🔷 محاسبہ 🔷
اگر آپ اپنے آپکو خود ملامت کرتے رہیں تو آپکو کسی سے کوئی ملامت سننے کی نوبت نہ آئیگی.
●ارشادِ رب العزت ہے؛
"یایهاالذین آمنوا اتقوا الله ولتنظر نفس ماقدمت لغد"
اے ایمان والو! اللہ تعالٰی کا تقویٰ اختیار کرو اور چاہیے کہ ہرشخص غور کرے کہ کل کیلئے کیا تیار کیا ہے.
(سورہ حشر 59)
●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں؛
"حاسِبُوا اَنْفُسَکم قَبْلَ اَنْ تُحاسَبُوا"
حساب کیدن سے قبل اپنے آپکا خود حساب لیا کرو.
(میزان الحکمہ:3840)
●حضرت امام موسٰی کاظمؑ فرماتے ہیں؛
"لیسَ مِنَّا مَنْ لَم یُحاسِبُ نَفْسَہُ کُلَّ یَومٍ"
جو شخص روزانہ اپنا محاسبہ نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں.
(میزان الحکمہ:3845)
■مشق شبانہ
عطار نیشاپوری کہتے ہیں؛
کسی عالم کو راستےمیں ایک بچہ روتا ہوا نظرآیا. اس نے بچے سے رونےکا سبب پوچھا.
بچے نے جواب دیا؛
استاد نے مجھے میرے ذمیہ کام دیاتھا لیکن میں کھیل کود میں وہ کام نہیں کرسکا. پریشانی اس بات کی ہے کہ اب کسطرح اپنے استاد کا سامنا کرونگا.
عالم یہ سنتے ہی گھبرا گئے اور اپنے آپ میں کہا؛
اس بچے نے صرف ایک شب کا اپنا ذمیہ کام انجام نہیں دیا اور اسقدر بیتاب ہے.
افسوس مجھ پر، میرا کیا حال ہوگا کہ میں نے ساری عمر اسی لہوولعب اور دنیاداری میں گزاردی ہے.
اورپھر اس کیبعد اس عالم کی ساری زندگی گریہ وزاری اور محاسبہ نفس میں گزری.
(مبانی اخلاق وتربیت، ص193)
■یوسفؑ و زلیخا:
ابنِ عباسؓ سےروایت ہےکہ حضرت یوسفؑ سے زلیخا نےکہا؛
اے یوسفؑ آپکے بال کسقدر خوبصورت ہیں.
حضرت یوسفؑ نے فرمایا؛
سب سےپہلے آدمی کےبدن کی جوچیز خاک پرگرتی ہے بال ہیں.
زلیخا نے کہا؛
اے یوسفؑ میرےغمناک دل پرہاتھ رکھو اور اس خستہ عشق کےزخموں پرمرہم لگادو.
حضرت یوسفؑ نےفرمایا؛
میں اپنےآقا و مولاسےخیانت کرکے اس کی حرمت پامال نہیں کرسکتا.
(برگزیدہ کشف الاسراروعدةالابرار، ص112)
■ہاتھی سنبھالنا
علمِ اخلاق کےعلماء فرماتےہیں؛ آدمی کو ہاتهی کے خدمتگزار کیطرح ہوناچاہیے. کہ ہاتهی کو سکھانےاور پالنےوالے اوراس پر سوار ہونیوالے ہمیشہ اپنےہاتھ میں ایک تازیانہ رکھتےہیں اورمسلسل ہاتهی کو مارتےرہتےہیں. ہاتهی قابوکرنے کیلئے روزانہ وقفہ وقفہ سےاسےمارتے رہنا ضروری ہےورنہ وہ اپنے مالک کو ہلاک کر دیتاہے.
اسیطرح آدمی کوبھی چاہیےکہ اپنےنفس کی سرزنش کرتارہے تاکہ وہ قابومیں رہے.
(جہادبالنفس، ج3، ص160)
■حضرت سلمانؓ و ابوذرؓ:
ایکدن رسول اکرمؐ نے حضرات سلمانؓ وابوذرؓ دونوں کوایک ایک درهم دیا. حضرت سلمانؓ نےاپنا درهم راہ خدا میں ایک نادارمستحق کودیدیا. لیکن حضرت ابوذرؓ نےاپنے گھریلو اخراجات پرخرچ کردیا.
دوسرےدن رسول اکرمؐ نےحکم دیاکہ آگ جلائی جائے اوراس پرپتھر رکھ دیاجائے.
جب پتھرگرم ہوگیا اورشعلوں کی حرارت نے اسےخوب گرم کردیا توآپؐ نےسلمانؓ و ابوذرؓ کو بلاکر حکم دیاکہ اس پتھر پرکھڑے ہوکے کل والےدرهم کاحساب دیں.
حضرت سلمانؓ نےبغیرکسی پریشانی کے پتھر پرپاؤں رکھا اورفرمایا؛
"أنْفَقْتُ فی سبیلِ اللہِ"
میں نے اللہ کے راستے میں خرچ کردیا. اور پھرپاؤں اٹھالیا.
حضرت ابوذرؓ کی باری آئی توگھبرائےاور حیران ہوئےکہ اب کیاہوگا. اب میں اس پتھرپر پابرہنہ کھڑا ہوکر خرچ کاحساب کسطرح دونگا.
رسول اکرمؐ نےفرمایا؛
تجھےمیں نےمعاف کردیا. اسلئےکہ تیرے لئے اس پتھرپر پیررکھ کرحساب دینا مشکل ہےکیونکہ بات طولانی ہوجائیگی.
لیکن یادرکھو! میدان محشرکی زمین اس پتھر سےزیادہ گرم ہوگی. قیامت کیدن سورج کی دھوپ اس آگ کےشعلوں سے زیادہ گرم ہوگی اورزیادہ جلانے والی ہوگی. کوشش کروکہ پاکیزہ حساب کیساتھ، صاف دامن کیساتھ، معصیت سےدور میدان محشرمیں وارد ہوسکو.
(داستانہاوپندہا، ج1، ص59، 60، فارسی سے ترجمہ)
■قیامت کیدن کاحساب:
ایکبار ایک باپ نےاپنے بیٹےسے کہاکہ آپ پر لازم ہےکہ جسقدر گفتگو کروگے، جو اپنی زبان پرجاری کروگے، نماز عشاء کیبعد مجھےسارا کچھ بتادینا.
لڑکےنے باپ کےحکم کو قبول کرتے ہوئے اپنے گزرنےوالے دن کی ساری کاروائی، گفتارورفتار اور معاملات سب کچھ یاد رکھا. اورمقررہ وقت پر اپنےوالد کو ساری تفصیلات سنادیں.
دوسرےدن باپ نے پھرسے اسےوہی حکم دیا. تولڑکے نے بصداحترام عرض کیا؛
باباجان! اس کےعلاوہ جوبھی کوئی مشکل سے مشکل کام ہو حکم فرماویں، آپکےحکم کی تعمیل کی پوری کوشش کرونگا لیکن کل جیسے آپکے حکم کی تعمیل کی مجھ میں طاقت نہیں ہے. مجھےاس سےمعاف رکھیں.
باپ نےاسےکہا؛
بیٹا! آپکو ایساکرنیکا پابند کرنے کا میرا مقصد آپکو ایک اورکام کیلئے ہوشیار بناناتھا.
میں چاہتاتھاکہ آپ قیامت کےدن کے حساب کیلئے تیارہوجائیں اور آپکے دل میں اس روز کےحساب کےحوالہ سے خوف پیداہو. آپ جوکہ آج ایکدن کا حساب دینےسے عاجزہیں اوراپنے والدکو ایک دن کےبارے میں بتانے سے گھبراتے ہیں جبکہ باپ نرمی سے حساب لےگا. توغور فرمائیےکہ کل سخت حساب کا سامناکیسے کروگے.
(داستانہائے کشف الاسرار، ص350)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
https://t.me/islamwitheman/467
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
اگر آپ اپنے آپکو خود ملامت کرتے رہیں تو آپکو کسی سے کوئی ملامت سننے کی نوبت نہ آئیگی.
●ارشادِ رب العزت ہے؛
"یایهاالذین آمنوا اتقوا الله ولتنظر نفس ماقدمت لغد"
اے ایمان والو! اللہ تعالٰی کا تقویٰ اختیار کرو اور چاہیے کہ ہرشخص غور کرے کہ کل کیلئے کیا تیار کیا ہے.
(سورہ حشر 59)
●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں؛
"حاسِبُوا اَنْفُسَکم قَبْلَ اَنْ تُحاسَبُوا"
حساب کیدن سے قبل اپنے آپکا خود حساب لیا کرو.
(میزان الحکمہ:3840)
●حضرت امام موسٰی کاظمؑ فرماتے ہیں؛
"لیسَ مِنَّا مَنْ لَم یُحاسِبُ نَفْسَہُ کُلَّ یَومٍ"
جو شخص روزانہ اپنا محاسبہ نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں.
(میزان الحکمہ:3845)
■مشق شبانہ
عطار نیشاپوری کہتے ہیں؛
کسی عالم کو راستےمیں ایک بچہ روتا ہوا نظرآیا. اس نے بچے سے رونےکا سبب پوچھا.
بچے نے جواب دیا؛
استاد نے مجھے میرے ذمیہ کام دیاتھا لیکن میں کھیل کود میں وہ کام نہیں کرسکا. پریشانی اس بات کی ہے کہ اب کسطرح اپنے استاد کا سامنا کرونگا.
عالم یہ سنتے ہی گھبرا گئے اور اپنے آپ میں کہا؛
اس بچے نے صرف ایک شب کا اپنا ذمیہ کام انجام نہیں دیا اور اسقدر بیتاب ہے.
افسوس مجھ پر، میرا کیا حال ہوگا کہ میں نے ساری عمر اسی لہوولعب اور دنیاداری میں گزاردی ہے.
اورپھر اس کیبعد اس عالم کی ساری زندگی گریہ وزاری اور محاسبہ نفس میں گزری.
(مبانی اخلاق وتربیت، ص193)
■یوسفؑ و زلیخا:
ابنِ عباسؓ سےروایت ہےکہ حضرت یوسفؑ سے زلیخا نےکہا؛
اے یوسفؑ آپکے بال کسقدر خوبصورت ہیں.
حضرت یوسفؑ نے فرمایا؛
سب سےپہلے آدمی کےبدن کی جوچیز خاک پرگرتی ہے بال ہیں.
زلیخا نے کہا؛
اے یوسفؑ میرےغمناک دل پرہاتھ رکھو اور اس خستہ عشق کےزخموں پرمرہم لگادو.
حضرت یوسفؑ نےفرمایا؛
میں اپنےآقا و مولاسےخیانت کرکے اس کی حرمت پامال نہیں کرسکتا.
(برگزیدہ کشف الاسراروعدةالابرار، ص112)
■ہاتھی سنبھالنا
علمِ اخلاق کےعلماء فرماتےہیں؛ آدمی کو ہاتهی کے خدمتگزار کیطرح ہوناچاہیے. کہ ہاتهی کو سکھانےاور پالنےوالے اوراس پر سوار ہونیوالے ہمیشہ اپنےہاتھ میں ایک تازیانہ رکھتےہیں اورمسلسل ہاتهی کو مارتےرہتےہیں. ہاتهی قابوکرنے کیلئے روزانہ وقفہ وقفہ سےاسےمارتے رہنا ضروری ہےورنہ وہ اپنے مالک کو ہلاک کر دیتاہے.
اسیطرح آدمی کوبھی چاہیےکہ اپنےنفس کی سرزنش کرتارہے تاکہ وہ قابومیں رہے.
(جہادبالنفس، ج3، ص160)
■حضرت سلمانؓ و ابوذرؓ:
ایکدن رسول اکرمؐ نے حضرات سلمانؓ وابوذرؓ دونوں کوایک ایک درهم دیا. حضرت سلمانؓ نےاپنا درهم راہ خدا میں ایک نادارمستحق کودیدیا. لیکن حضرت ابوذرؓ نےاپنے گھریلو اخراجات پرخرچ کردیا.
دوسرےدن رسول اکرمؐ نےحکم دیاکہ آگ جلائی جائے اوراس پرپتھر رکھ دیاجائے.
جب پتھرگرم ہوگیا اورشعلوں کی حرارت نے اسےخوب گرم کردیا توآپؐ نےسلمانؓ و ابوذرؓ کو بلاکر حکم دیاکہ اس پتھر پرکھڑے ہوکے کل والےدرهم کاحساب دیں.
حضرت سلمانؓ نےبغیرکسی پریشانی کے پتھر پرپاؤں رکھا اورفرمایا؛
"أنْفَقْتُ فی سبیلِ اللہِ"
میں نے اللہ کے راستے میں خرچ کردیا. اور پھرپاؤں اٹھالیا.
حضرت ابوذرؓ کی باری آئی توگھبرائےاور حیران ہوئےکہ اب کیاہوگا. اب میں اس پتھرپر پابرہنہ کھڑا ہوکر خرچ کاحساب کسطرح دونگا.
رسول اکرمؐ نےفرمایا؛
تجھےمیں نےمعاف کردیا. اسلئےکہ تیرے لئے اس پتھرپر پیررکھ کرحساب دینا مشکل ہےکیونکہ بات طولانی ہوجائیگی.
لیکن یادرکھو! میدان محشرکی زمین اس پتھر سےزیادہ گرم ہوگی. قیامت کیدن سورج کی دھوپ اس آگ کےشعلوں سے زیادہ گرم ہوگی اورزیادہ جلانے والی ہوگی. کوشش کروکہ پاکیزہ حساب کیساتھ، صاف دامن کیساتھ، معصیت سےدور میدان محشرمیں وارد ہوسکو.
(داستانہاوپندہا، ج1، ص59، 60، فارسی سے ترجمہ)
■قیامت کیدن کاحساب:
ایکبار ایک باپ نےاپنے بیٹےسے کہاکہ آپ پر لازم ہےکہ جسقدر گفتگو کروگے، جو اپنی زبان پرجاری کروگے، نماز عشاء کیبعد مجھےسارا کچھ بتادینا.
لڑکےنے باپ کےحکم کو قبول کرتے ہوئے اپنے گزرنےوالے دن کی ساری کاروائی، گفتارورفتار اور معاملات سب کچھ یاد رکھا. اورمقررہ وقت پر اپنےوالد کو ساری تفصیلات سنادیں.
دوسرےدن باپ نے پھرسے اسےوہی حکم دیا. تولڑکے نے بصداحترام عرض کیا؛
باباجان! اس کےعلاوہ جوبھی کوئی مشکل سے مشکل کام ہو حکم فرماویں، آپکےحکم کی تعمیل کی پوری کوشش کرونگا لیکن کل جیسے آپکے حکم کی تعمیل کی مجھ میں طاقت نہیں ہے. مجھےاس سےمعاف رکھیں.
باپ نےاسےکہا؛
بیٹا! آپکو ایساکرنیکا پابند کرنے کا میرا مقصد آپکو ایک اورکام کیلئے ہوشیار بناناتھا.
میں چاہتاتھاکہ آپ قیامت کےدن کے حساب کیلئے تیارہوجائیں اور آپکے دل میں اس روز کےحساب کےحوالہ سے خوف پیداہو. آپ جوکہ آج ایکدن کا حساب دینےسے عاجزہیں اوراپنے والدکو ایک دن کےبارے میں بتانے سے گھبراتے ہیں جبکہ باپ نرمی سے حساب لےگا. توغور فرمائیےکہ کل سخت حساب کا سامناکیسے کروگے.
(داستانہائے کشف الاسرار، ص350)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
https://t.me/islamwitheman/467
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 ﺧﻮﺩ ﺍﺣﺘﺴﺎﺑﯽ 🔷
ﺍﻳﮏ نوعمر ﻟﮍﻛﺎ "ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ" ﻣﻴﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﻛﺮ ﭨﻴﻠﻴﻔﻮﻥ ﻛﻴﺒﻦ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ۔ ﺍُﺱ ﻧﮯﺭﯾﺴﯿﻮﺭ ﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ, ﻧﻤﺒﺮ ﮈﺍﺋﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﺷﺎﺋﺴﺘﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﺍ۔ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺍﺗﻨﺎ ﻧﺮﺍﻟﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ…
ﺍﻳﮏ نوعمر ﻟﮍﻛﺎ "ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ" ﻣﻴﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﻛﺮ ﭨﻴﻠﻴﻔﻮﻥ ﻛﻴﺒﻦ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ۔ ﺍُﺱ ﻧﮯﺭﯾﺴﯿﻮﺭ ﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ, ﻧﻤﺒﺮ ﮈﺍﺋﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﺷﺎﺋﺴﺘﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﺍ۔ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺍﺗﻨﺎ ﻧﺮﺍﻟﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ…
🔷 حُبِّ دُنیا و حرص بر آن 🔷
ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺩﻕ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻋﯿﺴٰﯽؑ ﺑﻦ ﻣﺮﯾﻢؑ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ، ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺳﻤﯿﺖ ﺳﺐ ﻣﺮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﮐﮯ ﻏﻀﺐ ﺍﻭﺭ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻼﮎ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺒﯿﻌﯽ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﻣﺮﺗﮯ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﺗﮯ۔
ﺣﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﺍﮮ ﺭﻭﺡ ﺍﻟﻠﮧ! ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﮮ ﺗﺎﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽؑ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﯽ۔
ﺧُﺪﺍ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺻﺪﺍ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﻭ۔ ﭘﺲ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﯾﮏ ﭨﯿﻠﮯ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ؛ ﺍﮮ ﺍﺱ ﻗﺮﯾﮧ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮ!
ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: ﺟﯽ ﯾﺎ ﺭﻭﺡ ﺍﻟﻠﮧ!
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻭﺍئے ﮨﻮ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ: ﻃﺎﻏﻮﺕ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ، ﻟﻤﺒﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﺁﺭﺯﻭﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﻏﻔﻠﺖ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯿﺴﯽ ﺗﮭﯽ؟
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﺟﯿﺴﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻃﺮﻑ ﺭﺥ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮨﻢ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﻏﻤﮕﯿﻦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻃﺎﻏﻮﺕ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯿﺴﯽ ﺗﮭﯽ؟
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﮔﻨﺎﮨﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﺎﮐﻢ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ؟
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺻﺒﺢ ﮐﻮ ﮨﺎﻭﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﮨﺎﻭﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
اس نے ﮐﮩﺎ: ﺳﺠﯿﻦ ﮨﮯ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺳﺠﯿﻦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﺁﮒ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻭﭘﺮ ﮔﺮﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﭘﺲ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻼ؟
اس نے ﮐﮩﺎ: ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭩﺎ ﺩﻭ ﺗﺎﮐﮧ ﮨﻢ ﺯﮨﺪ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﻮﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ؛ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﮨﻮ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻭﺍئے ﮨﻮ ﺗﻢ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ؟
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﺍﮮ ﺭﻭﺡ ﺧﺪﺍ! ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻟﮕﺎﻣﯿﮟ ﭘﮍﯾﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﮯ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻂ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﭘﮭﻨﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﺁﯾﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻟﭙﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ لٹکا ﮨﻮﺍ ﮨﻮﮞ۔ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮐﺐ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﺟﺎؤﮞ ﮔﺎ ﯾﺎ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﭘﺎؤں ﮔﺎ۔
ﭘﺲ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺣﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﻭ! ﺧﺸﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﻧﻤﮏ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻨﮉﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﺧﯿﺮ ﻭ ﻋﺎﻓﯿﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﮨﻮ۔
📚 ﻛﺎفی، ﺝ2، ﺹ318، (ﺑﺎﺏ ﺣﺐ ﺩﻧﻴﺎ ﻭ ﺣﺮﺹ ﺑﺮ ﺁﻥ، ﺡ11)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔵 ناممکن آرزوئیں
https://t.me/islamwitheman/39
🔵 بیوقوف کون؟
https://t.me/islamwitheman/59
🔵 ضرورت
https://t.me/islamwitheman/60
🔵 انسان پیدائشی حریص ہے
https://t.me/islamwitheman/89
🔵 دنیا کا دارومدار
https://t.me/islamwitheman/95
⭕ وقت اور دولت
https://t.me/islamwitheman/102
🔵 قیامت کیدن تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
⭕ خوبصورت حسینہ
https://t.me/islamwitheman/109
🌹 سبق آموز داستان
https://t.me/islamwitheman/125
🔵 ایک گدھے کا حساب
http://t.me/islamwitheman/251
🔵 شداد کی جنت
https://t.me/islamwitheman/370
🌹 چیونٹی اور شہد
https://t.me/islamwitheman/371
👅 دنیا کی زبانیں
https://t.me/islamwitheman/451
🌹 دنیا کی زندگی
https://t.me/islamwitheman/461
🔵 دنیا ایک ضعیفہ کی صورت میں
https://t.me/islamwitheman/471
🔵 یہ وقت بھی گزر جائیگا
https://t.me/islamwitheman/511
🔷 نصیحت آموز
https://t.me/islamwitheman/549
🔵 موت اور اس کی تیاری
https://t.me/islamwitheman/570
🔷 دنیا کی محبت
https://t.me/islamwitheman/615
🔵 وقت، وقت اور وقت
https://t.me/islamwitheman/748
🔷 موت کی یاد
http://t.me/islamwitheman/1249
🔷 ایک میت کی نصیحت
http://t.me/islamwitheman/1607
⭕ مکافات عمل
http://t.me/islamwitheman/1640
🌺 جوانی سے بڑھاپے تک
http://t.me/islamwitheman/1709
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺩﻕ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻋﯿﺴٰﯽؑ ﺑﻦ ﻣﺮﯾﻢؑ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ، ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺳﻤﯿﺖ ﺳﺐ ﻣﺮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﮐﮯ ﻏﻀﺐ ﺍﻭﺭ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻼﮎ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺒﯿﻌﯽ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﻣﺮﺗﮯ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﺗﮯ۔
ﺣﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﺍﮮ ﺭﻭﺡ ﺍﻟﻠﮧ! ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﮮ ﺗﺎﮐﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽؑ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﯽ۔
ﺧُﺪﺍ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺻﺪﺍ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﻭ۔ ﭘﺲ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﯾﮏ ﭨﯿﻠﮯ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ؛ ﺍﮮ ﺍﺱ ﻗﺮﯾﮧ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮ!
ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: ﺟﯽ ﯾﺎ ﺭﻭﺡ ﺍﻟﻠﮧ!
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻭﺍئے ﮨﻮ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯿﺴﺎ ﺗﮭﺎ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ: ﻃﺎﻏﻮﺕ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ، ﻟﻤﺒﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﺁﺭﺯﻭﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﻏﻔﻠﺖ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯿﺴﯽ ﺗﮭﯽ؟
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﺟﯿﺴﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻃﺮﻑ ﺭﺥ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮨﻢ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﻏﻤﮕﯿﻦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻃﺎﻏﻮﺕ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﯿﺴﯽ ﺗﮭﯽ؟
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﮔﻨﺎﮨﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﺎﮐﻢ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ؟
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺻﺒﺢ ﮐﻮ ﮨﺎﻭﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﮨﺎﻭﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
اس نے ﮐﮩﺎ: ﺳﺠﯿﻦ ﮨﮯ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺳﺠﯿﻦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﺁﮒ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻭﭘﺮ ﮔﺮﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﭘﺲ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻼ؟
اس نے ﮐﮩﺎ: ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭩﺎ ﺩﻭ ﺗﺎﮐﮧ ﮨﻢ ﺯﮨﺪ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﻮﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ؛ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﮨﻮ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻭﺍئے ﮨﻮ ﺗﻢ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ؟
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ﺍﮮ ﺭﻭﺡ ﺧﺪﺍ! ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻟﮕﺎﻣﯿﮟ ﭘﮍﯾﮟ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﮯ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻂ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﭘﮭﻨﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﺁﯾﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻟﭙﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺭﺳﯽ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ لٹکا ﮨﻮﺍ ﮨﻮﮞ۔ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮐﺐ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﺟﺎؤﮞ ﮔﺎ ﯾﺎ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﭘﺎؤں ﮔﺎ۔
ﭘﺲ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴٰﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺣﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﻭ! ﺧﺸﮏ ﺭﻭﭨﯽ ﻧﻤﮏ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻨﮉﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﺧﯿﺮ ﻭ ﻋﺎﻓﯿﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﮨﻮ۔
📚 ﻛﺎفی، ﺝ2، ﺹ318، (ﺑﺎﺏ ﺣﺐ ﺩﻧﻴﺎ ﻭ ﺣﺮﺹ ﺑﺮ ﺁﻥ، ﺡ11)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔵 ناممکن آرزوئیں
https://t.me/islamwitheman/39
🔵 بیوقوف کون؟
https://t.me/islamwitheman/59
🔵 ضرورت
https://t.me/islamwitheman/60
🔵 انسان پیدائشی حریص ہے
https://t.me/islamwitheman/89
🔵 دنیا کا دارومدار
https://t.me/islamwitheman/95
⭕ وقت اور دولت
https://t.me/islamwitheman/102
🔵 قیامت کیدن تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
⭕ خوبصورت حسینہ
https://t.me/islamwitheman/109
🌹 سبق آموز داستان
https://t.me/islamwitheman/125
🔵 ایک گدھے کا حساب
http://t.me/islamwitheman/251
🔵 شداد کی جنت
https://t.me/islamwitheman/370
🌹 چیونٹی اور شہد
https://t.me/islamwitheman/371
👅 دنیا کی زبانیں
https://t.me/islamwitheman/451
🌹 دنیا کی زندگی
https://t.me/islamwitheman/461
🔵 دنیا ایک ضعیفہ کی صورت میں
https://t.me/islamwitheman/471
🔵 یہ وقت بھی گزر جائیگا
https://t.me/islamwitheman/511
🔷 نصیحت آموز
https://t.me/islamwitheman/549
🔵 موت اور اس کی تیاری
https://t.me/islamwitheman/570
🔷 دنیا کی محبت
https://t.me/islamwitheman/615
🔵 وقت، وقت اور وقت
https://t.me/islamwitheman/748
🔷 موت کی یاد
http://t.me/islamwitheman/1249
🔷 ایک میت کی نصیحت
http://t.me/islamwitheman/1607
⭕ مکافات عمل
http://t.me/islamwitheman/1640
🌺 جوانی سے بڑھاپے تک
http://t.me/islamwitheman/1709
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 ناممکن آرزوئیں 🔷
کیا آپکو معلوم ہے کہ قرآن مجید میں وہ کون سی آرزوئیں ہیں جو ناممکن ہیں؟
موت کے بعد انسان کی 9 آرزوئیں جن کا تذکرہ قرآن مجید میں ہوا ہے۔
■"ياليتني كنت ترابا"
*اے کاش ! میں مٹی ہوتا*
(سورۃ نبإِ # 30)
■"ياليتني قدمت لحياتي"
*اے کاش!…
کیا آپکو معلوم ہے کہ قرآن مجید میں وہ کون سی آرزوئیں ہیں جو ناممکن ہیں؟
موت کے بعد انسان کی 9 آرزوئیں جن کا تذکرہ قرآن مجید میں ہوا ہے۔
■"ياليتني كنت ترابا"
*اے کاش ! میں مٹی ہوتا*
(سورۃ نبإِ # 30)
■"ياليتني قدمت لحياتي"
*اے کاش!…
🌺 توبہ 🌺
گناہ نہ کرنا اور بیباک ہونا اس سے بھی زیادہ آسان ہے کہ گناہ کرنے کے بعد معافی طلب کی جائے.
گناہ کی بیماری کے لئے حکماء کے پاس ایک ہی علاج پشیمانی ہے. پشیمانی یعنی آدمی پھر سے اس گناہ کی طرف نہ لوٹے جس سے پشیمان ہوا ہے.
●قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالٰی ہے..
ان الله یحب التوابين. (القرآن)
الله توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے.
●"وتوبوا الی اللہ جمیعا ایهاالمؤمنون لعلکم تفلحون"(القرآن)
اے مومنو! سب مل کر اللہ کے حضور توبہ کرو تاکہ تم کامیابی حاصل کرلو.
●رسول اکرمؐ نے فرمایا؛
"التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ"
گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس کا کوئی گناہ نہ ہو.(1)
●رسول اکرمؐ نے فرمایا؛
"لیس شیء احب الی اللہ من مؤمن تائب او مؤمنة تائبة"
الله تعالیٰ کے نزدیک کسی توبہ کرنیوالے مؤمن یا مؤمنہ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں.(2)
■شرطِ توبہ
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا؛
ایک روز حضرت موسٰیؑ نے اپنے ایک صحابی کو سجدے کی حالت میں دیکھا، آپ اپنے کام سے چلے گئے. جب واپس آئے تو اس شخص کو پهر سجدے ہی میں پایا. اس شخص نے حضرت موسٰیؑ سے اپنا مدعا بیان کیا.
حضرت موسٰیؑ نے اس سے فرمایا؛
اگر تیری کی حاجت روائی میرے بس کی بات ہوتی تو ضرور تیری حاجت روائی کرتا.
خداوندمتعال کی طرف سے حضرت موسٰیؑ پر وحی نازل ہوئی؛
"اے موسٰی! اگر یہ شخص اس قدر سجدے کرے کہ اس کی ناک گِهس جائے تو میں پھر بھی اس کی حاجت روائی نہیں کرونگا مگر یہ کہ جو اعمال مجھے ناپسند ہیں، ان سے نیک اعمال کی طرف جو مجھے پسند ہیں لوٹ آئے."(3)
●بنی اسرائیل کے انبیاء سے ایک نبی نے باری تعالٰی سے درخواست کی کہ اپنے ایک ایسے بندے کی جو کئی سالوں سے عبادت میں مشغول ہے توبہ قبول فرمائے.
جواب آیا؛
مجھے میری عزت کی قسم اگر اس شخص کے بارے تمام آسمانوں اور زمینوں کی مخلوقات سفارش کریں تو پھر بھی اس کی توبہ قبول نہ ہوگی، اسلئے کہ اس نے جس گناہ سے توبہ کی ہے ابھی اس کی مٹھاس اس کے دل میں موجود ہے.(4)
الغرض توبہ کے لیے خلوص شرط ہے کہ سچے دل سے توبہ ہو... اور اس گناہ کی طرف نہ لوٹنے کا تہیہ ہو.
■توبہ اور نجات:
جناب نجیب الدین کی زبانی کتاب ہماری سعادت میں نقل ہوا ہے کہتے ہیں کہ..
میں ایک رات کو قبرستان میں تھا. میں نے چار آدمیوں کو کاندھوں پر جنازہ اٹھائے دیکھا جو قبرستان کی طرف آرہے تھے. میں نے ان کے پاس جاکر رات کے اس وقت جنازہ لانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ مجھے رات کو اس وقت جنازہ لانے پر محسوس ہو رہا ہے کہ آپ شاید کسی کو قتل کر کے لائے ہو. اور اسوقت مخفی طور پر دفن کرنا چاہتے ہو تاکہ تمہارا راز چھپا رہے اور کسی کو خبر نہ ہو.
انہوں نے جواب دیا؛
اے بندہ خدا! بدگمانی نہ کرو کیونکہ اس میت کی والدہ ہمارے ہمراہ ہے. اور پھر اس وقت ایک بڑھیا سامنے آگئی.
میں نے پوچها؛
اے ماں! کیا آپ بتائیں گی کہ رات کے اسوقت آپ اپنے جوان بیٹے کو کیوں قبرستان لائی ہیں اور مخفی طور پر دفن کرنا چاہتی ہیں؟
ماں نے جواب دیا!
میرا بیٹا معصیت کار، گناہگار تھا. اس نے مرتے وقت مجھے چند باتوں کی وصیت کی تھی اور خواہش کی تھی کہ ان پر عمل کروں.
اس کی وصیت اس طرح تھی..
1= جب میری وفات ہو جائے تو میرے گلے میں ایک رسی باندھ کر صحن خانہ میں گھسیٹ کر پھرانا اور کہنا؛ خدایا یہ تیرا وہی بندہ ہے جو تیرا نافرمان اور تیرے حضور سے بھاگتا تھا. جو اب فرشتہ أجل کے ہاتهوں گرفتار ہوا ہے. اسے گرفتار کر کے تیرے دربار حاضر کیا گیا ہے... اس پر رحم فرما.
2= میری میت رات کو دفن کرنا کہ کہیں لوگوں کی نظر میرے بدن پر پڑے اور وہ میرے گناہوں کو یاد کریں اور میرے اوپر عذاب نازل ہو.
3= میرے بدن کو خود دفن کرنا اور خود لحد میں اتارنا شاید خداوندمتعال آپ کے سفید بالوں کے صدقے میرے اوپر عنایت فرما دے. اور بخشش ہو جائے جب کہ میں نے توبہ کرلی ہے اور اپنے کردہ گناہوں پر پشیمان ہوں. لیکن آپ پر ضروری ہے کہ آپ میری ان وصیتوں پر ضرور عمل کریں.
پھر بڑھیا نے بیان کیا؛
جب میرا یہ بیٹا فوت ہوا تو میں نے اس کی وصیت کے مطابق اسکے گلے میں رسی ڈال کر پھرایا تو مجھے غیب سے آواز سنائی دی..
"اَلَا اِنَّ اَوْلِیَاءَ اللہِ ھُمُ الْفَآئِزُوْنَ"
خبردار! اللہ کے ولی کامیاب ہوتے ہیں. ہمارے گناہگار بندے سے اس طرح کا سلوک نہ کرو. ہم خود بہتر جانتے ہیں اس سے کیا سلوک کرنا ہے.
میں نے اس بڑھیا سے درخواست کی کہ وہ دفن کا معاملہ میرے سپرد کرے. وہ بھی راضی ہو گئی. میں نے اس کے بدن کو جونہی قبر کے سپرد کیا اور لحد بند کرنے کا ارادہ کیا، ایک آواز سنائی دی..
"اَلَا اِنَّ اَوْلِیَاءَ اللہِ ھُمُ الْفَآئِزُوْنَ"
الله کے ولی کامیاب ہوتے ہیں.(5)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚حوالہ جات:
(1)میزان الحکمہ، ص2116.
(2)میزان الحکمہ، ص2116.
(3)کلیاتِ حدیثِ قدسی، ص106.
(4)رسالہ لقاءاللە، ص60.
(5)قصص التوابين، ص911.
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
گناہ نہ کرنا اور بیباک ہونا اس سے بھی زیادہ آسان ہے کہ گناہ کرنے کے بعد معافی طلب کی جائے.
گناہ کی بیماری کے لئے حکماء کے پاس ایک ہی علاج پشیمانی ہے. پشیمانی یعنی آدمی پھر سے اس گناہ کی طرف نہ لوٹے جس سے پشیمان ہوا ہے.
●قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالٰی ہے..
ان الله یحب التوابين. (القرآن)
الله توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے.
●"وتوبوا الی اللہ جمیعا ایهاالمؤمنون لعلکم تفلحون"(القرآن)
اے مومنو! سب مل کر اللہ کے حضور توبہ کرو تاکہ تم کامیابی حاصل کرلو.
●رسول اکرمؐ نے فرمایا؛
"التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ"
گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس کا کوئی گناہ نہ ہو.(1)
●رسول اکرمؐ نے فرمایا؛
"لیس شیء احب الی اللہ من مؤمن تائب او مؤمنة تائبة"
الله تعالیٰ کے نزدیک کسی توبہ کرنیوالے مؤمن یا مؤمنہ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں.(2)
■شرطِ توبہ
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا؛
ایک روز حضرت موسٰیؑ نے اپنے ایک صحابی کو سجدے کی حالت میں دیکھا، آپ اپنے کام سے چلے گئے. جب واپس آئے تو اس شخص کو پهر سجدے ہی میں پایا. اس شخص نے حضرت موسٰیؑ سے اپنا مدعا بیان کیا.
حضرت موسٰیؑ نے اس سے فرمایا؛
اگر تیری کی حاجت روائی میرے بس کی بات ہوتی تو ضرور تیری حاجت روائی کرتا.
خداوندمتعال کی طرف سے حضرت موسٰیؑ پر وحی نازل ہوئی؛
"اے موسٰی! اگر یہ شخص اس قدر سجدے کرے کہ اس کی ناک گِهس جائے تو میں پھر بھی اس کی حاجت روائی نہیں کرونگا مگر یہ کہ جو اعمال مجھے ناپسند ہیں، ان سے نیک اعمال کی طرف جو مجھے پسند ہیں لوٹ آئے."(3)
●بنی اسرائیل کے انبیاء سے ایک نبی نے باری تعالٰی سے درخواست کی کہ اپنے ایک ایسے بندے کی جو کئی سالوں سے عبادت میں مشغول ہے توبہ قبول فرمائے.
جواب آیا؛
مجھے میری عزت کی قسم اگر اس شخص کے بارے تمام آسمانوں اور زمینوں کی مخلوقات سفارش کریں تو پھر بھی اس کی توبہ قبول نہ ہوگی، اسلئے کہ اس نے جس گناہ سے توبہ کی ہے ابھی اس کی مٹھاس اس کے دل میں موجود ہے.(4)
الغرض توبہ کے لیے خلوص شرط ہے کہ سچے دل سے توبہ ہو... اور اس گناہ کی طرف نہ لوٹنے کا تہیہ ہو.
■توبہ اور نجات:
جناب نجیب الدین کی زبانی کتاب ہماری سعادت میں نقل ہوا ہے کہتے ہیں کہ..
میں ایک رات کو قبرستان میں تھا. میں نے چار آدمیوں کو کاندھوں پر جنازہ اٹھائے دیکھا جو قبرستان کی طرف آرہے تھے. میں نے ان کے پاس جاکر رات کے اس وقت جنازہ لانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ مجھے رات کو اس وقت جنازہ لانے پر محسوس ہو رہا ہے کہ آپ شاید کسی کو قتل کر کے لائے ہو. اور اسوقت مخفی طور پر دفن کرنا چاہتے ہو تاکہ تمہارا راز چھپا رہے اور کسی کو خبر نہ ہو.
انہوں نے جواب دیا؛
اے بندہ خدا! بدگمانی نہ کرو کیونکہ اس میت کی والدہ ہمارے ہمراہ ہے. اور پھر اس وقت ایک بڑھیا سامنے آگئی.
میں نے پوچها؛
اے ماں! کیا آپ بتائیں گی کہ رات کے اسوقت آپ اپنے جوان بیٹے کو کیوں قبرستان لائی ہیں اور مخفی طور پر دفن کرنا چاہتی ہیں؟
ماں نے جواب دیا!
میرا بیٹا معصیت کار، گناہگار تھا. اس نے مرتے وقت مجھے چند باتوں کی وصیت کی تھی اور خواہش کی تھی کہ ان پر عمل کروں.
