ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔷 دہشت کا اثر 🔷

ایک سانپ اپنے زہر کی تعریف کر رہا تھا کہ میرا ڈسا پانی نہیں مانگتا۔ پاس بیٹھا مینڈک اس کا مذاق اڑا رہا تھا کہ لوگ تیرے خوف سے مرتے ہیں زہر سے نہیں
دونوں کا مقابلہ لگ گیا۔

طے یہ پایا کہ کسی راہگیر کو سانپ چھپ کے کاٹے گا اور مینڈک سامنے آئے گا۔ دوسرے راہگیر کو مینڈک کاٹے گا اور سانپ سامنے آۓ گا۔

اتنے میں ایک راہگیر گزرا اس مسافر کو سانپ نے چھپ کے کاٹا جبکہ ٹانگوں سے مینڈک پھدک کے نکلا۔ راہگیر مینڈک دیکھ کے زخم کھجا کے تسلی سے چل پڑا خیر ہے مینڈک ہی تھا کیا فرق پڑتا ہے۔
دونوں اسے دور تک جاتا دیکھتے رہے وہ صحیح سلامت چلا گیا۔

دوسرے راہگیر کو مینڈک نے چھپ کے کاٹا اور سانپ پھن پھیلا کے سامنے آ گیا
مسافر دہشت سے فوری مر گیا۔

دنیا میں ہر روز ہزاروں افراد مرتے ہیں جن کو دیگر امراض ہوتے ہیں یا کوئی بھی مرض نہیں ہوتا۔ جبکہ کرونا کی شرح اموات اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ خدارا سوشل میڈیا پر مایوسی مت پھیلائیں۔

مسلمان موت سے نہیں ڈرتا۔ جب موت ایک اٹل حقیقت ہے جس نے نہ پپیغمبروں کو چھوڑا نہ ولیوں کو۔ موت جب ہر حال میں آنی ہے پھر کرونا سے ڈر کیسا۔

احتیاط لازم ہے کریں لیکن خوف کو خود سے الگ کر دیں۔ خوف اور مایوسی سے انسان کی قوت مدافعت ختم ہو جاتی ہے جو کسی بھی بیماری سے لڑنے کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔

کرونا کےہزاروں مریض صحت یاب ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ موت اس کو آتی ہے جس کی زندگی کے دن پورے ہو چکے ہوتے ہیں۔

کرونا چھوت کا مرض ہے ایک دوسرے سے لگتا ہے۔ احتیاط ضرور برتیں لیکن اس خوف کو ذہن میں بٹھا کے موت سے پہلے اپنی زندگی کو موت سے بدتر نہ کریں۔

جینے کی امنگ خود میں پیدا کریں گے تو کوئی وائرس آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

آوازِ خلق، نقارۂ خدا
اللہ وہی دے گا جس کی اللہ سے امید رکھتے ہو۔ اللہ تعالٰی کی شان ہے کہ وہ آپکی امنگوں پر پورا اترتا ہے۔ اچھی امید رکھو گے تو اچھا ہی ہوگا۔

Copied

https://t.me/islamwitheman/2286
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کرونا کا پلازمہ سے علاج 🔷

‏ خون کے چار بنیادی حصے ہوتے ہیں یعنی سُرخ خلیے،‏ سفید خلیے،‏ پلیٹ‌لیٹس اور پلازمہ۔‏ اِن بنیادی حصوں سے خون کے اجزا حاصل کئے جاتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر سُرخ خلیوں میں ہیموگلوبِن نامی پروٹین پایا جاتا ہے۔‏ انسانوں اور جانوروں سے لئے گئے ہیموگلوبِن سے مختلف دوائیاں بنائی جاتی ہیں۔‏ یہ دوائیاں اُن مریضوں کو دی جاتی ہیں جن میں خون کے سُرخ خلیوں کی کمی (‏انیمیا)‏ پائی جاتی ہے یا پھر جن کا خون بڑی مقدار میں بہہ چکا ہوتا ہے۔‏

پلازمہ کا ۹۰ فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔‏ پلازمہ میں مختلف قسم کے ہارمون،‏ نمکیات،‏ انزائم،‏ غذائیں،‏ معدنیات اور شکر بھی پائے جاتے ہیں۔‏ پلازمہ میں البومین جیسے پروٹین کے علاوہ ایسے اجزا بھی شامل ہیں جو خون کو جمانے کا کام انجام دیتے ہیں اور بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیم کو تباہ کرتے ہیں۔‏ جب ایک شخص کو چھوت کی بیماری لگنے کا خطرہ ہوتا ہے تو ڈاکٹر اُسے اکثر گاما گلوبولن کا ٹیکہ لگاتا ہے۔‏ یہ دوائی ایسے انسانوں کے پلازمہ سے بنائی جاتی ہے جن کے خون میں اِس بیماری کو ختم کرنے والے اجزا موجود ہیں۔‏ سفید خلیوں سے ایسے پروٹین (‏انٹرفیرون اور انٹرلوکنِ)‏ حاصل ہوتے ہیں جن سے چھوت کی مختلف بیماریوں اور کینسر کا علاج کِیا جاتا ہے۔‏

واضح رہے کہ حال ہی میں امریکہ میں مستند اداروں نے ڈاکٹروں کو کووِڈ۔19 کے ایسے شدید بیمار یا جان لیوا صورتحال کا سامنا کرنے والے افراد کے علاج کے لیے ایک ایسی تحقیقاتی نئی دوا تک رسائی کی اجازت دی ہے جو بنیادی طور پر کورونا ہی کے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے حاصل کردہ پلازمہ یا سیال ہے۔

اسے خون کا روبصحت سیال یا کونویلیسینٹ پلازمہ کہا جاتا ہے۔ کورونا سے ہونے والی معتدی بیماری کووِڈ۔19 کی صورت میں معروف امریکی ادارے ایف ڈی اے نے اسے کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کا نام دیا ہے

ادھر روس نے بھی کورونا وائرس سےصحتیاب ہونے والوں کے خون سے پلازمہ لےکر دوا کی تیاری شروع کردی۔روسی سائنسدان کا کہنا ہے کہ علاج کے لیےکورونا وائرس سےصحتیاب افراد کے خون کے 500 ملی لیٹر پلازمہ کی ضرورت ہوگی کیونکہ دوا صحتیاب افراد کےخون کے پلازمہ سے اینٹی وائرل امیونوگلوبلین حاصل کرکے تیارکی جائے گی۔روسی سائنسدان نے بتایا کہ دوا کی تیاری کے لیے سائنسدانوں کو 76 ہزار ڈالر سے زائدکی خطیر رقم درکار ہوگی اور اس کی تیاری میں 30 دن لگیں گے۔

چین میں بھی نوول کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لئے کونوالیزینٹ پلازمہ تیار کر لیا گیا ہے۔چین کے قومی بائیوٹک گروپ کے مطابق یہ کونوالیزینٹ پلازمہ تھراپی نوول کورونا (COVID-19)سے متاثرہ مریضوں کی شفا یابی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔کمپنی نے کہا کہ انہوں نے کچھ شفا یاب مریضوں سے پلازمہ اکٹھا کیا ہے تاکہ کونوالیزینٹ پلازمہ اور ایمیون گلوبو لین سمیت تھرا پیٹک مصنوعات تیار کی جا سکیں۔خون کے بائیوسیفٹی ٹیسٹ، وائرس کے غیرموثر ہونے اور اینٹی وائرس سرگرمی کے ٹیسٹ لئے جانے کے بعد انہوں نے کامیابی کے ساتھ طبی علاج کے لئے کونوالیزینٹ پلازمہ تیار کیا ہے اور شدید بیمار مریضوں کے علاج کے لئے اس کا استعال کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ فروری کے مہینے سے ہی چین میں پلازمہ کے طریقہ علاج پر کامیاب تجربات کرلیئے گئے ہیں۔

پاکستان میں خون کے امراض کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق سندھ حکومت نے پلازمہ ٹیکنیک سے علاج کی منظوری دے دی ہے۔
اس حوالے سے سندھ میں بھی کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق اب مریضوں کا علاج پلازمہ ٹیکنیک کی مدد سے ہوگا۔

خون کے امراض کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق سندھ حکومت نے پلازمہ ٹیکنیک سے علاج کی منظوری دے دی ہے۔
اس طریقہ علاج میں کورونا مریضوں کو آئی سی یو یا وینٹی لیٹر کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ ان افراد کی مدد لی جائے گی جو پہلے کورونا کو شکست دے چکے ہوں گے۔
علاج کیلئے صحت یاب افراد کے خون سے پلازمہ لیا جائے گا اور جس سے متاثرہ افراد کا علاج ممکن ہوگا، اس سلسلے میں سندھ حکومت کے ساتھ مل کر اسی ہفتے لائحہ عمل تیار کرلیا جائے گا۔

ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق صحت یاب مریض ہر ایک ہفتے بعد پلازمہ عطیہ کرسکیں گے۔

حالیہ دنوں یحییٰ جعفری نامی نوجوان جنہوں نے اپنا پلازمہ کورونا سے لڑنے میں مدد کیلئے عطیہ کیا ہے جو کہ اخوش آئند اور انسانیت و حبّ الوطنی کے جزبے سے سرشار ایک انتہائی مثبت قدم ہے۔ امید ہے کہ یحییٰ جعفری کے اس عمل سے متاثر ہوکر قوم کے بہت سے کورونائی مریض نوجوان جو انشاءاللہ اس وبا سے شفاء پائینگے جلد ہی یحییٰ جعفری کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مزید پلازمہ عطیہ کرینگے۔

