋﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺑﮍﯼ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﮯ ﻋﯿﺐ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯﺍﺱ ﻣﺼﻮﺭ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻋﯿﺐ ﭘﻮﺷﯽ ﭘﺮ ﺑﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ۔

ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺳﺘﻮ! ﯾﮧ ﺻﺮﻑ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﺒﻖ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍِﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﻋﯿﺐ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﺮﯾﻢ ﺳﮯ ﺍﻧﻌﺎﻣﺎﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍٓﺝ ﺍﺱ ﻧﻔﺴﺎﻧﻔﺴﯽ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﻋﯿﺐ ﺍﭼﮭﺎﻟﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﮯ۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯽ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﻋﯿﺐ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔ ﺍٓﺝ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﯿﻮﺏ ﭘﺮ ﭘﺮﺩﮦ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﻞ ﺍﻥ ﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺭﺣﯿﻢ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻋﯿﻮﺏ ﺳﮯ ﺩﺭﮔﺰﺭ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﺗﻮ ﺍٓﺝ ﺳﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﻋﯿﻮﺏ ﮐﻮ ﭼﮭﭙﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﺧﻮﺍﮦ ﺍﻧﮑﮯ ﻋﯿﺐ ﮐﺘﻨﮯ ﮨﯽ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﯽ ﻧﻈﺮ ﺁ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ. ﺍُﻧﮑﮯ ﻋﯿﺒﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﺮﺩﮦ ﭘﻮﺷﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻋﯿﺒﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔

🌹 ﺍﯾﮏ ﺣﺪﯾﺚ ﭘﺎﮎ ﮐﺎ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ!!
"ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﭘﺮﺩﮦ ﭘﻮﺷﯽ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺮﺩﮦ ﭘﻮﺷﯽ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ."
(ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻭ ﻣﺴﻠﻢ)

ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻋﯿﺒﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﺮﺩﮦ ﮈﺍﻟﻮ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻋﯿﺒﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﺮﺩﮦ ﭘﻮﺷﯽ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺩﮮ۔ ﺍٓﻣﯿﻦ.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 ﻗﺮﺁﻥ مجید کا ﭘﮍهنا 🌹

ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﺷﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﯾﮏ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ. ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﮨﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﮯ لئے ﻧﺎﺯﻝ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ کی ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﮯ لئے ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ. ﯾﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﭘﺮ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ ﺳﮯ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ. ﯾﮧ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﻧﺒﯽ ‏(ﺹ) ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﻠﯽ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﮨﮯ.
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻟﻮﮒ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻓﻼﺡ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ.

ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﺎ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﯽ ﺑﮩﺖ ﺍﺟﺮ ﻋﻈﯿﻢ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﻠﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﮏ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ.

ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﺎﮐﯿﺪ ﮐﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺑﻨﺎﮰ ﺭﮐﮭﯿﮟ.

ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﺑﺎﺭﯼ تعالٰی ﮨﮯ ﮐﮧ
"ﺍﻟَّﺬِﻳﻦَ ﺁﺗَﻴْﻨَﺎﻫُﻢُ ﺍﻟْﻜِﺘَﺎﺏَ ﻳَﺘْﻠُﻮﻧَﻪُ ﺣَﻖَّ ﺗِﻼَﻭَﺗِﻪِ ﺃُﻭْﻟَـﺌِﻚَ ﻳُﺆْﻣِﻨُﻮﻥَ ﺑِﻪِ ﻭَﻣﻦ ﻳَﻜْﻔُﺮْ ﺑِﻪِ ﻓَﺄُﻭْﻟَـﺌِﻚَ ﻫُﻢُ ﺍﻟْﺨَﺎﺳِﺮُﻭﻥَ ." (ﺳﻮﺭۃﺍﻟْﺒَﻘَﺮَﮦ:121‏)
ﺗﺮﺟﻤﮧ:
(ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ‏) ﺟﻨﮩﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﺘﺎﺏ ﺩﯼ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ، ﻭﮨﯽ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ‏(ﮐﺘﺎﺏ‏) ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻮ ﻭﮨﯽ ﻟﻮﮒ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ.

ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﮐﮯ لئے ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﻌﻮﺙ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ بتائے ﮨﻮئے ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺑﺴﺮ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ لئے ﺍﯾﮏ ﻋﻤﻠﯽ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ. ﻗﺮﺁﻥ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮئے ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
"ﺭَﺑَّﻨَﺎ ﻭَﺍﺑْﻌَﺚْ ﻓِﻴﻬِﻢْ ﺭَﺳُﻮﻻً ﻣِّﻨْﻬُﻢْ ﻳَﺘْﻠُﻮ ﻋَﻠَﻴْﻬِﻢْ ﺁﻳَﺎﺗِﻚَ ﻭَﻳُﻌَﻠِّﻤُﻬُﻢُ ﺍﻟْﻜِﺘَﺎﺏَ ﻭَﺍﻟْﺤِﻜْﻤَﺔَ
ﻭَﻳُﺰَﻛِّﻴﻬِﻢْ ﺇِﻧَّﻚَ ﺃَﻧﺖَ ﺍﻟﻌَﺰِﻳﺰُ ﺍﻟﺤَﻜِﻴﻢُ." ‏(ﺳﻮﺭۃﺍﻟْﺒَﻘَﺮَﮦ:129)
ترجمہ:
ﺍﮮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺭﺏ! ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ‏(ﻭﮦ ﺁﺧﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮔﺰﯾﺪﮦ) ﺭﺳﻮﻝ ﻣﺒﻌﻮﺙ ﻓﺮﻣﺎ ﺟﻮ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﺗﻼﻭﺕ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﮮ ‏(ﮐﺮ ﺩﺍﻧﺎﺋﮯ ﺭﺍﺯ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ) ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ‏(ﮐﮯ ﻧﻔﻮﺱ ﻭ ﻗﻠﻮﺏ) ﮐﻮ ﺧﻮﺏ ﭘﺎﮎ ﺻﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﮮ، ﺑﯿﺸﮏ ﺗﻮ ﮨﯽ ﻏﺎﻟﺐ ﺣﮑﻤﺖ ﻭﺍﻻ ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
📖 تلاوت قرآن 📖

ایک پہاڑی علاقے میں ایک بزرگ اپنے نوجوان پوتے کے ساتھ رہتے تھے۔ وہ ہر روز صبح سویرے قرآن کی تلاوت کیا کرتے۔ پوتا بھی ہمیشہ ان جیسا بننے کی کوشش کرتا۔ ایک دن پوتا کہنے لگا:

دادا جان! میں بھی آپ کی طرح قرآن پاک پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی۔ اور جو سمجھ آئے، جیسے ہی قرآن بند کروں، بھول جاتا ہوں۔ ایسے میں قرآن پڑھنے سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟

دادا جی نے خاموشی سے کوئلوں والی ٹوکری میں سے کوئلے نکال کر انگیٹھی میں ڈالے۔ پھر ٹوکری پوتے کو دے کر کہا:

جا پہاڑ کے نیچے بہتی ندی سے مجھے پانی کی ٹوکری بھر کر لا دے.

لڑکے نے دادا جی کی بات پر عمل کیا. لیکن واپس پہنچنے تک سارا پانی ٹوکری کے سوراخوں میں سے بہہ گیا۔

دادا جی مسکرائے اور کہا:
تم اس دفعہ اور زیادہ تیز قدم اٹھانا. یہ کہہ کر پوتے کو واپس بھیج دیا.

لیکن اس بار وہ بالٹی میں پانی لے آیا۔

دادا جی نے کہا:
مجھے بالٹی نہیں ٹوکری میں پانی چاہیے۔ تم ٹھیک سے کوشش نہیں کر رہے. اسے پھر نیچے بھیج کر وہ دروازے میں کھڑے دیکھنے لگے کہ پوتا کتنی سعی کرتا ہے۔

لڑکے کو علم تھا کہ سوراخوں بھری ٹوکری میں پانی بھرنا ناممکن ہے۔ بہرحال دادا جی کو دکھانے کے لیے ٹوکری پانی سے بھری اور انتہائی سرعت سے واپس دوڑ پڑا۔ لیکن پہنچنے تک ٹوکری میں سے پھر پانی بہہ چکا تھا اور وہ خالی تھی۔

لڑکے نے کہا:
دیکھا دادا جان! اس میں پانی بھرنا بےسود ہے.

