🔷 علم نجوم 🔷
علم نجوم کی ایک قسم یہ ھے کہ ستاروں کو دیکھ کر ان کے ذریعے جہت اور سمت کا تعین کیا جاتا ھے اور سمندر میں یا زمین پر راستے کا تعین کیا جاتا ھے۔ یا قبلہ کا تعین کیا جاتا ھے۔ یہ قسم حرام نہیں اس پر تمام فقھاءکا اتفاق ھے.
لیکن
■علم نجوم کی وہ قسم حرام ھے کہ جس میں اسٹارز دیکھ کر، ان کے ذریعے کسی شخص کی زندگی کے آئندہ ھونے والے حالات بیان کئے جاتے ہیں (پیشین گوئی کی جاتی ھے) اور ستاروں کے خاص حالات و حرکات کے مطابق کسی کام کے انجام دینے یا نہ دینے کا حکم دیا جاتا ہے، ان باتوں پہ یقین رکھنا، ایسے شخص کے پاس اسی مقصد کے لئے جانا اس کی بات سننا اور ایسے نجومی کی بات سن کر اس کی تصدیق کرنا اس کی پیشین گوئیوں پر عمل کرنا حرام ھے.
●"اس بات پر شیعہ سنی فقھاء کا اتفاق ھے."
●ان کی پیشین گوئیوں کی کوئی حیثت نہیں ہوتی کیونکہ ان کی پیشین گوئیاں حدس و گمان پر مبنی ہوتی ہیں۔
■روایات میں بھی اسی علم نجوم کی مذمت کی گئی ھے اور ایسے نجومی کو ملعون کہا گیا ھے اور ایسے نجومی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ کافر کی طرح ھے اور کافر کا ٹھکانہ آگ (جہنم) ہے۔
■اسی طرح "پامسٹری" بھی (جس میں ھاتھ دیکھ کر مستقبل کے حالات سے آگاہ کیا جاتا ہے) شرعاً حرام ھے۔
■روایت میں ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"جس نے کسی نجومی کی تصدیق کی یا کاہن کی تصدیق کی (ان کی پیشین گوئیوں کو صحیح سمجھا) اس نے اس چیز کا انکار کیا جو محمد (ص) پر نازل کی گئی. (یعنی قرآن کا انکار کیا)
محققِ حلّی
کتاب ،المعتبر, ج2,ص ۶۸۸.
■جب امام علی علیہ السلام نے خوارج کے خلاف جنگ کے لئے نکلنے کا ارادہ کیا تو ایک شخص نے کہا کہ:
یا امیر المومنین (ع) آپ اس وقت نکلے تو علمِ نجوم کی رُو سے مجھے اندیشہ ہے کہ آپ اپنے مقصد میں کامیاب و کامران نہیں ہو سکیں گے.
جس پر آپ نے فرمایا کہ:
"کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ تم اس گھڑی کا پتہ دیتے ہو کہ اگر کوئی اس میں نکلے تو اس کے لئے کوئی بُرائی نہ ہو گی اور اس لمحے سے خبردار کرتے ہو، کہ اگر کوئی اس میں نکلے تو اسے نقصان درپیش ہو گا، تو جس نے اسے صحیح سمجھا، اس نے قرآن کو جھٹلایا اور مقصد کے پانے اور مصیبت کے دوُر کرنے میں اللہ کی مدد سے بے نیاز ہو گیا، تم اپنی ان باتوں سے یہ چاہتے ہو کہ جو تمہارے کہے پر عمل کر ے وہ اللہ کو چھوڑ کر تمہارے گُن گائے۔ اس لئے کہ تم نے اپنے خیال میں اس ساعت کا پتہ دیا، کہ جو اس کے لئے فائدہ کا سبب ، اور نقصان سے بچاؤ کا ذریعہ بنی۔ (پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے )
اور فرمایا:
"اے لوگو! نجوم کے سیکھنے سے پرہیز کرو، مگر اتنا کہ جس سے خشکی (زمین) اور تری (سمندر) میں راستے معلوم کر سکو۔ (یعنی صرف اس حدتک علم نجوم کا سیکھنا اور عمل کرنا جائز ہے) اس لئے کہ نجوم کا سیکھنا کہانت اور غیب گوئی کی طرف لے جاتا ہے اور منجم (شرعی حکم میں) کاہن کی طرح ہے، اور کاہن ساحر کی طرح ہے، اور ساحر کافر کی طرح ہے، اور کافر کا ٹھکانا آگ (جہنم) ہے!
بس اللہ کا نام لے کر نکل پڑو."
نھج البلاغہ خطبہ نمبر 79.
(پھر جنگ نہروان میں خوارج کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا.)
■امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"یقیناً نجومی ملعون ہے، کاہن ملعون ہے اور ساحر ملعون ہے."
وسائل الشیعہ, ج 12 ص 103.
■آج کل ٹی وی پر مارننگز شوز میں بھی ایسے اشخاص کو لایا جاتا ھے جو نام اور تاریخ پیدائش وغیرہ پوچھنے کے بعد لوگوں کو ان کے مستقبل کے حالات سے آگاہ کر رہے ہوتے ہیں، اور لوگ انھیں کال کر کے پوچھ بھی رہے ہوتے ہیں، جو کہ شرعاً حرام ھے، اس لئے ایسے پروگرامز کو دیکھنا، ایسے شخص کو کال کرنا ایسے شخص کی بات پہ یقین کرنا حرام ھے اور بہت بڑا گناہ ھے، مومنین کو ایسے کاموں سے پرھیز کرنا چاھئے.
کیونکہ معصومین علیہم السلام نے فرمایا کہ:
"جس نے ان کی باتوں کو صحیح سمجھا اس نے قرآن کو جھٹلایا"
اور نجومی کے بارے میں فرمایا کہ:
"نجومی ملعون ہے اور اس کا ٹھکانہ کافر کی طرح آگ (جھنم) ھے."
بشکریہ تحریر: مصطفی رضوی.
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
علم نجوم کی ایک قسم یہ ھے کہ ستاروں کو دیکھ کر ان کے ذریعے جہت اور سمت کا تعین کیا جاتا ھے اور سمندر میں یا زمین پر راستے کا تعین کیا جاتا ھے۔ یا قبلہ کا تعین کیا جاتا ھے۔ یہ قسم حرام نہیں اس پر تمام فقھاءکا اتفاق ھے.
لیکن
■علم نجوم کی وہ قسم حرام ھے کہ جس میں اسٹارز دیکھ کر، ان کے ذریعے کسی شخص کی زندگی کے آئندہ ھونے والے حالات بیان کئے جاتے ہیں (پیشین گوئی کی جاتی ھے) اور ستاروں کے خاص حالات و حرکات کے مطابق کسی کام کے انجام دینے یا نہ دینے کا حکم دیا جاتا ہے، ان باتوں پہ یقین رکھنا، ایسے شخص کے پاس اسی مقصد کے لئے جانا اس کی بات سننا اور ایسے نجومی کی بات سن کر اس کی تصدیق کرنا اس کی پیشین گوئیوں پر عمل کرنا حرام ھے.
●"اس بات پر شیعہ سنی فقھاء کا اتفاق ھے."
●ان کی پیشین گوئیوں کی کوئی حیثت نہیں ہوتی کیونکہ ان کی پیشین گوئیاں حدس و گمان پر مبنی ہوتی ہیں۔
■روایات میں بھی اسی علم نجوم کی مذمت کی گئی ھے اور ایسے نجومی کو ملعون کہا گیا ھے اور ایسے نجومی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ کافر کی طرح ھے اور کافر کا ٹھکانہ آگ (جہنم) ہے۔
■اسی طرح "پامسٹری" بھی (جس میں ھاتھ دیکھ کر مستقبل کے حالات سے آگاہ کیا جاتا ہے) شرعاً حرام ھے۔
■روایت میں ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"جس نے کسی نجومی کی تصدیق کی یا کاہن کی تصدیق کی (ان کی پیشین گوئیوں کو صحیح سمجھا) اس نے اس چیز کا انکار کیا جو محمد (ص) پر نازل کی گئی. (یعنی قرآن کا انکار کیا)
محققِ حلّی
کتاب ،المعتبر, ج2,ص ۶۸۸.
■جب امام علی علیہ السلام نے خوارج کے خلاف جنگ کے لئے نکلنے کا ارادہ کیا تو ایک شخص نے کہا کہ:
یا امیر المومنین (ع) آپ اس وقت نکلے تو علمِ نجوم کی رُو سے مجھے اندیشہ ہے کہ آپ اپنے مقصد میں کامیاب و کامران نہیں ہو سکیں گے.
جس پر آپ نے فرمایا کہ:
"کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ تم اس گھڑی کا پتہ دیتے ہو کہ اگر کوئی اس میں نکلے تو اس کے لئے کوئی بُرائی نہ ہو گی اور اس لمحے سے خبردار کرتے ہو، کہ اگر کوئی اس میں نکلے تو اسے نقصان درپیش ہو گا، تو جس نے اسے صحیح سمجھا، اس نے قرآن کو جھٹلایا اور مقصد کے پانے اور مصیبت کے دوُر کرنے میں اللہ کی مدد سے بے نیاز ہو گیا، تم اپنی ان باتوں سے یہ چاہتے ہو کہ جو تمہارے کہے پر عمل کر ے وہ اللہ کو چھوڑ کر تمہارے گُن گائے۔ اس لئے کہ تم نے اپنے خیال میں اس ساعت کا پتہ دیا، کہ جو اس کے لئے فائدہ کا سبب ، اور نقصان سے بچاؤ کا ذریعہ بنی۔ (پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے )
اور فرمایا:
"اے لوگو! نجوم کے سیکھنے سے پرہیز کرو، مگر اتنا کہ جس سے خشکی (زمین) اور تری (سمندر) میں راستے معلوم کر سکو۔ (یعنی صرف اس حدتک علم نجوم کا سیکھنا اور عمل کرنا جائز ہے) اس لئے کہ نجوم کا سیکھنا کہانت اور غیب گوئی کی طرف لے جاتا ہے اور منجم (شرعی حکم میں) کاہن کی طرح ہے، اور کاہن ساحر کی طرح ہے، اور ساحر کافر کی طرح ہے، اور کافر کا ٹھکانا آگ (جہنم) ہے!
بس اللہ کا نام لے کر نکل پڑو."
نھج البلاغہ خطبہ نمبر 79.
(پھر جنگ نہروان میں خوارج کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا.)
■امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"یقیناً نجومی ملعون ہے، کاہن ملعون ہے اور ساحر ملعون ہے."
وسائل الشیعہ, ج 12 ص 103.
■آج کل ٹی وی پر مارننگز شوز میں بھی ایسے اشخاص کو لایا جاتا ھے جو نام اور تاریخ پیدائش وغیرہ پوچھنے کے بعد لوگوں کو ان کے مستقبل کے حالات سے آگاہ کر رہے ہوتے ہیں، اور لوگ انھیں کال کر کے پوچھ بھی رہے ہوتے ہیں، جو کہ شرعاً حرام ھے، اس لئے ایسے پروگرامز کو دیکھنا، ایسے شخص کو کال کرنا ایسے شخص کی بات پہ یقین کرنا حرام ھے اور بہت بڑا گناہ ھے، مومنین کو ایسے کاموں سے پرھیز کرنا چاھئے.
کیونکہ معصومین علیہم السلام نے فرمایا کہ:
"جس نے ان کی باتوں کو صحیح سمجھا اس نے قرآن کو جھٹلایا"
اور نجومی کے بارے میں فرمایا کہ:
"نجومی ملعون ہے اور اس کا ٹھکانہ کافر کی طرح آگ (جھنم) ھے."
بشکریہ تحریر: مصطفی رضوی.
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
📚💎👪 دین۔مال۔عیال 👪💎📚
ايک دن عاصم اور اس کے بيوی بچوں نے فيصلہ کيا رحلہ (سفر) پر جانے کا، اور دنيا کی رنگينياں ديکھنے کا.
ان کا سفر شروع ہوا۔ ۔ ۔
●چلتے چلتے راستے ميں...
ايک شخص کھڑا ملا.
عاصم نے پوچھا:
تم کون ہو.؟
اس نے کہا: ميں مال ہوں.
عاصم نے اپنے بيوی بچوں سے پوچھا،
کيا خيال ہے؟
کيا ہم اسے ساتھ بٹھا ليں؟
سب نے کہا:
ضرور کيوں کہ ہميں اس سفر ميں اس کی ضرورت پڑے گی.
اور اس کی موجودگی ميں ہم سب کچھ حاصل کرسکتے ہيں۔
عاصم نے مال کو بھی اپنے ساتھ بٹھا ليا اور آگے بڑھ گئے۔
●جب تھوڑا آگے گئے تو...
ايک اور شخص کھڑا نظر آيا۔
عاصم نے پھر پوچھا:
تم کون ہو؟
اس نے جواب ديا ميں منصب و مقام ہوں.
عاصم نے اپنے بيوی بچوں سے پوچھا
کيا خيال ہے؟
کيا ہم اسے ساتھ بٹھا ليں؟
سب نے کہا:
ضرور کيوں نہيں ہميں اس سفر ميں اس کی ضرورت پڑے گی. اور دنيا کی لذتوں کا حصول اس کی موجودگی ميں بہت آسان ہو جائے گا۔
عاصم نے اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا ليا. اور وہ مزيد آگے بڑھ گئے۔
●اسی طرح اس سفر ميں بہت سے قسم کے لذات و شہوات سے ملاقات ہوئی۔
عاصم سب کو ساتھ بٹھاتا اگے بڑھتا رہا۔
●آگے بڑھتے بڑھتے ايک اور شخص سے ملاقات ہوئی...
عاصم نے پوچھا: تو کون ہے؟
اس نے جواب ديا: ميں دين ہوں۔
عاصم نے اپنےبيوی بچوں سے پوچھا:
کيا اسے بھی ساتھ بٹھا ليں؟
سب نے کہا:
ابھی نہيں،
يہ وقت دين کو ساتھ لے جانے کا نہيں ہے، ابھی ہم دنيا کی سير کرنے اور اِنجوائے کرنے جارہے ہيں۔ اور دين ہم پر بلاوجہ ہزار پابندياں لگا دے گا...
پردہ کرو،
حلال، حرام ديکھو،
نمازوں کی پابندی کرو،
اور بھی بہت سی پابندياں لگا دے گا. اور ہماري لذتوں ميں رکاوٹ بنے گا.
ہم اِنجوائے نہيں کر سکيں گے۔
ليکن ايسا کرتے ہيں کہ رحلہ (سفر) سے واپسی پر ہم اسے ساتھ بٹھا ليں گے۔
اور اسطرح وہ دين کو پيچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہيں۔
●آگے چيک پوسٹ آتا ہے.
وہاں لکھا ہوتا ہے...
سٹاپ (stop)
وہاں کھڑا شخص عاصم سے کہتا ہے کہ
وہ گاڑی سے اترے.
عاصم گاڑی سے اترتا ہے.
تو
وہ شخص اسے کہتا ہے...
تمھارا سفر کا وقت ختم ہو چکا، مجھے تمھارے پاس دين کی تفتيش کرنی ہے.
عاصم کہتا ہے:
دين کو ميں کچھ ہی دوری پر چھوڑ آيا ہوں، مجھے اجازت دو ميں ابھی جا کر اُسے ساتھ لاتا ہوں.
وہ شخص کہتا ہے:
اب واپسی ناممکن ہے، تمھارا وقت ختم
ہو چکا...
اب تمہيں ميرے ساتھ چلنا ہوگا۔
عاصم کہتا ہے:
مگر ميرے ساتھ مال منصب و مقام اور بيوی بچے ہيں.
وہ شخص کہتا ہے:
اب
تمہيں تمھارا مال و منصب اور اولاد
کوئی بھی اللہ کی پکڑ سے نہيں بچا سکتا، دين صرف تمھارے کام آسکتا تھا
جسے تم پيچھے چھوڑ آئے ہو۔
عاصم پوچھتا ہے:
تم ہو کون؟
وہ کہتا ہے:
ميں موت ہوں. جس سے تم مکمل غافل تھے اور عمل کو بھولے رہے.
●عاصم نے ڈرتی نظروں سے گاڑی کی طرف ديکھا.
اس کے بيوی بچے اس کو اکيلے چھوڑ کر مال و منصب کو لئے اپنے سفرکو مکمل کرنے کے ليے آگے بڑھ گئے.
اور کوئی ايک بھی عاصم کی مدد کے ليے اس کے ساتھ نہ اترا۔
■خالِق کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ¤ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ¤
[المنافقون: 9]
ترجمہ:
مومنو! تمہارا مال اور اولاد تم کو اللہ کی ياد سے غافل نہ کردیں اور جو ايسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہيں۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ Islam With Eman ⭕
ايک دن عاصم اور اس کے بيوی بچوں نے فيصلہ کيا رحلہ (سفر) پر جانے کا، اور دنيا کی رنگينياں ديکھنے کا.
ان کا سفر شروع ہوا۔ ۔ ۔
●چلتے چلتے راستے ميں...
ايک شخص کھڑا ملا.
عاصم نے پوچھا:
تم کون ہو.؟
اس نے کہا: ميں مال ہوں.
عاصم نے اپنے بيوی بچوں سے پوچھا،
کيا خيال ہے؟
کيا ہم اسے ساتھ بٹھا ليں؟
سب نے کہا:
ضرور کيوں کہ ہميں اس سفر ميں اس کی ضرورت پڑے گی.
اور اس کی موجودگی ميں ہم سب کچھ حاصل کرسکتے ہيں۔
عاصم نے مال کو بھی اپنے ساتھ بٹھا ليا اور آگے بڑھ گئے۔
●جب تھوڑا آگے گئے تو...
ايک اور شخص کھڑا نظر آيا۔
عاصم نے پھر پوچھا:
تم کون ہو؟
اس نے جواب ديا ميں منصب و مقام ہوں.
عاصم نے اپنے بيوی بچوں سے پوچھا
کيا خيال ہے؟
کيا ہم اسے ساتھ بٹھا ليں؟
سب نے کہا:
ضرور کيوں نہيں ہميں اس سفر ميں اس کی ضرورت پڑے گی. اور دنيا کی لذتوں کا حصول اس کی موجودگی ميں بہت آسان ہو جائے گا۔
عاصم نے اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا ليا. اور وہ مزيد آگے بڑھ گئے۔
●اسی طرح اس سفر ميں بہت سے قسم کے لذات و شہوات سے ملاقات ہوئی۔
عاصم سب کو ساتھ بٹھاتا اگے بڑھتا رہا۔
●آگے بڑھتے بڑھتے ايک اور شخص سے ملاقات ہوئی...
عاصم نے پوچھا: تو کون ہے؟
اس نے جواب ديا: ميں دين ہوں۔
عاصم نے اپنےبيوی بچوں سے پوچھا:
کيا اسے بھی ساتھ بٹھا ليں؟
سب نے کہا:
ابھی نہيں،
يہ وقت دين کو ساتھ لے جانے کا نہيں ہے، ابھی ہم دنيا کی سير کرنے اور اِنجوائے کرنے جارہے ہيں۔ اور دين ہم پر بلاوجہ ہزار پابندياں لگا دے گا...
پردہ کرو،
حلال، حرام ديکھو،
نمازوں کی پابندی کرو،
اور بھی بہت سی پابندياں لگا دے گا. اور ہماري لذتوں ميں رکاوٹ بنے گا.
ہم اِنجوائے نہيں کر سکيں گے۔
ليکن ايسا کرتے ہيں کہ رحلہ (سفر) سے واپسی پر ہم اسے ساتھ بٹھا ليں گے۔
اور اسطرح وہ دين کو پيچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہيں۔
●آگے چيک پوسٹ آتا ہے.
وہاں لکھا ہوتا ہے...
سٹاپ (stop)
وہاں کھڑا شخص عاصم سے کہتا ہے کہ
وہ گاڑی سے اترے.
عاصم گاڑی سے اترتا ہے.
تو
وہ شخص اسے کہتا ہے...
تمھارا سفر کا وقت ختم ہو چکا، مجھے تمھارے پاس دين کی تفتيش کرنی ہے.
عاصم کہتا ہے:
دين کو ميں کچھ ہی دوری پر چھوڑ آيا ہوں، مجھے اجازت دو ميں ابھی جا کر اُسے ساتھ لاتا ہوں.
وہ شخص کہتا ہے:
اب واپسی ناممکن ہے، تمھارا وقت ختم
ہو چکا...
اب تمہيں ميرے ساتھ چلنا ہوگا۔
عاصم کہتا ہے:
مگر ميرے ساتھ مال منصب و مقام اور بيوی بچے ہيں.
وہ شخص کہتا ہے:
اب
تمہيں تمھارا مال و منصب اور اولاد
کوئی بھی اللہ کی پکڑ سے نہيں بچا سکتا، دين صرف تمھارے کام آسکتا تھا
جسے تم پيچھے چھوڑ آئے ہو۔
عاصم پوچھتا ہے:
تم ہو کون؟
وہ کہتا ہے:
ميں موت ہوں. جس سے تم مکمل غافل تھے اور عمل کو بھولے رہے.
●عاصم نے ڈرتی نظروں سے گاڑی کی طرف ديکھا.
اس کے بيوی بچے اس کو اکيلے چھوڑ کر مال و منصب کو لئے اپنے سفرکو مکمل کرنے کے ليے آگے بڑھ گئے.
اور کوئی ايک بھی عاصم کی مدد کے ليے اس کے ساتھ نہ اترا۔
■خالِق کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ¤ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ¤
[المنافقون: 9]
ترجمہ:
مومنو! تمہارا مال اور اولاد تم کو اللہ کی ياد سے غافل نہ کردیں اور جو ايسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہيں۔
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ Islam With Eman ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔶 پانچ افراد 🔶
💦حضرت امام سجاد علیہ السلام اپنے فرزند ارجمند کو فرماتے ہیں: کوشش کرو پانچ آدمیوں کے ساتھ ہمنشینی نہ کرو.
آپ کے فرزند نے سوال کیا:
اے بابا جان وہ کونسے افراد ہیں؟
حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:
1💧 - جھوٹے آدمی کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ دور سے آپ کو پانی کی طرح دیکھائی دے گا، لیکن اندر سے خراب ہے، وہ دور کو نزدیک اور نزدیک کو دور دیکھاتا ہے.
2 💧- وہ لوگ جو اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہیں، ان کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ایک لقمہ سے بھی کم قیمت پر فروخت کر ڈالیں گے، اور اپنی صحیح زندگی کے لئے بیدار رہو.
3 💧- بخیل کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ذلیل اور خوار کرے گا، جب تم محتاج اور ضرورت مند ہو گے ، وہ تمہیں نہ مال، نہ زبان، کسی طرح سے بھی تمہاری مدد نہیں کرے گا.
4 💧- احمق کی دوستی سے اجتناب کرو، کیونکہ وہ تمہیں نفع پہنچانے کی کوشش کرے گا لیکن نقصان پہنچائے گا، کیونکہ وہ تشخیص دینے میں عاجز ہے، وہ اچھے اور برے کی تمیز نہیں کر سکتا.
5 💧- قطع رحم کرنے والے سے ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ صلہء رحمی نہیں کرتا اور ان کے ساتھ اچھائی نہیں کرتا، کیونکہ میں نے قرآن کریم میں قطع رحم کرنے والے شخص کو ملعون پایا ہے، اور ضروری ہے کہ ملعون شخص سے دوری اختیار کریں، تاکہ تم اس آگ میں مبتلا نہ ہو جاؤ.
📚 بحارالانوار ج. 17.
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💦حضرت امام سجاد علیہ السلام اپنے فرزند ارجمند کو فرماتے ہیں: کوشش کرو پانچ آدمیوں کے ساتھ ہمنشینی نہ کرو.
آپ کے فرزند نے سوال کیا:
اے بابا جان وہ کونسے افراد ہیں؟
حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:
1💧 - جھوٹے آدمی کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ دور سے آپ کو پانی کی طرح دیکھائی دے گا، لیکن اندر سے خراب ہے، وہ دور کو نزدیک اور نزدیک کو دور دیکھاتا ہے.
2 💧- وہ لوگ جو اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہیں، ان کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ایک لقمہ سے بھی کم قیمت پر فروخت کر ڈالیں گے، اور اپنی صحیح زندگی کے لئے بیدار رہو.
3 💧- بخیل کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ذلیل اور خوار کرے گا، جب تم محتاج اور ضرورت مند ہو گے ، وہ تمہیں نہ مال، نہ زبان، کسی طرح سے بھی تمہاری مدد نہیں کرے گا.
4 💧- احمق کی دوستی سے اجتناب کرو، کیونکہ وہ تمہیں نفع پہنچانے کی کوشش کرے گا لیکن نقصان پہنچائے گا، کیونکہ وہ تشخیص دینے میں عاجز ہے، وہ اچھے اور برے کی تمیز نہیں کر سکتا.
5 💧- قطع رحم کرنے والے سے ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ صلہء رحمی نہیں کرتا اور ان کے ساتھ اچھائی نہیں کرتا، کیونکہ میں نے قرآن کریم میں قطع رحم کرنے والے شخص کو ملعون پایا ہے، اور ضروری ہے کہ ملعون شخص سے دوری اختیار کریں، تاکہ تم اس آگ میں مبتلا نہ ہو جاؤ.
📚 بحارالانوار ج. 17.
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے 🔷
■کہتے ہیں ایک بچہ اس گندے پھٹے بوسیدہ بدبودار کمبل کو نہایت سلیقے سے تہہ لگا کر سنبھال رہا تھا جو اس کی والدہ اس کے دادا ابو کو گھر علیحدہ ایک کونے میں چارپائی پر ڈال کر اوڑھنے کے لئے دیتی تھی!
باپ نے پوچھا:
بیٹا اس میلے کچیلے گندے کمبل کو اتنا سنبھال سنبھال کر پیک کر کے کیوں رکھ رہے ہو؟
بچے نے معصومیت سے جواب دیا:
ابو جان کل آپ کو بھی تو بوڑھے ہونا ہے... آپ کو بھی اس کی ضرورت پڑے گی... اس لئے میں آج سے ہی اس کو سنبھال کر رکھ رہا ہوں۔
باپ نے یہ سنا تو اس کے ہوش ہی اڑ گئے اور اس نے اپنے والد کو گرم کمرے میں لٹایا اور اعلی قسم کا لحاف دے کر اس کی خدمت شروع کر دی تاکہ کل میری اولاد میرے ساتھ ایسا نہ کرے.
■اسی طرح ایک جوان اپنے بوڑھے باپ سے تنگ آکر اس کو دریا میں پھینکنے گیا...
باپ نے کہا:
بیٹا! ذرا اور آگے گہرائی میں دریا کے اندر جاکے مجھے پھینکو!
بیٹے نے کہا:
یہاں کنارے پہ کیوں نہیں... اور وہاں گہرائی میں کیوں.؟
باپ نے جواب دیا:
اس لئے کہ یہاں تو میں نے اپنے باپ کو گرایا تھا.
بیٹا کانپ اٹھا کہ کل یہی انجام میرا بھی ہوگا. لہذا وہ باپ کو گھر لے آیا اور اس کی خدمت شروع کر دی.
■دوستو!
یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ آج آپ اپنے ماں باپ کی نافرمانی کریں اور کل آپ کی اولاد آپ کی فرمانبردار ہو اور آپ کے لئے فتنہ، آزمائش اور دنیا کی ہنسی کا باعث نہ بنے،
●کانٹے بو کر گلابوں کی توقع رکھنا عبث ہے،
●خزاں کے موسم میں بہاروں کی امیدیں باندھنا نادانی ہے،
●بنجر زمینوں میں تخم ریزی کر کے نخلستان کے خواب دیکھنا حماقت ہے.
●اگر چنبیلی اور گلابوں کی پیوند کاری کرو گے تو یقینًا طرح طرح کی مہکتی خوشبوؤں کے سنگ، زیست کے رنگ اور گل رنگ نظارے ہی دیکھو گے.
اس لئے کہ یہی پروردگار کا قانون ہے.
■آج سے اپنے والدین کو پھولوں کی سیج پر بٹھائیں، ان کے احکامات سر آنکھوں پر رکھیں، انہیں اُف تک نہ کہیں.
تاکہ کل آپ کی اولاد آپ کے سر پر عزت و وقار اور قدر دانی کا تاج پہنائے.
■یہ دنیا دار عمل ہے... آخرت دار جزا ہے. دارجزا میں بدلہ پانے سے پہلے اس دنیا میں ہی بہترین جزا کے حقدار بن جائیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسول اللہ (ص) کی شفاعت کے حقدار ٹھہریں.
بشکریہ تحریر: محمد تقی وحیدی
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
■کہتے ہیں ایک بچہ اس گندے پھٹے بوسیدہ بدبودار کمبل کو نہایت سلیقے سے تہہ لگا کر سنبھال رہا تھا جو اس کی والدہ اس کے دادا ابو کو گھر علیحدہ ایک کونے میں چارپائی پر ڈال کر اوڑھنے کے لئے دیتی تھی!
باپ نے پوچھا:
بیٹا اس میلے کچیلے گندے کمبل کو اتنا سنبھال سنبھال کر پیک کر کے کیوں رکھ رہے ہو؟
بچے نے معصومیت سے جواب دیا:
ابو جان کل آپ کو بھی تو بوڑھے ہونا ہے... آپ کو بھی اس کی ضرورت پڑے گی... اس لئے میں آج سے ہی اس کو سنبھال کر رکھ رہا ہوں۔
باپ نے یہ سنا تو اس کے ہوش ہی اڑ گئے اور اس نے اپنے والد کو گرم کمرے میں لٹایا اور اعلی قسم کا لحاف دے کر اس کی خدمت شروع کر دی تاکہ کل میری اولاد میرے ساتھ ایسا نہ کرے.
■اسی طرح ایک جوان اپنے بوڑھے باپ سے تنگ آکر اس کو دریا میں پھینکنے گیا...
باپ نے کہا:
بیٹا! ذرا اور آگے گہرائی میں دریا کے اندر جاکے مجھے پھینکو!
بیٹے نے کہا:
یہاں کنارے پہ کیوں نہیں... اور وہاں گہرائی میں کیوں.؟
باپ نے جواب دیا:
اس لئے کہ یہاں تو میں نے اپنے باپ کو گرایا تھا.
بیٹا کانپ اٹھا کہ کل یہی انجام میرا بھی ہوگا. لہذا وہ باپ کو گھر لے آیا اور اس کی خدمت شروع کر دی.
■دوستو!
یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ آج آپ اپنے ماں باپ کی نافرمانی کریں اور کل آپ کی اولاد آپ کی فرمانبردار ہو اور آپ کے لئے فتنہ، آزمائش اور دنیا کی ہنسی کا باعث نہ بنے،
●کانٹے بو کر گلابوں کی توقع رکھنا عبث ہے،
●خزاں کے موسم میں بہاروں کی امیدیں باندھنا نادانی ہے،
●بنجر زمینوں میں تخم ریزی کر کے نخلستان کے خواب دیکھنا حماقت ہے.
●اگر چنبیلی اور گلابوں کی پیوند کاری کرو گے تو یقینًا طرح طرح کی مہکتی خوشبوؤں کے سنگ، زیست کے رنگ اور گل رنگ نظارے ہی دیکھو گے.
اس لئے کہ یہی پروردگار کا قانون ہے.
■آج سے اپنے والدین کو پھولوں کی سیج پر بٹھائیں، ان کے احکامات سر آنکھوں پر رکھیں، انہیں اُف تک نہ کہیں.
تاکہ کل آپ کی اولاد آپ کے سر پر عزت و وقار اور قدر دانی کا تاج پہنائے.
■یہ دنیا دار عمل ہے... آخرت دار جزا ہے. دارجزا میں بدلہ پانے سے پہلے اس دنیا میں ہی بہترین جزا کے حقدار بن جائیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسول اللہ (ص) کی شفاعت کے حقدار ٹھہریں.
بشکریہ تحریر: محمد تقی وحیدی
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 اولوالعزم انبیاء 🔷
لفظ اولوالعزم قرآن میں ایک بار آیا هے. الله نے فرمایا هے:
"اولوالعزم انبیاء کی طرح صبر کرو."
(احقاف:35)
●لسان العرب میں هے:
اولوالعزم انبیاء وه هیں جنھوں نے امر خدا کا مستحکم اراده کرلیا هے، جس کے بارے میں انھوں نے الله سے عهد کیا تھا.
(لسان العرب، ج:12، ص:399)
●قرآن کریم میں عزم کبھی صبر کے معنی میں استعمال هوا هے اور کبھی وفائے عهد کے معنی میں آیا هے.
(شوری:43، طہ:115)
●تفسیری کتابوں میں آیا هے کہ نئی شریعت اور جدید آئین کی وجه سے کیونکه انبیاء کو زیاده مشکلات کا سامنا تھا اور اس کے مقابلے کے لئے اٹل اور مضبوط اراده کی ضرورت تھی اس لئے ان انبیاء کو اولوالعزم کہا گیا هے اور اگر کچھ لوگوں نے عزم کی تفسیر حکم اور شریعت کے معنی میں کی هے تو وه بھی اسی مناسبت سے هے.
■کسی نبی کا اولوالعزم هونا اس کے صاحب شریعت هونے کی علامت هے۔ یعنی وه پیغمبر ایک نئی شریعت لیکر آیا هے اور اس کے هم عصر یا اس کے بعد انبیاء کو اسی کی شریعت کی تبلیغ کرنا هوگی (جب تک کہ کوئی نبی ایک اور نئی شریعت لیکر نہ آجائے).
(مصباح یزدی، اصول عقائد، ص:239)
●الله نے بھی قرآن میں دین کی تشریع اور نبی کے ذریعہ اس کی تبلیغ کی طرف اشاره کیا هے. اور آخری دین لانے والے رسول اسلام کو مخاطب کر کے، باقی چار انبیاء کے اسماء ذکر کئے هیں:
"آپ کے لئے اسی دین کی تشریع کی هے جس کی نوح کو سفارش کی تھی، اور جس کی آپ کو وحی کی ابراهیم، موسی اور عیسی کو بھی اسی کی سفارش کی تھی کہ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقه نه ڈالو."
(شوری:13)
🔷 روایات میں اولو العزم انبیاء:
اگرچه قرون اولیه کے عموما غیر شیعه بعض مفسرین نے اولوالعزم ان انبیاء کو مانا هے جو جهاد پر مامور تھے یا جنھوں نے اپنے مکاشفات کا اظهار کیا هے اور مصداق کی تعیین میں...
حضرت نوح، ابراهیم، اسحاق، یعقوب، یوسف، ایوب یا ابراهیم، نوح، هود علیهم السلام اور محمد صلی الله علیه وآله کا نام لیا هے.
(بحار، ج11، ص:35. چاپ بیروت)
🔷 روایات میں اولوالعزم انبیاء کے شرائط یوں بیان کئے گئے هیں:
1= عالمی دعوت کا علمبردار هونا، اس طرح کہ انس و جن دونوں کے شامل هو.
(بحار، ج11، ص:32)
2= صاحب دین و شریعت هونا.
(بحار، ج11، ص:34)
3= صاحب کتاب هونا.
(بحار، ج11، ص:35)
اس لئے بعض انبیاء صاحب کتاب هونے کے باوجود اولوالعزم نہیں تھے؟
■امام رضا علیه السلام سے ایک شخص نے پوچھا کہ یه انبیاء کس طرح اولوالعزم هو گئے تو آپ نے فرمایا:
کیونکہ انھیں ایک خاص شریعت اور کتاب کے ساتھ مبعوث کیا گیا.
(بحار، ج:11، ص:56، چاپ بیروت)
لہذا صاحب کتاب هونا اولوالعزم کے شرائط میں سے ایک هے۔ لیکن یہاں دو اهم شرطیں اور بھی هیں...
ایک: تمام جن و انس کے لئے عالمی دعوت.
اور دوسرے: ایک مستقل اور نئی شریعت۔
●یه خیال رکھنا چاهئے که نئی شریعت کا مطلب یه نہیں هے که گزشته انبیاء کی شریعت سے بالکل هی الگ هو اور اس سے بالکل هی میل نہ کھاتی هو بلکہ اس کا مطلب یه هے کہ زمانے کے تقاضوں کی بنیاد پر شریعتیں بھی بدلی جاتی تھیں اور یه ایک فطری بات هے۔
●حضرت داؤد علیہ السلام اگرچه آسمانی کتاب والے تھے لیکن ان کی کتاب مستقل احکام اور شریعت پر مشتمل نہیں تھی جیسا که حضرت آدم، شیث، اور ادریس علیهم السلام بھی صاحب کتاب تھے لیکن اولوالعزم نہیں تھے.
(المیزان، ج2، ص:142. ترجمةالمیزان، ج2، ص:213)
●روایات میں اولوالعزم انبیاء کے اسماء کا صراحت کے ساتھ ذکر آیا هے.
■امام علی ابن الحسین علیهما السلام سے نقل هوا هے کہ اولوالعزم پانچ تھے:
●حضرت نوح علیہ السلام،
●حضرت ابراهیم علیہ السلام،
●حضرت موسٰی علیہ السلام،
●حضرت عیسٰی علیہ السلام،
●حضرت محمد صلی الله علیه وآله وسلّم.
(بحار، ج11، ص:32)
●اسی طرح یه مضمون امام صادق علیہ السلام سے بحار، ج11، ص:56 پر اور امام رضا علیہ السلام سے علل الشرائع، ج1، ص:149، باب:101 پر بھی نقل هوا هے.
■روایات میں حضرت نوح، ابراهیم علیہما السلام کی کتابوں کو صحف کہا گیا هے، اگرچه قرآن میں حضرت موسی علیه السلام کی کتاب کو بھی صحف کہا گیا هے، لیکن ان صحیفوں کے مجموعہ کو توریت کہتے هیں۔ حضرت عیسٰی علیه السلام کی کتاب انجیل اور حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه وآله وسلّم کی کتاب قرآن هے۔
●البته یہ بات یقینی نہیں هے که آیا موجده اوستا بھی وهی کتاب هے جو زرتشت پر نازل هوئی اور اس کتاب کے اندر بعض جگہوں پر خود ان کے اقوال اور الله یا لوگوں سے ان کی گفتگو بھی بیان هوئی. (مزید وضاحت کے لئے اوستا کے قدیم اور اهم حصه یسنا کی طرف رجوع کریں فصل46، بند1و2۔
اگرچه بعض روایات کی بنیاد پر وه الهی پیغمبر اور صاحب شریعت کتاب تھے.
(سفینۃ البحار، ج4)
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
لفظ اولوالعزم قرآن میں ایک بار آیا هے. الله نے فرمایا هے:
"اولوالعزم انبیاء کی طرح صبر کرو."
(احقاف:35)
●لسان العرب میں هے:
اولوالعزم انبیاء وه هیں جنھوں نے امر خدا کا مستحکم اراده کرلیا هے، جس کے بارے میں انھوں نے الله سے عهد کیا تھا.
(لسان العرب، ج:12، ص:399)
●قرآن کریم میں عزم کبھی صبر کے معنی میں استعمال هوا هے اور کبھی وفائے عهد کے معنی میں آیا هے.
(شوری:43، طہ:115)
●تفسیری کتابوں میں آیا هے کہ نئی شریعت اور جدید آئین کی وجه سے کیونکه انبیاء کو زیاده مشکلات کا سامنا تھا اور اس کے مقابلے کے لئے اٹل اور مضبوط اراده کی ضرورت تھی اس لئے ان انبیاء کو اولوالعزم کہا گیا هے اور اگر کچھ لوگوں نے عزم کی تفسیر حکم اور شریعت کے معنی میں کی هے تو وه بھی اسی مناسبت سے هے.
■کسی نبی کا اولوالعزم هونا اس کے صاحب شریعت هونے کی علامت هے۔ یعنی وه پیغمبر ایک نئی شریعت لیکر آیا هے اور اس کے هم عصر یا اس کے بعد انبیاء کو اسی کی شریعت کی تبلیغ کرنا هوگی (جب تک کہ کوئی نبی ایک اور نئی شریعت لیکر نہ آجائے).
(مصباح یزدی، اصول عقائد، ص:239)
●الله نے بھی قرآن میں دین کی تشریع اور نبی کے ذریعہ اس کی تبلیغ کی طرف اشاره کیا هے. اور آخری دین لانے والے رسول اسلام کو مخاطب کر کے، باقی چار انبیاء کے اسماء ذکر کئے هیں:
"آپ کے لئے اسی دین کی تشریع کی هے جس کی نوح کو سفارش کی تھی، اور جس کی آپ کو وحی کی ابراهیم، موسی اور عیسی کو بھی اسی کی سفارش کی تھی کہ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقه نه ڈالو."
(شوری:13)
🔷 روایات میں اولو العزم انبیاء:
اگرچه قرون اولیه کے عموما غیر شیعه بعض مفسرین نے اولوالعزم ان انبیاء کو مانا هے جو جهاد پر مامور تھے یا جنھوں نے اپنے مکاشفات کا اظهار کیا هے اور مصداق کی تعیین میں...
حضرت نوح، ابراهیم، اسحاق، یعقوب، یوسف، ایوب یا ابراهیم، نوح، هود علیهم السلام اور محمد صلی الله علیه وآله کا نام لیا هے.
(بحار، ج11، ص:35. چاپ بیروت)
🔷 روایات میں اولوالعزم انبیاء کے شرائط یوں بیان کئے گئے هیں:
1= عالمی دعوت کا علمبردار هونا، اس طرح کہ انس و جن دونوں کے شامل هو.
(بحار، ج11، ص:32)
2= صاحب دین و شریعت هونا.
(بحار، ج11، ص:34)
3= صاحب کتاب هونا.
(بحار، ج11، ص:35)
اس لئے بعض انبیاء صاحب کتاب هونے کے باوجود اولوالعزم نہیں تھے؟
■امام رضا علیه السلام سے ایک شخص نے پوچھا کہ یه انبیاء کس طرح اولوالعزم هو گئے تو آپ نے فرمایا:
کیونکہ انھیں ایک خاص شریعت اور کتاب کے ساتھ مبعوث کیا گیا.
(بحار، ج:11، ص:56، چاپ بیروت)
لہذا صاحب کتاب هونا اولوالعزم کے شرائط میں سے ایک هے۔ لیکن یہاں دو اهم شرطیں اور بھی هیں...
ایک: تمام جن و انس کے لئے عالمی دعوت.
اور دوسرے: ایک مستقل اور نئی شریعت۔
●یه خیال رکھنا چاهئے که نئی شریعت کا مطلب یه نہیں هے که گزشته انبیاء کی شریعت سے بالکل هی الگ هو اور اس سے بالکل هی میل نہ کھاتی هو بلکہ اس کا مطلب یه هے کہ زمانے کے تقاضوں کی بنیاد پر شریعتیں بھی بدلی جاتی تھیں اور یه ایک فطری بات هے۔
●حضرت داؤد علیہ السلام اگرچه آسمانی کتاب والے تھے لیکن ان کی کتاب مستقل احکام اور شریعت پر مشتمل نہیں تھی جیسا که حضرت آدم، شیث، اور ادریس علیهم السلام بھی صاحب کتاب تھے لیکن اولوالعزم نہیں تھے.
(المیزان، ج2، ص:142. ترجمةالمیزان، ج2، ص:213)
●روایات میں اولوالعزم انبیاء کے اسماء کا صراحت کے ساتھ ذکر آیا هے.
■امام علی ابن الحسین علیهما السلام سے نقل هوا هے کہ اولوالعزم پانچ تھے:
●حضرت نوح علیہ السلام،
●حضرت ابراهیم علیہ السلام،
●حضرت موسٰی علیہ السلام،
●حضرت عیسٰی علیہ السلام،
●حضرت محمد صلی الله علیه وآله وسلّم.
(بحار، ج11، ص:32)
●اسی طرح یه مضمون امام صادق علیہ السلام سے بحار، ج11، ص:56 پر اور امام رضا علیہ السلام سے علل الشرائع، ج1، ص:149، باب:101 پر بھی نقل هوا هے.
■روایات میں حضرت نوح، ابراهیم علیہما السلام کی کتابوں کو صحف کہا گیا هے، اگرچه قرآن میں حضرت موسی علیه السلام کی کتاب کو بھی صحف کہا گیا هے، لیکن ان صحیفوں کے مجموعہ کو توریت کہتے هیں۔ حضرت عیسٰی علیه السلام کی کتاب انجیل اور حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه وآله وسلّم کی کتاب قرآن هے۔
●البته یہ بات یقینی نہیں هے که آیا موجده اوستا بھی وهی کتاب هے جو زرتشت پر نازل هوئی اور اس کتاب کے اندر بعض جگہوں پر خود ان کے اقوال اور الله یا لوگوں سے ان کی گفتگو بھی بیان هوئی. (مزید وضاحت کے لئے اوستا کے قدیم اور اهم حصه یسنا کی طرف رجوع کریں فصل46، بند1و2۔
اگرچه بعض روایات کی بنیاد پر وه الهی پیغمبر اور صاحب شریعت کتاب تھے.
(سفینۃ البحار، ج4)
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
📚 علم 📚
رشتے کبھی نہیں مرتے، انہیں ہمیشہ انسان قتل کرتا ہے. نفرت سے، نظر اندازی سے، اور کبھی غلط فہمی سے.
ایک سنار کے انتقال کے بعد اس کا خاندان مصیبت میں پڑ گیا.
کھانے کے بھی لالے پڑ گئے.
ایک دن اس کی بیوی نے اپنے بیٹے کو نیلم کا ایک ہار دے کر کہا 'بیٹا، اسے اپنے چچا کی دکان پر لے جاؤ.
کہنا یہ بیچ کر کچھ پیسے دے دیں.
بیٹا وہ ہار لے کر چچا جی کے پاس گیا.
چچا نے ہار کو اچھی طرح دیکھ اور پرکھ کر کہا بیٹا، ماں سے کہنا کہ ابھی مارکیٹ
بہت مندا ہے.
تھوڑا رک کر فروخت کرنا ، اچھے دام ملیں گے.
اسے تھوڑے سے روپے دے کر کہا کہ تم کل سے دکان پر آکر بیٹھنا.
اگلے دن سے وہ لڑکا روز مرہ دکان پر جانے لگا اور وہاں ہیروں و جواہرات کی پرکھ کا کام سیکھنے لگا.
ایک دن وہ بڑا ماہر بن گیا.
لوگ دور دور سے اپنے ہیرے کی پرکھ کرانے آنے لگے.
ایک دن اس کے چچا نے کہا، بیٹا اپنی ماں سے وہ ہار لے کر آنا اور کہنا کہ اب مارکیٹ میں بہت تیزی ہے،
اس کے اچھے دام مل جائیں گے.
ماں سے ہار لے کر اس نے پرکھا تو پایا کہ وہ تو جعلی ہے.
وہ اسے گھر پر ہی چھوڑ کر دکان لوٹ آیا.
چچا نے پوچھا، ہار نہیں لائے؟
اس نے کہا، وہ تو جعلی تھا.
تب چچا نے کہا جب تم پہلی بار ہار لے کر آئے تھے، اسوقت اگر میں نے اسے جعلی بتا دیا ہوتا تو تم سوچتے کہ آج ہم پر برا وقت آیا تو چچا ہماری چیز کو بھی جعلی بتانے لگے.
آج جب تمہیں خود علم ہو گیا تو پتہ چل گیا کہ ہار نقلی ہے.
سچ یہ ہے کہ علم کے بغیر اس دنیا میں ہم جو بھی سوچتے، دیکھتے اور جانتے ہیں، سب غلط ہے.
اور ایسے ہی غلط فہمی کا شکار ہو کر رشتے بگڑتے ہیں.
💦ذرا سی رنجش پر نہ چھوڑ اپنوں کا دامن.....
زندگی گزر جاتی ہے، اپنوں کو اپنا بنانے میں!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ Islam With Eman ⭕
رشتے کبھی نہیں مرتے، انہیں ہمیشہ انسان قتل کرتا ہے. نفرت سے، نظر اندازی سے، اور کبھی غلط فہمی سے.
ایک سنار کے انتقال کے بعد اس کا خاندان مصیبت میں پڑ گیا.
کھانے کے بھی لالے پڑ گئے.
ایک دن اس کی بیوی نے اپنے بیٹے کو نیلم کا ایک ہار دے کر کہا 'بیٹا، اسے اپنے چچا کی دکان پر لے جاؤ.
کہنا یہ بیچ کر کچھ پیسے دے دیں.
بیٹا وہ ہار لے کر چچا جی کے پاس گیا.
چچا نے ہار کو اچھی طرح دیکھ اور پرکھ کر کہا بیٹا، ماں سے کہنا کہ ابھی مارکیٹ
بہت مندا ہے.
تھوڑا رک کر فروخت کرنا ، اچھے دام ملیں گے.
اسے تھوڑے سے روپے دے کر کہا کہ تم کل سے دکان پر آکر بیٹھنا.
اگلے دن سے وہ لڑکا روز مرہ دکان پر جانے لگا اور وہاں ہیروں و جواہرات کی پرکھ کا کام سیکھنے لگا.
ایک دن وہ بڑا ماہر بن گیا.
لوگ دور دور سے اپنے ہیرے کی پرکھ کرانے آنے لگے.
ایک دن اس کے چچا نے کہا، بیٹا اپنی ماں سے وہ ہار لے کر آنا اور کہنا کہ اب مارکیٹ میں بہت تیزی ہے،
اس کے اچھے دام مل جائیں گے.
ماں سے ہار لے کر اس نے پرکھا تو پایا کہ وہ تو جعلی ہے.
وہ اسے گھر پر ہی چھوڑ کر دکان لوٹ آیا.
چچا نے پوچھا، ہار نہیں لائے؟
اس نے کہا، وہ تو جعلی تھا.
تب چچا نے کہا جب تم پہلی بار ہار لے کر آئے تھے، اسوقت اگر میں نے اسے جعلی بتا دیا ہوتا تو تم سوچتے کہ آج ہم پر برا وقت آیا تو چچا ہماری چیز کو بھی جعلی بتانے لگے.
آج جب تمہیں خود علم ہو گیا تو پتہ چل گیا کہ ہار نقلی ہے.
سچ یہ ہے کہ علم کے بغیر اس دنیا میں ہم جو بھی سوچتے، دیکھتے اور جانتے ہیں، سب غلط ہے.
اور ایسے ہی غلط فہمی کا شکار ہو کر رشتے بگڑتے ہیں.
💦ذرا سی رنجش پر نہ چھوڑ اپنوں کا دامن.....
زندگی گزر جاتی ہے، اپنوں کو اپنا بنانے میں!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ Islam With Eman ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 غریب کی تکریم 🔷
ﻋﻠﺎمہ تہرﺍﻧﻰ فرماتے ہیں:
ہمارے نجف کے ایک ھمعصر دوست جو اس وقت نجف کے بزرگوں میں سے ایک ہیں، نے مجھے بتایا کہ:
میں ایک سبزی کی دکان پر گیا، میں نے ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻣﺮﺯﺍ ﻋﻠﻰ ﺁﻗﺎ ﻗﺎﺿﻰ (ﻗﺪﺱ ﺳﺮﻩ) کو دیکھا کہ جھک کر سبزیاں چھانٹ رہے ہیں. تعجب کی بات یہ کہ وہ بجائے تازہ گوبھی چننے کے سڑی ہوئی گوبھی نکال نکال کر رکھ رہے ہیں. میں غور سے دیکھتا رہا مرحوم نے یہ گلی سڑی گوبھیاں جمع کیں سبزی فروش کو دیں اس نے وزن کر کے پیسے بتائے اور آپ نے گوبھیاں عبا کے نیچے چھپائیں اور چل دیئے.
میں ان کے پیچھے گیا اور ان سے اچھی گوبھی کی بجائے ان گلی سڑی گوبھیاں خریدنے کی وجہ پوچھی.
ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻗﺎﺿﻰ علیہ الرحمہ نے جواب دیا:
یہ سبزی والا ایک غریب آدمی ہے میں گاہے بگاہے اس کی مدد کر دیتا ہوں، لیکن میں نہیں چاہتا کہ مفت میں اسے کچھ دوں، اس لئے میں ایسا کرتا ہوں کہ اسے اہانت بھی محسوس نہ ہو اور دوسری بات کہ اسے مفت میں کھانے کی عادت بھی نہ پڑ جائے اور کام کرنے سے اکتا نہ جائے. اس لئے اس سے وہ چیز لیتا ہوں جو وہ کسی اور کو بیچ نہیں سکتا.
ہمارے لیئے تازہ گوبھی ہو یا دو دن پرانی مسئلہ نہیں، ہم کھا لیتے ہیں اور مجھے پتہ تھا یہ گوبھی اس سے کوئی نہیں خریدے گا، وہ ظہر کے وقت جب دکان بند کرے گا تب انہیں پھینک دے گا. سو میں نے سوچا اسے نقصان نہ ہو اس لئے میں نے یہ گوبھیاں لے لیں اور اسے قیمت دے دی.(۱)
■ﭘﻴﺎﻣﺒﺮ ﺍﻛﺮﻡ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ علیہ ﻭﺁﻟﻪ وسلم نے ﻓﺮمایا:
ﻣَﻦْ ﺍَﻛْﺮَﻡَ ﻓَﻘﻴﺮﺍً ﻣُﺴﻠِﻤﺎً ﻟَﻘِﻰَ ﺍﻟﻠﻪَ ﻳﻮْﻡَ ﺍﻟْﻘِﻴﺎﻣَﺔِ و ﻫُﻮَ ﻋَﻨْﻪُ ﺭﺍﺽٍ.
ترجمہ:
جو بھی مسلمان غریب کی تکریم کرے اللہ تعالٰی روز قیامت اس سے راضی ہوکر ملاقات کرے گا.(۲)
حوالہ:
۱) ﻣﻬﺮﺗﺎﺑﺎﻥ، ﺹ 20.
۲) ﺑﺤﺎﺭﺍﻟﺎﻧﻮﺍﺭ، ﺝ 72، ﺹ 38.
بشکریہ مترجم: محمد زکی حیدری
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﻋﻠﺎمہ تہرﺍﻧﻰ فرماتے ہیں:
ہمارے نجف کے ایک ھمعصر دوست جو اس وقت نجف کے بزرگوں میں سے ایک ہیں، نے مجھے بتایا کہ:
میں ایک سبزی کی دکان پر گیا، میں نے ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻣﺮﺯﺍ ﻋﻠﻰ ﺁﻗﺎ ﻗﺎﺿﻰ (ﻗﺪﺱ ﺳﺮﻩ) کو دیکھا کہ جھک کر سبزیاں چھانٹ رہے ہیں. تعجب کی بات یہ کہ وہ بجائے تازہ گوبھی چننے کے سڑی ہوئی گوبھی نکال نکال کر رکھ رہے ہیں. میں غور سے دیکھتا رہا مرحوم نے یہ گلی سڑی گوبھیاں جمع کیں سبزی فروش کو دیں اس نے وزن کر کے پیسے بتائے اور آپ نے گوبھیاں عبا کے نیچے چھپائیں اور چل دیئے.
میں ان کے پیچھے گیا اور ان سے اچھی گوبھی کی بجائے ان گلی سڑی گوبھیاں خریدنے کی وجہ پوچھی.
ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻗﺎﺿﻰ علیہ الرحمہ نے جواب دیا:
یہ سبزی والا ایک غریب آدمی ہے میں گاہے بگاہے اس کی مدد کر دیتا ہوں، لیکن میں نہیں چاہتا کہ مفت میں اسے کچھ دوں، اس لئے میں ایسا کرتا ہوں کہ اسے اہانت بھی محسوس نہ ہو اور دوسری بات کہ اسے مفت میں کھانے کی عادت بھی نہ پڑ جائے اور کام کرنے سے اکتا نہ جائے. اس لئے اس سے وہ چیز لیتا ہوں جو وہ کسی اور کو بیچ نہیں سکتا.
ہمارے لیئے تازہ گوبھی ہو یا دو دن پرانی مسئلہ نہیں، ہم کھا لیتے ہیں اور مجھے پتہ تھا یہ گوبھی اس سے کوئی نہیں خریدے گا، وہ ظہر کے وقت جب دکان بند کرے گا تب انہیں پھینک دے گا. سو میں نے سوچا اسے نقصان نہ ہو اس لئے میں نے یہ گوبھیاں لے لیں اور اسے قیمت دے دی.(۱)
■ﭘﻴﺎﻣﺒﺮ ﺍﻛﺮﻡ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ علیہ ﻭﺁﻟﻪ وسلم نے ﻓﺮمایا:
ﻣَﻦْ ﺍَﻛْﺮَﻡَ ﻓَﻘﻴﺮﺍً ﻣُﺴﻠِﻤﺎً ﻟَﻘِﻰَ ﺍﻟﻠﻪَ ﻳﻮْﻡَ ﺍﻟْﻘِﻴﺎﻣَﺔِ و ﻫُﻮَ ﻋَﻨْﻪُ ﺭﺍﺽٍ.
ترجمہ:
جو بھی مسلمان غریب کی تکریم کرے اللہ تعالٰی روز قیامت اس سے راضی ہوکر ملاقات کرے گا.(۲)
حوالہ:
۱) ﻣﻬﺮﺗﺎﺑﺎﻥ، ﺹ 20.
۲) ﺑﺤﺎﺭﺍﻟﺎﻧﻮﺍﺭ، ﺝ 72، ﺹ 38.
بشکریہ مترجم: محمد زکی حیدری
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
⚪ حقیقت ملائکہ ⚪
ہمارا عقیدہ ہے کہ ملائکہ وجود رکھتے، ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو خاص امر کے لئے مقرر کیا گیا ہے.
■قرآن کریم کی بہت سی آیات میں ملائکہ کی صفات، خصوصیات، ان کے کام اور ذمہ داریاں بیان ہوئی ہیں یہاں تک کہ ملائکہ پر ایمان رکھنے کو خدا، انبیاء اور آسمانی کتابوں کی صف میں قرار دیا گیا ہے، جو اس مسئلہ کی اہمیت کی دلیل ہے.
"آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا اٴُنزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ کُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلاَئِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ○
ترجمہ:
”رسول ان تمام باتوں پر ایمان رکھتا ہے جو اس پر نازل کی گئی ہیں اور سب مومنین بھی اللہ اور ملائکہ اور مرسلین پر ایمان رکھتے ہیں.“
🔹 لفظی معنی:
ملائکہ ’’م - ل - ک‘‘ سے مشتق ہے، اس کی جمع ملائکہ اور ملائک ہے، اس کے لغوی اور لفظی معانی مالک ہونا، فرشتہ، ملکیت اور اقتدار ہیں، اس کے علاوہ اس میں تصرف، قدرت اور امر کا معنی بھی پایا جاتا ہے۔ لفظ ملائکہ آسمانی ارواح کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔
(علامہ راغب اصفہانی، المفردات : 472، 473)
🔹 وجہ تسمیہ:
اللہ تعالٰیٰ کی طرف سے کوئی امر یا کام ان کے سپرد کیا جاتا ہے، اس وجہ سے ان کو ملائکہ کہتے ہیں۔
فرشتے اللہ تعالٰیٰ کا پیغام اس کے مقبول بندوں تک پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔
وہ لطیف اور نورانی مخلوق ہیں اور عام انسان انہیں نہیں دیکھ سکتے.
فرشتے احکام الٰہی کی تعمیل کرنے والی معزز مخلوق ہے۔ ان کے وجود اور ان سے متعلقہ تفصیلات کو ماننا ایمان بالملائکہ کہلاتا ہے۔
🔹علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ ملائکہ وجود رکھتے ہیں، ان کے جسم، لطیف اور نورانی ہیں وہ مختلف شکل وشمائل اختیار کرسکتے ہیں نیز پیغمبران الٰہی اور ان کے معصوم اوصیاء اُنھیں دیکھتے تھے.
(باب حقیقة الملائکة)
🔶فرشتے نوری جسم، جنّات ناری جسم اور انسان کثیف (سخت) جسم رکھتے ہیں.
🔷 فرشتوں کی ذمہ داریاں:
●ان میں سے ہر ایک کو خاص امر کے لئے مقرر کیا گیا ہے، بعض کو ابلاغ وحی پرمامور کیا گیا تھا۔
●ایک گروہ کو انسانوں کے اعمال لکھنے پر مامور کیا گیا ہے۔
●ایک گروہ قبض روح پر مامور ہے۔
●ایک گروہ کو حقیقی مؤمنين کی مدد پر مامور کیا گیا ہے۔
●ایک گروہ کو جنگوں میں مؤمنين کی مدد کے لیے مامور کیا گیا ہے۔
●ایک گروہ کا کام باغی اور سرکش قوموں پر عذاب نازل کرنا ہے. اس کے علاوہ کائنات کے دوسرے امور ان کے حوالے کیے گئے ہیں۔
🔷 مشہور اور مقرب فرشتے:
1= حضرت جبرائیل علیہ السلام:
ان کے ذمہ پیغمبروں کی خدمت میں وحی لانا تها۔
2= حضرت میکائیل علیہ السلام:
پانی برسانے اور خدا کی مخلوق کو روزی پہنچانے پر مقرر ہیں۔
3= حضرت اسرافیل علیہ السلام:
خدا نے اسرافیل کو صور پھونکنے پر مامور کیا ہے۔ قرب قیامت کے وقت یہ خدا کے حکم سے صور پھونکیں گے تو تمام لوگ ہلاک ہوجائیں گے۔ دوبارہ پھونکیں گے تو مرے ہوئے لوگ زندہ ہو کر میدان حشر کی طرف دوڑیں گے۔ جہاں ان کے اعمال کا محاسبہ ہوگا۔ قرآن مجید میں نفخ صور کا ذکر ہے۔ البتہ قران میں اسرافیل کا نام کہیں نہیں آیا.
4= حضرت عزرائیل علیہ السلام:
حضرت عزرائیل علیہ السلام ایک مقرب فرشتے ہیں جنھیں روح قبض کرنے یعنی لوگوں کی جان نکالنے کی خدمت سپرد کی گئی ہے، بے شمار فرشتے ان کی ماتحتی میں کام کرتے ہیں۔ ان کو فرشتہ اجل اور ملک الموت بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کا شمار چار مقرب ترین فرشتوں میں ھوتا ھے البتہ قران میں عزرائیل کا نام کہیں نہیں آیا.
🔷 جن ملائکہ کے نام قران میں ہیں:
1= جبرئيل: 3 بار (بقره:98،99، تحريم:4)
2= ميكائیل: 1 بار (بقره:99)
3= رَعْد: 1 بار
بعض مفسرین کے نزدیک كلمه "رعد" فرشتہ ہے.
"وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ وَيُرْسِلُ الصَّواعِقَ فَيُصِيبُبِها مَنْ يَشاءُ وَهُمْ يُجادِلُونَ فِي اللهِ وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحالِ"
4= قعيد: 1 بار
"إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمالِ قَعِيدٌ"
بعض مفسرین مراد از "قعيد" فرشته ہے جو لوگوں کے گناہ لکھتا ہے.
5= مالك: 1 بار (زخرف:77)
مالک ایک فرشتہ کا نام ہے جو جھنم پر اللہ کی طرف سے نگہبان ہے اور اذن ربی سے داخل و خارج کرتا ہے.
"وَنادَوْا يا مالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنا رَبُّكَ قالَ إِنَّكُمْ ماكِثُونَ."
6= روح: 25 بار
مراد از روح کبھی فرشتۃ اور کھبی غیر فرشتہ ہے.
7= سکینہ:
قران میں آیا ہے کہ اللہ نے ان پر سكينه کو نازل کیا بعض نے اس سے مراد فرشتگان الہی لیا ہے اور بعض نے معنی لغوی مراد لیا ہے.
8،9= هاروت، ماروت: 1بار (بقرہ:102)
"وَما أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ هارُوتَ وَمارُوتَ"
انکو خدائے متعال نے شهر بابل بھیجا تھا جو لوگوں کو تعلیم دیتے تھے.
10،11=عتید و رقیب: 1 بار (ق:18)
انکا کام بھی لوگوں کے اعمال لکھنا ہے.
"ما یلفظ من قول الا لدیه رقیب عتید."
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ہمارا عقیدہ ہے کہ ملائکہ وجود رکھتے، ہیں اور ان میں سے ہر ایک کو خاص امر کے لئے مقرر کیا گیا ہے.
■قرآن کریم کی بہت سی آیات میں ملائکہ کی صفات، خصوصیات، ان کے کام اور ذمہ داریاں بیان ہوئی ہیں یہاں تک کہ ملائکہ پر ایمان رکھنے کو خدا، انبیاء اور آسمانی کتابوں کی صف میں قرار دیا گیا ہے، جو اس مسئلہ کی اہمیت کی دلیل ہے.
"آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا اٴُنزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ کُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَمَلاَئِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ○
ترجمہ:
”رسول ان تمام باتوں پر ایمان رکھتا ہے جو اس پر نازل کی گئی ہیں اور سب مومنین بھی اللہ اور ملائکہ اور مرسلین پر ایمان رکھتے ہیں.“
🔹 لفظی معنی:
ملائکہ ’’م - ل - ک‘‘ سے مشتق ہے، اس کی جمع ملائکہ اور ملائک ہے، اس کے لغوی اور لفظی معانی مالک ہونا، فرشتہ، ملکیت اور اقتدار ہیں، اس کے علاوہ اس میں تصرف، قدرت اور امر کا معنی بھی پایا جاتا ہے۔ لفظ ملائکہ آسمانی ارواح کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔
(علامہ راغب اصفہانی، المفردات : 472، 473)
🔹 وجہ تسمیہ:
اللہ تعالٰیٰ کی طرف سے کوئی امر یا کام ان کے سپرد کیا جاتا ہے، اس وجہ سے ان کو ملائکہ کہتے ہیں۔
فرشتے اللہ تعالٰیٰ کا پیغام اس کے مقبول بندوں تک پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔
وہ لطیف اور نورانی مخلوق ہیں اور عام انسان انہیں نہیں دیکھ سکتے.
فرشتے احکام الٰہی کی تعمیل کرنے والی معزز مخلوق ہے۔ ان کے وجود اور ان سے متعلقہ تفصیلات کو ماننا ایمان بالملائکہ کہلاتا ہے۔
🔹علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ ملائکہ وجود رکھتے ہیں، ان کے جسم، لطیف اور نورانی ہیں وہ مختلف شکل وشمائل اختیار کرسکتے ہیں نیز پیغمبران الٰہی اور ان کے معصوم اوصیاء اُنھیں دیکھتے تھے.
(باب حقیقة الملائکة)
🔶فرشتے نوری جسم، جنّات ناری جسم اور انسان کثیف (سخت) جسم رکھتے ہیں.
🔷 فرشتوں کی ذمہ داریاں:
●ان میں سے ہر ایک کو خاص امر کے لئے مقرر کیا گیا ہے، بعض کو ابلاغ وحی پرمامور کیا گیا تھا۔
●ایک گروہ کو انسانوں کے اعمال لکھنے پر مامور کیا گیا ہے۔
●ایک گروہ قبض روح پر مامور ہے۔
●ایک گروہ کو حقیقی مؤمنين کی مدد پر مامور کیا گیا ہے۔
●ایک گروہ کو جنگوں میں مؤمنين کی مدد کے لیے مامور کیا گیا ہے۔
●ایک گروہ کا کام باغی اور سرکش قوموں پر عذاب نازل کرنا ہے. اس کے علاوہ کائنات کے دوسرے امور ان کے حوالے کیے گئے ہیں۔
🔷 مشہور اور مقرب فرشتے:
1= حضرت جبرائیل علیہ السلام:
ان کے ذمہ پیغمبروں کی خدمت میں وحی لانا تها۔
2= حضرت میکائیل علیہ السلام:
پانی برسانے اور خدا کی مخلوق کو روزی پہنچانے پر مقرر ہیں۔
3= حضرت اسرافیل علیہ السلام:
خدا نے اسرافیل کو صور پھونکنے پر مامور کیا ہے۔ قرب قیامت کے وقت یہ خدا کے حکم سے صور پھونکیں گے تو تمام لوگ ہلاک ہوجائیں گے۔ دوبارہ پھونکیں گے تو مرے ہوئے لوگ زندہ ہو کر میدان حشر کی طرف دوڑیں گے۔ جہاں ان کے اعمال کا محاسبہ ہوگا۔ قرآن مجید میں نفخ صور کا ذکر ہے۔ البتہ قران میں اسرافیل کا نام کہیں نہیں آیا.
4= حضرت عزرائیل علیہ السلام:
حضرت عزرائیل علیہ السلام ایک مقرب فرشتے ہیں جنھیں روح قبض کرنے یعنی لوگوں کی جان نکالنے کی خدمت سپرد کی گئی ہے، بے شمار فرشتے ان کی ماتحتی میں کام کرتے ہیں۔ ان کو فرشتہ اجل اور ملک الموت بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کا شمار چار مقرب ترین فرشتوں میں ھوتا ھے البتہ قران میں عزرائیل کا نام کہیں نہیں آیا.
🔷 جن ملائکہ کے نام قران میں ہیں:
1= جبرئيل: 3 بار (بقره:98،99، تحريم:4)
2= ميكائیل: 1 بار (بقره:99)
3= رَعْد: 1 بار
بعض مفسرین کے نزدیک كلمه "رعد" فرشتہ ہے.
"وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ وَيُرْسِلُ الصَّواعِقَ فَيُصِيبُبِها مَنْ يَشاءُ وَهُمْ يُجادِلُونَ فِي اللهِ وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحالِ"
4= قعيد: 1 بار
"إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمالِ قَعِيدٌ"
بعض مفسرین مراد از "قعيد" فرشته ہے جو لوگوں کے گناہ لکھتا ہے.
5= مالك: 1 بار (زخرف:77)
مالک ایک فرشتہ کا نام ہے جو جھنم پر اللہ کی طرف سے نگہبان ہے اور اذن ربی سے داخل و خارج کرتا ہے.
"وَنادَوْا يا مالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنا رَبُّكَ قالَ إِنَّكُمْ ماكِثُونَ."
6= روح: 25 بار
مراد از روح کبھی فرشتۃ اور کھبی غیر فرشتہ ہے.
7= سکینہ:
قران میں آیا ہے کہ اللہ نے ان پر سكينه کو نازل کیا بعض نے اس سے مراد فرشتگان الہی لیا ہے اور بعض نے معنی لغوی مراد لیا ہے.
8،9= هاروت، ماروت: 1بار (بقرہ:102)
"وَما أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ هارُوتَ وَمارُوتَ"
انکو خدائے متعال نے شهر بابل بھیجا تھا جو لوگوں کو تعلیم دیتے تھے.
10،11=عتید و رقیب: 1 بار (ق:18)
انکا کام بھی لوگوں کے اعمال لکھنا ہے.
"ما یلفظ من قول الا لدیه رقیب عتید."
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 دنیا کی داستان 🌹
ایک دن بادشاہ نے اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں داخل ہوں۔
اور وہاں سے بادشاہ کے لیے مختلف اچھےاچھے پھل جمع کریں
وزراء بادشاہ کے اس عجیب حکم پر حیران رہ گئے اور تینوں ایک ایک تھیلا پکڑ کر الگ الگ باغ میں داخل ہوگئے.
■ پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کے لئے اسکی پسند کے مزیدار اور تازہ پھل جمع کرے اور اس نے کافی محنت کے بعد بہترین اور تازہ پھلوں سے تھیلا بھر لیا.
■ دوسرے وزیر نے خیال کیا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسا ہے اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا.
اس لیے اس نے بغیر فرق دیکھے جلدی جلدی ہر قسم کے تازہ اور کچے اور گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا.
■ تیسرے وزیر نے سوچا کہ بادشاہ کی توجہ صرف تھیلے کے بھرنے پر ہوگی۔ اس کے اندر کیا ہے، اسے بادشاہ نہیں دیکھے گا۔
یہی سوچ کر وزیر نے تھیلے میں گھاس پُھوس اور پتے بھر لئے اور محنت سے بچ گیا اور وقت بچایا.
☆ دوسرے دن بادشاہ نے تینوں وزراء کو اپنے تھیلوں سمیت دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔
جب تینوں دربار میں حاضر ہوئے تو بادشاہ نے تھیلے کھول کر بھی نہ دیکھے اور حکم دیا کہ تینوں کو ان کے تھیلوں سمیت 1 ماہ کے لیے دور دراز جیل میں قید کر دو.
اب اس دور دراز جیل میں تینوں کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں تھا، سواۓ اس تھیلے کے جو انھوں نے جمع کیا تھا.
اب
● پہلا وزیر جس نے اچھے اچھے پھل چن کر جمع کیے تھے، وہ مزے سے اپنے انہیں پھلوں پر گزارہ کرتا رہا۔ یہاں تک کے 1 ماہ باآسانی گزر گیا۔
اور
● دوسرا وزیر جس نے بغیر دیکھے کچے، پکے اور گلے سڑے پھل جمع کیے تھے۔ اس کے لئے بڑی مشکل پیش آئی کچھ دن تو تازہ پھل کھا لیے لیکن پھر کچے اور گلے سڑے پھل کھانے پڑے، جس سے وہ بہت زیادہ بیمار ہوگیا اور اسے بہت تکلیف اٹھانی پڑی۔
اور
● تیسرا وزیر جس نے اپنے تھیلے میں صرف گھاس پُھوس ہی جمع کیا تھا۔
وہ کچھ دن بعد ہی بھوک سے مر گیا کیونکہ اس کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا۔
■ اب آپ اپنے آپ سے پوچھیے... آپ کیا جمع کر رہے ہیں؟
آپ اس وقت اس باغ میں ہیں۔ جہاں سے آپ چاہیں تو نیک اعمال اپنے لئے جمع کریں اور چاہیں تو خراب اعمال...
مگر یاد رہے جب بادشاہ کا حکم صادر ہوگا، تو آپ کو اپنی جیل (قبر) میں ڈال دیا جاۓ گا۔
اس جیل میں آپ اکیلے ہونگے جہاں آپ کے ساتھ صرف آپ کے اعمال کی تھیلی ہو گی۔ تو جو آپ نے جمع کیا ہوگا، وہی آپ کو وہاں کام دے گا۔
■ تو آج تھوڑی سی محنت کرکے اچھی اچھی چیزیں یعنی نیک اعمال جمع کرلیں اور وہاں آسانی اور آرام والی زندگی گزاریں.
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/109
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک دن بادشاہ نے اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں داخل ہوں۔
اور وہاں سے بادشاہ کے لیے مختلف اچھےاچھے پھل جمع کریں
وزراء بادشاہ کے اس عجیب حکم پر حیران رہ گئے اور تینوں ایک ایک تھیلا پکڑ کر الگ الگ باغ میں داخل ہوگئے.
■ پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کے لئے اسکی پسند کے مزیدار اور تازہ پھل جمع کرے اور اس نے کافی محنت کے بعد بہترین اور تازہ پھلوں سے تھیلا بھر لیا.
■ دوسرے وزیر نے خیال کیا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسا ہے اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا.
اس لیے اس نے بغیر فرق دیکھے جلدی جلدی ہر قسم کے تازہ اور کچے اور گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا.
■ تیسرے وزیر نے سوچا کہ بادشاہ کی توجہ صرف تھیلے کے بھرنے پر ہوگی۔ اس کے اندر کیا ہے، اسے بادشاہ نہیں دیکھے گا۔
یہی سوچ کر وزیر نے تھیلے میں گھاس پُھوس اور پتے بھر لئے اور محنت سے بچ گیا اور وقت بچایا.
☆ دوسرے دن بادشاہ نے تینوں وزراء کو اپنے تھیلوں سمیت دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔
جب تینوں دربار میں حاضر ہوئے تو بادشاہ نے تھیلے کھول کر بھی نہ دیکھے اور حکم دیا کہ تینوں کو ان کے تھیلوں سمیت 1 ماہ کے لیے دور دراز جیل میں قید کر دو.
اب اس دور دراز جیل میں تینوں کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں تھا، سواۓ اس تھیلے کے جو انھوں نے جمع کیا تھا.
اب
● پہلا وزیر جس نے اچھے اچھے پھل چن کر جمع کیے تھے، وہ مزے سے اپنے انہیں پھلوں پر گزارہ کرتا رہا۔ یہاں تک کے 1 ماہ باآسانی گزر گیا۔
اور
● دوسرا وزیر جس نے بغیر دیکھے کچے، پکے اور گلے سڑے پھل جمع کیے تھے۔ اس کے لئے بڑی مشکل پیش آئی کچھ دن تو تازہ پھل کھا لیے لیکن پھر کچے اور گلے سڑے پھل کھانے پڑے، جس سے وہ بہت زیادہ بیمار ہوگیا اور اسے بہت تکلیف اٹھانی پڑی۔
اور
● تیسرا وزیر جس نے اپنے تھیلے میں صرف گھاس پُھوس ہی جمع کیا تھا۔
وہ کچھ دن بعد ہی بھوک سے مر گیا کیونکہ اس کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا۔
■ اب آپ اپنے آپ سے پوچھیے... آپ کیا جمع کر رہے ہیں؟
آپ اس وقت اس باغ میں ہیں۔ جہاں سے آپ چاہیں تو نیک اعمال اپنے لئے جمع کریں اور چاہیں تو خراب اعمال...
مگر یاد رہے جب بادشاہ کا حکم صادر ہوگا، تو آپ کو اپنی جیل (قبر) میں ڈال دیا جاۓ گا۔
اس جیل میں آپ اکیلے ہونگے جہاں آپ کے ساتھ صرف آپ کے اعمال کی تھیلی ہو گی۔ تو جو آپ نے جمع کیا ہوگا، وہی آپ کو وہاں کام دے گا۔
■ تو آج تھوڑی سی محنت کرکے اچھی اچھی چیزیں یعنی نیک اعمال جمع کرلیں اور وہاں آسانی اور آرام والی زندگی گزاریں.
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/109
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⭕ خوبصورت حسینہ ⭕
کسان نوجوان اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا ایک نسوانی قہقہے سے وہ چونک گیا.....
ایسی حسینہ تو اس نے زندگی بھر نہ دیکھی تھی
وہ اس کی طرف بڑھتا چلا گیا، وہ بھی ہاتھ میں پھول لئے مسکرا رہی تھی. اور پھول کی خوشبو سے جیسے اپنے آپ کو اندر تک معطر…
کسان نوجوان اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا ایک نسوانی قہقہے سے وہ چونک گیا.....
ایسی حسینہ تو اس نے زندگی بھر نہ دیکھی تھی
وہ اس کی طرف بڑھتا چلا گیا، وہ بھی ہاتھ میں پھول لئے مسکرا رہی تھی. اور پھول کی خوشبو سے جیسے اپنے آپ کو اندر تک معطر…
🔷 محنت میں عظمت 🔷
کسی گاؤں میں ایک نو جوان رہتا تھا. پڑھائی لکھائی جب ختم ہوئی تو والدین نے نوکری کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ کئی مہینے وہ نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا لیکن کہیں نوکری نہ ملی.
ایک دن تھک ہار کر خود سے بولا، رزق تو اللہ کی ذات نے دینا ہے۔ اب میں نوکری کی تلاش میں نہیں پھروں گا بلکہ سکون سے زندگی گزاروں گا۔۔ اللہ رازق ہے تو گھر بیٹھے ہی رزق دے گا.
اسی سوچ کے ساتھ یہ جوان صبح کی سیر کے لئے نکلا سیر کے بعد گاؤں کے قریب سے گزرنے والی نہر کے کنارے جا کر بیٹھ گیا.
ابھی بیٹھے پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے کہ دیکھا ایک پتہ نہر میں نیچے کی طرف بہتا ہوا آ رہا ہے۔۔ چھلانگ لگا کر پتہ پکڑا تو یہ کیا دیکھتا ہے کہ پتے پر دو نان اور ان پر حلوہ پڑا تھا.
واہ خدایا! واقعی رزق تو کھانے والے تک خود پہنچتا ہے۔۔ حلوہ کھایا بہت لذیذ تھا. پیٹ بھر کر واپس گھر آ گیا.
ظہر کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا. ایک بار پھر حلوہ اور نان پتے پر آتے نظر آئے. اٹھائے اور کھا ليے.
مغرب کی نماز کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا. اس بار بھی وہی ہوا.
واہ! رات کے کھانے کا انتظام بھی ہو گیا.
اب روزانہ فجر، ظہر اور مغرب کی نماز کے بعد نہر کنارے جا کر بیٹھ جاتا اور بلا ناغہ نان اور حلوہ مل جاتے. یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔۔
ایک دن خیال آیا کہ دیکھوں کہ اللہ تعالٰی کس طرح یہ نان اور حلوہ بھجواتا ہے. اسی سوچ میں صبح کی نماز کے بعد نہر کی اوپری طرف چل پڑا. کچھ کلومیٹر ہی گیا ہو گا کہ دیکھا، ایک بابا جی ہیں جو نان اور حلوہ لئے نہر کنارے بیٹھے ہیں۔۔
قریب جا کر دیکھا۔۔ تو بابا جی نان کے اندر حلوہ رکھتے اور پھر اس گرم گرم حلوے سے اپنی ٹانگ پر نکلے ایک پھوڑے کو ٹکور کرتے، پھر ایک پتے پر نان اور حلوہ رکھ کر نہر میں بہا دیتے.
جوان کا دل ایک دم خراب ہونا شروع ہو گیا۔ ابکائیاں آنے لگیں کیا میں اتنے دنوں سے یہ حلوہ اور نان کھا رہا تھا؟
بابا جی سے پوچھا یہ ماجرا کیا ہے؟
بابا جی بولے:
کئی دنوں سے یہ پھوڑا نکلا ہوا تھا. جس کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔ حکیم کے پاس گیا تو حکیم نے مشورہ دیا کہ روزانہ دن میں تیں بار سوجی کے حلوے کو نان پر رکھ کر اس کی ٹکور کروں، سو میں فجر، ظہر اور مغرب کے بعد ادھر آ جاتا ہوں۔۔ نان اور حلوے کی ٹکور کے بعد نان اور حلوے کو پتے پر رکھ کر نہر میں بہا دیتا ہوں تاکہ خراب ہونے کی بجائے چرند پرند اور مچھلیاں ہی کھا لیں.
بے شک اللہ رازق ہے۔ رزق اللہ نے ہی دینا ہے، محنت اور کاہلی کے درمیان پھل کا فرق ہے.
جو محنت کرتے ہیں انھیں پاک اور صاف رزق ملتا ہے۔۔ جو کاہلی میں وقت گزارتے ہیں اور حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، رزق تو انہیں بھی ملتا ہے مگر وہ رزق جس میں کراہت اور گندگی ہو.
دنیا امتحان گاہ ہے۔ جہان رحمت اور محنت سے سفر ہوتا ہے. مقام ملتا ہے۔ رحمت نہ ہو تو محنت رائیگاں اور اگر محنت نہ ہو تو رحمت اسی طرح کی بے ثمر.
👆ایک مراسلہ👆
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
کسی گاؤں میں ایک نو جوان رہتا تھا. پڑھائی لکھائی جب ختم ہوئی تو والدین نے نوکری کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ کئی مہینے وہ نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا لیکن کہیں نوکری نہ ملی.
ایک دن تھک ہار کر خود سے بولا، رزق تو اللہ کی ذات نے دینا ہے۔ اب میں نوکری کی تلاش میں نہیں پھروں گا بلکہ سکون سے زندگی گزاروں گا۔۔ اللہ رازق ہے تو گھر بیٹھے ہی رزق دے گا.
اسی سوچ کے ساتھ یہ جوان صبح کی سیر کے لئے نکلا سیر کے بعد گاؤں کے قریب سے گزرنے والی نہر کے کنارے جا کر بیٹھ گیا.
ابھی بیٹھے پندرہ منٹ ہی ہوئے تھے کہ دیکھا ایک پتہ نہر میں نیچے کی طرف بہتا ہوا آ رہا ہے۔۔ چھلانگ لگا کر پتہ پکڑا تو یہ کیا دیکھتا ہے کہ پتے پر دو نان اور ان پر حلوہ پڑا تھا.
واہ خدایا! واقعی رزق تو کھانے والے تک خود پہنچتا ہے۔۔ حلوہ کھایا بہت لذیذ تھا. پیٹ بھر کر واپس گھر آ گیا.
ظہر کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا. ایک بار پھر حلوہ اور نان پتے پر آتے نظر آئے. اٹھائے اور کھا ليے.
مغرب کی نماز کے بعد پھر نہر کنارے چلا گیا. اس بار بھی وہی ہوا.
واہ! رات کے کھانے کا انتظام بھی ہو گیا.
اب روزانہ فجر، ظہر اور مغرب کی نماز کے بعد نہر کنارے جا کر بیٹھ جاتا اور بلا ناغہ نان اور حلوہ مل جاتے. یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔۔
ایک دن خیال آیا کہ دیکھوں کہ اللہ تعالٰی کس طرح یہ نان اور حلوہ بھجواتا ہے. اسی سوچ میں صبح کی نماز کے بعد نہر کی اوپری طرف چل پڑا. کچھ کلومیٹر ہی گیا ہو گا کہ دیکھا، ایک بابا جی ہیں جو نان اور حلوہ لئے نہر کنارے بیٹھے ہیں۔۔
قریب جا کر دیکھا۔۔ تو بابا جی نان کے اندر حلوہ رکھتے اور پھر اس گرم گرم حلوے سے اپنی ٹانگ پر نکلے ایک پھوڑے کو ٹکور کرتے، پھر ایک پتے پر نان اور حلوہ رکھ کر نہر میں بہا دیتے.
جوان کا دل ایک دم خراب ہونا شروع ہو گیا۔ ابکائیاں آنے لگیں کیا میں اتنے دنوں سے یہ حلوہ اور نان کھا رہا تھا؟
بابا جی سے پوچھا یہ ماجرا کیا ہے؟
بابا جی بولے:
کئی دنوں سے یہ پھوڑا نکلا ہوا تھا. جس کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔ حکیم کے پاس گیا تو حکیم نے مشورہ دیا کہ روزانہ دن میں تیں بار سوجی کے حلوے کو نان پر رکھ کر اس کی ٹکور کروں، سو میں فجر، ظہر اور مغرب کے بعد ادھر آ جاتا ہوں۔۔ نان اور حلوے کی ٹکور کے بعد نان اور حلوے کو پتے پر رکھ کر نہر میں بہا دیتا ہوں تاکہ خراب ہونے کی بجائے چرند پرند اور مچھلیاں ہی کھا لیں.
بے شک اللہ رازق ہے۔ رزق اللہ نے ہی دینا ہے، محنت اور کاہلی کے درمیان پھل کا فرق ہے.
جو محنت کرتے ہیں انھیں پاک اور صاف رزق ملتا ہے۔۔ جو کاہلی میں وقت گزارتے ہیں اور حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، رزق تو انہیں بھی ملتا ہے مگر وہ رزق جس میں کراہت اور گندگی ہو.
دنیا امتحان گاہ ہے۔ جہان رحمت اور محنت سے سفر ہوتا ہے. مقام ملتا ہے۔ رحمت نہ ہو تو محنت رائیگاں اور اگر محنت نہ ہو تو رحمت اسی طرح کی بے ثمر.
👆ایک مراسلہ👆
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 داڑھی منڈوانا 🔷
منجملہ غیر اسلامی رسموں کے ایک مردوں کا داڑھی منڈوانا اور مونچھیں بڑھانا بھی ھے. فقہ جعفریہ میں ڈاڑھی منڈانے کی حرمت اور مونچھیں بڑھانے کی کراھت شدیدہ میں کوئی اختلاف نہیں ھے اور یہ کہ ڈاڑھی منڈوانا مجوسیوں کا طریقہ ھے.
اسلام کے اندر اس فعل شنیع کی کوئی گنجائش نہیں ھے.
■پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
●مجوسی داڑھی مونڈتے ہیں اور مونچھیں بڑی رکھتے ہیں. اور ہم اس کے برعکس.
(وسائل الشیعہ: ج 1 ص421)
●مونچھیں چھوٹی رکھو اور داڑھی بڑی رکھو.
(وسائل الشیعہ ج1 ص423)
●داڑھی مونڈنا ایک مثلہ کی قسم (جسم و روح کو اذیت دینا) ہے. اور جو بھی اس طرح کرے اس پر خدا کی لعنت ہو.
(مستدرک الوسائل ج1 ص406)
●داڑھی مونڈنا عمل قوم لوط میں سے ہے.
(مستدرک الوسائل ج1,ص407)
■کسریٰ (شاہ ایران) نے چند داڑھی چٹ اور مونچھیں دراز قسم کے نمائندے دربار رسالت میں بھیجےـ مگر خلق عظیم کے مالک نے ان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا اور دریافت فرمایا:
"تمہیں یہ ہیئت و شکل اختیار کرنے کا کس نے حکم دیا ھے؟"
انہوں نے کہا:
ھمارے بادشاہ (کسریٰ) نے.
یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ و علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:
لیکن میرے بادشاہ (خدا تعالیٰ) نے مجھے داڑھی رکھوانے اور مونچھیں کٹوانے کا حکم دیا ھےـ
(من لا یحضرہ الفقیہ)
●امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
خداوند متعال نے مَردوں کو داڑھی کے ذریعے زینت بخشی ہے اور ان کے لئے باعث فضیلت ہے اور داڑھی کے ذریعے مرد پہچانے جاتے ہیں.
(سفینۃ البحار، ج2، ص:508)
●حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
گذشتہ زمانے میں کچھ گروہ داڑھی مونڈتے تھے اور مونچھیں رکھتے تھے خداوند متعال نے ان کو مسخ (جانوروں کی شکل میں تبدیل) کردیا.
(حلیۃ المتقین، ص:187)
●عالم ربانی حضرت علامہ شیخ یوسف بحرانی نے لکھا ھے کہ دوسری دلیلوں سے قطع نظر کرتے ھوئے صرف یہی چیز اس کی حرمت مغلظہ ثابت کرنے کے لیے کافی و وافی ھے کہ زنا جیسے سنگین جرم کی وجہ سے کوئی قوم مسخ نہیں ھوئی مگر ڈاڑھی منڈوانے کی وجہ سے ایک قوم مسخ ھو چکی ھے.
چنانچہ اصول کافی میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ درج ھے کہ
■جناب امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے ظاھری دور خلافت میں کوفہ کے بازار میں بے چھلکا مچھلی (جسے ملی مچھلی کہا جاتا ھے) بیچنے والوں کو کوڑے لگائے اور یہ کہہ کر بازار سے نکال دیا کہ
"یا بیاعی مسوخ بنی اسرائیل و جند بنی مروان."
اے بنی اسرائیل کی مسخ شدہ مخلوق اور لشکر بنی مروان کے بیچنے والو!
حاظرین میں سے بعض نے عرض کیا کہ بنی اسرائیل کی مسخ شدہ مخلوق سے آپ کی مراد کیا ھے؟
فرمایا: "یہ ایک قوم تھی جس کا جرم یہ تھا کہ ڈاڑھیاں منڈواتے تھے اور مونچھیں بڑھا کر ان کو تاؤ دیتے تھے جنہیں خداۓ قہار نے اس شکل میں مسخ کر دیا."
■بعض اخبار سے واضح و آشکار ہوتا ھے کہ اسلام میں سب سے پہلے جس شخص نے داڑھی ترشوائی وہ امیر شام تھا،
(تنبیہ الغافلین)
اور جس نے سب سے پہلے مونچھیں بڑھائیں وہ حضرت ثانی تھے.
(الفاروق شبلی)
اور جس نے پہلے پہل داڑھی منڈوائی وہ یزید پلید تھا.
ان حقائق کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ھے کہ جو لوگ باریک داڑھی کتراتے ھیں وہ امیر شام کی سنت پر،
جو منڈواتے ھیں وہ یزید عنید کے طریقہ پر،
اور جو مو نچھیں بڑھاتے ھیں وہ حضرت ثانی کے نقش قدم پر چل رھے ھیں.
کیا زبان و کلام سے محبت اھلبیت علیہم السلام کا دعویٰ کرنا اور عمل و کردار سے دشمنان اھلبیت علیہم السلام کی پیروی کرنا ایک شرمناک بات نہیں ھے؟
■مسلمانوں کا قطعی رویہ:
رسول اللہ (ص) کے دور سے اب تک دیندار لوگ داڑھی رکھنے کے پابند ہیں اور جو داڑھی مونڈھتا ہے اس کی مذمت کرتے آئے ہیں اور اس کو فاسق سمجھتے ہیں اور اسلامی عدالت میں بھی گواہی دینے کے لئے داڑھی رکھنا ضروری ہے کیونکہ داڑھی مونڈھنے والے شخص کو فاسق سمجھا جاتا ہے اور اس کی گواہی قابل قبول نہیں سمجھی جاتی۔ یعنی عادل ہونے کی ایک شرط داڑھی رکھنا ہے اور گواہی کے لئے عدالت شرط ہے.
(آيت اللَّه العظمی سید ابوالقاسم خوئى، مصباح الفقاهة، ج 1، ص 264)
■مراجع تقلید اور علمائے کرام:
مراجع تقلید اور علمائے کرام نے بھی داڑھی مونڈھنا حرام قرار دیا ہے یا کم ازکم فرمایا ہے کہ "احتیاط واجب" یہ ہے کہ داڑھی رکھی جائے اور احتیاط واجب ترک نہیں کی جاسکتی.
■ داڑھی کی مقدار:
چہرے پر اتنی مقدار میں داڑھی رکھنا واجب ہے کہ عرف عام میں اسے داڑھی کہا جا سکے یعنی جب لوگ اس کے چہرے کو دیکھیں تو ان کو خود بخود معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص کے داڑھی ہے. نہ کہ ایسا معلوم ہو کہ شیو بڑھی ہوئی ہے یا خود بتانا پڑے کہ میں نے داڑھی رکھی ہوئی ہے.
یہ بھی یاد رہے کہ ایک ہاتھ یعنی مٹھی بھر سے زیادہ لمبی داڑھی بھی نہ ہو یعنی سکھوں کی طرح بلکہ جتنی مقدار میں مراجعین عظام کی ہے اتنی مقدار رکھنا زیادہ ثواب رکھتی ہے.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
منجملہ غیر اسلامی رسموں کے ایک مردوں کا داڑھی منڈوانا اور مونچھیں بڑھانا بھی ھے. فقہ جعفریہ میں ڈاڑھی منڈانے کی حرمت اور مونچھیں بڑھانے کی کراھت شدیدہ میں کوئی اختلاف نہیں ھے اور یہ کہ ڈاڑھی منڈوانا مجوسیوں کا طریقہ ھے.
اسلام کے اندر اس فعل شنیع کی کوئی گنجائش نہیں ھے.
■پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
●مجوسی داڑھی مونڈتے ہیں اور مونچھیں بڑی رکھتے ہیں. اور ہم اس کے برعکس.
(وسائل الشیعہ: ج 1 ص421)
●مونچھیں چھوٹی رکھو اور داڑھی بڑی رکھو.
(وسائل الشیعہ ج1 ص423)
●داڑھی مونڈنا ایک مثلہ کی قسم (جسم و روح کو اذیت دینا) ہے. اور جو بھی اس طرح کرے اس پر خدا کی لعنت ہو.
(مستدرک الوسائل ج1 ص406)
●داڑھی مونڈنا عمل قوم لوط میں سے ہے.
(مستدرک الوسائل ج1,ص407)
■کسریٰ (شاہ ایران) نے چند داڑھی چٹ اور مونچھیں دراز قسم کے نمائندے دربار رسالت میں بھیجےـ مگر خلق عظیم کے مالک نے ان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا اور دریافت فرمایا:
"تمہیں یہ ہیئت و شکل اختیار کرنے کا کس نے حکم دیا ھے؟"
انہوں نے کہا:
ھمارے بادشاہ (کسریٰ) نے.
یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ و علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:
لیکن میرے بادشاہ (خدا تعالیٰ) نے مجھے داڑھی رکھوانے اور مونچھیں کٹوانے کا حکم دیا ھےـ
(من لا یحضرہ الفقیہ)
●امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
خداوند متعال نے مَردوں کو داڑھی کے ذریعے زینت بخشی ہے اور ان کے لئے باعث فضیلت ہے اور داڑھی کے ذریعے مرد پہچانے جاتے ہیں.
(سفینۃ البحار، ج2، ص:508)
●حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
گذشتہ زمانے میں کچھ گروہ داڑھی مونڈتے تھے اور مونچھیں رکھتے تھے خداوند متعال نے ان کو مسخ (جانوروں کی شکل میں تبدیل) کردیا.
(حلیۃ المتقین، ص:187)
●عالم ربانی حضرت علامہ شیخ یوسف بحرانی نے لکھا ھے کہ دوسری دلیلوں سے قطع نظر کرتے ھوئے صرف یہی چیز اس کی حرمت مغلظہ ثابت کرنے کے لیے کافی و وافی ھے کہ زنا جیسے سنگین جرم کی وجہ سے کوئی قوم مسخ نہیں ھوئی مگر ڈاڑھی منڈوانے کی وجہ سے ایک قوم مسخ ھو چکی ھے.
چنانچہ اصول کافی میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ درج ھے کہ
■جناب امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے ظاھری دور خلافت میں کوفہ کے بازار میں بے چھلکا مچھلی (جسے ملی مچھلی کہا جاتا ھے) بیچنے والوں کو کوڑے لگائے اور یہ کہہ کر بازار سے نکال دیا کہ
"یا بیاعی مسوخ بنی اسرائیل و جند بنی مروان."
اے بنی اسرائیل کی مسخ شدہ مخلوق اور لشکر بنی مروان کے بیچنے والو!
حاظرین میں سے بعض نے عرض کیا کہ بنی اسرائیل کی مسخ شدہ مخلوق سے آپ کی مراد کیا ھے؟
فرمایا: "یہ ایک قوم تھی جس کا جرم یہ تھا کہ ڈاڑھیاں منڈواتے تھے اور مونچھیں بڑھا کر ان کو تاؤ دیتے تھے جنہیں خداۓ قہار نے اس شکل میں مسخ کر دیا."
■بعض اخبار سے واضح و آشکار ہوتا ھے کہ اسلام میں سب سے پہلے جس شخص نے داڑھی ترشوائی وہ امیر شام تھا،
(تنبیہ الغافلین)
اور جس نے سب سے پہلے مونچھیں بڑھائیں وہ حضرت ثانی تھے.
(الفاروق شبلی)
اور جس نے پہلے پہل داڑھی منڈوائی وہ یزید پلید تھا.
ان حقائق کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ھے کہ جو لوگ باریک داڑھی کتراتے ھیں وہ امیر شام کی سنت پر،
جو منڈواتے ھیں وہ یزید عنید کے طریقہ پر،
اور جو مو نچھیں بڑھاتے ھیں وہ حضرت ثانی کے نقش قدم پر چل رھے ھیں.
کیا زبان و کلام سے محبت اھلبیت علیہم السلام کا دعویٰ کرنا اور عمل و کردار سے دشمنان اھلبیت علیہم السلام کی پیروی کرنا ایک شرمناک بات نہیں ھے؟
■مسلمانوں کا قطعی رویہ:
رسول اللہ (ص) کے دور سے اب تک دیندار لوگ داڑھی رکھنے کے پابند ہیں اور جو داڑھی مونڈھتا ہے اس کی مذمت کرتے آئے ہیں اور اس کو فاسق سمجھتے ہیں اور اسلامی عدالت میں بھی گواہی دینے کے لئے داڑھی رکھنا ضروری ہے کیونکہ داڑھی مونڈھنے والے شخص کو فاسق سمجھا جاتا ہے اور اس کی گواہی قابل قبول نہیں سمجھی جاتی۔ یعنی عادل ہونے کی ایک شرط داڑھی رکھنا ہے اور گواہی کے لئے عدالت شرط ہے.
(آيت اللَّه العظمی سید ابوالقاسم خوئى، مصباح الفقاهة، ج 1، ص 264)
■مراجع تقلید اور علمائے کرام:
مراجع تقلید اور علمائے کرام نے بھی داڑھی مونڈھنا حرام قرار دیا ہے یا کم ازکم فرمایا ہے کہ "احتیاط واجب" یہ ہے کہ داڑھی رکھی جائے اور احتیاط واجب ترک نہیں کی جاسکتی.
■ داڑھی کی مقدار:
چہرے پر اتنی مقدار میں داڑھی رکھنا واجب ہے کہ عرف عام میں اسے داڑھی کہا جا سکے یعنی جب لوگ اس کے چہرے کو دیکھیں تو ان کو خود بخود معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص کے داڑھی ہے. نہ کہ ایسا معلوم ہو کہ شیو بڑھی ہوئی ہے یا خود بتانا پڑے کہ میں نے داڑھی رکھی ہوئی ہے.
یہ بھی یاد رہے کہ ایک ہاتھ یعنی مٹھی بھر سے زیادہ لمبی داڑھی بھی نہ ہو یعنی سکھوں کی طرح بلکہ جتنی مقدار میں مراجعین عظام کی ہے اتنی مقدار رکھنا زیادہ ثواب رکھتی ہے.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 روح و بدن 🔷
مجنوں لیلیٰ کے عشق میں بے چین تھا۔ یہ بے چینی بڑھی تو اُس نے اونٹنی پر سوار ہو کر اُسے لیلیٰ کی بستی کی طرف ہانکنا شروع کر دیا۔ وہ لیلیٰ کے تصوّر میں غرق تھا اونٹنی کی مہار پر اُس کی گرفت ڈھیلی پڑی تو اونٹنی نے بجائے لیلیٰ کی بستی کی طرف جانے کے واپس مجنوں کے گھر کا رُخ کر لیا تھا جہاں اِس اونٹنی کا بچّہ تھا۔ اسے اپنے بچّے کی محبت اِس طرف کھینچ لائی تھی۔
مجنوں ذرا سا سنبھلا تو اسے معلوم ہُوا کہ وہ تو واپس اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔
اُس نے دوبارہ اونٹنی کو لیلیٰ کے گھر کی طرف دوڑایا مگر اِس بار بھی جب وہ بے خودی میں تھا تو اونٹنی کی مہار اِس کے ہاتھوں میں ڈھیلی پڑ گئی تھی اور وہ اِس مرتبہ پھر لیلیٰ کے گھر نہیں بلکہ مجنوں کے گھر کے سامنے کھڑی تھی جس گھر کے اندر اس کا بچّہ تھا۔ ایسا کئی بار ہُوا تو مجنوں کو اونٹنی پر غصّہ آ گیا۔
اُس نے اونٹنی سے مخاطب ہو کر کہا:
"کمبخت میری لیلیٰ تو آگے ہے اور تیری لیلیٰ تیرا بچّہ یعنی تیری محبت پیچھے. یہ محبت مجھے بار بار پیچھے لوٹنے پر مجبور کرتی ہے۔ جب کہ میرا عشق اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ میں تجھے لیلیٰ کے گھر تک لے جاؤں۔ مگر اس طرح تو لگتا ہے یہ عشق کا راستہ کبھی طے نہ ہو سکے گا۔"
یہ کہہ کر مجنوں نے اونٹنی سے چھلانگ لگا دی اور نیچے گرتے ہی اپنے آپ کو زخمی کر لیا تھا۔
■حضرت رومی علیہ الرحمہ اِس حکایت سے یہ درس دیتے ہیں کہ انسان محبوبِ حقیقی کے فراق میں بے قرار ہے۔ اس کی روح مالکِ حقیقی سے ملنے کی خواہش رکھتی ہے جبکہ اس کا جسم، اس کا خاکی بدن عیش و نشاط کی تلاش میں مجنوں کی اس اونٹنی کی طرح ہے۔
اب فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ خواہش جسمانی کی سواری کرتے ہوئے عیش و نشاط کے راستوں میں بھٹکتا رہے یا محبوب حقیقی سے ملاقات کے شوق میں جسمانی خواہشات کی سواری سے چھلانگ لگا دے یقینا اس میں زخم لگیں گے مجنوں کی طرح سے. مشکلات آئیں گی پر ان سب تکالیف و مشکلات کے بعد ایک نہ ایک دن محبوب حقیقی سے ملاقات ضرور ہوگی، منزل حقیقی ضرور نصیب ہوگی، پر اگر جسمانی خواہشات کی سواری پر سوار رہے تو تمام عمر سوائے بھٹکنے کے کیا نصیب ہوگا ؟؟
(حکایات رومی)
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
مجنوں لیلیٰ کے عشق میں بے چین تھا۔ یہ بے چینی بڑھی تو اُس نے اونٹنی پر سوار ہو کر اُسے لیلیٰ کی بستی کی طرف ہانکنا شروع کر دیا۔ وہ لیلیٰ کے تصوّر میں غرق تھا اونٹنی کی مہار پر اُس کی گرفت ڈھیلی پڑی تو اونٹنی نے بجائے لیلیٰ کی بستی کی طرف جانے کے واپس مجنوں کے گھر کا رُخ کر لیا تھا جہاں اِس اونٹنی کا بچّہ تھا۔ اسے اپنے بچّے کی محبت اِس طرف کھینچ لائی تھی۔
مجنوں ذرا سا سنبھلا تو اسے معلوم ہُوا کہ وہ تو واپس اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔
اُس نے دوبارہ اونٹنی کو لیلیٰ کے گھر کی طرف دوڑایا مگر اِس بار بھی جب وہ بے خودی میں تھا تو اونٹنی کی مہار اِس کے ہاتھوں میں ڈھیلی پڑ گئی تھی اور وہ اِس مرتبہ پھر لیلیٰ کے گھر نہیں بلکہ مجنوں کے گھر کے سامنے کھڑی تھی جس گھر کے اندر اس کا بچّہ تھا۔ ایسا کئی بار ہُوا تو مجنوں کو اونٹنی پر غصّہ آ گیا۔
اُس نے اونٹنی سے مخاطب ہو کر کہا:
"کمبخت میری لیلیٰ تو آگے ہے اور تیری لیلیٰ تیرا بچّہ یعنی تیری محبت پیچھے. یہ محبت مجھے بار بار پیچھے لوٹنے پر مجبور کرتی ہے۔ جب کہ میرا عشق اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ میں تجھے لیلیٰ کے گھر تک لے جاؤں۔ مگر اس طرح تو لگتا ہے یہ عشق کا راستہ کبھی طے نہ ہو سکے گا۔"
یہ کہہ کر مجنوں نے اونٹنی سے چھلانگ لگا دی اور نیچے گرتے ہی اپنے آپ کو زخمی کر لیا تھا۔
■حضرت رومی علیہ الرحمہ اِس حکایت سے یہ درس دیتے ہیں کہ انسان محبوبِ حقیقی کے فراق میں بے قرار ہے۔ اس کی روح مالکِ حقیقی سے ملنے کی خواہش رکھتی ہے جبکہ اس کا جسم، اس کا خاکی بدن عیش و نشاط کی تلاش میں مجنوں کی اس اونٹنی کی طرح ہے۔
اب فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ خواہش جسمانی کی سواری کرتے ہوئے عیش و نشاط کے راستوں میں بھٹکتا رہے یا محبوب حقیقی سے ملاقات کے شوق میں جسمانی خواہشات کی سواری سے چھلانگ لگا دے یقینا اس میں زخم لگیں گے مجنوں کی طرح سے. مشکلات آئیں گی پر ان سب تکالیف و مشکلات کے بعد ایک نہ ایک دن محبوب حقیقی سے ملاقات ضرور ہوگی، منزل حقیقی ضرور نصیب ہوگی، پر اگر جسمانی خواہشات کی سواری پر سوار رہے تو تمام عمر سوائے بھٹکنے کے کیا نصیب ہوگا ؟؟
(حکایات رومی)
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🙎🏻♂ مرد کا پردہ 🙎🏻♂
بھائی!! وہ لڑکی تو دیکھ... کیا لگ رہی ہے...
کیوں بھائی میں کیوں دیکھوں؟ کیا وہ دیکھنے کی چیز ہے جسے دیکھا جائے؟؟
یار دیکھ تو سہی بڑی بن ٹھن کے تیاری کے ساتھ نکلی ہے نمائش کرنے کا ہی انداز ہے، دیکھ تو سہی یار...
سوری بھائی میں پردہ کرتا ہوں...
ہیں...!!
کیا کہا تو نے پردہ؟ دماغ تو ٹھیک ہے تیرا، پردہ تو لڑکیاں کرتی ہیں...
●میرے بھائی مجھے پتہ ہے کہ لڑکیوں کے لیے پردے کا حکم ہے پر بھائی لڑکوں کے لئے بھی پردے کا حکم ہے.
●جہاں عورت کے لئے پردے کا حکم ہے وہاں مرد کے لئے بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے اور یہ پردے کا حکم لڑکوں کو پہلے اور لڑکیوں کو بعد میں دیا گیا ہے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ ہمیں لڑکیوں کے پردے کا پتہ ہے پر اپنے پردے کا پتا ہی نہیں...
■مرد کا پردہ کیا ہوتا ہے
بھائی اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور آیت 30 میں کہا ہے:
"مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں."
پھر آیت 31 میں عورت کو پردے کا حکم ہے.
●میرے بھائی ہمیں 31 نمبر آیت کا تو پتہ ہوتا ہے لیکن ہمیں 30 آیت کا سرے سے پتہ ہی نہیں ہوتا..
●عورت اگر پردہ نہیں کر رہی تو وہ اپنے اوپر سراسر ظلم کر رہی ہے، نامہ اعمال تو سیاہ ہو رہا ہے پر کوئی اوباش اس کی عزت پر ہاتھ بھی اٹھا سکتا ہے، اس کی بے پردگی آخرت میں رسوائی کا سامان تو ہے، دنیا میں بھی رسوا ہو سکتی ہے.
لہذاٰ... اس کا عمل اس کے ساتھ ہے.
●تم سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ فلاں پردہ کرتی تھی یا نہیں بلکہ سوال یہ ہو گا کہ کیا تم نے اپنی نظریں جھکائی تھیں؟ کیا تم نے اپنا پردہ کیا تھا...؟
●ہم عورتوں کی بے پردگی پر بڑھ چڑھ کر تنقید کرتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ حکم تو ہمارے لئے بھی ہے کہ نامحرم عورت کو دیکھ کر نگاہیں جھکا لیا کرو.. بے پردہ عورت کو دیکھنے کی اجازت آپ کو کس نے دی؟
●اگر عورت نے بے پردہ ہوکر اللہ کا حکم توڑا ہے تو آپ نے بھی اس عورت کو دیکھ کر اللہ کا حکم توڑا ہے.
افسوس کہ ہماری ساری نصیحتیں صرف دوسروں کے لیے ہی ہوتی ہیں.
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
بھائی!! وہ لڑکی تو دیکھ... کیا لگ رہی ہے...
کیوں بھائی میں کیوں دیکھوں؟ کیا وہ دیکھنے کی چیز ہے جسے دیکھا جائے؟؟
یار دیکھ تو سہی بڑی بن ٹھن کے تیاری کے ساتھ نکلی ہے نمائش کرنے کا ہی انداز ہے، دیکھ تو سہی یار...
سوری بھائی میں پردہ کرتا ہوں...
ہیں...!!
کیا کہا تو نے پردہ؟ دماغ تو ٹھیک ہے تیرا، پردہ تو لڑکیاں کرتی ہیں...
●میرے بھائی مجھے پتہ ہے کہ لڑکیوں کے لیے پردے کا حکم ہے پر بھائی لڑکوں کے لئے بھی پردے کا حکم ہے.
●جہاں عورت کے لئے پردے کا حکم ہے وہاں مرد کے لئے بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے اور یہ پردے کا حکم لڑکوں کو پہلے اور لڑکیوں کو بعد میں دیا گیا ہے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ ہمیں لڑکیوں کے پردے کا پتہ ہے پر اپنے پردے کا پتا ہی نہیں...
■مرد کا پردہ کیا ہوتا ہے
بھائی اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور آیت 30 میں کہا ہے:
"مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں."
پھر آیت 31 میں عورت کو پردے کا حکم ہے.
●میرے بھائی ہمیں 31 نمبر آیت کا تو پتہ ہوتا ہے لیکن ہمیں 30 آیت کا سرے سے پتہ ہی نہیں ہوتا..
●عورت اگر پردہ نہیں کر رہی تو وہ اپنے اوپر سراسر ظلم کر رہی ہے، نامہ اعمال تو سیاہ ہو رہا ہے پر کوئی اوباش اس کی عزت پر ہاتھ بھی اٹھا سکتا ہے، اس کی بے پردگی آخرت میں رسوائی کا سامان تو ہے، دنیا میں بھی رسوا ہو سکتی ہے.
لہذاٰ... اس کا عمل اس کے ساتھ ہے.
●تم سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ فلاں پردہ کرتی تھی یا نہیں بلکہ سوال یہ ہو گا کہ کیا تم نے اپنی نظریں جھکائی تھیں؟ کیا تم نے اپنا پردہ کیا تھا...؟
●ہم عورتوں کی بے پردگی پر بڑھ چڑھ کر تنقید کرتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ حکم تو ہمارے لئے بھی ہے کہ نامحرم عورت کو دیکھ کر نگاہیں جھکا لیا کرو.. بے پردہ عورت کو دیکھنے کی اجازت آپ کو کس نے دی؟
●اگر عورت نے بے پردہ ہوکر اللہ کا حکم توڑا ہے تو آپ نے بھی اس عورت کو دیکھ کر اللہ کا حکم توڑا ہے.
افسوس کہ ہماری ساری نصیحتیں صرف دوسروں کے لیے ہی ہوتی ہیں.
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 در نجف و موئے نجف 🔷
حافظ رجب برسی امیرالمؤمنین۴ کے اخبار بالغیب کے سلسلہ میں آپکا ایک مقولہ نذر قرطاس فرماتے ہیں:
"مسرت عظیم کی امید اس وقت کرو جب خداوند عالم نجف کے سنگریزوں کو گوہر بنا دے اور وہ اہل ایمان کے قدموں کے نیچے آئیں."
اس سے واضح ہوا کہ در نجف کا وجود میں آنا بھی امیرالمؤمنین۴ سے ظاہر ہوا ہے اور ارض نجف میں در کی پیداوار دفن امیرالمؤمنین۴ کے بعد سے ہے.
مفضل ابن عمرو بیان کرتا ہے، ایک دن میں حضرت امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں درنجف کی انگوٹھی پہنے گیا، امامؑ نے فرمایا:
جو شخص در نجف کی انگوٹھی پہنتا ہے، جسے اللہ نجف اشرف میں پیدا کرتا ہے، جو شخص اسکو ہاتھ میں پہنے تو خداوندعالم ہر نگاہ کے عوض میں جو اس پر کی جائے زیارت حج و عمرہ کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھے گا، اسکا ثواب انبیاء و صالحین کے برابر ہو گا اور اگر خدا ہمارے شیعوں پر رحم نہ کرتا تو در نجف کا ایک ایک نگینہ بڑی بڑی قیمتیں رکھتا لیکن خدائے تعالی نے ان کے لیے یہ نگینے سستے کر دیے کہ امیر و غریب سب پہن سکیں.
روایت صفوان جمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو آراضی مرقد منور کے قریب ہے اس حکم میں داخل ہے کہ اگر قریب روضہ مطہر سے نہ ملے تو شہر میں جس مقام پر ملے اٹھا لے، بالائے زمین بھی دستیاب نہ ہو سکے تو زمین کھود کر حاصل کیا جا سکتا ہے .
■موئے نجف
بلوری چمک کا سفید گرے، ہلکا پیازی رنگ کا دیدہ زیب قدرتی خوشنما شفاف پتھر ہے اس میں قدرت نے مثل بال متوازی و غیر متوازی سیاہ، پیلی، گولڈن لکیریں عطا کی ہیں. دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کترے ہوئے بکھرے ہوئے بالوں کا گچھا ہے. اس کے متعلق مشہور ہے کہ اس میں حضرت علی علیہ السلام کے بالوں کا عکس ہے. اس پتھر پر نظر رکھنا، اسکا استمعال خداوندعالم کی طرف رجحان بڑھاتا ہے.
صحت و تندرستی کے لیے کارآمد ہے، اس کے افعال و خواص اور اثرات در نجف سے مشابہ ہیں. موئے نجف کی انگوٹھی والا لاکٹ صوفیائے کرام اور درویش بڑی عقیدت سے استمعال کرتے ہیں.
نفسیاتی امراض میں متبلا افراد کو بطور لاکٹ استمعال کرنا چاہیے.
*ازل سے ہے نام علی ؑ نقش دل پر،
وہ درنجف ہے نگینہ ہمارا.
بشکریہ: ضیغم عبّاس
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
📚 تاریخ نجف اشرف، صفحہ: 339.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حافظ رجب برسی امیرالمؤمنین۴ کے اخبار بالغیب کے سلسلہ میں آپکا ایک مقولہ نذر قرطاس فرماتے ہیں:
"مسرت عظیم کی امید اس وقت کرو جب خداوند عالم نجف کے سنگریزوں کو گوہر بنا دے اور وہ اہل ایمان کے قدموں کے نیچے آئیں."
اس سے واضح ہوا کہ در نجف کا وجود میں آنا بھی امیرالمؤمنین۴ سے ظاہر ہوا ہے اور ارض نجف میں در کی پیداوار دفن امیرالمؤمنین۴ کے بعد سے ہے.
مفضل ابن عمرو بیان کرتا ہے، ایک دن میں حضرت امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں درنجف کی انگوٹھی پہنے گیا، امامؑ نے فرمایا:
جو شخص در نجف کی انگوٹھی پہنتا ہے، جسے اللہ نجف اشرف میں پیدا کرتا ہے، جو شخص اسکو ہاتھ میں پہنے تو خداوندعالم ہر نگاہ کے عوض میں جو اس پر کی جائے زیارت حج و عمرہ کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھے گا، اسکا ثواب انبیاء و صالحین کے برابر ہو گا اور اگر خدا ہمارے شیعوں پر رحم نہ کرتا تو در نجف کا ایک ایک نگینہ بڑی بڑی قیمتیں رکھتا لیکن خدائے تعالی نے ان کے لیے یہ نگینے سستے کر دیے کہ امیر و غریب سب پہن سکیں.
روایت صفوان جمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو آراضی مرقد منور کے قریب ہے اس حکم میں داخل ہے کہ اگر قریب روضہ مطہر سے نہ ملے تو شہر میں جس مقام پر ملے اٹھا لے، بالائے زمین بھی دستیاب نہ ہو سکے تو زمین کھود کر حاصل کیا جا سکتا ہے .
■موئے نجف
بلوری چمک کا سفید گرے، ہلکا پیازی رنگ کا دیدہ زیب قدرتی خوشنما شفاف پتھر ہے اس میں قدرت نے مثل بال متوازی و غیر متوازی سیاہ، پیلی، گولڈن لکیریں عطا کی ہیں. دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کترے ہوئے بکھرے ہوئے بالوں کا گچھا ہے. اس کے متعلق مشہور ہے کہ اس میں حضرت علی علیہ السلام کے بالوں کا عکس ہے. اس پتھر پر نظر رکھنا، اسکا استمعال خداوندعالم کی طرف رجحان بڑھاتا ہے.
صحت و تندرستی کے لیے کارآمد ہے، اس کے افعال و خواص اور اثرات در نجف سے مشابہ ہیں. موئے نجف کی انگوٹھی والا لاکٹ صوفیائے کرام اور درویش بڑی عقیدت سے استمعال کرتے ہیں.
نفسیاتی امراض میں متبلا افراد کو بطور لاکٹ استمعال کرنا چاہیے.
*ازل سے ہے نام علی ؑ نقش دل پر،
وہ درنجف ہے نگینہ ہمارا.
بشکریہ: ضیغم عبّاس
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
📚 تاریخ نجف اشرف، صفحہ: 339.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹 حضرت نوح عليہ السلام 🌹
قرآن مجيد، بہت سى آيات ميں نوح علیہ السلام كے بارے ميں گفتگو كرتا ہے اور مجموعى طور پر قرآن كى انتيس سورتوں ميں اس عظيم پيغمبر كے بارے ميں گفتگو ہوئی ہے. ان كا نام 43 مرتبہ قرآن ميں آيا ہے.
●قرآن مجيد نے ان كى زندگى كے مختلف حصوں كى باريک بينى كے ساتھ تفصيل بيان كى ہے ايسے جو زيادہ تر تعليم وتربيت اور پندونصيحت كے پہلوؤں سے متعلق ہيں.
●مورخين ومفسرين نے لكھا ہے كہ حضرت نوح علیہ السلام كا نام ''عبدالغفار'' يا "عبد الملك'' يا ''عبدالاعلى'' تھا.
اور ''نوح'' كا لقب انھيں اس لئے ديا گيا ہے، كيونكہ وہ سالہا سال اپنے اوپر يا اپنى قوم پر نوحہ و گريہ كرتے رہے.
●آپ كے والد كا نام ''لمك'' يا ''لامك'' تھا.
●آپ كى عمر كى مدت ميں اختلاف ہے. بعض روايات ميں 1490 سال اور بعض ميں 2500 سال بيان كى گئی ہے، اور ان كى قوم كے بارے ميں بھى طولانى عمريں تقريبََا 300 سال تک لكھى گئی ہيں، جو بات مسلم ہے وہ يہ ہے كہ آپ نے بہت طولانى عمر پائی ہے، اور قرآن كى صراحت كے مطابق آپ 950 سال اپنى قوم كے درميان رہے (اور تبليغ ميں مشغول رہے).
●حضرت نوح علیہ السلام کے تين بيٹے تھے ''حام'' ''سام'' اور "يافث'' اور مؤرخین كا نظريہ يہ ہے كہ كرہ زمين كى اس وقت كى تمام نسل انسانى كى بازگشت انھيں تينوں فرزندوں كى طرف ہے.
●ايک گروہ ''حامي'' نسل ہے جو افريقہ كے علاقہ ميں رہتے ہيں.
●دوسرا گروہ ''سامى'' نسل ہے جو شرق اوسط اور مشرق قريب كے علاقوں ميں رہتے ہيں.
●اور ''يافث'' كى نسل كو چين كے ساكنين سمجھتے ہيں.
بشكريه تحریر: بنت زہرہ
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
قرآن مجيد، بہت سى آيات ميں نوح علیہ السلام كے بارے ميں گفتگو كرتا ہے اور مجموعى طور پر قرآن كى انتيس سورتوں ميں اس عظيم پيغمبر كے بارے ميں گفتگو ہوئی ہے. ان كا نام 43 مرتبہ قرآن ميں آيا ہے.
●قرآن مجيد نے ان كى زندگى كے مختلف حصوں كى باريک بينى كے ساتھ تفصيل بيان كى ہے ايسے جو زيادہ تر تعليم وتربيت اور پندونصيحت كے پہلوؤں سے متعلق ہيں.
●مورخين ومفسرين نے لكھا ہے كہ حضرت نوح علیہ السلام كا نام ''عبدالغفار'' يا "عبد الملك'' يا ''عبدالاعلى'' تھا.
اور ''نوح'' كا لقب انھيں اس لئے ديا گيا ہے، كيونكہ وہ سالہا سال اپنے اوپر يا اپنى قوم پر نوحہ و گريہ كرتے رہے.
●آپ كے والد كا نام ''لمك'' يا ''لامك'' تھا.
●آپ كى عمر كى مدت ميں اختلاف ہے. بعض روايات ميں 1490 سال اور بعض ميں 2500 سال بيان كى گئی ہے، اور ان كى قوم كے بارے ميں بھى طولانى عمريں تقريبََا 300 سال تک لكھى گئی ہيں، جو بات مسلم ہے وہ يہ ہے كہ آپ نے بہت طولانى عمر پائی ہے، اور قرآن كى صراحت كے مطابق آپ 950 سال اپنى قوم كے درميان رہے (اور تبليغ ميں مشغول رہے).
●حضرت نوح علیہ السلام کے تين بيٹے تھے ''حام'' ''سام'' اور "يافث'' اور مؤرخین كا نظريہ يہ ہے كہ كرہ زمين كى اس وقت كى تمام نسل انسانى كى بازگشت انھيں تينوں فرزندوں كى طرف ہے.
●ايک گروہ ''حامي'' نسل ہے جو افريقہ كے علاقہ ميں رہتے ہيں.
●دوسرا گروہ ''سامى'' نسل ہے جو شرق اوسط اور مشرق قريب كے علاقوں ميں رہتے ہيں.
●اور ''يافث'' كى نسل كو چين كے ساكنين سمجھتے ہيں.
بشكريه تحریر: بنت زہرہ
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌲 الله تعالى کى رحمت 🌲
ایک دن حضرت موسٰی علیہ السلام نے اللہ تعالٰی سے پوچھا:
الہی جب کوئی تیرا فرمابردار بندہ تجھے پکارتا ہے تو تو جواب کیسے دیتا ہے؟
اللہ نے فرمایا:
میں جواب میں کہتا ہوں
لبیک میں موجود ہوں۔
۔۔۔ بولو کیا مانگتے ہو . .
حضرت موسٰی علیہ السلام نے پوچھا:
اور اگر کوئی تیرا گنہگار بندہ تجھے پکارے تو اسے جواب میں کیا فرماتا ہے۔؟
اللہ نے فرمایا:
گنہگار کے جواب میں دو مرتبہ فرماتا ہوں..
لبیک لبیک یا عبدی...
موسٰی علیہ السلام نے پوچھا:
الہی! گنہگار کے جواب میں دو مرتبہ کیوں؟
فرمایا:
موسٰی یہ اِس لیے کہ میرے فرمانبردار بندے کو تو اپنے نیک عمل پر بھی بھروسہ ہوتا ہے اور گنہگار کو تو صرف میری رحمت پر ہی بھروسہ رہتا ہے . . پھر جسے صرف میری رحمت پر ہی بھروسہ ہو اِس کے لیے میری رحمت کیوں جوش میں نہ آئے.
سبحان اللہ .... سبحان اللہ
🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
📚 نزھة المجالس، ص: 68.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک دن حضرت موسٰی علیہ السلام نے اللہ تعالٰی سے پوچھا:
الہی جب کوئی تیرا فرمابردار بندہ تجھے پکارتا ہے تو تو جواب کیسے دیتا ہے؟
اللہ نے فرمایا:
میں جواب میں کہتا ہوں
لبیک میں موجود ہوں۔
۔۔۔ بولو کیا مانگتے ہو . .
حضرت موسٰی علیہ السلام نے پوچھا:
اور اگر کوئی تیرا گنہگار بندہ تجھے پکارے تو اسے جواب میں کیا فرماتا ہے۔؟
اللہ نے فرمایا:
گنہگار کے جواب میں دو مرتبہ فرماتا ہوں..
لبیک لبیک یا عبدی...
موسٰی علیہ السلام نے پوچھا:
الہی! گنہگار کے جواب میں دو مرتبہ کیوں؟
فرمایا:
موسٰی یہ اِس لیے کہ میرے فرمانبردار بندے کو تو اپنے نیک عمل پر بھی بھروسہ ہوتا ہے اور گنہگار کو تو صرف میری رحمت پر ہی بھروسہ رہتا ہے . . پھر جسے صرف میری رحمت پر ہی بھروسہ ہو اِس کے لیے میری رحمت کیوں جوش میں نہ آئے.
سبحان اللہ .... سبحان اللہ
🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
📚 نزھة المجالس، ص: 68.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
⭕ سرسوں کے بیج ⭕
چین میں کسی جگہ ایک عورت اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ اپنی دنیا میں گم خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی،
ایک دن اچانک اس کے بیٹے کی اجل آن پہنچی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملا.
عورت کیلئے یہ ناقابل برداشت صدمہ تھا کیونکہ اس کا بیٹا ہی اس کی کل کائنات تھا۔ اس کا ذہن نظام قدرت کو ماننے کیلئے تیار نہیں تھا۔ وہ روتی پیٹتی گاؤں کے دانا حکیم کے پاس گئی اور حکیم سے گویا ہوئی:
"حکیم صاحب کوئی ایسا نسخہ بتائیں جس سے میرا بیٹا لوٹ آئے، میں اس کے عوض اپنی ساری جمع پونجی خرچ کرنے کو تیار ہوں."
حکیم صاحب نے ایک نظر اس غمزدہ عورت پر ڈالی اور اس کی سنجیدگی دیکھتے ہوئے کافی سوچ وبچار کے بعد بولے:
"ہاں ایک نسخہ ہے تو سہی،
علاج کیلئے ایک ایسے سرسوں کے بیج کی ضرورت ہے جو کسی ایسے گھر سے لیا گیا ہو جس گھر میں کبھی کسی غم کی پرچھائی تک نہ پڑی ہو."
عورت نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، میں ابھی جا کر ایسا سرسوں کا بیج ڈھونڈھ کر لے آتی ہوں۔
عورت کے خیال میں اس کا گاؤں ہی تو وہ جگہ تھی جس میں لوگوں کے گھروں میں غم کا گزر نہیں ہوتا تھا۔
■بس اسی خیال کو دل میں سجائے اس نے گاؤں کے پہلے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا،
اندر سے ایک جوان عورت نکلی۔ اس عورت نے اس سے پوچھا:
کیا اس سے پہلے تیرے گھر نے کبھی کوئی غم دیکھا؟
جوان عورت کے چہرے پر ایک تلخی سی نمودار ہوئی اور اس نے درد بھری مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے کہا:
میرا گھر ہی تو ہے جہاں زمانے بھر کے غموں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے.
خاتون کا کہنا تھا، سال بھر پہلے میرے خاوند کا انتقال ہوچکا ہے، میرے چار بیٹے اورچار بیٹیاں ہیں، خاوند کے انتقال کے بعد گزر اوقات بہت مشکل سے ہو رہی ہے اورآجکل گھر کا سازوسامان بیچ کر مشکلوں سے گزارہ کر رہے ہیں بلکہ اب تو بیچنے کیلئے بھی ہمارے پاس کچھ زیادہ سامان نہیں بچا.
جوان عورت کی داستان اتنی دکھ بھری تھی کہ وہ عورت اس کے پاس بیٹھ کر اس کی غمگساری کرتی رہی اور جب تک اس نے جانے کی اجازت مانگی تب تک وہ دونوں سہیلیاں بن چکی تھیں۔ دونوں نے ایک دوسرے سے دوبارہ ملنے کا وعدہ لیا اور رابطہ رکھنے کی شرط پر عورت اس کے گھر سے باہر نکلی۔
■مغرب سے پہلے یہ عورت ایک اور خاتون کے گھر میں داخل ہوئی، جہاں ایک اور صدمہ اس کےلئے منتظر تھا۔ اس خاتون کا خاوند ایک خطرناک مرض میں مبتلا تھا گھر پر صاحب فراش تھا۔ گھر میں بچوں کیلئے کھانے پینے کا سامان ناصرف یہ کہ موجود ہی نہیں تھا بلکہ یہ بچے اس وقت بھوکے بھی تھے۔
عورت بھاگ کر بازار گئی اور جیب میں جتنے پیسے تھے ان پیسوں سے کچھ دالیں، آٹا اور گھی وغیرہ خرید کر لائی۔ خاتون خانہ کے ساتھ مل کر جلدی جلدی کھانا پکوایا اور اپنے ہاتھوں سے ان بچوں کو شفقت سے کھلایا۔ کچھ دیر مزید دل بہلانے کے بعد ان سب سے اس وعدے کے ساتھ اجازت چاہی کہ وہ کل شام کو پھر ان سے ملنے آئے گی.
■دوسرے دن پھر یہ عورت ایک گھر سے دوسرے گھر اور ایک دروازے سے دوسرے دروازے پر اس امید سے چکر لگاتی رہی کہ کہیں اسے ایسا گھر مل جائے جس پر غموں کی کبھی پرچھائی بھی نہ پڑی ہو اور وہ وہاں سے ایک سرسوں کا بیج حاصل کرسکے مگر ناکامی ہر جگہ اس کی منتظر تھی۔
●ہرگزرتے دن کے ساتھ اس عورت کو کسی نئی دکھ بھری کہانی کاسامنا ہوتا اور یہ عورت مصائب اور غموں سے متاثر انہی لوگوں کا ایک حصہ بنتی چلی گئی اور اپنے تئیں ان سب میں خوشیاں بانٹنے کی کوشش کرتی رہی۔
●وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ عورت بستی کے ہر گھر کا حصہ بنتی چلی گئی۔ وہ عورت نہ صرف اپنا دکھ بھول چکی تھی بلکہ وہ یہ بھی بھول چکی تھی کہ وہ ایک ایسے گھر کی تلاش میں نکلی تھی جس پر کبھی غموں کی پرچھائی نہ پڑی ہو. وہ لاشعوری طور پر دوسروں کے غموں میں شریک ہو کر ان کے غموں کا مداوا کرتی جا رہی تھی۔
●بستی کے حکیم نے گویا اسے اپنے غموں پر حاوی ہونے کیلئے ایسا مثالی نسخہ تجویز کر دیا تھا جس میں سرسوں کے بیج کا ملنا تو ناممکن تھا مگر اپنے اکلوتے بیٹے کی موت کے غم کو بھولنا ممکن تھا اوریہ اسی لمحے ہی شروع ہو گیا تھا جب وہ بستی کے پہلے گھر میں داخل ہوئی تھی۔
🔷حدیث رسول (ص) ہے کہ
"دنیا میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے کہ جہاں خوشی ہو اور وہاں غم نہ ہو. یاد رکھو! ہر خوشی کے ساتھ غم ضرور ہوتا ہے."
(بحار، ج:77، ص:164)
⭕یہ قصہ کوئی معاشرتی اصلاح کا نسخہ نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک کھلی دعوت ہے ہر اس شخص کیلئے جو اپنی انا کے خول میں بند، دوسروں کے غموں اور خوشیوں سے سروکار رکھے بغیر اپنی دنیا میں گم اور مگن رہنا چاہتا ہے.
حالانکہ دوسروں کے ساتھ میل جول رکھنے اور ان کے غموں اور خوشیوں میں شرکت کرنے سے خوشیاں بڑھتی ہی ہیں کم نہیں ہوا کرتیں۔
⭕ یہ کہانی بتاتی ہے کہ آپ کا یہ معاشرتی رویہ آپ کو پہلے سے زیادہ خوش اخلاق انسان بنا دے گا ان شاءاللہ.
💦تنقید و طنز سے حوصلہ نہ ہارو....
شور کھلاڑی نہیں، تماشائی کرتے ہیں.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
چین میں کسی جگہ ایک عورت اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ اپنی دنیا میں گم خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی،
ایک دن اچانک اس کے بیٹے کی اجل آن پہنچی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملا.
عورت کیلئے یہ ناقابل برداشت صدمہ تھا کیونکہ اس کا بیٹا ہی اس کی کل کائنات تھا۔ اس کا ذہن نظام قدرت کو ماننے کیلئے تیار نہیں تھا۔ وہ روتی پیٹتی گاؤں کے دانا حکیم کے پاس گئی اور حکیم سے گویا ہوئی:
"حکیم صاحب کوئی ایسا نسخہ بتائیں جس سے میرا بیٹا لوٹ آئے، میں اس کے عوض اپنی ساری جمع پونجی خرچ کرنے کو تیار ہوں."
حکیم صاحب نے ایک نظر اس غمزدہ عورت پر ڈالی اور اس کی سنجیدگی دیکھتے ہوئے کافی سوچ وبچار کے بعد بولے:
"ہاں ایک نسخہ ہے تو سہی،
علاج کیلئے ایک ایسے سرسوں کے بیج کی ضرورت ہے جو کسی ایسے گھر سے لیا گیا ہو جس گھر میں کبھی کسی غم کی پرچھائی تک نہ پڑی ہو."
عورت نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، میں ابھی جا کر ایسا سرسوں کا بیج ڈھونڈھ کر لے آتی ہوں۔
عورت کے خیال میں اس کا گاؤں ہی تو وہ جگہ تھی جس میں لوگوں کے گھروں میں غم کا گزر نہیں ہوتا تھا۔
■بس اسی خیال کو دل میں سجائے اس نے گاؤں کے پہلے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا،
اندر سے ایک جوان عورت نکلی۔ اس عورت نے اس سے پوچھا:
کیا اس سے پہلے تیرے گھر نے کبھی کوئی غم دیکھا؟
جوان عورت کے چہرے پر ایک تلخی سی نمودار ہوئی اور اس نے درد بھری مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے کہا:
میرا گھر ہی تو ہے جہاں زمانے بھر کے غموں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے.
خاتون کا کہنا تھا، سال بھر پہلے میرے خاوند کا انتقال ہوچکا ہے، میرے چار بیٹے اورچار بیٹیاں ہیں، خاوند کے انتقال کے بعد گزر اوقات بہت مشکل سے ہو رہی ہے اورآجکل گھر کا سازوسامان بیچ کر مشکلوں سے گزارہ کر رہے ہیں بلکہ اب تو بیچنے کیلئے بھی ہمارے پاس کچھ زیادہ سامان نہیں بچا.
جوان عورت کی داستان اتنی دکھ بھری تھی کہ وہ عورت اس کے پاس بیٹھ کر اس کی غمگساری کرتی رہی اور جب تک اس نے جانے کی اجازت مانگی تب تک وہ دونوں سہیلیاں بن چکی تھیں۔ دونوں نے ایک دوسرے سے دوبارہ ملنے کا وعدہ لیا اور رابطہ رکھنے کی شرط پر عورت اس کے گھر سے باہر نکلی۔
■مغرب سے پہلے یہ عورت ایک اور خاتون کے گھر میں داخل ہوئی، جہاں ایک اور صدمہ اس کےلئے منتظر تھا۔ اس خاتون کا خاوند ایک خطرناک مرض میں مبتلا تھا گھر پر صاحب فراش تھا۔ گھر میں بچوں کیلئے کھانے پینے کا سامان ناصرف یہ کہ موجود ہی نہیں تھا بلکہ یہ بچے اس وقت بھوکے بھی تھے۔
عورت بھاگ کر بازار گئی اور جیب میں جتنے پیسے تھے ان پیسوں سے کچھ دالیں، آٹا اور گھی وغیرہ خرید کر لائی۔ خاتون خانہ کے ساتھ مل کر جلدی جلدی کھانا پکوایا اور اپنے ہاتھوں سے ان بچوں کو شفقت سے کھلایا۔ کچھ دیر مزید دل بہلانے کے بعد ان سب سے اس وعدے کے ساتھ اجازت چاہی کہ وہ کل شام کو پھر ان سے ملنے آئے گی.
■دوسرے دن پھر یہ عورت ایک گھر سے دوسرے گھر اور ایک دروازے سے دوسرے دروازے پر اس امید سے چکر لگاتی رہی کہ کہیں اسے ایسا گھر مل جائے جس پر غموں کی کبھی پرچھائی بھی نہ پڑی ہو اور وہ وہاں سے ایک سرسوں کا بیج حاصل کرسکے مگر ناکامی ہر جگہ اس کی منتظر تھی۔
●ہرگزرتے دن کے ساتھ اس عورت کو کسی نئی دکھ بھری کہانی کاسامنا ہوتا اور یہ عورت مصائب اور غموں سے متاثر انہی لوگوں کا ایک حصہ بنتی چلی گئی اور اپنے تئیں ان سب میں خوشیاں بانٹنے کی کوشش کرتی رہی۔
●وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ عورت بستی کے ہر گھر کا حصہ بنتی چلی گئی۔ وہ عورت نہ صرف اپنا دکھ بھول چکی تھی بلکہ وہ یہ بھی بھول چکی تھی کہ وہ ایک ایسے گھر کی تلاش میں نکلی تھی جس پر کبھی غموں کی پرچھائی نہ پڑی ہو. وہ لاشعوری طور پر دوسروں کے غموں میں شریک ہو کر ان کے غموں کا مداوا کرتی جا رہی تھی۔
●بستی کے حکیم نے گویا اسے اپنے غموں پر حاوی ہونے کیلئے ایسا مثالی نسخہ تجویز کر دیا تھا جس میں سرسوں کے بیج کا ملنا تو ناممکن تھا مگر اپنے اکلوتے بیٹے کی موت کے غم کو بھولنا ممکن تھا اوریہ اسی لمحے ہی شروع ہو گیا تھا جب وہ بستی کے پہلے گھر میں داخل ہوئی تھی۔
🔷حدیث رسول (ص) ہے کہ
"دنیا میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے کہ جہاں خوشی ہو اور وہاں غم نہ ہو. یاد رکھو! ہر خوشی کے ساتھ غم ضرور ہوتا ہے."
(بحار، ج:77، ص:164)
⭕یہ قصہ کوئی معاشرتی اصلاح کا نسخہ نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک کھلی دعوت ہے ہر اس شخص کیلئے جو اپنی انا کے خول میں بند، دوسروں کے غموں اور خوشیوں سے سروکار رکھے بغیر اپنی دنیا میں گم اور مگن رہنا چاہتا ہے.
حالانکہ دوسروں کے ساتھ میل جول رکھنے اور ان کے غموں اور خوشیوں میں شرکت کرنے سے خوشیاں بڑھتی ہی ہیں کم نہیں ہوا کرتیں۔
⭕ یہ کہانی بتاتی ہے کہ آپ کا یہ معاشرتی رویہ آپ کو پہلے سے زیادہ خوش اخلاق انسان بنا دے گا ان شاءاللہ.
💦تنقید و طنز سے حوصلہ نہ ہارو....
شور کھلاڑی نہیں، تماشائی کرتے ہیں.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 كامیاب ازدواجی زندگی 🔷
ایک نوجوان کی شادی ہوتی ہے، وہ اپنے والد کے پاس جاتا ہے کہ وہ اس کے اس نئے ازدواجی سفر کے لیے برکت کی دعا کرے،
جب وہ اپنے والد کے پاس جاتا ہے، اس کا والد اُس سے ایک کاغذ اور ربڑ مانگتا ہے، لڑکا شدید حیرانگی کے ساتھ جاتا ہے اور مطلوبہ چیزیں لیکر آجاتا ہے اور اپنے باپ کے پاس بیٹھ جاتا ہے....!!
باپ کہتا ہے: لکھو.
بیٹا: کیا لکھوں.
باپ: جو جی چاہے لکھو.
نوجوان ایک جملہ لکھتا ہے.
باپ کہتا ہے: اسے مٹا دو.
نوجوان مٹا دیتا ہے.
باپ پھر کہتا ہے: لکھو.
بیٹا: خدارا آپ کیا چاہتے ہیں؟
باپ کہتا ہے: لکھو.
نوجوان پھر لکھتا ہے.
باپ کہتا ہے: مٹا دو.
لڑکا مٹا دیتا ہے.
باپ پھر کہتا ہے: لکھو.
نوجوان کہتا ہے: اللہ کے لیے مجھے بتائیں یہ سب کچھ کیا ہے؟؟؟
باپ کہتا ہے: لکھو.
نوجوان لکھتا ہے.
باپ کہتا ہے مٹا دو،
لڑکا مٹا دیتا ہے.
پھر باپ اُ س کی طرف دیکھتا ہے اور اُسے تھپکی دیتے ہوئے کہتا ہے۔۔۔!!
"بیٹا شادی کے بعد اریزر کی ضرورت ہوتی ہے، اگر ازدواجی زندگی میں تمہارے پاس ربڑ نہیں ہو گا جس سے تم اپنی بیوی کی غلطیاں اور کوتاہیاں مٹا اور معاف کر سکو، اور اسی طرح اگر تمہاری بیوی کے پاس ایریزر نہ ہوا جس سے وہ تمہاری غلطیاں اور ناپسندیدہ باتیں مٹا سکے...
تو تم اپنی ازدواجی زندگی کا صفحہ چند دنوں میں کالا کر لوگے...۔"
حاصل کلام:
"کامیاب ازدواجی زندگی کا راز یہ ہے کہ آپس میں ایکدوسرے کے لئے درگزر اور برداشت سے کام لیا جائے، ایکدسرے کی خامیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، خوبیوں کا اقرار کیا جائے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر انا کا مسئلہ نہ بنالیا جائے، بلکہ اس ربڑ کیطرح کتابِ زندگی سے ان چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو مٹا دیا جائے...
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک نوجوان کی شادی ہوتی ہے، وہ اپنے والد کے پاس جاتا ہے کہ وہ اس کے اس نئے ازدواجی سفر کے لیے برکت کی دعا کرے،
جب وہ اپنے والد کے پاس جاتا ہے، اس کا والد اُس سے ایک کاغذ اور ربڑ مانگتا ہے، لڑکا شدید حیرانگی کے ساتھ جاتا ہے اور مطلوبہ چیزیں لیکر آجاتا ہے اور اپنے باپ کے پاس بیٹھ جاتا ہے....!!
باپ کہتا ہے: لکھو.
بیٹا: کیا لکھوں.
باپ: جو جی چاہے لکھو.
نوجوان ایک جملہ لکھتا ہے.
باپ کہتا ہے: اسے مٹا دو.
نوجوان مٹا دیتا ہے.
باپ پھر کہتا ہے: لکھو.
بیٹا: خدارا آپ کیا چاہتے ہیں؟
باپ کہتا ہے: لکھو.
نوجوان پھر لکھتا ہے.
باپ کہتا ہے: مٹا دو.
لڑکا مٹا دیتا ہے.
باپ پھر کہتا ہے: لکھو.
نوجوان کہتا ہے: اللہ کے لیے مجھے بتائیں یہ سب کچھ کیا ہے؟؟؟
باپ کہتا ہے: لکھو.
نوجوان لکھتا ہے.
باپ کہتا ہے مٹا دو،
لڑکا مٹا دیتا ہے.
پھر باپ اُ س کی طرف دیکھتا ہے اور اُسے تھپکی دیتے ہوئے کہتا ہے۔۔۔!!
"بیٹا شادی کے بعد اریزر کی ضرورت ہوتی ہے، اگر ازدواجی زندگی میں تمہارے پاس ربڑ نہیں ہو گا جس سے تم اپنی بیوی کی غلطیاں اور کوتاہیاں مٹا اور معاف کر سکو، اور اسی طرح اگر تمہاری بیوی کے پاس ایریزر نہ ہوا جس سے وہ تمہاری غلطیاں اور ناپسندیدہ باتیں مٹا سکے...
تو تم اپنی ازدواجی زندگی کا صفحہ چند دنوں میں کالا کر لوگے...۔"
حاصل کلام:
"کامیاب ازدواجی زندگی کا راز یہ ہے کہ آپس میں ایکدوسرے کے لئے درگزر اور برداشت سے کام لیا جائے، ایکدسرے کی خامیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، خوبیوں کا اقرار کیا جائے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر انا کا مسئلہ نہ بنالیا جائے، بلکہ اس ربڑ کیطرح کتابِ زندگی سے ان چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو مٹا دیا جائے...
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌲 اللہ تعالٰی کی رحمت پر بهروسہ 🌲
اﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ اللہ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ "ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺅ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﯿﻦ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﯿﮟ."
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻓﻮﺭﯼ ﺣﮑﻢِ ﺍﻟﮩﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ.
● ﺳﺎﺣﻞ ﭘُﺮ ﺳﮑﻮﻥ ﺗﮭﺎ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺸﺘﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯼ ﺟﻮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ.
ﺍﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰؑ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﮐﮧ
"ﺍﮮ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮ! ﺍللہ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﮨﻮﺷﯿﺎﺭ ﺭﮨﻨﺎ."
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ:
ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﺎﻝ ﺳﮑﺘﺎ، ﮨﻢ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﮑﻢ ﺍﻟﮩٰﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ.
ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﮧ ﮨﯽ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺝ ﺍﭨﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮈﻭﻟﻨﮯ ﻟﮕﯽ. ﺳﻮﺍﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﻣﻮﺝ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺎ ﮐﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ.
● ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ:
"ﺫﺭﺍ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﻧﺎ" ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ:
ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻻﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺗﮯ ﺁﺗﮯ ﯾﮧ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﯽ.
● ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻮ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﺁﺗﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯼ، ﺁﭖ ﻧﮯ ﺣﺴﺐِ ﺳﺎﺑﻖ ﺍِﺱ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ "ﺩﯾﮑﮭﻮ! ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺫﺭﺍ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﺅ."
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽؑ! ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﺳﭽﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﻞ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺳﮑﺘﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮨﮯ، ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮﮞ ﻟﮩٰﺬﺍ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺻﺪﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﻣﻦ ﻭ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ.
ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ، ﺟﺐ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﺎﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺁ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ؑﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺩﻭ ﺗﻮ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺁ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﭻ ﮔﺌﯽ؟
🔷 ﺍﺭﺷﺎﺩ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ
"ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ! ﺁﭖ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺗﻮﮐﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍِﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﻃﻔﯿﻞ ﺑﭻ ﮔﺌﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﻮ ﺑﮭﯽﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺻﺪﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻧﺎ ﺍﻣﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔!
🔘ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻋﺮﺵ ﭘﺮ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﻏﻀﺐ ﭘﺮ ﻏﺎﻟﺐ ﮨﮯ. (ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ)
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
اﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ اللہ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ "ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺅ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﯿﻦ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﯿﮟ."
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻓﻮﺭﯼ ﺣﮑﻢِ ﺍﻟﮩﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ.
● ﺳﺎﺣﻞ ﭘُﺮ ﺳﮑﻮﻥ ﺗﮭﺎ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺸﺘﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯼ ﺟﻮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ.
ﺍﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰؑ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﮐﮧ
"ﺍﮮ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮ! ﺍللہ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﮨﻮﺷﯿﺎﺭ ﺭﮨﻨﺎ."
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ:
ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﺎﻝ ﺳﮑﺘﺎ، ﮨﻢ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﮑﻢ ﺍﻟﮩٰﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ.
ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﮧ ﮨﯽ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺝ ﺍﭨﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮈﻭﻟﻨﮯ ﻟﮕﯽ. ﺳﻮﺍﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﻣﻮﺝ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺎ ﮐﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ.
● ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ:
"ﺫﺭﺍ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﻧﺎ" ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ:
ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻻﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺳﺎﺣﻞ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺗﮯ ﺁﺗﮯ ﯾﮧ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﯽ.
● ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻮ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﺁﺗﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯼ، ﺁﭖ ﻧﮯ ﺣﺴﺐِ ﺳﺎﺑﻖ ﺍِﺱ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ "ﺩﯾﮑﮭﻮ! ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺫﺭﺍ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﺅ."
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽؑ! ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﺳﭽﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﻞ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺳﮑﺘﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮨﮯ، ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮﮞ ﻟﮩٰﺬﺍ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺻﺪﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﻣﻦ ﻭ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ.
ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ، ﺟﺐ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﺎﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺁ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ؑﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﮐﺸﺘﯿﺎﮞ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺩﻭ ﺗﻮ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺁ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﭻ ﮔﺌﯽ؟
🔷 ﺍﺭﺷﺎﺩ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ
"ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ! ﺁﭖ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺗﻮﮐﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍِﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﻃﻔﯿﻞ ﺑﭻ ﮔﺌﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﻮ ﺑﮭﯽﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺻﺪﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻧﺎ ﺍﻣﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔!
🔘ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻋﺮﺵ ﭘﺮ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﻏﻀﺐ ﭘﺮ ﻏﺎﻟﺐ ﮨﮯ. (ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ)
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 اللہ تعالی پر یقین..؟ 🔷
ایک کوہ پیما سخت سردی کے موسم میں برف کے پہاڑ کے اوپر چڑھ رہا تھا کہ رات ہوگئی، پر وہ رکا نہیں اور اپنی چڑھائی جاری رکھی...
اس بار جب اس نے اپنا کُنڈہ برف میں پھنسانا چاہا تو وہ صحیح طرح سے پھنس نہ سکا اور وہ اپنے ہی زور میں رسی پکڑے کئی فٹ نیچے آگیا..
اب حالت یہ تھی کہ وہ زمین اور آسمان کے درمیان اس طرح معلق ہوگیا کہ اگر اسی طرح لٹکا رہتا تو سردی سے ٹھٹھر کے مر جاتا..
اسی حالت میں وہ بڑی لجاحت سے اللہ سے دعا کرتا ہے.. آسمان سے آواز آتی ہے..
"کیا تجھے مجھ پہ کامل یقین ہے.؟"
وہ جواب دیتا ہے..
"یقیناً مجھے تیری ذات پہ مکمل بھروسہ ہے."
آواز آتی ہے..
"تو پھر اپنی رسی کاٹ دے."
وہ تذبذب کا شکار ہوتا ہے پر رسی کاٹنے سے انکار کر دیتا ہے..
صبح لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک کوہ پیما سردی سے ٹھٹر کے مرگیا ہے اور زمین سے صرف دو فٹ اوپر ہے..!!
🔹کیا ہمیں بھی ایسا ہی یقین ہے..؟؟؟
سوچئے کہ ابھی وقت ہمارے ہاتھ میں ہے..!!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک کوہ پیما سخت سردی کے موسم میں برف کے پہاڑ کے اوپر چڑھ رہا تھا کہ رات ہوگئی، پر وہ رکا نہیں اور اپنی چڑھائی جاری رکھی...
اس بار جب اس نے اپنا کُنڈہ برف میں پھنسانا چاہا تو وہ صحیح طرح سے پھنس نہ سکا اور وہ اپنے ہی زور میں رسی پکڑے کئی فٹ نیچے آگیا..
اب حالت یہ تھی کہ وہ زمین اور آسمان کے درمیان اس طرح معلق ہوگیا کہ اگر اسی طرح لٹکا رہتا تو سردی سے ٹھٹھر کے مر جاتا..
اسی حالت میں وہ بڑی لجاحت سے اللہ سے دعا کرتا ہے.. آسمان سے آواز آتی ہے..
"کیا تجھے مجھ پہ کامل یقین ہے.؟"
وہ جواب دیتا ہے..
"یقیناً مجھے تیری ذات پہ مکمل بھروسہ ہے."
آواز آتی ہے..
"تو پھر اپنی رسی کاٹ دے."
وہ تذبذب کا شکار ہوتا ہے پر رسی کاٹنے سے انکار کر دیتا ہے..
صبح لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک کوہ پیما سردی سے ٹھٹر کے مرگیا ہے اور زمین سے صرف دو فٹ اوپر ہے..!!
🔹کیا ہمیں بھی ایسا ہی یقین ہے..؟؟؟
سوچئے کہ ابھی وقت ہمارے ہاتھ میں ہے..!!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﺎ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻭﻗﺖ 🔷
ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﮍ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﺮﺽ ﻋﻼﺝ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ. ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﭘﺮ ﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻠﻢ، ﺗﻘﻮﯼٰ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﻦ ﺍﺧﻼﻕ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮑﺮﯾﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺷﺮﻑ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ.
●ﺣﻀﺮﺕ ﮐﮯ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻭ ﺑﯿﺸﺘﺮ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﺯﯾﺐ ﺗﻦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﻮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﻌﻠﯿﻤﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﺘﺮ ﭘﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺗﻘﺎﺿﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﻮﺭا ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺧﺼﻮﺻﺎً "ﺷﺎﺭﭦ ﺳﮑﺮﭦ" ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ....
●ﺣﻀﺮﺕ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻟﺒﺎﺱ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﯾﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻭﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ...
🔸ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺑﺘﻼﺋﯿﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﯿﺘﯽ ﺁﺅﮞ.
🔹ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
"ﺑﯿﭩﺎ! ﺑﮑﺮﯼ ﮐﯽﺍﯾﮏ ﺳﺎﻟﻢ ﺭﺍﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﺁﻧﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺷﺮﻁ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﯾﺎ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﺑﯿﮓ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﺮﻋﺎﻡ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ..."
🔸ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ:
"ﺣﻀﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﯽ ﺳﺎﻟﻢ ﺭﺍﻥ ﺗﻮ ﻟﮯ ﺁﺅﮞ ﮔﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ.
🔹ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
"ﺑﯿﭩﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ.؟"
🔸ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ:
"ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﮐﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﺭﺍﻥ ﮐﻮ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮨﮯ."
🔹ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ:
"ﺑﯿﭩﺎ! ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺭﺍﻥ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﯽ ﺭﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻻﺋﻖ ﮨﮯ."
🔷ﺍﺗﻨﮯ ﺷﻔﯿﻖ ﺍﻭﺭ ﭘﺮ ﺍﺛﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ.
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﮔﻮﺍﮦ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻏﯿﺮ ﺷﺮﻋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ.
🔘 ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺍﮔﺮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﺛﺮ ﺩﮐﮭﺎﺗﯽ ﮨﮯ.
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﮍ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﺮﺽ ﻋﻼﺝ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ. ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﭘﺮ ﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻠﻢ، ﺗﻘﻮﯼٰ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﻦ ﺍﺧﻼﻕ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮑﺮﯾﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺷﺮﻑ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ.
●ﺣﻀﺮﺕ ﮐﮯ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻭ ﺑﯿﺸﺘﺮ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﺯﯾﺐ ﺗﻦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﻮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﻌﻠﯿﻤﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﺘﺮ ﭘﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺗﻘﺎﺿﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﻮﺭا ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺧﺼﻮﺻﺎً "ﺷﺎﺭﭦ ﺳﮑﺮﭦ" ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ....
●ﺣﻀﺮﺕ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻟﺒﺎﺱ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﯾﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻭﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ...
🔸ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺑﺘﻼﺋﯿﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﯿﺘﯽ ﺁﺅﮞ.
🔹ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
"ﺑﯿﭩﺎ! ﺑﮑﺮﯼ ﮐﯽﺍﯾﮏ ﺳﺎﻟﻢ ﺭﺍﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﺁﻧﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺷﺮﻁ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﯾﺎ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﺑﯿﮓ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﺮﻋﺎﻡ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ..."
🔸ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ:
"ﺣﻀﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﯽ ﺳﺎﻟﻢ ﺭﺍﻥ ﺗﻮ ﻟﮯ ﺁﺅﮞ ﮔﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ.
🔹ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
"ﺑﯿﭩﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ.؟"
🔸ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ:
"ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﮐﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﺭﺍﻥ ﮐﻮ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮨﮯ."
🔹ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ:
"ﺑﯿﭩﺎ! ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺭﺍﻥ ﺑﮑﺮﯼ ﮐﯽ ﺭﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻻﺋﻖ ﮨﮯ."
🔷ﺍﺗﻨﮯ ﺷﻔﯿﻖ ﺍﻭﺭ ﭘﺮ ﺍﺛﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ.
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﮔﻮﺍﮦ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻏﯿﺮ ﺷﺮﻋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ.
🔘 ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺍﮔﺮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﺛﺮ ﺩﮐﮭﺎﺗﯽ ﮨﮯ.
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani