ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔷 اخلاق اور خود سازی 🔷

■ عظیم مجاهدت: پیغمبر اکرم (ص) نے ایک سخت جنگ سے واپسی پر فرمایا کہ "یہ جہاد اصغر تھا اور اس کے بعد جہاد اکبر کی باری ہے"

جہاد اکبر یعنی نفس سے جہاد۔ جہاد بالنفس کو انسان کی ذاتی حدود تک محدود نہیں سمجھنا چاہئے.

نفسانی خواہشات، لذت کوشی، آرام طلبی، زیادہ کی خواہش اور بری عادتوں کے خلاف مجاہدت اہم اور جہاد بالنفس ہے.

■ خود سازی کے معنی
خود سازی کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ کوئی عیب ہے، ہمیں اس کو برطرف کرنا چاہئے۔ نہیں، بلکہ خودسازی کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ان عناصر کی طرف سے ہوشیار رہیں جو عیب پیدا کر دیتے ہیں.

■ خود سازی کی ضرورت
خودسازی دوسروں کی اصلاح، دنیا کی تعمیر اور سخت راستے طے کرنے کیلئے تمہید اور بنیادی شرط ہے.

انسان کے وجود میں تمام برائیوں کا سرچشمہ بھی موجود ہے، اسی طرح انسانی وجود میں تمام اچھائیوں اور کمالات کا سرچشمہ بھی موجود ہے۔ اگر انسان کوشش کرے تو اچھائیوں کا سرچشمہ اس کے لئے کھل جائے گا.

■ اخلاقی تربیت کی اہمیت
نوجوانوں، بچوں اور نونہالوں کی اخلاقی تربیت، واقعی تمام معاشروں کے لئے بے حد اہم ہے۔ جو معاشرہ اسلامی ہو اور اسلامی احکام و نظریات کی بنیاد پر قائم رہنا چاہتا ہو، لازمی طور پر اس کے سامنے دیگر معاشروں سے بلند تر مجاہدت ہوگی۔ کوئی بھی معاشرہ بغیر مجاہدت کے اصلاح کا راستہ نہیں پا سکتا۔ اس لئے کہ ہر جگہ ایسے عوامل ہیں جو مختلف ثقافتوں کے مطابق بچوں کو چوری، برائی، کاہلی اور بے راہروی سکھاتے ہیں اور بچے ان سے یہ چیزیں سیکھتے ہیں.

■ نوجوانی میں خود سازی
اگر ایک جملے میں مجھ سے پوچھا جائے کہ نوجوانوں سے کیا چاہتے ہو؟ تو میں کہوں گا کہ تعلیم، پاکیزگی اور کھیل کود۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوجوانوں میں یہ تین خصوصیات ہونی چاہئیں۔

انسان نوجوانی میں آسانی سے گناہوں سے اجتناب کر سکتا ہے۔ آسانی سے خود کو خدا سے نزدیک کر سکتا ہے۔

نوجوانی کے بعد بھی یہ تمام کام ممکن ہیں لیکن بہت مشکل ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ نوجوانی گناہ کرنے کا زمانہ ہے اور بڑھاپا توبہ کرنے کا۔ یہ غلط ہے۔ توبہ کرنے کا زمانہ بھی نوجوانی کا زمانہ ہی ہے۔ دعا کا زمانہ بھی نوجوانی کا زمانہ ہی ہے۔ ہر اہم کام کا زمانہ، نوجوانی کا زمانہ ہے۔

■ اخلاقی تربیت وتعلیم مسلط کرنا
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اخلاق کے مسئلے اور نوجوانوں کی اخلاقی تربیت پر توجہ نہیں دینی چاہئے بلکہ ان کو آزاد چھوڑ دینا چاہئے۔ حالانکہ یہ مستقبل کی نسل کے تئیں غفلت اور تساہلی ہے. اخلاقی تربیت، اخلاقی تعلیم کو مسلط کرنا نہیں ہے۔ اخلاقی تعلیمات کو مسلط کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ اسلام نے بھی ہم سے یہ نہیں کہا ہے اور یہ نہیں چاہا ہے۔ دباؤ اور زور زبردستی سے کام لیکر اخلاقی تعلیمات مسلط کرنے سے لوگ ریاکار، مکار اور منافق ہو جاتے ہیں جو اچھی بات نہیں ہے۔ لیکن تربیت بہت اہم ہے۔ صحیح طریقے سے تربیت کے ذریعے نوجوانوں کو دیندار بنانا چاہئے۔ بنیادی ہدف یہ ہونا چاہئے کہ نوجوان دیندار، دین پر یقین رکھنے والے، اسلامی اخلاق اور ان صفات کے مالک ہوں جو اسلام کی نگاہ میں انسانوں کی پسندیدہ صفات ہیں۔

■ خود سازی کی روش
امیرالمؤمنین حضرت علی (علیہ السلام) کے اس ارشاد گرامی سے کہ "من نصب نفسہ اماما فلیبدا بتعلیم نفسہ قبل تعلیم غیرہ" بالکل واضح ہے کہ (اصلاح کی) ابتدا اپنی ذات سے کرنی چاہئے۔ ہمیں پہلے خود اپنے پر توجہ دینا چاہئے۔ خودسازی کا پہلا اور اہم ترین قدم یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو، اپنے اخلاق کو اور اپنے کردار کو تنقیدی نگاہ سے دیکھے۔ اپنے عیوب پر غور کرے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرے۔ ہمیں اپنی لغزشوں کو کم کرنا چاہئے اور اس کام میں خدا سے مدد مانگنا چاہئے.

اپنی بداخلاقیوں اور بری صفات کا پتہ لگائیں۔ یہ مجاہدت کا دشوار حصہ ہے۔ خود پسندی و خود ستائی میں مبتلا نہ ہوں۔ اپنے عیوب کو دیکھیں اور ان کی فہرست اپنے سامنے رکھیں۔ کوشش کریں کہ اس فہرست میں مسلسل کمی آئے۔ اگر حاسد ہیں تو حسد کو ختم کریں، اگر ضدی ہیں تو ضد کو ختم کریں، اگر کاہل ہیں تو کاہلی کو ختم کریں، اگر دوسروں کا برا چاہتے ہیں اور بدخواہ ہیں تو بدخواہی کو دور کریں، اگر اپنے اندر عہدشکنی پائی جاتی ہو تو عہدشکنی اور بے وفائی کو ختم کریں۔ خداوندعالم کمال تک پہنچنے کے لئے جاری مجاہدت میں انسان کو بےیارومددگار نہیں چھوڑتا.

اس مجاہدت کا فائدہ سب سے پہلے خود مجاہدت کرنے والے کو پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ فائدہ معاشرے اور ملک و قوم غرض ہرجگہ اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں مختصر یہ کہ اس طریقے سے عوام کی دنیا و آخرت دونوں ‎سنور جاتی ہیں.

■ نفس کی پاکیزگی، انہیں مختصر جملوں سے ہو سکتی ہے؛ خدا پر توجہ، خدا سے الفت، ہر اقدام سے پہلے سوچنا، دنیا کے تمام اچھے لوگوں اور خدا کے تمام مخلص بندوں سے محبت اور سب کی بھلائی چاہنا.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🖊🕌شہبازقلندرکا مختصرتعارف🕌🖊

لال شہباز قلندر (1177ء تا 1274ء) جن کا اصل نام سید عثمان مروندی تھا، سندھ میں مدفون ایک مشہور صوفی بزرگ تھے۔ ان کا مزار سندھ کے علاقے سیہون شریف میں ہے۔ وہ ایک مشہور صوفی بزرگ، شاعر، فلسفی اور قلندر تھے۔ ان کا تعلق صوفی سلسلۂ سہروردیہ سے تھا۔ ان کا زمانہ اولیائے کرام کا زمانہ مشہور ہے۔ مشہور بزرگ شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی، شیخ فرید الدین گنج شکر، شمس تبریزی، جلال الدین رومی اور سید جلال الدین سرخ بخاری ان کے قریباً ہم عصر تھے۔

ولادت

آپ کی ولادت 538 ہجری بمطابق1143 عیسوی آذر بائیجان کے علاقے مروند میں ہوئی۔

نسبت

13 واسطوں سے جعفر صادق تک پہنچتا ہے سید عثمان مروندی بن سید کبیر بن سید شمس الدین بن سید نور شاہ بن سیدمحمود شاہ بن احمد شاہ بن سید ہادی بن سید مہدی بن سید منتخب بن سید غالب بن سید منصور بن سید اسماعیل بن سید جعفر صادق

القاب کی وجہ تسمیہ

آپ کے چہرہ انور پر لال رنگ کے قیمتی پتھر "لعل" کی مانند سرخ کرنیں پھوٹتی تھی اس وجہ سے آپ کا لقب لعل ہوا۔شہبازکا لقب امام حسن نے ان کے والد کو پیدائش سے پہلے بطور خوشخبری کے عطا کیا کہ ہم تمہیں اپنے ناناسے عطا ہوا تھا اس وجہ سے "شہباز لقب ہوا اور اس سے مراد ولایت کا اعلیٰ مقام ہے۔

ابتدائی حالات

آپ مروند (موجودہ افغانستان) کے ایک درویش سید ابراہیم کبیر الدین کے بیٹے تھے۔ ان کے اجداد نے عراق سے مشہد المقدس (ایران) ہجرت کی جہاں کی تعلیم مشہور تھی۔ بعد ازاں مروند کو ہجرت کی۔ آپ کو اس دور میں غزنوی اور غوری سلطنتوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا اور آپ نے اسلامی دنیا کے لا تعداد سفر کیے جس کی وجہ سے آپ نے فارسی، عربی، ترکی، سندھی اور سنسکرت میں مہارت حاصل کر لی۔ آپ روحانیت کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے اور مسلمانوں کے علاوہ اہلِ ہنود میں بھی بڑی عزت تھی۔ آپ سرخ لباس پہنتے تھے جس کی وجہ سے انہیں لال کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں جھولے لال بھی کہا جاتا تھا۔

وصال

آپ کا وصال21 شعبان المعظم 673 ہجری میں ہوا۔

مزار اور عرس

ان کا مزار سندھ کے شہر سیہون شریف میں ہے۔ یہ سندھی تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے اور 1356ء میں تعمیر ہوا۔ اس کا اندرونی حصہ 100 مربع گز کے قریب ہے۔ ان کا سالانہ عرس اسلامی تقویم کے مطابق 18 شعبان المعظم کو ہوتا ہے۔

بشکریہ سفینةالنجاة
غلام حسین معصومی

t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔴 شہباز قلندر 🔴

🔴قلندر ترکی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ایسا شخص جو دنیا کو چھوڑ کر صرف اللہ کا ہوجائے.

🔴جو لوگ سرکار امام حسین علیه السلام کے روضے کی زیارت کر چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس روضے میں حضرت ابراہیم مجاب کی قبر مبارک ہے۔
مجاب کے معنی جس کو جواب آتا هو.

🔴ابراہیم مجاب کو سرکار امام حسین علیه السلام سلام کا جواب دیتے تھے۔

🔴ابراہیم مجاب مولا حسین علیه السلام کے روضے میں بہت آتے اور وہیں انکا ٹھکانہ تھا۔
وہ شادی نہیں کرنا چاہتے تھے صرف روضے کی خدمت میں زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ ابراہیم مجاب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے پڑپوتے اور امام حسین علیه السلام کی ساتویں نسل میں تھے۔
ان کے خواب میں سرکار امام حسین تشریف لائےاور فرمایا کہ ابراہیم تم مروند جاؤ اور وہاں کے بادشاہ کی بیٹی سےشادی کرو۔ وہ تمہیں اپنی بیٹی کا رشتہ دے دے گا.
پھر ہم تمہیں ایک امانت دیں گے،
وہ شہباز جو رسول اللہ نے ہمیں دیا ہم تمہارے سپرد کریں گے۔

🔴حکم پا کر حضرت ابراہیم مجاب مروند آئے ، شادی کی اور ان کے ایک بیٹا ہوا۔
پیدائش کے وقت ایسا سرخ چہرہ جیسے یاقوت، ماں کے منہ سے نکلا "لعل"
باپ کے منہ سے نکلا "شہباز" آگیا
نام نکالا گیا تو نکلا "شاہ حسین"
نانا نے کہا اس نام پر قتل کردیا جائے گا اس لئے انکا نام رکھا گیا سید عثمان.

