ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌹خاندان کی سرپرستی🌹

وہ مرد کہ جو کسی گھرانے کا سرپرست ہے اسے اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہیئے کہ عورت بھی مرد کی طرح انسان ہے اس کی بھی کچھ آرزوئیں ہیں اور آزادی اور پر سکون زندگی اس کا حق ہے نیز یہ بھی سمجھ لینا چاہیئے کہ عورت کوئی خریدی ہوئی کنیز نہیں ہے بلکہ وہ تمہاری ایسی شریک حیات ہے جس کو تم نے بعنوان انیس و مونس انتخاب کیا ہے۔

💥میاں اور بیوی خاندان کے دو بڑے رکن ہوتے ہیں لیکن  ان میں شوہر کی تخلیق  کو  ایک خاص امتیاز حاصل ہے چونکہ اس  میں عقلانیت  کے پہلو کو  نہایت قوی بنا کر خلق کیا  گیا ہے  اسی سبب وہ اپنے گھرانے  کا سرپرست اور بزرگ شمار ہوتا ہے.
لہذا خداوندعالم نے بھی قرآن مجید میں  اس کا تعارف ایک سرپرست اور  نگراں کی حیثیت سے کرایا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
"مرد عورتوں کے حاکم اور نگران ہیں  ان فضیلتوں کی بنا  پر جو خدا نے بعض پر بعض کو دی ہیں." (۱)

چونکہ مرد کا تعارف اس  حیثیت اور عنوان سےکرایا گیا ہے لہذا اس کے وظائف اور فرائض دوسروں کی بنسبت نہایت سنگین و خطیر ہیں.

لہذا مرد ہی اپنی عقل و تدبیر کو بروئے کار لاکر اپنے گھرانے کو بہتر انداز میں  چلاسکتا ہے اور اس کی خوش بختی اور سعادت کے تمام اسباب مہیا کر کے اسے خلد بریں کی طرح منظم اور پر سکون بنا سکتا ہے اور اپنی شریک حیات کو بھی ایک فرشتہ خصلت بیوی بنا سکتا ہے.

💥رسول اکرم (ص) ارشاد فرماتے ہیں:
"مرد  خاندان  کا سرپرست اور نگراں  ہوتا ہے اور ہر سرپرست کے کندھوں پر اپنے  ماتحت افراد کی  کفالت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔(۲)

وہ مرد کہ جو کسی  گھرانے کا سرپرست ہے اسے اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہیئے  کہ عورت بھی مرد کی طرح  انسان ہے اس کی بھی کچھ آرزوئیں ہیں اور آزادی اور پر سکون زندگی اس کا حق ہے  نیز یہ بھی سمجھ لینا چاہیئے کہ عورت کوئی خریدی ہوئی کنیز نہیں ہے  بلکہ وہ تمہاری ایسی شریک حیات ہے جس کو تم نے  بعنوان انیس و مونس  انتخاب کیا ہے پس اس کی  جائز دلی چاہتیں اور آرزؤں کا ہر لمحہ پاس رکھنا  چاہیئے ایسا نہیں ہے کہ مرد عورت کا مالک مطلق ہو جس کے نتیجہ میں  وہ مطلق العنانی کرتا رہے بلکہ خاتون کے بھی کچھ حقوق آپ کی گردن پر ہیں۔
خداوند متعال قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
"جس طرح خواتین اپنے شوہروں کی بنسبت بعض ذمہ داریاں رکھتی ہیں  ویسے ہی ان کے کچھ حقوق ان (مروں) کی گردنوں پر ہیں اور بہر حال مرد عورتوں پر برتری رکھتے ہیں۔(۳)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات
۱۔سورہ نساء،آیت 34.
۲۔مستدرک،جلد 2 ، ص 550.
۳۔سورہ بقرہ،آیت 228.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹عورتوں کی ذمہ داری،(حصہ اول)🌹

رسول اکرم (ص) کی چالیس احادیث عورتوں کی ذمہ داری کے بارے میں. تین حصوں پر مشتمل ہیں.

1= پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
عورت پر ضروری ہے کہ بہترین خوشبو استعمال کرے خوبصورت کپڑے پہنے اور اپنے شوہر کے لیے سب سے اچھی زینت اور آرایش کرے۔[1]

2=پیغمبر اکرم (ص) سے سوال ہوا: نابینا شوہر کے لیے عورت کیسے زینت کرے؟
فرمایا: عطراور مہندی لگائے تاکہ اس کی خوشبو سے اس کا شوہر لذت اٹھائے۔[2]

3=پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
عورت کو اپنا شوہر اپنے سے دور نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ اپنے آپ کو اس کے اختیار میں دینا چاہیے۔[3]

4=ایک عورت پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں آئی اور کہا: شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟
فرمایا: ایک یہ کہ بغیر شوہر کی اجازت کے مستحبی روزہ نہ رکھے دوسرے یہ کہ اس کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم نہ رکھے، تیسرے اس پر واجب ہے کہ شوہر کے لیے بہترین عطر اور خوشبو لگائے، خوبصورت لباس پہنے اور بہترین زینت کرے اور صبح و شام اپنے آپ کو شوہر کے لیے پیش کرے۔[4]

5=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے شوہر کی ایک کڑوی بات کو سن کر تحمل کرے خداوند اس کے ایک کلمہ کے برداشت کرنے پر اسے روزہ دار اور راہ خدا میں مجاہد کا اجر و ثواب دے گا۔

6=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
عورت اپنے شوہر کے مال کی محافظ ہے اور اس کی نسبت اس سے سوال اور پوچھ تاچھ کی جائے گی۔

7=پیغمبر اکرم (ص) شب معراج میں جہنمیوں کے عذاب کو مشاہدہ کرنے کے بعد حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے فرماتے ہیں:
اے بیٹا! ایک عورت کو بالوں سے لٹکا رکھا تھا یہ وہ عورت تھی جو اپنے بالوں کو دوسرے مردوں سے نہیں چھپاتی تھی اور ایک عورت کو زبان سے ٹانگ رکھا تھا یہ وہ عورت تھی جو زبان سے اپنے شوہر کو اذیت کرتی تھی۔ ایک عورت کا سر سور کی شکل اور بدن گدھے کی شکل کا تھا یہ وہ عورت تھی جو چغلی مارتی اور جھوٹ بولتی تھی۔ ایک عورت کی صورت کتے کے جیسے تھی یہ وہ تھی جو غیروں کے لیے گاتی تھی اور حسد کرتی تھی۔[5]

8=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
وائے ہے اس عورت پر جو اپنے شوہر کو غصہ دلائے اور خوشا بحال ہے وہ عورت جو اپنے شوہر کو خوش رکھے۔[6]

9=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
اگر میں کسی کو دوسروں کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دے تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کے لیے سجدہ کرتی۔[7]

10=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
زوجہ پر شوہر کا حق یہ ہے کہ وہ گھر کو روشن رکھے اور کھانے پینے کا انتظام کرے۔[8]

11=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے شوہر کے گھر ایک چیز کو اٹھا کر دوسری جگہ رکھے ( یعنی چھوٹا سا کام کرے) خدا اس پر نگاہ رحمت کرتا ہے اور جس پر خدا نظر رحمت کر دے وہ اس کے عذاب سے محفوظ ہے۔[9]

12=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
زوجہ کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کی توان سے زیادہ بوجھ اس پر ڈالے اور اس کی ادھر ادھر شکایت کرے۔[10]

13=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے شوہر کو زبان سے اذیت کرے خدا وند عالم اس کی کسی نیکی اور اچھائی کو قبول نہیں کرتا جب تک کہ اس کو راضی نہ کر لے اگر چہ دنوں میں روزے رکھے اور راتوں میں عبادت کرے ایسی عورت پہلی وہ عورت ہو گی جو جہنم میں داخل ہو گی اور یہی حال ہو گا اس شوہر کا جو اپنی بیوی پر ظلم کرے۔[11]

14=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے شوہر کے لیے خوشمزہ اور اچھے کھانے پکائے خداوند عالم قیامت میں اس کے سامنے طرح طرح کھانے پیش کرے گا اور کہے گا: کھاو اور پیئو ، یہ کھانے ان زحمتوں کی جزا ہے جو تم نے اپنے شوہر کے لیے اٹھائیں ہیں۔[12]

15=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے آپ کو بہترین طریقے سے آرائش کرے، اچھے کپڑے پہنے اور گھر سے باہر نکل جائے تاکہ لوگ اسے دیکھیں سات آسمانوں اور زمین کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں اور ہمیشہ خدا کےمورد غضب قرار پاتی ہے یہاں تک کہ مر جائے اور اس کے بعد اسے جہنم میں ڈال دیا جائے۔[13]

16=پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے فرمایا: عورت کے لیے سب سے اچھی چیز کیا ہے؟
عرض کیا: کوئی مرد اسے نہ دیکھے اور نہ وہ کسی مرد کو دیکھے۔[14]

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات
[1] وسائل الشیعہ، ج۱۵،ص۱۱۲.
[2] وسائل الشیعہ،ج۷.
[3] وسائل ،ج۱۶،ص۱۲۶.
[4]روضۃ المتقین،ج۸،ص۳۶۲، مکارم ص ۲۱۴.
[5] وسائل الشیعہ ،ج۱۴،ص۱۵۶، عیون اخبار الرضا،ج۲،ص۱۱.
[6] بحار الانوار ،ج ۸ ص۳۱۰.
[7] وسائل الشیعہ،ج۱۴،ص۱۱۵.
[8] مکارم الاخلاق، ص۲۱۴.
[9] وسائل الشیعہ،ج۷.
[10] نکاح مستدرک، باب ۶۰.
[11] امالی شیخ صدوق، ص۲۵۷.
[12] نکاح مستدرک، باب ۶۰.
[13] شہاب الاخبار.
[14] تاج لنگرادی، داستان زنان.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹عورتوں کی ذمہ داری،(حصہ دوم)🌹

