🔷 خطبه نكاح 🔷
بِسْمِ الله الرَّحمٰنِ الرّٰحىْمِ
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اِقْراراً بِنِعْمَتِهِ
وَلا اِلَهَ اِلَّا اللَّهُ اِخْلاَصاً لِوَحْدَانِيَّتِهِ
وَصَلّٰى اللّٰهُ عَلَى مُحَمَّدٍ سَيِّدِ بَرِيَّتِهِ
وَ عَلَى الاَصْفِيَآءِ مِنْ عِتْرَتِهِ
اَمَّا بَعْدُ فَقَدْ كَانَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَى اْلاَنَامِ اَنْ اَغْنَاهُمْ بِالْحَلالِ عَنِ الْحَرَامِ
فَقَالَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالىَ: وَ اَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُم وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغغْنُهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ
وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰلهِ: تَنَاكَحُوْا وَ تَنَاسَلُوْا تَكٰثُرُوْا فَاِنِّىْ اُبَاهِىْ بِكُمُ الاُمَمَ یوم الْقِيَامَةِ وَلَوْ بالسِّقْطِ
وَقَالَ رسول اللہ صلّى اللّٰه عليْهِ وَسلّم: الَنِّكَاحُ مِنْ سُنَتِىْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِىْ فَلَيْسَ مِنّىْ
وَصَلَّى اللّٰهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّاَلِهِ الطَّيِّبِيْنَ الطَّاهِرِيِن۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹیں دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔۔
💕 خاوند اور بیوی
http://t.me/islamwitheman/189
🔵 خاوند کی سوچ بیوی کے لیے
http://t.me/islamwitheman/193
🔵 عقلمند بیوی
http://t.me/islamwitheman/197
🌹 کامیاب ازدواجی زندگی
http://t.me/islamwitheman/200
💕 شریک حیات کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/529
🌹 نکاح کی فضیلت
http://t.me/islamwitheman/1312
🌹 ارادہ نکاح کے آداب
http://t.me/islamwitheman/1316
🌸 شب زفاف کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1321
🌹 زوجین کے بارے احادیث
https://t.me/islamwitheman/2232
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
بِسْمِ الله الرَّحمٰنِ الرّٰحىْمِ
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اِقْراراً بِنِعْمَتِهِ
وَلا اِلَهَ اِلَّا اللَّهُ اِخْلاَصاً لِوَحْدَانِيَّتِهِ
وَصَلّٰى اللّٰهُ عَلَى مُحَمَّدٍ سَيِّدِ بَرِيَّتِهِ
وَ عَلَى الاَصْفِيَآءِ مِنْ عِتْرَتِهِ
اَمَّا بَعْدُ فَقَدْ كَانَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَى اْلاَنَامِ اَنْ اَغْنَاهُمْ بِالْحَلالِ عَنِ الْحَرَامِ
فَقَالَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالىَ: وَ اَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُم وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغغْنُهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ
وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰلهِ: تَنَاكَحُوْا وَ تَنَاسَلُوْا تَكٰثُرُوْا فَاِنِّىْ اُبَاهِىْ بِكُمُ الاُمَمَ یوم الْقِيَامَةِ وَلَوْ بالسِّقْطِ
وَقَالَ رسول اللہ صلّى اللّٰه عليْهِ وَسلّم: الَنِّكَاحُ مِنْ سُنَتِىْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِىْ فَلَيْسَ مِنّىْ
وَصَلَّى اللّٰهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّاَلِهِ الطَّيِّبِيْنَ الطَّاهِرِيِن۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹیں دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔۔
💕 خاوند اور بیوی
http://t.me/islamwitheman/189
🔵 خاوند کی سوچ بیوی کے لیے
http://t.me/islamwitheman/193
🔵 عقلمند بیوی
http://t.me/islamwitheman/197
🌹 کامیاب ازدواجی زندگی
http://t.me/islamwitheman/200
💕 شریک حیات کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/529
🌹 نکاح کی فضیلت
http://t.me/islamwitheman/1312
🌹 ارادہ نکاح کے آداب
http://t.me/islamwitheman/1316
🌸 شب زفاف کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1321
🌹 زوجین کے بارے احادیث
https://t.me/islamwitheman/2232
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💖💕 خاوند اور بیوی 💕💖
شادی شدہ لوگ ضرور پڑھیں مزہ آئیگا. کالج میں ہیپی میرڈ لائف پر ایک ورکشاپ ہو رہی تھی، جس میں کچھ شادی شدہ جوڑے حصہ لے رہے تھے. جس وقت پروفیسر اسٹیج پر آئے انہوں نے نوٹ کیا کہ تمام شادی شدہ لوگ لطیفے سن کر ہنس رہے تھے...
یہ دیکھ کر پروفیسر…
شادی شدہ لوگ ضرور پڑھیں مزہ آئیگا. کالج میں ہیپی میرڈ لائف پر ایک ورکشاپ ہو رہی تھی، جس میں کچھ شادی شدہ جوڑے حصہ لے رہے تھے. جس وقت پروفیسر اسٹیج پر آئے انہوں نے نوٹ کیا کہ تمام شادی شدہ لوگ لطیفے سن کر ہنس رہے تھے...
یہ دیکھ کر پروفیسر…
🌸 ضرورت پوری کرنیوالا 🌸
ایک بادشاہ راستہ بھٹک کر کسی ویرانے میں پہنچ گیا، وہاں جھونپڑی تھی اس جھونپڑی میں رہنے والے شخص نے بادشاہ کی بڑی خدمت کی، وہ غریب جانتا بھی نہیں تھا کہ یہ بادشاہ ہے، مسافر سمجھ کر خدمت کی۔
بادشاہ اس کی خدمت سے بہت خوش ہوا، جب جانے لگا تو اس نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری اور کہا: تم مجھے نہیں جانتے ہو کہ میں بادشاہ ہوں۔ یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھو، جب کبھی کوئی ضروت ہوگی ہمارے محل میں آجانا، دروازے پر جو دربان ہوگا اسے یہ انگوٹھی دکھا دینا، ہم کسی بھی حالت میں ہوں گے وہ ہم سے ملاقات کرا دے گا۔ بادشاہ چلا گیا۔
کچھ دن کے بعد اس کو کوئی ضرورت پیش آئی تو وہ دیہاتی بڑے میاں گئے، محل کے دروازے پر پہنچے، کہا بادشاہ سے ملنا ہے۔
دربان نے اوپر سے نیچے تک دیکھا کہ اس کی کیا اوقات ہے بادشاہ سے ملنے کی، کہنے لگا نہیں مل سکتے، مفلس وقلاش آدمی ہے۔
اس دیہاتی شخص نے پھر وہ انگوٹھی دکھائی، اب جو دربان نے دیکھا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، یہ بادشاہ کی مہر لگانے والی انگوٹھی آپ کے پاس؟ بادشاہ کا حکم تھا کہ یہ انگوٹھی جو لے کر آئے گا ہم جس حالت میں ہوں اسے ہمارے پاس پہنچادیا جائے، چنانچہ دربان اسےساتھ لے کر بادشاہ کے خاص کمرے تک گیا، دروازہ کھلا ہوا تھا، اندر داخل ہوئے، اب یہ جو شخص وہاں چل کر آیا تھا، اس کی نظر پڑی کہ بادشاہ نماز میں مشغول ہے، پھر اس نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے، اس کی نظر پڑی تو وہ وہیں سے واپس ہوگیا اور محل کے باہر جانے لگا، دربان نے کہا مل تو لو۔
اس دیہاتی نے کہا؛ اب نہیں ملنا ہے، کام ہو گیا۔ اب واپس جاناہے۔
تھوڑی دور چلا گیا، جب بادشاہ فارغ ہوگیا۔ دربان نے کہا ایسا ایسا آدمی آیا تھا یہاں تک آیا پھر واپس جانے لگا۔ بادشاہ نے کہا فوراً لے کر آو وہ ہمارا محسن ہے۔
واپس لایا گیا بادشاہ نے کہا آئے ہو تو ملے ہوتے، ایسے کیسے چلے گئے؟
اس نےکہا کہ بادشاہ سلامت!اصل بات یہ ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ کوئی ضرورت پیش آئے تو آجانا ہم ضرورت پوری کر دیں گے۔ مجھے ضرورت پیش آئی تھی میں آیا اور آ کر دیکھا کہ آپ بھی کسی سے مانگ رہے ہیں، تو میرے دل میں خیال آیا کہ بادشاہ جس سے مانگ رہا ہے کیوں نہ میں بھی اسی سے مانگ لوں۔
🔘 یہ ہے وہ چیز کہ ہمیں جب کبھی کوئی ضرورت ہو بڑی ہو یاچھوٹی٬ اس کا سوال صرف ﷲ تعالٰی سےکیا جائے کہ وہی ایک در ہے جہاں مانگی ہوئی مراد ملتی ہے۔
https://t.me/islamwitheman/2161
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک بادشاہ راستہ بھٹک کر کسی ویرانے میں پہنچ گیا، وہاں جھونپڑی تھی اس جھونپڑی میں رہنے والے شخص نے بادشاہ کی بڑی خدمت کی، وہ غریب جانتا بھی نہیں تھا کہ یہ بادشاہ ہے، مسافر سمجھ کر خدمت کی۔
بادشاہ اس کی خدمت سے بہت خوش ہوا، جب جانے لگا تو اس نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری اور کہا: تم مجھے نہیں جانتے ہو کہ میں بادشاہ ہوں۔ یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھو، جب کبھی کوئی ضروت ہوگی ہمارے محل میں آجانا، دروازے پر جو دربان ہوگا اسے یہ انگوٹھی دکھا دینا، ہم کسی بھی حالت میں ہوں گے وہ ہم سے ملاقات کرا دے گا۔ بادشاہ چلا گیا۔
کچھ دن کے بعد اس کو کوئی ضرورت پیش آئی تو وہ دیہاتی بڑے میاں گئے، محل کے دروازے پر پہنچے، کہا بادشاہ سے ملنا ہے۔
دربان نے اوپر سے نیچے تک دیکھا کہ اس کی کیا اوقات ہے بادشاہ سے ملنے کی، کہنے لگا نہیں مل سکتے، مفلس وقلاش آدمی ہے۔
اس دیہاتی شخص نے پھر وہ انگوٹھی دکھائی، اب جو دربان نے دیکھا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، یہ بادشاہ کی مہر لگانے والی انگوٹھی آپ کے پاس؟ بادشاہ کا حکم تھا کہ یہ انگوٹھی جو لے کر آئے گا ہم جس حالت میں ہوں اسے ہمارے پاس پہنچادیا جائے، چنانچہ دربان اسےساتھ لے کر بادشاہ کے خاص کمرے تک گیا، دروازہ کھلا ہوا تھا، اندر داخل ہوئے، اب یہ جو شخص وہاں چل کر آیا تھا، اس کی نظر پڑی کہ بادشاہ نماز میں مشغول ہے، پھر اس نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے، اس کی نظر پڑی تو وہ وہیں سے واپس ہوگیا اور محل کے باہر جانے لگا، دربان نے کہا مل تو لو۔
اس دیہاتی نے کہا؛ اب نہیں ملنا ہے، کام ہو گیا۔ اب واپس جاناہے۔
تھوڑی دور چلا گیا، جب بادشاہ فارغ ہوگیا۔ دربان نے کہا ایسا ایسا آدمی آیا تھا یہاں تک آیا پھر واپس جانے لگا۔ بادشاہ نے کہا فوراً لے کر آو وہ ہمارا محسن ہے۔
واپس لایا گیا بادشاہ نے کہا آئے ہو تو ملے ہوتے، ایسے کیسے چلے گئے؟
اس نےکہا کہ بادشاہ سلامت!اصل بات یہ ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ کوئی ضرورت پیش آئے تو آجانا ہم ضرورت پوری کر دیں گے۔ مجھے ضرورت پیش آئی تھی میں آیا اور آ کر دیکھا کہ آپ بھی کسی سے مانگ رہے ہیں، تو میرے دل میں خیال آیا کہ بادشاہ جس سے مانگ رہا ہے کیوں نہ میں بھی اسی سے مانگ لوں۔
🔘 یہ ہے وہ چیز کہ ہمیں جب کبھی کوئی ضرورت ہو بڑی ہو یاچھوٹی٬ اس کا سوال صرف ﷲ تعالٰی سےکیا جائے کہ وہی ایک در ہے جہاں مانگی ہوئی مراد ملتی ہے۔
https://t.me/islamwitheman/2161
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔘 کہیں دعا قبول نہ ہو جائے 🔘
میں قدرت اللہ شہاب کے ساتھ مسجد الحرام کے صحن میں بیٹھا ھوا تھا کہ اچانک قدرت نے پوچھا: "یہ آپ کے ھاتھ میں کیا ھے؟"
"یہ کاپی ھے۔"
"یہ کیسی کاپی ھے؟"
"اِس میں دعائیں لکھی ھیں۔ میرے کئی ایک دوستوں نے کہا تھا کہ خانہؑ کعبہ میں…
میں قدرت اللہ شہاب کے ساتھ مسجد الحرام کے صحن میں بیٹھا ھوا تھا کہ اچانک قدرت نے پوچھا: "یہ آپ کے ھاتھ میں کیا ھے؟"
"یہ کاپی ھے۔"
"یہ کیسی کاپی ھے؟"
"اِس میں دعائیں لکھی ھیں۔ میرے کئی ایک دوستوں نے کہا تھا کہ خانہؑ کعبہ میں…
🌺 بیوی کے ذمہ 26 حقوق 🌺
1. ہر جائز امر میں شوہر کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنا۔
2. شوہر کی مالی حیثیت سے زیادہ خرچ کا مطالبہ نہ کرنا۔
3. شوہر کو جس کا گھر آنا ناپسند ہو اس کی اجازت کے بغیر نہ آنے دینا۔
4. شوہر کی اجازت کے بغیر اس کا مال کسی کو نہ دینا۔
5. شوہر کی اجازت کے بغیر نفل نماز نہ پڑھنا اور نہ نفل روزہ رکھنا۔
6. شوہر اگر ہمبستری کے لیے بلائے اور کوئی شرعی عذر نہ ہو تو اس سے انکار نہ کرنا۔
7. شوہر کو غربت یا بدصورتی کی وجہ سے حقیر نہ سمجھنا۔
8. اگر کوئی شوہر میں شریعت کے خلاف کوئی چیز دیکھے تو ادب سے منع کرنا۔
9. کسی کے سامنے شوہر کے عیب بیان نہ کرنا اور نہ شوہر کے سامنے زبان درازی کرنا۔
10. شوہر کے عزیز و اقارب سے لڑائی جھگڑا نہ کرنا۔
11. اگر کوئی شرعی عذر نہ ہو تو شوہر کے والدین کی خدمت کو سعادت سمجھنا۔
12. شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلنا۔
13. عورت اپنے ر ب کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک اپنے شوہر کا حق ادا نہ کرے۔
14. جس عورت کی موت اس حال میں آئے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو وہ عورت جنتی ہے۔
15. شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کرنا اس کا حق ہے عورت کو اس پر اجر ملتا ہے۔
16. شوہر پر حضرت خدیجہ (س) کی طرح اپنا مال خرچ کرنا سعادت سمجھے۔
17. شوہر کو کوئی پریشانی پیش آجائے تو اس کو تسلی دے۔
18. شوہر کی خدمت محبت اور خلوص سے کرنا اپنی سعادت سمجھے۔
19. شوہر کو حرام کمائی سے بچانے کی فکر کرے۔
20. شوہر کے سامان اور گھر کو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کرے۔
21. شوہر کے آرام کا خیال کرے۔
22. شوہر کوئی سوال کرے تو مقصد سمجھنے کی کوشش کرے اور سوچ کر جواب دے۔
23. شوہر کی پکار پر فوراً جواب دے صرف اس بنا پر دیر نہ کرے کہ وہ خود ہی کر لیں گے۔
24. شوہر اگر مشورہ طلب کرے تو خلوص سے مشورہ دے۔
25. شوہر اگر غصہ ہو تو فوراً معافی مانگ کر اس کے مزاج کو ٹھنڈا کر دے۔
26. شوہر کے سامنے زبان درازی نہ کرے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/2239
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1. ہر جائز امر میں شوہر کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنا۔
2. شوہر کی مالی حیثیت سے زیادہ خرچ کا مطالبہ نہ کرنا۔
3. شوہر کو جس کا گھر آنا ناپسند ہو اس کی اجازت کے بغیر نہ آنے دینا۔
4. شوہر کی اجازت کے بغیر اس کا مال کسی کو نہ دینا۔
5. شوہر کی اجازت کے بغیر نفل نماز نہ پڑھنا اور نہ نفل روزہ رکھنا۔
6. شوہر اگر ہمبستری کے لیے بلائے اور کوئی شرعی عذر نہ ہو تو اس سے انکار نہ کرنا۔
7. شوہر کو غربت یا بدصورتی کی وجہ سے حقیر نہ سمجھنا۔
8. اگر کوئی شوہر میں شریعت کے خلاف کوئی چیز دیکھے تو ادب سے منع کرنا۔
9. کسی کے سامنے شوہر کے عیب بیان نہ کرنا اور نہ شوہر کے سامنے زبان درازی کرنا۔
10. شوہر کے عزیز و اقارب سے لڑائی جھگڑا نہ کرنا۔
11. اگر کوئی شرعی عذر نہ ہو تو شوہر کے والدین کی خدمت کو سعادت سمجھنا۔
12. شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلنا۔
13. عورت اپنے ر ب کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک اپنے شوہر کا حق ادا نہ کرے۔
14. جس عورت کی موت اس حال میں آئے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو وہ عورت جنتی ہے۔
15. شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کرنا اس کا حق ہے عورت کو اس پر اجر ملتا ہے۔
16. شوہر پر حضرت خدیجہ (س) کی طرح اپنا مال خرچ کرنا سعادت سمجھے۔
17. شوہر کو کوئی پریشانی پیش آجائے تو اس کو تسلی دے۔
18. شوہر کی خدمت محبت اور خلوص سے کرنا اپنی سعادت سمجھے۔
19. شوہر کو حرام کمائی سے بچانے کی فکر کرے۔
20. شوہر کے سامان اور گھر کو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کرے۔
21. شوہر کے آرام کا خیال کرے۔
22. شوہر کوئی سوال کرے تو مقصد سمجھنے کی کوشش کرے اور سوچ کر جواب دے۔
23. شوہر کی پکار پر فوراً جواب دے صرف اس بنا پر دیر نہ کرے کہ وہ خود ہی کر لیں گے۔
24. شوہر اگر مشورہ طلب کرے تو خلوص سے مشورہ دے۔
25. شوہر اگر غصہ ہو تو فوراً معافی مانگ کر اس کے مزاج کو ٹھنڈا کر دے۔
26. شوہر کے سامنے زبان درازی نہ کرے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/2239
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 خطبه نكاح 🔷
بِسْمِ الله الرَّحمٰنِ الرّٰحىْمِ
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اِقْراراً بِنِعْمَتِهِ
وَلا اِلَهَ اِلَّا اللَّهُ اِخْلاَصاً لِوَحْدَانِيَّتِهِ
وَصَلّٰى اللّٰهُ عَلَى مُحَمَّدٍ سَيِّدِ بَرِيَّتِهِ
وَ عَلَى الاَصْفِيَآءِ مِنْ عِتْرَتِهِ
اَمَّا بَعْدُ…
بِسْمِ الله الرَّحمٰنِ الرّٰحىْمِ
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اِقْراراً بِنِعْمَتِهِ
وَلا اِلَهَ اِلَّا اللَّهُ اِخْلاَصاً لِوَحْدَانِيَّتِهِ
وَصَلّٰى اللّٰهُ عَلَى مُحَمَّدٍ سَيِّدِ بَرِيَّتِهِ
وَ عَلَى الاَصْفِيَآءِ مِنْ عِتْرَتِهِ
اَمَّا بَعْدُ…
🔷 الله کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا (1) 🔷
کیا الله کے علاوہ کسی کو تعظیمی سجدہ کرنا جائز ہے؟
ہمارے ہاں بعض لوگ نظر آتے ہیں جو کربلا جا کر یا علم یا ذوالجناح وغیرہ کو سجدہ کرتے ہیں، پوچھا جائے تو کہتے ہیں جی یہ تو تعظیمی سجدہ ہے، مثال دیتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کو بھی فرشتوں نے سجدہ کیا ہے، اور یوسف علیہ السلام کو انکے بھائیوں نے سجدہ کیا ہے۔ اول تو یہ کہ آدم علیہ السلام کو جو سجدہ ہوا وہ الله ﷻ کے حکم سے تھا، ادھر کونسا حکم جاری کیا ہے الله ﷻ نے کہ سجدہ کرو قبور کو آئمہ علیہم السلام کی یا علم کو یا ذو الجناح کو وغیرہ، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ آدم علیہ السلام فرشتوں کے قبلہ تھے جس وجہ سے انہوں نے اس جانب سجدہ کیا۔ اور یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے سجدہ شکر کیا تھا نہ کہ خود یوسف علیہ السلام کو سجدہ کیا تھا۔ تو یہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔ مگر انکو چھوڑ بھی دیں تو آئیے دیکھتے ہیں معصومین علیہم السلام کیا فرماتے ہیں اس بارے میں۔۔۔
🔹 مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ (عَلَيْهِ السَّلام) أَنَّ قَوْماً أَتَوْا رَسُولَ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا رَأَيْنَا أُنَاساً يَسْجُدُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) لَوْ أَمَرْتُ أَحَداً أَنْ يَسْجُدَ لأحَدٍ لأمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا.
ترجمہ:
محمد بن یحیی، جس نے احمد بن محمد سے جس نے ابن محبوب سے جس نے مالک بن عطیہ سے جس نے سلیمان بن خالد سے جس نے امام الصادق علیہ السلام سے روایت کی، فرمایا کہ کچھ لوگ رسول الله ص کے پاس آئے اور فرمایا: یا رسول الله ص! ہم کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں جو ایک دوسرے کو سجدہ کرتے ہیں۔ رسول الله ص نے فرمایا: اگر میں کسی ایک کو حکم دیتا کہ وہ کسی ایک کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (1)
علامہ مجلسی: حدیث صحیح ہے۔ (مرآة العقول / 20 / 320)
روایت سے معلوم ہوا کہ کسی کا بھی کسی کو سجدہ کرنا جائز ہی نہیں ہے۔ خواہ آپ اسکو تعظیمی کا نام ہی کیوں نہ دیدیں۔
🔹 مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي قِبْلَةً وَ لَا مَسْجِداً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ لَعَنَ الْيَهُودَ- حَيْثُ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ۔
ترجمہ:
محمد بن علی بن حسین علیہ السلام نے فرمایا: رسول الله ص نے فرمایا: میری قبر کو قبلہ نہ بنانا اور نہ مسجد (سجدے کی جگہ)، کیونکہ الله ﷻ نے یھود و نصاری پر لعنت کی جب انہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو مساجد بنایا۔ (2)
مسجد کا مطلب ہے سجدہ کرنے کی جگہ۔
🔹 ایک توقیع امام مھدی عج سے قبر کو سجدہ کرنے کے بابت:
وَقَرَأْتُ التَّوْقِيعَ وَمِنْهُ نَسَخْتُ أَمَّا السُّجُودُ عَلَى الْقَبْرِ فَلَا يَجُوزُ فِي نَافِلَةٍ وَ لَا فَرِيضَةٍ وَ لَا زِيَارَةٍ۔
ترجمہ:
اور میں نے توقیع پڑھی اور اس میں سے میں نے نقل کیا تھا کہ جہاں تک قبر پر سجدہ کرنے کی بات ہے تو وہ جائز نہیں نافلہ نماز میں اور نہ فرض نماز میں اور نہ زیارت میں۔ (3)
علامہ مجلسی: حدیث حسن ہے صحیح کی مانند۔ (ملاذ الأخيار / 4 / 238)
🔹 شیخ طوسی کہتے ہیں:
ولا يجوز السّجود إلّا على الأرض أو ما أنبتته الأرض، إلّا ما أكل أو لبس، ولا يجوز السّجود على القبر۔
ترجمہ:
سجدہ جائز نہیں سوائے زمین پر یا جو زمین سے اگتا ہو، اور کھایا اور پہنا نہ جاتا ہو، اور سجدہ قبر پر جائز نہیں۔ (4)
🔹 نعمت اللہ جزائری:
وكذلك لا يجوز السجود على القبر۔
ترجمہ:
اور ایسے ہی سجدہ جائز نہیں قبر پر۔ (5)
🔹 سید خوئی:
(مسألة ٢٤): يحرم السجود لغير الله (١) - تعالى - فإنه غاية الخضوع فيختص بمن هو غاية الكبرياء والعظمة وسجدة الملائكة لم تكن لآدم بل كان قبلة لهم، كما أن سجدة يعقوب وولده لم تكن ليوسف بل لله - تعالى - شكرا حيث رأوا ما أعطاه الله من الملك، فما يفعله سواد الشيعة من صورة السجدة عند قبر أمير المؤمنين وغيره من الأئمة (ع) مشكل، إلا أن يقصدوا به سجدة الشكر لتوفيق الله لهم لادراك الزيارة. نعم لا يبعد جواز تقبيل العتبة الشريفة.
ترجمہ؛
مسئلہ 24: غیر الله تعالی کو سجدہ کرنا حرام ہے۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
کیا الله کے علاوہ کسی کو تعظیمی سجدہ کرنا جائز ہے؟
ہمارے ہاں بعض لوگ نظر آتے ہیں جو کربلا جا کر یا علم یا ذوالجناح وغیرہ کو سجدہ کرتے ہیں، پوچھا جائے تو کہتے ہیں جی یہ تو تعظیمی سجدہ ہے، مثال دیتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کو بھی فرشتوں نے سجدہ کیا ہے، اور یوسف علیہ السلام کو انکے بھائیوں نے سجدہ کیا ہے۔ اول تو یہ کہ آدم علیہ السلام کو جو سجدہ ہوا وہ الله ﷻ کے حکم سے تھا، ادھر کونسا حکم جاری کیا ہے الله ﷻ نے کہ سجدہ کرو قبور کو آئمہ علیہم السلام کی یا علم کو یا ذو الجناح کو وغیرہ، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ آدم علیہ السلام فرشتوں کے قبلہ تھے جس وجہ سے انہوں نے اس جانب سجدہ کیا۔ اور یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے سجدہ شکر کیا تھا نہ کہ خود یوسف علیہ السلام کو سجدہ کیا تھا۔ تو یہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔ مگر انکو چھوڑ بھی دیں تو آئیے دیکھتے ہیں معصومین علیہم السلام کیا فرماتے ہیں اس بارے میں۔۔۔
🔹 مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ (عَلَيْهِ السَّلام) أَنَّ قَوْماً أَتَوْا رَسُولَ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا رَأَيْنَا أُنَاساً يَسْجُدُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) لَوْ أَمَرْتُ أَحَداً أَنْ يَسْجُدَ لأحَدٍ لأمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا.
ترجمہ:
محمد بن یحیی، جس نے احمد بن محمد سے جس نے ابن محبوب سے جس نے مالک بن عطیہ سے جس نے سلیمان بن خالد سے جس نے امام الصادق علیہ السلام سے روایت کی، فرمایا کہ کچھ لوگ رسول الله ص کے پاس آئے اور فرمایا: یا رسول الله ص! ہم کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں جو ایک دوسرے کو سجدہ کرتے ہیں۔ رسول الله ص نے فرمایا: اگر میں کسی ایک کو حکم دیتا کہ وہ کسی ایک کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (1)
علامہ مجلسی: حدیث صحیح ہے۔ (مرآة العقول / 20 / 320)
روایت سے معلوم ہوا کہ کسی کا بھی کسی کو سجدہ کرنا جائز ہی نہیں ہے۔ خواہ آپ اسکو تعظیمی کا نام ہی کیوں نہ دیدیں۔
🔹 مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي قِبْلَةً وَ لَا مَسْجِداً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ لَعَنَ الْيَهُودَ- حَيْثُ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ۔
ترجمہ:
محمد بن علی بن حسین علیہ السلام نے فرمایا: رسول الله ص نے فرمایا: میری قبر کو قبلہ نہ بنانا اور نہ مسجد (سجدے کی جگہ)، کیونکہ الله ﷻ نے یھود و نصاری پر لعنت کی جب انہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو مساجد بنایا۔ (2)
مسجد کا مطلب ہے سجدہ کرنے کی جگہ۔
🔹 ایک توقیع امام مھدی عج سے قبر کو سجدہ کرنے کے بابت:
وَقَرَأْتُ التَّوْقِيعَ وَمِنْهُ نَسَخْتُ أَمَّا السُّجُودُ عَلَى الْقَبْرِ فَلَا يَجُوزُ فِي نَافِلَةٍ وَ لَا فَرِيضَةٍ وَ لَا زِيَارَةٍ۔
ترجمہ:
اور میں نے توقیع پڑھی اور اس میں سے میں نے نقل کیا تھا کہ جہاں تک قبر پر سجدہ کرنے کی بات ہے تو وہ جائز نہیں نافلہ نماز میں اور نہ فرض نماز میں اور نہ زیارت میں۔ (3)
علامہ مجلسی: حدیث حسن ہے صحیح کی مانند۔ (ملاذ الأخيار / 4 / 238)
🔹 شیخ طوسی کہتے ہیں:
ولا يجوز السّجود إلّا على الأرض أو ما أنبتته الأرض، إلّا ما أكل أو لبس، ولا يجوز السّجود على القبر۔
ترجمہ:
سجدہ جائز نہیں سوائے زمین پر یا جو زمین سے اگتا ہو، اور کھایا اور پہنا نہ جاتا ہو، اور سجدہ قبر پر جائز نہیں۔ (4)
🔹 نعمت اللہ جزائری:
وكذلك لا يجوز السجود على القبر۔
ترجمہ:
اور ایسے ہی سجدہ جائز نہیں قبر پر۔ (5)
🔹 سید خوئی:
(مسألة ٢٤): يحرم السجود لغير الله (١) - تعالى - فإنه غاية الخضوع فيختص بمن هو غاية الكبرياء والعظمة وسجدة الملائكة لم تكن لآدم بل كان قبلة لهم، كما أن سجدة يعقوب وولده لم تكن ليوسف بل لله - تعالى - شكرا حيث رأوا ما أعطاه الله من الملك، فما يفعله سواد الشيعة من صورة السجدة عند قبر أمير المؤمنين وغيره من الأئمة (ع) مشكل، إلا أن يقصدوا به سجدة الشكر لتوفيق الله لهم لادراك الزيارة. نعم لا يبعد جواز تقبيل العتبة الشريفة.
ترجمہ؛
مسئلہ 24: غیر الله تعالی کو سجدہ کرنا حرام ہے۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 الله کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا (2) 🔷
بقیہ حصہ ۔۔۔
مسئلہ 24: غیر اللہ تعالٰی کو سجدہ کرنا حرام ہے کیونکہ وہ خضوع کا سب سے اونچا درجہ ہے اور وہ مختص ہے اس کیلئے جسکے پاس کبریائی و عظمت کا سب سے اونچا درجہ ہے۔ اور فرشتوں کا سجدہ آدم ع کیلئے نہیں تھا بلکہ وہ تو ان کیلئے قبلہ تھے۔ جیسے کہ یعقوب ع اور انکی اولاد کا سجدہ یوسف ع کیلئے نہیں تھا بلکہ الله کیلئے تھا شکر کی وجہ سے جب انہوں نے وہ دیکھا جو الله نے ملک میں سے انکو دیا ہے۔ جو شیعہ سجدے کی صورت میں کرتے ہیں امیر المومنین ع اور باقی آئمہ ع کی قبر کے پاس اس میں اشکال ہے۔ مگر یہ کہ وہ سجدہ شکر کی غرض سے ہو اس توفیق کیلئے جو الله نے انکو دی ہے زیارت پانے کی۔ ہاں، کوئی بعید نہیں بوسہ کرنے کے جواز میں (انکے روضے کے) عتبہ شریف کو۔ (6)
🔹 بعض روایات کے مطابق تو سجدہ آدم ع کو تھا ہی نہیں، بلکہ وہ صرف ایک قبلہ تھے اور سجدہ الله کو تھا، جیسے ہمارے لئے کعبہ ایک قبلہ ہے اور ہم درحقیقت الله کو سجدہ کرتے ہیں لیکن کعبہ کو قبلہ بنا کر۔ اس پر یہ روایت ہے:
لَمْ يَكُنْ سُجُودُهُمْ لآِدَمَ إِنَّمَا كَانَ آدَمُ قِبْلَةً لَهُمْ يَسْجُدُونَ نَحْوَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ كَانَ بِذَلِكَ مُعَظَّماً مُبَجَّلًا وَ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ مِنْ دُونِ اللَّهِ يَخْضَعُ لَهُ كَخُضُوعِهِ لِلَّهِ وَيُعَظِّمُهُ بِالسُّجُودِ لَهُ كَتَعْظِيمِهِ لِلَّهِ۔
ترجمہ:
امام عسکری ع: اور فرشتوں کا سجدہ آدم ع کیلئے نہیں تھا، آدم ع تو صرف قبلہ تھے ان کیلئے جسکی طرف وہ سجدہ کر کے الله عز و جل کو کر رہے تھے۔ اور وہ اس سے ان کیلئے عزت کرتے ہوئے اور تسبیح کیلئے تھا، اور کسی کیلئے مناسب نہیں کہ وہ کسی کو سجدہ کرے الله کے سوا اور نہ الله کے خضوع کا خضوع کسی اور کو کیا جائے اور نہ کسی کی تعظیم کی جائے سجود کے ساتھ اسکی الله کیلئے تعظیم کی طرح۔ (7)
اس ہی باب کی ایک اور روایت:
(٨٢٥٣) ٤ - وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ أَنَّ زِنْدِيقاً قَالَ لَهُ أَ فَيَصْلُحُ السُّجُودُ لِغَيْرِ اللَّهِ قَالَ لَا قَالَ فَكَيْفَ أَمَرَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ بِالسُّجُودِ لآِدَمَ- فَقَالَ إِنَّ مَنْ سَجَدَ بِأَمْرِ اللَّهِ فَقَدْ سَجَدَ لِلَّهِ فَكَانَ سُجُودُهُ لِلَّهِ إِذَا كَانَ عَنْ أَمْرِ اللَّهِ.
ترجمہ؛
امام صادق ع سے ایک طویل حدیث میں ایک زندیق نے امام ع سے کہا: کیا غیر الله کو سجدہ کرنا ٹھیک ہے؟ امام ع نے فرمایا: نہیں۔ تو اس نے کہا: تو الله نے فرشتوں کو کیسے حکم دیا کہ آدم ع کو سجدہ کریں؟ امام ع نے فرمایا: جس نے الله کے حکم سے سجدہ کیا تو اس نے الله کو سجدہ کیا، تو انکے سجدے الله کیلئے تھے جب وہ الله کے حکم سے تھے۔ (8)
🔹 وسائل الشیعہ میں مکمل باب ہے: 27- بَابُ عَدَمِ جَوَازِ السُّجُودِ لِغَيْرِ اللَّهِ وَ أَحْكَامِ سُجُودِ التِّلَاوَةِ وَ سَجْدَةِ الشُّكْرِ
باب 27: غیر الله کو سجدہ کرنے کا عدم جواز اور تلاوت کے سجدوں اور سجدہ شکر کے احکام۔۔۔ نہ ہی “تعظیمی سجدے” کا کوئی تصور موجود ہے غیر الله کو نہ کسی امام علیہ السلام نے حکم دیا تو ہم کس وجہ سے کریں۔ بلکہ آئمہ علیہم السلام نے جسکو سجدہ کیا اور سب جس ذات کو سجدہ کرتے ہیں اس ہی کو سجدہ کیا جائے گا۔ جیسے الله ﷻ فرماتا ہے:
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ ۖ
ترجمہ:
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہر چیز الله ﷻ کو سجدہ کر رہی ہے خواہ وہ آسمانوں میں ہے یا زمین میں۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بہت سارے انسان بھی۔۔۔ (9)
أحقر: سيد علي أصدق نقوی
📚 مآخذ:
(1) الكافي، ج 5، ص 508۔
(2) من لا يحضره الفقيه، رقم الحديث: 532۔
(3) تهذيب الأحكام، ج 2، ص 228۔
(4) النهاية للطوسي، ص 101۔
(5) الفقه على المذاهب الأربعة ومذهب أهل البيت، ج 1، ص 338۔
(6) كتاب الصلاة، ج 4، ص 257 و 258۔
(7) الإحتجاج، ج 1، ص 63، مناقب آل أبيطالب، ج 1، ص 183۔ وسائل الشيعة، الرقم: 8256۔
(8) وسائل الشيعة، الرقم: 8253۔
(9) سورہ الحج، آیت 18۔
http://t.me/islamwitheman/1175
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
بقیہ حصہ ۔۔۔
مسئلہ 24: غیر اللہ تعالٰی کو سجدہ کرنا حرام ہے کیونکہ وہ خضوع کا سب سے اونچا درجہ ہے اور وہ مختص ہے اس کیلئے جسکے پاس کبریائی و عظمت کا سب سے اونچا درجہ ہے۔ اور فرشتوں کا سجدہ آدم ع کیلئے نہیں تھا بلکہ وہ تو ان کیلئے قبلہ تھے۔ جیسے کہ یعقوب ع اور انکی اولاد کا سجدہ یوسف ع کیلئے نہیں تھا بلکہ الله کیلئے تھا شکر کی وجہ سے جب انہوں نے وہ دیکھا جو الله نے ملک میں سے انکو دیا ہے۔ جو شیعہ سجدے کی صورت میں کرتے ہیں امیر المومنین ع اور باقی آئمہ ع کی قبر کے پاس اس میں اشکال ہے۔ مگر یہ کہ وہ سجدہ شکر کی غرض سے ہو اس توفیق کیلئے جو الله نے انکو دی ہے زیارت پانے کی۔ ہاں، کوئی بعید نہیں بوسہ کرنے کے جواز میں (انکے روضے کے) عتبہ شریف کو۔ (6)
🔹 بعض روایات کے مطابق تو سجدہ آدم ع کو تھا ہی نہیں، بلکہ وہ صرف ایک قبلہ تھے اور سجدہ الله کو تھا، جیسے ہمارے لئے کعبہ ایک قبلہ ہے اور ہم درحقیقت الله کو سجدہ کرتے ہیں لیکن کعبہ کو قبلہ بنا کر۔ اس پر یہ روایت ہے:
لَمْ يَكُنْ سُجُودُهُمْ لآِدَمَ إِنَّمَا كَانَ آدَمُ قِبْلَةً لَهُمْ يَسْجُدُونَ نَحْوَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ كَانَ بِذَلِكَ مُعَظَّماً مُبَجَّلًا وَ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ مِنْ دُونِ اللَّهِ يَخْضَعُ لَهُ كَخُضُوعِهِ لِلَّهِ وَيُعَظِّمُهُ بِالسُّجُودِ لَهُ كَتَعْظِيمِهِ لِلَّهِ۔
ترجمہ:
امام عسکری ع: اور فرشتوں کا سجدہ آدم ع کیلئے نہیں تھا، آدم ع تو صرف قبلہ تھے ان کیلئے جسکی طرف وہ سجدہ کر کے الله عز و جل کو کر رہے تھے۔ اور وہ اس سے ان کیلئے عزت کرتے ہوئے اور تسبیح کیلئے تھا، اور کسی کیلئے مناسب نہیں کہ وہ کسی کو سجدہ کرے الله کے سوا اور نہ الله کے خضوع کا خضوع کسی اور کو کیا جائے اور نہ کسی کی تعظیم کی جائے سجود کے ساتھ اسکی الله کیلئے تعظیم کی طرح۔ (7)
اس ہی باب کی ایک اور روایت:
(٨٢٥٣) ٤ - وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ أَنَّ زِنْدِيقاً قَالَ لَهُ أَ فَيَصْلُحُ السُّجُودُ لِغَيْرِ اللَّهِ قَالَ لَا قَالَ فَكَيْفَ أَمَرَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ بِالسُّجُودِ لآِدَمَ- فَقَالَ إِنَّ مَنْ سَجَدَ بِأَمْرِ اللَّهِ فَقَدْ سَجَدَ لِلَّهِ فَكَانَ سُجُودُهُ لِلَّهِ إِذَا كَانَ عَنْ أَمْرِ اللَّهِ.
ترجمہ؛
امام صادق ع سے ایک طویل حدیث میں ایک زندیق نے امام ع سے کہا: کیا غیر الله کو سجدہ کرنا ٹھیک ہے؟ امام ع نے فرمایا: نہیں۔ تو اس نے کہا: تو الله نے فرشتوں کو کیسے حکم دیا کہ آدم ع کو سجدہ کریں؟ امام ع نے فرمایا: جس نے الله کے حکم سے سجدہ کیا تو اس نے الله کو سجدہ کیا، تو انکے سجدے الله کیلئے تھے جب وہ الله کے حکم سے تھے۔ (8)
🔹 وسائل الشیعہ میں مکمل باب ہے: 27- بَابُ عَدَمِ جَوَازِ السُّجُودِ لِغَيْرِ اللَّهِ وَ أَحْكَامِ سُجُودِ التِّلَاوَةِ وَ سَجْدَةِ الشُّكْرِ
باب 27: غیر الله کو سجدہ کرنے کا عدم جواز اور تلاوت کے سجدوں اور سجدہ شکر کے احکام۔۔۔ نہ ہی “تعظیمی سجدے” کا کوئی تصور موجود ہے غیر الله کو نہ کسی امام علیہ السلام نے حکم دیا تو ہم کس وجہ سے کریں۔ بلکہ آئمہ علیہم السلام نے جسکو سجدہ کیا اور سب جس ذات کو سجدہ کرتے ہیں اس ہی کو سجدہ کیا جائے گا۔ جیسے الله ﷻ فرماتا ہے:
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ ۖ
ترجمہ:
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہر چیز الله ﷻ کو سجدہ کر رہی ہے خواہ وہ آسمانوں میں ہے یا زمین میں۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بہت سارے انسان بھی۔۔۔ (9)
أحقر: سيد علي أصدق نقوی
📚 مآخذ:
(1) الكافي، ج 5، ص 508۔
(2) من لا يحضره الفقيه، رقم الحديث: 532۔
(3) تهذيب الأحكام، ج 2، ص 228۔
(4) النهاية للطوسي، ص 101۔
(5) الفقه على المذاهب الأربعة ومذهب أهل البيت، ج 1، ص 338۔
(6) كتاب الصلاة، ج 4، ص 257 و 258۔
(7) الإحتجاج، ج 1، ص 63، مناقب آل أبيطالب، ج 1، ص 183۔ وسائل الشيعة، الرقم: 8256۔
(8) وسائل الشيعة، الرقم: 8253۔
(9) سورہ الحج، آیت 18۔
http://t.me/islamwitheman/1175
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌺 سجدہ 🌺
■سجدہ کرنے کا ثواب
🌹امام جعفرصادق علیہ السلام اپنے آباءطاھرین سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:
جس نے خداوندمتعال کی بارگاہ میں ایک بار سجدہ کیا، اس عمل کی وجہ سے اس کا ایک گناہ مٹا دیاجاتا ہے اور ایک رتبہ بڑھا دیا جاتا ہے.
■سجدہ…
■سجدہ کرنے کا ثواب
🌹امام جعفرصادق علیہ السلام اپنے آباءطاھرین سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:
جس نے خداوندمتعال کی بارگاہ میں ایک بار سجدہ کیا، اس عمل کی وجہ سے اس کا ایک گناہ مٹا دیاجاتا ہے اور ایک رتبہ بڑھا دیا جاتا ہے.
■سجدہ…
🌹 ابتدائے نسل کی کیفیت (عربی) 🌹
أبى رحمه الله قال: حدثنا محمد بن يحيى العطار، عن الحسين بن الحسن ابن أبان، عن محمد بن أورمة، عن النوفلي، عن علي بن داود اليعقوبي عن الحسن بن مقاتل، عمن سمع زرارة يقول سئل أبو عبد الله عليه السلام عن بدء النسل من آدم كيف كان وعن بدء النسل عن ذرية آدم فان أناسا عندنا يقولون إن الله عز وجل أوحى إلى آدم يزوج بناته ببنيه وان هذا الخلق كله أصله من الاخوة والأخوات؟ فقال أبو عبد الله عليه السلام: تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا
يقول من قال هذا بان الله عز وجل خلق صفوة خلقه وأحبائه وأنبيائه ورسله والمؤمنين والمؤمنات والمسلمين والمسلمات من حرام ولم يكن له من القدرة ما يخلقهم من حلال وقد أخذ ميثاقهم على الحلال الطهر الطاهر الطيب، فوالله لقد تبينت ان بعض البهائم تنكرت له أخته فلما نزا عليها ونزل كشف له عنها فلما علم أنها أخته أخرج عزموا له ثم قبض عليه بأسنانه حتى قطعه فخر ميتا، وآخر تنكرت له أمه ففعل هذا بعينه فكيف الانسان في انسيته وفضله وعلمه، غيران جيلا من هذا الخلق الذي ترون رغبوا عن علم أهل بيوتات أنبيائهم وأخذوا من حيث لم يؤمروا بأخذه فصاروا إلى ما قد ترون من الضلال والجهل بالعلم، كيف كانت الأشياء الماضية من بدء ان خلق الله ما خلق وما هو كاين أبدا، ثم قال ويح هؤلاء أين هم عما لم يختلف فيه فقهاء أهل الحجاز ولا فقهاء أهل العراق ان الله عز وجل أمر القلم فجرى على اللوح المحفوظ بما هو كاين إلى يوم القيامة قبل خلق آدم بألفي عام وان كتب الله كلها فيما جرى فيه القلم في كلها تحريم الأخوات على الاخوة مع ما حرم وهذا نحن قد نرى منها هذه الكتب الأربعة المشهورة في هذا العالم: التوراة والإنجيل والزبور والفرقان، أنزلها الله عن اللوح المحفوظ عن رسله صلوات الله عليهم أجمعين، منها التوراة على موسى (عليه السلام) والزبور على داود (عليه السلام) والإنجيل على عيسى (عليه السلام) والقرآن على محمد صلى الله عليه وآله وسلم وعلى النبيين عليهم السلام، وليس فيها تحليل شئ من ذلك، حقا أقول ما أراد من يقول هذا وشبهه إلا تقوية حجج المجوس فما لهم قاتلهم الله، ثم أنشأ يحدثنا كيف كان بدء النسل من آدم وكيف كان بد النسل من ذرية، فقال: ان آدم عليه السلام ولد له سبعون بطنا في كل بطن غلام وجارية إلى أن قتل هابيل، فلما قتل قابيل هابيل جزع آدم على هابيل جزعا قطعه عن اتيان النساء فبقي لا يستطيع ان يغشى حواء خمسمائة عام ثم تخلى ما به من الجزع عليه فغشي حواء فوهب الله له شيئا وحده ليس معه ثان، واسم شيث هبة الله وهو أول من أوصى إليه من الآدميين في الأرض، ثم ولد له من بعد شيث يافث ليس معه ثان فلما أدركا وأراد الله عز وجل ان يبلغ بالنسل ما ترون وأن يكون ما قد جرى به القلم من تحريم ما حرم الله عز وجل من الأخوات على الاخوة انزل بعد العصر في يوم الخميس حوراء من الجنة اسمها (نزلة) فأمر الله عز وجل آدم ان يزوجها من شيث فزوجها منه، ثم أنزل بعد العصر حوراء من الجنة اسمها (منزلة) فأمر الله تعالى آدم ان يزوجها من يافث فزوجها منه فولد لشيث غلام وولدت ليافث جارية فأمر الله عز وجل آدم حين أدركا ان يزوج بنت يافث من ابن شيث ففعل فولد الصفوة من النبيين والمرسلين من نسلهما ومعاذ الله أن يكون ذلك على ما قالوا من الاخوة والأخوات.
📚 علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج ١ - الصفحة ١٧۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
أبى رحمه الله قال: حدثنا محمد بن يحيى العطار، عن الحسين بن الحسن ابن أبان، عن محمد بن أورمة، عن النوفلي، عن علي بن داود اليعقوبي عن الحسن بن مقاتل، عمن سمع زرارة يقول سئل أبو عبد الله عليه السلام عن بدء النسل من آدم كيف كان وعن بدء النسل عن ذرية آدم فان أناسا عندنا يقولون إن الله عز وجل أوحى إلى آدم يزوج بناته ببنيه وان هذا الخلق كله أصله من الاخوة والأخوات؟ فقال أبو عبد الله عليه السلام: تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا
يقول من قال هذا بان الله عز وجل خلق صفوة خلقه وأحبائه وأنبيائه ورسله والمؤمنين والمؤمنات والمسلمين والمسلمات من حرام ولم يكن له من القدرة ما يخلقهم من حلال وقد أخذ ميثاقهم على الحلال الطهر الطاهر الطيب، فوالله لقد تبينت ان بعض البهائم تنكرت له أخته فلما نزا عليها ونزل كشف له عنها فلما علم أنها أخته أخرج عزموا له ثم قبض عليه بأسنانه حتى قطعه فخر ميتا، وآخر تنكرت له أمه ففعل هذا بعينه فكيف الانسان في انسيته وفضله وعلمه، غيران جيلا من هذا الخلق الذي ترون رغبوا عن علم أهل بيوتات أنبيائهم وأخذوا من حيث لم يؤمروا بأخذه فصاروا إلى ما قد ترون من الضلال والجهل بالعلم، كيف كانت الأشياء الماضية من بدء ان خلق الله ما خلق وما هو كاين أبدا، ثم قال ويح هؤلاء أين هم عما لم يختلف فيه فقهاء أهل الحجاز ولا فقهاء أهل العراق ان الله عز وجل أمر القلم فجرى على اللوح المحفوظ بما هو كاين إلى يوم القيامة قبل خلق آدم بألفي عام وان كتب الله كلها فيما جرى فيه القلم في كلها تحريم الأخوات على الاخوة مع ما حرم وهذا نحن قد نرى منها هذه الكتب الأربعة المشهورة في هذا العالم: التوراة والإنجيل والزبور والفرقان، أنزلها الله عن اللوح المحفوظ عن رسله صلوات الله عليهم أجمعين، منها التوراة على موسى (عليه السلام) والزبور على داود (عليه السلام) والإنجيل على عيسى (عليه السلام) والقرآن على محمد صلى الله عليه وآله وسلم وعلى النبيين عليهم السلام، وليس فيها تحليل شئ من ذلك، حقا أقول ما أراد من يقول هذا وشبهه إلا تقوية حجج المجوس فما لهم قاتلهم الله، ثم أنشأ يحدثنا كيف كان بدء النسل من آدم وكيف كان بد النسل من ذرية، فقال: ان آدم عليه السلام ولد له سبعون بطنا في كل بطن غلام وجارية إلى أن قتل هابيل، فلما قتل قابيل هابيل جزع آدم على هابيل جزعا قطعه عن اتيان النساء فبقي لا يستطيع ان يغشى حواء خمسمائة عام ثم تخلى ما به من الجزع عليه فغشي حواء فوهب الله له شيئا وحده ليس معه ثان، واسم شيث هبة الله وهو أول من أوصى إليه من الآدميين في الأرض، ثم ولد له من بعد شيث يافث ليس معه ثان فلما أدركا وأراد الله عز وجل ان يبلغ بالنسل ما ترون وأن يكون ما قد جرى به القلم من تحريم ما حرم الله عز وجل من الأخوات على الاخوة انزل بعد العصر في يوم الخميس حوراء من الجنة اسمها (نزلة) فأمر الله عز وجل آدم ان يزوجها من شيث فزوجها منه، ثم أنزل بعد العصر حوراء من الجنة اسمها (منزلة) فأمر الله تعالى آدم ان يزوجها من يافث فزوجها منه فولد لشيث غلام وولدت ليافث جارية فأمر الله عز وجل آدم حين أدركا ان يزوج بنت يافث من ابن شيث ففعل فولد الصفوة من النبيين والمرسلين من نسلهما ومعاذ الله أن يكون ذلك على ما قالوا من الاخوة والأخوات.
📚 علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج ١ - الصفحة ١٧۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 ابتدائے نسل کی کیفیت 🌹
حضرت آدم علیہ السلام کی نسل آگے کیسے چلی؟
حسن بن مقاتل نے کسی ایک شخص سے جس نے یہ روایت سنی وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نسل آدم علیہ السلام کی ابتداء کے متعلق سوال کیا گیا کہ وہ کیسے چلی اسلئے کہ ہمارے وہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ الله تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو وحی کی کہ تم اپنے لڑکوں کا نکاح اپنی لڑکیوں سے کردو اور یہ سارے انسانوں کی اصل بھائی بہنوں کا نکاح ہیں.
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ الله تعالیٰ اس سے بہت بالاتر ہے اور جو یہ کہتا ہے وہ اس بات قائل ہے کہ الله تعالیٰ اپنے بندوں اپنے دوستوں کو اپنے انبیاء کو اپنے رسولوں کو مومنین و مومنات کو مسلمین اور مسلمات کو حرام سے پیدا کیا. اور اس میں اتنی قدرت نہ تھی کہ وہ ان لوگوں کو حلال سے پیدا کرے حالانکہ اس نے ان لوگوں سے حلال و طاہر پر عہد و پیمان لیا ہے اور خدا کی قسم یہ بات منکشف ہوئی ہے کہ بعض جانور ایسے بھی ہے کہ انہوں نے اپنی بہن کو نہیں پہچانا اور جفتی کھائی اور جب انکو معلوم ہوا کہ یہ ان کی بہن تھی. تو انہوں نے اپنا عضو تناسل نکالا اور اپنے دانتوں سے کاٹ کر پھینک دیا اور مرگئے.
اور دوسرے جانور کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ اس نے اپنے ماں کو نہیں پہچانا اور اس سے یہی حرکت کر بیٹھا مگر بعد میں جب اسے معلوم ہوا کہ اسکی ماں تھی تو اس نے بھی ایسا ہی کیا. پھر بھلا انسان جو انسان ہے جانور نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے اسے علم و فضل عطا کیا ہے اس کے لیے یہ بات کب جائز ہے سنو اصل بات یہ ہے کہ.
کہ انسانوں کا ایک گروہ اہلبیت نبوت سے منہ موڑے ہوئے ہے اور علم وہاں سے لیتا ہے جہاں سے اسے علم لینے کا حکم نہیں اسلئے وہ لوگ اس پستی پر پہنچ گئے جو تم دیکھ رہے ہو کہ یہ جہالت و گمراہی میں مبتلا ہیں حقیقتاً ماضی میں ابتدائے خلقت سے جو اشیاء کا نظام قائم ہے وہی مستقبل میں تا ابد قائم رہے گا.
پھر آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں پر افسوس کہ وہ اس حدیث کو کیوں بھولے ہوئے ہیں کہ جس پر فقہائے اہل عراق کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت سے دو ہزار سال پہلے قلم کو حکم دیا جو لوح محفوظ پر جاری ہوا اور قیامت تک جو ہونے والا ہے اسکو لکھا گیا اور قلم قدرت نے جو کچھ بھی لوح محفوظ پر لکھا جن جن باتوں کو حرام لکھا اس میں یہ بھی لکھا کہ بہنیں اپنے بھائیوں پر حرام ہیں اور ہم لوگ ان میں سے چار کتابوں کو تو اس عالم میں دیکھ ہی رہے ہیں۔
توریت و انجیل و زبور اور قرآن جو اللہ نے لوح محفوظ سے اپنے رسولوں پر نازل فرمائیں. توریت حضرت موسیٰ علیہ السلام پر زبور داؤد علیہ السلام پر انجیل حضرت عیسٰی علیہ السلام پر اور قرآن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ان کتابوں میں یہ چیز کہیں بھی حلال نہیں ہے۔
میں سچ کہتا ہوں کہ جو لوگ یہ بات یا اس کے مثل جو بات کہتے ہیں وہ مجوسیوں کی دلیلوں کو تقویت دیتے ہیں اللہ ان کو موت دے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے.
پھر آپ نے بتانا شروع کیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی نسل کی ابتداء کیوں کر ہوئی کہ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ستر پیٹوں سے ہوئی اور ہر پیٹ سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئی یہاں تک کہ ہابیل قتل ہو گئے اور قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تو حضرت آدم علیہ السلام کو ہابیل کے قتل کا بہت غم ہوا اور اس غم میں انہوں نے عورت کے پاس جانا چھوڑ دیا. اور پانچ سو سال تک حضرت حوا سلام اللہ علیہا سے کنارہ کش رہے اسکے بعد جب غم دور ہوا تو حضرت حوا سے مباشرت فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے انکو شیث عطا کیا اور انکے ساتھ کوئی اور پیدا نہ ہوا شیث ہی نام هبتة الله ہے انسانوں میں یہ پہلے وصی ہے روئے زمین پر پھر شیث کے بعد دوسری مرتبہ پیٹ سے یافث پیدا ہوئے اور وہ بھی تنہا پیدا ہوئے انکے ساتھ کوئی پیدا نہیں ہوا. اور پھر دونوں بڑے اور بالغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کی نسل پڑھے اور چونکہ قلم قدرت لوح محفوظ پر لکھ چکا تھا کہ بھائی پر بہن حرام ہے۔
لہذا اللہ نے پنجشبہ کے دن بعد عصر ایک حور نازل کی جس کا نام نزلة تھا اللہ تعالیٰ نے آدم کو حکم دیا کہ اسکا نکاح شیث سے کردو اور اسکے بعد دوسرے دن بعد عصر ایک حوریہ نازل کی جسکا نام منزلة تھا الله تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو حکم دیا کہ اسکا نکاح یافث سے کردو۔ اب شیث کا ایک لڑکا پیدا ہوا اور یافث کی لڑکی پیدا ہوئی جب دونوں جوان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو حکم دیا کہ یافث کی لڑکی کا نکاح شیث کے لڑکے سے کردو۔ حضرت آدم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا پھر انہی دونوں کی نسل سے اللہ کے مختلف انبیاء و مرسلین پیدا ہوئے اور یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ بھائی بہن کی شادی ہوئی اور اسے سب پیدا ہوئے معاذ اللہ۔ (الله کی پناہ)
📚 علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج ١ - الصفحة ١٧۔
https://t.me/islamwitheman/2244
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت آدم علیہ السلام کی نسل آگے کیسے چلی؟
حسن بن مقاتل نے کسی ایک شخص سے جس نے یہ روایت سنی وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نسل آدم علیہ السلام کی ابتداء کے متعلق سوال کیا گیا کہ وہ کیسے چلی اسلئے کہ ہمارے وہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ الله تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو وحی کی کہ تم اپنے لڑکوں کا نکاح اپنی لڑکیوں سے کردو اور یہ سارے انسانوں کی اصل بھائی بہنوں کا نکاح ہیں.
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ الله تعالیٰ اس سے بہت بالاتر ہے اور جو یہ کہتا ہے وہ اس بات قائل ہے کہ الله تعالیٰ اپنے بندوں اپنے دوستوں کو اپنے انبیاء کو اپنے رسولوں کو مومنین و مومنات کو مسلمین اور مسلمات کو حرام سے پیدا کیا. اور اس میں اتنی قدرت نہ تھی کہ وہ ان لوگوں کو حلال سے پیدا کرے حالانکہ اس نے ان لوگوں سے حلال و طاہر پر عہد و پیمان لیا ہے اور خدا کی قسم یہ بات منکشف ہوئی ہے کہ بعض جانور ایسے بھی ہے کہ انہوں نے اپنی بہن کو نہیں پہچانا اور جفتی کھائی اور جب انکو معلوم ہوا کہ یہ ان کی بہن تھی. تو انہوں نے اپنا عضو تناسل نکالا اور اپنے دانتوں سے کاٹ کر پھینک دیا اور مرگئے.
اور دوسرے جانور کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ اس نے اپنے ماں کو نہیں پہچانا اور اس سے یہی حرکت کر بیٹھا مگر بعد میں جب اسے معلوم ہوا کہ اسکی ماں تھی تو اس نے بھی ایسا ہی کیا. پھر بھلا انسان جو انسان ہے جانور نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے اسے علم و فضل عطا کیا ہے اس کے لیے یہ بات کب جائز ہے سنو اصل بات یہ ہے کہ.
کہ انسانوں کا ایک گروہ اہلبیت نبوت سے منہ موڑے ہوئے ہے اور علم وہاں سے لیتا ہے جہاں سے اسے علم لینے کا حکم نہیں اسلئے وہ لوگ اس پستی پر پہنچ گئے جو تم دیکھ رہے ہو کہ یہ جہالت و گمراہی میں مبتلا ہیں حقیقتاً ماضی میں ابتدائے خلقت سے جو اشیاء کا نظام قائم ہے وہی مستقبل میں تا ابد قائم رہے گا.
پھر آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں پر افسوس کہ وہ اس حدیث کو کیوں بھولے ہوئے ہیں کہ جس پر فقہائے اہل عراق کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت سے دو ہزار سال پہلے قلم کو حکم دیا جو لوح محفوظ پر جاری ہوا اور قیامت تک جو ہونے والا ہے اسکو لکھا گیا اور قلم قدرت نے جو کچھ بھی لوح محفوظ پر لکھا جن جن باتوں کو حرام لکھا اس میں یہ بھی لکھا کہ بہنیں اپنے بھائیوں پر حرام ہیں اور ہم لوگ ان میں سے چار کتابوں کو تو اس عالم میں دیکھ ہی رہے ہیں۔
توریت و انجیل و زبور اور قرآن جو اللہ نے لوح محفوظ سے اپنے رسولوں پر نازل فرمائیں. توریت حضرت موسیٰ علیہ السلام پر زبور داؤد علیہ السلام پر انجیل حضرت عیسٰی علیہ السلام پر اور قرآن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ان کتابوں میں یہ چیز کہیں بھی حلال نہیں ہے۔
میں سچ کہتا ہوں کہ جو لوگ یہ بات یا اس کے مثل جو بات کہتے ہیں وہ مجوسیوں کی دلیلوں کو تقویت دیتے ہیں اللہ ان کو موت دے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے.
پھر آپ نے بتانا شروع کیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی نسل کی ابتداء کیوں کر ہوئی کہ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ستر پیٹوں سے ہوئی اور ہر پیٹ سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئی یہاں تک کہ ہابیل قتل ہو گئے اور قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تو حضرت آدم علیہ السلام کو ہابیل کے قتل کا بہت غم ہوا اور اس غم میں انہوں نے عورت کے پاس جانا چھوڑ دیا. اور پانچ سو سال تک حضرت حوا سلام اللہ علیہا سے کنارہ کش رہے اسکے بعد جب غم دور ہوا تو حضرت حوا سے مباشرت فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے انکو شیث عطا کیا اور انکے ساتھ کوئی اور پیدا نہ ہوا شیث ہی نام هبتة الله ہے انسانوں میں یہ پہلے وصی ہے روئے زمین پر پھر شیث کے بعد دوسری مرتبہ پیٹ سے یافث پیدا ہوئے اور وہ بھی تنہا پیدا ہوئے انکے ساتھ کوئی پیدا نہیں ہوا. اور پھر دونوں بڑے اور بالغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کی نسل پڑھے اور چونکہ قلم قدرت لوح محفوظ پر لکھ چکا تھا کہ بھائی پر بہن حرام ہے۔
لہذا اللہ نے پنجشبہ کے دن بعد عصر ایک حور نازل کی جس کا نام نزلة تھا اللہ تعالیٰ نے آدم کو حکم دیا کہ اسکا نکاح شیث سے کردو اور اسکے بعد دوسرے دن بعد عصر ایک حوریہ نازل کی جسکا نام منزلة تھا الله تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو حکم دیا کہ اسکا نکاح یافث سے کردو۔ اب شیث کا ایک لڑکا پیدا ہوا اور یافث کی لڑکی پیدا ہوئی جب دونوں جوان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو حکم دیا کہ یافث کی لڑکی کا نکاح شیث کے لڑکے سے کردو۔ حضرت آدم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا پھر انہی دونوں کی نسل سے اللہ کے مختلف انبیاء و مرسلین پیدا ہوئے اور یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ بھائی بہن کی شادی ہوئی اور اسے سب پیدا ہوئے معاذ اللہ۔ (الله کی پناہ)
📚 علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج ١ - الصفحة ١٧۔
https://t.me/islamwitheman/2244
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 ابتدائے نسل کی کیفیت (عربی) 🌹
أبى رحمه الله قال: حدثنا محمد بن يحيى العطار، عن الحسين بن الحسن ابن أبان، عن محمد بن أورمة، عن النوفلي، عن علي بن داود اليعقوبي عن الحسن بن مقاتل، عمن سمع زرارة يقول سئل أبو عبد الله عليه السلام عن بدء النسل من آدم كيف كان…
أبى رحمه الله قال: حدثنا محمد بن يحيى العطار، عن الحسين بن الحسن ابن أبان، عن محمد بن أورمة، عن النوفلي، عن علي بن داود اليعقوبي عن الحسن بن مقاتل، عمن سمع زرارة يقول سئل أبو عبد الله عليه السلام عن بدء النسل من آدم كيف كان…
🌸 خوش رہنا 🌸
ماہرین کہتے ہیں آپ کے آس پاس کے حالات پر آپ کا اختیار صرف ١٠ فیصد ہوتا ہے لیکن خوش رہنے کا ٩٠ فیصد اختیار آپ کے اپنے پاس ہے، خوش رہنا ایک آرٹ ہے۔ اس آرٹ کو سکھانے والے ماہرین چند سائنسی تحقیق پر ثابت شدہ ٹپس بتاتے ہیں، ضروری نہیں سب آپ کے کام کی ہوں مگر ٹرائی ضرور کیجئے کوئی ایک ضرور کام کرے گی۔
1.دن میں ایک بار اپنی دستیاب نعمتیں شمار کر کے لکھ لیں۔
2. رات میں چھ سے آٹھ گھنٹے بھرپور نیند لیں اور دوپہر میں بیس سے تیس منٹ آرام ضروری ہے۔
3. ہفتے میں کم از کم تین بار گھر کے سب افراد کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں۔
4. گھر کے اندر کچن گارڈن بنائیں دن کا کچھ وقت پودوں کے ساتھ گزاریں۔
5. پانچ سے سات منٹ ہلکی ورزش کیجیے۔
6. دن میں کسی نہ کسی کی مدد ضرور کریں۔
7. زرا سی اداسی آنے پر وضو کر لیں۔
8. اپنی پسند کی خوشبو لگائیں۔
9. پانی زیادہ پئیں کم از کم تین لیٹر جب اداس ہوں تو دو گلاس پئیں۔
10. "نو کمپلین ڈے" بنائیں، آج کسی سے کوئی شکایت نہیں پھر دن بڑھاتے جائیں، نو کمپلین ویک، نو کمپلین منتھ۔
11. گھر میں دفتر میں جدت طرازی کی مہم چلائیں، ہر روز ماحول میں کچھ تبدیلی کی کوشش کریں، گھر میں موجود سامان کی ترتیب بدلتے رہا کریں۔
12. خاندان، دوست احباب، رشتہ داروں کو فون کریں۔ ان کے دکھ درد میں حوصلہ دیں اور خوشیوں پر کھل کر مبارکباد پیش کریں۔
13. مہینے میں دو بار دعوت کریں، کبھی رشتے داروں کو، کبھی دوست احباب کو کبھی اپنے بچوں کے دوستوں کو دعوت پر بلائیں۔
14. لوگ کیا کہیں گے..! یہ سوچنا چھوڑ دیں۔
15. اپنی زندگی کا سب سے خوشگوار دن یاد کیجئے اور ایسا زندگی بھر ہر روز کیا کیجیے, چھوٹی سی چھوٹی خوشی کو یاد کریں، یہ یادیں آپ کو سارا دن خوش رکھیں گی۔
16. صدقہ دیں اور سب سے آسان صدقہ مسکراہٹ ہے، ہلکی سی ایک مسکراہٹ تیز دھوپ میں بادل کے ٹکڑے کی طرح دل کو تروتازہ کردیتی ہے، خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔
17: پانچوں نمازیں وقت پر ادا کریں۔
https://t.me/islamwitheman/2210
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ماہرین کہتے ہیں آپ کے آس پاس کے حالات پر آپ کا اختیار صرف ١٠ فیصد ہوتا ہے لیکن خوش رہنے کا ٩٠ فیصد اختیار آپ کے اپنے پاس ہے، خوش رہنا ایک آرٹ ہے۔ اس آرٹ کو سکھانے والے ماہرین چند سائنسی تحقیق پر ثابت شدہ ٹپس بتاتے ہیں، ضروری نہیں سب آپ کے کام کی ہوں مگر ٹرائی ضرور کیجئے کوئی ایک ضرور کام کرے گی۔
1.دن میں ایک بار اپنی دستیاب نعمتیں شمار کر کے لکھ لیں۔
2. رات میں چھ سے آٹھ گھنٹے بھرپور نیند لیں اور دوپہر میں بیس سے تیس منٹ آرام ضروری ہے۔
3. ہفتے میں کم از کم تین بار گھر کے سب افراد کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں۔
4. گھر کے اندر کچن گارڈن بنائیں دن کا کچھ وقت پودوں کے ساتھ گزاریں۔
5. پانچ سے سات منٹ ہلکی ورزش کیجیے۔
6. دن میں کسی نہ کسی کی مدد ضرور کریں۔
7. زرا سی اداسی آنے پر وضو کر لیں۔
8. اپنی پسند کی خوشبو لگائیں۔
9. پانی زیادہ پئیں کم از کم تین لیٹر جب اداس ہوں تو دو گلاس پئیں۔
10. "نو کمپلین ڈے" بنائیں، آج کسی سے کوئی شکایت نہیں پھر دن بڑھاتے جائیں، نو کمپلین ویک، نو کمپلین منتھ۔
11. گھر میں دفتر میں جدت طرازی کی مہم چلائیں، ہر روز ماحول میں کچھ تبدیلی کی کوشش کریں، گھر میں موجود سامان کی ترتیب بدلتے رہا کریں۔
12. خاندان، دوست احباب، رشتہ داروں کو فون کریں۔ ان کے دکھ درد میں حوصلہ دیں اور خوشیوں پر کھل کر مبارکباد پیش کریں۔
13. مہینے میں دو بار دعوت کریں، کبھی رشتے داروں کو، کبھی دوست احباب کو کبھی اپنے بچوں کے دوستوں کو دعوت پر بلائیں۔
14. لوگ کیا کہیں گے..! یہ سوچنا چھوڑ دیں۔
15. اپنی زندگی کا سب سے خوشگوار دن یاد کیجئے اور ایسا زندگی بھر ہر روز کیا کیجیے, چھوٹی سی چھوٹی خوشی کو یاد کریں، یہ یادیں آپ کو سارا دن خوش رکھیں گی۔
16. صدقہ دیں اور سب سے آسان صدقہ مسکراہٹ ہے، ہلکی سی ایک مسکراہٹ تیز دھوپ میں بادل کے ٹکڑے کی طرح دل کو تروتازہ کردیتی ہے، خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔
17: پانچوں نمازیں وقت پر ادا کریں۔
https://t.me/islamwitheman/2210
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 خود کو کمتر نہ سمجھیں 🔷
فہد نے 1 گھنٹے میں 10 کلو میٹر فاصلہ طے کیا، حارث نے ڈیڑھ گھنٹے میں یہی فاصلہ طے کیا۔
دونوں میں سے کون تیز رفتار اور صحت مند ہوا؟
یقینا ہمارا جواب ہوگا "فہد"
اگر ہم کہیں کہ فہد نے یہ فاصلہ ایک تیار ٹریک پر طے کیا جب کہ حارث نے…
فہد نے 1 گھنٹے میں 10 کلو میٹر فاصلہ طے کیا، حارث نے ڈیڑھ گھنٹے میں یہی فاصلہ طے کیا۔
دونوں میں سے کون تیز رفتار اور صحت مند ہوا؟
یقینا ہمارا جواب ہوگا "فہد"
اگر ہم کہیں کہ فہد نے یہ فاصلہ ایک تیار ٹریک پر طے کیا جب کہ حارث نے…
🔷 نماز کے اوقات در قرآن 🔷
نماز کے اوقات کے بارے ميں قرآن مجيد کا کيا نظريہ ہے؟
اس مسئلے کي حيرت انگيزي يہ ہے کہ قرآن کي دو آيتوں ميں جب اوقات نماز کے تعين کا موقع آتا ہے، صرف تين اوقات يوميہ نمازوں کے لئے قرار ديئے جاتے ہيں، اس کے باوجود باعث تعجب ہے کہ ان برادران ميں سے بعض پانچ اوقات ميں وجوب نماز پر زور ديتے ہيں؟
پانچ اوقات ميں نماز کي ادائيگي کي فضيلت ناقابل انکار ہے۔ ہميں جب بھي توفيق ملے پانچ اوقات کا لحاظ رکھتے ہيں، مگر بحث پانچ اوقات ميں نماز کے وجوب کے حوالے سے ہے۔
پہلي آيت سورہ ہود ميں ہے۔ ارشاد خداوندي ہے:﴿وَأَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ﴾(۱)۔
ترجمہ: "اور دن کے دو اطراف کے حصوں ميں اور رات کے کچھ حصوں ميں نماز ادا کرو۔"
"طَرَفَيِ النهارِ" سے نماز فجر کي طرف اشارہ ہے جو دن کے آغاز ميں ادا کي جاتي ہے اور ظہر و عصر کي نمازوں کي طرف اشارہ ہے جن کا وقت غروب آفتاب تک ہے۔ بالفاظ ديگر اس آيت سے نماز ظہر و عصر کے وقت کا مغرب تک جاري رہنا، بخوبي سمجھا جاسکتا ہے۔
اب ديکھتے ہيں کہ "زُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ" سے کيا مراد ہے؟
اس بات کو مدنظر رکھتے ہيں کہ "مختارالصحاح" اور "مفردات راغب" کے مطابق "زُلَف"، "زُلَفہ" کي جمع ہے جس سے ابتدائے شب کے کچھ حصے مراد لئے جاتے ہيں اور يہ درحقيقت نماز مغرب و عشاء کي طرف اشارہ ہے۔
چنانچہ اگر رسول اللہ (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) يوميہ نمازيں معمول کے مطابق، پانچ الگ الگ اوقات ادا کرتے تھے تو يقيني طور پر فضيلت کا پہلو آپ(ص) کے مدنظر تھا، اور ہم پانچ اوقات کي فضيلت کے قائل ہيں۔ پس ہم آيات کے ظاہري معني و مفہوم کو نظرانداز کرکے ديگر تأويلات کا دامن کيوں تھاميں؟!
دوسري آيت سورہ اسراء (بني اسرائيل) ميں ہے جہاں ارشاد رباني ہے:
﴿أَقِمِ الصَّلاَةَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْهُوداً﴾(٢)۔ترجمہ: "نماز برپا کرو زوال آفتاب سے رات ڈھلنے تک اور صبح کا قرآن (يا صبح کا پڑھنا (نماز فجر))پڑھئے يقيناً صبح کا پڑھنا (نماز فجر) مشاہدہ کرنے والوں (رات اور دن کے فرشتوں) کے لئے مشہود ہے"۔ [يعني رات کے فرشتے بھي اور دن کے فرشتے بھي نماز فجر کا مشاہدہ کرتے ہيں]۔
"دُلوک" ايک طرف جھکنے اور مائل ہونے کو کہا جاتا ہے اور يہاں "دُلوک" سے مراد آفتاب کا نصف النہار کي فرضي لکير سے مغرب کي طرف مائل ہونا اور زوالِ ظہر کا آغاز ہے۔
"غَسَقُ اللَّيْل" رات کے اندھيرے کو کہا جاتا ہے اور بعض لوگوں نے اس کو آدھي رات سے تعبير کيا ہے کيونکہ جيسا کہ راغب نے مفردات القرآن ميں لکھا ہے "غسق" سے رات کے اندھيرے کي شدت مراد ہے جو وہي نصف شب کا وقت ہے۔
چنانچہ "دلوک" سے وقت نماز کے آغاز اور ظہر کي طرف اشارہ ہے اور "غَسَقُ اللَّيْل" نماز مغرب و عشاء کے بعد کے اوقات کي جانب اشارہ ہے اور "قرآن الفجر" سے نماز صبح کي طرف اشارہ ہے۔
بہرحال اس آيت شريفہ ميں يوميہ نمازوں کے لئے تين اوقات بيان ہوئے ہيں اور يہ تين اوقات پنجگانہ نمازوں کي بجاآوري کے جواز کي دليل ہے۔
اس آيت کي تفسير ميں فخر رازي کا بيان دلچسپ ہے؛ کہتے ہيں: "إن فسرنا الغسق بظهور أوّل الظلمة ـ و حکاه عن ابن عبّاس و عطا و النضر بن شميل ـ کان الغسق عبارة عن أول المغرب و على هذا التقدير يکون المذکور فى الاية ثلاث اوقات وقت الزوال و وقت أول المغرب و وقت الفجر، و هذا يقتضى أن يکون الزوال وقتاً للظهر و العصر فيکون هذا الوقت مشترکاً بين الصلوتين و أن يکون أول المغرب وقتاً للمغرب والعشاء فيکون هذا الوقت مشترکاً أيضاً بين هاتين الصلوتين فهذا يقتضى جواز الجمع بين الظهر والعصر و المغرب و العشاء مطلقاً"(۳)۔ ترجمہ: "ہرگاہ ہم "غسق" سے رات کے اندھيرے کا آغاز مراد ليں ـ جس کے ابن عباس، عطاء اور نضر بن شميل بھي قائل ہوئے ہيں ـ غسق سے وقت مغرب کا آغاز ہے، اس لحاظ سے نماز کے لئے تين اوقات بيان ہوئے ہيں: وقت زوال، وقت مغرب اور وقت فجر۔"
فخر رازي اپني بات جاري رکھتے ہوئے لکھتے ہيں: "اس (بيان اوقات) کا تقاضا يہ ہے کہ زوال ظہر اور عصر(دونوں) کا وقت ہو۔ پس يہ وقت ان نمازوں کا مشترکہ وقت ہے۔ نيز اولِ مغرب "نماز مغرب اور نماز عشاء" کا وقت ہے۔ چنانچہ ان دو نمازوں کا وقت بھي مشترک ہے۔ اور ان سب کا نتيجہ يہ ہے: نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو جمع کرکے ادا کرنا، مطلقاً جائز ہے۔"
فخر رازي يہاں تک کا راستہ اچھے انداز ميں طے کرتے ہيں اور آيت کے مفہوم کا بخوبي ادراک کرتے ہيں اور اس کو خوب بيان کرتے ہيں مگر اپنا بيان جاري رکھتے ہوئے کہتے ہيں: چونکہ عذر اور سفر کے بغير دو نمازوں کو اکٹھا پڑھنا جائز نہيں ہے، لہذا آيت کو حالت عذر سے محدود (و مشروط) کرديتے ہيں(۴)(اور اس عمل پر عمل نہ کرنے ميں اپنے آپ کو معذور قرار ديتے ہيں)۔
فخرالدين رازي کو اس بات کی يادآوری کرانی پڑے گي کہ نہ صرف اس بات کي کوئي دليل نہيں ہے کہ آيت کو "
نماز کے اوقات کے بارے ميں قرآن مجيد کا کيا نظريہ ہے؟
اس مسئلے کي حيرت انگيزي يہ ہے کہ قرآن کي دو آيتوں ميں جب اوقات نماز کے تعين کا موقع آتا ہے، صرف تين اوقات يوميہ نمازوں کے لئے قرار ديئے جاتے ہيں، اس کے باوجود باعث تعجب ہے کہ ان برادران ميں سے بعض پانچ اوقات ميں وجوب نماز پر زور ديتے ہيں؟
پانچ اوقات ميں نماز کي ادائيگي کي فضيلت ناقابل انکار ہے۔ ہميں جب بھي توفيق ملے پانچ اوقات کا لحاظ رکھتے ہيں، مگر بحث پانچ اوقات ميں نماز کے وجوب کے حوالے سے ہے۔
پہلي آيت سورہ ہود ميں ہے۔ ارشاد خداوندي ہے:﴿وَأَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ﴾(۱)۔
ترجمہ: "اور دن کے دو اطراف کے حصوں ميں اور رات کے کچھ حصوں ميں نماز ادا کرو۔"
"طَرَفَيِ النهارِ" سے نماز فجر کي طرف اشارہ ہے جو دن کے آغاز ميں ادا کي جاتي ہے اور ظہر و عصر کي نمازوں کي طرف اشارہ ہے جن کا وقت غروب آفتاب تک ہے۔ بالفاظ ديگر اس آيت سے نماز ظہر و عصر کے وقت کا مغرب تک جاري رہنا، بخوبي سمجھا جاسکتا ہے۔
اب ديکھتے ہيں کہ "زُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ" سے کيا مراد ہے؟
اس بات کو مدنظر رکھتے ہيں کہ "مختارالصحاح" اور "مفردات راغب" کے مطابق "زُلَف"، "زُلَفہ" کي جمع ہے جس سے ابتدائے شب کے کچھ حصے مراد لئے جاتے ہيں اور يہ درحقيقت نماز مغرب و عشاء کي طرف اشارہ ہے۔
چنانچہ اگر رسول اللہ (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) يوميہ نمازيں معمول کے مطابق، پانچ الگ الگ اوقات ادا کرتے تھے تو يقيني طور پر فضيلت کا پہلو آپ(ص) کے مدنظر تھا، اور ہم پانچ اوقات کي فضيلت کے قائل ہيں۔ پس ہم آيات کے ظاہري معني و مفہوم کو نظرانداز کرکے ديگر تأويلات کا دامن کيوں تھاميں؟!
دوسري آيت سورہ اسراء (بني اسرائيل) ميں ہے جہاں ارشاد رباني ہے:
﴿أَقِمِ الصَّلاَةَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْهُوداً﴾(٢)۔ترجمہ: "نماز برپا کرو زوال آفتاب سے رات ڈھلنے تک اور صبح کا قرآن (يا صبح کا پڑھنا (نماز فجر))پڑھئے يقيناً صبح کا پڑھنا (نماز فجر) مشاہدہ کرنے والوں (رات اور دن کے فرشتوں) کے لئے مشہود ہے"۔ [يعني رات کے فرشتے بھي اور دن کے فرشتے بھي نماز فجر کا مشاہدہ کرتے ہيں]۔
"دُلوک" ايک طرف جھکنے اور مائل ہونے کو کہا جاتا ہے اور يہاں "دُلوک" سے مراد آفتاب کا نصف النہار کي فرضي لکير سے مغرب کي طرف مائل ہونا اور زوالِ ظہر کا آغاز ہے۔
"غَسَقُ اللَّيْل" رات کے اندھيرے کو کہا جاتا ہے اور بعض لوگوں نے اس کو آدھي رات سے تعبير کيا ہے کيونکہ جيسا کہ راغب نے مفردات القرآن ميں لکھا ہے "غسق" سے رات کے اندھيرے کي شدت مراد ہے جو وہي نصف شب کا وقت ہے۔
چنانچہ "دلوک" سے وقت نماز کے آغاز اور ظہر کي طرف اشارہ ہے اور "غَسَقُ اللَّيْل" نماز مغرب و عشاء کے بعد کے اوقات کي جانب اشارہ ہے اور "قرآن الفجر" سے نماز صبح کي طرف اشارہ ہے۔
بہرحال اس آيت شريفہ ميں يوميہ نمازوں کے لئے تين اوقات بيان ہوئے ہيں اور يہ تين اوقات پنجگانہ نمازوں کي بجاآوري کے جواز کي دليل ہے۔
اس آيت کي تفسير ميں فخر رازي کا بيان دلچسپ ہے؛ کہتے ہيں: "إن فسرنا الغسق بظهور أوّل الظلمة ـ و حکاه عن ابن عبّاس و عطا و النضر بن شميل ـ کان الغسق عبارة عن أول المغرب و على هذا التقدير يکون المذکور فى الاية ثلاث اوقات وقت الزوال و وقت أول المغرب و وقت الفجر، و هذا يقتضى أن يکون الزوال وقتاً للظهر و العصر فيکون هذا الوقت مشترکاً بين الصلوتين و أن يکون أول المغرب وقتاً للمغرب والعشاء فيکون هذا الوقت مشترکاً أيضاً بين هاتين الصلوتين فهذا يقتضى جواز الجمع بين الظهر والعصر و المغرب و العشاء مطلقاً"(۳)۔ ترجمہ: "ہرگاہ ہم "غسق" سے رات کے اندھيرے کا آغاز مراد ليں ـ جس کے ابن عباس، عطاء اور نضر بن شميل بھي قائل ہوئے ہيں ـ غسق سے وقت مغرب کا آغاز ہے، اس لحاظ سے نماز کے لئے تين اوقات بيان ہوئے ہيں: وقت زوال، وقت مغرب اور وقت فجر۔"
فخر رازي اپني بات جاري رکھتے ہوئے لکھتے ہيں: "اس (بيان اوقات) کا تقاضا يہ ہے کہ زوال ظہر اور عصر(دونوں) کا وقت ہو۔ پس يہ وقت ان نمازوں کا مشترکہ وقت ہے۔ نيز اولِ مغرب "نماز مغرب اور نماز عشاء" کا وقت ہے۔ چنانچہ ان دو نمازوں کا وقت بھي مشترک ہے۔ اور ان سب کا نتيجہ يہ ہے: نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو جمع کرکے ادا کرنا، مطلقاً جائز ہے۔"
فخر رازي يہاں تک کا راستہ اچھے انداز ميں طے کرتے ہيں اور آيت کے مفہوم کا بخوبي ادراک کرتے ہيں اور اس کو خوب بيان کرتے ہيں مگر اپنا بيان جاري رکھتے ہوئے کہتے ہيں: چونکہ عذر اور سفر کے بغير دو نمازوں کو اکٹھا پڑھنا جائز نہيں ہے، لہذا آيت کو حالت عذر سے محدود (و مشروط) کرديتے ہيں(۴)(اور اس عمل پر عمل نہ کرنے ميں اپنے آپ کو معذور قرار ديتے ہيں)۔
فخرالدين رازي کو اس بات کی يادآوری کرانی پڑے گي کہ نہ صرف اس بات کي کوئي دليل نہيں ہے کہ آيت کو "
حالت عذر" سے محدود و مشروط کيا جائے، بلکہ ہمارے پاس متعدد روايات موجود ہيں ـ جن کا ذکر گذر گيا ـ کہ رسول اللہ(صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم)نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو بغير کسی عذر اور بغير سفر کے اکٹھا کر کے ادا کيا کرتے تھے، تا کہ امت کو وسعت و رخصت اور سہولت و آساني ہو اور افراد امت اس رخصت و اجازت سے استفادہ کرسکيں۔ علاوہ ازيں آيت کے اطلاق کو کيونکر بہت ہي محدود مسائل سے مختص کيا جاسکتا ہے؟ حالانکہ علم اصول کے قواعد کے مطابق "اکثر کي تخصيص جائز نہيں ہے"(اور ايک آيت ميں اتنے تفصيلي حکم کو ايک چھوٹي سي چيز سے محدود نہيں کيا جاسکتا)۔
اور بہرحال نماز کے تين اوقات کے بيان کے حوالے سے آيت کے واضح مفہوم کو کسی صورت ميں نظر انداز نہيں کيا جاسکتا۔
📚 منابع اور مآخذ
۱) سوره هود، آيہ ۱۱۴۔
٢) سوره اسراء، آيہ ۷۸۔
۳) تفسير کبير فخر رازى، جلد ٢۱، صفحہ ٢۷۔
۴) تفسير کبير فخر رازى، جلد ٢۱، صفحہ ٢۷۔
------------------------------
ماخذ: شيعہ جواب ديتے ہيں، آية الله مکارم شيرازي۔
https://t.me/islamwitheman/2048
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
اور بہرحال نماز کے تين اوقات کے بيان کے حوالے سے آيت کے واضح مفہوم کو کسی صورت ميں نظر انداز نہيں کيا جاسکتا۔
📚 منابع اور مآخذ
۱) سوره هود، آيہ ۱۱۴۔
٢) سوره اسراء، آيہ ۷۸۔
۳) تفسير کبير فخر رازى، جلد ٢۱، صفحہ ٢۷۔
۴) تفسير کبير فخر رازى، جلد ٢۱، صفحہ ٢۷۔
------------------------------
ماخذ: شيعہ جواب ديتے ہيں، آية الله مکارم شيرازي۔
https://t.me/islamwitheman/2048
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 *نماز کی اہمیت و فضیلت*🌹
عقائد ایمانی کے بعد اعمالِ بدنی میں نماز سے زیادہ کوٸی چیز افضل نہیں ہے۔ نماز اعمال انسانی میں سب سے بہتر عمل ہے اسکے معنی یہ نہیں ہیں کہ بس سب سے بہتر عمل کے بعد اب کسی عمل کی ضرورت نہیں۔
اللہ تعالی نے ہر عملِ انسانی کی سعادت…
عقائد ایمانی کے بعد اعمالِ بدنی میں نماز سے زیادہ کوٸی چیز افضل نہیں ہے۔ نماز اعمال انسانی میں سب سے بہتر عمل ہے اسکے معنی یہ نہیں ہیں کہ بس سب سے بہتر عمل کے بعد اب کسی عمل کی ضرورت نہیں۔
اللہ تعالی نے ہر عملِ انسانی کی سعادت…
🌹عشرہ مبشرہ (روایت) کی حقیقت 🌹
زبردست ریفرینس کے ساتھ علمی پوسٹ خود مولا علی علیہ السلام کے فرمان عالی شان کے مطابق۔
مصداق باب العلم مولائے کائنات علی ابن ابی طالب (ع) نے بنو امیہ کی خانہ ساز فیکٹریوں کی خود ساختہ روایت کے پرخچے اڑا دیئے۔ عشرہ مبشرہ کی روایت کا جواب مولا علی (ع) کی زبانی۔۔۔
جب مولا علی علیہ السلام نے اھل بصرہ سے جنگ جمل میں ملاقات کی تو زبیر کو طلب فرمایا۔ وہ طلحہ کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام کے سامنے آئے۔ مولا علی علیہ السلام نے فرمایا:
خدا کی قسم ۔۔۔!!
تم دونوں اصحاب و عائشہ (زوجہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ۔وسلم) سب جانتے ھو کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب جمل پر لعنت کی ھے اور انکو حواب کے کتوں کے بھونکنے کی وعید دی ھے اور وہ ذلیل اور رحمت حق سے نا امید ھیں۔ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر افتراء کرتا ھے۔
زبیر نے کہا:
ھم کسطرح ملعون ھیں حالانکہ ھم اھل بہشت سے ھیں۔
مولا علی علیہ السلام نے فرمایا:
اگر میں تم کو اھل بہشت میں سے جانتا تو تم سے کبھی بھی جنگ کرنا حلال نہ سمجھتا۔
زبیر نے کہا:
کیا آپ نے سعید بن عمرو بن عاص بن نفیل کی وہ حدیث نہیں سنی جو اسنے روایت کی ھے کہ قریش کے دس افراد اھل بہشت میں سے ھیں۔
مولا علیہ السلام نے فرمایا:
میں نے یہ حدیث خود اس سے سنی ھے۔ اس نے عثمان سے انکی خلافت کے زمانے میں نقل کیا ھے۔
زبیر نے کہا:
کیا آپ گمان کرتے ھیں کہ اسنے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر افتراء کیا ھے؟
مولا (ع) نے فرمایا:
میں تمہارا جواب نہ دوں گا جبتک یہ بیان نہ کرو گے کہ وہ دس افراد کون ھیں۔
زبیر نے کہا:
وہ ابوبکر، عمر، عثمان، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، ابو عبیدہ بن جراح اور سعید بن عمرو بن نفیل ھیں۔
مولا (ع) نے فرمایا:
یہ تو نو ھیں۔ دسواں کون ھے؟
تو زبیر نے کہا: دسویں آپ ھیں۔
مولا (ع) نے فرمایا:
کہ تم نے میرے اھل بہشت ھونے کا اقرار کیا اور جو تم اپنے اور اپنے دوستوں کا اھل بہشت ھونے کا دعویٰ کرتے ھو میں نہیں کہتا اور نہ میں مانتا ھوں۔
زبیر نے کہا:
کیا آپ گمان کرتے ھیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھا ھے۔؟
مولا ؑ نے فرمایا:
گمان ھی نہیں بلکہ یقین سے جانتا ھوں کہ اس نے رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر افتراء کیا ھے۔ اور خدا کی قسم ان میں سے بعض جنکے تم نے نام لیے ھیں جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں اس صندوق میں ھوں گے جو وہاں کے ایک درے کے ایک کنویں میں ھے اور اس کنویں کے منہ پر ایک پتھر ھے کہ جب خدا چاہتا ھے کہ جہنم کو روشن اور مشتعل کرے تو اس پتھر کو اس کنویں کے منہ سے ہٹا دیتا ھے۔
میں نے یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ھے۔ اگر میں نے نہ سنا ھو تو خدا تمکو مجھ پر فتح یاب کرے اور میرا خون تمہارے ہاتھ سے بہائے اور اگر میں نے سنا ھے تو خدا مجھکو تم پر اور تمہارے ساتھیوں پر ظفر یاب فرمائے اور تمہاری روحوں کو جلد جہنم میں لے جائے۔
یہ سنکر زبیر اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آئے اور روتے جاتے تھے۔
(جاری ھے ۔۔۔۔۔ !!)
📚 حوالہ جات:
کتاب : حق الیقین اردو، علامہ محمد باقر مجلسی (رح)، ترجمہ: سید بشارت حسین، ناشر: مجلس علمی اسلامی پاکستان۔ جلد1، ص312، سطر11۔
التماس دعا: سید فاخر حسین رضوی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
زبردست ریفرینس کے ساتھ علمی پوسٹ خود مولا علی علیہ السلام کے فرمان عالی شان کے مطابق۔
مصداق باب العلم مولائے کائنات علی ابن ابی طالب (ع) نے بنو امیہ کی خانہ ساز فیکٹریوں کی خود ساختہ روایت کے پرخچے اڑا دیئے۔ عشرہ مبشرہ کی روایت کا جواب مولا علی (ع) کی زبانی۔۔۔
جب مولا علی علیہ السلام نے اھل بصرہ سے جنگ جمل میں ملاقات کی تو زبیر کو طلب فرمایا۔ وہ طلحہ کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام کے سامنے آئے۔ مولا علی علیہ السلام نے فرمایا:
خدا کی قسم ۔۔۔!!
تم دونوں اصحاب و عائشہ (زوجہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ۔وسلم) سب جانتے ھو کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب جمل پر لعنت کی ھے اور انکو حواب کے کتوں کے بھونکنے کی وعید دی ھے اور وہ ذلیل اور رحمت حق سے نا امید ھیں۔ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر افتراء کرتا ھے۔
زبیر نے کہا:
ھم کسطرح ملعون ھیں حالانکہ ھم اھل بہشت سے ھیں۔
مولا علی علیہ السلام نے فرمایا:
اگر میں تم کو اھل بہشت میں سے جانتا تو تم سے کبھی بھی جنگ کرنا حلال نہ سمجھتا۔
زبیر نے کہا:
کیا آپ نے سعید بن عمرو بن عاص بن نفیل کی وہ حدیث نہیں سنی جو اسنے روایت کی ھے کہ قریش کے دس افراد اھل بہشت میں سے ھیں۔
مولا علیہ السلام نے فرمایا:
میں نے یہ حدیث خود اس سے سنی ھے۔ اس نے عثمان سے انکی خلافت کے زمانے میں نقل کیا ھے۔
زبیر نے کہا:
کیا آپ گمان کرتے ھیں کہ اسنے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر افتراء کیا ھے؟
مولا (ع) نے فرمایا:
میں تمہارا جواب نہ دوں گا جبتک یہ بیان نہ کرو گے کہ وہ دس افراد کون ھیں۔
زبیر نے کہا:
وہ ابوبکر، عمر، عثمان، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، ابو عبیدہ بن جراح اور سعید بن عمرو بن نفیل ھیں۔
مولا (ع) نے فرمایا:
یہ تو نو ھیں۔ دسواں کون ھے؟
تو زبیر نے کہا: دسویں آپ ھیں۔
مولا (ع) نے فرمایا:
کہ تم نے میرے اھل بہشت ھونے کا اقرار کیا اور جو تم اپنے اور اپنے دوستوں کا اھل بہشت ھونے کا دعویٰ کرتے ھو میں نہیں کہتا اور نہ میں مانتا ھوں۔
زبیر نے کہا:
کیا آپ گمان کرتے ھیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھا ھے۔؟
مولا ؑ نے فرمایا:
گمان ھی نہیں بلکہ یقین سے جانتا ھوں کہ اس نے رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر افتراء کیا ھے۔ اور خدا کی قسم ان میں سے بعض جنکے تم نے نام لیے ھیں جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں اس صندوق میں ھوں گے جو وہاں کے ایک درے کے ایک کنویں میں ھے اور اس کنویں کے منہ پر ایک پتھر ھے کہ جب خدا چاہتا ھے کہ جہنم کو روشن اور مشتعل کرے تو اس پتھر کو اس کنویں کے منہ سے ہٹا دیتا ھے۔
میں نے یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ھے۔ اگر میں نے نہ سنا ھو تو خدا تمکو مجھ پر فتح یاب کرے اور میرا خون تمہارے ہاتھ سے بہائے اور اگر میں نے سنا ھے تو خدا مجھکو تم پر اور تمہارے ساتھیوں پر ظفر یاب فرمائے اور تمہاری روحوں کو جلد جہنم میں لے جائے۔
یہ سنکر زبیر اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آئے اور روتے جاتے تھے۔
(جاری ھے ۔۔۔۔۔ !!)
📚 حوالہ جات:
کتاب : حق الیقین اردو، علامہ محمد باقر مجلسی (رح)، ترجمہ: سید بشارت حسین، ناشر: مجلس علمی اسلامی پاکستان۔ جلد1، ص312، سطر11۔
التماس دعا: سید فاخر حسین رضوی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 نماز پنجگانہ پڑھنے کی دلیل 🌹
♦حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے نماز پنجگانہ پڑھنے کی دلیل۔
💧🍁 نماز صبح
⭐صبح شیطان کی سرگرمی کا آغاز ہے جو بهی اس گهڑی میں نماز ادا کرے اور خود کو نسیم الہی کی فضا میں قرار دے شیطان کے شر سے امان میں رہے گا۔
💧🍁 نماز ظہر
⭐ ظہر تمام عالم خدا کی تسبیح کرتا ہے اور بری بات ہے کہ میری امت خدا کی تسبیح نہ کرے. نیز ظہر جہنمیوں کے جہنم میں جانے کا وقت ہے لہذا جو کوئی اس گھڑی مشغول عبادت ہو وہ جہنم سے بیمہ ہوجائیگا۔
💧🍁 نماز عصر
⭐عصر آدم و حوا کی خطا کا وقت ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ اس گهڑی نماز پڑهیں اور کہیں کہ ہم اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔
💧🍁 نماز مغرب
⭐مغرب حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ کے قبول ہونے کا لمحہ ہے اور ہم سب اس کے شکرانے کے لئے نماز ادا کریں۔
💧🍁 نماز عشاء
خداوند متعال نے نماز عشا کو میری امت کے لئے قبر کی روشنی و راحت قرار دیا ہے۔
📕 علل الشرایع، شیخ صدوق، ص 337۔
https://t.me/islamwitheman/2247
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
♦حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے نماز پنجگانہ پڑھنے کی دلیل۔
💧🍁 نماز صبح
⭐صبح شیطان کی سرگرمی کا آغاز ہے جو بهی اس گهڑی میں نماز ادا کرے اور خود کو نسیم الہی کی فضا میں قرار دے شیطان کے شر سے امان میں رہے گا۔
💧🍁 نماز ظہر
⭐ ظہر تمام عالم خدا کی تسبیح کرتا ہے اور بری بات ہے کہ میری امت خدا کی تسبیح نہ کرے. نیز ظہر جہنمیوں کے جہنم میں جانے کا وقت ہے لہذا جو کوئی اس گھڑی مشغول عبادت ہو وہ جہنم سے بیمہ ہوجائیگا۔
💧🍁 نماز عصر
⭐عصر آدم و حوا کی خطا کا وقت ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ اس گهڑی نماز پڑهیں اور کہیں کہ ہم اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔
💧🍁 نماز مغرب
⭐مغرب حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ کے قبول ہونے کا لمحہ ہے اور ہم سب اس کے شکرانے کے لئے نماز ادا کریں۔
💧🍁 نماز عشاء
خداوند متعال نے نماز عشا کو میری امت کے لئے قبر کی روشنی و راحت قرار دیا ہے۔
📕 علل الشرایع، شیخ صدوق، ص 337۔
https://t.me/islamwitheman/2247
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 نماز کے اوقات در قرآن 🔷
نماز کے اوقات کے بارے ميں قرآن مجيد کا کيا نظريہ ہے؟
اس مسئلے کي حيرت انگيزي يہ ہے کہ قرآن کي دو آيتوں ميں جب اوقات نماز کے تعين کا موقع آتا ہے، صرف تين اوقات يوميہ نمازوں کے لئے قرار ديئے جاتے ہيں، اس کے باوجود باعث تعجب ہے کہ…
نماز کے اوقات کے بارے ميں قرآن مجيد کا کيا نظريہ ہے؟
اس مسئلے کي حيرت انگيزي يہ ہے کہ قرآن کي دو آيتوں ميں جب اوقات نماز کے تعين کا موقع آتا ہے، صرف تين اوقات يوميہ نمازوں کے لئے قرار ديئے جاتے ہيں، اس کے باوجود باعث تعجب ہے کہ…
✊ ناخن کاٹنے کے فوائد و آداب ✊
🌺 ناخن کب کاٹے جائیں
لوگوں نے حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمارے اصحاب کا یہ مقولہ ہے کہ ناخن جمعہ ہی کے دن کاٹنے چاہئیں۔
امامؑ نے فرمایا: کہ جمعہ کے دن کٹواؤ خواہ کسی اور دن۔ یعنی اگر کسی اور دن ناخن اتنے بڑھ جائیں کہ کٹوانے کی ضرورت معلوم ہو تو جمعہ کا انتظار نہیں کرنا چاہیے اسی طرح حدیث میں وارد ہے کہ ناخن جس وقت بڑھ جائیں کٹوا ڈالو۔
🌹 ناخن کاٹنے کی مقدار
حدیث میں منقول ہے کہ رسول اکرمؐ مردوں کو تو یہ حکم دیتے تھے کہ ناخنوں کو زندہ ناخن کے پاس سے کاٹو اور عورتوں کے لیے یہ فرمایا کہ تھوڑا سا چھوڑ کر کاٹو کہ وہ تمھاری زینت کا موجب ہے۔
🌹 ممانعت
منقول ہے کہ حضرت رسول اکرمؐ نے دانتوں سے ناخن کاٹنے کی ممانعت فرمائی ہے۔
🌹 بیماریوں سے شفا
رسول اکرمؐ سے منقول ہے:
ناخن کاٹنے سے بہت بڑے بڑے امراض موقوف ہوتے ہیں اور روزی فراخ ہوتی ہے۔
🌹 درد سے شفا
پیغمبر اسلامؐ فرماتے ہیں:
اگر کوٸی شخص جمعہ کے دن ناخن کاٹے تو اللہ تعالٰی اسکی انگلیوں سے درد کو نکال کر ان میں شفا داخل کر دیگا۔
🌼 روزی میں برکت
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
جمعةالمبارک کے دن ناخن کاٹنا اور مونچھوں کو کٹوانا فقیری کو دور کرتا ہے اور روزی کو زیادہ کرتا ہے۔
🌸 رزق کا وسیع ہونا
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اگر کوٸی چاہتا ہے کہ اسکا رزق وسیع ہو جاٸے تو وہ ہر جمعہ کو ناخن اور مونچھیں کٹوایا کرے۔
🌺 رزق کی زیادتی کا سبب
جمعرات کے روز ناخن کاٹو اور ایک ناخن باقی رہنے دو اور اسکو جمعہ کے دن کاٹو کیونکہ یہ رزق کی زیادتی کا سبب بنتا ہے اور ناخن کاٹتے وقت یہ دعا پڑھیں:
*بِسمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ وَعَلٰی سُنَّةِ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ*
■ ناخن کاٹنے کے طریقے
چہاردہ معصومین علیہم السلام کی احادیث سے ناخن کاٹنے کے چند طریقے وارد ہوٸے ہیں:
● پہلا طریقہ
یہ ہے کہ باٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ابتدا کریں اور داٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پر اختتام کریں۔
● دوسرا طریقہ
یہ ہے کہ داہنے ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ابتدا کریں اور داہنے ہاتھ کے سارے ناخن کاٹ لیں پھر باٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کر کے تمام ناخن کاٹیں۔
● تیسرا طریقہ
یہ ہے کہ داہنے ہاتھ کی شہادت والی انگلی سے ابتدا پھر درميان والی انگلی پھر اسکے ساتھ اور پھر چھوٹی انگلی پھر باٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پھر اسکے بعد ایک ایک کر کے ساری انگلیوں کے ناخن کاٹیں۔ بعد میں داہنے ہاتھ کی بڑی انگلی کے ناخن کاٹیں۔
ان میں سے جس طریقے پر عمل کیا جاٸیگا ان شاء اللہ تعالٰی ثواب ملے گا۔
📚 حوالہ جات:
تہذیب الإسلام
انوارالنجف، جلد14۔
وسائل الشیعہ، جلد5۔
http://t.me/islamwitheman/1219
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 ناخن کب کاٹے جائیں
لوگوں نے حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمارے اصحاب کا یہ مقولہ ہے کہ ناخن جمعہ ہی کے دن کاٹنے چاہئیں۔
امامؑ نے فرمایا: کہ جمعہ کے دن کٹواؤ خواہ کسی اور دن۔ یعنی اگر کسی اور دن ناخن اتنے بڑھ جائیں کہ کٹوانے کی ضرورت معلوم ہو تو جمعہ کا انتظار نہیں کرنا چاہیے اسی طرح حدیث میں وارد ہے کہ ناخن جس وقت بڑھ جائیں کٹوا ڈالو۔
🌹 ناخن کاٹنے کی مقدار
حدیث میں منقول ہے کہ رسول اکرمؐ مردوں کو تو یہ حکم دیتے تھے کہ ناخنوں کو زندہ ناخن کے پاس سے کاٹو اور عورتوں کے لیے یہ فرمایا کہ تھوڑا سا چھوڑ کر کاٹو کہ وہ تمھاری زینت کا موجب ہے۔
🌹 ممانعت
منقول ہے کہ حضرت رسول اکرمؐ نے دانتوں سے ناخن کاٹنے کی ممانعت فرمائی ہے۔
🌹 بیماریوں سے شفا
رسول اکرمؐ سے منقول ہے:
ناخن کاٹنے سے بہت بڑے بڑے امراض موقوف ہوتے ہیں اور روزی فراخ ہوتی ہے۔
🌹 درد سے شفا
پیغمبر اسلامؐ فرماتے ہیں:
اگر کوٸی شخص جمعہ کے دن ناخن کاٹے تو اللہ تعالٰی اسکی انگلیوں سے درد کو نکال کر ان میں شفا داخل کر دیگا۔
🌼 روزی میں برکت
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
جمعةالمبارک کے دن ناخن کاٹنا اور مونچھوں کو کٹوانا فقیری کو دور کرتا ہے اور روزی کو زیادہ کرتا ہے۔
🌸 رزق کا وسیع ہونا
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اگر کوٸی چاہتا ہے کہ اسکا رزق وسیع ہو جاٸے تو وہ ہر جمعہ کو ناخن اور مونچھیں کٹوایا کرے۔
🌺 رزق کی زیادتی کا سبب
جمعرات کے روز ناخن کاٹو اور ایک ناخن باقی رہنے دو اور اسکو جمعہ کے دن کاٹو کیونکہ یہ رزق کی زیادتی کا سبب بنتا ہے اور ناخن کاٹتے وقت یہ دعا پڑھیں:
*بِسمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ وَعَلٰی سُنَّةِ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ*
■ ناخن کاٹنے کے طریقے
چہاردہ معصومین علیہم السلام کی احادیث سے ناخن کاٹنے کے چند طریقے وارد ہوٸے ہیں:
● پہلا طریقہ
یہ ہے کہ باٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ابتدا کریں اور داٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پر اختتام کریں۔
● دوسرا طریقہ
یہ ہے کہ داہنے ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ابتدا کریں اور داہنے ہاتھ کے سارے ناخن کاٹ لیں پھر باٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کر کے تمام ناخن کاٹیں۔
● تیسرا طریقہ
یہ ہے کہ داہنے ہاتھ کی شہادت والی انگلی سے ابتدا پھر درميان والی انگلی پھر اسکے ساتھ اور پھر چھوٹی انگلی پھر باٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پھر اسکے بعد ایک ایک کر کے ساری انگلیوں کے ناخن کاٹیں۔ بعد میں داہنے ہاتھ کی بڑی انگلی کے ناخن کاٹیں۔
ان میں سے جس طریقے پر عمل کیا جاٸیگا ان شاء اللہ تعالٰی ثواب ملے گا۔
📚 حوالہ جات:
تہذیب الإسلام
انوارالنجف، جلد14۔
وسائل الشیعہ، جلد5۔
http://t.me/islamwitheman/1219
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌷 بالوں کوخضاب لگانا🌷
1-- امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
ایک شخص پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا ، آپ ص نے اسکی سفید ریش دیکھکر فرمایا :
جس نے اپنی داڑھی اسلام میں سفید کی ھو یعنی دین اسلام پر عمل کرتے ھوئے اسکی داڑھی سفید ھوئی…
1-- امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
ایک شخص پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا ، آپ ص نے اسکی سفید ریش دیکھکر فرمایا :
جس نے اپنی داڑھی اسلام میں سفید کی ھو یعنی دین اسلام پر عمل کرتے ھوئے اسکی داڑھی سفید ھوئی…
🌹 حضرت فاطمۃ الزھراءؑ 40 احادیث 🌹
حضرت فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیہا سے متعلق چالیس حدیثیں۔
1: اہمیت معرفت فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
جس کسی نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کی حقیقی معرفت حاصل کرلی گویا اس نے شب قدر کو درک کرلیا۔
2: فاطمہ سلام اللہ علیہا سے محبت کے آثار
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
جو کوئی میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا سے محبت رکھے گا، وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا، اور جو کوئی میری بیٹی سے بغض رکھے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔
3: فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اطاعت
امام باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اطاعت تمام مخلوقات خدا پر واجب ہے۔ چاہے وہ جنات ہوں یا انسان، چرند ہوں یا پرند، ملائکہ ہوں یا انبیاء۔
4: فاطمہ سلام اللہ علیہا کی پیروی
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے علیؑ! فاطمہ سلام اللہ علیہا جس بات کا حکم کرے اس پر عمل کرنا کیونکہ میں نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کو ان چیزوں کا حکم دیا ہے جن چیزوں کا امر مجھے جبرئیل سے ملا ہے۔
5: خلقت فاطمہ سلام اللہ علیہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا حور ہیں۔ جنہیں خدا نے انسان کی شکل میں خلق کیا ہے۔
6: نام فاطمہ سلام اللہ علیہا ’’فاطمہ‘‘ کیوں؟
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ،سلام اللہ علیہا رکھا، کیونکہ خدا وند عزو جل نے فاطمہ سلام اللہ علیہا اور ان کے چاہنے والوں کو آتش جہنم سے محفوظ کردیا ہے۔
7: فاطمہ ،سلام اللہ علیہا،نام رکھنے کا اثر
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
جن گھروں میں مردوں کے نام محمدؐ۔ احمدؐ۔ علی ؑ۔ حسنؑ۔ حسینؑ۔ جعفر ؑ۔ طالب ؑ۔ عبد اللہؑ کے ناموں پر اور عورتوں کے نام فاطمہؐ کےنام پر ہوں، فقر (تنگدستی) ان گھروں میں داخل نہیں ہو سکتا۔
8: احترام فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
(ایک ایسے شخص سے جس نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ سلام اللہ کے نام پر رکھا تھا۔ اس سے امام صادق علیہ السلام نے فرمایا۔)
جب کہ تم نے اپنی بیٹی کا نام میری دادی کے نام پر رکھا ہے تو پھر کبھی اپنی بچی کو ناسزا نہ کہنا، نہ ہی اسے نفرین کرنا، اور نہ ہی کبھی اسے طمانچے مارنا۔
9: نمونہ زندگی
امام زمانہ عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے اپنی توقیع میں ارشاد فرمایا:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیٹی کی زندگی ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں۔
10: بہترین یاور
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام سے سوال کیا: اے علی (ع)! تم نے فاطمہ سلام اللہ کو کیسا پایا، جواب میں علی(ع)نے فرمایا: اطاعت و عبادت پروردگار میں بہترین مددگار پایا۔
11: عزیز پیغمبرؐ
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا میرے نزدیک سب سے زیادہ عزیز ہیں۔
12: نور چشم و ثمرہ قلب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا میرے جگر کا ٹکڑا۔ آنکھوں کا نور اور دل کا سکون ہیں۔
13: رضایت و غضب فاطمہ سلام اللہ علیہا
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
بے شک خداوند متعال فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ناراضگی کے باعث غضب ناک ہوتاہے اور فاطمہ سلام اللہ علیہا کی رضایت کی بناء پر راضی ہوتا ہے۔
14: دشمن فاطمہ سلام اللہ علیہا کا ٹھکانہ جہنم
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے فاطمہؐ! خدا ایسے شخص کو ہرگز ہرگز آتش جہنم سے نجات نہیں دے گا جس کے دل میں تمہارے لئے بغض ہو، یا تمہارے حق کا غاصب ہو، گرچہ اس کی شفاعت خدا کی طرف سے مبعوث تمام انبیاء کرام اور خدا کے مقرب ملائکہ ہی کیوں نہ کریں۔
15: چمکدار ستارہ
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا دنیا کی عورتوں کے درمیان چمکدار ستارے کی مانند ہیں۔
16: سیدۃ النساء العالمین
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا تمام کائنات کی عورتوں کی سردار ہیں۔
17: تسبیح حضرت زہراء سلام اللہ علیہا
امام باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
خداوند متعال کی حمد و تسبیح میں فاطمہ سلام اللہ علیہا کی تسبیح سے بڑھ کر کوئی بھی عبادت نہیں ہوئی ہے۔
18: درود و سلام بر فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
پہلی بار اگر کسی کے جنازے کے لئے تابوت بنایا گیا، وہ ذات فاطمہ سلام اللہ علیہا دختر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں۔ درود و سلام خدا ہو ان پر ان کے والد بزرگوار اور ان کے شوہر نامدار اور ان کی اولاد پر۔
حضرت فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیہا سے متعلق چالیس حدیثیں۔
1: اہمیت معرفت فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
جس کسی نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کی حقیقی معرفت حاصل کرلی گویا اس نے شب قدر کو درک کرلیا۔
2: فاطمہ سلام اللہ علیہا سے محبت کے آثار
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
جو کوئی میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا سے محبت رکھے گا، وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا، اور جو کوئی میری بیٹی سے بغض رکھے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔
3: فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اطاعت
امام باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اطاعت تمام مخلوقات خدا پر واجب ہے۔ چاہے وہ جنات ہوں یا انسان، چرند ہوں یا پرند، ملائکہ ہوں یا انبیاء۔
4: فاطمہ سلام اللہ علیہا کی پیروی
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے علیؑ! فاطمہ سلام اللہ علیہا جس بات کا حکم کرے اس پر عمل کرنا کیونکہ میں نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کو ان چیزوں کا حکم دیا ہے جن چیزوں کا امر مجھے جبرئیل سے ملا ہے۔
5: خلقت فاطمہ سلام اللہ علیہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا حور ہیں۔ جنہیں خدا نے انسان کی شکل میں خلق کیا ہے۔
6: نام فاطمہ سلام اللہ علیہا ’’فاطمہ‘‘ کیوں؟
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ،سلام اللہ علیہا رکھا، کیونکہ خدا وند عزو جل نے فاطمہ سلام اللہ علیہا اور ان کے چاہنے والوں کو آتش جہنم سے محفوظ کردیا ہے۔
7: فاطمہ ،سلام اللہ علیہا،نام رکھنے کا اثر
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
جن گھروں میں مردوں کے نام محمدؐ۔ احمدؐ۔ علی ؑ۔ حسنؑ۔ حسینؑ۔ جعفر ؑ۔ طالب ؑ۔ عبد اللہؑ کے ناموں پر اور عورتوں کے نام فاطمہؐ کےنام پر ہوں، فقر (تنگدستی) ان گھروں میں داخل نہیں ہو سکتا۔
8: احترام فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
(ایک ایسے شخص سے جس نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ سلام اللہ کے نام پر رکھا تھا۔ اس سے امام صادق علیہ السلام نے فرمایا۔)
جب کہ تم نے اپنی بیٹی کا نام میری دادی کے نام پر رکھا ہے تو پھر کبھی اپنی بچی کو ناسزا نہ کہنا، نہ ہی اسے نفرین کرنا، اور نہ ہی کبھی اسے طمانچے مارنا۔
9: نمونہ زندگی
امام زمانہ عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے اپنی توقیع میں ارشاد فرمایا:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیٹی کی زندگی ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں۔
10: بہترین یاور
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام سے سوال کیا: اے علی (ع)! تم نے فاطمہ سلام اللہ کو کیسا پایا، جواب میں علی(ع)نے فرمایا: اطاعت و عبادت پروردگار میں بہترین مددگار پایا۔
11: عزیز پیغمبرؐ
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا میرے نزدیک سب سے زیادہ عزیز ہیں۔
12: نور چشم و ثمرہ قلب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا میرے جگر کا ٹکڑا۔ آنکھوں کا نور اور دل کا سکون ہیں۔
13: رضایت و غضب فاطمہ سلام اللہ علیہا
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
بے شک خداوند متعال فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ناراضگی کے باعث غضب ناک ہوتاہے اور فاطمہ سلام اللہ علیہا کی رضایت کی بناء پر راضی ہوتا ہے۔
14: دشمن فاطمہ سلام اللہ علیہا کا ٹھکانہ جہنم
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے فاطمہؐ! خدا ایسے شخص کو ہرگز ہرگز آتش جہنم سے نجات نہیں دے گا جس کے دل میں تمہارے لئے بغض ہو، یا تمہارے حق کا غاصب ہو، گرچہ اس کی شفاعت خدا کی طرف سے مبعوث تمام انبیاء کرام اور خدا کے مقرب ملائکہ ہی کیوں نہ کریں۔
15: چمکدار ستارہ
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا دنیا کی عورتوں کے درمیان چمکدار ستارے کی مانند ہیں۔
16: سیدۃ النساء العالمین
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا تمام کائنات کی عورتوں کی سردار ہیں۔
17: تسبیح حضرت زہراء سلام اللہ علیہا
امام باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
خداوند متعال کی حمد و تسبیح میں فاطمہ سلام اللہ علیہا کی تسبیح سے بڑھ کر کوئی بھی عبادت نہیں ہوئی ہے۔
18: درود و سلام بر فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام رضا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
پہلی بار اگر کسی کے جنازے کے لئے تابوت بنایا گیا، وہ ذات فاطمہ سلام اللہ علیہا دختر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں۔ درود و سلام خدا ہو ان پر ان کے والد بزرگوار اور ان کے شوہر نامدار اور ان کی اولاد پر۔
19: دشمن فاطمہ سلام اللہ علیہا مستحق لعنت خدا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
ملعون ہے ملعون ہے ملعون ہے وہ شخص جو میرے بعد میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا پر ظلم کرے اور اس کے حق کو غصب کرے اور اسے قتل کرے۔
20: فضیلت زیارت فاطمہ سلام اللہ علیہا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
جس کسی نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کی گویا اس نے میری زیارت کی۔
21: نماز مخصوص فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
نماز فاطمہ سلام اللہ علیہا چار رکعت ہے۔(دو دو رکعت کے ساتھ) اور ہر رکعت میں (سورۂ الحمد کے بعد) پچاس مرتبہ سورۂ توحید (قل ھو اللہ) کی تلاوت ہے۔ یہ ہے نماز فاطمہ سلام اللہ علیہا ، اگر کسی نے اس طرح نماز ادا کی گویااس نے نماز فاطمہ سلام اللہ ادا کی۔
22: میں تجھ سے ہوں
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے فاطمہ ؐ! میں تجھ سے ہوں اور تو مجھ سے ہے۔
23: باپ قربان ہوجائے
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے فاطمہؐ! تمہارا باپ تم پر قربان ہوجائے۔
24: بہشت کیخوش بو
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا انسان کی شکل میں حور ہیں۔ جب بھی مجھے بہشت کی خوش بو کا اشتیاق ہوتا ہے۔ میں فاطمہ سلام اللہ علیہا کی خوش بوسونگھتا ہوں۔
25: فاطمہ سلام اللہ علیہا قلب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
حسن ؑ و حسینؑ اس امت کے دو سبط ہیں۔ اور ان دونوں کا مقام محمد (ص) کے لئے اسی طرح ہے جس طرح سر کے لئے آنکھیں ہوتی ہیں۔ اور میری منزلت(محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے لئے اس طرح ہے جس طرح بدن کے لئے ہاتھ ہوتے ہیں۔ جبکہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اہمیت(محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے لئے) ویسی ہی ہے جس طرح بدن کے لئے دل کی ہوتی ہے۔
26: فاطمہ سلام اللہ علیہا باعث افتخار علی علیہ السلام
حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
میں (علی ؑ) بتول کا شوہر ہوں۔ وہ (بتولؐ) کہ جو کونین کی عورتوں کی سردار ہیں۔
27: ستارۂ زہرہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
میں سورج ہوں، علی علیہ السلام چاند ہیں، اور فاطمہ سلام اللہ علیہا زھرہ (ستارہ) ہیں، اور حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام دو چمکدار ستارے ہیں۔
28: ایمان فاطمہ سلام اللہ علیہا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے سلمان! یقینا خدا وند متعال نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کے قلب و اعضاء وجوارح اور ہڈیوں کو ایمان و یقین سے پر کیا ہے۔ اس طرح کہ ہمیشہ اطاعت خداوندی میں مصروف رہیں۔
29: فاطمہ سلام اللہ علیہا و زیارت شہداء
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا ہر شنبہ (سنیچر) کو شہدا ء کی قبروں کی زیارت کو جاتی تھیں۔
30: خوش بو فاطمہ سلام اللہ علیہا
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
انبیاکی کی خوش بو بہ (ایک پھلquince jam) کی خوش بو ہے۔ حوران بہشت کی خوش بو گل جاسمین کی خشبوء ہے۔ملائکہ کی خشبوء سرخ گلاب کی خشبوء ہے۔ جبکہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی خوش بو بہ پھل، گل یاس اور سرخ گلاب کی خوش بو ہے۔
31: علی علیہ السلام کفو فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
بے شک اگر علی علیہ السلام نہ ہوتے تو پھر تا روز قیامت زمین پر آدم سے لیکر آخر آدمی تک کوئی فاطمہ سلام اللہ علیہا کا کفو نہیں ہوتا۔
32: آسمانی جوڑا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
میں نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کا عقد (علی علیہ السلام سے) اللہ کے حکم سے انجام دیاہے۔
33: فاطمہ سلام اللہ علیہا و امور خانہ داری
علی علیہ السلام فاطمہ سلام اللہ علیہا کے متعلق فرماتے ہیں:
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے اس قدر مشک سے پانی بھرا کہ اس کے آثار ان کے سینہ پر نمایاں ہوئے۔ اور اسقدر چکی چلائی کہ ہاتھوں میں چھالے پڑگئے۔ اور اس قدر گھر میں جاروب کشی کی کہ لباس گرد آلود ہوگئے۔ اور کھانے پکانے کی خاطر اس قدر چولہے کی آگ جلائی کہ جس کے سبب لباس دھوئیں میں سیاہ ہوگئے۔ ان تمام کاموں سے فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اپنی زندگی میں بہت زیادہ سختی و رنج اٹھائے۔
34: فاطمہ سلام اللہ علیہا فرمانبردار زوجہ
حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
قسم بہ خدا!۔۔۔۔۔ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے مجھے کبھی رنج نہیں دیا اور نہ ہی کسی کام میں میری ان سے کبھی تکرار ہوئی اور میں جب بھی غمگین ہوتا تھا فاطمہ سلام اللہ علیہا کے چہرے کو دیکھ کر میرے سارے رنج و غم دور ہوجایا کرتے تھے۔
35: نور خدا سے نور فاطمہ سلام اللہ علیہا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا کا نور خدا کے نور سے ہے اور میری بیٹی فاطمہ زمین و آسمان سے برتر و افضل ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
ملعون ہے ملعون ہے ملعون ہے وہ شخص جو میرے بعد میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا پر ظلم کرے اور اس کے حق کو غصب کرے اور اسے قتل کرے۔
20: فضیلت زیارت فاطمہ سلام اللہ علیہا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
جس کسی نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کی گویا اس نے میری زیارت کی۔
21: نماز مخصوص فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
نماز فاطمہ سلام اللہ علیہا چار رکعت ہے۔(دو دو رکعت کے ساتھ) اور ہر رکعت میں (سورۂ الحمد کے بعد) پچاس مرتبہ سورۂ توحید (قل ھو اللہ) کی تلاوت ہے۔ یہ ہے نماز فاطمہ سلام اللہ علیہا ، اگر کسی نے اس طرح نماز ادا کی گویااس نے نماز فاطمہ سلام اللہ ادا کی۔
22: میں تجھ سے ہوں
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے فاطمہ ؐ! میں تجھ سے ہوں اور تو مجھ سے ہے۔
23: باپ قربان ہوجائے
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے فاطمہؐ! تمہارا باپ تم پر قربان ہوجائے۔
24: بہشت کیخوش بو
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا انسان کی شکل میں حور ہیں۔ جب بھی مجھے بہشت کی خوش بو کا اشتیاق ہوتا ہے۔ میں فاطمہ سلام اللہ علیہا کی خوش بوسونگھتا ہوں۔
25: فاطمہ سلام اللہ علیہا قلب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
حسن ؑ و حسینؑ اس امت کے دو سبط ہیں۔ اور ان دونوں کا مقام محمد (ص) کے لئے اسی طرح ہے جس طرح سر کے لئے آنکھیں ہوتی ہیں۔ اور میری منزلت(محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے لئے اس طرح ہے جس طرح بدن کے لئے ہاتھ ہوتے ہیں۔ جبکہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اہمیت(محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے لئے) ویسی ہی ہے جس طرح بدن کے لئے دل کی ہوتی ہے۔
26: فاطمہ سلام اللہ علیہا باعث افتخار علی علیہ السلام
حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
میں (علی ؑ) بتول کا شوہر ہوں۔ وہ (بتولؐ) کہ جو کونین کی عورتوں کی سردار ہیں۔
27: ستارۂ زہرہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
میں سورج ہوں، علی علیہ السلام چاند ہیں، اور فاطمہ سلام اللہ علیہا زھرہ (ستارہ) ہیں، اور حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام دو چمکدار ستارے ہیں۔
28: ایمان فاطمہ سلام اللہ علیہا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے سلمان! یقینا خدا وند متعال نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کے قلب و اعضاء وجوارح اور ہڈیوں کو ایمان و یقین سے پر کیا ہے۔ اس طرح کہ ہمیشہ اطاعت خداوندی میں مصروف رہیں۔
29: فاطمہ سلام اللہ علیہا و زیارت شہداء
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
فاطمہ سلام اللہ علیہا ہر شنبہ (سنیچر) کو شہدا ء کی قبروں کی زیارت کو جاتی تھیں۔
30: خوش بو فاطمہ سلام اللہ علیہا
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
انبیاکی کی خوش بو بہ (ایک پھلquince jam) کی خوش بو ہے۔ حوران بہشت کی خوش بو گل جاسمین کی خشبوء ہے۔ملائکہ کی خشبوء سرخ گلاب کی خشبوء ہے۔ جبکہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی خوش بو بہ پھل، گل یاس اور سرخ گلاب کی خوش بو ہے۔
31: علی علیہ السلام کفو فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
بے شک اگر علی علیہ السلام نہ ہوتے تو پھر تا روز قیامت زمین پر آدم سے لیکر آخر آدمی تک کوئی فاطمہ سلام اللہ علیہا کا کفو نہیں ہوتا۔
32: آسمانی جوڑا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
میں نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کا عقد (علی علیہ السلام سے) اللہ کے حکم سے انجام دیاہے۔
33: فاطمہ سلام اللہ علیہا و امور خانہ داری
علی علیہ السلام فاطمہ سلام اللہ علیہا کے متعلق فرماتے ہیں:
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے اس قدر مشک سے پانی بھرا کہ اس کے آثار ان کے سینہ پر نمایاں ہوئے۔ اور اسقدر چکی چلائی کہ ہاتھوں میں چھالے پڑگئے۔ اور اس قدر گھر میں جاروب کشی کی کہ لباس گرد آلود ہوگئے۔ اور کھانے پکانے کی خاطر اس قدر چولہے کی آگ جلائی کہ جس کے سبب لباس دھوئیں میں سیاہ ہوگئے۔ ان تمام کاموں سے فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اپنی زندگی میں بہت زیادہ سختی و رنج اٹھائے۔
34: فاطمہ سلام اللہ علیہا فرمانبردار زوجہ
حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
قسم بہ خدا!۔۔۔۔۔ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے مجھے کبھی رنج نہیں دیا اور نہ ہی کسی کام میں میری ان سے کبھی تکرار ہوئی اور میں جب بھی غمگین ہوتا تھا فاطمہ سلام اللہ علیہا کے چہرے کو دیکھ کر میرے سارے رنج و غم دور ہوجایا کرتے تھے۔
35: نور خدا سے نور فاطمہ سلام اللہ علیہا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا کا نور خدا کے نور سے ہے اور میری بیٹی فاطمہ زمین و آسمان سے برتر و افضل ہے۔
36: سر بالین فاطمہ سلام اللہ علیہا
امام باقر و امام صادق علیہما السلام نے ارشاد فرمایا:
جب تک پنجتن پاک محمدؐ علی ؑ فاطمہؐ حسن ؑ حسینؑ کے چہروں کو نہ دیکھ لیں انسان کی روح پر بدن سے خارج ہونا حرام ہے۔ مگر یہ کہ دیکھنے والی آنکھیں انھیں دیکھنے سے یا تو روشن ہوجاتی ہیں یا پھر تاریک و محزون ہوجایا کرتی ہے۔
37: فاطمہ سلام اللہ علیہا اور درجہ شہادت
امام کاظم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
یقینا فاطمہ سلام اللہ علیہا صیدیقہ شہیدہ ہیں۔
38: جنت مشتاق فاطمہ سلام اللہ علیہا
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
جنت چار عورتوں کی مشتاق ہے۔۱۔ مریم بنت عمران۔ ۲۔آسیہ بنت مزاحم (زوجہ فرعون)۔ ۳۔ خدیجہ بنت خویلد۔ ۴۔ اور فاطمہ بنت محمد ؐ۔
39: فاطمہ سلام اللہ علیہا اور بچے
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
بے شک ہمارے مومن شیعوں کے بچوں کی پرورش فاطمہ سلام اللہ علیہا کرتی ہیں۔
40: شفاعت فاطمہ سلام اللہ علیہا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے فاطمہؐ! میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ خدا کے نزدیک تمہیں محترم مقام عطا کیا گیا ہے جہاں سے تم اپنے چاہنے والوں اور شیعوں کی شفاعت کروگی۔
📚 منابع:
(۱) بحارالانوار: ج۴۳، ص۶۵۔
(۲) بحار الانوار:ج۲۷، ص۱۱۶۔
(۳) دلائل الامامۃ، ص۲۸۔
(۴) بحار الانوار:ج۲۲، ص۴۸۴۔
(۵) بحار الانوار:ج۷۸،ص۱۱۲۔
(۶) عیون اخبار الرضا علیہ السلام: ج۲، ص۴۶۔
(۷) اصول کافی: ج۶، ص۱۹۔
(۸) اصول کافی: ج۴۸۔
(۹) بحار الانوار:ج۵۳، ص۱۸۰۔
(۱۰)بحار الانوار:ج۴۳، ص۱۱۷۔
(۱۱)امالی شیخ مفیدؒ :ص۲۵۹۔
(۱۲) امالی شیخ صدوقؒ :ص۴۸۶۔
(۱۳) امالی شیخ مفید:ؒ ص۹۴۔
(۱۴) بحار الانوار:ج ۷۶، ص۳۵۴۔
(۱۵) اصول کافی: ج۱، ص۱۹۵۔
(۱۶) معانی الاخبار: ص۱۰۷۔
(۱۷) اصول کافی: ج۳، ص۳۴۳۔
(۱۸) بحار الانوار:ج۷۸، ص۲۴۹۔
(۱۹) بحار الانوار:ج۷۳، ص۳۵۴۔
(۲۰)بحار الانوار:ج ۴۳،ص۵۸۔
(۲۱) من لا یحضر الفقیہ: ج۱، ص۵۶۴۔
(۲۲)بیت الاحزان: ص۱۹، بحار الانوار:ج۴۳، ص۳۲۔
(۲۳)بحار الانوار:ج۲۲،ص۴۹۰۔
(۲۴) التوحید: شیخ صدوقؒ: ص۱۱۷۔
(۲۵)بحار الانوار:ج۳۹، ص۳۵۲: کتاب سلیم بن قیس : ص۸۳۰۔
(۲۶) معانی الاخبار: ص۵۸۔
(۲۷) بحار الانوار:ج۲۴، ص۷۴: معانی الاخبار: ص۱۱۴۔
(۲۸)بحار الانوار:ج۴۳، ص۴۶: مناقب: ج۳، ص۳۳۷۔
(۲۹) وسائل الشیعہ: ج۲، ص۸۷۹۔
(۳۰) بحار الانوار:ج۶۶، ص۱۷۷۔
(۳۱) خصال: ج۲، ص۴۱۴۔
(۳۲) عیون الاخبار الرضا علیہ السلام: ج۲، ص۵۹۔
(۳۳)علل الشرائع: ج۲، ص۳۶۶۔
(۳۴) بحار الانوار:ج۴۳، ص۱۳۴۔
(۳۵) بحار الانوار:ج۱۵، ص۱۰۔
(۳۶) کشف الغمۃ: ج۱، ص۴۱۴۔
(۳۷)اصول کافی: ج۱، ص۴۵۸۔
(۳۸) بحار الانوار:ج۴۳، ص۵۳۔
(۳۹)بحار الانوار:ج۶، ص۲۲۹: تفسیر علی بن ابراہیم: ج۲، ص۳۳۲۔
(۴۰)بحار الانوار:ج۷۶، ص۳۵۹۔
________
👈دختر رسول فاطمةالزھراءؑ کے بارے میں پوسٹس۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/432
⚫ شہادت بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/305
https://t.me/islamwitheman/304
🔶 بوقتِ دفن بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/306
🔶 دخترِ رسول (ص)
https://t.me/islamwitheman/312
🔶 وصیت حضرت فاطمةالزھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/313
🌹 بیبی زھراءؑ کے ہار کی برکتیں
https://t.me/islamwitheman/314
🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318
⚫ حضرت فاطمةالزھراءؑ کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/319
🌺 ولادت باسعادت حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/431
🌹 فضیلت سیدہ فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/436
🌹 حضرت فاطمہؑ کا نام گرامی
https://t.me/islamwitheman/437
🌟 اُمُّ اَبِیھا
https://t.me/islamwitheman/446
🌷 فضائل حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/449
🌹 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ
http://t.me/islamwitheman/1343
🌷 نور کی نور سے شادی
http://t.me/islamwitheman/1344
🌹 خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ
http://t.me/islamwitheman/1345
💐 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز
http://t.me/islamwitheman/1346
⚪ سیدہ زھراءؑ کی رخصتی مبارک
http://t.me/islamwitheman/1437
💝 حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی
http://t.me/islamwitheman/1439
🌹 حضرت فاطمہ زھراءؑ 40 احادیث
https://t.me/islamwitheman/2252
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
امام باقر و امام صادق علیہما السلام نے ارشاد فرمایا:
جب تک پنجتن پاک محمدؐ علی ؑ فاطمہؐ حسن ؑ حسینؑ کے چہروں کو نہ دیکھ لیں انسان کی روح پر بدن سے خارج ہونا حرام ہے۔ مگر یہ کہ دیکھنے والی آنکھیں انھیں دیکھنے سے یا تو روشن ہوجاتی ہیں یا پھر تاریک و محزون ہوجایا کرتی ہے۔
37: فاطمہ سلام اللہ علیہا اور درجہ شہادت
امام کاظم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
یقینا فاطمہ سلام اللہ علیہا صیدیقہ شہیدہ ہیں۔
38: جنت مشتاق فاطمہ سلام اللہ علیہا
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
جنت چار عورتوں کی مشتاق ہے۔۱۔ مریم بنت عمران۔ ۲۔آسیہ بنت مزاحم (زوجہ فرعون)۔ ۳۔ خدیجہ بنت خویلد۔ ۴۔ اور فاطمہ بنت محمد ؐ۔
39: فاطمہ سلام اللہ علیہا اور بچے
امام صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
بے شک ہمارے مومن شیعوں کے بچوں کی پرورش فاطمہ سلام اللہ علیہا کرتی ہیں۔
40: شفاعت فاطمہ سلام اللہ علیہا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اے فاطمہؐ! میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ خدا کے نزدیک تمہیں محترم مقام عطا کیا گیا ہے جہاں سے تم اپنے چاہنے والوں اور شیعوں کی شفاعت کروگی۔
📚 منابع:
(۱) بحارالانوار: ج۴۳، ص۶۵۔
(۲) بحار الانوار:ج۲۷، ص۱۱۶۔
(۳) دلائل الامامۃ، ص۲۸۔
(۴) بحار الانوار:ج۲۲، ص۴۸۴۔
(۵) بحار الانوار:ج۷۸،ص۱۱۲۔
(۶) عیون اخبار الرضا علیہ السلام: ج۲، ص۴۶۔
(۷) اصول کافی: ج۶، ص۱۹۔
(۸) اصول کافی: ج۴۸۔
(۹) بحار الانوار:ج۵۳، ص۱۸۰۔
(۱۰)بحار الانوار:ج۴۳، ص۱۱۷۔
(۱۱)امالی شیخ مفیدؒ :ص۲۵۹۔
(۱۲) امالی شیخ صدوقؒ :ص۴۸۶۔
(۱۳) امالی شیخ مفید:ؒ ص۹۴۔
(۱۴) بحار الانوار:ج ۷۶، ص۳۵۴۔
(۱۵) اصول کافی: ج۱، ص۱۹۵۔
(۱۶) معانی الاخبار: ص۱۰۷۔
(۱۷) اصول کافی: ج۳، ص۳۴۳۔
(۱۸) بحار الانوار:ج۷۸، ص۲۴۹۔
(۱۹) بحار الانوار:ج۷۳، ص۳۵۴۔
(۲۰)بحار الانوار:ج ۴۳،ص۵۸۔
(۲۱) من لا یحضر الفقیہ: ج۱، ص۵۶۴۔
(۲۲)بیت الاحزان: ص۱۹، بحار الانوار:ج۴۳، ص۳۲۔
(۲۳)بحار الانوار:ج۲۲،ص۴۹۰۔
(۲۴) التوحید: شیخ صدوقؒ: ص۱۱۷۔
(۲۵)بحار الانوار:ج۳۹، ص۳۵۲: کتاب سلیم بن قیس : ص۸۳۰۔
(۲۶) معانی الاخبار: ص۵۸۔
(۲۷) بحار الانوار:ج۲۴، ص۷۴: معانی الاخبار: ص۱۱۴۔
(۲۸)بحار الانوار:ج۴۳، ص۴۶: مناقب: ج۳، ص۳۳۷۔
(۲۹) وسائل الشیعہ: ج۲، ص۸۷۹۔
(۳۰) بحار الانوار:ج۶۶، ص۱۷۷۔
(۳۱) خصال: ج۲، ص۴۱۴۔
(۳۲) عیون الاخبار الرضا علیہ السلام: ج۲، ص۵۹۔
(۳۳)علل الشرائع: ج۲، ص۳۶۶۔
(۳۴) بحار الانوار:ج۴۳، ص۱۳۴۔
(۳۵) بحار الانوار:ج۱۵، ص۱۰۔
(۳۶) کشف الغمۃ: ج۱، ص۴۱۴۔
(۳۷)اصول کافی: ج۱، ص۴۵۸۔
(۳۸) بحار الانوار:ج۴۳، ص۵۳۔
(۳۹)بحار الانوار:ج۶، ص۲۲۹: تفسیر علی بن ابراہیم: ج۲، ص۳۳۲۔
(۴۰)بحار الانوار:ج۷۶، ص۳۵۹۔
________
👈دختر رسول فاطمةالزھراءؑ کے بارے میں پوسٹس۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/432
⚫ شہادت بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/305
https://t.me/islamwitheman/304
🔶 بوقتِ دفن بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/306
🔶 دخترِ رسول (ص)
https://t.me/islamwitheman/312
🔶 وصیت حضرت فاطمةالزھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/313
🌹 بیبی زھراءؑ کے ہار کی برکتیں
https://t.me/islamwitheman/314
🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318
⚫ حضرت فاطمةالزھراءؑ کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/319
🌺 ولادت باسعادت حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/431
🌹 فضیلت سیدہ فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/436
🌹 حضرت فاطمہؑ کا نام گرامی
https://t.me/islamwitheman/437
🌟 اُمُّ اَبِیھا
https://t.me/islamwitheman/446
🌷 فضائل حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/449
🌹 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ
http://t.me/islamwitheman/1343
🌷 نور کی نور سے شادی
http://t.me/islamwitheman/1344
🌹 خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ
http://t.me/islamwitheman/1345
💐 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز
http://t.me/islamwitheman/1346
⚪ سیدہ زھراءؑ کی رخصتی مبارک
http://t.me/islamwitheman/1437
💝 حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی
http://t.me/islamwitheman/1439
🌹 حضرت فاطمہ زھراءؑ 40 احادیث
https://t.me/islamwitheman/2252
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
رسولِخداؐ نے فرمایا:
میں، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ اور ان کے نو فرزند خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں. ہمارے دشمن خدا کے دشمن اور ہمارے دوست خدا کے دوست ہیں. (بشارةالمصطفیٰ،ص:24)
میں، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ اور ان کے نو فرزند خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں. ہمارے دشمن خدا کے دشمن اور ہمارے دوست خدا کے دوست ہیں. (بشارةالمصطفیٰ،ص:24)
💥 جو کرنا ہے کر گزرو 💥
ایک آدمی دریا کے کنارے بیٹھا تھا۔ کچھ لوگوں نے پوچھا کیا کررہے ہو؟
وہ بولا: پانی کے ختم ہونے کا انتظار کررہا ہوں جب سارا پانی ختم ہوگا ... تب دریا پار کروں گا۔
وہ لوگ کہنے لگے: کیسی بیوقوفی کی بات کررہے ہو، پانی ختم ہونے کے انتظار میں تو تمھاری زندگی ختم ہو جائے گی ... گزرنا ھے تو ہمت کرو اور گزر جاؤ۔
یہ سن کر اس بندے نے ان کی طرف دیکھا اور درد بھرے لہجے میں بولا: یہی تو میں تمھیں سمجھانا چاہتا ہوں کہ ... تم لوگ جو یہ ہمیشہ سوچتے ہو کہ جب زندگی کی مصروفیات ختم ہوں گی تب ... اللہ کے فرمانبردار بنیں گے، نماز پڑھیں گے، نیکی کے کام کریں گے۔۔۔
تو یاد رکھو❗جس طرح دریا کا پانی ختم ہونے سے پہلے میری زندگی ختم ہو جائے گی ... اسی طرح تمھاری مصروفیات ختم ہونے سے پہلے تمھاری زندگی ختم ہو جائے گی۔
اگر اپنی آخرت کیلئے کچھ کرنا ھے تو پھر ہمت کرو اور کر گزرو کیونکہ❗جو کچھ بھی کرنا ھے تم نے خود ہی کرنا ھے۔
https://t.me/islamwitheman/2214
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک آدمی دریا کے کنارے بیٹھا تھا۔ کچھ لوگوں نے پوچھا کیا کررہے ہو؟
وہ بولا: پانی کے ختم ہونے کا انتظار کررہا ہوں جب سارا پانی ختم ہوگا ... تب دریا پار کروں گا۔
وہ لوگ کہنے لگے: کیسی بیوقوفی کی بات کررہے ہو، پانی ختم ہونے کے انتظار میں تو تمھاری زندگی ختم ہو جائے گی ... گزرنا ھے تو ہمت کرو اور گزر جاؤ۔
یہ سن کر اس بندے نے ان کی طرف دیکھا اور درد بھرے لہجے میں بولا: یہی تو میں تمھیں سمجھانا چاہتا ہوں کہ ... تم لوگ جو یہ ہمیشہ سوچتے ہو کہ جب زندگی کی مصروفیات ختم ہوں گی تب ... اللہ کے فرمانبردار بنیں گے، نماز پڑھیں گے، نیکی کے کام کریں گے۔۔۔
تو یاد رکھو❗جس طرح دریا کا پانی ختم ہونے سے پہلے میری زندگی ختم ہو جائے گی ... اسی طرح تمھاری مصروفیات ختم ہونے سے پہلے تمھاری زندگی ختم ہو جائے گی۔
اگر اپنی آخرت کیلئے کچھ کرنا ھے تو پھر ہمت کرو اور کر گزرو کیونکہ❗جو کچھ بھی کرنا ھے تم نے خود ہی کرنا ھے۔
https://t.me/islamwitheman/2214
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 چار چیزیں کبھی نہ چھوڑیں 🔷
1- شکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ نعمتوں میں زیادتی اور اضافے سے محروم ہو جائیں گے.
ولئن شكرتم لأزيدنكم (اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو مزید دوں گا)
(سورة إبراهيم :آیت 7)
2- اللہ کا ذکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ اس سے محروم ہو جائیں گے کہ…
1- شکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ نعمتوں میں زیادتی اور اضافے سے محروم ہو جائیں گے.
ولئن شكرتم لأزيدنكم (اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو مزید دوں گا)
(سورة إبراهيم :آیت 7)
2- اللہ کا ذکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ اس سے محروم ہو جائیں گے کہ…
🌸 المفتی ضامن (1) 🌸
سوال: ہر مجتہد اپنی توضیح المسائل کے شروع میں لکھتا ہے کہ اس میں دیے گئے مسائل پر عمل کرنے سے آپ کا ذمہ ان شاء اللہ بری ہو جائے گا یعنی وہ ضمانت لے رہا ہے جبکہ قرآن کہتا ہے کہ قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ، تو اب بتائیں قرآن کی مانیں یا مجتہد کی مانیں؟
جواب:
سوال کی وضاحت کرنے کے بعد ہم جواب کی طرف آتے ہیں:
سوال کی وضاحت:
جو بھی فتویٰ دیتا ہے تو اگر وہ غلط ہوا تو مجتہد کا یہ کہنا ہے کہ تم ضامن نہیں ہو بلکہ میں خود ضامن ہوں ، یعنی آپ کی گردن چھوٹ جائے گی اور میں آپ کی ضمانت دوں گا۔ اس جملے کا واضح مطلب یہی ہے کہ مقلد حضرات جو غلطی کریں گے اس کا گناہ مجتہد کی گردن پر ہوگا چونکہ اس نے ہی ان کو غلط بتایا تھا، لہذا مقلد خوش ہو جاتا ہے کہ چلو مجھے تو گناہ نہیں ہوگا، میرا گناہ مجتہد کی گردن پر۔
جبکہ قرآن مجید کی سورہ انعام اور اس کے علاوہ بھی دیگر مقامات پر یہ واضح آیت موجود ہے:
وَ لا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى (انعام 164)
اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
تو پس تقلید ایک دھوکا ہے اور قرآن کے خلاف ہے ، لہذا فقہاء کی تقلید نہ کرو اور خود سے آیت یا روایت پڑھ کر دین سمجھو۔
جواب:
آپ سے ہم سوال کرتے ہیں:
اگر کوئی سچا پکا مؤمن یا قابل اعتماد مسلمان آپ سے کہے کہ یہ حلال گوشت ہے، آپ کھا لیں اور آپ نے اس کی بات پر اعتماد کرتے ہوئے وہ گوشت کھا لیا اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو حرام تھا یا قیامت کے دن پتہ چلا کہ وہ حرام تھا تو کیا آپ نے جو حرام گوشت کھانے والا گناہ کیا ہے اس کا عذاب آپ کو ملے گا یا جس نے آپ کو غلط خبر دی اس کو عذاب ملے گا؟
آپ واضح طور پر کہیں گے کہ:
بھائی مجھے کیوں عذاب ملے ، میں نے جان بوجھ کر تھوڑا ہی حرام گوشت کھایا ہے ، مجھے تو اس قابل اعتماد مؤمن یا مسلمان نے کہا تھا کہ یہ حلال ہے تو میں نے کھا لیا ، اب وہ اس کا ذمہ دار ہے ۔
ہم کہیں گے کہ:
کیوں جناب؟! وہ کیوں آپ کا گناہ اٹھائے؟ قرآن کے مطابق کوئی کسی کا بوجھ اور گناہ نہیں اٹھاتا لہذا آپ نے خود اپنا گناہ اٹھانا ہے۔
تو مزید آپ وضاحت کریں گے کہ:
دیکھو بھائی میں نے کوئی گناہ ہی نہیں کیا ، گناہ تو تب ہوتا کہ جب مجھے پتہ ہوتا کہ یہ حرام گوشت ہے ، مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ حرام گوشت ہے بلکہ میں نے تومؤمن کی بات پر اعتماد کیا اور اسے حلال سمجھا، لہذا میں نے گناہ ہی نہیں کیا ، چونکہ لاعلمی میں جو حرام گوشت کھا لیا جائے اس کا گناہ نہیں ہوتا۔ پس جب میں نے گناہ ہی نہیں کیا تو عذاب اور بوجھ کیسا؟
تو ہم کہیں گے کہ میرے محترم!
یہی بات مجتہد کے فتوے کی بھی ہے، جب آپ نے مجتہد کے بارے میں تحقیق کی اور آپ کو پتہ چلا کہ وہ جوانی سے ہی محمد و آل محمد کے علوم پڑھ رہا ہے اور پڑھا رہا ہے اور وہ نیک اور عادل انسان ہے اور وہ دین کے مسئلے میں ہمیشہ محنت اور علم سے قرآن و حدیث سے نکال کر رہنمائی فراہم کرتا ہے تو اس صورت میں آپ نے اس پر اعتماد کر لیا اور اس کے کہنے کے اوپر واجب اور حلال یا حرام سمجھا ۔اب قیامت کے دن پتہ چلا کہ ایک نیک اور عادل اور عالم مجتہد نے جو بتایا تھا وہ غلط تھا اور یہ کام تو حرام تھا تو یہ آپ کا گناہ نہیں ہو گا بلکہ جس نے آپ کو غلط خبر دی ہے یہ اس کے ذمے ہوگا۔
اب آپ کہیں گے کہ قبلہ یہ تو ساری عقلی باتیں ہیں ہمیں قرآن و حدیث سے دکھاؤ۔
تو جناب عالی قرآن کی ایک آیت کو لے کر حکم لگا دینا کہاں کا انصاف ہے، آپ کو چاہئے کہ دیگر آیات کا بھی مطالعہ کریں تاکہ آپ کے لئے بات واضح ہو سکے۔
بہرحال ہم آپ کی خدمت میں آیت اور روایات پیش کر دیتے ہیں:
قرآن مجید کی آیت کہ انسان دوسروں کا بوجھ بھی اٹھائے گا:
اللہ تعالیٰ سورہ نحل میں ارشاد فرماتا ہے:
لِيَحْمِلُوا أَوْزارَهُمْ كامِلَةً يَوْمَ الْقِيامَةِ وَ مِنْ أَوْزارِ الَّذينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلا ساءَ ما يَزِرُونَ (نحل25)
یہ لوگ قیامت کے دن اپنا سارا بوجھ اور کچھ ان کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جنہیں وہ لاعلمی کی حالت میں گمراہ کرتے ہیں دیکھو! کتنا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں۔
اب آیت واضح بتلا رہی ہے کہ قیامت کے دن کچھ لوگ اپنا بھی پورا بوجھ اٹھائیں گے اور ان لوگوں کا بھی بوجھ اٹھائیں گے کہ جن کو انہوں نے لاعلمی کی حالت میں گمراہ کیا۔ تو پس گمراہ ہونے والے تو بیچارے لاعلم تھے، لہذا ان کا بوجھ بھی قرآن کے مطابق گمراہ کرنے والے کی گردن پر ہوگا۔
اب آپ بتائیں کہ کیا یہ آیت پہلی والی آیت سے ٹکرا گئی؟
جواب: نہیں، چونکہ پہلی عام ہے اور یہ خاص ہے اور قرآن میں عام و خاص موجود ہیں۔ پہلی عمومی بات کر رہی تھی کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور یہ آیت خصوصی کیس ڈسک کر رہی ہے کہ نہیں اگر کوئی کسی کو گمراہ کر دے تو جو اس کی وجہ سے گناہ میں پڑا اس کا بوجھ بھی گمراہ کرنے والے کو اٹھانا پڑے گا۔
جاری ہے ۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2257
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
سوال: ہر مجتہد اپنی توضیح المسائل کے شروع میں لکھتا ہے کہ اس میں دیے گئے مسائل پر عمل کرنے سے آپ کا ذمہ ان شاء اللہ بری ہو جائے گا یعنی وہ ضمانت لے رہا ہے جبکہ قرآن کہتا ہے کہ قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ، تو اب بتائیں قرآن کی مانیں یا مجتہد کی مانیں؟
جواب:
سوال کی وضاحت کرنے کے بعد ہم جواب کی طرف آتے ہیں:
سوال کی وضاحت:
جو بھی فتویٰ دیتا ہے تو اگر وہ غلط ہوا تو مجتہد کا یہ کہنا ہے کہ تم ضامن نہیں ہو بلکہ میں خود ضامن ہوں ، یعنی آپ کی گردن چھوٹ جائے گی اور میں آپ کی ضمانت دوں گا۔ اس جملے کا واضح مطلب یہی ہے کہ مقلد حضرات جو غلطی کریں گے اس کا گناہ مجتہد کی گردن پر ہوگا چونکہ اس نے ہی ان کو غلط بتایا تھا، لہذا مقلد خوش ہو جاتا ہے کہ چلو مجھے تو گناہ نہیں ہوگا، میرا گناہ مجتہد کی گردن پر۔
جبکہ قرآن مجید کی سورہ انعام اور اس کے علاوہ بھی دیگر مقامات پر یہ واضح آیت موجود ہے:
وَ لا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى (انعام 164)
اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
تو پس تقلید ایک دھوکا ہے اور قرآن کے خلاف ہے ، لہذا فقہاء کی تقلید نہ کرو اور خود سے آیت یا روایت پڑھ کر دین سمجھو۔
جواب:
آپ سے ہم سوال کرتے ہیں:
اگر کوئی سچا پکا مؤمن یا قابل اعتماد مسلمان آپ سے کہے کہ یہ حلال گوشت ہے، آپ کھا لیں اور آپ نے اس کی بات پر اعتماد کرتے ہوئے وہ گوشت کھا لیا اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو حرام تھا یا قیامت کے دن پتہ چلا کہ وہ حرام تھا تو کیا آپ نے جو حرام گوشت کھانے والا گناہ کیا ہے اس کا عذاب آپ کو ملے گا یا جس نے آپ کو غلط خبر دی اس کو عذاب ملے گا؟
آپ واضح طور پر کہیں گے کہ:
بھائی مجھے کیوں عذاب ملے ، میں نے جان بوجھ کر تھوڑا ہی حرام گوشت کھایا ہے ، مجھے تو اس قابل اعتماد مؤمن یا مسلمان نے کہا تھا کہ یہ حلال ہے تو میں نے کھا لیا ، اب وہ اس کا ذمہ دار ہے ۔
ہم کہیں گے کہ:
کیوں جناب؟! وہ کیوں آپ کا گناہ اٹھائے؟ قرآن کے مطابق کوئی کسی کا بوجھ اور گناہ نہیں اٹھاتا لہذا آپ نے خود اپنا گناہ اٹھانا ہے۔
تو مزید آپ وضاحت کریں گے کہ:
دیکھو بھائی میں نے کوئی گناہ ہی نہیں کیا ، گناہ تو تب ہوتا کہ جب مجھے پتہ ہوتا کہ یہ حرام گوشت ہے ، مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ حرام گوشت ہے بلکہ میں نے تومؤمن کی بات پر اعتماد کیا اور اسے حلال سمجھا، لہذا میں نے گناہ ہی نہیں کیا ، چونکہ لاعلمی میں جو حرام گوشت کھا لیا جائے اس کا گناہ نہیں ہوتا۔ پس جب میں نے گناہ ہی نہیں کیا تو عذاب اور بوجھ کیسا؟
تو ہم کہیں گے کہ میرے محترم!
یہی بات مجتہد کے فتوے کی بھی ہے، جب آپ نے مجتہد کے بارے میں تحقیق کی اور آپ کو پتہ چلا کہ وہ جوانی سے ہی محمد و آل محمد کے علوم پڑھ رہا ہے اور پڑھا رہا ہے اور وہ نیک اور عادل انسان ہے اور وہ دین کے مسئلے میں ہمیشہ محنت اور علم سے قرآن و حدیث سے نکال کر رہنمائی فراہم کرتا ہے تو اس صورت میں آپ نے اس پر اعتماد کر لیا اور اس کے کہنے کے اوپر واجب اور حلال یا حرام سمجھا ۔اب قیامت کے دن پتہ چلا کہ ایک نیک اور عادل اور عالم مجتہد نے جو بتایا تھا وہ غلط تھا اور یہ کام تو حرام تھا تو یہ آپ کا گناہ نہیں ہو گا بلکہ جس نے آپ کو غلط خبر دی ہے یہ اس کے ذمے ہوگا۔
اب آپ کہیں گے کہ قبلہ یہ تو ساری عقلی باتیں ہیں ہمیں قرآن و حدیث سے دکھاؤ۔
تو جناب عالی قرآن کی ایک آیت کو لے کر حکم لگا دینا کہاں کا انصاف ہے، آپ کو چاہئے کہ دیگر آیات کا بھی مطالعہ کریں تاکہ آپ کے لئے بات واضح ہو سکے۔
بہرحال ہم آپ کی خدمت میں آیت اور روایات پیش کر دیتے ہیں:
قرآن مجید کی آیت کہ انسان دوسروں کا بوجھ بھی اٹھائے گا:
اللہ تعالیٰ سورہ نحل میں ارشاد فرماتا ہے:
لِيَحْمِلُوا أَوْزارَهُمْ كامِلَةً يَوْمَ الْقِيامَةِ وَ مِنْ أَوْزارِ الَّذينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلا ساءَ ما يَزِرُونَ (نحل25)
یہ لوگ قیامت کے دن اپنا سارا بوجھ اور کچھ ان کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جنہیں وہ لاعلمی کی حالت میں گمراہ کرتے ہیں دیکھو! کتنا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں۔
اب آیت واضح بتلا رہی ہے کہ قیامت کے دن کچھ لوگ اپنا بھی پورا بوجھ اٹھائیں گے اور ان لوگوں کا بھی بوجھ اٹھائیں گے کہ جن کو انہوں نے لاعلمی کی حالت میں گمراہ کیا۔ تو پس گمراہ ہونے والے تو بیچارے لاعلم تھے، لہذا ان کا بوجھ بھی قرآن کے مطابق گمراہ کرنے والے کی گردن پر ہوگا۔
اب آپ بتائیں کہ کیا یہ آیت پہلی والی آیت سے ٹکرا گئی؟
جواب: نہیں، چونکہ پہلی عام ہے اور یہ خاص ہے اور قرآن میں عام و خاص موجود ہیں۔ پہلی عمومی بات کر رہی تھی کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور یہ آیت خصوصی کیس ڈسک کر رہی ہے کہ نہیں اگر کوئی کسی کو گمراہ کر دے تو جو اس کی وجہ سے گناہ میں پڑا اس کا بوجھ بھی گمراہ کرنے والے کو اٹھانا پڑے گا۔
جاری ہے ۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2257
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌸 المفتی ضامن (2) 🌸
بقیہ حصہ ۔۔۔۔
پس دین اسلام کو بیان کرنے والا ہر راوی، ہر مفتی اور ہر عالم ذمہ دار ہوتا ہے۔
اور اسی بات کو احادیث کی کتابوں میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ مفتی یعنی فتویٰ دینے والا آپ کا ضامن (ذمہ دار) ہوتا ہے، بلکہ اصول کافی اور دیگر کتابوں میں پورے پورے باب باندھے گئے ہیں کہ المفتی ضامن۔
ہم چند ایک احادیث آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:
پہلی روایت:
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَجَّاجِ قَالَ: كَانَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع قَاعِداً فِي حَلْقَةِ رَبِيعَةِ الرَّأْيِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَسَأَلَ رَبِيعَةَ الرَّأْيِ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَأَجَابَهُ فَلَمَّا سَكَتَ قَالَ لَهُ الْأَعْرَابِيُّ أَ هُوَ فِي عُنُقِكَ فَسَكَتَ عَنْهُ رَبِيعَةُ وَ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئاً فَأَعَادَ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ فَأَجَابَهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ الْأَعْرَابِيُّ أَ هُوَ فِي عُنُقِكَ فَسَكَتَ رَبِيعَةُ فَقَالَ لَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع هُوَ فِي عُنُقِهِ قَالَ أَوْ لَمْ يَقُلْ وَ كُلُّ مُفْتٍ ضَامِنٌ.( الكافي (ط - الإسلامية)، ج7، ص: 409)
عبدالرحمٰن بن حجاج کہتا ہے کہ ایک دفعہ امام صادق علیہ السلام ربیعہ رای کی محفل میں بیٹھے تھے تو ایک بدو آیا اور اس نے ربیعہ سے کوئی مسئلہ پوچھا تو ربیعہ نے اسے جواب دیا، جب وہ خاموش ہوگیا تو بدو نے اس سے کہا کہ کیا یہ جواب تمہاری گردن پر ہے (یعنی کیا تم اس کی ذمہ داری لیتے ہو) تو ربیعہ خاموش رہا اور اس نے کچھ جواب نہ دیا، تو بدو نے دوبارہ وہی مسئلہ پوچھا تو اس نے وہی پہلے والا جواب دیا، تو پس پھر بدو نے اس سے کہا کہ تم اس کی ذمہ داری لیتے ہو تو پھر بھی ربیعہ خاموش رہا۔ تو امام صادق علیہ السلام نے بدو سے فرمایا کہ یہ اس کی گردن پر ہے، یہ کہے یا نہ کہے اور ہر فتویٰ دینے والا ضامن (ذمہ دار) ہوتا ہے۔
پس اس روایت میں مولا علیہ السلام نے واضح بتلا دیا کہ فتویٰ دینے والا آپ کا ضامن ہوتا ہے، اگر وہ غلط بتا رہا ہے تو اسے عذاب ہوگا۔
دوسری روایت:
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع مَنْ أَفْتَى النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَ لٰا هُدىً مِنَ اللَّهِ لَعَنَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ وَ لَحِقَهُ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِفُتْيَاهُ.( الكافي (ط - الإسلامية)، ج7، ص: 409)
امام ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا:
جو لوگوں کو بغیر علم اور اللہ کی ھدایت کے بغیر فتویٰ دیتا ہے تو اس پر رحمت کے فرشتے بھی لعنت کرتے ہیں اور عذاب والے فرشتے بھی لعنت کرتے ہیں اور فتویٰ دینے والے کو اس کے فتویٰ پر عمل کرنے والے کا بوجھ دے دیا جاتا ہے۔
اس روایت کے آخری جملے پر غور فرمائیں کہ جو اس کے فتوے پر عمل کر رہا ہے اس کا بوجھ اس مفتی کو دے دیا جاتا ہے۔
اور معصوم کے اس فرمان سے یہ بھی حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ جو بھی فتویٰ اگر علم اور اللہ کی دی گئی ھدایت کے بغیر ہوگا تو ایسے فتویٰ دینے والے پر لعنت ہوتی ہے، لیکن اگر فتویٰ اللہ کی ھدایت یعنی قرآن و سنت کی روشنی میں ہو اور علم کی بنیاد پر ہو تو ایسا فتویٰ دینا غلط نہیں ہے بلکہ باعث اجر و ثواب ہے چونکہ یہ لوگوں کی دین کی طرف بلانا اور اس نصیحت کی طرف بلانا ہے کہ جو اللہ نے اپنے حبیب ﷺ پر نازل فرمائی تو پس جو اس فتویٰ سے انکار کرے گا تو درحقیقت وہ قرآن و سنت میں بیان کی گئی اللہ کی نصیحت اور حکم سے انکار کرے گا تو اس فتویٰ پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے وہ گمراہی میں پڑ جائے گا اور اپنے گناہ کا بوجھ اسے قیامت کے دن خود اٹھانا پڑے گا اور اسی بات کو قرآن مجید نے یوں بیان فرمایا ہے:
كَذَالِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَ قَدْ ءَاتَيْنَاكَ مِن لَّدُنَّا ذِكْرًا(99)مَّنْ أَعْرَضَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يحمِلُ يَوْمَ الْقِيَمَةِ وِزْرًا (طہ 100)
(اے رسول) اسی طرح ہم آپ سے گزشتگان کی خبریں بیان کرتے ہیں اور ہم نے آپ کو اپنے حال سے ایک نصیحت عطا کی ہے۔ جو اس سے منہ موڑے گا پس بروز قیامت وہ یقینا ایک بوجھ اٹھائے گا۔
خدا ہم سب مؤمنین کو آپس میں اتحاد و اتفاق عطا فرمائے اور اپنے اختلافی مسائل کو علمی انداز اور خوش اسلوبی سے حل کرنے کی توفیق دے۔ آمین
https://t.me/islamwitheman/1936
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
بقیہ حصہ ۔۔۔۔
پس دین اسلام کو بیان کرنے والا ہر راوی، ہر مفتی اور ہر عالم ذمہ دار ہوتا ہے۔
اور اسی بات کو احادیث کی کتابوں میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ مفتی یعنی فتویٰ دینے والا آپ کا ضامن (ذمہ دار) ہوتا ہے، بلکہ اصول کافی اور دیگر کتابوں میں پورے پورے باب باندھے گئے ہیں کہ المفتی ضامن۔
ہم چند ایک احادیث آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:
پہلی روایت:
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَجَّاجِ قَالَ: كَانَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع قَاعِداً فِي حَلْقَةِ رَبِيعَةِ الرَّأْيِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَسَأَلَ رَبِيعَةَ الرَّأْيِ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَأَجَابَهُ فَلَمَّا سَكَتَ قَالَ لَهُ الْأَعْرَابِيُّ أَ هُوَ فِي عُنُقِكَ فَسَكَتَ عَنْهُ رَبِيعَةُ وَ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئاً فَأَعَادَ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ فَأَجَابَهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ الْأَعْرَابِيُّ أَ هُوَ فِي عُنُقِكَ فَسَكَتَ رَبِيعَةُ فَقَالَ لَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع هُوَ فِي عُنُقِهِ قَالَ أَوْ لَمْ يَقُلْ وَ كُلُّ مُفْتٍ ضَامِنٌ.( الكافي (ط - الإسلامية)، ج7، ص: 409)
عبدالرحمٰن بن حجاج کہتا ہے کہ ایک دفعہ امام صادق علیہ السلام ربیعہ رای کی محفل میں بیٹھے تھے تو ایک بدو آیا اور اس نے ربیعہ سے کوئی مسئلہ پوچھا تو ربیعہ نے اسے جواب دیا، جب وہ خاموش ہوگیا تو بدو نے اس سے کہا کہ کیا یہ جواب تمہاری گردن پر ہے (یعنی کیا تم اس کی ذمہ داری لیتے ہو) تو ربیعہ خاموش رہا اور اس نے کچھ جواب نہ دیا، تو بدو نے دوبارہ وہی مسئلہ پوچھا تو اس نے وہی پہلے والا جواب دیا، تو پس پھر بدو نے اس سے کہا کہ تم اس کی ذمہ داری لیتے ہو تو پھر بھی ربیعہ خاموش رہا۔ تو امام صادق علیہ السلام نے بدو سے فرمایا کہ یہ اس کی گردن پر ہے، یہ کہے یا نہ کہے اور ہر فتویٰ دینے والا ضامن (ذمہ دار) ہوتا ہے۔
پس اس روایت میں مولا علیہ السلام نے واضح بتلا دیا کہ فتویٰ دینے والا آپ کا ضامن ہوتا ہے، اگر وہ غلط بتا رہا ہے تو اسے عذاب ہوگا۔
دوسری روایت:
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع مَنْ أَفْتَى النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَ لٰا هُدىً مِنَ اللَّهِ لَعَنَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ وَ لَحِقَهُ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِفُتْيَاهُ.( الكافي (ط - الإسلامية)، ج7، ص: 409)
امام ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا:
جو لوگوں کو بغیر علم اور اللہ کی ھدایت کے بغیر فتویٰ دیتا ہے تو اس پر رحمت کے فرشتے بھی لعنت کرتے ہیں اور عذاب والے فرشتے بھی لعنت کرتے ہیں اور فتویٰ دینے والے کو اس کے فتویٰ پر عمل کرنے والے کا بوجھ دے دیا جاتا ہے۔
اس روایت کے آخری جملے پر غور فرمائیں کہ جو اس کے فتوے پر عمل کر رہا ہے اس کا بوجھ اس مفتی کو دے دیا جاتا ہے۔
اور معصوم کے اس فرمان سے یہ بھی حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ جو بھی فتویٰ اگر علم اور اللہ کی دی گئی ھدایت کے بغیر ہوگا تو ایسے فتویٰ دینے والے پر لعنت ہوتی ہے، لیکن اگر فتویٰ اللہ کی ھدایت یعنی قرآن و سنت کی روشنی میں ہو اور علم کی بنیاد پر ہو تو ایسا فتویٰ دینا غلط نہیں ہے بلکہ باعث اجر و ثواب ہے چونکہ یہ لوگوں کی دین کی طرف بلانا اور اس نصیحت کی طرف بلانا ہے کہ جو اللہ نے اپنے حبیب ﷺ پر نازل فرمائی تو پس جو اس فتویٰ سے انکار کرے گا تو درحقیقت وہ قرآن و سنت میں بیان کی گئی اللہ کی نصیحت اور حکم سے انکار کرے گا تو اس فتویٰ پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے وہ گمراہی میں پڑ جائے گا اور اپنے گناہ کا بوجھ اسے قیامت کے دن خود اٹھانا پڑے گا اور اسی بات کو قرآن مجید نے یوں بیان فرمایا ہے:
كَذَالِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَ قَدْ ءَاتَيْنَاكَ مِن لَّدُنَّا ذِكْرًا(99)مَّنْ أَعْرَضَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يحمِلُ يَوْمَ الْقِيَمَةِ وِزْرًا (طہ 100)
(اے رسول) اسی طرح ہم آپ سے گزشتگان کی خبریں بیان کرتے ہیں اور ہم نے آپ کو اپنے حال سے ایک نصیحت عطا کی ہے۔ جو اس سے منہ موڑے گا پس بروز قیامت وہ یقینا ایک بوجھ اٹھائے گا۔
خدا ہم سب مؤمنین کو آپس میں اتحاد و اتفاق عطا فرمائے اور اپنے اختلافی مسائل کو علمی انداز اور خوش اسلوبی سے حل کرنے کی توفیق دے۔ آمین
https://t.me/islamwitheman/1936
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 مرجع کی عظمت اور مقام 🔷
یہاں پر ایک داستان واقعی پیش کی جارہی ہے جس سے شیعہ مرجعیت کی طاقت اور اس کی عظمت نکھر کر سامنے آتی ہے جس سے دشمن ھراساں ہے اور ایک سو سال سے شیعہ قوم کو اپنے علماء اور مراجع و حوزہ ھای علمیہ سے دور کرنے کے مختلف ھتکنڈے استعمال…
یہاں پر ایک داستان واقعی پیش کی جارہی ہے جس سے شیعہ مرجعیت کی طاقت اور اس کی عظمت نکھر کر سامنے آتی ہے جس سے دشمن ھراساں ہے اور ایک سو سال سے شیعہ قوم کو اپنے علماء اور مراجع و حوزہ ھای علمیہ سے دور کرنے کے مختلف ھتکنڈے استعمال…
🌹 حضرت علیؑ کی جائیداد 🌹
اکثر مؤرخین نے حضرت علیؑ کی زندگی کو اسطرح پیش کیا کہ وہ غریب تھے، نادار تھے، مزدور تھے، بے مایہ تھے۔ اچھی زندگی گزارنا انکے لیے ممکن نہ تھا لیکن یہ حقیقت کم مؤرخین نے لکھی کہ حضرت علیؑ انتہائی دولت مند تھے۔ حضرت علیؑ کو بہت کچھ تو اپنے والد حضرت ابوطالبؑ سے ورثہ میں ملا تھا اور اس سے زیادہ انہوں نے اپنے زور بازو سے کمایا جو کچھ انکو جنگوں میں بہادری شجاعت کے طور پر جنگی وظائف کے طور پر ملتا تھا وہ انکے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا بلکہ اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے نت نئے راستے ڈھونڈتے رہتے تھے تجارت انکا آبائی پیشہ تھا اور رسول اکرمؐ بھی اسی سے منسلک رہے مویشی پروری اور کھالوں کی تجارت کرتے تھے اور کھالوں سے کاغد بنا کر اسکو علم کے فروغ کے لیے دنیا میں جگہ جگہ بھیجنا انکا محبوب مشغلہ تھا۔
جس نے رسولؐ کی عطا کردہ بنجر زمینوں کا سینہ چاک کرکے لہلہاتی فصلیں اور باغات لگائے ہوں جس نے بارہ چشمے اور چوبیس کنویں کھود کر بے حساب جائیداد بنا دی ہو وہ غریب اور بےمایہ کیسے ہو سکتا ہے۔
کلینی، طوسی، مجلسی اور حر عاملی نے حضرت علیؑ کا ایک وقف نامہ امام موسٰی کاظمؑ کے حوالے سے درج کیا ہے جہاں اوقاف علوی میں ١٨ علاقوں کی مالکیت کا ذکر ہے جو سرسبز و شاداب تھے جن میں چشمے کنویں اور باغات تھے اوقاف میں الاحمر، الدریبتہ، الازینتہ، الاسحن، بیرالملک، البغیغتہ، البغیغات، البیضاء، ترعتہ، دعتہ، دیمتہ، ذات کمات، رعیتہ، عین ابی نیزر، عین موات، عین فاقتہ، فقیرین القصیبہ، وادی القری، مینبع تھے جن کی تفصیل ثقتہ الاسلام طلعت سیدہ نے اپنی کتاب ناؤ کی تحریر میں درج کی ہے۔
واقدی کی روایت میں ہے کہ صرف ایک علاقہ کی آمدنی کا اندازہ لگائیں کہ حضرت علیؑ کے زمانے میں ہی تمام علاقے ہرے بھرے تھے بغیبغہ اتنا شاداب ہو چکا تھا کہ وہاں کے نخلستان سے ایک سو اسی (١٨٠) واسق یعنی تقریبا" بتیس ہزار چار سو (٣٢٤٠٠) کلو گرام کجھوریں اتاری جانے لگی تھیں۔ تاریخ میں درج ایک کنویں کی قیمت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ معاویہ نے امام حسینؑ کو خط لکھا تھا اگر ایک کنواں دے دو تو تیس لاکھ دینار دوں گا۔
حضرت علیؑ نے اوقاف صدقات کا انتظام وانصرام امام حسنؑ کے ذمہ کیا تھا اور لکھا کہ امام حسنؑ کی شہادت کے بعد امام حسینؑ اسکے ذمہ دار ہوں گے یہ بھی درج کیا تھا حضرت فاطمہؑ کے دو بیٹیوں کے لیے جتنے اوقاف املاک دیے گئے ہیں اتنی ہی باقی اولادوں کے لیے مجموعی طور پر مقرر کیے گئے ہیں دنیا نے دیکھا امام حسنؑ کا دسترخوان کتنا وسیع تھا جس پر عرب کا کوئی آدمی آتا تو وہاں سے کھانا کھائے بغیر نہ جاتا لنگر تھا جو دن رات جاری رہتا غریب، نادار مفلس و بھوکے سب سیر ہو کر کھاتے۔ ظاہر ہے یہ دولت حضرت علیؑ سے ملی تھی جبکہ امام حسنؑ خود بھی کاشتکاری کرتے تھے۔
حضرت علیؑ کی شہادت کے بعد انکی بیویاں بیٹے بیٹیاں نواسے پوتے عقیلؑ کے بیٹے جعفرؑ کے بیٹے یہ ابوطالبؑ کی اولاد تھی خود امام حسینؑ کے بیٹے اور بیٹیاں امام حسنؑ کے بیٹے اور بیٹیاں حضرت زینبؑ کے بیٹے اور بیٹیاں اور پورے خاندان کی کفالت اس اوقاف حضرت علیؑ کا ہی کرشمہ تھی۔
معرکہ کربلا کے بعد جب امام زین العابدینؑ وطن واپس آئے تو عبادت اور سجدوں کے ساتھ اپنی مالکیت کی دیکھ بھال بھی کرتے اور کاشتکاری بھی کرتے۔ ایک عیسائی عالم عمرابونصر نے لکھا ہے کہ عرب میں کسی کی تجارت اتنی عظیم نہیں تھی جیسے سید الساجدینؑ کی تھی کئی ہزار اونٹوں پر سیب انار اور رطب بھر کر شام بھیجے جاتے تھے اور جب رقم آتی تھی تو سیدالساجدینؑ سے بڑا جاگیر کوئی نہ ہوتا بعد خلافت جیسے جیسے فتوحات بڑھتی جاتیں غلاموں اور کنیزوں سے مدینہ بھرتا جاتا تھا۔ ایک بازار لگتا تھا جہاں غلام اور کنیز بھیڑ بکریوں کی طرح فروخت کیے جاتے تھے۔ سب سے پہلے بازار میں آنے والا امام حسینؑ کا بیٹا ہوتا تھا جو ایک ہی دن میں کئی ہزار کنیزیں اور غلام خرید کر آزاد کرتا تھا ابونصر نے ہی تعداد لکھی ہے ایک لاکھ کنیزیں اور غلام زندگی میں خرید کر امامؑ نے آزاد کیے تھے ان آزاد کردہ کنیزوں اور غلاموں کے علاوہ پچاس ہزار غلام اور کنیزیں امامؑ کے باغات اور کھیتوں میں کام کرتے تھے یہ دولت حضرت علیؑ کے اوقاف کا ہی نتیجہ تھی۔
حضرت علیؑ نے دولت دی تو اس پر تصرف کا انداز بھی خود ہی بتلا دیا تھا یہ غلام اور کنیز خرید کر آزاد کرنا انہی کا دکھلایا ہوا راستہ تھا حضرت علیؑ نے خود سوکھی روٹی کھائی لیکن دولت امت کے غرباء میں تقسیم کرتے رہے امام جعفر صادقؑ کا فرمان ہے کہ حضرت علیؑ نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے ایک ہزار غلام آزاد فرمائے۔
خود حضرت علیؑ کا ارشاد ہے کہ جس دن میں نے حضرت فاطمہؑ سے شادی کی اس دن میرے پاس بچھانے کو چادر نہ تھی لیکن اس دن میں نے جو کمائی راہ خدا میں صدقہ دی وہ اتنی تھی اگر تمام بنی ہاشم میں تقسیم کر دی جاتی تو بچ جاتی۔ تاریخ البلازری اور فضائل احمد نے لکھا ہے کہ ایک دن حضرت علیؑ نے
اکثر مؤرخین نے حضرت علیؑ کی زندگی کو اسطرح پیش کیا کہ وہ غریب تھے، نادار تھے، مزدور تھے، بے مایہ تھے۔ اچھی زندگی گزارنا انکے لیے ممکن نہ تھا لیکن یہ حقیقت کم مؤرخین نے لکھی کہ حضرت علیؑ انتہائی دولت مند تھے۔ حضرت علیؑ کو بہت کچھ تو اپنے والد حضرت ابوطالبؑ سے ورثہ میں ملا تھا اور اس سے زیادہ انہوں نے اپنے زور بازو سے کمایا جو کچھ انکو جنگوں میں بہادری شجاعت کے طور پر جنگی وظائف کے طور پر ملتا تھا وہ انکے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا بلکہ اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے نت نئے راستے ڈھونڈتے رہتے تھے تجارت انکا آبائی پیشہ تھا اور رسول اکرمؐ بھی اسی سے منسلک رہے مویشی پروری اور کھالوں کی تجارت کرتے تھے اور کھالوں سے کاغد بنا کر اسکو علم کے فروغ کے لیے دنیا میں جگہ جگہ بھیجنا انکا محبوب مشغلہ تھا۔
جس نے رسولؐ کی عطا کردہ بنجر زمینوں کا سینہ چاک کرکے لہلہاتی فصلیں اور باغات لگائے ہوں جس نے بارہ چشمے اور چوبیس کنویں کھود کر بے حساب جائیداد بنا دی ہو وہ غریب اور بےمایہ کیسے ہو سکتا ہے۔
کلینی، طوسی، مجلسی اور حر عاملی نے حضرت علیؑ کا ایک وقف نامہ امام موسٰی کاظمؑ کے حوالے سے درج کیا ہے جہاں اوقاف علوی میں ١٨ علاقوں کی مالکیت کا ذکر ہے جو سرسبز و شاداب تھے جن میں چشمے کنویں اور باغات تھے اوقاف میں الاحمر، الدریبتہ، الازینتہ، الاسحن، بیرالملک، البغیغتہ، البغیغات، البیضاء، ترعتہ، دعتہ، دیمتہ، ذات کمات، رعیتہ، عین ابی نیزر، عین موات، عین فاقتہ، فقیرین القصیبہ، وادی القری، مینبع تھے جن کی تفصیل ثقتہ الاسلام طلعت سیدہ نے اپنی کتاب ناؤ کی تحریر میں درج کی ہے۔
واقدی کی روایت میں ہے کہ صرف ایک علاقہ کی آمدنی کا اندازہ لگائیں کہ حضرت علیؑ کے زمانے میں ہی تمام علاقے ہرے بھرے تھے بغیبغہ اتنا شاداب ہو چکا تھا کہ وہاں کے نخلستان سے ایک سو اسی (١٨٠) واسق یعنی تقریبا" بتیس ہزار چار سو (٣٢٤٠٠) کلو گرام کجھوریں اتاری جانے لگی تھیں۔ تاریخ میں درج ایک کنویں کی قیمت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ معاویہ نے امام حسینؑ کو خط لکھا تھا اگر ایک کنواں دے دو تو تیس لاکھ دینار دوں گا۔
حضرت علیؑ نے اوقاف صدقات کا انتظام وانصرام امام حسنؑ کے ذمہ کیا تھا اور لکھا کہ امام حسنؑ کی شہادت کے بعد امام حسینؑ اسکے ذمہ دار ہوں گے یہ بھی درج کیا تھا حضرت فاطمہؑ کے دو بیٹیوں کے لیے جتنے اوقاف املاک دیے گئے ہیں اتنی ہی باقی اولادوں کے لیے مجموعی طور پر مقرر کیے گئے ہیں دنیا نے دیکھا امام حسنؑ کا دسترخوان کتنا وسیع تھا جس پر عرب کا کوئی آدمی آتا تو وہاں سے کھانا کھائے بغیر نہ جاتا لنگر تھا جو دن رات جاری رہتا غریب، نادار مفلس و بھوکے سب سیر ہو کر کھاتے۔ ظاہر ہے یہ دولت حضرت علیؑ سے ملی تھی جبکہ امام حسنؑ خود بھی کاشتکاری کرتے تھے۔
حضرت علیؑ کی شہادت کے بعد انکی بیویاں بیٹے بیٹیاں نواسے پوتے عقیلؑ کے بیٹے جعفرؑ کے بیٹے یہ ابوطالبؑ کی اولاد تھی خود امام حسینؑ کے بیٹے اور بیٹیاں امام حسنؑ کے بیٹے اور بیٹیاں حضرت زینبؑ کے بیٹے اور بیٹیاں اور پورے خاندان کی کفالت اس اوقاف حضرت علیؑ کا ہی کرشمہ تھی۔
معرکہ کربلا کے بعد جب امام زین العابدینؑ وطن واپس آئے تو عبادت اور سجدوں کے ساتھ اپنی مالکیت کی دیکھ بھال بھی کرتے اور کاشتکاری بھی کرتے۔ ایک عیسائی عالم عمرابونصر نے لکھا ہے کہ عرب میں کسی کی تجارت اتنی عظیم نہیں تھی جیسے سید الساجدینؑ کی تھی کئی ہزار اونٹوں پر سیب انار اور رطب بھر کر شام بھیجے جاتے تھے اور جب رقم آتی تھی تو سیدالساجدینؑ سے بڑا جاگیر کوئی نہ ہوتا بعد خلافت جیسے جیسے فتوحات بڑھتی جاتیں غلاموں اور کنیزوں سے مدینہ بھرتا جاتا تھا۔ ایک بازار لگتا تھا جہاں غلام اور کنیز بھیڑ بکریوں کی طرح فروخت کیے جاتے تھے۔ سب سے پہلے بازار میں آنے والا امام حسینؑ کا بیٹا ہوتا تھا جو ایک ہی دن میں کئی ہزار کنیزیں اور غلام خرید کر آزاد کرتا تھا ابونصر نے ہی تعداد لکھی ہے ایک لاکھ کنیزیں اور غلام زندگی میں خرید کر امامؑ نے آزاد کیے تھے ان آزاد کردہ کنیزوں اور غلاموں کے علاوہ پچاس ہزار غلام اور کنیزیں امامؑ کے باغات اور کھیتوں میں کام کرتے تھے یہ دولت حضرت علیؑ کے اوقاف کا ہی نتیجہ تھی۔
حضرت علیؑ نے دولت دی تو اس پر تصرف کا انداز بھی خود ہی بتلا دیا تھا یہ غلام اور کنیز خرید کر آزاد کرنا انہی کا دکھلایا ہوا راستہ تھا حضرت علیؑ نے خود سوکھی روٹی کھائی لیکن دولت امت کے غرباء میں تقسیم کرتے رہے امام جعفر صادقؑ کا فرمان ہے کہ حضرت علیؑ نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے ایک ہزار غلام آزاد فرمائے۔
خود حضرت علیؑ کا ارشاد ہے کہ جس دن میں نے حضرت فاطمہؑ سے شادی کی اس دن میرے پاس بچھانے کو چادر نہ تھی لیکن اس دن میں نے جو کمائی راہ خدا میں صدقہ دی وہ اتنی تھی اگر تمام بنی ہاشم میں تقسیم کر دی جاتی تو بچ جاتی۔ تاریخ البلازری اور فضائل احمد نے لکھا ہے کہ ایک دن حضرت علیؑ نے
چالیس ہزار دینار غلہ صدقہ دیا اور اسی دن اپنے گھریلو اخراجات کے لیے یہ کہہ کر تلوار بیچی اگر میرے پاس رات کے کھانے کے لیے ہوتا تو ہرگز تلوار نہ بیچتا۔ حضرت علیؑ کی دولت غریبوں کا پیٹ بھرنے کو تھی جبکہ انکی محنت مزدوری تجارت اور زراعت اپنے مصارف پورے کرنے کے لیے تھی۔ بیشتر مؤرخین نے دولت دوسروں پر خرچ کرتے اور جائیداد وقف کرتے تو نہ دیکھا جو ضرورت مندوں مسافروں اور مسکینوں کے لیے تھی صرف یہ دیکھا کہ حضرت علیؑ ہمیشہ ایسا لباس زیب تن کئے ہوئے ہیں جس میں اکثر پیوند لگا ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک صاحب جاڑے کے زمانے میں آپؑ سے ملنے گئے تو دیکھا ایک بوسیدہ چادر لپیٹے بیٹھے ہیں اور سردی سے کانپ رہے ہیں۔
ایسی بہت سی روایات لکھ دی گئیں جنہیں پڑھ کر لوگ سمجھ بیٹھے کہ حضرت علیؑ نادار تھے، مزدور تھے اور بے سرمایہ تھے حضرت علیؑ اپنی خلافت سے پہلے اور بعد میں معمولی زندگی بسر کرتے تھے۔
قصر ابیض میں بیٹھنے سے انکار کر دیا تاکہ انکا گھر فقیروں سے بہتر نہ ہو۔ گھر سے رات میں نکلتے اور کسی کو بوجھ اٹھاتے دیکھتے تو اسے اٹھا کر اسکے گھر تک پہنچا دیتے۔ کبھی کسی ایسے شخص سے بازار میں چیز نہ خریدتے جو آپکو جانتا ہو کہ وہ قیمت میں امیرالمومنینؑ ہونے کی بناء پر آپؑ کے ساتھ رعایت نہ کرے۔ آپؑ کا یہ ارشاد آپؑ کے طرز زندگی کا آئینہ دار ہے۔ میں اتنے پر ہی اکتفا کر لوں گا کہ لوگ مجھ کو امیرالمومنینؑ کہتے ہیں اور مصائب میں انکا امیر نہ بنوں۔
خلافت سے پہلے اور خلاف ملنے کے بعد مؤرخین نے حضرت علیؑ کی دیانت محنت اور غربت کا ہی ذکر کیا لیکن کم ہیں ایسے مؤرخین جنہوں نے حضرت علیؑ کی دولت اور اسکے استمعال کا طریقہ بھی لکھا۔ حضرت علیؑ صاحب ثروت تھے مگر امامت کا فرض پورا کرنے کے لیے امت کے غریب ترین لوگوں جیسی زندگی بسر کرتے رہے اور تمام جائیداد وقف کر دی تھی۔ کلینی نے حضرت علیؑ کے وقف نامہ کا متن علیؑ کے فرزند امام موسٰی کاظمؑ کے حوالے سے نقل کیا ہے وقف نامہ حضرت علیؑ نے اپنے ہاتھ سے ١٠ جمادی الاول ٣٦ ہجری کو تحریر کیا تھا۔
📚 ماخذ.
١. مولا علیؑ مدینے میں پچیس سال۔ (رحلت رسولؐ سے خلافت تک)
٢. وجود کائنات مولا علیؑ غدیر خم۔
https://t.me/islamwitheman/2201
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایسی بہت سی روایات لکھ دی گئیں جنہیں پڑھ کر لوگ سمجھ بیٹھے کہ حضرت علیؑ نادار تھے، مزدور تھے اور بے سرمایہ تھے حضرت علیؑ اپنی خلافت سے پہلے اور بعد میں معمولی زندگی بسر کرتے تھے۔
قصر ابیض میں بیٹھنے سے انکار کر دیا تاکہ انکا گھر فقیروں سے بہتر نہ ہو۔ گھر سے رات میں نکلتے اور کسی کو بوجھ اٹھاتے دیکھتے تو اسے اٹھا کر اسکے گھر تک پہنچا دیتے۔ کبھی کسی ایسے شخص سے بازار میں چیز نہ خریدتے جو آپکو جانتا ہو کہ وہ قیمت میں امیرالمومنینؑ ہونے کی بناء پر آپؑ کے ساتھ رعایت نہ کرے۔ آپؑ کا یہ ارشاد آپؑ کے طرز زندگی کا آئینہ دار ہے۔ میں اتنے پر ہی اکتفا کر لوں گا کہ لوگ مجھ کو امیرالمومنینؑ کہتے ہیں اور مصائب میں انکا امیر نہ بنوں۔
خلافت سے پہلے اور خلاف ملنے کے بعد مؤرخین نے حضرت علیؑ کی دیانت محنت اور غربت کا ہی ذکر کیا لیکن کم ہیں ایسے مؤرخین جنہوں نے حضرت علیؑ کی دولت اور اسکے استمعال کا طریقہ بھی لکھا۔ حضرت علیؑ صاحب ثروت تھے مگر امامت کا فرض پورا کرنے کے لیے امت کے غریب ترین لوگوں جیسی زندگی بسر کرتے رہے اور تمام جائیداد وقف کر دی تھی۔ کلینی نے حضرت علیؑ کے وقف نامہ کا متن علیؑ کے فرزند امام موسٰی کاظمؑ کے حوالے سے نقل کیا ہے وقف نامہ حضرت علیؑ نے اپنے ہاتھ سے ١٠ جمادی الاول ٣٦ ہجری کو تحریر کیا تھا۔
📚 ماخذ.
١. مولا علیؑ مدینے میں پچیس سال۔ (رحلت رسولؐ سے خلافت تک)
٢. وجود کائنات مولا علیؑ غدیر خم۔
https://t.me/islamwitheman/2201
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💖 حضرت علیؑ کی ازواج و اولاد 💖
حضرت علیؑ کی زوجیت میں کل دس خواتین آئیں (مناقب ابن شہر آشوب)
روایتوں کے مطابق سب سے کم 27 اور زائدہ سے 36 اولادیں ہوئیں۔
🔷 حضرت علیؑ کی ازواج
١.حضرت فاطمہؑ دختر حضرت محمد مصطفٰی ص
٢.حضرت امامہ بنت ابی العاص دختر زینب بنت…
حضرت علیؑ کی زوجیت میں کل دس خواتین آئیں (مناقب ابن شہر آشوب)
روایتوں کے مطابق سب سے کم 27 اور زائدہ سے 36 اولادیں ہوئیں۔
🔷 حضرت علیؑ کی ازواج
١.حضرت فاطمہؑ دختر حضرت محمد مصطفٰی ص
٢.حضرت امامہ بنت ابی العاص دختر زینب بنت…