ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔷 پانچ شیعہ 🔷

مامون رقی کہتے ہیں کہ میں ایک دن امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ سہل بن حسن خراسانی امام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کر کے بیٹھ گئے اور امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: مولا آپ رحیم و کریم خاندان کے فرد ہیں، امامت آپ کا حق ہے پھر کیا وجہ ہے کہ آپ اپنے حق کے لئے جنگ نہیں کرتے جبکہ اس وقت آپ کے لاکھوں عقیدت مند موجود ہیں اور ہزاروں شرربار تلواريں آپ کی نصرت کے لئے حاضر ہیں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا ابھی بیٹھو تھوڑی دیر بعد تمہیں جواب دونگا۔
پھر آپ علیہ السلام نے کنیز کو حکم دیا کہ تنور کو روشن کیا جائے، جب تنور روشن ہوگیا اور آگ سے بھر گیا تو آپ علیہ السلام نے سہل سے فرمایا اس تنور میں جا کر بیٹھ جاؤ، سہل خراسانی یہ حکم سن کر پریشان ہوا اور معذرت طلب کی۔

اس دوران ہارون مکی امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، امام علیہ السلام نے فرمایا ہارون جوتی باہر رکھ دو اور تنور میں جاکر بیٹھ جاؤ۔
ہارون نے فوراً آپ علیہ السلام کے حکم کی تعمیل کی، جیسے ہی ہارون تنور میں جاکر بیٹھے تو آپ علیہ السلام نے اوپر سے تنور کا منہ بند کروا دیا اور سہل سے خراسان کے متعلق کافی دیر تک گفتگو کرتے رہے پھر آپ علیہ السلام نے خراسانی سے فرمایا ذرا تنور کے پاس جاؤ اور ہارون کا حال ملاحظہ کرو۔
سہل تیزی سے تنور پر آئے اور جیسے ہی ڈھکن اٹھایا تو ہارون کو عجب حال میں پایا، ہارون ایک سرسبز باغیچہ میں بیٹھے ہوئے تھے، تنور کا منہ کھلتے ہی ہارون باہر آگئے۔

امام علیہ السلام نے سہل خراسانی سے پوچھا خراسان میں ایسے افراد کی کتنی تعداد ہے؟
سہل نے کہا کہ خدا کی قسم ایک بھی نہیں۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جب اس طرح کے ہمیں پانچ افراد مل جائیں گے تو ہم اپنے حق کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے ہم بہتر جانتے ہیں کہ ہمیں کب قیام کرنا ہے۔

📚 حکایتھائی شنیدانی، ج٤، ص٦٥۔
سفینۃالبحار، ج٢، ص٧١٤۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔵 یہودی 🔵

● خداوند تعالٰی فرماتا ہے؛
"لتجدن اشدالناس عداوة للذين آمنوا الیہود والذين اشرکوآ۔"
ترجمہ:
یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ تم مؤمنوں کے سب سے زیادہ دشمن یہودی اور مشرکوں کو ہی پاؤ گے۔
(سورہ مائدہ: 82)

● رسول اکرمؐ فرماتے ہیں؛
"لا تشبھوا بالیھود"
ترجمہ:
اپنے آپ کو یہودی کے مشابہہ نہ کرو۔
(نہج الفصاحہ، ص142)

■ جرم پر راضی
محمد بن ارقط کہتا ہے کہ امام صادقؑ نے مجھ سے فرمایا: تم جو کوفہ آتے جاتے رہتے ہو کیا وہاں امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کو دیکھتے ہو؟

عرض کی: ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچا، سب مر چکے ہیں۔

فرمایا: کیا تمہاری نظر میں قاتل صرف وہ ہے جو کسی شخص کو قتل کرے؟ یا وہ بھی قاتل ہے جو قتل کا سبب بنے؟ کیا تم نے خداوند کا فرمان قرآن مجید میں نہیں پڑھا کہ پیغمبر اکرمؐ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: زمانے کے یہودیوں سے کہہ دو کہ مجھ سے پہلے بھی پیغمبر روشن دلائل کے ساتھ آئے ہیں۔ جو کچھ تم نے کہا وہ لائے ہیں۔ اگر تم سچے ہو تو پھر کیوں ان کو قتل کرتے رہے ہو؟ (سورہ آلعمران؛ 183)

پیغمبر اکرمؐ کے زمانے کے یہودیوں نے کسی پیغمبر کو قتل نہ کیا تھا۔ کیونکہ حضرت عیسٰیؑ کے زمانے سے حضرت پیغمبر اکرمؐ کے زمانے تک کوئی پیغمبر نہ تھا جبکہ مذکورہ بالا آیات میں پیغمبر آخرالزمانؐ کے زمانے کے یہودیوں کو قاتل کہا جا رہا ہے۔ وہ اس لئے کہ وہ بھی اپنے آباؤاجداد کے طریقہ کار پر باقی تھے۔ اس بنا پر کوفہ میں وہ لوگ جو امام حسین علیہ السلام کے بارے میں اپنے آباؤاجداد کے عمل اور طریقہ کار پر راضی ہیں، وہ بھی قاتل شمار کئے جائیں گے۔
(وسائل الشیعہ 412/11)

■ یہودی کی شرمندگی
ایک یہودی امیرالمؤمنینؑ کے پاس آیا اور مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے: محمدؐ کہتا ہے ہر انار میں ایک دانہ جنت کا دانہ ہوتا ہے۔ میں نے ابھی پورا ایک عدد انار کھایا ہے اور محمدؐ کے کہے کے مطابق میں جوکہ کافر ہوں، میں نے بھی جنت سے آئے ہوئے انار کے دانوں میں سے ایک دانہ کھا لیا ہے۔ پس میں بھی اہل جنت میں سے ہو گیا ہوں۔

امامؑ نے فرمایا؛ رسولِخداؐ نے سچ فرمایا ہے۔ اسی وقت امامؑ نے انار کا ایک دانہ جو اس یہودی کی داڑھی میں پھنسا ہوا تھا اسے ہاتھ مار کر گرا دیا۔ پھر بڑھ کر اسے اٹھا لیا۔ اور فرمایا؛ خدا کا شکر ہے کہ کافر نے اسے نہیں کھایا۔
وہ یہودی شرمندگی کے مارے وہاں سے چلتا بنا۔
(بحارالانوار، 300/41)

■ پچاس یہودی
جب امیرالمؤمنینؑ نے زمام خلافت کو سنبھالا تو ایک دن نخیلہ میں (کوفہ کے قریب) پچاس یہودی ان سے ملاقات کے لئے آئے۔ عرض کی؛ ہم نے اپنی کتابوں میں دیکھا ہے کہ ایک بہت بڑے پتھر پر سات پیغمبروں کا نام لکھا ہوا ہے۔ وہ پتھر اسی سرزمین میں ہے۔ لیکن ہم نے بہت جستجو کی ہے، ہم تلاش نہیں کر سکے۔ کیا آپ اس جگہ کو جانتے ہیں؟

امامؑ ان کے ہمراہ نخیلہ سے باہر آئے۔ چند قدم چلنے کے بعد ریت کے ایک ٹیلے پر پہنچے، فرمایا؛ وہ پتھر یہاں اس ریت کے نیچے ہے۔ انہوں نے کہا؛ اس پتھر کو نکالنے کے لیے ہم اتنی زیادہ ریت کو یہاں سے نہیں ہٹا سکتے۔ امامؑ نے حق تعالٰی سے مدد طلب کی تاکہ وہ ریت وہاں سے ہٹ جائے۔ پس تیز ہوا چلی اور وہاں سے ریت ہٹ گئی اور پتھر ظاہر ہو گیا۔ امامؑ نے فرمایا؛ انبیاء کے نام پتھر کے دوسری طرف ہیں جوکہ زمین کی طرف ہے۔

یہودیوں نے ہتھوڑے اور بیلچوں کے ساتھ بہت کوشش کی لیکن تھوڑی ہی دیر میں وہ تھک ہار کر بیٹھ گئے۔ امامؑ نے اپنے طاقتور بازو کے زور پر پتھر کو اپنی جگہ سے پلٹ دیا۔ جس کی وجہ سے سات انبیاء کرام کے نام ظاہر ہو گئے۔

یہودیوں نے دیکھا کہ حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسٰیؑ، حضرت داؤدؑ، حضرت سلیمانؑ، حضرت عیسٰیؑ اور حضرت محمدؐ کا نام کندہ تھا۔ ان پچاس یہودیوں نے وہیں اسلام قبول کر لیا۔
(ناسخ التواریخ 69/5)

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

📚 نقل از کتاب سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص390 تا 392۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌸 ہدیہ (تحفہ) 🌸

● خداوند تعالٰی فرماتا ہے؛
و انی مرسلة الیھم بھدیة فناظرة بم یرجع المرسلون¤
ترجمہ؛
(ملکہ بلقیس نے اپنی حکومت کے عہدیداروں سے کہا:) میں ان (حضرت سلیمانؑ) کے لیے قیمتی تحائف بھیجتی ہوں تاکہ دیکھوں کہ ہمارے بھیجے ہوئے کیا خبر لاتے ہیں۔
(سورہ نمل؛ 35)

● امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں؛
"ما استسل سخیمة الغضبان و لا استمیل المھجور و لا استدفعت الشرور بمثل الھدیة۔"
ترجمہ؛
"غصے سے بھرے افراد کا غصہ دور کرنے کے لیے، علیحدہ ہو چکے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اور شرارتی لوگوں کے شر سے بچنے کے لئے تحفہ کے علاوہ کوئی چیز کارآمد نہیں ہے۔"
(غررالحکم، 581/2)

■ بیمار کے لیے تحفہ
امام صادق علیہ السلام کے ایک خادم کہتے ہیں؛ امامؑ کے خدمتگاروں میں سے ایک خادم بیمار ہو گیا تھا۔ ہم کچھ خادم اس کی عیادت کے لیے گئے۔ راستے میں کسی ایک گلی میں ہمارا امام صادقؑ سے سامنا ہو گیا۔ امامؑ نے پوچھا؛ کہاں جا رہے ہیں؟ ہم نے بتایا کہ فلاں خادم بیمار ہے اس کی عیادت کے لیے جا رہے ہیں۔
فرمایا؛ کیا کوئی سیب، پھول، عطر یا کوئی خوشبو تم ساتھ لے جا رہے ہو؟ ہم نے کہا؛ نہیں۔
فرمایا؛ کیا نہیں جانتے ہو کہ اگر بیمار کے لیے کوئی تحفہ لے کر جائیں تو وہ خوش ہوتا ہے اور آرام و سکون کا احساس کرتا ہے۔
(محجةالبیضاء 11/3)