17=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے شوہر کو اذیت کرنے اس کی نماز اور کوئی دوسرا نیک عمل قبول نہیں ہوتا اگر چہ دن رات نماز و روزہ میں مشغول رہے غلام آزاد کرے راہ خدا میں انفاق کرے یہاں تک کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو جائے۔[15]

18=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
بہترین خواتین وہ ہیں جو بچے پیدا کریں اپنے شوہر، اولاد اور نوکروں کے ساتھ مہربان رہیں پاکدامن ہوں، اپنے خاندان میں باعزت ہوں اور اپنے شوہر کے سامنے ذلت کا مظاہرہ کریں صرف اس کے لیے زینت اور آرائش کریں اور شوہر کے علاوہ حجاب میں رہیں اپنے شوہر کی بات سنیں اس کی اطاعت کریں اور ان کی بخششیں مرد کی بخشش کی طرح نہ ہو۔

19پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے آپ کو خوشبو لگائے اور گھر سے باہر نکل جائے جب تک واپس گھر آتی خدا کی اس پر لعنت ہوتی رہتی ہے۔[16]

20=پیغمبر اکرم(ص) نے عورتوں سے فرمایا: تم لوگ اپنی نمازوں کو اتنا طولانی نہ کیا کرو کہ تمہارے شوہر تمہارے نزدیک آنے سے منصرف ہو جائیں۔[17]

21=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
عورت کو چاہیے کہ شوہر کی اجزت کے بغیر اس کا مال کسی کو مت د ے اگر بغیر اجازت کے دے گی تو اس کا گناہ بیوی کی کرگردن پر ہو گا اور ثواب شوہر کے لیے لکھا جائے گا۔[18]
نیز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ مت دو۔[19]

22=پیغمبر اکرم (ص) نے حولا نام کی ایک خاتون سے فرمایا:
اپنی زینت کے اپنے شوہر کے علاوہ کسی کے لیے ظاہر نہ کرو تم میں سے جو خدا اور قیامت پر ایمان رکھتی ہے اسے شوہر کے علاوہ کسی کے لیے زینت نہیں کرنا چاہیے اور اپنی روسری اور بازوں کو دوسرے کے لیے آشکار نہیں کرنا چاہیے اگر ایسا کرو گی تمہار ا دین فاسد ہو جائے گا اورخدا کا غضب اس کے شامل حال ہو گا۔[20]

23=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے شوہر کے ساتھ دکھ سکھ میں صبر کرے اور اس کے حکم کی مطیع رہے خدا وند عالم ایسی عورت کو جناب ایوب کی بیوی کے ساتھ محشور کرے گا۔ [21]

24=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
وہ عورت جو اپنے شوہر کو اذیت کرے اس کی نماز اور کوئی نیک عمل قبول نہیں ہو گا یہاں تک کہ شوہر کو راضی کر لے۔[22]

25=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
اگر شوہر بیوی کو نیک کاموں کا حکم دے اسے اس کی معصیت نہیں کرنا چاہیے اور مخالفت کے ساتھ اس کا جواب نہیں دینا چاہیے۔[23]

26=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے شوہر کے لیے لباس تیار کر کے رکھے گی خدا وند عالم قیامت میں اسے جنتی لباس عطا کرے گا کہ جو ریحان اور شقائق کے پھولوں کی طرح رنگیلے اور خوشبودار ہوں گے۔ اور چالیس فرشتوں کو اس کی خدمت کے لیے معین کرے گا۔[24]

27=پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:
عورت کی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ گھر کا چراغ جلائے، کھانا تیار کرے جب شوہر گھر میں داخل ہو اس کے استقبال کے لیے دروازہ تک جائے اور اسے خوش آمدید کہے اس کے لیے کوزہ اور تولیہ لائے اس کے ہاتھوں پر پانی ڈالے اور بغیر شرعی عذر کے نزدیکی کرنے سے منع نہ کرے۔[25]

28=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
وہ عورت جو اپنے شوہر کے بستر سے دور رات کو صبح کرے فرشتے صبح تک اس کو لعنت کرتے ہیں۔[26]

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات
[15] وسائل الشیعہ،ج۷،ص۱۲۵.
[16] وسائل الشیعہ،ج۷،ص۱۱۲.
[17] وسائل الشیعہ، ج۷،ج۱۱۷.
[18] وسائل، ج ۷.
[19] وسائل، ج۲۰،ص۱۵۸.
[20] نکاح المستدرک.
[21] الزوج فی الاسلام، ص۲۴۰.
[22] وسائل الشیعہ،ج۱۴،ص۱۱۶۵.
[23] الزواج فی الاسلام، ص۲۱۶.
[24] نہج الفصاحہ، ج۱۸۷.
[25] نظام خانوادہ در اسلام، ص۳۸۳.
[26] نہج الفصاحہ، ص۳۶.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹عورتوں کی ذمہ داری،(حصہ سوم)🌹

29=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
جب کوئی عورت شوہر کی اجازت کے بغیر مستحبی روزہ رکھے اور مرد کو اس کی ضرورت ہو اوروہ منع کرے خدا تین گناہان کبیرہ اس کے لیے لکھ دے گا۔[27]

30=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
حاملہ عورتیں،مائیں اور دودھ پلانے والی عورتیں جو اپنی اولاد کے ساتھ مہربان ہوتی ہیں اگر اپنے شوہروں کے ساتھ برا برتاو نہ کریں ان میں سے نماز گزار جنت کی مستحق ہیں۔[28]

31=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
شادی کرو طلاق مت دو اس لیے کہ خدا وند عالم ان مردوں اور عورتوں کو دوست نہیں رکھتا جو لگاتار شادیاں کرتے رہیں۔[29]

32=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
خدا وند عالم کے نزدیک اس گھر سے بدتر کوئی نہیں ہے جس میں طلاق کے ذریعے آپس میں جدائی ہو۔ٍا[30]

33=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
آخری زمانہ کہ جو بدترین زمانہ ہے اس میں عورتیں ان اوصاف کی مالک ہوں گی:
پہناوے کے ساتھ برہنہ ہوں گیں، غیروں کے لیے زینت کرنے والیں، دین سے خارج، فتنوں میں شامل، شہوتوں کی طرف مائل، لذات کی طرف بھاگنے والیں، حرام کو حلال کرنے والیں ہوں گی جو جہنم میں داخل ہوں گیں اور ہمیشہ وہی رہیں گیں۔[31]

34=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
اے خواتین اگراپنے شوہروں کے گھروں میں کام میں مشغول رہیں گی تو خدا مجاہدوں کے جہاد کا ثواب تمہیں دے گا۔[32]

35=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
اسلام کے بعد کوئی مسلمان اتنا ثواب حاصل نہیں کرتا جتنا وہ خاتون حاصلکرتی ہے جب اس کا شوہر اس کو دیکھتا ہے خوش ہوتی ہے اور اس کی اطاعت کرتی ہےاور شوہر کی عدم موجودگی میں اس کے مال او ر اپنی عفت کی حفاظت کرتی ہے۔[33]

36=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
ہر وہ عورت جو سات دن تک اپنے شوہر کی خدمت کرے خدا وند عالم جہنم کے سات دروازے اس پر بند کر دیتا ہے اور جنت کے سات دروازے اس پر کھول دیتا ہےتاکہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔[34]

37=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
جو عورت مر جائے اور اس کا شوہر اس سے راضی ہو وہ جنت میں داخل ہو گی۔[35]

38=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
جو عورت بغیر کسی شرعی وجہ کے شوہر سے طلاق لے جنت کی خوشبو اس پر حرام ہو جاتی ہے۔[36]

39=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
جب ہم کسی مسلمان کو دنیا اور آخرت کی خوبی دینا چاہتے ہیں تو اسے یہ چار چیزیں دیتے ہیں:
۱: متواضع دل، ۲؛ ذکر کرنے والی زبان،۳؛ بلاوں کے مقابلہ میں صبر کرنے والا بدن، ۴؛ با ایمان بیوی کہ جب اسے دیکھے تو خوش ہو، اور شوہر کی عدم موجودگی میں اسکے مال اور اپنی عفت کی محافظ ہو۔[37]

40=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
سب سے اچھی بیوی وہ ہے جو غیروں کے مقابلہ مین پاکدامن ہو اور خلوت میں شوہر کی مطیع اور فرمانبردار ہو۔[38]

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات
[27] کنزالعمال، ج ۱۶، ص ۳۸۲.
[28] نہج الفصاحہ، ص۲۸۳.
[29] نہج الفساحہ، ص۲۳۲.
[30] وسائل الشیعہ، ج۱۵.
[31] طومار عفت، ج۱.
[32] نہج الفصاحہ، ج۲، ص۲۸.
[33] وسائل الشیعہ،ج۱۵،ص۲۳.
[34] ارشاد القلوب دیلمی، ص۲۹۱.
[35] نہج الفصاحہ، ج۲،ص۱۰۲.
[36] نہج الفصاحہ، ھ ۱۹۷۲
[37] وسائل الشیعہ، ج ۱۴، ص۲۳.
[38] بحار،ج۱۰۳،ص۲۳۷.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👀 شیطان اور آنکھیں (حصہ اول) 👀

امام جعفرصادقؑ فرماتے ہیں:
👁بغیر ارادہ کے پڑنے والی پہلی نظر تمہارے لئے جائز ہے دوسری نظر کاجرم تمہارے اوپر ہے اور تمہارے لئے جائز نہیں ہے اور تیسری نظر میں ہلاکت ہے.
‏(وسائل الشیعہ،ج20،ص193)

حضرت امام جعفرصادقؑ اپنے آباءواجداد سےنقل فرماتےہیں کہ رسول (ص) نے فرمایا:
عورت کے لئے اپنے شوہر اور محرم کے علاوہ کسی سے پانچ الفاظ سے زیادہ بات کرنا ممنوع ہےکہ جس بات کا کرنا ضروری ہو.
بحارالانوار ج101ص32.
من لایحضرالفقیہ ج4 ص3.
وسائل الشیعہ ج20 ص197.

