ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌷 سلام، مصافحہ اور معانقہ 🌷

■مصافحہ کے لغوی معنی:
مصافحہ کا لفظ صفح سے نکلا ہے جو ہتھیلی کو کہتے ہیں۔ اسی سے لفظ صفحہ نکلا ہے یعنی page.

■اصطلاحی معنی:
ہتھیلی سے ہتھیلی ملانا۔ handshake کرنا۔

■معانقہ کے لغوی معنی:
معانقہ عنق سے نکلا ہےـ عنق گردن کو کہتے ہیں۔

■اصطلاحی معنی:
گردن ملانا یا گلے ملنا۔

■فرمان الٰہی ہے:
اِذَا حِّییتُم بِتحَیتِہً فَتحِّیواُ بِاَحسَنَ منِھَا اَو رُدُّوھاَ۔
“اے مسلمانو! اگر تم کو سلام کریں تو تم اس سے بہتر الفاظ میں سلام کا جواب دو یا کم ازکم انہی الفاظ کو لوٹا دو۔“

یعنی سلام کا جواب دینا واجب اور لازم ہے۔

ایک اور جگہ فرمایا:
“نیکی اور بدی کبھی برابر نہیں ہوسکتی۔برائی کو بھلائی سے دور کرو۔ پھر تمہارا دشمن ایسا ہو جائے گا جیسے گہرا دوست“
(حٰم السجدہ)

■ فضیلت:
دل کا بدلنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کے لیے کوشش ضروری ہے۔ اسی کوشش (سب سے پہلے سلام کرنا) کے ذریعے اللہ انسان کے برے حالات کو اچھے حالات میں بدل سکتا ہے۔ اللہ رب العزت کی طرف سے یہ ایک اہم حکم ہے۔ جس سے دشمنی دوستی میں بدل جاتی ہے۔ ضرورت صرف احسان، عفو اور صبر کی ہے۔
اپنے مخالفیں اور دشمنوں کو سلام اور معانقے سے بات کی ابتداء کیجیے یعنی
✔مسکرانے میں ابتدا کریں
✔گلے ملیں۔
✔سلام کریں۔
چند بار ایسا کرنے سے بہتریں نتائج نظر آییں گے انشاءاللہ۔

رسول اکرمؐ نے فرمایا:
”جب کوئی السلام عليكم ورحمة الله و برکاته کہتا ہے اور دوسرا جواب میں وعلیکم السلام ورحمة الله و برکاته کہے تو دونوں کو 30، 30 نیکیاں ملتی ہیں۔ہیں اور مصافحہ کرنے سے دونوں کے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں“۔

سوار چلنے والا پیدل چلنے والے کو۔
چلنے والا بیٹھنے والے کو۔
کم تعداد والے بڑی جماعت کو سلام کریں۔
اس بات کی حکمت یہ ہے کہ اس سے تکبر دور ہوتا ہے اور اس میں سہولت کا پہلو بھی ہے کہ تیز رفتار سست رفتار کو اور کم تعداد زیادہ تعداد کو سلام کریں۔

■ فرشتے اس مسلمان پہ تعجب کرتے ہیں جو مسلمان کے پاس سے گزرتا ہے اور سلام نہیں کرتا۔
(بخاری۔مسلم)

■ جن لوگوں کے اخلاق میں سلام کرنا نہ ہو تو فرشتے ان کے لیے دعا نہیں کرتے۔

■ پہچاننے والے اور نہ پہچاننے والے سب کو سلام کریں۔

■ سلام کرنے سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔

■ جو شخص سلام سے پہلے کلام شروع کرے تو اس کو جواب نہ دو یہاں تک کہ وہ سلام کرے۔

■ سلام نہ کرنا بخل کی علامت ہے۔ہے۔

■ حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام دوڑتے رسول اکرمؐ کے پاس آئے تو آپؐ نے انہیں گلے سے لگا لیا۔ (معانقہ)

بچوں سے محبت کریں انہیں گلے سے لگایں۔
جب کسی سے محبت کریں تو اس کو ظاہر بھی کریں۔

فرمان رسولؐ ہے۔۔
جو کوئی اپنے بھائی یا کسی اور مسلمان سے محبت کرے تو اسے بتائے کہ وہ اسے محبت کرتا ہے۔

یعنی لفظاً اظہار کرے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ اور اس میں بھی اعتدال برتیں۔ کیونکہ جنون میں خود بھی پریشانی ہوتی ہے اور دوسروں کو بھی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

■ کسی کو سلام نہ کرکے ہم اس کو کمتر ظاہر کرتے ہیں لیکن درحقیقت یہ ہمارا نقصان ہے کہ ہم فرشتوں کی دعا سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس لیے اس سنت کو عام کریں اور سب میں آسانیاں بانٹیں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
السلام علیکم
ممبراں ویسے تو فقہ جعفریہ کی کتابوں کو پی ڈی ایف میں ڈاونلوڈ کرنے کے لیے بے شمار ویب سایئٹ ھیں مگر ایک ایسا لنک آپ کی خدمت میں پیش ھے جہاں سے آپ اردو کی ضروت کی تمام کتابیں حروف تہجی سے تلاش کر کے باآسانی ڈاونلوڈ کر سکتے ھیں ایک دفعہ چیک ضرور کرین ھو سکتا آپ کی مطوبہ کتب اس لینک میں موجود ھوں
لنک 👇
http://www.masjidimamalias.org/urdu-books/
🌹 خوشی کے ہارمونس 🌹

اتنی سستی خوشی، جلدی کریں۔ 4 ہارمونس جو انسان میں خوشی کا تعین کرتے ہیں۔

ایک دن صبح میں پارک میں اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا تھا اس نے باتوں باتوں میں کہا کہ وہ اپنی زندگی سے خوش نہیں ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ تو بڑا نا شکرا پن ہے کیونکہ ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ ہماری زندگی میں سب کچھ بہتر تھا۔ میں نے پوچھا؛
"تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟"
"میں نہیں جانتی. ہرکوئی جانتا ہے کہ ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں، لیکن میں خوش نہیں ہوں."

پھر میں نے اپنے آپ سے؟ پوچھا کہ،
"کیا میں خوش ہوں؟"
میرےاندرون سے آواز آئی "نہیں۔۔۔!!"

اب اس واقعہ سے میں بےچین ہوگیا۔
میں نے خوشی کی اصل وجہ کو سمجھنے کے لئے مطالعہ شروع کردیا
لیکن مجھے کچھ خاص نہیں ملا.

میں نے اپنی تلاش تیز کی کئی مضامین پڑھ لئے، بہت سے لائف کوچز سے بات کی لیکن کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا.

آخر میں میرے ایک ڈاکٹر دوست نے مجھے خوشی کے ہارمونس کے بارے میں بتایا ان ہارمونس کے اخراج سے ہم خوشی محسوس کرتے ہیں۔
میں نے ان پر عملدرآمد کیا اور اب میں خوش رہنے لگا ہوں.

اس نے کہا: چار ہارمون ہیں جن کے خارج ہونے سے انسان خوشی محسوس کرتا ہے:

1. Endorphins (اینڈورفنس)
2. Dopamine (ڈوپامائین)
3. Serotonin (سیروٹونائین)
4. Oxytocin (آکسی ٹوسین)

ہمارے اندر خوشی کا احساس ان چار ہارمونس کی وجہ سے ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم ان چار ہارمونس کے بارے میں جانیں۔

▪پہلا ہارمون اینڈورفنس ہے:
جب ہم ورزش کرتے ہیں تو ہمارا جسم درد سے نپٹنے کیلئے اینڈورفنس خارج کرتا ہے تاکہ ہم ورزش سے لطف اٹھا سکیں۔ اسکے علاوہ جب ہم کامیڈی دیکھتے ہیں، لطیفے پڑھتے ہیں اسوقت بھی یہ ہارمون ہمارے جسم میں پیدا ہوتا ہے۔ اسلئے خوشی پیدا کرنے والے اس ہارمون کی خوراک کیلئے ہمیں روزانہ کم از کم 20 منٹ ایکسرسائز کرنا اور کچھ لطیفے اور کامیڈی کے ویڈیوز وغیرہ دیکھنا چاہئیں۔

▪دوسرا ہارمون ڈوپامائین ہے:
زندگی کے سفر میں، ہم بہت سے چھوٹے اور بڑے کاموں کو پورا کرتے ہیں، جب ہم کسی کام کو پورا کرتے ہیں تو ہمارا جسم ڈوپامائین کو خارج کرتا ہے. اور اس سے ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے۔
جب آفس یا گھر میں ہمارے کام کے لئے تعریف کی جاتی ہے تو ہم اپنے آپ کو کامیاب اور اچھا محسوس کرتے ہیں، یہ احساس ڈوپامائین کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عورتیں عموماً کھر کا کام کرکے خوش کیوں نہیں ہوتیں اسکی وجہ یہ ہے کہ گھریلو کاموں کی کوئی تعریف نہیں کرتا۔
جب بھی ہم نیا موبائل، گاڑی، نیا گھر، نئے کپڑے یا کچھ بھی خریدتے ہیں تب بھی ہمارے جسم سے ڈوپامائین خارج ہوتا ہے اور ہم خوش ہوجاتے ہیں.
اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ شاپنگ کرنے کے بعد ہم خوشی کیوں محسوس کرتے ہیں۔

▪تیسرا ہارمون سیروٹونائین:
جب ہم دوسروں کے فائدہ کیلئے کوئی کام کرتے ہیں تو ہمارے اندر سے سیروٹونائین خارج ہوتا ہے اور خوشی کا احساس جگاتا ہے۔
انٹرنیٹ پر مفید معلومات فراہم کرنا، اچھی معلومات لوگوں تک پہنچانا، بلاگز، اور فیس بک پر عوام کے سوالات کا جواب دینا اسلام یا اپنے اچھے خیالات کی طرف دعوت دینا ان سبھی سے سیروٹونائین پیدا ہوتا ہے اور ہم خوشی محسوس کرتے ہیں۔

▪چوتھا ہارمون آکسی ٹوسین:
جب ہم دوسرے انسانوں کے قریب جاتے ہیں یہ ہمارے جسم سے خارج ہوتا ہے۔
جب ہم اپنے دوستوں کو ہاتھ ملاتے ہیں یا گلے ملتے ہیں تو جسم اکسیٹوسین کو خارج کرتا ہے۔
واقعی یہ فلم 'منا بھائی' کی جادو کی چھپی کی طرح کام کرتا ہے۔ جب ہم کسی کو اپنی باہوں میں بھر لیتے ہیں تو آکسی ٹوسین خارج ہوتا ہے اور خوشگواری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

🔷 خوش رہنا بہت آسان ہے:
ہمیں اینڈروفنس حاصل کرنے کے لئے ہر روز ورزش کرنا ہے۔
ہمیں چھوٹے چھوٹے ٹاسک پورا کرکے ڈوپا مائین حاصل کرنا ہے۔
دوسروں کی مدد کرکے سیروٹونائین حاصل کرنا ہے۔
اور
آخر میں اپنے بچوں کو گلے لگا کر، فیملی کے ساتھ وقت گزار کر اور دوستوں سے مل کر آکسی ٹوسین حاصل کرنا ہے۔

اس طرح ہم خوش رہیں گے۔ اور جب ہم خوش رہنے لگیں گے تو ہمیں اپنے مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے میں آسانی ہوگی۔

* اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ بچہ اگر خراب موڈ میں ہو تو اسے فوری گلے لگانا کیوں ضروری ہے؟

◼بچوں کیلئے:
1. موبائل یا ویڈیو گیم کے علاوہ گراونڈ پر جسمانی کھیل کھیلنے کی ہمت افزائی کریں۔ (اینڈروفنس)

2. چھوٹی بڑی کامیابیوں پر بچے کی تعریف کریں، اپریشیئٹ کریں۔(ڈوپامائین)

3. بچے کو اپنی چیزیں شیئر کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کی عادت ڈالیں۔اسکے لئے آپ خود دوسروں کی مدد کر کے بتائیں۔ (سیروٹونائین)

4. اپنے بچے کو باہوں میں بھر کر پیار کریں۔ (آکسی ٹوسین)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے درج ذیل لنک پر کلک کریں۔۔

🔵 مسکراہٹ و خاموشی
https://t.me/islamwitheman/22

📝 انداز بیان و سوچ
http://t.me/islamwitheman/158
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👈 مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے درج ذیل لنک پر کلک کریں۔۔

🔵 مسکراہٹ و خاموشی
https://t.me/islamwitheman/22

📝 انداز بیان و سوچ
http://t.me/islamwitheman/158

🌹 خوش رہیے
http://t.me/islamwitheman/252

🌹 کامیابی کیلئے 8 سبق
https://t.me/islamwitheman/386

🌺 الفاظ و انداز اور لہجہ
https://t.me/islamwitheman/475

💐 خوش خلقی
https://t.me/islamwitheman/634

💎 ہیرا اور شیشہ
https://t.me/islamwitheman/769

💐 لفظوں کا زہر
https://t.me/islamwitheman/846

🌸 دس منٹ دورانیے کی فلم
http://t.me/islamwitheman/1109

🍀 مثبت سوچ
http://t.me/islamwitheman/1236

🔷 ڈپریشن
http://t.me/islamwitheman/1265

🔵 اندھا اور لنگڑا
http://t.me/islamwitheman/1322

🎅 اپنی توانائی بڑھائیں
http://t.me/islamwitheman/1444

🌸 باعث نجات مثبت سوچ
http://t.me/islamwitheman/1447

🌸 کیوں ناامیدی
http://t.me/islamwitheman/1736

🔷 نفسیاتی مسائل کا حل
https://t.me/islamwitheman/1917

🍷 کھانے پر الفاظ کا اثر
https://t.me/islamwitheman/1980

🎅 خوش رہنے کا عجیب انداز
https://t.me/islamwitheman/2038
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💝 لنگڑی محبت 💝

لنگڑی محبت کیا ہوتی ہے؟
ہاں جی، یہ بھی محبت کی ایک قسم ہے! لنگڑی محبت۔۔۔ آج آپ کو لنگڑی محبت سے متعارف کرواتے ہیں۔

محبت میں کئی طرح کے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں، جہاں ایک ساتھ پر امن طریقے سے رہنا ہو، خاص طور پر محبت کے رشتے میں، وہاں کئی سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں، اپنی بہت ساری خواہشات اور ضروریات کو بدلنا پڑتا ہے، دونوں کی آسانی کے مطابق ڈھالنا ہوتا ہے۔

لیکن یہ تو ایک آئیڈیل صورت حال ہے، ایسا ہو تو ایک ساتھ خوشحال زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب سمجھوتے صرف ایک طرف سے کیے جا رہے ہوں اور دوسرا کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے رضامند نہ ہو۔

ایسی صورت حال میں مسلسل سمجھوتے کرنے والا جو کہ صرف تعلق کو قائم رکھنے کے لیے سمجھوتے کر رہا ہوتا ہے، دوسرے کی طرف سے اس طرح کا کوئی بھی تعاون نہ پا کر ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور ایک وقت آتا ہے کہ یہ رشتہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔

کیونکہ زندگی کی گاڑی کو چلنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ساتھی مل کر گاڑی کو ایک ہی سمت میں دھکیلیں، اگر ایک گاڑی کو دھکا لگائے اور دوسرا ہینڈ بریک کھینچ کر بیٹھا رہے تو دھکا لگانے والا بھی تھوڑا سا دور جا کر ہی تھک جائے گا!

ایسی محبت کو لنگڑی محبت کہا جاتا ہے، یہ زیادہ دیر نہیں چل پاتی!

http://t.me/islamwitheman/1392
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 چالیس سال ہونے پر دعا 🌹

میری بیٹی سورہ الاحقاف حفظ کر رہی تھی اور پھر ایک دن میں متحیر رہ گیا جب اس نے مجھ سے پوچھا:
"میرے بابا جان! آپ کی کیا عمر ہے۔۔؟؟؟

میں نے مسکراتے ہوئے کہا:
"یقینا آپ کے اس سوال کا کوئی پس منظر ہے۔"

اس نے کہا:
میرے بابا! مجھے بتائیں کہ آپ کتنے سال کے ہیں۔۔؟؟؟

میں نے کہا:
میری بیٹی میری عمر بیالیس سال ( 42 سال) ہے۔

اس نے کہا:
"گویا آپ دو سال قبل چالیس سال کے ہو گئے تھے۔ تو کیا آپ نے چالیس سال کا ہونے کی دعا پڑھی تھی؟"

میں نے استفسار کیا:
"کیا چالیس سال کی عمر کے لیے کوئی مخصوص دعا ہے؟"

اس نے ایک استاد کی طرح کہا:
سورہ الاحقاف میں اللہ تعالٰی فرما تا ہے۔۔۔

*وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحۡسٰنًا ؕ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ کُرۡہًا وَّ وَضَعَتۡہُ کُرۡہًا ؕ وَ حَمۡلُہٗ وَ فِصٰلُہٗ ثَلٰثُوۡنَ شَہۡرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَ بَلَغَ اَرۡبَعِیۡنَ سَنَۃً ۙ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚ ؕ اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۵﴾اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ نَتَقَبَّلُ عَنۡہُمۡ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَ نَتَجَاوَزُ عَنۡ سَیِّاٰتِہِمۡ فِیۡۤ اَصۡحٰبِ الۡجَنَّۃِ ؕ وَعۡدَ الصِّدۡقِ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۶﴾*
ترجمہ:
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے نیک اعمال تو ہم قبول فرما لیتے ہیں اور جن کے بد اعمال سے درگزر کر لیتے ہیں (یہ) جنتی لوگوں میں ہیں۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا ہے۔ (الاحقاف:15،16)

میری استانی نے مجھے بتایا کہ ان کے والد نے بیس برس قبل یہ دعا پڑھی تھی اور اب ان کی عمر ساٹھ سال ہے۔ میری استانی نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ جو بھی اپنے والدین سے محبت کرتا ہے اسے انہیں اس خوبصورت دعا کے بارے میں بتانا چاہئیے۔ بابا!میں آپ کو اس لیے بتا رہی ہوں کیونکہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔

میں اپنی بیٹی کے ان زبردست الفاظ اور قیمتی نصیحت پر ازحد شکرگزار ہوا۔
میں نے اس کے سر کا بوسہ لیا اور اللہ کا شکر ادا کیا جس نے مجھے ایک ایسی بیٹی سے نوازا جو مجھے سکھا سکتی ہے۔

میری بیٹی بہت خوش تھی، وہ جلدی سے ایک کاغذ اور قلم لائی اور دعا تحریر کی۔

اس نے کہا:
"اس کاغذ کو اپنے بٹوہ میں رکھ لیں، اس طرح آپ ہر روز یہ دعا پڑھ سکتے ہیں جب بھی آپ اپنے بٹوہ سے رقم نکالیں گے۔"
سبحان اللہ

کچھ دن بعد مجھ سے میری بیٹی نے دعا کے بارے میں پوچھا۔ میں نے اسے بتایا:
مجھے یہ دعا یاد ہو گئی ہے۔

کیا ہم نے اپنے چالیس سال سے بڑے والدین، چاچا، ماموں، خالہ، پھوپھو، بھائیوں اور بہنوں کو اس دعا کے بارے میں بتایا ہے اگر ہاں تو "بارک اللہ فیک" اور اگر نہیں تو بتانے میں جلدی کریں۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو خاتمہ بالخیر سے نوازے۔
آمین یا رب العالمین بحق چہاردہ معصومین علیہم السلام

دعا کے الفاظ صرف یہ ہیں:
*رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚ ؕ اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ*
ترجمہ:
اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤ ں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔

منقول۔۔۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 حیران کن تقابل 🔶

آج کل کچھ لوگ بڑے زور و شور سے واویلا کر رہے ہیں کہ کعبہ کے گرد گھومنے سے پہلے کسی غریب کے گھر گھوم آؤ۔۔۔

مسجد کو قالین نہیں کسی بھوکے کو روٹی دو۔۔۔

حج اور عمرہ پر جانے سے پہلے کسی نادار کی بیٹی کی رخصتی کا خرچہ اٹھاؤ۔۔۔

مسجد میں سیمنٹ کی بوری دینے سے افضل ہے کہ کسی بیوہ کے گھر آٹے کی بوری دے آؤ۔۔۔

■ یاد رکھیں۔۔۔
دو نیک اعمال کو اس طرح تقابل میں پیش کرنا کوئی دینی خدمت یا انسانی ہمدردی نہیں بلکہ عین جہالت ہے۔

اگر تقابل ہی کرنا ہے تو دین اور دنیا کا کرو اور یوں کہو!

15، 20 ﻻکھ ﮐﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔

50، 60 ﮨﺰﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔

ﮨﺮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﮮ ﺳﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻟﮕﻮﺍؤ ﺟﺐ گرمی میں بغیر بجلی کے سونے والا کوئی نہ ہو ۔۔۔

ﺑﺮﺍﻧﮉﮈ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺧﺮﯾﺪو ﺟﺐ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﭘﮭﭩﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔

یہ کروڑوں کی گاڑیاں، لاکھوں کے موبائل فونز اور ہزاروں کے کھلونے خریدتے وقت ان دانشوروں کو زحمت گوارا کیوں نہیں ہوتی۔۔۔؟

آخر یہ چِڑ کعبہ مسجد حج و عمرہ اور قربانی ہی سے کیوں ہے۔۔۔؟

ان ضروریات کا فرائض سے موازنہ کر کے فرائض سے غفلت کا درس دینے والے جب اپنی شادیوں پر عورتیں نچاتے ہیں تب ان کو کیوں یاد نہیں ہوتا کہ وہ بھی کسی کی بیٹیاں اور بہنیں ہیں...

ہزاروں آرام دہ اشیاء خریدتے وقت ان کو غریب کی بن بیاہی بیٹیاں نظر کیوں نہیں آتی ہیں؟

اک بار ضرور سوچیں
کیا انسانیت کی خاطر غیر ضروری امور ترک کرنا بہتر ہے یا کہ فرائض کا ترک......؟؟؟

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کان چھدوانے کے طبی فوائد 🔷

دنیا بھر میں خواتین کا کان چھدوانا معمول کی بات ہے، بعض اوقات مرد بھی اپنے کان چھدوانا اور اس میں مختلف زیورات پہننا پسند کرتے ہیں۔
ہندو مذہب میں انسان کی زندگی میں جو 16 مذہبی و روایتی کام سر انجام دیے جانے ضروری ہیں، ان میں سے ایک کان چھدوانا بھی ہے۔ کان کو مختلف زیوارت سے سجانا نہ صرف شخصیت میں خوبصورتی پیدا کرتا ہے، بلکہ آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ اس کے بے شمار طبی فوائد بھی ہیں۔

دراصل کان کی لو جسم کے مختلف اہم حصوں سے جڑی ہوئی ہوتی ہے، مختلف طریقہ علاج میں مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے کان کی لو نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ آئیں دیکھتے ہیں کان چھدوانے کے کیا کیا فوائد ہیں۔

🔹 دماغی نشونما میں معاون
ماہرین کے مطابق بچوں کے کان چھدوانا ان کے دماغ کی بہتر نشونما میں مدد فراہم کرتا ہے۔ کان کی لو وہ مقام ہے جو دماغ کے بائیں حصہ کو دائیں حصے سے جوڑتی ہے لہٰذا اس مقام کو چھیدنا دماغ کو متحرک کرتا ہے۔

ایکو پریشر کے اصولوں میں بھی دماغ کے خلیات کو صحت مند اور فعال بنانے کے لیے اسی مقام کو استعمال کیا جاتا ہے۔

🔹 دماغی امراض میں کمی
چونکہ کانوں کی لو کا دماغ سے گہرا تعلق ہے لہٰذا اس مقام پر دباؤ ڈالنا بہت سے دماغی امراض میں کمی کرتا ہے اور ان سے بچاؤ بھی فراہم کرتا ہے۔

🔹 توانائی
کہا جاتا ہے کہ مستقل طور پر کانوں میں بالیاں پہننے والے افراد کے جسم میں توانائی کا تناسب برابر رہتا ہے۔

🔷 بہتر بینائی
کانوں کی لو بینائی کا بھی مرکز ہے، اس حصے پر دباؤ ڈالنا بینائی میں بہتری پیدا کرتا ہے۔

🔹 سماعت میں بہتری
کان چھدوانا سماعت کو بھی بہتر کرتا ہے۔ کم عمری میں کان چھدوانا بڑی عمر میں کانوں میں بھنبھناہٹ اور سرسراہٹ محسوس ہونے کے مرض سے بچاتا ہے۔

🔹 ہاضمے میں معاون
کان کی لو پر دباؤ ڈالنا ہاضمے کے نظام کو بھی بہتر بناتا ہے۔ اس سے کھانا جلد ہضم ہوتا ہے جس سے موٹاپے کا امکان کم ہوجاتا ہے۔

🔹 تولیدی صحت میں بہتری
ہندو آیورو ویدک کے مطابق کان کی لو کا مرکز، جسم کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کا تعلق تولیدی صحت سے ہے۔ کان چھدوائے جانا خواتین کی تولیدی صحت اور ماہانہ ایام کے سسٹم میں بہتری پیدا کرتا ہے۔

🔹 مردوں کی زرخیزی میں اضافہ
اسی طرح یہ عمل مردوں کی زرخیزی میں بھی اضافہ کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض مذاہب و روایات میں چھوٹے بچوں کے کان چھدوائے جانا ایک لازمی عمل ہے۔

🔹 کان چھدوانے کی صحیح عمر
ماہرین طب کے مطابق دماغی و جسمانی صحت کے لیے بے حد فائدہ مند یہ کام نہایت کم عمری میں ہی کردینا چاہیئے۔ اس کے لیے بچوں کی پیدائش کے دسویں، بارہویں یا سولہویں دن کا انتخاب کرلیا جائے، یا پھر بچوں کی عمر کے چھٹے، ساتویں یا آٹھویں مہینے میں ان کے کان چھدوائے دیے جائیں۔

🔹 بچوں اور بچیوں کے کان چھیدنے میں فرق
بعض روایات میں بچے کے کان چھیدتے ہوئے پہلے دایاں کان چھیدا جاتا ہے، اور بچی کے کان چھیدتے ہوئے پہلے بایاں کان چھیدا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے یہ نظریہ کار فرما ہے کہ دایاں حصہ مردانہ اور بایاں حصہ زنانہ اوصاف کا حامل ہوتا ہے چنانچہ خیال کیا جاتا ہے کہ پہلے درست حصے کی طرف کا کان چھیدنا مخصوص اوصاف کو متحرک کرتا ہے۔

✍ اے آر وائی نیوز اردو، ویب ڈیسک 29 جولائی 2019ء۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 جھوٹوں کا محلہ 🔶

ایک دفعہ ایک بہت ہی نیک متقی بزرگ شخصیت کسی شہر میں رہتی تھی۔ سب لوگ ان سے عقیدت اور محبت رکھتے تھے۔ پرہیزگار تو وہ تھے ہی لیکن لوگ سید یعنی فرزند رسول ھونے کیوجہ سے ان کا زیادہ احترام کرتے تھے۔

ایک دن انہوں نے اس شہر سے ایک دوسرے شہر ہجرت کا پروگرام بنایا سب لوگوں نے روکا کہ نہ جائیں کیونکہ آپ کیوجہ سے شہر میں برکت ہے۔
لیکن وہ نہ رکے اور چلے گئے۔ جاتے ہوئے کچھ عقیدت مندوں نے پوچھا حضور اگر آپ جا ہی رہے ہیں تو کم از کم اپنا ایڈریس بتاتے جائیں تاکہ کبھی زیارت کو جی چاہے تو حاضر ہوں۔
اس بزرگ نے جواب دیا میں جس جگہ رہتا ہوں گا اس محلے کا نام ہے "جھوٹوں کا محلہ"

سب لوگ حیران ہوئے کہ یہاں تو کوئی بڑے سے بڑا جھوٹا بھی اپنے آپکو جھوٹا نہیں کہتا اور یہ بزرگ فرما رہے ہیں جھوٹوں کا محلہ۔

وہ بزرگ چلے گئے۔ کچھ عرصہ بعد مریدوں کا ایک گروپ انکی زیارت کیلۓ نکلا وہاں اس شہر میں جا کر لوگوں سے پوچھا جناب جھوٹوں کا محلہ کہاں ہے
لوگ انکی بات سن کر حیران ہوتے کہ یہاں تو کوئی جھوٹوں کا محلہ نہیں ہے حتی کہ کچھ لوگ ناراض بھی ہوئے۔

بیچارے مرید سارا دن ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئے پسینے سے شرابور بھوکے پیاسے ناامید شہر سے باہر نکلے کہ اچانک ایک مرید کی نظر قبرستان پر پڑی کہ کوئی قبر والوں سے محو گفتگو ہے۔ غور کیا تو وہ ہی سید بزرگوار تھے۔
جیسے چند دنوں کا پیاسا پانی کی طرف لپکتا ہے یہ بزرگ کی طرف گئے، انکے ہاتھ چومے، رونے لگے اور سارے دن کا قصہ بیان کیا۔

اس بزرگ نے ایک سرد آہ بھری اور کہا نہ تم صحیح سمجھے نہ یہ دنیا والے ۔ ۔ ۔ اور بولے کہ یہ جگہ قبرستان دیکھ رہے ھو یہ حقیقت میں جھوٹوں کا محلہ ہے۔ کیونکہ یہ ساری زندگی کہتے رہے۔۔۔
• میری زمین
• میرا مکان
• میرا پیسہ
• میری جاییداد
• میری گاڑی
• میری بیوی
• میرا سونا
• میرا مال

آج ان سب سے پوچھو کہ وہ سب دنیا کی چیزیں انکی تھیں یا آج کسی اور کے ہاتھوں میں پہنچ گئیں۔۔؟

اسی لیے تو مولا متقیان حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام قبر والوں کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اے وحشت ناک گھروں کے مکینوں۔! اے اجڑی ہوئی قبروں۔!
اور اندھیری راتوں میں بسیرا کرنے والوں۔! ذرا پیچھے مڑ کر دیکھو۔۔۔

"اما الدّور فقد سُکنت"
"وامّا الاموال فقد قُسمت"
"وامّا الازواج فقد نُکحت"
ترجمہ:
جن گھروں کو تم اپنا گھر کہتے تھے آج ان میں کوئی اور رہتا ہے۔
جس مال کو تم اپنا مال کہتے تھے آج کسی اور کے ہاتھوں میں ہے۔
جن بیویوں کو خوش رکھنے کیلئے تم نے اللہ کو ناراض کیا
آج وہ دوسروں کے نکاح میں چلی گئیں۔

اور آخر میں مولا علی علیہ السلام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور فرماتے ہیں۔۔۔
اگر ان مُردوں کو زبان مل جائے تو سب چیخ چیخ کر بولیں گے
بہترین توشہ آخرت اور زاد راہ "تقوی" ہے۔

● آئیے مرنے سے پہلے ملکر نیکی کا کوئی کام کر لیں اور کچھ نہیں تو کم از کم اس میسج کو آگے بھیج دیں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌏 دنیا گول ہے 🌏

ایک چور کے اندرکچھ پیسہ بنانے کی خواہش پیدا ہوئی، کیونکہ وہ اپنی محبوب بیوی کو کچھ دینا چاہتا تھا یا اپنی ذات کے لئے رکھنا چاہتا تھا۔

اس چور نے ایک رات ایک گھر کے روشن دان میں سے کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کی کہ یہ اچھا گھر ہے اور مجھے یہاں سے کوئی مال و مطاع ملے گا لیکن جب وہ اتنا اونچا چڑھا اور روشن دان کے اندر سے گزرنے کی کوشش کی تو وہ روشن دان جس کا چوکھٹا بظاہر ٹھیک نظر آتا تھا، ڈھیلا لگا تھا اور وہ بمع چوکھٹے کے اندر کے فرش پر سر کے بل آگرا۔
چور کو سخت چوٹیں آئیں چنانچہ اس نے وہ چوکھٹا اٹھایا اور قاضی وقت کے پاس شکایت کے لئے لے گیا اور قاضی سے کہا؛
جناب دیکھیں میں چوری کرنے کے لئے وہاں گیا تھا، یہ کیسا نالائق مستری ہے کہ جس نے ایسا چوکھٹا بنایا کہ یہ ٹوٹ گیا ہے اور کرچی کرچی ہو گیا ہے، اسکو سزا ملنی چاہئے۔

قاضی وقت نے کہا: یہ تو واقعی بری بات ہے۔ چنانچہ اس لکڑی بیچنے والے کو بلا کر پوچھا گیا تو اس نے کہا:
جناب اس گھر کی کھڑکی تو میں نے ہی بنائی تھی، اس لکڑی کا کسی سے ٹیسٹ کروائیں اس میں کوئی نقص نکلا تو میں ذمہ دار ہوں۔ حضور بات یہ ہے کہ اس میں خرابی ہماری لکڑی کی نہیں اس ترکھان کی ہے جس نے یہ چوکھٹا ڈائیمنشن کے مطابق نہیں بنایا۔

بڑھئی کو بلایا گیا وہ پیش ہوگیا اور کہنے لگا: میں نے چوکھٹا بلکل ٹھیک بنایا ہے یہ میرا قصور نہیں آپ ماہرین بلوا لیں وہ بتا دیں گے کہ میرے چوکھٹے میں کوئی خرابی نہیں بلکہ میں یقین سے کہتا ہوں کہ معمار جس نے اس کو فٹ کیا تھا یہ ساری کوتاہی اس کی ہے۔

چنانچہ معمار کو بلوایا گیا وہ عدالت میں پیش ہوگیا۔
قاضی نے کہا؛ اے نالائق! بہت اعلٰی درجے کا چوکھٹا بنا ہوا ہے ڈائی مینشن اس کی درست ہے تو نے کیوں “موکھا" اس کا ڈھیلا بنایا، تو نے صحیح طور پر اسے فٹ کیوں نہیں کیا۔؟
اس نے سوچا واقعی عدالت ٹھیک پوچھ رہی ہے۔ چوکھٹے میں اور دیوار میں فاصلہ تو ہے۔ اس نے کہا:
حضور بات یہ ہے مجھے اب یاد آیا جب میں چوکھٹا لگا رہا تھا تو میں نے باہر سڑک پر دیکھا اس وقت ایک نہایت خوبصورت عورت اعلٰی درجے کا لباس پہنے، بیحد رنگین لہنگا اور بیحد رنگین دوپٹہ اوڑھے مزے سے اٹھکھیلیاں کرتی ہوئی جا رہی تھی تو میری توجہ اس کی طرف ہو گئی۔ جب تک وہ سڑک پر چلتی رہی میں اس کو دیکھتا رہا میں پوری توجہ نہ دے سکا اور چوکھٹے کو صحیح طرح سے نہ لگا سکا۔

قاضی نے کہا: اس عورت کو بلاؤ۔

عورت کو سب تلاش کرنے لگے۔ شہر میں سب جانتے تھے جو چھمک چھلو تھی کہ وہ وہی ہو گی سو عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

پوچھا گیا: کیا تم یہاں سے اس روز گزری تھیں؟
کہا: ہاں میں گزری تھی۔
قاضی نے کہا: تم نے ایسا لہنگا پہنا، ایسا غرارہ پہنا تھا تو کیوں پہنا تھا؟

عورت نے کہا:
حضور بات یہ ہے کہ میرے خاوند نے مجھ سے کہا یہ تم کیا ڈل کلرز پہنتی ہو۔ یہ تمھارے رخ زیبا پر کچھ اچھے نہیں لگتے۔ بہت اعلی قسم کے شوخ اور بھڑکیلے قسم کے کپڑے پہنو۔

عدالت نے کہا: اس خاوند کو حاضر کیا جائے۔ چنانچہ وہ اس کے خاوند کو پکڑ کر لے آئے، عدالت کے سامنے پیش کر دیا۔ وہ خاوند وہی شخص تھا جو روشن دان سے چوری کرنے کے لئے اترا تھا-
اس کی خواہش میں وہ خود کھڑا تھا۔ اتنا چکر کاٹ کر آدمی کو پتہ نہیں چلتا کہ اس کے ساتھ کیا گزر رہی ہے وہ کہاں پر اپنی ہی خواہش، اپنی ہی آرزو کے درمیان کھڑا ہے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 بچوں کو مشکلات کا عادی بنائیں 🔷

ایک سائنسدان اپنی تجربہ گاہ میں تتلی کے لاروے پر تجربات کر رہا تھا۔ لاروا تتلی بننے کے آخری مراحل میں تھا۔ سائنسدان نے دیکھا کہ لاروے میں ایک سوراخ بن گیا ہے۔ یہ خول اتنا چھوٹا تھا کہ تتلی کیلئے اس سے باہر نکلنا ناممکن تھا لیکن اس کے باوجود وہ بھرپور زور لگا کر اس سوراخ سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ سائنسدان نے سوچا کیوں نہ میں اس سوراخ کو بڑا کردوں تاکہ تتلی بآسانی باہر آ سکے۔ اس نے ایک آلے کی مدد سے لاروے کے خول میں اتنا بڑا سوراخ کر دیا کہ تتلی آسانی سے باہر آ سکتی تھی اور وہی ہوا۔

تتلی ذرا سی دیر میں بغیر کوشش کے لاروے سے باہر آ گئی۔ مگر سائنسدان اس وقت شدید حیران رہ گیا جب اس نے دیکھا کہ تتلی باوجود کوشش کے پرواز نہیں کرپا رہی۔ حتیٰ کہ اس کے پر بھی پوری طرح نہیں کھل پا رہے۔
سائنسدان اس تتلی کو اپنے سینئر سائنسدان کے پاس لے گیا اور سارا ماجرا بیان کیا، اس نے سرد آہ بھری اور تاسف سے بولا؛ تم نے اپنی بے وقوفی کی وجہ سے تتلی کو ساری زندگی کیلئے معذور بنا دیا۔ جب تتلی لاروے سے باہر آنے کیلئے زور لگا رہی ہوتی ہے تو اس وقت مفید مادے اس کے پروں میں سرائیت کر جاتے ہیں انہی مادوں کی وجہ سے تتلی کے پروں میں جان آتی ہے اور وہ اڑنے کے قابل ہو جاتی ہے، تم نے اس کی مدد تو کر دی مگر ان مفید مادوں سے اسے محروم کر دیا۔

● مشکل حالات ہماری صلاحیتوں اور قابلیت کو مہمیز کرتے ہیں۔ ہماری شخصیت کے نوکدار کونوں کو گول کرتے ہیں، ہمیں نامساعد حالات میں خوبی کے ساتھ پرواز کرنا سکھاتے ہیں۔

بطور والدین کبھی کبھی ہم اپنے بچوں کو مشکل حالات سے بچانے کی بہت زیادہ کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیےبہت کچھ کرتے ہیں زندگی کی مشکلات اور مایوس کن حالات سے بچاتے ہیں، چاہتے ہیں کہ ہم جن مشکلات سے گزرے ہیں وہ ان سے نہ گزریں۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جن بچوں کو مشکل حالات سے بچایا جاتا ہے بہت زیادہ آسانیاں دی جاتی ہیں ان کو زندگی میں بے پناہ دشواریوں کا سامنا رہتا ہے ان میں چیلنج حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے وہ زیادہ کوشش سے کم نتائج حاصل کر پاتے ہیں۔

ہم بچوں کو بہت زیادہ مدد کر کے ۔۔۔ اپنے عمل سے یا دوسرے لفظوں میں غیر محسوس انداز سے یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ ۔۔۔۔
تم میں صلاحیت نہیں ہے تو وہ پیغام بہت خوبی سے بچے تک پہنچ جاتا ہے
اور وہ ذہن میں بٹھا لیتا ہے کہ اس میں متعلقہ کام کرنے کی صلاحیت نہیں ہے

• ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ بچے کو راستہ پر چلنے کے لیے تیار کریں۔ نہ کہ راستے کو بچے کے لیے تیار کیا جائے۔

بچے کو سیکھایا جائے کہ
1- معاشرتی اور مذہبی اقدار کے اندر رہ کر،
2- دستیاب وسائل کے ساتھ،
مشکلات اور مسائل کو کیسے حل کرنا ہے۔

ناکہ ہر وقت آئیڈیل حالات اورمعاشرہ کی خواہش کرتے رہنا اور دستیاب وسائل سے مسائل کو حل کرنے کی بجائے وسائل کی کمی کا رونا رونا اور بے عملی کا شکار رہنا۔

بچوں کو مشکلات کا عادی بنائیں، ان کو مستقبل میں ممکنہ مشکلات کے لیے تیار کریں اور پریکٹس کروائیں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
✊ ناخن کاٹنے کے فوائد و آداب ✊

🌺 ناخن کب کاٹے جائیں:
لوگوں نے حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمارے اصحاب کا یہ مقولہ ہے کہ ناخن جمعہ ہی کے دن کاٹنے چاہئیں۔
امامؑ نے فرمایا: کہ جمعہ کے دن کٹواؤ خواہ کسی اور دن۔ یعنی اگر کسی اور دن ناخن اتنے بڑھ جائیں کہ کٹوانے کی ضرورت معلوم ہو تو جمعہ کا انتظار نہیں کرنا چاہیے اسی طرح حدیث میں وارد ہے کہ ناخن جس وقت بڑھ جائیں کٹوا ڈالو۔

🌹 ناخن کاٹنے کی مقدار:
حدیث میں منقول ہے کہ رسول اکرمؐ مردوں کو تو یہ حکم دیتے تھے کہ ناخنوں کو زندہ ناخن کے پاس سے کاٹو اور عورتوں کے لیے یہ فرمایا کہ تھوڑا سا چھوڑ کر کاٹو کہ وہ تمھاری زینت کا موجب ہے۔

🌹 ممانعت:
منقول ہے کہ حضرت رسول اکرمؐ نے دانتوں سے ناخن کاٹنے کی ممانعت فرمائی ہے۔

🌹 بیماریوں سے شفا:
رسول اکرمؐ سے منقول ہے:
ناخن کاٹنے سے بہت بڑے بڑے امراض موقوف ہوتے ہیں اور روزی فراخ ہوتی ہے۔

🌹 درد سے شفا:
پیغمبر اسلامؐ فرماتے ہیں:
اگر کوٸی شخص جمعہ کے دن ناخن کاٹے تو اللہ تعالٰی اسکی انگلیوں سے درد کو نکال کر ان میں شفا داخل کر دیگا۔

🌼 روزی میں برکت:
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
جمعةالمبارک کے دن ناخن کاٹنا اور مونچھوں کو کٹوانا فقیری کو دور کرتا ہے اور روزی کو زیادہ کرتا ہے۔

🌸 رزق کا وسیع ہونا:
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اگر کوٸی چاہتا ہے کہ اسکا رزق وسیع ہو جاٸے تو وہ ہر جمعہ کو ناخن اور مونچھیں کٹوایا کرے۔

🌺 رزق کی زیادتی کا سبب:
جمعرات کے روز ناخن کاٹو اور ایک ناخن باقی رہنے دو اور اسکو جمعہ کے دن کاٹو کیونکہ یہ رزق کی زیادتی کا سبب بنتا ہے اور ناخن کاٹتے وقت یہ دعا پڑھیں:
*بِسمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ وَعَلٰی سُنَّةِ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ*

■ ناخن کاٹنے کے طریقے:
چہاردہ معصومین علیہم السلام کی احادیث سے ناخن کاٹنے کے چند طریقے وارد ہوٸے ہیں:

● ایک طریقہ یہ ہے کہ باٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ابتدا کریں اور داٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پر اختتام کریں۔

● دوسرا طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ابتدا کریں اور داہنے ہاتھ کے سارے ناخن کاٹ لیں پھر باٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کر کے تمام ناخن کاٹیں۔

● تیسرا طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ کی شہادت والی انگلی سے ابتدا پھر درميان والی انگلی پھر اسکے ساتھ اور پھر چھوٹی انگلی پھر باٸیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پھر اسکے بعد ایک ایک کر کے ساری انگلیوں کے ناخن کاٹیں۔ بعد میں داہنے ہاتھ کی بڑی انگلی کے ناخن کاٹیں۔
ان میں سے جس طریقے پر عمل کیا جاٸیگا ان شاء اللہ تعالٰی ثواب ملے گا۔

📚 حوالہ جات:
تہذیب الإسلام
انوارالنجف، جلد14۔
وسائل الشیعہ، جلد5۔

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ہاتھ، پیر سن ہونا 🔷

ہاتھ، پاؤں، بازو یا ٹانگ کا سو جانا ایک ایسی کیفیت ہے جس کا تجربہ کبھی نہ کبھی ہم سب کو ہوتا ہے۔ لمبے وقت تک بازو یا ٹانگ پر دباؤ پڑنے یا بعض اوقات نیند کے دوران ایک بازو پر مسلسل دباؤ پڑنے سے یہ اعضاء سو جاتے ہیں اور پھر ہم اچانک ہڑ بڑا کر انہیں حرکت دینے کی کوشش کرتے ہیں مگر اول تو اعضاء بے حس محسوس ہوتے ہیں اور پھر ان میں شدید چبھن کا احساس ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ سوئے ہوئے اعضاء مکمل طور پر جاگ جاتے ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟ آخر وہ کونسی تبدیلی ہے جو اچھے بھلے اعضاء میں معذوری جیسی کیفیت پیدا کردیتی ہے؟

اس کیلئے ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم اپنے اعضاء کی موجودگی کا احساس کیسے کرتے ہیں۔ انسانی جسم کے ہر حصے کا تعلق دماغ کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ تعلق عصبی نظام کے خلیات کے ذریعے ہوتا ہے۔

عصبی خلیے اعضاء سے دماغ کو پیغامات پہنچاتے ہیں اور دماغ سے ان اعضاء کو ہدایات ملتی ہیں۔ جب کسی عضو پر لمبے وقت کیلئے دباؤ پڑتا ہے تو عصبی رگیں دب جاتی ہیں اور دماغ کے ساتھ رابطہ متاثر ہوتا ہے۔ جب عصبی پیغامات درست طور پر دماغ تک نہیں پہنچتے تو دماغ کنفیوز ہوجاتا ہے اور اس میں چبھن اور درد کی سی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے ہم فوری طور پر عضو کو حرکت دیتے ہیں تاکہ اس کی نارمل کیفیت بحال ہو جائے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 ٹوتھ پیسٹ کوڈز 🔶

دانت برش کرنا ہمارا روزمرہ کا معمول ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ٹوتھ برش کی ٹیوب پر بالکل نیچے ایک رنگین چوکور ڈبہ بنا ہوتا ہے جو کلر کوڈ کہلاتا ہے۔
آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ کلر کوڈ کیا بتاتے ہیں۔

⚫ سیاہ
ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب کے نیچے بنے کلر کوڈ کا سیاہ رنگ ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف کیمیکلز سے بنا ہوا ٹوتھ پیسٹ ہے۔

🔴 سرخ
سرخ رنگ کا کوڈ ظاہر کرتا ہے کہ ٹوتھ پیسٹ قدرتی اور کیمیائی اجزا کی آمیزش سے بنایا گیا ہے۔

🔵 نیلا
نیلے رنگ کا مطلب ہے کہ ٹوتھ پیسٹ میں قدرتی اجزا اور دوائیں شامل ہیں۔ یہ ٹوتھ پیسٹ دانتوں کی کسی قسم کی بیماری رکھنے والے افراد کو تجویز کیا جاتا ہے۔

🌲 سبز
سبز کلر کوڈ ٹوتھ پیسٹ کے خالص قدرتی اجزا سے بنے ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

■ ماہرین کے مطابق جب بھی ٹوتھ پیسٹ خریدا جائے تو ان کلر کوڈز کو ذہن میں رکھتے ہوئے خریدا جائے۔ بچوں کے لیے سیاہ کلر کوڈ والے ٹوتھ پیسٹ نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں جو صرف کیمیکلز سے بنائے گئے ہوتے ہیں۔
اسی طرح سبز کلر کوڈ والے ٹوتھ پیسٹ دانتوں کی صحت کے لیے موزوں ہیں۔

https://t.me/islamwitheman/2141
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کھلے پانی میں یکدم نہانا 🔷

یہ مشورہ بالخصوص ان لوگوں کے لئے ہے، جو کسی بھی کھلے پانی، سوئمنگ پول، حوض، ٹیوب ویل وغیرہ میں بغیر ٹمپریچر کا خیال رکھے چھلانگ لگا دیتے ہیں.

مشورہ سے پہلے تین مختصر واقعات عرض کرتا ہوں...

(1) سیالکوٹ میں ہمارے ایک دوست "رشید صاحب" تھے ان کا جواں سال بیٹا شدید گرمی میں کام کرتے کرتے اپنے ٹیوب ویل پر گیا اور حوض میں چھلانگ لگائی، تو اس کو پانی کے اندر ہی فالج ہوگیا.

(2) یہاں پر اٹلی میں ہمارے دوست محترم یاسین صاحب ہیں ان کا جواں سال بیٹا سوئمنگ پول میں نہانے کے لیے گیا، چھلانگ لگائی اور پانی کے اندر ہی مفلوج ہوگیا، پچھلے دو تین مہینوں سے ہسپتال میں پڑا ہے.

(3) آپ جانتے ہیں29/7/2019 کو پاکستان کے عظیم ثناء خوان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم "ذوالفقار علی حسینی" فوت ہو گئے اور کل ان کو سپرد خاک کر دیا گیا.
ان کے فوت ہونے کی جو وجوہات سامنے آئی ہیں وہ یہ کہ سوئمنگ پول میں نہانے کے دوران ان پر کسی وائرس کا اٹیک ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اللہ کو پیارے ہوگئے.

■ اصل موضوع کی طرف آتا ہوں..
آپ نے دیکھا ہو گا کبھی جہاز میں سفر کرتے ہیں تو جس ملک یا شہر میں آپ اتر رہے ہوتے ہیں. جہاز میں اناؤنسمنٹ ہوتی ہے کہ اس شہر، کا ٹمپریچر اس وقت یہ ہے، تو مسافر جہاز سے اترنے سے پہلے موجودہ ٹیمپریچر کے مطابق اپنی ذہنی، جسمانی تیاری کرتا ہے.

● ایک اور ضروری احتیاط۔۔۔
جو پانی سورج سے گرم ہو جائے اس کے ساتھ وضو کرنے سے فقہاء نے منع فرمایا ہے، اور مکروہ لکھا ہے وہ بھی بیماری پیدا کرنے کا سبب ہے.

جو احباب یہ پوسٹ پڑھیں وہ اپنے بچوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائیں کہ اس طرح نہروں میں جاکر چھلانگ لگانا، سوئمنگ پول، ٹیوب ویل وغیرہ میں نقصان کا باعث ہو سکتا ہے.
ایسی جگہوں پر نہانے سے پہلے اپنے جسمانی ٹمپریچر کو پانی کے موافق کیجیے.

تحریر: محمد یعقوب اٹلی

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 کلیجی کھانے کے اثرات 🔷

لاہور (ویب ڈیسک) بہت کم افراد ایسے ہوتے ہیں جن کو جانوروں کی کلیجی، گردے، دل، زبان اور مغز وغیرہ کھانے کا شوق ہوتا ہے، بیشتر تو انہیں نقصان دہ یا خراب سمجھ کر کھانے سے گریز کرتے ہیں۔ مگر عیدالاضحٰی وہ موقع ہوتا ہے جب لگ بھگ سب ہی کلیجی کھاتے ہیں۔مگر بیشتر افراد کو معلوم نہیں کہ گوشت کے یہ حصے کچھ وٹامنز اور غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں۔ اکثر انہیں سپر فوڈ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں آئرن، وٹامن بی، فاسفورس، کاپر، میگنیشم، وٹامن اے، وٹامن ڈی، وٹامن ای، وٹامن کے اور دیگر وٹامنز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مختلف ممالک میں انہیں کھایا جاتا ہے اور ان کے فوائد درج ذیل ہیں۔

● جگر
جگر یا کلیجی اس حوالے سے سب سے زیادہ غذائیت والا حصہ ہے جس میں وٹامن اے کی طاقتور قسم پائی جاتی ہے، وٹامن اے آنکھوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے جبکہ جسمانی ورم اور جوڑوں کے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے، اس کے علاوہ کلیجی میں فولک ایسڈ، آئرن، کرومیم، کاپر اور زنک بھی موجود ہوتا ہے جو کہ دل کے لیے فائدہ مند ہونے کے ساتھ خون میں ہیموگلوبن کی سطح بڑھاتے ہیں، جس سے انیمیا کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

● گردے
پروٹین اور دیگر اجزا سے بھرپور گردے جسم کو اومیگا تھری فیٹی ایسڈ فراہم کرتے ہیں، جبکہ اس میں موجود ورم کش خصوصیات دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں۔

● مغز
مغز میں اومیگا تھری فیٹی اسیڈز اور ایسے اجزا موجود ہوتے ہیں جو اعصابی نظام کو فائدہ پہنچاتے ہیں، ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس انسانی دماغ اور حرام مغز کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

❤️ دل
دل فولیٹ، آئرن، زنک اور سیلینیم سے بھرپور ہوتا ہے جبکہ اس میں وٹامن بی 2، بی سکس اور بی 12 بھی موجود ہوتا ہے جو کہ امراض قلب سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ بلڈ پریشر کو مستحکم، ہائی کولیسٹرول میں کمی اور خون کی شریانوں کو صحت مند بناتے ہیں۔

● زبان
زبان کیلوریز اور فیٹی ایسڈز جیسے زنک، آئرن، کولین اور وٹامن بی 12 سے بھرپور ہوتی ہے اور یہ گوشت حاملہ خواتین کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔

■ خطرات
ان حصوں میں کولیسٹرول اور چربی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے ان کو بہت زیادہ کھانا نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ یعنی کلیجی، گردے، زبان، مغز یا دل وغیرہ کو اعتدال میں رہ کر کھانا چاہئے اور ہفتے یا مہینے میں ایک بار کھانا ہی کافی ہوتا ہے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 دانت چمکانے کے ٹوٹکے 🔷

جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ان کو ہضم کرنے کے لائق جو 32 تیز دھار والے آلات کام آتے ہیں ان کو دانت کہتے ہیں۔ اکثر لوگوں کی پہچان ان کے دانتوں سے ہی ہوتی ہے کیونکہ یا تو وہ ہنستے ہوئے اچھے لگتے ہیں یا ہسنے کے لیے ان کے پاس دانت ہی نہیں ہوتے مگر جن کے پاس ہوں وہ ان کو کسی نعمت سے کم نہ سمجھیں اور ان کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔

اس کے لیے آپ کو کسی ڈینٹسٹ کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہے آپ گھر پر ہی ان کی چمک اور دمک کا بندوبست کر سکتے ہیں:

1۔ نمک کو گرم کرنے کے بعد گرینڈ کرلیں تاکہ بالکل پاؤڈر بن جائے- اب اس میں کلونجی اور مسٹرد آئل کے چند قطرے شامل کرلیں- اس مکسچر کو دانتوں پر لگانے سے دانت چمک جائیں گے۔

2۔ ٹوٹھ برش پر ٹوٹھ پیسٹ لگانے کے بعد ذرا سا نمک اور میٹھا سوڈا اور لیموں کے دو قطرے ڈال کر دانت صاف کریں دانت چمک جائیں گے۔

3۔ دانت چمکانے کے لیے کوئلے کا سفوف اور جلی ہوئی روٹی کی راکھ بھی مفید ہے۔

4۔ دانتوں پر لیموں کا چھلکا ملنے سے پیلاہٹ اور چائے کے داغ بھی دور ہو جاتے ہیں۔

5۔ روزانہ احتیاط سے اپنے دانتوں اور مسوڑھوں کا معائنہ کریں۔

التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی

http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 اووَر تھِنکِنگ (Over thinking) 🔷

مطلب ضرورت سے زائد یا بے وجہ سوچنا۔

کھیتوں کی سیر سے واپسی پر کچھ پودے دیکھے جو ایسے لگ رہے تھے کہ وہ پودے اپنی مرضی سے جگہ جگہ بنا کسی حدِ مقرر کے اگتے چلے گئے ہیں۔ ان کو دیکھ کر غیر ارادی طور پر جو خیال آیا وہ تھا۔۔۔

“اُووَر تھِنکِنگ کا جنگل”

مجھے اپنے اس خیال پر ہنسی بھی آئی اور ساتھ ہی موبائل کے کیمرہ سے اوور تھنکنگ کے جنگل کی عکس بندی بھی کر لی۔

باقی کا گھر تک کا راستہ یہ سوچتے گذرا کہ کیا وہ واقعی اوور تھنکنگ کا جنگل تھا؟ اگر تھا تو کیسے بنا؟
تو جواب ملا کہ خالی اور زرخیز زمین۔

وہ خالی زمین تھی جسے پانی، ہوا اور روشنی میسر تھی جو جنگلی پودوں، جڑی بوٹیوں اور گھاس پھونس کے اگنے کو کافی ہے۔

ہمارا ذہن بھی اگر خالی ہو تو اس میں بے وجہ کی سوچیں جنم لیتی رہتی ہیں۔ ہم وہ سب بھی سوچ لیتے ہیں جس کا شاید وجود بھی نہیں ہوتا ہے۔

جس طرح ہم خالی زمین پر غیر ضروری پودے اگنے سے نہیں روک سکتے ویسے ہی بنا کسی معیاری سوچ کے ذہن بے وجہ سوچنے سے نہیں رکتا ہے۔

اپنے خوبصورت ذہن کی زرخیر زمین کو اُووَر تھِنکِنگ کا جنگل بننے سے پہلے اُس زمین پر مثبت سوچ کے بیج لگانے شروع کر دیں اور ہر روز ان کا خیال رکھیں تاکہ ان کے ساتھ منفی سوچ کی گھاس نہ اگنے پائے۔

التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