■ چیونٹی اور مچھر کی ٹانگ
حضرت سلیمانؑ نے عام لوگوں اور بزرگوں کو ایک محفل میں دعوت دی۔ طے پایا کہ ہر کوئی تحفہ لے کر جائے گا۔ ہر آنے والا اپنے ساتھ تحفہ لا رہا تھا۔ ایک بوڑھی سی چیونٹی بھی منہ میں مچھر کا پاؤں دبائے جناب سلیمانؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔
جناب سلیمانؑ نے یہ تحفہ قبول کر لیا اور خزانہ دار کو بلا کر یہ تحفہ اس کے حوالے کیا۔ اس نے عرض کی؛ آپؑ بلقیس کی طرف سے بھیجا ہوا عظیم الشان، قیمتی طلائی اینٹوں سے بنا ہوا، سو غلام طلائی کمربند کے ہمراہ بھیجا ہوا تحفہ قبول نہیں کرتے، لیکن اب ایک مچھر کی ٹانگ جو یہ بوڑھی چیونٹی آپ کے لئے لائی ہے اسے آپ نے قبول کر لیا ہے اور اسے حفاظت کے لیے اپنے خزانہ دار کے حوالے کر رہے ہیں۔ آخر کیا ماجرا ہے؟

فرمایا؛ ہم فقیروں اور درویشوں کے غریبانہ تحفے کو قبول کرنے میں کوئی عیب نہیں سمجھتے۔ ہم انہیں قبول کرتے ہیں۔ اور ہمارا خزانہ مال دار لوگوں کے مال کا محتاج نہیں ہے۔
(رہنمائے سعادت، 577/3)

■ حدیث کے راوی کے لئے تحفہ
سید حمیری کوفہ کے ایک بزرگ آدمی کی خدمت سے واپس آ رہے تھے۔ اس بزرگ آدمی نے ان کو گھوڑا اور انتہائی قیمتی خلعت تحفہ کے طور پر دی تھی۔

سید حمیری نے کوفہ کے لوگوں کی طرف منہ کیا اور کہا؛ اے لوگو! اگر کوئی امیرالمؤمنینؑ کی فضیلت میں مجھے کوئی حدیث سنائے گا، جس کے بارے میں میں نے کوئی شعر نہ کہا ہو تو یہ گھوڑا اور قیمتی خلعت میں اسے تحفہ کے طور پر دوں گا۔

ایک آدمی اٹھا اس نے ایک حدیث بیان کی: ایک دن امیرالمؤمنینؑ گھوڑے پر سوار ہونا چاہتے تھے، سفر کے لیے لباس زیب تن کیا، جوتے کا ایک پاؤں پہنا اور جب دوسرا پاؤں پہننا چاہتے تھے تو اچانک ایک عقاب آسمان سے آیا اور وہ جوتے کا پاؤں اپنی چونچ میں پکڑ کر لے گیا۔ اوپر جا کر اس نے چھوڑ دیا۔ جب جوتے کا دوسرا پاؤں زمین پر گرا تو اس میں سے ایک سانپ نکلا اور بھاگ کر ایک سوراخ میں چلا گیا۔ پھر امیرالمؤمنینؑ نے جوتے کا دوسرا پاؤں بھی پہن لیا۔

سید حمیری نے اس پر کوئی شعر نہیں کہا تھا۔ لہذا اس فضیلت کو سننے کے بعد اس پر اس نے اشعار کہے۔ اور وعدے کے مطابق گھوڑا اور خلعت اس آدمی کو ہدیہ کر دیا۔ اس کے علاوہ اس کے اپنے پاس بھی جو کچھ تھا وہ بھی دے دیا۔
(الغدير، 94/4)

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

📚 نقل از کتاب سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص375، 376۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 وفائے عہد 🌹

● خداوند تعالٰی فرماتا ہے؛
واوفوا العھد ان العھد کان مسئولا¤
اپنے عہد کو وفا کرو کہ عہد و پیمان کے بارے میں سوال ہو گا۔
(سورہ الإسراء؛ 34)

● امام علیؑ فرماتے ہیں؛
"لا تعتمد علی مودة من لا یُوفی بعھدہ۔"
جو اپنے وعدے سے وفا نہیں کرتا اسکی دوستی پر اعتماد نہ کرو۔
(غررالحکم، 555/2)

■ باوفا آدمی
حجاج بن یوسف کے زمانے میں جن لوگوں نے اسکے خلاف بغاوت کی تھی، انکو گرفتار کرکے حد جاری کی جارہی تھی۔ اچانک مؤذن کی آواز بلندہوئی۔ مجرموں میں سے ابھی ایک زندہ تھا، حجاج نے اسے اپنے دربان عتبہ کے حوالے کیا اور کہا؛ اسے کل میرے پاس لے کر آؤ۔

عتبہ کہتا ہے کہ جب حجاج وہاں سے چلا گیا تو وہ مجرم کہتا ہے کیا تم میں کوئی خیرو نیکی ہے؟ میں نے کہا؛ کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟ بولا؛ میں نے کسی مسلمان کے خلاف جنگ نہیں کی، میرے ساتھ نیکی کرو کہ مجھے اجازت دو، میں اپنے اہل وعیال کے پاس چلاجاؤں اور انکو وصیت کروں اور صبح ہونےسے پہلے واپس آجاؤں۔

عتبہ کہتا ہے میں اسکی طرف سے منت سماجت کرنے پر ہنستارہا۔ وہ مسلسل درخواست کرتارہا، آخرمیرا دل نرم پڑگیا، مجھے اس پر رحم آگیا۔ میں نےکہا؛ کیا تم اپنے وعدے کو وفا کروگے یامیرے ساتھ اداکاری کررہے ہو؟ اس نے قسم کھائی کہ میں وعدہ کرتا ہوں صبح ہونے سے پہلے واپس آجاؤں گا تاکہ تم مجھے حاکم کے پاس لےجاؤ۔

عتبہ کہتا ہے اس رات میں سو نہ سکا اور بستر پرکروٹیں بدلتارہا جیسے کسی سانپ کا ڈسا ہوتاہے۔ میں دل میں کہہ رہاتھا اگر وہ نہ آیا تو حجاج مجھے قتل کردیگا۔ لیکن وہ آدمی صبح ہونے سے پہلے آگیا اور کہنےلگا میں نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے۔

میں نے تعجب کیا، میں اسے حجاج کے پاس لےگیا اور واقعہ حجاج کے سامنے بیان کیا۔ حجاج نے اس آدمی کی وفا کرنے کیوجہ سے مجھ سے کہا؛ اگر تم کہو تو یہ آدمی تمہیں بخش دوں۔ میں نے کہا؛ یہ آپکی کرامت نفس ہے۔ حجاج نے اسے مجھے بخش دیا۔ اور میں نے اسے آزاد کردیا۔ لیکن اس نے میرا شکریہ ادا نہ کیا۔ میں نے سوچا یقیناً وہ احمق ہے۔
اگلے دن وہ آدمی آیا، معذرت کی اور کہا؛ کل اس آزادی پر پہلے خدا کا شکر ادا کرنا چاہتا تھا اسلیے آج تمھارا شکر ادا کرنے آیاہوں۔
(رہنمائے سعادت، 644/3۔ تاریخ مجدی)

■ اسماء شادی کی رات
حضرت خدیجہؑ کی زندگی کے آخری ایام میں جب وہ بسترِ بیماری پر تھیں، اسماء بنت عمیس انکی عیادت کرنے آئیں۔
حضرت خدیجہؑ کو روتےہوئے دیکھا، پوچھا: آپ روکیوں رہی ہیں، آپکا شمار تو بہترین عورتوں میں ہوتاہے، آپ پیغمبرؐ کی زوجہ ہیں، آپکو جنت کی بشارت دی گئی ہے اور آپ نے اپنی تمام دولت خدا کی راہ میں بخش دی ہے۔
فرمایا؛ ہرعورت کو شب زفاف میں ماں کی ضرورت ہوتی ہے، میری فاطمہ ابھی چھوٹی ہے، ڈرتی ہوں میرے مرنے کیبعد کوئی نہ ہوجو اسکے کاموں کی ذمہ داری اٹھائے۔ اسماء نے کہا: میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ اگر فاطمہ کی شادی تک میں زندہ ہوئی تو آپکی جگہ انکے کاموں کی ذمہ داری اٹھاؤں گی۔

اسماء کہتی ہیں: حضرت زھراءؑ کی شادی کی رات پیغمبرؐ نے فرمایا؛ سب عورتیں باہرچلی جائیں، میں رک گئی۔ پیغمبرؐ نے دیکھا کہ میں نہیں گئی، فرمایا؛ میں نے کہا نہیں کہ سب باہر چلےجائیں؟ عرض کی؛ میں نے خدیجہ سے وعدہ کیاتھا کہ ایسی رات میں فاطمہ کیلئے ماں کا کردار ادا کرونگی اور اب میرا وعدہ وفا کرنے کا وقت آگیا ہے۔
پیغمبرؐ نے گریہ کیا اور اپنے ہاتھ اٹھاکر میرے لئے دعاکی۔
(پند تاریخ 22/2۔ شجرہ طوبٰی)

■ مال کثیرکی نذر
عباسی خلیفہ مامون بیمار ہوگیا۔ اس نے نذر کی کہ اگر وہ صحتیاب ہوگیا تو مال کثیر صدقہ دیگا۔ جب وہ صحتمند ہوگیا تو اپنی نذر وفا کرنا چاہتاتھا لیکن اسے یہ معلوم نہ ہوسکا کہ مال کثیر کتناہے۔

اس نے تمام علماء کوحاضر کیا اور اس کا حل پوچھا کہ مال کثیر کی کیا مقدار ہو گی؟ ہرکوئی الگ بات کررہا تھا۔ کوئی کہتا دس ہزار۔ کوئی کہتا ایک لاکھ دینار۔ مامون کو انکی باتوں سے اطمینان حاصل نہ ہوا۔
مامون نے امام رضا علیہ السلام سے سوال کیا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا؛ تراسی (83) دینار کو فقراء میں تقسیم کردو تمھاری نذر وفا ہو جائیگی۔ علماء نے محفل میں اعتراض کرنا شروع کردیا۔ کہا؛ یہ کیا بات ہوئی، 83 دینار کیوں؟ اس کی کیا وجہ ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا؛ خداوند تعالٰی قرآن پاک میں اپنے رسول اور انکے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"لقد نصرکم الله فی مواطن کثیرة۔"
بتحقيق الله نے آپکی مواطن کثیر میں مدد کی۔ (سورہ توبہ؛ 25)
جیسا کہ تاریخ میں لکھا گیا ہے مواطن کثیر 83 غزوات اور جنگیں ہیں۔ جو پیغمبر اکرمؐ اور صحابہ نے اسلام کی خاطر لڑی ہیں۔ سب علماء یک زبان آفرین کرنے لگے اور داد و تحسین کہنے لگے۔ مامون کو بھی اطمینان ہو گیا۔ یوں اس نے اپنی نذر کو پورا کیا اور 83 دینار طلا فقراء میں تقسیم کئے۔
(لطائف طوائف، ص54)

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

📚 نقل از کتاب سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص371 تا 374۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌼 وصیت 🌼

● خداوند تعالٰی فرماتا ہے:
کُتِبَ علیکم اذا حضر احدکم الموت ان ترک خیرا الوصیة للوالدين والاقربین بالمعروف حقا علی المتقين¤
ترجمہ:
تمھارے لیے لکھا جا چکا ہے کہ تم میں سے کسی کو جب موت آئے تو اگر تمھاری کوئی چیز یا مال باقی ہے، اس کو اپنے باپ، اپنی ماں، اور اپنے قریبیوں کے لئے اچھے طریقے سے وصیت کرو۔ یہ پرہیزگاروں پر حق ہے۔
(سورہ بقرہ: 180)

● رسول اکرمؐ نے فرمایا:
"من لم یحسن الوصیة عند موتہ کان نقصا فی عقلہ و مروتہ"
ترجمہ:
جو کوئی موت کے وقت اچھی وصیت نہ کرے اس کی عقل اور مروت اخلاقی میں کمی واقع ہوتی ہے۔
(بحارالانوار، 194/102)

■ بےجا وصیت
پیغمبر اکرمؐ کا زمانہ تھا۔ ایک مسلمان کی چند بیٹیاں تھیں۔ مال دنیا میں سے اس کے پاس سوائے چھ عدد غلاموں کے کچھ نہ تھا۔
وہ بیماری کی وجہ سے بستر پر پڑ گیا۔ جب اسے موت کا احساس ہوا تو اس نے ثواب کی خاطر سوچا کہ اپنی کل دنیا جوکہ چھ عدد غلام ہیں انہیں اللہ کی راہ میں آزاد کردے جوکہ اس کے مرنے کے بعد سب آزاد ہو جائیں گے۔ پھر وہ مر گیا اور سب غلام آزاد ہو گئے۔

اس کے مرنے کے بعد جب اسے دفن کر چکے۔ اس بات کی خبر پیغمبر اکرمؐ کو دی گئی کہ فلاں مسلمان نے ایسی وصیت کی تھی۔ اس نے اپنے بچوں کے لئے کچھ نہیں چھوڑا۔
پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا؛ اس کے جنازے کے ساتھ تم نے کیا کیا؟ عرض کی؛ اسے دفن کر دیا۔ فرمایا اگر مجھے پہلے بتایا گیا ہوتا تو میں اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کرنے دیتا۔ کیونکہ اس نے اپنے بچوں کو اپنے مال سے حصہ نہیں دیا اور ان کو فقیر بنا دیا ہے تاکہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔
(سو موضوع پانچ سو داستان، ج2،ص367)

■ پانچ افراد کے نام وصیت
ابوایوب جوزی کہتا ہے: آدھی رات کے وقت منصور دوانیقی نے مجھے بلایا۔ جب میں اس کے پاس پہنچا میں نے دیکھا کہ تخت پر بیٹھا ہے اس کے پاس ایک شمع روشن ہے اور ایک خط اس کے ہاتھ میں ہے، جسے وہ پڑھ رہا ہے۔ جیسے ہی میں نے سلام کیا، اس خط کو میرے سامنے پھینک دیا اور روتے ہوئے کہتا ہے:
یہ محمد بن سليمان کا خط ہے جس میں مدینہ سے امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی وفات کی خبر لکھی ہے۔ پھر تین بار انا لله وانا الیہ راجعون کہا۔ اس کے بعد بولا: جعفرؑ جیسا پھر کہاں پیدا ہو گا۔
مجھ سے کہا کہ مدینہ کے والی کے نام خط لکھو۔ اگر امام صادقؑ نے کسی کو اپنا وصی بنایا ہے تو اس کی گردن کاٹ ڈالو۔
کچھ دنوں بعد مدینہ سے خط کا جواب آیا کہ امام صادقؑ نے پانچ افراد کو اپنا وصی قرار دیا ہے۔ جس میں خلیفہ، محمد سلیمان والئ مدینہ، دو بیٹے عبداللہ و موسٰیؑ اور موسٰیؑ کی والدہ حمیدہ شامل ہیں۔ منصور نے یہ خط پڑھا اور کہا: ان کو تو قتل نہیں کیا جا سکتا۔

امامؑ جانتے تھے کہ منصور ہمارے وصی کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے پانچ افراد کو اپنا وصی مقرر فرمایا۔ سب سے پہلے خلیفہ کا نام لکھا۔ پھر اوروں کو شامل کیا تاکہ ان گمراہوں کو حقیقی وصی کا علم نہ ہو سکے۔
(منتہی الآمال 157/2)

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

📚 نقل از کتاب سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص 367 تا 369۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 منافق 🔶

● خداوند تعالٰی فرماتا ہے:
واذ یقول المنافقون والذين فی قلوبهم مرض ما وعدنا اللہ ورسوله إلا غرورا¤
ترجمہ:
جب منافق اور جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ کہتے تھے کہ اللہ اور اس کا رسول ہم سے سوائے جھوٹ کے کوئی وعدہ نہیں کرتے۔
(سورہ احزاب: 12)

● حضرت امام علیؑ فرماتے ہیں:
"المنافق لسانہ یسر و قلبہ یصر"
ترجمہ:
منافق کی زبان خوش کرنے والی لیکن دل نقصان پہنچانے والا ہوتا ہے۔
(غررالحکم، 515/2)

■ سازش ناکام
نو ہجری میں غزوہ تبوک کے واقعہ میں پیغمبر اکرمؐ کی اونٹنی گم ہو گئی۔ منافقین نے اس بات کو موضوع بنا لیا۔ ہرجگہ یہ کہنے لگے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ پیغمبر ہمیں تو غیب کی خبریں دیتے ہیں لیکن آپ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کی اونٹنی کہاں ہے؟ اپنی ان باتوں کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں شک پیدا کر رہے تھے تاکہ دین اسلام پر حملہ کریں۔

جناب جبرائیلؑ منجانب خداوند پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئے اور عرض کی: آپؐ کی اونٹنی فلاں درّے میں موجود ہے۔ وہاں موجود ایک درخت کے ساتھ اس کی لگام بندھی ہوئی ہے۔

رسولِخداؐ نے نماز جماعت کا اعلان کیا۔ سب مسلمان جمع ہو گئے۔ پھر فرمایا: اے لوگو! میری اونٹنی فلاں درّے میں موجود ہے اور اس کی لگام وہاں موجود درخت کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔ جائیں اور اسے لے کر آئیں۔

کچھ لوگ گئے اور اسی طرح جس طرح پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا تھا۔ اونٹنی کو اسی حالت میں پایا اور اسے لے آئے۔ یوں منافقین کی سازش ناکام ہو گئی۔
(حکایتھائے شنیدنی 117/5)

■ منافقین کے جھوٹے وعدے
ابن عباس کہتے ہیں منافقین کے کچھ لوگوں نے بنی نضیر کے یہودیوں کے لئے یہ پیغام بھیجا کہ محمدؐ کی طرف سے مدینہ سے نکلنے کے حکم کو نہ مانیں اور اپنے قلعہ میں بیٹھے رہیں۔ ان منافقین میں عوف کا قبیلہ، عبداللہ بن ابی، ودیعہ، سوید اور داعس شامل تھے۔

انہوں نے پیغام میں مزید کہا کہ تم لوگ اپنا دفاع کرو۔ ہم آپ لوگوں کو حکومت اسلامی کے سامنے تسلیم نہیں ہونے دیں گے۔ اگر بات یہاں تک پہنچ گئی کہ تم لوگوں کی مسلمانوں سے جنگ چھڑ گئی تو ہم سب آپ کے ساتھ مل جائیں گے۔ اور اگر حجاز سے نکالنے پر بات ختم ہوتی ہے تو ہم سب بھی آپ کے ساتھ ہی مدینہ چھوڑ دیں گے۔

بعد میں بنی نضیر کے یہودی انتظار ہی کرتے رہ گئے۔ منافقین کی طرف سے کوئی خبر موصول نہ ہوئی۔ اور انہوں نے بالکل چپ سادھ لی اور حمایت نہ کی۔

پیغمبر اکرمؐ کے فرمان کے مطابق طے یہ پایا کہ بنی نضیر جنہوں نے معاہدہ توڑا تھا، وہ سب اپنی کوئی چیز ہمراہ لئے بغیر علاقہ خالی کر دیں۔
آخرکار پیغمبر اکرمؐ نے اجازت دے دی کہ ہر تین افراد ایک اونٹ اور کچھ پانی اپنے ساتھ لے سکتے ہیں۔ اس طرح ان میں سے کچھ شام کی طرف اور کچھ خیبر کی طرف چلے گئے۔ منافقین ان کی کوئی مدد نہ کر سکے۔ خداوند تعالٰی نے منافقین کے بارے میں یہ آیات نازل کیں:
کیا منافقین کو نہیں دیکھا کہ وہ اہل کتاب میں سے اپنے کافر بھائیوں کو کہہ رہے تھے: جب بھی تم لوگوں کو وطن سے باہر نکالیں گے، ہم بھی آپ کے ساتھ باہر جائیں گے۔ آپ کے بارے میں دیئے گئے کسی بھی حکم کی ہم تعمیل نہ کریں گے۔ اگر آپ کے ساتھ جنگ ہو گی تو ہم آپ کی مدد کریں گے۔ خداوند گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹ بولنے والے ہیں۔ اگر انہیں باہر نکال دیا گیا تو بالکل ان کے ہمراہ باہر نہ جائیں گے۔ اگر ان کے ساتھ جنگ ہوگی تو وہ ان کی مدد نہ کریں گے۔ میدان سے پیٹھ کر کے فرار کر جائیں گے۔ پھر کوئی بھی ان کی مدد نہ کرے گا۔(سورہ حشر: 10،11)
(المیزان، 247/19)

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

📚 نقل از کتاب سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص 351، 353۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 اعمال زائرین کربلا 🔶

🔘 اربعین حسینی کے معنوی سفر میں چالیس ناب نکتے۔۔۔ اس پوسٹ کو اتنا شئر کریں کہ ہر زائر تک پہنچ جائے اور وہ عمل کر سکے۔

🌹1= حلالیت طلبی:
ایک دوسرے سے بخشش طلب کرنا۔

🌹2= وصیت:
سفر سے پہلے وصیت کریں۔

🌹3= روزہ:
سفر میں معنوی پہلو کی تیاری کیلئے سفر سے پہلے تین دن روزہ رکھیں۔

🌹4= غسل:
گھر سے نکلنے سے پہلے غسل کریں۔

🌹5= سفر کی دعا:
سفر سے پہلے گھروالوں کو جمع کر کے سفر کی دعا پڑھیں۔

🌹6= انقطاع :
پورے سفر میں انقطاع کی حالت میں رہیں تاکہ کربلا سے معنوی وصال ہوجائے، دوسروں سے منقطع ضروری ہے اگر دوسروں سے وابستہ رہیں گے تو کربلا سے منقطع ہوجائیں گے مگر خاص مجبور ہوں تو۔ (مراد موبائل، انٹرنیت، وٹسپ، ٹیلی گرام و۔۔۔۔)

🌹7= وقت سے استفادہ:
بغیر شک کے معنوی سفر ہے۔ اس معنوی سفر میں فرصت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔

🌹8= علماء سے استفادہ:
سفر میں علماء سے دینی موضوعات پر گفتگو کریں۔

🌹9= تفکر:
غور و فکر کرنے کے لئے طولانی سفر بہتر فرصت ہے۔ اپنی نفسانی برائیوں پر غور کریں، امام زمانہ کے ساتھ کس طرح تعاون کریں گے غور کریں۔

🌹10= نماز جماعت:
اپنی نمازیں اول وقت اور جماعت کے ساتھ ادا کریں اور نماز کے بعد باجماعت زیارت عاشورا کا آخری حصہ جس میں ان کے دشمنوں پر لعنت کی گئی ہے، اسے اجتماعی طوپر پڑھیں۔ اللہ العن اول ظالم۔۔۔)

🌹11= طولانی تعقیبات:
ہر نماز کے بعد مستحبات انجام دیں کہ ایک مرتبہ آیت الکرسی اور تین مرتبہ سورہ توحید پڑھنے کے بعد طولانی سجدہ کریں۔

🌹12= زیارت عاشورا:
ہر روز زیارت عاشورا 100 لعن اور 100 سلام کے ساتھ پڑھیں۔

🌹13= دعائے عہد:
ہر روز نماز صبح کے بعد دعائے عہد کا پڑھیں۔

🌹14= زیارت اربعین:
اربعین کے دن زیارت اربعین پڑھیں۔ بعض مراجع کہتےہیں اربعین کےدن زیارت ضروری نہیں بلکہ اربعین کے دن آپ کربلا میں ہوں۔ اربعین سے پہلے یا بعد میں زیارت کریں۔

🌹15= نماز شب:
سفر میں نماز شب توجہ کے ساتھ پڑھیں۔

🌹16= رات سے استفادہ:
یعنی جہاں بھی قیام پذیر ہوں وہاں قضاء نمازیں اور چھوٹی کتابوں کا مطالعہ کرنا فراموش نہ کریں۔

🌹17= ختم قرآن:
کوشش کریں پورے سفر میں پورا قرآن ختم کریں۔ حدا قل سنیں۔

🌹18= ذکر کی پابندی:
"صلوات"، "سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر"، "لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم" اور استغفار" استغفر اللہ ربی واتوب الیہ" زیادہ سے زیادہ کریں۔

🌹19= دعا امام زماں:
امام زمانہ کی سلامتی اور ظہور کے لئے دعا کریں اور صدقہ دیں۔

🌹20= امام کے حضور:
اپنے آپ کو امام زمانہ کے حضور میں حاضر سمجھیں۔

🌹21= اعمال کو ھدیہ کرنا:
اپنے تمام مستحبی اعمال کے ثواب کو انبیاء، اولیاء اور شہداء کے نام ہدیہ کریں۔ اس طرح آپ کے اعمال کا ثواب چند گناہ بڑھ جاتا ہے۔

🌹22= نیابتی زیارت:
اپنی زیارت کے ساتھ ساتھ نیابتی زیارت والدین، عزیز، رشتہ دار اور شہداء کی طرف سے نیابتاً زیارت پڑھیں۔

🌹23= قدردانی:
شہداء اور مجاہدین کی قدردانی کریں جنہوں نے زیارت کے لئے فرصت فراہم کی اور آپ کے لئے امنیت کا خیال رکھا جو ابھی تک مقاومت کر رہے ہیں۔

🌹24= اہلبیت ع کے مصائب:
راستہ میں جب بھی کسی مشکل سے دوچار ہو جائیں تو اہلبیت ع کی مصیبتوں کو یاد کریں۔

🌹25= غمگین حالت میں رہنا:
پورے سفر میں اپنے آپ پر غم کی حالت طاری کریں۔

🌹26= بیہودگی سے پرہیز:
آرام سے بات کریں، مذاق اور بیہودہ باتوں سے پرہیز کریں۔

🌹27= نیک ہمسفر کا انتخاب:
جو آپ کی معنویت میں اضافہ کا باعث بنے ایسے ساتھی کا انتخاب کریں۔

🌹28= نگاہوں کی حفاظت:
معنویت میں اضافہ کے لئے روحی تمرکز اور نامحرم سےنگاہ بچانا بہت مہم ہے۔

🌹29= کھانے میں اعتدال:
پرخوری نہ کریں جو معنوی سفر کے لئے نقصان دہ ہے خصوصا کربلا کے راستہ میں گوشت اور لذید ذائقہ دار کھانے مکروہ ہیں۔

🌹30= اسراف نہ کرنا:
کوشش کریں اسراف نہ ہو اور دوسروں کو بھی اسراف کرنے سے منع کریں۔

🌹31= جلدی نہ کریں:
کربلا پہنچنے میں جلدی نہ کریں ممکن ہے ہماری معنویت کم ہونے کا باعث بنے۔

🌹32= جلد لوٹنا:
توجہ کریں اربعین کی فضا میں ایک دن سے زیادہ کربلا اور نجف میں قیام نہ کریں۔

🌹33= اذیت و آزار:
دوسروں کے اذیت و آزار کے بغیر زیارت کریں یعنی زیارت کے لئے ضروری نہیں کہ انسان ضریح کے قریب خود کو پہنچائے بلکہ جہاں امکان ہو وہیں پر انسان زیارت پڑھے۔ (کسی کو اذیت کرنا حرام اور زیارت کرنا مستحب ہے ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ مستحب کی خاطر حرام میں متبلا ہوجائیں اور زیارت کی برکات سے محروم ہو جائیں)۔

🌹34= زیارت میں سکون:
سکون کی حالت میں زیارت پڑھیں۔

🌹35= ایثار اور فداکاری:
ایثار و فداکاری فقط جنگ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ انسان جہاں بھی سفر پر ہو تو اس کا مظاہرہ کرے۔

🌹36= زائرین کی خدمت:
زائرین کی خدمت میں سبقت لیں جیسے گھر دینا، لانا لیجانا، مالی مدد، علاج و معالجہ و۔۔۔)
🌹37= اچھا اخلاق:
زائرین کے لئے ضروری ہے عراقی عوام سے اپنے اچھے اخلا ق سے پیش آئیں انہیں ہماری حقیقی محبت نظر آئے ان کے سامنے مسکرائیں اس طرح سے اسلام کے دیرنہ دشمن ناکام ہو جاتے ہیں۔

🌹38= جھگڑوں سے پرہیز:
بعض غلط اعمال، بعض غلط افکار اور اختلاف سے پرہیز کریں ان سے الجھنے کے بجائے احتیاط کریں۔

🌹39= یادگار سفر:
معنوی اور انقلابی سفر باقی رہنے کے لئے اچھی باتیں، نصیحتیں، تصویریں ضرور لے لیں۔

🌹40= زمانی سفر:
یعنی جو آپ کو پندرہویں صدی کی کربلا سے نکال کر 61 ہجری کی کربلا میں پہنچا دے کیونکہ پندرہویں صدی کی کربلا شاہوں و مہاراجوں نے بنائی ہے لیکن 61 ہجری کی کربلا امام حسین ع نے بنائی تھی۔ جب آپ یہ دو سفر (مکانی و زمانی) طے کریں گے تو آپ کو حق و باطل کی پیکار نظر آئے گی۔ اس پیکار کے شفاف آئینے میں خود کو تلاش کریں، کربلا میں جہاں بنو امیہ کا لشکر تھا وہی منافقین اور بے دین افراد بھی تھے ان کے مقابلے میں امام حسین ع تن و تنہا نظر آئیں گے۔ کربلا جا کر قصہ و کہانی سننے کے بجائے خود 61 ہجری کی کربلا کو لمس کریں اور غور کریں کہ اس وقت اگر ہم وہاں ہوتے تو کس لشکر میں ہوتے۔ کربلا سے عقیدت کے رابطہ کے ساتھ ساتھ روح کربلا سے بھی آشنا ہوں۔ کربلا کے متعلق عقیدت ہر انسان میں موجود ہے خواہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ اسی وجہ سے ہندوستان میں بھی عاشورا کے دن چھٹی ہوتی ہے۔
روح کربلا سے رابطہ یعنی جو آپ کو 61 ہجری کی کربلا میں منتقل کرکے آپ کی زندگی کو عاشورائی زندگی میں تبدیل کر دے۔

تحقیق: عابد علی مقدم
اصلاح و ترتيب: سید سجاد حسین ھمدانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://t.me/islamwitheman/1740
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔

⚫ أربعين حسینی اور اعمال
http://t.me/islamwitheman/1741

🌸 زیارت اربعین
http://t.me/islamwitheman/1742

🔵 زیارت امام حسینؑ کی اہمیت
http://t.me/islamwitheman/1745

🔵 زیارت امام حسینؑ کے آداب
http://t.me/islamwitheman/1746

💖 سلیمان اعمش کا واقعہ
http://t.me/islamwitheman/1747

⚫ چہلم اوّل امام حسینؑ
http://t.me/islamwitheman/1749

⚫ چہلم امام حسین علیہ السلام
http://t.me/islamwitheman/1750

🌹 زیارت امام حسینؑ کا ثواب
http://t.me/islamwitheman/1751

🔶 اعمال زائرین کربلا
http://t.me/islamwitheman/1967

🌹 فضیلت پاپیادہ زیارت اربعین
https://plus.google.com/103115759710371138609/posts/TcKcDtst9NA
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 سر زمینِ کربلا 1 🌹

ایک دفعہ زمینِ کعبہ نے اپنی برتری پر ناز کیا کہ مجھ جیسا کون ہے میں کعبہ کا مسکن ہوں تو فوراً وحی الہی ہوٸی:
خاموش! اے کعبہ کی زمین۔
کربلا کی زمین کے مقابلہ میں تیری فضیلت کو وہ نسبت ہے جو پانی کے ایک قطرہ کو سمندر سے ہوا کرتی ہے۔ بقسم اگر میں اس زمین کربلا اور اسکے ساکن کو خلق نہ کرتا تو تجھے پیدا نہ کرتا اور نہ تیرا کعبہ پیدا ہوتا۔

1⃣ وقارِ کعبہ کس کام کا؟
صرف کعبہ کو جھکنے والے اور اہلبیت علیہم السلام کو پسِ پشت ڈالنے والے چونکہ صرف کعبہ پر ہی ناز کرتے ہیں اور اپنی بخشش کا انحصار صرف اسی میں سمجھتے ہیں تو انکی تنبیہ کیلٸے ارشاد ہے:
بےشک کعبہ اور زمینِ کعبہ اپنی جگہ شرف و فضل کے حامل ہیں لیکن اگر کربلا والوں کی سرفروشی نہ ہوتی اور انکے ناحق خون سے اسلام کی حفاظتی حصار کی تعمیر نہ ہوتی تو پورے اسلام کو یزیدی طاغوتی حملوں نے نیست و نابود کر دیا ہوتا اور جب اسلام ہی ختم ہو جاتا تو کعبہ کا وقار کس کام کا؟
کعبہ اپنے مقام پر محترم ہے لیکن کسی محترم کے خالی وجود کو کیا کیا جاٸے جب احترام کرنیوالا ہی دنیا میں موجود نہ ہو؟

2⃣ امام حسینؑ مرکزِ ہدایت
اے کعبہ کا احترام کرنیوالو پہلے اس دروازہ پر پہنچو جس نے کعبہ کا احترام بچایا ہے اور تمہیں احترام کرنے والا سکھایا ہے اور زمینِ کعبہ اگر ناز کرے کہ میں محترم ہوں تو اس ناز سے پہلے اس کو زمینِ کربلا کے سامنے سرنگوں ہو کر نیازمندی کا اظہار کرنا پڑے گا۔
بے شک زمینِ کعبہ تمام زمینوں پر سرِافتخار بلند کر سکتی ہے لیکن زمینِ کربلا کے سامنے اس کا سر نیازِخم ہی رہے گا۔
پس زمینِ کربلا کی افضلیت اس لحاظ سے ہے کہ اس کا ساکن محسنِ اسلام ہے اور حجِ بیت اللہ اسلام کا ایک فرعی حکم ہے گویا بیت اللہ صرف حاجیوں کا محورِالتفات ہے اور امام حسینؑ تمام اہلِ اسلام کیلٸے مرکزِ ہدایت ہیں۔

3⃣ دونوں افضل ہیں
پس مقامِ عمل میں کوٸی زمین کعبہ کی زمین سے افضل نہیں ہو سکتی اور مقامِ ہدایت و رشد میں کوٸی زمین کربلا کی زمین سے زیادہ درس آموز نہیں ہو سکتی۔
لہذا دونوں اپنے اپنے مقام پر افضل ہیں۔

4⃣ دونوں جدا نہیں ہیں
دونوں زمینوں کی افضلیت کی حیثیتیں جدا جدا ہیں اور فرعی فضیلت قطعاً اصلی فضیلت کا مقابلہ نہیں کر سکتی تاہم یہ دونوں معنوی طورپر ایک دوسرے سے جدا نہیں۔

5⃣ کعبہ و کربلا کے متوالے
لہذا جو کعبہ کا متوالا ہو اور کربلا والوں کو نظرانداز کر کے زمینِ کربلا کو حقیر سمجھے اس کیلٸے کعبہ جانے کا کوٸی فاٸدہ نہیں اور جو شخص کربلا والوں کی محبت کا دم بھرتا ہو اور زمینِ کربلا کا زاٸر ہو لیکن کعبہ جانیکی استطاعت رکھنے کے باوجود اس کو ترک کرے تو اس کا کربلا والوں سے محبت کا دعوٰی کرنا محض زبانی و بےبنیاد ہے۔ کیونکہ امام حسینؑ نے خود جامِ شہادت نوش فرما کر شعاٸر اسلامیہ کو زندہ کیا تھا تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ ایک شخص حسینی کہلوا کر شعاٸر اسلامیہ کو قاٸم کرنے سے گریز کرتا ہو۔
امامت اصل ہے اور حج فرع ہے۔
پس جس طرح حج کا فعل بغیر اقرار امامت کے نادرست ہے اسی طرح اقرار امامت بغیر افعال فرعیہ کے اقرار زبانی اور لقلقہ لسانی ہے۔ کیونکہ اصول اور فروع دونوں ایک دوسرے کے بغیر فاٸدہ مند نہیں ہوا کرتے۔

6⃣ ایک سوال کا جواب
کہ اس توجیہ کے اعتبار سے تو پھر مدینہ منورہ کی زمین کو سب سے افضل کہنا چاہیے؟

*جواب*
اس میں شک نہیں کہ مخصوص زمانہ تک مدینہ منورہ ہدایت انسانی کا سرچشمہ رہا اور اسی لحاظ سے اطراف عالم کیلٸے ہجرت گاہ بھی رہا حتی کہ اہلِ مکہ کیلٸے بھی وہاں سے ہجرت کر کے مدینہ کو چلے جانیکا حکم تھا اور یہ زمین مدینہ کی فضیلت کیلٸے کافی ہے۔

7⃣ شرعی حدودکی پامالی
جناب ختمی مرتبت محمدؐ کے بعد جب اسلامی شرعی حدود کی پامالی کیلٸے اموی بادشاہوں نے اپنی اندھادھند پیش قدمی سے عالم اسلام کو مرعوب کرتے ہوٸے ظلم و استبداد کے اوچھے حربوں سے کام لینا چاہا تو سواٸے امام حسین علیہ السلام کے اور کون تھا جس نے ببانگِ دہل بےپناہ قوتِ ایمانی کے ساتھ اس قسم کی پیش قدمیوں کے خلاف نعرہ حق بلند فرمایا اور جان، مال اور ناموس کی ہر ممکن قربانی سے دریغ نہ کرتے ہوٸے اسلامی تعلیمات کیلٸے سینہ سپر بنا۔

8⃣ اگر امام حسینؑ نہ ہوتے
اور سچ ہے کہ
اگر امام حسین علیہ السلام نہ ہوتے تو اسلام کا لہراتا ہوا سرسبز و شاداب باغ اموی دورِخزاں سے صحیح و سالم ہرگز نہ بچ سکتا۔
اگر امام حسینؑ کی قربانی نہ ہوتی تو یقیناً شمعِ اسلام کی حیثیت ایک چراغِ سحری کی رہ گٸی تھی۔
اگر امام حسینؑ کا عزم و استقلال اور ثباتِ قدم ایک مضبوط چٹان بن کر سامنے نہ آتا تو دمشق کی طرف سے اٹھا ہوا ظلم و جور کا بےپناہ طوفان خرمنِ اسلام کو بہا کر لے گیا ہوتا۔

👈 بقیہ سر زمین کربلا 2 میں ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔

https://t.me/islamwitheman/1969
https://plus.google.com/103115759710371138609/posts/gcj3oiiAQpG
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 سر زمین کربلا 2🌹

9⃣ فتحِ مبین کا سہرا
پس امام حسینؑ نے اپنے آہنی ارادوں سے یزیدی منصوبوں کی قلعی کھول کر رکھ دی جس طرح امام حسینؑ کے اس مبارک و مضبوط اقدام نے کعبہ کی لاج رکھی،
اسیطرح امام حسینؑ کی عظیم الشان قربانیوں نے مدینہ کی حرمت اور صاحبِ مدینہ کی 23 سالہ محنت کو بقاودوام کی خلعت بھی بخش دی اور اسلام کی اس فتحِ مبین کا سہرا زمینِ کربلا ہی کے سر پر ہے۔
لہذا یہ زمین
زمینِ کربلا تاقیامِ قیامت مرجع ہدایتِ مخلوق ہے اور یہی چیز اسکے شرفِ پاٸیدار کا بلند مینار ہے۔

🔟 زمینِ کربلا کی خلقت
استادالعلما علامہ الشیخ جعفر شوستری اعلی اللہ مقامہ نے زمینِ کربلا کی خصوصيات بہت کچھ ذکر فرماٸی ہیں ان میں بعض کا ذکر کیا جاٸیگا۔
اللہ تعالی نے کعبہ کی خلقت سے 24 ہزار سال پہلے زمینِ کربلا کو خلق کیا۔
قرآن مجید میں کعبہ کے روٸے زمین پر پہلی عبادت گاہ بناٸے جانے کا اعلان کیا گیا ہے کیونکہ یہودیوں نے تحویلِ قبلہ کے بعد مسلمانوں پر یہ اعتراض شروع کر دیا تھا کہ بیت المقدس روٸے زمین پر پہلی عبادت گاہ ہے حتی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قبلہ بھی یہی تھا تو اللہ تعالٰی نے انکی رد میں ارشاد فرمایا:
کہ وہ غلط کہتے ہیں اور صحیح یہ ہے کہ لوگوں کیلٸے زمین پر پہلی جاٸے عبادت جس خطہ ارضیہ کو قرار دیا گیا وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے یعنی خانہ کعبہ۔
پس قرآن پاک میں کعبہ کی خلقت کا کوٸی تذکرہ نہیں بلکہ صرف اسکے قبلہ ہونے کی سبقت کا اعلان ہے۔

1⃣1⃣ جنت کے خطوں سے افضل
جب قیامت کا وقت آٸے گا تو زمینِ کربلا کو اٹھا لیا جاٸے گا اور یہ خطہ جنت کے تمام خطوں سے افضل ہو گا اور جنت کے ریاض میں یہ زمین اسطرح چمکے گی جس طرح کوکب دری دوسرے ستاروں سے نمایاں طور پر اپنی چمک دمک کو ظاہر کرتا ہے حتی کہ اسکی چمک سے تمام اہلِ جنت کی آنکھیں خیرگی محسوس کریں گی اور اسکی آواز آٸیگی کہ میں وہ پاک زمین ہوں جسے شہیدوں کے مدفن و مسکن ہونیکا شرف حاصل ہوا ہے۔

2⃣1⃣ خاکِ کربلا کی فضیلت
🌺 خاکِ شفا کی تسبیح سے استغفار کرنا 70 گنا زیادتی ثواب کا موجب ہے۔
🌺 خاکِ کربلا یعنی خاکِ شفا کی تسبیح کا ہاتھ میں رکھنا بھی تسبیح پڑھنے کے ثواب کے برابر ہے۔
🌺 خاکِ شفا پر سجدہ کرنے سے مقبولیت عبادت کے 7 حجاب دور ہو جاتے ہیں اور عبادت مقبول ہو جاتی ہے۔
🌺 مٹی کا کھانا حرام ہے لیکن خاکِ شفا کا شفایابی کی نیت سے کھانا جاٸز ہے۔
🌺 خاکِ شفا کا پاس رکھنا ہر قسم کے خطرات سے بچنے کا حرز اور تعویز ہے بشرطیکہ اسی نیت سے اپنے پاس رکھیں۔
🌺 اگر سامانِ تجارت میں خاکِ شفا کو رکھا جاٸے تو تجارت میں برکت نصیب ہو گی۔
🌺 نوزاٸیدہ بچے کے حلق میں خاکِ شفا ڈالنا اسکی امان و سلامتی کا موجب ہے۔
🌺 میت کے ساتھ قبر میں خاکِ شفا کا رکھنا عذابِ قبر سے امان کا موجب ہے۔
🌺 میت کے حنوط کے ساتھ خاکِ شفا کی ملاوٹ مستحب ہے۔
🌺 زمین کربلا میں دفن ہونیوالا بغیر حساب جنت میں داخل ہو گا۔
🌺 زمین پر اترنے والے فرشتے جب واپس جاتے ہیں تو حوریں ان سے خاکِ شفا کا تحفہ طلب کرتی ہیں۔
🌺 تمام ملاٸکہ بطور تحفہ خاکِ شفا کو جناب رسول اکرمؐ کی خدمت میں لے جاتے رہے ہیں۔
🌺 زمینِ کربلا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ ہے۔
🌺 حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جس زمین پر شرفِ کلام حاصل ہوتا تھا وہ یہی زمین تھی۔
🌺 حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمدؐ تک تمام انبیا علیہم السلام کا ورود اس مقدس زمین پر ہوا۔
🌺 اسی مقدس زمین میں واقعاتِ کربلا سے قبل 2 سو نبی، 2 سو وصی اور 2 سو سبطِ نبی دفن ہوٸے جو درجہ شہادت پر فاٸز ہو کر دنیا سے رخصت ہوٸے تھے۔

بحوالہ۔
تفسیر انوارالنجف۔ جلد٤
خصاٸص حسینیہ۔

بشکریہ:
انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]

https://t.me/islamwitheman/1970
https://plus.google.com/103115759710371138609/posts/gcj3oiiAQpG
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 زیارت عاشورہ کے فوائد🌹

مولا امام حسین علیہ السلام ہدایت کا مینارہ ہیں وہ کربلا و عاشورہ، جو بناٸے لاالہ ہے، جو تمام انبیا علیہم السلام کی وارثت ہے، جو نجات کی کشتی ہے، جو شریعت محمدی کی محافظ ہے،
جو انسانیت کی معراج ہے،
جو عبادت کی پہچان ہے،
جو جنت کی خوشبو ہے،
رسول اللہ (ص) کی مان اور امام علی علیہ السلام کی پہچان ہے اور السیدہ فاطمہ علیہ السلام کی ارمان ہے۔
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
کہ ہر روز روزِ عاشورہ ہر زمین زمینِ کربلا ہے
انسان کو کربلا کا سپاہی بننا چاہیے اور اس کیلٸے ضروری ہے کہ سب سے پہلے کربلا کو جانے اور پہچانے اور ان سے دوستی کرے اور انکے حوصلے اور جذبے کو اپنے اندر پیدا کرے اور اس کیلٸے ضروری ہے کہ ہر روز کربلا اور عاشورہ کو یاد کرے۔

1⃣ مشکل دور اور حاجت رواہو گی
مولا امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جب کوٸی مشکل پیش آٸے تو زیارت عاشورہ کو پڑھو اور اللہ تعالی سے دعا کرو، اس زیارت اور دعا کی برکت سے مشکل دور اور حاجت روا ہو گی۔

2⃣ زیارت عاشورہ کے آداب
💐 باوضو۔
💐 زوال سے پہلے پڑھیں۔
💐 بہتر ہے سورج نکلنے کے بعد جب اسکی کرنیں زمین پر پڑنے لگیں اس وقت پڑھیں۔
💐 ایک ہی جگہ پوری زیارت پڑھیں۔
💐 دوران زیارت حرکت نہ کریں۔
💐 دوران زیارت کسی سے بات نہ کریں۔
💐 زیارت پڑھنے سے پہلے سو مرتبہ اللہ اکبر کہیں۔
💐 اول و آخر پانچ مرتبہ درود شریف پڑھیں۔
💐 سلام کے وقت قبرِ امام حسین علیہ السلام کی طرف توجہ دیں۔
💐 سلام کے وقت احتراماً کھڑے رہیں البتہ لعنت کے وقت کھڑا رہنا ضروری نہیں ہے۔

یہاں زیارت عاشورہ کے اعمال میں سے ایک نایاب عمل پیش خدمت ہے۔

3⃣ زیارت عاشورہ اور غیبی مدد
اصفہان شہر کے ایک مشہور عالم دین کو ایک رات الہام ہوا کہ شہر میں ایک نیک شخص کو 45 ہزار تومان دے دو۔
صبح عالم دین نے اس حکم کی تعمیل کرنیکا ارادہ کیا مگر ایک تشویش لاحق تھی کہ آیا یہ محض ایک خواب ہے یا کوٸی حقیقت بھی؟
اسے اپنی جمع رقم کا علم نہیں تھا کہ کتنی رقم ہے۔
لہذا جب اس نے رقم کو گنا تو پورے 45 ہزار تومان ہی تھے۔
چنانچہ وہ رقم لیکر اس نیک شخص کی دکان پر گیا تو وہاں اسے جاکر معلوم ہوا کہ وہ اس نیک شخص کو پہنچانتا ہے۔ اس نے دکاندار سے کہا:
مجھے آپ سے تنہائی میں کچھ کام ہے اور اس طرح وہ ایک مسجد میں جا بیٹھے۔
عالم نے کہا:
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آپ جس مصیبت میں مبتلا ہیں میں آپ کو اس مصیبت سے نجات دلاٶں۔ لہذا مجھے اپنی پریشانی بیان کریں۔
کافی اصرار پر بھی جب وہ بتانے پر راضی نہ ہوٸے تو بالاخر اس نے وہ رقم ان کو دے دی۔
مگر انہیں یہ نہ بتایا کہ رقم کتنی ہے؟
وہ نیک شخص رونے لگا اور کہا:
میں 45 ہزار تومان کا مقروض ہوں اور منت کی ہے کہ 40 روز تک روزانہ صبح کے بعد زیارت عاشورہ پڑھونگا اور آج میں نے چالیسویں زیارت پڑھی تھی۔

قارٸین محترم!
ہر ایک شیعہ کیلٸے ضروری ہے کہ اس زیارت عاشورہ کو ضرور پڑھا کرے تاکہ اپنے دلی حاجات کو پا سکے۔
میں حیران ہوتا ہوں کہ ایک شیعہ کے زیارت جیسا عظیم خزانہ موجود ہے وہ پھر بھی اغیار کے دروازے پر جانیکی ضرورت نہیں پڑے گی۔
یہ میرے اپنے تجربہ میں سے ہے کہ زیارت عاشورہ زندگی کی ہر الجھن کا حل ہے۔
مثلاً
👈 دشمنوں سے حفاظت کیلٸے پڑھیں۔
👈 عدالتوں کے ناجائز کیس۔
👈 اپنے بچے بچیوں کی شادی کیلٸے۔
👈 ملازمت کے حصول کیلٸے۔
👈 ملازمت میں ترقی کیلٸے۔
👈 کاروبار میں ترقی کیلٸے۔
👈وسعتِ رزق کیلٸے۔
👈 گھر میں خیروبرکت کیلٸے۔
👈 خاندانی لڑاٸی جھگڑوں کو حل کرنے کیلٸے۔
👈 جادو آسیب سے حفاظت کیلٸے۔
👈 حج و عمرہ اور زیارات پر جانے کی خواہش کیلٸے۔
الغرض آپ اپنے تمام مساٸل کا حل کیلٸے زیارت عاشورہ سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔
اگر معرفت کے ساتھ پڑھیں تو فوراً اثر ہو۔

📚 بحوالہ۔
زیارت عاشورہ اور اسکے فوائد۔
اعمال عاشورہ اور حیرت انگیز واقعات
آخرت ساز واقعات۔

بشکریہ:
انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔

🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318

💐 زیارت خدیجة الکبرٰیؑ
http://t.me/islamwitheman/967

🔷 زیارت مخصوصہ امام محمد تقیؑ
http://t.me/islamwitheman/1336

🔷 زیارت ناحیہ مقدسہ
http://t.me/islamwitheman/1578

🔷 زیارت عاشورہ
http://t.me/islamwitheman/1579

🔷 دعائے علقمہ
https://t.me/islamwitheman/1581

🔷 زیارت آخر روز عاشورہ
http://t.me/islamwitheman/1583

🌸 زیارت أربعين
http://t.me/islamwitheman/1742
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 زیارت عاشورہ اور یوم الورود 🌹

آیت اللہ بھجتؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد سید علی قاضی کو خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا:

"کیا آپ کو کوئی حسرت محسوس ہوتی ہے کہ کاش دنیا مین فلاں کام کر لیتے؟ "

انہوں نے فرمایا:
"ہاں مجھے حسرت ہے کاش میں زیارتِ عاشورہ ہر روز کئی بار پڑھتا"

دراصل قبر میں اتارے جانے کا لمحہ انسان کیلئے بھیانک ترین لمحہ ہوتا ہے. ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا...
مجھے قبر میں جانے سے خوف آتا ہے، بتائیں کیا کروں؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا:
"زیادہ سے زیادہ زیارتِ عاشورہ پڑھا کرو۔

اس نے پوچھا:
زیارت عاشورہ کا قبر میں اتارے جانے سے کیا تعلق ہے؟

فرمایا:
کیا تم نے زیارت کے آخر میں نہیں پڑھا "اللھم ارزقنا شفاعت الحسین یوم الورود"
یعنی
"اے اللہ قبر میں اتارے جانے کے وقت امام حسین کی شفاعت مجھے نصیب ہو"


آپ لوگ بھی زیادہ سے زیادہ زیارت عاشورہ پڑھیں تا کہ امام حسین علیہ السلام یوم الورود کے موقع پر آپ کی مدد کو آجائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔

🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318

💐 زیارت خدیجة الکبرٰیؑ
http://t.me/islamwitheman/967

🔷 زیارت مخصوصہ امام محمد تقیؑ
http://t.me/islamwitheman/1336

🔷 زیارت ناحیہ مقدسہ
http://t.me/islamwitheman/1578

🔷 زیارت عاشورہ
http://t.me/islamwitheman/1579

🔷 دعائے علقمہ
https://t.me/islamwitheman/1581

🔷 زیارت آخر روز عاشورہ
http://t.me/islamwitheman/1583

🌸 زیارت أربعين
http://t.me/islamwitheman/1742

🌹 زیارت عاشورہ کے فوائد
https://t.me/islamwitheman/1972

🌹 زیارت عاشورہ اور یوم الورود
https://t.me/islamwitheman/1973
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 فضاٸل جُمُعَة المبارک 🌹

روزِ جُمعہ تمام ایام کا سردار ہے۔ اس دن اللہ تعالٰی نیکیوں کو دوگنا کرتا ہے اور گناہوں کو مٹاتا ہے اور دعاٶں کو مستجاب کرتا ہے۔

1⃣ نام جمعہ کی وجہ
ایک شخص نے امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کی کہ جمعہ کو جمعہ کیوں کہا جاتا ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا:
کہ اللہ تعالٰی نے اس روز اپنی مخلوق کو اپنے رسول جناب محمد مصطفیٰؐ کی نبوت اور انکے وصی جناب امام علی مرتضٰی علیہ السلام کی ولایت کیلٸے میثاق میں جمع کیا تھا۔
پس اسلٸے اس کا نام جمعہ رکھا کیونکہ اس میں اس نے اپنی مخلوق کو جمع کیا تھا۔

2⃣ آتشِ جہنم حرام
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
جو قدم نمازِ جمعہ کی طرف چل کر جائے اللہ تعالٰی اسکے بدن کو آتشِ جہنم پر حرام قرار دے دیتا ہے۔

3⃣ نٸے سرے سے عمل
جناب رسولِخداؐ فرماتے ہیں:
جو شخص خلوص و ایمان کے ساتھ نمازِ جمعہ میں جاٸے، وہ نٸے سرے سے عمل کرتا ہے یعنی اسکے سابقہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

4⃣ صدقہ
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
شب و روزِ جمعہ میں صدقہ کا ایک درہم ہزار درہم کے برابر ہے۔

5⃣ جمعہ کے دن سفر
جمعہ کے دن بعد طلوع صبح سفر کرنا مکروہ اور زوال کے وقت ناجائز۔
البتہ اگر ایسے مقام پر پہنچے جہاں نمازِ جمعہ ہوتی ہے تو کوٸی مضاٸقہ نہیں وہیں نمازِ جمعہ پڑھے۔

6⃣ فشارِ قبر سے حفاظت
حضرت امام علیؑ فرماتے ہیں:
جو شخص ہر جمعہ والے دن سورہ نساء کی تلاوت کریگا تو اللہ تعالٰی فشارِ قبر سے محفوظ رکھے گا۔

7⃣ سب کچھ اللہ کی راہ میں دینا
جناب رسول اکرمؐ فرماتے ہیں:
سورۂ نساء کی تلاوت کرنیوالا اس شخص کی مانند ہے جس نے اپنا سب کچھ اللہ تعالٰی کی راہ میں صدقہ کے طور پر دے دیا ہو، نیز وہ غلام آزاد کرنے کے ثواب کا بھی حقدار ہے۔

8⃣ مشیتِ خدا کا مستحق
جناب پیغمبرِ اسلامؐ فرماتے ہیں:
جو کوئی اس سورہ (النساء) کی تلاوت کریگا وہ مشیتِ خدا کا مستحق ہو گا اور قیامت والے دن اس کا محاسبہ نہ ہو گا اور وہ انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کے ساتھ ہو گا۔

9⃣ میاں بیوی میں ناراضگی
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اگر شوہر اور بیوی میں ناراضگی ہے اور دونوں میں سے ایک اگر دوسرے کو راضی کرنا چاہے تو وہ یہ عمل کرے، ان شاء اللہ ناراض شدہ راضی ہو جاٸیگا۔
جمعہ کے دن نماز عصر کے بعد یہ عمل شروع کریں اور متواتر سات دن کریں۔
کہ سورۂ النساء کو ایک مرتبہ بلاناغہ پڑھیں۔
اول و آخر اکیس مرتبہ درود شریف پڑھیں۔
پڑھتے وقت مقصد پر فوکس رکھیں۔

🔟 خیروبرکت کا عمل
جو شخص جمعہ کے دن بعد نمازِ جمعہ سے لے کر مسلسل تین جمعہ بلاناغہ ستر (70) مرتبہ یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالٰی اس کو اپنے فضل و کرم سے تمام لوگوں سے بےنیاز کر دیگا اور اس کو رزق وہاں سے ملے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہو گا اور قرضوں سے بھی نجات مل جاٸیگی اور مال و متاع میں برکت ہی برکت ہو گی۔
دعا یہ ہے:
*بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمَنِ الرَّحِيم یاَ مُفِیدُ یاَ غَفُورُ یاَ وَدُودُ اَغنِنِی بِحَلَالِکَ عَن حَرَامِکَ وَبَطَاعَتِکَ وَبِفَضلِکَ عَمَّن سِوَاکَ بِرَحمَتِکَ یاَ اَرحَمَ الرَّاحِمِین۔*
اول وآخر گیارہ مرتبہ درود شریف۔

📚 بحوالہ۔
بحارالانوار، جلد 89۔
تفسیر عیاشی، جلد1۔
مجمع البیان۔
ثواب الاعمال۔
جنة الوافیة الباقیہ۔
قرآن کلِ شفا، جلد1۔

بشکریہ:
انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]

التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 جمعةالمبارک کے متعلق مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے مطلوبہ لنک کو کلک کریں۔۔۔

🔵 غسلِ جُمعہ کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/367

🔵 پہلی نمازِ جُمعہ
https://t.me/islamwitheman/368

📄 جُمعةُ الوداع کی دُعا
http://t.me/islamwitheman/1060

🌺 روزِ جُمعہ کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1112

🌹 فضاٸل جُمُعَة المبارک
https://t.me/islamwitheman/1974
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹حضرت علیؑ نے گستاخِ رسولؐ کی زبان کاٹ دی🌹

رسولِ خدا کے مدنی دور میں (جب وہ مدینہ ہجرت کرچکے تھے، تب) کسی گستاخ شاعر نے نبی کریم کی شان کے خلاف گستاخانہ اشعار لکھے۔

اصحاب نے اس گستاخ شاعر کو پکڑ کر بوری میں بند کر کے حضور کے سامنے پھینک دیا..
سرکار دوعالم نے حکم دیا: اس کی زبان کاٹ دو۔

تاریخ لرز گئی، مکہ میں جو پتھر مارنے والوں کو معاف کرتا تھا. کوڑا کرکٹ پھینکنے والی کی تیمار داری کرتا تھا... اسے مدینے میں آکے آخر ہو کیا گیا۔

بعض صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ میں اس کی زبان کاٹنے کی سعادت حاصل کروں؟
حضور نے فرمایا: نہیں، تم نہیں
تب رسولِ خدا نے حضرت علی کو حکم دیا اس کی زبان کاٹ دو...
مولا علی بوری اٹھا کر شہر سے باہر نکلے..
اور حضرت قنبر کو حکم دیا: جا میرا اونٹ لے کر آ

اونٹ آیا مولا نے اونٹ کے پیروں سے رسی کھول دی اور شاعر کو بھی کھولا اور 2000 درہم اس کے ہاتھ میں دیے اور اس کو اونٹ پہ بیٹھایا، پھر فرمایا: تم بھاگ جاؤ ان کو میں دیکھ لونگا...

اب جو لوگ تماشا دیکھنے آئے تھے حیران رہ گئے کہ یا اللہ، حضرت علی نے تو رسول کی نافرمانی کی

رسول خدا کے پاس شکایت لے کر پہنچ گئے: یا رسول اللہ آپ نے کہا تھا زبان کاٹ دو، علی نے اس گستاخ شاعر کو 2000 درہم دیے اور آزاد کر دیا...

حضور مسکرائے اور فرمایا علی میری بات سمجھ گئے...
افسوس ہے کہ تمہاری سمجھ میں نہیں آئی

وہ لوگ پریشان ہوکر یہ کہتے چل دیے کہ: یہی تو کہا تھا کہ زبان کاٹ دو ... علی نے تو کاٹی ہی نہیں...

اگلے دن صبح، فجر کی نماز کو جب گئے تو کیا دیکھتا ہے وہ شاعر وضو کررہا ہے.. پھر وہ مسجد میں جا کر حضرت محمد ص کے پاؤں چومنے لگتا ہے. جیب سے ایک پرچہ نکال کر کہتا ہے: حضور آپ کی شان میں نعت لکھ کر لایا ہوں...

اور یوں ہوا کہ حضرت علی نے گستاخ رسول کی گستاخ زبان کو کاٹ کر اسے مدحتِ رسالت والی زبان میں تبدیل کردیا۔

📚 حوالہ: دعائم الاسلام، جلد 2، صفحہ 323۔

🔘 جتنا ہو سکے اس پوسٹ کو شئر اور لائک کیجئے۔ شکریہ

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
📖 مطالعہ سے کیا ملتا ہے؟ 📖

*۔۔۔مطالعہ انسان کے لئے اخلاق کا معیار ہے۔(علامہ اقبالؒ )

*۔۔۔ بری صحبت سے تنہائی اچھی ہے، لیکن تنہائی سے پریشان ہو جانے کا اندیشہ ہے، اس لئے اچھی کتابوں کے مطالعے کی ضرورت ہے۔ (امام غزالیؒ )

*۔۔۔ تیل کے لئے پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے میں رات کو چوکیداروں کی قندیلوں کے پاس کھڑے ہوکر کتاب کا مطالعہ کرتا تھا۔ (حکیم ابو نصر فارابیؒ)

*۔۔۔ورزش سے جسم مضبوط ہوتا ہے اورمطالعے کی دماغ کے لئے وہی اہمیت ہے جو ورزش کی جسم کے لئے۔ (ایڈیسن)

*۔۔۔ مطالعہ سے انسان کی تکمیل ہوتی ہے۔ (بیکن)

*۔۔۔مطالعے کی عادت اختیار کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے گویا دنیا جہاں کے دکھوں سے بچنے کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ تیار کرلی ہے۔ (سمر سٹ ماہم)

*۔۔۔ تین دن بغیر مطالعہ گزار لینے کے بعد چوتھے روز گفتگو میں پھیکا پن آجاتا ہے۔ (چینی ضرب المثل)

*۔۔۔انسان قدرتی مناظر اورکتابوں کے مطالعے سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے
(سسرو)

*۔۔۔ مطالعے کی بدولت ایک طرف تمہاری معلومات میں اضافہ ہوگا اوردوسری طرف تمہاری شخصیت دلچسپ بن جائے گی۔ (وائٹی)

*۔۔۔دماغ کے لئے مطالعے کی وہی اہمیت ہے جو کنول کے لئے پانی کی۔ (تلسی داس)

*۔۔۔مطالعہ کسی سے اختلاف کرنے یا فصیح زبان میں گفتگو کرنے کی غرض سے نہ کرو بلکہ ’’تولنے‘‘ اور’’سوچنے‘‘کی خاطر کرو۔ (بیکن)

*۔۔۔جس طرح کئی قسم کے بیج کی کاشت کرنے سے زمین زرخیز ہو جاتی ہے، اسی طرح مختلف عنوانات پر کتابوں اور رسالوں وغیرہ کا مطالعہ انسان کے دماغ کو منور بنا دیتا ہے۔ (ملٹن)

*۔۔۔ جو نوجوان ایمانداری سے کچھ وقت مطالعے میں صرف کرتا ہے، تو اسے اپنے نتائج کے بارے میں بالکل متفکر نہ ہونا چاہئے۔ (ولیم جیمز)

*۔۔۔ مطالعے سے خلوت میں خوشی، تقریر میں زیبائش، ترتیب وتدوین میں استعداد اور تجربے میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ (بیکن)

*۔۔۔ وہ شخص نہایت ہی خوش نصیب ہے جس کو مطالعہ کا شوق ہے، لیکن جو فحش کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے اس سے وہ شخص اچھا ہے جس کو مطالعہ کا شوق نہیں۔ (میکالے)

*۔۔۔ مطالعہ ذہن کو جلا دینے کے لئے اوراس کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ (شیلے)

*۔۔۔ دنیا میں ایک باعزت اورذی علم قوم بننے کے لئے مطالعہ ضروری ہے مطالعہ میں جوہر انسانی کو اجاگر کرنے کا راز مضمر ہے۔ (گاندھی)

🔘 اکثر دیکھا گیا ہے کہ کتابوں کے مطالعہ نے انسان کے مستقبل کو سنوار دیا۔

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/1978
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🍷 کھانے پر الفاظ کا اثر 🍷

بڑا ہی دلچسپ مضمون ہے ۔ پڑھ کر حیرت کے ساتھ ساتھ فخر اور ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہوا۔ ہمارا دین ہمارا رب اور ہمارے مہربان نبی رحمۃ للعالمین صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے چودہ سو سال سے بھی پہلے ہمیں کیسی عظیم نعمتوں سے نوازا۔۔۔ سبحان الله

دم کرنے سے پانی میں شفا کیسے آتی ہے؟ سائنسی تحقیق۔

پانی کا اپنا نہ کوئی رنگ ہے نہ بو اور نہ ہی کوئی ٹھوس ماہیت، بلکہ پانی ہر چیز کے اثرات کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور جس چیز میں ڈالو وہی ماہیت اختیار کر لیتا ہے۔

ایک جاپانی سائنس دان Dr. Masaru Emoto نے پانی پر مختلف تجربے کیے جس کا احوال ان کی کتاب The hidden message in water میں بیان کیا گیا ہے، جس کا اردو ترجمہ محمد علی سید نے اپنی کتاب ’’پانی کے عجائبات‘‘ میں بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے، جسے پڑھ کر ہمیں شکر اور ناشکری کے الفاظ کے حیران کن اثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس جاپانی سائنس دان نے پانی کو اپنی لیبارٹری میں برف کے ذرات یعنی کرسٹلز کی شکل میں جمانے کا کام شروع کیا۔ اس مقصد کے لیے اس نے ڈسٹلڈ واٹر، نلکے کے پانی اور دریا اور جھیل کے پانیوں کے نمونے لیے اور انھیں برف کے ذرات یعنی Crystals کی شکل میں جمایا۔
اس تجربے سے اسے معلوم ہوا کہ پانی، اگر بالکل خالص ہو تو اس کے کرسٹل بہت خوبصورت بنتے ہیں لیکن اگر خالص نہ ہو تو کرسٹل سرے سے بنتے ہی نہیں یا بہت بدشکل بنتے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ ڈسٹلڈ واٹر سے (جو انجکشن میں استعمال ہوتا ہے) خوبصورت کرسٹل بنے، صاف پانی والی جھیل کے پانی سے بھی کرسٹل بنے لیکن نلکے کے پانی سے کرسٹل بالکل ہی نہیں بنے کیوں کہ اس میں کلورین اور دوسرے جراثیم کش اجزا شامل تھے۔

اس نے ایک اور تجربہ یہ کیا کہ ایک ہی پانی کو مختلف بوتلوں میں جمع کیا اور ہر بوتل کے سامنے مختلف قسم کی موسیقی بجائی. موسیقی کی ہر قسم سے کرسٹلز کی ایک نئی شکل بنتی گئی. مطلب پانی ہر موسیقی کا مختلف اثر لیتا گیا.

اس کے بعد اس نے ایک اور تجربہ کیا جس کے نتائج حیران کردینے والے تھے۔ اس نے شیشے کی سفید بوتلوں میں مختلف اقسام کے پانیوں کے نمونے جمع کیے۔
ڈسٹلڈ واٹر والی بوتل پر اس نے لکھا “You Fool” اور نلکے کے پانی والی بوتل پر لکھا “Thank You” یعنی خالص پانی کو حقارت آمیز جملے سے مخاطب کیا اور نلکے کے پانی کو شکر گزاری کے الفاظ سے اور ان دو بوتلوں کو لیبارٹری میں مختلف مقامات پر رکھ دیا۔ لیبارٹری کے تمام ملازمین سے کہا گیا جب اس بوتل کے پاس سے گزرو تو You Fool والی بوتل کے پانی کو دیکھ کر کہو “You Fool” اور “Thank You” والی بوتل کے پاس ٹھہر کر سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک جاؤ اور بڑی شکر گزاری کے ساتھ اس سے کہو “Thank You”۔
یہ عمل 25 دن جاری رہا۔ 25 ویں دن دونوں بوتلوں کے پانیوں کو برف بنانے کے عمل سے گزارا گیا۔ نتائج حیران کن تھے۔ ڈسٹلڈ واٹر سے (جو خالص پانی تھا اور اس سے پہلے اسی پانی سے بہت خوبصورت کرسٹل بنے تھے) کرسٹل تو بن گئے لیکن انتہائی بدشکل۔ ڈاکٹر اموٹو کے کہنے کے مطابق یہ کرسٹل اس پانی کے کرسٹل سے ملتے جلتے تھے جن پر ایک مرتبہ انھوں نے “SATAN” یعنی شیطان لکھ کر رکھ دیا تھا۔
نلکے والا پانی جس سے پہلے کرسٹل نہیں بنے تھے، اس مرتبہ اس پر ’’تھینک یو‘‘ لکھا ہوا تھا اور کئی لوگ 25 دن تک اس پانی کو دیکھ کر ’’تھینک یو‘‘ کہتے رہے تھے، اس پانی سے بہترین اور خوب صورت کرسٹل بن گئے تھے۔
اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ پانی باتوں کا بھی اثر لیتا ہے اور ویسی ہی ماہیت اپنا لیتا ہے. اچھی باتوں سے اچھی ماہیت اور بری باتوں سے بری۔

Thank you اور you fool
والا تجربہ کھانے کی چیزوں کے ساتھ بھی کیا گیا. ایک کیک کے دو پیس کاٹے گئے اور ایک کو Thank you کہا گیا اور دوسرے کو You fool. ایک بار پھر نتیجہ یہ نکلا کہ برے الفاظ والا کیک پیس اپنے نارمل وقت سے بھی بہت پہلے خراب ہو گیا جبکہ اچھے الفاظ والا کیک پیس اپنے نارمل وقت سے کافی زیادہ وقت تک تازہ اور ذائقہ دار رہا.

مطلب کھانے پینے کی ہر چیز الفاظ اور سوچ کا اثر لیتی ہے. ان تجربات سے ہمیں یہ بات سمجھ آئی کہ
جب ہم پانی پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھتے ہیں تو اس میں کس طرح برکت پیدا ہوتی ہے۔
کھانے پینے کی چیزوں پر سورہ فاتحہ یا کوئی بھی کلام پاک پڑھتے ہیں تو پانی کی ماہیت کس طرح تبدیل ہو کر پینے والے کو شفاء دیتی ہے۔

جب ہم روٹی کے ہر لقمے پر اللہ کا نام یا واجد پڑھ کر کھاتے ہیں تو وہ کس طرح ہمارے اندر نور پیدا کرتا ہے. سبحان اللہ

لیکن یہاں ایک اور تجزیہ بھی سامنے آتا ہے کہ ہم کھانے پینے کی اشیاء سامنے رکھ کر جو جو بولتے ہیں اور جو جو سوچتے ہیں ہمارے کھانے اس کا بھی اثر لیتے ہیں. منفی سوچ اور منفی باتوں کا برا اثر اور اچھی باتوں کا اچھا اثر۔

Copy

http://t.me/islamwitheman/1611
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌷میرا گھر🌷

ایک مستری کی کام سے بیزاری اور اکتاہٹ اپنی انتہاء پر تھی۔ اس سے پہلے کہ کوئی بدمزگی پیدا ہوتی، اس نے ٹھیکیدار کو جا کر اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔

ٹھیکیدار ایک رحم دل اور شفیق انسان تھا۔ اس کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک کاریگر تھا مگر اس مستری کی کچھ انوکھی ہی بات تھی۔ جہاں تک معاوضے اور دستور کے مطابق بودو باش کی سہولیات تھیں، ٹھیکیدار نے اسے ویسے ھی خوب نوازا ہوا تھا۔ اس مستری کی کام سے لگن اور محنت بھی قابل رشک تھی مگر ایک دن یہ بھی داغ مفارقت دے جائے گا، اس کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا تھا۔

ٹھیکیدار نے استعفیٰ لیتے ہوئے مستری سے کہا:
"جاتے جاتے ایک آخری مکان اپنے ہاتھ سے بنا کر دیتے جاؤ تو میں یہ استعفیٰ قبول کر لیتا ہوں۔"

بادل ناخواستہ مستری کو کہنا ماننا پڑا۔
مکان کی بے تکی بناوٹ، اکھڑے پلستر، کٹے پھٹے رنگ و روغن اور دروازے کھڑکیوں کے شکستہ کیل پرزوں کے ایک ایک زاویے سے مستری کی اکتاہٹ دکھائی دیتی تھی۔
صاف لگتا تھا کہ اس نے یہ کام فرض سمجھ کر نہیں کیا۔ جان چھڑانے کیلئے وبال سمجھ کر کیا هے۔ مکان کیا تھا کہ گویا چند برساتوں کی مار، اب گرا کہ تب گرا۔

ٹھیکیدار کو مکان کی چابیاں دیتے ہوئےجیسے ہی مستری نے اپنے استعفٰی کا مطالبہ دہرایا۔

ٹھیکیدار نے شفقت کے ساتھ چابیاں واپس مستری کو دیتے ہوئے کہا:
"میں تیرا استعفیٰ قبول کرتا ہوں اور یہ والا آخری مکان تیرے لئے میری طرف سے انعام هے!"

اب مستری دم بخود، حالت ایسی کہ جیسے بدن میں جان ہی نہیں۔
یا اللہ!
یہ کیا ہو گیا۔؟
میں نے کیوں اپنے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا۔
اگریہی مکان میرا مسکن بننا تھا تو میں نے اسے اچھا کیوں نہیں بنایا۔
لوگوں کی زندگیوں میں رنگ بھرتا رہا اورخود اپنے لیے یہ بدرنگی کر ڈالی، کاش! کاش! کاش!

مگر صرف حسرتیں تھیں۔!!!

🔘 کچھ ایسی ہی مثال ہماری زندگی میں کیے گئے اعمال اور خاص طور پر نماز کی ہوتی هے جس سے اللہ رب العزت تو بے نیاز هے۔
مگر ہم ان سب کو اچھا کرنے کے محتاج ہیں۔ انہی پر ہی ہماری عاقبت اور آخرت کا دارومدار ہوتا هے مگر ہم ہیں کہ جان چھڑاتے ہیں۔

لاکھ سمجھایا جاتا هے کہ اچھے طریقہ سے اپنا فرض ادا کرو،
اچھے طریقہ سے پیش کرو، سمجھ ہی نہیں آ رہی۔

کاش اس وقت سے پہلے سمجھ آ جائے جب صرف ندامت، شرمندگی اور پچھتاوا ہوگا۔

🗯 سوچیے گا ضرور 🗯


طالب دعا: خلیل جبران مھدی

http://t.me/islamwitheman/1859
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