🌹میری بہنوں! محتاط رہو اور شیطان کے دھوکے میں نہ آؤ کہ تم کہو کہ میں تو کلاس فیلوز یا کزنز کو بھائیوں کی طرح سمجھتی ہوں اور اسی ارادے سے ان کو دیکھتی ہوں. بیشک تمہارا دل صاف ہے مگر آپ دونوں کا دل رسول خدا کے دل سے زیادہ پاکیزہ تو نہیں ہوسکتا.

⏪روایت میں ہے کہ جب حضور(ص) عورتوں سے بیعت لیتے تو پانی سے بھرا برتن منگوا کر اپنا ہاتھ اس میں ڈبوتے اور پھر اس سے ہاتھ نکال کر خواتین کو کہتے کہ اس پانی میں ہاتھ ڈبو کر میری بیعت کرو اور جب وہ پانی میں ہاتھ ڈبوتیں تو آپّ فرماتے تم نے میری بیعت کرلی ہے.

⏪ایک روایت میں دوعورتیں کہتی ہیں کہ ایک دفعہ ہم نے امام جعفرصادقؑ سے پوچھا:
کیا کوئی عورت اپنے بھائی کی عیادت کے لئے جا سکتی ہے؟
امامؑ نے فرمایا: جاسکتی ہے.
عورتوں نے پهر پوچھا: کیا وہ اس سے مصافحہ بھی کرسکتی ہے؟
امامؑ نے فرمایا: ہاں کپڑے کو ہاتھ پر لپیٹ کر مصافحہ کر سکتی ہے.
پھر ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے کہا: میری اس بہن کے پاس اس کے بھائی آتے جاتے رہتے ہیں.
تو امامؑ نے فرمایا:
جب تمہارے بھائی تمہارے پاس آئیں تو اس وقت بھڑکیلے اور شوخ کپڑے مت پہنو.
‏(مستدرک الوسائل،ج11، ‌‏ص126)

🔲شریعت عورت کو اپنے بھائی کے سامنے بھی رنگ دار، بھڑکیلے اور شوخ کپڑے پہننے سے روکتی ہے تو پھر کس طرح تمہیں دوسروں کے سامنے ایسا کرنے کی اجازت دے سکتی ہے.

🌹امام علیؑ فرماتے ہیں ایک دن میں اور حضرت فاطمہ(س)، رسول اکرم (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئےتو دیکھا کہ آپّ بہت زیادہ گریہ کر رہے ہیں پس میں نے پوچھا: ‏
اے اللہ کے رسول‎ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں کونسی چیز آپ کو اتنا رلا رہی ہے؟
تو رسول خدا(ص) نے فرمایا:‏
اے علیؑ شب معراج میں آسمان پر گیا تو میں نے اپنی امت کی عورتوں کو شدید عذاب میں دیکھا، پس مجھےان کی حالت پر بہت تکلیف ہوئی، جب میں نے ان کو سخت عذاب میں دیکھا تو گریہ کرنے لگا، میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بالوں سے لٹکی ہوئی تھی اور اس کا دماغ اس کے سر سے ابل رہا تھا،
ایک عورت کو دیکھا جو اپنی زبان سے لٹکی ہوئی تھی اور جہنم کا ابلتا ہوا پانی اس کے حلق میں ڈالا جارہاتھا،
ایک عورت کو دیکھا جو اپنےپستانوں سےلٹکی ہوئی تھی،
ایک عورت کو دیکھا جو اپنے جسم کا گوشت کھارہی تھی اور اس کےنیچے آگ بھڑک رہی تھی،
ایک عورت کو دیکھا جس کے پاؤں ہاتھوں سے بندھے ہوئےتھے اور اس پر سانپ اور بچھو مسلط تھے،
ایک بہری، اندھی اور گونگی عورت کو آگ کے تابوت میں دیکھا کہ جس کا دماغ ناک کی نتھلیوں سے نکل رہا تھا اور اس کا جسم جذام اور برص سے ٹکڑے ٹکڑے تھا،
ایک عورت کو آگ کے تنور میں پاؤں سے لٹکا ہوا دیکھا،
ایک عورت کو دیکھا کہ جس کے آگے اور پیچھے سے آگ کی قینچیوں سے گوشت کاٹاجارہاتھا،
ایک عورت کو دیکھا جس کا چہرہ اور ہاتھ جلائے جا رہے تھے اور وہ اپنی آنتوں کو کھا رہی تھی،
ایک ایسی عورت کو دیکھا جس کا سر خنزیر کی طرح اور جسم گدھے کی طرح تھا اور اس کو ہزار ہزار طریقے کا عذاب دیا جا رہا تھا،
ایک عورت کو دیکھا جس کی شکل کتے والی تھی اور آگ اس کی دبر سے داخل ہورہی تھی اور منہ سے نکل رہی تھی اور فرشتے اس کے سر اور جسم پر آگ کے گرز مار رہے تھے.

پس حضرت فاطمہ(س) نے فرمایا:
میری آنکھوں کی ٹھنڈک میرے پیارے بابا مجھے بتائیں کہ ان عورتوں کے اعمال اور کردار کیا تھے کہ جو اللہ نے ان کو عذاب میں مبتلا کیا؟

تو رسول اکرم (ص) نے فرمایا:
اے میری بیٹی! .....

رسول اکرم (ص) کا جواب حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیں.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👀 شیطان اور آنکھیں (حصہ دوم) 👀

تو رسول اکرم (ص) نے فرمایا:
اے میری بیٹی! وہ عورت جو اپنے بالوں سے لٹکی ہوئی تھی وہ اپنے بالوں کو مردوں کے سامنے نہیں چھپاتی تھی،
اور وہ عورت جو اپنی زبان سے لٹکی ہوئی تھی وہ اپنے شوہر کو اذیت و تکلیف پہچاتی تھی،
اور وہ عورت جو اپنے پستانوں سے لٹکی ہوئی تھی وہ اپنے شوہر کو ہمبستری سے روکتی تھی،
اور وہ عورت جو اپنے پاؤں سے لٹکی ہوئی تھی وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلتی تھی،
اور وہ عورت جو اپنے جسم کا گوشت کھا رہی تھی وہ اپنے جسم کو لوگوں کے لئے سنوارتی تھی،
اور وہ عورت جس کے پاؤں ہاتھوں سے بندھے تھے اور سانپ اور بچھو اس پر مسلط تھے وہ بے طہارت اور نجس کپڑوں میں رہتی تھی اور جنابت اور حیض کا غسل نہیں کرتی تھی، صاف نہیں رہتی تھی اور نماز کو خفیف و سبک سمجھتی تھی،
اور وہ عورت جو بہری، اندھی اور گونگی تھی وہ زنا سے بچے پیدا کرتی تھی اور اپنے شوہر کی گردن میں ڈال دیتی تھی،
اور وہ عورت جس کا گوشت قینچیوں سے کاٹا جارہا تھا وہ اپنے آپ کو مردوں کے سامنے پیش کرتی تھی،
وہ عورت جس کا چہرہ اور بدن جلایا جارہا تھا اور وہ اپنی آنتیں کھا رہی تھی وہ زنا کے لئے مردوں اور عورتوں کو ملاتی تھی،
اور وہ عورت جس کا سر خنزیر والا اور بدن گدھے والا تھا وہ جھوٹی اور چغل خور تھی،
اور وہ عورت جو کتے کی شکل میں تھی اور آگ اس کے دبر میں داخل ہوکر منہ سے نکل رہی تھی وہ گانا گانے والی لونڈی تھی کہ جو چیختی چلاتی اور حسد کرتی تھی.
پھر اس کے بعد حضور (ص) فرماتے ہیں:
ہلاکت ہے اس عورت کے لئے جس نے اپنے شوہر کو غضبناک کیا اور خوشخبری ہے اس عورت لئے جس سے اس کا شوہر راضی ہو.

1-وسائل الشیعہ ج20 ص2013
2-من لایحضر الفقیہ ج3 ص436
3-بحارالانوار ج101 ص96

بشکریہ تحقیق: فاطمہ جبین ‌‎

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ایک گدھے کا حساب 🔷

ایک دفعہ ایک ملک کا بادشاہ بیمار ہو گیا، جب بادشاہ نے دیکھا کے اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں تو اس نے اپنے ملک کی رعایا میں اعلان کروا دیا کہ وہ اپنی بادشاہت اس کے نام کر دے گا جو اس کے مرنے کے بعد اس کی جگہ ایک رات قبر میں گزارے گا، سب لوگ بہت خوفزدہ ہوئے اور کوئی بھی یہ کام کرنے کو تیار نہ تھا.

اسی دوران ایک کمہار جس نے ساری زندگی کچھ جمع نہ کیا تھا. اس کے پاس سوائے ایک گدھے کے کچھ نہ تھا. اس نے سوچا کہ اگر وہ ایسا کر لے تو وہ بادشاہ بن سکتا ہے اور حساب کتاب میں کیا جواب دینا پڑے گا اس کے پاس تھا ہی کیا، ایک گدھا اور بس!

سو اس کمہار نے اعلان کر دیا کہ وہ ایک رات بادشاہ کی جگہ قبر میں گزارے گا۔

بادشاہ کے مرنے کے بعد لوگوں نے بادشاہ کی قبر تیار کی اور وعدے کے مطابق کمہار خوشی خوشی اس میں جا کر لیٹ گیا، اور لوگوں نے قبر کو اس طرح بند کر دیا کہ کمہار سانس وغیرہ لے سکے.

کچھ وقت گزرنے کے بعد فرشتے آئے اور اسکو کہا کہ اٹھو اور اپنا حساب دو۔

کمہار نے کہا؛ بھائی حساب کس چیز کا میرے پاس تو ساری زندگی تھا ہی کچھ نہیں سوائے ایک گدھے کے!!!

فرشتے اس کا جواب سن کر جانے لگے لیکن پھر ایک دم رکے اور بولے....
ذرا اس کا نامہ اعمال کھول کر دیکھیں اس میں کیا ہے، بس پھر کیا تھا، سب سے پہلے انہوں نے پوچھا کہ ہاں بھئی فلاں فلاں دن تم نے گدھے کو ایک وقت بھوکا رکھا تھا..؟
اس نے جواب دیا: ہاں
فوری طور پر حکم ہوا کہ اسکو سو درے مارے جائیں.
اسکی خوب دھنائی شروع ہو گئی۔

اسکے بعد پھر فرشتوں نے سوال کیا:
اچھا یہ بتاؤ فلاں فلاں دن تم نے زیادہ وزن لاد کر اسکو مارا تھا..؟
اس نے کہا کہ ہاں.
پھر حکم ہوا کہ اسکو دو سو درے مارے جائیں.
پھر مار پڑنا شروع ہوگئی.

غرض صبح تک اسکو مار پڑتی رہی۔ صبح سب لوگ اکھٹے ہوئے اور قبر کشائی کی تا کہ اپنے نئے بادشاہ کا استقبال کر سکیں۔
جیسے ہی انہوں نے قبر کھولی تو اس کمہار نے باہر نکل کر دوڑ لگا دی....

لوگوں نے پوچھا:
بادشاہ سلامت کدھر جا رہے ہیں...
تو اس نے جواب دیا:
او بھائیو! پوری رات میں ایک گدھے کا حساب نہیں دے سکا تو پوری رعایا اور مملکت کا حساب کون دیتا پھرے۔

🔘 کہانی فرضی ھے لیـکن کبھی سوچا ہے کہ ہم نے بھی حساب دینا ہے ۔ اور پتہ نہیں کہ کس کس چیز کا حساب دینا پڑے گا جو شاید ہمیں یاد بھی نہیں ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/125
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 خوش رہیئے 🌹

امریکہ میں جب ایک قیدی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تو وہاں کے کچھ سائنس دانوں نے سوچا کہ کیوں نا اس قیدی پر کچھ تجربہ کیا جاے....

تب قیدی کو بتایا گیا کہ ہم تمہیں پھانسی دے کر نہیں ماریں گے بلکہ زہریلا کوبرا سانپ ڈسا کر ماریں گے...

اور اس کے سامنے بڑا سا زہریلا کوبرا سانپ لے آنے کے بعد اس کی آنکھیں بند کر کے اس کو کرسی سے باندھ دیا گیا.
اور اس کو سانپ نہیں بلکہ دو سیفٹی پِن چبھائی گئیں.....
تو قیدی کی کچھ سیکنڈ میں ہی موت واقع ہوگئی..

پوسٹ مارٹم کے بعد پایا گیا کہ قیدی کے جسم میں سانپ کے زہر جیسا ہی زہر ہے...
اب یہ زہر کہاں سے آیا.؟ جس نے اس قیدی کی جان لے لی...
وہ زہر اس کے جسم نے ہی صدمے میں جاری کیا تھا...

ہمارے ہر عمل سے مثبت یا منفی توانائی بنتی ہے اور وہ ہمارے جسم میں اسی کے مطابق ہارمونس تیار کرتی ہے...
بہت سی بیماریوں کی وجہ منفی سوچ ہی ہوا کرتی ہے.... آج انسان خود ہی اپنی منفی سوچ سے خود کو ختم کر رہا ہے..
اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھیں اور سدا خوش رہیں..

25 سال کی عمر تک ہمیں یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ کیا سوچیں گے..
50 سال کی عمر تک اسی ڈر میں جیتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے..
50 سال کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بارے میں کوئی سوچ ہی نہیں رہا تھا...
زندگی خوبصورت ہے... اس لیے ہمیشہ خوش رہیں...

یاد رکھیں!
صبر، شکر اور قناعت ایک عینک ہے. اگر آپ یہ عینک لگا لیں تو دنیا بڑی خوبصورت نظر آئے گی اور آپ ہمیشہ خوش و خرم رہیں گے.

🌷کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ....
زندگی میں ہمیشہ ریاضی کی طرح رہو.
دوستوں کو جمع کرو،
دشمنوں کو تفریق کرو،
خوشی کو ضرب دو،
پیار کو تقسیم کرو.
اور ہمیشہ مسکراتے رہو.‏❤️❤️❤

لوگ کہتے ہیں کہ زندگی میں یہ ضروری ہے اور وہ ضروری ہے___ میں تمہیں بتاؤں، زندگی میں کچھ بھی ضروری نہیں ہوتا نہ مال، نہ اولاد، نہ رتبہ، نہ لوگوں کی محبت… بس آپ ہونے چاہئیں اورآپ کا الله سے ہرایک پل بڑھتا تعلق ہونا چاہیے. باقی یہ مسئلے تو کسی بادل کی طرح ہوتے ہیں...
جہاز کی کھڑکی سے کبھی نیچے تیرتا کوئی بادل دیکھا ہے__؟ اوپر سے دیکھو تو وہ کتنا بے ضرر لگتا ہے مگر جو اس بادل تلے کھڑا ہوتا ہے نا‘ اس کا پورا آسمان بادل ڈھانپ لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ روشنی ختم ہوگئی، اور دنیا تاریک ہوگئی...غم بھی ایسے ہوتے ہیں- جب زندگی پہ چھا جاتے ہیں تو سب تاریک لگتا ہے‘  لیکن اگر آپ اس زمین سے اوپر اٹھ کر آسمانوں سے پورا منظر دیکھو تو جانو کہ یہ تو ایک ننھا سا ٹکڑا ہے جو ابھی ہٹ جائے گا… اگر یہ سیاہ بادل زندگی پہ نہ چھائیں نا__! تو ہماری زندگی میں کبھی رحمت کی بارش نہ ہو…!!

🌹مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
اپنے دل کو ماضی کے غموں میں مشغول نہ کرو کہ آئندہ کی تیاری سے محروم رہ جاؤ گے.
(غررالحکم، ص:289)

ہم نے ٹیلی گرام پر ریلیکس ہونے کے لئے فنی گروپ کا آغاز کیا ہے. جس کا نام مسکراہٹیں رکھا ہے. t.me/muskuraahten
اس گروپ میں مزاحیہ کلپس، اور لطیفے بھیجے جائیں گے. حس مزاح کی تسکین کے لئے اس گروپ کو ضرور جوائن کیجئے.

آخر میں ایک دعا....
🔷 دل دے، تو اس مزاج کا پروردگار دے.
جو رنج کی گهڑی بھی خوشی سےگزار دے.

https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
🌷 ذھین چرواہا 🌷

بیابان میں ایک چرواہا اپنی بھیڑ بکریاں چرا رہاتھا، وہاں سے ایک دانشمند کا گزر ھوا، تھوڑی دیر ان کی آپس میں گفتگو ھوئی جس سے دانشمند کو اندازہ ھو گیا کہ یہ چرواہا پڑھا لکھا نہیں ھے، تو اسے کہنے لگا:
یار تم پڑھائی لکھائی کی طرف کیوں نہیں جاتے ھو..؟

تو چرواہا بولا:
تمام علوم کا خلاصہ اور نچوڑ میرے علم میں ھے، باقی دوبارہ سیکھنے کی مجھے کیا ضرورت ھے.

تو دانشمند اسے کہتا ھے:
جو کچھ تو نے سیکھا ھے ذرا مجھے سناؤ تو سہی...

تو چرواہا بولا:
تمام علوم کا خلاصہ اور نچوڑ یہ پانچ چیزیں ہیں.
1- جب تک سچائی ختم نہیں ھوتی، جھوٹ نہیں بولتا.

2- جب تک غذائے حلال ختم نہیں ھوتی، غذائے حرام نہیں کھاتا.

3- جب تک خود مجھ میں عیب ہیں، تو دوسروں کے عیب نہیں نکالتا.

4- جب تک خدائے مھربان کے ہاں روزی ختم نہیں ھوتی، کسی اور کے دروازے پہ نہیں جاتا.