دادا جی کہنے لگے:
بیٹا! ٹوکری کی طرف دیکھو.

اب نوجوان کو پہلی بار احساس ہوا کہ ٹوکری پہلے سے بہت مختلف لگ رہی تھی۔ وہ پرانی اور گندی ٹوکری اندر باہر سے صاف ستھری ہو چکی تھی۔

دادا جی نے کہا:
بیٹا! ذرا دیکھو، کوئلوں سے سیاہ ہوئی ٹوکری بار بار پانی کے دھونے سے منزہ ہو گئی۔ اسی طرح جب ہم تلاوت قرآن کریں، تو چاہے اس کا ایک لفظ بھی نہ سمجھ پائیں، تلاوت ہمیں اندر اور باہر سے ایسے ہی پاک صاف کر دیتی ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ ہماری زندگی بدل دیتا ہے۔

🔘 قرآن پڑھا کریں ۔۔۔ ہم بھی سب وہ ٹوکریاں ہیں جس میں سوراخ ہیں،،، عربی ہم میں سے کس کو آتی ھے؟ شاید 30 فیصد لوگوں کو عربی آتی ھے، باترجمہ سمجھ لیتے ھیں، کوشش کریں قرآن پڑھا کریں ۔۔۔ ایسا کرنا ضائع اور بیکار نہیں جائے گا.

🌹 ارشاد خداوندی ہے:
ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے واسطے آسان کر دیا ہے تو ہے کوئی جو نصیحت حاصل کرے۔ (سورہ القمر ایت17)

🌹 حضرت رسول اکرمؐ نے فرمايا:
اپنے بچوں کو تین خصلتوں کی تعلیم دو۔
1۔ پیغمبر اسلامؐ کی محبت،
2۔ ان کی آلؑ کی محبت،
3۔ قرآن مجید کی محبت۔
(احقاق الحق،جلد18)

🌹 رسول اکرمؐ نے فرمايا:
جو شخص ماہ رمضان میں قرآن مجید کی ایک آیت تلاوت کرے تو اس کے لئے دوسرے مہینوں میں قرآن ختم کرنے کا ثواب خداوند عنایت فرمائے گا۔ (مفاتیح الجنان)

🌹 حضرت رسول اکرمؐ نے فرمایا:
مؤمن جب قرآن کی تلاوت کرنا ہے تو اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اس کے منہ سے نکلنے والے ہر حرف کے بدلے میں خدا ایک فرشتہ خلق فرماتا ہے جو قیامت تک اس کے لئے استغفار کرتا رہتا ہے۔ بے شک علم حاصل کرنے کے بعد خدا کے نزدیک قرات قرآن سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ (بحارالأنوار، جلد92)

🌹 حضرت امام علیؑ نے فرمايا:
ایمان کی کامیابی قرآن کی تلاوت (سے) ہے۔ (غررالحکم)

🌹 امام محمد باقرؑ نے فرمايا؛
ہر چیز کے لیے ایک بہار ہوا کرتی ہے، قرآن کی بہار ماہ رمضان ہے۔ (اصول کافی، ج2، ص630، ح10)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزيد پوسٹیں دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں ۔۔۔

🔵 قرآن کی بہترین دعائیں
https://t.me/islamwitheman/37

🌹 قرآن مجید کا پڑھنا
http://t.me/islamwitheman/284

📖 تلاوت قرآن
http://t.me/islamwitheman/285

🔵 قرآن کے متعلق غور طلب باتیں
http://t.me/islamwitheman/286

🔵 قرآن کس لئے نازل کیا گیا
http://t.me/islamwitheman/287

🌼 قرآنی معلومات
http://t.me/islamwitheman/288

📗 قرآن میں اصول دین و فروع دین
https://t.me/islamwitheman/402

🌍 قرآن اور حضرت امام مھدی ع
https://t.me/islamwitheman/834

🌸 میں قرآن میں کہاں ہوں
https://t.me/islamwitheman/847

🌼 قرآن کریم کے واجب سجدے
https://t.me/islamwitheman/849

💠 قرآن سے انسیت کے مراتب
http://t.me/islamwitheman/1011

🔷 نماز کے اوقات در قرآن
https://t.me/islamwitheman/2247

🌹 دلچسپ قرآنی معلومات
https://t.me/islamwitheman/2315
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 قرآن کے متعلق غور طلب باتيں 🔷

