ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌸 پردے کا اثر 🌸

ایک گاؤں میں ایک باپردہ خاتون رہتی تھیں جن کی ڈیمانڈ تھی کہ شادی اس سے کریں گی جو انہیں باپردہ رکھے گا۔

ایک نوجوان اس شرط پر نکاح کے لیے رضامند ہوجاتا ہے۔

دونوں کی شادی ہوجاتی ہے ۔ وقت گزرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک بیٹا ہوجاتا ہے۔

ایک دن شوہر کہتا ہے کہ میں سارا دن کھیتوں میں کام کرتا ہوں۔ کھانے کے لیے مجھے گھر آنا پڑتا ہے جس سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے تم مجھے کھانا کھیتوں میں پہنچا دیا کرو۔
بیوی راضی ہوجاتی ہے ۔۔

وقت گزرتے گزرتے ایک اور بیٹا ہوجاتا ہے
جس پر شوہر کہتا ہے کہ اب گزارہ مشکل ہے تمہیں میرے ساتھ کھیتوں میں ہاتھ بٹانا پڑے گا۔
یوں وہ باپردگی سے نیم پردے تک پہنچ جاتی ہے۔
اور تیسرے بیٹے کی پیدائش پر اس کا شوہر مکمل بے پردگی تک لے آتا ہے۔

وقت گزرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اولاد جوان ہوجاتی ہے۔

ایک دن یونہی بیٹھے بیٹھے شوہر ہسنے لگتا ہے۔
بیوی سبب پوچھتی ہے۔
تو شوہر کہتا ہے کہ بڑا تو پردہ پردہ کرتی تھی آخر کار تیرا پردہ ختم ہوگیا ۔۔ کیا فرق پڑا پردے اور بے پردگی کا۔

زندگی تو اب بھی ویسے ہی گزر رہی ہے
وہ بولتی ہے کہ تم ساتھ والے کمرے میں چھپ جاؤ میں تمہیں پردے اور بے پردگی کا فرق سمجھاتی ہوں۔

شوہر کمرے میں چھپ جاتا ہے۔

عورت اپنے بال بکھیرے رونا پیٹنا شروع کر دیتی ہے۔۔۔
پہلے بڑا بیٹا آتا ہے۔ رونے کا سبب پوچھتا ہے۔۔۔
عورت کہتی ہے تیرے باپ نے مارا ہے۔
بڑا بیٹا ماں کو سمجھاتا ہے کہ اگر مارا ہے تو کوئی بات نہیں وہ آپ سے محبت بھی تو کرتے ہیں آپ کا خیال رکھتے ہیں۔
وہ سمجھا بجھا کر چلا جاتا ہے۔

عورت پھر سے رونے کی ایکٹنگ کرتی ہے اور منجھلے بیٹے کو بلا کر بتاتی ہے کہ تیرے باپ نے مجھے مارا ہے۔
منجھلے بیٹے کو غصہ آتا ہے وہ باپ کو برا بھلا کہتے ہوئے ماں کو سمجھا بجھا کر چپ کروا کر چلا جاتا ہے۔

آخر کار عورت یہی ڈرامہ چھوٹے بیٹے کے سامنے کرتی ہے۔
چھوٹا بیٹا تو غصہ سے آگ بگولہ ہو جاتا ہے اور زور زور سے گالیاں بکتے ہوئے ڈنڈا اٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ ابھی باپ کی خبر لیتا ہوں۔

پھر عورت شوہر کو بلا کر بولتی ہے کہ پہلا میرے پردے کے وقت پیدا ہوا تو اس نے تیرا پردہ رکھا۔ دوسرا نیم پردے کے زمانے میں پیدا ہوا تو تیری آدھی لاج رکھ لی۔ جبکہ تیسرا جو مکمل بے پردگی کے زمانے میں ہوا تو وہ مکمل طور پر تیری عزت کا پردہ اتارنے گیا ہے۔

🔘 حاصل کلام:
پردہ عورت کا فطری تقاضا ہے جو خالقِ مرد و زن کی طرف سے قاعدہ بھی ہے۔۔۔ پردہ ایک نعمت ہے اور اس نعمت میں ہماری سوچ سے بھی زیادہ راز اور بھلائیاں موجود ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے۔ بلاشبہ جب وہ اپنے گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اسے غیر مردوں کی نظروں میں مزین کر کے دکھاتا ہے اور یہ بات بالکل یقینی ہے کہ عورت اللہ کے سب سے زیادہ قریب اسی وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی 10115)

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔

http://t.me/islamwitheman/1203
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 تربیت اور ماحول 🌹

وزیر کی جان پہ بنی ہوئی تھی، فقیر بات ہی نئیں سُن رہا تھا، اۤخر طویل مِنت سماجت کے بعد فقیر نے سر اٹھایا،
ہاں بول کیا کہنا ہے؟

وزیر نے ہاتھ جوڑے اور بتانا شروع کیا
ایک مہینہ پہلے ہمارے بادشاہ سلامت نے اچانک دربار میں ایک سوال اچھالا کہ کامیاب کردار کے لئے تربیت زیادہ کارآمد ہے یا ماحول ؟ میرے ایک ہم منصب وزیر نے جھٹ کہا کہ عالی جاہ! تربیت
جبکہ میں نے عجلت میں کہا جناب! ماحول، ماحول تربیت پر فوقیت رکھتا ہے۔
بادشاہ سلامت نے ہماری طرف رعونت سے دیکھا اور فرمایا تم دونوں کو اپنا اپنا جواب عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا جو ثابت نہ کر سکا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا اور اس کے لئے ہمیں ایک ماہ کی مہلت دے دی۔
ہم دونوں اپنے جواب کی عملی تعبیر تلاشنے میں لگ گئے، میں سوچ سوچ کے پاگل ہونے کے قریب تھا مگر کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ 24 دن بعد اچانک میرے ہم منصب وزیر نے میری موت کے پروانے پر دستخط کرتے ہوئے دربار میں اپنے جواب کو عملی طور پر ثابت کرنے کی اجازت چاہی۔ اجازت ملنے پر اس نے دربار میں کھڑے ہو کر تالی بجائی تالی بجتے ہی ایک ایسا منظر سامنے آیا کہ بادشاہ سمیت تمام اہلِ دربار کی سانسیں سینہ میں اٹک گئیں، دربار کے ایک دروازے سے 10 بِلیاں منہ میں پلیٹیں لئے جن میں جلتی ہوئی موم بتیاں تھیں ایک قطار میں خراماں خراماں چلتی دربار کے دوسرے دروازے سے نکل گئیں، نہ پلیٹیں گریں اور نہ موم بتیاں بچھیں، دربار تعریف و توصیف کے نعروں سے گونج اٹھا، میرے ہم منصب نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا، حضور! یہ سب تربیت ہی ہے کہ جس نے جانور تک کو اس درجہ نظم و ضبط کا عادی بنادیا، بادشاہ نے میری جانب دیکھا،
مجھے اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی میں دربار سے نکل آیا تبھی ایک شخص نے آپ کا نام لیا کہ میرے مسئلے کا حل آپ کے پاس ہی ہو سکتا ہے میں دو دن کی مسافت کے بعد یہاں پہنچا ہوں، دی گئی مدت میں سے 4 دن باقی ہیں اب میرا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

فقیر نے سر جھکایا اور آہستہ سے بولا واپس جاؤ اور بادشاہ سے کہو کہ تیسویں دن تم بھرے دربار میں ماحول کی افادیت ثابت کرو گے،
مگر میں تو یہ کبھی نہ کر سکوں گا۔ وزیر نے لاچارگی سے کہا۔
اۤخری دن مَیں خود دربار میں آؤں گا۔ فقیر نے سر جھکائے ہوئے کہا۔

وزیر مایوسی اور پریشانی کی حالت میں واپس دربار چلا آیا۔

مقررہ مدت کا اۤخری دن تھا دربار کھچا کھچ بھرا ہوا تھا وزیر کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا سب کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھتی تھیں کہ اچانک ایک مفلوک الحال سا شخص اپنا مختصر سامان کا تھیلا اٹھائے دربار میں داخل ہوا، بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا، وقت کم ہے میں نے واپس جانا ہے اس وزیر سے کہو تربیت کی افادیت کا ثبوت دوبارہ پیش کرے۔
تھوڑی دیر بعد ہی دوسرے وزیر نے تالی بجائی اور دوبارہ وہی منظر پلٹا، دربار کے دروازہ سے دس بلیاں اسی کیفیت میں چلتی ہوئی سامنے والے دروازے کی طرف بڑھنے لگیں، سارا مجمع سانس روکے یہ منظر دیکھ رہا تھا وزیر نے امید بھری نگاہوں سے فقیر کی طرف دیکھا، جب بلیاں عین دربار کے درمیان پہنچیں تو فقیر آگے بڑھا اور ان کے درمیان جا کے اپنا تھیلا اُلٹ دیا، تھیلے میں سے موٹے تازے چوہے نکلے اور دربار میں ادھر اُدھر بھاگنے لگے، بلیوں کی نظر جیسے ہی چوہوں پر پڑی انہوں نے منہ کھول دیئے پلیٹیں اور موم بتیاں دربار میں بکھر گئیں، ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔ بلیاں چوہوں کے پیچھے لوگوں کی جھولیوں میں گھسنے لگیں، لوگ کرسیوں پر اچھلنے لگے دربار کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا۔

فقیر نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا، آپ کسی جنس کی جیسی بھی اچھی تربیت کر لیں اگر اس کے ساتھ اسے اچھا ماحول فراہم نہیں کریں گے تو تربیت کہیں نہ کہیں اپنا اثر کھو دے گی۔ کامیاب کردار کے لئے تربیت کے ساتھ ساتھ بہتر ماحول بے حد ضروری ہے، اس سے پہلے کہ بادشاہ اسے روکتا فقیر دربار کے دروازے سے نکل گیا تھا۔

🔘 ہمارے ہاں ساری ذمہ داری استاد کی تربیت پر ڈال دی جاتی ہے گھر وں کا کیا ماحول ہے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🕌 نماز وحشت قبر 🕌

یہ نماز دو رکعت ہے جس کی کہ پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد دس مرتبہ سورہ قدر پڑھی جاتی ہے پس جب اس نماز کا سلام دے چکے تو کہے:
اے معبود رحمت فرما محمد وآل محمد پر اس نماز کا ثواب فلاں کی قبر کو پہنچا دے۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَابْعَثْ ثَوابَہا إِلی قَبْرِفُلَانٍ۔
فلاں کی بجاے میت کا نام لے                  

🔷 نماز وحشت کا دوسرا طریقہ
سید ابن طاؤس نے رسول اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا میت کی پہلی رات سے زیادہ سخت وقت اور کوئی نہیں ہوتا لہذا تم اپنے مرنے والوں پر صدقہ دے کر رحم کرو اگر صدقہ نہیں دے سکتے تو تم میں سے کوئی شخص دو رکعت نماز پڑھے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ توحید دو مرتبہ اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ تکاثر دس مرتبہ پڑھے پھر نماز کو سلام کیساتھ مکمل کرنے کے بعد یوں کہے:

اے معبود رحمت فرما محمد اور اس کی آل پر اور اس نماز کا ثواب اس میت کی قبر کو پہنچا دے۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَابْعَثْ ثَوابَہا إِلی قَبْرِ ذلِکَ الْمَیِّتِ۔

میت اور اس کے باپ کا نام لے پس اسی وقت حق تعالٰی ایک ہزار فرشتہ اس قبر پر بھیج دیتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس ایک لباس ہوتا ہے اور وہ اس میت کی قبر کو صور پھونکے جانے تک کشادہ کرتے رہیں گے نیز اس نماز پڑھنے والے کو ان تمام چیزوں کی تعداد کے برابر اجر ملتا ہے جن پر سورج طلوع کرتا ہے اور اس کے لئے چالیس درجے بلند کیے جاتے ہیں۔

■ مؤلف کہتے ہیں کفعمی (علیہ الرحمہ) نے بھی یہ نماز اسی کیفیت کے ساتھ ذکر کی ہے اس کے بعد فرمایا ہے کہ میں نے بعض کتابوں میں دیکھا ہے۔ پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد آیت الکرسی ایک مرتبہ اور سورہ توحید دو مرتبہ پڑھتے ہیں۔

🌸 نیز علامہ مجلسی (علیہ الرحمہ) نے زاد المعاد میں فرمایا ہے کہ مرنے والوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ خود تو اعمال خیر انجام نہیں دے پاتے۔ وہ صرف اپنی اولاد رشتہ داروں اور مومن بھائیوں سے آس لگائے ہوئے ہیں اور ان کی نیکیوں کیلئے چشم براہ ہیں پس خاص طور پہ نماز تہجد، فریضہ نمازوں کے بعد اور مقامات مقدسہ کی زیارت کے موقعہ پر ان کیلئے دعا کرنا چاہیے اور والدین کیلئے دوسروں سے کچھ زیادہ دعا کرنا چاہیے۔ نیز ان کیلئے اعمال خیر بجا لانے چاہیے۔

🌼 ایک اور روایت میں آیا ہے کہ بہت سی اولادیں ایسی ہوتی ہیں کہ والدین کی موجودگی میں ان کی نافرمان ہوتی ہیں لیکن ان کے مرنے کے بعد ان کیلئے اعمال خیر بجا لانے کے باعث فرمانبردار بن جاتی ہیں اور اسی طرح بہت سی اولادیں ایسی ہیں جو والدین کی زندگی میں ان کی فرمانبردار ہوتی ہیں۔ لیکن ان کے مرنے کے بعد ان کے لئے اعمال خیر بجا نہ لانے یا کم بجا لانے سے نافرمان ہو جاتی ہیں۔
اپنے فوت شدہ والدین اور رشتہ داروں کے لئے سب سے بہتر اور عمدہ نیکی یہ ہے کہ ان کے واجب قرضے ادا کیے جائیں اور انہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد سے چھٹکارا دلایا جائے اور ان پر حج یا دوسری عبادات کی جو ادائیگی واجب تھی وہ خود یا اجرت دے کر ادا کرائی جائے۔

🌹 صحیح حدیث میں منقول ہے کہ حضرت امام جعفر صادق (ع) ہر شب اپنے فرزند کیلئے اور ہر روز اپنے والدین کیلئے دو رکعت نماز پڑھتے تھے کہ پہلی رکعت میں حمد کے بعد سورہ قدر اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورہ کوثر پڑھا کرتے تھے۔

🌸 صحیح سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادق (ع) سے منقول ہے کہ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ ایک میت تنگی اور سختی میں ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اسے آسائش و کشائش عطا کردیتا ہے پھر میت سے کہا جاتا کہ تجھے یہ آسانی اس لئے میسر آئی کہ تیرے فلاں مومن بھائی نے تیرے لئے نماز پڑھی ہے۔ راوی نے پوچھا؛ آیا ایک نماز میں دو میتوں کو بھی شریک کیا جاسکتا ہے؟ فرمایا: ہاں، ایسا کیا جاسکتا ہے۔ پھر فرمایا کہ میت کو خوشی حاصل ہوتی ہے اور وہ دعا اور استغفار کی وجہ سے مسرور ہوتی ہے جو اس کے لئے کی جاتی ہے اسے ویسے ہی خوشی ملتی ہے جیسے زندہ شخص کو ہدیہ سے خوشی ہوتی ہے نیز فرمایا کہ میت کیلئے نماز، روزہ، حج، صدقات، دوسرے جو بھی اعمال خیر بجا لائے جائیں اوراس کیلئے دعا کی جائے ان تمام چیزوں کا ثواب قبر میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے یہ ثواب میت کے لئے بھی لکھا جاتا ہے اور میت کے لئے اعمال بجا لانے والے شخص کیلئے بھی لکھا جاتا ہے۔

🌹 ایک اور حدیث میں امام صادق (ع) فرماتے ہیں کہ جو مسلمان کسی مرنے والے کے لئے کوئی نیک عمل انجام دیتا ہے اللہ اس کے ثواب کو دگنا کر دیتا ہے اور مرنے والا اس سے فائدہ اٹھاتا رہتا ہے۔

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

https://t.me/islamwitheman/1911
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 زوجین کے بارے احادیث 🌹

🌹 حضرت رسول اکرمؐ:
"میں نے تمھاری دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو کو پسند کیا ہے اور نماز میری آنکھوں کی روشنی ہے۔"(1)


🌹 رسول اکرمؐ نے فرمایا:
جو شخص افلاس و پریشانی کے ڈر سے نکاح نہ کرتا ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ خدا سے بدگمان ہے کیونکہ حق تعالٰی فرماتا ہے؛ "ان یکونوا فقراء یغنھم الله من فضله" اگر وہ فقیر ہونگے تو خدا اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔(2)


🌹 امام جعفر صادقؑ:
احمق مرد کو رشتہ دے دو مگر احمق عورت سے شادی نہ کرو کیونکہ احمق مرد کبھی شریف بن جاتا ھے۔ مگر احمق عورت کبھی شریف نہیں بنتی۔(3)

🌹 حضرت امام محمد باقرؑ:
"مجھے یہ بات کسی طرح گوارا نہیں کہ دنیا و مافیھا پوری حاصل ہو جائے اور ایک رات بے عورت کے سوؤں۔ یہ بھی فرمایا کہ عورت والے کی دو رکعت نماز مجرد مرد کی ساری ساری راتوں کی نمازوں اور تمام تمام دنوں کے روزوں سے بہتر ہے۔"(4)

🌹 امام جعفر صادقؑ:
عیالدار کی دو رکعت نماز مجرد کی ستر (70) رکعتوں سے بہتر ہے۔(5)

🌹 رسول اکرمؐ نے فرمایا:
"جان لو خدا کے نزدیک عورتوں کا اَجر مردوں کے مقابلے زیادہ یے۔
خدا کی قسم شوہر کا اپنی بیوی پر ستم کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ یے۔

اے لوگو! دوضعیفوں کی نسبت خدا کا خوف کرو۔
ایک یتیم دوسرا بیوی۔

خدا تعالٰی روز قیامت تم سے پوچھے گا جو بھی ان دونوں کے ساتھ نیکی کرے گا رحمتِ الٰہی اُسے نصیب ہوگی۔

اور جو بھی ان دونوں کے ساتھ برائی کرے گا خدا کا خشم و غضب اس پر نازل ہوگا۔"(6)

🌹 حضرت امام جعفر صادقؑ:
"دو کمزوروں کے حق میں خدا ترسی کام میں لاؤ، ایک یتیم بچے دوسری عورتیں۔"(7)

🌹 حضرت محمد مصطفٰیؐ:
"تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی عورت کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرے۔ فرمایا؛ کہ ہر شخص کے اہل و عیال اس کے قیدی ہیں اور خدا سب سے زیادہ اس بندے کو دوست رکھتا ہے جو اپنے قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے۔"(8)

🌹 حضرت امام جعفر صادقؑ:
"جس شہر میں کسی شخص کی زوجہ موجود ہو وہ اس شہر میں رات کو کسی دوسرے شخص کے مکان میں سوئے اور اپنی عورت کے پاس نہ آئے تو یہ امر اس صاحب خانہ کی ہلاکت کا باعث ہوگا۔"(9)

🌹 معتبر حدیثوں میں وارد ہوا ہے کہ مردوں کا جہاد تو یہ ہے کہ اپنا مال اور اپنی جان خدا کی راہ میں صرف کریں اور عورتوں کا جہاد یہ ہے کہ شوہروں کے ستانے پر اور سوکنیں کر لانے پر صبر کریں۔(10)

🌹 ایک حدیث میں فرمایا کہ عورتوں کی مثال پسلی کی ہڈی کی سی ہے کہ اگر اسے اس کے حال پر رہنے دو گے تو نفع پاؤ گے اور اگر سیدھا کرنا چاہو گے تو ممکن ہے کہ وہ ٹوٹ جائے۔
(حاصل کلام یہ ہے کہ عورتوں کی ذرا ذرا سی ناخوشیوں پر صبر کرو۔)(11)

🌹 حضرت رسولِخُداؐ نے فرمایا:
"اگر میں یہ حکم دیتا کہ کوئی شخص سوائے خدا کے کسی اور کو بھی سجدہ کر سکتا ہے تو بیشک میں عورتوں کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں۔(12)

🌹 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:
شوہر کا اپنی بیوی کے پاس بیٹھنا اللہ تعالٰی کو اس مسجد(مسجد نبوی) میں اعتکاف میں بیٹھنے سے زیادہ پسند ہے۔(13)

📚 حوالہ جات
1، 2، 4، 5: تہذیب الإسلام
3: وسائل الشیعہ، ج14، ص89۔
6: سیری در زندگانی حضرت زہرا 37۔
7، 8، 9، 10، 11، 12: تہذیب الإسلام
13۔ مجموعة ورّام، ج2، ص119۔

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

https://t.me/islamwitheman/2154
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں (1)🌹

میز پہ کھانا لگاتے ہوئے اسکا پورا دھیان پلیٹیں سجانے میں تھا اور میری آنکھیں اسکے چہرے پہ جمی تھیں۔ میں نے آہستگی سے اسکا ہاتھ تھاما تو وہ چونک سی گئی
"میں تم سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں" کافی ہمت جتانے کے بعد بلآخر میرے منہ سے نکلا۔
وہ چپ چاپ کرسی پہ بیٹھ گئی، اسکی نگاہیں چاہے میز پہ مرکوز تھیں پر ان میں سے اٹھتا درد میں بخوبی محسوس کررہا تھا۔
ایک پل کے لیے میری زبان پہ تالہ سا لگ گیا پر جو میرے دماغ میں چل رہا تھا اسے بتانا بہت ضروری تھا۔
"میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں۔" میری آنکھیں جھک گئیں۔
میری امید کے برعکس اس نے کسی قسم کی حیرانی یا پریشانی کا اظہار نہ کیا بس نرم لہجے میں اتنا پوچھا۔
"کیوں؟"
میں نے اسکا سوال نظرانداز کیا۔ اسے میرا یہ رویہ گراں گزرا۔ ہاتھ میں پکڑا چمچ فرش پہ پھینک کے وہ چلانے لگی اور یہ کہہ کے وہاں سے اٹھ گئی کہ
"تم مرد نہیں ہو۔۔۔"
رات بھر ہم دونوں نے ایکدوسرے سے بات نہیں کی۔ وہ روتی رہی۔ میں جانتا تھا کہ اسکے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر ہماری شادی کو ہوا کیا ہے۔۔۔ میرے پاس اس دینے کے لیے کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ اسے کیا بتاتا کہ میرے دل میں اسکی جگہ اب کسی اور نے لے لی ہے۔۔۔ اب اسکے لیے میرے پاس محبت باقی نہیں رہی۔ مجھے اس پہ ترس تو بہت آرہا تھا اور ایک پچھتاوا بھی تھا۔ پر اب میں جو فیصلہ کر چکا تھا اس پہ ڈٹے رہنا ضروری تھا۔
طلاق کے کاغذات عدالت میں جمع کرانے سے پہلے میں نے اس کی ایک کاپی اسے تھمائی جس پہ لکھا تھا کہ وہ طلاق کے بعد گھر، گاڑی اور میرے ذاتی کاروبار کے 30 فیصد کی مالکن بن سکتی ہے۔
اس نے ایک نظر کاغذات پہ دوڑائی اور اگلے ہی لمحے اسکے ٹکڑے کرکے زمین پہ پھینک دیے۔ جس عورت کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے دس سال بتائے تھے وہ ایک پل میں اجنبی ہوگئی۔ مجھے افسوس تھا کہ اس نے اپنے انمول جذبات اور قیمتی لمحے مجھ پہ ضائع کیے پر میں بھی کیا کرتا میرے دل میں کوئی اور اس حد تک گھر کر چکا تھا کہ اس کھونے کا تصور ہی میرے لیے ناممکن تھا۔
بلآخر وہ ٹوٹ کے بکھری اور میرے سامنے ریزہ ریزہ ہوگئی۔ اسکی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈ آیا تھا۔ شائد یہی وہ چیز تھی جو اس طلاق کے بعد میں دیکھنا چاہتا تھا۔
اگلے روز پورا دن اپنی نئی محبت کے ساتھ بتا کے جب میں تھکا ہارا گھر پہنچا تو وہ میز پہ کاغذ پھیلائے کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔ میں نے اس پہ کوئی دھیان نہ دیا اور جاتے ہی بستر پہ سو گیا۔ دیر رات جب میری آنکھ کھلی تو وہ تب بھی کچھ لکھ رہی تھی۔ اب بھی میں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔
صبح جب میں اٹھا تو اس نے طلاق کی کچھ شرائط میرے سامنے رکھ دیں۔ اسے میری دولت اور جائیداد میں سے کچھ نہیں چاہیے تھا۔ وہ بس ایک مہینہ مزید میرے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ اس ایک مہینے میں ہمیں اچھے میاں بیوی کی طرح رہنا تھا۔ اس شرط کی بہت بڑی وجہ ہمارا بیٹا تھا جسکے کچھ ہی دنوں میں امتحانات ہونیوالے تھے۔ والدین کی طلاق کا اسکی تعلیم پہ برا اثر نہ پڑے اس لیے میں اسکی یہ شرط ماننے کو بالکل تیار تھا۔
اسکی دوسری اور احمقانہ شرط یہ تھی کہ میں ہرصبح اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے گھر کے دروازے تک چھوڑنے جاؤں۔ جیسا شادی کے ابتدائی دنوں میں مَیں کرتا تھا۔ وہ جب کام پہ باہر جانے لگتی تو میں خود اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑ آتا تھا۔ حالانکہ میں اسکی یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا لیکن ان آخری دنوں میں اسکا دل توڑنا مناسب نہیں لگ رہا تھا اس لیے میں نے یہ شرط بھی مان لی۔
اس کی ان شرائط کے بارے میں جب میں نے اپنی نئی محبت سے ذکر کیا تو وہ ہنس بولی
"وہ چاہے جو بھی کرلے ایک نہ ایک دن طلاق تو اسے ہونی ہی ہے"
میری بیوی اور میں نے اپنی طلاق کے معاملے سے متعلق کسی اور سے ذکر نہ کیا۔
شرط کے مطابق پہلے دن جب مجھے اسے اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے جانا تھا تو وہ لمحات ہم دنوں کے لیے بے حد عجیب تھے۔ ہچکچاتے ہوئے میں نے اسے اٹھایا تو اس نے بھی اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ اتنے میں تالیوں کی ایک گونج ہم دونوں کے کانوں میں پڑی
"پاپا نے ممی کو اٹھایا ہوا ہے۔۔۔۔۔ ہاہاہا" ہمارا بیٹا خوشی میں جھوم رہا تھا۔
اسکے الفاظوں سے میرے دل میں ایک درد سا اٹھا اور میری بیوی کی کیفیت بھی لگ بھگ میرے جیسی تھی۔
"پلیز! اسے طلاق کے بارے میں کچھ مت بتانا" وہ آہستگی سے بولی
میں نے جواباً سر ہلایا
اسے دروازے تک چھوڑ کے بعد میں اپنے آفس کی طرف نکل پڑا اور وہ بس سٹاپ کی طرف چل دی۔
اگلی صبح اسے اٹھانا میرے لیے قدرے آسان تھا، اور اسکی ہچکچاہٹ میں بھی کمی تھی۔ اس نے اپنا سر میری چھاتی سے لگا لیا۔ ایک عرصے بعد اسکے جسم کی خوشبو میرے حواس سے ٹکرائی۔ میں بغور اسکا جائزہ لینے لگا۔ چہرے کی گہری جھریاں اور سر کے بالوں میں اتری چاندی اس بات کی گواہ تھیں کہ اس نے اس شادی میں بہت کچھ کھویا ہے۔

https://t.me/islamwitheman/2116
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں (2)🌹

بقیہ حصہ ۔۔۔

چار دن مزید گزرے، جب میں نے اسے باہوں میں بھر کے سینے سے لگایا تو ہمارے بیچ کی وہ قربت جو کہیں کھو سی گئی تھی واپس لوٹنے لگی۔ پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ قربت کے وہ جذبات بڑھتے گئے۔
لمحے دنوں کو پَر لگا کے اڑا لے گئے اور مہینہ پورا ہوگیا۔
اس آخری صبح میں جانے کے لیے تیار ہورہا تھا اور وہ بیڈ پہ کپڑے پھیلائے اس پریشانی میں مبتلا تھی کے آج کونسا لباس پہنے۔ کیوں کہ پرانے سارے لباس اسکے نحیف جسم پہ کھلے ہونے لگے تھے۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کتنی کمزور ہوگئی ہے۔ شائد اسی لیے میں اسے آسانی سے اٹھا لیتا تھا۔ اسکی آنکھوں میں امڈتے درد کو دیکھ کے نہ چاہتے ہوئے بھی میں اسکے پاس چلا آیا اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
"پاپا۔۔۔ ! ممی کو باہر گھمانے لے جائیں۔۔۔۔ " ہمارے بیٹے کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ اسکے خیال میں اس پل یہ ضروری تھا کہ میں کسی طرح اسکی ماں کا دل بہلاؤں۔
میری بیوی بیٹے کی طرف مڑی اور اسے سینے سے لگا لیا۔ یہ لمحہ مجھے کمزور نہ کردے یہ سوچ کے میں نے اپنا رخ موڑ لیا۔
آخری بار میں نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اس نے بھی اپنے بازو میری گردن کے گرد حائل کردیے۔ میں نے اسے مظبوطی سے تھام لیا۔ میری آنکھوں کے سامنے شادی کا وہ دن گردش کرنے لگا جب پہلی بار میں اسے ایسے ہی اٹھا کے اپنے گھر لایا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ مرتے دم تک ایسے ہی ہر روز اسے اپنے سینے سے لگا کے رکھوں گا۔ میرے قدم فرش سے شائد جم سے گئے تھے اسی لیے میں بامشکل دروازے تک پہنچا۔ اس نیچے اتارتے ہوئے میں نے اسکے کان میں سرگوشی کی
"شائد ہمارے درمیان قربت کی کمی تھی"
وہ میری آنکھوں میں دیکھنے لگی اور میں اسے وہیں چھوڑ کے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ تیز رفتار میں گاڑی چلاتے ہوئے بار بار ایک خوف میرے دل میں گھر کررہا تھا کہ کہیں میں کمزور نہ پڑ جاؤں، اپنا فیصلہ بدل نہ دوں۔ میں نے اس گھر کے دروازے پہ بریک لگائی جہاں نئی منزل میرا انتظار کررہی تھی۔ دروازہ کھلا اور وہ مسکراتے ہوئے میرے سامنے آئی
"مجھے معاف کردو۔ میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا" میرے منہ سے نکلے یہ الفاظ اسکے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ وہ میرے پاس آئی اور ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے بولی
"شائد تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے یا پھر تم مذاق کررہے ہو"
"نہیں ۔۔۔ ! میں مذاق نہیں کررہا۔ شائد ہماری شادی شدہ زندگی بے رنگ ہوگئی ہے پر میرے دل میں اسکے لیے محبت اب بھی زندہ ہے۔ بس اتنا ہوا ہم ہر وہ چیز بھول گئے جو اس ساتھ کے لیے ضروری تھی۔ دیر سے سہی پر مجھے سب یاد آگیا ہے۔ اور ساتھ نبھانے کا وہ وعدہ بھی یاد ہے جو شادی کے پہلے دن میں نے اس سے کیا تھا"
نئے ہر بندھن کو توڑ کے بعد میں پرانے بندھن کو دوبارہ جوڑنے کے لیے واپس لوٹا۔ میرے ہاتھ میں پھولوں کا ایک گلدستہ تھا جس میں موجود پرچی پہ لکھا تھا
"میں ہر روز ایسے ہی تمہیں اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے آؤں گا۔ صرف موت ہی مجھے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے"
میں اپنے گھر میں داخل ہوا اور دوڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ میرے پاس اپنے بیوی کو دینے کے لیے زندگی کا سب سے بڑا تحفہ تھا۔
میں جب اس سے چند لمحوں کی دوری پہ تھا تبھی زندگی کی ڈور اسکے ہاتھوں سے سرک گئی۔
کئی مہینوں تک کینسر کی بیماری سے لڑتے لڑتے وہ ہار چکی تھی۔ نہ اس نے کبھی اپنی تکلیف کا مجھ سے ذکر کیا اور نہ ہی مصروف زندگی نے مجھے اس سے پوچھنے کا موقع دیا۔ جب اسے میری سب سے زیادہ ضرورت تھی تب میں کسی اور کے دل میں اپنے لیے محبت کھوج رہا تھا۔
وہ جانتی تھی کے اسکے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کے اسکی موت سے قبل طلاق کا اثر ہمارے بیٹے کے دل میں میرے لیے نفرت کا بیج بو دے۔ اس لیے بیتے ایک مہینے میں اس نے بیٹے کے سامنے انتہائی محبت کرنیوالے شوہر کا میرا روپ نقش کردیا۔۔۔ جو حقیقی تو نہیں تھا پر دائمی ضرور بن
یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے بے رنگ رشتوں میں رنگ بھرنے کی بجائے ان سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کئی بار یہ سمجھنے میں ہم دیر کر دیتے ہیں کہ نئے رشتے قائم کرنا زیادہ صحیح ہے یا پھر پرانے رشتوں میں رنگ بھرے جائیں۔۔۔۔؟ اسکا فیصلہ آپکے ہاتھ میں ضرور ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ آپ وقت پہ فیصلہ نہ کر سکیں اور اس تاخیر میں ہاتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خالی رہ جائیں۔ تو دیر مت کیجئے۔

https://t.me/islamwitheman/2233
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 اہلسنت کے اعتراض اور انکے جواب (1) 🌺

جو پوسٹ میں سوال پوچھے گئے ھیں وہ ترتیب وار یہ ھیں۔۔

جب حضرت علی علیہ السّلام (ظاھری طور پر) خلیفہ بنے تو۔۔
1= شیعہ کا کلمہ اور اذان جاری کیوں نہیں کروائی؟
2= نماز تراویح کیوں ختم نہیں کروائی؟
3= مسجدیں بنوائیں، امام باڑے کیوں نہیں بنواۓ؟
4= مُتعہ کو جاری کیوں نہیں کیا؟
5= باغ فِدک کو بیبی فاطمہؑ (سلام اللہ علیہا) اور حسنین کریمین (علیہم السّلام) کو واپس کیوں نہیں کیا؟

یہ کُل 5 سوال ھیں۔
اور آئیے آج آپکو پتا چلے گا کہ ان سوالوں کے جواب کسی مولوی یا مجتہد نے نہیں بلکہ خود مولا علی علیہ السّلام نے دیئے ھیں۔ کیونکہ یہ تمام سوال نئے نہیں ھیں 1436 سال سے نسل اُمیّہ و مروان و بنوُ عباس یہی سوال کرتی آئی ھے۔

جناب باب العلم علیہ السّلام سے جب یہی سوال پوچھے گئے تو آپ علیہ السّلام منبر کوفہ پر تشریف لے گئے اور ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا۔ اسکے اقتباس درج کر رھا ھوں۔

(حوالہؑ کتاب الاحتجاج ۔۔ جلد نمبر 1)
(حوالہؑ کتاب نہج الاسرار ۔۔ جلد نمبر 1)
(حوالہؑ کتاب فضائل امیرالمومنین، ابن عقده کوفی، 333)
(حوالہؑ علل الشرائع شیخ صدوق،381)
(حوالہؑ کتاب کفایه الاثر، خزاز قمی، 400)
(حوالہؑ کتاب احتجاج طبرسی، 548)
(حوالہؑ کتاب مناقب آل ابیطالب۔ ابن شهر آشوب، 588)
(حوالہؑ کتاب الروضه فی فضائل امیر المومنین۔ شاذان ابن جبرئیل قمی، 660)

■ خطبہؑ بعنوان۔۔
معاویہ سے جنگ کرنے اور ابوبکر و عمر سے جنگ نہ کرنے کا سبب:

جنگ نہروان (خوارجین سے جنگ) سے فارغ ھونے کے بعد سرکار جناب امیرالمُومنین علیہ السّلام ایک محفل میں کچھ ارشاد فرما رھے تھے کہ "اشعث" نے سوال کردیا۔
جسکے جواب میں جناب امیرالمومنین علیہ السّلام نے فرمایا:
"اے اشعث تو نے اپنی بات تو کہہ دی اب اسکا جواب بھی سُن اور اسکو یاد رکھ
اور حُجّت کو اپنا شُعار بنا لے کہ۔۔
میرا یہ اقتدار (خلافت ظاھری) چھ پیغمبروں کی طرح ھے۔۔
1 - نوُح علیہ السّلام
2 - لوُط علیہ السّلام
3 - ابراھیم علیہ السّلام
4 - مُوسیٰ علیہ السّلام
5 - ھاروُن علیہ السّلام
6 - مُحمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نوُح علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا انہوں نے کہا:
"فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ " (سورۃ القمر، آیت 10)
ترجمہ:
اے میرے ربّ میں مغلوُب ھو گیا میری نصُرت فرما"
اب اگر تمُ یہ کہو کہ اُنہوں نے بلا وجہ ایسا کہا تو تم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ اُنکی اُمت نے اُنکے ساتھ حالات ایسے بنا دیئے تھے تو پھر تمہارے نبی ﷺ کا وصی (علی علیہ السّلام) نوح سے زیادہ مجبوُر تھا۔

لوُط علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا:
"لو أن لي بكم قوة أو آوي إلى ركن شديد" (سورۃ ھوُد، آیت 80)
ترجمہ:
"کاش تم سے بچنے کی مجھ میں قوّت ھوتی یا میں کسی زبردست پناہ میں جاکر بیٹھ جاتا"
اب اگر تم یہ کہو کہ اُنہوں نے بلا کسی خوف کے یہ کہا تو تم نے کُفر کیا اور اگر تم یہ کہو کہ اُنکی قوم نے انکے ساتھ یہ حال کیا کہ وہ تنہا رہ گئے تو تمہارے نبی ﷺ کا یہ وصی اُس سے زیادہ مجبور تھا۔

ابراھیم علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا:
"وَأَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ" ۔۔ سورۃ مریم، آیت 49)
ترجمہ:
میں تم سے اور جن جن کو تم اللہ کے سوا پُکارتے ھو علیحدہ ھوتا ھوں۔
اب اگر تم کہو کہ ابراھیم علیہ السّلام بنا کسی وجہ کے اپنی قوم سے الگ ھوگئے تو تم نے کفر کیا اور اگر کہو کہ انکی قوم نے انکو ایسا مجبور کیا تو تمہارے نبی ﷺ کا وصی اس سے زیادہ مجبور ھے۔

موُسیٰ علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا؛
"فَفَرَرْتُ مِنکُمْ لَمَّا خِفْتُکُم" (سورۃ الشعراؑ، آیت 21)
ترجمہ:
میں تم سے ڈرا تو میں خود ھی تم سے بھاگ گیا تھا۔
اب اگر تم کہو کہ اُنہوں نے بلا کسی خوف کے قوم کو چھوڑا تو تم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ واقعی قوم اُنکی جان کے درپے ھوگئی تھی اسلئے وہ وھاں سے چلے گئے تو تمہارے نبی ﷺ کا وصی اُن سے زیادہ مجبور تھا۔

ھاروُن علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا:
"یابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِی وَکَادُواْ یَقْتُلُونَنِی" (سورۃ الاعراف، آیت 151)
ترجمہ:
"اے میرے ماں جاۓ تحقیق کہ قوم نے مجھے (تیرے بعد) ضعیف سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کردیتے۔"
اب اگر تم کہو کہ انہوں نے بلاوجہ ایسا کہا اور گئو سالہ کی پرستش سے بنا کسی وجہ کے نہیں روکا تو تم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ اُن کو مجبور اور کمزور کردیا گیا تھا تو تمہارے نبی ﷺ کا وصی اس سے زیادہ مجبور تھا۔

مُحمّد ﷺ کی تاسئ کی جب انہوں نے ھجرت کی اور جاتے ھوۓ مجھے اپنے بستر پر سُلا کر گئے۔
اب اگر تُم کہو کہ اُنہوں نے بلا کسی وجہ کے ھجرت کی تو تُم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ اُنکو مجبور کردیا گیا تھا تو تمہارے نبی ﷺ کا یہ وصی اُن سے زیادہ مجبور تھا۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 اہلسنت کے اعتراض اور جواب (2) 🌺

بقیہ دوسرا حصہ ۔۔۔

کچھ اندازہ ھوا؟؟
کتنا مجبور کر دیا گیا تھا میرے مولا علی علیہ السّلام؟
کُچھ سمجھ میں آیا کہ کیوں جو بدعتیں دین میں داخل ھوئیں اُنکو بند نہیں کیا میرے مولا علی علیہ السّلام نے؟؟

ان چھ انبیاؑ میں سے چار اولوالعزم پیغمبر ھیں ۔۔ جو جو وجوھات ان آیات میں ان سب کی اپنی اپنی قوم سے علیحدگی کی بنی وہ تمام وجوھات اکیلے میرے مولا علی علیہ السّلام کو روکے ھوۓ تھیں۔

■ اب ایک اور سرکار جناب امیر علیہ السّلام کا خطبہ سُنو ۔۔
اور یاد رکھنا ۔۔ کہ کیوں سرکار نے تلوار نہیں اُٹھائی اور بہت کُچھ برداشت کیا ۔۔
چاھے وہ گلے میں رسّی ڈال کر حرامیوں کا میرے مولا کو کھینچنا ھو، چاھے وہ دروازے کو آگ لگانا ھو، چاھے وہ میری مخدومہؑ کونین سلام اللہ علیہا کا پہلو شکستہ کرنا ھو، چاھے وہ فدک کا حق غصب کرنا ھو؟ چاھے وہ خلافت کا حق چھیننا ھو۔ اس سب پر خاموشی کی سب سے بڑی وجہ ۔۔۔

(1) حوالہؑ کتاب استیعاب، عبدالبر،جلد ا، صفحہ۱۸۳۔ طبع حیدر آباد۔

حضرت علیؑ فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ دیکھو رسول اللہ کا انتقال ہو چکا ہے اور خلافت کے بارے میں مجھ سے کوئی نزاع نہ کرے کیوں کہ ہم ہی ا س کے وارث ہیں لیکن قوم نے میرے کہنے کی پرواہ نہیں کی۔ "خدا کی قسم اگر دین میں تفرقہ پڑ جانے اور عہد کفر کے پلٹ آنے کا اندیشہ نہ ہوتا تومیں ان کی ساری کاروائیاں پلٹ دیتا۔"
۔
(2) حوالہؑ کتاب معالم التنزیل، صفحہ۴۱۲، صفحہ۴۱۴۔
کتاب احیاءالعلوم؟ جلد۴، صفحہ ۸۸۔
کتاب سیرت محمدیہ؟ صفحہ۳۵۶۔
کتاب تفسیر کبیر جلد۴ صفحہ۶۸۶۔
کتاب تاریخ خمیس جلد۲ صفحہ ۱۱۳۹۔
کتاب سیرت حلبیہ صفحہ۳۵۶۔
کتاب شواہد النبوت اور فتح الباری۔

میں ہے کہ آنحضرت نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ ۔۔۔۔
"اے عائشہ ”لوَ لاَ حدَ ثَانِ قَومُک بالکَفرِ لَفَعلتُ“
ترجمہ:
اگر تیری قوم تازی کفر سے مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں اس کے ساتھ وہ کرتا جو کرنا چاہیے تھا۔

اور اب مجھے یہ بتانے کی ضرورت تو ھے نہیں کہ "جنگ بدر سے خیبر و خندق تک" پورا عرب گواہ ھے کہ کس کی تلوار سینوں کو چیرتی رھی اور گردنوں کو کاٹتی رھی؟؟
بڑے بڑے "بہادروں" کو پہاڑوں پر بکری کی طرح اچھلتے دیکھا ھے۔
بڑے بڑے "بہادروں" کو جو ھنٹر ھاتھ میں لیے گھوما کرتے تھے تاریخ نے کوئی ایک نام بھی محفوظ نہیں کیا جو انکے ھاتھوں قتل ھوا ھو کسی بھی جنگ میں؟؟
(یہ چیلنج بھی ھے کہ دکھاؤ اگر کوئی نام مل جاۓ؟)
مکہ و مدینہ کے بسنے والے نہ تو عمرو بن عبدود کا مارے جانا بھولے تھے اور نہ ھی خیبر کا دروازہ اکھاڑے جانا ۔۔
جنگ خندق میں عمرو بن عبدود نے جب گستاخی کی اور مولا علی علیہ السّلام کے چہرہ مبارک پر لعاب دھن پھینکا تو آپ علیہ السّلام اُس کی چھاتی سے نیچے اُتر آۓ جس پر وہ جو بہُت زیادہ "غصّیلہ" تھا وہ بے اختیار بولا بھی تھا ۔۔۔" یا رسول اللہ یہ دیکھیے علی علیہ السّلام نے کیا کیا؟ اتنا اچھا موقع گنوا دیا ۔۔ اس پر تو قابو پالینا ھی بڑا کام تھا۔۔"
قتل عمرو بن عبدود کے بعد جب مولا علیہ السّلام سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ۔۔
اگر اس وقت میں اسے قتل کردیتا تو میرا ذاتی غصّہ شامل ھوجاتا۔
(جبکہ میں تو "یدّ اللہ" ھوں اسلئے لڑتا ھی صرف اللہ اور اسکے رسول اور اسکے دین کیلئے ھوں)
ھاں یہ ضرور پتا چل گیا تھا کہ "یہ محمّد وآل محمّد ﷺ اپنا حق چھن جانے پر نہیں بولتے لیکن اگر اسلام و دین پر کچھ بن جاۓ تو پھر یہ اُٹھ کھڑے ھوتے ھیں۔"
تو بس اُنہوں نے طے کرلیا کہ ۔۔۔
"کہ دین کی بنیادوں کو فی الحال چھیڑو نہیں اور ان کو چھوڑو نہیں"
چنانچہ جن "چڑی ماروں" کی ٹانگیں کانپتی تھیں مولا علی علیہ السّلام کو آتے دیکھ کر ۔۔
" انکی ھمّت اتنی بڑھ گئی کہ گلے میں رسّی ڈال کر کھینچتے رھے۔"

(3) حوالہ کتاب تاریخ اعثم کوفی ۸۳ طبع بمبئی۔
میں حضرت علیؑ کی وہ تقریر موجود ہے جو آپ نے خلافت عثمان کے موقع پر فرمائی ہے۔ ہم اس کا ترجمہ اعثم کوفی اردو طبع دہلی کے صفحہ۱۱۳ سے نقل کرتے ہیں۔۔۔
"خدا ئے جلیل کی قسم ......
اگر محمد رسول اللہ ﷺ ہم سے عہد نہ لے لیتے اور ہم کو اس امر سے مطلع نہ کر چکے ہوتے جو ہونے والا تھا تو میں اپنا حق کبھی نہ چھوڑتا اور اپنا حق کسی شخص کو نہ لینے دیتا۔ اپنے حق کے حاصل کرنے کے لیے اس قدر کوشش بلیغ کرتا کہ حصول مطلب سے پہلے معرض ہلاکت میں پڑنے کا بھی خیال نہ کرتا۔"

اب کچھ سمجھ میں آئی؟
یہ وہ جواب ھیں جو مولا علی علیہ السّلام نے از خود ارشاد فرماۓ اور مجھے پورا یقین ھے کہ آپ میں سے اکثر نے یہ پڑھنا تو دور کی بات سُنے بھی نہیں ھونگے!!

■ اب باری ھے میرے تبصرے کی ۔۔۔ تو اب دل پر ھاتھ رکھو اور جواب سُنو ۔۔۔
ابوجہل کی جاھل اولادو ۔۔ !!

🔘 پہلے اور دوسرے سوال کا جواب:

https://t.me/islamwitheman/2235
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 اہلسنت کے اعتراض اور جواب (3) 🌺

بقیہ آخری حصہ ۔۔۔

🔘 پہلے اور دوسرے سوال کا جواب
اسلئے بند دوبارہ شروع نہیں کروایا کہ جو پروانے اپنی شمع رسالت ﷺ کا جنازہ چھوڑ کر تین دن واپس نہیں آۓ وہ کیا یہ بات مانتے؟؟ جنہوں نے نبی ﷺ کا لحاظ نہیں کیا وہ علی علیہ السّلام کا کیا کرتے؟؟

🔘 تیسرے سوال کا جواب
پہلی بات تو یہ کہ اس وقت تک واقعہ کربلا ھوا ھی کب تھا جاھل؟؟
دوسری بات یہ کہ پہلا امام بارگاہ "بیت الحزن" کے نام سے شمع رسالت کے پروانوں نے "رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کو بنا کر دیا تھا جنت البقیع میں" ۔۔۔
کیونکہ اس وقت بھی تمہارے باپ دادا کو رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کا رونا پسند نہیں تھا۔
جہاں تک بات ھے رونے کی ۔۔۔ تو کیا بھول گئے کہ رونے کیلئے جگہ کی قید نہیں ھوتی؟؟
"کسی کو غار میں رونا آگیا تھا ۔۔ یاد نہیں کیا ؟"

🔘 چوتھے سوال کا جواب
مُتعہ کو جاری تو تب کرتے جب اُنہوں نے وہ بند کیا ھو؟
اُن کے پیروکار تو "کسی کی بہن کے مُتعہ کرنے کی خبر کے بعد بند کرنے کے فیصلے کو اور فیصلہ کرنے والے کو مانتے ھی نہیں۔"
اسلیۓ مولا علی علیہ السّلام کے پیروکاروں میں وہ بمطابق حکم قرآن و رسول ﷺ جاری تھا اور ھے۔

🔘 پانچویں سوال کا جواب
باغ فِدک کو اسلئے واپس نہیں لیا مولا علی علیہ السّلام نے کیونکہ اس کی وارث مخدومہؑ عالیہ سیّدہ فاطمہؑ سلام اللہ علیہا تب دنیا سے پردہ کرچُکی تھیں ۔۔
اور ظاھر ھے جب دعویدار ھی نہ ھو تو کس طرح واپس لیتے؟

■ یہ تو تھے تمہارے سوالوں کے جواب ۔۔۔ اب میرے کچھ سوال ھیں تمہارے انہی سوالوں کے جواب میں ۔۔
اگر واقعی حق پر ھو تو دو اسکا جواب ۔۔
میں بھی تو دیکھوں کہ "شیعہ نے تو چیلنج کا جواب دے دیا۔" اب شیعہ کے چیلنج کا جواب کون دے گا ۔۔۔ !!

🔹 سوال نمبر ایک
رسوُل اللہ ﷺ کے جنازے میں "بڑے ستارے" کیوں نہیں تھے؟

🔹 سوال نمبر دو
"الصّلوٰۃ خیراً من النوم" رسول اللہ ﷺ کے دور میں جزو اذان نہیں تھا نہ ھی خلیفہؑ اؤّل کے دور میں تو پھر اس کو اذان کا جزو بنانے کی بدعت کیوں کی گئی؟؟

🔹 سوال نمبر تین
نماز تراویح نہ عہد رسالت ﷺ میں پڑھی گئی اور نہ ھی خلیفہ اوّل کے دور میں ۔۔ تو پھر یہ بدعت کیوں اپنائی گئی؟؟

🔹 سوال نمبر چار
قرآن نے کہا "نبی کی بیبیبیبیو گھروں میں قرار پکڑو"
تو پھر نبی کی جو بی بی گھر سے باھر نکلی اور صرف باھر نہیں نکلی بلکہ لشکر کی سربراہ بھی بن کر میدان میں آئی اس کے بارے میں کیا کہتے ھو؟؟
اور اگر وہ ٹھیک تھا تو پھر آج عورت کی حکمرانی پر فتوے کیوں لگاتے ھو؟

🔹 سوال نمبر پانچ
مُتعہ ۔۔۔ کو قرآن کی آیت اور رسوُل اللہ ﷺ کی حدیث نے حلال کیا تھا۔ خلیفہؑ اوّل کے دور میں بھی حلال ھی تھا۔ پھر قرآن و حدیث کیخلاف اسکو بند کرکے زناؑ سے بچنے کا راستہ بند کرنے کا اختیار کس نے دیا تھا بند کرنے والے کو؟
کیونکہ اسکے علاوہ اور کوئی طریقہ ھے ھی نہیں ایک شادی شدہ مرد کیلئے جو گھر سے دور ھو کہ وہ حرام کاری سے بچ سکے۔

🔹 سوال نمبر چھ
حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے باغ فِدک "اولاد فاطمہؑ سلام اللہ علیہا" کو یہ کہہ کر واپس کر دیا تھا کہ ۔۔۔۔۔ "یہ تمہارا حق تھا اور پہلے اس معاملے میں فیصلہ کرنے والے سے اجتہادی غلطی ھوئی۔"
اب یہ بتاؤ کہ ان دونوں میں سے کون صحیح تھا؟؟
خلیفہؑ اوّل یا پھر عمر بن عبدالعزیز؟؟

اب مجھے دیکھنا ھے کہ ان سوالوں کے کیا جواب دیتے ھو ۔۔ منتظر ھوں۔

(حجّت تمام ھوئی ۔۔۔ الحمد للہ)

https://t.me/islamwitheman/2237
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 خطبه نكاح 🔷

بِسْمِ الله الرَّحمٰنِ الرّٰحىْمِ

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اِقْراراً بِنِعْمَتِهِ

وَلا اِلَهَ اِلَّا اللَّهُ اِخْلاَصاً لِوَحْدَانِيَّتِهِ

وَصَلّٰى اللّٰهُ عَلَى مُحَمَّدٍ سَيِّدِ بَرِيَّتِهِ

وَ عَلَى الاَصْفِيَآءِ مِنْ عِتْرَتِهِ

اَمَّا بَعْدُ فَقَدْ كَانَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَى اْلاَنَامِ اَنْ اَغْنَاهُمْ بِالْحَلالِ عَنِ الْحَرَامِ

فَقَالَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالىَ: وَ اَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُم وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغغْنُهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ

وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰلهِ: تَنَاكَحُوْا وَ تَنَاسَلُوْا تَكٰثُرُوْا فَاِنِّىْ اُبَاهِىْ بِكُمُ الاُمَمَ یوم الْقِيَامَةِ وَلَوْ بالسِّقْطِ

وَقَالَ رسول اللہ صلّى اللّٰه عليْهِ وَسلّم: الَنِّكَاحُ مِنْ سُنَتِىْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِىْ فَلَيْسَ مِنّىْ

وَصَلَّى اللّٰهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّاَلِهِ الطَّيِّبِيْنَ الطَّاهِرِيِن۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹیں دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔۔

💕 خاوند اور بیوی
http://t.me/islamwitheman/189

🔵 خاوند کی سوچ بیوی کے لیے
http://t.me/islamwitheman/193

🔵 عقلمند بیوی
http://t.me/islamwitheman/197

🌹 کامیاب ازدواجی زندگی
http://t.me/islamwitheman/200

💕 شریک حیات کے حقوق

https://t.me/islamwitheman/529
🌹 نکاح کی فضیلت
http://t.me/islamwitheman/1312

🌹 ارادہ نکاح کے آداب
http://t.me/islamwitheman/1316

🌸 شب زفاف کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1321

🌹 زوجین کے بارے احادیث
https://t.me/islamwitheman/2232
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌸 ضرورت پوری کرنیوالا 🌸

ایک بادشاہ راستہ بھٹک کر کسی ویرانے میں پہنچ گیا، وہاں جھونپڑی تھی اس جھونپڑی میں رہنے والے شخص نے بادشاہ کی بڑی خدمت کی، وہ غریب جانتا بھی نہیں تھا کہ یہ بادشاہ ہے، مسافر سمجھ کر خدمت کی۔

بادشاہ اس کی خدمت سے بہت خوش ہوا، جب جانے لگا تو اس نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری اور کہا: تم مجھے نہیں جانتے ہو کہ میں بادشاہ ہوں۔ یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھو، جب کبھی کوئی ضروت ہوگی ہمارے محل میں آجانا، دروازے پر جو دربان ہوگا اسے یہ انگوٹھی دکھا دینا، ہم کسی بھی حالت میں ہوں گے وہ ہم سے ملاقات کرا دے گا۔ بادشاہ چلا گیا۔

کچھ دن کے بعد اس کو کوئی ضرورت پیش آئی تو وہ دیہاتی بڑے میاں گئے، محل کے دروازے پر پہنچے، کہا بادشاہ سے ملنا ہے۔
دربان نے اوپر سے نیچے تک دیکھا کہ اس کی کیا اوقات ہے بادشاہ سے ملنے کی، کہنے لگا نہیں مل سکتے، مفلس وقلاش آدمی ہے۔
اس دیہاتی شخص نے پھر وہ انگوٹھی دکھائی، اب جو دربان نے دیکھا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، یہ بادشاہ کی مہر لگانے والی انگوٹھی آپ کے پاس؟ بادشاہ کا حکم تھا کہ یہ انگوٹھی جو لے کر آئے گا ہم جس حالت میں ہوں اسے ہمارے پاس پہنچادیا جائے، چنانچہ دربان اسےساتھ لے کر بادشاہ کے خاص کمرے تک گیا، دروازہ کھلا ہوا تھا، اندر داخل ہوئے، اب یہ جو شخص وہاں چل کر آیا تھا، اس کی نظر پڑی کہ بادشاہ نماز میں مشغول ہے، پھر اس نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے، اس کی نظر پڑی تو وہ وہیں سے واپس ہوگیا اور محل کے باہر جانے لگا، دربان نے کہا مل تو لو۔
اس دیہاتی نے کہا؛ اب نہیں ملنا ہے، کام ہو گیا۔ اب واپس جاناہے۔
تھوڑی دور چلا گیا، جب بادشاہ فارغ ہوگیا۔ دربان نے کہا ایسا ایسا آدمی آیا تھا یہاں تک آیا پھر واپس جانے لگا۔ بادشاہ نے کہا فوراً لے کر آو وہ ہمارا محسن ہے۔
واپس لایا گیا بادشاہ نے کہا آئے ہو تو ملے ہوتے، ایسے کیسے چلے گئے؟
اس نےکہا کہ بادشاہ سلامت!اصل بات یہ ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ کوئی ضرورت پیش آئے تو آجانا ہم ضرورت پوری کر دیں گے۔ مجھے ضرورت پیش آئی تھی میں آیا اور آ کر دیکھا کہ آپ بھی کسی سے مانگ رہے ہیں، تو میرے دل میں خیال آیا کہ بادشاہ جس سے مانگ رہا ہے کیوں نہ میں بھی اسی سے مانگ لوں۔

🔘 یہ ہے وہ چیز کہ ہمیں جب کبھی کوئی ضرورت ہو بڑی ہو یاچھوٹی٬ اس کا سوال صرف ﷲ تعالٰی سےکیا جائے کہ وہی ایک در ہے جہاں مانگی ہوئی مراد ملتی ہے۔

https://t.me/islamwitheman/2161
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 بیوی کے ذمہ 26 حقوق 🌺

1. ہر جائز امر میں شوہر کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنا۔
2. شوہر کی مالی حیثیت سے زیادہ خرچ کا مطالبہ نہ کرنا۔
3. شوہر کو جس کا گھر آنا ناپسند ہو اس کی اجازت کے بغیر نہ آنے دینا۔
4. شوہر کی اجازت کے بغیر اس کا مال کسی کو نہ دینا۔
5. شوہر کی اجازت کے بغیر نفل نماز نہ پڑھنا اور نہ نفل روزہ رکھنا۔
6. شوہر اگر ہمبستری کے لیے بلائے اور کوئی شرعی عذر نہ ہو تو اس سے انکار نہ کرنا۔
7. شوہر کو غربت یا بدصورتی کی وجہ سے حقیر نہ سمجھنا۔
8. اگر کوئی شوہر میں شریعت کے خلاف کوئی چیز دیکھے تو ادب سے منع کرنا۔
9. کسی کے سامنے شوہر کے عیب بیان نہ کرنا اور نہ شوہر کے سامنے زبان درازی کرنا۔
10. شوہر کے عزیز و اقارب سے لڑائی جھگڑا نہ کرنا۔
11. اگر کوئی شرعی عذر نہ ہو تو شوہر کے والدین کی خدمت کو سعادت سمجھنا۔
12. شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلنا۔
13. عورت اپنے ر ب کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک اپنے شوہر کا حق ادا نہ کرے۔
14. جس عورت کی موت اس حال میں آئے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو وہ عورت جنتی ہے۔
15. شوہر کے لیے بناؤ سنگھار کرنا اس کا حق ہے عورت کو اس پر اجر ملتا ہے۔
16. شوہر پر حضرت خدیجہ (س) کی طرح اپنا مال خرچ کرنا سعادت سمجھے۔
17. شوہر کو کوئی پریشانی پیش آجائے تو اس کو تسلی دے۔
18. شوہر کی خدمت محبت اور خلوص سے کرنا اپنی سعادت سمجھے۔
19. شوہر کو حرام کمائی سے بچانے کی فکر کرے۔
20. شوہر کے سامان اور گھر کو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کرے۔
21. شوہر کے آرام کا خیال کرے۔
22. شوہر کوئی سوال کرے تو مقصد سمجھنے کی کوشش کرے اور سوچ کر جواب دے۔
23. شوہر کی پکار پر فوراً جواب دے صرف اس بنا پر دیر نہ کرے کہ وہ خود ہی کر لیں گے۔
24. شوہر اگر مشورہ طلب کرے تو خلوص سے مشورہ دے۔
25. شوہر اگر غصہ ہو تو فوراً معافی مانگ کر اس کے مزاج کو ٹھنڈا کر دے۔
26. شوہر کے سامنے زبان درازی نہ کرے۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/2239
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 الله کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا (1) 🔷

کیا الله کے علاوہ کسی کو تعظیمی سجدہ کرنا جائز ہے؟

ہمارے ہاں بعض لوگ نظر آتے ہیں جو کربلا جا کر یا علم یا ذوالجناح وغیرہ کو سجدہ کرتے ہیں، پوچھا جائے تو کہتے ہیں جی یہ تو تعظیمی سجدہ ہے، مثال دیتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کو بھی فرشتوں نے سجدہ کیا ہے، اور یوسف علیہ السلام کو انکے بھائیوں نے سجدہ کیا ہے۔ اول تو یہ کہ آدم علیہ السلام کو جو سجدہ ہوا وہ الله ﷻ کے حکم سے تھا، ادھر کونسا حکم جاری کیا ہے الله ﷻ نے کہ سجدہ کرو قبور کو آئمہ علیہم السلام کی یا علم کو یا ذو الجناح کو وغیرہ، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ آدم علیہ السلام فرشتوں کے قبلہ تھے جس وجہ سے انہوں نے اس جانب سجدہ کیا۔ اور یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے سجدہ شکر کیا تھا نہ کہ خود یوسف علیہ السلام کو سجدہ کیا تھا۔ تو یہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔ مگر انکو چھوڑ بھی دیں تو آئیے دیکھتے ہیں معصومین علیہم السلام کیا فرماتے ہیں اس بارے میں۔۔۔

🔹 مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ (عَلَيْهِ السَّلام) أَنَّ قَوْماً أَتَوْا رَسُولَ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا رَأَيْنَا أُنَاساً يَسْجُدُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه) لَوْ أَمَرْتُ أَحَداً أَنْ يَسْجُدَ لأحَدٍ لأمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا.
ترجمہ:
محمد بن یحیی، جس نے احمد بن محمد سے جس نے ابن محبوب سے جس نے مالک بن عطیہ سے جس نے سلیمان بن خالد سے جس نے امام الصادق علیہ السلام سے روایت کی، فرمایا کہ کچھ لوگ رسول الله ص کے پاس آئے اور فرمایا: یا رسول الله ص! ہم کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں جو ایک دوسرے کو سجدہ کرتے ہیں۔ رسول الله ص نے فرمایا: اگر میں کسی ایک کو حکم دیتا کہ وہ کسی ایک کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (1)

علامہ مجلسی: حدیث صحیح ہے۔ (مرآة العقول / 20 / 320)

روایت سے معلوم ہوا کہ کسی کا بھی کسی کو سجدہ کرنا جائز ہی نہیں ہے۔ خواہ آپ اسکو تعظیمی کا نام ہی کیوں نہ دیدیں۔

🔹 مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي قِبْلَةً وَ لَا مَسْجِداً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ لَعَنَ الْيَهُودَ- حَيْثُ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ۔
ترجمہ:
محمد بن علی بن حسین علیہ السلام نے فرمایا: رسول الله ص نے فرمایا: میری قبر کو قبلہ نہ بنانا اور نہ مسجد (سجدے کی جگہ)، کیونکہ الله ﷻ نے یھود و نصاری پر لعنت کی جب انہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو مساجد بنایا۔ (2)
مسجد کا مطلب ہے سجدہ کرنے کی جگہ۔

🔹 ایک توقیع امام مھدی عج سے قبر کو سجدہ کرنے کے بابت:
وَقَرَأْتُ التَّوْقِيعَ وَمِنْهُ نَسَخْتُ أَمَّا السُّجُودُ عَلَى الْقَبْرِ فَلَا يَجُوزُ فِي نَافِلَةٍ وَ لَا فَرِيضَةٍ وَ لَا زِيَارَةٍ۔
ترجمہ:
اور میں نے توقیع پڑھی اور اس میں سے میں نے نقل کیا تھا کہ جہاں تک قبر پر سجدہ کرنے کی بات ہے تو وہ جائز نہیں نافلہ نماز میں اور نہ فرض نماز میں اور نہ زیارت میں۔ (3)

علامہ مجلسی: حدیث حسن ہے صحیح کی مانند۔ (ملاذ الأخيار / 4 / 238)

🔹 شیخ طوسی کہتے ہیں:
ولا يجوز السّجود إلّا على الأرض أو ما أنبتته الأرض، إلّا ما أكل أو لبس، ولا يجوز السّجود على القبر۔
ترجمہ:
سجدہ جائز نہیں سوائے زمین پر یا جو زمین سے اگتا ہو، اور کھایا اور پہنا نہ جاتا ہو، اور سجدہ قبر پر جائز نہیں۔ (4)

🔹 نعمت اللہ جزائری:
وكذلك لا يجوز السجود على القبر۔
ترجمہ:
اور ایسے ہی سجدہ جائز نہیں قبر پر۔ (5)

🔹 سید خوئی:
(مسألة ٢٤): يحرم السجود لغير الله (١) - تعالى - فإنه غاية الخضوع فيختص بمن هو غاية الكبرياء والعظمة وسجدة الملائكة لم تكن لآدم بل كان قبلة لهم، كما أن سجدة يعقوب وولده لم تكن ليوسف بل لله - تعالى - شكرا حيث رأوا ما أعطاه الله من الملك، فما يفعله سواد الشيعة من صورة السجدة عند قبر أمير المؤمنين وغيره من الأئمة (ع) مشكل، إلا أن يقصدوا به سجدة الشكر لتوفيق الله لهم لادراك الزيارة. نعم لا يبعد جواز تقبيل العتبة الشريفة.
ترجمہ؛
مسئلہ 24: غیر الله تعالی کو سجدہ کرنا حرام ہے۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔

⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 الله کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنا (2) 🔷

بقیہ حصہ ۔۔۔

مسئلہ 24: غیر اللہ تعالٰی کو سجدہ کرنا حرام ہے کیونکہ وہ خضوع کا سب سے اونچا درجہ ہے اور وہ مختص ہے اس کیلئے جسکے پاس کبریائی و عظمت کا سب سے اونچا درجہ ہے۔ اور فرشتوں کا سجدہ آدم ع کیلئے نہیں تھا بلکہ وہ تو ان کیلئے قبلہ تھے۔ جیسے کہ یعقوب ع اور انکی اولاد کا سجدہ یوسف ع کیلئے نہیں تھا بلکہ الله کیلئے تھا شکر کی وجہ سے جب انہوں نے وہ دیکھا جو الله نے ملک میں سے انکو دیا ہے۔ جو شیعہ سجدے کی صورت میں کرتے ہیں امیر المومنین ع اور باقی آئمہ ع کی قبر کے پاس اس میں اشکال ہے۔ مگر یہ کہ وہ سجدہ شکر کی غرض سے ہو اس توفیق کیلئے جو الله نے انکو دی ہے زیارت پانے کی۔ ہاں، کوئی بعید نہیں بوسہ کرنے کے جواز میں (انکے روضے کے) عتبہ شریف کو۔ (6)

🔹 بعض روایات کے مطابق تو سجدہ آدم ع کو تھا ہی نہیں، بلکہ وہ صرف ایک قبلہ تھے اور سجدہ الله کو تھا، جیسے ہمارے لئے کعبہ ایک قبلہ ہے اور ہم درحقیقت الله کو سجدہ کرتے ہیں لیکن کعبہ کو قبلہ بنا کر۔ اس پر یہ روایت ہے:

لَمْ يَكُنْ سُجُودُهُمْ لآِدَمَ إِنَّمَا كَانَ آدَمُ قِبْلَةً لَهُمْ يَسْجُدُونَ نَحْوَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ كَانَ بِذَلِكَ مُعَظَّماً مُبَجَّلًا وَ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ مِنْ دُونِ اللَّهِ يَخْضَعُ لَهُ كَخُضُوعِهِ لِلَّهِ وَيُعَظِّمُهُ بِالسُّجُودِ لَهُ كَتَعْظِيمِهِ لِلَّهِ۔
ترجمہ:
امام عسکری ع: اور فرشتوں کا سجدہ آدم ع کیلئے نہیں تھا، آدم ع تو صرف قبلہ تھے ان کیلئے جسکی طرف وہ سجدہ کر کے الله عز و جل کو کر رہے تھے۔ اور وہ اس سے ان کیلئے عزت کرتے ہوئے اور تسبیح کیلئے تھا، اور کسی کیلئے مناسب نہیں کہ وہ کسی کو سجدہ کرے الله کے سوا اور نہ الله کے خضوع کا خضوع کسی اور کو کیا جائے اور نہ کسی کی تعظیم کی جائے سجود کے ساتھ اسکی الله کیلئے تعظیم کی طرح۔ (7)

اس ہی باب کی ایک اور روایت:

(٨٢٥٣) ٤ - وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ أَنَّ زِنْدِيقاً قَالَ لَهُ أَ فَيَصْلُحُ السُّجُودُ لِغَيْرِ اللَّهِ قَالَ لَا قَالَ فَكَيْفَ أَمَرَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ بِالسُّجُودِ لآِدَمَ- فَقَالَ إِنَّ مَنْ سَجَدَ بِأَمْرِ اللَّهِ فَقَدْ سَجَدَ لِلَّهِ فَكَانَ سُجُودُهُ لِلَّهِ إِذَا كَانَ عَنْ أَمْرِ اللَّهِ.
ترجمہ؛
امام صادق ع سے ایک طویل حدیث میں ایک زندیق نے امام ع سے کہا: کیا غیر الله کو سجدہ کرنا ٹھیک ہے؟ امام ع نے فرمایا: نہیں۔ تو اس نے کہا: تو الله نے فرشتوں کو کیسے حکم دیا کہ آدم ع کو سجدہ کریں؟ امام ع نے فرمایا: جس نے الله کے حکم سے سجدہ کیا تو اس نے الله کو سجدہ کیا، تو انکے سجدے الله کیلئے تھے جب وہ الله کے حکم سے تھے۔ (8)

🔹 وسائل الشیعہ میں مکمل باب ہے: 27- بَابُ عَدَمِ جَوَازِ السُّجُودِ لِغَيْرِ اللَّهِ وَ أَحْكَامِ سُجُودِ التِّلَاوَةِ وَ سَجْدَةِ الشُّكْرِ

باب 27: غیر الله کو سجدہ کرنے کا عدم جواز اور تلاوت کے سجدوں اور سجدہ شکر کے احکام۔۔۔ نہ ہی “تعظیمی سجدے” کا کوئی تصور موجود ہے غیر الله کو نہ کسی امام علیہ السلام نے حکم دیا تو ہم کس وجہ سے کریں۔ بلکہ آئمہ علیہم السلام نے جسکو سجدہ کیا اور سب جس ذات کو سجدہ کرتے ہیں اس ہی کو سجدہ کیا جائے گا۔ جیسے الله ﷻ فرماتا ہے:

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ ۖ
ترجمہ:
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہر چیز الله ﷻ کو سجدہ کر رہی ہے خواہ وہ آسمانوں میں ہے یا زمین میں۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بہت سارے انسان بھی۔۔۔ (9)

أحقر: سيد علي أصدق نقوی

📚 مآخذ:
(1) الكافي، ج 5، ص 508۔
(2) من لا يحضره الفقيه، رقم الحديث: 532۔
(3) تهذيب الأحكام، ج 2، ص 228۔
(4) النهاية للطوسي، ص 101۔
(5) الفقه على المذاهب الأربعة ومذهب أهل البيت، ج 1، ص 338۔
(6) كتاب الصلاة، ج 4، ص 257 و 258۔
(7) الإحتجاج، ج 1، ص 63، مناقب آل أبيطالب، ج 1، ص 183۔ وسائل الشيعة، الرقم: 8256۔
(8) وسائل الشيعة، الرقم: 8253۔
(9) سورہ الحج، آیت 18۔

http://t.me/islamwitheman/1175
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 ابتدائے نسل کی کیفیت (عربی) 🌹

أبى رحمه الله قال: حدثنا محمد بن يحيى العطار، عن الحسين بن الحسن ابن أبان، عن محمد بن أورمة، عن النوفلي، عن علي بن داود اليعقوبي عن الحسن بن مقاتل، عمن سمع زرارة يقول سئل أبو عبد الله عليه السلام عن بدء النسل من آدم كيف كان وعن بدء النسل عن ذرية آدم فان أناسا عندنا يقولون إن الله عز وجل أوحى إلى آدم يزوج بناته ببنيه وان هذا الخلق كله أصله من الاخوة والأخوات؟ فقال أبو عبد الله عليه السلام: تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا
يقول من قال هذا بان الله عز وجل خلق صفوة خلقه وأحبائه وأنبيائه ورسله والمؤمنين والمؤمنات والمسلمين والمسلمات من حرام ولم يكن له من القدرة ما يخلقهم من حلال وقد أخذ ميثاقهم على الحلال الطهر الطاهر الطيب، فوالله لقد تبينت ان بعض البهائم تنكرت له أخته فلما نزا عليها ونزل كشف له عنها فلما علم أنها أخته أخرج عزموا له ثم قبض عليه بأسنانه حتى قطعه فخر ميتا، وآخر تنكرت له أمه ففعل هذا بعينه فكيف الانسان في انسيته وفضله وعلمه، غيران جيلا من هذا الخلق الذي ترون رغبوا عن علم أهل بيوتات أنبيائهم وأخذوا من حيث لم يؤمروا بأخذه فصاروا إلى ما قد ترون من الضلال والجهل بالعلم، كيف كانت الأشياء الماضية من بدء ان خلق الله ما خلق وما هو كاين أبدا، ثم قال ويح هؤلاء أين هم عما لم يختلف فيه فقهاء أهل الحجاز ولا فقهاء أهل العراق ان الله عز وجل أمر القلم فجرى على اللوح المحفوظ بما هو كاين إلى يوم القيامة قبل خلق آدم بألفي عام وان كتب الله كلها فيما جرى فيه القلم في كلها تحريم الأخوات على الاخوة مع ما حرم وهذا نحن قد نرى منها هذه الكتب الأربعة المشهورة في هذا العالم: التوراة والإنجيل والزبور والفرقان، أنزلها الله عن اللوح المحفوظ عن رسله صلوات الله عليهم أجمعين، منها التوراة على موسى (عليه السلام) والزبور على داود (عليه السلام) والإنجيل على عيسى (عليه السلام) والقرآن على محمد صلى الله عليه وآله وسلم وعلى النبيين عليهم السلام، وليس فيها تحليل شئ من ذلك، حقا أقول ما أراد من يقول هذا وشبهه إلا تقوية حجج المجوس فما لهم قاتلهم الله، ثم أنشأ يحدثنا كيف كان بدء النسل من آدم وكيف كان بد النسل من ذرية، فقال: ان آدم عليه السلام ولد له سبعون بطنا في كل بطن غلام وجارية إلى أن قتل هابيل، فلما قتل قابيل هابيل جزع آدم على هابيل جزعا قطعه عن اتيان النساء فبقي لا يستطيع ان يغشى حواء خمسمائة عام ثم تخلى ما به من الجزع عليه فغشي حواء فوهب الله له شيئا وحده ليس معه ثان، واسم شيث هبة الله وهو أول من أوصى إليه من الآدميين في الأرض، ثم ولد له من بعد شيث يافث ليس معه ثان فلما أدركا وأراد الله عز وجل ان يبلغ بالنسل ما ترون وأن يكون ما قد جرى به القلم من تحريم ما حرم الله عز وجل من الأخوات على الاخوة انزل بعد العصر في يوم الخميس حوراء من الجنة اسمها (نزلة) فأمر الله عز وجل آدم ان يزوجها من شيث فزوجها منه، ثم أنزل بعد العصر حوراء من الجنة اسمها (منزلة) فأمر الله تعالى آدم ان يزوجها من يافث فزوجها منه فولد لشيث غلام وولدت ليافث جارية فأمر الله عز وجل آدم حين أدركا ان يزوج بنت يافث من ابن شيث ففعل فولد الصفوة من النبيين والمرسلين من نسلهما ومعاذ الله أن يكون ذلك على ما قالوا من الاخوة والأخوات.

📚 علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج ١ - الصفحة ١٧۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 ابتدائے نسل کی کیفیت 🌹

حضرت آدم علیہ السلام کی نسل آگے کیسے چلی؟

حسن بن مقاتل نے کسی ایک شخص سے جس نے یہ روایت سنی وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نسل آدم علیہ السلام کی ابتداء کے متعلق سوال کیا گیا کہ وہ کیسے چلی اسلئے کہ ہمارے وہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ الله تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو وحی کی کہ تم اپنے لڑکوں کا نکاح اپنی لڑکیوں سے کردو اور یہ سارے انسانوں کی اصل بھائی بہنوں کا نکاح ہیں.
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ الله تعالیٰ اس سے بہت بالاتر ہے اور جو یہ کہتا ہے وہ اس بات قائل ہے کہ الله تعالیٰ اپنے بندوں اپنے دوستوں کو اپنے انبیاء کو اپنے رسولوں کو مومنین و مومنات کو مسلمین اور مسلمات کو حرام سے پیدا کیا. اور اس میں اتنی قدرت نہ تھی کہ وہ ان لوگوں کو حلال سے پیدا کرے حالانکہ اس نے ان لوگوں سے حلال و طاہر پر عہد و پیمان لیا ہے اور خدا کی قسم یہ بات منکشف ہوئی ہے کہ بعض جانور ایسے بھی ہے کہ انہوں نے اپنی بہن کو نہیں پہچانا اور جفتی کھائی اور جب انکو معلوم ہوا کہ یہ ان کی بہن تھی. تو انہوں نے اپنا عضو تناسل نکالا اور اپنے دانتوں سے کاٹ کر پھینک دیا اور مرگئے.
اور دوسرے جانور کے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ اس نے اپنے ماں کو نہیں پہچانا اور اس سے یہی حرکت کر بیٹھا مگر بعد میں جب اسے معلوم ہوا کہ اسکی ماں تھی تو اس نے بھی ایسا ہی کیا. پھر بھلا انسان جو انسان ہے جانور نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے اسے علم و فضل عطا کیا ہے اس کے لیے یہ بات کب جائز ہے سنو اصل بات یہ ہے کہ.
کہ انسانوں کا ایک گروہ اہلبیت نبوت سے منہ موڑے ہوئے ہے اور علم وہاں سے لیتا ہے جہاں سے اسے علم لینے کا حکم نہیں اسلئے وہ لوگ اس پستی پر پہنچ گئے جو تم دیکھ رہے ہو کہ یہ جہالت و گمراہی میں مبتلا ہیں حقیقتاً ماضی میں ابتدائے خلقت سے جو اشیاء کا نظام قائم ہے وہی مستقبل میں تا ابد قائم رہے گا.
پھر آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں پر افسوس کہ وہ اس حدیث کو کیوں بھولے ہوئے ہیں کہ جس پر فقہائے اہل عراق کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت سے دو ہزار سال پہلے قلم کو حکم دیا جو لوح محفوظ پر جاری ہوا اور قیامت تک جو ہونے والا ہے اسکو لکھا گیا اور قلم قدرت نے جو کچھ بھی لوح محفوظ پر لکھا جن جن باتوں کو حرام لکھا اس میں یہ بھی لکھا کہ بہنیں اپنے بھائیوں پر حرام ہیں اور ہم لوگ ان میں سے چار کتابوں کو تو اس عالم میں دیکھ ہی رہے ہیں۔
توریت و انجیل و زبور اور قرآن جو اللہ نے لوح محفوظ سے اپنے رسولوں پر نازل فرمائیں. توریت حضرت موسیٰ علیہ السلام پر زبور داؤد علیہ السلام پر انجیل حضرت عیسٰی علیہ السلام پر اور قرآن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ان کتابوں میں یہ چیز کہیں بھی حلال نہیں ہے۔
میں سچ کہتا ہوں کہ جو لوگ یہ بات یا اس کے مثل جو بات کہتے ہیں وہ مجوسیوں کی دلیلوں کو تقویت دیتے ہیں اللہ ان کو موت دے ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے.
پھر آپ نے بتانا شروع کیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی نسل کی ابتداء کیوں کر ہوئی کہ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ستر پیٹوں سے ہوئی اور ہر پیٹ سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئی یہاں تک کہ ہابیل قتل ہو گئے اور قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تو حضرت آدم علیہ السلام کو ہابیل کے قتل کا بہت غم ہوا اور اس غم میں انہوں نے عورت کے پاس جانا چھوڑ دیا. اور پانچ سو سال تک حضرت حوا سلام اللہ علیہا سے کنارہ کش رہے اسکے بعد جب غم دور ہوا تو حضرت حوا سے مباشرت فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے انکو شیث عطا کیا اور انکے ساتھ کوئی اور پیدا نہ ہوا شیث ہی نام هبتة الله ہے انسانوں میں یہ پہلے وصی ہے روئے زمین پر پھر شیث کے بعد دوسری مرتبہ پیٹ سے یافث پیدا ہوئے اور وہ بھی تنہا پیدا ہوئے انکے ساتھ کوئی پیدا نہیں ہوا. اور پھر دونوں بڑے اور بالغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کی نسل پڑھے اور چونکہ قلم قدرت لوح محفوظ پر لکھ چکا تھا کہ بھائی پر بہن حرام ہے۔
لہذا اللہ نے پنجشبہ کے دن بعد عصر ایک حور نازل کی جس کا نام نزلة تھا اللہ تعالیٰ نے آدم کو حکم دیا کہ اسکا نکاح شیث سے کردو اور اسکے بعد دوسرے دن بعد عصر ایک حوریہ نازل کی جسکا نام منزلة تھا الله تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو حکم دیا کہ اسکا نکاح یافث سے کردو۔ اب شیث کا ایک لڑکا پیدا ہوا اور یافث کی لڑکی پیدا ہوئی جب دونوں جوان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو حکم دیا کہ یافث کی لڑکی کا نکاح شیث کے لڑکے سے کردو۔ حضرت آدم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا پھر انہی دونوں کی نسل سے اللہ کے مختلف انبیاء و مرسلین پیدا ہوئے اور یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ بھائی بہن کی شادی ہوئی اور اسے سب پیدا ہوئے معاذ اللہ۔ (الله کی پناہ)

📚 علل الشرائع - الشيخ الصدوق - ج ١ - الصفحة ١٧۔

https://t.me/islamwitheman/2244
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌸 خوش رہنا 🌸

ماہرین کہتے ہیں آپ کے آس پاس کے حالات پر آپ کا اختیار صرف ١٠ فیصد ہوتا ہے لیکن خوش رہنے کا ٩٠ فیصد اختیار آپ کے اپنے پاس ہے، خوش رہنا ایک آرٹ ہے۔ اس آرٹ کو سکھانے والے ماہرین چند سائنسی تحقیق پر ثابت شدہ ٹپس بتاتے ہیں، ضروری نہیں سب آپ کے کام کی ہوں مگر ٹرائی ضرور کیجئے کوئی ایک ضرور کام کرے گی۔

1.دن میں ایک بار اپنی دستیاب نعمتیں شمار کر کے لکھ لیں۔

2. رات میں چھ سے آٹھ گھنٹے بھرپور نیند لیں اور دوپہر میں بیس سے تیس منٹ آرام ضروری ہے۔

3. ہفتے میں کم از کم تین بار گھر کے سب افراد کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں۔

4. گھر کے اندر کچن گارڈن بنائیں دن کا کچھ وقت پودوں کے ساتھ گزاریں۔

5. پانچ سے سات منٹ ہلکی ورزش کیجیے۔

6. دن میں کسی نہ کسی کی مدد ضرور کریں۔

7. زرا سی اداسی آنے پر وضو کر لیں۔

8. اپنی پسند کی خوشبو لگائیں۔

9. پانی زیادہ پئیں کم از کم تین لیٹر جب اداس ہوں تو دو گلاس پئیں۔

10. "نو کمپلین ڈے" بنائیں، آج کسی سے کوئی شکایت نہیں پھر دن بڑھاتے جائیں، نو کمپلین ویک، نو کمپلین منتھ۔

11. گھر میں دفتر میں جدت طرازی کی مہم چلائیں، ہر روز ماحول میں کچھ تبدیلی کی کوشش کریں، گھر میں موجود سامان کی ترتیب بدلتے رہا کریں۔

12. خاندان، دوست احباب، رشتہ داروں کو فون کریں۔ ان کے دکھ درد میں حوصلہ دیں اور خوشیوں پر کھل کر مبارکباد پیش کریں۔

13. مہینے میں دو بار دعوت کریں، کبھی رشتے داروں کو، کبھی دوست احباب کو کبھی اپنے بچوں کے دوستوں کو دعوت پر بلائیں۔

14. لوگ کیا کہیں گے..! یہ سوچنا چھوڑ دیں۔

15. اپنی زندگی کا سب سے خوشگوار دن یاد کیجئے اور ایسا زندگی بھر ہر روز کیا کیجیے, چھوٹی سی چھوٹی خوشی کو یاد کریں، یہ یادیں آپ کو سارا دن خوش رکھیں گی۔

16. صدقہ دیں اور سب سے آسان صدقہ مسکراہٹ ہے، ہلکی سی ایک مسکراہٹ تیز دھوپ میں بادل کے ٹکڑے کی طرح دل کو تروتازہ کردیتی ہے، خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔

17: پانچوں نمازیں وقت پر ادا کریں۔

https://t.me/islamwitheman/2210
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 نماز کے اوقات در قرآن 🔷


نماز کے اوقات کے بارے ميں قرآن مجيد کا کيا نظريہ ہے؟
اس مسئلے کي حيرت انگيزي يہ ہے کہ قرآن کي دو آيتوں ميں جب اوقات نماز کے تعين کا موقع آتا ہے، صرف تين اوقات يوميہ نمازوں کے لئے قرار ديئے جاتے ہيں، اس کے باوجود باعث تعجب ہے کہ ان برادران ميں سے بعض پانچ اوقات ميں وجوب نماز پر زور ديتے ہيں؟

پانچ اوقات ميں نماز کي ادائيگي کي فضيلت ناقابل انکار ہے۔ ہميں جب بھي توفيق ملے پانچ اوقات کا لحاظ رکھتے ہيں، مگر بحث پانچ اوقات ميں نماز کے وجوب کے حوالے سے ہے۔

پہلي آيت سورہ ہود ميں ہے۔ ارشاد خداوندي ہے:﴿وَأَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ﴾(۱)۔
ترجمہ: "اور دن کے دو اطراف کے حصوں ميں اور رات کے کچھ حصوں ميں نماز ادا کرو۔"
"طَرَفَيِ النهارِ" سے نماز فجر کي طرف اشارہ ہے جو دن کے آغاز ميں ادا کي جاتي ہے اور ظہر و عصر کي نمازوں کي طرف اشارہ ہے جن کا وقت غروب آفتاب تک ہے۔ بالفاظ ديگر اس آيت سے نماز ظہر و عصر کے وقت کا مغرب تک جاري رہنا، بخوبي سمجھا جاسکتا ہے۔
اب ديکھتے ہيں کہ "زُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ" سے کيا مراد ہے؟
اس بات کو مدنظر رکھتے ہيں کہ "مختارالصحاح" اور "مفردات راغب" کے مطابق "زُلَف"، "زُلَفہ" کي جمع ہے جس سے ابتدائے شب کے کچھ حصے مراد لئے جاتے ہيں اور يہ درحقيقت نماز مغرب و عشاء کي طرف اشارہ ہے۔

چنانچہ اگر رسول اللہ (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) يوميہ نمازيں معمول کے مطابق، پانچ الگ الگ اوقات ادا کرتے تھے تو يقيني طور پر فضيلت کا پہلو آپ(ص) کے مدنظر تھا، اور ہم پانچ اوقات کي فضيلت کے قائل ہيں۔ پس ہم آيات کے ظاہري معني و مفہوم کو نظرانداز کرکے ديگر تأويلات کا دامن کيوں تھاميں؟!
دوسري آيت سورہ اسراء (بني اسرائيل) ميں ہے جہاں ارشاد رباني ہے:
﴿أَقِمِ الصَّلاَةَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْهُوداً﴾(٢)۔ترجمہ: "نماز برپا کرو زوال آفتاب سے رات ڈھلنے تک اور صبح کا قرآن (يا صبح کا پڑھنا (نماز فجر))پڑھئے يقيناً صبح کا پڑھنا (نماز فجر) مشاہدہ کرنے والوں (رات اور دن کے فرشتوں) کے لئے مشہود ہے"۔ [يعني رات کے فرشتے بھي اور دن کے فرشتے بھي نماز فجر کا مشاہدہ کرتے ہيں]۔
"دُلوک" ايک طرف جھکنے اور مائل ہونے کو کہا جاتا ہے اور يہاں "دُلوک" سے مراد آفتاب کا نصف النہار کي فرضي لکير سے مغرب کي طرف مائل ہونا اور زوالِ ظہر کا آغاز ہے۔
"غَسَقُ اللَّيْل" رات کے اندھيرے کو کہا جاتا ہے اور بعض لوگوں نے اس کو آدھي رات سے تعبير کيا ہے کيونکہ جيسا کہ راغب نے مفردات القرآن ميں لکھا ہے "غسق" سے رات کے اندھيرے کي شدت مراد ہے جو وہي نصف شب کا وقت ہے۔
چنانچہ "دلوک" سے وقت نماز کے آغاز اور ظہر کي طرف اشارہ ہے اور "غَسَقُ اللَّيْل" نماز مغرب و عشاء کے بعد کے اوقات کي جانب اشارہ ہے اور "قرآن الفجر" سے نماز صبح کي طرف اشارہ ہے۔
بہرحال اس آيت شريفہ ميں يوميہ نمازوں کے لئے تين اوقات بيان ہوئے ہيں اور يہ تين اوقات پنجگانہ نمازوں کي بجاآوري کے جواز کي دليل ہے۔
اس آيت کي تفسير ميں فخر رازي کا بيان دلچسپ ہے؛ کہتے ہيں: "إن فسرنا الغسق بظهور أوّل الظلمة ـ و حکاه عن ابن عبّاس و عطا و النضر بن شميل ـ کان الغسق عبارة عن أول المغرب و على هذا التقدير يکون المذکور فى الاية ثلاث اوقات وقت الزوال و وقت أول المغرب و وقت الفجر، و هذا يقتضى أن يکون الزوال وقتاً للظهر و العصر فيکون هذا الوقت مشترکاً بين الصلوتين و أن يکون أول المغرب وقتاً للمغرب والعشاء فيکون هذا الوقت مشترکاً أيضاً بين هاتين الصلوتين فهذا يقتضى جواز الجمع بين الظهر والعصر و المغرب و العشاء مطلقاً"(۳)۔ ترجمہ: "ہرگاہ ہم "غسق" سے رات کے اندھيرے کا آغاز مراد ليں ـ جس کے ابن عباس، عطاء اور نضر بن شميل بھي قائل ہوئے ہيں ـ غسق سے وقت مغرب کا آغاز ہے، اس لحاظ سے نماز کے لئے تين اوقات بيان ہوئے ہيں: وقت زوال، وقت مغرب اور وقت فجر۔"
فخر رازي اپني بات جاري رکھتے ہوئے لکھتے ہيں: "اس (بيان اوقات) کا تقاضا يہ ہے کہ زوال ظہر اور عصر(دونوں) کا وقت ہو۔ پس يہ وقت ان نمازوں کا مشترکہ وقت ہے۔ نيز اولِ مغرب "نماز مغرب اور نماز عشاء" کا وقت ہے۔ چنانچہ ان دو نمازوں کا وقت بھي مشترک ہے۔ اور ان سب کا نتيجہ يہ ہے: نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو جمع کرکے ادا کرنا، مطلقاً جائز ہے۔"
فخر رازي يہاں تک کا راستہ اچھے انداز ميں طے کرتے ہيں اور آيت کے مفہوم کا بخوبي ادراک کرتے ہيں اور اس کو خوب بيان کرتے ہيں مگر اپنا بيان جاري رکھتے ہوئے کہتے ہيں: چونکہ عذر اور سفر کے بغير دو نمازوں کو اکٹھا پڑھنا جائز نہيں ہے، لہذا آيت کو حالت عذر سے محدود (و مشروط) کرديتے ہيں(۴)(اور اس عمل پر عمل نہ کرنے ميں اپنے آپ کو معذور قرار ديتے ہيں)۔
فخرالدين رازي کو اس بات کی يادآوری کرانی پڑے گي کہ نہ صرف اس بات کي کوئي دليل نہيں ہے کہ آيت کو "
حالت عذر" سے محدود و مشروط کيا جائے، بلکہ ہمارے پاس متعدد روايات موجود ہيں ـ جن کا ذکر گذر گيا ـ کہ رسول اللہ(صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم)نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو بغير کسی عذر اور بغير سفر کے اکٹھا کر کے ادا کيا کرتے تھے، تا کہ امت کو وسعت و رخصت اور سہولت و آساني ہو اور افراد امت اس رخصت و اجازت سے استفادہ کرسکيں۔ علاوہ ازيں آيت کے اطلاق کو کيونکر بہت ہي محدود مسائل سے مختص کيا جاسکتا ہے؟ حالانکہ علم اصول کے قواعد کے مطابق "اکثر کي تخصيص جائز نہيں ہے"(اور ايک آيت ميں اتنے تفصيلي حکم کو ايک چھوٹي سي چيز سے محدود نہيں کيا جاسکتا)۔
اور بہرحال نماز کے تين اوقات کے بيان کے حوالے سے آيت کے واضح مفہوم کو کسی صورت ميں نظر انداز نہيں کيا جاسکتا۔

📚 منابع اور مآخذ
۱) سوره هود، آيہ ۱۱۴۔
٢) سوره اسراء، آيہ ۷۸۔
۳) تفسير کبير فخر رازى، جلد ٢۱، صفحہ ٢۷۔
۴) تفسير کبير فخر رازى، جلد ٢۱، صفحہ ٢۷۔
------------------------------
ماخذ: شيعہ جواب ديتے ہيں، آية الله مکارم شيرازي۔

https://t.me/islamwitheman/2048
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹عشرہ مبشرہ (روایت) کی حقیقت 🌹

زبردست ریفرینس کے ساتھ علمی پوسٹ خود مولا علی علیہ السلام کے فرمان عالی شان کے مطابق۔

مصداق باب العلم مولائے کائنات علی ابن ابی طالب (ع) نے بنو امیہ کی خانہ ساز فیکٹریوں کی خود ساختہ روایت کے پرخچے اڑا دیئے۔ عشرہ مبشرہ کی روایت کا جواب مولا علی (ع) کی زبانی۔۔۔

جب مولا علی علیہ السلام نے اھل بصرہ سے جنگ جمل میں ملاقات کی تو زبیر کو طلب فرمایا۔ وہ طلحہ کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام کے سامنے آئے۔ مولا علی علیہ السلام نے فرمایا:
خدا کی قسم ۔۔۔!!
تم دونوں اصحاب و عائشہ (زوجہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ۔وسلم) سب جانتے ھو کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب جمل پر لعنت کی ھے اور انکو حواب کے کتوں کے بھونکنے کی وعید دی ھے اور وہ ذلیل اور رحمت حق سے نا امید ھیں۔ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر افتراء کرتا ھے۔

زبیر نے کہا:
ھم کسطرح ملعون ھیں حالانکہ ھم اھل بہشت سے ھیں۔

مولا علی علیہ السلام نے فرمایا:
اگر میں تم کو اھل بہشت میں سے جانتا تو تم سے کبھی بھی جنگ کرنا حلال نہ سمجھتا۔

زبیر نے کہا:
کیا آپ نے سعید بن عمرو بن عاص بن نفیل کی وہ حدیث نہیں سنی جو اسنے روایت کی ھے کہ قریش کے دس افراد اھل بہشت میں سے ھیں۔

مولا علیہ السلام نے فرمایا:
میں نے یہ حدیث خود اس سے سنی ھے۔ اس نے عثمان سے انکی خلافت کے زمانے میں نقل کیا ھے۔

زبیر نے کہا:
کیا آپ گمان کرتے ھیں کہ اسنے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر افتراء کیا ھے؟

مولا (ع) نے فرمایا:
میں تمہارا جواب نہ دوں گا جبتک یہ بیان نہ کرو گے کہ وہ دس افراد کون ھیں۔

زبیر نے کہا:
وہ ابوبکر، عمر، عثمان، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، ابو عبیدہ بن جراح اور سعید بن عمرو بن نفیل ھیں۔

مولا (ع) نے فرمایا:
یہ تو نو ھیں۔ دسواں کون ھے؟
تو زبیر نے کہا: دسویں آپ ھیں۔

مولا (ع) نے فرمایا:
کہ تم نے میرے اھل بہشت ھونے کا اقرار کیا اور جو تم اپنے اور اپنے دوستوں کا اھل بہشت ھونے کا دعویٰ کرتے ھو میں نہیں کہتا اور نہ میں مانتا ھوں۔

زبیر نے کہا:
کیا آپ گمان کرتے ھیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھا ھے۔؟

مولا ؑ نے فرمایا:
گمان ھی نہیں بلکہ یقین سے جانتا ھوں کہ اس نے رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر افتراء کیا ھے۔ اور خدا کی قسم ان میں سے بعض جنکے تم نے نام لیے ھیں جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں اس صندوق میں ھوں گے جو وہاں کے ایک درے کے ایک کنویں میں ھے اور اس کنویں کے منہ پر ایک پتھر ھے کہ جب خدا چاہتا ھے کہ جہنم کو روشن اور مشتعل کرے تو اس پتھر کو اس کنویں کے منہ سے ہٹا دیتا ھے۔
میں نے یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ھے۔ اگر میں نے نہ سنا ھو تو خدا تمکو مجھ پر فتح یاب کرے اور میرا خون تمہارے ہاتھ سے بہائے اور اگر میں نے سنا ھے تو خدا مجھکو تم پر اور تمہارے ساتھیوں پر ظفر یاب فرمائے اور تمہاری روحوں کو جلد جہنم میں لے جائے۔

یہ سنکر زبیر اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آئے اور روتے جاتے تھے۔

(جاری ھے ۔۔۔۔۔ !!)

📚 حوالہ جات:
کتاب : حق الیقین اردو، علامہ محمد باقر مجلسی (رح)، ترجمہ: سید بشارت حسین، ناشر: مجلس علمی اسلامی پاکستان۔ جلد1، ص312، سطر11۔

التماس دعا: سید فاخر حسین رضوی

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 نماز پنجگانہ پڑھنے کی دلیل 🌹

♦حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے نماز پنجگانہ پڑھنے کی دلیل۔

💧🍁 نماز صبح
⭐صبح شیطان کی سرگرمی کا آغاز ہے جو بهی اس گهڑی میں نماز ادا کرے اور خود کو نسیم الہی کی فضا میں قرار دے شیطان کے شر سے امان میں رہے گا۔

‌💧🍁 نماز ظہر
⭐ ظہر تمام عالم خدا کی تسبیح کرتا ہے اور بری بات ہے کہ میری امت خدا کی تسبیح نہ کرے. نیز ظہر جہنمیوں کے جہنم میں جانے کا وقت ہے لہذا جو کوئی اس گھڑی مشغول عبادت ہو وہ جہنم سے بیمہ ہوجائیگا۔

💧🍁 نماز عصر
⭐عصر آدم و حوا کی خطا کا وقت ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ اس گهڑی نماز پڑهیں اور کہیں کہ ہم اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔

💧🍁 نماز مغرب
⭐مغرب حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ کے قبول ہونے کا لمحہ ہے اور ہم سب اس کے شکرانے کے لئے نماز ادا کریں۔

💧🍁 نماز عشاء
خداوند متعال نے نماز عشا کو میری امت کے لئے قبر کی روشنی و راحت قرار دیا ہے۔

📕 علل الشرایع، شیخ صدوق، ص 337۔

https://t.me/islamwitheman/2247
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