5- جب تک بھشت میں قدم نہیں رکھتا، اس وقت تک شیطان مردود کے دھوکوں میں نہیں آتا.

دانشمند نے اس کی ان باتوں کی تائید و تصدیق کی اور کہا:
واقعا تمام علوم کا خلاصہ اور نچوڑ تیرے پاس موجود ھے، اور حقیقتا جس کسی میں یہ پانچ خصلتیں پائی جاتی ہیں اور ان پر عمل بھی کرتا ھے (تو بیشک وہ اسلامی علوم کے اھداف کو پہنچ گیا ھے) اسے مزید علم وحکمت سیکھنے اور کتابوں کی ضرورت نہیں.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📕 داستان دوستان،ج4- ص63-64.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔰 چیونٹی کا اطمینان 🔰

🐜ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻴﻤﺎﻥ ﻋﻠﻴﻪ ﺳﻼﻡ نے چیونٹی سے پوچھا؟

❓ایک سال کی مدت میں کتنا کھاتی ہو؟

چیونٹی نے کہا: تین دانے.

📦 پس اسی چیونٹی کو پکڑا اور ایک ڈبے میں رکھا...

اور تین دانے اس کے ساتھ رکھ دیئے.

❗️ ایک سال گزرنے کے بعد...

حضرت سلیمان علیہ السلام نے ڈبے کو کھول کر دیکھا تو چیونٹی نے تین دانوں میں سے آدھے کو کھایا اور آدھا باقی رکھا.

❔حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعجب کیا اور چیونٹی سے پوچھا ایسا کیوں کیا؟
🐜چیونٹی نے کہا:
کیونکہ جب میں آزاد تھی تو مجھے اطمینان تھا اللہ تعالٰی مجھے روزی عطا فرمائے گا اور ہم کو فراموش نہیں کرتا.

💢 لیکن جب سے آپ نے مجھے اس ڈبے میں رکھا، مجھے یہ خوف تھا کہ کہیں آپ مجھے فراموش نہ کر جائیں. پس اسی احتیاط کی وجہ سے میں نے کھانے میں احتیاط کی تاکہ پورا ایک سال اپنی غذا کھا پاؤں.

✨ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ متعال ﻓﺮﻣﺎتا ہے:
وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ الَّا عَلَی اللّٰہِ رِزْقُھَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّھَا وَمَسْتَوْدَعَھَا ۔ کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ. (11:6)
ترجمہ:
اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور وہ جانتا ہے کہ اس کی جائے قرار کہاں ہے اور عارضی جگہ کہاں ہے، سب کچھ روشن کتاب میں موجود ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 یک جرعہ ای معرفت سے مآخوذ.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 بے نیازی 🔷

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہيں:
نبى اكرم (ص) كے اصحاب ميں سے ايک صحابى كے حالات بڑے سخت (خراب) ہو گئے، اس كى بيوى نے اس سے كہا:
تم رسول اللہ (ص) كے پاس جاؤ اور ان سے كچھ مانگو، وہ صحابى نبى اكرم (ص) كے پاس آيا،

🔻 جب آپ (ص) نے اسے ديكھا تو فرمايا:
"جو ہم سے مانگتا ہے ہم اسے عطا كرتے ہيں اور جو بے نياز رہتا ہے اسے اللہ غنى كر ديتا ہے."

🔸 اس صحابى نے (خود سے كہا):
نبى اكرم (ص) كے اس كلام كا مخاطب ميرے علاوہ كوئى اور نہيں، وہ اپنى بيوى كے پاس آيا اور اسے سارا ماجرا سنايا،

🔹 اس كى بيوى كہنے لگى: رسول اللہ (ص) بشر ہيں، تو دوبارہ جاؤ اور انہيں واضح طور پر اپنا مسئلہ بيان كرو (اور كچھ مانگ كر لاؤ تاكہ كچھ كھا پى سكيں)

🔸 وہ شخص خدمتِ رسول ميں حاضر ہوا،
🔻 جب رسول اللہ (ص) نے اسے ديكھا تو فرمايا:
"جو ہم سے مانگتا ہے ہم اسے عطا كرتے ہيں اور جو بے نياز ہوتا ہے اللہ اسے غنى كر ديتا ہے."

🔸 وہ صحابى اسى طرح تين مرتبہ آتا جاتا رہا (اور نبى اكرم سے كچھ مانگنے كى جرأت نہيں كر سكا). پھر وہ صحابى گيا اور ايک كلہاڑا كرائے پر ليا، اور پہاڑ پر گيا، اُس پر چڑھا اور كچھ لكڑياں كاٹیں، پھر ان كو لے كر آيا اور انہيں ڈيڑھ كلو آٹا كے بدلے ميں بيچا اور آٹا لے كر گھر آيا اور آرام سے كھايا۔ اگلے دن پھر وہ گيا اور كل كى نسبت زيادہ لكڑياں كاٹيں اور انہيں بيچا، اسى طرح وہ اس كام كو انجام ديتا رہا اور كچھ پيسے جمع كيے حتى كہ اس نے اپنا كلہاڑا خريد ليا۔ پھر اس نے پيسے جمع كيے اور دو بكرياں اور ايک غلام خريد ليا، پھر وہ مالدار ہو گيا يہانتک كہ وہ (مشكل حالات سے نكل كر) آسائش و آسانى ميں آ گيا.

🔹 ايک دن نبى (ص) كى خدمت ميں آيا اور انہيں سارى داستان سنائى كہ وہ كيسے آيا تاكہ آپّ سے كچھ مانگے اور كيسے اس نے نبى كے فرمانِ مبارک كو (توجہ سے) سُنا،

🔻نبى اکرم (ص) نے فرمايا: ميں نے تجھے كہا تھا كہ جو ہم سے مانگتا ہے ہم اسے عطا كر ديتے ہيں اور جو بے نياز رہتا ہے اللہ اسے غنى كر ديتا ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ: الكافی، ج2، ص139، كتاب الإيمان والكفر، باب القناعة، حديث:7.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ہاتھ کی کمائی 🔷

ﻣُﻼ ﺍﺣﻤﺪ ﺟﯿﻮﻥ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﻐﻞﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﭘﺮ ﻓﺨﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﺟﺐ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺩﮨﻠﯽ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﯾﮟ۔ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﺭﺳﮧ ﮐﮯ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﭩﯿﺎﮞ تهیں۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﺎ ﺭُﺥ ﮐﯿﺎ۔

ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﮐﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﻋﺼﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﯽ ﺟﺎﻣﻊ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﺷﺎﮨﯽ ﻗﻠﻌﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﭘﮍﮮ۔ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺍﮐﮭﭩﮯ ﮔﺰﺍﺭﺍ۔۔

ﻋﯿﺪ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﮐﮭﭩﮯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣُﻼ ﺟﯿﻮﻥ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﯿﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺟﯿﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﻧّﯽ (چار آنے) ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻧﺬﺭﺍﻧﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﭘﮍﮮ۔

ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﺩﮐﻦ ﮐﯽ ﻟﮍﺍﺋﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﭼﻮﺩﮦ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺩﮨﻠﯽ ﺁﻧﺎ ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ۔ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ۔ ﻣُﻼﺍﺣﻤﺪ ﺟﯿﻮﻥ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﺯﻣﯿﻨﺪﺍﺭ ﺑﻦ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﻥ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺯﻣﯿﻨﺪﺍﺭ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺧﻂ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﯽ۔ ﻣُﻼ ﺍﺣﻤﺪ ﺟﯿﻮﻥ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ۔ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﻋﺰﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ٹهہرﺍﯾﺎ۔ ﻣُﻼ ﺍﺣﻤﺪ ﮐﺎ ﻟﺒﺎﺱ، ﺑﺎﺕ ﭼﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﻃﻮﺭ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺎﺩﮦ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ کچھ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ کا ﺣﻮﺻﻠﮧ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﻮﺩ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ:
ﺁﭖ ﻧﮯ ﺟﻮ ﭼﻮﻧّﯽ ﺩی ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺑﺮﮐﺖ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﻨﻮﻟﮧ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﮐﭙﺎﺱ ﮐﺎﺷﺖ ﮐﯽ، ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺩﯼ ﮐﮧ ﭼﻨﺪ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔

ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣُﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ کہا:
ﺍﮔﺮ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭼﻮﻧّﯽ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻨﺎﺅﮞ؟

ﻣﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ۔

ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﺩﻡ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﭼﻮﮎ ﮐﮯ ﺳﯿﭩﮫ "ﺍﺗﻢ ﭼﻨﺪ" ﮐﻮ ﻓﻼﮞ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﻭ۔ ﺳﯿﭩﮫ ﺍﺗﻢ ﭼﻨﺪ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺑﻨﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺳﮯ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮈﺭ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﮐﺎﻧﭗ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻧﮯ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ﺁﮔﮯ ﺁﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺒﺮﺍﮨﺖ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﺗﮧ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﻭ۔

ﺳﯿﭩﮫ ﺍﺗﻢ ﭼﻨﺪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﮭﺎﺗﮧ ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﻭﺭ ﺧﺮﭺ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔

ﻣُﻼ ﺍﺣﻤﺪ ﺟﯿﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺳﻨﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺁ ﮐﮯ ﺳﯿﭩﮫ ﺭُﮎ ﮔﯿﺎ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺧﺮﭺ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﻧّﯽ ﺩﺭﺝ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔

ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻧﮯ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﮨﺎﮞ ﺑﺘﺎﺅ ﯾﮧ ﭼﻮﻧﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﮔﺌﯽ؟

ﺍﺗﻢ ﭼﻨﺪ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﺗﮧ ﺑﻨﺪ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ: ﺍﮔﺮ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﺭﺩ ﺑﮭﺮﯼ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﻭﮞ؟

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﮯ۔

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺍﮮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦِ ﻭﻗﺖ! ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﻣﻮﺳﻼﺩﮬﺎﺭ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﮑﺎﻥ ﭨﭙﮑﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻣﮑﺎﻥ ﻧﯿﺎ ﻧﯿﺎ ﺑﻨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻣﮑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﭼﮭﺖ ﭨﭙﮑﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﮭﺎﻧﮑﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻻﻟﭩﯿﻦ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﻧﻈﺮ ﺁﯾﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﺍﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ؟ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺗﯿﻦ ﭼﺎﺭ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ، ﺟﺐ ﻣﮑﺎﻥ ﭨﭙﮑﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺁﮐﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺩﺭﺳﺖ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺢ ﮐﯽ ﺁﺫﺍﻥ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ:
ﺳﯿﭩﮫ ﺻﺎﺣﺐ! ﺁﭖ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯾﺠﯿﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻻ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﻧّﯽ ﻧﮑﻠﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺍﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ! ﺍﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﯾﮩﯽ ﭼﻮﻧّﯽ ﮨﮯ ﯾﮧ لو ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺢ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺁﻧﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﯾﮩﯽ ﭼﻮﻧّﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺣﺎﺿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﻣﻨﺘﯿﮟ ﮐﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭼﻮﻧّﯽ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻭﺭﻧﮧ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭼﻮﻧّﯽ ﺍﺱ کو ﺩﮮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻟﮯﮐﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮧ ﻣﻞ ﺳﮑﺎ۔ ﺁﺝ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺑﺮﺱ بیت ﮔﺌﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﻼﻣﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻧﮧ ﺳﮩﯽ ﺍﭨﮭﻨﯽ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﺎ۔

ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺗﻢ ﭼﻨﺪ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ لیکر ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﭼﻮﻧّﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﯿﺲ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺭﻋﺎﯾﺎ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﺳﮑﻮﮞ۔ ﺳﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﺎﻡﮐﯿﺎ۔

ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭼﻮﻧّﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﮩﺎﺭ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﮨﻮﮔﯽ۔

ﺍﻭﺭﻧﮕﺰﯾﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﮨﺎﮞ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﺻﻞ ﺑﺎﺕ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﺎﮨﯽ ﺧﺰﺍﻧﮧ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﭘﺎﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯽ۔ ﮨﻔﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺩﻥ ﭨﻮﭘﯿﺎﮞ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺩﻭ ﺩﻥ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﻨﺪ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮨﮯ.

📚 ﺗﺎﺭﯾﺦِ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌲 بہترین حسن ظن 🌲

یہ چند سطریں نہ جانے کس کی کاوش ہیں لیکن ہیں بہت خوب، تعریف کے لائق.

↔ ﺍﯾﮏ ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ:
ﺗﻢ ﻣﺮ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ.
اعرابی ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ.؟
ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ:
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ...
ﺍﻋﺮﺍﺑﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ:
ﺁﺝ ﺗﮏ ﺟﻮ ﺧﯿﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺋﯽ ﮬﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ہاﮞ ﺳﮯ ﭘﺎﺋﯽ ﮬﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮈﺭﻧﺎ.

ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺣﺴﻦِ ﻇﻦ ﮬﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍللە سے.

↔ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ:
ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ؟
ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ:
ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﺟﻮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ.

ﮐﯿﺎ ﮬﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺣﺴﻦِ ﻇﻦ ﮬﮯ.

↔ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱؓ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺪﻭ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺣﺴﺎﺏ ﮐﻮﻥ ﻟﮯ ﮔﺎ.؟
ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱؓ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ:
" ﺍﻟﻠﮧ تعالی "
تو بدو نے خوشی سے کہا:
ﺭﺏ ﮐﻌﺒﮧ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﮬﻢ ﻧﺠﺎﺕ ﭘﺎﮔﺌﮯ.

ﮐﯿﺎ ﮬﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺣﺴﻦِ ﻇﻦ ﮬﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ.

↔ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﺎ ﺁﺧﺮﯼ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﭘﮭﻮﭦ ﭘﮭﻮﭦ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ...

ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ:
ﺍﻣﯽ ﺟﺎﻥ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺴﺎﺏ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ.؟

ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ:
ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﻭﻧﮕﯽ.

نوجوان بولا:
ﺍﻣﺎﮞ ﺟﺎﻥ، ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺭﺣﯿﻢ ﮬﮯ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺠﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﯾﮧ ﺭﻭﻧﺎ ﮐﯿﺴﺎ.؟

ﮐﯿﺎ ﮬﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﮔﻤﺎﻥ ﮬﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ.

🔘 ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﺣﺸﺮ ﮐﯽ ﻣﻨﻈﺮ ﮐﺸﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮬﮯ:
"ﻭﺧﺸﻌﺖ ﺍﻷﺻﻮﺍﺕ ﻟﻠﺮّﺣﻤٰﻦ"
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﺩﺏ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ ﺭﺣﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ.

ﺍﺱ ﺣﺸﺮ ﮐﯽ ﮔﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ "ﺟﺒﺎﺭ" ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﻔﺖِ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﺎ ﮬﯽ ﺁﺳﺮﺍ ﺩﯾﺎ ﮬﮯ.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 چند سنہرے اصول 🌹

حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:

🌹"جواپنے عیب پر نگاہ رکھتا ہے وہ دوسروں کے عیب سے غافل ہو جاتا ہے.

اور
🌺جو خدا کے رزق پر راضی رہتا ہے وہ کسی چیز کے ہاتھ سے نکل جانے پر رنجیدہ نہیں ہوتا ہے۔

🌸جو بغاوت کی تلوار کھینچتا ہے خوداسی سے ماراجاتا ہے.

اور
🌼جو امورکو زبردستی انجام دیناچاہتا ہے وہ تباہ ہو جاتا ہے،

🌻لہروں میں پھاند پڑنے والا ڈوب جاتا ہے.

اور
🌷غلط جگہوں پر داخل ہونے والا بدنام ہو جاتا ہے،

🍀جس کی باتیں زیادہ ہوتیں ہیں اس کی غلطیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں اور جس کی غلطیاں زیادہ ہوتی ہیں اس کی حیا کم ہو جاتی ہے اورجس کی حیا کم ہو جاتی ہے اس کا تقویٰ بھی کم ہوجاتا ہے اورجس کا تقویٰ کم ہوجاتا ہے اس کادل مردہ ہوجاتا ہے اور جس کادل مردہ ہو جاتا ہے وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے.

🌾جولوگوں کے عیب کو دیکھ کر ناگواری کا اظہار کرے اور پھر اسی عیب کو اپنے لئے پسند کر لے تو اسی کو احمق کہا جاتا ہے.

🍒قناعت ایک ایسا سرمایہ ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے.

🍄جوموت کو برابر یاد کرتا رہتا ہے وہ دنیا کے مختصر حصہ پر بھی راضی ہو جاتا ہے.

اور
🌿جسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کلام بھی عمل کا ایک حصہ ہے وہ ضرورت سے زیادہ کلام نہیں کرتا ہے."

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 کلمات قصار نھج البلاغہ حکمت349.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 نو باتیں 🌹

آپس کے معاملات سدھارنے کے لیے کتنی زبردست ہیں یہ نو باتیں، کاش ہم انہیں اپنے عمل میں لائیں!!!

1- فتبينوا...
کوئی بھی بات سن کر پھیلانے سے پہلے تحقیق کر لیا کرو . کہیں ایسا نہ ہو کہ بات سچ نہ ہو اور کسی کوانجانے میں نقصان پہنچ جائے۔

2 - فأصلحوا...
دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا دیا کرو. تمام ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

3- وأقسطوا...
ہر جھگڑے کو حل کرنے کی کوشش کرو اور دو گروہوں کے درمیان انصاف کرو. الله کریم انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

4 - لا يسخر...
کسی کا مذاق مت اڑاؤ. ہو سکتا ہے کہ وہ الله کے نزدیک تم سے بہتر ہو۔

5 - ولا تلمزوا...
کسی کو بے عزّت مت کرو۔

6- ولا تنابزوا...
لوگوں کو برے القابات (الٹے ناموں) سے مت پکارو.

7- اجتنبوا كثيرا من الظن...
برا گمان کرنے سے بچو کہ کُچھ گمان گناہ کے زمرے میں آتے ہیں۔

8 - ولا تجسَّسُوا...
ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو۔

9- ولا يغتب بعضكم بعضا...
تُم میں سےکوئی ایک کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے کہ یہ گناہ کبیرہ ہے اور اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔
(سورہ الحجرات)

الله کریم اخلاص کیساتھ عمل کرنیکی تو فیق دے۔
آمین یارب العامین.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 انسان سے بندہ 🌺

ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻝ ﮐﺮ رﻭﮈ ﭘﺮ ﭼﻼ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ کہﺍﯾﮏ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﭨﮩﻨﯽ اٹھائی ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ ﺭﮔﮍ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ:
"ﻟﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ....."

🌹ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺩﻭ.

