ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
👁 نگاہیں نیچی رکھو 👁

شادی کے بعد دنیا کی دوسری عورتیں خوبصورت کیوں لگتی ہیں۔

ایک شخص ایک تجربہ کار عالم دین سے اپنا مسئلہ دریافت کرتے ہوئے کہنے لگا:
شروع شروع میں جب میری بیوی مجھے پسند آئی تھی تو اس وقت وہ میری نگاہ میں ایسی تھی جیسے اللہ تعالٰی نے اس دنیا کے اندر اس جیسا کسی کو بنایا ہی نہیں۔

اور جب میں نے اسے شادی کا پیغام دیا تو اس وقت میری نگاہ میں اس جیسی کئی ساری لڑکیاں تھیں۔

پھر جب میں نے اس سے شادی کر لی تو اس وقت اس سے زیادہ خوبصورت کئی لڑکیاں میری نظر سے گزریں۔

شادی کے چند سال گزرنے کے بعد مجھے ایسا لگنے لگا کہ دنیا کی تمام عورتیں میری بیوی سے زیادہ خوبصورت ہیں۔

شیخ نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب چیز نہ بتاؤں؟
اس آدمی نے جواب دیا: ہاں کیوں نہیں!
حضرت نے کہا: اگر تم دنیا کی ساری عورتوں سے شادی کر لو پھر بھی تمہیں ایسا لگے گا کہ گلی کوچوں میں پھرنے والے آوارہ کتے دنیا کی تمام عورتوں سے زیادہ خوبصورت ہیں۔

آدمی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا: حضرت! آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟
حضرت نے جواب دیا: اصل پریشانی تمہاری بیوی میں نہیں بلکہ اصل پریشانی یہ ہے کہ جب انسان کا دل لالچی ہو جائے، اس کی نگاہیں ادھر ادھر بھٹکنے لگیں اور انسان شرم و حیا سے عاری ہو جائے تو قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی بھی چیز اس کی آنکھوں کو نہیں بھر سکتی۔

سنو! تمہاری پریشانی یہ ہے کہ تم نگاہیں نیچی نہیں رکھ سکتے۔
کیا تم اپنی بیوی کو دوبارہ دنیا کی سب سے زیادہ خوبصورت عورت بنانا چاہتے ہو؟
اس آدمی نے جواب دیا: جی ہاں!
حضرت نے کہا: پھر تم اپنی نگاہیں نیچی رکھو۔

https://t.me/islamwitheman/2207
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 غذا کے فوائد🌹

1⃣ غذا کم یا زیادہ کھانا
حضرت پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں:
جو غذا کم کھاٸے اس کا بدن تندرست اور دل صاف ہوگا اور جو غذا زیادہ کھاٸے گا اس کا بدن بیمار اور دل سخت ہو جاٸیگا۔

2⃣ اللہ کی تقسیم پرراضی رہنا
غذا کھاتے وقت تمہیں معلوم ہو کہ حلال ہے یا حرام،
طعام کی ابتدا *بسم اللہ* سے کرو اور آخر میں *الحمداللہ* کہو اور اللہ تعالی کی تقسيم پر راضی ہو۔
اور اگر جو کھانا کھاتے وقت *بسم اللہ* نہ کہے تو شیطان سے 4 ہزار ملاٸکہ کہتے ہیں کہ تو بھی اس کیساتھ شامل ہوجا۔

3⃣ مسور کی دال
مولا امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
مسور کی دال مبارک اور مقدس ہے۔ دل میں رقت پیدا کرکے زیادہ آنسو پیدا کرتی ہے اسے 70 انبیا علیہ السلام نے برکت دی ہے۔

4⃣ نمک
🌺 پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں:
نمک غذاٶں کا سردار ہے۔
اے علی علیہ السلام! کھانے سے پہلے نمک کھایا کرو جو شخص کھانے کے اول و آخر میں نمک کھاٸے گا اللہ تعالی اس کو 70 قسم کی بیماریوں سے دور رکھے گا۔

🌺 مولا امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
نمک استعمال کرو یہ 70 بیماریوں کی دوا ہے جن میں سے کم ترین جذام، برص اور جنون ہیں۔

🌺 مولا امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
نمک 70 امراض کیلٸے شفا ہے۔ اگر لوگوں کو نمک کے تمام فوائد معلوم ہو جاٸیں تو وہ سواٸے نمک کے کسی اور چیز سے علاج ہی نہ کریں۔


5⃣ بنفشہ
مولا امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
🌺 بنفشہ کو باقی تیلوں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو اسلام کو دوسرے ادیان پر حاصل ہے۔

🌺 بنفشہ کا تیل لگاٶ کیونکہ روغن بنفشہ گرمیوں میں سرد اور سردیوں میں گرم ہے۔

6⃣ کدّو
مولا امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
جب تم سالن پکاٶ تو کدو زیادہ تر پکایا کرو، کیونکہ غم زدہ شخص کے دل کو تسلی فراہم کرتا ہے اور اس سے دماغ تروتازہ رہتا ہے۔

7⃣ گوشت
🌺 مولا امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
گوشت دنیا اور آخرت کے تمام کھانوں کا سردار ہے۔

🌺 مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
زیادہ گوشت کھانے سے بعض لوگوں پر بیماری کا اچانک حملہ ہوتا ہے جسکی وجہ سے انسان ناگہانی موت کا شکار ہوکر مرجاتا ہے۔
ناگہانی موت خون کی خرابی سے ہوتی ہے اور خون کی خرابی بھی زیادہ گوشت اور مرغن غذاٶں کے زیادہ کھانے سے لاحق ہوتی ہے۔

📚 بحوالہ۔
عیون اخبارالرضا۔ جلد٢
سپرمین ان اسلام۔
ہدیةالشیعہ۔
آدابِ اسلامی

انتخاب و ترتيب: بی۔اے نقوی

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حمل کے دوران تربیت 🌹

معصومین کی سیرت میں ایسے آداب اور سنتیں پائی جاتی ہیں جن پر ایام حمل میں عمل کیا جاتا تھا ۔ان آداب پر عمل بچے میں تربیت کا زمینہ فراہم کرتا ہے۔ ممکن ہے بچے کی تربیت میں بعض آداب کے اثرات ہمارے لیے واضح نہ ہوں یا تربیت میں ان کی تاثیر کم ہو لیکن بہرحال یہ وہ عوامل ہیں جو اولاد کی تربیت میں موثر ہیں۔

ان میں سے بعض آداب تربیت کے بعد والے مراحل کا زمینہ فراہم کرتے ہیں جبکہ بعض آداب مستقیم طور پر تربیتی اثرات کے حامل ہیں تربیت انہی جزئی تاثیرات کا مجموعہ ہے۔ اسلیے کہ تربیت ایسی چیز نہیں کہ ایک ہی بار فورا انجام پاجائے بلکہ ایک تدریجی امر ہے جو زمینہ کی فراہمی، مزاحم عوامل کی دوری، تربیتی احکام و آداب کی رعایت اور مناسب روشوں سے استفادہ کے ذریعہ وجود میں آتا ہے۔
یہ کام سائنسی نقطہ نظر سے بھی قابل توجیہ ہے
محققین نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ بچے نہ صرف ولادت کے بعد ہماری بات سنتے اور اپنے ذہن میں محفوظ کرتے ہیں بلکہ ولادت سے پہلے بھی اپنی ماں کے دل کی دھڑکن اور معدے میں غذا کی حرکت حتی باہر والی آوازیں مثلا ماں باپ یا اطراف میں رہنے والوں کی آوازوں سے اثر قبول کرتے ہیں۔ بچے ان آوازوں کی شناخت پیدا کرتے اور ولادت کے بعد ان سے مانوس ہوتے ہیں۔
بچے کا اپنی ماں کی آغوش میں آرام و سکون پانے کی ایک علت ماں کے دل کی دھڑکن سے مانوس ہونا ہے جو ولادت سے پہلے ماں کے پیٹ میں سنتا رہاہے۔ اسی بارے میں ایک تحقیق آئی ہے کہ
(ولادت سے پہلے) اپنے بچے کے ساتھ باتیں کریں اس کیلیے نغمے پڑھیں۔ جو بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں ہو اس کے لیے اچھی یادیں ایجاد کریں، تحقیقات سے یہ معلوم ہوتا ہے جو آوازیں بچوں نے ماں کے رحم میں سنی ہوں اور ان لوگوں کی آوازیں جنہوں نے اس سے باتیں کی ہوں اور اس کیلیےنغمے پڑھے ہوں بچے (ولادت کے بعد) وہ آوازیں سن کر عکس العمل دکھاتے ہیں۔ نوزاد بچے اپنے باپ کی آواز (اگر باپ نے ولادت سے پہلے ان سے باتیں کی ہوں) پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور وہ چیزیں جو بچے کی ماں نے ولادت سے پہلے اس کیلیے پڑھی ہوں انہیں بڑی آسانی سے یاد کر لیتے ہیں۔

✅ اسیطرح ایک اور تحقیق میں حمل کے آخری پانچویں اور چھٹے ہفتے میں چند بچوں کیلیے دن میں دو دفعہ ایک کیسٹ چلائی گئی جس میں انکی ماؤں کے ترانے ریکارڈ تھے۔ ولادت کیبعد وہ بچے ترجیح دیتے تھے کہ صرف اسی ترانے کو اپنی ماں سے سنیں اگرچہ دوسرا ترانہ انکی ماں ہی کیوں نہ پڑھے۔
ایک اور تحقیق میں بچے ترجیح دیتے تھے کہ دوسرے شخص کی نسبت ترانہ اپنی ماں سے سنیں یہ بات بھی دلیل ہے کہ وہ اپنی ماں کی آواز سے آشنا تھے۔

سید مرتضی علم الہدی سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا:
میں جب شیخ مفید کی کلاس میں حاضر ہوتا تو وہ فقہی مباحث بیان کرتے۔ مجھے یوں گمان ہوتا کہ میں نے انہیں پہلے پڑھا ہے جبکہ یہ پہلی بار تھا کہ میں اس کلاس میں جاتا تھا۔ یہی بات میں نے اپنی والدہ کو بتائی، انہوں نے کچھ دن فکر کرنے کیبعد مجھ سے پوچھا: ابھی فقہ کی کون سی بحث پڑھ رہے ہو؟ جب میں نے اس فقہی باب کا نام لیا تو والدہ نے کہا جب تم میرے شکم میں تھے ہمارے گھر میں آپ کے باپ نے چند افراد کو یہ بحث پڑھائی تھی۔ تیرے حافظہ نے ان مطالب کو حفظ کیا ہے۔

حمل کے دوران ماں کے شکم میں موجود بچے اور والدہ کے درمیان بہت قریبی رابطہ ہوتا ہے۔ ماں کی ایک ایک حرکت بچے پہ تاثیر گزار ہورہی ہوتی ہے۔ اگر ماں کی صورتحال غمگین، پریشان اور مضطرب ہے تو بچہ بھی اس کو محسوس کررہا ہوتا ہے اور بچے کی نفسیات و جسم پہ اس کا اثر ہورہا ہوتا ہے۔ اگر ماں ان دنوں دینی احکام کی طرف متوجہ ہو تو بچہ کی نفسیات پہ اس کا اثر ہورہا ہوتا ہے۔ اگر ماں دین سے منحرف ہے تو اس کا اثر بھی بچے پر ہورہا ہوتا ہے۔ اسلیے ضروری ہے کہ ماں ان دنوں دین کے احکامات پہ عمل کرے۔

ایک واقعہ ہے کہ کسی عالمِ بزرگوار کے پاس ایک مسئلہ کو لے کر آیا گیا کہ اس بچے نے ایک ماشکی کی مشک میں سوئی مارکر سوراخ کر دیا ہے۔ جب تحقیق کی گئی تو اس بچے کی اس حرکت کا اصل محرک اس کی والدہ نکلی، جس نے دورانِ حمل کسی کے انار میں سوئی سے سوراخ کرکے سوئی کی نوک پر موجود انار کے رس کو چوسا تھا۔

ماں شکم میں موجود بچے کو سلام کرے، اچھے واقعات سنائے اور قرآن پڑھ کر سنائے۔ بہت سی روایات میں وارد ہوا ہے کہ معصومینؑ کی مائیں اپنے شکم میں موجود بچوں سے بیٹھ کر باتیں کررہی ہوتی تھیں۔ حالانکہ بچہ پیٹ کے اندر موجود ہے مگر یہ باتیں اس پہ اثر انداز ہو رہی ہوتی ہیں۔ ماں کو چاہیے کہ پیار بھرا ہاتھ اپنے شکم پہ پھیرے تاکہ بچے پہ خوشگوار اثرات مرتب ہوں۔ خیال رکھیں کہ کبھی بھی بُری باتیں منہ سے نہ نکالیں۔
ماں کا یہ رویہ بچے کی صحت و سلامتی پر اثرانداز ہو رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح معصومینؑ اور ماہرین نے کچھ غذائیں کھانے کا حکم دیا ہے۔

التماس دعا۔۔۔ایس کاظمی

https://t.me/islamwitheman/1857
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حمل کے دوران اعمال 🌹

