ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔶 قرآن سے بال نکلنا 🔶

کرونا وائرس کا ڈر اور سادہ لوح عوام

جب سے کرونا وائرس پھیلا ہے تب سے ہر شخص اس کے سستے اور خود ساختہ علاج سوشل میڈیا پر شئیر کر رہا ہے اور سادہ لوح، کم علم، کمزور عقیدہ والی اور موت سے انتہا سے زیادہ ڈری ہوئی عوام ہر ایسی چیز کو اندھا دھند فارورڈ کر رہی ہے جس میں کرونا کے علاج کی کوئی بھی بات کر دی جائے...

یہ لوگ کرونا سے تو ان شاء اللہ بچ ہی جاتے لیکن افسوس یہ لوگ جھوٹ پھیلانے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف پر تہمت باندھنے سے نہیں بچ پائے ہیں..

مختلف آڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جن میں کہا جارہا ہے کہ قرآن کھولیں اور سورہ بقرۃ میں غور سے تلاش کریں تو کوئی ایک چھوٹا سا بھی بال چاہے وہ سر کا ہو یا ڈاڑھی کا آپکو ملے گے، کچھ آڈیوز میں کہا جاتا ہے کہ یہ بال نبی ص کا ہے اور کچھ میں کہا جاتا ہے کہ یہ امام زمانہ علیہ السلام کا بال ہے، اور کہا جاتا ہے کہ اسکو پانی میں مکس کر کے پئیں تو کرونا سے بچ جائیں گے۔

■ ان آڈیوز کا تجزیہ
سوال 1: ان آڈیوز میں سور بقرہ کا نام ہی کیوں لیا جا رہا ہے کیوں سورہ قدر، سورہ ناس و فلق جیسی چھوٹی سورہ کا ذکر نہیں؟

جواب: کیونکہ یہ سورہ قرآن کے آغاز میں ہے لہذا اکثر لوگ اسے اکثر پڑھتے ہیں کیونکہ جب بھی ماہ رمضان میں یا دیگر ایام میں وہ قرآن پڑھنے کا ارادہ کرتے ہیں تو بھلے ہی وہ ماہ رمضان یا دیگر ایام میں پورا قرآن نہ بھی پڑھ پائیں لیکن سورہ بقرہ ضرور پڑھ لیتے ہیں کیونکہ یہ قرآن کے آغاز میں ہے اور پھر یہ سب سے بڑا قرآنی سورۃ ہے تو اس میں تو کہیں نہ کہیں سے کسی بچے عورت یا بزرگ یا کسی نہ کسی کا کوئی نہ کوئی چھوٹا سا بال بھی مل ہی جائے گا جو قرآن پڑھتے ہوئے گر گیا ہوگا..

♦️بس اب سب لوگ اپنے ہی بال قرآن میں ڈھونڈ رہے ہیں اور مل جانے پر پانی میں مکس کر کے پی رہے ہیں...

سوال 2: یہ بال پرانے قرآنی نسخوں جنکو ہم سالہا سال سے پڑھ رہے ہیں ان میں سے ہی کیوں مل رہے ہیں؟

جواب: بال کا گرنا ایک نارمل بات ہے ویسی ہی پاکستان میں اکثر لوگوں کے بال کمزور ہیں اور دوسرا یہ کہ ہر شخص جس کے بال جتنے بھی مضبوط کیوں نہ ہوں وہ تھوڑے بہت گرتے ہی رہتے ہیں اور انکی جگہ پر نئے بال اگتے رہتے ہیں..

مزے کی بات یہ یے کہ سب کو یہ بال پرانے قرآنی نسخوں میں سے ہی مل رہے ہیں لیکن کسی کو بھی بالکل نئے اشاعت شدہ قرآنی نسخے میں سے بال نہیں مل رہے۔۔
♦️کیونکہ اس کو کسی نے ابھی تک اتنا پڑھا ہی نہیں ہے کہ اس لئے اس میں ابھی بال گر ہی نہیں پایا۔
♦️ممکن ہے چند دن اس قرآنی نسخے کو پڑھیں تو ضرور اس میں سے بال نکل آئے گا۔

سوال 3: کچھ آڈیوز میں کہا جا رہا ہے کہ کہ نبی ص کے ہیں اور کچھ میں یہ کہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ہیں ایسا کیوں؟

ظاہر ہے بھائی، اہلسنت کو کسی بھی من گھڑت کہانی کے پیچھے لگانا ہو تو لوگ نبی کریم ص کا نام لے کر جھوٹا واقعہ پھیلاتے ہیں اور اہل تشیع کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کا نام استعمال کیا جا رہا ہے،
مقصد عوام کو بیوقوف بنانا ہی تو ہے۔

سوال 4: کیسے پتا چلے کہ یہ بال نبی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم یا امام زمانہ عجل اللہ فرجہ کے ہیں یا نہیں؟

بھائیوں اور بہنوں سادہ سا فارمولا ہے جو ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام نے ہی بتایا ہے۔۔۔

ایک شخص آئمہ میں سے کسی امام کے پاس آیا اور کہا کہ میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موئے مبارک (بال) ہیں،
امام نے آگ منگوائی اور ان بالوں کو آگ کے سپرد کیا تو ان میں سے اکثر بال جل گئے لیکن چند ایک بچ گئے،
پس امام علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ بال جنکو آگ نے جلا دیا وہ نبی کریم ص کے نہیں تھے لیکن یہ بچ جانے والے بال نبی کریم ص کے ہی ہیں کیونکہ کہ معصومین علیہم السلام کے بدن پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

لو بھائیوں اور بہنوں مسئلہ حل ہو گیا، جس جس کو قرآن میں سے بال مل رہے ہیں وہ ان بالوں کو پانی میں مکس کر کے پینے سے پہلے ایک بار آگ لگا کر دیکھ لیں اگر تو جل گئے تو معلوم ہو جائیگا کہ یہ ہمارے ہی گھر میں کسی کے بال ہیں جو قرآن پڑھتے ہوئے اس میں گر گئے تھے۔
اور اگر انکو آگ نہ جلا پائے تو بالکل پانی میں مکس کر کے پئیں اور پورے محلے کو بھی پلائیں۔

تحریر: ذیشان کاظمی

https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 قرآن میں بال 🔷

۱: کیسے معلوم ھو یہ بال کسکا ہے؟
۲: سورہ بقرہ میں بال کا واقعہ کتنا صحیح ہے..؟؟
۳: یہ واقعہ آئمہ (ع) پر تہمت ھے یا نہیں؟ خود سوچیں۔

ایک خاتون کی آڈیو سوشل میڈیا پر چل رہی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ایران میں کسی عالم دین نے رسول ص اور امام زمانہ ع کے بال مبارک کو دیکھا ہے اور کرونا وائرس کے مریض اسکو پانی میں ڈال کر پیئیں تو شفا ملے گی۔

تو یہ بات صحیح اور معتبر نہیں ھے
کیونکہ وہ عالم جنہوں نے خواب دیکھا ھے وہ کون ہیں؟
کہاں ہیں؟
انکا نام کیا ہے؟
اسکے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے
نہ کسی نے معلوم کرنے کی کوشش کی
اور نہ ہی اس بارے میں کوئی بتا سکتا ہے۔

دوسری بات عرض خدمت ہے کہ اس وقت پورے ایران میں جہاں ابھی کرونا وائرس کی لپیٹ میں مریض ہیں کتنے موت کے گھاٹ اتر گئے ہیں لیکن وہاں کے لوگوں کو اس خواب کی خبر کیوں نہیں ھے؟
ایران ، عراق اور دیگر ممالک اس خواب سے بے خبر کیوں ہیں؟
کیا فقط انڈیا اور پڑوسی ملک میں ہی یہ وائرس ہے..؟؟؟
اب آپ خود سوچیں سورہ بقرہ میں بال کا واقعہ کتنا صحیح ہے..؟؟

کیسے معلوم ھو یہ بال کسکا ہے؟
اس موضوع پر آپسی اختلافات کی وجہ سے مومنین میں قطع تعلق تک بات پہنچ گئی ہے۔
اختلاف ختم کرنے کے لئے ایک مشورہ ہے۔۔۔
ان مبارک چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے دنیا مشرق سے مغرب چل دیتی ہے
آپ ان بالوں کا ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کروا لیں اور اختلاف کرنے والوں کی زبانوں کو بند کر دیں۔

حال ہی میں کرونا وائرس سے تحفظ کے لئے
آیت سید علی حسینی خامنه ای
آیت اللہ وحید خراسانی
آیت اللہ جوادی آملی
آیت اللہ مکارم شیرازی
آیت اللہ علوی گرگانی
اور ایران کے دیگر عظیم مراجع کرام نے صحیفہ سجادیہ سے دعائیں و دیگر دعائیں اور زیارات پڑھنے کی تاکید کی ہے۔
لیکن
ان میں سے کسی کے خواب میں بال کا واقعہ کیوں پیش نہیں آیا..؟؟
اور ایران میں کون ایسے عظیم مرجع ہیں ان مراجع کے علاوہ کہ جنکے خواب میں بال مبارک کا واقعہ پیش آیا..؟؟
یہ واقعہ آئمہ (ع) پر تہمت ھے یا نہیں خود سوچیں؟

آئمہ علیہم السلام نے ہر بیماری کا علاج قرآن مجید، زیارات، طب اسلامی اور دعاؤں میں بتا دیا ہے بس ان سے ہی اپنی حفاظت کریں۔

نوٹ: اس بال کیوجہ سے ایک مثبت اثر ضرور ھوا ھے کہ کچھ لوگوں کے گھروں میں قرآن کھل گیا اور اس کی جلد پر سے گرد و غبار صاف ہو گئی۔
(یاد رکھیں ہر پڑھی جانے والی دعاؤں کی کتابوں میں یا دیگر کتابوں کے بھی بال مل جائے گا اگر بغور دیکھا جائے)

✍🏼 الاحقر سید ایمان احمد (قم ایران)

https://t.me/islamwitheman/2278
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
📖 کرونا وائرس اور نہج البلاغہ 📖

آج کل کرونا کی وجہ سے نہج البلاغہ اور مولا علیؑ کی طرف ایک نسبت دی جا رہی ھے کہ آپ نے اس بیماری کے چمگاڈر سے پھیلنے کی طرف چودہ سو سال پہلے ہی فرما دیا تھا۔ اس کے بارے میں کچھ عرائض پیش خدمت ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آپؑ باب العلم ہیں اور آپؑ نے آخری زمانہ کے بارے بہت سی پیشگوئیاں فرمائی ہیں۔
اور نہج البلاغہ میں چمگاڈر کے متعلق اسکی خلقت کی شگفتی اور زندگی کے بارے ارشاد فرمایا ہے. لیکن

جو مفتی جعفر اعلی اللہ مقامہ کی کتاب میں چمگاڈر کا بیماری کو سبب ھونا ذکر ھے وہ انکا اپنا حاشیہ ھے نہ کہ خطبہ کا حصہ. جہاں پر وہ چمگاڈر کی اقسام بیان فرماتے ھیں:

(بعض گوشت خوار ھوتی ہیں جو مچھلی کا شکار کرتی ھیں. شمالی امریکہ کی تاریک غاروں میں خونخوار چمگاڈریں بھی کثرت سے پائی جاتی ھیں. یہ بڑی خطرناک اور مہلک ھوتی ھیں. انکی خوراک انسانی اور حیوانی خون ھے. جب یہ انسان کا خون چوستی ہیں تو خون میں زھر سرایت کر جاتا ھے. جسکے نتیجہ میں پہلے ہلکا سا بخار اور درد سر ھوتا ھے. پھر سانس کی نالی متورم ھو جاتی ھے. کھانا پینا چھوٹ جاتا ھے اور جسم کا نچلا حصہ بے حرکت ھو جاتا ھے. آخر سانس کی آمد و شد رک جاتی ھے اور وہ دم توڑ جاتا ھے.)

■ اب کچھ سوالات ذھن میں خطور کئے ھیں.
1: مولا علیؑ نے خطبہ میں کسی جگہ چمگاڈر کا منشاء بیماری ھونے کی طرف اشارہ نہیں فرمایا۔

اس صورت میں کہ امامؑ نے تو چمگاڈر کا بیماری کا موجب بننے کی طرف خطبہ میں کوئی اشارہ نہیں کیا،

آیا ہمارا کرونا وائرس پر تطبیق دے کر مولا ع کی طرف نسبت دینا درست ھے؟؟

2: علامہ مفتی جعفر رحمہ اللہ نے نہج البلاغہ کی شرح میں اس نکتہ کو بیان فرمایا ہے۔

اور انکے علاوہ بندہ نے جتنی بھی عربی اور فارسی شروحات میں نظر کی ہے، کسی شارح نے بھی اس نکتہ کی طرف اشارہ نہیں فرمایا ہے۔

اس سے یہ بات ثابت ہوتی ھے کہ امام علی علیہ السلام نے چمگاڈر کا بیماری کا موجب بننے کی طرف کوئی بات نہیں کی وگرنہ کوئی نہ کوئی شارح ضرور بیان فرماتا۔

ثانیا: مفتی صاحب کی یہ تحقیق اسلامی منابع سے نہیں ھے.

وگرنہ حوالہ ضرور فرماتے کہ فلان امام نے فرمایا یا فلان کتاب میں ھے۔
پس انکی یہ شرح، ایک سائنسی تحقیق کے مطالعہ کا نتیجہ ہوسکتی ہے کہ جسکو اصل موضوع چمگاڈر سےانہوں نے ملا دیا ھے. اور یہ ایک بہت اچھی کاوش ہے۔

اگر کوئی سوال کرے کہ یہ تو ایک سائنسی تحقیق ھے اور کہیں بھی امام علیؑ نے چمگاڈر کے ذریعے بیماری کا نہیں فرمایا۔

اور آپ ایک سائنسی تحقیق کو مولا علیہ السلام کی طرف نسبت دے رھے ھیں، تو اس سوال کا جواب کیا دیں گے؟

اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر علم کی اساس یہی گھرانہ ہے لیکن بات صرف یہ خطبہ اور کرونا بیماری کےتعلق کی ہے۔
اور بات ایک نظریہ کو کسی کی طرف ثابت کرنے کی ہے اور وہ بھی ایسے خطبہ سے کہ جس میں خود متکلم نے اس کی طرف اشارہ نہیں کیا!

3: اگرچہ چین نے بھی کرونا کا منشا چمگادڑ ھونے کو یقینی نہیں کہا۔

اگر بعد میں تحقیق سے ثابت ہو جائے کہ چمگاڈر اس بیماری کا سبب نہیں بنی، جیسا کہ اس پر کافی رد آچکی ہیں۔

تو کیا ھمارا یہ مستقیم مولا علیؑ کی طرف نسبت دینا، تضحیک کا سبب نہیں بن سکتا؟

4: مفتی جعفر صاحب اعلی اللہ مقامہ تو جانتے تھے اور انہوں نے اپنی شرح میں یہ نہیں فرمایا کہ مولا ع نے بھی اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اور اس صورت میں ہم اگر یہ بات مفتی صاحب کی نسبت دے کر بیان کریں کہ انہوں نے شرح میں فرمایا: کہ امام علیؑ کے خطبہ سے میں نے اس بات کو اخذ کیا ہے۔

تو کیا یہ ان پرتہمت نہیں ہوگی؟

5: آخر میں اس سوال کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں، آیا جو بات آئمہؑ نے نہ کی ہو اور ہم انکی طرف نسبت دے دیں، اور ہوں بھی روزہ کی حالت میں تو کیا ہمارا روزہ صحیح ہوگا؟

پس عرض ہے کہ ان سوالات کے بارے بندہ کی رہنمائی فرماتے ہوئے اس مسئلہ کو اہمیت دیں۔

🔘 مھم نکتہ:
اگر کوئی بزرگ تحریر کے حوالے سے کچھ بیان فرمانا چاھے تو رابطہ کر سکتے ہیں. مہربانی فرما کر اس تحریر کو مثبت انداز سے دیکھنے کی کوشش فرمائیں چونکہ واقعا ذھن میں یہ سوالات تھے۔

تحریر: سید مجاہد عباس شمسی
رابطہ نمبر: ۰۰۹۸۹۱۹۸۵۲۹۳۲۹

https://t.me/islamwitheman/2279
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کرونا وائرس اور ماہر نفسیات 🔷

ماہر نفسیات کا مشورہ ہے کہ ۔۔۔۔

اپنے آپ کو کورونا وائرس کی خبروں سے دور رکھیں۔ اس مرض کے بارے میں آپ کو جتنا جاننا تھا آپ جان چکے ہیں۔

اس مرض سے مرنے والوں کی تعداد جاننے کی کوشش نہ کریں۔ یہ کریکٹ میچ نہیں ھے کہ اسکور جاننا ضروری ہو۔
مرنے والوں کی تعداد دوسروں سے شیئر مت کیجئے۔ دوسروں کا دل اور دماغ کمزور ہو سکتا ھے۔ وہ ایسی خبریں سن کر بیمار پڑ سکتے ہیں۔

انٹرنیٹ پر ڈھوند ڈھونڈ کر کرونا کے بارے میں جاننے کی کوشش نہ کریں اس سے آپ کے دماغی طور پر کمزور ہونے کا خدشہ ھے۔

ہمیشہ کرونا کے بارے میں سوچتے رہنے سے آپ ڈپریشن یا نروس بریک ڈاؤن کے شکار ہوسکتے ہیں۔

ذکر و اذکار کریں تلاوت اور قرآن پاک پڑھیں اور اپنی پسندیدہ کتابیں پڑھ کر وقت گزاریں۔

بیوی اور بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت صَرف کریں۔

بےفکر رہنے کی کوشش کریں۔ اس سے آپ کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا جو ابھی بہت ضروری ھے۔

زیادہ خبروں والے ٹی وی چینلز پر دھیان نہ دیں۔ واٹس ایپ اور فیس بک اور باقی شوشل میڈیا کی خبروں پر، تصدیق کئے بغیر بھروسہ نہ کریں۔

خدا کی رحمت پر بھروسہ کریں اور یہ یقین رکھیں کہ جس طرح ہر بلا ایک دن ٹلتی ھے یہ بلا بھی ٹل جائے گی۔

🔘 خدا ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین

https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 قاسم علی شاہ کی باتیں 🔷

جنگِ عظیم دوئم دنیا کاایک بہت بڑا سانحہ مانا جاتا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں، لاکھوں کو گرفتار کر کے ٹارچر سیل میں ڈال دیا گیا تھا جہاں انہیں خوفناک قسم کی اذیتیں دی جاتی تھیں۔انسان جب بھی ٹارچر سیل میں ہوتا ہے تو جسمانی جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ جذبات کی جنگ، تنہائی کی جنگ اور اس جیسی کئی نفسیاتی جنگیں بھی اسے لڑنی پڑتی ہیں۔ اس کے ارد گرد کتنے سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مر رہے ہوتے ہیں اور جب وہ دوسروں کو مرتے دیکھتا ہے تو اپنی موت پر یقین اور بڑھ جاتاہے۔ یہ جنگ اتنی خوفناک ہوتی ہے کہ چند دنوں میں انسان حوصلہ ہار کر مر بھی سکتا ہے۔
اُس وقت بہت سارے کیمپس بنائے گئے جن میں جنگی قیدیوں کو رکھا جاتا۔ ان کیمپوں میں ایک ڈاکٹر وکٹر فرینکل بھی موجود تھا جو ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین رائٹر بھی تھا۔ اس نے تین سال اس جنگی قید خانے میں گزارے اور جب وہاں سے رہا ہوا تو اس نے ایک شاہکار کتاب
The man's search for meaning
کے نام سے لکھی جو بعد میں کئی ہزار کی تعداد میں چھپی اور کئی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا۔ ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ زندگی کے اسباق سے بھرپور ایک کتاب تھی۔ میں نے اپنی زندگی کے کئی اسباق اس سے سیکھے ہیں۔ اس کتاب میں کئی ساری ایسی باتیں ہیں جن کو دنیا کے ہر مشکل وقت میں دہرا لینا چاہیے۔

اس وقت ساری دنیا کورونا کی آزمائش سے گزر رہی ہے۔ ہمارے ملک میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ میڈیا پر ایک ہی خبر چل رہی ہے جس نے ہر سننے اور دیکھنے والے کی امید کو ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ سارے حالات ان شاء اللہ چند دنوں میں ختم ہوجائیں گے۔

اس کتاب میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ’’انسان کو تکلیف نہیں مارتی، انسان کو چیلنجز نہیں مارتے مگر امید کا ختم ہونا انسان کو ضرور مار دیتا ہے۔‘‘
جس وقت انسان کی امید ختم ہوجاتی ہے، جب اس کا خواب پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور اس کاحوصلہ نہیں بچتا تو وہ انسان بھی نہیں بچتا۔ یہ مت بھولیں کہ جب بھی کسی انسان کی امید ختم ہو جاتی ہے تو صرف امید ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ انسان کا پورا مدافعتی نظام بھی تباہ ہو جاتا ہے اور جب یہ کیفیت ہو جاتی ہے تو پھر چھوٹی سی بیماری بھی اس کو مار سکتی ہے یعنی بیماری بعد میں طاقتور ہوتی ہے اس سے پہلے آپ کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے اور اس صورت میں بیماری انسان پر غالب آجاتی ہے۔

اس کتاب میں جو مزید مفید باتیں ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ آپ کو اپنی زندگی کا Why معلوم ہونا چاہیے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پیچھے جو نیت ہے وہ کیا ہے؟ آپ کا لانگ ٹرم گول کیا ہے؟ آپ کا وژن کیا ہے؟ وکٹر کہتا ہے کہ آج کی تکلیف اس انسان کے لیے بہت چھوٹی ہوتی ہے جس کے پاس کل کے لیے بہت بڑا خواب ہو۔ جس کے پاس کوئی بہت بڑا Why ہے۔ جو تکلیف کو سہہ کر یہ سوچ رہا ہے کہ میں نے کہیں پہنچنا ہے اور اس کے بعد میرے لیے کوئی بڑی اہم چیز پڑی ہوئی ہے۔ اس Why والے نظریئے پر واصف علی واصف کا ایک شاندار جملہ جو میں اکثر نقل کرتا ہوں کہ ’’بڑی منزل کا مسافر چھوٹے جھگڑوں میں نہیں پڑتا۔"
آج کی تکلیف، آج کا چیلنج اس کے لیے چھوٹا ہے جس کا آنے والے دِنو ں میں خواب بڑا ہے، جس کے عزائم بڑے ہیں، جو تکلیف پر پاؤں رکھے گا اور آگے نکل جائے گا۔ اشفاق صاحب منچلے کا سودا میں ایک بہت خوب صورت جملہ لکھتے ہیں کہ "جو راستے کے کتوں کی پروا کرتا ہے انہیں منزلیں نہیں ملا کرتیں۔‘‘ اگر آپ نے کہیں پہنچنا ہے تو پھر آپ کے لیے راستے کی تکلیف اور مسئلے مسائل سب چھوٹے ہیں۔ آپ مسئلے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ دیں کہ’’تو چھوٹا ہے اور میری ہمت بڑھی ہے۔‘‘ اور اگر پھر بھی وہ آپ کو بڑا محسوس ہو تو اس کو انگلی اٹھا کر کہیں کہ ’’توچھوٹا ہے میرے اللہ کی قدرت تم سے بہت بڑی ہے۔‘‘

جس انسان کا خود پریقین اور اپنے رب پر ایمان ہوتا ہے تو اس کے سامنے مسئلے بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ میں گزشتہ دنوں سے مسلسل یہی کہہ رہا ہوں کہ بھرپور احتیاط کیجیے لیکن اپنے رب پر بھروسا ضرور رکھیے۔ خوفزدہ یا پریشان اگر ہوں بھی تو خوف کو اتنی اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کی امید ہی ختم کر دے۔

وکٹر کا کہنا ہے کہ انسان کی زندگی میں جتنے بھی مسائل آتے ہیں ان کو برداشت کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری جسمانی صحت نہیں بلکہ ذہنی صحت ہے۔ اس صورت میں یہ دیکھا جائے گا کہ آپ اعصابی طور پر کتنے مضبوط ہیں۔لیکن اگر آپ روز ٹی وی پر منفی خبریں دیکھ رہے ہیں اور صرف یہ سن رہے ہیں کہ کتنے مرگئے اور کتنے رہ گئے تو یہ آپ کے اعصاب کو ختم کر کے رکھ دیں گی اور جب انسان کے اعصاب کمزور ہوں گے تو اس کا مدافعتی نظام بھی خراب ہوگا اور بیماریاں اس پر حاوی ہو جائیں گی۔
دنیا میں بہادر ایک بار مرتا ہے لیکن بزدل روز مرتا ہے کیونکہ اسے عادت پڑ چکی ہوتی ہے مرمر کر مرنے کی۔
لہٰذا زندگی کی جنگ لڑنے کے لیے اپنے Why کو مضبوط رکھیں، زندگی جینے کی وجہ
بنائیے! وکٹر کہتا ہے کہ تین سال کی بامشقت قید میں، میں اس لیے زندہ رہا کہ آگے کی زندگی میں میرے پاس خواب تھے اور میں نے کتاب لکھنی تھی۔

وکٹر کا دوسرا مشاہدہ یہ تھا کہ جب آپ کسی مسئلے کو دیکھتے ہیں تو اس کو ایک نام، عنوان یا معنی دیتے ہیں۔ یہ بڑا اہم ہوتا ہے کیونکہ جب بھی آپ کسی مسئلے کو کوئی معنی دیتے ہیں تو اس کے بعد آپ کے لیے اس مسئلے سے نمٹنا بڑا آسان ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد ہی آپ مسئلے کے حل کی طرف چلے جاتے ہیں اور اس کو حل کر لیتے ہیں یا اپنے اوپرحاوی کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی جگہ آپ کی گاڑی خراب ہو گئی ہے، آپ باہر نکل کر غصہ ہوتے ہیں اور برا بھلا کہہ کر خود کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ جبکہ دوسری صورت یہ ہے جس میں آپ یہ سوچیں کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ گاڑی کی خرابی مجھے کسی حادثے سے بچانے کے لیے ہو۔ اور اس میں کوئی نہ کوئی خیر کا پہلو ہو۔ قدرت کہیں سے آپ کو روکتی ہے اس لیے گاڑی خراب ہو جاتی ہے۔ لہٰذا آپ کسی بھی حالت میں صرف منفی پہلو پر نہیں بلکہ ایک سے زیادہ پہلو پر سوچنے کی عادی ہو جائیں۔
انسان کی فطرت ہے کہ دن بھر میں اوسطاً منفی خیالات زیادہ سوچتا ہے اور اس منفی سوچنے کی وجہ سے وہ ہر چیز کا بھی منفی پہلو نکال لیتا ہے، مثبت کو نہیں دیکھتا۔ جیسا کہ اب کورونا کی وبا کی وجہ سے ہم آج جتنا وقت اپنی فیملی کو دے رہے ہیں، اس سے پہلے کبھی اتنا وقت نہیں دیا۔ ان چند دنوں میں جتنا مطالعہ کیا، پہلے کبھی نہیں کیا۔ جتنی احتیاط لوگوں نے شروع کر دی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں کی، لوگ جس قدر فطرت کے قریب ہوگئے، اتنے شاید پہلے نہ ہوئے ہوں۔ فضا آلودگی سے جس قدر پاک ہوئی ہے شاید اس سے پہلے نہ ہوئی ہو۔ یہ جو قدرت نے Reset کا بٹن دبایا ہے اس سے کتنے مثبت پہلو نکلے، ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔

🔘 محترم قارئین! اگر کوئی انسان مریض بن گیا ہے تو اس کے لیے ہماری دعا ہے کہ اللہ اس کو شفاء دے لیکن جو تندرست ہیں وہ اپنی منفی سوچوں سے مریض بننے کی تیاری شروع نہ کریں۔ احتیاط کو خوف کی حد پر لے جانا مریض بننے کی تیاری ہے اور میں اس سے آپ کو روکنا چاہتا ہوں۔ زندگی کے ہر مسئلے، ہر آزمائش کا ایک مثبت رُخ ہوتا ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی بحران کو مثبت رُخ دیں گے تو آپ کی زندگی بدلنا شروع ہو جائے گی۔ یاد رکھیں آپ جب بھی چیزوں کو منفی معنی دیں گے تو آپ ان سے ڈیل نہیں کر سکتے لیکن اگر آپ مثبت معنی دینے کے قابل ہوں اور اس آزمائش کو ایک نیا لیبل دے دیں تو وہ آپ کے لیے ایک عظیم موقع بن جائے گا۔ یہ کبھی مت بھولیے گا کہ دنیا میں ہر طرف مسائل ہی مسائل تھے اور ان کے حل کی تلاش نے دنیا کو ترقی دی ہے۔ اگر مسائل نہ آتے تو حل بھی نہ ہوتے۔ آپ کی زندگی میں بھی اگر کوئی مسئلہ ہے تو اس کا حل ڈھونڈیں، ترقی آپ کا انتظار کر رہی ہے۔

اس کتاب سے اگلا سبق جو میں نے سیکھا وہ یہ تھا کہ آپ کی زندگی میں جب بھی کوئی مسئلہ ہے تو آپ کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اس مسئلے پر منفی ردِ عمل دیں جیسے بہت سارے لوگ دیتے ہیں اور ایک راستہ یہ ہے کہ آپ سوچ سمجھ کر اس کی ذمہ داری لیں اور اچھے انداز میں حل کریں۔ایسے موقع پر انتخاب کرنا اور یہ فیصلہ کرنا کہ میں نے کیا کرنا ہے، یہ صلاحیت اللہ نے انسانوں کو دی ہے۔

وکٹر کی کتاب میں سب سے خوب صورت بات یہ بھی ہے کہ آپ سے سب کچھ چھینا جا سکتا ہے، آپ سے طاقت چھینی جاسکتی ہے، آپ کے مال و متاع کو چھینا جاسکتا ہے، گھر گاڑی اور بنک بیلنس چھینا جاسکتا ہے لیکن ایک چیز ایسی ہے جو آپ سے نہیں چھینی جاسکتی اور اس کا نام ہے ’’قوتِ فیصلہ‘‘ اپنی زندگی کا فیصلہ آپ نے کرنا ہوتا ہے۔ اگر آپ حالات کی زَد میں آکر فیصلہ کرتے ہیں تو آپ ترقی نہیں کر سکتے کیونکہ پھر آپ کو اپنا فیصلہ حالات پر چھوڑنا پڑے گا لیکن اگر آپ حالات کے مطابق خود کو تیار کر کے اپنے فیصلے خود کرتے ہیں تو آپ کی زندگی بدلنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس سے پہلے بھی دنیا میں بہت زیادہ آزمائشیں اور بحران آئے ہیں اوران میں انسانوں کے نقصان کی وجہ اطلاع بروقت نہ پہنچنا، سمجھ بوجھ نہ ہونا، سائنس و ٹیکنالوجی کا ترقی یافتہ نہ ہونا اور اس بیماری سے لڑنے کا طریقہ نہ جاننا تھا۔ اس لحاظ سے آج ہم ایک بہترین وقت میں ہیں، جس میں معلومات انتہائی تیزی سے پھیل رہی ہیں، آپ کو اطلاع مل رہی ہے جس کے مطابق آپ وائرس اور بیماری سے احتیاط کرسکتے ہیں۔ آج کے حالات نے گزر جانا ہے۔ بازار اور مارکیٹیں ایک بار پھر کھل جائیں گے۔ پلے گراؤنڈز، پارک اور مساجد ایک بار پھر آباد نظر آئیں گی، اسکولز، کالجز اور مدارس ایک بار پھر تعلیم و تعلم کی سرگرمیوں سے متحرک ہوجائیں گے اور انسان دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آئیں گے۔ بس۔۔امید ٹوٹنے مت دیجیے گا!!

https://t.me/islamwitheman/2282
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 خوف کا زہر 🔷

عید کا دن تھا چاول پکا رہی تھی کہ اچانک اس میں سانپ آ گرا ساس کے ڈر سے چاول گرانے کی بجائے سانپ کو بھی اس میں پکا دیا سب نے بہت تعریف کی کہ بہترین چاول پکاۓ بہت مزہ آیا۔