ہم سوچيں اور غور کريں! کيا قرآن اسی لئے نازل ہوا تھا کہ ہم اس پر پھول پتيوں کے بوٹوں سے بنے جزدان چڑھا کر اسے طاق پر سجا ديں تاکہ جو بھی آئے ہمارے سليقہ کی داد ديئے بنا نہ رہ سکے؟

💧 کيا قرآن اسی لئے آيا تھا کہ ہم اس سے جن اور بھوت، پريت بھگانے کا کام ليں؟

💧 کيا قرآن اسی لئے نازل ہوا تھا کہ ہم اسکی آيات اسلئے گھول گھول کر پيتے رہيں کہ ہم پر کوئی بلا نازل نہ ہو؟

💧 کيا قرآن اسی لئے نازل ہوا تھا کہ ہم ہر وقت اسکا تعويذ اسلئے گلے ميں لٹکا کر ٹہليں کہ کسی کی نظر بد نہ لگ جائے؟

💧 کيا قرآن اسی لئے نازل ہوا تھا کہ جب ہم گھر سے نکليں تو کسی ناخوشگوار حادثہ سے بچنے کے لئے گھر سے نکلتے وقت اسکے نيچے سے ہو کر نکليں تاکہ ہر گزند سے محفوظ رہيں.؟

💧 کيا قرآن اسی لئے نازل ہوا تھا کہ اگر کوئی مر جائے تو اسکے کفن کو مختلف قرآنی آيات سے مزين کر ديا جائے اوربس...!!!؟

💧 کيا قرآن اسی لئے نازل ہوا تھا کہ کسی کے دارفانی سے انتقال کی صورت ميں اسکو پڑھ کر اسکا ثواب مرنے والے کو ہديہ کر ديا جائے...؟

💧 کيا قرآن اسی لئے نازل ہوا تھا کہ ہم اگر اسکی تلاوت کريں تو يہ سوچ کر کريں کہ ہميں ثواب ملے گا اور اسکا ورد کريں تو يہ سوچ کر کہ آخرت کے لئے کچھ توشہ راہ جمع کر ليا جائے...؟

◀ اگر قرآن انہيں چيزوں کے لئے نازل ہوا تھا تو بالکل ٹھيک ہے
جو توقع ہم قرآن سے رکھتے ہيں،
قرآن اسے پورا کر رہا ہے،
جو چيز ہم قرآن سے مانگ رہے ہيں وہ ہميں مل رہی ہے،

ليکن

🌹 اگر قرآن ان سب باتوں کے لئے نہيں تھا بلکہ اسلئے نازل ہوا تھا کہ ہميں زندگی گزارنے کا سليقہ سکھائے،
ہم پر راہ ہدايت کو واضح کرے،
ہماری زندگی ميں انقلاب لے کر آئے.....
تو پھر
ہميں اسکا جواب دينا ہوگا کہ ہماری عملی زندگی ميں قرآن کا کتنا دخل ہے؟
ہماری اجتماعی زندگی ميں قرآن کس جگہ ہے؟

🌹 ہر ايک خود سے يہ سوال کر سکتا ہے کہ اگر قرآن کا تعلق مسلمانوں کی عملی زندگی سے ہے تو پھر انکی عملی زندگی ميں قرآن نظر کيوں نہيں آتا؟

قرآن کہاں ہے مسلمان کون ہيں ؟

کيا مسلمانوں اور قرآن ميں کوئی ربط ہے ..
يا نہيں !سب ڈھکوسلہ ہے، فريب ہے، دھوکہ ہے.؟
نہ کوئی قرآن کو مانتا ہے نہ اس پر کسی کا ايمان ہے...

