ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔶 گردوں کا حیرت انگیز علاج 🔶

گردے فیل ہو جانا یہ انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہوتا ہے اور یقیناً جان لیوا عارضہ ہوتا ہے۔ جن کے گھر میں ایسے مریض ہوں بس انہی کو یہ درد محسوس ہوتا ہے، دوسروں کو نہیں۔

کراچی میں رھائش پذیر نوجوان جو گردے ناکارہ ھو جانے کے باعث کراچی میں موجود ملک کے مہنگے ترین اور معروف ترین ھسپتال میں داخل تھے اور انکے اھلخانہ سخت پریشان تھے اور ڈاکٹروں نے واضح کر دیا تھا کہ ڈائلایسس (dialysis) کے سوا مزید کوئی راستہ نہیں، اھلخانہ نے سخت پریشانی اور مایوسی کے عالم میں ایک بزرگ تک رسائی حاصل کی اور ان سے دعا اور دوا کی درخواست کی تو انہوں نے گردے ناکارہ ھو جانے کا ایک آسان غذائی علاج بتایا جو انہوں نے فوری طور پر شروع کیا اور ایک تیز رفتار شفاء کا سلسلہ مریض میں مشاھدہ کیا.......

واضح رھے ابھی ڈائلایسس (dialysis) کا آغاز نہ ھو سکا تھا کہ وقفے وقفے سے ھونے والے ٹیسٹ اور رپورٹس دیکھ کر کہ Creatinine اور Urea تیزی سے کم ھونے لگا حتیٰ کہ پوری طرح نارمل رینج میں آگیا، یہ صورت حال جان کر ڈاکٹروں نے حیرت کا اظہار کیا اور آخر کار مریض کو پوری طرح فٹ قرار دے کر ھسپتال سے فارغ کردیا....

یہاں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ میں اس نوجوان کی صحت یابی کا ذاتی گواہ بھی ھوں، علاج جو ان عالم دین نے عطا کیا وہ کیا تھا؟ ملاحضہ ھو۔۔۔

سهانجنے (Moringa Leaves) جسے سجنا بھی کہتے ہیں کی بہت سی پتیاں سائے میں پوری طرح خشک کرکے اسکو پیس کر پاوڈر بنا لیا جائے اور مریض کو روزانہ ایک چمچہ صبح شام پانی کے ساتھ استعمال کرایا جائے اور اسی آسان طریقہ علاج سے آج مریض پوری طرح شفایاب ھے الحمد اللہ...

اسکا تیار شدہ پاؤڈر بیرونی ممالک سے بھی آتا ھے جو بڑے اسٹورز پر (Moringa Leaves Powder) کے نام سے دستیاب ھے....

اسکے سائے میں سکھائے ھوۓ پتوں کا پاوڈر نہایت طاقت ور ٹانک بھی ھے، ھر طرح کی طاقت حاصل کرنے کے لئے اسکا استعمال دنیا کے کئی ممالک میں رائج ہے۔

یہ پوسٹ ثواب کی نیت سے آگے شئر کر دیں۔ شکریہ

COPED

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 گردوں کے ڈائلسز سے نجات 🔶

یہ مجرب ترین ہے اس سے پہلے ڈائلسز کا دورانیہ بڑھنا سٹارٹ ہو جاتا ہے یعنی اگر ڈائلسز 3 دن بعد ہوتے ہیں توآہستہ آہستہ یہ مدت بڑھتا جاتی ہے۔۔۔ 10 دن بعد پھر 20 دن بعد پھر 30 دن بعد ضرورت پڑتی ہے اور آخر کار گردے مکمل کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
عرق کلونجی۔۔۔۔ آدھا گلاس
انجیر ۔۔۔۔۔3 دانے
رات بھر انجیر عرق کلونجی میں ڈپ کر کے رکھیں
صبح انجیر بھی کھا لیں اور عرق میں 3 چمچ شہد خالص شامل کر کے نوش فرما لیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
اسی طرح صبح کو بھگو دیں اور شام کو پی لیں۔۔۔
وقت تو لگتا ہے لیکن بناء کسی درد تکلیف کے مکمل آرام آ جاتا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
تین ماہ سے 5 ماہ لگیں گے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
حکیم عامر باجوہ

https://t.me/islamwitheman/2178
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 جوڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھانے والی غذائیں 🔶

جوڑوں کا درد بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور اسے تمام امراض کی جڑ بھی قرار دیا جاتا ہے جو کہ کسی بھی عمر کے فرد کو اپنا شکار بنا سکتا ہے۔

عام طور پر یہ مرض خون میں یورک ایسڈ جمنے کے نتیجے میں ہوتا ہے، یہ یورک ایسڈ جسمانی پراسیس کے نتیجے میں خارج ہوتا ہے اور عام طورپر خون میں تحلیل ہوکر گردوں کے راستے پیشاب کے ذریعے نکل جاتا ہے مگر جب جسم اس کی زیادہ مقدار بننے لگے تو گردے اس سے نجات پانے میں ناکام رہتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں یہ جوڑوں میں کرسٹل کی شکل میں جمنے لگتا ہے جس سے جوڑوں میں درد ہونے لگتا ہے۔

اگر تو آپ اس کے شکار ہیں تو چند غذائیں ایسی ہیں جن کا استعمال محدود کرکے تکلیف کو کم کیا جاسکتا ہے یا اس مرض سے ہی بچا جاسکتا ہے۔

■ چینی
بہت زیادہ میٹھا کھانا بھی جوڑوں کے امراض کا شکار بنا سکتا ہے۔ چینی کا زیادہ استعمال جسم کے مخصوص حصوں میں ورم کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میں جوڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اپنے سامنے موجود میٹھی اشیاءسے منہ موڑنا مشکل ہوتا ہے مگر پراسیس چینی جسمانی ورم بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔

■ جنک فوڈ
سچورٹیڈ فیٹ یا بہت زیادہ چربی کا استعمال بھی تکلیف دہ ورم کا باعث بنتا ہے۔ جنک فوڈ میں سچورٹیڈ فیٹ کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے اور متعدد طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ یہ چربی ورم بڑھاتی ہے جس سے نہ صرف امراض قلب بلکہ جوڑوں کے امراض لاحق ہوسکتے ہیں۔

■ اومیگا سکس فیٹی ایسڈز
سورج مکھی کے تیل اور مایونیز سمیت متعدد اشیا میں اومیگا سکس فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں، ویسے تو یہ جسمانی نشوونما کے لیے اہم جز ہے مگر اس کا بہت زیادہ استعمال جسم میں ورم بڑھانے والے کیمیلز کو بڑھانے کا باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں جوڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

■ ریفائن کاربوہائیڈریٹ (سفید ڈبل روٹی)
پراسیس یا ری فائن کاربوہائیڈریٹس موٹاپے اور دیگر امراض کا باعث بننے والی بڑی وجہ ہے۔ موٹاپے سے جسم کے جوڑوں پر اضافی دباﺅ پڑتا ہے جو کہ تکلیف دہ مرض کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ سفید آٹے سے بنی مصنوعات جیسے ڈبل روٹی، کیک، سفید چاول، فرنچ فرائز اور سریلز وغیرہ ریفائن کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہوتے ہیں۔

■ چینی، نمک
ایم ایس جی نامی یہ نمک شدید جسمانی ورم کا باعث بن سکتا ہے، یہ غذاﺅں کا ذائقہ بڑھانے کے لیے عام استعمال ہوتا ہے، تاہم زیادہ استعمال جوڑوں کے امراض کا شکار بنا سکتا ہے۔

■ آئسکریم
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ چینی جسمانی ورم کا خطرہ بڑھاتی ہے جبکہ سچورٹیڈ فیٹ بھی یہی کام کرتا ہے اور یہ دونوں چیزیں آئسکریم بھی بہت زیادہ مقدار موجود ہوتی ہیں، جس سے جوڑوں کے درد کی شدت بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

■ فرنچ فرائیز
فرنچ فرائیز بھی جوڑوں کے درد کی شدت بڑھا سکتے ہیں جس کی وجہ ریفائرن کاربوہائیڈریٹس کی موجودگی ہے جبکہ اس طرح کے چپس عام طور پر ویجیٹیبل آئل میں تلے جاتے ہیں جس میں اومیگا سکس فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے، اور ہاں ان میں نمک بھی بہت زیادہ ہوتا ہے جس سے بھی ورم بڑھتا ہے۔

■ میٹھے مشروبات
ان مشروبات میں موجود چینی، فاسفورس ایسڈ اور دیگر اجزا بھی جسمانی ورم کو بہت زیادہ بڑھا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں جوڑوں کے امراض کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

■ چپس
فرنچ فرائیز کی طرح بیکری میں ملنے والے چپس میں بھی ریفائن کاربوہائیڈریٹس، نمک اور ویجیٹیبل آئل کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ تینوں عناصر جوڑوں کے ورم کو بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔

■ سرخ گوشت
گوشت خصوصاً سرخ گوشت جسمانی ورم کو مختلف طریقوں سے بڑھاتا ہے خصوصاً اگر ان کو گرلنگ یا باربی کیو کی شکل میں کھایا جائے۔

https://t.me/islamwitheman/2176
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 فولک ایسڈ کی کمی کی علامات 🔷

ہر بالغ فرد کو روزانہ 400 مائیکرو گرام فولک ایسڈ جزو بدن بنانا چاہئے اور یہ صحت مند انسان کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔فولک ایسڈ یا وٹامن بی نائن صحت کے لیے انتہائی اہم ہے جو کہ ڈی این اے کی مرمت، خون کے سرخ خلیات کی پیداوار سمیت متعدد اہم افعال میں مدد دیتا ہے۔اگر جسم میں فولک ایسڈ کی کمی ہو تو مخصوص علامات بلکہ اینیما جیسے مرض کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔اینیمیا یا خون کی کمی کے دوران جسم کے اندرونی اعضاءکو مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں مل پاتی جس کے نتیجے میں وہ ٹھیک طرح کام نہیں کرپاتے۔

فولک ایسڈ کی کمی کی علامات مندرجہ ذیل ہیں:جلد پر پیلاپن

ہیموگلوبن ایک پروٹین ہے جو کہ خون کے سرخ خلیات کے لیے ضروری ہے، جب جسم میں فولک ایسڈ کی کمی ہوتی ہے تو اس کے اندر خون کے سرخ خلیات اور ہیموگلوبن کی سطح کم ہوجاتی ہے، اس کے نتیجے میں مسلز کی کمزوری، تھکاوٹ، ہاتھوں اور پیروں کا سن ہونا اور جلد کی پیلاہٹ کا سامنا ہوتا ہے۔

ذہنی مسائل کا سامنا

فولک ایسڈ مرکزی اعصابی نظام کے لیے انتہائی اہم جز ہے، اگر جسم میں اس کی کمی ہو تو آپ کو ڈپریشن کا سامنا ہوسکتا ہے، خیالات مرکوز کرنے میں مشکل ہوسکتی ہے جبکہ چیزیں بھولنے کے ساتھ چڑچڑے پن کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔ اگر اس کمی پر قابو نہ پایا جائے تو سنگین امراض جیسے ڈیمینشیا یا الزائمر کا خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے۔

جسم میں درد ہونا

فولک ایسڈ کی کمی سے اینیما لاحق ہونے پر دماغ کو آکسیجن کم ملتی ہے، اس کے ردعمل میں دماغی شریانیں سوجنے لگتی ہیں اور سردرد کی شکایت ہوتی ہے، صرف دماغ کو ہی اس مسئلے کا سامنا نہیں ہوتا بلکہ جسم کے دیگر حصوں کو بھی آئرن کی کمی کے نتیجے میں مسائل پیش آتے ہیں خصوصاً سینے اور ٹانگوں میں درد کا سامنا پیش آسکتا ہے۔

سانس لینے میں مشکل پیش آنا

اگر آپ غورکریں کہ ایسے کام جو پہلے آرام سے کرلیتے تھے مگر اب انہیں کرتے ہوئے سانس پھول جاتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ جسم کے اندر خون کے سرخ خلیات کی کمی کے باعث آکسیجن کی کمی ہورہی ہے، سانس پھولنے سے ہٹ کر دھڑکن کی رفتار تیز ہونا یا غشی کا احساس بھی دیگر علامات ہیں۔

منہ میں چھالے ہونا

یہ علامات عام طور پر اس وقت سامنے آتی ہیں جب فولک ایسڈ کی کمی بہت زیادہ ہوجائے۔ زبان اس صورت میں سوجی ہوئی، سرخ یا چمکدار نظر آسکتی ہے۔ خون کے سرخ خلیات کی کمی کے نتیجے میں نوالہ نگلتے ہوئے تکلیف کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔

ذائقے کی حس کا متاثر ہونا

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق فولک ایسڈ کی کمی کے نتیجے میں کھانے کے ذائقے کو محسوس کرنے کی حس بھی متاثر ہوتی ہے کیونکہ یہ ریسیپٹر اعصابی نظام کے ذریعے دماغ کو سگنل نہیں بھیج پاتے۔

نظام ہاضمہ کا مسئلہ

دل متلانا، قے ہونا، پیٹ میں درد اور کھانے کے بعد ہیضہ عام طور پر جسم میں فولک ایسڈ کی کمی کی ابتدائی علامات میں سے ایک ہوتی ہیں۔

فولک ایسڈ کی کمی کیسے پوری کریں؟

اچھی خبر یہ ہے کہ غذا کے ذریعے آسانی سے فولک ایسڈ کی کمی پوری کی جاسکتی ہے، جیسے سبز پتوں والی سبزیاں یعنی پالک یا ساگ وغیرہ کا استعمال زیادہ کریں۔

اسی طرح ترش پھل، بیج، مشروم اور اجناس کا زیادہ استعمال بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ناف میں تیل لگانا 🔷

ناف اللہ سبحان و تعالٰی ٰ کی طرف سے ایک خاص تحفہ ھے۔ 62 سال کی عمر کے ایک بوڑھے آدمی کو لیفٹ آنکھ سے صحیح نظر نہیں آ رہا تھا- خاص طور پر رات کو تو اور نظر خراب ھو جاتی تھی۔
ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ آپ کی آنکھیں تو ٹھیک ہیں۔ بس ایک پرابلم ھے کہ جن رگوں سے آنکھوں کو خون فراہم ھوتا ھے وہ سوکھ گئی ہیں۔

سائنس کے مطابق سب سے پہلے اللہ کی تخلیق انسان میں ناف بنتی ھے جو پھر ایک کارڈ کے ذریعے ماں سے جڑ جاتی ھے اور اس ہی خاص تحفے سے جو بظاہر ایک چھوٹی سی چیز ھے ایک پورا انسان فارم ھو جاتا ھے۔ سبحان اللہ

ناف کا سوراخ ایک حیران کن چیز ھے
سائنس کے مطابق ایک انسان کے مرنے کے تین گھنٹے بعد تک ناف کا یہ حصہ گرم رہتا ھے۔ وجہ اس کی یہ بتائی جاتی ھے کہ یہاں سے بچے کو ماں کے ذریعے خوراک ملتی ھے۔ بچہ پوری طرح سے 270 دن میں فارم ھو جاتا ھے یعنی 9 مہینے میں۔
یہ وجہ ھے کہ ہماری تمام رگیں اس مقام سے جڑی ھوتی ہیں۔ اس کی اپنی ایک خود کی زندگی ھوتی ھے۔
پیچوٹی ناف کے اس سوراخ کے پیچھے موجود ھوتی ھے جہاں تقریبا 72،000 رگیں موجود ھوتی ہیں۔ ہمارے جسم، وجود رگیں اگر پھیلائی جائیں تو زمین کے گرد دو بار گھمائی جا سکتی ہیں۔

■ علاج
آنکھ اگر سوکھ جائے، صحیح نظر نہ آتا ھو، پتہ صحیح کام نہ کر رہا ھو، پاؤں یا ھونٹ پھٹ جاتے ھوں، چہرے کو چمک دار بنانے کے لیے، بال چمکانے کے لیے، گھٹنوں کے درد، سستی، جوڑوں میں درد، سکن کا سوکھ جانا۔

طریقہ علاج؛
آنکھوں کے سوکھ جانا، صحیح نظر نہیں آنا، گلونگ کھال اور بال کے لیے روز رات کو سونے سے پہلے تین قطرے خالص دیسی گھی کے یا ناریل کے تیل کے ناف کے سوراخ میں ٹپکائیں اور تقریبا ڈیرھ انچ سوراخ کے ارد گرد لگائیں۔

گھٹنوں کی تکلیف دور کرنے کے لیے تین قطرے ارنڈی کے تیل کے سوراخ میں ٹپکائیں اور ارد گرد لگائیں جیسے اوپر بتایا ھے۔

کپکپی اور سستی دور کرنے کے لیے اور جوڑوں کے درد میں افاقہ کے لیے اور سکن کے سوکھ جانے کو دور کرنے کے لیے سرسوں کے تیل کے تین قطرے اوپر بتائے گئے طریقے کے مطابق استعمال کریں۔

🔷 ناف کے سوراخ میں تیل کیوں ڈالا جائے
ناف کے سوراخ میں اللہ نے یہ خاصیت رکھی ھے کہ جو رگیں جسم میں اگر کہیں سوکھ گئی ہیں تو ناف کے ذریعے ان تک تیل پہنچایا جا سکتا ھے جس سے وہ دوبارہ کھل جاتی ہیں۔

بچے کے پیٹ میں اگر درد ھو تو ہینگ پانی اور تیل میں مکس کر کے ناف کے ارد گرد لگائیں چند ہی منٹوں میں ان شاءاللہ اللہ کے کرم سے آرام آ جائے گا۔

🔷 تناو کی کمی کے لئے
آب پیاز بیس گرام، روغن زیتون آدھ پاؤ میں جلا کے لگانے سے یہ مسئلہ حل ھو جاتا ھے۔ ناف کے اندر اور باہر مالش کرنے سے۔

🔷 کان کے لئے
کانوں میں سائیں سائیں کی آواز آتی ھو تو سرسوں کے تیل پچاس گرام میں تخم ہرمل دو عدد پیس کر ناف میں پندرہ دن لگانے سے سائیں سائیں کی آواز آنا ختم ھو جاتی ھے۔

🔷 قوت سماعت کے لئے
قوت سماعت کی کمی دور کرنے کے لئے سرسوں کے پچاس گرام تیل میں دار چینی پیسیں۔ بیس گرام جلا کے وہ تیل ناف میں لگانے سے قوت سماعت میں بہتری آتی ھے۔

🔷 پیٹ کا پھولنا
پچاس گرام سرسوں کے تیل میں بیس گرام کلونجی کا تیل ملا کے ہلکا گرم کر کے ٹھنڈا کر کے لگانے سے دو ماہ میں پیٹ کنٹرول ھو جاتا ھے۔

🔷 بڑا قبض کشا نسخہ ھے اگر نہانے کے بعد روغن زیتون ناف میں لگا دیں اور مزے کی بات یہ کہ الرجی اور زکام نہیں ھوتا۔

http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کیلشیم فراہم کرنے والی غذائیں 🔷

انسانی جسم میں 206 ہڈیاں ہوتی ہیں، ان میں سے ایک ہڈی بھی کمزور ہو جائے تو جسم کا بیلنس خراب ہو جاتاہے۔ ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کیلشیم ضروری ہے۔ ہر ماں کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے بچے چاہے جتنے بھی بڑے ہو جائیں، کم سے کم ایک گلاس دودھ روزانہ پئیں اور اکثر ماؤں کا ایک ہی جملہ ہوتاہے․․․․
”دودھ پی لو، اس میں کیلشیم ہوتا ہے جس سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔“

■ کیلشیم کیا ہے․․․؟
جسم میں زیادہ تر کیلشیم دانتوں اور ہڈیوں میں ہوتا ہے۔ خون میں بھی کیلشیم پایا جاتاہے۔ ہڈیاں کیلشیم کے بینک کا کام کرتی ہیں۔ جتنا کیلشیم کھایا جائے وہ بون بینک میں جمع ہو جاتا ہے۔ہڈیوں کا بینک خون کو اتنا کیلشیم فراہم کرتا ہے جتنا اس کی سطح کو معمول پر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، اگر کیلشیم ضروری مقدار میں کھایا نہ جائے تو ہڈی بینک خالی ہو جائے گا۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ کیلشیم والی خوراک کھائیں جو کہ خون میں کیلشیم کی سطح کو برابر رکھے اور ہڈی کے ذخیرے کو مضبوط بنائے۔

■ کیلشیم کی کمی سے کیا ہوتاہے․؟
کیلشیم کی کمی سے جسم میں ہڈیاں، جوڑ اور دانت متاثر ہوتے ہیں۔ ہڈیوں کا چٹخنا، ہڈیوں اور جوڑوں میں درد، ہاتھوں پیروں کا مڑ جانا یہ سب کیلشیم کی کمی کی علامات ہیں۔