لیکن افسوسناک صورتحال یہ بھی دیکھنے میں آرہی ہے کہ بعض مزہبی انتہاء پسند طبقات یا ٹولے باالفاظ دیگر تکفیری شدّت پسند ٹولے یحییٰ جعفری کے پلازمہ کو اپنی مسلکی بغض کی عینک سے دیکھتے ہوئے انکے پلازمہ سے حاصل شدہ کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ سے علاج کی مخالفت میں اندھے پن کا
مظاہرہ کرتے ہوئے اس طریقہ علاج کی مخالفت کرتے دکھائی دے رہے ہیں. کہ کہیں انہیں بھی انکے مخلف فرقے کے شخص کا پلازمہ نہ لگا دیا جائے اور انکا خون شیعہ نہ ہوجاٰئے۔
درحقیقت انکے علم میں ہرگز نہیں کہ پورے پاکستان میں علاج کیلئے صرف یحییٰ جعفری کا پلازمہ ناکافی ہے۔ یہ درحقیقت پاکستان کی کورونا کے حوالے سے تجرباتی کاوش ہے جسکا سہرا جہاں طبّی ماہرین کے سر جاتا ہے وہیں یحییٰ جعفری جیسے۔حبّ الوطن اور انسانیت کے جزبے سے سرشار اس نوجوان کا نام سرِ فہرست رہیگا۔

تحقیق و تدوین: حسینی درویش.
(طبّی معلومات مختلف ذرائع سے حاصل شدہ ہیں۔)

https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ہینڈ سینیٹائزرز گھر پر بنائیں 🔷

کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر جراثیم کش محلول (ہینڈ سینیٹائزرز) کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے اور مارکیٹ میں ہینڈ سینیٹائزرز تقریباً ناپید ہو چکے ہیں۔
ہینڈ سینیٹائزرز جراثیم کش محلولوں کا مرکب ہوتے ہیں جو کہ باآسانی گھر پر بنائے جا سکتے ہیں۔

200 ملی لیٹر پانی لیں اور اس میں 100 ملی لیٹر سپرٹ ڈالیں اور اس میں 10 ملی لیٹر ڈیٹول ڈال کر آھستہ آھستہ پانچ منٹ ہلائیں آپ کا سنیٹائزر تیار ھے۔

اگر اسے تھوڑا گاڑھا کرنا ھے تو ایک دو چٹکی نمک ڈال کر یا ایلوویرا جیل ڈال کر ہلائیں محلول گاڑھا ہوجائے گا۔

خوشبو کے لئے عرق گلاب بھی ڈال سکتے ہیں۔

جیب میں رکھنا چاہیں تو کوئی بھی پرانا ڈراپر اچھی طرح صاف کر کے محلول اس میں ڈال لیں اور جیسے آسانی لگے استعمال کریں۔

مجھے کوئی کریڈٹ نہیں چاہیے لوگوں کی فلاح کی لئے تحریر کو شئیر ضرور کریں۔۔۔

https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👹 کرونا سے بچنے کے لیے 👹

■ کرونا سے بچنے کے لیے ہر روز۔۔۔

🌹 زیارت عاشورہ کی تلاوت کریں،

🌹 صحیفہ سجادیہ کی ساتویں دعا پڑھیں،

🌹 قرآن پاک کی پچاس آیات کی تلاوت کریں،

🌹 دعای عظم البلا پڑھیں،

🌹 حدیث کسا کی تلاوت کریں،

🌹 کثرت سے درود پڑھیں،

🌹 دعاے کمیل کی تلاوت کریں،

🌹 گھر میں ہرمل کا دھواں دیں،

🌹شھد اور 8 دانے کلوبجی کے ہر روز کھاییں،

🌹سانس کی ورزش کریں،

🌹دار چینی، ادرک، ملٹھی کا قہوہ بنا کر پییں۔

🌹ہر روز اپنا بخار چیک کریں۔ خشک کھانسی، تیز بخار، جسم میں درد کی صورت میں اپنے آپ کو باقی گھر والوں سے الگ کر لیں۔ تین دن حالت ٹھیک نہ ہو تو ٹاکٹر سے رجوع کریں۔

🤲🏻 خداوند عالم ہر مسلمان و مسلمہ، مومن و مومنہ، بچوں و بچیوں چھوٹوں، بڑوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھے اور اگر کوئی اس کا شکار ہو چکا ہے تو اسے شفا عطا فرمائے۔ آمین

https://t.me/islamwitheman/2290
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 سات آیات مبارکہ دفع وبا کیلئے 🔷

سات آیات مبارکہ دفع وبا کا نسخہ
مرحوم آیت اللہ حاج سید احمد خوانساری سے منقول ہے کہ۔۔۔
زمانہ قدیم میں ایران اور شہر خوانسار شہر میں وبا کی بیماری پھیل گئی، ہر گھر میں ایک یا ایک سے زائد اموات ہونے لگیں، سوائے ان چند گھروں کے جن میں ہر روز صبح کی نماز کے بعد یہ سات مبارک آیات تلاوت کی جاتی تھیں۔


💠 بسمِ اللهِ الرّحمنِ الرَّحیمِ

📖 قل لَّن یُصِیبَنَا إِلاَّ مَا کَتَبَ اللّهُ لَنَا هُوَ مَوْلاَنَا وَعَلَى اللّهِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ.

📖 وإِن یَمْسَسْکَ اللّهُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَهُ إِلاَّ هُوَ وَإِن یُرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَ رَآدَّ لِفَضْلِهِ یُصَیبُ بِهِ مَن یَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ.

📖 ومَا مِن دَآبَّةٍ فِی الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللّهِ رِزْقُهَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا کُلٌّ فِی کِتَابٍ مُّبِینٍ.

📖 وکَأَیِّن مِن دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ یَرْزُقُهَا وَإِیَّاکُمْ وَهُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ.

📖 ما یَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِکَ لَهَا وَمَا یُمْسِکْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ.

📖 قلْ أَفَرَأَیْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِیَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ کَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِی بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِکَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِیَ اللَّهُ عَلَیْهِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُونَ.

📖 حسْبِیَ اللّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ.

وَ أَمْتَنِعُ بِحَوْلِ اَللَّهِ وَ قُوَّتِهِ مِنْ حَوْلِهِمْ وَ قُوَّتِهِمْ وَ أَسْتَشْفِعُ بِرَبِّ اَلْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مٰا خَلَقَ وَ أَعُوذُ بِمَا شَاءَ اَللَّهُ لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ اَلْعَلِیِّ اَلعظیم.

📚 بحار الانوار،جلد 83 ،صفحه 337.

آیت اللہ خوانساری نے ان آیات کو خوشخط لکھوا کر اپنے دوست و آشناؤں میں تقسیم کر رکھی تھیں۔

https://t.me/islamwitheman/2291
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کرونا وائرس کا پی ایچ 🔷

کرونا وائرس کا (Ph) پی ایچ 5.5 سے 8.5 تک ہوتا ہے۔

کورونا وائرس کو شکست دینے کے لئے ہمیں جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے اس میں زیادہ سے زیادہ الکلائن فوڈز لینے کی ضرورت ہے جو وائرس کے اوپر والے پی ایچ سطح سے اوپر ہیں۔

جن میں سے کچھ یہ ہیں:
Lemon (لیمن): 9.9 pH
Lime (چونا): 8.2 pH
Avocado (ایوکاڈو): 15.6 pH
Garlilic (لہسن): 13.2 pH
Mango (آم): 8.7 pH
Tangerine (ٹینجرین): 8.5 pH
Pineapple (انناس): 12.7 pH
Dandelion (ڈینڈیلین): 22.7 pH
Orange (اورنج): 9.2 pH

Avocado, Pineapple, Raw Vinegar, Grape Fruit, Oranges, Banana, Spinach, Peach, Garlic, Ginger, Bitter Fruit کریلا, Broccoli, Turmeric, Red Chillies, Bell Pepper, Yougart, Almond, Dates, ... are high in Ph and Alkalines.
Coco nut water is also best source for Alkaline.

کھجور، سیب کا سرکہ خالص، کلونجی 15 دانے، نمکین پیاز، کیلا، لیموں، انناس، چکوترہ، کریلا، ابلے ہوئے انڈے، کھوپرے کا پانی،
24 گھنٹے میں 7 گھنٹے کی نیند،
کھانا کم سے کم کھائیں.

گھر کے تمام افراد کو ایک گلاس گرم دودھ میں ایک چمچ (بچوں کے لیے) اور دو یا تین چمچ (بڑوں کے لیے) بادام کا تیل ڈال کر مکس کر کے پلائیں۔

باقی اللہ تعالیٰ خیر فرمائے گا۔

■ کرونا وائرس کی علامات۔۔۔
1۔ گلے میں خارش،
2۔ خشک حلق،
3۔ خشک کھانسی،
4۔ تیز حرارت،
5۔ سانس کی قلت

لہذا جہاں آپ کو یہ چیزیں نظر آئیں تو فوراً لیموں کا رس گرم پانی میں ڈال کر بار بار پئیں۔

اس معلومات کو صرف اپنے پاس نہ رکھیں۔ اسے اپنے سارے کنبہ اور دوستوں کو دیں۔ اللہ ہم سب پر رحمت کرے. اور کرونا وائرس کی وبائی مرض سے بچائے رکھے۔ آمین یا رب العالمین

https://t.me/islamwitheman/2291
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کرونا متاثرین کے چکھنے کی حس 🔷

نوٹ: چکھنے/سونگھنے کی ٹیسٹنگ ٹیکنیک قرنطینہ میں ڈیوٹی کرنے والے ایک سینیئر ڈاکٹر نے بتائی ہے.

چائنیز ڈاکٹروں کی جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا کے 70 فیصد متاثرین کی چکھنے (Ansomia) اور سونگھنے کی حس (Ageusia) ختم ہو جاتی ہے. اور جب یہ صحتیاب ہو جاتے ہیں تو ان کی حس بھی بحال ہو جاتی ہے.

ڈاکٹرز اس علامت کو خدائی نعمت قرار دے رہے ہیں.

آسان الفاط میں سمجھ لیں کہ اگر کسی کو کھٹی میٹھی یا کڑوی اشیاء (جیسے نمک، مرچ یا کسی کڑوی گولی) کے ذائقے کا پتہ نہیں چل رہا یا عطر /سینٹ کی خوشبو محسوس نہیں ہو رہی تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کرونا سے متاثر ہو چکا ہے.... چاہے ظاہری علامات نہ بھی ہوں، فورا گھر کے تمام افراد سے الگ ہو کر قریبی قرنطنیہ سینئر پہنچے تاکہ بروقت علاج ہو سکے۔

اور اگر کسی میں کرونا کی تمام علامات موجود ہوں (جیسے بخار ہو، نزلہ زکام، سر درد بھی ہو) لیکن اسکے باوجود بھی چکھنے اور سونگھنے کی حس (صلاحیت) بالکل ٹھیک کام رہی ہے پھر کرونا وائرس نہیں بلکہ موسمی بیماری ہے.

چائنیز ڈاکٹروں کے مطابق یہ خدا کی طرف سے کرونا متاثرین کو تلاش کرنے کی ایک نعمت ہے..... ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔۔

معمولی نزلہ زکام یا بخاد کی صورت میں خود کو کرونا مریض نہ سمجھیں.

اگر پھر بھی شک ہو تو سب سے پہلے اپنے گھر میں ہی اپنی سونگھنے اور چکھنے کی حس کو چیک کریں، گھر میں نمک، مرچ، یا کوئی کڑوی گولی منہ میں رکھ کر دیکھیں کہ ذائقہ محسوس ہو رہا ہے یا نہیں، اور سینٹ یا عطر یا کسی اور خوشبو کو سونگھ کر دیکھیں کہ محسوس ہو رہا ہے یا نہیں. اگر سب صحیح ہے تو پھر پریشان نہ ہوں، نہ ہی گھر سے نکلیں، گھر میں ہی پیناڈول سے اپنا بخار اتار سکتے ہیں، نزلہ زکام ہو تو اسے چھوڑ دیں یہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گا.

پھر بھی پریشانی ہو تو حکومت کی ہیلپ لائن 1166 پر کال کرکے اپنے حالات سے آگاہ کردیں، وہ آپ کو تسلی دیکر سب سمجھا دیں گے.

قرنطینہ سینئرز میں بھی مریض کو پہلے کڑوی گولی کھلا کر چیک کیا جا رہا ہے کہ ذائقہ محسوس ہو رہا ہے یا نہیں، ڈاکٹرز کے مطابق بہت سے مریض عام بخار کی وجہ سے خود کو کرونا متاثر سمجھ کر قرنطینہ آگئے تھے جنہیں خیریت سے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ مبارک ہو آپ کو کرونا نہیں ہے.

لیکن خدا کے لیے کرونا سے خوفزدہ مت ہوں، یاد رکھیں زندگی و موت اللہ کے اختیار میں ہے نہ کہ کرونا کے. اس لیے ڈرنا چھوڑ دیں۔ یاد رکھیں اس وقت کرونا کا واحد حل۔۔۔

احتیاط احتیاط اور صرف احتیاط کریں۔

آخر میں یاد رکھیں کرونا اللہ سے بڑا نہیں ہے لہذا اللہ پر توکل رکھیں اور پرامن زندگی گزارتے رہیں. شکریہ

copied

https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 قوتِ مدافعت بڑھانے والی سبزیاں 🌹

اپنی قوتِ مدافعت کو بہتر رکھنے کے لئے وٹامن سی سے بھرپور غذاؤوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔

وٹامن سی سے بھرپور غذائیں درج ذیل ہیں ۔۔۔ 100 گرام خوراک میں موجود وٹامن سی کی مقدار۔۔۔

مالٹا میں 53 ملی گرام
لیموں میں 53 ملی گرام
ٹماٹر میں 39.2 ملی گرام
امرود میں 228 ملی گرام
سٹرابری میں 59 ملی گرام
شملہ مرچ میں 80 ملی گرام
سبز مرچ میں 242 ملی گرام
خشک دھنیا میں 567 ملی گرام

درج بالا سبزیوں اور پھلوں کو اپنی روزانہ خوراک کا حصہ بنائیں تاکہ آپ کی قوتِ مدافعت میں اضافہ ہو۔

https://t.me/islamwitheman/2293
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👹 کرونا وائرس کیسے کام کرتا ہے 👹

وائرس کی اپنی بائیو سنتھیٹک مشینری (biosynthetic machinery) نہیں ہوتی. جس کا مطلب ہے یہ خوراک نہیں کھا سکتا. یہ خوراک کو توڑ کر اس سے اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں سر انجام دینے کے لئے انرجی حاصل نہیں کر سکتا. یہ خود سے اپنی تعداد نہیں بڑھا سکتا. یہ اپنے نیوکلیک ایسڈز کو ریپلیکیٹ (replicate) نہیں کر سکتا. حرکت نہیں کر سکتا. وائرس کو یہ سارے کام سرانجام دینے کے لئے ایک ہوسٹ (host) کی ضرورت ہوتی ہے. اسی لئے تمام وائرسز کو (obligate endoparasites) کہا جاتا ہے. یعنی یہ کسی دوسرے زندہ جاندار کے جسم کے اندر رہ کر ہی افزائش کرسکتے ہیں. عمل تولید کر سکتے ہیں. انہیں لیبارٹری میں آرٹی فيشل ميڈيا پر grow نہیں کیا جاسکتا. وائرس چونکہ خود سے حرکت بھی نہیں کر سکتا اس لئے یہ passively ہی کسی ہوسٹ تک پہنچتا ہے. ہوسٹ تک پہنچ کر سب سے پہلے یہ اس کے جسم کے سیلز میں گھستا ہے. وائرس کی آمد سے پہلے ہوسٹ کے جسم کے سیلز ہوسٹ کے لئے کام کر رہے ہوتے ہیں. اس کے لئے انرجی یعنی ATP پیدا کر رہے ہوتے ہیں. بیماریوں کے خلاف لڑ رہے ہوتے ہیں. مختصر یہ کہ جسم کو توازن یعنی homeostasis میں رکھنے کے لئے اپنا اپنا بہترین کام کر رہے ہوتے ہیں. جونہی وائرس ہوسٹ کے ان سیلز میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے ان کا مکمل کنٹرول اپنے اختیار میں کرتا ہے. سیلز کے میٹابولزم یعنی وہ ری ایکشنز جو ہوسٹ کے سیلز ہوسٹ کے لئے کر رہے ہوتے ہیں اب وہ وائرس کے لئے کرنا شروع کردیتے ہیں. وائرس اپنے ہوسٹ کے سیلز سے سب سے پہلے اپنے نیوکلیک ایسڈز کی کاپیز تیار کرواتا ہے. ایک سے دو. دو سے چار اور اسی طرح وائرس کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے. وہ ایک ہوسٹ سیل جس کو آغاز میں ایک وائرس نے ہائی جیک کیا تھا اب وہ ہزاروں وائرسز کی آماجگاہ بن چکا ہوتا ہے. اسی دوران یہ ہوسٹ سیل پھٹ جاتا ہے جسے لائسز (lysis) کہا جاتا ہے. ایک سیل کے پھٹنے سے ہزاروں وائرسز برآمد ہوکر ہوسٹ کے جسم کے ہزاروں نئے سیلز میں گھس جاتے ہیں. ایک بار پھر سے وہ تمام سیلز وائرس کی تعداد بڑھانے میں لگ جاتے ہیں. اور لاکھوں نئے سائیکلز شروع ہوجاتے ہیں. ان سارے مراحل کے دوران ابھی تک ہوسٹ بظاہر صحت مند رہتا ہے. کیونکہ ہوسٹ کا اپنا جسم بھی کھربوں سیلز کا بنا ہے اور لاکھوں سیلز تباہ ہوجانے کے باوجود نارمل دکھائی دیتا ہے. ان مراحل کو وائرس کا انکیوبیشن پیریڈ (incubation period) کہا جاتا ہے. بیماری کی علامات ظاہر ہونے تک یہ انکیوبیشن پیریڈ جاری رہتا ہے. جب ہوسٹ کے باڈی سیلز ایک خاص تعداد تک تباہ ہو جائیں تب جسم نارمل فنکشنز نہ کر سکنے کی وجہ سے بیماری کی علامات ظاہر کرنا شروع کرتا ہے.

اس ساری معلومات کا مقصد آپ کو یہ یقین دلانا ہے کہ اگر آپ اب تک کرونا میں مبتلا نہیں بھی ہیں پھر بھی آپ خود کو اور دوسروں کو بچائیں.

بہت سے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اگر کرونا وائرس کا اب تک کوئی خاص علاج دریافت نہیں ہوا ہے تو کرونا میں مبتلا لوگوں کی ایک خاص تعداد ہسپتالوں سے صحتیاب ہو کر کیسے ڈسچارج ہو رہی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہسپتالوں اور قرنطینہ سنٹرز (quarantine) قائم کرنے کا واحد مقصد کرونا میں مبتلا لوگوں کو صحت مند لوگوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے. تاکہ بیمار لوگ اپنے اردگرد صحت مند لوگوں تک وائرس کی منتقلی کا سبب نہ بنیں. آئزولیشن سنٹرز میں داخل مریضوں کو دنیا بھر میں صرف سادہ پین کلرز دی جا رہی ہیں. سانس اکھڑنے پر وینٹی لیٹرز پر شفٹ کیا جا رہا ہے. جو لوگ صحتیاب ہو رہے ہیں وہ اپنے جسم کے مدافعتی نظام کے باعث ہو رہے ہیں. مدافعتی نظام یا امیون سسٹم بیماری پیدا کرنے والے جراثیموں کے خلاف ہمارے جسم کا ایک قدرتی حفاظتی نظام ہے. اور یہی قدرتی حفاظتی نظام ہی لوگوں کو کرونا سے محفوظ کر رہا ہے.

لوگوں کا ایک دوسرا سوال بھی ہے کہ کرونا وائرس جسم کے کن حصوں کو متاثر کرتا ہے؟ کرونا وائرس سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے.

شروع میں جب وائرس سانس کی نالیوں کی دیواروں کے سیلز میں گھستا ہے تو ری ایکشن کے طور پر ریسپائیریٹری نالیاں میوکس پیدا کرتی ہیں جس سے نزلہ، زکام، کھانسی اور چھینکیں آنا شروع ہو جاتی ہیں. جسم وائرس کا قلع قمع کرنے کے لئے نارمل باڈی ٹمپریچر جوکہ 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے کو بڑھا دیتا ہے. اس وجہ سے بخار کی علامات ظاہر ہوتی ہیں. ان سارے عوامل سے یا تو وائرس کا قلع قمع ہوجاتا ہے اور مریض کے کرونا ٹیسٹس منفی آنے لگ جاتے ہیں. یا پھر اگر یہ سارے عوامل کام نہ دکھا پائیں تو ہم کہتے ہیں کہ مریض کا امیون سسٹم کمزور ہے اور پھر پھیپھڑوں کی تباہی شروع ہوتی ہے. اس کے بعد ہر لمحہ مریض کو بچا پانا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے.

احتیاط کریں۔ اللہ تعالٰی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ الٰہی آمین

Copy.

https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 لمبا سجدہ اور مختلف بیماریاں 🌺

بیماریاں (کرونا، الرجی، ڈیمنشیا وغیرہ) اور لمبا سجدہ (سچی کہانی)

یہ تحریر اب لکھ رہا ہوں کیونکہ شاید اس کی لوگوں کو اب سب سے زیادہ ضرورت ہو۔

ہوا کچھ یوں کہ میری والدہ کو ڈیمنشیا (Dementia) کی بیماری بتائی گئی۔ یہ ایسی بیماری ہے کہ بڑھاپے میں ہر تین میں سے ایک بندے کو الزائمر (Alzheimer) یا ڈیمنشیا ہونا ہی ہونا ہے۔ یہ دونوں بیماریاں دماغی کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ افسوس یہ ہوتا ہے کہ میں اپنی والدہ کی خود خدمت نہیں کر سکا باھر کے ملک ہونے کی وجہ سے اور نہ ہی ان معلومات کا پتہ تھا۔
مجھے خود بھی سائنس (Sinus) کا مسئلہ تھا اور الرجی کی پرابلم تھی۔ بار بار چھینکیں آتی تھیں۔ ناک سے پانی بے انتہا آتا تھا اور تقریبا ۱۵ سال تک یہی مسئلہ رہا جو کہ لڑکپن میں ہی شروع ہو گیا تھا۔

کبھی کبھار ذہن میں آتا تھا کہ نہ جانے ہمارے دین نے ہمیں ان بیماریوں سے نجات کا طریقہ بھی بتلایا ہے یا نہیں۔
بہرحال والدہ کی تو ڈیتھ ہو گئی اور میں اپنی کم علمی کی وجہ سے اور یورپ میں ہونے کی وجہ سے کچھ نہ کر پایا۔

ایک دن اتفاق سے ہی ایک مسلمان ڈاکٹر کی وڈیو دیکھی جس میں اس نے بتایا کہ دماغی کمزوری کو دور کرنے کا واحد طریقہ لمبا سجدہ کرنا ہے۔ یہ معلومات نئی تھیں۔ دلیل کے طور پر انہوں نے یہ کہا کہ ہمارا دل کشش ثقل (Gravity) کے خلاف خون کو دماغ تک پمپ اتنے ٹھیک طریقے سے نہیں کرتا کہ جتنا جب ہم سجدے میں چلے جاتے ہیں، تو تب کرتا ہے۔ جبھی آہستہ آہستہ لوگوں کا دماغ کمزور ہو جاتا ہے اور بڑھاپے میں بالآخر جواب دے جاتا ہے۔ یہ بات تو بھلی معلوم ہوئی۔
پھر کچھ ان کی وڈیوز دیکھیں تو معلوم ہوا کہ میری اپنی پرابلم رائنائٹس (Rhinitis) والی الرجی کا بھی یہی حل ہے کیونکہ دماغی کمزوری کی ہی وجہ سے ہمیں یہ پرابلم ہوتی ہے اور پھیپھڑوں پر بھی بہت منفی اثر چھوڑتی ہے۔

بہرحال واحد طریقہ تو یہی تھا کہ میں آزما کر دیکھ لیتا۔ آپ یقین جانئے میری ۱۵ سالہ پرانی پرابلم اور الرجی کا مسئلہ تو ایک ماہ میں ہی لمبا سجدہ کرنے سے حل ہو گیا الحمدللہ۔

نماز تو الحمدللہ پڑھتا تھا لیکن نماز کے بعد سجدہ شکر کو لمبا کر دیا اور دیگر کئی اذکار بالخصوص ۱۰۰ مرتبہ درود پڑھنے میں ہی پانچ سے دس منٹ کا سجدہ ہو جاتا۔ اس سے اور کئی مسائل حل ہوئے۔ چہرہ خون کی سپلائی کی وجہ سے تازہ رہنے لگا اور بڑی عمر کے اثرات تقریبا ختم ہو گئے ۔۔ بالوں کو خون ملنے کی وجہ سے بال گرنے کم ہو گئے۔ بلغم کا مسئلہ تھا وہ بالکل ختم ہو گیا۔ کانوں کے مسائل اور آنکھوں کی کمزوری کے مسائل کم ہو گئے اور ساتھ ہی ساتھ آنکھوں کے نیچے گذشتہ ایک سال سے کالے رنگ کے ہلکے نہیں دکھے کبھی۔

سبحان اللہ! یہ مذہب ہی تھا جس کے ایک سجدے کے عمل کے پاس ہماری اتنی بیماریوں اور نہ جانے کن کن بیماریوں کا علاج ہے۔ ورنہ بڑے سے بڑے یورپ کے ڈاکٹر کو میری الرجی کا علاج نہیں ملا۔ الرجی کے خلاف موثر ترین طریقہ لمبا سجدہ کرنے کا یہ ہے کہ دونوں پلکوں کے درمیان والی جگہ کو سجدے گاہ پر رکھ کر سجدہ کیا جائے تو بہترین رزلٹس ملتے ہیں۔

آج کل کرونا کا بہت زور ہے یقین مانئے اگر آپ لمبے سجدے کرنے شروع کر دیں نماز کے بعد تو آپ کے پھیپھڑے زیادہ مضبوط ہو سکتے ہیں کیونکہ سجدے کی ایک ایسی پوزیشن ہے کہ جس میں انسان کے لنگز زیادہ بہتر کام کرتے ہیں۔ آزمودہ بات ہے۔ آپ بھی آزما کر فائدہ لے سکتے ہیں۔ یہ کم از کم پھپھڑوں کو طاقت ضرور دے گا۔

اگر یہ باتیں پہلے پتہ ہوتیں تو شاید میں اپنی والدہ کو بھی بچا لیتا اور ان کی دماغی کمزوری کا مسئلہ حل کروا دیتا۔ ایسا نہیں کر سکا تو کم از کم آپ یہ سب باتیں جان لیجئے اور اپنے بڑھاپے کیلئے اور موجودہ بیماریوں اور وباوں سے بچنے کیلئے ابھی سے تیاری شروع کر دیجئے ۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

مذہب اسلام زندگی ہے۔

آخر میں حضرت علیؑ کا قول نقل کر دوں کہ اگر نمازی کو پتہ چل جائے کہ کن کن رحمتوں نے اسے گھیرا ہوا ہے تو وہ سجدے سے سر اٹھانا ہی نہ چاہے۔

ہماری تحریریں تمام انسانوں کیلئے بلا تفریق مذہب و فرقہ ہوا کرتی ہیں لہذا آپ بھی یہی سمجھ کر تمام انسانوں تک پہنچائیں اور میری مرحومہ والدہ کیلئے ضرور ہو سکے تو ایک بار کم از کم درود شریف پڑھ دیجئے اور اگر زیادہ ہو سکے تو ایک بار الحمد اور تین بار سورہ توحید (سورہ اخلاص، قل ھو اللہ احد) پڑھ دیجئے ۔۔۔ یہ پوسٹ انہی کے ایصال ثواب کیلئے نشر کی جا رہی ہے ۔ پوسٹ کو شیئر اور پیج کو لائیک کیجئے۔ بہت شکریہ

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ
ایڈمن ریئل اسلام (فیس بک)

https://t.me/islamwitheman/2292
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 دہشت نہ پھیلائیے 🌹

پروردگار عالم نے اپنے بندوں سے فرمایا:
مایوس نہ ہو۔

جناب یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا:
مایوس نہ ہو۔

جناب یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی سے فرمایا:
مایوس نہ ہو۔

جناب شعیب علیہ السلام نے جناب موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا:
ڈرئے مت۔

ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے صحابی سے فرمایا:
غم نہ کھا کہ بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

اضطراب کی گھڑیوں میں لوگوں کے درمیاں سکون و اطمینان پیدا کرنے والی باتیں پھیلانا خدائی اور نبوی طریقہ کار ہے۔

سکون و اطمینان اور خدا پر بھروسہ کو پھیلائیے کہ مشکلات سے نجات قریب ہے۔ اس لئے کہ:
ان مع العسر یسرا
بے شک سختی کے ساتھ آسانی ہے۔
لہذا مضطرب اور پریشان نہ ہوئیے اور زیادہ سے زیادہ استغفار کرتے رہئے اس لئے کہ ارشاد خداوند ہے:
و ماکان اللہ معذبہم و ہم یستغفرون
خدا ان پر عذاب نہیں کرے گا جب تک کہ وہ استغفار کرتے رہیں گے۔

خدایا! معاف فرمادے۔ رحم فرما، جو برائیاں ہم سے جانتا ہے درگزر فرما کہ بیشک تو ہی صاحب عزت، صاحب جلال اور صاحب کرم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پوسٹیں دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔

👹 وائرس کا حملہ آور موت کے امکان
https://t.me/islamwitheman/2277

🔷 کرونا وائرس اور ماہر نفسیات
https://t.me/islamwitheman/2282

🔷 قاسم علی شاہ کی باتیں
https://t.me/islamwitheman/2283

🔷 خوف کا زہر
https://t.me/islamwitheman/2286

🔷 دہشت کا اثر
https://t.me/islamwitheman/2287

🔷 سات آیات مبارکہ دفع وبا کے لیے
https://t.me/islamwitheman/2292

🔷 کرونا وائرس کا پی ایچ
https://t.me/islamwitheman/2293

🌹 قوت مدافعت بڑھانے والی سبزیاں
https://t.me/islamwitheman/2295

🌹 لمبا سجدہ اور مختلف بیماریاں
https://t.me/islamwitheman/2297
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌸 مسائل سے کیسے نمٹا جائے؟ 🌸

اس زندگی میں کوئی مسائل سے بچا ہوا نہیں ہے۔ دنیا کا بندہ کسی بھی مقام پر کسی بھی طرح ہو چاہے غریب ہو یا امیر، بادشاہ ہو چاہے وزیر وہ مسائل سے خالی نہیں ہے۔ اس عالم اسباب میں کوئی بھی مسائل سے خالی نہیں ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام جب اس دنیا میں آئیں گے تو ایک مخصوص مسجد میں آکر اتریں گے اور ان کے حواری یا ماننے والے اس کے گرد جمع ہوجائیں گے اور جب وہ مسجد کے مینار پر آئیں گے تو اعلان کریں گے کہ سیڑھی کا بندوبست کریں۔ اور وہ سب ماننے والے کہیں گہ کہ اے عیسٰی آپ آسمان سے اس مینار پر تو آگئے ہیں تو آپ نیچے ہی آجاتے پھر یہاں سیڑھی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ کہیں گے کہ میں عالم اسباب میں آگیا ہوں اس لیے اس میں سیڑھی مانگنی پڑتی ہے یعنی کہ جو مسائل اور مشکلات آئیں گی ان کو حل کرنا ہوگا۔
حضرت مولانا رومی کہتے ہیں کہ مشکلات، زخم، پریشانیاں اپنے اندر روشنی لے جانے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔
زندگی کے تمام مسائل اور مشکلات جو زندگی کے پیکیج میں ہمیں ساتھ ملتے ہیں وہ ہمارے ظرف کو اور ہمت کو بڑھانے کیلئے ہوتے ہیں۔
ہماری کیپیسٹی بلڈنگ پرابلمز سے ہوتی ہے۔ کچھ چیزیں کر کے ہی سیکھی جاتی ہیں۔ کچھ چیزین مسائل اور زندگی نے ہی سکھانی ہیں۔
جینیس وہ ہے جو مسائل کا سامنہ کرتا ہے اور ان سے سیکھتا ہے اور آنے والی زندگی کیلئے کچھ نئے اصول و ضوابط بناتا ہے۔
انسان کا بڑا مرشد اس کا تجربہ ہے۔ تجربہ کے بغیر انسان آگے بڑھ نہین سکتا،
دیہات میں جب مرغی کا بچہ انڈے سے باہر آنا چاہتا ہے تو انڈے کو چونچ مارتا ہے۔ اور اس سے اس کے اعصاب اور مسلز مضبوط ہوتے ہیں۔
جو ناکامی سے بچتا ہے دراصل وہ کامیابی سے بچتا ہے۔ جو ناکام نہیں ہوسکتا وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔
چمکنے کیلئے لازم ہے کہ آپ ٹوٹیں۔ نگینہ کو چمکنے کیلئے ننانوے بار تراشا جاتا ہے۔
بابا فرید کے شعر کا مفھوم ہے کہ آنسو بہانے سے اندر کا انسان باہر آتا ہے۔
اقبال کہتا ہے کہ
تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسےترا آئنہ ہے وہ آئنہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئنہ ساز میں
انسان ٹوٹتا ہے تو بنتا ہے، ٹوٹے بغیر بن نہیں سکتا۔
کامیابی کیلئے خدا کی ذات پر توکل ضروری ہے۔ آپ کی تار کو خدا سے جڑنا ضروری ہے۔
اپنے رب سے بات کرنا اس کے سامنے رونا ضرور سیکھیں۔
جو لوگ اہنی غلطی کو غلطی نہیں مانتے وہ تکلیف کا شکار ہوتے ہیں اور راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔
انسان کا رب پر یقین ہو تو بڑی زیادتیوں کو معاف کرنا اس کیلئے آسان ہوتا ہے۔
انسان کو امید رکھنا فائدہ ضرور دیتا ہے۔ جو پرامید ہوتے ہیں ان کی زندگیوں میں کامیابیاں زیادہ آتی ہیں۔ خیر کی امید رکھنے سے اچھا ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں ہے کہ میری رحمت سے ناامید مت ہونا۔
بچہ والدین کو جو کرتے ہونے دیکھتا ہے اس سے بہت سیکھتا ہے۔ بچہ لفظوں سے زیادہ عمل کی زبان سے سیکھتا ہے۔
زندگی میں شکوہ گلا نہ کریں۔
بچہ کو سمجھانا چاہئے کہ مسائل زندگی کا حصہ ہیں۔ مسائل اور چیلیج کو کس طرح مسائل سے نپٹنا ہے اس کے بارے میں حل سکھائیں۔
انسان کی امیدوں کا اثر پڑتا ہے۔ اچھا ہونا بہتر ہے۔
اللہ پاک سے جیسا گمان رکھیں گے اس طرح کا سلوک ہوگا۔
واصف علی واصف کہتے ہیں کہ
مسئلہ کی حالت میں مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت سلب ہو جاتی ہے۔
مسائل کہ حل کرنے کیلئے حل کرنے کی حالت میں آئیں۔
دنیا میں گیارہ مسائل ہیں، معا شی حالت، رک جانا، تعلقات، سیلف مینیجمینٹ، پرگریسو،
اپنی زندگی کے مسائل کا تجزیہ کریں۔
عمر کے ساتھ مسائل تبدیل ہوتے ہیں۔
کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کیا تھا؟
ہم نے اپنی سوچ کو خود بنایا ہے، ہم بڑے مسئلوں کو چھوٹا اور چھوٹے مسئلوں کو بڑا کر سکتے ہیں۔

✍ قاسم علی شاہ

https://t.me/islamwitheman/2283
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 مرد کا اقتدار 🌹

🔴 مرد اقتدار کو پسند کرتا ہے اور اس اقتدار سے مراد یہ ہے کہ مرد اس بات کا احساس کرے کہ بیوی اس کو اپنا حامی اور پشت پناہ سمجھتی ہے .

⭕ قرآن مجید کے اندر سورہ نساء کی آیت نمبر 34 میں خداوندمتعال نے ارشاد فرمایا ہے کہ
*الرجال قوامون علی النساء*

جس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ مرد عورتوں کے لئے حامی اور ان کے پشت پناہ ہیں .

💮 مرد کے اقتدار سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ وہ خود خواہی کرے ضد اور ہٹ دھرمی کرے اور اپنی برتری جتلائے

⚛ درحقیقت مرد قدرت کی علامت ہے اور ہر گز اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس کی قدرت زیر سوال آئے اور اس کی قدرت پر سوالیہ نشان اٹھے.

⏺ اسی لیے آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض خواتین شادی کے بعد جب اپنے والدین کا سہارا لیتی ہیں ان سے چیزوں کا مطالبہ اور ڈیمانڈ کرتی ہیں تو شوہر کو یہ بات ناگوار گزرتی ہے.

🔺 کیونکہ شوہر اس بات کو پسند کرتا ہے کہ بیوی کا صرف وہی حامی اور پشت پناہ ہو اسی وجہ سے بعض افراد کے اندر اپنے سسرال والوں کے ساتھ دل میں کدورت اور مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں.

🌀 اگر ایسی وضعیت اور صورتحال پیش آجائے تو مندرجہ ذیل چند نکات کو مدنظر رکھیں.

1⃣ بیوی کو چاہیے کہ اپنے گھروالوں کے ساتھ یعنی اپنے والدین کے ساتھ رابطے کو مدیریت کرے اگر وہ شوہر کی نسبت والدین سے زیادہ رابطہ رکھے گی تو شوہر کو یہ پیغام ملے گا کہ والدین میری نسبت اس کے لیے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں.

2⃣ جب بیوی اپنے والد کے گھر میں جائے تو اگر شوہر بھی ساتھ ہے تو اسے تنہا نہ چھوڑیں ایسا نہ ہو کہ شوہر کو کمرے میں چھوڑ کر آپ گھر والوں کے ساتھ مصروف ہو جائیں یا کچن میں چلے جائیں تو اسکا بھی شوہر کے لئے اچھا مناسب پیغام نہیں ملتا.

3⃣ جہاں تک ممکن ہو بیوی کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے والد سے خاص طور پر پیسوں کے لحاظ سے ان سے مدد مانگے.

4⃣ بیوی اگر اپنے والدین کے ساتھ کہیں سفر پہ جائے یا سیروتفریح کے لیے جائے تو اگر ممکن ہو تو شوہر کو بھی ساتھ لے جائے ورنہ اگر شوہر کو ساتھ لے کر نہ جا سکے تو دن میں دو یا تین بار اس سے ٹیلیفون پر رابطہ کریں اور اس کا حال دریافت کریں.

5⃣ اگر بیوی کے والد اور شوہر کے درمیان کوئی اختلاف پیش آجائے اور یہ کوئی سلیقے کا اختلاف ہو اور آگر حق اس کے شوہر کے ساتھ ہو تو والد کی غیر موجودگی میں اسے اپنے شوہر کی حمایت کرنی چاہیے.
🔺ممکن ہے کہ فیمینیزم کے پراپیگنڈے کی وجہ سے بعض خواتین مردوں کے اقتدار کو قبول نہ کریں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے.

⭕ اور عورت کی فطرت کے اندر بھی یہ موجود ہے کہ وہ مرد کے اقتدار کو قبول کرتی ہے اور بیوی یہ پسند کرتی ہے کہ اس کا شوہر مقتدر ہو تاکہ اس کا سہارا لے سکے بیوی پسند کرتی ہے کہ اس کا شوہر واقعی ایک مرد ہو. اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ مجھے مردوں والا قول اور وعدہ دو.

🛑 ایک ماہر نفسیات کے مطابق کے مرد جس قدر مقتدر ظاہر ہوگا تو بیوی کے لئے اس کی جذابیت میں اتنا اضافہ ہو جائے گا.

⚫ اگر مرد اپنے مقتدر ہونے کا احساس نہ کریں اور بیوی اس کو اپنا حامی اور پشت پناہ نہ سمجھے اور اسے اہمیت نہ دے تو وہ ایک بے لیاقتی کا احساس کرے گا کہ اس کے اندر صلاحیت اور لیاقت نہیں ہے اور اس کا نقصان خود بیوی کو بھی ہوگا.

🔹اسی طرح بیوی کو چاہیے کہ ایسے جملات کا استعمال کریں کہ جس سے مرد کو اپنے مقتدر ہونے کا احساس ہو مثال کے طور پر

👈 اگر تم میرے شوہر نہ ہوتے تو میرے لیے زندگی گزارنا سخت ہوجاتا

👈 یا مجھے آپ پر افتخار ہے

👈 میں نے آپ سے شادی کی ہے اور مجھے اس بات پر فخر ہے

👈یا تم خدا کی طرف سے میرے لئے ہدیہ ہو

👈 یا تم میری آرزوؤں اور تمناؤں کا جواب ہو.

🌲 ایک مغرب زمین کے ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ عورتیں اگر مردوں کی اطاعت کریں گی تو مرد ان کی پوجا کریں گے.

🔸 درحقیقت اگر خواتین اپنے شوہر کو مقتدر ہونے کا احساس دلائیں اور ان کو اس بات کی اجازت دی تو پھر کوئی بھی خاتون اس کے دل میں بیوی کے علاوہ گھر نہیں کر سکتی.

🌻 فارسی زبان کے ایک بہت بڑے شاعر حافظ کا ایک شعر ہے جس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ؛

اگر حسین لوگوں کا لشکر بھی میرے دل کے خلاف کمین لگا کے بیٹھے اور مجھے ورغلانے کی کوشش کرے تو خدا کے شکر سے میرے گھر میں ایک بت شکن موجود ہے جو ان سارے لشکروں کو شکست دینے کی قدرت رکھتا ہے اور وہ بت شکن سے مراد اس کی اپنی بیوی ہے.

تحریر؛ فضل خان

https://t.me/islamwitheman/2232
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
بسم الله الرحمن الرحيم
مكتب سماحة المرجع الديني الاعلى السيد علي الحسيني السيستاني دام ظله
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رمضان المبارک 1441 ھ کا مہینہ شروع ہونے کے قریب ہے جبکہ کورونا وائرس مختلف علاقوں میں تاحال موجود ہے اور ڈاکٹرز اس وبا سے بچنے کے لئے تھوڑے تھوڑے وقفے سے پانی پینے کی نصیحت کر رہے ہیں ، کیونکہ جسم میں پانی کی کمی قوت مدافعت کو کمزور کر دیتا ہے ،نیز وائرس حلق تک پہنچنے کی صورت میں حلق کا خشک ہونا وائرس کو پھیپھڑوں تک پہنچنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔جبکہ پانی پینے سے حلق میں موجود وائرس معدہ میں جاکر ختم ہو جاتا ہے ۔
تو کیا ان حالات میں اس سال مسلمانوں سے روزہ ساقط ہو جائے گا ؟
جواب :
رمضان المبارک کا روزہ ہر شخص کا فردی فریضہ ہے ، پس ہر وہ شخص جس میں وجوب کی شرائط موجود ہے اس پر روزہ واجب ہے ،اس سے قطع نظر کہ کسی دوسرے پر واجب ہے یا نہیں . پس آنے والے رمضان المبارک میں کسی مسلمان کو یہ خوف ہو کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کو کورونا لگ جائے گا خواہ وہ باقی تمام لازمی احتیاط کر بھی لیں ، تو ایسی صورت میں ہر وہ دن جس میں اس کو روزہ رکھنے کی وجہ سے کورونا لگنے کا خوف ہو اس دن کا روزہ ساقط ہو گا ۔ لیکن اگر کسی بھی طریقے سے اس کے لئے یہ ممکن ہو کہ وہ کورونا ہونے کے احتمال کو اس حد تک کم کر سکے کہ جتنے کم احتمال کو عقلاء اہمیت نہیں دیتے ،جیسے گھر میں بیٹھ کر، دوسرے لوگوں سے قریبی رابطے نہ رکھ کر، ماسک اور گلبز پہن کر ،اسی طرح مسلسل سپرے وغیرہ کر کے ،جبکہ ایسا کرنے میں اس کو اتنی زیادہ مشقت و مشکلات بھی نہ ہو جو عام طور پر قابل تحمل نہ سمجھا جاتے ہوں ، تو ایسی صورت میں (اس پریہ امور بجا لانا ضروری ہے اور )روزہ ساقط نہیں ہوگا ۔
جہاں تک ڈاکٹرز کی طرف سے باربار پانی پینے کی نصیحتتاکہ حلق خشک نہ ہواور کورونا لگنے کا احتمال کم ہو سکے _کا تعلق ہے ، تو یہ نصیحت لوگوں پر روزہ واجب ہونے سے مانع نہیں ہو سکتی ، البتہ وہ لوگ جن تک ڈاکٹرز کی یہ نصیحت پہنچے ،اور انہیں روزہ رکھنے کی وجہ سے کورونا لگنے کا خوف بھی ہو ،نیز اس احتمال کو کم کرنے کا کوئی طریقہ بھی نہ ہو ،گھر رہ کر ،اور دیگر تمام ذکر شدہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ،تو ان سے روزہ ساقط ہوگا جیسا کہ اوپر بھی بیان ہوا ۔لیکن ان کے علاوہ (جن تک ڈاکٹر کی یہ نصیحت پہنچی نہیں یا ان کو کورونا لگنے کا اتنا زیادہ احتمال نہیں یا احتیاط وغیرہ کے ذریعے اس احتمال کر کم کر سکتے ہوں ) ان پر روزہ رکھنا واجب ہے ۔ یاد رکھیں کہ روزے کے دوران جسم میں پانی کی کمی کو سحری کے وقت _ فجر سے پہلے ایسی سبزیاں اور فروٹ جن میں پانی بہت زیادہ پایا جاتا ہے ، کو استعمال کر کے پورا کیا جا سکتا ہے ،اسی طرح شوگر سے خالی چیوینگ گم وغیرہ چبا کر بھی حلق کو خشک ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ، بشرطیکہ اس کے اجزاء حلق سے نیچے نہ اترنے دین ۔
مزکورہ باتوں سے واضح ہوا کہ جن لوگوں کے لئے رمضان المبارک میں گھر پر بیٹھنا اور لوگوں سے روابط محدود کرنا ،اور اس طرح کورونا سے بچنا ممکن ہے ،ان پر روزہ ساقط نہیں ہوگا ۔لیکن جن لوگوں کے لئے کسی بھی وجہ سے کام کو ترک کرنا اور لوگوں سے تعلق محدود کرنا ممکن نہیں ہے تو اگر ان کو یہ خوف ہو کہ بار بار پانی نہ پینے کی وجہ سے انہیں کورونا لگ جائے گا ،جبکہ اس سے بچنے کا کوئی اور طریقہ بھی ان کے پاس نہ ہو تو پھر ان کے اوپر روزہ واجب نہیں ہے ، مگر ان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ سر عام افطار کریں ۔
ہر مسلمان جانتا ہے کہ رمضان المبارک کا روزہ شریعت مقدسہ کے اہم ترین فرائض میں سے ہے جسے کسی حقیقی عذر کے بغیر ترک نہیں کیا جا سکتا ، اور یہ بات ہر شخص اپنی حالت کے بارے میں بہتر جانتا ہے کہ اس کے پاس روزہ کو ترک کرنے کی حقیقی وجہ ہے یا نہیں ہے ۔
١٧ شعبان المعظم ١٤٤١ ه‍
والسلام علیکم ورحمة الله وبركاته
مكتب السيد السيستاني دام ظله
https://www.sistani.org/arabic/archive/26414/
🌹 جمعةالمبارک کے اعمال 🌹

1⃣ نماز صبح : پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سورہ جمعہ ( مستحب ) اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد سورہ توحید
2⃣ دعائے ندبہ پڑھنا
3⃣ نماز صبح سے لیکر طلوع آفتاب تک تعقیبات میں مشغول رہنا
4⃣ کثرت سے صلوات پڑھنا
5⃣ نماز فجر کے بعد 100 مرتبہ سورہ توحید کی تلاوت
6⃣ غسل کرنا (سنت مؤکدہ)
7⃣ پاکیزہ لباس پہننا اور خوشبو کا اہتمام کرنا
8⃣ ان سورتوں میں سے کسی ایک کی تلاوت : سورہ نبا، کہف، صافات، رحمن)
9⃣ سورہ احقاف اور سورہ مومنون کی تلاوت
امام صادق (ع) سے مروی ہے جو شخص ہر شب جمعہ یا روز جمعہ سورہ احقاف پڑھے تو وہ دنیا میں خوف و خطر سے محفوظ اور قیامت میں فزع اکبر (بڑی حولناکی) سے امن میں ہوگا۔ جو شخص پابندی سے ہر جمعہ سورہ مومنوں پڑھے تو اسکے اعمال کا خاتمہ خیر و نیکی پر ہوگا اور اسکا قیام فردوس بریں میں انبیاء و مرسلین کے ساتھ ہوگا
0⃣1⃣ آیت الکرسی کی تلاوت (امام زین العابدین علیہ السلام صبح جمعہ سے لیکر ظہر تک ایت الکرسی پڑھتے)
1⃣1⃣ مونچھیں اور ناخن کاٹنا۔ ناخن کاٹنے میں بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کرنا اور دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پر ختم کرنا۔ کاٹ کر دفن کرنا بھی مستحب ہے
2⃣1⃣ صدقہ دینا
3⃣1⃣ ناشتے میں انار کھانا (امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے مطابق دل 40 روز تک نورانی رہے گا)
4⃣1⃣ زیارت رسول اللہ (ص) و آئمہ اطہار (ع) پڑھنا
اور
5⃣1⃣اپنے والدین اور دیگر مومنین کی قبور کی زیارت کرنا

📚 مفاتیح الجنان ۔ شیخ عباس قمی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹیں دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔

🔵 غسل جمعہ کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/367

🔵 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368

📄 جمعةالوداع کی دعا
http://t.me/islamwitheman/1056

🌺 روز جمعہ کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1112

🌹 فضائل جمعةالمبارک
https://t.me/islamwitheman/1974

🌹 فضیلت جمعہ اور نماز حاجت
https://t.me/islamwitheman/1987

🌹 فضیلت جمعہ اور سورہ ھود
https://t.me/islamwitheman/1998

🌹 فضلت جمعہ اور سورہ صافات
https://t.me/islamwitheman/2027

🌹 احادیث فضیلت نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/2036

🌹 جمعہ کے دن کی دعا
https://t.me/islamwitheman/2062

🌹 جمعہ کے دن کی زیارت
https://t.me/islamwitheman/2063

🌹 فضیلت جمعہ اور چار رکعت نماز
https://t.me/islamwitheman/2064

💐 جمعة المبارک کے اذکار
https://t.me/islamwitheman/2083

🌹 فضیلت جمعہ اور سورةالقدر
https://t.me/islamwitheman/2084

🌹 فضیلت جمعہ اور عمل اولاد
https://t.me/islamwitheman/2107
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💝 عشق کیا ہوتا ہے؟ 💝

امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت اقدس میں ایک شخص آیا اور عرض کرنے لگا اے نواسۂ رسولؐ یہ عشق کیوں ہوتا ہے۔ کسی انسان کو کوئی انسان اتنا اچھا کیوں لگتا ہے کہ اس کے سامنے پوری دنیا کچھ نہیں لگتی۔ بس یہ کہنا تھا نواسۂ رسولؐ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا میں نے اپنے بابا، انہوں نے اپنے بابا سے، انہوں نے اپنے بابا سے، انہوں نے رسول اللہ سے سنا۔۔۔
ہر انسان کے اندر اللہ تعالٰی کی کوئی نہ کوئی صفت ضرور موجود ہوتی ہے۔ کوئی رحمدل ہوتا ہے، کوئی عادل ہوتا ہے، کوئی سخی ہوتا ہے اور کوئی شجاع ہوتا ہے۔ جب انسان اپنے اندر پائے جانے والے اوصاف کی خوشبو کسی دوسرے میں محسوس کرتا ہے تو اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اس سے بات کرنا، اسے دیکھنا اور اس سے ملنا اچھا لگنے لگتا ہے۔ اسے یہ لگتا ہے یہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔ دراصل وہ خود کو اس میں اپنے آپ کو دیکھتا ہے اور ہر جگہ اس کی کمی کو محسوس کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہر پل مجھ سے راضی رہے۔ اسی کیفیت کو زمانے والے عشق کا نام لیتے ہیں بس کوئی مخلوق سے عشق کرتا ہے اور کوئی خدا سے۔

🔘 اے پروردگار عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف ہماری رہنمائی فرما۔ الٰہی آمین

Copy...

https://t.me/islamwitheman/2222
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 مساجد کی اہمیت و فضیلت 🌹

اللّٰہ تبارک وتعالی سورہ توبہ آیت ١٨ میں ارشاد فرماتا ہے:
*اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَى الزَّكٰوۃَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللہَ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُہْتَدِيْنَ۝*
ترجمہ:
اللہ کی مسجدوں کو صرف وہی لوگ آباد کر سکتے ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور نماز قائم کرتے ہوں نیز زکوٰۃ ادا کرتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھاتے ہوں، پس امید ہے کہ یہ لوگ ہدایت پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۝

1⃣ مساجد میں آنےجانیکے فوائد
انزع البطین امام الراکعین مولا علی مرتضٰی علیہ الصلاةوالسلام فرماتے ہیں:
جو شخص مسجد میں آمدورفت رکھتا ہے وہ 8 خوبیوں میں سے کسی نہ کسی خوبی کو پا لیتا ہے۔
♣ بھاٸی کو ، جس سے راہِ خدا میں فاٸدہ اٹھایا جا سکتا ہو۔
♣ علم کو ، جس سے نٸی راہیں کھلتی ہیں۔
♣ محکم آیت کو
♣ رحمت کو جس کا اسے انتظار ہوتا ہے۔
♣ کسی ایسی بات کو جو اسے ہلاکت سے روک لیتی ہے۔
♣ کسی ایسی بات کو سنتا ہے جو اسے راہ راست کی رہنمائی کرتی ہے۔
♣ کوٸی گناہ چھوڑ دیتا ہے اللّٰہ تعالی کے خوف سے۔
♣ کوٸی گناہ چھوڑ دیتا ہے لوگوں کے شرم و حیا کیوجہ سے۔

2⃣ سانسوں کی عبادت
جناب رسول اکرمﷺ جناب ابوذر کے ذریعے سے تمام امت سے فرماتے ہیں:
اے ابوذر! جب تک تم مسجد میں بیٹھے رہو گے اللّٰہ تعالی تمہارے ہر سانس کے بدلے بہشت میں ایک درجہ عطا فرماٸے گا۔ فرشتے تم پر رحمت بھیجتے رہیں گے تمہارے ہر سانس کے عوض 10 نیکیاں لکھی جاٸیں گی اور 10 گناہ مٹاٸے جاٸیں گے۔

3⃣ مسجد کا ہمسایہ
عاشقِ خدا مولا امام الصادقین علی مرتضٰی علیہ الصلاةوالسلام فرماتے ہیں:
مسجد کی حدود 40 ہاتھ ہیں۔ اور اسکے تمام اطراف سے 40 گھر ہیں۔

4⃣ مسجد کیطرف قدم بڑھانا
جو شخص جماعت کیلٸے مسجد کیطرف چل کر جاٸے اس کیلٸے ہر ایک قدم کے عوض 70 ہزار نیکیاں ہیں اور اتنے ہی درجات بلند کٸے جاتے ہیں اگر اسی حالت میں مر جاٸے تو 70 ہزار فرشتے مقرر کر دیٸے جاتے ہیں جو تاقیامت مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔

5⃣ گھروں میں مسجدکی جگہ رکھنا
قارئين محترم! مکان بناتے وقت جہاں اور ضروریات کو سامنے رکھا جاٸے وہاں اس میں عبادت خانہ بھی بنایا جاٸے تاکہ افراد خانہ اس عبادت گاہ میں جاکر نماز ادا کر سکیں اور قرآن مجید کی تلاوت کریں۔ افراد خانہ کی تربیت کیلٸے یہ کام بیت ہی مفید ہے۔
🌺 ابوعبداللّٰہ مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جناب امام علی علیہ السلام نے نماز پڑھنے کیلٸے اپنے گھر میں ایک کمرہ مقرر کیا ہوا تھا۔

6⃣ مسجد کا شکایت کرنا
قارئين محترم! جسطرح گھر بنا کر اسکو آباد کیا جاتا ہے اسی طرح مسجد تعمير کرنیکے بعد اسکو آباد کیا جاٸے ورنہ وہی مسجد روزِ قیامت اللّٰہ تعالی سے شکایت کریگی کہ اس نے اللّٰہ تعالی کے گھر کو تعمير تو کیا لیکن اسکو آباد نہیں کیا۔
🌺 ابوعبداللّٰہ مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
مسجدوں نے بارگاہ الہی میں اپنے ہمسایوں کی شکایت کی جو مسجد میں نماز پڑھنے نہیں آتے تھے اللّٰہ تعالی نے انکی طرف وحی کی کہ مجھے اپنی عزت و جلالت کی قسم
👈 میں انکی کوٸی نماز قبول نہیں کرونگا۔
👈 نہ ہی میری رحمت انکے شامل حال ہو گی۔
👈 اور نہ ہی وہ میرے ہمساٸے ہونگے۔

7⃣ مساجدمیں ظالموں کاداخلہ ممنوع
قارئين محترم! جو شخص اللّٰہ تعالی کے بندوں پر ظلم کرتا ہے اور اس ظلم کو جاری رکھتا ہے ایسے ظالم کیلٸے مسجد میں داخلہ ممنوع ہے۔
🌺 جناب پیغمبر اکرمﷺ فرماتے ہیں:
اللّٰہ تعالی نے میری طرف وحی فرماٸی کہ۔
▪میرے کسی گھر میں وہ شخص داخل نہ ہو جس نے میرے بندوں پر ظلم کیٸے ہوں جب تک ایسا شخص میرے سامنے کھڑا نماز پڑھتا رہیگا میں اس پر لعنت کرتا رہونگا۔ البتہ جب وہ ظلم کی تلافی کر دے:
👈 تو میں اسکا کان بن جاٶنگا جسکے ذریعے بات کو سنے گا۔
👈 اسکی آنکھ بن جاٶنگا جسکے ذریعے وہ دیکھے گا۔
👈 وہ میرے اولیا اور برگزیدہ لوگوں میں شمار ہوگا۔
👈 جنت میں انبیا و صدیقین اور شہدا کیساتھ میرا ہمسایہ ہوگا۔

8⃣ مسجد میں باطہارت جاؤ
ابوعبداللّٰہ مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
تمہيں مسجدوں میں آنا چاہیٸے کیونکہ وہ زمین پر اللّٰہ تعالی کے گھر ہیں۔ جو شخص ان میں باطہارت ہو کر آٸیگا اللّٰہ تعالی اسکو گناہوں سے پاک کر دیگا۔ اور اسکا نام اللّٰہ تعالی کے زاٸرین میں لکھا جاٸیگا۔ لہذا تم ان میں کثرت سے نماز اور دعا کیا کرو۔

📚 بحوالہ: راہ ہدایت۔

انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]

https://t.me/islamwitheman/1849
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 نمازکی اہمیت (أحاديث) 🌹

🔷 نمازجنت کی چابى
قَالَ النَّبِيُّ (صلى الله عليه و آله): "مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلَاةُ" (1)
ترجمہ:
پیغمبرإسلام صلی الله عليه وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ نمازجنت کی چابى ہے۔

🔷 أول وقت میں نمازکی فضیلت
عَنِ النَّبِيِّ (صلَّى الله عليه و آله) أَنَّهُ قَالَ: " ... و إِنَّ أَفْضَلَ الْأَعْمَالِ كُلِّهَا الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا " (1)
ترجمہ:
پیغمبر إسلام صلی الله عليه وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ "بےشك تمام أعمال میں سب سےأفضل عمل اول وقت پہ نماز کو ادا کرنا ہے۔"


🔷 مفاہیم کو سمجھتے نماز پڑھنا
رُوِيَ عن الإمام جعفر بن محمد الصادق (عليه السَّلام) أنهُ قَالَ: "مَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَعْلَمُ مَا يَقُولُ فِيهِمَا، انْصَرَفَ وَ لَيْسَ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ اللَّهِ ذَنْبٌ" (1)
ترجمہ:
امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ علیہ السلام نےفرمایا "جوبھی شخص دو رکعت نماز اس انداز میں پڑھے کہ نماز میں جو کچھ پڑھا جا رہا ہو وہ جانتا ہو تو وہ اس حالت میں نماز سے پلٹے گا کہ اس کے اور اللہ سبحانہ و تعالی کے مابین کوئی گناہ نہیں ہوگا۔"
(یعنی بخشا جائے گا، گناہ معاف کیا جائے گا) سبحان اللہ!! کیا عظیم بشارت اور خوشخبری ہے اگر ہم اس کی طرف ذرا بھی توجہ سے کام لیں۔

🔷 نماز کو سبک و ہلکا جاننا
قَالَ أبو بصير : دَخَلْتُ عَلَى حُمَيْدَةَ أُعَزِّيهَا بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ (عليه السَّلام)، فَبَكَتْ، ثُمَّ قَالَتْ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، لَوْ شَهِدْتَهُ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ وَ قَدْ قَبَضَ إِحْدَى عَيْنَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "ادْعُوا لِي قَرَابَتِي وَ مَنْ يَطُفُّ بِي"
فَلَمَّا اجْتَمَعُوا حَوْلَهُ قَالَ: "إِنَّ شَفَاعَتَنَا لَنْ تَنَالَ مُسْتَخِفّاً بِالصَّلَاةِ" (2)
ترجمہ:
أبوبصير کہتے ہیں کہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کے گھر میں أم حمیدہ بربریة (امام ع کی زوجہ) کے پاس امام علیہ السلام کی شھادت پہ تعزیت کے لئے
حاضر ہوا تو ام حمیدہ نے گریہ کی، پھر فرمایا: اے أبا محمد (أبوبصير)! اے کاش کہ امام علیہ السلام کے آخری لمحات میں تم ہوتے تو دیکھ لیتے کہ امام علیہ السلام نےآخری وقت میں اپنے تمام عزیز و أقارب کو جمع کرنے کا کہا اور جب سارے جمع ہو گئے تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
"إِنَّ شَفَاعَتَنَا لَنْ تَنَالَ مُسْتَخِفّاً بِالصَّلَاةِ"
ترجمہ:
بےشک ہم آل محمد علیھم السلام کی شفاعت ہر گز اس تک نہیں پہنچ سکتی کہ جو نماز کو سبک اور ہلکا سمجھے۔

📚 المصادر:
1. عوالي اللئالي العزيزية في الأحاديث الدينية:‏1/ 322۔
2. مستدرك وسائل الشيعة : 6 / 335۔
3. وسائل الشيعة (تفصيل وسائل الشيعة إلى تحصيل مسائل الشريعة): 1 / 374۔
4. مستدرك وسائل الشيعة : 3 / 25۔
5:.أصول الكافي : 2 /266۔

https://t.me/islamwitheman/2262
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 صدقہ کی پانچ اقسام 🌺

مولا علی علیہ السلام سے روایت ہے صدقہ کی پانچ اقسام ہوتی ہیں۔

1⃣ ایک درھم ثواب دس گنا
صحیح الجسم مومن کو صدقہ دینا۔

2⃣ ایک درھم ثواب ستر گنا
محتاج مومن کو صدقہ دینا۔

3⃣ ایک درھم ثواب سات سو گنا
محتاج رشتے دار کو صدقہ دینا۔

4⃣ ایک درھم ثواب سات ھزار گنا
والدین کو صدقہ دینا۔

5⃣ ایک درھم ثواب ایک لاکھ گنا
طالب علم کو صدقہ دینا

🔷 محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ صدقہ دینے کے فواٸد میں سے چند ایک یہ ہیں۔۔۔

1= صدقے سے ناداری (تنگی حالی) دور ہوتی ہے۔
2= صدقہ دینے سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔
3= صدقہ دینے سے ستر قسم کی بے آبرو موت دور ہوتی ہے۔

🔷 امام صادق علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے۔۔۔
بیماریوں کو صدقہ سے اور مصاٸب کو دعا سے دور کرو رزق میں صدقہ سے وسعت ہوتی ہے۔


📚 انوار خمسہ ص ٣١١۔

https://t.me/islamwitheman/2223
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 روتے کیوں ہو؟ 🔷

ایک ویڈیو دیکھی جس میں کرونا وائرس سے وفات پانے والے نوجوان کا جنازہ پڑھایا جا رہا ہے، جب اس جوان کی میت رسیوں سے باندھ کر قبر میں اتارنے لگتے ہیں تو پیچھے سے اس نوجوان کی ماں کی چیخیں بلند ہوتی ہیں وہ رو رو کر کہہ رہی ہوتی ہے میرے بیٹے کو ہاتھوں سے پکڑ کر قبر میں اتارو۔
موت تو ایک دن آنی ہی ہے مگر تکلیف اس بات کی ہوتی ہے کہ کرونا سے مرنے والا بے وارثوں کی طرح دفنا دیا جاتا ہے، نا اس کا آخری دیدار ہوسکتا ہے اور نا ہی جنازے میں اپنے شامل ہوسکتے ہیں، مرنے والے کی ماں بیٹے کو آخری بار مل نہیں پاتی اور بیٹی باپ کی میت سے لپٹ نہیں سکتی اور پھر تدفین بھی بہت دردناک ہوتی ہے۔

آ مسلمان تجھے بتاؤں ہم 1400 سال سے حسینؑ کو کیوں رو رہے ہیں؟
ہماری آنکھیں خشک کیوں نہیں ہوتیں؟
ہماری آہیں تھمتیں کیوں نہیں؟
ہمارے چہرے دکھ کی تصویریں کیوں ہیں؟
ہم سیاہ پوش کیوں ہیں؟
ہماری پشتیں زخمی کیوں ہیں؟
ہمارے سینوں پہ یہ داغِ ماتم کیوں ہیں؟
تمہارا ایک نوجوان وبائی مرض سے مر جائے اور اسے بے وارثوں کی طرح دفنا دیا جائے تمہیں اس کا چہرہ نا دکھایا جائے تو تمہارا کلیجہ پھٹنے لگتا ہے، نبیؐ پاک کی اکلوتی بیٹی کا سب سے پیارا بیٹا تھا حسینؑ جسے تین دن بھوکا پیاسا رکھ کر قتل کیا گیا اور سر تن سے جدا کرنے کے بعد اس کی لاش کو بے گوروکفن دھوپ پہ پڑا رہنے دیا، سگی بہنوں بیٹیوں کو سر بریدہ لاش پہ نا آنےدیا،کیا مقتول کی ماں جو سیدہ کائنات تھیں ان کو تکلیف نا ہوئی ہوگی؟ جب ان کا کلیجے پہ امت کے اجر رسالت کے خنجر چلے ہوں گے تو کیا پاک محمدؐ بے چین نا ہوئے ہوں گے؟ اس مقتول نمازی کی لاش پہ ان گھوڑوں کو بھگایا گیا جن کی ٹاپوں کے ساتھ لوہا لگا ہوا تھا، ایک صحت مند گھوڑے کے کبھی سم دیکھنا کتنے بڑے اور مضبوط ہوتے ہیں، ایسے کئی گھوڑوں کو حسینؑ کی لاش پہ دوڑایا گیا، دیکھنے والوں نے حسینؑ کی پسلیاں ٹوٹنے کی آوازیں سنی، حسینؑ کے بیٹے سجادؑ نے کہا جب وہ اپنے بابا کو دفنانے لگے تو ان کا سینہ پشت کے ساتھ لگ چکا تھا، اور قیامت کیا ہوگی۔
ہم سے پوچھتے ہو روتے کیوں ہو؟ ہم سے پوچھو یہ سن کر زندہ کیوں ہو؟
ماہ رمضان ک ابتدہ ہے بہتے اشکوں کے ساتھ اپنے امامؑ کی نصرت کا وعدہ کرتےہیں اے وقت کے حسینؑ اب ہم تمہیں دوبارہ پامال نہیں ہونے دیں گے۔

الھم عجل لولیک الفرج
یا وارث رہرا ع تشریف لیے آئیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