ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌺 ہفتہ (SATURDAY) 🌺

■ اذکار
1۔ یَارَبَّ الْعَالمَِیْن 100 مرتبہ۔
2۔ یَاغَنِیُّ 1060 مرتبہ۔
3۔ یاحی یاقیوم 1000 مرتبہ۔

■ دعا
ہفتہ کے دن کی دعا پڑھی جائے۔
https://t.me/islamwitheman/2065

■ زیارت
ہفتہ کا دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب دن ہے۔ اس لئے ان کی زیارت پڑھی جائے۔
https://t.me/islamwitheman/2066

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔

⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌸 عالمِ برزخ 🌸

لغوی اعتبار سے ہر اس چیز کو جو دو چیزوں کے درمیان حاجب و حائل ھو برزخ کہا جاتا ھے۔
ارشاد قدرت ھے؛ "بینھما برزخ لا یبغیان" ان ہر دو دریاؤں کے درمیان ایک حد فاصل ھے جس کی وجہ سے ایک دوسرے پر نہیں چڑھتا۔
اسی مناسبت سے موجودہ زندگی اور آخرت والی زندگی کے درمیان جو زمان حائل ھے۔ یعنی موت سے لے کر قیامت تک جو درمیانی زمانہ ھے، اسے اصطلاح شریعت میں برزخ کہا جاتا ھے۔ بعض لوگ اس عالم کو "عالمِ مثال"، "عالمِ اشباح" وغیرہ سے بھی موسوم کرتے ھیں۔

عالمِ برزخ والا مرحلہ بہت ھی مشکل ھے۔ آئمہ طاہرین علیہم السلام نے اس سے بہت ھی ڈرایا ھے اور اس میں پیش آنے والے مصائب و شدائد سے نجات حاصل کرنے لیے اعمالِ صالح کا ذخیرہ جمع کرنے کی تاکید شدید فرمائی ھے۔
امامِ صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:
"بخدا مجھے تمہارے متعلق جس قدر خوف و ہراس ہے وہ عالمِ برزخ ہی کے متعلق ہے لیکن جب قیامت کا دن ھو گا اور معاملہ ھمارے ھاتھ میں ھو گا تو اس وقت ھم تمہاری شفاعت کرنے کے سب سے زیادہ حقدار ھیں۔"
(حق الیقین از علامہ سید عبداللہ شبر)

امام علیہ السلام فرماتے ھیں: ہاں البتہ خدا کی قسم مجھے تمہارے متعلق اگر خوف ھے تو وہ بززخ کا ھے۔ راوی نے عرض کیا؛ آقا وہ برزخ کیا ھے؟ فرمایا؛ "القبر منذ موتہ الی یوم القیامة" وہ موت سے لے کر قیامت تک قبر والا اور درمیانی زمانہ ھے۔ جیسے کہ ارشادِ رب العزت ھے: "ومن ورائھم برزخ الی یوم یبعثون" ان کے پیچھے عالمِ برزخ ھے یوم حشر تک۔

🔷 عالم برزخ کے چند احوال
جب انسان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر جاتی ھے تو وہ میت کے ساتھ ساتھ رھتی ھے۔ جب میت کو دفن کر دیا جاتا ھے تو اسی جسم میں دوبارہ اس کی روح کو داخل کیا جاتا ھے ۔۔ اور خدا کے مقرر کردہ دو فرشتے جن کے صفاتی نام منکر و نکیر ھیں جو انتہائی ھولناک اور قبیح النظر شکل و صورت رکھتے ھیں اور ان کی آواز بجلی کی کڑک کی طرح تند و تیز ہوتی ھے قبر میں سوال و جواب کے لیے داخل ھوتے ھیں۔ کچھ روایات میں یہ ھے کہ مومن و متقی کی قبر میں جو فرشتے آتے ھیں ان کے صفاتی نام "مبشر و نذیر" ھیں۔ جو بہت ھی خوش شکل، خوبصورت اور خوش آواز ھوتے ھیں جو آ کر مومن کو جنت الفردوس اور خوشنودی خدا کی بشارت دیتے ھیں۔
بہرحال جو شخص ان فرشتوں کے سوالات کے صحیح جوابات دے دے وہ اسے جنت کی بشارت دے کے چلے جاتے ھیں اور جو صحیح جوابات نہ دے سکے اسے شدید سزا و عتاب و عذاب دیتے ھیں۔ فشارِ قبر اس کے علاوہ ھے۔ اس کے بعد وہ فرشتے چلے جاتے ھیں اور انسان دوبارہ مر جاتا ھے۔ اب اس کا جسم تو وہیں قبر میں رہ جاتا ھے۔ البتہ روح عالمِ برزخ میں منعم یا معذب رہتی ھے۔

ارواح کو عالمِ برزخ میں مثالی اجسام میں رکھ کر جزا و سزا دی جاتی ھے۔ مومنین کی روحیں وادیِ السلام میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتی ھیں اور کفار و مشرکین اور نواصب و خوارج کی ارواح وادیِ برھوت میں مبتلائے عذاب و عقاب رھتی ھیں۔

دعا ھے کہ پروردگار عالم ھمارے مرحومین کو عالم برزخ میں وادی السلام میں جگہ نصیب فرمائے۔ ان کی مشکلات دور فرمائے اور ان کی مغفرت فرما کے ان کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے۔ الہیٰ آمین۔

https://t.me/islamwitheman/2046
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 خاکِ شفا کے فوائد 🌹

امامِ مظلوم مولا حسین علیہ السلام کی قبرِ مبارک کی خاک میں سواٸے موت کے ہر تکليف اور مرض کیلٸے شفا ہے۔ اس میں ہر بلا و مصیبت سے امان اور ہر خوف و خطر سے تحفظ کی تاثیر ہے۔
چند روایات درج ہیں:

1⃣ السید نعمت اللہ جزاٸری
محدث جلیل القدر آقا السید نعمت اللہ جزاٸری نے حصول علم کیلٸے بڑی زحمت اٹھاٸی اور بہت تکالیف برداشت کیں۔
آغازِ تعليم میں چونکہ ان میں چراغ کے خریدنے کی سکت نہ تھی لہذا وہ چاند کی چاندنی میں بیٹھ کر لکھتے پڑھتے تھے۔ چاندنی میں بیٹھ کر اتنا زیادہ لکھنے پڑھنے کے نتجے میں انکی آنکھوں کی بیناٸی کمزور ہو گٸی۔
چنانچہ وہ اپنی بیناٸی کی بحالی کیلٸے امام حسین علیہ السلام کی قبر شریف کی خاک اور عراق میں واقع دیگر آٸمہ معصومین علیہ السلام کی قبور کی خاک بطور سرمہ استعمال فرماتے تھے۔
پس اس خاک کی برکت سے انکی آنکھیں ٹھیک ہو گٸیں۔

2⃣ جنت کی حوریں
جنت کی حوریں جب دیکھتی ہیں کہ کوٸی فرشتہ کسی مقصد سے زمین پر جا رہا ہے تو وہ اس سے عرض کرتی ہیں کہ ان کیلٸے قبرِ امام حسین علیہ السلام سے خاک شفا اور تسبیح بطور سوغات لے کر آٸے۔

3⃣ امام علی رضاعلیہ السلام کاتحفہ
روایات میں ہے کہ شخص نے کہا:
مولا امام علی رضا علیہ السلام نے میرے لٸے خراسان سے کچھ چیزیں ایک پوٹلی میں باندھ کر بھیجیں، میں نے اسے کھولا تو اس سے کچھ خاک نکلی تب میں نے اسے لیکر آنے والے آدمی سے پوچھا کہ یہ کیسی خاک ہے؟
اس نے کہا کہ یہ امام حسین علیہ السلام کی قبر شریف کی خاک ہے۔
امام علی رضا علیہ السلام جب بھی کسی کی طرف کوٸی چیز یا کپڑا وغیرہ بھیجتے تو یہ خاک شفا بھی اسکے ساتھ رکھ دیتے تھے اور فرماتے:
اللہ تعالی کے اذن و مشیت سے یہ خاک بلاٶں سے امان کا ذریعہ ہے۔

