ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌲 اللہ تعالٰی کی رحمت پر بهروسہ 🌲

اﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ اللہ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ "ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺅ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﯿﻦ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﯿﮟ."
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻓﻮﺭﯼ ﺣﮑﻢِ ﺍﻟﮩﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ.

● ﺳﺎﺣﻞ ﭘُﺮ ﺳﮑﻮﻥ ﺗﮭﺎ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺸﺘﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯼ ﺟﻮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ.
ﺍﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰؑ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﮐﮧ

"ﺍﮮ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮ! ﺍللہ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﮨﻮﺷﯿﺎﺭ ﺭﮨﻨﺎ."

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ:
ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﺎﻝ ﺳﮑﺘﺎ، ﮨﻢ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﮑﻢ ﺍﻟﮩٰﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ.
ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﮧ ﮨﯽ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺝ ﺍﭨﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮈﻭﻟﻨﮯ ﻟﮕﯽ. ﺳﻮﺍﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﻣﻮﺝ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺎ ﮐﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ.

● ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ:
"ﺫﺭﺍ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﻧﺎ" ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ:
ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻻﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺗﮯ ﺁﺗﮯ ﯾﮧ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﯽ.

● ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻮ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﺁﺗﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯼ، ﺁﭖ ﻧﮯ ﺣﺴﺐِ ﺳﺎﺑﻖ ﺍِﺱ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ "ﺩﯾﮑﮭﻮ! ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺫﺭﺍ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﺅ."

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽؑ! ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﺳﭽﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﻞ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺳﮑﺘﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮨﮯ، ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮﮞ ﻟﮩٰﺬﺍ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺻﺪﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﻣﻦ ﻭ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ.

ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ، ﺟﺐ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﺎﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺁ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ؑﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺩﻭ ﺗﻮ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺁ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﭻ ﮔﺌﯽ؟

🔷 ﺍﺭﺷﺎﺩ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ
"ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ! ﺁﭖ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺗﻮﮐﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍِﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﻃﻔﯿﻞ ﺑﭻ ﮔﺌﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﻮ ﺑﮭﯽﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺻﺪﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻧﺎ ﺍﻣﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔!

🔘ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻋﺮﺵ ﭘﺮ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﻏﻀﺐ ﭘﺮ ﻏﺎﻟﺐ ﮨﮯ. (ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ)

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 اللہ تعالی پر یقین..؟ 🔷

ایک کوہ پیما سخت سردی کے موسم میں برف کے پہاڑ کے اوپر چڑھ رہا تھا کہ رات ہوگئی، پر وہ رکا نہیں اور اپنی چڑھائی جاری رکھی...
اس بار جب اس نے اپنا کُنڈہ برف میں پھنسانا چاہا تو وہ صحیح طرح سے پھنس نہ سکا اور وہ اپنے ہی زور میں رسی پکڑے کئی فٹ نیچے آگیا..

اب حالت یہ تھی کہ وہ زمین اور آسمان کے درمیان اس طرح معلق ہوگیا کہ اگر اسی طرح لٹکا رہتا تو سردی سے ٹھٹھر کے مر جاتا..

اسی حالت میں وہ بڑی لجاحت سے اللہ سے دعا کرتا ہے.. آسمان سے آواز آتی ہے..
"کیا تجھے مجھ پہ کامل یقین ہے.؟"
وہ جواب دیتا ہے..
"یقیناً مجھے تیری ذات پہ مکمل بھروسہ ہے."
آواز آتی ہے..
"تو پھر اپنی رسی کاٹ دے."

وہ تذبذب کا شکار ہوتا ہے پر رسی کاٹنے سے انکار کر دیتا ہے..

صبح لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک کوہ پیما سردی سے ٹھٹر کے مرگیا ہے اور زمین سے صرف دو فٹ اوپر ہے..!!

🔹کیا ہمیں بھی ایسا ہی یقین ہے..؟؟؟
سوچئے کہ ابھی وقت ہمارے ہاتھ میں ہے..!!

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﺎ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻭﻗﺖ 🔷

ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﮍ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﺮﺽ ﻋﻼﺝ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ. ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﭘﺮ ﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻠﻢ، ﺗﻘﻮﯼٰ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﻦ ﺍﺧﻼﻕ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮑﺮﯾﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺷﺮﻑ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ.

●ﺣﻀﺮﺕ ﮐﮯ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻭ ﺑﯿﺸﺘﺮ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﺯﯾﺐ ﺗﻦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﻮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﻌﻠﯿﻤﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﺘﺮ ﭘﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺗﻘﺎﺿﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﻮﺭا ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺧﺼﻮﺻﺎً "ﺷﺎﺭﭦ ﺳﮑﺮﭦ" ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ....

●ﺣﻀﺮﺕ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻟﺒﺎﺱ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﯾﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻭﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ...

🔸ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺑﺘﻼﺋﯿﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﯿﺘﯽ ﺁﺅﮞ.

🔹ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
"ﺑﯿﭩﺎ! ﺑﮑﺮﯼ ﮐﯽﺍﯾﮏ ﺳﺎﻟﻢ ﺭﺍﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﺁﻧﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺷﺮﻁ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﯾﺎ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﺑﯿﮓ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﺮﻋﺎﻡ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ..."

🔸ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ:
"ﺣﻀﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﯽ ﺳﺎﻟﻢ ﺭﺍﻥ ﺗﻮ ﻟﮯ ﺁﺅﮞ ﮔﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ.

🔹ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
"ﺑﯿﭩﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ.؟"

🔸ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ:
"ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﮐﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﺭﺍﻥ ﮐﻮ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮨﮯ."

🔹ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ:
"ﺑﯿﭩﺎ! ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺭﺍﻥ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﯽ ﺭﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻻﺋﻖ ﮨﮯ."

🔷ﺍﺗﻨﮯ ﺷﻔﯿﻖ ﺍﻭﺭ ﭘﺮ ﺍﺛﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ.
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﮔﻮﺍﮦ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻏﯿﺮ ﺷﺮﻋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ.

🔘 ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺍﮔﺮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﺛﺮ ﺩﮐﮭﺎﺗﯽ ﮨﮯ.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 سادات کی فضیلت 🌹

■ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
قیامت کے دن چار گروہ میری شفاعت کے مستحق قرار پائیں گے.
1-- میرے بعد میری ذریت کی عزت و احترام کرنے والے.
2-- انکی ضروریات پوری کرنے والے.
3-- انکو اضطراری حالت سے نکالنے میں مدد کرنے والے.
4-- جو دل کی گہرائیوں اور زبان سےبھی ان کو دوست رکھتے ھوں.

● اسی طرح فرمایا:
مریض، سادات کی عیادت فرض اور انکی زیارت کو جانا، سنت ھے.

■ امام رضاعلیہ السلام بھی فرماتےہیں:
ھماری اولاد کی طرف دیکھنا عبادت ھے.
راوی نے سوال کیا:
کیا اس سے مراد آپکی نسل سے آنے والے آئمہ طاھرین ہیں یا پوری نسل پیغمبر؟
تو آپ نے فرمایا:
تمام اولاد رسول مراد ہیں مگر اس وقت تک کہ جب انکے راہ و روش سے جدا نہ ھوئے ھوں اور اپنے آپ کو گناھوں سے آلودہ نہ کر بیٹھے ھوں.

■ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتےہیں:
جس کسی نے میری اولاد سمجھ کر کسی کے لئے کوئی اچھا کام کیا ھو اور اس نے آگے سے نیکی کا بدلہ نہ دیا ھو تو قیامت کے دن میں اسکی اچھائی کا بدلہ دوں گا.

■ نسل پیغمبرکو دکھ تکلیف دینا بھی سزا کا مستحق بنا دیتی ھے.
حضرت ا مام جعفرصادق علیہ السلام اپنے آباؤ اجداد سے نقل کرتے ھوئے فرماتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جب میں مقام محمود پر قرار پاؤں گا تو اپنی گناھگار امت کی شفاعت کروں گا اور خدا انکے حق میں میری شفاعت قبول فرمائے گا.
اور مجھے خدا کی قسم، میری نسل کو دکھ تکلیف پہچانے والے کی شفاعت نہیں کروں گا.

📚 الآمالی شیخ صدوق رہ. ص294.
نقل از مفاتیح الحیاة. آقای جوادی عاملی. ص 275و 276.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔

🌹 سادات کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/140

⏩ کیا ہر قسم کے سادات باعظمت ہیں؟
https://t.me/islamwitheman/488

🗒 فضیلت سید اور نسب کا بدلنا
https://t.me/islamwitheman/489

🌹سادات
http://t.me/islamwitheman/1614

🌷فقیر سید
http://t.me/islamwitheman/1618

💝 سادات کی خصوصیات
https://t.me/islamwitheman/5113

🔷 احترام سادات کا صلہ
https://t.me/islamwitheman/5204
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 یہ کیسی غیرت؟ 🔷

گرمی سے میرا برا حال تھا. شدید پیاس کے عالم میں میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی.....
روڈ کے دوسری طرف تھوڑے سے فاصلے پر شربت کی ریڑھی دیکھ کر کچھ جان میں جان آئی، میں نے فورا قدم اس طرف بڑھا دیئے.
ابھی شربت کے دو گھونٹ ہی لئے تھے کہ شربت بیچنے والے کی آواز نے مجھے چونکا دیا.....
دیکھ ارے کیا چیز ہے یار..
وہ اپنے ساتھ کام کرنے والے لڑکے سے مخاطب تھا.
اس کی بات سن کر میں نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا..
وہ ایک بھیک مانگنے والی تقریبا دس گیارہ سال کی چھوٹی بچی تھی.
شدید نفرت اور غصے سے میرا وجود سلگ اٹھا، لیکن اسے کچھ کہنا مصلحت کے خلاف تھا میں اکیلا تھا اور اس علاقہ میں نیا بھی.
میرے کسی ایکشن کے نتیجے میں وہ اپنے الفاظ سے صاف مکر جاتا، اپنا علاقہ ہونے کے سبب اس کے بیسیوں حمایتی بھی پیدا ہوجاتے اور الٹا مجھ پر ہی کوئی الزام لگا کر میری پٹائی لگا دیتے.

میں نے جلدی جلدی شربت ختم کرکے ابھی گلاس رکھا ہی تھا کہ دوبارہ آواز سنائی دی..
استاد اسکو تو دیکھو کیا غضب کی چیز ہے.
اس بار یہ آواز اسکے ساتھ کام کرنے والے لڑکے کی تھی.
ایک بار پھر میں نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا..
وہ اسکول یونیفارم میں ملبوس تقریبا ایک چودہ پندرہ سال کی لڑکی تھی
اس سے پہلے کے اب کی بار میں طیش کے عالم میں گلاس اس کے سر پر مارتا،
اچانک شربت بیچنے والے نے اپنے ساتھ کام کرنے والے لڑکے کو ایک زوردار تھپڑ رسید کیا.
وہ شدید غضب کا شکار لگ رہا تھا، غصے کی زیادتی کی وجہ سے الفاظ اسکے منہ سے ٹوٹ کر نکل رہے تھے.
بےغیرت انسان، کسی کو کچھ بھی سمجھتا ہے
بیوقوف........گدھے ..احمق ..الو کے پٹھے 
جانتا ہے وہ کون ہے؟
وہ میری بہن ہے.

تحریر بشکریہ: سکندر حیات

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 مقررہ وقت 🔷

حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے ساتھیوں اور مؤمنین کے ساتھ بیٹھے تھے.
محفل میں گفتگو ہو رہی تھی کہ اتنے میں ایک اجنبی شخص نہایت خوبصورت حلیے میں عمدہ پوشاک پہنے اور اعلٰی وضع قطع کے ساتھ مجلس میں داخل ہوا۔۔۔
تمام حاضرین کو سلام کیا اور سلیمان علیہ السلام کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔۔۔

کچھ دیر ان سے باتیں کیں اور پھر رخصت لے کر واپس چلا گیا۔۔۔ لیکن اس تمام وقت میں وہ سلیمان علیہ السلام کے پاس بیٹھے ایک ساتھی کو مسلسل متعجب نظروں سے دیکھتا رہا۔۔۔

جب وہ اجنبی شخص محفل سے چلا گیا تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس ساتھی نے پوچھا:
"اے اللہ کے نبی! یہ اجنبی شخص جو آپ کے پاس آیا تھا، یہ کون تھا۔۔۔؟"

سلیمان علیہ السلام نے بتایا:
"میرے پاس جو شخص بیٹھا تھا وہ ملک الموت (موت کا فرشتہ) تھا."

ان کے ساتھی نے جب موت کے فرشتے کا ذکر سنا تو رنگ فق ہو گیا اور جسم کپکپانے لگا...

اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے عرض کی:
"یہ شخص مجھے بہت غور سے دیکھتا رہا اور مجھے یہ جان کر گھبراہٹ ہونے لگی ہے کہ یہ موت کا فرشتہ تھا...
اے اللہ کے نبی! ہوا آپ کے تابع ہے، آپ ہوا کو حکم کریں کہ مجھے یہاں سے کہیں دور چھوڑ آئے."

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کی درخواست قبول کر لی، چنانچہ ہوا کو حکم دیا کہ اس شخص کو یہاں سے دور ہندوستان منتقل کر دو۔۔۔!

اس واقعے کو ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ملک الموت دوبارہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔۔۔ حلقہ احباب میں وہ شخص نظر نہ آیا تو ملک الموت نے سلیمان علیہ السلام سے پوچھا:
"آپ کا ساتھی کہاں گیا۔۔۔؟؟"

سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:
"تمہارے ڈر اور خوف کی وجہ سے ہوا نے اسے ہندوستان منتقل کر دیا."

ملک الموت کہنے لگا:
"اے اللہ کے نبی! جب کچھ دیر پہلے میں آپ کی مجلس میں آیا تھا تو اس شخص کو یہاں آپ کے پاس دیکھ کرحیرت ہوئی، کیونکہ اللہ تعالٰی نے مجھے حکم دیا تھا کہ کچھ ساعت بعد تو نے ہندوستان کے فلاں علاقے سے اس شخص کی روح قبض کرنی ہے اور یہ شخص ہندوستان سے سینکڑوں میل دور یہاں آپ کے پاس بیٹھا تھا۔ اس لئے مجھے حیرت ہوئی کہ یہ شخص آج ہندوستان کیسے پہنچے گا.؟
لیکن اللہ کی ذات پاک ہے جو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔۔۔ جب میں حکمِ خداوندی کی تکمیل کیلئے مقررہ وقت پر ہندوستان پہنچا تو یہ شخص وہیں تھا۔۔ سو میں نے اس کی روح قبض کر لی."

🔷"پس جب (موت کا) وقت آتا ہے تو نہ ہی ایک لمحہ تاخیر ہوتی ہے اور نہ ہی جلدی." (القرآن 07:34)

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/73
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌎 حضرت سلیمانؑ اور چیونٹی 🌎

حضرت سلیمان علیہ السلام ایک نہر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کی نگاہ ایک چیونٹی پر پڑی، جو گیہوں کا ایک دانہ لے کر نہر کی طرف جا رہی تھی۔۔

حضرت سلیمان علیہ السلام اس کو بہت غور سے دیکھنے لگے۔۔

جب چیونٹی پانی کے قریب پہنچی تو اچانک ایک مینڈک نے اپنا سر پانی سے باہر نکال کر اپنا منہ کھولا۔۔ تو یہ چیونٹی اپنے دانہ کے ساتھ ہی اس کے منہ میں چلی گئی۔۔
ًمینڈک واپس پانی میں داخل ہو گیا اور بہت دیر تک پانی میں ہی رہا۔۔

سیلمان علیہ السلام اس کو بہت غور سے دیکھتے رہے۔۔

تھوڑی دیر بعد مینڈک پانی سے نکلا اور اپنا منہ کھولا تو چیونٹی باہر نکل آئی۔۔ البتہ اب اس کے ساتھ دانہ نہیں تھا۔۔

■حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس چیونٹی کو بلایا اور معلوم کیا کہ یہ کیا ماجرہ ہے اور وہ کہاں گئی تھی۔۔؟

●چیونٹی نے کہا کہ:
"اے اللہ کے نبیٌ! آپ جو نہر کی تہہ میں ایک بڑا کھوکھلا پتھر دیکھ رہے ہیں۔۔ اس کے اندر بہت سے اندھے کیڑے مکوڑے رہتے ہیں۔۔ اللہ تعالٰی نے ان کو وہاں پر پیدا کیا ہے۔۔ اور وہ وہاں سے روزی تلاش کرنے کیلئے نہیں نکل سکتے۔۔
اللہ نے مجھے ان کی روزی کا وکیل بنایا ہے۔۔ میں ان کی روزی کو اٹھا کر لے جاتی ہوں اور اللہ تعالٰی نے اس مینڈک کو میرے لئے مسخر کیا ہے تا کہ وہ مجھے لے کر جائے۔۔ اس کے منہ میں ہونے کی وجہ سے پانی مجھے نقصان نہیں پہنچاتا۔۔ وہ اپنا منہ اس پتھر کے سوراخ کے آگے کھول دیتا ہے۔۔ میں اس میں داخل ہو جاتی ہوں۔۔ اور جب میں ان کیڑے مکوڑوں کی روزی ان تک پہنچا کر پتھر کے سوراخ سے اس کے منہ تک آتی ہوں تو مینڈک مجھے اپنے منہ میں واپس لے کر باہر آ جاتا ہے۔۔"

■حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ ماجرا سُن کر چیونٹی سے پوچھا:
"کیا تو نے ان کیڑوں سے کسی تسبیح کو سنا۔۔؟"

●چیونٹی نے بتایا:
"ہاں۔۔۔۔۔۔۔ وہ سب کہتے ہیں کہ اے اللہ تو وہ پاک ذات ہے جو ہمیں اس گہرے پانی کے اندر بھی نہیں بھولتا۔۔"

🔷 بیشک الله ہی بہتر رزق دینے والا ہے.

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕حضرت سلیمانؑ کی ضیافت ⭕

"اے اللہ! مجھے آرزو ہے کہ ایک دن تیری ساری مخلوقات، جتنے بھی ذی روح ہیں سب کی ضیافت کروں."
حضرت سلیمان علیہ السلام کو جب ہفتِ اقلیم کی بادشاہت عطا کی گئی تو وہ رب کے حضور یہ دعا مانگتے ہوئے اپنی خواہش کا اظہار کر رہے تھے.

ندا آئی کہ
"اے سلیمان! میں سب کی روزی پہنچاتا ہوں، میری موجودات، مخلوقات میں بے انتہا ہے اس لئے سب کو تم نہیں کھلا سکتے."

سلیمان علیہ السلام نے عرض کی:
"اے میرے رب! تو نے مجھے بہت نعمت دی ہے، تیری عنایت سے ہی سب کچھ ہے، اگر تیرا حکم ہو تو میں سب کا طعام تیار کروں."

اللہ رب العزت کا حکم ہوا کہ دریا کے کنارے ایک عالی شان مکان بنواؤ اور اسے نہایت کشادہ رکھو تا کہ جس مخلوق کو دعوت دو وہ اس مکان میں باآسانی آ سکے...

حکم خداوندی کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس عمارت کی تیاری شروع کروا دی جس کو مکمل ہونے میں تقرییاً ایک سال اور آٹھ مہینے لگ گئے.

میدان جیسے کشادہ اس مکان میں بہ افراط کھانے پینے کا سامان و اسباب مہیا کیا گیا. کم و بیش بائیس ہزار گائیں ذبح کی گئیں اور بہت کثیر تعداد میں دیگیں پکائی گئیں، مشروبات کے تالاب تھے جن کی تیاری جنات سے کروائی گئی اور ایک پر تکلف قسم کی دعوت کا اہتمام کیا گیا.

جب ضیافت کی ساری تیاریاں مکمل ہو گئیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے سارے جہان کی مخلوقات میں منادی کرا کے کھانے کے دعوت دے دی.

ساری مخلوقات انسان، جن، چرند، پرند، درندے، ہر طرح کے کیڑے مکوڑے، خشکی، تری اور ہوا میں اڑنے والی اور ریگنے والی بھی تمام مخلوق کھانے کی دعوت پہ آ پہنچی اور اس مکان میں جمع ہو گئیں.

اب سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالٰی کی عظمت اور قدرت کو دیکھنے کیلئے تمام جمع شدہ مخلوقات کا مشاہدہ کرنا چاہا. چنانچہ ہوا کو حکم دیا کہ تختِ سلیمان کو اٹھا کر دریا کے اوپر ہوا میں معلق رکھے تاکہ حضرت سلیمان علیہ السلام ہر متنفس کو اپنی نظر سے دیکھیں اور اللہ کی قدرتِ کاملہ کا مشاہدہ کر سکیں.

عین اس وقت جب تخت ہوا میں معلق تھا ایک مچھلی نے دریا میں سے سر نکالا اور سلیمان علیہ السلام سے بولی: "اے اللہ کے نبیّ! اللہ عزوجل نے مجھے آپکی طرف دعوت پہ بھیجا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ نے آج تمام مخلوقات کے لئے کھانا تیار کیا ہے، میں اس وقت بہت بھوکی ہوں لہذٰا آپ مجھے پہلے کھانا دے دیجئے."

سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:
"تم ذرا صبر کرو اور باقی سب کو بھی آ لینے دو، پھر ان کے ساتھ جتنا کھانا چاہو کھا لینا."

وہ مچھلی بولی:
"اے اللہ کے نبی!ّ میں خشکی پہ اتنی دیر نہیں ٹھہر سکوں گی کہ سب کا انتظار کروں."

یہ سن کر سلیمان علیہ السلام نے اجازت دیتے ہوئے کہا:
"اگر تمہارے لئے ٹھہرنا مشکل ہے تو پھر تم کھانا کھا لو اور جتنا تمہارا جی چاہے کھا لو."

یہ سنتے ہی وہ مچھلی دریا سے نکل کر اس میدان نما مکان میں آئی اور جتنا کچھ کھانا وہاں پڑا تھا سارے کا سارا ایک ہی لقمے میں کھا گئی. پھر سلیمان علیہ السلام کی طرف مڑی اور ان سے مزید کھانا مانگنے لگی.

یہ دیکھ کر سلیمان علیہ السلام متعجب ہوئے اور بولے:
"اے مچھلی! میں نے تمام مخلوقات کے لئے یہ کھانا تیار کیا تھا جو تم نے ایک ہی نوالے میں کھا لیا. کیا اس سے بھی تیرا پیٹ نہیں بھرا جو تو اور کھانا مانگ رہی ہے.؟"

مچھلی بولی:
"اے اللہ کے نبیّ! اللہ تعالٰی مجھے ہر روز تین لقمے رزق دیتا ہے اور جو کھانا آپ نے تیار کیا تھا وہ تو سب کا سب صرف ایک ہی لقمہ ہوا. اب مجھے دو لقمے مزید کھانا درکار ہے تب کہیں میرا پیٹ بھرے گا. میں آج آپ کی مہمانی میں بھوکی رہی ہوں اور اگر آپ اسی طرح باقی مہمانوں (مخلوقات) کو بھی کھانا نہیں دے سکے تو آپ نے ناحق انہیں کھانے پہ بلوایا."

سلیمان علیہ السلام مچھلی کی یہ باتیں سن کر حیرت زدہ رہ گئے. چکرائے اور ان پر غشی طاری ہو گئی. پھر جب ہوش میں آئے تو ندامت سے سجدے میں گر پڑے اور روتے ہوئے کہنے لگے:
"اے اللہ! میں نے بہت ہی قصور کیا اور تیری درگاہ میں نادانی کی، میں نادان و مسکین ہوں اور اس بات سے ہمیشہ کے لئے توبہ کرتا ہوں، بیشک مجھے اور سارے جہان کو رزق دینے والا صرف تو ہی ہے."

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 چار خلفاء 🔷


امام علی رضا علیہ السلام نے اپنے آبائے طاہرین ؑ کی سند سے امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالبؑ سے روایت کی، آپّ نے فرمایا:

ایک مرتبہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی ایک گلی میں سے گزر رہا تھا کہ ایک گھنی داڑھی اور چوڑے کندھوں والا بزرگ ہمیں ملا اور انہوں نے آپّ پر سلام کیا اور خوش آمدید کہا. پھر وہ میری طرف متوجہ ہوا اور مجھے سلام کرتے ہوئے کہا:
"السلام علیک یا رابع الخلفاٴ."
چوتھے خلیفہ آپؑ پر سلام ہو۔ اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں.

پھر اس نے آپّ کی طرف دیکھ کر کہا:
یا رسول اللہ ّ! کیا ایسا نہیں ہے
؟
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جی ہاں! ایسا ہی ہے. پھر وہ بزرگ چلے گئے.

میں نے آنحضرت ّ سے عرض کی:
يا رسول اللہ ّ! اس بزرگ نے آپ ّ سے کیا کہا اور آپ ّ نے اس کی تائید کیسے فرمائی؟

آنحضرت ّ نے فرمایا:
الحمداللہ تم ایسے ہی ہو۔ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں چار خلفا ٴ کا تذکرہ کیا ہے اور تم چوتھے خلیفہ ہو.

۱۔ پہلی خلافت آدم ؑ کی ہے، اللہ تعالی نے فرمایا:
"وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَآئِكَـةِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً ۖ قَالُوْا اَتَجْعَلُ فِيْـهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْـهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَآءَ ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّـحُ بِحَـمْدِكَ وَنُـقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ اِنِّىْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ." (البقرہ: ۳۰)
ترجمہ:
اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا؛ میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب) بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا؛ کیا تو زمین میں ایسے شخص کو خلیفہ (نائب) بنانا چاہتا ہے، جو فساد پھیلائے اور خون بہائے، حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں، فرمایا؛ میں جو کچھ جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے.

۲۔ دوسری خلافت ہارون ؑ کی ہے۔ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی ؑ کا قول نقل کیا ہے..
"وَقَالَ مُوْسٰى لِاَخِيْهِ هَارُوْنَ اخْلُفْنِىْ فِىْ قَوْمِىْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِــعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ." (اعراف: ۱۴۲)
ترجمہ:
اور موسٰی نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میری قوم میں میرے جانشین رہو اور اصلاح کرتے رہو اور مفسدوں کی راہ پر مت چلو.

۳۔ تیسری خلافت حضرت داؤد ؑ کی ہے. اللہ تعالی نے فرمایا:
"يَا دَاوُوْدُ اِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيْفَةً فِى الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ." (ص: ۲۶)
ترجمہ:
اے داؤد! ہم نے تجھے زمین پر خلیفہ بنایا ہے.

