🌸 تین قسم کی بیویاں 🌸
منصور دوانیقی کی خلافت کے زمانے میں ایک آدمی نے فیصلہ کیا کہ جب تک ایک سو افراد سے مشورہ نہ کرلے شادی نہیں کریگا۔
رات جب سونے لگا تو ارادہ کیا کہ صبح جب اٹھے گا تو پہلے جس آدمی سے ملے گا اس سے اس بارے مشورہ کریگا۔ قسمت کا کرنا یہ ہوا کہ صبح جب پہلے شخص سے ملا تو وہ پاگل تھا۔ اس کے پیچھے بچے بھاگ رہے تھے۔ اپنے آپ سے کہنے لگا اس پاگل کو تو عقل ہی نہیں ہے۔ لیکن اب کوئی چارہ نہیں ہے مجھے اس کیساتھ مشورہ کرنا ہوگا۔
اس پاگل نے جواب دیا؛ بیویاں اور عورتیں تین قسم کی ہیں۔ ایک تمھارے لیے ہے نہ کہ تم پر ہے۔ دوسری دائیں طرف نہیں اور نہ ہی تم پر ہے۔ تیسری دائیں طرف نہیں ہے اور تم پر ہے۔ خیال کرو کہیں میرا گھوڑا تمھیں لات نہ مار دے۔ یہ کہا اور وہاں سے بھاگ گیا۔
وہ آدمی کہتا ہے میں سوچ میں پڑ گیا، میں نے کہا یہ تو سمجھداروں والی بات لگتی ہے۔ میں اس کے پیچھے گیا اور کہا تم نے بہت مختصر بات بتائی ہے اس کی وضاحت کرو۔
وہ پاگل بولا؛ وہ عورت جسکا تمھیں فائدہ ہے وہ باکرہ عورت ہے، اسکے دل میں تمھاری محبت غالب ہوگی۔ وہ عورت جسکا تمہیں فائدہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ تمھارے خلاف ہوگی، وہ عورت ہے جسکا پہلے شوہر تھا اور اسکی محبت ابھی بھی اسکے دل میں باقی ہے۔
وہ عورت جسکا تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ تمھارے نقصان میں ہے، وہ عورت ہے جسکی پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہو اور وہ ہروقت اسکے کاموں میں مصروف رہے، تمھارا سب مال اس پر خرچ کردے۔ اور جب تم اس سے کوئی بات کہو تو جواب میں کہے کہ وہ بہت ہی برا دن تھا جب مجھے تمھارے ساتھ باندھ دیا گیا۔ پاگل نے یہ کہا اور جلدی وہاں سے بھاگ گیا۔
وہ آدمی کہتا ہے میں پھر اس کے پاس گیا اور کہا؛ تمھاری باتیں تو عقلمندوں کی طرح ہیں تو پھر کیوں پاگل بنے پھرتے ہو؟
اس نے جواب دیا کہ خلیفہ چاہتا تھا کہ مجھے قاضی بنا دے۔ اس قضاوت سے فرار کی خاطر میں پاگل بن گیا ہوں۔
میں بہت حیران ہوا۔
( جوامع الحکایات، ص335)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚 نقل از سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص380۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔
🌹 شادی
https://t.me/islamwitheman/1785
🔷 شادی کیلئے معیار
https://t.me/islamwitheman/1857
🍃زوجہ سے مقاربت کا اسلامی طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1356
🌺ممنوع و ممدوح مقاربت بازوجہ
https://t.me/islamwitheman/1355
🌸شب زفاف کے اعمال
https://t.me/islamwitheman/1321
🌹نکاح کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/1312
🌹ارادہ نکاح کے آداب
https://t.me/islamwitheman/1316
🌹غسل جنابت
http://t.me/islamwitheman/1681
🌺احکام جنابت
http://t.me/islamwitheman/1684
🌸غسل کے احکام
http://t.me/islamwitheman/1685
🌸 تین قسم کی بیویاں
https://t.me/islamwitheman/1886
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
منصور دوانیقی کی خلافت کے زمانے میں ایک آدمی نے فیصلہ کیا کہ جب تک ایک سو افراد سے مشورہ نہ کرلے شادی نہیں کریگا۔
رات جب سونے لگا تو ارادہ کیا کہ صبح جب اٹھے گا تو پہلے جس آدمی سے ملے گا اس سے اس بارے مشورہ کریگا۔ قسمت کا کرنا یہ ہوا کہ صبح جب پہلے شخص سے ملا تو وہ پاگل تھا۔ اس کے پیچھے بچے بھاگ رہے تھے۔ اپنے آپ سے کہنے لگا اس پاگل کو تو عقل ہی نہیں ہے۔ لیکن اب کوئی چارہ نہیں ہے مجھے اس کیساتھ مشورہ کرنا ہوگا۔
اس پاگل نے جواب دیا؛ بیویاں اور عورتیں تین قسم کی ہیں۔ ایک تمھارے لیے ہے نہ کہ تم پر ہے۔ دوسری دائیں طرف نہیں اور نہ ہی تم پر ہے۔ تیسری دائیں طرف نہیں ہے اور تم پر ہے۔ خیال کرو کہیں میرا گھوڑا تمھیں لات نہ مار دے۔ یہ کہا اور وہاں سے بھاگ گیا۔
وہ آدمی کہتا ہے میں سوچ میں پڑ گیا، میں نے کہا یہ تو سمجھداروں والی بات لگتی ہے۔ میں اس کے پیچھے گیا اور کہا تم نے بہت مختصر بات بتائی ہے اس کی وضاحت کرو۔
وہ پاگل بولا؛ وہ عورت جسکا تمھیں فائدہ ہے وہ باکرہ عورت ہے، اسکے دل میں تمھاری محبت غالب ہوگی۔ وہ عورت جسکا تمہیں فائدہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ تمھارے خلاف ہوگی، وہ عورت ہے جسکا پہلے شوہر تھا اور اسکی محبت ابھی بھی اسکے دل میں باقی ہے۔
وہ عورت جسکا تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ تمھارے نقصان میں ہے، وہ عورت ہے جسکی پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہو اور وہ ہروقت اسکے کاموں میں مصروف رہے، تمھارا سب مال اس پر خرچ کردے۔ اور جب تم اس سے کوئی بات کہو تو جواب میں کہے کہ وہ بہت ہی برا دن تھا جب مجھے تمھارے ساتھ باندھ دیا گیا۔ پاگل نے یہ کہا اور جلدی وہاں سے بھاگ گیا۔
وہ آدمی کہتا ہے میں پھر اس کے پاس گیا اور کہا؛ تمھاری باتیں تو عقلمندوں کی طرح ہیں تو پھر کیوں پاگل بنے پھرتے ہو؟
اس نے جواب دیا کہ خلیفہ چاہتا تھا کہ مجھے قاضی بنا دے۔ اس قضاوت سے فرار کی خاطر میں پاگل بن گیا ہوں۔
میں بہت حیران ہوا۔
( جوامع الحکایات، ص335)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚 نقل از سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص380۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔
🌹 شادی
https://t.me/islamwitheman/1785
🔷 شادی کیلئے معیار
https://t.me/islamwitheman/1857
🍃زوجہ سے مقاربت کا اسلامی طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1356
🌺ممنوع و ممدوح مقاربت بازوجہ
https://t.me/islamwitheman/1355
🌸شب زفاف کے اعمال
https://t.me/islamwitheman/1321
🌹نکاح کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/1312
🌹ارادہ نکاح کے آداب
https://t.me/islamwitheman/1316
🌹غسل جنابت
http://t.me/islamwitheman/1681
🌺احکام جنابت
http://t.me/islamwitheman/1684
🌸غسل کے احکام
http://t.me/islamwitheman/1685
🌸 تین قسم کی بیویاں
https://t.me/islamwitheman/1886
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 شادی 🌹
■ خداوند تعالٰی فرماتا ہے:
وَانْکِحُوْا الایَامٰی مِنْکُمْ وَالصَّالِحِيْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَائِکُمْ۔
"اور غیرشادی شدہ مردوں اور عورتوں کی شادی کردو اور اسیطرح اپنی نیک کنیزوں اور غلاموں کو بھی بیاہ دو۔"
(سورہ نور:32)
■ رسول اکرمؐ نے فرمایا:…
■ خداوند تعالٰی فرماتا ہے:
وَانْکِحُوْا الایَامٰی مِنْکُمْ وَالصَّالِحِيْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَائِکُمْ۔
"اور غیرشادی شدہ مردوں اور عورتوں کی شادی کردو اور اسیطرح اپنی نیک کنیزوں اور غلاموں کو بھی بیاہ دو۔"
(سورہ نور:32)
■ رسول اکرمؐ نے فرمایا:…
🎅 ڈنڈا 🎅
گزرے وقتوں کی بات ہے ایک گاؤں میں کوئی مولوی صاحب رہتے تھے۔ اور چونکہ ہم عموما فرض کرلیتے ہیں کہ مولوی صاحب کے ہاں برکت ہی برکت ہوتی ہے اسلئے اسکی تنخواہ بہت کم ہوتی ہے۔ اب اگر اسکا کوئی دوسرا ذریعہ آمدن نہ ہو اور کسی گاؤں میں رہتا ہو تو گزارہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ اسی گاؤں میں کوئی نیک دل جاگیردار بھی رہتا تھا تو اس نے زمین کا ایک ٹکڑا مولوی صاحب کو ہدیہ کیا کہ ویسے بھی سارا دن آپ فارغ ہوتےہیں تو کھیتی باڑی کریں تاکہ گزارہ اچھا ہو۔
مولوی صاحب نے گندم کاشت کرلی اور جب فصل ہری بھری ہوگئی تو بڑی خوشی ہوتی تھی دیکھ کر اسلئے دن کا اکثر وقت وہ کھیت میں ہی بیٹھے رہتے اور فصل دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے۔ لیکن ایک ناگہانی مصیب نے آن گھیرا۔ گاؤں کا ایک آوارہ گدھے نے کھیت کی راہ دیکھ لی تو آکر کھیت میں چرنے لگا۔ مولوی صاحب نے پہلے تو چھوٹے موٹے صدقے دیئے لیکن گدھا منع نہیں ہوا۔ پھر اس نے مختلف سورتیں پڑھ پڑھ کر پھونکنا شروع کردیا لیکن گدھا ٹس سے مس نہیں ہوا۔ ایک دن پریشان حال بیٹھے گدھے کو فصل اجاڑتے دیکھ رہے تھے کہ ادھر سے ایک کسان کا گزر ہوا۔ گدھے کو چرتا دیکھ کر کسان نے پوچھا کہ مولوی صاحب آپ عجیب آدمی ہیں گدھا فصل تباہ کر رہا ہے اور آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں؟
مولوی صاحب نے عرض کیا کہ جناب ہاتھ پر ہاتھ دھرے کہاں بیٹھا ہوں؟ ابھی تک ایک مرغی اور بکری کے بچے کا صدقہ کر چکا ہوں اور کل سے آدھا قرآن شریف بھی پڑھ کر پھونک چکا ہوں لیکن "ہٹتا نہیں ہے کھیت کافر گدھا ہوا"
کسان کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا تھا وہ سیدھا گدھے کے پاس گیا اور گدھے کو دوچار ڈنڈے کس کر مارے تو گدھا کسی ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا ہوا بھاگ کھڑا ہوا۔ کسان نے کھیت سے باہر آکر ڈنڈا مولوی صاحب کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ قبلہ مولوی صاحب قرآن گدھوں کو بھگانے کیلئے نازل نہیں کیا گیا۔ گدھوں کو بھگانے کیلئے اللہ تعالٰی نے یہ ڈنڈا بھیجا ہے۔
ہم پاکستانی بھی عجیب قوم ہیں۔ ہمارے گدھے حکمران کروڑوں نہیں بلکہ اربوں لوٹے چلے جاتے ہیں اور ہم صرف دعاؤں اور صدقات و خیرات کے بل بوتے پہ ان گدھوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جب تک قوم ان لٹیروں سے نجات کیلئے ڈنڈا استعمال نہیں کرے گی یہ گدھے ملک و قوم کے تمام وسائل یونہی لوٹتے رھیں گے-
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
گزرے وقتوں کی بات ہے ایک گاؤں میں کوئی مولوی صاحب رہتے تھے۔ اور چونکہ ہم عموما فرض کرلیتے ہیں کہ مولوی صاحب کے ہاں برکت ہی برکت ہوتی ہے اسلئے اسکی تنخواہ بہت کم ہوتی ہے۔ اب اگر اسکا کوئی دوسرا ذریعہ آمدن نہ ہو اور کسی گاؤں میں رہتا ہو تو گزارہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ اسی گاؤں میں کوئی نیک دل جاگیردار بھی رہتا تھا تو اس نے زمین کا ایک ٹکڑا مولوی صاحب کو ہدیہ کیا کہ ویسے بھی سارا دن آپ فارغ ہوتےہیں تو کھیتی باڑی کریں تاکہ گزارہ اچھا ہو۔
مولوی صاحب نے گندم کاشت کرلی اور جب فصل ہری بھری ہوگئی تو بڑی خوشی ہوتی تھی دیکھ کر اسلئے دن کا اکثر وقت وہ کھیت میں ہی بیٹھے رہتے اور فصل دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے۔ لیکن ایک ناگہانی مصیب نے آن گھیرا۔ گاؤں کا ایک آوارہ گدھے نے کھیت کی راہ دیکھ لی تو آکر کھیت میں چرنے لگا۔ مولوی صاحب نے پہلے تو چھوٹے موٹے صدقے دیئے لیکن گدھا منع نہیں ہوا۔ پھر اس نے مختلف سورتیں پڑھ پڑھ کر پھونکنا شروع کردیا لیکن گدھا ٹس سے مس نہیں ہوا۔ ایک دن پریشان حال بیٹھے گدھے کو فصل اجاڑتے دیکھ رہے تھے کہ ادھر سے ایک کسان کا گزر ہوا۔ گدھے کو چرتا دیکھ کر کسان نے پوچھا کہ مولوی صاحب آپ عجیب آدمی ہیں گدھا فصل تباہ کر رہا ہے اور آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں؟
مولوی صاحب نے عرض کیا کہ جناب ہاتھ پر ہاتھ دھرے کہاں بیٹھا ہوں؟ ابھی تک ایک مرغی اور بکری کے بچے کا صدقہ کر چکا ہوں اور کل سے آدھا قرآن شریف بھی پڑھ کر پھونک چکا ہوں لیکن "ہٹتا نہیں ہے کھیت کافر گدھا ہوا"
کسان کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا تھا وہ سیدھا گدھے کے پاس گیا اور گدھے کو دوچار ڈنڈے کس کر مارے تو گدھا کسی ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا ہوا بھاگ کھڑا ہوا۔ کسان نے کھیت سے باہر آکر ڈنڈا مولوی صاحب کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ قبلہ مولوی صاحب قرآن گدھوں کو بھگانے کیلئے نازل نہیں کیا گیا۔ گدھوں کو بھگانے کیلئے اللہ تعالٰی نے یہ ڈنڈا بھیجا ہے۔
ہم پاکستانی بھی عجیب قوم ہیں۔ ہمارے گدھے حکمران کروڑوں نہیں بلکہ اربوں لوٹے چلے جاتے ہیں اور ہم صرف دعاؤں اور صدقات و خیرات کے بل بوتے پہ ان گدھوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جب تک قوم ان لٹیروں سے نجات کیلئے ڈنڈا استعمال نہیں کرے گی یہ گدھے ملک و قوم کے تمام وسائل یونہی لوٹتے رھیں گے-
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
Telegram
🎅مسکراہٹیں🎅
لطیفے، مزاحیہ اور ہارر کلپس
🌻 انفاق 🌻
● خداوند تعالٰی فرماتا ہے؛
"لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ"
ہرگز کوئی نیکی تک نہیں پہنچ سکتا مگر یہ کہ وہ اس چیز کو خدا کی راہ میں انفاق نہ کرے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
(سورہ آل عمران: 92)
● رسولِخداؐ فرماتے ہیں؛
"الایدی ثلاثة سائلة و منفعة و ممسکة و خیرالایدی المُنفِقةٌ"
ہاتھ تین طرح کے ہیں مانگنے والے، دینے والے، کنجوسی کرنیوالے۔ اور سب سے اچھا ہاتھ دینے والا ہے۔
(الکافی 43/4)
■ ابن فہد حلّی
شہید ثالث کے بھائی صالح برغانی کہتے ہیں۔ خواب میں پیغمبر اکرمؐ کو ایک جگہ بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ان کی خدمت میں علماء بیٹھے تھے اور سب سے آگے میرے والد ابن فہد حلی بیٹھے تھے۔
میں حیران ہوا کہ مشہور علماء اور ان سے بڑے مراجع عظام موجود ہیں لیکن میرے والد کیسے بلند مقام پر بیٹھے ہیں۔ میں نے خود رسولخداؐ سے پوچھ لیا کہ ان کو مقدم کیوں کیا گیا ہے؟
پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا؛ جب فقیر علماء سے مانگتے ہیں تو وہ اپنے پاس رکھے ہوئے ان کے حصے میں ان کو دیتے ہیں اور اگر فقراء کے مال میں سے ان کے پاس کچھ نہ ہو تو نہیں دیتے۔ لیکن ابن فہد وہ ہے جو کبھی بھی فقراء کو انفاق سے محروم نہیں کیا کرتا تھا۔ اگر فقراء کے مال میں سے اس کے پاس کچھ نہ ہوتا تو وہ اپنے مال میں سے انکو دیتا تھا اسی لئے اسکا مقام و مرتبہ باقی علماء سے زیادہ ہے۔