دینِ اسلام میں بچے کی تربیت کا آغاز زمانہ حمل ہی سے شروع ہوجاتا ہے۔ مومن عورتوں کو چاہیے کہ ایام حمل میں ان احکامات پر خصوصی توجہ دیں:

1⃣ پہلا مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے روز سورہ یٰسین اور سورہ الصافات کی تلاوت کر کے شکم پر دم کریں۔
🔹 صبح کے وقت میٹھا سیب کھانا چاہیے۔
🔹 جمعہ کے دن ناشتے سے پہلے انار کھانا چاہیے۔
🔹 نماز فجر کے بعد تھوڑی سی مقدار میں خاک شفا کھاٸیں۔
🔹 نماز پنجگانہ کو اول وقت میں ادا کریں۔
🔹 نماز سے پہلے اذان و اقامت کہیں اور اذان و اقامت کہتے وقت پیٹ پر ہاتھ رکھا جاٸے۔

2⃣ دوسرا مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے روز سورہ الملک پڑھیں۔
🔹 جمعرات کے دن 140 مرتبہ اور جمعہ کے دن 100 مرتبہ شکم پر ہاتھ رکھکر یہ صلوات پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّألِ مُحَمَّدٍ وَّ عَجّل فَرَجَھُم وَاَھلِکَ عَدُوَّھُم وَالعَن اَعدَاٸَھُم مِنَ الجِنِّ وَالاِنسِ مِنَ الاَوَّلِینَ وَالاَخِرِین۔
🔹 ہر ہفتہ میں کم سے کم ایک مرتبہ گوشت کھاٸیں۔
🔹 دودھ اور سیب کا استعمال کریں۔

3⃣ تیسرا مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے دن سورہ آلِ عمران کی تلاوت کریں۔
🔹 جمعرات اور جمعہ کو 140 مرتبہ صلوات پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّألِ مُحَمَّدٍ وَّ عَجّل فَرَجَھُم وَاَھلِکَ عَدُوَّھُم وَالعَن اَعدَاٸَھُم مِنَ الجِنِّ وَالاِنسِ مِنَ الاَوَّلِینَ وَالاَخِرِین۔
🔹 ہر نماز سے پہلے شکم پر ہاتھ رکھکر یہی صلوات پڑھیں۔
🔹 ہر ہفتہ گندم، گوشت اور بغیر چکناٸی کا دودھ استعمال کریں۔
🔹 صبح کے وقت تھوڑا سا شہد بھی کھانا چاہیے۔

4⃣ چوتھا مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے روز سورہ دھر کی تلاوت کریں۔
🔹 تمام واجب نمازوں کی پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ قدر پڑھیں۔
🔹 نماز کے بعد پیٹ پر ہاتھ رکھکر سورہ قدر، سورہ کوثر اور اوپر والی بڑی صلوات پڑھیں اور اسکے بعد کہیں:
رَبَّناَ ھَب لَناَ مِن اَزوَجِناَ وَذُرّ یَا تِنٰا قُرَّةَ اَعیُنٍ وَجَعَلنَا لِلمُتَّقِینَ اِمَامًا۔
سات مرتبہ پڑھیں
اَستَغفِرُاللّٰہَ رَبّی وَاَتُوبُ اِلَیہِ۔
🔹 ہر واجب نماز کے بعد 140 مرتبہ بڑی صلوات پڑھیں۔
🔹 میٹھا سیب، انار اور شہد کھاٸیں۔
🔹 چوتھے مہینے کے شروع سے نماز تہجد پڑھا کریں اگر آدھی رات کو نہیں پڑھ سکتیں تو نماز فجر کے بعد اسکی قضا پڑھیں۔

5⃣ پانچواں مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے روز سورہ الفتح کی تلاوت کریں۔
🔹 روزانہ کسی ایک نماز میں پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ النصر کی تلاوت کریں۔
🔹 ہر نماز کے بعد سجدہ گاہ خاک شفا والا اٹھا کر پیٹ پر ملیں۔
🔹 ہر صبح پانچ دانے کھجور کھاٸیں۔
🔹 روزانہ رات کو تھوڑا سا زیتون سیب کیساتھ کھاٸیں۔
🔹 اس ماہ سے شروع میں پیٹ پر ہاتھ رکھ کر نماز کے وقت اذان و اقامت کہی جاٸے۔

6⃣ چھٹا مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے روز سورہ واقعہ پڑھیں۔
🔹 مغرب و عشا کی پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سورہ والتین پڑھیں۔
🔹 ہر نماز کے بعد اپنے ہاتھ کو خاک شفا سے مس کرکے پیٹ پر ملیں۔
🔹 ناشتے کے بعد انجیر اور زیتون کھاٸیں۔
🔹 رات یا دن میں ہڈی کا گودا کھایا جاٸے۔
🔹 چکنائی والی چیزوں سے پرہیز کریں۔

7⃣ ساتواں مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے دن سورہ یٰسین اور سورہ الملک کی تلاوت کریں۔
🔹 اذان و اقامت کیساتھ نماز تہجد پڑھنے کیساتھ ساتھ سوموار کے دن سورہ نحل کی تلاوت کریں۔
🔹 روزانہ کی نمازوں میں سورہ الحمد کے بعد سورہ قدر اور توحید پڑھیں۔
🔹 روزانہ 140 مرتبہ صلوات پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّألِ مُحَمَّدٍ وَّ عَجّل فَرَجَھُم وَاَھلِکَ عَدُوَّھُم وَالعَن اَعدَاٸَھُم مِنَ الجِنِّ وَالاِنسِ مِنَ الاَوَّلِینَ وَالاَخِرِین۔
🔹 ہر کھانے کے بعد تھوڑا سا تربوز ضرور کھاٸیں لیکن اسکے کھانے سے پہلے اور بعد میں پانی نہ پیں۔
🔹 اس ماہ میں ایک مرتبہ شلجم کھاٸیں۔

8⃣ آٹھواں مہینہ
🔹 ہفتہ کے دن نماز فجر کے بعد 10 مرتبہ سورہ قدر پڑھیں۔
🔹 اتوار کے دن نماز فجر کے بعد دو مرتبہ سورہ والتین پڑھیں،
سوموار کو سورہ یٰسین،
منگل کو سورہ فرقان،
بدھ کے دن سورہ دھر،
جمعرات کے دن سورہ محمد،
جمعہ کے دن سورہ الصافات کی تلاوت کریں۔
🔹 میٹھا دہی اور شہد کے کھانے میں کوتاہی نہ کریں۔
🔹 جمعہ کے دن ناشتے میں میٹھا انار ضرور کھاٸیں۔
🔹 اگر کوٸی نقصان نہ ہو تو ہفتہ میں ایک دفعہ سرکہ بھی استعمال کریں۔

9⃣ نواں مہینہ
🔹 امام زمانہ علیہ السلام کی سلامتی کیلٸے مینڈھا ذبح کر کے کھاٸیں۔
🔹 نماز ظہر یا عصر میں پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سورہ العصر یا الذاریات پڑھیں۔
🔹 جمعرات کو سورہ حج اور جمعہ کے دن سورہ فاطر کی تلاوت کریں۔
🔹 روزانہ کچھ پیدل چلیں۔
🔹 گرم مصالحہ نہ کھاٸیں۔
🔹 کھجور کھاٸیں۔
🔹 کھانے میں کباب استعمال کریں۔
🔹 اس ماہ میں تصویر اور آٸینہ کم دیکھیں۔

📚 حوالہ جات
مثالی ماں
اسلام اور تربیت اولاد
تہذیب زندگی

انتخاب و ترتیب: بی اے نقوی

https://t.me/islamwitheman/2219
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 پانی کی فضیلت 🌹

دُنیا و آخرت میں سب سے بہتر پینے کی چیز پانی ہے۔
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو شخص دُنیا کے پانی سے محظوظ ہوگا اس کو اللہ تعالی شراب ہاٸے بہشت سے محظوظ کریگا۔
ایک شخص نے امام علیہ السلام سے دریافت کیا کہ پانی کا مزہ کیا ہے؟
آپ علیہ السلام نے فرمایا: زندگانی کا۔

1⃣ آب زمزم و آبِ برہوت
مولا امام المسلمین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
روٸے زمین کے تمام پانیوں سے آبِ زمزم بہتر ہے۔
اور آبِ برہوت جو یمن میں ہے وہ روٸے زمین کے تمام پانیوں سے بدتر ہے کیونکہ کافروں کی روحیں وہاں وارد ہوتی ہیں۔

2⃣ آبِ زمزم کی فضیلت
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
🍁 آبِ زمزم جس درد کیلٸے پیا جاٸے دوا ہے۔
🍁 جس مطلب کیلٸے پیا جاٸے وہ مطلب حاصل ہوتا ہے۔

3⃣ کعبةاللہ کے پرنالے کاپانی
ایک شخص نے مولا امام جعفر صادق علیہ السلام سے اپنے بیمار دوست کا حال عرض کیا:
امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا:
اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو اسے کعبةاللہ کے پرنالے کا پانی پلا دیتا۔
وہ آدمی چلا گیا اور اس پانی کی تلاش شروع کردی مگر پانی کہیں نہ ملا۔
اتفاق سے ایک بادل آیا کڑک اور چمک پیدا ہوٸی اور بارش برسی۔ اس نے کعبةاللہ کے پرنالے سے پانی بھرا اور اپنے بیمار دوست کو پلا دیا اس کا پینا تھا کہ آرام آگیا۔

4⃣ آبِ فرات کی فضیلت
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
💐 جس لڑکے کا گلا آبِ فرات سے اٹھایا جاٸے وہ ہم اہلبیت علیہ السلام کے دوستوں میں سے ہوگا۔
💐 دو پرنالے جنت کے برابر دریاٸے فرات میں گرتے رہتے ہیں۔
💐 اگر میرے اور دریاٸے فرات کے درميان بہت بڑا فاصلہ بھی ہوگا تو بھی میں حصولِ شفا کیلٸے اس دریا پر جاٶنگا۔
💐 اگر میں پاس رہتا ہوتا تو ہر صبح و شام دریاٸے فرات پر جانا پسند کرتا۔

🌺 مولا امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں:
ایک فرشتہ ہررات کو آتا ہے اور تین مثقال مشکِ بیشت آبِ فرات میں ڈال جاتا ہے اور کوٸی نہر مشرق و مغرب دنیا میں ایسی نہیں ہے جسکی برکت نہرفرات سے زیادہ ہو۔

5⃣ ولایت کا اقرار
مولا امام حسن و حسین علیہ السلام فرماتے ہیں:
ہماری ولایت اور دوستی تمام پانیوں پر عرض کی گٸی جس پانی نے قبول کرلی شیریں و خوشگوار ہوگیا اور جس نے قبول نہ کی وہ کھارا اور تلخ رہا۔

6⃣ تلخ اور گندھک کی بُو والا پانی
مولا امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
حضرت نوح علیہ السلام نے طوفان کے وقت سب پانیوں کو بلایا سب نے حضرت کا کہنا مانا سواٸے آبِ تلخ اور اس پانی کے جس میں گندھک کی بو آتی یہ پہاڑوں سے نکلتا ہے۔
پس آپ نے ان دونوں پر لعنت کی۔

7⃣ ٹھنڈے پانی
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
🔅 ٹھنڈا پانی حرارت کو فرد کردیتا ہے۔
🔅 صفرا کو ساکن کرتا ہے۔
🔅 طعام کو معدے میں گھلاتا ہے۔
🔅 تپ کو زاٸل کرتا ہے۔

8⃣ جوش کیا ہوا پانی
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام اور مولا امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:
🌻 جوش کیا ہوا پانی ہر درد کیلٸے نافع ہے۔
🌻 کسی طرح کا نقصان نہیں دیتا۔
🌻 اگر اسے سات دفعہ جوش دیں اور ہرمرتبہ برتن بدل دیں اور بخار والے کو پلاٸیں تو اس کا بخار جاتا رہتا ہے۔
🌻 پاٶں اور پنڈلیوں کو قوت دیتا ہے۔

9⃣ زیادہ پانی پینا
مولا امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:
زیادہ پانی پینا کسی طرح بُرا نہیں ہے۔
یہ طعام کو معدے میں ہضم کرتا ہے،
غصہ کو کم کرتا ہے،
عقل کو بڑھاتا ہے اور صفرا کو گھٹاتا ہے۔

📚 بحوالہ۔
تہذیب السلام۔

انتخاب و ترتيب: بی۔اے نقوی

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💝 اندھی محبت 💝

اگر آپ اپنی "محبت" کی ناکامی اور مطلوب و محبوب کو نہ پانے کے "دُکھ" میں اندرونی طور پر کھوکھلے ہوتے جارہے ہیں اور ذہنی طور پر احساس کی شدت اور محرومی کا شکار ہیں، تو آپ کیلئے چند دل کی باتیں ہیں۔

سوشل میڈیا پر عشق و محبت کی پھیلی داستانیں، ہجر و فراق کا ماتم، شکوے شکایات، سب کچھ ہمارے ارد گرد موجود ہیں، ہم میں سے کئی اس معاملے میں ذاتی تجربے سے گزرے ہوں گے، بسا اوقات یہ تجربات بہت تلخ اور نہایت مضر اثرات مرتب کرتے ہیں اور انسان کی زندگی محصور ہو کر رہ جاتی ہے، جس کا سب سے بڑا سبب "اندھی محبت" ہے۔

عام معاشرہ ہو یا فیس بک، جنس مخالف کی وہی کشش ہوتی ہے، جو کسی بھی جگہ۔ عورت کیلئے سب سے آسان جال اس کی ہمدردی حاصل کرنا، اس سے اخلاص باور کرنا، اور سب سے مہلک ہتھیار اس کی تعریف کرنا ہے، بہت ہی کم کوئی عورت اس میں شکار ہونے سے محفوظ رہی، جبکہ مرد، ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ اسے کوئی دستیاب ہو، ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنسے، خوش گپیاں ہوں، اور پھر محبت وغیرہ کا دم بھرتے ہوئے بھی ذہن کے کسی کونے میں ہوس پل رہی ہوتی ہے، کوئی لاکھ انکار کرے پر یہ حقیقت ہر مرد و عورت میں شامل ہے، کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے۔

اب ایسے ماحول میں آپ کو پتہ ہی نہ ہو کہ سامنے والا کس ذہن کا ہے، کیسی شخصیت ہے، کیا ہے، جبکہ دوسرا بھی ان دیکھے فقط جاننے اور دیکھنے کی غرض سے محبتیں جتائے، تعریفیں کرے، اور عورت تو چاہے جانے کی خواہش فطرت میں لے کر پیدا ہوتی ہے وہ تو اس پر فوراً گھائل ہوجاتی ہے، پھر قربتیں بڑھتی ہیں، اور جب توقعات پوری نہ ہوں، مثلاً کوئی بہت خوب صورتی کا گمان کر رہا ہو، مگر معاملہ مختلف ہو، کوئی فکری طور پر یا اخلاقی طور پر کمزور سمجھ رہا ہو، سامنے والا، والی اس کی خواہشات پر پورا نہ اترے یا کسی کو بہت خوش اخلاق سمجھا جائے اور موقع ملنے پر وہ کرپٹ نکلے، ایسے میں راستے جدا ہوتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ وقتی تعلق اور اٹریکشن ہوتی ہے، آج یہاں، تو کل کہیں، اس لیے ایسے معاملات میں بالغ النظری اور ٹھنڈے دماغ کی اشد ضرورت ہوتی ہے، عموماً خواتین جذبات میں ماری جاتی ہیں، اور بعض پھر عادی ہوجاتی ہیں، یا پھر مرد و عورت دونوں اذیت پسند بن جاتے ہیں، کبھی کبھار یہ ذہنی آوارگی کا شوق بھی بن جاتا ہے۔

اب بہت ہی حیرتناک اور افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ ایسے معاملات سے گزرنے کے بعد بھی انسان بجائے ماضی سے سیکھے، وہ اسی پر کف افسوس مل کر وقت ضائع کرتا ہے۔ عقلمند وہ نہیں جو اپنی زندگی تجربات کی نذر کرے۔ ہوشیار وہ ہے جو دوسروں کے تجربات سے سیکھ لے۔

🌹 پھر یہ ذہن میں بٹھا لیں کہ آپ اس دنیا میں اپنے لیے سب سے اہم ہیں، کیونکہ جب آپ اپنی ذات کو اہمیت نہ دے سکو تو پھر آپ کو کوئی اہمیت نہیں دے گا، اپنے آپ پر اعتماد، ہمیشہ احساس کمتری سے دور رہنا، اور کسی بھی فرد، حتیٰ کہ خونی رشتے سے بھی کسی بھی وقت کسی بھی رویے کی توقع رکھتے ہوئے ہمیشہ ذہنی طور پر تیار رہو، تاکہ کوئی ایسا وقت آئے تو آپ کے لیے سرپرائز نہ ہو، اور نہ ہی زیادہ تکلیف، احساس اور افسوس کا باعث، اور جب کوئی ایسا سلوک کرے، جس سے آپ کو لگے کہ اپنی نظر میں عزت نہ رہی، تو اس وقت اپنے سے نیچے کے طبقے کو سوچیے، کون کس کس نعمت سے محروم ہے، کون کس کیفیت میں ہے، آپ کو جب اللہ کا دین، ایمان، گھر، نام، نسبت اور عزت، عصمت کے ساتھ زندگی میسر ہے تو میرے لیے کسی فرد کی کمی کوئی بڑی بات نہیں، کیونکہ جو فرد عزت نہ دے سکے، اس کی اپنی عزت میں کمی ہے، یہ طے شدہ ہے۔

انسان پر وہ وقت بھی آتا ہے کہ جان سے عزیز والدین اور اپنے خون اولاد سے بھی جدائی برداشت کرنی پڑتی ہے، ایک دکھ، کرب، سب اپنی جگہ، لیکن اللہ کا نظام ایسا ہے کہ اس نے کسی انسان کی زندگی، رزق اور سانسیں دوسرے کی محتاج نہیں رکھیں، جب انسان اپنی اولاد، والدین، حتیٰ کہ ماں جیسے سب سے منفرد رشتے کو کھو کر بھی زندہ رہتا ہے، ایک عرصے بعد ہنستا کھیلتا ہے، تو کسی موسمی پرندے کے آ کر چند گھڑیاں بیٹھنے، دل لبھانے، اور اڑ جانے کی کوئی حیثیت نہیں، جب آپ یہ سوچ اپنائیں گے، اپنی اہمیت پہچانیں گے، اور یہ سمجھ لیں کہ لوگ آپ کیلئے نہیں، آپ لوگوں کیلئے کتنے اہم ہیں، تو پھر آپ زندگی جینے کا مزہ لیں گے، آج سے ایسی شکست خوردہ سوچ کا جال اُتار پھینکئے، خود کو آزاد کیجئے، اور خوبصورت زندگی جئیں!

التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی

https://t.me/islamwitheman/2205
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 صدقہ دینے کے فوائد🔷

◀ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
1⃣ جو شخص صدقہ دیتا ہے، یہی صدقہ اس کی قبر سے گرمی کو بجھادے گا،
اور قیامت کے دن مومن اپنے دیئے ہوئے صدقہ کے سائے میں ہوگا۔
📗 کنزالعمال حدیث١٥٩٩٦.

2⃣ صدقہ، خدا کے غضب کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔
📗 کنزالعمال حدیث١٦١١٤.

3⃣ خداوند عالم صدقہ میں دی ہوئی تمہاری ایک کھجور یا ایک لقمہ کو یوں بڑھاتا ہے جیسے بچھڑے یا اونٹ کے بچے کو بڑھاتا ہے حتی کہ وہ بڑھتے بڑھتے کوہ احد کے مانند ہوجاتا ہے۔
📗 کنزالعمال١٦٠٠٢.

4⃣ صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے اور یہ ایک کامیاب ترین دوا ہے.
اور ایسی قضا کو ٹال دیتا ہے جس کے بارے میں فیصلہ اٹل ہوچکا ہوتا ہے،
بیماریوں کو صرف دعا اور صدقہ ہی دور کرسکتے ہیں۔
📗 بحارالانوار جلد٩٦ص١٣٢.

5⃣ کلمہ طیبہ بھی صدقہ ہے اور ہر وہ قدم جو تم نماز کے لئے اٹھاتے ہو صدقہ ہے۔
📗 بحارالانوار جلد٨٣ص٣٦٩.

6⃣ تکبر اور غرور کو پیش نظر رکھے بغیر صدقہ دیا کرو کیونکہ غرور اجر کو باطل کردیتا ہے۔
📗 تنبیہ الخواطرص٣٦٠.

◀ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
7⃣ احسان اور نیکی جتانے کو ترک کردینا، نیکی کی زینت ہے۔
📗 بحارالاوار ج٧٨ص٨.

◀ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
8⃣ نیکی اور صدقہ فقر و تنگدستی کو دور کرتے, عمر کو زیادہ کرتے اور ستر قسم کی بری موت کو دور بھگاتے ہیں۔📗 بحارالانوارجلد--ص١١٩.

◀ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
9⃣ صدقہ, قرضے ادا کرتا ہے اور برکت کو اپنے ہمراہ لاتاہے۔
📗 وسائل الشیعہ جلد٤ص٢٥٥.


🔟 خداوند تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے "میں نے ہر چیز کے لئے کسی کو مقرر کر رکھا ہے کہ وہ اسے قبضہ میں لے لے سوائے صدقہ کے کہ جسے میں خود ہی اپنے ہاتھوں میں فوراً لے لیتا ہوں"
📗 بحارالانوارجلد٩٦ص١٣٤.

📚 تفسیر المعین و ترجمۃ القرآن المبین، تالیف: علامہ محمد علی فاضل دام عزہ.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔥 اغلام بازی (لواط کرنا) 🔥

💦 مولا امام جعفر صادقؑ نے فرمایہ:
اغلام بازی کی حرمت زنا سے زیادہ سخت ہے کیونکہ خدا نے اغلام کی وجہ سے ایک قوم کو ہلاک کردیا لیکن کسی کو زنا کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا۔(1)

ایک اور روایت میں ہے
💦 مولا امام جعفر صادقؑ نے فرمایہ:
جو شخض لوط کی قوم کے فعل کو حلال سمجھتا ہے اس کے مرتے وقت خدا عذاب کے انہیں پتھروں میں سے جو اس نے قوم لوط پر برسائے تھے ایک پتھر اس پر بھی گرا دیتا ہے اور وہ وہی پتھر کھا کر مر جاتا ہے اور صرف اس وجہ سے کہ وہ بدنام نہ ہو خدا وہ پتھر لوگوں کی نظروں سے چھپائے رکھتا ہے۔(2)

💦 حضور اکرمؐ نے فرمایا:
میری امت کا جو شخض لوط کی قوم سا عمل کرے گا اور دنیا سے توبہ کیے بغیر چلا جائے گا وہ اپنی قبر میں تین دن سے زیادہ نہیں رہ سکے گا زمین اس کو نگل جائے گی اور جہاں لوط کی قوم ہے اور ہلاک ہوئی ہے وہاں پہنچا دیگی۔ اسکے بعد وہ انہیں کے ساتھ محشور ہوگا۔(3)

💦 مولا امام علی رضاؑ نے فرمایا:
ڈرو اور زنا اور لواط چھوڑ دو اور لواط زنا سے بھی برا ہوتا ہے اور یہ دونوں گناہ اپنے کرنے والے کے لیے بہتر(72) قسم کی تکلیفیں پیدا کردیتے ہیں۔(4)

🔷 لڑکے پر شہوت کی نظر ڈالنا
💦ا رشاد حضور اکرمؐ:
خوبصورت لڑکے کا فتنہ کنواری لڑکی کے فتنے سے بھی زیادہ ہے۔(5)
💦 جو کوئی کسی لڑکے کو شہوت سے چومے گا خداوند عالم قیامت میں اسے آگ کی لگام لگائے گا۔(6)
💦 جو کوئی کسی لڑکے کو شہوت سے چومے گا خدا اسے ہزار سال تک آتش جہنم میں سزا دے گا۔(7)

💦 مولا امام علی رضاؑ نے فرمایا:
جو کوئی کسی لڑکے کو شہوت سے چومے گا آسمان اور زمین کے فرشتے اور خدائی غضب اور رحمت کے فرشتے اس پر لعنت کرینگے اس کے لیے جہنم تیار ہوگا اس کا قیام بری جگہ میں ہوگا۔(8)

🔷 شریعت میں اغلام کی سزا
اگر اغلام کرنے اور کرانے والا دونوں بالغ ہوں تو دونوں کو مار ڈالنا چاہیے اغلام کرنے واے کو تلوار سے قتل کرنا یا سنگسار کرنا یا آگ میں زندہ جلا ڈالنا چاہیے یا ہاتھ پائوں باندھ کر پہاڑ کی اونچائی پر سے نیچے پھینک کر مار ڈالنا چاہیے۔(9)

💦 امیرالمومنین امام علیؑ نے فرمایا:
لواط کرنے والے کو مار ڈالنے کے بعد اس کا جسم آگ میں ڈال دو۔(10)

📚 بحوالہ
1 ، 3 ، 6= اصول کافی۔
2= تفسیر قمی۔
4 ، 8= فقہ الرضا۔
5= وسائل کتاب نکاح باب 21 ص43۔
7= مستدرک، کتاب نکاح باب 17 ص 570۔
9 ، 10= گناہان کبیرہ، جلد اول ص 277۔

✍🏻: باقر حسین

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 لواط کرنیوالے کی عاقبت 🔶

ایک ایسا غلام حضرت عمر کی خدمت میں آیا جس نے اپنے آقا اور مولا کو قتل کیا ہوا تھا۔ حضرت عمر نے حکم دیا کہ اس غلام کو قصاص میں قتل کیا جائے۔

اس ماجرا کی خبر حضرت اميرالمومنين علی عليه السلام تک پہنچی۔

حضرت علی علیہ السلام نے اس فیصلے کو رکوایا اور اس غلام کو طلب کیا پھر آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کیا تم نے اپنے آقا کو قتل کیا ہے؟

غلام نے کہا جی ہاں میں نے اپنے آقا کو کو قتل کیا ہے۔

حضرت اميرالمومنين علی عليه السلام نے فرمایا:
کیوں قتل کیا ہے؟

غلام نے کہا: اس نے میرے ساتھ خلاف شرع کام انجام دیا ہے۔

حضرت امیرالمومنین على عليه السلام نے مقتول کے ورثاء سے پوچھا؛
کیا تم لوگوں نے مقتول کو دفن کر دیا ہے؟
ورثاء نے جواب دیا: جی ہاں:

آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ کس وقت اسے دفن کیا تھا؟
تو ان لوگوں نے جواب دیا کہ ابھی ابھی اسے دفن کیا ہے۔

حضرت اميرالمؤمنین علی علیہ السلام نے حضرت عمر کی طرف دیکھا اور فرمایا:
اس غلام کو چھوڑ دو اور مقتول کے ورثاء سے کہو تین دن کے بعد یہاں پر دوبارہ آئیں۔

تین دن کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عمر کا ہاتھ پکڑا اور مقتول کے ورثاء کے ساتھ قبرستان میں لے کر گئے، جس وقت مقتول کی قبر پر پہنچے تو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے ورثاء سے پوچھا: کیا یہی مقتول کی قبر ہے؟

جواب ملا جی ہاں یہی اس کی قبر ہے۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس قبر کو کھولیں۔

جب اس کو کھولا گیا اور قبر میں پہنچے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس میت کو باہر لے آئیں، ورثاء نے جب میت کو باہر لانا چاہا تو انہیں کفن کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ملی اور یہ ماجرا حضرت علی علیہ السلام کو بیان کیا.

