🔷 میڈیکل کی تردیدی چیزیں 🔷
وہ چیزیں جو میڈیکل میں مشہور ہیں مگر غلط ہیں۔ اہلبیتؑ نے ان کی تروید کی ہے۔ ہر مومن کو پتا ہونا چاہیے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
زیادہ پانی پینے سے منع کیا گیا ہے۔ جب پیاس لگے تب پئیں۔
🔶 مغربی طب
روزانہ آٹھ گلاس پانی پینا چاہیے۔ صحت کے لیے اچھا ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
لوگوں کو اگر نمک کے فوائد کا علم ہوتا تو کسی اور چیز سے علاج نہ کرواتے۔ضروری ہے۔ دستر خوان پر نمک پڑا ہو۔
🔶 مغربی طب
نمک سفید بہترین ہے۔ دسترخوان پر نہیں ہونا چاہیے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
نمک بلڈ پریشر کا علاج ہے۔ (سمندری نمک)
🔶 مغربی طب
نمک سے بلڈ پریشر زیادہ ہوتا ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
بہترین نمک دریا یا سمندر کا ہے جو چٹان کی شکل میں ہوتا ہے۔
🔶 مغربی طب
بہترین نمک آیوڈین والا سفید نمک ہوتا ہے۔
🔵 طب اہلبیتؑ
بہترین گوشت دنبہ کا گوشت ہے۔ (گائے کے دودھ میں پکا کر)
🔶 مغربی طب
سُرخ گوشت زہر ہے۔
🔷 طبِ اہلبیتؑ
گوشت کو دودھ میں پکا کر استعمال کریں۔
🔶 مغربی طب
گھی میں فرائی کریں۔
🔷 طب اہلبیتؑ
انڈہ+بیگن کو تل کر کھائیں۔ باقی کسی چیز کے تلنے کا حکم نہیں ہے۔
🔶 مغربی طب
تلن کھائیں۔
🔷 طب اہلبیتؑ
مچھلی کا گوشت (زیادہ ) نہ کھائیں۔انسان کو کمزور اور آنکھوں کی چربی کو پگلا دیتا ہے۔
🔶 مغربی طب
مچھلی کا گوشت بہترین گوشت ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
جانوروں میں مرغی خنزیر ہے۔ اس کا گوشت نہ کھائیں۔
🔶 مغربی طب
مرغی کا گوشت اچھا ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
زیادہ گوشت نہ کھائیں۔ دل کو سخت و مردہ کر دیتا ہے۔
🔶 مغربی طب
زیادہ گوشت استعمال کریں۔ صحت کے لیے ٹھیک ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
حیوانوں کا گھی (خاص کر گائے کا گھی) کھانوں میں استعمال کریں۔ بیماریوں کو باہر نکال دیتا ہے۔
🔶 مغربی طب
جانوروں کا روغن استعمال نہ کریں۔بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
جانوروں کا روغن (گھی) گرمیوں میں استعمال کریں۔ سردیوں میں استعمال نہ کریں (سردیوں میں ریشہ و بلغم جم جاتا ہے)۔
🔶 مغربی طب
گھی سردیوں میں استعمال کریں۔ بجائے گرمیوں کے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
بیٹھتے وقت کمر کو جھکا کر بیٹھ جاؤ۔
🔶 مغربی طب
بیٹھتے وقت کمر کو نہ جھکاؤ۔
🔷 طب اہلبیتؑ
بہترین کھانا رات کا کھانا ہے۔ اس کو ترک نہ کریں۔
🔶 مغربی طب
شام کا کھانا نقصان دہ ہے اسے ترک کر دیں۔
🔷 طب اہلبیتؑ
صبح اور شام کا کھانا کھاؤ۔ بدن کی صحت و سلامتی اور خوراک کو ھضم کرنے کے لیے بہترین ہے۔
🔶 مغربی طب
دو وقت کا کھانا نقصان دہ ہے۔ ہر گھنٹے بعد کچھ نہ کچھ کھاتے رہو۔
🔷 طب اہلبیتؑ
خدا نے کوئی بھی چیز جسم میں فالتو نہیں پیدا کی ہے۔
🔶 مغرب طب
اپنڈکس جسم میں فالتو ہے، اسی طرح گردہ اور کچھ رگیں بھی فالتو ہیں۔
🔷 طب اہلبیتؑ
مسواک کریں۔ کھانے کے بعد، سونے سے پہلے، نماز سے پہلے اور جاگنے کے بعد۔ کھانے کے بعد خلال بھی کریں۔
🔶 مغربی طب
کھانے کے بعد پلاسٹک کے ٹوتھ برش سے دانت صاف کریں۔
(ٹوتھ پیسٹ میں فلورائیڈ کینسر کا باعث بنتا ہے)
🔷 طب اہلبیتؑ
بہترین مسواک اراک ہے۔ اس کو استعمال کریں۔
🔶 مغربی طب
بہترین مسواک ٹوتھ پیسٹ ہیں۔ ان کو استعمال کریں۔
🔷 طب اہلبیتؑ
باقلا استعمال کریں۔خون کو صاف کرتا ہے اور بڑھاتا ہے۔
🔶 مغربی طب
باقلا استعمال نہ کریں۔ خون کی کمی کا سبب ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
چغندر کے پتے فائدہ مند ہیں اور بیماریوں کا علاج ہیں جبکہ اس کی جڑ نقصان دہ ہے۔
🔶 مغربی طب
چغندر کے پتے مضر ہیں اور اس کی جڑ فائدہ مند ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
دنبہ کا بہترین گوشت اس کے سر کا گوشت ہے۔
🔶 طب مغربی
دنبہ کا سر مضر ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
دودھ کیساتھ صرف کھجور حل کر کے استعمال کریں۔ فائدہ مند ہے۔
🔶 مغربی طب
دودھ کے ساتھ کیلا اور دیگر پھل استعمال کریں۔ وٹامن حاصل ہوتی ہیں۔
🔷 طب اہلبیتؑ
بوڑھوں کو غذا کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
🔶 مغربی طب
نوجوانوں کو غذا کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
طب کا آغاز انسان کی خلقت کے بعد فوراً ہو گیا تھا۔ اللّہ نے وحی کے ذریعے انبیاءؑ کو طب کی تعلیم دی۔
🔶 مغربی طب
طب سیںنکڑوں سال پہلے چند لوگوں نے ایجاد کی۔
🔷 طب اہلبیتؑ
آلو بخارا جوڑوں کو نرم کرتا ہے۔
🔶 مغربی طب
انڈسٹریل پیسٹ جوڑوں کو نرم کرتا ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
سنا کے پتے تمام بیماریوں کا علاج ہیں۔
🔶 مغربی طب
سنا کے پتے آنتوں و معدہ کے لیے سخت مضر ہیں۔ آنتوں و معدہ کو خراب کرتے ہیں۔
🔷 طب اہلبیتؑ
حجامت و فصد کراؤ بیماریوں کو ختم کرتے ہیں۔ حجامت سنتِ انبیاءؑ ہے۔ صحت کے لیے مفید ہے۔
🔶 طب مغربی
حجامت و فصد نقصان دہ ہے۔
بشکریہ ٹیلیگرام چینل طب معصومینؑ
https://t.me/islamwitheman/2189
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
وہ چیزیں جو میڈیکل میں مشہور ہیں مگر غلط ہیں۔ اہلبیتؑ نے ان کی تروید کی ہے۔ ہر مومن کو پتا ہونا چاہیے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
زیادہ پانی پینے سے منع کیا گیا ہے۔ جب پیاس لگے تب پئیں۔
🔶 مغربی طب
روزانہ آٹھ گلاس پانی پینا چاہیے۔ صحت کے لیے اچھا ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
لوگوں کو اگر نمک کے فوائد کا علم ہوتا تو کسی اور چیز سے علاج نہ کرواتے۔ضروری ہے۔ دستر خوان پر نمک پڑا ہو۔
🔶 مغربی طب
نمک سفید بہترین ہے۔ دسترخوان پر نہیں ہونا چاہیے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
نمک بلڈ پریشر کا علاج ہے۔ (سمندری نمک)
🔶 مغربی طب
نمک سے بلڈ پریشر زیادہ ہوتا ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
بہترین نمک دریا یا سمندر کا ہے جو چٹان کی شکل میں ہوتا ہے۔
🔶 مغربی طب
بہترین نمک آیوڈین والا سفید نمک ہوتا ہے۔
🔵 طب اہلبیتؑ
بہترین گوشت دنبہ کا گوشت ہے۔ (گائے کے دودھ میں پکا کر)
🔶 مغربی طب
سُرخ گوشت زہر ہے۔
🔷 طبِ اہلبیتؑ
گوشت کو دودھ میں پکا کر استعمال کریں۔
🔶 مغربی طب
گھی میں فرائی کریں۔
🔷 طب اہلبیتؑ
انڈہ+بیگن کو تل کر کھائیں۔ باقی کسی چیز کے تلنے کا حکم نہیں ہے۔
🔶 مغربی طب
تلن کھائیں۔
🔷 طب اہلبیتؑ
مچھلی کا گوشت (زیادہ ) نہ کھائیں۔انسان کو کمزور اور آنکھوں کی چربی کو پگلا دیتا ہے۔
🔶 مغربی طب
مچھلی کا گوشت بہترین گوشت ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
جانوروں میں مرغی خنزیر ہے۔ اس کا گوشت نہ کھائیں۔
🔶 مغربی طب
مرغی کا گوشت اچھا ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
زیادہ گوشت نہ کھائیں۔ دل کو سخت و مردہ کر دیتا ہے۔
🔶 مغربی طب
زیادہ گوشت استعمال کریں۔ صحت کے لیے ٹھیک ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
حیوانوں کا گھی (خاص کر گائے کا گھی) کھانوں میں استعمال کریں۔ بیماریوں کو باہر نکال دیتا ہے۔
🔶 مغربی طب
جانوروں کا روغن استعمال نہ کریں۔بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
جانوروں کا روغن (گھی) گرمیوں میں استعمال کریں۔ سردیوں میں استعمال نہ کریں (سردیوں میں ریشہ و بلغم جم جاتا ہے)۔
🔶 مغربی طب
گھی سردیوں میں استعمال کریں۔ بجائے گرمیوں کے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
بیٹھتے وقت کمر کو جھکا کر بیٹھ جاؤ۔
🔶 مغربی طب
بیٹھتے وقت کمر کو نہ جھکاؤ۔
🔷 طب اہلبیتؑ
بہترین کھانا رات کا کھانا ہے۔ اس کو ترک نہ کریں۔
🔶 مغربی طب
شام کا کھانا نقصان دہ ہے اسے ترک کر دیں۔
🔷 طب اہلبیتؑ
صبح اور شام کا کھانا کھاؤ۔ بدن کی صحت و سلامتی اور خوراک کو ھضم کرنے کے لیے بہترین ہے۔
🔶 مغربی طب
دو وقت کا کھانا نقصان دہ ہے۔ ہر گھنٹے بعد کچھ نہ کچھ کھاتے رہو۔
🔷 طب اہلبیتؑ
خدا نے کوئی بھی چیز جسم میں فالتو نہیں پیدا کی ہے۔
🔶 مغرب طب
اپنڈکس جسم میں فالتو ہے، اسی طرح گردہ اور کچھ رگیں بھی فالتو ہیں۔
🔷 طب اہلبیتؑ
مسواک کریں۔ کھانے کے بعد، سونے سے پہلے، نماز سے پہلے اور جاگنے کے بعد۔ کھانے کے بعد خلال بھی کریں۔
🔶 مغربی طب
کھانے کے بعد پلاسٹک کے ٹوتھ برش سے دانت صاف کریں۔
(ٹوتھ پیسٹ میں فلورائیڈ کینسر کا باعث بنتا ہے)
🔷 طب اہلبیتؑ
بہترین مسواک اراک ہے۔ اس کو استعمال کریں۔
🔶 مغربی طب
بہترین مسواک ٹوتھ پیسٹ ہیں۔ ان کو استعمال کریں۔
🔷 طب اہلبیتؑ
باقلا استعمال کریں۔خون کو صاف کرتا ہے اور بڑھاتا ہے۔
🔶 مغربی طب
باقلا استعمال نہ کریں۔ خون کی کمی کا سبب ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
چغندر کے پتے فائدہ مند ہیں اور بیماریوں کا علاج ہیں جبکہ اس کی جڑ نقصان دہ ہے۔
🔶 مغربی طب
چغندر کے پتے مضر ہیں اور اس کی جڑ فائدہ مند ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
دنبہ کا بہترین گوشت اس کے سر کا گوشت ہے۔
🔶 طب مغربی
دنبہ کا سر مضر ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
دودھ کیساتھ صرف کھجور حل کر کے استعمال کریں۔ فائدہ مند ہے۔
🔶 مغربی طب
دودھ کے ساتھ کیلا اور دیگر پھل استعمال کریں۔ وٹامن حاصل ہوتی ہیں۔
🔷 طب اہلبیتؑ
بوڑھوں کو غذا کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
🔶 مغربی طب
نوجوانوں کو غذا کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
طب کا آغاز انسان کی خلقت کے بعد فوراً ہو گیا تھا۔ اللّہ نے وحی کے ذریعے انبیاءؑ کو طب کی تعلیم دی۔
🔶 مغربی طب
طب سیںنکڑوں سال پہلے چند لوگوں نے ایجاد کی۔
🔷 طب اہلبیتؑ
آلو بخارا جوڑوں کو نرم کرتا ہے۔
🔶 مغربی طب
انڈسٹریل پیسٹ جوڑوں کو نرم کرتا ہے۔
🔷 طب اہلبیتؑ
سنا کے پتے تمام بیماریوں کا علاج ہیں۔
🔶 مغربی طب
سنا کے پتے آنتوں و معدہ کے لیے سخت مضر ہیں۔ آنتوں و معدہ کو خراب کرتے ہیں۔
🔷 طب اہلبیتؑ
حجامت و فصد کراؤ بیماریوں کو ختم کرتے ہیں۔ حجامت سنتِ انبیاءؑ ہے۔ صحت کے لیے مفید ہے۔
🔶 طب مغربی
حجامت و فصد نقصان دہ ہے۔
بشکریہ ٹیلیگرام چینل طب معصومینؑ
https://t.me/islamwitheman/2189
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 مختلف بیماریوں کا علاج 🔷
1= شھد
امام علی علیہ السلام:
الْعَسَلُ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ وَ لَا دَاءَ فِيهِ يُقِلُّ الْبَلْغَمَ وَ يَجْلُو الْقَلْب۔
شھد تمام بیماریوں کا علاج ہے اور اس میں کوئی بیماری نہیں ہے. بلغم کو کم کرتا ہے اور دل کو روشن کرتا ہے.…
1= شھد
امام علی علیہ السلام:
الْعَسَلُ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ وَ لَا دَاءَ فِيهِ يُقِلُّ الْبَلْغَمَ وَ يَجْلُو الْقَلْب۔
شھد تمام بیماریوں کا علاج ہے اور اس میں کوئی بیماری نہیں ہے. بلغم کو کم کرتا ہے اور دل کو روشن کرتا ہے.…
🌟 چہرے کی ترو تازگی کا راز 🌟
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:
میرے بھائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک شہر سے گزر رہے تھے، انہوں نے ایک مرد اور ایک عورت کو آپس میں اونچی آواز میں لڑتے جھگڑتے دیکھا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: کیوں لڑ رہے ہو؟
مرد نے کہا: اے نبی خدا! یہ میری بیوی ہے، اچھے اخلاق کی مالک ہے لیکن اس کے باوجود میں اس سے الگ ہونا چاہتا ہوں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: مجھے پورا ماجرا بتاؤ کہ اس (عورت) کا مسئلہ کیا ہے؟
مرد نے کہا: اس کی عمر زیادہ نہیں ہے لیکن اس کے چہرے پر جھریاں پڑی ہوئی ہیں۔
آپؑ نے فرمایا: اے عورت کیا تم چاہتی ہو کہ تمہارے چہرے پر نکھار آجائے اور تروتازہ ہو جائے!
عورت نے کہا: ہاں
آپ نے فرمایا: کھانا پیٹ بھر کر نہ کھاؤ کیونکہ جب کھانا زیادہ کھایا جائے تو یہ کھانا معدہ پر بوجھ بن جاتا ہے اور یہ چہرے کے پانی کو ختم کر دیتا ہے۔
♣ اس عورت نے یہی کام کیا جس کے نتیجے میں اس کے چہرے پر نکھار اور ترو تازگی آگئی۔
1⃣👈 کھانے میں احتیاط کرنا بے حد ضروری ہے۔
2⃣👈 اگر کھانے کا نظام صحیح ہو جائے تو بہت ساری بیماریاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔
3⃣👈 کھانا انسان کی زندگی میں بے انتہا اثر انداز ہوتا ہے اس لئے کھانے کے آداب اور اسلامی دستور کی رعایت کرنا انسان کے تندرستی کی ضمانت ہے۔
📚 علل الشرائع، ج2، ص497۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:
میرے بھائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک شہر سے گزر رہے تھے، انہوں نے ایک مرد اور ایک عورت کو آپس میں اونچی آواز میں لڑتے جھگڑتے دیکھا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: کیوں لڑ رہے ہو؟
مرد نے کہا: اے نبی خدا! یہ میری بیوی ہے، اچھے اخلاق کی مالک ہے لیکن اس کے باوجود میں اس سے الگ ہونا چاہتا ہوں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: مجھے پورا ماجرا بتاؤ کہ اس (عورت) کا مسئلہ کیا ہے؟
مرد نے کہا: اس کی عمر زیادہ نہیں ہے لیکن اس کے چہرے پر جھریاں پڑی ہوئی ہیں۔
آپؑ نے فرمایا: اے عورت کیا تم چاہتی ہو کہ تمہارے چہرے پر نکھار آجائے اور تروتازہ ہو جائے!
عورت نے کہا: ہاں
آپ نے فرمایا: کھانا پیٹ بھر کر نہ کھاؤ کیونکہ جب کھانا زیادہ کھایا جائے تو یہ کھانا معدہ پر بوجھ بن جاتا ہے اور یہ چہرے کے پانی کو ختم کر دیتا ہے۔
♣ اس عورت نے یہی کام کیا جس کے نتیجے میں اس کے چہرے پر نکھار اور ترو تازگی آگئی۔
1⃣👈 کھانے میں احتیاط کرنا بے حد ضروری ہے۔
2⃣👈 اگر کھانے کا نظام صحیح ہو جائے تو بہت ساری بیماریاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔
3⃣👈 کھانا انسان کی زندگی میں بے انتہا اثر انداز ہوتا ہے اس لئے کھانے کے آداب اور اسلامی دستور کی رعایت کرنا انسان کے تندرستی کی ضمانت ہے۔
📚 علل الشرائع، ج2، ص497۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 کھانے کے اصول 🌹
حضرت فاطمہ زہراؑ فرماتی ہیں:
جو شخص غذا تناول کرنے کے بعد اپنے چکنے اور غذا میں ڈوبے ہوئے ہاتھوں کو دھوئے بغیر سو جائے تو اپنے سوا کسی اور کو ملامت نہ کرے-
🌼 کھانے کے بارہ اصول ہیں:
🍀 چار واجب ہیں۔۔۔
◼اللّہ کی معرفت رکھنا،
◼اللّہ کی نعمتوں پر راضی رہنا،
◼کھانے سے قبل بسم اللّہ پڑھنا،
◼اللہ کا شکریہ ادا کرنا۔
☘ چار چیزیں مستحب ہیں۔۔۔
🌸 ہر کھانے سے قبل وضو کرنا،
🌸 بائیں جانب بیٹھنا،
🌸 بیٹھ کر کھانا کھانا،
🌸 تین انگلیوں سے کھانا۔
☘ چار اصول کا تعلق ادب سے ہے۔۔۔
🌻 چھوٹے نوالے لینا،
🌻 جو کچھ سامنے ہے اس سے کھانا،
🌻 کھانے کو اچھی طرح چبانا اور اچھی طرح نرم کر کے کھانا،
🌻 کھانے کے دوران کم سے کم دوسروں کے چہروں کی طرف دیکھنا-
📚 کتاب عوالم ج11ص269۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت فاطمہ زہراؑ فرماتی ہیں:
جو شخص غذا تناول کرنے کے بعد اپنے چکنے اور غذا میں ڈوبے ہوئے ہاتھوں کو دھوئے بغیر سو جائے تو اپنے سوا کسی اور کو ملامت نہ کرے-
🌼 کھانے کے بارہ اصول ہیں:
🍀 چار واجب ہیں۔۔۔
◼اللّہ کی معرفت رکھنا،
◼اللّہ کی نعمتوں پر راضی رہنا،
◼کھانے سے قبل بسم اللّہ پڑھنا،
◼اللہ کا شکریہ ادا کرنا۔
☘ چار چیزیں مستحب ہیں۔۔۔
🌸 ہر کھانے سے قبل وضو کرنا،
🌸 بائیں جانب بیٹھنا،
🌸 بیٹھ کر کھانا کھانا،
🌸 تین انگلیوں سے کھانا۔
☘ چار اصول کا تعلق ادب سے ہے۔۔۔
🌻 چھوٹے نوالے لینا،
🌻 جو کچھ سامنے ہے اس سے کھانا،
🌻 کھانے کو اچھی طرح چبانا اور اچھی طرح نرم کر کے کھانا،
🌻 کھانے کے دوران کم سے کم دوسروں کے چہروں کی طرف دیکھنا-
📚 کتاب عوالم ج11ص269۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 ردعمل 🔷
ابوالکلام اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ ملازمت بھی کرتی تھیں اور گھر کا کام کاج بھی وہی کرتی تھیں۔
ایک رات کھانے کے وقت انہوں نے سالن اور جلی ہوئی روٹی میرے والد کے آگے رکھی۔ میں والد کے رد عمل کا انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ غصہ کا اظہار کریں مگر انہوں نے انتہائی سکون سے کھانا کھایا اور پھر مجھ سے دریافت کیا کہ آج سکول میں میرا دن کیسا گزرا۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کیا جواب دیا لیکن اسی اثنا میں میری والدہ نے روٹی جل جانے کی معذرت کی۔ مگر میرے والد نے کہا کہ ان کو یہ روٹی کھا کر لطف آیا۔
اسی رات اپنے والد کو شب بخیر کہنے میں ان کے کمرے میں گیا تو ان سے سوال کیا کہ کیا واقعی انہیں جلی روٹی کھا کر لطف آیا؟
انہوں نے پیار سے مجھے اپنے بازوؤں میں بھر لیا اور جواب دیا کہ تمہاری والدہ نے ایک پرمشقت دن گزارا اور پھر تھکنے کے باوجود گھر آکر ہمارے لئے کھانا بھی تیار کیا ۔۔۔۔۔ ایک جلی ہوئی روٹی کچھ نقصان نہیں پہنچاتی مگر تلخ ردعمل اور بد زبانی جذبات کو مجروح کرتی ہے۔
میرے بچے! زندگی بے شمار ناپسندیدہ اشیا اور شخصیات سے بھری ہوئی ہے۔ میں بھی کوئی بہترین یا مکمل انسان نہیں ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے ارد گرد لوگ اور عزیز و اقربا بھی غلطی کر سکتے ہیں۔ لہذا ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا، رشتوں کو بخوبی نبھانا، اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہی تعلقات میں بہتری کا سبب بنتا ہے۔ زندگی اتنی مختصر ہے کہ اس میں معذرت اور پچھتاووں کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔
اس تحریر کا دن میں کم از کم ایک بار پڑھنا ھم سب کی معاشرتی زندگی کے لئے بے حد سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔۔
التماس دعا:
سید سجاد حسین ھمدانی
https://t.me/islamwitheman/2191
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ابوالکلام اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ ملازمت بھی کرتی تھیں اور گھر کا کام کاج بھی وہی کرتی تھیں۔
ایک رات کھانے کے وقت انہوں نے سالن اور جلی ہوئی روٹی میرے والد کے آگے رکھی۔ میں والد کے رد عمل کا انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ غصہ کا اظہار کریں مگر انہوں نے انتہائی سکون سے کھانا کھایا اور پھر مجھ سے دریافت کیا کہ آج سکول میں میرا دن کیسا گزرا۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کیا جواب دیا لیکن اسی اثنا میں میری والدہ نے روٹی جل جانے کی معذرت کی۔ مگر میرے والد نے کہا کہ ان کو یہ روٹی کھا کر لطف آیا۔
اسی رات اپنے والد کو شب بخیر کہنے میں ان کے کمرے میں گیا تو ان سے سوال کیا کہ کیا واقعی انہیں جلی روٹی کھا کر لطف آیا؟
انہوں نے پیار سے مجھے اپنے بازوؤں میں بھر لیا اور جواب دیا کہ تمہاری والدہ نے ایک پرمشقت دن گزارا اور پھر تھکنے کے باوجود گھر آکر ہمارے لئے کھانا بھی تیار کیا ۔۔۔۔۔ ایک جلی ہوئی روٹی کچھ نقصان نہیں پہنچاتی مگر تلخ ردعمل اور بد زبانی جذبات کو مجروح کرتی ہے۔
میرے بچے! زندگی بے شمار ناپسندیدہ اشیا اور شخصیات سے بھری ہوئی ہے۔ میں بھی کوئی بہترین یا مکمل انسان نہیں ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے ارد گرد لوگ اور عزیز و اقربا بھی غلطی کر سکتے ہیں۔ لہذا ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا، رشتوں کو بخوبی نبھانا، اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہی تعلقات میں بہتری کا سبب بنتا ہے۔ زندگی اتنی مختصر ہے کہ اس میں معذرت اور پچھتاووں کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔
اس تحریر کا دن میں کم از کم ایک بار پڑھنا ھم سب کی معاشرتی زندگی کے لئے بے حد سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔۔
التماس دعا:
سید سجاد حسین ھمدانی
https://t.me/islamwitheman/2191
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔴 خوف کا حملہ (پینک اٹیک) 🔴
حملۂ خوف (پینک اٹیک) انسان کے نظام زندگی کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ یہ حملہ کبھی کبھی غیرمتوقع طور پر ہوتا ہے لیکن یہ بات ممکن ہے کہ آپ دواؤں کا عادی ہوئے بغیر اس سے چھٹکارا پالیں۔
دل زور سے دھڑکنا، پسینہ آنا، جسم میں کپکپی،…
حملۂ خوف (پینک اٹیک) انسان کے نظام زندگی کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ یہ حملہ کبھی کبھی غیرمتوقع طور پر ہوتا ہے لیکن یہ بات ممکن ہے کہ آپ دواؤں کا عادی ہوئے بغیر اس سے چھٹکارا پالیں۔
دل زور سے دھڑکنا، پسینہ آنا، جسم میں کپکپی،…
🔷 پنچ تن پاک 🔷
شیخ سید عبدالقادر جیلانی اس حدیث کی اسناد کو ابوھریرہ تک پہنچاتے ھیں کہ انہوں نے رسول پاک ﷺ کو فرماتے سنا جب حق تعالیٰ نےحضرت ابولبشر کو پیدا کیا اور اس کے جسم میں روح پھونکی تو جناب آدم علیہ السلام نے عرش کے داھنی بازو کی طرف نظر کی تو دیکھا کہ پانچ تن پاک کے جسموں کا نور رکوع اور سجود کر رھا ھے۔
آدم علیہ السلام نے عرض کیا اے پروردگار کیا تو نے کسی کو مجھ سے پہلے مٹی سے پیدا کیا ھے۔؟
رب العزت نے فرمایا: نہیں
آدم علیہ السلام نے عرض کی پس یہ کون اشخاص ھیں جن کو میں اپنی ھیت اور صورت میں دیکھ رھا ھوں۔؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تیری اولاد میں سے پانچ اشخاص ھیں اور جس چیز سے میں نے تجھے پیدا کیا یہ اس سے نہیں ھیں ان کے لئے میں نے اپنے سے پانچ نام مشتق کیے ھیں اگر یہ نہ ھوتے تو میں جنت و دودخ، عرش، کرسی، آسمان، زمین، فرشتے، انسان اور جن وغیرہ و اشیاء کو پیدا نہ کرتا. پس میں محمود ھوں اور یہ محمد ھے اور میں عالی ھوں اور یہ علی ھے۔ میں فاطر ھوں اور یہ فاطمہ ھے۔ میں احسان ھوں اور یہ حسن ھے۔ میں محسن ھوں اور یہ حسین ھے۔ مجھے اپنی عزت کی قسم ھے اگر کوئی ایک خردل کے دانہ کے برابر بھی ان کا بغض لے کر میرے پاس آئے گا تو میں اس شخص کو ضرور دودخ میں دھکیلوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔
📚 ارجح المطالب ص690۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
شیخ سید عبدالقادر جیلانی اس حدیث کی اسناد کو ابوھریرہ تک پہنچاتے ھیں کہ انہوں نے رسول پاک ﷺ کو فرماتے سنا جب حق تعالیٰ نےحضرت ابولبشر کو پیدا کیا اور اس کے جسم میں روح پھونکی تو جناب آدم علیہ السلام نے عرش کے داھنی بازو کی طرف نظر کی تو دیکھا کہ پانچ تن پاک کے جسموں کا نور رکوع اور سجود کر رھا ھے۔
آدم علیہ السلام نے عرض کیا اے پروردگار کیا تو نے کسی کو مجھ سے پہلے مٹی سے پیدا کیا ھے۔؟
رب العزت نے فرمایا: نہیں
آدم علیہ السلام نے عرض کی پس یہ کون اشخاص ھیں جن کو میں اپنی ھیت اور صورت میں دیکھ رھا ھوں۔؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تیری اولاد میں سے پانچ اشخاص ھیں اور جس چیز سے میں نے تجھے پیدا کیا یہ اس سے نہیں ھیں ان کے لئے میں نے اپنے سے پانچ نام مشتق کیے ھیں اگر یہ نہ ھوتے تو میں جنت و دودخ، عرش، کرسی، آسمان، زمین، فرشتے، انسان اور جن وغیرہ و اشیاء کو پیدا نہ کرتا. پس میں محمود ھوں اور یہ محمد ھے اور میں عالی ھوں اور یہ علی ھے۔ میں فاطر ھوں اور یہ فاطمہ ھے۔ میں احسان ھوں اور یہ حسن ھے۔ میں محسن ھوں اور یہ حسین ھے۔ مجھے اپنی عزت کی قسم ھے اگر کوئی ایک خردل کے دانہ کے برابر بھی ان کا بغض لے کر میرے پاس آئے گا تو میں اس شخص کو ضرور دودخ میں دھکیلوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔
📚 ارجح المطالب ص690۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 غسل جنابت 🔷
سوال: مرد اور عورت پر کس صورت میں غسلِ جنابت واجب ہوتا ہے؟
♦ جواب: خاتون پر غسل جنابت دو حالتوں ميں واجب ہوتا ہے :
1⃣ جب اس كى شرمگاہ ميں شوہر آلہ تناسل كو داخل كرے اگرچے اس كے صرف ابتدائى حصے يعنى حشفہ كو ہى داخل كيوں نہ كرے ، اگر منى خارج نہ بھى ہو تب بھی صرف دخول كى وجہ سے میاں بیوی دونوں پر غسل جنابت واجب ہو گا ۔ نيز اس سے فرق نہيں پڑتا كہ خاتون كے قبل ميں دخول كرے يا دبر ميں ۔
اگر شرمگاہ ميں آلہ تناسل كے علاوہ كچھ اور داخل كرے تو اس سے غسل جنابت نہ مرد پر واجب ہوتا ہے اور نہ خاتون پر ۔ صرف آلہ تناسل كے داخل كرنے سے دونوں پر غسل جنابت واجب ہوتا ہے ۔
2⃣ نيز اگر خاتون پر کسی بھی وجہ سے جنسى كيفيت طارى ہو اور مادہ (رطوبت/Liquid) خارج ہونے كے بعد اس پر جنسی كيفيت ختم ہو جائے تو عورت پر غسل واجب ہو جاتا ہے ۔
🔹جس طرح مرد سے منى خارج ہوتى ہے اسى طرح سے خاتون سے بھى منى خارج ہوتى ہے اور اس خروج كے بعد اس پر غسل جنابت واجب ہے ۔ يہ قول كے خاتون سے منى خارج نہيں ہوتى ہے ضعيف قول ہے اس كا اعتبار نہيں ہے ۔
🔹اگر خاتون پر شہوت قوى طور پر غالب ہو اور شہوانى تحرّكات كے بعد اس كے بدن ميں سكون برپا ہو جائے ، يہ دو علامات يعنى ’’ شہوت اور فتور ‘‘ برپا ہونے كى صورت ميں خاتون پر غسل واجب ہے ۔ جبكہ مرد ميں شہوت كے علاوہ شرائط كے ساتھ مادہِ منويہ كا اچھل كر نكلنا اور اس كے حالت سكون برپا ہونا ضرورى ہے ۔
🔹شرمگاہ ميں دوسرے كى شرمگاہ كے دخول كے علاوہ غسل جنابت واجب ہونے كى شرائط مرد اور خاتون ميں اس طور پر فرق كرتى ہے :
۱) مرد پر غسل تب واجب ہو گا جب تين شرائط كے ساتھ منى خارج ہو :
🔹شہوت
🔹دفق ، يعنى اچھل كر منى كا خارج ہونا
🔹فتور : يعنى اخراجِ منى كے بعد بدن ميں شہوانى اضطراب اور دباؤ ختم ہو جائے اور بدن ميں سكون برپا ہو جائے۔
۲) خاتون اور بوڑھے مرد پر اگر:
🔹شہوت
🔹فتور
صرف یہ👆 دونوں حالتیں اگر پیدا ہو جائیں تو غسل واجب ہوجاتا ہے
🔻خاتون اور بوڑھے شخص كے ليے ’’دفق‘‘ يعنى منى كا اچھل كر باہر آنا شرط نہيں ہے ۔ پس شہوت اور فتور يہ دو صفات برپا ہو جائيں تو خاتون پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔
🔸حوالہ :
http://www.sistani.org/arabic/book/22/1696/
http://t.me/islamwitheman/1681
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
سوال: مرد اور عورت پر کس صورت میں غسلِ جنابت واجب ہوتا ہے؟
♦ جواب: خاتون پر غسل جنابت دو حالتوں ميں واجب ہوتا ہے :
1⃣ جب اس كى شرمگاہ ميں شوہر آلہ تناسل كو داخل كرے اگرچے اس كے صرف ابتدائى حصے يعنى حشفہ كو ہى داخل كيوں نہ كرے ، اگر منى خارج نہ بھى ہو تب بھی صرف دخول كى وجہ سے میاں بیوی دونوں پر غسل جنابت واجب ہو گا ۔ نيز اس سے فرق نہيں پڑتا كہ خاتون كے قبل ميں دخول كرے يا دبر ميں ۔
اگر شرمگاہ ميں آلہ تناسل كے علاوہ كچھ اور داخل كرے تو اس سے غسل جنابت نہ مرد پر واجب ہوتا ہے اور نہ خاتون پر ۔ صرف آلہ تناسل كے داخل كرنے سے دونوں پر غسل جنابت واجب ہوتا ہے ۔
2⃣ نيز اگر خاتون پر کسی بھی وجہ سے جنسى كيفيت طارى ہو اور مادہ (رطوبت/Liquid) خارج ہونے كے بعد اس پر جنسی كيفيت ختم ہو جائے تو عورت پر غسل واجب ہو جاتا ہے ۔
🔹جس طرح مرد سے منى خارج ہوتى ہے اسى طرح سے خاتون سے بھى منى خارج ہوتى ہے اور اس خروج كے بعد اس پر غسل جنابت واجب ہے ۔ يہ قول كے خاتون سے منى خارج نہيں ہوتى ہے ضعيف قول ہے اس كا اعتبار نہيں ہے ۔
🔹اگر خاتون پر شہوت قوى طور پر غالب ہو اور شہوانى تحرّكات كے بعد اس كے بدن ميں سكون برپا ہو جائے ، يہ دو علامات يعنى ’’ شہوت اور فتور ‘‘ برپا ہونے كى صورت ميں خاتون پر غسل واجب ہے ۔ جبكہ مرد ميں شہوت كے علاوہ شرائط كے ساتھ مادہِ منويہ كا اچھل كر نكلنا اور اس كے حالت سكون برپا ہونا ضرورى ہے ۔
🔹شرمگاہ ميں دوسرے كى شرمگاہ كے دخول كے علاوہ غسل جنابت واجب ہونے كى شرائط مرد اور خاتون ميں اس طور پر فرق كرتى ہے :
۱) مرد پر غسل تب واجب ہو گا جب تين شرائط كے ساتھ منى خارج ہو :
🔹شہوت
🔹دفق ، يعنى اچھل كر منى كا خارج ہونا
🔹فتور : يعنى اخراجِ منى كے بعد بدن ميں شہوانى اضطراب اور دباؤ ختم ہو جائے اور بدن ميں سكون برپا ہو جائے۔
۲) خاتون اور بوڑھے مرد پر اگر:
🔹شہوت
🔹فتور
صرف یہ👆 دونوں حالتیں اگر پیدا ہو جائیں تو غسل واجب ہوجاتا ہے
🔻خاتون اور بوڑھے شخص كے ليے ’’دفق‘‘ يعنى منى كا اچھل كر باہر آنا شرط نہيں ہے ۔ پس شہوت اور فتور يہ دو صفات برپا ہو جائيں تو خاتون پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔
🔸حوالہ :
http://www.sistani.org/arabic/book/22/1696/
http://t.me/islamwitheman/1681
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
www.sistani.org
فصل في غسل الجنابة - التعليقة على العروة الوثقى ـ الجزء الاول - موقع مكتب سماحة المرجع الديني الأعلى السيد علي الحسيني السيستاني…
التعليقة على العروة الوثقى ـ الجزء الاول - فصل في غسل الجنابة
🔷 صدقہ سادات پر حرام 🔷
سوال کہ صدقہ سادات پر حرام ہے یہ حکم قرآن مجید کی کس آیت سے ثابت ہے؟ مطلب یہ کہ جس طرح خمس کے بارے میں آیت موجود ہے کیا صدقہ کے بارے میں بھی ہے؟
پہلے یہ چیز واضح ہوجائے کہ صدقہ اور زکات ایک ہی چیز ہیں زکات بھی صدقہ ہے مگر وہ واجب صدقہ ہے اور ہم جسے صدقہ کھتے ہیں وہ مستحب زکات ہے
قرآن میں زکات کو کبھی زکات اور کبھی صدقہ کھا گیا ہے سورہ توبہ آیت 103 خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا ۔ ۔ ۔ پیغمبر آپ ان کے اموال میں سے زکوِٰت لے لیجئے کہ اس کے ذریعہ یہ پاک و پاکیزہ ہوجائیں ، صدقہ ( زکات ) کے وجود (ہونے) کی ایک وجہ و مصلحت لوگوں کے مال کو پاک کرنا ہے (اس کے اجتماعی فوائد سے ہٹ کر اس کے ہونے کی حکمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے)
اور اس صدقہ و زکات کا مصرف (جہاں خرچ کرنا ہے) وہ اسطرح بیان ہوا سورہ توبہ آیت 60 إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ، صدقات و خیرات بس فقرائ ,مساکین اور ان کے کام کرنے والے اور جن کی تالیف هقلب کی جاتی ہے اور غلاموں کی گردن کی آزادی میں اور قرضداروں کے لئے اور راسِ خدا میں غربت زدہ مسافروں کے لئے ہیں یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے اور اللہ خوب جاننے والا اور حکمت والا ہے
اس آیت میں زکات یا وہی صدقے واجبہ کے مصارف 8 جگہوں پر خرچ کرنے کا بیان آیا ہے۔
اس آیت میں ایک نکتہ قابل غور ہے کہ خداوند متعال نے ایک امت کے مستحق افراد کے لئے مالی اعتبار سے ایک قانو بیان فرمایا ہے مگر اس آیت میں خود رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ اور ذوی القربیٰ کے لئے کوئی مالی پشتیبانی اور Back Up بیان نہیں کیا جب کہ اگر خود رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی اولاد کو مالی اعتبار سے ضرورت ہو تو وہ کیا کریں ؟
یعنی معاشرے میں مستحق افراد دو قسم میں ہیں ایک مستحق غیر ھاشمی اور ایک مستحق جو ھاشمی ہو
سورہ انفال آیت 41 میں ارشاد ہو وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّـهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۔ ۔ ۔ اور یہ جان لو کہ تمہیں جس چیز سے بھی فائدہ حاصل ہو اس کا پانچواں حصہ اللہ , رسول ,رسول کے قرابتدار ,ایتام ,مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ہے ، یہاں بھی ذوی القربیٰ جو یتیم ہوں یا مسکین ہوں یا ابن سبیل ہوں ان کے لئے خدا نے خمس کے ذریعے سے ان کے لئے مالی Back Up بیان فرمایا ہے
آپ نے ملاحضہ فرمایا ہوگا جہاں صدقہ و زکات کے مصارف بیان ہوئے ہیں ان میں خداوند متعال نے نہ ہی رسول گرامی کا مصداق بیان کیا نہ ہی ان کی اولاد اور رشتہ داروں کا یعنی وہاں (زکات و صدقہ) میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور ان کے لئے ایک الگ سسٹم رکھا
اب آتے ہیں یہ کیوں رکھا الگ سسٹم ؟
علما اس کی کچھ توجیہات بیان فرماتے ہیں :
(۱) دشمنان اسلام کے لئے یہ رستہ بند ہوجائے کہ وہ خود رسول پہ تھمت نہ لگا سکیں کہ انہوں نے اپنوں (ذوی القربیٰ) کو زکات و صدقات جو ایک عمومی مال ہے جس میں معاشرے کا ہر مستحق فرد شامل ہے ، پر مسلط کر دیا ہے۔
(2) رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کے ذوی القربیٰ کا احترام کو برقرار رکھنا بھی صدقہ و زکات کا سید پہ حرام ہونے کا ایک سبب و مصلحت ہے۔
امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں : لم يجعل لنا سهماً في الصدقه اکرم (الله) نبيه و اکرمنا ان يطعمنا اوساخ ما في ايدي الناس (وسائل الشيعه ، شیخ حر عاملی ،جلد نمبر 6، ابواب قسمة الخمس، باب 1، ح 4)
ترجمہ : خدا نے ہمارے ( بنو ھاشم ) کے لئے صدقے (واجبہ) میں کوئی سھم و حصہ نہیں رکھا یہ خداوند متعال نے اپنے نبی (ص) کو ایک کرامت و عزت دی اور ہمیں بھی عزت دی کہ ہم لوگوں کے ہاتھوں کی میل کو ہمیں کھلائے
یہ حقیقت ہے کہ قرآن میں زکات ( صدقہ واجبہ ) کا خمس کے مقابلے میں زیادہ حکم آیا ہے خمس جنگ بدر کے بعد واجب ہوا ہے اور زکات کی زیادہ تاکید کا حکم اس وجہ سے ہے کہ وہ ایک عمومی مال ہے اور فراگیر ہے۔
آپ کو علم ہے کہ زکات 9 چیزوں پہ واجب ہے جو عام استعمال کی چیزیں ہیں اور خمس 7 چیزوں پہ واجب ہے جن میں کچھ بھی ہی مشکل سے حاصل ہوتے ہین جیسے خزانہ یا دریا سے موتی و غیرہ۔
یہاں تک میں نے کوشش کی کہ صدقہ اور خمس پہ کچھ عرض کروں اب آخر مین یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ ڈفرنس اور فرق کیوں ہے ؟ یا سب ہی کے سب زکات لیتے یا سب ہی کے سب خمس میں شامل ہوتے یہ خداوند متعال نے فرق کیوں رکھا تو آپ نے جواب خود دے دیا ہے کہ ارشاد ہوا : يا أَيُّهَا النّاسُ إِنّا خَلَقْناكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ أُنْثى وَ جَعَلْناكُمْ شُعُوباً وَ قَبائِلَ لِتَعارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقاكُمْ إِن
سوال کہ صدقہ سادات پر حرام ہے یہ حکم قرآن مجید کی کس آیت سے ثابت ہے؟ مطلب یہ کہ جس طرح خمس کے بارے میں آیت موجود ہے کیا صدقہ کے بارے میں بھی ہے؟
پہلے یہ چیز واضح ہوجائے کہ صدقہ اور زکات ایک ہی چیز ہیں زکات بھی صدقہ ہے مگر وہ واجب صدقہ ہے اور ہم جسے صدقہ کھتے ہیں وہ مستحب زکات ہے
قرآن میں زکات کو کبھی زکات اور کبھی صدقہ کھا گیا ہے سورہ توبہ آیت 103 خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا ۔ ۔ ۔ پیغمبر آپ ان کے اموال میں سے زکوِٰت لے لیجئے کہ اس کے ذریعہ یہ پاک و پاکیزہ ہوجائیں ، صدقہ ( زکات ) کے وجود (ہونے) کی ایک وجہ و مصلحت لوگوں کے مال کو پاک کرنا ہے (اس کے اجتماعی فوائد سے ہٹ کر اس کے ہونے کی حکمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے)
اور اس صدقہ و زکات کا مصرف (جہاں خرچ کرنا ہے) وہ اسطرح بیان ہوا سورہ توبہ آیت 60 إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ، صدقات و خیرات بس فقرائ ,مساکین اور ان کے کام کرنے والے اور جن کی تالیف هقلب کی جاتی ہے اور غلاموں کی گردن کی آزادی میں اور قرضداروں کے لئے اور راسِ خدا میں غربت زدہ مسافروں کے لئے ہیں یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے اور اللہ خوب جاننے والا اور حکمت والا ہے
اس آیت میں زکات یا وہی صدقے واجبہ کے مصارف 8 جگہوں پر خرچ کرنے کا بیان آیا ہے۔
اس آیت میں ایک نکتہ قابل غور ہے کہ خداوند متعال نے ایک امت کے مستحق افراد کے لئے مالی اعتبار سے ایک قانو بیان فرمایا ہے مگر اس آیت میں خود رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ اور ذوی القربیٰ کے لئے کوئی مالی پشتیبانی اور Back Up بیان نہیں کیا جب کہ اگر خود رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی اولاد کو مالی اعتبار سے ضرورت ہو تو وہ کیا کریں ؟
یعنی معاشرے میں مستحق افراد دو قسم میں ہیں ایک مستحق غیر ھاشمی اور ایک مستحق جو ھاشمی ہو
سورہ انفال آیت 41 میں ارشاد ہو وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّـهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۔ ۔ ۔ اور یہ جان لو کہ تمہیں جس چیز سے بھی فائدہ حاصل ہو اس کا پانچواں حصہ اللہ , رسول ,رسول کے قرابتدار ,ایتام ,مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ہے ، یہاں بھی ذوی القربیٰ جو یتیم ہوں یا مسکین ہوں یا ابن سبیل ہوں ان کے لئے خدا نے خمس کے ذریعے سے ان کے لئے مالی Back Up بیان فرمایا ہے
آپ نے ملاحضہ فرمایا ہوگا جہاں صدقہ و زکات کے مصارف بیان ہوئے ہیں ان میں خداوند متعال نے نہ ہی رسول گرامی کا مصداق بیان کیا نہ ہی ان کی اولاد اور رشتہ داروں کا یعنی وہاں (زکات و صدقہ) میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور ان کے لئے ایک الگ سسٹم رکھا
اب آتے ہیں یہ کیوں رکھا الگ سسٹم ؟
علما اس کی کچھ توجیہات بیان فرماتے ہیں :
(۱) دشمنان اسلام کے لئے یہ رستہ بند ہوجائے کہ وہ خود رسول پہ تھمت نہ لگا سکیں کہ انہوں نے اپنوں (ذوی القربیٰ) کو زکات و صدقات جو ایک عمومی مال ہے جس میں معاشرے کا ہر مستحق فرد شامل ہے ، پر مسلط کر دیا ہے۔
(2) رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کے ذوی القربیٰ کا احترام کو برقرار رکھنا بھی صدقہ و زکات کا سید پہ حرام ہونے کا ایک سبب و مصلحت ہے۔
امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں : لم يجعل لنا سهماً في الصدقه اکرم (الله) نبيه و اکرمنا ان يطعمنا اوساخ ما في ايدي الناس (وسائل الشيعه ، شیخ حر عاملی ،جلد نمبر 6، ابواب قسمة الخمس، باب 1، ح 4)
ترجمہ : خدا نے ہمارے ( بنو ھاشم ) کے لئے صدقے (واجبہ) میں کوئی سھم و حصہ نہیں رکھا یہ خداوند متعال نے اپنے نبی (ص) کو ایک کرامت و عزت دی اور ہمیں بھی عزت دی کہ ہم لوگوں کے ہاتھوں کی میل کو ہمیں کھلائے
یہ حقیقت ہے کہ قرآن میں زکات ( صدقہ واجبہ ) کا خمس کے مقابلے میں زیادہ حکم آیا ہے خمس جنگ بدر کے بعد واجب ہوا ہے اور زکات کی زیادہ تاکید کا حکم اس وجہ سے ہے کہ وہ ایک عمومی مال ہے اور فراگیر ہے۔
آپ کو علم ہے کہ زکات 9 چیزوں پہ واجب ہے جو عام استعمال کی چیزیں ہیں اور خمس 7 چیزوں پہ واجب ہے جن میں کچھ بھی ہی مشکل سے حاصل ہوتے ہین جیسے خزانہ یا دریا سے موتی و غیرہ۔
یہاں تک میں نے کوشش کی کہ صدقہ اور خمس پہ کچھ عرض کروں اب آخر مین یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ ڈفرنس اور فرق کیوں ہے ؟ یا سب ہی کے سب زکات لیتے یا سب ہی کے سب خمس میں شامل ہوتے یہ خداوند متعال نے فرق کیوں رکھا تو آپ نے جواب خود دے دیا ہے کہ ارشاد ہوا : يا أَيُّهَا النّاسُ إِنّا خَلَقْناكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ أُنْثى وَ جَعَلْناكُمْ شُعُوباً وَ قَبائِلَ لِتَعارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقاكُمْ إِن
َّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ، اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو - بیشک الله کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے - بیشک الله جا ننے والا خبردار ہے - (سوره حجرات - آیت ١٣)
یہاں فرق رکھنا اسی وجہ سے ہے کہ تعارف اور پہچان ہوسکے کہ یہ سید ہے یہ غیر سید جب کے مالی حساب سے دونوں کے لئے خداوند متعال نے Back Up رکھا ہے غیر سادات کے لئے صدقہ واجبہ سادات کے لئے خمس باقی صدقہ مستحبہ میں دونوں برابر ہیں دونوں لے سکتے ہیں۔
اب اگر اشکال ہو یہ فرق کیوں ہے سب برابر ہیں امتیاز اس کو ہے جو تقویٰ والا ہے تو ہم بھی یہی کھتے ہیں کہ صدقہ کسی پہ جائز اور کسی پہ ناجائز اس لئے ہے فقط پہچان ہو اور ایک لطیف جملہ عرض کردوں کہ آیت میں ارشاد ہوا کہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقاكُمْ ، تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے تو بیشک معیار تقویٰ ہے اور ہم محمد مصطفیٰ اور اس کی آل علیہم السلام کو اس لئے مانتے ہیں کہ وہ زیادہ تقویٰ والے ہیں نہ کہ عرب تھے یا اور کوئی سبب ہے اور یہ فرق خداوند متعال نے رکھا ہے اور ہم باقی سادات کا کسی کے نسب کا احترام کرنا بھی اس کے احترام کے زمرہ میں آتا ہے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
یہاں فرق رکھنا اسی وجہ سے ہے کہ تعارف اور پہچان ہوسکے کہ یہ سید ہے یہ غیر سید جب کے مالی حساب سے دونوں کے لئے خداوند متعال نے Back Up رکھا ہے غیر سادات کے لئے صدقہ واجبہ سادات کے لئے خمس باقی صدقہ مستحبہ میں دونوں برابر ہیں دونوں لے سکتے ہیں۔
اب اگر اشکال ہو یہ فرق کیوں ہے سب برابر ہیں امتیاز اس کو ہے جو تقویٰ والا ہے تو ہم بھی یہی کھتے ہیں کہ صدقہ کسی پہ جائز اور کسی پہ ناجائز اس لئے ہے فقط پہچان ہو اور ایک لطیف جملہ عرض کردوں کہ آیت میں ارشاد ہوا کہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقاكُمْ ، تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے تو بیشک معیار تقویٰ ہے اور ہم محمد مصطفیٰ اور اس کی آل علیہم السلام کو اس لئے مانتے ہیں کہ وہ زیادہ تقویٰ والے ہیں نہ کہ عرب تھے یا اور کوئی سبب ہے اور یہ فرق خداوند متعال نے رکھا ہے اور ہم باقی سادات کا کسی کے نسب کا احترام کرنا بھی اس کے احترام کے زمرہ میں آتا ہے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
💖 حضرت علیؑ کی ازواج و اولاد 💖
حضرت علیؑ کی زوجیت میں کل دس خواتین آئیں (مناقب ابن شہر آشوب)
روایتوں کے مطابق سب سے کم 27 اور زائدہ سے 36 اولادیں ہوئیں۔
🔷 حضرت علیؑ کی ازواج
١.حضرت فاطمہؑ دختر حضرت محمد مصطفٰی ص
٢.حضرت امامہ بنت ابی العاص دختر زینب بنت ہالہ
٣.حضرت خولہ بنت جعفر بن قیس حنفیہ
٤.حضرت اسماء بنت عمیس خشمیہ
٥.حضرت ام البنینؑ بنت حزام ابن خالد کلابی
٦.حضرت لیلی بنت مسعود دار میہ تمیمیہ نہشلیہ
٧.حضرت ام سعید بنت عروہ بن مسعود ثقفی (حضرت ام لیلیؑ مادر حضرت علی اکبرؑ کی سگی پھوپھی)
٨.حضرت ام شعیب مخزومیہ
٩.حضرت محیاتہ دختر امراءالقیس
١٠.حضرت صہبا(سبیہ) بنت عباد بن ربعیہ تغلبیہ (کنیت ام حبیب)
١.حضرت فاطمہؑ سے عقد کا سال
حضرت فاطمہؑ کا نکاح یکم ذوالحج ٢ ہجری کو ہوا۔
٢.حضرت امامہ سے عقد کا سال
حضرت فاطمہؑ کی شہادت کے بعد حضرت علیؑ نے چند مہینے کے بعد ١١ہجری میں امامہ بنت ابی العاص سے عقد کیا جس سے ایک فرزند محمد اوسط بن علیؑ کی ولادت ہوئی جو کربلا میں شہید ہوئے۔
٣.حضرت خولہ سے عقد کا سال
١٢ہجری صحابی رسول مالک بن نویرہ رض کو خالد بن ولید نے شہید کر دیا اور قبیلے کی عورتوں کو مدینے اسیر بنا کر لائے خولہ بنت جعفر بن قیس حنفیہ بھی قید ہو کر قبر نبی ص پر آئیں حضرت علیؑ نے ١٢ ہجری میں حضرت خولہ سے عقد فرمایا ١٥ ہجری میں حضرت محمد حنفیہؑ کی ولادت ہوئی اور محرم ٨١ ہجری میں تقریبا" ٦٥سال کی عمر میں وفات پائی۔
٤.حضرت اسماء بنت عمیس سے عقد کا سال
حضرت اسماء بنت عمیس ٢٢ جمادی الثانی ١٣ ہجری کو بیوہ ہو گئیں چونکہ اسماء بنت عمیس کے بچوں کی پرورش حضرت علیؑ کے ذمے تھی اس لیے بعد عدت ١٤ ہجری میں حضرت علیؑ نے حضرت اسماء بنت عمیس سے عقد کر لیا اسما بنت عمیس کے دو کم سن بچوں حضرت محمد بن ابی بکر اور ام کلثوم کی پرورش حضرت علیؑ کے گھر میں ہوئی حضرت علیؑ سے حضرت اسماء بنت عمیس کے یہاں دو بیٹے یحییؑ اور عونؑ کی ولادت ہوئی یحییؑ نے پچپن میں وفات پائی عون بن علیؑ ١٣ شوال ١٥ ہجری میں پیدا ہوئے ٤٦ سال کے سن میں کربلا میں شہید ہوئے۔
٣٨ہجری میں محمد بن ابی بکر بمقام مصر شہید کر دیے گئے محمد بن ابوبکر کا سر ام حبیبہ بنت ابوسفیان نے تحفتا" اسماء بنت عمیس کو بھجوایا اس وقت وہ جائے نماز پر تھیں خبر سنتے ہی اسماء بنت عمیس کا سینہ پھٹ گیا اور خون جاری ہو گیا جوان فرزند کی موت کے صدمے سے وفات پا گئیں۔
٥.حضرت صہبا(ام حبیب) سے عقد کا سال
صہبا بنت عباد بن ربعیہ بن یحیی بن علقمہ بن تغلبیہ صہبا خاتون کی کنیت ام حبیب یا ام حبیبہ تھی حضرت علیؑ نے جنگ یمامہ یا عین التمر کے اسیروں میں سے آپ کو خرید فرمایا تھا آپ ١٢ ہجری میں فتح عین التمر کے بعد عقد میں آئیں حضرت صہبا خاتون عرف ام حبیبہ کے بطن سے عمیر الاطرف اور جناب رقیہ جڑواں پیدا ہوئے عمیر الاطرف نے پچاسی سن کے برس میں وفات پائی اور حضرت رقیہ کبریؑ حضرت مسلم بن عقیل کی زوجیت میں تھیں۔
٦.حضرت ام البنینؑ سے عقد کا سال
شب جمعہ ١٧ رجب ٢١ ہجری میں حضرت علیؑ نے حضرت ام البنینؑ سے عقد فرمایا۔
🔷 حضرت علیؑ کے بیٹوں کے نام
١.حضرت فاطمہ زہراءؑ سے بیٹے
١.حضرت امام حسنؑ ٢.حضرت امام حسینؑ ٣.حضرت محسنؑ
٢.حضرت ام البنینؑ سے بیٹے
١.حضرت عباسؑ ٢.حضرت جعفرؑ ٣.حضرت عبداللہؑ ٤.حضرت عمرانؑ
٣.حضرت خولہ بنت جعفر سے بیٹے
١.حضرت محمد حنفیہؑ
٤.حضرت اسماء بنت عمیس سے بیٹے
١.حضرت یحییؑ ٢.حضرت عونؑ
٥.حضرت لیلی بنت مسعود سے بیٹے
١.محمد اصغرؑ ٢.محمد عبداللہ
٦.حضرت صہبا (ام حبیب) سے بیٹے
١.عمیر اطرفؑ ٢.عباس اصغرؑ ٣.محمد اصغرؑ ٤.ابراہیمؑ
٧.حضرت ام شعیب سے بیٹے
١.عبداللہ اوسطؑ
٨.حضرت امامہ بنت ابی العاص سے بیٹے
١.محمد اوسطؑ
٩.محیاتہ بنت امراء القیس
١.احمدؑ
🔷 حضرت علیؑ کی بیٹیوں کے نام
١.حضرت زینب کبریؑ زوجہ حضرت عبداللہ بن جعفر طیارؑ
اولاد:
١.عون ٢.محمد ٣.عبداللہ ٤.عباس
٢.حضرت ام کلثومؑ زوجہ حضرت عون بن جعفر طیارؑ (شہید کربلا)
اولاد:
١.قاسم بن عون
٣.حضرت فاطمہ بنت علیؑ زوجہ حضرت محمد بن ابو سعید بن عقیل
اولاد:
١.سعید
٤.حضرت زینب صغریؑ زوجہ حضرت محمد بن عقیل
اولاد:
١.عبدالرحمن ٢.عبداللہ
٥.حضرت رقیہ(ام کلثوم صغری) زوجہ حضرت مسلم بن عقیل
اولاد:
١.عبداللہ ٢.محمد اصغر ٣.محمد اکبر ٤.ابراہیم
٦.حضرت ام ہانی(فقیہ) زوجہ حضرت عبداللہ اکبر بن عقیل
٧.حضرت ام سلمہ(امینہ) زوجہ حضرت صلت بن عبداللہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب
٨.حضرت ام کرام(رحمایہ) بچپن میں انتقال ہوا۔
٩.جمانہ(ام جعفر) بچپن میں انتقال ہوا۔
١٠.حضرت میمومنہ زوجہ حضرت عبداللہ اصغر بن عقیل
اولاد؛
١.عقیل بن عبداللہ بن عقیل
١١.حضرت خدیجہ زوجہ حضرت عبدالرحمٰن بن عقیل
اولاد:
١.قاسم بن عبدالرحمٰن
١٢.حضرت نفیسہ (ام کلثوم اوسط) زوجہ حضرت کثیر بن عباس بن عبدالمطلب
١٣.حضرت ام الحسن زوجہ حضرت جعدہ بن ھبیرہ
اولاد:
١.علی بن جعدہ
١٤.حضرت رملہ کبریؑ ز
حضرت علیؑ کی زوجیت میں کل دس خواتین آئیں (مناقب ابن شہر آشوب)
روایتوں کے مطابق سب سے کم 27 اور زائدہ سے 36 اولادیں ہوئیں۔
🔷 حضرت علیؑ کی ازواج
١.حضرت فاطمہؑ دختر حضرت محمد مصطفٰی ص
٢.حضرت امامہ بنت ابی العاص دختر زینب بنت ہالہ
٣.حضرت خولہ بنت جعفر بن قیس حنفیہ
٤.حضرت اسماء بنت عمیس خشمیہ
٥.حضرت ام البنینؑ بنت حزام ابن خالد کلابی
٦.حضرت لیلی بنت مسعود دار میہ تمیمیہ نہشلیہ
٧.حضرت ام سعید بنت عروہ بن مسعود ثقفی (حضرت ام لیلیؑ مادر حضرت علی اکبرؑ کی سگی پھوپھی)
٨.حضرت ام شعیب مخزومیہ
٩.حضرت محیاتہ دختر امراءالقیس
١٠.حضرت صہبا(سبیہ) بنت عباد بن ربعیہ تغلبیہ (کنیت ام حبیب)
١.حضرت فاطمہؑ سے عقد کا سال
حضرت فاطمہؑ کا نکاح یکم ذوالحج ٢ ہجری کو ہوا۔
٢.حضرت امامہ سے عقد کا سال
حضرت فاطمہؑ کی شہادت کے بعد حضرت علیؑ نے چند مہینے کے بعد ١١ہجری میں امامہ بنت ابی العاص سے عقد کیا جس سے ایک فرزند محمد اوسط بن علیؑ کی ولادت ہوئی جو کربلا میں شہید ہوئے۔
٣.حضرت خولہ سے عقد کا سال
١٢ہجری صحابی رسول مالک بن نویرہ رض کو خالد بن ولید نے شہید کر دیا اور قبیلے کی عورتوں کو مدینے اسیر بنا کر لائے خولہ بنت جعفر بن قیس حنفیہ بھی قید ہو کر قبر نبی ص پر آئیں حضرت علیؑ نے ١٢ ہجری میں حضرت خولہ سے عقد فرمایا ١٥ ہجری میں حضرت محمد حنفیہؑ کی ولادت ہوئی اور محرم ٨١ ہجری میں تقریبا" ٦٥سال کی عمر میں وفات پائی۔
٤.حضرت اسماء بنت عمیس سے عقد کا سال
حضرت اسماء بنت عمیس ٢٢ جمادی الثانی ١٣ ہجری کو بیوہ ہو گئیں چونکہ اسماء بنت عمیس کے بچوں کی پرورش حضرت علیؑ کے ذمے تھی اس لیے بعد عدت ١٤ ہجری میں حضرت علیؑ نے حضرت اسماء بنت عمیس سے عقد کر لیا اسما بنت عمیس کے دو کم سن بچوں حضرت محمد بن ابی بکر اور ام کلثوم کی پرورش حضرت علیؑ کے گھر میں ہوئی حضرت علیؑ سے حضرت اسماء بنت عمیس کے یہاں دو بیٹے یحییؑ اور عونؑ کی ولادت ہوئی یحییؑ نے پچپن میں وفات پائی عون بن علیؑ ١٣ شوال ١٥ ہجری میں پیدا ہوئے ٤٦ سال کے سن میں کربلا میں شہید ہوئے۔
٣٨ہجری میں محمد بن ابی بکر بمقام مصر شہید کر دیے گئے محمد بن ابوبکر کا سر ام حبیبہ بنت ابوسفیان نے تحفتا" اسماء بنت عمیس کو بھجوایا اس وقت وہ جائے نماز پر تھیں خبر سنتے ہی اسماء بنت عمیس کا سینہ پھٹ گیا اور خون جاری ہو گیا جوان فرزند کی موت کے صدمے سے وفات پا گئیں۔
٥.حضرت صہبا(ام حبیب) سے عقد کا سال
صہبا بنت عباد بن ربعیہ بن یحیی بن علقمہ بن تغلبیہ صہبا خاتون کی کنیت ام حبیب یا ام حبیبہ تھی حضرت علیؑ نے جنگ یمامہ یا عین التمر کے اسیروں میں سے آپ کو خرید فرمایا تھا آپ ١٢ ہجری میں فتح عین التمر کے بعد عقد میں آئیں حضرت صہبا خاتون عرف ام حبیبہ کے بطن سے عمیر الاطرف اور جناب رقیہ جڑواں پیدا ہوئے عمیر الاطرف نے پچاسی سن کے برس میں وفات پائی اور حضرت رقیہ کبریؑ حضرت مسلم بن عقیل کی زوجیت میں تھیں۔
٦.حضرت ام البنینؑ سے عقد کا سال
شب جمعہ ١٧ رجب ٢١ ہجری میں حضرت علیؑ نے حضرت ام البنینؑ سے عقد فرمایا۔
🔷 حضرت علیؑ کے بیٹوں کے نام
١.حضرت فاطمہ زہراءؑ سے بیٹے
١.حضرت امام حسنؑ ٢.حضرت امام حسینؑ ٣.حضرت محسنؑ
٢.حضرت ام البنینؑ سے بیٹے
١.حضرت عباسؑ ٢.حضرت جعفرؑ ٣.حضرت عبداللہؑ ٤.حضرت عمرانؑ
٣.حضرت خولہ بنت جعفر سے بیٹے
١.حضرت محمد حنفیہؑ
٤.حضرت اسماء بنت عمیس سے بیٹے
١.حضرت یحییؑ ٢.حضرت عونؑ
٥.حضرت لیلی بنت مسعود سے بیٹے
١.محمد اصغرؑ ٢.محمد عبداللہ
٦.حضرت صہبا (ام حبیب) سے بیٹے
١.عمیر اطرفؑ ٢.عباس اصغرؑ ٣.محمد اصغرؑ ٤.ابراہیمؑ
٧.حضرت ام شعیب سے بیٹے
١.عبداللہ اوسطؑ
٨.حضرت امامہ بنت ابی العاص سے بیٹے
١.محمد اوسطؑ
٩.محیاتہ بنت امراء القیس
١.احمدؑ
🔷 حضرت علیؑ کی بیٹیوں کے نام
١.حضرت زینب کبریؑ زوجہ حضرت عبداللہ بن جعفر طیارؑ
اولاد:
١.عون ٢.محمد ٣.عبداللہ ٤.عباس
٢.حضرت ام کلثومؑ زوجہ حضرت عون بن جعفر طیارؑ (شہید کربلا)
اولاد:
١.قاسم بن عون
٣.حضرت فاطمہ بنت علیؑ زوجہ حضرت محمد بن ابو سعید بن عقیل
اولاد:
١.سعید
٤.حضرت زینب صغریؑ زوجہ حضرت محمد بن عقیل
اولاد:
١.عبدالرحمن ٢.عبداللہ
٥.حضرت رقیہ(ام کلثوم صغری) زوجہ حضرت مسلم بن عقیل
اولاد:
١.عبداللہ ٢.محمد اصغر ٣.محمد اکبر ٤.ابراہیم
٦.حضرت ام ہانی(فقیہ) زوجہ حضرت عبداللہ اکبر بن عقیل
٧.حضرت ام سلمہ(امینہ) زوجہ حضرت صلت بن عبداللہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب
٨.حضرت ام کرام(رحمایہ) بچپن میں انتقال ہوا۔
٩.جمانہ(ام جعفر) بچپن میں انتقال ہوا۔
١٠.حضرت میمومنہ زوجہ حضرت عبداللہ اصغر بن عقیل
اولاد؛
١.عقیل بن عبداللہ بن عقیل
١١.حضرت خدیجہ زوجہ حضرت عبدالرحمٰن بن عقیل
اولاد:
١.قاسم بن عبدالرحمٰن
١٢.حضرت نفیسہ (ام کلثوم اوسط) زوجہ حضرت کثیر بن عباس بن عبدالمطلب
١٣.حضرت ام الحسن زوجہ حضرت جعدہ بن ھبیرہ
اولاد:
١.علی بن جعدہ
١٤.حضرت رملہ کبریؑ ز
وجہ حضرت ابوالھیاج بن عبداللہ بن ابی سفیان بن حارث بن عبدالمطلب
١٥.حضرت سکینہؑ بچپن میں انتقال ہو گیا۔
١٦.حضرت رقیہ صغراؑ بچپن میں انتقال ہو گیا۔
١٧.حضرت تقیہؑ بچپن میں انتقال ہوا۔
١٨.حضرت رملہ صغریؑ بنت حضرت جعفر بن عقیل
🔷 حضرت علیؑ کی بیٹیوں کی شادی حضرت علیؑ کے سگے بھائی حضرت عقیلؑ اور حضرت جعفر طیارؑ کے فرزندوں سے ہوئی اور پھر حضرت علیؑ کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عباس، عبیداللہ بن حارث بن عبدالمطلب، نوفل بن حارث بن عبدالمطلب کے بیٹوں سے ہوئی ایک بیٹی کی شادی حضرت علیؑ کے بھانجے جعدہ ابن ھبیرہ سے ہوئی یہ حضرت علیؑ کی بہن ام ہانیؑ کے فرزند ہیں۔
بحارالأنوار میں تحریر ہے کہ رسول ص نے اولاد حضرت علیؑ اور جعفر طیارؑ کے فرزندوں کی طرف دیکھ کر فرمایا ہماری بیٹیاں ہمارے بیٹوں کے لیے ہیں اور ہمارے بیٹے ہماری بیٹیوں کے لیے ہیں۔
🔘 حضرت علیؑ کے بیٹے جو کربلا میں شہید ہوئے
حضرت علیؑ کے بارہ فرزند کربلا میں شہید ہوئے۔
١.حضرت امام حسینؑ والدہ حضرت فاطمہؑ (مقاتل و تاریخ)
٢.حضرت عباسؑ والدہ حضرت ام البنینؑ (اعیان الشیعہ)
٣.حضرت عبداللہ ع والدہ حضرت ام البنینؑ (اعیان الشیعہ)
٤.حضرت عمرانؑ والدہ حضرت ام البنینؑ (اعیان الشیعہ)
٥.حضرت جعفرؑ والدہ حضرت ام البنینؑ (اعیان الشیعہ)
٦.محمد بن علیؑ والدہ لیلی بنت مسعود (بحارالأنوار)
٧.عبیداللہ بن علیؑ والدہ لیلی بنت مسعود (بحارالأنوار)
٨. ابراہیم بن علی والدہ صہبا(ام حبیب) (مقاتل الطالبین )
٩.عباس اصغرؑ والدہ صہبا(ام حبیب) (تذکرہ الخواص)
١٠.محمد اوسط بن علیؑ والدہ امامہ بنت ابی العاص (زیارت ناحیہ)
١١.عون بن علیؑ والدہ اسماء بنت عمیس (ابو مخنف)
١٢.عمیر بن علیؑ والدہ صہبا (ام حبیب) (ابن شہر آشوب)
🔶 حضرت علیؑ کی بیٹیاں جو مدینے سے اپنے بھائی امام حسینؑ کے ساتھ کربلا آئیں۔
١.حضرت زینب کبریؑ بنت امیرالمومنینؑ
٢.حضرت زینب صغریؑ (حضرت ام کلثومؑ) بنت امیرالمومنینؑ
٣.حضرت فاطمہؑ جنکی کنیت ام کلثوم ہے۔
٤.حضرت خدیجہ زوجہ عبدالرحمٰن بن عقیل
٥.حضرت رقیہ کبریؑ زوجہ حضرت امیر مسلمؑ
٦.حضرت ام ہانیؑ زوجہ عبداللہ اکبر بن عقیل
٧.حضرت رملہ کبریؑ زوجہ عبدالرحمٰن اوسط بن عقیل
٨.حضرت رقیہ صغراؑ
٩.حضرت فاطمہ الصغریؑ زوجہ ابوسعید بن عقیل انکی ایک دختر بنام حمیدہ اور ایک بیٹا محمدؑ ہے۔ محمد سات سال کے تھے جو اپنے ماموں امام حسینؑ کے خاک پر گرنے کے بعد ایک ملعون کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔
١٠.حضرت خدیجہ صغراؑ زوجہ عبداللہ اوسط بن عقیل کی زوجہ تھیں۔
١١.حضرت ام سلمہؑ
١٢.حضرت میمونہؑ
١٣.بعض علماء نے حضرت جمانہؑ کا بھی اضافہ کیا ہے جن کی کنیت ام جعفرؑ تھی۔
📚 ماخذ
١.حضرت ام البنینؑ
٢.مدینہ سے مدینہ تک
٣.حیات حضرت عباس علمدارؑ
٤.کربلا کے اعداد و شمار
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
١٥.حضرت سکینہؑ بچپن میں انتقال ہو گیا۔
١٦.حضرت رقیہ صغراؑ بچپن میں انتقال ہو گیا۔
١٧.حضرت تقیہؑ بچپن میں انتقال ہوا۔
١٨.حضرت رملہ صغریؑ بنت حضرت جعفر بن عقیل
🔷 حضرت علیؑ کی بیٹیوں کی شادی حضرت علیؑ کے سگے بھائی حضرت عقیلؑ اور حضرت جعفر طیارؑ کے فرزندوں سے ہوئی اور پھر حضرت علیؑ کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عباس، عبیداللہ بن حارث بن عبدالمطلب، نوفل بن حارث بن عبدالمطلب کے بیٹوں سے ہوئی ایک بیٹی کی شادی حضرت علیؑ کے بھانجے جعدہ ابن ھبیرہ سے ہوئی یہ حضرت علیؑ کی بہن ام ہانیؑ کے فرزند ہیں۔
بحارالأنوار میں تحریر ہے کہ رسول ص نے اولاد حضرت علیؑ اور جعفر طیارؑ کے فرزندوں کی طرف دیکھ کر فرمایا ہماری بیٹیاں ہمارے بیٹوں کے لیے ہیں اور ہمارے بیٹے ہماری بیٹیوں کے لیے ہیں۔
🔘 حضرت علیؑ کے بیٹے جو کربلا میں شہید ہوئے
حضرت علیؑ کے بارہ فرزند کربلا میں شہید ہوئے۔
١.حضرت امام حسینؑ والدہ حضرت فاطمہؑ (مقاتل و تاریخ)
٢.حضرت عباسؑ والدہ حضرت ام البنینؑ (اعیان الشیعہ)
٣.حضرت عبداللہ ع والدہ حضرت ام البنینؑ (اعیان الشیعہ)
٤.حضرت عمرانؑ والدہ حضرت ام البنینؑ (اعیان الشیعہ)
٥.حضرت جعفرؑ والدہ حضرت ام البنینؑ (اعیان الشیعہ)
٦.محمد بن علیؑ والدہ لیلی بنت مسعود (بحارالأنوار)
٧.عبیداللہ بن علیؑ والدہ لیلی بنت مسعود (بحارالأنوار)
٨. ابراہیم بن علی والدہ صہبا(ام حبیب) (مقاتل الطالبین )
٩.عباس اصغرؑ والدہ صہبا(ام حبیب) (تذکرہ الخواص)
١٠.محمد اوسط بن علیؑ والدہ امامہ بنت ابی العاص (زیارت ناحیہ)
١١.عون بن علیؑ والدہ اسماء بنت عمیس (ابو مخنف)
١٢.عمیر بن علیؑ والدہ صہبا (ام حبیب) (ابن شہر آشوب)
🔶 حضرت علیؑ کی بیٹیاں جو مدینے سے اپنے بھائی امام حسینؑ کے ساتھ کربلا آئیں۔
١.حضرت زینب کبریؑ بنت امیرالمومنینؑ
٢.حضرت زینب صغریؑ (حضرت ام کلثومؑ) بنت امیرالمومنینؑ
٣.حضرت فاطمہؑ جنکی کنیت ام کلثوم ہے۔
٤.حضرت خدیجہ زوجہ عبدالرحمٰن بن عقیل
٥.حضرت رقیہ کبریؑ زوجہ حضرت امیر مسلمؑ
٦.حضرت ام ہانیؑ زوجہ عبداللہ اکبر بن عقیل
٧.حضرت رملہ کبریؑ زوجہ عبدالرحمٰن اوسط بن عقیل
٨.حضرت رقیہ صغراؑ
٩.حضرت فاطمہ الصغریؑ زوجہ ابوسعید بن عقیل انکی ایک دختر بنام حمیدہ اور ایک بیٹا محمدؑ ہے۔ محمد سات سال کے تھے جو اپنے ماموں امام حسینؑ کے خاک پر گرنے کے بعد ایک ملعون کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔
١٠.حضرت خدیجہ صغراؑ زوجہ عبداللہ اوسط بن عقیل کی زوجہ تھیں۔
١١.حضرت ام سلمہؑ
١٢.حضرت میمونہؑ
١٣.بعض علماء نے حضرت جمانہؑ کا بھی اضافہ کیا ہے جن کی کنیت ام جعفرؑ تھی۔
📚 ماخذ
١.حضرت ام البنینؑ
٢.مدینہ سے مدینہ تک
٣.حیات حضرت عباس علمدارؑ
٤.کربلا کے اعداد و شمار
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 قرآن میں بیوی کے لیے تین لفظ 🌹
اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1- إمراءة
2- زوجة
3- صاحب
🔷 إمراءة:
امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو۔
🔷 زوجة:
ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو۔
🔷 صاحبة:
ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو۔
اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے۔۔۔
1- امراءة
حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو "امراءة نوح" اور "امراءة لوط" كہہ كر پكارا هے،
اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی "وامراءة فرعون" کہہ كر پكارا هے۔
(ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں)
یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا۔
2- زوجة:
جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے
(ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ)
اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا (يأيها النبي قل لأزواجك .... )
شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا۔
ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا (و امراتي عاقرا ....)
اور جب أولاد مل گئی تو بولا (ووهبنا له يحی و أصلحنا له زوجه ....)
اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں
اسی طرح ابولہب كو رسوا كيا يہ بول کر (وامرءته حمالة الحطب) كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا۔
3- صاحبة:
جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو۔
اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے۔ (ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ)
اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا (ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ)
كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته" بولا۔
🔘 اردو ميں:
امراءتي , زوجتي , صاحبتي سب كا ترجمة " بيوی" ہی كرنا پڑے گا۔
ليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے۔
اور رب تعالٰی نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا (رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما)
"وأزواجنا"
زوجہ سے استعمال فرمايا اس لئے كه آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب جسمانی كے ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی ھو۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1- إمراءة
2- زوجة
3- صاحب
🔷 إمراءة:
امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو۔
🔷 زوجة:
ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو۔
🔷 صاحبة:
ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو۔
اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے۔۔۔
1- امراءة
حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو "امراءة نوح" اور "امراءة لوط" كہہ كر پكارا هے،
اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی "وامراءة فرعون" کہہ كر پكارا هے۔
(ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں)
یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا۔
2- زوجة:
جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے
(ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ)
اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا (يأيها النبي قل لأزواجك .... )
شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا۔
ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا (و امراتي عاقرا ....)
اور جب أولاد مل گئی تو بولا (ووهبنا له يحی و أصلحنا له زوجه ....)
اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں
اسی طرح ابولہب كو رسوا كيا يہ بول کر (وامرءته حمالة الحطب) كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا۔
3- صاحبة:
جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو۔
اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے۔ (ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ)
اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا (ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ)
كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته" بولا۔
🔘 اردو ميں:
امراءتي , زوجتي , صاحبتي سب كا ترجمة " بيوی" ہی كرنا پڑے گا۔
ليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے۔
اور رب تعالٰی نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا (رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما)
"وأزواجنا"
زوجہ سے استعمال فرمايا اس لئے كه آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب جسمانی كے ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی ھو۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
💝 محبت کے ساتھی 💝
ایک عورت کسی کام سے گھر سے باہر نکلی تو گھر کے باہر تین اجنبی بزرگوں کو بیٹھے دیکھا،
عورت کہنے لگی میں آپ لوگوں کو جانتی نہیں لیکن لگتا ہے کہ آپ لوگ بھوکے ہیں چلیں اندر چلیں میں آپ لوگوں کو کھانا دیتی ہوں۔
ان بزرگوں نے پوچھا: کیا گھر کا مالک موجود ہے؟
عورت کہنے لگی: نہیں، وہ گھر پر موجود نہیں۔
انہوں نے جواب دیا: پھر تو ہم اندر
نہیں جائیں گے۔
رات کو جب خاوند گھر آیا تو عورت نے اسے سارے معاملے کی خبر دی۔۔۔
وہ کہنے لگا: انہیں اندر لے کر آؤ!
عورت اُن کے پاس آئی اور اندر چلنے کو کہا!
انہوں نے جواب دیا: ہم تینوں ایک ساتھ اندر نہیں جاسکتے۔
عورت نے پوچھا : وہ کیوں؟
ایک نے یہ کہتے ہوئے وضاحت کی:
اس کا نام ''مال'' ہے اور اپنے ایک ساتھی کی طرف اشارہ کیا، اور اس کا نام ''کامیابی'' ہے اور دوسرے ساتھی کی طرف اشارہ کیا، اور میرا نام محبت ہے، اور یہ کہتے ہوئے بات مکمل کی کہ جاؤ اپنے خاوند کے پاس جاؤ اور مشورہ کر لو کہ ہم میں سے کون اندر آئے؟
عورت نے آکر خاوند کو سارا ماجرا سنایا۔
وہ خوشی سے چلا اٹھا اور کہنے لگا: اگر یہی معاملہ ہے تو ''مال'' کو اندر بلا لیتے ہیں، گھر میں مال و دولت کی ریل پیل ہو جائے گی!
عورت نے خاوند سے اختلاف کرتے ہوئے کہا: کیوں نہ ''کامیابی'' کو دعوت دیں؟
میاں بیوی کی یہ باتیں اُن کی بہو گھر کے ایک کونے میں بیٹھی سن رہی تھی، اُس نے جلدی سے اپنی رائے دی:
کیوں نہ ہم ''محبت'' کو بلا لیں اور ہمارا گھرانہ پیار و محبت سے بھر جائے!
خاوند کہنے لگا: بہو کی نصیحت مان لیتے ہیں، جاؤ اور ''محبت'' کو اندر لے آؤ۔
عورت باہر آئی اور بولی: آپ میں سے ''محبت'' کون ہے وہ ہمیں مہمان نوازی کا شرف بخشے۔
گھر والوں کا مطلوبہ شخص اٹھا اور اندر جانے لگا تو اس کے دونوں ساتھی بھی کھڑے ہو گئے اور اس کے پیچھے چلنے لگے۔
عورت حیران و پریشان اُن کا منہ دیکھنے لگی۔ عورت نے ''مال'' اور ''کامیابی'' سے کہا؛ میں نے تو صرف ''محبت'' کو دعوت دی تھی، آپ دونوں کیوں ساتھ جا رہے ہیں؟
دونوں نے جواب دیا: اگر تم نے ''مال'' یا ''کامیابی'' میں سے کسی کو بلایا ہوتا تو
باقی دونوں باہر رہتے لیکن تم نے کیونکہ ''محبت'' کو بلایا ہے یہ جہاں ہو ہم اس کے ساتھ ہوتے ہیں،
جہاں ''محبت'' ہو گی وہاں ''مال'' اور ''کامیابی'' بھی ملیں گے۔
🔘 اپنے دل میں اور اپنے عزیزوں اور ساتھیوں کے دلوں میں محبت پیدا کیجئے، آپ ایک کامیاب شخصیت کے مالک بن جائیں گے۔
https://t.me/islamwitheman/2127
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک عورت کسی کام سے گھر سے باہر نکلی تو گھر کے باہر تین اجنبی بزرگوں کو بیٹھے دیکھا،
عورت کہنے لگی میں آپ لوگوں کو جانتی نہیں لیکن لگتا ہے کہ آپ لوگ بھوکے ہیں چلیں اندر چلیں میں آپ لوگوں کو کھانا دیتی ہوں۔
ان بزرگوں نے پوچھا: کیا گھر کا مالک موجود ہے؟
عورت کہنے لگی: نہیں، وہ گھر پر موجود نہیں۔
انہوں نے جواب دیا: پھر تو ہم اندر
نہیں جائیں گے۔
رات کو جب خاوند گھر آیا تو عورت نے اسے سارے معاملے کی خبر دی۔۔۔
وہ کہنے لگا: انہیں اندر لے کر آؤ!
عورت اُن کے پاس آئی اور اندر چلنے کو کہا!
انہوں نے جواب دیا: ہم تینوں ایک ساتھ اندر نہیں جاسکتے۔
عورت نے پوچھا : وہ کیوں؟
ایک نے یہ کہتے ہوئے وضاحت کی:
اس کا نام ''مال'' ہے اور اپنے ایک ساتھی کی طرف اشارہ کیا، اور اس کا نام ''کامیابی'' ہے اور دوسرے ساتھی کی طرف اشارہ کیا، اور میرا نام محبت ہے، اور یہ کہتے ہوئے بات مکمل کی کہ جاؤ اپنے خاوند کے پاس جاؤ اور مشورہ کر لو کہ ہم میں سے کون اندر آئے؟
عورت نے آکر خاوند کو سارا ماجرا سنایا۔
وہ خوشی سے چلا اٹھا اور کہنے لگا: اگر یہی معاملہ ہے تو ''مال'' کو اندر بلا لیتے ہیں، گھر میں مال و دولت کی ریل پیل ہو جائے گی!
عورت نے خاوند سے اختلاف کرتے ہوئے کہا: کیوں نہ ''کامیابی'' کو دعوت دیں؟
میاں بیوی کی یہ باتیں اُن کی بہو گھر کے ایک کونے میں بیٹھی سن رہی تھی، اُس نے جلدی سے اپنی رائے دی:
کیوں نہ ہم ''محبت'' کو بلا لیں اور ہمارا گھرانہ پیار و محبت سے بھر جائے!
خاوند کہنے لگا: بہو کی نصیحت مان لیتے ہیں، جاؤ اور ''محبت'' کو اندر لے آؤ۔
عورت باہر آئی اور بولی: آپ میں سے ''محبت'' کون ہے وہ ہمیں مہمان نوازی کا شرف بخشے۔
گھر والوں کا مطلوبہ شخص اٹھا اور اندر جانے لگا تو اس کے دونوں ساتھی بھی کھڑے ہو گئے اور اس کے پیچھے چلنے لگے۔
عورت حیران و پریشان اُن کا منہ دیکھنے لگی۔ عورت نے ''مال'' اور ''کامیابی'' سے کہا؛ میں نے تو صرف ''محبت'' کو دعوت دی تھی، آپ دونوں کیوں ساتھ جا رہے ہیں؟
دونوں نے جواب دیا: اگر تم نے ''مال'' یا ''کامیابی'' میں سے کسی کو بلایا ہوتا تو
باقی دونوں باہر رہتے لیکن تم نے کیونکہ ''محبت'' کو بلایا ہے یہ جہاں ہو ہم اس کے ساتھ ہوتے ہیں،
جہاں ''محبت'' ہو گی وہاں ''مال'' اور ''کامیابی'' بھی ملیں گے۔
🔘 اپنے دل میں اور اپنے عزیزوں اور ساتھیوں کے دلوں میں محبت پیدا کیجئے، آپ ایک کامیاب شخصیت کے مالک بن جائیں گے۔
https://t.me/islamwitheman/2127
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💝 لنگڑی محبت 💝
لنگڑی محبت کیا ہوتی ہے؟
ہاں جی، یہ بھی محبت کی ایک قسم ہے! لنگڑی محبت۔۔۔ آج آپ کو لنگڑی محبت سے متعارف کرواتے ہیں۔
محبت میں کئی طرح کے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں، جہاں ایک ساتھ پر امن طریقے سے رہنا ہو، خاص طور پر محبت کے رشتے میں، وہاں کئی سمجھوتے…
لنگڑی محبت کیا ہوتی ہے؟
ہاں جی، یہ بھی محبت کی ایک قسم ہے! لنگڑی محبت۔۔۔ آج آپ کو لنگڑی محبت سے متعارف کرواتے ہیں۔
محبت میں کئی طرح کے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں، جہاں ایک ساتھ پر امن طریقے سے رہنا ہو، خاص طور پر محبت کے رشتے میں، وہاں کئی سمجھوتے…
🔷 دو قسم کی عورتیں 🔷
گھر سے باہر نکلتے ہی آپ کا دو قسم کی عورتوں سے سامنا ہوتا ہے۔۔۔
پہلی قِسم:
ان عورتوں کی ہے جو عزیزِ مصر کی بیوی والی بیماری کا شکار ہیں. خوب بن سنور کر خوشبو لگائے بے پردہ..... زبانِ حال سے کہہ رھی ہوتی ہیں.
هَيْتَ لَكَ (یوسف :23)
لو آجاؤ.
دوسری قِسم:
وہ عورت جو ستر و حجاب کی پابند، لیکن کسی مجبوری نے اسے گھر سے نکالا.... وہ زبانِ حال سے کہہ رھی ہوتی ہے.
لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ (القصص: 23)
جب تک یہ چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں اور ہمارے والد بہت بڑی عمر کے بوڑھے ہیں.
🔶 پہلی قِسم کی عورتوں سے آپ وہی معاملہ کریں، جو حضرت یوسف علیہ السلام نے کیا تھا، یعنی کہیں؛
مَعَاذَ اللَّهِ ۖۖ (یوسف :23)
اللہ کی پناہ!
🔷 دوسری قِسم کی عورتوں سے آپ وہی معاملہ کریں جو موسٰی علیہ السلام نے کیا تھا، یعنی ادب و احترام سے ان کی مدد کریں اور اپنے کام میں مشغول ہو جائیں اور اللہ کا فرمان یاد کریں؛
فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰ إِلَى الظِّلِّ (القصص:24)
پس آپ نے خود ان جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف ہٹ آئے.
👑 کیونکہ یوسف علیہ السلام اپنی عفت و پاک دامنی کی بناء پر عزیزِ مصر بن گئے تھے.
اور
🕊 حضرت موسٰی علیہ السلام کے حسنِ تعامل کی بناء پر اللہ نے انہیں نیک بیوی اور پاکیزہ رہائش عطا فرمائی۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
گھر سے باہر نکلتے ہی آپ کا دو قسم کی عورتوں سے سامنا ہوتا ہے۔۔۔
پہلی قِسم:
ان عورتوں کی ہے جو عزیزِ مصر کی بیوی والی بیماری کا شکار ہیں. خوب بن سنور کر خوشبو لگائے بے پردہ..... زبانِ حال سے کہہ رھی ہوتی ہیں.
هَيْتَ لَكَ (یوسف :23)
لو آجاؤ.
دوسری قِسم:
وہ عورت جو ستر و حجاب کی پابند، لیکن کسی مجبوری نے اسے گھر سے نکالا.... وہ زبانِ حال سے کہہ رھی ہوتی ہے.
لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ (القصص: 23)
جب تک یہ چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں اور ہمارے والد بہت بڑی عمر کے بوڑھے ہیں.
🔶 پہلی قِسم کی عورتوں سے آپ وہی معاملہ کریں، جو حضرت یوسف علیہ السلام نے کیا تھا، یعنی کہیں؛
مَعَاذَ اللَّهِ ۖۖ (یوسف :23)
اللہ کی پناہ!
🔷 دوسری قِسم کی عورتوں سے آپ وہی معاملہ کریں جو موسٰی علیہ السلام نے کیا تھا، یعنی ادب و احترام سے ان کی مدد کریں اور اپنے کام میں مشغول ہو جائیں اور اللہ کا فرمان یاد کریں؛
فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰ إِلَى الظِّلِّ (القصص:24)
پس آپ نے خود ان جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف ہٹ آئے.
👑 کیونکہ یوسف علیہ السلام اپنی عفت و پاک دامنی کی بناء پر عزیزِ مصر بن گئے تھے.
اور
🕊 حضرت موسٰی علیہ السلام کے حسنِ تعامل کی بناء پر اللہ نے انہیں نیک بیوی اور پاکیزہ رہائش عطا فرمائی۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌸 کیا ایسے لوگ ہیں 🌸
کہتے ہیں کہ پہلے وقتوں میں ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی کچھ لوگ اس کے پاس پوچھنے اور سببب معلوم کرنے آئے کہ اُس نے طلاق کیوں دی.
وہ کہنے لگا : کہ وہ ابھی عدت میں ہے ابھی تک وہ میری بیوی ہے مجھے اُس سے رجوع کا حق حاصل ہے میں اگر اس کے عیب تمہارے سامنے بیان کردوں تو رجوع کیسے کروں گا ؟؟؟
لوگوں نے انتظار کیا اور عدت ختم ہوگئی اور اس شخص نے رجوع نہیں کیا لوگ دوبارہ اُس کے پاس آئے تو اس نے کہا : اگر میں نے اب اس کے بارے میں کچھ بتایا تو یہ اُس کی شخصیت مسخ کرنے کے مترادف ہو گا اور کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا !!!
لوگوں نے انتظار کیا حتٰی کہ اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہوگئی
لوگ پھر اُس کے پاس آئے اور طلاق کا سبب پوچھنے لگے
اس اعرابی نے کہا: اب چونکہ وہ کسی اور کی عزت ہے اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ میں پرائی اور اجنبی عورت کے بارے میں اپنی زبان بند رکھوں۔"
کیا آج کے دور میں ہیں ایسے لوگ ؟؟؟
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
کہتے ہیں کہ پہلے وقتوں میں ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی کچھ لوگ اس کے پاس پوچھنے اور سببب معلوم کرنے آئے کہ اُس نے طلاق کیوں دی.
وہ کہنے لگا : کہ وہ ابھی عدت میں ہے ابھی تک وہ میری بیوی ہے مجھے اُس سے رجوع کا حق حاصل ہے میں اگر اس کے عیب تمہارے سامنے بیان کردوں تو رجوع کیسے کروں گا ؟؟؟
لوگوں نے انتظار کیا اور عدت ختم ہوگئی اور اس شخص نے رجوع نہیں کیا لوگ دوبارہ اُس کے پاس آئے تو اس نے کہا : اگر میں نے اب اس کے بارے میں کچھ بتایا تو یہ اُس کی شخصیت مسخ کرنے کے مترادف ہو گا اور کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا !!!
لوگوں نے انتظار کیا حتٰی کہ اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہوگئی
لوگ پھر اُس کے پاس آئے اور طلاق کا سبب پوچھنے لگے
اس اعرابی نے کہا: اب چونکہ وہ کسی اور کی عزت ہے اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ میں پرائی اور اجنبی عورت کے بارے میں اپنی زبان بند رکھوں۔"
کیا آج کے دور میں ہیں ایسے لوگ ؟؟؟
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 اللہ کے دونوں ہاتھ 🔷
"اللہ نے آدم کو دونوں ہاتھوں سے بنایا"
یہاں ہاتھ سے کیا مراد ہے؟
کیا وہ حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ تھے؟
(مختصر مگر جامع جواب)
ہر زمانے میں حتّیٰ خود آئمہؑ کے ادوار میں بعض مکار اور دھوکہ باز افراد موجود رہے ہیں جو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے قرآن مجید کی تشریح اپنی مرضی سے کرتے رہے ہیں.
اسی طرح آج کل کئی نام نہاد خطیب اور اہلِ منبر عوام کو گمراہ کرنے کیلئے اور غلو پھیلانے کیلئے قرآن مجید کی من مانی تفسیر یعنی تفسیر بالرائے کرتے ہیں.
ایسے لوگ جو حقائق دین میں تحریف کرنا اور لوگوں کی دینی تہذیب و ثقافت کو برباد کرنا چاہتے ہیں کے بارے حضرت علیؑ ارشاد فرماتے ہیں:
''وَ آخَرُ قَد تُسَمَّی عَالِمًا لَیسَ بِہِ"(نہج البلاغہ ، خطبہ ٨٦ ۔)"
قرآن کے سچے پیروؤں کے مقابل ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو کبھی کبھی معاشرہ کے درمیان عالم و دانشور تصور کیا جاتا ہے، اس نے اپنا نام عالم رکھ لیا ہے حالانکہ اسے علم سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
معصومینؑ کی جانب سے کئی روایات موجود ہیں جن میں تفسیر بالرائے کی سخت مذمت کی گئی ہے جیسا کہ
رسالتمآبؐ نے فرمایا:
جو بھی اپنی ذاتی رائے اور نظریہ سے قرآن مجید کی تشریح کرے گا وہ خود کو جہنم کیلئے تیار کرلے.
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
جس کسی نے اپنی رائے سے قرآن مجید کی تشریح کی اگر اس نے صحیح بات کہی تو وہ اس کا اجر و ثواب نہیں پائے گا اور اگر غلط بات کہی تو وہ حقیقت سے اتنا دور ہو گیا جتنا زمین سے آسمان دور ہے.
من مانی تفاسیر میں سے ایک تفسیر جس سے مذہب اہلبیتؑ کے عقائد پہ ڈاکا ڈالا جاتا ہے،
[يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ]
سورۃ ص کی آیت 75 کی کی جاتی ہے۔
اس آیت میں لفظ "بیدی" کا ترجمہ میرے ہاتھ کر کے کہا جاتا کہ اللہ عزوجل تو جسم سے مبّرا ہے جو کہ یقینا ہے ہی، تو اس کے ہاتھ تو نہیں، اور امام علیؑ جو کہ ید اللہ ہیں تو اس آیت کی غلط تفسیر کرتے ہوئے اور شرک کرتے ہوئے کہا جاتا کہ امام علیؑ نے جناب آدمؑ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا۔
اس جاہل ٹولہ نے شرک کرتے ہوئے ایک تو تفسیر بالرائے کے تحت عوام میں گمراہی پھیلانے کے ساتھ ساتھ اپنے کو جہنم کا مستحق بنایا۔
اور یہ تک دیکھنا گوارہ نہ کیا کہ قرآن کے وارثوں نے اس آیت کی کیا وضاحت فرمائی ہیں۔
آئیں اس بارے میں روایات معصومینؑ کا مطالعہ کرتے ہیں:
محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے امام باقرؑ سے اللہ عزوجل کے اس قول:
"يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ" اے ابلیس اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس نے روکا جس کو میں نے اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ [سورۃ ص۔ آیت 75] کے بارے میں دریافت کیا۔۔
تو امامؑ نے فرمایا "ید" کلام عرب میں قوت اور نعمت کے معنیٰ میں ہے۔
امامؑ نے فرمایا؛ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ "اور ہمارے بندے صاحبِ قوت داودؑ کو یاد کرو"
اور فرمایا: وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ "اور ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھ سے بنایا یعنی قدرت سے بنایا"
اور فرمایا: وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ "اور اپنی روح سے اس کی تائید کی" یعنی اس کو قوی کر دیا۔
کہا جاتا ہے "فلاں کے مجھ پہ احسانات ہیں" یعنی بہت فضل و احسان ہیں۔ اور "اس کیلئے میرے پاس روشن ہاتھ ہے" یعنی نعمت ہے۔
حوالہ: التوحید للشیخ صدوقؒ، باب 13، صفحہ 130۔
اس حدیث میں امامؑ نے آیت میں موجود لفظ "بیدی" جس کے معنیٰ میرے ہاتھ کے ہیں کو دیگر آیات کی مدد سے واضع کیا کہ اس لفظ کو عربی لغت میں کئی معنوں میں لیا جاتا ہے اور جس آیت کے بارے میں راوی میں سوال کیا گیا اس میں لفظ "ید" کا معنیٰ قدرت و قوت ہے۔
ایک اور حدیث اس ضمن میں دیکھتے ہیں۔۔
محمد بن عبیدہ نے امام علی رضا علیہ السلام سے اللہ عزوجل کے ابلیس سے اس قول کے متعلق دریافت کیا کہ "اے ابلیس اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس نے روکا جس کو میں نے اپنی قدرت سے پیدا کیا تو نے تکبر کیا" [سورۃ ص۔ آیت ۷۵]
امامؑ نے فرمایا: "بیدی" سے مراد میری قدرت اور قوت سے ہے۔
حوالہ: التوحید للشیخ صدوقؒ، باب 13، صفحہ 131۔
✍ اویس رضا
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
"اللہ نے آدم کو دونوں ہاتھوں سے بنایا"
یہاں ہاتھ سے کیا مراد ہے؟
کیا وہ حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ تھے؟
(مختصر مگر جامع جواب)
ہر زمانے میں حتّیٰ خود آئمہؑ کے ادوار میں بعض مکار اور دھوکہ باز افراد موجود رہے ہیں جو اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے قرآن مجید کی تشریح اپنی مرضی سے کرتے رہے ہیں.
اسی طرح آج کل کئی نام نہاد خطیب اور اہلِ منبر عوام کو گمراہ کرنے کیلئے اور غلو پھیلانے کیلئے قرآن مجید کی من مانی تفسیر یعنی تفسیر بالرائے کرتے ہیں.
ایسے لوگ جو حقائق دین میں تحریف کرنا اور لوگوں کی دینی تہذیب و ثقافت کو برباد کرنا چاہتے ہیں کے بارے حضرت علیؑ ارشاد فرماتے ہیں:
''وَ آخَرُ قَد تُسَمَّی عَالِمًا لَیسَ بِہِ"(نہج البلاغہ ، خطبہ ٨٦ ۔)"
قرآن کے سچے پیروؤں کے مقابل ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو کبھی کبھی معاشرہ کے درمیان عالم و دانشور تصور کیا جاتا ہے، اس نے اپنا نام عالم رکھ لیا ہے حالانکہ اسے علم سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
معصومینؑ کی جانب سے کئی روایات موجود ہیں جن میں تفسیر بالرائے کی سخت مذمت کی گئی ہے جیسا کہ
رسالتمآبؐ نے فرمایا:
جو بھی اپنی ذاتی رائے اور نظریہ سے قرآن مجید کی تشریح کرے گا وہ خود کو جہنم کیلئے تیار کرلے.
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
جس کسی نے اپنی رائے سے قرآن مجید کی تشریح کی اگر اس نے صحیح بات کہی تو وہ اس کا اجر و ثواب نہیں پائے گا اور اگر غلط بات کہی تو وہ حقیقت سے اتنا دور ہو گیا جتنا زمین سے آسمان دور ہے.
من مانی تفاسیر میں سے ایک تفسیر جس سے مذہب اہلبیتؑ کے عقائد پہ ڈاکا ڈالا جاتا ہے،
[يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ]
سورۃ ص کی آیت 75 کی کی جاتی ہے۔
اس آیت میں لفظ "بیدی" کا ترجمہ میرے ہاتھ کر کے کہا جاتا کہ اللہ عزوجل تو جسم سے مبّرا ہے جو کہ یقینا ہے ہی، تو اس کے ہاتھ تو نہیں، اور امام علیؑ جو کہ ید اللہ ہیں تو اس آیت کی غلط تفسیر کرتے ہوئے اور شرک کرتے ہوئے کہا جاتا کہ امام علیؑ نے جناب آدمؑ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا۔
اس جاہل ٹولہ نے شرک کرتے ہوئے ایک تو تفسیر بالرائے کے تحت عوام میں گمراہی پھیلانے کے ساتھ ساتھ اپنے کو جہنم کا مستحق بنایا۔
اور یہ تک دیکھنا گوارہ نہ کیا کہ قرآن کے وارثوں نے اس آیت کی کیا وضاحت فرمائی ہیں۔
آئیں اس بارے میں روایات معصومینؑ کا مطالعہ کرتے ہیں:
محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے امام باقرؑ سے اللہ عزوجل کے اس قول:
"يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ" اے ابلیس اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس نے روکا جس کو میں نے اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ [سورۃ ص۔ آیت 75] کے بارے میں دریافت کیا۔۔
تو امامؑ نے فرمایا "ید" کلام عرب میں قوت اور نعمت کے معنیٰ میں ہے۔
امامؑ نے فرمایا؛ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ "اور ہمارے بندے صاحبِ قوت داودؑ کو یاد کرو"
اور فرمایا: وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ "اور ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھ سے بنایا یعنی قدرت سے بنایا"
اور فرمایا: وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ "اور اپنی روح سے اس کی تائید کی" یعنی اس کو قوی کر دیا۔
کہا جاتا ہے "فلاں کے مجھ پہ احسانات ہیں" یعنی بہت فضل و احسان ہیں۔ اور "اس کیلئے میرے پاس روشن ہاتھ ہے" یعنی نعمت ہے۔
حوالہ: التوحید للشیخ صدوقؒ، باب 13، صفحہ 130۔
اس حدیث میں امامؑ نے آیت میں موجود لفظ "بیدی" جس کے معنیٰ میرے ہاتھ کے ہیں کو دیگر آیات کی مدد سے واضع کیا کہ اس لفظ کو عربی لغت میں کئی معنوں میں لیا جاتا ہے اور جس آیت کے بارے میں راوی میں سوال کیا گیا اس میں لفظ "ید" کا معنیٰ قدرت و قوت ہے۔
ایک اور حدیث اس ضمن میں دیکھتے ہیں۔۔
محمد بن عبیدہ نے امام علی رضا علیہ السلام سے اللہ عزوجل کے ابلیس سے اس قول کے متعلق دریافت کیا کہ "اے ابلیس اس کو سجدہ کرنے سے تجھے کس نے روکا جس کو میں نے اپنی قدرت سے پیدا کیا تو نے تکبر کیا" [سورۃ ص۔ آیت ۷۵]
امامؑ نے فرمایا: "بیدی" سے مراد میری قدرت اور قوت سے ہے۔
حوالہ: التوحید للشیخ صدوقؒ، باب 13، صفحہ 131۔
✍ اویس رضا
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 خود کو کمتر نہ سمجھیں 🔷
فہد نے 1 گھنٹے میں 10 کلو میٹر فاصلہ طے کیا، حارث نے ڈیڑھ گھنٹے میں یہی فاصلہ طے کیا۔
دونوں میں سے کون تیز رفتار اور صحت مند ہوا؟
یقینا ہمارا جواب ہوگا "فہد"
اگر ہم کہیں کہ فہد نے یہ فاصلہ ایک تیار ٹریک پر طے کیا جب کہ حارث نے ریتیلے راستے پر چل کر طے کیا تب؟
تب ہمارا جواب ہوگا "حارث"
لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ فہد کی عمر 50 سال ہے جب کہ حارث کی عمر 25 سال تب؟
ہم دوبارہ کہیں گے کہ "فہد"
مگر ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ حارث کا وزن 140 کلو ہے جب کہ فہد کا وزن 65 کلو تب؟
تب ہم کہیں گے "حارث"
جوں جوں ہم فہد اور حارث سے متعلق زیادہ جان لیں گے ان میں سے کون بہتر ہے ان سے متعلق ہماری رائے اور فیصلہ بھی بدل جائے گا.
ہم بہت سطحی چیزیں اور بہت جلدی میں رائے قائم کرتے ہیں جس سے ہم خود اور دوسروں کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتے ہیں.
اسی طرح خود کو دوسروں کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے بھی ہم میں سے بہت سارے اسی سطحیت کا شکار ہو کر مایوس ہو جاتے ہیں حالانکہ
ہر ایک کا ماحول مختلف ہوتا ہے،
مواقع مختلف ہوتے ہیں،
زندگی مختلف ہوتی ہے،
وسائل مختلف ہوتے ہیں،
مسائل مختلف ہوتے ہیں۔
آپ اپنے کسی ہم عمر سے کسی کام میں پیچھے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کامیاب اور آپ ناکام ہیں، وہ افضل اور آپ کمتر ہیں، ممکن ہے آپ کو میسر مواقع، ظروف اور درپیش حالات کو دیکھا جائے تو آپ ان سے بہت بہتر ہوں.
زندگی کی دوڑ میں خود کو کبھی کمتر نہ سمجھیں، احساس کمتری شکست کی پہلی سیڑھی ہے.
عربی سے ترجمہ
https://t.me/islamwitheman/2196
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
فہد نے 1 گھنٹے میں 10 کلو میٹر فاصلہ طے کیا، حارث نے ڈیڑھ گھنٹے میں یہی فاصلہ طے کیا۔
دونوں میں سے کون تیز رفتار اور صحت مند ہوا؟
یقینا ہمارا جواب ہوگا "فہد"
اگر ہم کہیں کہ فہد نے یہ فاصلہ ایک تیار ٹریک پر طے کیا جب کہ حارث نے ریتیلے راستے پر چل کر طے کیا تب؟
تب ہمارا جواب ہوگا "حارث"
لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ فہد کی عمر 50 سال ہے جب کہ حارث کی عمر 25 سال تب؟
ہم دوبارہ کہیں گے کہ "فہد"
مگر ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ حارث کا وزن 140 کلو ہے جب کہ فہد کا وزن 65 کلو تب؟
تب ہم کہیں گے "حارث"
جوں جوں ہم فہد اور حارث سے متعلق زیادہ جان لیں گے ان میں سے کون بہتر ہے ان سے متعلق ہماری رائے اور فیصلہ بھی بدل جائے گا.
ہم بہت سطحی چیزیں اور بہت جلدی میں رائے قائم کرتے ہیں جس سے ہم خود اور دوسروں کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتے ہیں.
اسی طرح خود کو دوسروں کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے بھی ہم میں سے بہت سارے اسی سطحیت کا شکار ہو کر مایوس ہو جاتے ہیں حالانکہ
ہر ایک کا ماحول مختلف ہوتا ہے،
مواقع مختلف ہوتے ہیں،
زندگی مختلف ہوتی ہے،
وسائل مختلف ہوتے ہیں،
مسائل مختلف ہوتے ہیں۔
آپ اپنے کسی ہم عمر سے کسی کام میں پیچھے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کامیاب اور آپ ناکام ہیں، وہ افضل اور آپ کمتر ہیں، ممکن ہے آپ کو میسر مواقع، ظروف اور درپیش حالات کو دیکھا جائے تو آپ ان سے بہت بہتر ہوں.
زندگی کی دوڑ میں خود کو کبھی کمتر نہ سمجھیں، احساس کمتری شکست کی پہلی سیڑھی ہے.
عربی سے ترجمہ
https://t.me/islamwitheman/2196
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 ردعمل 🔷
ابوالکلام اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ ملازمت بھی کرتی تھیں اور گھر کا کام کاج بھی وہی کرتی تھیں۔
ایک رات کھانے کے وقت انہوں نے سالن اور جلی ہوئی روٹی میرے والد کے آگے رکھی۔ میں والد کے رد عمل کا انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ غصہ…
ابوالکلام اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ ملازمت بھی کرتی تھیں اور گھر کا کام کاج بھی وہی کرتی تھیں۔
ایک رات کھانے کے وقت انہوں نے سالن اور جلی ہوئی روٹی میرے والد کے آگے رکھی۔ میں والد کے رد عمل کا انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ غصہ…
🌼 سجدہ گاہ 🌼
شیعہ مٹی کے بنے سجدہ گاہ پر سجدہ کیوں کرتے ہیں اور یہ سلسلہ کب سے شروع ہوا؟
🔹 شیعہ سجدہ گاہ پر (خاک پر سجدہ)
اس لئے کرتے ہیں کیونکہ رسول اللہ (ص) بھی خاک پر سجدہ کیا کرتے تھے اور صحابہ کو بھی حکم دیا کرتے تھے کہ خاک پر سجدہ کریں۔
🔹 رسول اللہ (ص) نے فرمایا:
جعلت لی الارض مسجداً وطھوراً :
( اللہ نے) میرے لئے زمین کو سجدہ گاہ (سجدہ کرنے کی جگہ) اور پاکی کا وسیلہ قرار دیا ھے۔
📚 صحیح بخاری جلد نمبر 1۔
صحیح مسلم جلد نمبر 1۔
وسائل الشیعہ جلد نمبر 3۔
🔹 جابر ابن عبد اللہ انصاری رح کہتے ہیں۔۔۔
جب ہم شدید گرمی میں رسول اللہ (ص) کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو میں ریت کی ایک مٹھی اٹھاتا اور اسکو میں اپنے ہاتھ میں ٹھنڈا کرتا تھا اس کے بعد اپنے دوسرے ہاتھ میں لیتاتھا اورجب میں سجدہ کرنے نیچے جاتا تھا تو اس کو میں زمین پر رکھ دیتا تھا پھر اس کے اوپر سجدہ کرتا تھا۔ (نوٹ) مکتب تسنن کی ھی اس روایت اور چند اگلی روایات سے نماز کی کھلے ھاتھوں سے ادائیگی کا ثبوت بھی واضح ھو گیا۔ کیونکہ ریت کی مٹھی یا پتھر کو ٹھنڈا کرنے کا عمل کھلے ھاتھوں ممکن ھے نہ کہ بند ھاتھوں سے۔
📚 سنن نسائی جلد نمبر 2۔
🔹 انس بن مالک رح کہتے ہیں کہ:
"کہ ھم شدید گرمی میں رسول اللہ (ص) کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ ھم سب پتھر ھاتھ میں اٹھاتے تھے اور اپنے ھاتھ میں رکھتے تھے تاکہ پتھر ٹھنڈا ھوجائے پھر جب ھم سجدے میں جاتے تھے تو اس پر سجدہ کرتے تھے۔
📚 السنن الکبری جلد 2۔
🔹 عمر بن خطاب سے روایت ھے کہ:
"بارش کی رات تھی صبح جب ھم نماز پڑھنے نکلے تو دیکھا کہ مسجد کی مٹی بارش کی وجہ سے کیچڑ میں تبدیل ھو گئی تھی۔ ھم نے پتھروں کو زمین پر بچھا کر فرش بنایا اور پھر نماز پڑھی۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ بہت اچھا کیا۔
📚 سنن ابوداود جلد 1۔
🔹 یہاں تک رسول اللہ (ص) اور صحابہ کا خاک پر اور پتھر پہ سجدہ کرنا ثابت ھوگیا یعنی ثابت ھو گیا کہ خاک پر یا پتھر پر سجدہ کرنا نبی (ص) اور انکے صحابہ کی سنت ھے اور جب خاک پر سجدہ ثابت ھے تو ھمارے نزدیک کربلا کی خاک سجدہ کے لیے سب سے افضل ھے کیونکہ کربلا میں امام حسین (ع) اور انکے اصحاب نے اللہ کے دین اور نماز کو اپنا خون دے کر بچایا۔ اس بارے میں آئمہ (ع) نے بہت تاکید فرمائی ھے۔ واقعہ کربلا کے بعد سب سے پہلے تربت امام حسین (ع) پر سجدہ امام زین العابدین (ع) نے کیا۔ پھر اسکے بعد دیگر آئمہ (ع) نے بھی خاک شفاء پر سجدہ کیا اور دوسروں کو بھی کرنے کی تاکید کی۔
📚 وسائل شیعہ جلد 6۔
بحارالانوار جلد 46۔
🔹 معاویہ ابن عمار رح کہتے ہیں کہ:
امام جعفر صادق (ع) کے پاس زرد رنگ (زربافت ) کا ایک کپڑا تھا کہ جس میں تربت امام حسین تھی۔ وہ نماز کے وقت اسکو جائے نماز میں رکھ دیتے تھے ۔ اور اسی پر سجدہ کرتے تھے اورفرماتے تھے:
"ان السجود علی تربۃ ابی عبداللہ بخرق الحجب السیع"
امام حسین (ع) کی مٹی پر سجدہ کرنا سات (آسمانوں کے) پردوں کو چاک کر دیتا ھے۔
📚 وسائل الشیعہ جلد 6۔
♦ کربلا کی سجدہ گاہ پر نماز پڑھنے کا ثواب
کربلا کی سجدہ گاہ پر نماز پڑھنے کا بہت زیادہ ثواب ھے۔ اور اسکی زیادہ وصیت کی گئی ھے کہ ہمیشہ کربلا کی سجدہ گاہ کے ساتھ نماز پڑھیں. آقا امام صادق عليه السلام فرماتے ہیں:
امام حسین علیہ السلام کی تربت پر سجدہ کرنا ، سات پردوں کو ہٹا دیتا ھے۔
📚 كافى مرحوم كلینى جلد 4 صفہہ 588 ۔
♦ نوٹ : یہاں فقط اہلسنت کی کتابوں کے حوالہ جات پیش کئے گئے ہیں ۔ ورنہ شیعہ کتابوں میں تواتر سے ایسی احادیث موجود ہیں ۔ جن میں ہر اس چیز پر سجدہ کرنے سے منع کیا گیا ھے ۔ جو کھائی یا پی جاتی ہوں ۔ یا پہننے میں استعمال ہوتی ہوں ۔ یہی وجہ ھے کہ شیعہ فقہ میں کپڑے/ قالین اور پلاسٹک کی چٹائی پر سجدہ کرنا جائز نہیں ھے ۔ لہذا فقط لکڑی ، پتھر ، مٹی ، فرش وغیرہ پر ھی سجدہ کرنا جاۂز ھے۔
التماس دعا :
تحریر سید فاخر حسین رضوی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
شیعہ مٹی کے بنے سجدہ گاہ پر سجدہ کیوں کرتے ہیں اور یہ سلسلہ کب سے شروع ہوا؟
🔹 شیعہ سجدہ گاہ پر (خاک پر سجدہ)
اس لئے کرتے ہیں کیونکہ رسول اللہ (ص) بھی خاک پر سجدہ کیا کرتے تھے اور صحابہ کو بھی حکم دیا کرتے تھے کہ خاک پر سجدہ کریں۔
🔹 رسول اللہ (ص) نے فرمایا:
جعلت لی الارض مسجداً وطھوراً :
( اللہ نے) میرے لئے زمین کو سجدہ گاہ (سجدہ کرنے کی جگہ) اور پاکی کا وسیلہ قرار دیا ھے۔
📚 صحیح بخاری جلد نمبر 1۔
صحیح مسلم جلد نمبر 1۔
وسائل الشیعہ جلد نمبر 3۔
🔹 جابر ابن عبد اللہ انصاری رح کہتے ہیں۔۔۔
جب ہم شدید گرمی میں رسول اللہ (ص) کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو میں ریت کی ایک مٹھی اٹھاتا اور اسکو میں اپنے ہاتھ میں ٹھنڈا کرتا تھا اس کے بعد اپنے دوسرے ہاتھ میں لیتاتھا اورجب میں سجدہ کرنے نیچے جاتا تھا تو اس کو میں زمین پر رکھ دیتا تھا پھر اس کے اوپر سجدہ کرتا تھا۔ (نوٹ) مکتب تسنن کی ھی اس روایت اور چند اگلی روایات سے نماز کی کھلے ھاتھوں سے ادائیگی کا ثبوت بھی واضح ھو گیا۔ کیونکہ ریت کی مٹھی یا پتھر کو ٹھنڈا کرنے کا عمل کھلے ھاتھوں ممکن ھے نہ کہ بند ھاتھوں سے۔
📚 سنن نسائی جلد نمبر 2۔
🔹 انس بن مالک رح کہتے ہیں کہ:
"کہ ھم شدید گرمی میں رسول اللہ (ص) کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ ھم سب پتھر ھاتھ میں اٹھاتے تھے اور اپنے ھاتھ میں رکھتے تھے تاکہ پتھر ٹھنڈا ھوجائے پھر جب ھم سجدے میں جاتے تھے تو اس پر سجدہ کرتے تھے۔
📚 السنن الکبری جلد 2۔
🔹 عمر بن خطاب سے روایت ھے کہ:
"بارش کی رات تھی صبح جب ھم نماز پڑھنے نکلے تو دیکھا کہ مسجد کی مٹی بارش کی وجہ سے کیچڑ میں تبدیل ھو گئی تھی۔ ھم نے پتھروں کو زمین پر بچھا کر فرش بنایا اور پھر نماز پڑھی۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ بہت اچھا کیا۔
📚 سنن ابوداود جلد 1۔
🔹 یہاں تک رسول اللہ (ص) اور صحابہ کا خاک پر اور پتھر پہ سجدہ کرنا ثابت ھوگیا یعنی ثابت ھو گیا کہ خاک پر یا پتھر پر سجدہ کرنا نبی (ص) اور انکے صحابہ کی سنت ھے اور جب خاک پر سجدہ ثابت ھے تو ھمارے نزدیک کربلا کی خاک سجدہ کے لیے سب سے افضل ھے کیونکہ کربلا میں امام حسین (ع) اور انکے اصحاب نے اللہ کے دین اور نماز کو اپنا خون دے کر بچایا۔ اس بارے میں آئمہ (ع) نے بہت تاکید فرمائی ھے۔ واقعہ کربلا کے بعد سب سے پہلے تربت امام حسین (ع) پر سجدہ امام زین العابدین (ع) نے کیا۔ پھر اسکے بعد دیگر آئمہ (ع) نے بھی خاک شفاء پر سجدہ کیا اور دوسروں کو بھی کرنے کی تاکید کی۔
📚 وسائل شیعہ جلد 6۔
بحارالانوار جلد 46۔
🔹 معاویہ ابن عمار رح کہتے ہیں کہ:
امام جعفر صادق (ع) کے پاس زرد رنگ (زربافت ) کا ایک کپڑا تھا کہ جس میں تربت امام حسین تھی۔ وہ نماز کے وقت اسکو جائے نماز میں رکھ دیتے تھے ۔ اور اسی پر سجدہ کرتے تھے اورفرماتے تھے:
"ان السجود علی تربۃ ابی عبداللہ بخرق الحجب السیع"
امام حسین (ع) کی مٹی پر سجدہ کرنا سات (آسمانوں کے) پردوں کو چاک کر دیتا ھے۔
📚 وسائل الشیعہ جلد 6۔
♦ کربلا کی سجدہ گاہ پر نماز پڑھنے کا ثواب
کربلا کی سجدہ گاہ پر نماز پڑھنے کا بہت زیادہ ثواب ھے۔ اور اسکی زیادہ وصیت کی گئی ھے کہ ہمیشہ کربلا کی سجدہ گاہ کے ساتھ نماز پڑھیں. آقا امام صادق عليه السلام فرماتے ہیں:
امام حسین علیہ السلام کی تربت پر سجدہ کرنا ، سات پردوں کو ہٹا دیتا ھے۔
📚 كافى مرحوم كلینى جلد 4 صفہہ 588 ۔
♦ نوٹ : یہاں فقط اہلسنت کی کتابوں کے حوالہ جات پیش کئے گئے ہیں ۔ ورنہ شیعہ کتابوں میں تواتر سے ایسی احادیث موجود ہیں ۔ جن میں ہر اس چیز پر سجدہ کرنے سے منع کیا گیا ھے ۔ جو کھائی یا پی جاتی ہوں ۔ یا پہننے میں استعمال ہوتی ہوں ۔ یہی وجہ ھے کہ شیعہ فقہ میں کپڑے/ قالین اور پلاسٹک کی چٹائی پر سجدہ کرنا جائز نہیں ھے ۔ لہذا فقط لکڑی ، پتھر ، مٹی ، فرش وغیرہ پر ھی سجدہ کرنا جاۂز ھے۔
التماس دعا :
تحریر سید فاخر حسین رضوی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔶 قیامت کیوں آئے گی 🔶
امام علی علیہ السلام سے ایک ملحد نے سوال کیا۔۔۔!!
یاعلیؑ کیا اپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کسی پر ظلم نہیں کرتا اور آپ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ہر چیز ختم ہو جائے گی. جب دنیا ختم ہوجائے گی تو کیا یہ ظلم نہیں؟
مولا علیؑ نے جواب دیا...!!
اے شخص یہ دنیا اللہ ختم نہیں کرے گا بلکہ انسان کے اندر کا لالچ اسے انسانوں کے ہاتھ سے ختم کروائے گا.
اس نے کہا یاعلیؑ وہ کیسے؟
تو مولا علیؑ نے فرمایا..!!
اللہ عزوجل نے زمین پر آدمؑ کو بھیجا بغیر کسی سند کے، اس زمین پر تمام انسانوں کا حق برابر برابر ہے، کوئی زمین کسی کی نہیں یہ زمین اللہ کی ہے، لیکن افسوس کچھ لوگ زمین پر قبضہ کریں گے اور زمین کے ٹکڑوں کو اپنی جاگیر سمجھیں گے۔ انسان دنیاوی دولت کے لیے اللہ کی قدرت کو کاٹ کر بیچ کھایئں گے،
زمین کو کھود کر اللہ کی نعمتیں نکال کر بیچیں گے، پہاڑوں کو توڑ کر انکے پتھروں سے دولت حاصل کریں گے، درختوں کو کاٹ کر انکی لکڑیاں بیچیں گے، ہواؤں کو آلودہ کریں گے پانی کو گندہ کریں گے.
اے شخص یاد رکھنا اللہ عدل کرتا ہے، اس نے کوئی شئے بے غرض پیدا نہیں کی. زمین کو زیادہ کھودنے سے اسکی معدنیات نکالنے سے زلزلے بڑھ جایئں گے. ہواؤں کو آلودہ کرنے سے ہزاروں بیماریاں پیدا ہونگی. درخت کاٹنے سے انسان اپنی ہی صحت کو کاٹے گا، اور پانی کو آلودہ کرنے کی وجہ سے بارش کم برسے گی. یوں انسان پانی کے لیے ترسے گا. اور اللہ نے زمین کے سینے پر جو پہاڑ جمائے ہوئے ہیں یہ اس لیے ہیں کہ زمین اپنی جگہ پر قائم رہ سکے. لیکن جب ان پہاڑوں کو توڑا جائے گا تو زمین اپنی جگہ بدلے گی. اور سورج کے قریب ہوتی چلی جائے گی اور یوں جل کر ختم ہوجائے گی. اور پھر اللہ عدل کرے گا انصاف کرے گا کہ اس قدر خوبصورت زمین کو اسطرح سے تباہ کیوں کیا گیا...؟
انسانوں پر ظلم کیوں کیا گیا...؟
انکا حق کیوں غصب کیا گیا ہے...؟
اے شخص ظلم تو انسان کرتے ہیں اپنے آپ پر، اللہ عدل کرے گا اور اسی عدل کے دن کو قیامت کہتے ہیں.
📚 منتخب التواریخ ص 78۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
امام علی علیہ السلام سے ایک ملحد نے سوال کیا۔۔۔!!
یاعلیؑ کیا اپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کسی پر ظلم نہیں کرتا اور آپ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ہر چیز ختم ہو جائے گی. جب دنیا ختم ہوجائے گی تو کیا یہ ظلم نہیں؟
مولا علیؑ نے جواب دیا...!!
اے شخص یہ دنیا اللہ ختم نہیں کرے گا بلکہ انسان کے اندر کا لالچ اسے انسانوں کے ہاتھ سے ختم کروائے گا.
اس نے کہا یاعلیؑ وہ کیسے؟
تو مولا علیؑ نے فرمایا..!!
اللہ عزوجل نے زمین پر آدمؑ کو بھیجا بغیر کسی سند کے، اس زمین پر تمام انسانوں کا حق برابر برابر ہے، کوئی زمین کسی کی نہیں یہ زمین اللہ کی ہے، لیکن افسوس کچھ لوگ زمین پر قبضہ کریں گے اور زمین کے ٹکڑوں کو اپنی جاگیر سمجھیں گے۔ انسان دنیاوی دولت کے لیے اللہ کی قدرت کو کاٹ کر بیچ کھایئں گے،
زمین کو کھود کر اللہ کی نعمتیں نکال کر بیچیں گے، پہاڑوں کو توڑ کر انکے پتھروں سے دولت حاصل کریں گے، درختوں کو کاٹ کر انکی لکڑیاں بیچیں گے، ہواؤں کو آلودہ کریں گے پانی کو گندہ کریں گے.
اے شخص یاد رکھنا اللہ عدل کرتا ہے، اس نے کوئی شئے بے غرض پیدا نہیں کی. زمین کو زیادہ کھودنے سے اسکی معدنیات نکالنے سے زلزلے بڑھ جایئں گے. ہواؤں کو آلودہ کرنے سے ہزاروں بیماریاں پیدا ہونگی. درخت کاٹنے سے انسان اپنی ہی صحت کو کاٹے گا، اور پانی کو آلودہ کرنے کی وجہ سے بارش کم برسے گی. یوں انسان پانی کے لیے ترسے گا. اور اللہ نے زمین کے سینے پر جو پہاڑ جمائے ہوئے ہیں یہ اس لیے ہیں کہ زمین اپنی جگہ پر قائم رہ سکے. لیکن جب ان پہاڑوں کو توڑا جائے گا تو زمین اپنی جگہ بدلے گی. اور سورج کے قریب ہوتی چلی جائے گی اور یوں جل کر ختم ہوجائے گی. اور پھر اللہ عدل کرے گا انصاف کرے گا کہ اس قدر خوبصورت زمین کو اسطرح سے تباہ کیوں کیا گیا...؟
انسانوں پر ظلم کیوں کیا گیا...؟
انکا حق کیوں غصب کیا گیا ہے...؟
اے شخص ظلم تو انسان کرتے ہیں اپنے آپ پر، اللہ عدل کرے گا اور اسی عدل کے دن کو قیامت کہتے ہیں.
📚 منتخب التواریخ ص 78۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 دعا کیلئے ہاتھوں کا بلند کرنا 🌹
دعا کرتے وقت آسمان کی طرف ہاتھ کیوں بلند کرتے ہیں؟
اکثر اوقات عوام الناس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خداوندعالم کے لئے کوئی (خاص) محل و مکان نہیں ہے تو پھر دعا کرتے وقت آسمان کی طرف ہاتھ کیوں اٹھاتے ہیں؟ کیوں آسمان کی طرف آنکھیں متوجہ کی جاتی ہیں؟ نعوذ بالله کیا خداوندعالم آسمان میں ہے؟
(قارئین کرام!) یہ سوال حضرات ائمہ معصومین علیہم السلام کے زمانہ میں بھی ہوتا تھا، جیسا کہ ہمیں تاریخ میں ملتا ہے کہ۔۔۔
”ہشام بن حکم“ کہتے ہیں: ایک زندیق حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور اس نے درج ذیل آیت کے بارے میں سوال کیا:
<اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ>
”وہ رحمان عرش پر اختیار اور اقتدار رکھنے والا ہے“۔
♻ امام علیہ السلام نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: خداوندعالم کو کسی جگہ اور کسی مخلوق کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ تمام مخلوقات اس کی محتاج ہے۔
سوال کرنے والے نے عرض کی: تو پھر کوئی فرق نہیں ہے کہ (دعا کے وقت) چاہے ہاتھ آسمان کی طرف بلند ہوں یا زمین کی طرف؟
♻اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ موضوع خداوندعالم کے علم و احاطہ میں برابر ہے (اور کوئی فرق نہیں ہے) لیکن خداوندعالم نے اپنے انبیاء اور صالح بندوں کو خود حکم دیا کہ اپنے ہاتھوں کو آسمان اور عرش کی طرف اٹھائیں، کیونکہ معدنِ رزق وہیں ہے، جو کچھ قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے ہم اس کو ثابت مانتے ہیں جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: اپنے ہاتھوں کو خداوندعالم کی بارگاہ میں بلند کرو، اس بات پر تمام امت کا اتفاق اور اجماع ہے۔
⭕اسی طرح کتاب خصال (شیخ صدوق علیہ الرحمہ) میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے: ”إذَا فَرغَ اٴحدکُم مِنَ الصَّلوٰةِ فَلیرفعُ یدیہِ إلیٰ السَّمَاءِ، ولینصَّب فِي الدعاءِ“ ”جب تم نماز سے فارغ ہوجاوٴ تو اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرو اور دعا میں مشغول ہوجاؤ“۔
اس وقت ایک شخص نے عرض کیا: یا امیر المومنین! کیا خداوندعالم سب جگہ موجود نہیں ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں! سب جگہ موجود ہے۔
اس شخص نے عرض کیا: تو پھر بندے آسمان کی طرف اپنے ہاتھوں کو کیوں اٹھائیں؟
اس موقع پر امام علیہ السلام نے درج ذیل آیہٴ شریفہ کی تلاوت فرمائی:
<وَفِی السَّمَاءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ>
” اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جن باتوں کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے (سب کچھ موجودہے)“۔
🔘 ان روایات کے مطابق چونکہ انسان کا اکثر رزق آسمان سے ہے، ( بارش؛ جس سے بنجر زمین زراعت کے لائق ہو جاتی ہے، آسمان سے نازل ہوتی ہے، سورج کی روشنی جو کہ زندگی اور حیات کا مرکز ہے، آسمان سے آتی ہے ، ہوا بھی آسمان میں ہے جو کہ زندگی کے لئے تیسرا اہم سبب ہے) اور آسمان رزق اور برکات الٰہی کا معدن و مرکز ہے، لہٰذا دعا کے وقت آسمان کی طرف توجہ کی جاتی ہے اور رزق و روزی کے مالک و خالق سے اپنی مشکلات کے حل کی دعا کی جاتی ہے۔
بعض روایات میں اس کام کے لئے ایک دوسرا فلسفہ بھی بیان کیا گیا ہے، اور وہ ہے خداوندعالم کی بارگاہ میں خضوع و تذلل کرنا، کیونکہ ہم کسی شخص یا کسی شئے کے سامنے تواضع کے اظہار کے وقت اور تسلیم ہوتے وقت اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے ہیں۔
التماس دعا: محمد رضا حسینی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
دعا کرتے وقت آسمان کی طرف ہاتھ کیوں بلند کرتے ہیں؟
اکثر اوقات عوام الناس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خداوندعالم کے لئے کوئی (خاص) محل و مکان نہیں ہے تو پھر دعا کرتے وقت آسمان کی طرف ہاتھ کیوں اٹھاتے ہیں؟ کیوں آسمان کی طرف آنکھیں متوجہ کی جاتی ہیں؟ نعوذ بالله کیا خداوندعالم آسمان میں ہے؟
(قارئین کرام!) یہ سوال حضرات ائمہ معصومین علیہم السلام کے زمانہ میں بھی ہوتا تھا، جیسا کہ ہمیں تاریخ میں ملتا ہے کہ۔۔۔
”ہشام بن حکم“ کہتے ہیں: ایک زندیق حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور اس نے درج ذیل آیت کے بارے میں سوال کیا:
<اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ>
”وہ رحمان عرش پر اختیار اور اقتدار رکھنے والا ہے“۔
♻ امام علیہ السلام نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: خداوندعالم کو کسی جگہ اور کسی مخلوق کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ تمام مخلوقات اس کی محتاج ہے۔
سوال کرنے والے نے عرض کی: تو پھر کوئی فرق نہیں ہے کہ (دعا کے وقت) چاہے ہاتھ آسمان کی طرف بلند ہوں یا زمین کی طرف؟
♻اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ موضوع خداوندعالم کے علم و احاطہ میں برابر ہے (اور کوئی فرق نہیں ہے) لیکن خداوندعالم نے اپنے انبیاء اور صالح بندوں کو خود حکم دیا کہ اپنے ہاتھوں کو آسمان اور عرش کی طرف اٹھائیں، کیونکہ معدنِ رزق وہیں ہے، جو کچھ قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے ہم اس کو ثابت مانتے ہیں جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: اپنے ہاتھوں کو خداوندعالم کی بارگاہ میں بلند کرو، اس بات پر تمام امت کا اتفاق اور اجماع ہے۔
⭕اسی طرح کتاب خصال (شیخ صدوق علیہ الرحمہ) میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے: ”إذَا فَرغَ اٴحدکُم مِنَ الصَّلوٰةِ فَلیرفعُ یدیہِ إلیٰ السَّمَاءِ، ولینصَّب فِي الدعاءِ“ ”جب تم نماز سے فارغ ہوجاوٴ تو اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرو اور دعا میں مشغول ہوجاؤ“۔
اس وقت ایک شخص نے عرض کیا: یا امیر المومنین! کیا خداوندعالم سب جگہ موجود نہیں ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں! سب جگہ موجود ہے۔
اس شخص نے عرض کیا: تو پھر بندے آسمان کی طرف اپنے ہاتھوں کو کیوں اٹھائیں؟
اس موقع پر امام علیہ السلام نے درج ذیل آیہٴ شریفہ کی تلاوت فرمائی:
<وَفِی السَّمَاءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ>
” اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جن باتوں کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے (سب کچھ موجودہے)“۔
🔘 ان روایات کے مطابق چونکہ انسان کا اکثر رزق آسمان سے ہے، ( بارش؛ جس سے بنجر زمین زراعت کے لائق ہو جاتی ہے، آسمان سے نازل ہوتی ہے، سورج کی روشنی جو کہ زندگی اور حیات کا مرکز ہے، آسمان سے آتی ہے ، ہوا بھی آسمان میں ہے جو کہ زندگی کے لئے تیسرا اہم سبب ہے) اور آسمان رزق اور برکات الٰہی کا معدن و مرکز ہے، لہٰذا دعا کے وقت آسمان کی طرف توجہ کی جاتی ہے اور رزق و روزی کے مالک و خالق سے اپنی مشکلات کے حل کی دعا کی جاتی ہے۔
بعض روایات میں اس کام کے لئے ایک دوسرا فلسفہ بھی بیان کیا گیا ہے، اور وہ ہے خداوندعالم کی بارگاہ میں خضوع و تذلل کرنا، کیونکہ ہم کسی شخص یا کسی شئے کے سامنے تواضع کے اظہار کے وقت اور تسلیم ہوتے وقت اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے ہیں۔
التماس دعا: محمد رضا حسینی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 چار چیزیں کبھی نہ چھوڑیں 🔷
1- شکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ نعمتوں میں زیادتی اور اضافے سے محروم ہو جائیں گے.
ولئن شكرتم لأزيدنكم (اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو مزید دوں گا)
(سورة إبراهيم :آیت 7)
2- اللہ کا ذکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ اس سے محروم ہو جائیں گے کہ اللہ آپ کو یاد رکھے.
فاذکرونی اذکرکم (تم میرا ذکر کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا)
(سورة البقرة: آیت 152)
3- دعاء کو نہ چھوڑیں ورنہ قبولیت سے محروم ہو جائیں گے۔
أدعوني أستجب لكم (تم مجھے پکارو میں تمہاری دعاء قبول کروں گا)
سورة المؤمن:آیت 60)
4- استغفار نہ چھوڑیں ورنہ نجات سے محروم ہو جائیں گے۔
وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون (اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب کہ وہ استغفار کرتے ہوں)
(سورة الأنفال :آیت 33)
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1- شکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ نعمتوں میں زیادتی اور اضافے سے محروم ہو جائیں گے.
ولئن شكرتم لأزيدنكم (اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو مزید دوں گا)
(سورة إبراهيم :آیت 7)
2- اللہ کا ذکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ اس سے محروم ہو جائیں گے کہ اللہ آپ کو یاد رکھے.
فاذکرونی اذکرکم (تم میرا ذکر کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا)
(سورة البقرة: آیت 152)
3- دعاء کو نہ چھوڑیں ورنہ قبولیت سے محروم ہو جائیں گے۔
أدعوني أستجب لكم (تم مجھے پکارو میں تمہاری دعاء قبول کروں گا)
سورة المؤمن:آیت 60)
4- استغفار نہ چھوڑیں ورنہ نجات سے محروم ہو جائیں گے۔
وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون (اللہ ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب کہ وہ استغفار کرتے ہوں)
(سورة الأنفال :آیت 33)
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 شیعوں کے تیرہ فرقے ہونگے 🔷
حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام نے فرمایا:
یہ امت اپنے نبیؐ کے بعد تہتر فرقوں میں تقسیم ہو گی اور ان سے بہتر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا اور ان تہتر فرقوں میں سے تیراں وہ فرقے ہونگے جو ہماری ولایت اور محبت کا دعویٰ کرتے ہیں ان میں سے بارہ فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا۔
هذه الأمة بعد نبيها (صلى الله عليه وآله) على ثلاث وسبعين فرقة اثنتان وسبعون فرقة في النار وفرقة في الجنة ومن الثلاث وسبعين فرقة ثلاث عشرة فرقة تنتحل ولايتنا ومودتنا اثنتا عشرة فرقة منها في النار وفرقة في الجنة وستون فرقة من سائر الناس في النار.
📚 الکافی، ج8، ص224۔ بحارالانوار، ج28، ص14۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام نے فرمایا:
یہ امت اپنے نبیؐ کے بعد تہتر فرقوں میں تقسیم ہو گی اور ان سے بہتر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا اور ان تہتر فرقوں میں سے تیراں وہ فرقے ہونگے جو ہماری ولایت اور محبت کا دعویٰ کرتے ہیں ان میں سے بارہ فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا۔
هذه الأمة بعد نبيها (صلى الله عليه وآله) على ثلاث وسبعين فرقة اثنتان وسبعون فرقة في النار وفرقة في الجنة ومن الثلاث وسبعين فرقة ثلاث عشرة فرقة تنتحل ولايتنا ومودتنا اثنتا عشرة فرقة منها في النار وفرقة في الجنة وستون فرقة من سائر الناس في النار.
📚 الکافی، ج8، ص224۔ بحارالانوار، ج28، ص14۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani