💝 محبت کے ساتھی 💝
ایک عورت کسی کام سے گھر سے باہر نکلی تو گھر کے باہر تین اجنبی بزرگوں کو بیٹھے دیکھا،
عورت کہنے لگی میں آپ لوگوں کو جانتی نہیں لیکن لگتا ہے کہ آپ لوگ بھوکے ہیں چلیں اندر چلیں میں آپ لوگوں کو کھانا دیتی ہوں۔
ان بزرگوں نے پوچھا: کیا گھر کا مالک موجود ہے؟
عورت کہنے لگی: نہیں، وہ گھر پر موجود نہیں۔
انہوں نے جواب دیا: پھر تو ہم اندر
نہیں جائیں گے۔
رات کو جب خاوند گھر آیا تو عورت نے اسے سارے معاملے کی خبر دی۔۔۔
وہ کہنے لگا: انہیں اندر لے کر آؤ!
عورت اُن کے پاس آئی اور اندر چلنے کو کہا!
انہوں نے جواب دیا: ہم تینوں ایک ساتھ اندر نہیں جاسکتے۔
عورت نے پوچھا : وہ کیوں؟
ایک نے یہ کہتے ہوئے وضاحت کی:
اس کا نام ''مال'' ہے اور اپنے ایک ساتھی کی طرف اشارہ کیا، اور اس کا نام ''کامیابی'' ہے اور دوسرے ساتھی کی طرف اشارہ کیا، اور میرا نام محبت ہے، اور یہ کہتے ہوئے بات مکمل کی کہ جاؤ اپنے خاوند کے پاس جاؤ اور مشورہ کر لو کہ ہم میں سے کون اندر آئے؟
عورت نے آکر خاوند کو سارا ماجرا سنایا۔
وہ خوشی سے چلا اٹھا اور کہنے لگا: اگر یہی معاملہ ہے تو ''مال'' کو اندر بلا لیتے ہیں، گھر میں مال و دولت کی ریل پیل ہو جائے گی!
عورت نے خاوند سے اختلاف کرتے ہوئے کہا: کیوں نہ ''کامیابی'' کو دعوت دیں؟
میاں بیوی کی یہ باتیں اُن کی بہو گھر کے ایک کونے میں بیٹھی سن رہی تھی، اُس نے جلدی سے اپنی رائے دی:
کیوں نہ ہم ''محبت'' کو بلا لیں اور ہمارا گھرانہ پیار و محبت سے بھر جائے!
خاوند کہنے لگا: بہو کی نصیحت مان لیتے ہیں، جاؤ اور ''محبت'' کو اندر لے آؤ۔
عورت باہر آئی اور بولی: آپ میں سے ''محبت'' کون ہے وہ ہمیں مہمان نوازی کا شرف بخشے۔
گھر والوں کا مطلوبہ شخص اٹھا اور اندر جانے لگا تو اس کے دونوں ساتھی بھی کھڑے ہو گئے اور اس کے پیچھے چلنے لگے۔
عورت حیران و پریشان اُن کا منہ دیکھنے لگی۔ عورت نے ''مال'' اور ''کامیابی'' سے کہا؛ میں نے تو صرف ''محبت'' کو دعوت دی تھی، آپ دونوں کیوں ساتھ جا رہے ہیں؟
دونوں نے جواب دیا: اگر تم نے ''مال'' یا ''کامیابی'' میں سے کسی کو بلایا ہوتا تو
باقی دونوں باہر رہتے لیکن تم نے کیونکہ ''محبت'' کو بلایا ہے یہ جہاں ہو ہم اس کے ساتھ ہوتے ہیں،
جہاں ''محبت'' ہو گی وہاں ''مال'' اور ''کامیابی'' بھی ملیں گے۔
🔘 اپنے دل میں اور اپنے عزیزوں اور ساتھیوں کے دلوں میں محبت پیدا کیجئے، آپ ایک کامیاب شخصیت کے مالک بن جائیں گے۔
https://t.me/islamwitheman/2127
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک عورت کسی کام سے گھر سے باہر نکلی تو گھر کے باہر تین اجنبی بزرگوں کو بیٹھے دیکھا،
عورت کہنے لگی میں آپ لوگوں کو جانتی نہیں لیکن لگتا ہے کہ آپ لوگ بھوکے ہیں چلیں اندر چلیں میں آپ لوگوں کو کھانا دیتی ہوں۔
ان بزرگوں نے پوچھا: کیا گھر کا مالک موجود ہے؟
عورت کہنے لگی: نہیں، وہ گھر پر موجود نہیں۔
انہوں نے جواب دیا: پھر تو ہم اندر
نہیں جائیں گے۔
رات کو جب خاوند گھر آیا تو عورت نے اسے سارے معاملے کی خبر دی۔۔۔
وہ کہنے لگا: انہیں اندر لے کر آؤ!
عورت اُن کے پاس آئی اور اندر چلنے کو کہا!
انہوں نے جواب دیا: ہم تینوں ایک ساتھ اندر نہیں جاسکتے۔
عورت نے پوچھا : وہ کیوں؟
ایک نے یہ کہتے ہوئے وضاحت کی:
اس کا نام ''مال'' ہے اور اپنے ایک ساتھی کی طرف اشارہ کیا، اور اس کا نام ''کامیابی'' ہے اور دوسرے ساتھی کی طرف اشارہ کیا، اور میرا نام محبت ہے، اور یہ کہتے ہوئے بات مکمل کی کہ جاؤ اپنے خاوند کے پاس جاؤ اور مشورہ کر لو کہ ہم میں سے کون اندر آئے؟
عورت نے آکر خاوند کو سارا ماجرا سنایا۔
وہ خوشی سے چلا اٹھا اور کہنے لگا: اگر یہی معاملہ ہے تو ''مال'' کو اندر بلا لیتے ہیں، گھر میں مال و دولت کی ریل پیل ہو جائے گی!
عورت نے خاوند سے اختلاف کرتے ہوئے کہا: کیوں نہ ''کامیابی'' کو دعوت دیں؟
میاں بیوی کی یہ باتیں اُن کی بہو گھر کے ایک کونے میں بیٹھی سن رہی تھی، اُس نے جلدی سے اپنی رائے دی:
کیوں نہ ہم ''محبت'' کو بلا لیں اور ہمارا گھرانہ پیار و محبت سے بھر جائے!
خاوند کہنے لگا: بہو کی نصیحت مان لیتے ہیں، جاؤ اور ''محبت'' کو اندر لے آؤ۔
عورت باہر آئی اور بولی: آپ میں سے ''محبت'' کون ہے وہ ہمیں مہمان نوازی کا شرف بخشے۔
گھر والوں کا مطلوبہ شخص اٹھا اور اندر جانے لگا تو اس کے دونوں ساتھی بھی کھڑے ہو گئے اور اس کے پیچھے چلنے لگے۔
عورت حیران و پریشان اُن کا منہ دیکھنے لگی۔ عورت نے ''مال'' اور ''کامیابی'' سے کہا؛ میں نے تو صرف ''محبت'' کو دعوت دی تھی، آپ دونوں کیوں ساتھ جا رہے ہیں؟
دونوں نے جواب دیا: اگر تم نے ''مال'' یا ''کامیابی'' میں سے کسی کو بلایا ہوتا تو
باقی دونوں باہر رہتے لیکن تم نے کیونکہ ''محبت'' کو بلایا ہے یہ جہاں ہو ہم اس کے ساتھ ہوتے ہیں،
جہاں ''محبت'' ہو گی وہاں ''مال'' اور ''کامیابی'' بھی ملیں گے۔
🔘 اپنے دل میں اور اپنے عزیزوں اور ساتھیوں کے دلوں میں محبت پیدا کیجئے، آپ ایک کامیاب شخصیت کے مالک بن جائیں گے۔
https://t.me/islamwitheman/2127
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💝 لنگڑی محبت 💝
لنگڑی محبت کیا ہوتی ہے؟
ہاں جی، یہ بھی محبت کی ایک قسم ہے! لنگڑی محبت۔۔۔ آج آپ کو لنگڑی محبت سے متعارف کرواتے ہیں۔
محبت میں کئی طرح کے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں، جہاں ایک ساتھ پر امن طریقے سے رہنا ہو، خاص طور پر محبت کے رشتے میں، وہاں کئی سمجھوتے…
لنگڑی محبت کیا ہوتی ہے؟
ہاں جی، یہ بھی محبت کی ایک قسم ہے! لنگڑی محبت۔۔۔ آج آپ کو لنگڑی محبت سے متعارف کرواتے ہیں۔
محبت میں کئی طرح کے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں، جہاں ایک ساتھ پر امن طریقے سے رہنا ہو، خاص طور پر محبت کے رشتے میں، وہاں کئی سمجھوتے…
🔷 دو قسم کی عورتیں 🔷
گھر سے باہر نکلتے ہی آپ کا دو قسم کی عورتوں سے سامنا ہوتا ہے۔۔۔
پہلی قِسم:
ان عورتوں کی ہے جو عزیزِ مصر کی بیوی والی بیماری کا شکار ہیں. خوب بن سنور کر خوشبو لگائے بے پردہ..... زبانِ حال سے کہہ رھی ہوتی ہیں.
هَيْتَ لَكَ (یوسف :23)
لو آجاؤ.
دوسری قِسم:
وہ عورت جو ستر و حجاب کی پابند، لیکن کسی مجبوری نے اسے گھر سے نکالا.... وہ زبانِ حال سے کہہ رھی ہوتی ہے.
لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ (القصص: 23)
جب تک یہ چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں اور ہمارے والد بہت بڑی عمر کے بوڑھے ہیں.
🔶 پہلی قِسم کی عورتوں سے آپ وہی معاملہ کریں، جو حضرت یوسف علیہ السلام نے کیا تھا، یعنی کہیں؛
مَعَاذَ اللَّهِ ۖۖ (یوسف :23)
اللہ کی پناہ!
🔷 دوسری قِسم کی عورتوں سے آپ وہی معاملہ کریں جو موسٰی علیہ السلام نے کیا تھا، یعنی ادب و احترام سے ان کی مدد کریں اور اپنے کام میں مشغول ہو جائیں اور اللہ کا فرمان یاد کریں؛
فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰ إِلَى الظِّلِّ (القصص:24)
پس آپ نے خود ان جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف ہٹ آئے.
👑 کیونکہ یوسف علیہ السلام اپنی عفت و پاک دامنی کی بناء پر عزیزِ مصر بن گئے تھے.
اور
🕊 حضرت موسٰی علیہ السلام کے حسنِ تعامل کی بناء پر اللہ نے انہیں نیک بیوی اور پاکیزہ رہائش عطا فرمائی۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
گھر سے باہر نکلتے ہی آپ کا دو قسم کی عورتوں سے سامنا ہوتا ہے۔۔۔
پہلی قِسم:
ان عورتوں کی ہے جو عزیزِ مصر کی بیوی والی بیماری کا شکار ہیں. خوب بن سنور کر خوشبو لگائے بے پردہ..... زبانِ حال سے کہہ رھی ہوتی ہیں.
هَيْتَ لَكَ (یوسف :23)
لو آجاؤ.
دوسری قِسم:
وہ عورت جو ستر و حجاب کی پابند، لیکن کسی مجبوری نے اسے گھر سے نکالا.... وہ زبانِ حال سے کہہ رھی ہوتی ہے.
لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ (القصص: 23)
جب تک یہ چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں اور ہمارے والد بہت بڑی عمر کے بوڑھے ہیں.
🔶 پہلی قِسم کی عورتوں سے آپ وہی معاملہ کریں، جو حضرت یوسف علیہ السلام نے کیا تھا، یعنی کہیں؛
مَعَاذَ اللَّهِ ۖۖ (یوسف :23)
اللہ کی پناہ!
🔷 دوسری قِسم کی عورتوں سے آپ وہی معاملہ کریں جو موسٰی علیہ السلام نے کیا تھا، یعنی ادب و احترام سے ان کی مدد کریں اور اپنے کام میں مشغول ہو جائیں اور اللہ کا فرمان یاد کریں؛
فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰ إِلَى الظِّلِّ (القصص:24)
پس آپ نے خود ان جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف ہٹ آئے.
👑 کیونکہ یوسف علیہ السلام اپنی عفت و پاک دامنی کی بناء پر عزیزِ مصر بن گئے تھے.
اور
🕊 حضرت موسٰی علیہ السلام کے حسنِ تعامل کی بناء پر اللہ نے انہیں نیک بیوی اور پاکیزہ رہائش عطا فرمائی۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌸 کیا ایسے لوگ ہیں 🌸
کہتے ہیں کہ پہلے وقتوں میں ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی کچھ لوگ اس کے پاس پوچھنے اور سببب معلوم کرنے آئے کہ اُس نے طلاق کیوں دی.
وہ کہنے لگا : کہ وہ ابھی عدت میں ہے ابھی تک وہ میری بیوی ہے مجھے اُس سے رجوع کا حق حاصل ہے میں اگر اس کے عیب تمہارے سامنے بیان کردوں تو رجوع کیسے کروں گا ؟؟؟
لوگوں نے انتظار کیا اور عدت ختم ہوگئی اور اس شخص نے رجوع نہیں کیا لوگ دوبارہ اُس کے پاس آئے تو اس نے کہا : اگر میں نے اب اس کے بارے میں کچھ بتایا تو یہ اُس کی شخصیت مسخ کرنے کے مترادف ہو گا اور کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا !!!
لوگوں نے انتظار کیا حتٰی کہ اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہوگئی
لوگ پھر اُس کے پاس آئے اور طلاق کا سبب پوچھنے لگے
اس اعرابی نے کہا: اب چونکہ وہ کسی اور کی عزت ہے اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ میں پرائی اور اجنبی عورت کے بارے میں اپنی زبان بند رکھوں۔"
کیا آج کے دور میں ہیں ایسے لوگ ؟؟؟
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
کہتے ہیں کہ پہلے وقتوں میں ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی کچھ لوگ اس کے پاس پوچھنے اور سببب معلوم کرنے آئے کہ اُس نے طلاق کیوں دی.
وہ کہنے لگا : کہ وہ ابھی عدت میں ہے ابھی تک وہ میری بیوی ہے مجھے اُس سے رجوع کا حق حاصل ہے میں اگر اس کے عیب تمہارے سامنے بیان کردوں تو رجوع کیسے کروں گا ؟؟؟
لوگوں نے انتظار کیا اور عدت ختم ہوگئی اور اس شخص نے رجوع نہیں کیا لوگ دوبارہ اُس کے پاس آئے تو اس نے کہا : اگر میں نے اب اس کے بارے میں کچھ بتایا تو یہ اُس کی شخصیت مسخ کرنے کے مترادف ہو گا اور کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا !!!
لوگوں نے انتظار کیا حتٰی کہ اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہوگئی
لوگ پھر اُس کے پاس آئے اور طلاق کا سبب پوچھنے لگے
اس اعرابی نے کہا: اب چونکہ وہ کسی اور کی عزت ہے اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ میں پرائی اور اجنبی عورت کے بارے میں اپنی زبان بند رکھوں۔"
کیا آج کے دور میں ہیں ایسے لوگ ؟؟؟
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 اللہ کے دونوں ہاتھ 🔷
"اللہ نے آدم کو دونوں ہاتھوں سے بنایا"
یہاں ہاتھ سے کیا مراد ہے؟
کیا وہ حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ تھے؟
(مختصر مگر جامع جواب)
ہر زمانے میں حتّیٰ خود آئمہؑ کے ادوار میں بعض مکار اور دھوکہ باز افراد موجود رہے ہیں جو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے قرآن مجید کی تشریح اپنی مرضی سے کرتے رہے ہیں.
اسی طرح آج کل کئی نام نہاد خطیب اور اہلِ منبر عوام کو گمراہ کرنے کیلئے اور غلو پھیلانے کیلئے قرآن مجید کی من مانی تفسیر یعنی تفسیر بالرائے کرتے ہیں.
ایسے لوگ جو حقائق دین میں تحریف کرنا اور لوگوں کی دینی تہذیب و ثقافت کو برباد کرنا چاہتے ہیں کے بارے حضرت علیؑ ارشاد فرماتے ہیں:
''وَ آخَرُ قَد تُسَمَّی عَالِمًا لَیسَ بِہِ"(نہج البلاغہ ، خطبہ ٨٦ ۔)"
قرآن کے سچے پیروؤں کے مقابل ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو کبھی کبھی معاشرہ کے درمیان عالم و دانشور تصور کیا جاتا ہے، اس نے اپنا نام عالم رکھ لیا ہے حالانکہ اسے علم سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
معصومینؑ کی جانب سے کئی روایات موجود ہیں جن میں تفسیر بالرائے کی سخت مذمت کی گئی ہے جیسا کہ
رسالتمآبؐ نے فرمایا:
جو بھی اپنی ذاتی رائے اور نظریہ سے قرآن مجید کی تشریح کرے گا وہ خود کو جہنم کیلئے تیار کرلے.
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
جس کسی نے اپنی رائے سے قرآن مجید کی تشریح کی اگر اس نے صحیح بات کہی تو وہ اس کا اجر و ثواب نہیں پائے گا اور اگر غلط بات کہی تو وہ حقیقت سے اتنا دور ہو گیا جتنا زمین سے آسمان دور ہے.
من مانی تفاسیر میں سے ایک تفسیر جس سے مذہب اہلبیتؑ کے عقائد پہ ڈاکا ڈالا جاتا ہے،
[يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ]
سورۃ ص کی آیت 75 کی کی جاتی ہے۔
اس آیت میں لفظ "بیدی" کا ترجمہ میرے ہاتھ کر کے کہا جاتا کہ اللہ عزوجل تو جسم سے مبّرا ہے جو کہ یقینا ہے ہی، تو اس کے ہاتھ تو نہیں، اور امام علیؑ جو کہ ید اللہ ہیں تو اس آیت کی غلط تفسیر کرتے ہوئے اور شرک کرتے ہوئے کہا جاتا کہ امام علیؑ نے جناب آدمؑ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا۔
اس جاہل ٹولہ نے شرک کرتے ہوئے ایک تو تفسیر بالرائے کے تحت عوام میں گمراہی پھیلانے کے ساتھ ساتھ اپنے کو جہنم کا مستحق بنایا۔
اور یہ تک دیکھنا گوارہ نہ کیا کہ قرآن کے وارثوں نے اس آیت کی کیا وضاحت فرمائی ہیں۔
آئیں اس بارے میں روایات معصومینؑ کا مطالعہ کرتے ہیں:
محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے امام باقرؑ سے اللہ عزوجل کے اس قول:
"يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ" اے ابلیس اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس نے روکا جس کو میں نے اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ [سورۃ ص۔ آیت 75] کے بارے میں دریافت کیا۔۔
تو امامؑ نے فرمایا "ید" کلام عرب میں قوت اور نعمت کے معنیٰ میں ہے۔
امامؑ نے فرمایا؛ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ "اور ہمارے بندے صاحبِ قوت داودؑ کو یاد کرو"
اور فرمایا: وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ "اور ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھ سے بنایا یعنی قدرت سے بنایا"
اور فرمایا: وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ "اور اپنی روح سے اس کی تائید کی" یعنی اس کو قوی کر دیا۔
کہا جاتا ہے "فلاں کے مجھ پہ احسانات ہیں" یعنی بہت فضل و احسان ہیں۔ اور "اس کیلئے میرے پاس روشن ہاتھ ہے" یعنی نعمت ہے۔
حوالہ: التوحید للشیخ صدوقؒ، باب 13، صفحہ 130۔
اس حدیث میں امامؑ نے آیت میں موجود لفظ "بیدی" جس کے معنیٰ میرے ہاتھ کے ہیں کو دیگر آیات کی مدد سے واضع کیا کہ اس لفظ کو عربی لغت میں کئی معنوں میں لیا جاتا ہے اور جس آیت کے بارے میں راوی میں سوال کیا گیا اس میں لفظ "ید" کا معنیٰ قدرت و قوت ہے۔
ایک اور حدیث اس ضمن میں دیکھتے ہیں۔۔
محمد بن عبیدہ نے امام علی رضا علیہ السلام سے اللہ عزوجل کے ابلیس سے اس قول کے متعلق دریافت کیا کہ "اے ابلیس اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس نے روکا جس کو میں نے اپنی قدرت سے پیدا کیا تو نے تکبر کیا" [سورۃ ص۔ آیت ۷۵]
امامؑ نے فرمایا: "بیدی" سے مراد میری قدرت اور قوت سے ہے۔
حوالہ: التوحید للشیخ صدوقؒ، باب 13، صفحہ 131۔
✍ اویس رضا
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
"اللہ نے آدم کو دونوں ہاتھوں سے بنایا"
یہاں ہاتھ سے کیا مراد ہے؟
کیا وہ حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ تھے؟
(مختصر مگر جامع جواب)
ہر زمانے میں حتّیٰ خود آئمہؑ کے ادوار میں بعض مکار اور دھوکہ باز افراد موجود رہے ہیں جو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے قرآن مجید کی تشریح اپنی مرضی سے کرتے رہے ہیں.
اسی طرح آج کل کئی نام نہاد خطیب اور اہلِ منبر عوام کو گمراہ کرنے کیلئے اور غلو پھیلانے کیلئے قرآن مجید کی من مانی تفسیر یعنی تفسیر بالرائے کرتے ہیں.
ایسے لوگ جو حقائق دین میں تحریف کرنا اور لوگوں کی دینی تہذیب و ثقافت کو برباد کرنا چاہتے ہیں کے بارے حضرت علیؑ ارشاد فرماتے ہیں:
''وَ آخَرُ قَد تُسَمَّی عَالِمًا لَیسَ بِہِ"(نہج البلاغہ ، خطبہ ٨٦ ۔)"
قرآن کے سچے پیروؤں کے مقابل ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو کبھی کبھی معاشرہ کے درمیان عالم و دانشور تصور کیا جاتا ہے، اس نے اپنا نام عالم رکھ لیا ہے حالانکہ اسے علم سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
معصومینؑ کی جانب سے کئی روایات موجود ہیں جن میں تفسیر بالرائے کی سخت مذمت کی گئی ہے جیسا کہ
رسالتمآبؐ نے فرمایا:
جو بھی اپنی ذاتی رائے اور نظریہ سے قرآن مجید کی تشریح کرے گا وہ خود کو جہنم کیلئے تیار کرلے.
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
جس کسی نے اپنی رائے سے قرآن مجید کی تشریح کی اگر اس نے صحیح بات کہی تو وہ اس کا اجر و ثواب نہیں پائے گا اور اگر غلط بات کہی تو وہ حقیقت سے اتنا دور ہو گیا جتنا زمین سے آسمان دور ہے.
من مانی تفاسیر میں سے ایک تفسیر جس سے مذہب اہلبیتؑ کے عقائد پہ ڈاکا ڈالا جاتا ہے،
[يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ]
سورۃ ص کی آیت 75 کی کی جاتی ہے۔
اس آیت میں لفظ "بیدی" کا ترجمہ میرے ہاتھ کر کے کہا جاتا کہ اللہ عزوجل تو جسم سے مبّرا ہے جو کہ یقینا ہے ہی، تو اس کے ہاتھ تو نہیں، اور امام علیؑ جو کہ ید اللہ ہیں تو اس آیت کی غلط تفسیر کرتے ہوئے اور شرک کرتے ہوئے کہا جاتا کہ امام علیؑ نے جناب آدمؑ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا۔
اس جاہل ٹولہ نے شرک کرتے ہوئے ایک تو تفسیر بالرائے کے تحت عوام میں گمراہی پھیلانے کے ساتھ ساتھ اپنے کو جہنم کا مستحق بنایا۔
اور یہ تک دیکھنا گوارہ نہ کیا کہ قرآن کے وارثوں نے اس آیت کی کیا وضاحت فرمائی ہیں۔
آئیں اس بارے میں روایات معصومینؑ کا مطالعہ کرتے ہیں:
محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے امام باقرؑ سے اللہ عزوجل کے اس قول:
"يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ" اے ابلیس اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس نے روکا جس کو میں نے اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ [سورۃ ص۔ آیت 75] کے بارے میں دریافت کیا۔۔
تو امامؑ نے فرمایا "ید" کلام عرب میں قوت اور نعمت کے معنیٰ میں ہے۔
امامؑ نے فرمایا؛ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ "اور ہمارے بندے صاحبِ قوت داودؑ کو یاد کرو"
اور فرمایا: وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ "اور ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھ سے بنایا یعنی قدرت سے بنایا"
اور فرمایا: وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ "اور اپنی روح سے اس کی تائید کی" یعنی اس کو قوی کر دیا۔
کہا جاتا ہے "فلاں کے مجھ پہ احسانات ہیں" یعنی بہت فضل و احسان ہیں۔ اور "اس کیلئے میرے پاس روشن ہاتھ ہے" یعنی نعمت ہے۔
حوالہ: التوحید للشیخ صدوقؒ، باب 13، صفحہ 130۔
اس حدیث میں امامؑ نے آیت میں موجود لفظ "بیدی" جس کے معنیٰ میرے ہاتھ کے ہیں کو دیگر آیات کی مدد سے واضع کیا کہ اس لفظ کو عربی لغت میں کئی معنوں میں لیا جاتا ہے اور جس آیت کے بارے میں راوی میں سوال کیا گیا اس میں لفظ "ید" کا معنیٰ قدرت و قوت ہے۔
ایک اور حدیث اس ضمن میں دیکھتے ہیں۔۔
محمد بن عبیدہ نے امام علی رضا علیہ السلام سے اللہ عزوجل کے ابلیس سے اس قول کے متعلق دریافت کیا کہ "اے ابلیس اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس نے روکا جس کو میں نے اپنی قدرت سے پیدا کیا تو نے تکبر کیا" [سورۃ ص۔ آیت ۷۵]
امامؑ نے فرمایا: "بیدی" سے مراد میری قدرت اور قوت سے ہے۔
حوالہ: التوحید للشیخ صدوقؒ، باب 13، صفحہ 131۔
✍ اویس رضا
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 خود کو کمتر نہ سمجھیں 🔷
فہد نے 1 گھنٹے میں 10 کلو میٹر فاصلہ طے کیا، حارث نے ڈیڑھ گھنٹے میں یہی فاصلہ طے کیا۔
دونوں میں سے کون تیز رفتار اور صحت مند ہوا؟
یقینا ہمارا جواب ہوگا "فہد"
اگر ہم کہیں کہ فہد نے یہ فاصلہ ایک تیار ٹریک پر طے کیا جب کہ حارث نے ریتیلے راستے پر چل کر طے کیا تب؟
تب ہمارا جواب ہوگا "حارث"
لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ فہد کی عمر 50 سال ہے جب کہ حارث کی عمر 25 سال تب؟
ہم دوبارہ کہیں گے کہ "فہد"
مگر ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ حارث کا وزن 140 کلو ہے جب کہ فہد کا وزن 65 کلو تب؟
تب ہم کہیں گے "حارث"
جوں جوں ہم فہد اور حارث سے متعلق زیادہ جان لیں گے ان میں سے کون بہتر ہے ان سے متعلق ہماری رائے اور فیصلہ بھی بدل جائے گا.
ہم بہت سطحی چیزیں اور بہت جلدی میں رائے قائم کرتے ہیں جس سے ہم خود اور دوسروں کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتے ہیں.
اسی طرح خود کو دوسروں کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے بھی ہم میں سے بہت سارے اسی سطحیت کا شکار ہو کر مایوس ہو جاتے ہیں حالانکہ
ہر ایک کا ماحول مختلف ہوتا ہے،
مواقع مختلف ہوتے ہیں،
زندگی مختلف ہوتی ہے،
وسائل مختلف ہوتے ہیں،
مسائل مختلف ہوتے ہیں۔
آپ اپنے کسی ہم عمر سے کسی کام میں پیچھے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کامیاب اور آپ ناکام ہیں، وہ افضل اور آپ کمتر ہیں، ممکن ہے آپ کو میسر مواقع، ظروف اور درپیش حالات کو دیکھا جائے تو آپ ان سے بہت بہتر ہوں.
زندگی کی دوڑ میں خود کو کبھی کمتر نہ سمجھیں، احساس کمتری شکست کی پہلی سیڑھی ہے.
عربی سے ترجمہ
https://t.me/islamwitheman/2196
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
فہد نے 1 گھنٹے میں 10 کلو میٹر فاصلہ طے کیا، حارث نے ڈیڑھ گھنٹے میں یہی فاصلہ طے کیا۔
دونوں میں سے کون تیز رفتار اور صحت مند ہوا؟
یقینا ہمارا جواب ہوگا "فہد"
اگر ہم کہیں کہ فہد نے یہ فاصلہ ایک تیار ٹریک پر طے کیا جب کہ حارث نے ریتیلے راستے پر چل کر طے کیا تب؟
تب ہمارا جواب ہوگا "حارث"
لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ فہد کی عمر 50 سال ہے جب کہ حارث کی عمر 25 سال تب؟
ہم دوبارہ کہیں گے کہ "فہد"
مگر ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ حارث کا وزن 140 کلو ہے جب کہ فہد کا وزن 65 کلو تب؟
تب ہم کہیں گے "حارث"
جوں جوں ہم فہد اور حارث سے متعلق زیادہ جان لیں گے ان میں سے کون بہتر ہے ان سے متعلق ہماری رائے اور فیصلہ بھی بدل جائے گا.
ہم بہت سطحی چیزیں اور بہت جلدی میں رائے قائم کرتے ہیں جس سے ہم خود اور دوسروں کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتے ہیں.
اسی طرح خود کو دوسروں کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے بھی ہم میں سے بہت سارے اسی سطحیت کا شکار ہو کر مایوس ہو جاتے ہیں حالانکہ
ہر ایک کا ماحول مختلف ہوتا ہے،
مواقع مختلف ہوتے ہیں،
زندگی مختلف ہوتی ہے،
وسائل مختلف ہوتے ہیں،
مسائل مختلف ہوتے ہیں۔
آپ اپنے کسی ہم عمر سے کسی کام میں پیچھے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کامیاب اور آپ ناکام ہیں، وہ افضل اور آپ کمتر ہیں، ممکن ہے آپ کو میسر مواقع، ظروف اور درپیش حالات کو دیکھا جائے تو آپ ان سے بہت بہتر ہوں.
زندگی کی دوڑ میں خود کو کبھی کمتر نہ سمجھیں، احساس کمتری شکست کی پہلی سیڑھی ہے.
عربی سے ترجمہ
https://t.me/islamwitheman/2196
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 ردعمل 🔷
ابوالکلام اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ ملازمت بھی کرتی تھیں اور گھر کا کام کاج بھی وہی کرتی تھیں۔
ایک رات کھانے کے وقت انہوں نے سالن اور جلی ہوئی روٹی میرے والد کے آگے رکھی۔ میں والد کے رد عمل کا انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ غصہ…
ابوالکلام اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ ملازمت بھی کرتی تھیں اور گھر کا کام کاج بھی وہی کرتی تھیں۔
ایک رات کھانے کے وقت انہوں نے سالن اور جلی ہوئی روٹی میرے والد کے آگے رکھی۔ میں والد کے رد عمل کا انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ غصہ…
🌼 سجدہ گاہ 🌼
شیعہ مٹی کے بنے سجدہ گاہ پر سجدہ کیوں کرتے ہیں اور یہ سلسلہ کب سے شروع ہوا؟
🔹 شیعہ سجدہ گاہ پر (خاک پر سجدہ)
اس لئے کرتے ہیں کیونکہ رسول اللہ (ص) بھی خاک پر سجدہ کیا کرتے تھے اور صحابہ کو بھی حکم دیا کرتے تھے کہ خاک پر سجدہ کریں۔
🔹 رسول اللہ (ص) نے فرمایا:
جعلت لی الارض مسجداً وطھوراً :
( اللہ نے) میرے لئے زمین کو سجدہ گاہ (سجدہ کرنے کی جگہ) اور پاکی کا وسیلہ قرار دیا ھے۔
📚 صحیح بخاری جلد نمبر 1۔
صحیح مسلم جلد نمبر 1۔
وسائل الشیعہ جلد نمبر 3۔
🔹 جابر ابن عبد اللہ انصاری رح کہتے ہیں۔۔۔
جب ہم شدید گرمی میں رسول اللہ (ص) کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو میں ریت کی ایک مٹھی اٹھاتا اور اسکو میں اپنے ہاتھ میں ٹھنڈا کرتا تھا اس کے بعد اپنے دوسرے ہاتھ میں لیتاتھا اورجب میں سجدہ کرنے نیچے جاتا تھا تو اس کو میں زمین پر رکھ دیتا تھا پھر اس کے اوپر سجدہ کرتا تھا۔ (نوٹ) مکتب تسنن کی ھی اس روایت اور چند اگلی روایات سے نماز کی کھلے ھاتھوں سے ادائیگی کا ثبوت بھی واضح ھو گیا۔ کیونکہ ریت کی مٹھی یا پتھر کو ٹھنڈا کرنے کا عمل کھلے ھاتھوں ممکن ھے نہ کہ بند ھاتھوں سے۔
📚 سنن نسائی جلد نمبر 2۔
🔹 انس بن مالک رح کہتے ہیں کہ:
"کہ ھم شدید گرمی میں رسول اللہ (ص) کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ ھم سب پتھر ھاتھ میں اٹھاتے تھے اور اپنے ھاتھ میں رکھتے تھے تاکہ پتھر ٹھنڈا ھوجائے پھر جب ھم سجدے میں جاتے تھے تو اس پر سجدہ کرتے تھے۔
📚 السنن الکبری جلد 2۔
🔹 عمر بن خطاب سے روایت ھے کہ:
"بارش کی رات تھی صبح جب ھم نماز پڑھنے نکلے تو دیکھا کہ مسجد کی مٹی بارش کی وجہ سے کیچڑ میں تبدیل ھو گئی تھی۔ ھم نے پتھروں کو زمین پر بچھا کر فرش بنایا اور پھر نماز پڑھی۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ بہت اچھا کیا۔
📚 سنن ابوداود جلد 1۔
🔹 یہاں تک رسول اللہ (ص) اور صحابہ کا خاک پر اور پتھر پہ سجدہ کرنا ثابت ھوگیا یعنی ثابت ھو گیا کہ خاک پر یا پتھر پر سجدہ کرنا نبی (ص) اور انکے صحابہ کی سنت ھے اور جب خاک پر سجدہ ثابت ھے تو ھمارے نزدیک کربلا کی خاک سجدہ کے لیے سب سے افضل ھے کیونکہ کربلا میں امام حسین (ع) اور انکے اصحاب نے اللہ کے دین اور نماز کو اپنا خون دے کر بچایا۔ اس بارے میں آئمہ (ع) نے بہت تاکید فرمائی ھے۔ واقعہ کربلا کے بعد سب سے پہلے تربت امام حسین (ع) پر سجدہ امام زین العابدین (ع) نے کیا۔ پھر اسکے بعد دیگر آئمہ (ع) نے بھی خاک شفاء پر سجدہ کیا اور دوسروں کو بھی کرنے کی تاکید کی۔
📚 وسائل شیعہ جلد 6۔
بحارالانوار جلد 46۔
🔹 معاویہ ابن عمار رح کہتے ہیں کہ:
امام جعفر صادق (ع) کے پاس زرد رنگ (زربافت ) کا ایک کپڑا تھا کہ جس میں تربت امام حسین تھی۔ وہ نماز کے وقت اسکو جائے نماز میں رکھ دیتے تھے ۔ اور اسی پر سجدہ کرتے تھے اورفرماتے تھے:
"ان السجود علی تربۃ ابی عبداللہ بخرق الحجب السیع"
امام حسین (ع) کی مٹی پر سجدہ کرنا سات (آسمانوں کے) پردوں کو چاک کر دیتا ھے۔
📚 وسائل الشیعہ جلد 6۔
♦ کربلا کی سجدہ گاہ پر نماز پڑھنے کا ثواب
کربلا کی سجدہ گاہ پر نماز پڑھنے کا بہت زیادہ ثواب ھے۔ اور اسکی زیادہ وصیت کی گئی ھے کہ ہمیشہ کربلا کی سجدہ گاہ کے ساتھ نماز پڑھیں. آقا امام صادق عليه السلام فرماتے ہیں:
امام حسین علیہ السلام کی تربت پر سجدہ کرنا ، سات پردوں کو ہٹا دیتا ھے۔
📚 كافى مرحوم كلینى جلد 4 صفہہ 588 ۔
♦ نوٹ : یہاں فقط اہلسنت کی کتابوں کے حوالہ جات پیش کئے گئے ہیں ۔ ورنہ شیعہ کتابوں میں تواتر سے ایسی احادیث موجود ہیں ۔ جن میں ہر اس چیز پر سجدہ کرنے سے منع کیا گیا ھے ۔ جو کھائی یا پی جاتی ہوں ۔ یا پہننے میں استعمال ہوتی ہوں ۔ یہی وجہ ھے کہ شیعہ فقہ میں کپڑے/ قالین اور پلاسٹک کی چٹائی پر سجدہ کرنا جائز نہیں ھے ۔ لہذا فقط لکڑی ، پتھر ، مٹی ، فرش وغیرہ پر ھی سجدہ کرنا جاۂز ھے۔
التماس دعا :
تحریر سید فاخر حسین رضوی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
شیعہ مٹی کے بنے سجدہ گاہ پر سجدہ کیوں کرتے ہیں اور یہ سلسلہ کب سے شروع ہوا؟
🔹 شیعہ سجدہ گاہ پر (خاک پر سجدہ)
اس لئے کرتے ہیں کیونکہ رسول اللہ (ص) بھی خاک پر سجدہ کیا کرتے تھے اور صحابہ کو بھی حکم دیا کرتے تھے کہ خاک پر سجدہ کریں۔
🔹 رسول اللہ (ص) نے فرمایا:
جعلت لی الارض مسجداً وطھوراً :
( اللہ نے) میرے لئے زمین کو سجدہ گاہ (سجدہ کرنے کی جگہ) اور پاکی کا وسیلہ قرار دیا ھے۔
📚 صحیح بخاری جلد نمبر 1۔
صحیح مسلم جلد نمبر 1۔
وسائل الشیعہ جلد نمبر 3۔
🔹 جابر ابن عبد اللہ انصاری رح کہتے ہیں۔۔۔
جب ہم شدید گرمی میں رسول اللہ (ص) کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو میں ریت کی ایک مٹھی اٹھاتا اور اسکو میں اپنے ہاتھ میں ٹھنڈا کرتا تھا اس کے بعد اپنے دوسرے ہاتھ میں لیتاتھا اورجب میں سجدہ کرنے نیچے جاتا تھا تو اس کو میں زمین پر رکھ دیتا تھا پھر اس کے اوپر سجدہ کرتا تھا۔ (نوٹ) مکتب تسنن کی ھی اس روایت اور چند اگلی روایات سے نماز کی کھلے ھاتھوں سے ادائیگی کا ثبوت بھی واضح ھو گیا۔ کیونکہ ریت کی مٹھی یا پتھر کو ٹھنڈا کرنے کا عمل کھلے ھاتھوں ممکن ھے نہ کہ بند ھاتھوں سے۔
📚 سنن نسائی جلد نمبر 2۔
🔹 انس بن مالک رح کہتے ہیں کہ:
"کہ ھم شدید گرمی میں رسول اللہ (ص) کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ ھم سب پتھر ھاتھ میں اٹھاتے تھے اور اپنے ھاتھ میں رکھتے تھے تاکہ پتھر ٹھنڈا ھوجائے پھر جب ھم سجدے میں جاتے تھے تو اس پر سجدہ کرتے تھے۔
📚 السنن الکبری جلد 2۔
🔹 عمر بن خطاب سے روایت ھے کہ:
"بارش کی رات تھی صبح جب ھم نماز پڑھنے نکلے تو دیکھا کہ مسجد کی مٹی بارش کی وجہ سے کیچڑ میں تبدیل ھو گئی تھی۔ ھم نے پتھروں کو زمین پر بچھا کر فرش بنایا اور پھر نماز پڑھی۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ بہت اچھا کیا۔
📚 سنن ابوداود جلد 1۔
🔹 یہاں تک رسول اللہ (ص) اور صحابہ کا خاک پر اور پتھر پہ سجدہ کرنا ثابت ھوگیا یعنی ثابت ھو گیا کہ خاک پر یا پتھر پر سجدہ کرنا نبی (ص) اور انکے صحابہ کی سنت ھے اور جب خاک پر سجدہ ثابت ھے تو ھمارے نزدیک کربلا کی خاک سجدہ کے لیے سب سے افضل ھے کیونکہ کربلا میں امام حسین (ع) اور انکے اصحاب نے اللہ کے دین اور نماز کو اپنا خون دے کر بچایا۔ اس بارے میں آئمہ (ع) نے بہت تاکید فرمائی ھے۔ واقعہ کربلا کے بعد سب سے پہلے تربت امام حسین (ع) پر سجدہ امام زین العابدین (ع) نے کیا۔ پھر اسکے بعد دیگر آئمہ (ع) نے بھی خاک شفاء پر سجدہ کیا اور دوسروں کو بھی کرنے کی تاکید کی۔
📚 وسائل شیعہ جلد 6۔
بحارالانوار جلد 46۔
🔹 معاویہ ابن عمار رح کہتے ہیں کہ:
امام جعفر صادق (ع) کے پاس زرد رنگ (زربافت ) کا ایک کپڑا تھا کہ جس میں تربت امام حسین تھی۔ وہ نماز کے وقت اسکو جائے نماز میں رکھ دیتے تھے ۔ اور اسی پر سجدہ کرتے تھے اورفرماتے تھے:
"ان السجود علی تربۃ ابی عبداللہ بخرق الحجب السیع"
امام حسین (ع) کی مٹی پر سجدہ کرنا سات (آسمانوں کے) پردوں کو چاک کر دیتا ھے۔
📚 وسائل الشیعہ جلد 6۔
♦ کربلا کی سجدہ گاہ پر نماز پڑھنے کا ثواب
کربلا کی سجدہ گاہ پر نماز پڑھنے کا بہت زیادہ ثواب ھے۔ اور اسکی زیادہ وصیت کی گئی ھے کہ ہمیشہ کربلا کی سجدہ گاہ کے ساتھ نماز پڑھیں. آقا امام صادق عليه السلام فرماتے ہیں:
امام حسین علیہ السلام کی تربت پر سجدہ کرنا ، سات پردوں کو ہٹا دیتا ھے۔
📚 كافى مرحوم كلینى جلد 4 صفہہ 588 ۔
♦ نوٹ : یہاں فقط اہلسنت کی کتابوں کے حوالہ جات پیش کئے گئے ہیں ۔ ورنہ شیعہ کتابوں میں تواتر سے ایسی احادیث موجود ہیں ۔ جن میں ہر اس چیز پر سجدہ کرنے سے منع کیا گیا ھے ۔ جو کھائی یا پی جاتی ہوں ۔ یا پہننے میں استعمال ہوتی ہوں ۔ یہی وجہ ھے کہ شیعہ فقہ میں کپڑے/ قالین اور پلاسٹک کی چٹائی پر سجدہ کرنا جائز نہیں ھے ۔ لہذا فقط لکڑی ، پتھر ، مٹی ، فرش وغیرہ پر ھی سجدہ کرنا جاۂز ھے۔
التماس دعا :
تحریر سید فاخر حسین رضوی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔶 قیامت کیوں آئے گی 🔶
امام علی علیہ السلام سے ایک ملحد نے سوال کیا۔۔۔!!