آج کل جدید طرز زندگی اور کیلوریز سے بھر پور غذاؤں (چاکلیٹ، کیک، کولڈڈرنک، جنگ فوڈز) کے باعث کیلشیم کی کمی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔صرف بزرگ، ادھیڑ عمر افراد ہی نہیں نوجوان اور بچے بھی کیلشیم کی کمی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ہڈیوں کی مضبوطی اور جوڑوں کے درد سے محفوظ رہنے کے لیے جسم میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کی طبعی مقدار موجود رہنا ضروری ہے۔

قدرتی طریقے سے حاصل کردہ کیلشیم صحت کے لئے زیادہ مفید اور فائدہ مند ہے۔ کیلشیم کی مناسب مقدار جسم کو فراہم کرنے کے لئے کئی غذائیں کارآمد ہیں۔

🔷 پتے والی سبزیاں
سبزیاں و پھل صحت و تندرستی کے لیے ضروری ہیں۔ کیلشیم کی کمی کو دور کرنے کے لئے پتے والی سبزیاں انتہائی مفید ہیں۔ مثلاً گوبھی، مشروم، ساگ اور بروکلی وغیرہ۔
ان سبزیوں کو باقاعدگی سے ڈائیٹ پلان میں شامل کیا جائے۔ یہ جسم کو کیلشیم کی فراہمی میں معاون ہیں۔

🔷 پھلیاں
پھلیاں انسانی جسم کو کیلشیم کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہیں۔ سیم کی پھلی، مٹر، گوار کی پھلی، فرنچ بینز اور لوبیہ کی پھلی میں کیلشیم کے ساتھ پروٹین بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔

🔷 دودھ
دودھ کیلشیم کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہترین ٹانک ہے۔ اس میں کیلشیم بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ دودھ میں موجود کیلشیم ہڈیوں، جوڑوں، پٹھوں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس کے علاوہ ڈیری اشیاء جیسے پنیر، دہی اور مکھن بھی جسم کو مناسب مقدار میں کیلشیم فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ایک پاؤ دودھ میں تیس فیصد کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے۔ بوڑھے، بچے اور جوان ڈیری اشیاء کثرت سے استعمال کر کے صحتمند اور چاق و چوبند زندگی گزار سکتے ہیں۔

🔷 دہی
دہی ایک ایسی غذا ہے جس میں کیلشیم کے ساتھ وٹامن ڈی بھی کثیر تعداد میں موجود ہے۔ ایک کپ دہی میں تیس فیصد کیلشیم اور بیس فیصد وٹامن ڈی موجود ہوتا ہے جو ان دونوں غذاؤں کی ایک دن کی جسمانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔

🔷 بادام
بادام کو روزمرہ کی خوراک میں شامل کر کے ہڈیوں کو صحت مند و مضبوط رکھنا ممکن ہے۔ بادام سے کیلشیم کے علاوہ صحت بخش چکنائی بھی حاصل کی جاسکتی ہے جو مجموعی صحت کے لئے مفید ہے۔

🔷 پنیر
کیلشیم سے بھر پور غذا پنیر ہے لیکن اس کا معتدل استعمال ہی صحت مند ہڈیوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔

🔷 پالک
ہڈیوں کو ضروری کیلشیم مہیا کرنے کے لئے ہفتے میں کم از کم ایک بار پالک ضرور کھائیں۔ پالک میں نہ صرف پچیس فیصد کیلشیم ہوتا ہے بلکہ یہ فائبر، آئرن اور وٹامن اے سے بھی بھر پور ہوتا ہے۔

🔷 مالٹے کا جوس
مالٹے کے جوس میں موجود اسکوربک نامی ایسڈ جسم میں کیلشیم کو جذب کرنے میں مفید بتایا جاتا ہے۔

■ اضافی کیلشیم
بعض اوقات اضافی کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی بھی اضافی دوا شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر یا ماہر غذا سے مشورہ ضرور کر لیں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 چاکلیٹ کے فائدے اور نقصان 🔷

چاکلیٹ ایسی میٹھی سوغات ہے جو لگ بھگ ہر ایک کو ہی پسند ہوتی ہے۔
خاص طور پر ڈارک چاکلیٹ تو صحت کے لیے بہت فائدہ مند مانی جاتی ہے کیونکہ اس سے جسم کو فلیونوئڈز حاصل ہوتے ہیں جو کہ مدافعتی نظام کو بہتر بنا کر پروٹین بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

اس سوغات کے فوائد ہوسکتا ہے آپ کو حیران کردیں۔

🔷 یادداشت بہتر بنائے
اٹلی کی L'Aquila یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ کوکا (چاکلیٹ کا بنیادی جز) کھانا معمول بنالینا طویل المعیاد یادداشت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق چاکلیٹ میں موجود فلیوونوئیڈز یا فلیونولز ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اس سے ذہنی صحت خصوصاً یادداشت میں بہتری آتی ہے جبکہ بلڈ پریشر اور انسولین لیول بھی بہتر ہوتے ہیں۔

🔷 بلڈ پریشر کنٹرول کرے
پرتگال کے پولی ٹیکنیک انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ کچھ مقدار میں ڈارک چاکلیٹ کھانا ایک ماہ کے اندر بلڈپریشر کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق ڈارک چاکلیٹ اینٹی آکسائیڈنٹ فلیونوئڈز سے زیادہ بھرپور ہوتی ہے جو خون کی شریانوں کی صحت بہتر بنانے میں مددگار جز ہے۔ تحقیق کے دوران رضاکاروں پر کیے گئے تجربات کے نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ کوکا والی چاکلیٹ کھانے والوں کے بلڈپریشر میں ڈرامائی حد تک بہتری دیکھنے میں آئی۔

🔷 خون کی شریانوں کو تحفظ
ڈارک چاکلیٹ فلیونوئڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے اور یہ دونوں اجزا خون کی شریانوں میں لوتھڑے بننے اور سوجن کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق جسمانی سوجن بڑھاپے اور اس سے متعلقہ امراض کا باعث بنتی ہے، لہذا سوجن پر قابو پانے والی غذا طویل زندگی کی کنجی ثابت ہوسکتی ہے۔

🔷 دماغی افعال بہتر بنائے
یہ میٹھی سوغات دماغی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایک طبی تحقیق کے دوران 23 سے 98 سال کی عمر کے لگ بھگ ایک ہزار کے قریب افراد کی غذائی عادات اور دماغی افعال کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ چاکلیٹ کو کھانا معمول بنالینے سے دماغی افعال میں نمایاں فرق دیکھنے میں آیا۔ تحقیق کے مطابق چاکلیٹ کے شوقین افراد دماغی آزمائش کے ٹیسٹوں میں بہتر کارکردگی کے ساتھ ساتھ، یاداشت اور دیگر دماغی کاموں میں بھی نمایاں ہوتے ہیں۔

🔷 کھانسی سے نجات
اگر آپ کھانسی کے شکار ہیں تو کسی مہنگی دوا یا ڈاکٹر سے رجوع کرنے سے قبل اس میٹھی سوغات کو استعمال کرکے دیکھ لیں ۔ جی ہاں چاکلیٹ، اسے اچھی طرح چبا کر کھانا کھانسی سے ریلیف فراہم کرتا ہے اور کسی دوا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ طبی ماہرین بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ چاکلیٹ کھانسی کو دبانے میں سیرپ سے زیاہد بہتر ثابت ہوسکتی ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس میٹھی سوغات کے استعمال سے کھانسی کی تکلیف میں کمی محض 2 دن میں ممکن ہوگئی۔ کھانسی کے اس علاج کے پیچھے 2 وجوہات ہیں، کوکا میں قدرتی طور پر ایک جز theobromine موجود ہوتا ہے جو کہ دائمی کھانسی پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔ دوسری وجہ چاکلیٹ کی ساخت ہے، جسے کھانے پر گلے میں ایک چپکنے والی کوٹنگ بن جاتی ہے جو کہ ان اعصاب کو تحفظ فراہم کرتی ہے جو کھانسی کا باعث بنتے ہیں۔

🔷 مزاج پر مثبت اثرات
جب آپ مایوسی کا شکار ہو تو چاکلیٹ کا استعمال بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اس کا ذائقہ ذہن کو تحریک دیتا ہے اور آپ کو خوش باش بناتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ چاکلیٹ کا ذائقہ، خوشبو یا بناوٹ بھی لوگوں کو خوش باش بنادیتی ہے، چاکلیٹ سے دماغ میں اچھا محسوس ہونے والے کیمیکل ڈوپامائن کی مقدار بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔

■ انتباہ
اگرچہ چاکلیٹ کے متعدد طبی فوائد ہیں اور اسے کئی طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے مگر یہ مضر اثرات سے پاک بھی نہیں۔

اس کی بہت زیادہ مقدار کا استعمال موٹاپے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے جبکہ کچھ شواہد ایسے بھی سامنے آئے ہیں کہ چاکلیٹ منشیات کی طرح لوگوں کو اپنا عادی بنادیتی ہے جبکہ اس میں کچھ ایسے ایسڈ شامل ہوتے ہیں جو طبی نقصانات کا باعث بن سکتے ہیں خاص طور پر گردوں میں پتھری کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

مثلاً اگر آپ روزانہ چاکلیٹ کا استعمال کرتے ہیں تو یہ موٹاپے کا باعث تو بنتی ہی ہے اس کے علاوہ گردوں میں پتھریاں بن جاتی ہیں اور گردے خراب ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ اسے کھبی کھبار ہی کھایا جائے اس کو اپنی عادت نہ بنائیں ورنہ نقصان اٹھا سکتے ہیں کسی بھی چیز کو اعتدال سے کھائیں ورنہ اس کے فائدے کی بجائے ہمیں نقصان ہوتا ہے اور صحت بھی خراب ہو جاتی ہے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔘 کثرت حیض 🔘

طب اسلامی میں حیض کے ایام کی زیادتی (کثرت الطمث، Menorrhegia) کا علاج۔۔۔

اگر عادت کے دن (حیض کے دن) ایک ہفتہ سے زیادہ ہو جائیں یہ خون آنا معمول سے ھٹ کر ہے اور ایک قسم کی بیماری شمار ہوتی ہے. اس کے علاج مندرجہ ذیل ہیں:

✅ علاج اول: غسل
وہ کام جو مستحاضہ انجام دیتی ہے وہ ایک طرح کا علاج ہے.
پیامبر خدا صلی اللٰہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
عورت جس کا خون نہیں رک رہا اور استحاضہ میں مبتلا ہے ہر نماز کے وقت غسل کرے. عورت یہ کام نہیں کرتی ہے مگر یہ کہ ٹھیک ہو جاتی ہے.
دعائم الإسلام ، ج 2 ، ص 138، ح 485.

✅ علاج دوم: دھنیا اور سماق
دھنیا کو فارسی میں گشنیز. عربی الکزبرہ انگلش Coriander اور سائنس میں اس کوCoriandrumsativum کہتے ہیں.
سماق کو عربی اور فارسی میں سماق ہی کہتے ہیں. انگلش میں Carriers sumach اور سائنسی نام Coriariarhus ہے.
ایک عورت امام رضا علیہ السلام کو خط لکھتی ہے اور خون نہ رکنے کی شکایت کرتی ہے . امام علیہ السلام نے خط کے جواب میں لکھا:
ایک مٹھی دھنیا اور ایک مٹھی سماق کو رات سے صبح تک پانی میں ڈال کر کھلے آسمان کے نیچے رکھ دیں. صبح اس کو آگ پر ابال لیں اور اس کو صاف کر کے ایک کپ کے برابر پی لیں یہ دوا خون کو اللہ کے اذن کے ساتھ روک دے گی.
طب الائمہ ص 101.

✅ علاج سوم: دال کا ستو
(مسور کی دال کا ستو) (عربی ، فارسی سویق عدس)
علی بن مھزیار اسطرح کہتا ہے: ہمارے ہاں ایک دوشیزہ ہے جو خون حیض دائمی میں مبتلا ہے اور قطع نہیں ہوتا. یہاں تک کہ موت کے قریب ہے.
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
اس کو مسور کی دال کا ستو دیں. اس کو مسور کی دال کا ستو دیا گیا تو اس کا خون رک گیا اور وہ ٹھیک ہوگئی.
الکافی، ج6، ص 307، ح2.

بشکریہ طب اسلامی ٹیلیگرام چینل

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔘 حیض کا خون بند ہو جانا 🔘

جن خواتین کے حیض کا خون یائسگی سے پہلے کم یا مکمل طور بند ھو جاتا ھے اسکے کئی اسباب ھو سکتے ھیں:

1= خون کی کمی یا گاڑھے پن کی وجہ سے۔
2= مغز اور سر میں انفکشن کی وجہ سے۔
3= رحم کی انفکشن اور خرابی کی وجہ سے۔

☘ ھارمونر کو منظم کرنے کیلئے بھترین چیز سونف کا قہوہ ھے روزانہ ایک کپ سونف کا قہوہ بنا کر عصر کے وقت پی لیں۔

پہلے علت اور سبب کو معلوم کرنا چاہیے اسکے بعد علاج کیلئے اقدام کرنا چاہیے۔
لیکن کچھ عمومی علاج ملاحظہ فرمائین۔۔۔

1⃣ جیرجیر/باہ زنان (طب اسلامی کی دوائی)۔
2⃣ ابھل/قاعدآور (طب اسلامی کی دوائی)۔
3⃣ سر پر مھندی لگانا۔

https://t.me/islamwitheman/2186
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👅 زبان کی رنگت اور ہماری صحت 👅

زبان کی رنگت سے کیسے صحت یا بیماری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ہم زبان کو تین حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں سامنے والا باریک حصہ،درمیانی حصہ اور آخری حصہ جو اندر کی طرف ہے۔اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ اگر آپ صحت مند ہیں تو آپ کی زبان کی کیا رنگت ہو گی اس سے آپ اپنی اور اپنے گھر میں موجود افراد کی صحت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔اگر آپ کی زبان کا رنگ سرخی مائل یا گلابی ہے تو آپ بالکل صحت مند ہیں یعنی آپ کا معدہ اور نظام انہظام اچھا کام کر رہے ہیں۔

🔷 سفید زبان:
اگر آپ کی زبان کی پرت پرسفید رنگ کی تہہ ہے ۔تو آپ یقیناً صحت مند نہیں ہیں ۔اس کی وجہ آپ کو قبض کا مرض لاحق ہونا بھی ہے۔اور قبض تمام امراض کی ماں کہلاتی ہے۔ایسی صورت میں اپنا علاج ضرور کروائیں۔سفید زبان دانت صاف نہ کرنے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے ۔سفید زبان ہو تو ٹوتھ برش سے صاف کریں لیکن اگر پھر بھی صاف نہ ہو تو کسی ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں۔ کیونکہ یہ ہمارے معدے کے کمزور ہونے کی علامت ہے۔اور اگر نیم سفید ہو تو یہ بھی کسی مرض کا پتہ دیتی ہے یعنی آپ کو پیٹ سے متعلق کوئی بیماری ہو سکتی ہے۔

🔷 سرخ زبان:
اگر زبان کا سرا نہایت سرخ ہو اور چمکدار بھی ہو تو ایسی صورت حال جسم میں کسی بیماری کا اشارہ دیتی ہے اور اگر بیماری بڑھنے لگے تو زبان کا سارا حصہ سرخ ہو جاتا ہے ۔بیماری کی وجہ سے آپ نیند کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں اس کے علاوہ آپ کو تھکاوٹ بھی محسوس ہو سکتی ہے۔اور اگر زبان اطراف سے سرخ ہو تو یہ تیز مصالحہ جات استعمال کرنے کی وجہ سے ہو سکتی ہے ایسی صورت حال میں آپ تیز مصالحوں سے اجتناب کریں۔اس کی علامات میں جگر کی گرمی اور انتڑیوں کے امراض ہو سکتے ہیں۔اس کی ایک وجہ وٹامن کی کمی بھی ہے۔سرخ زبان ہمارے جسم میں پانی کی کمی کو بھی ظاہر کرتی ہے لہذا ہمیں پانی کی مقدار بڑھا دینی چاہیئے۔

🔷 جامنی زبان:
جامنی زبان زیادہ تر خواتین کی ہو سکتی ہے اس کی وجہ خواتین کے ماہانہ ایام ہو سکتے ہیں ان میں خرابی یا تکلیف اس کا باعث بن سکتی ہے۔اس کی دوسری وجہ وٹامن B2 کی کمی بھی ہے۔اس کے علاوہ ایسے افراد جن کو مستقل جسمانی درد رہتے ہوں ان کی زبان بھی جامنی ہو سکتی ہے۔

🔷 نیلی زبان:
نیلی زبان انتہائی خطرناک بیماریوں کا پتہ دیتی ہے اس کا علاج فوری طور پر ہونا چاہیے یہ زیادہ تر ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جن کے نظام تنفس میں کوئی خرابی واقع ہو گئی ہو۔جیسے نمونیا،دمہ اور سانس کی بیمارں وغیرہ ہیں۔

🔷 کالی زبان:
کالی رنگت کی زبان کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے ۔دانتوں کی صٖائی نہ کرنا،سانس سے بدبو کا آنا وغیرہ ہیں اس کی اور کئی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں لیکن اس کے سا تھ ساتھ تمباکو نوشی ،بعض ادویات کا استعمال وغیرہ بھی ہیں۔

🔷 پیلی رنگت:
پیلی زبان ہونے کی وجہ ہمارے جسم میں گرمی کا ہونا ہے یا پھر یرقان کی صورت میں بھی پیلی ہو جاتی ہے۔اگر یرقان ہو جائے تو فوراً اس کا علاج کروائیں۔اس کا علاج بروقت کرنا ضروری ہے ورنہ اس سے موت واقع ہو سکتی ہے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 مختلف بیماریوں کا علاج 🔷

1= شھد
امام علی علیہ السلام:
الْعَسَلُ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ وَ لَا دَاءَ فِيهِ يُقِلُّ الْبَلْغَمَ وَ يَجْلُو الْقَلْب‏۔
شھد تمام بیماریوں کا علاج ہے اور اس میں کوئی بیماری نہیں ہے. بلغم کو کم کرتا ہے اور دل کو روشن کرتا ہے.
📚 مکارم الأخلاق ، ص 166۔

2= دودھ
امام علی علیہ السلام:
حَسْوُ اللَّبَنِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاء۔
دودھ پینا سوائے موت کے تمام بیماریوں کا علاج ہے.
📚 الخصال ، ج 2 ، ص 636۔

3= کلونجی
رسول اکرمؐ:
فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّام‏۔
کلونجی میں تمام بیماریوں کا علاج ہے، سوائے موت کے.
📚 طب الآئمه ، ص 51۔

4= اجوائن
رسول اکرمؐ:
الثُّفَّاءُ دَوَاءٌ لِكُلِّ دَاءٍ وَ لَمْ يُدَاوَ الْوَرَمُ وَ الضَّرَبَانُ بِمِثْلِه‏۔
اجوائن تمام بیماریوں کا علاج ہے، ورم اور سوجن کا اسے بہتر کوئی علاج نہیں.
📚مکارم الأخلاق، ص 191۔

5= سنا
رسول اکرمؐ:
«تَدَاوَوْا بِالسَّنَا، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ شَيْ‏ءٌ يَرُدُّ الْمَوْتَ لَرَدَّهُ السَّنَا»
سنا کے ساتھ علاج کیجئیے کیونکہ اگر کوئی چیز موت کو پلٹا سکتی ہوتی تو وہ سنا ہی ہے.
📚قرب الإسناد ، ص 110، ح 379.

6= ھلیلہ سیاہ
رسول اکرمؐ:
وَ قَالَ ص: عَلَيْكُمْ بِالْإِهْلِيلَجِ الْأَسْوَدِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةِ الْجَنَّةِ وَ طَعْمُهُ مِنْهُ وَ فِيهِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ۔
ھلیلہ سیاہ سے ضرور استفادہ کرو ، یہ جنت کے درختوں اور اس کے زائقے میں سے ہے. اور اس میں تمام بیماریوں کا علاج موجود ہے.
📚 مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل، ج‏16 ،ص450۔

7= جو کی روٹی
ابی الحسن علیہ السلام:
فَضْلُ خُبْزِ الشَّعِيرِ عَلَى الْبُرِّ كَفَضْلِنَا عَلَى النَّاسِ وَ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَ قَدْ دَعَا لِأَكْلِ الشَّعِيرِ وَ بَارَكَ عَلَيْهِ وَ مَا دَخَلَ جَوْفاً إِلَّا وَ أَخْرَجَ كُلَّ دَاءٍ فِيه‏۔
جو کی روٹی کی فضیلت گندم کی روٹی پر ایسے ہی ہے جیسے ہماری فضیلت لوگوں پر...... یہ پیٹ میں داخل نہیں ہوتی ہے مگر یہ کہ پیٹ سے تمام بیماریوں کو نکال دیتی ہے.
📚الكافي (ط - الإسلامية) ،ج‏6، ص: 304.

8= کاسنی
امام رضا علیہ السلام:
الْهِنْدَبَاءُ شِفَاءٌ مِنْ أَلْفِ دَاءٍ مَا مِنْ دَاءٍ فِي جَوْفِ ابْنِ آدَمَ إِلَّا قَمَعَهُ الْهِنْدَبَاء۔
کاسنی کھانا تمام بیماریوں کا علاج ہے. ابن آدم کے پیٹ میں جو بھی بیماری ہو کاسنی اس کو جڑ سے نکال دیتی ہے.
📚الكافي (ط - الإسلامية) ج‏6، ص 362۔

9= کجھور
امیر المؤمنین علی علیہ السلام:
كُلُوا التَّمْرَ فَإِنَّ فِيهِ شِفَاءً مِنَ الْأَدْوَاءِ.
کجھور کھاؤ کیونکہ اس میں بیماریوں سے علاج موجود ہے۔
📚المحاسن ، ج‏2،ص 528۔

10= گنے کی شکر
امام موسٰی کاظم علیہ السلام:
مَنْ أَخَذَ سُكَّرَتَيْنِ عِنْدَ النَّوْمِ كَانَتْ لَهُ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّام‏۔
جو بھی شکر کے دو ٹکڑے سوتے وقت کھائے اس کے لئے سوائے موت کے ہر بیماری سے شفاء ہے.
📚مكارم الأخلاق ،ص167۔

11= بینگن
امام جعفر صادق علیہ السلام:
كُلُوا الْبَاذَنْجَانَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّاءَ وَ لَا دَاءَ لَهُ.
بینگن کھاؤ کیونکہ ہر بیماری کو دور کرتا اور اس کی وجہ سے کوئی بیماری نہیں ہے.
📚 الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏6، ص 373۔

12= چقندر کے پتے
امام رضا علیہ السلام:
يَا أَحْمَدُ كَيْفَ شَهْوَتُكَ لِلْبَقْلِ فَقُلْتُ إِنِّي لَأَشْتَهِي عَامَّتَهُ قَالَ فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَعَلَيْكَ بِالسِّلْقِ فَإِنَّهُ يَنْبُتُ عَلَى شَاطِئِ الْفِرْدَوْسِ وَ فِيهِ شِفَاءٌ مِنَ الْأَدْوَاء۔
اے احمد! سالاد سے دلچسپی کیسی ہے. میں نے کہا سب کو پسند کرتا ہوں. فرمایا: اگر ایسا ہے تو چقندر ( پتے ) لازمی استفادہ کریں. جنت کے کنارے پر اگتے ہیں اور اس میں بیماریوں سے شفاء۔ ہے.
📚 المحاسن ، ج‏2 ،ص 519.

13= دستر خوان سے گرے ہوئے ٹکڑے
امام جعفر صادق علیہ السلام:
كُلُوا مَا يَسْقُطُ مِنَ الْخِوَانِ فَإِنَّهُ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْتَشْفِيَ بِهِ.
دستر خوان سے گرے ہوئے ٹکڑوں کو کھاؤ. کیونکہ جو اسے شفاء چاہتا ہے اللہ کے اذن سے اس کام میں ہر بیماری سے شفاء ہے.
📚 الكافي (ط - الإسلامية) ، ج‏6، ص:299۔

تحریر: قاسم یزدانی

https://t.me/islamwitheman/2175
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 بیماری کا علاج 🔷

وَ قَالَ (علیه السلام): امْشِ بِدَائِکَ مَا مَشَی بِکَ۔
ترجمہ:
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: مرض میں جب تک ہمت ساتھ دے چلتے پھرتے رہو۔

مقصد یہ ہے کہ جب تک مرض شدت اختیار نہ کرے اسے اہمیت نہ دینا چاہیے کیونکہ اہمیت دینے سے طبیعت احساس مرض سے متاثر ہو کر اس کے اضافہ کا باعث ہو جایا کرتی ہے۔ اس لیے چلتے پھرتے رہنا اور اپنے کو صحت مند تصور کرنا تحلیل مرض کے علاوہ طبیعت کی قوت مدافعت کو مضحمل ہونے نہیں دیتا اور اس کی قوت معنوی کو برقرار رکھتا ہے اور قوت معنوی چھوٹے موٹے مرض کو خود ہی دبا دیا کرتی ہے بشرطیکہ مرض کے وہم میں مبتلا ہو کر اسے سپر انداختہ ہونے پر مجبور نہ کر دیا جائے۔


📚 نہج البلاغہ, سید شریف رضي قدس سرہ.
ترجمہ و حواشی: حجۃ الاسلام والمسلمین مفتی جعفر حسین قدس سرہ.

https://t.me/islamwitheman/2175
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔴 خوف کا حملہ (پینک اٹیک) 🔴

حملۂ خوف (پینک اٹیک) انسان کے نظام زندگی کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ یہ حملہ کبھی کبھی غیرمتوقع طور پر ہوتا ہے لیکن یہ بات ممکن ہے کہ آپ دواؤں کا عادی ہوئے بغیر اس سے چھٹکارا پالیں۔

دل زور سے دھڑکنا، پسینہ آنا، جسم میں کپکپی، سانس لینے میں مشکل، متلی، غنودگی، جسم پر قابو نہ رہنا اور دہشت طاری ہو جانا حملۂ خوف کی علامات ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے اور اچانک یہ کیفیت کیوں پیدا ہو جاتی ہے؟

یہ بات ذہن نشین کر لیجیے کہ خوف ایک فطری بات ہے یا آپ اسے ایک ایسا ردعمل کہہ لیجیے جو معمول کے عین مطابق ہے۔ یہ ہمارے حیاتیاتی نظام کا حصہ ہے۔ زندگی اور موت کا سوال ہو، زندگی کی تگ و دو ہو یا موجودہ دور کے تقاضے اور تفکرات، ان سب کا ردعمل ہمارے ذہن و جسم پر کم و بیش یکساں ہوتا ہے۔

تھوڑا بہت دباؤ تو درحقیقت ایک اچھی بات ہے۔ اگر ہمیں دفتر کے اوقات کی فکر لاحق نہ رہے تو ہم اکثر دیر سے دفتر پہنچیں۔ یہ بے فکری ہماری ملازمت یا کاروبار کے لیے خطرہ بن جائے۔ یہ تھوڑا سا دباؤ جب بڑھ کر حملۂ خوف کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو پھر معاملہ بگڑ جاتا ہے۔

ان لوگوں میں جنہیں حملۂ خوف سے واسطہ پڑتا ہے زیادہ تعداد عورتوں کی ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے زندگی اجیرن ہو جاتی ہے، باہمی تعلقات بگڑنے لگتے ہیں، کام کاج اور ملازمت پر برا اثر پڑتا ہے، سماجی رشتے متاثر ہوتے ہیں اور میل جول بہت کم ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ حملۂ خوف کے اکثر مریض گھر سے نکلنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خوف کا حملہ کسی وسیع تر مسئلے کا حصہ بن کر ظاہر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر فضا ترسی (Astrophobia) یا مالیخولیا کے باعث حملۂ خوف ہوتا ہے۔ ایسا ہونے کی صورت میں ہم جلدی جلدی اور تیز تیز سانس لینا شروع کر دیتے ہیں۔

حملۂ خوف سے چھٹکارا پانے کے لیے ضروری ہے کہ تشویش کوکم کیا جائے۔ اپنی مصروفیت میں سے وقت نکال کر چھٹی منائی جائے۔ دفتر کا کام گھر پر نہ لے جائیں اور گھر کا ماحول پُرسکون رکھیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس قدر ممکن ہو ذہنی دباؤ سے بچیں۔ دباؤ سے بچنے کے لیے ضروری ہے عضلات کو سکون ملے اور عضلات کو سکون پہنچانے کے لیے مختلف طریقے اور ورزشیں ہیں جن کا تعلق سانس اور حرکاتِ جسمانی سے ہے۔ ماہرین کے مشورے سے انہیں آزمانا چاہیے۔

دباؤ اور تشویش سے بچاؤ کے لیے سوچ کا مثبت انداز بھی بہت اہم ہے۔ اس سلسلے میں ماہرین نفسیات سے مشورہ مناسب رہے گا۔ جو لوگ تشویش میں مبتلا ہوتے ہیں وہ کوئی کام کرنے کے بعد اس کے نتائج سے خوف زدہ رہتے ہیں اور انہیں اپنے اندر یہی آواز سنائی دیتی ہے کہ میں نے جو کچھ کیا ہے اس سے بہتر کر سکتا تھا لیکن ایک اچھی کوشش کے بعد اگر اچھے نتائج کی توقع کی جائے اور اچھا نتیجہ نہ نکلنے کی صورت میں مایوس ہونے کے بجائے پھر کمر باندھ لی جائے تو تشویش کے بادل چھٹنے لگتے ہیں۔ یوں حملۂ خوف سے بچنے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔

یوگا یا دیگر ورزشیں پابندی سے کی جائیں تو جسم میں اِنڈورفین نامی کیمیائی مادہ پیدا ہوتا ہے اور خون میں شامل ہو کر دباؤ، کھچاؤ اور تشویش کم کرتا ہے جس سے فرد پُرسکون ہوتا ہے۔

ذہنی کیفیت کا تعلق ہماری غذا سے بھی ہے۔ چائے، کافی یا کاربونیٹڈ ڈرنکس کی زیادتی ہیجان کا باعث بنتی ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ریشے دار غذا کھائی جائے۔ پھل اور کچی سبزی خوب کھائیں۔ کم چربی کا گوشت، مچھلی، لوبیا اور دالیں، نیز پروٹین والی دیگر چیزیں کھائیں۔ جمنے والی چکنائی سے بنی اشیا، سفید آٹا اور شکر آمیز چیزیں کم ہی استعمال کریں۔

حملۂ خوف عموماً عمر کے خاص مرحلے میں ہوتا ہے مثلاً عنفوان شباب، بچے کی ولادت کے بعد یا سن یاس کو پہنچنے پر۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ ایک دو حملوں کے بعد مسئلے سے پیچھا چھوٹ جاتا ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو ماہرین سے مشورہ کرنا چاہیے۔

تحریر : صائمہ اعجاز

https://t.me/islamwitheman/2168
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 خوشی کے ہارمونس 🔷

[چار ہارمونس جو انسان میں خوشی کا تعین کرتے ہیں۔]

ایک دن صبح میں پارک میں اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا تھا اس نے باتوں باتوں میں کہا کہ وہ اپنی زندگی سے خوش نہیں ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ تو بڑا نا شکرا پن ہے کیونکہ ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ہماری زندگی میں سب کچھ بہتر تھا۔ میں نے پوچھا۔
"تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟"
"میں نہیں جانتی. ہر کوئی جانتا ہے کہ ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں، لیکن میں خوش نہیں ہوں."

پھر میں نے اپنے آپ سے؟ پوچھا کہ،
"کیا میں خوش ہوں؟"
میرےاندرون سے آواز آئی "نہیں۔۔۔!!"
اب، اس واقعہ سے میں بےچین ہو گیا۔
میں نے خوشی کی اصل وجہ کو سمجھنے کے لئے مطالعہ شروع کر دیا،
لیکن مجھے کچھ خاص نہیں ملا.
میں نے اپنی تلاش تیز کی۔ کئی مضامین پڑھ لئے، بہت سے لائف کوچز سے بات کی لیکن کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا.

آخر میں میرے ایک ڈاکٹر دوست نے مجھے خوشی کے ہارمونس کے بارے میں بتایا۔ ان ہارمونس کے اخراج سے ہم خوشی محسوس کرتے ہیں۔ میں نے ان پر عملدرآمد کیا اور اب میں خوش رہنے لگا ہوں.

اس نے کہا، چار ہارمون ہیں جن کے خارج ہونے سے انسان خوشی محسوس کرتا ہے:
1. Endorphins (اینڈورفنس)
2. Dopamine (ڈوپامائین)
3. Serotonin (سیروٹونائین)
4. Oxytocin (آکسی ٹوسین)

ہمارے اندر خوشی کا احساس ان چار ہارمونس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم ان چار ہارمونس کے بارے میں جانیں۔۔۔

▪پہلا ہارمون اینڈورفنس ہے :
جب ہم ورزش کرتے ہیں تو ہمارا جسم درد سے نپٹنے کیلئے اینڈورفنس خارج کرتا ہے تاکہ ہم ورزش سے لطف اٹھا سکیں۔ اسکے علاوہ جب ہم کامیڈی دیکھتے ہیں، لطیفے پڑھتے ہیں اس وقت بھی یہ ہارمون ہمارے جسم میں پیدا ہوتا ہے۔ اسلئے خوشی پیدا کرنے والے اس ہارمون کی خوراک کیلئے ہمیں روزانہ کم از کم بیس منٹ ایکسرسائز کرنا اور کچھ لطیفے اور کامیڈی کے ویڈیوز وغیرہ دیکھنا چاہیئے۔

▪دوسرا ہارمون ڈوپامائین ہے:
زندگی کے سفر میں، ہم بہت سے چھوٹے اور بڑے کاموں کو پورا کرتے ہیں، جب ہم کسی کام کو پورا کرتے ہیں تو ہمارا جسم ڈوپامائین کو خارج کرتا ہے. اور اس سے ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے۔
جب آفس یا گھر میں ہمارے کام کے لئے تعریف کی جاتی تو ہم اپنے آپ کو کامیاب اور اچھا محسوس کرتے ہیں، یہ احساس ڈوپامائین کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عورتیں عموماً کھر کا کام کر کے خوش کیوں نہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ گھریلو کاموں کی کوئی تعریف نہیں کرتا۔

جب بھی ہم نیا موبائیل، گاڑی، نیا گھر، نئے کپڑے یا کچھ بھی خریدتے ہیں تب بھی ہمارے جسم سے ڈوپامائین خارج ہوتا ہے۔اور ہم خوش ہوجاتے ہیں.

اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ شاپنگ کرنے کے بعد ہم خوشی کیوں محسوس کرتے ہیں۔

▪تیسرا ہارمون سیروٹونائین:
جب ہم دوسروں کے فائدے کیلئے کوئی کام کرتے ہیں تو ہمارے اندر سے سیروٹونائین خارج ہوتا ہے اور خوشی کا احساس جگاتا ہے۔
انٹرنیٹ پر مفید معلومات فراہم کرنا، اچھی معلومات لوگوں تک پہنچانا، بلاگز، Quora اور فیس بک پر عوام کے سوالات کا جواب دینا اسلام یا اپنے اچھے خیالات کی طرف دعوت دینا ان سبھی سے سیروٹونائین پیدا ہوتا ہے اور ہم خوشی محسوس کرتے ہیں۔

▪چوتھا ہارمون آکسی ٹوسین ہے:
جب ہم دوسرے انسانوں کے قریب جاتے ہیں یہ ہمارے جسم سے خارج ہوتا ہے۔
جب ہم اپنے دوستوں کو ہاتھ ملاتے ہیں یا گلے ملتے ہیں تو جسم اکسیٹوسین کو خارج کرتا ہے۔

واقعی یہ فلم 'منا بھائی' کی جادو کی چھپی کی طرح کام کرتا ہے۔ جب ہم کسی کو اپنی باہوں میں بھر لیتے ہیں تو آکسی ٹوسین خارج ہوتا ہے اور خوشگواری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

📌 خوش رہنا بہت آسان ہے:
ہمیں اینڈروفنس حاصل کرنے کے لئے ہر روز ورزش کرنا ہے۔
ہمیں چھوٹے چھوٹے ٹاسک پورا کر کے ڈوپامائین حاصل کرنا ہے۔
دوسروں کی مدد کر کے سیروٹونائین حاصل کرنا ہے۔
اور
آخر میں اپنے بچوں کو گلے لگا کر، فیملی کے ساتھ وقت گزار کر اور دوستوں سے مل کر آکسی ٹوسین حاصل کرنا ہے۔

اس طرح ہم خوش رہیں گے۔ اور جب ہم خوش رہنے لگیں گے تو ہمیں اپنے مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے میں آسانی ہوگی۔

اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ بچہ اگر خراب موڈ میں ہو تو اسے فوری گلے لگانا کیوں ضروری ہے؟*

بچوں کیلئے:
1.موبائیل یا ویڈیو گیم کے علاوہ گراونڈ پر جسمانی کھیل کھیلنے کی ہمت افزائی کریں۔ (اینڈروفنس)

2. چھوٹی بڑی کامیابیوں پر بچے کی تعریف کریں، اپریشیئٹ کریں۔(ڈوپامائین)

3. بچے کو اپنی چیزیں شیئر کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کی عادت ڈالیں۔ اسکے لئے آپ خود دوسروں کی مدد کر کے بتائیں۔(سیروٹونائین)

4. اپنے بچے کو باہوں میں بھر کر پیار کریں۔(آکسی ٹوسین)

خوش رہیں۔ خوشیاں بانٹتے رہیں۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔

📚 یہ معلومات مختلف ہیلتھ آرٹیکلز سے لی گئی ہیں۔

https://t.me/islamwitheman/2191
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 میڈیکل کی تردیدی چیزیں 🔷

وہ چیزیں جو میڈیکل میں مشہور ہیں مگر غلط ہیں۔ اہلبیتؑ نے ان کی تروید کی ہے۔ ہر مومن کو پتا ہونا چاہیے۔

🔷 طب اہلبیتؑ
زیادہ پانی پینے سے منع کیا گیا ہے۔ جب پیاس لگے تب پئیں۔
🔶 مغربی طب
روزانہ آٹھ گلاس پانی پینا چاہیے۔ صحت کے لیے اچھا ہے۔

🔷 طب اہلبیتؑ
لوگوں کو اگر نمک کے فوائد کا علم ہوتا تو کسی اور چیز سے علاج نہ کرواتے۔ضروری ہے۔ دستر خوان پر نمک پڑا ہو۔
🔶 مغربی طب
نمک سفید بہترین ہے۔ دسترخوان پر نہیں ہونا چاہیے۔

🔷 طب اہلبیتؑ
نمک بلڈ پریشر کا علاج ہے۔ (سمندری نمک)
🔶 مغربی طب
نمک سے بلڈ پریشر زیادہ ہوتا ہے۔

🔷 طب اہلبیتؑ
بہترین نمک دریا یا سمندر کا ہے جو چٹان کی شکل میں ہوتا ہے۔
🔶 مغربی طب
بہترین نمک آیوڈین والا سفید نمک ہوتا ہے۔

🔵 طب اہلبیتؑ
بہترین گوشت دنبہ کا گوشت ہے۔ (گائے کے دودھ میں پکا کر)
🔶 مغربی طب
سُرخ گوشت زہر ہے۔

🔷 طبِ اہلبیتؑ
گوشت کو دودھ میں پکا کر استعمال کریں۔
🔶 مغربی طب
گھی میں فرائی کریں۔

🔷 طب اہلبیتؑ
انڈہ+بیگن کو تل کر کھائیں۔ باقی کسی چیز کے تلنے کا حکم نہیں ہے۔
🔶 مغربی طب
تلن کھائیں۔

🔷 طب اہلبیتؑ
مچھلی کا گوشت (زیادہ ) نہ کھائیں۔انسان کو کمزور اور آنکھوں کی چربی کو پگلا دیتا ہے۔
🔶 مغربی طب
مچھلی کا گوشت بہترین گوشت ہے۔

🔷 طب اہلبیتؑ
جانوروں میں مرغی خنزیر ہے۔ اس کا گوشت نہ کھائیں۔
🔶 مغربی طب
مرغی کا گوشت اچھا ہے۔

🔷 طب اہلبیتؑ
زیادہ گوشت نہ کھائیں۔ دل کو سخت و مردہ کر دیتا ہے۔
🔶 مغربی طب
زیادہ گوشت استعمال کریں۔ صحت کے لیے ٹھیک ہے۔

🔷 طب اہلبیتؑ
حیوانوں کا گھی (خاص کر گائے کا گھی) کھانوں میں استعمال کریں۔ بیماریوں کو باہر نکال دیتا ہے۔
🔶 مغربی طب
جانوروں کا روغن استعمال نہ کریں۔بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔

🔷 طب اہلبیتؑ
جانوروں کا روغن (گھی) گرمیوں میں استعمال کریں۔ سردیوں میں استعمال نہ کریں (سردیوں میں ریشہ و بلغم جم جاتا ہے)۔
🔶 مغربی طب
گھی سردیوں میں استعمال کریں۔ بجائے گرمیوں کے۔

🔷 طب اہلبیتؑ
بیٹھتے وقت کمر کو جھکا کر بیٹھ جاؤ۔
🔶 مغربی طب
بیٹھتے وقت کمر کو نہ جھکاؤ۔

🔷 طب اہلبیتؑ
بہترین کھانا رات کا کھانا ہے۔ اس کو ترک نہ کریں۔
🔶 مغربی طب
شام کا کھانا نقصان دہ ہے اسے ترک کر دیں۔

🔷 طب اہلبیتؑ
صبح اور شام کا کھانا کھاؤ۔ بدن کی صحت و سلامتی اور خوراک کو ھضم کرنے کے لیے بہترین ہے۔
🔶 مغربی طب
دو وقت کا کھانا نقصان دہ ہے۔ ہر گھنٹے بعد کچھ نہ کچھ کھاتے رہو۔

🔷 طب اہلبیتؑ
خدا نے کوئی بھی چیز جسم میں فالتو نہیں پیدا کی ہے۔
🔶 مغرب طب
اپنڈکس جسم میں فالتو ہے، اسی طرح گردہ اور کچھ رگیں بھی فالتو ہیں۔

🔷 طب اہلبیتؑ
مسواک کریں۔ کھانے کے بعد، سونے سے پہلے، نماز سے پہلے اور جاگنے کے بعد۔ کھانے کے بعد خلال بھی کریں۔
🔶 مغربی طب
کھانے کے بعد پلاسٹک کے ٹوتھ برش سے دانت صاف کریں۔
(ٹوتھ پیسٹ میں فلورائیڈ کینسر کا باعث بنتا ہے)

🔷 طب اہلبیتؑ
بہترین مسواک اراک ہے۔ اس کو استعمال کریں۔
🔶 مغربی طب
بہترین مسواک ٹوتھ پیسٹ ہیں۔ ان کو استعمال کریں۔

🔷 طب اہلبیتؑ
باقلا استعمال کریں۔خون کو صاف کرتا ہے اور بڑھاتا ہے۔
🔶 مغربی طب
باقلا استعمال نہ کریں۔ خون کی کمی کا سبب ہے۔

🔷 طب اہلبیتؑ
چغندر کے پتے فائدہ مند ہیں اور بیماریوں کا علاج ہیں جبکہ اس کی جڑ نقصان دہ ہے۔
🔶 مغربی طب
چغندر کے پتے مضر ہیں اور اس کی جڑ فائدہ مند ہے۔

🔷 طب اہلبیتؑ
دنبہ کا بہترین گوشت اس کے سر کا گوشت ہے۔
🔶 طب مغربی
دنبہ کا سر مضر ہے۔

🔷 طب اہلبیتؑ
دودھ کیساتھ صرف کھجور حل کر کے استعمال کریں۔ فائدہ مند ہے۔
🔶 مغربی طب
دودھ کے ساتھ کیلا اور دیگر پھل استعمال کریں۔ وٹامن حاصل ہوتی ہیں۔

🔷 طب اہلبیتؑ
بوڑھوں کو غذا کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
🔶 مغربی طب
نوجوانوں کو غذا کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

🔷 طب اہلبیتؑ
طب کا آغاز انسان کی خلقت کے بعد فوراً ہو گیا تھا۔ اللّہ نے وحی کے ذریعے انبیاءؑ کو طب کی تعلیم دی۔
🔶 مغربی طب
طب سیںنکڑوں سال پہلے چند لوگوں نے ایجاد کی۔

🔷 طب اہلبیتؑ
آلو بخارا جوڑوں کو نرم کرتا ہے۔
🔶 مغربی طب
انڈسٹریل پیسٹ جوڑوں کو نرم کرتا ہے۔

🔷 طب اہلبیتؑ
سنا کے پتے تمام بیماریوں کا علاج ہیں۔
🔶 مغربی طب
سنا کے پتے آنتوں و معدہ کے لیے سخت مضر ہیں۔ آنتوں و معدہ کو خراب کرتے ہیں۔

🔷 طب اہلبیتؑ
حجامت و فصد کراؤ بیماریوں کو ختم کرتے ہیں۔ حجامت سنتِ انبیاءؑ ہے۔ صحت کے لیے مفید ہے۔
🔶 طب مغربی
حجامت و فصد نقصان دہ ہے۔

بشکریہ ٹیلیگرام چینل طب معصومینؑ

https://t.me/islamwitheman/2189
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌟 چہرے کی ترو تازگی کا راز 🌟

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:
میرے بھائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک شہر سے گزر رہے تھے، انہوں نے ایک مرد اور ایک عورت کو آپس میں اونچی آواز میں لڑتے جھگڑتے دیکھا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: کیوں لڑ رہے ہو؟
مرد نے کہا: اے نبی خدا! یہ میری بیوی ہے، اچھے اخلاق کی مالک ہے لیکن اس کے باوجود میں اس سے الگ ہونا چاہتا ہوں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: مجھے پورا ماجرا بتاؤ کہ اس (عورت) کا مسئلہ کیا ہے؟
مرد نے کہا: اس کی عمر زیادہ نہیں ہے لیکن اس کے چہرے پر جھریاں پڑی ہوئی ہیں۔

آپؑ نے فرمایا: اے عورت کیا تم چاہتی ہو کہ تمہارے چہرے پر نکھار آجائے اور تروتازہ ہو جائے!

عورت نے کہا: ہاں

آپ نے فرمایا: کھانا پیٹ بھر کر نہ کھاؤ کیونکہ جب کھانا زیادہ کھایا جائے تو یہ کھانا معدہ پر بوجھ بن جاتا ہے اور یہ چہرے کے پانی کو ختم کر دیتا ہے۔

♣ اس عورت نے یہی کام کیا جس کے نتیجے میں اس کے چہرے پر نکھار اور ترو تازگی آگئی۔

1⃣👈 کھانے میں احتیاط کرنا بے حد ضروری ہے۔
2⃣👈 اگر کھانے کا نظام صحیح ہو جائے تو بہت ساری بیماریاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔
3⃣👈 کھانا انسان کی زندگی میں بے انتہا اثر انداز ہوتا ہے اس لئے کھانے کے آداب اور اسلامی دستور کی رعایت کرنا انسان کے تندرستی کی ضمانت ہے۔

📚 علل الشرائع، ج2، ص497۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 کھانے کے اصول 🌹


حضرت فاطمہ زہراؑ فرماتی ہیں:
جو شخص غذا تناول کرنے کے بعد اپنے چکنے اور غذا میں ڈوبے ہوئے ہاتھوں کو دھوئے بغیر سو جائے تو اپنے سوا کسی اور کو ملامت نہ کرے-

🌼 کھانے کے بارہ اصول ہیں:

🍀 چار واجب ہیں۔۔۔
◼اللّہ کی معرفت رکھنا،
◼اللّہ کی نعمتوں پر راضی رہنا،
◼کھانے سے قبل بسم اللّہ پڑھنا،
◼اللہ کا شکریہ ادا کرنا۔

☘ چار چیزیں مستحب ہیں۔۔۔
🌸 ہر کھانے سے قبل وضو کرنا،
🌸 بائیں جانب بیٹھنا،
🌸 بیٹھ کر کھانا کھانا،
🌸 تین انگلیوں سے کھانا۔

☘ چار اصول کا تعلق ادب سے ہے۔۔۔
🌻 چھوٹے نوالے لینا،
🌻 جو کچھ سامنے ہے اس سے کھانا،
🌻 کھانے کو اچھی طرح چبانا اور اچھی طرح نرم کر کے کھانا،
🌻 کھانے کے دوران کم سے کم دوسروں کے چہروں کی طرف دیکھنا-


📚 کتاب عوالم ج11ص269۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ردعمل 🔷

ابوالکلام اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ ملازمت بھی کرتی تھیں اور گھر کا کام کاج بھی وہی کرتی تھیں۔

ایک رات کھانے کے وقت انہوں نے سالن اور جلی ہوئی روٹی میرے والد کے آگے رکھی۔ میں والد کے رد عمل کا انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ غصہ کا اظہار کریں مگر انہوں نے انتہائی سکون سے کھانا کھایا اور پھر مجھ سے دریافت کیا کہ آج سکول میں میرا دن کیسا گزرا۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کیا جواب دیا لیکن اسی اثنا میں میری والدہ نے روٹی جل جانے کی معذرت کی۔ مگر میرے والد نے کہا کہ ان کو یہ روٹی کھا کر لطف آیا۔

اسی رات اپنے والد کو شب بخیر کہنے میں ان کے کمرے میں گیا تو ان سے سوال کیا کہ کیا واقعی انہیں جلی روٹی کھا کر لطف آیا؟
انہوں نے پیار سے مجھے اپنے بازوؤں میں بھر لیا اور جواب دیا کہ تمہاری والدہ نے ایک پرمشقت دن گزارا اور پھر تھکنے کے باوجود گھر آکر ہمارے لئے کھانا بھی تیار کیا ۔۔۔۔۔ ایک جلی ہوئی روٹی کچھ نقصان نہیں پہنچاتی مگر تلخ ردعمل اور بد زبانی جذبات کو مجروح کرتی ہے۔
میرے بچے! زندگی بے شمار ناپسندیدہ اشیا اور شخصیات سے بھری ہوئی ہے۔ میں بھی کوئی بہترین یا مکمل انسان نہیں ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے ارد گرد لوگ اور عزیز و اقربا بھی غلطی کر سکتے ہیں۔ لہذا ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا، رشتوں کو بخوبی نبھانا، اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہی تعلقات میں بہتری کا سبب بنتا ہے۔ زندگی اتنی مختصر ہے کہ اس میں معذرت اور پچھتاووں کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔

اس تحریر کا دن میں کم از کم ایک بار پڑھنا ھم سب کی معاشرتی زندگی کے لئے بے حد سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔۔

التماس دعا:
سید سجاد حسین ھمدانی

https://t.me/islamwitheman/2191
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 پنچ تن پاک 🔷

شیخ سید عبدالقادر جیلانی اس حدیث کی اسناد کو ابوھریرہ تک پہنچاتے ھیں کہ انہوں نے رسول پاک ﷺ کو فرماتے سنا جب حق تعالیٰ نےحضرت ابولبشر کو پیدا کیا اور اس کے جسم میں روح پھونکی تو جناب آدم علیہ السلام نے عرش کے داھنی بازو کی طرف نظر کی تو دیکھا کہ پانچ تن پاک کے جسموں کا نور رکوع اور سجود کر رھا ھے۔

آدم علیہ السلام نے عرض کیا اے پروردگار کیا تو نے کسی کو مجھ سے پہلے مٹی سے پیدا کیا ھے۔؟

رب العزت نے فرمایا: نہیں

آدم علیہ السلام نے عرض کی پس یہ کون اشخاص ھیں جن کو میں اپنی ھیت اور صورت میں دیکھ رھا ھوں۔؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تیری اولاد میں سے پانچ اشخاص ھیں اور جس چیز سے میں نے تجھے پیدا کیا یہ اس سے نہیں ھیں ان کے لئے میں نے اپنے سے پانچ نام مشتق کیے ھیں اگر یہ نہ ھوتے تو میں جنت و دودخ، عرش، کرسی، آسمان، زمین، فرشتے، انسان اور جن وغیرہ و اشیاء کو پیدا نہ کرتا. پس میں محمود ھوں اور یہ محمد ھے اور میں عالی ھوں اور یہ علی ھے۔ میں فاطر ھوں اور یہ فاطمہ ھے۔ میں احسان ھوں اور یہ حسن ھے۔ میں محسن ھوں اور یہ حسین ھے۔ مجھے اپنی عزت کی قسم ھے اگر کوئی ایک خردل کے دانہ کے برابر بھی ان کا بغض لے کر میرے پاس آئے گا تو میں اس شخص کو ضرور دودخ میں دھکیلوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔

📚 ارجح المطالب ص690۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 غسل جنابت 🔷

سوال: مرد اور عورت پر کس صورت میں غسلِ جنابت واجب ہوتا ہے؟

♦ جواب: خاتون پر غسل جنابت دو حالتوں ميں واجب ہوتا ہے :
1⃣ جب اس كى شرمگاہ ميں شوہر آلہ تناسل كو داخل كرے اگرچے اس كے صرف ابتدائى حصے يعنى حشفہ كو ہى داخل كيوں نہ كرے ، اگر منى خارج نہ بھى ہو تب بھی صرف دخول كى وجہ سے میاں بیوی دونوں پر غسل جنابت واجب ہو گا ۔ نيز اس سے فرق نہيں پڑتا كہ خاتون كے قبل ميں دخول كرے يا دبر ميں ۔
اگر شرمگاہ ميں آلہ تناسل كے علاوہ كچھ اور داخل كرے تو اس سے غسل جنابت نہ مرد پر واجب ہوتا ہے اور نہ خاتون پر ۔ صرف آلہ تناسل كے داخل كرنے سے دونوں پر غسل جنابت واجب ہوتا ہے ۔

2⃣ نيز اگر خاتون پر کسی بھی وجہ سے جنسى كيفيت طارى ہو اور مادہ (رطوبت/Liquid) خارج ہونے كے بعد اس پر جنسی كيفيت ختم ہو جائے تو عورت پر غسل واجب ہو جاتا ہے ۔

🔹جس طرح مرد سے منى خارج ہوتى ہے اسى طرح سے خاتون سے بھى منى خارج ہوتى ہے اور اس خروج كے بعد اس پر غسل جنابت واجب ہے ۔ يہ قول كے خاتون سے منى خارج نہيں ہوتى ہے ضعيف قول ہے اس كا اعتبار نہيں ہے ۔

🔹اگر خاتون پر شہوت قوى طور پر غالب ہو اور شہوانى تحرّكات كے بعد اس كے بدن ميں سكون برپا ہو جائے ، يہ دو علامات يعنى ’’ شہوت اور فتور ‘‘ برپا ہونے كى صورت ميں خاتون پر غسل واجب ہے ۔ جبكہ مرد ميں شہوت كے علاوہ شرائط كے ساتھ مادہِ منويہ كا اچھل كر نكلنا اور اس كے حالت سكون برپا ہونا ضرورى ہے ۔

🔹شرمگاہ ميں دوسرے كى شرمگاہ كے دخول كے علاوہ غسل جنابت واجب ہونے كى شرائط مرد اور خاتون ميں اس طور پر فرق كرتى ہے :

۱) مرد پر غسل تب واجب ہو گا جب تين شرائط كے ساتھ منى خارج ہو :
🔹شہوت
🔹دفق ، يعنى اچھل كر منى كا خارج ہونا
🔹فتور : يعنى اخراجِ منى كے بعد بدن ميں شہوانى اضطراب اور دباؤ ختم ہو جائے اور بدن ميں سكون برپا ہو جائے۔

۲) خاتون اور بوڑھے مرد پر اگر:
🔹شہوت
🔹فتور
صرف یہ👆 دونوں حالتیں اگر پیدا ہو جائیں تو غسل واجب ہوجاتا ہے

🔻خاتون اور بوڑھے شخص كے ليے ’’دفق‘‘ يعنى منى كا اچھل كر باہر آنا شرط نہيں ہے ۔ پس شہوت اور فتور يہ دو صفات برپا ہو جائيں تو خاتون پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔

🔸حوالہ :
http://www.sistani.org/arabic/book/22/1696/

http://t.me/islamwitheman/1681
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 صدقہ سادات پر حرام 🔷

سوال کہ صدقہ سادات پر حرام ہے یہ حکم قرآن مجید کی کس آیت سے ثابت ہے؟ مطلب یہ کہ جس طرح خمس کے بارے میں آیت موجود ہے کیا صدقہ کے بارے میں بھی ہے؟
پہلے یہ چیز واضح ہوجائے کہ صدقہ اور زکات ایک ہی چیز ہیں زکات بھی صدقہ ہے مگر وہ واجب صدقہ ہے اور ہم جسے صدقہ کھتے ہیں وہ مستحب زکات ہے
قرآن میں زکات کو کبھی زکات اور کبھی صدقہ کھا گیا ہے سورہ توبہ آیت 103 خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُ‌هُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا ۔ ۔ ۔ پیغمبر آپ ان کے اموال میں سے زکوِٰت لے لیجئے کہ اس کے ذریعہ یہ پاک و پاکیزہ ہوجائیں ، صدقہ ( زکات ) کے وجود (ہونے) کی ایک وجہ و مصلحت لوگوں کے مال کو پاک کرنا ہے (اس کے اجتماعی فوائد سے ہٹ کر اس کے ہونے کی حکمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے)
اور اس صدقہ و زکات کا مصرف (جہاں خرچ کرنا ہے) وہ اسطرح بیان ہوا سورہ توبہ آیت 60 إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَ‌اءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّ‌قَابِ وَالْغَارِ‌مِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِ‌يضَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ، صدقات و خیرات بس فقرائ ,مساکین اور ان کے کام کرنے والے اور جن کی تالیف هقلب کی جاتی ہے اور غلاموں کی گردن کی آزادی میں اور قرضداروں کے لئے اور راسِ خدا میں غربت زدہ مسافروں کے لئے ہیں یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے اور اللہ خوب جاننے والا اور حکمت والا ہے
اس آیت میں زکات یا وہی صدقے واجبہ کے مصارف 8 جگہوں پر خرچ کرنے کا بیان آیا ہے۔
اس آیت میں ایک نکتہ قابل غور ہے کہ خداوند متعال نے ایک امت کے مستحق افراد کے لئے مالی اعتبار سے ایک قانو بیان فرمایا ہے مگر اس آیت میں خود رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ اور ذوی القربیٰ کے لئے کوئی مالی پشتیبانی اور Back Up بیان نہیں کیا جب کہ اگر خود رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی اولاد کو مالی اعتبار سے ضرورت ہو تو وہ کیا کریں ؟
یعنی معاشرے میں مستحق افراد دو قسم میں ہیں ایک مستحق غیر ھاشمی اور ایک مستحق جو ھاشمی ہو
سورہ انفال آیت 41 میں ارشاد ہو وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّـهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّ‌سُولِ وَلِذِي الْقُرْ‌بَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۔ ۔ ۔ اور یہ جان لو کہ تمہیں جس چیز سے بھی فائدہ حاصل ہو اس کا پانچواں حصہ اللہ , رسول ,رسول کے قرابتدار ,ایتام ,مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ہے ، یہاں بھی ذوی القربیٰ جو یتیم ہوں یا مسکین ہوں یا ابن سبیل ہوں ان کے لئے خدا نے خمس کے ذریعے سے ان کے لئے مالی Back Up بیان فرمایا ہے
آپ نے ملاحضہ فرمایا ہوگا جہاں صدقہ و زکات کے مصارف بیان ہوئے ہیں ان میں خداوند متعال نے نہ ہی رسول گرامی کا مصداق بیان کیا نہ ہی ان کی اولاد اور رشتہ داروں کا یعنی وہاں (زکات و صدقہ) میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور ان کے لئے ایک الگ سسٹم رکھا
اب آتے ہیں یہ کیوں رکھا الگ سسٹم ؟
علما اس کی کچھ توجیہات بیان فرماتے ہیں :
(۱) دشمنان اسلام کے لئے یہ رستہ بند ہوجائے کہ وہ خود رسول پہ تھمت نہ لگا سکیں کہ انہوں نے اپنوں (ذوی القربیٰ) کو زکات و صدقات جو ایک عمومی مال ہے جس میں معاشرے کا ہر مستحق فرد شامل ہے ، پر مسلط کر دیا ہے۔
(2) رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کے ذوی القربیٰ کا احترام کو برقرار رکھنا بھی صدقہ و زکات کا سید پہ حرام ہونے کا ایک سبب و مصلحت ہے۔
امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں : لم يجعل لنا سهماً في الصدقه اکرم (الله) نبيه و اکرمنا ان يطعمنا اوساخ ما في ايدي الناس (وسائل الشيعه ، شیخ حر عاملی ،جلد نمبر 6، ابواب قسمة الخمس، باب 1، ح 4)
ترجمہ : خدا نے ہمارے ( بنو ھاشم ) کے لئے صدقے (واجبہ) میں کوئی سھم و حصہ نہیں رکھا یہ خداوند متعال نے اپنے نبی (ص) کو ایک کرامت و عزت دی اور ہمیں بھی عزت دی کہ ہم لوگوں کے ہاتھوں کی میل کو ہمیں کھلائے
یہ حقیقت ہے کہ قرآن میں زکات ( صدقہ واجبہ ) کا خمس کے مقابلے میں زیادہ حکم آیا ہے خمس جنگ بدر کے بعد واجب ہوا ہے اور زکات کی زیادہ تاکید کا حکم اس وجہ سے ہے کہ وہ ایک عمومی مال ہے اور فراگیر ہے۔
آپ کو علم ہے کہ زکات 9 چیزوں پہ واجب ہے جو عام استعمال کی چیزیں ہیں اور خمس 7 چیزوں پہ واجب ہے جن میں کچھ بھی ہی مشکل سے حاصل ہوتے ہین جیسے خزانہ یا دریا سے موتی و غیرہ۔
یہاں تک میں نے کوشش کی کہ صدقہ اور خمس پہ کچھ عرض کروں اب آخر مین یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ ڈفرنس اور فرق کیوں ہے ؟ یا سب ہی کے سب زکات لیتے یا سب ہی کے سب خمس میں شامل ہوتے یہ خداوند متعال نے فرق کیوں رکھا تو آپ نے جواب خود دے دیا ہے کہ ارشاد ہوا : يا أَيُّهَا النّاسُ إِنّا خَلَقْناكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ أُنْثى وَ جَعَلْناكُمْ شُعُوباً وَ قَبائِلَ لِتَعارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقاكُمْ إِن