🔴جب حسینؑ نے عطا کیا تھا تو کچھ خصوصیت تو ہونی تھی، علم آسمانی عطا ہورہا تھا، دل نہ لگتا تھا.

🔴ایک بار مدرسے کے ساتھیوں کی کتابیں حوض میں ڈال دیں۔ ساتھیوں نے رونا شروع کیا تو ہاتھ ڈال کر کتابیں نکال دیں۔ کتابیں بالکل خشک تھیں۔

🔴سات سال کی عمر میں پورا قرآن حفظ کرلیا۔ اساتذہ حیران تھے کہ یہ بچہ مدرسہ میں ایک لفظ نہیں پڑھتا تو حفظ کیسے ہوا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب نجف میں علامہ حلی (رح) نے، ایران میں امیر خسرو (رح)، ہند میں حضرت نظام الدین اولیاء نے سات سات برس میں حفظ کیا۔

🔴ان کے بچپن کے دوست نے فرمایا کہ یہ ببول کے کانٹوں پر چلتا ہے اور نجانے اس کو کیا نظر آتا ہےکہ یہ یا حسین یا حسین کی صدا دیتا ہے اور پیروں سےخون جاری رہتا ہے۔

🔴پھر مروند سے آذربائجان، افغانستان، کشمیر، ملتان سے ہوتے ہوئے سندھ پہنچے جہاں سہون کو مسکن بنایا۔

🔴مرزا قلیچ بیگ جو حیدرآباد دکن کے تھے ان کے پوتے نے کچھ تبرکات دکھائے جو انکو جدی پشتی منتقل ہو رہے تھے۔ انہوں نے صندوق سے ایک طوق نکالا۔

🔴 کہا جاتا ہے کہ یہ وہ طوق تھا جو امام زین العابدین علیہ السلام کو کربلا سے شام تک پہنایا گیا۔ اس کے بارے میں بتاتے ہیں کہ یہ ایک پتھر کی چٹان تھی جس میں گردن کے حصے کو کاٹ کر اسے گردن میں پہنادیا گیا اور اس کا وزن پورے شانوں اور ہاتھوں پر تھا۔ ہاتھوں کو صلیب کی طرح رکھنا پڑتا اور ہاتھوں کے نیچے دو اور پتھر کی سلیں رکھ کر لوہےکی کیلوں سے باندھ دیا جاتا اور پھر جب پیچھےسے تازیانہ مارا جاتا تو امام آگےکی طرف وزن کو سنبھالتے ہوئے جھکتے، کبھی دائیں جانب، کبھی بائیں جانب، کبھی آگے۔ اور عرب کی جھلسا دینےوالی گرمی میں جب وہ طوق گرم ہوتا تو گردن اور ہاتھوں پر چھالے پڑ جاتے۔

🔴اس طوق کا آدھا حصہ قلیچ بیگ کے دکن میں اور باقی آدھا حصہ قلندر سائیں کی قبر پر لٹکا ہوا ہے۔ قلندر سائیں عاشور کے روز ویسا ہی طوق بنا کر پہن لیتے اور عاشور کے جلوس میں اسی انداز میں جاتے، کبھی آگے گرتے، کبھی دائیں، کبھی بائیں.

🔴جو لوگ انکو دیکھتے وہ بھی اسی طرح کرنے کی کوشش کرتے اس طرح قلندر سائیں کے غم منانے کے انداز کو دھمال کا نام پڑا۔
قلندر سائیں جلوس میں چلتےجاتے اور یا حسین یا حسین کی صدائیں بلند کرتے جاتے۔

🔴کاش کہ آج قلندر کے پیروکار صحیح نقشِ قدم پر چلیں، حسین حسین کریں نہ کہ موسیقی کی دھمال ڈالیں۔

👆 ایک مراسلہ 👆

t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
👁 نظر بد اور اسکا علاج 👁

ہمارے ہاں پائے جانے والے عقائد میں سے متعدد عقائد افراط وتفریط کا شکار، اور بہت سی غلط فہمیوں کی نذر ہوچکے ہیں۔ انہی میں سے ایک عقیدہ "نظر بد کا لگنا" بھی ہے۔
نظر بد ایک ایسا موضوع ہے، جس کے بارے میں ہمارے معاشرے میں دو متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نظر بد کی دراصل کوئی حقیقت نہیں ہوتی اور یہ محض وہم ہے، اس کے سوا کچھ نہیں ہے. دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس پر یقین تو رکھتے ہیں، لیکن اس کے علاج میں کسی حد کی پرواہ نہیں کرتے ہیں، اور شرک کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔

نظر بد کا لگنا حق ہے بہرحال عقل وعلم اور مشاہدہ سے ثابت ہے کہ انسان حیرت انگیز نفسانی اور روحانی توانائیوں کا مالک ہے جنکے مختلف منفی یا مثبت نتائج نکل سکتے ہیں-
بد نظری جسے بری نظر، نظر بد، نگاہ بد، چشم بد "عين الحسود" یا چشم زخم کہا جاتا ہے.
یه ایک حقیقت ہے جسکو قرآن مجید اور احادیث نے قبول کیا ہے اور اس کی کئی مثالوں کی طرف اشارہ کیا ہے.

امام صادقؑ فرماتے ہیں:
"اگر قبروں کو کھول کے دیکھو گے تو معلوم ھوگا کہ اکثر مردے چشم زخم کی وجہ سے دنیا سے چلے گئے ہیں، کیونکہ چشم زخم ایک حقیقت ہے.
(بحارالانوار، ج60، ص250)

مفسرین کا یہ اعتقاد ہے کہ حضرت یعقوبؑ کے اس حکم کا سبب یہ تھا کہ حضرت یوسف۴ کے بھائیوں کا ایک ساتھ داخل ھونا، ممکن تھا بعض لوگوں کی توجہ کا مرکز اور چشم زخم کا سبب بن جاتا کیونکہ وہ سب حسن و جمال اور قد و قامت میں حضرت یوسف علیہ السلام جیسے حسین وجمیل تھے.
(تفسير نمونه ج6 ص29و 30)

عمل وظیفہ:
اسلام نے بد نظری کے برے اثرات سے بچنے کے لئے توبہ اور یاد خدا کا نسخہ پیش کیا ہے اس کے علاوہ صدقہ دینے کی بھی تاکید کی گئی ہے.

امام صادقؑ فرماتے ہیں:
"اگر گھر سے شان وشوکت اور قابل توجہ حالت میں باہر جانا چاہتے ھو تو معوذتین (سورہ فلق اور سورہ ناس) پڑھنا تاکہ کوئی آنکھ تم پر اثر انداز نہ ھوسکے.
(بحارالانوار، ج92، ص1330)

ایک دوسری روایت میں حضرت {ع} فرماتے ہیں:
اگر چشم زخم سے کبھی ڈر گئے تو پڑھنا چاہئے:
"ماشاءاللہ لا قوہ الاباللہ العلی العظیم"
(بحارالانوار ، ج60، ص26)

ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اکرم {ص} نے امام حسن {ع} اور امام حسین{ٰٰع} کو چشم زخم سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک دعا پڑھی، جس کا مضمون یہ تھا:
"اعیذكما بكلمات الله التامه و اسماءالله الحسنی كلها عامه من شر السامه و الهامه و من شر كل عین لامه و من شر حاسد اذا حسد" یا یه جمله (أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ الله التّامّةِ، مِنْ كُلّ شَيْطَانٍ وهَامّةٍ، ومِنْ كُلّ عَيْنٍ لاَمّةٍ)
یعنی، میں تمھیں خداوند متعال کے تمام کلمات اور اسمائے حسنی کے حوالے کرتا ھوں تاکہ تم موت، موذی حیوانات، چشم بد اور حسود کی حسدورزی سے محفوظ رھو گے-"
اس کےبعد پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
"حضرت ابراھیم {ع} نے اپنے دو بیٹوں، اسحاق و اسماعیل کے لئے ایساہی کیا ہے.
(بحارالانوار ، ج60، ص60و26 )

یا ایک اور عمل:
[مكارم الأخلاق] لِلْعَيْنِ مَعْمَرُ بْنُ خَلَّادٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ الرِّضَا ع بِخُرَاسَانَ عَلَى نَفَقَاتِهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَتَّخِذَ لَهُ غَالِيَةً فَلَمَّا اتَّخَذْتُهَا فَأَعْجَبَ بِهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ لِي يَا مَعْمَرُ إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ فَاكْتُبْ فِي رُقْعَةٍ الْحَمْدَ لِلَّهِ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ وَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ وَ اجْعَلْهَا فِي غِلَافِ الْقَارُورَةِ وَ مِثْلُهُ وَ رُوِيَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ الْعَيْنُ حَقٌّ وَ لَيْسَ تَأْمَنُهَا مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ وَ لَا مِنْكَ عَلَى غَيْرِكَ فَإِذَا خِفْتَ شَيْئاً مِنْ ذَلِكَ فَقُلْ ما شاءَ اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ثَلَاثاً وَ قَالَ إِذَا تَهَيَّأَ أَحَدُكُمْ تَهْيِئَةً تُعْجِبُهُ فَلْيَقْرَأْ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ مَنْزِلِهِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّهُ بِإِذْنِ اللَّهِ وَ عَنْهُ ع قَالَ مَنْ أَعْجَبَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَلْيُبَارِكْ عَلَيْهِ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ. (بحارالأنوار، ج92، ص128) الْجَوَامِعُ لِلطَّبْرِسِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ص مَنْ رَأَى شَيْئاً يُعْجِبُهُ فَقَالَ اللَّهُ اللَّهُ ما شاءَ اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ. (بحارالأنوار، ج92، ص133)

مندرجہ بالا عبارت کا مفہوم:
الحمد للہ اور قل ھواللہ احد اور سورہ "فلق" اور سورہ "ناس" اور آیت الکرسی پڑھنی چاہئے. ایسے مواقع پر «ماشاء الله» و «تبارک الله» یا «اللَّهُ اللَّهُ ماشاءَاللَّهُ لاقُوَّةَإِلَّابِاللَّهِ» جیسی عبارتیں پڑھنی چاہئے.

بشکریہ تحریر: اے ایس امجد

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👁 دفع نظر بد 👁
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں.
جب کوئی شخص ایسی زینت کرے
جس پر نظربد کا خوف ھو. تو بندے کو چاہیے کہ اپنے گھر سے نکلتے وقت ان دو سورتوں کی تلاوت کرے.
١. قل اعوذ برب الفلق.
٢. قل اعوذ برب الناس.
تو خدا وندعالم اسے بدنظرے کی نظر سے بچائے رکھے گا.

🔹 دفع ایکسیڈنٹ
اور اسی طرح اگر آپ سفر کے ارادے سے گھر سے نکلتے ہیں تو معصومین علیھم السلام فرماتے ہیں کہ آپ صرف 7 مرتبہ
آیت الکرسی کی تلاوت کر لیں. تو آپ کا سفر بے خطر رہے گا.
اور اگر خدا نخواسطہ آپ کا ایکسیڈنٹ ھو جاتا ھے تو آپکو کوئی گہرا زخم نہیں آئے گا. مطلب آپ پھر بھی محفوظ رہیں گے.
حوالہ. تحفة العوام ، ص: 566.