🌺ﺟﻮ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﮐﺮﻭ، ﺟﻮ ﭼﮭﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ.

🌸ﺟﻮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭ، ﺟﻮ
ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎؤ.

🌼ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ، ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎؤ ﮔﮯ، ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺟﻤﻊ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ.

🌷ھﺠﻮﻡ ﺳﮯ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮐﺮﻭ، ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﻨﺎؤ.

🌻ﺟﺴﮯ ﺧﺪﺍ ﮈﮬﯿﻞ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ.

🍀ﺑﻼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﭻ ﻓﺴﺎﺩ ﮨﻮﺗﺎ ھﮯ.
ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﺳﭻ ﺑﻮﻟﻮ، ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﭼﭗ ﺭﮨﻮ.

🌿ﻟﻮﮒ ﻟﺬﺕ چاھتے ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﺬﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ اچھا ھو، ضروری نہیں.

🌾ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﯿﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻞ ﺟﺎؤ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ.

🌱ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ھے، ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻏﻢ.

🍁ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺭﮎ ﺟﺎؤ ﮔﮯ.

🍃ﭼﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﭼﻮﺭ ﮨﻮ ﺟﺎؤ ﮔﮯ.

☔ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ سب ﺭﺍﺿﯽ ﺭھیں گے. ﻭﮦ اگر ﻧﺎﺭﺍﺽ ھوا ﺗﻮ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﮌ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ.

❄نیک لوگوں ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎ نیک انسان ﺟﺎﮒ ﺟﺎﺋﮯ گا.

🍂ﺗﻢ ﺟﺐ ﻋﺰﯾﺰﻭﮞ، ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ، ﺍﻭﻻﺩ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﮍﻧﮯ ﻟﮕﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﻮ کہ ﺍللہ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ھﮯ.
اور ﺟﺐ تم ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﺣﻢ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﻮ ﺗﻮ ﺳﻤﺠھ ﻟﻮ کہ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺧﺎﻟﻖ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ھے.

🌴ھﺠﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺒﮭﯽ نقصان ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ."

☔ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯽ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﮐﮭﻮﻟﯽ،
ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﺟﺎؤ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺭﺣﻤﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﯾﮧ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺭﮨﮯ.
ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﺎ:
ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﻧﺎ.
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﯾﻨﺎ.
ﯾﮧ ﺍللہ ﮐﯽ ﺳﻨﺖ ھﮯ،
اللہ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺗﺎ. ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺗﯽ ھﮯ.

🌹ﺍﻭﺭ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﺎ:
"ﺟﻮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺭھﺎ ﮨﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ."
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍللہ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ھے...
ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺭﮐﮭﺘﺎ ھﮯ.

ﺗﻢ ﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭھﻨﺎ....
"ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ میلہ ﻟﮕﺎ ﺭھﮯ ﮔﺎ."

ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ.

👆 ایک مراسلہ 👆

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 علامہ اقبال 🌹

منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مل جائے تجھکو دریا تو سمندر تلاش کر
🌹🌹🌹

ہرشیشہ ٹوٹ جاتا ہےپتھر کی چوٹ سے
پتھر ہی ٹوٹ جائے.. وہ شیشہ تلاش کر
🌹🌹🌹

سجدوں سےتیرےکیاہواصدیاں گزرگئیں
دنیا تیری بدل دے.. وہ سجدہ تلاش کر
🌹🌹🌹

ایمان تیرا لُٹ گیا رہزن کے ہاتھوں سے
ایماں تیرا بچا لے .... وہ رہبر تلاش کر
🌹🌹🌹

ہرشخص جل رہاہےعداوت کی آگ میں
اس آگ کو بجھادے وہ پانی تلاش کر
🌹🌹🌹

کرے سوار اونٹ پہ.. اپنے غلام کو......!!
پیدل ہی خود چلے جو وہ آقا تلاش کر.
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹


🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ہاتهی کی رسی 🔷

ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ بہت ﺑﮍﮮ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻨﺪﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ ﺍُﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺟﻨﺎﺏ! ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺑﮍﯼ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺳﯽ ﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺭﺳﯽ ﺗﮍﻭﺍ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮒ ﻧﮑﻼ ﺗﻮ.....؟؟

ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﻧﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ:
ﺟﺐ ﮨﻢ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﭘﺎﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍِﺳﯽ ﺭﺳﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺳﮯ ﺑﺎﻧﺪﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ. ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺗﻮﮌ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ. ﺑﺲ ﺍﺱ ﺩﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺟﺘﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮯﺑﺲ ﮨﮯ. ﻟﮩٰﺬﺍ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍُﺳﯽ ﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ.


■ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ لوگوں کی مثال اس ہاتھی کی جیسی ہے کیونکہ لوگ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ.

آپ میں خود کو بدلنے کی استعداد و طاقت موجود ہے صرف قدم اٹھانے کی ضرورت ہے. خود کو اس طرح بدل ڈالئے جس طرح ہمارا اللہ چاہتا ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 گدھے کی فروخت 🔷

ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا۔ گدھا لے لو۔ پانچ سو روپے میں گدھا لے لو۔
گدھا انتہائی کمزور اور لاغر قسم کا تھا۔
وہاں سے بادشاہ کا اپنے وزیر کے ساتھ گزر ہوا،
بادشاہ وزیر کے ساتھ گدھے کے پاس آیا اور پوچھا کتنے کا بیچ رہے ہو؟
اس نے کہا عالی جاہ! پچاس ہزار کا.

بادشاہ حیران ہوتے ہوئے، اتنا مہنگا گدھا؟ ایسی کیا خاصیت ہے اس میں؟

وہ کہنے لگا حضور جو اس پر بیٹھتا ہے اسے مکہ مدینہ دکھائی دینے لگتا ہے۔

بادشاہ کو یقین نہ آیا اور کہنے لگا اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو ہم ایک لاکھ کا خرید لیں گے.
لیکن اگر جھوٹ ہوئی تو تمہارا سر قلم کر دیا جائے گا.
ساتھ ہی وزیر کو کہا کہ اس پر بیٹھو اور بتاؤ کیا دکھتا ہے؟

وزیر بیٹھنے لگا تو گدھے والے نے کہا جناب مکہ مدینہ کسی گنہگار انسان کو دکھائی نہیں دیتا۔

وزیر: ہم گنہگار نہیں، ہٹو سامنے سے۔ اور بیٹھ گیا لیکن کچھ دکھائی نہ دیا۔
اب سوچنے لگا کے اگر سچ کہہ دیا تو بہت بدنامی ہوگی،
اچانک چلایا سبحان اللہ، ما شاءاللہ، الحمدللہ کیا نظارہ ہے مکہ، مدینہ کا۔

بادشاہ نے تجسس میں کہا ہٹو جلدی ہمیں بھی دیکھنے دو اور خود گدھے پر بیٹھ گیا...
دکھائی تو اسے بھی کچھ نہ دیا لیکن سلطانی جمہور کی شان کو مدنظر رکھتے ہوئے آنکھوں میں آنسو لے آیا
اور کہنے لگا واہ میرے مولا واہ، واہ سبحان تیری قدرت، کیا کراماتی گدھا ہے،
کیا مقدس جانور ہے...
میرا وزیر مجھ جتنا نیک نہیں تھا اسے صرف مکہ مدینہ دکھائی دیا مجھے تو ساتھ ساتھ جنت بھی دکھائی دے رہی ہے.

اس کے اترتے ہی عوام ٹوٹ پڑی کوئی گدھے کو چھونے کی کوشش کرنے لگا، کوئی چومنے کی، کوئی اس کے بال کاٹ کر تبرک کے طور پر رکھنے لگا وغیرہ وغیرہ....
یہی حال کچھ ہمارے سماج میں بس رہے کچھ جعل سازوں اور مکاروں کا ہے جنہوں نے جمہوریت اور دین کے نام پر فریب دینے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے اور سادہ لوح عوام بھی اندھے کانے بن کر پیچھے چلے پڑتے ہیں.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 مصلحت پسندی یا جہالت 🔷

پرانے وقتوں میں لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے، انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ ہے کہ....!
"ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور ٹھگنے کا پروگرام بنایا۔ چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ وہ دیہاتی کچھ آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ اس سے آکر ملا اور بولا:
بھائی یہ کتا کہاں لے کر جارہے ہو؟

دیہاتی نے اسے گھور کر دیکھا اور بولا:
بیوقوف تجھے نظر نہیں آ رہا کہ یہ بکرا ہے کتا نہیں.

دیہاتی کچھ اور آگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ٹکرایا۔ اس نے کہا:
یار یہ کتا تو بڑا شاندار ہے کتنے کاخریدا؟
دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا.

اب دیہاتی تیز قدموں سے اپنے گھر کی جانب بڑھنے لگا مگر آگے تیسرا ٹھگ تاک میں بیٹھا تھا جس نے پروگرام کے مطابق کہا:
جناب یہ کتا کہاں سے لیا؟

اب دیہاتی تشویش میں مبتلا ہو گیا کہ کہیں واقعی کتا تو نہیں۔ اسی شش و پنج میں مبتلا وہ باقی ماندہ راستہ کاٹنے لگا۔ بالآخر چوتھے ٹھگ سے ٹکراؤ ہوگیا جس نے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی اور بولا:
جناب کیا اس کتے کو گھاس کھلاؤ گے؟
اب تو دیہاتی کے اوسان خطا ہو گئے اوراس کا شک یقین میں بدل گیا کہ "یہ واقعی کتا ہے." وہ اس بکرے کوچھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا.
یوں ان چاروں ٹھگوں نے بکرا ٹھگ لیا...

■ آج ہمارا معاشرہ بھی دوسری نوعیت کے ٹھگوں کی یلغار میں ہے۔ یہ ٹھگ دراصل ہمارے ایمان کے ٹھگ ہیں، یہ نہیں چاہتے کہ لوگ سچائی کی راہ پر چلیں، یہ ایمانداری کے خلاف اتنی دلیلیں دیتے ہیں کہ ایک ایماندار شخص مصلحت پسندی کا شکار ہو جاتا ہے...
یہ ناجائز منافع خوری کو حق ثابت کر کے دوسرے لوگوں کو بھی اس قبیح فعل پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ عبادات کو رسومات بنا کر لوگوں کو خدا سے دور کرتے ہیں۔ یہ نکاح کو زنا کے مترادف قرار دے کر خاندانی نظام کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ یہ ہوس کو محبت کا نام دے کر نوجوان نسل کو گمراہ کرتے ہیں۔ یہ مذہب کو کلچر سے تعبیر دے کر لوگوں کو اس سے متنفر کرتے ہیں۔
● غرض یہ ٹھگ اس جدید دنیا کے ماڈرن شیطان ہیں۔ یہ ہمارے پاس اپنی قبیح شکل میں نہیں آتے بلکہ یہ سوٹ بوٹ میں ملبوس ہو کر ہمار ے ہمدرد بن کر یہ ساری کارروائی کرتے ہیں....

■ اس پوری صورتحال سے بچنے کے لیے ایک صالح مومن کو دو تدابیر اختیار کرنی ہیں..
"ایک تو یہ کہ وہ حق وباطل کے میعار کو عوام الناس کی رائے سے اخذ کرنے کی بجائے وحی اور مسلمہ اخلاقی اصولوں سے اخذ کرے۔"
"دوسرا یہ کہ وہ ان شیطانوں کو پہچانے اور ان کی باتوں کو اہمیت نہ دے ورنہ اس کاحشر اس دیہاتی کی طرح ہوگا جو بکرے کو کتا سمجھ بیٹھا تھا۔"

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 خود اعتمادی 🌹

زندگى جدوجہد، كوشش اور جستجو كا نام ہے. ہر انسان كو زندگى بھر ميں سينكڑوں بلكہ ہزاروں مشكلات كا سامنا كرنا پڑتا ہے. زندہ رہنے اور زندگى گزارنے كے ليے اسے عالم طبيعت كى قوتوں سے ناچار جنگ كرنا پڑتى ہے اور انہيں تسخير كرنا پڑتا ہے. بيماريوں اور ان كے اسباب كے خلاف لڑنا پڑتا ہے. زيادتیوں اور آرام و آزادى كے خلاف مزاحمت كرنے والے عوامل كے خلاف جدوجہد كرنا پڑتى ہے.
كارزار زندگى ميں وہى كامياب ہے جس كا دل بڑا ہو، ہمت بلند ہو. اور ارادہ قوى ہو. ہر كسى كى خوش بختى يا بدبختى كى بنياد خود اس كے اندر موجود ہے.

دنيا كے بڑے انسان كى درخشان كاميابيوں كا سبب ان كى خود اعتمادى، قوت ارادى اور مسلسل كوشش رہى ہے.

عظيم اور قوى لوگ زندگى كى مشكلات سے نہيں دڑتے. وہ ذاتى استقلال اور خدا پر بھروسہ كرتے ہوئے ان كے خلاف برسرپيكار ہوتے ہيں اور ہمت باندھ كے جدوجہد كرتے ہيں اور انہيں مغلوب كر ليتے ہيں. ہمت اور عالمى حوصلگى ہر مشكل كو آسان بناديتى ہے بلكہ جو چيز دوسروں كے ليے محال ہوتى ہے اسے ممكن بناديتى ہے وہ زندگى كے گہرے سمندر ميں كسى تنكے كى مانند نہيں ہوتے كہ جو فقط لہروں كے سہارے ادھر ادھر بھٹكتے رہيں بلكہ ايک ماہر پيراک كى طرح اپنے قوى بازوؤں، آہنى ارادوں اور توكل الى اللہ سے جس طرف كو چاہتے ہيں تيرتے ہيں بلكہ دنيا كے واقعات كا رخ بدل ديتے ہيں.

ہر انسان اپنے ذاتى استقلال، خوداعتمادى، ارادے اور جدوجہد سے اپنى زندگى ميں كامياب ہوتا ہے. دين مقدس اسلام ميں بھى دنياوى اور اخروی كاميابى و ناكامى كو انسان كے اعمال اور كوشش كا نتيجہ قرار ديا گيا ہے.
■ چنانچہ قرآن مجيد ميں فرمايا گيا ہے:
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَى‏ / وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى‏.
ترجمہ:
انسان كے ليے جو كچھ بھى ہے وہ اس كى كوشش كا ماحصل ہے اور وہ جلد اپنى سعد كو (مجسّم) ديكھ لے گا. (نجم: 39، 40)

● اميرالمؤمنين حضرت علیؑ فرماتے ہيں:
"الصوء بہمّتہ"
ہر كسى كى قيمت اس كى ہمت كے مطابق ہے. (نہج البلاغہ، ج3، ص:163)

جو شخص خود استقلال اور خوداعتمادى كا حامل ہو وہ مشكلات كے حل کے ليے دوسروں كا منتظر نہيں رہتا بلكہ اپنى بلند ہمتى اور پختہ ارادے كے ذريعے ميدان عمل ميں كود پڑتا ہے اور جب تک اپنے مقصد كو پا نہيں ليتا كوشش اور جدّوجہد سے دستبردار نہيں ہوتا.

● امام سجّاد عليہ السلام فرماتے ہيں:
تمام اچھائياں اس امر ميں جمع ہيں كہ انسان دوسروں كے بھروسے پر نہ بيٹھا رہے. (اصول كافى، ج2، ص:148)

● امام جعفر صادقؑ فرماتے ہيں:
مومن كى عزت اور بزرگى كا راز يہ ہے كہ وہ لوگوں كے ہاتھوں ميں موجود چيز سے اميد وابستہ نہ ركھے. (اصول كافى، ج2، ص:148)

■ البتہ خوداعتمادى سے محروم افراد اپنى ذات پر بھروسہ نہيں كرتے وہ اپنے تئيں حقير اور ناتوان سمجھتے ہيں، زندگى كے مسائل كا سامنا كرنے سے گھبراتے ہيں اور ان كے ساتھ مقابلے كى جرأت سے عارى ہوتے ہيں. وہ مشكل كاموں اور ذمہ داريوں سے بھاگتے ہيں. منفى سوچوں اور یاس و نااميدى كى وجہ سے ممكن كاموں كو بھى محال بنا كر پيش كرتے ہيں. اپنى زندگى كو محرومى اور كنارہ كشى كے عالم ميں گزار ديتے ہيں.

■ اب جب كہ استقلال اور خود اعتمادى كى اہميّت واضح ہوگئی ہے، اس امر كى ياددہانى بھى ضرورى ہے كہ اس انسانى كمال كى بنياد ہر انسان كے اپنے وجود ميں مخفى ہے ليكن تربيت اور تكامل كى محتاج ہے.

● تربيت كا بہترين اور حسّاس ترين زمانہ بچپن كا دور ہے. روح انسانى ميں استقلال اور خوداعتمادى كى بنياد بچپن ہى ميں پڑجاتى ہے. چنانچہ بے اعتمادى اور قوت ارادى سے محرومى كا سرچشمہ بھى بچپن كى غلط تربيت ہى ہے.
وہ ماں باپ جو اپنے بچوں سے محبت ركھتے ہيں اور انہيں اپنى ذمہ دارى كا احساس بھى ہے، انہيں چاہيے كہ اپنى اولاد كى تربيت كريں اور آئندہ كى زندگى كے ليے انہيں تيار كريں. اس صورت ميں وہ اپنے فريضے پر بھى عمل كريں گے اور اپنى كاميابى كے اسباب بھى فراہم كريں گے.

● امام زین العابدینؑ فرماتے ہيں:
اپنى اولاد كى اس طرح سے تربيت كر كہ وہ تيرى عزت و سربلندى كا باعث بنے. (تحف العقول، ص:269)

چار سال كى عمر سے لے كر آٹھ سال كى عمر تک شخصيّت كى پرورش، استقلال، اور خوداعتمادى پيدا كرنے كا بہترين دور ہے. اس زمانے ميں بچہ استقلال كى طرف ميلان ركھتا ہے اور اپنے آپ كو مشكلات سے مقابلے كے ليے تيار كرتا ہے. كم سن بچہ اگر چہ اپنى كمزورى كا احساس بھى ركھتا ہے اور وہ كسى بڑى طاقت كے زير سايہ رہنا چاہتا ہے تاہم استقلال اور خوداعتمادى كى طرف ميلان بھى اس كى ذات ميں چھپا ہوتا ہے. وہ چاہتا ہے كہ اپنى ضروريات كو پورا كرے اور ذاتى استقلال حاصل كر لے. وہ نئے نئے كاموں اور اپنى ايجادات سے بہت خوش ہوتا ہے اور فخر سے انہيں دوسروں كو دكھاتا ہے. آپ کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے ذریعے بچے کی شخصیت اور استقلال کی تدریجا تکمیل ہوتی جائے گی.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