♦ آئمہؑ کی ولادت یا نزول و ظھور (1) ♦
سب سے پہلے ہم ان الفاظ کے معنی ذکر کریں گے تاکہ قارئین کو بات سمجھنے میں مشکل نہ ہو۔
1⃣ ولادت: پیدا ہونا یعنی ماں کے شکم سے دنیا میں آنا۔
2⃣ نزول: اترنا، نازل ہونا۔
3⃣ ظہور: ظاہر ہونا یعنی کسی غائب چیز کا ظاہر ہونا۔
■ تعلق و رابطہ
ولادت کا تعلق ماں، باپ اور بیٹے سے ہے یعنی جس شخص کی ولادت ہوتی ہے وہ ماں اور باپ کے تعلق سے ہوتی ہے اور بعض اوقات اگر معجزۂ پروردگار سے بغیر باپ کے بھی کوئی بچہ دنیا میں آیا ہے تو اس کیلئے بھی قرآن نے لفظ ولادت استعمال کیا ہے کیونکہ بچہ کا ایک تعلق ہے اور وہ ماں ہے۔
■ ولادت کے مقابلے میں لفظ نزول ہے یعنی جو چیز نازل ہوتی ہے اس کا ماں، باپ اور بیٹے جیسے پاکیزہ رشتے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جیسے ملآئکہ۔
🔘 اب اگر ہم کہیں کہ انبیآء و آئمہ علیہم السلام کا نزول ہوتا ہے تو پھر ہمیں معاذ اللہ یہ کہنا پڑے گا کہ امام حسن و امام حسین علیہما السلام دونو ں بھائی نہیں اور امام علی علیہ السلام ان کے باپ نہیں ہیں وغیرہ
جب ان کی ولادت ہوتی ہی نہیں ہے ان کا نزول و ظہور ہوتا ہے تو یہ رشتہ کیسا؟
اگر یہ کہا جاۓ کہ ولادت نہیں نزول ہوتا ہے تو پھر نسل رسولؐ کا انکار کرنا پڑے گا کیونکہ نسل کا تعلق ہوتا ہے صلب اور رحم سے، ماں اور باپ سے۔ جب ولادت ہے ہی نہیں، ہے ہی نزول تو نسل رسولؐ کہاں سے آگئی؟ اور یہ موجودہ سادات کہاں سے آگئے؟
لہذا ہر عاقل شخص کو یہ ماننا پڑے گا کہ انبیآء و آئمہ علیہم السلام کا نزول و ظہور نہیں بلکہ ولادت ہوتی ہے۔
■ اب ہم قرآن مجید سے چند آیات آپ کی خدمت میں پیش کرینگے۔
جب حضرت زکریاؑ نے پرودگار سے اپنے بیٹے کیلئے استدعا کی تو جواب میں پروردگار نے فرمایا:
"یٰزَکَرِیّآ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمٍ اِسْمُہُ یَحْیٰ¤ لَمْ نَجْعَلْ لَّہُ مِنْ قَبْلِ سَمِیًّا¤ قَالَ رَبِّ اَنِّی یَکُوْنُ لِی غُلٰمࣨ وَّ کَانَتِ امْرَاَتِی عَاقِراً وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عَتِیّاً¤"
ترجمہ:
اے زکریا ہم آپ کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحیٰ ہے اس سے پہلے ہم نے کسی کو اسکا ہم نام نہیں بنایا۔ (حضرت زکریاؑ نے) عرض کی پروردگار میرے ہاں بیٹا کس طرح پیدا ہو گا جب کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بھی بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں۔
اگر آپ اس آیت میں حضرت زکریاؑ کے سوال پر غور کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضرت زکریاؑ کا بھی یہ نظریہ تھا کہ میرا وارث جو پیدا ہوگا وہ میرے اور میری زوجہ کے تعلق سے ہوگا اسی لیے کہا کہ کیسے بچہ ہو سکتا ہے جبکہ میری زوجہ بانجھ اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں۔
جواب میں پروردگار نے فرمایا:
"وَقَدْ خَلَقْتُکَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَکُ شَیْاً¤"
ترجمہ: کہا یہ تو میرے لیے آسان ہے چنانچہ اس سے پہلے خود آپ کو بھی تو میں نے پیدا کیا جب آپ کوئی چیز نہ تھے۔ (سورة مریم)
⬅: اور پھر الللہ ربّ العزت نے حضرت یحیٰ علیہ السلام پر سلام بھیجتے ہوئے فرمایا:
"وَ سَلٰمࣨ عَلَیْہِ یَومَ (وُلِدَ) وَیَومَ یَمُوت وَیَومَ حَیّاَ¤"
ترجمہ: اور سلام ہو ان پر جس دن ان کی (ولادت) ہوئی اور جس دن ان کی موت ہوئی اور جس دن انہیں زندہ کیا جاۓ گا۔
یہاں بھی واضح طور لفظ ولادت استعمال ہوا ہے نہ کہ نزول و ظہور۔
● مزید ملاحظہ فرمائیں
جب حضرت مریمؑ کو خبر دی گئی کہ آپ کو اللہ ربّ العزت بیٹا عطا فرماۓ گا تو حضرت مریمؑ نے کیا فرمایا:
"قَالَتْ اِنِّی یَکُونُ لِی غُلٰمࣨ وَلَمْ یَمْسَسْنِی بَشَرࣨ ولَمْ اَکُ بَغْیاً¤"
ترجمہ: مریم نے کہا میرے ہاں بیٹا کیسے ہو گا؟ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں کوئی بدکار بھی نہیں ہوں۔
حضرت مریمؑ کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ بچہ ماں باپ کے ارتباط سے پیدا ہوتا ہے۔
پھر جواب میں فرشتے نے کہا کہ اسی طرح ہوگا آپ کے پرودگا نے فرمایا ہے کہ یہ تو میرے لیے آسان ہے اور یہ اس لیے ہے کہ ہم اس لڑکے کو لوگوں کیلئے نشانی قرار دیں۔
"فَحَمَلَتْہُ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ مَکَاناً قَصِیّاَ"
ترجمہ: پس مریم اس بچہ سے حاملہ ہو گئی اور وہ اسے لیکر دور مقام پر چلی گئی۔
توجہ؛ حمل کا تعلق ولادت سے ہے نزول سے نہیں۔
"فَاَجَآءَھَا الْمَخَاضُ اِلیٰ جِزْعِ النَّخْلَةِ¤
ترجمہ: پھر زچگی کا درد انہیں کھجور کے تنے کی طرف لے گیا۔
■ آئیے اب ہم حضرت عیسیٰ کا قول نقل کرتے ہیں کہ اسکے بارے میں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کیا نظریہ تھا۔
قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول کو یوں نقل فرمایا:
"وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُ" (سورة مریم)
ترجمہ: سلام ہو مجھ پر جس دن میری ولادت ہوئی۔
■ روایات کی روشنی میں
جاری ہے ۔۔۔ بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
سب سے پہلے ہم ان الفاظ کے معنی ذکر کریں گے تاکہ قارئین کو بات سمجھنے میں مشکل نہ ہو۔
1⃣ ولادت: پیدا ہونا یعنی ماں کے شکم سے دنیا میں آنا۔
2⃣ نزول: اترنا، نازل ہونا۔
3⃣ ظہور: ظاہر ہونا یعنی کسی غائب چیز کا ظاہر ہونا۔
■ تعلق و رابطہ
ولادت کا تعلق ماں، باپ اور بیٹے سے ہے یعنی جس شخص کی ولادت ہوتی ہے وہ ماں اور باپ کے تعلق سے ہوتی ہے اور بعض اوقات اگر معجزۂ پروردگار سے بغیر باپ کے بھی کوئی بچہ دنیا میں آیا ہے تو اس کیلئے بھی قرآن نے لفظ ولادت استعمال کیا ہے کیونکہ بچہ کا ایک تعلق ہے اور وہ ماں ہے۔
■ ولادت کے مقابلے میں لفظ نزول ہے یعنی جو چیز نازل ہوتی ہے اس کا ماں، باپ اور بیٹے جیسے پاکیزہ رشتے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جیسے ملآئکہ۔
🔘 اب اگر ہم کہیں کہ انبیآء و آئمہ علیہم السلام کا نزول ہوتا ہے تو پھر ہمیں معاذ اللہ یہ کہنا پڑے گا کہ امام حسن و امام حسین علیہما السلام دونو ں بھائی نہیں اور امام علی علیہ السلام ان کے باپ نہیں ہیں وغیرہ
جب ان کی ولادت ہوتی ہی نہیں ہے ان کا نزول و ظہور ہوتا ہے تو یہ رشتہ کیسا؟
اگر یہ کہا جاۓ کہ ولادت نہیں نزول ہوتا ہے تو پھر نسل رسولؐ کا انکار کرنا پڑے گا کیونکہ نسل کا تعلق ہوتا ہے صلب اور رحم سے، ماں اور باپ سے۔ جب ولادت ہے ہی نہیں، ہے ہی نزول تو نسل رسولؐ کہاں سے آگئی؟ اور یہ موجودہ سادات کہاں سے آگئے؟
لہذا ہر عاقل شخص کو یہ ماننا پڑے گا کہ انبیآء و آئمہ علیہم السلام کا نزول و ظہور نہیں بلکہ ولادت ہوتی ہے۔
■ اب ہم قرآن مجید سے چند آیات آپ کی خدمت میں پیش کرینگے۔
جب حضرت زکریاؑ نے پرودگار سے اپنے بیٹے کیلئے استدعا کی تو جواب میں پروردگار نے فرمایا:
"یٰزَکَرِیّآ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمٍ اِسْمُہُ یَحْیٰ¤ لَمْ نَجْعَلْ لَّہُ مِنْ قَبْلِ سَمِیًّا¤ قَالَ رَبِّ اَنِّی یَکُوْنُ لِی غُلٰمࣨ وَّ کَانَتِ امْرَاَتِی عَاقِراً وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عَتِیّاً¤"
ترجمہ:
اے زکریا ہم آپ کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحیٰ ہے اس سے پہلے ہم نے کسی کو اسکا ہم نام نہیں بنایا۔ (حضرت زکریاؑ نے) عرض کی پروردگار میرے ہاں بیٹا کس طرح پیدا ہو گا جب کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بھی بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں۔
اگر آپ اس آیت میں حضرت زکریاؑ کے سوال پر غور کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضرت زکریاؑ کا بھی یہ نظریہ تھا کہ میرا وارث جو پیدا ہوگا وہ میرے اور میری زوجہ کے تعلق سے ہوگا اسی لیے کہا کہ کیسے بچہ ہو سکتا ہے جبکہ میری زوجہ بانجھ اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں۔
جواب میں پروردگار نے فرمایا:
"وَقَدْ خَلَقْتُکَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَکُ شَیْاً¤"
ترجمہ: کہا یہ تو میرے لیے آسان ہے چنانچہ اس سے پہلے خود آپ کو بھی تو میں نے پیدا کیا جب آپ کوئی چیز نہ تھے۔ (سورة مریم)
⬅: اور پھر الللہ ربّ العزت نے حضرت یحیٰ علیہ السلام پر سلام بھیجتے ہوئے فرمایا:
"وَ سَلٰمࣨ عَلَیْہِ یَومَ (وُلِدَ) وَیَومَ یَمُوت وَیَومَ حَیّاَ¤"
ترجمہ: اور سلام ہو ان پر جس دن ان کی (ولادت) ہوئی اور جس دن ان کی موت ہوئی اور جس دن انہیں زندہ کیا جاۓ گا۔
یہاں بھی واضح طور لفظ ولادت استعمال ہوا ہے نہ کہ نزول و ظہور۔
● مزید ملاحظہ فرمائیں
جب حضرت مریمؑ کو خبر دی گئی کہ آپ کو اللہ ربّ العزت بیٹا عطا فرماۓ گا تو حضرت مریمؑ نے کیا فرمایا:
"قَالَتْ اِنِّی یَکُونُ لِی غُلٰمࣨ وَلَمْ یَمْسَسْنِی بَشَرࣨ ولَمْ اَکُ بَغْیاً¤"
ترجمہ: مریم نے کہا میرے ہاں بیٹا کیسے ہو گا؟ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں کوئی بدکار بھی نہیں ہوں۔
حضرت مریمؑ کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ بچہ ماں باپ کے ارتباط سے پیدا ہوتا ہے۔
پھر جواب میں فرشتے نے کہا کہ اسی طرح ہوگا آپ کے پرودگا نے فرمایا ہے کہ یہ تو میرے لیے آسان ہے اور یہ اس لیے ہے کہ ہم اس لڑکے کو لوگوں کیلئے نشانی قرار دیں۔
"فَحَمَلَتْہُ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ مَکَاناً قَصِیّاَ"
ترجمہ: پس مریم اس بچہ سے حاملہ ہو گئی اور وہ اسے لیکر دور مقام پر چلی گئی۔
توجہ؛ حمل کا تعلق ولادت سے ہے نزول سے نہیں۔
"فَاَجَآءَھَا الْمَخَاضُ اِلیٰ جِزْعِ النَّخْلَةِ¤
ترجمہ: پھر زچگی کا درد انہیں کھجور کے تنے کی طرف لے گیا۔
■ آئیے اب ہم حضرت عیسیٰ کا قول نقل کرتے ہیں کہ اسکے بارے میں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کیا نظریہ تھا۔
قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول کو یوں نقل فرمایا:
"وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُ" (سورة مریم)
ترجمہ: سلام ہو مجھ پر جس دن میری ولادت ہوئی۔
■ روایات کی روشنی میں
جاری ہے ۔۔۔ بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
♦ آئمہؑ کی ولادت یا نزول و ظھور (2) ♦
بقیہ حصہ ۔۔۔
■ روایات کی روشنی میں
روایت میں ہے کہ حضرت فاطمہؑ بنت اسد خانہ کعبہ کے سامنے کھڑی ہو گئی اور غلاف کعبہ کو پکڑ کر آسمان کی طرف چہرہ بلند کرکے کہنا شروع کیا اے میرے پروردگار میں تجھ سے اور اس گھر اور جس نے اسکو بنایا اسکا واسطہ دے کر اس مولود کا واسطہ دیتی ہوں جو (فِی بَطَنِہٖ) میرے بطن میں ہے اور مجھ سے باتیں کرتا ہے اور اپنی باتوں سے مجھے انس و محبت عطا کرتا ہے۔
📚 الامالی للطوسی، شیخ طوسی محمد بن الحسن۔
مزید سینکڑوں روایات موجود ہیں جو ولادت انبیآ و آئمہ علیہم السلام پر دلالت کرتی ہیں۔
■ اعتراض
ہماری بھی ولادت ہوتی ہے اور انبیآء و آئمہ علیہم السلام کی بھی تو ہمارے اور انکے درمیان کیا فرق رہ گیا؟
جواب: اولاً یہ اعتراض ایک جاہلانہ اعتراض ہے جس کا مقصد فقط مومنین کے درمیان فتنہ و فساد پھیلانا ہے۔ لیکن اس کا جواب ہم مومنین کے اطمنیان قلب کیلئے ذکر کریں گے۔
دیکھیے کہ لفظ انسان ایک عالم شخص پر بھی صادق آتا ہے اور جاہل شخص پر بھی، ایک شرابی شخص پر بھی صادق آتا ہے اور متقی و پرہیز گار شخص پر بھی۔ آیا جاہل اور عالم برابر ہیں شرابی اور پرہیزگار شخص برابر ہیں ہر عقلمند شخص یہی کہے گا کہ ہرگز برابر نہیں ہیں۔ آخر کیوں ہیں تو سب انسان؟
کیونکہ مراتب میں فرق ہوتا ہے حقیقت میں نہیں حقیقت سب کی انسان ہے۔ اسی طرح ہماری اور ان کی ولادت میں زمین و آسمان کا فرق ہے جب ہماری ولادت ہوتی ہے تو ہماری ماؤں پر غسل واجب ہو جاتا ہے لیکن جب ان ھستیوں کی ولادت باسعادت ہوتی ہے تو ان کی ماؤں کو ایسی حاجت پیش نہیں آتی بلکہ سر سجدے میں رکھ کر مولود کے ساتھ خدا کی تسبیح کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
یہ الفاظ کہوں تو بے جا نہ ہوگا ان کی اور ہماری ولادت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کیونکہ ہماری ولادتیں نجاستوں کا مجموعہ ہوا کرتی ہیں اور ان کی ولادتیں طھارتوں کا مجموعہ ہوا کرتی ہیں۔ جیسے زیارت وارثہ میں ہے۔
"اَشْھَدُاَنَّکََ کُنْت نوراَ فِی الاَصْلَابِ الشَّامِخةِ وَالْاَرْحَامِ الْمُطَھَرَةِ"
ترجمہ:
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کا نور پاک صلبوں اور پاک رحموں میں تھا۔
توجہ: صلب اور رحم کا تعلق ولادت سے ہوتا ہے نزول سے نہیں۔ لہذا معلوم ہوا کہ انبیآء و آئمہ علیہم السلام کی ولادت ہوتی ہے نزول نہیں۔
https://t.me/islamwitheman/2266
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
بقیہ حصہ ۔۔۔
■ روایات کی روشنی میں
روایت میں ہے کہ حضرت فاطمہؑ بنت اسد خانہ کعبہ کے سامنے کھڑی ہو گئی اور غلاف کعبہ کو پکڑ کر آسمان کی طرف چہرہ بلند کرکے کہنا شروع کیا اے میرے پروردگار میں تجھ سے اور اس گھر اور جس نے اسکو بنایا اسکا واسطہ دے کر اس مولود کا واسطہ دیتی ہوں جو (فِی بَطَنِہٖ) میرے بطن میں ہے اور مجھ سے باتیں کرتا ہے اور اپنی باتوں سے مجھے انس و محبت عطا کرتا ہے۔
📚 الامالی للطوسی، شیخ طوسی محمد بن الحسن۔
مزید سینکڑوں روایات موجود ہیں جو ولادت انبیآ و آئمہ علیہم السلام پر دلالت کرتی ہیں۔
■ اعتراض
ہماری بھی ولادت ہوتی ہے اور انبیآء و آئمہ علیہم السلام کی بھی تو ہمارے اور انکے درمیان کیا فرق رہ گیا؟
جواب: اولاً یہ اعتراض ایک جاہلانہ اعتراض ہے جس کا مقصد فقط مومنین کے درمیان فتنہ و فساد پھیلانا ہے۔ لیکن اس کا جواب ہم مومنین کے اطمنیان قلب کیلئے ذکر کریں گے۔
دیکھیے کہ لفظ انسان ایک عالم شخص پر بھی صادق آتا ہے اور جاہل شخص پر بھی، ایک شرابی شخص پر بھی صادق آتا ہے اور متقی و پرہیز گار شخص پر بھی۔ آیا جاہل اور عالم برابر ہیں شرابی اور پرہیزگار شخص برابر ہیں ہر عقلمند شخص یہی کہے گا کہ ہرگز برابر نہیں ہیں۔ آخر کیوں ہیں تو سب انسان؟
کیونکہ مراتب میں فرق ہوتا ہے حقیقت میں نہیں حقیقت سب کی انسان ہے۔ اسی طرح ہماری اور ان کی ولادت میں زمین و آسمان کا فرق ہے جب ہماری ولادت ہوتی ہے تو ہماری ماؤں پر غسل واجب ہو جاتا ہے لیکن جب ان ھستیوں کی ولادت باسعادت ہوتی ہے تو ان کی ماؤں کو ایسی حاجت پیش نہیں آتی بلکہ سر سجدے میں رکھ کر مولود کے ساتھ خدا کی تسبیح کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
یہ الفاظ کہوں تو بے جا نہ ہوگا ان کی اور ہماری ولادت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کیونکہ ہماری ولادتیں نجاستوں کا مجموعہ ہوا کرتی ہیں اور ان کی ولادتیں طھارتوں کا مجموعہ ہوا کرتی ہیں۔ جیسے زیارت وارثہ میں ہے۔
"اَشْھَدُاَنَّکََ کُنْت نوراَ فِی الاَصْلَابِ الشَّامِخةِ وَالْاَرْحَامِ الْمُطَھَرَةِ"
ترجمہ:
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کا نور پاک صلبوں اور پاک رحموں میں تھا۔
توجہ: صلب اور رحم کا تعلق ولادت سے ہوتا ہے نزول سے نہیں۔ لہذا معلوم ہوا کہ انبیآء و آئمہ علیہم السلام کی ولادت ہوتی ہے نزول نہیں۔
https://t.me/islamwitheman/2266
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
♦ آئمہؑ کی ولادت یا نزول و ظھور (1) ♦
سب سے پہلے ہم ان الفاظ کے معنی ذکر کریں گے تاکہ قارئین کو بات سمجھنے میں مشکل نہ ہو۔
1⃣ ولادت: پیدا ہونا یعنی ماں کے شکم سے دنیا میں آنا۔
2⃣ نزول: اترنا، نازل ہونا۔
3⃣ ظہور: ظاہر ہونا یعنی کسی غائب چیز کا ظاہر ہونا۔…
سب سے پہلے ہم ان الفاظ کے معنی ذکر کریں گے تاکہ قارئین کو بات سمجھنے میں مشکل نہ ہو۔
1⃣ ولادت: پیدا ہونا یعنی ماں کے شکم سے دنیا میں آنا۔
2⃣ نزول: اترنا، نازل ہونا۔
3⃣ ظہور: ظاہر ہونا یعنی کسی غائب چیز کا ظاہر ہونا۔…
🔷 معصومينؑ کی ولادت یا ظہور (1) 🔷
پاکستان اور انڈیا میں جان بوجھ کر آئمہ معصومینؑ کی ولادت سے انکار کرنے اور شیعوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے لئے سوچی سمجھی سازش کے تحت ولادت باسعادت اور جشن میلاد کے بجائے نزول اور ظہور جیسے خود ساخته اور خلاف دین کلمات استعمال کرتے ہیں،
لہذا ہمیں شیعه اثناء عشری هونے کا ثبوت دیتے هوۓ ایسی سازشوں کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔
کچھ سالوں سے ایک خاص طبقه شیعوں میں ایک لفظی بحث چھیڑے ہوئے ہے وہ کہتے ہیں کہ معصوم کی ولادت نہیں بلکہ نزول اور ظھور ہوتا ہے ولادت تو ہم انسانوں کی ہوتی ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا انکا موقف درست ہے یا نہیں؟
سب سے پہلے تو ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان لوگوں کا ظہور یا نزول سے کیا مطلب ہے؟
یہ لوگ کہتے ہیں کہ
معصومینؑ کی ولادت نہیں ہوسکتی اور نہ ہی وہ اپنے اجداد (والد، دادا...) کے اصلاب میں ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنی امّہات (ماؤں) کے شکموں میں ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی ولادت ہوتی ہے۔
ان کا عقیدہ یہ ہے کہ معصومینؑ آسمان سے (Direct) براۂ راست نازل ہوتے ہیں اور شکموں اور ارحام میں نہیں ہوتے۔ ان کے عقیدے کی دلیل میں کوئی ایک بهی حدیث نہیں ہے البتہ قرآن کی ایک آیت میں جہاں نور کے نزول کی بات کی گئی ہے وہاں وہ نور سے مراد آئمہؑ لیتے ہیں جبکہ قرآن کے حکم کے مطابق یہاں نور سے مراد قرآن پاک ہے جو رسول اللہ(ص) کے ساتھ ہدایت کے لئے نازل کیا گیا۔
اور اگر آئمہؑ مراد بھی ہیں تو اس اعتبار سے کہ وہ قرآن کی جیتی جاگتی تفسیر (قرآن ناطق اور عملی قرآن) ہیں.
■ احادیث کی طرف جانے سے پہلے ہم اس نظریہ کے نقصانات کی طرف اشارہ کرینگے۔
(1) ﺟﺐ ﻭﻻﺩﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﺎﺭ کرنا ﮨﻮﮔﺎ. (کیونکه ظاهر هے جب کوئی پیدا ہی نہیں هوا تو قتل بهی نہیں هوا هوگا۔)
(2) ظہور و نزول کے قائل افراد کو زیارت وارثہ کا انکار کرنا پڑے گا کیونکہ زیارت وارثہ میں امام معصومؑ نے فرمایا:
"اشھد انک کنت نورا فی الاصلاب الشامخۃ والارحام المطھرۃ"
ترجمہ:
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ بلند ترین اصلاب اور پاکیزہ ترین ارحام میں نور الہی بن کر رہے۔
( امام معصومؑ تو کسی چیز کے هونے کی گواهی دیں اور یه لوگ صاف انکار کریں، تو کیا کسی شیعه کو یه نظریه قبول هوگا؟ هرگز نہیں)
یا اسی طرح امام معصومؑ فرماتے هیں که
"اشھد ان الائمۃ من ولدک کلمۃ التقوی"
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپکی اولاد کے امام سب کلمۂ تقوی ہیں۔
یہ بات یاد رھے کہ صلب و رحم اور اولاد کا تعلق ولادت سے ہوتا ھے نہ که نزول و ظهور سے۔ اور جہاں ظہور و نزول ہو وھاں ان الفاظ کا یعنی اصلاب و ارحام کا استعمال هرگز نہیں کیا جاتا۔
لہذا اس باطل اور فاسد عقیدے کو ماننے کے لئے امام معصومؑ کی بیان کرده زیارت وارثہ کا انکار کرنا ضروری ہوجائے گا.
(3) ﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﺯﯾﺎﺭﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﻌﺎﺭﻑ ایمان ﻭ ﻋﻘﺎﺋﺪ ﺳﮯ بھرﺮ ﭘﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ دشمنان محمد وآل محمدؑ پر لعنت کی گئی ﮨﮯ ﺍن تمام ﺴﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ گا اسلئے کہ جب کسی نے شہید ہی نہیں کیا ہے تو لعنت کس بات کی؟
(4) ﺟﺐ ﺍﺋﻤﮧ معصومینؑ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﻧﺴﻞ ﺳﺎﺩﺍﺕ کہاں سے وجود میں آگئی؟ کیا تمام سادات کا بھی نزول و ظہور ہوا ہے؟ یا یہ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺎﻭﭨﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﮍھی ﮨﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ لہذا اس عقیدے کے ماننے والے کو ﻧﺴﻞ ﺳﺎﺩﺍﺕ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ کرنا پڑے گا.
(5) نبئ اکرمؐ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽؑ، ﺣﻀﺮﺕ فاطمہ زھراءؑ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧؑ عج ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ جو ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ وارد ہوئی ہیں ﮐﮧ آپ ﺍﭘﻨﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺳﮯ ﺍنکے ﺑﻄﻦ ﻣﯿﮟ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ انکا دل بہلایا کرتے تهے سب کی سب جهوٹی هو جائیں گی۔ ان سب روایات سے انکار کرنا پڑے گا.
(6) جو معصومؑ کے ظہور کا عقیدہ رکھتے ہیں انکو عید میلاد النبیؐ اور جشن مولود کعبه کا انکار کرنا پڑے گا.
دنیا کے تمام مسلمان خواہ شیعہ ہوں یا اھلسنت تمام فرقے نبی کی ولادت کو عید میلاد النبیؐ کے نام سے یاد کرتے ہیں کسی نے بھی آپکی ولادت کو نزول یا ظہور سے کبهی بهی یاد نہیں کیا ھے.
لفظ مولید کا مصدر 'ولد' ایک عربی لفظ ہے۔ جس کے معنی تولید، یا جنم دینا، یا وارث کے ہیں۔
عصری دور میں مولد یا مولود یا میلاد کا لفظ حضرت محمدؐ کی ولادتِ مبارکہ کے لئے کثرت سے استعمال کیا جاتا هے.
عید المولِد النبویؐ یعنی عید ولادتِ حضرت محمدؐ۔
(7) امیرالمؤمنین امام علیؑ کی ایک ایسی فضیلت جسمیں ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔ بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیں۔
https://t.me/islamwitheman/2266
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
پاکستان اور انڈیا میں جان بوجھ کر آئمہ معصومینؑ کی ولادت سے انکار کرنے اور شیعوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے لئے سوچی سمجھی سازش کے تحت ولادت باسعادت اور جشن میلاد کے بجائے نزول اور ظہور جیسے خود ساخته اور خلاف دین کلمات استعمال کرتے ہیں،
لہذا ہمیں شیعه اثناء عشری هونے کا ثبوت دیتے هوۓ ایسی سازشوں کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔
کچھ سالوں سے ایک خاص طبقه شیعوں میں ایک لفظی بحث چھیڑے ہوئے ہے وہ کہتے ہیں کہ معصوم کی ولادت نہیں بلکہ نزول اور ظھور ہوتا ہے ولادت تو ہم انسانوں کی ہوتی ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا انکا موقف درست ہے یا نہیں؟
سب سے پہلے تو ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان لوگوں کا ظہور یا نزول سے کیا مطلب ہے؟
یہ لوگ کہتے ہیں کہ
معصومینؑ کی ولادت نہیں ہوسکتی اور نہ ہی وہ اپنے اجداد (والد، دادا...) کے اصلاب میں ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنی امّہات (ماؤں) کے شکموں میں ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی ولادت ہوتی ہے۔
ان کا عقیدہ یہ ہے کہ معصومینؑ آسمان سے (Direct) براۂ راست نازل ہوتے ہیں اور شکموں اور ارحام میں نہیں ہوتے۔ ان کے عقیدے کی دلیل میں کوئی ایک بهی حدیث نہیں ہے البتہ قرآن کی ایک آیت میں جہاں نور کے نزول کی بات کی گئی ہے وہاں وہ نور سے مراد آئمہؑ لیتے ہیں جبکہ قرآن کے حکم کے مطابق یہاں نور سے مراد قرآن پاک ہے جو رسول اللہ(ص) کے ساتھ ہدایت کے لئے نازل کیا گیا۔
اور اگر آئمہؑ مراد بھی ہیں تو اس اعتبار سے کہ وہ قرآن کی جیتی جاگتی تفسیر (قرآن ناطق اور عملی قرآن) ہیں.
■ احادیث کی طرف جانے سے پہلے ہم اس نظریہ کے نقصانات کی طرف اشارہ کرینگے۔
(1) ﺟﺐ ﻭﻻﺩﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﺎﺭ کرنا ﮨﻮﮔﺎ. (کیونکه ظاهر هے جب کوئی پیدا ہی نہیں هوا تو قتل بهی نہیں هوا هوگا۔)
(2) ظہور و نزول کے قائل افراد کو زیارت وارثہ کا انکار کرنا پڑے گا کیونکہ زیارت وارثہ میں امام معصومؑ نے فرمایا:
"اشھد انک کنت نورا فی الاصلاب الشامخۃ والارحام المطھرۃ"
ترجمہ:
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ بلند ترین اصلاب اور پاکیزہ ترین ارحام میں نور الہی بن کر رہے۔
( امام معصومؑ تو کسی چیز کے هونے کی گواهی دیں اور یه لوگ صاف انکار کریں، تو کیا کسی شیعه کو یه نظریه قبول هوگا؟ هرگز نہیں)
یا اسی طرح امام معصومؑ فرماتے هیں که
"اشھد ان الائمۃ من ولدک کلمۃ التقوی"
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپکی اولاد کے امام سب کلمۂ تقوی ہیں۔
یہ بات یاد رھے کہ صلب و رحم اور اولاد کا تعلق ولادت سے ہوتا ھے نہ که نزول و ظهور سے۔ اور جہاں ظہور و نزول ہو وھاں ان الفاظ کا یعنی اصلاب و ارحام کا استعمال هرگز نہیں کیا جاتا۔
لہذا اس باطل اور فاسد عقیدے کو ماننے کے لئے امام معصومؑ کی بیان کرده زیارت وارثہ کا انکار کرنا ضروری ہوجائے گا.
(3) ﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﺯﯾﺎﺭﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﻌﺎﺭﻑ ایمان ﻭ ﻋﻘﺎﺋﺪ ﺳﮯ بھرﺮ ﭘﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ دشمنان محمد وآل محمدؑ پر لعنت کی گئی ﮨﮯ ﺍن تمام ﺴﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ گا اسلئے کہ جب کسی نے شہید ہی نہیں کیا ہے تو لعنت کس بات کی؟
(4) ﺟﺐ ﺍﺋﻤﮧ معصومینؑ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﻧﺴﻞ ﺳﺎﺩﺍﺕ کہاں سے وجود میں آگئی؟ کیا تمام سادات کا بھی نزول و ظہور ہوا ہے؟ یا یہ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺎﻭﭨﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﮍھی ﮨﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ لہذا اس عقیدے کے ماننے والے کو ﻧﺴﻞ ﺳﺎﺩﺍﺕ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ کرنا پڑے گا.
(5) نبئ اکرمؐ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽؑ، ﺣﻀﺮﺕ فاطمہ زھراءؑ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧؑ عج ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ جو ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ وارد ہوئی ہیں ﮐﮧ آپ ﺍﭘﻨﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺳﮯ ﺍنکے ﺑﻄﻦ ﻣﯿﮟ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ انکا دل بہلایا کرتے تهے سب کی سب جهوٹی هو جائیں گی۔ ان سب روایات سے انکار کرنا پڑے گا.
(6) جو معصومؑ کے ظہور کا عقیدہ رکھتے ہیں انکو عید میلاد النبیؐ اور جشن مولود کعبه کا انکار کرنا پڑے گا.
دنیا کے تمام مسلمان خواہ شیعہ ہوں یا اھلسنت تمام فرقے نبی کی ولادت کو عید میلاد النبیؐ کے نام سے یاد کرتے ہیں کسی نے بھی آپکی ولادت کو نزول یا ظہور سے کبهی بهی یاد نہیں کیا ھے.
لفظ مولید کا مصدر 'ولد' ایک عربی لفظ ہے۔ جس کے معنی تولید، یا جنم دینا، یا وارث کے ہیں۔
عصری دور میں مولد یا مولود یا میلاد کا لفظ حضرت محمدؐ کی ولادتِ مبارکہ کے لئے کثرت سے استعمال کیا جاتا هے.
عید المولِد النبویؐ یعنی عید ولادتِ حضرت محمدؐ۔
(7) امیرالمؤمنین امام علیؑ کی ایک ایسی فضیلت جسمیں ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔ بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیں۔
https://t.me/islamwitheman/2266
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
♦ آئمہؑ کی ولادت یا نزول و ظھور (1) ♦
سب سے پہلے ہم ان الفاظ کے معنی ذکر کریں گے تاکہ قارئین کو بات سمجھنے میں مشکل نہ ہو۔
1⃣ ولادت: پیدا ہونا یعنی ماں کے شکم سے دنیا میں آنا۔
2⃣ نزول: اترنا، نازل ہونا۔
3⃣ ظہور: ظاہر ہونا یعنی کسی غائب چیز کا ظاہر ہونا۔…
سب سے پہلے ہم ان الفاظ کے معنی ذکر کریں گے تاکہ قارئین کو بات سمجھنے میں مشکل نہ ہو۔
1⃣ ولادت: پیدا ہونا یعنی ماں کے شکم سے دنیا میں آنا۔
2⃣ نزول: اترنا، نازل ہونا۔
3⃣ ظہور: ظاہر ہونا یعنی کسی غائب چیز کا ظاہر ہونا۔…
🔷 معصومينؑ کی ولادت یا ظہور (2) 🔷
بقیہ حصہ ۔۔۔۔
(7) امیرالمؤمنین امام علیؑ کی ایک ایسی فضیلت جسمیں ان کا کوئی ثانی نہیں یعنی امام علیؑ کا کعبه میں پیدا هونا، امام علیؑ کے لقب مولود کعبہ سے انکار کرنا ہوگا۔ جبکہ امام جعفر صادقؑ سے روایت ھے کہ جناب فاطمہؑ بنت اسد نے کعبہ کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا:
"وبهذا المولود الذي في أحشائي الذي يكلّمني ويؤنسني بحديثه، وأنا موقنة أنّه إحدى آياتك ودلائلك لمّا يسّرت عليَّ ولادتي:
ترجمہ:
اور تجھے اس مولود کا واسطہ کہ جو میرے بطن میں ھے جو مجھ سے باتیں کرتا ھے میری تنہائی میں مجھ سے گفتگو کرتا ہے مجھے یقین ھے یہ تیری نشانیوں میں سے ایک نشانی اور دلائل میں سے ایک دلیل ھے اسنے مجھ پر ولادت کو آسان بنادیا ہے۔
📚 الأمالي للطوسي: 706۔
اسکے علاوہ تمام شعراء عرب و عجم نے امام کی آمد کو ولادت سے ہی یاد فرمایا ہے جیسا کہ سید حمیریؒ نے کہا:
ولدته في حرم الإله وأمنه
والبيت حيث فناؤه والمسجد
بيضاء طاهرة الثياب كريمة
طابت وطاب وليدها والمولد
شیخ حسین نجفی قدس سرہ نے فرمایا
جعل الله بيته لعلي
مولداً يا له عُلا لا يضاهى
لم يشاركه في الولادة فيه
سيّد الرسل لا ولا أنبياها
📚 مناقب آل أبيطالب، 23۔ الغدير 6/29۔
(8) ﺍﮔﺮ ﻭﻻﺩﺕ ﮐﻮ ﻇﮩﻮﺭ ﮐﮯ ﻟﻔﻆ ﺳﮯ ﺑﺪﻝ ﺩینے کی ناکام کوشش کی ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﯾﮧ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ مؤمنین ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧ عج کے ﻇﮩﻮﺭ ﮐﯽ ﺟﻮ
ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ اور چاهت هے وه بالکل ختم هو جاۓ گی۔
امام زمان عج کی ولادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ھ کو ھوچکی هے۔ آپ کے ظھور کے بارے میں بے شمار احادیث موجود ہیں کہ آپکا ظھور آخری زمانے میں ھوگا لہذا اگر کچھ لوگ یہ مانتے ہیں کہ معصوم کا نزول یا ظہور ہوتا ہے تو انکو ماننا پڑے گا کہ امام زمانہ ابھی پیدا نہیں ھوئے۔
اگر نزول ہی ہوتا تو آقا زادی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا شکم میں جناب محسنؑ کی شہادت کا تذکرہ نہ فرماتیں۔
واللہ اعلم
https://t.me/islamwitheman/2268
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
بقیہ حصہ ۔۔۔۔
(7) امیرالمؤمنین امام علیؑ کی ایک ایسی فضیلت جسمیں ان کا کوئی ثانی نہیں یعنی امام علیؑ کا کعبه میں پیدا هونا، امام علیؑ کے لقب مولود کعبہ سے انکار کرنا ہوگا۔ جبکہ امام جعفر صادقؑ سے روایت ھے کہ جناب فاطمہؑ بنت اسد نے کعبہ کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا:
"وبهذا المولود الذي في أحشائي الذي يكلّمني ويؤنسني بحديثه، وأنا موقنة أنّه إحدى آياتك ودلائلك لمّا يسّرت عليَّ ولادتي:
ترجمہ:
اور تجھے اس مولود کا واسطہ کہ جو میرے بطن میں ھے جو مجھ سے باتیں کرتا ھے میری تنہائی میں مجھ سے گفتگو کرتا ہے مجھے یقین ھے یہ تیری نشانیوں میں سے ایک نشانی اور دلائل میں سے ایک دلیل ھے اسنے مجھ پر ولادت کو آسان بنادیا ہے۔
📚 الأمالي للطوسي: 706۔
اسکے علاوہ تمام شعراء عرب و عجم نے امام کی آمد کو ولادت سے ہی یاد فرمایا ہے جیسا کہ سید حمیریؒ نے کہا:
ولدته في حرم الإله وأمنه
والبيت حيث فناؤه والمسجد
بيضاء طاهرة الثياب كريمة
طابت وطاب وليدها والمولد
شیخ حسین نجفی قدس سرہ نے فرمایا
جعل الله بيته لعلي
مولداً يا له عُلا لا يضاهى
لم يشاركه في الولادة فيه
سيّد الرسل لا ولا أنبياها
📚 مناقب آل أبيطالب، 23۔ الغدير 6/29۔
(8) ﺍﮔﺮ ﻭﻻﺩﺕ ﮐﻮ ﻇﮩﻮﺭ ﮐﮯ ﻟﻔﻆ ﺳﮯ ﺑﺪﻝ ﺩینے کی ناکام کوشش کی ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﯾﮧ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ مؤمنین ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﺯﻣﺎﻧﮧ عج کے ﻇﮩﻮﺭ ﮐﯽ ﺟﻮ
ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ اور چاهت هے وه بالکل ختم هو جاۓ گی۔
امام زمان عج کی ولادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ھ کو ھوچکی هے۔ آپ کے ظھور کے بارے میں بے شمار احادیث موجود ہیں کہ آپکا ظھور آخری زمانے میں ھوگا لہذا اگر کچھ لوگ یہ مانتے ہیں کہ معصوم کا نزول یا ظہور ہوتا ہے تو انکو ماننا پڑے گا کہ امام زمانہ ابھی پیدا نہیں ھوئے۔
اگر نزول ہی ہوتا تو آقا زادی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا شکم میں جناب محسنؑ کی شہادت کا تذکرہ نہ فرماتیں۔
واللہ اعلم
https://t.me/islamwitheman/2268
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 معصومينؑ کی ولادت یا ظہور (1) 🔷
پاکستان اور انڈیا میں جان بوجھ کر آئمہ معصومینؑ کی ولادت سے انکار کرنے اور شیعوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے لئے سوچی سمجھی سازش کے تحت ولادت باسعادت اور جشن میلاد کے بجائے نزول اور ظہور جیسے خود ساخته اور خلاف دین کلمات…
پاکستان اور انڈیا میں جان بوجھ کر آئمہ معصومینؑ کی ولادت سے انکار کرنے اور شیعوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے لئے سوچی سمجھی سازش کے تحت ولادت باسعادت اور جشن میلاد کے بجائے نزول اور ظہور جیسے خود ساخته اور خلاف دین کلمات…
👹 کرونا وائرس 👹
■ کرونا وائرس 28 دن تک جسم میں چھپا رہتا ہے اور پھر 28 دنوں کے بعد یہ ساری رگوں کو جام (blocked) کر کے جیلی بنا دیتا ہے۔ اور پھر یہ کڈنیس (kidneys) کی رگوں کو بھی جام (blocked) کر کے موت کا سبب بنتا ہے۔
■ علامات
1: سانس کے مسائل (شدید)
2: بخار + کھانسی
3: نمونیہ (وائرل)
4: فلو (زکام، نزلہ)
5: سر درد
6: گلہ خراب ہونا
■ احتیاتی تدابیر
1: گلے کو خشک نہ رکھیں۔
2: تھوڑا تھوڑا گرم پانی پیتے رہیں۔
3: بڑے °50c تک پانی پیئیں۔
4: چھوٹے °30c تک پانی پیئیں۔
5: بھاپ بھی ضرور لیتے رہیں۔
6: پُر ہجوم جگہوں پر نہ جائیں۔
7: سفر کرتے وقت، گھر سے باہر جاتے وقت اور مارکیٹ وغیرہ جاتے وقت ماسک ضرور پہنیں۔
8: مصالحہ دار اور فرائی فوڈ سے گریز کریں۔
9: باہر سے آتے وقت فوراً ہاتھ دھوئیں۔
10: ہاتھوں کو آتے جاتے بار بار دھوتے رہیں۔
11: سبزياں اور پھل زیادہ استمعال کریں۔
12:گوشت سے پرہیز کریں۔
■ احتیاطی ورزش
جب ہم صبح اٹھتے ہیں تو کھڑے ہو کر گہری سانس لیں اوپر کی طرف کھنچیے اور 10 سیکنڈ تک روکیں اور پھر سانس کو چھوڑیں۔
اس عمل سے آپکے جسم کی جتنی رگیں ہیں (نسیں) اسکا خون واٹر سے کلئیر ہو جائیگا اور خون کا دوران (active) ہو جائیگا اور یہ پیشاب کے ذریعے خارج ہو جائیگا ان شاء اللہ۔
یہ ورزش خون کو جیلی بننے سے روکتی ہے۔ جو کہ نزلہ کھانسی کی صورت میں بلغم بنتا ہے یہ ورزش اسے جمنے نہیں دیگی ان شاء اللہ۔
حلق کو خشک نہ رہنے دیں جتنا ہو سکے پانی پیئیں۔ بار بار پانی پئیں۔
یہ ورزش دن میں تین سے چار مرتبہ ضرور کیجئے۔
اللہ سبحان و تعالٰی بحق چہاردہ معصومین علیھم السلام ہم سب کو ان وبائی امراض دور رکھے۔ الہی آمین
🔘 نوٹ:
اس بیماری کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ھوا، لہٰذا پرہیز و احتیاط کریں اور یہ پیغام صدقہ جاریہ سمجھ کے آگے شئیر کریں جزاك اللّه خيرًا۔
https://t.me/islamwitheman/3
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
■ کرونا وائرس 28 دن تک جسم میں چھپا رہتا ہے اور پھر 28 دنوں کے بعد یہ ساری رگوں کو جام (blocked) کر کے جیلی بنا دیتا ہے۔ اور پھر یہ کڈنیس (kidneys) کی رگوں کو بھی جام (blocked) کر کے موت کا سبب بنتا ہے۔
■ علامات
1: سانس کے مسائل (شدید)
2: بخار + کھانسی
3: نمونیہ (وائرل)
4: فلو (زکام، نزلہ)
5: سر درد
6: گلہ خراب ہونا
■ احتیاتی تدابیر
1: گلے کو خشک نہ رکھیں۔
2: تھوڑا تھوڑا گرم پانی پیتے رہیں۔
3: بڑے °50c تک پانی پیئیں۔
4: چھوٹے °30c تک پانی پیئیں۔
5: بھاپ بھی ضرور لیتے رہیں۔
6: پُر ہجوم جگہوں پر نہ جائیں۔
7: سفر کرتے وقت، گھر سے باہر جاتے وقت اور مارکیٹ وغیرہ جاتے وقت ماسک ضرور پہنیں۔
8: مصالحہ دار اور فرائی فوڈ سے گریز کریں۔
9: باہر سے آتے وقت فوراً ہاتھ دھوئیں۔
10: ہاتھوں کو آتے جاتے بار بار دھوتے رہیں۔
11: سبزياں اور پھل زیادہ استمعال کریں۔
12:گوشت سے پرہیز کریں۔
■ احتیاطی ورزش
جب ہم صبح اٹھتے ہیں تو کھڑے ہو کر گہری سانس لیں اوپر کی طرف کھنچیے اور 10 سیکنڈ تک روکیں اور پھر سانس کو چھوڑیں۔
اس عمل سے آپکے جسم کی جتنی رگیں ہیں (نسیں) اسکا خون واٹر سے کلئیر ہو جائیگا اور خون کا دوران (active) ہو جائیگا اور یہ پیشاب کے ذریعے خارج ہو جائیگا ان شاء اللہ۔
یہ ورزش خون کو جیلی بننے سے روکتی ہے۔ جو کہ نزلہ کھانسی کی صورت میں بلغم بنتا ہے یہ ورزش اسے جمنے نہیں دیگی ان شاء اللہ۔
حلق کو خشک نہ رہنے دیں جتنا ہو سکے پانی پیئیں۔ بار بار پانی پئیں۔
یہ ورزش دن میں تین سے چار مرتبہ ضرور کیجئے۔
اللہ سبحان و تعالٰی بحق چہاردہ معصومین علیھم السلام ہم سب کو ان وبائی امراض دور رکھے۔ الہی آمین
🔘 نوٹ:
اس بیماری کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ھوا، لہٰذا پرہیز و احتیاط کریں اور یہ پیغام صدقہ جاریہ سمجھ کے آگے شئیر کریں جزاك اللّه خيرًا۔
https://t.me/islamwitheman/3
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 وائرس کا حملہ اور موت کے امکان 🔷
🔷 وائرس کا نام : سارس
بیماری کی علامات: سانس لینے میں دشواری
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات: 36٪
🔶 وائرس کا نام: زیکا
بیماری کی علامات: جوڑوں کا درد اور جلد دار خارش
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات: 20٪
🔷 وائرس کا نام: ایبولا
بیماری کی علامات: کمزوری اور بخار
موت کا امکان: 90٪
🔶 وائرس کا نام: ماربرگ بخار
بیماری کی علامات: ہاضمہ کی پریشانیوں کے سبب 10 دن بعد موت
انفیکشن کے بعد مرنے کا امکان: 88٪
🔷 وائرس کا نام: نپاہ
بیماری کی علامات: ذہنی الجھن کے بعد موت
انفیکشن ہونے کے بعد مرنے کے امکانات: 75٪
🔶 وائرس کا نام: کریمین کانگو بخار
بیماری کی علامات: منہ اور ناک سے ٹکراؤ اور خون نکلنا
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات: 40٪
🔷 وائرس کا نام: انفلوئنزا
بیماری کی علامات: جلن اور گلے کی سوزش
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات: 13٪
🔶 وائرس کا نام: کورونا
بیماری کی علامات: سانس کی نالی میں انفیکشن
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات: 3٪
■ جتنا ہو سکے اس کو شئیر کریں۔
کرونا سے مرنے کی بڑی وجہ انسان کا خوف زدہ ہونا ہے۔
اور دوسری وجہ ایلوپیتھک میڈیسن سے علاج ہے۔
کیونکہ ایمیونٹی کے کم ہوتے ہی بیماری جسم پر حاوی ہو جاتی ہے۔
اگر ایمیونٹی یعنی قوت مدافعت طاقتور ہے تو انسان پر کوئی بھی بیماری حملہ آور نہیں ہو سکتی۔
اور اگر قوت مدافعت بڑھانی ہے تو فروٹس اور کچی سبزیاں کھائیں اور کوکونٹ کا پانی پئیں اور کولڈ ڈرنک فاسٹ فوڈ جنک فوڈ پراسیس فوڈ پیکڈ فوڈ بالکل چھوڑ دیں۔
● اگر صحت مند انسان بھی خوف زدہ ہو جائے تو وہ مر جائے گا جیسا کہ پرانا مقولہ ہے کہ ڈر موت کا بھائی ہے۔
https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 وائرس کا نام : سارس
بیماری کی علامات: سانس لینے میں دشواری
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات: 36٪
🔶 وائرس کا نام: زیکا
بیماری کی علامات: جوڑوں کا درد اور جلد دار خارش
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات: 20٪
🔷 وائرس کا نام: ایبولا
بیماری کی علامات: کمزوری اور بخار
موت کا امکان: 90٪
🔶 وائرس کا نام: ماربرگ بخار
بیماری کی علامات: ہاضمہ کی پریشانیوں کے سبب 10 دن بعد موت
انفیکشن کے بعد مرنے کا امکان: 88٪
🔷 وائرس کا نام: نپاہ
بیماری کی علامات: ذہنی الجھن کے بعد موت
انفیکشن ہونے کے بعد مرنے کے امکانات: 75٪
🔶 وائرس کا نام: کریمین کانگو بخار
بیماری کی علامات: منہ اور ناک سے ٹکراؤ اور خون نکلنا
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات: 40٪
🔷 وائرس کا نام: انفلوئنزا
بیماری کی علامات: جلن اور گلے کی سوزش
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات: 13٪
🔶 وائرس کا نام: کورونا
بیماری کی علامات: سانس کی نالی میں انفیکشن
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات: 3٪
■ جتنا ہو سکے اس کو شئیر کریں۔
کرونا سے مرنے کی بڑی وجہ انسان کا خوف زدہ ہونا ہے۔
اور دوسری وجہ ایلوپیتھک میڈیسن سے علاج ہے۔
کیونکہ ایمیونٹی کے کم ہوتے ہی بیماری جسم پر حاوی ہو جاتی ہے۔
اگر ایمیونٹی یعنی قوت مدافعت طاقتور ہے تو انسان پر کوئی بھی بیماری حملہ آور نہیں ہو سکتی۔
اور اگر قوت مدافعت بڑھانی ہے تو فروٹس اور کچی سبزیاں کھائیں اور کوکونٹ کا پانی پئیں اور کولڈ ڈرنک فاسٹ فوڈ جنک فوڈ پراسیس فوڈ پیکڈ فوڈ بالکل چھوڑ دیں۔
● اگر صحت مند انسان بھی خوف زدہ ہو جائے تو وہ مر جائے گا جیسا کہ پرانا مقولہ ہے کہ ڈر موت کا بھائی ہے۔
https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
👹 کرونا وائرس 👹
■ کرونا وائرس 28 دن تک جسم میں چھپا رہتا ہے اور پھر 28 دنوں کے بعد یہ ساری رگوں کو جام (blocked) کر کے جیلی بنا دیتا ہے۔ اور پھر یہ کڈنیس (kidneys) کی رگوں کو بھی جام (blocked) کر کے موت کا سبب بنتا ہے۔
■ علامات
1: سانس کے مسائل (شدید)…
■ کرونا وائرس 28 دن تک جسم میں چھپا رہتا ہے اور پھر 28 دنوں کے بعد یہ ساری رگوں کو جام (blocked) کر کے جیلی بنا دیتا ہے۔ اور پھر یہ کڈنیس (kidneys) کی رگوں کو بھی جام (blocked) کر کے موت کا سبب بنتا ہے۔
■ علامات
1: سانس کے مسائل (شدید)…
🔶 قرآن سے بال نکلنا 🔶
کرونا وائرس کا ڈر اور سادہ لوح عوام
جب سے کرونا وائرس پھیلا ہے تب سے ہر شخص اس کے سستے اور خود ساختہ علاج سوشل میڈیا پر شئیر کر رہا ہے اور سادہ لوح، کم علم، کمزور عقیدہ والی اور موت سے انتہا سے زیادہ ڈری ہوئی عوام ہر ایسی چیز کو اندھا دھند فارورڈ کر رہی ہے جس میں کرونا کے علاج کی کوئی بھی بات کر دی جائے...
یہ لوگ کرونا سے تو ان شاء اللہ بچ ہی جاتے لیکن افسوس یہ لوگ جھوٹ پھیلانے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف پر تہمت باندھنے سے نہیں بچ پائے ہیں..
مختلف آڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جن میں کہا جارہا ہے کہ قرآن کھولیں اور سورہ بقرۃ میں غور سے تلاش کریں تو کوئی ایک چھوٹا سا بھی بال چاہے وہ سر کا ہو یا ڈاڑھی کا آپکو ملے گے، کچھ آڈیوز میں کہا جاتا ہے کہ یہ بال نبی ص کا ہے اور کچھ میں کہا جاتا ہے کہ یہ امام زمانہ علیہ السلام کا بال ہے، اور کہا جاتا ہے کہ اسکو پانی میں مکس کر کے پئیں تو کرونا سے بچ جائیں گے۔
■ ان آڈیوز کا تجزیہ
سوال 1: ان آڈیوز میں سور بقرہ کا نام ہی کیوں لیا جا رہا ہے کیوں سورہ قدر، سورہ ناس و فلق جیسی چھوٹی سورہ کا ذکر نہیں؟
جواب: کیونکہ یہ سورہ قرآن کے آغاز میں ہے لہذا اکثر لوگ اسے اکثر پڑھتے ہیں کیونکہ جب بھی ماہ رمضان میں یا دیگر ایام میں وہ قرآن پڑھنے کا ارادہ کرتے ہیں تو بھلے ہی وہ ماہ رمضان یا دیگر ایام میں پورا قرآن نہ بھی پڑھ پائیں لیکن سورہ بقرہ ضرور پڑھ لیتے ہیں کیونکہ یہ قرآن کے آغاز میں ہے اور پھر یہ سب سے بڑا قرآنی سورۃ ہے تو اس میں تو کہیں نہ کہیں سے کسی بچے عورت یا بزرگ یا کسی نہ کسی کا کوئی نہ کوئی چھوٹا سا بال بھی مل ہی جائے گا جو قرآن پڑھتے ہوئے گر گیا ہوگا..
♦️بس اب سب لوگ اپنے ہی بال قرآن میں ڈھونڈ رہے ہیں اور مل جانے پر پانی میں مکس کر کے پی رہے ہیں...
سوال 2: یہ بال پرانے قرآنی نسخوں جنکو ہم سالہا سال سے پڑھ رہے ہیں ان میں سے ہی کیوں مل رہے ہیں؟
جواب: بال کا گرنا ایک نارمل بات ہے ویسی ہی پاکستان میں اکثر لوگوں کے بال کمزور ہیں اور دوسرا یہ کہ ہر شخص جس کے بال جتنے بھی مضبوط کیوں نہ ہوں وہ تھوڑے بہت گرتے ہی رہتے ہیں اور انکی جگہ پر نئے بال اگتے رہتے ہیں..
مزے کی بات یہ یے کہ سب کو یہ بال پرانے قرآنی نسخوں میں سے ہی مل رہے ہیں لیکن کسی کو بھی بالکل نئے اشاعت شدہ قرآنی نسخے میں سے بال نہیں مل رہے۔۔
♦️کیونکہ اس کو کسی نے ابھی تک اتنا پڑھا ہی نہیں ہے کہ اس لئے اس میں ابھی بال گر ہی نہیں پایا۔
♦️ممکن ہے چند دن اس قرآنی نسخے کو پڑھیں تو ضرور اس میں سے بال نکل آئے گا۔
سوال 3: کچھ آڈیوز میں کہا جا رہا ہے کہ کہ نبی ص کے ہیں اور کچھ میں یہ کہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ہیں ایسا کیوں؟
ظاہر ہے بھائی، اہلسنت کو کسی بھی من گھڑت کہانی کے پیچھے لگانا ہو تو لوگ نبی کریم ص کا نام لے کر جھوٹا واقعہ پھیلاتے ہیں اور اہل تشیع کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کا نام استعمال کیا جا رہا ہے،
مقصد عوام کو بیوقوف بنانا ہی تو ہے۔
سوال 4: کیسے پتا چلے کہ یہ بال نبی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم یا امام زمانہ عجل اللہ فرجہ کے ہیں یا نہیں؟
بھائیوں اور بہنوں سادہ سا فارمولا ہے جو ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام نے ہی بتایا ہے۔۔۔
ایک شخص آئمہ میں سے کسی امام کے پاس آیا اور کہا کہ میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موئے مبارک (بال) ہیں،
امام نے آگ منگوائی اور ان بالوں کو آگ کے سپرد کیا تو ان میں سے اکثر بال جل گئے لیکن چند ایک بچ گئے،
پس امام علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ بال جنکو آگ نے جلا دیا وہ نبی کریم ص کے نہیں تھے لیکن یہ بچ جانے والے بال نبی کریم ص کے ہی ہیں کیونکہ کہ معصومین علیہم السلام کے بدن پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
لو بھائیوں اور بہنوں مسئلہ حل ہو گیا، جس جس کو قرآن میں سے بال مل رہے ہیں وہ ان بالوں کو پانی میں مکس کر کے پینے سے پہلے ایک بار آگ لگا کر دیکھ لیں اگر تو جل گئے تو معلوم ہو جائیگا کہ یہ ہمارے ہی گھر میں کسی کے بال ہیں جو قرآن پڑھتے ہوئے اس میں گر گئے تھے۔
اور اگر انکو آگ نہ جلا پائے تو بالکل پانی میں مکس کر کے پئیں اور پورے محلے کو بھی پلائیں۔
تحریر: ذیشان کاظمی
https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
کرونا وائرس کا ڈر اور سادہ لوح عوام
جب سے کرونا وائرس پھیلا ہے تب سے ہر شخص اس کے سستے اور خود ساختہ علاج سوشل میڈیا پر شئیر کر رہا ہے اور سادہ لوح، کم علم، کمزور عقیدہ والی اور موت سے انتہا سے زیادہ ڈری ہوئی عوام ہر ایسی چیز کو اندھا دھند فارورڈ کر رہی ہے جس میں کرونا کے علاج کی کوئی بھی بات کر دی جائے...
یہ لوگ کرونا سے تو ان شاء اللہ بچ ہی جاتے لیکن افسوس یہ لوگ جھوٹ پھیلانے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف پر تہمت باندھنے سے نہیں بچ پائے ہیں..
مختلف آڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جن میں کہا جارہا ہے کہ قرآن کھولیں اور سورہ بقرۃ میں غور سے تلاش کریں تو کوئی ایک چھوٹا سا بھی بال چاہے وہ سر کا ہو یا ڈاڑھی کا آپکو ملے گے، کچھ آڈیوز میں کہا جاتا ہے کہ یہ بال نبی ص کا ہے اور کچھ میں کہا جاتا ہے کہ یہ امام زمانہ علیہ السلام کا بال ہے، اور کہا جاتا ہے کہ اسکو پانی میں مکس کر کے پئیں تو کرونا سے بچ جائیں گے۔
■ ان آڈیوز کا تجزیہ
سوال 1: ان آڈیوز میں سور بقرہ کا نام ہی کیوں لیا جا رہا ہے کیوں سورہ قدر، سورہ ناس و فلق جیسی چھوٹی سورہ کا ذکر نہیں؟
جواب: کیونکہ یہ سورہ قرآن کے آغاز میں ہے لہذا اکثر لوگ اسے اکثر پڑھتے ہیں کیونکہ جب بھی ماہ رمضان میں یا دیگر ایام میں وہ قرآن پڑھنے کا ارادہ کرتے ہیں تو بھلے ہی وہ ماہ رمضان یا دیگر ایام میں پورا قرآن نہ بھی پڑھ پائیں لیکن سورہ بقرہ ضرور پڑھ لیتے ہیں کیونکہ یہ قرآن کے آغاز میں ہے اور پھر یہ سب سے بڑا قرآنی سورۃ ہے تو اس میں تو کہیں نہ کہیں سے کسی بچے عورت یا بزرگ یا کسی نہ کسی کا کوئی نہ کوئی چھوٹا سا بال بھی مل ہی جائے گا جو قرآن پڑھتے ہوئے گر گیا ہوگا..
♦️بس اب سب لوگ اپنے ہی بال قرآن میں ڈھونڈ رہے ہیں اور مل جانے پر پانی میں مکس کر کے پی رہے ہیں...
سوال 2: یہ بال پرانے قرآنی نسخوں جنکو ہم سالہا سال سے پڑھ رہے ہیں ان میں سے ہی کیوں مل رہے ہیں؟
جواب: بال کا گرنا ایک نارمل بات ہے ویسی ہی پاکستان میں اکثر لوگوں کے بال کمزور ہیں اور دوسرا یہ کہ ہر شخص جس کے بال جتنے بھی مضبوط کیوں نہ ہوں وہ تھوڑے بہت گرتے ہی رہتے ہیں اور انکی جگہ پر نئے بال اگتے رہتے ہیں..
مزے کی بات یہ یے کہ سب کو یہ بال پرانے قرآنی نسخوں میں سے ہی مل رہے ہیں لیکن کسی کو بھی بالکل نئے اشاعت شدہ قرآنی نسخے میں سے بال نہیں مل رہے۔۔
♦️کیونکہ اس کو کسی نے ابھی تک اتنا پڑھا ہی نہیں ہے کہ اس لئے اس میں ابھی بال گر ہی نہیں پایا۔
♦️ممکن ہے چند دن اس قرآنی نسخے کو پڑھیں تو ضرور اس میں سے بال نکل آئے گا۔
سوال 3: کچھ آڈیوز میں کہا جا رہا ہے کہ کہ نبی ص کے ہیں اور کچھ میں یہ کہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ہیں ایسا کیوں؟
ظاہر ہے بھائی، اہلسنت کو کسی بھی من گھڑت کہانی کے پیچھے لگانا ہو تو لوگ نبی کریم ص کا نام لے کر جھوٹا واقعہ پھیلاتے ہیں اور اہل تشیع کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کا نام استعمال کیا جا رہا ہے،
مقصد عوام کو بیوقوف بنانا ہی تو ہے۔
سوال 4: کیسے پتا چلے کہ یہ بال نبی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم یا امام زمانہ عجل اللہ فرجہ کے ہیں یا نہیں؟
بھائیوں اور بہنوں سادہ سا فارمولا ہے جو ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام نے ہی بتایا ہے۔۔۔
ایک شخص آئمہ میں سے کسی امام کے پاس آیا اور کہا کہ میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موئے مبارک (بال) ہیں،
امام نے آگ منگوائی اور ان بالوں کو آگ کے سپرد کیا تو ان میں سے اکثر بال جل گئے لیکن چند ایک بچ گئے،
پس امام علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ بال جنکو آگ نے جلا دیا وہ نبی کریم ص کے نہیں تھے لیکن یہ بچ جانے والے بال نبی کریم ص کے ہی ہیں کیونکہ کہ معصومین علیہم السلام کے بدن پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
لو بھائیوں اور بہنوں مسئلہ حل ہو گیا، جس جس کو قرآن میں سے بال مل رہے ہیں وہ ان بالوں کو پانی میں مکس کر کے پینے سے پہلے ایک بار آگ لگا کر دیکھ لیں اگر تو جل گئے تو معلوم ہو جائیگا کہ یہ ہمارے ہی گھر میں کسی کے بال ہیں جو قرآن پڑھتے ہوئے اس میں گر گئے تھے۔
اور اگر انکو آگ نہ جلا پائے تو بالکل پانی میں مکس کر کے پئیں اور پورے محلے کو بھی پلائیں۔
تحریر: ذیشان کاظمی
https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
👹 کرونا وائرس 👹
■ کرونا وائرس 28 دن تک جسم میں چھپا رہتا ہے اور پھر 28 دنوں کے بعد یہ ساری رگوں کو جام (blocked) کر کے جیلی بنا دیتا ہے۔ اور پھر یہ کڈنیس (kidneys) کی رگوں کو بھی جام (blocked) کر کے موت کا سبب بنتا ہے۔
■ علامات
1: سانس کے مسائل (شدید)…
■ کرونا وائرس 28 دن تک جسم میں چھپا رہتا ہے اور پھر 28 دنوں کے بعد یہ ساری رگوں کو جام (blocked) کر کے جیلی بنا دیتا ہے۔ اور پھر یہ کڈنیس (kidneys) کی رگوں کو بھی جام (blocked) کر کے موت کا سبب بنتا ہے۔
■ علامات
1: سانس کے مسائل (شدید)…
🔷 قرآن میں بال 🔷
۱: کیسے معلوم ھو یہ بال کسکا ہے؟
۲: سورہ بقرہ میں بال کا واقعہ کتنا صحیح ہے..؟؟
۳: یہ واقعہ آئمہ (ع) پر تہمت ھے یا نہیں؟ خود سوچیں۔
ایک خاتون کی آڈیو سوشل میڈیا پر چل رہی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ایران میں کسی عالم دین نے رسول ص اور امام زمانہ ع کے بال مبارک کو دیکھا ہے اور کرونا وائرس کے مریض اسکو پانی میں ڈال کر پیئیں تو شفا ملے گی۔
تو یہ بات صحیح اور معتبر نہیں ھے
کیونکہ وہ عالم جنہوں نے خواب دیکھا ھے وہ کون ہیں؟
کہاں ہیں؟
انکا نام کیا ہے؟
اسکے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے
نہ کسی نے معلوم کرنے کی کوشش کی
اور نہ ہی اس بارے میں کوئی بتا سکتا ہے۔
دوسری بات عرض خدمت ہے کہ اس وقت پورے ایران میں جہاں ابھی کرونا وائرس کی لپیٹ میں مریض ہیں کتنے موت کے گھاٹ اتر گئے ہیں لیکن وہاں کے لوگوں کو اس خواب کی خبر کیوں نہیں ھے؟
ایران ، عراق اور دیگر ممالک اس خواب سے بے خبر کیوں ہیں؟
کیا فقط انڈیا اور پڑوسی ملک میں ہی یہ وائرس ہے..؟؟؟
اب آپ خود سوچیں سورہ بقرہ میں بال کا واقعہ کتنا صحیح ہے..؟؟
کیسے معلوم ھو یہ بال کسکا ہے؟
اس موضوع پر آپسی اختلافات کی وجہ سے مومنین میں قطع تعلق تک بات پہنچ گئی ہے۔
اختلاف ختم کرنے کے لئے ایک مشورہ ہے۔۔۔
ان مبارک چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے دنیا مشرق سے مغرب چل دیتی ہے
آپ ان بالوں کا ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کروا لیں اور اختلاف کرنے والوں کی زبانوں کو بند کر دیں۔
حال ہی میں کرونا وائرس سے تحفظ کے لئے
آیت سید علی حسینی خامنه ای
آیت اللہ وحید خراسانی
آیت اللہ جوادی آملی
آیت اللہ مکارم شیرازی
آیت اللہ علوی گرگانی
اور ایران کے دیگر عظیم مراجع کرام نے صحیفہ سجادیہ سے دعائیں و دیگر دعائیں اور زیارات پڑھنے کی تاکید کی ہے۔
لیکن
ان میں سے کسی کے خواب میں بال کا واقعہ کیوں پیش نہیں آیا..؟؟
اور ایران میں کون ایسے عظیم مرجع ہیں ان مراجع کے علاوہ کہ جنکے خواب میں بال مبارک کا واقعہ پیش آیا..؟؟
یہ واقعہ آئمہ (ع) پر تہمت ھے یا نہیں خود سوچیں؟
آئمہ علیہم السلام نے ہر بیماری کا علاج قرآن مجید، زیارات، طب اسلامی اور دعاؤں میں بتا دیا ہے بس ان سے ہی اپنی حفاظت کریں۔
نوٹ: اس بال کیوجہ سے ایک مثبت اثر ضرور ھوا ھے کہ کچھ لوگوں کے گھروں میں قرآن کھل گیا اور اس کی جلد پر سے گرد و غبار صاف ہو گئی۔
(یاد رکھیں ہر پڑھی جانے والی دعاؤں کی کتابوں میں یا دیگر کتابوں کے بھی بال مل جائے گا اگر بغور دیکھا جائے)
✍🏼 الاحقر سید ایمان احمد (قم ایران)
https://t.me/islamwitheman/2278
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
۱: کیسے معلوم ھو یہ بال کسکا ہے؟
۲: سورہ بقرہ میں بال کا واقعہ کتنا صحیح ہے..؟؟
۳: یہ واقعہ آئمہ (ع) پر تہمت ھے یا نہیں؟ خود سوچیں۔
ایک خاتون کی آڈیو سوشل میڈیا پر چل رہی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ایران میں کسی عالم دین نے رسول ص اور امام زمانہ ع کے بال مبارک کو دیکھا ہے اور کرونا وائرس کے مریض اسکو پانی میں ڈال کر پیئیں تو شفا ملے گی۔
تو یہ بات صحیح اور معتبر نہیں ھے
کیونکہ وہ عالم جنہوں نے خواب دیکھا ھے وہ کون ہیں؟
کہاں ہیں؟
انکا نام کیا ہے؟
اسکے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے
نہ کسی نے معلوم کرنے کی کوشش کی
اور نہ ہی اس بارے میں کوئی بتا سکتا ہے۔
دوسری بات عرض خدمت ہے کہ اس وقت پورے ایران میں جہاں ابھی کرونا وائرس کی لپیٹ میں مریض ہیں کتنے موت کے گھاٹ اتر گئے ہیں لیکن وہاں کے لوگوں کو اس خواب کی خبر کیوں نہیں ھے؟
ایران ، عراق اور دیگر ممالک اس خواب سے بے خبر کیوں ہیں؟
کیا فقط انڈیا اور پڑوسی ملک میں ہی یہ وائرس ہے..؟؟؟
اب آپ خود سوچیں سورہ بقرہ میں بال کا واقعہ کتنا صحیح ہے..؟؟
کیسے معلوم ھو یہ بال کسکا ہے؟
اس موضوع پر آپسی اختلافات کی وجہ سے مومنین میں قطع تعلق تک بات پہنچ گئی ہے۔
اختلاف ختم کرنے کے لئے ایک مشورہ ہے۔۔۔
ان مبارک چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے دنیا مشرق سے مغرب چل دیتی ہے
آپ ان بالوں کا ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کروا لیں اور اختلاف کرنے والوں کی زبانوں کو بند کر دیں۔
حال ہی میں کرونا وائرس سے تحفظ کے لئے
آیت سید علی حسینی خامنه ای
آیت اللہ وحید خراسانی
آیت اللہ جوادی آملی
آیت اللہ مکارم شیرازی
آیت اللہ علوی گرگانی
اور ایران کے دیگر عظیم مراجع کرام نے صحیفہ سجادیہ سے دعائیں و دیگر دعائیں اور زیارات پڑھنے کی تاکید کی ہے۔
لیکن
ان میں سے کسی کے خواب میں بال کا واقعہ کیوں پیش نہیں آیا..؟؟
اور ایران میں کون ایسے عظیم مرجع ہیں ان مراجع کے علاوہ کہ جنکے خواب میں بال مبارک کا واقعہ پیش آیا..؟؟
یہ واقعہ آئمہ (ع) پر تہمت ھے یا نہیں خود سوچیں؟
آئمہ علیہم السلام نے ہر بیماری کا علاج قرآن مجید، زیارات، طب اسلامی اور دعاؤں میں بتا دیا ہے بس ان سے ہی اپنی حفاظت کریں۔
نوٹ: اس بال کیوجہ سے ایک مثبت اثر ضرور ھوا ھے کہ کچھ لوگوں کے گھروں میں قرآن کھل گیا اور اس کی جلد پر سے گرد و غبار صاف ہو گئی۔
(یاد رکھیں ہر پڑھی جانے والی دعاؤں کی کتابوں میں یا دیگر کتابوں کے بھی بال مل جائے گا اگر بغور دیکھا جائے)
✍🏼 الاحقر سید ایمان احمد (قم ایران)
https://t.me/islamwitheman/2278
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔶 قرآن سے بال نکلنا 🔶
کرونا وائرس کا ڈر اور سادہ لوح عوام
جب سے کرونا وائرس پھیلا ہے تب سے ہر شخص اس کے سستے اور خود ساختہ علاج سوشل میڈیا پر شئیر کر رہا ہے اور سادہ لوح، کم علم، کمزور عقیدہ والی اور موت سے انتہا سے زیادہ ڈری ہوئی عوام ہر ایسی چیز کو اندھا…
کرونا وائرس کا ڈر اور سادہ لوح عوام
جب سے کرونا وائرس پھیلا ہے تب سے ہر شخص اس کے سستے اور خود ساختہ علاج سوشل میڈیا پر شئیر کر رہا ہے اور سادہ لوح، کم علم، کمزور عقیدہ والی اور موت سے انتہا سے زیادہ ڈری ہوئی عوام ہر ایسی چیز کو اندھا…
📖 کرونا وائرس اور نہج البلاغہ 📖
آج کل کرونا کی وجہ سے نہج البلاغہ اور مولا علیؑ کی طرف ایک نسبت دی جا رہی ھے کہ آپ نے اس بیماری کے چمگاڈر سے پھیلنے کی طرف چودہ سو سال پہلے ہی فرما دیا تھا۔ اس کے بارے میں کچھ عرائض پیش خدمت ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آپؑ باب العلم ہیں اور آپؑ نے آخری زمانہ کے بارے بہت سی پیشگوئیاں فرمائی ہیں۔
اور نہج البلاغہ میں چمگاڈر کے متعلق اسکی خلقت کی شگفتی اور زندگی کے بارے ارشاد فرمایا ہے. لیکن
جو مفتی جعفر اعلی اللہ مقامہ کی کتاب میں چمگاڈر کا بیماری کو سبب ھونا ذکر ھے وہ انکا اپنا حاشیہ ھے نہ کہ خطبہ کا حصہ. جہاں پر وہ چمگاڈر کی اقسام بیان فرماتے ھیں:
(بعض گوشت خوار ھوتی ہیں جو مچھلی کا شکار کرتی ھیں. شمالی امریکہ کی تاریک غاروں میں خونخوار چمگاڈریں بھی کثرت سے پائی جاتی ھیں. یہ بڑی خطرناک اور مہلک ھوتی ھیں. انکی خوراک انسانی اور حیوانی خون ھے. جب یہ انسان کا خون چوستی ہیں تو خون میں زھر سرایت کر جاتا ھے. جسکے نتیجہ میں پہلے ہلکا سا بخار اور درد سر ھوتا ھے. پھر سانس کی نالی متورم ھو جاتی ھے. کھانا پینا چھوٹ جاتا ھے اور جسم کا نچلا حصہ بے حرکت ھو جاتا ھے. آخر سانس کی آمد و شد رک جاتی ھے اور وہ دم توڑ جاتا ھے.)
■ اب کچھ سوالات ذھن میں خطور کئے ھیں.
1: مولا علیؑ نے خطبہ میں کسی جگہ چمگاڈر کا منشاء بیماری ھونے کی طرف اشارہ نہیں فرمایا۔
اس صورت میں کہ امامؑ نے تو چمگاڈر کا بیماری کا موجب بننے کی طرف خطبہ میں کوئی اشارہ نہیں کیا،
آیا ہمارا کرونا وائرس پر تطبیق دے کر مولا ع کی طرف نسبت دینا درست ھے؟؟
2: علامہ مفتی جعفر رحمہ اللہ نے نہج البلاغہ کی شرح میں اس نکتہ کو بیان فرمایا ہے۔
اور انکے علاوہ بندہ نے جتنی بھی عربی اور فارسی شروحات میں نظر کی ہے، کسی شارح نے بھی اس نکتہ کی طرف اشارہ نہیں فرمایا ہے۔
اس سے یہ بات ثابت ہوتی ھے کہ امام علی علیہ السلام نے چمگاڈر کا بیماری کا موجب بننے کی طرف کوئی بات نہیں کی وگرنہ کوئی نہ کوئی شارح ضرور بیان فرماتا۔
ثانیا: مفتی صاحب کی یہ تحقیق اسلامی منابع سے نہیں ھے.
وگرنہ حوالہ ضرور فرماتے کہ فلان امام نے فرمایا یا فلان کتاب میں ھے۔
پس انکی یہ شرح، ایک سائنسی تحقیق کے مطالعہ کا نتیجہ ہوسکتی ہے کہ جسکو اصل موضوع چمگاڈر سےانہوں نے ملا دیا ھے. اور یہ ایک بہت اچھی کاوش ہے۔
اگر کوئی سوال کرے کہ یہ تو ایک سائنسی تحقیق ھے اور کہیں بھی امام علیؑ نے چمگاڈر کے ذریعے بیماری کا نہیں فرمایا۔
اور آپ ایک سائنسی تحقیق کو مولا علیہ السلام کی طرف نسبت دے رھے ھیں، تو اس سوال کا جواب کیا دیں گے؟
اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر علم کی اساس یہی گھرانہ ہے لیکن بات صرف یہ خطبہ اور کرونا بیماری کےتعلق کی ہے۔
اور بات ایک نظریہ کو کسی کی طرف ثابت کرنے کی ہے اور وہ بھی ایسے خطبہ سے کہ جس میں خود متکلم نے اس کی طرف اشارہ نہیں کیا!
3: اگرچہ چین نے بھی کرونا کا منشا چمگادڑ ھونے کو یقینی نہیں کہا۔
اگر بعد میں تحقیق سے ثابت ہو جائے کہ چمگاڈر اس بیماری کا سبب نہیں بنی، جیسا کہ اس پر کافی رد آچکی ہیں۔
تو کیا ھمارا یہ مستقیم مولا علیؑ کی طرف نسبت دینا، تضحیک کا سبب نہیں بن سکتا؟
4: مفتی جعفر صاحب اعلی اللہ مقامہ تو جانتے تھے اور انہوں نے اپنی شرح میں یہ نہیں فرمایا کہ مولا ع نے بھی اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اور اس صورت میں ہم اگر یہ بات مفتی صاحب کی نسبت دے کر بیان کریں کہ انہوں نے شرح میں فرمایا: کہ امام علیؑ کے خطبہ سے میں نے اس بات کو اخذ کیا ہے۔
تو کیا یہ ان پرتہمت نہیں ہوگی؟
5: آخر میں اس سوال کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں، آیا جو بات آئمہؑ نے نہ کی ہو اور ہم انکی طرف نسبت دے دیں، اور ہوں بھی روزہ کی حالت میں تو کیا ہمارا روزہ صحیح ہوگا؟
پس عرض ہے کہ ان سوالات کے بارے بندہ کی رہنمائی فرماتے ہوئے اس مسئلہ کو اہمیت دیں۔
🔘 مھم نکتہ:
اگر کوئی بزرگ تحریر کے حوالے سے کچھ بیان فرمانا چاھے تو رابطہ کر سکتے ہیں. مہربانی فرما کر اس تحریر کو مثبت انداز سے دیکھنے کی کوشش فرمائیں چونکہ واقعا ذھن میں یہ سوالات تھے۔
تحریر: سید مجاہد عباس شمسی
رابطہ نمبر: ۰۰۹۸۹۱۹۸۵۲۹۳۲۹
https://t.me/islamwitheman/2279
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
آج کل کرونا کی وجہ سے نہج البلاغہ اور مولا علیؑ کی طرف ایک نسبت دی جا رہی ھے کہ آپ نے اس بیماری کے چمگاڈر سے پھیلنے کی طرف چودہ سو سال پہلے ہی فرما دیا تھا۔ اس کے بارے میں کچھ عرائض پیش خدمت ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آپؑ باب العلم ہیں اور آپؑ نے آخری زمانہ کے بارے بہت سی پیشگوئیاں فرمائی ہیں۔
اور نہج البلاغہ میں چمگاڈر کے متعلق اسکی خلقت کی شگفتی اور زندگی کے بارے ارشاد فرمایا ہے. لیکن
جو مفتی جعفر اعلی اللہ مقامہ کی کتاب میں چمگاڈر کا بیماری کو سبب ھونا ذکر ھے وہ انکا اپنا حاشیہ ھے نہ کہ خطبہ کا حصہ. جہاں پر وہ چمگاڈر کی اقسام بیان فرماتے ھیں:
(بعض گوشت خوار ھوتی ہیں جو مچھلی کا شکار کرتی ھیں. شمالی امریکہ کی تاریک غاروں میں خونخوار چمگاڈریں بھی کثرت سے پائی جاتی ھیں. یہ بڑی خطرناک اور مہلک ھوتی ھیں. انکی خوراک انسانی اور حیوانی خون ھے. جب یہ انسان کا خون چوستی ہیں تو خون میں زھر سرایت کر جاتا ھے. جسکے نتیجہ میں پہلے ہلکا سا بخار اور درد سر ھوتا ھے. پھر سانس کی نالی متورم ھو جاتی ھے. کھانا پینا چھوٹ جاتا ھے اور جسم کا نچلا حصہ بے حرکت ھو جاتا ھے. آخر سانس کی آمد و شد رک جاتی ھے اور وہ دم توڑ جاتا ھے.)
■ اب کچھ سوالات ذھن میں خطور کئے ھیں.
1: مولا علیؑ نے خطبہ میں کسی جگہ چمگاڈر کا منشاء بیماری ھونے کی طرف اشارہ نہیں فرمایا۔
اس صورت میں کہ امامؑ نے تو چمگاڈر کا بیماری کا موجب بننے کی طرف خطبہ میں کوئی اشارہ نہیں کیا،
آیا ہمارا کرونا وائرس پر تطبیق دے کر مولا ع کی طرف نسبت دینا درست ھے؟؟
2: علامہ مفتی جعفر رحمہ اللہ نے نہج البلاغہ کی شرح میں اس نکتہ کو بیان فرمایا ہے۔
اور انکے علاوہ بندہ نے جتنی بھی عربی اور فارسی شروحات میں نظر کی ہے، کسی شارح نے بھی اس نکتہ کی طرف اشارہ نہیں فرمایا ہے۔
اس سے یہ بات ثابت ہوتی ھے کہ امام علی علیہ السلام نے چمگاڈر کا بیماری کا موجب بننے کی طرف کوئی بات نہیں کی وگرنہ کوئی نہ کوئی شارح ضرور بیان فرماتا۔
ثانیا: مفتی صاحب کی یہ تحقیق اسلامی منابع سے نہیں ھے.
وگرنہ حوالہ ضرور فرماتے کہ فلان امام نے فرمایا یا فلان کتاب میں ھے۔
پس انکی یہ شرح، ایک سائنسی تحقیق کے مطالعہ کا نتیجہ ہوسکتی ہے کہ جسکو اصل موضوع چمگاڈر سےانہوں نے ملا دیا ھے. اور یہ ایک بہت اچھی کاوش ہے۔
اگر کوئی سوال کرے کہ یہ تو ایک سائنسی تحقیق ھے اور کہیں بھی امام علیؑ نے چمگاڈر کے ذریعے بیماری کا نہیں فرمایا۔
اور آپ ایک سائنسی تحقیق کو مولا علیہ السلام کی طرف نسبت دے رھے ھیں، تو اس سوال کا جواب کیا دیں گے؟
اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر علم کی اساس یہی گھرانہ ہے لیکن بات صرف یہ خطبہ اور کرونا بیماری کےتعلق کی ہے۔
اور بات ایک نظریہ کو کسی کی طرف ثابت کرنے کی ہے اور وہ بھی ایسے خطبہ سے کہ جس میں خود متکلم نے اس کی طرف اشارہ نہیں کیا!
3: اگرچہ چین نے بھی کرونا کا منشا چمگادڑ ھونے کو یقینی نہیں کہا۔
اگر بعد میں تحقیق سے ثابت ہو جائے کہ چمگاڈر اس بیماری کا سبب نہیں بنی، جیسا کہ اس پر کافی رد آچکی ہیں۔
تو کیا ھمارا یہ مستقیم مولا علیؑ کی طرف نسبت دینا، تضحیک کا سبب نہیں بن سکتا؟
4: مفتی جعفر صاحب اعلی اللہ مقامہ تو جانتے تھے اور انہوں نے اپنی شرح میں یہ نہیں فرمایا کہ مولا ع نے بھی اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اور اس صورت میں ہم اگر یہ بات مفتی صاحب کی نسبت دے کر بیان کریں کہ انہوں نے شرح میں فرمایا: کہ امام علیؑ کے خطبہ سے میں نے اس بات کو اخذ کیا ہے۔
تو کیا یہ ان پرتہمت نہیں ہوگی؟
5: آخر میں اس سوال کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں، آیا جو بات آئمہؑ نے نہ کی ہو اور ہم انکی طرف نسبت دے دیں، اور ہوں بھی روزہ کی حالت میں تو کیا ہمارا روزہ صحیح ہوگا؟
پس عرض ہے کہ ان سوالات کے بارے بندہ کی رہنمائی فرماتے ہوئے اس مسئلہ کو اہمیت دیں۔
🔘 مھم نکتہ:
اگر کوئی بزرگ تحریر کے حوالے سے کچھ بیان فرمانا چاھے تو رابطہ کر سکتے ہیں. مہربانی فرما کر اس تحریر کو مثبت انداز سے دیکھنے کی کوشش فرمائیں چونکہ واقعا ذھن میں یہ سوالات تھے۔
تحریر: سید مجاہد عباس شمسی
رابطہ نمبر: ۰۰۹۸۹۱۹۸۵۲۹۳۲۹
https://t.me/islamwitheman/2279
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 قرآن میں بال 🔷
۱: کیسے معلوم ھو یہ بال کسکا ہے؟
۲: سورہ بقرہ میں بال کا واقعہ کتنا صحیح ہے..؟؟
۳: یہ واقعہ آئمہ (ع) پر تہمت ھے یا نہیں؟ خود سوچیں۔
ایک خاتون کی آڈیو سوشل میڈیا پر چل رہی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ایران میں کسی عالم دین نے رسول ص اور امام…
۱: کیسے معلوم ھو یہ بال کسکا ہے؟
۲: سورہ بقرہ میں بال کا واقعہ کتنا صحیح ہے..؟؟
۳: یہ واقعہ آئمہ (ع) پر تہمت ھے یا نہیں؟ خود سوچیں۔
ایک خاتون کی آڈیو سوشل میڈیا پر چل رہی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ایران میں کسی عالم دین نے رسول ص اور امام…
🔷 کرونا وائرس اور ماہر نفسیات 🔷
ماہر نفسیات کا مشورہ ہے کہ ۔۔۔۔
اپنے آپ کو کورونا وائرس کی خبروں سے دور رکھیں۔ اس مرض کے بارے میں آپ کو جتنا جاننا تھا آپ جان چکے ہیں۔
اس مرض سے مرنے والوں کی تعداد جاننے کی کوشش نہ کریں۔ یہ کریکٹ میچ نہیں ھے کہ اسکور جاننا ضروری ہو۔
مرنے والوں کی تعداد دوسروں سے شیئر مت کیجئے۔ دوسروں کا دل اور دماغ کمزور ہو سکتا ھے۔ وہ ایسی خبریں سن کر بیمار پڑ سکتے ہیں۔
انٹرنیٹ پر ڈھوند ڈھونڈ کر کرونا کے بارے میں جاننے کی کوشش نہ کریں اس سے آپ کے دماغی طور پر کمزور ہونے کا خدشہ ھے۔
ہمیشہ کرونا کے بارے میں سوچتے رہنے سے آپ ڈپریشن یا نروس بریک ڈاؤن کے شکار ہوسکتے ہیں۔
ذکر و اذکار کریں تلاوت اور قرآن پاک پڑھیں اور اپنی پسندیدہ کتابیں پڑھ کر وقت گزاریں۔
بیوی اور بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت صَرف کریں۔
بےفکر رہنے کی کوشش کریں۔ اس سے آپ کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا جو ابھی بہت ضروری ھے۔
زیادہ خبروں والے ٹی وی چینلز پر دھیان نہ دیں۔ واٹس ایپ اور فیس بک اور باقی شوشل میڈیا کی خبروں پر، تصدیق کئے بغیر بھروسہ نہ کریں۔
خدا کی رحمت پر بھروسہ کریں اور یہ یقین رکھیں کہ جس طرح ہر بلا ایک دن ٹلتی ھے یہ بلا بھی ٹل جائے گی۔
🔘 خدا ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین
https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ماہر نفسیات کا مشورہ ہے کہ ۔۔۔۔
اپنے آپ کو کورونا وائرس کی خبروں سے دور رکھیں۔ اس مرض کے بارے میں آپ کو جتنا جاننا تھا آپ جان چکے ہیں۔
اس مرض سے مرنے والوں کی تعداد جاننے کی کوشش نہ کریں۔ یہ کریکٹ میچ نہیں ھے کہ اسکور جاننا ضروری ہو۔
مرنے والوں کی تعداد دوسروں سے شیئر مت کیجئے۔ دوسروں کا دل اور دماغ کمزور ہو سکتا ھے۔ وہ ایسی خبریں سن کر بیمار پڑ سکتے ہیں۔
انٹرنیٹ پر ڈھوند ڈھونڈ کر کرونا کے بارے میں جاننے کی کوشش نہ کریں اس سے آپ کے دماغی طور پر کمزور ہونے کا خدشہ ھے۔
ہمیشہ کرونا کے بارے میں سوچتے رہنے سے آپ ڈپریشن یا نروس بریک ڈاؤن کے شکار ہوسکتے ہیں۔
ذکر و اذکار کریں تلاوت اور قرآن پاک پڑھیں اور اپنی پسندیدہ کتابیں پڑھ کر وقت گزاریں۔
بیوی اور بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت صَرف کریں۔
بےفکر رہنے کی کوشش کریں۔ اس سے آپ کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا جو ابھی بہت ضروری ھے۔
زیادہ خبروں والے ٹی وی چینلز پر دھیان نہ دیں۔ واٹس ایپ اور فیس بک اور باقی شوشل میڈیا کی خبروں پر، تصدیق کئے بغیر بھروسہ نہ کریں۔
خدا کی رحمت پر بھروسہ کریں اور یہ یقین رکھیں کہ جس طرح ہر بلا ایک دن ٹلتی ھے یہ بلا بھی ٹل جائے گی۔
🔘 خدا ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین
https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
👹 کرونا وائرس 👹
■ کرونا وائرس 28 دن تک جسم میں چھپا رہتا ہے اور پھر 28 دنوں کے بعد یہ ساری رگوں کو جام (blocked) کر کے جیلی بنا دیتا ہے۔ اور پھر یہ کڈنیس (kidneys) کی رگوں کو بھی جام (blocked) کر کے موت کا سبب بنتا ہے۔
■ علامات
1: سانس کے مسائل (شدید)…
■ کرونا وائرس 28 دن تک جسم میں چھپا رہتا ہے اور پھر 28 دنوں کے بعد یہ ساری رگوں کو جام (blocked) کر کے جیلی بنا دیتا ہے۔ اور پھر یہ کڈنیس (kidneys) کی رگوں کو بھی جام (blocked) کر کے موت کا سبب بنتا ہے۔
■ علامات
1: سانس کے مسائل (شدید)…
🔷 قاسم علی شاہ کی باتیں 🔷
جنگِ عظیم دوئم دنیا کاایک بہت بڑا سانحہ مانا جاتا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں، لاکھوں کو گرفتار کر کے ٹارچر سیل میں ڈال دیا گیا تھا جہاں انہیں خوفناک قسم کی اذیتیں دی جاتی تھیں۔انسان جب بھی ٹارچر سیل میں ہوتا ہے تو جسمانی جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ جذبات کی جنگ، تنہائی کی جنگ اور اس جیسی کئی نفسیاتی جنگیں بھی اسے لڑنی پڑتی ہیں۔ اس کے ارد گرد کتنے سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مر رہے ہوتے ہیں اور جب وہ دوسروں کو مرتے دیکھتا ہے تو اپنی موت پر یقین اور بڑھ جاتاہے۔ یہ جنگ اتنی خوفناک ہوتی ہے کہ چند دنوں میں انسان حوصلہ ہار کر مر بھی سکتا ہے۔
اُس وقت بہت سارے کیمپس بنائے گئے جن میں جنگی قیدیوں کو رکھا جاتا۔ ان کیمپوں میں ایک ڈاکٹر وکٹر فرینکل بھی موجود تھا جو ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین رائٹر بھی تھا۔ اس نے تین سال اس جنگی قید خانے میں گزارے اور جب وہاں سے رہا ہوا تو اس نے ایک شاہکار کتاب
The man's search for meaning
کے نام سے لکھی جو بعد میں کئی ہزار کی تعداد میں چھپی اور کئی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا۔ ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ زندگی کے اسباق سے بھرپور ایک کتاب تھی۔ میں نے اپنی زندگی کے کئی اسباق اس سے سیکھے ہیں۔ اس کتاب میں کئی ساری ایسی باتیں ہیں جن کو دنیا کے ہر مشکل وقت میں دہرا لینا چاہیے۔
اس وقت ساری دنیا کورونا کی آزمائش سے گزر رہی ہے۔ ہمارے ملک میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ میڈیا پر ایک ہی خبر چل رہی ہے جس نے ہر سننے اور دیکھنے والے کی امید کو ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ سارے حالات ان شاء اللہ چند دنوں میں ختم ہوجائیں گے۔
اس کتاب میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ’’انسان کو تکلیف نہیں مارتی، انسان کو چیلنجز نہیں مارتے مگر امید کا ختم ہونا انسان کو ضرور مار دیتا ہے۔‘‘
جس وقت انسان کی امید ختم ہوجاتی ہے، جب اس کا خواب پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور اس کاحوصلہ نہیں بچتا تو وہ انسان بھی نہیں بچتا۔ یہ مت بھولیں کہ جب بھی کسی انسان کی امید ختم ہو جاتی ہے تو صرف امید ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ انسان کا پورا مدافعتی نظام بھی تباہ ہو جاتا ہے اور جب یہ کیفیت ہو جاتی ہے تو پھر چھوٹی سی بیماری بھی اس کو مار سکتی ہے یعنی بیماری بعد میں طاقتور ہوتی ہے اس سے پہلے آپ کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے اور اس صورت میں بیماری انسان پر غالب آجاتی ہے۔
اس کتاب میں جو مزید مفید باتیں ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ آپ کو اپنی زندگی کا Why معلوم ہونا چاہیے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پیچھے جو نیت ہے وہ کیا ہے؟ آپ کا لانگ ٹرم گول کیا ہے؟ آپ کا وژن کیا ہے؟ وکٹر کہتا ہے کہ آج کی تکلیف اس انسان کے لیے بہت چھوٹی ہوتی ہے جس کے پاس کل کے لیے بہت بڑا خواب ہو۔ جس کے پاس کوئی بہت بڑا Why ہے۔ جو تکلیف کو سہہ کر یہ سوچ رہا ہے کہ میں نے کہیں پہنچنا ہے اور اس کے بعد میرے لیے کوئی بڑی اہم چیز پڑی ہوئی ہے۔ اس Why والے نظریئے پر واصف علی واصف کا ایک شاندار جملہ جو میں اکثر نقل کرتا ہوں کہ ’’بڑی منزل کا مسافر چھوٹے جھگڑوں میں نہیں پڑتا۔"
آج کی تکلیف، آج کا چیلنج اس کے لیے چھوٹا ہے جس کا آنے والے دِنو ں میں خواب بڑا ہے، جس کے عزائم بڑے ہیں، جو تکلیف پر پاؤں رکھے گا اور آگے نکل جائے گا۔ اشفاق صاحب منچلے کا سودا میں ایک بہت خوب صورت جملہ لکھتے ہیں کہ "جو راستے کے کتوں کی پروا کرتا ہے انہیں منزلیں نہیں ملا کرتیں۔‘‘ اگر آپ نے کہیں پہنچنا ہے تو پھر آپ کے لیے راستے کی تکلیف اور مسئلے مسائل سب چھوٹے ہیں۔ آپ مسئلے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ دیں کہ’’تو چھوٹا ہے اور میری ہمت بڑھی ہے۔‘‘ اور اگر پھر بھی وہ آپ کو بڑا محسوس ہو تو اس کو انگلی اٹھا کر کہیں کہ ’’توچھوٹا ہے میرے اللہ کی قدرت تم سے بہت بڑی ہے۔‘‘
جس انسان کا خود پریقین اور اپنے رب پر ایمان ہوتا ہے تو اس کے سامنے مسئلے بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ میں گزشتہ دنوں سے مسلسل یہی کہہ رہا ہوں کہ بھرپور احتیاط کیجیے لیکن اپنے رب پر بھروسا ضرور رکھیے۔ خوفزدہ یا پریشان اگر ہوں بھی تو خوف کو اتنی اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کی امید ہی ختم کر دے۔
وکٹر کا کہنا ہے کہ انسان کی زندگی میں جتنے بھی مسائل آتے ہیں ان کو برداشت کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری جسمانی صحت نہیں بلکہ ذہنی صحت ہے۔ اس صورت میں یہ دیکھا جائے گا کہ آپ اعصابی طور پر کتنے مضبوط ہیں۔لیکن اگر آپ روز ٹی وی پر منفی خبریں دیکھ رہے ہیں اور صرف یہ سن رہے ہیں کہ کتنے مرگئے اور کتنے رہ گئے تو یہ آپ کے اعصاب کو ختم کر کے رکھ دیں گی اور جب انسان کے اعصاب کمزور ہوں گے تو اس کا مدافعتی نظام بھی خراب ہوگا اور بیماریاں اس پر حاوی ہو جائیں گی۔
دنیا میں بہادر ایک بار مرتا ہے لیکن بزدل روز مرتا ہے کیونکہ اسے عادت پڑ چکی ہوتی ہے مرمر کر مرنے کی۔
لہٰذا زندگی کی جنگ لڑنے کے لیے اپنے Why کو مضبوط رکھیں، زندگی جینے کی وجہ
جنگِ عظیم دوئم دنیا کاایک بہت بڑا سانحہ مانا جاتا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں، لاکھوں کو گرفتار کر کے ٹارچر سیل میں ڈال دیا گیا تھا جہاں انہیں خوفناک قسم کی اذیتیں دی جاتی تھیں۔انسان جب بھی ٹارچر سیل میں ہوتا ہے تو جسمانی جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ جذبات کی جنگ، تنہائی کی جنگ اور اس جیسی کئی نفسیاتی جنگیں بھی اسے لڑنی پڑتی ہیں۔ اس کے ارد گرد کتنے سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مر رہے ہوتے ہیں اور جب وہ دوسروں کو مرتے دیکھتا ہے تو اپنی موت پر یقین اور بڑھ جاتاہے۔ یہ جنگ اتنی خوفناک ہوتی ہے کہ چند دنوں میں انسان حوصلہ ہار کر مر بھی سکتا ہے۔
اُس وقت بہت سارے کیمپس بنائے گئے جن میں جنگی قیدیوں کو رکھا جاتا۔ ان کیمپوں میں ایک ڈاکٹر وکٹر فرینکل بھی موجود تھا جو ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین رائٹر بھی تھا۔ اس نے تین سال اس جنگی قید خانے میں گزارے اور جب وہاں سے رہا ہوا تو اس نے ایک شاہکار کتاب
The man's search for meaning
کے نام سے لکھی جو بعد میں کئی ہزار کی تعداد میں چھپی اور کئی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا۔ ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ زندگی کے اسباق سے بھرپور ایک کتاب تھی۔ میں نے اپنی زندگی کے کئی اسباق اس سے سیکھے ہیں۔ اس کتاب میں کئی ساری ایسی باتیں ہیں جن کو دنیا کے ہر مشکل وقت میں دہرا لینا چاہیے۔
اس وقت ساری دنیا کورونا کی آزمائش سے گزر رہی ہے۔ ہمارے ملک میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ میڈیا پر ایک ہی خبر چل رہی ہے جس نے ہر سننے اور دیکھنے والے کی امید کو ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ سارے حالات ان شاء اللہ چند دنوں میں ختم ہوجائیں گے۔
اس کتاب میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ’’انسان کو تکلیف نہیں مارتی، انسان کو چیلنجز نہیں مارتے مگر امید کا ختم ہونا انسان کو ضرور مار دیتا ہے۔‘‘
جس وقت انسان کی امید ختم ہوجاتی ہے، جب اس کا خواب پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور اس کاحوصلہ نہیں بچتا تو وہ انسان بھی نہیں بچتا۔ یہ مت بھولیں کہ جب بھی کسی انسان کی امید ختم ہو جاتی ہے تو صرف امید ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ انسان کا پورا مدافعتی نظام بھی تباہ ہو جاتا ہے اور جب یہ کیفیت ہو جاتی ہے تو پھر چھوٹی سی بیماری بھی اس کو مار سکتی ہے یعنی بیماری بعد میں طاقتور ہوتی ہے اس سے پہلے آپ کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے اور اس صورت میں بیماری انسان پر غالب آجاتی ہے۔
اس کتاب میں جو مزید مفید باتیں ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ آپ کو اپنی زندگی کا Why معلوم ہونا چاہیے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پیچھے جو نیت ہے وہ کیا ہے؟ آپ کا لانگ ٹرم گول کیا ہے؟ آپ کا وژن کیا ہے؟ وکٹر کہتا ہے کہ آج کی تکلیف اس انسان کے لیے بہت چھوٹی ہوتی ہے جس کے پاس کل کے لیے بہت بڑا خواب ہو۔ جس کے پاس کوئی بہت بڑا Why ہے۔ جو تکلیف کو سہہ کر یہ سوچ رہا ہے کہ میں نے کہیں پہنچنا ہے اور اس کے بعد میرے لیے کوئی بڑی اہم چیز پڑی ہوئی ہے۔ اس Why والے نظریئے پر واصف علی واصف کا ایک شاندار جملہ جو میں اکثر نقل کرتا ہوں کہ ’’بڑی منزل کا مسافر چھوٹے جھگڑوں میں نہیں پڑتا۔"
آج کی تکلیف، آج کا چیلنج اس کے لیے چھوٹا ہے جس کا آنے والے دِنو ں میں خواب بڑا ہے، جس کے عزائم بڑے ہیں، جو تکلیف پر پاؤں رکھے گا اور آگے نکل جائے گا۔ اشفاق صاحب منچلے کا سودا میں ایک بہت خوب صورت جملہ لکھتے ہیں کہ "جو راستے کے کتوں کی پروا کرتا ہے انہیں منزلیں نہیں ملا کرتیں۔‘‘ اگر آپ نے کہیں پہنچنا ہے تو پھر آپ کے لیے راستے کی تکلیف اور مسئلے مسائل سب چھوٹے ہیں۔ آپ مسئلے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ دیں کہ’’تو چھوٹا ہے اور میری ہمت بڑھی ہے۔‘‘ اور اگر پھر بھی وہ آپ کو بڑا محسوس ہو تو اس کو انگلی اٹھا کر کہیں کہ ’’توچھوٹا ہے میرے اللہ کی قدرت تم سے بہت بڑی ہے۔‘‘
جس انسان کا خود پریقین اور اپنے رب پر ایمان ہوتا ہے تو اس کے سامنے مسئلے بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ میں گزشتہ دنوں سے مسلسل یہی کہہ رہا ہوں کہ بھرپور احتیاط کیجیے لیکن اپنے رب پر بھروسا ضرور رکھیے۔ خوفزدہ یا پریشان اگر ہوں بھی تو خوف کو اتنی اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کی امید ہی ختم کر دے۔
وکٹر کا کہنا ہے کہ انسان کی زندگی میں جتنے بھی مسائل آتے ہیں ان کو برداشت کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری جسمانی صحت نہیں بلکہ ذہنی صحت ہے۔ اس صورت میں یہ دیکھا جائے گا کہ آپ اعصابی طور پر کتنے مضبوط ہیں۔لیکن اگر آپ روز ٹی وی پر منفی خبریں دیکھ رہے ہیں اور صرف یہ سن رہے ہیں کہ کتنے مرگئے اور کتنے رہ گئے تو یہ آپ کے اعصاب کو ختم کر کے رکھ دیں گی اور جب انسان کے اعصاب کمزور ہوں گے تو اس کا مدافعتی نظام بھی خراب ہوگا اور بیماریاں اس پر حاوی ہو جائیں گی۔
دنیا میں بہادر ایک بار مرتا ہے لیکن بزدل روز مرتا ہے کیونکہ اسے عادت پڑ چکی ہوتی ہے مرمر کر مرنے کی۔
لہٰذا زندگی کی جنگ لڑنے کے لیے اپنے Why کو مضبوط رکھیں، زندگی جینے کی وجہ
بنائیے! وکٹر کہتا ہے کہ تین سال کی بامشقت قید میں، میں اس لیے زندہ رہا کہ آگے کی زندگی میں میرے پاس خواب تھے اور میں نے کتاب لکھنی تھی۔
وکٹر کا دوسرا مشاہدہ یہ تھا کہ جب آپ کسی مسئلے کو دیکھتے ہیں تو اس کو ایک نام، عنوان یا معنی دیتے ہیں۔ یہ بڑا اہم ہوتا ہے کیونکہ جب بھی آپ کسی مسئلے کو کوئی معنی دیتے ہیں تو اس کے بعد آپ کے لیے اس مسئلے سے نمٹنا بڑا آسان ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد ہی آپ مسئلے کے حل کی طرف چلے جاتے ہیں اور اس کو حل کر لیتے ہیں یا اپنے اوپرحاوی کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی جگہ آپ کی گاڑی خراب ہو گئی ہے، آپ باہر نکل کر غصہ ہوتے ہیں اور برا بھلا کہہ کر خود کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ جبکہ دوسری صورت یہ ہے جس میں آپ یہ سوچیں کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ گاڑی کی خرابی مجھے کسی حادثے سے بچانے کے لیے ہو۔ اور اس میں کوئی نہ کوئی خیر کا پہلو ہو۔ قدرت کہیں سے آپ کو روکتی ہے اس لیے گاڑی خراب ہو جاتی ہے۔ لہٰذا آپ کسی بھی حالت میں صرف منفی پہلو پر نہیں بلکہ ایک سے زیادہ پہلو پر سوچنے کی عادی ہو جائیں۔
انسان کی فطرت ہے کہ دن بھر میں اوسطاً منفی خیالات زیادہ سوچتا ہے اور اس منفی سوچنے کی وجہ سے وہ ہر چیز کا بھی منفی پہلو نکال لیتا ہے، مثبت کو نہیں دیکھتا۔ جیسا کہ اب کورونا کی وبا کی وجہ سے ہم آج جتنا وقت اپنی فیملی کو دے رہے ہیں، اس سے پہلے کبھی اتنا وقت نہیں دیا۔ ان چند دنوں میں جتنا مطالعہ کیا، پہلے کبھی نہیں کیا۔ جتنی احتیاط لوگوں نے شروع کر دی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں کی، لوگ جس قدر فطرت کے قریب ہوگئے، اتنے شاید پہلے نہ ہوئے ہوں۔ فضا آلودگی سے جس قدر پاک ہوئی ہے شاید اس سے پہلے نہ ہوئی ہو۔ یہ جو قدرت نے Reset کا بٹن دبایا ہے اس سے کتنے مثبت پہلو نکلے، ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔
🔘 محترم قارئین! اگر کوئی انسان مریض بن گیا ہے تو اس کے لیے ہماری دعا ہے کہ اللہ اس کو شفاء دے لیکن جو تندرست ہیں وہ اپنی منفی سوچوں سے مریض بننے کی تیاری شروع نہ کریں۔ احتیاط کو خوف کی حد پر لے جانا مریض بننے کی تیاری ہے اور میں اس سے آپ کو روکنا چاہتا ہوں۔ زندگی کے ہر مسئلے، ہر آزمائش کا ایک مثبت رُخ ہوتا ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی بحران کو مثبت رُخ دیں گے تو آپ کی زندگی بدلنا شروع ہو جائے گی۔ یاد رکھیں آپ جب بھی چیزوں کو منفی معنی دیں گے تو آپ ان سے ڈیل نہیں کر سکتے لیکن اگر آپ مثبت معنی دینے کے قابل ہوں اور اس آزمائش کو ایک نیا لیبل دے دیں تو وہ آپ کے لیے ایک عظیم موقع بن جائے گا۔ یہ کبھی مت بھولیے گا کہ دنیا میں ہر طرف مسائل ہی مسائل تھے اور ان کے حل کی تلاش نے دنیا کو ترقی دی ہے۔ اگر مسائل نہ آتے تو حل بھی نہ ہوتے۔ آپ کی زندگی میں بھی اگر کوئی مسئلہ ہے تو اس کا حل ڈھونڈیں، ترقی آپ کا انتظار کر رہی ہے۔
اس کتاب سے اگلا سبق جو میں نے سیکھا وہ یہ تھا کہ آپ کی زندگی میں جب بھی کوئی مسئلہ ہے تو آپ کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اس مسئلے پر منفی ردِ عمل دیں جیسے بہت سارے لوگ دیتے ہیں اور ایک راستہ یہ ہے کہ آپ سوچ سمجھ کر اس کی ذمہ داری لیں اور اچھے انداز میں حل کریں۔ایسے موقع پر انتخاب کرنا اور یہ فیصلہ کرنا کہ میں نے کیا کرنا ہے، یہ صلاحیت اللہ نے انسانوں کو دی ہے۔
وکٹر کی کتاب میں سب سے خوب صورت بات یہ بھی ہے کہ آپ سے سب کچھ چھینا جا سکتا ہے، آپ سے طاقت چھینی جاسکتی ہے، آپ کے مال و متاع کو چھینا جاسکتا ہے، گھر گاڑی اور بنک بیلنس چھینا جاسکتا ہے لیکن ایک چیز ایسی ہے جو آپ سے نہیں چھینی جاسکتی اور اس کا نام ہے ’’قوتِ فیصلہ‘‘ اپنی زندگی کا فیصلہ آپ نے کرنا ہوتا ہے۔ اگر آپ حالات کی زَد میں آکر فیصلہ کرتے ہیں تو آپ ترقی نہیں کر سکتے کیونکہ پھر آپ کو اپنا فیصلہ حالات پر چھوڑنا پڑے گا لیکن اگر آپ حالات کے مطابق خود کو تیار کر کے اپنے فیصلے خود کرتے ہیں تو آپ کی زندگی بدلنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس سے پہلے بھی دنیا میں بہت زیادہ آزمائشیں اور بحران آئے ہیں اوران میں انسانوں کے نقصان کی وجہ اطلاع بروقت نہ پہنچنا، سمجھ بوجھ نہ ہونا، سائنس و ٹیکنالوجی کا ترقی یافتہ نہ ہونا اور اس بیماری سے لڑنے کا طریقہ نہ جاننا تھا۔ اس لحاظ سے آج ہم ایک بہترین وقت میں ہیں، جس میں معلومات انتہائی تیزی سے پھیل رہی ہیں، آپ کو اطلاع مل رہی ہے جس کے مطابق آپ وائرس اور بیماری سے احتیاط کرسکتے ہیں۔ آج کے حالات نے گزر جانا ہے۔ بازار اور مارکیٹیں ایک بار پھر کھل جائیں گے۔ پلے گراؤنڈز، پارک اور مساجد ایک بار پھر آباد نظر آئیں گی، اسکولز، کالجز اور مدارس ایک بار پھر تعلیم و تعلم کی سرگرمیوں سے متحرک ہوجائیں گے اور انسان دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آئیں گے۔ بس۔۔امید ٹوٹنے مت دیجیے گا!!
https://t.me/islamwitheman/2282
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
وکٹر کا دوسرا مشاہدہ یہ تھا کہ جب آپ کسی مسئلے کو دیکھتے ہیں تو اس کو ایک نام، عنوان یا معنی دیتے ہیں۔ یہ بڑا اہم ہوتا ہے کیونکہ جب بھی آپ کسی مسئلے کو کوئی معنی دیتے ہیں تو اس کے بعد آپ کے لیے اس مسئلے سے نمٹنا بڑا آسان ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد ہی آپ مسئلے کے حل کی طرف چلے جاتے ہیں اور اس کو حل کر لیتے ہیں یا اپنے اوپرحاوی کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی جگہ آپ کی گاڑی خراب ہو گئی ہے، آپ باہر نکل کر غصہ ہوتے ہیں اور برا بھلا کہہ کر خود کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ جبکہ دوسری صورت یہ ہے جس میں آپ یہ سوچیں کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ گاڑی کی خرابی مجھے کسی حادثے سے بچانے کے لیے ہو۔ اور اس میں کوئی نہ کوئی خیر کا پہلو ہو۔ قدرت کہیں سے آپ کو روکتی ہے اس لیے گاڑی خراب ہو جاتی ہے۔ لہٰذا آپ کسی بھی حالت میں صرف منفی پہلو پر نہیں بلکہ ایک سے زیادہ پہلو پر سوچنے کی عادی ہو جائیں۔
انسان کی فطرت ہے کہ دن بھر میں اوسطاً منفی خیالات زیادہ سوچتا ہے اور اس منفی سوچنے کی وجہ سے وہ ہر چیز کا بھی منفی پہلو نکال لیتا ہے، مثبت کو نہیں دیکھتا۔ جیسا کہ اب کورونا کی وبا کی وجہ سے ہم آج جتنا وقت اپنی فیملی کو دے رہے ہیں، اس سے پہلے کبھی اتنا وقت نہیں دیا۔ ان چند دنوں میں جتنا مطالعہ کیا، پہلے کبھی نہیں کیا۔ جتنی احتیاط لوگوں نے شروع کر دی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں کی، لوگ جس قدر فطرت کے قریب ہوگئے، اتنے شاید پہلے نہ ہوئے ہوں۔ فضا آلودگی سے جس قدر پاک ہوئی ہے شاید اس سے پہلے نہ ہوئی ہو۔ یہ جو قدرت نے Reset کا بٹن دبایا ہے اس سے کتنے مثبت پہلو نکلے، ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔
🔘 محترم قارئین! اگر کوئی انسان مریض بن گیا ہے تو اس کے لیے ہماری دعا ہے کہ اللہ اس کو شفاء دے لیکن جو تندرست ہیں وہ اپنی منفی سوچوں سے مریض بننے کی تیاری شروع نہ کریں۔ احتیاط کو خوف کی حد پر لے جانا مریض بننے کی تیاری ہے اور میں اس سے آپ کو روکنا چاہتا ہوں۔ زندگی کے ہر مسئلے، ہر آزمائش کا ایک مثبت رُخ ہوتا ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی بحران کو مثبت رُخ دیں گے تو آپ کی زندگی بدلنا شروع ہو جائے گی۔ یاد رکھیں آپ جب بھی چیزوں کو منفی معنی دیں گے تو آپ ان سے ڈیل نہیں کر سکتے لیکن اگر آپ مثبت معنی دینے کے قابل ہوں اور اس آزمائش کو ایک نیا لیبل دے دیں تو وہ آپ کے لیے ایک عظیم موقع بن جائے گا۔ یہ کبھی مت بھولیے گا کہ دنیا میں ہر طرف مسائل ہی مسائل تھے اور ان کے حل کی تلاش نے دنیا کو ترقی دی ہے۔ اگر مسائل نہ آتے تو حل بھی نہ ہوتے۔ آپ کی زندگی میں بھی اگر کوئی مسئلہ ہے تو اس کا حل ڈھونڈیں، ترقی آپ کا انتظار کر رہی ہے۔
اس کتاب سے اگلا سبق جو میں نے سیکھا وہ یہ تھا کہ آپ کی زندگی میں جب بھی کوئی مسئلہ ہے تو آپ کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اس مسئلے پر منفی ردِ عمل دیں جیسے بہت سارے لوگ دیتے ہیں اور ایک راستہ یہ ہے کہ آپ سوچ سمجھ کر اس کی ذمہ داری لیں اور اچھے انداز میں حل کریں۔ایسے موقع پر انتخاب کرنا اور یہ فیصلہ کرنا کہ میں نے کیا کرنا ہے، یہ صلاحیت اللہ نے انسانوں کو دی ہے۔
وکٹر کی کتاب میں سب سے خوب صورت بات یہ بھی ہے کہ آپ سے سب کچھ چھینا جا سکتا ہے، آپ سے طاقت چھینی جاسکتی ہے، آپ کے مال و متاع کو چھینا جاسکتا ہے، گھر گاڑی اور بنک بیلنس چھینا جاسکتا ہے لیکن ایک چیز ایسی ہے جو آپ سے نہیں چھینی جاسکتی اور اس کا نام ہے ’’قوتِ فیصلہ‘‘ اپنی زندگی کا فیصلہ آپ نے کرنا ہوتا ہے۔ اگر آپ حالات کی زَد میں آکر فیصلہ کرتے ہیں تو آپ ترقی نہیں کر سکتے کیونکہ پھر آپ کو اپنا فیصلہ حالات پر چھوڑنا پڑے گا لیکن اگر آپ حالات کے مطابق خود کو تیار کر کے اپنے فیصلے خود کرتے ہیں تو آپ کی زندگی بدلنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس سے پہلے بھی دنیا میں بہت زیادہ آزمائشیں اور بحران آئے ہیں اوران میں انسانوں کے نقصان کی وجہ اطلاع بروقت نہ پہنچنا، سمجھ بوجھ نہ ہونا، سائنس و ٹیکنالوجی کا ترقی یافتہ نہ ہونا اور اس بیماری سے لڑنے کا طریقہ نہ جاننا تھا۔ اس لحاظ سے آج ہم ایک بہترین وقت میں ہیں، جس میں معلومات انتہائی تیزی سے پھیل رہی ہیں، آپ کو اطلاع مل رہی ہے جس کے مطابق آپ وائرس اور بیماری سے احتیاط کرسکتے ہیں۔ آج کے حالات نے گزر جانا ہے۔ بازار اور مارکیٹیں ایک بار پھر کھل جائیں گے۔ پلے گراؤنڈز، پارک اور مساجد ایک بار پھر آباد نظر آئیں گی، اسکولز، کالجز اور مدارس ایک بار پھر تعلیم و تعلم کی سرگرمیوں سے متحرک ہوجائیں گے اور انسان دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آئیں گے۔ بس۔۔امید ٹوٹنے مت دیجیے گا!!
https://t.me/islamwitheman/2282
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 کرونا وائرس اور ماہر نفسیات 🔷
ماہر نفسیات کا مشورہ ہے کہ ۔۔۔۔
اپنے آپ کو کورونا وائرس کی خبروں سے دور رکھیں۔ اس مرض کے بارے میں آپ کو جتنا جاننا تھا آپ جان چکے ہیں۔
اس مرض سے مرنے والوں کی تعداد جاننے کی کوشش نہ کریں۔ یہ کریکٹ میچ نہیں ھے کہ اسکور جاننا…
ماہر نفسیات کا مشورہ ہے کہ ۔۔۔۔
اپنے آپ کو کورونا وائرس کی خبروں سے دور رکھیں۔ اس مرض کے بارے میں آپ کو جتنا جاننا تھا آپ جان چکے ہیں۔
اس مرض سے مرنے والوں کی تعداد جاننے کی کوشش نہ کریں۔ یہ کریکٹ میچ نہیں ھے کہ اسکور جاننا…
🔷 خوف کا زہر 🔷
عید کا دن تھا چاول پکا رہی تھی کہ اچانک اس میں سانپ آ گرا ساس کے ڈر سے چاول گرانے کی بجائے سانپ کو بھی اس میں پکا دیا سب نے بہت تعریف کی کہ بہترین چاول پکاۓ بہت مزہ آیا۔
سال گزرا ایک اور موقع پر چاول پکاۓ سب نے ایک ہی بات کی پچھلی عید پہ جو چاول پکے تھے کمال کا ذائقہ تھا
اب ساس کا جلال کچھ مدھم پڑ چکا تھا اور عورت راز کا بوجھ بھی کب تک اٹھاۓ پھرتی سو بتا ہی دیا۔۔۔
کہ اس میں سانپ گرا تھا جسے میں نے اس میں پکا دیا تھا۔
یہ سننا تھا کہ سب گھر والے بے ہوش،
ایک کو دل کا دورہ پڑا اور وہیں مر گیا
اب یہ اثر سانپ کے زہر کا تھا یا سانپ کے خوف کا؟
آگے چلیں۔۔۔
امریکہ میں موت کے سزا یافتہ ایک قیدی پر ایک عجیب تجربہ کیا گیا، اسے بتایا گیا کہ آپ کو نہ پھانسی دی جائے گی نہ گولی ماری جائے گی نہ ہی زہر کا انجیکشن۔
بلکہ سانپ سے ڈسوایا جائے گا اس کے خیالات پر سانپ چھا گیا پھر سانپ اس کے سامنے لایا گیا اسے یقین ہو گیا کہ اس سانپ نے مجھے ڈسنا ہے۔
پھر اس کی آنکھوں پر ایک پٹی باندھی گئی اور دو کامن پنیں اسے چبھوئی گئیں
جس سے اسے پکا یقین ہو گیا کہ سانپ نے ڈس لیا ہے۔
تھوڑی دیر بعد اس کی موت واقع ہو گئی۔
اس کے خون کے ٹیسٹ ہوئے تو خون میں سانپ کا زہر موجود تھا۔
اب اس شخص کو سانپ نے چھوا تک نہیں لیکن اس کے باوجود اس کی موت بھی واقع ہوئی اور خون میں سانپ کا زہر بھی پایا گیا۔
یہ کیا تھا ؟ خوف
یقین جانیے۔۔۔
آج جتنی اموات ہو رہی ہیں اس میں 80 فیصد خوف کے زیر اثر ہو رہی ہیں اور اس قتل میں ہر وہ شخص برابر کا شریک ہے جو خوف پھیلا رہا ہے۔
اس لئے احتیاط کی ترغیب دیجیے آگاہی عام کیجیے۔
لیکن دھشت نہ پھیلائیں۔
حوصلہ دیجیئے۔
copied
https://t.me/islamwitheman/2283
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
عید کا دن تھا چاول پکا رہی تھی کہ اچانک اس میں سانپ آ گرا ساس کے ڈر سے چاول گرانے کی بجائے سانپ کو بھی اس میں پکا دیا سب نے بہت تعریف کی کہ بہترین چاول پکاۓ بہت مزہ آیا۔
سال گزرا ایک اور موقع پر چاول پکاۓ سب نے ایک ہی بات کی پچھلی عید پہ جو چاول پکے تھے کمال کا ذائقہ تھا
اب ساس کا جلال کچھ مدھم پڑ چکا تھا اور عورت راز کا بوجھ بھی کب تک اٹھاۓ پھرتی سو بتا ہی دیا۔۔۔
کہ اس میں سانپ گرا تھا جسے میں نے اس میں پکا دیا تھا۔
یہ سننا تھا کہ سب گھر والے بے ہوش،
ایک کو دل کا دورہ پڑا اور وہیں مر گیا
اب یہ اثر سانپ کے زہر کا تھا یا سانپ کے خوف کا؟
آگے چلیں۔۔۔
امریکہ میں موت کے سزا یافتہ ایک قیدی پر ایک عجیب تجربہ کیا گیا، اسے بتایا گیا کہ آپ کو نہ پھانسی دی جائے گی نہ گولی ماری جائے گی نہ ہی زہر کا انجیکشن۔
بلکہ سانپ سے ڈسوایا جائے گا اس کے خیالات پر سانپ چھا گیا پھر سانپ اس کے سامنے لایا گیا اسے یقین ہو گیا کہ اس سانپ نے مجھے ڈسنا ہے۔
پھر اس کی آنکھوں پر ایک پٹی باندھی گئی اور دو کامن پنیں اسے چبھوئی گئیں
جس سے اسے پکا یقین ہو گیا کہ سانپ نے ڈس لیا ہے۔
تھوڑی دیر بعد اس کی موت واقع ہو گئی۔
اس کے خون کے ٹیسٹ ہوئے تو خون میں سانپ کا زہر موجود تھا۔
اب اس شخص کو سانپ نے چھوا تک نہیں لیکن اس کے باوجود اس کی موت بھی واقع ہوئی اور خون میں سانپ کا زہر بھی پایا گیا۔
یہ کیا تھا ؟ خوف
یقین جانیے۔۔۔
آج جتنی اموات ہو رہی ہیں اس میں 80 فیصد خوف کے زیر اثر ہو رہی ہیں اور اس قتل میں ہر وہ شخص برابر کا شریک ہے جو خوف پھیلا رہا ہے۔
اس لئے احتیاط کی ترغیب دیجیے آگاہی عام کیجیے۔
لیکن دھشت نہ پھیلائیں۔
حوصلہ دیجیئے۔
copied
https://t.me/islamwitheman/2283
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 قاسم علی شاہ کی باتیں 🔷
جنگِ عظیم دوئم دنیا کاایک بہت بڑا سانحہ مانا جاتا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں، لاکھوں کو گرفتار کر کے ٹارچر سیل میں ڈال دیا گیا تھا جہاں انہیں خوفناک قسم کی اذیتیں دی جاتی تھیں۔انسان جب بھی ٹارچر سیل میں ہوتا ہے تو جسمانی جنگ لڑنے کے…
جنگِ عظیم دوئم دنیا کاایک بہت بڑا سانحہ مانا جاتا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں، لاکھوں کو گرفتار کر کے ٹارچر سیل میں ڈال دیا گیا تھا جہاں انہیں خوفناک قسم کی اذیتیں دی جاتی تھیں۔انسان جب بھی ٹارچر سیل میں ہوتا ہے تو جسمانی جنگ لڑنے کے…
🔷 دہشت کا اثر 🔷
ایک سانپ اپنے زہر کی تعریف کر رہا تھا کہ میرا ڈسا پانی نہیں مانگتا۔ پاس بیٹھا مینڈک اس کا مذاق اڑا رہا تھا کہ لوگ تیرے خوف سے مرتے ہیں زہر سے نہیں
دونوں کا مقابلہ لگ گیا۔
طے یہ پایا کہ کسی راہگیر کو سانپ چھپ کے کاٹے گا اور مینڈک سامنے آئے گا۔ دوسرے راہگیر کو مینڈک کاٹے گا اور سانپ سامنے آۓ گا۔
اتنے میں ایک راہگیر گزرا اس مسافر کو سانپ نے چھپ کے کاٹا جبکہ ٹانگوں سے مینڈک پھدک کے نکلا۔ راہگیر مینڈک دیکھ کے زخم کھجا کے تسلی سے چل پڑا خیر ہے مینڈک ہی تھا کیا فرق پڑتا ہے۔
دونوں اسے دور تک جاتا دیکھتے رہے وہ صحیح سلامت چلا گیا۔
دوسرے راہگیر کو مینڈک نے چھپ کے کاٹا اور سانپ پھن پھیلا کے سامنے آ گیا
مسافر دہشت سے فوری مر گیا۔
دنیا میں ہر روز ہزاروں افراد مرتے ہیں جن کو دیگر امراض ہوتے ہیں یا کوئی بھی مرض نہیں ہوتا۔ جبکہ کرونا کی شرح اموات اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ خدارا سوشل میڈیا پر مایوسی مت پھیلائیں۔
مسلمان موت سے نہیں ڈرتا۔ جب موت ایک اٹل حقیقت ہے جس نے نہ پپیغمبروں کو چھوڑا نہ ولیوں کو۔ موت جب ہر حال میں آنی ہے پھر کرونا سے ڈر کیسا۔
احتیاط لازم ہے کریں لیکن خوف کو خود سے الگ کر دیں۔ خوف اور مایوسی سے انسان کی قوت مدافعت ختم ہو جاتی ہے جو کسی بھی بیماری سے لڑنے کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔
کرونا کےہزاروں مریض صحت یاب ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ موت اس کو آتی ہے جس کی زندگی کے دن پورے ہو چکے ہوتے ہیں۔
کرونا چھوت کا مرض ہے ایک دوسرے سے لگتا ہے۔ احتیاط ضرور برتیں لیکن اس خوف کو ذہن میں بٹھا کے موت سے پہلے اپنی زندگی کو موت سے بدتر نہ کریں۔
جینے کی امنگ خود میں پیدا کریں گے تو کوئی وائرس آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
آوازِ خلق، نقارۂ خدا
اللہ وہی دے گا جس کی اللہ سے امید رکھتے ہو۔ اللہ تعالٰی کی شان ہے کہ وہ آپکی امنگوں پر پورا اترتا ہے۔ اچھی امید رکھو گے تو اچھا ہی ہوگا۔
Copied
https://t.me/islamwitheman/2286
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک سانپ اپنے زہر کی تعریف کر رہا تھا کہ میرا ڈسا پانی نہیں مانگتا۔ پاس بیٹھا مینڈک اس کا مذاق اڑا رہا تھا کہ لوگ تیرے خوف سے مرتے ہیں زہر سے نہیں
دونوں کا مقابلہ لگ گیا۔
طے یہ پایا کہ کسی راہگیر کو سانپ چھپ کے کاٹے گا اور مینڈک سامنے آئے گا۔ دوسرے راہگیر کو مینڈک کاٹے گا اور سانپ سامنے آۓ گا۔
اتنے میں ایک راہگیر گزرا اس مسافر کو سانپ نے چھپ کے کاٹا جبکہ ٹانگوں سے مینڈک پھدک کے نکلا۔ راہگیر مینڈک دیکھ کے زخم کھجا کے تسلی سے چل پڑا خیر ہے مینڈک ہی تھا کیا فرق پڑتا ہے۔
دونوں اسے دور تک جاتا دیکھتے رہے وہ صحیح سلامت چلا گیا۔
دوسرے راہگیر کو مینڈک نے چھپ کے کاٹا اور سانپ پھن پھیلا کے سامنے آ گیا
مسافر دہشت سے فوری مر گیا۔
دنیا میں ہر روز ہزاروں افراد مرتے ہیں جن کو دیگر امراض ہوتے ہیں یا کوئی بھی مرض نہیں ہوتا۔ جبکہ کرونا کی شرح اموات اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ خدارا سوشل میڈیا پر مایوسی مت پھیلائیں۔
مسلمان موت سے نہیں ڈرتا۔ جب موت ایک اٹل حقیقت ہے جس نے نہ پپیغمبروں کو چھوڑا نہ ولیوں کو۔ موت جب ہر حال میں آنی ہے پھر کرونا سے ڈر کیسا۔
احتیاط لازم ہے کریں لیکن خوف کو خود سے الگ کر دیں۔ خوف اور مایوسی سے انسان کی قوت مدافعت ختم ہو جاتی ہے جو کسی بھی بیماری سے لڑنے کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔
کرونا کےہزاروں مریض صحت یاب ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ موت اس کو آتی ہے جس کی زندگی کے دن پورے ہو چکے ہوتے ہیں۔
کرونا چھوت کا مرض ہے ایک دوسرے سے لگتا ہے۔ احتیاط ضرور برتیں لیکن اس خوف کو ذہن میں بٹھا کے موت سے پہلے اپنی زندگی کو موت سے بدتر نہ کریں۔
جینے کی امنگ خود میں پیدا کریں گے تو کوئی وائرس آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
آوازِ خلق، نقارۂ خدا
اللہ وہی دے گا جس کی اللہ سے امید رکھتے ہو۔ اللہ تعالٰی کی شان ہے کہ وہ آپکی امنگوں پر پورا اترتا ہے۔ اچھی امید رکھو گے تو اچھا ہی ہوگا۔
Copied
https://t.me/islamwitheman/2286
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 خوف کا زہر 🔷
عید کا دن تھا چاول پکا رہی تھی کہ اچانک اس میں سانپ آ گرا ساس کے ڈر سے چاول گرانے کی بجائے سانپ کو بھی اس میں پکا دیا سب نے بہت تعریف کی کہ بہترین چاول پکاۓ بہت مزہ آیا۔
سال گزرا ایک اور موقع پر چاول پکاۓ سب نے ایک ہی بات کی پچھلی عید پہ…
عید کا دن تھا چاول پکا رہی تھی کہ اچانک اس میں سانپ آ گرا ساس کے ڈر سے چاول گرانے کی بجائے سانپ کو بھی اس میں پکا دیا سب نے بہت تعریف کی کہ بہترین چاول پکاۓ بہت مزہ آیا۔
سال گزرا ایک اور موقع پر چاول پکاۓ سب نے ایک ہی بات کی پچھلی عید پہ…
🔷 کرونا کا پلازمہ سے علاج 🔷
خون کے چار بنیادی حصے ہوتے ہیں یعنی سُرخ خلیے، سفید خلیے، پلیٹلیٹس اور پلازمہ۔ اِن بنیادی حصوں سے خون کے اجزا حاصل کئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر سُرخ خلیوں میں ہیموگلوبِن نامی پروٹین پایا جاتا ہے۔ انسانوں اور جانوروں سے لئے گئے ہیموگلوبِن سے مختلف دوائیاں بنائی جاتی ہیں۔ یہ دوائیاں اُن مریضوں کو دی جاتی ہیں جن میں خون کے سُرخ خلیوں کی کمی (انیمیا) پائی جاتی ہے یا پھر جن کا خون بڑی مقدار میں بہہ چکا ہوتا ہے۔
پلازمہ کا ۹۰ فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ پلازمہ میں مختلف قسم کے ہارمون، نمکیات، انزائم، غذائیں، معدنیات اور شکر بھی پائے جاتے ہیں۔ پلازمہ میں البومین جیسے پروٹین کے علاوہ ایسے اجزا بھی شامل ہیں جو خون کو جمانے کا کام انجام دیتے ہیں اور بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیم کو تباہ کرتے ہیں۔ جب ایک شخص کو چھوت کی بیماری لگنے کا خطرہ ہوتا ہے تو ڈاکٹر اُسے اکثر گاما گلوبولن کا ٹیکہ لگاتا ہے۔ یہ دوائی ایسے انسانوں کے پلازمہ سے بنائی جاتی ہے جن کے خون میں اِس بیماری کو ختم کرنے والے اجزا موجود ہیں۔ سفید خلیوں سے ایسے پروٹین (انٹرفیرون اور انٹرلوکنِ) حاصل ہوتے ہیں جن سے چھوت کی مختلف بیماریوں اور کینسر کا علاج کِیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں امریکہ میں مستند اداروں نے ڈاکٹروں کو کووِڈ۔19 کے ایسے شدید بیمار یا جان لیوا صورتحال کا سامنا کرنے والے افراد کے علاج کے لیے ایک ایسی تحقیقاتی نئی دوا تک رسائی کی اجازت دی ہے جو بنیادی طور پر کورونا ہی کے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے حاصل کردہ پلازمہ یا سیال ہے۔
اسے خون کا روبصحت سیال یا کونویلیسینٹ پلازمہ کہا جاتا ہے۔ کورونا سے ہونے والی معتدی بیماری کووِڈ۔19 کی صورت میں معروف امریکی ادارے ایف ڈی اے نے اسے کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کا نام دیا ہے
ادھر روس نے بھی کورونا وائرس سےصحتیاب ہونے والوں کے خون سے پلازمہ لےکر دوا کی تیاری شروع کردی۔روسی سائنسدان کا کہنا ہے کہ علاج کے لیےکورونا وائرس سےصحتیاب افراد کے خون کے 500 ملی لیٹر پلازمہ کی ضرورت ہوگی کیونکہ دوا صحتیاب افراد کےخون کے پلازمہ سے اینٹی وائرل امیونوگلوبلین حاصل کرکے تیارکی جائے گی۔روسی سائنسدان نے بتایا کہ دوا کی تیاری کے لیے سائنسدانوں کو 76 ہزار ڈالر سے زائدکی خطیر رقم درکار ہوگی اور اس کی تیاری میں 30 دن لگیں گے۔
چین میں بھی نوول کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لئے کونوالیزینٹ پلازمہ تیار کر لیا گیا ہے۔چین کے قومی بائیوٹک گروپ کے مطابق یہ کونوالیزینٹ پلازمہ تھراپی نوول کورونا (COVID-19)سے متاثرہ مریضوں کی شفا یابی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔کمپنی نے کہا کہ انہوں نے کچھ شفا یاب مریضوں سے پلازمہ اکٹھا کیا ہے تاکہ کونوالیزینٹ پلازمہ اور ایمیون گلوبو لین سمیت تھرا پیٹک مصنوعات تیار کی جا سکیں۔خون کے بائیوسیفٹی ٹیسٹ، وائرس کے غیرموثر ہونے اور اینٹی وائرس سرگرمی کے ٹیسٹ لئے جانے کے بعد انہوں نے کامیابی کے ساتھ طبی علاج کے لئے کونوالیزینٹ پلازمہ تیار کیا ہے اور شدید بیمار مریضوں کے علاج کے لئے اس کا استعال کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ فروری کے مہینے سے ہی چین میں پلازمہ کے طریقہ علاج پر کامیاب تجربات کرلیئے گئے ہیں۔
پاکستان میں خون کے امراض کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق سندھ حکومت نے پلازمہ ٹیکنیک سے علاج کی منظوری دے دی ہے۔
اس حوالے سے سندھ میں بھی کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق اب مریضوں کا علاج پلازمہ ٹیکنیک کی مدد سے ہوگا۔
خون کے امراض کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق سندھ حکومت نے پلازمہ ٹیکنیک سے علاج کی منظوری دے دی ہے۔
اس طریقہ علاج میں کورونا مریضوں کو آئی سی یو یا وینٹی لیٹر کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ ان افراد کی مدد لی جائے گی جو پہلے کورونا کو شکست دے چکے ہوں گے۔
علاج کیلئے صحت یاب افراد کے خون سے پلازمہ لیا جائے گا اور جس سے متاثرہ افراد کا علاج ممکن ہوگا، اس سلسلے میں سندھ حکومت کے ساتھ مل کر اسی ہفتے لائحہ عمل تیار کرلیا جائے گا۔
ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق صحت یاب مریض ہر ایک ہفتے بعد پلازمہ عطیہ کرسکیں گے۔
حالیہ دنوں یحییٰ جعفری نامی نوجوان جنہوں نے اپنا پلازمہ کورونا سے لڑنے میں مدد کیلئے عطیہ کیا ہے جو کہ اخوش آئند اور انسانیت و حبّ الوطنی کے جزبے سے سرشار ایک انتہائی مثبت قدم ہے۔ امید ہے کہ یحییٰ جعفری کے اس عمل سے متاثر ہوکر قوم کے بہت سے کورونائی مریض نوجوان جو انشاءاللہ اس وبا سے شفاء پائینگے جلد ہی یحییٰ جعفری کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مزید پلازمہ عطیہ کرینگے۔
لیکن افسوسناک صورتحال یہ بھی دیکھنے میں آرہی ہے کہ بعض مزہبی انتہاء پسند طبقات یا ٹولے باالفاظ دیگر تکفیری شدّت پسند ٹولے یحییٰ جعفری کے پلازمہ کو اپنی مسلکی بغض کی عینک سے دیکھتے ہوئے انکے پلازمہ سے حاصل شدہ کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ سے علاج کی مخالفت میں اندھے پن کا
خون کے چار بنیادی حصے ہوتے ہیں یعنی سُرخ خلیے، سفید خلیے، پلیٹلیٹس اور پلازمہ۔ اِن بنیادی حصوں سے خون کے اجزا حاصل کئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر سُرخ خلیوں میں ہیموگلوبِن نامی پروٹین پایا جاتا ہے۔ انسانوں اور جانوروں سے لئے گئے ہیموگلوبِن سے مختلف دوائیاں بنائی جاتی ہیں۔ یہ دوائیاں اُن مریضوں کو دی جاتی ہیں جن میں خون کے سُرخ خلیوں کی کمی (انیمیا) پائی جاتی ہے یا پھر جن کا خون بڑی مقدار میں بہہ چکا ہوتا ہے۔
پلازمہ کا ۹۰ فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ پلازمہ میں مختلف قسم کے ہارمون، نمکیات، انزائم، غذائیں، معدنیات اور شکر بھی پائے جاتے ہیں۔ پلازمہ میں البومین جیسے پروٹین کے علاوہ ایسے اجزا بھی شامل ہیں جو خون کو جمانے کا کام انجام دیتے ہیں اور بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیم کو تباہ کرتے ہیں۔ جب ایک شخص کو چھوت کی بیماری لگنے کا خطرہ ہوتا ہے تو ڈاکٹر اُسے اکثر گاما گلوبولن کا ٹیکہ لگاتا ہے۔ یہ دوائی ایسے انسانوں کے پلازمہ سے بنائی جاتی ہے جن کے خون میں اِس بیماری کو ختم کرنے والے اجزا موجود ہیں۔ سفید خلیوں سے ایسے پروٹین (انٹرفیرون اور انٹرلوکنِ) حاصل ہوتے ہیں جن سے چھوت کی مختلف بیماریوں اور کینسر کا علاج کِیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں امریکہ میں مستند اداروں نے ڈاکٹروں کو کووِڈ۔19 کے ایسے شدید بیمار یا جان لیوا صورتحال کا سامنا کرنے والے افراد کے علاج کے لیے ایک ایسی تحقیقاتی نئی دوا تک رسائی کی اجازت دی ہے جو بنیادی طور پر کورونا ہی کے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے حاصل کردہ پلازمہ یا سیال ہے۔
اسے خون کا روبصحت سیال یا کونویلیسینٹ پلازمہ کہا جاتا ہے۔ کورونا سے ہونے والی معتدی بیماری کووِڈ۔19 کی صورت میں معروف امریکی ادارے ایف ڈی اے نے اسے کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کا نام دیا ہے
ادھر روس نے بھی کورونا وائرس سےصحتیاب ہونے والوں کے خون سے پلازمہ لےکر دوا کی تیاری شروع کردی۔روسی سائنسدان کا کہنا ہے کہ علاج کے لیےکورونا وائرس سےصحتیاب افراد کے خون کے 500 ملی لیٹر پلازمہ کی ضرورت ہوگی کیونکہ دوا صحتیاب افراد کےخون کے پلازمہ سے اینٹی وائرل امیونوگلوبلین حاصل کرکے تیارکی جائے گی۔روسی سائنسدان نے بتایا کہ دوا کی تیاری کے لیے سائنسدانوں کو 76 ہزار ڈالر سے زائدکی خطیر رقم درکار ہوگی اور اس کی تیاری میں 30 دن لگیں گے۔
چین میں بھی نوول کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لئے کونوالیزینٹ پلازمہ تیار کر لیا گیا ہے۔چین کے قومی بائیوٹک گروپ کے مطابق یہ کونوالیزینٹ پلازمہ تھراپی نوول کورونا (COVID-19)سے متاثرہ مریضوں کی شفا یابی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔کمپنی نے کہا کہ انہوں نے کچھ شفا یاب مریضوں سے پلازمہ اکٹھا کیا ہے تاکہ کونوالیزینٹ پلازمہ اور ایمیون گلوبو لین سمیت تھرا پیٹک مصنوعات تیار کی جا سکیں۔خون کے بائیوسیفٹی ٹیسٹ، وائرس کے غیرموثر ہونے اور اینٹی وائرس سرگرمی کے ٹیسٹ لئے جانے کے بعد انہوں نے کامیابی کے ساتھ طبی علاج کے لئے کونوالیزینٹ پلازمہ تیار کیا ہے اور شدید بیمار مریضوں کے علاج کے لئے اس کا استعال کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ فروری کے مہینے سے ہی چین میں پلازمہ کے طریقہ علاج پر کامیاب تجربات کرلیئے گئے ہیں۔
پاکستان میں خون کے امراض کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق سندھ حکومت نے پلازمہ ٹیکنیک سے علاج کی منظوری دے دی ہے۔
اس حوالے سے سندھ میں بھی کراچی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق اب مریضوں کا علاج پلازمہ ٹیکنیک کی مدد سے ہوگا۔
خون کے امراض کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق سندھ حکومت نے پلازمہ ٹیکنیک سے علاج کی منظوری دے دی ہے۔
اس طریقہ علاج میں کورونا مریضوں کو آئی سی یو یا وینٹی لیٹر کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ ان افراد کی مدد لی جائے گی جو پہلے کورونا کو شکست دے چکے ہوں گے۔
علاج کیلئے صحت یاب افراد کے خون سے پلازمہ لیا جائے گا اور جس سے متاثرہ افراد کا علاج ممکن ہوگا، اس سلسلے میں سندھ حکومت کے ساتھ مل کر اسی ہفتے لائحہ عمل تیار کرلیا جائے گا۔
ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق صحت یاب مریض ہر ایک ہفتے بعد پلازمہ عطیہ کرسکیں گے۔
حالیہ دنوں یحییٰ جعفری نامی نوجوان جنہوں نے اپنا پلازمہ کورونا سے لڑنے میں مدد کیلئے عطیہ کیا ہے جو کہ اخوش آئند اور انسانیت و حبّ الوطنی کے جزبے سے سرشار ایک انتہائی مثبت قدم ہے۔ امید ہے کہ یحییٰ جعفری کے اس عمل سے متاثر ہوکر قوم کے بہت سے کورونائی مریض نوجوان جو انشاءاللہ اس وبا سے شفاء پائینگے جلد ہی یحییٰ جعفری کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مزید پلازمہ عطیہ کرینگے۔
لیکن افسوسناک صورتحال یہ بھی دیکھنے میں آرہی ہے کہ بعض مزہبی انتہاء پسند طبقات یا ٹولے باالفاظ دیگر تکفیری شدّت پسند ٹولے یحییٰ جعفری کے پلازمہ کو اپنی مسلکی بغض کی عینک سے دیکھتے ہوئے انکے پلازمہ سے حاصل شدہ کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ سے علاج کی مخالفت میں اندھے پن کا
مظاہرہ کرتے ہوئے اس طریقہ علاج کی مخالفت کرتے دکھائی دے رہے ہیں. کہ کہیں انہیں بھی انکے مخلف فرقے کے شخص کا پلازمہ نہ لگا دیا جائے اور انکا خون شیعہ نہ ہوجاٰئے۔
درحقیقت انکے علم میں ہرگز نہیں کہ پورے پاکستان میں علاج کیلئے صرف یحییٰ جعفری کا پلازمہ ناکافی ہے۔ یہ درحقیقت پاکستان کی کورونا کے حوالے سے تجرباتی کاوش ہے جسکا سہرا جہاں طبّی ماہرین کے سر جاتا ہے وہیں یحییٰ جعفری جیسے۔حبّ الوطن اور انسانیت کے جزبے سے سرشار اس نوجوان کا نام سرِ فہرست رہیگا۔
تحقیق و تدوین: حسینی درویش.
(طبّی معلومات مختلف ذرائع سے حاصل شدہ ہیں۔)
https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
درحقیقت انکے علم میں ہرگز نہیں کہ پورے پاکستان میں علاج کیلئے صرف یحییٰ جعفری کا پلازمہ ناکافی ہے۔ یہ درحقیقت پاکستان کی کورونا کے حوالے سے تجرباتی کاوش ہے جسکا سہرا جہاں طبّی ماہرین کے سر جاتا ہے وہیں یحییٰ جعفری جیسے۔حبّ الوطن اور انسانیت کے جزبے سے سرشار اس نوجوان کا نام سرِ فہرست رہیگا۔
تحقیق و تدوین: حسینی درویش.
(طبّی معلومات مختلف ذرائع سے حاصل شدہ ہیں۔)
https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
👹 کرونا وائرس 👹
■ کرونا وائرس 28 دن تک جسم میں چھپا رہتا ہے اور پھر 28 دنوں کے بعد یہ ساری رگوں کو جام (blocked) کر کے جیلی بنا دیتا ہے۔ اور پھر یہ کڈنیس (kidneys) کی رگوں کو بھی جام (blocked) کر کے موت کا سبب بنتا ہے۔
■ علامات
1: سانس کے مسائل (شدید)…
■ کرونا وائرس 28 دن تک جسم میں چھپا رہتا ہے اور پھر 28 دنوں کے بعد یہ ساری رگوں کو جام (blocked) کر کے جیلی بنا دیتا ہے۔ اور پھر یہ کڈنیس (kidneys) کی رگوں کو بھی جام (blocked) کر کے موت کا سبب بنتا ہے۔
■ علامات
1: سانس کے مسائل (شدید)…
🔷 ہینڈ سینیٹائزرز گھر پر بنائیں 🔷
کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر جراثیم کش محلول (ہینڈ سینیٹائزرز) کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے اور مارکیٹ میں ہینڈ سینیٹائزرز تقریباً ناپید ہو چکے ہیں۔
ہینڈ سینیٹائزرز جراثیم کش محلولوں کا مرکب ہوتے ہیں جو کہ باآسانی گھر پر بنائے جا سکتے ہیں۔
200 ملی لیٹر پانی لیں اور اس میں 100 ملی لیٹر سپرٹ ڈالیں اور اس میں 10 ملی لیٹر ڈیٹول ڈال کر آھستہ آھستہ پانچ منٹ ہلائیں آپ کا سنیٹائزر تیار ھے۔
اگر اسے تھوڑا گاڑھا کرنا ھے تو ایک دو چٹکی نمک ڈال کر یا ایلوویرا جیل ڈال کر ہلائیں محلول گاڑھا ہوجائے گا۔
خوشبو کے لئے عرق گلاب بھی ڈال سکتے ہیں۔
جیب میں رکھنا چاہیں تو کوئی بھی پرانا ڈراپر اچھی طرح صاف کر کے محلول اس میں ڈال لیں اور جیسے آسانی لگے استعمال کریں۔
مجھے کوئی کریڈٹ نہیں چاہیے لوگوں کی فلاح کی لئے تحریر کو شئیر ضرور کریں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر جراثیم کش محلول (ہینڈ سینیٹائزرز) کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے اور مارکیٹ میں ہینڈ سینیٹائزرز تقریباً ناپید ہو چکے ہیں۔
ہینڈ سینیٹائزرز جراثیم کش محلولوں کا مرکب ہوتے ہیں جو کہ باآسانی گھر پر بنائے جا سکتے ہیں۔
200 ملی لیٹر پانی لیں اور اس میں 100 ملی لیٹر سپرٹ ڈالیں اور اس میں 10 ملی لیٹر ڈیٹول ڈال کر آھستہ آھستہ پانچ منٹ ہلائیں آپ کا سنیٹائزر تیار ھے۔
اگر اسے تھوڑا گاڑھا کرنا ھے تو ایک دو چٹکی نمک ڈال کر یا ایلوویرا جیل ڈال کر ہلائیں محلول گاڑھا ہوجائے گا۔
خوشبو کے لئے عرق گلاب بھی ڈال سکتے ہیں۔
جیب میں رکھنا چاہیں تو کوئی بھی پرانا ڈراپر اچھی طرح صاف کر کے محلول اس میں ڈال لیں اور جیسے آسانی لگے استعمال کریں۔
مجھے کوئی کریڈٹ نہیں چاہیے لوگوں کی فلاح کی لئے تحریر کو شئیر ضرور کریں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
👹 کرونا وائرس 👹
■ کرونا وائرس 28 دن تک جسم میں چھپا رہتا ہے اور پھر 28 دنوں کے بعد یہ ساری رگوں کو جام (blocked) کر کے جیلی بنا دیتا ہے۔ اور پھر یہ کڈنیس (kidneys) کی رگوں کو بھی جام (blocked) کر کے موت کا سبب بنتا ہے۔
■ علامات
1: سانس کے مسائل (شدید)…
■ کرونا وائرس 28 دن تک جسم میں چھپا رہتا ہے اور پھر 28 دنوں کے بعد یہ ساری رگوں کو جام (blocked) کر کے جیلی بنا دیتا ہے۔ اور پھر یہ کڈنیس (kidneys) کی رگوں کو بھی جام (blocked) کر کے موت کا سبب بنتا ہے۔
■ علامات
1: سانس کے مسائل (شدید)…
👹 کرونا سے بچنے کے لیے 👹
■ کرونا سے بچنے کے لیے ہر روز۔۔۔
🌹 زیارت عاشورہ کی تلاوت کریں،
🌹 صحیفہ سجادیہ کی ساتویں دعا پڑھیں،
🌹 قرآن پاک کی پچاس آیات کی تلاوت کریں،
🌹 دعای عظم البلا پڑھیں،
🌹 حدیث کسا کی تلاوت کریں،
🌹 کثرت سے درود پڑھیں،
🌹 دعاے کمیل کی تلاوت کریں،
🌹 گھر میں ہرمل کا دھواں دیں،
🌹شھد اور 8 دانے کلوبجی کے ہر روز کھاییں،
🌹سانس کی ورزش کریں،
🌹دار چینی، ادرک، ملٹھی کا قہوہ بنا کر پییں۔
🌹ہر روز اپنا بخار چیک کریں۔ خشک کھانسی، تیز بخار، جسم میں درد کی صورت میں اپنے آپ کو باقی گھر والوں سے الگ کر لیں۔ تین دن حالت ٹھیک نہ ہو تو ٹاکٹر سے رجوع کریں۔
🤲🏻 خداوند عالم ہر مسلمان و مسلمہ، مومن و مومنہ، بچوں و بچیوں چھوٹوں، بڑوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھے اور اگر کوئی اس کا شکار ہو چکا ہے تو اسے شفا عطا فرمائے۔ آمین
https://t.me/islamwitheman/2290
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
■ کرونا سے بچنے کے لیے ہر روز۔۔۔
🌹 زیارت عاشورہ کی تلاوت کریں،
🌹 صحیفہ سجادیہ کی ساتویں دعا پڑھیں،
🌹 قرآن پاک کی پچاس آیات کی تلاوت کریں،
🌹 دعای عظم البلا پڑھیں،
🌹 حدیث کسا کی تلاوت کریں،
🌹 کثرت سے درود پڑھیں،
🌹 دعاے کمیل کی تلاوت کریں،
🌹 گھر میں ہرمل کا دھواں دیں،
🌹شھد اور 8 دانے کلوبجی کے ہر روز کھاییں،
🌹سانس کی ورزش کریں،
🌹دار چینی، ادرک، ملٹھی کا قہوہ بنا کر پییں۔
🌹ہر روز اپنا بخار چیک کریں۔ خشک کھانسی، تیز بخار، جسم میں درد کی صورت میں اپنے آپ کو باقی گھر والوں سے الگ کر لیں۔ تین دن حالت ٹھیک نہ ہو تو ٹاکٹر سے رجوع کریں۔
🤲🏻 خداوند عالم ہر مسلمان و مسلمہ، مومن و مومنہ، بچوں و بچیوں چھوٹوں، بڑوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھے اور اگر کوئی اس کا شکار ہو چکا ہے تو اسے شفا عطا فرمائے۔ آمین
https://t.me/islamwitheman/2290
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 ہینڈ سینیٹائزرز گھر پر بنائیں 🔷
کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر جراثیم کش محلول (ہینڈ سینیٹائزرز) کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے اور مارکیٹ میں ہینڈ سینیٹائزرز تقریباً ناپید ہو چکے ہیں۔
ہینڈ سینیٹائزرز جراثیم کش محلولوں کا مرکب ہوتے ہیں جو کہ باآسانی گھر پر بنائے…
کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر جراثیم کش محلول (ہینڈ سینیٹائزرز) کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے اور مارکیٹ میں ہینڈ سینیٹائزرز تقریباً ناپید ہو چکے ہیں۔
ہینڈ سینیٹائزرز جراثیم کش محلولوں کا مرکب ہوتے ہیں جو کہ باآسانی گھر پر بنائے…
🔷 سات آیات مبارکہ دفع وبا کیلئے 🔷
سات آیات مبارکہ دفع وبا کا نسخہ
مرحوم آیت اللہ حاج سید احمد خوانساری سے منقول ہے کہ۔۔۔
زمانہ قدیم میں ایران اور شہر خوانسار شہر میں وبا کی بیماری پھیل گئی، ہر گھر میں ایک یا ایک سے زائد اموات ہونے لگیں، سوائے ان چند گھروں کے جن میں ہر روز صبح کی نماز کے بعد یہ سات مبارک آیات تلاوت کی جاتی تھیں۔
💠 بسمِ اللهِ الرّحمنِ الرَّحیمِ
📖 قل لَّن یُصِیبَنَا إِلاَّ مَا کَتَبَ اللّهُ لَنَا هُوَ مَوْلاَنَا وَعَلَى اللّهِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ.
📖 وإِن یَمْسَسْکَ اللّهُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَهُ إِلاَّ هُوَ وَإِن یُرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَ رَآدَّ لِفَضْلِهِ یُصَیبُ بِهِ مَن یَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ.
📖 ومَا مِن دَآبَّةٍ فِی الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللّهِ رِزْقُهَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا کُلٌّ فِی کِتَابٍ مُّبِینٍ.
📖 وکَأَیِّن مِن دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ یَرْزُقُهَا وَإِیَّاکُمْ وَهُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ.
📖 ما یَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِکَ لَهَا وَمَا یُمْسِکْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ.
📖 قلْ أَفَرَأَیْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِیَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ کَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِی بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِکَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِیَ اللَّهُ عَلَیْهِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُونَ.
📖 حسْبِیَ اللّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ.
وَ أَمْتَنِعُ بِحَوْلِ اَللَّهِ وَ قُوَّتِهِ مِنْ حَوْلِهِمْ وَ قُوَّتِهِمْ وَ أَسْتَشْفِعُ بِرَبِّ اَلْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مٰا خَلَقَ وَ أَعُوذُ بِمَا شَاءَ اَللَّهُ لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ اَلْعَلِیِّ اَلعظیم.
📚 بحار الانوار،جلد 83 ،صفحه 337.
آیت اللہ خوانساری نے ان آیات کو خوشخط لکھوا کر اپنے دوست و آشناؤں میں تقسیم کر رکھی تھیں۔
https://t.me/islamwitheman/2291
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
سات آیات مبارکہ دفع وبا کا نسخہ
مرحوم آیت اللہ حاج سید احمد خوانساری سے منقول ہے کہ۔۔۔
زمانہ قدیم میں ایران اور شہر خوانسار شہر میں وبا کی بیماری پھیل گئی، ہر گھر میں ایک یا ایک سے زائد اموات ہونے لگیں، سوائے ان چند گھروں کے جن میں ہر روز صبح کی نماز کے بعد یہ سات مبارک آیات تلاوت کی جاتی تھیں۔
💠 بسمِ اللهِ الرّحمنِ الرَّحیمِ
📖 قل لَّن یُصِیبَنَا إِلاَّ مَا کَتَبَ اللّهُ لَنَا هُوَ مَوْلاَنَا وَعَلَى اللّهِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ.
📖 وإِن یَمْسَسْکَ اللّهُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَهُ إِلاَّ هُوَ وَإِن یُرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَ رَآدَّ لِفَضْلِهِ یُصَیبُ بِهِ مَن یَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ.
📖 ومَا مِن دَآبَّةٍ فِی الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللّهِ رِزْقُهَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا کُلٌّ فِی کِتَابٍ مُّبِینٍ.
📖 وکَأَیِّن مِن دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ یَرْزُقُهَا وَإِیَّاکُمْ وَهُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ.
📖 ما یَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِکَ لَهَا وَمَا یُمْسِکْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ.
📖 قلْ أَفَرَأَیْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِیَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ کَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِی بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِکَاتُ رَحْمَتِهِ قُلْ حَسْبِیَ اللَّهُ عَلَیْهِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُونَ.
📖 حسْبِیَ اللّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ.
وَ أَمْتَنِعُ بِحَوْلِ اَللَّهِ وَ قُوَّتِهِ مِنْ حَوْلِهِمْ وَ قُوَّتِهِمْ وَ أَسْتَشْفِعُ بِرَبِّ اَلْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مٰا خَلَقَ وَ أَعُوذُ بِمَا شَاءَ اَللَّهُ لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ اَلْعَلِیِّ اَلعظیم.
📚 بحار الانوار،جلد 83 ،صفحه 337.
آیت اللہ خوانساری نے ان آیات کو خوشخط لکھوا کر اپنے دوست و آشناؤں میں تقسیم کر رکھی تھیں۔
https://t.me/islamwitheman/2291
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
👹 کرونا سے بچنے کے لیے 👹
■ کرونا سے بچنے کے لیے ہر روز۔۔۔
🌹 زیارت عاشورہ کی تلاوت کریں،
🌹 صحیفہ سجادیہ کی ساتویں دعا پڑھیں،
🌹 قرآن پاک کی پچاس آیات کی تلاوت کریں،
🌹 دعای عظم البلا پڑھیں،
🌹 حدیث کسا کی تلاوت کریں،
🌹 کثرت سے درود پڑھیں،
🌹 دعاے کمیل…
■ کرونا سے بچنے کے لیے ہر روز۔۔۔
🌹 زیارت عاشورہ کی تلاوت کریں،
🌹 صحیفہ سجادیہ کی ساتویں دعا پڑھیں،
🌹 قرآن پاک کی پچاس آیات کی تلاوت کریں،
🌹 دعای عظم البلا پڑھیں،
🌹 حدیث کسا کی تلاوت کریں،
🌹 کثرت سے درود پڑھیں،
🌹 دعاے کمیل…
🔷 کرونا وائرس کا پی ایچ 🔷
کرونا وائرس کا (Ph) پی ایچ 5.5 سے 8.5 تک ہوتا ہے۔
کورونا وائرس کو شکست دینے کے لئے ہمیں جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے اس میں زیادہ سے زیادہ الکلائن فوڈز لینے کی ضرورت ہے جو وائرس کے اوپر والے پی ایچ سطح سے اوپر ہیں۔
جن میں سے کچھ یہ ہیں:
Lemon (لیمن): 9.9 pH
Lime (چونا): 8.2 pH
Avocado (ایوکاڈو): 15.6 pH
Garlilic (لہسن): 13.2 pH
Mango (آم): 8.7 pH
Tangerine (ٹینجرین): 8.5 pH
Pineapple (انناس): 12.7 pH
Dandelion (ڈینڈیلین): 22.7 pH
Orange (اورنج): 9.2 pH
Avocado, Pineapple, Raw Vinegar, Grape Fruit, Oranges, Banana, Spinach, Peach, Garlic, Ginger, Bitter Fruit کریلا, Broccoli, Turmeric, Red Chillies, Bell Pepper, Yougart, Almond, Dates, ... are high in Ph and Alkalines.
Coco nut water is also best source for Alkaline.
کھجور، سیب کا سرکہ خالص، کلونجی 15 دانے، نمکین پیاز، کیلا، لیموں، انناس، چکوترہ، کریلا، ابلے ہوئے انڈے، کھوپرے کا پانی،
24 گھنٹے میں 7 گھنٹے کی نیند،
کھانا کم سے کم کھائیں.
گھر کے تمام افراد کو ایک گلاس گرم دودھ میں ایک چمچ (بچوں کے لیے) اور دو یا تین چمچ (بڑوں کے لیے) بادام کا تیل ڈال کر مکس کر کے پلائیں۔
باقی اللہ تعالیٰ خیر فرمائے گا۔
■ کرونا وائرس کی علامات۔۔۔
1۔ گلے میں خارش،
2۔ خشک حلق،
3۔ خشک کھانسی،
4۔ تیز حرارت،
5۔ سانس کی قلت
لہذا جہاں آپ کو یہ چیزیں نظر آئیں تو فوراً لیموں کا رس گرم پانی میں ڈال کر بار بار پئیں۔
اس معلومات کو صرف اپنے پاس نہ رکھیں۔ اسے اپنے سارے کنبہ اور دوستوں کو دیں۔ اللہ ہم سب پر رحمت کرے. اور کرونا وائرس کی وبائی مرض سے بچائے رکھے۔ آمین یا رب العالمین
https://t.me/islamwitheman/2291
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
کرونا وائرس کا (Ph) پی ایچ 5.5 سے 8.5 تک ہوتا ہے۔
کورونا وائرس کو شکست دینے کے لئے ہمیں جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے اس میں زیادہ سے زیادہ الکلائن فوڈز لینے کی ضرورت ہے جو وائرس کے اوپر والے پی ایچ سطح سے اوپر ہیں۔
جن میں سے کچھ یہ ہیں:
Lemon (لیمن): 9.9 pH
Lime (چونا): 8.2 pH
Avocado (ایوکاڈو): 15.6 pH
Garlilic (لہسن): 13.2 pH
Mango (آم): 8.7 pH
Tangerine (ٹینجرین): 8.5 pH
Pineapple (انناس): 12.7 pH
Dandelion (ڈینڈیلین): 22.7 pH
Orange (اورنج): 9.2 pH
Avocado, Pineapple, Raw Vinegar, Grape Fruit, Oranges, Banana, Spinach, Peach, Garlic, Ginger, Bitter Fruit کریلا, Broccoli, Turmeric, Red Chillies, Bell Pepper, Yougart, Almond, Dates, ... are high in Ph and Alkalines.
Coco nut water is also best source for Alkaline.
کھجور، سیب کا سرکہ خالص، کلونجی 15 دانے، نمکین پیاز، کیلا، لیموں، انناس، چکوترہ، کریلا، ابلے ہوئے انڈے، کھوپرے کا پانی،
24 گھنٹے میں 7 گھنٹے کی نیند،
کھانا کم سے کم کھائیں.
گھر کے تمام افراد کو ایک گلاس گرم دودھ میں ایک چمچ (بچوں کے لیے) اور دو یا تین چمچ (بڑوں کے لیے) بادام کا تیل ڈال کر مکس کر کے پلائیں۔
باقی اللہ تعالیٰ خیر فرمائے گا۔
■ کرونا وائرس کی علامات۔۔۔
1۔ گلے میں خارش،
2۔ خشک حلق،
3۔ خشک کھانسی،
4۔ تیز حرارت،
5۔ سانس کی قلت
لہذا جہاں آپ کو یہ چیزیں نظر آئیں تو فوراً لیموں کا رس گرم پانی میں ڈال کر بار بار پئیں۔
اس معلومات کو صرف اپنے پاس نہ رکھیں۔ اسے اپنے سارے کنبہ اور دوستوں کو دیں۔ اللہ ہم سب پر رحمت کرے. اور کرونا وائرس کی وبائی مرض سے بچائے رکھے۔ آمین یا رب العالمین
https://t.me/islamwitheman/2291
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
👹 کرونا سے بچنے کے لیے 👹
■ کرونا سے بچنے کے لیے ہر روز۔۔۔
🌹 زیارت عاشورہ کی تلاوت کریں،
🌹 صحیفہ سجادیہ کی ساتویں دعا پڑھیں،
🌹 قرآن پاک کی پچاس آیات کی تلاوت کریں،
🌹 دعای عظم البلا پڑھیں،
🌹 حدیث کسا کی تلاوت کریں،
🌹 کثرت سے درود پڑھیں،
🌹 دعاے کمیل…
■ کرونا سے بچنے کے لیے ہر روز۔۔۔
🌹 زیارت عاشورہ کی تلاوت کریں،
🌹 صحیفہ سجادیہ کی ساتویں دعا پڑھیں،
🌹 قرآن پاک کی پچاس آیات کی تلاوت کریں،
🌹 دعای عظم البلا پڑھیں،
🌹 حدیث کسا کی تلاوت کریں،
🌹 کثرت سے درود پڑھیں،
🌹 دعاے کمیل…
🔷 کرونا متاثرین کے چکھنے کی حس 🔷
نوٹ: چکھنے/سونگھنے کی ٹیسٹنگ ٹیکنیک قرنطینہ میں ڈیوٹی کرنے والے ایک سینیئر ڈاکٹر نے بتائی ہے.
چائنیز ڈاکٹروں کی جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا کے 70 فیصد متاثرین کی چکھنے (Ansomia) اور سونگھنے کی حس (Ageusia) ختم ہو جاتی ہے. اور جب یہ صحتیاب ہو جاتے ہیں تو ان کی حس بھی بحال ہو جاتی ہے.
ڈاکٹرز اس علامت کو خدائی نعمت قرار دے رہے ہیں.
آسان الفاط میں سمجھ لیں کہ اگر کسی کو کھٹی میٹھی یا کڑوی اشیاء (جیسے نمک، مرچ یا کسی کڑوی گولی) کے ذائقے کا پتہ نہیں چل رہا یا عطر /سینٹ کی خوشبو محسوس نہیں ہو رہی تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کرونا سے متاثر ہو چکا ہے.... چاہے ظاہری علامات نہ بھی ہوں، فورا گھر کے تمام افراد سے الگ ہو کر قریبی قرنطنیہ سینئر پہنچے تاکہ بروقت علاج ہو سکے۔
اور اگر کسی میں کرونا کی تمام علامات موجود ہوں (جیسے بخار ہو، نزلہ زکام، سر درد بھی ہو) لیکن اسکے باوجود بھی چکھنے اور سونگھنے کی حس (صلاحیت) بالکل ٹھیک کام رہی ہے پھر کرونا وائرس نہیں بلکہ موسمی بیماری ہے.
چائنیز ڈاکٹروں کے مطابق یہ خدا کی طرف سے کرونا متاثرین کو تلاش کرنے کی ایک نعمت ہے..... ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔۔
معمولی نزلہ زکام یا بخاد کی صورت میں خود کو کرونا مریض نہ سمجھیں.
اگر پھر بھی شک ہو تو سب سے پہلے اپنے گھر میں ہی اپنی سونگھنے اور چکھنے کی حس کو چیک کریں، گھر میں نمک، مرچ، یا کوئی کڑوی گولی منہ میں رکھ کر دیکھیں کہ ذائقہ محسوس ہو رہا ہے یا نہیں، اور سینٹ یا عطر یا کسی اور خوشبو کو سونگھ کر دیکھیں کہ محسوس ہو رہا ہے یا نہیں. اگر سب صحیح ہے تو پھر پریشان نہ ہوں، نہ ہی گھر سے نکلیں، گھر میں ہی پیناڈول سے اپنا بخار اتار سکتے ہیں، نزلہ زکام ہو تو اسے چھوڑ دیں یہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گا.
پھر بھی پریشانی ہو تو حکومت کی ہیلپ لائن 1166 پر کال کرکے اپنے حالات سے آگاہ کردیں، وہ آپ کو تسلی دیکر سب سمجھا دیں گے.
قرنطینہ سینئرز میں بھی مریض کو پہلے کڑوی گولی کھلا کر چیک کیا جا رہا ہے کہ ذائقہ محسوس ہو رہا ہے یا نہیں، ڈاکٹرز کے مطابق بہت سے مریض عام بخار کی وجہ سے خود کو کرونا متاثر سمجھ کر قرنطینہ آگئے تھے جنہیں خیریت سے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ مبارک ہو آپ کو کرونا نہیں ہے.
لیکن خدا کے لیے کرونا سے خوفزدہ مت ہوں، یاد رکھیں زندگی و موت اللہ کے اختیار میں ہے نہ کہ کرونا کے. اس لیے ڈرنا چھوڑ دیں۔ یاد رکھیں اس وقت کرونا کا واحد حل۔۔۔
احتیاط احتیاط اور صرف احتیاط کریں۔
آخر میں یاد رکھیں کرونا اللہ سے بڑا نہیں ہے لہذا اللہ پر توکل رکھیں اور پرامن زندگی گزارتے رہیں. شکریہ
copied
https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
نوٹ: چکھنے/سونگھنے کی ٹیسٹنگ ٹیکنیک قرنطینہ میں ڈیوٹی کرنے والے ایک سینیئر ڈاکٹر نے بتائی ہے.
چائنیز ڈاکٹروں کی جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا کے 70 فیصد متاثرین کی چکھنے (Ansomia) اور سونگھنے کی حس (Ageusia) ختم ہو جاتی ہے. اور جب یہ صحتیاب ہو جاتے ہیں تو ان کی حس بھی بحال ہو جاتی ہے.
ڈاکٹرز اس علامت کو خدائی نعمت قرار دے رہے ہیں.
آسان الفاط میں سمجھ لیں کہ اگر کسی کو کھٹی میٹھی یا کڑوی اشیاء (جیسے نمک، مرچ یا کسی کڑوی گولی) کے ذائقے کا پتہ نہیں چل رہا یا عطر /سینٹ کی خوشبو محسوس نہیں ہو رہی تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کرونا سے متاثر ہو چکا ہے.... چاہے ظاہری علامات نہ بھی ہوں، فورا گھر کے تمام افراد سے الگ ہو کر قریبی قرنطنیہ سینئر پہنچے تاکہ بروقت علاج ہو سکے۔
اور اگر کسی میں کرونا کی تمام علامات موجود ہوں (جیسے بخار ہو، نزلہ زکام، سر درد بھی ہو) لیکن اسکے باوجود بھی چکھنے اور سونگھنے کی حس (صلاحیت) بالکل ٹھیک کام رہی ہے پھر کرونا وائرس نہیں بلکہ موسمی بیماری ہے.
چائنیز ڈاکٹروں کے مطابق یہ خدا کی طرف سے کرونا متاثرین کو تلاش کرنے کی ایک نعمت ہے..... ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔۔
معمولی نزلہ زکام یا بخاد کی صورت میں خود کو کرونا مریض نہ سمجھیں.
اگر پھر بھی شک ہو تو سب سے پہلے اپنے گھر میں ہی اپنی سونگھنے اور چکھنے کی حس کو چیک کریں، گھر میں نمک، مرچ، یا کوئی کڑوی گولی منہ میں رکھ کر دیکھیں کہ ذائقہ محسوس ہو رہا ہے یا نہیں، اور سینٹ یا عطر یا کسی اور خوشبو کو سونگھ کر دیکھیں کہ محسوس ہو رہا ہے یا نہیں. اگر سب صحیح ہے تو پھر پریشان نہ ہوں، نہ ہی گھر سے نکلیں، گھر میں ہی پیناڈول سے اپنا بخار اتار سکتے ہیں، نزلہ زکام ہو تو اسے چھوڑ دیں یہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گا.
پھر بھی پریشانی ہو تو حکومت کی ہیلپ لائن 1166 پر کال کرکے اپنے حالات سے آگاہ کردیں، وہ آپ کو تسلی دیکر سب سمجھا دیں گے.
قرنطینہ سینئرز میں بھی مریض کو پہلے کڑوی گولی کھلا کر چیک کیا جا رہا ہے کہ ذائقہ محسوس ہو رہا ہے یا نہیں، ڈاکٹرز کے مطابق بہت سے مریض عام بخار کی وجہ سے خود کو کرونا متاثر سمجھ کر قرنطینہ آگئے تھے جنہیں خیریت سے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ مبارک ہو آپ کو کرونا نہیں ہے.
لیکن خدا کے لیے کرونا سے خوفزدہ مت ہوں، یاد رکھیں زندگی و موت اللہ کے اختیار میں ہے نہ کہ کرونا کے. اس لیے ڈرنا چھوڑ دیں۔ یاد رکھیں اس وقت کرونا کا واحد حل۔۔۔
احتیاط احتیاط اور صرف احتیاط کریں۔
آخر میں یاد رکھیں کرونا اللہ سے بڑا نہیں ہے لہذا اللہ پر توکل رکھیں اور پرامن زندگی گزارتے رہیں. شکریہ
copied
https://t.me/islamwitheman/2276
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
👹 کرونا وائرس 👹
■ کرونا وائرس 28 دن تک جسم میں چھپا رہتا ہے اور پھر 28 دنوں کے بعد یہ ساری رگوں کو جام (blocked) کر کے جیلی بنا دیتا ہے۔ اور پھر یہ کڈنیس (kidneys) کی رگوں کو بھی جام (blocked) کر کے موت کا سبب بنتا ہے۔
■ علامات
1: سانس کے مسائل (شدید)…
■ کرونا وائرس 28 دن تک جسم میں چھپا رہتا ہے اور پھر 28 دنوں کے بعد یہ ساری رگوں کو جام (blocked) کر کے جیلی بنا دیتا ہے۔ اور پھر یہ کڈنیس (kidneys) کی رگوں کو بھی جام (blocked) کر کے موت کا سبب بنتا ہے۔
■ علامات
1: سانس کے مسائل (شدید)…