4⃣ خاک شفا اور عقیدہ
عبداللہ ابن یعفور نے مولا امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کی کہ ایک شخص امام حسین علیہ السلام کی قبر سے خاک اٹھاتا ہے تو اسے اس سے برکت حاصل ہوتی ہے، لیکن ایک دوسرا شخص وہاں سے خاک اٹھاتا ہے تو اسے اس کچھ بھی نفع و برکت حاصل نہیں ہوتی؟
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
کہ بات یوں نہیں ہے بخدا جو بھی شخص یہ خاک اٹھاٸے اور یہ عقیدہ رکھے کہ یہ اسے نفع دے گی تو اس کو ضرور نفع و برکت حاصل ہوتی ہے۔

5⃣ خاکِ شفا کی تاثیر
ابو حمزہ ثمالی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کی کہ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے بعض ساتھی امام حسین علیہ السلام کی قبر مبارک سے خاک اٹھاتے ہیں اور اس سے شفا حاصل کرتے ہیں، آیا اس خاک میں شفا کی تاثیر رکھی گٸی ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا:
امام حسین علیہ السلام کی قبرِ اطہر کے 4 میل کے داٸرے کی خاک سے شفا حاصل ہو سکتی ہے۔
اور اسی طرح ہمارے جدِبزگوار حضرت رسول خدا ﷺ کی قبر شریف کی خاک،
امام حسین علیہ السلام،
امام زین العابدین علیہ السلام اور امام محمد باقر علیہ السلام کی قبور کی خاک میں بھی یہی تاثیر شفا موجود ہے۔

6⃣ خاکِ شفاکا اثرزاٸل ہونا
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
خاکِ شفا کی کوٸی اور چیز برابری نہیں کر سکتی، اسے ناپاک جگہ یا برتن میں نہ رکھا جاٸے کہ اس طرح خاکِ شفا کا اثر زاٸل ہو جاتا ہے۔

7⃣ شفا کا یقین رکھنا
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
بہت لوگ ایسے ہیں جو خاک کو شفا کی خاطر استعمال تو کرتے ہیں لیکن اس بات پر انہیں بہت کم یقین ہوتا ہے اور اگر کسی کو یقين ہو جاٸے کہ اس خاک میں شفا ہے تو وہ اس کیلٸے کافی ہے اور اسے کسی اور دوا کی حاجت نہیں رہتی۔

8⃣ کافرجنات اثرزاٸل کردیتے ہیں
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
اس خاک شفا کے اثر کو وہ کافر جنات اثر زاٸل کر دیتے ہیں جو خود کو اس سے مس کر لیتے ہیں،
اس خاک کو جس چیز پر رکھا جاٸے وہ اسے سونگھتے ہیں جس سے اسکی پاکیزہ خوشبو ختم ہو جاتی ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ کافر جنات انسانوں پر حسد کرتے ہیں،
جب بھی کوٸی شخص خاک اٹھاتا ہے تو وہ کافر جنات خود کو اس سے مس کرنے کیلٸے اکٹھے ہو جاتے ہیں کہ جنکی تعداد کو سواٸے اللہ تعالی کے کوٸی نہیں جانتا، حالانکہ فرشتے ان کو روضہ پاک کے قریب آنے سے روکتے رہتے ہیں۔
پس اگر یہ خاک ان کافر جنات کے مس کر لینے سے محفوظ رہ جاٸے تو جس بیماری کے علاج میں اسے کام میں لایا جاٸے اس سے ضرور شفا حاصل ہو گی۔

9⃣ خاک شفا کو چھپانا
جب خاک شفا کو امام حسین علیہ السلام کی قبرمبارک سے اٹھایا جاٸے تو اسے چھپاٸے رکھیں اور اس پر اللہ تعالی کا نام زیادہ سے زیادہ پڑھیں۔
کچھ لوگ اس خاک کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور بعض لوگ جانوروں پر لادے ہوٸے بورے میں یا کسی ایسے برتن میں رکھ دیتے ہیں جس کو ناپاک ہاتھ لگتے رہتے ہیں۔
پس کیونکر ایسے شخص کو اس سے شفا ملے گی جو اس کا جاٸز احترام نہیں کرتا۔
جو چیز اس کیلٸے فائدہ مند ہے اس کو معمولی سمجھے تو وہ اپنے عمل کو فاسد کر دیتا ہے۔

📚 بحوالہ۔
مفاتیح الجنان۔

انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 اتوار (SUNDAY) 🌹

■ اذکار
1۔ یا ذالجلال والاکرام 100 مرتبہ
2۔ یا فتاح 489 مرتبہ
3۔ ایاک نعبد وایاک نستعین 1000 مرتبہ

■ دعا
اتوار کے دن کی دعا پڑھی جائے۔ دعا پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2069

■ زیارت
اتوار کا دن حضرت امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمةالزھراء سلام اللہ علیہا سے منسوب ہے۔ اس لئے ان حضرات کی زیارت پڑھی جائے۔ زیارت پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2070

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔

⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌸 سوموار (MONDAY) 🌸

■ اذکار
ِ1۔ یَا قَاضِیٓ الْحَاجَاتْ 100 مرتبہ
2۔ یَا لَِطیْفُ 129 مرتبہ
3۔ سبحان اللہ والحمد لله 1000 مرتبہ

■ دعا
سوموار کے دن کی دعا پڑھی جائے۔ دعا پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2071

■ زیارت
یہ دن حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام سے منسوب ہے اسلئے ان حضرات کی زیارت پڑھی جائے۔ زیارت پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2072

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔

⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
*🛑 انٹر نیٹ کی مفت فراہمی؟ 🛑*

*🎯 سوال: کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ سوشل نیٹ ورک کی سائٹس، آپ کو اپنی خدمات مفت میں کیوں دیتی ہیں؟:*


*⬅ جب آپ کو کسی سامان کی قیمت نا دینا پڑے تو جان لیجیئے گا کہ سامان وہ نہیں جو آپ کو مل رہا ہے، بلکہ سامان آپ ہیں جسے خریدا جا رہا ہے۔* اس معاملے کو سمجھیئے، توجہ دیجیئے اور خوب غور کیجیئے۔ مثال:

*⬅ موبائیل ٹیلی فون اس دنیا میں اٹھائی جانے والی ہلکی ترین چیز ہو سکتی ہے مگرہو سکتا ہے آخرت میں یہ اٹھائی جانے والی سب سے بھاری اور سخت چیز ہو۔* پس کچھ اور نا کیجیئے صرف اس کا استعمال ہی اچھا کرنا شروع کر دیجیئے۔

*⬅ گوگل، فیس بک، ٹویٹر، واٹساپ اور اسی قبیل کے دیگر پروگرام ایسے گہرے سمندر ہیں جن میں بڑے بڑے قد آور لوگوں کے اخلاق گر کر ڈوب گئے۔* اور جن کے اخلاق ڈوبے وہ صرف نوجوان ہی نہیں، کچھ اچھی خاصی عمروں والے بھی تھے۔

*⬅ اس سمندر کی موجیں لوگوں کی زندگی سے حیاء کو اپنے ساتھ بہا کر لے گئیں۔ اس سمندر میں بہت سی مخلوق ہلاک ہوئی ہے۔*

*⬅ اگرآپ کواس ہلاکت سے بچنا ہے تو بہت احتیاط کرنا ہوگی۔ ان چیزوں کے درمیان میں شہد کی مکھی کی طرح رہنا ہوگا، اگر رُکنا تو اچھے اچھے صفحات پر، جن سے پہلے آپ کو فائدہ ملے اور بعد میں آپ کے توسط سے دوسروں کو۔*

*⬅ ان چیزوں میں مکھی کی طرح نا بن کے رہیں، جو ہر اچھی اور بری چیز پر ٹھہرتی ہے۔ ایک جگہ کی بیماریاں دوسری جگہ ایسے لیجاتی ہے کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔*

*⬅ انٹرنیٹ بہت بڑا بازار ہے، یہاں کوئی بھی اپنا سامان مفت بانٹنے کیلیئے نہیں بیٹھا ہوا۔ ہر کوئی اپنے مال کے بدلے میں آپ سے کوئی چیز لے رہا ہے۔*

*☝🏻ان میں سے کچھ تو اپنے مال کے بدلے میں آپ کا اخلاق خراب کرنا چاہتے ہیں۔*

*☝🏻کچھ اپنے مال کے بدلے میں آپ کے دل میں شک و شبہ کا بیج ڈالنا چاہتے ہیں۔*

انٹرنیٹ پر کچھ بھی خریدنے سے پہلے پڑتال کر لیجیئے گا کہ بدلے میں آپ سے کیا لیا جا رہا ہے۔

*🚫 خبردار: نا معلوم لنک کھولنے میں بھی احتیاط کیجیئے کیونکہ ان میں سے کچھ ہی خیر ہوتے ہیں، زیادہ تر شر، ہیکر، بردبادی اور تباہی کا ہی کام کرتے ہیں۔*

*🚫 خبردار: جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلانے سے باز رہیں ، غلط چیزوں کی کاپی پیسٹ سے دور رہیں ۔ جان لیں کہ یہ والی تجارت نیکی بھی ہو سکتی ہے اور برائی بھی۔ نیٹ سے سامان پرکھ کرلیں کہ جسے آگے پھیلانے جا رہے ہو وہ کس قبیل کی ہے۔ کیونکہ لینے والا وہ چیز اب آپ کے نام اور پہچان سے خریدے گا۔*

*⬅ کہیں تبصرہ یا کمنٹ پیش کرنے سے قبل دیکھ لیں کہ معاملہ اللہ کی ناراضگی والا تو نہیں۔*
نا ہی کسی کی شخصیت کا تصور اس کی تحریروں کے مطابق باندھ لیں۔
کیونکہ:
*🎯 لوگ اپنے چہروں پر پردہ چڑھا کر رکھتے ہیں۔*
*🎯 تصویریں ایڈیٹ کر کے پیش کرتے ہیں*
*🎯 باتیں بنا بنا کر پیش کرتے ہیں۔*
*🎯 اخلاق کو مٹھاس میں گھول کر دکھاتے ہیں۔*
*🎯 جھوٹ پر سچ کی ملمع کاری کرتے ہیں۔*
*🎯 رواداری اور اخلاقیات کا چورن ڈالتے ہیں۔*

*🛑 ایک بات ذہن میں بٹھا لیں :🛑*

*🔔اِدھرآپ لکھتے ہیں ، اُدھر آپ کے فرشتے لکھتے ہیں۔ اور دونوں کے اوپر اللہ ہے جو سب دیکھ رہا ہے اور ہر چیز کا حساب رکھ رہا ہے۔*

*🛑 جو بات سب سے زیادہ ڈراتی ہے وہ انٹرنیٹ کے سمندر میں حرام کا دیکھنا،* فسق و فجور کا مشاہدہ کرنا اور راہ راست سے انحراف کرتی چیزوں میں پڑ جانا ہے۔

*✅ اگر آپ کو لگے کہ آپ غلط نہیں کر رہےتو پھر خود بھی مستفید ہوں اور دوسروں کو بھی فائدہ دیں۔*

*☝🏻 اور اگر آپ کو لگے کہ آپ کچھ غلط کر رہے ہیں تو پھر اس سے دور بھاگیں ، بالکل ایسے جیسے کوئی. خونخوار جانور کو دیکھ کر بھاگ. ۔

*یہ ذہن میں رکھیں کہ آپ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں نا کہ انٹرنیٹ آپ کو استعمال کر رہا ہے۔*
اللہ رب العزت ہمیں ہدایت دیئے رکھے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌼 منگل (TUESDAY) 🌼

■ اذکار
1۔ یا ارحم الراحمین 100 مرتبہ۔
2۔ یا قابض 903 مرتبہ۔
3۔ یا اللہ یا رحمان 1000 مرتبہ۔

■ دعا
منگل کے دن کی دعا پڑھی جائے۔ دعا پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2076

■ زیارت
منگل کا دن امام زین العابدین علیہ السلام، امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منسوب ہے۔ اس لئے ان حضرات کی زیارت پڑھی جائے۔ زیارت پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2077

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔

⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌼 حضرت معصومۂ قُمؑ 🌼

آپ کا اسم مبارک فاطمہ ہے۔ آپ کا مشہور لقب معصومہ ہے۔ آپ کے پدر بزرگوار شیعوں کے ساتویں امام حضرت موسٰیؑ بن جعفرؑ ہیں۔ آپ کی مادر گرامی حضرت نجمہ خاتون ہیں اور یہی بزرگوار خاتون آٹھویں امام کی بھی والدہ محترمہ ہیں۔ بس اسیوجہ سے حضرت معصومہؑ اور امام رضاؑ ایک ماں سے ہیں۔

آپ کی ولادت باسعادت اول ذیقعدہ سال ۱۲۳ھجری قمری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔
ابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ بچپنے ہی میں آپ اپنے شفیق باپ کی شفقت سے محروم ہوگئیں۔ آپ کے والد کی شہادت، ہارون کے قید خانہٴ بغداد میں ہوئی۔
باپ کی شہادت کے بعد آپ اپنے عزیز بھائی حضرت امام علی رضاؑ کی آغوش تربیت میں آگئیں۔

۲۰۰ ہجری میں مامون عباسی کے بے حد اصرار اوردھمکیوں کی وجہ سے امامؑ سفر کرنے پر مجبور ہوئے امامؑ نے خراسان کے اس سفر میں اپنے عزیزوں میں سے کسی ایک کو بھی اپنے ہمراہ نہ لیا۔
امامؑ کی ہجرت کے ایک سال بعد بھائی کے دیدار کے شوق میں اور رسالت زینبی اور پیام ولایت کی ادائیگی کیلئے آپؑ نے بھی وطن کو الوداع کہا اور اپنے کچھ بھائیوں اور بھتیجوں کے ساتھ جانب خراسان روانہ ہوئیں۔
ہر شہر اور ہرمحلے میں آپ کا والہانہ استقبال ہو رہا تھا، یہی وہ وقت تھا کہ جب آپ اپنی پھوپھی حضرت زینبؑ کی سیرت پر عمل کرکے مظلومیت کے پیغام اور اپنے بھائی کی غربت مومنین اور مسلمانوں تک پہنچا رہی تھیں اور اپنی و اہلبیت کی مخالفت کا اظہار بنی عباس کی فریبی حکومت سے کررہی تھیں، یہی وجہ تھی کہ جب آپ کا قافلہ شہر ساوہ پہنچا تو کچھ دشمنان اہلبیتؑ جن کے سروں پر حکومت کا ہاتھ تھا راستے میں حائل ہوگئے اور حضرت معصومہؑ کے کاروان سے ان بدکرداروں نے جنگ شروع کردی۔ نتیجتاً کاروان کے تمام مردوں نے جام شہادت نوش فرمایا۔ یہاں تک کہ ایک روایت کے مطابق حضرت معصومہؑ کو بھی زہر دیا گیا۔
بہر کیف حضرت معصومہؑ اس عظیم غم کے اثر سے یا زہر جفا کی وجہ سے بیمار ہوگئیں اب حالت یہ تھی کہ خراسان کے سفر کو جاری و ساری رکھنا ناممکن ہو گیا لہٰذا شہر ساوہ سے شہر قم کا قصد کیا اور آپ نے پوچھا اس شہر (ساوہ) سے شہر قم کا کتنا فاصلہ ہے۔ اس دوری کو لوگوں نے آپ کو بتایا تو اس وقت آپ نے فرمایا: مجھے قم لے چلو اسلئے کہ میں نے اپنے والد محترم سے سنا ہے کہ انھوں نے فرمایا:
شہر قم ہمارے شیعوں کا مرکز ہے۔
اس مسرت بخش خبر سے مطلع ہوتے ہی بزرگان قم کے درمیان ایک خوشی کی لہر سی دوڑ گئی اور وہ سب کے سب آپ کے استقبال میں دوڑ پڑے۔ موسٰی بن خزرج جو کہ اشعری خاندان کے بزرگ تھے انھوں نے آپ کی مہار ناقہ کو آگے بڑھ کر تھام لیا اور بہت سے لوگ جو سوار اور پیادہ تھے پروانوں کی طرح اس کاروان کے ارد گرد چلنے لگے۔ ۲۳ربیع الاول سال ۲۰۱ ہجری وہ عظیم الشان تاریخ تھی جب آپ کے مقدس قدم قم کی سرزمین پر آئے۔ پھر اس محلّے میں جسے آج کل میدان میر کے نام سے یاد کیا جاتاہے حضرت کی سواری موسٰی بن خزرج کے گھر کے سامنے بیٹھ گئی نتیجتاً آپ کی میزبانی کا عظیم شرف موسٰی بن خزرج کو مل گیا۔
اس عظیم ہستی نے صرف سترہ(۱۷) دن اس شہر میں زندگی گزاری اور ان ایام میں آپ اپنے خدا سے راز ونیاز کی باتیں کرتیں اور اس کی عبادت میں مشغول رہیں۔
معصومہؑ کی جائے عبادت اور قیامگاہ مدرسہ ستیہ جو آج کل ”بیت النور“ کے نام سے مشہور ہے جو اب معصومہؑ کے عقیدتمندوں کی زیارتگاہ بنی ہوئی ہے۔
آخر کار روز دہم ربیع الثانی اور ایک قول کے مطابق(دوازدہم ربیع الثانی) ۲۰۱ ھ قبل اس کے آپ کی چشم مبارک برادر عزیز کے چہرہ منور کی زیارت کرتی، غریب الوطنی میں بہت زیادہ غم اندوہ دیکھنے کے بعد بند ہوگئیں۔
قم کی سر زمین آپ کے غم میں ماتم کدہ بن گئی۔ قم کے لوگوں نے کافی عزت واحترام کے ساتھ آپ کی تشییع جنازہ باغ بابلان جو کہ اس وقت شہر سے باہر تھا وہاں آپ کی قبر اطہر آمادہ کی گئی۔ اب جو سب سے بڑی مشکل اہل قم کے لئے تھی وہ یہ کہ ایسا کون باکمال شخص ہو سکتا ہے جو آپ کے جسم اطہر کو سپرد لحد کرے ابھی اہل قم اس مشکل کاحل سوچ ہی رہے تھے کہ ناگاہ دوسوار جو نقاب پوش تھے قبلہ کی جانب سے نظر آنے لگے اور بہت بڑی سرعت کے ساتھ وہ مجمع کے قریب آئے نماز پڑھنے کے بعد ان میں سے ایک بزرگوار قبر میں اترے اور دوسرے بزرگوار نے جسم اطہر کو اٹھایا اور اس قبر میں اترے ہوئے بزرگوار کے حوالے کیا تا کہ اس نورانی پیکر کو سپرد خاک کریں۔
یہ دو شخصیتیں جو ابھی کچھ دیر پہلے آئیں تھیں انھوں نے تمام مراسم بنحوِ احسن انجام دیکر اور کسی سے کچھ کہے بغیر واپس روانہ ہوگئیں۔ یہ دو شخصیتیں حجت پروردگار تھیں یعنی امام رضاؑ اور حضرت امام جوادؑ تھے کیونکہ معصومہ کی تجہیز وتکفین ایک معصوم ہی انجام دیتا ہے، تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں مثلاً حضرت زہراءؑ کے جسم اطہرکی تجہیز وتدفین حضرت علیؑ کے ہاتھوں انجام پائی، اسی طرح حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو حضرت عیسٰیؑ نے بنفس نفیس غسل دیا۔
حضرت معصومہؑ کے جسم اطہر
کی تدفین کے بعد موسٰی بن خزرج نے ایک حصیری سائبان آپکی قبر اطہر پر ڈال دیا۔ اس کیبعد حضرت زینب جو امام جوادؑ کی اولاد میں سے تھیں انھوں نے ۲۵۶ھ میں پہلا گنبد اپنی عظیم پھوپھی کی قبر اطہر کے لئے تعمیر کروایا۔
اسی علامت کی وجہ سے اس عظیم خاتون کی تربت پاک محبان اہلبیتؑ کے لئے قبلہ ہوگئی جہاں نماز مودت ادا کرنے کے لئے محبان اہلبیتؑ جوق در جوق آنے لگے۔ عاشقان ولایت وامامت کے لئے یہ بارگاہ دارالشفاء ہوگئی جس میں مضطرب دلوں کو سکون ملنے لگا۔ مشکل کشاء کی بیٹی لوگوں کی بڑی بڑی مشکلوں کی مشکل کشائی کرتی رہیں اور نا امیدوں کے لئے مرکز امید بن گئیں.

بشکریہ الحسنین سائٹ

https://t.me/islamwitheman/2094
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🌸 معصومۂ قُمؑ کی زیارت 🌸

دعا اور زیارت گوشہ تنہائی سے پر کھول کر لقاءاللہ تک عروج کرنے کا نام ہے۔ خالص معنویت کے شفاف چشمے کے آب خوشگوار سے بھرا ہوا شفاف جام ہے اور حضرت معصومہ کے حرم کی زیارت زمانے کی غبار آلود فضا میں امید کی کرن ہے، غفلت اور بے خبری کے بھنور میں غوطہ کھانے والی روح کی فریاد ہے اور بہشت کے بوستانوں سے اٹھی ہوئی فرح بخش نسیم ہے۔

حضرت فاطمہ معصومہؑ کے مرقد منور کی زیارت انسان کو خود اعتمادی کا درس دیتی ہے، ناامیدی کی گرداب میں ڈوبنے سے بچا دیتی ہے اور اس کو مزید ہمت و محنت کی دعوت دیتی ہے۔ کریمہ اہلبیتؑ کے مزار کی زیارت موجب بنتی ہے کہ زائر خود کو خداوند صمد کے سامنے نیازمند اور محتاج پائے، خدا کے سامنے خضوع و خشوع اختیار کرے، غرور و تکبر کی سواری کہ جو تمام بدبختیوں اور شقاوتوں کا موجب ہے، سے نیچے اتر آئے اور حضرت معصومہؑ کو اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ قرار دے۔ اسیوجہ سے آپؑ کی زیارت کے لئے عظیم انعامات کا وعدہ دیا گیا ہے۔

حضرت معصومہؑ کی زیارت کے سلسلے میں آئمہ معصومینؑ سے متعدد احادیث و روایات نقل ہوئی ہیں۔

1ـ قم کے نامور محدث (سعد ابن سعد) کہتے ہیں کہ میں امام رضاؑ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو امام ہشتمؑ نے مجھ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
"اے سعد! ہماری ایک قبر تمہارے ہاں ہے۔ میں نے عرض کیا؛ میری جان آپ پر فدا ہو کیا آپ فاطمہؑ بنت موسٰیؑ بن جعفرؑ کے مزار کی بات کر رہے ہیں؟
فرمایا: "من زارها فله الجنّة۔"
ترجمہ:
"جو شخص ان کی زیارت کرے، اس کے لئے بہشت ہے۔"(1)

2ـ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
"من زارها عارفاً بحقّها فله الجنة۔"
ترجمہ:
"جو کوئی ان کی زیارت کرے اور ان کے حق کی معرفت رکهتا ہو اس پر جنت واجب ہے"۔
اور ایک اور حدیث میں ہے کہ:
"ان کی زیارت بہشت کے ہم پلہ ہے"۔(2)

3۔ نیز فرمایا:
"انّ زيارتها تعدل الجنّة۔"
ترجمہ:
"بتحقیق ان کی زیارت جنت کے برابر ہے۔"

4۔ امام رضاؑ نے فرمایا:
"من زار المعصومة عارفاً بحقّها فله الجنّة۔"
ترجمہ:
"جو شخص از روئے معرفت آپ کی زیارت کرے اس کا انعام جنت ہے۔"(3)

 5۔ نیز فرمایا:
"من زار المعصومة بقم کمن زارنی۔"
ترجمہ:
"جو شخص قم میں حضرت معصومہؑ کی زیارت کرے، گویا اس نے میری زیارت کی ہے۔"

6ـ ابن الرضا امام محمد تقی الجوادؑ نے فرمایا:
"من زار قبر عمّتی بقم فله الجنة۔"
ترجمہ:
"جو شخص قم میں میری پھوپھی کی زیارت کرے بہشت اس پر واجب ہے۔"(4)

7۔ ایک مؤمن امام رضاؑ کی زیارت کے لئے مشہد گیا اور وہاں سے کربلا روانہ ہوا اور ہمدان کے راستے کربلا چلا گیا۔ سفر کے دوران اس نے خواب میں امام رضاؑ کی زیارت کی اور امام رضاؑ نے فرمایا:
"کیا ہوتا اگر تم سفر کے دوران قم سے گذرتے اور میری ہمشیرہ کی زیارت کرتے۔"

8۔ مولی حیدر خوانساری لکهتے ہیں: روایت ہے کہ امام رضاؑ نے فرمایا:
"جو شخص میری زیارت کے لئے نہ آ سکے رے میں میرے بهائی (حمزه) کی زیارت کرے یا قم میں میری ہمشیره معصومہ کی زیارت کرے اس کو میری زیارت کا ثواب ملے گا۔"(5)

🔷 احادیث کی مختصر شرح و تفصیل:
گو کہ یہ ساری احادیث حضرت معصومہؑ کی عظمت کی دلیل ہیں مگر ان روایات میں بعض نکات قابل تشریح ہیں جیسے:
جنت کا واجب ہونا، جنت کے برابر ہونا، بہشت کا مالک ہو جانا، اور ان کی زیارت کا حضرت رضاؑ کی زیارت کے برابر ہونا اور حضرت امام رضاؑ کا اس شیعہ بهائی سے باز خواست کرنا، جس نے حضرت معصومہؑ کی زیارت نہیں کی تهی۔

حضرت معصومہؑ کی زیارت کی سفارش صرف ایک امام نے نہیں فرمائی ہے بلکہ تین اماموں نے ان کی زیارت کی سفارش فرمائی ہے۔ امام صادقؑ، امام رضاؑ و امام جوادؑ۔
اور دلچسپ امر یہ کہ امام صادقؑ نے حضرت معصومهؑ کی ولادت باسعادت سے بہت پہلے بلکہ آپؑ کے والد امام کاظمؑ کی ولادت سے بهی پہلے ان کی زیارت کی سفارش فرمائی ہے۔

دوسرا دلچسپ نکتہ پانچویں روایت میں ہے جس میں حضرت معصومہؑ کی زیارت امام رضاؑ کی زیارت کے ہم پلہ قرار دیا گیا ہے۔

زید شحّام نے امام صادقؑ سے سوال کیا: "یابن رسول الله جس شخص نے آپ میں سے کسی ایک کی زیارت کی اس کی جزا کیا ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا:
"جس نے ہم میں سے کسی ایک کی زیارت کی:
 "کمن زار رسول الله(ص)"
وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے رسول خدا صلی الله و علیہ و آلہ کی زیارت کی ہو"۔

 چنانچہ جس نے سیده معصومہؑ کی زیارت کی در حقیقت اس نے رسول خدا (ص) کی زیارت کی ہے۔

📚 حوالہ جات:
(1) ثواب الأعمال۔ عيون اخبار الرضاؑ۔ عوالم العلوم، ج 21، ص 353 نقل از اسنى المطالب، ص49 تا ص51۔
(2) بحار، ج48، ص308۔
(3) عیون اخبارالرضاؑ
(4) كامل الزيارة۔
(5) زبدة التصانيف، ج6، ص 159۔ بحوالہ كريمہ اہل بيت، ص 3۔

https://t.me/islamwitheman/2095
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 القاب معصومۂ قُمؑ 🌹

🔷 یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ بیبی معصومہ فاطمہؑ کو معصومہ کا لقب کس نے دیا؟

معصومہ کا لقب حضرت امام رضاؑ نے اپنی بہن کو عطا کیا۔ آپؑ اس طرح فرماتے ہیں:
"من زار المعصومۃ بقم کمن زارنی۔"(1)
ترجمہ:
جس نے معصومہؑ کی زیارت قم میں کی وہ اسطرح ہے کہ اس نے میری زیارت کی۔

امام معصوم کی جانب سے حضرت کو یہ لقب ملنا آپ کی شان و منزلت کی بہترین دلیل ہے۔

امام رضاؑ نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ "وہ شخص جو میری زیارت پر نہیں آ سکتا وہ میرے بھائی کی زیارت شہر ری میں اور میری بہن کی زیارت قم میں کرے تو وہ میری زیارت کا ثواب حاصل کر لے گا۔"(2)

🔷 دوسرا لقب جو حضرت معصومہؑ کا ہے وہ ہے کریمہ اہلبیت۔ یہ لقب بھی ایک عظیم المرتبت عالم دین کے خواب کے ذریعے امام معصومؑ کی زبان اقدس سے معلوم ہوا۔

خواب کی تفصیل اسطرح ہے کہ مرحوم آیۃ اللہ سید محمود مرعشی نجفی جو کہ آیۃ اللہ سید شھاب الدین مرعشی کے والد بزرگوار تھے، اس عظیم ہستی کی دلی خواہش تھی کہ حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیھا کی قبر اطہر کا صحیح پتہ مل جائے۔ آپ اس عظیم امر کی خاطر بہت پریشان رہا کرتے تھے۔ لہٰذا آپ نے ایک عمل شروع کر دیا اور چالیس روز تک ختم قرآن کا عمل کرتے رہے، یہانتک کہ وہ دن بھی آ گیا کہ مرحوم نے اپنے اس چالیس روزہ عمل کا اختتام کیا، آپ کافی تھک چکے تھے لہٰذا آپ نیند کی آغوش میں چلے گئے اور کافی دیر تک آپ آرام فرماتے رہے۔ دوران استراحت آپ کی زندگی کی وہ مبارک گھڑی بھی آ پہنچی جس کا انتظار ہر شیعۂ علیؑ کو رہتا ہے یعنی خواب کے عالم میں امام باقرؑ یا امام صادقؑ تشریف لے آئے اور آپ ان کی زیارت سے مشرف ہوئے اس وقت امامؑ نے فرمایا:
"علیک بکریمۃ اہل البیت۔"
ترجمہ:
کریمۂ اہلبیت کے دامن سے متمسک ہو جاؤ۔

مرحوم آیۃ اللہ سید محمود مرعشی نجفیؒ نے سمجھا کہ منظور امامؑ حضرت زہراءؑ ہیں۔ مرحوم نے عرض کیا میں آپ پر فدا ہو جاؤں اے میرے آقا! میں نے یہ ختم قرآن کا عمل اسیوجہ سے کیا ہے کہ حضرت زہراءؑ کی قبر کا دقیق پتہ معلوم ہو جائے تا کہ بہتر طریقے سے ان کی قبر اطہر کی زیارت کر سکوں۔ اس وقت امامؑ نے فرمایا میری مراد حضرت معصومہؑ کی قبر شریف ہے جو کہ قم میں ہے۔ پھر امامؑ نے فرمایا: خدا نے کسی مصلحت کی بنیاد پر جناب زہراءؑ کی قبر شریف کو مخفی رکھا ہے اور اسیوجہ سے حضرت معصومہؑ کی قبر اطہر کو تجلی گاہ قبر حضرت زہراءؑ قرار دیا ہے۔

اگر حضرت زہراءؑ کی قبر مبارک ظاہر ہوتی تو اس پر جس قدر نورانیت و جلالت دیکھنے کو ملتی اتنی ہی نورانیت و جلالت خداوند کریم نے حضرت معصومہؑ کی قبر شریف کو عطا کی ہے۔

مرحوم مرعشی نجفی جیسے ہی خواب سے بیدار ہوئے آپ نے مصمم ارادہ کر لیا کہ جلد از جلد بارگاہ معصومہؑ میں حاضری دیں گے اپنے اس ارادہ کی تکمیل کی خاطر آپ نے سامان سفر باندھا اور زیارت حضرت معصومہؑ کی خاطر نجف اشرف کو ترک کر کے ایران کے شہر مقدس قم میں آ گئے۔(3)

📚 حوالہ جات:
(1)ناسخ التواریخ، ج3، ص 68۔
(2)زبدۃ التصانیف، ج6، ص159۔
(3)کریمہ اہلبیت، ص43۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2100
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔

🌼 حضرت معصومۂ قمؑ
https://t.me/islamwitheman/2095

🌸 معصومۂ قمؑ کی زیارت
https://t.me/islamwitheman/2099

🌹 القاب معصومۂ قمؑ
https://t.me/islamwitheman/2101

🔷 حضرت فاطمہ معصومۂ قمؑ
https://plus.google.com/103115759710371138609/posts/ggxTn2HErqy

🔷 معرفت جناب فاطمہ معصومہؑ
https://plus.google.com/103115759710371138609/posts/CyHWtGEZ3Ui
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌷 بدھ (WEDNESDAY) 🌷

■ اذکار
1۔ یاحی یاقیوم 100 مرتبہ۔
2۔ یامتعال 541 مرتبہ۔
3۔ حسبی الله و نعم الوكيل 1000 مرتبہ۔

■ دعا
بدھ کے دن کی دعا پڑھی جائے۔ دعا پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2078

■ زیارت
بدھ امام موسی کاظم علیہ السلام، امام علی رضا علیہ السلام، امام محمد تقی علیہ السلام اورامام علی نقی علیہ السلام سے منسوب ہے اسلئے ان حضرات کی زیارت پڑھی جائے۔ زیارت پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2079

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔

⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 *شیعوں کی پہچان*🌹

1⃣ *تشیع عمل کا نام ہے*
ابو اسماعیل ؒ نے ایک دفعہ مولا امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا:
میں آپ علیہ السلام پر قربان جاٶں!
ہمارے شیعوں کی تعداد کافی زیادہ ہو گٸی ہے۔
یہ سن کر امام علیہ السلام نے فرمایا:

کیا انکے امیر غریبوں پر مہربانی کرتے ہیں؟
کیا وہ غلطی کرنیوالوں پر احسان کر کے انہيں معاف کر دیتے ہیں؟
اور
کیا وہ تعزیت کیلٸے ایک دوسرے کے پاس جاتے ہیں؟

ابو اسماعیل ؒ نے کہا: نہیں۔
تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
پھر یہ لوگ ہمارے شیعہ نہیں ہیں۔
کیونکہ
*تشیع اسلامی تعلیمات پر مکمل عمل کا نام ہے*

2⃣ *اہلبیت علیہ السلام کی محبت کادعوی*
مولا امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
اہلبیت علیہ السلام کی محبت دل میں رکھنے کا دعوی ہی نجات کیلٸے کافی نہیں ہے۔
بلکہ یہ ایک ایسا راستہ ہے،
جس پر چلنے والے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں،
تمام اسلامی احکام کی پابندی کرتے ہیں۔

3⃣ *اہلبیت علیہ السلام کا امر*
مولا امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا:
ہمارے چاہنے والوں سے ملو،
انہيں ہمارا سلام پہنچاٶ اور انہيں اللہ تعالی کا تقوی اختيار کرنیکی نصیحت کرو اور ان سے کہو کہ:
انکے دولت مند اپنے نادار بھاٸیوں کی مدد کریں،
طاقتور کمزوروں کیساتھ نرمی سے پیش آٸیں،
زندہ لوگ مردوں کے جنازوں میں شرکت کریں،
ایک دوسرے سے انکے گھروں میں جا کر ملاقات کریں کیونکہ جب یہ ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں تو ہمارا امر زندہ ہوتا ہے اور اللہ تعالی اس بندے پر رحم فرمائے جو ہمارے امر کو زندہ رکھتا ہے۔
اور
اہلبیت علیہ السلام کا امر دینِ اسلام،
اللہ تعالی و رسولﷺ،
اللہ تعالی کے اولیا اور قرآن کے راستے پر چلنے سے عبارت ہے۔

4⃣ *ولایت سے کیا مراد ہے*
مولا امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
ہم شیعوں کو نیک اعمال کے بغیر اللہ تعالی کے عذاب سے بچنے کی ہرگز ضمانت نہیں دے سکتے اور تقوی کے بغیر ہماری ولایت ان تک نہیں پہنچ سکتی۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا:
ولایت سے مراد صرف زبانی اظہار محبت نہیں بلکہ یہ اللہ تعالی اور اسکے رسول ﷺ کے حکم پر پوری طرح چلنے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا نام ہے اور قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ افسردہ خاطر وہ شخص ہو گا جو حق کو پہچاننے کے باوجود اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔

5⃣ *غالی اور تالی*
مولا امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
اے شیعانِ آلِ محمد علیہ السلام!
میانہ روی اختيار کرو،
نہ شیخی خورے بنو اور نہ زیادہ شکی مزاج بنو۔
اس لیے کہ بالأخر غالی تمہاری طرف پلٹیں گے اور تالی بھی تم سے آملیں گے۔
سعد صحابی نے پوچھا:
اے فرزندِ رسولﷺ ! *یہ غالی کون ہیں؟*
امام علیہ السلام نے فرمایا:
غالی وہ لوگ ہیں جو ہمارے متعلق ایسی باتیں کریں جو ہم نے اپنے بارے میں نہیں کہی ہیں۔
غالیوں کا نہ ہم سے کوٸی تعلق ہے اور نہ ہمارا ان سے کوٸی تعلق ہے۔
سعد نے پھر پوچھا: *تالی کون ہیں؟*
امام علیہ السلام نے فرمایا:
وہ شکی مزاج لوگ ہیں جو بھلاٸی کی تلاش میں ہوتے ہیں تاکہ ان پر انہيں ثواب ملے۔

6⃣ *خدارا دھوکے میں مت رہو*
مولا امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
اللہ تعالی کی قسم!
اللہ تعالی کی طرف سے ہمیں نجات کا پروانہ نہیں ملا۔
اللہ تعالی نے اطاعت کے بغیر کسی کو عذاب سے نجات کا پروانہ نہیں دیا ہے بلکہ اللہ تعالی نے سب کو عمل کا حکم دیا ہے۔
اور اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺ کو یہ اعلان کرنیکا پابند کیا ہے کہ:

*قُلْ اِنِّىْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ*

( یہ بھی) کہدیجیے: اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تومجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔

پھر فرمایا:
نہ تو ہماری اللہ تعالی سے کسی قسم کی رشتے داری ہے اور نہ ہی اللہ تعالی پر ہماری کوٸی حجت ہے ہمارا اللہ تعالی سے قرب صرف اطاعت اور فرمانبرداری کی وجہ سے ہے۔
پس تم میں سے جو اللہ تعالی کی اطاعت کرنیوالا ہے اسے ہماری دوستی اور ولایت فاٸدہ دیگی۔
جو اللہ تعالی کا نافرمان ہے اسے ہماری ولایت کوٸی فائدہ نہیں دیگی۔
خدارا دھوکا مت کھاٶ۔
خدارا دھوکے میں مت رہو۔

بحوالہ۔
بحارالانوار۔جلد ٨٥
وسائل الشیعہ۔ جلد٩
الکافی۔ جلد٢

انتخاب و ترتیب: [بی۔اے نقوی]

https://t.me/islamwitheman/2052
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌻 جمعرات (THURSDAY) 🌻

■ اذکار
1۔ لا اله الا الله الملک الحق المبین 100 مرتبہ۔
2۔ یا رزاق 308 مرتبہ۔
3۔ یاغفور یارحیم 1000 مرتبہ۔

■ دعا
جمعرات کے دن کی دعا پڑھی جائے۔ دعا پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2081

■ زیارت
یہ دن امام حسن عسکری علیہ السلام سے منسوب ہے اسلئے ان کی زیارت پڑھی جائے۔ زیارت پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2082

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔

⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
📚 طالبعلم و تعليم کے آداب 📚

جاننا چاہیے کہ تعليم و طالبعلم کیلٸے کٸی شرائط و آداب ہیں۔ یہاں چند ضروری پوائنٹس پیش کرنیکی سعادت حاصل کرونگا۔

■ آدابِ طالبعلم
آداب طالبعلم میں چند چیزیں ضروری ہیں:

● پہلی یہ کہ
طالبعلم پیروی شہواتِ نفسانیہ اور خواہش جسمانیہ اور موافقتِ اہلِ دنیا اور صاحبانِ ہوا و ہوس سے پرہیز کرے۔

● دوسری یہ کہ
طالبعلم کی غرض صرف یہ ہو کہ انسان تقربِ خداوندی حاصل کرے اس کا مقصود خودنماٸی و جدال یا حصولِ منصب و مال و افتخار نہ ہو۔ مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
طالب علموں کی تین قسمیں ہیں:

1۔ پہلی قسم کے لوگ دوسروں کو خفیف و تکالیف کے واسطے علم حاصل کرتے ہیں۔
انکی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے برابر والوں سے جھگڑتے ہیں۔ اپنی شہرت و نام وری کیلٸے مجلسوں میں ذکرِ علم اور خضوع و خشوع کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا دل پرہيز گاری سے اور ان کا باطن تقوی سے خالی ہے۔
اللہ تعالی ان کو ذلیل و خوار کرتا ہے خاک پر انکی ناک رگڑواتا ہے ان کو ضائع و ہلاک کرتا ہے۔

2۔ دوسری قسم کے لوگ فخر و مکر کرنے کیلٸے علم حاصل کرتے ہیں۔
انکی علامت یہ ہے کہ وہ صاحبِ مکروحیلہ ہوتے ہیں۔ اپنے برابر والوں سے تکبر کرتے ہیں۔
ایسے لوگوں کے نام اللہ تعالی دفترِ علما سے مٹاتا ہے۔

3۔ تیسری وہ قسم ہے کہ دین میں بصیرت حاصل کرنے اور تکمیلِ عقل اور تحصیل یقین کے واسطہ علم حاصل کرتے ہیں۔
انکی علامت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ محزون و غمگین رہتے ہیں اور شب بیداری کو اپنا شعار بنا کر جامہ عبادت پہن کر اندھیری راتوں میں اللہ تعالی کی پوشیدہ عبادت کرتے ہیں۔
وہ اللہ تعالی کو پکارتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ انکی شنواٸی ہوتی ہے یا نہیں اور ہمیشہ اپنے نفس کی اصلاح میں متوجہ رہتے ہیں۔
اللہ تعالی ان کو امان و آساٸش روز قیامت عطا کرتا ہے۔

● تیسری یہ کہ
جو کچھ سمجھا اور معلوم کیا اس پر عمل کرے۔ جو شخص اپنے علم پر عمل نہ کرے تو وہ جو کچھ جانتا ہے بھول جاتا ہے اور جس نے اپنے علم پر عمل کیا تو اس علم سے جسکو وہ نہیں جانتا ہے اللہ تعالی اس کو کرامت فرماتا ہے۔

🌸 پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں:
جس عالم نے اپنے علم پر عمل نہ کیا ہو اسکی بُو سے اہل دوزخ تکليف اٹھاتے ہیں۔

🌸 آپ ﷺ فرماتے ہیں:
سب سے زیادہ حسرت و پیشمانی اس شخص کی بڑھی ہوٸی ہے جس نے دوسرے کو اللہ تعالی کی طرف دعوت دی اس نے اسکی دعوت کو قبول کیا اور جنت میں داخل ہو گیا مگر خود اپنے علم پر عمل نہ کرنیکی وجہ سے مستحقِ جہنم ہوا۔

● چوتھی یہ کہ
اپنے استاد کے حقوق کو پہچانے،
اس کا ادب کرے،
اسکی کوٸی بات رد نہ کرے،
اس کو دل سے دوست رکھے،
اگر اسکی بدی مذکور ہو تو رد کرے اگر رد نہیں کر سکتا تو وہاں سے اٹھ جاٸے،
اسکے حقوق کو فراموش نہ کرے کیونکہ وہ روحانی باپ ہے،
اسکے حقوق اصل باپ سے زیادہ ہیں،
ایسا ہی دوسرے علما کا ادب اور احترام کرے۔

● پانچویں یہ کہ
اپنے نفس کو اخلاق رذیلہ و اوصافِ زمیمہ سے پاک کرے کیونکہ جب تک کہ لوحِ نفس نقوشِ باطلہ سے پاک نہ ہو نورِ علوم اس پر نہیں چمکتا۔

■ آدابِ تعليم
اسی طرح آدابِ تعليم میں بھی چند امور ہیں:

● پہلا یہ ہے کہ
استاد تعليم میں خوشنودی خدا کا قصد رکھتا ہو۔ اسکی غرض درس دینے میں حصولِ مرتبہ بزرگی و شہرت و خودنماٸی نہ ہو۔
دوسروں کے مال کی طمع نہ رکھتا ہو بلکہ سواٸے ثواب کے کوٸی چیز اس کو منظور نہ ہو۔

● دوسرا یہ کہ
شاگرد پر استاد مہربان ہو،
اس کو نصیحت مثل دوستوں کے کرے،
سبق دینے میں بقدر بقدر اسکی سمجھ کے اکتفا کرے،
نرمی و کشادہ روی سے بات کرے اور سختی سے پیش نہ آٸے۔

● تیسرا یہ کہ
جب کسی کو علم کے لاٸق جانے تو اس سے مضاٸقہ نہ کرے،
سبق دینے میں بدگمانی و بخل سے کام نہ لے اور جب کسی کو کسی مطلب کے قابل نہ جانے تو اس سے وہ مطلب بیان نہ کرے۔

● چوتھا یہ ہے کہ
خلافِ واقعہ مطلب طالبعلم سے بیان نہ کرے،
بلکہ جس مطلب کو نہیں جانتا یا خود کسی مسلہ میں شبہ رکھتا ہے تو ایسے مقام پر سکوت کرے اور ٹھہر جاٸے یہاں تک جواب صحیح حاصل ہو یہ جوابِ صحیح طالبعلم کے سامنے بیان کرے۔
تعليم میں یہی شرط اہم ہے۔
کیونکہ اگر شاگرد کے ذہن میں خلاف واقعہ امور نقش کر دیے جاٸیں تو پھر اسے عادت پڑ جاتی ہے اور پھر وہ علم سے محروم رہ جاتا ہے۔

🔘 قارئين محترم
افسوس اس زمانہ میں آدابِ تعليم و طالبعلم نابود ہیں۔ استاد اور شاگرد دونوں شرائط سے واقف نہیں ہیں۔ اسی نااہلی سے زمانہ خراب ہو رہا ہے۔ نہ استاد کی نیت خالص ہے ، نہ شاگرد کی۔ یہی وجہ ہے کہ ہزار میں سے ایک کو بھی مرتبہ کمال حاصل نہیں ہوتا۔

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

✍ سید سجاد حسین ہمدانی

📚 عروج السعادة۔

https://t.me/islamwitheman/1274
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💐جمعةالمبارک (FRIDAY)💐

■ اذکار
1۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ 100 مرتبہ۔
2۔ یانور 256 مرتبہ۔
3۔ یاذاالجلال والاکرام 1000 مرتبہ۔

■ دعا
جمعہ کے دن کی دعا پڑھی جائے۔ آپ یہ لنک اوپن کر کے دعا پڑھ سکتے ہیں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2062

■ زیارت
جمعہ کا روزحضرت ولی عصر عجل الله تعالٰی فرجه الشریف سے منسوب ہے۔ اس لئے امام العصر کی زیارت پڑھی جائے۔ زیارت پڑھنے کے لئے درج ذیل لنک اوپن کریں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2063

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 جمعةالمبارک کے متعلق مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے مطلوبہ لنک کو کلک کریں۔۔۔

🔵 غسلِ جُمعہ کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/367

🔵 پہلی نمازِ جُمعہ
https://t.me/islamwitheman/368

📄 جُمعةُ الوداع کی دُعا
http://t.me/islamwitheman/1060

🌺 روزِ جُمعہ کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1112

🌹 فضاٸل جُمُعَة المبارک
https://t.me/islamwitheman/1974

🌹 فضیلت جمعہ و نماز حاجت
https://t.me/islamwitheman/1987

🌹 فضیلتِ جُمُعہ اور سورۂ ھود
https://t.me/islamwitheman/1998

🌹 فضیلتِ جُمُعہ اور سورۂ صافات
https://t.me/islamwitheman/2027

🌹 احادیث فضیلتِ نماز جُمُعہ
https://t.me/islamwitheman/2036

🌹 فضیلتِ جُمُعہ اور چار رکعت نماز
https://t.me/islamwitheman/2064

🌹 فضیلتِ جُمُعہ اور سورةالقدر
https://t.me/islamwitheman/2084

🌹 جمعہ کے دن کی دعا
https://t.me/islamwitheman/2062

🌹 جمعہ کے دن کی زیارت
https://t.me/islamwitheman/2063

🌹 فضیلت جمعہ اور عمل اولاد
https://t.me/islamwitheman/2107
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 فضیلت جمعہ اور عمل اولاد 🌹

1⃣ آتشِ جہنم حرام ہے
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
جو قدم نماز جمعہ کی طرف چل کر جاٸیگا اس پر آتشِ جہنم حرام ہے۔

2⃣ متواتر 3 جمعہ نہ پڑھنا
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
جو شخص بغیر عذر شرعی کے متواتر تین جمعے چھوڑ دے اسکے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ اس کو منافق سے تعبیر کیا گیا ہے۔

3⃣ کوٸی نیکی قبول نہیں ہو گی
حضرت محمد مصطفٰیؐ فرماتے ہیں:
جو شخص نماز جمعہ کو میری موجودگی میں یا میری وفات کیبعد ترک کرے اس کو معمولی سمجھ کر یا اس کا انکار کرتے ہوٸے،
تو اللہ تعالٰی ایسے لوگوں کو اتفاق کی دولت سے محروم کریگا اور ان سے برکت کو چھین لے گا،
ایسے لوگوں کی نہ نماز ہے،
نہ روزہ ہے،
نہ حج ہے اور نہ زکٰوۃ حتی کہ اسکی کوٸی نیکی قبول نہیں جب تک توبہ نہ کرے۔

4⃣ عمدہ عملوں میں سے عمل
یہ نادر و نایاب عمل جمعةالمبارک کے دن سے شروع کریں۔
اسکے فوائد خاکسار یہاں بیان کرنے سے قاصر ہے۔
پس ان شاء اللہ جو جو مساٸل و مقاصد دینی و دنیاوی ہیں وہ حل ہوتے چلے جاٸینگے۔
عمل یہ ہے:
🌺 جمعہ کا دن
8 رکعت نماز پڑھیں۔
4 رکعت نماز کو حضرت رسول اکرمؐ کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔
اور
4 رکعت نماز کو جناب السیدہ فاطمة الزھراءؑ کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔

🌺 ہفتہ کا دن
4 رکعت نماز پڑھیں۔
اس کو حضرت امام علیؑ کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔

🌺 اتوار کا دن
4 رکعت نماز پڑھیں۔
اس نماز کو کریمِ اہلبیت امام حسن مجتبٰیؑ کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔

🌺 سوموار کا دن
4 رکعت نماز پڑھیں۔
یہ نماز سیدالشہداء امام حسینؑ کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔

🌺 منگل کا دن
4 رکعت نماز پڑھیں۔
اس نماز کو بیمارِ کربلا امام سیدالساجدینؑ کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔

🌺 بدھ کا دن
4 رکعت نماز پڑھیں۔
اس نماز کو امام محمد باقرؑ کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔

🌺 جمعرات کا دن
4 رکعت نماز پڑھیں۔
یہ نماز امام جعفر صادقؑ کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔

اگلے روز جمعہ کے دوبارہ یہ عمل بجا لاٸیں اسطرح سے کہ:

🌺 جمعہ کا دن
8 رکعت نماز پڑھیں۔
4 رکعت نماز کو حضرت رسول اکرمؐ کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔
اور
4 رکعت نماز کو حضرت فاطمة الزھراءؑ کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔

🌺 ہفتہ کا دن
4 رکعت نماز پڑھیں۔
اس کو امام موسٰی کاظمؑ کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔

🌺 اتوار کا دن
4 رکعت نماز پڑھیں۔
اس نماز کو امام علی رضاؑ کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔

🌺 سوموار کا دن
4 رکعت نماز پڑھیں۔
یہ نماز امام محمد تقیؑ کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔

🌺 منگل کا دن
4 رکعت نماز پڑھیں۔
اس نماز کو امام علی نقیؑ کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔

🌺 بدھ کا دن
4 رکعت نماز پڑھیں۔
اس نماز کو امام حسن عسکریؑ کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔
اور
🌺 جمعرات کا دن
4 رکعت نماز پڑھیں۔
یہ نماز مولا امام زمان عجل اللہ تعالٰی فرجہٗ الشریف کی خدمتِ اقدس میں ہدیہ کریں۔

🔷 نوٹ
🌺 ان نمازوں کو بعد نماز فجر سے زوال تک پڑھنے کی فضیلت ہے۔

🌺 یہ نمازیں مثل نماز فجر کی طرح پڑھنی ہیں۔

🌺 تمام نمازیں دو دو رکعت کر کے پڑھنی ہیں۔

🌺 بہتر ہے ہر دو رکعت کے بعد تسبیح جناب السیدہؑ پڑھیں اور دعا مانگیں۔

5⃣ اولاد کیلٸے ایک نایاب عمل
جس کسی عورت کے اولاد نہیں ہو رہی ہو اور وہ مایوس ہو چکی ہو تو اس عمل کے کرنے سے مالکِ ارض و سما ان شاء اللہ اولاد کی نعمت سے سرفراز فرماٸیگا۔
عالمین کے سب سے بڑے حکیم کے حضور پیش ہوں۔ کیونکہ سب بڑا مدد کرنے والا اللہ تعالٰی ہی کی ذات مقدس ہے۔
جب عورت ایامِ حیض سے پاک ہو جاٸے اور غسل کر لے۔ اگر جمعہ کا دن ہے تو بہت ہی اچھا ہے اور اگر جمعرات کا دن ہے تو پھر روزِ جمعہ کا انتظار کرے اور پھر غسلِ جمعہ بجا لاٸے اور نماز ظہر و عصر کے درميان یہ عمل کرے۔

40 عدد لونگ لے۔
ہر ایک لونگ پر سات سات مرتبہ سورةالنور کی آیت مبارکہ 40 پڑھے۔ وہ یہ ہے:

"اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَّغْشٰـىہُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ سَحَابٌ. ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ. اِذَآ اَخْرَجَ يَدَہٗ لَمْ يَكَدْ يَرٰىہَا. وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللہُ لَہٗ نُوْرًا فَمَا لَہٗ مِنْ نُّوْرٍ۔"

اسی رات سے سونے سے پہلے ایک عدد لونگ کھا لے اور ہر روز ایک کھائے۔
دن میں ایک دو بار جب شوہر کے پاس اٹھے بیٹھے تو اس آیت مبارکہ کی تلاوت کرے۔
اس عمل کا چرچا کسی سے نہ کرے۔
اگر ممکن ہو تو ہر وقت باوضو رہے۔ نماز کی پابندی کرے۔
نماز فجر کے بعد روز سورةالنور کی تلاوت کرے۔
ان شاء اللہ اولاد ہو گی۔

📚 بحوالہ۔
انوار النجف۔ ١٤
نجم الثاقب۔
قرآن کلِ شفا۔ جلد٤

انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]

https://t.me/islamwitheman/2084
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Forwarded from ISLAM WITH EMAN
🌺 ہفتہ (SATURDAY) 🌺

■ اذکار
1۔ یَارَبَّ الْعَالمَِیْن 100 مرتبہ۔
2۔ یَاغَنِیُّ 1060 مرتبہ۔
3۔ یاحی یاقیوم 1000 مرتبہ۔

■ دعا
ہفتہ کے دن کی دعا پڑھی جائے۔
https://t.me/islamwitheman/2065

■ زیارت
ہفتہ کا دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب دن ہے۔ اس لئے ان کی زیارت پڑھی جائے۔
https://t.me/islamwitheman/2066

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔

⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Forwarded from ISLAM WITH EMAN
🌹 اتوار (SUNDAY) 🌹

■ اذکار
1۔ یا ذالجلال والاکرام 100 مرتبہ
2۔ یا فتاح 489 مرتبہ
3۔ ایاک نعبد وایاک نستعین 1000 مرتبہ

■ دعا
اتوار کے دن کی دعا پڑھی جائے۔ دعا پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2069

■ زیارت
اتوار کا دن حضرت امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمةالزھراء سلام اللہ علیہا سے منسوب ہے۔ اس لئے ان حضرات کی زیارت پڑھی جائے۔ زیارت پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/2070

اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم۔

⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