✍🏻 منجانب اجر رسالت ص ✍🏻

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 حوض کوثر 🔷

حَوْض کوثر، قیامت کے مواقف میں سے ہے. حدیث ثقلین اور دیگر احادیث کے مطابق قیامت کے دن قرآن و اہل بیت علیہم السلام اسی حوض کے کنارے پیغمبر اکرم (ص) کے حضور وارد ہونگے اور پیغمبر اکرم (ص) اپنی امت میں سے ہر مؤمن کے ساتھ اسی حوض کے کنارے ملاقات فرمائیں گے. اور مؤمنين کی سقائیت کریں گے.

🔹 حوض کا معنی اور استعمال
حوض عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی پانی کے اکھٹے کرنے کی جگہ کے ہیں. جسے پانی کو محفوظ کرنے کیلئے زمین کے اندر کھود کر یا زمین کے اوپر دیواریں کھڑی کر کے بنایا جاتا ہے. جدید لغت میں اسے برکہ یا تالاب سے تعبیر کیا جاتا ہے.(1)

🔹 قرآن و تفاسیر میں تذکرہ
لفظ حوض اور اس کا دیگر مشتق قرآن مجید میں نہیں آیا ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے سورہ کوثر کی پہلی آیت میں لفظ کوثر کو حوض کوثر یا حوض پیغمبر(ص) سے تعبیر کیا ہے، جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے.(2)

🔹 احادیث میں تذکرہ
علماء نے حوض سے متعلق احادیث کو متواتر اور حوض کوثر کے وجود پر اعتقاد رکھنے کو ایمان کی شرائط میں سے شمار کیا ہے.(3)

بَقی بن مَخلد قُرطبی (متوفی 286ھ) نے حوض کوثر سے متعلق روایات کو اپنی کتابوں میں "مارُوی فی الحوض والکوثر" کے عنوان سے جمع کیا ہے. ابوالقاسم ابن بَشکوال (متوفی 578ھ) نے بھی اس کتاب پر حاشیہ لکھا.

عبدالقادر بن محمد عطا صوفی نے ان دو کتابوں کو "حوض اور کوثر" سے متعلق احادیث کو "مرویات الصحابہ فی الحوض والکوثر" کے عنوان سے ذکر کیا ہے.

🔹 حوض کوثر کی وسعت
اس حوض کی وسعت اور اس کے کنارے مؤمنین کو پلائے جانے والے جاموں کی تعداد کے بارے میں قدیم اسلامی مصادر میں تفصیل سے ذکر ملتا ہے.

پیغمبر اکرم(ص) سے مروی بعض روایات میں اس حوض کی وسعت کو "عَدَن" سے "عَمان" یا کعبہ سے بیت المقدس یا صنعا سے بُصری اور اس کے کنارے پلائے جانے والے جاموں کی تعداد ستاروں سے زیادہ بتائی گئی ہے.(4)

🔹 ساقی اور لوگ
شیعہ اور اہلسنّت روایات کے مطابق حضرت علی علیہ السلام ہی ساقی کوثر ہیں. اور پیغمبر(ص) کے اعوان و انصار آپ کے ساتھ اس حوض کے کنارے موجود ہوتے ہیں.

حدیث ثقلین کے مطابق قرآن و عترت پیغمبر(ص) قیامت کے دن پیغبر اکرم (ص) کے حضور وارد ہونگے.(5)

امام علی علیہ‌السلام کا حوض کوثر کے کنارے پیغمبر اکرم کے حضور وارد ہونے والوں میں سب سے پہلی شخصیت جانا گیا ہے.(6)
اور حضرت علی علیہ السلام منافقین کو یہاں آنے سے روکیں گے.(7)

🔹 حوض کوثر سے محروم افراد
حدیث نبوی کے مطابق وہ افراد جو پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد دین میں بدعات گزاری اور ارتداد کے مرتکب ہوئے ہیں انہیں حوض کوثر پر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اور دھتکار دیا جائے گا.(8)

اسی طرح احادیث میں آیا ہے کہ ہر وہ شخص جو حضور(ص) پر ایمان نہیں لایا وہ بھی قیامت کے دن حوض کوثر سے محروم رہے گا.(9)

📚 حوالہ جات
1=محمد بن محمد زَبیدی، تاج العروس من جواہرالقاموس.
عبدالرحیم بن عبدالکریم صفی پوری، منتہی الارب فی لغةالعرب.
2=طوسی، التبیان فی التفسیر القرآن.
محمد بن احمد قرطبی، تفسیر القرطبی.
احمد بن محمد میبدی، کشف الاسرار وعدہ الابرار.
محمد بن شاہ مرتضی فیض کاشانی، تفسیرالصافی.
احمد بن محمد میبدی، کشف الاسرار وعدۃالابرار.
حسین بن علی ابوالفتوح رازی، تفسیر روح الجِنان.
محمد بن احمد قرطبی، الجامع لاحکام القرآن.
محمدبن شاہ مرتضی فیض کاشانی، تفسیرالصافی، ذیل آیہ.
عبدالرحمان بن ابی بکر سیوطی، الدرالمنثور فی التفسیر بالمأثور.
''إِنَّا أَعْطَینَاک الْکوْثَرَ''
3=ابن بابویہ، الاعتقادات، ج1، ص65.
محمد بن محمد غزالی، احیاءعلوم الدین.
یحیی بن شرف نووی، صحیح مسلم بشرح النووی.
محمد عبدالرؤوف بن تاج العارفین مُناوی، فیض القدیر: شرح الجامع الصغیر.
4=ابن حنبل، مسندالامام احمدبن حنبل.
ابن بابویہ قمی المعروف شیخ صدوق، کتاب الاعتقادات.
مسلم بن حجاج، الجامع الصحیح.
عبدالرحمان بن ابی بکر سیوطی، الجامع الصغیر.
ابن مَخلد، ماروی فی الحوض و الکوثر، مرویات الصحابۃ رضی اللّہ عنہم فی الحوض و الکوثر.
5=موفق بن احمد اخطب خوارزم، المناقب.
احمد بن عبداللّہ طبری، ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی.
ابن بابویہ، کتاب الخصال.
احمد بن عبداللّہ ابونعیم اصفہانی، حلیۃالاولیاء و طبقات الاصفیاء.
ابن حنبل، مسندالامام احمدبن حنبل.
محمد بن عبداللّہ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین.
علی بن ابوبکر ہیثمی، مجمع الزوائد.
علامہ مجلسی، بحارالانوار.
6=محمد بن عبداللّہ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص136.
ابن عبدالبرّ، الاستیعاب فی معرفۃالاصحاب، ج3، ص1090.
7=احمد بن عبداللّہ طبری، ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی، ج1، ص9.
8=مسلم بن حجاج، الجامع الصحیح، ج8، ص69-65.
9=علی بن عیسی بہاءالدین اردبیلی، کشف الغمۃ فی معرفۃالائمۃ.
مجلسی، بحارالانوار.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💫 نیت اور عمل 💫

لقماﻥ ﺣﮑﯿﻢ آدھی رات کو ﻧﻤﺎﺯ شب کے لئے ﺑﯿﺪﺍﺭ ھوا۔۔۔۔۔!
ﺍپنے مالک کو آواز دی کہ اٹھو کہیں ایسا نہ ھو کہ قافلے سے پیچھے رہ جاو۔۔۔۔۔!

مالک نے نیند کو ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩی اور کہنے لگا:
سو جاو ﻏﻼﻡ۔۔۔! ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﮐﺮﯾﻢ ھے ۔۔۔!

ﻧﻤﺎﺯ ﺻﺒﺢ کا وقت آگیا؛
ﻟﻘﻤﺎﻥ نے ﺩﻭﺑﺎﺭﻩ ﺍپنے مالک کو جگایا ﺗﺎکہ کہیں نماز گزاروں کے قافلے سے پیچھے نہ رہ جائے ۔۔۔۔۔!
لیکن اب بھی مالک نے وھی جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔!

سورج ﻃﻠﻮﻉ کر رھا تھا؛ ﻟﻘﻤﺎﻥ ﺩﻭﺑﺎﺭﻩ مالک کے سراغ میں آیا ﮐﻪ ﺍے بے خبر۔۔۔!
ﻧﻤﺎﺯﮔزاروں کے قافلے سے چھوٹ گئے ھو۔۔۔۔!

اٹھو کہ پوری کائنات، ﺳﺠﻮﺩ ﻭ ﺗﺴﺒﯿﺢ کی حالت میں ھے لیکن تجھے خواب ﻏﻔﻠﺖ نے دبوچ ﺭکھا ھے۔۔۔۔۔!
اب مالک نے جواب دیا کہ دل صاف ھونا چاھیئے، ﻋمل مھم نھیں۔۔۔!
ﺧﺪﺍ ﮐﺮﯾﻢ ھے اسے ھماری ﻋﺒﺎﺩﺕ کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔!

دن ھوا مالک نے گندم کے بیج کا ایک تھیلا بونے کے لئے ﻟﻘﻤﺎﻥ کو دیا۔۔۔۔۔!
ﻟﻘﻤﺎﻥ نے اسے فروخت کر دیا اور ایک مٹھی گھاس پھوس کا بیج زمین میں بو دیا۔۔۔۔۔!

جب کاٹنے کا وقت آیا، مالک کیا دیکھتا ھے کہ کھیت میں گھاس پھوس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔۔۔۔!
اس نے ﻟﻘﻤﺎﻥ سے اس کی وجہ دریافت کی۔۔۔۔!

ﻟﻘﻤﺎﻥ نے کہا:
ﺍے ﺍﺭﺑﺎﺏ مجھے آپ کے ﻋﻤﻞ سے ایسا لگ رھا تھا ﮐﻪ ﺍﮔﺮ ﻧﯿﺖ ﺻﺎﻑ ھو تو ﻋﻤﻞ کوئی خاص مہم نہیں۔۔۔!

ﻟھﺬﺍ میں نے قیمتی ﮔﻨﺪﻡ ﺯﻣﯿﻦ پر نہیں گرائی، بلکہ ایک مٹھی فالتو سے گھاس کا بیج زمین پر ڈال دیا۔۔۔۔!!!!

اس لئے کہ آپ نے خود کہا تھا ﮐﻪ ﻧﯿﺖ اﻭر ﺩﻝ ﺻﺎﻑ ھونا چاھیئے۔۔۔۔۔!
ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﮐﺮﯾﻢ ھے اسے ھمارے ﻋﻤﻞ کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔!

*☝️بهشت‌را به بها دهند نه بهانه*

(جنت قیمت پے ملتی ھے بہانوں پے نہیں)

بشکریہ تحقیق: ظھور نقوی.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کوشش اور توفیق 🔷

ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.

ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺗﻮ ﭘﮍﮬﻮﮞ ﮔﺎ ﻧﺎﮞ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﻧﮏ ﮔﯿﺎ.

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺁﭖ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟

اس نے جواب دیا:
ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﻧﺎﮞ! ﮨﻢ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﺖ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺩﮮ ﮔﺎ ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﺎﮞ، ﻭﮦ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﯿﺴﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ.

ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﺘﺎ ﺭﮨﺎ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺎﺕ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ.

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺁﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﮯ؟
ﺟﯽ! ﻣﮑﻤﻞ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ.

ﺍﭼﮭﺎ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﻧﺎﮞ ﮐﮧ ﺟﺐ ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺑﮩﻼﯾﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺑﮭﺎﮔﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ.

ﺟﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ! ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﻞ گئے ﺗﮭﮯ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺪﺭﮮ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ،
ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﺍ،،
ﭘﮭﺮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﺍ،
ﺩﯾﮑﮭﻮ!
ﺍﯾﮏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ، ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﻮﺷﺶ.
ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﻮﺷﺶ ﮨﮯ.
ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺟﺐ ﺑﮭﺎﮔﮯ ﺗﻮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻞ گئے،

ﺍﺏ ﺫﺭﺍ ﻏﻮﺭ سے ﺳﻮﭼﻮ!
ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺗﻮ ﻧﺒﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺒﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻋﺎﻡ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﻠﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺁﭖ ﺑﮭﺎﮔﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ...
ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﺭﻭﺍﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﺎﻟﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺁﭖ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺑﮭﺎﮔﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﺎﺑﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺎﮐﮧ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻮﻝ ﺳﮑﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﮭﺎﮔﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﺩﺭﺣﻘﯿﻘﺖ ﺁﭖ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ، ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺟﺐ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﯽ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ "ﺗﻮﻓﯿﻖ " ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻞ گئے، ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻧﮧ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﻮ
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻠﺘﮯ،
ﻭﮦ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﻦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ،
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺑﺎﺕ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﯽ:
ﺗﻮ ﺑﮭﺌﯽ!
ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻭ، ﺟﺐ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ، ﯾﻮﮞ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺭﮨﮯ ﺗﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ.

ﺗﻮ ﺟﺘﻨﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﻮ ﮐﺮﻭ،
ﺑﺎﻗﯽ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﺍ،
ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻼﻡ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺻﻒ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﭘﮍﺍ۔۔۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👹 غلبہ ابلیس 👹

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت موسٰی علیہ السلام بیٹھے ہوئے تھے کہ ابلیس آیا اور ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور سلام کیا.

حضرت موسٰی۴ نے پوچھا:
تو کون ہے..؟
اس نے جواب دیا:
میں ابلیس ہوں.

حضرت موسٰی۴ نے فرمایا:
خدا تجھے کسی کا ہمسایہ قرار نہ دے.
ابلیس نے کہا:
اللہ کے نزدیک آپ کا بڑا مقام ہے اس لئے میں آپ کو سلام کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں.

حضرت موسٰی۴ نے فرمایا:
اچھا مجھے یہ تو بتا کہ وہ کونسا گناہ ہے جس کی وجہ سے تو لوگوں پر غالب آجاتا ہے اور لوگ تیرے قابو میں آ جاتے ہیں..؟
ابلیس نے کہا:
"جب کوئی شخص اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگتا ہے اور اس کے ذہن میں انا پرستی اور تکبر پیدا ہوتا ہے تو وہ فورا میرے قبضہ اختیار میں آ جاتا ہے. وہی لوگ میرا شکار ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو بڑا تصور کرتے ہیں اور اپنے چھوٹے سے کام کو بڑا کارنامہ سمجھتے ہیں اور اپنے گناہوں کو ہلکا محسوس کرتے ہیں. ایسے لوگ بڑی آسانی کے ساتھ میرے جال میں پھنس جاتے ہیں۔"

(پند تاریخ، شیخ موسٰی خسروی، جلد 3، صفحہ 56)

نصیحت:
کتنے لوگ ہیں جو کسی بھی وجہ سے اپنے آپ کو دوسرے سے بڑا سمجھتے ہیں اور ہماری زندگیوں میں کتنے ایسے مواقع آتے ہیں جن میں ہم اپنی جھوٹی انا کو لے کر کیا کیا کچھ کرتے ہیں.

کتنے گناہ ہیں جنہیں ہم ہلکا/ چھوٹا سمجھ کر انجام دیتے رہتے ہیں جیسے کہ ایک عام سا جملہ سننے میں ملتا ہے لوگوں سے جب انہیں کسی غلط کام سے روکا جائے تو وہ آگے سے کہتے ہیں کہ اتنے گناہ ہم کرتے ہیں تو ایک اور سہی یا کہتے ہیں کہ ہم کونسا کوئی بہت نیک ہیں۔ یہ جملے کس قدر بڑی جسارت ہیں کہ آپ خود ہی سوچئے کہ ہم نیک نہیں ہیں تو ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بھی اپنے آپ کو محفوظ رکھیں کیونکہ ہمارا دامن پہلے ہی گناہوں سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن ہم الٹا مزید گناہ کرتے ہیں عجیب و غریب بہانوں کے ساتھ۔ جب کہ دنیاوی معاملات میں ہم چھوٹے سے چھوٹے کانٹے سے بھی اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ یہ دنیا اور آخرت کے اصولوں میں اتنا فرق و تضاد کیسے ہو گیا.؟؟

ہم میں سے کتنے ہی لوگ ہیں جو معمولی سا دینی کام انجام دے کر مطمئن ہو کر بیٹھ جاتے ہیں کہ بس بہت کام کر لیا ہم نے۔ نہیں بھائی امام حسین علیہ السلام نے علی اکبر (ع)، قاسم (ع) و عباس (ع) جیسوں کو دے کر بھی علی اصغر (ع) کو پیش کیا ہے۔ امام ان کو قربان کر کے مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ گئے کہ بس بہت دے دیا میں نے بہت کرلیا میں نے اب باقی علی زین العابدین، باقر و صادق علیھم السلام اور دوسرے آنے والے کریں گے.

لہذا یہ وہ باتیں ہیں جن سے شیطان ہم پر غالب آ جاتا ہے اور یہاں پر ہم اس کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ کیونکہ آپ خود کی سوچ لیں کہ جو شخص انا کا شکار ہو جائے، تکبر جس میں آ جائے، جو اپنے آپ کو بڑا تصور کرنے لگے، گناہوں کو معمولی سمجھنے لگے، اپنے آپ سے مطمئن ہو جائے ایسا شخص پھر کیا کیا کچھ کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ پریکٹیکل مثالیں سب کے سامنے ہونگی۔

پھر سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ایسا شخص کبھی اس بات کو تسلیم بھی نہیں کرے گا کہ وہ یہ سب کر رہا ہے اور وہ اپنے آپ کو مطمئن کرتا چلا جائے گا کیونکہ شیطان اس پر قابو پا چکا ہے اور وہ شیطان کے جال میں پھنس چکا ہے اور پھر وہ آخرت میں شدید خسارے کی حالت میں اٹھایا جائے گا جہاں پر وہ اے کاش اے کاش کہہ رہا ہو گا.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/75
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌷پتھر میں کیڑے کو غذا 🌷

جب حضرت موسٰی کلیم اللہ خداوندمتعال کی طرف سے حکم دیئے گئے کہ جائیں فرعون کو خدا کی عبادت و پرستش کی دعوت دیں، تو موسٰی علیہ السلام اس کام کو بڑا خطرناک کام سمجھے ھوئے تھے،
انھیں اپنے بچوں اور اھل خانہ کی فکر لگی ھوئی تھی، خدا کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں:
(پروردگارا! میری بیوی بچوں کی کون دیکھ بھال کرے گا.؟)
تو خدا کی ذات کی طرف سے جواب آیا اے موسٰی اپنا عصا پتھر پر مارو.
موسٰی علیہ السلام نے اپنا عصا پتھر پر مارا اور پتھر دو ٹکڑے ھوگیا. اس پتھر کے اندر سے ایک اور پتھر نکلا، آپ نے اس کےاوپر بھی عصا مارا، اس کے اندر سے ایک اور پتھر نمایاں ھوا، آپ نے اس کے اوپر بھی اپنا عصا مارا تو اس تیسرے پتھر کے سینے سے ایک چھوٹا سا کیڑا نکلا جس کے منہ میں غذا کا چھلکا تھا جسے وہ کھا رہا تھا.
آپ کے کانوں سے حجاب ہٹائے گئے تو آپ نے سنا کہ وہ کیڑا کہہ رہاہے:
"سبحان من يرانى ويسمع كلامى ويعرف مكانى ويذكرنى ولاينسانى."
ترجمہ:
پاک و پاکیزہ ھے وہ ذات جو مجھے دیکھ رہی ھے، اور میری بات کو سن رہی ھے، اور میرے ٹھکانے کو بھی جانتی ھے، اور مجھے یاد بھی رکھے ھوئے ھے، اور مجھے بھلاتی نہیں ھے.

اس طریقے سے موسٰی علیہ السلام جان گئے کہ خداوند عالم اپنی تمام مخلوق کی رزق و روزی کا ضامن ھے، اسی کے بھروسے پر سب کام ھو رہے ہیں.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے

📚 تفسیرروح البیان، ج4، ص:96، 97. بحوالہ داستان بوستان، ج4، ص:102، 103.

۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 توسل 🔷

توسل کی حکمت اور اسکی ضرورت کیا ہے؟ جب اللہ موجود ہے تو پھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے کیوں متوسل ہوں؟

توسل کی ضرورت
بیشک انسان مادی اور معنوی کمالات کو حاصل کرنے کے لئے اپنے علاوہ کسی دوسرے کا محتاج ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ عالم ، اسباب و مسببات کے نظام کی بنیاد پر قائم ہے۔ مادی و معنوی کمالات کو حاصل کرنے کے لئے اسباب اور وسیلوں سے متمسک ہونا اس نظام کا لازمہ ہے۔

اس وجہ سے قرآن کریم انسان کو معنوی کمالات اور بارگاہ خداوندی سے تقرب حاصل کرنے کے لئے اسباب سے متوسل ہونے کا حکم دیتا ہے۔

یا ایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ و ابتغوا الیہ الوسیلة (سورہ مائدہ۔ آیہ35)
ترجمہ: اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث میں بھی دعا کے وقت اولیاء خدا سے توسل کی تاکید کی گئی ہے۔
جیسا کہ حدیث نبوی میں جو شیعہ اور سنی کے نزدیک معتبر ہے ذکر ہوا ہے:
کلّ دعاء محجوب حتی یصلی علی محمد و آل محمد (میزان الحکمہ،جلد 6 صفحہ 1662۔ کنز العمال حدیث 2153)

ترجمہ:
ہر دعا محجوب ہے (یعنی قبول نہیں ہوگی) مگر یہ کہ محمد و آل محمد پر صلواة بھیجی جائے۔

اس بناء پر جس طرح دعا کی اصل وسیلہ اور اسباب رحمت سے ہے اور خدا سے مستقیم حاجت طلب کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح دعا کے وقت اولیاء الہی سے متوسل ہونا بھی اسباب رحمت اور خدا سے نزدیک ہونے کا وسیلہ ہے۔

توضیح
ان دونوں آیت و حدیث کا مقصد یہ ہے کہ ایک مرتبہ انسان کسی چیز کا واسطہ دیتے ہوئے اپنی حاجت کو سیدھے خدا سے طلب کرتا ہے مثال کے طور پر کہتا ہے:
پروردگارا تجھے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلبیت علیہم السلام کا واسطہ ہے کہ ہماری حاجت کو پورا کر۔

ایک مرتبہ انسان خدا سے سیدھے نہیں بلکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلبیت علیہم السلام سے متوسل ہوتے ہوئے حاجت کی درخواست کرتا ہے۔ مثلاًً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلبیت علیہم السلام سے درخواست کرتا ہے کہ وہ خدا کی بارگاہ میں دعا کر دیں۔

توسل کی حکمت
1۔ اولیاء الہی و بزرگان دین کو اس کردار (یعنی توسل کے لئے وسیلہ قرار پانا) کے عطا کرنے کی حکمت ان کا معنوی اور روحی مقام ہے۔

اس جہان میں جتنی بھی موجودات ہیں وہ سب کے سب خدا کی نشانیاں ہیں ہر موجود اپنے وجود کے اعتبار سے اس کے اسماء اور صفات کا مظہر ہے۔

خداوند متعال کا بزرگ ترین اور روشن ترین جلوہ، انسان کامل (معصومین علیہم السلام) کے آئینہٴ وجود میں محقق ہوتا ہے انسان کامل خداوند عالم کے تمام صفات اور اسماء کو ظاہر کرنے کا آئینہ، اور مظہر جلال و جمال پروردگار ہیں۔ انسان کامل سے متوسل ہونا حقیقت میں خدا کے جلال و جمال سے متوسل ہونا ہے اور اس کے فیض رحمت کے چشمہ سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔

2۔ اولیاء الہی انسان ہیں اس لئے ان سے بہت جلد اور آسانی کے ساتھ عاطفی اور روحی رابطہ کو برقرار کیا جا سکتا ہے۔

3. خداوند عالم چاہتا ہے کہ اپنے اولیاء کو لوگوں کی توجہ کا مرکز قرار دے ۔انسان کامل کے عنوان سے ان کی جانب توجہ کرنا اور ان سے رابطہ کو برقرار کرنا یہ انکی حقانیت اور نمونہٴ عمل ہونے پر تاٴکید ہے اور یہ باعث ہوتا ہے کہ لوگ انکی جانب رجوع کریں اور انہیں اپنے لئے نمونہٴ عمل قرار دیں تا کہ ہدایت اور سعادت کو حاصل کر سکیں.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 غیر خدا کو پکارنا.؟ (حصہ اول) 🔷

کیا دوسروں کو پکارنا ان کی عبادت اور شرک ہے؟ اس قسم کے سوال کا سبب قرآن مجید کی وہ آیتیں ہیں جو اپنے ظاہری معنی کے اعتبار سے غیر خدا کو پکارنے سے روکتی ہیں:
"وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّہِ فَلا تَدْعُوا مَعَ ﷲِ أَحَدًا"
(سورہ جن:۱۸)
ترجمہ:
اور مساجد سب اللہ کے لئے ہیں لہذا اس کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو.

"وَلاتَدْعُ مِنْ دُونِ ﷲِ مَالایَنْفَعُکَ وَلایَضُرُّکَ" (یونس:۱۰۶)
اور خدا کے علاوہ کسی ایسے کو آواز نہ دو جو نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان.

بعض لوگ اس قسم کی آیتوں کو سند بنا کر یہ کہتے ہیں کہ اولیائے خدا اور صالحین کو ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد پکارنا شرک اور ان کی عبادت ہے.

اس سوال کے جواب میں مناسب یہ ہے کہ سب سے پہلے ان دو کلمات "دعا" اور "عبادت" کے معنی واضح کردیئے جائیں. اس میں شک نہیں کہ عربی زبان میں لفظ دعا کے معنی ندا اور پکارنے کے ہیں اور لفظ عبادت کے معنی پرستش کے ہیں اس اعتبار سے یہ دونوں الفاظ ہرگز ہم معنی نہیں ہیں یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہر ندا اورطلب عبادت اور پرستش ہے اس کی مندرجہ ذیل دلیلیں ہیں:
۱۔قرآن مجید میں لفظ دعوت بعض ایسی جگہوں پر استعمال ہوا ہے جہاں ہرگز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے مراد عبادت ہے جیسے:
"قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَیْلاً وَنَہَارًا" (سورہ نوح:۵)
انہوں نے کہا پروردگار میں نے اپنی قوم کو دن میں بھی بلایا اور رات میں بھی.

کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت نوح کی مراد یہ تھی کہ میں نے دن رات ان کی عبادت کی ہے.

لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ دعوت (پکارنا) اور عبادت ہم معنی کلمات ہیں لہذا اگر کوئی شخص پیغمبراکرمؐ یا کسی اور صالح بندے سے مدد طلب کرے اور انہیں پکارے تو اس کا یہ عمل ان کی عبادت شمار نہیں کیا جائے گاکیونکہ دعوت کے معنی میں پرستش کی بہ نسبت زیادہ عمومیت ہے.

۲۔آیات کے اس مجموعے میں دعا سے مراد ہر قسم کا پکارنا نہیں ہے بلکہ ایک خاص قسم کا پکارنا مقصود ہے جو کہ لفظ پرستش کا لازمہ ہوسکتا ہے کیونکہ یہ آیات ان بت پرستوں کے بارے میں آئی ہیں جو اپنے بتوں کو چھوٹے خدا تصور کرتے تھے. اس میں شک نہیں ہے کہ بت پرستوں کا خضوع ان کی دعا اور ان کی فریاد یہ سب ایسے بتوں کے مقابلے میں تھا جنہیں وہ حق شفاعت اور مغفرت کا مالک سمجھتے تھے ان کی نگاہ میں یہ بت دنیا اور آخرت کے امور میں مستقل طور پر حق تصرف رکھتے تھے اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ ان شرائط کے ساتھ ان موجودات کو پکارنا اور ان سے کسی قسم کی التجا کرنا ان کی عبادت شمار ہوگا کیونکہ وہ ان کو خدا کی حیثیت سے پکارتے تھے اور اس کا بہترین گواہ درج ذیل آیت ہے:
"فَمَا أَغْنَتْ عَنْہُمْ آلِہَتُہُمْ الَّتِي یَدْعُونَ مِنْ دُونِ ﷲِ مِنْ شَيْءٍ" (سورہ ہود:۱۰۱)
عذاب کے آجانے کے بعد انکے وہ خدا بھی کام نہ آئے جنہیں وہ خدا کو چھوڑ کر پکار رہے تھے.

لہذا یہ آیتیں ہماری بحث سے کوئی ربط نہیں رکھتیں کیونکہ ہماری بحث کا موضوع ایک بندے کا دوسرے بندے سے کوئی التجا کرنا ہے جبکہ یہ بندہ اسے نہ تو اپنا خدا سمجھتا ہے اور نہ ہی اسے دنیا و آخرت کے امور میں اپنا مالک، تام الاختیار یا تصرف کرنے والا مانتا ہے بلکہ اسے خدا کا ایسا معزز اور محترم بندہ سمجھتا ہے جسے پروردگار عالم نے منصب رسالت یا امامت سے نوازا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ اس کی دعا کو اپنے بندوں کے حق میں قبول کرے گا اس سلسلے میں خدا فرماتا ہے:
"وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنفُسَہُمْ جَاءُوکَ فَاسْتَغْفَرُواﷲَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُواﷲَ تَوَّابًا رَحِیمًا" (سورہ غافر:۶۰)
اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے.

۳۔مذکورہ آیات اس بات پر شاہد ہیں کہ دعوت سے مراد ہر قسم کی درخواست اور حاجت نہیں ہے بلکہ اس دعوت سے مراد پرستش ہے اسی لئے ایک آیت میں لفظ دعوت کے بعد بلافاصلہ اسی معنی کیلئے لفظ "عبادت" استعمال کیا گیا ہے.
"وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَیَدْخُلُونَ جَہَنَّمَ دَاخِرِینَ" (سورہ نساء:۶۴)
اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا اور یقیناًجو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے.

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا اس آیت کے آغاز میں لفظ "ادعونی" ہے اور اس کے ذیل میں لفظ "عبادتی" آیا ہے، یہ اس بات پر شاہد ہے کہ ان آیتوں میں لفظ دعوت سے مراد وہ التجا و استغاثہ ہے جو ایسے موجودات سے کیا جاتا ہے جنہیں وہ خدا کی صفات سے متصف سمجھتے تھے.

🔷 نتیجہ: (جاری ہے)
نتیجہ حصہ دوم میں بیان کیا جائے گا.

مأخذ کتاب: شیعہ جواب دیتے ہیں.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 غیر خدا کو پکارنا.؟ (حصہ دوم) 🔷

🔷 نتیجہ:
ان گزشتہ تین مقدموں (جو کہ حصہ اول میں تین دلیلیں بیان کی گئی ہیں) کی روشنی میں ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ان آیات میں قرآن مجید کا بنیادی مقصد بت پرستوں کو، بتوں کو پکارنے سے روکنا ہے وہ بت کہ جنہیں وہ خدا کا شریک یا مدبر یا صاحب شفاعت جانتے تھے. کفار کا ان بتوں کے سامنے ہر قسم کا خضوع اور احترام یا گریہ اور استغاثہ کرنا اور ان سے شفاعت کاطلب کرنا یا پھر ان سے اپنی حاجت طلب کرنا یہ سب اس وجہ سے تھا کہ وہ ان بتوں کو چھوٹے خدا سمجھتے تھے اور انہیں خدا کے کاموں کو انجام دینے والا تصور کرتے تھے بت پرستوں کا یہ عقیدہ تھا کہ خدا نے دنیا اور آخرت کے متعلق بعض کام ان بتوں کو سونپ دیئے ہیں. اس اعتبار سے ان آیتوں کا ایک ایسے روح رکھنے والے انسان سے استغاثہ کرنے سے کیا تعلق ہے جو پکارنے والے کی نظر میں ذرہ برابر بھی بندگی کی حد سے باہر قدم نہیں رکھتا بلکہ اس کی نگاہ میں خداوندعالم کا محبوب و محترم بندہ ہے.

🔶 اگر قرآن مجید فرماتا ہے:
"وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّہِ فَلاَ تَدْعُوا مَعَ ﷲِ أَحَدًا"
(سورہ جن:۱۸)
تو اس سے مراد پرستش کے قصد سے پکارنا ہے کیونکہ زمانۂ جاہلیت کے عرب بتوں ، ستاروں، فرشتوں، اور جنوں کی پوجاکیا کرتے تھے یہ آیت اور اس قسم کی دوسری آیتیں کسی شخص یاکسی شے کو معبود سمجھ کر پکارنے سے متعلق ہیں اور اس میں شک نہیں کہ ان موجودات سے اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہوئے کسی چیز کی درخواست کرنا ان کی عبادت شمار ہوگا لیکن ان آیتوں کا کسی ایسے شخص سے دعا کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے جس کے سلسلے میں دعا کرنے والا شخص اس کی ربوبیت یا الوہیت کا قائل نہیں ہے بلکہ اس شخص کو خدا کا بہترین اور محبوب بندہ سمجھتا ہے؟

🌹 ممکن ہے کوئی یہ تصور کرے کہ اولیائے خدا کو صرف ان کی زندگی میں پکارنا جائز ہے اور ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد انہیں پکارنا شرک ہے.
اس سوال کے جواب میں ہم کہیں گے:
۱۔ہم خاک میں سونے والے جسموں سے مدد نہیں مانگتے ہیں بلکہ ایسے نیک بندوں کی پاک ارواح (جیسے پیغمبرؐ اور اماموںؑ ) سے مدد مانگتے ہیں جو قرآنی آیات کی صراحت کے مطابق زندہ ہیں اور شہداء سے بھی بلند وبالا مقام و منزلت کے ساتھ برزخ کی زندگی گزار رہے ہیں اور اگر ہم ان کی قبروں پر جاکر ان سے اس طرح کی درخواستیں کرتے ہیں تو یہ اس وجہ سے ہے کہ یہاں آکر ہم ان کی مقدس ارواح کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ان سے رابطہ قائم کرتے ہیں اس سے بڑھ کر یہ کہ روایات کے مطابق یہ مقدس مقامات وہ ہیں جہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں.
۲۔ان اولیائے الہی کابقید حیات ہونا یا حیات سے متصف نہ ہونا شرک یا توحید کی شناخت کا معیار نہیں ہے اور ہماری گفتگو شرک اور توحید کے معیار کے بارے میں ہے لیکن ان کو پکارنا فائدہ مند ہے یا نہیں؟ تو یہ ہماری گفتگو سے خارج ہے.
البتہ اس مسئلے (کہ کیا اس قسم کے استغاثے فائدہ مند ہیں؟) کے بارے میں گفتگو اس کی مناسب جگہ پر موجود ہے۔

مأخذ کتاب: شیعہ جوا ب دیتے ہیں.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹خاندان کی سرپرستی🌹

وہ مرد کہ جو کسی گھرانے کا سرپرست ہے اسے اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہیئے کہ عورت بھی مرد کی طرح انسان ہے اس کی بھی کچھ آرزوئیں ہیں اور آزادی اور پر سکون زندگی اس کا حق ہے نیز یہ بھی سمجھ لینا چاہیئے کہ عورت کوئی خریدی ہوئی کنیز نہیں ہے بلکہ وہ تمہاری ایسی شریک حیات ہے جس کو تم نے بعنوان انیس و مونس انتخاب کیا ہے۔

💥میاں اور بیوی خاندان کے دو بڑے رکن ہوتے ہیں لیکن  ان میں شوہر کی تخلیق  کو  ایک خاص امتیاز حاصل ہے چونکہ اس  میں عقلانیت  کے پہلو کو  نہایت قوی بنا کر خلق کیا  گیا ہے  اسی سبب وہ اپنے گھرانے  کا سرپرست اور بزرگ شمار ہوتا ہے.
لہذا خداوندعالم نے بھی قرآن مجید میں  اس کا تعارف ایک سرپرست اور  نگراں کی حیثیت سے کرایا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
"مرد عورتوں کے حاکم اور نگران ہیں  ان فضیلتوں کی بنا  پر جو خدا نے بعض پر بعض کو دی ہیں." (۱)

چونکہ مرد کا تعارف اس  حیثیت اور عنوان سےکرایا گیا ہے لہذا اس کے وظائف اور فرائض دوسروں کی بنسبت نہایت سنگین و خطیر ہیں.

لہذا مرد ہی اپنی عقل و تدبیر کو بروئے کار لاکر اپنے گھرانے کو بہتر انداز میں  چلاسکتا ہے اور اس کی خوش بختی اور سعادت کے تمام اسباب مہیا کر کے اسے خلد بریں کی طرح منظم اور پر سکون بنا سکتا ہے اور اپنی شریک حیات کو بھی ایک فرشتہ خصلت بیوی بنا سکتا ہے.

💥رسول اکرم (ص) ارشاد فرماتے ہیں:
"مرد  خاندان  کا سرپرست اور نگراں  ہوتا ہے اور ہر سرپرست کے کندھوں پر اپنے  ماتحت افراد کی  کفالت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔(۲)

وہ مرد کہ جو کسی  گھرانے کا سرپرست ہے اسے اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہیئے  کہ عورت بھی مرد کی طرح  انسان ہے اس کی بھی کچھ آرزوئیں ہیں اور آزادی اور پر سکون زندگی اس کا حق ہے  نیز یہ بھی سمجھ لینا چاہیئے کہ عورت کوئی خریدی ہوئی کنیز نہیں ہے  بلکہ وہ تمہاری ایسی شریک حیات ہے جس کو تم نے  بعنوان انیس و مونس  انتخاب کیا ہے پس اس کی  جائز دلی چاہتیں اور آرزؤں کا ہر لمحہ پاس رکھنا  چاہیئے ایسا نہیں ہے کہ مرد عورت کا مالک مطلق ہو جس کے نتیجہ میں  وہ مطلق العنانی کرتا رہے بلکہ خاتون کے بھی کچھ حقوق آپ کی گردن پر ہیں۔
خداوند متعال قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
"جس طرح خواتین اپنے شوہروں کی بنسبت بعض ذمہ داریاں رکھتی ہیں  ویسے ہی ان کے کچھ حقوق ان (مروں) کی گردنوں پر ہیں اور بہر حال مرد عورتوں پر برتری رکھتے ہیں۔(۳)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات
۱۔سورہ نساء،آیت 34.
۲۔مستدرک،جلد 2 ، ص 550.
۳۔سورہ بقرہ،آیت 228.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹عورتوں کی ذمہ داری،(حصہ اول)🌹

رسول اکرم (ص) کی چالیس احادیث عورتوں کی ذمہ داری کے بارے میں. تین حصوں پر مشتمل ہیں.

1= پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
عورت پر ضروری ہے کہ بہترین خوشبو استعمال کرے خوبصورت کپڑے پہنے اور اپنے شوہر کے لیے سب سے اچھی زینت اور آرایش کرے۔[1]

2=پیغمبر اکرم (ص) سے سوال ہوا: نابینا شوہر کے لیے عورت کیسے زینت کرے؟
فرمایا: عطراور مہندی لگائے تاکہ اس کی خوشبو سے اس کا شوہر لذت اٹھائے۔[2]

3=پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
عورت کو اپنا شوہر اپنے سے دور نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ اپنے آپ کو اس کے اختیار میں دینا چاہیے۔[3]

4=ایک عورت پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں آئی اور کہا: شوہر کا بیوی پر کیا حق ہے؟
فرمایا: ایک یہ کہ بغیر شوہر کی اجازت کے مستحبی روزہ نہ رکھے دوسرے یہ کہ اس کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم نہ رکھے، تیسرے اس پر واجب ہے کہ شوہر کے لیے بہترین عطر اور خوشبو لگائے، خوبصورت لباس پہنے اور بہترین زینت کرے اور صبح و شام اپنے آپ کو شوہر کے لیے پیش کرے۔[4]

5=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے شوہر کی ایک کڑوی بات کو سن کر تحمل کرے خداوند اس کے ایک کلمہ کے برداشت کرنے پر اسے روزہ دار اور راہ خدا میں مجاہد کا اجر و ثواب دے گا۔

6=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
عورت اپنے شوہر کے مال کی محافظ ہے اور اس کی نسبت اس سے سوال اور پوچھ تاچھ کی جائے گی۔

7=پیغمبر اکرم (ص) شب معراج میں جہنمیوں کے عذاب کو مشاہدہ کرنے کے بعد حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے فرماتے ہیں:
اے بیٹا! ایک عورت کو بالوں سے لٹکا رکھا تھا یہ وہ عورت تھی جو اپنے بالوں کو دوسرے مردوں سے نہیں چھپاتی تھی اور ایک عورت کو زبان سے ٹانگ رکھا تھا یہ وہ عورت تھی جو زبان سے اپنے شوہر کو اذیت کرتی تھی۔ ایک عورت کا سر سور کی شکل اور بدن گدھے کی شکل کا تھا یہ وہ عورت تھی جو چغلی مارتی اور جھوٹ بولتی تھی۔ ایک عورت کی صورت کتے کے جیسے تھی یہ وہ تھی جو غیروں کے لیے گاتی تھی اور حسد کرتی تھی۔[5]

8=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
وائے ہے اس عورت پر جو اپنے شوہر کو غصہ دلائے اور خوشا بحال ہے وہ عورت جو اپنے شوہر کو خوش رکھے۔[6]

9=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
اگر میں کسی کو دوسروں کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دے تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کے لیے سجدہ کرتی۔[7]

10=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
زوجہ پر شوہر کا حق یہ ہے کہ وہ گھر کو روشن رکھے اور کھانے پینے کا انتظام کرے۔[8]

11=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے شوہر کے گھر ایک چیز کو اٹھا کر دوسری جگہ رکھے ( یعنی چھوٹا سا کام کرے) خدا اس پر نگاہ رحمت کرتا ہے اور جس پر خدا نظر رحمت کر دے وہ اس کے عذاب سے محفوظ ہے۔[9]

12=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
زوجہ کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کی توان سے زیادہ بوجھ اس پر ڈالے اور اس کی ادھر ادھر شکایت کرے۔[10]

13=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے شوہر کو زبان سے اذیت کرے خدا وند عالم اس کی کسی نیکی اور اچھائی کو قبول نہیں کرتا جب تک کہ اس کو راضی نہ کر لے اگر چہ دنوں میں روزے رکھے اور راتوں میں عبادت کرے ایسی عورت پہلی وہ عورت ہو گی جو جہنم میں داخل ہو گی اور یہی حال ہو گا اس شوہر کا جو اپنی بیوی پر ظلم کرے۔[11]

14=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے شوہر کے لیے خوشمزہ اور اچھے کھانے پکائے خداوند عالم قیامت میں اس کے سامنے طرح طرح کھانے پیش کرے گا اور کہے گا: کھاو اور پیئو ، یہ کھانے ان زحمتوں کی جزا ہے جو تم نے اپنے شوہر کے لیے اٹھائیں ہیں۔[12]

15=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے آپ کو بہترین طریقے سے آرائش کرے، اچھے کپڑے پہنے اور گھر سے باہر نکل جائے تاکہ لوگ اسے دیکھیں سات آسمانوں اور زمین کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں اور ہمیشہ خدا کےمورد غضب قرار پاتی ہے یہاں تک کہ مر جائے اور اس کے بعد اسے جہنم میں ڈال دیا جائے۔[13]

16=پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے فرمایا: عورت کے لیے سب سے اچھی چیز کیا ہے؟
عرض کیا: کوئی مرد اسے نہ دیکھے اور نہ وہ کسی مرد کو دیکھے۔[14]

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات
[1] وسائل الشیعہ، ج۱۵،ص۱۱۲.
[2] وسائل الشیعہ،ج۷.
[3] وسائل ،ج۱۶،ص۱۲۶.
[4]روضۃ المتقین،ج۸،ص۳۶۲، مکارم ص ۲۱۴.
[5] وسائل الشیعہ ،ج۱۴،ص۱۵۶، عیون اخبار الرضا،ج۲،ص۱۱.
[6] بحار الانوار ،ج ۸ ص۳۱۰.
[7] وسائل الشیعہ،ج۱۴،ص۱۱۵.
[8] مکارم الاخلاق، ص۲۱۴.
[9] وسائل الشیعہ،ج۷.
[10] نکاح مستدرک، باب ۶۰.
[11] امالی شیخ صدوق، ص۲۵۷.
[12] نکاح مستدرک، باب ۶۰.
[13] شہاب الاخبار.
[14] تاج لنگرادی، داستان زنان.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹عورتوں کی ذمہ داری،(حصہ دوم)🌹

17=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے شوہر کو اذیت کرنے اس کی نماز اور کوئی دوسرا نیک عمل قبول نہیں ہوتا اگر چہ دن رات نماز و روزہ میں مشغول رہے غلام آزاد کرے راہ خدا میں انفاق کرے یہاں تک کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو جائے۔[15]

18=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
بہترین خواتین وہ ہیں جو بچے پیدا کریں اپنے شوہر، اولاد اور نوکروں کے ساتھ مہربان رہیں پاکدامن ہوں، اپنے خاندان میں باعزت ہوں اور اپنے شوہر کے سامنے ذلت کا مظاہرہ کریں صرف اس کے لیے زینت اور آرائش کریں اور شوہر کے علاوہ حجاب میں رہیں اپنے شوہر کی بات سنیں اس کی اطاعت کریں اور ان کی بخششیں مرد کی بخشش کی طرح نہ ہو۔

19پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے آپ کو خوشبو لگائے اور گھر سے باہر نکل جائے جب تک واپس گھر آتی خدا کی اس پر لعنت ہوتی رہتی ہے۔[16]

20=پیغمبر اکرم(ص) نے عورتوں سے فرمایا: تم لوگ اپنی نمازوں کو اتنا طولانی نہ کیا کرو کہ تمہارے شوہر تمہارے نزدیک آنے سے منصرف ہو جائیں۔[17]

21=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
عورت کو چاہیے کہ شوہر کی اجزت کے بغیر اس کا مال کسی کو مت د ے اگر بغیر اجازت کے دے گی تو اس کا گناہ بیوی کی کرگردن پر ہو گا اور ثواب شوہر کے لیے لکھا جائے گا۔[18]
نیز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ مت دو۔[19]

22=پیغمبر اکرم (ص) نے حولا نام کی ایک خاتون سے فرمایا:
اپنی زینت کے اپنے شوہر کے علاوہ کسی کے لیے ظاہر نہ کرو تم میں سے جو خدا اور قیامت پر ایمان رکھتی ہے اسے شوہر کے علاوہ کسی کے لیے زینت نہیں کرنا چاہیے اور اپنی روسری اور بازوں کو دوسرے کے لیے آشکار نہیں کرنا چاہیے اگر ایسا کرو گی تمہار ا دین فاسد ہو جائے گا اورخدا کا غضب اس کے شامل حال ہو گا۔[20]

23=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے شوہر کے ساتھ دکھ سکھ میں صبر کرے اور اس کے حکم کی مطیع رہے خدا وند عالم ایسی عورت کو جناب ایوب کی بیوی کے ساتھ محشور کرے گا۔ [21]

24=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
وہ عورت جو اپنے شوہر کو اذیت کرے اس کی نماز اور کوئی نیک عمل قبول نہیں ہو گا یہاں تک کہ شوہر کو راضی کر لے۔[22]

25=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
اگر شوہر بیوی کو نیک کاموں کا حکم دے اسے اس کی معصیت نہیں کرنا چاہیے اور مخالفت کے ساتھ اس کا جواب نہیں دینا چاہیے۔[23]

26=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
جو عورت اپنے شوہر کے لیے لباس تیار کر کے رکھے گی خدا وند عالم قیامت میں اسے جنتی لباس عطا کرے گا کہ جو ریحان اور شقائق کے پھولوں کی طرح رنگیلے اور خوشبودار ہوں گے۔ اور چالیس فرشتوں کو اس کی خدمت کے لیے معین کرے گا۔[24]

27=پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:
عورت کی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ گھر کا چراغ جلائے، کھانا تیار کرے جب شوہر گھر میں داخل ہو اس کے استقبال کے لیے دروازہ تک جائے اور اسے خوش آمدید کہے اس کے لیے کوزہ اور تولیہ لائے اس کے ہاتھوں پر پانی ڈالے اور بغیر شرعی عذر کے نزدیکی کرنے سے منع نہ کرے۔[25]

28=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
وہ عورت جو اپنے شوہر کے بستر سے دور رات کو صبح کرے فرشتے صبح تک اس کو لعنت کرتے ہیں۔[26]

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات
[15] وسائل الشیعہ،ج۷،ص۱۲۵.
[16] وسائل الشیعہ،ج۷،ص۱۱۲.
[17] وسائل الشیعہ، ج۷،ج۱۱۷.
[18] وسائل، ج ۷.
[19] وسائل، ج۲۰،ص۱۵۸.
[20] نکاح المستدرک.
[21] الزوج فی الاسلام، ص۲۴۰.
[22] وسائل الشیعہ،ج۱۴،ص۱۱۶۵.
[23] الزواج فی الاسلام، ص۲۱۶.
[24] نہج الفصاحہ، ج۱۸۷.
[25] نظام خانوادہ در اسلام، ص۳۸۳.
[26] نہج الفصاحہ، ص۳۶.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹عورتوں کی ذمہ داری،(حصہ سوم)🌹

29=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
جب کوئی عورت شوہر کی اجازت کے بغیر مستحبی روزہ رکھے اور مرد کو اس کی ضرورت ہو اوروہ منع کرے خدا تین گناہان کبیرہ اس کے لیے لکھ دے گا۔[27]

30=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
حاملہ عورتیں،مائیں اور دودھ پلانے والی عورتیں جو اپنی اولاد کے ساتھ مہربان ہوتی ہیں اگر اپنے شوہروں کے ساتھ برا برتاو نہ کریں ان میں سے نماز گزار جنت کی مستحق ہیں۔[28]

31=پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:
شادی کرو طلاق مت دو اس لیے کہ خدا وند عالم ان مردوں اور عورتوں کو دوست نہیں رکھتا جو لگاتار شادیاں کرتے رہیں۔[29]

32=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
خدا وند عالم کے نزدیک اس گھر سے بدتر کوئی نہیں ہے جس میں طلاق کے ذریعے آپس میں جدائی ہو۔ٍا[30]

33=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
آخری زمانہ کہ جو بدترین زمانہ ہے اس میں عورتیں ان اوصاف کی مالک ہوں گی:
پہناوے کے ساتھ برہنہ ہوں گیں، غیروں کے لیے زینت کرنے والیں، دین سے خارج، فتنوں میں شامل، شہوتوں کی طرف مائل، لذات کی طرف بھاگنے والیں، حرام کو حلال کرنے والیں ہوں گی جو جہنم میں داخل ہوں گیں اور ہمیشہ وہی رہیں گیں۔[31]

34=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
اے خواتین اگراپنے شوہروں کے گھروں میں کام میں مشغول رہیں گی تو خدا مجاہدوں کے جہاد کا ثواب تمہیں دے گا۔[32]

35=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
اسلام کے بعد کوئی مسلمان اتنا ثواب حاصل نہیں کرتا جتنا وہ خاتون حاصلکرتی ہے جب اس کا شوہر اس کو دیکھتا ہے خوش ہوتی ہے اور اس کی اطاعت کرتی ہےاور شوہر کی عدم موجودگی میں اس کے مال او ر اپنی عفت کی حفاظت کرتی ہے۔[33]

36=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
ہر وہ عورت جو سات دن تک اپنے شوہر کی خدمت کرے خدا وند عالم جہنم کے سات دروازے اس پر بند کر دیتا ہے اور جنت کے سات دروازے اس پر کھول دیتا ہےتاکہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔[34]

37=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
جو عورت مر جائے اور اس کا شوہر اس سے راضی ہو وہ جنت میں داخل ہو گی۔[35]

38=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
جو عورت بغیر کسی شرعی وجہ کے شوہر سے طلاق لے جنت کی خوشبو اس پر حرام ہو جاتی ہے۔[36]

39=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
جب ہم کسی مسلمان کو دنیا اور آخرت کی خوبی دینا چاہتے ہیں تو اسے یہ چار چیزیں دیتے ہیں:
۱: متواضع دل، ۲؛ ذکر کرنے والی زبان،۳؛ بلاوں کے مقابلہ میں صبر کرنے والا بدن، ۴؛ با ایمان بیوی کہ جب اسے دیکھے تو خوش ہو، اور شوہر کی عدم موجودگی میں اسکے مال اور اپنی عفت کی محافظ ہو۔[37]

40=پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:
سب سے اچھی بیوی وہ ہے جو غیروں کے مقابلہ مین پاکدامن ہو اور خلوت میں شوہر کی مطیع اور فرمانبردار ہو۔[38]

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات
[27] کنزالعمال، ج ۱۶، ص ۳۸۲.
[28] نہج الفصاحہ، ص۲۸۳.
[29] نہج الفساحہ، ص۲۳۲.
[30] وسائل الشیعہ، ج۱۵.
[31] طومار عفت، ج۱.
[32] نہج الفصاحہ، ج۲، ص۲۸.
[33] وسائل الشیعہ،ج۱۵،ص۲۳.
[34] ارشاد القلوب دیلمی، ص۲۹۱.
[35] نہج الفصاحہ، ج۲،ص۱۰۲.
[36] نہج الفصاحہ، ھ ۱۹۷۲
[37] وسائل الشیعہ، ج ۱۴، ص۲۳.
[38] بحار،ج۱۰۳،ص۲۳۷.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👀 شیطان اور آنکھیں (حصہ اول) 👀

امام جعفرصادقؑ فرماتے ہیں:
👁بغیر ارادہ کے پڑنے والی پہلی نظر تمہارے لئے جائز ہے دوسری نظر کاجرم تمہارے اوپر ہے اور تمہارے لئے جائز نہیں ہے اور تیسری نظر میں ہلاکت ہے.
‏(وسائل الشیعہ،ج20،ص193)

حضرت امام جعفرصادقؑ اپنے آباءواجداد سےنقل فرماتےہیں کہ رسول (ص) نے فرمایا:
عورت کے لئے اپنے شوہر اور محرم کے علاوہ کسی سے پانچ الفاظ سے زیادہ بات کرنا ممنوع ہےکہ جس بات کا کرنا ضروری ہو.
بحارالانوار ج101ص32.
من لایحضرالفقیہ ج4 ص3.
وسائل الشیعہ ج20 ص197.

🌹میری بہنوں! محتاط رہو اور شیطان کے دھوکے میں نہ آؤ کہ تم کہو کہ میں تو کلاس فیلوز یا کزنز کو بھائیوں کی طرح سمجھتی ہوں اور اسی ارادے سے ان کو دیکھتی ہوں. بیشک تمہارا دل صاف ہے مگر آپ دونوں کا دل رسول خدا کے دل سے زیادہ پاکیزہ تو نہیں ہوسکتا.

⏪روایت میں ہے کہ جب حضور(ص) عورتوں سے بیعت لیتے تو پانی سے بھرا برتن منگوا کر اپنا ہاتھ اس میں ڈبوتے اور پھر اس سے ہاتھ نکال کر خواتین کو کہتے کہ اس پانی میں ہاتھ ڈبو کر میری بیعت کرو اور جب وہ پانی میں ہاتھ ڈبوتیں تو آپّ فرماتے تم نے میری بیعت کرلی ہے.

⏪ایک روایت میں دوعورتیں کہتی ہیں کہ ایک دفعہ ہم نے امام جعفرصادقؑ سے پوچھا:
کیا کوئی عورت اپنے بھائی کی عیادت کے لئے جا سکتی ہے؟
امامؑ نے فرمایا: جاسکتی ہے.
عورتوں نے پهر پوچھا: کیا وہ اس سے مصافحہ بھی کرسکتی ہے؟
امامؑ نے فرمایا: ہاں کپڑے کو ہاتھ پر لپیٹ کر مصافحہ کر سکتی ہے.
پھر ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے کہا: میری اس بہن کے پاس اس کے بھائی آتے جاتے رہتے ہیں.
تو امامؑ نے فرمایا:
جب تمہارے بھائی تمہارے پاس آئیں تو اس وقت بھڑکیلے اور شوخ کپڑے مت پہنو.
‏(مستدرک الوسائل،ج11، ‌‏ص126)

🔲شریعت عورت کو اپنے بھائی کے سامنے بھی رنگ دار، بھڑکیلے اور شوخ کپڑے پہننے سے روکتی ہے تو پھر کس طرح تمہیں دوسروں کے سامنے ایسا کرنے کی اجازت دے سکتی ہے.

🌹امام علیؑ فرماتے ہیں ایک دن میں اور حضرت فاطمہ(س)، رسول اکرم (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئےتو دیکھا کہ آپّ بہت زیادہ گریہ کر رہے ہیں پس میں نے پوچھا: ‏
اے اللہ کے رسول‎ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں کونسی چیز آپ کو اتنا رلا رہی ہے؟
تو رسول خدا(ص) نے فرمایا:‏
اے علیؑ شب معراج میں آسمان پر گیا تو میں نے اپنی امت کی عورتوں کو شدید عذاب میں دیکھا، پس مجھےان کی حالت پر بہت تکلیف ہوئی، جب میں نے ان کو سخت عذاب میں دیکھا تو گریہ کرنے لگا، میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بالوں سے لٹکی ہوئی تھی اور اس کا دماغ اس کے سر سے ابل رہا تھا،
ایک عورت کو دیکھا جو اپنی زبان سے لٹکی ہوئی تھی اور جہنم کا ابلتا ہوا پانی اس کے حلق میں ڈالا جارہاتھا،
ایک عورت کو دیکھا جو اپنےپستانوں سےلٹکی ہوئی تھی،
ایک عورت کو دیکھا جو اپنے جسم کا گوشت کھارہی تھی اور اس کےنیچے آگ بھڑک رہی تھی،
ایک عورت کو دیکھا جس کے پاؤں ہاتھوں سے بندھے ہوئےتھے اور اس پر سانپ اور بچھو مسلط تھے،
ایک بہری، اندھی اور گونگی عورت کو آگ کے تابوت میں دیکھا کہ جس کا دماغ ناک کی نتھلیوں سے نکل رہا تھا اور اس کا جسم جذام اور برص سے ٹکڑے ٹکڑے تھا،
ایک عورت کو آگ کے تنور میں پاؤں سے لٹکا ہوا دیکھا،
ایک عورت کو دیکھا کہ جس کے آگے اور پیچھے سے آگ کی قینچیوں سے گوشت کاٹاجارہاتھا،
ایک عورت کو دیکھا جس کا چہرہ اور ہاتھ جلائے جا رہے تھے اور وہ اپنی آنتوں کو کھا رہی تھی،
ایک ایسی عورت کو دیکھا جس کا سر خنزیر کی طرح اور جسم گدھے کی طرح تھا اور اس کو ہزار ہزار طریقے کا عذاب دیا جا رہا تھا،
ایک عورت کو دیکھا جس کی شکل کتے والی تھی اور آگ اس کی دبر سے داخل ہورہی تھی اور منہ سے نکل رہی تھی اور فرشتے اس کے سر اور جسم پر آگ کے گرز مار رہے تھے.

پس حضرت فاطمہ(س) نے فرمایا:
میری آنکھوں کی ٹھنڈک میرے پیارے بابا مجھے بتائیں کہ ان عورتوں کے اعمال اور کردار کیا تھے کہ جو اللہ نے ان کو عذاب میں مبتلا کیا؟

تو رسول اکرم (ص) نے فرمایا:
اے میری بیٹی! .....

رسول اکرم (ص) کا جواب حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیں.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👀 شیطان اور آنکھیں (حصہ دوم) 👀

تو رسول اکرم (ص) نے فرمایا:
اے میری بیٹی! وہ عورت جو اپنے بالوں سے لٹکی ہوئی تھی وہ اپنے بالوں کو مردوں کے سامنے نہیں چھپاتی تھی،
اور وہ عورت جو اپنی زبان سے لٹکی ہوئی تھی وہ اپنے شوہر کو اذیت و تکلیف پہچاتی تھی،
اور وہ عورت جو اپنے پستانوں سے لٹکی ہوئی تھی وہ اپنے شوہر کو ہمبستری سے روکتی تھی،
اور وہ عورت جو اپنے پاؤں سے لٹکی ہوئی تھی وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلتی تھی،
اور وہ عورت جو اپنے جسم کا گوشت کھا رہی تھی وہ اپنے جسم کو لوگوں کے لئے سنوارتی تھی،
اور وہ عورت جس کے پاؤں ہاتھوں سے بندھے تھے اور سانپ اور بچھو اس پر مسلط تھے وہ بے طہارت اور نجس کپڑوں میں رہتی تھی اور جنابت اور حیض کا غسل نہیں کرتی تھی، صاف نہیں رہتی تھی اور نماز کو خفیف و سبک سمجھتی تھی،
اور وہ عورت جو بہری، اندھی اور گونگی تھی وہ زنا سے بچے پیدا کرتی تھی اور اپنے شوہر کی گردن میں ڈال دیتی تھی،
اور وہ عورت جس کا گوشت قینچیوں سے کاٹا جارہا تھا وہ اپنے آپ کو مردوں کے سامنے پیش کرتی تھی،
وہ عورت جس کا چہرہ اور بدن جلایا جارہا تھا اور وہ اپنی آنتیں کھا رہی تھی وہ زنا کے لئے مردوں اور عورتوں کو ملاتی تھی،
اور وہ عورت جس کا سر خنزیر والا اور بدن گدھے والا تھا وہ جھوٹی اور چغل خور تھی،
اور وہ عورت جو کتے کی شکل میں تھی اور آگ اس کے دبر میں داخل ہوکر منہ سے نکل رہی تھی وہ گانا گانے والی لونڈی تھی کہ جو چیختی چلاتی اور حسد کرتی تھی.
پھر اس کے بعد حضور (ص) فرماتے ہیں:
ہلاکت ہے اس عورت کے لئے جس نے اپنے شوہر کو غضبناک کیا اور خوشخبری ہے اس عورت لئے جس سے اس کا شوہر راضی ہو.

1-وسائل الشیعہ ج20 ص2013
2-من لایحضر الفقیہ ج3 ص436
3-بحارالانوار ج101 ص96

بشکریہ تحقیق: فاطمہ جبین ‌‎

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ایک گدھے کا حساب 🔷

ایک دفعہ ایک ملک کا بادشاہ بیمار ہو گیا، جب بادشاہ نے دیکھا کے اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں تو اس نے اپنے ملک کی رعایا میں اعلان کروا دیا کہ وہ اپنی بادشاہت اس کے نام کر دے گا جو اس کے مرنے کے بعد اس کی جگہ ایک رات قبر میں گزارے گا، سب لوگ بہت خوفزدہ ہوئے اور کوئی بھی یہ کام کرنے کو تیار نہ تھا.

اسی دوران ایک کمہار جس نے ساری زندگی کچھ جمع نہ کیا تھا. اس کے پاس سوائے ایک گدھے کے کچھ نہ تھا. اس نے سوچا کہ اگر وہ ایسا کر لے تو وہ بادشاہ بن سکتا ہے اور حساب کتاب میں کیا جواب دینا پڑے گا اس کے پاس تھا ہی کیا، ایک گدھا اور بس!

سو اس کمہار نے اعلان کر دیا کہ وہ ایک رات بادشاہ کی جگہ قبر میں گزارے گا۔

بادشاہ کے مرنے کے بعد لوگوں نے بادشاہ کی قبر تیار کی اور وعدے کے مطابق کمہار خوشی خوشی اس میں جا کر لیٹ گیا، اور لوگوں نے قبر کو اس طرح بند کر دیا کہ کمہار سانس وغیرہ لے سکے.

کچھ وقت گزرنے کے بعد فرشتے آئے اور اسکو کہا کہ اٹھو اور اپنا حساب دو۔

کمہار نے کہا؛ بھائی حساب کس چیز کا میرے پاس تو ساری زندگی تھا ہی کچھ نہیں سوائے ایک گدھے کے!!!

فرشتے اس کا جواب سن کر جانے لگے لیکن پھر ایک دم رکے اور بولے....
ذرا اس کا نامہ اعمال کھول کر دیکھیں اس میں کیا ہے، بس پھر کیا تھا، سب سے پہلے انہوں نے پوچھا کہ ہاں بھئی فلاں فلاں دن تم نے گدھے کو ایک وقت بھوکا رکھا تھا..؟
اس نے جواب دیا: ہاں
فوری طور پر حکم ہوا کہ اسکو سو درے مارے جائیں.
اسکی خوب دھنائی شروع ہو گئی۔

اسکے بعد پھر فرشتوں نے سوال کیا:
اچھا یہ بتاؤ فلاں فلاں دن تم نے زیادہ وزن لاد کر اسکو مارا تھا..؟
اس نے کہا کہ ہاں.
پھر حکم ہوا کہ اسکو دو سو درے مارے جائیں.
پھر مار پڑنا شروع ہوگئی.

غرض صبح تک اسکو مار پڑتی رہی۔ صبح سب لوگ اکھٹے ہوئے اور قبر کشائی کی تا کہ اپنے نئے بادشاہ کا استقبال کر سکیں۔
جیسے ہی انہوں نے قبر کھولی تو اس کمہار نے باہر نکل کر دوڑ لگا دی....

لوگوں نے پوچھا:
بادشاہ سلامت کدھر جا رہے ہیں...
تو اس نے جواب دیا:
او بھائیو! پوری رات میں ایک گدھے کا حساب نہیں دے سکا تو پوری رعایا اور مملکت کا حساب کون دیتا پھرے۔

🔘 کہانی فرضی ھے لیـکن کبھی سوچا ہے کہ ہم نے بھی حساب دینا ہے ۔ اور پتہ نہیں کہ کس کس چیز کا حساب دینا پڑے گا جو شاید ہمیں یاد بھی نہیں ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/125
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 خوش رہیئے 🌹

امریکہ میں جب ایک قیدی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تو وہاں کے کچھ سائنس دانوں نے سوچا کہ کیوں نا اس قیدی پر کچھ تجربہ کیا جاے....

تب قیدی کو بتایا گیا کہ ہم تمہیں پھانسی دے کر نہیں ماریں گے بلکہ زہریلا کوبرا سانپ ڈسا کر ماریں گے...

اور اس کے سامنے بڑا سا زہریلا کوبرا سانپ لے آنے کے بعد اس کی آنکھیں بند کر کے اس کو کرسی سے باندھ دیا گیا.
اور اس کو سانپ نہیں بلکہ دو سیفٹی پِن چبھائی گئیں.....
تو قیدی کی کچھ سیکنڈ میں ہی موت واقع ہوگئی..

پوسٹ مارٹم کے بعد پایا گیا کہ قیدی کے جسم میں سانپ کے زہر جیسا ہی زہر ہے...
اب یہ زہر کہاں سے آیا.؟ جس نے اس قیدی کی جان لے لی...
وہ زہر اس کے جسم نے ہی صدمے میں جاری کیا تھا...

ہمارے ہر عمل سے مثبت یا منفی توانائی بنتی ہے اور وہ ہمارے جسم میں اسی کے مطابق ہارمونس تیار کرتی ہے...
بہت سی بیماریوں کی وجہ منفی سوچ ہی ہوا کرتی ہے.... آج انسان خود ہی اپنی منفی سوچ سے خود کو ختم کر رہا ہے..
اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھیں اور سدا خوش رہیں..

25 سال کی عمر تک ہمیں یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ کیا سوچیں گے..
50 سال کی عمر تک اسی ڈر میں جیتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے..
50 سال کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بارے میں کوئی سوچ ہی نہیں رہا تھا...
زندگی خوبصورت ہے... اس لیے ہمیشہ خوش رہیں...

یاد رکھیں!
صبر، شکر اور قناعت ایک عینک ہے. اگر آپ یہ عینک لگا لیں تو دنیا بڑی خوبصورت نظر آئے گی اور آپ ہمیشہ خوش و خرم رہیں گے.

🌷کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ....
زندگی میں ہمیشہ ریاضی کی طرح رہو.
دوستوں کو جمع کرو،
دشمنوں کو تفریق کرو،
خوشی کو ضرب دو،
پیار کو تقسیم کرو.
اور ہمیشہ مسکراتے رہو.‏❤️❤️❤

لوگ کہتے ہیں کہ زندگی میں یہ ضروری ہے اور وہ ضروری ہے___ میں تمہیں بتاؤں، زندگی میں کچھ بھی ضروری نہیں ہوتا نہ مال، نہ اولاد، نہ رتبہ، نہ لوگوں کی محبت… بس آپ ہونے چاہئیں اورآپ کا الله سے ہرایک پل بڑھتا تعلق ہونا چاہیے. باقی یہ مسئلے تو کسی بادل کی طرح ہوتے ہیں...
جہاز کی کھڑکی سے کبھی نیچے تیرتا کوئی بادل دیکھا ہے__؟ اوپر سے دیکھو تو وہ کتنا بے ضرر لگتا ہے مگر جو اس بادل تلے کھڑا ہوتا ہے نا‘ اس کا پورا آسمان بادل ڈھانپ لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ روشنی ختم ہوگئی، اور دنیا تاریک ہوگئی...غم بھی ایسے ہوتے ہیں- جب زندگی پہ چھا جاتے ہیں تو سب تاریک لگتا ہے‘  لیکن اگر آپ اس زمین سے اوپر اٹھ کر آسمانوں سے پورا منظر دیکھو تو جانو کہ یہ تو ایک ننھا سا ٹکڑا ہے جو ابھی ہٹ جائے گا… اگر یہ سیاہ بادل زندگی پہ نہ چھائیں نا__! تو ہماری زندگی میں کبھی رحمت کی بارش نہ ہو…!!

🌹مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
اپنے دل کو ماضی کے غموں میں مشغول نہ کرو کہ آئندہ کی تیاری سے محروم رہ جاؤ گے.
(غررالحکم، ص:289)

ہم نے ٹیلی گرام پر ریلیکس ہونے کے لئے فنی گروپ کا آغاز کیا ہے. جس کا نام مسکراہٹیں رکھا ہے. t.me/muskuraahten
اس گروپ میں مزاحیہ کلپس، اور لطیفے بھیجے جائیں گے. حس مزاح کی تسکین کے لئے اس گروپ کو ضرور جوائن کیجئے.

آخر میں ایک دعا....
🔷 دل دے، تو اس مزاج کا پروردگار دے.
جو رنج کی گهڑی بھی خوشی سےگزار دے.

https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