⏪ حيف کا مقام ہے کہ ايک طرف تو ہم شارٹ کٹ سے جنت کی واديوں کی سير کرنا چاہتے ہيں،
اور دوسری طرف قرآن سے يہ بھی اميد کرتے ہيں کہ اسکی چند آيات کا ورد کرنے سے ہی ہماری زندگی ميں انقلاب آجائے.

🌹 اس ميں کوئی شک نہيں کہ قرآنی آيات کے ورد سے بھی بڑی بڑی مشکليں آسان ہوئی ہيں اور ہمارے پاس ایسی مثاليں بہت ہيں جہاں قرآن نے اپنا اعجاز دکھايا ہے يقينا قرآن کے الفاظ کا ورد بھی فوائد و مثبت آثار سے خالی نہيں، اس سے بھی بہت کچھ ملتا ہے ليکن اسکے لئے طينت کی پاکيزگی شرط ہے، طبيعت کی شفافيت شرط ہے، قرآن کی ايک آيت کے ورد سے نہ حل ہونے والی مشکلات کو حل کرنے کے لئے رياضت کی ضرورت ہے، جدوجہد کی ضرورت ہے، سعی و تلاش کی ضرورت ہے، قرآن کے معنی ميں غور خوض کی ضرورت ہے، اسکے مفاہيم ميں تامل کی ضرورت ہے، اپنا باطن ويسا بنانے کی ضرورت ہے جيسا قرآن چاہتا ہے وگرنہ ہمارا بھی حال یہی ہوگا کہ...

● جو ميں سربسجدہ ہوا کبھی تو زميں سے آنے لگی صدا،
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کيا ملے گا نماز ميں....؟

لہذا جہاں ضرورت ہے دلوں ميں گداز پيدا ہو، قلوب ميں تڑپ ہو، وہيں يہ بھی ضروری ہے کہ يہ ديکھا جائے کہ ہم نے قرآن سے کس قدر درس حاصل کيا ہے؟ ہماری عملی زندگی ميں قرآن کا کردار کيا رہا ہے.؟

لہذا اپنی روزمرہ کی زندگی کو قرآنی سانچہ ميں ڈھالنے کی ضرورت ہے، قرآن کو کتاب زندگی بنانے کی ضرورت ہے، اسکی تعلميات کو روح کی گہرائيوں ميں اتارنے کی ضرورت ہے.
قرآنی تعليمات کے لا متناہی سمندر ميں غواصی کی ضرورت ہے، اس لئے کہ اسکے بغير وہ کردار سامنے نہيں آ سکتے جو دنيا کے لئے نمونہ عمل بن سکيں، کردار ميں وہ جدت پيدا نہيں ہو سکتی جو زمانہ کے لئے مشعل راہ بن سکے.....

● قرآن ميں ہوغوطہ زن اےمردمسلماں
اللہ کرے تجھکو عطا .. جدتِ کردار

🌹 رب کريم ہميں قرآن کی زيادہ سے زيادہ خدمت کرنے کی توفيق عنايت فرمائے اور محشر ميں قرآن کو ہمارا شفيع قرار دے.
آمین یا رب العالمین

● لفظ تاثیر سے بنتے ہیں تلفظ سےنہیں
اہلِ دل آج بھی ہیں اہلِ زباں سے آگے

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
سورہ طہ " 47 "

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺲ ﻟﯿﮯ ﻧﺎﺯﻝ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ 🔷

🔶 ﺩﻟﮩﻦ ﮐﯽ ﺭﺧﺼﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ؟
🔸 ﺟﻨّﺎﺕ ﺍﺗﺎﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ؟
🔸 ﺗﻌﻮﯾﺰ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ؟
🔸 ﺗﺒﺮﮎ ﯾﺎ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ؟
🔸 ﻣﯿّﺖ ﮐﮯ ﺍﯾﺼﺎﻝ ﺛﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ؟
🔸 ﺑﻨﺎ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ؟
🔸 نئی دکان، مکان کے افتتاح کے لیے؟

ﯾﺎ ﭘﮭﺮ...
🔷 ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﻭ ﻓﮑﺮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ؟
🔹 ﺍﺱ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﮐﻮ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ.؟