سال گزرا ایک اور موقع پر چاول پکاۓ سب نے ایک ہی بات کی پچھلی عید پہ جو چاول پکے تھے کمال کا ذائقہ تھا
اب ساس کا جلال کچھ مدھم پڑ چکا تھا اور عورت راز کا بوجھ بھی کب تک اٹھاۓ پھرتی سو بتا ہی دیا۔۔۔

کہ اس میں سانپ گرا تھا جسے میں نے اس میں پکا دیا تھا۔

یہ سننا تھا کہ سب گھر والے بے ہوش،
ایک کو دل کا دورہ پڑا اور وہیں مر گیا
اب یہ اثر سانپ کے زہر کا تھا یا سانپ کے خوف کا؟

آگے چلیں۔۔۔

امریکہ میں موت کے سزا یافتہ ایک قیدی پر ایک عجیب تجربہ کیا گیا، اسے بتایا گیا کہ آپ کو نہ پھانسی دی جائے گی نہ گولی ماری جائے گی نہ ہی زہر کا انجیکشن۔

بلکہ سانپ سے ڈسوایا جائے گا اس کے خیالات پر سانپ چھا گیا پھر سانپ اس کے سامنے لایا گیا اسے یقین ہو گیا کہ اس سانپ نے مجھے ڈسنا ہے۔
پھر اس کی آنکھوں پر ایک پٹی باندھی گئی اور دو کامن پنیں اسے چبھوئی گئیں
جس سے اسے پکا یقین ہو گیا کہ سانپ نے ڈس لیا ہے۔

تھوڑی دیر بعد اس کی موت واقع ہو گئی۔
اس کے خون کے ٹیسٹ ہوئے تو خون میں سانپ کا زہر موجود تھا۔

اب اس شخص کو سانپ نے چھوا تک نہیں لیکن اس کے باوجود اس کی موت بھی واقع ہوئی اور خون میں سانپ کا زہر بھی پایا گیا۔

یہ کیا تھا ؟ خوف

یقین جانیے۔۔۔
آج جتنی اموات ہو رہی ہیں اس میں 80 فیصد خوف کے زیر اثر ہو رہی ہیں اور اس قتل میں ہر وہ شخص برابر کا شریک ہے جو خوف پھیلا رہا ہے۔

اس لئے احتیاط کی ترغیب دیجیے آگاہی عام کیجیے۔

لیکن دھشت نہ پھیلائیں۔
حوصلہ دیجیئے۔

copied

https://t.me/islamwitheman/2283
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 دہشت کا اثر 🔷

ایک سانپ اپنے زہر کی تعریف کر رہا تھا کہ میرا ڈسا پانی نہیں مانگتا۔ پاس بیٹھا مینڈک اس کا مذاق اڑا رہا تھا کہ لوگ تیرے خوف سے مرتے ہیں زہر سے نہیں
دونوں کا مقابلہ لگ گیا۔

طے یہ پایا کہ کسی راہگیر کو سانپ چھپ کے کاٹے گا اور مینڈک سامنے آئے گا۔ دوسرے راہگیر کو مینڈک کاٹے گا اور سانپ سامنے آۓ گا۔

اتنے میں ایک راہگیر گزرا اس مسافر کو سانپ نے چھپ کے کاٹا جبکہ ٹانگوں سے مینڈک پھدک کے نکلا۔ راہگیر مینڈک دیکھ کے زخم کھجا کے تسلی سے چل پڑا خیر ہے مینڈک ہی تھا کیا فرق پڑتا ہے۔
دونوں اسے دور تک جاتا دیکھتے رہے وہ صحیح سلامت چلا گیا۔

دوسرے راہگیر کو مینڈک نے چھپ کے کاٹا اور سانپ پھن پھیلا کے سامنے آ گیا
مسافر دہشت سے فوری مر گیا۔

دنیا میں ہر روز ہزاروں افراد مرتے ہیں جن کو دیگر امراض ہوتے ہیں یا کوئی بھی مرض نہیں ہوتا۔ جبکہ کرونا کی شرح اموات اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ خدارا سوشل میڈیا پر مایوسی مت پھیلائیں۔

مسلمان موت سے نہیں ڈرتا۔ جب موت ایک اٹل حقیقت ہے جس نے نہ پپیغمبروں کو چھوڑا نہ ولیوں کو۔ موت جب ہر حال میں آنی ہے پھر کرونا سے ڈر کیسا۔

احتیاط لازم ہے کریں لیکن خوف کو خود سے الگ کر دیں۔ خوف اور مایوسی سے انسان کی قوت مدافعت ختم ہو جاتی ہے جو کسی بھی بیماری سے لڑنے کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔

کرونا کےہزاروں مریض صحت یاب ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ موت اس کو آتی ہے جس کی زندگی کے دن پورے ہو چکے ہوتے ہیں۔

کرونا چھوت کا مرض ہے ایک دوسرے سے لگتا ہے۔ احتیاط ضرور برتیں لیکن اس خوف کو ذہن میں بٹھا کے موت سے پہلے اپنی زندگی کو موت سے بدتر نہ کریں۔

جینے کی امنگ خود میں پیدا کریں گے تو کوئی وائرس آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

آوازِ خلق، نقارۂ خدا
اللہ وہی دے گا جس کی اللہ سے امید رکھتے ہو۔ اللہ تعالٰی کی شان ہے کہ وہ آپکی امنگوں پر پورا اترتا ہے۔ اچھی امید رکھو گے تو اچھا ہی ہوگا۔

Copied

https://t.me/islamwitheman/2286
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کرونا کا پلازمہ سے علاج 🔷

‏ خون کے چار بنیادی حصے ہوتے ہیں یعنی سُرخ خلیے،‏ سفید خلیے،‏ پلیٹ‌لیٹس اور پلازمہ۔‏ اِن بنیادی حصوں سے خون کے اجزا حاصل کئے جاتے ہیں۔‏ مثال کے طور پر سُرخ خلیوں میں ہیموگلوبِن نامی پروٹین پایا جاتا ہے۔‏ انسانوں اور جانوروں سے لئے گئے ہیموگلوبِن سے مختلف دوائیاں بنائی جاتی ہیں۔‏ یہ دوائیاں اُن مریضوں کو دی جاتی ہیں جن میں خون کے سُرخ خلیوں کی کمی (‏انیمیا)‏ پائی جاتی ہے یا پھر جن کا خون بڑی مقدار میں بہہ چکا ہوتا ہے۔‏

پلازمہ کا ۹۰ فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔‏ پلازمہ میں مختلف قسم کے ہارمون،‏ نمکیات،‏ انزائم،‏ غذائیں،‏ معدنیات اور شکر بھی پائے جاتے ہیں۔‏ پلازمہ میں البومین جیسے پروٹین کے علاوہ ایسے اجزا بھی شامل ہیں جو خون کو جمانے کا کام انجام دیتے ہیں اور بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیم کو تباہ کرتے ہیں۔‏ جب ایک شخص کو چھوت کی بیماری لگنے کا خطرہ ہوتا ہے تو ڈاکٹر اُسے اکثر گاما گلوبولن کا ٹیکہ لگاتا ہے۔‏ یہ دوائی ایسے انسانوں کے پلازمہ سے بنائی جاتی ہے جن کے خون میں اِس بیماری کو ختم کرنے والے اجزا موجود ہیں۔‏ سفید خلیوں سے ایسے پروٹین (‏انٹرفیرون اور انٹرلوکنِ)‏ حاصل ہوتے ہیں جن سے چھوت کی مختلف بیماریوں اور کینسر کا علاج کِیا جاتا ہے۔‏

واضح رہے کہ حال ہی میں امریکہ میں مستند اداروں نے ڈاکٹروں کو کووِڈ۔19 کے ایسے شدید بیمار یا جان لیوا صورتحال کا سامنا کرنے والے افراد کے علاج کے لیے ایک ایسی تحقیقاتی نئی دوا تک رسائی کی اجازت دی ہے جو بنیادی طور پر کورونا ہی کے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے حاصل کردہ پلازمہ یا سیال ہے۔

اسے خون کا روبصحت سیال یا کونویلیسینٹ پلازمہ کہا جاتا ہے۔ کورونا سے ہونے والی معتدی بیماری کووِڈ۔19 کی صورت میں معروف امریکی ادارے ایف ڈی اے نے اسے کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کا نام دیا ہے

ادھر روس نے بھی کورونا وائرس سےصحتیاب ہونے والوں کے خون سے پلازمہ لےکر دوا کی تیاری شروع کردی۔روسی سائنسدان کا کہنا ہے کہ علاج کے لیےکورونا وائرس سےصحتیاب افراد کے خون کے 500 ملی لیٹر پلازمہ کی ضرورت ہوگی کیونکہ دوا صحتیاب افراد کےخون کے پلازمہ سے اینٹی وائرل امیونوگلوبلین حاصل کرکے تیارکی جائے گی۔روسی سائنسدان نے بتایا کہ دوا کی تیاری کے لیے سائنسدانوں کو 76 ہزار ڈالر سے زائدکی خطیر رقم درکار ہوگی اور اس کی تیاری میں 30 دن لگیں گے۔

چین میں بھی نوول کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لئے کونوالیزینٹ پلازمہ تیار کر لیا گیا ہے۔چین کے قومی بائیوٹک گروپ کے مطابق یہ کونوالیزینٹ پلازمہ تھراپی نوول کورونا (COVID-19)سے متاثرہ مریضوں کی شفا یابی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔کمپنی نے کہا کہ انہوں نے کچھ شفا یاب مریضوں سے پلازمہ اکٹھا کیا ہے تاکہ کونوالیزینٹ پلازمہ اور ایمیون گلوبو لین سمیت تھرا پیٹک مصنوعات تیار کی جا سکیں۔خون کے بائیوسیفٹی ٹیسٹ، وائرس کے غیرموثر ہونے اور اینٹی وائرس سرگرمی کے ٹیسٹ لئے جانے کے بعد انہوں نے کامیابی کے ساتھ طبی علاج کے لئے کونوالیزینٹ پلازمہ تیار کیا ہے اور شدید بیمار مریضوں کے علاج کے لئے اس کا استعال کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ فروری کے مہینے سے ہی چین میں پلازمہ کے طریقہ علاج پر کامیاب تجربات کرلیئے گئے ہیں۔

پاکستان میں خون کے امراض کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق سندھ حکومت نے پلازمہ ٹیکنیک سے علاج کی منظوری دے دی ہے۔
اس حوالے سے سندھ میں بھی کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق اب مریضوں کا علاج پلازمہ ٹیکنیک کی مدد سے ہوگا۔

خون کے امراض کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق سندھ حکومت نے پلازمہ ٹیکنیک سے علاج کی منظوری دے دی ہے۔
اس طریقہ علاج میں کورونا مریضوں کو آئی سی یو یا وینٹی لیٹر کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ ان افراد کی مدد لی جائے گی جو پہلے کورونا کو شکست دے چکے ہوں گے۔
علاج کیلئے صحت یاب افراد کے خون سے پلازمہ لیا جائے گا اور جس سے متاثرہ افراد کا علاج ممکن ہوگا، اس سلسلے میں سندھ حکومت کے ساتھ مل کر اسی ہفتے لائحہ عمل تیار کرلیا جائے گا۔

ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق صحت یاب مریض ہر ایک ہفتے بعد پلازمہ عطیہ کرسکیں گے۔

حالیہ دنوں یحییٰ جعفری نامی نوجوان جنہوں نے اپنا پلازمہ کورونا سے لڑنے میں مدد کیلئے عطیہ کیا ہے جو کہ اخوش آئند اور انسانیت و حبّ الوطنی کے جزبے سے سرشار ایک انتہائی مثبت قدم ہے۔ امید ہے کہ یحییٰ جعفری کے اس عمل سے متاثر ہوکر قوم کے بہت سے کورونائی مریض نوجوان جو انشاءاللہ اس وبا سے شفاء پائینگے جلد ہی یحییٰ جعفری کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مزید پلازمہ عطیہ کرینگے۔

لیکن افسوسناک صورتحال یہ بھی دیکھنے میں آرہی ہے کہ بعض مزہبی انتہاء پسند طبقات یا ٹولے باالفاظ دیگر تکفیری شدّت پسند ٹولے یحییٰ جعفری کے پلازمہ کو اپنی مسلکی بغض کی عینک سے دیکھتے ہوئے انکے پلازمہ سے حاصل شدہ کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ سے علاج کی مخالفت میں اندھے پن کا
مظاہرہ کرتے ہوئے اس طریقہ علاج کی مخالفت کرتے دکھائی دے رہے ہیں. کہ کہیں انہیں بھی انکے مخلف فرقے کے شخص کا پلازمہ نہ لگا دیا جائے اور انکا خون شیعہ نہ ہوجاٰئے۔
درحقیقت انکے علم میں ہرگز نہیں کہ پورے پاکستان میں علاج کیلئے صرف یحییٰ جعفری کا پلازمہ ناکافی ہے۔ یہ درحقیقت پاکستان کی کورونا کے حوالے سے تجرباتی کاوش ہے جسکا سہرا جہاں طبّی ماہرین کے سر جاتا ہے وہیں یحییٰ جعفری جیسے۔حبّ الوطن اور انسانیت کے جزبے سے سرشار اس نوجوان کا نام سرِ فہرست رہیگا۔

تحقیق و تدوین: حسینی درویش.
(طبّی معلومات مختلف ذرائع سے حاصل شدہ ہیں۔)

https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ہینڈ سینیٹائزرز گھر پر بنائیں 🔷

کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر جراثیم کش محلول (ہینڈ سینیٹائزرز) کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے اور مارکیٹ میں ہینڈ سینیٹائزرز تقریباً ناپید ہو چکے ہیں۔
ہینڈ سینیٹائزرز جراثیم کش محلولوں کا مرکب ہوتے ہیں جو کہ باآسانی گھر پر بنائے جا سکتے ہیں۔

200 ملی لیٹر پانی لیں اور اس میں 100 ملی لیٹر سپرٹ ڈالیں اور اس میں 10 ملی لیٹر ڈیٹول ڈال کر آھستہ آھستہ پانچ منٹ ہلائیں آپ کا سنیٹائزر تیار ھے۔

اگر اسے تھوڑا گاڑھا کرنا ھے تو ایک دو چٹکی نمک ڈال کر یا ایلوویرا جیل ڈال کر ہلائیں محلول گاڑھا ہوجائے گا۔

خوشبو کے لئے عرق گلاب بھی ڈال سکتے ہیں۔

جیب میں رکھنا چاہیں تو کوئی بھی پرانا ڈراپر اچھی طرح صاف کر کے محلول اس میں ڈال لیں اور جیسے آسانی لگے استعمال کریں۔

مجھے کوئی کریڈٹ نہیں چاہیے لوگوں کی فلاح کی لئے تحریر کو شئیر ضرور کریں۔۔۔

https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👹 کرونا سے بچنے کے لیے 👹

■ کرونا سے بچنے کے لیے ہر روز۔۔۔

🌹 زیارت عاشورہ کی تلاوت کریں،

🌹 صحیفہ سجادیہ کی ساتویں دعا پڑھیں،

🌹 قرآن پاک کی پچاس آیات کی تلاوت کریں،

🌹 دعای عظم البلا پڑھیں،

🌹 حدیث کسا کی تلاوت کریں،

🌹 کثرت سے درود پڑھیں،

🌹 دعاے کمیل کی تلاوت کریں،

🌹 گھر میں ہرمل کا دھواں دیں،

🌹شھد اور 8 دانے کلوبجی کے ہر روز کھاییں،

🌹سانس کی ورزش کریں،

🌹دار چینی، ادرک، ملٹھی کا قہوہ بنا کر پییں۔

🌹ہر روز اپنا بخار چیک کریں۔ خشک کھانسی، تیز بخار، جسم میں درد کی صورت میں اپنے آپ کو باقی گھر والوں سے الگ کر لیں۔ تین دن حالت ٹھیک نہ ہو تو ٹاکٹر سے رجوع کریں۔

🤲🏻 خداوند عالم ہر مسلمان و مسلمہ، مومن و مومنہ، بچوں و بچیوں چھوٹوں، بڑوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھے اور اگر کوئی اس کا شکار ہو چکا ہے تو اسے شفا عطا فرمائے۔ آمین

https://t.me/islamwitheman/2290
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 سات آیات مبارکہ دفع وبا کیلئے 🔷

سات آیات مبارکہ دفع وبا کا نسخہ
مرحوم آیت اللہ حاج سید احمد خوانساری سے منقول ہے کہ۔۔۔
زمانہ قدیم میں ایران اور شہر خوانسار شہر میں وبا کی بیماری پھیل گئی، ہر گھر میں ایک یا ایک سے زائد اموات ہونے لگیں، سوائے ان چند گھروں کے جن میں ہر روز صبح کی نماز کے بعد یہ سات مبارک آیات تلاوت کی جاتی تھیں۔


💠 بسمِ اللهِ الرّحمنِ الرَّحیمِ

📖 قل لَّن یُصِیبَنَا إِلاَّ مَا کَتَبَ اللّهُ لَنَا هُوَ مَوْلاَنَا وَعَلَى اللّهِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ.

📖 وإِن یَمْسَسْکَ اللّهُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَهُ إِلاَّ هُوَ وَإِن یُرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَ رَآدَّ لِفَضْلِهِ یُصَیبُ بِهِ مَن یَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ.

📖 ومَا مِن دَآبَّةٍ فِی الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللّهِ رِزْقُهَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا کُلٌّ فِی کِتَابٍ مُّبِینٍ.

📖 وکَأَیِّن مِن دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ یَرْزُقُهَا وَإِیَّاکُمْ وَهُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ.

📖 ما یَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِکَ لَهَا وَمَا یُمْسِکْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ.

📖 قلْ أَفَرَأَیْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِیَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ کَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِی بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِکَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِیَ اللَّهُ عَلَیْهِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُونَ.

📖 حسْبِیَ اللّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ.

وَ أَمْتَنِعُ بِحَوْلِ اَللَّهِ وَ قُوَّتِهِ مِنْ حَوْلِهِمْ وَ قُوَّتِهِمْ وَ أَسْتَشْفِعُ بِرَبِّ اَلْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مٰا خَلَقَ وَ أَعُوذُ بِمَا شَاءَ اَللَّهُ لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ اَلْعَلِیِّ اَلعظیم.

📚 بحار الانوار،جلد 83 ،صفحه 337.

آیت اللہ خوانساری نے ان آیات کو خوشخط لکھوا کر اپنے دوست و آشناؤں میں تقسیم کر رکھی تھیں۔

https://t.me/islamwitheman/2291
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کرونا وائرس کا پی ایچ 🔷

کرونا وائرس کا (Ph) پی ایچ 5.5 سے 8.5 تک ہوتا ہے۔

کورونا وائرس کو شکست دینے کے لئے ہمیں جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے اس میں زیادہ سے زیادہ الکلائن فوڈز لینے کی ضرورت ہے جو وائرس کے اوپر والے پی ایچ سطح سے اوپر ہیں۔

جن میں سے کچھ یہ ہیں:
Lemon (لیمن): 9.9 pH
Lime (چونا): 8.2 pH
Avocado (ایوکاڈو): 15.6 pH
Garlilic (لہسن): 13.2 pH
Mango (آم): 8.7 pH
Tangerine (ٹینجرین): 8.5 pH
Pineapple (انناس): 12.7 pH
Dandelion (ڈینڈیلین): 22.7 pH
Orange (اورنج): 9.2 pH

Avocado, Pineapple, Raw Vinegar, Grape Fruit, Oranges, Banana, Spinach, Peach, Garlic, Ginger, Bitter Fruit کریلا, Broccoli, Turmeric, Red Chillies, Bell Pepper, Yougart, Almond, Dates, ... are high in Ph and Alkalines.
Coco nut water is also best source for Alkaline.

کھجور، سیب کا سرکہ خالص، کلونجی 15 دانے، نمکین پیاز، کیلا، لیموں، انناس، چکوترہ، کریلا، ابلے ہوئے انڈے، کھوپرے کا پانی،
24 گھنٹے میں 7 گھنٹے کی نیند،
کھانا کم سے کم کھائیں.

گھر کے تمام افراد کو ایک گلاس گرم دودھ میں ایک چمچ (بچوں کے لیے) اور دو یا تین چمچ (بڑوں کے لیے) بادام کا تیل ڈال کر مکس کر کے پلائیں۔

باقی اللہ تعالیٰ خیر فرمائے گا۔

■ کرونا وائرس کی علامات۔۔۔
1۔ گلے میں خارش،
2۔ خشک حلق،
3۔ خشک کھانسی،
4۔ تیز حرارت،
5۔ سانس کی قلت

لہذا جہاں آپ کو یہ چیزیں نظر آئیں تو فوراً لیموں کا رس گرم پانی میں ڈال کر بار بار پئیں۔

اس معلومات کو صرف اپنے پاس نہ رکھیں۔ اسے اپنے سارے کنبہ اور دوستوں کو دیں۔ اللہ ہم سب پر رحمت کرے. اور کرونا وائرس کی وبائی مرض سے بچائے رکھے۔ آمین یا رب العالمین

https://t.me/islamwitheman/2291
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کرونا متاثرین کے چکھنے کی حس 🔷

نوٹ: چکھنے/سونگھنے کی ٹیسٹنگ ٹیکنیک قرنطینہ میں ڈیوٹی کرنے والے ایک سینیئر ڈاکٹر نے بتائی ہے.

چائنیز ڈاکٹروں کی جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا کے 70 فیصد متاثرین کی چکھنے (Ansomia) اور سونگھنے کی حس (Ageusia) ختم ہو جاتی ہے. اور جب یہ صحتیاب ہو جاتے ہیں تو ان کی حس بھی بحال ہو جاتی ہے.