اس کی وصیت اس طرح تھی..
1= جب میری وفات ہو جائے تو میرے گلے میں ایک رسی باندھ کر صحن خانہ میں گھسیٹ کر پھرانا اور کہنا؛ خدایا یہ تیرا وہی بندہ ہے جو تیرا نافرمان اور تیرے حضور سے بھاگتا تھا. جو اب فرشتہ أجل کے ہاتهوں گرفتار ہوا ہے. اسے گرفتار کر کے تیرے دربار حاضر کیا گیا ہے... اس پر رحم فرما.
2= میری میت رات کو دفن کرنا کہ کہیں لوگوں کی نظر میرے بدن پر پڑے اور وہ میرے گناہوں کو یاد کریں اور میرے اوپر عذاب نازل ہو.
3= میرے بدن کو خود دفن کرنا اور خود لحد میں اتارنا شاید خداوندمتعال آپ کے سفید بالوں کے صدقے میرے اوپر عنایت فرما دے. اور بخشش ہو جائے جب کہ میں نے توبہ کرلی ہے اور اپنے کردہ گناہوں پر پشیمان ہوں. لیکن آپ پر ضروری ہے کہ آپ میری ان وصیتوں پر ضرور عمل کریں.
پھر بڑھیا نے بیان کیا؛
جب میرا یہ بیٹا فوت ہوا تو میں نے اس کی وصیت کے مطابق اسکے گلے میں رسی ڈال کر پھرایا تو مجھے غیب سے آواز سنائی دی..
"اَلَا اِنَّ اَوْلِیَاءَ اللہِ ھُمُ الْفَآئِزُوْنَ"
خبردار! اللہ کے ولی کامیاب ہوتے ہیں. ہمارے گناہگار بندے سے اس طرح کا سلوک نہ کرو. ہم خود بہتر جانتے ہیں اس سے کیا سلوک کرنا ہے.
میں نے اس بڑھیا سے درخواست کی کہ وہ دفن کا معاملہ میرے سپرد کرے. وہ بھی راضی ہو گئی. میں نے اس کے بدن کو جونہی قبر کے سپرد کیا اور لحد بند کرنے کا ارادہ کیا، ایک آواز سنائی دی..
"اَلَا اِنَّ اَوْلِیَاءَ اللہِ ھُمُ الْفَآئِزُوْنَ"
الله کے ولی کامیاب ہوتے ہیں.(5)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚حوالہ جات:
(1)میزان الحکمہ، ص2116.
(2)میزان الحکمہ، ص2116.
(3)کلیاتِ حدیثِ قدسی، ص106.
(4)رسالہ لقاءاللە، ص60.
(5)قصص التوابين، ص911.
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
■توبہ کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں..
🔵 ان الله یحب التوابين
https://t.me/islamwitheman/88
🔴 الله تعالیٰ کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134
🔴 اعترافِ گناہ
https://t.me/islamwitheman/156
🌻 پنسل اور ربڑ
https://t.me/islamwitheman/376
🔵 خود احتسابی
https://t.me/islamwitheman/467
🔷 الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329
🔷 انسان کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1330
🔷 دو آنسو
http://t.me/islamwitheman/1396
🌹 بشر حافی کی توبہ
http://t.me/islamwitheman/1409
🔷 ایک میت کی نصیحت
http://t.me/islamwitheman/1607
🌸 استعاذہ
http://t.me/islamwitheman/1620
🔷 ایک چور کی توبہ کا واقعہ
http://t.me/islamwitheman/1706
🌺 توبہ
https://t.me/islamwitheman/1771
🔴 حسنِ نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/4748
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔵 ان الله یحب التوابين
https://t.me/islamwitheman/88
🔴 الله تعالیٰ کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134
🔴 اعترافِ گناہ
https://t.me/islamwitheman/156
🌻 پنسل اور ربڑ
https://t.me/islamwitheman/376
🔵 خود احتسابی
https://t.me/islamwitheman/467
🔷 الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329
🔷 انسان کے اعمال
http://t.me/islamwitheman/1330
🔷 دو آنسو
http://t.me/islamwitheman/1396
🌹 بشر حافی کی توبہ
http://t.me/islamwitheman/1409
🔷 ایک میت کی نصیحت
http://t.me/islamwitheman/1607
🌸 استعاذہ
http://t.me/islamwitheman/1620
🔷 ایک چور کی توبہ کا واقعہ
http://t.me/islamwitheman/1706
🌺 توبہ
https://t.me/islamwitheman/1771
🔴 حسنِ نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/4748
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 ان الله یحب التوابين 🔷
بنی اسرائیل کا ایک قصاب اپنے پڑوسی کی لونڈی پر عاشق ہو گیا۔ اتفاق سے ایک دن لونڈی کو اس کے مالک نے دوسرے گاؤں کسی کام سے بھیجا. قصاب کو موقع مل گیا اور وہ بھی اس لونڈی کے پیچھے ہولیا،
جب لونڈی جنگل سے گزری تو اچانک قصاب نے سامنے…
بنی اسرائیل کا ایک قصاب اپنے پڑوسی کی لونڈی پر عاشق ہو گیا۔ اتفاق سے ایک دن لونڈی کو اس کے مالک نے دوسرے گاؤں کسی کام سے بھیجا. قصاب کو موقع مل گیا اور وہ بھی اس لونڈی کے پیچھے ہولیا،
جب لونڈی جنگل سے گزری تو اچانک قصاب نے سامنے…
🔷 کیسا یہ عشق ھے 🔷
ایک بچے نے اک استاد کو اپنےگھر ایک مضمون پڑھانے کے لئے مقرر کیا. استاد نے اسے اک ٹاپک سمجھایا اور کہا کہ آج شام میں گھر آکر اس کا ٹیسٹ لوں گا اس کی پریکٹس کر کے ٹیسٹ تیار کرلینا.
استاد جب شام کو بچے کے گھر گئے تو دیکھا کہ گلی میں قالین بچھا ھوا تھا جس پر گلاب کے پھولوں کی پتیاں اسے ڈھانپے ھوئے تھیں. گلی کے دونوں طرف کے تما گھروں کی دیواروں پر ہر رنگ کی بتیاں جل رھی تھیں. اورگلی کےاوپر رنگ برنگی جھنڈیوں کی چادر تنی ھوئی تھی آخرتک.
استاد جب گلی میں سے گزر کر بچے کے گھر کے دوازے پر پہنچے تو ان پر چھت سے پھولوں کی بارش برسائی گئی. اور فضا "مرحبا یااستاذ" کےفلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی. گھر کے دروازے پر بچے نے استاد کا پرتپاک استقبال کیا اور استاد کے ہاتھوں کو جھک کر ادب سے چوما اور انھیں آنکھوں پر لگایا.
استادنے پوچھا کہ "بیٹا یہ سب کیا ھے. ؟" تو بچے نے جواب دیا کہ؛ "استاد محترم! مجھے آپ سے والہانہ پیار، محبت، عقیدت اورعشق ھے. آپ آج میرے گھر تشریف لائے ھیں تو یہ سارا انتظام آپ کی آمد کی خوشی میں آپ کے استقبال کے لئے میں نے کیا ھے.تاکہ آپ مجھ سے راضی اور خوش ھوجائیں."
استاد نے فرمایا کہ "اچھا بیٹا یہ بتاؤ کہ تم نے وہ ٹیسٹ تیار کیا ھے جس مقصد کے لئے میں یہاں آیا ھوں.؟" تو بچے نے جواب دیا کہ "استاد محترم! دراصل میں آپ کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف رہا تھا اس لئے میں وہ ٹیسٹ تیار نھیں کر سکا." تو استاد نے فرمایا کہ.، ، ،
"بیٹا جس مقصد کے لئے میں یہاں آیا ھوں اور جس کام سے میں نے تم سے راضی اور خوش ہونا تھا وہ تو یہ ٹیسٹ تھا جو تم نے تیار ھی نھیں کیا. اور جس کام کے کرنے کے لئے میں نے ایک مرتبہ بھی آپ کو نھیں کہا تھا آپ نے اس کام میں اپنا قیمتی وقت اور پیسہ لگا کر مجھے خوش کرنے کا کیسے سوچ لیا.؟ جس کام کے کرنے کا میں نے کہا ھی نھیں تھا اس کام سے بھلا میں خوش کیسے ھو سکتا ھوں.؟ اور جس کام سے میں نے خوش ھونا تھا وہ آپ نے کیا ھی نھیں. آپ کےخلوص اور جذبے پر مجھے کوئی شک نھیں بیٹا لیکن اس جذبے کی تکمیل اس راستے سے کبھی نھیں ھو سکتی جو آپ کو پسند ھو بلکہ صرف اسی طریقے سے ھو سکتی ھے جو مجھے پسند ھے."
بس یہی حقیقت ہمارے اپنے نبیؐ سے عشق و محبت کی میرے بھائیو! جس کا بخار ہمیں صرف ربیع الاول میں ھوتا ھے. اگر ہم اپنے نبیؐ کو راضی و خوش کرنا چاھتے ھیں تو اس کے لئے ہمیں طریقہ بھی وھی اختیار کرنا ھوگا جو خود نبیؐ نے بتایا تھا اور آئمہ علیھم السلام نے جس پر عمل کرکے دکھایا تھا.
بیشک ہمارے خلوص اور عشق کی سچائی میں کوئی شک نھیں لیکن محبوب راضی اسی طریقے سے ھوتا ھے جو محبوب کو پسند ھو نہ کہ عاشق کو پسند ھو. اور وہ ایک ھی طریقہ ھے کہ حکم الله کا ھو اور طریقہ محمدؐ رسول الله کا ھو. اور زندگی اسی محبوب کی سنتوں کی اتباع میں گزر جائے.
کوئی لڑائی نھیں کوئی جھگڑا نھیں کوئی بحث و مناظرہ نھیں بس صرف آسان الفاظ میں اپنے ھی بھائیوں کو سادہ سی دعوت فکر ھے. اس امید کے ساتھ کہ، ، ، ،
شاید کہ اتر جائےکسی دل میں میری بات۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
ایک بچے نے اک استاد کو اپنےگھر ایک مضمون پڑھانے کے لئے مقرر کیا. استاد نے اسے اک ٹاپک سمجھایا اور کہا کہ آج شام میں گھر آکر اس کا ٹیسٹ لوں گا اس کی پریکٹس کر کے ٹیسٹ تیار کرلینا.
استاد جب شام کو بچے کے گھر گئے تو دیکھا کہ گلی میں قالین بچھا ھوا تھا جس پر گلاب کے پھولوں کی پتیاں اسے ڈھانپے ھوئے تھیں. گلی کے دونوں طرف کے تما گھروں کی دیواروں پر ہر رنگ کی بتیاں جل رھی تھیں. اورگلی کےاوپر رنگ برنگی جھنڈیوں کی چادر تنی ھوئی تھی آخرتک.
استاد جب گلی میں سے گزر کر بچے کے گھر کے دوازے پر پہنچے تو ان پر چھت سے پھولوں کی بارش برسائی گئی. اور فضا "مرحبا یااستاذ" کےفلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی. گھر کے دروازے پر بچے نے استاد کا پرتپاک استقبال کیا اور استاد کے ہاتھوں کو جھک کر ادب سے چوما اور انھیں آنکھوں پر لگایا.
استادنے پوچھا کہ "بیٹا یہ سب کیا ھے. ؟" تو بچے نے جواب دیا کہ؛ "استاد محترم! مجھے آپ سے والہانہ پیار، محبت، عقیدت اورعشق ھے. آپ آج میرے گھر تشریف لائے ھیں تو یہ سارا انتظام آپ کی آمد کی خوشی میں آپ کے استقبال کے لئے میں نے کیا ھے.تاکہ آپ مجھ سے راضی اور خوش ھوجائیں."
استاد نے فرمایا کہ "اچھا بیٹا یہ بتاؤ کہ تم نے وہ ٹیسٹ تیار کیا ھے جس مقصد کے لئے میں یہاں آیا ھوں.؟" تو بچے نے جواب دیا کہ "استاد محترم! دراصل میں آپ کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف رہا تھا اس لئے میں وہ ٹیسٹ تیار نھیں کر سکا." تو استاد نے فرمایا کہ.، ، ،
"بیٹا جس مقصد کے لئے میں یہاں آیا ھوں اور جس کام سے میں نے تم سے راضی اور خوش ہونا تھا وہ تو یہ ٹیسٹ تھا جو تم نے تیار ھی نھیں کیا. اور جس کام کے کرنے کے لئے میں نے ایک مرتبہ بھی آپ کو نھیں کہا تھا آپ نے اس کام میں اپنا قیمتی وقت اور پیسہ لگا کر مجھے خوش کرنے کا کیسے سوچ لیا.؟ جس کام کے کرنے کا میں نے کہا ھی نھیں تھا اس کام سے بھلا میں خوش کیسے ھو سکتا ھوں.؟ اور جس کام سے میں نے خوش ھونا تھا وہ آپ نے کیا ھی نھیں. آپ کےخلوص اور جذبے پر مجھے کوئی شک نھیں بیٹا لیکن اس جذبے کی تکمیل اس راستے سے کبھی نھیں ھو سکتی جو آپ کو پسند ھو بلکہ صرف اسی طریقے سے ھو سکتی ھے جو مجھے پسند ھے."
بس یہی حقیقت ہمارے اپنے نبیؐ سے عشق و محبت کی میرے بھائیو! جس کا بخار ہمیں صرف ربیع الاول میں ھوتا ھے. اگر ہم اپنے نبیؐ کو راضی و خوش کرنا چاھتے ھیں تو اس کے لئے ہمیں طریقہ بھی وھی اختیار کرنا ھوگا جو خود نبیؐ نے بتایا تھا اور آئمہ علیھم السلام نے جس پر عمل کرکے دکھایا تھا.
بیشک ہمارے خلوص اور عشق کی سچائی میں کوئی شک نھیں لیکن محبوب راضی اسی طریقے سے ھوتا ھے جو محبوب کو پسند ھو نہ کہ عاشق کو پسند ھو. اور وہ ایک ھی طریقہ ھے کہ حکم الله کا ھو اور طریقہ محمدؐ رسول الله کا ھو. اور زندگی اسی محبوب کی سنتوں کی اتباع میں گزر جائے.
کوئی لڑائی نھیں کوئی جھگڑا نھیں کوئی بحث و مناظرہ نھیں بس صرف آسان الفاظ میں اپنے ھی بھائیوں کو سادہ سی دعوت فکر ھے. اس امید کے ساتھ کہ، ، ، ،
شاید کہ اتر جائےکسی دل میں میری بات۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔵 عید زهراء مبارک 🔵
9 ربیع الاول کا دن عید زہراء ہے یا امام عصر کا یوم تاجپوشی؟ ہمارے باقی آئمہ علیہم السلام کے ایام تاجپوشی کہاں ہیں؟
9 ربیع الاول سے منسوب عید شجاع یا عید زہراء کو اپنے مرکزی مفہوم سے ھٹا کر حضرت حجت عج کیلئے کچھ جلد باز ذہنوں نے لفظ تاجپوشی سے معنون کر دیا ہے۔۔ جبکہ ہمارے ہر امام نے اپنے پدر اور امام معصوم کی مظلومانہ شہادت پر انتہائی دکھ کیساتھ اپنے اپنے عہد امامت کا آغاز کیا۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے ہمارے چوتھے امام نے شام غریباں بسر کی تھی.
تاج پوشی سے یہ احساس ملتا ہے کہ جیسے کل تک آپ بے تاج تھے۔۔ اور اپنے سلف کی شہادت کے بغیر انکا اس لفظ کے تفاخر تک پہنچنا ممکن نہ تھا۔۔ جبکہ منصوص من اللہ عہدے ظاہری تاج کے محتاج ہی کہاں ہوتے ہیں ۔۔ وہ تو ہر لحظہ اللہ کی طرف سے مصطفائی کے تاجدار ہوا کرتے ہیں.
ہم لوگ جو اثنا عشری ہیں اگر اپنے آخری امام کے اولین یومِ امامت کو روزِ جشن سمجھیں تو پھر ہمیں کیا ایسی ہی فکر کیساتھ 22 رمضان کو امام حسن علیہ السلام اور 29 صفر کو امام حسین علیہ السلام اور دس محرم کی شب کو امام سجاد علیہ السلام کیلئے بھی ایک ایک جشن تاجپوشی کا اعادہ نہیں کرنا چاہئیے؟ آپ سب کہیں گے کہ ھر گز نہیں۔۔۔۔ تو پھر ایک ہی امام کیلئے ایسے یوم کا تعین کیوں؟
جاننا چاہئیے کہ امامت افراد کے لحاظ سے بارہ کا عدد ضرور رکھتی ہے لیکن مرکزیت میں ایک ہی اکمل وجود کی حامل ہے۔۔۔ یعنی ولایت ایک ہے اسکے منصب دار 12 ہیں اسلئے میرے نزدیک تمام آئمہ کا اصل روز تاجپوشی یوم غدیر ہی ہے۔۔ اور اسی دن ہی سب آئمہ طاہرین کی ولایت کا تدریجی اعلان ہو گیا تھا۔۔ سو غدیر سے الگ باقی ایام کو تاجپوشی کا نام دینے میں مصائب معصومین مانع دکھائی دیتے ہیں.
دوم یہ کہ 9 ربیع الاول کی نسبت عید تاجپوشئ امام زمان والا نعرہ اس گروہ نے ایجاد کیا ہے جو مؤمنين کی توجہات کو عید شجاع یعنی عید براءت از اعدائے اھلبیت سے ھٹانا چاہتا ہے.
اقوال معصومین کی رو سے یہ دن صرف اس ایک ہی وجہ سے عید ہے کہ اس دن جناب مختار ثقفی رضوان اللہ علیہ نے ایک شقی ازلی کا سر کاٹ کر مدینے بھجوایا تھا۔۔ اور سید اھل عزا مولا امام سجاد علیہ السلام نے اس روز کو اھلبیت کیلئے خوشی کا دن قرار دیا تھا۔۔ آپ نے لباس بدلنے اور گھر میں شیرینی کا اہتمام فرمانے کے علاوہ مختار کو انتقام لینے پر دعا بھی دی تھی۔۔ گو غم حسین علیہ السلام اس دن کے بعد بھی معطل تو نہ تھا مگر مسلسل ماتمداری کو ایک آسودہ وقفہ دینے کیلئے حکمتِ معصومین علیہم السلام نے اسی دن کو چنا اور عرف عام میں اسے عید زھراء بھی کہا گیا.
اگر میرا عندیہ درست نہ ہو تو اہل نقد و نظر کو میری رائے سے نا متفق ہونے کا مکمل حق حاصل ہے.
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
9 ربیع الاول کا دن عید زہراء ہے یا امام عصر کا یوم تاجپوشی؟ ہمارے باقی آئمہ علیہم السلام کے ایام تاجپوشی کہاں ہیں؟
9 ربیع الاول سے منسوب عید شجاع یا عید زہراء کو اپنے مرکزی مفہوم سے ھٹا کر حضرت حجت عج کیلئے کچھ جلد باز ذہنوں نے لفظ تاجپوشی سے معنون کر دیا ہے۔۔ جبکہ ہمارے ہر امام نے اپنے پدر اور امام معصوم کی مظلومانہ شہادت پر انتہائی دکھ کیساتھ اپنے اپنے عہد امامت کا آغاز کیا۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے ہمارے چوتھے امام نے شام غریباں بسر کی تھی.
تاج پوشی سے یہ احساس ملتا ہے کہ جیسے کل تک آپ بے تاج تھے۔۔ اور اپنے سلف کی شہادت کے بغیر انکا اس لفظ کے تفاخر تک پہنچنا ممکن نہ تھا۔۔ جبکہ منصوص من اللہ عہدے ظاہری تاج کے محتاج ہی کہاں ہوتے ہیں ۔۔ وہ تو ہر لحظہ اللہ کی طرف سے مصطفائی کے تاجدار ہوا کرتے ہیں.
ہم لوگ جو اثنا عشری ہیں اگر اپنے آخری امام کے اولین یومِ امامت کو روزِ جشن سمجھیں تو پھر ہمیں کیا ایسی ہی فکر کیساتھ 22 رمضان کو امام حسن علیہ السلام اور 29 صفر کو امام حسین علیہ السلام اور دس محرم کی شب کو امام سجاد علیہ السلام کیلئے بھی ایک ایک جشن تاجپوشی کا اعادہ نہیں کرنا چاہئیے؟ آپ سب کہیں گے کہ ھر گز نہیں۔۔۔۔ تو پھر ایک ہی امام کیلئے ایسے یوم کا تعین کیوں؟
جاننا چاہئیے کہ امامت افراد کے لحاظ سے بارہ کا عدد ضرور رکھتی ہے لیکن مرکزیت میں ایک ہی اکمل وجود کی حامل ہے۔۔۔ یعنی ولایت ایک ہے اسکے منصب دار 12 ہیں اسلئے میرے نزدیک تمام آئمہ کا اصل روز تاجپوشی یوم غدیر ہی ہے۔۔ اور اسی دن ہی سب آئمہ طاہرین کی ولایت کا تدریجی اعلان ہو گیا تھا۔۔ سو غدیر سے الگ باقی ایام کو تاجپوشی کا نام دینے میں مصائب معصومین مانع دکھائی دیتے ہیں.
دوم یہ کہ 9 ربیع الاول کی نسبت عید تاجپوشئ امام زمان والا نعرہ اس گروہ نے ایجاد کیا ہے جو مؤمنين کی توجہات کو عید شجاع یعنی عید براءت از اعدائے اھلبیت سے ھٹانا چاہتا ہے.
اقوال معصومین کی رو سے یہ دن صرف اس ایک ہی وجہ سے عید ہے کہ اس دن جناب مختار ثقفی رضوان اللہ علیہ نے ایک شقی ازلی کا سر کاٹ کر مدینے بھجوایا تھا۔۔ اور سید اھل عزا مولا امام سجاد علیہ السلام نے اس روز کو اھلبیت کیلئے خوشی کا دن قرار دیا تھا۔۔ آپ نے لباس بدلنے اور گھر میں شیرینی کا اہتمام فرمانے کے علاوہ مختار کو انتقام لینے پر دعا بھی دی تھی۔۔ گو غم حسین علیہ السلام اس دن کے بعد بھی معطل تو نہ تھا مگر مسلسل ماتمداری کو ایک آسودہ وقفہ دینے کیلئے حکمتِ معصومین علیہم السلام نے اسی دن کو چنا اور عرف عام میں اسے عید زھراء بھی کہا گیا.
اگر میرا عندیہ درست نہ ہو تو اہل نقد و نظر کو میری رائے سے نا متفق ہونے کا مکمل حق حاصل ہے.
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹عید زہراء تاریخ کے آئینے میں 🌹
یوں تو گزشتہ زمانے میں روز و شب کی گردش کے ذریعہ انسان اپنی آخری منزل کی جانب گامزن رہتا ہے لیکن انہی ایام میں کچھ ایام اور کچھ راتیں ایسی ہیں جنہوں نے دامن تاریخ میں خصوصی مقام حاصل کیا ہے.
مثلاً شب قدر، شب عاشور، روز عرفہ، روز غدیر، شب ہجرت، روز عید فطر اور روز عید قربان وغیرہ.
🌹انہی مبارک ایام میں سے ایک مبارک روز، ماہ ربیع الاول کی نو تاریخ ہے جس کو تاریخ میں خصوصی منزلت حاصل ہے. یہ تاریخ اپنے دامن میں متعدد خوشیاں سموئے ہوئے ہے، جن میں سے چند خصوصیات کا تذکرہ مؤمنين کے لئے منفعت بخش ثابت ہوسکتا ہے:
1= امام زمانہ عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی امامت کا آغاز.
یہی وہ مبارک تاریخ ہے جس تاریخ سے امام زمانہ عج کی امامت اور آپ کی غیبت صغریٰ کا آغاز ہوا.(1)
اہل تشیع کے درمیان 9 ربیع الاول کو روز عید اسی لئے شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اس روز سے آخری حجت خدا عج کی امامت کا آغاز ہوا.(2)
2= عمر ابن خطاب کا قتل:
نو ربیع الاول سنہ 23 ہجری کی رات کے آخری حصہ میں عمر ابن خطاب نے اس دنیا سے کوچ کیا.(3)
یہ روز اہلبیت اطہار علیہم السلام، انبیاء، ملائکہ اور حضرت علی علیہ السلام کے چاہنے والوں کے لئے خوشی کا دن ہے کیونکہ اس روز فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی دعا قبول ہوئی.(4)
3= عمر ابن سعد (پسر سعد) کا قتل:
نو ربیع الاول ہی وہ مبارک تاریخ ہے جس میں جناب مختار نے عمر ابن سعد (لشکر یزید کا ایک اہم کارکن) کو واصل جہنم کیا. جب جناب مختار نے پسر سعد کا سر امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا تو امام کے لب مبارک پر مسکان آگئی اور اہل حرم کو سوگ بڑھانے کا حکم دیا.(8)
4= یہ روز اس لئے عید کے نام سے موسوم ہے کیونکہ اس روز کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے روز عید قرار دیا اور حکم دیا ہے کہ اس روز کو سب لوگ روز عید قرار دیں اور اس عید کے اعمال بجا لائیں.(5)
🌹اس مبارک روز کی اتنی زیادہ فضیلت ہے کہ
اگر کوئی شخص اس روز راہ خدا میں انفاق کرے تو اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے.
اس روز مؤمنين کو کھانا کھلانا،
خوشبو لگانا،
اپنے اہل و عیال کے لئے فراخ دلی کا اظہار کرنا،
نیا لباس پہننا اور شکر خدا بجا لانا مستحب (تاکیدی) ہے.(6)
🌹اس روز کو وہ فضیلت حاصل ہے جو تاریخ میں کسی بھی روز کو حاصل نہیں ہے اس روز کے بہتّر نام ذکر ہوئے ہیں جن میں سے چند اسماء یہ ہیں:
1. عید اللہ الاکبر.
2. غدیرِ ثانی.
3. عیدِ فطرِ دوم.
4. شیعوں کی خوشی کا روز.
5. عید اہلبیت علیہم السلام.
6. روز قتلِ منافق.
7. روزِ قبولیتِ اعمال.
8. مظلوم کی کامیابی کا روز.
9. مومنین کی دوستی کا روز.
10. گناہان کبیرہ سے پرہیز کا روز.
11. گمراہی کی نابودی کا روز.
12. شکر گزاری کا روز.
13. عید زہرا.
14. روز توبہ.(7)
⏪عمر ابن سعد (پسر سعد) کا قتل:
نو ربیع الاول ہی وہ مبارک تاریخ ہے جس میں جناب مختار نے عمر ابن سعد (لشکر یزید کا ایک اہم کارکن) کو واصل جہنم کیا، جب جناب مختار نے پسر سعد کا سر امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا تو امام کے لب مبارک پر مسکان آگئی اور اہل حرم کو سوگ بڑھانے کا حکم دیا.(8)
چونکہ اس مبارک تاریخ میں دشمنان اہلبیت کو واصل جہنم کیا گیا ہے لہٰذا ہر مسلمان کا فریضہ ہے کہ نو ربیع الاول کو عید قرار دیتے ہوئے ایسی خوشیوں کی محفلیں سجائے جو رضائے خدا اور خوشنودی اہل بیت اطہار علیہم السلام کے زیرِسایہ ہوں.
ہر شیعہ اور ہر عزادار دو مہینے آٹھ دن تک اہلبیت علیہم السلام کی سوگواری میں مصروف رہتا ہے تو اس کو یہ حق حاصل ہے کہ نو ربیع الاول کو دل کھول کر خوشی منائے کیونکہ ایام عزا ختم ہوئے، آل رسول کا سوگ بڑھایا گیا اور ہمارے زندہ و پائندہ امام زمانہ عج کی امامت کا آغاز ہوا جو آج بھی پردۂ غیب میں ہیں. لیکن یہ کہنا کہ اس روز ہر قسم کی خوشی منائی جاسکتی ہے اور آج کوئی گناہ نہیں لکھا جائے گا! یہ سراسر آیات و روایات کے مخالف اور بعید از عقل ہے لہٰذا ہمیں اپنی مسرتوں میں بھی رضائے خداوندی کا خیال رکھنا پڑے گا اور ہر ایسے کام سے پرہیز کرنا پڑے گا جو اہلبیت علیہم السلام کی رسوائی کا سبب قرار پائے کیونکہ حقیقی شیعہ کی پہچان یہی ہے کہ وہ کسی بھی عالم میں اپنے مولا کی مخالفت نہیں کرتا.
"والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ"
حوالہ جات:
(1). ارشاد، ج۲، ص۳۳۶۔
(2). فیض العلام، ص۲۱۱۔
(3). مدینه المعاجز، ج۲، ص۹۷۔
(4). زادالمعاد، ص۳۳۴۔
(5). فیض العلام، ص۲۱۱۔
(6). مصباح کفعمی، ج۲، ص۵۹۶۔
(7). مستدرك الوسائل، ج1، ص155۔
(8). زادالمعاد، ص۳۴۴۔
بشکریہ تحریر:
سید غافر رضوی چهولسی.
http://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
یوں تو گزشتہ زمانے میں روز و شب کی گردش کے ذریعہ انسان اپنی آخری منزل کی جانب گامزن رہتا ہے لیکن انہی ایام میں کچھ ایام اور کچھ راتیں ایسی ہیں جنہوں نے دامن تاریخ میں خصوصی مقام حاصل کیا ہے.
مثلاً شب قدر، شب عاشور، روز عرفہ، روز غدیر، شب ہجرت، روز عید فطر اور روز عید قربان وغیرہ.
🌹انہی مبارک ایام میں سے ایک مبارک روز، ماہ ربیع الاول کی نو تاریخ ہے جس کو تاریخ میں خصوصی منزلت حاصل ہے. یہ تاریخ اپنے دامن میں متعدد خوشیاں سموئے ہوئے ہے، جن میں سے چند خصوصیات کا تذکرہ مؤمنين کے لئے منفعت بخش ثابت ہوسکتا ہے:
1= امام زمانہ عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی امامت کا آغاز.
یہی وہ مبارک تاریخ ہے جس تاریخ سے امام زمانہ عج کی امامت اور آپ کی غیبت صغریٰ کا آغاز ہوا.(1)
اہل تشیع کے درمیان 9 ربیع الاول کو روز عید اسی لئے شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اس روز سے آخری حجت خدا عج کی امامت کا آغاز ہوا.(2)
2= عمر ابن خطاب کا قتل:
نو ربیع الاول سنہ 23 ہجری کی رات کے آخری حصہ میں عمر ابن خطاب نے اس دنیا سے کوچ کیا.(3)
یہ روز اہلبیت اطہار علیہم السلام، انبیاء، ملائکہ اور حضرت علی علیہ السلام کے چاہنے والوں کے لئے خوشی کا دن ہے کیونکہ اس روز فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی دعا قبول ہوئی.(4)
3= عمر ابن سعد (پسر سعد) کا قتل:
نو ربیع الاول ہی وہ مبارک تاریخ ہے جس میں جناب مختار نے عمر ابن سعد (لشکر یزید کا ایک اہم کارکن) کو واصل جہنم کیا. جب جناب مختار نے پسر سعد کا سر امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا تو امام کے لب مبارک پر مسکان آگئی اور اہل حرم کو سوگ بڑھانے کا حکم دیا.(8)
4= یہ روز اس لئے عید کے نام سے موسوم ہے کیونکہ اس روز کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے روز عید قرار دیا اور حکم دیا ہے کہ اس روز کو سب لوگ روز عید قرار دیں اور اس عید کے اعمال بجا لائیں.(5)
🌹اس مبارک روز کی اتنی زیادہ فضیلت ہے کہ
اگر کوئی شخص اس روز راہ خدا میں انفاق کرے تو اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے.
اس روز مؤمنين کو کھانا کھلانا،
خوشبو لگانا،
اپنے اہل و عیال کے لئے فراخ دلی کا اظہار کرنا،
نیا لباس پہننا اور شکر خدا بجا لانا مستحب (تاکیدی) ہے.(6)
🌹اس روز کو وہ فضیلت حاصل ہے جو تاریخ میں کسی بھی روز کو حاصل نہیں ہے اس روز کے بہتّر نام ذکر ہوئے ہیں جن میں سے چند اسماء یہ ہیں:
1. عید اللہ الاکبر.
2. غدیرِ ثانی.
3. عیدِ فطرِ دوم.
4. شیعوں کی خوشی کا روز.
5. عید اہلبیت علیہم السلام.
6. روز قتلِ منافق.
7. روزِ قبولیتِ اعمال.
8. مظلوم کی کامیابی کا روز.
9. مومنین کی دوستی کا روز.
10. گناہان کبیرہ سے پرہیز کا روز.
11. گمراہی کی نابودی کا روز.
12. شکر گزاری کا روز.
13. عید زہرا.
14. روز توبہ.(7)
⏪عمر ابن سعد (پسر سعد) کا قتل:
نو ربیع الاول ہی وہ مبارک تاریخ ہے جس میں جناب مختار نے عمر ابن سعد (لشکر یزید کا ایک اہم کارکن) کو واصل جہنم کیا، جب جناب مختار نے پسر سعد کا سر امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا تو امام کے لب مبارک پر مسکان آگئی اور اہل حرم کو سوگ بڑھانے کا حکم دیا.(8)
چونکہ اس مبارک تاریخ میں دشمنان اہلبیت کو واصل جہنم کیا گیا ہے لہٰذا ہر مسلمان کا فریضہ ہے کہ نو ربیع الاول کو عید قرار دیتے ہوئے ایسی خوشیوں کی محفلیں سجائے جو رضائے خدا اور خوشنودی اہل بیت اطہار علیہم السلام کے زیرِسایہ ہوں.
ہر شیعہ اور ہر عزادار دو مہینے آٹھ دن تک اہلبیت علیہم السلام کی سوگواری میں مصروف رہتا ہے تو اس کو یہ حق حاصل ہے کہ نو ربیع الاول کو دل کھول کر خوشی منائے کیونکہ ایام عزا ختم ہوئے، آل رسول کا سوگ بڑھایا گیا اور ہمارے زندہ و پائندہ امام زمانہ عج کی امامت کا آغاز ہوا جو آج بھی پردۂ غیب میں ہیں. لیکن یہ کہنا کہ اس روز ہر قسم کی خوشی منائی جاسکتی ہے اور آج کوئی گناہ نہیں لکھا جائے گا! یہ سراسر آیات و روایات کے مخالف اور بعید از عقل ہے لہٰذا ہمیں اپنی مسرتوں میں بھی رضائے خداوندی کا خیال رکھنا پڑے گا اور ہر ایسے کام سے پرہیز کرنا پڑے گا جو اہلبیت علیہم السلام کی رسوائی کا سبب قرار پائے کیونکہ حقیقی شیعہ کی پہچان یہی ہے کہ وہ کسی بھی عالم میں اپنے مولا کی مخالفت نہیں کرتا.
"والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ"
حوالہ جات:
(1). ارشاد، ج۲، ص۳۳۶۔
(2). فیض العلام، ص۲۱۱۔
(3). مدینه المعاجز، ج۲، ص۹۷۔
(4). زادالمعاد، ص۳۳۴۔
(5). فیض العلام، ص۲۱۱۔
(6). مصباح کفعمی، ج۲، ص۵۹۶۔
(7). مستدرك الوسائل، ج1، ص155۔
(8). زادالمعاد، ص۳۴۴۔
بشکریہ تحریر:
سید غافر رضوی چهولسی.
http://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
*ٹیلی گرام ایپ کی موجودہ صورتحال*
تمام ممبرز کی آگاہی کے لئے ٹیلی گرام ایپ پاکستان میں اس وقت کام نہیں کر رہی. اور بہت سے ممبرز کو پریشانی کا سامنا ھے.. کیونکہ ٹیلی گرام واٹس ایپ کی طرح ایک میسنجر ھے جو کہ کافی حد تک واٹس ایپ کی نسبت محفوظ ھے.
ٹیلی گرام پروگارمر کی طرف سے ایسی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی کہ ٹیلی گرام ایپ کو کن مسائل کا سامناھے. البتہ بعض رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ٹیلی گرام ایپ کو بلاک کر دیا گیا ھے یا بلاک کروایا گیا ھے..
لہذا وہ تمام ممبرز جو ہمارے ٹیلی گرام چینل میں موجود ہیں. وہ واٹس ایپ سے رابطہ کر سکتے ہیں..
اور اگر کوئی ممبر ٹیلی گرام کی وجہ سے پریشان ھے تو وہ واٹس ایپ کے ذریعے استفادہ کرے. کیونکہ ابھی ٹیلی گرام ایپ کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں کہ یہ کب تک بلاک رھے گی اور یہ مسئلہ کب تک رھے گا
Join us WathsApp Islamic group ISLAM WITH EMAN
https://chat.whatsapp.com/09EiyVkuxVYBCddRrNVwSN
میرا واٹس ایپ نمبر:
+923448461617
سید سجاد حسین ھمدانی
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
تمام ممبرز کی آگاہی کے لئے ٹیلی گرام ایپ پاکستان میں اس وقت کام نہیں کر رہی. اور بہت سے ممبرز کو پریشانی کا سامنا ھے.. کیونکہ ٹیلی گرام واٹس ایپ کی طرح ایک میسنجر ھے جو کہ کافی حد تک واٹس ایپ کی نسبت محفوظ ھے.
ٹیلی گرام پروگارمر کی طرف سے ایسی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی کہ ٹیلی گرام ایپ کو کن مسائل کا سامناھے. البتہ بعض رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ٹیلی گرام ایپ کو بلاک کر دیا گیا ھے یا بلاک کروایا گیا ھے..
لہذا وہ تمام ممبرز جو ہمارے ٹیلی گرام چینل میں موجود ہیں. وہ واٹس ایپ سے رابطہ کر سکتے ہیں..
اور اگر کوئی ممبر ٹیلی گرام کی وجہ سے پریشان ھے تو وہ واٹس ایپ کے ذریعے استفادہ کرے. کیونکہ ابھی ٹیلی گرام ایپ کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں کہ یہ کب تک بلاک رھے گی اور یہ مسئلہ کب تک رھے گا
Join us WathsApp Islamic group ISLAM WITH EMAN
https://chat.whatsapp.com/09EiyVkuxVYBCddRrNVwSN
میرا واٹس ایپ نمبر:
+923448461617
سید سجاد حسین ھمدانی
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
WhatsApp.com
WhatsApp Group Invite
السلام عليكم ممبران!
پاکستان میں کافی عرصے سے ٹیلی گرام نہیں چل رہا تھا آج چلا ہے۔ اگر چلتا رہا تو ان شاءاللہ پوسٹس کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
اگر مجھ سے رابطہ کرنا چاہیں تو میرے وٹس اپ نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں
+923448461617
*التماس دعا!*
*سید سجاد حسین ھمدانی*
t.me/islamwitheman
پاکستان میں کافی عرصے سے ٹیلی گرام نہیں چل رہا تھا آج چلا ہے۔ اگر چلتا رہا تو ان شاءاللہ پوسٹس کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
اگر مجھ سے رابطہ کرنا چاہیں تو میرے وٹس اپ نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں
+923448461617
*التماس دعا!*
*سید سجاد حسین ھمدانی*
t.me/islamwitheman
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 فضیلت زینب عالیہؑ 🌹
حضرت زینبؑ فرماتی ھیں کہ حضرت رسولخداؐ نے فرمایا:
اگر کوئی عورت پانچ وقت کی نماز پڑھے، ماہ رمضان کے روزے رکھے اور اپنی آبرو کی حفاظت کرے اور اپنے شوھر کی اطاعت کرے تو اسے کہا جائے گا کہ جس دروازے سے چاہو جنت میں داخل ھو جاو۔(1)
💠 حضرت زينبؑ اہلبیت پیغمبرؐ کے درمیان عز و شرف، جاہ و حشم، فضائل و کمالات کے ایسے فلک الافلاک پر ہیں جن کو قلم و قرطاس اپنے اندر سمیٹنے سے عاجز ہے۔
🌹 امام سجاد علیہ السلام آپ کی شان والا صفات میں فرماتے ہیں:
أنتِ بِحَمدِ اللّهِ عالِمَةٌ غَيرُ مُعَلَّمَةٍ، فَهِمَةٌ غَيرُ مُفهَّمَةٍ۔
ترجمہ:
[اے زینب!] آپ بحمدالله ایسی عالمہ ہیں جس نے کسی معلم کے سامنے زانوئے ادب تہ نہیں کیا، اور ایسی دانا اور علم والی ہیں جس نے کسی سے سیکھا نہیں۔(2)
🌹 آپ کے مقام و منزلت کا یہ عالم کہ:
أنّ الحسين عليه السّلام كان إذا زارته زينب عليها السّلام يقوم إجلالا لها، و كان يجلسها في مكانه۔
ترجمہ:
جب جناب زینبؑ، امام حسینؑ کی زیارت کے لئے تشریف لاتی تھیں، امام حسینؑ آپ کی تعظیم میں کھڑے ہو جاتے تھے اور آپ کو اپنی جگہ پر بیٹھاتے تھے۔(3)
🌹آپ مفسر قرآن تھیں:
إنّ العقيلة زينبؑ كان لها مجلس خاصّ لتفسير القرآن الكريم تحضره النساء۔
ترجمہ:
جناب زینبؑ تفسیر قرآن مجید کے لئے خاص درس رکھتی تھیں جس میں خواتین شرکت کیا کرتی تھیں۔(4)
🌹 عفت و حیا:
یحیی المازنی کہتے ہیں:
كنت في جوار أمير المؤمنين عليه السّلام في المدينة مدّة مديدة، و بالقرب من البيت الّذي تسكنه زينب ابنته، فلا- و اللّه- ما رأيت لها شخصا، و لا سمعت لها صوتا.
و كانت إذا أرادت الخروج لزيارة جدّها رسول اللّه صلى اللّه عليه و آله و سلم تخرج ليلا، و الحسن عن يمينها، و الحسين عن شمالها، و أمير المؤمنين أمامها، فإذا قربت من القبر الشريف سبقها أمير المؤمنين عليه السّلام فأخمد ضوء القناديل، فسأله الحسن مرّة عن ذلك؟
فقال: أخشى أن ينظر أحد إلى شخص اختك زينب.
ترجمہ:
میں مدینہ میں کافی دنوں تک امیر المؤمنینؑ کے ہمسائے میں تھا، خدا کی قسم میں نے کبھی بھی نہ جناب زینبؑ کو دیکھا اور نہ ہی انکی آواز سنی۔ جب بھی وہ اپنے جد حضرت رسولخداؐ کی زیارت کا ارادہ کرتیں، رات کی تاریکی میں گھر سے نکلتیں، حسنؑ دائیں جانب اور حسینؑ بائیں جانب اور امیر المؤمنینؑ آگے آگے ہوتے۔ جب وہ قبر کے قریب پہونچتیں تو چراغ کی روشنی کم کر دیتے، امام حسنؑ نے ایک بار سوال کیا؟ تو امیرالمؤمنینؑ نے فرمایا: تاکہ تمہاری بہن زینب کو کوئی دیکھ نہ سکے۔(5)
🌹علامہ محسن امین لکھتے ہیں:
كانت زينبؑ من فضليات النساء. وفضلها أشهر من أن يذكر وأبين من أن يسطر.
وتعلم جلالة شانها وعلو مكانها وقوة حجتها ورجاحة عقلها وثبات جنانها وفصاحة لسانها وبلاغة مقالها حتى كأنها تفرع عن لسان أبيها أمير المؤمنينؑ من خطبها بالكوفة والشام واحتجاجها على يزيد وابن زياد بما فحمهما حتى لجا إلى سوء القول والشتم واظهار الشماتة والسباب الذي هو سلاح العاجز عن إقامة الحجة وليس عجيبا من زينب ان تكون كذلك وهي فرع من فروع الشجرة الطيبة النبوية والأرومة الهاشمية۔
ترجمہ:
حضرت زينبؑ، بافضيلت ترين خواتین میں سے تھیں ان کی فضیلت اس سے کہیں زیادہ شہرہ آفاق ہے کہ ذکر کیا جائے اور اس سے کہیں زیادہ واضح کہ سطروں میں لایا جا سکے۔
انکی عظمت و جلالت و منزلت، قوت استدلال، بلوغ عقل، ثبات قلب، فصاحت زبان، بلاغت بیان کا یہ عالم تھا کہ گویا کوفہ و شام میں اپنے بابا امیر المؤمنینؑ کے لہجے میں خطبہ دیا ہو۔ ابن زیاد اور یزید کے سامنے آپ کا احتجاج ایسا کہ ان کو خاموش کردیا یہانتک کہ وہ بدگوئی، سب و شتم گالی گلوج پر اتر آئے جو عاجز و لاچار اور دلیل نہ رکھنے والوں کا اسلحہ ہوا کرتا ہے۔
جناب زینبؑ سے یہ کوئی تعجب کہ بات نہیں جب کہ وہ شجر طیبہَ نبوت، اور نسل پاک ہاشمیہ کی ایک شاخ ہیں۔(6)
📚 حوالہ جات:
(1)زینب کبریؑ از ولادت تا شھادت ص 390۔
(2) الإحتجاج على أهل اللجاج (للطبرسي)، ج2، ص305؛ عوالم العلوم والمعارف والأحوال من الآيات و الأخبار والأقوال، ج17، ص370، الأخبار: الصحابة و التابعين۔
(3) عوالم العلوم، ج11، قسم 2، ص955۔
(4) عوالم العلوم، ج11، قسم 2، ص954۔
(5) عوالم العلوم، ج11، قسم 2، ص955۔
(6) أعيان الشيعة، السيد محسن الأمين، ج7، ص137.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت زینبؑ فرماتی ھیں کہ حضرت رسولخداؐ نے فرمایا:
اگر کوئی عورت پانچ وقت کی نماز پڑھے، ماہ رمضان کے روزے رکھے اور اپنی آبرو کی حفاظت کرے اور اپنے شوھر کی اطاعت کرے تو اسے کہا جائے گا کہ جس دروازے سے چاہو جنت میں داخل ھو جاو۔(1)
💠 حضرت زينبؑ اہلبیت پیغمبرؐ کے درمیان عز و شرف، جاہ و حشم، فضائل و کمالات کے ایسے فلک الافلاک پر ہیں جن کو قلم و قرطاس اپنے اندر سمیٹنے سے عاجز ہے۔
🌹 امام سجاد علیہ السلام آپ کی شان والا صفات میں فرماتے ہیں:
أنتِ بِحَمدِ اللّهِ عالِمَةٌ غَيرُ مُعَلَّمَةٍ، فَهِمَةٌ غَيرُ مُفهَّمَةٍ۔
ترجمہ:
[اے زینب!] آپ بحمدالله ایسی عالمہ ہیں جس نے کسی معلم کے سامنے زانوئے ادب تہ نہیں کیا، اور ایسی دانا اور علم والی ہیں جس نے کسی سے سیکھا نہیں۔(2)
🌹 آپ کے مقام و منزلت کا یہ عالم کہ:
أنّ الحسين عليه السّلام كان إذا زارته زينب عليها السّلام يقوم إجلالا لها، و كان يجلسها في مكانه۔
ترجمہ:
جب جناب زینبؑ، امام حسینؑ کی زیارت کے لئے تشریف لاتی تھیں، امام حسینؑ آپ کی تعظیم میں کھڑے ہو جاتے تھے اور آپ کو اپنی جگہ پر بیٹھاتے تھے۔(3)
🌹آپ مفسر قرآن تھیں:
إنّ العقيلة زينبؑ كان لها مجلس خاصّ لتفسير القرآن الكريم تحضره النساء۔
ترجمہ:
جناب زینبؑ تفسیر قرآن مجید کے لئے خاص درس رکھتی تھیں جس میں خواتین شرکت کیا کرتی تھیں۔(4)
🌹 عفت و حیا:
یحیی المازنی کہتے ہیں:
كنت في جوار أمير المؤمنين عليه السّلام في المدينة مدّة مديدة، و بالقرب من البيت الّذي تسكنه زينب ابنته، فلا- و اللّه- ما رأيت لها شخصا، و لا سمعت لها صوتا.
و كانت إذا أرادت الخروج لزيارة جدّها رسول اللّه صلى اللّه عليه و آله و سلم تخرج ليلا، و الحسن عن يمينها، و الحسين عن شمالها، و أمير المؤمنين أمامها، فإذا قربت من القبر الشريف سبقها أمير المؤمنين عليه السّلام فأخمد ضوء القناديل، فسأله الحسن مرّة عن ذلك؟
فقال: أخشى أن ينظر أحد إلى شخص اختك زينب.
ترجمہ:
میں مدینہ میں کافی دنوں تک امیر المؤمنینؑ کے ہمسائے میں تھا، خدا کی قسم میں نے کبھی بھی نہ جناب زینبؑ کو دیکھا اور نہ ہی انکی آواز سنی۔ جب بھی وہ اپنے جد حضرت رسولخداؐ کی زیارت کا ارادہ کرتیں، رات کی تاریکی میں گھر سے نکلتیں، حسنؑ دائیں جانب اور حسینؑ بائیں جانب اور امیر المؤمنینؑ آگے آگے ہوتے۔ جب وہ قبر کے قریب پہونچتیں تو چراغ کی روشنی کم کر دیتے، امام حسنؑ نے ایک بار سوال کیا؟ تو امیرالمؤمنینؑ نے فرمایا: تاکہ تمہاری بہن زینب کو کوئی دیکھ نہ سکے۔(5)
🌹علامہ محسن امین لکھتے ہیں:
كانت زينبؑ من فضليات النساء. وفضلها أشهر من أن يذكر وأبين من أن يسطر.
وتعلم جلالة شانها وعلو مكانها وقوة حجتها ورجاحة عقلها وثبات جنانها وفصاحة لسانها وبلاغة مقالها حتى كأنها تفرع عن لسان أبيها أمير المؤمنينؑ من خطبها بالكوفة والشام واحتجاجها على يزيد وابن زياد بما فحمهما حتى لجا إلى سوء القول والشتم واظهار الشماتة والسباب الذي هو سلاح العاجز عن إقامة الحجة وليس عجيبا من زينب ان تكون كذلك وهي فرع من فروع الشجرة الطيبة النبوية والأرومة الهاشمية۔
ترجمہ:
حضرت زينبؑ، بافضيلت ترين خواتین میں سے تھیں ان کی فضیلت اس سے کہیں زیادہ شہرہ آفاق ہے کہ ذکر کیا جائے اور اس سے کہیں زیادہ واضح کہ سطروں میں لایا جا سکے۔
انکی عظمت و جلالت و منزلت، قوت استدلال، بلوغ عقل، ثبات قلب، فصاحت زبان، بلاغت بیان کا یہ عالم تھا کہ گویا کوفہ و شام میں اپنے بابا امیر المؤمنینؑ کے لہجے میں خطبہ دیا ہو۔ ابن زیاد اور یزید کے سامنے آپ کا احتجاج ایسا کہ ان کو خاموش کردیا یہانتک کہ وہ بدگوئی، سب و شتم گالی گلوج پر اتر آئے جو عاجز و لاچار اور دلیل نہ رکھنے والوں کا اسلحہ ہوا کرتا ہے۔
جناب زینبؑ سے یہ کوئی تعجب کہ بات نہیں جب کہ وہ شجر طیبہَ نبوت، اور نسل پاک ہاشمیہ کی ایک شاخ ہیں۔(6)
📚 حوالہ جات:
(1)زینب کبریؑ از ولادت تا شھادت ص 390۔
(2) الإحتجاج على أهل اللجاج (للطبرسي)، ج2، ص305؛ عوالم العلوم والمعارف والأحوال من الآيات و الأخبار والأقوال، ج17، ص370، الأخبار: الصحابة و التابعين۔
(3) عوالم العلوم، ج11، قسم 2، ص955۔
(4) عوالم العلوم، ج11، قسم 2، ص954۔
(5) عوالم العلوم، ج11، قسم 2، ص955۔
(6) أعيان الشيعة، السيد محسن الأمين، ج7، ص137.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 شادی 🌹
■ خداوند تعالٰی فرماتا ہے:
وَانْکِحُوْا الایَامٰی مِنْکُمْ وَالصَّالِحِيْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَائِکُمْ۔
"اور غیرشادی شدہ مردوں اور عورتوں کی شادی کردو اور اسیطرح اپنی نیک کنیزوں اور غلاموں کو بھی بیاہ دو۔"
(سورہ نور:32)
■ رسول اکرمؐ نے فرمایا:
"من تزوج احرز نصف دینہ فلیتق الله فی النصف الآخر"
"جو کوئی شادی کر لے گا اس نے اپنا آدھا دین بچا لیا۔ پس آدھے دین کے بارے اللہ سے ڈرو۔"
(الکافی، 328/5)
■ شادی جہاد کے برابر
ایک نیک شخص کی بیوی بہت اچھی تھی۔ اسے بھی اپنی بیوی سے بہت محبت تھی۔ وہ اسکا بہت خیال رکھتا تھا۔ اچانک اس کی بیوی مر گئی۔ اس کے بعد دوستوں، عزیزوں نے بہت کہا کہ شادی کرلو۔ لیکن وہ نہ مانتا تھا۔ وہ کہتا: اب شادی نہیں کرونگا اور اکیلے ہی زندگی گزارونگا۔
کچھ دنوں بعد اچانک اسکی رائے بدل گئی اور اس نے اپنے دوستوں سے رشتہ تلاش کرنے کو کہا۔ سب نے اس تبدیلی کیوجہ جاننے کی کوشش کی تو اس نے بتایا جب میری بیوی کی وفات کو ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک دروازہ کھلا اور کچھ نورانی چہرے والے باہر آئے۔ پھر ایک دائرے میں گھومنے لگے۔ جب میرے پاس سے گزرتے تھے ایک کہتا: یہ منحوس ہے، پچھلے والا کہتا: ہاں ایسا ہی ہے۔
میں یہ منظر دیکھ کر ڈرگیا اور جرأت نہ کرسکا کہ کسی سے سوال کروں۔ پھر میں نے دیکھا سب سے آخر میں ایک شخص ہاتھ باندھے ان ہستیوں کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے۔ میں نے جرأت کرکے اس سے سوال کیا کہ یہ کسکو کہہ رہے ہیں اور کیوں ایسا کہہ رہے ہیں؟ اس نے جواب میں کہا: یہ سب تمھیں کہہ رہے ہیں۔ اسلئے کہ آج سے پہلے تک تمھارا شمار مجاہدین فی سبیل اللہ میں ہوتا تھا۔ لیکن ایک ہفتہ سے ہمیں بتایاگیا اب تمھارے کام ایسے ہوگئے ہیں کہ تمھارا شمار جہاد میں پیچھے رہ جانے والوں میں کیا جانے لگاہے۔ لیکن مجھے اسکی وجہ معلوم نہیں ہے۔
میں جب نیند سے جاگا تو میں نے اندازہ لگایا جب سے میں نے شادی سے انکار کرنا شروع کیاہے میرے اعمال کا ثواب کم ہوگیا ہے۔ اسلئے میں نے شادی کا فیصلہ کیاہے۔
(محجةالبیضاء، 71/3)
■ قاضی مروّ کی بیٹی
کہتے ہیں کہ مرو شہر کے قاضی نوح بن مریم جب اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے اپنے ایک مجوسی ہمسائے سے مشورہ کیا۔ اس مجوسی نے کہا: عجیب بات ہے لوگ تم سے رہنمائی لیتے ہیں اور تم مجھ سے پوچھ رہے ہو؟
قاضی نے کہا: ہاں تم سے مشورہ کررہا ہوں۔
مجوسی نے کہا: ہمارا رہبر کسریٰ کا مالک شادی کیلئے مال ودولت کو معیار بناتاتھا اور کسی مالدار کو اپنی بیٹی دیتاتھا۔ روم کا بادشاہ قیصر خاندان اور حسب ونسب کو اہمیت دیتاتھا۔ اسی کے مطابق شادی طے کرتاتھا۔ جبکہ تمھارا رہبر محمدؐ اپنے دین کو بنیاد قرار دیتاتھا۔ پس تم ان میں سے جسکو اپنا رہبر مانتے ہو اُسکے مطابق عمل کرو۔
(نمونہ معارف، 737/2۔ مستطرف، ص218)
■ نعمتِ عظمٰی
مولوی احمد کے بیٹے مولوی محمد صالح مازندرانی غربت کے عالم میں اصفہان میں تعلیم حاصل کرنے گئے۔ تنگدستی میں زندگی گزررہی تھی۔ گلی کوچوں میں لگی روشنیوں میں پڑھا کرتےتھے۔ کچھ وقت بعد وہ مولانا محمد تقی مجلسیؒ (علامہ باقر مجلسیؒ کے والد) کے درس میں شرکت کرنےلگے۔ تقی مجلسی ان کے استاد بن چکے تھے۔ ایک دن درس ختم ہونے کیبعد صالح کو بلایا اور کہا کہ کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں تمھارے لئے لڑکی دیکھوں اور اس سے تمھاری شادی کروا دوں؟ مولوی صالح کی طرف سے اجازت کیبعد وہ گھر گئے اور اپنی بیٹی آمنہ سے بات کی۔ آمنہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی تھی۔ تقی مجلسی نے کہا: تمھارے لئے ایک نیک لڑکا دیکھا ہے لیکن غریب لوگ ہیں کیا کہتی ہو؟
آمنہ بیگم نے جواب میں کہا: "غربت مردوں کا عیب اور برائی نہیں۔" اسکے ساتھ اس نے اپنی رضایت کا اظہار کردیا۔ تقی مجلسی نے اپنی بیٹی کی شادی مولوی صالح کے ساتھ کردی۔
شادی کیبعد مولوی صالح پہلی رات کتاب لئے بیٹھے تھے اور کسی مسئلے میں الجھے ہوئے تھے۔ نئی نویلی دلہن نے حالات کا جائزہ لیا اور مولوی صالح سے دریافت کیا کہ کسی مسئلہ میں الجھے ہیں؟ اور گفتگو کے دوران مسئلے کو حل کردیا۔ مولوی صالح نے جب دیکھا کہ انکی بیوی کسقدر علوم میں مہارت رکھتی ہیں تو وہ خدا کا شکر ادا کرنے کیلئے عبادت میں مشغول ہوگئے۔ تین دن بعد علامہ تقی نے دریافت کیا کہ اگر میری بیٹی میں کوئی نقص ہے تو میں تمھارے لئے کوئی اور لڑکی دیکھ لیتا ہوں؟
اسی پر مولوی صالح کہنے لگے نہیں ایسی بات نہیں میں تو صرف اس نعمتِ عظمٰی پر اپنے پروردگار کے شکر میں اتنا کھو گیا کہ اردگرد کے ماحول سے غافل ہوگیا۔ میں اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرسکتا۔ علامہ تقی مجلسیؒ نےکہا: "خداوند تعالٰی کے شکر کو ادا نہ کرسکنے کا اقرار بندوں کیلئے شکرگزاری کی اعلیٰ منازل ہیں۔
(نظام خانوادہ در اسلام، ص142)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚 نقل از سو موضوع پانچ سو داستان، جلد2، ص26 تا 29۔
http://t.me/islamwitheman/1685
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
■ خداوند تعالٰی فرماتا ہے:
وَانْکِحُوْا الایَامٰی مِنْکُمْ وَالصَّالِحِيْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَائِکُمْ۔
"اور غیرشادی شدہ مردوں اور عورتوں کی شادی کردو اور اسیطرح اپنی نیک کنیزوں اور غلاموں کو بھی بیاہ دو۔"
(سورہ نور:32)
■ رسول اکرمؐ نے فرمایا:
"من تزوج احرز نصف دینہ فلیتق الله فی النصف الآخر"
"جو کوئی شادی کر لے گا اس نے اپنا آدھا دین بچا لیا۔ پس آدھے دین کے بارے اللہ سے ڈرو۔"
(الکافی، 328/5)
■ شادی جہاد کے برابر
ایک نیک شخص کی بیوی بہت اچھی تھی۔ اسے بھی اپنی بیوی سے بہت محبت تھی۔ وہ اسکا بہت خیال رکھتا تھا۔ اچانک اس کی بیوی مر گئی۔ اس کے بعد دوستوں، عزیزوں نے بہت کہا کہ شادی کرلو۔ لیکن وہ نہ مانتا تھا۔ وہ کہتا: اب شادی نہیں کرونگا اور اکیلے ہی زندگی گزارونگا۔
کچھ دنوں بعد اچانک اسکی رائے بدل گئی اور اس نے اپنے دوستوں سے رشتہ تلاش کرنے کو کہا۔ سب نے اس تبدیلی کیوجہ جاننے کی کوشش کی تو اس نے بتایا جب میری بیوی کی وفات کو ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک دروازہ کھلا اور کچھ نورانی چہرے والے باہر آئے۔ پھر ایک دائرے میں گھومنے لگے۔ جب میرے پاس سے گزرتے تھے ایک کہتا: یہ منحوس ہے، پچھلے والا کہتا: ہاں ایسا ہی ہے۔
میں یہ منظر دیکھ کر ڈرگیا اور جرأت نہ کرسکا کہ کسی سے سوال کروں۔ پھر میں نے دیکھا سب سے آخر میں ایک شخص ہاتھ باندھے ان ہستیوں کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے۔ میں نے جرأت کرکے اس سے سوال کیا کہ یہ کسکو کہہ رہے ہیں اور کیوں ایسا کہہ رہے ہیں؟ اس نے جواب میں کہا: یہ سب تمھیں کہہ رہے ہیں۔ اسلئے کہ آج سے پہلے تک تمھارا شمار مجاہدین فی سبیل اللہ میں ہوتا تھا۔ لیکن ایک ہفتہ سے ہمیں بتایاگیا اب تمھارے کام ایسے ہوگئے ہیں کہ تمھارا شمار جہاد میں پیچھے رہ جانے والوں میں کیا جانے لگاہے۔ لیکن مجھے اسکی وجہ معلوم نہیں ہے۔
میں جب نیند سے جاگا تو میں نے اندازہ لگایا جب سے میں نے شادی سے انکار کرنا شروع کیاہے میرے اعمال کا ثواب کم ہوگیا ہے۔ اسلئے میں نے شادی کا فیصلہ کیاہے۔
(محجةالبیضاء، 71/3)
■ قاضی مروّ کی بیٹی
کہتے ہیں کہ مرو شہر کے قاضی نوح بن مریم جب اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے اپنے ایک مجوسی ہمسائے سے مشورہ کیا۔ اس مجوسی نے کہا: عجیب بات ہے لوگ تم سے رہنمائی لیتے ہیں اور تم مجھ سے پوچھ رہے ہو؟
قاضی نے کہا: ہاں تم سے مشورہ کررہا ہوں۔
مجوسی نے کہا: ہمارا رہبر کسریٰ کا مالک شادی کیلئے مال ودولت کو معیار بناتاتھا اور کسی مالدار کو اپنی بیٹی دیتاتھا۔ روم کا بادشاہ قیصر خاندان اور حسب ونسب کو اہمیت دیتاتھا۔ اسی کے مطابق شادی طے کرتاتھا۔ جبکہ تمھارا رہبر محمدؐ اپنے دین کو بنیاد قرار دیتاتھا۔ پس تم ان میں سے جسکو اپنا رہبر مانتے ہو اُسکے مطابق عمل کرو۔
(نمونہ معارف، 737/2۔ مستطرف، ص218)
■ نعمتِ عظمٰی
مولوی احمد کے بیٹے مولوی محمد صالح مازندرانی غربت کے عالم میں اصفہان میں تعلیم حاصل کرنے گئے۔ تنگدستی میں زندگی گزررہی تھی۔ گلی کوچوں میں لگی روشنیوں میں پڑھا کرتےتھے۔ کچھ وقت بعد وہ مولانا محمد تقی مجلسیؒ (علامہ باقر مجلسیؒ کے والد) کے درس میں شرکت کرنےلگے۔ تقی مجلسی ان کے استاد بن چکے تھے۔ ایک دن درس ختم ہونے کیبعد صالح کو بلایا اور کہا کہ کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں تمھارے لئے لڑکی دیکھوں اور اس سے تمھاری شادی کروا دوں؟ مولوی صالح کی طرف سے اجازت کیبعد وہ گھر گئے اور اپنی بیٹی آمنہ سے بات کی۔ آمنہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی تھی۔ تقی مجلسی نے کہا: تمھارے لئے ایک نیک لڑکا دیکھا ہے لیکن غریب لوگ ہیں کیا کہتی ہو؟
آمنہ بیگم نے جواب میں کہا: "غربت مردوں کا عیب اور برائی نہیں۔" اسکے ساتھ اس نے اپنی رضایت کا اظہار کردیا۔ تقی مجلسی نے اپنی بیٹی کی شادی مولوی صالح کے ساتھ کردی۔
شادی کیبعد مولوی صالح پہلی رات کتاب لئے بیٹھے تھے اور کسی مسئلے میں الجھے ہوئے تھے۔ نئی نویلی دلہن نے حالات کا جائزہ لیا اور مولوی صالح سے دریافت کیا کہ کسی مسئلہ میں الجھے ہیں؟ اور گفتگو کے دوران مسئلے کو حل کردیا۔ مولوی صالح نے جب دیکھا کہ انکی بیوی کسقدر علوم میں مہارت رکھتی ہیں تو وہ خدا کا شکر ادا کرنے کیلئے عبادت میں مشغول ہوگئے۔ تین دن بعد علامہ تقی نے دریافت کیا کہ اگر میری بیٹی میں کوئی نقص ہے تو میں تمھارے لئے کوئی اور لڑکی دیکھ لیتا ہوں؟
اسی پر مولوی صالح کہنے لگے نہیں ایسی بات نہیں میں تو صرف اس نعمتِ عظمٰی پر اپنے پروردگار کے شکر میں اتنا کھو گیا کہ اردگرد کے ماحول سے غافل ہوگیا۔ میں اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرسکتا۔ علامہ تقی مجلسیؒ نےکہا: "خداوند تعالٰی کے شکر کو ادا نہ کرسکنے کا اقرار بندوں کیلئے شکرگزاری کی اعلیٰ منازل ہیں۔
(نظام خانوادہ در اسلام، ص142)
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚 نقل از سو موضوع پانچ سو داستان، جلد2، ص26 تا 29۔
http://t.me/islamwitheman/1685
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌸 غسل کے احکام 🌸
🔸 غسل ارتماسی یا غسل ترتیبی میں غسل سے پہلے سارے جسم کا پاک ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ اگر پانی میں غوطہ لگانے یا غسل کے ارادے سے پانی بدن پر ڈالنے سے بدن پاک ہو جائے تو غسل صحیح ہوگا۔
🔸 غسل میں بال برابر بدن بھی اگر ان دھلا رہ جائے تو غسل…
🔸 غسل ارتماسی یا غسل ترتیبی میں غسل سے پہلے سارے جسم کا پاک ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ اگر پانی میں غوطہ لگانے یا غسل کے ارادے سے پانی بدن پر ڈالنے سے بدن پاک ہو جائے تو غسل صحیح ہوگا۔
🔸 غسل میں بال برابر بدن بھی اگر ان دھلا رہ جائے تو غسل…
👹 شیطان کے اہم پانچ ساتھی 👹
ابلیس کا اصلی نام عزازیل ہے۔ ابلیس کی کنیت ابو قیتر یعنی تکبر کا باپ ہے۔ ابلیس کے لفظی معنی "انتہائی مایوس" کے ہیں اصلاحاً یہ اس جن کا نام ہے جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کر کے آدم علیہ السلام اور بنی آدم علیہ السلام کے لیے مطیع و مستخر ہونے سے انکار کر دیا۔
ابلیس کو انسان پر کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ زبردستی اسے کھینچ کر اپنی راہ پر لے جائے۔ وہ صرف بہلانے پھسلانے سے کام لے سکتا ہے۔ شیطان کے پانچ اہم ساتھی ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں۔۔
1= ثبر
اس کے اختیار میں مصیبتوں کا کاروبار ہے۔ جس میں لوگ ہائے واویلا کرتے ہیں۔ اور گریباں پھاڑتے ہیں منہ پر طمانچے مارتے ہیں اور جاہلیت کے نعرے لگاتے ہیں۔
2= اعور
یہ لوگوں کو بدی کا مرتکب کرتا ہے اور اسے ان پر اچھا اور پسندیدہ کر کے دکھاتا ہے۔
3= مسوط
یہ کذب اور دروغ پر مامور ہے۔ جسے لوگ کان لگا کر سنں۔ یہ انسانوں کی شکل اپنا کر ان سے ملتا ہے۔ اور انہیں فساد برپا کرنے کی جھوٹی خبریں سناتا ہے۔
4= داسم
یہ آدمی کے ساتھ گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر والوں کے عیب دکھاتا ہے۔ اور ان پر غضب ناک کرتا ہے۔
5= زکنیور
یہ بازاروں کا مختار ہے۔ بازاروں میں آکر یہ قسم قعم کیبدی اور بددیانتی کے جھنڈے گاڑتا ہے۔
📚 غنیۃ الطالبین
________________________
👈 ابلیس کے بارے مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
👹 عزازيل سے ابلیس تک
https://t.me/islamwitheman/75
👹 غلبۂ ابلیس
http://t.me/islamwitheman/228
👀 شیطان اور آنکھیں
http://t.me/islamwitheman/246
🌷 شیطان کا وار اور خوف خدا
https://t.me/islamwitheman/424
👹 ماۂ رمضان میں شیطان کی قید
http://t.me/islamwitheman/934
👹 شیطان کے پھندے
http://t.me/islamwitheman/1141
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ابلیس کا اصلی نام عزازیل ہے۔ ابلیس کی کنیت ابو قیتر یعنی تکبر کا باپ ہے۔ ابلیس کے لفظی معنی "انتہائی مایوس" کے ہیں اصلاحاً یہ اس جن کا نام ہے جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کر کے آدم علیہ السلام اور بنی آدم علیہ السلام کے لیے مطیع و مستخر ہونے سے انکار کر دیا۔
ابلیس کو انسان پر کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ زبردستی اسے کھینچ کر اپنی راہ پر لے جائے۔ وہ صرف بہلانے پھسلانے سے کام لے سکتا ہے۔ شیطان کے پانچ اہم ساتھی ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں۔۔
1= ثبر
اس کے اختیار میں مصیبتوں کا کاروبار ہے۔ جس میں لوگ ہائے واویلا کرتے ہیں۔ اور گریباں پھاڑتے ہیں منہ پر طمانچے مارتے ہیں اور جاہلیت کے نعرے لگاتے ہیں۔
2= اعور
یہ لوگوں کو بدی کا مرتکب کرتا ہے اور اسے ان پر اچھا اور پسندیدہ کر کے دکھاتا ہے۔
3= مسوط
یہ کذب اور دروغ پر مامور ہے۔ جسے لوگ کان لگا کر سنں۔ یہ انسانوں کی شکل اپنا کر ان سے ملتا ہے۔ اور انہیں فساد برپا کرنے کی جھوٹی خبریں سناتا ہے۔
4= داسم
یہ آدمی کے ساتھ گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر والوں کے عیب دکھاتا ہے۔ اور ان پر غضب ناک کرتا ہے۔
5= زکنیور
یہ بازاروں کا مختار ہے۔ بازاروں میں آکر یہ قسم قعم کیبدی اور بددیانتی کے جھنڈے گاڑتا ہے۔
📚 غنیۃ الطالبین
________________________
👈 ابلیس کے بارے مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
👹 عزازيل سے ابلیس تک
https://t.me/islamwitheman/75
👹 غلبۂ ابلیس
http://t.me/islamwitheman/228
👀 شیطان اور آنکھیں
http://t.me/islamwitheman/246
🌷 شیطان کا وار اور خوف خدا
https://t.me/islamwitheman/424
👹 ماۂ رمضان میں شیطان کی قید
http://t.me/islamwitheman/934
👹 شیطان کے پھندے
http://t.me/islamwitheman/1141
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
👹 عزازیل سے ابلیس تک 👹
ابلیس جس کو شیطان کہا جاتا ہے۔ یہ فرشتہ نہیں تھا بلکہ جن تھا جو آگ سے پیدا ہوا تھا۔ لیکن یہ فرشتوں کے ساتھ ملا جلا رہتا تھا اور دربارِ خداوندی میں بہت مقرب اور بڑے بڑے بلند درجات ومراتب سے سرفراز تھا۔
تفاسیر میں ہے کہ ابلیس سب سے پہلے…
ابلیس جس کو شیطان کہا جاتا ہے۔ یہ فرشتہ نہیں تھا بلکہ جن تھا جو آگ سے پیدا ہوا تھا۔ لیکن یہ فرشتوں کے ساتھ ملا جلا رہتا تھا اور دربارِ خداوندی میں بہت مقرب اور بڑے بڑے بلند درجات ومراتب سے سرفراز تھا۔
تفاسیر میں ہے کہ ابلیس سب سے پہلے…
🌙 چاند گرہن 🌙
چاند گرہن 31جنوری 2018 (بروز بدھ)
شام 3:51 (آغاز)
رات 6:09 (عروج)
رات 9:08 (اختتام)
اس چاند میں ایسی 3 تین خوبیاں ہوں گی۔۔۔ کہ دیکھ کر ہر کوئی دنگ رہ جائے گا۔
31جنوری کو چودھویں کے چاند میں 3 خوبیاں ہوں گی، انہوں نے کہا کہ چاند زمین سے قریب ہو اور چودھویں کا چاند ہو تو سپرمون کہلاتا ہے، سپرمون عام چودھویں کے چاند سے 14 فیصد بڑا 30 فیصد زیادہ روشن ہوتا ہے اور اگر چاند کو پورا گرہن لگے تو ایسا چاند سپر بلڈ مون کہلاتا ہے، سپر بلڈ مون میں چاند سرخی مائل نارنجی نظرآتا ہے۔
ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ چاند گرہن پاکستانی وقت کے مطابق 3 بج کر 51 منٹ پر شروع ہو گا، جیسے ہی پاکستان میں چاندنظر آئے گا، گرہن لگا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں سپر بلڈمون 6 بجکر 12 منٹ پر گرہن لگا نظر آئے گا، اسلام آباد میں شام 5 بجکر 32 منٹ پر گرہن لگا سپر بلڈمون نظرآئے گا۔ عبدالرشید کا کہنا تھا کہ مکمل چاند گرہن 5 بجکر 52 منٹ سے شروع ہوگا، ملک بھر میں چاند کا گرہن رات 9 بجکر 8 منٹ پرختم ہوجائے گا۔
http://t.me/islamwitheman/1270
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
چاند گرہن 31جنوری 2018 (بروز بدھ)
شام 3:51 (آغاز)
رات 6:09 (عروج)
رات 9:08 (اختتام)
اس چاند میں ایسی 3 تین خوبیاں ہوں گی۔۔۔ کہ دیکھ کر ہر کوئی دنگ رہ جائے گا۔
31جنوری کو چودھویں کے چاند میں 3 خوبیاں ہوں گی، انہوں نے کہا کہ چاند زمین سے قریب ہو اور چودھویں کا چاند ہو تو سپرمون کہلاتا ہے، سپرمون عام چودھویں کے چاند سے 14 فیصد بڑا 30 فیصد زیادہ روشن ہوتا ہے اور اگر چاند کو پورا گرہن لگے تو ایسا چاند سپر بلڈ مون کہلاتا ہے، سپر بلڈ مون میں چاند سرخی مائل نارنجی نظرآتا ہے۔
ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ چاند گرہن پاکستانی وقت کے مطابق 3 بج کر 51 منٹ پر شروع ہو گا، جیسے ہی پاکستان میں چاندنظر آئے گا، گرہن لگا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں سپر بلڈمون 6 بجکر 12 منٹ پر گرہن لگا نظر آئے گا، اسلام آباد میں شام 5 بجکر 32 منٹ پر گرہن لگا سپر بلڈمون نظرآئے گا۔ عبدالرشید کا کہنا تھا کہ مکمل چاند گرہن 5 بجکر 52 منٹ سے شروع ہوگا، ملک بھر میں چاند کا گرہن رات 9 بجکر 8 منٹ پرختم ہوجائے گا۔
http://t.me/islamwitheman/1270
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🕌 نماز آیات 🕌
نماز آیات تین چیزوں کی وجہ سے واجب ہوتی ہے۔۔۔
1) سورج گرہن
2) چاند گرہن، اگرچہ اس کے کچھ حصے کوہی گرہن لگے اور خواہ انسان پر اس کی وجہ سے خوف بھی طاری نہ ہوا ہو۔
3) زلزلہ، احتیاط واجب کی بنا پر، اگرچہ اس سے کوئی بھی خوف زدہ نہ ہوا ہو۔…
نماز آیات تین چیزوں کی وجہ سے واجب ہوتی ہے۔۔۔
1) سورج گرہن
2) چاند گرہن، اگرچہ اس کے کچھ حصے کوہی گرہن لگے اور خواہ انسان پر اس کی وجہ سے خوف بھی طاری نہ ہوا ہو۔
3) زلزلہ، احتیاط واجب کی بنا پر، اگرچہ اس سے کوئی بھی خوف زدہ نہ ہوا ہو۔…
◾️شہادتِ زھراءؑ پر حضرت علیؑ کا غم◾️
▪️ سیّدۃ النساء حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا:
🌑 انا للہ و انا الیہ راجعون 🌑
🍁اب یہ امانت پلٹا لی گئی۔ گروی رکھی ہو ئی چیز چھڑالی گئی۔
لیکن میرا غم بے پایاں اور میری راتیں بے خواب رہیں گی۔
یہاں تک کہ خداوند عالم میرے لئے بھی اسی گھر کو منتخب کرے جس میں آپ رونق افروز ہیں۔
✅وہ وقت آگیا کہ
آپ کی بیٹی آپ کو بتائیں کہ کس طرح آپ کی امت نے
ان پر ظلم ڈھانے کے لئے ایکا کرلیا۔
آپ ان سے پورے طور پر پوچھیں اور تمام احوال و وار دات دریافت کریں۔
یہ ساری مصیبتیں ان پر بیت گئیں۔
🍁حالانکہ آپ کو گزرے ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہو اتھا اور نہ آپ کے تذکروں سے زبانیں بند ہوئی تھیں۔
آپ دونوں پر میرسلامِ رخصتی ہو۔
📚نہج البلاغہ خطبہ (۲۰۰)
________________________
👈دختر رسول فاطمةالزھراءؑ کے بارے میں پوسٹس۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/432
⚫ شہادت بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/305
https://t.me/islamwitheman/304
🔶 بوقتِ دفن بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/306
🔶 دخترِ رسول (ص)
https://t.me/islamwitheman/312
🔶 وصیت حضرت فاطمةالزھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/313
🌹 بیبی زھراءؑ کے ہار کی برکتیں
https://t.me/islamwitheman/314
🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318
⚫ حضرت فاطمةالزھراءؑ کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/319
🌺 ولادت باسعادت حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/431
🌹 فضیلت سیدہ فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/436
🌹 حضرت فاطمہؑ کا نام گرامی
https://t.me/islamwitheman/437
🌟 اُمُّ اَبِیھا
https://t.me/islamwitheman/446
🌷 فضائل حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/449
🌹 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ
http://t.me/islamwitheman/1343
🌷 نور کی نور سے شادی
http://t.me/islamwitheman/1344
🌹 خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ
http://t.me/islamwitheman/1345
💐 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز
http://t.me/islamwitheman/1346
⚪ سیدہ زھراءؑ کی رخصتی مبارک
http://t.me/islamwitheman/1437
💝 حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی
http://t.me/islamwitheman/1439
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
▪️ سیّدۃ النساء حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا:
🌑 انا للہ و انا الیہ راجعون 🌑
🍁اب یہ امانت پلٹا لی گئی۔ گروی رکھی ہو ئی چیز چھڑالی گئی۔
لیکن میرا غم بے پایاں اور میری راتیں بے خواب رہیں گی۔
یہاں تک کہ خداوند عالم میرے لئے بھی اسی گھر کو منتخب کرے جس میں آپ رونق افروز ہیں۔
✅وہ وقت آگیا کہ
آپ کی بیٹی آپ کو بتائیں کہ کس طرح آپ کی امت نے
ان پر ظلم ڈھانے کے لئے ایکا کرلیا۔
آپ ان سے پورے طور پر پوچھیں اور تمام احوال و وار دات دریافت کریں۔
یہ ساری مصیبتیں ان پر بیت گئیں۔
🍁حالانکہ آپ کو گزرے ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہو اتھا اور نہ آپ کے تذکروں سے زبانیں بند ہوئی تھیں۔
آپ دونوں پر میرسلامِ رخصتی ہو۔
📚نہج البلاغہ خطبہ (۲۰۰)
________________________
👈دختر رسول فاطمةالزھراءؑ کے بارے میں پوسٹس۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/432
⚫ شہادت بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/305
https://t.me/islamwitheman/304
🔶 بوقتِ دفن بیبی زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/306
🔶 دخترِ رسول (ص)
https://t.me/islamwitheman/312
🔶 وصیت حضرت فاطمةالزھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/313
🌹 بیبی زھراءؑ کے ہار کی برکتیں
https://t.me/islamwitheman/314
🌹 زیارت جناب سیدہ زھراءؑ
https://t.me/islamwitheman/318
⚫ حضرت فاطمةالزھراءؑ کی شہادت
https://t.me/islamwitheman/319
🌺 ولادت باسعادت حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/431
🌹 فضیلت سیدہ فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/436
🌹 حضرت فاطمہؑ کا نام گرامی
https://t.me/islamwitheman/437
🌟 اُمُّ اَبِیھا
https://t.me/islamwitheman/446
🌷 فضائل حضرت فاطمہؑ
https://t.me/islamwitheman/449
🌹 عقد حضرت علیؑ و سیدہ زہراءؑ
http://t.me/islamwitheman/1343
🌷 نور کی نور سے شادی
http://t.me/islamwitheman/1344
🌹 خطبۂ عقد حضرت علیؑ و زھراءؑ
http://t.me/islamwitheman/1345
💐 سیدہ زھراءؑ کا حق مہر اور جہیز
http://t.me/islamwitheman/1346
⚪ سیدہ زھراءؑ کی رخصتی مبارک
http://t.me/islamwitheman/1437
💝 حضرت علیؑ و فاطمہؑ کی شادی
http://t.me/islamwitheman/1439
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
رسولِخداؐ نے فرمایا:
میں، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ اور ان کے نو فرزند خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں. ہمارے دشمن خدا کے دشمن اور ہمارے دوست خدا کے دوست ہیں. (بشارةالمصطفیٰ،ص:24)
میں، علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ اور ان کے نو فرزند خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں. ہمارے دشمن خدا کے دشمن اور ہمارے دوست خدا کے دوست ہیں. (بشارةالمصطفیٰ،ص:24)
⛤ ماں، باپ کیساتھ سلوک ⛤
ایک لڑکی کی شادی ہوئی شادی کی پہلی رات دولہا کھانے کا بڑا سارا تھال لئے کمرے میں داخل ہوا کھانے سے بڑی اشتھا انگیز خوشبو آ رہی تھی کہنے لگا
آؤ کھانا کھاتے ہیں۔
بیوی بولی میں نے دیکھا ہے تماری ماں نے بھی نہیں کھایا ان کو بھی بلا لو پھر مل کر کھاتے ہیں۔
کہنے لگا وہ سوگئی ہوگی، چھوڑو ہم دونوں کھاتے ہیں۔
بیوی اسرار کرتی رہی پر وہ اسی بات پر مصر رہا۔
جب اس نے شوہر کا رویہ دیکھا تو طلاق کا مطالبہ کردیا۔
شوہر اسکے مطالبے پر بہت حیران ہوا لیکن وہ اپنی بات پہ ڈٹی رہی یہاں تک کہ طلاق ہو گئی۔
دونوں الگ ہو گئے پھر دونوں نے دوسری شادیاں کرلیں 30 سال گزرے گئے عورت کے بیٹے ہوئے بہت محبت کرنے والے بہت آسودہ حال تھی وہ۔
اس نے ارادہ کیا کہ حج کرنا چاہیے سفر کے دوران بیٹے اس سےکسی ملکہ کی طرح پیش آرہے تھے۔
پاؤں زمین پر لگنے نہ دیتے تھے۔ صحرائی سفر تھا۔
راستے میں ایک آدمی پر نظر پڑی بہت بری حالت میں بھوکا پیاسہ بال کھچڑی کپڑے پرانے بیٹوں سے کہنے لگی اسے اٹھاؤ، ہاتھ منہ دھلا کر کھانا کھلاؤ؛ پلاؤ۔
جب اس پر نظر پڑی تو جان گئی وہ اسکا پہلا شوہر تھا۔
کہنے لگی یہ کیا کیا وقت نے تمارے ساتھ۔ بولا میری اولاد نے میرے ساتھ بھلائی نہیں کی۔ کہنے لگی کیوں کرتی کہ تم نے والدین کہ ساتھ برا سلوک کیا۔ میں اسی دن جان گئی تھی کہ تم ماں باپ کے حقوق ادا نہیں کرتے۔
اسی لئے میں ڈر گئی کہ کل کو میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔ یہ دیکھو آج میں کہاں ہوں اور تم کہاں۔
ماں باپ کہ ساتھ برا سلوک اللہ کی نافرمانی ہے جس قِسم کا بڑھاپا ہم گزارنا چاہتے ہیں وہی اپنے والدین کا گزارنے میں مدد کرنی چاہئے کیونکہ یہ ایسا عمل ہے کہ جس کا بدلہ دنیا میں ہی دیدیا جاتا ہے خواہ اچھا ہو خواہ برا۔
"عربی حکایت کا اردو ترجمہ"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ماں، باپ کے بارے میں مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ
https://t.me/islamwitheman/652
🔴 ماں کی ناراضگی کا اثر
https://t.me/islamwitheman/331
🔴 عمل کا ردعمل
https://t.me/islamwitheman/333
🔵 اولڈ ایج ہوم
https://t.me/islamwitheman/97
🔵 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔵 ماں اور باپ
https://t.me/islamwitheman/330
🔵 سیب کا درخت
https://t.me/islamwitheman/162
🔵 باپ کے جذبات
https://t.me/islamwitheman/58
🔵 باپ ٹھنڈی چھاؤں
https://t.me/islamwitheman/96
🔵 باپ کی پشت پناہی
https://t.me/islamwitheman/332
🔵 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
https://t.me/islamwitheman/117
🌴 شفقت پدری
https://t.me/islamwitheman/770
☔ والدین اور رحمت خداوندی
https://t.me/islamwitheman/1038
🌴یہ بابے ویلے نہیں ہوتے🌴
https://t.me/islamwitheman/1039
🌹میری بیٹی میرا غرور ہے۔
https://t.me/islamwitheman/1149
🌹ماں کی مامتا
https://t.me/islamwitheman/1204
🔷ماں کی خدمت
https://t.me/islamwitheman/1212
👁ماں کی قربانی
https://t.me/islamwitheman/1225
🔷 والدین کی قدر کرو
https://t.me/islamwitheman/1476
⛤ ماں، باپ کیساتھ سلوک
https://t.me/islamwitheman/1799
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
ایک لڑکی کی شادی ہوئی شادی کی پہلی رات دولہا کھانے کا بڑا سارا تھال لئے کمرے میں داخل ہوا کھانے سے بڑی اشتھا انگیز خوشبو آ رہی تھی کہنے لگا
آؤ کھانا کھاتے ہیں۔
بیوی بولی میں نے دیکھا ہے تماری ماں نے بھی نہیں کھایا ان کو بھی بلا لو پھر مل کر کھاتے ہیں۔
کہنے لگا وہ سوگئی ہوگی، چھوڑو ہم دونوں کھاتے ہیں۔
بیوی اسرار کرتی رہی پر وہ اسی بات پر مصر رہا۔
جب اس نے شوہر کا رویہ دیکھا تو طلاق کا مطالبہ کردیا۔
شوہر اسکے مطالبے پر بہت حیران ہوا لیکن وہ اپنی بات پہ ڈٹی رہی یہاں تک کہ طلاق ہو گئی۔
دونوں الگ ہو گئے پھر دونوں نے دوسری شادیاں کرلیں 30 سال گزرے گئے عورت کے بیٹے ہوئے بہت محبت کرنے والے بہت آسودہ حال تھی وہ۔
اس نے ارادہ کیا کہ حج کرنا چاہیے سفر کے دوران بیٹے اس سےکسی ملکہ کی طرح پیش آرہے تھے۔
پاؤں زمین پر لگنے نہ دیتے تھے۔ صحرائی سفر تھا۔
راستے میں ایک آدمی پر نظر پڑی بہت بری حالت میں بھوکا پیاسہ بال کھچڑی کپڑے پرانے بیٹوں سے کہنے لگی اسے اٹھاؤ، ہاتھ منہ دھلا کر کھانا کھلاؤ؛ پلاؤ۔
جب اس پر نظر پڑی تو جان گئی وہ اسکا پہلا شوہر تھا۔
کہنے لگی یہ کیا کیا وقت نے تمارے ساتھ۔ بولا میری اولاد نے میرے ساتھ بھلائی نہیں کی۔ کہنے لگی کیوں کرتی کہ تم نے والدین کہ ساتھ برا سلوک کیا۔ میں اسی دن جان گئی تھی کہ تم ماں باپ کے حقوق ادا نہیں کرتے۔
اسی لئے میں ڈر گئی کہ کل کو میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔ یہ دیکھو آج میں کہاں ہوں اور تم کہاں۔
ماں باپ کہ ساتھ برا سلوک اللہ کی نافرمانی ہے جس قِسم کا بڑھاپا ہم گزارنا چاہتے ہیں وہی اپنے والدین کا گزارنے میں مدد کرنی چاہئے کیونکہ یہ ایسا عمل ہے کہ جس کا بدلہ دنیا میں ہی دیدیا جاتا ہے خواہ اچھا ہو خواہ برا۔
"عربی حکایت کا اردو ترجمہ"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ماں، باپ کے بارے میں مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ
https://t.me/islamwitheman/652
🔴 ماں کی ناراضگی کا اثر
https://t.me/islamwitheman/331
🔴 عمل کا ردعمل
https://t.me/islamwitheman/333
🔵 اولڈ ایج ہوم
https://t.me/islamwitheman/97
🔵 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔵 ماں اور باپ
https://t.me/islamwitheman/330
🔵 سیب کا درخت
https://t.me/islamwitheman/162
🔵 باپ کے جذبات
https://t.me/islamwitheman/58
🔵 باپ ٹھنڈی چھاؤں
https://t.me/islamwitheman/96
🔵 باپ کی پشت پناہی
https://t.me/islamwitheman/332
🔵 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
https://t.me/islamwitheman/117
🌴 شفقت پدری
https://t.me/islamwitheman/770
☔ والدین اور رحمت خداوندی
https://t.me/islamwitheman/1038
🌴یہ بابے ویلے نہیں ہوتے🌴
https://t.me/islamwitheman/1039
🌹میری بیٹی میرا غرور ہے۔
https://t.me/islamwitheman/1149
🌹ماں کی مامتا
https://t.me/islamwitheman/1204
🔷ماں کی خدمت
https://t.me/islamwitheman/1212
👁ماں کی قربانی
https://t.me/islamwitheman/1225
🔷 والدین کی قدر کرو
https://t.me/islamwitheman/1476
⛤ ماں، باپ کیساتھ سلوک
https://t.me/islamwitheman/1799
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ💓
حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ…
حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ…
🌹 اصل یارو مددگار 🌹
اللہ تعالٰی نے حضرت عزرائیلؑ سے پوچھا؟
کیا کسی کی جان لیتے وقت کبھی گریہ کیا ہے؟
حضرت ﻋﺰﺭﺍﺋﯿﻞؑ نےجواب دیا:
ایک مرتبہ ہنسا ہوں،
ایک مرتبہ گریہ کیا ہے،
اور ایک مرتبہ ڈرا ہوں۔
میں اس وقت ہنسا جب تو نے مجھے حکم دیا فلاں مرد کی روح قبض کرو جو اس وقت جوتے مرمت کروا رہا تھا اور دکان والے کو کہہ رہا تھا کہ میرے جوتے ایسے بناؤ کہ ایک سال تک کام کرتے رہیں، اس کے حال پر ہنسا۔
اور میں نے اس کی جان لے لی۔
میں نے گریہ اس وقت کیا کہ تو نے مجھے دستور دیا فلاں عورت کی روح قبض کروں جبکہ وہ بیاباں میں گرم ہوا اور بے آب و گیاہ تھی اور بچہ جننے کی حالت میں تھی. اس کے انتظار میں رہا تاکہ بچے کو جنم دے سکے. پھر اس کے بعد میں نے اس کی روح قبض کی. میرا دل اس معصوم کے لئے بہت بے تاب ہوا جو سخت گرمی اور بیاباں میں جل رہا تھا۔ اور میں نے گریہ کیا۔
میں اس وقت ڈرا کہ جب مجھے تو نے حکم دیا کہ ایک فقہی کی جان لو جبکہ اس کے کمرے سے بہت نور آرہا تھا اور جتنا میں اس کے بستر کے قریب تر ہو رہا تھا نور زیادہ ہورہا تھا اور جب میں نے اس کی روح قبض کر لی تو اس کے چہرے کی چمک سے میں خوف زدہ ہوگیا تھا۔
اسی وقت اللہ تعالٰی نے حضرت عزرائیل سے فرمایا:
کیا تم جانتے ہو وہ نورانی عالم دین کون تھا؟
یہ وہی بچہ تھا جو بے یارو مددگار بیابان میں گرم ہوا میں اس کی ماں کی روح قبض کی تھی. اس بچہ کی حفاظت میرے عہدہ پر تھی.
کبھی یہ گمان نہ کرو کہ میرے ہونے کے باوجود، اس دنیا میں کوئی بے یارو مددگار رہے.
🔘 "لا تحزن ان اللہ معنا" غم نہ کریں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (سورہ التوبہ:40)
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
📚 داستان های کوتاه پند آموز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
⭕ الله کی مدد
https://t.me/islamwitheman/25
⭕ ان الله یحب المتوکلین
https://t.me/islamwitheman/46
⭕ ضرورت
https://t.me/islamwitheman/60
⭕ بیمثال مالک
https://t.me/islamwitheman/110
⭕ روح و بدن
https://t.me/islamwitheman/129
⭕ الله تعالٰی کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134
⭕ الله تعالٰی کی رحمت پر بھروسہ
https://t.me/islamwitheman/137
⭕ الله تعالٰی پر آپ کا یقین
https://t.me/islamwitheman/138
⭕ یقین اور اخلاص
http://t.me/islamwitheman/188
🌹 بہترین حسن ظن
http://t.me/islamwitheman/263
⭕ مایوسی گناہ ہے
http://t.me/islamwitheman/278
⭕ حسن نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/301
⭕ حضرت سلیمان اور چڑیا
https://t.me/islamwitheman/477
⭕ الله پر یقین
https://t.me/islamwitheman/487
⭕ ممنون و مشکور
https://t.me/islamwitheman/549
⭕ خدا دوستی
https://t.me/islamwitheman/611
⭕ خدا سے امید
https://t.me/islamwitheman/646
⭕ الله تعالٰی کی بخشش
https://t.me/islamwitheman/747
⭕ ریاست کا بادشاہ
https://t.me/islamwitheman/750
⭕ توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
👈 اگر اللہ حساب لے گا تو۔۔۔
http://t.me/islamwitheman/1143
🌷 ہرنی کا توکّل
http://t.me/islamwitheman/1287
⭕ الله سے محبت
http://t.me/islamwitheman/1326
🔷 الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329
💝 الله کی محبت پر یقین
https://t.me/islamwitheman/1692
🔷 نا اُمیدی
http://t.me/islamwitheman/1731
🔷 قبولیت سے نا اُمیدی
http://t.me/islamwitheman/1734
🌸 کیوں نا اُمیدی؟
http://t.me/islamwitheman/1736
🌹 اصل یارو مددگار
http://t.me/islamwitheman/1800
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
اللہ تعالٰی نے حضرت عزرائیلؑ سے پوچھا؟
کیا کسی کی جان لیتے وقت کبھی گریہ کیا ہے؟
حضرت ﻋﺰﺭﺍﺋﯿﻞؑ نےجواب دیا:
ایک مرتبہ ہنسا ہوں،
ایک مرتبہ گریہ کیا ہے،
اور ایک مرتبہ ڈرا ہوں۔
میں اس وقت ہنسا جب تو نے مجھے حکم دیا فلاں مرد کی روح قبض کرو جو اس وقت جوتے مرمت کروا رہا تھا اور دکان والے کو کہہ رہا تھا کہ میرے جوتے ایسے بناؤ کہ ایک سال تک کام کرتے رہیں، اس کے حال پر ہنسا۔
اور میں نے اس کی جان لے لی۔
میں نے گریہ اس وقت کیا کہ تو نے مجھے دستور دیا فلاں عورت کی روح قبض کروں جبکہ وہ بیاباں میں گرم ہوا اور بے آب و گیاہ تھی اور بچہ جننے کی حالت میں تھی. اس کے انتظار میں رہا تاکہ بچے کو جنم دے سکے. پھر اس کے بعد میں نے اس کی روح قبض کی. میرا دل اس معصوم کے لئے بہت بے تاب ہوا جو سخت گرمی اور بیاباں میں جل رہا تھا۔ اور میں نے گریہ کیا۔
میں اس وقت ڈرا کہ جب مجھے تو نے حکم دیا کہ ایک فقہی کی جان لو جبکہ اس کے کمرے سے بہت نور آرہا تھا اور جتنا میں اس کے بستر کے قریب تر ہو رہا تھا نور زیادہ ہورہا تھا اور جب میں نے اس کی روح قبض کر لی تو اس کے چہرے کی چمک سے میں خوف زدہ ہوگیا تھا۔
اسی وقت اللہ تعالٰی نے حضرت عزرائیل سے فرمایا:
کیا تم جانتے ہو وہ نورانی عالم دین کون تھا؟
یہ وہی بچہ تھا جو بے یارو مددگار بیابان میں گرم ہوا میں اس کی ماں کی روح قبض کی تھی. اس بچہ کی حفاظت میرے عہدہ پر تھی.
کبھی یہ گمان نہ کرو کہ میرے ہونے کے باوجود، اس دنیا میں کوئی بے یارو مددگار رہے.
🔘 "لا تحزن ان اللہ معنا" غم نہ کریں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (سورہ التوبہ:40)
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
📚 داستان های کوتاه پند آموز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
⭕ الله کی مدد
https://t.me/islamwitheman/25
⭕ ان الله یحب المتوکلین
https://t.me/islamwitheman/46
⭕ ضرورت
https://t.me/islamwitheman/60
⭕ بیمثال مالک
https://t.me/islamwitheman/110
⭕ روح و بدن
https://t.me/islamwitheman/129
⭕ الله تعالٰی کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134
⭕ الله تعالٰی کی رحمت پر بھروسہ
https://t.me/islamwitheman/137
⭕ الله تعالٰی پر آپ کا یقین
https://t.me/islamwitheman/138
⭕ یقین اور اخلاص
http://t.me/islamwitheman/188
🌹 بہترین حسن ظن
http://t.me/islamwitheman/263
⭕ مایوسی گناہ ہے
http://t.me/islamwitheman/278
⭕ حسن نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/301
⭕ حضرت سلیمان اور چڑیا
https://t.me/islamwitheman/477
⭕ الله پر یقین
https://t.me/islamwitheman/487
⭕ ممنون و مشکور
https://t.me/islamwitheman/549
⭕ خدا دوستی
https://t.me/islamwitheman/611
⭕ خدا سے امید
https://t.me/islamwitheman/646
⭕ الله تعالٰی کی بخشش
https://t.me/islamwitheman/747
⭕ ریاست کا بادشاہ
https://t.me/islamwitheman/750
⭕ توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
👈 اگر اللہ حساب لے گا تو۔۔۔
http://t.me/islamwitheman/1143
🌷 ہرنی کا توکّل
http://t.me/islamwitheman/1287
⭕ الله سے محبت
http://t.me/islamwitheman/1326
🔷 الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329
💝 الله کی محبت پر یقین
https://t.me/islamwitheman/1692
🔷 نا اُمیدی
http://t.me/islamwitheman/1731
🔷 قبولیت سے نا اُمیدی
http://t.me/islamwitheman/1734
🌸 کیوں نا اُمیدی؟
http://t.me/islamwitheman/1736
🌹 اصل یارو مددگار
http://t.me/islamwitheman/1800
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌲 اللہ کی مدد 🌲
حضرت نوح علیہ السلام نے جب اللہ کے حکم سے کشتی بنانا شروع کی تو ایک مومنہ بڑھیا نے حضرت نوح علیہ السلام سے پوچھا:
کہ آپ یہ کشتی کیوں بنا رہے ہیں؟
آپ نے فرمایا:
بڑی بی! ایک بہت بڑا پانی کا طوفان آنے والا ہے جس میں سب کافر ہلاک ہو جائیں…
حضرت نوح علیہ السلام نے جب اللہ کے حکم سے کشتی بنانا شروع کی تو ایک مومنہ بڑھیا نے حضرت نوح علیہ السلام سے پوچھا:
کہ آپ یہ کشتی کیوں بنا رہے ہیں؟
آپ نے فرمایا:
بڑی بی! ایک بہت بڑا پانی کا طوفان آنے والا ہے جس میں سب کافر ہلاک ہو جائیں…
🔶 حِرصِ دُنیا کا انجام 🔶
حضرت عیسٰیؑ ایک شاگرد کو ساتھ لیکر سفر پر نکلے۔ راستے میں ایک جگہ پر آۓ اور قیام کیا اور شاگرد سے پوچھا کہ تمہاری جیب میں کچھ ہے؟
اس نے کہا: جی ہاں میرے پاس دو درہم ہیں۔
آپ نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر اسے دیا اور فرمایا: یہ تین درہم ہوجائیں گے۔ قریب ہی آبادی ہے تم وہاں سے تین درہموں کی روٹیاں لے آؤ۔
شاگرد گیا اور تین روٹیاں لیں۔ راستے میں سوچنے لگا کہ مسیح نے تو ایک درہم دیا تھا اور دو درہم تو میرے تھے۔ جبکہ روٹیاں تین ہیں ان میں سے آدھی روٹیاں نصیب ہوں گی۔ لہٰذا بہتر ہے کہ میں ایک روٹی پہلے ہی کھا لوں۔ چنانچہ اس نے راستے میں ایک روٹی کھائی دو روٹیاں لے کر عیسٰی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔
آپ نے روٹی کھائی اور شاگرد سے پوچھا:
تین درہم کی کتنی روٹیاں ملی تھیں؟
شاگرد نے جواب دیا: دو روٹیاں ملی تھیں ایک آپ نے کھائی اور ایک میں نے کھائی۔
حضرت عیسٰیؑ وہاں سے روانہ ہوۓ اور راستے میں ایک دریا آیا۔
شاگرد نے حیران ہوکر کہا: ہم دریا کیسے عبور کریں گے جبکہ یہاں تو کوئی کشتی نظر نہیں آتی؟
حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا: مت گھبراؤ میں آگے چلوں گا تم میری عبا کا دامن تھام کر میرے پیچھے چلتے آؤ اور خدا نے چاہا تو ہم دریا پار کر لیں گے۔
چنانچہ جناب عیسٰیؑ نے دریا میں قدم رکھا اور شاگرد نے بھی ان کا دامن تھام لیا۔ بِاِذنِ خدا آپ نے دریا کو عبور کیا۔ ان کے پاؤں تک بھی گیلے نہ ہوۓ۔
شاگرد نے یہ معجزه دیکھ کر کہا: میری ہزاروں جانیں آپ پر قربان آپ جیسا صاحبِ اعجاز نبی آپ سے پہلے کوئی مبعوث ہی نہیں ہوا۔
آپ نے فرمایا: یہ معجزه دیکھ کر تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا؟
شاگرد نے کہا: جی ہاں میرا قلب نور سے بھر گیا ہے۔
پھر آپ نے فرمایا: اگر تمہارا دل نورانی ہوگیا ہے تو بتاؤ روٹیاں کتنی تھیں؟
شاگرد نے کہا: روٹیاں بس دو ہی تھیں۔
پھر آپ وہاں سے چلے۔ راستے میں ہرنوں کا ایک ٹولہ گزر رہا تھا۔ آپ نے ایک ہرن کو اشارہ کیا۔ وہ آپ کے پاس چلا آیا آپ نے ذبح کر کے اس کا گوشت کھایا اور شاگرد کو بھی کھلایا۔
جب دونوں گوشت سے سیر ہوگئے تو حضرت عیسٰیؑ نے اس کی کھال پر پاؤں کی ٹھوکر ماری اور کہا ”قُمْ بِاِذْنِ اللہ“ اللہ کے حکم سے زندہ ہوجا۔
ہرن زندہ ہوگیا اور دوڑتا ہوا اپنے گروہ سے جا ملا۔ شاگرد یہ معجزه دیکھ کر حیران ہوگیا اور کہنے لگا: اللہ کا شکر ہے جس نے آپ جیسا نبی اور معلم عنايت کیا۔
حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا: یہ معجزه دیکھ کر تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا ہے؟
شاگرد نے عرض کیا: سبحان اللہ میرا ایمان پہلے سے دوگنا ہوچکا ہے۔
آپ نے فرمایا: پھر یہ بتاؤ کہ روٹیاں کتنی تھیں؟
شاگرد نے کہا: حضرت روٹیاں دو ہی تھیں۔
دونوں راستہ چلتے گئے اور ایک پہاڑ کے قریب سونے کی تین اینٹیں پڑی ہوئی تھیں۔
آپ نے فرمایا: ایک اینٹ تیری اور ایک اینٹ میری اور تیسری اینٹ اس کی ہے جس نے تیسری روٹی کھائی۔
یہ سن کر شاگرد نے شرمندگی سے جواب دیا: حضرت تیسری روٹی میں نے کھائی تھی۔
حضرت عیسٰیؑ نے شاگرد کو چھوڑ دیا اور فرمایا: یہ تینوں اینٹیں تم لے جاؤ۔ یہ کہہ کر حضرت عیسٰیؑ روانہ ہوگئے۔ اور حریص شخص اینٹوں کے قریب بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اب ان کو گھر کیسے لے جاۓ۔
اسی اثناء میں تین ڈاکو وہاں سے گزرے انہوں نے دیکھا ایک شخص کے پاس سونے کی تین اینٹیں رکھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔
اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم بھی تین ہیں اور اینٹیں بھی تین ہیں لہٰذا ایک ایک شخص کو ایک ایک اینٹ حصہ میں آتی ہے۔ اتفاق سے وہ بھوکے تھے انہوں نے ایک ساتھی کو پیسے دیئے اور کہا کہ شہر قریب ہے تم وہاں سے روٹیاں لاؤ اس کیبعد ہم اپنا حصہ جدا کریں گے وہ شخص روٹیاں لینے گیا اور دل میں سوچنے لگا اگر میں روٹیوں میں زہر ملا دوں تو وہ دونوں مر جائیں گے۔ اور تینوں اینٹیں میری ملکیت بن جائیں گی۔ ادھر اس کے دونوں ساتھیوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر ہم اس ساتھی کو قتل کر دیں تو ہمارے حصہ میں سونے کی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ آۓ گی۔
جب ان کا تیسرا ساتھی زہر آلود روٹیاں لیکر آیا تو انہوں نے منصوبہ کے تحت اس پر حملہ کر دیا اور اسے قتل کر دیا۔ پھر جب انہوں نے روٹی کھائی تو وہ دونوں بھی زہر کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔
جناب عیسٰیؑ کا اس مقام سے گزر ہوا تو دیکھا کہ اینٹیں ویسی کی ویسی ہی رکھی ہوئی ہیں۔ مگر ان کے پہلو میں چار افراد کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔
آپ نے یہ دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھری اور فرمایا: "ھکذا تفعل الدنیا باھلھا" دنیا اپنے چاہنے والوں سے یہی سلوک کرتی ہے۔
📚 پند تاریخ ج2 ص124۔ انوار نعمانیہ ص353۔
https://t.me/islamwitheman/1768
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت عیسٰیؑ ایک شاگرد کو ساتھ لیکر سفر پر نکلے۔ راستے میں ایک جگہ پر آۓ اور قیام کیا اور شاگرد سے پوچھا کہ تمہاری جیب میں کچھ ہے؟
اس نے کہا: جی ہاں میرے پاس دو درہم ہیں۔
آپ نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر اسے دیا اور فرمایا: یہ تین درہم ہوجائیں گے۔ قریب ہی آبادی ہے تم وہاں سے تین درہموں کی روٹیاں لے آؤ۔
شاگرد گیا اور تین روٹیاں لیں۔ راستے میں سوچنے لگا کہ مسیح نے تو ایک درہم دیا تھا اور دو درہم تو میرے تھے۔ جبکہ روٹیاں تین ہیں ان میں سے آدھی روٹیاں نصیب ہوں گی۔ لہٰذا بہتر ہے کہ میں ایک روٹی پہلے ہی کھا لوں۔ چنانچہ اس نے راستے میں ایک روٹی کھائی دو روٹیاں لے کر عیسٰی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔
آپ نے روٹی کھائی اور شاگرد سے پوچھا:
تین درہم کی کتنی روٹیاں ملی تھیں؟
شاگرد نے جواب دیا: دو روٹیاں ملی تھیں ایک آپ نے کھائی اور ایک میں نے کھائی۔
حضرت عیسٰیؑ وہاں سے روانہ ہوۓ اور راستے میں ایک دریا آیا۔
شاگرد نے حیران ہوکر کہا: ہم دریا کیسے عبور کریں گے جبکہ یہاں تو کوئی کشتی نظر نہیں آتی؟
حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا: مت گھبراؤ میں آگے چلوں گا تم میری عبا کا دامن تھام کر میرے پیچھے چلتے آؤ اور خدا نے چاہا تو ہم دریا پار کر لیں گے۔
چنانچہ جناب عیسٰیؑ نے دریا میں قدم رکھا اور شاگرد نے بھی ان کا دامن تھام لیا۔ بِاِذنِ خدا آپ نے دریا کو عبور کیا۔ ان کے پاؤں تک بھی گیلے نہ ہوۓ۔
شاگرد نے یہ معجزه دیکھ کر کہا: میری ہزاروں جانیں آپ پر قربان آپ جیسا صاحبِ اعجاز نبی آپ سے پہلے کوئی مبعوث ہی نہیں ہوا۔
آپ نے فرمایا: یہ معجزه دیکھ کر تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا؟
شاگرد نے کہا: جی ہاں میرا قلب نور سے بھر گیا ہے۔
پھر آپ نے فرمایا: اگر تمہارا دل نورانی ہوگیا ہے تو بتاؤ روٹیاں کتنی تھیں؟
شاگرد نے کہا: روٹیاں بس دو ہی تھیں۔
پھر آپ وہاں سے چلے۔ راستے میں ہرنوں کا ایک ٹولہ گزر رہا تھا۔ آپ نے ایک ہرن کو اشارہ کیا۔ وہ آپ کے پاس چلا آیا آپ نے ذبح کر کے اس کا گوشت کھایا اور شاگرد کو بھی کھلایا۔
جب دونوں گوشت سے سیر ہوگئے تو حضرت عیسٰیؑ نے اس کی کھال پر پاؤں کی ٹھوکر ماری اور کہا ”قُمْ بِاِذْنِ اللہ“ اللہ کے حکم سے زندہ ہوجا۔
ہرن زندہ ہوگیا اور دوڑتا ہوا اپنے گروہ سے جا ملا۔ شاگرد یہ معجزه دیکھ کر حیران ہوگیا اور کہنے لگا: اللہ کا شکر ہے جس نے آپ جیسا نبی اور معلم عنايت کیا۔
حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا: یہ معجزه دیکھ کر تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا ہے؟
شاگرد نے عرض کیا: سبحان اللہ میرا ایمان پہلے سے دوگنا ہوچکا ہے۔
آپ نے فرمایا: پھر یہ بتاؤ کہ روٹیاں کتنی تھیں؟
شاگرد نے کہا: حضرت روٹیاں دو ہی تھیں۔
دونوں راستہ چلتے گئے اور ایک پہاڑ کے قریب سونے کی تین اینٹیں پڑی ہوئی تھیں۔
آپ نے فرمایا: ایک اینٹ تیری اور ایک اینٹ میری اور تیسری اینٹ اس کی ہے جس نے تیسری روٹی کھائی۔
یہ سن کر شاگرد نے شرمندگی سے جواب دیا: حضرت تیسری روٹی میں نے کھائی تھی۔
حضرت عیسٰیؑ نے شاگرد کو چھوڑ دیا اور فرمایا: یہ تینوں اینٹیں تم لے جاؤ۔ یہ کہہ کر حضرت عیسٰیؑ روانہ ہوگئے۔ اور حریص شخص اینٹوں کے قریب بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اب ان کو گھر کیسے لے جاۓ۔
اسی اثناء میں تین ڈاکو وہاں سے گزرے انہوں نے دیکھا ایک شخص کے پاس سونے کی تین اینٹیں رکھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔
اور آپس میں کہنے لگے کہ ہم بھی تین ہیں اور اینٹیں بھی تین ہیں لہٰذا ایک ایک شخص کو ایک ایک اینٹ حصہ میں آتی ہے۔ اتفاق سے وہ بھوکے تھے انہوں نے ایک ساتھی کو پیسے دیئے اور کہا کہ شہر قریب ہے تم وہاں سے روٹیاں لاؤ اس کیبعد ہم اپنا حصہ جدا کریں گے وہ شخص روٹیاں لینے گیا اور دل میں سوچنے لگا اگر میں روٹیوں میں زہر ملا دوں تو وہ دونوں مر جائیں گے۔ اور تینوں اینٹیں میری ملکیت بن جائیں گی۔ ادھر اس کے دونوں ساتھیوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر ہم اس ساتھی کو قتل کر دیں تو ہمارے حصہ میں سونے کی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ آۓ گی۔
جب ان کا تیسرا ساتھی زہر آلود روٹیاں لیکر آیا تو انہوں نے منصوبہ کے تحت اس پر حملہ کر دیا اور اسے قتل کر دیا۔ پھر جب انہوں نے روٹی کھائی تو وہ دونوں بھی زہر کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔
جناب عیسٰیؑ کا اس مقام سے گزر ہوا تو دیکھا کہ اینٹیں ویسی کی ویسی ہی رکھی ہوئی ہیں۔ مگر ان کے پہلو میں چار افراد کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔
آپ نے یہ دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھری اور فرمایا: "ھکذا تفعل الدنیا باھلھا" دنیا اپنے چاہنے والوں سے یہی سلوک کرتی ہے۔
📚 پند تاریخ ج2 ص124۔ انوار نعمانیہ ص353۔
https://t.me/islamwitheman/1768
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 حُبِّ دُنیا و حرص بر آن 🔷
ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺩﻕ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻋﯿﺴٰﯽؑ ﺑﻦ ﻣﺮﯾﻢؑ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ، ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺳﻤﯿﺖ ﺳﺐ ﻣﺮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﮐﮯ ﻏﻀﺐ ﺍﻭﺭ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻼﮎ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺒﯿﻌﯽ ﻣﻮﺕ…
ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺩﻕ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﻋﯿﺴٰﯽؑ ﺑﻦ ﻣﺮﯾﻢؑ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ، ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﺳﻤﯿﺖ ﺳﺐ ﻣﺮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔
حضرت عیسٰیؑ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﮐﮯ ﻏﻀﺐ ﺍﻭﺭ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻼﮎ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺒﯿﻌﯽ ﻣﻮﺕ…