حضرت علی اميرالمومنين عليه السلام نے دو بار تكبير پڑھی اور فرمایا:
خدا کی قسم نہ میں جھوٹا ہوں اور نہ وہ کہ جس نے مجھے خبر دی ہے۔ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
میری امت میں سے ہر وہ شخص جس نے قوم لوط کے کردار کو انجام دیا ایسا فرد قبر میں تین دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے گا۔ کیونکہ اسے زمين قوم لوط جو اللہ تعالٰی کے عذاب سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ان تک پہنچا دے گی اور وہ ان کے ساتھ محشور ہوگا۔

📚مناقب ، ج۱، ص۴۹۵۔

https://t.me/islamwitheman/2224
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 جوانی اور بڑھاپا 🌹

ایک صاحب تھے جو شادی کی تلاش میں کہیں لمبے نکل گئے اور شادی کی عمر نکل گئی۔ آخر ایک جوان لڑکی پسند آ گئی تو رشتہ بھیج دیا۔ جوان لڑکی نے دو شرطیں رکھیں اور شادی پر تیار ہو گئی۔

پہلی یہ کہ ہمیشہ جوانوں میں بیٹھو گے۔ دوسری یہ کہ ہمیشہ دیوار پھلانگ کے گھر آیا کرو گے۔

شادی ہوگئی۔ بابا جی جوانوں میں ہی بیٹھتے اور گپیں لگاتے۔ جوان ظاہر ہے
صرف لڑکیوں کی اور پیار محبت کی ہی باتیں کرتے ہیں۔ منڈیوں کے بھاؤ سے انھیں دلچسپی نہیں اور نہ ہی دیوارِ چین ایسے موضوعات سے کچھ لینا دینا۔

بابا جی کا موڈ ہر وقت رومینٹک رہتا۔ گھر جاتے تو ایک جھٹکے سے دیوار پھلانگ کر گھر میں کود جاتے۔ آخر ایک دن بابا جی کے پرانے جاننے والے مل گئے۔ وہ انھیں گلے شکوے کر کے اور گھیر گھار کے اپنی پنڈال چوکڑی میں لے گئے۔ اب وہاں کیا باتیں ہونا تھیں۔ یار گھٹنوں کے درد سے مر گیا ہوں۔ بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں۔ یار میرا تو وضو ہی نہیں رہتا۔ میری تو بھائی جان ریڑھ کی ہڈی کا مہرہ کھل گیا ہے۔ ڈاکٹر کہتا ہے جھٹکا نہ لگے۔ یار مجھے تو نظر ہی کچھ نہیں آتا۔ کل پانی کے بجائے مٹی کا تیل پی گیا تھا۔ ڈرپ لگی ہے تو جان بچی ہے۔ بابا جی جوں جوں ان کی باتیں سنتے گئے توں توں ان کا مورال زمین پر لگتا گیا۔ جب ٹھیک پاتال میں پہنچا تو مجلس برخاست ہوگئی اور بابا جی گھسٹتے پاؤں کے ساتھ گھر کو روانہ ہوگئے۔ گھر پہنچ کر دیوار کو دیکھا تو گھر کی دیوار کے بجائے وہ دیوارِ چین لگی۔ ہمت نہ پڑی دیوار کودنے کی کہ کہیں بابے پھجے کی طرح چُک نہ نکل آئے۔ آخر ماڈل تو دونوں کا ایک ہی تھا۔ بابا جی نے کنڈی کھٹکھٹائی۔ کھٹ کھٹ کھٹ کھٹ۔ اندر سے بیوی بولی، اسی لیے بولا تھا جوانوں میں بیٹھا کر۔ لگتا ہے آج بڈھوں کی مجلس اٹینڈ کر لی ہے اسی لیے ہمت جواب دے گئی ہے۔

🔘 نتیجہ: انسان بوڑھا نہیں ہوتا مجلس اسے بوڑھا کر دیتی ہے۔ ماہرین نفسیات لکھتے ہیں کہ معلم اسی لیے جلد بوڑھے نہیں ہوتے کہ وہ بچوں کی مجلس میں رہتے ہیں۔ یوں وہ ماحول ان پر ٹائم اینڈ سپیس کے اثرات کو نیوٹرل کر دیتا ہے۔

https://t.me/islamwitheman/2210
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌸 پردے کا اثر 🌸

ایک گاؤں میں ایک باپردہ خاتون رہتی تھیں جن کی ڈیمانڈ تھی کہ شادی اس سے کریں گی جو انہیں باپردہ رکھے گا۔

ایک نوجوان اس شرط پر نکاح کے لیے رضامند ہوجاتا ہے۔

دونوں کی شادی ہوجاتی ہے ۔ وقت گزرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک بیٹا ہوجاتا ہے۔

ایک دن شوہر کہتا ہے کہ میں سارا دن کھیتوں میں کام کرتا ہوں۔ کھانے کے لیے مجھے گھر آنا پڑتا ہے جس سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے تم مجھے کھانا کھیتوں میں پہنچا دیا کرو۔
بیوی راضی ہوجاتی ہے ۔۔

وقت گزرتے گزرتے ایک اور بیٹا ہوجاتا ہے
جس پر شوہر کہتا ہے کہ اب گزارہ مشکل ہے تمہیں میرے ساتھ کھیتوں میں ہاتھ بٹانا پڑے گا۔
یوں وہ باپردگی سے نیم پردے تک پہنچ جاتی ہے۔
اور تیسرے بیٹے کی پیدائش پر اس کا شوہر مکمل بے پردگی تک لے آتا ہے۔

وقت گزرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اولاد جوان ہوجاتی ہے۔

ایک دن یونہی بیٹھے بیٹھے شوہر ہسنے لگتا ہے۔
بیوی سبب پوچھتی ہے۔
تو شوہر کہتا ہے کہ بڑا تو پردہ پردہ کرتی تھی آخر کار تیرا پردہ ختم ہوگیا ۔۔ کیا فرق پڑا پردے اور بے پردگی کا۔

زندگی تو اب بھی ویسے ہی گزر رہی ہے
وہ بولتی ہے کہ تم ساتھ والے کمرے میں چھپ جاؤ میں تمہیں پردے اور بے پردگی کا فرق سمجھاتی ہوں۔

شوہر کمرے میں چھپ جاتا ہے۔

عورت اپنے بال بکھیرے رونا پیٹنا شروع کر دیتی ہے۔۔۔
پہلے بڑا بیٹا آتا ہے۔ رونے کا سبب پوچھتا ہے۔۔۔
عورت کہتی ہے تیرے باپ نے مارا ہے۔
بڑا بیٹا ماں کو سمجھاتا ہے کہ اگر مارا ہے تو کوئی بات نہیں وہ آپ سے محبت بھی تو کرتے ہیں آپ کا خیال رکھتے ہیں۔
وہ سمجھا بجھا کر چلا جاتا ہے۔

عورت پھر سے رونے کی ایکٹنگ کرتی ہے اور منجھلے بیٹے کو بلا کر بتاتی ہے کہ تیرے باپ نے مجھے مارا ہے۔
منجھلے بیٹے کو غصہ آتا ہے وہ باپ کو برا بھلا کہتے ہوئے ماں کو سمجھا بجھا کر چپ کروا کر چلا جاتا ہے۔

آخر کار عورت یہی ڈرامہ چھوٹے بیٹے کے سامنے کرتی ہے۔
چھوٹا بیٹا تو غصہ سے آگ بگولہ ہو جاتا ہے اور زور زور سے گالیاں بکتے ہوئے ڈنڈا اٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ ابھی باپ کی خبر لیتا ہوں۔

پھر عورت شوہر کو بلا کر بولتی ہے کہ پہلا میرے پردے کے وقت پیدا ہوا تو اس نے تیرا پردہ رکھا۔ دوسرا نیم پردے کے زمانے میں پیدا ہوا تو تیری آدھی لاج رکھ لی۔ جبکہ تیسرا جو مکمل بے پردگی کے زمانے میں ہوا تو وہ مکمل طور پر تیری عزت کا پردہ اتارنے گیا ہے۔

🔘 حاصل کلام:
پردہ عورت کا فطری تقاضا ہے جو خالقِ مرد و زن کی طرف سے قاعدہ بھی ہے۔۔۔ پردہ ایک نعمت ہے اور اس نعمت میں ہماری سوچ سے بھی زیادہ راز اور بھلائیاں موجود ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے۔ بلاشبہ جب وہ اپنے گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اسے غیر مردوں کی نظروں میں مزین کر کے دکھاتا ہے اور یہ بات بالکل یقینی ہے کہ عورت اللہ کے سب سے زیادہ قریب اسی وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی 10115)

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔

http://t.me/islamwitheman/1203
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 تربیت اور ماحول 🌹

وزیر کی جان پہ بنی ہوئی تھی، فقیر بات ہی نئیں سُن رہا تھا، اۤخر طویل مِنت سماجت کے بعد فقیر نے سر اٹھایا،
ہاں بول کیا کہنا ہے؟

وزیر نے ہاتھ جوڑے اور بتانا شروع کیا
ایک مہینہ پہلے ہمارے بادشاہ سلامت نے اچانک دربار میں ایک سوال اچھالا کہ کامیاب کردار کے لئے تربیت زیادہ کارآمد ہے یا ماحول ؟ میرے ایک ہم منصب وزیر نے جھٹ کہا کہ عالی جاہ! تربیت
جبکہ میں نے عجلت میں کہا جناب! ماحول، ماحول تربیت پر فوقیت رکھتا ہے۔
بادشاہ سلامت نے ہماری طرف رعونت سے دیکھا اور فرمایا تم دونوں کو اپنا اپنا جواب عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا جو ثابت نہ کر سکا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا اور اس کے لئے ہمیں ایک ماہ کی مہلت دے دی۔
ہم دونوں اپنے جواب کی عملی تعبیر تلاشنے میں لگ گئے، میں سوچ سوچ کے پاگل ہونے کے قریب تھا مگر کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ 24 دن بعد اچانک میرے ہم منصب وزیر نے میری موت کے پروانے پر دستخط کرتے ہوئے دربار میں اپنے جواب کو عملی طور پر ثابت کرنے کی اجازت چاہی۔ اجازت ملنے پر اس نے دربار میں کھڑے ہو کر تالی بجائی تالی بجتے ہی ایک ایسا منظر سامنے آیا کہ بادشاہ سمیت تمام اہلِ دربار کی سانسیں سینہ میں اٹک گئیں، دربار کے ایک دروازے سے 10 بِلیاں منہ میں پلیٹیں لئے جن میں جلتی ہوئی موم بتیاں تھیں ایک قطار میں خراماں خراماں چلتی دربار کے دوسرے دروازے سے نکل گئیں، نہ پلیٹیں گریں اور نہ موم بتیاں بچھیں، دربار تعریف و توصیف کے نعروں سے گونج اٹھا، میرے ہم منصب نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا، حضور! یہ سب تربیت ہی ہے کہ جس نے جانور تک کو اس درجہ نظم و ضبط کا عادی بنادیا، بادشاہ نے میری جانب دیکھا،
مجھے اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی میں دربار سے نکل آیا تبھی ایک شخص نے آپ کا نام لیا کہ میرے مسئلے کا حل آپ کے پاس ہی ہو سکتا ہے میں دو دن کی مسافت کے بعد یہاں پہنچا ہوں، دی گئی مدت میں سے 4 دن باقی ہیں اب میرا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

فقیر نے سر جھکایا اور آہستہ سے بولا واپس جاؤ اور بادشاہ سے کہو کہ تیسویں دن تم بھرے دربار میں ماحول کی افادیت ثابت کرو گے،
مگر میں تو یہ کبھی نہ کر سکوں گا۔ وزیر نے لاچارگی سے کہا۔
اۤخری دن مَیں خود دربار میں آؤں گا۔ فقیر نے سر جھکائے ہوئے کہا۔

وزیر مایوسی اور پریشانی کی حالت میں واپس دربار چلا آیا۔

مقررہ مدت کا اۤخری دن تھا دربار کھچا کھچ بھرا ہوا تھا وزیر کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا سب کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھتی تھیں کہ اچانک ایک مفلوک الحال سا شخص اپنا مختصر سامان کا تھیلا اٹھائے دربار میں داخل ہوا، بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا، وقت کم ہے میں نے واپس جانا ہے اس وزیر سے کہو تربیت کی افادیت کا ثبوت دوبارہ پیش کرے۔
تھوڑی دیر بعد ہی دوسرے وزیر نے تالی بجائی اور دوبارہ وہی منظر پلٹا، دربار کے دروازہ سے دس بلیاں اسی کیفیت میں چلتی ہوئی سامنے والے دروازے کی طرف بڑھنے لگیں، سارا مجمع سانس روکے یہ منظر دیکھ رہا تھا وزیر نے امید بھری نگاہوں سے فقیر کی طرف دیکھا، جب بلیاں عین دربار کے درمیان پہنچیں تو فقیر آگے بڑھا اور ان کے درمیان جا کے اپنا تھیلا اُلٹ دیا، تھیلے میں سے موٹے تازے چوہے نکلے اور دربار میں ادھر اُدھر بھاگنے لگے، بلیوں کی نظر جیسے ہی چوہوں پر پڑی انہوں نے منہ کھول دیئے پلیٹیں اور موم بتیاں دربار میں بکھر گئیں، ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔ بلیاں چوہوں کے پیچھے لوگوں کی جھولیوں میں گھسنے لگیں، لوگ کرسیوں پر اچھلنے لگے دربار کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا۔

فقیر نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا، آپ کسی جنس کی جیسی بھی اچھی تربیت کر لیں اگر اس کے ساتھ اسے اچھا ماحول فراہم نہیں کریں گے تو تربیت کہیں نہ کہیں اپنا اثر کھو دے گی۔ کامیاب کردار کے لئے تربیت کے ساتھ ساتھ بہتر ماحول بے حد ضروری ہے، اس سے پہلے کہ بادشاہ اسے روکتا فقیر دربار کے دروازے سے نکل گیا تھا۔

🔘 ہمارے ہاں ساری ذمہ داری استاد کی تربیت پر ڈال دی جاتی ہے گھر وں کا کیا ماحول ہے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🕌 نماز وحشت قبر 🕌

یہ نماز دو رکعت ہے جس کی کہ پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد دس مرتبہ سورہ قدر پڑھی جاتی ہے پس جب اس نماز کا سلام دے چکے تو کہے:
اے معبود رحمت فرما محمد وآل محمد پر اس نماز کا ثواب فلاں کی قبر کو پہنچا دے۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَابْعَثْ ثَوابَہا إِلی قَبْرِفُلَانٍ۔
فلاں کی بجاے میت کا نام لے                  

🔷 نماز وحشت کا دوسرا طریقہ
سید ابن طاؤس نے رسول اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا میت کی پہلی رات سے زیادہ سخت وقت اور کوئی نہیں ہوتا لہذا تم اپنے مرنے والوں پر صدقہ دے کر رحم کرو اگر صدقہ نہیں دے سکتے تو تم میں سے کوئی شخص دو رکعت نماز پڑھے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ توحید دو مرتبہ اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ تکاثر دس مرتبہ پڑھے پھر نماز کو سلام کیساتھ مکمل کرنے کے بعد یوں کہے:

اے معبود رحمت فرما محمد اور اس کی آل پر اور اس نماز کا ثواب اس میت کی قبر کو پہنچا دے۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَابْعَثْ ثَوابَہا إِلی قَبْرِ ذلِکَ الْمَیِّتِ۔

میت اور اس کے باپ کا نام لے پس اسی وقت حق تعالٰی ایک ہزار فرشتہ اس قبر پر بھیج دیتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس ایک لباس ہوتا ہے اور وہ اس میت کی قبر کو صور پھونکے جانے تک کشادہ کرتے رہیں گے نیز اس نماز پڑھنے والے کو ان تمام چیزوں کی تعداد کے برابر اجر ملتا ہے جن پر سورج طلوع کرتا ہے اور اس کے لئے چالیس درجے بلند کیے جاتے ہیں۔

■ مؤلف کہتے ہیں کفعمی (علیہ الرحمہ) نے بھی یہ نماز اسی کیفیت کے ساتھ ذکر کی ہے اس کے بعد فرمایا ہے کہ میں نے بعض کتابوں میں دیکھا ہے۔ پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد آیت الکرسی ایک مرتبہ اور سورہ توحید دو مرتبہ پڑھتے ہیں۔

🌸 نیز علامہ مجلسی (علیہ الرحمہ) نے زاد المعاد میں فرمایا ہے کہ مرنے والوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ خود تو اعمال خیر انجام نہیں دے پاتے۔ وہ صرف اپنی اولاد رشتہ داروں اور مومن بھائیوں سے آس لگائے ہوئے ہیں اور ان کی نیکیوں کیلئے چشم براہ ہیں پس خاص طور پہ نماز تہجد، فریضہ نمازوں کے بعد اور مقامات مقدسہ کی زیارت کے موقعہ پر ان کیلئے دعا کرنا چاہیے اور والدین کیلئے دوسروں سے کچھ زیادہ دعا کرنا چاہیے۔ نیز ان کیلئے اعمال خیر بجا لانے چاہیے۔

🌼 ایک اور روایت میں آیا ہے کہ بہت سی اولادیں ایسی ہوتی ہیں کہ والدین کی موجودگی میں ان کی نافرمان ہوتی ہیں لیکن ان کے مرنے کے بعد ان کیلئے اعمال خیر بجا لانے کے باعث فرمانبردار بن جاتی ہیں اور اسی طرح بہت سی اولادیں ایسی ہیں جو والدین کی زندگی میں ان کی فرمانبردار ہوتی ہیں۔ لیکن ان کے مرنے کے بعد ان کے لئے اعمال خیر بجا نہ لانے یا کم بجا لانے سے نافرمان ہو جاتی ہیں۔
اپنے فوت شدہ والدین اور رشتہ داروں کے لئے سب سے بہتر اور عمدہ نیکی یہ ہے کہ ان کے واجب قرضے ادا کیے جائیں اور انہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد سے چھٹکارا دلایا جائے اور ان پر حج یا دوسری عبادات کی جو ادائیگی واجب تھی وہ خود یا اجرت دے کر ادا کرائی جائے۔

🌹 صحیح حدیث میں منقول ہے کہ حضرت امام جعفر صادق (ع) ہر شب اپنے فرزند کیلئے اور ہر روز اپنے والدین کیلئے دو رکعت نماز پڑھتے تھے کہ پہلی رکعت میں حمد کے بعد سورہ قدر اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورہ کوثر پڑھا کرتے تھے۔

🌸 صحیح سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادق (ع) سے منقول ہے کہ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ ایک میت تنگی اور سختی میں ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اسے آسائش و کشائش عطا کردیتا ہے پھر میت سے کہا جاتا کہ تجھے یہ آسانی اس لئے میسر آئی کہ تیرے فلاں مومن بھائی نے تیرے لئے نماز پڑھی ہے۔ راوی نے پوچھا؛ آیا ایک نماز میں دو میتوں کو بھی شریک کیا جاسکتا ہے؟ فرمایا: ہاں، ایسا کیا جاسکتا ہے۔ پھر فرمایا کہ میت کو خوشی حاصل ہوتی ہے اور وہ دعا اور استغفار کی وجہ سے مسرور ہوتی ہے جو اس کے لئے کی جاتی ہے اسے ویسے ہی خوشی ملتی ہے جیسے زندہ شخص کو ہدیہ سے خوشی ہوتی ہے نیز فرمایا کہ میت کیلئے نماز، روزہ، حج، صدقات، دوسرے جو بھی اعمال خیر بجا لائے جائیں اوراس کیلئے دعا کی جائے ان تمام چیزوں کا ثواب قبر میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے یہ ثواب میت کے لئے بھی لکھا جاتا ہے اور میت کے لئے اعمال بجا لانے والے شخص کیلئے بھی لکھا جاتا ہے۔

🌹 ایک اور حدیث میں امام صادق (ع) فرماتے ہیں کہ جو مسلمان کسی مرنے والے کے لئے کوئی نیک عمل انجام دیتا ہے اللہ اس کے ثواب کو دگنا کر دیتا ہے اور مرنے والا اس سے فائدہ اٹھاتا رہتا ہے۔

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

https://t.me/islamwitheman/1911
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 زوجین کے بارے احادیث 🌹

🌹 حضرت رسول اکرمؐ:
"میں نے تمھاری دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو کو پسند کیا ہے اور نماز میری آنکھوں کی روشنی ہے۔"(1)


🌹 رسول اکرمؐ نے فرمایا:
جو شخص افلاس و پریشانی کے ڈر سے نکاح نہ کرتا ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ خدا سے بدگمان ہے کیونکہ حق تعالٰی فرماتا ہے؛ "ان یکونوا فقراء یغنھم الله من فضله" اگر وہ فقیر ہونگے تو خدا اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔(2)


🌹 امام جعفر صادقؑ:
احمق مرد کو رشتہ دے دو مگر احمق عورت سے شادی نہ کرو کیونکہ احمق مرد کبھی شریف بن جاتا ھے۔ مگر احمق عورت کبھی شریف نہیں بنتی۔(3)

🌹 حضرت امام محمد باقرؑ:
"مجھے یہ بات کسی طرح گوارا نہیں کہ دنیا و مافیھا پوری حاصل ہو جائے اور ایک رات بے عورت کے سوؤں۔ یہ بھی فرمایا کہ عورت والے کی دو رکعت نماز مجرد مرد کی ساری ساری راتوں کی نمازوں اور تمام تمام دنوں کے روزوں سے بہتر ہے۔"(4)

🌹 امام جعفر صادقؑ:
عیالدار کی دو رکعت نماز مجرد کی ستر (70) رکعتوں سے بہتر ہے۔(5)

🌹 رسول اکرمؐ نے فرمایا:
"جان لو خدا کے نزدیک عورتوں کا اَجر مردوں کے مقابلے زیادہ یے۔
خدا کی قسم شوہر کا اپنی بیوی پر ستم کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ یے۔

اے لوگو! دوضعیفوں کی نسبت خدا کا خوف کرو۔
ایک یتیم دوسرا بیوی۔

خدا تعالٰی روز قیامت تم سے پوچھے گا جو بھی ان دونوں کے ساتھ نیکی کرے گا رحمتِ الٰہی اُسے نصیب ہوگی۔

اور جو بھی ان دونوں کے ساتھ برائی کرے گا خدا کا خشم و غضب اس پر نازل ہوگا۔"(6)

🌹 حضرت امام جعفر صادقؑ:
"دو کمزوروں کے حق میں خدا ترسی کام میں لاؤ، ایک یتیم بچے دوسری عورتیں۔"(7)

🌹 حضرت محمد مصطفٰیؐ:
"تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی عورت کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرے۔ فرمایا؛ کہ ہر شخص کے اہل و عیال اس کے قیدی ہیں اور خدا سب سے زیادہ اس بندے کو دوست رکھتا ہے جو اپنے قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے۔"(8)

🌹 حضرت امام جعفر صادقؑ:
"جس شہر میں کسی شخص کی زوجہ موجود ہو وہ اس شہر میں رات کو کسی دوسرے شخص کے مکان میں سوئے اور اپنی عورت کے پاس نہ آئے تو یہ امر اس صاحب خانہ کی ہلاکت کا باعث ہوگا۔"(9)

🌹 معتبر حدیثوں میں وارد ہوا ہے کہ مردوں کا جہاد تو یہ ہے کہ اپنا مال اور اپنی جان خدا کی راہ میں صرف کریں اور عورتوں کا جہاد یہ ہے کہ شوہروں کے ستانے پر اور سوکنیں کر لانے پر صبر کریں۔(10)

🌹 ایک حدیث میں فرمایا کہ عورتوں کی مثال پسلی کی ہڈی کی سی ہے کہ اگر اسے اس کے حال پر رہنے دو گے تو نفع پاؤ گے اور اگر سیدھا کرنا چاہو گے تو ممکن ہے کہ وہ ٹوٹ جائے۔
(حاصل کلام یہ ہے کہ عورتوں کی ذرا ذرا سی ناخوشیوں پر صبر کرو۔)(11)

🌹 حضرت رسولِخُداؐ نے فرمایا:
"اگر میں یہ حکم دیتا کہ کوئی شخص سوائے خدا کے کسی اور کو بھی سجدہ کر سکتا ہے تو بیشک میں عورتوں کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں۔(12)

🌹 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:
شوہر کا اپنی بیوی کے پاس بیٹھنا اللہ تعالٰی کو اس مسجد(مسجد نبوی) میں اعتکاف میں بیٹھنے سے زیادہ پسند ہے۔(13)

📚 حوالہ جات
1، 2، 4، 5: تہذیب الإسلام
3: وسائل الشیعہ، ج14، ص89۔
6: سیری در زندگانی حضرت زہرا 37۔
7، 8، 9، 10، 11، 12: تہذیب الإسلام
13۔ مجموعة ورّام، ج2، ص119۔

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

https://t.me/islamwitheman/2154
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں (1)🌹

میز پہ کھانا لگاتے ہوئے اسکا پورا دھیان پلیٹیں سجانے میں تھا اور میری آنکھیں اسکے چہرے پہ جمی تھیں۔ میں نے آہستگی سے اسکا ہاتھ تھاما تو وہ چونک سی گئی
"میں تم سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں" کافی ہمت جتانے کے بعد بلآخر میرے منہ سے نکلا۔
وہ چپ چاپ کرسی پہ بیٹھ گئی، اسکی نگاہیں چاہے میز پہ مرکوز تھیں پر ان میں سے اٹھتا درد میں بخوبی محسوس کررہا تھا۔
ایک پل کے لیے میری زبان پہ تالہ سا لگ گیا پر جو میرے دماغ میں چل رہا تھا اسے بتانا بہت ضروری تھا۔
"میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں۔" میری آنکھیں جھک گئیں۔
میری امید کے برعکس اس نے کسی قسم کی حیرانی یا پریشانی کا اظہار نہ کیا بس نرم لہجے میں اتنا پوچھا۔
"کیوں؟"
میں نے اسکا سوال نظرانداز کیا۔ اسے میرا یہ رویہ گراں گزرا۔ ہاتھ میں پکڑا چمچ فرش پہ پھینک کے وہ چلانے لگی اور یہ کہہ کے وہاں سے اٹھ گئی کہ
"تم مرد نہیں ہو۔۔۔"
رات بھر ہم دونوں نے ایکدوسرے سے بات نہیں کی۔ وہ روتی رہی۔ میں جانتا تھا کہ اسکے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر ہماری شادی کو ہوا کیا ہے۔۔۔ میرے پاس اس دینے کے لیے کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ اسے کیا بتاتا کہ میرے دل میں اسکی جگہ اب کسی اور نے لے لی ہے۔۔۔ اب اسکے لیے میرے پاس محبت باقی نہیں رہی۔ مجھے اس پہ ترس تو بہت آرہا تھا اور ایک پچھتاوا بھی تھا۔ پر اب میں جو فیصلہ کر چکا تھا اس پہ ڈٹے رہنا ضروری تھا۔
طلاق کے کاغذات عدالت میں جمع کرانے سے پہلے میں نے اس کی ایک کاپی اسے تھمائی جس پہ لکھا تھا کہ وہ طلاق کے بعد گھر، گاڑی اور میرے ذاتی کاروبار کے 30 فیصد کی مالکن بن سکتی ہے۔
اس نے ایک نظر کاغذات پہ دوڑائی اور اگلے ہی لمحے اسکے ٹکڑے کرکے زمین پہ پھینک دیے۔ جس عورت کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے دس سال بتائے تھے وہ ایک پل میں اجنبی ہوگئی۔ مجھے افسوس تھا کہ اس نے اپنے انمول جذبات اور قیمتی لمحے مجھ پہ ضائع کیے پر میں بھی کیا کرتا میرے دل میں کوئی اور اس حد تک گھر کر چکا تھا کہ اس کھونے کا تصور ہی میرے لیے ناممکن تھا۔
بلآخر وہ ٹوٹ کے بکھری اور میرے سامنے ریزہ ریزہ ہوگئی۔ اسکی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈ آیا تھا۔ شائد یہی وہ چیز تھی جو اس طلاق کے بعد میں دیکھنا چاہتا تھا۔
اگلے روز پورا دن اپنی نئی محبت کے ساتھ بتا کے جب میں تھکا ہارا گھر پہنچا تو وہ میز پہ کاغذ پھیلائے کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔ میں نے اس پہ کوئی دھیان نہ دیا اور جاتے ہی بستر پہ سو گیا۔ دیر رات جب میری آنکھ کھلی تو وہ تب بھی کچھ لکھ رہی تھی۔ اب بھی میں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔
صبح جب میں اٹھا تو اس نے طلاق کی کچھ شرائط میرے سامنے رکھ دیں۔ اسے میری دولت اور جائیداد میں سے کچھ نہیں چاہیے تھا۔ وہ بس ایک مہینہ مزید میرے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ اس ایک مہینے میں ہمیں اچھے میاں بیوی کی طرح رہنا تھا۔ اس شرط کی بہت بڑی وجہ ہمارا بیٹا تھا جسکے کچھ ہی دنوں میں امتحانات ہونیوالے تھے۔ والدین کی طلاق کا اسکی تعلیم پہ برا اثر نہ پڑے اس لیے میں اسکی یہ شرط ماننے کو بالکل تیار تھا۔
اسکی دوسری اور احمقانہ شرط یہ تھی کہ میں ہرصبح اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے گھر کے دروازے تک چھوڑنے جاؤں۔ جیسا شادی کے ابتدائی دنوں میں مَیں کرتا تھا۔ وہ جب کام پہ باہر جانے لگتی تو میں خود اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑ آتا تھا۔ حالانکہ میں اسکی یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا لیکن ان آخری دنوں میں اسکا دل توڑنا مناسب نہیں لگ رہا تھا اس لیے میں نے یہ شرط بھی مان لی۔
اس کی ان شرائط کے بارے میں جب میں نے اپنی نئی محبت سے ذکر کیا تو وہ ہنس بولی
"وہ چاہے جو بھی کرلے ایک نہ ایک دن طلاق تو اسے ہونی ہی ہے"
میری بیوی اور میں نے اپنی طلاق کے معاملے سے متعلق کسی اور سے ذکر نہ کیا۔
شرط کے مطابق پہلے دن جب مجھے اسے اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے جانا تھا تو وہ لمحات ہم دنوں کے لیے بے حد عجیب تھے۔ ہچکچاتے ہوئے میں نے اسے اٹھایا تو اس نے بھی اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ اتنے میں تالیوں کی ایک گونج ہم دونوں کے کانوں میں پڑی
"پاپا نے ممی کو اٹھایا ہوا ہے۔۔۔۔۔ ہاہاہا" ہمارا بیٹا خوشی میں جھوم رہا تھا۔
اسکے الفاظوں سے میرے دل میں ایک درد سا اٹھا اور میری بیوی کی کیفیت بھی لگ بھگ میرے جیسی تھی۔
"پلیز! اسے طلاق کے بارے میں کچھ مت بتانا" وہ آہستگی سے بولی
میں نے جواباً سر ہلایا
اسے دروازے تک چھوڑ کے بعد میں اپنے آفس کی طرف نکل پڑا اور وہ بس سٹاپ کی طرف چل دی۔
اگلی صبح اسے اٹھانا میرے لیے قدرے آسان تھا، اور اسکی ہچکچاہٹ میں بھی کمی تھی۔ اس نے اپنا سر میری چھاتی سے لگا لیا۔ ایک عرصے بعد اسکے جسم کی خوشبو میرے حواس سے ٹکرائی۔ میں بغور اسکا جائزہ لینے لگا۔ چہرے کی گہری جھریاں اور سر کے بالوں میں اتری چاندی اس بات کی گواہ تھیں کہ اس نے اس شادی میں بہت کچھ کھویا ہے۔

https://t.me/islamwitheman/2116
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں (2)🌹

بقیہ حصہ ۔۔۔

چار دن مزید گزرے، جب میں نے اسے باہوں میں بھر کے سینے سے لگایا تو ہمارے بیچ کی وہ قربت جو کہیں کھو سی گئی تھی واپس لوٹنے لگی۔ پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ قربت کے وہ جذبات بڑھتے گئے۔
لمحے دنوں کو پَر لگا کے اڑا لے گئے اور مہینہ پورا ہوگیا۔
اس آخری صبح میں جانے کے لیے تیار ہورہا تھا اور وہ بیڈ پہ کپڑے پھیلائے اس پریشانی میں مبتلا تھی کے آج کونسا لباس پہنے۔ کیوں کہ پرانے سارے لباس اسکے نحیف جسم پہ کھلے ہونے لگے تھے۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کتنی کمزور ہوگئی ہے۔ شائد اسی لیے میں اسے آسانی سے اٹھا لیتا تھا۔ اسکی آنکھوں میں امڈتے درد کو دیکھ کے نہ چاہتے ہوئے بھی میں اسکے پاس چلا آیا اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
"پاپا۔۔۔ ! ممی کو باہر گھمانے لے جائیں۔۔۔۔ " ہمارے بیٹے کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ اسکے خیال میں اس پل یہ ضروری تھا کہ میں کسی طرح اسکی ماں کا دل بہلاؤں۔
میری بیوی بیٹے کی طرف مڑی اور اسے سینے سے لگا لیا۔ یہ لمحہ مجھے کمزور نہ کردے یہ سوچ کے میں نے اپنا رخ موڑ لیا۔
آخری بار میں نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اس نے بھی اپنے بازو میری گردن کے گرد حائل کردیے۔ میں نے اسے مظبوطی سے تھام لیا۔ میری آنکھوں کے سامنے شادی کا وہ دن گردش کرنے لگا جب پہلی بار میں اسے ایسے ہی اٹھا کے اپنے گھر لایا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ مرتے دم تک ایسے ہی ہر روز اسے اپنے سینے سے لگا کے رکھوں گا۔ میرے قدم فرش سے شائد جم سے گئے تھے اسی لیے میں بامشکل دروازے تک پہنچا۔ اس نیچے اتارتے ہوئے میں نے اسکے کان میں سرگوشی کی
"شائد ہمارے درمیان قربت کی کمی تھی"
وہ میری آنکھوں میں دیکھنے لگی اور میں اسے وہیں چھوڑ کے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ تیز رفتار میں گاڑی چلاتے ہوئے بار بار ایک خوف میرے دل میں گھر کررہا تھا کہ کہیں میں کمزور نہ پڑ جاؤں، اپنا فیصلہ بدل نہ دوں۔ میں نے اس گھر کے دروازے پہ بریک لگائی جہاں نئی منزل میرا انتظار کررہی تھی۔ دروازہ کھلا اور وہ مسکراتے ہوئے میرے سامنے آئی
"مجھے معاف کردو۔ میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا" میرے منہ سے نکلے یہ الفاظ اسکے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ وہ میرے پاس آئی اور ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے بولی
"شائد تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے یا پھر تم مذاق کررہے ہو"
"نہیں ۔۔۔ ! میں مذاق نہیں کررہا۔ شائد ہماری شادی شدہ زندگی بے رنگ ہوگئی ہے پر میرے دل میں اسکے لیے محبت اب بھی زندہ ہے۔ بس اتنا ہوا ہم ہر وہ چیز بھول گئے جو اس ساتھ کے لیے ضروری تھی۔ دیر سے سہی پر مجھے سب یاد آگیا ہے۔ اور ساتھ نبھانے کا وہ وعدہ بھی یاد ہے جو شادی کے پہلے دن میں نے اس سے کیا تھا"
نئے ہر بندھن کو توڑ کے بعد میں پرانے بندھن کو دوبارہ جوڑنے کے لیے واپس لوٹا۔ میرے ہاتھ میں پھولوں کا ایک گلدستہ تھا جس میں موجود پرچی پہ لکھا تھا
"میں ہر روز ایسے ہی تمہیں اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے آؤں گا۔ صرف موت ہی مجھے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے"
میں اپنے گھر میں داخل ہوا اور دوڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ میرے پاس اپنے بیوی کو دینے کے لیے زندگی کا سب سے بڑا تحفہ تھا۔
میں جب اس سے چند لمحوں کی دوری پہ تھا تبھی زندگی کی ڈور اسکے ہاتھوں سے سرک گئی۔
کئی مہینوں تک کینسر کی بیماری سے لڑتے لڑتے وہ ہار چکی تھی۔ نہ اس نے کبھی اپنی تکلیف کا مجھ سے ذکر کیا اور نہ ہی مصروف زندگی نے مجھے اس سے پوچھنے کا موقع دیا۔ جب اسے میری سب سے زیادہ ضرورت تھی تب میں کسی اور کے دل میں اپنے لیے محبت کھوج رہا تھا۔
وہ جانتی تھی کے اسکے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کے اسکی موت سے قبل طلاق کا اثر ہمارے بیٹے کے دل میں میرے لیے نفرت کا بیج بو دے۔ اس لیے بیتے ایک مہینے میں اس نے بیٹے کے سامنے انتہائی محبت کرنیوالے شوہر کا میرا روپ نقش کردیا۔۔۔ جو حقیقی تو نہیں تھا پر دائمی ضرور بن
یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے بے رنگ رشتوں میں رنگ بھرنے کی بجائے ان سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کئی بار یہ سمجھنے میں ہم دیر کر دیتے ہیں کہ نئے رشتے قائم کرنا زیادہ صحیح ہے یا پھر پرانے رشتوں میں رنگ بھرے جائیں۔۔۔۔؟ اسکا فیصلہ آپکے ہاتھ میں ضرور ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ آپ وقت پہ فیصلہ نہ کر سکیں اور اس تاخیر میں ہاتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خالی رہ جائیں۔ تو دیر مت کیجئے۔

https://t.me/islamwitheman/2233
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 اہلسنت کے اعتراض اور انکے جواب (1) 🌺

جو پوسٹ میں سوال پوچھے گئے ھیں وہ ترتیب وار یہ ھیں۔۔

جب حضرت علی علیہ السّلام (ظاھری طور پر) خلیفہ بنے تو۔۔
1= شیعہ کا کلمہ اور اذان جاری کیوں نہیں کروائی؟
2= نماز تراویح کیوں ختم نہیں کروائی؟
3= مسجدیں بنوائیں، امام باڑے کیوں نہیں بنواۓ؟
4= مُتعہ کو جاری کیوں نہیں کیا؟
5= باغ فِدک کو بیبی فاطمہؑ (سلام اللہ علیہا) اور حسنین کریمین (علیہم السّلام) کو واپس کیوں نہیں کیا؟

یہ کُل 5 سوال ھیں۔
اور آئیے آج آپکو پتا چلے گا کہ ان سوالوں کے جواب کسی مولوی یا مجتہد نے نہیں بلکہ خود مولا علی علیہ السّلام نے دیئے ھیں۔ کیونکہ یہ تمام سوال نئے نہیں ھیں 1436 سال سے نسل اُمیّہ و مروان و بنوُ عباس یہی سوال کرتی آئی ھے۔

جناب باب العلم علیہ السّلام سے جب یہی سوال پوچھے گئے تو آپ علیہ السّلام منبر کوفہ پر تشریف لے گئے اور ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا۔ اسکے اقتباس درج کر رھا ھوں۔

(حوالہؑ کتاب الاحتجاج ۔۔ جلد نمبر 1)
(حوالہؑ کتاب نہج الاسرار ۔۔ جلد نمبر 1)
(حوالہؑ کتاب فضائل امیرالمومنین، ابن عقده کوفی، 333)
(حوالہؑ علل الشرائع شیخ صدوق،381)
(حوالہؑ کتاب کفایه الاثر، خزاز قمی، 400)
(حوالہؑ کتاب احتجاج طبرسی، 548)
(حوالہؑ کتاب مناقب آل ابیطالب۔ ابن شهر آشوب، 588)
(حوالہؑ کتاب الروضه فی فضائل امیر المومنین۔ شاذان ابن جبرئیل قمی، 660)

■ خطبہؑ بعنوان۔۔
معاویہ سے جنگ کرنے اور ابوبکر و عمر سے جنگ نہ کرنے کا سبب:

جنگ نہروان (خوارجین سے جنگ) سے فارغ ھونے کے بعد سرکار جناب امیرالمُومنین علیہ السّلام ایک محفل میں کچھ ارشاد فرما رھے تھے کہ "اشعث" نے سوال کردیا۔
جسکے جواب میں جناب امیرالمومنین علیہ السّلام نے فرمایا:
"اے اشعث تو نے اپنی بات تو کہہ دی اب اسکا جواب بھی سُن اور اسکو یاد رکھ
اور حُجّت کو اپنا شُعار بنا لے کہ۔۔
میرا یہ اقتدار (خلافت ظاھری) چھ پیغمبروں کی طرح ھے۔۔
1 - نوُح علیہ السّلام
2 - لوُط علیہ السّلام
3 - ابراھیم علیہ السّلام
4 - مُوسیٰ علیہ السّلام
5 - ھاروُن علیہ السّلام
6 - مُحمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نوُح علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا انہوں نے کہا:
"فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ " (سورۃ القمر، آیت 10)
ترجمہ:
اے میرے ربّ میں مغلوُب ھو گیا میری نصُرت فرما"
اب اگر تمُ یہ کہو کہ اُنہوں نے بلا وجہ ایسا کہا تو تم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ اُنکی اُمت نے اُنکے ساتھ حالات ایسے بنا دیئے تھے تو پھر تمہارے نبی ﷺ کا وصی (علی علیہ السّلام) نوح سے زیادہ مجبوُر تھا۔

لوُط علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا:
"لو أن لي بكم قوة أو آوي إلى ركن شديد" (سورۃ ھوُد، آیت 80)
ترجمہ:
"کاش تم سے بچنے کی مجھ میں قوّت ھوتی یا میں کسی زبردست پناہ میں جاکر بیٹھ جاتا"
اب اگر تم یہ کہو کہ اُنہوں نے بلا کسی خوف کے یہ کہا تو تم نے کُفر کیا اور اگر تم یہ کہو کہ اُنکی قوم نے انکے ساتھ یہ حال کیا کہ وہ تنہا رہ گئے تو تمہارے نبی ﷺ کا یہ وصی اُس سے زیادہ مجبور تھا۔

ابراھیم علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا:
"وَأَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ" ۔۔ سورۃ مریم، آیت 49)
ترجمہ:
میں تم سے اور جن جن کو تم اللہ کے سوا پُکارتے ھو علیحدہ ھوتا ھوں۔
اب اگر تم کہو کہ ابراھیم علیہ السّلام بنا کسی وجہ کے اپنی قوم سے الگ ھوگئے تو تم نے کفر کیا اور اگر کہو کہ انکی قوم نے انکو ایسا مجبور کیا تو تمہارے نبی ﷺ کا وصی اس سے زیادہ مجبور ھے۔

موُسیٰ علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا؛
"فَفَرَرْتُ مِنکُمْ لَمَّا خِفْتُکُم" (سورۃ الشعراؑ، آیت 21)
ترجمہ:
میں تم سے ڈرا تو میں خود ھی تم سے بھاگ گیا تھا۔
اب اگر تم کہو کہ اُنہوں نے بلا کسی خوف کے قوم کو چھوڑا تو تم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ واقعی قوم اُنکی جان کے درپے ھوگئی تھی اسلئے وہ وھاں سے چلے گئے تو تمہارے نبی ﷺ کا وصی اُن سے زیادہ مجبور تھا۔

ھاروُن علیہ السّلام کی تاسئ کی جیسا کہ اُنہوں نے کہا:
"یابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِی وَکَادُواْ یَقْتُلُونَنِی" (سورۃ الاعراف، آیت 151)
ترجمہ:
"اے میرے ماں جاۓ تحقیق کہ قوم نے مجھے (تیرے بعد) ضعیف سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کردیتے۔"
اب اگر تم کہو کہ انہوں نے بلاوجہ ایسا کہا اور گئو سالہ کی پرستش سے بنا کسی وجہ کے نہیں روکا تو تم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ اُن کو مجبور اور کمزور کردیا گیا تھا تو تمہارے نبی ﷺ کا وصی اس سے زیادہ مجبور تھا۔

مُحمّد ﷺ کی تاسئ کی جب انہوں نے ھجرت کی اور جاتے ھوۓ مجھے اپنے بستر پر سُلا کر گئے۔
اب اگر تُم کہو کہ اُنہوں نے بلا کسی وجہ کے ھجرت کی تو تُم نے کُفر کیا اور اگر کہو کہ اُنکو مجبور کردیا گیا تھا تو تمہارے نبی ﷺ کا یہ وصی اُن سے زیادہ مجبور تھا۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 اہلسنت کے اعتراض اور جواب (2) 🌺

بقیہ دوسرا حصہ ۔۔۔

کچھ اندازہ ھوا؟؟
کتنا مجبور کر دیا گیا تھا میرے مولا علی علیہ السّلام؟
کُچھ سمجھ میں آیا کہ کیوں جو بدعتیں دین میں داخل ھوئیں اُنکو بند نہیں کیا میرے مولا علی علیہ السّلام نے؟؟

ان چھ انبیاؑ میں سے چار اولوالعزم پیغمبر ھیں ۔۔ جو جو وجوھات ان آیات میں ان سب کی اپنی اپنی قوم سے علیحدگی کی بنی وہ تمام وجوھات اکیلے میرے مولا علی علیہ السّلام کو روکے ھوۓ تھیں۔

■ اب ایک اور سرکار جناب امیر علیہ السّلام کا خطبہ سُنو ۔۔
اور یاد رکھنا ۔۔ کہ کیوں سرکار نے تلوار نہیں اُٹھائی اور بہت کُچھ برداشت کیا ۔۔
چاھے وہ گلے میں رسّی ڈال کر حرامیوں کا میرے مولا کو کھینچنا ھو، چاھے وہ دروازے کو آگ لگانا ھو، چاھے وہ میری مخدومہؑ کونین سلام اللہ علیہا کا پہلو شکستہ کرنا ھو، چاھے وہ فدک کا حق غصب کرنا ھو؟ چاھے وہ خلافت کا حق چھیننا ھو۔ اس سب پر خاموشی کی سب سے بڑی وجہ ۔۔۔

(1) حوالہؑ کتاب استیعاب، عبدالبر،جلد ا، صفحہ۱۸۳۔ طبع حیدر آباد۔

حضرت علیؑ فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ دیکھو رسول اللہ کا انتقال ہو چکا ہے اور خلافت کے بارے میں مجھ سے کوئی نزاع نہ کرے کیوں کہ ہم ہی ا س کے وارث ہیں لیکن قوم نے میرے کہنے کی پرواہ نہیں کی۔ "خدا کی قسم اگر دین میں تفرقہ پڑ جانے اور عہد کفر کے پلٹ آنے کا اندیشہ نہ ہوتا تومیں ان کی ساری کاروائیاں پلٹ دیتا۔"
۔
(2) حوالہؑ کتاب معالم التنزیل، صفحہ۴۱۲، صفحہ۴۱۴۔
کتاب احیاءالعلوم؟ جلد۴، صفحہ ۸۸۔
کتاب سیرت محمدیہ؟ صفحہ۳۵۶۔
کتاب تفسیر کبیر جلد۴ صفحہ۶۸۶۔
کتاب تاریخ خمیس جلد۲ صفحہ ۱۱۳۹۔
کتاب سیرت حلبیہ صفحہ۳۵۶۔
کتاب شواہد النبوت اور فتح الباری۔

میں ہے کہ آنحضرت نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ ۔۔۔۔
"اے عائشہ ”لوَ لاَ حدَ ثَانِ قَومُک بالکَفرِ لَفَعلتُ“
ترجمہ:
اگر تیری قوم تازی کفر سے مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں اس کے ساتھ وہ کرتا جو کرنا چاہیے تھا۔

اور اب مجھے یہ بتانے کی ضرورت تو ھے نہیں کہ "جنگ بدر سے خیبر و خندق تک" پورا عرب گواہ ھے کہ کس کی تلوار سینوں کو چیرتی رھی اور گردنوں کو کاٹتی رھی؟؟
بڑے بڑے "بہادروں" کو پہاڑوں پر بکری کی طرح اچھلتے دیکھا ھے۔
بڑے بڑے "بہادروں" کو جو ھنٹر ھاتھ میں لیے گھوما کرتے تھے تاریخ نے کوئی ایک نام بھی محفوظ نہیں کیا جو انکے ھاتھوں قتل ھوا ھو کسی بھی جنگ میں؟؟
(یہ چیلنج بھی ھے کہ دکھاؤ اگر کوئی نام مل جاۓ؟)
مکہ و مدینہ کے بسنے والے نہ تو عمرو بن عبدود کا مارے جانا بھولے تھے اور نہ ھی خیبر کا دروازہ اکھاڑے جانا ۔۔
جنگ خندق میں عمرو بن عبدود نے جب گستاخی کی اور مولا علی علیہ السّلام کے چہرہ مبارک پر لعاب دھن پھینکا تو آپ علیہ السّلام اُس کی چھاتی سے نیچے اُتر آۓ جس پر وہ جو بہُت زیادہ "غصّیلہ" تھا وہ بے اختیار بولا بھی تھا ۔۔۔" یا رسول اللہ یہ دیکھیے علی علیہ السّلام نے کیا کیا؟ اتنا اچھا موقع گنوا دیا ۔۔ اس پر تو قابو پالینا ھی بڑا کام تھا۔۔"
قتل عمرو بن عبدود کے بعد جب مولا علیہ السّلام سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ۔۔
اگر اس وقت میں اسے قتل کردیتا تو میرا ذاتی غصّہ شامل ھوجاتا۔
(جبکہ میں تو "یدّ اللہ" ھوں اسلئے لڑتا ھی صرف اللہ اور اسکے رسول اور اسکے دین کیلئے ھوں)
ھاں یہ ضرور پتا چل گیا تھا کہ "یہ محمّد وآل محمّد ﷺ اپنا حق چھن جانے پر نہیں بولتے لیکن اگر اسلام و دین پر کچھ بن جاۓ تو پھر یہ اُٹھ کھڑے ھوتے ھیں۔"
تو بس اُنہوں نے طے کرلیا کہ ۔۔۔
"کہ دین کی بنیادوں کو فی الحال چھیڑو نہیں اور ان کو چھوڑو نہیں"
چنانچہ جن "چڑی ماروں" کی ٹانگیں کانپتی تھیں مولا علی علیہ السّلام کو آتے دیکھ کر ۔۔
" انکی ھمّت اتنی بڑھ گئی کہ گلے میں رسّی ڈال کر کھینچتے رھے۔"

(3) حوالہ کتاب تاریخ اعثم کوفی ۸۳ طبع بمبئی۔
میں حضرت علیؑ کی وہ تقریر موجود ہے جو آپ نے خلافت عثمان کے موقع پر فرمائی ہے۔ ہم اس کا ترجمہ اعثم کوفی اردو طبع دہلی کے صفحہ۱۱۳ سے نقل کرتے ہیں۔۔۔
"خدا ئے جلیل کی قسم ......
اگر محمد رسول اللہ ﷺ ہم سے عہد نہ لے لیتے اور ہم کو اس امر سے مطلع نہ کر چکے ہوتے جو ہونے والا تھا تو میں اپنا حق کبھی نہ چھوڑتا اور اپنا حق کسی شخص کو نہ لینے دیتا۔ اپنے حق کے حاصل کرنے کے لیے اس قدر کوشش بلیغ کرتا کہ حصول مطلب سے پہلے معرض ہلاکت میں پڑنے کا بھی خیال نہ کرتا۔"

اب کچھ سمجھ میں آئی؟
یہ وہ جواب ھیں جو مولا علی علیہ السّلام نے از خود ارشاد فرماۓ اور مجھے پورا یقین ھے کہ آپ میں سے اکثر نے یہ پڑھنا تو دور کی بات سُنے بھی نہیں ھونگے!!

