🌹 بیٹی، اک ڈھال 🌹
اُس کی شادی کو دس سال ہو رہے تھے۔۔۔ قدرت نے اُسے بیٹیوں جیسی رحمت سے نوازا تھا۔۔
ہر مرتبہ اُسے خواہش ہوتی کہ بیٹا پیدا ہو۔۔ لیکن یکے بعد دیگرے پھول جیسی چھ بیٹیاں اس کے آنگن میں اُتر آئی تھیں۔۔۔
بیٹا نہ ہونے کے سبب خاندان اور گھر والوں کی تلخ باتیں بھی اُسے سہنی پڑ جاتیں۔۔۔
اس بار پھر اُس کی بیوی کے ہاں ولادت متوقع تھی۔۔۔ لیکن وہ دل میں ہی ڈر رہا تھا کہ اس بار پھر بیٹی پیدا نہ ہو جائے۔۔۔
"اب کے بار بھی اگر لڑکی پیدا ہوئی تو بیوی کو طلاق دے کر فارغ کر دینا ۔۔۔۔"
اُس کی آپا نے اسے دوٹوک انداز میں کہہ ڈالا۔۔۔
"بیٹی کی پیدائش میں بھلا میری بیوی کا کیا قصور ۔۔؟؟"
وہ اپنے ہی ذہن میں سوچتا۔۔۔ پھر سر جھٹک کر فیصلوں کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیتا۔۔۔
لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا۔۔۔ شیطان کے کاری وار اُس کے دل و دماغ پر اثر کرتے گئے یہاں تک اُس نے پکا ارادہ کر لیا کہ اگر اب کے بار بھی لڑکی پیدا ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا۔!
ایک رات وہ سویا تو کیا دیکھتا ہے کہ قیامت برپا ہو چکی ہے، ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے.
میزانِ عمل میں اس کے گناہوں کا بوجھ اتنا ہے کہ زندگی بھر کی نیکیاں بھی کام نہیں آ سکیں اور ان گناہوں کی پاداش میں اس پر جہنم واجب ہو چکی ہے..
فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کی طرف گھسیٹتے ہوئے جا رہے ہیں۔۔ اِس کی چیخ و پکار آہ و بکا کا کچھ بھی اثر نہیں ہو رہا۔۔۔ اچانک کیا دیکھتا ہے کہ جہنم کے دروازے پر اِس کی ایک بیٹی کھڑی ہے.. وہ باپ کو دیکھ کر آگے بڑھتی ہے اور فرشتوں کو روک دیتی ہے۔۔۔
فرشتے اِس کو لے کر دوسرے دروازے کی طرف چل پڑتے ہیں۔۔۔ وہاں پہنچ کر دیکھتا ہے کہ اس کی دوسری بیٹی کھڑی ہے اور فرشتوں کو آگے نہیں جانے دے رہی۔۔
فرشتے وہاں سے اِسے لے کر تیسرے دروازے پر جاتے ہیں۔۔ وہاں اس کی تیسری بیٹی اپنے باپ کیلئے جہنم سے آڑ بن جاتی ہے۔۔
اس طرح چوتھے۔۔۔ پانچویں اور پھر چھٹے دروازے تک فرشتے اس کو لے کر جاتے ہیں مگر ہر دروازے پر اس کی بیٹیاں اس کا دفاع کرتی ہیں اور جہنم میں جانے سے روک دیتی ہیں۔
اب ساتواں دروازہ باقی تھا، فرشتے اِس کو زنجیروں میں جکڑے ساتویں دروازے کی طرف چل پڑتے ہیں۔۔
اب اس پر شدید گھبراہٹ طاری ہونے لگی کہ اس دروازے پر میرے لئے کون رکاوٹ بنے گا۔۔؟؟؟
اسی گھبراہٹ اور خوف کے عالم میں اچانک ہی اُس کی آنکھ کُھل گئی، وہ پسینے میں شرابور تھا اور جسم پر کپکپی طاری تھی، اسے احساس ہونے لگا کہ شیطان کے بہکاوے میں آ کر انتہائی غلط فیصلہ کر بیٹھا تھا.
اسی حالت میں اُس نے اللہ کے حضور ہاتھ بلند کئے۔۔۔ آنسو اُس کے رخساروں پر بہہ رہے تھے اور لرزتے ہونٹوں سے دعا نکلی...
"اے اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ساتویں بیٹی عطا فرما ۔۔۔۔۔۔"
آج کے بیدین اور فرسودہ افکار نے سوچ کو اس حد تک گِرا دیا کہ بیٹیوں کو رحمت کے بجائے دورِ جاہلیت کی طرح اور بے عزتی کا سبب خیال کیا جانے لگا ہے، مسلمان معاشرے میں ﺟﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﻀﺎ ﻭ ﻗﺪﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﭘﺮ ﺭﻧﺠﯿﺪﮦ ﺧﺎﻃﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎہئے کیونکہ بیٹیاں رحمتِ خداوندی کا حصہ اور جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں، ایمان کی کمزوری کے باعث جن لوگوں کا ﯾﮧ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺮﺍ ﺳﺮ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ۔۔۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﺎ ﺧﻮﺩ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻤﻞ ﺩﺧﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮨﯿﮟ۔۔
اولاد کی نعمت سے نوازنے والا ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺣﺪﮦ ﻻﺷﺮﯾﮏ ﮨﮯ...
ارشاد باری تعالٰی ہے:
"ﻭہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔۔۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے یا (جس کو چاہتا ہے) بیٹے اور بیٹیاں ملا جُلا کر دیتا ہے اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے."
(سورۃ الشورٰی: 49-50)
رسول اکرم (ص) نے فرمایا:
"جس شخص کو بیٹیوں کے ذریعے آزمائش میں ڈالا گیا اور اس نے احسن طریقے سے ان کی پرورش کی تو اس کے لیے یہ بچیاں جہنم سے بچاؤ کے لئے ڈھال بن جائیں گی."
(بخاری، کتاب الزکاة، حدیث:1418)
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
اُس کی شادی کو دس سال ہو رہے تھے۔۔۔ قدرت نے اُسے بیٹیوں جیسی رحمت سے نوازا تھا۔۔
ہر مرتبہ اُسے خواہش ہوتی کہ بیٹا پیدا ہو۔۔ لیکن یکے بعد دیگرے پھول جیسی چھ بیٹیاں اس کے آنگن میں اُتر آئی تھیں۔۔۔
بیٹا نہ ہونے کے سبب خاندان اور گھر والوں کی تلخ باتیں بھی اُسے سہنی پڑ جاتیں۔۔۔
اس بار پھر اُس کی بیوی کے ہاں ولادت متوقع تھی۔۔۔ لیکن وہ دل میں ہی ڈر رہا تھا کہ اس بار پھر بیٹی پیدا نہ ہو جائے۔۔۔
"اب کے بار بھی اگر لڑکی پیدا ہوئی تو بیوی کو طلاق دے کر فارغ کر دینا ۔۔۔۔"
اُس کی آپا نے اسے دوٹوک انداز میں کہہ ڈالا۔۔۔
"بیٹی کی پیدائش میں بھلا میری بیوی کا کیا قصور ۔۔؟؟"
وہ اپنے ہی ذہن میں سوچتا۔۔۔ پھر سر جھٹک کر فیصلوں کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیتا۔۔۔
لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا۔۔۔ شیطان کے کاری وار اُس کے دل و دماغ پر اثر کرتے گئے یہاں تک اُس نے پکا ارادہ کر لیا کہ اگر اب کے بار بھی لڑکی پیدا ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا۔!
ایک رات وہ سویا تو کیا دیکھتا ہے کہ قیامت برپا ہو چکی ہے، ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے.
میزانِ عمل میں اس کے گناہوں کا بوجھ اتنا ہے کہ زندگی بھر کی نیکیاں بھی کام نہیں آ سکیں اور ان گناہوں کی پاداش میں اس پر جہنم واجب ہو چکی ہے..
فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کی طرف گھسیٹتے ہوئے جا رہے ہیں۔۔ اِس کی چیخ و پکار آہ و بکا کا کچھ بھی اثر نہیں ہو رہا۔۔۔ اچانک کیا دیکھتا ہے کہ جہنم کے دروازے پر اِس کی ایک بیٹی کھڑی ہے.. وہ باپ کو دیکھ کر آگے بڑھتی ہے اور فرشتوں کو روک دیتی ہے۔۔۔
فرشتے اِس کو لے کر دوسرے دروازے کی طرف چل پڑتے ہیں۔۔۔ وہاں پہنچ کر دیکھتا ہے کہ اس کی دوسری بیٹی کھڑی ہے اور فرشتوں کو آگے نہیں جانے دے رہی۔۔
فرشتے وہاں سے اِسے لے کر تیسرے دروازے پر جاتے ہیں۔۔ وہاں اس کی تیسری بیٹی اپنے باپ کیلئے جہنم سے آڑ بن جاتی ہے۔۔
اس طرح چوتھے۔۔۔ پانچویں اور پھر چھٹے دروازے تک فرشتے اس کو لے کر جاتے ہیں مگر ہر دروازے پر اس کی بیٹیاں اس کا دفاع کرتی ہیں اور جہنم میں جانے سے روک دیتی ہیں۔
اب ساتواں دروازہ باقی تھا، فرشتے اِس کو زنجیروں میں جکڑے ساتویں دروازے کی طرف چل پڑتے ہیں۔۔
اب اس پر شدید گھبراہٹ طاری ہونے لگی کہ اس دروازے پر میرے لئے کون رکاوٹ بنے گا۔۔؟؟؟
اسی گھبراہٹ اور خوف کے عالم میں اچانک ہی اُس کی آنکھ کُھل گئی، وہ پسینے میں شرابور تھا اور جسم پر کپکپی طاری تھی، اسے احساس ہونے لگا کہ شیطان کے بہکاوے میں آ کر انتہائی غلط فیصلہ کر بیٹھا تھا.
اسی حالت میں اُس نے اللہ کے حضور ہاتھ بلند کئے۔۔۔ آنسو اُس کے رخساروں پر بہہ رہے تھے اور لرزتے ہونٹوں سے دعا نکلی...
"اے اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ساتویں بیٹی عطا فرما ۔۔۔۔۔۔"
آج کے بیدین اور فرسودہ افکار نے سوچ کو اس حد تک گِرا دیا کہ بیٹیوں کو رحمت کے بجائے دورِ جاہلیت کی طرح اور بے عزتی کا سبب خیال کیا جانے لگا ہے، مسلمان معاشرے میں ﺟﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﻀﺎ ﻭ ﻗﺪﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﭘﺮ ﺭﻧﺠﯿﺪﮦ ﺧﺎﻃﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎہئے کیونکہ بیٹیاں رحمتِ خداوندی کا حصہ اور جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں، ایمان کی کمزوری کے باعث جن لوگوں کا ﯾﮧ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺮﺍ ﺳﺮ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ۔۔۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﺎ ﺧﻮﺩ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻤﻞ ﺩﺧﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮨﯿﮟ۔۔
اولاد کی نعمت سے نوازنے والا ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺣﺪﮦ ﻻﺷﺮﯾﮏ ﮨﮯ...
ارشاد باری تعالٰی ہے:
"ﻭہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔۔۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے یا (جس کو چاہتا ہے) بیٹے اور بیٹیاں ملا جُلا کر دیتا ہے اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے."
(سورۃ الشورٰی: 49-50)
رسول اکرم (ص) نے فرمایا:
"جس شخص کو بیٹیوں کے ذریعے آزمائش میں ڈالا گیا اور اس نے احسن طریقے سے ان کی پرورش کی تو اس کے لیے یہ بچیاں جہنم سے بچاؤ کے لئے ڈھال بن جائیں گی."
(بخاری، کتاب الزکاة، حدیث:1418)
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 احساس 🔷
ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺧﺼﻮﺻﺎً ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ نیچے ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﯿﮟ۔۔۔
ﭘﮍﮪ ﮐﮧ ﺍﮎ ﺑﺎﺭ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﻮﭼﯿﮯ ﮔﺎ کہ ہم میں دوسروں کے لئے کتنا احساس ہے.
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮐﺴﯽ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﮔﺰﺭﮔﺎﮦ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ
ﺑﯿﭻ ﺍﯾﮏ ﭼﭩﺎﻧﯽ ﭘﺘﮭﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺭﮐﮭﻮﺍ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮔﺰﺭﮔﺎﮦ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﮩﺮﯾﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯﭼﮭﭙﺎ ﮐﺮ ﺑﭩﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ
ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﺩِ ﻋﻤﻞ ﺳُﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﺮﮮ۔
■ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﺟﺲ ﭘﮩﻠﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ﻭﮦ ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﺎﺟﺮ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ ﺑﯿﭻ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﺱ ﭼﭩﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﯾﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭼﭩﺎﻥ ﺗﻮ ﺣﺎﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺭﮐﮭﻮﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺑﮯ ﻧﻘﻂ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﭼﭩﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﭼﮑﺮ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺨﺘﮯ، دﮬﺎﮌﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺣﮑﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﮔﺎ ﺍُﺳﮯ ﺳﺰﺍ ﺩﻟﻮﺍﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮔﺎ۔
■ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﻌﻤﯿﺮﺍﺗﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﭨﮭﯿﮑﯿﺪﺍﺭ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ.
ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺭﺩِ ﻋﻤﻞ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﺎﺟﺮ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﯾﺴﯽ ﺷﺪﺕ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻦ ﮔﺮﺝ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺟﯿﺴﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﺎﺟﺮ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﻓﺮﻕ ﺑﮭﯽ ﺗﻮﺗﮭﺎ!
■ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ﺟﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺗﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎ ﭘﺎﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻡ ﮐﺎﺝ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﭩﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮎ ﮐﺮ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ ﺑﯿﭻ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺟﺎﮨﻞ، ﺑﯿﮩﻮﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﭩﯿﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺗﺸﺒﯿﮧ ﺩﯼ، ﻗﮩﻘﮩﮯ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ.
■ﺍﺱ ﭼﭩﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﮯ ﺩﻭ ﺩﻥ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﻠﻮﮎﺍﻟﺤﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ۔ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮑﻮﮦ ﮐﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﻭﮦ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﻭاﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﮧ ﭘﺘﮭﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﻭﺯﻧﯽ ﭘﺘﻬﺮ ﮐﻮ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﭩﺎﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺎﻡ ﺗﻬﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﻤﺖ ﻧﮧ ﮨﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ
ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻻﭨﻬﯽ ﺳﮯ ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﭼﭩﺎﻥ ﻧﻤﺎ ﭘﺘﮭﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ۔
■ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﯾﮧ ﭼﭩﺎﻥ نما پتھر ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ہٹا ﺗﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﮔﮍﮬﺎ تها، كسان كو ﺍُﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺻﻨﺪﻭﻗﭽﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯽ ﺟﺴﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭨﮑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺧﻂ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ:
"ﺣﺎﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺱ ﭼﭩﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺳﮯ ﮨﭩﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﻣﺜﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻠﯽ ﺳﻮﭺ ﻧﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﭘﺮ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺣﻞ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺎ۔."
🌹دوسروں کے لئے اچھا سوچو گے تو اللہ رب العزت تمہارے لیے راستے بنا دے گا اور مشکلیں آسان کر دے گا.
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺧﺼﻮﺻﺎً ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ نیچے ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﯿﮟ۔۔۔
ﭘﮍﮪ ﮐﮧ ﺍﮎ ﺑﺎﺭ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﻮﭼﯿﮯ ﮔﺎ کہ ہم میں دوسروں کے لئے کتنا احساس ہے.
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮐﺴﯽ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﮔﺰﺭﮔﺎﮦ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ
ﺑﯿﭻ ﺍﯾﮏ ﭼﭩﺎﻧﯽ ﭘﺘﮭﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺭﮐﮭﻮﺍ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮔﺰﺭﮔﺎﮦ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﮩﺮﯾﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯﭼﮭﭙﺎ ﮐﺮ ﺑﭩﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ
ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﺩِ ﻋﻤﻞ ﺳُﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﺮﮮ۔
■ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﺟﺲ ﭘﮩﻠﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ﻭﮦ ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﺎﺟﺮ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ ﺑﯿﭻ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﺱ ﭼﭩﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﯾﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭼﭩﺎﻥ ﺗﻮ ﺣﺎﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺭﮐﮭﻮﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺑﮯ ﻧﻘﻂ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﭼﭩﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﭼﮑﺮ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺨﺘﮯ، دﮬﺎﮌﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺣﮑﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﮔﺎ ﺍُﺳﮯ ﺳﺰﺍ ﺩﻟﻮﺍﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮔﺎ۔
■ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﻌﻤﯿﺮﺍﺗﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﭨﮭﯿﮑﯿﺪﺍﺭ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ.
ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺭﺩِ ﻋﻤﻞ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﺎﺟﺮ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﯾﺴﯽ ﺷﺪﺕ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻦ ﮔﺮﺝ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺟﯿﺴﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﺎﺟﺮ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﻓﺮﻕ ﺑﮭﯽ ﺗﻮﺗﮭﺎ!
■ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ﺟﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺗﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎ ﭘﺎﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻡ ﮐﺎﺝ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﭩﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮎ ﮐﺮ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ ﺑﯿﭻ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺟﺎﮨﻞ، ﺑﯿﮩﻮﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﭩﯿﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺗﺸﺒﯿﮧ ﺩﯼ، ﻗﮩﻘﮩﮯ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ.
■ﺍﺱ ﭼﭩﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﮯ ﺩﻭ ﺩﻥ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﻠﻮﮎﺍﻟﺤﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ۔ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮑﻮﮦ ﮐﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﻭﮦ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﻭاﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﮧ ﭘﺘﮭﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﻭﺯﻧﯽ ﭘﺘﻬﺮ ﮐﻮ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﭩﺎﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺎﻡ ﺗﻬﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﻤﺖ ﻧﮧ ﮨﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ
ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻻﭨﻬﯽ ﺳﮯ ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﭼﭩﺎﻥ ﻧﻤﺎ ﭘﺘﮭﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ۔
■ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﯾﮧ ﭼﭩﺎﻥ نما پتھر ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ہٹا ﺗﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﮔﮍﮬﺎ تها، كسان كو ﺍُﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺻﻨﺪﻭﻗﭽﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯽ ﺟﺴﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭨﮑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺧﻂ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ:
"ﺣﺎﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺱ ﭼﭩﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺳﮯ ﮨﭩﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﻣﺜﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻠﯽ ﺳﻮﭺ ﻧﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﭘﺮ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺣﻞ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺎ۔."
🌹دوسروں کے لئے اچھا سوچو گے تو اللہ رب العزت تمہارے لیے راستے بنا دے گا اور مشکلیں آسان کر دے گا.
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 فطرت 🔷
ایک دفعہ ایک بزرگ دریا کے کنارے جا رہے تھے کہ دیکھا کہ ایک بچھو ڈوب رہا ہے۔ ان کے پاس کوئی چیز نہ تھی جس سے اسے نکالتے لہذا اپنا ہاتھ آگے کیا اور بچھو کو پانی کی سطح سے بلند کیا اس سے پہلے کہ اسے زمین پر اتارتے، اس نے ڈنگ مارا، بزرگ کا ہاتھ کانپا اور وہ پھر پانی میں گر گیا۔
انہوں نے پھر ہاتھ ڈالا اسے ہتھیلی پر رکھا تاکہ باہر نکالیں؟ پھر بچھو نے ڈنگ مارا اور وہ پھر ہاتھ کانپنے کی وجہ سے پانی میں گر گیا۔
تیسری مرتبہ پھر جب بزرگ نے ہاتھ ڈالا پانی میں اسے نکالنے کے لئے تو ساتھ والوں نے کہا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں.؟
آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ اسے نکالتے ہیں تو وہ آپ کو ڈنگ مارتا ہے تو آپ اسے مت نکالیں۔
بزرگ نے جواب دیا کہ...
وہ اپنی فطرت سے مجبور ہے کہ اللہ نے اس کی فطرت میں ڈنگ مارنا لکھا ہے اور میں اپنی فطرت سے مجبور ہوں کہ میری فطرت میں اللہ نے اپنی مخلوق کی مدد کرنا اور اسے بچانا اور اس پر رحم کھانا لکھا ہے۔ لہذا اسے اس کی فطرت کے مطابق عمل کرنے دو اور مجھے میری فطرت کے مطابق.
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک دفعہ ایک بزرگ دریا کے کنارے جا رہے تھے کہ دیکھا کہ ایک بچھو ڈوب رہا ہے۔ ان کے پاس کوئی چیز نہ تھی جس سے اسے نکالتے لہذا اپنا ہاتھ آگے کیا اور بچھو کو پانی کی سطح سے بلند کیا اس سے پہلے کہ اسے زمین پر اتارتے، اس نے ڈنگ مارا، بزرگ کا ہاتھ کانپا اور وہ پھر پانی میں گر گیا۔
انہوں نے پھر ہاتھ ڈالا اسے ہتھیلی پر رکھا تاکہ باہر نکالیں؟ پھر بچھو نے ڈنگ مارا اور وہ پھر ہاتھ کانپنے کی وجہ سے پانی میں گر گیا۔
تیسری مرتبہ پھر جب بزرگ نے ہاتھ ڈالا پانی میں اسے نکالنے کے لئے تو ساتھ والوں نے کہا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں.؟
آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ اسے نکالتے ہیں تو وہ آپ کو ڈنگ مارتا ہے تو آپ اسے مت نکالیں۔
بزرگ نے جواب دیا کہ...
وہ اپنی فطرت سے مجبور ہے کہ اللہ نے اس کی فطرت میں ڈنگ مارنا لکھا ہے اور میں اپنی فطرت سے مجبور ہوں کہ میری فطرت میں اللہ نے اپنی مخلوق کی مدد کرنا اور اسے بچانا اور اس پر رحم کھانا لکھا ہے۔ لہذا اسے اس کی فطرت کے مطابق عمل کرنے دو اور مجھے میری فطرت کے مطابق.
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌳 سیب کا درخت 🌳
قدیم زمانے میں سیب کا ایک بڑا درخت تھا۔ اس درخت کے قریب ہی ایک چھوٹا لڑکا رہتا تھا۔ اس لڑکے کو روزانہ اس درخت کے پاس آنا اور کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ وہ اس درخت کے اوپر چڑھ جاتا اور اس کے پھل توڑ توڑ کر کھاتا اور پھر اس کے سائے میں سو جاتا۔ وہ لڑکا اس درخت کو بہت چاہتا تھا اور اسی طرح اس درخت کو بھی اس لڑکے کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا تھا۔
وقت گزرتا رہا اور لڑکا بڑا ہو گیا۔ اب وہ پہلے کی طرح روزانہ اس درخت کے پاس کھیلنے نہیں آتا تھا۔
ایک روز وہ نو جوان درخت کے پاس آیا۔ وہ مایوس لگ رہا تھا۔ درخت نے اس سے کہا:
"آؤ میرے ساتھ کھیلو."
نو جوان نے اس سے کہا:
"اب میں بچہ نہیں رہا اب میں درختوں کے ارد گرد نہیں کھیلتا۔ مجھے کچھ کھلونے چاہئے اور انہیں خریدنے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے."
اس وقت درخت نے کہا:
"مجھے افسوس ہے، میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں لیکن میرے اوپر جو سیب لگے ہوئے ہیں تم انہیں توڑ کر بیچ سکتے ہو۔ اس کے بعد تمہارے پاس پیسہ آ جائیگا۔"
نو جوان بہت خوش ہوا اور اس نے درخت کے سبھی سیب توڑے اور خوشی خوشی چلا گیا۔ سیب توڑنے کے بعد نوجوان واپس نہیں آیا تو درخت کو مایوسی ہوئی.
ایک دن وہ نوجوان آیا۔ اب وہ جوان ہو چکا تھا۔ درخت بہت خوش ہوا، اس نے جوان سے کہا:
"آؤ میرے ساتھ کھیلو."
حسب توقع اس نے انکار کر دیا:
"میرے پاس کھیلنے کا وقت نہیں ہے۔ میرے لئے ضروری ہے کہ میں اپنے کنبے کے لئے کام کروں۔ ہمیں رہنے کے لئے ایک مکان کی ضرورت ہے۔ کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں."
درخت نے اس سے کہا:
"افسوس ہے لیکن میرے پاس کوئی گھر نہیں ہے۔ پھر بھی اپنا گھر بنانے کے لئے تم میری ٹہنیاں کاٹ سکتے ہو۔"
اس آدمی نے درخت کی ساری ٹہنیاں کاٹ لیں اور خوشی خوشی چلا گیا۔ اسے خوش دیکھ کر درخت خوش تھا لیکن اس وقت کے بعد آدمی اس کے پاس واپس نہیں لوٹا تو درخت کو پھر سے تنہائی اور مایوسی کا احساس ہونے لگا۔
ایک دن پھرجب دھوپ نکلی ہوئی تھی اور گرمی کافی زیادہ تھی وہ شخص آیا.
اسے دیکھ کر درخت خوش ہو گیا اور حسب عادت اس سے کہا کہ:
"آؤ میرے ساتھ کھیلو."
آدمی نے کہا کہ: "میں بڑا ہو گیا ہوں اور چاہتا ہوں کہ سمندر میں سفر کروں تاکہ خوش حال ہوجاؤں۔ کیا آپ مجھے ایک کشتی دے سکتے ہیں."
درخت نے کہا:
"میرے تنے سے اپنی کشتی بنا لو۔ اس سے تم دور تک سفر کر لوگے اور خوش حال ہو جاؤگے."
آدمی نے کشتی بنانے کے لئے درخت کا تنا کاٹا اور سمندری سفر کے لئے نکل پڑا اور کافی زمانے تک نہیں لوٹا۔ سالوں بعد وہ شخص پھر آیا۔ درخت نے اس سے کہا:
"اے میرے بیٹے مجھے افسوس ہے لیکن میرے پاس اب کچھ بھی نہیں بچا ہے جو میں تمہیں دے سکوں۔ تمہارے لئے ایک سیب بھی نہیں بچا ہے.
اس آدمی نے کہا:
"کوئی بات نہیں، میرے پاس اسے کھانے کے لئے دانت ہی نہیں ہیں."
درخت نے کہا:
"میرا تنا بھی نہیں بچا کی تم اس پر چڑھ سکو."
اس شخص نے کہا:
"اس پر چڑھنے کی اب میری عمر نہیں رہی." اس کی آنکھوں سےآنسو جاری تھے.
درخت نے کہا:
حقیقت میں، میں اب تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔ آخری چیز جو میرے پاس ہے وہ میری جڑیں ہیں."
اس وقت اس آدمی نے کہا:
"اب مجھے زیادہ چیزوں کی ضرورت نہیں ہے، اب مجھے ایک ایسی جگہ چاہئے جہاں میں آرام کر سکوں۔ زندگی بھر کام کر کر کے میں تھک چکا ہوں.
پرانے درخت کی جڑ ٹیک لگانے اور آرام کرنے کے لئے سب سے بہتر جگہ ہے."
تب درخت نے اس سے کہا:
"آؤ میرے پاس بیٹھو اور آرام کرو."
آدمی بیٹھ گیا، درخت خوش تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے."
وہ بچہ آپ خود ہیں اور سیب کا وہ درخت آپ کے والدین ہیں.
🌹نصیحت:
درخت والدین کی طرح ہے۔ جب ہم بچے ہوتے ہیں تو ہمیں ان کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا ہے اور جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں تو ہم انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور اسی وقت واپس آتے ہیں جب ہمیں ان سے کوئی ضرورت ہوتی ہے۔ اور کچھ بھی ہو جائے والدین کبھی بھی اپنی قیمتی سے قیمتی چیز اپنے بچوں کو دینے میں تردد نہیں کرتے جو ان کی آنکھوں میں بچے ہی رہتے ہیں.
🌹 باپ کی موجودگی سورج کی مانند ہوتی ہے، سورج گرم ضرور ہوتا ہے مگر سورج نہ ہو تو اندھیرا چھا جاتا ہے..!!
■امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"حضرت موسٰی علیہ السلام خدا سے مناجات کر رہے تھے، اچانک انہوں نے عرش کے سائے میں ایک شخص کو دیکھا تو عرض کیا:
اے پروردگار! یہ کون ہے جس پر عرش سایہ کئے ہوئے ہے؟ یہ شخص کس طرح اس عظیم مقام ومرتبہ تک پہنچا.؟
اللہ تعالٰی نے فرمایا:
یہ شخص اپنے والدین کے ساتھ نیکی (اچھا سلوک) کرتا تھا اور چغل خور نہ تھا."
(بحارالأنوار، جلد47)
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
قدیم زمانے میں سیب کا ایک بڑا درخت تھا۔ اس درخت کے قریب ہی ایک چھوٹا لڑکا رہتا تھا۔ اس لڑکے کو روزانہ اس درخت کے پاس آنا اور کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ وہ اس درخت کے اوپر چڑھ جاتا اور اس کے پھل توڑ توڑ کر کھاتا اور پھر اس کے سائے میں سو جاتا۔ وہ لڑکا اس درخت کو بہت چاہتا تھا اور اسی طرح اس درخت کو بھی اس لڑکے کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا تھا۔
وقت گزرتا رہا اور لڑکا بڑا ہو گیا۔ اب وہ پہلے کی طرح روزانہ اس درخت کے پاس کھیلنے نہیں آتا تھا۔
ایک روز وہ نو جوان درخت کے پاس آیا۔ وہ مایوس لگ رہا تھا۔ درخت نے اس سے کہا:
"آؤ میرے ساتھ کھیلو."
نو جوان نے اس سے کہا:
"اب میں بچہ نہیں رہا اب میں درختوں کے ارد گرد نہیں کھیلتا۔ مجھے کچھ کھلونے چاہئے اور انہیں خریدنے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے."
اس وقت درخت نے کہا:
"مجھے افسوس ہے، میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں لیکن میرے اوپر جو سیب لگے ہوئے ہیں تم انہیں توڑ کر بیچ سکتے ہو۔ اس کے بعد تمہارے پاس پیسہ آ جائیگا۔"
نو جوان بہت خوش ہوا اور اس نے درخت کے سبھی سیب توڑے اور خوشی خوشی چلا گیا۔ سیب توڑنے کے بعد نوجوان واپس نہیں آیا تو درخت کو مایوسی ہوئی.
ایک دن وہ نوجوان آیا۔ اب وہ جوان ہو چکا تھا۔ درخت بہت خوش ہوا، اس نے جوان سے کہا:
"آؤ میرے ساتھ کھیلو."
حسب توقع اس نے انکار کر دیا:
"میرے پاس کھیلنے کا وقت نہیں ہے۔ میرے لئے ضروری ہے کہ میں اپنے کنبے کے لئے کام کروں۔ ہمیں رہنے کے لئے ایک مکان کی ضرورت ہے۔ کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں."
درخت نے اس سے کہا:
"افسوس ہے لیکن میرے پاس کوئی گھر نہیں ہے۔ پھر بھی اپنا گھر بنانے کے لئے تم میری ٹہنیاں کاٹ سکتے ہو۔"
اس آدمی نے درخت کی ساری ٹہنیاں کاٹ لیں اور خوشی خوشی چلا گیا۔ اسے خوش دیکھ کر درخت خوش تھا لیکن اس وقت کے بعد آدمی اس کے پاس واپس نہیں لوٹا تو درخت کو پھر سے تنہائی اور مایوسی کا احساس ہونے لگا۔
ایک دن پھرجب دھوپ نکلی ہوئی تھی اور گرمی کافی زیادہ تھی وہ شخص آیا.
اسے دیکھ کر درخت خوش ہو گیا اور حسب عادت اس سے کہا کہ:
"آؤ میرے ساتھ کھیلو."
آدمی نے کہا کہ: "میں بڑا ہو گیا ہوں اور چاہتا ہوں کہ سمندر میں سفر کروں تاکہ خوش حال ہوجاؤں۔ کیا آپ مجھے ایک کشتی دے سکتے ہیں."
درخت نے کہا:
"میرے تنے سے اپنی کشتی بنا لو۔ اس سے تم دور تک سفر کر لوگے اور خوش حال ہو جاؤگے."
آدمی نے کشتی بنانے کے لئے درخت کا تنا کاٹا اور سمندری سفر کے لئے نکل پڑا اور کافی زمانے تک نہیں لوٹا۔ سالوں بعد وہ شخص پھر آیا۔ درخت نے اس سے کہا:
"اے میرے بیٹے مجھے افسوس ہے لیکن میرے پاس اب کچھ بھی نہیں بچا ہے جو میں تمہیں دے سکوں۔ تمہارے لئے ایک سیب بھی نہیں بچا ہے.
اس آدمی نے کہا:
"کوئی بات نہیں، میرے پاس اسے کھانے کے لئے دانت ہی نہیں ہیں."
درخت نے کہا:
"میرا تنا بھی نہیں بچا کی تم اس پر چڑھ سکو."
اس شخص نے کہا:
"اس پر چڑھنے کی اب میری عمر نہیں رہی." اس کی آنکھوں سےآنسو جاری تھے.
درخت نے کہا:
حقیقت میں، میں اب تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔ آخری چیز جو میرے پاس ہے وہ میری جڑیں ہیں."
اس وقت اس آدمی نے کہا:
"اب مجھے زیادہ چیزوں کی ضرورت نہیں ہے، اب مجھے ایک ایسی جگہ چاہئے جہاں میں آرام کر سکوں۔ زندگی بھر کام کر کر کے میں تھک چکا ہوں.
پرانے درخت کی جڑ ٹیک لگانے اور آرام کرنے کے لئے سب سے بہتر جگہ ہے."
تب درخت نے اس سے کہا:
"آؤ میرے پاس بیٹھو اور آرام کرو."
آدمی بیٹھ گیا، درخت خوش تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے."
وہ بچہ آپ خود ہیں اور سیب کا وہ درخت آپ کے والدین ہیں.
🌹نصیحت:
درخت والدین کی طرح ہے۔ جب ہم بچے ہوتے ہیں تو ہمیں ان کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا ہے اور جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں تو ہم انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور اسی وقت واپس آتے ہیں جب ہمیں ان سے کوئی ضرورت ہوتی ہے۔ اور کچھ بھی ہو جائے والدین کبھی بھی اپنی قیمتی سے قیمتی چیز اپنے بچوں کو دینے میں تردد نہیں کرتے جو ان کی آنکھوں میں بچے ہی رہتے ہیں.
🌹 باپ کی موجودگی سورج کی مانند ہوتی ہے، سورج گرم ضرور ہوتا ہے مگر سورج نہ ہو تو اندھیرا چھا جاتا ہے..!!
■امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"حضرت موسٰی علیہ السلام خدا سے مناجات کر رہے تھے، اچانک انہوں نے عرش کے سائے میں ایک شخص کو دیکھا تو عرض کیا:
اے پروردگار! یہ کون ہے جس پر عرش سایہ کئے ہوئے ہے؟ یہ شخص کس طرح اس عظیم مقام ومرتبہ تک پہنچا.؟
اللہ تعالٰی نے فرمایا:
یہ شخص اپنے والدین کے ساتھ نیکی (اچھا سلوک) کرتا تھا اور چغل خور نہ تھا."
(بحارالأنوار، جلد47)
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 ویلینٹائن ڈےاورمسلمان 🔷
14 فروری سے پہلے اس پوسٹ کو شئر کریں تاکہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والا ہر مسلمان آپ کے ذریعے اس گناہ سے بچ جائے.......
ویلینٹائن کیا ہے...؟؟؟
ایک یہودی ملعون جس کا نام "ویلینٹائن" تھا نے شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کے بیچ زنا کو جائز قرار دیا تھا.
اسی بات پر انگلینڈ کی گورنمنٹ نے اسے 14 فروری کو پھانسی کی سزا دی تھی.
اس دن کو انگلینڈ کی نئی نسل نے اسکی یاد میں منانا شروع کر دیا.
افسوس صد افسوس کہ اب مسلمانوں نے بھی اس بے حیا اور بے شرم نسل کی طرح اس دن کو منانا شروع کر دیا ہے.
🌹یاد رکھیں:
رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ،
"جو شخص جس قوم کی مشابہت کرے گا وہ انہی میں سے ہو گا" (ابو داؤد)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک عیسائی نے عید الفطر جوش و جذبے سے منائی، ایک ہندو نے عیدالاضحی یہ بکرا قربان کیا۔
ایک یہودی نے رمضان کا روزہ رکھا۔ کیا آپ نے کبھی ایسا سنا؟
نہیں نا! تو یہ کیا ہے۔ مسلمانوں نے ویلنٹائن ڈے جوش سے منایا۔
نیا سال منایا، اپریل فول منایا،
بسنت منائی،
یہ راکھی باندھنے کی تقریب۔
کتنے شرم کی بات ہے؟
اللہ سے پھر ہم شکوہ کرتے ہیں کہ زلزلے اور سیلاب ہم پہ کیوں آتے ہیں۔ کیا ہم مسلمان ہیں؟
کیا ہم دعوی کر سکتے ہیں کہ ہم امتی ہیں حضرت محمد صلی الله عليه وآلہ وسلم کے؟
اس بارے میں ضرور سوچیں کیا یہ صحیح ہے؟
کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ کوئی آپ کی بہن بیٹی کے ساتھ ویلنٹائن ڈے منائے؟
اگر نہیں تو اس بے حیائی سے باز آ جائیں۔
وہ لوگ ہمیں محبت کا درس کیا دیں گے؟؟؟؟
جو اپنے کتوں کو تو ساتھ سلاتے ہوں،
لیکن اپنی ماں کو اولڈ ہوم چھوڑ آتے ہوں...
ویلنٹائن ڈے میری جوتی کی نوک پر۔
برائے مہربانی اس میسج کو اپنے تمام مسلم بھائیوں اور بہنوں تک پہنچائیں.
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/3286
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
14 فروری سے پہلے اس پوسٹ کو شئر کریں تاکہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والا ہر مسلمان آپ کے ذریعے اس گناہ سے بچ جائے.......
ویلینٹائن کیا ہے...؟؟؟
ایک یہودی ملعون جس کا نام "ویلینٹائن" تھا نے شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کے بیچ زنا کو جائز قرار دیا تھا.
اسی بات پر انگلینڈ کی گورنمنٹ نے اسے 14 فروری کو پھانسی کی سزا دی تھی.
اس دن کو انگلینڈ کی نئی نسل نے اسکی یاد میں منانا شروع کر دیا.
افسوس صد افسوس کہ اب مسلمانوں نے بھی اس بے حیا اور بے شرم نسل کی طرح اس دن کو منانا شروع کر دیا ہے.
🌹یاد رکھیں:
رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ،
"جو شخص جس قوم کی مشابہت کرے گا وہ انہی میں سے ہو گا" (ابو داؤد)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک عیسائی نے عید الفطر جوش و جذبے سے منائی، ایک ہندو نے عیدالاضحی یہ بکرا قربان کیا۔
ایک یہودی نے رمضان کا روزہ رکھا۔ کیا آپ نے کبھی ایسا سنا؟
نہیں نا! تو یہ کیا ہے۔ مسلمانوں نے ویلنٹائن ڈے جوش سے منایا۔
نیا سال منایا، اپریل فول منایا،
بسنت منائی،
یہ راکھی باندھنے کی تقریب۔
کتنے شرم کی بات ہے؟
اللہ سے پھر ہم شکوہ کرتے ہیں کہ زلزلے اور سیلاب ہم پہ کیوں آتے ہیں۔ کیا ہم مسلمان ہیں؟
کیا ہم دعوی کر سکتے ہیں کہ ہم امتی ہیں حضرت محمد صلی الله عليه وآلہ وسلم کے؟
اس بارے میں ضرور سوچیں کیا یہ صحیح ہے؟
کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ کوئی آپ کی بہن بیٹی کے ساتھ ویلنٹائن ڈے منائے؟
اگر نہیں تو اس بے حیائی سے باز آ جائیں۔
وہ لوگ ہمیں محبت کا درس کیا دیں گے؟؟؟؟
جو اپنے کتوں کو تو ساتھ سلاتے ہوں،
لیکن اپنی ماں کو اولڈ ہوم چھوڑ آتے ہوں...
ویلنٹائن ڈے میری جوتی کی نوک پر۔
برائے مہربانی اس میسج کو اپنے تمام مسلم بھائیوں اور بہنوں تک پہنچائیں.
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/3286
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 یکم اپریل فول ڈے 🔷
بہت سے رسم و رواج ایسے ہیں جن کا ہماری تہذیب و ثقافت سے کوئی تعلق نہیں نہ ترقی کا دارومدار اس پر ہے اور نہ اخلاقی لحاظ سے ان کی کوئی تک بنتی ہے جیسے ویلنٹائن ڈے بسنت اور اپریل فول ان میں سے آپ کسی کے بهی پس منظر میں چلے جائیں تو حیران…
بہت سے رسم و رواج ایسے ہیں جن کا ہماری تہذیب و ثقافت سے کوئی تعلق نہیں نہ ترقی کا دارومدار اس پر ہے اور نہ اخلاقی لحاظ سے ان کی کوئی تک بنتی ہے جیسے ویلنٹائن ڈے بسنت اور اپریل فول ان میں سے آپ کسی کے بهی پس منظر میں چلے جائیں تو حیران…
🌳 مسواک کے ستر فائدے 🌳
1= رحمٰن کی خوشنودی ہے.
2= مسواک کی نماز کا ثواب۔ 99/ گنا اور بعض کتابوں کے مطابق -/440/گنا تک بڑھ جاتا ہے.
3= اس کا ہمیشہ کرنا وسعت رزق کا باعث ہے.
4= اسباب رزق کی سہولت کا باعث ہے.
5= منہ کی صفائی ہے.
6= مسوڑھا مضبوط کرتی ہے.
7= سر کے درد کو دور کرتی ہے.
8= سر کی رگوں کے لئے مفید ہے.
9= بلغم دور کرتی ہے.
10= دانت مضبوط کرتی ہے.
11= مالداری لا تی ہے.
12= نگاہ تیز کرتی ہے.
13= معدہ درست کرتی ہے.
14= بدن کو طاقت پہنچاتی ہے.
15= فصاحت وبلاغت پیدا کرتی ہے.
16= یاد داشت بڑھاتی ہے.
17= عقل کی زیادتی کا باعث ہے.
18= دل کوصاف رکھتی ہے.
19= نیکیوں کو زائد کرتی ہے.
20= فرشتوں کو خوش رکھتی ہے.
21= چہرے کے منور ہوجانے کی وجہ سے فرشتے مصافحہ کرتے ہیں.
22= جب وہ نماز کو جاتا ہے تو فرشتے اس کے ساتھ چلتے ہیں.
23= مسجد کی طرف جاتے وقت حاملین عرش فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے ہیں.
24= مسواک کرنے والے کو انبیاء وپیغمبر علیہم السلام کی دعاء واستغفار ملتی ہے.
25= شیطان کو ناراض اور اسے دور کرنے والی ہے.
26= ذھن کوصاف کرنے والی ہے.
27= کھانا ہضم کرنے والی ہے.
28= کثرت اولاد کا باعث ہے.
29= پل صراط پر بجلی کی طرح گذارنے والی ہے.
30= بڑھاپا دیر سے لاتی ہے.
31= نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دلاتی ہے.
32= جسم کو عبادت الٰہی پر ابھارتی ہے.
33= جسم کی گرمی کو دور کرتی ہے.
34= بدن کے درد کو دور کرتی ہے.
35= کمر یعنی پیٹھ مظبوط کرتی ہے.
36= موت کے وقت کلمۂ شھادت یاد دلاتی ہے.
37= روح کےنکلنے کو آسان کرتی ہے.
38= دانتوں کو سفید کرتی ہے.
39= منہ کو خوشگواربناتی ہے.
40= ذھن تیز کرتی ہے.
41= اس سے قبر میں کشادگی ہوتی ہے.
42= قبر میں انس کا باعث ہے.
43= مسوک نہ کرنے کے برابر لوگوں کا ثواب ملتا ہے.
44= اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں.
45= فرشتے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ لوگ انبیاء علیہم السلام کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں.
46= اس پر جہنم کا دروازہ بند کردیا جاتا ہے.
47= دنیا سے وہ پاک وصاف ہوکر جاتا ہے.
48= فرشتے موت کے وقت اس طرح آتے ہیں جس طرح اولیاء کرام کے پاس آتے ہیں بعض عبارات میں ہے کہ انبیاء علہیم السلام کی طرح آتے ہیں.
49= اس وقت تک دنیا سے اس کی روح نہیں نکلتی جب تک کہ وہ نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے حوض مبارک سے رحیق مختوم کا گھونٹ نہیں پی لیتا.
50= منہ کی بدبو ختم کرتی ہے.
51= بغل کی بدبو ختم کرتی ہے.
52= جنت کے درجات بلند کرتی ہے.
53= سنت کا ثواب ہے.
54= ڈاڑھ کا درد دور ہوتا ہے.
55= شیطان کے وسوسوں کو دور کرتی ہے.
56= بھوک پیدا کرتی ہے.
57= (جسم کی) رطوبت ختم کرتی ہے.
58= مادۂ منویہ گاڑھا کرتی ہے.
59= آواز خوبصورت کرتی ہے.
60= پت کی تیزی کو بجھاتی ہے.
61= زبان کے میل کو دور کرتی ہے.
62= حلق صاف کرتی ہے.
63= ضرورتوں کے پورا ہونے میں مددگار ہے.
64= منہ میں خوشبو پیدا ہوتی ہے.
65= درد کو سکون دیتی ہے.
66= موت کے علاوہ ہر مرض سے شفاء ہے.
67= جسم کا رنگ نکھارتی ہے.
68= چہرے کو با رونق بناتی ہے.
69= بال اُگاتی ہے.
70= (مسواک کا عادی) جس دن مسواک نہ کرے اس دن بھی اجر لکھا جاتا ہے.
👆ایک مراسلہ 👆
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1= رحمٰن کی خوشنودی ہے.
2= مسواک کی نماز کا ثواب۔ 99/ گنا اور بعض کتابوں کے مطابق -/440/گنا تک بڑھ جاتا ہے.
3= اس کا ہمیشہ کرنا وسعت رزق کا باعث ہے.
4= اسباب رزق کی سہولت کا باعث ہے.
5= منہ کی صفائی ہے.
6= مسوڑھا مضبوط کرتی ہے.
7= سر کے درد کو دور کرتی ہے.
8= سر کی رگوں کے لئے مفید ہے.
9= بلغم دور کرتی ہے.
10= دانت مضبوط کرتی ہے.
11= مالداری لا تی ہے.
12= نگاہ تیز کرتی ہے.
13= معدہ درست کرتی ہے.
14= بدن کو طاقت پہنچاتی ہے.
15= فصاحت وبلاغت پیدا کرتی ہے.
16= یاد داشت بڑھاتی ہے.
17= عقل کی زیادتی کا باعث ہے.
18= دل کوصاف رکھتی ہے.
19= نیکیوں کو زائد کرتی ہے.
20= فرشتوں کو خوش رکھتی ہے.
21= چہرے کے منور ہوجانے کی وجہ سے فرشتے مصافحہ کرتے ہیں.
22= جب وہ نماز کو جاتا ہے تو فرشتے اس کے ساتھ چلتے ہیں.
23= مسجد کی طرف جاتے وقت حاملین عرش فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے ہیں.
24= مسواک کرنے والے کو انبیاء وپیغمبر علیہم السلام کی دعاء واستغفار ملتی ہے.
25= شیطان کو ناراض اور اسے دور کرنے والی ہے.
26= ذھن کوصاف کرنے والی ہے.
27= کھانا ہضم کرنے والی ہے.
28= کثرت اولاد کا باعث ہے.
29= پل صراط پر بجلی کی طرح گذارنے والی ہے.
30= بڑھاپا دیر سے لاتی ہے.
31= نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دلاتی ہے.
32= جسم کو عبادت الٰہی پر ابھارتی ہے.
33= جسم کی گرمی کو دور کرتی ہے.
34= بدن کے درد کو دور کرتی ہے.
35= کمر یعنی پیٹھ مظبوط کرتی ہے.
36= موت کے وقت کلمۂ شھادت یاد دلاتی ہے.
37= روح کےنکلنے کو آسان کرتی ہے.
38= دانتوں کو سفید کرتی ہے.
39= منہ کو خوشگواربناتی ہے.
40= ذھن تیز کرتی ہے.
41= اس سے قبر میں کشادگی ہوتی ہے.
42= قبر میں انس کا باعث ہے.
43= مسوک نہ کرنے کے برابر لوگوں کا ثواب ملتا ہے.
44= اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں.
45= فرشتے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ لوگ انبیاء علیہم السلام کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں.
46= اس پر جہنم کا دروازہ بند کردیا جاتا ہے.
47= دنیا سے وہ پاک وصاف ہوکر جاتا ہے.
48= فرشتے موت کے وقت اس طرح آتے ہیں جس طرح اولیاء کرام کے پاس آتے ہیں بعض عبارات میں ہے کہ انبیاء علہیم السلام کی طرح آتے ہیں.
49= اس وقت تک دنیا سے اس کی روح نہیں نکلتی جب تک کہ وہ نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے حوض مبارک سے رحیق مختوم کا گھونٹ نہیں پی لیتا.
50= منہ کی بدبو ختم کرتی ہے.
51= بغل کی بدبو ختم کرتی ہے.
52= جنت کے درجات بلند کرتی ہے.
53= سنت کا ثواب ہے.
54= ڈاڑھ کا درد دور ہوتا ہے.
55= شیطان کے وسوسوں کو دور کرتی ہے.
56= بھوک پیدا کرتی ہے.
57= (جسم کی) رطوبت ختم کرتی ہے.
58= مادۂ منویہ گاڑھا کرتی ہے.
59= آواز خوبصورت کرتی ہے.
60= پت کی تیزی کو بجھاتی ہے.
61= زبان کے میل کو دور کرتی ہے.
62= حلق صاف کرتی ہے.
63= ضرورتوں کے پورا ہونے میں مددگار ہے.
64= منہ میں خوشبو پیدا ہوتی ہے.
65= درد کو سکون دیتی ہے.
66= موت کے علاوہ ہر مرض سے شفاء ہے.
67= جسم کا رنگ نکھارتی ہے.
68= چہرے کو با رونق بناتی ہے.
69= بال اُگاتی ہے.
70= (مسواک کا عادی) جس دن مسواک نہ کرے اس دن بھی اجر لکھا جاتا ہے.
👆ایک مراسلہ 👆
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 ولادت باسعادت امام علی سجادؑ 🌹
ولادت باسعادت حضرت امام علی زین العابدینؑ مبارک ہو۔
🔷 تاریخ ولادت:
حضرت امام علی بن الحسین (ع) کی تاریخ ولادت کے بارے میں مؤرخین کا خاصا اختلاف ہےـ بعض نے 15 جمادی الاول، بعض نے 5 شعبان اور بعض نے 7 شعبان اور بعض نے 9 شعبان ولادت کی تاریخ بیان کی ہے.
اور سال کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے. بعض نے 38ھ، بعض نے 36ھ اور بعض نے 37ھ بیان کیا ہے.
🔷 آپؑ کا نسب مبارک:
آپؑ کا اسم گرامی علی ابن الحسين،
آپؑ سید الشہداء امام حسینؑ کے شہزادے اورحضرت علی مرتضیٰؑ و خاتون جنتؑ کے پوتے ہیں.
آپ کی والدہ کا نام شہربانو یا سلامہ یا سلافہ یا پهر غزالہ ہے۔
کامل مبرد میں ہے کہ جناب شہربانو، بادشاہ ایران یزدجرد بن شہریار بن شیرویہ ابن پرویز بن ہرمز بن نوشیرواں عادل "کسری" کی بیٹی تھیں.
(ارشاد مفید ص ۳۹۱، فصل الخطاب)
معرکہ کربلا میں آپ اپنے والد امام عالی مقام کے ساتھ تھے، لیکن سخت علیل ہونے کے باعث معرکے میں شریک نہیں ہوسکے، جنگ کے خاتمے کے بعد قافلہ اہلبیت کے ساتھ دمشق لے جائے گئے وہاں سے مدینہ منورہ تشریف لائے۔
🔷 آپؑ کے القاب:
زین العابدین، سید العابدین، سید الساجدین، زین الصالحین، وارث علم النبیین ،سجّاد، زاھد، عابد، بكّاء، ذوالثّفنات، زکی اور امین.
🔷 آپؑ کی کنیت:
ابو محمد، ابوالحسن، اور ایک قول کے مطابق ابوالقاسم ہے.
🔷 نسل حسینی:
امام حسین علیہ السلام کی نسل امام زین العابدینؑ سے آگے بڑهی ہے اور حسینی سادات کا سلسلہ نسب امام علی زین العابدینؑ سے شروع ہوتا ہے.
🔷 آپؑ کی شخصیت:
نورالابصارصفحہ 126 اور اخبارالاول صفحة 109 پر مُلّا مُبّین تحریر فرماتےہیں کہ حُسن وجمال، صورت وکمال میں نہایت ہی ممتاز تھے، آپ کے چہرہ مُبارک پر کسی کی نظر پڑتی تھی تو وہ آپ کا احترام کرنے اور آپ کی تعظیم کرنے پر مجبور ہو جاتا.
وسیلةالنجات صفحہ 219 پر محمد بن طلحہ شافی رقمطراز ہیں کہ آپ صاف کپڑے پہنتے تھے اور جب راستہ چلتے تھے تو نہایت خشوع کے ساتھ، راہداری میں آپ کے ہاتھ زانوؤں سے باہر نہیں جاتے تھے۔
🔷 آپؑ کی عبادت:
خاندانی نجابت وشرافت کے ساتھ ساتھ ذاتی اوصاف وکمالات کی بنیاد پر معاصرین میں نمایاں شرف وفضیلت رکھتے تھے، زہد وتقویٰ، جود وسخا، تواضع وانکساری اورغربا پروری میں ضرب المثل ہیں. شب بیداری اور عبادت گزاری میں ایسے ممتاز ہوئے کہ زین العابدین کے لقب سے یاد کیے گئے.
آپؑ کو عبادت گزاری میں امتیاز کامل حاصل تھا۔ رات بھر جاگنے کی وجہ سے آپ کا سارا بدن زرد رہا کرتا تھا اور خوف خدا میں روتے روتے آپؑ کی آنکھیں پھول جایا کرتی تھیں اور نماز میں کھڑے کھڑے آپؑ کے پاؤں سُوج جایا کرتے تھے۔
جس طرح آپؑ کی عبادت گزاری میں پیروی ناممکن ہے۔ اسی طرح آپؑ کی شانِ عبادت کی رقم طرازی بھی دشوار ہے.
مطالب السُولُ صفحہ 262 پر محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں۔ کہ آپ جب وُضو کے لیے بیٹھتے تھے تو آپ کے چہرے مبارک کا رنگ زرد ہو جایا کرتا تھا.
حضرت سعید بن مسیب سے کسی نے کہا کہ مَیں نے فلاں سے زیادہ متقی وپرہیزگار کسی کو نہیں دیکھا، اس پر ابن مسیب نے فرمایا کہ کیا تم نے علی بن حسین (ع) کو دیکھا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں. حضرت ابن مسیب نے فرمایا کہ مَیں نے علی بن حسین سے بڑھ کر متقی وپرہیزگار کسی کو نہیں پایا۔
امام ذہبی کے مطابق آپ سے روایت کرنے والوں میں آپ کے صاحبزادے امام ابوجعفر محمدباقر، حضرت زید، حضرت عمر اور حضرت عبداللہ کے علاوہ زیدبن اسلم، عاصم بن عمر، امام زہری، یحییٰ بن سعید اور ابوالزناد وغیرہ قابل ذکر ہیں.
امام ذہبی نے امام زہری کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ "میں نے علی بن حسین سے زیادہ فقیہ کسی کو نہیں دیکھا."
🔹 علمائے جرح وتعدیل باتفاق رائے آپ کو ثقہ، مامون اور حجت تسلیم کرتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ صحاح ستہ کے مصنفین نے بلاتکلف اپنی کتب میں آپ سے مروی احادیث درج کی ہیں.
🔶 آخری آرام گاہ:
آپ کی وفات ۹۴ھ میں ہوئی (بعض نے ۹۲ھ بھی لکھی ہے). آپ کی آخری آرامگاہ جنت البقیع میں اپنے تایا امام حسنؑ کے پہلو میں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
🌹 ولادت باسعادت امام علی سجادؑ
http://t.me/islamwitheman/182
🌸 واقعہ کربلا اور کردار امام سجادؑ
http://t.me/islamwitheman/1653
🔷 امام سجادؑ اور شامی بوڑھا
http://t.me/islamwitheman/1656
⚘ امام سجادؑ اور شہداءکربلاکی تدفین
http://t.me/islamwitheman/1657
🍃 امام سجادؑ اور دربارِ یزید
http://t.me/islamwitheman/1658
🌺 مدینہ کیقریب امام سجادؑ کاخطبہ
http://t.me/islamwitheman/1660
🔵 امام سجادؑ کا اونٹ
http://t.me/islamwitheman/1662
🌹 ولادت باسعادت امام زین العابدینؑ
https://t.me/islamwitheman/3203
🌹 شان عبادت امام سجادؑ
https://t.me/islamwitheman/3204
🌹 امام سجادؑ کی غرباء پروری
https://t.me/islamwitheman/3207
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ولادت باسعادت حضرت امام علی زین العابدینؑ مبارک ہو۔
🔷 تاریخ ولادت:
حضرت امام علی بن الحسین (ع) کی تاریخ ولادت کے بارے میں مؤرخین کا خاصا اختلاف ہےـ بعض نے 15 جمادی الاول، بعض نے 5 شعبان اور بعض نے 7 شعبان اور بعض نے 9 شعبان ولادت کی تاریخ بیان کی ہے.
اور سال کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے. بعض نے 38ھ، بعض نے 36ھ اور بعض نے 37ھ بیان کیا ہے.
🔷 آپؑ کا نسب مبارک:
آپؑ کا اسم گرامی علی ابن الحسين،
آپؑ سید الشہداء امام حسینؑ کے شہزادے اورحضرت علی مرتضیٰؑ و خاتون جنتؑ کے پوتے ہیں.
آپ کی والدہ کا نام شہربانو یا سلامہ یا سلافہ یا پهر غزالہ ہے۔
کامل مبرد میں ہے کہ جناب شہربانو، بادشاہ ایران یزدجرد بن شہریار بن شیرویہ ابن پرویز بن ہرمز بن نوشیرواں عادل "کسری" کی بیٹی تھیں.
(ارشاد مفید ص ۳۹۱، فصل الخطاب)
معرکہ کربلا میں آپ اپنے والد امام عالی مقام کے ساتھ تھے، لیکن سخت علیل ہونے کے باعث معرکے میں شریک نہیں ہوسکے، جنگ کے خاتمے کے بعد قافلہ اہلبیت کے ساتھ دمشق لے جائے گئے وہاں سے مدینہ منورہ تشریف لائے۔
🔷 آپؑ کے القاب:
زین العابدین، سید العابدین، سید الساجدین، زین الصالحین، وارث علم النبیین ،سجّاد، زاھد، عابد، بكّاء، ذوالثّفنات، زکی اور امین.
🔷 آپؑ کی کنیت:
ابو محمد، ابوالحسن، اور ایک قول کے مطابق ابوالقاسم ہے.
🔷 نسل حسینی:
امام حسین علیہ السلام کی نسل امام زین العابدینؑ سے آگے بڑهی ہے اور حسینی سادات کا سلسلہ نسب امام علی زین العابدینؑ سے شروع ہوتا ہے.
🔷 آپؑ کی شخصیت:
نورالابصارصفحہ 126 اور اخبارالاول صفحة 109 پر مُلّا مُبّین تحریر فرماتےہیں کہ حُسن وجمال، صورت وکمال میں نہایت ہی ممتاز تھے، آپ کے چہرہ مُبارک پر کسی کی نظر پڑتی تھی تو وہ آپ کا احترام کرنے اور آپ کی تعظیم کرنے پر مجبور ہو جاتا.
وسیلةالنجات صفحہ 219 پر محمد بن طلحہ شافی رقمطراز ہیں کہ آپ صاف کپڑے پہنتے تھے اور جب راستہ چلتے تھے تو نہایت خشوع کے ساتھ، راہداری میں آپ کے ہاتھ زانوؤں سے باہر نہیں جاتے تھے۔
🔷 آپؑ کی عبادت:
خاندانی نجابت وشرافت کے ساتھ ساتھ ذاتی اوصاف وکمالات کی بنیاد پر معاصرین میں نمایاں شرف وفضیلت رکھتے تھے، زہد وتقویٰ، جود وسخا، تواضع وانکساری اورغربا پروری میں ضرب المثل ہیں. شب بیداری اور عبادت گزاری میں ایسے ممتاز ہوئے کہ زین العابدین کے لقب سے یاد کیے گئے.
آپؑ کو عبادت گزاری میں امتیاز کامل حاصل تھا۔ رات بھر جاگنے کی وجہ سے آپ کا سارا بدن زرد رہا کرتا تھا اور خوف خدا میں روتے روتے آپؑ کی آنکھیں پھول جایا کرتی تھیں اور نماز میں کھڑے کھڑے آپؑ کے پاؤں سُوج جایا کرتے تھے۔
جس طرح آپؑ کی عبادت گزاری میں پیروی ناممکن ہے۔ اسی طرح آپؑ کی شانِ عبادت کی رقم طرازی بھی دشوار ہے.
مطالب السُولُ صفحہ 262 پر محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں۔ کہ آپ جب وُضو کے لیے بیٹھتے تھے تو آپ کے چہرے مبارک کا رنگ زرد ہو جایا کرتا تھا.
حضرت سعید بن مسیب سے کسی نے کہا کہ مَیں نے فلاں سے زیادہ متقی وپرہیزگار کسی کو نہیں دیکھا، اس پر ابن مسیب نے فرمایا کہ کیا تم نے علی بن حسین (ع) کو دیکھا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں. حضرت ابن مسیب نے فرمایا کہ مَیں نے علی بن حسین سے بڑھ کر متقی وپرہیزگار کسی کو نہیں پایا۔
امام ذہبی کے مطابق آپ سے روایت کرنے والوں میں آپ کے صاحبزادے امام ابوجعفر محمدباقر، حضرت زید، حضرت عمر اور حضرت عبداللہ کے علاوہ زیدبن اسلم، عاصم بن عمر، امام زہری، یحییٰ بن سعید اور ابوالزناد وغیرہ قابل ذکر ہیں.
امام ذہبی نے امام زہری کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ "میں نے علی بن حسین سے زیادہ فقیہ کسی کو نہیں دیکھا."
🔹 علمائے جرح وتعدیل باتفاق رائے آپ کو ثقہ، مامون اور حجت تسلیم کرتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ صحاح ستہ کے مصنفین نے بلاتکلف اپنی کتب میں آپ سے مروی احادیث درج کی ہیں.
🔶 آخری آرام گاہ:
آپ کی وفات ۹۴ھ میں ہوئی (بعض نے ۹۲ھ بھی لکھی ہے). آپ کی آخری آرامگاہ جنت البقیع میں اپنے تایا امام حسنؑ کے پہلو میں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
🌹 ولادت باسعادت امام علی سجادؑ
http://t.me/islamwitheman/182
🌸 واقعہ کربلا اور کردار امام سجادؑ
http://t.me/islamwitheman/1653
🔷 امام سجادؑ اور شامی بوڑھا
http://t.me/islamwitheman/1656
⚘ امام سجادؑ اور شہداءکربلاکی تدفین
http://t.me/islamwitheman/1657
🍃 امام سجادؑ اور دربارِ یزید
http://t.me/islamwitheman/1658
🌺 مدینہ کیقریب امام سجادؑ کاخطبہ
http://t.me/islamwitheman/1660
🔵 امام سجادؑ کا اونٹ
http://t.me/islamwitheman/1662
🌹 ولادت باسعادت امام زین العابدینؑ
https://t.me/islamwitheman/3203
🌹 شان عبادت امام سجادؑ
https://t.me/islamwitheman/3204
🌹 امام سجادؑ کی غرباء پروری
https://t.me/islamwitheman/3207
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 ولادت باسعادت امام علی سجادؑ 🌹
ولادت باسعادت حضرت امام علی زین العابدینؑ مبارک ہو۔
🔷 تاریخ ولادت:
حضرت امام علی بن الحسین (ع) کی تاریخ ولادت کے بارے میں مؤرخین کا خاصا اختلاف ہےـ بعض نے 15 جمادی الاول، بعض نے 5 شعبان اور بعض نے 7 شعبان اور بعض نے 9 شعبان…
ولادت باسعادت حضرت امام علی زین العابدینؑ مبارک ہو۔
🔷 تاریخ ولادت:
حضرت امام علی بن الحسین (ع) کی تاریخ ولادت کے بارے میں مؤرخین کا خاصا اختلاف ہےـ بعض نے 15 جمادی الاول، بعض نے 5 شعبان اور بعض نے 7 شعبان اور بعض نے 9 شعبان…
💵 پیسہ گھماؤ 💵
ایک قصبے کے ہوٹل میں ایک سیاح داخل ہوا اور مالک سے اس ہوٹل کا بہترین کمرہ دکھانے کو کہا. مالک نے اسے بہترین کمرے کی چابی دی اور کمرہ دیکھنے کی اجازت دے دی. سیاح نے کاؤنٹر پر ایک سو ڈالر کا نوٹ بطور ایڈوانس رکھا اور کمرہ دیکھنے چلا گیا.
اس وقت قصبے کا قصاب ہوٹل کے مالک سے گوشت کی رقم لینے آ گیا. ہوٹل مالک نے وہی سو ڈالر اٹھا کر قصاب کو دے دیئے. کیونکہ اسے امید تھی کہ سیاح کو کمرہ ضرور پسند آ جائے گا.
قصائی نے سو ڈالر لے کر فورا یہ رقم اپنے جانور سپلائی کرنے والے کو دے دی.
جانور سپلائی کرنے والا ایک ڈاکٹر کا مقروض تھا، جس سے وہ علاج کروا رہا تھا تو اس نے وہ سو ڈالر ڈاکٹر کو دے دیئے.
وہ ڈاکٹر کافی دنوں سے اسی ہوٹل کے ایک کمرے میں مقیم تھا. اس لئے اس نے یہی نوٹ ہوٹل کے مالک کو (بطور کرایہ) ادا کر دیا.
وہ سو ڈالر کا نوٹ کاؤنٹر پر ہی پڑا تھا کہ کمرہ پسند کرنے کے لئے سیڑھیاں چڑھ کر گیا ہوا متوقع گاہک واپس آ گیا اور ہوٹل کے مالک کو بتاتا ہے کہ مجھے کمرہ پسند نہیں آیا. یہ کہہ کر اس نے اپنا سو ڈالر کا نوٹ اٹھایا اور چلا گیا..!!!
🔹اکنامک کی اس کہانی میں نہ کسی نے کچھ کمایا اور نہ کسی نے کچھ خرچ کیا لیکن جس قصبے میں سیاح یہ نوٹ لے کر آیا تھا، اس قصبے کے کتنے ہی لوگ قرضے سے فارغ ہو گئے.
🔘 حاصل مطالعہ:
پیسے کو گھماؤ.!! نہ کہ اس پر سانپ بن کر بیٹھ جاؤ کہ اسی میں عوام الناس کی فلاح ہے.
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/1810
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک قصبے کے ہوٹل میں ایک سیاح داخل ہوا اور مالک سے اس ہوٹل کا بہترین کمرہ دکھانے کو کہا. مالک نے اسے بہترین کمرے کی چابی دی اور کمرہ دیکھنے کی اجازت دے دی. سیاح نے کاؤنٹر پر ایک سو ڈالر کا نوٹ بطور ایڈوانس رکھا اور کمرہ دیکھنے چلا گیا.
اس وقت قصبے کا قصاب ہوٹل کے مالک سے گوشت کی رقم لینے آ گیا. ہوٹل مالک نے وہی سو ڈالر اٹھا کر قصاب کو دے دیئے. کیونکہ اسے امید تھی کہ سیاح کو کمرہ ضرور پسند آ جائے گا.
قصائی نے سو ڈالر لے کر فورا یہ رقم اپنے جانور سپلائی کرنے والے کو دے دی.
جانور سپلائی کرنے والا ایک ڈاکٹر کا مقروض تھا، جس سے وہ علاج کروا رہا تھا تو اس نے وہ سو ڈالر ڈاکٹر کو دے دیئے.
وہ ڈاکٹر کافی دنوں سے اسی ہوٹل کے ایک کمرے میں مقیم تھا. اس لئے اس نے یہی نوٹ ہوٹل کے مالک کو (بطور کرایہ) ادا کر دیا.
وہ سو ڈالر کا نوٹ کاؤنٹر پر ہی پڑا تھا کہ کمرہ پسند کرنے کے لئے سیڑھیاں چڑھ کر گیا ہوا متوقع گاہک واپس آ گیا اور ہوٹل کے مالک کو بتاتا ہے کہ مجھے کمرہ پسند نہیں آیا. یہ کہہ کر اس نے اپنا سو ڈالر کا نوٹ اٹھایا اور چلا گیا..!!!
🔹اکنامک کی اس کہانی میں نہ کسی نے کچھ کمایا اور نہ کسی نے کچھ خرچ کیا لیکن جس قصبے میں سیاح یہ نوٹ لے کر آیا تھا، اس قصبے کے کتنے ہی لوگ قرضے سے فارغ ہو گئے.
🔘 حاصل مطالعہ:
پیسے کو گھماؤ.!! نہ کہ اس پر سانپ بن کر بیٹھ جاؤ کہ اسی میں عوام الناس کی فلاح ہے.
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/1810
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌼 خالی ہاتھ 🌼
ایک افریقی شخص ایسے شہر میں پہنچا جو شہر قرض میں غرق تھا،
وہ افریقی شخص 1000 روپے ہوٹل کے کاؤنٹر پر رکھےاور بولا میں جا رہا ہوں کمرہ پسند کرنے۔
ہوٹل کا مالک فورا" 1000 روپے لے کر بھاگا گھی والے کے پاس اور اس کے 1000 روپے دے کر گھی کا…
ایک افریقی شخص ایسے شہر میں پہنچا جو شہر قرض میں غرق تھا،
وہ افریقی شخص 1000 روپے ہوٹل کے کاؤنٹر پر رکھےاور بولا میں جا رہا ہوں کمرہ پسند کرنے۔
ہوٹل کا مالک فورا" 1000 روپے لے کر بھاگا گھی والے کے پاس اور اس کے 1000 روپے دے کر گھی کا…
⭕ یقین اور اخلاص ⭕
اسکی عادت تھی کہ وہ اذان سے کافی پہلے مسجد میں آ جاتا اور وضو کر کے قرآن پاک کی تلاوت شروع کردیتا. اس طرح جماعت ہونے سے پہلے اسے تلاوت کیلئے کافی وقت مل جاتا.
آج بھی کچھ اسی طرح ہوا تھا، وہ مسجد میں بیٹھا تلاوت کر رہا تھا کہ ایک چھوٹا بچہ مسجد میں داخل ہوا اور ہاتھ منہ دھو کر مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گیا. اس نے مسکرا کر بچے کی طرف دیکھا تو بچے نے بھی مسکراہٹ سے جواب دیا.
وہ سر جھکا کر پھر تلاوت میں مشغول ہوگیا. تھوڑی دیر بعد تلاوت کے دوران اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ چھوٹا بچہ اپنے ننھے ہاتھ اٹھا کر آنکھیں بند کر کے دعا مانگ رہا تھا.
اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی. بچے کا دعا مانگنے کا انداز اتنا پیارا تھا کہ وہ بے ساختہ قرآن مجید بند کر کے اسے دیکھنے لگا.
تھوڑی دیر بعد اس بچے نے دعا ختم کی اور باہر جانے لگا تو اس کا دل چاہا کہ وہ اس بچے کی حوصلہ افزائی کے لئے اسے کچھ دے.
اس نے بچے کو پاس بلایا اور سر پر ہاتھ پھیر کر اس کو سو کا نوٹ دیا. بچے نے تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد وہ نوٹ قبول کر لیا.
اس نے بچے سے پوچھا کہ بتاؤ تم اللہ سے کیا دعا مانگ رہے تھے؟
بچے نے مسکراتے ہوئے کہا....
میرا چاکلیٹ کھانے کو دل کر رہا تھا تو میں نے اللہ جی سے سو روپے مانگے تھے.. یہ کہہ کر وہ بچہ چلا گیا.
بچے کے جانے کے بعد بھی وہ اسی سمت دیکھتا رہا جس طرف وہ بچہ گیا تھا جو اسے یقین اور اخلاص سے دعا مانگنے کا ایک طریقہ سکھایا گیا تھا.
Fb.com/islamwitheman
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
اسکی عادت تھی کہ وہ اذان سے کافی پہلے مسجد میں آ جاتا اور وضو کر کے قرآن پاک کی تلاوت شروع کردیتا. اس طرح جماعت ہونے سے پہلے اسے تلاوت کیلئے کافی وقت مل جاتا.
آج بھی کچھ اسی طرح ہوا تھا، وہ مسجد میں بیٹھا تلاوت کر رہا تھا کہ ایک چھوٹا بچہ مسجد میں داخل ہوا اور ہاتھ منہ دھو کر مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گیا. اس نے مسکرا کر بچے کی طرف دیکھا تو بچے نے بھی مسکراہٹ سے جواب دیا.
وہ سر جھکا کر پھر تلاوت میں مشغول ہوگیا. تھوڑی دیر بعد تلاوت کے دوران اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ چھوٹا بچہ اپنے ننھے ہاتھ اٹھا کر آنکھیں بند کر کے دعا مانگ رہا تھا.
اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی. بچے کا دعا مانگنے کا انداز اتنا پیارا تھا کہ وہ بے ساختہ قرآن مجید بند کر کے اسے دیکھنے لگا.
تھوڑی دیر بعد اس بچے نے دعا ختم کی اور باہر جانے لگا تو اس کا دل چاہا کہ وہ اس بچے کی حوصلہ افزائی کے لئے اسے کچھ دے.
اس نے بچے کو پاس بلایا اور سر پر ہاتھ پھیر کر اس کو سو کا نوٹ دیا. بچے نے تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد وہ نوٹ قبول کر لیا.
اس نے بچے سے پوچھا کہ بتاؤ تم اللہ سے کیا دعا مانگ رہے تھے؟
بچے نے مسکراتے ہوئے کہا....
میرا چاکلیٹ کھانے کو دل کر رہا تھا تو میں نے اللہ جی سے سو روپے مانگے تھے.. یہ کہہ کر وہ بچہ چلا گیا.
بچے کے جانے کے بعد بھی وہ اسی سمت دیکھتا رہا جس طرف وہ بچہ گیا تھا جو اسے یقین اور اخلاص سے دعا مانگنے کا ایک طریقہ سکھایا گیا تھا.
Fb.com/islamwitheman
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
💖💕 خاوند اور بیوی 💕💖
شادی شدہ لوگ ضرور پڑھیں مزہ آئیگا. کالج میں ہیپی میرڈ لائف پر ایک ورکشاپ ہو رہی تھی، جس میں کچھ شادی شدہ جوڑے حصہ لے رہے تھے. جس وقت پروفیسر اسٹیج پر آئے انہوں نے نوٹ کیا کہ تمام شادی شدہ لوگ لطیفے سن کر ہنس رہے تھے...
یہ دیکھ کر پروفیسر نے کہا کہ چلو پہلے ایک کهیل کھیلتے ہیں...... اس کے بعد اپنے موضوع پر باتیں کریں گے.
سب خوش ہو گئے..... اور کہا کونسا کهیل؟
پروفیسر نے ایک شادی شدہ لڑکی کو کھڑا کیا....
اور کہا کہ آپ بلیک بورڈ پہ ایسے پچیس، تیس لوگوں کے نام لکھو جو تمہیں سب سے زیادہ پیارے ہوں.
لڑکی نے پہلے تو اپنے خاندان کے لوگوں کے نام لکھے، پھر اپنے سگے رشتہ دار، سہیلیوں اور پڑوسنوں کے نام لکھ دیے ...
اب پروفیسر نے اس میں سے کوئی بھی کم پسند والے پانچ نام مٹانے کے لیے کہا.
لڑکی نے اپنی سہیلیوں کے نام مٹا دیے.
پروفیسر نے اور پانچ نام مٹانے کے لیے کہا.
لڑکی نے تھوڑا سوچ کر اپنے پڑوسيوں کے نام مٹا دیے.
اب پروفیسر نے اور 10 نام مٹانے کے لیے کہا.
لڑکی نے اپنے سگے رشتہ داروں کے نام مٹا دیے.
اب بورڈ پر صرف 4 نام بچے تھے جو اس کے ممی، پاپا، شوہر اور بچے کا نام تھا.
اب پروفیسر نے کہا اس میں سے اور 2 نام مٹا دو.
لڑکی کشمکش میں پڑ گئی بہت سوچنے کے بعد بہت دکھی ہوتے ہوئے اس نے اپنے ممی، پاپا کا نام مٹا دیا.
تمام لوگ دنگ رہ گئے لیکن پرسکون تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کھیل صرف وہ لڑکی ہی نہیں کھیل رہی تھی بلکی ان کے دماغ میں بھی یہی سب چل رہا تھا.
اب صرف 2 ہی نام باقی تھے.... شوہر اور بیٹے کا.
پروفیسر نے کہا اور ایک نام مٹا دو.
لڑکی اب سہمی سی رہ گئی...... بہت سوچنے کے بعد روتے ہوئے اپنے بیٹے کا نام کاٹ دیا...
پروفیسر نے اس لڑکی سے کہا تم اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاؤ... اور سب کی طرف غور سے دیکھا..... اور پوچھا: کیا کوئی بتا سکتا ہےکہ ایسا کیوں ہوا کہ صرف شوہر کا ہی نام بورڈ پر رہ گیا..؟
کوئی جواب نہیں دے پایا.... تمام لوگ منہ لٹکا کر بیٹھے تھے...
پروفیسر نے پھر اس لڑکی کو کھڑا کیا اور کہا... ایسا کیوں؟
جس نے تمہیں جنم دیا اور پال پوس کر اتنا بڑا کیا ان کا نام بھی تم نے مٹا دیا... اور تو اور تم نے اپنی کوکھ سے جس بچے کو جنم دیا اس کا بھی نام تم نے مٹا دیا..؟
لڑکی نے جواب دیا...
کہ اب ممی، پاپا بوڑھے ہو چکے ہیں، چند سال کے بعد وہ مجھے اور اس دنیا کو چھوڑ کے چلے جائیں گے... میرا بیٹا جب بڑا ہو جائے گا تو ضروری نہیں کہ وہ شادی کے بعد میرے ساتھ ہی رہے.
لیکن میرے شوہر جب تک میری جان میں جان ہے تب تک میرا نصف جسم بن کے میرا ساتھ نبھائیں گے اس لئے میرے لئے سب سے عزیز میرے شوہر ہیں...
پروفیسر اور باقی اسٹوڈنٹ نے تالیوں کی گونج سے لڑکی کو سلامی دی...
پروفیسر نے کہا:
تم نے بالکل صحیح کہا کہ آپ اور سب کے بغیر رہ سکتی ہو...
پر اپنے نصف عضو یعنی اپنے شوہر کے بغیر نہیں رہ سکتی...
مذاق مستی تک تو ٹھیک ہے
پر ہر انسان کا اپنی زندگی کا ساتھی ہی اس کو سب سے زیادہ عزیز ہوتا ہے...
یہ لفظی سچ ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجئے گا.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
شادی شدہ لوگ ضرور پڑھیں مزہ آئیگا. کالج میں ہیپی میرڈ لائف پر ایک ورکشاپ ہو رہی تھی، جس میں کچھ شادی شدہ جوڑے حصہ لے رہے تھے. جس وقت پروفیسر اسٹیج پر آئے انہوں نے نوٹ کیا کہ تمام شادی شدہ لوگ لطیفے سن کر ہنس رہے تھے...
یہ دیکھ کر پروفیسر نے کہا کہ چلو پہلے ایک کهیل کھیلتے ہیں...... اس کے بعد اپنے موضوع پر باتیں کریں گے.
سب خوش ہو گئے..... اور کہا کونسا کهیل؟
پروفیسر نے ایک شادی شدہ لڑکی کو کھڑا کیا....
اور کہا کہ آپ بلیک بورڈ پہ ایسے پچیس، تیس لوگوں کے نام لکھو جو تمہیں سب سے زیادہ پیارے ہوں.
لڑکی نے پہلے تو اپنے خاندان کے لوگوں کے نام لکھے، پھر اپنے سگے رشتہ دار، سہیلیوں اور پڑوسنوں کے نام لکھ دیے ...
اب پروفیسر نے اس میں سے کوئی بھی کم پسند والے پانچ نام مٹانے کے لیے کہا.
لڑکی نے اپنی سہیلیوں کے نام مٹا دیے.
پروفیسر نے اور پانچ نام مٹانے کے لیے کہا.
لڑکی نے تھوڑا سوچ کر اپنے پڑوسيوں کے نام مٹا دیے.
اب پروفیسر نے اور 10 نام مٹانے کے لیے کہا.
لڑکی نے اپنے سگے رشتہ داروں کے نام مٹا دیے.
اب بورڈ پر صرف 4 نام بچے تھے جو اس کے ممی، پاپا، شوہر اور بچے کا نام تھا.
اب پروفیسر نے کہا اس میں سے اور 2 نام مٹا دو.
لڑکی کشمکش میں پڑ گئی بہت سوچنے کے بعد بہت دکھی ہوتے ہوئے اس نے اپنے ممی، پاپا کا نام مٹا دیا.
تمام لوگ دنگ رہ گئے لیکن پرسکون تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کھیل صرف وہ لڑکی ہی نہیں کھیل رہی تھی بلکی ان کے دماغ میں بھی یہی سب چل رہا تھا.
اب صرف 2 ہی نام باقی تھے.... شوہر اور بیٹے کا.
پروفیسر نے کہا اور ایک نام مٹا دو.
لڑکی اب سہمی سی رہ گئی...... بہت سوچنے کے بعد روتے ہوئے اپنے بیٹے کا نام کاٹ دیا...
پروفیسر نے اس لڑکی سے کہا تم اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاؤ... اور سب کی طرف غور سے دیکھا..... اور پوچھا: کیا کوئی بتا سکتا ہےکہ ایسا کیوں ہوا کہ صرف شوہر کا ہی نام بورڈ پر رہ گیا..؟
کوئی جواب نہیں دے پایا.... تمام لوگ منہ لٹکا کر بیٹھے تھے...
پروفیسر نے پھر اس لڑکی کو کھڑا کیا اور کہا... ایسا کیوں؟
جس نے تمہیں جنم دیا اور پال پوس کر اتنا بڑا کیا ان کا نام بھی تم نے مٹا دیا... اور تو اور تم نے اپنی کوکھ سے جس بچے کو جنم دیا اس کا بھی نام تم نے مٹا دیا..؟
لڑکی نے جواب دیا...
کہ اب ممی، پاپا بوڑھے ہو چکے ہیں، چند سال کے بعد وہ مجھے اور اس دنیا کو چھوڑ کے چلے جائیں گے... میرا بیٹا جب بڑا ہو جائے گا تو ضروری نہیں کہ وہ شادی کے بعد میرے ساتھ ہی رہے.
لیکن میرے شوہر جب تک میری جان میں جان ہے تب تک میرا نصف جسم بن کے میرا ساتھ نبھائیں گے اس لئے میرے لئے سب سے عزیز میرے شوہر ہیں...
پروفیسر اور باقی اسٹوڈنٹ نے تالیوں کی گونج سے لڑکی کو سلامی دی...
پروفیسر نے کہا:
تم نے بالکل صحیح کہا کہ آپ اور سب کے بغیر رہ سکتی ہو...
پر اپنے نصف عضو یعنی اپنے شوہر کے بغیر نہیں رہ سکتی...
مذاق مستی تک تو ٹھیک ہے
پر ہر انسان کا اپنی زندگی کا ساتھی ہی اس کو سب سے زیادہ عزیز ہوتا ہے...
یہ لفظی سچ ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجئے گا.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 خاوند کی سوچ بیوی کے لئے 🔷
ہمارے گھر کے قریب ایک بیکری ہے..اکثرشام کے وقت کام سے واپسی پر میں وہاں سے صبح ناشتے کے لئے کچھ سامان لے کے گھر جاتا ہوں..آج جب سامان لے کے بیکری سے باہر نکل رہا تھا کہ ہمارے پڑوسی عرفان بھائی مل گئے...وہ بھی بیکری سے باہر آرہے تھے...میں نے سلام دعا کی اور پوچھا.
"کیا لے لیا عرفان بھائی؟"
کہنے لگے .. "کچھ نہیں حنیف بھائی! وہ چکن پیٹس تھے.. اور جلیبیاں تھیں بیگم اور بچوں کے لئے"
میں نے ہنستے ہوئے کہا... "کیوں..آج کیا بھابھی نے کھانا نہیں پکایا"
کہنے لگے.. "نہیں نہیں حنیف بھائی! یہ بات نہیں ہے... دراصل آج دفتر میں شام کے وقت کچھ بھوک لگی تھی تو ساتھیوں نے چکن پیٹس اور جلیبیاں منگوائیں ... میں نے وہاں کھائے تھے تو سوچا بیچاری گھر میں جو بیٹھی ہے وہ کہاں کھانے جائے گی.. اس کے لئے بھی لے لوں... یہ تو مناسب نہ ہوا نہ کہ میں خود تو آفس میں جس چیز کا دل چاہے وہ کھالوں.. اور بیوی بچوں سے کہوں کہ وہ جو گھر میں پکے صرف وہی کھائیں..."
میں حیرت سے ان کا منہ تکنے لگا.. کیوں کہ میں نے آج تک اس انداز سے نہ سوچا تھا..
میں نے کہا... "اس میں حرج ہی کیا ہے عرفان بھائی! آپ اگر دفتر میں کچھ کھاتے ہیں تو... بھئی بھابھی اور بچوں کو گھر میں جس چیز کا دل ہوگا کھاتے ہوں گے"
وہ کہنے لگے.. "نہیں نہیں حنیف بھائی! وہ بیچاری تو اتنی سی چیز بھی ہوتی ہے میرے لئے الگ رکھتی ہے... یہاں تک کہ اڑوس پڑوس سے بھی اگر کسی کے گھر سے کوئی چیز آتی ہے تو اس میں سے پہلے میرا حصّہ رکھتی ہے..بعد میں بچوں کو دیتی ہے... اب یہ تو خود غرضی ہوئی نہ کہ میں وہاں دوستوں میں گل چھڑے اڑاؤں..."
میں نے حیرت سے کہا.. "گل چھڑے اڑاؤں.... یہ چکن پیٹس... یہ جلیبیاں... یہ گل چھڑے اڑآنا ہے عرفان بھائی؟ اتنی معمولی سی چیزیں.."
وہ کہنے لگے... "کچھ بھی ہے حنیف بھائی! مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ آخرت میں کہیں میری اسی بات پر پکڑ نہ ہو کہ کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لائے تھے... خود دوستوں میں مزے کر رہے تھے اور وہ بیچاری گھر میں بیٹھی دال کھارہی تھی..."
میں حیرت سے انہیں دیکھتا رہا.. اور وہ بولے جارہے تھے..
"دیکھئے... ہم جو کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لاتے ہیں نا... وہ بھی ہماری طرح انسان ہوتی ہے.. اسے بھی بھوک لگتی ہے... اس کی بھی خواہشات ہوتی ہیں... اس کا بھی دل کرتا ہے طرح طرح کی چیزیں کھانے کا..... پہنے اوڑھنے کا... گھومنے پھرنے کا... اسے گھر میں پرندوں کی طرح بند کردینا... اور دو وقت کی روٹی دے کے اترانا... کہ بڑا تیر مارا... یہ انسانیت نہیں... یہ خود غرضی ہے..."
ان کے آخری جملے نے مجھے ہلا کے رکھ دیا... میں نے تو آج تک اس انداز سے سوچا ہی نہیں تھا..
میں نے کہا...
"آفرین ہے عرفان بھائی! آپ نے مجھے سوچنے کا ایک نیا زاویہ دیا..."
میں واپس پلٹا تو وہ بولے... "آپ کہاں جارہے ہیں؟"
میں نے کہا:
"آئسکریم لینے... وہ آج دوپہر میں آفس میں آئسکریم کھائی تھی"
عرفان بھائی میری طرف دیکھنےلگے... اور کچھ لمحوں کے بعد گویا ہوئے...
🔷دیکھئے حنیف بھائی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے...
"چار چیزیں انسان کی سعادت شمار ہوتی ہیں...
1=نیک دوست.
2=ہم خیال بیوی.
3=نیک اولاد.
4=کاروبار کا اپنے شہر میں ہونا."
🔹خداوندعالم نے مجھے آپ سا نیک دوست عطا فرمایا، اولاد بھی خداوندعالم نے اچھی عطا کی ہے، کام میرا اپنے شہر میں ہے اور بیوی اللہ تعالٰی نے مجھے میرا خیال رکھنے والی دی ہے وہ جس طرح میرا خیال رکھتی ہے، میں بھی اسی طرح اس کا خیال رکھتا ہوں.
میں نے اپنے اندر برپا ہونے والے انقلاب پر عرفان بھائی کا شکریہ ادا کیا اور آئسکریم لینے کی خاطر کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجئے گا.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ہمارے گھر کے قریب ایک بیکری ہے..اکثرشام کے وقت کام سے واپسی پر میں وہاں سے صبح ناشتے کے لئے کچھ سامان لے کے گھر جاتا ہوں..آج جب سامان لے کے بیکری سے باہر نکل رہا تھا کہ ہمارے پڑوسی عرفان بھائی مل گئے...وہ بھی بیکری سے باہر آرہے تھے...میں نے سلام دعا کی اور پوچھا.
"کیا لے لیا عرفان بھائی؟"
کہنے لگے .. "کچھ نہیں حنیف بھائی! وہ چکن پیٹس تھے.. اور جلیبیاں تھیں بیگم اور بچوں کے لئے"
میں نے ہنستے ہوئے کہا... "کیوں..آج کیا بھابھی نے کھانا نہیں پکایا"
کہنے لگے.. "نہیں نہیں حنیف بھائی! یہ بات نہیں ہے... دراصل آج دفتر میں شام کے وقت کچھ بھوک لگی تھی تو ساتھیوں نے چکن پیٹس اور جلیبیاں منگوائیں ... میں نے وہاں کھائے تھے تو سوچا بیچاری گھر میں جو بیٹھی ہے وہ کہاں کھانے جائے گی.. اس کے لئے بھی لے لوں... یہ تو مناسب نہ ہوا نہ کہ میں خود تو آفس میں جس چیز کا دل چاہے وہ کھالوں.. اور بیوی بچوں سے کہوں کہ وہ جو گھر میں پکے صرف وہی کھائیں..."
میں حیرت سے ان کا منہ تکنے لگا.. کیوں کہ میں نے آج تک اس انداز سے نہ سوچا تھا..
میں نے کہا... "اس میں حرج ہی کیا ہے عرفان بھائی! آپ اگر دفتر میں کچھ کھاتے ہیں تو... بھئی بھابھی اور بچوں کو گھر میں جس چیز کا دل ہوگا کھاتے ہوں گے"
وہ کہنے لگے.. "نہیں نہیں حنیف بھائی! وہ بیچاری تو اتنی سی چیز بھی ہوتی ہے میرے لئے الگ رکھتی ہے... یہاں تک کہ اڑوس پڑوس سے بھی اگر کسی کے گھر سے کوئی چیز آتی ہے تو اس میں سے پہلے میرا حصّہ رکھتی ہے..بعد میں بچوں کو دیتی ہے... اب یہ تو خود غرضی ہوئی نہ کہ میں وہاں دوستوں میں گل چھڑے اڑاؤں..."
میں نے حیرت سے کہا.. "گل چھڑے اڑاؤں.... یہ چکن پیٹس... یہ جلیبیاں... یہ گل چھڑے اڑآنا ہے عرفان بھائی؟ اتنی معمولی سی چیزیں.."
وہ کہنے لگے... "کچھ بھی ہے حنیف بھائی! مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ آخرت میں کہیں میری اسی بات پر پکڑ نہ ہو کہ کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لائے تھے... خود دوستوں میں مزے کر رہے تھے اور وہ بیچاری گھر میں بیٹھی دال کھارہی تھی..."
میں حیرت سے انہیں دیکھتا رہا.. اور وہ بولے جارہے تھے..
"دیکھئے... ہم جو کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لاتے ہیں نا... وہ بھی ہماری طرح انسان ہوتی ہے.. اسے بھی بھوک لگتی ہے... اس کی بھی خواہشات ہوتی ہیں... اس کا بھی دل کرتا ہے طرح طرح کی چیزیں کھانے کا..... پہنے اوڑھنے کا... گھومنے پھرنے کا... اسے گھر میں پرندوں کی طرح بند کردینا... اور دو وقت کی روٹی دے کے اترانا... کہ بڑا تیر مارا... یہ انسانیت نہیں... یہ خود غرضی ہے..."
ان کے آخری جملے نے مجھے ہلا کے رکھ دیا... میں نے تو آج تک اس انداز سے سوچا ہی نہیں تھا..
میں نے کہا...
"آفرین ہے عرفان بھائی! آپ نے مجھے سوچنے کا ایک نیا زاویہ دیا..."
میں واپس پلٹا تو وہ بولے... "آپ کہاں جارہے ہیں؟"
میں نے کہا:
"آئسکریم لینے... وہ آج دوپہر میں آفس میں آئسکریم کھائی تھی"
عرفان بھائی میری طرف دیکھنےلگے... اور کچھ لمحوں کے بعد گویا ہوئے...
🔷دیکھئے حنیف بھائی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے...
"چار چیزیں انسان کی سعادت شمار ہوتی ہیں...
1=نیک دوست.
2=ہم خیال بیوی.
3=نیک اولاد.
4=کاروبار کا اپنے شہر میں ہونا."
🔹خداوندعالم نے مجھے آپ سا نیک دوست عطا فرمایا، اولاد بھی خداوندعالم نے اچھی عطا کی ہے، کام میرا اپنے شہر میں ہے اور بیوی اللہ تعالٰی نے مجھے میرا خیال رکھنے والی دی ہے وہ جس طرح میرا خیال رکھتی ہے، میں بھی اسی طرح اس کا خیال رکھتا ہوں.
میں نے اپنے اندر برپا ہونے والے انقلاب پر عرفان بھائی کا شکریہ ادا کیا اور آئسکریم لینے کی خاطر کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجئے گا.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 عقلمند بیوی 🔷
ایک بوڑھی مگر دانا عورت تھی جس کا خاوند اُس سے بہت پیار کرتا تھا۔ اس عورت سے اُس کی خوشیوں بھری زندگی کا راز پوچھا گیا کہ آیا وہ بہت لذیز کھانا پکاتی ہے؟ یا اس کا خاوند اس کے حسن و جمال پر فریفتہ ہے؟ یا وہ بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی خاتون رہی ہے؟ یا پھر اس کی محبت کا کوئی اور راز ہے؟
عورت نے یوں جواب دیا:
🎈 خوشیوں بھری زندگی کے اسباب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کے بعد خود عورت کے اپنے ہاتھوں میں ہیں۔ عورت چاہے تو وہ اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے اور اگر چاہے تو جہنم بنا دے۔
💵 مت سوچیے کہ مال و دولت خوشیوں کا سبب ہے۔ تاریخ میں کتنی ہی مالدار عورتیں ایسی ہیں جن کے خاوند اُن سے کنارہ کش ہو گئے۔
👪 نہ ہی بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت ہونا کوئی بہت بڑی خوبی ہے۔ کئی عورتوں نے دس دس بچے جنے مگر وہ اپنے شوہروں سے کوئی خصوصی التفات و محبت نہ پا سکیں بلکہ نوبت طلاق تک جا پہنچی.
🍝 اچھا کھانا پکانا بھی کوئی خوبی نہیں ہے، سارا دن کچن میں کھانے پکانے کے باوجود بھی عورتیں خاوند کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں.
تو پھر آپ ہی بتا دیں اس پُرسعادت اور مسرت بھری زندگی کا راز؟ اور آپ اپنے اورخاوند کے درمیان درپیش مسائل و مشکلات سے کس طرح نپٹا کرتی تھیں؟
اُس عورت نے جواب دیا:
🌹 جس وقت میرا خاوند غصے میں آتا اور بلاشبہ میرا خاوند بہت ہی غصیلا آدمی تھا، میں اُن لمحات میں (نہایت ہی احترام کیساتھ) مکمل خاموشی اختیار کر لیا کرتی تھی۔ احترام کےساتھ خاموشی یعنی آنکھوں سے حقارت اور طنزیہ پن نہ جھلکے۔ آدمی بہت عقلمند ہوتا ہے ایسی صورتحال کو بھانپ لیتا ہے۔
تو آپ ایسے میں کمرے سے باہر کیوں نہیں چلی جایا کرتی تھیں؟
اُس نے کہا: خبردار ایسی حرکت مت کرنا، اس سے تو ایسا لگے گا، تم اُس سے فرار چاہتی ہو اور اُسکا نقطہ نظر نہیں جاننا چاہتی. خاموشی تو ضروری ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ خاوند جو کچھ کہے اُسے ناصرف سُننا بلکہ اُس سے اتفاق کرنا بھی اُتنا ہی اشد ضروری ہے۔
میرا خاوند جب اپنی باتیں پوری کر لیتا تو میں کمرے سے باہر چلی جاتی تھی، کیونکہ اس سارے شور، شرابے کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اُسے آرام کی ضرورت ہے۔ میں اپنے روزمرہ کے گھریلو کاموں میں لگ جاتی، اور اپنے دماغ کو اُس جنگ سے دور رکھنے کی کوشش کرتی.
تو آپ اس ماحول میں کیا کرتی تھیں؟ کئی دنوں کیلئے لا تعلقی اور بول چال چھوڑ دینا وغیرہ؟
اُس نے کہا:
ہرگز نہیں، بول چال چھوڑ دینے کی عادت انتہائی گھٹیا اور خاوند سے تعلقات کو بگاڑنے کیلئے دورُخی تلوار کی مانند ہے۔ اگر تم خاوند سے بولنا چھوڑ دیتی ہو تو ہو سکتا ہے شروع میں اُس کیلئے یہ تکلیف دہ ہو۔ شروع میں وہ تم سے بولنے کی کوشش بھی کریگا۔ لیکن جس طرح دن گزرتے جائیں گے وہ اِس کا عادی ہوتا چلا جائے گا۔ تم ایک ہفتہ کیلئے بولنا چھوڑو گی تو اُس میں تم سے دو ہفتوں تک نہ بولنے کی استعداد پیدا ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ وہ تمہارے بغیر بھی رہنا سیکھ لے۔
🌹 خاوند کو ایسی عادت ڈال دو کہ تمہارے بغیر اپنا دم بھی گھٹتا ہوا محسوس کرے گویا تم اُس کیلئے ہوا کی مانند ہو. باد صبا بنو باد صرصر نہیں..
اُس کے بعد آپ کیا کرتی تھیں؟
اُس عورت نے کہا:
میں دو یا دو سے کچھ زیادہ گھنٹوں کے بعد جوس یا پھر گرم چائے لے کر اُس کے پاس جاتی، اور اُسے نہایت سلیقے سے کہتی، لیجئے چائے پیجئے۔ مجھے یقین ہوتا تھا کہ وہ اس لمحے اس چائے یا جوس کا متمنی ہوگا. میرا یہ عمل اور اپنے خاوند کے ساتھ گفتگو اسطرح ہوتی تھی کہ گویا ہمارے درمیان کوئی غصے یا لڑائی والی بات سرے سے ہوئی ہی نہیں۔ جبکہ اب میرا خاوند ہی مجھ سے اصرار کر کے بار بار پوچھ رہا ہوتا تھا کہ کیا میں اُس سے ناراض تو نہیں ہوں۔ میرا ہر بار اُسے یہی جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں تو ہرگز ناراض نہیں ہوں۔
اسکے بعد وہ ہمیشہ اپنے درشت رویے کی معذرت کرتا اور مجھ سے گھنٹوں پیار بھری باتیں کرتا تھا۔
🌷 تو کیا آپ اُس کی ان پیار بھری باتوں پر یقین کر لیتی تھیں؟
ہاں، بالکل. میں جاہل نہیں ہوں۔ کہ میں اپنے خاوند کی اُن باتوں پر تو یقین کر لوں جو وہ مجھے غصے میں کہہ ڈالتا ہے اور اُن باتوں کا یقین نہ کروں جو وہ مجھے محبت اور پرسکون حالت میں کہتا ہے؟
تو پھر آپکی عزت نفس کہاں گئی؟
کیا عزت اسی کا نام ہے کہ تم غصے میں آئے ہوئے ایک شخص کی تلخ باتوں پر تو یقین کرکے اُسے اپنی عزت نفس کا مسئلہ بنالو مگر اُس کی اُن باتوں کو کوئی اہمیت نہ دو جو وہ تمہیں پیار بھرے ماحول میں کہہ رہا ہو!
میں فوراً ہی اس غصے کی حالت میں دی ہوئی گالیوں اور تلخ باتوں کو بھلا کر اُنکی محبت بھری اور مفید باتوں کو غور سے سنتی تھی۔
🔷 جی ہاں، خوشگوار اور محبت بھری زندگی کا راز عورت کی عقل میں موجود ہے مگر یہ راز اُسکی زبان سے بندھا ہوا ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک بوڑھی مگر دانا عورت تھی جس کا خاوند اُس سے بہت پیار کرتا تھا۔ اس عورت سے اُس کی خوشیوں بھری زندگی کا راز پوچھا گیا کہ آیا وہ بہت لذیز کھانا پکاتی ہے؟ یا اس کا خاوند اس کے حسن و جمال پر فریفتہ ہے؟ یا وہ بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی خاتون رہی ہے؟ یا پھر اس کی محبت کا کوئی اور راز ہے؟
عورت نے یوں جواب دیا:
🎈 خوشیوں بھری زندگی کے اسباب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کے بعد خود عورت کے اپنے ہاتھوں میں ہیں۔ عورت چاہے تو وہ اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے اور اگر چاہے تو جہنم بنا دے۔
💵 مت سوچیے کہ مال و دولت خوشیوں کا سبب ہے۔ تاریخ میں کتنی ہی مالدار عورتیں ایسی ہیں جن کے خاوند اُن سے کنارہ کش ہو گئے۔
👪 نہ ہی بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت ہونا کوئی بہت بڑی خوبی ہے۔ کئی عورتوں نے دس دس بچے جنے مگر وہ اپنے شوہروں سے کوئی خصوصی التفات و محبت نہ پا سکیں بلکہ نوبت طلاق تک جا پہنچی.
🍝 اچھا کھانا پکانا بھی کوئی خوبی نہیں ہے، سارا دن کچن میں کھانے پکانے کے باوجود بھی عورتیں خاوند کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں.
تو پھر آپ ہی بتا دیں اس پُرسعادت اور مسرت بھری زندگی کا راز؟ اور آپ اپنے اورخاوند کے درمیان درپیش مسائل و مشکلات سے کس طرح نپٹا کرتی تھیں؟
اُس عورت نے جواب دیا:
🌹 جس وقت میرا خاوند غصے میں آتا اور بلاشبہ میرا خاوند بہت ہی غصیلا آدمی تھا، میں اُن لمحات میں (نہایت ہی احترام کیساتھ) مکمل خاموشی اختیار کر لیا کرتی تھی۔ احترام کےساتھ خاموشی یعنی آنکھوں سے حقارت اور طنزیہ پن نہ جھلکے۔ آدمی بہت عقلمند ہوتا ہے ایسی صورتحال کو بھانپ لیتا ہے۔
تو آپ ایسے میں کمرے سے باہر کیوں نہیں چلی جایا کرتی تھیں؟
اُس نے کہا: خبردار ایسی حرکت مت کرنا، اس سے تو ایسا لگے گا، تم اُس سے فرار چاہتی ہو اور اُسکا نقطہ نظر نہیں جاننا چاہتی. خاموشی تو ضروری ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ خاوند جو کچھ کہے اُسے ناصرف سُننا بلکہ اُس سے اتفاق کرنا بھی اُتنا ہی اشد ضروری ہے۔
میرا خاوند جب اپنی باتیں پوری کر لیتا تو میں کمرے سے باہر چلی جاتی تھی، کیونکہ اس سارے شور، شرابے کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اُسے آرام کی ضرورت ہے۔ میں اپنے روزمرہ کے گھریلو کاموں میں لگ جاتی، اور اپنے دماغ کو اُس جنگ سے دور رکھنے کی کوشش کرتی.
تو آپ اس ماحول میں کیا کرتی تھیں؟ کئی دنوں کیلئے لا تعلقی اور بول چال چھوڑ دینا وغیرہ؟
اُس نے کہا:
ہرگز نہیں، بول چال چھوڑ دینے کی عادت انتہائی گھٹیا اور خاوند سے تعلقات کو بگاڑنے کیلئے دورُخی تلوار کی مانند ہے۔ اگر تم خاوند سے بولنا چھوڑ دیتی ہو تو ہو سکتا ہے شروع میں اُس کیلئے یہ تکلیف دہ ہو۔ شروع میں وہ تم سے بولنے کی کوشش بھی کریگا۔ لیکن جس طرح دن گزرتے جائیں گے وہ اِس کا عادی ہوتا چلا جائے گا۔ تم ایک ہفتہ کیلئے بولنا چھوڑو گی تو اُس میں تم سے دو ہفتوں تک نہ بولنے کی استعداد پیدا ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ وہ تمہارے بغیر بھی رہنا سیکھ لے۔
🌹 خاوند کو ایسی عادت ڈال دو کہ تمہارے بغیر اپنا دم بھی گھٹتا ہوا محسوس کرے گویا تم اُس کیلئے ہوا کی مانند ہو. باد صبا بنو باد صرصر نہیں..
اُس کے بعد آپ کیا کرتی تھیں؟
اُس عورت نے کہا:
میں دو یا دو سے کچھ زیادہ گھنٹوں کے بعد جوس یا پھر گرم چائے لے کر اُس کے پاس جاتی، اور اُسے نہایت سلیقے سے کہتی، لیجئے چائے پیجئے۔ مجھے یقین ہوتا تھا کہ وہ اس لمحے اس چائے یا جوس کا متمنی ہوگا. میرا یہ عمل اور اپنے خاوند کے ساتھ گفتگو اسطرح ہوتی تھی کہ گویا ہمارے درمیان کوئی غصے یا لڑائی والی بات سرے سے ہوئی ہی نہیں۔ جبکہ اب میرا خاوند ہی مجھ سے اصرار کر کے بار بار پوچھ رہا ہوتا تھا کہ کیا میں اُس سے ناراض تو نہیں ہوں۔ میرا ہر بار اُسے یہی جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں تو ہرگز ناراض نہیں ہوں۔
اسکے بعد وہ ہمیشہ اپنے درشت رویے کی معذرت کرتا اور مجھ سے گھنٹوں پیار بھری باتیں کرتا تھا۔
🌷 تو کیا آپ اُس کی ان پیار بھری باتوں پر یقین کر لیتی تھیں؟
ہاں، بالکل. میں جاہل نہیں ہوں۔ کہ میں اپنے خاوند کی اُن باتوں پر تو یقین کر لوں جو وہ مجھے غصے میں کہہ ڈالتا ہے اور اُن باتوں کا یقین نہ کروں جو وہ مجھے محبت اور پرسکون حالت میں کہتا ہے؟
تو پھر آپکی عزت نفس کہاں گئی؟
کیا عزت اسی کا نام ہے کہ تم غصے میں آئے ہوئے ایک شخص کی تلخ باتوں پر تو یقین کرکے اُسے اپنی عزت نفس کا مسئلہ بنالو مگر اُس کی اُن باتوں کو کوئی اہمیت نہ دو جو وہ تمہیں پیار بھرے ماحول میں کہہ رہا ہو!
میں فوراً ہی اس غصے کی حالت میں دی ہوئی گالیوں اور تلخ باتوں کو بھلا کر اُنکی محبت بھری اور مفید باتوں کو غور سے سنتی تھی۔
🔷 جی ہاں، خوشگوار اور محبت بھری زندگی کا راز عورت کی عقل میں موجود ہے مگر یہ راز اُسکی زبان سے بندھا ہوا ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 ﺳﺎﺱ اور بہو 🔷
شادی شدہ ضرور پڑھیں. یقینا لطف آئے گا. سبق آموز تحریر ہے.....
ﮐﺎﻓﯽ ﻋﺮﺻﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﯽ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺗﺒﺴﻢ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﻭﮦ ﺳﺴﺮﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ-
ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﯽ.
ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺒﺴﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﺎﺩﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﯽ.
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺎﺱ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺗﺒﺴﻢ ﭘﺮ ﻃﻨﺰ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮨﻔﺘﮯ ﺑﯿﺖ ﮔﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺒﺴﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺗﮑﺮﺍﺭ ﺧﺘﻢ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ.
ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﺎﺍﺗﻔﺎﻗﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺑﮩﺖ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺴﮑﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﺎ ﺷﻮﮨﺮ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺗﺒﺴﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﺎ ﺑﺮﺍ ﺭﻭﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮے گی ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺏ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ.
ﺗﺒﺴﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﭘﺎ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﯽ ﺟﻮ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﺑﯿﭽﺘﮯ ﺗﮭﮯ. ﺗﺒﺴﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺯﮨﺮ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ.
ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﭽﮫ ﺳﻮﭼﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﺒﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻭﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ. ﺗﺒﺴﻢ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ.
ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻟﻮﭨﮯ. ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻓﻮﺭﯼ ﺯﮨﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﺳﺐ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺷﮏ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ. ﺍﺳﻠﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺍﻧﮑﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺯﮨﺮ ﭘﮭﯿﻼﺋﯿﮟ ﮔﯽ.
ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺗﻢ ﮐﭽﮫ ﺍﭼﮭﺎ ﭘﮑﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﻨﺎ. ﺍﻭﺭ ﮨﺎﮞ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺷﮏ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺭﻭﯾﮧ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺳﺘﺎﻧﮧ ﮨﻮ. ﺍﻥ ﺳﮯ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﻣﺖ ﮐﺮﻧﺎ، ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﻣﻠﮑﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﺮﺗﺎﺅ ﮐﺮﻧﺎ.
ﺗﺒﺴﻢ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺋﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ.
ﮨﻔﺘﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﮩﯿﻨﮯ، ﺗﺒﺴﻢ ﺭﻭﺯ ﮐﭽﮫ ﺍﭼﮭﺎ ﭘﮑﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﻮ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ. ﺍﺳﮯ ﯾﺎﺩ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﺼﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﮯ، ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﺮﺗﺎﺅ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ.
ﭼﮫ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ، ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻧﻘﺸﮧ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺑﺪﻝ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺗﺒﺴﻢ ﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﺼﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ پانا ﺳﯿﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺏ ﺍﮐﺜﺮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﺍﻭﺭ ﻏﺼﮧ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﯽ.
ﭼﮫ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﺳﮯ ﺟﮭﮕﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﻥ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﻝ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ. ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺐ ملنے والوں ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻔﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ.
ﺗﺒﺴﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺳﺎﺱ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﺏ ﺍﯾﮑﺪﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻣﺎﮞ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ لگی تھیں.
ﺗﺒﺴﻢ ﮐﺎ ﺷﻮﮨﺮ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﺎ. ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺗﺒﺴﻢ ﭘﮭﺮ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﯽ...
ان سے کہنے لگی ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺯﮨﺮ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺅﮞ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ؟
ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯿﮟ ﮨﯿﮟ. ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺯﮨﺮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ.
ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮈﺭﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺯﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺟﻮ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯼ ﺗﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﮐﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ.
ﺯﮨﺮ ﺻﺮﻑ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺭﻭﺋﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎ ہے.
💞 اگر ہم اپنے رویوں، اخلاق اور سوچ کو درست کر لیں تو کئی پریشانیوں، بدگمانیوں اور اپنے آپ پر یا کسی دوسرے پر ظلم و زیادتی کرنے سے بچ سکتے ہیں.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
شادی شدہ ضرور پڑھیں. یقینا لطف آئے گا. سبق آموز تحریر ہے.....
ﮐﺎﻓﯽ ﻋﺮﺻﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﯽ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺗﺒﺴﻢ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﻭﮦ ﺳﺴﺮﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ-
ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﯽ.
ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺒﺴﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﺎﺩﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﯽ.
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺎﺱ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺗﺒﺴﻢ ﭘﺮ ﻃﻨﺰ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮨﻔﺘﮯ ﺑﯿﺖ ﮔﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺒﺴﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺗﮑﺮﺍﺭ ﺧﺘﻢ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ.
ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﺎﺍﺗﻔﺎﻗﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺑﮩﺖ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺴﮑﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﺎ ﺷﻮﮨﺮ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺗﺒﺴﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﺎ ﺑﺮﺍ ﺭﻭﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮے گی ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺏ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ.
ﺗﺒﺴﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﭘﺎ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﯽ ﺟﻮ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﺑﯿﭽﺘﮯ ﺗﮭﮯ. ﺗﺒﺴﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺯﮨﺮ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ.
ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﭽﮫ ﺳﻮﭼﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﺒﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻭﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ. ﺗﺒﺴﻢ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ.
ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻟﻮﭨﮯ. ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻓﻮﺭﯼ ﺯﮨﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﺳﺐ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺷﮏ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ. ﺍﺳﻠﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺍﻧﮑﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺯﮨﺮ ﭘﮭﯿﻼﺋﯿﮟ ﮔﯽ.
ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺗﻢ ﮐﭽﮫ ﺍﭼﮭﺎ ﭘﮑﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﻨﺎ. ﺍﻭﺭ ﮨﺎﮞ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺷﮏ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﻣﺎﺭﺍ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺭﻭﯾﮧ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺳﺘﺎﻧﮧ ﮨﻮ. ﺍﻥ ﺳﮯ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﻣﺖ ﮐﺮﻧﺎ، ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﻣﻠﮑﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﺮﺗﺎﺅ ﮐﺮﻧﺎ.
ﺗﺒﺴﻢ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺋﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ.
ﮨﻔﺘﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﮩﯿﻨﮯ، ﺗﺒﺴﻢ ﺭﻭﺯ ﮐﭽﮫ ﺍﭼﮭﺎ ﭘﮑﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﻮ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ. ﺍﺳﮯ ﯾﺎﺩ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﺼﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﮯ، ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﺮﺗﺎﺅ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ.
ﭼﮫ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ، ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻧﻘﺸﮧ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ﺑﺪﻝ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺗﺒﺴﻢ ﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﺼﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ پانا ﺳﯿﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺏ ﺍﮐﺜﺮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﺍﻭﺭ ﻏﺼﮧ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﯽ.
ﭼﮫ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﺳﮯ ﺟﮭﮕﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺍﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﻥ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ.
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﺎ ﺭﻭﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﻝ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ. ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺐ ملنے والوں ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﺒﺴﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻔﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ.
ﺗﺒﺴﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺳﺎﺱ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﺏ ﺍﯾﮑﺪﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻣﺎﮞ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ لگی تھیں.
ﺗﺒﺴﻢ ﮐﺎ ﺷﻮﮨﺮ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﺎ. ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺗﺒﺴﻢ ﭘﮭﺮ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﯽ...
ان سے کہنے لگی ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺱ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺯﮨﺮ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺅﮞ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ؟
ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯿﮟ ﮨﯿﮟ. ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺯﮨﺮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ.
ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻧﮑﻞ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮈﺭﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺯﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺟﻮ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯼ ﺗﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﮐﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ.
ﺯﮨﺮ ﺻﺮﻑ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺭﻭﺋﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎ ہے.
💞 اگر ہم اپنے رویوں، اخلاق اور سوچ کو درست کر لیں تو کئی پریشانیوں، بدگمانیوں اور اپنے آپ پر یا کسی دوسرے پر ظلم و زیادتی کرنے سے بچ سکتے ہیں.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 کامیاب ازدواجی زندگی 🌹
ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ میرا ساتھی مجھے دیکھ کر خوش ہو، ساتھی کو دیکھ کر آپ کی مسکراہٹ اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ آپ اسے دیکھ کر خوش ہوئے ہیں، آپ کی یہ کوشش بہت اثر دکھاتی ہے، ساتھی کو دیکھ کر آپ کی مسکراہٹ اچھا تاثر پیدا کرتی ہے جو کامیاب ازدواجی زندگی کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔
شادی ایک ایسا لفظ ہے جس کو سن کر ذہن میں ایک خوبصورت، خوشیوں سے بھرپور زندگی کا تصور آتا ہے، مرد ہو یا عورت ہر ایک کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ شادی کہ بعد اس کی زندگی خوشیوں سے بھر جائے گی، لیکن بعض اوقات ہماری کوششوں کے باوجود ایسا نہیں ہوتا، بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو شادی کے بعد کی زندگی کو خوشگوار بناتی ہیں، جنہیں اگر ہم اپنا لیں تو ایک کامیاب ازدواجی زندگی گذار سکتے ہیں۔
🌹1۔ اعتماد کی فضا قائم کریں:
کامیاب شادی شدہ زندگی گذارنے کے لئے اعتماد کو بنیاد بنایا جائے، اور کسی کو بھی آپ اپنے ہمسفر کا نعم البدل تصور نہ کریں،چونکہ یہ سوچ آپ کی کامیاب زندگی کو متاثر کرسکتی ہے۔
🌹2۔ ایک دوسرے کی عزت کریں:
اپنے شریک حیات کی بات کو غور سے سنیں، ایک دوسرے کی عزت کامیاب زندگی کا اہم حصہ ہے، جب آپ اپنے ساتھی کی بات پر توجہ دیں گے تو اسے لگے گا کہ آپ اس کی عزت کرتے ہیں اور اس کی بات کو اہمیت دے رہے ہیں اگر آپ کسی اہم کام میں مصروف ہیں اور اس کی بات نہیں سن سکتے تو اسے اس بات سے آگاہ کیجئے اور کسی دوسرے وقت پر اس کی بات غور سے سنیئے.
🌹3۔ مل کر لطف اندوز ہوں:
ایسی چیزوں کا انتخاب کریں جنہیں آپ مل کر انجوائے کرسکتے ہیں، ایسے کاموں کا انتخاب کریں جنہیں آپ مل کر انجام دے سکتے ہیں چونکہ آپ ایک دوسرے کے شریک حیات ہیں یہ بھی خوش گوار ازدواجی زندگی کے لئے اہم ہے.
🌹4۔ غصے کے عوض غصہ نہ کریں:
اگر آپ کے ساتھی کو غصہ آرہا ہے تو آپ خود پرسکون رہنے کی کوشش کریں اور جب اس کا موڈ بہتر ہو جائےتو اپنا موقف سمجھانے کی کوشش کریں.
🌹5۔ محبت سے بات کریں:
اپنی بات صحیح ثابت کرنے کے لئے محبت سےسمجھائیں، اس طرح آپ کا ساتھی آپ کی بات زیادہ اچھے طریقے سے سمجھ سکتا ہے، زور اور زبردستی بگاڑ کا باعث بن جاتی ہے.
🌹6۔ محبت کا اظہار کریں:
اپنی محبت کا اظہار کرنے کا وقت ضرور نکالیں اور اپنے کمرے میں کسی تیسرے شخص کی بات نہ کریں دوسری تمام باتوں کو صبح ناشتے کے لئے رکھیں.
🌹7۔ ایک دوسرے کا ساتھ دیں:
کام کی زیادتی، پریشانی یا مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور اسے اکیلا نہ چھوڑیں.
🌹8۔ گڑے مردے نہ اکھاڑیں:
اپنے ساتھی کی غلطیوں کو بار بار یاد دلانا اچھی عادت نہیں ہے، اس سے آپ کے ساتھی کا دل ضرور دکھے گا، پرانی باتوں کو نظر انداز کر کے مستقبل کی اچھی باتوں کی پلاننگ کریں.
🌹9۔ لڑائی کو ختم کریں:
کوئی بھی مسئلہ ہو اسے ختم کرنے کی کوشش کریں اچھی باتیں اور محبت کا اظہار لڑائی کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے.
🌹10۔ اپنے ساتھی پر شک نہ کریں:
اپنے ساتھی کی ذاتی چیزوں کو شک کی بناء پر چیک نہ کریں، ایک دوسرے پر اعتماد کریں اور اپنی بات دوسرے سے نہ چھپائیں، کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد ایمانداری اور بهروسے پر قائم ہوتی ہے، اگر آپ اپنے ساتھی سے کوئی بات جاننا چاہیں تو اس کی جستجو میں رہنے کے بجائے اس سے پوچھ لیں.
🌹11۔ نرمی سے بات کریں:
اپنے ساتھی سے بات کرتے ہوئے نرمی اختیار کریں، بات چیت میں شکریہ اور برائے مہربانی جیسے الفاظ استعمال کریں، آپ کے انداز میں بناوٹ نہ ہو تاکہ آپ کے ساتھی کو اس بات کا اندازہ ہو کہ آپ اس کی حقیقت میں عزت کرتے ہیں.
🌹12۔ مسکرا کر استقبال کریں:
ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ میرا ساتھی مجھے دیکھ کر خوش ہو، ساتھی کو دیکھ کر آپ کی مسکراہٹ اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ آپ اسے دیکھ کر خوش ہوئے ہیں، آپ کی یہ کوشش بہت اثر دکھاتی ہے، ساتھی کو دیکھ کر آپ کی مسکراہٹ اچھا تاثر پیدا کرتی ہے جو کامیاب ازدواجی زندگی کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ میرا ساتھی مجھے دیکھ کر خوش ہو، ساتھی کو دیکھ کر آپ کی مسکراہٹ اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ آپ اسے دیکھ کر خوش ہوئے ہیں، آپ کی یہ کوشش بہت اثر دکھاتی ہے، ساتھی کو دیکھ کر آپ کی مسکراہٹ اچھا تاثر پیدا کرتی ہے جو کامیاب ازدواجی زندگی کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔
شادی ایک ایسا لفظ ہے جس کو سن کر ذہن میں ایک خوبصورت، خوشیوں سے بھرپور زندگی کا تصور آتا ہے، مرد ہو یا عورت ہر ایک کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ شادی کہ بعد اس کی زندگی خوشیوں سے بھر جائے گی، لیکن بعض اوقات ہماری کوششوں کے باوجود ایسا نہیں ہوتا، بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو شادی کے بعد کی زندگی کو خوشگوار بناتی ہیں، جنہیں اگر ہم اپنا لیں تو ایک کامیاب ازدواجی زندگی گذار سکتے ہیں۔
🌹1۔ اعتماد کی فضا قائم کریں:
کامیاب شادی شدہ زندگی گذارنے کے لئے اعتماد کو بنیاد بنایا جائے، اور کسی کو بھی آپ اپنے ہمسفر کا نعم البدل تصور نہ کریں،چونکہ یہ سوچ آپ کی کامیاب زندگی کو متاثر کرسکتی ہے۔
🌹2۔ ایک دوسرے کی عزت کریں:
اپنے شریک حیات کی بات کو غور سے سنیں، ایک دوسرے کی عزت کامیاب زندگی کا اہم حصہ ہے، جب آپ اپنے ساتھی کی بات پر توجہ دیں گے تو اسے لگے گا کہ آپ اس کی عزت کرتے ہیں اور اس کی بات کو اہمیت دے رہے ہیں اگر آپ کسی اہم کام میں مصروف ہیں اور اس کی بات نہیں سن سکتے تو اسے اس بات سے آگاہ کیجئے اور کسی دوسرے وقت پر اس کی بات غور سے سنیئے.
🌹3۔ مل کر لطف اندوز ہوں:
ایسی چیزوں کا انتخاب کریں جنہیں آپ مل کر انجوائے کرسکتے ہیں، ایسے کاموں کا انتخاب کریں جنہیں آپ مل کر انجام دے سکتے ہیں چونکہ آپ ایک دوسرے کے شریک حیات ہیں یہ بھی خوش گوار ازدواجی زندگی کے لئے اہم ہے.
🌹4۔ غصے کے عوض غصہ نہ کریں:
اگر آپ کے ساتھی کو غصہ آرہا ہے تو آپ خود پرسکون رہنے کی کوشش کریں اور جب اس کا موڈ بہتر ہو جائےتو اپنا موقف سمجھانے کی کوشش کریں.
🌹5۔ محبت سے بات کریں:
اپنی بات صحیح ثابت کرنے کے لئے محبت سےسمجھائیں، اس طرح آپ کا ساتھی آپ کی بات زیادہ اچھے طریقے سے سمجھ سکتا ہے، زور اور زبردستی بگاڑ کا باعث بن جاتی ہے.
🌹6۔ محبت کا اظہار کریں:
اپنی محبت کا اظہار کرنے کا وقت ضرور نکالیں اور اپنے کمرے میں کسی تیسرے شخص کی بات نہ کریں دوسری تمام باتوں کو صبح ناشتے کے لئے رکھیں.
🌹7۔ ایک دوسرے کا ساتھ دیں:
کام کی زیادتی، پریشانی یا مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور اسے اکیلا نہ چھوڑیں.
🌹8۔ گڑے مردے نہ اکھاڑیں:
اپنے ساتھی کی غلطیوں کو بار بار یاد دلانا اچھی عادت نہیں ہے، اس سے آپ کے ساتھی کا دل ضرور دکھے گا، پرانی باتوں کو نظر انداز کر کے مستقبل کی اچھی باتوں کی پلاننگ کریں.
🌹9۔ لڑائی کو ختم کریں:
کوئی بھی مسئلہ ہو اسے ختم کرنے کی کوشش کریں اچھی باتیں اور محبت کا اظہار لڑائی کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے.
🌹10۔ اپنے ساتھی پر شک نہ کریں:
اپنے ساتھی کی ذاتی چیزوں کو شک کی بناء پر چیک نہ کریں، ایک دوسرے پر اعتماد کریں اور اپنی بات دوسرے سے نہ چھپائیں، کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد ایمانداری اور بهروسے پر قائم ہوتی ہے، اگر آپ اپنے ساتھی سے کوئی بات جاننا چاہیں تو اس کی جستجو میں رہنے کے بجائے اس سے پوچھ لیں.
🌹11۔ نرمی سے بات کریں:
اپنے ساتھی سے بات کرتے ہوئے نرمی اختیار کریں، بات چیت میں شکریہ اور برائے مہربانی جیسے الفاظ استعمال کریں، آپ کے انداز میں بناوٹ نہ ہو تاکہ آپ کے ساتھی کو اس بات کا اندازہ ہو کہ آپ اس کی حقیقت میں عزت کرتے ہیں.
🌹12۔ مسکرا کر استقبال کریں:
ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ میرا ساتھی مجھے دیکھ کر خوش ہو، ساتھی کو دیکھ کر آپ کی مسکراہٹ اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ آپ اسے دیکھ کر خوش ہوئے ہیں، آپ کی یہ کوشش بہت اثر دکھاتی ہے، ساتھی کو دیکھ کر آپ کی مسکراہٹ اچھا تاثر پیدا کرتی ہے جو کامیاب ازدواجی زندگی کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
⚫ سہون بم دھماکا ⚫
هم سہون شریف سندھ پاکستان میں هونے والے بم دهماکے اور ایک سو سے زائد مؤمنین کے شهید هو جانے کی پرزور مذمت کرتے ہیں.
اور حکومت سندھ، صدر اور وزیراعظم پاکستان اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعہ کا نوٹس لیکر قاتلوں اور ملزمان کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور زخمیوں کا فوری اعلی درجے کا علاج کرایا جائے.
ہماری دعا ہے کہ زخمیوں کو خدواند کریم جلد شفا عطا فرمائے.
Fb.com/islamwitheman
https//t.me/islamwitheman
⚫ ISLAM WITH EMAN ⚫
هم سہون شریف سندھ پاکستان میں هونے والے بم دهماکے اور ایک سو سے زائد مؤمنین کے شهید هو جانے کی پرزور مذمت کرتے ہیں.
اور حکومت سندھ، صدر اور وزیراعظم پاکستان اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعہ کا نوٹس لیکر قاتلوں اور ملزمان کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور زخمیوں کا فوری اعلی درجے کا علاج کرایا جائے.
ہماری دعا ہے کہ زخمیوں کو خدواند کریم جلد شفا عطا فرمائے.
Fb.com/islamwitheman
https//t.me/islamwitheman
⚫ ISLAM WITH EMAN ⚫
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔥شکر ھے ھمارا کوئی نھیں تھا🔥
سناؤ! کیسے ھو بھابی بچے کیسے ھیں؟ بس یار کیا بتاؤں رات بہت پریشانی و اضطراب میں کٹی پوری رات سو نھیں پایا.کیوں کیا ھوا خیر تو ھے؟ یار کیا بتاؤں احمد کو شدید بخار تھا نه میں سو پایا نه اسکی ماں پوری رات اس کے پاس بیٹھے رھے ایک طرف میں اور ایک طرف اسکی ماں. بس صبح کچھ بہتر ھوا تو میں آفس آگیا ورنه آج آفس آنا بھی مشکل ھو جاتا. ہاں یار کل ھمارے صاحبزادے نے بھی بہت پریشان کیا بھاگتے بھاگتے گر گیا ناک سے ایسا خون شروع ھوا که پهر بند ھونے کا نام ھی نه لے. الله الله کرکے پانچ سات منٹ تک خون رکا تو ھماری جان میں جان آئی. بس یار کیا کریں بچے بعض اوقات بہت پریشان کرتے ھیں. ھاں بات تو یہی ھے بچوں کو کچھ ھو تو جان نکلتی ھے.
🌐اچھا اور سناؤ کوئی نئی تازی! سنا ھے رات پھر کہیں دھماکه ھوا، میں نے تو رات خبریں ہی نہیں سنیں بچے ڈرامه دیکھ رھے تھے. ھاں یار کوئی اتنا بڑا دھماکه نہیں تھا بس تقریبا 100 لوگ جاں بحق ھوئے. ھوں... اتنی بڑی تعداد نہیں تھی سنا ھے سندھ میں ھوا. ھاں یار بس شکر ھے اسلام آباد میں سیکیوریٹی اچھی ھے. مرنے والے کون لوگ تھے؟ سنا ھے شیعه تھے. اچھا! چلو وه بیچارے تو مرتے ھی رہتے ہیں کوئی نئی بات نہیں. هاں یار لیکن مسئله یه ھے که پهر یه احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آتے ھیں اور لوگوں کو اذیت ھوتی ھے. صحیح بات ھے ایسے واقعات نہیں ھونے چاہییں لیکن اسکا یه مطلب نہیں که دوسروں کو اذیت دی جائے.
📌هاں آج اس طرح کی بہت سی بحثیں پاکستان کے مختلف سرکاری و غیرسرکاری اداروں، کالجوں یونیورسٹیوں، چوکوں، چوراہوں اور ھوٹلوں میں ہو رھی ھونگی. آج یه ملک جسے اسلام کے نام په لیا گیا تھا قتل و غارت گری کی آماجگاه بن چکا ھے. اگر آپ 20 کروڑ کی آبادی میں زنده ضمیر لوگ ڈھونڈنے نکلیں تو چند لوگ ھی مل پائیں گے.
قرآن نےکہا ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ھے اور ھم نے ساتھ کچھ اضافے اپنی طرف سے کرلیے شیعه انسان، سنی انسان، عیسائی انسان، ھندو انسان، سندھی انسان، پنجابی انسان وغیره. ھمارے ضمیر مرده ھوچکے ھیں روزانه اتنی خبریں سنتے ھیں که 50، 60 لوگوں کا مرجانا ھمارے لیے انتہائی معمولی بات ھے.
📝ھمارے نبی کریم نے فرمایا: جس نے صبح کی اور مسلمانوں کے حالات سے بے خبر رھا وه درحقیقت مسلمان کہلانے کا حقدار نھیں لیکن ھم جب صبح کسی مسلمان کا گلا کٹنے کی خبر سنتے ھیں تو شکر کرتے ھیں که ھمارا رشته دار نھیں تھا. ھمارے قوم یا فرقے کا نھیں تھا. شکر ھے دھماکه ھمارے شھر میں نھیں ھوا.
🖊کیا انسانیت اسی کا نام ھے. کیا عقل اور اسلام ھمیں ھمدردی کے یہی معیار عطا کرتے ھیں. اگرچہ میرے سب عزیز سلامت ھیں لیکن وه ٹکڑوں میں بٹ جانے والے لوگ بھی کسی کے عزیز ھیں.
😪😪😪سو لاشیں یعنی سو خاندانوں کی زندگیاں اجڑ گئیں. کتنے بچے یتیم ھوگئے کتنی ماؤں کی گودیاں ویراں ھوگئیں کتنی بہنوں سے بھائی چھن گئے. کیا ھمارے درمیان انسانیت کا رشته اسلام کا رشته پاکستانیت کا رشته جیسی کوئی چیز وجود نھیں رکھتی. اور پهر ھمارا معاشرہ انھیں احتجاج کا حق بھی نہیں دیتا حکومتی اداروں اور عدالتوں میں ان دکھیاروں کی کوئی شنوائی نہیں ھوتی.
😭😭😭اس ظلم کے خلاف بولنا پڑے گا ورنه آگ کسی کی دوست نہیں ہوتی یه آگ جب پهیلے گی تو سب کو لپیٹ میں لے لے گی. ریاستی ادارے بھی یہی سوچ رھے ھونگے که کوئی بات نہیں آج تو شیعوں کا نقصان ھوا ھے، نہیں یه پاکستان کا نقصان ھے 100 محب وطن و باوفا لوگوں کا خون بہا ھے.
حکمرانوں خدارا پاکستان کو تباہی سے بچالو ورنه کف افسوس ملتے رھو گے.
اور اے میری قوم خدارا ان بے گناھوں کا درد محسوس کرو تبھی مسلمان اور انسان کہلانے کے لائق ھو سکتے ہو.
●اخوت اس کوکہتےہیں چبھےکانٹا جوکابل میں.
تو دلی کا ھر اک پیر و جواں بیتاب ھو جائے...
t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
سناؤ! کیسے ھو بھابی بچے کیسے ھیں؟ بس یار کیا بتاؤں رات بہت پریشانی و اضطراب میں کٹی پوری رات سو نھیں پایا.کیوں کیا ھوا خیر تو ھے؟ یار کیا بتاؤں احمد کو شدید بخار تھا نه میں سو پایا نه اسکی ماں پوری رات اس کے پاس بیٹھے رھے ایک طرف میں اور ایک طرف اسکی ماں. بس صبح کچھ بہتر ھوا تو میں آفس آگیا ورنه آج آفس آنا بھی مشکل ھو جاتا. ہاں یار کل ھمارے صاحبزادے نے بھی بہت پریشان کیا بھاگتے بھاگتے گر گیا ناک سے ایسا خون شروع ھوا که پهر بند ھونے کا نام ھی نه لے. الله الله کرکے پانچ سات منٹ تک خون رکا تو ھماری جان میں جان آئی. بس یار کیا کریں بچے بعض اوقات بہت پریشان کرتے ھیں. ھاں بات تو یہی ھے بچوں کو کچھ ھو تو جان نکلتی ھے.
🌐اچھا اور سناؤ کوئی نئی تازی! سنا ھے رات پھر کہیں دھماکه ھوا، میں نے تو رات خبریں ہی نہیں سنیں بچے ڈرامه دیکھ رھے تھے. ھاں یار کوئی اتنا بڑا دھماکه نہیں تھا بس تقریبا 100 لوگ جاں بحق ھوئے. ھوں... اتنی بڑی تعداد نہیں تھی سنا ھے سندھ میں ھوا. ھاں یار بس شکر ھے اسلام آباد میں سیکیوریٹی اچھی ھے. مرنے والے کون لوگ تھے؟ سنا ھے شیعه تھے. اچھا! چلو وه بیچارے تو مرتے ھی رہتے ہیں کوئی نئی بات نہیں. هاں یار لیکن مسئله یه ھے که پهر یه احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آتے ھیں اور لوگوں کو اذیت ھوتی ھے. صحیح بات ھے ایسے واقعات نہیں ھونے چاہییں لیکن اسکا یه مطلب نہیں که دوسروں کو اذیت دی جائے.
📌هاں آج اس طرح کی بہت سی بحثیں پاکستان کے مختلف سرکاری و غیرسرکاری اداروں، کالجوں یونیورسٹیوں، چوکوں، چوراہوں اور ھوٹلوں میں ہو رھی ھونگی. آج یه ملک جسے اسلام کے نام په لیا گیا تھا قتل و غارت گری کی آماجگاه بن چکا ھے. اگر آپ 20 کروڑ کی آبادی میں زنده ضمیر لوگ ڈھونڈنے نکلیں تو چند لوگ ھی مل پائیں گے.
قرآن نےکہا ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ھے اور ھم نے ساتھ کچھ اضافے اپنی طرف سے کرلیے شیعه انسان، سنی انسان، عیسائی انسان، ھندو انسان، سندھی انسان، پنجابی انسان وغیره. ھمارے ضمیر مرده ھوچکے ھیں روزانه اتنی خبریں سنتے ھیں که 50، 60 لوگوں کا مرجانا ھمارے لیے انتہائی معمولی بات ھے.
📝ھمارے نبی کریم نے فرمایا: جس نے صبح کی اور مسلمانوں کے حالات سے بے خبر رھا وه درحقیقت مسلمان کہلانے کا حقدار نھیں لیکن ھم جب صبح کسی مسلمان کا گلا کٹنے کی خبر سنتے ھیں تو شکر کرتے ھیں که ھمارا رشته دار نھیں تھا. ھمارے قوم یا فرقے کا نھیں تھا. شکر ھے دھماکه ھمارے شھر میں نھیں ھوا.
🖊کیا انسانیت اسی کا نام ھے. کیا عقل اور اسلام ھمیں ھمدردی کے یہی معیار عطا کرتے ھیں. اگرچہ میرے سب عزیز سلامت ھیں لیکن وه ٹکڑوں میں بٹ جانے والے لوگ بھی کسی کے عزیز ھیں.
😪😪😪سو لاشیں یعنی سو خاندانوں کی زندگیاں اجڑ گئیں. کتنے بچے یتیم ھوگئے کتنی ماؤں کی گودیاں ویراں ھوگئیں کتنی بہنوں سے بھائی چھن گئے. کیا ھمارے درمیان انسانیت کا رشته اسلام کا رشته پاکستانیت کا رشته جیسی کوئی چیز وجود نھیں رکھتی. اور پهر ھمارا معاشرہ انھیں احتجاج کا حق بھی نہیں دیتا حکومتی اداروں اور عدالتوں میں ان دکھیاروں کی کوئی شنوائی نہیں ھوتی.
😭😭😭اس ظلم کے خلاف بولنا پڑے گا ورنه آگ کسی کی دوست نہیں ہوتی یه آگ جب پهیلے گی تو سب کو لپیٹ میں لے لے گی. ریاستی ادارے بھی یہی سوچ رھے ھونگے که کوئی بات نہیں آج تو شیعوں کا نقصان ھوا ھے، نہیں یه پاکستان کا نقصان ھے 100 محب وطن و باوفا لوگوں کا خون بہا ھے.
حکمرانوں خدارا پاکستان کو تباہی سے بچالو ورنه کف افسوس ملتے رھو گے.
اور اے میری قوم خدارا ان بے گناھوں کا درد محسوس کرو تبھی مسلمان اور انسان کہلانے کے لائق ھو سکتے ہو.
●اخوت اس کوکہتےہیں چبھےکانٹا جوکابل میں.
تو دلی کا ھر اک پیر و جواں بیتاب ھو جائے...
t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 اخلاق اور خود سازی 🔷
■ عظیم مجاهدت: پیغمبر اکرم (ص) نے ایک سخت جنگ سے واپسی پر فرمایا کہ "یہ جہاد اصغر تھا اور اس کے بعد جہاد اکبر کی باری ہے"
جہاد اکبر یعنی نفس سے جہاد۔ جہاد بالنفس کو انسان کی ذاتی حدود تک محدود نہیں سمجھنا چاہئے.
نفسانی خواہشات، لذت کوشی، آرام طلبی، زیادہ کی خواہش اور بری عادتوں کے خلاف مجاہدت اہم اور جہاد بالنفس ہے.
■ خود سازی کے معنی
خود سازی کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ کوئی عیب ہے، ہمیں اس کو برطرف کرنا چاہئے۔ نہیں، بلکہ خودسازی کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ان عناصر کی طرف سے ہوشیار رہیں جو عیب پیدا کر دیتے ہیں.
■ خود سازی کی ضرورت
خودسازی دوسروں کی اصلاح، دنیا کی تعمیر اور سخت راستے طے کرنے کیلئے تمہید اور بنیادی شرط ہے.
انسان کے وجود میں تمام برائیوں کا سرچشمہ بھی موجود ہے، اسی طرح انسانی وجود میں تمام اچھائیوں اور کمالات کا سرچشمہ بھی موجود ہے۔ اگر انسان کوشش کرے تو اچھائیوں کا سرچشمہ اس کے لئے کھل جائے گا.
■ اخلاقی تربیت کی اہمیت
نوجوانوں، بچوں اور نونہالوں کی اخلاقی تربیت، واقعی تمام معاشروں کے لئے بے حد اہم ہے۔ جو معاشرہ اسلامی ہو اور اسلامی احکام و نظریات کی بنیاد پر قائم رہنا چاہتا ہو، لازمی طور پر اس کے سامنے دیگر معاشروں سے بلند تر مجاہدت ہوگی۔ کوئی بھی معاشرہ بغیر مجاہدت کے اصلاح کا راستہ نہیں پا سکتا۔ اس لئے کہ ہر جگہ ایسے عوامل ہیں جو مختلف ثقافتوں کے مطابق بچوں کو چوری، برائی، کاہلی اور بے راہروی سکھاتے ہیں اور بچے ان سے یہ چیزیں سیکھتے ہیں.
■ نوجوانی میں خود سازی
اگر ایک جملے میں مجھ سے پوچھا جائے کہ نوجوانوں سے کیا چاہتے ہو؟ تو میں کہوں گا کہ تعلیم، پاکیزگی اور کھیل کود۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوجوانوں میں یہ تین خصوصیات ہونی چاہئیں۔
انسان نوجوانی میں آسانی سے گناہوں سے اجتناب کر سکتا ہے۔ آسانی سے خود کو خدا سے نزدیک کر سکتا ہے۔
نوجوانی کے بعد بھی یہ تمام کام ممکن ہیں لیکن بہت مشکل ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ نوجوانی گناہ کرنے کا زمانہ ہے اور بڑھاپا توبہ کرنے کا۔ یہ غلط ہے۔ توبہ کرنے کا زمانہ بھی نوجوانی کا زمانہ ہی ہے۔ دعا کا زمانہ بھی نوجوانی کا زمانہ ہی ہے۔ ہر اہم کام کا زمانہ، نوجوانی کا زمانہ ہے۔
■ اخلاقی تربیت وتعلیم مسلط کرنا
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اخلاق کے مسئلے اور نوجوانوں کی اخلاقی تربیت پر توجہ نہیں دینی چاہئے بلکہ ان کو آزاد چھوڑ دینا چاہئے۔ حالانکہ یہ مستقبل کی نسل کے تئیں غفلت اور تساہلی ہے. اخلاقی تربیت، اخلاقی تعلیم کو مسلط کرنا نہیں ہے۔ اخلاقی تعلیمات کو مسلط کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ اسلام نے بھی ہم سے یہ نہیں کہا ہے اور یہ نہیں چاہا ہے۔ دباؤ اور زور زبردستی سے کام لیکر اخلاقی تعلیمات مسلط کرنے سے لوگ ریاکار، مکار اور منافق ہو جاتے ہیں جو اچھی بات نہیں ہے۔ لیکن تربیت بہت اہم ہے۔ صحیح طریقے سے تربیت کے ذریعے نوجوانوں کو دیندار بنانا چاہئے۔ بنیادی ہدف یہ ہونا چاہئے کہ نوجوان دیندار، دین پر یقین رکھنے والے، اسلامی اخلاق اور ان صفات کے مالک ہوں جو اسلام کی نگاہ میں انسانوں کی پسندیدہ صفات ہیں۔
■ خود سازی کی روش
امیرالمؤمنین حضرت علی (علیہ السلام) کے اس ارشاد گرامی سے کہ "من نصب نفسہ اماما فلیبدا بتعلیم نفسہ قبل تعلیم غیرہ" بالکل واضح ہے کہ (اصلاح کی) ابتدا اپنی ذات سے کرنی چاہئے۔ ہمیں پہلے خود اپنے پر توجہ دینا چاہئے۔ خودسازی کا پہلا اور اہم ترین قدم یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو، اپنے اخلاق کو اور اپنے کردار کو تنقیدی نگاہ سے دیکھے۔ اپنے عیوب پر غور کرے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرے۔ ہمیں اپنی لغزشوں کو کم کرنا چاہئے اور اس کام میں خدا سے مدد مانگنا چاہئے.
اپنی بداخلاقیوں اور بری صفات کا پتہ لگائیں۔ یہ مجاہدت کا دشوار حصہ ہے۔ خود پسندی و خود ستائی میں مبتلا نہ ہوں۔ اپنے عیوب کو دیکھیں اور ان کی فہرست اپنے سامنے رکھیں۔ کوشش کریں کہ اس فہرست میں مسلسل کمی آئے۔ اگر حاسد ہیں تو حسد کو ختم کریں، اگر ضدی ہیں تو ضد کو ختم کریں، اگر کاہل ہیں تو کاہلی کو ختم کریں، اگر دوسروں کا برا چاہتے ہیں اور بدخواہ ہیں تو بدخواہی کو دور کریں، اگر اپنے اندر عہدشکنی پائی جاتی ہو تو عہدشکنی اور بے وفائی کو ختم کریں۔ خداوندعالم کمال تک پہنچنے کے لئے جاری مجاہدت میں انسان کو بےیارومددگار نہیں چھوڑتا.
اس مجاہدت کا فائدہ سب سے پہلے خود مجاہدت کرنے والے کو پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ فائدہ معاشرے اور ملک و قوم غرض ہرجگہ اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں مختصر یہ کہ اس طریقے سے عوام کی دنیا و آخرت دونوں سنور جاتی ہیں.
■ نفس کی پاکیزگی، انہیں مختصر جملوں سے ہو سکتی ہے؛ خدا پر توجہ، خدا سے الفت، ہر اقدام سے پہلے سوچنا، دنیا کے تمام اچھے لوگوں اور خدا کے تمام مخلص بندوں سے محبت اور سب کی بھلائی چاہنا.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
■ عظیم مجاهدت: پیغمبر اکرم (ص) نے ایک سخت جنگ سے واپسی پر فرمایا کہ "یہ جہاد اصغر تھا اور اس کے بعد جہاد اکبر کی باری ہے"
جہاد اکبر یعنی نفس سے جہاد۔ جہاد بالنفس کو انسان کی ذاتی حدود تک محدود نہیں سمجھنا چاہئے.
نفسانی خواہشات، لذت کوشی، آرام طلبی، زیادہ کی خواہش اور بری عادتوں کے خلاف مجاہدت اہم اور جہاد بالنفس ہے.
■ خود سازی کے معنی
خود سازی کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ کوئی عیب ہے، ہمیں اس کو برطرف کرنا چاہئے۔ نہیں، بلکہ خودسازی کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ان عناصر کی طرف سے ہوشیار رہیں جو عیب پیدا کر دیتے ہیں.
■ خود سازی کی ضرورت
خودسازی دوسروں کی اصلاح، دنیا کی تعمیر اور سخت راستے طے کرنے کیلئے تمہید اور بنیادی شرط ہے.
انسان کے وجود میں تمام برائیوں کا سرچشمہ بھی موجود ہے، اسی طرح انسانی وجود میں تمام اچھائیوں اور کمالات کا سرچشمہ بھی موجود ہے۔ اگر انسان کوشش کرے تو اچھائیوں کا سرچشمہ اس کے لئے کھل جائے گا.
■ اخلاقی تربیت کی اہمیت
نوجوانوں، بچوں اور نونہالوں کی اخلاقی تربیت، واقعی تمام معاشروں کے لئے بے حد اہم ہے۔ جو معاشرہ اسلامی ہو اور اسلامی احکام و نظریات کی بنیاد پر قائم رہنا چاہتا ہو، لازمی طور پر اس کے سامنے دیگر معاشروں سے بلند تر مجاہدت ہوگی۔ کوئی بھی معاشرہ بغیر مجاہدت کے اصلاح کا راستہ نہیں پا سکتا۔ اس لئے کہ ہر جگہ ایسے عوامل ہیں جو مختلف ثقافتوں کے مطابق بچوں کو چوری، برائی، کاہلی اور بے راہروی سکھاتے ہیں اور بچے ان سے یہ چیزیں سیکھتے ہیں.
■ نوجوانی میں خود سازی
اگر ایک جملے میں مجھ سے پوچھا جائے کہ نوجوانوں سے کیا چاہتے ہو؟ تو میں کہوں گا کہ تعلیم، پاکیزگی اور کھیل کود۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوجوانوں میں یہ تین خصوصیات ہونی چاہئیں۔
انسان نوجوانی میں آسانی سے گناہوں سے اجتناب کر سکتا ہے۔ آسانی سے خود کو خدا سے نزدیک کر سکتا ہے۔
نوجوانی کے بعد بھی یہ تمام کام ممکن ہیں لیکن بہت مشکل ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ نوجوانی گناہ کرنے کا زمانہ ہے اور بڑھاپا توبہ کرنے کا۔ یہ غلط ہے۔ توبہ کرنے کا زمانہ بھی نوجوانی کا زمانہ ہی ہے۔ دعا کا زمانہ بھی نوجوانی کا زمانہ ہی ہے۔ ہر اہم کام کا زمانہ، نوجوانی کا زمانہ ہے۔
■ اخلاقی تربیت وتعلیم مسلط کرنا
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اخلاق کے مسئلے اور نوجوانوں کی اخلاقی تربیت پر توجہ نہیں دینی چاہئے بلکہ ان کو آزاد چھوڑ دینا چاہئے۔ حالانکہ یہ مستقبل کی نسل کے تئیں غفلت اور تساہلی ہے. اخلاقی تربیت، اخلاقی تعلیم کو مسلط کرنا نہیں ہے۔ اخلاقی تعلیمات کو مسلط کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ اسلام نے بھی ہم سے یہ نہیں کہا ہے اور یہ نہیں چاہا ہے۔ دباؤ اور زور زبردستی سے کام لیکر اخلاقی تعلیمات مسلط کرنے سے لوگ ریاکار، مکار اور منافق ہو جاتے ہیں جو اچھی بات نہیں ہے۔ لیکن تربیت بہت اہم ہے۔ صحیح طریقے سے تربیت کے ذریعے نوجوانوں کو دیندار بنانا چاہئے۔ بنیادی ہدف یہ ہونا چاہئے کہ نوجوان دیندار، دین پر یقین رکھنے والے، اسلامی اخلاق اور ان صفات کے مالک ہوں جو اسلام کی نگاہ میں انسانوں کی پسندیدہ صفات ہیں۔
■ خود سازی کی روش
امیرالمؤمنین حضرت علی (علیہ السلام) کے اس ارشاد گرامی سے کہ "من نصب نفسہ اماما فلیبدا بتعلیم نفسہ قبل تعلیم غیرہ" بالکل واضح ہے کہ (اصلاح کی) ابتدا اپنی ذات سے کرنی چاہئے۔ ہمیں پہلے خود اپنے پر توجہ دینا چاہئے۔ خودسازی کا پہلا اور اہم ترین قدم یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو، اپنے اخلاق کو اور اپنے کردار کو تنقیدی نگاہ سے دیکھے۔ اپنے عیوب پر غور کرے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرے۔ ہمیں اپنی لغزشوں کو کم کرنا چاہئے اور اس کام میں خدا سے مدد مانگنا چاہئے.
اپنی بداخلاقیوں اور بری صفات کا پتہ لگائیں۔ یہ مجاہدت کا دشوار حصہ ہے۔ خود پسندی و خود ستائی میں مبتلا نہ ہوں۔ اپنے عیوب کو دیکھیں اور ان کی فہرست اپنے سامنے رکھیں۔ کوشش کریں کہ اس فہرست میں مسلسل کمی آئے۔ اگر حاسد ہیں تو حسد کو ختم کریں، اگر ضدی ہیں تو ضد کو ختم کریں، اگر کاہل ہیں تو کاہلی کو ختم کریں، اگر دوسروں کا برا چاہتے ہیں اور بدخواہ ہیں تو بدخواہی کو دور کریں، اگر اپنے اندر عہدشکنی پائی جاتی ہو تو عہدشکنی اور بے وفائی کو ختم کریں۔ خداوندعالم کمال تک پہنچنے کے لئے جاری مجاہدت میں انسان کو بےیارومددگار نہیں چھوڑتا.
اس مجاہدت کا فائدہ سب سے پہلے خود مجاہدت کرنے والے کو پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ فائدہ معاشرے اور ملک و قوم غرض ہرجگہ اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں مختصر یہ کہ اس طریقے سے عوام کی دنیا و آخرت دونوں سنور جاتی ہیں.
■ نفس کی پاکیزگی، انہیں مختصر جملوں سے ہو سکتی ہے؛ خدا پر توجہ، خدا سے الفت، ہر اقدام سے پہلے سوچنا، دنیا کے تمام اچھے لوگوں اور خدا کے تمام مخلص بندوں سے محبت اور سب کی بھلائی چاہنا.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani