ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔷 خاوند کی سوچ بیوی کے لئے 🔷

ہمارے گھر کے قریب ایک بیکری ہے..اکثرشام کے وقت کام سے واپسی پر میں وہاں سے صبح ناشتے کے لئے کچھ سامان لے کے گھر جاتا ہوں..آج جب سامان لے کے بیکری سے باہر نکل رہا تھا کہ ہمارے پڑوسی عرفان بھائی مل گئے...وہ بھی بیکری سے باہر آرہے تھے...میں نے سلام دعا کی اور پوچھا.
"کیا لے لیا عرفان بھائی؟"
کہنے لگے .. "کچھ نہیں حنیف بھائی! وہ چکن پیٹس تھے.. اور جلیبیاں تھیں بیگم اور بچوں کے لئے"
میں نے ہنستے ہوئے کہا... "کیوں..آج کیا بھابھی نے کھانا نہیں پکایا"
کہنے لگے.. "نہیں نہیں حنیف بھائی! یہ بات نہیں ہے... دراصل آج دفتر میں شام کے وقت کچھ بھوک لگی تھی تو ساتھیوں نے چکن پیٹس اور جلیبیاں منگوائیں ... میں نے وہاں کھائے تھے تو سوچا بیچاری گھر میں جو بیٹھی ہے وہ کہاں کھانے جائے گی.. اس کے لئے بھی لے لوں... یہ تو مناسب نہ ہوا نہ کہ میں خود تو آفس میں جس چیز کا دل چاہے وہ کھالوں.. اور بیوی بچوں سے کہوں کہ وہ جو گھر میں پکے صرف وہی کھائیں..."
میں حیرت سے ان کا منہ تکنے لگا.. کیوں کہ میں نے آج تک اس انداز سے نہ سوچا تھا..
میں نے کہا... "اس میں حرج ہی کیا ہے عرفان بھائی! آپ اگر دفتر میں کچھ کھاتے ہیں تو... بھئی بھابھی اور بچوں کو گھر میں جس چیز کا دل ہوگا کھاتے ہوں گے"
وہ کہنے لگے.. "نہیں نہیں حنیف بھائی! وہ بیچاری تو اتنی سی چیز بھی ہوتی ہے میرے لئے الگ رکھتی ہے... یہاں تک کہ اڑوس پڑوس سے بھی اگر کسی کے گھر سے کوئی چیز آتی ہے تو اس میں سے پہلے میرا حصّہ رکھتی ہے..بعد میں بچوں کو دیتی ہے... اب یہ تو خود غرضی ہوئی نہ کہ میں وہاں دوستوں میں گل چھڑے اڑاؤں..."
میں نے حیرت سے کہا.. "گل چھڑے اڑاؤں.... یہ چکن پیٹس... یہ جلیبیاں... یہ گل چھڑے اڑآنا ہے عرفان بھائی؟ اتنی معمولی سی چیزیں.."
وہ کہنے لگے... "کچھ بھی ہے حنیف بھائی! مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ آخرت میں کہیں میری اسی بات پر پکڑ نہ ہو کہ کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لائے تھے... خود دوستوں میں مزے کر رہے تھے اور وہ بیچاری گھر میں بیٹھی دال کھارہی تھی..."
میں حیرت سے انہیں دیکھتا رہا.. اور وہ بولے جارہے تھے..
"دیکھئے... ہم جو کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لاتے ہیں نا... وہ بھی ہماری طرح انسان ہوتی ہے.. اسے بھی بھوک لگتی ہے... اس کی بھی خواہشات ہوتی ہیں... اس کا بھی دل کرتا ہے طرح طرح کی چیزیں کھانے کا..... پہنے اوڑھنے کا... گھومنے پھرنے کا... اسے گھر میں پرندوں کی طرح بند کردینا... اور دو وقت کی روٹی دے کے اترانا... کہ بڑا تیر مارا... یہ انسانیت نہیں... یہ خود غرضی ہے..."

ان کے آخری جملے نے مجھے ہلا کے رکھ دیا... میں نے تو آج تک اس انداز سے سوچا ہی نہیں تھا..
میں نے کہا...
"آفرین ہے عرفان بھائی! آپ نے مجھے سوچنے کا ایک نیا زاویہ دیا..."
میں واپس پلٹا تو وہ بولے... "آپ کہاں جارہے ہیں؟"
میں نے کہا:
"آئسکریم لینے... وہ آج دوپہر میں آفس میں آئسکریم کھائی تھی"
عرفان بھائی میری طرف دیکھنےلگے... اور کچھ لمحوں کے بعد گویا ہوئے...

🔷دیکھئے حنیف بھائی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے...
"چار چیزیں انسان کی سعادت شمار ہوتی ہیں...
1=نیک دوست.
2=ہم خیال بیوی.
3=نیک اولاد.
4=کاروبار کا اپنے شہر میں ہونا."

🔹خداوندعالم نے مجھے آپ سا نیک دوست عطا فرمایا، اولاد بھی خداوندعالم نے اچھی عطا کی ہے، کام میرا اپنے شہر میں ہے اور بیوی اللہ تعالٰی نے مجھے میرا خیال رکھنے والی دی ہے وہ جس طرح میرا خیال رکھتی ہے، میں بھی اسی طرح اس کا خیال رکھتا ہوں.

میں نے اپنے اندر برپا ہونے والے انقلاب پر عرفان بھائی کا شکریہ ادا کیا اور آئسکریم لینے کی خاطر کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجئے گا.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 عقلمند بیوی 🔷

ایک بوڑھی مگر دانا عورت تھی جس کا خاوند اُس سے بہت پیار کرتا تھا۔ اس عورت سے اُس کی خوشیوں بھری زندگی کا راز پوچھا گیا کہ آیا وہ بہت لذیز کھانا پکاتی ہے؟ یا اس کا خاوند اس کے حسن و جمال پر فریفتہ ہے؟ یا وہ بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی خاتون رہی ہے؟ یا پھر اس کی محبت کا کوئی اور راز ہے؟

عورت نے یوں جواب دیا:
🎈 خوشیوں بھری زندگی کے اسباب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کے بعد خود عورت کے اپنے ہاتھوں میں ہیں۔ عورت چاہے تو وہ اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے اور اگر چاہے تو جہنم بنا دے۔

💵 مت سوچیے کہ مال و دولت خوشیوں کا سبب ہے۔ تاریخ میں کتنی ہی مالدار عورتیں ایسی ہیں جن کے خاوند اُن سے کنارہ کش ہو گئے۔

👪 نہ ہی بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت ہونا کوئی بہت بڑی خوبی ہے۔ کئی عورتوں نے دس دس بچے جنے مگر وہ اپنے شوہروں سے کوئی خصوصی التفات و محبت نہ پا سکیں بلکہ نوبت طلاق تک جا پہنچی.

🍝 اچھا کھانا پکانا بھی کوئی خوبی نہیں ہے، سارا دن کچن میں کھانے پکانے کے باوجود بھی عورتیں خاوند کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں.

تو پھر آپ ہی بتا دیں اس پُرسعادت اور مسرت بھری زندگی کا راز؟ اور آپ اپنے اورخاوند کے درمیان درپیش مسائل و مشکلات سے کس طرح نپٹا کرتی تھیں؟

اُس عورت نے جواب دیا:
🌹 جس وقت میرا خاوند غصے میں آتا اور بلاشبہ میرا خاوند بہت ہی غصیلا آدمی تھا، میں اُن لمحات میں (نہایت ہی احترام کیساتھ) مکمل خاموشی اختیار کر لیا کرتی تھی۔ احترام کےساتھ خاموشی یعنی آنکھوں سے حقارت اور طنزیہ پن نہ جھلکے۔ آدمی بہت عقلمند ہوتا ہے ایسی صورتحال کو بھانپ لیتا ہے۔

تو آپ ایسے میں کمرے سے باہر کیوں نہیں چلی جایا کرتی تھیں؟
اُس نے کہا: خبردار ایسی حرکت مت کرنا، اس سے تو ایسا لگے گا، تم اُس سے فرار چاہتی ہو اور اُسکا نقطہ نظر نہیں جاننا چاہتی. خاموشی تو ضروری ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ خاوند جو کچھ کہے اُسے ناصرف سُننا بلکہ اُس سے اتفاق کرنا بھی اُتنا ہی اشد ضروری ہے۔

میرا خاوند جب اپنی باتیں پوری کر لیتا تو میں کمرے سے باہر چلی جاتی تھی، کیونکہ اس سارے شور، شرابے کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اُسے آرام کی ضرورت ہے۔ میں اپنے روزمرہ کے گھریلو کاموں میں لگ جاتی، اور اپنے دماغ کو اُس جنگ سے دور رکھنے کی کوشش کرتی.

تو آپ اس ماحول میں کیا کرتی تھیں؟ کئی دنوں کیلئے لا تعلقی اور بول چال چھوڑ دینا وغیرہ؟

اُس نے کہا:
ہرگز نہیں، بول چال چھوڑ دینے کی عادت انتہائی گھٹیا اور خاوند سے تعلقات کو بگاڑنے کیلئے دورُخی تلوار کی مانند ہے۔ اگر تم خاوند سے بولنا چھوڑ دیتی ہو تو ہو سکتا ہے شروع میں اُس کیلئے یہ تکلیف دہ ہو۔ شروع میں وہ تم سے بولنے کی کوشش بھی کریگا۔ لیکن جس طرح دن گزرتے جائیں گے وہ اِس کا عادی ہوتا چلا جائے گا۔ تم ایک ہفتہ کیلئے بولنا چھوڑو گی تو اُس میں تم سے دو ہفتوں تک نہ بولنے کی استعداد پیدا ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ وہ تمہارے بغیر بھی رہنا سیکھ لے۔
🌹 خاوند کو ایسی عادت ڈال دو کہ تمہارے بغیر اپنا دم بھی گھٹتا ہوا محسوس کرے گویا تم اُس کیلئے ہوا کی مانند ہو. باد صبا بنو باد صرصر نہیں..

اُس کے بعد آپ کیا کرتی تھیں؟
اُس عورت نے کہا:
میں دو یا دو سے کچھ زیادہ گھنٹوں کے بعد جوس یا پھر گرم چائے لے کر اُس کے پاس جاتی، اور اُسے نہایت سلیقے سے کہتی، لیجئے چائے پیجئے۔ مجھے یقین ہوتا تھا کہ وہ اس لمحے اس چائے یا جوس کا متمنی ہوگا. میرا یہ عمل اور اپنے خاوند کے ساتھ گفتگو اسطرح ہوتی تھی کہ گویا ہمارے درمیان کوئی غصے یا لڑائی والی بات سرے سے ہوئی ہی نہیں۔ جبکہ اب میرا خاوند ہی مجھ سے اصرار کر کے بار بار پوچھ رہا ہوتا تھا کہ کیا میں اُس سے ناراض تو نہیں ہوں۔ میرا ہر بار اُسے یہی جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں تو ہرگز ناراض نہیں ہوں۔
اسکے بعد وہ ہمیشہ اپنے درشت رویے کی معذرت کرتا اور مجھ سے گھنٹوں پیار بھری باتیں کرتا تھا۔

🌷 تو کیا آپ اُس کی ان پیار بھری باتوں پر یقین کر لیتی تھیں؟
ہاں، بالکل. میں جاہل نہیں ہوں۔ کہ میں اپنے خاوند کی اُن باتوں پر تو یقین کر لوں جو وہ مجھے غصے میں کہہ ڈالتا ہے اور اُن باتوں کا یقین نہ کروں جو وہ مجھے محبت اور پرسکون حالت میں کہتا ہے؟

تو پھر آپکی عزت نفس کہاں گئی؟
کیا عزت اسی کا نام ہے کہ تم غصے میں آئے ہوئے ایک شخص کی تلخ باتوں پر تو یقین کرکے اُسے اپنی عزت نفس کا مسئلہ بنالو مگر اُس کی اُن باتوں کو کوئی اہمیت نہ دو جو وہ تمہیں پیار بھرے ماحول میں کہہ رہا ہو!
میں فوراً ہی اس غصے کی حالت میں دی ہوئی گالیوں اور تلخ باتوں کو بھلا کر اُنکی محبت بھری اور مفید باتوں کو غور سے سنتی تھی۔

🔷 جی ہاں، خوشگوار اور محبت بھری زندگی کا راز عورت کی عقل میں موجود ہے مگر یہ راز اُسکی زبان سے بندھا ہوا ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ﺳﺎﺱ اور بہو 🔷

شادی شدہ ضرور پڑھیں. یقینا لطف آئے گا. سبق آموز تحریر ہے.....

ﮐﺎﻓﯽ ﻋﺮﺻﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﯽ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺗﺒﺴﻢ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﻭﮦ ﺳﺴﺮﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ-
ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﯽ.

ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺒﺴﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﺎﺩﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﯽ.
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺎﺱ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺗﺒﺴﻢ ﭘﺮ ﻃﻨﺰ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺗﮭﺎ.

ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮨﻔﺘﮯ ﺑﯿﺖ ﮔﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺒﺴﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺗﮑﺮﺍﺭ ﺧﺘﻢ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ.
ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﺎﺍﺗﻔﺎﻗﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺑﮩﺖ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺴﮑﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﺎ ﺷﻮﮨﺮ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ.

ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺗﺒﺴﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﺎ ﺑﺮﺍ ﺭﻭﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮے گی ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺏ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ.

ﺗﺒﺴﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﭘﺎ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﯽ ﺟﻮ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﺑﯿﭽﺘﮯ ﺗﮭﮯ. ﺗﺒﺴﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺯﮨﺮ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ.
ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﭽﮫ ﺳﻮﭼﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﺒﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻭﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ. ﺗﺒﺴﻢ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ.
ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻟﻮﭨﮯ. ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻓﻮﺭﯼ ﺯﮨﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﺳﺐ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺷﮏ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ. ﺍﺳﻠﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺍﻧﮑﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺯﮨﺮ ﭘﮭﯿﻼﺋﯿﮟ ﮔﯽ.
ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺗﻢ ﮐﭽﮫ ﺍﭼﮭﺎ ﭘﮑﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﻨﺎ. ﺍﻭﺭ ﮨﺎﮞ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺷﮏ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺭﻭﯾﮧ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺳﺘﺎﻧﮧ ﮨﻮ. ﺍﻥ ﺳﮯ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﻣﺖ ﮐﺮﻧﺎ، ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﻣﻠﮑﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﺮﺗﺎﺅ ﮐﺮﻧﺎ.
ﺗﺒﺴﻢ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺋﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ.

ﮨﻔﺘﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﮩﯿﻨﮯ، ﺗﺒﺴﻢ ﺭﻭﺯ ﮐﭽﮫ ﺍﭼﮭﺎ ﭘﮑﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﻮ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ. ﺍﺳﮯ ﯾﺎﺩ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﺼﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﮯ، ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﺮﺗﺎﺅ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ.

ﭼﮫ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ، ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻧﻘﺸﮧ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺑﺪﻝ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺗﺒﺴﻢ ﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﺼﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ پانا ﺳﯿﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺏ ﺍﮐﺜﺮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﺍﻭﺭ ﻏﺼﮧ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﯽ.
ﭼﮫ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﺳﮯ ﺟﮭﮕﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﻥ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﻝ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ. ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺐ ملنے والوں ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻔﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ.
ﺗﺒﺴﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺳﺎﺱ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﺏ ﺍﯾﮑﺪﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻣﺎﮞ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ لگی تھیں.

ﺗﺒﺴﻢ ﮐﺎ ﺷﻮﮨﺮ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﺎ. ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺗﺒﺴﻢ ﭘﮭﺮ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﯽ...
ان سے کہنے لگی ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺯﮨﺮ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺅﮞ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ؟
ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯿﮟ ﮨﯿﮟ. ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺯﮨﺮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ.
ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮈﺭﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺯﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺟﻮ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯼ ﺗﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﮐﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ.
ﺯﮨﺮ ﺻﺮﻑ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺭﻭﺋﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎ ہے.

💞 اگر ہم اپنے رویوں، اخلاق اور سوچ کو درست کر لیں تو کئی پریشانیوں، بدگمانیوں اور اپنے آپ پر یا کسی دوسرے پر ظلم و زیادتی کرنے سے بچ سکتے ہیں.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 کامیاب ازدواجی زندگی 🌹

ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ میرا ساتھی مجھے دیکھ کر خوش ہو، ساتھی کو دیکھ کر آپ کی مسکراہٹ اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ آپ اسے دیکھ کر خوش ہوئے ہیں، آپ کی یہ کوشش بہت اثر دکھاتی ہے، ساتھی کو دیکھ کر آپ کی مسکراہٹ اچھا تاثر پیدا کرتی ہے جو کامیاب ازدواجی زندگی کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

شادی ایک ایسا لفظ ہے جس کو سن کر ذہن میں ایک خوبصورت، خوشیوں سے بھرپور زندگی کا تصور آتا ہے، مرد ہو یا عورت ہر ایک کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ شادی کہ بعد اس کی زندگی خوشیوں سے بھر جائے گی، لیکن بعض اوقات ہماری کوششوں کے باوجود ایسا نہیں ہوتا، بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو شادی کے بعد کی زندگی کو خوشگوار بناتی ہیں، جنہیں اگر ہم اپنا لیں تو ایک کامیاب ازدواجی زندگی گذار سکتے ہیں۔

🌹1۔ اعتماد کی فضا قائم کریں:
کامیاب شادی شدہ زندگی گذارنے کے لئے اعتماد کو بنیاد بنایا جائے، اور کسی کو بھی آپ اپنے ہمسفر کا نعم البدل تصور نہ کریں،چونکہ یہ سوچ آپ کی کامیاب زندگی کو متاثر کرسکتی ہے۔

🌹2۔ ایک دوسرے کی عزت کریں:
اپنے شریک حیات کی بات کو غور سے سنیں، ایک دوسرے کی عزت کامیاب زندگی کا اہم حصہ ہے، جب آپ اپنے ساتھی کی بات پر توجہ دیں گے تو اسے لگے گا کہ آپ اس کی عزت کرتے ہیں اور اس کی  بات کو اہمیت دے رہے ہیں اگر آپ کسی اہم کام میں مصروف ہیں اور اس کی بات نہیں سن سکتے تو  اسے اس بات سے آگاہ کیجئے اور کسی دوسرے وقت پر اس کی بات غور سے سنیئے.

🌹3۔ مل کر لطف اندوز ہوں:
ایسی چیزوں کا انتخاب کریں جنہیں آپ مل کر انجوائے کرسکتے ہیں، ایسے کاموں کا انتخاب کریں جنہیں آپ مل کر انجام دے سکتے ہیں چونکہ آپ ایک دوسرے کے شریک حیات ہیں یہ بھی خوش گوار ازدواجی زندگی کے لئے اہم ہے.

🌹4۔ غصے کے عوض غصہ نہ کریں:
اگر آپ کے ساتھی کو غصہ آرہا ہے تو آپ خود پرسکون رہنے کی کوشش کریں اور جب اس کا موڈ بہتر ہو جائےتو اپنا موقف سمجھانے کی کوشش کریں.

🌹5۔ محبت سے بات کریں:
اپنی بات صحیح ثابت کرنے کے لئے محبت سےسمجھائیں، اس طرح آپ کا ساتھی آپ کی بات زیادہ اچھے طریقے سے سمجھ سکتا ہے، زور اور زبردستی بگاڑ کا باعث بن جاتی ہے.

🌹6۔ محبت کا اظہار کریں:
اپنی محبت کا اظہار کرنے کا وقت ضرور نکالیں اور اپنے کمرے میں کسی تیسرے شخص کی بات نہ کریں دوسری تمام باتوں کو صبح ناشتے کے لئے رکھیں.

🌹7۔ ایک دوسرے کا ساتھ دیں:
کام کی زیادتی، پریشانی یا مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور اسے اکیلا نہ چھوڑیں.

🌹8۔ گڑے مردے نہ اکھاڑیں:
اپنے ساتھی کی غلطیوں کو بار بار یاد دلانا اچھی عادت نہیں ہے، اس سے آپ کے ساتھی کا دل ضرور دکھے گا، پرانی باتوں کو نظر انداز کر کے مستقبل کی اچھی باتوں کی پلاننگ کریں.

🌹9۔ لڑائی کو ختم کریں:
کوئی بھی مسئلہ ہو اسے ختم کرنے کی کوشش کریں اچھی باتیں اور محبت کا اظہار لڑائی کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے.

🌹10۔ اپنے ساتھی پر شک نہ کریں:
اپنے ساتھی کی ذاتی چیزوں کو شک کی بناء پر چیک نہ کریں، ایک دوسرے پر اعتماد کریں اور اپنی بات دوسرے سے نہ چھپائیں، کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد ایمانداری اور بهروسے پر قائم ہوتی ہے، اگر آپ اپنے ساتھی سے کوئی بات جاننا چاہیں تو اس کی جستجو میں رہنے کے بجائے اس سے پوچھ لیں.

🌹11۔ نرمی سے بات کریں:
اپنے ساتھی سے بات کرتے ہوئے نرمی اختیار کریں، بات چیت میں شکریہ اور برائے مہربانی جیسے الفاظ استعمال کریں، آپ کے انداز میں بناوٹ نہ ہو تاکہ آپ کے ساتھی کو اس بات کا اندازہ ہو کہ آپ اس کی حقیقت میں عزت کرتے ہیں.

🌹12۔ مسکرا کر استقبال کریں:
ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ میرا ساتھی مجھے دیکھ کر خوش ہو، ساتھی کو دیکھ کر آپ کی مسکراہٹ اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ آپ اسے دیکھ کر خوش ہوئے ہیں، آپ کی یہ کوشش بہت اثر دکھاتی ہے، ساتھی کو دیکھ کر آپ کی مسکراہٹ اچھا تاثر پیدا کرتی ہے جو کامیاب ازدواجی زندگی کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⚫ سہون بم دھماکا ⚫

هم سہون شریف سندھ پاکستان میں هونے والے بم دهماکے اور ایک سو سے زائد مؤمنین کے شهید هو جانے کی پرزور مذمت کرتے ہیں.
اور حکومت سندھ، صدر اور وزیراعظم پاکستان اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعہ کا نوٹس لیکر قاتلوں اور ملزمان کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور زخمیوں کا فوری اعلی درجے کا علاج کرایا جائے.
ہماری دعا ہے کہ زخمیوں کو خدواند کریم جلد شفا عطا فرمائے.

Fb.com/islamwitheman
https//t.me/islamwitheman
⚫ ISLAM WITH EMAN ⚫
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🔥شکر ھے ھمارا کوئی نھیں تھا🔥

سناؤ! کیسے ھو بھابی بچے کیسے ھیں؟ بس یار کیا بتاؤں رات بہت پریشانی و اضطراب میں کٹی پوری رات سو نھیں پایا.کیوں کیا ھوا خیر تو ھے؟ یار کیا بتاؤں احمد کو شدید بخار تھا نه میں سو پایا نه اسکی ماں پوری رات اس کے پاس بیٹھے رھے ایک طرف میں اور ایک طرف اسکی ماں. بس صبح کچھ بہتر ھوا تو میں آفس آگیا ورنه آج آفس آنا بھی مشکل ھو جاتا. ہاں یار کل ھمارے صاحبزادے نے بھی بہت پریشان کیا بھاگتے بھاگتے گر گیا ناک سے ایسا خون شروع ھوا که پهر بند ھونے کا نام ھی نه لے. الله الله کرکے پانچ سات منٹ تک خون رکا تو ھماری جان میں جان آئی. بس یار کیا کریں بچے بعض اوقات بہت پریشان کرتے ھیں. ھاں بات تو یہی ھے بچوں کو کچھ ھو تو جان نکلتی ھے.

🌐اچھا اور سناؤ کوئی نئی تازی! سنا ھے رات پھر کہیں دھماکه ھوا، میں نے تو رات خبریں ہی نہیں سنیں بچے ڈرامه دیکھ رھے تھے. ھاں یار کوئی اتنا بڑا دھماکه نہیں تھا بس تقریبا 100 لوگ جاں بحق ھوئے. ھوں... اتنی بڑی تعداد نہیں تھی سنا ھے سندھ میں ھوا. ھاں یار بس شکر ھے اسلام آباد میں سیکیوریٹی اچھی ھے. مرنے والے کون لوگ تھے؟ سنا ھے شیعه تھے. اچھا! چلو وه بیچارے تو مرتے ھی رہتے ہیں کوئی نئی بات نہیں. هاں یار لیکن مسئله یه ھے که پهر یه احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آتے ھیں اور لوگوں کو اذیت ھوتی ھے. صحیح بات ھے ایسے واقعات نہیں ھونے چاہییں لیکن اسکا یه مطلب نہیں که دوسروں کو اذیت دی جائے.

📌هاں آج اس طرح کی بہت سی بحثیں پاکستان کے مختلف سرکاری و غیرسرکاری اداروں، کالجوں یونیورسٹیوں، چوکوں، چوراہوں اور ھوٹلوں میں ہو رھی ھونگی. آج یه ملک جسے اسلام کے نام په لیا گیا تھا قتل و غارت گری کی آماجگاه بن چکا ھے. اگر آپ 20 کروڑ کی آبادی میں زنده ضمیر لوگ ڈھونڈنے نکلیں تو چند لوگ ھی مل پائیں گے.
قرآن نےکہا ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ھے اور ھم نے ساتھ کچھ اضافے اپنی طرف سے کرلیے شیعه انسان، سنی انسان، عیسائی انسان، ھندو انسان، سندھی انسان، پنجابی انسان وغیره. ھمارے ضمیر مرده ھوچکے ھیں روزانه اتنی خبریں سنتے ھیں که 50، 60 لوگوں کا مرجانا ھمارے لیے انتہائی معمولی بات ھے.

📝ھمارے نبی کریم نے فرمایا: جس نے صبح کی اور مسلمانوں کے حالات سے بے خبر رھا وه درحقیقت مسلمان کہلانے کا حقدار نھیں لیکن ھم جب صبح کسی مسلمان کا گلا کٹنے کی خبر سنتے ھیں تو شکر کرتے ھیں که ھمارا رشته دار نھیں تھا. ھمارے قوم یا فرقے کا نھیں تھا. شکر ھے دھماکه ھمارے شھر میں نھیں ھوا.
🖊کیا انسانیت اسی کا نام ھے. کیا عقل اور اسلام ھمیں ھمدردی کے یہی معیار عطا کرتے ھیں. اگرچہ میرے سب عزیز سلامت ھیں لیکن وه ٹکڑوں میں بٹ جانے والے لوگ بھی کسی کے عزیز ھیں.

😪😪😪سو لاشیں یعنی سو خاندانوں کی زندگیاں اجڑ گئیں. کتنے بچے یتیم ھوگئے کتنی ماؤں کی گودیاں ویراں ھوگئیں کتنی بہنوں سے بھائی چھن گئے. کیا ھمارے درمیان انسانیت کا رشته اسلام کا رشته پاکستانیت کا رشته جیسی کوئی چیز وجود نھیں رکھتی. اور پهر ھمارا معاشرہ انھیں احتجاج کا حق بھی نہیں دیتا حکومتی اداروں اور عدالتوں میں ان دکھیاروں کی کوئی شنوائی نہیں ھوتی.

😭😭😭اس ظلم کے خلاف بولنا پڑے گا ورنه آگ کسی کی دوست نہیں ہوتی یه آگ جب پهیلے گی تو سب کو لپیٹ میں لے لے گی. ریاستی ادارے بھی یہی سوچ رھے ھونگے که کوئی بات نہیں آج تو شیعوں کا نقصان ھوا ھے، نہیں یه پاکستان کا نقصان ھے 100 محب وطن و باوفا لوگوں کا خون بہا ھے.
حکمرانوں خدارا پاکستان کو تباہی سے بچالو ورنه کف افسوس ملتے رھو گے.
اور اے میری قوم خدارا ان بے گناھوں کا درد محسوس کرو تبھی مسلمان اور انسان کہلانے کے لائق ھو سکتے ہو.

●اخوت اس کوکہتےہیں چبھےکانٹا جوکابل میں.
تو دلی کا ھر اک پیر و جواں بیتاب ھو جائے...

t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 اخلاق اور خود سازی 🔷

■ عظیم مجاهدت: پیغمبر اکرم (ص) نے ایک سخت جنگ سے واپسی پر فرمایا کہ "یہ جہاد اصغر تھا اور اس کے بعد جہاد اکبر کی باری ہے"

جہاد اکبر یعنی نفس سے جہاد۔ جہاد بالنفس کو انسان کی ذاتی حدود تک محدود نہیں سمجھنا چاہئے.

نفسانی خواہشات، لذت کوشی، آرام طلبی، زیادہ کی خواہش اور بری عادتوں کے خلاف مجاہدت اہم اور جہاد بالنفس ہے.

■ خود سازی کے معنی
خود سازی کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ کوئی عیب ہے، ہمیں اس کو برطرف کرنا چاہئے۔ نہیں، بلکہ خودسازی کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ان عناصر کی طرف سے ہوشیار رہیں جو عیب پیدا کر دیتے ہیں.

■ خود سازی کی ضرورت
خودسازی دوسروں کی اصلاح، دنیا کی تعمیر اور سخت راستے طے کرنے کیلئے تمہید اور بنیادی شرط ہے.

انسان کے وجود میں تمام برائیوں کا سرچشمہ بھی موجود ہے، اسی طرح انسانی وجود میں تمام اچھائیوں اور کمالات کا سرچشمہ بھی موجود ہے۔ اگر انسان کوشش کرے تو اچھائیوں کا سرچشمہ اس کے لئے کھل جائے گا.

■ اخلاقی تربیت کی اہمیت
نوجوانوں، بچوں اور نونہالوں کی اخلاقی تربیت، واقعی تمام معاشروں کے لئے بے حد اہم ہے۔ جو معاشرہ اسلامی ہو اور اسلامی احکام و نظریات کی بنیاد پر قائم رہنا چاہتا ہو، لازمی طور پر اس کے سامنے دیگر معاشروں سے بلند تر مجاہدت ہوگی۔ کوئی بھی معاشرہ بغیر مجاہدت کے اصلاح کا راستہ نہیں پا سکتا۔ اس لئے کہ ہر جگہ ایسے عوامل ہیں جو مختلف ثقافتوں کے مطابق بچوں کو چوری، برائی، کاہلی اور بے راہروی سکھاتے ہیں اور بچے ان سے یہ چیزیں سیکھتے ہیں.

■ نوجوانی میں خود سازی
اگر ایک جملے میں مجھ سے پوچھا جائے کہ نوجوانوں سے کیا چاہتے ہو؟ تو میں کہوں گا کہ تعلیم، پاکیزگی اور کھیل کود۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوجوانوں میں یہ تین خصوصیات ہونی چاہئیں۔

انسان نوجوانی میں آسانی سے گناہوں سے اجتناب کر سکتا ہے۔ آسانی سے خود کو خدا سے نزدیک کر سکتا ہے۔

نوجوانی کے بعد بھی یہ تمام کام ممکن ہیں لیکن بہت مشکل ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ نوجوانی گناہ کرنے کا زمانہ ہے اور بڑھاپا توبہ کرنے کا۔ یہ غلط ہے۔ توبہ کرنے کا زمانہ بھی نوجوانی کا زمانہ ہی ہے۔ دعا کا زمانہ بھی نوجوانی کا زمانہ ہی ہے۔ ہر اہم کام کا زمانہ، نوجوانی کا زمانہ ہے۔

■ اخلاقی تربیت وتعلیم مسلط کرنا
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اخلاق کے مسئلے اور نوجوانوں کی اخلاقی تربیت پر توجہ نہیں دینی چاہئے بلکہ ان کو آزاد چھوڑ دینا چاہئے۔ حالانکہ یہ مستقبل کی نسل کے تئیں غفلت اور تساہلی ہے. اخلاقی تربیت، اخلاقی تعلیم کو مسلط کرنا نہیں ہے۔ اخلاقی تعلیمات کو مسلط کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ اسلام نے بھی ہم سے یہ نہیں کہا ہے اور یہ نہیں چاہا ہے۔ دباؤ اور زور زبردستی سے کام لیکر اخلاقی تعلیمات مسلط کرنے سے لوگ ریاکار، مکار اور منافق ہو جاتے ہیں جو اچھی بات نہیں ہے۔ لیکن تربیت بہت اہم ہے۔ صحیح طریقے سے تربیت کے ذریعے نوجوانوں کو دیندار بنانا چاہئے۔ بنیادی ہدف یہ ہونا چاہئے کہ نوجوان دیندار، دین پر یقین رکھنے والے، اسلامی اخلاق اور ان صفات کے مالک ہوں جو اسلام کی نگاہ میں انسانوں کی پسندیدہ صفات ہیں۔

■ خود سازی کی روش
امیرالمؤمنین حضرت علی (علیہ السلام) کے اس ارشاد گرامی سے کہ "من نصب نفسہ اماما فلیبدا بتعلیم نفسہ قبل تعلیم غیرہ" بالکل واضح ہے کہ (اصلاح کی) ابتدا اپنی ذات سے کرنی چاہئے۔ ہمیں پہلے خود اپنے پر توجہ دینا چاہئے۔ خودسازی کا پہلا اور اہم ترین قدم یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو، اپنے اخلاق کو اور اپنے کردار کو تنقیدی نگاہ سے دیکھے۔ اپنے عیوب پر غور کرے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرے۔ ہمیں اپنی لغزشوں کو کم کرنا چاہئے اور اس کام میں خدا سے مدد مانگنا چاہئے.

اپنی بداخلاقیوں اور بری صفات کا پتہ لگائیں۔ یہ مجاہدت کا دشوار حصہ ہے۔ خود پسندی و خود ستائی میں مبتلا نہ ہوں۔ اپنے عیوب کو دیکھیں اور ان کی فہرست اپنے سامنے رکھیں۔ کوشش کریں کہ اس فہرست میں مسلسل کمی آئے۔ اگر حاسد ہیں تو حسد کو ختم کریں، اگر ضدی ہیں تو ضد کو ختم کریں، اگر کاہل ہیں تو کاہلی کو ختم کریں، اگر دوسروں کا برا چاہتے ہیں اور بدخواہ ہیں تو بدخواہی کو دور کریں، اگر اپنے اندر عہدشکنی پائی جاتی ہو تو عہدشکنی اور بے وفائی کو ختم کریں۔ خداوندعالم کمال تک پہنچنے کے لئے جاری مجاہدت میں انسان کو بےیارومددگار نہیں چھوڑتا.

اس مجاہدت کا فائدہ سب سے پہلے خود مجاہدت کرنے والے کو پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ فائدہ معاشرے اور ملک و قوم غرض ہرجگہ اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں مختصر یہ کہ اس طریقے سے عوام کی دنیا و آخرت دونوں ‎سنور جاتی ہیں.

■ نفس کی پاکیزگی، انہیں مختصر جملوں سے ہو سکتی ہے؛ خدا پر توجہ، خدا سے الفت، ہر اقدام سے پہلے سوچنا، دنیا کے تمام اچھے لوگوں اور خدا کے تمام مخلص بندوں سے محبت اور سب کی بھلائی چاہنا.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🖊🕌شہبازقلندرکا مختصرتعارف🕌🖊

لال شہباز قلندر (1177ء تا 1274ء) جن کا اصل نام سید عثمان مروندی تھا، سندھ میں مدفون ایک مشہور صوفی بزرگ تھے۔ ان کا مزار سندھ کے علاقے سیہون شریف میں ہے۔ وہ ایک مشہور صوفی بزرگ، شاعر، فلسفی اور قلندر تھے۔ ان کا تعلق صوفی سلسلۂ سہروردیہ سے تھا۔ ان کا زمانہ اولیائے کرام کا زمانہ مشہور ہے۔ مشہور بزرگ شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی، شیخ فرید الدین گنج شکر، شمس تبریزی، جلال الدین رومی اور سید جلال الدین سرخ بخاری ان کے قریباً ہم عصر تھے۔

ولادت

آپ کی ولادت 538 ہجری بمطابق1143 عیسوی آذر بائیجان کے علاقے مروند میں ہوئی۔

نسبت

13 واسطوں سے جعفر صادق تک پہنچتا ہے سید عثمان مروندی بن سید کبیر بن سید شمس الدین بن سید نور شاہ بن سیدمحمود شاہ بن احمد شاہ بن سید ہادی بن سید مہدی بن سید منتخب بن سید غالب بن سید منصور بن سید اسماعیل بن سید جعفر صادق

القاب کی وجہ تسمیہ

آپ کے چہرہ انور پر لال رنگ کے قیمتی پتھر "لعل" کی مانند سرخ کرنیں پھوٹتی تھی اس وجہ سے آپ کا لقب لعل ہوا۔شہبازکا لقب امام حسن نے ان کے والد کو پیدائش سے پہلے بطور خوشخبری کے عطا کیا کہ ہم تمہیں اپنے ناناسے عطا ہوا تھا اس وجہ سے "شہباز لقب ہوا اور اس سے مراد ولایت کا اعلیٰ مقام ہے۔

ابتدائی حالات

آپ مروند (موجودہ افغانستان) کے ایک درویش سید ابراہیم کبیر الدین کے بیٹے تھے۔ ان کے اجداد نے عراق سے مشہد المقدس (ایران) ہجرت کی جہاں کی تعلیم مشہور تھی۔ بعد ازاں مروند کو ہجرت کی۔ آپ کو اس دور میں غزنوی اور غوری سلطنتوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا اور آپ نے اسلامی دنیا کے لا تعداد سفر کیے جس کی وجہ سے آپ نے فارسی، عربی، ترکی، سندھی اور سنسکرت میں مہارت حاصل کر لی۔ آپ روحانیت کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے اور مسلمانوں کے علاوہ اہلِ ہنود میں بھی بڑی عزت تھی۔ آپ سرخ لباس پہنتے تھے جس کی وجہ سے انہیں لال کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں جھولے لال بھی کہا جاتا تھا۔

وصال

آپ کا وصال21 شعبان المعظم 673 ہجری میں ہوا۔

مزار اور عرس

ان کا مزار سندھ کے شہر سیہون شریف میں ہے۔ یہ سندھی تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے اور 1356ء میں تعمیر ہوا۔ اس کا اندرونی حصہ 100 مربع گز کے قریب ہے۔ ان کا سالانہ عرس اسلامی تقویم کے مطابق 18 شعبان المعظم کو ہوتا ہے۔

بشکریہ سفینةالنجاة
غلام حسین معصومی

t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔴 شہباز قلندر 🔴

🔴قلندر ترکی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ایسا شخص جو دنیا کو چھوڑ کر صرف اللہ کا ہوجائے.

🔴جو لوگ سرکار امام حسین علیه السلام کے روضے کی زیارت کر چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس روضے میں حضرت ابراہیم مجاب کی قبر مبارک ہے۔
مجاب کے معنی جس کو جواب آتا هو.

🔴ابراہیم مجاب کو سرکار امام حسین علیه السلام سلام کا جواب دیتے تھے۔

🔴ابراہیم مجاب مولا حسین علیه السلام کے روضے میں بہت آتے اور وہیں انکا ٹھکانہ تھا۔
وہ شادی نہیں کرنا چاہتے تھے صرف روضے کی خدمت میں زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ ابراہیم مجاب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے پڑپوتے اور امام حسین علیه السلام کی ساتویں نسل میں تھے۔
ان کے خواب میں سرکار امام حسین تشریف لائےاور فرمایا کہ ابراہیم تم مروند جاؤ اور وہاں کے بادشاہ کی بیٹی سےشادی کرو۔ وہ تمہیں اپنی بیٹی کا رشتہ دے دے گا.
پھر ہم تمہیں ایک امانت دیں گے،
وہ شہباز جو رسول اللہ نے ہمیں دیا ہم تمہارے سپرد کریں گے۔

🔴حکم پا کر حضرت ابراہیم مجاب مروند آئے ، شادی کی اور ان کے ایک بیٹا ہوا۔
پیدائش کے وقت ایسا سرخ چہرہ جیسے یاقوت، ماں کے منہ سے نکلا "لعل"
باپ کے منہ سے نکلا "شہباز" آگیا
نام نکالا گیا تو نکلا "شاہ حسین"
نانا نے کہا اس نام پر قتل کردیا جائے گا اس لئے انکا نام رکھا گیا سید عثمان.

🔴جب حسینؑ نے عطا کیا تھا تو کچھ خصوصیت تو ہونی تھی، علم آسمانی عطا ہورہا تھا، دل نہ لگتا تھا.

🔴ایک بار مدرسے کے ساتھیوں کی کتابیں حوض میں ڈال دیں۔ ساتھیوں نے رونا شروع کیا تو ہاتھ ڈال کر کتابیں نکال دیں۔ کتابیں بالکل خشک تھیں۔

🔴سات سال کی عمر میں پورا قرآن حفظ کرلیا۔ اساتذہ حیران تھے کہ یہ بچہ مدرسہ میں ایک لفظ نہیں پڑھتا تو حفظ کیسے ہوا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب نجف میں علامہ حلی (رح) نے، ایران میں امیر خسرو (رح)، ہند میں حضرت نظام الدین اولیاء نے سات سات برس میں حفظ کیا۔

🔴ان کے بچپن کے دوست نے فرمایا کہ یہ ببول کے کانٹوں پر چلتا ہے اور نجانے اس کو کیا نظر آتا ہےکہ یہ یا حسین یا حسین کی صدا دیتا ہے اور پیروں سےخون جاری رہتا ہے۔

🔴پھر مروند سے آذربائجان، افغانستان، کشمیر، ملتان سے ہوتے ہوئے سندھ پہنچے جہاں سہون کو مسکن بنایا۔

🔴مرزا قلیچ بیگ جو حیدرآباد دکن کے تھے ان کے پوتے نے کچھ تبرکات دکھائے جو انکو جدی پشتی منتقل ہو رہے تھے۔ انہوں نے صندوق سے ایک طوق نکالا۔

🔴 کہا جاتا ہے کہ یہ وہ طوق تھا جو امام زین العابدین علیہ السلام کو کربلا سے شام تک پہنایا گیا۔ اس کے بارے میں بتاتے ہیں کہ یہ ایک پتھر کی چٹان تھی جس میں گردن کے حصے کو کاٹ کر اسے گردن میں پہنادیا گیا اور اس کا وزن پورے شانوں اور ہاتھوں پر تھا۔ ہاتھوں کو صلیب کی طرح رکھنا پڑتا اور ہاتھوں کے نیچے دو اور پتھر کی سلیں رکھ کر لوہےکی کیلوں سے باندھ دیا جاتا اور پھر جب پیچھےسے تازیانہ مارا جاتا تو امام آگےکی طرف وزن کو سنبھالتے ہوئے جھکتے، کبھی دائیں جانب، کبھی بائیں جانب، کبھی آگے۔ اور عرب کی جھلسا دینےوالی گرمی میں جب وہ طوق گرم ہوتا تو گردن اور ہاتھوں پر چھالے پڑ جاتے۔

🔴اس طوق کا آدھا حصہ قلیچ بیگ کے دکن میں اور باقی آدھا حصہ قلندر سائیں کی قبر پر لٹکا ہوا ہے۔ قلندر سائیں عاشور کے روز ویسا ہی طوق بنا کر پہن لیتے اور عاشور کے جلوس میں اسی انداز میں جاتے، کبھی آگے گرتے، کبھی دائیں، کبھی بائیں.

🔴جو لوگ انکو دیکھتے وہ بھی اسی طرح کرنے کی کوشش کرتے اس طرح قلندر سائیں کے غم منانے کے انداز کو دھمال کا نام پڑا۔
قلندر سائیں جلوس میں چلتےجاتے اور یا حسین یا حسین کی صدائیں بلند کرتے جاتے۔

🔴کاش کہ آج قلندر کے پیروکار صحیح نقشِ قدم پر چلیں، حسین حسین کریں نہ کہ موسیقی کی دھمال ڈالیں۔

👆 ایک مراسلہ 👆

t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
👁 نظر بد اور اسکا علاج 👁

ہمارے ہاں پائے جانے والے عقائد میں سے متعدد عقائد افراط وتفریط کا شکار، اور بہت سی غلط فہمیوں کی نذر ہوچکے ہیں۔ انہی میں سے ایک عقیدہ "نظر بد کا لگنا" بھی ہے۔
نظر بد ایک ایسا موضوع ہے، جس کے بارے میں ہمارے معاشرے میں دو متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نظر بد کی دراصل کوئی حقیقت نہیں ہوتی اور یہ محض وہم ہے، اس کے سوا کچھ نہیں ہے. دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس پر یقین تو رکھتے ہیں، لیکن اس کے علاج میں کسی حد کی پرواہ نہیں کرتے ہیں، اور شرک کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔

نظر بد کا لگنا حق ہے بہرحال عقل وعلم اور مشاہدہ سے ثابت ہے کہ انسان حیرت انگیز نفسانی اور روحانی توانائیوں کا مالک ہے جنکے مختلف منفی یا مثبت نتائج نکل سکتے ہیں-
بد نظری جسے بری نظر، نظر بد، نگاہ بد، چشم بد "عين الحسود" یا چشم زخم کہا جاتا ہے.
یه ایک حقیقت ہے جسکو قرآن مجید اور احادیث نے قبول کیا ہے اور اس کی کئی مثالوں کی طرف اشارہ کیا ہے.

امام صادقؑ فرماتے ہیں:
"اگر قبروں کو کھول کے دیکھو گے تو معلوم ھوگا کہ اکثر مردے چشم زخم کی وجہ سے دنیا سے چلے گئے ہیں، کیونکہ چشم زخم ایک حقیقت ہے.
(بحارالانوار، ج60، ص250)

مفسرین کا یہ اعتقاد ہے کہ حضرت یعقوبؑ کے اس حکم کا سبب یہ تھا کہ حضرت یوسف۴ کے بھائیوں کا ایک ساتھ داخل ھونا، ممکن تھا بعض لوگوں کی توجہ کا مرکز اور چشم زخم کا سبب بن جاتا کیونکہ وہ سب حسن و جمال اور قد و قامت میں حضرت یوسف علیہ السلام جیسے حسین وجمیل تھے.
(تفسير نمونه ج6 ص29و 30)

عمل وظیفہ:
اسلام نے بد نظری کے برے اثرات سے بچنے کے لئے توبہ اور یاد خدا کا نسخہ پیش کیا ہے اس کے علاوہ صدقہ دینے کی بھی تاکید کی گئی ہے.

امام صادقؑ فرماتے ہیں:
"اگر گھر سے شان وشوکت اور قابل توجہ حالت میں باہر جانا چاہتے ھو تو معوذتین (سورہ فلق اور سورہ ناس) پڑھنا تاکہ کوئی آنکھ تم پر اثر انداز نہ ھوسکے.
(بحارالانوار، ج92، ص1330)

ایک دوسری روایت میں حضرت {ع} فرماتے ہیں:
اگر چشم زخم سے کبھی ڈر گئے تو پڑھنا چاہئے:
"ماشاءاللہ لا قوہ الاباللہ العلی العظیم"
(بحارالانوار ، ج60، ص26)

ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اکرم {ص} نے امام حسن {ع} اور امام حسین{ٰٰع} کو چشم زخم سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک دعا پڑھی، جس کا مضمون یہ تھا:
"اعیذكما بكلمات الله التامه و اسماءالله الحسنی كلها عامه من شر السامه و الهامه و من شر كل عین لامه و من شر حاسد اذا حسد" یا یه جمله (أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ الله التّامّةِ، مِنْ كُلّ شَيْطَانٍ وهَامّةٍ، ومِنْ كُلّ عَيْنٍ لاَمّةٍ)
یعنی، میں تمھیں خداوند متعال کے تمام کلمات اور اسمائے حسنی کے حوالے کرتا ھوں تاکہ تم موت، موذی حیوانات، چشم بد اور حسود کی حسدورزی سے محفوظ رھو گے-"
اس کےبعد پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
"حضرت ابراھیم {ع} نے اپنے دو بیٹوں، اسحاق و اسماعیل کے لئے ایساہی کیا ہے.
(بحارالانوار ، ج60، ص60و26 )

یا ایک اور عمل:
[مكارم الأخلاق] لِلْعَيْنِ مَعْمَرُ بْنُ خَلَّادٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ الرِّضَا ع بِخُرَاسَانَ عَلَى نَفَقَاتِهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَتَّخِذَ لَهُ غَالِيَةً فَلَمَّا اتَّخَذْتُهَا فَأَعْجَبَ بِهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ لِي يَا مَعْمَرُ إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ فَاكْتُبْ فِي رُقْعَةٍ الْحَمْدَ لِلَّهِ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ وَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ وَ اجْعَلْهَا فِي غِلَافِ الْقَارُورَةِ وَ مِثْلُهُ وَ رُوِيَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ قَالَ الْعَيْنُ حَقٌّ وَ لَيْسَ تَأْمَنُهَا مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ وَ لَا مِنْكَ عَلَى غَيْرِكَ فَإِذَا خِفْتَ شَيْئاً مِنْ ذَلِكَ فَقُلْ ما شاءَ اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ثَلَاثاً وَ قَالَ إِذَا تَهَيَّأَ أَحَدُكُمْ تَهْيِئَةً تُعْجِبُهُ فَلْيَقْرَأْ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ مَنْزِلِهِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّهُ بِإِذْنِ اللَّهِ وَ عَنْهُ ع قَالَ مَنْ أَعْجَبَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَلْيُبَارِكْ عَلَيْهِ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ. (بحارالأنوار، ج92، ص128) الْجَوَامِعُ لِلطَّبْرِسِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ص مَنْ رَأَى شَيْئاً يُعْجِبُهُ فَقَالَ اللَّهُ اللَّهُ ما شاءَ اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ. (بحارالأنوار، ج92، ص133)

مندرجہ بالا عبارت کا مفہوم:
الحمد للہ اور قل ھواللہ احد اور سورہ "فلق" اور سورہ "ناس" اور آیت الکرسی پڑھنی چاہئے. ایسے مواقع پر «ماشاء الله» و «تبارک الله» یا «اللَّهُ اللَّهُ ماشاءَاللَّهُ لاقُوَّةَإِلَّابِاللَّهِ» جیسی عبارتیں پڑھنی چاہئے.

بشکریہ تحریر: اے ایس امجد

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👁 دفع نظر بد 👁
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں.
جب کوئی شخص ایسی زینت کرے
جس پر نظربد کا خوف ھو. تو بندے کو چاہیے کہ اپنے گھر سے نکلتے وقت ان دو سورتوں کی تلاوت کرے.
١. قل اعوذ برب الفلق.
٢. قل اعوذ برب الناس.
تو خدا وندعالم اسے بدنظرے کی نظر سے بچائے رکھے گا.

🔹 دفع ایکسیڈنٹ
اور اسی طرح اگر آپ سفر کے ارادے سے گھر سے نکلتے ہیں تو معصومین علیھم السلام فرماتے ہیں کہ آپ صرف 7 مرتبہ
آیت الکرسی کی تلاوت کر لیں. تو آپ کا سفر بے خطر رہے گا.
اور اگر خدا نخواسطہ آپ کا ایکسیڈنٹ ھو جاتا ھے تو آپکو کوئی گہرا زخم نہیں آئے گا. مطلب آپ پھر بھی محفوظ رہیں گے.
حوالہ. تحفة العوام ، ص: 566.

✍🏻 منجانب اجر رسالت ص ✍🏻

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 حوض کوثر 🔷

حَوْض کوثر، قیامت کے مواقف میں سے ہے. حدیث ثقلین اور دیگر احادیث کے مطابق قیامت کے دن قرآن و اہل بیت علیہم السلام اسی حوض کے کنارے پیغمبر اکرم (ص) کے حضور وارد ہونگے اور پیغمبر اکرم (ص) اپنی امت میں سے ہر مؤمن کے ساتھ اسی حوض کے کنارے ملاقات فرمائیں گے. اور مؤمنين کی سقائیت کریں گے.

🔹 حوض کا معنی اور استعمال
حوض عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی پانی کے اکھٹے کرنے کی جگہ کے ہیں. جسے پانی کو محفوظ کرنے کیلئے زمین کے اندر کھود کر یا زمین کے اوپر دیواریں کھڑی کر کے بنایا جاتا ہے. جدید لغت میں اسے برکہ یا تالاب سے تعبیر کیا جاتا ہے.(1)

🔹 قرآن و تفاسیر میں تذکرہ
لفظ حوض اور اس کا دیگر مشتق قرآن مجید میں نہیں آیا ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے سورہ کوثر کی پہلی آیت میں لفظ کوثر کو حوض کوثر یا حوض پیغمبر(ص) سے تعبیر کیا ہے، جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے.(2)

🔹 احادیث میں تذکرہ
علماء نے حوض سے متعلق احادیث کو متواتر اور حوض کوثر کے وجود پر اعتقاد رکھنے کو ایمان کی شرائط میں سے شمار کیا ہے.(3)

بَقی بن مَخلد قُرطبی (متوفی 286ھ) نے حوض کوثر سے متعلق روایات کو اپنی کتابوں میں "مارُوی فی الحوض والکوثر" کے عنوان سے جمع کیا ہے. ابوالقاسم ابن بَشکوال (متوفی 578ھ) نے بھی اس کتاب پر حاشیہ لکھا.

عبدالقادر بن محمد عطا صوفی نے ان دو کتابوں کو "حوض اور کوثر" سے متعلق احادیث کو "مرویات الصحابہ فی الحوض والکوثر" کے عنوان سے ذکر کیا ہے.

🔹 حوض کوثر کی وسعت
اس حوض کی وسعت اور اس کے کنارے مؤمنین کو پلائے جانے والے جاموں کی تعداد کے بارے میں قدیم اسلامی مصادر میں تفصیل سے ذکر ملتا ہے.

پیغمبر اکرم(ص) سے مروی بعض روایات میں اس حوض کی وسعت کو "عَدَن" سے "عَمان" یا کعبہ سے بیت المقدس یا صنعا سے بُصری اور اس کے کنارے پلائے جانے والے جاموں کی تعداد ستاروں سے زیادہ بتائی گئی ہے.(4)

🔹 ساقی اور لوگ
شیعہ اور اہلسنّت روایات کے مطابق حضرت علی علیہ السلام ہی ساقی کوثر ہیں. اور پیغمبر(ص) کے اعوان و انصار آپ کے ساتھ اس حوض کے کنارے موجود ہوتے ہیں.

حدیث ثقلین کے مطابق قرآن و عترت پیغمبر(ص) قیامت کے دن پیغبر اکرم (ص) کے حضور وارد ہونگے.(5)

امام علی علیہ‌السلام کا حوض کوثر کے کنارے پیغمبر اکرم کے حضور وارد ہونے والوں میں سب سے پہلی شخصیت جانا گیا ہے.(6)
اور حضرت علی علیہ السلام منافقین کو یہاں آنے سے روکیں گے.(7)

🔹 حوض کوثر سے محروم افراد
حدیث نبوی کے مطابق وہ افراد جو پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد دین میں بدعات گزاری اور ارتداد کے مرتکب ہوئے ہیں انہیں حوض کوثر پر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اور دھتکار دیا جائے گا.(8)

اسی طرح احادیث میں آیا ہے کہ ہر وہ شخص جو حضور(ص) پر ایمان نہیں لایا وہ بھی قیامت کے دن حوض کوثر سے محروم رہے گا.(9)

📚 حوالہ جات
1=محمد بن محمد زَبیدی، تاج العروس من جواہرالقاموس.
عبدالرحیم بن عبدالکریم صفی پوری، منتہی الارب فی لغةالعرب.
2=طوسی، التبیان فی التفسیر القرآن.
محمد بن احمد قرطبی، تفسیر القرطبی.
احمد بن محمد میبدی، کشف الاسرار وعدہ الابرار.
محمد بن شاہ مرتضی فیض کاشانی، تفسیرالصافی.
احمد بن محمد میبدی، کشف الاسرار وعدۃالابرار.
حسین بن علی ابوالفتوح رازی، تفسیر روح الجِنان.
محمد بن احمد قرطبی، الجامع لاحکام القرآن.
محمدبن شاہ مرتضی فیض کاشانی، تفسیرالصافی، ذیل آیہ.
عبدالرحمان بن ابی بکر سیوطی، الدرالمنثور فی التفسیر بالمأثور.
''إِنَّا أَعْطَینَاک الْکوْثَرَ''
3=ابن بابویہ، الاعتقادات، ج1، ص65.
محمد بن محمد غزالی، احیاءعلوم الدین.
یحیی بن شرف نووی، صحیح مسلم بشرح النووی.
محمد عبدالرؤوف بن تاج العارفین مُناوی، فیض القدیر: شرح الجامع الصغیر.
4=ابن حنبل، مسندالامام احمدبن حنبل.
ابن بابویہ قمی المعروف شیخ صدوق، کتاب الاعتقادات.
مسلم بن حجاج، الجامع الصحیح.
عبدالرحمان بن ابی بکر سیوطی، الجامع الصغیر.
ابن مَخلد، ماروی فی الحوض و الکوثر، مرویات الصحابۃ رضی اللّہ عنہم فی الحوض و الکوثر.
5=موفق بن احمد اخطب خوارزم، المناقب.
احمد بن عبداللّہ طبری، ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی.
ابن بابویہ، کتاب الخصال.
احمد بن عبداللّہ ابونعیم اصفہانی، حلیۃالاولیاء و طبقات الاصفیاء.
ابن حنبل، مسندالامام احمدبن حنبل.
محمد بن عبداللّہ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین.
علی بن ابوبکر ہیثمی، مجمع الزوائد.
علامہ مجلسی، بحارالانوار.
6=محمد بن عبداللّہ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص136.
ابن عبدالبرّ، الاستیعاب فی معرفۃالاصحاب، ج3، ص1090.
7=احمد بن عبداللّہ طبری، ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی، ج1، ص9.
8=مسلم بن حجاج، الجامع الصحیح، ج8، ص69-65.
9=علی بن عیسی بہاءالدین اردبیلی، کشف الغمۃ فی معرفۃالائمۃ.
مجلسی، بحارالانوار.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💫 نیت اور عمل 💫

لقماﻥ ﺣﮑﯿﻢ آدھی رات کو ﻧﻤﺎﺯ شب کے لئے ﺑﯿﺪﺍﺭ ھوا۔۔۔۔۔!
ﺍپنے مالک کو آواز دی کہ اٹھو کہیں ایسا نہ ھو کہ قافلے سے پیچھے رہ جاو۔۔۔۔۔!

مالک نے نیند کو ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩی اور کہنے لگا:
سو جاو ﻏﻼﻡ۔۔۔! ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﮐﺮﯾﻢ ھے ۔۔۔!

ﻧﻤﺎﺯ ﺻﺒﺢ کا وقت آگیا؛
ﻟﻘﻤﺎﻥ نے ﺩﻭﺑﺎﺭﻩ ﺍپنے مالک کو جگایا ﺗﺎکہ کہیں نماز گزاروں کے قافلے سے پیچھے نہ رہ جائے ۔۔۔۔۔!
لیکن اب بھی مالک نے وھی جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔!

سورج ﻃﻠﻮﻉ کر رھا تھا؛ ﻟﻘﻤﺎﻥ ﺩﻭﺑﺎﺭﻩ مالک کے سراغ میں آیا ﮐﻪ ﺍے بے خبر۔۔۔!
ﻧﻤﺎﺯﮔزاروں کے قافلے سے چھوٹ گئے ھو۔۔۔۔!

اٹھو کہ پوری کائنات، ﺳﺠﻮﺩ ﻭ ﺗﺴﺒﯿﺢ کی حالت میں ھے لیکن تجھے خواب ﻏﻔﻠﺖ نے دبوچ ﺭکھا ھے۔۔۔۔۔!
اب مالک نے جواب دیا کہ دل صاف ھونا چاھیئے، ﻋمل مھم نھیں۔۔۔!
ﺧﺪﺍ ﮐﺮﯾﻢ ھے اسے ھماری ﻋﺒﺎﺩﺕ کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔!

دن ھوا مالک نے گندم کے بیج کا ایک تھیلا بونے کے لئے ﻟﻘﻤﺎﻥ کو دیا۔۔۔۔۔!
ﻟﻘﻤﺎﻥ نے اسے فروخت کر دیا اور ایک مٹھی گھاس پھوس کا بیج زمین میں بو دیا۔۔۔۔۔!

جب کاٹنے کا وقت آیا، مالک کیا دیکھتا ھے کہ کھیت میں گھاس پھوس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔۔۔۔!
اس نے ﻟﻘﻤﺎﻥ سے اس کی وجہ دریافت کی۔۔۔۔!

ﻟﻘﻤﺎﻥ نے کہا:
ﺍے ﺍﺭﺑﺎﺏ مجھے آپ کے ﻋﻤﻞ سے ایسا لگ رھا تھا ﮐﻪ ﺍﮔﺮ ﻧﯿﺖ ﺻﺎﻑ ھو تو ﻋﻤﻞ کوئی خاص مہم نہیں۔۔۔!

ﻟھﺬﺍ میں نے قیمتی ﮔﻨﺪﻡ ﺯﻣﯿﻦ پر نہیں گرائی، بلکہ ایک مٹھی فالتو سے گھاس کا بیج زمین پر ڈال دیا۔۔۔۔!!!!

اس لئے کہ آپ نے خود کہا تھا ﮐﻪ ﻧﯿﺖ اﻭر ﺩﻝ ﺻﺎﻑ ھونا چاھیئے۔۔۔۔۔!
ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﮐﺮﯾﻢ ھے اسے ھمارے ﻋﻤﻞ کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔!

*☝️بهشت‌را به بها دهند نه بهانه*

(جنت قیمت پے ملتی ھے بہانوں پے نہیں)

بشکریہ تحقیق: ظھور نقوی.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کوشش اور توفیق 🔷

ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.

ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺗﻮ ﭘﮍﮬﻮﮞ ﮔﺎ ﻧﺎﮞ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﻧﮏ ﮔﯿﺎ.

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺁﭖ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟

اس نے جواب دیا:
ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﻧﺎﮞ! ﮨﻢ ﺟﺘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﺖ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺩﮮ ﮔﺎ ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﺎﮞ، ﻭﮦ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﯿﺴﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ.

ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﺘﺎ ﺭﮨﺎ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺎﺕ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ.

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺁﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﮯ؟
ﺟﯽ! ﻣﮑﻤﻞ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ.

ﺍﭼﮭﺎ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﻧﺎﮞ ﮐﮧ ﺟﺐ ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺑﮩﻼﯾﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺑﮭﺎﮔﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ.

ﺟﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ! ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﻞ گئے ﺗﮭﮯ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺪﺭﮮ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ،
ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﺍ،،
ﭘﮭﺮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﺍ،
ﺩﯾﮑﮭﻮ!
ﺍﯾﮏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ، ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﻮﺷﺶ.
ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﻮﺷﺶ ﮨﮯ.
ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺟﺐ ﺑﮭﺎﮔﮯ ﺗﻮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻞ گئے،

ﺍﺏ ﺫﺭﺍ ﻏﻮﺭ سے ﺳﻮﭼﻮ!
ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺗﻮ ﻧﺒﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺒﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻋﺎﻡ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﻠﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺁﭖ ﺑﮭﺎﮔﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ...
ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﺭﻭﺍﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﺎﻟﮯ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺁﭖ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺑﮭﺎﮔﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﺎﺑﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺎﮐﮧ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻮﻝ ﺳﮑﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﮭﺎﮔﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﺩﺭﺣﻘﯿﻘﺖ ﺁﭖ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ، ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺟﺐ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﯽ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ "ﺗﻮﻓﯿﻖ " ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻞ گئے، ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻧﮧ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﻮ
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻠﺘﮯ،
ﻭﮦ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﻦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ،
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺑﺎﺕ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﯽ:
ﺗﻮ ﺑﮭﺌﯽ!
ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻭ، ﺟﺐ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ، ﯾﻮﮞ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺭﮨﮯ ﺗﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ.

ﺗﻮ ﺟﺘﻨﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﻮ ﮐﺮﻭ،
ﺑﺎﻗﯽ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﺍ،
ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻼﻡ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺻﻒ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﭘﮍﺍ۔۔۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👹 غلبہ ابلیس 👹

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت موسٰی علیہ السلام بیٹھے ہوئے تھے کہ ابلیس آیا اور ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور سلام کیا.

حضرت موسٰی۴ نے پوچھا:
تو کون ہے..؟
اس نے جواب دیا:
میں ابلیس ہوں.

حضرت موسٰی۴ نے فرمایا:
خدا تجھے کسی کا ہمسایہ قرار نہ دے.
ابلیس نے کہا:
اللہ کے نزدیک آپ کا بڑا مقام ہے اس لئے میں آپ کو سلام کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں.

حضرت موسٰی۴ نے فرمایا:
اچھا مجھے یہ تو بتا کہ وہ کونسا گناہ ہے جس کی وجہ سے تو لوگوں پر غالب آجاتا ہے اور لوگ تیرے قابو میں آ جاتے ہیں..؟
ابلیس نے کہا:
"جب کوئی شخص اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگتا ہے اور اس کے ذہن میں انا پرستی اور تکبر پیدا ہوتا ہے تو وہ فورا میرے قبضہ اختیار میں آ جاتا ہے. وہی لوگ میرا شکار ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو بڑا تصور کرتے ہیں اور اپنے چھوٹے سے کام کو بڑا کارنامہ سمجھتے ہیں اور اپنے گناہوں کو ہلکا محسوس کرتے ہیں. ایسے لوگ بڑی آسانی کے ساتھ میرے جال میں پھنس جاتے ہیں۔"

(پند تاریخ، شیخ موسٰی خسروی، جلد 3، صفحہ 56)

نصیحت:
کتنے لوگ ہیں جو کسی بھی وجہ سے اپنے آپ کو دوسرے سے بڑا سمجھتے ہیں اور ہماری زندگیوں میں کتنے ایسے مواقع آتے ہیں جن میں ہم اپنی جھوٹی انا کو لے کر کیا کیا کچھ کرتے ہیں.

کتنے گناہ ہیں جنہیں ہم ہلکا/ چھوٹا سمجھ کر انجام دیتے رہتے ہیں جیسے کہ ایک عام سا جملہ سننے میں ملتا ہے لوگوں سے جب انہیں کسی غلط کام سے روکا جائے تو وہ آگے سے کہتے ہیں کہ اتنے گناہ ہم کرتے ہیں تو ایک اور سہی یا کہتے ہیں کہ ہم کونسا کوئی بہت نیک ہیں۔ یہ جملے کس قدر بڑی جسارت ہیں کہ آپ خود ہی سوچئے کہ ہم نیک نہیں ہیں تو ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بھی اپنے آپ کو محفوظ رکھیں کیونکہ ہمارا دامن پہلے ہی گناہوں سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن ہم الٹا مزید گناہ کرتے ہیں عجیب و غریب بہانوں کے ساتھ۔ جب کہ دنیاوی معاملات میں ہم چھوٹے سے چھوٹے کانٹے سے بھی اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ یہ دنیا اور آخرت کے اصولوں میں اتنا فرق و تضاد کیسے ہو گیا.؟؟

ہم میں سے کتنے ہی لوگ ہیں جو معمولی سا دینی کام انجام دے کر مطمئن ہو کر بیٹھ جاتے ہیں کہ بس بہت کام کر لیا ہم نے۔ نہیں بھائی امام حسین علیہ السلام نے علی اکبر (ع)، قاسم (ع) و عباس (ع) جیسوں کو دے کر بھی علی اصغر (ع) کو پیش کیا ہے۔ امام ان کو قربان کر کے مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ گئے کہ بس بہت دے دیا میں نے بہت کرلیا میں نے اب باقی علی زین العابدین، باقر و صادق علیھم السلام اور دوسرے آنے والے کریں گے.

لہذا یہ وہ باتیں ہیں جن سے شیطان ہم پر غالب آ جاتا ہے اور یہاں پر ہم اس کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ کیونکہ آپ خود کی سوچ لیں کہ جو شخص انا کا شکار ہو جائے، تکبر جس میں آ جائے، جو اپنے آپ کو بڑا تصور کرنے لگے، گناہوں کو معمولی سمجھنے لگے، اپنے آپ سے مطمئن ہو جائے ایسا شخص پھر کیا کیا کچھ کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ پریکٹیکل مثالیں سب کے سامنے ہونگی۔

پھر سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ایسا شخص کبھی اس بات کو تسلیم بھی نہیں کرے گا کہ وہ یہ سب کر رہا ہے اور وہ اپنے آپ کو مطمئن کرتا چلا جائے گا کیونکہ شیطان اس پر قابو پا چکا ہے اور وہ شیطان کے جال میں پھنس چکا ہے اور پھر وہ آخرت میں شدید خسارے کی حالت میں اٹھایا جائے گا جہاں پر وہ اے کاش اے کاش کہہ رہا ہو گا.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/75
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌷پتھر میں کیڑے کو غذا 🌷

جب حضرت موسٰی کلیم اللہ خداوندمتعال کی طرف سے حکم دیئے گئے کہ جائیں فرعون کو خدا کی عبادت و پرستش کی دعوت دیں، تو موسٰی علیہ السلام اس کام کو بڑا خطرناک کام سمجھے ھوئے تھے،
انھیں اپنے بچوں اور اھل خانہ کی فکر لگی ھوئی تھی، خدا کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں:
(پروردگارا! میری بیوی بچوں کی کون دیکھ بھال کرے گا.؟)
تو خدا کی ذات کی طرف سے جواب آیا اے موسٰی اپنا عصا پتھر پر مارو.
موسٰی علیہ السلام نے اپنا عصا پتھر پر مارا اور پتھر دو ٹکڑے ھوگیا. اس پتھر کے اندر سے ایک اور پتھر نکلا، آپ نے اس کےاوپر بھی عصا مارا، اس کے اندر سے ایک اور پتھر نمایاں ھوا، آپ نے اس کے اوپر بھی اپنا عصا مارا تو اس تیسرے پتھر کے سینے سے ایک چھوٹا سا کیڑا نکلا جس کے منہ میں غذا کا چھلکا تھا جسے وہ کھا رہا تھا.
آپ کے کانوں سے حجاب ہٹائے گئے تو آپ نے سنا کہ وہ کیڑا کہہ رہاہے:
"سبحان من يرانى ويسمع كلامى ويعرف مكانى ويذكرنى ولاينسانى."
ترجمہ:
پاک و پاکیزہ ھے وہ ذات جو مجھے دیکھ رہی ھے، اور میری بات کو سن رہی ھے، اور میرے ٹھکانے کو بھی جانتی ھے، اور مجھے یاد بھی رکھے ھوئے ھے، اور مجھے بھلاتی نہیں ھے.

اس طریقے سے موسٰی علیہ السلام جان گئے کہ خداوند عالم اپنی تمام مخلوق کی رزق و روزی کا ضامن ھے، اسی کے بھروسے پر سب کام ھو رہے ہیں.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے

📚 تفسیرروح البیان، ج4، ص:96، 97. بحوالہ داستان بوستان، ج4، ص:102، 103.

۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 توسل 🔷

توسل کی حکمت اور اسکی ضرورت کیا ہے؟ جب اللہ موجود ہے تو پھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے کیوں متوسل ہوں؟

توسل کی ضرورت
بیشک انسان مادی اور معنوی کمالات کو حاصل کرنے کے لئے اپنے علاوہ کسی دوسرے کا محتاج ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ عالم ، اسباب و مسببات کے نظام کی بنیاد پر قائم ہے۔ مادی و معنوی کمالات کو حاصل کرنے کے لئے اسباب اور وسیلوں سے متمسک ہونا اس نظام کا لازمہ ہے۔

اس وجہ سے قرآن کریم انسان کو معنوی کمالات اور بارگاہ خداوندی سے تقرب حاصل کرنے کے لئے اسباب سے متوسل ہونے کا حکم دیتا ہے۔

یا ایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ و ابتغوا الیہ الوسیلة (سورہ مائدہ۔ آیہ35)
ترجمہ: اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث میں بھی دعا کے وقت اولیاء خدا سے توسل کی تاکید کی گئی ہے۔
جیسا کہ حدیث نبوی میں جو شیعہ اور سنی کے نزدیک معتبر ہے ذکر ہوا ہے:
کلّ دعاء محجوب حتی یصلی علی محمد و آل محمد (میزان الحکمہ،جلد 6 صفحہ 1662۔ کنز العمال حدیث 2153)

ترجمہ:
ہر دعا محجوب ہے (یعنی قبول نہیں ہوگی) مگر یہ کہ محمد و آل محمد پر صلواة بھیجی جائے۔

اس بناء پر جس طرح دعا کی اصل وسیلہ اور اسباب رحمت سے ہے اور خدا سے مستقیم حاجت طلب کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح دعا کے وقت اولیاء الہی سے متوسل ہونا بھی اسباب رحمت اور خدا سے نزدیک ہونے کا وسیلہ ہے۔

توضیح
ان دونوں آیت و حدیث کا مقصد یہ ہے کہ ایک مرتبہ انسان کسی چیز کا واسطہ دیتے ہوئے اپنی حاجت کو سیدھے خدا سے طلب کرتا ہے مثال کے طور پر کہتا ہے:
پروردگارا تجھے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلبیت علیہم السلام کا واسطہ ہے کہ ہماری حاجت کو پورا کر۔

ایک مرتبہ انسان خدا سے سیدھے نہیں بلکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلبیت علیہم السلام سے متوسل ہوتے ہوئے حاجت کی درخواست کرتا ہے۔ مثلاًً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلبیت علیہم السلام سے درخواست کرتا ہے کہ وہ خدا کی بارگاہ میں دعا کر دیں۔

توسل کی حکمت
1۔ اولیاء الہی و بزرگان دین کو اس کردار (یعنی توسل کے لئے وسیلہ قرار پانا) کے عطا کرنے کی حکمت ان کا معنوی اور روحی مقام ہے۔

اس جہان میں جتنی بھی موجودات ہیں وہ سب کے سب خدا کی نشانیاں ہیں ہر موجود اپنے وجود کے اعتبار سے اس کے اسماء اور صفات کا مظہر ہے۔

خداوند متعال کا بزرگ ترین اور روشن ترین جلوہ، انسان کامل (معصومین علیہم السلام) کے آئینہٴ وجود میں محقق ہوتا ہے انسان کامل خداوند عالم کے تمام صفات اور اسماء کو ظاہر کرنے کا آئینہ، اور مظہر جلال و جمال پروردگار ہیں۔ انسان کامل سے متوسل ہونا حقیقت میں خدا کے جلال و جمال سے متوسل ہونا ہے اور اس کے فیض رحمت کے چشمہ سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔

2۔ اولیاء الہی انسان ہیں اس لئے ان سے بہت جلد اور آسانی کے ساتھ عاطفی اور روحی رابطہ کو برقرار کیا جا سکتا ہے۔

3. خداوند عالم چاہتا ہے کہ اپنے اولیاء کو لوگوں کی توجہ کا مرکز قرار دے ۔انسان کامل کے عنوان سے ان کی جانب توجہ کرنا اور ان سے رابطہ کو برقرار کرنا یہ انکی حقانیت اور نمونہٴ عمل ہونے پر تاٴکید ہے اور یہ باعث ہوتا ہے کہ لوگ انکی جانب رجوع کریں اور انہیں اپنے لئے نمونہٴ عمل قرار دیں تا کہ ہدایت اور سعادت کو حاصل کر سکیں.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 غیر خدا کو پکارنا.؟ (حصہ اول) 🔷

کیا دوسروں کو پکارنا ان کی عبادت اور شرک ہے؟ اس قسم کے سوال کا سبب قرآن مجید کی وہ آیتیں ہیں جو اپنے ظاہری معنی کے اعتبار سے غیر خدا کو پکارنے سے روکتی ہیں:
"وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّہِ فَلا تَدْعُوا مَعَ ﷲِ أَحَدًا"
(سورہ جن:۱۸)
ترجمہ:
اور مساجد سب اللہ کے لئے ہیں لہذا اس کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو.

"وَلاتَدْعُ مِنْ دُونِ ﷲِ مَالایَنْفَعُکَ وَلایَضُرُّکَ" (یونس:۱۰۶)
اور خدا کے علاوہ کسی ایسے کو آواز نہ دو جو نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان.

بعض لوگ اس قسم کی آیتوں کو سند بنا کر یہ کہتے ہیں کہ اولیائے خدا اور صالحین کو ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد پکارنا شرک اور ان کی عبادت ہے.

اس سوال کے جواب میں مناسب یہ ہے کہ سب سے پہلے ان دو کلمات "دعا" اور "عبادت" کے معنی واضح کردیئے جائیں. اس میں شک نہیں کہ عربی زبان میں لفظ دعا کے معنی ندا اور پکارنے کے ہیں اور لفظ عبادت کے معنی پرستش کے ہیں اس اعتبار سے یہ دونوں الفاظ ہرگز ہم معنی نہیں ہیں یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہر ندا اورطلب عبادت اور پرستش ہے اس کی مندرجہ ذیل دلیلیں ہیں:
۱۔قرآن مجید میں لفظ دعوت بعض ایسی جگہوں پر استعمال ہوا ہے جہاں ہرگز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے مراد عبادت ہے جیسے:
"قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَیْلاً وَنَہَارًا" (سورہ نوح:۵)
انہوں نے کہا پروردگار میں نے اپنی قوم کو دن میں بھی بلایا اور رات میں بھی.

کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت نوح کی مراد یہ تھی کہ میں نے دن رات ان کی عبادت کی ہے.

لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ دعوت (پکارنا) اور عبادت ہم معنی کلمات ہیں لہذا اگر کوئی شخص پیغمبراکرمؐ یا کسی اور صالح بندے سے مدد طلب کرے اور انہیں پکارے تو اس کا یہ عمل ان کی عبادت شمار نہیں کیا جائے گاکیونکہ دعوت کے معنی میں پرستش کی بہ نسبت زیادہ عمومیت ہے.

۲۔آیات کے اس مجموعے میں دعا سے مراد ہر قسم کا پکارنا نہیں ہے بلکہ ایک خاص قسم کا پکارنا مقصود ہے جو کہ لفظ پرستش کا لازمہ ہوسکتا ہے کیونکہ یہ آیات ان بت پرستوں کے بارے میں آئی ہیں جو اپنے بتوں کو چھوٹے خدا تصور کرتے تھے. اس میں شک نہیں ہے کہ بت پرستوں کا خضوع ان کی دعا اور ان کی فریاد یہ سب ایسے بتوں کے مقابلے میں تھا جنہیں وہ حق شفاعت اور مغفرت کا مالک سمجھتے تھے ان کی نگاہ میں یہ بت دنیا اور آخرت کے امور میں مستقل طور پر حق تصرف رکھتے تھے اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ ان شرائط کے ساتھ ان موجودات کو پکارنا اور ان سے کسی قسم کی التجا کرنا ان کی عبادت شمار ہوگا کیونکہ وہ ان کو خدا کی حیثیت سے پکارتے تھے اور اس کا بہترین گواہ درج ذیل آیت ہے:
"فَمَا أَغْنَتْ عَنْہُمْ آلِہَتُہُمْ الَّتِي یَدْعُونَ مِنْ دُونِ ﷲِ مِنْ شَيْءٍ" (سورہ ہود:۱۰۱)
عذاب کے آجانے کے بعد انکے وہ خدا بھی کام نہ آئے جنہیں وہ خدا کو چھوڑ کر پکار رہے تھے.

لہذا یہ آیتیں ہماری بحث سے کوئی ربط نہیں رکھتیں کیونکہ ہماری بحث کا موضوع ایک بندے کا دوسرے بندے سے کوئی التجا کرنا ہے جبکہ یہ بندہ اسے نہ تو اپنا خدا سمجھتا ہے اور نہ ہی اسے دنیا و آخرت کے امور میں اپنا مالک، تام الاختیار یا تصرف کرنے والا مانتا ہے بلکہ اسے خدا کا ایسا معزز اور محترم بندہ سمجھتا ہے جسے پروردگار عالم نے منصب رسالت یا امامت سے نوازا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ اس کی دعا کو اپنے بندوں کے حق میں قبول کرے گا اس سلسلے میں خدا فرماتا ہے:
"وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنفُسَہُمْ جَاءُوکَ فَاسْتَغْفَرُواﷲَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُواﷲَ تَوَّابًا رَحِیمًا" (سورہ غافر:۶۰)
اور کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے.

۳۔مذکورہ آیات اس بات پر شاہد ہیں کہ دعوت سے مراد ہر قسم کی درخواست اور حاجت نہیں ہے بلکہ اس دعوت سے مراد پرستش ہے اسی لئے ایک آیت میں لفظ دعوت کے بعد بلافاصلہ اسی معنی کیلئے لفظ "عبادت" استعمال کیا گیا ہے.
"وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَیَدْخُلُونَ جَہَنَّمَ دَاخِرِینَ" (سورہ نساء:۶۴)
اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا اور یقیناًجو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے.

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا اس آیت کے آغاز میں لفظ "ادعونی" ہے اور اس کے ذیل میں لفظ "عبادتی" آیا ہے، یہ اس بات پر شاہد ہے کہ ان آیتوں میں لفظ دعوت سے مراد وہ التجا و استغاثہ ہے جو ایسے موجودات سے کیا جاتا ہے جنہیں وہ خدا کی صفات سے متصف سمجھتے تھے.

🔷 نتیجہ: (جاری ہے)
نتیجہ حصہ دوم میں بیان کیا جائے گا.

مأخذ کتاب: شیعہ جواب دیتے ہیں.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