یاعلیؑ کیا اپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کسی پر ظلم نہیں کرتا اور آپ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ہر چیز ختم ہو جائے گی. جب دنیا ختم ہوجائے گی تو کیا یہ ظلم نہیں؟
مولا علیؑ نے جواب دیا...!!
اے شخص یہ دنیا اللہ ختم نہیں کرے گا بلکہ انسان کے اندر کا لالچ اسے انسانوں کے ہاتھ سے ختم کروائے گا.
اس نے کہا یاعلیؑ وہ کیسے؟
تو مولا علیؑ نے فرمایا..!!
اللہ عزوجل نے زمین پر آدمؑ کو بھیجا بغیر کسی سند کے، اس زمین پر تمام انسانوں کا حق برابر برابر ہے، کوئی زمین کسی کی نہیں یہ زمین اللہ کی ہے، لیکن افسوس کچھ لوگ زمین پر قبضہ کریں گے اور زمین کے ٹکڑوں کو اپنی جاگیر سمجھیں گے۔ انسان دنیاوی دولت کے لیے اللہ کی قدرت کو کاٹ کر بیچ کھایئں گے،
زمین کو کھود کر اللہ کی نعمتیں نکال کر بیچیں گے، پہاڑوں کو توڑ کر انکے پتھروں سے دولت حاصل کریں گے، درختوں کو کاٹ کر انکی لکڑیاں بیچیں گے، ہواؤں کو آلودہ کریں گے پانی کو گندہ کریں گے.
اے شخص یاد رکھنا اللہ عدل کرتا ہے، اس نے کوئی شئے بے غرض پیدا نہیں کی. زمین کو زیادہ کھودنے سے اسکی معدنیات نکالنے سے زلزلے بڑھ جایئں گے. ہواؤں کو آلودہ کرنے سے ہزاروں بیماریاں پیدا ہونگی. درخت کاٹنے سے انسان اپنی ہی صحت کو کاٹے گا، اور پانی کو آلودہ کرنے کی وجہ سے بارش کم برسے گی. یوں انسان پانی کے لیے ترسے گا. اور اللہ نے زمین کے سینے پر جو پہاڑ جمائے ہوئے ہیں یہ اس لیے ہیں کہ زمین اپنی جگہ پر قائم رہ سکے. لیکن جب ان پہاڑوں کو توڑا جائے گا تو زمین اپنی جگہ بدلے گی. اور سورج کے قریب ہوتی چلی جائے گی اور یوں جل کر ختم ہوجائے گی. اور پھر اللہ عدل کرے گا انصاف کرے گا کہ اس قدر خوبصورت زمین کو اسطرح سے تباہ کیوں کیا گیا...؟
انسانوں پر ظلم کیوں کیا گیا...؟
انکا حق کیوں غصب کیا گیا ہے...؟
اے شخص ظلم تو انسان کرتے ہیں اپنے آپ پر، اللہ عدل کرے گا اور اسی عدل کے دن کو قیامت کہتے ہیں.
📚 منتخب التواریخ ص 78۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
امام علی علیہ السلام سے ایک ملحد نے سوال کیا۔۔۔!!
یاعلیؑ کیا اپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کسی پر ظلم نہیں کرتا اور آپ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ہر چیز ختم ہو جائے گی. جب دنیا ختم ہوجائے گی تو کیا یہ ظلم نہیں؟
مولا علیؑ نے جواب دیا...!!
اے شخص یہ دنیا اللہ ختم نہیں کرے گا بلکہ انسان کے اندر کا لالچ اسے انسانوں کے ہاتھ سے ختم کروائے گا.
اس نے کہا یاعلیؑ وہ کیسے؟
تو مولا علیؑ نے فرمایا..!!
اللہ عزوجل نے زمین پر آدمؑ کو بھیجا بغیر کسی سند کے، اس زمین پر تمام انسانوں کا حق برابر برابر ہے، کوئی زمین کسی کی نہیں یہ زمین اللہ کی ہے، لیکن افسوس کچھ لوگ زمین پر قبضہ کریں گے اور زمین کے ٹکڑوں کو اپنی جاگیر سمجھیں گے۔ انسان دنیاوی دولت کے لیے اللہ کی قدرت کو کاٹ کر بیچ کھایئں گے،
زمین کو کھود کر اللہ کی نعمتیں نکال کر بیچیں گے، پہاڑوں کو توڑ کر انکے پتھروں سے دولت حاصل کریں گے، درختوں کو کاٹ کر انکی لکڑیاں بیچیں گے، ہواؤں کو آلودہ کریں گے پانی کو گندہ کریں گے.
اے شخص یاد رکھنا اللہ عدل کرتا ہے، اس نے کوئی شئے بے غرض پیدا نہیں کی. زمین کو زیادہ کھودنے سے اسکی معدنیات نکالنے سے زلزلے بڑھ جایئں گے. ہواؤں کو آلودہ کرنے سے ہزاروں بیماریاں پیدا ہونگی. درخت کاٹنے سے انسان اپنی ہی صحت کو کاٹے گا، اور پانی کو آلودہ کرنے کی وجہ سے بارش کم برسے گی. یوں انسان پانی کے لیے ترسے گا. اور اللہ نے زمین کے سینے پر جو پہاڑ جمائے ہوئے ہیں یہ اس لیے ہیں کہ زمین اپنی جگہ پر قائم رہ سکے. لیکن جب ان پہاڑوں کو توڑا جائے گا تو زمین اپنی جگہ بدلے گی. اور سورج کے قریب ہوتی چلی جائے گی اور یوں جل کر ختم ہوجائے گی. اور پھر اللہ عدل کرے گا انصاف کرے گا کہ اس قدر خوبصورت زمین کو اسطرح سے تباہ کیوں کیا گیا...؟
انسانوں پر ظلم کیوں کیا گیا...؟
انکا حق کیوں غصب کیا گیا ہے...؟
اے شخص ظلم تو انسان کرتے ہیں اپنے آپ پر، اللہ عدل کرے گا اور اسی عدل کے دن کو قیامت کہتے ہیں.
📚 منتخب التواریخ ص 78۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 دعا کیلئے ہاتھوں کا بلند کرنا 🌹
دعا کرتے وقت آسمان کی طرف ہاتھ کیوں بلند کرتے ہیں؟
اکثر اوقات عوام الناس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خداوندعالم کے لئے کوئی (خاص) محل و مکان نہیں ہے تو پھر دعا کرتے وقت آسمان کی طرف ہاتھ کیوں اٹھاتے ہیں؟ کیوں آسمان کی طرف آنکھیں متوجہ کی جاتی ہیں؟ نعوذ بالله کیا خداوندعالم آسمان میں ہے؟
(قارئین کرام!) یہ سوال حضرات ائمہ معصومین علیہم السلام کے زمانہ میں بھی ہوتا تھا، جیسا کہ ہمیں تاریخ میں ملتا ہے کہ۔۔۔
”ہشام بن حکم“ کہتے ہیں: ایک زندیق حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور اس نے درج ذیل آیت کے بارے میں سوال کیا:
<اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ>
”وہ رحمان عرش پر اختیار اور اقتدار رکھنے والا ہے“۔
♻ امام علیہ السلام نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: خداوندعالم کو کسی جگہ اور کسی مخلوق کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ تمام مخلوقات اس کی محتاج ہے۔
سوال کرنے والے نے عرض کی: تو پھر کوئی فرق نہیں ہے کہ (دعا کے وقت) چاہے ہاتھ آسمان کی طرف بلند ہوں یا زمین کی طرف؟
♻اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ موضوع خداوندعالم کے علم و احاطہ میں برابر ہے (اور کوئی فرق نہیں ہے) لیکن خداوندعالم نے اپنے انبیاء اور صالح بندوں کو خود حکم دیا کہ اپنے ہاتھوں کو آسمان اور عرش کی طرف اٹھائیں، کیونکہ معدنِ رزق وہیں ہے، جو کچھ قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے ہم اس کو ثابت مانتے ہیں جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: اپنے ہاتھوں کو خداوندعالم کی بارگاہ میں بلند کرو، اس بات پر تمام امت کا اتفاق اور اجماع ہے۔
⭕اسی طرح کتاب خصال (شیخ صدوق علیہ الرحمہ) میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے: ”إذَا فَرغَ اٴحدکُم مِنَ الصَّلوٰةِ فَلیرفعُ یدیہِ إلیٰ السَّمَاءِ، ولینصَّب فِي الدعاءِ“ ”جب تم نماز سے فارغ ہوجاوٴ تو اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرو اور دعا میں مشغول ہوجاؤ“۔
اس وقت ایک شخص نے عرض کیا: یا امیر المومنین! کیا خداوندعالم سب جگہ موجود نہیں ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں! سب جگہ موجود ہے۔
اس شخص نے عرض کیا: تو پھر بندے آسمان کی طرف اپنے ہاتھوں کو کیوں اٹھائیں؟
اس موقع پر امام علیہ السلام نے درج ذیل آیہٴ شریفہ کی تلاوت فرمائی:
<وَفِی السَّمَاءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ>
” اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جن باتوں کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے (سب کچھ موجودہے)“۔
🔘 ان روایات کے مطابق چونکہ انسان کا اکثر رزق آسمان سے ہے، ( بارش؛ جس سے بنجر زمین زراعت کے لائق ہو جاتی ہے، آسمان سے نازل ہوتی ہے، سورج کی روشنی جو کہ زندگی اور حیات کا مرکز ہے، آسمان سے آتی ہے ، ہوا بھی آسمان میں ہے جو کہ زندگی کے لئے تیسرا اہم سبب ہے) اور آسمان رزق اور برکات الٰہی کا معدن و مرکز ہے، لہٰذا دعا کے وقت آسمان کی طرف توجہ کی جاتی ہے اور رزق و روزی کے مالک و خالق سے اپنی مشکلات کے حل کی دعا کی جاتی ہے۔
بعض روایات میں اس کام کے لئے ایک دوسرا فلسفہ بھی بیان کیا گیا ہے، اور وہ ہے خداوندعالم کی بارگاہ میں خضوع و تذلل کرنا، کیونکہ ہم کسی شخص یا کسی شئے کے سامنے تواضع کے اظہار کے وقت اور تسلیم ہوتے وقت اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے ہیں۔
التماس دعا: محمد رضا حسینی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
دعا کرتے وقت آسمان کی طرف ہاتھ کیوں بلند کرتے ہیں؟
اکثر اوقات عوام الناس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خداوندعالم کے لئے کوئی (خاص) محل و مکان نہیں ہے تو پھر دعا کرتے وقت آسمان کی طرف ہاتھ کیوں اٹھاتے ہیں؟ کیوں آسمان کی طرف آنکھیں متوجہ کی جاتی ہیں؟ نعوذ بالله کیا خداوندعالم آسمان میں ہے؟
(قارئین کرام!) یہ سوال حضرات ائمہ معصومین علیہم السلام کے زمانہ میں بھی ہوتا تھا، جیسا کہ ہمیں تاریخ میں ملتا ہے کہ۔۔۔
”ہشام بن حکم“ کہتے ہیں: ایک زندیق حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور اس نے درج ذیل آیت کے بارے میں سوال کیا:
<اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ>
”وہ رحمان عرش پر اختیار اور اقتدار رکھنے والا ہے“۔
♻ امام علیہ السلام نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: خداوندعالم کو کسی جگہ اور کسی مخلوق کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ تمام مخلوقات اس کی محتاج ہے۔
سوال کرنے والے نے عرض کی: تو پھر کوئی فرق نہیں ہے کہ (دعا کے وقت) چاہے ہاتھ آسمان کی طرف بلند ہوں یا زمین کی طرف؟
♻اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ موضوع خداوندعالم کے علم و احاطہ میں برابر ہے (اور کوئی فرق نہیں ہے) لیکن خداوندعالم نے اپنے انبیاء اور صالح بندوں کو خود حکم دیا کہ اپنے ہاتھوں کو آسمان اور عرش کی طرف اٹھائیں، کیونکہ معدنِ رزق وہیں ہے، جو کچھ قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے ہم اس کو ثابت مانتے ہیں جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: اپنے ہاتھوں کو خداوندعالم کی بارگاہ میں بلند کرو، اس بات پر تمام امت کا اتفاق اور اجماع ہے۔
⭕اسی طرح کتاب خصال (شیخ صدوق علیہ الرحمہ) میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے: ”إذَا فَرغَ اٴحدکُم مِنَ الصَّلوٰةِ فَلیرفعُ یدیہِ إلیٰ السَّمَاءِ، ولینصَّب فِي الدعاءِ“ ”جب تم نماز سے فارغ ہوجاوٴ تو اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرو اور دعا میں مشغول ہوجاؤ“۔
اس وقت ایک شخص نے عرض کیا: یا امیر المومنین! کیا خداوندعالم سب جگہ موجود نہیں ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں! سب جگہ موجود ہے۔
اس شخص نے عرض کیا: تو پھر بندے آسمان کی طرف اپنے ہاتھوں کو کیوں اٹھائیں؟
اس موقع پر امام علیہ السلام نے درج ذیل آیہٴ شریفہ کی تلاوت فرمائی:
<وَفِی السَّمَاءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ>
” اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جن باتوں کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے (سب کچھ موجودہے)“۔
🔘 ان روایات کے مطابق چونکہ انسان کا اکثر رزق آسمان سے ہے، ( بارش؛ جس سے بنجر زمین زراعت کے لائق ہو جاتی ہے، آسمان سے نازل ہوتی ہے، سورج کی روشنی جو کہ زندگی اور حیات کا مرکز ہے، آسمان سے آتی ہے ، ہوا بھی آسمان میں ہے جو کہ زندگی کے لئے تیسرا اہم سبب ہے) اور آسمان رزق اور برکات الٰہی کا معدن و مرکز ہے، لہٰذا دعا کے وقت آسمان کی طرف توجہ کی جاتی ہے اور رزق و روزی کے مالک و خالق سے اپنی مشکلات کے حل کی دعا کی جاتی ہے۔
بعض روایات میں اس کام کے لئے ایک دوسرا فلسفہ بھی بیان کیا گیا ہے، اور وہ ہے خداوندعالم کی بارگاہ میں خضوع و تذلل کرنا، کیونکہ ہم کسی شخص یا کسی شئے کے سامنے تواضع کے اظہار کے وقت اور تسلیم ہوتے وقت اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے ہیں۔
التماس دعا: محمد رضا حسینی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 چار چیزیں کبھی نہ چھوڑیں 🔷
1- شکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ نعمتوں میں زیادتی اور اضافے سے محروم ہو جائیں گے.
ولئن شكرتم لأزيدنكم (اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو مزید دوں گا)
(سورة إبراهيم :آیت 7)
2- اللہ کا ذکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ اس سے محروم ہو جائیں گے کہ اللہ آپ کو یاد رکھے.
فاذکرونی اذکرکم (تم میرا ذکر کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا)
(سورة البقرة: آیت 152)
3- دعاء کو نہ چھوڑیں ورنہ قبولیت سے محروم ہو جائیں گے۔
أدعوني أستجب لكم (تم مجھے پکارو میں تمہاری دعاء قبول کروں گا)
سورة المؤمن:آیت 60)
4- استغفار نہ چھوڑیں ورنہ نجات سے محروم ہو جائیں گے۔
وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون (اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب کہ وہ استغفار کرتے ہوں)
(سورة الأنفال :آیت 33)
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1- شکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ نعمتوں میں زیادتی اور اضافے سے محروم ہو جائیں گے.
ولئن شكرتم لأزيدنكم (اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو مزید دوں گا)
(سورة إبراهيم :آیت 7)
2- اللہ کا ذکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ اس سے محروم ہو جائیں گے کہ اللہ آپ کو یاد رکھے.
فاذکرونی اذکرکم (تم میرا ذکر کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا)
(سورة البقرة: آیت 152)
3- دعاء کو نہ چھوڑیں ورنہ قبولیت سے محروم ہو جائیں گے۔
أدعوني أستجب لكم (تم مجھے پکارو میں تمہاری دعاء قبول کروں گا)
سورة المؤمن:آیت 60)
4- استغفار نہ چھوڑیں ورنہ نجات سے محروم ہو جائیں گے۔
وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون (اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب کہ وہ استغفار کرتے ہوں)
(سورة الأنفال :آیت 33)
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 شیعوں کے تیرہ فرقے ہونگے 🔷
حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام نے فرمایا:
یہ امت اپنے نبیؐ کے بعد تہتر فرقوں میں تقسیم ہو گی اور ان سے بہتر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا اور ان تہتر فرقوں میں سے تیراں وہ فرقے ہونگے جو ہماری ولایت اور محبت کا دعویٰ کرتے ہیں ان میں سے بارہ فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا۔
هذه الأمة بعد نبيها (صلى الله عليه وآله) على ثلاث وسبعين فرقة اثنتان وسبعون فرقة في النار وفرقة في الجنة ومن الثلاث وسبعين فرقة ثلاث عشرة فرقة تنتحل ولايتنا ومودتنا اثنتا عشرة فرقة منها في النار وفرقة في الجنة وستون فرقة من سائر الناس في النار.
📚 الکافی، ج8، ص224۔ بحارالانوار، ج28، ص14۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام نے فرمایا:
یہ امت اپنے نبیؐ کے بعد تہتر فرقوں میں تقسیم ہو گی اور ان سے بہتر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا اور ان تہتر فرقوں میں سے تیراں وہ فرقے ہونگے جو ہماری ولایت اور محبت کا دعویٰ کرتے ہیں ان میں سے بارہ فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا۔
هذه الأمة بعد نبيها (صلى الله عليه وآله) على ثلاث وسبعين فرقة اثنتان وسبعون فرقة في النار وفرقة في الجنة ومن الثلاث وسبعين فرقة ثلاث عشرة فرقة تنتحل ولايتنا ومودتنا اثنتا عشرة فرقة منها في النار وفرقة في الجنة وستون فرقة من سائر الناس في النار.