(قصص العلماء، ص19)
■ اولاد کے اندر انفاق کرنے کے آثار
ابوحمزہ ثمالی سے روایت کی گئی ہے کہ انبیاء کی اولاد میں سے ایک شخص کے پاس بہت زیادہ دولت تھی اور ساری دولت کو انفاق کر دیا کرتا تھا۔
اپنی ماں سے پوچھتا ہے کہ میرے باپ نے کیا کیا تھا کہ ہر کوئی کہتا ہے کہ خدا اس پر رحمت کرے۔
اس کی ماں نے جواب دیا کہ وہ بہت نیک آدمی تھا ہر فقیر کو کچھ نہ کچھ دیا کرتا تھا۔ بیٹے نے پوچھا؛ پھر ابو کے مال کا کیا ہوا؟ بتایا کہ زیادہ تر کو میں نے انفاق کر دیا۔ بیٹے نے کہا؛ تم نے کسی دوسرے کے مال کو انفاق کر دیا، اچھا تو میں نے تمھارے اس کام کو معاف کر دیا۔ اب بتاؤ کہ باقی کتنی دولت بچی ہے؟
ماں نے کہا؛ سو درھم۔ بیٹے نے وہ لے لئے اور بولا؛ خداوند ان سو درھم میں برکت دے گا۔
گھر سے نکلا، راستے میں ایک لاش زمین پر پڑی دیکھی۔ اس کے کفن دفن پر اسی (80) درھم خرچ کر دیئے۔ اور بولا؛ اگر خدا نے چاہا ان باقی بیس درھم میں برکت دے گا۔
راستے میں ایک شخص ملا، اس نے کہا؛ کیا تم چاہتے ہو کہ تمھیں خدا کے فضل و کرم کی دلیل دوں؟ اور پھر جو کچھ تمھیں ملے میرے ساتھ آدھ کر لو۔ کہا؛ ہاں ٹھیک ہے۔ اس شخص نے کہا؛ جب تم کچھ اور آگے جاؤ گے تو ایک گھر والے تمھیں اپنے گھر میں مہمان کی حیثیت سے دعوت دیں گے۔ وہاں ایک کالی بلی ہوگی اس بلی کو گھر کے نوکر سے بیس درھم میں خرید لینا۔ پھر آ کر بلی کو ذبح کرو اور اس کے سر سے مغز نکال لو۔ اور پھر فلاں شہر چلے جاؤ۔ وہاں کا بادشاہ اندھا ہو گیا ہے۔ وہاں جاکر کہو کہ میں بادشاہ کا علاج کرونگا۔
وہاں بہت سے لوگوں نے یہ دعوٰی کیا ہے اور کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔ ان سب کو پھانسی دے دی گئی ہے لیکن تم بالکل بھی نہ گھبراؤ۔ تم تین دن تک ایک سلائی بلی کے مغز سے بادشاہ کی آنکھ میں لگاؤ۔ وہ ان شاءاللہ ٹھیک ہو جائے گا۔
اس لڑکے نے ویسا ہی کیا۔ بادشاہ ٹھیک ہوگیا۔ اس نے اپنی بیٹی کی شادی اس لڑکے سے کردی۔ کچھ عرصہ وہ لڑکا وہیں رہا۔ پھر اپنے گھر والوں کے ساتھ اس جگہ کیلئے چلا جہاں اس کی ماں رہتی تھی۔ راستے میں اس مرد سے ملاقات ہوئی۔ اس نے کہا کہ تم سے یہ طے پایا تھا کہ اس معاملے کے نفع کو آدھا آدھا کریں گے۔
لڑکے نے کہا؛ مال تو آدھا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بیوی کا کیا کروں؟ اس مرد نے کہا کہ تم نے اپنے وعدے کو وفا کیا ہے اس لیے مجھے نہیں چاہیئے۔ میں ایک فرشتہ ہوں پروردگار کی طرف سے آیا ہوں تاکہ تم نے جو اس زمین پر گرے ہوئے جنازے کے لیے خرچ کیا تھا اس کی جزا دوں۔ یہ جزا تمھارے خدا نے تمھیں دی ہے۔
(بحارالانوار، ج15)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚 نقل از سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص 55، 57۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
● خداوند تعالٰی فرماتا ہے؛
"لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ"
ہرگز کوئی نیکی تک نہیں پہنچ سکتا مگر یہ کہ وہ اس چیز کو خدا کی راہ میں انفاق نہ کرے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
(سورہ آل عمران: 92)
● رسولِخداؐ فرماتے ہیں؛
"الایدی ثلاثة سائلة و منفعة و ممسکة و خیرالایدی المُنفِقةٌ"
ہاتھ تین طرح کے ہیں مانگنے والے، دینے والے، کنجوسی کرنیوالے۔ اور سب سے اچھا ہاتھ دینے والا ہے۔
(الکافی 43/4)
■ ابن فہد حلّی
شہید ثالث کے بھائی صالح برغانی کہتے ہیں۔ خواب میں پیغمبر اکرمؐ کو ایک جگہ بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ان کی خدمت میں علماء بیٹھے تھے اور سب سے آگے میرے والد ابن فہد حلی بیٹھے تھے۔
میں حیران ہوا کہ مشہور علماء اور ان سے بڑے مراجع عظام موجود ہیں لیکن میرے والد کیسے بلند مقام پر بیٹھے ہیں۔ میں نے خود رسولخداؐ سے پوچھ لیا کہ ان کو مقدم کیوں کیا گیا ہے؟
پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا؛ جب فقیر علماء سے مانگتے ہیں تو وہ اپنے پاس رکھے ہوئے ان کے حصے میں ان کو دیتے ہیں اور اگر فقراء کے مال میں سے ان کے پاس کچھ نہ ہو تو نہیں دیتے۔ لیکن ابن فہد وہ ہے جو کبھی بھی فقراء کو انفاق سے محروم نہیں کیا کرتا تھا۔ اگر فقراء کے مال میں سے اس کے پاس کچھ نہ ہوتا تو وہ اپنے مال میں سے انکو دیتا تھا اسی لئے اسکا مقام و مرتبہ باقی علماء سے زیادہ ہے۔
(قصص العلماء، ص19)
■ اولاد کے اندر انفاق کرنے کے آثار
ابوحمزہ ثمالی سے روایت کی گئی ہے کہ انبیاء کی اولاد میں سے ایک شخص کے پاس بہت زیادہ دولت تھی اور ساری دولت کو انفاق کر دیا کرتا تھا۔
اپنی ماں سے پوچھتا ہے کہ میرے باپ نے کیا کیا تھا کہ ہر کوئی کہتا ہے کہ خدا اس پر رحمت کرے۔
اس کی ماں نے جواب دیا کہ وہ بہت نیک آدمی تھا ہر فقیر کو کچھ نہ کچھ دیا کرتا تھا۔ بیٹے نے پوچھا؛ پھر ابو کے مال کا کیا ہوا؟ بتایا کہ زیادہ تر کو میں نے انفاق کر دیا۔ بیٹے نے کہا؛ تم نے کسی دوسرے کے مال کو انفاق کر دیا، اچھا تو میں نے تمھارے اس کام کو معاف کر دیا۔ اب بتاؤ کہ باقی کتنی دولت بچی ہے؟
ماں نے کہا؛ سو درھم۔ بیٹے نے وہ لے لئے اور بولا؛ خداوند ان سو درھم میں برکت دے گا۔
گھر سے نکلا، راستے میں ایک لاش زمین پر پڑی دیکھی۔ اس کے کفن دفن پر اسی (80) درھم خرچ کر دیئے۔ اور بولا؛ اگر خدا نے چاہا ان باقی بیس درھم میں برکت دے گا۔
راستے میں ایک شخص ملا، اس نے کہا؛ کیا تم چاہتے ہو کہ تمھیں خدا کے فضل و کرم کی دلیل دوں؟ اور پھر جو کچھ تمھیں ملے میرے ساتھ آدھ کر لو۔ کہا؛ ہاں ٹھیک ہے۔ اس شخص نے کہا؛ جب تم کچھ اور آگے جاؤ گے تو ایک گھر والے تمھیں اپنے گھر میں مہمان کی حیثیت سے دعوت دیں گے۔ وہاں ایک کالی بلی ہوگی اس بلی کو گھر کے نوکر سے بیس درھم میں خرید لینا۔ پھر آ کر بلی کو ذبح کرو اور اس کے سر سے مغز نکال لو۔ اور پھر فلاں شہر چلے جاؤ۔ وہاں کا بادشاہ اندھا ہو گیا ہے۔ وہاں جاکر کہو کہ میں بادشاہ کا علاج کرونگا۔
وہاں بہت سے لوگوں نے یہ دعوٰی کیا ہے اور کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔ ان سب کو پھانسی دے دی گئی ہے لیکن تم بالکل بھی نہ گھبراؤ۔ تم تین دن تک ایک سلائی بلی کے مغز سے بادشاہ کی آنکھ میں لگاؤ۔ وہ ان شاءاللہ ٹھیک ہو جائے گا۔
اس لڑکے نے ویسا ہی کیا۔ بادشاہ ٹھیک ہوگیا۔ اس نے اپنی بیٹی کی شادی اس لڑکے سے کردی۔ کچھ عرصہ وہ لڑکا وہیں رہا۔ پھر اپنے گھر والوں کے ساتھ اس جگہ کیلئے چلا جہاں اس کی ماں رہتی تھی۔ راستے میں اس مرد سے ملاقات ہوئی۔ اس نے کہا کہ تم سے یہ طے پایا تھا کہ اس معاملے کے نفع کو آدھا آدھا کریں گے۔
لڑکے نے کہا؛ مال تو آدھا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بیوی کا کیا کروں؟ اس مرد نے کہا کہ تم نے اپنے وعدے کو وفا کیا ہے اس لیے مجھے نہیں چاہیئے۔ میں ایک فرشتہ ہوں پروردگار کی طرف سے آیا ہوں تاکہ تم نے جو اس زمین پر گرے ہوئے جنازے کے لیے خرچ کیا تھا اس کی جزا دوں۔ یہ جزا تمھارے خدا نے تمھیں دی ہے۔
(بحارالانوار، ج15)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚 نقل از سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص 55، 57۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌼 اسراف 🌼
● خداوند تعالٰی فرماتا ہے؛
"کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلا تُسْرِفُوْا اِنَّهُ لا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ¤"
(الله کی نعمتیں) کھائیں اور پئیں لیکن اسراف نہ کریں کیونکہ خدا تعالٰی اسراف کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا۔
(سورہ اعراف: 31)
● امام حسن عسکریؑ فرماتے ہیں؛
"ایاک والاسراف فانہ من فعل الشیطنه"
اسراف کرنے سے دور رہو کیونکہ اسراف شیطان کے کاموں میں سے ہے۔
(بحارالانوار 292/50)
■ مسلمہ بن عبدالملک
مسلمہ بن عبدالملک فوجی افسروں میں سے ایک تھا وہ روم جنگ کے دوران لشکر کا کمانڈر تھا۔ جب عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بنا تو اس نے اسے شام بلایا اور اسے اجازت دی کہ وہ جب خلیفہ سے ملنا چاہے، ملاقات کر سکتا ہے۔
ان دنوں خلیفہ کو خبر ملی کہ وہ اپنی زندگی میں بہت لاپرواہ اور فضول خرچ ہوگیا ہے۔ اور کھانے کے معاملے میں اسراف کرتا ہے۔ اپنے لئے طرح طرح کے کھانے بنواتا اور کھاتا ہے۔ دسترخوان پر ہر روز ہزار درھم خرچ کرتا ہے۔
عمر بن عبدالعزیز کو یہ سن کر بہت غصہ آیا۔ اس نے ارادہ کیا کہ مسلمہ کو بلا کر پوچھے اور اس نامعقول طرزعمل سے روکے۔ ایک دفعہ رات کے کھانے کی دعوت کی تاکہ اس کے ساتھ ملکر کھانا کھائے۔ اس سلسلے میں اس نے حکم دیا کہ پہلے مختلف قسم کے کھانے تیار کیے جائیں۔ اور اس کے علاوہ دال و پیاز کے ساتھ ایک سالن تیار کیا جائے۔ جب دسترخوان لگ جائے تو پہلے دال لیکر آئیں۔ اور پھر کچھ وقفے کیساتھ باقی کھانے بھی لے آئیں۔
دعوت کی رات آگئی۔ اس خاص محفل میں صرف خلیفہ اور مسلمہ تھا۔ خلیفہ روم سے جنگ کا احوال دریافت کر رہا تھا اور مسلمہ تفصیلات بتا رہا تھا۔ رات کے کھانے کا وقت گزر گیا اور دو گھنٹے بعد خلیفہ نے دسترخوان لگانے کا حکم دیا۔ دسترخوان لگایا گیا تو پہلے دال کا سالن لایا گیا۔ مسلمہ کو بہت بھوک لگ رہی تھی لہذا اس نے خوب پیٹ بھر کر کھایا جب وہ دال کھا چکا تو باقی کھانے لائے گئے۔ لیکن اب وہ کچھ نہیں کھا سکتا تھا۔
خلیفہ نے کہا؛ تم کھا کیوں نہیں رہے؟ اس نے جواب میں کہا کہ سیر ہوچکا ہوں۔
خلیفہ نے کہا؛ سبحان اللہ تم تو ایک درھم کی دال سے ہی سیر ہو گئے لیکن اپنے دسترخوان کو رنگین کرنے کے لئے روزانہ ہزار درھم خرچ کرتے ہو!
خدا سے ڈرو۔ اسراف مت کرو اور یہ جو فضول پیسہ اپنی خودنمائی کے لئے خرچ کرتے ہو۔ غریب غرباء میں خرچ کیا کرو کہ اللہ کی رضایت اسی میں ہے۔
( نصیحت آموز کہانیاں، ص83)
■ کونسا اسراف ہے؟
ایک دن امام علی نقی ہادی علیہ السلام عباسی خلیفہ متوکل کے دربار میں آئے اور اس کے ساتھ والی نشست پر تشریف فرما ہوئے۔ متوکل نے امامؑ کے عمامہ کی طرف دیکھا جو نہایت ہی نفیس کپڑے کا تھا۔ اعتراض کی نیت سے بولا؛ یہ جو دستار آپ نے سر پر باندھ رکھی ہے کتنے کی خریدی ہے؟
امامؑ نے فرمایا؛ جو شخص یہ میرے لئے لایا ہے، اس نے پانچ سو چاندی کے درھم کے بدلے اسے خریدا ہے۔
متوکل نے کہا؛ آپ نے اسراف کیا ہے کہ پانچ سو درھم کا عمامہ سر پر رکھا ہوا ہے۔
امامؑ نے فرمایا؛ میں نے سنا ہے تم نے ایک خوبصورت کنیز ہزار طلائی دینار کے بدلے میں خریدی ہے۔؟
کہا؛ ہاں ٹھیک ہے۔
امامؑ نے فرمایا؛ میں نے اپنے بدن کے شریف ترین حصہ کے لئے پانچ سو چاندی کے درھم کی رقم ادا کی اور تم نے اپنے بدن کے کمترین حصہ کیلئے ہزار طلائی دینار خرچ کئے ہیں! سچ میں اسراف کونسا ہے؟
متوکل شرمندہ ہوکر بولا؛ انصاف تو یہ ہے کہ ہمیں بنی ہاشم پر کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔
پھر اس نے حکم دیا کہ اس جواب کے بدلے میں امامؑ کے خدمتکاروں کو ایک لاکھ درھم انعام کے طور پر پیش کئے جائیں۔
(لطائف طوائف، ص 57)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚 نقل از سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص 37، 38۔
http://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
● خداوند تعالٰی فرماتا ہے؛
"کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلا تُسْرِفُوْا اِنَّهُ لا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ¤"
(الله کی نعمتیں) کھائیں اور پئیں لیکن اسراف نہ کریں کیونکہ خدا تعالٰی اسراف کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا۔
(سورہ اعراف: 31)
● امام حسن عسکریؑ فرماتے ہیں؛
"ایاک والاسراف فانہ من فعل الشیطنه"
اسراف کرنے سے دور رہو کیونکہ اسراف شیطان کے کاموں میں سے ہے۔
(بحارالانوار 292/50)
■ مسلمہ بن عبدالملک
مسلمہ بن عبدالملک فوجی افسروں میں سے ایک تھا وہ روم جنگ کے دوران لشکر کا کمانڈر تھا۔ جب عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بنا تو اس نے اسے شام بلایا اور اسے اجازت دی کہ وہ جب خلیفہ سے ملنا چاہے، ملاقات کر سکتا ہے۔
ان دنوں خلیفہ کو خبر ملی کہ وہ اپنی زندگی میں بہت لاپرواہ اور فضول خرچ ہوگیا ہے۔ اور کھانے کے معاملے میں اسراف کرتا ہے۔ اپنے لئے طرح طرح کے کھانے بنواتا اور کھاتا ہے۔ دسترخوان پر ہر روز ہزار درھم خرچ کرتا ہے۔
عمر بن عبدالعزیز کو یہ سن کر بہت غصہ آیا۔ اس نے ارادہ کیا کہ مسلمہ کو بلا کر پوچھے اور اس نامعقول طرزعمل سے روکے۔ ایک دفعہ رات کے کھانے کی دعوت کی تاکہ اس کے ساتھ ملکر کھانا کھائے۔ اس سلسلے میں اس نے حکم دیا کہ پہلے مختلف قسم کے کھانے تیار کیے جائیں۔ اور اس کے علاوہ دال و پیاز کے ساتھ ایک سالن تیار کیا جائے۔ جب دسترخوان لگ جائے تو پہلے دال لیکر آئیں۔ اور پھر کچھ وقفے کیساتھ باقی کھانے بھی لے آئیں۔
دعوت کی رات آگئی۔ اس خاص محفل میں صرف خلیفہ اور مسلمہ تھا۔ خلیفہ روم سے جنگ کا احوال دریافت کر رہا تھا اور مسلمہ تفصیلات بتا رہا تھا۔ رات کے کھانے کا وقت گزر گیا اور دو گھنٹے بعد خلیفہ نے دسترخوان لگانے کا حکم دیا۔ دسترخوان لگایا گیا تو پہلے دال کا سالن لایا گیا۔ مسلمہ کو بہت بھوک لگ رہی تھی لہذا اس نے خوب پیٹ بھر کر کھایا جب وہ دال کھا چکا تو باقی کھانے لائے گئے۔ لیکن اب وہ کچھ نہیں کھا سکتا تھا۔
خلیفہ نے کہا؛ تم کھا کیوں نہیں رہے؟ اس نے جواب میں کہا کہ سیر ہوچکا ہوں۔
خلیفہ نے کہا؛ سبحان اللہ تم تو ایک درھم کی دال سے ہی سیر ہو گئے لیکن اپنے دسترخوان کو رنگین کرنے کے لئے روزانہ ہزار درھم خرچ کرتے ہو!
خدا سے ڈرو۔ اسراف مت کرو اور یہ جو فضول پیسہ اپنی خودنمائی کے لئے خرچ کرتے ہو۔ غریب غرباء میں خرچ کیا کرو کہ اللہ کی رضایت اسی میں ہے۔
( نصیحت آموز کہانیاں، ص83)
■ کونسا اسراف ہے؟
ایک دن امام علی نقی ہادی علیہ السلام عباسی خلیفہ متوکل کے دربار میں آئے اور اس کے ساتھ والی نشست پر تشریف فرما ہوئے۔ متوکل نے امامؑ کے عمامہ کی طرف دیکھا جو نہایت ہی نفیس کپڑے کا تھا۔ اعتراض کی نیت سے بولا؛ یہ جو دستار آپ نے سر پر باندھ رکھی ہے کتنے کی خریدی ہے؟
امامؑ نے فرمایا؛ جو شخص یہ میرے لئے لایا ہے، اس نے پانچ سو چاندی کے درھم کے بدلے اسے خریدا ہے۔
متوکل نے کہا؛ آپ نے اسراف کیا ہے کہ پانچ سو درھم کا عمامہ سر پر رکھا ہوا ہے۔
امامؑ نے فرمایا؛ میں نے سنا ہے تم نے ایک خوبصورت کنیز ہزار طلائی دینار کے بدلے میں خریدی ہے۔؟
کہا؛ ہاں ٹھیک ہے۔
امامؑ نے فرمایا؛ میں نے اپنے بدن کے شریف ترین حصہ کے لئے پانچ سو چاندی کے درھم کی رقم ادا کی اور تم نے اپنے بدن کے کمترین حصہ کیلئے ہزار طلائی دینار خرچ کئے ہیں! سچ میں اسراف کونسا ہے؟
متوکل شرمندہ ہوکر بولا؛ انصاف تو یہ ہے کہ ہمیں بنی ہاشم پر کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔
پھر اس نے حکم دیا کہ اس جواب کے بدلے میں امامؑ کے خدمتکاروں کو ایک لاکھ درھم انعام کے طور پر پیش کئے جائیں۔
(لطائف طوائف، ص 57)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚 نقل از سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص 37، 38۔
http://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
⭕ اسراف مت کرو ⭕
ایک شخص امام صادق علیہ السلام کے پاس آیا اور عرض کی؛ کچھ رقم مجھے قرض کے طور پر عنایت فرما دیں، جب میں واپس کرسکا تو آپ کو لوٹا دونگا۔
امامؑ نے فرمایا؛ کیا تمھارے پاس کھیتی باڑی کے لئے زمین ہے، جس کی فصل حاصل ہونے پر تم میرا قرض لوٹا سکو؟
اس نے عرض کی؛ خدا کی قسم نہیں ہے۔
امامؑ نے فرمایا، کیا تمھارا کوئی کاروبار یا تجارت ہے جس میں فروخت کے بعد تم میرا قرض ادا کر سکو؟
عرض کی؛ خدا کی قسم، ایسا نہیں ہے۔
امامؑ نے فرمایا؛ تو پھر کیا تمھارے پاس کوئی ملکیت ہے جسے فروخت کر کے تم میرا قرض ادا کر سکو؟
اس نے عرض کی؛ خدا کی قسم، ایسا بھی نہیں ہے۔
امامؑ نے فرمایا؛ پھر تم ان افراد میں سے ہو کہ خداوند نے جن کا حق ہمارے مال میں رکھا ہے۔
امامؑ نے حکم دیا تو ایک تھیلا لایا گیا جسمیں درھم و دینار تھے۔ امامؑ نے اس میں ہاتھ ڈالا اور ایک مشت بھر کر اس شخص کو عطا کی۔ اور فرمایا؛ خدا سے ڈرو اور اسراف مت کرو۔ اپنے اوپر سختی نہ کرو لیکن میانہ روی اختیار کرو۔ حد سے تجاوز اور لاپرواہی، اسراف کے زمرے میں آتی ہے۔ خداوند فرماتا ہے کہ حد سے تجاوز نہ کرو۔
(مثالی معارف 190/1۔ تفسير عیاشی)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚 نقل از سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص 38۔
http://t.me/islamwitheman/1897
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک شخص امام صادق علیہ السلام کے پاس آیا اور عرض کی؛ کچھ رقم مجھے قرض کے طور پر عنایت فرما دیں، جب میں واپس کرسکا تو آپ کو لوٹا دونگا۔
امامؑ نے فرمایا؛ کیا تمھارے پاس کھیتی باڑی کے لئے زمین ہے، جس کی فصل حاصل ہونے پر تم میرا قرض لوٹا سکو؟
اس نے عرض کی؛ خدا کی قسم نہیں ہے۔
امامؑ نے فرمایا، کیا تمھارا کوئی کاروبار یا تجارت ہے جس میں فروخت کے بعد تم میرا قرض ادا کر سکو؟
عرض کی؛ خدا کی قسم، ایسا نہیں ہے۔
امامؑ نے فرمایا؛ تو پھر کیا تمھارے پاس کوئی ملکیت ہے جسے فروخت کر کے تم میرا قرض ادا کر سکو؟
اس نے عرض کی؛ خدا کی قسم، ایسا بھی نہیں ہے۔
امامؑ نے فرمایا؛ پھر تم ان افراد میں سے ہو کہ خداوند نے جن کا حق ہمارے مال میں رکھا ہے۔
امامؑ نے حکم دیا تو ایک تھیلا لایا گیا جسمیں درھم و دینار تھے۔ امامؑ نے اس میں ہاتھ ڈالا اور ایک مشت بھر کر اس شخص کو عطا کی۔ اور فرمایا؛ خدا سے ڈرو اور اسراف مت کرو۔ اپنے اوپر سختی نہ کرو لیکن میانہ روی اختیار کرو۔ حد سے تجاوز اور لاپرواہی، اسراف کے زمرے میں آتی ہے۔ خداوند فرماتا ہے کہ حد سے تجاوز نہ کرو۔
(مثالی معارف 190/1۔ تفسير عیاشی)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚 نقل از سو موضوع پانچ سو داستان، ج2، ص 38۔
http://t.me/islamwitheman/1897
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌼 اسراف 🌼
● خداوند تعالٰی فرماتا ہے؛
"کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلا تُسْرِفُوْا اِنَّهُ لا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ¤"
(الله کی نعمتیں) کھائیں اور پئیں لیکن اسراف نہ کریں کیونکہ خدا تعالٰی اسراف کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا۔
(سورہ اعراف: 31)
● امام حسن عسکریؑ…
● خداوند تعالٰی فرماتا ہے؛
"کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلا تُسْرِفُوْا اِنَّهُ لا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ¤"
(الله کی نعمتیں) کھائیں اور پئیں لیکن اسراف نہ کریں کیونکہ خدا تعالٰی اسراف کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا۔
(سورہ اعراف: 31)
● امام حسن عسکریؑ…
🔶 داستان؛ دین زندہ ہو گیا 🔶
حضرت علی علیہ السلام کا ایک جگہ سے گزر ہوا۔ آپ کو کچھ بچے کھیلتے ہوۓ دکھائی دیے۔ ان میں سے ایک بچہ الگ کھڑا ہوا ہے جو کہ انتہائی غمگین نظر آرہا تھا۔
آپ اس کے پاس گئے اور بچہ سے اس کا نام پوچھا اس نے جواب دیا کہ میرا نام ”مات الدین“ یعنی دین مر گیا ہے۔
امام علیہ السلام اس راز کو معلوم کرنا چاہتے تھے فرمایا اس بچہ کا باپ کون ہے آپ کو بتایا گیا کہ اس بچے کا باپ وفات پاچکا ہے البتہ اس کی ماں زندہ ہے۔
امام علیہ السلام نے بچہ کی ماں کو بلایا اور اس سے اس کے نام کی وجہ تسميہ دریافت کی۔ اس بچہ کی ماں نے جواب دیا یہ بچہ میرے شکم میں تھا کہ اس وقت اس کا باپ سفر پر چلا گیا۔ کچھ عرصے بعد اس کے ہمسفر واپس آۓ تو مجھے کہا کہ تمہارا شوہر سفر میں بیمار ہوا اور اس بیماری کی وجہ سے موت ہوگئی۔ اس نے ہمیں یہ وصیت کی تھی کہ میرے گھر جاکر میری بیوی سے کہنا کہ اگر میرا بچہ پیدا ہو جاۓ تو اس کا نام ”مات الدین“ رکھنا۔
امام علیہ السلام بڑے متعجب ہوۓ اور آپ نے اس راز کی جستجو شروع کی اور اعلان کیا کہ لوگوں کو مسجد میں جمع کیا جاۓ۔
لوگ مسجد میں آگئے اس کے بعد آپ نے اس لڑکے کے باپ کے ہمسفر افراد جو کہ چار تھے ان کو بلایا۔ انہیں علیحدہ علیحدہ اپنے پاس طلب کیا اور باقی لوگوں سے کہا کہ جب میں تکبیر کی صدا بلند کروں تو تم بھی تکبیر کی صدا بلند کرنا۔
چنانچہ آپ نے پہلے شخص کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ تم نے اس شخص کو قتل کیوں کیا تھا؟ جس وقت آپ نے پے در پے اس پر سوالات کئے تو اس نے کہا حضور میرا جرم صرف یہی ہے میں رسی لایا تھا امام علیہ السلام نے تکبیر کی آواز بلند کی۔ لوگوں نے بھی تکبیر کی آواز بلند کی اس کے باقی ساتھی سمجھ گئے کہ تکبیر کی آواز اس لئے بلند ہوئی ہے کہ ہمارے ساتھی نے سب کچھ بتا دیا ہے۔
آپ نے دوسرے شخص کو بلایا اس نے کہا میں نے اور کوئی جرم نہیں کیا میں نے اس شخص کی گردن میں رسی باندھی تھی پھر امام نے تیسرے شخص کو بلایا اس نے اعتراف کیا کہ میں تو صرف چاقو لایا تھا اور آخری شخص نے امام علیہ السلام کے سامنے ساری حقیقت اگل کر رکھ دی۔
امام علیہ السلام نے ان سے ان کے ساتھی کا تمام مال واپس لیا۔ اور ان قاتلوں کو سخت سے سخت سزائیں دیں وہ مال لے کر اس بچہ کی ماں کے حوالے کیا اور فرمایا: آج سے اس بچے کا نام ”مات الدین“ کے بجائے ”عاش الدین“ ہے یعنی دین زندہ ہوگیا۔
📚 داستانھا وپندھا، ج١٠، ص١٦٨۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
حضرت علی علیہ السلام کا ایک جگہ سے گزر ہوا۔ آپ کو کچھ بچے کھیلتے ہوۓ دکھائی دیے۔ ان میں سے ایک بچہ الگ کھڑا ہوا ہے جو کہ انتہائی غمگین نظر آرہا تھا۔
آپ اس کے پاس گئے اور بچہ سے اس کا نام پوچھا اس نے جواب دیا کہ میرا نام ”مات الدین“ یعنی دین مر گیا ہے۔
امام علیہ السلام اس راز کو معلوم کرنا چاہتے تھے فرمایا اس بچہ کا باپ کون ہے آپ کو بتایا گیا کہ اس بچے کا باپ وفات پاچکا ہے البتہ اس کی ماں زندہ ہے۔
امام علیہ السلام نے بچہ کی ماں کو بلایا اور اس سے اس کے نام کی وجہ تسميہ دریافت کی۔ اس بچہ کی ماں نے جواب دیا یہ بچہ میرے شکم میں تھا کہ اس وقت اس کا باپ سفر پر چلا گیا۔ کچھ عرصے بعد اس کے ہمسفر واپس آۓ تو مجھے کہا کہ تمہارا شوہر سفر میں بیمار ہوا اور اس بیماری کی وجہ سے موت ہوگئی۔ اس نے ہمیں یہ وصیت کی تھی کہ میرے گھر جاکر میری بیوی سے کہنا کہ اگر میرا بچہ پیدا ہو جاۓ تو اس کا نام ”مات الدین“ رکھنا۔
امام علیہ السلام بڑے متعجب ہوۓ اور آپ نے اس راز کی جستجو شروع کی اور اعلان کیا کہ لوگوں کو مسجد میں جمع کیا جاۓ۔
لوگ مسجد میں آگئے اس کے بعد آپ نے اس لڑکے کے باپ کے ہمسفر افراد جو کہ چار تھے ان کو بلایا۔ انہیں علیحدہ علیحدہ اپنے پاس طلب کیا اور باقی لوگوں سے کہا کہ جب میں تکبیر کی صدا بلند کروں تو تم بھی تکبیر کی صدا بلند کرنا۔
چنانچہ آپ نے پہلے شخص کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ تم نے اس شخص کو قتل کیوں کیا تھا؟ جس وقت آپ نے پے در پے اس پر سوالات کئے تو اس نے کہا حضور میرا جرم صرف یہی ہے میں رسی لایا تھا امام علیہ السلام نے تکبیر کی آواز بلند کی۔ لوگوں نے بھی تکبیر کی آواز بلند کی اس کے باقی ساتھی سمجھ گئے کہ تکبیر کی آواز اس لئے بلند ہوئی ہے کہ ہمارے ساتھی نے سب کچھ بتا دیا ہے۔
آپ نے دوسرے شخص کو بلایا اس نے کہا میں نے اور کوئی جرم نہیں کیا میں نے اس شخص کی گردن میں رسی باندھی تھی پھر امام نے تیسرے شخص کو بلایا اس نے اعتراف کیا کہ میں تو صرف چاقو لایا تھا اور آخری شخص نے امام علیہ السلام کے سامنے ساری حقیقت اگل کر رکھ دی۔
امام علیہ السلام نے ان سے ان کے ساتھی کا تمام مال واپس لیا۔ اور ان قاتلوں کو سخت سے سخت سزائیں دیں وہ مال لے کر اس بچہ کی ماں کے حوالے کیا اور فرمایا: آج سے اس بچے کا نام ”مات الدین“ کے بجائے ”عاش الدین“ ہے یعنی دین زندہ ہوگیا۔
📚 داستانھا وپندھا، ج١٠، ص١٦٨۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
⭕ نالائق دوستوں میں اسراف ⭕
عباسی خلیفہ مامون کے ایک خدمتکار نے ایک رات اسے بتایا کہ میرے ہمسائے میں ایک دیندار شخص رہتا تھا۔ وہ دوسروں کے حقوق کا بہت خیال رکھتا تھا۔ اپنی آخری عمر میں اپنے بیٹے کو، جو بہت ناتجربہ کار تھا، وصیت کر کے کہتا ہے کہ؛
بیٹا! خدا نے مجھے بہت نعمتوں اور مال و دولت سے نوازا ہے۔ ان سب کے لئے میں نے بہت تکالیف اٹھائی ہیں۔ لیکن تم تک یہ سب کچھ بہت آسانی سے پہنچ جائیگا۔ اس کی قدر کرو اور اس میں اسراف نہ کرو۔ اپنے ناخالص اور جھوٹے دوستوں سے دور رہو۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ نالائق لوگ تیرے گرد جمع ہو جائیں گے اور تیری مال و دولت ختم ہو جائے گی۔ مگر اپنے گھر کو کبھی نہ بیچنا۔
جب تمھارے پاس پیسہ ختم ہو جائے گا تو تمھارے دوست تمھارے دشمن ہو جائیں گے۔ اس وقت تم چاہو گے کہ رسی کے ساتھ لٹک جاؤ اور خودکشی کر لو۔ میں نے ابھی سے ایک رسی گھر میں لٹکا دی ہے۔ جب ایسی نوبت آ جائے تو اس رسی سے لٹک کر اپنے گھر کے اندر ہی خودکشی کرنا۔
باپ کے مرنے کے بعد بیٹے نے ویسا ہی کیا۔ مال و دولت کو بے مقصد خرچ کیا اور اسراف کر کے سب ختم کر دیا۔ نااہل اور نالائق دوستوں نے اس کی دولت کو کھایا اور اس کی دولت ختم ہونے کے بعد اس کے دشمن ہوگئے۔ اس نے اپنے باپ کی وصیت کے مطابق گھر کو نہ بیچا اور ایک دن فیصلہ کیا کہ خودکشی کر لے۔ اس رسی کے پاس آیا جو باپ نے چھت کیساتھ باندھ رکھی تھی۔ رسی کو گلے میں ڈالا تاکہ خودکشی کر لے۔ وزن کی وجہ سے چھت کا شہتیر ٹوٹ گیا اور وہاں سے دس ہزار دینار زمین پر گرے۔
لڑکے نے جب یہ دیکھا تو بہت خوش ہوا اور باپ کی وصیت کا مطلب سمجھ گیا۔ پھر اس نے اسراف اور بے مقصد اخراجات سے ہاتھ کھینچ لیا اور میانہ روی کے ساتھ زندگی گزارنا شروع کر دی اور خواب غفلت سے بیدار ہو گیا۔
(جوامع الحکمت، ص 310)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚 نقل از سو موضوع پانچ سو داستان، ج 2، ص 39۔
http://t.me/islamwitheman/1898
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
عباسی خلیفہ مامون کے ایک خدمتکار نے ایک رات اسے بتایا کہ میرے ہمسائے میں ایک دیندار شخص رہتا تھا۔ وہ دوسروں کے حقوق کا بہت خیال رکھتا تھا۔ اپنی آخری عمر میں اپنے بیٹے کو، جو بہت ناتجربہ کار تھا، وصیت کر کے کہتا ہے کہ؛
بیٹا! خدا نے مجھے بہت نعمتوں اور مال و دولت سے نوازا ہے۔ ان سب کے لئے میں نے بہت تکالیف اٹھائی ہیں۔ لیکن تم تک یہ سب کچھ بہت آسانی سے پہنچ جائیگا۔ اس کی قدر کرو اور اس میں اسراف نہ کرو۔ اپنے ناخالص اور جھوٹے دوستوں سے دور رہو۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ نالائق لوگ تیرے گرد جمع ہو جائیں گے اور تیری مال و دولت ختم ہو جائے گی۔ مگر اپنے گھر کو کبھی نہ بیچنا۔
جب تمھارے پاس پیسہ ختم ہو جائے گا تو تمھارے دوست تمھارے دشمن ہو جائیں گے۔ اس وقت تم چاہو گے کہ رسی کے ساتھ لٹک جاؤ اور خودکشی کر لو۔ میں نے ابھی سے ایک رسی گھر میں لٹکا دی ہے۔ جب ایسی نوبت آ جائے تو اس رسی سے لٹک کر اپنے گھر کے اندر ہی خودکشی کرنا۔
باپ کے مرنے کے بعد بیٹے نے ویسا ہی کیا۔ مال و دولت کو بے مقصد خرچ کیا اور اسراف کر کے سب ختم کر دیا۔ نااہل اور نالائق دوستوں نے اس کی دولت کو کھایا اور اس کی دولت ختم ہونے کے بعد اس کے دشمن ہوگئے۔ اس نے اپنے باپ کی وصیت کے مطابق گھر کو نہ بیچا اور ایک دن فیصلہ کیا کہ خودکشی کر لے۔ اس رسی کے پاس آیا جو باپ نے چھت کیساتھ باندھ رکھی تھی۔ رسی کو گلے میں ڈالا تاکہ خودکشی کر لے۔ وزن کی وجہ سے چھت کا شہتیر ٹوٹ گیا اور وہاں سے دس ہزار دینار زمین پر گرے۔
لڑکے نے جب یہ دیکھا تو بہت خوش ہوا اور باپ کی وصیت کا مطلب سمجھ گیا۔ پھر اس نے اسراف اور بے مقصد اخراجات سے ہاتھ کھینچ لیا اور میانہ روی کے ساتھ زندگی گزارنا شروع کر دی اور خواب غفلت سے بیدار ہو گیا۔
(جوامع الحکمت، ص 310)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚 نقل از سو موضوع پانچ سو داستان، ج 2، ص 39۔
http://t.me/islamwitheman/1898
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⭕ اسراف مت کرو ⭕
ایک شخص امام صادق علیہ السلام کے پاس آیا اور عرض کی؛ کچھ رقم مجھے قرض کے طور پر عنایت فرما دیں، جب میں واپس کرسکا تو آپ کو لوٹا دونگا۔
امامؑ نے فرمایا؛ کیا تمھارے پاس کھیتی باڑی کے لئے زمین ہے، جس کی فصل حاصل ہونے پر تم میرا قرض لوٹا سکو؟…
ایک شخص امام صادق علیہ السلام کے پاس آیا اور عرض کی؛ کچھ رقم مجھے قرض کے طور پر عنایت فرما دیں، جب میں واپس کرسکا تو آپ کو لوٹا دونگا۔
امامؑ نے فرمایا؛ کیا تمھارے پاس کھیتی باڑی کے لئے زمین ہے، جس کی فصل حاصل ہونے پر تم میرا قرض لوٹا سکو؟…
🌺 ماہ شعبان کے مشترکہ اعمال 🌺
اس عظیم و شریف مہینے کے أعمال دو قسم کے ہیں ایک اعمال مشترکہ اور دوسرے اعمال مختصہ۔ یہاں اعمال مشترکہ بیان کئے جاتے ہیں۔
●استغفار
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہ کا بہترین عمل استغفار ہے اور اس مہینے میں ستر مرتبہ استغفار کرنا گویا دوسرے مہینوں میں ستر ہزار مرتبہ استغفار کرنے کے برابر ہے۔
▪ہر روز ستر مرتبہ کہے۔۔
اَسْتغْفِرُ ﷲ وَ اَسْئَلُہُ التَّوْبَۃَ۔
بخشش چاہتا ہوں ﷲ سے اور توبہ کی توفیق مانگتا ہوں۔
▪ہر روز ستر مرتبہ کہے۔۔
اَسْتغْفِرُ ﷲ الَّذِیْ لَا اِلَہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ۔
بخشش کا طالب ہوں ﷲ سے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بخشنے والا مہربان ہے زندہ نگہبان ہے اور میں اسکے حضور توبہ کرتا ہوں زندہ و پائندہ بخشنے والا مہربان۔
بعض روایات میں الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ کے الفاظ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ سے قبل ذکر ہوئے ہیں۔ پس جیسے بھی عمل کرے مناسب ہے۔
● صدقہ
صدقہ دے اگرچہ وہ نصف خرما ہی کیوں نہ ہو، اس سے خدا اسکے جسم پر جہنم کی آگ کو حرام کردے گا۔
امام جعفر صادقؑ سے ماہ رجب کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا؛
تم ماہ شعبان کے روزے سے کیوں غافل ہو؟
راوی نے عرض کی:
فرزند رسولؐ! شعبان کے ایک روزے کا ثواب کس قدر ہے؟ فرمایا قسم بخدا کہ اس کا اجر و ثواب بہشت ہے۔
اس نے عرض کی:
اے فرزند رسولؐ! اس ماہ کا بہترین عمل کیا ہے؟
فرمایا:
صدقہ و استغفار، جو شخص ماہ شعبان میں صدقہ دے۔ پس خدا اس صدقے میں اس طرح اضافہ کرتا رہے گا، جیسے تم لوگ اونٹنی کے بچے کو پال کر عظیم الجثہ اونٹ بنا دیتے ہو۔ چنانچہ یہ صدقہ قیامت کے روز احد کے پہاڑ کی مثل بڑھ چکا ہوگا۔
● ذِکر
پورے ماہ میں ہزار مرتبہ کہے۔۔
لاَ اِلٰہَ اِلَّا ﷲ وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیَّاہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکِیْنَ۔
ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہم عبادت نہیں کرتے مگر اسی کی ہم اس کے دین سے خلوص رکھتے ہیں اگرچہ مشرکوں پر ناگوار گزرے۔
اس ذکر کا بہت زیادہ ثواب ہے، جس میں ایک جز یہ ہے کہ جو شخص مقررہ تعداد میں یہ ذکر کرے گا اس کے نامہ اعمال میں ایک ہزار سال کی عبادت کا ثواب لکھ دیا جائے گا۔
● نماز
شعبان کی ہر جمعرات کو دو رکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید پڑھے۔
اور نماز کے بعد سو مرتبہ درود شریف پڑھے تاکہ خدا دین و دنیا میں اس کی ہر نیک حاجت پوری فرمائے۔
●روزہ
حضورؐ اس مہینے میں روزے رکھتے اور اس مہینے کے روزوں کو ماہ رمضان کے روزوں سے متصل فرماتے تھے۔ اس بارے میں آنحضرت کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور جو شخص اس مہینہ میں ایک روزہ رکھے تو جنت اس کیلئے واجب ہو جاتی ہے۔
روایت میں آیا ہے کہ شعبان کی ہر جمعرات کو آسمان سجایا جاتا ہے تو ملائکہ عرض کرتے ہیں، خدایا آج کا روزہ رکھنے والوں کو بخش دے اور ان کی دعائیں قبول کر لے۔
ایک حدیث میں مذکور ہے کہ اگر کوئی شخص ماہ شعبان میں سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھے تو خدا وند کریم دنیا و آخرت میں اس کی بیس بیس حاجات پوری فرمائے گا۔
● درود شریف
ماہ شعبان میں درود شریف بکثرت پڑھے۔
●امام زین العابدین سے مروی صلوات
شعبان میں ہرروز وقت زوال اور پندرہ شعبان کی رات کو امام زین العابدین سے مروی صلوات پڑھے۔ (اعمال کی کتب میں موجود ہے)
●امیرالمؤمنین اور انکے فرزندان کی مناجات
یہ مناجات بھی اعمال کی کتب میں موجود ہیں۔
📚مفاتيح الجنان
https://t.me/islamwitheman/697
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
اس عظیم و شریف مہینے کے أعمال دو قسم کے ہیں ایک اعمال مشترکہ اور دوسرے اعمال مختصہ۔ یہاں اعمال مشترکہ بیان کئے جاتے ہیں۔
●استغفار
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہ کا بہترین عمل استغفار ہے اور اس مہینے میں ستر مرتبہ استغفار کرنا گویا دوسرے مہینوں میں ستر ہزار مرتبہ استغفار کرنے کے برابر ہے۔
▪ہر روز ستر مرتبہ کہے۔۔
اَسْتغْفِرُ ﷲ وَ اَسْئَلُہُ التَّوْبَۃَ۔
بخشش چاہتا ہوں ﷲ سے اور توبہ کی توفیق مانگتا ہوں۔
▪ہر روز ستر مرتبہ کہے۔۔
اَسْتغْفِرُ ﷲ الَّذِیْ لَا اِلَہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ۔
بخشش کا طالب ہوں ﷲ سے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بخشنے والا مہربان ہے زندہ نگہبان ہے اور میں اسکے حضور توبہ کرتا ہوں زندہ و پائندہ بخشنے والا مہربان۔
بعض روایات میں الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ کے الفاظ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ سے قبل ذکر ہوئے ہیں۔ پس جیسے بھی عمل کرے مناسب ہے۔
● صدقہ
صدقہ دے اگرچہ وہ نصف خرما ہی کیوں نہ ہو، اس سے خدا اسکے جسم پر جہنم کی آگ کو حرام کردے گا۔
امام جعفر صادقؑ سے ماہ رجب کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا؛
تم ماہ شعبان کے روزے سے کیوں غافل ہو؟
راوی نے عرض کی:
فرزند رسولؐ! شعبان کے ایک روزے کا ثواب کس قدر ہے؟ فرمایا قسم بخدا کہ اس کا اجر و ثواب بہشت ہے۔
اس نے عرض کی:
اے فرزند رسولؐ! اس ماہ کا بہترین عمل کیا ہے؟
فرمایا:
صدقہ و استغفار، جو شخص ماہ شعبان میں صدقہ دے۔ پس خدا اس صدقے میں اس طرح اضافہ کرتا رہے گا، جیسے تم لوگ اونٹنی کے بچے کو پال کر عظیم الجثہ اونٹ بنا دیتے ہو۔ چنانچہ یہ صدقہ قیامت کے روز احد کے پہاڑ کی مثل بڑھ چکا ہوگا۔
● ذِکر
پورے ماہ میں ہزار مرتبہ کہے۔۔
لاَ اِلٰہَ اِلَّا ﷲ وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیَّاہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکِیْنَ۔
ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہم عبادت نہیں کرتے مگر اسی کی ہم اس کے دین سے خلوص رکھتے ہیں اگرچہ مشرکوں پر ناگوار گزرے۔
اس ذکر کا بہت زیادہ ثواب ہے، جس میں ایک جز یہ ہے کہ جو شخص مقررہ تعداد میں یہ ذکر کرے گا اس کے نامہ اعمال میں ایک ہزار سال کی عبادت کا ثواب لکھ دیا جائے گا۔
● نماز
شعبان کی ہر جمعرات کو دو رکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید پڑھے۔
اور نماز کے بعد سو مرتبہ درود شریف پڑھے تاکہ خدا دین و دنیا میں اس کی ہر نیک حاجت پوری فرمائے۔
●روزہ
حضورؐ اس مہینے میں روزے رکھتے اور اس مہینے کے روزوں کو ماہ رمضان کے روزوں سے متصل فرماتے تھے۔ اس بارے میں آنحضرت کا فرمان ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے اور جو شخص اس مہینہ میں ایک روزہ رکھے تو جنت اس کیلئے واجب ہو جاتی ہے۔
روایت میں آیا ہے کہ شعبان کی ہر جمعرات کو آسمان سجایا جاتا ہے تو ملائکہ عرض کرتے ہیں، خدایا آج کا روزہ رکھنے والوں کو بخش دے اور ان کی دعائیں قبول کر لے۔
ایک حدیث میں مذکور ہے کہ اگر کوئی شخص ماہ شعبان میں سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھے تو خدا وند کریم دنیا و آخرت میں اس کی بیس بیس حاجات پوری فرمائے گا۔
● درود شریف
ماہ شعبان میں درود شریف بکثرت پڑھے۔
●امام زین العابدین سے مروی صلوات
شعبان میں ہرروز وقت زوال اور پندرہ شعبان کی رات کو امام زین العابدین سے مروی صلوات پڑھے۔ (اعمال کی کتب میں موجود ہے)
●امیرالمؤمنین اور انکے فرزندان کی مناجات
یہ مناجات بھی اعمال کی کتب میں موجود ہیں۔
📚مفاتيح الجنان
https://t.me/islamwitheman/697
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🌹 عالمہ غیر معلمہ 🌹
ایک دن حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام مہمان کے ساتھ گھر میں وارد ہوئے اور حضرت فاطمہ زھراء سے فرمایا:
گھر میں کچھ مہمان کے لئے ہے؟ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نے جواب میں فرمایا: ایک روٹی ہے ، جو اپنی بچی زینب (س) کے لئے رکھی ہے ، حضرت زینب سلام اللہ علیھا بستر پر تھی لیکن بیدار تھیں، جونہی یہ الفاظ سنے تو فرمایا:
اماں جان: یہ روٹی مہمان کو کھلائیں، اس وقت حضرت زینب سلام اللہ علیھا کا سِن مبارک چار سال تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی سخاوت ان کے بچپن سے ہی معلوم ہے، اور انہوں نے حتی عاشور کے دن اپنے بیٹوں کو بھی فدا کر دیا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے دو بیٹے تھے جن کے نام عون اور محمد تھے جو میدان کربلا میں شہید ہوئے حضرت امام حسین (ع) ان کے لاشے خیمہ میں لائے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیھا خیمہ سے باہر نہیں آئیں لیکن جب حضرت علی اکبر (ع) کی لاش لائی گئی تو خیمہ سے باہر نالہ و فریاد اور بین کیے۔
📗 زندگانى حضرت زينب عليها السلام، ص 26۔
امام سجاد عليه السّلام فرماتے ہیں:
میری پھوپھی جان حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے بہت ساری مصیبت جھیلیں اور شام کے راستوں میں بہت سے مصائب دیکھے لیکن ان کی نماز تہجد نہیں چھوٹی۔
📗 وفيات الأئمه، ص 441۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
ایک دن حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام مہمان کے ساتھ گھر میں وارد ہوئے اور حضرت فاطمہ زھراء سے فرمایا:
گھر میں کچھ مہمان کے لئے ہے؟ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نے جواب میں فرمایا: ایک روٹی ہے ، جو اپنی بچی زینب (س) کے لئے رکھی ہے ، حضرت زینب سلام اللہ علیھا بستر پر تھی لیکن بیدار تھیں، جونہی یہ الفاظ سنے تو فرمایا:
اماں جان: یہ روٹی مہمان کو کھلائیں، اس وقت حضرت زینب سلام اللہ علیھا کا سِن مبارک چار سال تھا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی سخاوت ان کے بچپن سے ہی معلوم ہے، اور انہوں نے حتی عاشور کے دن اپنے بیٹوں کو بھی فدا کر دیا۔
حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے دو بیٹے تھے جن کے نام عون اور محمد تھے جو میدان کربلا میں شہید ہوئے حضرت امام حسین (ع) ان کے لاشے خیمہ میں لائے۔
حضرت زینب سلام اللہ علیھا خیمہ سے باہر نہیں آئیں لیکن جب حضرت علی اکبر (ع) کی لاش لائی گئی تو خیمہ سے باہر نالہ و فریاد اور بین کیے۔
📗 زندگانى حضرت زينب عليها السلام، ص 26۔
امام سجاد عليه السّلام فرماتے ہیں:
میری پھوپھی جان حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے بہت ساری مصیبت جھیلیں اور شام کے راستوں میں بہت سے مصائب دیکھے لیکن ان کی نماز تہجد نہیں چھوٹی۔
📗 وفيات الأئمه، ص 441۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 موت کی قسمیں 🔷
موت ہر کسی کو آنے والی ہے اس دنیا سے سب کو جانا ہے۔ کس کو کس طریقہ سے کب موت آنے والی ہے یہ کوئی بھی نہیں جانتا، ہر کسی کے ذھن میں یہی سوال ہے کہ مرنے کے بعد وہ جنت میں جائیگا یا جھنم میں، ایسے ہی کچھ سوالات کچھ لوگوں کے ذھنوں میں تھے جن کا جواب حاصل کرنے کے لئے بعض لوگ حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور انھوں نے حضرت علی علیہ السلام سے موت کے بارے میں جو سوالات ان کے ذھنوں میں تھے وہ حضرت علی علیہ السلام کے سامنے پیش کئے۔
امام علیہ السلام نے ان کے سوالات کو سننے کے بعد ان لوگوں سے فرمایا کہ مرنے کے بعد لوگوں کی تین قسمیں ہونگی:
۱۔ ہمیشہ نعمتوں میں رہینگے،
۲۔ ہمیشہ عذاب میں رہینگے،
۳۔ کبھی غم میں اور کبھی خوف میں، اس کا حکم معین نہیں ہے۔
پھر حضرت علی علیہ السلام نے خود ہی ان تین قسموں کی اس طرح وضاحت فرمائی:
پہلی موت مخصوص ہے اہلبیت (علیہم السلام) کے دوستوں اور چاہنے والوں سے، جو ان کے حکم کو پوری طریقہ سے بجا لاتے ہیں۔
دوسری موت مخصوص ہے اہلبیت (علیہم السلام) کے دشمنوں اور ان کی مخالفت کرنے والوں کے لئے، موت ان کے جھنم میں جانے کا سبب بنتی ہے۔
تیسری موت کے بارے میں امام علیہ السلام نے فرمایا: ایسے لوگوں کی موت جنھیں نہیں معلوم کہ ان کے حالات کیسے ہیں؟ ایسے مؤمنین جن لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا اب انہیں نہیں معلوم کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، البتہ ان لوگوں کے بارے میں امام علیہ السلام نے فرمایا کہ: ان لوگوں کو عذاب کے بعد جنت میں داخل کر دیا جائیگا البتہ امام علیہ السلام نے ان لوگوں کو ۳۰۰ سال کے عذاب کے بارے میں ڈرایا ہے۔[۱]
🔹 قرآن مجید میں ان تین گروہوں کے بارے میں اس طرح آیات نازل ہوئی ہیں:
➊ پہلے گروہ کے بارے میں قرآن نے اس طرح فرمایا ہے: "كَذَلِكَ يَجْزِي اللَّهُ الْمُتَّقِينَ الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ۔" [سورۂ نحل، آیت:۳۱،۳۲]
ترجمہ:
اللہ اسی طرح ان صاحبان تقوٰی کو جزا دیتا ہےجنہیں ملائکہ اس عالم میں اٹھاتے ہیں کہ وہ پاک و پاکیزہ ہوتے ہیں اور ان سے ملائکہ کہتے ہیں کہ تم پر سلام ہو اب تم اپنے نیک اعمال کی بنا پر جنّت میں داخل ہوجاؤ۔
➋ دوسرے گروہ کے بارے میں قرآن نے اس طرح فرمایا ہے: "وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ۔" [سورۂ انفال، آیت:۵۰]
ترجمہ:
کاش تم دیکھتے کہ جب فرشتے ان کی جان نکال رہے تھے اور ان کے منہ اور پیٹھ پر مارتے جاتے تھے کہ اب جہنّم کا مزہ چکھو۔
➌ تیسرا وہ گروہ ہے جو اہلبیت علیہم السلام کے چاہنے والا ہے مگر ان لوگوں نے ان کی نافرمانی کی اور گناہوں کے مرتکب ہوئے، ان لوگوں کے بارے میں قرآن نے اس طرح فرمایا ہے: "قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّه اِنَّ اللہَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّہٗ ہُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُِ۔" [سورۂ زمر، آیت: ۵۳]
ترجمہ:
پیغمبر آپ پیغام پہنچا دیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا اللہ تمام گناہوں کا معاف کرنے والا ہے اور وہ یقینا بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔
امام صادق علیهالسلام اس گروہ کے بارے میں فرماتے ہیں: "الْمَوْتُ كَفَّارَةُ ذَنْبِ كُلِ مُؤْمِن۔"[۲]
ترجمہ:
موت مؤمن کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
اور امام کاظم علیهالسلام اس طرح فرماتے ہیں: "الْمَوْتُ هُوَ الْمِصْفَاةُ يُصَفِّي الْمُؤْمِنِينَ مِنْ ذُنُوبِهِم۔"[۳]
ترجمہ:
موت مؤمنین کو گناہوں سے پاک کردیتی ہے۔
🔘 نتیجہ
یہ انسان کے اختیار میں نہیں ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن ہاں انسان کے ہاتھ میں یہ ضرور ہے کہ اس کو کونسی موت آئے، اب انسان کو جیسی موت چاہئے اس طریقہ سے اس دنیا میں اپنے اعمال اور کردار کو پیش کرے کیونکہ روایت میں وارد ہوا ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔[۴] جو جس طرح سے اس دنیا میں زندگی گذاریگا اسے موت کے بعد ویسی ہی زندگی ملنے والی ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات
[۱] محمد باقرمجلسى، بحار الانوار، ج۶، ص۱۵۴، دار إحياء التراث العربي ،بيروت، دوسری چاپ، ۱۴۰۳ق.
[۲]محمد بن على، ابن بابویہ، من لایحضرہ الفقیہ، محقق: علی اکبر غفاری، ج۱، ص ۱۳۴، دفتر انتشارات اسلامی ، قم، ۱۴۱۳ق۔
[۳]محمد بن على، ابن بابويه، معاني الأخبار، ص۲۸۹، دفتر انتشارات اسلامى، قم، ۱۴۰۳ ق۔
[۴] بحار الانوار، ج۶۷، ص۲۲۵۔
https://t.me/islamwitheman/1863
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
موت ہر کسی کو آنے والی ہے اس دنیا سے سب کو جانا ہے۔ کس کو کس طریقہ سے کب موت آنے والی ہے یہ کوئی بھی نہیں جانتا، ہر کسی کے ذھن میں یہی سوال ہے کہ مرنے کے بعد وہ جنت میں جائیگا یا جھنم میں، ایسے ہی کچھ سوالات کچھ لوگوں کے ذھنوں میں تھے جن کا جواب حاصل کرنے کے لئے بعض لوگ حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور انھوں نے حضرت علی علیہ السلام سے موت کے بارے میں جو سوالات ان کے ذھنوں میں تھے وہ حضرت علی علیہ السلام کے سامنے پیش کئے۔
امام علیہ السلام نے ان کے سوالات کو سننے کے بعد ان لوگوں سے فرمایا کہ مرنے کے بعد لوگوں کی تین قسمیں ہونگی:
۱۔ ہمیشہ نعمتوں میں رہینگے،
۲۔ ہمیشہ عذاب میں رہینگے،
۳۔ کبھی غم میں اور کبھی خوف میں، اس کا حکم معین نہیں ہے۔
پھر حضرت علی علیہ السلام نے خود ہی ان تین قسموں کی اس طرح وضاحت فرمائی:
پہلی موت مخصوص ہے اہلبیت (علیہم السلام) کے دوستوں اور چاہنے والوں سے، جو ان کے حکم کو پوری طریقہ سے بجا لاتے ہیں۔
دوسری موت مخصوص ہے اہلبیت (علیہم السلام) کے دشمنوں اور ان کی مخالفت کرنے والوں کے لئے، موت ان کے جھنم میں جانے کا سبب بنتی ہے۔
تیسری موت کے بارے میں امام علیہ السلام نے فرمایا: ایسے لوگوں کی موت جنھیں نہیں معلوم کہ ان کے حالات کیسے ہیں؟ ایسے مؤمنین جن لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا اب انہیں نہیں معلوم کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، البتہ ان لوگوں کے بارے میں امام علیہ السلام نے فرمایا کہ: ان لوگوں کو عذاب کے بعد جنت میں داخل کر دیا جائیگا البتہ امام علیہ السلام نے ان لوگوں کو ۳۰۰ سال کے عذاب کے بارے میں ڈرایا ہے۔[۱]
🔹 قرآن مجید میں ان تین گروہوں کے بارے میں اس طرح آیات نازل ہوئی ہیں:
➊ پہلے گروہ کے بارے میں قرآن نے اس طرح فرمایا ہے: "كَذَلِكَ يَجْزِي اللَّهُ الْمُتَّقِينَ الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ۔" [سورۂ نحل، آیت:۳۱،۳۲]
ترجمہ:
اللہ اسی طرح ان صاحبان تقوٰی کو جزا دیتا ہےجنہیں ملائکہ اس عالم میں اٹھاتے ہیں کہ وہ پاک و پاکیزہ ہوتے ہیں اور ان سے ملائکہ کہتے ہیں کہ تم پر سلام ہو اب تم اپنے نیک اعمال کی بنا پر جنّت میں داخل ہوجاؤ۔
➋ دوسرے گروہ کے بارے میں قرآن نے اس طرح فرمایا ہے: "وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ۔" [سورۂ انفال، آیت:۵۰]
ترجمہ:
کاش تم دیکھتے کہ جب فرشتے ان کی جان نکال رہے تھے اور ان کے منہ اور پیٹھ پر مارتے جاتے تھے کہ اب جہنّم کا مزہ چکھو۔
➌ تیسرا وہ گروہ ہے جو اہلبیت علیہم السلام کے چاہنے والا ہے مگر ان لوگوں نے ان کی نافرمانی کی اور گناہوں کے مرتکب ہوئے، ان لوگوں کے بارے میں قرآن نے اس طرح فرمایا ہے: "قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّه اِنَّ اللہَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّہٗ ہُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُِ۔" [سورۂ زمر، آیت: ۵۳]
ترجمہ:
پیغمبر آپ پیغام پہنچا دیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے رحمت خدا سے مایوس نہ ہونا اللہ تمام گناہوں کا معاف کرنے والا ہے اور وہ یقینا بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔
امام صادق علیهالسلام اس گروہ کے بارے میں فرماتے ہیں: "الْمَوْتُ كَفَّارَةُ ذَنْبِ كُلِ مُؤْمِن۔"[۲]
ترجمہ:
موت مؤمن کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
اور امام کاظم علیهالسلام اس طرح فرماتے ہیں: "الْمَوْتُ هُوَ الْمِصْفَاةُ يُصَفِّي الْمُؤْمِنِينَ مِنْ ذُنُوبِهِم۔"[۳]
ترجمہ:
موت مؤمنین کو گناہوں سے پاک کردیتی ہے۔
🔘 نتیجہ
یہ انسان کے اختیار میں نہیں ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن ہاں انسان کے ہاتھ میں یہ ضرور ہے کہ اس کو کونسی موت آئے، اب انسان کو جیسی موت چاہئے اس طریقہ سے اس دنیا میں اپنے اعمال اور کردار کو پیش کرے کیونکہ روایت میں وارد ہوا ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔[۴] جو جس طرح سے اس دنیا میں زندگی گذاریگا اسے موت کے بعد ویسی ہی زندگی ملنے والی ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات
[۱] محمد باقرمجلسى، بحار الانوار، ج۶، ص۱۵۴، دار إحياء التراث العربي ،بيروت، دوسری چاپ، ۱۴۰۳ق.
[۲]محمد بن على، ابن بابویہ، من لایحضرہ الفقیہ، محقق: علی اکبر غفاری، ج۱، ص ۱۳۴، دفتر انتشارات اسلامی ، قم، ۱۴۱۳ق۔
[۳]محمد بن على، ابن بابويه، معاني الأخبار، ص۲۸۹، دفتر انتشارات اسلامى، قم، ۱۴۰۳ ق۔
[۴] بحار الانوار، ج۶۷، ص۲۲۵۔
https://t.me/islamwitheman/1863
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 الله سے ملاقات 🔷
آپ کیسے جان سکتے ہیں کہ آپ موت کے لیے تیار ہیں کہ نہیں؟ موت انسان کے لیے سب سے بڑا ڈر ہے۔
میں جاننا چاہتا ہوں کہ اگر مجھے ابھی اسی وقت مرنا ہو تو میری موت کیسی ہوگی؟ کیا وہ دردناک ہوگی؟ یا فرحت بخش؟ یا پھر بہت پیاری؟ اسکا جواب یہ ہے۔۔۔…
آپ کیسے جان سکتے ہیں کہ آپ موت کے لیے تیار ہیں کہ نہیں؟ موت انسان کے لیے سب سے بڑا ڈر ہے۔
میں جاننا چاہتا ہوں کہ اگر مجھے ابھی اسی وقت مرنا ہو تو میری موت کیسی ہوگی؟ کیا وہ دردناک ہوگی؟ یا فرحت بخش؟ یا پھر بہت پیاری؟ اسکا جواب یہ ہے۔۔۔…
السلام عليكم ممبران!
میں عمرہ کرنے سعودیہ آیا ہوا ہوں جس کی وجہ سے میں پوسٹس نہیں بھیج رہا۔ جب تک میں یہاں ہوں اس وقت تک معذرت۔
دعا گو!
سید سجاد حسین ھمدانی
http://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
میں عمرہ کرنے سعودیہ آیا ہوا ہوں جس کی وجہ سے میں پوسٹس نہیں بھیج رہا۔ جب تک میں یہاں ہوں اس وقت تک معذرت۔
دعا گو!
سید سجاد حسین ھمدانی
http://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 دفن کے مستحبات 🔷
۶۳۵۔ مستحب ہے کہ متعلقہ اشخاص قبر کو ایک متوسط انسان کے قد کے لگ بھگ کھودیں اور میت کو نزدیک ترین قبرستان میں دفن کریں ماسوا اسکے کہ جو قبرستان دور ہو وہ کسی وجہ سے بہتر ہو مثلا وہاں نیک لوگ دفن کئے گئے ہوں یا زیادہ لوگ وہاں فاتحہ پڑھنے جاتے ہوں۔ یہ بھی مستحب ہے کہ جنازہ قبر سے چند گز دور زمین پر رکھدیں اور تین دفعہ کرکے تھوڑا تھوڑا قبر کے نزدیک لے جائیں اور ہر دفعہ زمین پر رکھیں اور پھر اٹھالیں اور چوتھی دفعہ قبر میں اتار دیں اور اگر میت مرد ہو تو تیسری دفعہ زمین پر اسطرح رکھیں کہ اسکا سر قبر کی نچلی طرف ہو اور چوتھی دفعہ سر کیطرف سے قبر میں داخل کریں اور اگر میت عورت ہو تو تیسری دفعہ اسے قبرکے قبلے کیطرف رکھیں اور پہلو کیطرف سے قبر میں اتاردیں اور قبر میں اتارتے وقت ایک کپڑا قبر کے اوپر تان لیں۔ یہ بھی مستحب ہے کہ جنازہ بڑے آرام کیساتھ تابوت سے نکالیں اور قبر میں داخل کریں اور وہ دعائیں جنہیں پڑھنے کیلئے کہا گیاہے دفن کرنے سے پہلے اور دفن کرتے وقت پڑھیں اور میت کو قبر میں رکھنے کیبعد اسکے کفن کی گرہیں کھول دیں اور اسکا رخسار زمین پر رکھدیں اور اسکے سر کے نیچے مٹی کا تکیہ بنادیں اور اسکی پیٹھ کے پیچھے کچی اینٹیں یا ڈھیلے رکھدیں تاکہ میت چت نہ ہوجائے اور اس سے پیشتر کہ قبر بند کریں دایاں ہاتھ میت کے دائیں کندھے پر ماریں اور بایاں ہاتھ زور سے میت کے بائیں کندھے پر رکھیں اور منہ اسکے کان کے قریب لے جائیں اور اسے زور سے حرکت دیں اور تین دفعہ کہیں اسمَع اِفھَم یَافُلان ابن فلان اور فلان ابن فلان کی جگہ میت کا اور اسکے باپ کا نام لیں۔ اسکے بعد کہیں:
ھَل اَنتَ علی العَھدِالَّذی فَارَقتَاَ عَلَیہِ مِن شَھَادَۃِ اَن لَّا اِلَّہَ اِلَّا اللہ وَحدَہ لَاشَرِیکَ لَہُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہ عَلَیہِ وَاٰلِہ عَبدہ وَرَسُولُہ وَسَیِّدُالنَّبِیِینَ وَخَاتَمُ المُرسَلِینَ وَ اَنَّ عَلِیّاً اَمِیرُالمُئومِنِینَ وَسَیِّدُالوَصِیِّینَ وَاِمَامُ نِ افتَرَضَ اللہ طَاعَتَہ عَلَی العٰلَمِینَ وَاَنَّ الحَسَنَ وَالحُسَینَ وَعَلِیَّ بِنَ الحُسَینِ وَمُحَمَّد بنَ عَلِیٍّ وَّجَعفَرَبنَ مُحَمَّدٍ وَّ مُوسیَ بنَ جُعفَرٍ وَّعَلِیَّ بنَ مُوسٰی وَمُحَمَّدَبنَ عَلِیَّ بنَ مُحَمّدٍ وَالحَسَنَ بنَ عَلِیَّ وَّالقَآئِمَ الحُجَّۃ المَھدِیَّ صَلَوٰاتُ اللہِ عَلَیھِم اَئِمَّۃُ المُئومِنِینَ وَحُجَعُ اللہِ عَلَی الخَلقِ اَجمَعِینَ وَ اَئِمتَکَ اَئِمَّۃُ ھُدًی اَبرَارُ یَا فُلَانَ ابنَ فُلانٍ اور پھر کہے: اِذا اَتَاکَ المَلَکَانِ المُقَرَّبَانِ رَسُولَینِ مِن عِندِاللہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَسَئلکَ عَن رَّبِکَ وَعَن نَّبِیِّکَ وَعَن دِینِکَ وَعَن کِتَابِکَ وَعَن قِبلَتِکَ وَعَن اَئِمَّتِکَ فَلا تَخَف وَلا تَحزَن وَقُل فیِ جَوَابِھِمَا اللہ رَبِّی وَ مُحَمّد صَلَّی اللہ عَلَیہِ وَاٰلِہ نَبِّیی وَالاِسلَامُ دِینیِ وَالقُراٰنُ کِتابِی وَالکَعبَۃُ قِبلَتِی وَاَمِیرُالمُئومِنِینَ عَلِیُّ بنُ اَبِیطَالِبٍ اِمَامِی وَالحَسَنُ بنُ عَلِیٍّ المُجتَبٰے اَمَامِی وَالحُسَینُ بنُ عَلِیٍّ الشَّھِیدُ بِکَربَلاَءَ اِمَامِی وَعَلَیٌّ زَینُ العَابِدِینَ اِمَامِی وَمُحَمَّدُالبَاقِرُ اِمِامِی وَجَعفَر الصَّادِقُ اِمَامِی وَمُوسیَ الکَاظِمُ اِمَامِی وَعَلِیُّ الرِّضَا اِمَامِی وَمُحَمَّدُ الجَوَادُ اِمَامِی وَعَلِیُّ الھَادِی اِمَامِی وَالحَسَنُ العَسکَرِیُّ اِمَامِی وَالحُجَّۃُ المُتَظَرُ اِمَامِی ھٰٓولاَءِ صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ اَئِمَّتِی وَسَاَدَتِی وَشُفَعَآئِی بِھِم اَتَوَلّٰی وَمِن اَعدَآئِھِم اَتَبَرَّاُ فِی الدُّنیَا وَالاٰخِرَۃِ ثُمَّ اعلَم یَافُلان بن فلان اور پھر کہے: اَنَّ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نِعمَ الرَّبُّ وَاَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہ نِعمَ الرَّسُولُ وَاَنَّ عَلِیَّ بنَ اَبِیطَالِبٍ وَاَولادَہُ المَعصُومِینَ الاَئِمَّۃَ الاِثنَی عَشَرَنِعمَ الاَئِمَّۃُ وَاَنَّ مَاجَآءَ بِہ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہ عَلَیہِ وَاٰلِہ حَقٌّ وَّاَنَّ المَوتَ حَقٌّ وَّسُئَوالَ مُنکَرٍ وَّ نَکِیرٍ فِی القَبرِ حَقٌّ وَّالبَعثُ حَقٌّ وَّالنُّشُورَ حِقٌّ وَّالصِّرَاطِ حَقٌّ وَّالمِیزَانَ حَقٌّ وَّتَطَایُرَالکُتُبِ حَقٌّ وَّاَنَّ الجَنَّۃَ حَقٌّ وَّالنَّارَ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعُۃَ اٰتِیَۃٌ لاَّرَیبَ فِیھَا وَاَنَّ اللہ یَبعثُ مَن فِی القُبُورِ۔ پھر کہے۔ "اَفَھِمتَ یَا فُلاَنُ" ثَبَّتَکَ اللہ بَالقَولِ الثَّابِتِ ھَدَاکَ اللہ اِلٰی صِرَاطٍ مُّستَقِیمٍ عَرَّفَ اللہ بَینَکَ وَبَینَ اَولِیَآئِکَ فِی مُستَقَرٍّ مِّن رَّحمُتِہ۔ اسکے بعد کہے۔ "اَللَّھُمَّ جَافِ الاَرضَ عَن جَنبَیہِ وَاَصعِد بَرُوحِہٓ اِلَیکَ وَلَقِّہ مِنکُ بُرھَاناً اَللَّھُمَّ عَفوَکَ عَفوَکَ"۔
http://t.me/islamwitheman/61
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
۶۳۵۔ مستحب ہے کہ متعلقہ اشخاص قبر کو ایک متوسط انسان کے قد کے لگ بھگ کھودیں اور میت کو نزدیک ترین قبرستان میں دفن کریں ماسوا اسکے کہ جو قبرستان دور ہو وہ کسی وجہ سے بہتر ہو مثلا وہاں نیک لوگ دفن کئے گئے ہوں یا زیادہ لوگ وہاں فاتحہ پڑھنے جاتے ہوں۔ یہ بھی مستحب ہے کہ جنازہ قبر سے چند گز دور زمین پر رکھدیں اور تین دفعہ کرکے تھوڑا تھوڑا قبر کے نزدیک لے جائیں اور ہر دفعہ زمین پر رکھیں اور پھر اٹھالیں اور چوتھی دفعہ قبر میں اتار دیں اور اگر میت مرد ہو تو تیسری دفعہ زمین پر اسطرح رکھیں کہ اسکا سر قبر کی نچلی طرف ہو اور چوتھی دفعہ سر کیطرف سے قبر میں داخل کریں اور اگر میت عورت ہو تو تیسری دفعہ اسے قبرکے قبلے کیطرف رکھیں اور پہلو کیطرف سے قبر میں اتاردیں اور قبر میں اتارتے وقت ایک کپڑا قبر کے اوپر تان لیں۔ یہ بھی مستحب ہے کہ جنازہ بڑے آرام کیساتھ تابوت سے نکالیں اور قبر میں داخل کریں اور وہ دعائیں جنہیں پڑھنے کیلئے کہا گیاہے دفن کرنے سے پہلے اور دفن کرتے وقت پڑھیں اور میت کو قبر میں رکھنے کیبعد اسکے کفن کی گرہیں کھول دیں اور اسکا رخسار زمین پر رکھدیں اور اسکے سر کے نیچے مٹی کا تکیہ بنادیں اور اسکی پیٹھ کے پیچھے کچی اینٹیں یا ڈھیلے رکھدیں تاکہ میت چت نہ ہوجائے اور اس سے پیشتر کہ قبر بند کریں دایاں ہاتھ میت کے دائیں کندھے پر ماریں اور بایاں ہاتھ زور سے میت کے بائیں کندھے پر رکھیں اور منہ اسکے کان کے قریب لے جائیں اور اسے زور سے حرکت دیں اور تین دفعہ کہیں اسمَع اِفھَم یَافُلان ابن فلان اور فلان ابن فلان کی جگہ میت کا اور اسکے باپ کا نام لیں۔ اسکے بعد کہیں:
ھَل اَنتَ علی العَھدِالَّذی فَارَقتَاَ عَلَیہِ مِن شَھَادَۃِ اَن لَّا اِلَّہَ اِلَّا اللہ وَحدَہ لَاشَرِیکَ لَہُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہ عَلَیہِ وَاٰلِہ عَبدہ وَرَسُولُہ وَسَیِّدُالنَّبِیِینَ وَخَاتَمُ المُرسَلِینَ وَ اَنَّ عَلِیّاً اَمِیرُالمُئومِنِینَ وَسَیِّدُالوَصِیِّینَ وَاِمَامُ نِ افتَرَضَ اللہ طَاعَتَہ عَلَی العٰلَمِینَ وَاَنَّ الحَسَنَ وَالحُسَینَ وَعَلِیَّ بِنَ الحُسَینِ وَمُحَمَّد بنَ عَلِیٍّ وَّجَعفَرَبنَ مُحَمَّدٍ وَّ مُوسیَ بنَ جُعفَرٍ وَّعَلِیَّ بنَ مُوسٰی وَمُحَمَّدَبنَ عَلِیَّ بنَ مُحَمّدٍ وَالحَسَنَ بنَ عَلِیَّ وَّالقَآئِمَ الحُجَّۃ المَھدِیَّ صَلَوٰاتُ اللہِ عَلَیھِم اَئِمَّۃُ المُئومِنِینَ وَحُجَعُ اللہِ عَلَی الخَلقِ اَجمَعِینَ وَ اَئِمتَکَ اَئِمَّۃُ ھُدًی اَبرَارُ یَا فُلَانَ ابنَ فُلانٍ اور پھر کہے: اِذا اَتَاکَ المَلَکَانِ المُقَرَّبَانِ رَسُولَینِ مِن عِندِاللہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَسَئلکَ عَن رَّبِکَ وَعَن نَّبِیِّکَ وَعَن دِینِکَ وَعَن کِتَابِکَ وَعَن قِبلَتِکَ وَعَن اَئِمَّتِکَ فَلا تَخَف وَلا تَحزَن وَقُل فیِ جَوَابِھِمَا اللہ رَبِّی وَ مُحَمّد صَلَّی اللہ عَلَیہِ وَاٰلِہ نَبِّیی وَالاِسلَامُ دِینیِ وَالقُراٰنُ کِتابِی وَالکَعبَۃُ قِبلَتِی وَاَمِیرُالمُئومِنِینَ عَلِیُّ بنُ اَبِیطَالِبٍ اِمَامِی وَالحَسَنُ بنُ عَلِیٍّ المُجتَبٰے اَمَامِی وَالحُسَینُ بنُ عَلِیٍّ الشَّھِیدُ بِکَربَلاَءَ اِمَامِی وَعَلَیٌّ زَینُ العَابِدِینَ اِمَامِی وَمُحَمَّدُالبَاقِرُ اِمِامِی وَجَعفَر الصَّادِقُ اِمَامِی وَمُوسیَ الکَاظِمُ اِمَامِی وَعَلِیُّ الرِّضَا اِمَامِی وَمُحَمَّدُ الجَوَادُ اِمَامِی وَعَلِیُّ الھَادِی اِمَامِی وَالحَسَنُ العَسکَرِیُّ اِمَامِی وَالحُجَّۃُ المُتَظَرُ اِمَامِی ھٰٓولاَءِ صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ اَئِمَّتِی وَسَاَدَتِی وَشُفَعَآئِی بِھِم اَتَوَلّٰی وَمِن اَعدَآئِھِم اَتَبَرَّاُ فِی الدُّنیَا وَالاٰخِرَۃِ ثُمَّ اعلَم یَافُلان بن فلان اور پھر کہے: اَنَّ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نِعمَ الرَّبُّ وَاَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہ نِعمَ الرَّسُولُ وَاَنَّ عَلِیَّ بنَ اَبِیطَالِبٍ وَاَولادَہُ المَعصُومِینَ الاَئِمَّۃَ الاِثنَی عَشَرَنِعمَ الاَئِمَّۃُ وَاَنَّ مَاجَآءَ بِہ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہ عَلَیہِ وَاٰلِہ حَقٌّ وَّاَنَّ المَوتَ حَقٌّ وَّسُئَوالَ مُنکَرٍ وَّ نَکِیرٍ فِی القَبرِ حَقٌّ وَّالبَعثُ حَقٌّ وَّالنُّشُورَ حِقٌّ وَّالصِّرَاطِ حَقٌّ وَّالمِیزَانَ حَقٌّ وَّتَطَایُرَالکُتُبِ حَقٌّ وَّاَنَّ الجَنَّۃَ حَقٌّ وَّالنَّارَ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعُۃَ اٰتِیَۃٌ لاَّرَیبَ فِیھَا وَاَنَّ اللہ یَبعثُ مَن فِی القُبُورِ۔ پھر کہے۔ "اَفَھِمتَ یَا فُلاَنُ" ثَبَّتَکَ اللہ بَالقَولِ الثَّابِتِ ھَدَاکَ اللہ اِلٰی صِرَاطٍ مُّستَقِیمٍ عَرَّفَ اللہ بَینَکَ وَبَینَ اَولِیَآئِکَ فِی مُستَقَرٍّ مِّن رَّحمُتِہ۔ اسکے بعد کہے۔ "اَللَّھُمَّ جَافِ الاَرضَ عَن جَنبَیہِ وَاَصعِد بَرُوحِہٓ اِلَیکَ وَلَقِّہ مِنکُ بُرھَاناً اَللَّھُمَّ عَفوَکَ عَفوَکَ"۔
http://t.me/islamwitheman/61
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 میت کیساتھ دھوکہ 🔷
نماز کے بعد مولانا اپنی ﺭﻭﭨﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺩﺭﺱ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﮭﮯ.
ﺳﺎﺭﮮ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﮕﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ. ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻨﺪﮦ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﺎ…
نماز کے بعد مولانا اپنی ﺭﻭﭨﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺩﺭﺱ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﮭﮯ.
ﺳﺎﺭﮮ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﮕﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ. ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻨﺪﮦ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﺎ…
💎 باپ 💎
🔷 باپ ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ھے جسکے پاس بیلنس نہ ھوتے ھوئے بھی ھمارے خواب پورے کرنے کی کوشش ھے۔
🔷 باپ کے آنسو تمھارے دکھ سے نہ گریں، ورنہ اللہ تمکو جنت سے گرا دیگا۔
🔷 والد دنیا کا وہ واحد شخص ھے جو خود سے زیادہ آپکو کامیاب دیکھنا چاھتا ھے۔
🔷 والد چاہےکتنا ھی بوڑھا ھو، گھر کا سب سے مضبوط ستون ھوتا ھے۔
🔷 والد کا سخت انداز اور ماں کا نرم لہجہ ھمارے معاشرہ میں گھر کے ماحول کو معتدل و متوازن رکھتا ھے۔
🔷 باپ کاحکم مانو تاکہ خوشحال ھو سکو، باپ کی سختی برداشت کرو تاکہ باکمال ھو سکو۔
🔷 باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا جھاد فی سبیل اللہ سے بڑھکر ھے۔
🔷 باپ ایک ذمہ دار ڈرائیور ھے جو گھر کی گاڑی کو اپنے خون سے چلاتا ھے۔
🔷 باپ اللہ کی صفت ربوبیت کا مظھر ھے اور اللہ کی رحمت کا سایہ ھے۔
🔷 باپ درخت کی مانند ھے، درخت خود جلتا ھے مگر دوسروں کو سایہ دیتا ھے۔
🔷 باپ ایک کتاب ھے جس پر تجربات تحریر ھوتے ھیں، اسے اپنے سے دور مت کرو۔
🔷 باپ جنت کے دروازوں میں سے بہترین دروازہ ھے اب تمھیں اختیار ھے خواہ (نافرمانی اور دل دکھا کر) اس دروازہ کو ضائع کر دو یا (فرمانبرداری اور خدمت کر کے) اس دروازہ کی حفاظت کرلو۔
❄ اصل تو یہ ہے کہ باپ کی طرح کوئی نہیں ہو سکتا۔
https://t.me/islamwitheman/1799
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 باپ ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ھے جسکے پاس بیلنس نہ ھوتے ھوئے بھی ھمارے خواب پورے کرنے کی کوشش ھے۔
🔷 باپ کے آنسو تمھارے دکھ سے نہ گریں، ورنہ اللہ تمکو جنت سے گرا دیگا۔
🔷 والد دنیا کا وہ واحد شخص ھے جو خود سے زیادہ آپکو کامیاب دیکھنا چاھتا ھے۔
🔷 والد چاہےکتنا ھی بوڑھا ھو، گھر کا سب سے مضبوط ستون ھوتا ھے۔
🔷 والد کا سخت انداز اور ماں کا نرم لہجہ ھمارے معاشرہ میں گھر کے ماحول کو معتدل و متوازن رکھتا ھے۔
🔷 باپ کاحکم مانو تاکہ خوشحال ھو سکو، باپ کی سختی برداشت کرو تاکہ باکمال ھو سکو۔
🔷 باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا جھاد فی سبیل اللہ سے بڑھکر ھے۔
🔷 باپ ایک ذمہ دار ڈرائیور ھے جو گھر کی گاڑی کو اپنے خون سے چلاتا ھے۔
🔷 باپ اللہ کی صفت ربوبیت کا مظھر ھے اور اللہ کی رحمت کا سایہ ھے۔
🔷 باپ درخت کی مانند ھے، درخت خود جلتا ھے مگر دوسروں کو سایہ دیتا ھے۔
🔷 باپ ایک کتاب ھے جس پر تجربات تحریر ھوتے ھیں، اسے اپنے سے دور مت کرو۔
🔷 باپ جنت کے دروازوں میں سے بہترین دروازہ ھے اب تمھیں اختیار ھے خواہ (نافرمانی اور دل دکھا کر) اس دروازہ کو ضائع کر دو یا (فرمانبرداری اور خدمت کر کے) اس دروازہ کی حفاظت کرلو۔
❄ اصل تو یہ ہے کہ باپ کی طرح کوئی نہیں ہو سکتا۔
https://t.me/islamwitheman/1799
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⛤ ماں، باپ کیساتھ سلوک ⛤
ایک لڑکی کی شادی ہوئی شادی کی پہلی رات دولہا کھانے کا بڑا سارا تھال لئے کمرے میں داخل ہوا کھانے سے بڑی اشتھا انگیز خوشبو آ رہی تھی کہنے لگا
آؤ کھانا کھاتے ہیں۔
بیوی بولی میں نے دیکھا ہے تماری ماں نے بھی نہیں کھایا ان کو بھی بلا…
ایک لڑکی کی شادی ہوئی شادی کی پہلی رات دولہا کھانے کا بڑا سارا تھال لئے کمرے میں داخل ہوا کھانے سے بڑی اشتھا انگیز خوشبو آ رہی تھی کہنے لگا
آؤ کھانا کھاتے ہیں۔
بیوی بولی میں نے دیکھا ہے تماری ماں نے بھی نہیں کھایا ان کو بھی بلا…
👹 شيطان كا فرعون كو جواب 👹
مصر كا رہنے والا ايک شخص فرعون كے پاس آيا اور كہا كہ اگر تو واقعى خدا ہے تو اس انگور کے خوشہ كو مرواريد ميں بدل دے۔
فرعون بہت پريشان ہوا اور وہ خوشہ پكڑے اپنے گھر ميں گيا اور يہ سوچنے لگا كہ اب كيا كرے اگر يہ كام اس سے نہ ہوسكا تو خدائى كا دعوىٰ جو كيا ہے اس كا بھر م نہيں ركھا جا سكےگا۔ اتنے ميں دروازے پر دستک ہوئى۔ فرعون نے پوچھا كون ہے؟ دستک دينے والا دراصل شيطان تھا۔ شيطان نے كہا ’’ايسے خدا كے سر پر خاک ہو جسے يہ علم نہيں ہے كہ دروازے پر دستک دينے والا كون ہے؟ابليس گھر ميں داخل ہوا اور فرعون سے وہ خوشہ انگور ليا اور اسماۓ الہى ميں سے ايک اسم پڑھا وہ اسم پڑھتے ہى وہ انگور مرواريد ميں تبديل ہو گئے۔ پھر فرعون سے كہا كہ ميرے اندر اتنے كمالات ہيں ليكن اس كے باوجود ميں نے خدائى كا دعوىٰ نہيں كيا۔ جب كہ تو ايک بیكار اور كند ذہن شخص ہے اس كے باوجود تم نے خدائى كا دعوىٰ كرديا۔ فرعون نے پوچھا "تونے آدم ؑ كو سجدہ كيوں نہ كيا اور راندہ درگاہ ہونا قبول كرليا؟"
ابليس نے كہا: "ميں نے اس آدم كو سجدہ اس لئے نہيں كيا كيونكہ ميں جانتا تھا كہ اس كى پشت سے تجھ جيسا پليد پيدا ہو گا۔"
📚 پند و تارىخ ، ج :۱، ص:۳۰۔
https://t.me/islamwitheman/1787
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
مصر كا رہنے والا ايک شخص فرعون كے پاس آيا اور كہا كہ اگر تو واقعى خدا ہے تو اس انگور کے خوشہ كو مرواريد ميں بدل دے۔
فرعون بہت پريشان ہوا اور وہ خوشہ پكڑے اپنے گھر ميں گيا اور يہ سوچنے لگا كہ اب كيا كرے اگر يہ كام اس سے نہ ہوسكا تو خدائى كا دعوىٰ جو كيا ہے اس كا بھر م نہيں ركھا جا سكےگا۔ اتنے ميں دروازے پر دستک ہوئى۔ فرعون نے پوچھا كون ہے؟ دستک دينے والا دراصل شيطان تھا۔ شيطان نے كہا ’’ايسے خدا كے سر پر خاک ہو جسے يہ علم نہيں ہے كہ دروازے پر دستک دينے والا كون ہے؟ابليس گھر ميں داخل ہوا اور فرعون سے وہ خوشہ انگور ليا اور اسماۓ الہى ميں سے ايک اسم پڑھا وہ اسم پڑھتے ہى وہ انگور مرواريد ميں تبديل ہو گئے۔ پھر فرعون سے كہا كہ ميرے اندر اتنے كمالات ہيں ليكن اس كے باوجود ميں نے خدائى كا دعوىٰ نہيں كيا۔ جب كہ تو ايک بیكار اور كند ذہن شخص ہے اس كے باوجود تم نے خدائى كا دعوىٰ كرديا۔ فرعون نے پوچھا "تونے آدم ؑ كو سجدہ كيوں نہ كيا اور راندہ درگاہ ہونا قبول كرليا؟"
ابليس نے كہا: "ميں نے اس آدم كو سجدہ اس لئے نہيں كيا كيونكہ ميں جانتا تھا كہ اس كى پشت سے تجھ جيسا پليد پيدا ہو گا۔"
📚 پند و تارىخ ، ج :۱، ص:۳۰۔
https://t.me/islamwitheman/1787
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
👹 شیطان کے اہم پانچ ساتھی 👹
ابلیس کا اصلی نام عزازیل ہے۔ ابلیس کی کنیت ابو قیتر یعنی تکبر کا باپ ہے۔ ابلیس کے لفظی معنی "انتہائی مایوس" کے ہیں اصلاحاً یہ اس جن کا نام ہے جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کر کے آدم علیہ السلام اور بنی آدم علیہ السلام کے لیے مطیع…
ابلیس کا اصلی نام عزازیل ہے۔ ابلیس کی کنیت ابو قیتر یعنی تکبر کا باپ ہے۔ ابلیس کے لفظی معنی "انتہائی مایوس" کے ہیں اصلاحاً یہ اس جن کا نام ہے جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کر کے آدم علیہ السلام اور بنی آدم علیہ السلام کے لیے مطیع…
🔷 مختصر زیارات عراق 🔷
پوری دنیا میں سب سے زیادہ زیارات ملک عراق میں ہیں۔ چشمہ عین الحسین علیہ السلام نجف سے 60 کلو میٹر قادسیہ شہر میں۔ اس چشمہ کا پانی کینسر اور باقی ہر مرض کی شفا ہے۔
🔷 نجف:
مولا علی علیہ السلام، حضرت آدم علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام، صحابی امیرالمومنین اثیب یمانی المعروف صافی الصفاء،
مقام امام زین العابدین علیہ السلام، وادی اسلام قبرستان، حضرت ہود علیہ السلام و حضرت صالح علیہ السلام،
مقام امام جعفر صادق علیہ السلام، مقام امام زمانہ علیہ السلام، حضرت کمیل مسجد حنانہ۔
🔷 کوفہ:
حضرت میثم تمار، مسجد سہلہ، تین اولادیں امام زین العابدین علیہ السلام (حضرت محمد الاصغر علیہ السلام، حضرت بیبی عالیہ سلام اللہ علیھا، حضرت بیبی فاطمہ سلام اللہ علیھا)
حضرت ابراہیم بن حسن مثنی علیہ السلام، جناب اسماعیل بن ابراہیم مجاب بن محمد بن امام موسٰی کاظم علیہ السلام،
مولا امیرالمومنین علیہ السلام کا گھر مبارک۔
🔷 مسجد کوفہ:
مقام نبی ابراہیم علیہ السلام، مقام خضر علیہ السلام، مقام دکتہ القضاء، مقام بیت الطشت، مقام نبی محمدؐ، مقام ساعہ، مقام تنور نوح علیہ السلام،
مقام نبی آدم علیہ السلام، مقام حضرت جبرائیل علیہ السلام، مقام نبی نوح علیہ السلام، مقام ضربت امیرالمومنین علیہ السلام، مقام امام زین العابدین علیہ السلام،
مقام نافلہ امیرالمومنین علیہ السلام، مقام امام جعفر صادق علیہ السلام، حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام، حضرت مختار ثقفی، حضرت ہانی بن عروہ،
حضرت خدیجہ بنت امیرالمومنین علیہ السلام (حضرت عباس علیہ السلام کی سگی ہمشیر)
قصر دارالامارہ (عبیداللہ ابن زیاد ملعون کا محل)، مسجد صاصعہ بن سوحان (مولا علی علیہ السلام کا صحابی)
🔷 زیارات حلہ:
حضرت نبی ذوالکفل علیہ السلام، مسجد نخیلہ (کربلا سے 45 میل جہاں مولا امام حسین علیہ السلام نے عاشورا والے دن علم نصب کیا تھا) مقام امیرالمومنین علیہ السلام
صحابی امیرالمومنین علیہ السلام حضرت رشید الھجری،
حضرت زید بن امام زین العابدین علیہ السلام،
حضرت اسماء بنت عمیس زوجہ حضرت جعفر طیار علیہ السلام،
حضرت قاسم بن امام موسٰی کاظم علیہ السلام،
حضرت حمزہ بن قاسم بن حضرت عباس علیہ السلام (معجز نما پوتا سرکار عباس علیہ السلام کا)
حضرت نبی ابراہیم علیہ السلام، مقام نمرود جہاں سے نمرود نے آگ روشن کی تھی،
حضرت نبی ایوب علیہ السلام
بیبی شریفہ بنت امام حسن علیہ السلام
معجزہ رد شمس جہاں مولا امیر علیہ السلام نے سورج پلٹایا تھا۔
🔷 زیارات بغداد:
حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام، حضرت امام محمد تقی علیہ السلام
حضرت بہلول، حضرت قنبر صحابی امیرالمومنین علیہ السلام۔
🔷 مسجد براثا:
مقام امیرالمومنین علیہ السلام، وہ پتھر جس پر جناب عیسی نبی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی،
پتھر امیرالمومنین علیہ السلام جس سے آج بھی پانی نکل رہا ہے ،
نواب اربعہ امام زمانہ علیہ السلام کے چار نائب۔
🔷 سامرہ:
حضرت امام علی نقی علیہ السلام، حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام، مقام غیبت امام زمانہ علیہ السلام،
بیبی نرجس خاتون سلام اللہ علیھا، بیبی حکیمہ خاتون، امام علی نقی علیہ السلام کا قید خانہ۔
🔷 بلد:
حضرت سید محمد علیہ السلام بن امام علی نقی علیہ السلام،
حضرت ابراہیم بن مالک اشتر (جس نے جناب مختار کی حکومت بنوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا)
🔷 مسیب:
طفلان امیر مسلم علیہ السلام جناب محمد علیہ السلام و جناب ابراہیم علیہ السلام،
جناب عقیل بن ابیطالب علیہ السلام
جناب ابوقاسم بن امام حسن علیہ السلام (امام حسن علیہ السلام کے بڑے بیٹے)
🔷 کربلا:
حضرت امام حسین علیہ السلام، حضرت عباس علمدار علیہ السلام،
حضرت علی اکبر علیہ السلام، حضرت علی اصغر علیہ السلام،
مقتل گاہ، گنج شہداء، جناب حبیب ابن مظاہر، جناب ابراہیم مجاب،
کف عباس علیہ السلام، خیام گاہ، ٹلہ زینبیہ، نہر علقمہ، مقام تکلم عمر سعد مع امام علیہ السلام۔
مقام امام موسٰی کاظم علیہ السلام، مقام امام زمانہ علیہ السلام، مقام امام جعفر صادق علیہ السلام،
مقتل گاہ سرکار علی اکبر علیہ السلام، مقتل گاہ سرکار علی اصغر علیہ السلام
مقام فضہ و حارث شیر، خیام گاہ کی مسجد،
مقام فصطاط وہ مقام جہاں سرکار علی اکبر علیہ السلام کی روح نے جسم اطہر کو چھوڑا تھا،
حضرت حر علیہ السلام، حضرت عون علیہ السلام، قطارہ امیر المومنین علیہ السلام کربلا سے 30کلو میٹر شام کی طرف۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
پوری دنیا میں سب سے زیادہ زیارات ملک عراق میں ہیں۔ چشمہ عین الحسین علیہ السلام نجف سے 60 کلو میٹر قادسیہ شہر میں۔ اس چشمہ کا پانی کینسر اور باقی ہر مرض کی شفا ہے۔
🔷 نجف:
مولا علی علیہ السلام، حضرت آدم علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام، صحابی امیرالمومنین اثیب یمانی المعروف صافی الصفاء،
مقام امام زین العابدین علیہ السلام، وادی اسلام قبرستان، حضرت ہود علیہ السلام و حضرت صالح علیہ السلام،
مقام امام جعفر صادق علیہ السلام، مقام امام زمانہ علیہ السلام، حضرت کمیل مسجد حنانہ۔
🔷 کوفہ:
حضرت میثم تمار، مسجد سہلہ، تین اولادیں امام زین العابدین علیہ السلام (حضرت محمد الاصغر علیہ السلام، حضرت بیبی عالیہ سلام اللہ علیھا، حضرت بیبی فاطمہ سلام اللہ علیھا)
حضرت ابراہیم بن حسن مثنی علیہ السلام، جناب اسماعیل بن ابراہیم مجاب بن محمد بن امام موسٰی کاظم علیہ السلام،
مولا امیرالمومنین علیہ السلام کا گھر مبارک۔
🔷 مسجد کوفہ:
مقام نبی ابراہیم علیہ السلام، مقام خضر علیہ السلام، مقام دکتہ القضاء، مقام بیت الطشت، مقام نبی محمدؐ، مقام ساعہ، مقام تنور نوح علیہ السلام،
مقام نبی آدم علیہ السلام، مقام حضرت جبرائیل علیہ السلام، مقام نبی نوح علیہ السلام، مقام ضربت امیرالمومنین علیہ السلام، مقام امام زین العابدین علیہ السلام،
مقام نافلہ امیرالمومنین علیہ السلام، مقام امام جعفر صادق علیہ السلام، حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام، حضرت مختار ثقفی، حضرت ہانی بن عروہ،
حضرت خدیجہ بنت امیرالمومنین علیہ السلام (حضرت عباس علیہ السلام کی سگی ہمشیر)
قصر دارالامارہ (عبیداللہ ابن زیاد ملعون کا محل)، مسجد صاصعہ بن سوحان (مولا علی علیہ السلام کا صحابی)
🔷 زیارات حلہ:
حضرت نبی ذوالکفل علیہ السلام، مسجد نخیلہ (کربلا سے 45 میل جہاں مولا امام حسین علیہ السلام نے عاشورا والے دن علم نصب کیا تھا) مقام امیرالمومنین علیہ السلام
صحابی امیرالمومنین علیہ السلام حضرت رشید الھجری،
حضرت زید بن امام زین العابدین علیہ السلام،
حضرت اسماء بنت عمیس زوجہ حضرت جعفر طیار علیہ السلام،
حضرت قاسم بن امام موسٰی کاظم علیہ السلام،
حضرت حمزہ بن قاسم بن حضرت عباس علیہ السلام (معجز نما پوتا سرکار عباس علیہ السلام کا)
حضرت نبی ابراہیم علیہ السلام، مقام نمرود جہاں سے نمرود نے آگ روشن کی تھی،
حضرت نبی ایوب علیہ السلام
بیبی شریفہ بنت امام حسن علیہ السلام
معجزہ رد شمس جہاں مولا امیر علیہ السلام نے سورج پلٹایا تھا۔
🔷 زیارات بغداد:
حضرت امام موسٰی کاظم علیہ السلام، حضرت امام محمد تقی علیہ السلام
حضرت بہلول، حضرت قنبر صحابی امیرالمومنین علیہ السلام۔
🔷 مسجد براثا:
مقام امیرالمومنین علیہ السلام، وہ پتھر جس پر جناب عیسی نبی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی،
پتھر امیرالمومنین علیہ السلام جس سے آج بھی پانی نکل رہا ہے ،
نواب اربعہ امام زمانہ علیہ السلام کے چار نائب۔
🔷 سامرہ:
حضرت امام علی نقی علیہ السلام، حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام، مقام غیبت امام زمانہ علیہ السلام،
بیبی نرجس خاتون سلام اللہ علیھا، بیبی حکیمہ خاتون، امام علی نقی علیہ السلام کا قید خانہ۔
🔷 بلد:
حضرت سید محمد علیہ السلام بن امام علی نقی علیہ السلام،
حضرت ابراہیم بن مالک اشتر (جس نے جناب مختار کی حکومت بنوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا)
🔷 مسیب:
طفلان امیر مسلم علیہ السلام جناب محمد علیہ السلام و جناب ابراہیم علیہ السلام،
جناب عقیل بن ابیطالب علیہ السلام
جناب ابوقاسم بن امام حسن علیہ السلام (امام حسن علیہ السلام کے بڑے بیٹے)
🔷 کربلا:
حضرت امام حسین علیہ السلام، حضرت عباس علمدار علیہ السلام،
حضرت علی اکبر علیہ السلام، حضرت علی اصغر علیہ السلام،
مقتل گاہ، گنج شہداء، جناب حبیب ابن مظاہر، جناب ابراہیم مجاب،
کف عباس علیہ السلام، خیام گاہ، ٹلہ زینبیہ، نہر علقمہ، مقام تکلم عمر سعد مع امام علیہ السلام۔
مقام امام موسٰی کاظم علیہ السلام، مقام امام زمانہ علیہ السلام، مقام امام جعفر صادق علیہ السلام،
مقتل گاہ سرکار علی اکبر علیہ السلام، مقتل گاہ سرکار علی اصغر علیہ السلام
مقام فضہ و حارث شیر، خیام گاہ کی مسجد،
مقام فصطاط وہ مقام جہاں سرکار علی اکبر علیہ السلام کی روح نے جسم اطہر کو چھوڑا تھا،
حضرت حر علیہ السلام، حضرت عون علیہ السلام، قطارہ امیر المومنین علیہ السلام کربلا سے 30کلو میٹر شام کی طرف۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🐜 ایک حیرت انگیز انکشاف 🕊
امام جعفر صادق علیہ السلام نے جانوروں کے بارے میں ایک حیران کر دینے والی بات بتائی آپ نے فرمایا "پرندے، کیڑے اور جانور بھی یقینی طور پر طبعی موت مرتے ہیں لیکن ان طبعی موت مرنے والے پرندوں کے مردہ جسم کسی کو نظر نہیں آتے آخر یہ لاشیں کہاں چلی جاتی ہیں؟
اس بات کو مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں- مثلا ہمارے علاقوں میں بیشمار پرندے، بلیاں، چوہے اور دوسرے جانور پائے جاتے ہیں یہ جانور بھی اپنی طبعی موت مرتے ہیں. روزانہ ہزاروں پرندے اور دوسرے جانور مرتے ہوں گے۔ لیکن انکے مردہ جسم ہمیں کہیں نظر نہیں آتے ..
البتہ ان مردہ جانوروں کی لاشیں ہمیں نظر آتی ہیں جو قید میں مر جائیں یا انہیں زہر دے دیا ہو یا شکاری نے یا کسی دوسرے پرندے نے اسے گھائل کیا ہو.. آہستہ آہستہ دم نکلتے ہوئے آپ نے کسی جانور کو نہیں دیکھا ہوگا یہاں تک کہ کسی چیونٹی کو بھی نہیں..
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا "یہ مردہ اجسام تمھیں اس لئے نظر نہیں آتے کہ چوپایوں، پرندوں اور دوسرے جانوروں کو اپنی موت کا علم اللہ کی طرف سے پہلے ہی ہو جاتا ہے وہ اس مقرر وقت سے پہلے پہلے پہاڑوں کی غاروں، کھووں، درختوں کے کھوکھلے تنوں، زمین کے سوراخوں یا گہرے گڑھوں میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں اور وہیں مر جاتے ہیں۔
(حوالہ کتاب: "توحید الائمہ")
یہ اللہ کا نظام ہے جس کی وجہ سے آج انسان سکون سے سانس لے رہا ہے ورنہ اگر باقی جانوروں، کیڑوں کو چھوڑ کر صرف پرندوں کو لیا جائے تو ایک اندازے کے مطابق دنیا میں پرندوں کی تعداد 700 ارب ہے اگر یہ پرندے سرعام طبعی موت مرتے تو زمین پر قدم رکھنے تک کی جگہ نہ ملتی۔ ہر طرف انکے مردہ جسم ہوتے جو گندگی اور بیشمار بیماریوں کا سبب بنتے...
"اور تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاو گے۔"
✍🏻 وہب قلبی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
امام جعفر صادق علیہ السلام نے جانوروں کے بارے میں ایک حیران کر دینے والی بات بتائی آپ نے فرمایا "پرندے، کیڑے اور جانور بھی یقینی طور پر طبعی موت مرتے ہیں لیکن ان طبعی موت مرنے والے پرندوں کے مردہ جسم کسی کو نظر نہیں آتے آخر یہ لاشیں کہاں چلی جاتی ہیں؟
اس بات کو مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں- مثلا ہمارے علاقوں میں بیشمار پرندے، بلیاں، چوہے اور دوسرے جانور پائے جاتے ہیں یہ جانور بھی اپنی طبعی موت مرتے ہیں. روزانہ ہزاروں پرندے اور دوسرے جانور مرتے ہوں گے۔ لیکن انکے مردہ جسم ہمیں کہیں نظر نہیں آتے ..
البتہ ان مردہ جانوروں کی لاشیں ہمیں نظر آتی ہیں جو قید میں مر جائیں یا انہیں زہر دے دیا ہو یا شکاری نے یا کسی دوسرے پرندے نے اسے گھائل کیا ہو.. آہستہ آہستہ دم نکلتے ہوئے آپ نے کسی جانور کو نہیں دیکھا ہوگا یہاں تک کہ کسی چیونٹی کو بھی نہیں..
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا "یہ مردہ اجسام تمھیں اس لئے نظر نہیں آتے کہ چوپایوں، پرندوں اور دوسرے جانوروں کو اپنی موت کا علم اللہ کی طرف سے پہلے ہی ہو جاتا ہے وہ اس مقرر وقت سے پہلے پہلے پہاڑوں کی غاروں، کھووں، درختوں کے کھوکھلے تنوں، زمین کے سوراخوں یا گہرے گڑھوں میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں اور وہیں مر جاتے ہیں۔
(حوالہ کتاب: "توحید الائمہ")
یہ اللہ کا نظام ہے جس کی وجہ سے آج انسان سکون سے سانس لے رہا ہے ورنہ اگر باقی جانوروں، کیڑوں کو چھوڑ کر صرف پرندوں کو لیا جائے تو ایک اندازے کے مطابق دنیا میں پرندوں کی تعداد 700 ارب ہے اگر یہ پرندے سرعام طبعی موت مرتے تو زمین پر قدم رکھنے تک کی جگہ نہ ملتی۔ ہر طرف انکے مردہ جسم ہوتے جو گندگی اور بیشمار بیماریوں کا سبب بنتے...
"اور تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاو گے۔"
✍🏻 وہب قلبی
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌻مؤمن اور مومن کی بدگوئی 🌻
🍀محمد بن فضیل امام موسی کاظم(ع) سے عرض کرتے ہیں: میں آپ پر قربان
میرے مومن بھائیوں میں سے کسی شخص کے بارے میں کوئی بات مجھ تک پہنچتی ہے جس سے میں اس سے متنفّر ہو جاتا ہوں۔ جب میں اس شخص سے اس کا ذکر کرتا ہوں تو وہ اس بات سے انکار کرتا ہے
🌱 جبکہ وہ بات مجھ تک بہت سے ثقہ و بااعتماد افراد نے پہنچائی ہوتی ہے۔
🌼امام کاظم(ع) محمد بن فضیل سے فرماتے ہیں: "اے محمد! اپنے مومن بھائی کے لئے اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں کو جھٹلاؤ
چنانچہ اگر تمھارے سامنے اس بارے میں پچاس قسمیں ہی کیوں نہ کھائی جائیں تم اپنے مومن بھائی کی بات کو قبول کرو اور اس جماعت کو جھٹلاؤ
اور اپنے مومن بھائی کی کوئی ایسی بات فاش مت کرو جو اس کے لئے فتنہ اور آبروریزی کا باعث بنے اور اس کی مروّت کو لے ڈوبے۔
مبادا تم اس گروہ میں سے نہ ہو جاؤ جن کے لئے اللہ اپنی کتاب میں ذکر کرتا ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان کے درمیان بے حیائی پھیلے ، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اللہ یقینا جانتا ہے مگر تم نہیں جانتے۔"
📗 کافی: ج8 ص147۔ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال: ص247۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🍀محمد بن فضیل امام موسی کاظم(ع) سے عرض کرتے ہیں: میں آپ پر قربان
میرے مومن بھائیوں میں سے کسی شخص کے بارے میں کوئی بات مجھ تک پہنچتی ہے جس سے میں اس سے متنفّر ہو جاتا ہوں۔ جب میں اس شخص سے اس کا ذکر کرتا ہوں تو وہ اس بات سے انکار کرتا ہے
🌱 جبکہ وہ بات مجھ تک بہت سے ثقہ و بااعتماد افراد نے پہنچائی ہوتی ہے۔
🌼امام کاظم(ع) محمد بن فضیل سے فرماتے ہیں: "اے محمد! اپنے مومن بھائی کے لئے اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں کو جھٹلاؤ
چنانچہ اگر تمھارے سامنے اس بارے میں پچاس قسمیں ہی کیوں نہ کھائی جائیں تم اپنے مومن بھائی کی بات کو قبول کرو اور اس جماعت کو جھٹلاؤ
اور اپنے مومن بھائی کی کوئی ایسی بات فاش مت کرو جو اس کے لئے فتنہ اور آبروریزی کا باعث بنے اور اس کی مروّت کو لے ڈوبے۔
مبادا تم اس گروہ میں سے نہ ہو جاؤ جن کے لئے اللہ اپنی کتاب میں ذکر کرتا ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان کے درمیان بے حیائی پھیلے ، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اللہ یقینا جانتا ہے مگر تم نہیں جانتے۔"
📗 کافی: ج8 ص147۔ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال: ص247۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 مؤمن 🔷
امام باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں:
اے جابر..! ضرورت کے وقت ھمارے دشمن سے مدد نہ لینا، نہ ہی اس سے کھانا مانگنا، اور اس سے کوئی سوال بھی نہ کرنا۔_
_حتیٰ کہ ایک گھونٹ پانی کا بھی،۔_
_کیونکہ جب وہ جھنم میں ہو گا تو مومن اس کے پاس سے گذرے گا تو وہ کہے گا،_
_اے مومن میں نے تمھارا فلاں فلاں کام کیا تھا، تو مومن اس کی بات سن کر شرمسار ہو گا اور اسے جھنم سے نجات دلوائے گا، اور مومن کو مومن اسی وجہ سے کہا گیا ہے،_
_کیونکہ وہ اللّٰہﷻ سے کسی کے لیے امان (شفاعت) طلب کرے گا تو اللّٰہﷻ اس کی امان کو قبول کرے گا۔_
_📚 المحاسن ج1، ص185_
_*اﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠَﻰ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭﺁﻝِ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭﻋَﺠِّﻞْ ﻓَﺮَﺟَﻬُﻢْ ﺍﻟْﻌَﺠَــﻞَ ﺍﻟْﻌَﺠَــﻞَ ﻳَﺎﻣَـــــﻮْﻟَﺎﻱَ ﻳَﺎﺻَــﺎﺣِﺐَ ﺍﻟـــﺰَّﻣَﺎﻥِ ﺃَﺩْﺭِﮐْﻨِـــﯽ ﺍﻟْﻌَﺠَــﻞَ*_
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
امام باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں:
اے جابر..! ضرورت کے وقت ھمارے دشمن سے مدد نہ لینا، نہ ہی اس سے کھانا مانگنا، اور اس سے کوئی سوال بھی نہ کرنا۔_
_حتیٰ کہ ایک گھونٹ پانی کا بھی،۔_
_کیونکہ جب وہ جھنم میں ہو گا تو مومن اس کے پاس سے گذرے گا تو وہ کہے گا،_
_اے مومن میں نے تمھارا فلاں فلاں کام کیا تھا، تو مومن اس کی بات سن کر شرمسار ہو گا اور اسے جھنم سے نجات دلوائے گا، اور مومن کو مومن اسی وجہ سے کہا گیا ہے،_
_کیونکہ وہ اللّٰہﷻ سے کسی کے لیے امان (شفاعت) طلب کرے گا تو اللّٰہﷻ اس کی امان کو قبول کرے گا۔_
_📚 المحاسن ج1، ص185_
_*اﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠَﻰ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭﺁﻝِ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭﻋَﺠِّﻞْ ﻓَﺮَﺟَﻬُﻢْ ﺍﻟْﻌَﺠَــﻞَ ﺍﻟْﻌَﺠَــﻞَ ﻳَﺎﻣَـــــﻮْﻟَﺎﻱَ ﻳَﺎﺻَــﺎﺣِﺐَ ﺍﻟـــﺰَّﻣَﺎﻥِ ﺃَﺩْﺭِﮐْﻨِـــﯽ ﺍﻟْﻌَﺠَــﻞَ*_
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 خاندان 🔷
ﻭﺍﻟﺪ، ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭘﺘﻨﮓ ﺍﮌﺍﻧﮯ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ. ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﭘﺘﻨﮓ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ..
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﻮﻻ؛
ﭘﺎﭘﺎ .. ﯾﮧ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﺘﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ، ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﮟ!!
ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ...
ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺩﮬﺎﮔﮧ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ ..
ﭘﺘﻨﮓ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻟﮩﺮﺍ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮔﺮ ﮔﺌﯽ ...
ﺗﺐ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ. ،،،،
ﺑﯿﭩﺎ ..!
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺟﺲ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﮨﯿﮟ ..
ﮨﻤﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺟﻦ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﻨﺪﮬﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮎ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔۔
ﺟﯿﺴﮯ۔۔۔۔
ﮔﮭﺮ،
ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ،
ﻧﻈﻢ ﻭ ﺿﺒﻂ،
ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ...
ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺱ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺑﻨﺎ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ..
ﺍﻥ ﺩﮬﺎﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻭﮨﯽ ﺣﺸﺮ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﻮ ﺑﻦ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﺎ ﮨﻮﺍ...
"ﻟﮩﺬﺍ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺑﻠﻨﺪﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﻨﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺩﮬﺎﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﻣﺖ ﺗﻮﮌﻧﺎ"
"ﺩﮬﺎﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﻨﮓ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﮨﯽ 'ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ' ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﺎ!"
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/398
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﻭﺍﻟﺪ، ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭘﺘﻨﮓ ﺍﮌﺍﻧﮯ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ. ﺑﯿﭩﺎ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﭘﺘﻨﮓ ﺍﮌﺍﺗﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ..
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﻮﻻ؛
ﭘﺎﭘﺎ .. ﯾﮧ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﺘﻨﮓ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ، ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﮟ!!
ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ...
ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺩﮬﺎﮔﮧ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ ..
ﭘﺘﻨﮓ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻟﮩﺮﺍ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮔﺮ ﮔﺌﯽ ...
ﺗﺐ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ. ،،،،
ﺑﯿﭩﺎ ..!
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺟﺲ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﮨﯿﮟ ..
ﮨﻤﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺟﻦ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﻨﺪﮬﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮎ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔۔
ﺟﯿﺴﮯ۔۔۔۔
ﮔﮭﺮ،
ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ،
ﻧﻈﻢ ﻭ ﺿﺒﻂ،
ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ...
ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺱ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺑﻨﺎ ﮐﮯ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ..
ﺍﻥ ﺩﮬﺎﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻭﮨﯽ ﺣﺸﺮ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﻮ ﺑﻦ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﺎ ﮨﻮﺍ...
"ﻟﮩﺬﺍ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺑﻠﻨﺪﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﻨﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺩﮬﺎﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﻣﺖ ﺗﻮﮌﻧﺎ"
"ﺩﮬﺎﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﻨﮓ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﮨﯽ 'ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ' ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﺎ!"
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/398
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 قرابتداری اورصلہ رحمی 🔷
🌹 حضرت رسولِخداؐ:
❶ جو تم سے قطع رحمی کرے تم اس سے صلہ رحمی کرو،جوتم سے برا سلوک کرے تم اس سے اچھاسلوک کرو اور حق بات کہوخواہ تمہارے اپنے خلاف ہی ہو. (کنزالعمال، حدیث٦٩٢٩)
❷ سنت پرعمل کرواوررشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو. (بحارالانوار،…
🌹 حضرت رسولِخداؐ:
❶ جو تم سے قطع رحمی کرے تم اس سے صلہ رحمی کرو،جوتم سے برا سلوک کرے تم اس سے اچھاسلوک کرو اور حق بات کہوخواہ تمہارے اپنے خلاف ہی ہو. (کنزالعمال، حدیث٦٩٢٩)
❷ سنت پرعمل کرواوررشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو. (بحارالانوار،…