۴۔ چوتھی خلافت تمہاری ہے. اللہ تعالٰی نے فرمایا:
"وَاَذَانٌ مِّنَ اللّـٰهِ وَرَسُوْلِـهٓ ٖ اِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَـجِّ الْاَكْبَـرِ." (التوبہ: ۳)
ترجمہ:
اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج اکبر کے دن لوگوں کیلئے اعلان کیا جاتا ہے.
اور تم ہی خدا اور ان کے رسول ّ کی طرف تبلیغ کرنے والے ہو اور تم ہی میرے وصی اور میرے وزیر اور میرے قرض کے ادا کرنے والے اور میرے وعدے کو پورے کرنے والے ہو اور تمہیں مجھ سے وہی نسبت حاصل ہے، جو ہارون ؑ کو موسی ؑ سے تھی، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ تم چوتھے خلیفہ ہو جیسا کہ اس بزرگ نے تمہیں سلام کیا ہے.
اور کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ بزرگ کون تھے؟
میں نے کہا: نہیں! میں نہیں جانتا.

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
تمہیں معلوم ہونا چاہیے وہ تمہارے بھائی خضر علیہ السلام تھے.

تحقیق: سید زین رضا رضوی

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

📚 عیون اخبار الرضا، جلد۲،ص ۴۱تا۴۲۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 عید میلاد حضرت زینب۳ 🌹

حضرت زینب۳ سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت 5 جمادی الاوّل پنجم یا ششم ہجری مدینہ میں ہوئی، بعض مؤرخین نے اور اقوال بھی لکھے ہیں. (۱)

🔷آپ کے القابات بہت زیادہ ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں:
عقیلہ بنی ہاشم، عقیلۃالطالبین اور صدیقہ صغریٰ (اس میں اشارہ ہے کہ آپ کے والد گرامی صدیق اکبر، اور والدہ گرامی صدیقہ کبریٰ ہے)، عصمت صغریٰ، ولیة اللہ، الراضیة بالقدر و القضاء، صابرة البلوی من غیر جزع و لا شکوی، امینة اللہ، عالمة غیر معلمة، فھمة غیر مفھمة، محبوبة المصطفی، ثانیةالزهراء.

🔷آپ کی کنیت ام کلثوم، ام عبداللہ، ام الحسن ہے.
لیکن کنیت خاص ام المصائب ہے.
آپ کے شوہر کا نام حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالبؑ هے.

🔷آپ کے چار بیٹے، عون، محمد، علی، عباس ہیں کہ ان میں سے عون، محمد کربلا میں شہید ہوئے اور آپ کی ایک بیٹی جناب ام کلثوم ہیں.

🔷آپ کا نام اللہ تعالیٰ نے رکھا، جس وقت آپ کی ولادت ہوئی تو پیغمبر خدا (ص) سفر پر گئے ہوئے تھے، جناب امیرالمؤمنین نے فرمایا:
میں اپنی بیٹی کے نام رکھنے میں پیغمبر خدا (ص) سے پہل نہیں کروں گا یہاں تک کہ پیغمبر خدا (ص) واپس تشریف لائے تو بتایا گیا کہ اللہ نے آپ کو نواسی عطا فرمائی ہے.
آنحضرت (ص) نے فرمایا کہ:
میں اللہ سے پہل نہیں کروں گا پس حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور عرض کی کہ خدا نے آپ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے کہ اس بیٹی کا نام زینب رکھیں، کیونکہ اس نام کو ہم نے لوح ِمحفوظ میں لکھا ہے۔
اس کے بعد پیغمبر خدا (ص) نے جناب زینب۳ کو اپنے پاس منگوایا اور وصیت فرمائی کہ حاضرین اور غائبین، میری خاطر، میری نواسی کا احترام کریں، کیونکہ یہ جناب خدیجہ الکبری سلام اللہٰ علیہا کی طرح ہے۔
آپ (ص) نے فرمایا: حضرت زنیب سلام الله علیہا کا سکینہ و وقار، جناب خدیجہ، اورعصمت و حیا جناب زہراء اور فصاحت و بلاغت جناب علی مرتضی اور حلم اپنے بھائی حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور شجاعت اور دل کی قوت میں اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کی طرح ہے. (۲)

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

📚حوالہ جات
1 ۔ عقیلہ بنی ہاشم ، ص 5 ،زنیب کبریٰ ، ص 17 ، و فیات الائمہ ، ص 431 ،مستدرک سیفنۃ البحار ، ج 4 ،ص 316 ، ج5 ،ص 208
۲۔ ریاحین الشریعہ ،ج3 ،ص 38.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 اسکارف 🔷

"تم نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھا تھا نا حیاء۔۔۔ کہ میں ہر وقت اسکارف (شرعی حجاب) کیوں پہنتی ہوں؟"
عائشہ سر جھکائے لکڑی کے ٹکڑے کا کنارہ تراشتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔

🔹"میں تمہیں بتاؤں، میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں وہ خوبصورت لباس پہنوں جو بیوک ادا میں استنبول یا اٹلی اور اسپین کی لڑکیاں پہن کر آتی ہیں۔۔۔ بالکل جیسے ماڈلز پہنتی ہیں۔۔۔ اور جب وہ اونچی ہیل کے ساتھ ریمپ پہ چلتی آ رہی ہوتی ہیں تو ایک دنیا ان کو محسور ہو کر دیکھ رہی ہوتی ہے۔۔۔

🔹میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں بھی ایسے اسمارٹ اور ٹرینڈی ڈیزائنر لباس پہن کر جب سڑک پہ چلوں تو لوگ محسور و متاثر ہو کر مجھے دیکھیں۔۔۔۔۔۔۔
لیکن۔۔۔ 
وہ سانس لینے کو رکی۔۔۔ حیاء بنا پلک جھپکے سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

"لیکن۔۔۔
🔹پھر مجھے خیال آتا ہے۔۔۔ یہ خیال کہ ایک دن میں مر جاؤں گی۔۔۔ جیسے تمہاری دوست مر گئی تھی نا۔۔۔ اور میں اس مٹی میں چلی جاؤں گی جس کے اوپر میں چلتی ہوں۔۔۔ پھر ایک دن سورج مغرب سے نکلے گا اور زمین کا جانور زمین سے نکل کر لوگوں سے باتیں کرے گا۔۔۔ اور لال آندھی ہر سو چلے گی۔۔۔ اس دن مجھے بھی سب کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔۔۔ 
تم نے کبھی اسٹیڈیمز دیکھے ہیں جن میں بڑی بڑی اسکرینز نصب ہوتی ہیں۔۔؟؟ میں خود کو ایسے ہی ایک اسٹیڈیم میں دیکھتی ہوں۔۔۔ میدان کے عین وسط میں کھڑے۔۔۔ اسکرین پہ میرا چہرا ہوتا ہے اور پورا میدان لوگوں سے بھرا ہوتا ہے۔۔۔ سب مجھے ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں اور میں اکیلی وہاں کھڑی ہوتی ہوں۔۔۔ 

🔹میں سوچتی ہوں حیاء۔۔۔ اگر اُس وقت میرے رب نے مجھ سے پوچھ لیا کہ "انا طولیہ کی عائشہ گل۔۔ اب بتاؤ تم نے کیا کیا۔۔؟؟ یہ بال  یہ چہرہ  یہ جسم۔۔ یہ سب تو میں نے تمہیں دیا تھا۔۔۔ یہ نہ تم نے مجھ سے مانگ کر حاصل کیا تھا اور نہ ہی اس کی قیمت ادا کی تھی۔۔۔ یہ تو میری امانت تھی۔۔۔ پھر تم نے اسے میری مرضی کے مطابق استعمال کیوں نہیں کیا۔۔؟؟ تم نے اس سے وہ کام کیوں کئے جن کو میں نا پسند کرتا ہوں۔۔؟؟ تم نے ان عورتوں کا راستہ کیوں چن لیا جن سے میں ناراض تھا۔۔؟؟"

🔹حیاء۔۔ میں نے ان سوالوں کے بہت جواب سوچے ہیں۔۔۔ مگر مجھے کوئی جواب مطمئن نہیں کرتا۔۔۔ 

🔹روز صبح اسکارف (شرعی حجاب) لینے سے پہلے میری آنکھوں کے سامنے ان تمام حسین عورتوں کے دلکش سراپے گردش کرتے ہیں جو ٹی وی پہ میں نے کبھی دیکھی ہوتی ہیں۔۔۔ اور میرا دل کرتا ہے کہ میں بھی ان کا راستہ چن لوں۔۔۔ مگر پھر مجھے وہ آخری عدالت یاد آ جاتی ہے۔۔۔ تب میں سوچتی ہوں کہ اس دن میں الله کو کیا جواب دوں گی۔۔؟؟ میں ترازو کے ایک پلڑے میں اپنا وہ سراپا ڈالتی ہوں جس میں، میں خود کو اچھی لگتی ہوں۔۔۔ اور دوسرے پلڑے میں وہ جس میں، میں الله تعٰالیٰ کو اچھی لگتی ہوں۔۔۔ میری پسند کا پلڑا کبھی نہیں جھکتا۔۔۔ اور الله کی پسند کا پلڑا کبھی نہیں اٹھتا۔۔۔ 

🔹تم نے پوچھا تھا کہ میں اسکارف (شرعی حجاب) کیوں لیتی ہوں۔۔؟؟ سو میں یہ اس لئے کرتی ہوں کیونکہ میں الله کو ایسے اچھی لگتی ہوں۔۔۔۔"

🔘 حاصل کلام:
پردہ عورت کا فطری تقاضا ہے جو خالقِ مرد و زن کی طرف سے قاعدہ بھی ہے۔۔۔ پردہ ایک نعمت ہے اور اس نعمت میں ہماری سوچ سے بھی زیادہ راز اور بھلائیاں موجود ہیں۔

حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے فرماتی ہیں:
عورت کے لیے شرم سے بڑھ کر کوئی زیور نہیں اور چادر سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ (تعلیمات زینب، ص١٥)

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 برائی کی تشہیر 🔷

همارے ایک رشته دار مولوی صاحب تھے۔ فرمانے لگے که ایک دفعه میں چند لوگوں کے ساتھ کسی ضروری کام سے بازار گیا۔
بازار میں همیشہ کی طرح رش تھا جس میں عورتوں کی تعداد زیاده تھی۔ میرے ساتھیوں میں سے ایک صاحب بار بار یہی بات کہتے رهے که....
●مولوی صاحب دیکھیں بے حیائی اور فحاشی کس قدر بڑھ گئی هے...
عورتیں کس طرح بن ٹھن کر اور بے پرده هوکر بازاروں میں آئی هوئی هیں...
اس عورت کو دیکھیں کیسے مٹک مٹک کر چل رهی هے...
اس لڑکی کا لباس دیکھیں کتنا نامناسب هے وغیرہ...

■مولوی صاحب نے تنگ آکر کہہ دیا کہ بھائی ان سے زیاده برا کام تو تم خود کررهے هو، جو خود بھی دیکھ رهے هو اور دوسروں کو بھی دیکھنے کی ترغیب دے رهے هو۔ بھائی اگر کسی کی کوئی کمی نظر بھی آئے تو الله نے پرده پوشی کا حکم دیا هے۔

🔹اس قسم کی صورت حال نیٹ پر بھی عام دیکھنے کو مل رهی هے۔ اکثر لکھا نظر آتا هے که فلاں نے بے شرمی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے، ویڈیو دیکھیں اور لعنت بھیجیں، فلاں نے همارا سر شرم سے جھکا دیا، ویڈیو دیکھیں اور شیئر کریں، فلاں نے بے غیرتی کی انتہا کردی؛ ویڈیو دیکھنے کے لیے لائک کریں.

🔷میرا ان سب سے کہنا هے کہ او بھائی! "فلاں" نے تو بے شرمی اور بے غیرتی کی انتہا کردی لیکن آپ نے کونسا شرم و حیا کا پاس رکھا، آپ کی طرف سے کون سی غیرت مندی کا مظاهره کیا گیا؟
کسی کے گناه کو لوگوں میں پھیلانا اور لوگوں کو دیکھنے کی طرف راغب کرنا کون سی نیکی هے؟ الله نے تو پرده پوشی کا حکم دیا هے لیکن آپ پرده دری پر تلے هوئے هیں.

●فرض کریں اُس "فلاں" کو الله نے هدایت دے دی اور اس نے اپنے تمام گناهوں سے توبہ کرلی تو جو آپ نے ساری دنیا میں اس کا ڈھنڈورا پیٹ دیا اس کا کیا بنے گا۔ یاد رکھیئے غلط کام کرنے والا تو گناه گار هے هی لیکن اس کو دوسروں تک پھیلانے والا اس سے بھی زیاده گناه گار هے، جتنے لوگ بھی اس کے گناه کو دیکھیں گے اس پر بیہودہ تبصره کریں گے سب کا گناه اس کو ملے گا جس نے اس گناه کو پھیلایا.

کیونکہ جو دوسروں کو کسی غلط کام کی طرف راغب کرتا هے ان سب کے گناهوں کے برابر گناه اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا هے۔ اس لیے مہربانی فرما کر عقل مندی کا مظاهره کریں اور اپنے نامہ اعمال کو سیاه هونے سے بچائیں۔ اس سے بڑی بیوقوفی اور کیا هوگی که گناه تو دوسرے کریں اور کل کو بھگتا آپ کو پڑے۔ الله همیں هدایت دے.

 تحریر بشکریہ: هدایت الله

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 خاوند اور ٹیکسی ڈرائیور 🔷

بازار میں کافی رش تھا۔۔۔ گرمی بھی اپنے عروج پر تھی۔۔۔!
ایک شادی شدہ جوڑا سڑک کے کنارے دھوب میں کھڑا ٹیکسی کا انتظار کر رہا تھا۔۔
دور سے ٹیکسی نظر آئی اور شوہر نے دور ہی سے اسے روکنے کیلئے ہاتھ ہلانا شروع کر دیا۔۔۔!!
تھوڑا بھاؤ تاؤ کرنے کے بعد وہ شادی شدہ جوڑا ٹیکسی میں سوار ہو گیا اور ٹیکسی چل پڑی....

تھوڑی دور چلنے کے بعد ٹیکسی ڈرائیور نے بیک مرر میں دیکھتے ہوئے مرد سے کہا:
■ْْسَر۔۔۔ آپ اپنی وائف سے کہیں کہ وہ اپنی لِپ اسٹک کا رنگ تبدیل کر لے۔۔۔ مجھے لپ اسٹک کا یہ رنگ نہیں پسند۔۔۔!! ''

وہ مرد غصے سے آگ بگولہ ہو گیا اور پچھلی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے اس نے ٹیکسی ڈرائیور کا گلا پکڑ کر پیچھے کی جانب کھینچا۔۔۔ اور تقریباً چیختے ہوئے پہلے تو اس نے موٹی موٹی کئی گالیاں دیں اور پھر بولا:
●''ابے تجھے کیا! تو لوگوں کی عزت و ناموس کو کیوں تاڑتا ہے۔۔۔؟؟ کیا تیری بیوی بچے اور ماں بہنیں نہیں ہیں۔۔؟؟ تجھے میری بیوی کے لِپ اسٹک کلر سے کیا مطلب ذلیل آدمی۔۔؟؟

ٹیکسی ڈرائیور نے کھانستے ہوئے مسکرا کے کہا:
■سر! پس آپ کی بیوی نے یہ میک اپ کس کیلئے کیا ہے۔۔۔؟ اگر یہ آپ کیلئے ہوتا تو وہ یہ کام گھر میں کرتی۔۔۔۔!!

یہ بات سنتے ہی گویا مرد کو اچانک کرنٹ لگ گیا۔۔۔ اس نے جلدی سے ٹیکسی ڈرائیور کا گلا چھوڑ دیا اور پیچھے ہو کر سیٹ سے ٹیک لگا لی۔۔۔۔۔۔
.
مگر
اگلے ہی لمحے ٹیکسی ڈرائیور کی بھی حیرت کی انتہا نہ رھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
●مرد نے جیب سے ٹشو پیپر نکال کر اپنی بیوی کو دیا تا کہ وہ اپنی لِپ اسٹک کو صاف کر دے۔۔۔۔!

🔷بحارالأنوار میں امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
"مرد کی غیرت کا اندازہ اس کی عورت کے لباس اور پردے سے لگایا جاتا ہے."

🔹حضرت امام حسن مجتبٰی علیہ السلام سے بھی یہی فرمان نقل ہوا ہے کہ....
"مرد کی غیرت کا اندازہ اس کی عورت کے لباس اور پردے سے لگایا جاتا ہے."

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ اعتراف گناہ ⭕

حضرت موسٰی علیہ السلام نے ایک مرتبہ اللہ تعالی سے پوچھا:
یا اللہ میری امت کا سب سے بدترین شخص کون سا ھے؟
اللہ تعالی نے فرمایا:
کل صبح جو شخص تمھیں سب سے پہلے نظر آئے وہ آپ کی امت کا بدترین انسان ھے.
حضرت موسٰی علیہ السلام صبح جیسے ہی گھر سے باہر تشریف لائے، ایک شخص اپنے بیٹے کو کندھے پر بٹھائے ھوئے گزرا...
حضرت موسٰی علیہ السلام نے دل میں سوچا..
اچھا تو یہ ھے میری امت کا سب سے برا انسان.
پھر آپ اللہ تعالی سے مخاطب ھوئے اور کہا:
یا اللہ!
میری امت کا سب سے اچھا انسان کون سا ھے اسے دکھائیں..
اللہ تعالی نے فرمایا
شام کو جو شخص سب سے پہلے آپ سے ملے وہ آپکی امت کا سب سے بہترین انسان ھے.

حضرت موسٰی علیہ السلام شام کو انتظار کرنے لگے کہ..
اچانک انکی نظر صبح والے بدترین انسان پر پڑی...
یہ وہی شخص تها جو صبح ملا تھا.

حضرت موسٰی علیہ السلام نے اللہ سے کلام کیا:
یا اللہ یا رب کریم!
یہ کیا ماجرا ھے؟
جو شخص بدترین تھا وہی سب سے بہترین کیسے ھوسکتا ھے؟

اللہ تعالی نے فرمایا:
صبح جب یہ شخص اپنے بیٹے کو کندھے پر بٹھائے جنگل کی طرف نکلا تو اس کے بیٹے نے اس سے پوچھا...
ابا! کیا اس جنگل سے بڑی کوئی چیز ھے
اس نے کہا..
ہاں بیٹا!
یہ پہاڑ جنگل سے بھی بڑے ہیں.
بیٹا بولا:
ابا! ان پہاڑوں سے بھی بڑی کوئی شے ھے؟

وہ بولا:
ہاں بیٹا!
یہ آسمان پہاڑوں سے بھی بہت بڑا بہت وسیع و عریض ھے.

بیٹے نے کہا:
ابا! اس آسمان سے بڑی بھی کوئی چیز ھے؟
باپ نے ایک سرد آہ بھری اور دکھ بھری آواز میں بولا:
ہاں بیٹا! اس آسمان سے بھی بڑے تیرے باپ کے گناہ ہیں.

بیٹے نے کہا:
ابا! تیرے گناہ سے بڑی بھی کوئی چیز ھے؟
باپ کے چہرے پر ایک چمک سی آگئی اور بولا:
ہاں بیٹا!
تیرے باپ کے گناھوں سے بہت، بہت بڑی
میرے رب کی رحمت اور اسکی مغفرت ھے.

اللہ رب العزت نے فرمایا:
اے موسٰی! مجھے اس شخص کا اعتراف گناہ اور ندامت اس قدر پسند آیا کہ...
میں نے اس بدترین شخص کو تیری امت کا بہترین انسان بنا دیا...
میں نے اسکے تمام گناہ ناصرف معاف کر دیئے بلکہ
گناھوں کو نیکیوں سے بدل دیا.

🔹اپنے رب کے سامنے رونا اور اعتراف گناہ کرنا،
عاجزی سے اسکے سامنے خود کو جھکا دینا بہت بڑا عمل ھے.

🔷رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"گناہوں سے توبہ کرنیوالا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں."
(ابن ماجہ، جلد2، حدیث:2054)

سبحان ربی الاعلی وبحمدہ،
سبحان ربی العظیم وبحمده.

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌛 سونے سے پہلے کے آداب 🌜

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیها سے روایت ہے کہ میں سونے کیلئے بستر بچھا چکی تھی کہ پیغمبر اسلام(ص) ہمارے گھر تشریف لائے، میرے قریب تشریف لائے اور فرمایا؛
اے جان سے پیاری فاطمہ!
سونے سے پہلے چار کام ضرور انجام دیا کرو.
1۔ ختم قرآن کرو،
2۔ پیغمبروں کو اپنے لئے شفیع قرار دو،
3۔ مؤمنين کو خود سے راضی کرو،
4۔ حج و عمرہ کو انجام دو.

یہاں تک پہنچنے کے بعد پیغمبر اسلام (ص) فرماتے ہیں؛
●جب آپ تین مرتبہ سورہ اخلاص تلاوت کریں تو پورے ختم قرآن کا ثواب ہے.
"بسم اللہ الرحمٰن الرحیم¤ قل هواللہ احد¤ الله الصمد¤ لم یلد ولم یولد¤ ولم یکن لہ کفوا احد¤"
اور
●جب مجھ پر اور انبیاء ما سلف پر درود بھیجیں تو قیامت تک وہ آپ کے شفیع ہیں.
"اللهم صل علی محمد وآل محمد وجميع الانبیاء والمرسلين."
اور
●جب مؤمنين کیلئے استغفار کریں گی تو وہ آپ سے راضی ہوجائیں گے.
"اللھم اغفر للمؤمنين والمؤمنات."
اور
●جب مذکورہ دعا تلاوت کریں گی تو گویا حج و عمرہ انجام دیا ہے.
"سبحان اللّٰہ والحمدللہ ولا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر"
ترجمہ:
پاک ہے پروردگار تمام تعریفیں اس سے مخصوص ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ اللہ سب سے بڑا ہے.

■ برے خوابوں سے بچنے کیلئے:
امام جعفرصادق سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ زهراء سلام اللہ علیها نے برے اور پریشان کرنے والے خوابوں کے متعلق پیغمبر اسلام (ص) سے شکایت کی تو پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:
جب بھی ایسے خواب دیکھیں تو کہیں؛
"ایسے میں اس کی بارگاہ میں پناہ لیتی ہوں جس کی بارگاہ میں اس کے مقرب فرشتوں، اور اس کے نبیوں اور رسولوں اور صالح بندوں نے پناہ لی۔ اس ڈراؤنے خواب سے میرے دین اور میری دنیا کو کوئی نقصان نہ ہو اور پھر تین مرتبہ اپنی بائیں جانب تھوک دیں."

■ بے خوابی سے بچنے کیلئے دعا:
معتبر حدیث میں منقول ہے کہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیها نے بدخوابی کی شکایت کی، تو پیغمبر (ص) نے فرمایا؛
یہ دعا پڑھا کرو:
اے بھوکوں کو پیٹ بھر کر کھلانے والے،
اے عریاں بدنوں کو لباس پہننانے والے اور چھپانے والے،
اے زخمی رگوں کو آرام دینے والے،
اے بیدار آنکھوں کو نیند دینے والے،
بے تاب رگوں کو آرام دے، اور جلدی سے میری آنکھوں کو نیند عطا فرما.
(تہذیب الاسلام، ص241)

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
📝 انداز بیان و سوچ 📝

ایک مشہور مصنف نے اپنے مطالعے کے کمرےمیں قلم اٹھایا اور ایک کاغذ پر لکھا:
٭٭٭ گزشتہ سال میں، میرا آپریشن ہوا اور پِتا نکال دیا گیا، بڑھاپے میں ہونے والے اس آپریشن کی وجہ سے مجھے کئی ہفتے تک بستر کا ہو کر رہنا پڑا۔

٭٭٭ اسی سال میں ہی میری عمر ساٹھ سال ہوئی اور مجھے اپنی پسندیدہ اور اہم ترین ملازمت سے سبکدوش ہونا پڑا۔ میں نے نشرو اشاعت کے اس ادارے میں اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال گزارے تھے۔

٭٭٭ اسی سال ہی مجھے اپنے والد صاحب کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا۔

٭٭٭ اسی سال میں ہی میرا بیٹا اپنے میڈیکل کے امتحان میں فیل ہو گیا، وجہ اس کی کار کا حادثہ تھا جس میں زخمی ہو کر اُسے کئی ماہ تک پلستر کرا کر گھر میں رہنا پڑا، کار کا تباہ ہوجانا علیحدہ سے نقصان تھا۔
صفحے کے نیچے اس نے لکھا؛ آہ، کیا ہی برا سال تھا یہ!!!

مصنف کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ اُس کا خاوند غمزدہ چہرے کے ساتھ خاموش بیٹھا خلاؤں کو گُھور رہا تھا۔ اُس نے خاوند کی پشت کے پیچھے کھڑے کھڑے ہی کاغذ پر یہ سب کچھ لکھا دیکھ لیا۔ خاوند کو اُس کے حال میں چھوڑ کر خاموشی سے باہر نکل گئی۔ کچھ دیر کے بعد واپس اسی کمرے میں لوٹی تو اس نے ایک کاغذ تھام رکھا تھا جسے لا کر اُس نے خاموشی سے خاوند کے لکھے کاغذ کے برابر میں رکھ دیا۔ خاوند نے کاغذ کو دیکھا تو اس پر لکھا تھا:

٭٭٭ اس گزشتہ سال میں آخر کار مجھے اپنے پتے کے درد سے نجات مل گئی جس سے میں سالوں کرب میں مبتلا رہا تھا۔

٭٭٭ میں اپنی پوری صحت مندی اور سلامتی کے ساتھ ساٹھ سال کا ہو گیا۔ سالوں کی ریاضت کے بعد مجھے اپنی ملازمت سے ریٹائرمنٹ ملی ہے تو میں مکمل یکسوئی اور راحت کے ساتھ اپنے وقت کو کچھ بہتر لکھنے کیلئے استعمال کر سکوں گا۔

٭٭٭ اسی سال ہی میرے والد صاحب پچاسی سال کی عمر میں بغیر کسی پر بوجھ بنے اور بغیر کسی بڑی تکلیف اور درد کے، آرام کے ساتھ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

٭٭٭ اسی سال ہی اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو ایک نئی زندگی عطا فرما دی اور ایسے حادثے میں جس میں فولادی کار تباہ ہو گئی تھی، مگر میرا بیٹا کسی معذوری سے بچ کر زندہ و سلامت رہا۔

آخر میں مصنف کی بیوی نے یہ فقرہ لکھ کر تحریر مکمل کی تھی کہ:
"واہ ایسا سال، جسے اللہ نے رحمت بنا کر بھیجا اور بخیرو خوبی گزرا۔"

ملاحظہ کیجیئے: بالکل وہی حوادث اور بالکل وہی احوال لیکن ایک مختلف نقطہ نظر سے۔۔۔۔ بالکل اسی طرح اگر، جو کچھ ہو گزرا ہے، اسے اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے جو اس کے برعکس ہوتا ہے تو، ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شاکر بن جائیں گے۔ 
اگرہم بظاہرکچھ کھو بیٹھے، اسے مثبت زاویے سے دیکھیں تو ہمیں جو کچھ عطا ہوا وہ بہتر نظر آنا شروع ہو جائے گا۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ ﴿النمل:٧٣﴾
"اور بے شک تیرا رب تو لوگوں پر فضل کرتا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے"

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
"انسان پریشانیوں کی گنتی کرنے کا ماہر ہے، لیکن نعمتوں کا حساب رکھنا بھول جاتا ہے."

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 بیٹی، اک ڈھال 🌹

اُس کی شادی کو دس سال ہو رہے تھے۔۔۔ قدرت نے اُسے بیٹیوں جیسی رحمت سے نوازا تھا۔۔ 
ہر مرتبہ اُسے خواہش ہوتی کہ بیٹا پیدا ہو۔۔ لیکن یکے بعد دیگرے پھول جیسی چھ بیٹیاں اس کے آنگن میں اُتر آئی تھیں۔۔۔
بیٹا نہ ہونے کے سبب خاندان اور گھر والوں کی تلخ باتیں بھی اُسے سہنی پڑ جاتیں۔۔۔
اس بار پھر اُس کی بیوی کے ہاں ولادت متوقع تھی۔۔۔ لیکن وہ دل میں ہی ڈر رہا تھا کہ اس بار پھر بیٹی پیدا نہ ہو جائے۔۔۔
"اب کے بار بھی اگر لڑکی پیدا ہوئی تو بیوی کو طلاق دے کر فارغ کر دینا ۔۔۔۔"
اُس کی آپا نے اسے دوٹوک انداز میں کہہ ڈالا۔۔۔
"بیٹی کی پیدائش میں بھلا میری بیوی کا کیا قصور ۔۔؟؟"
وہ اپنے ہی ذہن میں سوچتا۔۔۔ پھر سر جھٹک کر فیصلوں کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیتا۔۔۔ 
لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا۔۔۔ شیطان کے کاری وار اُس کے دل و دماغ پر اثر کرتے گئے یہاں تک اُس نے پکا ارادہ کر لیا کہ اگر اب کے بار بھی لڑکی پیدا ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا۔!
ایک رات وہ سویا تو کیا دیکھتا ہے کہ قیامت برپا ہو چکی ہے، ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے.
میزانِ عمل میں اس کے گناہوں کا بوجھ اتنا ہے کہ زندگی بھر کی نیکیاں بھی کام نہیں آ سکیں اور ان گناہوں کی پاداش میں اس پر جہنم واجب ہو چکی ہے..
فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کی طرف گھسیٹتے ہوئے جا رہے ہیں۔۔ اِس کی چیخ و پکار آہ و بکا کا کچھ بھی اثر نہیں ہو رہا۔۔۔ اچانک کیا دیکھتا ہے کہ جہنم کے دروازے پر اِس کی ایک بیٹی کھڑی ہے.. وہ باپ کو دیکھ کر آگے بڑھتی ہے اور فرشتوں کو روک دیتی ہے۔۔۔
فرشتے اِس کو لے کر دوسرے دروازے کی طرف چل پڑتے ہیں۔۔۔ وہاں پہنچ کر دیکھتا ہے کہ اس کی دوسری بیٹی کھڑی ہے اور فرشتوں کو آگے نہیں جانے دے رہی۔۔
فرشتے وہاں سے اِسے لے کر تیسرے دروازے پر جاتے ہیں۔۔ وہاں اس کی تیسری بیٹی اپنے باپ کیلئے جہنم سے آڑ بن جاتی ہے۔۔
اس طرح چوتھے۔۔۔ پانچویں اور پھر چھٹے دروازے تک فرشتے اس کو لے کر جاتے ہیں مگر ہر دروازے پر اس کی بیٹیاں اس کا دفاع کرتی ہیں اور جہنم میں جانے سے روک دیتی ہیں۔
اب ساتواں دروازہ باقی تھا، فرشتے اِس کو زنجیروں میں جکڑے ساتویں دروازے کی طرف چل پڑتے ہیں۔۔
اب اس پر شدید گھبراہٹ طاری ہونے لگی کہ اس دروازے پر میرے لئے کون رکاوٹ بنے گا۔۔؟؟؟
اسی گھبراہٹ اور خوف کے عالم میں اچانک ہی اُس کی آنکھ کُھل گئی، وہ پسینے میں شرابور تھا اور جسم پر کپکپی طاری تھی، اسے احساس ہونے لگا کہ شیطان کے بہکاوے میں آ کر انتہائی غلط فیصلہ کر بیٹھا تھا.
اسی حالت میں اُس نے اللہ کے حضور ہاتھ بلند کئے۔۔۔ آنسو اُس کے رخساروں پر بہہ رہے تھے اور لرزتے ہونٹوں سے دعا نکلی...
"اے اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ساتویں بیٹی عطا فرما ۔۔۔۔۔۔"

آج کے بیدین اور فرسودہ افکار نے سوچ کو اس حد تک گِرا دیا کہ بیٹیوں کو رحمت کے بجائے دورِ جاہلیت کی طرح اور بے عزتی کا سبب خیال کیا جانے لگا ہے، مسلمان معاشرے میں ﺟﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﻀﺎ ﻭ ﻗﺪﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﭘﺮ ﺭﻧﺠﯿﺪﮦ ﺧﺎﻃﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎہئے کیونکہ بیٹیاں رحمتِ خداوندی کا حصہ اور جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں، ایمان کی کمزوری کے باعث جن لوگوں کا ﯾﮧ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺮﺍ ﺳﺮ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ۔۔۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﺎ ﺧﻮﺩ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻤﻞ ﺩﺧﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮨﯿﮟ۔۔
اولاد کی نعمت سے نوازنے والا ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺣﺪﮦ ﻻﺷﺮﯾﮏ ﮨﮯ...
ارشاد باری تعالٰی ہے:
"ﻭہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔۔۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے یا (جس کو چاہتا ہے) بیٹے اور بیٹیاں ملا جُلا کر دیتا ہے اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے."
(سورۃ الشورٰی: 49-50)

رسول اکرم (ص) نے فرمایا:
"جس شخص کو بیٹیوں کے ذریعے آزمائش میں ڈالا گیا اور اس نے احسن طریقے سے ان کی پرورش کی تو اس کے لیے یہ بچیاں جہنم سے بچاؤ کے لئے ڈھال بن جائیں گی."
(بخاری، کتاب الزکاة، حدیث:1418)

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 احساس 🔷

ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺧﺼﻮﺻﺎً ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ نیچے ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﯿﮟ۔۔۔
ﭘﮍﮪ ﮐﮧ ﺍﮎ ﺑﺎﺭ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﻮﭼﯿﮯ ﮔﺎ کہ ہم میں دوسروں کے لئے کتنا احساس ہے.

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮐﺴﯽ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﮔﺰﺭﮔﺎﮦ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ
ﺑﯿﭻ ﺍﯾﮏ ﭼﭩﺎﻧﯽ ﭘﺘﮭﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺭﮐﮭﻮﺍ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮔﺰﺭﮔﺎﮦ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﮩﺮﯾﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯﭼﮭﭙﺎ ﮐﺮ ﺑﭩﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ
ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﺩِ ﻋﻤﻞ ﺳُﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﺮﮮ۔

■ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﺟﺲ ﭘﮩﻠﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ﻭﮦ ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﺎﺟﺮ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ ﺑﯿﭻ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﺱ ﭼﭩﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﯾﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭼﭩﺎﻥ ﺗﻮ ﺣﺎﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺭﮐﮭﻮﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺑﮯ ﻧﻘﻂ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﭼﭩﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﭼﮑﺮ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺨﺘﮯ، دﮬﺎﮌﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺣﮑﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﮔﺎ ﺍُﺳﮯ ﺳﺰﺍ ﺩﻟﻮﺍﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮔﺎ۔

■ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﻌﻤﯿﺮﺍﺗﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﭨﮭﯿﮑﯿﺪﺍﺭ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ.
ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺭﺩِ ﻋﻤﻞ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﺎﺟﺮ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﯾﺴﯽ ﺷﺪﺕ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻦ ﮔﺮﺝ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺟﯿﺴﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﺎﺟﺮ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﻓﺮﻕ ﺑﮭﯽ ﺗﻮﺗﮭﺎ!

■ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ﺟﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺗﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎ ﭘﺎﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻡ ﮐﺎﺝ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﭩﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮎ ﮐﺮ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ ﺑﯿﭻ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺟﺎﮨﻞ، ﺑﯿﮩﻮﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﭩﯿﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺗﺸﺒﯿﮧ ﺩﯼ، ﻗﮩﻘﮩﮯ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ.

■ﺍﺱ ﭼﭩﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﮯ ﺩﻭ ﺩﻥ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﻠﻮﮎﺍﻟﺤﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ۔ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮑﻮﮦ ﮐﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﻭﮦ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﻭاﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﮧ ﭘﺘﮭﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﻭﺯﻧﯽ ﭘﺘﻬﺮ ﮐﻮ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﭩﺎﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺎﻡ ﺗﻬﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﻤﺖ ﻧﮧ ﮨﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ
ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻻﭨﻬﯽ ﺳﮯ ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﭼﭩﺎﻥ ﻧﻤﺎ ﭘﺘﮭﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ۔
■ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﯾﮧ ﭼﭩﺎﻥ نما پتھر ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ہٹا ﺗﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﮔﮍﮬﺎ تها، كسان كو ﺍُﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺻﻨﺪﻭﻗﭽﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯽ ﺟﺴﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭨﮑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺧﻂ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ:
"ﺣﺎﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺱ ﭼﭩﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺳﮯ ﮨﭩﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﻣﺜﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻠﯽ ﺳﻮﭺ ﻧﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﭘﺮ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺣﻞ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺎ۔."

🌹دوسروں کے لئے اچھا سوچو گے تو اللہ رب العزت تمہارے لیے راستے بنا دے گا اور مشکلیں آسان کر دے گا.

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 فطرت 🔷

ایک دفعہ ایک بزرگ دریا کے کنارے جا رہے تھے کہ دیکھا کہ ایک بچھو ڈوب رہا ہے۔ ان کے پاس کوئی چیز نہ تھی جس سے اسے نکالتے لہذا اپنا ہاتھ آگے کیا اور بچھو کو پانی کی سطح سے بلند کیا اس سے پہلے کہ اسے زمین پر اتارتے، اس نے ڈنگ مارا، بزرگ کا ہاتھ کانپا اور وہ پھر پانی میں گر گیا۔

انہوں نے پھر ہاتھ ڈالا اسے ہتھیلی پر رکھا تاکہ باہر نکالیں؟ پھر بچھو نے ڈنگ مارا اور وہ پھر ہاتھ کانپنے کی وجہ سے پانی میں گر گیا۔

تیسری مرتبہ پھر جب بزرگ نے ہاتھ ڈالا پانی میں اسے نکالنے کے لئے تو ساتھ والوں نے کہا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں.؟
آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ اسے نکالتے ہیں تو وہ آپ کو ڈنگ مارتا ہے تو آپ اسے مت نکالیں۔

بزرگ نے جواب دیا کہ...
وہ اپنی فطرت سے مجبور ہے کہ اللہ نے اس کی فطرت میں ڈنگ مارنا لکھا ہے اور میں اپنی فطرت سے مجبور ہوں کہ میری فطرت میں اللہ نے اپنی مخلوق کی مدد کرنا اور اسے بچانا اور اس پر رحم کھانا لکھا ہے۔ لہذا اسے اس کی فطرت کے مطابق عمل کرنے دو اور مجھے میری فطرت کے مطابق.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌳 سیب کا درخت 🌳

قدیم زمانے میں سیب کا ایک بڑا درخت تھا۔ اس درخت کے قریب ہی ایک چھوٹا لڑکا رہتا تھا۔ اس لڑکے کو روزانہ اس درخت کے پاس آنا اور کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ وہ اس درخت کے اوپر چڑھ جاتا اور اس کے پھل توڑ توڑ کر کھاتا اور پھر اس کے سائے میں سو جاتا۔ وہ لڑکا اس درخت کو بہت چاہتا تھا اور اسی طرح اس درخت کو بھی اس لڑکے کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا تھا۔
وقت گزرتا رہا اور لڑکا بڑا ہو گیا۔ اب وہ پہلے کی طرح روزانہ اس درخت کے پاس کھیلنے نہیں آتا تھا۔
ایک روز وہ نو جوان درخت کے پاس آیا۔ وہ مایوس لگ رہا تھا۔ درخت نے اس سے کہا:
"آؤ میرے ساتھ کھیلو."
نو جوان نے اس سے کہا:
"اب میں بچہ نہیں رہا اب میں درختوں کے ارد گرد نہیں کھیلتا۔ مجھے کچھ کھلونے چاہئے اور انہیں خریدنے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے."
اس وقت درخت نے کہا:
"مجھے افسوس ہے، میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں لیکن میرے اوپر جو سیب لگے ہوئے ہیں تم انہیں توڑ کر بیچ سکتے ہو۔ اس کے بعد تمہارے پاس پیسہ آ جائیگا۔"
نو جوان بہت خوش ہوا اور اس نے درخت کے سبھی سیب توڑے اور خوشی خوشی چلا گیا۔ سیب توڑنے کے بعد نوجوان واپس نہیں آیا تو درخت کو مایوسی ہوئی.
ایک دن وہ نوجوان آیا۔ اب وہ جوان ہو چکا تھا۔ درخت بہت خوش ہوا، اس نے جوان سے کہا:
"آؤ میرے ساتھ کھیلو."
حسب توقع اس نے انکار کر دیا:
"میرے پاس کھیلنے کا وقت نہیں ہے۔ میرے لئے ضروری ہے کہ میں اپنے کنبے کے لئے کام کروں۔ ہمیں رہنے کے لئے ایک مکان کی ضرورت ہے۔ کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں."
درخت نے اس سے کہا:
"افسوس ہے لیکن میرے پاس کوئی گھر نہیں ہے۔ پھر بھی اپنا گھر بنانے کے لئے تم میری ٹہنیاں کاٹ سکتے ہو۔"
اس آدمی نے درخت کی ساری ٹہنیاں کاٹ لیں اور خوشی خوشی چلا گیا۔ اسے خوش دیکھ کر درخت خوش تھا لیکن اس وقت کے بعد آدمی اس کے پاس واپس نہیں لوٹا تو درخت کو پھر سے تنہائی اور مایوسی کا احساس ہونے لگا۔

ایک دن پھرجب دھوپ نکلی ہوئی تھی اور گرمی کافی زیادہ تھی وہ شخص آیا.
اسے دیکھ کر درخت خوش ہو گیا اور حسب عادت اس سے کہا کہ:
"آؤ میرے ساتھ کھیلو."
آدمی نے کہا کہ: "میں بڑا ہو گیا ہوں اور چاہتا ہوں کہ سمندر میں سفر کروں تاکہ خوش حال ہوجاؤں۔ کیا آپ مجھے ایک کشتی دے سکتے ہیں."
درخت نے کہا:
"میرے تنے سے اپنی کشتی بنا لو۔ اس سے تم دور تک سفر کر لوگے اور خوش حال ہو جاؤگے."
آدمی نے کشتی بنانے کے لئے درخت کا تنا کاٹا اور سمندری سفر کے لئے نکل پڑا اور کافی زمانے تک نہیں لوٹا۔ سالوں بعد وہ شخص پھر آیا۔ درخت نے اس سے کہا:
"اے میرے بیٹے مجھے افسوس ہے لیکن میرے پاس اب کچھ بھی نہیں بچا ہے جو میں تمہیں دے سکوں۔ تمہارے لئے ایک سیب بھی نہیں بچا ہے.
اس آدمی نے کہا:
"کوئی بات نہیں، میرے پاس اسے کھانے کے لئے دانت ہی نہیں ہیں."
درخت نے کہا:
"میرا تنا بھی نہیں بچا کی تم اس پر چڑھ سکو."
اس شخص نے کہا:
"اس پر چڑھنے کی اب میری عمر نہیں رہی." اس کی آنکھوں سےآنسو جاری تھے.
درخت نے کہا:
حقیقت میں، میں اب تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔ آخری چیز جو میرے پاس ہے وہ میری جڑیں ہیں."
اس وقت اس آدمی نے کہا:
"اب مجھے زیادہ چیزوں کی ضرورت نہیں ہے، اب مجھے ایک ایسی جگہ چاہئے جہاں میں آرام کر سکوں۔ زندگی بھر کام کر کر کے میں تھک چکا ہوں.
پرانے درخت کی جڑ ٹیک لگانے اور آرام کرنے کے لئے سب سے بہتر جگہ ہے."
تب درخت نے اس سے کہا:
"آؤ میرے پاس بیٹھو اور آرام کرو."
آدمی بیٹھ گیا، درخت خوش تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے."

وہ بچہ آپ خود ہیں اور سیب کا وہ درخت آپ کے والدین ہیں.

🌹نصیحت:
درخت والدین کی طرح ہے۔ جب ہم بچے ہوتے ہیں تو ہمیں ان کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا ہے اور جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں تو ہم انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور اسی وقت واپس آتے ہیں جب ہمیں ان سے کوئی ضرورت ہوتی ہے۔ اور کچھ بھی ہو جائے والدین کبھی بھی اپنی قیمتی سے قیمتی چیز اپنے بچوں کو دینے میں تردد نہیں کرتے جو ان کی آنکھوں میں بچے ہی رہتے ہیں.

🌹 باپ کی موجودگی سورج کی مانند ہوتی ہے، سورج گرم ضرور ہوتا ہے مگر سورج نہ ہو تو اندھیرا چھا جاتا ہے..!!

■امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"حضرت موسٰی علیہ السلام خدا سے مناجات کر رہے تھے، اچانک انہوں نے عرش کے سائے میں ایک شخص کو دیکھا تو عرض کیا:
اے پروردگار! یہ کون ہے جس پر عرش سایہ کئے ہوئے ہے؟ یہ شخص کس طرح اس عظیم مقام ومرتبہ تک پہنچا.؟
اللہ تعالٰی نے فرمایا:
یہ شخص اپنے والدین کے ساتھ نیکی (اچھا سلوک) کرتا تھا اور چغل خور نہ تھا."
(بحارالأنوار، جلد47)

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