■ اب باری ھے میرے تبصرے کی ۔۔۔ تو اب دل پر ھاتھ رکھو اور جواب سُنو ۔۔۔
ابوجہل کی جاھل اولادو ۔۔ !!

🔘 پہلے اور دوسرے سوال کا جواب:

https://t.me/islamwitheman/2235
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 اہلسنت کے اعتراض اور جواب (3) 🌺

بقیہ آخری حصہ ۔۔۔

🔘 پہلے اور دوسرے سوال کا جواب
اسلئے بند دوبارہ شروع نہیں کروایا کہ جو پروانے اپنی شمع رسالت ﷺ کا جنازہ چھوڑ کر تین دن واپس نہیں آۓ وہ کیا یہ بات مانتے؟؟ جنہوں نے نبی ﷺ کا لحاظ نہیں کیا وہ علی علیہ السّلام کا کیا کرتے؟؟

🔘 تیسرے سوال کا جواب
پہلی بات تو یہ کہ اس وقت تک واقعہ کربلا ھوا ھی کب تھا جاھل؟؟
دوسری بات یہ کہ پہلا امام بارگاہ "بیت الحزن" کے نام سے شمع رسالت کے پروانوں نے "رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کو بنا کر دیا تھا جنت البقیع میں" ۔۔۔
کیونکہ اس وقت بھی تمہارے باپ دادا کو رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کا رونا پسند نہیں تھا۔
جہاں تک بات ھے رونے کی ۔۔۔ تو کیا بھول گئے کہ رونے کیلئے جگہ کی قید نہیں ھوتی؟؟
"کسی کو غار میں رونا آگیا تھا ۔۔ یاد نہیں کیا ؟"

🔘 چوتھے سوال کا جواب
مُتعہ کو جاری تو تب کرتے جب اُنہوں نے وہ بند کیا ھو؟
اُن کے پیروکار تو "کسی کی بہن کے مُتعہ کرنے کی خبر کے بعد بند کرنے کے فیصلے کو اور فیصلہ کرنے والے کو مانتے ھی نہیں۔"
اسلیۓ مولا علی علیہ السّلام کے پیروکاروں میں وہ بمطابق حکم قرآن و رسول ﷺ جاری تھا اور ھے۔

🔘 پانچویں سوال کا جواب
باغ فِدک کو اسلئے واپس نہیں لیا مولا علی علیہ السّلام نے کیونکہ اس کی وارث مخدومہؑ عالیہ سیّدہ فاطمہؑ سلام اللہ علیہا تب دنیا سے پردہ کرچُکی تھیں ۔۔
اور ظاھر ھے جب دعویدار ھی نہ ھو تو کس طرح واپس لیتے؟

■ یہ تو تھے تمہارے سوالوں کے جواب ۔۔۔ اب میرے کچھ سوال ھیں تمہارے انہی سوالوں کے جواب میں ۔۔
اگر واقعی حق پر ھو تو دو اسکا جواب ۔۔
میں بھی تو دیکھوں کہ "شیعہ نے تو چیلنج کا جواب دے دیا۔" اب شیعہ کے چیلنج کا جواب کون دے گا ۔۔۔ !!

🔹 سوال نمبر ایک
رسوُل اللہ ﷺ کے جنازے میں "بڑے ستارے" کیوں نہیں تھے؟

🔹 سوال نمبر دو
"الصّلوٰۃ خیراً من النوم" رسول اللہ ﷺ کے دور میں جزو اذان نہیں تھا نہ ھی خلیفہؑ اؤّل کے دور میں تو پھر اس کو اذان کا جزو بنانے کی بدعت کیوں کی گئی؟؟

🔹 سوال نمبر تین
نماز تراویح نہ عہد رسالت ﷺ میں پڑھی گئی اور نہ ھی خلیفہ اوّل کے دور میں ۔۔ تو پھر یہ بدعت کیوں اپنائی گئی؟؟

🔹 سوال نمبر چار
قرآن نے کہا "نبی کی بیبیبیبیو گھروں میں قرار پکڑو"
تو پھر نبی کی جو بی بی گھر سے باھر نکلی اور صرف باھر نہیں نکلی بلکہ لشکر کی سربراہ بھی بن کر میدان میں آئی اس کے بارے میں کیا کہتے ھو؟؟
اور اگر وہ ٹھیک تھا تو پھر آج عورت کی حکمرانی پر فتوے کیوں لگاتے ھو؟

🔹 سوال نمبر پانچ
مُتعہ ۔۔۔ کو قرآن کی آیت اور رسوُل اللہ ﷺ کی حدیث نے حلال کیا تھا۔ خلیفہؑ اوّل کے دور میں بھی حلال ھی تھا۔ پھر قرآن و حدیث کیخلاف اسکو بند کرکے زناؑ سے بچنے کا راستہ بند کرنے کا اختیار کس نے دیا تھا بند کرنے والے کو؟
کیونکہ اسکے علاوہ اور کوئی طریقہ ھے ھی نہیں ایک شادی شدہ مرد کیلئے جو گھر سے دور ھو کہ وہ حرام کاری سے بچ سکے۔

🔹 سوال نمبر چھ
حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے باغ فِدک "اولاد فاطمہؑ سلام اللہ علیہا" کو یہ کہہ کر واپس کر دیا تھا کہ ۔۔۔۔۔ "یہ تمہارا حق تھا اور پہلے اس معاملے میں فیصلہ کرنے والے سے اجتہادی غلطی ھوئی۔"
اب یہ بتاؤ کہ ان دونوں میں سے کون صحیح تھا؟؟
خلیفہؑ اوّل یا پھر عمر بن عبدالعزیز؟؟

اب مجھے دیکھنا ھے کہ ان سوالوں کے کیا جواب دیتے ھو ۔۔ منتظر ھوں۔

(حجّت تمام ھوئی ۔۔۔ الحمد للہ)

https://t.me/islamwitheman/2237
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 خطبه نكاح 🔷

بِسْمِ الله الرَّحمٰنِ الرّٰحىْمِ

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اِقْراراً بِنِعْمَتِهِ

وَلا اِلَهَ اِلَّا اللَّهُ اِخْلاَصاً لِوَحْدَانِيَّتِهِ

وَصَلّٰى اللّٰهُ عَلَى مُحَمَّدٍ سَيِّدِ بَرِيَّتِهِ

وَ عَلَى الاَصْفِيَآءِ مِنْ عِتْرَتِهِ

اَمَّا بَعْدُ فَقَدْ كَانَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَى اْلاَنَامِ اَنْ اَغْنَاهُمْ بِالْحَلالِ عَنِ الْحَرَامِ

فَقَالَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالىَ: وَ اَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُم وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغغْنُهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهِ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ

وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰلهِ: تَنَاكَحُوْا وَ تَنَاسَلُوْا تَكٰثُرُوْا فَاِنِّىْ اُبَاهِىْ بِكُمُ الاُمَمَ یوم الْقِيَامَةِ وَلَوْ بالسِّقْطِ

وَقَالَ رسول اللہ صلّى اللّٰه عليْهِ وَسلّم: الَنِّكَاحُ مِنْ سُنَتِىْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِىْ فَلَيْسَ مِنّىْ

وَصَلَّى اللّٰهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّاَلِهِ الطَّيِّبِيْنَ الطَّاهِرِيِن۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹیں دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔۔۔۔

💕 خاوند اور بیوی
http://t.me/islamwitheman/189

🔵 خاوند کی سوچ بیوی کے لیے
http://t.me/islamwitheman/193

🔵 عقلمند بیوی
http://t.me/islamwitheman/197

🌹 کامیاب ازدواجی زندگی
http://t.me/islamwitheman/200

💕 شریک حیات کے حقوق

https://t.me/islamwitheman/529
🌹 نکاح کی فضیلت
http://t.me/islamwitheman/1312

🌹 ارادہ نکاح کے آداب
http://t.me/islamwitheman/1316

🌸 شب زفاف کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1321

🌹 زوجین کے بارے احادیث
https://t.me/islamwitheman/2232
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌸 ضرورت پوری کرنیوالا 🌸

ایک بادشاہ راستہ بھٹک کر کسی ویرانے میں پہنچ گیا، وہاں جھونپڑی تھی اس جھونپڑی میں رہنے والے شخص نے بادشاہ کی بڑی خدمت کی، وہ غریب جانتا بھی نہیں تھا کہ یہ بادشاہ ہے، مسافر سمجھ کر خدمت کی۔

بادشاہ اس کی خدمت سے بہت خوش ہوا، جب جانے لگا تو اس نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری اور کہا: تم مجھے نہیں جانتے ہو کہ میں بادشاہ ہوں۔ یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھو، جب کبھی کوئی ضروت ہوگی ہمارے محل میں آجانا، دروازے پر جو دربان ہوگا اسے یہ انگوٹھی دکھا دینا، ہم کسی بھی حالت میں ہوں گے وہ ہم سے ملاقات کرا دے گا۔ بادشاہ چلا گیا۔

کچھ دن کے بعد اس کو کوئی ضرورت پیش آئی تو وہ دیہاتی بڑے میاں گئے، محل کے دروازے پر پہنچے، کہا بادشاہ سے ملنا ہے۔
دربان نے اوپر سے نیچے تک دیکھا کہ اس کی کیا اوقات ہے بادشاہ سے ملنے کی، کہنے لگا نہیں مل سکتے، مفلس وقلاش آدمی ہے۔
اس دیہاتی شخص نے پھر وہ انگوٹھی دکھائی، اب جو دربان نے دیکھا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، یہ بادشاہ کی مہر لگانے والی انگوٹھی آپ کے پاس؟ بادشاہ کا حکم تھا کہ یہ انگوٹھی جو لے کر آئے گا ہم جس حالت میں ہوں اسے ہمارے پاس پہنچادیا جائے، چنانچہ دربان اسےساتھ لے کر بادشاہ کے خاص کمرے تک گیا، دروازہ کھلا ہوا تھا، اندر داخل ہوئے، اب یہ جو شخص وہاں چل کر آیا تھا، اس کی نظر پڑی کہ بادشاہ نماز میں مشغول ہے، پھر اس نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھائے، اس کی نظر پڑی تو وہ وہیں سے واپس ہوگیا اور محل کے باہر جانے لگا، دربان نے کہا مل تو لو۔
اس دیہاتی نے کہا؛ اب نہیں ملنا ہے، کام ہو گیا۔ اب واپس جاناہے۔
تھوڑی دور چلا گیا، جب بادشاہ فارغ ہوگیا۔ دربان نے کہا ایسا ایسا آدمی آیا تھا یہاں تک آیا پھر واپس جانے لگا۔ بادشاہ نے کہا فوراً لے کر آو وہ ہمارا محسن ہے۔
واپس لایا گیا بادشاہ نے کہا آئے ہو تو ملے ہوتے، ایسے کیسے چلے گئے؟
اس نےکہا کہ بادشاہ سلامت!اصل بات یہ ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ کوئی ضرورت پیش آئے تو آجانا ہم ضرورت پوری کر دیں گے۔ مجھے ضرورت پیش آئی تھی میں آیا اور آ کر دیکھا کہ آپ بھی کسی سے مانگ رہے ہیں، تو میرے دل میں خیال آیا کہ بادشاہ جس سے مانگ رہا ہے کیوں نہ میں بھی اسی سے مانگ لوں۔

🔘 یہ ہے وہ چیز کہ ہمیں جب کبھی کوئی ضرورت ہو بڑی ہو یاچھوٹی٬ اس کا سوال صرف ﷲ تعالٰی سےکیا جائے کہ وہی ایک در ہے جہاں مانگی ہوئی مراد ملتی ہے۔

https://t.me/islamwitheman/2161
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