ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
📿 تسبیحات أربعہ پڑھنے کا ثواب 📿

بیان کیا جاتا ہے کہ مدینہ طیبہ کے کچھ غرباء وفد بنا کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور عرض کیا:

یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دولتمند افراد ہم سے نیکیوں میں آگے ہیں کیونکہ وہ غلاموں کو آزاد کر سکتے ہیں، صدقہ دیتے ہیں، حج ادا کر سکتے ہیں اور اس کے علاوه وہ بہت سے نیکی کے کام کر سکتے ہیں جبکہ ہم اپنی غربت کی وجہ سے ان میں سے کچھ بھی نہیں کر سکتے، لہٰذا ان کا اجر ہم سے زیادہ ہو رہا ہے۔

جناب پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:
🌹 تم میں سے جو شخص سو مرتبہ اللہ اکبر کہے گا تو اس کے نامہ اعمال میں ایک سو غلام آزاد کرنے سے زیادہ ثواب لکھا جاۓ گا۔

🌷 جو ایک سو مرتبہ سبحان اللہ کہے گا اس کو ایک سو حج سے زیادہ ثواب ملے گا۔

🌺 جو ایک سو مرتبہ الحمد لله کہے گا اسے اسلحہ سمیت ایک سو گھوڑے دینے سے بھی زیادہ ثواب ملے گا۔

🌸 اور جو ایک سو مرتبہ لا الہ الا اللہ کہے گا اس کا شمار قیامت کے دن بہترین افراد میں کیا جاۓ گا۔

🔘 جب مدینہ کے دولتمند لوگوں نے یہ حدیث سنی تو انہوں نے بھی اس پر عمل کرنا شروع کر دیا۔

مدینہ کے غرباء پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور عرض کیا: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دولتمندوں نے آپ کے فرمان پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے اور اب ہم کیا کریں؟

آپؐ نے فرمایا:
یہ اللہ تعالٰی کا لطف و کرم ہے وہ جسے چاہے عطا کرے۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔

📚 شنیدانی تاریخ ص١٨ـ
المحجۃالبیضاء ج٢ ص٢٧٤ـ

https://t.me/islamwitheman/24
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 علی علیہ السلام کی محبت 🔷

حضرت عمار بن یاسر سے روایت ہے کہ امیرالمومنین ع دارالقضاء میں تشریف فرما تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ مولا: میرا نام صفوان بن اکحل ہے اور میں آپ کا شیعہ ہوں اور مجھ پر گناہوں کا بوجھ ہے. آپ مجھے میرے گناہوں سے پاک کریں تاکہ آخرت کے عذاب سے محفوظ رہ سکوں.
مولا نے فرمایا جو گناہ تو نے کیا ہے اسکی تین سزائیں ہیں.
ان تینوں میں سے کسی ایک کا انتخاب تم خود کرو.
1-اگر چاہو تو میں تجھے ذوالفقار سے قتل کروں.
2-اگر چاہو تو تم پر اک دیوار گرا کر تجھے تیرے گناہوں سے پاک کر دوں.
3-اگر چاہو تو لکڑیوں کے ڈھیر پہ تجھے بٹھا کر آگ لگا دوں.
اس شخص نے کہا کہ مولا ان میں سے آگ میں جل کر مرنا سب سے مشکل ہے اور میں اس مشکل سزا کو ہی اپنے لیے منتخب کرتا ہوں.
حضرت نے فرمایا عمار! ایک ہزار لکڑیاں اکٹھی کرو اور کل میں اسے آگ میں جلاؤں گا.
پھر آپ نے اس شخص سے فرمایا کہ اب تم چلے جاؤ اور تمہیں جو وصیتیں کرنی مقصود ہوں وہ کر لو اور کل میرے پاس آ جانا. میں سزا کے ذریعے سے تجھے گناہوں سے پاک کر دوں گا.
وہ شخص اپنے گھر چلا گیا اور اس نے اپنی وصیتیں، نصیحتیں کیں اور اس نے اپنا مال اپنی اولاد میں شریعت کے مطابق تقسیم کیا- پھر دوسرے دن نمازِ فجر کے وقت واپس آ گیا.
مولا نے حضرت عمار یاسر کو کہا کہ تم شہر کوفہ میں اعلان کراؤ کہ لوگو!
آؤ اور اپنی آنکھوں سے دیکھو کہ علی اپنے گناہگار شیعہ کو کسطرح آگ میں جلاتا ہے.
حضرت عمار کا بیان ہے کہ اگلے دن اسی ٹائم کے مطابق لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہوا کہ دیکھیں علی اپنے شیعہ کو کیسے جلاتا ہے.
لوگ اکٹھے ہوے تو مولا نے فرمایا عمار لکڑیوں کو اکٹھا کرو.
لکڑیاں اکٹھی ہوئیں تو مولا نے کہا کہ جا ان لکڑیوں کے ڈھیر پہ بیٹھ جا. اس نے مولا کے قدم چومے اور جلتی ہوئی لکڑیوں میں چھلانگ لگا دی.
کسی نے کہا کہ یا علی آگ بہت زیادہ ہے اسکی ہڈیاں بھی جل کر راکھ ہو جائیں گی مہربانی کرو سزا ہو گئی اب اسکی لاش کو نکال لیں. علی مسکراتے رہے اور جواب نہ دیا.
کچھ دیر بعد آگ بجھی وہ بندہ صحیح سلامت آگ سے نمودار ہوا. لوگوں کے چہروں پہ موت کا سکتہ طاری ہو گیا کہ اس شخص کو آگ تو آگ اس کے کپڑوں کو بھی نہ جلا سکی. عمار نے مولا کے قدم پکڑے اور کہا مولا اس راز سے پردہ تو اٹھاؤ.
مولا نے کہا کہ اگر کوئی مجھے دل سےمان لے یہ آگ کیا دوزخ کی آگ بھی اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتی.

کتاب: معجزاتِ آلِ محمد

Copied...

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 مرجع کی عظمت اور مقام 🔷

یہاں پر ایک داستان واقعی پیش کی جارہی ہے جس سے شیعہ مرجعیت کی طاقت اور اس کی عظمت نکھر کر سامنے آتی ہے جس سے دشمن ھراساں ہے اور ایک سو سال سے شیعہ قوم کو اپنے علماء اور مراجع و حوزہ ھای علمیہ سے دور کرنے کے مختلف ھتکنڈے استعمال کر رہا ہے

جب تمباکو کی تجارت کے بہانے استعمار ایران میں پاؤں جمانا چاہا رہا تھا تو اس وقت کے مرجع تقلید حضرت آیة الله العظمی سید مرزا حسن شیرازی رضوان الله علیه نے فتوی دیا که
(ایران میں تمباکو نوشی یعنی حقہ پینا حرام ہے اور اس فتوی کی مخالفت امام وقت سے جنگ کے مترادف ہے)
ایرانی قوم نے اپنے مرجع کے فتوی پر لبیک کہی اور سارے بازاروں اور گھروں سے سب نے حقے توڑ دیے

شاہ ایران نے استعمار پیر سے معاملہ کیا تھا شاہ نے فتوی کی مخالفت کی اور حکم دیا که دربار میں حقے حاضر کیے جائیں لیکن نوکروں نے کہا کہ حقے تو توڑ دیے گئے ہیں شاہ کو غصہ آیا اور کہا کہ کس کے حکم سے حقے توڑے ہیں
شاہ کی بیوی برابر کے کمرے سے باہر نکلی اور کہا کہ ان نوکروں کو میں نے کہا تھا شاہ کو مزید غصہ آیا اور پوچھا کہ کس کے حکم سے ایسا کیا ہے
ملکہ نے جواب دیا جس کے حکم سے میں آپ پر حلال ہوئی ہوں اسی نے اس حقہ نوشی کو حرام کیا ہے
آپ ہماری دنیا کے بادشاہ ہیں مرزا شیرازی ہمارے دین کا باد شاہ ہے
ہمیں دین بچانا ہے دنیا نہیں بچانی
خلاصہ استعمار کا یہ منصوبہ ناکام ہوا اور اسے ایران سے ذلیل ہو کر واپس جانا پڑا جب
ہر طرف سے ایرانی عوام جشن منا رہی تھی کہ مرزا شیرازی کے ایک سطر کے فتوی نے کافر کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا ہے
ٹھیک اس وقت حضرت آیة الله مرزا شیرازی جو سامرہ میں رہتے تھے گڑگڑا کر رونے لگے لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا
دشمن اسلام قوت کا میرے فتوی کی وجه سے ایران سے شکست کھا کر واپس جانا مجھے پریشان کر رہا ہے
لوگوں نے عرض کی جناب اس میں رونے اور پریشانی کی کیا بات ہے

جناب مرزا نے جو جواب دیا اسی جواب کو سمجھانے کے لیے یہ تحریر لکھی ہے

حضرت نے فرمایا دشمن کو آج پہلی مرتبہ شیعہ مرجعیت کی طاقت کا اندازہ ہوا ہے اور اب یہ ایک لمحہ بھی خاموش نہیں بیٹھے گا ھمیشہ ملت تشیع کو مختلف بہانوں سے دور کرنے اور علماء و مرجعیت کے خلاف مصروف رہے گا

برادران مرزا کی تشویش سوفیصد درست تھی اور انقلاب ایران اور پھر سلیمان رشدی ملعون کے خلاف خمینی بت شکن کے فتوی نے دشمن کو اور فعال کر دیا ہے
ہماری صفوں میں ہمارے لباس میں اپنے بن کر دشمن کی سازش کو کمال تک پہنچا رہے ہیں
میں اپنے اس موقف پر ٹھوس ادله کے ساتھ باقی ہوں که ہر وہ آواز ہر وہ تحریر ہر وہ مشورہ اور ہر وہ عالم جس کی طرف سے کوئی ایسی حرکت سامنے آئے جو اس بات پر زور لگا رہی ہو که جس سے قوم اپنے علماء مراجع اور حوزہ ھای علمیہ سے دور یا متنفر ہوں وہ عالم اور وہ تحریر جانے یا ان جانے میں دشمن کی طرف سے ہے
ملت کا درد رکھنے والوں سے اپیل ہے کہ قوم اور مذہب کو ایسے فتنہ پر ور افراد کے دلربا ھتکنڈوں سے بچائیں جو قوم شیعہ کو قلم و بیان کے ذریعہ اپنے علماء سے دور کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔۔

🔵 تقلید کی ضرورت
https://t.me/islamwitheman/357

🔵 تقلید کیوں واجب ہے؟
https://t.me/islamwitheman/358

🔵 شرائط تقلید
https://t.me/islamwitheman/359

🔷 یہ مجتہد کہاں سے آ گئے؟
http://t.me/islamwitheman/1139

🔷 مرجع کی عظمت و مقام
https://t.me/islamwitheman/1936
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 عقیدت و محبت 🌹

کسی گاؤں میں ایک بڑھیا رہتی تھی، شدید سردی کا موسم تھا. ایک رات شدید طوفانی بارش اور اس پر شدید سردی اور رات کی تاریکی۔ بڑهیا نے باہر کسی پرندے کی کراہتی آواز سنی۔ لالٹین کی روشنی میں باہر دیکها تو ایک بڑا سا پرندہ قریب المرگ بے سدھ پڑا تھا. بڑهیا کو اس پہ بہت ترس آیا وہ جیسے کیسے باہر نکلی اور اس پرندے کو اٹها کر اندر لے آئی اور لا کر انگیٹھی کی تپش کے نزدیک رکھ دیا۔
بڑهیا کو اس پرندے پر بہت پیار بهی آیا. اس نے اس پرندے کے لمبے لمبے ناخن دیکھ کر افسوس کیا کی اتنا خوبصورت پرندہ ہے لیکن جسکے پاس یہ تھا اسنے اسکی قدر نہیں کی۔ اسکے ناخن ہی نہیں تراشے اور یوں اس نے اسکے ناخن تراش دیے۔
پھر اس نے اسکے لمبے لمبے پر دیکھے اور برابر کرنے کی غرض سے پر بھی کاٹ دیے۔ اتنے میں اس شاہین کے جسم میں انگیٹھی کی حرارت ملنے پر جان آنے لگی.
لیکن اب وہ شاہین نہیں تھا۔ اس بڑهیا کی عقیدت اور محبت نے اس شاہین کا امتیاز چهین لیا تها۔

شاہین کا کیا امتیاز ہے....؟
شاہین ایک تو بلند پرواز کرتا ہے اپنے ان پروں کے بل پہ. اور دوسرا اسکے لمبے اور مضبوط پنجے جس سے وہ شکار کو دبوچ لیتا ہے۔
اس بڑهیا کی عقیدت نے شاہین سے اسکی شاہین بازی، اسکا وقار، اسکی شان اور اسکا شکاری پن چهین لیا۔

اسکی عقیدت میں معرفت نہیں تهی۔

🔘 آج ہمارے معاشرے میں بھی ایسی عقیدتیں اور ایسے عقیدتمند موجود ہیں جو ہر غیر منطقی غیر شرعی و غیر دینی رسومات اور مناسک کو سرانجام دیتے ہیں اور پهر اسے عقیدت و عشق کا نام دے دیتے ہیں۔ چاہے اس سے دین و مکتب کتنا ہی بدنام کیوں نا ہورہا ہو.

خدا ایسی برائے نام اور بے معرفت عقیدت و محبت سے بچائے اور حقیقی معرفتِ دین عطا فرمائے۔ آمین۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💖 ہماری بیٹی کو خوش رکھنا!!! 💖

رخصتی ہونے سے پہلے سسر اس کے پاس آیا اور کہنے لگا بیٹا ہماری بیٹی کو خوش رکھنااا!!!!!

لفظ خوش جیسے بجلی بن کر گرا ہو اس پہ!!!
وہ سوچنے لگا جیسے اس سارے مجمع کے سامنے چلا کر کہے کیسی خوشی کونسی خوشی!!!!
خوشیوں کے لئے آپ نے کچھ چھوڑا ہے کیا!!!!
ایک متوسط طبقے کے نوجوان سے چھ تولے سونا، ڈیڑھ لاکھ مہر، بڑی بارات کا مطالبہ گاڑیوں کے خرچے۔۔ ڈیڑھ لاکھ دلہن کے کپڑے۔۔۔
ایک دن کا لہنگا جو دوسرے دن پہنا نہیں جا سکتا تیس ہزار کا۔۔۔ سر سے پیر تک اس کا جسم قرضے میں ڈوبا۔
شادی جیسے مقدس اور خوشی کے موقع پہ ہرآن انہی سوچوں میں غرق ذہنی الجھاؤ میں گھرا۔۔ اندر ہی اندر کڑھن کہاں سے دے گا وہ یہ سب!!!

ایک مہینے سے وہ ذلیل ہو رہا تھا۔ دوست احباب کے توسط سے کبھی زیور ادھار کبھی کپڑے، کبھی شادی کے دن کھانے کا سامان۔۔۔
جس دن ماں جی نے چھ تولے سونے کا کہا کہ وہ کہہ رہے ہیں۔ وہ تو اسی دن مکر جانا چاہتا تھا لیکن ماں جی کی آنکھوں میں اس کی خوشیوں کی چمک، بہو کا سہانا خواب۔
آہ سب نے تو اسے بے بس کر دیا تھا۔ حالانکہ ابھی قرض لیے کچھ دن ہوئے تھے، شادی ابھی باقی تھی لیکن دکانداروں کی نظریں اس پہ کہ کب ادھار کے پیسے دے گا۔ بازار سے گزرتے گردن اٹھانا محال تھا۔۔۔

وہ سوچ رہا تھا کہ پورے مجمع کے سامنے پوچھے کیا ہم اسی نبی کی امت ہیں جس نے نکاح جیسے مقدس بندھن میں بندھنے کے لئے اتنے لوازمات کی بجائے ایک غریب صحابی سے کہا
اگر کچھ نہیں ہے تو لوہے کی انگوٹھی ہی لے آؤ اور ایک صحابی کہ جو کچھ نہ رکھتے تھے کہا کہ کیا کچھ قرآن یاد ہے جواب دیا جی دس سورتیں۔
کہا یہی اس کا مہر ہے اسے سکھا دینا اور نکاح کرادیا۔
یہ تھی ہمارے اسلاف کی اتنی مختصر، سادہ شادیاں اور ایک ہم کہ شادی کرنے سے پہلے ایک عذاب سے گزرنا پڑتا ہے اور شادی کے بعد ایک نیا عذاب۔۔۔۔۔

کیا دے گا وہ خوشی جب وہ خود خوش نہ ہو گا۔ کیسے دے گا خوشی جب ادھار مانگنے والے ادھار مانگیں گے۔ جب روز اسے ذلت سے گزرنا ہو گا۔۔۔!!!!

ایک کوشش!!!!
صرف اتنا بتانے کی کہ بیٹیوں کی خوشیاں چاہییں تو انہیں اسلامی طرز سے اسلامی لوگوں میں بیاہیں۔
یہ مال و زر خوشیوں کا نعم البدل ہرگز نہیں ہو سکتااااا!!!!!..
ذرا نہیں پورا سوچیں!!!

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔵 نیک سیرت لوہار 🔵

عبداللہ طاہر جب خراسان کے گورنر تھے اور نیشاپور اس کا دارالحکومت تھا تو ایک لوہار شہر ہرات سے نیشاپور گیا اور چند دنوں تک وہاں کاروبار کیا۔ پھر اپنے اہل و عیال سے ملاقات کے لئے وطن لوٹنے کا ارادہ کیا اور رات کے پچھلے پہر سفر کرنا شروع کردیا۔ ان ہی دنوں عبد اللہ طاہر نے سپاہیوں کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ شہر کے راستوں کو محفوظ بنائیں تاکہ کسی مسافر کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔

اتفاق ایسا ہوا کہ سپاہیوں نے اسی رات چند چوروں کو گرفتار کیا اور امیر خراسان (عبد اللہ طاہر) کو اسکی خبر بھی پہنچا دی لیکن اچانک ان میں سے ایک چور بھاگ گیا۔ اب یہ گھبرائے اگر امیر کو معلوم ہوگیا کہ ایک چور بھاگ گیا ہے تو وہ ہمیں سزا دے گا۔ اتنے میں انہیں سفر کرتا ہوا یہ (لوہار) نظر آیا۔ انھوں نے اپنی جان بچانے کی خاطر اس بےگناہ شخص کوفوراً گرفتار کرلیا اور باقی چوروں کے ساتھ اسے بھی امیر کے سامنے پیش کردیا۔ امیرخراسان نے سمجھا کہ یہ سب چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں اس لئے مزید کسی تفتیش و تحقیق کے بغیر سب کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔

نیک سیرت لوہار سمجھ گیا کہ اب میرا معاملہ صرف اللہ جل شانہ کی بارگاہ سے ہی حل ہوسکتا ہے اور میرا مقصد اسی کے کرم سے حاصل ہوسکتا ہے لہٰذا اس نے وضو کیا اور قید خانہ کے ایک گوشہ میں نماز پڑھنا شروع کردی۔ ہر دو رکعت کی بعد سر سجدہ میں رکھ کر اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں رقت انگیز دعائیں اور دل سوز مناجات شروع کردیتا اور کہتا۔ ’’ اے میرے مالک! تو اچھی طرح جانتا ہے میں بےقصور ہوں‘‘۔ جب رات ہوئی تو عبد اللہ طاہر نے خواب دیکھا کہ چار بہادر اور طاقتور لوگ آئے اور سختی سے اس کے تخت کے چاروں پایوں کو پکڑکر اٹھایا اور الٹنے لگے اتنے میں اس کی نیند ٹوٹ گئی۔ اس نے فوراً لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھا۔ پھر وضو کیا اور اس احکم الحاکمین کی بارگاہ میں دو رکعت نماز ادا کی جس کی طرف ہر شاہ و گدا اپنی اپنی پریشانیوں کے وقت رجوع کرتے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ سویا تو پھر وہی خواب دیکھا اس طرح چار مرتبہ ہوا۔ ہر بار وہ یہی دیکھتا تھا کہ چاروں نوجوان اس کے تخت کے پایوں کو پکڑ کر اٹھاتے ہیں اور الٹنا چاہتے ہیں۔امیر خراسان عبد اللہ طاہر اس واقعہ سے گھبرا گئے اور انہیں یقین ہوگیا کہ ضرور اس میں کسی مظلوم کی آہ کا اثر ہے جیسا کہ کسی صاحب علم و دانش نے کہا ہے:
نکند صد ہزار تیر و تبر
آنچہ یک پیرہ زن کند بہ سحر
ای بسا نیزۂ عدد شکناں
ریزہ گشت از دعاے پیر زناں
یعنی لاکھوں تیر اور بھالے وہ کام نہیں کر سکتے جو کام ایک بڑھیا صبح کے وقت کردیتی ہے۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ دشمنوں سے مردانہ وار مقابلہ کرنے اور انہیں شکست دینے والے، بوڑھی عورتوں کی بد دعا سے تباہ وبرباد ہوگئے۔

امیر خراسان نے رات ہی میں جیلر کو بلوایا اور اس سے پوچھا کہ بتاؤ! تمہارے علم میں کوئی مظلوم شخص جیل میں بند تو نہیں کردیا گیا ہے؟ جیلر نے عرض کیا۔ عالیجاہ! میں یہ تو نہیں جانتا کہ مظلوم کون ہے لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ میں ایک شخص کو دیکھ رہا ہوں جو جیل میں نماز پڑھتا ہے اور رقت انگیز و دل سوز دعائیں کرتا ہے۔

امیر نے حکم دیا: اسے فوراً حاضر کیا جائے۔ جب وہ شخص امیر کے سامنے حاضر ہوا تو امیر نے اس کے معاملہ کی تحقیق کی۔ معلوم ہوا کہ وہ بے قصور ہے۔امیر نے اس شخص سے معذرت کی اور کہا: آپ میرے ساتھ تین کام کیجئے۔
نمبر۱۔ آپ مجھے معاف کردیں۔
نمبر۲۔ میری طرف سے ایک ہزار درہم قبول فرمائیں۔
نمبر۳۔ جب بھی آپ کو کسی قسم کی پریشانی درپیش ہو تو میرے پاس تشریف لائیں تاکہ میں آپ کی مدد کر سکوں۔

نیک سیرت لوہار نے کہا: آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ میں آپ کو معاف کردوں تو میں نے آپ کو معاف کردیا اور آپ نے جو یہ فرمایا کہ ایک ہزار درہم قبول کرلوں تو وہ بھی میں نے قبول کیا لیکن آپ نے جو یہ کہا ہے کہ جب مجھے کوئی مشکل درپیش ہو تو میں آپ کے پاس آؤں، یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔

امیر نے پوچھا: یہ کیوں نہیں ہوسکتا؟ تو اس شخص نے جواب دیا کہ وہ خالق و مالک جل جلالہ جو مجھ جیسے فقیر کے لئے آپ جیسے بادشاہ کا تخت ایک رات میں چار مرتبہ اوندھا کر سکتا ہے تو اسکو چھوڑ دینا اور اپنی ضرورت کسی دوسرے کے پاس لے جانا اصولِ بندگی کے خلاف ہے۔ میرا وہ کون سا کام ہے جو نماز پڑھنے سے پورا نہیں ہو جاتا کہ میں اسے غیر کے پاس لے جاؤں۔ یعنی جب میرا سارا کام نماز کی برکت سے پورا ہوجاتا ہے تو مجھے کسی اور کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے۔

📚 ریاض الناصحینص:۱۰۵،۱۰۴۔

https://t.me/islamwitheman/1855
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔵 نماز کیوں واجب کی گئی 🔵

حضرت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللّٰہ علیہا مسجد میں بیٹھے ہوئے نمازیوں کو یہ فرما رہی ہیں کہ تم لوگ کیا سمجھتے ہو نماز کیوں واجب کی گئی.؟

● کیا اس لیے کہ ہر دن ایک بار دو بار یا پانچ بار مسجد میں آکر جاے نماز پر کھڑے ہو کر کچھ حرکتیں انجام دے دیں اور اس کے بعد چلیں جائیں.؟

● بس نماز صرف یہی ہے.؟

● کیا حقیقت نماز صرف یہی ہے.؟

● کیا خدا کو اس طرح کی نمازوں کی ضرورت ہے.؟

_ایسی نماز تو ہمارے دین میں نہیں پائی جاتی ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ خدا ہماری عبادت، ہمارے نماز، روزے، حج و زکات سے بے نیاز ہے۔_

● پس کیوں نماز واجب ہوئی ہے.؟

_خداوند عالم نے نماز کو واجب کیا ہے تاکہ لوگوں کے اندر اطاعت اور بندگی کا سلیقہ پیدا ہو ان کے اندر بندگی کی روح پیدا ہو۔_

_نماز کا فلسفہ یہ ہے جو قرآن نے بیان کیا ہے نماز انسان کو ہر طرح کی برائی سے روکتی ہے یعنی اس کے اندر خدا کی اطاعت اور بندگی کی روح پیدا کرتی ہے یہ جو حدیث میں آیا ہے کہ نماز مومن کی معراج ہے اور خدا سے تقرب کا ذریعہ ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ اس سے انسان اللّٰہ کا واقعی بندہ بن جاتا ہے۔_

● _اب ہمیں اپنے اندر جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کیا ہماری نمازیں ہمیں گناہوں سے روکتی ہیں کیا.؟_

_جب ہم نماز پڑھتے ہیں تو ہمارے اندر گناہوں سے دور ہونے کا محرک پیدا ہوتا ہے اگر نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری نمازیں بھی چند حرکتیں ہیں ورزش ہے نماز نہیں ہے۔_

_حضرت زہرا سلام اللّٰہ علیہا اس امت کی طرف دیکھ رہی ہیں کہ یہ نمازیں پڑھ رہی ہے لیکن کیا یہ پیغمبر اسلامﷺ کے دیگر فرامین پر بھی عمل پیرا ہو رہی ہے۔_

● _رسول خداﷺ نے جو علی علیہ السلام کے بارے میں وصیت کی تھی کیا اس کو انہوں نے نہیں سنا ہے.؟_

● _کیا یہ لوگ کل تک رسول خداﷺ کے ساتھ ساتھ نہیں چل رہے تھے.؟_

*_کیا انہوں نے نہیں سنا کہ آپ نے فرمایا..!_* _«الساکِتُ عَنِ الحَقِّ شَیطانٌ أخرَسٌ"_

*_جو شخص حق بات کہنے پر خاموش ہو جائے وہ گونگا شیطان ہے۔_*

● _کیا انہوں نے ان باتوں کو رسول اسلام سے نہیں سنا تھا.؟_

● _کیسے انہوں نے اجازت سے دی ان کی آنکھوں کے سامنے حق اہل حق سے چھن جائے.؟_

● _ابھی تو حجۃ الواع اور اعلان ولایت امیر المومنین علیہ السلام کو چار ہی مہینے گزرے تھے کیا یہ لوگ بھول گئے.؟_

● _یاخود کو فراموشی میں ڈال دیا ہے.؟_

● _یا چپ ساد لی ہے.؟_

● _مگر ایسا نہیں ہے جو حق بات کہنے کے بجائے چپ ساد لے وہ گونگا شیطان ہے.؟_

● _کیوں ان کی نمازوں، عبادتوں، حج و دیگر اعمال نے انہیں حق کی حمایت کرنے سے روک دیا.؟_

_اس لیے کہ عبادت ان کے لیے عادت بن چکی تھی ان کی عبادتیں اپنی اصلیت کو کھو چکی تھیں وہ صرف نماز کی شکل میں حرکات انجام دے کر چلے جاتے تھے۔_

_📚 تفسیرازخطبہ فدک،_
_(از العلامہ استاد السید جواد نقوی دام ظلہ الوارف)_

_*اﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠَﻰ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭﺁﻝِ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭﻋَﺠِّﻞْ ﻓَﺮَﺟَﻬُﻢْ ﺍﻟْﻌَﺠَــﻞَ ﺍﻟْﻌَﺠَــﻞَ ﻳَﺎﻣَـــــﻮْﻟَﺎﻱَ ﻳَﺎﺻَــﺎﺣِﺐَ ﺍﻟـــﺰَّﻣَﺎﻥِ ﺃَﺩْﺭِﮐْﻨِـــﯽ ﺍﻟْﻌَﺠَــﻞَ*_

https://t.me/islamwitheman/1949
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 پانچ شیعہ 🔷

مامون رقی کہتے ہیں کہ میں ایک دن امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ سہل بن حسن خراسانی امام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کر کے بیٹھ گئے اور امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: مولا آپ رحیم و کریم خاندان کے فرد ہیں، امامت آپ کا حق ہے پھر کیا وجہ ہے کہ آپ اپنے حق کے لئے جنگ نہیں کرتے جبکہ اس وقت آپ کے لاکھوں عقیدت مند موجود ہیں اور ہزاروں شرربار تلواريں آپ کی نصرت کے لئے حاضر ہیں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا ابھی بیٹھو تھوڑی دیر بعد تمہیں جواب دونگا۔
پھر آپ علیہ السلام نے کنیز کو حکم دیا کہ تنور کو روشن کیا جائے، جب تنور روشن ہوگیا اور آگ سے بھر گیا تو آپ علیہ السلام نے سہل سے فرمایا اس تنور میں جا کر بیٹھ جاؤ، سہل خراسانی یہ حکم سن کر پریشان ہوا اور معذرت طلب کی۔

اس دوران ہارون مکی امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، امام علیہ السلام نے فرمایا ہارون جوتی باہر رکھ دو اور تنور میں جاکر بیٹھ جاؤ۔
ہارون نے فوراً آپ علیہ السلام کے حکم کی تعمیل کی، جیسے ہی ہارون تنور میں جاکر بیٹھے تو آپ علیہ السلام نے اوپر سے تنور کا منہ بند کروا دیا اور سہل سے خراسان کے متعلق کافی دیر تک گفتگو کرتے رہے پھر آپ علیہ السلام نے خراسانی سے فرمایا ذرا تنور کے پاس جاؤ اور ہارون کا حال ملاحظہ کرو۔
سہل تیزی سے تنور پر آئے اور جیسے ہی ڈھکن اٹھایا تو ہارون کو عجب حال میں پایا، ہارون ایک سرسبز باغیچہ میں بیٹھے ہوئے تھے، تنور کا منہ کھلتے ہی ہارون باہر آگئے۔

امام علیہ السلام نے سہل خراسانی سے پوچھا خراسان میں ایسے افراد کی کتنی تعداد ہے؟
سہل نے کہا کہ خدا کی قسم ایک بھی نہیں۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جب اس طرح کے ہمیں پانچ افراد مل جائیں گے تو ہم اپنے حق کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے ہم بہتر جانتے ہیں کہ ہمیں کب قیام کرنا ہے۔

📚 حکایتھائی شنیدانی، ج٤، ص٦٥۔
سفینۃالبحار، ج٢، ص٧١٤۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔵 یہودی 🔵

● خداوند تعالٰی فرماتا ہے؛
"لتجدن اشدالناس عداوة للذين آمنوا الیہود والذين اشرکوآ۔"
ترجمہ:
یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ تم مؤمنوں کے سب سے زیادہ دشمن یہودی اور مشرکوں کو ہی پاؤ گے۔
(سورہ مائدہ: 82)

● رسول اکرمؐ فرماتے ہیں؛
"لا تشبھوا بالیھود"
ترجمہ:
اپنے آپ کو یہودی کے مشابہہ نہ کرو۔
(نہج الفصاحہ، ص142)

■ جرم پر راضی
محمد بن ارقط کہتا ہے کہ امام صادقؑ نے مجھ سے فرمایا: تم جو کوفہ آتے جاتے رہتے ہو کیا وہاں امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کو دیکھتے ہو؟

عرض کی: ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچا، سب مر چکے ہیں۔

فرمایا: کیا تمہاری نظر میں قاتل صرف وہ ہے جو کسی شخص کو قتل کرے؟ یا وہ بھی قاتل ہے جو قتل کا سبب بنے؟ کیا تم نے خداوند کا فرمان قرآن مجید میں نہیں پڑھا کہ پیغمبر اکرمؐ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: زمانے کے یہودیوں سے کہہ دو کہ مجھ سے پہلے بھی پیغمبر روشن دلائل کے ساتھ آئے ہیں۔ جو کچھ تم نے کہا وہ لائے ہیں۔ اگر تم سچے ہو تو پھر کیوں ان کو قتل کرتے رہے ہو؟ (سورہ آلعمران؛ 183)

پیغمبر اکرمؐ کے زمانے کے یہودیوں نے کسی پیغمبر کو قتل نہ کیا تھا۔ کیونکہ حضرت عیسٰیؑ کے زمانے سے حضرت پیغمبر اکرمؐ کے زمانے تک کوئی پیغمبر نہ تھا جبکہ مذکورہ بالا آیات میں پیغمبر آخرالزمانؐ کے زمانے کے یہودیوں کو قاتل کہا جا رہا ہے۔ وہ اس لئے کہ وہ بھی اپنے آباؤاجداد کے طریقہ کار پر باقی تھے۔ اس بنا پر کوفہ میں وہ لوگ جو امام حسین علیہ السلام کے بارے میں اپنے آباؤاجداد کے عمل اور طریقہ کار پر راضی ہیں، وہ بھی قاتل شمار کئے جائیں گے۔
(وسائل الشیعہ 412/11)

■ یہودی کی شرمندگی
ایک یہودی امیرالمؤمنینؑ کے پاس آیا اور مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے: محمدؐ کہتا ہے ہر انار میں ایک دانہ جنت کا دانہ ہوتا ہے۔ میں نے ابھی پورا ایک عدد انار کھایا ہے اور محمدؐ کے کہے کے مطابق میں جوکہ کافر ہوں، میں نے بھی جنت سے آئے ہوئے انار کے دانوں میں سے ایک دانہ کھا لیا ہے۔ پس میں بھی اہل جنت میں سے ہو گیا ہوں۔

امامؑ نے فرمایا؛ رسولِخداؐ نے سچ فرمایا ہے۔ اسی وقت امامؑ نے انار کا ایک دانہ جو اس یہودی کی داڑھی میں پھنسا ہوا تھا اسے ہاتھ مار کر گرا دیا۔ پھر بڑھ کر اسے اٹھا لیا۔ اور فرمایا؛ خدا کا شکر ہے کہ کافر نے اسے نہیں کھایا۔
وہ یہودی شرمندگی کے مارے وہاں سے چلتا بنا۔
(بحارالانوار، 300/41)

■ پچاس یہودی
جب امیرالمؤمنینؑ نے زمام خلافت کو سنبھالا تو ایک دن نخیلہ میں (کوفہ کے قریب) پچاس یہودی ان سے ملاقات کے لئے آئے۔ عرض کی؛ ہم نے اپنی کتابوں میں دیکھا ہے کہ ایک بہت بڑے پتھر پر سات پیغمبروں کا نام لکھا ہوا ہے۔ وہ پتھر اسی سرزمین میں ہے۔ لیکن ہم نے بہت جستجو کی ہے، ہم تلاش نہیں کر سکے۔ کیا آپ اس جگہ کو جانتے ہیں؟

امامؑ ان کے ہمراہ نخیلہ سے باہر آئے۔ چند قدم چلنے کے بعد ریت کے ایک ٹیلے پر پہنچے، فرمایا؛ وہ پتھر یہاں اس ریت کے نیچے ہے۔ انہوں نے کہا؛ اس پتھر کو نکالنے کے لیے ہم اتنی زیادہ ریت کو یہاں سے نہیں ہٹا سکتے۔ امامؑ نے حق تعالٰی سے مدد طلب کی تاکہ وہ ریت وہاں سے ہٹ جائے۔ پس تیز ہوا چلی اور وہاں سے ریت ہٹ گئی اور پتھر ظاہر ہو گیا۔ امامؑ نے فرمایا؛ انبیاء کے نام پتھر کے دوسری طرف ہیں جوکہ زمین کی طرف ہے۔

یہودیوں نے ہتھوڑے اور بیلچوں کے ساتھ بہت کوشش کی لیکن تھوڑی ہی دیر میں وہ تھک ہار کر بیٹھ گئے۔ امامؑ نے اپنے طاقتور بازو کے زور پر پتھر کو اپنی جگہ سے پلٹ دیا۔ جس کی وجہ سے سات انبیاء کرام کے نام ظاہر ہو گئے۔

یہودیوں نے دیکھا کہ حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسٰیؑ، حضرت داؤدؑ، حضرت سلیمانؑ، حضرت عیسٰیؑ اور حضرت محمدؐ کا نام کندہ تھا۔ ان پچاس یہودیوں نے وہیں اسلام قبول کر لیا۔
(ناسخ التواریخ 69/5)

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

📚 نقل از کتاب سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص390 تا 392۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌸 ہدیہ (تحفہ) 🌸

● خداوند تعالٰی فرماتا ہے؛
و انی مرسلة الیھم بھدیة فناظرة بم یرجع المرسلون¤
ترجمہ؛
(ملکہ بلقیس نے اپنی حکومت کے عہدیداروں سے کہا:) میں ان (حضرت سلیمانؑ) کے لیے قیمتی تحائف بھیجتی ہوں تاکہ دیکھوں کہ ہمارے بھیجے ہوئے کیا خبر لاتے ہیں۔
(سورہ نمل؛ 35)

● امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں؛
"ما استسل سخیمة الغضبان و لا استمیل المھجور و لا استدفعت الشرور بمثل الھدیة۔"
ترجمہ؛
"غصے سے بھرے افراد کا غصہ دور کرنے کے لیے، علیحدہ ہو چکے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اور شرارتی لوگوں کے شر سے بچنے کے لئے تحفہ کے علاوہ کوئی چیز کارآمد نہیں ہے۔"
(غررالحکم، 581/2)

■ بیمار کے لیے تحفہ
امام صادق علیہ السلام کے ایک خادم کہتے ہیں؛ امامؑ کے خدمتگاروں میں سے ایک خادم بیمار ہو گیا تھا۔ ہم کچھ خادم اس کی عیادت کے لیے گئے۔ راستے میں کسی ایک گلی میں ہمارا امام صادقؑ سے سامنا ہو گیا۔ امامؑ نے پوچھا؛ کہاں جا رہے ہیں؟ ہم نے بتایا کہ فلاں خادم بیمار ہے اس کی عیادت کے لیے جا رہے ہیں۔
فرمایا؛ کیا کوئی سیب، پھول، عطر یا کوئی خوشبو تم ساتھ لے جا رہے ہو؟ ہم نے کہا؛ نہیں۔
فرمایا؛ کیا نہیں جانتے ہو کہ اگر بیمار کے لیے کوئی تحفہ لے کر جائیں تو وہ خوش ہوتا ہے اور آرام و سکون کا احساس کرتا ہے۔
(محجةالبیضاء 11/3)

■ چیونٹی اور مچھر کی ٹانگ
حضرت سلیمانؑ نے عام لوگوں اور بزرگوں کو ایک محفل میں دعوت دی۔ طے پایا کہ ہر کوئی تحفہ لے کر جائے گا۔ ہر آنے والا اپنے ساتھ تحفہ لا رہا تھا۔ ایک بوڑھی سی چیونٹی بھی منہ میں مچھر کا پاؤں دبائے جناب سلیمانؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔
جناب سلیمانؑ نے یہ تحفہ قبول کر لیا اور خزانہ دار کو بلا کر یہ تحفہ اس کے حوالے کیا۔ اس نے عرض کی؛ آپؑ بلقیس کی طرف سے بھیجا ہوا عظیم الشان، قیمتی طلائی اینٹوں سے بنا ہوا، سو غلام طلائی کمربند کے ہمراہ بھیجا ہوا تحفہ قبول نہیں کرتے، لیکن اب ایک مچھر کی ٹانگ جو یہ بوڑھی چیونٹی آپ کے لئے لائی ہے اسے آپ نے قبول کر لیا ہے اور اسے حفاظت کے لیے اپنے خزانہ دار کے حوالے کر رہے ہیں۔ آخر کیا ماجرا ہے؟

فرمایا؛ ہم فقیروں اور درویشوں کے غریبانہ تحفے کو قبول کرنے میں کوئی عیب نہیں سمجھتے۔ ہم انہیں قبول کرتے ہیں۔ اور ہمارا خزانہ مال دار لوگوں کے مال کا محتاج نہیں ہے۔
(رہنمائے سعادت، 577/3)

■ حدیث کے راوی کے لئے تحفہ
سید حمیری کوفہ کے ایک بزرگ آدمی کی خدمت سے واپس آ رہے تھے۔ اس بزرگ آدمی نے ان کو گھوڑا اور انتہائی قیمتی خلعت تحفہ کے طور پر دی تھی۔

سید حمیری نے کوفہ کے لوگوں کی طرف منہ کیا اور کہا؛ اے لوگو! اگر کوئی امیرالمؤمنینؑ کی فضیلت میں مجھے کوئی حدیث سنائے گا، جس کے بارے میں میں نے کوئی شعر نہ کہا ہو تو یہ گھوڑا اور قیمتی خلعت میں اسے تحفہ کے طور پر دوں گا۔

ایک آدمی اٹھا اس نے ایک حدیث بیان کی: ایک دن امیرالمؤمنینؑ گھوڑے پر سوار ہونا چاہتے تھے، سفر کے لیے لباس زیب تن کیا، جوتے کا ایک پاؤں پہنا اور جب دوسرا پاؤں پہننا چاہتے تھے تو اچانک ایک عقاب آسمان سے آیا اور وہ جوتے کا پاؤں اپنی چونچ میں پکڑ کر لے گیا۔ اوپر جا کر اس نے چھوڑ دیا۔ جب جوتے کا دوسرا پاؤں زمین پر گرا تو اس میں سے ایک سانپ نکلا اور بھاگ کر ایک سوراخ میں چلا گیا۔ پھر امیرالمؤمنینؑ نے جوتے کا دوسرا پاؤں بھی پہن لیا۔

سید حمیری نے اس پر کوئی شعر نہیں کہا تھا۔ لہذا اس فضیلت کو سننے کے بعد اس پر اس نے اشعار کہے۔ اور وعدے کے مطابق گھوڑا اور خلعت اس آدمی کو ہدیہ کر دیا۔ اس کے علاوہ اس کے اپنے پاس بھی جو کچھ تھا وہ بھی دے دیا۔
(الغدير، 94/4)

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

📚 نقل از کتاب سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص375، 376۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 وفائے عہد 🌹

● خداوند تعالٰی فرماتا ہے؛
واوفوا العھد ان العھد کان مسئولا¤
اپنے عہد کو وفا کرو کہ عہد و پیمان کے بارے میں سوال ہو گا۔
(سورہ الإسراء؛ 34)

● امام علیؑ فرماتے ہیں؛
"لا تعتمد علی مودة من لا یُوفی بعھدہ۔"
جو اپنے وعدے سے وفا نہیں کرتا اسکی دوستی پر اعتماد نہ کرو۔
(غررالحکم، 555/2)

■ باوفا آدمی
حجاج بن یوسف کے زمانے میں جن لوگوں نے اسکے خلاف بغاوت کی تھی، انکو گرفتار کرکے حد جاری کی جارہی تھی۔ اچانک مؤذن کی آواز بلندہوئی۔ مجرموں میں سے ابھی ایک زندہ تھا، حجاج نے اسے اپنے دربان عتبہ کے حوالے کیا اور کہا؛ اسے کل میرے پاس لے کر آؤ۔

عتبہ کہتا ہے کہ جب حجاج وہاں سے چلا گیا تو وہ مجرم کہتا ہے کیا تم میں کوئی خیرو نیکی ہے؟ میں نے کہا؛ کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟ بولا؛ میں نے کسی مسلمان کے خلاف جنگ نہیں کی، میرے ساتھ نیکی کرو کہ مجھے اجازت دو، میں اپنے اہل وعیال کے پاس چلاجاؤں اور انکو وصیت کروں اور صبح ہونےسے پہلے واپس آجاؤں۔

عتبہ کہتا ہے میں اسکی طرف سے منت سماجت کرنے پر ہنستارہا۔ وہ مسلسل درخواست کرتارہا، آخرمیرا دل نرم پڑگیا، مجھے اس پر رحم آگیا۔ میں نےکہا؛ کیا تم اپنے وعدے کو وفا کروگے یامیرے ساتھ اداکاری کررہے ہو؟ اس نے قسم کھائی کہ میں وعدہ کرتا ہوں صبح ہونے سے پہلے واپس آجاؤں گا تاکہ تم مجھے حاکم کے پاس لےجاؤ۔

عتبہ کہتا ہے اس رات میں سو نہ سکا اور بستر پرکروٹیں بدلتارہا جیسے کسی سانپ کا ڈسا ہوتاہے۔ میں دل میں کہہ رہاتھا اگر وہ نہ آیا تو حجاج مجھے قتل کردیگا۔ لیکن وہ آدمی صبح ہونے سے پہلے آگیا اور کہنےلگا میں نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے۔

میں نے تعجب کیا، میں اسے حجاج کے پاس لےگیا اور واقعہ حجاج کے سامنے بیان کیا۔ حجاج نے اس آدمی کی وفا کرنے کیوجہ سے مجھ سے کہا؛ اگر تم کہو تو یہ آدمی تمہیں بخش دوں۔ میں نے کہا؛ یہ آپکی کرامت نفس ہے۔ حجاج نے اسے مجھے بخش دیا۔ اور میں نے اسے آزاد کردیا۔ لیکن اس نے میرا شکریہ ادا نہ کیا۔ میں نے سوچا یقیناً وہ احمق ہے۔
اگلے دن وہ آدمی آیا، معذرت کی اور کہا؛ کل اس آزادی پر پہلے خدا کا شکر ادا کرنا چاہتا تھا اسلیے آج تمھارا شکر ادا کرنے آیاہوں۔
(رہنمائے سعادت، 644/3۔ تاریخ مجدی)

■ اسماء شادی کی رات
حضرت خدیجہؑ کی زندگی کے آخری ایام میں جب وہ بسترِ بیماری پر تھیں، اسماء بنت عمیس انکی عیادت کرنے آئیں۔
حضرت خدیجہؑ کو روتےہوئے دیکھا، پوچھا: آپ روکیوں رہی ہیں، آپکا شمار تو بہترین عورتوں میں ہوتاہے، آپ پیغمبرؐ کی زوجہ ہیں، آپکو جنت کی بشارت دی گئی ہے اور آپ نے اپنی تمام دولت خدا کی راہ میں بخش دی ہے۔
فرمایا؛ ہرعورت کو شب زفاف میں ماں کی ضرورت ہوتی ہے، میری فاطمہ ابھی چھوٹی ہے، ڈرتی ہوں میرے مرنے کیبعد کوئی نہ ہوجو اسکے کاموں کی ذمہ داری اٹھائے۔ اسماء نے کہا: میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ اگر فاطمہ کی شادی تک میں زندہ ہوئی تو آپکی جگہ انکے کاموں کی ذمہ داری اٹھاؤں گی۔

اسماء کہتی ہیں: حضرت زھراءؑ کی شادی کی رات پیغمبرؐ نے فرمایا؛ سب عورتیں باہرچلی جائیں، میں رک گئی۔ پیغمبرؐ نے دیکھا کہ میں نہیں گئی، فرمایا؛ میں نے کہا نہیں کہ سب باہر چلےجائیں؟ عرض کی؛ میں نے خدیجہ سے وعدہ کیاتھا کہ ایسی رات میں فاطمہ کیلئے ماں کا کردار ادا کرونگی اور اب میرا وعدہ وفا کرنے کا وقت آگیا ہے۔
پیغمبرؐ نے گریہ کیا اور اپنے ہاتھ اٹھاکر میرے لئے دعاکی۔
(پند تاریخ 22/2۔ شجرہ طوبٰی)

■ مال کثیرکی نذر
عباسی خلیفہ مامون بیمار ہوگیا۔ اس نے نذر کی کہ اگر وہ صحتیاب ہوگیا تو مال کثیر صدقہ دیگا۔ جب وہ صحتمند ہوگیا تو اپنی نذر وفا کرنا چاہتاتھا لیکن اسے یہ معلوم نہ ہوسکا کہ مال کثیر کتناہے۔

اس نے تمام علماء کوحاضر کیا اور اس کا حل پوچھا کہ مال کثیر کی کیا مقدار ہو گی؟ ہرکوئی الگ بات کررہا تھا۔ کوئی کہتا دس ہزار۔ کوئی کہتا ایک لاکھ دینار۔ مامون کو انکی باتوں سے اطمینان حاصل نہ ہوا۔
مامون نے امام رضا علیہ السلام سے سوال کیا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا؛ تراسی (83) دینار کو فقراء میں تقسیم کردو تمھاری نذر وفا ہو جائیگی۔ علماء نے محفل میں اعتراض کرنا شروع کردیا۔ کہا؛ یہ کیا بات ہوئی، 83 دینار کیوں؟ اس کی کیا وجہ ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا؛ خداوند تعالٰی قرآن پاک میں اپنے رسول اور انکے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"لقد نصرکم الله فی مواطن کثیرة۔"
بتحقيق الله نے آپکی مواطن کثیر میں مدد کی۔ (سورہ توبہ؛ 25)
جیسا کہ تاریخ میں لکھا گیا ہے مواطن کثیر 83 غزوات اور جنگیں ہیں۔ جو پیغمبر اکرمؐ اور صحابہ نے اسلام کی خاطر لڑی ہیں۔ سب علماء یک زبان آفرین کرنے لگے اور داد و تحسین کہنے لگے۔ مامون کو بھی اطمینان ہو گیا۔ یوں اس نے اپنی نذر کو پورا کیا اور 83 دینار طلا فقراء میں تقسیم کئے۔
(لطائف طوائف، ص54)

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

📚 نقل از کتاب سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص371 تا 374۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌼 وصیت 🌼

● خداوند تعالٰی فرماتا ہے:
کُتِبَ علیکم اذا حضر احدکم الموت ان ترک خیرا الوصیة للوالدين والاقربین بالمعروف حقا علی المتقين¤
ترجمہ:
تمھارے لیے لکھا جا چکا ہے کہ تم میں سے کسی کو جب موت آئے تو اگر تمھاری کوئی چیز یا مال باقی ہے، اس کو اپنے باپ، اپنی ماں، اور اپنے قریبیوں کے لئے اچھے طریقے سے وصیت کرو۔ یہ پرہیزگاروں پر حق ہے۔
(سورہ بقرہ: 180)

● رسول اکرمؐ نے فرمایا:
"من لم یحسن الوصیة عند موتہ کان نقصا فی عقلہ و مروتہ"
ترجمہ:
جو کوئی موت کے وقت اچھی وصیت نہ کرے اس کی عقل اور مروت اخلاقی میں کمی واقع ہوتی ہے۔
(بحارالانوار، 194/102)

■ بےجا وصیت
پیغمبر اکرمؐ کا زمانہ تھا۔ ایک مسلمان کی چند بیٹیاں تھیں۔ مال دنیا میں سے اس کے پاس سوائے چھ عدد غلاموں کے کچھ نہ تھا۔
وہ بیماری کی وجہ سے بستر پر پڑ گیا۔ جب اسے موت کا احساس ہوا تو اس نے ثواب کی خاطر سوچا کہ اپنی کل دنیا جوکہ چھ عدد غلام ہیں انہیں اللہ کی راہ میں آزاد کردے جوکہ اس کے مرنے کے بعد سب آزاد ہو جائیں گے۔ پھر وہ مر گیا اور سب غلام آزاد ہو گئے۔

اس کے مرنے کے بعد جب اسے دفن کر چکے۔ اس بات کی خبر پیغمبر اکرمؐ کو دی گئی کہ فلاں مسلمان نے ایسی وصیت کی تھی۔ اس نے اپنے بچوں کے لئے کچھ نہیں چھوڑا۔
پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا؛ اس کے جنازے کے ساتھ تم نے کیا کیا؟ عرض کی؛ اسے دفن کر دیا۔ فرمایا اگر مجھے پہلے بتایا گیا ہوتا تو میں اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کرنے دیتا۔ کیونکہ اس نے اپنے بچوں کو اپنے مال سے حصہ نہیں دیا اور ان کو فقیر بنا دیا ہے تاکہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔
(سو موضوع پانچ سو داستان، ج2،ص367)

■ پانچ افراد کے نام وصیت
ابوایوب جوزی کہتا ہے: آدھی رات کے وقت منصور دوانیقی نے مجھے بلایا۔ جب میں اس کے پاس پہنچا میں نے دیکھا کہ تخت پر بیٹھا ہے اس کے پاس ایک شمع روشن ہے اور ایک خط اس کے ہاتھ میں ہے، جسے وہ پڑھ رہا ہے۔ جیسے ہی میں نے سلام کیا، اس خط کو میرے سامنے پھینک دیا اور روتے ہوئے کہتا ہے:
یہ محمد بن سليمان کا خط ہے جس میں مدینہ سے امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی وفات کی خبر لکھی ہے۔ پھر تین بار انا لله وانا الیہ راجعون کہا۔ اس کے بعد بولا: جعفرؑ جیسا پھر کہاں پیدا ہو گا۔
مجھ سے کہا کہ مدینہ کے والی کے نام خط لکھو۔ اگر امام صادقؑ نے کسی کو اپنا وصی بنایا ہے تو اس کی گردن کاٹ ڈالو۔
کچھ دنوں بعد مدینہ سے خط کا جواب آیا کہ امام صادقؑ نے پانچ افراد کو اپنا وصی قرار دیا ہے۔ جس میں خلیفہ، محمد سلیمان والئ مدینہ، دو بیٹے عبداللہ و موسٰیؑ اور موسٰیؑ کی والدہ حمیدہ شامل ہیں۔ منصور نے یہ خط پڑھا اور کہا: ان کو تو قتل نہیں کیا جا سکتا۔

امامؑ جانتے تھے کہ منصور ہمارے وصی کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے پانچ افراد کو اپنا وصی مقرر فرمایا۔ سب سے پہلے خلیفہ کا نام لکھا۔ پھر اوروں کو شامل کیا تاکہ ان گمراہوں کو حقیقی وصی کا علم نہ ہو سکے۔
(منتہی الآمال 157/2)

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

📚 نقل از کتاب سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص 367 تا 369۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 منافق 🔶

● خداوند تعالٰی فرماتا ہے:
واذ یقول المنافقون والذين فی قلوبهم مرض ما وعدنا اللہ ورسوله إلا غرورا¤
ترجمہ:
جب منافق اور جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ کہتے تھے کہ اللہ اور اس کا رسول ہم سے سوائے جھوٹ کے کوئی وعدہ نہیں کرتے۔
(سورہ احزاب: 12)

● حضرت امام علیؑ فرماتے ہیں:
"المنافق لسانہ یسر و قلبہ یصر"
ترجمہ:
منافق کی زبان خوش کرنے والی لیکن دل نقصان پہنچانے والا ہوتا ہے۔
(غررالحکم، 515/2)

■ سازش ناکام
نو ہجری میں غزوہ تبوک کے واقعہ میں پیغمبر اکرمؐ کی اونٹنی گم ہو گئی۔ منافقین نے اس بات کو موضوع بنا لیا۔ ہرجگہ یہ کہنے لگے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ پیغمبر ہمیں تو غیب کی خبریں دیتے ہیں لیکن آپ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کی اونٹنی کہاں ہے؟ اپنی ان باتوں کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں شک پیدا کر رہے تھے تاکہ دین اسلام پر حملہ کریں۔

جناب جبرائیلؑ منجانب خداوند پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئے اور عرض کی: آپؐ کی اونٹنی فلاں درّے میں موجود ہے۔ وہاں موجود ایک درخت کے ساتھ اس کی لگام بندھی ہوئی ہے۔

رسولِخداؐ نے نماز جماعت کا اعلان کیا۔ سب مسلمان جمع ہو گئے۔ پھر فرمایا: اے لوگو! میری اونٹنی فلاں درّے میں موجود ہے اور اس کی لگام وہاں موجود درخت کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔ جائیں اور اسے لے کر آئیں۔

کچھ لوگ گئے اور اسی طرح جس طرح پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا تھا۔ اونٹنی کو اسی حالت میں پایا اور اسے لے آئے۔ یوں منافقین کی سازش ناکام ہو گئی۔
(حکایتھائے شنیدنی 117/5)

■ منافقین کے جھوٹے وعدے
ابن عباس کہتے ہیں منافقین کے کچھ لوگوں نے بنی نضیر کے یہودیوں کے لئے یہ پیغام بھیجا کہ محمدؐ کی طرف سے مدینہ سے نکلنے کے حکم کو نہ مانیں اور اپنے قلعہ میں بیٹھے رہیں۔ ان منافقین میں عوف کا قبیلہ، عبداللہ بن ابی، ودیعہ، سوید اور داعس شامل تھے۔

انہوں نے پیغام میں مزید کہا کہ تم لوگ اپنا دفاع کرو۔ ہم آپ لوگوں کو حکومت اسلامی کے سامنے تسلیم نہیں ہونے دیں گے۔ اگر بات یہاں تک پہنچ گئی کہ تم لوگوں کی مسلمانوں سے جنگ چھڑ گئی تو ہم سب آپ کے ساتھ مل جائیں گے۔ اور اگر حجاز سے نکالنے پر بات ختم ہوتی ہے تو ہم سب بھی آپ کے ساتھ ہی مدینہ چھوڑ دیں گے۔

بعد میں بنی نضیر کے یہودی انتظار ہی کرتے رہ گئے۔ منافقین کی طرف سے کوئی خبر موصول نہ ہوئی۔ اور انہوں نے بالکل چپ سادھ لی اور حمایت نہ کی۔

پیغمبر اکرمؐ کے فرمان کے مطابق طے یہ پایا کہ بنی نضیر جنہوں نے معاہدہ توڑا تھا، وہ سب اپنی کوئی چیز ہمراہ لئے بغیر علاقہ خالی کر دیں۔
آخرکار پیغمبر اکرمؐ نے اجازت دے دی کہ ہر تین افراد ایک اونٹ اور کچھ پانی اپنے ساتھ لے سکتے ہیں۔ اس طرح ان میں سے کچھ شام کی طرف اور کچھ خیبر کی طرف چلے گئے۔ منافقین ان کی کوئی مدد نہ کر سکے۔ خداوند تعالٰی نے منافقین کے بارے میں یہ آیات نازل کیں:
کیا منافقین کو نہیں دیکھا کہ وہ اہل کتاب میں سے اپنے کافر بھائیوں کو کہہ رہے تھے: جب بھی تم لوگوں کو وطن سے باہر نکالیں گے، ہم بھی آپ کے ساتھ باہر جائیں گے۔ آپ کے بارے میں دیئے گئے کسی بھی حکم کی ہم تعمیل نہ کریں گے۔ اگر آپ کے ساتھ جنگ ہو گی تو ہم آپ کی مدد کریں گے۔ خداوند گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹ بولنے والے ہیں۔ اگر انہیں باہر نکال دیا گیا تو بالکل ان کے ہمراہ باہر نہ جائیں گے۔ اگر ان کے ساتھ جنگ ہوگی تو وہ ان کی مدد نہ کریں گے۔ میدان سے پیٹھ کر کے فرار کر جائیں گے۔ پھر کوئی بھی ان کی مدد نہ کرے گا۔(سورہ حشر: 10،11)
(المیزان، 247/19)

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

📚 نقل از کتاب سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص 351، 353۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 اعمال زائرین کربلا 🔶

🔘 اربعین حسینی کے معنوی سفر میں چالیس ناب نکتے۔۔۔ اس پوسٹ کو اتنا شئر کریں کہ ہر زائر تک پہنچ جائے اور وہ عمل کر سکے۔

🌹1= حلالیت طلبی:
ایک دوسرے سے بخشش طلب کرنا۔

🌹2= وصیت:
سفر سے پہلے وصیت کریں۔

🌹3= روزہ:
سفر میں معنوی پہلو کی تیاری کیلئے سفر سے پہلے تین دن روزہ رکھیں۔

🌹4= غسل:
گھر سے نکلنے سے پہلے غسل کریں۔

🌹5= سفر کی دعا:
سفر سے پہلے گھروالوں کو جمع کر کے سفر کی دعا پڑھیں۔

🌹6= انقطاع :
پورے سفر میں انقطاع کی حالت میں رہیں تاکہ کربلا سے معنوی وصال ہوجائے، دوسروں سے منقطع ضروری ہے اگر دوسروں سے وابستہ رہیں گے تو کربلا سے منقطع ہوجائیں گے مگر خاص مجبور ہوں تو۔ (مراد موبائل، انٹرنیت، وٹسپ، ٹیلی گرام و۔۔۔۔)

🌹7= وقت سے استفادہ:
بغیر شک کے معنوی سفر ہے۔ اس معنوی سفر میں فرصت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔

🌹8= علماء سے استفادہ:
سفر میں علماء سے دینی موضوعات پر گفتگو کریں۔

🌹9= تفکر:
غور و فکر کرنے کے لئے طولانی سفر بہتر فرصت ہے۔ اپنی نفسانی برائیوں پر غور کریں، امام زمانہ کے ساتھ کس طرح تعاون کریں گے غور کریں۔

🌹10= نماز جماعت:
اپنی نمازیں اول وقت اور جماعت کے ساتھ ادا کریں اور نماز کے بعد باجماعت زیارت عاشورا کا آخری حصہ جس میں ان کے دشمنوں پر لعنت کی گئی ہے، اسے اجتماعی طوپر پڑھیں۔ اللہ العن اول ظالم۔۔۔)

🌹11= طولانی تعقیبات:
ہر نماز کے بعد مستحبات انجام دیں کہ ایک مرتبہ آیت الکرسی اور تین مرتبہ سورہ توحید پڑھنے کے بعد طولانی سجدہ کریں۔

🌹12= زیارت عاشورا:
ہر روز زیارت عاشورا 100 لعن اور 100 سلام کے ساتھ پڑھیں۔

🌹13= دعائے عہد:
ہر روز نماز صبح کے بعد دعائے عہد کا پڑھیں۔

🌹14= زیارت اربعین:
اربعین کے دن زیارت اربعین پڑھیں۔ بعض مراجع کہتےہیں اربعین کےدن زیارت ضروری نہیں بلکہ اربعین کے دن آپ کربلا میں ہوں۔ اربعین سے پہلے یا بعد میں زیارت کریں۔

🌹15= نماز شب:
سفر میں نماز شب توجہ کے ساتھ پڑھیں۔

🌹16= رات سے استفادہ:
یعنی جہاں بھی قیام پذیر ہوں وہاں قضاء نمازیں اور چھوٹی کتابوں کا مطالعہ کرنا فراموش نہ کریں۔

🌹17= ختم قرآن:
کوشش کریں پورے سفر میں پورا قرآن ختم کریں۔ حدا قل سنیں۔

🌹18= ذکر کی پابندی:
"صلوات"، "سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر"، "لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم" اور استغفار" استغفر اللہ ربی واتوب الیہ" زیادہ سے زیادہ کریں۔

🌹19= دعا امام زماں:
امام زمانہ کی سلامتی اور ظہور کے لئے دعا کریں اور صدقہ دیں۔

🌹20= امام کے حضور:
اپنے آپ کو امام زمانہ کے حضور میں حاضر سمجھیں۔

🌹21= اعمال کو ھدیہ کرنا:
اپنے تمام مستحبی اعمال کے ثواب کو انبیاء، اولیاء اور شہداء کے نام ہدیہ کریں۔ اس طرح آپ کے اعمال کا ثواب چند گناہ بڑھ جاتا ہے۔

🌹22= نیابتی زیارت:
اپنی زیارت کے ساتھ ساتھ نیابتی زیارت والدین، عزیز، رشتہ دار اور شہداء کی طرف سے نیابتاً زیارت پڑھیں۔

🌹23= قدردانی:
شہداء اور مجاہدین کی قدردانی کریں جنہوں نے زیارت کے لئے فرصت فراہم کی اور آپ کے لئے امنیت کا خیال رکھا جو ابھی تک مقاومت کر رہے ہیں۔

🌹24= اہلبیت ع کے مصائب:
راستہ میں جب بھی کسی مشکل سے دوچار ہو جائیں تو اہلبیت ع کی مصیبتوں کو یاد کریں۔

🌹25= غمگین حالت میں رہنا:
پورے سفر میں اپنے آپ پر غم کی حالت طاری کریں۔

🌹26= بیہودگی سے پرہیز:
آرام سے بات کریں، مذاق اور بیہودہ باتوں سے پرہیز کریں۔

🌹27= نیک ہمسفر کا انتخاب:
جو آپ کی معنویت میں اضافہ کا باعث بنے ایسے ساتھی کا انتخاب کریں۔

🌹28= نگاہوں کی حفاظت:
معنویت میں اضافہ کے لئے روحی تمرکز اور نامحرم سےنگاہ بچانا بہت مہم ہے۔

🌹29= کھانے میں اعتدال:
پرخوری نہ کریں جو معنوی سفر کے لئے نقصان دہ ہے خصوصا کربلا کے راستہ میں گوشت اور لذید ذائقہ دار کھانے مکروہ ہیں۔

🌹30= اسراف نہ کرنا:
کوشش کریں اسراف نہ ہو اور دوسروں کو بھی اسراف کرنے سے منع کریں۔

🌹31= جلدی نہ کریں:
کربلا پہنچنے میں جلدی نہ کریں ممکن ہے ہماری معنویت کم ہونے کا باعث بنے۔

🌹32= جلد لوٹنا:
توجہ کریں اربعین کی فضا میں ایک دن سے زیادہ کربلا اور نجف میں قیام نہ کریں۔

🌹33= اذیت و آزار:
دوسروں کے اذیت و آزار کے بغیر زیارت کریں یعنی زیارت کے لئے ضروری نہیں کہ انسان ضریح کے قریب خود کو پہنچائے بلکہ جہاں امکان ہو وہیں پر انسان زیارت پڑھے۔ (کسی کو اذیت کرنا حرام اور زیارت کرنا مستحب ہے ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ مستحب کی خاطر حرام میں متبلا ہوجائیں اور زیارت کی برکات سے محروم ہو جائیں)۔

🌹34= زیارت میں سکون:
سکون کی حالت میں زیارت پڑھیں۔

🌹35= ایثار اور فداکاری:
ایثار و فداکاری فقط جنگ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ انسان جہاں بھی سفر پر ہو تو اس کا مظاہرہ کرے۔

🌹36= زائرین کی خدمت:
زائرین کی خدمت میں سبقت لیں جیسے گھر دینا، لانا لیجانا، مالی مدد، علاج و معالجہ و۔۔۔)
🌹37= اچھا اخلاق:
زائرین کے لئے ضروری ہے عراقی عوام سے اپنے اچھے اخلا ق سے پیش آئیں انہیں ہماری حقیقی محبت نظر آئے ان کے سامنے مسکرائیں اس طرح سے اسلام کے دیرنہ دشمن ناکام ہو جاتے ہیں۔

🌹38= جھگڑوں سے پرہیز:
بعض غلط اعمال، بعض غلط افکار اور اختلاف سے پرہیز کریں ان سے الجھنے کے بجائے احتیاط کریں۔

🌹39= یادگار سفر:
معنوی اور انقلابی سفر باقی رہنے کے لئے اچھی باتیں، نصیحتیں، تصویریں ضرور لے لیں۔

🌹40= زمانی سفر:
یعنی جو آپ کو پندرہویں صدی کی کربلا سے نکال کر 61 ہجری کی کربلا میں پہنچا دے کیونکہ پندرہویں صدی کی کربلا شاہوں و مہاراجوں نے بنائی ہے لیکن 61 ہجری کی کربلا امام حسین ع نے بنائی تھی۔ جب آپ یہ دو سفر (مکانی و زمانی) طے کریں گے تو آپ کو حق و باطل کی پیکار نظر آئے گی۔ اس پیکار کے شفاف آئینے میں خود کو تلاش کریں، کربلا میں جہاں بنو امیہ کا لشکر تھا وہی منافقین اور بے دین افراد بھی تھے ان کے مقابلے میں امام حسین ع تن و تنہا نظر آئیں گے۔ کربلا جا کر قصہ و کہانی سننے کے بجائے خود 61 ہجری کی کربلا کو لمس کریں اور غور کریں کہ اس وقت اگر ہم وہاں ہوتے تو کس لشکر میں ہوتے۔ کربلا سے عقیدت کے رابطہ کے ساتھ ساتھ روح کربلا سے بھی آشنا ہوں۔ کربلا کے متعلق عقیدت ہر انسان میں موجود ہے خواہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ اسی وجہ سے ہندوستان میں بھی عاشورا کے دن چھٹی ہوتی ہے۔
روح کربلا سے رابطہ یعنی جو آپ کو 61 ہجری کی کربلا میں منتقل کرکے آپ کی زندگی کو عاشورائی زندگی میں تبدیل کر دے۔

تحقیق: عابد علی مقدم
اصلاح و ترتيب: سید سجاد حسین ھمدانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://t.me/islamwitheman/1740
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔

⚫ أربعين حسینی اور اعمال
http://t.me/islamwitheman/1741

🌸 زیارت اربعین
http://t.me/islamwitheman/1742

🔵 زیارت امام حسینؑ کی اہمیت
http://t.me/islamwitheman/1745

🔵 زیارت امام حسینؑ کے آداب
http://t.me/islamwitheman/1746

💖 سلیمان اعمش کا واقعہ
http://t.me/islamwitheman/1747

⚫ چہلم اوّل امام حسینؑ
http://t.me/islamwitheman/1749

⚫ چہلم امام حسین علیہ السلام
http://t.me/islamwitheman/1750

🌹 زیارت امام حسینؑ کا ثواب
http://t.me/islamwitheman/1751

🔶 اعمال زائرین کربلا
http://t.me/islamwitheman/1967

🌹 فضیلت پاپیادہ زیارت اربعین
https://plus.google.com/103115759710371138609/posts/TcKcDtst9NA
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 سر زمینِ کربلا 1 🌹

ایک دفعہ زمینِ کعبہ نے اپنی برتری پر ناز کیا کہ مجھ جیسا کون ہے میں کعبہ کا مسکن ہوں تو فوراً وحی الہی ہوٸی:
خاموش! اے کعبہ کی زمین۔
کربلا کی زمین کے مقابلہ میں تیری فضیلت کو وہ نسبت ہے جو پانی کے ایک قطرہ کو سمندر سے ہوا کرتی ہے۔ بقسم اگر میں اس زمین کربلا اور اسکے ساکن کو خلق نہ کرتا تو تجھے پیدا نہ کرتا اور نہ تیرا کعبہ پیدا ہوتا۔

1⃣ وقارِ کعبہ کس کام کا؟
صرف کعبہ کو جھکنے والے اور اہلبیت علیہم السلام کو پسِ پشت ڈالنے والے چونکہ صرف کعبہ پر ہی ناز کرتے ہیں اور اپنی بخشش کا انحصار صرف اسی میں سمجھتے ہیں تو انکی تنبیہ کیلٸے ارشاد ہے:
بےشک کعبہ اور زمینِ کعبہ اپنی جگہ شرف و فضل کے حامل ہیں لیکن اگر کربلا والوں کی سرفروشی نہ ہوتی اور انکے ناحق خون سے اسلام کی حفاظتی حصار کی تعمیر نہ ہوتی تو پورے اسلام کو یزیدی طاغوتی حملوں نے نیست و نابود کر دیا ہوتا اور جب اسلام ہی ختم ہو جاتا تو کعبہ کا وقار کس کام کا؟
کعبہ اپنے مقام پر محترم ہے لیکن کسی محترم کے خالی وجود کو کیا کیا جاٸے جب احترام کرنیوالا ہی دنیا میں موجود نہ ہو؟

2⃣ امام حسینؑ مرکزِ ہدایت
اے کعبہ کا احترام کرنیوالو پہلے اس دروازہ پر پہنچو جس نے کعبہ کا احترام بچایا ہے اور تمہیں احترام کرنے والا سکھایا ہے اور زمینِ کعبہ اگر ناز کرے کہ میں محترم ہوں تو اس ناز سے پہلے اس کو زمینِ کربلا کے سامنے سرنگوں ہو کر نیازمندی کا اظہار کرنا پڑے گا۔
بے شک زمینِ کعبہ تمام زمینوں پر سرِافتخار بلند کر سکتی ہے لیکن زمینِ کربلا کے سامنے اس کا سر نیازِخم ہی رہے گا۔
پس زمینِ کربلا کی افضلیت اس لحاظ سے ہے کہ اس کا ساکن محسنِ اسلام ہے اور حجِ بیت اللہ اسلام کا ایک فرعی حکم ہے گویا بیت اللہ صرف حاجیوں کا محورِالتفات ہے اور امام حسینؑ تمام اہلِ اسلام کیلٸے مرکزِ ہدایت ہیں۔

3⃣ دونوں افضل ہیں
پس مقامِ عمل میں کوٸی زمین کعبہ کی زمین سے افضل نہیں ہو سکتی اور مقامِ ہدایت و رشد میں کوٸی زمین کربلا کی زمین سے زیادہ درس آموز نہیں ہو سکتی۔
لہذا دونوں اپنے اپنے مقام پر افضل ہیں۔

4⃣ دونوں جدا نہیں ہیں
دونوں زمینوں کی افضلیت کی حیثیتیں جدا جدا ہیں اور فرعی فضیلت قطعاً اصلی فضیلت کا مقابلہ نہیں کر سکتی تاہم یہ دونوں معنوی طورپر ایک دوسرے سے جدا نہیں۔

5⃣ کعبہ و کربلا کے متوالے
لہذا جو کعبہ کا متوالا ہو اور کربلا والوں کو نظرانداز کر کے زمینِ کربلا کو حقیر سمجھے اس کیلٸے کعبہ جانے کا کوٸی فاٸدہ نہیں اور جو شخص کربلا والوں کی محبت کا دم بھرتا ہو اور زمینِ کربلا کا زاٸر ہو لیکن کعبہ جانیکی استطاعت رکھنے کے باوجود اس کو ترک کرے تو اس کا کربلا والوں سے محبت کا دعوٰی کرنا محض زبانی و بےبنیاد ہے۔ کیونکہ امام حسینؑ نے خود جامِ شہادت نوش فرما کر شعاٸر اسلامیہ کو زندہ کیا تھا تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ ایک شخص حسینی کہلوا کر شعاٸر اسلامیہ کو قاٸم کرنے سے گریز کرتا ہو۔
امامت اصل ہے اور حج فرع ہے۔
پس جس طرح حج کا فعل بغیر اقرار امامت کے نادرست ہے اسی طرح اقرار امامت بغیر افعال فرعیہ کے اقرار زبانی اور لقلقہ لسانی ہے۔ کیونکہ اصول اور فروع دونوں ایک دوسرے کے بغیر فاٸدہ مند نہیں ہوا کرتے۔

6⃣ ایک سوال کا جواب
کہ اس توجیہ کے اعتبار سے تو پھر مدینہ منورہ کی زمین کو سب سے افضل کہنا چاہیے؟

*جواب*
اس میں شک نہیں کہ مخصوص زمانہ تک مدینہ منورہ ہدایت انسانی کا سرچشمہ رہا اور اسی لحاظ سے اطراف عالم کیلٸے ہجرت گاہ بھی رہا حتی کہ اہلِ مکہ کیلٸے بھی وہاں سے ہجرت کر کے مدینہ کو چلے جانیکا حکم تھا اور یہ زمین مدینہ کی فضیلت کیلٸے کافی ہے۔

7⃣ شرعی حدودکی پامالی
جناب ختمی مرتبت محمدؐ کے بعد جب اسلامی شرعی حدود کی پامالی کیلٸے اموی بادشاہوں نے اپنی اندھادھند پیش قدمی سے عالم اسلام کو مرعوب کرتے ہوٸے ظلم و استبداد کے اوچھے حربوں سے کام لینا چاہا تو سواٸے امام حسین علیہ السلام کے اور کون تھا جس نے ببانگِ دہل بےپناہ قوتِ ایمانی کے ساتھ اس قسم کی پیش قدمیوں کے خلاف نعرہ حق بلند فرمایا اور جان، مال اور ناموس کی ہر ممکن قربانی سے دریغ نہ کرتے ہوٸے اسلامی تعلیمات کیلٸے سینہ سپر بنا۔

8⃣ اگر امام حسینؑ نہ ہوتے
اور سچ ہے کہ
اگر امام حسین علیہ السلام نہ ہوتے تو اسلام کا لہراتا ہوا سرسبز و شاداب باغ اموی دورِخزاں سے صحیح و سالم ہرگز نہ بچ سکتا۔
اگر امام حسینؑ کی قربانی نہ ہوتی تو یقیناً شمعِ اسلام کی حیثیت ایک چراغِ سحری کی رہ گٸی تھی۔
اگر امام حسینؑ کا عزم و استقلال اور ثباتِ قدم ایک مضبوط چٹان بن کر سامنے نہ آتا تو دمشق کی طرف سے اٹھا ہوا ظلم و جور کا بےپناہ طوفان خرمنِ اسلام کو بہا کر لے گیا ہوتا۔

👈 بقیہ سر زمین کربلا 2 میں ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔

https://t.me/islamwitheman/1969
https://plus.google.com/103115759710371138609/posts/gcj3oiiAQpG
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 سر زمین کربلا 2🌹

9⃣ فتحِ مبین کا سہرا
پس امام حسینؑ نے اپنے آہنی ارادوں سے یزیدی منصوبوں کی قلعی کھول کر رکھ دی جس طرح امام حسینؑ کے اس مبارک و مضبوط اقدام نے کعبہ کی لاج رکھی،
اسیطرح امام حسینؑ کی عظیم الشان قربانیوں نے مدینہ کی حرمت اور صاحبِ مدینہ کی 23 سالہ محنت کو بقاودوام کی خلعت بھی بخش دی اور اسلام کی اس فتحِ مبین کا سہرا زمینِ کربلا ہی کے سر پر ہے۔
لہذا یہ زمین
زمینِ کربلا تاقیامِ قیامت مرجع ہدایتِ مخلوق ہے اور یہی چیز اسکے شرفِ پاٸیدار کا بلند مینار ہے۔

🔟 زمینِ کربلا کی خلقت
استادالعلما علامہ الشیخ جعفر شوستری اعلی اللہ مقامہ نے زمینِ کربلا کی خصوصيات بہت کچھ ذکر فرماٸی ہیں ان میں بعض کا ذکر کیا جاٸیگا۔
اللہ تعالی نے کعبہ کی خلقت سے 24 ہزار سال پہلے زمینِ کربلا کو خلق کیا۔
قرآن مجید میں کعبہ کے روٸے زمین پر پہلی عبادت گاہ بناٸے جانے کا اعلان کیا گیا ہے کیونکہ یہودیوں نے تحویلِ قبلہ کے بعد مسلمانوں پر یہ اعتراض شروع کر دیا تھا کہ بیت المقدس روٸے زمین پر پہلی عبادت گاہ ہے حتی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قبلہ بھی یہی تھا تو اللہ تعالٰی نے انکی رد میں ارشاد فرمایا:
کہ وہ غلط کہتے ہیں اور صحیح یہ ہے کہ لوگوں کیلٸے زمین پر پہلی جاٸے عبادت جس خطہ ارضیہ کو قرار دیا گیا وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے یعنی خانہ کعبہ۔
پس قرآن پاک میں کعبہ کی خلقت کا کوٸی تذکرہ نہیں بلکہ صرف اسکے قبلہ ہونے کی سبقت کا اعلان ہے۔

1⃣1⃣ جنت کے خطوں سے افضل
جب قیامت کا وقت آٸے گا تو زمینِ کربلا کو اٹھا لیا جاٸے گا اور یہ خطہ جنت کے تمام خطوں سے افضل ہو گا اور جنت کے ریاض میں یہ زمین اسطرح چمکے گی جس طرح کوکب دری دوسرے ستاروں سے نمایاں طور پر اپنی چمک دمک کو ظاہر کرتا ہے حتی کہ اسکی چمک سے تمام اہلِ جنت کی آنکھیں خیرگی محسوس کریں گی اور اسکی آواز آٸیگی کہ میں وہ پاک زمین ہوں جسے شہیدوں کے مدفن و مسکن ہونیکا شرف حاصل ہوا ہے۔

2⃣1⃣ خاکِ کربلا کی فضیلت
🌺 خاکِ شفا کی تسبیح سے استغفار کرنا 70 گنا زیادتی ثواب کا موجب ہے۔
🌺 خاکِ کربلا یعنی خاکِ شفا کی تسبیح کا ہاتھ میں رکھنا بھی تسبیح پڑھنے کے ثواب کے برابر ہے۔
🌺 خاکِ شفا پر سجدہ کرنے سے مقبولیت عبادت کے 7 حجاب دور ہو جاتے ہیں اور عبادت مقبول ہو جاتی ہے۔
🌺 مٹی کا کھانا حرام ہے لیکن خاکِ شفا کا شفایابی کی نیت سے کھانا جاٸز ہے۔
🌺 خاکِ شفا کا پاس رکھنا ہر قسم کے خطرات سے بچنے کا حرز اور تعویز ہے بشرطیکہ اسی نیت سے اپنے پاس رکھیں۔
🌺 اگر سامانِ تجارت میں خاکِ شفا کو رکھا جاٸے تو تجارت میں برکت نصیب ہو گی۔
🌺 نوزاٸیدہ بچے کے حلق میں خاکِ شفا ڈالنا اسکی امان و سلامتی کا موجب ہے۔
🌺 میت کے ساتھ قبر میں خاکِ شفا کا رکھنا عذابِ قبر سے امان کا موجب ہے۔
🌺 میت کے حنوط کے ساتھ خاکِ شفا کی ملاوٹ مستحب ہے۔
🌺 زمین کربلا میں دفن ہونیوالا بغیر حساب جنت میں داخل ہو گا۔
🌺 زمین پر اترنے والے فرشتے جب واپس جاتے ہیں تو حوریں ان سے خاکِ شفا کا تحفہ طلب کرتی ہیں۔
🌺 تمام ملاٸکہ بطور تحفہ خاکِ شفا کو جناب رسول اکرمؐ کی خدمت میں لے جاتے رہے ہیں۔
🌺 زمینِ کربلا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ ہے۔
🌺 حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جس زمین پر شرفِ کلام حاصل ہوتا تھا وہ یہی زمین تھی۔
🌺 حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمدؐ تک تمام انبیا علیہم السلام کا ورود اس مقدس زمین پر ہوا۔
🌺 اسی مقدس زمین میں واقعاتِ کربلا سے قبل 2 سو نبی، 2 سو وصی اور 2 سو سبطِ نبی دفن ہوٸے جو درجہ شہادت پر فاٸز ہو کر دنیا سے رخصت ہوٸے تھے۔

بحوالہ۔
تفسیر انوارالنجف۔ جلد٤
خصاٸص حسینیہ۔

بشکریہ:
انتخاب و ترتيب: [بی۔اے نقوی]

https://t.me/islamwitheman/1970
https://plus.google.com/103115759710371138609/posts/gcj3oiiAQpG
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