ڈاکٹرز اس علامت کو خدائی نعمت قرار دے رہے ہیں.

آسان الفاط میں سمجھ لیں کہ اگر کسی کو کھٹی میٹھی یا کڑوی اشیاء (جیسے نمک، مرچ یا کسی کڑوی گولی) کے ذائقے کا پتہ نہیں چل رہا یا عطر /سینٹ کی خوشبو محسوس نہیں ہو رہی تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کرونا سے متاثر ہو چکا ہے.... چاہے ظاہری علامات نہ بھی ہوں، فورا گھر کے تمام افراد سے الگ ہو کر قریبی قرنطنیہ سینئر پہنچے تاکہ بروقت علاج ہو سکے۔

اور اگر کسی میں کرونا کی تمام علامات موجود ہوں (جیسے بخار ہو، نزلہ زکام، سر درد بھی ہو) لیکن اسکے باوجود بھی چکھنے اور سونگھنے کی حس (صلاحیت) بالکل ٹھیک کام رہی ہے پھر کرونا وائرس نہیں بلکہ موسمی بیماری ہے.

چائنیز ڈاکٹروں کے مطابق یہ خدا کی طرف سے کرونا متاثرین کو تلاش کرنے کی ایک نعمت ہے..... ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔۔

معمولی نزلہ زکام یا بخاد کی صورت میں خود کو کرونا مریض نہ سمجھیں.

اگر پھر بھی شک ہو تو سب سے پہلے اپنے گھر میں ہی اپنی سونگھنے اور چکھنے کی حس کو چیک کریں، گھر میں نمک، مرچ، یا کوئی کڑوی گولی منہ میں رکھ کر دیکھیں کہ ذائقہ محسوس ہو رہا ہے یا نہیں، اور سینٹ یا عطر یا کسی اور خوشبو کو سونگھ کر دیکھیں کہ محسوس ہو رہا ہے یا نہیں. اگر سب صحیح ہے تو پھر پریشان نہ ہوں، نہ ہی گھر سے نکلیں، گھر میں ہی پیناڈول سے اپنا بخار اتار سکتے ہیں، نزلہ زکام ہو تو اسے چھوڑ دیں یہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گا.

پھر بھی پریشانی ہو تو حکومت کی ہیلپ لائن 1166 پر کال کرکے اپنے حالات سے آگاہ کردیں، وہ آپ کو تسلی دیکر سب سمجھا دیں گے.

قرنطینہ سینئرز میں بھی مریض کو پہلے کڑوی گولی کھلا کر چیک کیا جا رہا ہے کہ ذائقہ محسوس ہو رہا ہے یا نہیں، ڈاکٹرز کے مطابق بہت سے مریض عام بخار کی وجہ سے خود کو کرونا متاثر سمجھ کر قرنطینہ آگئے تھے جنہیں خیریت سے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ مبارک ہو آپ کو کرونا نہیں ہے.

لیکن خدا کے لیے کرونا سے خوفزدہ مت ہوں، یاد رکھیں زندگی و موت اللہ کے اختیار میں ہے نہ کہ کرونا کے. اس لیے ڈرنا چھوڑ دیں۔ یاد رکھیں اس وقت کرونا کا واحد حل۔۔۔

احتیاط احتیاط اور صرف احتیاط کریں۔

آخر میں یاد رکھیں کرونا اللہ سے بڑا نہیں ہے لہذا اللہ پر توکل رکھیں اور پرامن زندگی گزارتے رہیں. شکریہ

copied

https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 قوتِ مدافعت بڑھانے والی سبزیاں 🌹

اپنی قوتِ مدافعت کو بہتر رکھنے کے لئے وٹامن سی سے بھرپور غذاؤوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔

وٹامن سی سے بھرپور غذائیں درج ذیل ہیں ۔۔۔ 100 گرام خوراک میں موجود وٹامن سی کی مقدار۔۔۔

مالٹا میں 53 ملی گرام
لیموں میں 53 ملی گرام
ٹماٹر میں 39.2 ملی گرام
امرود میں 228 ملی گرام
سٹرابری میں 59 ملی گرام
شملہ مرچ میں 80 ملی گرام
سبز مرچ میں 242 ملی گرام
خشک دھنیا میں 567 ملی گرام

درج بالا سبزیوں اور پھلوں کو اپنی روزانہ خوراک کا حصہ بنائیں تاکہ آپ کی قوتِ مدافعت میں اضافہ ہو۔

https://t.me/islamwitheman/2293
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👹 کرونا وائرس کیسے کام کرتا ہے 👹

وائرس کی اپنی بائیو سنتھیٹک مشینری (biosynthetic machinery) نہیں ہوتی. جس کا مطلب ہے یہ خوراک نہیں کھا سکتا. یہ خوراک کو توڑ کر اس سے اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں سر انجام دینے کے لئے انرجی حاصل نہیں کر سکتا. یہ خود سے اپنی تعداد نہیں بڑھا سکتا. یہ اپنے نیوکلیک ایسڈز کو ریپلیکیٹ (replicate) نہیں کر سکتا. حرکت نہیں کر سکتا. وائرس کو یہ سارے کام سرانجام دینے کے لئے ایک ہوسٹ (host) کی ضرورت ہوتی ہے. اسی لئے تمام وائرسز کو (obligate endoparasites) کہا جاتا ہے. یعنی یہ کسی دوسرے زندہ جاندار کے جسم کے اندر رہ کر ہی افزائش کرسکتے ہیں. عمل تولید کر سکتے ہیں. انہیں لیبارٹری میں آرٹی فيشل ميڈيا پر grow نہیں کیا جاسکتا. وائرس چونکہ خود سے حرکت بھی نہیں کر سکتا اس لئے یہ passively ہی کسی ہوسٹ تک پہنچتا ہے. ہوسٹ تک پہنچ کر سب سے پہلے یہ اس کے جسم کے سیلز میں گھستا ہے. وائرس کی آمد سے پہلے ہوسٹ کے جسم کے سیلز ہوسٹ کے لئے کام کر رہے ہوتے ہیں. اس کے لئے انرجی یعنی ATP پیدا کر رہے ہوتے ہیں. بیماریوں کے خلاف لڑ رہے ہوتے ہیں. مختصر یہ کہ جسم کو توازن یعنی homeostasis میں رکھنے کے لئے اپنا اپنا بہترین کام کر رہے ہوتے ہیں. جونہی وائرس ہوسٹ کے ان سیلز میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے ان کا مکمل کنٹرول اپنے اختیار میں کرتا ہے. سیلز کے میٹابولزم یعنی وہ ری ایکشنز جو ہوسٹ کے سیلز ہوسٹ کے لئے کر رہے ہوتے ہیں اب وہ وائرس کے لئے کرنا شروع کردیتے ہیں. وائرس اپنے ہوسٹ کے سیلز سے سب سے پہلے اپنے نیوکلیک ایسڈز کی کاپیز تیار کرواتا ہے. ایک سے دو. دو سے چار اور اسی طرح وائرس کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے. وہ ایک ہوسٹ سیل جس کو آغاز میں ایک وائرس نے ہائی جیک کیا تھا اب وہ ہزاروں وائرسز کی آماجگاہ بن چکا ہوتا ہے. اسی دوران یہ ہوسٹ سیل پھٹ جاتا ہے جسے لائسز (lysis) کہا جاتا ہے. ایک سیل کے پھٹنے سے ہزاروں وائرسز برآمد ہوکر ہوسٹ کے جسم کے ہزاروں نئے سیلز میں گھس جاتے ہیں. ایک بار پھر سے وہ تمام سیلز وائرس کی تعداد بڑھانے میں لگ جاتے ہیں. اور لاکھوں نئے سائیکلز شروع ہوجاتے ہیں. ان سارے مراحل کے دوران ابھی تک ہوسٹ بظاہر صحت مند رہتا ہے. کیونکہ ہوسٹ کا اپنا جسم بھی کھربوں سیلز کا بنا ہے اور لاکھوں سیلز تباہ ہوجانے کے باوجود نارمل دکھائی دیتا ہے. ان مراحل کو وائرس کا انکیوبیشن پیریڈ (incubation period) کہا جاتا ہے. بیماری کی علامات ظاہر ہونے تک یہ انکیوبیشن پیریڈ جاری رہتا ہے. جب ہوسٹ کے باڈی سیلز ایک خاص تعداد تک تباہ ہو جائیں تب جسم نارمل فنکشنز نہ کر سکنے کی وجہ سے بیماری کی علامات ظاہر کرنا شروع کرتا ہے.

اس ساری معلومات کا مقصد آپ کو یہ یقین دلانا ہے کہ اگر آپ اب تک کرونا میں مبتلا نہیں بھی ہیں پھر بھی آپ خود کو اور دوسروں کو بچائیں.

بہت سے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اگر کرونا وائرس کا اب تک کوئی خاص علاج دریافت نہیں ہوا ہے تو کرونا میں مبتلا لوگوں کی ایک خاص تعداد ہسپتالوں سے صحتیاب ہو کر کیسے ڈسچارج ہو رہی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہسپتالوں اور قرنطینہ سنٹرز (quarantine) قائم کرنے کا واحد مقصد کرونا میں مبتلا لوگوں کو صحت مند لوگوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے. تاکہ بیمار لوگ اپنے اردگرد صحت مند لوگوں تک وائرس کی منتقلی کا سبب نہ بنیں. آئزولیشن سنٹرز میں داخل مریضوں کو دنیا بھر میں صرف سادہ پین کلرز دی جا رہی ہیں. سانس اکھڑنے پر وینٹی لیٹرز پر شفٹ کیا جا رہا ہے. جو لوگ صحتیاب ہو رہے ہیں وہ اپنے جسم کے مدافعتی نظام کے باعث ہو رہے ہیں. مدافعتی نظام یا امیون سسٹم بیماری پیدا کرنے والے جراثیموں کے خلاف ہمارے جسم کا ایک قدرتی حفاظتی نظام ہے. اور یہی قدرتی حفاظتی نظام ہی لوگوں کو کرونا سے محفوظ کر رہا ہے.

لوگوں کا ایک دوسرا سوال بھی ہے کہ کرونا وائرس جسم کے کن حصوں کو متاثر کرتا ہے؟ کرونا وائرس سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے.

شروع میں جب وائرس سانس کی نالیوں کی دیواروں کے سیلز میں گھستا ہے تو ری ایکشن کے طور پر ریسپائیریٹری نالیاں میوکس پیدا کرتی ہیں جس سے نزلہ، زکام، کھانسی اور چھینکیں آنا شروع ہو جاتی ہیں. جسم وائرس کا قلع قمع کرنے کے لئے نارمل باڈی ٹمپریچر جوکہ 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے کو بڑھا دیتا ہے. اس وجہ سے بخار کی علامات ظاہر ہوتی ہیں. ان سارے عوامل سے یا تو وائرس کا قلع قمع ہوجاتا ہے اور مریض کے کرونا ٹیسٹس منفی آنے لگ جاتے ہیں. یا پھر اگر یہ سارے عوامل کام نہ دکھا پائیں تو ہم کہتے ہیں کہ مریض کا امیون سسٹم کمزور ہے اور پھر پھیپھڑوں کی تباہی شروع ہوتی ہے. اس کے بعد ہر لمحہ مریض کو بچا پانا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے.

احتیاط کریں۔ اللہ تعالٰی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ الٰہی آمین

Copy.

https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 لمبا سجدہ اور مختلف بیماریاں 🌺

بیماریاں (کرونا، الرجی، ڈیمنشیا وغیرہ) اور لمبا سجدہ (سچی کہانی)

یہ تحریر اب لکھ رہا ہوں کیونکہ شاید اس کی لوگوں کو اب سب سے زیادہ ضرورت ہو۔

ہوا کچھ یوں کہ میری والدہ کو ڈیمنشیا (Dementia) کی بیماری بتائی گئی۔ یہ ایسی بیماری ہے کہ بڑھاپے میں ہر تین میں سے ایک بندے کو الزائمر (Alzheimer) یا ڈیمنشیا ہونا ہی ہونا ہے۔ یہ دونوں بیماریاں دماغی کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ افسوس یہ ہوتا ہے کہ میں اپنی والدہ کی خود خدمت نہیں کر سکا باھر کے ملک ہونے کی وجہ سے اور نہ ہی ان معلومات کا پتہ تھا۔
مجھے خود بھی سائنس (Sinus) کا مسئلہ تھا اور الرجی کی پرابلم تھی۔ بار بار چھینکیں آتی تھیں۔ ناک سے پانی بے انتہا آتا تھا اور تقریبا ۱۵ سال تک یہی مسئلہ رہا جو کہ لڑکپن میں ہی شروع ہو گیا تھا۔

کبھی کبھار ذہن میں آتا تھا کہ نہ جانے ہمارے دین نے ہمیں ان بیماریوں سے نجات کا طریقہ بھی بتلایا ہے یا نہیں۔
بہرحال والدہ کی تو ڈیتھ ہو گئی اور میں اپنی کم علمی کی وجہ سے اور یورپ میں ہونے کی وجہ سے کچھ نہ کر پایا۔

ایک دن اتفاق سے ہی ایک مسلمان ڈاکٹر کی وڈیو دیکھی جس میں اس نے بتایا کہ دماغی کمزوری کو دور کرنے کا واحد طریقہ لمبا سجدہ کرنا ہے۔ یہ معلومات نئی تھیں۔ دلیل کے طور پر انہوں نے یہ کہا کہ ہمارا دل کشش ثقل (Gravity) کے خلاف خون کو دماغ تک پمپ اتنے ٹھیک طریقے سے نہیں کرتا کہ جتنا جب ہم سجدے میں چلے جاتے ہیں، تو تب کرتا ہے۔ جبھی آہستہ آہستہ لوگوں کا دماغ کمزور ہو جاتا ہے اور بڑھاپے میں بالآخر جواب دے جاتا ہے۔ یہ بات تو بھلی معلوم ہوئی۔
پھر کچھ ان کی وڈیوز دیکھیں تو معلوم ہوا کہ میری اپنی پرابلم رائنائٹس (Rhinitis) والی الرجی کا بھی یہی حل ہے کیونکہ دماغی کمزوری کی ہی وجہ سے ہمیں یہ پرابلم ہوتی ہے اور پھیپھڑوں پر بھی بہت منفی اثر چھوڑتی ہے۔

بہرحال واحد طریقہ تو یہی تھا کہ میں آزما کر دیکھ لیتا۔ آپ یقین جانئے میری ۱۵ سالہ پرانی پرابلم اور الرجی کا مسئلہ تو ایک ماہ میں ہی لمبا سجدہ کرنے سے حل ہو گیا الحمدللہ۔

نماز تو الحمدللہ پڑھتا تھا لیکن نماز کے بعد سجدہ شکر کو لمبا کر دیا اور دیگر کئی اذکار بالخصوص ۱۰۰ مرتبہ درود پڑھنے میں ہی پانچ سے دس منٹ کا سجدہ ہو جاتا۔ اس سے اور کئی مسائل حل ہوئے۔ چہرہ خون کی سپلائی کی وجہ سے تازہ رہنے لگا اور بڑی عمر کے اثرات تقریبا ختم ہو گئے ۔۔ بالوں کو خون ملنے کی وجہ سے بال گرنے کم ہو گئے۔ بلغم کا مسئلہ تھا وہ بالکل ختم ہو گیا۔ کانوں کے مسائل اور آنکھوں کی کمزوری کے مسائل کم ہو گئے اور ساتھ ہی ساتھ آنکھوں کے نیچے گذشتہ ایک سال سے کالے رنگ کے ہلکے نہیں دکھے کبھی۔

سبحان اللہ! یہ مذہب ہی تھا جس کے ایک سجدے کے عمل کے پاس ہماری اتنی بیماریوں اور نہ جانے کن کن بیماریوں کا علاج ہے۔ ورنہ بڑے سے بڑے یورپ کے ڈاکٹر کو میری الرجی کا علاج نہیں ملا۔ الرجی کے خلاف موثر ترین طریقہ لمبا سجدہ کرنے کا یہ ہے کہ دونوں پلکوں کے درمیان والی جگہ کو سجدے گاہ پر رکھ کر سجدہ کیا جائے تو بہترین رزلٹس ملتے ہیں۔

آج کل کرونا کا بہت زور ہے یقین مانئے اگر آپ لمبے سجدے کرنے شروع کر دیں نماز کے بعد تو آپ کے پھیپھڑے زیادہ مضبوط ہو سکتے ہیں کیونکہ سجدے کی ایک ایسی پوزیشن ہے کہ جس میں انسان کے لنگز زیادہ بہتر کام کرتے ہیں۔ آزمودہ بات ہے۔ آپ بھی آزما کر فائدہ لے سکتے ہیں۔ یہ کم از کم پھپھڑوں کو طاقت ضرور دے گا۔

اگر یہ باتیں پہلے پتہ ہوتیں تو شاید میں اپنی والدہ کو بھی بچا لیتا اور ان کی دماغی کمزوری کا مسئلہ حل کروا دیتا۔ ایسا نہیں کر سکا تو کم از کم آپ یہ سب باتیں جان لیجئے اور اپنے بڑھاپے کیلئے اور موجودہ بیماریوں اور وباوں سے بچنے کیلئے ابھی سے تیاری شروع کر دیجئے ۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

مذہب اسلام زندگی ہے۔

آخر میں حضرت علیؑ کا قول نقل کر دوں کہ اگر نمازی کو پتہ چل جائے کہ کن کن رحمتوں نے اسے گھیرا ہوا ہے تو وہ سجدے سے سر اٹھانا ہی نہ چاہے۔

ہماری تحریریں تمام انسانوں کیلئے بلا تفریق مذہب و فرقہ ہوا کرتی ہیں لہذا آپ بھی یہی سمجھ کر تمام انسانوں تک پہنچائیں اور میری مرحومہ والدہ کیلئے ضرور ہو سکے تو ایک بار کم از کم درود شریف پڑھ دیجئے اور اگر زیادہ ہو سکے تو ایک بار الحمد اور تین بار سورہ توحید (سورہ اخلاص، قل ھو اللہ احد) پڑھ دیجئے ۔۔۔ یہ پوسٹ انہی کے ایصال ثواب کیلئے نشر کی جا رہی ہے ۔ پوسٹ کو شیئر اور پیج کو لائیک کیجئے۔ بہت شکریہ

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ
ایڈمن ریئل اسلام (فیس بک)

https://t.me/islamwitheman/2292
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 دہشت نہ پھیلائیے 🌹

پروردگار عالم نے اپنے بندوں سے فرمایا:
مایوس نہ ہو۔

جناب یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا:
مایوس نہ ہو۔

جناب یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی سے فرمایا:
مایوس نہ ہو۔

جناب شعیب علیہ السلام نے جناب موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا:
ڈرئے مت۔

ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے صحابی سے فرمایا:
غم نہ کھا کہ بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

اضطراب کی گھڑیوں میں لوگوں کے درمیاں سکون و اطمینان پیدا کرنے والی باتیں پھیلانا خدائی اور نبوی طریقہ کار ہے۔

سکون و اطمینان اور خدا پر بھروسہ کو پھیلائیے کہ مشکلات سے نجات قریب ہے۔ اس لئے کہ:
ان مع العسر یسرا
بے شک سختی کے ساتھ آسانی ہے۔
لہذا مضطرب اور پریشان نہ ہوئیے اور زیادہ سے زیادہ استغفار کرتے رہئے اس لئے کہ ارشاد خداوند ہے:
و ماکان اللہ معذبہم و ہم یستغفرون
خدا ان پر عذاب نہیں کرے گا جب تک کہ وہ استغفار کرتے رہیں گے۔

خدایا! معاف فرمادے۔ رحم فرما، جو برائیاں ہم سے جانتا ہے درگزر فرما کہ بیشک تو ہی صاحب عزت، صاحب جلال اور صاحب کرم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پوسٹیں دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔

👹 وائرس کا حملہ آور موت کے امکان
https://t.me/islamwitheman/2277

🔷 کرونا وائرس اور ماہر نفسیات
https://t.me/islamwitheman/2282

🔷 قاسم علی شاہ کی باتیں
https://t.me/islamwitheman/2283

🔷 خوف کا زہر
https://t.me/islamwitheman/2286

🔷 دہشت کا اثر
https://t.me/islamwitheman/2287

🔷 سات آیات مبارکہ دفع وبا کے لیے
https://t.me/islamwitheman/2292

🔷 کرونا وائرس کا پی ایچ
https://t.me/islamwitheman/2293

🌹 قوت مدافعت بڑھانے والی سبزیاں
https://t.me/islamwitheman/2295

🌹 لمبا سجدہ اور مختلف بیماریاں
https://t.me/islamwitheman/2297
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌸 مسائل سے کیسے نمٹا جائے؟ 🌸

اس زندگی میں کوئی مسائل سے بچا ہوا نہیں ہے۔ دنیا کا بندہ کسی بھی مقام پر کسی بھی طرح ہو چاہے غریب ہو یا امیر، بادشاہ ہو چاہے وزیر وہ مسائل سے خالی نہیں ہے۔ اس عالم اسباب میں کوئی بھی مسائل سے خالی نہیں ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام جب اس دنیا میں آئیں گے تو ایک مخصوص مسجد میں آکر اتریں گے اور ان کے حواری یا ماننے والے اس کے گرد جمع ہوجائیں گے اور جب وہ مسجد کے مینار پر آئیں گے تو اعلان کریں گے کہ سیڑھی کا بندوبست کریں۔ اور وہ سب ماننے والے کہیں گہ کہ اے عیسٰی آپ آسمان سے اس مینار پر تو آگئے ہیں تو آپ نیچے ہی آجاتے پھر یہاں سیڑھی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ کہیں گے کہ میں عالم اسباب میں آگیا ہوں اس لیے اس میں سیڑھی مانگنی پڑتی ہے یعنی کہ جو مسائل اور مشکلات آئیں گی ان کو حل کرنا ہوگا۔
حضرت مولانا رومی کہتے ہیں کہ مشکلات، زخم، پریشانیاں اپنے اندر روشنی لے جانے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔
زندگی کے تمام مسائل اور مشکلات جو زندگی کے پیکیج میں ہمیں ساتھ ملتے ہیں وہ ہمارے ظرف کو اور ہمت کو بڑھانے کیلئے ہوتے ہیں۔
ہماری کیپیسٹی بلڈنگ پرابلمز سے ہوتی ہے۔ کچھ چیزیں کر کے ہی سیکھی جاتی ہیں۔ کچھ چیزین مسائل اور زندگی نے ہی سکھانی ہیں۔
جینیس وہ ہے جو مسائل کا سامنہ کرتا ہے اور ان سے سیکھتا ہے اور آنے والی زندگی کیلئے کچھ نئے اصول و ضوابط بناتا ہے۔
انسان کا بڑا مرشد اس کا تجربہ ہے۔ تجربہ کے بغیر انسان آگے بڑھ نہین سکتا،
دیہات میں جب مرغی کا بچہ انڈے سے باہر آنا چاہتا ہے تو انڈے کو چونچ مارتا ہے۔ اور اس سے اس کے اعصاب اور مسلز مضبوط ہوتے ہیں۔
جو ناکامی سے بچتا ہے دراصل وہ کامیابی سے بچتا ہے۔ جو ناکام نہیں ہوسکتا وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔
چمکنے کیلئے لازم ہے کہ آپ ٹوٹیں۔ نگینہ کو چمکنے کیلئے ننانوے بار تراشا جاتا ہے۔
بابا فرید کے شعر کا مفھوم ہے کہ آنسو بہانے سے اندر کا انسان باہر آتا ہے۔
اقبال کہتا ہے کہ
تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسےترا آئنہ ہے وہ آئنہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئنہ ساز میں
انسان ٹوٹتا ہے تو بنتا ہے، ٹوٹے بغیر بن نہیں سکتا۔
کامیابی کیلئے خدا کی ذات پر توکل ضروری ہے۔ آپ کی تار کو خدا سے جڑنا ضروری ہے۔
اپنے رب سے بات کرنا اس کے سامنے رونا ضرور سیکھیں۔
جو لوگ اہنی غلطی کو غلطی نہیں مانتے وہ تکلیف کا شکار ہوتے ہیں اور راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔
انسان کا رب پر یقین ہو تو بڑی زیادتیوں کو معاف کرنا اس کیلئے آسان ہوتا ہے۔
انسان کو امید رکھنا فائدہ ضرور دیتا ہے۔ جو پرامید ہوتے ہیں ان کی زندگیوں میں کامیابیاں زیادہ آتی ہیں۔ خیر کی امید رکھنے سے اچھا ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں ہے کہ میری رحمت سے ناامید مت ہونا۔
بچہ والدین کو جو کرتے ہونے دیکھتا ہے اس سے بہت سیکھتا ہے۔ بچہ لفظوں سے زیادہ عمل کی زبان سے سیکھتا ہے۔
زندگی میں شکوہ گلا نہ کریں۔
بچہ کو سمجھانا چاہئے کہ مسائل زندگی کا حصہ ہیں۔ مسائل اور چیلیج کو کس طرح مسائل سے نپٹنا ہے اس کے بارے میں حل سکھائیں۔
انسان کی امیدوں کا اثر پڑتا ہے۔ اچھا ہونا بہتر ہے۔
اللہ پاک سے جیسا گمان رکھیں گے اس طرح کا سلوک ہوگا۔
واصف علی واصف کہتے ہیں کہ
مسئلہ کی حالت میں مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت سلب ہو جاتی ہے۔
مسائل کہ حل کرنے کیلئے حل کرنے کی حالت میں آئیں۔
دنیا میں گیارہ مسائل ہیں، معا شی حالت، رک جانا، تعلقات، سیلف مینیجمینٹ، پرگریسو،
اپنی زندگی کے مسائل کا تجزیہ کریں۔
عمر کے ساتھ مسائل تبدیل ہوتے ہیں۔
کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کیا تھا؟
ہم نے اپنی سوچ کو خود بنایا ہے، ہم بڑے مسئلوں کو چھوٹا اور چھوٹے مسئلوں کو بڑا کر سکتے ہیں۔

✍ قاسم علی شاہ

https://t.me/islamwitheman/2283
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 مرد کا اقتدار 🌹

🔴 مرد اقتدار کو پسند کرتا ہے اور اس اقتدار سے مراد یہ ہے کہ مرد اس بات کا احساس کرے کہ بیوی اس کو اپنا حامی اور پشت پناہ سمجھتی ہے .

⭕ قرآن مجید کے اندر سورہ نساء کی آیت نمبر 34 میں خداوندمتعال نے ارشاد فرمایا ہے کہ
*الرجال قوامون علی النساء*

جس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ مرد عورتوں کے لئے حامی اور ان کے پشت پناہ ہیں .

💮 مرد کے اقتدار سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ وہ خود خواہی کرے ضد اور ہٹ دھرمی کرے اور اپنی برتری جتلائے

⚛ درحقیقت مرد قدرت کی علامت ہے اور ہر گز اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس کی قدرت زیر سوال آئے اور اس کی قدرت پر سوالیہ نشان اٹھے.

⏺ اسی لیے آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض خواتین شادی کے بعد جب اپنے والدین کا سہارا لیتی ہیں ان سے چیزوں کا مطالبہ اور ڈیمانڈ کرتی ہیں تو شوہر کو یہ بات ناگوار گزرتی ہے.

🔺 کیونکہ شوہر اس بات کو پسند کرتا ہے کہ بیوی کا صرف وہی حامی اور پشت پناہ ہو اسی وجہ سے بعض افراد کے اندر اپنے سسرال والوں کے ساتھ دل میں کدورت اور مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں.

🌀 اگر ایسی وضعیت اور صورتحال پیش آجائے تو مندرجہ ذیل چند نکات کو مدنظر رکھیں.

1⃣ بیوی کو چاہیے کہ اپنے گھروالوں کے ساتھ یعنی اپنے والدین کے ساتھ رابطے کو مدیریت کرے اگر وہ شوہر کی نسبت والدین سے زیادہ رابطہ رکھے گی تو شوہر کو یہ پیغام ملے گا کہ والدین میری نسبت اس کے لیے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں.

2⃣ جب بیوی اپنے والد کے گھر میں جائے تو اگر شوہر بھی ساتھ ہے تو اسے تنہا نہ چھوڑیں ایسا نہ ہو کہ شوہر کو کمرے میں چھوڑ کر آپ گھر والوں کے ساتھ مصروف ہو جائیں یا کچن میں چلے جائیں تو اسکا بھی شوہر کے لئے اچھا مناسب پیغام نہیں ملتا.

3⃣ جہاں تک ممکن ہو بیوی کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے والد سے خاص طور پر پیسوں کے لحاظ سے ان سے مدد مانگے.

4⃣ بیوی اگر اپنے والدین کے ساتھ کہیں سفر پہ جائے یا سیروتفریح کے لیے جائے تو اگر ممکن ہو تو شوہر کو بھی ساتھ لے جائے ورنہ اگر شوہر کو ساتھ لے کر نہ جا سکے تو دن میں دو یا تین بار اس سے ٹیلیفون پر رابطہ کریں اور اس کا حال دریافت کریں.

5⃣ اگر بیوی کے والد اور شوہر کے درمیان کوئی اختلاف پیش آجائے اور یہ کوئی سلیقے کا اختلاف ہو اور آگر حق اس کے شوہر کے ساتھ ہو تو والد کی غیر موجودگی میں اسے اپنے شوہر کی حمایت کرنی چاہیے.
🔺ممکن ہے کہ فیمینیزم کے پراپیگنڈے کی وجہ سے بعض خواتین مردوں کے اقتدار کو قبول نہ کریں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے.

⭕ اور عورت کی فطرت کے اندر بھی یہ موجود ہے کہ وہ مرد کے اقتدار کو قبول کرتی ہے اور بیوی یہ پسند کرتی ہے کہ اس کا شوہر مقتدر ہو تاکہ اس کا سہارا لے سکے بیوی پسند کرتی ہے کہ اس کا شوہر واقعی ایک مرد ہو. اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ مجھے مردوں والا قول اور وعدہ دو.

🛑 ایک ماہر نفسیات کے مطابق کے مرد جس قدر مقتدر ظاہر ہوگا تو بیوی کے لئے اس کی جذابیت میں اتنا اضافہ ہو جائے گا.

⚫ اگر مرد اپنے مقتدر ہونے کا احساس نہ کریں اور بیوی اس کو اپنا حامی اور پشت پناہ نہ سمجھے اور اسے اہمیت نہ دے تو وہ ایک بے لیاقتی کا احساس کرے گا کہ اس کے اندر صلاحیت اور لیاقت نہیں ہے اور اس کا نقصان خود بیوی کو بھی ہوگا.

🔹اسی طرح بیوی کو چاہیے کہ ایسے جملات کا استعمال کریں کہ جس سے مرد کو اپنے مقتدر ہونے کا احساس ہو مثال کے طور پر

👈 اگر تم میرے شوہر نہ ہوتے تو میرے لیے زندگی گزارنا سخت ہوجاتا

👈 یا مجھے آپ پر افتخار ہے

👈 میں نے آپ سے شادی کی ہے اور مجھے اس بات پر فخر ہے

👈یا تم خدا کی طرف سے میرے لئے ہدیہ ہو

👈 یا تم میری آرزوؤں اور تمناؤں کا جواب ہو.

🌲 ایک مغرب زمین کے ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ عورتیں اگر مردوں کی اطاعت کریں گی تو مرد ان کی پوجا کریں گے.

🔸 درحقیقت اگر خواتین اپنے شوہر کو مقتدر ہونے کا احساس دلائیں اور ان کو اس بات کی اجازت دی تو پھر کوئی بھی خاتون اس کے دل میں بیوی کے علاوہ گھر نہیں کر سکتی.

🌻 فارسی زبان کے ایک بہت بڑے شاعر حافظ کا ایک شعر ہے جس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ؛

اگر حسین لوگوں کا لشکر بھی میرے دل کے خلاف کمین لگا کے بیٹھے اور مجھے ورغلانے کی کوشش کرے تو خدا کے شکر سے میرے گھر میں ایک بت شکن موجود ہے جو ان سارے لشکروں کو شکست دینے کی قدرت رکھتا ہے اور وہ بت شکن سے مراد اس کی اپنی بیوی ہے.

تحریر؛ فضل خان

https://t.me/islamwitheman/2232
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