🍀 ﻗﺮﺁﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﮧ ﻣﻄﺎﺑﻖ:
ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﻟﻠﻪ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﮩٰﺬﺍ ﮨﻢ ﯾﮩﻮﺩ ﻭ ﻧﺼﺎﺭﯼٰ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﮑﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺑﺪﻝ ﺳﮑﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺳﮑﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﺪﻝ ﮈﺍﻻ ﮨﮯ.
ﺍﻟﻠﻪ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺟﺎﮨﻞ ﻋﺮﺏ ﺩﯾﮩﺎﺗﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﯼ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺍﻋﻼﻥ کرتا ہے ﮐﮧ:
"ﻭَﻟَﻘَﺪْ ﯾَﺴَّﺮْﻧَﺎ ﺍﻟْﻘُﺮْﺍٰﻥَ ﻟِﻠﺬِّﮐْﺮِ ﻓَﮭَﻞْ ﻣِﻦْ ﻣُّﺪَّﮐِﺮٍ."
(ﺍﻟﻘﻤﺮ 40:54)
ترجمہ:
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﻮ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﺳﺎﻥ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ہے ﭘﺲ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ؟

ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺱ ﺁﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ کیلئے ﺁﺳﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ.

☔ ﮨﻢ ﺳﺐ رسول (ص) ﮐﯽ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﻣﺘﻤﻨﯽ ﮨﯿﮟ..
مگر ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻗﺮﺍﻥ ﺣﮑﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭةﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﻪ ﺭﺏﺍﻟﻌﺰﺕ کا ارشاد ہے ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﻥ رسول اکرم (ص) ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻥ ﺍﻣﺘﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﮐﮫ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻗﺮﺍﻥ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ؟
"ﻭَﻗَﺎﻝَ ﺍﻟﺮَّﺳُﻮﻝُ ﻳَﺎ ﺭَﺏِّ ﺇِﻥَّ ﻗَﻮْﻣِﻲ ﺍﺗَّﺨَﺬُﻭﺍ ﻫَﺬَﺍ ﺍﻟْﻘُﺮْﺁﻥَ ﻣَﻬْﺠُﻮﺭًﺍ." ﴿۳۰ﺳﻮﺭﮦ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ﴾
ترجمہ:
ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ!
ﺑﮯﺷﮏ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔

■ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺷﻤﺎﺭ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﻮﮦ ﺭﺣﻤﺖﺍﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ، ﺭﺏﺍﻟﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ﺳﮯ ﮐﺮﯾﮟ؟
ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﻧﺠﯿﻨﯿﺮ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ، ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ، ﺑﺰﻧﺲ ﻣﯿﻦ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﻗﺮﺍﻥ ﺣﮑﯿﻢ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺳﮑﮯ؟
ﮐﯿﺎ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻣﺎﺳﭩﺮﺯ ﺍﻭﺭ ﭘﯽ ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﮐﯽ ﮈﮔﺮﯼ ﺗﻮ ﻟﮯ ﻟﯽ. ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﺋﺪﺍﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﮐﮭﮍﯼ ﮐﺮﻟﯿﮟ. ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﭘﮍﮬﺎ ﺩﯾﺎ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮐﻼﻡ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﮨﻤﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻼ؟

ﮐﯿﺎ ﺩﻟﯿﻞ ﮨﻮﮔﯽ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺩﻭ ﺗﻮ ﺳﯿﮑﮭﯽ،
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺗﻮ ﺳﯿﮑﮭﯽ،
ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﯿﮑﮭﯿﮟ،
سائنس تو سیکھی....
ﻣﮕﺮ ﻗﺮﺍﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎ؟

🔘 ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ۔۔۔!
ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺭﺏ ﺳﺐ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﭘﺮ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮨﮯ.
ﮨﻢ ﻻﮈﻟﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺣﺴﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ.

ﺍﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ
ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ،
ﺟﺎﮒ ﺟﺎؤ،
ﺑﮩﺎﻧﮯ ﺗﺮﺍﺷﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﻭ ﻓﮑﺮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺍﻭﻝ ﺑﻨﺎﻟﻮ۔

وما علینا الا البلاغ.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/284
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