📚 الکافی، ج8، ص224۔ بحارالانوار، ج28، ص14۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 بسم اللہ کی فضیلت 🌹
۱۔ ہر کام کی ابتدا میں:
حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) سے منقول ہے: "قولوا عِندَ افتِتاحِ كُلِّ أمرٍ صَغيرٍ أو عَظيمٍ: بِسمِ اللّه ِ الرَّحمنِ الرَّحيمِ"۔
"ہر چھوٹے یا بڑے کام کی ابتدا میں کہو: بسم اللہ الرحمن الرحیم"۔
[التوحيد، ص232،ح5]
اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ ہر کام چاہے کوئی عمل ہو یا بات ہو، چھوٹا کام ہو یا بڑا کام، اس کی ابتدا میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا چاہیے۔
۲۔ ہر کھانے پر:
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) نے فرمایا: جو شخص اپنے کھانے پر بسم اللہ کہے، میں اس شخص کی ضمانت کرتا ہوں کہ وہ کھانے سے شکایت نہیں کرے گا۔ ابن الکواء نے کہا: یاامیرالمومنین! میں نے صبح ایک کھانا کھایا تو اس پر بسم اللہ کہا حالانکہ اس نے مجھے تکلیف دی، تو حضرتؑ نے فرمایا: شاید تم نے کئی طرح کے کھانے کھائے ہیں تو بعض کھانوں پر بسم اللہ کہا اور بعض پر بسم اللہ نہیں کہا اے لکع۔
[الكافی، ج6، ص295]۔
واضح رہے کہ ابن الکواء خوارج کا سردار تھا۔
۳۔ اگر بھول جائے:
داؤد ابن فرقد کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے عرض کیا: میں کھانے پر کیسے بسم اللہ کہوں؟ آپؑ نے فرمایا: جب برتن (کھانے) مختلف ہوں تو ہر برتن کے لئے (الگ) بسم اللہ کہو۔ میں نے عرض کیا: اگر بسم اللہ کہنا بھول جاؤں تو؟ فرمایا: کہو گے: "بسم الله على أوله وآخره"، "سب پر بسم اللہ"۔
[فروع من الکافی، ج6، ص295]۔
۴۔ کچھ لکھنے سے پہلے:
حضرت امام علی رضا (علیہ السلام) کے بارے میں روایت ہے کہ جب آپؑ اپنے کاموں کی (اپنے لیے) یاددہانی کو لکھنا چاہتے تو لکھتے: "بسم الله الرحمن الرحيم أذكر إن شاء الله"، اس کے بعد جو لکھنا چاہتے لکھتے۔
[تحف العقول، ج1، ص443]۔
۵۔ سونے سے پہلے:
رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) فرماتے ہیں: جب بندہ سونے کے وقت کہے: "بسم اللہ الرحمن الرحیم" تو اللہ فرماتا ہے: "مَلائِکتى اُكتُبوا بِالحَسَناتِ نَفَسَهُ إلَى الصَّباحِ"۔
"اے میرے فرشتو! اس کی سانسوں کو صبح تک، نیکیاں لکھو"۔
[جامع الأخبار، ص120، ح218]۔
۶۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے:
حضرت امام علی ابن موسی الرضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں: جب میرے باپ (امام موسی کاظم) علیہ السلام اپنے گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو فرماتے: "بِسمِ اللّه ِ الرَّحمنِ الرَّحيمِ ، خَرَجتُ بِحَولِ اللّه ِ وقُوَّتِهِ ، لا بِحَولٍ مِنّي ولا قُوَّتي ، بَل بِحَولِكَ وقُوَّتِكَ يا رَبِّ ، مُتَعَرِّضا لِرِزقِكَ ، فَأتِني بِهِ في عافِيَةٍ"۔
[الكافي، ج2، ص542، ح7]۔
۷۔ حج و عمرہ کے سفر پر جاتے ہوئے:
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "إذا خَرَجتَ مِن بَيتِكَ تُريدُ الحَجَّ وَالعُمرَةَ إن شاءَ اللّهُ، فَادعُ دُعاءَ الفَرَجِ . . . فَإِذا جَعَلتَ رِجلَكَ فِي الرِّكابِ فَقُل : بِسمِ اللّه ِ الرَّحمنِ الرَّحيمِ ، بِاسمِ اللّه ِ وَاللّه ُ أكبَرُ . . ."، "جب ان شاء اللہ حج اور عمرہ کے لئے اپنے گھر سے نکلو تو دعائے فرج پڑھو... تو جب اپنے پاؤں کو رکاب میں رکھو تو کہو: بِسمِ اللّه ِ الرَّحمنِ الرَّحيمِ ، بِاسمِ اللّه ِ وَاللّه ُ أكبَرُ..."
[الكافي، ج4، ص284، ح2]۔
📚 حوالہ جات:
الكافی، شیخ کلینی۔
التوحيد، شیخ صدوق۔
تحف العقول، ابن شعبہ حرانی۔
جامع الأخبار، محمد سبزواری۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🌷 بسم اللہ کی فضیلت پر یقین
https://t.me/islamwitheman/955
🌷 تسمیہ
https://t.me/islamwitheman/1611
🌷 کھانے پر الفاظ کا اثر
https://t.me/islamwitheman/1980
🌷 بسم اللہ کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/2216
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
۱۔ ہر کام کی ابتدا میں:
حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) سے منقول ہے: "قولوا عِندَ افتِتاحِ كُلِّ أمرٍ صَغيرٍ أو عَظيمٍ: بِسمِ اللّه ِ الرَّحمنِ الرَّحيمِ"۔
"ہر چھوٹے یا بڑے کام کی ابتدا میں کہو: بسم اللہ الرحمن الرحیم"۔
[التوحيد، ص232،ح5]
اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ ہر کام چاہے کوئی عمل ہو یا بات ہو، چھوٹا کام ہو یا بڑا کام، اس کی ابتدا میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا چاہیے۔
۲۔ ہر کھانے پر:
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت امیرالمومنین (علیہ السلام) نے فرمایا: جو شخص اپنے کھانے پر بسم اللہ کہے، میں اس شخص کی ضمانت کرتا ہوں کہ وہ کھانے سے شکایت نہیں کرے گا۔ ابن الکواء نے کہا: یاامیرالمومنین! میں نے صبح ایک کھانا کھایا تو اس پر بسم اللہ کہا حالانکہ اس نے مجھے تکلیف دی، تو حضرتؑ نے فرمایا: شاید تم نے کئی طرح کے کھانے کھائے ہیں تو بعض کھانوں پر بسم اللہ کہا اور بعض پر بسم اللہ نہیں کہا اے لکع۔
[الكافی، ج6، ص295]۔
واضح رہے کہ ابن الکواء خوارج کا سردار تھا۔
۳۔ اگر بھول جائے:
داؤد ابن فرقد کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے عرض کیا: میں کھانے پر کیسے بسم اللہ کہوں؟ آپؑ نے فرمایا: جب برتن (کھانے) مختلف ہوں تو ہر برتن کے لئے (الگ) بسم اللہ کہو۔ میں نے عرض کیا: اگر بسم اللہ کہنا بھول جاؤں تو؟ فرمایا: کہو گے: "بسم الله على أوله وآخره"، "سب پر بسم اللہ"۔
[فروع من الکافی، ج6، ص295]۔
۴۔ کچھ لکھنے سے پہلے:
حضرت امام علی رضا (علیہ السلام) کے بارے میں روایت ہے کہ جب آپؑ اپنے کاموں کی (اپنے لیے) یاددہانی کو لکھنا چاہتے تو لکھتے: "بسم الله الرحمن الرحيم أذكر إن شاء الله"، اس کے بعد جو لکھنا چاہتے لکھتے۔
[تحف العقول، ج1، ص443]۔
۵۔ سونے سے پہلے:
رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) فرماتے ہیں: جب بندہ سونے کے وقت کہے: "بسم اللہ الرحمن الرحیم" تو اللہ فرماتا ہے: "مَلائِکتى اُكتُبوا بِالحَسَناتِ نَفَسَهُ إلَى الصَّباحِ"۔
"اے میرے فرشتو! اس کی سانسوں کو صبح تک، نیکیاں لکھو"۔
[جامع الأخبار، ص120، ح218]۔
۶۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے:
حضرت امام علی ابن موسی الرضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں: جب میرے باپ (امام موسی کاظم) علیہ السلام اپنے گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو فرماتے: "بِسمِ اللّه ِ الرَّحمنِ الرَّحيمِ ، خَرَجتُ بِحَولِ اللّه ِ وقُوَّتِهِ ، لا بِحَولٍ مِنّي ولا قُوَّتي ، بَل بِحَولِكَ وقُوَّتِكَ يا رَبِّ ، مُتَعَرِّضا لِرِزقِكَ ، فَأتِني بِهِ في عافِيَةٍ"۔
[الكافي، ج2، ص542، ح7]۔
۷۔ حج و عمرہ کے سفر پر جاتے ہوئے:
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "إذا خَرَجتَ مِن بَيتِكَ تُريدُ الحَجَّ وَالعُمرَةَ إن شاءَ اللّهُ، فَادعُ دُعاءَ الفَرَجِ . . . فَإِذا جَعَلتَ رِجلَكَ فِي الرِّكابِ فَقُل : بِسمِ اللّه ِ الرَّحمنِ الرَّحيمِ ، بِاسمِ اللّه ِ وَاللّه ُ أكبَرُ . . ."، "جب ان شاء اللہ حج اور عمرہ کے لئے اپنے گھر سے نکلو تو دعائے فرج پڑھو... تو جب اپنے پاؤں کو رکاب میں رکھو تو کہو: بِسمِ اللّه ِ الرَّحمنِ الرَّحيمِ ، بِاسمِ اللّه ِ وَاللّه ُ أكبَرُ..."
[الكافي، ج4، ص284، ح2]۔
📚 حوالہ جات:
الكافی، شیخ کلینی۔
التوحيد، شیخ صدوق۔
تحف العقول، ابن شعبہ حرانی۔
جامع الأخبار، محمد سبزواری۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🌷 بسم اللہ کی فضیلت پر یقین
https://t.me/islamwitheman/955
🌷 تسمیہ
https://t.me/islamwitheman/1611
🌷 کھانے پر الفاظ کا اثر
https://t.me/islamwitheman/1980
🌷 بسم اللہ کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/2216
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌼 بسم الله کی فضیلت پر یقین 🌼
ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺤﻂ ﺳﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻓﺎﺭﻍ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺭﮬﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﯾﺸﯽ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﻤﻌﮯ ﮐﮯ ﺧﻄﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ…
ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺤﻂ ﺳﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻓﺎﺭﻍ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺭﮬﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﯾﺸﯽ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﻤﻌﮯ ﮐﮯ ﺧﻄﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ…
👁 نگاہیں نیچی رکھو 👁
شادی کے بعد دنیا کی دوسری عورتیں خوبصورت کیوں لگتی ہیں۔
ایک شخص ایک تجربہ کار عالم دین سے اپنا مسئلہ دریافت کرتے ہوئے کہنے لگا:
شروع شروع میں جب میری بیوی مجھے پسند آئی تھی تو اس وقت وہ میری نگاہ میں ایسی تھی جیسے اللہ تعالٰی نے اس دنیا کے اندر اس جیسا کسی کو بنایا ہی نہیں۔
اور جب میں نے اسے شادی کا پیغام دیا تو اس وقت میری نگاہ میں اس جیسی کئی ساری لڑکیاں تھیں۔
پھر جب میں نے اس سے شادی کر لی تو اس وقت اس سے زیادہ خوبصورت کئی لڑکیاں میری نظر سے گزریں۔
شادی کے چند سال گزرنے کے بعد مجھے ایسا لگنے لگا کہ دنیا کی تمام عورتیں میری بیوی سے زیادہ خوبصورت ہیں۔
شیخ نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب چیز نہ بتاؤں؟
اس آدمی نے جواب دیا: ہاں کیوں نہیں!
حضرت نے کہا: اگر تم دنیا کی ساری عورتوں سے شادی کر لو پھر بھی تمہیں ایسا لگے گا کہ گلی کوچوں میں پھرنے والے آوارہ کتے دنیا کی تمام عورتوں سے زیادہ خوبصورت ہیں۔
آدمی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا: حضرت! آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟
حضرت نے جواب دیا: اصل پریشانی تمہاری بیوی میں نہیں بلکہ اصل پریشانی یہ ہے کہ جب انسان کا دل لالچی ہو جائے، اس کی نگاہیں ادھر ادھر بھٹکنے لگیں اور انسان شرم و حیا سے عاری ہو جائے تو قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی بھی چیز اس کی آنکھوں کو نہیں بھر سکتی۔
سنو! تمہاری پریشانی یہ ہے کہ تم نگاہیں نیچی نہیں رکھ سکتے۔
کیا تم اپنی بیوی کو دوبارہ دنیا کی سب سے زیادہ خوبصورت عورت بنانا چاہتے ہو؟
اس آدمی نے جواب دیا: جی ہاں!
حضرت نے کہا: پھر تم اپنی نگاہیں نیچی رکھو۔
https://t.me/islamwitheman/2207
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
شادی کے بعد دنیا کی دوسری عورتیں خوبصورت کیوں لگتی ہیں۔
ایک شخص ایک تجربہ کار عالم دین سے اپنا مسئلہ دریافت کرتے ہوئے کہنے لگا:
شروع شروع میں جب میری بیوی مجھے پسند آئی تھی تو اس وقت وہ میری نگاہ میں ایسی تھی جیسے اللہ تعالٰی نے اس دنیا کے اندر اس جیسا کسی کو بنایا ہی نہیں۔
اور جب میں نے اسے شادی کا پیغام دیا تو اس وقت میری نگاہ میں اس جیسی کئی ساری لڑکیاں تھیں۔
پھر جب میں نے اس سے شادی کر لی تو اس وقت اس سے زیادہ خوبصورت کئی لڑکیاں میری نظر سے گزریں۔
شادی کے چند سال گزرنے کے بعد مجھے ایسا لگنے لگا کہ دنیا کی تمام عورتیں میری بیوی سے زیادہ خوبصورت ہیں۔
شیخ نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب چیز نہ بتاؤں؟
اس آدمی نے جواب دیا: ہاں کیوں نہیں!
حضرت نے کہا: اگر تم دنیا کی ساری عورتوں سے شادی کر لو پھر بھی تمہیں ایسا لگے گا کہ گلی کوچوں میں پھرنے والے آوارہ کتے دنیا کی تمام عورتوں سے زیادہ خوبصورت ہیں۔
آدمی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا: حضرت! آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟
حضرت نے جواب دیا: اصل پریشانی تمہاری بیوی میں نہیں بلکہ اصل پریشانی یہ ہے کہ جب انسان کا دل لالچی ہو جائے، اس کی نگاہیں ادھر ادھر بھٹکنے لگیں اور انسان شرم و حیا سے عاری ہو جائے تو قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی بھی چیز اس کی آنکھوں کو نہیں بھر سکتی۔
سنو! تمہاری پریشانی یہ ہے کہ تم نگاہیں نیچی نہیں رکھ سکتے۔
کیا تم اپنی بیوی کو دوبارہ دنیا کی سب سے زیادہ خوبصورت عورت بنانا چاہتے ہو؟
اس آدمی نے جواب دیا: جی ہاں!
حضرت نے کہا: پھر تم اپنی نگاہیں نیچی رکھو۔
https://t.me/islamwitheman/2207
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 دو قسم کی عورتیں 🔷
گھر سے باہر نکلتے ہی آپ کا دو قسم کی عورتوں سے سامنا ہوتا ہے۔۔۔
پہلی قِسم:
ان عورتوں کی ہے جو عزیزِ مصر کی بیوی والی بیماری کا شکار ہیں. خوب بن سنور کر خوشبو لگائے بے پردہ..... زبانِ حال سے کہہ رھی ہوتی ہیں.
هَيْتَ لَكَ (یوسف :23)…
گھر سے باہر نکلتے ہی آپ کا دو قسم کی عورتوں سے سامنا ہوتا ہے۔۔۔
پہلی قِسم:
ان عورتوں کی ہے جو عزیزِ مصر کی بیوی والی بیماری کا شکار ہیں. خوب بن سنور کر خوشبو لگائے بے پردہ..... زبانِ حال سے کہہ رھی ہوتی ہیں.
هَيْتَ لَكَ (یوسف :23)…
🌹 غذا کے فوائد🌹
1⃣ غذا کم یا زیادہ کھانا
حضرت پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں:
جو غذا کم کھاٸے اس کا بدن تندرست اور دل صاف ہوگا اور جو غذا زیادہ کھاٸے گا اس کا بدن بیمار اور دل سخت ہو جاٸیگا۔
2⃣ اللہ کی تقسیم پرراضی رہنا
غذا کھاتے وقت تمہیں معلوم ہو کہ حلال ہے یا حرام،
طعام کی ابتدا *بسم اللہ* سے کرو اور آخر میں *الحمداللہ* کہو اور اللہ تعالی کی تقسيم پر راضی ہو۔
اور اگر جو کھانا کھاتے وقت *بسم اللہ* نہ کہے تو شیطان سے 4 ہزار ملاٸکہ کہتے ہیں کہ تو بھی اس کیساتھ شامل ہوجا۔
3⃣ مسور کی دال
مولا امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
مسور کی دال مبارک اور مقدس ہے۔ دل میں رقت پیدا کرکے زیادہ آنسو پیدا کرتی ہے اسے 70 انبیا علیہ السلام نے برکت دی ہے۔
4⃣ نمک
🌺 پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں:
نمک غذاٶں کا سردار ہے۔
اے علی علیہ السلام! کھانے سے پہلے نمک کھایا کرو جو شخص کھانے کے اول و آخر میں نمک کھاٸے گا اللہ تعالی اس کو 70 قسم کی بیماریوں سے دور رکھے گا۔
🌺 مولا امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
نمک استعمال کرو یہ 70 بیماریوں کی دوا ہے جن میں سے کم ترین جذام، برص اور جنون ہیں۔
🌺 مولا امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
نمک 70 امراض کیلٸے شفا ہے۔ اگر لوگوں کو نمک کے تمام فوائد معلوم ہو جاٸیں تو وہ سواٸے نمک کے کسی اور چیز سے علاج ہی نہ کریں۔
5⃣ بنفشہ
مولا امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
🌺 بنفشہ کو باقی تیلوں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو اسلام کو دوسرے ادیان پر حاصل ہے۔
🌺 بنفشہ کا تیل لگاٶ کیونکہ روغن بنفشہ گرمیوں میں سرد اور سردیوں میں گرم ہے۔
6⃣ کدّو
مولا امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
جب تم سالن پکاٶ تو کدو زیادہ تر پکایا کرو، کیونکہ غم زدہ شخص کے دل کو تسلی فراہم کرتا ہے اور اس سے دماغ تروتازہ رہتا ہے۔
7⃣ گوشت
🌺 مولا امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
گوشت دنیا اور آخرت کے تمام کھانوں کا سردار ہے۔
🌺 مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
زیادہ گوشت کھانے سے بعض لوگوں پر بیماری کا اچانک حملہ ہوتا ہے جسکی وجہ سے انسان ناگہانی موت کا شکار ہوکر مرجاتا ہے۔
ناگہانی موت خون کی خرابی سے ہوتی ہے اور خون کی خرابی بھی زیادہ گوشت اور مرغن غذاٶں کے زیادہ کھانے سے لاحق ہوتی ہے۔
📚 بحوالہ۔
عیون اخبارالرضا۔ جلد٢
سپرمین ان اسلام۔
ہدیةالشیعہ۔
آدابِ اسلامی
انتخاب و ترتيب: بی۔اے نقوی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1⃣ غذا کم یا زیادہ کھانا
حضرت پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں:
جو غذا کم کھاٸے اس کا بدن تندرست اور دل صاف ہوگا اور جو غذا زیادہ کھاٸے گا اس کا بدن بیمار اور دل سخت ہو جاٸیگا۔
2⃣ اللہ کی تقسیم پرراضی رہنا
غذا کھاتے وقت تمہیں معلوم ہو کہ حلال ہے یا حرام،
طعام کی ابتدا *بسم اللہ* سے کرو اور آخر میں *الحمداللہ* کہو اور اللہ تعالی کی تقسيم پر راضی ہو۔
اور اگر جو کھانا کھاتے وقت *بسم اللہ* نہ کہے تو شیطان سے 4 ہزار ملاٸکہ کہتے ہیں کہ تو بھی اس کیساتھ شامل ہوجا۔
3⃣ مسور کی دال
مولا امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
مسور کی دال مبارک اور مقدس ہے۔ دل میں رقت پیدا کرکے زیادہ آنسو پیدا کرتی ہے اسے 70 انبیا علیہ السلام نے برکت دی ہے۔
4⃣ نمک
🌺 پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں:
نمک غذاٶں کا سردار ہے۔
اے علی علیہ السلام! کھانے سے پہلے نمک کھایا کرو جو شخص کھانے کے اول و آخر میں نمک کھاٸے گا اللہ تعالی اس کو 70 قسم کی بیماریوں سے دور رکھے گا۔
🌺 مولا امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
نمک استعمال کرو یہ 70 بیماریوں کی دوا ہے جن میں سے کم ترین جذام، برص اور جنون ہیں۔
🌺 مولا امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
نمک 70 امراض کیلٸے شفا ہے۔ اگر لوگوں کو نمک کے تمام فوائد معلوم ہو جاٸیں تو وہ سواٸے نمک کے کسی اور چیز سے علاج ہی نہ کریں۔
5⃣ بنفشہ
مولا امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
🌺 بنفشہ کو باقی تیلوں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو اسلام کو دوسرے ادیان پر حاصل ہے۔
🌺 بنفشہ کا تیل لگاٶ کیونکہ روغن بنفشہ گرمیوں میں سرد اور سردیوں میں گرم ہے۔
6⃣ کدّو
مولا امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
جب تم سالن پکاٶ تو کدو زیادہ تر پکایا کرو، کیونکہ غم زدہ شخص کے دل کو تسلی فراہم کرتا ہے اور اس سے دماغ تروتازہ رہتا ہے۔
7⃣ گوشت
🌺 مولا امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
گوشت دنیا اور آخرت کے تمام کھانوں کا سردار ہے۔
🌺 مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
زیادہ گوشت کھانے سے بعض لوگوں پر بیماری کا اچانک حملہ ہوتا ہے جسکی وجہ سے انسان ناگہانی موت کا شکار ہوکر مرجاتا ہے۔
ناگہانی موت خون کی خرابی سے ہوتی ہے اور خون کی خرابی بھی زیادہ گوشت اور مرغن غذاٶں کے زیادہ کھانے سے لاحق ہوتی ہے۔
📚 بحوالہ۔
عیون اخبارالرضا۔ جلد٢
سپرمین ان اسلام۔
ہدیةالشیعہ۔
آدابِ اسلامی
انتخاب و ترتيب: بی۔اے نقوی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 حمل کے دوران تربیت 🌹
معصومین کی سیرت میں ایسے آداب اور سنتیں پائی جاتی ہیں جن پر ایام حمل میں عمل کیا جاتا تھا ۔ان آداب پر عمل بچے میں تربیت کا زمینہ فراہم کرتا ہے۔ ممکن ہے بچے کی تربیت میں بعض آداب کے اثرات ہمارے لیے واضح نہ ہوں یا تربیت میں ان کی تاثیر کم ہو لیکن بہرحال یہ وہ عوامل ہیں جو اولاد کی تربیت میں موثر ہیں۔
ان میں سے بعض آداب تربیت کے بعد والے مراحل کا زمینہ فراہم کرتے ہیں جبکہ بعض آداب مستقیم طور پر تربیتی اثرات کے حامل ہیں تربیت انہی جزئی تاثیرات کا مجموعہ ہے۔ اسلیے کہ تربیت ایسی چیز نہیں کہ ایک ہی بار فورا انجام پاجائے بلکہ ایک تدریجی امر ہے جو زمینہ کی فراہمی، مزاحم عوامل کی دوری، تربیتی احکام و آداب کی رعایت اور مناسب روشوں سے استفادہ کے ذریعہ وجود میں آتا ہے۔
یہ کام سائنسی نقطہ نظر سے بھی قابل توجیہ ہے
محققین نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ بچے نہ صرف ولادت کے بعد ہماری بات سنتے اور اپنے ذہن میں محفوظ کرتے ہیں بلکہ ولادت سے پہلے بھی اپنی ماں کے دل کی دھڑکن اور معدے میں غذا کی حرکت حتی باہر والی آوازیں مثلا ماں باپ یا اطراف میں رہنے والوں کی آوازوں سے اثر قبول کرتے ہیں۔ بچے ان آوازوں کی شناخت پیدا کرتے اور ولادت کے بعد ان سے مانوس ہوتے ہیں۔
بچے کا اپنی ماں کی آغوش میں آرام و سکون پانے کی ایک علت ماں کے دل کی دھڑکن سے مانوس ہونا ہے جو ولادت سے پہلے ماں کے پیٹ میں سنتا رہاہے۔ اسی بارے میں ایک تحقیق آئی ہے کہ
(ولادت سے پہلے) اپنے بچے کے ساتھ باتیں کریں اس کیلیے نغمے پڑھیں۔ جو بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں ہو اس کے لیے اچھی یادیں ایجاد کریں، تحقیقات سے یہ معلوم ہوتا ہے جو آوازیں بچوں نے ماں کے رحم میں سنی ہوں اور ان لوگوں کی آوازیں جنہوں نے اس سے باتیں کی ہوں اور اس کیلیےنغمے پڑھے ہوں بچے (ولادت کے بعد) وہ آوازیں سن کر عکس العمل دکھاتے ہیں۔ نوزاد بچے اپنے باپ کی آواز (اگر باپ نے ولادت سے پہلے ان سے باتیں کی ہوں) پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور وہ چیزیں جو بچے کی ماں نے ولادت سے پہلے اس کیلیے پڑھی ہوں انہیں بڑی آسانی سے یاد کر لیتے ہیں۔
✅ اسیطرح ایک اور تحقیق میں حمل کے آخری پانچویں اور چھٹے ہفتے میں چند بچوں کیلیے دن میں دو دفعہ ایک کیسٹ چلائی گئی جس میں انکی ماؤں کے ترانے ریکارڈ تھے۔ ولادت کیبعد وہ بچے ترجیح دیتے تھے کہ صرف اسی ترانے کو اپنی ماں سے سنیں اگرچہ دوسرا ترانہ انکی ماں ہی کیوں نہ پڑھے۔
ایک اور تحقیق میں بچے ترجیح دیتے تھے کہ دوسرے شخص کی نسبت ترانہ اپنی ماں سے سنیں یہ بات بھی دلیل ہے کہ وہ اپنی ماں کی آواز سے آشنا تھے۔
سید مرتضی علم الہدی سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا:
میں جب شیخ مفید کی کلاس میں حاضر ہوتا تو وہ فقہی مباحث بیان کرتے۔ مجھے یوں گمان ہوتا کہ میں نے انہیں پہلے پڑھا ہے جبکہ یہ پہلی بار تھا کہ میں اس کلاس میں جاتا تھا۔ یہی بات میں نے اپنی والدہ کو بتائی، انہوں نے کچھ دن فکر کرنے کیبعد مجھ سے پوچھا: ابھی فقہ کی کون سی بحث پڑھ رہے ہو؟ جب میں نے اس فقہی باب کا نام لیا تو والدہ نے کہا جب تم میرے شکم میں تھے ہمارے گھر میں آپ کے باپ نے چند افراد کو یہ بحث پڑھائی تھی۔ تیرے حافظہ نے ان مطالب کو حفظ کیا ہے۔
حمل کے دوران ماں کے شکم میں موجود بچے اور والدہ کے درمیان بہت قریبی رابطہ ہوتا ہے۔ ماں کی ایک ایک حرکت بچے پہ تاثیر گزار ہورہی ہوتی ہے۔ اگر ماں کی صورتحال غمگین، پریشان اور مضطرب ہے تو بچہ بھی اس کو محسوس کررہا ہوتا ہے اور بچے کی نفسیات و جسم پہ اس کا اثر ہورہا ہوتا ہے۔ اگر ماں ان دنوں دینی احکام کی طرف متوجہ ہو تو بچہ کی نفسیات پہ اس کا اثر ہورہا ہوتا ہے۔ اگر ماں دین سے منحرف ہے تو اس کا اثر بھی بچے پر ہورہا ہوتا ہے۔ اسلیے ضروری ہے کہ ماں ان دنوں دین کے احکامات پہ عمل کرے۔
ایک واقعہ ہے کہ کسی عالمِ بزرگوار کے پاس ایک مسئلہ کو لے کر آیا گیا کہ اس بچے نے ایک ماشکی کی مشک میں سوئی مارکر سوراخ کر دیا ہے۔ جب تحقیق کی گئی تو اس بچے کی اس حرکت کا اصل محرک اس کی والدہ نکلی، جس نے دورانِ حمل کسی کے انار میں سوئی سے سوراخ کرکے سوئی کی نوک پر موجود انار کے رس کو چوسا تھا۔
ماں شکم میں موجود بچے کو سلام کرے، اچھے واقعات سنائے اور قرآن پڑھ کر سنائے۔ بہت سی روایات میں وارد ہوا ہے کہ معصومینؑ کی مائیں اپنے شکم میں موجود بچوں سے بیٹھ کر باتیں کررہی ہوتی تھیں۔ حالانکہ بچہ پیٹ کے اندر موجود ہے مگر یہ باتیں اس پہ اثر انداز ہو رہی ہوتی ہیں۔ ماں کو چاہیے کہ پیار بھرا ہاتھ اپنے شکم پہ پھیرے تاکہ بچے پہ خوشگوار اثرات مرتب ہوں۔ خیال رکھیں کہ کبھی بھی بُری باتیں منہ سے نہ نکالیں۔
ماں کا یہ رویہ بچے کی صحت و سلامتی پر اثرانداز ہو رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح معصومینؑ اور ماہرین نے کچھ غذائیں کھانے کا حکم دیا ہے۔
التماس دعا۔۔۔ایس کاظمی
https://t.me/islamwitheman/1857
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
معصومین کی سیرت میں ایسے آداب اور سنتیں پائی جاتی ہیں جن پر ایام حمل میں عمل کیا جاتا تھا ۔ان آداب پر عمل بچے میں تربیت کا زمینہ فراہم کرتا ہے۔ ممکن ہے بچے کی تربیت میں بعض آداب کے اثرات ہمارے لیے واضح نہ ہوں یا تربیت میں ان کی تاثیر کم ہو لیکن بہرحال یہ وہ عوامل ہیں جو اولاد کی تربیت میں موثر ہیں۔
ان میں سے بعض آداب تربیت کے بعد والے مراحل کا زمینہ فراہم کرتے ہیں جبکہ بعض آداب مستقیم طور پر تربیتی اثرات کے حامل ہیں تربیت انہی جزئی تاثیرات کا مجموعہ ہے۔ اسلیے کہ تربیت ایسی چیز نہیں کہ ایک ہی بار فورا انجام پاجائے بلکہ ایک تدریجی امر ہے جو زمینہ کی فراہمی، مزاحم عوامل کی دوری، تربیتی احکام و آداب کی رعایت اور مناسب روشوں سے استفادہ کے ذریعہ وجود میں آتا ہے۔
یہ کام سائنسی نقطہ نظر سے بھی قابل توجیہ ہے
محققین نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ بچے نہ صرف ولادت کے بعد ہماری بات سنتے اور اپنے ذہن میں محفوظ کرتے ہیں بلکہ ولادت سے پہلے بھی اپنی ماں کے دل کی دھڑکن اور معدے میں غذا کی حرکت حتی باہر والی آوازیں مثلا ماں باپ یا اطراف میں رہنے والوں کی آوازوں سے اثر قبول کرتے ہیں۔ بچے ان آوازوں کی شناخت پیدا کرتے اور ولادت کے بعد ان سے مانوس ہوتے ہیں۔
بچے کا اپنی ماں کی آغوش میں آرام و سکون پانے کی ایک علت ماں کے دل کی دھڑکن سے مانوس ہونا ہے جو ولادت سے پہلے ماں کے پیٹ میں سنتا رہاہے۔ اسی بارے میں ایک تحقیق آئی ہے کہ
(ولادت سے پہلے) اپنے بچے کے ساتھ باتیں کریں اس کیلیے نغمے پڑھیں۔ جو بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں ہو اس کے لیے اچھی یادیں ایجاد کریں، تحقیقات سے یہ معلوم ہوتا ہے جو آوازیں بچوں نے ماں کے رحم میں سنی ہوں اور ان لوگوں کی آوازیں جنہوں نے اس سے باتیں کی ہوں اور اس کیلیےنغمے پڑھے ہوں بچے (ولادت کے بعد) وہ آوازیں سن کر عکس العمل دکھاتے ہیں۔ نوزاد بچے اپنے باپ کی آواز (اگر باپ نے ولادت سے پہلے ان سے باتیں کی ہوں) پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور وہ چیزیں جو بچے کی ماں نے ولادت سے پہلے اس کیلیے پڑھی ہوں انہیں بڑی آسانی سے یاد کر لیتے ہیں۔
✅ اسیطرح ایک اور تحقیق میں حمل کے آخری پانچویں اور چھٹے ہفتے میں چند بچوں کیلیے دن میں دو دفعہ ایک کیسٹ چلائی گئی جس میں انکی ماؤں کے ترانے ریکارڈ تھے۔ ولادت کیبعد وہ بچے ترجیح دیتے تھے کہ صرف اسی ترانے کو اپنی ماں سے سنیں اگرچہ دوسرا ترانہ انکی ماں ہی کیوں نہ پڑھے۔
ایک اور تحقیق میں بچے ترجیح دیتے تھے کہ دوسرے شخص کی نسبت ترانہ اپنی ماں سے سنیں یہ بات بھی دلیل ہے کہ وہ اپنی ماں کی آواز سے آشنا تھے۔
سید مرتضی علم الہدی سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا:
میں جب شیخ مفید کی کلاس میں حاضر ہوتا تو وہ فقہی مباحث بیان کرتے۔ مجھے یوں گمان ہوتا کہ میں نے انہیں پہلے پڑھا ہے جبکہ یہ پہلی بار تھا کہ میں اس کلاس میں جاتا تھا۔ یہی بات میں نے اپنی والدہ کو بتائی، انہوں نے کچھ دن فکر کرنے کیبعد مجھ سے پوچھا: ابھی فقہ کی کون سی بحث پڑھ رہے ہو؟ جب میں نے اس فقہی باب کا نام لیا تو والدہ نے کہا جب تم میرے شکم میں تھے ہمارے گھر میں آپ کے باپ نے چند افراد کو یہ بحث پڑھائی تھی۔ تیرے حافظہ نے ان مطالب کو حفظ کیا ہے۔
حمل کے دوران ماں کے شکم میں موجود بچے اور والدہ کے درمیان بہت قریبی رابطہ ہوتا ہے۔ ماں کی ایک ایک حرکت بچے پہ تاثیر گزار ہورہی ہوتی ہے۔ اگر ماں کی صورتحال غمگین، پریشان اور مضطرب ہے تو بچہ بھی اس کو محسوس کررہا ہوتا ہے اور بچے کی نفسیات و جسم پہ اس کا اثر ہورہا ہوتا ہے۔ اگر ماں ان دنوں دینی احکام کی طرف متوجہ ہو تو بچہ کی نفسیات پہ اس کا اثر ہورہا ہوتا ہے۔ اگر ماں دین سے منحرف ہے تو اس کا اثر بھی بچے پر ہورہا ہوتا ہے۔ اسلیے ضروری ہے کہ ماں ان دنوں دین کے احکامات پہ عمل کرے۔
ایک واقعہ ہے کہ کسی عالمِ بزرگوار کے پاس ایک مسئلہ کو لے کر آیا گیا کہ اس بچے نے ایک ماشکی کی مشک میں سوئی مارکر سوراخ کر دیا ہے۔ جب تحقیق کی گئی تو اس بچے کی اس حرکت کا اصل محرک اس کی والدہ نکلی، جس نے دورانِ حمل کسی کے انار میں سوئی سے سوراخ کرکے سوئی کی نوک پر موجود انار کے رس کو چوسا تھا۔
ماں شکم میں موجود بچے کو سلام کرے، اچھے واقعات سنائے اور قرآن پڑھ کر سنائے۔ بہت سی روایات میں وارد ہوا ہے کہ معصومینؑ کی مائیں اپنے شکم میں موجود بچوں سے بیٹھ کر باتیں کررہی ہوتی تھیں۔ حالانکہ بچہ پیٹ کے اندر موجود ہے مگر یہ باتیں اس پہ اثر انداز ہو رہی ہوتی ہیں۔ ماں کو چاہیے کہ پیار بھرا ہاتھ اپنے شکم پہ پھیرے تاکہ بچے پہ خوشگوار اثرات مرتب ہوں۔ خیال رکھیں کہ کبھی بھی بُری باتیں منہ سے نہ نکالیں۔
ماں کا یہ رویہ بچے کی صحت و سلامتی پر اثرانداز ہو رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح معصومینؑ اور ماہرین نے کچھ غذائیں کھانے کا حکم دیا ہے۔
التماس دعا۔۔۔ایس کاظمی
https://t.me/islamwitheman/1857
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 شادی کیلئے معیار 🔷
صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن معسودؓ نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے پوچھا..!!!
اے فرزندِ رسول میری دو بیٹیاں جوان ہیں میں ان کی شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں آپ میری رہنمائی فرما دیں کہ میں کس طرح کے شخص سے ان کی شادی کروں۔؟
امام حسن…
صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن معسودؓ نے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے پوچھا..!!!
اے فرزندِ رسول میری دو بیٹیاں جوان ہیں میں ان کی شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں آپ میری رہنمائی فرما دیں کہ میں کس طرح کے شخص سے ان کی شادی کروں۔؟
امام حسن…
🌹 حمل کے دوران اعمال 🌹
دینِ اسلام میں بچے کی تربیت کا آغاز زمانہ حمل ہی سے شروع ہوجاتا ہے۔ مومن عورتوں کو چاہیے کہ ایام حمل میں ان احکامات پر خصوصی توجہ دیں:
1⃣ پہلا مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے روز سورہ یٰسین اور سورہ الصافات کی تلاوت کر کے شکم پر دم کریں۔
🔹 صبح کے وقت میٹھا سیب کھانا چاہیے۔
🔹 جمعہ کے دن ناشتے سے پہلے انار کھانا چاہیے۔
🔹 نماز فجر کے بعد تھوڑی سی مقدار میں خاک شفا کھاٸیں۔
🔹 نماز پنجگانہ کو اول وقت میں ادا کریں۔
🔹 نماز سے پہلے اذان و اقامت کہیں اور اذان و اقامت کہتے وقت پیٹ پر ہاتھ رکھا جاٸے۔
2⃣ دوسرا مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے روز سورہ الملک پڑھیں۔
🔹 جمعرات کے دن 140 مرتبہ اور جمعہ کے دن 100 مرتبہ شکم پر ہاتھ رکھکر یہ صلوات پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّألِ مُحَمَّدٍ وَّ عَجّل فَرَجَھُم وَاَھلِکَ عَدُوَّھُم وَالعَن اَعدَاٸَھُم مِنَ الجِنِّ وَالاِنسِ مِنَ الاَوَّلِینَ وَالاَخِرِین۔
🔹 ہر ہفتہ میں کم سے کم ایک مرتبہ گوشت کھاٸیں۔
🔹 دودھ اور سیب کا استعمال کریں۔
3⃣ تیسرا مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے دن سورہ آلِ عمران کی تلاوت کریں۔
🔹 جمعرات اور جمعہ کو 140 مرتبہ صلوات پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّألِ مُحَمَّدٍ وَّ عَجّل فَرَجَھُم وَاَھلِکَ عَدُوَّھُم وَالعَن اَعدَاٸَھُم مِنَ الجِنِّ وَالاِنسِ مِنَ الاَوَّلِینَ وَالاَخِرِین۔
🔹 ہر نماز سے پہلے شکم پر ہاتھ رکھکر یہی صلوات پڑھیں۔
🔹 ہر ہفتہ گندم، گوشت اور بغیر چکناٸی کا دودھ استعمال کریں۔
🔹 صبح کے وقت تھوڑا سا شہد بھی کھانا چاہیے۔
4⃣ چوتھا مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے روز سورہ دھر کی تلاوت کریں۔
🔹 تمام واجب نمازوں کی پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ قدر پڑھیں۔
🔹 نماز کے بعد پیٹ پر ہاتھ رکھکر سورہ قدر، سورہ کوثر اور اوپر والی بڑی صلوات پڑھیں اور اسکے بعد کہیں:
رَبَّناَ ھَب لَناَ مِن اَزوَجِناَ وَذُرّ یَا تِنٰا قُرَّةَ اَعیُنٍ وَجَعَلنَا لِلمُتَّقِینَ اِمَامًا۔
سات مرتبہ پڑھیں
اَستَغفِرُاللّٰہَ رَبّی وَاَتُوبُ اِلَیہِ۔
🔹 ہر واجب نماز کے بعد 140 مرتبہ بڑی صلوات پڑھیں۔
🔹 میٹھا سیب، انار اور شہد کھاٸیں۔
🔹 چوتھے مہینے کے شروع سے نماز تہجد پڑھا کریں اگر آدھی رات کو نہیں پڑھ سکتیں تو نماز فجر کے بعد اسکی قضا پڑھیں۔
5⃣ پانچواں مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے روز سورہ الفتح کی تلاوت کریں۔
🔹 روزانہ کسی ایک نماز میں پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ النصر کی تلاوت کریں۔
🔹 ہر نماز کے بعد سجدہ گاہ خاک شفا والا اٹھا کر پیٹ پر ملیں۔
🔹 ہر صبح پانچ دانے کھجور کھاٸیں۔
🔹 روزانہ رات کو تھوڑا سا زیتون سیب کیساتھ کھاٸیں۔
🔹 اس ماہ سے شروع میں پیٹ پر ہاتھ رکھ کر نماز کے وقت اذان و اقامت کہی جاٸے۔
6⃣ چھٹا مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے روز سورہ واقعہ پڑھیں۔
🔹 مغرب و عشا کی پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سورہ والتین پڑھیں۔
🔹 ہر نماز کے بعد اپنے ہاتھ کو خاک شفا سے مس کرکے پیٹ پر ملیں۔
🔹 ناشتے کے بعد انجیر اور زیتون کھاٸیں۔
🔹 رات یا دن میں ہڈی کا گودا کھایا جاٸے۔
🔹 چکنائی والی چیزوں سے پرہیز کریں۔
7⃣ ساتواں مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے دن سورہ یٰسین اور سورہ الملک کی تلاوت کریں۔
🔹 اذان و اقامت کیساتھ نماز تہجد پڑھنے کیساتھ ساتھ سوموار کے دن سورہ نحل کی تلاوت کریں۔
🔹 روزانہ کی نمازوں میں سورہ الحمد کے بعد سورہ قدر اور توحید پڑھیں۔
🔹 روزانہ 140 مرتبہ صلوات پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّألِ مُحَمَّدٍ وَّ عَجّل فَرَجَھُم وَاَھلِکَ عَدُوَّھُم وَالعَن اَعدَاٸَھُم مِنَ الجِنِّ وَالاِنسِ مِنَ الاَوَّلِینَ وَالاَخِرِین۔
🔹 ہر کھانے کے بعد تھوڑا سا تربوز ضرور کھاٸیں لیکن اسکے کھانے سے پہلے اور بعد میں پانی نہ پیں۔
🔹 اس ماہ میں ایک مرتبہ شلجم کھاٸیں۔
8⃣ آٹھواں مہینہ
🔹 ہفتہ کے دن نماز فجر کے بعد 10 مرتبہ سورہ قدر پڑھیں۔
🔹 اتوار کے دن نماز فجر کے بعد دو مرتبہ سورہ والتین پڑھیں،
سوموار کو سورہ یٰسین،
منگل کو سورہ فرقان،
بدھ کے دن سورہ دھر،
جمعرات کے دن سورہ محمد،
جمعہ کے دن سورہ الصافات کی تلاوت کریں۔
🔹 میٹھا دہی اور شہد کے کھانے میں کوتاہی نہ کریں۔
🔹 جمعہ کے دن ناشتے میں میٹھا انار ضرور کھاٸیں۔
🔹 اگر کوٸی نقصان نہ ہو تو ہفتہ میں ایک دفعہ سرکہ بھی استعمال کریں۔
9⃣ نواں مہینہ
🔹 امام زمانہ علیہ السلام کی سلامتی کیلٸے مینڈھا ذبح کر کے کھاٸیں۔
🔹 نماز ظہر یا عصر میں پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سورہ العصر یا الذاریات پڑھیں۔
🔹 جمعرات کو سورہ حج اور جمعہ کے دن سورہ فاطر کی تلاوت کریں۔
🔹 روزانہ کچھ پیدل چلیں۔
🔹 گرم مصالحہ نہ کھاٸیں۔
🔹 کھجور کھاٸیں۔
🔹 کھانے میں کباب استعمال کریں۔
🔹 اس ماہ میں تصویر اور آٸینہ کم دیکھیں۔
📚 حوالہ جات
مثالی ماں
اسلام اور تربیت اولاد
تہذیب زندگی
انتخاب و ترتیب: بی اے نقوی
https://t.me/islamwitheman/2219
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
دینِ اسلام میں بچے کی تربیت کا آغاز زمانہ حمل ہی سے شروع ہوجاتا ہے۔ مومن عورتوں کو چاہیے کہ ایام حمل میں ان احکامات پر خصوصی توجہ دیں:
1⃣ پہلا مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے روز سورہ یٰسین اور سورہ الصافات کی تلاوت کر کے شکم پر دم کریں۔
🔹 صبح کے وقت میٹھا سیب کھانا چاہیے۔
🔹 جمعہ کے دن ناشتے سے پہلے انار کھانا چاہیے۔
🔹 نماز فجر کے بعد تھوڑی سی مقدار میں خاک شفا کھاٸیں۔
🔹 نماز پنجگانہ کو اول وقت میں ادا کریں۔
🔹 نماز سے پہلے اذان و اقامت کہیں اور اذان و اقامت کہتے وقت پیٹ پر ہاتھ رکھا جاٸے۔
2⃣ دوسرا مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے روز سورہ الملک پڑھیں۔
🔹 جمعرات کے دن 140 مرتبہ اور جمعہ کے دن 100 مرتبہ شکم پر ہاتھ رکھکر یہ صلوات پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّألِ مُحَمَّدٍ وَّ عَجّل فَرَجَھُم وَاَھلِکَ عَدُوَّھُم وَالعَن اَعدَاٸَھُم مِنَ الجِنِّ وَالاِنسِ مِنَ الاَوَّلِینَ وَالاَخِرِین۔
🔹 ہر ہفتہ میں کم سے کم ایک مرتبہ گوشت کھاٸیں۔
🔹 دودھ اور سیب کا استعمال کریں۔
3⃣ تیسرا مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے دن سورہ آلِ عمران کی تلاوت کریں۔
🔹 جمعرات اور جمعہ کو 140 مرتبہ صلوات پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّألِ مُحَمَّدٍ وَّ عَجّل فَرَجَھُم وَاَھلِکَ عَدُوَّھُم وَالعَن اَعدَاٸَھُم مِنَ الجِنِّ وَالاِنسِ مِنَ الاَوَّلِینَ وَالاَخِرِین۔
🔹 ہر نماز سے پہلے شکم پر ہاتھ رکھکر یہی صلوات پڑھیں۔
🔹 ہر ہفتہ گندم، گوشت اور بغیر چکناٸی کا دودھ استعمال کریں۔
🔹 صبح کے وقت تھوڑا سا شہد بھی کھانا چاہیے۔
4⃣ چوتھا مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے روز سورہ دھر کی تلاوت کریں۔
🔹 تمام واجب نمازوں کی پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ قدر پڑھیں۔
🔹 نماز کے بعد پیٹ پر ہاتھ رکھکر سورہ قدر، سورہ کوثر اور اوپر والی بڑی صلوات پڑھیں اور اسکے بعد کہیں:
رَبَّناَ ھَب لَناَ مِن اَزوَجِناَ وَذُرّ یَا تِنٰا قُرَّةَ اَعیُنٍ وَجَعَلنَا لِلمُتَّقِینَ اِمَامًا۔
سات مرتبہ پڑھیں
اَستَغفِرُاللّٰہَ رَبّی وَاَتُوبُ اِلَیہِ۔
🔹 ہر واجب نماز کے بعد 140 مرتبہ بڑی صلوات پڑھیں۔
🔹 میٹھا سیب، انار اور شہد کھاٸیں۔
🔹 چوتھے مہینے کے شروع سے نماز تہجد پڑھا کریں اگر آدھی رات کو نہیں پڑھ سکتیں تو نماز فجر کے بعد اسکی قضا پڑھیں۔
5⃣ پانچواں مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے روز سورہ الفتح کی تلاوت کریں۔
🔹 روزانہ کسی ایک نماز میں پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہ النصر کی تلاوت کریں۔
🔹 ہر نماز کے بعد سجدہ گاہ خاک شفا والا اٹھا کر پیٹ پر ملیں۔
🔹 ہر صبح پانچ دانے کھجور کھاٸیں۔
🔹 روزانہ رات کو تھوڑا سا زیتون سیب کیساتھ کھاٸیں۔
🔹 اس ماہ سے شروع میں پیٹ پر ہاتھ رکھ کر نماز کے وقت اذان و اقامت کہی جاٸے۔
6⃣ چھٹا مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے روز سورہ واقعہ پڑھیں۔
🔹 مغرب و عشا کی پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سورہ والتین پڑھیں۔
🔹 ہر نماز کے بعد اپنے ہاتھ کو خاک شفا سے مس کرکے پیٹ پر ملیں۔
🔹 ناشتے کے بعد انجیر اور زیتون کھاٸیں۔
🔹 رات یا دن میں ہڈی کا گودا کھایا جاٸے۔
🔹 چکنائی والی چیزوں سے پرہیز کریں۔
7⃣ ساتواں مہینہ
🔹 جمعرات اور جمعہ کے دن سورہ یٰسین اور سورہ الملک کی تلاوت کریں۔
🔹 اذان و اقامت کیساتھ نماز تہجد پڑھنے کیساتھ ساتھ سوموار کے دن سورہ نحل کی تلاوت کریں۔
🔹 روزانہ کی نمازوں میں سورہ الحمد کے بعد سورہ قدر اور توحید پڑھیں۔
🔹 روزانہ 140 مرتبہ صلوات پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ صَلّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّألِ مُحَمَّدٍ وَّ عَجّل فَرَجَھُم وَاَھلِکَ عَدُوَّھُم وَالعَن اَعدَاٸَھُم مِنَ الجِنِّ وَالاِنسِ مِنَ الاَوَّلِینَ وَالاَخِرِین۔
🔹 ہر کھانے کے بعد تھوڑا سا تربوز ضرور کھاٸیں لیکن اسکے کھانے سے پہلے اور بعد میں پانی نہ پیں۔
🔹 اس ماہ میں ایک مرتبہ شلجم کھاٸیں۔
8⃣ آٹھواں مہینہ
🔹 ہفتہ کے دن نماز فجر کے بعد 10 مرتبہ سورہ قدر پڑھیں۔
🔹 اتوار کے دن نماز فجر کے بعد دو مرتبہ سورہ والتین پڑھیں،
سوموار کو سورہ یٰسین،
منگل کو سورہ فرقان،
بدھ کے دن سورہ دھر،
جمعرات کے دن سورہ محمد،
جمعہ کے دن سورہ الصافات کی تلاوت کریں۔
🔹 میٹھا دہی اور شہد کے کھانے میں کوتاہی نہ کریں۔
🔹 جمعہ کے دن ناشتے میں میٹھا انار ضرور کھاٸیں۔
🔹 اگر کوٸی نقصان نہ ہو تو ہفتہ میں ایک دفعہ سرکہ بھی استعمال کریں۔
9⃣ نواں مہینہ
🔹 امام زمانہ علیہ السلام کی سلامتی کیلٸے مینڈھا ذبح کر کے کھاٸیں۔
🔹 نماز ظہر یا عصر میں پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سورہ العصر یا الذاریات پڑھیں۔
🔹 جمعرات کو سورہ حج اور جمعہ کے دن سورہ فاطر کی تلاوت کریں۔
🔹 روزانہ کچھ پیدل چلیں۔
🔹 گرم مصالحہ نہ کھاٸیں۔
🔹 کھجور کھاٸیں۔
🔹 کھانے میں کباب استعمال کریں۔
🔹 اس ماہ میں تصویر اور آٸینہ کم دیکھیں۔
📚 حوالہ جات
مثالی ماں
اسلام اور تربیت اولاد
تہذیب زندگی
انتخاب و ترتیب: بی اے نقوی
https://t.me/islamwitheman/2219
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 حمل کے دوران تربیت 🌹
معصومین کی سیرت میں ایسے آداب اور سنتیں پائی جاتی ہیں جن پر ایام حمل میں عمل کیا جاتا تھا ۔ان آداب پر عمل بچے میں تربیت کا زمینہ فراہم کرتا ہے۔ ممکن ہے بچے کی تربیت میں بعض آداب کے اثرات ہمارے لیے واضح نہ ہوں یا تربیت میں ان کی…
معصومین کی سیرت میں ایسے آداب اور سنتیں پائی جاتی ہیں جن پر ایام حمل میں عمل کیا جاتا تھا ۔ان آداب پر عمل بچے میں تربیت کا زمینہ فراہم کرتا ہے۔ ممکن ہے بچے کی تربیت میں بعض آداب کے اثرات ہمارے لیے واضح نہ ہوں یا تربیت میں ان کی…
🌹 پانی کی فضیلت 🌹
دُنیا و آخرت میں سب سے بہتر پینے کی چیز پانی ہے۔
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو شخص دُنیا کے پانی سے محظوظ ہوگا اس کو اللہ تعالی شراب ہاٸے بہشت سے محظوظ کریگا۔
ایک شخص نے امام علیہ السلام سے دریافت کیا کہ پانی کا مزہ کیا ہے؟
آپ علیہ السلام نے فرمایا: زندگانی کا۔
1⃣ آب زمزم و آبِ برہوت
مولا امام المسلمین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
روٸے زمین کے تمام پانیوں سے آبِ زمزم بہتر ہے۔
اور آبِ برہوت جو یمن میں ہے وہ روٸے زمین کے تمام پانیوں سے بدتر ہے کیونکہ کافروں کی روحیں وہاں وارد ہوتی ہیں۔
2⃣ آبِ زمزم کی فضیلت
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
🍁 آبِ زمزم جس درد کیلٸے پیا جاٸے دوا ہے۔
🍁 جس مطلب کیلٸے پیا جاٸے وہ مطلب حاصل ہوتا ہے۔
3⃣ کعبةاللہ کے پرنالے کاپانی
ایک شخص نے مولا امام جعفر صادق علیہ السلام سے اپنے بیمار دوست کا حال عرض کیا:
امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا:
اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو اسے کعبةاللہ کے پرنالے کا پانی پلا دیتا۔
وہ آدمی چلا گیا اور اس پانی کی تلاش شروع کردی مگر پانی کہیں نہ ملا۔
اتفاق سے ایک بادل آیا کڑک اور چمک پیدا ہوٸی اور بارش برسی۔ اس نے کعبةاللہ کے پرنالے سے پانی بھرا اور اپنے بیمار دوست کو پلا دیا اس کا پینا تھا کہ آرام آگیا۔
4⃣ آبِ فرات کی فضیلت
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
💐 جس لڑکے کا گلا آبِ فرات سے اٹھایا جاٸے وہ ہم اہلبیت علیہ السلام کے دوستوں میں سے ہوگا۔
💐 دو پرنالے جنت کے برابر دریاٸے فرات میں گرتے رہتے ہیں۔
💐 اگر میرے اور دریاٸے فرات کے درميان بہت بڑا فاصلہ بھی ہوگا تو بھی میں حصولِ شفا کیلٸے اس دریا پر جاٶنگا۔
💐 اگر میں پاس رہتا ہوتا تو ہر صبح و شام دریاٸے فرات پر جانا پسند کرتا۔
🌺 مولا امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں:
ایک فرشتہ ہررات کو آتا ہے اور تین مثقال مشکِ بیشت آبِ فرات میں ڈال جاتا ہے اور کوٸی نہر مشرق و مغرب دنیا میں ایسی نہیں ہے جسکی برکت نہرفرات سے زیادہ ہو۔
5⃣ ولایت کا اقرار
مولا امام حسن و حسین علیہ السلام فرماتے ہیں:
ہماری ولایت اور دوستی تمام پانیوں پر عرض کی گٸی جس پانی نے قبول کرلی شیریں و خوشگوار ہوگیا اور جس نے قبول نہ کی وہ کھارا اور تلخ رہا۔
6⃣ تلخ اور گندھک کی بُو والا پانی
مولا امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
حضرت نوح علیہ السلام نے طوفان کے وقت سب پانیوں کو بلایا سب نے حضرت کا کہنا مانا سواٸے آبِ تلخ اور اس پانی کے جس میں گندھک کی بو آتی یہ پہاڑوں سے نکلتا ہے۔
پس آپ نے ان دونوں پر لعنت کی۔
7⃣ ٹھنڈے پانی
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
🔅 ٹھنڈا پانی حرارت کو فرد کردیتا ہے۔
🔅 صفرا کو ساکن کرتا ہے۔
🔅 طعام کو معدے میں گھلاتا ہے۔
🔅 تپ کو زاٸل کرتا ہے۔
8⃣ جوش کیا ہوا پانی
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام اور مولا امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:
🌻 جوش کیا ہوا پانی ہر درد کیلٸے نافع ہے۔
🌻 کسی طرح کا نقصان نہیں دیتا۔
🌻 اگر اسے سات دفعہ جوش دیں اور ہرمرتبہ برتن بدل دیں اور بخار والے کو پلاٸیں تو اس کا بخار جاتا رہتا ہے۔
🌻 پاٶں اور پنڈلیوں کو قوت دیتا ہے۔
9⃣ زیادہ پانی پینا
مولا امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:
زیادہ پانی پینا کسی طرح بُرا نہیں ہے۔
یہ طعام کو معدے میں ہضم کرتا ہے،
غصہ کو کم کرتا ہے،
عقل کو بڑھاتا ہے اور صفرا کو گھٹاتا ہے۔
📚 بحوالہ۔
تہذیب السلام۔
انتخاب و ترتيب: بی۔اے نقوی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
دُنیا و آخرت میں سب سے بہتر پینے کی چیز پانی ہے۔
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو شخص دُنیا کے پانی سے محظوظ ہوگا اس کو اللہ تعالی شراب ہاٸے بہشت سے محظوظ کریگا۔
ایک شخص نے امام علیہ السلام سے دریافت کیا کہ پانی کا مزہ کیا ہے؟
آپ علیہ السلام نے فرمایا: زندگانی کا۔
1⃣ آب زمزم و آبِ برہوت
مولا امام المسلمین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
روٸے زمین کے تمام پانیوں سے آبِ زمزم بہتر ہے۔
اور آبِ برہوت جو یمن میں ہے وہ روٸے زمین کے تمام پانیوں سے بدتر ہے کیونکہ کافروں کی روحیں وہاں وارد ہوتی ہیں۔
2⃣ آبِ زمزم کی فضیلت
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
🍁 آبِ زمزم جس درد کیلٸے پیا جاٸے دوا ہے۔
🍁 جس مطلب کیلٸے پیا جاٸے وہ مطلب حاصل ہوتا ہے۔
3⃣ کعبةاللہ کے پرنالے کاپانی
ایک شخص نے مولا امام جعفر صادق علیہ السلام سے اپنے بیمار دوست کا حال عرض کیا:
امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا:
اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو اسے کعبةاللہ کے پرنالے کا پانی پلا دیتا۔
وہ آدمی چلا گیا اور اس پانی کی تلاش شروع کردی مگر پانی کہیں نہ ملا۔
اتفاق سے ایک بادل آیا کڑک اور چمک پیدا ہوٸی اور بارش برسی۔ اس نے کعبةاللہ کے پرنالے سے پانی بھرا اور اپنے بیمار دوست کو پلا دیا اس کا پینا تھا کہ آرام آگیا۔
4⃣ آبِ فرات کی فضیلت
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
💐 جس لڑکے کا گلا آبِ فرات سے اٹھایا جاٸے وہ ہم اہلبیت علیہ السلام کے دوستوں میں سے ہوگا۔
💐 دو پرنالے جنت کے برابر دریاٸے فرات میں گرتے رہتے ہیں۔
💐 اگر میرے اور دریاٸے فرات کے درميان بہت بڑا فاصلہ بھی ہوگا تو بھی میں حصولِ شفا کیلٸے اس دریا پر جاٶنگا۔
💐 اگر میں پاس رہتا ہوتا تو ہر صبح و شام دریاٸے فرات پر جانا پسند کرتا۔
🌺 مولا امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں:
ایک فرشتہ ہررات کو آتا ہے اور تین مثقال مشکِ بیشت آبِ فرات میں ڈال جاتا ہے اور کوٸی نہر مشرق و مغرب دنیا میں ایسی نہیں ہے جسکی برکت نہرفرات سے زیادہ ہو۔
5⃣ ولایت کا اقرار
مولا امام حسن و حسین علیہ السلام فرماتے ہیں:
ہماری ولایت اور دوستی تمام پانیوں پر عرض کی گٸی جس پانی نے قبول کرلی شیریں و خوشگوار ہوگیا اور جس نے قبول نہ کی وہ کھارا اور تلخ رہا۔
6⃣ تلخ اور گندھک کی بُو والا پانی
مولا امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
حضرت نوح علیہ السلام نے طوفان کے وقت سب پانیوں کو بلایا سب نے حضرت کا کہنا مانا سواٸے آبِ تلخ اور اس پانی کے جس میں گندھک کی بو آتی یہ پہاڑوں سے نکلتا ہے۔
پس آپ نے ان دونوں پر لعنت کی۔
7⃣ ٹھنڈے پانی
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
🔅 ٹھنڈا پانی حرارت کو فرد کردیتا ہے۔
🔅 صفرا کو ساکن کرتا ہے۔
🔅 طعام کو معدے میں گھلاتا ہے۔
🔅 تپ کو زاٸل کرتا ہے۔
8⃣ جوش کیا ہوا پانی
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام اور مولا امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:
🌻 جوش کیا ہوا پانی ہر درد کیلٸے نافع ہے۔
🌻 کسی طرح کا نقصان نہیں دیتا۔
🌻 اگر اسے سات دفعہ جوش دیں اور ہرمرتبہ برتن بدل دیں اور بخار والے کو پلاٸیں تو اس کا بخار جاتا رہتا ہے۔
🌻 پاٶں اور پنڈلیوں کو قوت دیتا ہے۔
9⃣ زیادہ پانی پینا
مولا امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:
زیادہ پانی پینا کسی طرح بُرا نہیں ہے۔
یہ طعام کو معدے میں ہضم کرتا ہے،
غصہ کو کم کرتا ہے،
عقل کو بڑھاتا ہے اور صفرا کو گھٹاتا ہے۔
📚 بحوالہ۔
تہذیب السلام۔
انتخاب و ترتيب: بی۔اے نقوی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
💝 اندھی محبت 💝
اگر آپ اپنی "محبت" کی ناکامی اور مطلوب و محبوب کو نہ پانے کے "دُکھ" میں اندرونی طور پر کھوکھلے ہوتے جارہے ہیں اور ذہنی طور پر احساس کی شدت اور محرومی کا شکار ہیں، تو آپ کیلئے چند دل کی باتیں ہیں۔
سوشل میڈیا پر عشق و محبت کی پھیلی داستانیں، ہجر و فراق کا ماتم، شکوے شکایات، سب کچھ ہمارے ارد گرد موجود ہیں، ہم میں سے کئی اس معاملے میں ذاتی تجربے سے گزرے ہوں گے، بسا اوقات یہ تجربات بہت تلخ اور نہایت مضر اثرات مرتب کرتے ہیں اور انسان کی زندگی محصور ہو کر رہ جاتی ہے، جس کا سب سے بڑا سبب "اندھی محبت" ہے۔
عام معاشرہ ہو یا فیس بک، جنس مخالف کی وہی کشش ہوتی ہے، جو کسی بھی جگہ۔ عورت کیلئے سب سے آسان جال اس کی ہمدردی حاصل کرنا، اس سے اخلاص باور کرنا، اور سب سے مہلک ہتھیار اس کی تعریف کرنا ہے، بہت ہی کم کوئی عورت اس میں شکار ہونے سے محفوظ رہی، جبکہ مرد، ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ اسے کوئی دستیاب ہو، ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنسے، خوش گپیاں ہوں، اور پھر محبت وغیرہ کا دم بھرتے ہوئے بھی ذہن کے کسی کونے میں ہوس پل رہی ہوتی ہے، کوئی لاکھ انکار کرے پر یہ حقیقت ہر مرد و عورت میں شامل ہے، کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے۔
اب ایسے ماحول میں آپ کو پتہ ہی نہ ہو کہ سامنے والا کس ذہن کا ہے، کیسی شخصیت ہے، کیا ہے، جبکہ دوسرا بھی ان دیکھے فقط جاننے اور دیکھنے کی غرض سے محبتیں جتائے، تعریفیں کرے، اور عورت تو چاہے جانے کی خواہش فطرت میں لے کر پیدا ہوتی ہے وہ تو اس پر فوراً گھائل ہوجاتی ہے، پھر قربتیں بڑھتی ہیں، اور جب توقعات پوری نہ ہوں، مثلاً کوئی بہت خوب صورتی کا گمان کر رہا ہو، مگر معاملہ مختلف ہو، کوئی فکری طور پر یا اخلاقی طور پر کمزور سمجھ رہا ہو، سامنے والا، والی اس کی خواہشات پر پورا نہ اترے یا کسی کو بہت خوش اخلاق سمجھا جائے اور موقع ملنے پر وہ کرپٹ نکلے، ایسے میں راستے جدا ہوتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ وقتی تعلق اور اٹریکشن ہوتی ہے، آج یہاں، تو کل کہیں، اس لیے ایسے معاملات میں بالغ النظری اور ٹھنڈے دماغ کی اشد ضرورت ہوتی ہے، عموماً خواتین جذبات میں ماری جاتی ہیں، اور بعض پھر عادی ہوجاتی ہیں، یا پھر مرد و عورت دونوں اذیت پسند بن جاتے ہیں، کبھی کبھار یہ ذہنی آوارگی کا شوق بھی بن جاتا ہے۔
اب بہت ہی حیرتناک اور افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ ایسے معاملات سے گزرنے کے بعد بھی انسان بجائے ماضی سے سیکھے، وہ اسی پر کف افسوس مل کر وقت ضائع کرتا ہے۔ عقلمند وہ نہیں جو اپنی زندگی تجربات کی نذر کرے۔ ہوشیار وہ ہے جو دوسروں کے تجربات سے سیکھ لے۔
🌹 پھر یہ ذہن میں بٹھا لیں کہ آپ اس دنیا میں اپنے لیے سب سے اہم ہیں، کیونکہ جب آپ اپنی ذات کو اہمیت نہ دے سکو تو پھر آپ کو کوئی اہمیت نہیں دے گا، اپنے آپ پر اعتماد، ہمیشہ احساس کمتری سے دور رہنا، اور کسی بھی فرد، حتیٰ کہ خونی رشتے سے بھی کسی بھی وقت کسی بھی رویے کی توقع رکھتے ہوئے ہمیشہ ذہنی طور پر تیار رہو، تاکہ کوئی ایسا وقت آئے تو آپ کے لیے سرپرائز نہ ہو، اور نہ ہی زیادہ تکلیف، احساس اور افسوس کا باعث، اور جب کوئی ایسا سلوک کرے، جس سے آپ کو لگے کہ اپنی نظر میں عزت نہ رہی، تو اس وقت اپنے سے نیچے کے طبقے کو سوچیے، کون کس کس نعمت سے محروم ہے، کون کس کیفیت میں ہے، آپ کو جب اللہ کا دین، ایمان، گھر، نام، نسبت اور عزت، عصمت کے ساتھ زندگی میسر ہے تو میرے لیے کسی فرد کی کمی کوئی بڑی بات نہیں، کیونکہ جو فرد عزت نہ دے سکے، اس کی اپنی عزت میں کمی ہے، یہ طے شدہ ہے۔
انسان پر وہ وقت بھی آتا ہے کہ جان سے عزیز والدین اور اپنے خون اولاد سے بھی جدائی برداشت کرنی پڑتی ہے، ایک دکھ، کرب، سب اپنی جگہ، لیکن اللہ کا نظام ایسا ہے کہ اس نے کسی انسان کی زندگی، رزق اور سانسیں دوسرے کی محتاج نہیں رکھیں، جب انسان اپنی اولاد، والدین، حتیٰ کہ ماں جیسے سب سے منفرد رشتے کو کھو کر بھی زندہ رہتا ہے، ایک عرصے بعد ہنستا کھیلتا ہے، تو کسی موسمی پرندے کے آ کر چند گھڑیاں بیٹھنے، دل لبھانے، اور اڑ جانے کی کوئی حیثیت نہیں، جب آپ یہ سوچ اپنائیں گے، اپنی اہمیت پہچانیں گے، اور یہ سمجھ لیں کہ لوگ آپ کیلئے نہیں، آپ لوگوں کیلئے کتنے اہم ہیں، تو پھر آپ زندگی جینے کا مزہ لیں گے، آج سے ایسی شکست خوردہ سوچ کا جال اُتار پھینکئے، خود کو آزاد کیجئے، اور خوبصورت زندگی جئیں!
التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
https://t.me/islamwitheman/2205
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
اگر آپ اپنی "محبت" کی ناکامی اور مطلوب و محبوب کو نہ پانے کے "دُکھ" میں اندرونی طور پر کھوکھلے ہوتے جارہے ہیں اور ذہنی طور پر احساس کی شدت اور محرومی کا شکار ہیں، تو آپ کیلئے چند دل کی باتیں ہیں۔
سوشل میڈیا پر عشق و محبت کی پھیلی داستانیں، ہجر و فراق کا ماتم، شکوے شکایات، سب کچھ ہمارے ارد گرد موجود ہیں، ہم میں سے کئی اس معاملے میں ذاتی تجربے سے گزرے ہوں گے، بسا اوقات یہ تجربات بہت تلخ اور نہایت مضر اثرات مرتب کرتے ہیں اور انسان کی زندگی محصور ہو کر رہ جاتی ہے، جس کا سب سے بڑا سبب "اندھی محبت" ہے۔
عام معاشرہ ہو یا فیس بک، جنس مخالف کی وہی کشش ہوتی ہے، جو کسی بھی جگہ۔ عورت کیلئے سب سے آسان جال اس کی ہمدردی حاصل کرنا، اس سے اخلاص باور کرنا، اور سب سے مہلک ہتھیار اس کی تعریف کرنا ہے، بہت ہی کم کوئی عورت اس میں شکار ہونے سے محفوظ رہی، جبکہ مرد، ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ اسے کوئی دستیاب ہو، ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنسے، خوش گپیاں ہوں، اور پھر محبت وغیرہ کا دم بھرتے ہوئے بھی ذہن کے کسی کونے میں ہوس پل رہی ہوتی ہے، کوئی لاکھ انکار کرے پر یہ حقیقت ہر مرد و عورت میں شامل ہے، کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے۔
اب ایسے ماحول میں آپ کو پتہ ہی نہ ہو کہ سامنے والا کس ذہن کا ہے، کیسی شخصیت ہے، کیا ہے، جبکہ دوسرا بھی ان دیکھے فقط جاننے اور دیکھنے کی غرض سے محبتیں جتائے، تعریفیں کرے، اور عورت تو چاہے جانے کی خواہش فطرت میں لے کر پیدا ہوتی ہے وہ تو اس پر فوراً گھائل ہوجاتی ہے، پھر قربتیں بڑھتی ہیں، اور جب توقعات پوری نہ ہوں، مثلاً کوئی بہت خوب صورتی کا گمان کر رہا ہو، مگر معاملہ مختلف ہو، کوئی فکری طور پر یا اخلاقی طور پر کمزور سمجھ رہا ہو، سامنے والا، والی اس کی خواہشات پر پورا نہ اترے یا کسی کو بہت خوش اخلاق سمجھا جائے اور موقع ملنے پر وہ کرپٹ نکلے، ایسے میں راستے جدا ہوتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ وقتی تعلق اور اٹریکشن ہوتی ہے، آج یہاں، تو کل کہیں، اس لیے ایسے معاملات میں بالغ النظری اور ٹھنڈے دماغ کی اشد ضرورت ہوتی ہے، عموماً خواتین جذبات میں ماری جاتی ہیں، اور بعض پھر عادی ہوجاتی ہیں، یا پھر مرد و عورت دونوں اذیت پسند بن جاتے ہیں، کبھی کبھار یہ ذہنی آوارگی کا شوق بھی بن جاتا ہے۔
اب بہت ہی حیرتناک اور افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ ایسے معاملات سے گزرنے کے بعد بھی انسان بجائے ماضی سے سیکھے، وہ اسی پر کف افسوس مل کر وقت ضائع کرتا ہے۔ عقلمند وہ نہیں جو اپنی زندگی تجربات کی نذر کرے۔ ہوشیار وہ ہے جو دوسروں کے تجربات سے سیکھ لے۔
🌹 پھر یہ ذہن میں بٹھا لیں کہ آپ اس دنیا میں اپنے لیے سب سے اہم ہیں، کیونکہ جب آپ اپنی ذات کو اہمیت نہ دے سکو تو پھر آپ کو کوئی اہمیت نہیں دے گا، اپنے آپ پر اعتماد، ہمیشہ احساس کمتری سے دور رہنا، اور کسی بھی فرد، حتیٰ کہ خونی رشتے سے بھی کسی بھی وقت کسی بھی رویے کی توقع رکھتے ہوئے ہمیشہ ذہنی طور پر تیار رہو، تاکہ کوئی ایسا وقت آئے تو آپ کے لیے سرپرائز نہ ہو، اور نہ ہی زیادہ تکلیف، احساس اور افسوس کا باعث، اور جب کوئی ایسا سلوک کرے، جس سے آپ کو لگے کہ اپنی نظر میں عزت نہ رہی، تو اس وقت اپنے سے نیچے کے طبقے کو سوچیے، کون کس کس نعمت سے محروم ہے، کون کس کیفیت میں ہے، آپ کو جب اللہ کا دین، ایمان، گھر، نام، نسبت اور عزت، عصمت کے ساتھ زندگی میسر ہے تو میرے لیے کسی فرد کی کمی کوئی بڑی بات نہیں، کیونکہ جو فرد عزت نہ دے سکے، اس کی اپنی عزت میں کمی ہے، یہ طے شدہ ہے۔
انسان پر وہ وقت بھی آتا ہے کہ جان سے عزیز والدین اور اپنے خون اولاد سے بھی جدائی برداشت کرنی پڑتی ہے، ایک دکھ، کرب، سب اپنی جگہ، لیکن اللہ کا نظام ایسا ہے کہ اس نے کسی انسان کی زندگی، رزق اور سانسیں دوسرے کی محتاج نہیں رکھیں، جب انسان اپنی اولاد، والدین، حتیٰ کہ ماں جیسے سب سے منفرد رشتے کو کھو کر بھی زندہ رہتا ہے، ایک عرصے بعد ہنستا کھیلتا ہے، تو کسی موسمی پرندے کے آ کر چند گھڑیاں بیٹھنے، دل لبھانے، اور اڑ جانے کی کوئی حیثیت نہیں، جب آپ یہ سوچ اپنائیں گے، اپنی اہمیت پہچانیں گے، اور یہ سمجھ لیں کہ لوگ آپ کیلئے نہیں، آپ لوگوں کیلئے کتنے اہم ہیں، تو پھر آپ زندگی جینے کا مزہ لیں گے، آج سے ایسی شکست خوردہ سوچ کا جال اُتار پھینکئے، خود کو آزاد کیجئے، اور خوبصورت زندگی جئیں!
التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
https://t.me/islamwitheman/2205
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💝 محبت کے ساتھی 💝
ایک عورت کسی کام سے گھر سے باہر نکلی تو گھر کے باہر تین اجنبی بزرگوں کو بیٹھے دیکھا،
عورت کہنے لگی میں آپ لوگوں کو جانتی نہیں لیکن لگتا ہے کہ آپ لوگ بھوکے ہیں چلیں اندر چلیں میں آپ لوگوں کو کھانا دیتی ہوں۔
ان بزرگوں نے پوچھا: کیا گھر کا…
ایک عورت کسی کام سے گھر سے باہر نکلی تو گھر کے باہر تین اجنبی بزرگوں کو بیٹھے دیکھا،
عورت کہنے لگی میں آپ لوگوں کو جانتی نہیں لیکن لگتا ہے کہ آپ لوگ بھوکے ہیں چلیں اندر چلیں میں آپ لوگوں کو کھانا دیتی ہوں۔
ان بزرگوں نے پوچھا: کیا گھر کا…
🔷 صدقہ دینے کے فوائد🔷
◀ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
1⃣ جو شخص صدقہ دیتا ہے، یہی صدقہ اس کی قبر سے گرمی کو بجھادے گا،
اور قیامت کے دن مومن اپنے دیئے ہوئے صدقہ کے سائے میں ہوگا۔
📗 کنزالعمال حدیث١٥٩٩٦.
2⃣ صدقہ، خدا کے غضب کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔
📗 کنزالعمال حدیث١٦١١٤.
3⃣ خداوند عالم صدقہ میں دی ہوئی تمہاری ایک کھجور یا ایک لقمہ کو یوں بڑھاتا ہے جیسے بچھڑے یا اونٹ کے بچے کو بڑھاتا ہے حتی کہ وہ بڑھتے بڑھتے کوہ احد کے مانند ہوجاتا ہے۔
📗 کنزالعمال١٦٠٠٢.
4⃣ صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے اور یہ ایک کامیاب ترین دوا ہے.
اور ایسی قضا کو ٹال دیتا ہے جس کے بارے میں فیصلہ اٹل ہوچکا ہوتا ہے،
بیماریوں کو صرف دعا اور صدقہ ہی دور کرسکتے ہیں۔
📗 بحارالانوار جلد٩٦ص١٣٢.
5⃣ کلمہ طیبہ بھی صدقہ ہے اور ہر وہ قدم جو تم نماز کے لئے اٹھاتے ہو صدقہ ہے۔
📗 بحارالانوار جلد٨٣ص٣٦٩.
6⃣ تکبر اور غرور کو پیش نظر رکھے بغیر صدقہ دیا کرو کیونکہ غرور اجر کو باطل کردیتا ہے۔
📗 تنبیہ الخواطرص٣٦٠.
◀ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
7⃣ احسان اور نیکی جتانے کو ترک کردینا، نیکی کی زینت ہے۔
📗 بحارالاوار ج٧٨ص٨.
◀ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
8⃣ نیکی اور صدقہ فقر و تنگدستی کو دور کرتے, عمر کو زیادہ کرتے اور ستر قسم کی بری موت کو دور بھگاتے ہیں۔📗 بحارالانوارجلد--ص١١٩.
◀ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
9⃣ صدقہ, قرضے ادا کرتا ہے اور برکت کو اپنے ہمراہ لاتاہے۔
📗 وسائل الشیعہ جلد٤ص٢٥٥.
🔟 خداوند تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے "میں نے ہر چیز کے لئے کسی کو مقرر کر رکھا ہے کہ وہ اسے قبضہ میں لے لے سوائے صدقہ کے کہ جسے میں خود ہی اپنے ہاتھوں میں فوراً لے لیتا ہوں"
📗 بحارالانوارجلد٩٦ص١٣٤.
📚 تفسیر المعین و ترجمۃ القرآن المبین، تالیف: علامہ محمد علی فاضل دام عزہ.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
◀ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
1⃣ جو شخص صدقہ دیتا ہے، یہی صدقہ اس کی قبر سے گرمی کو بجھادے گا،
اور قیامت کے دن مومن اپنے دیئے ہوئے صدقہ کے سائے میں ہوگا۔
📗 کنزالعمال حدیث١٥٩٩٦.
2⃣ صدقہ، خدا کے غضب کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔
📗 کنزالعمال حدیث١٦١١٤.
3⃣ خداوند عالم صدقہ میں دی ہوئی تمہاری ایک کھجور یا ایک لقمہ کو یوں بڑھاتا ہے جیسے بچھڑے یا اونٹ کے بچے کو بڑھاتا ہے حتی کہ وہ بڑھتے بڑھتے کوہ احد کے مانند ہوجاتا ہے۔
📗 کنزالعمال١٦٠٠٢.
4⃣ صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے اور یہ ایک کامیاب ترین دوا ہے.
اور ایسی قضا کو ٹال دیتا ہے جس کے بارے میں فیصلہ اٹل ہوچکا ہوتا ہے،
بیماریوں کو صرف دعا اور صدقہ ہی دور کرسکتے ہیں۔
📗 بحارالانوار جلد٩٦ص١٣٢.
5⃣ کلمہ طیبہ بھی صدقہ ہے اور ہر وہ قدم جو تم نماز کے لئے اٹھاتے ہو صدقہ ہے۔
📗 بحارالانوار جلد٨٣ص٣٦٩.
6⃣ تکبر اور غرور کو پیش نظر رکھے بغیر صدقہ دیا کرو کیونکہ غرور اجر کو باطل کردیتا ہے۔
📗 تنبیہ الخواطرص٣٦٠.
◀ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
7⃣ احسان اور نیکی جتانے کو ترک کردینا، نیکی کی زینت ہے۔
📗 بحارالاوار ج٧٨ص٨.
◀ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
8⃣ نیکی اور صدقہ فقر و تنگدستی کو دور کرتے, عمر کو زیادہ کرتے اور ستر قسم کی بری موت کو دور بھگاتے ہیں۔📗 بحارالانوارجلد--ص١١٩.
◀ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
9⃣ صدقہ, قرضے ادا کرتا ہے اور برکت کو اپنے ہمراہ لاتاہے۔
📗 وسائل الشیعہ جلد٤ص٢٥٥.
🔟 خداوند تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے "میں نے ہر چیز کے لئے کسی کو مقرر کر رکھا ہے کہ وہ اسے قبضہ میں لے لے سوائے صدقہ کے کہ جسے میں خود ہی اپنے ہاتھوں میں فوراً لے لیتا ہوں"
📗 بحارالانوارجلد٩٦ص١٣٤.
📚 تفسیر المعین و ترجمۃ القرآن المبین، تالیف: علامہ محمد علی فاضل دام عزہ.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔥 اغلام بازی (لواط کرنا) 🔥
💦 مولا امام جعفر صادقؑ نے فرمایہ:
اغلام بازی کی حرمت زنا سے زیادہ سخت ہے کیونکہ خدا نے اغلام کی وجہ سے ایک قوم کو ہلاک کردیا لیکن کسی کو زنا کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا۔(1)
ایک اور روایت میں ہے
💦 مولا امام جعفر صادقؑ نے فرمایہ:
جو شخض لوط کی قوم کے فعل کو حلال سمجھتا ہے اس کے مرتے وقت خدا عذاب کے انہیں پتھروں میں سے جو اس نے قوم لوط پر برسائے تھے ایک پتھر اس پر بھی گرا دیتا ہے اور وہ وہی پتھر کھا کر مر جاتا ہے اور صرف اس وجہ سے کہ وہ بدنام نہ ہو خدا وہ پتھر لوگوں کی نظروں سے چھپائے رکھتا ہے۔(2)
💦 حضور اکرمؐ نے فرمایا:
میری امت کا جو شخض لوط کی قوم سا عمل کرے گا اور دنیا سے توبہ کیے بغیر چلا جائے گا وہ اپنی قبر میں تین دن سے زیادہ نہیں رہ سکے گا زمین اس کو نگل جائے گی اور جہاں لوط کی قوم ہے اور ہلاک ہوئی ہے وہاں پہنچا دیگی۔ اسکے بعد وہ انہیں کے ساتھ محشور ہوگا۔(3)
💦 مولا امام علی رضاؑ نے فرمایا:
ڈرو اور زنا اور لواط چھوڑ دو اور لواط زنا سے بھی برا ہوتا ہے اور یہ دونوں گناہ اپنے کرنے والے کے لیے بہتر(72) قسم کی تکلیفیں پیدا کردیتے ہیں۔(4)
🔷 لڑکے پر شہوت کی نظر ڈالنا
💦ا رشاد حضور اکرمؐ:
خوبصورت لڑکے کا فتنہ کنواری لڑکی کے فتنے سے بھی زیادہ ہے۔(5)
💦 جو کوئی کسی لڑکے کو شہوت سے چومے گا خداوند عالم قیامت میں اسے آگ کی لگام لگائے گا۔(6)
💦 جو کوئی کسی لڑکے کو شہوت سے چومے گا خدا اسے ہزار سال تک آتش جہنم میں سزا دے گا۔(7)
💦 مولا امام علی رضاؑ نے فرمایا:
جو کوئی کسی لڑکے کو شہوت سے چومے گا آسمان اور زمین کے فرشتے اور خدائی غضب اور رحمت کے فرشتے اس پر لعنت کرینگے اس کے لیے جہنم تیار ہوگا اس کا قیام بری جگہ میں ہوگا۔(8)
🔷 شریعت میں اغلام کی سزا
اگر اغلام کرنے اور کرانے والا دونوں بالغ ہوں تو دونوں کو مار ڈالنا چاہیے اغلام کرنے واے کو تلوار سے قتل کرنا یا سنگسار کرنا یا آگ میں زندہ جلا ڈالنا چاہیے یا ہاتھ پائوں باندھ کر پہاڑ کی اونچائی پر سے نیچے پھینک کر مار ڈالنا چاہیے۔(9)
💦 امیرالمومنین امام علیؑ نے فرمایا:
لواط کرنے والے کو مار ڈالنے کے بعد اس کا جسم آگ میں ڈال دو۔(10)
📚 بحوالہ
1 ، 3 ، 6= اصول کافی۔
2= تفسیر قمی۔
4 ، 8= فقہ الرضا۔
5= وسائل کتاب نکاح باب 21 ص43۔
7= مستدرک، کتاب نکاح باب 17 ص 570۔
9 ، 10= گناہان کبیرہ، جلد اول ص 277۔
✍🏻: باقر حسین
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💦 مولا امام جعفر صادقؑ نے فرمایہ:
اغلام بازی کی حرمت زنا سے زیادہ سخت ہے کیونکہ خدا نے اغلام کی وجہ سے ایک قوم کو ہلاک کردیا لیکن کسی کو زنا کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا۔(1)
ایک اور روایت میں ہے
💦 مولا امام جعفر صادقؑ نے فرمایہ:
جو شخض لوط کی قوم کے فعل کو حلال سمجھتا ہے اس کے مرتے وقت خدا عذاب کے انہیں پتھروں میں سے جو اس نے قوم لوط پر برسائے تھے ایک پتھر اس پر بھی گرا دیتا ہے اور وہ وہی پتھر کھا کر مر جاتا ہے اور صرف اس وجہ سے کہ وہ بدنام نہ ہو خدا وہ پتھر لوگوں کی نظروں سے چھپائے رکھتا ہے۔(2)
💦 حضور اکرمؐ نے فرمایا:
میری امت کا جو شخض لوط کی قوم سا عمل کرے گا اور دنیا سے توبہ کیے بغیر چلا جائے گا وہ اپنی قبر میں تین دن سے زیادہ نہیں رہ سکے گا زمین اس کو نگل جائے گی اور جہاں لوط کی قوم ہے اور ہلاک ہوئی ہے وہاں پہنچا دیگی۔ اسکے بعد وہ انہیں کے ساتھ محشور ہوگا۔(3)
💦 مولا امام علی رضاؑ نے فرمایا:
ڈرو اور زنا اور لواط چھوڑ دو اور لواط زنا سے بھی برا ہوتا ہے اور یہ دونوں گناہ اپنے کرنے والے کے لیے بہتر(72) قسم کی تکلیفیں پیدا کردیتے ہیں۔(4)
🔷 لڑکے پر شہوت کی نظر ڈالنا
💦ا رشاد حضور اکرمؐ:
خوبصورت لڑکے کا فتنہ کنواری لڑکی کے فتنے سے بھی زیادہ ہے۔(5)
💦 جو کوئی کسی لڑکے کو شہوت سے چومے گا خداوند عالم قیامت میں اسے آگ کی لگام لگائے گا۔(6)
💦 جو کوئی کسی لڑکے کو شہوت سے چومے گا خدا اسے ہزار سال تک آتش جہنم میں سزا دے گا۔(7)
💦 مولا امام علی رضاؑ نے فرمایا:
جو کوئی کسی لڑکے کو شہوت سے چومے گا آسمان اور زمین کے فرشتے اور خدائی غضب اور رحمت کے فرشتے اس پر لعنت کرینگے اس کے لیے جہنم تیار ہوگا اس کا قیام بری جگہ میں ہوگا۔(8)
🔷 شریعت میں اغلام کی سزا
اگر اغلام کرنے اور کرانے والا دونوں بالغ ہوں تو دونوں کو مار ڈالنا چاہیے اغلام کرنے واے کو تلوار سے قتل کرنا یا سنگسار کرنا یا آگ میں زندہ جلا ڈالنا چاہیے یا ہاتھ پائوں باندھ کر پہاڑ کی اونچائی پر سے نیچے پھینک کر مار ڈالنا چاہیے۔(9)
💦 امیرالمومنین امام علیؑ نے فرمایا:
لواط کرنے والے کو مار ڈالنے کے بعد اس کا جسم آگ میں ڈال دو۔(10)
📚 بحوالہ
1 ، 3 ، 6= اصول کافی۔
2= تفسیر قمی۔
4 ، 8= فقہ الرضا۔
5= وسائل کتاب نکاح باب 21 ص43۔
7= مستدرک، کتاب نکاح باب 17 ص 570۔
9 ، 10= گناہان کبیرہ، جلد اول ص 277۔
✍🏻: باقر حسین
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔶 لواط کرنیوالے کی عاقبت 🔶
ایک ایسا غلام حضرت عمر کی خدمت میں آیا جس نے اپنے آقا اور مولا کو قتل کیا ہوا تھا۔ حضرت عمر نے حکم دیا کہ اس غلام کو قصاص میں قتل کیا جائے۔
اس ماجرا کی خبر حضرت اميرالمومنين علی عليه السلام تک پہنچی۔
حضرت علی علیہ السلام نے اس فیصلے کو رکوایا اور اس غلام کو طلب کیا پھر آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کیا تم نے اپنے آقا کو قتل کیا ہے؟
غلام نے کہا جی ہاں میں نے اپنے آقا کو کو قتل کیا ہے۔
حضرت اميرالمومنين علی عليه السلام نے فرمایا:
کیوں قتل کیا ہے؟
غلام نے کہا: اس نے میرے ساتھ خلاف شرع کام انجام دیا ہے۔
حضرت امیرالمومنین على عليه السلام نے مقتول کے ورثاء سے پوچھا؛
کیا تم لوگوں نے مقتول کو دفن کر دیا ہے؟
ورثاء نے جواب دیا: جی ہاں:
آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ کس وقت اسے دفن کیا تھا؟
تو ان لوگوں نے جواب دیا کہ ابھی ابھی اسے دفن کیا ہے۔
حضرت اميرالمؤمنین علی علیہ السلام نے حضرت عمر کی طرف دیکھا اور فرمایا:
اس غلام کو چھوڑ دو اور مقتول کے ورثاء سے کہو تین دن کے بعد یہاں پر دوبارہ آئیں۔
تین دن کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عمر کا ہاتھ پکڑا اور مقتول کے ورثاء کے ساتھ قبرستان میں لے کر گئے، جس وقت مقتول کی قبر پر پہنچے تو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے ورثاء سے پوچھا: کیا یہی مقتول کی قبر ہے؟
جواب ملا جی ہاں یہی اس کی قبر ہے۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس قبر کو کھولیں۔
جب اس کو کھولا گیا اور قبر میں پہنچے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس میت کو باہر لے آئیں، ورثاء نے جب میت کو باہر لانا چاہا تو انہیں کفن کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ملی اور یہ ماجرا حضرت علی علیہ السلام کو بیان کیا.
حضرت علی اميرالمومنين عليه السلام نے دو بار تكبير پڑھی اور فرمایا:
خدا کی قسم نہ میں جھوٹا ہوں اور نہ وہ کہ جس نے مجھے خبر دی ہے۔ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
میری امت میں سے ہر وہ شخص جس نے قوم لوط کے کردار کو انجام دیا ایسا فرد قبر میں تین دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے گا۔ کیونکہ اسے زمين قوم لوط جو اللہ تعالٰی کے عذاب سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ان تک پہنچا دے گی اور وہ ان کے ساتھ محشور ہوگا۔
📚مناقب ، ج۱، ص۴۹۵۔
https://t.me/islamwitheman/2224
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک ایسا غلام حضرت عمر کی خدمت میں آیا جس نے اپنے آقا اور مولا کو قتل کیا ہوا تھا۔ حضرت عمر نے حکم دیا کہ اس غلام کو قصاص میں قتل کیا جائے۔
اس ماجرا کی خبر حضرت اميرالمومنين علی عليه السلام تک پہنچی۔
حضرت علی علیہ السلام نے اس فیصلے کو رکوایا اور اس غلام کو طلب کیا پھر آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کیا تم نے اپنے آقا کو قتل کیا ہے؟
غلام نے کہا جی ہاں میں نے اپنے آقا کو کو قتل کیا ہے۔
حضرت اميرالمومنين علی عليه السلام نے فرمایا:
کیوں قتل کیا ہے؟
غلام نے کہا: اس نے میرے ساتھ خلاف شرع کام انجام دیا ہے۔
حضرت امیرالمومنین على عليه السلام نے مقتول کے ورثاء سے پوچھا؛
کیا تم لوگوں نے مقتول کو دفن کر دیا ہے؟
ورثاء نے جواب دیا: جی ہاں:
آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ کس وقت اسے دفن کیا تھا؟
تو ان لوگوں نے جواب دیا کہ ابھی ابھی اسے دفن کیا ہے۔
حضرت اميرالمؤمنین علی علیہ السلام نے حضرت عمر کی طرف دیکھا اور فرمایا:
اس غلام کو چھوڑ دو اور مقتول کے ورثاء سے کہو تین دن کے بعد یہاں پر دوبارہ آئیں۔
تین دن کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عمر کا ہاتھ پکڑا اور مقتول کے ورثاء کے ساتھ قبرستان میں لے کر گئے، جس وقت مقتول کی قبر پر پہنچے تو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے ورثاء سے پوچھا: کیا یہی مقتول کی قبر ہے؟
جواب ملا جی ہاں یہی اس کی قبر ہے۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس قبر کو کھولیں۔
جب اس کو کھولا گیا اور قبر میں پہنچے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس میت کو باہر لے آئیں، ورثاء نے جب میت کو باہر لانا چاہا تو انہیں کفن کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ملی اور یہ ماجرا حضرت علی علیہ السلام کو بیان کیا.
حضرت علی اميرالمومنين عليه السلام نے دو بار تكبير پڑھی اور فرمایا:
خدا کی قسم نہ میں جھوٹا ہوں اور نہ وہ کہ جس نے مجھے خبر دی ہے۔ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
میری امت میں سے ہر وہ شخص جس نے قوم لوط کے کردار کو انجام دیا ایسا فرد قبر میں تین دن سے زیادہ نہیں ٹھہرے گا۔ کیونکہ اسے زمين قوم لوط جو اللہ تعالٰی کے عذاب سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ان تک پہنچا دے گی اور وہ ان کے ساتھ محشور ہوگا۔
📚مناقب ، ج۱، ص۴۹۵۔
https://t.me/islamwitheman/2224
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔥 اغلام بازی (لواط کرنا) 🔥
💦 مولا امام جعفر صادقؑ نے فرمایہ:
اغلام بازی کی حرمت زنا سے زیادہ سخت ہے کیونکہ خدا نے اغلام کی وجہ سے ایک قوم کو ہلاک کردیا لیکن کسی کو زنا کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا۔(1)
ایک اور روایت میں ہے
💦 مولا امام جعفر صادقؑ نے فرمایہ:
جو…
💦 مولا امام جعفر صادقؑ نے فرمایہ:
اغلام بازی کی حرمت زنا سے زیادہ سخت ہے کیونکہ خدا نے اغلام کی وجہ سے ایک قوم کو ہلاک کردیا لیکن کسی کو زنا کی وجہ سے ہلاک نہیں کیا۔(1)
ایک اور روایت میں ہے
💦 مولا امام جعفر صادقؑ نے فرمایہ:
جو…
🌹 جوانی اور بڑھاپا 🌹
ایک صاحب تھے جو شادی کی تلاش میں کہیں لمبے نکل گئے اور شادی کی عمر نکل گئی۔ آخر ایک جوان لڑکی پسند آ گئی تو رشتہ بھیج دیا۔ جوان لڑکی نے دو شرطیں رکھیں اور شادی پر تیار ہو گئی۔
پہلی یہ کہ ہمیشہ جوانوں میں بیٹھو گے۔ دوسری یہ کہ ہمیشہ دیوار پھلانگ کے گھر آیا کرو گے۔
شادی ہوگئی۔ بابا جی جوانوں میں ہی بیٹھتے اور گپیں لگاتے۔ جوان ظاہر ہے
صرف لڑکیوں کی اور پیار محبت کی ہی باتیں کرتے ہیں۔ منڈیوں کے بھاؤ سے انھیں دلچسپی نہیں اور نہ ہی دیوارِ چین ایسے موضوعات سے کچھ لینا دینا۔
بابا جی کا موڈ ہر وقت رومینٹک رہتا۔ گھر جاتے تو ایک جھٹکے سے دیوار پھلانگ کر گھر میں کود جاتے۔ آخر ایک دن بابا جی کے پرانے جاننے والے مل گئے۔ وہ انھیں گلے شکوے کر کے اور گھیر گھار کے اپنی پنڈال چوکڑی میں لے گئے۔ اب وہاں کیا باتیں ہونا تھیں۔ یار گھٹنوں کے درد سے مر گیا ہوں۔ بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں۔ یار میرا تو وضو ہی نہیں رہتا۔ میری تو بھائی جان ریڑھ کی ہڈی کا مہرہ کھل گیا ہے۔ ڈاکٹر کہتا ہے جھٹکا نہ لگے۔ یار مجھے تو نظر ہی کچھ نہیں آتا۔ کل پانی کے بجائے مٹی کا تیل پی گیا تھا۔ ڈرپ لگی ہے تو جان بچی ہے۔ بابا جی جوں جوں ان کی باتیں سنتے گئے توں توں ان کا مورال زمین پر لگتا گیا۔ جب ٹھیک پاتال میں پہنچا تو مجلس برخاست ہوگئی اور بابا جی گھسٹتے پاؤں کے ساتھ گھر کو روانہ ہوگئے۔ گھر پہنچ کر دیوار کو دیکھا تو گھر کی دیوار کے بجائے وہ دیوارِ چین لگی۔ ہمت نہ پڑی دیوار کودنے کی کہ کہیں بابے پھجے کی طرح چُک نہ نکل آئے۔ آخر ماڈل تو دونوں کا ایک ہی تھا۔ بابا جی نے کنڈی کھٹکھٹائی۔ کھٹ کھٹ کھٹ کھٹ۔ اندر سے بیوی بولی، اسی لیے بولا تھا جوانوں میں بیٹھا کر۔ لگتا ہے آج بڈھوں کی مجلس اٹینڈ کر لی ہے اسی لیے ہمت جواب دے گئی ہے۔
🔘 نتیجہ: انسان بوڑھا نہیں ہوتا مجلس اسے بوڑھا کر دیتی ہے۔ ماہرین نفسیات لکھتے ہیں کہ معلم اسی لیے جلد بوڑھے نہیں ہوتے کہ وہ بچوں کی مجلس میں رہتے ہیں۔ یوں وہ ماحول ان پر ٹائم اینڈ سپیس کے اثرات کو نیوٹرل کر دیتا ہے۔
https://t.me/islamwitheman/2210
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک صاحب تھے جو شادی کی تلاش میں کہیں لمبے نکل گئے اور شادی کی عمر نکل گئی۔ آخر ایک جوان لڑکی پسند آ گئی تو رشتہ بھیج دیا۔ جوان لڑکی نے دو شرطیں رکھیں اور شادی پر تیار ہو گئی۔
پہلی یہ کہ ہمیشہ جوانوں میں بیٹھو گے۔ دوسری یہ کہ ہمیشہ دیوار پھلانگ کے گھر آیا کرو گے۔
شادی ہوگئی۔ بابا جی جوانوں میں ہی بیٹھتے اور گپیں لگاتے۔ جوان ظاہر ہے
صرف لڑکیوں کی اور پیار محبت کی ہی باتیں کرتے ہیں۔ منڈیوں کے بھاؤ سے انھیں دلچسپی نہیں اور نہ ہی دیوارِ چین ایسے موضوعات سے کچھ لینا دینا۔
بابا جی کا موڈ ہر وقت رومینٹک رہتا۔ گھر جاتے تو ایک جھٹکے سے دیوار پھلانگ کر گھر میں کود جاتے۔ آخر ایک دن بابا جی کے پرانے جاننے والے مل گئے۔ وہ انھیں گلے شکوے کر کے اور گھیر گھار کے اپنی پنڈال چوکڑی میں لے گئے۔ اب وہاں کیا باتیں ہونا تھیں۔ یار گھٹنوں کے درد سے مر گیا ہوں۔ بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں۔ یار میرا تو وضو ہی نہیں رہتا۔ میری تو بھائی جان ریڑھ کی ہڈی کا مہرہ کھل گیا ہے۔ ڈاکٹر کہتا ہے جھٹکا نہ لگے۔ یار مجھے تو نظر ہی کچھ نہیں آتا۔ کل پانی کے بجائے مٹی کا تیل پی گیا تھا۔ ڈرپ لگی ہے تو جان بچی ہے۔ بابا جی جوں جوں ان کی باتیں سنتے گئے توں توں ان کا مورال زمین پر لگتا گیا۔ جب ٹھیک پاتال میں پہنچا تو مجلس برخاست ہوگئی اور بابا جی گھسٹتے پاؤں کے ساتھ گھر کو روانہ ہوگئے۔ گھر پہنچ کر دیوار کو دیکھا تو گھر کی دیوار کے بجائے وہ دیوارِ چین لگی۔ ہمت نہ پڑی دیوار کودنے کی کہ کہیں بابے پھجے کی طرح چُک نہ نکل آئے۔ آخر ماڈل تو دونوں کا ایک ہی تھا۔ بابا جی نے کنڈی کھٹکھٹائی۔ کھٹ کھٹ کھٹ کھٹ۔ اندر سے بیوی بولی، اسی لیے بولا تھا جوانوں میں بیٹھا کر۔ لگتا ہے آج بڈھوں کی مجلس اٹینڈ کر لی ہے اسی لیے ہمت جواب دے گئی ہے۔
🔘 نتیجہ: انسان بوڑھا نہیں ہوتا مجلس اسے بوڑھا کر دیتی ہے۔ ماہرین نفسیات لکھتے ہیں کہ معلم اسی لیے جلد بوڑھے نہیں ہوتے کہ وہ بچوں کی مجلس میں رہتے ہیں۔ یوں وہ ماحول ان پر ٹائم اینڈ سپیس کے اثرات کو نیوٹرل کر دیتا ہے۔
https://t.me/islamwitheman/2210
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 خود کو کمتر نہ سمجھیں 🔷
فہد نے 1 گھنٹے میں 10 کلو میٹر فاصلہ طے کیا، حارث نے ڈیڑھ گھنٹے میں یہی فاصلہ طے کیا۔
دونوں میں سے کون تیز رفتار اور صحت مند ہوا؟
یقینا ہمارا جواب ہوگا "فہد"
اگر ہم کہیں کہ فہد نے یہ فاصلہ ایک تیار ٹریک پر طے کیا جب کہ حارث نے…
فہد نے 1 گھنٹے میں 10 کلو میٹر فاصلہ طے کیا، حارث نے ڈیڑھ گھنٹے میں یہی فاصلہ طے کیا۔
دونوں میں سے کون تیز رفتار اور صحت مند ہوا؟
یقینا ہمارا جواب ہوگا "فہد"
اگر ہم کہیں کہ فہد نے یہ فاصلہ ایک تیار ٹریک پر طے کیا جب کہ حارث نے…