🔶 حیران کن تقابل 🔶
آج کل کچھ لوگ بڑے زور و شور سے واویلا کر رہے ہیں کہ کعبہ کے گرد گھومنے سے پہلے کسی غریب کے گھر گھوم آؤ۔۔۔
مسجد کو قالین نہیں کسی بھوکے کو روٹی دو۔۔۔
حج اور عمرہ پر جانے سے پہلے کسی نادار کی بیٹی کی رخصتی کا خرچہ اٹھاؤ۔۔۔
مسجد میں سیمنٹ کی بوری دینے سے افضل ہے کہ کسی بیوہ کے گھر آٹے کی بوری دے آؤ۔۔۔
■ یاد رکھیں۔۔۔
دو نیک اعمال کو اس طرح تقابل میں پیش کرنا کوئی دینی خدمت یا انسانی ہمدردی نہیں بلکہ عین جہالت ہے۔
اگر تقابل ہی کرنا ہے تو دین اور دنیا کا کرو اور یوں کہو!
15، 20 ﻻکھ ﮐﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔
50، 60 ﮨﺰﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔
ﮨﺮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﮮ ﺳﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻟﮕﻮﺍؤ ﺟﺐ گرمی میں بغیر بجلی کے سونے والا کوئی نہ ہو ۔۔۔
ﺑﺮﺍﻧﮉﮈ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺧﺮﯾﺪو ﺟﺐ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﭘﮭﭩﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔
یہ کروڑوں کی گاڑیاں، لاکھوں کے موبائل فونز اور ہزاروں کے کھلونے خریدتے وقت ان دانشوروں کو زحمت گوارا کیوں نہیں ہوتی۔۔۔؟
آخر یہ چِڑ کعبہ مسجد حج و عمرہ اور قربانی ہی سے کیوں ہے۔۔۔؟
ان ضروریات کا فرائض سے موازنہ کر کے فرائض سے غفلت کا درس دینے والے جب اپنی شادیوں پر عورتیں نچاتے ہیں تب ان کو کیوں یاد نہیں ہوتا کہ وہ بھی کسی کی بیٹیاں اور بہنیں ہیں...
ہزاروں آرام دہ اشیاء خریدتے وقت ان کو غریب کی بن بیاہی بیٹیاں نظر کیوں نہیں آتی ہیں؟
اک بار ضرور سوچیں
کیا انسانیت کی خاطر غیر ضروری امور ترک کرنا بہتر ہے یا کہ فرائض کا ترک......؟؟؟
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
آج کل کچھ لوگ بڑے زور و شور سے واویلا کر رہے ہیں کہ کعبہ کے گرد گھومنے سے پہلے کسی غریب کے گھر گھوم آؤ۔۔۔
مسجد کو قالین نہیں کسی بھوکے کو روٹی دو۔۔۔
حج اور عمرہ پر جانے سے پہلے کسی نادار کی بیٹی کی رخصتی کا خرچہ اٹھاؤ۔۔۔
مسجد میں سیمنٹ کی بوری دینے سے افضل ہے کہ کسی بیوہ کے گھر آٹے کی بوری دے آؤ۔۔۔
■ یاد رکھیں۔۔۔
دو نیک اعمال کو اس طرح تقابل میں پیش کرنا کوئی دینی خدمت یا انسانی ہمدردی نہیں بلکہ عین جہالت ہے۔
اگر تقابل ہی کرنا ہے تو دین اور دنیا کا کرو اور یوں کہو!
15، 20 ﻻکھ ﮐﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔
50، 60 ﮨﺰﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔
ﮨﺮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﮮ ﺳﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻟﮕﻮﺍؤ ﺟﺐ گرمی میں بغیر بجلی کے سونے والا کوئی نہ ہو ۔۔۔
ﺑﺮﺍﻧﮉﮈ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺧﺮﯾﺪو ﺟﺐ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﭘﮭﭩﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔
یہ کروڑوں کی گاڑیاں، لاکھوں کے موبائل فونز اور ہزاروں کے کھلونے خریدتے وقت ان دانشوروں کو زحمت گوارا کیوں نہیں ہوتی۔۔۔؟
آخر یہ چِڑ کعبہ مسجد حج و عمرہ اور قربانی ہی سے کیوں ہے۔۔۔؟
ان ضروریات کا فرائض سے موازنہ کر کے فرائض سے غفلت کا درس دینے والے جب اپنی شادیوں پر عورتیں نچاتے ہیں تب ان کو کیوں یاد نہیں ہوتا کہ وہ بھی کسی کی بیٹیاں اور بہنیں ہیں...
ہزاروں آرام دہ اشیاء خریدتے وقت ان کو غریب کی بن بیاہی بیٹیاں نظر کیوں نہیں آتی ہیں؟
اک بار ضرور سوچیں
کیا انسانیت کی خاطر غیر ضروری امور ترک کرنا بہتر ہے یا کہ فرائض کا ترک......؟؟؟
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 کان چھدوانے کے طبی فوائد 🔷
دنیا بھر میں خواتین کا کان چھدوانا معمول کی بات ہے، بعض اوقات مرد بھی اپنے کان چھدوانا اور اس میں مختلف زیورات پہننا پسند کرتے ہیں۔
ہندو مذہب میں انسان کی زندگی میں جو 16 مذہبی و روایتی کام سر انجام دیے جانے ضروری ہیں، ان میں سے ایک کان چھدوانا بھی ہے۔ کان کو مختلف زیوارت سے سجانا نہ صرف شخصیت میں خوبصورتی پیدا کرتا ہے، بلکہ آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ اس کے بے شمار طبی فوائد بھی ہیں۔
دراصل کان کی لو جسم کے مختلف اہم حصوں سے جڑی ہوئی ہوتی ہے، مختلف طریقہ علاج میں مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے کان کی لو نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ آئیں دیکھتے ہیں کان چھدوانے کے کیا کیا فوائد ہیں۔
🔹 دماغی نشونما میں معاون
ماہرین کے مطابق بچوں کے کان چھدوانا ان کے دماغ کی بہتر نشونما میں مدد فراہم کرتا ہے۔ کان کی لو وہ مقام ہے جو دماغ کے بائیں حصہ کو دائیں حصے سے جوڑتی ہے لہٰذا اس مقام کو چھیدنا دماغ کو متحرک کرتا ہے۔
ایکو پریشر کے اصولوں میں بھی دماغ کے خلیات کو صحت مند اور فعال بنانے کے لیے اسی مقام کو استعمال کیا جاتا ہے۔
🔹 دماغی امراض میں کمی
چونکہ کانوں کی لو کا دماغ سے گہرا تعلق ہے لہٰذا اس مقام پر دباؤ ڈالنا بہت سے دماغی امراض میں کمی کرتا ہے اور ان سے بچاؤ بھی فراہم کرتا ہے۔
🔹 توانائی
کہا جاتا ہے کہ مستقل طور پر کانوں میں بالیاں پہننے والے افراد کے جسم میں توانائی کا تناسب برابر رہتا ہے۔
🔷 بہتر بینائی
کانوں کی لو بینائی کا بھی مرکز ہے، اس حصے پر دباؤ ڈالنا بینائی میں بہتری پیدا کرتا ہے۔
🔹 سماعت میں بہتری
کان چھدوانا سماعت کو بھی بہتر کرتا ہے۔ کم عمری میں کان چھدوانا بڑی عمر میں کانوں میں بھنبھناہٹ اور سرسراہٹ محسوس ہونے کے مرض سے بچاتا ہے۔
🔹 ہاضمے میں معاون
کان کی لو پر دباؤ ڈالنا ہاضمے کے نظام کو بھی بہتر بناتا ہے۔ اس سے کھانا جلد ہضم ہوتا ہے جس سے موٹاپے کا امکان کم ہوجاتا ہے۔
🔹 تولیدی صحت میں بہتری
ہندو آیورو ویدک کے مطابق کان کی لو کا مرکز، جسم کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کا تعلق تولیدی صحت سے ہے۔ کان چھدوائے جانا خواتین کی تولیدی صحت اور ماہانہ ایام کے سسٹم میں بہتری پیدا کرتا ہے۔
🔹 مردوں کی زرخیزی میں اضافہ
اسی طرح یہ عمل مردوں کی زرخیزی میں بھی اضافہ کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض مذاہب و روایات میں چھوٹے بچوں کے کان چھدوائے جانا ایک لازمی عمل ہے۔
🔹 کان چھدوانے کی صحیح عمر
ماہرین طب کے مطابق دماغی و جسمانی صحت کے لیے بے حد فائدہ مند یہ کام نہایت کم عمری میں ہی کردینا چاہیئے۔ اس کے لیے بچوں کی پیدائش کے دسویں، بارہویں یا سولہویں دن کا انتخاب کرلیا جائے، یا پھر بچوں کی عمر کے چھٹے، ساتویں یا آٹھویں مہینے میں ان کے کان چھدوائے دیے جائیں۔
🔹 بچوں اور بچیوں کے کان چھیدنے میں فرق
بعض روایات میں بچے کے کان چھیدتے ہوئے پہلے دایاں کان چھیدا جاتا ہے، اور بچی کے کان چھیدتے ہوئے پہلے بایاں کان چھیدا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے یہ نظریہ کار فرما ہے کہ دایاں حصہ مردانہ اور بایاں حصہ زنانہ اوصاف کا حامل ہوتا ہے چنانچہ خیال کیا جاتا ہے کہ پہلے درست حصے کی طرف کا کان چھیدنا مخصوص اوصاف کو متحرک کرتا ہے۔
✍ اے آر وائی نیوز اردو، ویب ڈیسک 29 جولائی 2019ء۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
دنیا بھر میں خواتین کا کان چھدوانا معمول کی بات ہے، بعض اوقات مرد بھی اپنے کان چھدوانا اور اس میں مختلف زیورات پہننا پسند کرتے ہیں۔
ہندو مذہب میں انسان کی زندگی میں جو 16 مذہبی و روایتی کام سر انجام دیے جانے ضروری ہیں، ان میں سے ایک کان چھدوانا بھی ہے۔ کان کو مختلف زیوارت سے سجانا نہ صرف شخصیت میں خوبصورتی پیدا کرتا ہے، بلکہ آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ اس کے بے شمار طبی فوائد بھی ہیں۔
دراصل کان کی لو جسم کے مختلف اہم حصوں سے جڑی ہوئی ہوتی ہے، مختلف طریقہ علاج میں مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے کان کی لو نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ آئیں دیکھتے ہیں کان چھدوانے کے کیا کیا فوائد ہیں۔
🔹 دماغی نشونما میں معاون
ماہرین کے مطابق بچوں کے کان چھدوانا ان کے دماغ کی بہتر نشونما میں مدد فراہم کرتا ہے۔ کان کی لو وہ مقام ہے جو دماغ کے بائیں حصہ کو دائیں حصے سے جوڑتی ہے لہٰذا اس مقام کو چھیدنا دماغ کو متحرک کرتا ہے۔
ایکو پریشر کے اصولوں میں بھی دماغ کے خلیات کو صحت مند اور فعال بنانے کے لیے اسی مقام کو استعمال کیا جاتا ہے۔
🔹 دماغی امراض میں کمی
چونکہ کانوں کی لو کا دماغ سے گہرا تعلق ہے لہٰذا اس مقام پر دباؤ ڈالنا بہت سے دماغی امراض میں کمی کرتا ہے اور ان سے بچاؤ بھی فراہم کرتا ہے۔
🔹 توانائی
کہا جاتا ہے کہ مستقل طور پر کانوں میں بالیاں پہننے والے افراد کے جسم میں توانائی کا تناسب برابر رہتا ہے۔
🔷 بہتر بینائی
کانوں کی لو بینائی کا بھی مرکز ہے، اس حصے پر دباؤ ڈالنا بینائی میں بہتری پیدا کرتا ہے۔
🔹 سماعت میں بہتری
کان چھدوانا سماعت کو بھی بہتر کرتا ہے۔ کم عمری میں کان چھدوانا بڑی عمر میں کانوں میں بھنبھناہٹ اور سرسراہٹ محسوس ہونے کے مرض سے بچاتا ہے۔
🔹 ہاضمے میں معاون
کان کی لو پر دباؤ ڈالنا ہاضمے کے نظام کو بھی بہتر بناتا ہے۔ اس سے کھانا جلد ہضم ہوتا ہے جس سے موٹاپے کا امکان کم ہوجاتا ہے۔
🔹 تولیدی صحت میں بہتری
ہندو آیورو ویدک کے مطابق کان کی لو کا مرکز، جسم کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کا تعلق تولیدی صحت سے ہے۔ کان چھدوائے جانا خواتین کی تولیدی صحت اور ماہانہ ایام کے سسٹم میں بہتری پیدا کرتا ہے۔
🔹 مردوں کی زرخیزی میں اضافہ
اسی طرح یہ عمل مردوں کی زرخیزی میں بھی اضافہ کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض مذاہب و روایات میں چھوٹے بچوں کے کان چھدوائے جانا ایک لازمی عمل ہے۔
🔹 کان چھدوانے کی صحیح عمر
ماہرین طب کے مطابق دماغی و جسمانی صحت کے لیے بے حد فائدہ مند یہ کام نہایت کم عمری میں ہی کردینا چاہیئے۔ اس کے لیے بچوں کی پیدائش کے دسویں، بارہویں یا سولہویں دن کا انتخاب کرلیا جائے، یا پھر بچوں کی عمر کے چھٹے، ساتویں یا آٹھویں مہینے میں ان کے کان چھدوائے دیے جائیں۔
🔹 بچوں اور بچیوں کے کان چھیدنے میں فرق
بعض روایات میں بچے کے کان چھیدتے ہوئے پہلے دایاں کان چھیدا جاتا ہے، اور بچی کے کان چھیدتے ہوئے پہلے بایاں کان چھیدا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے یہ نظریہ کار فرما ہے کہ دایاں حصہ مردانہ اور بایاں حصہ زنانہ اوصاف کا حامل ہوتا ہے چنانچہ خیال کیا جاتا ہے کہ پہلے درست حصے کی طرف کا کان چھیدنا مخصوص اوصاف کو متحرک کرتا ہے۔
✍ اے آر وائی نیوز اردو، ویب ڈیسک 29 جولائی 2019ء۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔶 جھوٹوں کا محلہ 🔶
ایک دفعہ ایک بہت ہی نیک متقی بزرگ شخصیت کسی شہر میں رہتی تھی۔ سب لوگ ان سے عقیدت اور محبت رکھتے تھے۔ پرہیزگار تو وہ تھے ہی لیکن لوگ سید یعنی فرزند رسول ھونے کیوجہ سے ان کا زیادہ احترام کرتے تھے۔
ایک دن انہوں نے اس شہر سے ایک دوسرے شہر ہجرت کا پروگرام بنایا سب لوگوں نے روکا کہ نہ جائیں کیونکہ آپ کیوجہ سے شہر میں برکت ہے۔
لیکن وہ نہ رکے اور چلے گئے۔ جاتے ہوئے کچھ عقیدت مندوں نے پوچھا حضور اگر آپ جا ہی رہے ہیں تو کم از کم اپنا ایڈریس بتاتے جائیں تاکہ کبھی زیارت کو جی چاہے تو حاضر ہوں۔
اس بزرگ نے جواب دیا میں جس جگہ رہتا ہوں گا اس محلے کا نام ہے "جھوٹوں کا محلہ"
سب لوگ حیران ہوئے کہ یہاں تو کوئی بڑے سے بڑا جھوٹا بھی اپنے آپکو جھوٹا نہیں کہتا اور یہ بزرگ فرما رہے ہیں جھوٹوں کا محلہ۔
وہ بزرگ چلے گئے۔ کچھ عرصہ بعد مریدوں کا ایک گروپ انکی زیارت کیلۓ نکلا وہاں اس شہر میں جا کر لوگوں سے پوچھا جناب جھوٹوں کا محلہ کہاں ہے
لوگ انکی بات سن کر حیران ہوتے کہ یہاں تو کوئی جھوٹوں کا محلہ نہیں ہے حتی کہ کچھ لوگ ناراض بھی ہوئے۔
بیچارے مرید سارا دن ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئے پسینے سے شرابور بھوکے پیاسے ناامید شہر سے باہر نکلے کہ اچانک ایک مرید کی نظر قبرستان پر پڑی کہ کوئی قبر والوں سے محو گفتگو ہے۔ غور کیا تو وہ ہی سید بزرگوار تھے۔
جیسے چند دنوں کا پیاسا پانی کی طرف لپکتا ہے یہ بزرگ کی طرف گئے، انکے ہاتھ چومے، رونے لگے اور سارے دن کا قصہ بیان کیا۔
اس بزرگ نے ایک سرد آہ بھری اور کہا نہ تم صحیح سمجھے نہ یہ دنیا والے ۔ ۔ ۔ اور بولے کہ یہ جگہ قبرستان دیکھ رہے ھو یہ حقیقت میں جھوٹوں کا محلہ ہے۔ کیونکہ یہ ساری زندگی کہتے رہے۔۔۔
• میری زمین
• میرا مکان
• میرا پیسہ
• میری جاییداد
• میری گاڑی
• میری بیوی
• میرا سونا
• میرا مال
آج ان سب سے پوچھو کہ وہ سب دنیا کی چیزیں انکی تھیں یا آج کسی اور کے ہاتھوں میں پہنچ گئیں۔۔؟
اسی لیے تو مولا متقیان حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام قبر والوں کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اے وحشت ناک گھروں کے مکینوں۔! اے اجڑی ہوئی قبروں۔!
اور اندھیری راتوں میں بسیرا کرنے والوں۔! ذرا پیچھے مڑ کر دیکھو۔۔۔
"اما الدّور فقد سُکنت"
"وامّا الاموال فقد قُسمت"
"وامّا الازواج فقد نُکحت"
ترجمہ:
جن گھروں کو تم اپنا گھر کہتے تھے آج ان میں کوئی اور رہتا ہے۔
جس مال کو تم اپنا مال کہتے تھے آج کسی اور کے ہاتھوں میں ہے۔
جن بیویوں کو خوش رکھنے کیلئے تم نے اللہ کو ناراض کیا
آج وہ دوسروں کے نکاح میں چلی گئیں۔
اور آخر میں مولا علی علیہ السلام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور فرماتے ہیں۔۔۔
اگر ان مُردوں کو زبان مل جائے تو سب چیخ چیخ کر بولیں گے
بہترین توشہ آخرت اور زاد راہ "تقوی" ہے۔
● آئیے مرنے سے پہلے ملکر نیکی کا کوئی کام کر لیں اور کچھ نہیں تو کم از کم اس میسج کو آگے بھیج دیں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک دفعہ ایک بہت ہی نیک متقی بزرگ شخصیت کسی شہر میں رہتی تھی۔ سب لوگ ان سے عقیدت اور محبت رکھتے تھے۔ پرہیزگار تو وہ تھے ہی لیکن لوگ سید یعنی فرزند رسول ھونے کیوجہ سے ان کا زیادہ احترام کرتے تھے۔
ایک دن انہوں نے اس شہر سے ایک دوسرے شہر ہجرت کا پروگرام بنایا سب لوگوں نے روکا کہ نہ جائیں کیونکہ آپ کیوجہ سے شہر میں برکت ہے۔
لیکن وہ نہ رکے اور چلے گئے۔ جاتے ہوئے کچھ عقیدت مندوں نے پوچھا حضور اگر آپ جا ہی رہے ہیں تو کم از کم اپنا ایڈریس بتاتے جائیں تاکہ کبھی زیارت کو جی چاہے تو حاضر ہوں۔
اس بزرگ نے جواب دیا میں جس جگہ رہتا ہوں گا اس محلے کا نام ہے "جھوٹوں کا محلہ"
سب لوگ حیران ہوئے کہ یہاں تو کوئی بڑے سے بڑا جھوٹا بھی اپنے آپکو جھوٹا نہیں کہتا اور یہ بزرگ فرما رہے ہیں جھوٹوں کا محلہ۔
وہ بزرگ چلے گئے۔ کچھ عرصہ بعد مریدوں کا ایک گروپ انکی زیارت کیلۓ نکلا وہاں اس شہر میں جا کر لوگوں سے پوچھا جناب جھوٹوں کا محلہ کہاں ہے
لوگ انکی بات سن کر حیران ہوتے کہ یہاں تو کوئی جھوٹوں کا محلہ نہیں ہے حتی کہ کچھ لوگ ناراض بھی ہوئے۔
بیچارے مرید سارا دن ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئے پسینے سے شرابور بھوکے پیاسے ناامید شہر سے باہر نکلے کہ اچانک ایک مرید کی نظر قبرستان پر پڑی کہ کوئی قبر والوں سے محو گفتگو ہے۔ غور کیا تو وہ ہی سید بزرگوار تھے۔
جیسے چند دنوں کا پیاسا پانی کی طرف لپکتا ہے یہ بزرگ کی طرف گئے، انکے ہاتھ چومے، رونے لگے اور سارے دن کا قصہ بیان کیا۔
اس بزرگ نے ایک سرد آہ بھری اور کہا نہ تم صحیح سمجھے نہ یہ دنیا والے ۔ ۔ ۔ اور بولے کہ یہ جگہ قبرستان دیکھ رہے ھو یہ حقیقت میں جھوٹوں کا محلہ ہے۔ کیونکہ یہ ساری زندگی کہتے رہے۔۔۔
• میری زمین
• میرا مکان
• میرا پیسہ
• میری جاییداد
• میری گاڑی
• میری بیوی
• میرا سونا
• میرا مال
آج ان سب سے پوچھو کہ وہ سب دنیا کی چیزیں انکی تھیں یا آج کسی اور کے ہاتھوں میں پہنچ گئیں۔۔؟
اسی لیے تو مولا متقیان حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام قبر والوں کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اے وحشت ناک گھروں کے مکینوں۔! اے اجڑی ہوئی قبروں۔!
اور اندھیری راتوں میں بسیرا کرنے والوں۔! ذرا پیچھے مڑ کر دیکھو۔۔۔
"اما الدّور فقد سُکنت"
"وامّا الاموال فقد قُسمت"
"وامّا الازواج فقد نُکحت"
ترجمہ:
جن گھروں کو تم اپنا گھر کہتے تھے آج ان میں کوئی اور رہتا ہے۔
جس مال کو تم اپنا مال کہتے تھے آج کسی اور کے ہاتھوں میں ہے۔
جن بیویوں کو خوش رکھنے کیلئے تم نے اللہ کو ناراض کیا
آج وہ دوسروں کے نکاح میں چلی گئیں۔
اور آخر میں مولا علی علیہ السلام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور فرماتے ہیں۔۔۔
اگر ان مُردوں کو زبان مل جائے تو سب چیخ چیخ کر بولیں گے
بہترین توشہ آخرت اور زاد راہ "تقوی" ہے۔
● آئیے مرنے سے پہلے ملکر نیکی کا کوئی کام کر لیں اور کچھ نہیں تو کم از کم اس میسج کو آگے بھیج دیں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌏 دنیا گول ہے 🌏
ایک چور کے اندرکچھ پیسہ بنانے کی خواہش پیدا ہوئی، کیونکہ وہ اپنی محبوب بیوی کو کچھ دینا چاہتا تھا یا اپنی ذات کے لئے رکھنا چاہتا تھا۔
اس چور نے ایک رات ایک گھر کے روشن دان میں سے کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کی کہ یہ اچھا گھر ہے اور مجھے یہاں سے کوئی مال و مطاع ملے گا لیکن جب وہ اتنا اونچا چڑھا اور روشن دان کے اندر سے گزرنے کی کوشش کی تو وہ روشن دان جس کا چوکھٹا بظاہر ٹھیک نظر آتا تھا، ڈھیلا لگا تھا اور وہ بمع چوکھٹے کے اندر کے فرش پر سر کے بل آگرا۔
چور کو سخت چوٹیں آئیں چنانچہ اس نے وہ چوکھٹا اٹھایا اور قاضی وقت کے پاس شکایت کے لئے لے گیا اور قاضی سے کہا؛
جناب دیکھیں میں چوری کرنے کے لئے وہاں گیا تھا، یہ کیسا نالائق مستری ہے کہ جس نے ایسا چوکھٹا بنایا کہ یہ ٹوٹ گیا ہے اور کرچی کرچی ہو گیا ہے، اسکو سزا ملنی چاہئے۔
قاضی وقت نے کہا: یہ تو واقعی بری بات ہے۔ چنانچہ اس لکڑی بیچنے والے کو بلا کر پوچھا گیا تو اس نے کہا:
جناب اس گھر کی کھڑکی تو میں نے ہی بنائی تھی، اس لکڑی کا کسی سے ٹیسٹ کروائیں اس میں کوئی نقص نکلا تو میں ذمہ دار ہوں۔ حضور بات یہ ہے کہ اس میں خرابی ہماری لکڑی کی نہیں اس ترکھان کی ہے جس نے یہ چوکھٹا ڈائیمنشن کے مطابق نہیں بنایا۔
بڑھئی کو بلایا گیا وہ پیش ہوگیا اور کہنے لگا: میں نے چوکھٹا بلکل ٹھیک بنایا ہے یہ میرا قصور نہیں آپ ماہرین بلوا لیں وہ بتا دیں گے کہ میرے چوکھٹے میں کوئی خرابی نہیں بلکہ میں یقین سے کہتا ہوں کہ معمار جس نے اس کو فٹ کیا تھا یہ ساری کوتاہی اس کی ہے۔
چنانچہ معمار کو بلوایا گیا وہ عدالت میں پیش ہوگیا۔
قاضی نے کہا؛ اے نالائق! بہت اعلٰی درجے کا چوکھٹا بنا ہوا ہے ڈائی مینشن اس کی درست ہے تو نے کیوں “موکھا" اس کا ڈھیلا بنایا، تو نے صحیح طور پر اسے فٹ کیوں نہیں کیا۔؟
اس نے سوچا واقعی عدالت ٹھیک پوچھ رہی ہے۔ چوکھٹے میں اور دیوار میں فاصلہ تو ہے۔ اس نے کہا:
حضور بات یہ ہے مجھے اب یاد آیا جب میں چوکھٹا لگا رہا تھا تو میں نے باہر سڑک پر دیکھا اس وقت ایک نہایت خوبصورت عورت اعلٰی درجے کا لباس پہنے، بیحد رنگین لہنگا اور بیحد رنگین دوپٹہ اوڑھے مزے سے اٹھکھیلیاں کرتی ہوئی جا رہی تھی تو میری توجہ اس کی طرف ہو گئی۔ جب تک وہ سڑک پر چلتی رہی میں اس کو دیکھتا رہا میں پوری توجہ نہ دے سکا اور چوکھٹے کو صحیح طرح سے نہ لگا سکا۔
قاضی نے کہا: اس عورت کو بلاؤ۔
عورت کو سب تلاش کرنے لگے۔ شہر میں سب جانتے تھے جو چھمک چھلو تھی کہ وہ وہی ہو گی سو عدالت میں پیش کر دیا گیا۔
پوچھا گیا: کیا تم یہاں سے اس روز گزری تھیں؟
کہا: ہاں میں گزری تھی۔
قاضی نے کہا: تم نے ایسا لہنگا پہنا، ایسا غرارہ پہنا تھا تو کیوں پہنا تھا؟
عورت نے کہا:
حضور بات یہ ہے کہ میرے خاوند نے مجھ سے کہا یہ تم کیا ڈل کلرز پہنتی ہو۔ یہ تمھارے رخ زیبا پر کچھ اچھے نہیں لگتے۔ بہت اعلی قسم کے شوخ اور بھڑکیلے قسم کے کپڑے پہنو۔
عدالت نے کہا: اس خاوند کو حاضر کیا جائے۔ چنانچہ وہ اس کے خاوند کو پکڑ کر لے آئے، عدالت کے سامنے پیش کر دیا۔ وہ خاوند وہی شخص تھا جو روشن دان سے چوری کرنے کے لئے اترا تھا-
اس کی خواہش میں وہ خود کھڑا تھا۔ اتنا چکر کاٹ کر آدمی کو پتہ نہیں چلتا کہ اس کے ساتھ کیا گزر رہی ہے وہ کہاں پر اپنی ہی خواہش، اپنی ہی آرزو کے درمیان کھڑا ہے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک چور کے اندرکچھ پیسہ بنانے کی خواہش پیدا ہوئی، کیونکہ وہ اپنی محبوب بیوی کو کچھ دینا چاہتا تھا یا اپنی ذات کے لئے رکھنا چاہتا تھا۔
اس چور نے ایک رات ایک گھر کے روشن دان میں سے کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کی کہ یہ اچھا گھر ہے اور مجھے یہاں سے کوئی مال و مطاع ملے گا لیکن جب وہ اتنا اونچا چڑھا اور روشن دان کے اندر سے گزرنے کی کوشش کی تو وہ روشن دان جس کا چوکھٹا بظاہر ٹھیک نظر آتا تھا، ڈھیلا لگا تھا اور وہ بمع چوکھٹے کے اندر کے فرش پر سر کے بل آگرا۔
چور کو سخت چوٹیں آئیں چنانچہ اس نے وہ چوکھٹا اٹھایا اور قاضی وقت کے پاس شکایت کے لئے لے گیا اور قاضی سے کہا؛
جناب دیکھیں میں چوری کرنے کے لئے وہاں گیا تھا، یہ کیسا نالائق مستری ہے کہ جس نے ایسا چوکھٹا بنایا کہ یہ ٹوٹ گیا ہے اور کرچی کرچی ہو گیا ہے، اسکو سزا ملنی چاہئے۔
قاضی وقت نے کہا: یہ تو واقعی بری بات ہے۔ چنانچہ اس لکڑی بیچنے والے کو بلا کر پوچھا گیا تو اس نے کہا:
جناب اس گھر کی کھڑکی تو میں نے ہی بنائی تھی، اس لکڑی کا کسی سے ٹیسٹ کروائیں اس میں کوئی نقص نکلا تو میں ذمہ دار ہوں۔ حضور بات یہ ہے کہ اس میں خرابی ہماری لکڑی کی نہیں اس ترکھان کی ہے جس نے یہ چوکھٹا ڈائیمنشن کے مطابق نہیں بنایا۔
بڑھئی کو بلایا گیا وہ پیش ہوگیا اور کہنے لگا: میں نے چوکھٹا بلکل ٹھیک بنایا ہے یہ میرا قصور نہیں آپ ماہرین بلوا لیں وہ بتا دیں گے کہ میرے چوکھٹے میں کوئی خرابی نہیں بلکہ میں یقین سے کہتا ہوں کہ معمار جس نے اس کو فٹ کیا تھا یہ ساری کوتاہی اس کی ہے۔
چنانچہ معمار کو بلوایا گیا وہ عدالت میں پیش ہوگیا۔
قاضی نے کہا؛ اے نالائق! بہت اعلٰی درجے کا چوکھٹا بنا ہوا ہے ڈائی مینشن اس کی درست ہے تو نے کیوں “موکھا" اس کا ڈھیلا بنایا، تو نے صحیح طور پر اسے فٹ کیوں نہیں کیا۔؟
اس نے سوچا واقعی عدالت ٹھیک پوچھ رہی ہے۔ چوکھٹے میں اور دیوار میں فاصلہ تو ہے۔ اس نے کہا:
حضور بات یہ ہے مجھے اب یاد آیا جب میں چوکھٹا لگا رہا تھا تو میں نے باہر سڑک پر دیکھا اس وقت ایک نہایت خوبصورت عورت اعلٰی درجے کا لباس پہنے، بیحد رنگین لہنگا اور بیحد رنگین دوپٹہ اوڑھے مزے سے اٹھکھیلیاں کرتی ہوئی جا رہی تھی تو میری توجہ اس کی طرف ہو گئی۔ جب تک وہ سڑک پر چلتی رہی میں اس کو دیکھتا رہا میں پوری توجہ نہ دے سکا اور چوکھٹے کو صحیح طرح سے نہ لگا سکا۔
قاضی نے کہا: اس عورت کو بلاؤ۔
عورت کو سب تلاش کرنے لگے۔ شہر میں سب جانتے تھے جو چھمک چھلو تھی کہ وہ وہی ہو گی سو عدالت میں پیش کر دیا گیا۔
پوچھا گیا: کیا تم یہاں سے اس روز گزری تھیں؟
کہا: ہاں میں گزری تھی۔
قاضی نے کہا: تم نے ایسا لہنگا پہنا، ایسا غرارہ پہنا تھا تو کیوں پہنا تھا؟
عورت نے کہا:
حضور بات یہ ہے کہ میرے خاوند نے مجھ سے کہا یہ تم کیا ڈل کلرز پہنتی ہو۔ یہ تمھارے رخ زیبا پر کچھ اچھے نہیں لگتے۔ بہت اعلی قسم کے شوخ اور بھڑکیلے قسم کے کپڑے پہنو۔
عدالت نے کہا: اس خاوند کو حاضر کیا جائے۔ چنانچہ وہ اس کے خاوند کو پکڑ کر لے آئے، عدالت کے سامنے پیش کر دیا۔ وہ خاوند وہی شخص تھا جو روشن دان سے چوری کرنے کے لئے اترا تھا-
اس کی خواہش میں وہ خود کھڑا تھا۔ اتنا چکر کاٹ کر آدمی کو پتہ نہیں چلتا کہ اس کے ساتھ کیا گزر رہی ہے وہ کہاں پر اپنی ہی خواہش، اپنی ہی آرزو کے درمیان کھڑا ہے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 بچوں کو مشکلات کا عادی بنائیں 🔷
ایک سائنسدان اپنی تجربہ گاہ میں تتلی کے لاروے پر تجربات کر رہا تھا۔ لاروا تتلی بننے کے آخری مراحل میں تھا۔ سائنسدان نے دیکھا کہ لاروے میں ایک سوراخ بن گیا ہے۔ یہ خول اتنا چھوٹا تھا کہ تتلی کیلئے اس سے باہر نکلنا ناممکن تھا لیکن اس کے باوجود وہ بھرپور زور لگا کر اس سوراخ سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ سائنسدان نے سوچا کیوں نہ میں اس سوراخ کو بڑا کردوں تاکہ تتلی بآسانی باہر آ سکے۔ اس نے ایک آلے کی مدد سے لاروے کے خول میں اتنا بڑا سوراخ کر دیا کہ تتلی آسانی سے باہر آ سکتی تھی اور وہی ہوا۔
تتلی ذرا سی دیر میں بغیر کوشش کے لاروے سے باہر آ گئی۔ مگر سائنسدان اس وقت شدید حیران رہ گیا جب اس نے دیکھا کہ تتلی باوجود کوشش کے پرواز نہیں کرپا رہی۔ حتیٰ کہ اس کے پر بھی پوری طرح نہیں کھل پا رہے۔
سائنسدان اس تتلی کو اپنے سینئر سائنسدان کے پاس لے گیا اور سارا ماجرا بیان کیا، اس نے سرد آہ بھری اور تاسف سے بولا؛ تم نے اپنی بے وقوفی کی وجہ سے تتلی کو ساری زندگی کیلئے معذور بنا دیا۔ جب تتلی لاروے سے باہر آنے کیلئے زور لگا رہی ہوتی ہے تو اس وقت مفید مادے اس کے پروں میں سرائیت کر جاتے ہیں انہی مادوں کی وجہ سے تتلی کے پروں میں جان آتی ہے اور وہ اڑنے کے قابل ہو جاتی ہے، تم نے اس کی مدد تو کر دی مگر ان مفید مادوں سے اسے محروم کر دیا۔
● مشکل حالات ہماری صلاحیتوں اور قابلیت کو مہمیز کرتے ہیں۔ ہماری شخصیت کے نوکدار کونوں کو گول کرتے ہیں، ہمیں نامساعد حالات میں خوبی کے ساتھ پرواز کرنا سکھاتے ہیں۔
بطور والدین کبھی کبھی ہم اپنے بچوں کو مشکل حالات سے بچانے کی بہت زیادہ کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیےبہت کچھ کرتے ہیں زندگی کی مشکلات اور مایوس کن حالات سے بچاتے ہیں، چاہتے ہیں کہ ہم جن مشکلات سے گزرے ہیں وہ ان سے نہ گزریں۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جن بچوں کو مشکل حالات سے بچایا جاتا ہے بہت زیادہ آسانیاں دی جاتی ہیں ان کو زندگی میں بے پناہ دشواریوں کا سامنا رہتا ہے ان میں چیلنج حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے وہ زیادہ کوشش سے کم نتائج حاصل کر پاتے ہیں۔
ہم بچوں کو بہت زیادہ مدد کر کے ۔۔۔ اپنے عمل سے یا دوسرے لفظوں میں غیر محسوس انداز سے یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ ۔۔۔۔
تم میں صلاحیت نہیں ہے تو وہ پیغام بہت خوبی سے بچے تک پہنچ جاتا ہے
اور وہ ذہن میں بٹھا لیتا ہے کہ اس میں متعلقہ کام کرنے کی صلاحیت نہیں ہے
• ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ بچے کو راستہ پر چلنے کے لیے تیار کریں۔ نہ کہ راستے کو بچے کے لیے تیار کیا جائے۔
بچے کو سیکھایا جائے کہ
1- معاشرتی اور مذہبی اقدار کے اندر رہ کر،
2- دستیاب وسائل کے ساتھ،
مشکلات اور مسائل کو کیسے حل کرنا ہے۔
ناکہ ہر وقت آئیڈیل حالات اورمعاشرہ کی خواہش کرتے رہنا اور دستیاب وسائل سے مسائل کو حل کرنے کی بجائے وسائل کی کمی کا رونا رونا اور بے عملی کا شکار رہنا۔
بچوں کو مشکلات کا عادی بنائیں، ان کو مستقبل میں ممکنہ مشکلات کے لیے تیار کریں اور پریکٹس کروائیں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک سائنسدان اپنی تجربہ گاہ میں تتلی کے لاروے پر تجربات کر رہا تھا۔ لاروا تتلی بننے کے آخری مراحل میں تھا۔ سائنسدان نے دیکھا کہ لاروے میں ایک سوراخ بن گیا ہے۔ یہ خول اتنا چھوٹا تھا کہ تتلی کیلئے اس سے باہر نکلنا ناممکن تھا لیکن اس کے باوجود وہ بھرپور زور لگا کر اس سوراخ سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ سائنسدان نے سوچا کیوں نہ میں اس سوراخ کو بڑا کردوں تاکہ تتلی بآسانی باہر آ سکے۔ اس نے ایک آلے کی مدد سے لاروے کے خول میں اتنا بڑا سوراخ کر دیا کہ تتلی آسانی سے باہر آ سکتی تھی اور وہی ہوا۔
تتلی ذرا سی دیر میں بغیر کوشش کے لاروے سے باہر آ گئی۔ مگر سائنسدان اس وقت شدید حیران رہ گیا جب اس نے دیکھا کہ تتلی باوجود کوشش کے پرواز نہیں کرپا رہی۔ حتیٰ کہ اس کے پر بھی پوری طرح نہیں کھل پا رہے۔
سائنسدان اس تتلی کو اپنے سینئر سائنسدان کے پاس لے گیا اور سارا ماجرا بیان کیا، اس نے سرد آہ بھری اور تاسف سے بولا؛ تم نے اپنی بے وقوفی کی وجہ سے تتلی کو ساری زندگی کیلئے معذور بنا دیا۔ جب تتلی لاروے سے باہر آنے کیلئے زور لگا رہی ہوتی ہے تو اس وقت مفید مادے اس کے پروں میں سرائیت کر جاتے ہیں انہی مادوں کی وجہ سے تتلی کے پروں میں جان آتی ہے اور وہ اڑنے کے قابل ہو جاتی ہے، تم نے اس کی مدد تو کر دی مگر ان مفید مادوں سے اسے محروم کر دیا۔
● مشکل حالات ہماری صلاحیتوں اور قابلیت کو مہمیز کرتے ہیں۔ ہماری شخصیت کے نوکدار کونوں کو گول کرتے ہیں، ہمیں نامساعد حالات میں خوبی کے ساتھ پرواز کرنا سکھاتے ہیں۔
بطور والدین کبھی کبھی ہم اپنے بچوں کو مشکل حالات سے بچانے کی بہت زیادہ کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیےبہت کچھ کرتے ہیں زندگی کی مشکلات اور مایوس کن حالات سے بچاتے ہیں، چاہتے ہیں کہ ہم جن مشکلات سے گزرے ہیں وہ ان سے نہ گزریں۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جن بچوں کو مشکل حالات سے بچایا جاتا ہے بہت زیادہ آسانیاں دی جاتی ہیں ان کو زندگی میں بے پناہ دشواریوں کا سامنا رہتا ہے ان میں چیلنج حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے وہ زیادہ کوشش سے کم نتائج حاصل کر پاتے ہیں۔
ہم بچوں کو بہت زیادہ مدد کر کے ۔۔۔ اپنے عمل سے یا دوسرے لفظوں میں غیر محسوس انداز سے یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ ۔۔۔۔
تم میں صلاحیت نہیں ہے تو وہ پیغام بہت خوبی سے بچے تک پہنچ جاتا ہے
اور وہ ذہن میں بٹھا لیتا ہے کہ اس میں متعلقہ کام کرنے کی صلاحیت نہیں ہے
• ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ بچے کو راستہ پر چلنے کے لیے تیار کریں۔ نہ کہ راستے کو بچے کے لیے تیار کیا جائے۔
بچے کو سیکھایا جائے کہ
1- معاشرتی اور مذہبی اقدار کے اندر رہ کر،
2- دستیاب وسائل کے ساتھ،
مشکلات اور مسائل کو کیسے حل کرنا ہے۔
ناکہ ہر وقت آئیڈیل حالات اورمعاشرہ کی خواہش کرتے رہنا اور دستیاب وسائل سے مسائل کو حل کرنے کی بجائے وسائل کی کمی کا رونا رونا اور بے عملی کا شکار رہنا۔
بچوں کو مشکلات کا عادی بنائیں، ان کو مستقبل میں ممکنہ مشکلات کے لیے تیار کریں اور پریکٹس کروائیں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
✊ ناخن کاٹنے کے فوائد و آداب ✊
🌺 ناخن کب کاٹے جائیں:
لوگوں نے حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمارے اصحاب کا یہ مقولہ ہے کہ ناخن جمعہ ہی کے دن کاٹنے چاہئیں۔
امامؑ نے فرمایا: کہ جمعہ کے دن کٹواؤ خواہ کسی اور دن۔ یعنی اگر کسی اور دن ناخن اتنے بڑھ جائیں کہ کٹوانے کی ضرورت معلوم ہو تو جمعہ کا انتظار نہیں کرنا چاہیے اسی طرح حدیث میں وارد ہے کہ ناخن جس وقت بڑھ جائیں کٹوا ڈالو۔
🌹 ناخن کاٹنے کی مقدار:
حدیث میں منقول ہے کہ رسول اکرمؐ مردوں کو تو یہ حکم دیتے تھے کہ ناخنوں کو زندہ ناخن کے پاس سے کاٹو اور عورتوں کے لیے یہ فرمایا کہ تھوڑا سا چھوڑ کر کاٹو کہ وہ تمھاری زینت کا موجب ہے۔
🌹 ممانعت:
منقول ہے کہ حضرت رسول اکرمؐ نے دانتوں سے ناخن کاٹنے کی ممانعت فرمائی ہے۔
🌹 بیماریوں سے شفا:
رسول اکرمؐ سے منقول ہے:
ناخن کاٹنے سے بہت بڑے بڑے امراض موقوف ہوتے ہیں اور روزی فراخ ہوتی ہے۔
🌹 درد سے شفا:
پیغمبر اسلامؐ فرماتے ہیں:
اگر کوٸی شخص جمعہ کے دن ناخن کاٹے تو اللہ تعالٰی اسکی انگلیوں سے درد کو نکال کر ان میں شفا داخل کر دیگا۔
🌼 روزی میں برکت:
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
جمعةالمبارک کے دن ناخن کاٹنا اور مونچھوں کو کٹوانا فقیری کو دور کرتا ہے اور روزی کو زیادہ کرتا ہے۔
🌸 رزق کا وسیع ہونا:
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اگر کوٸی چاہتا ہے کہ اسکا رزق وسیع ہو جاٸے تو وہ ہر جمعہ کو ناخن اور مونچھیں کٹوایا کرے۔
🌺 رزق کی زیادتی کا سبب:
جمعرات کے روز ناخن کاٹو اور ایک ناخن باقی رہنے دو اور اسکو جمعہ کے دن کاٹو کیونکہ یہ رزق کی زیادتی کا سبب بنتا ہے اور ناخن کاٹتے وقت یہ دعا پڑھیں:
*بِسمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ وَعَلٰی سُنَّةِ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ*
■ ناخن کاٹنے کے طریقے:
چہاردہ معصومین علیہم السلام کی احادیث سے ناخن کاٹنے کے چند طریقے وارد ہوٸے ہیں:
● ایک طریقہ یہ ہے کہ باٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ابتدا کریں اور داٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پر اختتام کریں۔
● دوسرا طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ابتدا کریں اور داہنے ہاتھ کے سارے ناخن کاٹ لیں پھر باٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کر کے تمام ناخن کاٹیں۔
● تیسرا طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ کی شہادت والی انگلی سے ابتدا پھر درميان والی انگلی پھر اسکے ساتھ اور پھر چھوٹی انگلی پھر باٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پھر اسکے بعد ایک ایک کر کے ساری انگلیوں کے ناخن کاٹیں۔ بعد میں داہنے ہاتھ کی بڑی انگلی کے ناخن کاٹیں۔
ان میں سے جس طریقے پر عمل کیا جاٸیگا ان شاء اللہ تعالٰی ثواب ملے گا۔
📚 حوالہ جات:
تہذیب الإسلام
انوارالنجف، جلد14۔
وسائل الشیعہ، جلد5۔
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 ناخن کب کاٹے جائیں:
لوگوں نے حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمارے اصحاب کا یہ مقولہ ہے کہ ناخن جمعہ ہی کے دن کاٹنے چاہئیں۔
امامؑ نے فرمایا: کہ جمعہ کے دن کٹواؤ خواہ کسی اور دن۔ یعنی اگر کسی اور دن ناخن اتنے بڑھ جائیں کہ کٹوانے کی ضرورت معلوم ہو تو جمعہ کا انتظار نہیں کرنا چاہیے اسی طرح حدیث میں وارد ہے کہ ناخن جس وقت بڑھ جائیں کٹوا ڈالو۔
🌹 ناخن کاٹنے کی مقدار:
حدیث میں منقول ہے کہ رسول اکرمؐ مردوں کو تو یہ حکم دیتے تھے کہ ناخنوں کو زندہ ناخن کے پاس سے کاٹو اور عورتوں کے لیے یہ فرمایا کہ تھوڑا سا چھوڑ کر کاٹو کہ وہ تمھاری زینت کا موجب ہے۔
🌹 ممانعت:
منقول ہے کہ حضرت رسول اکرمؐ نے دانتوں سے ناخن کاٹنے کی ممانعت فرمائی ہے۔
🌹 بیماریوں سے شفا:
رسول اکرمؐ سے منقول ہے:
ناخن کاٹنے سے بہت بڑے بڑے امراض موقوف ہوتے ہیں اور روزی فراخ ہوتی ہے۔
🌹 درد سے شفا:
پیغمبر اسلامؐ فرماتے ہیں:
اگر کوٸی شخص جمعہ کے دن ناخن کاٹے تو اللہ تعالٰی اسکی انگلیوں سے درد کو نکال کر ان میں شفا داخل کر دیگا۔
🌼 روزی میں برکت:
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
جمعةالمبارک کے دن ناخن کاٹنا اور مونچھوں کو کٹوانا فقیری کو دور کرتا ہے اور روزی کو زیادہ کرتا ہے۔
🌸 رزق کا وسیع ہونا:
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اگر کوٸی چاہتا ہے کہ اسکا رزق وسیع ہو جاٸے تو وہ ہر جمعہ کو ناخن اور مونچھیں کٹوایا کرے۔
🌺 رزق کی زیادتی کا سبب:
جمعرات کے روز ناخن کاٹو اور ایک ناخن باقی رہنے دو اور اسکو جمعہ کے دن کاٹو کیونکہ یہ رزق کی زیادتی کا سبب بنتا ہے اور ناخن کاٹتے وقت یہ دعا پڑھیں:
*بِسمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ وَعَلٰی سُنَّةِ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ*
■ ناخن کاٹنے کے طریقے:
چہاردہ معصومین علیہم السلام کی احادیث سے ناخن کاٹنے کے چند طریقے وارد ہوٸے ہیں:
● ایک طریقہ یہ ہے کہ باٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ابتدا کریں اور داٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پر اختتام کریں۔
● دوسرا طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ابتدا کریں اور داہنے ہاتھ کے سارے ناخن کاٹ لیں پھر باٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کر کے تمام ناخن کاٹیں۔
● تیسرا طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ کی شہادت والی انگلی سے ابتدا پھر درميان والی انگلی پھر اسکے ساتھ اور پھر چھوٹی انگلی پھر باٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پھر اسکے بعد ایک ایک کر کے ساری انگلیوں کے ناخن کاٹیں۔ بعد میں داہنے ہاتھ کی بڑی انگلی کے ناخن کاٹیں۔
ان میں سے جس طریقے پر عمل کیا جاٸیگا ان شاء اللہ تعالٰی ثواب ملے گا۔
📚 حوالہ جات:
تہذیب الإسلام
انوارالنجف، جلد14۔
وسائل الشیعہ، جلد5۔
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 ہاتھ، پیر سن ہونا 🔷
ہاتھ، پاؤں، بازو یا ٹانگ کا سو جانا ایک ایسی کیفیت ہے جس کا تجربہ کبھی نہ کبھی ہم سب کو ہوتا ہے۔ لمبے وقت تک بازو یا ٹانگ پر دباؤ پڑنے یا بعض اوقات نیند کے دوران ایک بازو پر مسلسل دباؤ پڑنے سے یہ اعضاء سو جاتے ہیں اور پھر ہم اچانک ہڑ بڑا کر انہیں حرکت دینے کی کوشش کرتے ہیں مگر اول تو اعضاء بے حس محسوس ہوتے ہیں اور پھر ان میں شدید چبھن کا احساس ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ سوئے ہوئے اعضاء مکمل طور پر جاگ جاتے ہیں۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟ آخر وہ کونسی تبدیلی ہے جو اچھے بھلے اعضاء میں معذوری جیسی کیفیت پیدا کردیتی ہے؟
اس کیلئے ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم اپنے اعضاء کی موجودگی کا احساس کیسے کرتے ہیں۔ انسانی جسم کے ہر حصے کا تعلق دماغ کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ تعلق عصبی نظام کے خلیات کے ذریعے ہوتا ہے۔
عصبی خلیے اعضاء سے دماغ کو پیغامات پہنچاتے ہیں اور دماغ سے ان اعضاء کو ہدایات ملتی ہیں۔ جب کسی عضو پر لمبے وقت کیلئے دباؤ پڑتا ہے تو عصبی رگیں دب جاتی ہیں اور دماغ کے ساتھ رابطہ متاثر ہوتا ہے۔ جب عصبی پیغامات درست طور پر دماغ تک نہیں پہنچتے تو دماغ کنفیوز ہوجاتا ہے اور اس میں چبھن اور درد کی سی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے ہم فوری طور پر عضو کو حرکت دیتے ہیں تاکہ اس کی نارمل کیفیت بحال ہو جائے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ہاتھ، پاؤں، بازو یا ٹانگ کا سو جانا ایک ایسی کیفیت ہے جس کا تجربہ کبھی نہ کبھی ہم سب کو ہوتا ہے۔ لمبے وقت تک بازو یا ٹانگ پر دباؤ پڑنے یا بعض اوقات نیند کے دوران ایک بازو پر مسلسل دباؤ پڑنے سے یہ اعضاء سو جاتے ہیں اور پھر ہم اچانک ہڑ بڑا کر انہیں حرکت دینے کی کوشش کرتے ہیں مگر اول تو اعضاء بے حس محسوس ہوتے ہیں اور پھر ان میں شدید چبھن کا احساس ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ سوئے ہوئے اعضاء مکمل طور پر جاگ جاتے ہیں۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟ آخر وہ کونسی تبدیلی ہے جو اچھے بھلے اعضاء میں معذوری جیسی کیفیت پیدا کردیتی ہے؟
اس کیلئے ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم اپنے اعضاء کی موجودگی کا احساس کیسے کرتے ہیں۔ انسانی جسم کے ہر حصے کا تعلق دماغ کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ تعلق عصبی نظام کے خلیات کے ذریعے ہوتا ہے۔
عصبی خلیے اعضاء سے دماغ کو پیغامات پہنچاتے ہیں اور دماغ سے ان اعضاء کو ہدایات ملتی ہیں۔ جب کسی عضو پر لمبے وقت کیلئے دباؤ پڑتا ہے تو عصبی رگیں دب جاتی ہیں اور دماغ کے ساتھ رابطہ متاثر ہوتا ہے۔ جب عصبی پیغامات درست طور پر دماغ تک نہیں پہنچتے تو دماغ کنفیوز ہوجاتا ہے اور اس میں چبھن اور درد کی سی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے ہم فوری طور پر عضو کو حرکت دیتے ہیں تاکہ اس کی نارمل کیفیت بحال ہو جائے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔶 ٹوتھ پیسٹ کوڈز 🔶
دانت برش کرنا ہمارا روزمرہ کا معمول ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ٹوتھ برش کی ٹیوب پر بالکل نیچے ایک رنگین چوکور ڈبہ بنا ہوتا ہے جو کلر کوڈ کہلاتا ہے۔
آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ کلر کوڈ کیا بتاتے ہیں۔
⚫ سیاہ
ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب کے نیچے بنے کلر کوڈ کا سیاہ رنگ ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف کیمیکلز سے بنا ہوا ٹوتھ پیسٹ ہے۔
🔴 سرخ
سرخ رنگ کا کوڈ ظاہر کرتا ہے کہ ٹوتھ پیسٹ قدرتی اور کیمیائی اجزا کی آمیزش سے بنایا گیا ہے۔
🔵 نیلا
نیلے رنگ کا مطلب ہے کہ ٹوتھ پیسٹ میں قدرتی اجزا اور دوائیں شامل ہیں۔ یہ ٹوتھ پیسٹ دانتوں کی کسی قسم کی بیماری رکھنے والے افراد کو تجویز کیا جاتا ہے۔
🌲 سبز
سبز کلر کوڈ ٹوتھ پیسٹ کے خالص قدرتی اجزا سے بنے ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔
■ ماہرین کے مطابق جب بھی ٹوتھ پیسٹ خریدا جائے تو ان کلر کوڈز کو ذہن میں رکھتے ہوئے خریدا جائے۔ بچوں کے لیے سیاہ کلر کوڈ والے ٹوتھ پیسٹ نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں جو صرف کیمیکلز سے بنائے گئے ہوتے ہیں۔
اسی طرح سبز کلر کوڈ والے ٹوتھ پیسٹ دانتوں کی صحت کے لیے موزوں ہیں۔
https://t.me/islamwitheman/2141
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
دانت برش کرنا ہمارا روزمرہ کا معمول ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ٹوتھ برش کی ٹیوب پر بالکل نیچے ایک رنگین چوکور ڈبہ بنا ہوتا ہے جو کلر کوڈ کہلاتا ہے۔
آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ کلر کوڈ کیا بتاتے ہیں۔
⚫ سیاہ
ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب کے نیچے بنے کلر کوڈ کا سیاہ رنگ ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف کیمیکلز سے بنا ہوا ٹوتھ پیسٹ ہے۔
🔴 سرخ
سرخ رنگ کا کوڈ ظاہر کرتا ہے کہ ٹوتھ پیسٹ قدرتی اور کیمیائی اجزا کی آمیزش سے بنایا گیا ہے۔
🔵 نیلا
نیلے رنگ کا مطلب ہے کہ ٹوتھ پیسٹ میں قدرتی اجزا اور دوائیں شامل ہیں۔ یہ ٹوتھ پیسٹ دانتوں کی کسی قسم کی بیماری رکھنے والے افراد کو تجویز کیا جاتا ہے۔
🌲 سبز
سبز کلر کوڈ ٹوتھ پیسٹ کے خالص قدرتی اجزا سے بنے ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔
■ ماہرین کے مطابق جب بھی ٹوتھ پیسٹ خریدا جائے تو ان کلر کوڈز کو ذہن میں رکھتے ہوئے خریدا جائے۔ بچوں کے لیے سیاہ کلر کوڈ والے ٹوتھ پیسٹ نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں جو صرف کیمیکلز سے بنائے گئے ہوتے ہیں۔
اسی طرح سبز کلر کوڈ والے ٹوتھ پیسٹ دانتوں کی صحت کے لیے موزوں ہیں۔
https://t.me/islamwitheman/2141
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 کھلے پانی میں یکدم نہانا 🔷
یہ مشورہ بالخصوص ان لوگوں کے لئے ہے، جو کسی بھی کھلے پانی، سوئمنگ پول، حوض، ٹیوب ویل وغیرہ میں بغیر ٹمپریچر کا خیال رکھے چھلانگ لگا دیتے ہیں.
مشورہ سے پہلے تین مختصر واقعات عرض کرتا ہوں...
(1) سیالکوٹ میں ہمارے ایک دوست "رشید صاحب" تھے ان کا جواں سال بیٹا شدید گرمی میں کام کرتے کرتے اپنے ٹیوب ویل پر گیا اور حوض میں چھلانگ لگائی، تو اس کو پانی کے اندر ہی فالج ہوگیا.
(2) یہاں پر اٹلی میں ہمارے دوست محترم یاسین صاحب ہیں ان کا جواں سال بیٹا سوئمنگ پول میں نہانے کے لیے گیا، چھلانگ لگائی اور پانی کے اندر ہی مفلوج ہوگیا، پچھلے دو تین مہینوں سے ہسپتال میں پڑا ہے.
(3) آپ جانتے ہیں29/7/2019 کو پاکستان کے عظیم ثناء خوان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم "ذوالفقار علی حسینی" فوت ہو گئے اور کل ان کو سپرد خاک کر دیا گیا.
ان کے فوت ہونے کی جو وجوہات سامنے آئی ہیں وہ یہ کہ سوئمنگ پول میں نہانے کے دوران ان پر کسی وائرس کا اٹیک ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اللہ کو پیارے ہوگئے.
■ اصل موضوع کی طرف آتا ہوں..
آپ نے دیکھا ہو گا کبھی جہاز میں سفر کرتے ہیں تو جس ملک یا شہر میں آپ اتر رہے ہوتے ہیں. جہاز میں اناؤنسمنٹ ہوتی ہے کہ اس شہر، کا ٹمپریچر اس وقت یہ ہے، تو مسافر جہاز سے اترنے سے پہلے موجودہ ٹیمپریچر کے مطابق اپنی ذہنی، جسمانی تیاری کرتا ہے.
● ایک اور ضروری احتیاط۔۔۔
جو پانی سورج سے گرم ہو جائے اس کے ساتھ وضو کرنے سے فقہاء نے منع فرمایا ہے، اور مکروہ لکھا ہے وہ بھی بیماری پیدا کرنے کا سبب ہے.
جو احباب یہ پوسٹ پڑھیں وہ اپنے بچوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائیں کہ اس طرح نہروں میں جاکر چھلانگ لگانا، سوئمنگ پول، ٹیوب ویل وغیرہ میں نقصان کا باعث ہو سکتا ہے.
ایسی جگہوں پر نہانے سے پہلے اپنے جسمانی ٹمپریچر کو پانی کے موافق کیجیے.
تحریر: محمد یعقوب اٹلی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
یہ مشورہ بالخصوص ان لوگوں کے لئے ہے، جو کسی بھی کھلے پانی، سوئمنگ پول، حوض، ٹیوب ویل وغیرہ میں بغیر ٹمپریچر کا خیال رکھے چھلانگ لگا دیتے ہیں.
مشورہ سے پہلے تین مختصر واقعات عرض کرتا ہوں...
(1) سیالکوٹ میں ہمارے ایک دوست "رشید صاحب" تھے ان کا جواں سال بیٹا شدید گرمی میں کام کرتے کرتے اپنے ٹیوب ویل پر گیا اور حوض میں چھلانگ لگائی، تو اس کو پانی کے اندر ہی فالج ہوگیا.
(2) یہاں پر اٹلی میں ہمارے دوست محترم یاسین صاحب ہیں ان کا جواں سال بیٹا سوئمنگ پول میں نہانے کے لیے گیا، چھلانگ لگائی اور پانی کے اندر ہی مفلوج ہوگیا، پچھلے دو تین مہینوں سے ہسپتال میں پڑا ہے.
(3) آپ جانتے ہیں29/7/2019 کو پاکستان کے عظیم ثناء خوان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم "ذوالفقار علی حسینی" فوت ہو گئے اور کل ان کو سپرد خاک کر دیا گیا.
ان کے فوت ہونے کی جو وجوہات سامنے آئی ہیں وہ یہ کہ سوئمنگ پول میں نہانے کے دوران ان پر کسی وائرس کا اٹیک ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اللہ کو پیارے ہوگئے.
■ اصل موضوع کی طرف آتا ہوں..
آپ نے دیکھا ہو گا کبھی جہاز میں سفر کرتے ہیں تو جس ملک یا شہر میں آپ اتر رہے ہوتے ہیں. جہاز میں اناؤنسمنٹ ہوتی ہے کہ اس شہر، کا ٹمپریچر اس وقت یہ ہے، تو مسافر جہاز سے اترنے سے پہلے موجودہ ٹیمپریچر کے مطابق اپنی ذہنی، جسمانی تیاری کرتا ہے.
● ایک اور ضروری احتیاط۔۔۔
جو پانی سورج سے گرم ہو جائے اس کے ساتھ وضو کرنے سے فقہاء نے منع فرمایا ہے، اور مکروہ لکھا ہے وہ بھی بیماری پیدا کرنے کا سبب ہے.
جو احباب یہ پوسٹ پڑھیں وہ اپنے بچوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائیں کہ اس طرح نہروں میں جاکر چھلانگ لگانا، سوئمنگ پول، ٹیوب ویل وغیرہ میں نقصان کا باعث ہو سکتا ہے.
ایسی جگہوں پر نہانے سے پہلے اپنے جسمانی ٹمپریچر کو پانی کے موافق کیجیے.
تحریر: محمد یعقوب اٹلی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 کلیجی کھانے کے اثرات 🔷
لاہور (ویب ڈیسک) بہت کم افراد ایسے ہوتے ہیں جن کو جانوروں کی کلیجی، گردے، دل، زبان اور مغز وغیرہ کھانے کا شوق ہوتا ہے، بیشتر تو انہیں نقصان دہ یا خراب سمجھ کر کھانے سے گریز کرتے ہیں۔ مگر عیدالاضحٰی وہ موقع ہوتا ہے جب لگ بھگ سب ہی کلیجی کھاتے ہیں۔مگر بیشتر افراد کو معلوم نہیں کہ گوشت کے یہ حصے کچھ وٹامنز اور غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں۔ اکثر انہیں سپر فوڈ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں آئرن، وٹامن بی، فاسفورس، کاپر، میگنیشم، وٹامن اے، وٹامن ڈی، وٹامن ای، وٹامن کے اور دیگر وٹامنز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مختلف ممالک میں انہیں کھایا جاتا ہے اور ان کے فوائد درج ذیل ہیں۔
● جگر
جگر یا کلیجی اس حوالے سے سب سے زیادہ غذائیت والا حصہ ہے جس میں وٹامن اے کی طاقتور قسم پائی جاتی ہے، وٹامن اے آنکھوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے جبکہ جسمانی ورم اور جوڑوں کے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے، اس کے علاوہ کلیجی میں فولک ایسڈ، آئرن، کرومیم، کاپر اور زنک بھی موجود ہوتا ہے جو کہ دل کے لیے فائدہ مند ہونے کے ساتھ خون میں ہیموگلوبن کی سطح بڑھاتے ہیں، جس سے انیمیا کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
● گردے
پروٹین اور دیگر اجزا سے بھرپور گردے جسم کو اومیگا تھری فیٹی ایسڈ فراہم کرتے ہیں، جبکہ اس میں موجود ورم کش خصوصیات دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں۔
● مغز
مغز میں اومیگا تھری فیٹی اسیڈز اور ایسے اجزا موجود ہوتے ہیں جو اعصابی نظام کو فائدہ پہنچاتے ہیں، ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس انسانی دماغ اور حرام مغز کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
❤️ دل
دل فولیٹ، آئرن، زنک اور سیلینیم سے بھرپور ہوتا ہے جبکہ اس میں وٹامن بی 2، بی سکس اور بی 12 بھی موجود ہوتا ہے جو کہ امراض قلب سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ بلڈ پریشر کو مستحکم، ہائی کولیسٹرول میں کمی اور خون کی شریانوں کو صحت مند بناتے ہیں۔
● زبان
زبان کیلوریز اور فیٹی ایسڈز جیسے زنک، آئرن، کولین اور وٹامن بی 12 سے بھرپور ہوتی ہے اور یہ گوشت حاملہ خواتین کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔
■ خطرات
ان حصوں میں کولیسٹرول اور چربی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے ان کو بہت زیادہ کھانا نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ یعنی کلیجی، گردے، زبان، مغز یا دل وغیرہ کو اعتدال میں رہ کر کھانا چاہئے اور ہفتے یا مہینے میں ایک بار کھانا ہی کافی ہوتا ہے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
لاہور (ویب ڈیسک) بہت کم افراد ایسے ہوتے ہیں جن کو جانوروں کی کلیجی، گردے، دل، زبان اور مغز وغیرہ کھانے کا شوق ہوتا ہے، بیشتر تو انہیں نقصان دہ یا خراب سمجھ کر کھانے سے گریز کرتے ہیں۔ مگر عیدالاضحٰی وہ موقع ہوتا ہے جب لگ بھگ سب ہی کلیجی کھاتے ہیں۔مگر بیشتر افراد کو معلوم نہیں کہ گوشت کے یہ حصے کچھ وٹامنز اور غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں۔ اکثر انہیں سپر فوڈ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں آئرن، وٹامن بی، فاسفورس، کاپر، میگنیشم، وٹامن اے، وٹامن ڈی، وٹامن ای، وٹامن کے اور دیگر وٹامنز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مختلف ممالک میں انہیں کھایا جاتا ہے اور ان کے فوائد درج ذیل ہیں۔
● جگر
جگر یا کلیجی اس حوالے سے سب سے زیادہ غذائیت والا حصہ ہے جس میں وٹامن اے کی طاقتور قسم پائی جاتی ہے، وٹامن اے آنکھوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے جبکہ جسمانی ورم اور جوڑوں کے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے، اس کے علاوہ کلیجی میں فولک ایسڈ، آئرن، کرومیم، کاپر اور زنک بھی موجود ہوتا ہے جو کہ دل کے لیے فائدہ مند ہونے کے ساتھ خون میں ہیموگلوبن کی سطح بڑھاتے ہیں، جس سے انیمیا کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
● گردے
پروٹین اور دیگر اجزا سے بھرپور گردے جسم کو اومیگا تھری فیٹی ایسڈ فراہم کرتے ہیں، جبکہ اس میں موجود ورم کش خصوصیات دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں۔
● مغز
مغز میں اومیگا تھری فیٹی اسیڈز اور ایسے اجزا موجود ہوتے ہیں جو اعصابی نظام کو فائدہ پہنچاتے ہیں، ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس انسانی دماغ اور حرام مغز کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
❤️ دل
دل فولیٹ، آئرن، زنک اور سیلینیم سے بھرپور ہوتا ہے جبکہ اس میں وٹامن بی 2، بی سکس اور بی 12 بھی موجود ہوتا ہے جو کہ امراض قلب سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ بلڈ پریشر کو مستحکم، ہائی کولیسٹرول میں کمی اور خون کی شریانوں کو صحت مند بناتے ہیں۔
● زبان
زبان کیلوریز اور فیٹی ایسڈز جیسے زنک، آئرن، کولین اور وٹامن بی 12 سے بھرپور ہوتی ہے اور یہ گوشت حاملہ خواتین کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔
■ خطرات
ان حصوں میں کولیسٹرول اور چربی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے ان کو بہت زیادہ کھانا نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ یعنی کلیجی، گردے، زبان، مغز یا دل وغیرہ کو اعتدال میں رہ کر کھانا چاہئے اور ہفتے یا مہینے میں ایک بار کھانا ہی کافی ہوتا ہے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 دانت چمکانے کے ٹوٹکے 🔷
جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ان کو ہضم کرنے کے لائق جو 32 تیز دھار والے آلات کام آتے ہیں ان کو دانت کہتے ہیں۔ اکثر لوگوں کی پہچان ان کے دانتوں سے ہی ہوتی ہے کیونکہ یا تو وہ ہنستے ہوئے اچھے لگتے ہیں یا ہسنے کے لیے ان کے پاس دانت ہی نہیں ہوتے مگر جن کے پاس ہوں وہ ان کو کسی نعمت سے کم نہ سمجھیں اور ان کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔
اس کے لیے آپ کو کسی ڈینٹسٹ کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہے آپ گھر پر ہی ان کی چمک اور دمک کا بندوبست کر سکتے ہیں:
1۔ نمک کو گرم کرنے کے بعد گرینڈ کرلیں تاکہ بالکل پاؤڈر بن جائے- اب اس میں کلونجی اور مسٹرد آئل کے چند قطرے شامل کرلیں- اس مکسچر کو دانتوں پر لگانے سے دانت چمک جائیں گے۔
2۔ ٹوٹھ برش پر ٹوٹھ پیسٹ لگانے کے بعد ذرا سا نمک اور میٹھا سوڈا اور لیموں کے دو قطرے ڈال کر دانت صاف کریں دانت چمک جائیں گے۔
3۔ دانت چمکانے کے لیے کوئلے کا سفوف اور جلی ہوئی روٹی کی راکھ بھی مفید ہے۔
4۔ دانتوں پر لیموں کا چھلکا ملنے سے پیلاہٹ اور چائے کے داغ بھی دور ہو جاتے ہیں۔
5۔ روزانہ احتیاط سے اپنے دانتوں اور مسوڑھوں کا معائنہ کریں۔
التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ان کو ہضم کرنے کے لائق جو 32 تیز دھار والے آلات کام آتے ہیں ان کو دانت کہتے ہیں۔ اکثر لوگوں کی پہچان ان کے دانتوں سے ہی ہوتی ہے کیونکہ یا تو وہ ہنستے ہوئے اچھے لگتے ہیں یا ہسنے کے لیے ان کے پاس دانت ہی نہیں ہوتے مگر جن کے پاس ہوں وہ ان کو کسی نعمت سے کم نہ سمجھیں اور ان کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔
اس کے لیے آپ کو کسی ڈینٹسٹ کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہے آپ گھر پر ہی ان کی چمک اور دمک کا بندوبست کر سکتے ہیں:
1۔ نمک کو گرم کرنے کے بعد گرینڈ کرلیں تاکہ بالکل پاؤڈر بن جائے- اب اس میں کلونجی اور مسٹرد آئل کے چند قطرے شامل کرلیں- اس مکسچر کو دانتوں پر لگانے سے دانت چمک جائیں گے۔
2۔ ٹوٹھ برش پر ٹوٹھ پیسٹ لگانے کے بعد ذرا سا نمک اور میٹھا سوڈا اور لیموں کے دو قطرے ڈال کر دانت صاف کریں دانت چمک جائیں گے۔
3۔ دانت چمکانے کے لیے کوئلے کا سفوف اور جلی ہوئی روٹی کی راکھ بھی مفید ہے۔
4۔ دانتوں پر لیموں کا چھلکا ملنے سے پیلاہٹ اور چائے کے داغ بھی دور ہو جاتے ہیں۔
5۔ روزانہ احتیاط سے اپنے دانتوں اور مسوڑھوں کا معائنہ کریں۔
التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 اووَر تھِنکِنگ (Over thinking) 🔷
مطلب ضرورت سے زائد یا بے وجہ سوچنا۔
کھیتوں کی سیر سے واپسی پر کچھ پودے دیکھے جو ایسے لگ رہے تھے کہ وہ پودے اپنی مرضی سے جگہ جگہ بنا کسی حدِ مقرر کے اگتے چلے گئے ہیں۔ ان کو دیکھ کر غیر ارادی طور پر جو خیال آیا وہ تھا۔۔۔
“اُووَر تھِنکِنگ کا جنگل”
مجھے اپنے اس خیال پر ہنسی بھی آئی اور ساتھ ہی موبائل کے کیمرہ سے اوور تھنکنگ کے جنگل کی عکس بندی بھی کر لی۔
باقی کا گھر تک کا راستہ یہ سوچتے گذرا کہ کیا وہ واقعی اوور تھنکنگ کا جنگل تھا؟ اگر تھا تو کیسے بنا؟
تو جواب ملا کہ خالی اور زرخیز زمین۔
وہ خالی زمین تھی جسے پانی، ہوا اور روشنی میسر تھی جو جنگلی پودوں، جڑی بوٹیوں اور گھاس پھونس کے اگنے کو کافی ہے۔
ہمارا ذہن بھی اگر خالی ہو تو اس میں بے وجہ کی سوچیں جنم لیتی رہتی ہیں۔ ہم وہ سب بھی سوچ لیتے ہیں جس کا شاید وجود بھی نہیں ہوتا ہے۔
جس طرح ہم خالی زمین پر غیر ضروری پودے اگنے سے نہیں روک سکتے ویسے ہی بنا کسی معیاری سوچ کے ذہن بے وجہ سوچنے سے نہیں رکتا ہے۔
اپنے خوبصورت ذہن کی زرخیر زمین کو اُووَر تھِنکِنگ کا جنگل بننے سے پہلے اُس زمین پر مثبت سوچ کے بیج لگانے شروع کر دیں اور ہر روز ان کا خیال رکھیں تاکہ ان کے ساتھ منفی سوچ کی گھاس نہ اگنے پائے۔
التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
مطلب ضرورت سے زائد یا بے وجہ سوچنا۔
کھیتوں کی سیر سے واپسی پر کچھ پودے دیکھے جو ایسے لگ رہے تھے کہ وہ پودے اپنی مرضی سے جگہ جگہ بنا کسی حدِ مقرر کے اگتے چلے گئے ہیں۔ ان کو دیکھ کر غیر ارادی طور پر جو خیال آیا وہ تھا۔۔۔
“اُووَر تھِنکِنگ کا جنگل”
مجھے اپنے اس خیال پر ہنسی بھی آئی اور ساتھ ہی موبائل کے کیمرہ سے اوور تھنکنگ کے جنگل کی عکس بندی بھی کر لی۔
باقی کا گھر تک کا راستہ یہ سوچتے گذرا کہ کیا وہ واقعی اوور تھنکنگ کا جنگل تھا؟ اگر تھا تو کیسے بنا؟
تو جواب ملا کہ خالی اور زرخیز زمین۔
وہ خالی زمین تھی جسے پانی، ہوا اور روشنی میسر تھی جو جنگلی پودوں، جڑی بوٹیوں اور گھاس پھونس کے اگنے کو کافی ہے۔
ہمارا ذہن بھی اگر خالی ہو تو اس میں بے وجہ کی سوچیں جنم لیتی رہتی ہیں۔ ہم وہ سب بھی سوچ لیتے ہیں جس کا شاید وجود بھی نہیں ہوتا ہے۔
جس طرح ہم خالی زمین پر غیر ضروری پودے اگنے سے نہیں روک سکتے ویسے ہی بنا کسی معیاری سوچ کے ذہن بے وجہ سوچنے سے نہیں رکتا ہے۔
اپنے خوبصورت ذہن کی زرخیر زمین کو اُووَر تھِنکِنگ کا جنگل بننے سے پہلے اُس زمین پر مثبت سوچ کے بیج لگانے شروع کر دیں اور ہر روز ان کا خیال رکھیں تاکہ ان کے ساتھ منفی سوچ کی گھاس نہ اگنے پائے۔
التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
😜 اے لو 😜
ریاست شارجہ کی ایک خاتون نے عدالت کے ذریعے صرف اس لئے طلاق مانگ لی ہے کہ شوہر لاڈ پیار اور خدمت کرتا ہے جھگڑے اور بحث کا موقع کبھی نہیں دیا.
اس کا کہنا ہے کہ شوہر کی انتہائی اطاعت گزاری سے وہ تنگ آگئی ہے.
اخبار ’خلیج ٹائمز‘ کے مطابق خاتون نے عدالت میں اعتراف کیا کہ اس کا شوہر اس کے کہے بغیر گھر کی صفائی کر دیتا ہے اور تو اور ان کے لیے کھانا بھی تیار کر دیتا ہے۔ اور کبھی غصے کا اظہار نہیں کرتا۔۔۔
خاتون نے شوہر کی اطاعت گزاری اور حد سے زیادہ محبت و احترام کو اپنے لیے عذاب قرار دیا۔
خاتون نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ شوہر سے کسی بات پر جھگڑنے یا بحث کرنے کے لیے ترس گئی ہے۔ ایسی زندگی عذاب ہے. وہ مزید اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی۔
رپورٹ کے مطابق بیوی کی جانب سے طلاق کے لیے درخواست دائر کرنے کے بعد شوہر نے عدالت میں جمع کرائے گئے بیان میں کہا کہ اس کی خواہش رہی ہے کہ وہ ایک اطاعت گزار شوہر رہے۔
خاتون کے شوہر نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ انہیں کئی دوستوں اور رشتہ داروں نے بیوی کے ساتھ تلخ رویہ اختیار کرنے کے مشورے بھی دیے، تاہم وہ ایسا کرنا نہیں چاہتا۔
شوہر نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ شادی کے چند ماہ بعد ایک دن اہلیہ نے انہیں ان کے اضافی وزن کا طعنہ دیا تھا، جس کے بعد اس نے سخت ورزش کی، جس وجہ سے اسے ٹانگ میں چوٹ بھی لگی۔
شوہر نے عدالت کو کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کو اپنی درخواست واپس لینے کا مشورہ دے گا اور یہ کہ کسی بھی شادی کو ختم کرنے کا فیصلہ کم عرصے میں نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق عدالت نے خاتون کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دونوں کو باہمی رضامندی کے ساتھ کوئی فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
🤔😜🤔
http://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
ریاست شارجہ کی ایک خاتون نے عدالت کے ذریعے صرف اس لئے طلاق مانگ لی ہے کہ شوہر لاڈ پیار اور خدمت کرتا ہے جھگڑے اور بحث کا موقع کبھی نہیں دیا.
اس کا کہنا ہے کہ شوہر کی انتہائی اطاعت گزاری سے وہ تنگ آگئی ہے.
اخبار ’خلیج ٹائمز‘ کے مطابق خاتون نے عدالت میں اعتراف کیا کہ اس کا شوہر اس کے کہے بغیر گھر کی صفائی کر دیتا ہے اور تو اور ان کے لیے کھانا بھی تیار کر دیتا ہے۔ اور کبھی غصے کا اظہار نہیں کرتا۔۔۔
خاتون نے شوہر کی اطاعت گزاری اور حد سے زیادہ محبت و احترام کو اپنے لیے عذاب قرار دیا۔
خاتون نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ شوہر سے کسی بات پر جھگڑنے یا بحث کرنے کے لیے ترس گئی ہے۔ ایسی زندگی عذاب ہے. وہ مزید اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی۔
رپورٹ کے مطابق بیوی کی جانب سے طلاق کے لیے درخواست دائر کرنے کے بعد شوہر نے عدالت میں جمع کرائے گئے بیان میں کہا کہ اس کی خواہش رہی ہے کہ وہ ایک اطاعت گزار شوہر رہے۔
خاتون کے شوہر نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ انہیں کئی دوستوں اور رشتہ داروں نے بیوی کے ساتھ تلخ رویہ اختیار کرنے کے مشورے بھی دیے، تاہم وہ ایسا کرنا نہیں چاہتا۔
شوہر نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ شادی کے چند ماہ بعد ایک دن اہلیہ نے انہیں ان کے اضافی وزن کا طعنہ دیا تھا، جس کے بعد اس نے سخت ورزش کی، جس وجہ سے اسے ٹانگ میں چوٹ بھی لگی۔
شوہر نے عدالت کو کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کو اپنی درخواست واپس لینے کا مشورہ دے گا اور یہ کہ کسی بھی شادی کو ختم کرنے کا فیصلہ کم عرصے میں نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق عدالت نے خاتون کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دونوں کو باہمی رضامندی کے ساتھ کوئی فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
🤔😜🤔
http://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
Telegram
🎅مسکراہٹیں🎅
لطیفے، مزاحیہ اور ہارر کلپس
🔷 الله پر چھوڑنا 🔷
تم نے اپنے فیصلے اللہ پہ چھوڑ تو دیئے ہیں مگر۔۔۔ دل سے نہیں چھوڑے۔۔۔ تم اب بھی چاہتے ہو کہ کاش فیصلہ وہی ہو جو تمہاری خواہش ہے۔۔
یہ کیسا اعتبار ہے بھلا۔۔؟ سمندر کے بیچ کھڑے شخص کو اس بات سے کیا غرض کشتی آر لگے گی یا پار، اسے تو بس یہ یقین ہونا چاہیے۔۔
میں ڈوب بھی گیا تو یہ میرے لئے آر یا پار جانے سے بہتر ہوگا۔۔۔ یہی تو اعتبار کا امتحان ہے۔۔۔ اللہ جتنی محبت اپنے بندے سے کرتا ہے۔۔۔
وہ آپکے گمان سے بھی آگے ہے۔۔۔ ہم صرف وہ دیکھتے ہیں جو ظاہری خوبصورت ہے۔۔۔ جبکہ اللہ یہ بھی جانتا ہے۔۔۔ آپ کے لئے کیا خوبصورت ہے۔۔۔ یقین کرو۔۔۔
جس دن اس اعتبار پہ فیصلہ اللہ پہ چھوڑو گے کہ جو بھی ہوا میرے لئے وہی بہترین ہوگا۔۔۔ اس دن نہ صرف آپ بےچینی سے نکل آؤ گے ۔۔۔
بلکہ فیصلہ آپ کے یقین سے زیادہ بہترین ہوگا۔۔۔ کیونکہ اللہ ساری دنیا اور لوگوں کے دلوں سمیت انکی سوچ کے رخ تک بدلنے پہ قادر ہے۔۔۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
تم نے اپنے فیصلے اللہ پہ چھوڑ تو دیئے ہیں مگر۔۔۔ دل سے نہیں چھوڑے۔۔۔ تم اب بھی چاہتے ہو کہ کاش فیصلہ وہی ہو جو تمہاری خواہش ہے۔۔
یہ کیسا اعتبار ہے بھلا۔۔؟ سمندر کے بیچ کھڑے شخص کو اس بات سے کیا غرض کشتی آر لگے گی یا پار، اسے تو بس یہ یقین ہونا چاہیے۔۔
میں ڈوب بھی گیا تو یہ میرے لئے آر یا پار جانے سے بہتر ہوگا۔۔۔ یہی تو اعتبار کا امتحان ہے۔۔۔ اللہ جتنی محبت اپنے بندے سے کرتا ہے۔۔۔
وہ آپکے گمان سے بھی آگے ہے۔۔۔ ہم صرف وہ دیکھتے ہیں جو ظاہری خوبصورت ہے۔۔۔ جبکہ اللہ یہ بھی جانتا ہے۔۔۔ آپ کے لئے کیا خوبصورت ہے۔۔۔ یقین کرو۔۔۔
جس دن اس اعتبار پہ فیصلہ اللہ پہ چھوڑو گے کہ جو بھی ہوا میرے لئے وہی بہترین ہوگا۔۔۔ اس دن نہ صرف آپ بےچینی سے نکل آؤ گے ۔۔۔
بلکہ فیصلہ آپ کے یقین سے زیادہ بہترین ہوگا۔۔۔ کیونکہ اللہ ساری دنیا اور لوگوں کے دلوں سمیت انکی سوچ کے رخ تک بدلنے پہ قادر ہے۔۔۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 کسی کو دبانا 🌹
دوسروں کو نیچے لگانے والے لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
مجھے چند برس قبل نیویارک میں اس کا سیشن اٹینڈ کرنے کا موقع ملا‘ وہ سیشن خاصا مہنگا تھا لیکن میں نے جو سیکھا وہ سیشن کی فیس سے کہیں قیمتی‘ کہیں مہنگا تھا۔
مثلاً میکس ویل نے ہال میں موجود شرکاءمیں سے ایک صاحب کو سٹیج پر بلایا‘ اسے اپنے سامنے کھڑا کیا‘ اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور اسے نیچے دبانا شروع کر دیا‘ وہ شخص
تگڑا تھا‘ وہ اکڑ کر کھڑا رہا‘ میکس ویل نے پورا زور لگانا شروع کر دیا‘ وہ شخص دبنے لگا اور وہ آہستہ آہستہ نیچے بیٹھتا چلا گیا‘ میکس ویل بھی اسے دبانے کے لیے نیچے ہوتاچلا گیا‘ وہ شخص آخر میں تقریباً لیٹ گیا‘ میکس ویل نے اس کے بعد اسے اٹھایا اور ہم شرکاءسے مخاطب ہوا ” آپ نے دیکھا مجھے اس شخص کو دبانے کے لیے کتنا زور لگانا پڑا‘ دوسرا یہ جوں جوں نیچے جا رہا تھا میں بھی اس کے ساتھ ساتھ نیچے جا رہا تھا یہاں تک کہ ہم دونوں زمین کی سطح تک پہنچ گئے“ وہ اس کے بعد رکا‘ لمبی سانس لی اور بولا ”ہم جب بھی زندگی میں کسی شخص کو نیچے دبانے کی کوشش کرتے ہیں تو صرف ہمارا ہدف نیچے نہیں جاتا ہم بھی اس کے ساتھ زمین کی سطح تک آ جاتے ہیں جب کہ اس کے برعکس ہم جب کسی شخص کو نیچے سے اٹھاتے ہیں تو صرف وہ شخص اوپر نہیں آتا‘ ہم بھی اوپر اٹھتے چلے جاتے ہیں‘ ہمارا درجہ‘ ہمارا مقام بھی بلند ہو جاتا ہے“ وہ اس کے بعد رکا اور بولا ” باکمال انسان کبھی کسی کو نہیں دباتا‘ وہ ہمیشہ دبے ہوﺅں کو اٹھاتا ہے اور ان کے ساتھ ساتھ خود بھی اوپر اٹھتا چلا جاتا ہے‘ وہ بلند ہوتا رہتا ہے“۔
میکس ویل کی دبانے اور اٹھانے کی تھیوری میں بہت جان ہے‘ آپ اپنے دائیں بائیں دیکھ لیں‘ آپ کو دوسروں کو دبانے والا ہر شخص ان کے ساتھ نیچے جاتا بھی نظر آئے گا اور اپنی ساری توانائیوں سے محروم ہوتا ہوا بھی۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
دوسروں کو نیچے لگانے والے لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
مجھے چند برس قبل نیویارک میں اس کا سیشن اٹینڈ کرنے کا موقع ملا‘ وہ سیشن خاصا مہنگا تھا لیکن میں نے جو سیکھا وہ سیشن کی فیس سے کہیں قیمتی‘ کہیں مہنگا تھا۔
مثلاً میکس ویل نے ہال میں موجود شرکاءمیں سے ایک صاحب کو سٹیج پر بلایا‘ اسے اپنے سامنے کھڑا کیا‘ اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور اسے نیچے دبانا شروع کر دیا‘ وہ شخص
تگڑا تھا‘ وہ اکڑ کر کھڑا رہا‘ میکس ویل نے پورا زور لگانا شروع کر دیا‘ وہ شخص دبنے لگا اور وہ آہستہ آہستہ نیچے بیٹھتا چلا گیا‘ میکس ویل بھی اسے دبانے کے لیے نیچے ہوتاچلا گیا‘ وہ شخص آخر میں تقریباً لیٹ گیا‘ میکس ویل نے اس کے بعد اسے اٹھایا اور ہم شرکاءسے مخاطب ہوا ” آپ نے دیکھا مجھے اس شخص کو دبانے کے لیے کتنا زور لگانا پڑا‘ دوسرا یہ جوں جوں نیچے جا رہا تھا میں بھی اس کے ساتھ ساتھ نیچے جا رہا تھا یہاں تک کہ ہم دونوں زمین کی سطح تک پہنچ گئے“ وہ اس کے بعد رکا‘ لمبی سانس لی اور بولا ”ہم جب بھی زندگی میں کسی شخص کو نیچے دبانے کی کوشش کرتے ہیں تو صرف ہمارا ہدف نیچے نہیں جاتا ہم بھی اس کے ساتھ زمین کی سطح تک آ جاتے ہیں جب کہ اس کے برعکس ہم جب کسی شخص کو نیچے سے اٹھاتے ہیں تو صرف وہ شخص اوپر نہیں آتا‘ ہم بھی اوپر اٹھتے چلے جاتے ہیں‘ ہمارا درجہ‘ ہمارا مقام بھی بلند ہو جاتا ہے“ وہ اس کے بعد رکا اور بولا ” باکمال انسان کبھی کسی کو نہیں دباتا‘ وہ ہمیشہ دبے ہوﺅں کو اٹھاتا ہے اور ان کے ساتھ ساتھ خود بھی اوپر اٹھتا چلا جاتا ہے‘ وہ بلند ہوتا رہتا ہے“۔
میکس ویل کی دبانے اور اٹھانے کی تھیوری میں بہت جان ہے‘ آپ اپنے دائیں بائیں دیکھ لیں‘ آپ کو دوسروں کو دبانے والا ہر شخص ان کے ساتھ نیچے جاتا بھی نظر آئے گا اور اپنی ساری توانائیوں سے محروم ہوتا ہوا بھی۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 چوبیس ٹکڑے 🌹
دو مرد ہمسفر ہوئے ایک جگہ کھانا کھارہے تھے ایک نے پانچ روٹیاں نکالیں اور دوسرے نے تین روتیاں نکال کر ساتھ کھانے لگے اور جب وہ کھانے لگے تو اتنے میں ایک مرد کا ادھر سے گزر ہوا۔ ان دونوں نے انہیں اپنے ساتھ کھانے پر بٹھا دیا جب وہ سب کھانا کھا چکے تو اس ادمی نے آٹھ درہم نکالے اور اِن کو دیے کہ یہ اسکا بدلا ہے جومیں نے تمہارا کھانا کھایا پس ان کا جھگڑا ہو گیا اور تین روٹیوں والا کہنے لگا کہ یہ ہمارے درمیان ادھے آدھے ہیں جبکہ پانچ روٹیوں والا کہنے لگا کہ میرے پانچ اور تیرے تین ہیں وہ اپنا فیصلا آمیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے پاس لے ائے اور واقعہ بیان کیا
آمیر المومنین نے فرمایا معمولی باتوں پر جھگڑا اچھا نہیں اور صلح کرنا زیادہ بہتر ہے۔ تو تین والا کہنے لگا کہ میں فیصلا کئےبغیر راضی نہیں۔
اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا اگر تو کڑوے فیصلا کے علاوہ راضی نہیں ہوتا تو پھر آٹھ میں سے تیرا ایک درہم ہے اور تیرے ساتھی کے سات درہم ہیں۔ وہ کہنے لگا کہ یہ کیسے؟
اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ کیا تیری تین روٹیاں نہیں تھیں اور تیرے ساتھی کی پانچ روٹیاں نہیں تھیں اس نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا اگر ایک روٹی کوتین حصوں میں تقسیم کیاجائے تو کُل چوبیس ٹکڑے ہوئے اور اسکا ایک تہائی آٹھ بنتے ہیں اپ نے فرمایا تیرے نو ٹکڑے بنتے تھے اور آٹھ تونے خود کھا ئے اپ کا صرف ایک ٹکڑا باقی بچا جبکہ جس کے پانچ روٹیاں تھیں اسکے پندرہ ٹکڑے بنے اسنے آٹھ ٹکڑے کھائے باقی سات مہمان نے کھائے۔اسطرح آپکا ایک ٹکڑا اور اسکے سات ٹکڑے مہمان نے کھائے تو اپکا ایک درہم اور اپکے ساتھی کے سات درہم ہوئے۔
📚 تذکرۃ الاطہار۔ آیتہ اللہ شیخ مفید۔ صفحہ(۱۳۸-۱۳۹)
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
دو مرد ہمسفر ہوئے ایک جگہ کھانا کھارہے تھے ایک نے پانچ روٹیاں نکالیں اور دوسرے نے تین روتیاں نکال کر ساتھ کھانے لگے اور جب وہ کھانے لگے تو اتنے میں ایک مرد کا ادھر سے گزر ہوا۔ ان دونوں نے انہیں اپنے ساتھ کھانے پر بٹھا دیا جب وہ سب کھانا کھا چکے تو اس ادمی نے آٹھ درہم نکالے اور اِن کو دیے کہ یہ اسکا بدلا ہے جومیں نے تمہارا کھانا کھایا پس ان کا جھگڑا ہو گیا اور تین روٹیوں والا کہنے لگا کہ یہ ہمارے درمیان ادھے آدھے ہیں جبکہ پانچ روٹیوں والا کہنے لگا کہ میرے پانچ اور تیرے تین ہیں وہ اپنا فیصلا آمیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے پاس لے ائے اور واقعہ بیان کیا
آمیر المومنین نے فرمایا معمولی باتوں پر جھگڑا اچھا نہیں اور صلح کرنا زیادہ بہتر ہے۔ تو تین والا کہنے لگا کہ میں فیصلا کئےبغیر راضی نہیں۔
اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا اگر تو کڑوے فیصلا کے علاوہ راضی نہیں ہوتا تو پھر آٹھ میں سے تیرا ایک درہم ہے اور تیرے ساتھی کے سات درہم ہیں۔ وہ کہنے لگا کہ یہ کیسے؟
اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ کیا تیری تین روٹیاں نہیں تھیں اور تیرے ساتھی کی پانچ روٹیاں نہیں تھیں اس نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا اگر ایک روٹی کوتین حصوں میں تقسیم کیاجائے تو کُل چوبیس ٹکڑے ہوئے اور اسکا ایک تہائی آٹھ بنتے ہیں اپ نے فرمایا تیرے نو ٹکڑے بنتے تھے اور آٹھ تونے خود کھا ئے اپ کا صرف ایک ٹکڑا باقی بچا جبکہ جس کے پانچ روٹیاں تھیں اسکے پندرہ ٹکڑے بنے اسنے آٹھ ٹکڑے کھائے باقی سات مہمان نے کھائے۔اسطرح آپکا ایک ٹکڑا اور اسکے سات ٹکڑے مہمان نے کھائے تو اپکا ایک درہم اور اپکے ساتھی کے سات درہم ہوئے۔
📚 تذکرۃ الاطہار۔ آیتہ اللہ شیخ مفید۔ صفحہ(۱۳۸-۱۳۹)
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
💥 عورتوں سے مشورہ 💥
مشورے کا مقصد بہترین راہِ حل اور بہترین عمل تک پہنچنا ہے، لہٰذا مشیر میں بڑے دقیق شرائط کی رعا یت ضروری ہے۔ اسلا م میں بھی مشیر اور مشورہ کی اہمیت کے بارے بہت سی روایات وارد ہیں۔
دینی نصوص میں مشورہ کے بارے میں بہت سی خصوصیات اور ضروری نکا ت کا ذکر ہوا ہے جیسے۔۔
ایمان، عقلمندی، علم و مہارت، خیر خواہی، خوف خدا، تقویٰ، دین داری، ہمدردی و بردباری، راز داری۔(1 تا 9)
جبکہ بخل، خوف اور حرص جیسے امور کو مشورہ سے مانع کہا گیا ہے۔
🔹 حضرت علیؑ فرماتے ہیں؛
بخیل بزدل اور حریص سے مشورہ نہ کرو کیونکہ ہر ایک میں ایسے عیوب و نقائص موجود ہیں جو آپ کو حقیقت تک پہنچنے سے مانع ہو سکتے ہیں۔(۱۰)
🔘 دوسری طرف سے طلبہ پر کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پانچ جذباتی معاملا ت (شادی، عشق، خوف، غم اور غصے) میں سے چار موارد میں عورتیں مردو ں سے زیادہ شدید جذباتی تھیں اور وہ ایک مورد جس میں مرد عورت سے زیادہ جذباتی تھے غصے کے بارے تھا۔ عورتیں نہ صرف ظریف ہیجانات میں زیادہ جذباتی واقع ہوئی ہیں بلکہ مثبت و منفی موارد میں جذبات کو بہتر تشخیص دے کر اس کا بہت جواب دیتی ہیں۔(۱۱)
آٹو کلائن برگ بھی لکھتے ہیں عورتیں زیادہ تر گھریلو اشیاء اور ذاتی کامو ں میں دلچسپی بچوں، محتاجوں اور بے نواؤں کی دیکھ بھال وغیرہ میں عموماً مردوں سے زیا دہ جذباتی ہوتی ہیں۔(۱۲)
🎍نتیجہ یہ ہوا کہ عورتوں کا قدرتی طور پر جذباتی پن (جوکہ حکمت کے عین مطابق ہے) اور ان کا معاشرے میں کم تر حاضر ہونا (جوکہ ان کے تجربے میں کمی کا باعث ہوتا ہے) ان کے مشوروں سے استفادہ کی محدودیت کا سبب سمجھا گیا ہے لہٰذاحضرت علیؑ کا فرمان ہے کہ۔۔
"ایاک ومشاورۃ النساء فان رائیھن الی افن و عزمھن الی وہن"
عورتوں کے مشورے سے بچو کیونکہ ان کی رائے کمزور اور عزم ناتواں ہوتا ہے۔(۱۳)
البتہ ان دونو ں کا ازالہ اسطرح کیا جا سکتا ہے کہ ان عوامل واسبا ب کو ختم کر دیا جائے لہٰذا دوسری حدیث میں آیا ہے۔۔
’’ایاک و مشاورۃ النساء الا من جرّبت بکما لعقل"
عورتوں کی مشاورت سے بچو مگر وہ عورتیں جن کی عقل کا کمال آزمایا جا چکا ہو۔(۱۴)
یہ نوع کے لحا ظ سے عورتوں کا حکم ہے ورنہ بہت سے مرد عورتوں سے زیادہ جذباتی یا کم تجربہ کار ہوتے ہیں اور ان کے سا تھ مشورے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
اس حدیث شریف کی رو سے جس سے مشورہ مانگا جائے اس میں کمال عقل اور علم ضروری ہے اور علم و تجربہ کے ساتھ مشورہ کرنے کے لحاظ سے عورت ہونا معیوب یا رکاوٹ نہیں ہے۔
🌷 دوسری طرف سے جن امور میں عورتوں کی معلومات زیادہ ہوتی ہیں وہاں عورتوں سے مشورہ کا حکم دیا گیا ہے۔
رسولخدا ؐ نے فرمایا:
"ائتمروا النساء فی بناتھن"
بیٹیو ں کے مربوط مسائل کے بارے میں عورتوں سے مشورہ کرو۔
قرآن میں بعض خاندانی مسائل کے بارے عورت اور مرد دونو ں کی رائے کو اعتبار دیا گیا ہے۔
"فَإِنْ أَرَادَا فِصَالاً عَن تَرَاضٍ مِّنْہُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْہِمَا"
اگرماں اور باپ باہمی مشورے سے بچے کو دوسال سے پہلے دودھ چھڑوانا چاہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔( بقرہ /۲۳۳)
یہاں تشاور سے مراد باہمی رضا مندی اور مشورہ ہے کیونکہ بچے کی تربیت کے حوالے سے ماں جو کچھ جانتی ہے باپ اسے نہیں جانتا اگر دونوں کا اتفاق نہ ہو تو اس سے بچے کا نقصان ہوگا۔
ہماری توضیحات سے واضح ہو گیا کہ جن عورتوں سے مشورہ کرنے سے روکا گیا ہے ان سے مراد ناتجربہ کار عورتیں ہیں یا وہ جو خواہشات کے تا بع، کم عقل اور دنیاوی زیب و زینت کا شکار ہو کر حقائق سے آنکھیں بند کر لیتی ہیں، لیکن جو عو رتیں دنیاوی زیب و زینت سے منہ موڑ کر معقولیت پسندی کی روش اپنا لیتی ہیں وہ مردوں کی طرح مشورے کی قابلیت رکھتی ہیں۔
اُستاد تقی جعفری کے بقول ایاک و مشاورۃ النساء، الامن جربت بکما لعقل ہونا جیسی روایات اسلام کے خاندانی نظا م میں شورائی نظام جس میں سر پرستی مرد کو حاصل ہو، کی تائید کرتی ہیں۔(۱۵)
لہٰذا جن روایات میں مشورة النساء سے روکا گیا ہے ان میں سب عورتیں شامل نہیں ہو سکتیں، خود رسولخد اؐ اور آئمہ اطہار کی علمی سیرت سے بھی ثابت ہے کہ یہ ہستیاں بھی عورتوں کو مشوروں میں شریک فرماتی تھیں۔(۱۶)
📚 حوالہ جات
(۱) تفسیر فرات کوفی/ ص ۶۲۵
(۲) بحارالانوار ج ۷۲/ ص ۱۰۵
(۳) حوالہ سابق / ص ۱۰۰
(۴) حوالہ سابق / ص ۱۰۵
(۵) حوالہ سابق / ص ۹۸
(۶) حوالہ سابق / ص ۱۰۰
(۷) امالی شیخ صدوق /ص ۳۰۶
(۹/ ۸) حوالہ سابق
(۱۰) سید جعفر شہیدی ترجمہ نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۵۳ (مالک اشتر کے نام)
(۱۱) کارل ہاف مین۔ روان شنامی عمومی از نظریہ تاکار برد ج ۲
(۱۲)حوالہ سابق، ص/ ۶۵
(۱۳) نہج البلاغہ خطبہ
(۱۴) بحارالأنوار ج ۱۰۳/ ص ۲۵۳
(۱۵) محمد رضا رجب نژاد، خرد زیبا/ ۹۱
(۱۶) حوالہ سابق/ص۴۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
مشورے کا مقصد بہترین راہِ حل اور بہترین عمل تک پہنچنا ہے، لہٰذا مشیر میں بڑے دقیق شرائط کی رعا یت ضروری ہے۔ اسلا م میں بھی مشیر اور مشورہ کی اہمیت کے بارے بہت سی روایات وارد ہیں۔
دینی نصوص میں مشورہ کے بارے میں بہت سی خصوصیات اور ضروری نکا ت کا ذکر ہوا ہے جیسے۔۔
ایمان، عقلمندی، علم و مہارت، خیر خواہی، خوف خدا، تقویٰ، دین داری، ہمدردی و بردباری، راز داری۔(1 تا 9)
جبکہ بخل، خوف اور حرص جیسے امور کو مشورہ سے مانع کہا گیا ہے۔
🔹 حضرت علیؑ فرماتے ہیں؛
بخیل بزدل اور حریص سے مشورہ نہ کرو کیونکہ ہر ایک میں ایسے عیوب و نقائص موجود ہیں جو آپ کو حقیقت تک پہنچنے سے مانع ہو سکتے ہیں۔(۱۰)
🔘 دوسری طرف سے طلبہ پر کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پانچ جذباتی معاملا ت (شادی، عشق، خوف، غم اور غصے) میں سے چار موارد میں عورتیں مردو ں سے زیادہ شدید جذباتی تھیں اور وہ ایک مورد جس میں مرد عورت سے زیادہ جذباتی تھے غصے کے بارے تھا۔ عورتیں نہ صرف ظریف ہیجانات میں زیادہ جذباتی واقع ہوئی ہیں بلکہ مثبت و منفی موارد میں جذبات کو بہتر تشخیص دے کر اس کا بہت جواب دیتی ہیں۔(۱۱)
آٹو کلائن برگ بھی لکھتے ہیں عورتیں زیادہ تر گھریلو اشیاء اور ذاتی کامو ں میں دلچسپی بچوں، محتاجوں اور بے نواؤں کی دیکھ بھال وغیرہ میں عموماً مردوں سے زیا دہ جذباتی ہوتی ہیں۔(۱۲)
🎍نتیجہ یہ ہوا کہ عورتوں کا قدرتی طور پر جذباتی پن (جوکہ حکمت کے عین مطابق ہے) اور ان کا معاشرے میں کم تر حاضر ہونا (جوکہ ان کے تجربے میں کمی کا باعث ہوتا ہے) ان کے مشوروں سے استفادہ کی محدودیت کا سبب سمجھا گیا ہے لہٰذاحضرت علیؑ کا فرمان ہے کہ۔۔
"ایاک ومشاورۃ النساء فان رائیھن الی افن و عزمھن الی وہن"
عورتوں کے مشورے سے بچو کیونکہ ان کی رائے کمزور اور عزم ناتواں ہوتا ہے۔(۱۳)
البتہ ان دونو ں کا ازالہ اسطرح کیا جا سکتا ہے کہ ان عوامل واسبا ب کو ختم کر دیا جائے لہٰذا دوسری حدیث میں آیا ہے۔۔
’’ایاک و مشاورۃ النساء الا من جرّبت بکما لعقل"
عورتوں کی مشاورت سے بچو مگر وہ عورتیں جن کی عقل کا کمال آزمایا جا چکا ہو۔(۱۴)
یہ نوع کے لحا ظ سے عورتوں کا حکم ہے ورنہ بہت سے مرد عورتوں سے زیادہ جذباتی یا کم تجربہ کار ہوتے ہیں اور ان کے سا تھ مشورے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
اس حدیث شریف کی رو سے جس سے مشورہ مانگا جائے اس میں کمال عقل اور علم ضروری ہے اور علم و تجربہ کے ساتھ مشورہ کرنے کے لحاظ سے عورت ہونا معیوب یا رکاوٹ نہیں ہے۔
🌷 دوسری طرف سے جن امور میں عورتوں کی معلومات زیادہ ہوتی ہیں وہاں عورتوں سے مشورہ کا حکم دیا گیا ہے۔
رسولخدا ؐ نے فرمایا:
"ائتمروا النساء فی بناتھن"
بیٹیو ں کے مربوط مسائل کے بارے میں عورتوں سے مشورہ کرو۔
قرآن میں بعض خاندانی مسائل کے بارے عورت اور مرد دونو ں کی رائے کو اعتبار دیا گیا ہے۔
"فَإِنْ أَرَادَا فِصَالاً عَن تَرَاضٍ مِّنْہُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْہِمَا"
اگرماں اور باپ باہمی مشورے سے بچے کو دوسال سے پہلے دودھ چھڑوانا چاہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔( بقرہ /۲۳۳)
یہاں تشاور سے مراد باہمی رضا مندی اور مشورہ ہے کیونکہ بچے کی تربیت کے حوالے سے ماں جو کچھ جانتی ہے باپ اسے نہیں جانتا اگر دونوں کا اتفاق نہ ہو تو اس سے بچے کا نقصان ہوگا۔
ہماری توضیحات سے واضح ہو گیا کہ جن عورتوں سے مشورہ کرنے سے روکا گیا ہے ان سے مراد ناتجربہ کار عورتیں ہیں یا وہ جو خواہشات کے تا بع، کم عقل اور دنیاوی زیب و زینت کا شکار ہو کر حقائق سے آنکھیں بند کر لیتی ہیں، لیکن جو عو رتیں دنیاوی زیب و زینت سے منہ موڑ کر معقولیت پسندی کی روش اپنا لیتی ہیں وہ مردوں کی طرح مشورے کی قابلیت رکھتی ہیں۔
اُستاد تقی جعفری کے بقول ایاک و مشاورۃ النساء، الامن جربت بکما لعقل ہونا جیسی روایات اسلام کے خاندانی نظا م میں شورائی نظام جس میں سر پرستی مرد کو حاصل ہو، کی تائید کرتی ہیں۔(۱۵)
لہٰذا جن روایات میں مشورة النساء سے روکا گیا ہے ان میں سب عورتیں شامل نہیں ہو سکتیں، خود رسولخد اؐ اور آئمہ اطہار کی علمی سیرت سے بھی ثابت ہے کہ یہ ہستیاں بھی عورتوں کو مشوروں میں شریک فرماتی تھیں۔(۱۶)
📚 حوالہ جات
(۱) تفسیر فرات کوفی/ ص ۶۲۵
(۲) بحارالانوار ج ۷۲/ ص ۱۰۵
(۳) حوالہ سابق / ص ۱۰۰
(۴) حوالہ سابق / ص ۱۰۵
(۵) حوالہ سابق / ص ۹۸
(۶) حوالہ سابق / ص ۱۰۰
(۷) امالی شیخ صدوق /ص ۳۰۶
(۹/ ۸) حوالہ سابق
(۱۰) سید جعفر شہیدی ترجمہ نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۵۳ (مالک اشتر کے نام)
(۱۱) کارل ہاف مین۔ روان شنامی عمومی از نظریہ تاکار برد ج ۲
(۱۲)حوالہ سابق، ص/ ۶۵
(۱۳) نہج البلاغہ خطبہ
(۱۴) بحارالأنوار ج ۱۰۳/ ص ۲۵۳
(۱۵) محمد رضا رجب نژاد، خرد زیبا/ ۹۱
(۱۶) حوالہ سابق/ص۴۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 اوور تھنکنگ 🔷
اوور تھنکنگ (Over thinking) سے روکنے کے لیے ١٠ آسان طریقے۔
ظاہری طور پر اوور تھنکنگ (یعنی زیادہ سوچنا) اتنی بری چیز نہیں لگتی۔۔۔ سوچنا تو اچھی بات ہے نا؟
لیکن اوورتھنکنگ مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
جب آپ زیادہ سوچتے ہیں تو آپ کے فیصلہ کرنے کی صلاحیت دھندلا جاتی ہے اور آپ کے سٹریس (یعنی ذہنی دباؤ) میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ آپ منفی سوچ میں وقت ضائع کر دیتے ہیں۔ یوں آپ کو کام کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔
اگر یہ مسئلہ آپ کو جانا پہچانا معلوم ہوتا ہے تو آپ کو اوورتھنکنگ سے آزاد کرنے کے لیے یہاں دس آسان تدابیر بتائی جا رہی ہیں۔
١۔ آگاہی ہی تبدیلی کی شروعات ہے
اس سے پہلے کہ آپ اپنی اوورتھنکنگ کی عادت کا مقابلہ کرنا شروع کریں آپ کو اپنی اوورتھنکنگ کے بارے میں ہوشیار اور مطلع ہونا ضروری ہے۔ جب بھی آپ خود کو بے چینی، تذبذب، ہچکچاہٹ یا ذہنی دباؤ کا شکار پائیں ایک لمحے کے لیے رک جائیں۔ صورتِ حال اور اپنے ردِ عمل کا جائزہ لیں۔ آگاہی کے اسی لمحے میں آپ کو اس تبدیلی کا اشارہ مل جائے گا جو آپ کی ضرورت ہے۔
٢۔ یہ نہ سوچیں کہ کون سے کام بگڑ سکتے ہیں بلکہ ان کاموں پر دھیان دیں جو ٹھیک ہو سکتے ہیں۔
بہت سی حالتوں میں اوور تھنکنگ کی وجہ صرف ایک ہی احساس بنتا ہے: (وہ ہے) "خوف"۔ جب آپ اپنی توجہ تمام منفی باتوں کے رونما ہونے پر مرکوز کرتے ہیں تو بے کار رہنا آسان ہو جاتا ہے۔ آئندہ جب آپ کو ایسا لگے کہ آپ منفی سمت واپس جانے لگے ہیں تو رک جائیں۔ اپنی توجہ ان کاموں کی طرف کر لیں جو ٹھیک جا سکتے ہیں اور انہی خیالات کو حاضر اور مقدم رکھیں۔
٣۔ خود کو خوشی کی طرف موڑ لیں
بعض اوقات خود کو خوش، مثبت اور مفید متبادل راستوں پر ڈال دینا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ مراقبہ، رقص کرنا، کوئی ساز سیکھنا، سلائی کڑھائی کرنا، مصوری یا رنگسازی جیسی چیزیں آپ کو مسائل سے دور کر دیتی ہیں اور حد سے زیادہ تجزیہ کرنا ختم ہو جاتا ہے۔
٤۔ حالات کو ظاہری تناسب سے پرکھیں
باتوں کو ضرورت سے زیادہ بڑا بنا دینا یا منفی بنا دینا ہمیشہ آسان ہوتا ہے۔ آئندہ جب آپ خود کو کسی بات کا بتنگڑ بناتا ہوا پائیں۔ ۔ ۔ خود سے ضرور پوچھیں کہ یہ معاملہ اگلے پانچ سالوں میں کتنا اہم ہو گا۔ یا اگلے ماہ یہ مسئلہ کس نہج پہ ہو گا؟ بس یہ سادہ سا سوال۔ ۔ ۔ یعنی خیالات میں وقت کی حد کو بدل دینا اوور تھنکنگ کو ختم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
٥۔ پرفیکشن کا انتظار چھوڑ دیں
ہم میں سے جو لوگ پرفیکشن یعنی بے نقص ہونے کی حالت کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس انتظار کو بالکل ابھی اور اِسی وقت ختم کر سکتے ہیں۔ بلند نظر ہونا زبردست بات ہے لیکن پرفیکشن کی تاک میں رہنا خیالی، ناممکن، غیر افادی اور کمزور کرنے والا عمل ہے۔ جیسے ہی آپ کو یہ خیال آئے کہ "اِس کام کو پرفیکٹ ہونا چاہیئے" اُسی لمحے آپ نے خود کو یاد دلانا ہے کہ پرفیکشن کا اتنظار کبھی بھی ترقی کرنے اور سیکھنے جتنا فائدہ مند نہیں ہو سکتا۔
٦۔ خوف کے بارے اپنا طرزِ فکر بدل ڈالیں
چاہے آپ ماضی کی کسی ناکامی کی وجہ سے خوفزدہ ہیں یا کوشش کرنے کے عمل سے گھبراتے ہیں تو یاد رکھیں کہ اگر آپ پہلے کامیاب نہیں ہوئے تھے اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر دفعہ وہی نتیجہ برآمد ہو گا۔ یاد رکھیں ہر موقع ایک نئی شروعات ہے اور ایک نئے آغاز کا درجہ ہے۔
٧۔ کام کی ایک حد مقرر کریں
ٹائمر (timer) کو پانچ منٹ پر سیٹ کر کے خود کو سوچنے۔ ۔ ۔ پریشان ہونے اور تجزیہ کرنے کا وقت دیں۔ ٹائمر کا وقت گزر جانے کے بعد ١٠ منٹ کاغذ اور قلم کے ساتھ گزاریں۔ ۔ ۔ وہ سب باتیں لکھ ڈالیں جو آپ کو پریشان کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ ذہنی دباؤ کی وجہ بنتی ہیں یا خوف میں مبتلا رکھتی ہیں۔ اس کاغذ کو اب پھاڑ دیں اور دس منٹ پورے ہونے پر کاغذ کو پھینک کر آگے بڑھ جائیں اور کسی تفریح میں مصروف ہو جائیں۔
٨۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ آپ مستقبل کی پیشن گوئی نہیں کر سکتے
فیوچر کو کوئی بھی پریڈِکٹ نہیں کر سکتا۔ ہم نے جو کچھ بھی کرنا ہے وہ اِسی لمحے میں کر سکتے ہیں۔ اگر آپ موجودہ لمحے کو مستقبل کی فکر میں گزار دیتے ہیں تو آپ خود کو اپنے وقت سے محروم کر رہے ہیں۔ مستقبل کے بارے سوچ کر وقت گزارنا مفید اور زرخیز نہیں ہے۔ یہ وقت آپ ان چیزوں پر صرف کریں جو آپ کو خوشی دیتی ہیں۔
٩۔ اپنی بہترین کوشش کو تسلیم کر لیں
اوور تھنکنگ کو پیدا کرنے والا خوف اکثر اس احساس پر قائم ہوتا ہے کہ آپ بہت اچھے نہیں ہیں۔ ۔ ۔ بہت ذہین نہیں۔ ۔ ۔ زیادہ محنتی یا زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں۔ جب آپ کسی کام میں اپنی طرف سے بھرپور کوشش کر چکیں تو محنت کے انجام کو اُسی حالت میں قبول کر لیں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کامیابی کسی حد تک ان چیزوں پر منحصر ہو جو ابھی آپ کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ ۔ ۔ آپ جو کچھ کر سکتے تھے آپ نے کر تو دیا۔
١٠۔ شکر گزار رہیں
اوور تھنکنگ (Over thinking) سے روکنے کے لیے ١٠ آسان طریقے۔
ظاہری طور پر اوور تھنکنگ (یعنی زیادہ سوچنا) اتنی بری چیز نہیں لگتی۔۔۔ سوچنا تو اچھی بات ہے نا؟
لیکن اوورتھنکنگ مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
جب آپ زیادہ سوچتے ہیں تو آپ کے فیصلہ کرنے کی صلاحیت دھندلا جاتی ہے اور آپ کے سٹریس (یعنی ذہنی دباؤ) میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ آپ منفی سوچ میں وقت ضائع کر دیتے ہیں۔ یوں آپ کو کام کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔
اگر یہ مسئلہ آپ کو جانا پہچانا معلوم ہوتا ہے تو آپ کو اوورتھنکنگ سے آزاد کرنے کے لیے یہاں دس آسان تدابیر بتائی جا رہی ہیں۔
١۔ آگاہی ہی تبدیلی کی شروعات ہے
اس سے پہلے کہ آپ اپنی اوورتھنکنگ کی عادت کا مقابلہ کرنا شروع کریں آپ کو اپنی اوورتھنکنگ کے بارے میں ہوشیار اور مطلع ہونا ضروری ہے۔ جب بھی آپ خود کو بے چینی، تذبذب، ہچکچاہٹ یا ذہنی دباؤ کا شکار پائیں ایک لمحے کے لیے رک جائیں۔ صورتِ حال اور اپنے ردِ عمل کا جائزہ لیں۔ آگاہی کے اسی لمحے میں آپ کو اس تبدیلی کا اشارہ مل جائے گا جو آپ کی ضرورت ہے۔
٢۔ یہ نہ سوچیں کہ کون سے کام بگڑ سکتے ہیں بلکہ ان کاموں پر دھیان دیں جو ٹھیک ہو سکتے ہیں۔
بہت سی حالتوں میں اوور تھنکنگ کی وجہ صرف ایک ہی احساس بنتا ہے: (وہ ہے) "خوف"۔ جب آپ اپنی توجہ تمام منفی باتوں کے رونما ہونے پر مرکوز کرتے ہیں تو بے کار رہنا آسان ہو جاتا ہے۔ آئندہ جب آپ کو ایسا لگے کہ آپ منفی سمت واپس جانے لگے ہیں تو رک جائیں۔ اپنی توجہ ان کاموں کی طرف کر لیں جو ٹھیک جا سکتے ہیں اور انہی خیالات کو حاضر اور مقدم رکھیں۔
٣۔ خود کو خوشی کی طرف موڑ لیں
بعض اوقات خود کو خوش، مثبت اور مفید متبادل راستوں پر ڈال دینا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ مراقبہ، رقص کرنا، کوئی ساز سیکھنا، سلائی کڑھائی کرنا، مصوری یا رنگسازی جیسی چیزیں آپ کو مسائل سے دور کر دیتی ہیں اور حد سے زیادہ تجزیہ کرنا ختم ہو جاتا ہے۔
٤۔ حالات کو ظاہری تناسب سے پرکھیں
باتوں کو ضرورت سے زیادہ بڑا بنا دینا یا منفی بنا دینا ہمیشہ آسان ہوتا ہے۔ آئندہ جب آپ خود کو کسی بات کا بتنگڑ بناتا ہوا پائیں۔ ۔ ۔ خود سے ضرور پوچھیں کہ یہ معاملہ اگلے پانچ سالوں میں کتنا اہم ہو گا۔ یا اگلے ماہ یہ مسئلہ کس نہج پہ ہو گا؟ بس یہ سادہ سا سوال۔ ۔ ۔ یعنی خیالات میں وقت کی حد کو بدل دینا اوور تھنکنگ کو ختم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
٥۔ پرفیکشن کا انتظار چھوڑ دیں
ہم میں سے جو لوگ پرفیکشن یعنی بے نقص ہونے کی حالت کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس انتظار کو بالکل ابھی اور اِسی وقت ختم کر سکتے ہیں۔ بلند نظر ہونا زبردست بات ہے لیکن پرفیکشن کی تاک میں رہنا خیالی، ناممکن، غیر افادی اور کمزور کرنے والا عمل ہے۔ جیسے ہی آپ کو یہ خیال آئے کہ "اِس کام کو پرفیکٹ ہونا چاہیئے" اُسی لمحے آپ نے خود کو یاد دلانا ہے کہ پرفیکشن کا اتنظار کبھی بھی ترقی کرنے اور سیکھنے جتنا فائدہ مند نہیں ہو سکتا۔
٦۔ خوف کے بارے اپنا طرزِ فکر بدل ڈالیں
چاہے آپ ماضی کی کسی ناکامی کی وجہ سے خوفزدہ ہیں یا کوشش کرنے کے عمل سے گھبراتے ہیں تو یاد رکھیں کہ اگر آپ پہلے کامیاب نہیں ہوئے تھے اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر دفعہ وہی نتیجہ برآمد ہو گا۔ یاد رکھیں ہر موقع ایک نئی شروعات ہے اور ایک نئے آغاز کا درجہ ہے۔
٧۔ کام کی ایک حد مقرر کریں
ٹائمر (timer) کو پانچ منٹ پر سیٹ کر کے خود کو سوچنے۔ ۔ ۔ پریشان ہونے اور تجزیہ کرنے کا وقت دیں۔ ٹائمر کا وقت گزر جانے کے بعد ١٠ منٹ کاغذ اور قلم کے ساتھ گزاریں۔ ۔ ۔ وہ سب باتیں لکھ ڈالیں جو آپ کو پریشان کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ ذہنی دباؤ کی وجہ بنتی ہیں یا خوف میں مبتلا رکھتی ہیں۔ اس کاغذ کو اب پھاڑ دیں اور دس منٹ پورے ہونے پر کاغذ کو پھینک کر آگے بڑھ جائیں اور کسی تفریح میں مصروف ہو جائیں۔
٨۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ آپ مستقبل کی پیشن گوئی نہیں کر سکتے
فیوچر کو کوئی بھی پریڈِکٹ نہیں کر سکتا۔ ہم نے جو کچھ بھی کرنا ہے وہ اِسی لمحے میں کر سکتے ہیں۔ اگر آپ موجودہ لمحے کو مستقبل کی فکر میں گزار دیتے ہیں تو آپ خود کو اپنے وقت سے محروم کر رہے ہیں۔ مستقبل کے بارے سوچ کر وقت گزارنا مفید اور زرخیز نہیں ہے۔ یہ وقت آپ ان چیزوں پر صرف کریں جو آپ کو خوشی دیتی ہیں۔
٩۔ اپنی بہترین کوشش کو تسلیم کر لیں
اوور تھنکنگ کو پیدا کرنے والا خوف اکثر اس احساس پر قائم ہوتا ہے کہ آپ بہت اچھے نہیں ہیں۔ ۔ ۔ بہت ذہین نہیں۔ ۔ ۔ زیادہ محنتی یا زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں۔ جب آپ کسی کام میں اپنی طرف سے بھرپور کوشش کر چکیں تو محنت کے انجام کو اُسی حالت میں قبول کر لیں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کامیابی کسی حد تک ان چیزوں پر منحصر ہو جو ابھی آپ کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ ۔ ۔ آپ جو کچھ کر سکتے تھے آپ نے کر تو دیا۔
١٠۔ شکر گزار رہیں