ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌹 سر زمینِ کربلا 1 🌹

ایک دفعہ زمینِ کعبہ نے اپنی برتری پر ناز کیا کہ مجھ جیسا کون ہے میں کعبہ کا مسکن ہوں تو فوراً وحی الہی ہوٸی:
خاموش! اے کعبہ کی زمین۔
کربلا کی زمین کے مقابلہ میں تیری فضیلت کو وہ نسبت ہے جو پانی کے ایک قطرہ کو سمندر سے ہوا کرتی ہے۔ بقسم اگر میں اس زمین کربلا اور اسکے ساکن کو خلق نہ کرتا تو تجھے پیدا نہ کرتا اور نہ تیرا کعبہ پیدا ہوتا۔

1⃣ وقارِ کعبہ کس کام کا؟
صرف کعبہ کو جھکنے والے اور اہلبیت علیہم السلام کو پسِ پشت ڈالنے والے چونکہ صرف کعبہ پر ہی ناز کرتے ہیں اور اپنی بخشش کا انحصار صرف اسی میں سمجھتے ہیں تو انکی تنبیہ کیلٸے ارشاد ہے:
بےشک کعبہ اور زمینِ کعبہ اپنی جگہ شرف و فضل کے حامل ہیں لیکن اگر کربلا والوں کی سرفروشی نہ ہوتی اور انکے ناحق خون سے اسلام کی حفاظتی حصار کی تعمیر نہ ہوتی تو پورے اسلام کو یزیدی طاغوتی حملوں نے نیست و نابود کر دیا ہوتا اور جب اسلام ہی ختم ہو جاتا تو کعبہ کا وقار کس کام کا؟
کعبہ اپنے مقام پر محترم ہے لیکن کسی محترم کے خالی وجود کو کیا کیا جاٸے جب احترام کرنیوالا ہی دنیا میں موجود نہ ہو؟

2⃣ امام حسینؑ مرکزِ ہدایت
اے کعبہ کا احترام کرنیوالو پہلے اس دروازہ پر پہنچو جس نے کعبہ کا احترام بچایا ہے اور تمہیں احترام کرنے والا سکھایا ہے اور زمینِ کعبہ اگر ناز کرے کہ میں محترم ہوں تو اس ناز سے پہلے اس کو زمینِ کربلا کے سامنے سرنگوں ہو کر نیازمندی کا اظہار کرنا پڑے گا۔
بے شک زمینِ کعبہ تمام زمینوں پر سرِافتخار بلند کر سکتی ہے لیکن زمینِ کربلا کے سامنے اس کا سر نیازِخم ہی رہے گا۔
پس زمینِ کربلا کی افضلیت اس لحاظ سے ہے کہ اس کا ساکن محسنِ اسلام ہے اور حجِ بیت اللہ اسلام کا ایک فرعی حکم ہے گویا بیت اللہ صرف حاجیوں کا محورِالتفات ہے اور امام حسینؑ تمام اہلِ اسلام کیلٸے مرکزِ ہدایت ہیں۔

3⃣ دونوں افضل ہیں
پس مقامِ عمل میں کوٸی زمین کعبہ کی زمین سے افضل نہیں ہو سکتی اور مقامِ ہدایت و رشد میں کوٸی زمین کربلا کی زمین سے زیادہ درس آموز نہیں ہو سکتی۔
لہذا دونوں اپنے اپنے مقام پر افضل ہیں۔

4⃣ دونوں جدا نہیں ہیں
دونوں زمینوں کی افضلیت کی حیثیتیں جدا جدا ہیں اور فرعی فضیلت قطعاً اصلی فضیلت کا مقابلہ نہیں کر سکتی تاہم یہ دونوں معنوی طورپر ایک دوسرے سے جدا نہیں۔

5⃣ کعبہ و کربلا کے متوالے
لہذا جو کعبہ کا متوالا ہو اور کربلا والوں کو نظرانداز کر کے زمینِ کربلا کو حقیر سمجھے اس کیلٸے کعبہ جانے کا کوٸی فاٸدہ نہیں اور جو شخص کربلا والوں کی محبت کا دم بھرتا ہو اور زمینِ کربلا کا زاٸر ہو لیکن کعبہ جانیکی استطاعت رکھنے کے باوجود اس کو ترک کرے تو اس کا کربلا والوں سے محبت کا دعوٰی کرنا محض زبانی و بےبنیاد ہے۔ کیونکہ امام حسینؑ نے خود جامِ شہادت نوش فرما کر شعاٸر اسلامیہ کو زندہ کیا تھا تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ ایک شخص حسینی کہلوا کر شعاٸر اسلامیہ کو قاٸم کرنے سے گریز کرتا ہو۔
امامت اصل ہے اور حج فرع ہے۔
پس جس طرح حج کا فعل بغیر اقرار امامت کے نادرست ہے اسی طرح اقرار امامت بغیر افعال فرعیہ کے اقرار زبانی اور لقلقہ لسانی ہے۔ کیونکہ اصول اور فروع دونوں ایک دوسرے کے بغیر فاٸدہ مند نہیں ہوا کرتے۔

6⃣ ایک سوال کا جواب
کہ اس توجیہ کے اعتبار سے تو پھر مدینہ منورہ کی زمین کو سب سے افضل کہنا چاہیے؟

*جواب*
اس میں شک نہیں کہ مخصوص زمانہ تک مدینہ منورہ ہدایت انسانی کا سرچشمہ رہا اور اسی لحاظ سے اطراف عالم کیلٸے ہجرت گاہ بھی رہا حتی کہ اہلِ مکہ کیلٸے بھی وہاں سے ہجرت کر کے مدینہ کو چلے جانیکا حکم تھا اور یہ زمین مدینہ کی فضیلت کیلٸے کافی ہے۔

7⃣ شرعی حدودکی پامالی
جناب ختمی مرتبت محمدؐ کے بعد جب اسلامی شرعی حدود کی پامالی کیلٸے اموی بادشاہوں نے اپنی اندھادھند پیش قدمی سے عالم اسلام کو مرعوب کرتے ہوٸے ظلم و استبداد کے اوچھے حربوں سے کام لینا چاہا تو سواٸے امام حسین علیہ السلام کے اور کون تھا جس نے ببانگِ دہل بےپناہ قوتِ ایمانی کے ساتھ اس قسم کی پیش قدمیوں کے خلاف نعرہ حق بلند فرمایا اور جان، مال اور ناموس کی ہر ممکن قربانی سے دریغ نہ کرتے ہوٸے اسلامی تعلیمات کیلٸے سینہ سپر بنا۔

8⃣ اگر امام حسینؑ نہ ہوتے
اور سچ ہے کہ
اگر امام حسین علیہ السلام نہ ہوتے تو اسلام کا لہراتا ہوا سرسبز و شاداب باغ اموی دورِخزاں سے صحیح و سالم ہرگز نہ بچ سکتا۔
اگر امام حسینؑ کی قربانی نہ ہوتی تو یقیناً شمعِ اسلام کی حیثیت ایک چراغِ سحری کی رہ گٸی تھی۔
اگر امام حسینؑ کا عزم و استقلال اور ثباتِ قدم ایک مضبوط چٹان بن کر سامنے نہ آتا تو دمشق کی طرف سے اٹھا ہوا ظلم و جور کا بےپناہ طوفان خرمنِ اسلام کو بہا کر لے گیا ہوتا۔

👈 بقیہ سر زمین کربلا 2 میں ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔

https://t.me/islamwitheman/1969
https://plus.google.com/103115759710371138609/posts/gcj3oiiAQpG
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 سر زمین کربلا 2🌹

9⃣ فتحِ مبین کا سہرا
پس امام حسینؑ نے اپنے آہنی ارادوں سے یزیدی منصوبوں کی قلعی کھول کر رکھ دی جس طرح امام حسینؑ کے اس مبارک و مضبوط اقدام نے کعبہ کی لاج رکھی،
اسیطرح امام حسینؑ کی عظیم الشان قربانیوں نے مدینہ کی حرمت اور صاحبِ مدینہ کی 23 سالہ محنت کو بقاودوام کی خلعت بھی بخش دی اور اسلام کی اس فتحِ مبین کا سہرا زمینِ کربلا ہی کے سر پر ہے۔
لہذا یہ زمین
زمینِ کربلا تاقیامِ قیامت مرجع ہدایتِ مخلوق ہے اور یہی چیز اسکے شرفِ پاٸیدار کا بلند مینار ہے۔

🔟 زمینِ کربلا کی خلقت
استادالعلما علامہ الشیخ جعفر شوستری اعلی اللہ مقامہ نے زمینِ کربلا کی خصوصيات بہت کچھ ذکر فرماٸی ہیں ان میں بعض کا ذکر کیا جاٸیگا۔
اللہ تعالی نے کعبہ کی خلقت سے 24 ہزار سال پہلے زمینِ کربلا کو خلق کیا۔
قرآن مجید میں کعبہ کے روٸے زمین پر پہلی عبادت گاہ بناٸے جانے کا اعلان کیا گیا ہے کیونکہ یہودیوں نے تحویلِ قبلہ کے بعد مسلمانوں پر یہ اعتراض شروع کر دیا تھا کہ بیت المقدس روٸے زمین پر پہلی عبادت گاہ ہے حتی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قبلہ بھی یہی تھا تو اللہ تعالٰی نے انکی رد میں ارشاد فرمایا:
کہ وہ غلط کہتے ہیں اور صحیح یہ ہے کہ لوگوں کیلٸے زمین پر پہلی جاٸے عبادت جس خطہ ارضیہ کو قرار دیا گیا وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے یعنی خانہ کعبہ۔
پس قرآن پاک میں کعبہ کی خلقت کا کوٸی تذکرہ نہیں بلکہ صرف اسکے قبلہ ہونے کی سبقت کا اعلان ہے۔

1⃣1⃣ جنت کے خطوں سے افضل
جب قیامت کا وقت آٸے گا تو زمینِ کربلا کو اٹھا لیا جاٸے گا اور یہ خطہ جنت کے تمام خطوں سے افضل ہو گا اور جنت کے ریاض میں یہ زمین اسطرح چمکے گی جس طرح کوکب دری دوسرے ستاروں سے نمایاں طور پر اپنی چمک دمک کو ظاہر کرتا ہے حتی کہ اسکی چمک سے تمام اہلِ جنت کی آنکھیں خیرگی محسوس کریں گی اور اسکی آواز آٸیگی کہ میں وہ پاک زمین ہوں جسے شہیدوں کے مدفن و مسکن ہونیکا شرف حاصل ہوا ہے۔

2⃣1⃣ خاکِ کربلا کی فضیلت
🌺 خاکِ شفا کی تسبیح سے استغفار کرنا 70 گنا زیادتی ثواب کا موجب ہے۔
🌺 خاکِ کربلا یعنی خاکِ شفا کی تسبیح کا ہاتھ میں رکھنا بھی تسبیح پڑھنے کے ثواب کے برابر ہے۔
🌺 خاکِ شفا پر سجدہ کرنے سے مقبولیت عبادت کے 7 حجاب دور ہو جاتے ہیں اور عبادت مقبول ہو جاتی ہے۔
🌺 مٹی کا کھانا حرام ہے لیکن خاکِ شفا کا شفایابی کی نیت سے کھانا جاٸز ہے۔
🌺 خاکِ شفا کا پاس رکھنا ہر قسم کے خطرات سے بچنے کا حرز اور تعویز ہے بشرطیکہ اسی نیت سے اپنے پاس رکھیں۔
🌺 اگر سامانِ تجارت میں خاکِ شفا کو رکھا جاٸے تو تجارت میں برکت نصیب ہو گی۔
🌺 نوزاٸیدہ بچے کے حلق میں خاکِ شفا ڈالنا اسکی امان و سلامتی کا موجب ہے۔
🌺 میت کے ساتھ قبر میں خاکِ شفا کا رکھنا عذابِ قبر سے امان کا موجب ہے۔
🌺 میت کے حنوط کے ساتھ خاکِ شفا کی ملاوٹ مستحب ہے۔
🌺 زمین کربلا میں دفن ہونیوالا بغیر حساب جنت میں داخل ہو گا۔
🌺 زمین پر اترنے والے فرشتے جب واپس جاتے ہیں تو حوریں ان سے خاکِ شفا کا تحفہ طلب کرتی ہیں۔
🌺 تمام ملاٸکہ بطور تحفہ خاکِ شفا کو جناب رسول اکرمؐ کی خدمت میں لے جاتے رہے ہیں۔
🌺 زمینِ کربلا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ ہے۔
🌺 حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جس زمین پر شرفِ کلام حاصل ہوتا تھا وہ یہی زمین تھی۔
🌺 حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمدؐ تک تمام انبیا علیہم السلام کا ورود اس مقدس زمین پر ہوا۔
🌺 اسی مقدس زمین میں واقعاتِ کربلا سے قبل 2 سو نبی، 2 سو وصی اور 2 سو سبطِ نبی دفن ہوٸے جو درجہ شہادت پر فاٸز ہو کر دنیا سے رخصت ہوٸے تھے۔

بحوالہ۔
تفسیر انوارالنجف۔ جلد٤
خصاٸص حسینیہ۔

بشکریہ:
انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]

https://t.me/islamwitheman/1970
https://plus.google.com/103115759710371138609/posts/gcj3oiiAQpG
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 زیارت عاشورہ کے فوائد🌹

مولا امام حسین علیہ السلام ہدایت کا مینارہ ہیں وہ کربلا و عاشورہ، جو بناٸے لاالہ ہے، جو تمام انبیا علیہم السلام کی وارثت ہے، جو نجات کی کشتی ہے، جو شریعت محمدی کی محافظ ہے،
جو انسانیت کی معراج ہے،
جو عبادت کی پہچان ہے،
جو جنت کی خوشبو ہے،
رسول اللہ (ص) کی مان اور امام علی علیہ السلام کی پہچان ہے اور السیدہ فاطمہ علیہ السلام کی ارمان ہے۔
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
کہ ہر روز روزِ عاشورہ ہر زمین زمینِ کربلا ہے
انسان کو کربلا کا سپاہی بننا چاہیے اور اس کیلٸے ضروری ہے کہ سب سے پہلے کربلا کو جانے اور پہچانے اور ان سے دوستی کرے اور انکے حوصلے اور جذبے کو اپنے اندر پیدا کرے اور اس کیلٸے ضروری ہے کہ ہر روز کربلا اور عاشورہ کو یاد کرے۔

1⃣ مشکل دور اور حاجت رواہو گی
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جب کوٸی مشکل پیش آٸے تو زیارت عاشورہ کو پڑھو اور اللہ تعالی سے دعا کرو، اس زیارت اور دعا کی برکت سے مشکل دور اور حاجت روا ہو گی۔

2⃣ زیارت عاشورہ کے آداب
💐 باوضو۔
💐 زوال سے پہلے پڑھیں۔
💐 بہتر ہے سورج نکلنے کے بعد جب اسکی کرنیں زمین پر پڑنے لگیں اس وقت پڑھیں۔
💐 ایک ہی جگہ پوری زیارت پڑھیں۔
💐 دوران زیارت حرکت نہ کریں۔
💐 دوران زیارت کسی سے بات نہ کریں۔
💐 زیارت پڑھنے سے پہلے سو مرتبہ اللہ اکبر کہیں۔
💐 اول و آخر پانچ مرتبہ درود شریف پڑھیں۔
💐 سلام کے وقت قبرِ امام حسین علیہ السلام کی طرف توجہ دیں۔
💐 سلام کے وقت احتراماً کھڑے رہیں البتہ لعنت کے وقت کھڑا رہنا ضروری نہیں ہے۔

یہاں زیارت عاشورہ کے اعمال میں سے ایک نایاب عمل پیش خدمت ہے۔

3⃣ زیارت عاشورہ اور غیبی مدد
اصفہان شہر کے ایک مشہور عالم دین کو ایک رات الہام ہوا کہ شہر میں ایک نیک شخص کو 45 ہزار تومان دے دو۔
صبح عالم دین نے اس حکم کی تعمیل کرنیکا ارادہ کیا مگر ایک تشویش لاحق تھی کہ آیا یہ محض ایک خواب ہے یا کوٸی حقیقت بھی؟
اسے اپنی جمع رقم کا علم نہیں تھا کہ کتنی رقم ہے۔
لہذا جب اس نے رقم کو گنا تو پورے 45 ہزار تومان ہی تھے۔
چنانچہ وہ رقم لیکر اس نیک شخص کی دکان پر گیا تو وہاں اسے جاکر معلوم ہوا کہ وہ اس نیک شخص کو پہنچانتا ہے۔ اس نے دکاندار سے کہا:
مجھے آپ سے تنہائی میں کچھ کام ہے اور اس طرح وہ ایک مسجد میں جا بیٹھے۔
عالم نے کہا:
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آپ جس مصیبت میں مبتلا ہیں میں آپ کو اس مصیبت سے نجات دلاٶں۔ لہذا مجھے اپنی پریشانی بیان کریں۔
کافی اصرار پر بھی جب وہ بتانے پر راضی نہ ہوٸے تو بالاخر اس نے وہ رقم ان کو دے دی۔
مگر انہیں یہ نہ بتایا کہ رقم کتنی ہے؟
وہ نیک شخص رونے لگا اور کہا:
میں 45 ہزار تومان کا مقروض ہوں اور منت کی ہے کہ 40 روز تک روزانہ صبح کے بعد زیارت عاشورہ پڑھونگا اور آج میں نے چالیسویں زیارت پڑھی تھی۔

قارٸین محترم!
ہر ایک شیعہ کیلٸے ضروری ہے کہ اس زیارت عاشورہ کو ضرور پڑھا کرے تاکہ اپنے دلی حاجات کو پا سکے۔
میں حیران ہوتا ہوں کہ ایک شیعہ کے زیارت جیسا عظیم خزانہ موجود ہے وہ پھر بھی اغیار کے دروازے پر جانیکی ضرورت نہیں پڑے گی۔
یہ میرے اپنے تجربہ میں سے ہے کہ زیارت عاشورہ زندگی کی ہر الجھن کا حل ہے۔
مثلاً
👈 دشمنوں سے حفاظت کیلٸے پڑھیں۔
👈 عدالتوں کے ناجائز کیس۔
👈 اپنے بچے بچیوں کی شادی کیلٸے۔
👈 ملازمت کے حصول کیلٸے۔
👈 ملازمت میں ترقی کیلٸے۔
👈 کاروبار میں ترقی کیلٸے۔
👈وسعتِ رزق کیلٸے۔
👈 گھر میں خیروبرکت کیلٸے۔
👈 خاندانی لڑاٸی جھگڑوں کو حل کرنے کیلٸے۔
👈 جادو آسیب سے حفاظت کیلٸے۔
👈 حج و عمرہ اور زیارات پر جانے کی خواہش کیلٸے۔
الغرض آپ اپنے تمام مساٸل کا حل کیلٸے زیارت عاشورہ سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔
اگر معرفت کے ساتھ پڑھیں تو فوراً اثر ہو۔

📚 بحوالہ۔
زیارت عاشورہ اور اسکے فوائد۔
اعمال عاشورہ اور حیرت انگیز واقعات
آخرت ساز واقعات۔

بشکریہ:
انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔

🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318

💐 زیارت خدیجة الکبرٰیؑ
http://t.me/islamwitheman/967

🔷 زیارت مخصوصہ امام محمد تقیؑ
http://t.me/islamwitheman/1336

🔷 زیارت ناحیہ مقدسہ
http://t.me/islamwitheman/1578

🔷 زیارت عاشورہ
http://t.me/islamwitheman/1579

🔷 دعائے علقمہ
https://t.me/islamwitheman/1581

🔷 زیارت آخر روز عاشورہ
http://t.me/islamwitheman/1583

🌸 زیارت أربعين
http://t.me/islamwitheman/1742
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 زیارت عاشورہ اور یوم الورود 🌹

آیت اللہ بھجتؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد سید علی قاضی کو خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا:

"کیا آپ کو کوئی حسرت محسوس ہوتی ہے کہ کاش دنیا مین فلاں کام کر لیتے؟ "

انہوں نے فرمایا:
"ہاں مجھے حسرت ہے کاش میں زیارتِ عاشورہ ہر روز کئی بار پڑھتا"

دراصل قبر میں اتارے جانے کا لمحہ انسان کیلئے بھیانک ترین لمحہ ہوتا ہے. ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا...
مجھے قبر میں جانے سے خوف آتا ہے، بتائیں کیا کروں؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا:
"زیادہ سے زیادہ زیارتِ عاشورہ پڑھا کرو۔

اس نے پوچھا:
زیارت عاشورہ کا قبر میں اتارے جانے سے کیا تعلق ہے؟

فرمایا:
کیا تم نے زیارت کے آخر میں نہیں پڑھا "اللھم ارزقنا شفاعت الحسین یوم الورود"
یعنی
"اے اللہ قبر میں اتارے جانے کے وقت امام حسین کی شفاعت مجھے نصیب ہو"


آپ لوگ بھی زیادہ سے زیادہ زیارت عاشورہ پڑھیں تا کہ امام حسین علیہ السلام یوم الورود کے موقع پر آپ کی مدد کو آجائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔

🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318

💐 زیارت خدیجة الکبرٰیؑ
http://t.me/islamwitheman/967

🔷 زیارت مخصوصہ امام محمد تقیؑ
http://t.me/islamwitheman/1336

🔷 زیارت ناحیہ مقدسہ
http://t.me/islamwitheman/1578

🔷 زیارت عاشورہ
http://t.me/islamwitheman/1579

🔷 دعائے علقمہ
https://t.me/islamwitheman/1581

🔷 زیارت آخر روز عاشورہ
http://t.me/islamwitheman/1583

🌸 زیارت أربعين
http://t.me/islamwitheman/1742

🌹 زیارت عاشورہ کے فوائد
https://t.me/islamwitheman/1972

🌹 زیارت عاشورہ اور یوم الورود
https://t.me/islamwitheman/1973
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 فضاٸل جُمُعَة المبارک 🌹

روزِ جُمعہ تمام ایام کا سردار ہے۔ اس دن اللہ تعالٰی نیکیوں کو دوگنا کرتا ہے اور گناہوں کو مٹاتا ہے اور دعاٶں کو مستجاب کرتا ہے۔

1⃣ نام جمعہ کی وجہ
ایک شخص نے امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کی کہ جمعہ کو جمعہ کیوں کہا جاتا ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا:
کہ اللہ تعالٰی نے اس روز اپنی مخلوق کو اپنے رسول جناب محمد مصطفیٰؐ کی نبوت اور انکے وصی جناب امام علی مرتضٰی علیہ السلام کی ولایت کیلٸے میثاق میں جمع کیا تھا۔
پس اسلٸے اس کا نام جمعہ رکھا کیونکہ اس میں اس نے اپنی مخلوق کو جمع کیا تھا۔

2⃣ آتشِ جہنم حرام
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
جو قدم نمازِ جمعہ کی طرف چل کر جائے اللہ تعالٰی اسکے بدن کو آتشِ جہنم پر حرام قرار دے دیتا ہے۔

3⃣ نٸے سرے سے عمل
جناب رسولِخداؐ فرماتے ہیں:
جو شخص خلوص و ایمان کے ساتھ نمازِ جمعہ میں جاٸے، وہ نٸے سرے سے عمل کرتا ہے یعنی اسکے سابقہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

4⃣ صدقہ
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
شب و روزِ جمعہ میں صدقہ کا ایک درہم ہزار درہم کے برابر ہے۔

5⃣ جمعہ کے دن سفر
جمعہ کے دن بعد طلوع صبح سفر کرنا مکروہ اور زوال کے وقت ناجائز۔
البتہ اگر ایسے مقام پر پہنچے جہاں نمازِ جمعہ ہوتی ہے تو کوٸی مضاٸقہ نہیں وہیں نمازِ جمعہ پڑھے۔

6⃣ فشارِ قبر سے حفاظت
حضرت امام علیؑ فرماتے ہیں:
جو شخص ہر جمعہ والے دن سورہ نساء کی تلاوت کریگا تو اللہ تعالٰی فشارِ قبر سے محفوظ رکھے گا۔

7⃣ سب کچھ اللہ کی راہ میں دینا
جناب رسول اکرمؐ فرماتے ہیں:
سورۂ نساء کی تلاوت کرنیوالا اس شخص کی مانند ہے جس نے اپنا سب کچھ اللہ تعالٰی کی راہ میں صدقہ کے طور پر دے دیا ہو، نیز وہ غلام آزاد کرنے کے ثواب کا بھی حقدار ہے۔

8⃣ مشیتِ خدا کا مستحق
جناب پیغمبرِ اسلامؐ فرماتے ہیں:
جو کوئی اس سورہ (النساء) کی تلاوت کریگا وہ مشیتِ خدا کا مستحق ہو گا اور قیامت والے دن اس کا محاسبہ نہ ہو گا اور وہ انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کے ساتھ ہو گا۔

9⃣ میاں بیوی میں ناراضگی
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اگر شوہر اور بیوی میں ناراضگی ہے اور دونوں میں سے ایک اگر دوسرے کو راضی کرنا چاہے تو وہ یہ عمل کرے، ان شاء اللہ ناراض شدہ راضی ہو جاٸیگا۔
جمعہ کے دن نماز عصر کے بعد یہ عمل شروع کریں اور متواتر سات دن کریں۔
کہ سورۂ النساء کو ایک مرتبہ بلاناغہ پڑھیں۔
اول و آخر اکیس مرتبہ درود شریف پڑھیں۔
پڑھتے وقت مقصد پر فوکس رکھیں۔

🔟 خیروبرکت کا عمل
جو شخص جمعہ کے دن بعد نمازِ جمعہ سے لے کر مسلسل تین جمعہ بلاناغہ ستر (70) مرتبہ یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالٰی اس کو اپنے فضل و کرم سے تمام لوگوں سے بےنیاز کر دیگا اور اس کو رزق وہاں سے ملے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہو گا اور قرضوں سے بھی نجات مل جاٸیگی اور مال و متاع میں برکت ہی برکت ہو گی۔
دعا یہ ہے:
*بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم یاَ مُفِیدُ یاَ غَفُورُ یاَ وَدُودُ اَغنِنِی بِحَلَالِکَ عَن حَرَامِکَ وَبَطَاعَتِکَ وَبِفَضلِکَ عَمَّن سِوَاکَ بِرَحمَتِکَ یاَ اَرحَمَ الرَّاحِمِین۔*
اول وآخر گیارہ مرتبہ درود شریف۔

📚 بحوالہ۔
بحارالانوار، جلد 89۔
تفسیر عیاشی، جلد1۔
مجمع البیان۔
ثواب الاعمال۔
جنة الوافیة الباقیہ۔
قرآن کلِ شفا، جلد1۔

بشکریہ:
انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]

التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 جمعةالمبارک کے متعلق مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے مطلوبہ لنک کو کلک کریں۔۔۔

🔵 غسلِ جُمعہ کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/367

🔵 پہلی نمازِ جُمعہ
https://t.me/islamwitheman/368

📄 جُمعةُ الوداع کی دُعا
http://t.me/islamwitheman/1060

🌺 روزِ جُمعہ کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1112

🌹 فضاٸل جُمُعَة المبارک
https://t.me/islamwitheman/1974
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹حضرت علیؑ نے گستاخِ رسولؐ کی زبان کاٹ دی🌹

رسولِ خدا کے مدنی دور میں (جب وہ مدینہ ہجرت کرچکے تھے، تب) کسی گستاخ شاعر نے نبی کریم کی شان کے خلاف گستاخانہ اشعار لکھے۔

اصحاب نے اس گستاخ شاعر کو پکڑ کر بوری میں بند کر کے حضور کے سامنے پھینک دیا..
سرکار دوعالم نے حکم دیا: اس کی زبان کاٹ دو۔

تاریخ لرز گئی، مکہ میں جو پتھر مارنے والوں کو معاف کرتا تھا. کوڑا کرکٹ پھینکنے والی کی تیمار داری کرتا تھا... اسے مدینے میں آکے آخر ہو کیا گیا۔

بعض صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ میں اس کی زبان کاٹنے کی سعادت حاصل کروں؟
حضور نے فرمایا: نہیں، تم نہیں
تب رسولِ خدا نے حضرت علی کو حکم دیا اس کی زبان کاٹ دو...
مولا علی بوری اٹھا کر شہر سے باہر نکلے..
اور حضرت قنبر کو حکم دیا: جا میرا اونٹ لے کر آ

اونٹ آیا مولا نے اونٹ کے پیروں سے رسی کھول دی اور شاعر کو بھی کھولا اور 2000 درہم اس کے ہاتھ میں دیے اور اس کو اونٹ پہ بیٹھایا، پھر فرمایا: تم بھاگ جاؤ ان کو میں دیکھ لونگا...

اب جو لوگ تماشا دیکھنے آئے تھے حیران رہ گئے کہ یا اللہ، حضرت علی نے تو رسول کی نافرمانی کی

رسول خدا کے پاس شکایت لے کر پہنچ گئے: یا رسول اللہ آپ نے کہا تھا زبان کاٹ دو، علی نے اس گستاخ شاعر کو 2000 درہم دیے اور آزاد کر دیا...

حضور مسکرائے اور فرمایا علی میری بات سمجھ گئے...
افسوس ہے کہ تمہاری سمجھ میں نہیں آئی

وہ لوگ پریشان ہوکر یہ کہتے چل دیے کہ: یہی تو کہا تھا کہ زبان کاٹ دو ... علی نے تو کاٹی ہی نہیں...

اگلے دن صبح، فجر کی نماز کو جب گئے تو کیا دیکھتا ہے وہ شاعر وضو کررہا ہے.. پھر وہ مسجد میں جا کر حضرت محمد ص کے پاؤں چومنے لگتا ہے. جیب سے ایک پرچہ نکال کر کہتا ہے: حضور آپ کی شان میں نعت لکھ کر لایا ہوں...

اور یوں ہوا کہ حضرت علی نے گستاخ رسول کی گستاخ زبان کو کاٹ کر اسے مدحتِ رسالت والی زبان میں تبدیل کردیا۔

📚 حوالہ: دعائم الاسلام، جلد 2، صفحہ 323۔

🔘 جتنا ہو سکے اس پوسٹ کو شئر اور لائک کیجئے۔ شکریہ

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
📖 مطالعہ سے کیا ملتا ہے؟ 📖

*۔۔۔مطالعہ انسان کے لئے اخلاق کا معیار ہے۔(علامہ اقبالؒ )

*۔۔۔ بری صحبت سے تنہائی اچھی ہے، لیکن تنہائی سے پریشان ہو جانے کا اندیشہ ہے، اس لئے اچھی کتابوں کے مطالعے کی ضرورت ہے۔ (امام غزالیؒ )

*۔۔۔ تیل کے لئے پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے میں رات کو چوکیداروں کی قندیلوں کے پاس کھڑے ہوکر کتاب کا مطالعہ کرتا تھا۔ (حکیم ابو نصر فارابیؒ)

*۔۔۔ورزش سے جسم مضبوط ہوتا ہے اورمطالعے کی دماغ کے لئے وہی اہمیت ہے جو ورزش کی جسم کے لئے۔ (ایڈیسن)

*۔۔۔ مطالعہ سے انسان کی تکمیل ہوتی ہے۔ (بیکن)

*۔۔۔مطالعے کی عادت اختیار کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے گویا دنیا جہاں کے دکھوں سے بچنے کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ تیار کرلی ہے۔ (سمر سٹ ماہم)

*۔۔۔ تین دن بغیر مطالعہ گزار لینے کے بعد چوتھے روز گفتگو میں پھیکا پن آجاتا ہے۔ (چینی ضرب المثل)

*۔۔۔انسان قدرتی مناظر اورکتابوں کے مطالعے سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے
(سسرو)

*۔۔۔ مطالعے کی بدولت ایک طرف تمہاری معلومات میں اضافہ ہوگا اوردوسری طرف تمہاری شخصیت دلچسپ بن جائے گی۔ (وائٹی)

*۔۔۔دماغ کے لئے مطالعے کی وہی اہمیت ہے جو کنول کے لئے پانی کی۔ (تلسی داس)

*۔۔۔مطالعہ کسی سے اختلاف کرنے یا فصیح زبان میں گفتگو کرنے کی غرض سے نہ کرو بلکہ ’’تولنے‘‘ اور’’سوچنے‘‘کی خاطر کرو۔ (بیکن)

*۔۔۔جس طرح کئی قسم کے بیج کی کاشت کرنے سے زمین زرخیز ہو جاتی ہے، اسی طرح مختلف عنوانات پر کتابوں اور رسالوں وغیرہ کا مطالعہ انسان کے دماغ کو منور بنا دیتا ہے۔ (ملٹن)

*۔۔۔ جو نوجوان ایمانداری سے کچھ وقت مطالعے میں صرف کرتا ہے، تو اسے اپنے نتائج کے بارے میں بالکل متفکر نہ ہونا چاہئے۔ (ولیم جیمز)

*۔۔۔ مطالعے سے خلوت میں خوشی، تقریر میں زیبائش، ترتیب وتدوین میں استعداد اور تجربے میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ (بیکن)

*۔۔۔ وہ شخص نہایت ہی خوش نصیب ہے جس کو مطالعہ کا شوق ہے، لیکن جو فحش کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے اس سے وہ شخص اچھا ہے جس کو مطالعہ کا شوق نہیں۔ (میکالے)

*۔۔۔ مطالعہ ذہن کو جلا دینے کے لئے اوراس کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ (شیلے)

*۔۔۔ دنیا میں ایک باعزت اورذی علم قوم بننے کے لئے مطالعہ ضروری ہے مطالعہ میں جوہر انسانی کو اجاگر کرنے کا راز مضمر ہے۔ (گاندھی)

🔘 اکثر دیکھا گیا ہے کہ کتابوں کے مطالعہ نے انسان کے مستقبل کو سنوار دیا۔

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/1978
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🍷 کھانے پر الفاظ کا اثر 🍷

بڑا ہی دلچسپ مضمون ہے ۔ پڑھ کر حیرت کے ساتھ ساتھ فخر اور ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہوا۔ ہمارا دین ہمارا رب اور ہمارے مہربان نبی رحمۃ للعالمین صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے چودہ سو سال سے بھی پہلے ہمیں کیسی عظیم نعمتوں سے نوازا۔۔۔ سبحان الله

دم کرنے سے پانی میں شفا کیسے آتی ہے؟ سائنسی تحقیق۔

پانی کا اپنا نہ کوئی رنگ ہے نہ بو اور نہ ہی کوئی ٹھوس ماہیت، بلکہ پانی ہر چیز کے اثرات کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور جس چیز میں ڈالو وہی ماہیت اختیار کر لیتا ہے۔

ایک جاپانی سائنس دان Dr. Masaru Emoto نے پانی پر مختلف تجربے کیے جس کا احوال ان کی کتاب The hidden message in water میں بیان کیا گیا ہے، جس کا اردو ترجمہ محمد علی سید نے اپنی کتاب ’’پانی کے عجائبات‘‘ میں بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے، جسے پڑھ کر ہمیں شکر اور ناشکری کے الفاظ کے حیران کن اثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس جاپانی سائنس دان نے پانی کو اپنی لیبارٹری میں برف کے ذرات یعنی کرسٹلز کی شکل میں جمانے کا کام شروع کیا۔ اس مقصد کے لیے اس نے ڈسٹلڈ واٹر، نلکے کے پانی اور دریا اور جھیل کے پانیوں کے نمونے لیے اور انھیں برف کے ذرات یعنی Crystals کی شکل میں جمایا۔
اس تجربے سے اسے معلوم ہوا کہ پانی، اگر بالکل خالص ہو تو اس کے کرسٹل بہت خوبصورت بنتے ہیں لیکن اگر خالص نہ ہو تو کرسٹل سرے سے بنتے ہی نہیں یا بہت بدشکل بنتے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ ڈسٹلڈ واٹر سے (جو انجکشن میں استعمال ہوتا ہے) خوبصورت کرسٹل بنے، صاف پانی والی جھیل کے پانی سے بھی کرسٹل بنے لیکن نلکے کے پانی سے کرسٹل بالکل ہی نہیں بنے کیوں کہ اس میں کلورین اور دوسرے جراثیم کش اجزا شامل تھے۔

اس نے ایک اور تجربہ یہ کیا کہ ایک ہی پانی کو مختلف بوتلوں میں جمع کیا اور ہر بوتل کے سامنے مختلف قسم کی موسیقی بجائی. موسیقی کی ہر قسم سے کرسٹلز کی ایک نئی شکل بنتی گئی. مطلب پانی ہر موسیقی کا مختلف اثر لیتا گیا.

اس کے بعد اس نے ایک اور تجربہ کیا جس کے نتائج حیران کردینے والے تھے۔ اس نے شیشے کی سفید بوتلوں میں مختلف اقسام کے پانیوں کے نمونے جمع کیے۔
ڈسٹلڈ واٹر والی بوتل پر اس نے لکھا “You Fool” اور نلکے کے پانی والی بوتل پر لکھا “Thank You” یعنی خالص پانی کو حقارت آمیز جملے سے مخاطب کیا اور نلکے کے پانی کو شکر گزاری کے الفاظ سے اور ان دو بوتلوں کو لیبارٹری میں مختلف مقامات پر رکھ دیا۔ لیبارٹری کے تمام ملازمین سے کہا گیا جب اس بوتل کے پاس سے گزرو تو You Fool والی بوتل کے پانی کو دیکھ کر کہو “You Fool” اور “Thank You” والی بوتل کے پاس ٹھہر کر سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک جاؤ اور بڑی شکر گزاری کے ساتھ اس سے کہو “Thank You”۔
یہ عمل 25 دن جاری رہا۔ 25 ویں دن دونوں بوتلوں کے پانیوں کو برف بنانے کے عمل سے گزارا گیا۔ نتائج حیران کن تھے۔ ڈسٹلڈ واٹر سے (جو خالص پانی تھا اور اس سے پہلے اسی پانی سے بہت خوبصورت کرسٹل بنے تھے) کرسٹل تو بن گئے لیکن انتہائی بدشکل۔ ڈاکٹر اموٹو کے کہنے کے مطابق یہ کرسٹل اس پانی کے کرسٹل سے ملتے جلتے تھے جن پر ایک مرتبہ انھوں نے “SATAN” یعنی شیطان لکھ کر رکھ دیا تھا۔
نلکے والا پانی جس سے پہلے کرسٹل نہیں بنے تھے، اس مرتبہ اس پر ’’تھینک یو‘‘ لکھا ہوا تھا اور کئی لوگ 25 دن تک اس پانی کو دیکھ کر ’’تھینک یو‘‘ کہتے رہے تھے، اس پانی سے بہترین اور خوب صورت کرسٹل بن گئے تھے۔
اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ پانی باتوں کا بھی اثر لیتا ہے اور ویسی ہی ماہیت اپنا لیتا ہے. اچھی باتوں سے اچھی ماہیت اور بری باتوں سے بری۔

Thank you اور you fool
والا تجربہ کھانے کی چیزوں کے ساتھ بھی کیا گیا. ایک کیک کے دو پیس کاٹے گئے اور ایک کو Thank you کہا گیا اور دوسرے کو You fool. ایک بار پھر نتیجہ یہ نکلا کہ برے الفاظ والا کیک پیس اپنے نارمل وقت سے بھی بہت پہلے خراب ہو گیا جبکہ اچھے الفاظ والا کیک پیس اپنے نارمل وقت سے کافی زیادہ وقت تک تازہ اور ذائقہ دار رہا.

مطلب کھانے پینے کی ہر چیز الفاظ اور سوچ کا اثر لیتی ہے. ان تجربات سے ہمیں یہ بات سمجھ آئی کہ
جب ہم پانی پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھتے ہیں تو اس میں کس طرح برکت پیدا ہوتی ہے۔
کھانے پینے کی چیزوں پر سورہ فاتحہ یا کوئی بھی کلام پاک پڑھتے ہیں تو پانی کی ماہیت کس طرح تبدیل ہو کر پینے والے کو شفاء دیتی ہے۔

جب ہم روٹی کے ہر لقمے پر اللہ کا نام یا واجد پڑھ کر کھاتے ہیں تو وہ کس طرح ہمارے اندر نور پیدا کرتا ہے. سبحان اللہ

لیکن یہاں ایک اور تجزیہ بھی سامنے آتا ہے کہ ہم کھانے پینے کی اشیاء سامنے رکھ کر جو جو بولتے ہیں اور جو جو سوچتے ہیں ہمارے کھانے اس کا بھی اثر لیتے ہیں. منفی سوچ اور منفی باتوں کا برا اثر اور اچھی باتوں کا اچھا اثر۔

Copy

http://t.me/islamwitheman/1611
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌷میرا گھر🌷

ایک مستری کی کام سے بیزاری اور اکتاہٹ اپنی انتہاء پر تھی۔ اس سے پہلے کہ کوئی بدمزگی پیدا ہوتی، اس نے ٹھیکیدار کو جا کر اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔

ٹھیکیدار ایک رحم دل اور شفیق انسان تھا۔ اس کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک کاریگر تھا مگر اس مستری کی کچھ انوکھی ہی بات تھی۔ جہاں تک معاوضے اور دستور کے مطابق بودو باش کی سہولیات تھیں، ٹھیکیدار نے اسے ویسے ھی خوب نوازا ہوا تھا۔ اس مستری کی کام سے لگن اور محنت بھی قابل رشک تھی مگر ایک دن یہ بھی داغ مفارقت دے جائے گا، اس کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا تھا۔

ٹھیکیدار نے استعفیٰ لیتے ہوئے مستری سے کہا:
"جاتے جاتے ایک آخری مکان اپنے ہاتھ سے بنا کر دیتے جاؤ تو میں یہ استعفیٰ قبول کر لیتا ہوں۔"

بادل ناخواستہ مستری کو کہنا ماننا پڑا۔
مکان کی بے تکی بناوٹ، اکھڑے پلستر، کٹے پھٹے رنگ و روغن اور دروازے کھڑکیوں کے شکستہ کیل پرزوں کے ایک ایک زاویے سے مستری کی اکتاہٹ دکھائی دیتی تھی۔
صاف لگتا تھا کہ اس نے یہ کام فرض سمجھ کر نہیں کیا۔ جان چھڑانے کیلئے وبال سمجھ کر کیا هے۔ مکان کیا تھا کہ گویا چند برساتوں کی مار، اب گرا کہ تب گرا۔

ٹھیکیدار کو مکان کی چابیاں دیتے ہوئےجیسے ہی مستری نے اپنے استعفٰی کا مطالبہ دہرایا۔

ٹھیکیدار نے شفقت کے ساتھ چابیاں واپس مستری کو دیتے ہوئے کہا:
"میں تیرا استعفیٰ قبول کرتا ہوں اور یہ والا آخری مکان تیرے لئے میری طرف سے انعام هے!"

اب مستری دم بخود، حالت ایسی کہ جیسے بدن میں جان ہی نہیں۔
یا اللہ!
یہ کیا ہو گیا۔؟
میں نے کیوں اپنے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا۔
اگریہی مکان میرا مسکن بننا تھا تو میں نے اسے اچھا کیوں نہیں بنایا۔
لوگوں کی زندگیوں میں رنگ بھرتا رہا اورخود اپنے لیے یہ بدرنگی کر ڈالی، کاش! کاش! کاش!

مگر صرف حسرتیں تھیں۔!!!

🔘 کچھ ایسی ہی مثال ہماری زندگی میں کیے گئے اعمال اور خاص طور پر نماز کی ہوتی هے جس سے اللہ رب العزت تو بے نیاز هے۔
مگر ہم ان سب کو اچھا کرنے کے محتاج ہیں۔ انہی پر ہی ہماری عاقبت اور آخرت کا دارومدار ہوتا هے مگر ہم ہیں کہ جان چھڑاتے ہیں۔

لاکھ سمجھایا جاتا هے کہ اچھے طریقہ سے اپنا فرض ادا کرو،
اچھے طریقہ سے پیش کرو، سمجھ ہی نہیں آ رہی۔

کاش اس وقت سے پہلے سمجھ آ جائے جب صرف ندامت، شرمندگی اور پچھتاوا ہوگا۔

🗯 سوچیے گا ضرور 🗯


طالب دعا: خلیل جبران مھدی

http://t.me/islamwitheman/1859
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 حقوقِ عظمتِ والدین 🌹

مالکِ ارض و سماء خداوندِکریم اپنی لاریب کتاب الحکیم سورہ الانعام آیت 151 میں ارشاد فرماتا ہے:
تم ان سے کہو کہ آؤ جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام کی ہیں وہ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں، یہ کہ کسی چیز کو اللہ تعالٰی کا شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو۔

1⃣ والدین سے نیکی کرنیوالا جنتی
رسول اکرمؐ نے فرمایا:
والدین سے نیکی کرنے والے جنت میں انبیاء علیہم السلام سے ایک درجہ کم پر ہونگے اور والدین کی نافرمانی کرنیوالا جہنم میں فراعنہ سے ایک ایک درکہ کے فاصلے پر ہونگے۔

2⃣ ضمانت
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
جو کوٸی مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ والدین کے ساتھ نیکی اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کریگا تو میں بھی اسے کثرتِ مال اور درازئ عمر کے ساتھ ساتھ اپنی قوم میں محبوب بننے کی بھی ضمانت دونگا۔

3⃣ والد کیلٸے کھڑا ہونا
حضرت امام علیؑ فرماتے ہیں:
اولاد پر فرض ہے کہ اگر بچے بیٹھے ہوں اور جونہی والد داخل ہو تو بچوں کو چاہیے کہ انکے احترام کیلٸے کھڑے ہوں اگرچہ بیٹا وقت کا حاکم ہی کیوں نہ ہو۔

4⃣ ملعون
پیغمبر اسلامؐ فرماتے ہیں:
جس نے اپنے والدین کو ستایا اس نے مجھے دکھ دیا اور جس نے مجھے دکھ دیا اس نے اللہ تعالٰی کو ستایا اور اللہ تعالٰی کو ستانے والا ملعون ہے۔

5⃣ والدین کا عاق کیا ہوا
رحمةاللعالمین حضرت محمدؐ فرماتے ہیں:
والدین کا عاق کیا ہوا کوٸی کام بھی کیوں نہ کرے یعنی کیسی ہی کوشش کیوں نہ کرے جنت میں نہیں جا سکتا۔

6⃣ والدین کا احترام
جابر راوی ہیں:
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں ایک محب آیا اور کہنے لگا کہ یاحضرتؑ میرے والدین آپ کے راستہ پر نہیں ہیں۔ کیا پھر بھی میں ان کا احترام کروں؟
امام علیہ السلام نے فرمایا:
ان کا وہی احترام کرو جس طرح اگر حق پر ہوتے تو کرتا۔

7⃣ باپ کا حق
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
💐 باپ کے ساتھ گفتگو کرتے وقت اسکی شخصیت کو سامنے رکھو۔

💐 بات کرتے وقت باپ کا نام نہ لو۔

💐 راستہ چلتے وقت باپ کے آگے نہ چلو۔

💐 باپ کے بیٹھنے سے پہلے نہ بیٹھو۔

💐 اور ایسا کوٸی کام نہ کرو کہ لوگ اسکے سبب باپ کو گالیاں دیں۔

8⃣ نماز قبول نہیں ہو گی
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
جس شخص کے ماں باپ ظلم کرتے ہوں اور حالت ظلم میں بھی انکی طرف غیظ و غضب سے دیکھے اللہ تعالٰی اسکی نماز قبول نہیں کریگا۔

9⃣ مال اور بیوی کو چھوڑنا
امام صادق علیہ السلام راوی ہیں۔
ایک آدمی رسول اللہ (ص) کی خدمت میں آیا اور عرض کی، یارسول اللہ (ص) مجھے کوٸی وصیت کریں۔
رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا:
میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ کسی کو اللہ تعالٰی کا شریک قرار نہ دو خواہ تجھے آگ میں بھی جلایا جاٸے۔
اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرو اور انکی اطاعت کرو خواہ والدین زندہ ہوں یا مردہ،
اگر والدین تم سے یہ کہیں کہ مال اور بیوی کو چھوڑ دے تو فوراً ایسا ہی کریں کیونکہ یہ ایمان سے ہے۔

🔟 والدین سےمتعلق چند اہم امور
شرع مقدس اسلام میں یہ ضروری قرار دیا ہے کہ کچھ امور میں اولاد ماں باپ دونوں سے یا کسی ایک سے اجازت حاصل کرے اور یہ مستحب اعمال میں سے ہیں:
مثلاً
1= مستحب جہاد
مستحبی جہاد میں اولاد والدین کی اجازت کے بغیر نہیں جا سکتے۔

2= مستحب روزے
اگر اولاد مستحبی روزہ رکھیں اور والدین توڑنے کا حکم دیں تو وہ روزہ توڑ سکتے ہیں۔

3= مستحب نمازیں
💐 اگر نماز کا وقت ہو جاٸے اور والدین کسی کام کو انجام دینے کا حکم دیں تو والدین کی اطاعت کو مقدم سمجھیں،
چونکہ اول وقت میں نماز پڑھنا مستحب ہے اور والدین کی اطاعت واجب ہے۔

💐 اگر والدین نماز باجماعت پڑھنے سے منع کریں تو اس صورت میں نماز باجماعت نہیں پڑھ سکتے۔

💐 اگر مستحب نماز میں اولاد مشغول ہو اور والدین بلاٸیں تو وہ نماز توڑ دیں۔

🌻 واجباتِ کفاٸی میں والدین اولاد کو صرف اسی صورت میں روک سکتے ہیں کہ جب دوسرے افراد کے اس عمل کو بجا لانے کا گمان یا یقین ہو جاٸے۔

🔘 قارٸین محترم!
خدارا!
والدین کے حقوق کو سمجھنے کی کوشش کریں اگر آپ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں تو ہر نماز پڑھنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ کہیں آپ سے آپکی ماں یا باپ اس لمحے میں ناراض تو نہیں بیٹھے اگر ناراض ہیں تو پھر نماز پڑھنے سے پہلے ان کو راضی کریں۔
قسم ہے پالنے والے حقیقی بادشاہ کی۔
نماز قبول نہیں ہو گی۔ چاہے مکمل خشوع و خضوع کے ساتھ بھی ادا کی جاٸے۔

📚 حوالہ جات
راہ ہدایت۔
مستدرک الوساٸل۔
اصول کافی۔
گناہان کبیرہ، جلد١۔

انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]

التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔

http://t.me/islamwitheman/1476
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 گناہ 🔷

گناہ کا لفظ اردو زبان میں استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں ذنب کا لفظ بولا جاتا ہے۔ جس کا معنی گناہ، قصور اور جرم ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں 39 مرتبہ مختلف آیات میں ذکر ہوا ہے۔

انسان دو طرح کے گناہ کرتا ہے۔ ظاہری گناہ اور باطنی گناہ۔

1⃣ ظاہری گناہ
ظاہری گناہ یہ ہے کہ گناہ کو ظاہر کر کے کرے۔ مثلاً
چوری کرنا،
قتل کرنا،
جوا کھیلنا،
شراب پینا اور اسی قسم کا عمل جو اللہ تعالٰی کی نافرمانی میں شمار ہوتا ہو۔

2⃣ باطنی گناہ
باطنی گناہ یہ ہے کہ اس گناہ کو حسی طور پر نہ دیکھا جا سکتا ہو۔
یعنی
👈 نہ آنکھ اس گناہ کو دیکھ سکے مثلاً
نامحرم کو دیکھنا۔
👈 نہ کان اس گناہ کو سن سکیں مثلاً
گانے سننا۔
👈 نہ حسِ شامہ کے ذریعہ وہ گناہ ہو مثلاً
نامحرم کی خوشبو سونگھنا۔
👈 نہ حسِ ذائقہ سے مثلاً
حرام چیزوں کی لذت محسوس کرنا
👈 نہ حسِ گویاٸی سے مثلاً
غیبت کرنا، تہمت لگانا۔

بلکہ خیال میں گناہ کا ارتکاب کرے۔ مثلاً
جب چوری عملی طور پر کرتا ہے تو اس کا ظاہر گناہ ہے اور جب چوری کا منصوبہ بناتا ہے تو یہ باطنی گناہ ہے۔

گناہ ظاہری ہو یا باطنی دونوں صورتوں میں منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالٰی قرآن مجید سورہ انعام آیت 120 میں ارشاد فرماتا ہے:
اے لوگو!
ظاہری اور باطنی سب گناہوں کو بالکل چھوڑ دو۔

3⃣ دورِ جاہلیت میں گناہ کا عقیدہ
دورِ جاہلیت میں گناہ کے متعلق یہ عقیدہ تھا کہ گناہ کرنا ہے تو چھپ کر کر لو ظاہر میں گناہ نہیں ہونا چاہیے۔

اللہ تعالٰی نے انکے عقیدے کو رد کرتے ہوٸے فرمایا گناہ گناہ ہے چاہے چھپ کر کیا جاٸے یا ظاہر بظاہر۔

4⃣ کسبِ گناہ
کسبِ گناہ یعنی گناہ کمانا۔
کسبِ حلال بھی ہوتا ہے اور کسبِ حرام بھی۔
مال حلال طریقہ سے بھی کمایا جاتا ہے اور حرام طریقہ سے بھی۔ مال حلال اور حرام دونوں میں چند چیزیں مشترک ہیں۔

👈 عقل
عقل حلال کماٸی اور حرام کماٸی دونوں میں استعمال کی جاتی ہے۔

👈 عمر
حلال اور حرام کماٸی دونوں میں صرف ہوتی ہے۔

👈 جوانی
حلال اور حرام دونوں طرح کی کماٸی میں صرف ہوتی ہے۔

👈 قوتیں
خداداد صلاحيتيں دو طرح استعمال ہوتی ہیں اور اسی طرح کی اور چیزیں ہیں۔

خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے سال، عمر، جوانی اور قوت و توانائی کو حلال کماٸی میں صرف کر کے اللہ تعالٰی کو خوش رکھتے ہیں۔
بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے سرمایہ، جوانی، عمر اور صلاحیتوں کو گناہ میں صرف کرتے ہیں۔

5⃣ گناہوں میں ڈھنپنا
جب کوٸی شخص گناہ کے بازار میں قدم رکھتا ہے تو کچھ گناہ چھوٹے دیکھتا ہے اور کچھ بڑے،
لیکن یہ ذہن میں نہیں لاتا کہ گناہ ایک عمل ہے چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ وہ گناہ ہی ہوتا ہے۔
جب انسان گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہے تو اس کا قدم گناہ کی طرف بڑھتا ہی چلا جاتا ہے یعنی گناہ پر گناہ کرنے لگتا ہے اور گناہ اسکی عادت کا حصہ بن جاتا ہے۔
جب عادت بن جاٸے گناہ کرنیکی تو اس کا تمام وجود گناہوں میں ڈھنپ جاتا ہے اور گناہ اسکے وجود کا احاطہ کر لیتے ہیں۔

اللہ تعالٰی قرآن مجید سورہ البقرہ آیت 81 میں ارشاد فرماتا ہے:
”کہ وہ لوگ جو کسبِ گناہ کریں اور آثار گناہ اسکے وجود کو ڈھانپ لیں وہ اہل دوزخ ہیں اور وہ اسی میں ہمیشہ رہینگے۔“

6⃣ گناہ بیماری ہے
گناہ کو بیماری سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔
مولا امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
گناہ بیماری ہے اسکی دوا استغفار ہے اور اس سے شفاء یہ ہے کہ گناہوں کو دوبارہ نہ کیا جاٸے۔

7⃣ گناہ تباہ کن چیز
تباہی پھیلانے والے آلات انسان کی تباہی کا باعث بنتے ہیں اگر کسی مقام پر کوٸی توپ داغی جاٸے تو اسکے بعد ناقابل بیان تباہی ہوتی ہے اس جگہ افراد، مکانات، دکانیں، دفتر، کاروبار سب متاثر ہونگے۔

گناہ اس توپ اور گولہ بارود سے زیادہ تباہ کن ہے۔ سب سے پہلے گناہ کرنے والے کا وجود تباہ ہوتا ہے اور اسکے وجود سے معاشرے کے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔

مولاٸے کاٸنات امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
اے انسان! تجھے کس بات نے گناہ پر دلیر کر دیا ہے کس چیز نے تجھے اپنے پروردگار کے بارے میں دھوکا دیا ہے اور کس چیز نے تجھے اپنی تباہی پر مجبور کر دیا ہے۔

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

📚 گناہ کی توبہ

بشکریہ:
انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔

🔷 خواہشات اور گناہ
https://t.me/islamwitheman/1285

🔵 گناہ اور اس کے اثرات
https://t.me/islamwitheman/1762

🔶 ہر گناہ کی علیحدہ توبہ ہے
https://t.me/islamwitheman/1814
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⚫ شہادت پیغمبرِاسلامؐ اور امام حسنؑ ⚫

پیغمبرِاسلامؐ اور امام حسنؑ کی شہادت کے موقع پر خصوصاً امام زمانہ عج کی خدمت میں اور عموماً تمام عالم اسلام کی خدمت میں ہدیۂ تعزیت پیش کرتے ہیں۔

⚫ پیغمبرِاسلامؐ کی زندگی کے آخری لمحات:
پیغمبرِاسلامؐ نے اپنی حیات کے آخری لمحوں میں علیؑ کو بلایا اور فرمایا علیؑ میرا سر اپنی آغوش میں لے لو کہ امرِخُدا آن پہنچا ہے۔
اے علیؑ جب میں دنیا میں نہ رہوں تو مجھے غسل دینا اور پہلی بار مجھ پر نماز پڑھنا۔ آپؐ کا سر علیؑ کی گود ہی میں تھا کہ آپؐ رحمت باری سے جا ملے۔ یہ عظیم حادثہ 28 صفر 11 ہجری بروز پیر کو رونما ہوا۔

حضرت علیؑ نے رسولِخداؐ کے پاکیزہ جسم کو غسل دیا، کفن پہنایا اور نماز پڑھی اس عالم میں کہ آنسو آپؐ کی آنکھوں سے رواں تھے اور فرمایا:
ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اے اللہ کے رسول،ؐ بیشک آپ کے مرنے سے وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ وہ چیز جو دوسرے پیغمبروں کی موت کے بعد منقطع نہیں ہوئی۔
اگر آپ صبر کا حکم نہ دیتے اور نالہ و فغاں سے منع نہ فرماتے تو میں آپ کے فراق میں اتنا روتا کہ میرے اشکوں کا سر چشمہ خشک ہوجاتا۔

رسولِخداؐ کی رحلت کی خبر نہایت تیزی سے مدینہ میں پھیل گئی، علیؑ جب غسل وکفن میں مشغول تھےاس وقت ایک گروہ پیغمبرِاسلامؐ کے جانشین کا مسئلہ حل کرنے کے لیے سقیفہ میں الجھ رہا تھا۔ غسل دینے کے بعد پہلے علیؑ نے نماز پڑھی پھر مسلمان دستہ دستہ آتے گئے اور نماز پڑھتے گئے، پھر رسولِخداؐ کو مسجد کے پہلو میں آپ کے گھر میں دفن کر دیا گیا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔

⚫ شہادت امام حسن مجتبیٰؑ
معاویہ جوامام حسنؑ کی کمسنی کے بہانہ سے اس بات کے لیے تیا ر نہیں تھا کہ آپ کو خلافت دی جائے وہ اب اس فکر میں تھا کہ اپنے نالائق جوان بیٹے یزید کو ولی عہدی کے لیے نامزد کرے تاکہ اس کے بعد مسند سلطنت پر وہ متمکن ہو جائے۔

اور ظاہر ہے کہ امام حسن مجتبٰیؑ اس اقدام کے راستہ میں بہت بڑی رکاوٹ تھے اس لیے کہ اگر معاویہ کے بعد امام حسنؑ زندہ رہ گئے تو ممکن ہے کہ وہ لوگ جو معاویہ کے بیٹے سے خوش نہیں ہیں وہ امام حسنؑ کے گرد جمع ہو جائیں اور اس کے بیٹے کی سلطنت کو خطرہ میں ڈال دیں۔
لہذا یزید کی ولی عہدی کے مقدمات کو مضبوط بنانے کے لیے اس نے امام حسنؑ کو راستہ سے ہٹا دینے کا ارادہ کیا۔

آخر کار اس نے دسیسہ کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امام حسنؑ کی بیوی جعدہ بنت اشعث کے ذریعہ آپ کو زہر دیدیا اور امام معصومؑ سینتالیس سال کی عمر میں 28 صفر 50 ہجری کو شہید ہوگئے اور مدینہ کے قبرستان بقیع میں دفن ہوئے.
انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔۔

📚 حوالہ جات:
تاریخ اسلام، تالیف: مدرسین حوزہ علمیہ قم۔

التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔

🌟 شجرہ نسب حضرت محمد مصطفٰیؐ
https://t.me/islamwitheman/2019

🌹 مختصر سوانح حیات حضرت محمدؐ
http://t.me/islamwitheman/2020

🌹 شادی مبارک اور اخلاقی نکات
https://t.me/islamwitheman/2015

🌹 تعارف امام حسن علیہ السلام
http://t.me/islamwitheman/1002

🔵 امام حضرت حسن مجتبٰیؑ
http://t.me/islamwitheman/1003

🍃 فرامین امام حسنؑ
http://t.me/islamwitheman/1006

⚫ شہادت پیغمبرِاسلامؐ اور امام حسنؑ
https://t.me/islamwitheman/1984
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌲 سبز چادر، سادات کا نشان 🌲

(پاکستان اور ہندوستان کے زائرین کے لیے اہم معلومات)

🌴 عرب کے قدیم دستور کے مطابق ہر قبیلے کا ایک اپنا مخصوص نشان ہوتا ہے اور ہمیشہ سے بنی ہاشمؐ کی پہچان ان کے سر ہائے اقدس پر سبز عمامے یا سبز چادر سے ہوتی رہی ہے ۔ کربلا کے بعد سبز رنگ کی چادر کے علاوہ سیاہ چادر بھی سادات کی پہچان بن گیا۔

🍃 آج بھی عرب میں جس کے سر پر سبز چادر، سبز ٹوپی یا سبز رومال ہو اسے سید آلِ رسولؐ سمجھا جاتا ہے اور اگر غلطی سے یا مذاقاً بھی کسی غیر سادات قبیلے کا فرد سر پر سبز رنگ کی چادر وغیرہ رکھے تو عرب لوگ اسے بےحد بےعزت کرتے ہیں ۔ عرب بالخصوص عراق میں غیر سید کا سر پر سبز چادر وغیرہ رکھنا بالکل اسی طرح کی حیثیت رکھتا ہے جیسے کوئی شخص اپنی اور اپنی ماں کی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی غیر شخص سے دے دے۔

🎋 عرب لوگ سختی سے اپنے قبیلوں سے جڑے ہیں اور کسی صورت اپنے آپ کو کسی غیر قبیلے کا فرد ظاہر نہیں کرتے ۔
اس ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے:
*من إنتسب إلىٰ غير أبيه أو تولى غير مواليه فعليه لعنة الله، من دخل إلينا بلاسبب ظاهر أو خرج بلا سبب مؤجب فهو ملعون*
جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی غیر کو اپنا باپ ظاہر کرے یا اپنے سرپرستوں کے علاوہ کسی غیر کو اپنا سرپرست ظاہر کرے تو اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو شخص بلاسببِ ظاہری خود کو ہمارے نسبِ پاک میں داخل کرے یا بغیر کسی وجہِ واجب کے بغیر خود کو ہمارے نسب سے خارج کرے تو ملعون ہے.

آپ ص نےایک اور جگہ ارشاد فرمایا :
*من أدعي إلى غير أبيه وهو يعلم إنه غير أبيه فالجنة عليه حرام*
جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی غیر کے بارے میں دعویٰ کرے کہ وہ اس کا باپ ہے جبکہ وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔

🇵🇰پاکستان، ہندوستان اور دیگر ممالک سے زیارات کےلیے جانے والے اکثر مؤمنين لاعلمی کی بنا پر سادات والی سبز چادر خرید لیتے ہیں اور بلاجھجک اوڑھ لیتے ہیں جس کی وجہ سے دیکھنے والے عراقی لوگ انھیں سید سمجھتے ہیں کیونکہ یہ وہاں سادات کی پہچان ہے ۔ پرانے وقتوں میں برصغیر پاک و ہند میں بھی مکمل سیاہ لباس صرف سادات ہی زیبِ تن کرتے تھے غیر سادات نے اگر سیاہ لباس پہننا ہوتا تو سیاہ قمیص پہن لیتے لیکن ہرگز سیاہ شلوار نہیں پہنتے تھے بلکہ اس کی جگہ سفید شلوار پہنتے تھے کیونکہ جس نے مکمل سیاہ لباس پہنا ہوتا تھا اسے بلاجھجک سید سمجھا جاتا تھا ۔ سندھ اور پنجاب میں سرائیکی تہذیب اور بعض علاقوں میں آج بھی مؤمنين سختی سے اس دستور پرعمل پیرا ہیں۔

🇮🇶 زائرین حضرات کسی بھی عراقی سے دریافت کر سکتے ہیں کہ یہ سبز چادر کس چیز کی علامت ہے اور اسے کون لوگ خریدتے ہیں؟ عراقیوں میں سادات کے علاوہ سبز چادر کو کوئی نہیں خریدتا بلکہ وہاں اگر کوئی سید عاشوراء کے علاوہ سر پر سبز چادر، سبز ٹوپی یا گلے میں سبز رومال وغیرہ نہ رکھے تو اس بات کو سخت برا سمجھا جاتا ہے اور عراقی لوگ فوراً حیرت سے اس کی وجہ پوچھتے ہیں۔

⚔ غیر سادات زائرین سے گزارش ہے کہ اس مقدس سفر میں صرف ذاتی خواہش کی تکمیل میں آئمۂ طاہرین صلواۃ اللہ علیہم اجمعین اور وارثِ سادات مولا صاحب الزمان عجل اللہ فرجہ الشریف کی ناراضگی نہ مول لیں، غیر سادات کےلیے سبز چادر کا استعمال ایسے ہی ہے جیسے اپنے نام کے ساتھ بلکہ ماتھے پر لفظ ”سید“ لکھوا لینا اور عراقیوں کے نزدیک اپنے باپ کے علاوہ کسی سید کو ناجائز طور پر اپنا باپ قرار دینا ۔۔ جس طرح بعض الفاظ صرف سادات کےلیے ہی مخصوص ہیں جیسے سید، شاہ جی وغیرہ اسی طرح ملبوسات میں یہ نشانی بھی انھی سے منسوب ہے اور لفظ سید کی طرح اس کا استعمال غير سادات کےلیے ممنوع ہے، اسے ہرگز نہ خریدیں اور نہ ہی ستعمال کریں اور اس پیغام کو آگے بھیجیں تاکہ وہ لوگ جن کو اس حقیقت کا علم نہیں ہے انھیں بھی اس سے آگاہی حاصل ہو۔

Copy

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://t.me/islamwitheman/1740
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔

🌏 أربعين اور عراقی قوم
http://t.me/islamwitheman/1700

⚫ أربعين حسینی اور اعمال
http://t.me/islamwitheman/1741

🌸 زیارت اربعین
http://t.me/islamwitheman/1742

🔵 زیارت امام حسینؑ کی اہمیت
http://t.me/islamwitheman/1745

🔵 زیارت امام حسینؑ کے آداب
http://t.me/islamwitheman/1746

💖 سلیمان اعمش کا واقعہ
http://t.me/islamwitheman/1747

⚫ چہلم اوّل امام حسینؑ
http://t.me/islamwitheman/1749

⚫ چہلم امام حسین علیہ السلام
http://t.me/islamwitheman/1750

🌹 زیارت امام حسینؑ کا ثواب
http://t.me/islamwitheman/1751

🔶 اعمال زائرین کربلا
http://t.me/islamwitheman/1967

🌲سبز چادر، سادات کا نشان
https://t.me/islamwitheman/1985

🔷 تربتِ امام حسین علیہ السلام
https://t.me/islamwitheman/4946
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🕌 ﻧﻤﺎﺯ یکم تاریخ ہر ﻣﺎﮦ 🕌

ﮨﺮ ﻣﺎﮦ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻥ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ پروردگار ﺳﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﻣﺎﮦ ﮐﯽ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﯾﮟ۔

امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
ﮨﺮ نئے ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮐﯽ یکم تاریخ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮮ ﺟﺲ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﮦ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﯿﺲ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭﮦ ﻗﻞ ﮬﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﺣﺪ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭﮦ ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﯿﺲ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭﮦ القدﺭ ‏(ﺍﻧﺎ ﺍﻧﺰلناہ) ﭘﮍﮬﮯ۔

ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﻓﻮﺭﺍً بعد ﺟﺎﮰ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮬﻮﮰ ﺻﺪﻗﮧ ﺩﮮ۔ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﮔﻮﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﻖِّ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﯽ ﮨﮯ۔

📚 ﺍﻟﻜﻔﻌﻤﻲ ﻓﻲ ﻣﺼﺒﺎﺣﻪ، ص407۔

■ ﺑﻌﺾ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﭘﮍﮬﮯ۔۔

*ﺑِﺴْﻢِ ﷲِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿﻢِ ﻭَﻣَﺎ ﻣِﻦْ ﺩَﺍﺑَّۃٍ ﻓِﯽ ﺍﻟْﺎََﺭْﺽِ ﺇﻻَّ ﻋَﻠَﯽ ﷲِ ﺭِﺯْﻗُﮭﺎ ﻭَﯾَﻌْﻠَﻢُ ﻣُﺴْﺘَﻘَﺮَّﮬﺎ ﻭَﻣُﺴْﺘَﻮْﺩَﻋَﮭﺎ ﮐُﻞٌّ ﻓِﯽ ﮐِﺘﺎﺏٍ ﻣُﺒِﯿﻦٍ۔*

*ﺑِﺴْﻢِ ﷲِ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿﻢِ ﻭَ ﺇﻥ ﯾَﻤْﺴَﺴْﮏَ ﷲُ ﺑِﻀُﺮٍّ ﻓَﻼ ﮐَﺎﺷِﻒَ ﻟَﮧُ ﺇﻻَّ ﮬُﻮَ ﻭَ ﺇﻥْ ﯾُﺮِﺩْﮎَ ﺑِﺨَﯿْﺮٍ ﻓَﻼ ﺭﺍﺩَّ ﻟِﻔَﻀْﻠِﮧ ﯾُﺼِﯿﺐُ ﺑِﮧِ ﻣَﻦْ ﯾَﺸﺎﺉُ ﻣِﻦْ ﻋِﺒﺎﺩِﮦِ ﻭَﮬُﻮَ ﺍﻟْﻐَﻔُﻮﺭ ُﺍﻟﺮَّﺣِﯿﻢ۔*

*ﺑِﺴْﻢِ ﷲ ﺍﻟﺮَّﺣْﻤﻦِ ﺍﻟﺮَّﺣِﯿﻢِ ﺳَﯿَﺠْﻌَﻞُ ﷲُ ﺑَﻌْﺪَ ﻋُﺴْﺮٍ ﯾُﺴْﺮﺍً ﻣَﺎ ﺷﺎﺉَ ﷲُ ﻻَ ﻗُﻮَّۃَ ﺇﻻَّ ﺑِﺎﷲِ ﺣَﺴْﺒُﻨَﺎ ﷲُ ﻭَ ﻧِﻌْﻢَ ﺍﻟْﻮَﮐِﯿﻞُ ﻭَٲُﻓَﻮِّﺽُ ٲَﻣْﺮِﯼ ﺇﻟَﯽ ﷲِ ﺇﻥَّ ﷲَ ﺑَﺼِﯿﺮٌ ﺑِﺎﻟْﻌِﺒﺎﺩِ ﻻَ ﺇﻟﮧَ ﺇﻻَّ ٲَﻧْﺖ ﺳُﺒْﺤﺎﻧَﮏَ ﺇﻧِّﯽ ﮐُﻨْﺖُ ﻣِﻦَﺍﻟﻈَّﺎﻟِﻤِﯿﻦَ، ﺭَﺏِّ ﺇﻧِّﯽ ﻟِﻤﺎ ٲَﻧْﺰَﻟْﺖَ ﺇﻟَﯽَّ ﻣِﻦْ ﺧَﯿْﺮٍ ﻓَﻘِﯿﺮٌ، ﺭَﺏِّ ﻻ ﺗَﺬَﺭْﻧِﯽ ﻓَﺮْﺩﺍً ﻭَٲَﻧْﺖَ ﺧَﯿْﺮُ ﺍﻟْﻮﺍﺭِﺛِﯿﻦَ۔*

ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﺳﻼﻡ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺎﮰ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﺣﺴﺐ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺻﺪﻗﮧ ﻧﮑﺎلیں۔

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

✍ سید سجاد حسین ہمدانی

📚 ﻣﻔﺎﺗﯿﺢ ﺍﻟﺠﻨﺎﻥ، ص585۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔

🕌 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293

🔴 نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292

🔵 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294

⚫ تارک الصّلاة کے نام
https://t.me/islamwitheman/647

🌹 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368

🌸 وضو کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/842

🕌 ماۂِ رمضان کی نافلہ نمازیں
https://t.me/islamwitheman/930

💐 ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻰ ﺍﮨﻤﯿﺖ
https://t.me/islamwitheman952

🍃 اول وقت میں فضیلتِ نماز
https://t.me/islamwitheman/953

🔶 مٹی پر سجدہ
https://t.me/islamwitheman/960

🌸 نماز کے احکام
https://t.me/islamwitheman/1009

🌺 سجدہ
https://t.me/islamwitheman/1175

🕌 نماز حاجت و استغاثه امام زمانہ عج
https://t.me/islamwitheman/1207

🕌 نماز آیات
http://t.me/islamwitheman/1270

🕌 نماز و عمل برائے ادائیگی قرض
https://t.me/islamwitheman/1695

🕌 نماز یکم تاریخ ہر ماہ
https://t.me/islamwitheman/1986
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 فضیلتِ جمعہ و نمازِ حاجت 🌹

1⃣ *عمل کا احستاب*
رسول اکرمؐ فرماتے ہیں:
جو شخص نمازِ جمعہ میں ایمان کے ساتھ اور اپنے عمل کا احتساب کرتا ہوا آٸے تو اسکے سارے گناہ محو کر دیٸے جاتے ہیں اور اس کا عمل ازسر نو شروع ہوتا ہے۔

2⃣ *ملاٸکہ کی نور کی کرسی*
پیغمبر اسلامؐ فرماتے ہیں:
ملاٸکہ مقربین ہر جمعہ کے دن اپنے ساتھ چاندی کے صفحات اور سونے کے قلم لیکر آتے ہیں اور تمام مساجد کے دروازوں پر نور کی کرسی لگا کر بیٹھ جاتے ہیں اور لکھتے رہتے ہیں کہ جمعہ کی نماز میں پہلا کون آیا دوسرا کون آیا آخر کون آیا یہاں تک کہ امام نماز جمعہ پڑھا کر نکل جاٸے اور جب امام مسجد نکل جاتا ہے تو یہ بھی صحیفہ کو لپیٹ لیتے ہیں۔

3⃣ *خوشبو لگانا*
مولا امام علی رضاؐ نے فرمایا:
لوگوں کو چاہیے کہ وہ خوشبو لگانا کسی دن بھی نہ چھوڑیں اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایک دن بعد ایک دن اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو جمعہ کو تو چھوڑنا ہی نہیں چاہیے۔

4⃣ *ضروریات مکروہ ہیں*
مولا امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
جمعہ کے دن صبح کو اپنی ضروریات کیلٸے دوڑ دھوپ مکروہ ہے اور یہ نماز جمعہ کی وجہ سے مکروہ ہے اور نماز کے بعد جاٸز ہے اس میں برکت ہوتی ہے۔

5⃣ *نماز برائے حاجت*
یہ نماز عجب با اثر ہے۔
ان شاء اللہ تعالٰی جس کسی نے بھی یہ نماز پڑھی اسکی حاجت روا ہو گی۔ اور اس کا بااثر ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ تمام آٸمہ معصومین علیہم السلام نے اس نماز کو برغبت ادا کیا ہے۔
یہ نماز 4 رکعت ہے۔
دو، دو رکعت کر کے پڑھنی ہے۔
اس نماز کو جمعہ کے دن نماز جمعہ اور عصر کے درمیان پڑھیں۔
اگر دوران جماعت جمعہ کے وقت نہ ملے تو نماز عصر کے بعد فوراً پڑھیں۔
نماز سے پہلے 100 مرتبہ درود شریف پڑھیں۔
ہر رکعت میں سورہ فاتحہ ایک مرتبہ،
آیت الکرسی 15 مرتبہ اور سورہ اخلاص 5 مرتبہ پڑھیں۔
اور ہر دو رکعت کے بعد 41 مرتبہ یہ دعا پڑھیں۔
*یاَ وَھَّابُ یاحَقُّ یا قَیُّومُ یامُبدِیُّ یاوَفِیُّ یاحُسنُ یا دَآٸمُ یاقَآٸمُ یااَحَدُ یا صَمَدُ یاوَ دُودُ یا ذَالجَلَالِ وَالِاکرَامِ یا اَرحَمَ الرَّاحِمِین*
دوران نماز کسی سے گفتگو وغیرہ نہ کریں۔ اثر زاٸل ہو گا۔
ان شاء اللہ یہ نماز جس کسی شرعی حاجت کیلٸے پڑھی جاٸیگی آنے والے جمعہ سے پہلے حاجت روا ہو گی۔
مثلاً
ملازمت کا حصول۔
کاروبار میں ترقی،
گھر میں خیروبرکت۔
شادی کیلٸے۔
عدالت کے مقدمہ میں کامیابی کیلٸے۔
پرموشن کیلٸے۔
اولاد نرینہ کیلٸے۔
بیماری سے نجات کیلٸے۔ وغیرہ وغیرہ۔

بحوالہ۔
من لایحضرہ الفقیہ۔ جلد١
نماز کے فواٸد ۔ جلد١

بشکریہ:
انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]

التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 جمعةالمبارک کے متعلق مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے مطلوبہ لنک کو کلک کریں۔۔۔

🔵 غسلِ جُمعہ کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/367

🔵 پہلی نمازِ جُمعہ
https://t.me/islamwitheman/368

📄 جُمعةُ الوداع کی دُعا
http://t.me/islamwitheman/1060

🌺 روزِ جُمعہ کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1112

🌹 فضاٸل جُمُعَة المبارک
https://t.me/islamwitheman/1974

🌹 فضیلت جمعہ و نماز حاجت
https://t.me/islamwitheman/1987
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 *بہشت کے درجات* 🌹

1⃣ *جنت کی فضیلت*
اللہ تعالٰی قرآن مجید سورہ بنی اسراٸیل میں فرماتا ہے:
اور آخرت کے درجے تو یقیناً یہاں سے کہیں بڑھ کے ہیں اور وہاں کی فضیلت بھی تو کہیں بڑھ کے ہے۔

2⃣ *قاری قرآن*
مولا امام زین العابدینؑ فرماتے ہے:
تم پر قرآن کی قرأت ضروی ہے کیونکہ اللہ تعالٰی نے بہشت کو خلق فرمایا ہے اور اسکے درجات قرآنی آیات کے مطابق ہیں۔
لہذا جو شخص قرآن پڑھتا ہے اسے اللہ تعالٰی فرماٸے گا قرآن پڑھتا جا اور اوپر چڑھتا جا اور جو قاری جنت میں جاٸے گا، انبیاء علیہم السلام اور صدیقین کے کے علاوہ اسکے اوپر اور کوٸی نہیں ہو گا۔

3⃣ *شیعوں کی رہاٸش گاہیں*
مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
اہلِ بہشت ہمارے شیعوں کی رہاٸش گاہوں کو یوں غور سے دیکھا کریں گے جس طرح تم آسمانی افق میں ستاروں کو غور سے دیکھا کرتے ہو۔

4⃣ *راہِ خدا میں محبت*
پیغمبر اسلامؐ فرماتے ہیں:
اللہ تعالٰی نے جنت میں سرخ یاقوت کا ایک ستون تیار کیا ہے جسکے اوپر 70 ہزار محل ہیں اور ہر محل میں 70 ہزار کمرے ہیں۔
یہ ان لوگوں کیلٸے تیار کیے گٸے ہیں جو راہِ خدا میں ایک دوسرے سے محبت کرتے اور ایک دوسرے کی زیارت کرتے تھے۔

5⃣ *3 طرح کے لوگ*
رسولِ اکرمؐ فرماتے ہیں:
اللہ تعالٰی کی ایک جنت ایسی بھی ہے جس میں صرف تین طرح کے لوگ جاٸیں گے۔

👈 ایک تو وہ جو اپنے خلاف حق کا فیصلہ کرتا ہے۔
👈 جو اپنے مومن بھاٸی کی راہ خدا میں زیارت کرتا ہے۔
👈 وہ شخص جو راہِ خدا میں اپنے مومن بھاٸی کو ترجيح دیتا ہے۔

6⃣ *جنت کے محلات*
پیغمبر اسلامؐ فرماتے ہیں:
جنت میں کچھ محلات ایسے ہونگے جنکے اندر سے باہر کو اور باہر سے اندر کو دیکھا جا سکے گا۔ ان میں میری امت کے وہ لوگ جاٸیں گے جو پاکیزہ بات کرتے ہیں،
لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں،
سلام کو پھیلاتے ہیں اور رات کے وقت جب دنیا سوٸی ہوٸی ہوتی ہے وہ نماز ادا کرتے ہیں۔

7⃣ *جنت کی منزلیں*
پیغمبر اسلامؐ فرماتے ہیں:
جنت میں کچھ منزلیں ایسی بھی ہیں جنکا نہ تو اوپر کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی نیچے سے کوٸی ستون ہے۔
اللہ تعالٰی کے بندوں کی ان تک اعمال کی مدد سے رسائی نہیں ہو گی۔

سوال کیا گیا:
یارسول اللہ! تو پھر کون لوگ انکے اہل ہونگے؟
فرمایا: جو مصیبتوں، بلاٶں اور رنج و غم میں مبتلا رہتے ہیں۔

8⃣ *قیدی لوگ*
رسولِ اکرمؐ فرماتے ہیں:
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اے محمدؐ!
بہشت میں ایک محل ہے جس میں میرے خاص بندے ہونگے، جنکی طرف میں روزانہ 70 مرتبہ دیکھوں گا اور میں انکے ساتھ ہم کلام ہونگا۔
اور جب دوسرے اہلِ بہشت کھانے پینے کی لذتوں میں مصروف ہونگے وہ میرے ساتھ باتیں کرنے اور میرے ذکر کے ساتھ لذت اندوز ہونگے۔
میں نے عرض کیا:
پروردگار!
ان لوگوں کی کیا علامات ہیں؟
فرمایا: یہ وہ لوگ ہونگے جو دنیا میں قیدی ہونگے،
یعنی اپنی زبان کو فضول باتوں سے اور اپنے پیٹوں کو فضول طعام سے قید میں رکھے ہوئے ہونگے۔

9⃣ *اہل بہشت کا کم سے کم درجہ*
حضرت موسٰی ٰ علیہ السلام نے اللہ تعالٰی سے عرض کی کہ اہلِ بہشت میں کم سے کم درجہ کا مالک کون ہو گا؟
اللہ تعالٰی نے فرمایا:
یہ وہ شخص ہو گا جو تمام اہلِ بہشت کے داخل ہو جانے کے بعد آئے گا۔

🔟 *جنت میں پہلے کون جاٸیگا*
پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:
اے علیؑ! جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے تم ہو گے۔
امام علی علیہ السلام نے عرض کی:
یارسول اللہ!
میں ، آپؐ سے بھی پہلے جاٶنگا؟
فرمایا: ہاں!
کیونکہ تم آخرت میں میرے علمبردار ہو گے جس طرح دنیا میں میرے علمبردار ہو اور علمبردار ہمیشہ آگے ہوا کرتا تھا۔

📚 بحوالہ۔
بحارالانوار، جلد ٩، ٧٧، ٨١، ٧٦
کنزالاعمال۔
بہشت۔

انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]

التماس دعا: سید سجاد حسین ہمدانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔

🔵 آٹھ سوال اور انکے جواب
https://t.me/islamwitheman/399

🌹 بہشت کے درجات
https://t.me/islamwitheman/1988
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 گناہ بیماری ہے 🔶

1⃣ گناہ بیماری ہے
گناہ کو بیماری سے تعبير کیا گیا ہے کوٸی بیماری ایسی نہیں جس کیلٸے دوا نہ ہو۔

امام علیؑ فرماتے ہیں:
گناہ بیماری ہے اسکی دوا استغفار اور اس سے شفا یہ ہے کہ گناہوں کو دوبارہ نہ کیا جاٸے۔

2⃣ گناہ ایک مستی ہے
جو شخص گناہ کرتا ہے وہ بدمست ہو جاتا ہے اسکو اس چیز سے غرض نہیں ہوتی کہ وہ کیا کررہاہے نہ اسکو اپنی ذات کیطرف توجہ ہوتی ہے اور نہ ہی افراد خانہ کیطرف۔
گناہ انسان کو اتنا بدمست بنا دیتا ہے نہ اسکو یہ ہوش رہتا ہے کہ یہ کیا بول رہا ہے کیا سن رہا ہے کیا دیکھ رہا ہے۔

اللہ تعالٰی کتابِ مقدس میں ارشاد فرماتا ہے:
یعنی یہ لوگ گونگے بہرے اور اندھے ہیں اور اپنی گمراہی سے باز نہیں آسکتے۔

3⃣ اولادکی خاطرگناہ نہ کرو
بعض اوقات یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ والدین کی شبِ روز کوشش اولاد کے مستقبل کو بہتر بنانے میں ہوتی ہے۔
اچھی رہائش،
اچھا لباس،
اچھا کھانا،
اچھی تعليم لیکن یہ سب کچھ گناہ کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
رشوت،
قتل و غارت،
دوسروں کے حقوق غصب کرنا،
سمگلنگ وغیرہ سے حاصل ہونیوالی کماٸی سے اولاد کو بہتر سے بہتر سہولتيں دی جاتی ہیں۔
اس قسم کی پرورش جو مال حرام سے کی جاٸے جاٸز نہیں کیونکہ جس اولاد کیلٸے حرام کے ذریعہ اتنا کچھ کیا جارہا ہے وہ آخرت میں کام نہیں آٸیگی۔

سورہ لقمان میں اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:
لوگو!
اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن سے خوف کھاؤ جب نہ کوٸی باپ اپنے بیٹے کے کام آٸیگا اور نہ کوٸی بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آٸیگا۔

4⃣ گناہوں سے پرہيز
کہتے ہیں پرہيز علاج سے بہتر ہے یعنی ایسی غذا جو صحت کو نقصان دے اس سے پرہيز کیا جاتا ہے، گناہ بھی صحت کو خراب کر دیتا ہے لہذا اس سے بھی پرہيز کرنا ضروری ہے۔

امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
مجھے تعجب ہے اس شخص سے جو بیماری کے خوف سے تو غذا سے پرہيز کرتا ہے لیکن جہنم کے خوف سے گناہوں سے پرہيز نہیں کرتا۔

5⃣ گناہ اور عقل
جب انسان کوٸی گناہ کرتا ہے تو اس کا یہ عمل خلافِ عقل ہے۔
عقل کہتی ہے کہ اپنے مال کو اپنی فلاح پر خرچ کرو، گناہ خلاف عقل کام کرتا ہے جس سے اسکی بدحالی یقینی ہے۔ پھر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عقل وجود سے نکل جاتی ہے جس سے انسان بدحالی کے راستہ پر گامزن ہوجاتا ہے۔

حضرت محمدؐ فرماتے ہیں:
جو گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے عقل اسے خیر باد کہہ دیتی ہے اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آتی۔

6⃣ گناہ سے بچنا
انسان نیک اعمال کیطرف زیادہ توجہ کرتا ہے کہ جتنا ممکن ہو میں نیک اعمال بجا لاؤں لیکن گناہوں کے ارتکاب میں بھی کمی نہیں کرتا۔
گناہ کو ترک کرنا نیکی کرنے سے بہتر ہے کیونکہ گناہ کا ترک کرنا بھی خود ایک نیکی ہے۔ انسان جیسے جیسے گناہ کو ترک کرتا ہے ویسے ویسے نیکیوں کے نزدیک ہوتا چلا جاتا ہے۔

امام علیؑ فرماتے ہیں:
نیکی کرنے کی نسبت براٸیوں سے بچنا بہتر ہے۔

7⃣ لوگوں کی غیبت کرنا
پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:
جو شخص تسبیحات اربعہ یعنی
*سُبحَان اللہ والحمد للہ ولاالہ اللہ واللہ اکبر*
پڑھتا ہے اللہ تعالٰی جنت میں اس کیلٸے ایک کھجور کا درخت اگا دیتا ہے۔
ایک شخص نے یہ سن کر اسکا ورد شروع کر دیا۔ جب بہت زیادہ مقدار میں اسکو پڑھا تو رسول اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ یارسول اللہ اتنی مقدار میں میں نے تسبیحات اربعہ کا ورد کیا ہے مجھے جنت میں اتنے درخت دکھا دیں۔
رسول اکرمؐ نے فرمایا:
میری دو انگليوں کے درميان دیکھو۔
جب اس نے دو انگليوں کے درميان دیکھا تو حدنگاہ تک درخت ہی درخت نظر آٸے۔ وہ اتنی مقدار میں درخت دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا۔
کہنے لگا یارسول اللہ یہ درخت تو کٹے پڑے ہیں سب کے سب درخت نیچے گرے ہوٸے تھے۔

آپؐ نے فرمایا:
جسطرح نیکیاں جنت میں درخت اگاتی ہیں اسطرح براٸیاں بھی ان نیکیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ تم نے تسبیحات اربعہ کے ذریعہ درخت اگا لیے لیکن تمہارا لوگوں کی غیبت کرنا ان نیکیوں پر آری بن گیا جس نے اس کو جڑوں سے کاٹ دیا۔

8⃣ گناہ کا غالب آنا
انسان زندگی بھر نیکیاں کرتا رہے لیکن ایک لغزش زندگی میں اس کے واقع ہو جائے تو تمام عمر کی نیکیوں پر پانی پھر جاتا ہے
مثلاً
ایک برتن جس میں کثیر پانی موجود ہے اس میں ایک قطرہ پیشاب کا گر جاٸے تو تمام پانی کو نجس کر دیتا ہے۔
ایک شخص عرصہ دراز سے سچ بولتا ہے اگر وہ کسی ایک فرد سے جھوٹ بول دے تو اسکی عرصہ دراز کی صداقت متاثر ہوتی ہے۔

امام زین العابدینؑ فرماتے ہیں:
کیا برا حال ہوگا اس شخص کا جسکی اکائياں دھاٸیوں پر غالب آجاٸیں۔

قارئين محترم!
نتیجہ یہ ہے کہ تھوڑے وقت کی گناہ میں لذت کو نہ دیکھیں بلکہ اسکے عقاب کو دیکھیں۔
لہذا اکائی دھاٸی پر غالب نہیں آنی چاہیے گناہ چھوٹا ہو یا بڑا ہر ایک سے پرہيز کرنا چاہیے۔

📚 حوالہ: گناہ کی توبہ

انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]

التماس دعا: سید سجاد حسین ہمدانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔

🔷 گناہ
https://t.me/islamwitheman/1983
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 *جنت کے دروازے اور داخلہ*🌹

1⃣ *جنت کے آٹھ دروازے*
حضرت علیؑ فرماتے ہیں:
جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ایک دروازے سے تو انبیاء علیہ السلام اور صدیقین داخل ہونگے، دوسرے سے شہداء اور صالحین اور باقی پانچ دروازوں سے ہمارے شیعہ اور محب داخل ہونگے،
جبکہ ایک دروازے سے دوسرے مسلمان جاٸینگے جو توحید کی گواہی دیتے ہیں اور ذرہ برابر ہم اہلبیت علیہم السلام کا بغض انکے دلوں میں نہیں ہے۔

2⃣ *ریان اور معروف*
پیغمبرِ خُدا محمدؐ نے فرمایا:
جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں۔ جس میں سے صرف روزہ دار ہی داخل ہونگے۔
جنت کا ایک دروازہ معروف ہے۔ جس سے صرف نیکوکار ہی داخل ہونگے۔

3⃣ *چار خصلتیں*
رسول اکرمؐ نے فرمایا:
جنت کے آٹھ دروازے ہیں جو ان دروازوں سے داخل ہونا چاہتا ہے اسے چار خصلتیں اپنانی ہونگی۔
❶ سخاوت،
❷ حسنِ اخلاق،
❸ صدقہ اور
❹ اللہ تعالٰی کے بندوں کو ایذا رسانی سے اجتناب۔

4⃣ *جنت حرام ہے*
حضرت امام موسٰی کاظمؑ فرماتے ہیں:
جنت تین لوگوں پر حرام ہے۔
❶ چغل خور،
❷ شرابی اور
❸ بدکار۔

5⃣ *تین قسم کے لوگ*
پیغمبرِ اسلامؐ فرماتے ہیں:
جنت تین قسم کے لوگوں پر حرام ہے۔
❶ احسان جتانے والا،
❷ غیبت کرنے والا اور
❸ شراب پینے والا۔
پھر فرمایا:
اللہ تعالٰی کا فرمان ہے۔
میں نے جنت کو احسان جتانے والے پر،
بخیل اور جھوٹے چغل خور پر حرام کر دیا ہے۔

6⃣ *جنت کی خوشبو*
پیغمبرِ اسلامؐ فرماتے ہیں:
مجھے جناب جبراٸیلؑ نے بتایا ہے کہ جنت کی خوشبو ایک ہزار سال کے فاصلے پر دریافت کر لی جاٸیگی لیکن اسے یہ لوگ نہیں سونگھ سکیں گے:
❶ ماں باپ کا نافرمان،
❷ قطع رحمی کرنے والا،
❸ زنا کار بوڑھا،
❹ تکبر کی بنا پر اکڑ کر چلنے والا،
❺ فن کار،
❻ احسان جتانے والا اور
❼ وہ جو دنیا کے مال و دولت پر کبھی سیر نہیں ہوتا۔

🌺 نبی کریمؐ فرماتے ہیں:
یہ لوگ جنت میں داخل نہیں ہونگے:
❶ جو شخص مال جمع کرتا ہے مگر کارخیر میں خرچ نہیں کرتا،
❷ بداخلاق،
❸ بدکلام،
❹ بہت کھانے والا،
❺غاصب اور
❻ ظالم۔

🌺 پیغمبرِ اسلامؐ نے فرمایا:
تین قسم کے لوگ جنت میں ہرگز داخل نہیں ہونگے۔
❶ بدکار،
❷ مردوں کا روپ دھارنے والی عورتيں اور
❸ داٸمی شرابی۔

7⃣ *اللہ تعالی کی قسم*
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اللہ تبارک و تعالٰی نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ اپنی جنت میں تین قسم کے لوگوں کو داخل نہیں کریگا:
❶ اللہ تعالٰی کی باتوں کو رد کرنیوالا،
❷ امامِ برحق کی باتوں کو رد کرنیوالا اور
❸ کسی مومن کے حق کو روکنے والا۔

📚 حوالہ جات:
بحارالانوار، جلد ٧٥۔
الخصال۔
کنزالاعمال۔
بہشت۔
مجمع البیان۔

انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]

التماس دعا: سید سجاد حسین ہمدانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔

🔵 آٹھ سوال اور انکے جواب
https://t.me/islamwitheman/399

🌹 بہشت کے درجات
https://t.me/islamwitheman/1988

🌹 جنت کے دروازے اور داخلہ
https://t.me/islamwitheman/1990
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕1